تفہیم الاحادیث (جلد اول)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔

چند باتیں

قارئین محترم کی خدمت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و قلم کے شاہ کار تفہیم الاحادیث کا زیر نظر حصہ پیش کرتے ہوے ہمیں یک گونہ خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کے لیے اس کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات و فرمودات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پیش کرنے کی توفیق بخشی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور حدیث کے اس مبارک سلسلے کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور انھیں پیغام رسولؐ سے روشناس کرانے میں مکتبے کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ ہوگا۔
تفہیم الاحادیث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ، بلکہ یہ ان احادیث کا مجموعہ ہے، جو مولانا محترم نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور بعض دوسری تصانیف میں حسب موقع نقل کی ہیں ۔
صورت واقعہ یہ ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس نہج پر اپنی مقبول عام تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ کی چھے۶ جلدیں تحریر کی تھیں، بالکل اسی نہج پر وہ احادیث پر بھی کام کرنے کا عزم مصمّم کرچکے تھے۔ نہ صرف عزم مصمم کرچکے تھے، بلکہ انھوں نے اس کام کے لیے ایک ابتدائی خاکہ بھی تیار کرلیا تھا ـــــــلیکن اچانک وہ بیمار ہوگئے، پھر بیماریوں کا سلسلہ اتنا طویل ہوتا گیا کہ انھیں اس سے نجات ہی نہ مل سکی۔ اسی بیماری میں ان کی مہلتِ عمر بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد یہ کام التوا میں پڑگیا۔ وفات کے کافی دنوں کے بعد مولانا محترم کے رفیق خاص مولانا خلیل احمد حامدیؒڈائریکٹر ادارۂ معارف اسلامی منصورہ کو اس کام کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انھوں نے ذمے داروں اور دوسرے ارباب علم و دانش کے مشوروں سے علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے فاضل مشہور عالم و محقق مولانا عبدالوکیل علوی کو یہ ذمّے داری تفویض کی کہ وہ تفہیم القرآن اور دوسری تصانیف کی مدد سے مولانا محترم کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے پورے کام کااز سر نو خاکہ تیارکیا اور ضروری کتب فراہم کرکے کام کا آغاز کردیا۔
مولانا عبدالوکیل علوی کا نام تحریکی حلقے کے لیے غیر معروف و اجنبی نہیں ہے۔ وہ عربی ادب کے مایۂ ناز فاضل، اسلامی علوم کے ذہین عالم اور صاحب طرز اہل قلم کی حیثیت سے تعارف رکھتے ہیں۔اس سے پہلے مولانا مودودیؒ کی تصانیف کی مدد سے وہ متعدد ترتیبی و تخریجی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔سیرت سرور عالم کی دو جلدیں ان کی ترتیبی و تخریجی صلاحیت کی بہترین نمایندگی کرتی ہیں۔
مولانا عبدالوکیل علوی نے اس کام میں کتنا وقت صرف کیا ہے ،انھوں نے احادیث کی چھان بین اور ترتیب و تخریج میں کتنی عرق ریزی اور دقّتِ نظر سے کام لیا ہے، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پڑھنے والے خود ہی اس کا ادراک کرلیں گے۔ ’’مشک آنست کہ خود بہ بوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ اصلی مشک خود اپنی مہک سے پہچان لیا جاتا ہے، اس کے لیے کسی عطار کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس کوشش کو شرفِ قبول سے نوازے، تمام انسانوں کے لیے اِسے نفع بخش بنائے اور اس کی تیاری میں جن رفقاء اور کارکنوں نے حصہ لیا ہے، انھیں حدیثِ رسول ؐ کی خدمت کی برکات سے سرفراز کرے۔

ناشر
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی

عرض مرتب

الحمد للہ تفہیم الاحادیث کے جس کار عظیم کو آج سے چند سال قبل شروع کیا گیاتھا، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔ یہ سعادت محض خالق ارض وسما کے فضل وکرم اور اس کی توفیق خاص کی مرہون منت ہے۔ ورنہ ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کٹھن مراحل سے گزر کر ساحل تکمیل تک پہنچنے کی اپنی حد تک ایک کاوش کی گئی ہے۔ جب یہ کام شروع کیا گیا تب اندازہ ہوا کہ ایک ٹھوس علمی وتحقیقی کتاب اپنی طرف سے مدون ومرتب کرنے کے مقابلے میں مولانا محترم رحمتہ اللہ علیہ کے پورے ذخیرۂ کتب میں سے عبارتیں نکال کر کوئی کتاب ترتیب دینے کا کام کتنا محنت طلب ہے۔ تفہیم القرآن کی چھے جلدوں کے ساتھ ساتھ مولانا کے وسیع لٹریچر کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پڑھنا، تمام احادیث کے متون، تراجم، تشریحات اور فقہی مسائل کی الگ الگ نشان زدگی، پھر اس کی تشریح کے لیے مفید مطلب مناسب و موزوں عبارات پر نشان لگانا، ان کی نقول تیار کرنا اور سب سے آخر میں ان کی بہ اعتبارِ ابواب و فصول ترتیب اور ان کی عنوان بندی، یہ سارا کام اتنا صبر آزماتھا کہ بار بار دامن ہمت تار تار ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتارہا۔ مگر ایسے مواقع پر فضل ایزدی نے ڈھارس بندھائی اور کام جاری رہا۔ الحمد للہ آج اس کاوش اور سعی وجہد کا ثمرہ آپ کے سامنے ہے۔
تالیف وتدوین کا یہ کام اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جتنا اہم اور عظیم ہے، اپنے حجم کے لحاظ سے اُسی قد ر ضخیم بھی۔ اس کام کی تکمیل پر کس قدر محنت کی گئی یا کتنی عرق ریزی سے یہ کام انجام پایا؟ اس کا صحیح اندازہ صرف انہیں کو ہوسکتاہے، جنہوں نے کبھی اس وادیٔ پر خار میں قدم رکھاہو۔مولانا کی تصانیف میں سے انتخاب کرکے جو مواد نقل کیا گیا، وہ سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جمع کی گئی ہیں، جنہیں مولانا محترم نے اپنے پورے لٹریچر میں استعمال کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اسے نقل کرنے سے پہلے پورے کا پورا لٹریچر ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھاگیا، عبارات پر نشان لگایا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ حدیث کا متن ہے اور یہ اس کا ترجمہ وتشریح۔ جن احادیث سے فقہی مسائل مستنبط کیے گئے، ان پر الگ نشان لگایاگیااور متنِ حدیث کی بجائے کہیں محض ترجمہ ملا تو اسے بھی نکال لیا گیا۔
مولانا محترم نے زیادہ تر مقامات پر احادیث نقل کرتے وقت صرف اتنا کہہ دیاہے کہ فلاں حدیث بخاری ومسلم میں ہے یا متفق علیہ یا ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ اسی طرح احادیث کی دوسری کتب کے حوالے بھی دیے ہیں، مگر بخاری ومسلم نے اس حدیث کو کس کتاب میں، کس فصل یا باب میں اور کس عنوان کے تحت یا کتاب کے کس صفحے پر روایت کیاہے؟ اس کا التزام کم ہی کیا جاسکاہے۔ پھر مولانا محترم نے اکثر مقامات پر حدیث کا صرف اتنا ہی جز نقل کیاہے، جتنا انہیں اس مقام کے لحاظ سے استشہاد کے لیے مطلوب تھا۔ پوری حدیث نقل نہیں کی اور پوری سند تو بہت ہی کم نقل ہوسکی ہے۔
اس نقل شدہ مواد کو ایک مفید کتاب کی صورت میں مرتب ومدون کرنے کے لیے ان تمام نقل شدہ احادیث کی سندیں شامل کی گئیں۔ جہاں حدیث کا ایک جزو استعمال کیا گیا، وہ پوری حدیث مع سند نقل کی گئی تاکہ قاری یہ جان سکے کہ یہ کس حدیث کا جزو ہے یا کس محدث نے اپنی کس کتاب اوراس کتاب کے کس باب یا فصل میں اور کس عنوان کے تحت روایت کیا ہے وغیرہ۔ اورحدیث کے بارے میں محدث کی محدثانہ رائے کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف وغیرہ بھی درج کی گئی ہے۔ مزید برآں ایسی احادیث بھی شامل کی گئی ہیں، جو ان کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جنہیں مویدات کہہ سکتے ہیں۔ اس مفید اضافے سے اصل مواد کی ضخامت تو واقعۃً بڑھ گئی مگر فوائد میں بے حساب اضافہ بھی ہوا ہے۔
حدیث کی تخریج کے لیے جو اصول پیش نظر رکھاگیاہے وہ یہ ہے:
سب سے پہلے حدیث کو( بخاری ومسلم) میں تلاش کیاگیا۔ اگروہ ان میں مل گئی اور دونوں کے الفاظ بھی یکساں ملے تو اس صورت میں سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیا اور حوالے میں متفق علیہ درج کیا گیاہے۔ اگر صحیحین کی روایت میں معنوی یکسانی تو موجود ہے مگر لفظی اختلاف ہے تو اس صورت میں بھی سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیاہے اور صحیح مسلم کا اختلاف اور فرق الگ سے واضح کردیاگیاہے۔ اگر مولانا محترم نے خود ہی صحیح مسلم کی روایت لی ہے تو پھر اصل متن اسی روایت کو قراردیا گیاہے اور صحیح بخاری کی روایت میں جو اختلاف ہے، اسے واضح کرکے اس کا حوالہ دیاگیاہے اور اگر مولانا نے صحیحین کے علاوہ باقی کتب اربعہ یعنی سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کا حوالہ دیا ہے اور وہ حدیث صحیحین میں سے کسی ایک میں بھی قدرے لفظی اختلاف یا فرق کے ساتھ موجود ہے تو اس صورت میں اصل ماخذ بیان کرنے کے بعد صحیحین کا حوالہ اور فرق واختلاف بھی درج کرنے کی محتاط کوشش کی گئی ہے۔اگرکوئی حدیث صحیحین میں نہ ملی تو پھر ابوداؤد کی روایت کو ترجیحا نقل کیاگیاہے۔ اگر ابوداؤد اور دیگر کتب میں بھی کوئی حدیث موجود ہے تو اصل متن کے طورپر ابوداؤد کی روایت درج کی گئی ہے اور باقی ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ اور دیگر کتب کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ ممکن الحصول ماخذ ومصادر درج کیے جائیں۔ اصل کتب ماخذ جتنی مجھے دستیاب ہوسکیں، ان سب کے حوالے دینے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ تخریج مواد، اس کو نقل کرنے، عبارات پر اعراب لگانے اور اضافہ شدہ عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کے بعد نقل شدہ مواد کی روشنی میں اسے ایک کتابی صورت میں لانے کے لیے اس کی پہلے ابواب بندی کی گئی اور پھر انہیں فصول اور مختلف عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا۔ پھرذیلی عنوانات قائم کیے گئے۔ بعد ازاں حوالہ جات اور احادیث کے نمبر لگائے گئے اور ان حوالوں کو اپنے اپنے مقام پر درج کیا گیا تاکہ قاری کو اگر کسی عبارت کے اصل ماخذ کی ضرورت محسوس ہوتو وہ بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے اصل ماخذ سے رجوع کرسکے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعاہو ںکہ اس کام کو اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبول حاصل ہو اور یہ مولانا محترم کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے۔

وماتوفیقی الا باللہ
خاکسار
عبدالوکیل علوی

مقدمہ

اسلام کی نعمت ہر زمانے میں انسان کو دو ہی ذرائع سے پہنچی ہے۔ ایک اللہ کا کلام ، دوسرے انبیاء علیہم السلام کی شخصیتیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنے کلام کی تبلیغ و تعلیم اور تفہیم کا واسطہ بنایا، بلکہ اس کے ساتھ عملی قیادت و رہنمائی کے منصب پر بھی مامو ر کیا تاکہ وہ کلام اللہ کا ٹھیک ٹھیک منشا پورا کرنے کے لیے انسانی افراد اور معاشرے کا تزکیہ کریں اور انسانی زندگی کے بگڑے ہوئے نظام کو سنوارکر اس کی تعمیر صالح کردکھائیں۔
یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سے ایسی لازم و ملزوم رہی ہیں کہ ان میں سے کسی کو کسی سے الگ کرکے نہ انسان کو کبھی دین کا صحیح فہم نصیب ہوسکا ، اور نہ وہ ہدایت سے بہرہ یاب ہوسکا۔ کتاب کو نبی سے الگ کردیجیے تو وہ ایک کشتی ہے، نا خدا کے بغیر، جسے لے کر اناڑی مسافر زندگی کے سمندر میں خواہ کتنے ہی بھٹکتے پھریں، منزل مقصود پر کبھی نہیں پہنچ سکتے، اور نبی کو کتاب سے الگ کردیجیے، تو خدا کا راستہ پانے کے بجائے آدمی ناخدا ہی کو خدا بنابیٹھنے سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ یہ دونوں ہی نتیجے پچھلی قومیں دیکھ چکی ہیں۔ ہندوئوں نے اپنے انبیاء کی سیرتوں کو گم کیا اور صرف کتابیں لے کر بیٹھ گئے۔ انجام یہ ہوا کہ کتابیں ان کے لیے گورکھ دھندوں سے بڑھ کر کچھ نہ رہیں۔ حتیّٰ کہ آخرکار خود انھیں بھی وہ گم کر بیٹھے ۔ عیسائیوں نے کتاب کو نظر انداز کر کے نبی کا دامن پکڑا اور اس کی شخصیت کے گرد گھومنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی چیز انھیں نبی اللہ کو ابن اللہ بلکہ عین اللہ بنانے سے باز نہ رکھ سکی۔
پرانے ادوار کی طرح اب اس نئے دور میں بھی انسان کو نعمت اسلام میسر آنے کے دو ہی ذرائع ہیں جو ازل سے چلے آرہے ہیں، ایک خدا کا کلام جو اب صرف قرآن پا ک کی صورت ہی میں مل سکتا ہے۔ دوسرے اسوۂ نبوت جو اب صرف محمد عربی ﷺ کی سیرتِ پاک ہی میں محفوظ ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلام کا صحیح فہم انسان کو اگر حاصل ہوسکتا ہے تو اس کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کو محمد ﷺ سے اور محمد ﷺ کو قرآن سے سمجھے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے جس نے سمجھ لیا، اس نے اسلام کو سمجھا۔ ورنہ فہم دین سے بھی محروم رہا اور نتیجتاً ہدایت سے بھی۔
پھر قرآن اور محمد ﷺ دونوں چوں کہ ایک مشن رکھتے ہیں، ایک مقصد و مدّعا کو لیے ہوئے آئے ہیں، اس لیے ان کو سمجھنے کا انحصار اس پر ہے کہ ہم ان کے مشن اور مقصد و مدّعا کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔ اس چیز کو نظر انداز کرکے دیکھیے تو قرآن عبارتوں کا ایک ذخیرہ اور سیرت پاک، واقعات و حوادث کا ایک مجموعہ ہے۔ آپ لغت اور روایات اور علمی تحقیق و کاوش کی مدد سے تفسیروں کے انبار لگاسکتے ہیں اور تاریخی تحقیق کا کمال دکھا کر رسول اللہ ﷺ کی ذات اور آپ کے عہد کے متعلق صحیح ترین اور وسیع ترین معلومات کے ڈھیر لگا سکتے ہیں، مگر روح دین تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ وہ عبارات اور واقعات سے نہیں بلکہ اس مقصد سے وابستہ ہے جس کے لیے قرآن اتارا گیا اور محمد عربی ﷺ کو اس کی علم برداری کے لیے کھڑا کیا گیا۔ اصل مقصد کا تصور جتنا صحیح ہوگا، اتنا ہی قرآن اور سیرت کا فہم صحیح، اور جتنا وہ ناقص ہوگا، اتنا ہی ان دونوں کا فہم ناقص رہے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سیرتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام دونوں ہی بحرِ ناپیداکنار ہیں۔ کوئی انسان یہ چاہے کہ ان کے تمام معانی اور فوائد و برکات کا احاطہ کرے تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ البتہ جس چیز کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہ بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدمی ان کا زیادہ سے زیادہ صحیح فہم حاصل کرے اور ان کی مدد سے روحِ دین تک رسائی پائے۔
دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ آپؐ کی تعلیم اور آپ ؐ کی شخصیت ۱۴صدیوں سے بالکل اپنے حقیقی رنگ میں محفوظ ہے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسا انتظام ہوگیا ہے کہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہوگیا ہے۔ انسان کی اوہام پرستی اور اعجوبہ پسندی سے بعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی ، جو کما ل کے سب سے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی تھی، افسانہ بنا کر الوہیت سے کسی نہ کسی طرح متّصف کر ڈالتی اور پیروی کے بجائے محض ایک تحیّرواستعجاب اور عبادت وپرستش کا موضوع بنالیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثتِ انبیاء کے آخری مرحلے میں ایک ایسا ہادی اور رہنما بھیجنا منظور تھا، جس کی ذات انسان کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور عالمگیر چشمۂ ہدایت ہو۔ اس لیے اس نے محمد بن عبداللہ ﷺ کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دوسرے انبیاء اور ہادیانِ اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہے ــــــآپ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نے پچھلی امتوں کے برعکس ، اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہے، جس کی وجہ سیـــــہم آ پ کی شخصیت کو چودہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں جتنے قریب سے خود آپ کے عہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے۔

حدیث اور قرآن کا باہمی تعلق

قدیم و جدید دور کے منکرین حدیث کی جانب سے انکار حدیث کے سلسلے میں جو دلائل پیش کیے گئے ہیں،ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے لیے صرف قرآن کافی ہے۔ حدیث کی روایات ناقابلِ اعتبار ہیں اور ان پر مذہب کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہے۔ (گویا) منکرین حدیث کی رائے میں حدیث سے اسلام کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ بلکہ اس کے برعکس اسی چیز نے دشمنان اسلام کو وہ اسلحے فراہم کیے ہیں، جن سے وہ اسلام پر حملے کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ اسلام سے حدیث کو بالکل خارج کردیا جائے اور اس کو وہ اسلام کی ایک بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ امر غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس سے پہلے تمام آسمانی کتابوںکو رسولوں کے واسطے سے کیوں نازل کیا؟ کیا اللہ اس پر قادر نہ تھا کہ مطبوعہ کتابیں یکایک زمین پر اتاردیتا اور ان کا ایک ایک نسخہ نوع بشری کے ہرہرفرد کے پاس آپ سے آپ پہنچ جاتا؟ اگر وہ اس پر قادر نہ تھا تو عاجز تھا، اس کو خدا ہی کیوں مانیے؟ اور اگر وہ قادر تھا اور یقینا قادر تھا تو اس نے نشر و اشاعت کا یہ ذریعہ کیوں نہ اختیار کیا؟ یہ تو بظاہر ہدایت کا یقینی ذریعہ ہوسکتا تھا۔ کیونکہ ایسے صریح معجزے اور بین خرق عادت کو دیکھ کر ہر شخص مان لیتا کہ یہ ہدایت خدا کی طرف سے آئی ہے۔ لیکن خدا نے ایسا نہ کیا اور ہمیشہ رسولوں ہی کے ذریعہ سے کتابیں بھیجتا رہا۔ پھر اس رسالت کے کام پر بھی اس نے فرشتوں یا دوسری غیر انسانی ہستیوں کو مامور نہ کیا۔ بلکہ ہمیشہ انسانوں ہی کو اس کے لیے منتخب فرمایا۔ ہر زمانے کے کفار نے بہتیر ا کہا کہ اگر خدا کو ہم تک کوئی پیغام پہنچانا ہی منظور ہے تو فرشتے کیوں نہیں بھیجتا، تاکہ ہم کو بھی اس پیغام کے منزّل من اللّٰہ ہونے کا یقین آجائے۔ مگر خدا نے ہر ایسے سوال پر یہی فرمایا کہ اگر ہم فرشتے بھی بھیجتے تو ان کو آدمی بنا کر بھیجتے وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکاً لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً۔ (انعام: ۹) اور یہ کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم ان کی ہدایت کے لیے فرشتے بھیجتے۔ لَوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکاً رَّسُوْلاً۔ (بنی اسرائیل:۹۵)
سوال یہ ہے کہ تنزیلِ کتب کے لیے رسولوں کو واسطہ بنانے اور رسالت کے لیے تمام بندگان خدا میں سے بالخصوص انسانوں ہی کو منتخب کرنے پر اس قدر اصرار کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب خود کلام اللہ دیتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا نے جتنے رسول بھیجے ہیںان کی بعثت کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ فرامین خداوندی کے مطابق حکم دیں اور لوگ ان کے احکام کی اطاعت کریں۔ وہ الٰہی قوانین کے مطابق زندگی بسر کریں اور لوگ انہی کے نمونہ کو دیکھ کر اس کا اتباع کریں ، وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۔ (النساء: ۶۴) انبیاء علیہم السلام پے درپے آئے اور ہر ایک نے لوگوں سے یہی مطالبہ کیا کہ خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اِتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ۔(الشعراء: ۱۰۸، ۱۱۰، ۱۲۶، ۱۳۱، ۱۴۴، ۱۵۰، ۱۶۳، ۱۷۹) نبی ﷺ سے کہلوایا گیا کہ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ (آل عمران: ۳۱) مومنوں سے کہا گیا کہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ (احزاب:۲۱) اگر محض کتاب اللہ اتاردی جاتی اور کوئی رسول نہ آتا تو لوگ آیات کے معانی میں اختلاف کرتے اور کوئی اس کا فیصلہ کرنے والا نہ ہوتا۔ لوگ احکام کے منشا سمجھنے میں غلطیاں کرتے اور کوئی ان کو صحیح منشا بتانے والا نہ ہوتا۔ اس ضرورت کو تو خیر ایک حد تک فرشتے بھی پورا کرسکتے تھے، مگر پاکیزگی ، طہارت اور تقویٰ کے احکام پر لوگ یہ خیال کرتے کہ عملی زندگی میں ان پر عمل کرنا انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔ فرشتہ تو انسانی جذبات سے محروم ہے۔ پیٹ نہیں رکھتا۔ شہوانی قوتیں نہیں رکھتا۔ انسانی ضرورتوں سے بے نیاز ہے۔ اس کے لیے متقیانہ زندگی بسرکرنا کچھ مشکل نہیں۔ مگر ہم انسانی کمزوریاں رکھتے ہوئے اس کی تقلید کیسے کریں؟ اس لیے ضروری تھا کہ ایک انسان انہی جذبات و داعیات اور انہی تمام قوتوں اور انسانی تقیدات کے ساتھ زمین پر آتا اور لوگوں کے سامنے احکامِ الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرکے بتاتا کہ اس طرح انسان خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرسکتا ہے۔ اس کو زندگی کے وہ تمام معاملات پیش آتے جو انسان کو پیش آتے ہیں۔ وہ ان تمام معاملات میں عام انسانوں کے ساتھ شریک ہوتا، عملاً حصہ لیتا، قدم قدم پر ان کو اپنے عمل اور اپنے قول سے ہدایات دیتا، ان کی تربیت کرتا ، اور انھیں بتاتا کہ زندگی کی پیچیدہ راہوں میں سے کس طرح انسان بچ کر حق اور نیکی کے سیدھے راستے پر چل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تنہا کتاب اللہ کو کافی نہ سمجھا اور رسولؐ اللہ کی اتباع اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کو اس کے ساتھ لازم کردیا۔
قرآن شریف میں صاف طور پر تین چیزوں کی اطاعت کا حکم دیا گیاہے۔ ایک حکم خدا، دوسرے حکم رسول، تیسرے مسلمان حکام اور فرمانروائوں کے احکام اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔ (النساء:۵۹) اگر محض قرآن کا اتباع کافی ہوتا اور اس کے سوا کسی دوسری چیز کے اتباع کی حاجت نہ ہوتی تو رسول اور حکّامِ (اولی الامر)کی اطاعت کا حکم ہی نہ دیا جاتا۔ اگر رسول اور اولی الامر کا حکم قرآنی احکام کے ماسوا کوئی شے نہ ہوتا، تب بھی بقیہ دونوں کی اطاعت کا حکم الگ دینا بے معنی تھا۔ تین چیزوں کی اطاعت کا الگ الگ حکم دینا صاف بتاتا ہے کہ قرآن میں جو احکام براہ راست اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں، ان کے علاوہ وہ احکام بھی واجب الاطاعت ہیں جو رسولؐ اللہ دیں، اور ان کی اطاعت بعینہٖ ایسی ہے جیسی اللہ کی اطاعت مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ (النساء: ۸۰) پھر ان کے ماسوا جو احکام مسلمانوں کے اولی الامر دیں ان کی اطاعت بھی لازم ہے بشر طیکہ ان کے احکام خدا اور رسول کے احکام سے اصولی مطابقت رکھتے ہوں۔ اختلاف کی صورت میں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دی ہوئی ہدایات کی طرف رجوع کیا جائے۔ فَاِنْ تَنَازعْتُمْ فِیْ شَیٍْٔ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ۔ (النساء: ۵۹)
اس سے معلوم ہوا کہ تنہا کتاب اللہ کا فی نہیں ہے، اس کے ساتھ رسالت کا رشتہ ناقابل انقطاع ہے، اور احکامِ رسول کی اطاعت اور اسوۂ رسول کی پیروی بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح خود کتاب اللہ کے احکام کی اطاعت فرض ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ ہم صرف کتاب اللہ کو لیں گے اور حکم رسول اور اسوۂ رسول کو نہ لیں گے وہ رسالت سے اپنا تعلق منقطع کرتا ہے۔ وہ اس واسطہ کو کاٹتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں اور اپنی کتاب کے درمیان ایک لازمی واسطہ کے طور پر قائم فرمایا ہے۔ وہ گویا یہ کہتا ہے کہ خدا کی کتاب اپنے بندوں کے لیے کافی تھی مگر خدا نے بلا ضرورت یہ فعل عبث کیا کہ کتاب کو رسول کے ذریعہ سے نازل فرمایا۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ۔
کتاب اللہ اور سنتِ رسول کا لازمی تعلق ثابت ہوجانے کے بعد اب اس سوال پر غور کیجیے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کے احکام کی اطاعت اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی صرف ان کی حیات جسمانی تک ضروری تھی؟ ان کے بعد اس کی حاجت باقی نہیں رہی؟ اگر ایسا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت صرف اس عہد کے لیے تھی جس میں آپ جسم کے ساتھ زندہ تھے۔ آپ کے رحلت فرماتے ہی آپ کی رسالت کا تعلق عملاً دنیا سے منقطع ہوگیا۔ اس صورت میں رسالت کا منصب بے معنی ہوجاتا ہے۔ رسول کا کام اگر محض ایک نامۂ بر کی طرح کتاب اللہ کو پہنچادینا تھا، اور اس سے بڑھ کرکسی اور چیز کی ضرورت نہ تھی تو ہم پھر وہی کہیں گے کہ اس صورت میں رسول کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ کام کوئی فرشتہ کرسکتا تھا، بلکہ اسے بلاواسطہ بھی کرنا ممکن تھا۔ لیکن اگر کتاب پہنچادینے کے علاوہ بھی کسی شے کی ضرورت تھی اور اسی کے لیے اتباع کے احکام دیے گئے تھے، اور اگر ہدایت نوعِ بشری کے لیے قرآن کے ساتھ رسولؐ کی ہدایات اور سیرت نبوی کے عملی نمونے کی بھی ضرورت تھی، تو پھر یہ سب کچھ صرف تئیس چوبیس سا ل کے لیے ہونا کیا معنی؟ محض ایک صدی کے چوتھائی حصہ کے لیے ایک رسول مبعوث کرنا اور اتنی سی مدت کے لیے رسالت کا اتنا بڑا منصب قائم کرنا، اور ایک چیز کو جو رسول کے جسم و جان کا تعلق منقطع ہوتے ہی دنیا کے لیے غیر ضروری ہوجانے والی تھی، اتنی شدو مد کے ساتھ ذریعۂ ہدایت قرار دینا ، یہ سب بچوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے جو خدائے حکیم و دانا کے ہر گز شایان شان نہیں ہے۔
اس الزام کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں رفع کردیا ہے۔ وہ محمد ﷺ سے فرماتا ہے کہ وَمَآاَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (انبیاء: ۱۰۷) ظاہر ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کا فیضان رسالت صرف اپنے زمانے تک کے لیے ہوتا تو آپؐ کو رحمۃٌ للعالمین نہیں کہا جاسکتا تھا۔ اگر کہا جائے کہ آپ قرآن لائے ہیں جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور اسی لیے آپ رحمۃٌ للعالمین ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ رحمت نہ تھے بلکہ رحمت تو قرآن تھا اور آپؐ کو خواہ مخواہ رحمت کہہ دیا گیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو الگ رحمت فرمایا ہے اور اس کے لانے والے کو الگ ۔ پھر یہ جو فرمایا کہ وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (السبا: ۲۸) یہ ارشاد صاف اشارہ کررہا ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کے وقت سے لے کر قیامت تک جن بندگانِ خدا پر’’الناس‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے ان سب کے لیے آپؐ خدا کے رسول ہیں۔ آپؐ کی رسالت کسی خاص زمانہ کے لیے نہیں ہے بلکہ جب تک روئے زمین پر ’’الناس‘‘ بستے ہیں اس وقت تک آپؐ کی رسالت قائم ہے۔ آیت میں کوئی قرینہ ایسا نہیں ہے جس سے معلوم ہوکہ’’الناس‘‘ سے صرف اسی زمانہ کے لوگ مراد ہیں ۔ نہ ایسا کوئی خفیف سے خفیف اشارہ موجود ہے جس سے بعد کے کسی زمانہ تک کی قید نکلتی ہو۔ بخلاف اس کے دوسری آیات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں کہ حضوؐر کی رسالت دائمی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضوؐر کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کرچکا ہے۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (مائدہ:۱۳) حضوؐر کی ذات پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآاَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیٍْٔ عَلِیْمًا۔ (احزاب:۴۰) اور دوسرے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں کے بخلاف آپؐ کی لائی ہوئی کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا گیا ہے، کیونکہ پہلی کتابیں مخصوص زمانوں کے لیے ہدایت تھیں اور یہ دائمی ہدایت ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر: ۹)
اس سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت ہمیشہ کے لیے ہے اور جب ایسا ہے تو وہ تمام آیات اور احکام بھی ہمیشہ کے لیے ہیں جن میں آنحضرتؐ کے احکام کی اطاعت فرض قرار دی گئی ہے، آپ کی ذات کو اسوۂ حسنہ بتایا گیا ہے، آپ کے اتباع کو رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ کہا گیا ہے، اور ہدایت کا دامن آپ کی پیروی کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے۔ وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا (النور:۵۴) رضائے الٰہی حاصل کرنے اور ہدایت پانے کی ضرورت جس طرح رسول اللہ ﷺ کے ہم عہد لوگوںکو تھی اسی طرح آج کے لوگوں کو بھی ہے، اور قیامت تک جو لوگ آئیں گے ان سب کو رہے گی۔ پس جب یہ دونوں چیزیں رسولؐ اللہ کے اتباع اور آپ کے نمونۂ حیات کی تقلید کے ساتھ وابستہ ہیں تو لازم ہوا کہ سیرتِ نبوی کے وہ پاک نمونے اور زبانِ وحی ترجمان کے وہ مقدّس احکام بھی قرآن کے ساتھ ساتھ باقی رہیں جن سے رسولِ اکرم ﷺ کے ہم عہد لوگوں نے ہدایت پائی تھی، ورنہ بعد کی نسلوں کے لیے ہدایت ناقص رہ جائے گی۔
میں نے ’’ہدایت ناقص رہ جائے گی ‘‘ کے الفاظ بہت ہی نرم استعمال کیے ہیں۔ تنزیل کتب کے ساتھ رسالت کا جو ناقابلِ انقطاع رشتہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے، اور اس باب میں اللہ تعالیٰ کی جو غیر متبدل سنت ابتداسے چلی آرہی ہے اس کا لحاظ کرتے ہوئے تو مجھے کہنا چاہیے تھا کہ اگر اسوۂ رسول باقی نہ رہتا، اگر رسول اللہ ﷺ کے احکام باقی نہ رہتے، اگر ہدایت کا وہ پاک سرچشمہ بند ہوجاتا جو رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں تھا، تو محض کتاب اللہ سے دنیا کی ہدایت ہوہی نہیں سکتی تھی۔ اس لیے کہ رسالت کے آثار مٹ جانے کے بعد کتاب اللہ کا باقی رہ جانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے رسول کے بغیر کتاب اللہ کا نازل ہونا۔ اگر کتاب کی تنزیل کے بعد آثارِ رسالت کے باقی رہنے کی ضرورت نہیں ہے تو سرے سے تنزیل کے لیے رسالت ہی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خدا کی حکمت پر کھلا ہوا طعن ہے اور اگر تنزیل کے ساتھ رسالت کا ہونا لازم ہے، تو یقینا اس کے ساتھ آثار رسالت کا رہنا بھی لازم ہے۔ بغیر آثارِ رسالت کے تنہا کتاب اللہ موجب ہدایت نہیں ہوسکتی۔ اس کی وجہ آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آثارِ رسالت محو ہوجاتے تو مسلمانوں کا حشران قوموں کا سا ہوجاتا جن کے پاس بجز افسانوں کے اور کچھ نہیں ہے۔ لوگ کہتے کہ جس شخص پر تمہارے قول کے مطابق یہ کتاب نازل ہوئی ہے اس کے حالات تو بتائو کہ ہم ان کو جانچ کر دیکھیں کہ آیا فی الواقع وہ رسولِ خدا ہونے کے قابل تھا بھی یا نہیں۔ مگر ہم انھیں کچھ نہ بتا سکتے۔ لوگ پوچھتے کہ تمہارے پاس قرآن کے دعوے کی تائید میں کون سی ایسی خارجی شہادت ہے جس سے تمہارے نبی کی نبوت ثابت ہوسکتی ہے؟مگر ہم کوئی شہادت نہ پیش کرسکتے۔ ہم کو خود یہ نہ معلوم ہوسکتا کہ کب اور کن حالات میں قرآن نازل ہوا، کس طرح رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور آپؐ کی پاک زندگی کو دیکھ کر لوگ فوج در فوج ایمان لائے، کس طرح آپؐ نے نفوس کا تزکیہ کیا، حکمت کی تعلیم دی اور آیاتِ الٰہی کی تلاوت سے معرفتِ حق کا نور پھیلا یا، کس طرح آپؐ نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں تنظیم اور اصلاح کا وہ زبردست کام انجام دیا اور شریعت کا وہ ہمہ گیر اور حکیمانہ ضابطہ بنایا جو محض انسانی عقل کے بس کا کام نہیں ہے اور جو اس بات کا ناقابلِ انکار ثبوت ہے کہ آپ حقیقت میں اللہ کے رسول تھے۔ یہی نہیں بلکہ اگر وہ روایات نہ ہوتیں جو منکرین حدیث کے نزدیک دریا برد کردینے کے قابل ہیں تو ہم قرآن کی سند اس کے لانے والے تک نہ پہنچا سکتے۔ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ ہوتا کہ یہ قرآن حقیقت میں وہی ہے اور اسی عبارت میں ہے جس میں رسولؐ اللہ پر نازل ہوا تھا۔ ہماری اس کتاب کی وہی حیثیت رہ جاتی جو زند، اوستا، گیتا، ویدوں اور بدھ مذہب کی کتابوں کی حیثیت ہے۔ اسی طرح ہماری مذہبی زندگی کے جتنے اعمال اور جتنے اصول و قوانین ہیں، یہ بھی سب کے سب بے سند ہو کر رہ جاتے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے اعمال جس صورت میں ادا کیے جاتے ہیں ان کے متعلق ہم نہ بتاسکتے، اور خود نہ جانتے کہ یہ سب رسولؐ اللہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہیں۔ منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ ان سب اعمال کے لیے ’’سنتِ متواترہ‘‘ کافی ہے۔ مگر مدوّن اور مستند روایات کی غیر موجودگی میں اس ’’سنتِ متواترہ‘‘ کی حیثیت بجز اس کے اور کیا ہوتی کہ اگلوں سے پچھلوں تک نسلاً بعد نسلٍ ایسا ہوتا چلا آیا ہے؟ اس قسم کی متواتر سنتیں تو ہندوئوں ، بودھوں اور دوسری قوموں میں بھی ہیں۔ وہ سب یہی کہتے ہیں کہ جو عبادتیں ہم کرتے ہیں اور جو رسمیں ہم میں جاری ہیں وہ بزرگوں سے یونہی چلی آرہی ہیں۔ مگر کیا آج ان کی سنتِ متواترہ پر دنیا اور خود ان قوموں کے روشن خیال لوگوں میں یہ شبہ نہیں کیا جاتا کہ خدا جانے ان طریقوں کی اصل کیا تھی اور امتدادِ زمانہ کے ساتھ وہ کس طرح بدلتے چلے گئے؟ کیا ان تمام طریقوں پر آج رسوم پرستی کی پھبتی نہیں اڑائی جاتی؟ اگر کوئی شخص ان میں تغیر کرکے کوئی نئی بدعت ایجاد کرنا چاہے تو کیا ان کے پاس اس بدعت کے خلاف کوئی حجت بجز اس ایک دلیل کے موجود ہے کہ جو کچھ باپ دادا کرتے چلے آرہے ہیں اس میں تغیر نہیں ہوسکتا؟ پھر اگر منکرینِ حدیث کی خواہش کے مطابق ہمارے ہاں بھی ایسی مسلسل ، مستند اور مرتّب روایات نہ ہوتیں جو ہمارے عہد سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے عہد تک ہر واقعہ یا ہر قول کی سند بہم پہنچادیتی ہیں اور اگر ہمارے پاس بھی صرف عملِ متواتر ہی باقی رہ جاتا ، تو ہمارے مذہبی اعمال اور معتقدات کا حال ان طریقوں اور ان اوہام سے کچھ مختلف نہ ہوتا جو ہندئووں اور دوسری قوموں میں پائے جاتے ہیں اور جن کو ’’رسوم‘‘ اور ’’مذہبی افسانوں‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(خود مسلمانوں میں عرسوں ، نیازوں اور شادی و غمی کی رسموں کا جو سلسلہ آج چل رہا ہے، حدیث کی غیر موجودگی میں ان سب کو بھی ’’سنتِ متواترہ‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اور انکارِ حدیث کے بعد ان ’’متواتر سنتوں‘‘ کی تردید نہیں کی جاسکتی۔) غور کیجیے، یہ اسلام کے لیے قوت اور استحکام کا سبب ہوتا یا کمزوری و نااستواری کا سبب؟
اس بحث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ سنتِ رسول کا رہنا قطعاً ضروری اور ناگزیر ہے۔ اب اس سوال کی طرف آئیے کہ سنتِ رسول کے ہم تک پہنچنے کی صورت کیا ہے اور کیا ہوسکتی ہے؟ یہ بالکل ظاہر ہے کہ نبیﷺ نے بعثت سے رحلت تک تقریباً ربع صدی کا جو زمانہ بسر کیا وہ محض قرآن پڑھنے اورسنانے ہی میں بسر نہیں ہوا ہوگا، بلکہ آپؐ تلاوتِ آیات کے علاوہ بھی شب و روز اپنے دین کی تبلیغ فرماتے رہتے ہوں گے، گمراہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش بھی فرماتے ہوں گے، ایمان لانے والوں کو تعلیم بھی دیتے ہوں گے، اور اپنی عبادات، اپنے اخلاق ، اور اپنے اعمالِ حسنہ کا نمونہ پیش کرکے لوگوں کی تربیت اور اصلاح کرنے میں مشغول رہتے ہوں گے۔ خود قرآن میں فرمایا گیا ہے یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔ (البقرہ: ۱۵۱) نیز قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معلّمانہ زندگی ایسی شدید مصروفیت میں بسر ہوتی تھی کہ آپ کو اپنے آرام کا ذرہ برابر خیال نہ تھا، ہر لمحہ یا تو عبادات میں بسر ہوتا تھا یا وعظ و نصیحت اور تعلیمِ حکمت اور تزکیۂ نفوس میں۔ حتیّٰ کہ بار بار اللہ تعالیٰ آپؐ سے فرماتا تھا کہ آپ اس قدر محنت کیوں کرتے ہیں؟ اپنے آپ کو ہلاک کیوں کیے ڈالتے ہیں؟
اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسی سرگرم مُبلّغانہ زندگی میں آیاتِ قرآنی کے سوا کوئی بات بھی آپؐ کی زبان سے ایسی نہ نکلتی تھی جو یاد رکھنے اور بیان کرنے کے قابل ہوتی؟ کوئی کام بھی آپ کی زندگی کا ایسا نہ تھا جس کو لوگ اپنے لیے نمونہ سمجھتے اور دوسروں کو اس پاکیزہ نمونہ کی تقلید کا مشورہ دیتے؟ آپؐ کے اقوال و اعمال کے متعلق تو اہلِ ایمان کا اعتقاد تھا اور قرآن نے بھی ان کو یہی اعتقاد رکھنے کا حکم دیا تھا کہ آپ کا ہر ارشاد برحق ہے۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی (النجم: ۳) اور آپ کا ہر عمل واجب التقلید ہے، لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب: ۲۱) ظاہر ہے کہ یہ اعتقاد رکھتے ہوئے تو مسلمان یقینا آں حضرت ﷺ کے ہر ارشاد کو دل سے سنتے ہوں گے ، ہرعمل پر نگاہ رکھتے ہوں گے، اور آپس میں ایک دوسرے کے سامنے حضوؐر کے اقوال و اعمال کے چرچے کرتے ہوں گے۔ جہاںرسالت اور کسی قسم کے تقدس کا اعتقاد نہیں ہوتا وہاں بھی بڑے لوگوں کی باتوں اور حرکات و سکنات پر لوگ نظر رکھتے ہیں اور ان کے اقوال و اعمال کے چرچے کیا کرتے ہیں۔ پھر کیوںکر ممکن تھاکہ صحابہ کرام جس مقدس انسان کو خدا کا رسول اور اسلام کا مکمل نمونہ سمجھتے تھے اس سے صرف قرآن لے لیتے اور اس کے دوسرے تمام ارشادات اور اس کے تمام اعمال کی طرف سے کان اور آنکھیں بند کرلیتے۔
اس زمانہ میں فوٹوگرافی کے آلات نہ تھے کہ آں حضرت ﷺ کی تمام حرکات و سکنات کے فلم لے لیے جاتے۔نہ آواز بھرنے کے آلات تھے کہ آپ کی تقریروں کے ریکارڈ بھر کر رکھ لیے جاتے۔ نہ مکہ و مدینہ سے اخبارات نکلتے تھے کہ روزانہ آپ کی تبلیغی سرگرمیوں اور آپ کے اعمالِ حیات کی رپورٹیں شائع ہوتیں۔ ضبط اور نقل کا ذریعہ جو کچھ بھی تھا وہ لوگوں کا حافظہ اور زبانیں تھیں۔ قدیم زمانہ میں نہ صرف عرب بلکہ تمام قوموں کے پاس واقعات کو محفوظ رکھنے اور بعد کی نسلوں تک پہنچانے کا یہی ایک ذریعہ تھا۔ مگر عرب خصوصیت کے ساتھ اپنے حافظہ اور صحتِ نقلِ میں ممتاز تھے،اور ان کی یہ خصوصیت ایسی تھی کہ شاید ان حضرات کے فون کریمر کو بھی اس سے انکار نہ ہو، جو قوم ایّام العرب ، کلامِ جاہلیّت، انسابِ قبائل حتیٰ کہ اونٹوں اور گھوڑوں تک کے نسب نامے یاد کرتی ہو اور اپنی اولاد کو یاد کراتی ہو، اس سے بعید تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ جیسی عظیم الشان شخصیّت کے حالات اور آپ کے ارشادات کو یاد نہ رکھتی اور آنے والی نسلوں تک انھیں منتقل نہ کرتی۔
پھر جب آں حضرت ﷺ کا وصال ہواتوفطری بات تھی کہ لوگوں میں آپ کے احوال و اقوال کی جستجو اور زیادہ بڑھ جاتی۔ جو لوگ حضوؐر کی زیارت اور صحبت سے محروم رہ گئے تھے ان میں یہ شوق پیدا ہونا بالکل فطری امر تھا کہ آپ کے صحبت یافتہ بزرگوں سے آپؐ کے ارشادات اور آپؐ کے حالات پوچھیں۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی پیر مرد ایسا نکل آتا ہے جس نے پچھلی صدی کے اکابر میں سے کسی نامور بڑے شخص کی صحبت پائی ہو تو لوگ اس کے پاس جاتے ہیں اور اس کے حالات دریافت کرتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے شمالی ہندوستان سے حیدر آباد کا سفر اس غرض کے لیے کیا کہ اگر کوئی پرانا آدمی ایسا مل جائے جس نے سید جمال الدین افغانی کی صحبت پائی ہو تو اس سے سید صاحب کے حالات معلوم کریں۔ یہ معاملہ جب معمولی انسانوں کے ساتھ پیش آتا ہے تو کیا یہ ممکن تھا کہ خدا کے سب سے بڑے پیغمبر ؐ اور دنیا کے سب سے بڑے معلّمؐ کی وفات کے بعدمسلمانوں میں اس کے حالات پوچھنے اور اس کے ارشادات سے مستفید ہونے کی کوئی خواہش نہ ہوتی ؟ کیا تاریخ کے ان واقعات میں کوئی استبعاد ہے کہ لوگ جہاں کسی صحابی کی خبر پالیتے وہاں سیکڑوں میل سے سفر کرکے جاتے اور آں حضرت ﷺکے حالات پوچھتے؟ یہی معاملہ یقینا صحابہ کے بعد تابعین کے ساتھ پیش آیا ہوگا۔ کم از کم دو صدی تک سماعتِ حدیث اور نقلِ حدیث کا غیر معمولی شغف مسلمانوں میں پایا جانا یقینی ہے اور یہ بات نہ صرف قیاس کے عین مطابق ہے، بلکہ تاریخ بھی اس بات کی شہادت دیتی ہے۔ منکرینِ حدیث قیاس عقلی سے تو کام ہی نہیں لیتے ۔ رہی تاریخ، تو وہ اس کے صرف اسی حصہ کو مانتے ہیں جس سے انکارِ حدیث کے لیے مواد مل سکتا ہو۔ اس کے سوا تاریخ کی جتنی شہادتیں ہیں سب ان کے نزدیک نامعتبر ہیں۔ لیکن جن لوگوں میں انکارِ حدیث کے لیے ضد پیدا نہیں ہوئی ہے وہ یقینا اس بات کو تسلیم کرلیں گے کہ نبی اکرم ﷺ کی زبردست شخصیت اور آپؐ کی تابناک پیغمبرانہ زندگی اتنی ناقابل اعتنا تو نہ تھی کہ مسلمانوں میں کم از کم دو سو برس تک بھی آپ کے حالات معلوم کرنے اور آپ کے ارشادات سننے کا عام شوق نہ رہتا۔ اس سے انکار کرنے کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ قرونِ اولیٰ کے لوگوں پر رسول اللہ ﷺ کا کوئی اثر نہ تھا، اور وہ لوگ بھی آپ کی جانب کوئی توجہ نہ رکھتے تھے جو آپ کی رسالت کے قائل ہوچکے تھے۔ منکرینِ حدیث کو اختیار ہے کہ رسولؐ کی ذات اور ان لوگوں کے متعلق جو آپ سے قریب تر تھے یہ یا اس سے بھی زیادہ بری کوئی رائے قائم کرلیں۔مگر ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی مسلمان تو کجا، اسلامی تاریخ اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا کوئی منصف مزاج غیر مسلم بھی اس رائے کو صحیح باور نہ کرے گا۔
اس میں شک نہیں کہ عہدِ رسالت سے دور ہونے کے بعد مسلمانوں میں بیرونی اثرات بھی داخل ہونے لگے تھے، اور یہ اثرات بیشتروہ لوگ اپنے ساتھ لائے تھے جنھوں نے عراق، ایران ، شام اور مصر میں مذہب اسلام قبول تو کرلیا تھا مگر قدیم مذہب کے تخیلات ان کے ذہن سے محو نہ ہوئے تھے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوگیا تھا جو اپنے دل سے گھڑ کر باتیں نکالتا تھا اور محض لوگوں پر اثر قائم کرنے کے لیے ان باتوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردیتا تھا۔ یہ دونوں باتیں تاریخ سے بھی ثابت ہیں اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا ضرور ہوا ہوگا۔مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کیا درست ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں سب کے سب ایسے ہی لوگ تھے؟ سب جھوٹے اور بے ایمان تھے؟ سب ایسے منافق تھے کہ اسی ہستی پر بہتان گھڑتے جس کی رسالت پر وہ دن بھر میں کم از کم پانچ مرتبہ گواہی دیا کرتے تھے؟ سب ایسے دشمن حق تھے کہ دنیا بھر کی خرافات لے کر رسولؐ کے نام سے خدا کے دین میں داخل کرتے اور اس کی جڑیں کاٹتے؟ یہ نتیجہ نہ عقلاً نکالا جاسکتا ہے اور نہ تاریخ اس کی تائید کرتی ہے اور جب یہ صحیح نہیں ہے تو صداقت کے ساتھ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی کے آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصّہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں، اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچی ہیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب قسم کی حدیثیں ملی جلی تھیں۔
کھرے اور کھوٹے کی اس آمیزش کے بعد صحیح طریق کار کیا تھا؟ کیا یہ صحیح ہوسکتا تھا کہ آمیزش کی بنا پر صحیح اور غلط سب کو ایک ساتھ رد کردیا جاتا، اور بعد کے مسلمان رسالت سے اپنا تعلق منقطع کرلیتے؟ منکرین حدیث اس کو ایک آسان بات سمجھتے ہیں۔ مگر جو لوگ قرآن پر ایمان رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات کو اسوۂ حسنہ سمجھتے تھے، اور جن کے نزدیک حضوؐر کی پیروی کے بغیر ہدایت کا میسّر ہونا ممکن نہ تھا، ان کے لیے ایسا کرنا بہت دشوار تھا۔ اتنا دشوار جتنا کسی کے لیے برضا و رغبت آگ میں کود پڑنا ہوسکتا ہے۔ انھوں نے سب کو رد کردینے کی بہ نسبت پہاڑ کھود کر جواہر نکالنے کی مشقّت کو زیادہ آسان سمجھا۔ رسالت سے اپنا اور مسلمانوں کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے شب و روز محنتیں کیں۔ حدیثوں کو جانچنے اور پرکھنے کے اصول بنائے۔ کھرے کوکھوٹے سے ممتاز کیا۔ ایک طرف اصولِ روایت کے اعتبار سے حدیثوں کی تنقیح کی، دوسری طرف ہزاروں لاکھوں راویوں کے احوال کی جانچ پڑتال کی۔ تیسری طرف درایت کے اعتبار سے حدیثوں پر نقد کیا۔ اور اس طرح سنتِ رسول کے متعلق ان لوگوں نے ایک ایسا ذخیرہ فراہم کردیا جس کے برابر مستند اور معتبر ذخیرہ آج دنیا میں گزشتہ زمانے کے کسی شخص اور کسی عہد کے متعلق موجود نہیں ہے۔ منکرینِ حدیث کو آزادی ہے کہ ان کی ساری محنتوں پر بیک جنبشِ قلم پانی پھیردیں۔ منکرین حدیث کو اختیار ہے کہ دین کے ان سچے خادموں کو وضّاعِ حدیث، پروردگانِ عجم، زلہ ربایانِ بنی اُمیّہ و بنی عبّاس( یہ سب القاب منکرین حدیث نے ائمۂ حدیث کے لیے استعمال فرمائے ہیں۔) اور جو کچھ چاہیں کہیں لیکن حق یہ ہے کہ مسلمانوں پر ان محدّثین کا اتنا بڑا احسان ہے کہ وہ قیامت تک اس بار سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے بھردے، یہ انہی عاشقانِ رسول کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے پاس رسولؐ اکرم اور صحابہ کرامؓ کے عہد کی پوری تاریخ اپنے جزئیات کے ساتھ موجود ہے اور وہ وسائل بھی ہمارے پاس موجود ہیں جن سے ہم حدیث کے ذخیرے کی جانچ پڑتال کرکے آج بھی واقعات کی صحیح صحیح تحقیق کرسکتے ہیں۔ منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ بجز متواتر روایات کے (جو بہت کم ہیں) باقی جتنی احادیث ہیں یقینی نہیں ہیں، ان سے علمِ یقین حاصل نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے زیادہ ظنِ غالب حاصل ہوتا ہے، پھر ایسی چیزوںپر مذہب کا مدار رکھنا کیا معنی ؟ ہم کہتے ہیں کہ مشاہدۂ عینی اور تجربۂ حسّی کے سوا دنیا میں کوئی ذریعہ بھی ایسا نہیں ہے جو مفید یقین ہوسکتا ہو۔ تو اتر کوبھی محض اس قیاس کی بنا پر یقینی سمجھا جاتا ہے کہ بہت سے آدمیوں کا جھوٹ پر متفق ہوجانا مستبعد ہے۔ لیکن خبرِ متواتر کے لیے جو شرائط ہیں وہ بہت کم ایسی خبروں میں پائی جاتی ہیں جن پر تواتر کا گمان ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر امورِ غیب ہیں خواہ وہ زمانہ ماضی سے تعلق رکھتے ہوں یا حال سے، ہمارے علم اور ہمارے فیصلوں کا مدار اسی ظنِ غالب پر ہے جو کم از کم دو شہادتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ خود قرآن نے اسی شہادت کو اتنا معتبر قرار دیا ہے کہ اس کی بنا پر ایک مسلمان کا خون مباح ہوسکتا ہے۔ حالانکہ قرآن کی رو سے مسلمان کا خون اتنا محترم ہے کہ جو کوئی مسلمان کو عمداً قتل کردے اسے خلودفی النار کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح زنا، قذف اور سرقہ کی حدود میں بھی ایسے اہم فیصلہ جات کا مدار صرف دو یا چار شہادتوں پر رکھا گیا ہے جن سے ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹ دیا جاسکتا ہے، یا ایک مسلمان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاسکتے ہیں ۔ پس جب قرآن مجید میں غیر متواتر شہادتوں ہی پر پورے نظامِ عدل کی بنیاد رکھی گئی ہے تو قرآن کے مقابلہ میں کس مسلمان کو یہ کہنے کی جرأت ہوسکتی ہے کہ کسی حدیث کو حدیثِ رسول مان لینے کے لیے ہر مرتبہ اسناد میں دو چار راویوں کا ہونا کافی نہیں ہے؟ البتہ راویوں میں سے ہم ہر راوی پر اعتماد نہ کریں گے، جس طرح شاہدوں میں سے ہر شاہد کا اعتبار نہیں کرتے۔ ہم حکمِ قرآن کے بموجب ذواعدل کی شرط لگاتے ہیں اور اسی کی تحقیق کے لیے اسماء الرجال کا فن ایجاد کیا گیا، تاکہ راویوں کے حالات کی تحقیق کی جائے۔ اسی طرح ہم راویوں پر جرح بھی کریں گے کہ حدیث کے جو ہری نکات میں ان کے درمیان ایسا اختلاف تو نہیں ہے جو ان کے بیان کی صحت کو مشکوک کردیتا ہو؟ اسی طرح ہم درایت سے بھی کام لیں گے جیسے ایک جج مقدمات میں درایت سے کام لیتا ہے۔( فنِ حدیث میں درایت کی حیثیت وہی ہے جو قانون میںجج کی رائے اور قوتِ فیصلہ کی ہے ۔ جس طرح جج ہر گواہ کے بیان کو یونہی قبول نہیں کرلیتا بلکہ اس کو مختلف پہلوئوں سے جانچ کر رائے قائم کرتا ہے اسی طرح ایک محدث بھی ہر روایت کو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کرتا بلکہ جانچ پڑتال کرکے اس کے متعلق رائے قائم کرتا ہے۔
) مگر جس طرح شاہدوںکے بیانات کا جانچنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، اسی طرح درایت بھی بچوں کا کھیل نہیں ہے، حدیث کو اصولِ درایت پر وہی شخص جانچ سکتا ہے جس نے قرآن کا علم حاصل کرکے اسلام کے اصولِ اولیہ کو خوب سمجھ لیا ہو، اور جس نے حدیث کے بیشتر ذخیرہ کا گہرا مطالعہ کرکے احادیث کو پرکھنے کی نظر بہم پہنچائی ہو۔ کثرتِ مطالعہ اور ممارست سے انسان میں ایسا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج شناس ہوجاتا ہے اور اسلام کی صحیح روح اس کے دل و دماغ میں بس جاتی ہے۔ پھر وہ ایک حدیث کو دیکھ کر اوّل نظر میں سمجھ لیتا ہے کہ آیا رسول اللہ ﷺ ایسا فرماسکتے تھے یا نہیں؟ یا آپ کا عمل ایسا ہوسکتا تھا یا نہیں؟ پھر جس طرح ایک معاملہ میں دو قاضیوں کا اجتہاد مختلف ہوتا ہے اور جس طرح قرآن مجید کے معانی میں دو فاضلوں کی تفسیریں مختلف ہوسکتی ہیں، اسی طرح دو محدثوں کی درایت میں بھی اختلاف ممکن ہے۔ خدا نے ہم کو انسانی طاقت سے زیادہ کسی چیز کا مکلّف قرار نہیں دیا ہے۔ اختلاف رائے انسانی فطرت کا مقتضی ہے، اور اس کی وجہ سے نہ قرآن چھوڑا جاسکتا ہے، نہ حدیث ، اور نہ عدالت کی کرسی۔ پس ایک حدیث کے متعلق جس حد تک تحقیق انسان کے بس میں ہے، اس کا سامان محدثین نے فراہم کردیا ہے۔ ہمارا کام اس سامان سے فائدہ اٹھا کر صحیح کو غلط سے ممتاز کرنا اور صحیح کا اتباع کرنا ہے۔ نہ یہ کہ صحیح و غلط کے اختلاط کو دیکھ کر سرے سے رسالت ہی سے قطع تعلق کرلینا۔
منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ ہم حدیث کو صرف تاریخ ہی کی حیثیت سے لیں گے حجتِ شرعی نہ بنائیں گے۔مگر کیا ان حضرات نے رسول کی تاریخ کو سکندر اور نپولین کی تاریخ سمجھا ہے کہ اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو؟ کیا وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ اس انسان کی تاریخ ہے جس کا اتباع فرض ہے، جس کی اطاعت پر نجات کا مدار ہے، جس کی سیرت مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے؟ اس ذاتِ پا ک کی تاریخ دو حال سے خالی نہیں ہوسکتی، یا صحیح ہوگی یا غلط اگر غلط ہے تو اس کو لینا کیا معنی نذرِ آتش کردیجیے۔ رسول پر بہتان اور آپ اس کو تاریخ کی حیثیت سے قبول کریں؟ اور اگر وہ صحیح ہے تو اس کا اتباع فرض ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے اس کی پیروی سے آپ بچ کر کہاں جاسکتے ہیں؟

منکرین حدیث کا استدلال اور اس کا اِبطال

انکارِ حدیث کی بنیاد تین بڑے اعتراضات پر رکھی گئی ہے۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے احادیث کو لکھنے سے منع کردیا تھا۔ دوسرے یہ کہ حضوؐر کے زمانے میں اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی قرآن کو محفوظ کرنے کا تو اہتمام کیا گیا، مگر احادیث کے محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ تیسرے یہ کہ احادیث صحابہ اور تابعین کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں۔ وہ کبھی کبھار اتفاقاً کسی کے سامنے ان کا ذکر کردیا کرتے تھے، اور ان روایات کو جمع کرنے کا کام حضوؐر کی وفات کے چند سو برس بعد کیا گیا۔ ان تین خلافِ واقعہ بنیادوں پر بعض حضرات سوالیہ انداز میں اس نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ احادیث کے ساتھ یہ برتائو اس لیے کیا گیا کہ دراصل وہ محض ایک وقتی حیثیت رکھتی تھیں، دنیا بھر کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ان کو ماخذِ قانون بنانا سرے سے مطلوب ہی نہ تھا۔
سطور ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ان تینوں باتوں میں، جن پر اس نتیجے کی بنا رکھی گئی ہے ، صداقت کا جوہر کس قدر ہے؟ اور خود وہ نتیجہ جو ان سے برآمد کیا گیا ہے، بجائے خود کہاں تک صحیح ہے؟

کتابتِ حدیث کی ابتدائی ممانعت اور اس کے وجوہ

رسول اللہ ﷺ کی دو حدیثوں میں، صرف احادیث لکھنے سے منع کیا گیا ہے، ان کو زبانی روایت کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ان میں سے ایک حدیث میں تو بالفاظِ صریح حضوؐر نے فرمایا ہے حَدِّ ثُوْا عَنِّیْ وَلَاحَرَجٌ میری باتیں زبانی بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن دراصل یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ صرف ان دو حدیثوں کو لے کر ان سے نتائج اخذ کرڈالے جائیں، اور اس سلسلے کے تمام دوسرے متعلقہ واقعات کو نظر انداز کردیا جائے۔ پہلی بات جو اس باب میں جاننی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ جس زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں اس وقت عرب کی پوری قوم اَن پڑھ تھی اور اپنے سارے معاملات حافظے اور زبان سے چلاتی تھی۔ قریش جیسے ترقی یافتہ قبیلے کا حال مؤرخ بلاذری کی روایت کے مطابق یہ تھا کہ اس میں صرف ۱۷ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ مدینہ کے انصار میں بلاذری ہی کے بقول ۱۱ سے زیادہ آدمیوں کو لکھنا پڑھنا نہ آتا تھا۔ کتابت کے لیے کاغذ ناپید تھا۔ جھلّیوں اور ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر تحریریں لکھی جاتی تھیں۔ ان حالات میں جب حضوؐر مبعوث ہوئے تو آپؐ کے سامنے اوّلین کام یہ تھا کہ قرآن مجید کو اس طرح محفوظ کریں کہ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ لکھنے والے چونکہ گنے چنے آدمی تھے، اس لیے آپ کو خطرہ تھا کہ جو لوگ وحی کے الفاظ اور آیات لکھ رہے ہیں، وہی لوگ اگر آپؐ ہی سے سن کر آپ کے حوالہ سے دوسری چیزیں بھی لکھیں گے تو قرآن آمیزش سے نہ بچ سکے گا۔ آمیزش نہ ہوگی تو کم از کم شک پڑجائے گا کہ ایک چیز آیتِ قرآنی ہے یا حدیثِ رسول۔ اس بنا پر ابتدائی دور میں حضوؐر نے احادیث لکھنے سے منع فرمادیا تھا۔

کتابت ِ حدیث کی عام اجازت

مگر یہ حالت زیادہ دیر تک باقی نہیں رہی۔ مدینہ طیّبہ پہنچنے کے تھوڑی مدت بعد آپ نے اپنے صحابہ اور ان کے بچوں کو لکھنے پڑھنے کی تعلیم دلوانے کا خود اہتمام فرمایا، اور جب ایک اچھی خاصی تعداد پڑھی لکھی ہوگئی تو احادیث لکھنے کی آپؐ نے اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں مستند روایات یہ ہیں:
(۱) عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا وہ لکھ لیتا تھا۔ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا رسولؐ اللہ ایک انسان ہیں، کبھی رضا کی حالت میں بولتے ہیں اور کبھی غضب کی حالت میں، تم سب کچھ لکھ ڈالتے ہو؟ اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک حضورؐ سے پوچھ نہ لوں آپؐ کی کوئی بات نہ لکھوں گا۔ پھر جب حضوؐر سے میں نے پوچھا تو آپ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا یَخْرُجُ مِنْہُ اِلَّا حَقٌّ۔ ’’لکھو،اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘
(ابودائود،مسند احمد،دارمی حاکم، بیہقی فی المدخل)
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَاَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَا: ثَنَآ یَحْیٰ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ الْاَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِیْدِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مُغِیْثٍ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَا ہِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و، قَالَ: کُنْتُ اَکْتُبُ کُلَّ شَیْیٍٔ اَسْمَعُہٗ مِنْ رَّسُولِ اللّٰہِ ﷺ اُرِیْدُ حِفْظَہٗ فَنَہَتْنِیْ قُرَیْشٌ وَقَالُوْا اَتَکْتُبُ کُلَّ شَیْیٍٔ تَسْمَعُہٗ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَشَرٌیَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَا فَاَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَاَؤْ مَأَ بِاِصْبَعِہٖ اِلیٰ فِیْہِ فَقَالَ: اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَایَخْرُجُ مِنْہٗ اِلَّا حَقٌّ۔(۱)
(۲) ابوہریرہؓ کہتے ہیں ، انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا۔ ’’میں آپؐ سے بہت سی باتیں سنتا ہوں مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَاَوْمَأَبِیَدِہٖ اِلیٰ الْخَطِّ ’’اپنے ہاتھ سے مدد لو‘‘اور پھر ہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ ’’لکھ لیا کرو۔‘‘ (ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا اللَّیْثُ، عَنِ الْخَلِیْلِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ رَجَلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ یَجْلِسُ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَیَسْمَعُ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ الْحَدِیْثَ فَیُعْجِبُہٗ وَلَا یَحْفَظُہٗ فَشَکَا ذٰلِکَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ لَاَسْمَعُ مِنْکَ الْحَدِیْثَ فَیُعْجِبُنِیْ وَلَا اَحْفَظُہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَاَوْمَأَبِیَدِہِ الْخَطَّ۔ (۲)
(۳) ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک خطبہ دیا۔ بعد میں (یمن کے ایک صاحب) ابوشاہ نے عرض کیا کہ میرے لیے اسے لکھوادیجیے۔ حضوؐر نے فرمایا اکتبوا لابی شاہ ’’ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔‘‘ (بخاری ، احمد، ترمذی) اسی واقعہ کی تفصیل ہے جو حضرت ابوہریرہؓ کی ایک دوسری روایت میں یوں بیان ہوئی ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضوؐر نے ایک خطبہ دیا جس میں حرمِ مکّہ کے احکام اور قتل کے معاملہ میں چند قوانین بیان فرمائے۔ اہل یمن میں سے ایک شخص (ابو شاہ) نے اٹھ کر عرض کیا کہ یہ احکام مجھے لکھوادیں۔ آپ نے فرمایا ’’اسے یہ احکام لکھ کر دے دیے جائیں۔‘‘ (بخاری ،ابودائود: کتا ب العلم)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو نُعَیْمٍ اَلْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، قَالَ: ثَنَا شَیْبَانٌ، عَنْ یحْیٰ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوْا رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیْلٍ مِّنْہُمْ قَتَلُوْہُ، فَاُخْبِرَبِذَالِکَ النَّبِیُّ ﷺ فَرَکِبَ رَاحِلَتَہٗ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْقَتْلَ اَوِالْفِیْلَ، قَالَ مُحَمَّدٌ وَاجْعَلُوْہُ عَلَی الشَّکِّ کَذَا، قَالَ اَبُوْ نُعَیْمٍ: الْقَتْلَ اَوِالْفِیْلَ وَغَیْرُہٗ یَقُوْلُ الْفِیْلَ وَسُلِّطَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اَلَا وَاِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَلَا تَحِلُّ لِاَحَدٍ بَعْدِیْ اَلَا وَاِنَّہَا حَلَّتْ لِیْ سَاعَۃً مِنْ نَّہَارٍ اَلَا وَاِنَّہَا سَاعَتِیْ وَہٰذِہٖ حَرَامٌ لَا یُخْتَلیٰ شَوْکُہَا وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلَاتُلْتَقَطُ سَاقِطُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ فَمَنْ قُتِلَ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظْرَیْنِ اِمَّا اَنْ یُعْقَلَ وَاِمَّااَنْ یُّقَادَاَہْلُ الْقَتِیْلِ فَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْیَمَنِ فَقَالَ اُکْتُبْ لِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ فُلَانٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ اِلَّا الْاِذْخِرُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاِنَّا نَجْعَلُہٗ فِیْ بُیُوْتِنَا وَقُبُوْرِنَا فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِلَّا الْاِذْخِرُ اِلَّا الْاِذْخِرُ۔(۳)
(۴) ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ صحابہ میں سے کوئی مجھ سے زیادہ حدیثیں نہ رکھتا تھا، مگر عبداللہ بن عمرو بن عاص اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس لیے کہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں نہ لکھتا تھا۔ (بخاری، مسلم ،ترمذی ، ابودائود، نسائی، مسند احمد)
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: ثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: ثَنَا عَمْرٌ و: قَالَ: اَخْبَرَنِیْ وَہْبُ بْنُ مُنَبِّہٍ، عَنْ اَخِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ، مَا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ اَحَدٌ اَکْثَرَ حَدِیْثاً عَنْہُ مِنِّیْ اِلَّا مَاکَانَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ وفَاِنَّہٗ کَانَ یَکْتُبُ وَلَااَکْتُبُ۔ تَابَعَہٗ مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔(۴)
(۵) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مختلف لوگوں نے پوچھا، اور ایک مرتبہ برسرِ منبر بھی آپ سے پوچھا گیا کہ آیا آپ کے پاس کوئی ایسا علم بھی ہے جو خاص طور پر آپ ہی کو نبی ﷺ نے دیا ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ میرے پاس صرف کتاب اللہ ہے ، اور یہ چند احکام ہیں جو میں نے حضورؐ سے سن کر لکھ لیے تھے پھر وہ تحریر آپ نے نکال کر دکھائی۔ اس میں زکوٰۃ، اور قانونِ تعزیرات، اور حرم مدینہ، اور ایسے ہی بعض اور معاملات کے متعلق چند احکام تھے۔
(بخاری، مسلم، احمد اور نسائی نے اس مضمون کے متعدد روایات مختلف سندوں کے ساتھ نقل کی ہیں)
اس کے علاوہ نبی ﷺ نے اپنے حکّام کو مختلف علاقوں کی طرف بھیجتے وقت متعدد مواقع پر فوجداری اور دیوانی قوانین اور زکوٰۃ اور میراث کے احکام لکھوا کر دیے تھے جن کو ابودائود ، نسائی، دارقطنی ، دارمی ، طبقات ابن سعد، کتاب الاموال لا بی عبید، کتاب الخراج لابی یوسف اور المحلّٰی لابنِ حزم وغیرہ کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

احادیث کو زبانی روایت کرنے کی تاکید

یہ تو ہے معاملہ کتابتِ حدیث کا۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، اہلِ عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ و روایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھے، اور یہی عادت ان کو اسلام کے ابتدائی دور میں بھی برسوں تک رہی۔ ان حالات میں قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے تو کتابت ضروری سمجھی گئی، کیونکہ اس کا لفظ لفظ آیات اور سورتوں کی ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی تھی، محفوظ کرنا مطلوب تھا۔ لیکن حدیث کے معاملہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کیونکہ اس میں مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا نہ دعویٰ تھا نہ تصور، بلکہ مقصود صرف ان احکام اور تعلیمات و ہدایات کو یادرکھنا اور پہنچانا تھا جو صحابہؓ کو حضور سے ملی تھیں۔اس باب میں زبانی نقل و روایت کی محض کھلی اجازت ہی نہ تھی بلکہ بکثرت احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو بار بار اور بکثرت اس کی تاکید فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر چند احادیث ملاحظہ ہوں:
(۱) زید بن ثابت ، عبداللہ بن مسعود، جبیر بن مطعم اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہم حضوؐر کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتّٰی یُبَلِّغَہٗ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلیٰ مَنْ ہُوَ اَفْقَہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ۔
’’اللہ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور دوسروں تک پہنچائے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچادیتا ہے جو اس سے زیادہ فقیہ ہو۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص خود فقیہ نہیں ہوتا مگر فقہ پہنچانے والا بن جاتا ہے۔‘‘ (ابودائود ، ترمذی، احمد، ابن ماجہ،دارمی)
تخریج: حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، ثنا یَحْیٰ، عَنْ شُعْبَۃَ، حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ سُلَیْمَانَ مِنْ وَّلَدِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبَانٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ زَیْدِبْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ، یَقُوْلُ: نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہٗ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ إلیٰ مَنْ ہُوَاَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَاصِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ۔ (۵)
حَدَثَّنَا مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلانَ، نا اَبُوْدَاودَ، انبانَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فَبَلَّغَہٗ کَمَا سَمِعَہٗ فَرُبَّ مُبَلِّغٍ اَوْعیٰ مِنْ سَامِعٍ۔ہٰذا حدیث حسن صحیح۔ (ترمذی حوالہ مذکورہ بالا)
(۲) ابوبکرہؓکہتے ہیں کہ حضوؐ رنے فرمایا: لِیُبَلِّغَ الْغَائِبَ الشَّاہِدُ عَسیٰ اَنْ یُبَلِّغَ مَنْ ہُوَاَ وْعیٰ مِنْہُ ۔’’ جو حاضر ہے وہ ان لوگوں تک پہنچادے جو حاضر نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی تک پہنچادے جو اس سے زیادہ سمائی رکھتا ہو۔
(بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ،قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثََنَا بْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ۔ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ﷺ قَعَدَ عَلیٰ بَعِیْرِہٖ وَاَمْسَکَ اِنْسَانٌ بِخطَا مِہٖ اَوْبِزِمَامہٖ، قَالَ: اَیُّ یَوْمٍ ہٰذَا؟ فَسَکَتْنَاحَتّٰی ضَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ سِوَی اسْمِہٖ، قَالَ: اَلَیسَ یَوْمُ النَّحْرِ؟ قُلْنَا بَلیٰ، قَالَ: اَیُّ شَہْرٍہٰذَا؟ فَسَکَتْنَا حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہٖ، قَالَ: اَلیْسَ بِذِی الْحِجَّۃِ؟ قُلْنَا بَلیٰ، قَالَ: فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ بَیْنَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ہٰذَا فِیْ بَلَدِ کُمْ ہٰذا لِیُبَلِّغَ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَاِنَّ الشَّاہِدَ عَسٰی اَنْ یُّبَلِّغَ مَنْ ہُمْ اَوْعیٰ لَہٗ مِنْہُ۔ (۶)
(۳) ابو شریح کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دوسرے دن حضوؐر نے خطبہ دیا جسے میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور خوب یاد رکھا ہے اور وہ موقع اب تک میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔ خطبہ ختم کرکے حضوؐر نے فرمایا وَلِیُبَلِّغَ الشَّاہِدُا لْغَائِبَ ’’جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک پہنچادیں جو حاضر نہیں ہیں۔‘‘ (بخاری)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ قَالَ حَدَّثَنِیْ سَعِیْدٌ ہُوَابْنُ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ اَنَّہٗ قَالَ لِعَمْرِوبْنِ سَعِیْدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبَعُوْثَ اِلیٰ مَکَّۃَ إئْذَنْ لِیْ اَیُّہَا الْاَمِیْرُ اُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ وَاَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حِیْنَ تَکَلَّمَ بِہٖ حَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلَا یَحِلُّ لِاَمْرِیٍٔ یُؤْمِنْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِاَنْ یَسْفِکَ بِہَادَمًا وَلَا یَعْضُدُ بِہَا شَجَرَۃًفَاِنْ اَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْہَا فَقُوْلُوْا اِنَّ اللّٰہَ قَدْاَذِنَ لِرَسُوْلِہٖ وَلَمْ یَاْذَنْ لَکُمْ وَاِنَّمَا اَذِنَ لِیْ فِیْہَا سَاعَۃً مِنْ نَّہَارٍ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالْاَمْسِ وَلَیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ الْحَدِیْث۔ (۷)
(۴) حجۃ الوداع کے موقع پر بھی تقریر ختم کرکے آپؐ نے قریب قریب وہی بات فرمائی تھی جو اوپر والی دونوں حدیثوں میں منقول ہوئی ہے۔ (بخاری)
(۵) بنی عبدالقیس کا وفد جب بحرین سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے چلتے وقت عرض کیا کہ ہم بہت دور دراز کے باشندے ہیں اور ہمارے اور آپؐ کے درمیان کفّار حائل ہیں۔ ہم صرف حرام مہینوں میں ہی حاضر خدمت ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا آپ ہمیں کچھ ایسی ہدایات دیں جو ہم واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو بتائیں اور جنت کے مستحق ہوں۔ حضوؐرنے جواب میں ان کو دین کے چند احکام بتائے اور فرمایا اِحْفَظُوْہُ وَاَخبِرُوْہُ مَنْ وَرَائَ کُمْ ’’ ان باتوں کو یاد کرلو اور وہاں کے لوگوں کو بتادو۔‘‘ (بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَاعَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِیْ جَمْرَۃَ، قَالَ: کُنْتُ اَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَیُجْلِسُنِیْ عَلیٰ سَرِیْرِہٖ، فَقَالَ: اَقِمْ عِنْدِیْ حَتّٰی اَجْعَلَ لَکَ سَہْمًا مِنْ مَّالِیْ فَاَقَمْتُ مَعَہٗ شَہْرَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ وَفْدَعَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا اَتَوُالنَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: مَنِ الْقَوْمُ اَوْمَنِ الْوَفْدُ ؟ قَالُوْا : رَبِیْعَۃٌ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ اَوْبِالْوَفْدِ غَیْرَخَزَایَا وَلَا نَدَامیٰ، فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا لَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَّاْتِیَکَ اِلَّا فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَفَمُرْنَا بِاَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْبِہٖ مَنْ وَّرَائَ نَا وَنَدْ خُلْ بِہِ الْجَنَّۃَ، وَسَأَلُوْہُ عَنِ الْاَشْرِ بَۃِ، فَاَمَرَہُمْ بِاَرْبَعٍ وَنَہَاہُمْ عَنْ اَرْبَعٍ، اَمَرَہُمْ بِالْاِیْمَانِ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ، قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَاالْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ؟ قَالُوا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: شَہَادَۃُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاِقَامَ الصَّلوٰۃِ وَاِیْتَائَ الزَّکوٰۃِ وَصِیَامَ رَمَضَانَ وَاَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ وَنَہَا ہُمْ عَنْ اَرْبَعٍ عَنِ الْحَنْتُمِ وَالدُّبَّآئِ وَالنَّقِیْرِ وَالْمُزَفَّتِ وَرُبَمَا قَالَ الْمَقِیْرِ، وَقَالَ احْفَظُوْ ہُنَّ وَاخْبِرُوْا بِہِنَّ مَنْ وَرَآئَ کُمْ۔ (۸)
کیا یہ ہدایات اور بار بار کی تاکیدیں یہی ظاہر کرتی ہیں کہ حضوؐر روایت حدیث کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہتے تھے؟ یا یہ کہ آپ اپنے احکام کو وقتی احکام سمجھتے تھے اور یہ نہ چاہتے تھے کہ لوگوں میں وہ پھیلیں اور عام حالات پر ان کا انطباق کیا جانے لگے؟

جھوٹی حدیث روایت کرنے پر سخت وعید

اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی حدیث کی نشر و اشاعت کے لیے تاکید فرماتے تھے، بلکہ اس کے ساتھ آپؐ نے ان کی حفاظت اور ان میں جھوٹ کی آمیزش سے احتراز کی بھی سخت تاکید فرمائی ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ ہوں:
عبداللہ بن عمروبن عاصؓ ، ابوہریرہؓ ، حضرت زبیرؓ اور حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ ’’جو شخص میرا نام لے کر قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘ (بخاری و ترمذی)
(۱) ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا حَدِّثُوْا عَنِّیْ، وَلَاحَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔’’میری باتیں روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں، مگر جو میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔‘‘ (مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَاہُدَّا بُ بْنُ خَالِدِنِ الْاَنْدِیُّ، نَاہَمَّامٌ عَنْ زَیْدِبْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَآئِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالخُدْرِیِّ، اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ وَمَنْ کَتَبَ عَنِّیْ غَیْرَ الْقُرْاٰنِ فَلْیُمْحِہٖ وَحَدِّثُوا عَنِّیْ وَلَا حَرَجَ۔ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ، قَالَ ہَمَّامٌ: اَحْسِبُہٗ، قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ، مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۹)
(۲) ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ اورجابرؓ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا : اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّیْ اِلَّا مَاعَلِمْتُمْ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔’’میری طرف سے کوئی بات بیان نہ کرو جب تک تمہیں یہ علم نہ ہو کہ میں نے وہ کہی ہے، کیونکہ جو میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)
تخریج: (الف)حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیْعٍ، نَاسُوَیْدُبْنُ عَمْرٍوالْکَلِبِیُّ، نَا اَبُوعَوَانَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّیْ اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ وَمَنْ قَالَ فِی الْقُرآنِ بِرَأْیِہٖ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۱۰) (ہذا حدیث حسن)
(ب) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّیْ اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ وَمَنْ کَذَبَ فِی الْقُراٰنِ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۱۱)
(۳) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ نے ارشاد فرمایا: لَا تَکْذِبُوا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ۔ ’’میرا نام لے کر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ جو شخص میرا نام لے کر جھوٹ بولے گا وہ آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ (بخاری)
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا عَلِیُّ ابْنُ الْجَعْدِ، قَالَ:اَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْصُورٌ: قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِیَّ بْنَ خِرَاشٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ عَلِیًّا، یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیَّ ﷺ: لَا تَکْذِبُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ۔ (۱۲)
ابن ماجہ میں حضرت علیؓ سے مروی روایت کے الفاظ:
عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَاتَکْذِبُوا عَلَیَّ فَاِنَّ الْکِذْبَ عَلَیَّ یُوْلِجُ النَّارَ۔ (۱۳)
ترمذی نے حضرت علی بن ابی طالب کی روایت یہ بیان کی ہے:
(ب) عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا تَکْذِ بُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ یَلِجِ النَّارَ۔ (۱۴)
اور لکھتے ہیں کہ اسے بیس صحابہ کرام نے روایت کیا ہے۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، زبیرؓ، سعید بن زیدؓ، عبداللہ بن عمروؓ، انسؓ، جابرؓ ، ابن عباسؓ ، ابوسعیدؓ، عمروبن عبستہؓ، عقبۃ بن عامرؓ، معاویہؓ، بریدہؓ، ابوموسیٰ ؓ، ابو امامۃؓ، عبداللہ بن عمرؓ، منقعؓ، اوس ثقفیؓ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم۔
حدیث علی بن ابی طالب، حدیث حسن صحیح قال عبدالرحمن بن مہدی منصوربن معتمر اثبت اہل الکوفۃ، وقال وکیع الم یکذب ربعی بن خراش فی الاسلام کذبۃ۔
(۴) حضرت سلمہؓ کہتے ہیں: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ، یََقُولُ: مَنْ یَّقُلْ عَلَیَّ مَا لَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ میں نے حضوؐر کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص میرا نام لے کر وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی ہے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔‘‘ (بخاری)
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا الْمَکِیُّ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُبْنُ اَبِیْ عُبَیْدٍ، عَنْ سَلَمَۃَ ہُوَابْنُ الْاَکْوَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَنْ یَّقُلْ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔(۱۵)
حضرت ابوہریرہؓسے ابن ماجہ نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
(ب) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَا لَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأَ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (۱۶)
کیا یہ بار بار کی سخت وعید یہی ظاہر کرتی ہے کہ حضوؐر کے ارشادات کی دین میں کوئی اہمیت نہ تھی؟ اگر آپ کی سنت کی کوئی قانونی حیثیت دین میں نہ ہوتی اور اس سے احکامِ دین کے متاثر ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو کیا ضرورت پڑی تھی کہ جہنم کی وعید سناسنا کر لوگوں کو جھوٹی روایت کرنے سے روکا جاتا؟ بادشاہوں اور رئیسوں کی طرف تاریخوں میں بہت سی غلط باتیں منسوب ہوجاتی ہیں۔ ان سے آخر دین پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر حضوؐر کی سنت کی یہی حیثیت ہے تو آپ کی تاریخ کو مسخ کردینے کی یہ سزا کیوں ہوکہ آدمی کو واصل جہنم کردیا جائے؟

سنت رسولؐ کے حجت ہونے کی صریح دلیل

اس سلسلے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب ایک مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول کی صاف صاف تصریحات موجود ہوں تو اس کے بارے میں غیر متعلق چیزوں سے نتائج نکالنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں اپنے رسول کو تشریح کتاب اللہ کے اختیارات بھی دیے ہیں اور تشریعی اختیارات بھی۔ سورۂ نحل کی آیت ۴۴ ، سورۂ اعراف کی آیت ۱۵۷، سورۂ حشر کی آیت ۷، اس معاملے میں بالکل واضح ہیں۔ پھر نبی ﷺ نے بھی صاف صاف اپنے ان اختیارات کو بیان کیا ہے:
(۱) ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَ کُمْ مُتَّکِئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَاْتِیْہِ الْاَمْرُ مِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْ نَہَیْتُ فَیَقُولُ لَا اَدْرِیْ، مَا وَجَدْ نَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ اتَّبَعْنَاہُ۔ ’’ میں ہرگز نہ پائوں تم میں سے کسی شخص کو کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کو میرے احکام میں سے کوئی حکم پہنچے ، خواہ میں نے کسی چیز سے منع کیا ہو یا کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو۔ اور وہ سن کر کہے کہ میں نہیں جانتا، جو کچھ ہم کتاب اللہ میں پائیں گے اس کی پیروی کریں گے۔‘‘
(احمد، شافعی، ترمذی، ابودائود، ابن ماجہ، بیہقی فی دلائل النبوۃ)
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ حَنْبَلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفُضَیْلِیُّ وَابْنُ کَثِیْرٍ قَالُوَا: ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِی النَّضْرِ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ، عَنْ اَبیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَاْ تِیْہُ الْاَمْرُ مِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْ نَہَیْتُ عَنہُ فَیَقُوْلُ لَا نَدْرِیْ مَا وَجَدْنَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ اتَّبَعْنَاہُ۔ (۱۷)
(ب) حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ اِسْحَاقَ انا عَبْدُ اللّٰہِ انا ابْنُ لَہِیَعَۃُ، حَدَّثَنِیْ اَبُوالنَّضْرِاَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ رَافِعٍ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَاَعْرِفَنَّ مَا یَبْلُغُ اَحَدَکُمْ مِنْ حَدِیْثِیْ شَیْیٌٔ وَہُوَ مُتَّکِیٌٔ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ فَیَقُوْلُ مَا اَجِدُ ہٰذَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالیٰ۔ (۱۸)
(۲) مقدام بن معدیکرب کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: اَلَا اِنِّیْ اُوتِیْتُ الْقُراٰنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ ، اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانَ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَقُولُ عَلَیْکُمْ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ فَمَا وَجَدْ تُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَاَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ، وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَمَا حَرَّمَ اللّٰہُ، اَلَا یَحِلُّ لَکُمْ الْحِمَارُ الْاَہْلِیُّ، وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ۔۔۔۔ ’’خبردار رہو ، مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ویسی ہی ایک اور چیز بھی۔ خبردار ایسا نہ ہو کہ کوئی پیٹ بھرا شخص اپنی مسند پر بیٹھا ہوا یہ کہنے لگے کہ بس تم قرآن کی پیروی کرو، جو کچھ اس میں حلال پائو اسے حلال سمجھو اور جو کچھ اس میں حرام پائو اسے حرام سمجھو۔ حالانکہ دراصل جو کچھ اللہ کا رسول حرام قرار دے وہ ویسا ہی حرام ہے جیسے اللہ کا حرام کیا ہوا۔ خبردار رہو تمہارے لیے پالتو گدھا حلال نہیں ہے اور نہ کوئی کچلیوں والا درندہ حلال ہے۔‘‘  (ابودائود، ابن ماجہ، دارمی، حاکم)

( یہ آخری جملے واضح کررہے ہیں کہ کچھ لوگوں نے گدھے اور کتے اور دوسرے درندوں کو اس دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش کی ہوگی کہ قرآن مجید میں ان کی حرمت کا کوئی حکم نہیں آیاہے۔ اس پر حضورؐ نے یہ تقریر فرمائی ہوگی۔)

تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ، ثنا اَبُوعَمْرِوبْنُ کَثِیْرِبْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ حُرَیْزبْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ابْنِ اَبِیْ عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ۔ اَلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثَلَہٗ مَعَہٗ اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِہٰذَا القُرْاٰنِ فَمَا وَجَدْ تُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَاَحِلُّوْہُ وَمَا وَجَدتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ اَلَا لَا یَحِلُّ لَکُمُ الحِمَارُ الأَہْلِیُّ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقْطَۃُ مُعَاہِدٍ اِلَّا اَنْ یَسْتَغْنِیْ عَنْہَا صَاحِبُہَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَیْہِمْ اَنْ یَقَرُوْہُ فَإِنْ لَّمْ یَقْرُوْہُ فَلَہٗ اَنْ یُعْقِبَہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہٗ۔ (۱۹)
(۳) عرباض بن ساریہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس میں فرمایا اَیَحْسَبُ اَحَدُکُمْ مُتَّکِـئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًا اِلَّا مَا فِی الْقُرْاٰنِ۔ اَلَا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ قَدْ اَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَہَیْتُ عَنْ اَشْیَائَ اِنَّہَا لِمَثْل الْقُرْاٰنِ اَوْ اَکْثَرَ وَاِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْخُلُوا بُیُوتَ اَہْلِ الْکِتابِ اِلّا بِاِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِ ہِمْ وَلَا اَکْلَ ثِمَارِہِمْ اِذَا اَعْطَوکُمُ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ۔’’کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے یہ سمجھے بیٹھا ہے کہ اللہ نے کوئی چیز حرام نہیں کی سوائے ان چیزوں کے جو قرآن میں بیان کردی گئی ہیں؟ خبردار رہو، خدا کی قسم میں نے جن باتوں کا حکم دیا ہے اور جو نصیحتیں کی ہیں اور جن کاموں سے منع کیا ہے وہ بھی قرآن ہی کی طرح ہیں بلکہ کچھ زیادہ۔ اللہ نے تمہارے لیے ہرگز یہ حلال نہیں کیا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں اجازت کے بغیر گھس جائو، یا ان کی عورتوں کو مارو پیٹو، یا ان کے پھل کھا جائو جب کہ وہ اپنے واجبات ادا کرچکے ہیں۔‘‘  (ابودائود)

(حدیث کا یہ آخری ٹکڑا صاف بتارہا ہے کہ کچھ منافقین نے ذمیوں پر دست درازیاں کی ہوں گی اور قرآن کا سہارا لے کر کہا ہوگا کہ بتائو قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کے لیے بھی اجازت کی ضرورت ہے۔ اور قرآن میں کہاں ان کی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے اور ان کے باغوں کے پھل کھالینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس پر حضوؐر نے یہ تقریر فرمائی ہوگی۔)

تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیْسٰی، ثنا اَشْعَثُ بْنُ شُعْبَۃَ، ثنا اَرْطَاۃُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَکِیْمَ بْنَ عُمَیْرٍ اَبَاالْاَحْوَصِ یُحَدِّثُ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ النَّبِیِّﷺ خَیْبَرَ وَمَعَہٗ مِنْ اَصْحَابِہٖ وَکَانَ صَاحِبُ خَیْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْکِرًا فَاَقْبَلَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَامُحَمَّدُ أَلَکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا حُُمُرَنَا وَتَاْکُلُوْا ثَمَرَنَا وَتَضْرِبُوْا نِسَآئَ نَا؟ فَغَضَبَ یَعْنِی النَّبِیُّ ﷺ وَقَالَ یَا ابْنَ عَوْفٍ اِرْکَبْ فَرْسَکَ ثُمَّ نَادِ اَلَا اِنَّ الْجَنَّۃَ لَا تَحِلُّ اِلَّا لِمُؤْمِنٍ وَاَنِ اجْتَمِعُوْا لِلصَّلوٰۃِ قَالَ فَاجْتَمَعُوْا ثُمَّ صَلَّی بِہِمُ النَّبِیُّ ﷺ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: اَیَحْسَبُ اَحَدُ کُمْ مُتَّکِئًا عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ قَدْ یَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًااِلَّا مَافِی ہٰذَا الْقُرْاٰنِ، اَلَا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ قَدْ وَعَظْتُ وَاَمَرْتُ وَنَہَیْتُ عَنْ اَشْیَائَ اِنَّہَا لَمِثْلُ الْقُرْاٰنِ اَوْاَکْثَرَ وَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ لَمْ یَحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْ خُلُوا بُیُوْتَ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا بِاِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَآئِ ہِمْ وَلَا اَکْلَ ثِمَارِ ہِمْ اِذَا اَعْطَوْکُمُ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ۔ (۲۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ ’’ جو شخص میری سنت سے منہ پھیرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُبْنُ اَبِیْ حُمَیْدِ نِ الطَّوِیْلُ اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ جَآئَ ثَلَاثَۃُ رَہْطٍ اِلیٰ بُیُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ یَسْئَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِیِّ ﷺ فَلَمَّا اُخْبِرُوْا کَاَنَّہُمْ تَقَالُّوْہَا فَقَالُوْا وَاَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّﷺ قَدْ غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَقَالَ اَحَدُہُمْ اَمَّا اَنَا فَاِنِّیْ اُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَدًا وَقَالَ اٰخَرُاَنَا اَصُوْمُ الدَّہْرَ وَلَا اُفْطِرُ وَقَالَ اٰخَرُوَاَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَائَ فَلَا اَتَزَوَّجُ اَبَدًا فَجَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَیْہِمْ فَقَالَ اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَاوَکَذَا اَمَا وَاللّٰہِ اِنّی لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہٗ لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُوَاُصَلِّیْ واَرْقُدُوَاَتَزوَّجُ النِّسَآئَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ (۲۱)
اللہ اور رسول کے ان صاف صاف ارشادات کے بعد آخر اس استدلال میں کیا وزن رہ جاتا ہے کہ حدیثیں چونکہ لکھوائی نہیں گئیں اس لیے وہ عام انطباق کے لیے نہ تھیں۔

کیا قابل اعتماد صرف لکھی ہوئی چیز ہی ہوتی ہے؟

منکرین حدیث کے استدلال کا بڑا انحصار اس خیال پر ہے کہ قرآن اس لیے قابل اعتماد و استناد ہے کہ وہ لکھوالیا گیا، اور احادیث اس لیے قابل اعتماد و استناد نہیں ہیں کہ وہ عہد رسالت اور عہد خلافت میں نہیں لکھوائی گئیں۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کو جس وجہ سے لکھوایا گیا وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معانی دونوںمن جانب اللہ تھے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں، اس کی آیتوں کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب بھی خدا کی طرف سے تھی۔ اس کے الفاظ کو دوسرے الفاظ کے ساتھ بدلنا بھی جائز نہ تھا اور وہ اس لیے نازل ہوا تھا کہ لوگ انہی الفاظ میں اسی ترتیب کے ساتھ اس کی تلاوت کریں۔ اس کے مقابلہ میں سنت کی نوعیت بالکل مختلف تھی۔ وہ محض لفظی نہ تھی بلکہ عملی بھی تھی اور جو لفظی تھی اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعہ وحی نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ حضوؐر نے اس کو اپنی زبان میں ادا کیا تھا۔ پھر اس کا ایک بڑا حصّہ ایسا تھا جسے حضوؐر کے ہمعصروں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا، مثلاً یہ کہ حضوؐر کے اخلاق ایسے تھے، حضوؐر کی زندگی ایسی تھی، اور فلاں موقع پر حضوؐر نے یوں عمل کیا۔ حضوؐر کے اقوال اور تقریریں نقل کرنے کے بارے میں بھی یہ پابندی نہ تھی کہ سننے والے انھیں لفظ بلفظ نقل کریں، بلکہ اہل زبان سامعین کے لیے یہ جائز تھا اور وہ اس پر قادر بھی تھے کہ آپ سے ایک بات سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اسے اپنے الفاظ میں بیان کردیں۔ حضوؐر کے الفاظ کی تلاوت مقصود نہ تھی بلکہ اس تعلیم کی پیروی مقصود تھی جو آپؐ نے دی ہو۔ احادیث میں قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی طرح یہ ترتیب محفوظ کرنا بھی ضروری نہ تھا کہ فلاں حدیث پہلے ہو اور فلاں اس کے بعد۔ اس بنا پر احادیث کے معاملے میں یہ بالکل کافی تھا کہ لوگ انھیں یاد رکھیں اور دیانت کے ساتھ انھیں لوگوں تک پہنچائیں۔ ان کے معاملے میں کتابت کی وہ اہمیت نہ تھی جو قرآن کے معاملے میں تھی۔
دوسری بات جسے خوب سمجھ لینا چاہیے، یہ ہے کہ کسی چیز کے سند اور حجت ہونے کے لیے اس کا لکھا ہوا ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ اعتماد کی اصل بنیاد اس شخص یا ان اشخاص کا بھروسے کے قابل ہونا ہے جس کے یا جن کے ذریعہ سے کوئی بات دوسروں تک پہنچے، خواہ وہ مکتوب ہو یا غیر مکتوب۔ خود قرآن کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھوا کر نہیں بھیجا بلکہ نبیؐ کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ نے پورا انحصار اس بات پر کیا کہ جو لوگ نبی کو سچا مانیں گے وہ نبی کے اعتماد پر قرآن کو بھی ہمارا کلام مان لیں گے۔ نبی ﷺ نے بھی قرآن کی جتنی تبلیغ و اشاعت کی، زبانی ہی کی۔ آپؐ کے جو صحابہ مختلف علاقوں میں جاکر تبلیغ کرتے تھے وہ قرآن کی سورتیں لکھی ہوئی نہ لے جاتے تھے۔لکھی ہوئی آیات اور سورتیں تو اس تھیلے میں پڑی رہتی تھیں جس کے اندر آپ انھیں کا تبانِ وحی سے لکھواکر ڈال دیا کرتے تھے۔ باقی ساری تبلیغ و اشاعت زبان سے ہوتی تھی اور ایمان لانے والے اس ایک صحابی کے اعتماد پر یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ جو کچھ وہ سنا رہا ہے وہ خدا کا کلام ہے، یا رسول اللہ ﷺ کا جو حکم پہنچا رہا ہے وہ حضوؐر ہی کا حکم ہے۔

احادیث قرآن کی طرح کیوں نہ لکھوائی گئیں؟

منکرین حدیث یہ سوال عموماً بڑے زور سے اٹھاتے ہیں اور اپنے خیال میں اسے بڑا لاجواب سوال سمجھتے ہیں۔ ان کا تصوّر یہ ہے کہ قرآن چونکہ لکھوایا گیا اس لیے وہ محفوظ ہے ، اور حدیث چونکہ حضوؐر نے خود لکھوا کر مرتب نہیں کردی اس لیے وہ غیر محفوظ ہے۔ لیکن میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضوؐر نے قرآن مجید کو محض لکھوا کر چھوڑ دیا ہوتا اور ہزاروں آدمیوں نے اسے یاد کرکے بعد کی نسلوں کو زبانی نہ پہنچایا ہوتا تو کیا محض وہ لکھی ہوئی دستاویز بعد کے لوگوں کے لیے اس بات کا قطعی ثبوت ہوسکتی تھی کہ یہ وہی قرآن ہے جو حضوؐر نے لکھوایا تھا؟ وہ توخود محتاج ثبوت ہوتی، کیونکہ جب تک کچھ لوگ اس بات کی شہادت دینے والے نہ ہوتے کہ یہ کتاب ہمارے سامنے نبی ﷺ نے لکھوائی تھی، اس وقت تک اس لکھی ہوئی کتاب کا معتبر ہونا مشتبہ رہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تحریر پر کسی چیز کے معتبر ہونے کا دارومدار نہیں ہے بلکہ وہ اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب کہ زندہ انسان اس کے شاہد ہوں۔ اب اگر فرض کیجیے کہ کسی معاملے کے متعلق تحریر موجود نہیں ہے مگر زندہ انسان اس کے شاہد موجود ہیں، تو کسی قانون داں سے پوچھ لیجیے، کیا ان زندہ انسانوں کی شہادت ساقط الاعتبار ہوگی جب تک کہ تائید میں ایک دستاویز نہ پیش کی جائے؟ شاید آپ کو قانون کا علم رکھنے والا ایک شخص بھی ایسا نہ ملے گا جو اس سوال کا جواب اثبات میں دے۔ آج نبی ﷺ کا لکھوایا ہوا قرآن مجید دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے، مگر اس سے قرآن کے مستند اور معتبر ہونے پر ذرہ برابر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ متواتر اور مسلسل زبانی روایات سے اس کا معتبر ہونا ثابت ہے۔ خود یہ بات کہ حضوؐر نے قرآن لکھوایا تھا، روایات ہی کی بنا پر تسلیم کی جارہی ہے، ورنہ اصل دستاویز اس دعوے کے ثبوت میں پیش نہیں کی جاسکتی، اور وہ کہیں مل بھی جائے تو یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ یہ وہی صحیفے ہیں جو حضوؐر نے لکھوائے تھے۔ لہٰذا تحریر پر جتنا زور یہ حضرات دیتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ نبیﷺ نے اپنی سنتوں پر قائم کیا ہوا ایک پورا معاشرہ چھوڑا تھا جس کی زندگی کے ہر پہلو پر آپؐ کی تعلیم و ہدایت کا ٹھپا لگاہوا تھا۔ اس معاشرے میں آپ کی باتیں سنے ہوئے، آپ کا کام دیکھے ہوئے اورآپؐ کے زیر ہدایت تربیت پائے ہوئے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ اس معاشرے نے بعد کی نسلوں تک وہ سارے نقوش منتقل کیے اور ان سے وہ نسلاً بعد نسلٍ ہم کو پہنچے۔ دنیا کے کسی مسلّم اصولِ شہادت کی رو سے بھی یہ شہادت رد نہیں کی جاسکتی۔ پھریہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ یہ نقوش کاغذ پر ثبت نہیں کیے گئے۔ انھیں ثبت کرنے کا سلسلہ حضوؐر کے زمانے میں شروع ہوچکا تھا۔ پہلی صدی ہجری میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا اور دوسری صدی کے محدّثین میں زندہ شہادتوں اور تحریری شہادتوں دونوں کی مدد سے اس پورے نقشے کو ضبط تحریر میں لے آئے۔

کیا احادیث ڈھائی سو برس تک گوشۂ خمول میںپڑی رہیں؟

ان حضرات کا یہ خیال ’’کہ احادیث نہ یاد کی گئیں نہ محفوظ کی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کرکے مرگئے۔ یہاں تک کہ ان کی وفات کے کئی سو برس بعد ان کو جمع اور مرتّب کیا گیا‘‘، یہ نہ صرف واقعہ کے خلاف ہے بلکہ درحقیقت یہ نبی ﷺ کی شخصیت کا اور آپؐ کے ساتھ ابتدائی دور کے مسلمانوں کی عقیدت کا بہت ہی حقیراندازہ ہے۔ واقعات سے قطع نظر ایک شخص محض اپنی عقل ہی پر زور ڈال کر صحیح صورت حال کا تصوّر کرے تو وہ کبھی یہ باور نہیں کرسکتا کہ جس عظیم الشان شخصیت نے عرب کے لوگوں کو اخلاق و تہذیب اور عقائد و اعمال کی انتہائی پستیوں سے نکال کر بلند ترین مقام پر پہنچا دیا تھا اس کی باتوں اور اس کے کاموں کو وہی لوگ اس قدر ناقابل التفات سمجھتے تھے کہ انھوں نے اس کی کوئی بات یادرکھنے کی کوشش نہ کی، نہ دوسروں کے سامنے اتفاقاً ذکر آجانے سے بڑھ کر کبھی اس کا چرچا کیا، نہ بعد کی آنے والی نسلوں نے اس کو کوئی اہمیت دی کہ اس کے دیکھنے والوں سے کبھی اس کے حالات پوچھتے۔ ایک معمولی لیڈر تک سے جس کسی کو شرف صحبت نصیب ہوجاتاہے تو وہ اس سے اپنی ملاقاتوں کی ایک ایک بات یاد رکھتا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کا ذکر کرتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد نئی آنے والی نسلوں کے لوگ جاجاکر اس کے ملنے والوں سے اس کے حالات دریافت کرتے ہیں۔ آخر (ان حضرات) نے رسول اللہ ﷺ کو کیا سمجھ لیا ہے کہ حضوؐر کو آپ کے ہم عصر اور آپ سے متصل زمانے کے لوگ اتنے التفات کا بھی مستحق نہ سمجھتے تھے۔
اب ذرا اصل صورت واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرام کے لیے ایک ایسے پیشوا تھے جن سے وہ ہر وقت عقائد ، عبادات ، اخلاق اور تہذیب و شائستگی کا سبق حاصل کرتے تھے۔ آپ کی زندگی کے ایک ایک رخ اور ایک ایک پہلو کو دیکھ کر وہ پاکیزہ انسانوں کی طرح رہنا سیکھتے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ آپؐ کی بعثت سے پہلے ہم کیا تھے اور آپ نے ہمیں کیا کچھ بنا دیا ہے۔ ان کے لیے ہر پیش آنے والے مسئلے میں مفتی بھی آپؐ ہی تھے اور قاضی بھی آپؐ۔ آپؐ ہی کی قیادت میں وہ لڑتے بھی تھے اور صلح بھی کرتے تھے۔ ان کو تجربہ تھا کہ اس قیادت کی پیروی میں ہم کہاں سے چلے تھے اور بالآخر کہاں پہنچ کررہے۔ اس بنا پر وہ آپؐ کی ایک ایک بات کو یاد رکھتے تھے۔جو قریب رہتے تھے وہ بالالتزام آپؐ کی صحبتوں میں بیٹھتے تھے، جنھیں کسی وقت آپ کی مجلس سے غیر حاضر رہنا ہوتا تو وہ دوسروں سے پوچھ کر معلوم کرتے تھے کہ آج آپؐ نے کیا کیا اور کیا کہا۔ دور دور سے آنے والے لوگ اپنے ان اوقات کو جو آپؐکے ساتھ بسر ہوجاتے تھے اپنا حاصل زندگی سمجھتے تھے اور عمر بھر ان کی یاد دل سے نہ نکلتی تھی۔ جنھیں حاضر ہونے کا موقع نصیب نہ ہوتا تھا وہ ہر اس شخص کے گرد اکٹھے ہوجاتے تھے جو آپؐ سے مل کر آتا تھا اور کرید کرید کر ایک ایک بات اس سے پوچھتے تھے۔ جنھوں نے آپؐ کو دورسے کبھی دیکھا تھا یا کسی بڑے مجمع میں صرف آپ ؐکی تقریر سن لی تھی وہ جیتے جی اس موقع کو نہ بھولتے تھے اور فخریہ اپنے اس شرف کو بیان کرتے تھے کہ ہماری آنکھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور ہمارے کان آپ ؐکی تقریر سن چکے ہیں۔ پھر حضوؐر کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئیں ان کے لیے تو دنیا میں سب سے اہم اگر کوئی چیز تھی تو وہ اس رسول عظیم سیرت تھی جس کی قیادت کے معجزے نے عرب کے شتر بانوں کو اٹھا کر سندھ سے اسپین تک کافرماں روا بنادیا تھا۔ وہ ایک ایک ایسے شخص کے پاس پہنچتے تھے جس نے آپ ؐکی صحبت پائی تھی، یا آپ ؐکو کبھی دیکھا تھا، یا آپ ؐکی کوئی تقریر سنی تھی۔ اور جوں جوں صحابہ دنیا سے اٹھتے چلے گئے، یہ اشتیاق بڑھتا گیا، حتیّٰ کہ تابعین کے گروہ نے وہ سارا علم نچوڑ لیا جو سیرت پاک کے متعلق صحابہ سے ان کو مل سکتا تھا۔

صحابہؓ کی روایت حدیث

عقل گواہی دیتی ہے کہ ایساضرور ہوا ہوگا اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی ہوا ہے۔ آج حدیث کا جو علم دنیا میں موجود ہے وہ تقریباً دس ہزار صحابہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ تابعین نے صرف ان کی احادیث ہی نہیں لی ہیں بلکہ ان سب صحابیوں کے حالات بھی بیان کردیے ہیں۔ اور یہ بھی بتادیا ہے کہ کس نے حضوؐرکی کتنی صحبت پائی ہے؟ یا کب اور کہاں آپ کو دیکھا ہے؟ اور کن کن مواقع پر آپ کی خدمت میں حاضری دی ہے؟ (یہ حضرات) تو فرماتے ہیں کہ احادیث ابتدائی دور کے مسلمانوں کے ذہن میں دفن پڑی رہیں اور دوڈھائی صدی بعد امام بخاریؒ اور ان کے ہم عصروں نے انھیں کھود کر نکالا۔ لیکن تاریخ ہمارے سامنے جو نقشہ پیش کرتی ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ صحابہؓ میں سے جن حضرات نے سب سے زیادہ روایات بیان کی ہیں، ان کی اور ان کے مرویات کی فہرست ملاحظہ ہو:

اسماء
سن وفات
احادیث کی تعداد

ابوہریرہؓ( ان کے شاگردوں کی تعداد ۸۰۰ کے لگ بھگ تھی اور ان کے بکثرت شاگردوں نے ان کی احادیث کو قلم بند کیا تھا۔)۱؎
۵۷ھ؁
۵۳۷۴

ابوسعید خدریؓ
۴۶ھ؁
۱۱۷۰

جابر بن عبداللہؓ
۷۴ھ؁
۱۵۴۰

انس بن مالکؓ
۹۳ھ؁
۱۲۸۶

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ
۵۹ھ؁
۲۲۱۰

عبداللہ بن عباسؓ
۶۸ھ؁
۱۶۶۰

عبداللہ بن عمرؓ
۷۰ھ؁
۱۶۳۰

عبداللہ بن عمروبن عاصؓ
۶۳ھ؁
۷۰۰

عبداللہ بن مسعودؓ
۳۲ھ؁
۸۴۸

کیا یہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ صحابۂ کرام نبی ﷺ کے حالات کو اپنے سینوں میں دفن کرکے یونہی اپنے ساتھ دنیاسے لے گئے؟

دورِ صحابہؓ سے امام بخاری کے دور تک علم حدیث کی مسلسل تاریخ

اس کے بعد ان تابعین کو دیکھیے جنھوں نے صحابۂ کرامؓ سے سیرتِ پاک کا علم حاصل کیااور بعد کی نسلوں تک اس کو منتقل کیا۔ ان کی تعداد کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ صرف طبقات ابن سعد میں چند مرکزی شہروں کے جن تابعین کے حالات ملتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
مدینہ مکہ کوفہ بصرہ
۴۸۴ ۱۳۱ ۴۱۳ ۱۶۴
ان میں سے جن اکابر تابعین نے حدیث کے علم کو حاصل کرنے ، محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے کا سب سے بڑھ کر کام کیا ہے وہ یہ ہیں:
اسماء پیدائش وفات
سعید بن المسیَّب ۱۴ھ؁ ۶۳ھ؁
حسن بصری ۲۱ھ؁ ۱۱۰ھ؁
ابن سیرین ۳۳ھ؁ ۱۱۰ھ؁
عروہ بن زبیر( انھوں نے سیرت رسولؐ پر پہلی کتاب لکھی۔)۱ ۲۲ھ؁ ۹۴ھ؁
علی بن حسین (زین العابدین) ۳۸ھ؁ ۹۴ھ؁
مجاہد ۲۱ھ ؁ ۱۰۴ھ؁
قاسم بن محمد بن ابی بکر ۳۷ھ؁ ۱۰۶ھ؁
شریح (حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قاضی مقرر ہوئے) ۷۸ھ؁
مسروق (حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں مدینہ آئے) ۶۳ھ؁
اسود بن یزید ۷۵ھ؁
مکحول ۱۱۲ھ؁
رجاء بن حیوہ ۱۰۳ھ؁
ہمام بن منب( انھوں نے احادیث کا ایک مجموعہ مرتب کیا جو صحیفہ ہمّام بن منبہ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور شائع ہوچکا ہے۔)۲ ۴۰ھ؁ ۱۳۱ھ؁
سالم بن عبداللہ بن عمر ۱۰۶ھ؁
نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر ۱۱۷ھ؁
سعید بن جبیر ۴۵ھ؁ ۹۵ھ؁
اسماء پیدائش وفات

سلیمان الاعمش ۶۱ھ؁ ۱۴۸ھ؁
ایوب السختیانی ۶۶ھ؁ ۱۳۱ھ؁
محمد بن المنکَدِر ۵۴ھ؁ ۱۳۰ھ؁
ابن شہاب زُہری ۱( انھوں نے حدیث کا بہت بڑا تحریری ذخیرہ چھوڑا۔) ۵۸ھ؁ ۱۲۴ھ؁
سلیمان بن یسار ۳۴ھ؁ ۱۰۷ھ؁
عِکرمہ مولیٰ ابن عباس ۲۲ھ؁ ۱۰۵ھ؁
عطاء بن ابی رباح ۲۷ھ؁ ۱۱۵ھ؁
قتادہ بن دعامہ ۶۱ھ؁ ۱۱۷ھ؁
عامر الشعبی ۱۷ھ؁ ۱۰۴ھ؁
علقمہ (یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جوان تھے مگر حضوؐر سے ملے نہیں) ۶۲ھ؁
ابراہیم النخعی ۴۶ھ؁ ۹۶ھ؁
یزید بن ابی حبیب ۵۳ھ؁ ۱۲۸ھ؁

ان حضرات کی تواریخ پیدائش و وفات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں نے صحابہ کے عہد کا بہت بڑا حصہ دیکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جنھوں نے صحابہ کے گھروں میں اور صحابیات کی گودوں میں پرورش پائی ہے، اور بعض وہ تھے جن کی عمر کسی نہ کسی صحابی کی خدمت میں بسر ہوئی ہے۔ ان کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص نے بہ کثرت صحابہ سے مل کر نبی ﷺ کے حالات معلوم کیے ہیں اور آپ کے ارشادات اور فیصلوں کے متعلق وسیع واقفیت بہم پہنچائی ہے۔ اسی وجہ سے روایت حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ انہی لوگوں سے بعد کی نسلوں کو پہنچا ہے۔ تاوقتیکہ کوئی شخص یہ فرض نہ کرلے کہ پہلی صدی ہجری کے تمام مسلمان منافق تھے، اس بات کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا کہ ان لوگوں نے گھر بیٹھے حدیثیں گھڑلی ہوں گی اور پھر بھی پوری امت نے انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہوگا اور ان کو اپنے اکابر علماء میں شمار کیا ہوگا۔
اس کے بعد اصاغر تابعین اور تبع تابعین کا وہ گروہ ہمارے سامنے آتا ہے جو ہزار ہا کی تعداد میں تمام دنیائے اسلام میں پھیلا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے بہت بڑے پیمانے پر تابعین سے احادیث لیں اور دور دراز کے سفر کرکے ایک ایک علاقے کے صحابہ اور ان کے شاگردوں کا علم جمع کیا۔ ان کی چند نمایاں شخصیتیں یہ ہیں:
اسماء پیدائش وفات
جعفر بن محمد بن علی (جعفر الصادق) ۸۰ھ؁ ۱۴۸ھ؁
ابوحنیفۃ النعمان (امام اعظم) ۸۰ھ؁ ۱۵۰ھ؁
شعبہ بن الحجاج ۸۳ھ؁ ۱۶۰ھ؁
لیث بن سعد ۹۳ھ؁ ۱۶۵ھ؁
ربیعۃ الرائے (استاذ امام مالک) ۱۳۶ھ؁
سعید بن عروبہ ۱۵۶ھ؁
مسعربن کدام ۱۵۲ھ؁
عبدالرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر ۱۲۶ھ؁
سفیان الثوری ۹۷ھ؁ ۱۶۱ھ؁
حمّاد بن زید ۹۸ھ؁ ۱۷۹ھ؁

دوسری صدی ہجری کے جامعین حدیث

یہی دور تھا جس میں حدیث کے مجموعے لکھنے اور مرتب کرنے کا کام باقاعدگی کے ساتھ شروع ہوا۔ اس زمانے میں جن لوگوں نے احادیث کے مجموعے مرتب کیے وہ حسب ذیل ہیں:
اسماء پیدائش وفات کارنامے
ربیع بن صبیح ۱۶۰ھ؁ انھوں نے ایک ایک فقہی عنوان پر الگ رسائل مرتب کیے۔
سعید بن عروبہ ۱۵۶ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
موسیٰ بن عقبہ ۱۴۱ھ؁ انھوں نے نبی ﷺ کے غزوات کی تاریخ مرتب کی۔
امام مالک ۹۳ھ؁ ۱۷۶ھ؁ انھوں نے احکام شرعی کے متعلق احادیث و آثار کو جمع کیا۔
ابن جُرَیج ۸۰ھ؁ ۱۵۰ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام اوزاعی ۸۸ھ؁ ۱۵ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
سفیان ثوری ۹۷ھ؁ ۱۶۱ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
حمّاد بن سلمہ بن دینار ۱۷۶ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام ابویوسف ۱۱۳ھ؁ ۱۸۲ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام محمد ۱۳۱ھ؁ ۱۸۹ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
محمد بن اسحاق ۱۵۱ھ؁ انھوں نے نبی ﷺ کی سیرت پاک مرتب کی۔
اسماء پیدائش وفات کارنامے
ابن سعد ۱۶۸ھ؁ ۲۲۰ھ؁ انھوں نے نبی ﷺ اور صحابہ و تابعین کے حالات جمع کیے۔
عبید اللہ بن موسیٰ العبسی ۲۱۳ھ؁ انھوں نے ایک ایک صحابی کی روایات الگ الگ جمع کیں۔
مسدد بن مسرہد البصری ۲۱۸ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
اسد بن موسیٰ ۲۱۲ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
نعیم بن حمّاد الخزاعی ۲۲۸ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
امام احمد بن حنبل ۱۶۴ھ؁ ۲۴۱ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
اسحٰق بن راہویہ ۱۶۱ھ؁ ۲۳۸ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
عثمان بن ابی شیبہ ۱۵۶ھ؁ ۲۳۹ھ؁ ’’ ’’ ’’ ’’
ابوبکربن ابی شیبہ ۱۵۹ھ؁ ۲۳۵ھ؁ انھوں نے فقہی ابواب اور صحابہ کی جدا گانہ مرویات
دونوں کے لحاظ سے احادیث جمع کیں۔
ان میں سے امام مالک، امام ابویوسف، امام محمد ، محمد بن اسحاق، ابن سعد، امام احمد بن حنبل اور ابو بکر ابن شیبہ کی کتابیں آج تک موجود ہیں اور شائع ہوچکی ہیں۔ نیز موسیٰ بن عقبہ کی کتاب المغازی کا بھی ایک حصہ شائع ہوچکا ہے اور جن حضرات کی کتابیں آج نہیں ملتیں وہ بھی درحقیقت ضائع نہیں ہوئی ہیں، بلکہ ان کا پورا مواد بخاری و مسلم اور ان کے ہم عصروں نے اور ان کے بعد آنے والوں نے اپنی کتابوں میں شامل کرلیا۔ اس لیے لوگ ان سے بے نیاز ہوتے چلے گئے۔
امام بخاریؒ کے دور تک علم حدیث کی اس مسلسل تاریخ کو دیکھنے کے بعد کوئی شخص ان ارشادات کو آخر کیا وزن دے سکتا ہے کہ ’’احادیث نہ یا دکی گئیں نہ محفوظ کی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کرکے مرگئے یہاں تک کہ ان کی وفات کے چند سو برس بعد ان کو جمع اور مرتب کیا گیا۔‘‘ اور یہ کہ ’’بعد میں پہلی مرتبہ رسول اللہ ﷺکے تقریباً ایک سو برس بعد احادیث کو جمع کیا گیا مگر ان کا ریکارڈ اب محفوظ نہیں ہے۔‘‘

احادیث میں اختلاف کی حقیقت

یہ حضرات کہتے ہیں کہ ’’بہت کم احادیث ہیں جن میں یہ جامعین حدیث متفق ہوں۔‘‘ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو سرسری طور پر چند مختلف احادیث پر ایک نگاہ ڈال کر تو کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر تفصیل کے ساتھ کتب حدیث کا متقابل مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان اتفاق بہت زیادہ اور اختلاف بہت کم ہے۔ پھرجن میں اختلاف ہے ان کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر اختلافات حسب ذیل چار نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کے پائے جاتے ہیں:
ایک یہ کہ مختلف راویوں نے ایک ہی بات یا واقعہ کو مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے اور ان کے درمیان معانی میں کوئی اہم اختلاف نہیں ہے، یا مختلف راویوں نے ایک ہی واقعہ یا تقریر کے مختلف اجزاء نقل کیے ہیں۔
دوسرے یہ کہ خود حضورؐ نے ایک مضمون کو مختلف الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
تیسرے یہ کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے عمل فرمایا ہے۔
چوتھے یہ کہ ایک حدیث پہلے کی ہے اور دوسری حدیث بعد کی اور اس نے پہلی کو منسوخ کردیا ہے۔
ان چار اقسام کو چھوڑ کر جن احادیث کا باہمی اختلاف رفع کرنے میں واقعی مشکل پیش آتی ہے ان کی تعداد پورے ذخیرۂ حدیث میں ایک فی صدی سے بھی کم ہے۔ کیا چند روایات میں اس خرابی کا پایا جانا یہ فیصلہ کردینے کے لیے کافی ہے کہ پورا ذخیرۂ حدیث مشکوک اور ناقابل اعتماد ہے؟ روایات کسی ایک ناقابل تقسیم کل کا نام نہیں ہے جس کے کسی جز کے ساقط ہوجانے سے کل کا ساقط ہوجانا لازم آئے۔ ہر روایت اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے اور اپنی جداگانہ سند کے ساتھ آتی ہے۔ اس بنا پر ایک دو نہیں، دوچار سو روایتوں کے ساقط ہوجانے سے بھی بقیہ روایات کا سقوط لازم نہیں آسکتا۔ علمی تنقید پر جو جوروایات پوری اتریں انھیں ماننا ہی ہوگا۔
محدثین کے درمیان اختلاف کی ایک اور صورت یہ ہے کہ کسی روایت کی سند کو ایک محدث اپنی تنقید کے اعتبار سے درست سمجھتا ہے اور دوسرا محدث اسے کمزور قرار دیتا ہے۔ یہ رائے اور تحقیق کا اختلاف ہے جس سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا عدالتوں میں کسی شہادت کو قبول کرنے اور نہ قبول کرنے پر اختلاف کبھی نہیں ہوتا؟

کیا حافظہ سے نقل کی ہوئی روایات ناقابل اعتماد ہیں؟

(یہ حضرات)کہتے ہیں کہ ’’آج کے عربوں کا حافظہ جیسا کچھ قوی ہے ، پہلی صدی ہجری کے عربوں کا حافظہ بھی اتنا ہی قوی ہوگا۔ تاہم اسے خواہ کتنا ہی قوی مان لیا جائے ، کیا صرف حافظہ سے نقل کی ہوئی باتیں قابل اعتماد سمجھی جاسکتی ہیں؟‘‘ پھر ان کا ارشاد ہے کہ ’’ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچتے پہنچتے بات کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے اور ہر ذہن کے اپنے خیالات اور تعصبات اس کو موڑتے توڑتے چلے جاتے ہیں۔‘‘ یہ دو مزید وجہیں ہیں جن کی بنا پر وہ احادیث کو اعتماد و استناد کے قابل نہیں سمجھتے۔
جہاںتک پہلی بات کا تعلق ہے وہ تجربے اور مشاہدے کے خلاف ہے۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آدمی اپنی جس قوت سے زیادہ کام لیتا ہے وہ ترقی کرتی ہے اور جس سے کام کم لیتا ہے وہ کمزور ہوجاتی ہے۔ یہ بات جس طرح تمام انسانی قوتوں کے معاملے میں صحیح ہے، حافظہ کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ اہل عرب نبی ﷺ سے پہلے ہزاروں برس سے اپناکام تحریر کے بجائے یاد اور حافظے سے چلانے کے خوگر تھے۔ ان کے تاجر لاکھوں روپے کا لین دین کرتے تھے اور کوئی لکھا پڑھی نہ ہوتی تھی۔ پائی پائی کا حساب ، اور بیسیوں گاہکوں کا تفصیلی حساب وہ نوکِ زبان پر رکھتے تھے۔ ان کی قبائلی زندگی میں نسب اور خونی رشتوں کی بڑی اہمیت تھی۔ یہ سب کچھ بھی حافظے میں محفوظ رہتا اور زبانی روایت سے ایک نسل کے بعد دوسری نسل تک پہنچتا تھا۔ ان کا سارا لٹریچر بھی کاغذ پر نہیں بلکہ لوح قلب پر لکھا ہوا تھا۔ ان کی یہی عادت تحریر کا رواج ہوجانے کے بعد بھی تقریباً ایک صدی تک جاری رہی۔ اس لیے کہ قومی عادتیں بدلتے بدلتے ہی بدلی ہیں۔ وہ کاغذ کی تحریر پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے حافظے پر اعتماد کرنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ انھیں اس پر فخر تھا، اور ان کی نگاہ سے وہ شخص گرجاتاتھا جس سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ زبانی بتانے کے بجائے گھر سے کتاب لاکر اس کا جواب دے۔ ایک مدت دراز تک وہ لکھنے کے باوجود یا د کرتے تھے اور تحریر پڑھ کر سنانے کے بجائے نوک زبان سے سنانا نہ صرف باعث عزت سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک آدمی کے علم پر اعتماد بھی اسی طریقے سے قائم ہوتا تھا۔
کوئی وجہ نہیں کہ حافظے کی یہ کیفیت آج کے عربوں میں باقی رہے۔ صدیوں سے کتابت پر اعتماد کرتے رہنے اور حافظے سے کام کم لینے کے باعث اب کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کی یادداشت قدیم عربوں کی سی رہ جائے۔ لیکن عربوں اورغیر عربوں، سب میں آج بھی اس امر کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ان پڑھ لوگ اور اندھے آدمی پڑھے لکھے اور بینا انسانوں کی بہ نسبت زیادہ یاد داشت رکھتے ہیں۔ ناخواندہ تاجروں میں بہ کثرت لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جنھیں بہت سے گاہکوں کے ساتھ اپنا ہزارہا روپے کا لین دین پوری تفصیل کے ساتھ یاد رہتا ہے۔ بے شمار اندھے ایسے موجود ہیں جن کی قوتِ حافظہ آدمی کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ تحریر پر اعتماد کرلینے کے بعد ایک قوم کے حافظے کی وہ حالت باقی نہیں رہ سکتی جو ناخواندگی کے دور میں اس کی تھی۔

احادیث کے محفوظ رہنے کی اصل علّت

یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ صحابہ کے لیے خاص طور پر نبی ﷺ کی احادیث کو ٹھیک ٹھیک یاد رکھنے اور انھیں صحیح صحیح بیان کرنے کے کچھ مزید محرکات بھی تھے جنھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اولاً، وہ سچّے دل سے آپ کو خدا کا نبی اور دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھتے تھے۔ ان کے دلوں پر آپؐ کی شخصیت کا بڑا گہرا اثر تھا۔ ان کے لیے آپ کی بات اور آپ کے واقعات و حالات کی حیثیت عام انسانی وقائع جیسی نہ تھی کہ وہ ان کو اپنے معمولی حافظے کے حوالے کردیتے۔ ان کے لیے تو ایک ایک لمحہ جو انھوں نے آپؐ کی معیت میں گزارا، ان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی لمحہ تھا اور اس کی یاد کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے تھے۔
ثانیاً وہ آپ کی ایک ایک تقریر، ایک ایک گفتگو اور آپ کی زندگی کے ایک ایک عمل سے وہ علم حاصل کررہے تھے جو انھیں اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوا تھا۔ وہ خود جانتے تھے کہ ہم اس سے پہلے سخت جاہل اور گمراہ تھے، اور یہ پاکیزہ ترین انسان اب ہم کو صحیح علم دے رہا ہے اور مہذب انسان کی طرح جینا سکھا رہا ہے۔ اس لیے وہ پوری توجہ کے ساتھ ہر بات سنتے اور ہر فعل کو دیکھتے تھے، کیونکہ انھیں اپنی زندگی میں عملاً اسی کا نقش پیوست کرنا تھا، اسی کی نقل اتارنی تھی، اور اسی کی رہنمائی میں کام کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس شعور و احساس کے ساتھ آدمی جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اسے یاد رکھنے میں وہ اتنا سہل انگار نہیں ہوسکتا جتنا وہ کسی میلے یا کسی بازار میں سنی اور دیکھی ہوئی باتیں یاد رکھنے میں ہوسکتا ہے۔
ثالثاً ، وہ قرآن کی رو سے بھی یہ جانتے تھے اور نبی ﷺ کے بار بار متنبہ کرنے سے بھی ان کو شدت کے ساتھ اس بات کا احساس تھا کہ خدا کے نبی پر افتراکرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہوگی۔ اس بنا پر وہ حضوؐر کی طرف منسوب کرکے کوئی بات کرنے میں سخت محتاط تھے۔ صحابہ کرام میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی صحابی نے اپنی کسی ذاتی غرض سے یا اپنا کوئی کام نکالنے کے لیے حضوؐر کے نام سے کبھی ناجائز فائدہ اٹھایا ہو۔ حتّٰی کہ ان کے درمیان جب اختلافات برپا ہوئے اور دو خونریز لڑائیاں تک ہوگئیں، اس وقت بھی فریقین میں سے کسی ایک شخص نے بھی کوئی حدیث گھڑ کر دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کی۔ اس قسم کی حدیثیں بعد کے خداناترس لوگوں نے تو ضرور تصنیف کیں مگر صحابہ کے واقعات میں اس کی مثال ناپید ہے۔
رابعاً وہ اپنے اوپر اس بات کی بہت بڑی ذمہ داری محسوس کرتے تھے کہ بعد کے آنے والوں کو حضوؐر کے حالات اور آپ کی ہدایات و تعلیمات بالکل صحیح صورت میں پہنچائیں اور اس میں کسی قسم کا مبالغہ یا آمیزش نہ کریں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دین تھا اور اس میں اپنی طرف سے تغیر کردینا کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خیانت تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کے حالات میں اس قسم کے بہ کثرت واقعات ملتے ہیں کہ حدیث بیان کرتے ہوئے وہ کانپ جاتے تھے، ان کے چہرہ کا رنگ اڑجاتا تھا، جہاں ذرہ برابر بھی خدشہ ہوتا تھا کہ شاید حضوؐر کے الفاظ کچھ اور ہوں وہاں بات نقل کرکے اوکماقال کہہ دیتے تھے تاکہ سننے والا ان کے الفاظ کو بعینہٖ حضوؐر کے الفاظ نہ سمجھ لے۔
خامساً، اکابر صحابہؓ خاص طور پر عام صحابیوں کو احادیث روایت کرنے میں احتیاط کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ اس معاملے میں سہل انگاری برتنے سے شدت کے ساتھ روکتے تھے اور بعض اوقات ان سے حضوؐر کا کوئی ارشادسن کر شہادت طلب کرتے تھے تاکہ یہ اطمینان ہوجائے کہ دوسروں نے بھی یہ بات سنی ہے۔ اسی اطمینان کے لیے صحابیوں نے ایک دوسرے کے حافظے کا امتحان بھی لیا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کو حج کے موقع پر حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص سے ایک حدیث پہنچی۔ دوسرے سال حج میں اُمّ المومنین نے اُسی حدیث کو دریافت کرنے کے لیے ان کے پاس آدمی بھیجا۔ دونوں مرتبہ حضرت عبداللہ کے بیان میں ایک حرف کا فرق بھی نہ تھا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا واقعی عبداللہ کو بات ٹھیک یاد ہے۔
(بخاری، مسلم)
صحابہؓ کے معاشرے میں، ان کی شخصی زندگیوں میں، ان کے گھروں میں، ان کی معیشت اور حکومت اور عدالت میں اس کا پورا ٹھپہ لگا ہوا تھا، جس کے آثار و نقوش ہر طرف لوگوں کو چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ ایسی ایک چیز کے متعلق کوئی شخص حافظے کی غلطی ، یا اپنے ذاتی خیالات و تعصبات کی بنا پر کوئی نرالی بات لاکر پیش کرتا بھی تو وہ چل کہاں سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نرالی حدیث آئی بھی ہے تو وہ الگ پہچان لی گئی ہے اور محدثین نے اس کی نشاندہی کردی ہے کہ اس خاص راوی کے سوا یہ بات کسی اور نے بیان نہیں کی ہے۔ یا اس پر عمل درآمد کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

احادیث کی صحت کا ایک ثبوت

ان سب کے علاوہ ایک نہایت اہم بات اور بھی ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عربی زبان جانتے ہیں اور جنھوں نے محض سرسری طور پر کبھی کبھار متفرق احادیث کا مطالعہ نہیں کر لیا ہے بلکہ گہری نگاہ سے حدیث کی پوری پوری کتابوں کو، یا کم از کم کسی ایک ہی کتاب (مثلاً بخاری یا مسلم) کو از اوّل تا آخر پڑھا ہے۔ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی ایک خاص زبان اور آپ کا اپنا ایک مخصوص انداز بیان ہے جو تمام صحیح احادیث میں بالکل یکسانیت اور یک رنگی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ قرآن کی طرح آپ کا لٹریچر اور اسٹائل اپنی ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس کی نقل کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا۔ اس میں آپ کی شخصیت بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں آپ کا بلند منصب و مقام جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے آدمی کا دل یہ گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ باتیں محمد رسول اللہ کے سوا کوئی دوسرا شخص کہہ نہیں سکتا۔ جن لوگوں نے کثرت سے احادیث کو پڑھ کر حضوؐر کی زبان طرز بیان کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے وہ حدیث کی سند کو دیکھے بغیر محض متن کو پڑھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع، کیونکہ موضوع کی زبان ہی بتادیتی ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کی زبان نہیں ہے۔ حتیّٰ کہ صحیح احادیث تک میں روایت باللفظ اور روایت بالمعنیٰ کا فرق صاف محسوس ہوجاتا ہے، کیونکہ جہاں راوی نے حضوؐر کی بات کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے وہاں آپؐ کے اسٹائل سے واقفیت رکھنے والا یہ بات پالیتا ہے کہ یہ خیال اور بیان تو حضوؐر ہی کا ہے لیکن زبان میں فرق ہے۔ یہ انفرادی خصوصیت احادیث میں کبھی نہ پائی جاسکتی اگر بہت سے کمزور حافظوں نے ان کو غلط طریقوں سے نقل کیا ہوتا اور بہت سے ذہنوں کی کارفرمائی نے ان کو اپنے اپنے خیالات و تعصبات کے مطابق توڑا مروڑا ہوتا۔ کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ بہت سے ذہن مل کر ایک یک رنگ لٹریچر اور ایک انفرادی اسٹائل پیدا کرسکتے ہیں؟
اور یہ معاملہ صرف زبان و ادب کی حد تک ہی نہیں ہے اس سے آگے بڑھ کر دیکھیے تو نظر آتا ہے کہ طہارت جسم و لباس سے لے کر صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاملات تک زندگی کے تمام مختلف شعبوں میں اور ایمان و اخلاق سے لے کر علامات قیامت اور احوال آخرت تک تمام فکری اور اعتقادی مسائل میں صحیح احادیث ایک ایسا نظام فکر و عمل پیش کرتی ہیں جو اوّل سے آخر تک اپنا ایک ہی مزاج رکھتا ہے اور جس کے تمام اجزا میں پورا پورا منطقی ربط ہے۔ ایسا مربوط اور ہم رنگ نظام اور اتنا مکمل وحدانی نظام لازماً ایک ہی فکر سے بن سکتا ہے، بہت سے مختلف ذہن مل کر اسے نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک اور اہم ذریعہ ہے جس سے موضوع احادیث ہی نہیں مشکوک احادیث تک پہچانی جاتی ہیں۔ سند کو دیکھنے سے پہلے ایک بصیرت رکھنے والا آدمی اس طرح کی کسی حدیث کے مضمون ہی کو دیکھ کر یہ بات صاف محسوس کرلیتا ہے کہ صحیح احادیث اور قرآن مجید نے مل کر اسلام کا جو نظام فکر اور نظام حیات بنایا ہے اس کے اندر یہ مضمون کسی طرح ٹھیک نہیں بیٹھتا کیونکہ اس کا مزاج پورے نظام کے مزاج سے مختلف نظر آتا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے (تو ان حضرات) کی یہ رائے بڑے ہی سرسری مطالعے اور نہایت ناکافی غور و تحقیق کا نتیجہ نظر آتی ہے کہ حدیث کو حافظوں کی غلطی اور مختلف ذہنوں کی کارفرمائی نے مسخ کر دیا ہے۔

ماٰخذ

(۱) ٭ابوداؤد، کتاب العلم: باب فی کتاب العلم۔ ٭مسند احمد، ج۲، مرویات عبد اللّٰہ بن عمرو۔ ٭المستدرک للحاکم جلد ا کتاب العلم، الامربکتابۃ الحدیث ٭ دارمی باب من رخص فی کتاب العلم ٭ مسند احمد، ج۲، عمرو بن شعیب ۔
(۲) ٭ترمذی، ابواب العلم : باب فی الرخصۃ فیہ۔
(۳) ٭بخاری، ج ۱، کتاب العلم : باب کتابۃ العلم۔ ٭ابوداؤد: کتاب العلم: باب فی کتاب العلم۔ ٭ترمذی: ابواب العلم: باب ماجاء فی الرخصۃ فیہ۔
(۴) ٭بخاری ج ۱، کتاب العلم: باب کتابۃ العلم۔٭ترمذی: ابواب العلم: باب فی الرخصۃ فیہ۔ ٭دارمی: کتاب العلم: باب من رخص فی کتابۃ العلم۔٭ مسند احمد، ج ۲، عن ابی ہریرۃ۔
(۵) ٭ابوداؤد، کتاب العلم ج ۳، باب فضل نشر العلم۔ ٭ترمذی، ابواب اعلم ج ۲، باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع۔ حدیث زید بن ثابت حسن۔ ٭ ابن ماجہ ، المقدمہ: باب من بلغ علما ٭مسند احمد، ج ۵، زید بن ثابت۔ ٭دارمی، ج ۱، باب الاقتداء بالعلماء۔
(۶) ٭بخاری، ج ۱،کتاب العلم: باب قول النبی ﷺ ربّ مبلغ اوعی من سامع۔ ٭مسند احمد ، ج۱، عن ابن عباس۔ ٭ابن ماجہ، المقدمہ: باب من بلغ علما۔
(۷) ٭بخاری، ج ۱،کتاب العلم: باب لیبلّغ العلم الشاہد الغائب الخ۔
(۸) ٭بخاری، ج ۱،کتاب الایمان: باب اداء الخمس من الایمان۔ ٭ بخاری، ج ۱، کتاب العلم: باب تحریض النبی وفد عبدالقیس علی حفاظۃ الایمان۔ ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان: باب الامربالایمان باللّٰہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ وشرائع الدین والدعاء الیہ والسوال عنہ وحفظہ و تبلیغہ من لم یبلغہ۔ ٭ابوداؤد: کتاب الاشربہ : باب فی الاوعیۃ۔ ٭ ترمذی ابواب الایمان: باب ماجاء فی اضافۃ الفرائض الی الایمان۔ اس میں وا دواخمس ما غنمتم تک ہے۔ ٭نسائی: کتاب الایمان: باب اداء الخمس ۔ آخری جملہ اس میں بھی نہیں ہے۔
(۹) ٭مسلم، ج ۲، کتاب الزہد: باب التثبت فی الحدیث وحکم کتابۃ العلم۔
(۱۰) ٭ترمذی: ابواب تفسیر القراٰن: باب ماجاء فی الذی یفسرالقراٰن برأیہ۔
(۱۱) ٭مسند احمد، ج ۱، ابن عباس۔٭مسند جلد ۱ پر ابن عباس سے جو روایت مروی ہے اس میں فی القرآن کی بجائے علی القرآن ہے۔

(۱۲) ٭بخاری، ج ۱، کتاب العلم: باب اثم من کذب علی النبی ﷺ
(۱۳) ٭ابن ماجہ: باب التغلیظ فی تعمد الکذب الخ۔
(۱۴) ٭ترمذی: ابواب العلم: باب فی تعظیم الکذب علی رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۱۵) ٭بخاری ج۱،کتاب العلم: باب اثم من کذب علی النبی ﷺ۔
(۱۶) ٭ابن ماجہ: المقدمہ :باب التغلیظ من تعمد الکذب علیٰ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۱۷) ٭المستدرک للحاکم، ج ۱، کتاب العلم۔ ٭ابوداؤد: کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ۔ ٭ترمذی: ابواب العلم: باب مانص عنہ ان یقال عنہ حدیث رسول اللّٰہ ﷺ۔ ٭ابن ماجہ: باب تعظیم حدیث رسول اللّٰہ ﷺ والتغلیظ علیٰ من عارضہ۔ ٭موارد الظمآن میں نہیت عنہ کے بعد ماندری ماہذا عند ناکتاب اللّٰہ لیس ہذا فیہ کے الفاظ ہیں۔ ٭موارد الظمآن: کتاب العلم: باب اتباع رسول اللّٰہ ﷺ ۔ ٭ابن ماجہ نے من امری کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ اور فیقول لاندری کے بجائے لاادری روایت کیا ہے۔
(۱۸) ٭مسند احمد، ج ۶، مرویات ابی رافع رضی اللّٰہ عنہ۔
(۱۹) ٭ابوداؤد: کتاب السنۃ: باب فی لزوم السنۃ۔ ٭دارقطنی: ج ۲٭دارمی، باب السنۃ قاضیۃ علیٰ کتاب اللّٰہ ٭ابن ماجہ: المقدمہ۔
(۲۰) ابوداؤد: کتاب الخراج والفئی والامارۃ: باب فی تعشیر اہل الذمہ اذا اختلفوا بالتجارات۔
(۲۱) بخاری، ج ۲، کتاب النکاح: باب الترغیب فی النکاح۔ ٭مسلم: کتاب النکاح، ج ۱۔

اساساتِ اسلام

۱۔ اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لّآ اِلٰہ الاَّ اللّٰہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰۃَ وَتُوْتِیَ الزَّکوٰۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَ تَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً۔ (مسلم، ابوداؤد ، ترمذی، نسائی)
ترجمہ: اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ (تفہیمات حصہ دوم ص:فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ خَیْثَمَۃَ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَاوَکِیْعٌ عَنْ کَہْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْییٰ بْنِ یَعْمُرَح وَحَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذِنِ الْعَنْبَرِیُّ وَہٰذَا حَدِیْثُہٗ، قَالَ: نَااَبِی، قَالَ: نَا کَہْمَسٌ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَ، قَالَ: کَانَ اَوَّلَ مَنْ قَالَ فِی الْقَدْرِ بِالْبَصَرَۃِ مَعْبَدُنِ الْجُہَنِیُّ فَانْطَلَقْتُ اَنَا وَحَمِیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیُّ حَاجَّیْنِ اَوْ مُعْتَمِرَیْنِ ، فَقُلْنَا: لَوْ لَقِیْنَا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَسَاَلْنَاہُ عَمَّایَقُوْلُ ہٰؤُلَائِ فِی الْقَدْرِ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ فَاکْتَنَفْتُہُ اَنَا وَصَاحِبِیْ۔ اَحَدُنَا عَنْ یَمِیْنِہٖ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِہٖ فَظَنَنْتُ اَنَّ صَاحِبِیْ سَیَکِلُ الْکَلَامَ اِلَیَّ، فَقُلْتُ : یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہٗ قَدْ ظَہَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْاٰنَ وَیَتَقَفَّرُوْنَ الْعِلْمَ وَذَکَرَمِنْ شَاْنِہِمْ وَاَنَّہُمْ یَزْعُمُوْنَ اَنْ لَّا قَدْرَ۔ وَاَنَّ الْاَمْرَ اُنُفٌ۔ قَالَ: اِذَا لَقِیْتَ اُولٰٓئِکَ فَاَخْبِرْہُمْ اَنِّیْ بَرِٓیٌٔ مِنْہُمْ وَاَنَّہُمْ بُرَآئٌ مِّنِّیْ وَالَّذِیْ یَحْلِفُ بِہٖ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ لَوْاَنَّ لِاَحَدِ ہِمْ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَبًا فَاَنْفَقَہٗ مَاقَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ۔
ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بِیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا یُریٰ عَلَیْہِ اَثَرُ السَّفَرِ وَلَایَعْرِفُہٗ مِنَّا اَحَدٌ حَتّٰی جَلَسَ اِلیٰ النَّبِیِّ ﷺ فَاَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ اِلیٰ رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلیٰ فَخِذَیْہِ، وَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْہَدَ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکوٰۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۔ قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَہٗ یَسْئَلُہٗ، وَیُصَدِّقُہٗ۔ قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ، قَالَ: اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ، قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ، قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَابِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَاتِہَا، قَالَ: اَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّتَہَا وَاَنْ تَرَی الحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَآئَ الشَّائِ، یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِیًّا، ثُمَّ قَالَ لِیْ: یَاعُمَرُ! اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ:اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: فَاِنَّہُ جِِبْرِیْلُ اَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔ (۱)
یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بصرہ میں معبد جہنی نے سب سے پہلے انکارِ تقدیر پر گفتگو کی۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری دونوں حج یا عمرہ کا عزم لیے ہوئے روانہ ہوئے۔ ہماری خواہش تھی کہ کاش اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے کسی سے ہماری ملاقات ہوجائے تو ہم ان سے اس نظریہ کے بارے میں دریافت کریں جو یہ لوگ تقدیر کے متعلق رکھتے ہیں۔ حسنِ اتفاق سے عبداللہ بن عمر سے ہماری ملاقات اس وقت ہوگئی جب وہ مسجد میں داخل ہورہے تھے۔ ہم دونوں نے ان کو دائیں بائیں دونوں طرف سے گھیر ے میں لے لیا۔چونکہ میرا خیال یہ تھا کہ میرا ساتھی آغازِ گفتگو کا موقع مجھے ہی دے گا۔ اس خیال سے میں نے گفتگو شروع کردی میں نے کہا۔ اے ابو عبدالرحمن! ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے ظاہر ہوگئے ہیں جو تلاوتِ قرآن کرتے ہیں اور علم کا شوق بھی رکھتے ہیں اور اس کے متعلق باریکیاں بھی چھانٹتے ہیں اور مزید ان کے حالات پر روشنی ڈالی۔ مگر ان لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کوئی چیز نہیں۔ ہر معاملہ بغیر تقدیر کے از خود ہوجاتا ہے۔ ابن عمرؓ نے فرمایا کہ اگر ان سے تمہاری ملاقات ہو تو صاف صاف کہہ دینا کہ ان کا مجھ سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں اور نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کی ابن عمر قسم کھاتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اسے راہِ خدا میں خرچ کردے اللہ تعالیٰ اس کی اس خیرات کو اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔
اس کے بعد ابن عمرؓ نے فرمایا کہ میرے والد نے مجھے حدیث سنائی کہ ایک روز ہم لوگ آں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضرتھے۔ اچانک اس اثنا میں ایک اجنبی شخص آپ کی خدمت میںحاضر ہوا۔ لباس نہایت سفید ، بال انتہائی سیاہ۔ سفر کا کوئی نشان اس پر نمایاں نہیں تھا۔ ہم میں سے کوئی بھی اسے جانتا پہچانتا نہ تھا۔ بالآخر وہ حضوؐر کے روبرو دوزانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے (مؤدب ہو کر بیٹھا) اور عرض کیا اے محمدؐ مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں اور اس بات کی شہادت دے کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو حج بیت اللہ کرے۔‘‘ اس نے عرض کیا، ’’آپؐ نے سچ فرمایا۔‘‘ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کررہا ہے اور خود ہی اس کی تصدیق کررہا ہے۔ پھر اس نے عرض کیا کہ اچھا بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، ’’ایمان یہ ہے کہ تم خدا پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت پر ایمان لائو اور خیر و شر کے مقدر ہونے پر ایمان لائو۔‘‘ اس نے عرض کیا کہ ’’ آپ نے سچ فرمایا۔‘‘ پھر پوچھا کہ ’’احسان کیا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا، ’’احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو کیونکہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو اس یقین کے ساتھ عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس شخص نے کہا ’’اچھا اب قیامت کے متعلق ارشاد فرمائیے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا، ’’مسئول عنہ سائل سے اس بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا۔‘‘ اس پر اس نے عرض کیا اچھا کچھ علامات بتادیں۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اس کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ اور برہنہ پا مفلس چرواہے اونچے اونچے عالی شان محلات تعمیر کریں گے اور ان پر اترائیں گے۔‘‘ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں ٹھیرا رہا۔ پھر حضوؐر نے دریافت فرمایا، ’’جانتے ہو یہ سائل کون تھا؟‘‘ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ’’یہ جبریل تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘ ( بقول قاضی عیاض : یہ حدیث ایسی جامع ہے کہ جملہ امورِ شریعت اس میں بیان کردیے ہیں۔ مثلاً
ارکان و اساساتِ اسلام: شہادۃ ان لا الہ الّااللّٰہ و ان محمدارسول اللّٰہ۔ اقامت صلوٰۃ، ایتاء الزکوٰۃ، صوم رمضان، بصورتِ استطاعت حج بیت اللہ۔
ایمانیات: ایمان باللہ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب، ایمان بالرسل، ایمان بالآخرۃ، اور ایمان بالقدر خیرہ و شرہ وغیرہ۔
احسان: ایک جملہ میں سارے تصوف اورسلوک کو یکجا کردیا ہے کہ عبادت اس رنگ میں کرنی چاہیے کہ عابد اپنے معبودِ حقیقی کو اپنے روبرو دیکھ رہا ہو۔ اگر اس مرتبہ پر نہ پہنچے تو کم از کم یہ احساس تو ہو کہ وہ معبود اپنے عابد کو دیکھ رہا ہے گویا خدائے بزرگ و برتر کے ہر آن اور ہر لمحہ حاضر و ناظر ہونے کا تصور رہے۔ )۱؎
جس چیز کو ہم اسلامی اخلاقیات سے تعبیر کرتے ہیں وہ قرآن اور حدیث کی روسے دراصل چار مراتب ( حدیث جبریل میں اساسات اسلام، ایمانیات اور احسان کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسلامی اخلاقیات کی عمارت چار بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ یعنی ایمان، اسلام ، تقویٰ اور احسان۔ اسی کے پیش نظر اس مقام پر ایمان، اسلام اور احسان کے ساتھ تقویٰ کو بالترتیب بیان کیا گیا ہے۔ )۲؎ پر مشتمل ہے۔ ایمان۱ ، تقو۲یٰ ، اسلا۳م اور احسا۴ن یہ چاروں مراتب یکے بعد دیگرے اس فطری ترتیب پر واقع ہیں کہ ہر بعد کا مرتبہ پہلے مرتبے سے پیدا اور لازماً اسی پر قائم ہوتا ہے، اور جب تک نیچے والی منزل پختہ و محکم نہ ہوجائے دوسری منزل کی تعمیر کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اس پوری عمارت میں ایمان کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ اس بنیاد پر اسلام کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔ پھر اس کے اوپر تقویٰ اور اس سے اوپر احسان کی منزلیں اٹھتی ہیں۔ ایمان نہ ہو تو اسلام و تقویٰ یا احسان کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ ایمان کمزور ہو تو اس پر کسی بالائی منزل کا بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا، یا ایسی کوئی منزل تعمیر کربھی دی جائے تو وہ بودی اور متزلزل ہوگی۔ ایمان محدود ہو تو جتنے حدود میں وہ محدود ہوگا، اسلام، تقویٰ اور احسان بھی بس انہی حدود تک محدود رہیں گے۔ پس جب تک ایمان پوری طرح صحیح، پختہ اور وسیع نہ ہو، کوئی مرد عاقل جو دین کا فہم رکھتا ہو، اسلام، تقویٰ یا احسان کی تعمیر کا خیال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح تقویٰ سے پہلے اسلام اور احسان سے پہلے تقویٰ کی تصحیح، پختگی اور توسیع ضروری ہے۔ لیکن اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس فطری و اصولی ترتیب کو نظر انداز کرکے ایمان و اسلام کی تکمیل کے بغیر تقویٰ و احسان کی باتیں شروع کردیتے ہیں، اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ بالعموم لوگوں کے ذہنوں میں ایمان و اسلام کا ایک نہایت محدود تصور جاگزیں ہے اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ محض وضع قطع، لباس ، نشست و برخاست، اکل و شرب اور ایسی ہی چند ظاہری چیزوں کو ایک مقرر نقشے پر ڈھال لینے سے تقویٰ کی تکمیل ہوجاتی ہے، اور پھر عبادات میں نوافل ، اذکار ، اوراد و وظائف اور ایسے ہی بعض اعمال اختیار کرلینے سے احسان کا بلند مقام حاصل ہوجاتا ہے حالانکہ بسااوقات اسی تقویٰ اور احسان کے ساتھ ساتھ لوگوں کی زندگیوں میں ایسی صریح علامات بھی نظر آتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی ان کا ایمان ہی سرے سے درست اور پختہ نہیں ہوا ہے۔ یہ غلطیاں جب تک موجود ہیں، کسی طرح یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ ہم اسلامی اخلاقیات کا نصاب پورا کرنے میں کبھی کامیاب ہوسکیں گے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہمیں ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کے ان چاروں مراتب کا پورا پورا تصور بھی حاصل ہو اور اس کے ساتھ ہم ان کی فطری ترتیب کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔

ایمان

سب سے پہلے ایمان کو لیجیے جو اسلامی زندگی کی بنیاد ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ توحید و رسالت کے اقرارکا نام ایمان ہے۔ اگر کوئی شخص اس کا اقرار کرلے تو اس سے وہ قانونی شرط پوری ہوجاتی ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے رکھی گئی ہے اور وہ اس کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے مگر کیا یہی سادہ اقرار، جو ایک قانونی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، اس غرض کے لیے بھی کافی ہوسکتا ہے کہ اسلامی زندگی کی ساری سہ منزلہ عمارت صرف اس بنیاد پر قائم ہوسکے؟ لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں، اور اسی لیے جہاں یہ اقرار موجود ہوتا ہے وہاں عملی اسلام اور تقویٰ اور احسان کی تعمیر شروع کردی جاتی ہے جو اکثر ہوائی قلعے سے زیادہ پائیدار ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن فی الواقع ایک مکمل اسلامی زندگی کی تعمیر کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ایمان اپنی تفصیلات میں پوری طرح وسیع اور اپنی گہرائی میں اچھی طرح مستحکم ہو۔ اس کی تفصیلات میں سے جو شعبہ بھی چھوٹ جائے گا، اسلامی زندگی کا وہی شعبہ تعمیر ہونے سے رہ جائے گا، اور اس کی گہرائی میں جہاں بھی کسر رہ جائے گی اسلامی زندگی کی عمارت اسی مقام پر بودی ثابت ہوگی۔
مثال کے طور پر ایمان باللہ کو دیکھیے جو دین کی اوّلین بنیاد ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ خدا کا اقرار اپنی سادہ صورت سے گزر کر جب تفصیلات میں پہنچتا ہے تو اس کی بے شمار صورتیں بن جاتی ہیں۔ کہیں وہ صرف اس حد پر ختم ہوجاتا ہے کہ بے شک خدا موجود ہے اور وہ دنیا کا خالق ہے اور اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ کہیں اس کی انتہائی وسعت بس اتنی ہوتی ہے کہ خداہمارا معبود ہے اور ہمیں اس کی پرستش کرنی چاہیے۔ کہیں خدا کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات کا تصور کچھ زیادہ وسیع ہو کر بھی اس سے آگے نہیں بڑھتا کہ عالم الغیب ، سمیع وبصیر ، سمیع الدعوات اور قاضی الحاجات اور ’’پرستش‘‘ کی تمام جزوی شکلوں کا مستحق ہونے میں خدا کا کوی شریک نہیں ہے،اور یہ کہ ’’مذہبی معاملات‘‘ میں آخری سند خدا ہی کی کتاب ہے۔ ظاہر ہے کہ ان مختلف تصورات سے ایک ہی طرز کی زندگی نہیں بن سکتی بلکہ جو تصور جتنا محدود ہے، عملی زندگی اور اخلاق میں بھی لازما ًاسلامی رنگ اتنا ہی محدود ہوگا، حتیّٰ کہ جہاں عام مذہبی تصورات کے مطابق ایمان باللہ اپنی انتہائی وسعت پر پہنچ جائے گا وہاں بھی اسلامی زندگی اس سے آگے نہ بڑھ سکے گی کہ خدا کے باغیوں کی وفاداری اور خدا کی وفاداری ایک ساتھ نباہ لی جائے، یا نظام کفر اور نظام اسلام کو سمو کر ایک مرکب بنالیا جائے۔
اسی طرح ایمان باللہ کی گہرائی کا پیمانہ بھی مختلف ہے۔ کوئی خدا کا اقرار کرنے کے باوجود اپنی کسی معمولی سے معمولی چیز کو بھی خدا پر قربان کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، کوئی بعض چیزوں سے خدا کو عزیز تر رکھتا ہے مگر بعض چیزیں اسے خدا سے عزیز تر ہوتی ہیں، کوئی اپنی جان و مال تک خدا پر قربان کردیتا ہے مگر اپنے رجحاناتِ نفس اور اپنے نظریات و افکار کی قربانی یا اپنی شہرت کی قربانی اسے گوارا نہیں ہوتی۔ ٹھیک ٹھیک اسی تناسب سے اسلامی زندگی کی پائیداری و ناپائیداری بھی متعین ہوتی ہے، اور انسان کا اسلامی اخلاق ٹھیک اسی مقام پر دغا دے جاتا ہے جہاں اس کے نیچے ایمان کی بنیاد کمزور رہ جاتی ہے۔ ایک مکمل اسلامی زندگی کی عمارت اگر اٹھ سکتی ہے تو صرف اسی اقرار توحید پر اٹھ سکتی ہے جو انسان کی پوری انفرادی و اجتماعی زندگی پر وسیع ہو جس کے مطابق انسان اپنے آپ کو اور اپنی ہر چیز کو خدا کی ملک سمجھے، اسی کو اپنا اور تمام دنیا کا ایک ہی جائز مالک ، معبود ، مطاع اور صاحب امر و نہی تسلیم کرے، اسی کو ہدایت کاسرچشمہ مانے، اور پورے شعور کے ساتھ اس حقیقت پر مطمئن ہوجائے کہ خدا کی اطاعت سے انحراف ، یا اس کی ہدایت سے بے نیازی، یا اس کی ذات و صفات اور حقوق و اختیارات میں غیر کی شرکت جس پہلو اور جس رنگ میں بھی ہے سراسر ضلالت ہے۔ پھر اس عمارت میں استحکام اگر پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اس وقت ہوسکتا ہے کہ آدمی پورے شعور اور پورے ارادے کے ساتھ یہ فیصلہ کرلے کہ وہ اور اس کا سب کچھ اللہ کا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے۔ اپنے معیار پسند اور ناپسند کو ختم کرکے اللہ کی پسند و ناپسند کے تابع کردے۔ اپنی خود سری کو مٹا کر اپنے نظریات ، خیالات، خواہشات ، جذبات ،اور اندازِ فکر کو اس علم کے مطابق ڈھال لے جو خدا نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اپنی تمام ان وفاداریوں کو دریا برد کردے جو خدا کی وفاداری کے تابع نہیں بلکہ اس کی مدِّمقابل بن سکتی ہوں۔ اپنے دل میں سب سے بلند مقام پر خدا کی محبت کو بٹھائے اور ہر اس بت کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر نہان خانۂ دل سے نکال پھینکے جو خدا کے مقابلہ میں عزیز تر ہونے کا مطالبہ کرتا ہو۔ اپنی محبت اور نفرت ، اپنی دوستی ودشمنی، اپنی رغبت اور کراہیت ، اپنی صلح اور جنگ ہر چیز کو خدا کی مرضی میں اس طرح گم کردے کہ اس کا نفس وہی چاہنے لگے جو خدا چاہتا ہے اور اس سے بھاگنے لگے جو خدا کو ناپسند ہے۔ یہ ہے ایمان باللہ کا حقیقی مرتبہ اور آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں ایمان ہی ان حیثیات سے اپنی وسعت اور ہمہ گیری اور اپنی پختگی و مضبوطی میں ناقص ہو وہاں تقویٰ یا احسان کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔
اسی پر دوسرے ایمانیات کو بھی قیاس کر لیجیے۔ نبوت پر ایمان اس وقت تک مکمل نہیںہوتا جب تک انسان کا نفس زندگی کے سارے معاملات میں نبی ﷺ کو اپنا رہنما نہ مان لے اور اس کی رہنمائی کے خلاف یا اس سے آزاد جتنی رہنمائیاں ہوں ان کو رد نہ کردے۔ کتاب پر ایمان اس وقت تک ناقص ہی رہتا ہے جب تک نفس میں کتاب اللہ کے بتائے ہوئے اصول زندگی کے سوا کسی دوسری چیز کے تسلّط پر رضا مندی کا شائبہ بھی باقی ہو یا اتّباع مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ کو اپنی اور ساری دنیا کی زندگی کا قانون دیکھنے کے لیے قلب و روح کی بے چینی میں کچھ کسر بھی ہو۔ اسی طرح آخرت پر ایمان بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ نفس پوری طرح آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے اور اخروی قدروں کے مقابلہ میں دنیوی قدروں کو ٹھکرادینے پر آمادہ نہ ہوجائے اور آخرت کی جواب دہی کا خیال اسے زندگی کی ہر راہ پر چلتے ہوئے قدم قدم پر کھٹکنے نہ لگے۔ یہ بنیادیں ہی جہاں پوری طرح موجود نہ ہوں آخر وہاں اسلامی زندگی کی عالی شان عمارت کس شے پر تعمیر ہوگی۔ جب لوگوں نے ان بنیادوں کی توسیع و تکمیل اور پختگی کے بغیر ہی تعمیراخلاقِ اسلامی کو ممکن سمجھا تب ہی تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتاب اللہ کے خلاف فیصلہ کرنے والے جج، غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمے لڑنے والے وکیل، نظامِ کفر کے ماتحت معاملات زندگی کا انتظام کرنے والے کارکن، کافرانہ اصولِ تمدّن و سیاست پر زندگی کی تشکیل و تاسیس کے لیے لڑنے والے لیڈر اور پیر و، غرض سب کے لیے تقویٰ و احسان کے مراتب عالیہ کا دروازہ کھل گیابشرطیکہ وہ اپنی زندگی کے ظاہری اندازو اطوار کو ایک خاص نقشے پر ڈھال لیں۔ اور کچھ نوافل و اذکار کی عادت ڈال لیں۔

اسلام

ایمان کی یہ بنیادیں ، جن کا ابھی میں نے آپ سے ذکر کیا ہے ، جب مکمل اور گہری ہوجاتی ہیں، تب ان پر اسلام کی منزل تعمیر ہوتی ہے۔ اسلام دراصل ایمان کے عملی ظہور کا دوسرا نام ہے۔ ایمان اور اسلام کا باہمی تعلق ویسا ہی ہے جیسا بیج اور درخت کا تعلق ہوتا ہے۔ بیج میں جو کچھ اور جیسا کچھ موجود ہوتا ہے وہی درخت کی شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے، حتیّٰ کہ درخت کا امتحان کرکے بآسانی یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ بیج میں کیا تھا اور کیا نہ تھا۔ آپ نہ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ بیج نہ ہو اور درخت موجود ہو، اور نہ یہی ممکن ہے کہ زمین بنجر بھی نہ ہو اور بیج اس میں موجود بھی ہو پھربھی درخت پیدا نہ ہو۔ ایسا ہی معاملہ ایمان اور اسلام کا ہے۔ جہاں ایمان موجود ہوگا، لازماً اس کا ظہور آدمی کی عملی زندگی میں، اخلاق میں، برتائومیں، تعلقات کے کٹنے اور جڑنے میں، دوڑ دھوپ کے رخ میں ، مذاق و مزاج کی افتاد میں، سعی و جہد کے راستوں میں، اوقات اور قوتوں اور قابلیتوں کے مصرف میں، غرض مظاہر زندگی کے ہر ہر جز میں ہو کر رہے گا۔ ان میں سے جس پہلو میں بھی اسلام کے بجائے غیر اسلام ظاہر ہورہا ہے یقین کرلیجیے کہ اس پہلو میں ایمان موجود نہیں ہے یا ہے تو بالکل بودا اور بے جان ہے، اور اگر عملی زندگی ساری کی ساری ہی غیر مسلمانہ شان سے بسر ہو رہی ہو تو جان لیجیے کہ دل ایمان سے خالی ہے یا زمین اتنی بنجر ہے کہ ایمان کا بیج برگ وبار نہیں لارہا ہے۔ بہر حال میں نے جہاں تک قرآن اور حدیث کو سمجھا ہے، یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ دل میں ایمان ہو اور عمل میں اسلام نہ ہو۔
تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن سے ان بحثوں کو نکال دیں جو فقہاء اور متکلمین نے اس مسئلہ میں کی ہیں اور قرآن سے اس معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اعتقادی ایمان اور عملی اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے ، اور تمام اچھے وعدے جو اس نے اپنے بندوں سے کیے ہیں انہی لوگوں سے متعلق ہیں جو اعتقاداً مومن اور عملاً مسلم ہوں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں منافقین کو پکڑا ہے وہاں ان کے عمل ہی کی خرابیوں سے ان کے ایمان کے نقص پر دلیل قائم کی ہے اور عملی اسلام ہی کو حقیقی ایمان کی علامت ٹھیرایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانونی لحاظ سے کسی شخص کو کافر ٹھیرانے اور امت سے اس کا رشتہ کاٹ دینے کا معاملہ دوسرا ہے اور اس میں انتہائی احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے، مگر میں یہاں اس ایمان و اسلام کا ذکر نہیں کررہا ہوں جس پر دنیا میں فقہی احکام مترتب ہوتے ہیں بلکہ یہاں ذکر اس ایمان و اسلام کا ہے جو خدا کے ہاں معتبر ہے اور جس پر اخروی نتائج مترتب ہونے والے ہیں۔ قانونی نقطۂ نظر کو چھوڑ کر حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے اگر آپ دیکھیں گے تو یقینا یہی پائیں گے کہ جہاں عملاً خدا کے آگے سپر اندازی اور سپر دگی و حوالگی میں کمی ہے، جہاںنفس کی پسند خدا کی پسند سے مختلف ہے، جہاں خدا کی وفاداری کے ساتھ غیر کی وفاداری نبھ رہی ہے۔ جہاں اقامت دین کی سعی کے بجائے دوسرے مشاغل میں انہماک ہے، جہاں کو ششیں اور محنتیں راہ خدا کے بجائے دوسری راہوں میں صرف ہورہی ہیں، وہاں ضرور ایمان میںنقص ہے اور ظاہر ہے کہ ناقص ایمان پر تقویٰ اور احسان کی تعمیر نہیں ہوسکتی خواہ ظاہر کے اعتبار سے متقیوں کی سی وضع بنانے اور محسنین کے بعض اعمال کی نقل اتارنے کی کتنی ہی کوشش کی جائے۔ ظاہر فریب شکلیں اگر حقیقت کی روح سے خالی ہوں تو ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسی ایک نہایت خوب صورت آدمی کی لاش بہترین وضع و ہیئت میں موجود ہو مگر اس میں جان نہ ہو۔ اس خوبصورت لاش کی ظاہری شان سے دھوکا کھا کر آپ کچھ توقعات اس سے وابستہ کریں گے تو واقعات کی دنیا اپنے پہلے ہی امتحان میں اس کا ناکارہ ہونا ثابت کر دے گی اور تجربے سے آپ کو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ ایک بدصورت مگر زندہ انسان ایک خوب صورت مگر بے روح لاش سے بہر حال زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ ظاہر فریبیوں سے آپ اپنے نفس کو تو ضرور دھوکا دے سکتے ہیں، لیکن عالم واقعہ پر کچھ بھی اثر نہیں ڈال سکتے اور نہ خدا کی میزان ہی میں کوئی وزن حاصل کرسکتے ہیں۔

تقویٰ

تقویٰ کی بات کرنے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ تقویٰ ہے کیا چیز۔تقویٰ حقیقت میں کسی وضع وہیئت اور کسی خاص طرز معاشرت کا نام نہیں ہے بلکہ دراصل وہ نفس کی اس کیفیت کا نام ہے جو خدا ترسی اور احساسِ ذمہ داری سے پیدا ہوتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں ظہور کرتی ہے۔ حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو، عبدیت کا شعور ہو، خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری و جواب دہی کا احساس ہو، اور اس بات کا زندہ ادراک موجود ہو کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں خدا نے ایک مہلت عمر دے کر مجھے بھیجا ہے اور آخرت میں میرے مستقبل کا فیصلہ بالکل اس چیز پر منحصر ہے کہ میں اس دیے ہوئے وقت کے اندر اس امتحان گاہ میں اپنی قوتوں اور قابلیتوں کو کس طرح استعمال کرتا ہوں۔ اس سروسامان میں کس طرح تصرف کرتا ہوں جو مشیت الٰہی کے تحت مجھے دیا گیاہے، اور ان انسانوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہوں جن سے قضائے الٰہی نے مختلف حیثیتوں سے میری زندگی متعلق کردی ہے۔ یہ احساس و شعور جس شخص کے اندر پیدا ہوجائے اس کا ضمیر بیدار ہوجاتا ہے۔ اس کی دینی حس تیز ہوجاتی ہے اس کو ہر وہ چیز کھٹکنے لگتی ہے جو خدا کی رضا کے خلاف ہو۔ اس کے مذاق کو ہر وہ شے ناگوار ہونے لگتی ہے جو خدا کی پسند سے مختلف ہو۔وہ اپنے نفس کا آپ جائزہ لینے لگتا ہے کہ میرے اندر کس قسم کے رجحانات و میلانات پرورش پارہے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا خود محاسبہ کرنے لگتا ہے کہ میں کن کاموں میں اپنا وقت اور قوتیں صرف کررہا ہوں۔ وہ صریح ممنوعات کو تو درکنار مشتبہ امور میں بھی مبتلا ہوتے ہوئے خود بخود جھجکنے لگتا ہے۔ اس کا احساس فرض اسے مجبور کردیتا ہے کہ تمام اوامر کو پوری فرماں برداری کے ساتھ بجالائے۔ اس کی خدا ترسی ہراس موقعہ پر اس کے قدم میں لغزش پیدا کردیتی ہے۔ جہاں حدود اللہ سے تجاوز کا اندیشہ ہو۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی نگہداشت آپ سے آپ اس کا وتیرہ بن جاتی ہے اور اس خیال سے بھی اس کا ضمیر کانپ اٹھتا ہے کہ کہیں اس سے کوئی بات حق کے خلاف سرزد نہ ہوجائے۔ یہ کیفیت کسی ایک شکل یا کسی مخصوص دائرہ عمل میں ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ آدمی کے پورے طرزِ فکر اور اس کے تمام کارنامۂ زندگی میں اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے اثر سے ایک ایسی ہموار و یک رنگ سیرت پیدا ہوتی ہے جس میں آپ ہر پہلو سے ایک ہی طرز کی پاکیزگی و صفائی پائیں گے۔ بخلاف اس کے جہاں تقویٰ اس چیز کا نام رکھ لیا گیا ہے کہ آدمی چند مخصوص شکلوں کی پابندی اور مخصوص طریقوں کی پیروی اختیار کرلے اور مصنوعی طور پر اپنے آپ کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال لے جس کی پیمائش کی جاسکتی ہو۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ وہ چند اشکالِ تقویٰ جو سکھادی گئی ہیں، ان کی پابندی انتہائی اہتمام کے ساتھ ہورہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ زندگی کے دوسرے پہلوئوں میں وہ اخلاق ، وہ طرزِ فکر اور وہ طرزِ عمل بھی ظاہر ہورہے ہیں جو مقام تقویٰ تو درکنار، ایمان کے ابتدائی مقتضیات سے بھی مناسبت نہیں رکھتے ۔یعنی حضرت مسیحؑ کی تمثیلی زبان میں مچھر چھانے جارہے ہیں اور اونٹ بے تکلّفی کے ساتھ نگلے جارہے ہیں۔
حقیقی تقویٰ اور مصنوعی تقویٰ کے اس فرق کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص تو وہ ہے جس کے اندر طہارت و نظافت کی حس موجود ہے اور پاکیزگی کا ذوق پایا جاتا ہے۔ ایسا شخص گندگی سے فی نفسہٖ نفرت کرے گا خواہ وہ جس شکل میں بھی ہو اور طہارت کو بجائے خود اختیار کرے گا خواہ اس کے مظاہر کا احاطہ نہ ہوسکتا ہو بخلاف اس کے ایک دوسرا شخص ہے جس کے اندر طہارت کی حس موجود نہیں ہے مگر وہ گندگیوں اور طہارتوں کی ایک فہرست لیے پھرتا ہے جو کہیں سے اس نے نقل کرلی ہیں، یہ شخص ان گندگیوں سے سخت اجتناب کرے گا جو اس کی فہرست میں لکھی ہوئی ہیں، مگر بے شمار ایسی گھنائونی چیزوں میں آلودہ پایا جائے گا جو ان گندگیوں سے بدرجہا زیادہ ناپاک ہوں گی جن سے وہ بچ رہا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ اس کی فہرست میں درج ہونے سے رہ گئیں۔ یہ فرق جو میں آپ سے عرض کررہا ہوں، یہ محض ایک نظری فرق نہیں ہے بلکہ آپ اس کو اپنی آنکھوں سے ان حضرات کی زندگیوں میں دیکھ سکتے ہیں جن کے تقویٰ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ ایک طرف ان کے ہاں جزئیات شرع کا یہ اہتمام ہے کہ داڑھی ایک خاص مقدار سے کچھ بھی کم ہو تو فسق کا فیصلہ نافذ کردیا جاتا ہے، پائنچہ ٹخنے سے ذرا نیچے ہوجائے تو جہنم کی وعید سنادی جاتی ہے۔ اپنے مسلک فقہی کے فروعی احکام سے ہٹنا ان کے نزدیک گویا دین سے نکل جانا ہے، لیکن دوسری طرف دین کے اصول و کلیات سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی پوری زندگی کا مدار انھوں نے رخصتوں اور سیاسی مصلحتوں پر رکھ دیا ہے، اقامتِ دین کی سعی سے گریز کی بے شمار راہیں انھوں نے نکال رکھی ہیں، غلبۂ کفر کے تحت ’’اسلامی زندگی‘‘ کے نقشے بنانے ہی میں ان کی ساری محنتیں اور کوششیں صرف ہورہی ہیں، اور انہی کی غلط رہنمائی نے مسلمانوں کو اس چیز پر مطمئن کیا ہے کہ ایک غیر اسلامی نظام کے اندر رہتے ہوئے بلکہ اس کی خدمت کرتے ہوئے بھی ایک محدود دائرے میں مذہبی زندگی بسر کرکے وہ دین کے سارے تقاضے پورے کرسکتے ہیں اور اس سے آگے کچھ مطلوب نہیں ہے جس کے لیے وہ سعی کریں۔پھر اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی ان کے سامنے دین کے اصلی مطالبے پیش کرے اور سعی اقامتِ دین کی طرف توجہ دلائے تو صرف یہی نہیں کہ وہ اس کی بات سنی ان سنی کردیتے ہیں بلکہ کوئی حیلہ، کوئی بہانہ اور کوئی چال ایسی نہیں چھوڑتے جو اس کام سے خود بچنے اور مسلمانوں کو بچانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس پر بھی ان کے تقویٰ پر کوئی آنچ نہیں آتی اور نہ مذہبی ذہنیت رکھنے والوں میں سے کسی کو یہ شک ہوتا ہے کہ ان کے تقویٰ میں کوئی کسر ہے۔ اسی طرح حقیقی اور مصنوعی تقویٰ کا فرق بے شمار دوسری شکلوں میں بھی ظاہر ہوتا رہتا ہے مگر آپ اسے تب ہی محسوس کرسکتے ہیں کہ تقویٰ کا اصلی تصور آپ کے ذہن میں واضح طور پر موجود ہو۔
میری ان باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وضع قطع، لباس اور معاشرت کے ظاہری پہلوئوں کے متعلق جو آداب و احکام حدیث سے ثابت ہیں، میں ان کا استخفاف کرنا چاہتا ہوں یا انھیں غیر ضروری قرار دیتا ہوں۔ خدا کی پناہ اس سے کہ میرے دل میں ایسا کوئی خیال ہو، دراصل جو کچھ میں آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل شے حقیقت تقویٰ ہے نہ کہ یہ مظاہر۔ حقیقت تقویٰ جس کے اندر پیدا ہوگی تو اس کی پوری زندگی ہمواری و یک رنگی کے ساتھ اسلامی زندگی بنے گی اور اسلام اپنی پوری ہمہ گیری کے ساتھ اس کے خیالات میں، اس کے جذبات و رجحانات میں، اس کے مذاقِ طبیعت میں، اس کے اوقات کی تقسیم اور اس کی قوتوں کے مصارف میں، اس کی سعی کی راہوں میں، اس کے طرزِ زندگی اور معاشرت میں، اس کی کمائی اور خرچ میں۔ غرض اس کی حیات دنیوی کے سارے ہی پہلوئوں میں رفتہ رفتہ نمایاں ہوتا چلا جائے گا۔ بخلاف اس کے اگر مظاہر کو حقیقت پر مقدم رکھا جائے گا اور ان پر بے جازور دیا جائے گا اور حقیقی تقویٰ کی تخم ریزی و آبیاری کے بغیر مصنوعی طور پر چند ظاہری احکام کی تعمیل کرادی جائے گی تو نتائج وہی کچھ ہوں گے جن کامیں نے ابھی آپ سے ذکر کیا ہے۔ پہلی چیز دیر طلب اور صبر آزما ہے۔ بتدریج نشو نما پاتی اور ایک مدت کے بعد برگ و بار لاتی ہے ۔ جس طرح بیج سے درخت کے پیدا ہونے اور پھل پھول لانے میں کافی دیر لگاکرتی ہے، اسی لیے سطحی مزاج کے لوگ اس سے اپراتے ہیں۔ بخلاف اس کے دوسری چیز جلدی اور آسانی سے پیدا کرلی جاتی ہے، جیسے ایک لکڑی میں پتے اور پھل اور پھول باندھ کر درخت کی سی شکل بنادی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کی پیداوار کا یہی ڈھنگ آج مقبول ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ جو توقعات ایک فطری درخت سے پوری ہوتی ہیں، وہ اس قسم کے مصنوعی درختوں سے کبھی پوری نہیں ہوسکتیں۔

احسان

احسان دراصل اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ اس قلبی لگائو، اس گہری محبت ، اس سچی وفا داری اور فدویت وجاں نثاری کا نام ہے جو مسلمان کو فنا فی الاسلام کردے۔ تقویٰ کا اساسی تصور خدا کا خوف ہے جو انسان کو اس کی ناراضی سے بچنے پر آمادہ کرے اور احسان کا اساسی تصور خدا کی محبت ہے جو آدمی کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ابھارے۔ ان دونوں چیزوں کے فرق کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ حکومت کے ملازموں میں سے ایک تو وہ لوگ ہیں جو نہایت فرض شناسی و تن دہی سے وہ تمام خدمات ٹھیک ٹھیک بجالاتے ہیں جو ان کے سپرد کی گئی ہوں۔ تمام ضابطوں اور قاعدوں کی پوری پوری پابندی کرتے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو حکومت کے لیے قابل اعتراض ہو۔ دوسرا طبقہ ان مخلص وفاداروں اور جاں نثاروں کا ہوتا ہے جو دل و جان سے حکومت کے ہوا خواہ ہوتے ہیں، صرف وہی خدمات انجام نہیں دیتے ہیں جو ان کے سپرد کی گئی ہوں بلکہ ان کے دل کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ سلطنت کے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ترقی دی جائے، اور اس دھن میں فرض اور مطالبہ سے زائد کام کرتے ہیں، سلطنت پر کوئی آنچ آئے تو وہ جان و مال اور اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں، قانون کی کہیں خلاف ورزی ہو تو ان کے دل کو چوٹ لگتی ہے، کہیں بغاوت کے آثار پائے جائیں تو وہ بے چین ہوجاتے ہیں اور اسے فروکرنے میں جان لڑادیتے ہیں، جان بوجھ کر خود سلطنت کے مفاد کو نقصان پہنچانا تو درکنار اس کو کسی طرح نقصان پہنچتے دیکھنا بھی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے اور اس خرابی کے رفع کرنے میں وہ اپنی حد تک کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے، ان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں بس ان کی سلطنت ہی کا بول بالا ہو اور زمین کا کوئی چپہ ایسا باقی نہ رہے جہاں اس کاپھریرانہ اڑے۔ ان دونوں میں سے پہلی قسم کے لوگ حکومت کے متقی ہیں اور دوسری قسم کے لوگ اس کے محسن۔ اگرچہ ترقیاں متقین کو بھی ملتی ہیں اور بہرحال ان کے نام اچھے ہی ملازموں کی فہرست میں لکھے جاتے ہیں، مگر جو سرفرازیاں محسنین کے لیے ہیں ان میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ہوتا۔ پس اسی مثال پر اسلام کے متقیوں اور محسنوں کو بھی قیاس کرلیجیے۔ اگرچہ متقین بھی قابل قدر اور قابل اعتماد لوگ ہیں۔ مگر اسلام کی اصلی طاقت محسنین کا گروہ ہے اور وہ اصلی کام جو اسلام اس دنیا میں کرنا چاہتا ہے اسی گروہ سے بن آسکتا ہے۔
احسان کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد آپ خود ہی اندازہ کرلیں کہ جو لوگ اپنی آنکھوں سے خدا کے دین کو کفر سے مغلوب دیکھیں ، جن کے سامنے حدود اللہ پامال ہی نہیں بلکہ کالعدم کردی جائیں، خدا کا قانون عملاً ہی نہیں بلکہ باضابطہ منسوخ کردیا جائے۔ خدا کی زمین پر خدا کا نہیں بلکہ اس کے باغیوں کا بول بالا ہو رہا ہو۔ نظام کفر کے تسلط سے نہ صرف عام انسانی سوسائٹی میں اخلاقی و تمدنی فساد برپا ہو بلکہ خود امت مسلمہ بھی نہایت سرعت کے ساتھ اخلاقی و عملی گمراہیوں میں مبتلا ہورہی ہو۔ اور یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ان کے دلوں میں نہ کوئی بے چینی پیدا ہو نہ اس حالت کو بدلنے کے لیے کوئی جذبہ بھڑکے بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے نفس کو اور عام مسلمانوں کو غیر اسلامی نظام کے غلبے پر اصولاً و عملاًمطمئن کردیں، ان کا شمار آخر کار محسنین میں کس طرح ہوسکتا ہے اور اس جرم عظیم کے ساتھ محض یہ بات انھیں احسان کے مقام عالی پر کیسے سرفراز کرسکتی ہے کہ وہ چاشت اور اشراق اور تہجد کے نوافل پڑھتے رہے، ذکر و شغل اور مراقبے کرتے رہے، حدیث و قرآن کے درس دیتے رہے، جزئیات فقہ کی پابندی اور چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اتباع کا سخت اہتمام فرماتے رہے اور تزکیہ نفس کی خانقاہوں میں دینداری کا وہ فن سکھاتے رہے جس میں حدیث فقہ اور تصوف کی باریکیاں تو ساری موجود تھیں مگر ایک نہ تھی تو وہ حقیقی دینداری جو ’’سردادند اددست دردست یزید‘‘ کی کیفیت پیدا کرے اور ’’بازی اگرچہ پانہ سکا سر تو کھوسکا‘‘ کے مقام وفاداری پر پہنچائے۔ آپ دنیوی ریاستوں اور قوموں میں بھی وفادار اور غیر وفادار کی اتنی تمیز ضرور نمایاں پائیں گے کہ اگر ملک میں بغاوت ہوجائے یا ملک کے کسی حصے پر دشمن کا قبضہ ہوجائے تو باغیوں اور دشمنوں کے تسلط کو جو لوگ جائز تسلیم کرلیں، یا ان کے تسلط پر راضی ہوجائیں اور ان کے ساتھ مغلوبانہ مصالحت کرلیں، یا ان کی سرپرستی میں کوئی ایسا نظام بنائیں جس میں اصلی اقتدار کی باگیں انہی کے ہاتھ میں رہیں اور کچھ ضمنی حقوق و اختیارات انھیں بھی مل جائیں، تو ایسے لوگوں کو کوئی ریاست اور کوئی قوم اپنا وفادار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی خواہ وہ قومی فیشن کے کیسے ہی سخت پابند اور جزئی معاملات میں قومی قانون کے کتنے ہی شدید پیرو ہوں۔۱( اس حدیث کے جزء ماالمسئول عنہا باعلم من السائل فصل ۳ کے تحت عالم الغیب کے ضمن میں ملاحظہ ہو۔ )؎ (روداد جماعت اسلامی حصہ سوم :احسان)
۲۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکوٰۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، دارقطنی)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں جب وہ ایسا کردیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گے، اِلَّا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ان کے خلاف قائم ہو، اور ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔‘‘
تشریح: جہاں تک کسی شخص کے درحقیقت مومن یا غیر مومن ہونے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ کرنا تو کسی انسان کا کام ہی نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو براہ راست خدا سے تعلق رکھتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ قیامت کے روز فرمائے گا۔ رہے بندے، تو ان کے فیصلہ کرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول نے ملت اسلام کے لیے جو امتیازی نشانات بتائے ہیں ان کے لحاظ سے کون شخص سرحد اسلام کے اندر ہے اور کون اس سے باہر نکل گیا ہے۔ اس غرض کے لیے جو چیزیں ہم کو بنائے اسلام کی حیثیت سے بتائی گئی ہیں۔ (وہ وہی ہیں جو اوپر مذکور ہیں) (تفہیمات حصہ دوم :فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِنِ الْمُسْنَدِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْ رَوْحِ نِ الْحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ وَاقِدِبْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یُحَدِّثُ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکوٰۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (۲)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوںسے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں جب وہ ایسا کردیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گے، اِلّا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ان کے خلاف قائم ہو اور ان کا حساب اللہ عزوجلّ کے ذمے ہے۔‘‘
۳۔ تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ۔
ترجمہ: اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر۔
پس منظر: ایک مرتبہ آپؐ سفر میں تھے،ایک اعرابی نے آکر آپ کے اونٹ کی نکیل تھام لی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ؐ! مجھے کوئی ایسی چیز بتایے جو مجھ کو جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔ (فرمایا: تَعْبُدُ اللّٰہ ۔۔۔)
تشریح: یہاںایک ایسا شخص سامنے ہے جو آپؐ کی رسالت کا قائل ہے، حیاتِ اخروی کا قائل ہے، اسلام قبول کرچکا ہے، اس کو تمام ایمانیات اور اخلاقیات کی تفصیل مطلوب نہیں۔ وہ صرف خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہدایت مانگ رہا ہے۔ آپؐ اس کی ضرورت کے مطابق اس کو تعلیم دیتے ہیں کہ جس عقیدہ پر اسلام کی بنیاد قائم ہے، اس میں مضبوط ہوجا اور اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کیے جا۔ (تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات کے لیے۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنَااَبُوا لْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِی ابْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوْسیٰ بْنَ طَلْحَۃَ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَجُلًا قَالَ : یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِی الْجَنَّۃَح وَحَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، حَدَّثَنَا بَہْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُوْہِبٍ وَاَبُوْہُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّہُمَا سَمِعَا مُوْسیٰ بْنَ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَجُلًاقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَالَہٗ مَا لَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَرَبٌ مَالَہٗ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکَوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ۔ (۳)
ترجمہ: حضرت ایوب انصاری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے۔‘‘ لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ ’’اسے کیا ہوگیا اسے کیا ہوگیا۔‘‘آپؐ نے فرمایا ’’اسے کوئی ضرورت پیش آگئی ہے، پھر فرمایا ’’اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر۔‘‘
حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکَرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا اَبُوْالْاَحْوَصِ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ مُوْسیٰ بْنُ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: دُلَّنِیْ عَلیٰ عَمَلٍ اَعْمَلُہٗ یُدْنِیْنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصِلُ ذَارَحِمَکَ فَلَمَّا اَدْبَرَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: اِنْ تَمَسَّکَ بِمَا اُمِرَ بِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(۴)
ترجمہ: ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کیا ’’ (یارسول اللہ) مجھے ایسے عمل کی راہ نمائی فرمائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔‘‘ جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’اللہ تعالیٰ کی بندگی کر اور اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز قائم رکھ، اور زکوٰۃ دے اور قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کر۔‘‘ یہ سن کر وہ شخص جب واپس پلٹنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ’’جن امور کا اسے حکم دیا گیا ہے اگر ان پر عمل پیرا رہا تو جنت میں داخل ہوگیا۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ اَبِیْ عُمَرَ الْعَدَنِیُّ، ثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ اَبِیْ النُّجُوْدِ، عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَاَصْبَحْتُ یَوْمًا قَرِیْبًا مِّنْہُ وَنَحْنُ نَسِیْرُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِیْمًا وَاِنَّہٗ یَسِیْرٌ عَلیٰ مَنْ یَسَّرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔ تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُوْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔۔۔ (۵)
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں، میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک روز علی الصبح حضوؐر کا قرب مجھے نصیب ہوگیا (اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) میں نے عرض کیا ’’اسے رسولؐ خدا! ’’مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ، ’’تم نے بہت بڑا سوال کیا مگر اللہ تعالیٰ جس کے لیے آسان فرمادے اس کے لیے بڑا آسان ہے۔ ( پھر فرمایا) ’’اللہ تعالیٰ کی بندگی کر اور اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک و ساجھی نہ بنا، نماز قائم رکھ اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ: نَا اَبِیْ، قَالَ: نَا عَمْرُوبْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: نا مُوسیٰ بْنُ طَلْحَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِی اَبُوْ اَیُّوْبَ اَنَّ اَعْرَابِیًّا عَرَضَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ فِیْ سَفَرٍ فَاَخَذَ بِخِطَامِ نَا قَتِہٖ اَوْبِزِمَا مِہَا، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَوْ یَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِی بِمَایُقَرِّبُنِیْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَمَا یُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَکَفَّ النَّبِیُّ ﷺ، ثُمَّ نَظَرَفِیْ اَصْحَابِہٖ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ وُفِّقَ اَوْلَقَدْ ہُدِیَ، قَالَ: کَیْفَ قُلْتَ؟ قَالَ فَاَعَادَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ وَتُؤْتِی الزَّکوٰۃَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَۃَ۔ (۶)
ترجمہ: ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے۔ ایک اعرابی نے سامنے سے آکر آپؐ کے اونٹ کی نکیل پکڑلی اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی چیز ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کردے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تھوڑے سے توقف کے بعد اپنے صحابہ میں نظر دوڑا کر فرمایا ’’لازماً توفیق الٰہی سے نوازا گیا یا فرمایا راہِ ہدایت دکھایا گیا۔‘‘ پھر آپؐ نے اس سے فرمایا کہ ذرا اپنا سوال پھر دہرائو تو اس نے دوبارہ پہلے کی طرح عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ خداوندی میں کسی کو شریک نہ کر، نماز کا پابند رہ، زکوٰۃ دے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کر اور اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو۔‘‘
۴۔تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکْ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤْتِیْ الزَّکوٰۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ۔
ترجمہ: ’’وہ عمل یہ ہے کہ تو صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، جو نماز فرض کی گئی ہے اس کا پابند رہے، جوزکوٰۃ مقرر کر دی گئی ہے وہ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘
پس منظر: ایک دوسرے موقع پر ایک اعرابی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں پہنچادے (تو آپؐ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے) اس نے کہا ’’بہ خدا میں نہ اس سے زیادہ کچھ کروں گا نہ کم‘‘ جب وہ چلا گیا تو حضوؐر نے فرمایا، ’’جو شخص اہلِ جنت میں سے کسی کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
(تفہیمات حصہ اوّل: کیا نجات کے لیے ۔۔۔؟)
تشریح: اب حضوؐر کی تعلیم اور اس شخص کے جواب اور پھر آپؐ کے آخری ارشاد پر غور کیجیے۔ ایک سچا مسلمان سامنے تھا۔ نبی کی ہدایت کو صدق دل سے قبول کرنے کو تیار تھا۔ اس کو صرف یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ خدا کی جنت میں داخل ہونے کے لیے بڑی بڑی ریاضتوں اور مجاہدوں کی ضرورت نہیں، چلے کھینچنے اور رات رات بھر وظیفے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی دنیا داری کی زندگی میں اگر تو اپنے اعتقاد کو شرک سے پاک رکھے اور خدا کے عائد کیے ہوئے فرائض ادا کرتا رہے تو جنت تجھے مل سکتی ہے۔
(تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات کے لیے۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنَامُحَمَّدُبْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدِبْنِ حَیَّانَ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ اَعْرَابِیًّا اَتَی النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ: دُلَّنِیْ عَلیٰ عَمَلٍ اِذَاعَمِلْتُہٗ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، قَالَ: تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکوٰۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ، قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَااَزِیْدُ عَلیٰ ہٰذَا فَلَمَّا وَلّٰی، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَاِلیٰ رَجُلٍ مِّنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْاِلیٰ ہٰذَا۔ (۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا ، ’’مجھے ایسے عمل کی طرف راہ نمائی فرمائیں کہ جب میں اسے انجام دوں تو جنت میں داخل ہوجائوں۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایا:وہ عمل یہ ہے کہ ’’تو صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائے، جو نماز فرض کی گئی ہے اس کا پابند رہے۔ جو زکوٰۃ مقرر کردی گئی ہے وہ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘(یہ ارشادات سن کر) اس شخص نے کہا، ’’بہ خدا میں نہ اس سے زیادہ کچھ کروں گا نہ کم۔‘‘ جب وہ چلا گیا تو حضوؐر نے فرمایا ’’جو شخص اہل جنت میں سے کسی کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
۵۔ ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک مشن پر یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم اہل کتاب کی ایک قوم میں پہنچوگے۔ سب سے پہلے ان کو اس بات کی دعوت دینا کہ لا الٰہ الااللّٰہ کی شہادت دیں اور یہ تسلیم کریں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔جب اس کو مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ نے تم پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس کوبھی مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ نے تم پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے، جو تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے غریبوں کو دے دی جائے گی۔ جب وہ اس کو بھی مان لیں تو خبر دار ان کے (عمدہ و نفیس) مال کو ہاتھ نہ لگانا۔ اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
(تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات کے لیے ۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنِیْ حِبَّانٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍ مَوْلیٰ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِمُعَاذِبْنِ جَبَلٍ حِیْنَ بَعَثَہٗ اِلَی الْیَمَنِ: اِنَّکَ سَتَاْتِیْ قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ فَاِذَا جِئْتَہُمْ فَادْعُہُمْ اِلیٰ اَنْ یَّشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلِکَ فَاَخْبِرْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلِکَ فَاَخْبِرْہُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمْ صَدَقَۃً تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیَآئِ ہِمْ فَتُرَدُّ عَلیٰ فُقَرَآئِ ہِمْ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلَکَ فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہٗ لَیْسَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔ (۸)
۶۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَیُؤْمِنُوْا بِیْ وَبِمَا جِئْتُ بِہٖ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور مجھ پر اور ان سب باتوں پر ایمان لائیں جو میں لایا ہوں۔ پھرجب انھوں نے ایسا کردیا تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچالیا الاّ یہ کہ ان کے خلاف کوئی حق قائم ہوجائے، اس کے بعد ان کا حساب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
تخریج: (الف) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِّیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ یَعْنِی الدَّرَاوَرْدِیُّ، عَنِ الْعَلَائِ ح وَحَدَّثَنَا اُمَیَّۃُ بْنُ بَسْطَامٍ وَاللَّفْظُ لَہٗ، قَالَ: نَا یَزِیْدُبْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: نَارَوْحٌ عَنِ الْعَلَائِ ابْنِ عَبدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ اَبِیْہِ۔ عَن اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَیُؤْمِنُوْا بِیْ وَبِمَا جِئْتُ بِہٖ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔ (۹)
(ب) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، اَنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَمَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَصَمَ مِنِّیْ مَالُہٗ وَنَفْسُہٗ اِلَّا بِحَقِّہٖ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ ۔۔۔(۱۰)
اس روایت میں جمع کے بجائے واحد کا صیغہ ہے۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں۔ پس جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان کو بچالیا اِلّا یہ کہ اس کے خلاف کوئی حق قائم ہو جائے، اس کے بعد اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(ج) حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، ثَنا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْہَا مَنَعُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ۔(۱۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الّا اللہ کہیں (اقرار کریں) پس جب انھوں نے لا الہٰ الّا اللہ کا اقرار کرلیا تو مجھ سے اپنے خون ، اپنے مال بچالیے الّا یہ کہ ان کے خلاف کوئی حق قائم ہوجائے، اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
اس روایت میں یَشْہَدُوْا کے بجائے قَالُوْا ہے۔
(د) حَدَّثَنَاأَحْمَدُبْنُ الْاَزْہَرِ، ثنا اَبُوا النَّضْرِ، ثَنَا اَبُوْ جَعْفَرٍ، عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُوْتُوا الزَّکوٰۃَ۔ (۱۲)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیں اور اس کی شہادت دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں۔‘‘
۷۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاَنْ یَسْتَقْبِلُوْا قِبْلَتَنَا وَاَنْ یَاْکُلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَاَنْ یُّصَلُّوْا صَلَاتَنَا فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ہُمْ وَاَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ وَعَلَیْہِمْ مَا علَی الْمُسْلِمِیْنَ۔ (ابوداؤد، ترمذی)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اس کا بندہ اور رسول ہے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری طرف نماز پڑھیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ہمارے اوپر ان کے خون اور ان کے اموال حرام ہوجائیں گے۔ بجز اس کے کہ کسی حق کے بدلے میں ان کو لیا جائے۔ ان کے حقوق وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر فرائض وہی عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہیں۔‘‘
تشریح: اس اعتقادی قانون کی رو سے اسلام اور کفر کے درمیان ابدی جنگ ہے مگر یہ جنگ محض نظری (Theoretical) ہے۔ ہر کافر حربی (Enemy) ہے، مگر اس معنی میں کہ جب تک ہماری اور اس کی قومیت الگ ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان بنائے نزاع قائم ہے۔ ہر دارالکفر دار الحرب ہے، مگراس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ جب تک وہ دارلکفر ہے محل حرب ہے۔ یا بالفاظ دیگر حربیت کا کلی ارتفاع صرف اختلاف قومیت ہی کے مٹ جانے سے ہوسکتا ہے۔ اس قانون نے محض ایک نظریہ اور قاعدۂ اصلیہ واضح طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے جس پر ان کی حکمت عملی کی بنا قائم ہے۔ باقی رہے حقوق و واجبات اور جنگ و صلح کے عملی مسائل تو ان کا اس قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دستوری اور بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔
(سود: اعتقاد ی قانون)
تخریج: حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ یَعْقُوْبَ الطَّالِقَانِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاَنْ یسْتَقْبِلُوْا قِبْلَتَنَا وَاَنْ یَّاْکُلُوْا ذَبِیْحَتَنَا ، وَاَنْ یُّصَلُّوْا صَلَاتَنَا فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ہُمْ وَاَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا، لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَعَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔(۱۳)
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ فَاِذَا شَہِدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَصَلُّوا صَلَا تَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَاَکَلُوْا ذَبَائِحَنَا ۔۔۔
اس روایت میں الناس کے بجائے مشرکون کا لفظ آیا ہے۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین سے جنگ کروں یہاں تک کہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ پس جب وہ اس کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں۔‘‘
حَدَّثَنَا نُعَیْمٌ، قَالَ: نَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ حُمَیْدِنِ الطَّوِیْل، عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْہَا وَصَلُّوْا صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَآ وَاَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ہُمْ وَاَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔ (۱۴)
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہیں (اقرار کریں) پس جب وہ اس کلمہ کا اقرار کرلیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہوگئے۔ اِلّا یہ کہ کوئی حق ان کے خلاف قائم ہوجائے۔ اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق

۸۔ مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطیٰ لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔
ترجمہ: حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جس نے کسی سے دوستی و محبت کی تو خدا کے لیے کی اور دشمنی کی تو خدا کے لیے کی اور کسی کو دیا تو خدا کے لیے دیا اور کسی سے روکا تو خدا کے لیے روکا، اس نے اپنے ایمان کو کامل کرلیا، یعنی وہ پورا مومن ہوگیا۔‘‘
تشریح: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب پاک میں فرماتا ہے۔
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔
’’ ( اے محمد ﷺ) کہو میری نماز اور میرے تمام مراسمِ عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک ہے۔ اس کاکوئی شریک نہیں، اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔‘‘
اس آیت کی تشریح نبی ﷺ کے (مندرجہ بالا)ارشاد سے ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی کو اور اپنے جینے اور مرنے کو صرف اللہ کے لیے خالص کرلے اور اللہ کے سوا کسی کو اس میں شریک نہ کرے۔ یعنی نہ تو اس کی بندگی اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ہو اور نہ اس کا جینا اور مرنا ۔ اس کی جو تشریح نبی ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی اور اپنی دنیوی زندگی کے معاملات میں اس کا لین دین خالصتاً خدا کے لیے ہونا عین تقاضائے ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان ہی کی تکمیل نہیں ہوتی کجا کہ مراتبِ عالیہ کا دروازہ کھل سکے۔جتنی کمی اس معاملے میں ہوگی اتنا ہی نقص آدمی کے ایمان میں ہوگا اور جب اس حیثیت سے آدمی مکمل طور پر خدا کا ہوجائے تب کہیں اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں صرف مراتب عالیہ کا دروازہ کھولتی ہیں، ورنہ ایمان و اسلام کے لیے انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہونا شرط نہیں ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر اس کیفیت کے بغیر بھی انسان مومن و مسلم ہوسکتا ہے۔ مگر یہ ایک غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ فقہی اور قانونی اسلام اور اس حقیقی اسلام میں جو خدا کے ہاں معتبر ہے، فرق نہیں کرتے۔ فقہی اور قانونی اسلام میں آدمی کے قلب کا حال نہیں دیکھا جاتا اور نہیں دیکھا جاسکتا۔ بلکہ صرف اس کے اقرار زبانی کو اور اس امر کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر ان لازمی علامات کو نمایاں کرتا ہے یا نہیں، جو اقرار زبانی کی توثیق کے لیے ضروری ہیں۔ اگر کسی شخص نے زبان سے اللہ اور رسول ﷺ اور قرآن اور آخرت اور دوسرے ایمانیات کو ماننے کا اقرار کرلیا اور اس کے بعد وہ ضروری شرائط بھی پوری کردیں جن سے اس کے ماننے کا ثبوت ملتا ہے تو وہ دائرہ اسلام میں لے لیا جائے گا۔ اور سارے معاملات اس کے ساتھ مسلمان سمجھ کر کیے جائیں گے۔ لیکن یہ چیز صرف دنیا کے لیے ہے اور دنیوی حیثیت سے وہ قانونی اور تمدنی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مسلم سوسائٹی کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایسے اقرار کے ساتھ جتنے لوگ مسلم سوسائٹی میں داخل ہوں، ان کو ایک دوسرے پر شرعی اور قانونی اور اخلاقی اور معاشرتی حقوق حاصل ہوجائیں۔ ان کے درمیان شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہوں، میراث تقسیم ہو، اور دوسرے تمدنی روابط وجود میں آئیں۔ لیکن آخرت میں انسان کی نجات اور اس کا مسلم و مومن قرار دیا جانا اور اللہ کے مقبول بندوں میں شمار ہونا اس قانونی اقرار پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہاں اصل چیز آدمی کا قلبی اقرار، اس کے دل کا جھکائو اور اس کا برضا و رغبت اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے حوالے کردینا ہے۔ دنیا میں جو زبانی اقرار کیا جاتا ہے وہ تو صرف قاضی شرع کے لیے اور عام انسانوں اور مسلمانوں کے لیے ہے۔ کیونکہ وہ صرف ظاہرہی کو دیکھ سکتے ہیں، مگر اللہ آدمی کے دل کو اور اس کے باطن کو دیکھتا ہے، اور اس کے ایمان کو ناپتا ہے۔ اس کے ہاں آدمی کو جس حیثیت سے جانچا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا اس کا جینا اور مرنا اور اس کی وفاداریاں اور اس کی اطاعت و بندگی ، اور اس کا پورا کارنامۂ زندگی اللہ کے لیے ہے یا کسی اور کے لیے۔ اگر اللہ کے لیے ہے تو وہ مسلم اور مومن ہے اور اگر کسی اور کے لیے ہے تو نہ مسلم ہے نہ مومن۔ اس حیثیت سے جو جتنا خام ہے اتنا ہی اس کا ایمان اور اسلام خام ہے خواہ دنیا میں اس کا شمار کیسے ہی بڑے مسلمانوں میں ہوتا ہو اور اس کو کتنے ہی بڑے مراتب دیے جاتے ہوں۔ اللہ کے ہاں قدر صرف اس چیز کی ہے کہ جو کچھ اس نے آپ کو دیا ہے وہ سب کچھ آپ نے اس کی راہ میں لگادیا یا نہیں۔ اگر آپ نے ایسا کردیا تو آپ کو وہی حق دیا جائے گا جو وفاداروں کو اور حق بندگی ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے، اور اگر آپ نے کسی چیز کو خدا کی بندگی سے مستثنیٰ کرکے رکھا، تو آپ کا یہ اقرار کہ آپ مسلم ہوئے یعنی یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے حوالے کردیا، محض ایک جھوٹا اقرار ہے، جس سے دنیا کے لوگ دھوکا کھاسکتے ہیں، جس سے فریب کھا کر مسلم سوسائٹی آپ کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہے، جس سے دنیا میں آپ کو مسلمانوں کے سے تمام حقوق مل سکتے ہیں۔ لیکن اس سے فریب کھا کر خدا اپنے ہاں آپ کو وفاداروں میں جگہ نہیں دے سکتا۔
یہ قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق جو (اوپر بیان کیا گیا ہے) اگر آپ اس پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے نتائج صرف آخرت ہی میں مختلف نہیں ہوں گے بلکہ دنیا میں بھی ایک بڑی حد تک مختلف ہیں۔ دنیا میں جو مسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں، ان سب کو دو قسموں پر منقسم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم کے مسلمان وہ جوخدا اور رسول کا اقرار کرکے اسلام کو بحیثیت اپنے مذہب کے مان لیں، مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کل زندگی کا محض ایک جز اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں، اس مخصوص جز اور شعبے میں تو اسلام کے ساتھ عقیدت ہو، عبادت گزار یاں ہوں، تسبیح و مصلّے ہوں، خدا کا ذکر ہو ، کھانے پینے اور بعض معاشرتی معاملات میں پرہیز گاریاں ہوں اور وہ سب کچھ ہو جسے مذہبی طرزِ عمل کہا جاتا ہے، مگر اس شعبے کے سوا ان کی زندگی کے دوسرے تمام پہلو ان کے مسلم ہونے کی حیثیت سے مستثنیٰ ہوں۔ وہ محبت کریں تو اپنے نفس یا اپنے مفاد یا اپنے ملک و قوم یا کسی اور کی خاطر کریں۔ وہ دشمنی کریں، اور کسی سے جنگ کریں تو وہ بھی ایسے ہی کسی دنیوی یا نفسانی تعلق کی بنا پر کریں۔ ان کے کاروبار ، ان کے لین دین، ان کے معاملات اور تعلقات ، ان کا اپنے بال بچوں ، اپنے خاندان ، اپنی سوسائٹی اور اپنے اہل محکمہ کے ساتھ برتائو سب کا سب ایک بڑی حد تک دین سے آزاد اور دنیوی حیثیتوں پر مبنی ہو۔ ایک زمیندار کی حیثیت سے، ایک تاجر کی حیثیت سے، ایک حکمران کی حیثیت سے، ایک سپاہی کی حیثیت سے، ایک پیشہ ور کی حیثیت سے ان کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہو۔ جس کا ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے، خواہ جزئی طور پر متاثر یا منسوب ہوں، لیکن فی الواقع ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔ دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارے وجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دے دیں۔ ان کی ساری حیثیتیں ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت میں گم ہوجائیں۔ وہ باپ ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے، بیٹے ہوں تو مسلمان ہونے کی حیثیت سے، شوہر یا بیوی ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے۔ تاجر، زمیندار، مزدور، ملازم یا پیشہ ور ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے ان کی خدمات ، ان کی خواہشات ، ان کے نظریات ، ان کے خیالات اور ان کی رائیں، ان کی نفرت اور رغبت ، ان کی پسند اور نا پسند سب کچھ اسلام کے تابع ہو۔ ان کے دل و دماغ پر، ان کی آنکھوں اور کانوں پر، ان کے پیٹ اور ان کی شرم گاہوں پر، اور ان کے ہاتھ پائوں اور ان کے جسم و جان پر اسلام کا مکمل قبضہ ہو۔ نہ ان کی محبت اسلام سے آزاد ہو نہ دشمنی۔ جس سے ملیں تو اسلام کے لیے ملیں اور جس سے لڑیں تو اسلام کے لیے لڑیں۔ کسی کو دیں تو اس لیے دیں کہ اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ اسے دیا جائے اور کسی سے روکیں تو اس لیے روکیں کہ اسلام یہی کہتا ہے کہ اس سے روکا جائے۔ اور ان کا یہ طرزِ عمل صرف انفرادی حد تک ہی نہ ہو بلکہ ان کی اجتماعی زندگی بھی سراسر اسلام کی بنیاد پر قائم ہو۔بحیثیت ایک جماعت کے ان کی ہستی صرف اسلام کے لیے قائم ہواور ان کا سارا اجتماعی برتائو اسلام کے اصولوں ہی پر مبنی ہو۔
یہ دو قسم کے مسلمان حقیقت میں ایک دوسرے سیبالکل مختلف ہیں، چاہے قانونی حیثیت سے دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہو۔ پہلی قسم کے مسلمانوں کا کوئی کارنامہ تاریخ اسلام میںقابل ذکر یا قابل فخر نہیں ہے۔ انھوں نے فی الحقیقت کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس نے تاریخ عالم پر کوئی اسلامی نقش چھوڑا ہو۔ اسلام کو اگر تنزّل نصیب ہوا ہے تو ایسے ہی لوگوں کی بدولت نصیب ہوا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کی کثرت مسلم سوسائٹی میں ہو جانے کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہوا کہ دنیا کے نظام زندگی کی باگیں کفر کے قبضے میں چلی گئیں اور مسلمان اس کے ماتحت رہ کر صرف ایک محدود مذہبی زندگی کی آزادی پر قانع ہوگئے۔ خدا کو ایسے مسلمان ہر گز مطلوب نہ تھے۔ اس نے اپنے انبیاء کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا تھا، نہ اپنی کتابیں اس لیے نازل کی تھیں کہ صرف اس طرز کے مسلمان دنیا میں بناڈالے جائیں۔ دنیا میں ایسے مسلمانوں کے نہ ہونے سے کسی حقیقی قدروقیمت رکھنے والی چیز کی کمی نہ تھی جسے پورا کرنے کے لیے سلسلہ وحی و نبوت کو جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ درحقیقت جو مسلمان خدا کو مطلوب ہیں جنھیں تیار کرنے کے لیے انبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل ہوئی اور جنھوں نے اسلامی نقطۂ نظر سے کبھی کوئی قابلِ قدر کام کیا ہے یا آج کرسکتے ہیں وہ صرف دوسری ہی قسم کے مسلمان ہیں۔
(روداد جماعت اسلامی سوم : قانونی اور حقیقی ۔۔۔)
ایمان ( ضمائر کے قدرے تغیر کے ساتھ) اسلام کا یہ معیار جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے ہم سب اپنے آپ کو اس پر پرکھ کر دیکھیں اور اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں۔ ۔ ۔ کیا ہم نے اپنی پسند اور ناپسند کو سراسر رضائے الٰہی کے تابع کردیا ہے؟ پھر دیکھیے کہ واقعی ہم جس سے محبت کرتے ہیں خدا کے لیے کرتے ہیں۔ ہماری نفسانیت کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے؟ پھر کیا ہمارا دینا اور روکنا بھی خدا کی خاطر ہوچکا ہے؟ اپنے پیٹ اور اپنے نفس سمیت دنیا میں ہم جس کو جو کچھ دے رہے اسی لیے دے رہے ہیں کہ خدا نے اس کا حق مقرر کیا ہے اور اس کو دینے سے صرف خدا کی رضا ہم کو مطلوب ہے؟ اور اسی طرح جس سے ہم جو کچھ روک رہے ہیں وہ بھی اسی لیے روک رہے ہیں کہ خدا نے اسے روکنے کا حکم دیا ہے، اور اس کے روکنے میں ہمیں خدا کی خوشنودی حاصل ہونے کی تمنا ہے؟ اگر ہم یہ کیفیت اپنے اندر پاتے ہیں تو اللہ کا شکر کیجیے کہ اس نے ہم پر نعمت ایمان کا اتمام کردیا۔ اور اگر اس حیثیت سے ہم اپنے اندر کمی محسوس کرتے ہیں تو ساری فکریں چھوڑ کر بس اسی کمی کو پورا کرنے کی فکر کیجیے اور اپنی تمام کوششوں اور محنتوں کو اسی پر مرکوز کردیجیے ، کیونکہ اسی کسر کے پورے ہونے پر دنیا میں ہماری فلاح اور آخرت میں ہماری نجات کا مدار ہے۔ ہم دنیا میں خواہ کچھ بھی حاصل کرلیں، اس کے حصول سے اس نقصان کی تلافی نہیں ہوسکتی جو اس کسر کی بدولت ہمیں پہنچے گا۔ لیکن اگر یہ کسر ہم نے پوری کرلی تو خواہ ہم کو دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو پھر بھی ہم خسارے میں نہ رہیں گے۔
یہ کسوٹی اس غرض کے لیے نہیں ہے کہ اس پر ہم دوسروں کو پرکھیں اور ان کے مومن یا منافق اور مسلم یا کافر ہونے کا فیصلہ کریں۔ بلکہ یہ کسوٹی اس غرض کے لیے ہے کہ ہم اس پر خود اپنے آپ کو پرکھیں، اور آخرت کی عدالت میں جانے سے پہلے اپنا کھوٹ معلوم کرکے یہیں اسے دور کرنے کی فکر کریں۔ ہمیں فکر اس بات کی نہ ہونی چاہیے کہ دنیا میں مفتی اور قاضی ہمیں کیا قرار دیتے ہیں، بلکہ اس کی ہونی چاہیے کہ احکم الحاکمین اور عالم الغیب و الشہادۃ ہمیں کیا قرار دے گا۔ ہم اس پر مطمئن نہ ہوں کہ یہاں ہمارا نام مسلمانوں کے رجسٹر میں لکھا ہے، فکر اس بات کی کیجیے کہ خدا کے دفتر میں ہم کیا لکھے جاتے ہیں۔ ساری دنیا بھی ہم کو سند اسلام و ایمان دے دے تو کچھ حاصل نہیں۔ فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے اس کے ہاںمنافق کے بجائے مومن، نافرمان کے بجائے فرماں بردار اور بے وفا کی جگہ وفادار قرار پانا اصل کامیابی ہے۔ (خطبات : محاسبۂ نفس)
تخریج: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ شُعَیْبِ بْنِ شَابُوْرٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ،عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ، اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔ (۱۵)

اِسْتِقَامت فِی الدین

۹۔ قَدْ قَالَہَاالنَّاسُ ثُمَّ کَفَرَ اَکْثَرُہُمْ، فَمَنْ مَاتَ عَلَیْہَا فَہُوَ مِمَّنِ اسْتَقَامَ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا ’’بہت سے لوگوں نے اللہ کو اپنا رب کہا مگر ان میں سے اکثر کافر ہوگئے۔ ثابت قدم وہ شخص ہے جو مرتے دم تک اسی عقیدے پر جما رہا۔ (ابن جریر، نسائی، ابن ابی حاتم)
تشریح: یعنی محض اتفاقاً کبھی اللہ کو اپنا رب کہہ کر نہیں رہ گئے، اور نہ اس غلطی میں مبتلا ہوئے کہ اللہ کو اپنا رب کہتے بھی جائیں اور ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنا رب بناتے بھی جائیں، بلکہ ایک مرتبہ یہ عقیدہ قبول کرلینے کے بعد پھر ساری عمر اس پر قائم رہے، اس کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ اختیار نہ کیا نہ اس عقیدے کے ساتھ کسی باطل عقیدے کی آمیزش کی، اور اپنی عملی زندگی میں بھی عقیدۂ توحید کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے۔
خدا اور رسول کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے اور خدا کے دین کو قائم کرنے میں جو مشکلات بھی پیش آئیں، جو خطرات بھی درپیش ہوئے، جو تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں اور جن نقصانات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کا پوری ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ کوئی خوف کوئی لالچ اور خواہشات نفس کا کوئی تقاضا ان کو سیدھی راہ سے ہٹادینے میں کامیاب نہیں ہوا۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ عَلِیٍّ، قَالَ: ثَنَا سَالِمُ بْنُ قُتَیْبَۃَ اَبُوْ قُتَیْبَۃَ، قَالَ: ثَنَا سُہَیْلُ بْنُ اَبِیْ حَزْمِ ن الْقُطَعِیٌّ، عن ثَابِتِ نِالْبَنَانِیُّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَرَأَ: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا، قَالَ قَدْ قَالَہَا النَّاسُ ثُمَّ کَفَرَاَکْثَرُ ہُمْ فَمَنْ مَاتَ عَلَیْہَا فَہُوَ مِمَّنِ اسْتَقَامَ۔ (۱۶)
حضرت ابوبکر صدیقؓ اس حدیث کی تشریح یوں کرتے ہیں:
لَمْ یُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا، لَمْ یَلْتَفِتُوْا اِلیٰ اِلٰہٍ غَیْرِہٖ۔
’’پھر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا۔ اس کے سوا کسی دوسرے معبود کی طرف توجہ نہ کی۔‘‘ (ابن جریر)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُو کُرَیْبٍ وَاَبُو السَّائِبِ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الشَّیْبَانِیُّ عَنْ أَبِیْ بَکْرِبْنِ اَبِیْ مُوْسیٰ، عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ ہِلَالِ نِ الْمُحَارِبِیِّ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃِ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا، قَالَ: فَقَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا مِنْ ذَنْبٍ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: لَقَدْ حَمِلْتُمْ عَلیٰ غَیْرِ الْمَحْمَلِ، قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَمْ یَلْتَفِتُوا اِلیٰ اِلٰہٍ غَیْرِہٖ۔(۱۷)
حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا:’’خدا کی قسم! استقامت اختیار کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے، لومڑیوںکی طرح اِدھرسے اُدھر اور ُادھر سے اِدھر دوڑتے نہ پھرے۔‘‘ (ابن جریر)
(۲): حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمَبَارَکِ، قَالَ: ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ، عَنِ
الزُّہْرِیِّ، قَالَ: تَلَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ، اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثمَّ اسْتَقَامُوْا قَالَ اسْتَقَامُوْا وَاللّٰہِ بِطَاعَتِہٖ وَلَمْ یُرَوِّغُوْا رَوْغَانِ الثَّعَالِبِ۔ (۱۸)
حضرت عثمانؓ (استقامت کے بارے میں ) فرماتے ہیں کہ ’’اپنے عمل کو اللہ کے لیے خالص کرلینا‘‘
(کشّاف ص۳۳۱، سورہ حٰم ٓالسجدہ)
( کشّاف، ص:۳۳۱ سورہ حٰمٓ السجدہ مطبع الشرفیہ (تفہیم القرآن، ج ۴، حٰمٓالسجدہ))حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’ اللہ کے عائد کردہ فرائض فرماں برداری کے ساتھ ادا کرتے رہنا۔‘‘

توکّل علی اللہ

۱۰۔ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَقْویٰ النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ، وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَغْنَی النَّاسِ فَلْیَکُنْ بِمَا فِی یَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَوْثَقَ مِنْہُ بِمَا فِیْ یَدَیْہِ، وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَکْرَمَ النَّاسِ فَلْیتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔
ترجمہ: ابن ابی حاتم نے ابنِ عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص چاہتا ہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ عزوجل سے ڈرے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۴،الزمر حاشیہ: ۵۷)
تشریح: توکل کے معنی یہ ہیں کہ:
اولاً، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول ، حلال و حرام کے جو حدود اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں وہی برحق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔
ثانیاً، آدمی کا بھروسا اپنی طاقت، قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے، اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہوسکتا ہے جب کہ وہ اس کی رضا کو مقصود بنا کر، اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے۔
ثالثًا، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسا ہوجو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عملِ صالح کا رویہ اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں، اور انہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ان تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات ماردے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں، اور ان سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کر جائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اس کے نصیب میں آئیں۔
توکل کے معنی کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے، اور اس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو، اس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہوسکتے جن کا وعدہ ایمان لاکر توکل کرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ۴، الشوریٰ حاشیہ :۵۷)
تخریج: قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ،حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ عِصَامِ نِ الْاَنْصَارِیُّ، ثَنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ بَکْرِ السَّہْمِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ حَاتِمٍ، عَنْ اَبِی الْمِقْدَامِ مَوْلیٰ آلِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ کَعْبِ نِالْقُرَظَیِّ، ثَنَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَغْنَی النَّاسِ فَلْیَکُنْ بِمَا فِی یَدِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَوْثَقَ مِنْہُ بِمَا فِیْ یَدَیْہِ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ اَکْرَمَ النَّاسِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔

صرف ایمان باللہ سے ہی انسان راہ راست پر قائم رہ سکتا ہے

۱۱۔ عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ، لَایَقْضِی اللّٰہُ لَہٗ قَضَائً اِلَّا کَانَ خَیْرًا لَّہٗ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍاِلَّا لِلْمُؤْمِنِ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اللہ اس کے حق میں جو فیصلہ بھی کرتا ہے وہ اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے مصیبت پڑے تو صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے خوشحالی میسر آئے تو شکر کرتا ہے، اور وہ بھی اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے۔ یہ بات مومن کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔‘‘
تشریح: مصائب کے ہجوم میں جو چیز انسان کو راہ راست پر قائم رکھتی ہے اور کسی سخت سے سخت حالت میں بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتی وہ صرف ایمان باللہ ہے جس کے دل میں ایمان نہ ہو وہ آفات کو یا تو اتفاقات کا نتیجہ سمجھتا ہے یا دنیوی طاقتوں کو ان کے لانے اور روکنے میں مؤثر مانتا ہے، یا انھیں ایسی خیالی طاقتوں کا عمل سمجھتا ہے جنھیں انسانی اوہام نے نفع و ضرر پہنچانے پر قادر فرض کرلیا ہے، یا خدا کو فاعل مختار مانتا توہے مگر صحیح ایمان کے ساتھ نہیں مانتا۔ ان تمام مختلف صورتوں میں آدمی کم ظرف ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک خاص حد تک تو وہ مصیبت سہہ لیتا ہے لیکن اس کے بعد وہ گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ ہر آستانے پر جھک جاتا ہے۔ ہر ذلت قبول کرلیتا ہے۔ ہر کمینہ حرکت کرسکتا ہے۔ ہر غلط کام کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ خدا کو گالیاں دینے سے بھی نہیں چوکتا حتّٰی کہ خودکشی تک کر گزرتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ جانتا اور سچے دل سے مانتا ہو کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس کائنات کا مالک و فرماں روا ہے۔ اور اسی کے اذن سے مصیبت آتی اور اسی کے حکم سے ٹل سکتی ہے۔ اس کے دل کو اللہ صبر و تسلیم اور رضا بقضاء کی توفیق دیتا ہے۔ اس کو عزم اور ہمت کے ساتھ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بخشتا ہے۔ تاریک سے تاریک حالات میں بھی اس کے سامنے اللہ کے فضل کی امید کا چراغ روشن رہتا ہے اور کوئی بڑی سے بڑی آفت بھی اس کو اتنا پست ہمت نہیں ہونے دیتی کہ وہ راہ راست سے ہٹ جائے، یا باطل کے آگے سرجھکادے، یااللہ کے سوا کسی اور کے درپر اپنے درد کا مداوا ڈھونڈنے لگے۔ اس طرح ہر مصیبت اس کے لیے مزید خیر کے دروازے کھول دیتی ہے اور کوئی مصیبت بھی حقیقت میں اس کے لیے مصیبت نہیں رہتی بلکہ نتیجے کے اعتبار سے سراسر رحمت بن جاتی ہے کیونکہ خواہ وہ اس کا شکار ہو کر رہ جائے یا اس سے بخیریت گزر جائے، دونوں صورتوں میں وہ اپنے رب کی ڈالی ہوئی آزمائش سے کامیاب ہوکر نکلتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۵ التغابن حاشیہ:۲۵)
تخریج: وَفِی الْحَدِیْثِ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ:
عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا یَقْضِی اللّٰہُ لَہٗ قَضَائً اِلَّا کَانَ خَیْرًا لَّہٗ اِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ۔ (۲۰)
حَدَّثَنَا ہُدَّابُ بْنُ خَالِدِ نِ الْاَزْدِیُّ وَشَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ جَمِیْعًا، عَنْ سُلَیْمَانَ ابْنِ الْمُغِیْرَۃِ وَاللَّفْظُ لِشَیْبَانَ، قَالَ: نَا سُلَیْمَانُ، نَاثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْ مِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ۔ (۲۱)
ترجمہ: مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ بلا شبہ اس کا سارے کا سارا معاملہ اچھا ہے۔ یہ بات مومن کے سوا کسی کو بھی نصیب نہیں۔ اگر خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر گزاری کا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے اور اگر تکلیف سے دوچار ہوتا ہے تو صبر و شکیب سے کام لیتا ہے۔ لہٰذا یہ بھی اس کے حق میں اچھا ہے اور بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِی اَبِیْ، ثَنَا بَہْزٌ وحَجَّاجٌ، قَالَا: ثَنَا سُلَیْمَانُ ابْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: عَجِبْتُ مِنْ اَمْرِالْمُؤْمِنِ اَنَّ اَمْرَ المُؤْمِنِ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہٗ خَیْرٌ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ فَصَبَرَکَانَ ذٰلِکَ لَہٗ خَیْرًا۔ (۲۲)
اَخْبَرَنَا اَبُوْ حَاتِمِ الْبَصَرِیُّ رُوْحُ بْنُ اَسْلَمَ، ثَنَا حَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ، اَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَ: بَیْنَمَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ وَضَحِکَ، فَقَالَ: اَلَا تَسْأَلُوْنِیْ مِمَّا اَضْحَکُ؟ فَقَالُوْا: مِمَّ تَضْحَکُ؟ قَالَ: عَجَبًا مِنْ اَمْرِ الْمُؤْمِنِ کُلِّہٖ لَہٗ خَیْرٌ ۔ اِنْ اَصَابَہٗ مَایُحِبُّ حَمِدَ اللّٰہَ عَلَیْہِ فَکَانَ لَہٗ خَیْرًا وَاِنْ اَصَابَہٗ مَایَکْرَہُ فَصَبَرَ، کَانَ لَہٗ خَیْرًا، وَلَیْسَ کُلُّ اَحَدٍ اَمْرَہٗ لَہٗ خَیْرٌ اِلَّا الْمُؤْمِنُ۔ (۲۳)

انسان کا اصل دشمن

۱۲۔ ترجمہ: حضرت ابو مالک اشعری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تیرا اصل دشمن وہ نہیں ہے جسے اگر تو قتل کردے تو تیرے لیے کامیابی ہے اور وہ تجھے قتل کردے تو تیرے لیے جنت ہے، بلکہ تیرا اصل دشمن ، ہوسکتا ہے کہ تیرا اپنا وہ بچہ ہو جو تیری ہی صلب سے پیدا ہوا ہے، پھر تیرا سب سے بڑا دشمن وہ مال ہے جس کا تو مالک ہے۔
تشریح: اللہ تعالیٰ نے سورۂ انفال میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اگر تم مال اور اولاد کے فتنے سے اپنے آپ کو بچالے جائو اور ان کی محبت پر اللہ کی محبت کو غالب رکھنے میں کامیاب رہو، تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵ التغابن حاشیہ:۳۰)
انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت ، غداری، اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے، وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد ، جن کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو، دراصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لیے سامان آزمایش ہیں جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو، حقیقت کی زبان میں وہ دراصل امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اور جسے تم جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پرچۂ امتحان ہے۔ یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لیے گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق اور حدود کا لحاظ کرتے ہو، کہاں تک ذمہ داریوں کا بوجھ لادے ہوئے جذبات کی کشش کے باوجود راہ راست پر چلتے ہو، اور کہاں تک اپنے نفس کو، جو ان دنیوی چیزوں کی محبت میں اسیر ہوتا ہے۔ اس طرح قابو میں رکھتے ہو کہ پوری طرح بندۂ حق بھی بنے رہو اور ان چیزوں کے حقوق اس حد تک ادا بھی کرتے رہو جس حد تک حضرتِ حق نے خود ان کا استحقاق مقرر کیا ہے۔ (تفہیم القرآن ، ج ۲ الانفال حاشیہ :۲۳)
تخریج: قَالَ الطبرانی: حَدَّثَنَاہَاشِمُ بْنُ مَرْ ثَدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَیَّاشٍ، حَدَّثَنِی اَبِی، حَدَّثَنِیْ ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ مَالِکِنِ الْاَشْعَرِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ، قَالَ:لَیْسَ عَدُوُّکَ الَّذِیْ اِنْ قَتَلْتَہٗ کَانَ فَوْزًا لَکَ وَاِنْ قتَلَکَ دَخَلْتَ الْجَنَّۃَ وَلٰکِنَّ الَّذِیْ لَعَلَّہُ عَدُوٌّلَّکَ وَلَدُکَ الَّذِی خَرَجَ مِنْ صُلْبِکَ ثُمَّ اَعْدٰی لَکَ مَالُکَ الَّذِی مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔

اخلاصِ عمل

۱۳۔ اِنَّ اللّٰہ تَعَالیٰ لَا یَقْبَلُ اِلَّا مَنْ اَخْلَصَ لَہٗ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔
تشریح: یہ حدیث ابن مردویہ نے یزید الرقاشی سے نقل کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو خالص کرکے اس کی بندگی تم کو کرنی چاہیے کیوں کہ خالص اور بے آمیز اطاعت و بندگی اللہ کا حق ہے۔ دوسرے الفاظ میں بندگی کا مستحق کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی خالص اور بے آمیز بندگی کرتا ہے تو وہ غلط کرتا ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگیٔ غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر حاشیہ: ۴)
تخریج: (الف) اَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوَیْہِ، عَنْ یَزِیْدَ الرَّقَاشِیِّ، اِنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُعْطِیْ اِلْتِمَاسَ الذِّکْرِ فَہَلْ لَّنَا مِنْ اَجْرٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :لَا، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُعْطِیْ اَمْوَالَنَا الْتِمَاسَ الْاَجْرِوالذِّکْرِ فَہَلْ لَّنَا اَجْرٌ؟ فَقَالََ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ لَا یَقْبَلُ اِلَّا مَنْ اَخْلَصَ لَہٗ۔ (۲۵)
ترجمہ: (یزید الرقاشی سے مروی ہے کہ) ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ہم اپنا مال دیتے ہیں، اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو، کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا؟‘‘ حضوؐر نے فرمایا ’’نہیں‘‘۔ اس نے پوچھا اگر اللہ کے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔
(ب) نا یَحْیٰ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ صَاعِدٍ، وجَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ یَعْقُوْبَ الصَّنْدَلِیُّ، قَالَا: نَا اِبْرَاہِیْمُ ابْنُ مَحْشَرٍ، نَا عُبَیْدَۃُبْنُ حُمَیْدٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالْعَزِیْزِبْنُ رَفِیْعٍ وَغَیْرُہٗ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طَرفَۃَ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ قَیْسِ نِ الفَہْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اَنَاخَیْرُ شَرِیْکٍ فَمَنْ اَشْرَکَ مَعِیْ شَرِیْکًا فَہُوَ لِشَرِیْکِیْ۔
یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اَخْلِصُوْا اَعْمَالَکُمْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبَلُ اِلَّا مَا اَخْلَصَ لَہٗ۔ وَلَا تَقُوْلُوْا: ہٰذا لِلّٰہِ وَلِلرَّحِمِ، فَاِنَّہَا لِلرَّحِمِ وَلَیْسَ لِلّٰہِ مِنْہَا شَییٌ، وَلَا تَقُوْلُوْا، ہٰذَا لِلّٰہِ وَلِوُجُوْہِکُمْ فَاِنَّہَا لِوُجُوْہِکُمْ وَلَیْسَ لِلّٰہِ مِنْہَا شَیْیٌٔ۔ (۲۶)
ترجمہ: حضرت ضحّاک بن قیس فہری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں، میں سب شریکوں سے بہتر ہوں۔پس جس چیز میں کسی نے میرے ساتھ غیر کو شریک بنایا وہ میرے شریک کے لیے ہے۔
لوگو! اپنے اعمال خالصتاً اللہ کے لیے کرو کیوں کہ وہ ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جو صرف اسی کے لیے نہ کیا گیا ہو۔ لہٰذا تم یوں نہ کہا کرو کہ ’’یہ اللہ کے لیے اور قرابت داری کے لیے ہے کیوں کہ اس طرح یہ قرابت داری کے لیے ہے اللہ کے لیے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے، اور یوں بھی نہ کہا کرو کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور تمہاری ذات کے لیے ہے۔ ایسا کہو گے تو یہ صرف تمہاری ذاتوں کے لیے ہوگا اللہ کے لیے اس میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔‘‘

اسلام میں ایمان بلا امانت اور دین بلا عہد کا کوئی تصوّر نہیں

۱۴۔ لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا عَہْدَ لَہٗ۔
ترجمہ: جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا ، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا:
چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے او ر جس میں کوئی ایک پائی جائے اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ ’’ جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے۔جب عہد کرے تو توڑ دے اور جب کسی سے جھگڑے تو (اخلاق و دیانت کی)ساری حدیں پھاند جائے۔‘‘
تشریح: سورۂ مومنون میں ارشاد ہوا ہے۔ وَالَّذِیْن لِاَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُوْنَ۔ ’’امانات‘‘ کا لفظ جامع ہے اُن تمام امانتوں کے لیے جو خداوندِ عالم نے ، یا معاشرے نے، یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں۔ اور عہدو پیمان میں وہ سارے معاہدے داخل ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان،(متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیق آدم کے موقع پر پیش آیا۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کرکے انسانِ اوّل کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرح پوری نسلِ آدم کو بھی ، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ اس کی تفسیر حضرت ابی بن کعب نے غالباً نبی ﷺ سے استفادہ کرکے جو کچھ بیان کی ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور (ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے) لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں مرتب کرکے انھیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انھیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے عرض کیا، ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھیراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سو ا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا ۔اس پر سب انسانوں نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی معبود) ۔
یا انسان اور انسان کے درمیان، یا قوم اور قوم کے درمیان استوار کیے گئے ہوں۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ کبھی امانت میں خیانت نہ کرے گا اور کبھی اپنے قول و قرار سے نہ پھرے گا۔
(تفہیم القرآن، ج ۳ المؤ منون حاشیہ:۸)
ان دونوں قسم کی امانتوں اور دونوں قسم کے عہد و پیمان کا پاس و لحا ظ ایک مومن کی سیرت کے لازمی خصائص میں سے ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، المعارج حاشیہ:۲۱)
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوالْخَیْرِجَامِعُ بْنُ اَحْمَدَبْنِ مُحَمَّدِبْنِ مَہْدِیِّ نِ اَلْوَکِیْلُ،اَنْبَأَاَبُوْطَا ہِرِنِ المُحَمَّدُ اَبَاذِی، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیْدِ نِ الدَّارِمِیُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، ثَنَا اَبُو ہِلَالٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَہْدَلَہٗ۔ (۲۷)
ترجمہ: جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا۔

مومنِ صادق کی پہچان

۱۵۔ (نبی ﷺ نے فرمایا) ’’ لَایَابْنَتَ الصِّدِّیْقِ وَلٰکِنَّہُ الَّذِیْ یُصَلِّیْ وَیَصُوْمُ ویَتَصَدَّقُ وَہُوَ یَخَافُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔‘‘
ترجمہ: (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آں حضور ﷺ سے دریافت کیا) ’’یا رسول اللہ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری ، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے؟‘‘جواب میں نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، اے صدیق ؓ کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے،زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر اللہ عزوجل سے ڈرتا رہتا ہے۔
تشریح: حدیث بالا سورہ المومنون کی آیت نمبر ۶۰ کے متعلق ہے۔ آیت میں فرمان ربّانی ہے ۔ وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآاٰتَوْاوَّ قُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلیٰ رَبِّہِمْ رَاجِعُوْنَ۔
عربی زبان میں ’’دینے‘‘ (ایتاء) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں کہ اٰتَیْتُہٗ من نَفْسِی الْقَبُوْلَ۔کسی شخص کی اطاعت سے انکار کردینے کے لیے کہتے ہیں اٰتَیْتُہٗ مِنْ نَفْسِی الْاِبَائَۃَ۔ پس اس دینے کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ وہ راہِ خدا میں مال دیتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب اللہ کے حضور طاعت و بندگی پیش کرنے پر بھی حاوی ہے۔
اس معنی کے لحاظ سے آیت کا پورا مفہوم یہ ہوا کہ وہ اللہ کی فرماں بردار ی میں جو کچھ بھی نیکیاں کرتے ہیں، جو کچھ بھی خدمات انجام دیتے ہیں، جو کچھ بھی قربانیاں کرتے ہیں، ان پر وہ پھولتے نہیں ہیں۔ غرورِ تقویٰ اور پندارِ خدارسیدگی میں مبتلا نہیں ہوتے، بلکہ اپنے مقدور بھر سب کچھ کرکے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ خدا جانے یہ قبول ہویا نہ ہو، ہمارے گناہوں کے مقابلے میں وزنی ثابت ہو یا نہ ہو، ہمارے رب کے ہاں ہماری مغفرت کے لیے کافی ہو یا نہ ہو۔
(حدیث مذکورہ بالا میں حضرت عائشہؓ کے) سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ یؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا کو یَاتُوْنَ مَا اَتَوْا کے معنی میں لے رہی تھیں، پھر (حضوؐر) جواب سے پتہ چلا کہ آیت کی صحیح قرأت یَاتُوْنَ نہیں بلکہ یُؤْتُوْنَ ہے، اور یہ یُؤْتُوْنَ صرف مال دینے کے محدود معنی میں نہیں ہے بلکہ طاعت بجالانے کے وسیع معنی میں ہے۔
ایک مومن کس قلبی کیفیت کے ساتھ اللہ کی بندگی کرتا ہے۔ اس کی مکمل تصویر حضرت عمرؓ کی وہ حالت ہے کہ عمر بھر کی بے نظیر خدمات کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونے لگتے ہیں تو خدا کے محاسبے سے ڈرتے ہوئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آخرت میں برابر سرابر بھی چھوٹ جائوں تو غنیمت ہے۔ حضرت حسن بصریؒ نے خوب کہا ہے کہ، مومن طاعت کرتا ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے، اور منافق معصیت کرتا ہے پھر بھی بے خوف رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ۳، المومنون حاشیہ:۵۴)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: ثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ وَہْبِ نِالْہَمَدَانِیِّ۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَووَّ قُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ، اَہُوَ الرَّجُلُ یَزْنِیْ ویَسْرِقُ وَیَشْرَبُ الْخَمْرَ؟ قَالَ: لا، یَابْنَتَ الصِّدِیْقِ! وَلٰکِنَّہُ الرَّجُلُ یَصُوْمُ وَیُصَلِّیْ وَیَتَصَدَّقُ وَہُوَ یَخَافُ اَنْ لَّا یُقْبَلَ مِنْہُ۔ (۲۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت ’’الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوا وَّقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ‘‘ کے متعلق پوچھا کہ ’’کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو زانی ہو، چورہو اور مے خوار ہو۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’نہیں، اے صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر اللہ عزوجل سے ڈرتا رہتا ہے کہ اس کا عمل قبول نہ کیا جائے۔‘‘
وَقَالَ:لَا، یَابْنَۃَ الصِّدّیْقِ! وَلٰکِنَّہُمُ الَّذِینَ یُصَلُّوْنَ وَیَصُوْمُوْنَ وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَہُمْ یَخَافُوْنَ اَلَّا یُتَقَبَّلَ مِنْہُمْ۔(۲۹)

گنہگار مومن اور ’’نیکوکار‘‘ کافر کا فرق

گنہگار مومن اور نیکو کار کافر کے درمیان فرق کی بنیاد یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری قبول کرکے اس کے وفادار بندوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اپنی اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے وہ کسی جرم یا بعض جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس کافر دراصل ایک باغی ہوتا ہے اور اگر وہ نیکو کار ہو بھی تو اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اس نے بغاوت کے جرم پرکسی اور جرم کا اضافہ نہیں کیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو شخص باغی نہیں ہے اور صرف مجرم ہے اسے صرف جرم کی حد تک سزا دی جائے گی ، بغاوت کی سزا اس کو نہیں دی جاسکتی، کیوں کہ جرم کرنے کی وجہ سے کوئی شخص وفادار رعیت کے زمرے سے خارج نہیں ہوجاتا۔ لیکن بغاوت بجائے خود سب سے بڑا جرم ہے، اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دوسرے جرائم کا اضافہ نہ بھی کرتا ہو تو اسے وہ حیثیت کسی طرح نہیں دی جاسکتی جو وفادار رعیت کو دی جاتی ہے۔ وہ بغاوت کی سزا بہر حال پاکر رہے گا خواہ وہ اس کے علاوہ کسی جرم کا ارتکاب نہ کرے۔ لیکن اگر وہ باغی ہونے کے ساتھ کچھ جرائم کا مرتکب بھی ہو تو اسے بغاوت کی سزا کے ساتھ ان دوسرے جرائم کی سزا بھی دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کی وفادار و فرماں بردار رعیت میں صرف وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کو کسی قسم کے شرک کی آمیزش کے بغیر اور اللہ کے سب پیغمبروں کو کسی استثناء کے بغیر، اور اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کسی کا انکار کیے بغیر مانتے ہوں اور آخرت کی جواب دہی کو بھی تسلیم کرتے ہوں۔ ان میں سے جس چیز کو بھی آدمی نہ مانے گا وہ باغی ہوگا اور اسے خدا کی وفادار رعیت میں شمار نہ کیا جاسکے گا۔ اب مثال کے طور پر رسولوں اور کتابوں ہی کے معاملہ کو لے لیجیے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی انجیل کو جب یہودیوں نے نہ مانا تو وہ سب باغی ہوگئے، اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو وہ مانتے تھے۔ اسی طرح حضرت محمد ﷺ کی آمد سے پہلے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو اللہ کی وفادار رعیت تھے۔ لیکن جب انھوں نے آں حضرت ﷺ اور قرآن کو ماننے سے انکار کردیا تو وہ بھی باغی ہوگئے۔ مسیح اور انجیل اور سابق انبیاء اور ان کی کتابوں کو ماننے کے باوجود وہ اللہ کی وفاداررعیت میں شمار نہیں ہوسکتے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت باغیوں کے لیے نہیں بنائی ہے بلکہ اپنی وفاداررعیت کے لیے بنائی ہے۔ اس وفاداررعیت میں سے اگر کوئی شخص کوئی ناقابل معافی جرم کرتا ہے یا اس نوعیت کے بہت سے جرائم کا ارتکاب کربیٹھتا ہے تو اسے اس کے جرائم کے مطابق سزادی جائے گی اور جب وہ اپنی سزا بھگت لے گا تو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ لیکن جس نے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے وہ کسی طرح جنت میں نہیں جاسکتا۔ اس کا مقام بہر حال دوزح ہے۔ دوسرے کسی جرم کا وہ مرتکب نہ بھی ہو تو بغاوت بجائے خود اتنا بڑا جرم ہے جس کے ساتھ کوئی نیکی بھی اسے جنت میں نہیں پہنچا سکتی۔ (رسائل و مسائل حصہ پنجم ص ۱۷۰ تا۱۷۳)
کفر بجائے خود انسان کے جہنمی ہونے کا مستقل سبب ہے، اور کفر کے ساتھ کوئی نیک عمل بھی اس کو جہنم سے نہیں بچاسکتی۔ البتہ فرق اگر ہے تو صرف اس لحاظ سے ہے کہ اس دارالعذاب کے دروازے بہت سے ہیں۔ اچھے کام کرنے والا کافر کسی اور دروازے سے داخل ہوگا اور برے کام کرنے والے کفار اپنے برے اعمال کے مطابق مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے۔ بالفاظ دیگر کسی کے لیے عذاب ہلکا ہوگا اور کسی کے لیے سخت اور کسی کے لیے سخت سے سخت۔ اعمال صرف عذاب کے خفیف یا شدید ہونے کے موجب تو بن سکتے ہیں، لیکن جہنم میں جانے سے کوئی کافر نہیں بچ سکتا۔ کیوں کہ کفر خدا سے بغاوت ہے، اور باغی کے لیے اللہ نے اپنی جنت نہیں بنائی ہے۔
رہے مومن تو وہ دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو ایمان کے ساتھ بحیثیت مجموعی صالح ہوں۔ ان کے اگر کچھ قصور بھی ہوں تو وہ بھی توبہ سے معاف ہوسکتے ہیں، دنیا کے مصائب ، امراض ،تکالیف ان کا کفارہ بن سکتی ہیں، شفاعت بھی ان کے حق میں نافع ہوسکتی ہے ، اور اللہ اپنے فضل و کرم سے بھی ان کی مغفرت فرماسکتا ہے۔
دوسری قسم کے مومن وہ ہیں جو ایمان رکھنے کے باوجود بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں۔ وہ باغی نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ ان کے لیے اگر کوئی چیز بھی بخشش کی موجب نہ بن سکتی ہو، تو انھیں بغاوت کی نہیں بلکہ جرم یا جرائم کی سزادی جائے گی۔ دنیا کے قوانین بھی باغی اور مجرم کو ایک سطح پر نہیں رکھتے پھر وہ احکم الحاکمین سے یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ دونوں کو ایک سطح پر رکھے گا؟

کس موقع کا ایمان معتبر ہے

۱۶۔ لَوْ قُلْتَہَا وَاَنْتَ تَمْلِکُ اَمْرَکَ اَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ۔
ترجمہ: (مسند احمد اور مسلم میں حضرت عمر ان بن حصین کی روایت ہے کہ ) بنی عقیل کا ایک شخص گرفتار ہو کر آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر یہ بات تو نے اس وقت کہی ہوتی جب تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پاجاتا۔‘‘
تشریح: جو شخص قید میں آنے سے پہلے اسلام قبول کرچکا ہو اور پھر کسی طرح گرفتار ہوجائے وہ تو آزاد کردیا جائے گا۔ مگر جو شخص قید ہو نے کے بعد اسلام قبول کرے، یا کسی شخص کی ملکیت میں دے دیے جانے کے بعد مسلمان ہو تو یہ اسلام اس کے لیے آزادی کا سبب نہیں بن سکتا۔
اسی بنا پر فقہائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ قید ہونے کے بعد مسلمان ہونے والا غلامی سے نہیں بچ سکتا(السِّیر الکبیر، امام محمد) اور یہ بات سراسر معقول بھی ہے۔ اگر ہمارا قانون یہ ہوتا کہ جو شخص بھی گرفتار ہونے کے بعد اسلام قبول کرلے گا وہ آزاد کردیا جائے گا تو آخر وہ کون سا نادان قیدی ہوتا جو کلمہ پڑھ کر رہائی نہ حاصل کرلیتا۔ (تفہیم القرآن ،ج ۵سور ہ محمد حاشیہ:۸)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرِنِ السَّعْدِیُّ وَاللَّفْظُ لِزُہَیْرٍ، قَالَ: نَا إسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ: نَا اَیُّوْبُ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِی الْمُہَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: کَانَتْ ثَقِیْفٌ حُلَفَاٰئَ لِبَنِیْ عُقَیْلٍ فَاَسَرَتْ ثَقِیْفٌ رَجُلَیْنِ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَسَرَاَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ عُقَیلٍ وَاَصَابُوْا مَعَہُ الْعَضْبَائَ فَاَتَی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ فِی الْوَثَاقِ قَال: یَا مُحَمَّدُ! فَاَتَاہُ، قَالَ: مَا شَاْنُکَ ؟ قَالَ، بِمَ اَخَذْتَنِیْ وَبِمَ اَخَذْتَ سَابِقَۃَ الْحَآجِّ، قَالَ: اِعْظَامًالِذٰلِکَ اَخَذْتُکَ بِجَرِیْرَۃِ حُلَفَاٰئِکَ ثَقِیْفَ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَنَادَاہُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ یَامُحَمَّدُ! وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَحِیْمًا رَقِیْقًا فَرَجَعَ اِلَیْہِ فَقَالَ: مَا شَأنُکَ، قَالَ: اِنِّیْ مُسْلِمٌ قَالَ: لَوْ قُلْتَہَا وَاَنْتَ تَمْلِکُ اَمْرَکَ اَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاہُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ یَاْمُحَمَّدُ! فَاَتَاہُ، فَقَالَ: مَاشَانُکَ ؟ قَالَ : اِنِّیْ جَائِعٌ فَاَطْعِمْنِیْ وَظَمْاٰنُ فَاسْقِنِیْ، قَالَ: ہٰذِہٖ حَاجَتُکَ فَفَدَی بِالرَّجُلَیْنِ۔ (الحدیث) (۳۰)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین نے بیان کیا کہ قبیلہ ثقیف بنی عقیل کا حلیف تھا۔ ثقیف والوں نے رسول اللہ ﷺ کے دو صحابیوں کو قیدی بنالیا اور اصحابِ رسول اللہ ﷺ نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قید کرلیا اور عضباء نامی اونٹنی بھی اس کے ساتھ ہی انھوں نے حاصل کرلی۔ اسے جب نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو وہ جکڑا ہوا تھا۔اس نے پکارا یا محمدؐ ۔ آپؐ اس کی آواز سن کر اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہو کیا ماجرا ہے؟ بولا مجھے اور سابقۃ الحاج (عضباء) کو تم نے کس جرم میں پکڑرکھا ہے۔ آپ نے فرمایا تجھے اس بات سے خبردار کرنے کے لیے کہ تمہارے حلیف قبیلے ثقیف نے ہمارے دو آدمی اسیر بنا کر کتنا بڑا جرم کیا ہے۔ پھر آپ واپس ہوئے تو اس نے پھر بلند آواز سے پکارنا شروع کردیایا محمدؐ یا محمدؐ! آپ انتہائی رقیق القلب اور رحم دل انسان تھے۔ واپس اس کی طرف لوٹے اور دریافت فرمایا ’’کہو کیا ماجرا ہے؟‘‘ بولاکہ میں مسلم ہوں۔ آپ نے فرمایا ’’اگر یہ بات تو نے اس وقت کہی ہوتی جب تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پاجاتا۔‘‘ پھر آپؐ واپس ہوئے تو اس نے پھر یا محمدؐ یا محمدؐ کہہ کر پکارنا شروع کردیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا ’’کیا ماجرا ہے؟‘‘ بولا میں بھوکا ہوں ، پیاسا ہوں کچھ کھلائیے، پلائیے‘‘۔ ’’آپؐ نے فرمایا یہ تمہاری ضرورت ہے۔ پھر آپ نے ایک کے بدلے دو کو رہا کرایا۔‘‘

مخلص مومن کے لیے دنیوی مصائب گناہوں کا کفارہ ہیں

۱۷۔ مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَآ وَصَبٍ وَلَا ہَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا اَذیً وَلَا غَمٍّ حَتَّی الشَّوکَۃِ یُشَاکُہَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ (بخاری و مسلم)
ترجمہ: مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے، حتیّٰ کہ ایک کانٹا بھی اگر اس کو چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفّارہ بنادیتا ہے۔
تشریح: مومن مخلص کے لیے اللہ کا قانون (یہ ہے کہ) اس پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں اور خطائوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔
رہے وہ مصائب جو اللہ کی راہ میں اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کوئی مومن برداشت کرتا ہے، تو وہ محض کوتاہیوں کا کفارہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ تصوّرکرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ گناہوں کی سزا کے طور پر نازل ہوتے ہیں۔ ( تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ حاشیہ :۵۲)
تخریج: (۱) حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا زُہَیْرُبْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ عَمْرِ وبْنِ حَلَحَلَۃَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الخُدْرِیِّ وَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ہَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا اَذًی وَلَا غَمٍّ حَتّٰی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ۔ (۳۱)
(۲) حَدَّثَنَاقَبِیْصَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمشِ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فِی مَرَضِہٖ فَمَسسْتُہٗ وَہُوْیُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا، فَقُلْتُ: اِنَّکَ لَتُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا وَذَاکَ اِنَّ لَکَ اَجْرَیْنِ، قَالَ: اَجَلْ! وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیْبُہٗ اَذًی اِلَّا حَآتَّتْ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تُحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ۔ (۳۲)
ترجمہ: عبداللہ بن مسعود نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کی بیماری کے دوران حاضر ہوا۔ میں نے اپنا ہاتھ لگا کر دیکھا کہ آپ کو تیز بخار ہے۔ میں نے عرض کیا حضوؐر! آپؐ کو شدید قسم کا بخار ہے اور یہ اس لیے کہ آپؐ کو دوہرا اجر ملے؟ آپؐ نے فرمایا ’’ہاں ، کوئی مسلم ایسا نہیں کہ اسے کوئی اذیت و تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑجاتے ہیں جس طرح (موسم خزاں میں) درخت کے پتے جھڑجاتے ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَابْنُ اَبِیْ عُمَرَوَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ زِیَادٍ الْمَعْنیٰ وَاحِدٌ ، قَالَا: نَا سُفْیَانُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْصِنٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : لمَّا نَزَلَتْ مَنْ یَعْمَل سُوْئً یُّجْزَبِہٖ شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی المُسْلِمِیْنَ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: قَارِبُوْا وسَدِّدُوْاوَفِیْ کُلِّ مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا وَالنَّکْبَۃِ یَنْکِبُہَا(۳۳)۔ (ہذا حدیث حسن غریب)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ جب آیت مَنْ یَعْمَلْ سُوْٓئً یُجْزَبِہٖ نازل ہوئی تو مسلمانوں کو یہ گراں گزری اور نبی ﷺ کی خدمت میں شکوہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا۔’’ میانہ روی اختیار کرو، افراط وتفریط سے بچو۔ ہر وہ تکلیف جو کسی مومن کو پہنچتی ہے حتّٰی کہ کانٹا بھی اگر چبھ جائے یا اور کسی قسم کی مصیبت پہنچ جائے تو وہ اس کے لیے کفارہ کا کام دیتی ہے۔‘‘
(۴) عَنِ الْاَسْودِ، قَالَ: دَخَلَ شَبَابٌ مِّنْ قُرَیْشٍ عَلیٰ عَائِشَۃَ وَہِی بِمِنًی وَہُمْ یَضْحَکُوْنَ، فَقَالَتْ: مَا یُضْحِکُکُمْ ؟ قَالُوْا: فُلَان، خَرَّعَلیٰ طَنُبِ فُسْطَاطٍ فَکَادَتْ عُنُقُہٗ اَوْعَیْنُہٗ اَنْ تَذہَبَ۔ قَالَتْ : لَا تَضْحَکُوْا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: ’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَہَا اِلَّا کُتِبَتْ لَہٗ بِہَادَرَجَۃٌ و مُحِیَتْ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ۔‘‘
ترجمہ: کچھ قریشی نوجوان حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھیں۔ آپ نے دیکھا کہ وہ نوجوان ہنس رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ تم کیوں ہنس رہے ہو؟ بولے کہ فلاں صاحب خیمے کی طنابوں میں پھنس کر اس بری طرح منہ کے بل گرے کہ اس کی آنکھ کے ضائع ہونے یا گردن کے ٹوٹنے کا اندیشہ تھا، حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ ’’مت ہنسو! میں نے اپنے کانوں سے رسول خدا ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی سنا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’کوئی مسلم ایسا نہیں کہ اسے کانٹا چبھنے کی تکلیف پہنچے یا اس سے کچھ زیادہ اور کسی قسم کی اذیت کہ اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ نہ لکھ دیا جائے اور اس کی ایک خطا مٹا نہ دی جائے۔‘‘
(۵) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا یصیْبُ الْمُؤمِنَ شَوْکَۃٌ فَمَا فَوقہا اِلا قصَّ اللّٰہ بہَا مِنْ خَطِیْئَتِہٖ۔
(۶) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: ’’مَا مِنْ مُصِیْبَۃٍ یُصَابُ بِہَا الْمُسْلِمُ اِلَّا کُفِّرَبِہَا عَنْہُ حَتّٰی الشَّوکَۃِ یُشَاکُہَا۔
( ۷ ) عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: لَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِیبَۃٍ حَتَّی الشَّوْکَۃِ اِلَّا قُصَّ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ اَوْکُفِّرَ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ لَا یَدْرِیْ یَزِیْدُ اَیَّتُہُمَا قَالَ عُرْوَۃُ۔
( ۸ ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَا مِنْ شَیٍٔ یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّی الشَّوْکَۃِ تُصِیْبُہٗ اِلَّا کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بِہَا حَسَنَۃً اَوْحُطَّتْ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ۔
(۹) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ واَبِیْ ہُرَیْرَۃ رضی اللہ عنہما: اِنَّہُمَا سَمِعَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّی الْہَمِّ یَہُمُّہٗ اِلَّا کُفِّرَبِہٖ مِنْ سَیِّئَاتِہٖ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابوسعید خدریؓ دونوں روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ مومن کو جو دُکھ اور جو رنج اور جو بیماری اور غم پہنچتا ، حتیّٰ کہ جو فکر بھی لاحق ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کی سیئات کا کفارہ بنادیتا ہے۔
(۱۰) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً یُجْزَبِہٖ بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ مَبْلَغًا شَدِیْدًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا فَفِیْ کُلِّ مَا یُصَابُ بِہٖ الْمُسْلِمَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی النَّکْبَۃِ یَنْکِبُہَا اَوِالشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا۔
(۱۱) اَخْبَرَنَا جَابِرُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ عَلیٰ اُمِّ السَّآئِبِ اَوْ اُمِّ المُسَیَّبِ، فَقَالَ: مَالَکِ یَااُمَّ السَّآئِبِ اَوْ یَا اُمَّ الْمُسَیَّبِ تُزَفْزِفِیْنَ، قَالَتْ: الْحُمّٰی لَا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْہَا، فَقَالَ: لَا تَسُبِّی الْحُمّٰی فَاِنَّہَا تُذْہِبُ خَطَایَا بَنِیْ اٰدَمَ کَمَا یُذْہِبُ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔ (۳۴)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اُمّ السائب یا اُمّ المسیّب کے ہاںتشریف لے گئے (شدید بخار میں مبتلاپاکر) آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا۔’’ام السائب کہا یا ام المسیّب تمہیں کیا ہوا؟ تمہاری سانس پھولی ہوئی ہے۔ کپکپی تم پر طاری ہے۔’’بولیں حضوؐر بخار کی لپیٹ میں ہوں، جس میں کوئی بھلائی و برکت نہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا۔’’بخار کو برا بھلا مت کہو یہ تو آولادِ آدم کے گناہ اس طرح جھاڑویتا ہے جس طرح بھٹّی لوہے کا زنگ جلا کر صاف کردیتی ہے۔
اس کی مزید توضیح اس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابوادائو میں مروی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے خوفناک آیت وہ ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ سّوْٓئً یُّجْزَبہٖ ’’جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔‘‘ اس پرحضوؐر نے فرمایا، عائشہؓ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کے مطیع فرمان بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے حتّٰی کہ کوئی کانٹا بھی اس کو چبھتا ہے تو اللہ اسے اس کے کسی نہ کسی قصور کی سزادے کر دنیا میں ہی اس کا حساب صاف کردیتا ہے؟ (تفہیم القرآن، ج۲، الرعد حاشیہ:۳۴)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ ،ح وثَنَا مُحَمَدُبْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عْثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ اَبُودَاؤد: وَہٰذَا لفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ اَبِیْ عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنِ بْنِ اَبِیْ مُلَیکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَشَدَّ آیَۃً فِی الْقُرْاٰنِ، قَالَ: اَیَّۃُآیَۃٍ یَا عَائِشَۃُ؟ قَالَتْ: قَوْلُ اللّٰہِ تَعالیٰ (مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ایُجْزَبِہٖ) قَال: اَمَا عَلِمْتِ یَا عَائِشَۃُ! اَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِیْبُہُ النَّکْبَۃُ اَوِ الشَّوْکَۃُ فَیُکَافَأُ بِأسْوَئِ عَمَلِہٖ، الحدیث۔ (۳۵)
۱۸۔ جاء فی الحدیث لَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنْ ذُنُوْبِہِ وَالْمُنَافِقُ مَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْحِمَارِ لَا یَدْرِیْ فِیْمَ رَبَطَہٗ اَہْلُہٗ وَلَا فِیْمَا اَرْسَلُوْہُ۔ (ابن کثیر ج ۲، ص ۲۳۳، سورہ اعراف)
ترجمہ: مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس بھٹّی سے نکلتا ہے تو ساری کھوٹ سے صاف ہوکر نکلتا ہے۔ لیکن منافق کی حالت بالکل گدھے کی سی ہوتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے کیوں اسے باندھا تھا اور کیوں اسے چھوڑ دیا۔
تشریح: جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبولِ دعوت کے لیے نہایت سازگار بنایا گیا۔ یعنی اس کو مصائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا۔ قحط ، وبا، تجارتی خسارے ، جنگی شکست یا اسی طرح کی تکلیفیں اس پر ڈالی گئیں۔ تاکہ اس کا دل نرم پڑے۔ اس کی شیخی اور تکبر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو۔ اس کا غرور، طاقت اور نشۂ دولت ٹوٹ جائے، اپنے ذرائع و وسائل اور اپنی قوتوں اور قابلیتوں پر اس کا اعتماد شکستہ ہوجائے، اسے محسوس ہو کہ اوپر کوئی اور طاقت بھی ہے جس کے ہاتھ میں اس کی قسمت کی باگیں ہیں۔ اور اس طرح اس کے کان نصیحت کے لیے کھل جائیں اور وہ اپنے خدا کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جانے پر آمادہ ہوجائے۔ پھر جب اس ساز گار ماحول میں بھی اس کا دل قبولِ حق کی طرف مائل نہیں ہوتا تو اس کو خوش حالی کے فتنے میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور یہاں سے اس کی بربادی کی تمہید شروع ہوجاتی ہے۔ جب وہ نعمتوں سے مالامال ہونے لگتا ہے تو اپنے برے دن بھول جاتا ہے اور اس کے کج فہم رہنما اس کے ذہن میں تاریخ کا یہ احمقانہ تصوّربٹھاتے ہیں کہ حالات کا اتار چڑھائو اور قسمت کا بنائو اور بگاڑ کسی حکیم کے انتظام پر نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک اندھی طبیعت بالکل غیر اخلاقی اسباب سے کبھی اچھے اور کبھی برے دن لاتی ہی رہتی ہے۔ لہٰذا مصائب اور آفات کے نزول سے کوئی اخلاقی سبق لینا اور کسی ناصح کی نصیحت قبول کرکے خدا کے آگے زاری و تضرع کرنے لگنا بجز ایک طرح کی نفسی کمزوری کے اور کچھ نہیں ہے۔یہی وہ احمقانہ ذہنیت ہے جس کا نقشہ نبی ﷺ نے کھینچا ہے۔
پس جب کسی قوم کا حال یہ ہوتا ہے کہ نہ مصائب سے اس کا دل خدا کے آگے جھکتا ہے، نہ نعمتوں پر وہ شکرگزار ہوتی ہے اور نہ کسی حال میں اصلاح قبول کرتی ہے تو پھر اس کی بربادی اس طرح اس کے سر پر منڈلانے لگتی ہے جیسے پورے دن کی حاملہ عورت کہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب اس کا وضعِ حمل ہوجائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الاعراف حاشیہ:۷۷)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِنِ النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سَلَمَۃَ عَن مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ اَہْلِ الشَّامِ یُقَالُ لَہٗ اَبُو مَنْصُوْرٍ، عَنْ عَمِّہٖ، قَال: حَدَّثَنِیْ عَمِّیْ عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ اَخِیْ الخَضْرِ، قَالَ اَبُوْداؤدَ، قَالَ النُّفَیْلِیُّ: ہُوَ الْخَضِرُ وَلٰکِنْ کَذَا قَالَ، قَالَ: اِنِّیْ لَببلَادِنَا اِذَا رُفِعَتْ لَنَا رَاْیَاتٌ وَاَلْوِیَۃٌ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قَالُوْا: ہٰذَا لِوَائُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَتَیْتُہٗ وَہُوَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ قَدْ بُسِطَ لَہٗ کِسَائٌ وَہُوَ جَالِسٌ عَلَیْہِ وَقَدِ اجْتَمَعَ اِلَیْہِ اَصْحَابُہٗ فَجَلَسْتُ اِلَیْہِمْ، فَذَکَرَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْاَسْقَامَ، فَقَال: اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَصَابَہُ السَّقَمُ ثُمَّ اَعْفَاہُ اللّٰہُ مِنْہُ کَانَ کَفَّارۃً لِّمَامَضٰی مِنْ ذُنُوْبِہٖ وَمَوْعِظَۃً لَّہٗ فِیْمَا یَسْتَقْبِلُ۔ وَاِنَّ الْمُنَافِقَ اِذَا مَرِضَ ثُمَّ اُعْفِیَ کَانَ کَالْبَعِیْرِ عَقَلَہٗ اَہْلُہٗ ثُمَّ اَرْسَلُوْہُ فَلَمْ یَدْرِلِمَ عَقَلُوْہُ وَلَمْ یَدْرِ لِمَ اَرْسَلُوْہُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَہٗ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا الْاَسْقَامُ؟ وَاللّٰہِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قُمْ عَنَّافَلَستَ مِنَّا ۔ الحدیث۔ (۳۶)
ترجمہ: خضر بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گائوں میں تھا کہ ہمیں کچھ جھنڈے اور علم بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیے۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا ہے۔ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ کے لیے چادر بچھائی ہوئی تھی۔ اس پر آپؐ تشریف فرما تھے۔صحابہ کرامؓ آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ حضوؐر نے امراض کا ذکر فرمایا کہ ’’ایک مومن جب کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے صحت و تندرستی عطا فرما دیتا ہے تو یہ بیماری اس مومن کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ اور مستقبل کے لیے نصیحت و موعظت بن جاتی ہے اور منافق جب بیمار پڑجاتا ہے اور پھر اسے صحت ہوجاتی ہے۔ تو یہ منافق اس اونٹ کی مانند ہوتا ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے آزاد چھوڑ دے اسے نہ یہ معلوم ہو کہ اسے کیوں باندھا گیا تھا اور نہ یہ معلوم ہوکہ اسے آزاد کیوں چھوڑا گیا۔‘‘ حاضرین مجلس میں سے ایک شخص بولا’’یا رسول اللہ ؐ! یہ امراض کیا ہیں، میں تو زندگی بھر کبھی بیمار نہیں ہوا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’اٹھو ہمارے ہاں سے تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘‘

مسند احمد میں ہے:
وَما یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی یَمْشِیْ عَلیٰ ظَہْرِ الْاَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔ (۳۷)
ایک اور روایت میں ہے:
لَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ اَوِالْمُؤْمِنَۃِ فِی جَسَدِہٖ وَفِیْ مَالِہٖ وَفِیْ وَلَدِہٖ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ وَمَا عَلَیْہِ مِنْ خَطِیْئَۃٍ۔ (۳۸)

ایک اسرائیلی مُوَحِّد کا ایمان افروز واقعہ

۱۹۔ حضرت صہیبؓ رومی نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا۔ اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ کوئی لڑکا ایسا مامور کردے جو مجھ سے یہ سحر سیکھ لے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا۔ مگر وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی (جو غالباً پیروانِ مسیح علیہ السلام میں سے تھا) ملنے لگااور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا۔ حتّٰی کہ اس کہ تربیت سے صاحب کرامت ہوگیا اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا۔ بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اس نے پہلے راہب کو قتل کیا۔ پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا ، مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر کارگر نہ ہوا۔ آخر کار لڑکے نے کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمع عام میں بِاسْمِ رَبِّ الْغُلَامِ ’’اس لڑکے کے رب کے نام پر‘‘ کہہ کر مجھے تیر مار میں مرجائوں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مرگیا۔ اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کومان گئے۔ بادشاہ یہ حالت دیکھ کر غصّے میں بھر گیا۔ اس نے  احمد  سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے، ان میں آگ بھروائی اور جس جس نے ایمان سے پھر نا قبول نہ کیا اس کو آگ میں پھکوادیا۔
تشریح: (اس روایت میں نبی ﷺ نے ایمان لانے والوں کو آگ میں پھینکنے کا قصہ بیان کیا۔ آگ میں پھینکنے کے اور بھی واقعات( احمد ، مسلم، نسائی، ترمذی، ابن جریر، عبدالرزاق ابن ابی شیبہ، طبرانی، عبد بن حمید۔)  روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ظلم دنیا میں کئی بار ہوا)۔
تخریج: حَدَّثَـنَا عَبْدُ اللّٰہِ ،حَدَّثَـنِیْ اَبِـیْ، ثـنا عَـفَّانُ، ثناحَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ، انا ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: کَانَ مَلِکٌ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَکَانَ لَہٗ سَاحِرٌ فَلَمَّا کَبُرَ السَّاحِرُ، قَالَ لِلْمَلِکِ : اِنِّیْ قَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ، وَحَضَرَ أَجَلِیْ، فَادْفَعْ اِلَیَّ غُلَامًا فَلِاُعَلِّمْہُ السِّحْرَ فَدَفَعَ اِلَیْہِ غُلَامًا فَکَانَ یُعَلِّمُہُ السِّحْرَ وَکَانَ بَیْنَ السَّاحِرِ وَبَیْنَ الْمَلِکِ رَاہِبٌ، فَاَتَی الْغُلَامُ عَلَی الرَّاہِبِ، فَسَمِعَ مِنْ کَلَامِہٖ فَاعْجَبَہٗ نَحْوَہٗ کَلَامَہٗ فکَانَ اِذا اَتَی السَّاحِرَ ضَرَبَہٗ وَقَالَ: مَاحَبَسَکَ؟ واِذَا اَتٰی اَہْلَہٗ ضَرَبُوہٗ، وَقَالُوْا: ماحَبَسَکَ؟ فَشَکَاذٰلِکَ اِلَی الرَّاہِبِ، فَقَالَ: اِذَا اَرَادَالسَّاحِرُاَنْ یَضْرِبَکَ، فَقُلْ: حَبَسَنِیْ اَہْلِیْ وَاِذَا اَرَادَ اَہْلُکَ اَنْ یَضْرِبُوْکَ فَقُلْ حَبَسَنِی السَّاحِرُوَقَالَ فَبَیْنَمَا ہُوَکَذٰلِکَ اِذْاَتٰی ذَاتَ یَوْمٍ عَلیٰ دَآبَّۃٍ فَظِیْعَۃٍ عَظِیْمَۃٍ۔ وَقَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ اَنْ یَجُوْزُوْا، فَقَالَ: اَلْیَوْمَ اَعْلَمُ اَمْرُ الرَّاہِبِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ اَمْ اَمْرُالسَّاحِرِ! فَاَخَذَ حَجَرًا، فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ اَمْرُ الرَّاہِبِ اَحَبَّ اِلَیْکَ وَاَرْضیٰ لَکَ مِنْ اَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ ہٰذِہِ الدَّابَّۃَ حَتّٰی یَجُوْزَ النَّاسُ وَرَمَاہَا فَقَتَلَہَا وَمَضَی النَّاسُ فَاَخْبَرَ الرَّاہِبَ بِذٰلِکَ، فَقَالَ : اَیْ بُنَیَّ اَنْتَ اَفْضَلُ مِنِّیْ وَاِنَّکَ سَتُبْتَلیٰ فَاِنِ ابْتُلِیْتَ فَلَا تَدُلُّ عَلَیَّ۔ فَکَانَ الَغُلَامُ یُبْرِیُٔ اَکْمَہَ وَسَائِرَ الْاَدْوَائِ وَیَشْفِیْہِمْ وَکَانَ جَلِیْسٌ لِلْمَلِکِ فَعَمِیَ فَسَمِعَ بِہٖ فَاَتَاہُ بِہَدَایَا کَثِیْرَۃٍ، فَقَالَ: اِشْفِنِیْ وَلَکَ مَا ہٰہُنَا اَجْمَعَ، فَقَالَ: مَااَشْفِیْ اَنَا اَحَدًا اِنَّمَا یَشْفِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَاِنْ اَنْتَ آمَنْتَ بِہٖ دَعْوتُ اللّٰہَ فَشَفَاکَ فَاٰمَنَ فَدَعَااللّٰہَ لَہٗ فَشَفَاہُ ثُمَّ اَتَی الْمَلِکَ فَجَلَسَ مِنْہُ نَحْوَمَا کَانَ یَجْلِسُ، فَقَالَ لَہُ الْمَلِکُ، یَا فُلَانُ! مَنْ رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ؟ فَقَالَ: رَبِّیْ ۔ قَالَ: اَنَا، قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ رَبِّیْ ورَبُّکَ اللّٰہُ، قَالَ: اَوَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ! فَلَمْ یَزَل یُعَذِّبُہٗ حَتّٰی دَلَّہٗ عَلَی الْغُلَامِ فَبَعَثَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِکَ اَنْ تُبْرِیَٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَہٰذِہِ الْاَدْوَائَ، قَال: مَا اَشْفِیْ اَنَا اَحَدًا، مَا یَشْفِیْ غَیْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: اَنَا، قَالَ: لَا، قَالَ: اَوَلَکَ رَبٌّ غَیْرِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ! رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ، فَاَخَذَہٗ اَیْضًا بِالْعَذَابِ فَلَمْ یَزَلْ بِہٖ حَتّٰی دَلَّ عَلَی الرَّاہِبِ فَاُتِیَ بِالرَّاہِبِ، فَقَالَ: اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبٰی فَوُضِعَ الْمِنْشَارُفِی مَفْرَقِ رَأَسِہِ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ وَقَالَ لِلْاَعْمٰی اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ فَاَبیٰ فَوضَعَ الْمِنْشَارَفِی مَفرَقِ رَأْسِہِ حَتّٰی وَقَعَ شِقَّاہُ اِلَی الْاَرْضِ، وَقَالَ لِلْغُلَامِ: اِرْجِعْ عَنْ دِیْنِکَ، فَاَبیٰ، فَبَعَثَ بِہٖ مَعَ نَفَرٍ اِلیٰ جَبَلِ کَذَا وَکَذَا،فَقَالَ: اِذَا بَلَغْتُمْ ذِرْوَتِہٖ فَاِنْ رَّجَعَ عَنْ دِیْنِہٖ وَاِلَّا فَدَہْدَہُوْہُ مِن فَوْقِہٖ، فَذَہَبُوْا بِہٖ فَلَمَّا عَلَوْا بِہٖ الْجَبَلَ، قَالَ: اَللّٰہُمَّ اَکْفِنِیْہِمْ بِمَا شِئْتَ، فَرَجَفَ بِہِمُ الْجَبَلُ فَدَہْدَہُوْا اَجْمَعُوْنَ۔ وَجَآئَ الْغُلَامُ یَتَلَمَّسُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَی الْمَلِکِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ اَصْحَابُکَ؟ فَقَالَ: کَفَانِیْہِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَبَعَثَہٗ مَعَ نَفَرٍ فِیْ قُرْقُوْزٍ، فَقَالَ: اِذَالَجَجْتُمْ بِہِ الْبَحْرَ فَاِنْ رَجَعَ عَن دِیْنِہٖ وَاِلَّا فَغَرِّقُوْہُ فَلَجَّجُوْا بِہِ الْبَحْرَ، فَقَالَ الْغُلَامُ: اَللّٰہُمَّ اَکْفِنِیْہِمْ بِمَا شِئْتَ فَغَرَقُوْا اَجْمَعُوْنَ وَجَآئَ الْغُلَامُ یَتَلَمَّسُ حَتّٰی دَخَلَ عَلَی الْمَلِکِ۔ فَقَالَ: مَا فَعَلَ اَصْحَابُکَ ؟ قَالَ: کَفَانِیْہِمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ ثُمَّ قَالَ لِلْمَلِکِ: اِنَّکَ لَسْتَ بِقَاتِلِیْ حَتَّی تَفْعَلَ مَاآمُرُکَ بِہٖ، فَاِنْ اَنْتَ فَعَلْتَ مَا اٰمُرُکَ بِہٖ قَتَلْتَنِیْ وَاِلَّا فَاِنَّکَ لَا تَسْتَطِیْعُ قَتْلِیْ، قَال: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِی صَعِیْدٍ ثُمَّ تَصْلُبْنِیْ عَلیٰ جِذْعٍ فَتَاْخُذْ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِیْ، ثُمَّ قُلْ بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَاِنَّکَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ قَتَلْتَنِیْ، فَفَعَلَ وَوَضَعَ السَّہْمَ فِیْ کَبِدِ قَوْسِہٖ، ثُمَّ رَمیٰ، فَقَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَوَضَعَ السَّہْمُ فِیْ صُدْغِہٖ فَوَضَعَ الْغُلَامُ یَدَہٗ عَلیٰ مَوْضِعِ السَّہْمِ وَمَاتَ ۔ فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَقِیْلَ لِلْمَلِکِ اَرَأَیْتَ مَاکُنْتَ تَحْذَرُ فَقَدْ وَاللّٰہِ نَزَلَ بِکَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ کُلُّہُمْ فَاَمَرَبِاَفْوَاہِ السِّکَکِ فَخُدَّدَتْ فِیْہَا الْاُخْدُوْدُ وَاُضرِمَتْ فِیْہَا النِّیَرانُ وَقَالَ: مَنْ رَجَعَ عَن دِیْنِہٖ فَدَعُوْہُ وَاِلَّا فَاقْحَمُوْہُ فِیہَا قَالَ فَکَانُوْایَتَعَادُوْنَ فِیْہَا وَیَتَدَافَعُوْنَ فَجَآئَ تْ اِمْرَأ ۃٌ بِابْنٍ لَّہَا تُرْضِعُہٗ فَکَاَنَّہَا تَقَاعَسَتْ اَنْ تَقَعَ فِی النَّارِ فَقَالَ الصَّبِیُّ یَا اُمَّہِ! اصْبِرِیْ فَاِنَّکِ عَلَی الْحَقِّ۔ (۳۹)
ترجمہ: حضرت صہیبؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ایک ساحر تھا۔ جب ساحر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ ’’میں اب بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری اجل قریب ہے۔ مجھے ایک لڑکا دو جسے میں سحر سکھادوں۔‘‘ بادشاہ نے اسے ایک لڑکا دے دیا۔ساحر نے اسے سحر سکھانا شروع کردیا۔ بادشاہ اور جادوگر کے درمیانی راستے میں ایک راہب رہتا تھا یہ لڑکا اس کے پاس ٹھیرنے لگا۔ راہب کا کلام لڑکے نے سنا تو اسے اس کا انداز اور کلام بہت اچھا لگا۔ اب معاملہ کی نوعیت یہ ہوگئی کہ لڑکا جب ساحر کے پاس پہنچتا تو وہ اس کی پٹائی کرتا اور دریافت کرتا کہ کس چیز نے تمہیں روکے رکھا اور جب وہ لڑکا اپنے گھر پہنچتا تو گھر والے دیر سے پہنچنے کی وجہ سے مارتے اور پوچھتے تاخیر سے آنے کی کیا وجہ ہے؟ اس صورت حال سے لڑکے نے راہب کو آگاہ کیا تو اس نے ایک تجویز اسے سجھائی کہ جب ساحر تجھے مارنے کے درپے ہو تو اس کو کہہ دیا کرو کہ گھر والوں نے کسی کام سے روک لیا تھا اور جب گھر والے دیر سے پہنچنے کی سزا دینے لگیں تو ان سے کہہ دیا کرو کہ ساحر نے مجھے روکے رکھا۔ اسی اثناء میں ایک روز اس لڑکے کا گزر ایک ہیبت ناک اور بہت بڑے جانور پر ہوا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ اس کی دہشت اور خوف سے لوگ اس راستہ سے نہیں گزرتے تھے۔ یہ معاملہ دیکھ کر لڑکے کو خیال آیا کہ میں آج معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو راہب کا طریقہ زیادہ پسند ہے یا جادو گر کا۔ یہ سوچ کر اس نے ایک پتھر ہاتھ میں پکڑ ا اور یہ کہہ کر اس جانور کو کھینچ مارا کہ اے اللہ ! اگر اس راہب کا طریقہ تیری نظر میں ساحر کے طریقے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے، تو اس جانور کو ماردے۔ تاکہ لوگوں کا راستہ کھل جائے اور یہ گزر جائیں، چنانچہ وہ جانور اس پتھر سے مرگیا اور لوگ آرام سے گزرگئے۔ پھر یہ سارا ماجرا لڑکے نے راہب کو سنایا۔ راہب سن کر بولا۔ بیٹے اب تم مجھ سے بازی لے گئے ہو۔ تمہارا مقام مجھ سے افضل ہے۔ لہٰذا اب مستقبل قریب میں تمہاری آزمائش ضرور ہوگی۔ لہٰذا اگر تمہیں سخت آزمائش میں ڈالا گیا اور یہ پوچھا گیا کہ تم نے یہ علم کس سے حاصل کیا ہے تو میرے بارے میں کچھ نہ بتانا۔ (یہ لڑکا راہب سے تعلیم پاکر صاحبِ کرامت ہو گیا) اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا اور دوسرے بیماروں کو بھی شفا دینے لگا۔’’شفا کی نسبت لڑکے کی طرف سبب کے درجے میں ہے حقیقی نہیں، حقیقی شفاء صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ بادشاہ کا ایک ہم جلیس بھی نابینا تھا۔ اسے اس لڑکے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ بہت تحائف اور ہدایالے کر اس کے پاس آیا۔ کہنے لگا اے لڑکے مجھے شفا دے۔ اس کے عوض یہاں جو کچھ میں لایا ہوں وہ سب تیرا ہے۔ لڑکا بولا میں تو کسی کو بھی شفایاب نہیں کرسکتا۔ شفاء تو صرف اللہ عزوجل کے قبضۂ اختیار میں ہے، اگر تو ایمان لے آئے تو میں اللہ سے دعا کروں گا وہ تجھے شفا دے دے گا۔ وہ ایمان لے آیا ۔ لڑکے نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اوروہ شفایاب ہوگیا۔ اس کے بعد وہ بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ معمول وہیں بیٹھ گیا، جہاں بیٹھتا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا اور حیران ہو کر پوچھا، ارے تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟ بولا میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا’’میں نے؟‘‘ اس نے نفی میں جواب دیا کہ نہیں بلکہ میرے اور تمہارے رب نے مجھے شفا عطا فرمائی ہے۔ بادشاہ بولا میرے علاوہ بھی تیرا اور کوئی رب ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا کہ ’’ہاں!ہے‘‘۔ پس پھر کیا تھا بادشاہ نے اسے عذاب میں اس وقت تک مبتلا رکھا جب تک کہ اس نے لڑکے کا اتا پتا نہ بتادیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے پاس بلواکر پوچھا ۔ اے نوجوان! تیرا جادو اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ تو اندھے کو بینا اور کوڑھی کو تندرست کردیتا ہے۔ لڑکا بولا کسی کو شفا دینا میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔ شفاء دینا صرف اللہ عزوجل کا کام ہے کسی غیر اللہ کا یہ کام نہیں۔ بادشاہ بولا’’تو وہ میں ہوں‘‘۔ لڑکے نے جواب دیا ’’نہیں تم نہیں ہو۔‘‘ بادشاہ نے کہا’’ کیا میرے سوا تیرا اور بھی کوئی رب ہے؟‘‘ بولا ہاں میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ اس پر اسے بھی بادشاہ نے مبتلائے عذاب کردیا اور اتنا عذاب دیا کہ لڑکا راہب کے متعلق بتانے پر مجبور ہوگیا۔ بادشاہ نے اس راہب کو بلوایا اور حکم دیا کہ اپنے دین سے پھر جائو۔ راہب نے اپنا دین ترک کرنے سے انکار کر دیا تو بادشاہ نے اس کے سرکے وسط میں آرا رکھوا کر چروا دیا۔ پھر بادشاہ اس اندھے کی طرف متوجہ ہوا اور اسے حکم دیا کہ اپنے دین سے پھر جائے۔ مگر ایسا کرنے سے اس نے بھی انکار کردیا تو اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر چروادیا حتّٰی کہ وہ دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرپڑا۔ پھر بادشاہ لڑکے کی طرف متوجہ ہوا اور اسے بھی حکم دیا کہ اپنے دین سے پھر جائے مگر ایسا کرنے سے اس نے بھی انکار کر دیا تو اسے کچھ سپاہیوں کی تحویل میں دے کر حکم دیا کہ اسے فلاں اونچے پہاڑ پر لے جاکر پوچھو۔ اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو چھوڑ دو۔ بصورت دیگر اسے پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکادو۔ تعمیل حکم میں یہ لوگ اسے لے کر جب پہاڑ پر لے چڑھے تو لڑکے نے اللہ سے دعا کی، اے اللہ! تو خود ان سے جس طرح چاہے نبٹ لے۔ چنانچہ پہاڑ اس شدت سے لرزا کہ وہ سارے کے سارے لڑھکتے ہوئے نیچے آرہے اور مرگئے۔لڑکا راستہ تلاش کرتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ پوچھا کہ تمہارے ساتھ جو لوگ گئے تھے ان کا کیا حال ہے۔ وہ بولا، اللہ تعالیٰ نے ان کاکام تمام کردیا ہے۔ پھربادشاہ نے اسے کچھ لوگوں کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ اسے بڑی کشتی پر سوار کرکے سمندر کی تلاطم خیز موجوں میں لے جائو۔ وہاں جا کر اگر یہ اپنے دین سے پھرنے کا اقرار کرلے تو چھوڑ دو ورنہ اسے وہیں غرق کردو۔ چنانچہ وہ اسے بپھری ہوئی موجوں میں لے گئے۔اس موقع پر لڑکے نے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ! تو ہی جس طرح چاہے ان سے نبٹ لے۔ دعا قبول ہوئی اور وہ سب موجوں کی لپیٹ میں آکر لقمہ اجل بن گئے۔ لڑکا پھر راستہ تلاش کرتا ہوا بادشاہ تک پہنچ گیا۔ اس نے پوچھا تیرے ساتھیوں کا کیا بنا؟ لڑکے نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا اور ان کو ہلاک کردیا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ اے بادشاہ تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ تو اس طرح نہ کرے جس طرح میں تجھے بتاتا ہوں۔ اگر تو نے میری بتائی ہوئی تدبیر پر عمل کیا تو تو مجھے قتل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ورنہ تو مجھے ہرگز قتل نہیں کرسکتا۔ بادشاہ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ لڑکا بولا، تمام لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کراور مجھے کھجور کے تنے پر پھانسی پر لٹکا کر میرے ترکش سے تیرلے اور یوں کہہ کر تیرمار ’’اس لڑکے کے پروردگار اللہ کے نام سے‘‘ پس جب تو حسبِ ہدایت عمل کرے گا تو مجھے قتل کردے گا۔ لہٰذا بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ کمان کے بیچ میں تیر لگا کر مارا اور ساتھ ہی کہا بسم اللّٰہ رب الغلام تیر سیدھالڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے کے مقام پر رکھا اور مرگیا۔ اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کو مان گئے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر غصے سے بھر گیا۔ اس نے سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے اور ان میں آگ بھروائی اور جس نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیا اس کو ان گڑھوں میں پھکوادیا۔ اسی دوران میں ایک خاتون اس حال میں آئی کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی اور وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی تو اس کا شیر خوار بچہ بول اٹھا۔ ’’امی جان ثابت قدم رہو۔ بلاشبہ تم حق پر ہو۔‘‘
ترمذی میں یہ اضافہ ہے:
قال قام الغلام فانہ دفن قال فیذکرانہ اُخرج فی زمن عمر بن الخطاب واصبعہ علی صدغہٖ کما وضعہا حین قتل۔(۴۰) (ہٰذا حدیث حسن غریب)
(۲) حَدَّثَنَاابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثنا یَعْقُوْبُ الْقُمِّیُّ عَنْ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبْزٰی، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ الْمُہَاجِرُوْنَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِہِمْ، بَلَغَہُمْ نَعْیُ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اَیُّ الْاَحْکَامِ تَجْرِیْ فِی الْمَجُوْسِ وَاِنَّہُمْ لَیْسُوْا بِاَہْلِ الْکِتٰبِ وَلَیْسُوْا مِنْ مُشْرِکِی الْعَرَبِ، فَقَالَ عَلَیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: قَدْ کَانُوْا اَہْلَ کِتَابٍ وَقَدْ کَانَتِ الْخَمْرُ اُحِلَّتْ لَہُمْ فَشَرِ بَہَا مَلِکٌ مِنْ مُّلُوْکِہِمْ حَتّٰی ثَمَلَ مِنْہَا فَتَنَا وَلَ اُخْتَہٗ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَلَمَّا ذَہَبَ عَنْہُ السُّکْرُ،قَالَ لَہَا وَیْحَکِ فَمَا الْمَخْرَجُ مِمَّا ابْتَلَیْتُ بِہٖ؟ فَقَالَتْ: اُخْطُبِ النَّاسَ، فَقُلْ، یَااَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَلَّ نِکَاحَ الْاَخَواتِ، فَقَامَ خَطِیْبًا، فَقَالَ : یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَلَّ نِکَاحَ الْاَخَوَاتِ، فَقَالَ النَّاسُ: اِنَّا نَبْرَأُ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذَا الْقَوْلِ مَا اَتَانَا بِہٖ نَبِیٌّ وَلَا وَجَدْنَاہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، فَرَجَعَ اِلَیْہَا نَادِمًا فَقَالَ لَہَا: وَیْحَکِ اِنَّ النَّاسَ قَدْ اَبَوْا عَلَی اَنْ یُّقِرُّوْا بِذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اُبْسُطْ عَلَیْہِمْ السِّیَاطَ فَفَعَلَ فَبَسَطَ عَلَیْہِمُ السِیَاطَ فَاَبَوا اَنْ یُّقِرُّوْا فَرَجَعَ اِلَیْہَا نَادِمًا، فَقَالَ: اِنَّہُمْ اَبَوْا اَنْ یُّقِرُّوْا، فَقَالَتْ: اُخطُبْہُمْ فَاِنْ اَبَوْا فَجَرِّدْ فِیْہِمِ السَّیْفَ، فَفَعَلَ فَاَبٰی عَلَیْہِ النَّاسُ، فَقَالَ لَہَا:قَدْ اَبٰی عَلَیَّ النَّاسُ، فَقَالَتْ :خَدِّ لَہُمُ الْأخْدُوْدَ ثُمَّ اَعْرِضْ عَلَیْہَا اَہْلَ مَمْلَکَتِکَ فَمَنْ اَقَرَّوَاِلَّا فَاقْذِفہُ فِی النَّارِ، فَفَعَلَ ثُمَّ عَرَضَ عَلَیْہَا اَہْلَ مَمْلَکَتِہٖ فَمَنْ لَّمْ یُقِرَّ مِنْہُمْ قَذَفَہٗ فِی النَّارِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیہِمْ قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ اِلیٰ اَنْ یُؤْمِنُوا بِا للّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ۔۔۔اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۔ فَلَمْ یَزَالُوْا مُنْذُذٰلِکَ یَسْتَحِلُّوْنَ نِکَاحَ الْاَخَوَاتِ والْبَنَاتِ وَالْاُمَّہَاتِ۔ (۴۱)
ترجمہ: ابن جریر کا بیان ہے کہ جب مہاجرین بعض غزوات سے واپس لوٹے انھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر پہنچی تو ایک دوسرے سے کہنے لگے مجوس کے متعلق احکام شریعت کیا ہیں؟ وہ اہل کتاب میں سے بھی نہیں اور مشرکین عرب میں بھی ان کا شمار نہیں۔ اس موقعہ پر حضرت علیؓ نے فرمایا ’’یہ اہل کتاب ہیں کیونکہ ان کی شریعت میں شراب نوشی حلال تھی۔ ان کے کسی ایک بادشاہ نے شراب پی اور حواس باختہ ہوگیا اور اس نے اپنی حقیقی بہن کو پکڑ کر اس سے حرام کاری کی مگر جب نشہ کافور ہواتو اسے اس کا بڑا افسوس ہوا کہنے لگا۔ بڑا افسوس ہے۔ اب اس سے مخلصی کا راستہ کیا ہے جس میں میں مبتلا ہوچکا ہوں۔اس کی بہن نے مشورہ دیا کہ عوام سے خطاب کرکے انھیںیقین دلائو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی بہن سے نکاح جائز قرار دے دیا ہے چنانچہ اس نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہنوں سے نکاح جائز کردیا مگر لوگوں نے اس کی اس بات کو یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا کہ ہم اس بات سے اظہار برأت کرتے ہیں اس لیے کہ نہ تو ہمارے نبی نے یہ فرمایا ہے اور نہ ہی ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ بات ملی ہے۔ لوگوں کا یہ جواب سن کر نادم و پریشان واپس چلا گیا اور جاکر بہن کو سارا واقعہ سنایا کہ انھو ں نے یہ بات تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ بہن نے پھر مشورہ دیا کہ ان پر کوڑے برسائے جائیں چنانچہ اس نے کوڑے برسائے مگر پھر بھی لوگوں نے بات ماننے سے انکار کردیا۔ نادم و پشیمان واپس آیا اور سارا ماجرا بہن کو سنایا کہ لوگوں نے میری بات ماننے سے انکار کردیا ہے اس نے کہا کہ ان پر کوڑے برسائو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس کے باوجود انھوں نے نہ مانا۔ پھر بہن کو سارا واقعہ سنایا تو اس نے مزید مشورہ دیا کہ ان کو تلوار برہنہ سے ڈرائو۔ اس نے شمشیر سے انھیں مرعوب کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پھر اس نے خندقیں کھدوائیں اور عوام میں اعلان کروادیا کہ جو میری بات کا اقرار کرے وہ زندہ رہ سکے گا مگر جس نے اس کی بات کو نہ مانا اسے اسنے آگ کی خندق میںڈال دیا۔ اسی واقعہ کے متعلق قرآن پاک کی سورہ بروج میںذکر آیا ہے ۔قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ اِلیٰ اَنْ یُؤْمِنُوا باللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ…اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ۔اس واقعہ کے بعد سے بہنوں اور بیٹیوں اور حقیقی مائوں سے نکاح حلال قرار دے دیا گیا۔
۳۔ ابن عباسؓ نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں نے بنی اسرائیل کو دینِ موسیٰ علیہ السلام سے پھر جانے پر مجبور کیا تھا یہاں تک کہ انھوں نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ان لوگوں کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتے تھے۔ (ابن جریر، عبد بن حُمید)
(۳) قال العوفی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قُتِلَ اَصْحَابُ الْاُخْدُوْدِ ۔ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۔ قَالَ نَاسٌ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ: خَدُّوْا اُخْدُوْدًا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ اَوْقَدُوا فِیْہِ نَارًا ثُمَّ اَقَامُوْا عَلیٰ ذٰلِکَ الْاُخْدُوْدِ رِجَالاً وَّنِسَآئً فَعُرِضُوْا عَلَیْہَا وَزَعَمُوْا اَنَّہٗ دَانِیَالُ وَاَصْحَابُہٗ۔ (۴۲)
۴۔ سب سے مشہور واقعہ نجران کا ہے جسے ابنِ ہشام، طبری ، ابن خلدون اور صاحب معجم البلدان وغیرہ اسلامی مؤرّخین نے بیان کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیر (یمن) کا بادشاہ تُبان اسعد ابوکَرِب ایک مرتبہ یثرب گیا جہاں یہودیوں سے متاثر ہو کر اس نے دین یہودقبول کرلیا اور بنی قُرَیظہ کے دو یہودی عالموں کو اپنے ساتھ یمن لے گیا۔وہاں اس نے بڑے پیمانے پر یہودیت کی اشاعت کی۔ اس کا بیٹا ذونواس اس کا جانشین ہوا اور اس نے نجران پر، جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا، حملہ کیا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ کردے اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کرے۔ (ابن ہشام کہتا ہے کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے اصل دین پر قائم تھے) نجران پہنچ کر اس نے لوگوں کو دین یہود قبول کرنے کی دعوت دی مگر انھوں نے انکار کیا۔ اس پر اس نے بکثرت لوگوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک کر جلوادیا اور بہت سوں کو قتل کردیا۔ یہاں تک کہ مجموعی طور پر بیس ہزار آدمی مارے گئے۔ اہل نجران میں سے ایک شخص دوس ذوثعلبان بھاگ نکلا۔ اور ایک روایت کی رو سے اس نے قیصر روم کے پاس جاکر، اور دوسری روایت کی رو سے حبش کے بادشاہ نجاشی کے ہاں جاکر اس ظلم کی شکایت کی۔ پہلی روایت کی روسے قیصر نے حبش کے بادشاہ کو لکھا، اور دوسری روایت کی روسے نجاشی نے قیصر سے بحری بیڑا فراہم کرنے کی درخواست کی۔ بہر حال آخر کار حبش کی ۷۰ ہزار فوج اریاط نامی ایک جنرل کی قیادت میں یمن پر حملہ آور ہوئی، ذونواس مارا گیا۔ یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا۔ (تفہیم القرآن،ج ۶ البروج حاشیہ:۴)
(۴) ذکَرَ مُحَمَّدُبْنُ اِسْحَاقَ فِی السِّیْرَۃِ، اِنَّ الَّذِیْ قَتَلَ اَصْحَابَ الْاُخْدُوْدِ،ہُوَذُوْنَوَاسٍ وَاِسْمُہٗ زُرْعَۃُ وَیُسَمِّیْ فِی زَمَانِ مَمْلَکَتِہٖ بِیُوْسُفَ وَہُوَبْنُ ثَنَا۔ اَسْعَدُ اَبِیْ کُرَیْبٍ وَہُوَتُبَّعٌ الَّذِیْ غَزَّالْمَدِیْنَۃَ وَکَسَیَ الْکَعْبَۃَ وَاسْتَصْحَبَ مَعَہٗ حِبْرَیْنِ مِنْ یَہُوْدِ الْمَدِیْنَۃِ فَکَانَ تَہَوَّدَ مَنْ تَہَوَّدَ مِنْ اَہْلِ الْیَمَنِ عَلیٰ یَدَیْہِمَا کَمَا ذَکَرَہُ ابْنُ اِسْحَاقَ مَبْسُوطًا۔ فَقَتَلَ ذُوْنَوَاسٍ فِیْ غَدَاۃٍ وَاحِدَۃٍ فِی الْاُخْدُوْدِ عِشْرِیْنَ اَلْفًا وَلَمْ یَنْجُ مِنْہُمْ سِویٰ رَجُلٍ وَاحِدٍ یُقَالُ لَہٗ دَوْسٌ ذُوْتَغْلَبَانِ ذَہَبَ فَارِسًا وَطَرَدُوْا وَرَآئَ ہٗ فَلَمْ یَقْدِرُوْا عَلَیْہِ فَذَہَبَ اِلیٰ قَیْصَرَ مَلِکِ الشَّامِ فَکَتَبَ اِلَی النَّجَاشِیِّ مَلِکِ الْحَبَشَۃِ فَاَرْسَلَ مَعَہٗ جَیْشاً مِنْ نَصَارَی الْحَبَشَۃِ یَقْدِمُہُمْ اَرْبَاط وَاَبْرَہَۃ فَاسْتَنْقَذُوا الْیَمَنَ مِنْ اَیْدِی الْیَہُوْدِ وَذَہَبَ ذُوْنَوَاسٍ ہَارِبًا فَلَجَّجَ فِی الْبَحْرِفَغَرِقَ وَاسْتَمَرَّ مُلْکُ الْحَبَشَۃِ فِی اَیْدِی النَّصَاریٰ سَبْعِیْنَ سَنَۃً ۔۔۔ (۴۳)
ترجمہ: محمد بن اسحاق نے اپنی ’’سیرۃ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ جس آدمی نے اصحاب الاخدود کو قتل کیا تھا وہ ذونواس یعنی زرْعہ نامی شخص تھا۔ اپنی بادشاہت میں یوسف کے نام سے موسوم تھا۔ ابن ثنا بھی اسے کہتے تھے۔ اسعد ابوکریب یعنی تبع جس نے اہل مدینہ کے ساتھ جنگ کی تھی اور خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا۔ جاتے ہوئے مدینہ کے دو یہودی علماء اپنے ساتھ لے گیا۔ ان دونوں کے ذریعہ سے اہل یمن میں سے بہت سے لوگ یہودی بن گئے۔ جیسا کہ ابن اسحاق نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ذونواس نے ایک ہی صبح میں بیس ہزار آدمیوں کو گڑھوں میں ڈال کر قتل کردیا۔ دوس تغلبان کے سوا کوئی زندہ نہ بچ سکا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگ گیا۔ لوگوں نے اس کا تعاقب کیا مگر اسے پکڑنہ سکے۔ اس کے بعد وہ ملک شام کے فرماں روا قیصر کے پاس پہنچا۔ اس نے حبش کے بادشاہ نجاشی کو خط لکھا۔ اس نے حبشہ کے عیسائیوں کا ایک لشکر اس کے ساتھ روانہ کیا۔ اس لشکر نے یمن کو یہودی قبضہ سے آزاد کرالیا۔ ذونواس نے راہِ فرار اختیار کی اور سمندر کی تلاطم خیز موجوں میں کو دکرغرق ہوگیا۔ سلطنت حبشہ پر عیسائیوں کی ستر سال تک لگاتار حکومت رہی۔
قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِبْنِ مُحَمَّدِبْنِ عَمْرِوبْنِ حَزْمٍ ،اَنَّہٗ حُدِّثَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَہْلِ نَجْرَانَ کَانَ فِیْ زَمَانِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَفَرَخَرِبَۃً مِّنْ خَرِبِ نَجْرَانَ لِبَعْضِ حَاجَتِہٖ فَوَجَدُوْاعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الثَامُر تَحْتَ دَفْنٍ مِنْہَا قَاعِدًا وَاضِعًا یَدَہٗ عَلیٰ ضَرْبَۃٍ فِیْ رَأْسِہٖ مُمْسِکًا بِیَدِہٖ عَلَیْہَا فَاِذَا اُخِّرَتْ یَدُہٗ عَنْہَا تَنْبَعِثُ دَمًا وَاِذَا اُرْسِلَتْ یَدُہٗ رَدَّہَا عَلَیْہَا فَاَمْسَکَتْ دَمہَا وَفِیْ یَدِہٖ خَاتَمٌ مَکْتُوْبٌ فِیْہِ رَبِّیَ اللّٰہُ فَکَتَبَ فِیْہِ اِلیٰ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ۔ یُخْبِرُ بِاَمْرِہٖ فَکَتَبَ اِلَیْہِمْ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنْ اَقِرُّوْہٗ عَلیٰ حَالِہٖ وَرُدُّوْا عَلَیْہِ الدَّفْنَ الَّذِی کَانَ عَلَیْہِ فَفَعَلُوْا۔ (۴۴)
ترجمہ: ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمر بن حزم نے روایت بیا ن کی ہے کہ اہل نجران میں ایک آدمی تھا اس نے اپنی ضرورت کے لیے حضرت عمرؓ بن خطاب کے عہد خلافت میں نجران کے کھنڈرات میں سے ایک کھنڈرکی کھدائی کی تو ایک قبر میں سے عبداللہ بن ثامر کی لاش برآمد ہوئی جو اپنی قبر میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنا ہاتھ سرکے اس مقام پر رکھے ہوئے تھا جہاں زخم آیا تھا اس نے ہاتھ رکھ کر خون کو بہنے سے روک رکھا تھا۔ جوں ہی ہاتھ اس مقام سے ہٹایا جاتا خون بہہ پڑتا اور جیسے ہی ہاتھ واپس اسی مقام پر لوٹا دیا جاتا تو خون رک جاتا۔ اس کے ہاتھ میں انگوٹھی تھی جس پر رَبِّیَ اللّٰہُ منقش تھا۔ اس کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تحریری طور پر دی گئی ۔ حضرت عمرؓ بن خطاب نے انھیں لکھا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اور لاش کو اسی حالت میں دفن کردو جس حالت میں وہ تھی چنانچہ لوگوں نے اسی طرح اسے دفن کردیا۔

اللہ کا بندے سے معاملہ بندے کے گمان کے مطابق ہے

۲۰۔ اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ۔ (بخاری و مسلم)
ترجمہ: نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے۔ ’’میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔‘‘
تشریح: نبی ﷺ نے بڑے جامع اور مختصر الفاظ میں اس بات کو واضح فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہّ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ مومن صالح کا رویہّ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے، اور کافر و منافق اور فاسق و ظالم کا رویہ اس لیے غلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، حم السجدہ حاشیہ:۲۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُمَرُبْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الاَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاصَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَقُوْلُ اللّٰہُ اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، وَاَنَا مَعَہٗ اِذَا ذَکَرَنِیْ فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہٗ فِیْ نَفْسِیْ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَائٍ ذَکَرْتُہٗ فِی مَلَائٍ خَیْرٍ مِّنْہُمْ وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا وَمَنْ اَتَانِیْ یَمْشِیْ اَتَیْتُہٗ ہَرْوَلَۃً۔ (۴۵)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔ اور فرمایا کہ جب وہ مجھے یاد کرتاہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے لوگوں کے گروہ میں یاد کرتا ہے تو میں ان سے بہتر گروہ ملائکہ میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں ایک گز آتا ہوں۔ اگر وہ تیز چل کر آتا ہے تو میں لپک کر آتا ہوں۔‘‘
مسند کے الفاظ ہیں:
اَنَا عِنْدَظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، اِنْ ظَنَّ بِیْ خَیْرًا فَلَہٗ وَاِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَہٗ۔
ترمذی نے اس روایت کو کتاب الدعوات ص ۲۰۰ پر نقل کرکے آخر میں لکھا ہے ۔ ہذا حدیث حسن صحیح ویروی عن الاعمش فی تفسیر ہذا الحدیث۔
مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّیْ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ ذِرَاعًا یَعْنِیْ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ وَہٰکَذَا فَسَّرَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ ہٰذا الْحَدِیْثَ، قَالُوْا: اِنَّمَا مَعْنَاہُ، یَقُوْلُ اِذَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ الْعَبْدُبِطَاعَتِیْ وَبِمَا اَمَرْتُ تُسَارِعُ اِلَیْہِ مَغْفِرَتِی وَرَحْمَتِیْ۔
ترجمہ: جو شخص ایک بالشت میرے قریب آتا ہے، میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں یعنی بخشش اور رحمت سے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی تشریح یہی کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے معنی یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ میری اطاعت اور تعمیل احکام کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میری بخشش اور رحمت اس کی طرف تیزی سے لپکتی ہے۔

اسلام میں بنیادی چیز عقیدۂ توحید ہے

۲۱۔ ایک مرتبہ حضوؐرسواری پر چلے جارہے تھے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آپ کے ردیف تھے۔ آپؐ نے تین مرتبہ ٹھہر ٹھہر کر آواز دی۔ یا معاذ بن جبل! حضرت معاذ نے ہر مرتبہ عرض کیا ’’لبّیک یا رسول اللّٰہ وسعدیک‘‘ اس طرح تین مرتبہ پکار کر جب آپؐ نے مخاطب کو اچھی طرح اپنی جانب متوجہ کرلیا اور آپؐ کو یقین ہوگیا کہ جو بات آپؐ فرمانا چاہتے ہیں سننے والا اس کو خاص اہمیت کے ساتھ سنے گا، تب فرمایا۔ ’’جانتے ہو بندوں پر خدا کا کیا حق ہے؟‘‘انھوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسوؐل کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا ’’اللہ کا حق اس کے بندوں پر یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘ تھوڑی دور آگے چل کر پھر آواز دی۔’’ یا معاذ بن جبل! انھوں نے عرض کیا ’’لبّیک یا رسول اللّٰہ وسعدیک‘‘ فرمایا ’’پھر جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب کہ وہ ایسا کریں؟‘‘ انھوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا ’’ان کا حق یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے۔‘‘ حضرت معاذ نے یہ سن کر پوچھا، ’’کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت دے دوں؟‘‘ فرمایا ’’نہیں! ان کو بشارت نہ دو کیونکہ وہ اسی پر بھروسہ کربیٹھیں گے۔‘‘
تشریح: یعنی عام لوگ اس کی اسپرٹ کو نہ سمجھیں گے اور اس غلط فہمی میں پڑجائیں گے کہ محض زبانی کلمۂ شہادت پڑھ لینے سے نجات لازم ہوجاتی ہے۔ (تفہیمات حصّہ اوّل: کیا نجات ۔۔۔؟)
(۱) حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، حَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: بَیْنَا اَنَا رَدِیْفُ النَّبِیِّ ﷺ، لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ اِلَّا اٰخِرَۃُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: یَامُعَاذُ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، ثُمَّ سَارَسَاعَۃً، ثُمَّ قَالَ: یَا مُعَاذُ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، ثُمَّ سَارَسَاعَۃً، ثُمَّ قَالَ: یَا مُعَاذُبْنُ جَبَلٍ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: ہَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلیٰ عِبَادِہٖ؟ قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: حَقُّ اللّٰہِ عَلیٰ عِبَادِہٖ اَنْ یَعْبُدُوْہُ وَلَا یُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا ، ثُمَّ سَارَسَاعَۃً، ثُمَّ قَالَ: یَا مُعَاذُبْنُ جَبَلٍ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وسَعْدَیْکَ، قَالَ: ہَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا فَعَلُوْہُ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ۔ (۴۶)
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی روایت:
(۲) عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ وَمُعَاذٌ رَدِیْفُہٗ عَلَی الرَّحْلِ، قَالَ: یَا مُعَاذُ! قَالَ: لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: یَامُعَاذُ! قَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: یَا مُعَاذُ! قَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ ثَلَاثًا، قَالَ: مَا مِنْ اَحَدٍ یَّشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہٖ اِلَّا حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَلَا اُخْبِرُ بِہِ النَّاسَ فَیَسْتَبْشِرُوْا؟ قَالَ: اِذًا یَتَّکِلُوْا فَاخْبَرَبِہَا مُعَاذٌ عِنْدَمَوْتِہٖ تَاَثُّمًا۔ (۴۷)
(۳) عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ وَمُعَاذُبْنُ جَبَلٍ رَدِیْفُہٗ عَلَی الرَّحْلِ، فَقَالَ: یَامُعَاذُ! قَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: یا مُعَاذُ! قَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وسَعْدَیْکَ، قَالَ: یَا مُعَاذُ! قَالَ: لَبّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وسَعْدَیْکَ، قَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ یَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَلَا اُخْبِرُ بِہَا فَیَسْتَبْشِرُوْا؟ قَالَ: اِذًا یَتَّکِلُوْا، فَاَخْبَرَبِہَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِہٖ تَاثُّمًا۔ (۴۸)
اس میں انّ محمدًا عبدہ ورسولہ زیادہ ہے۔
۲۲۔ مَامِنْ عَبْدٍ قَالَ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلیٰ ذٰلِکَ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔
ترجمہ: ’’جس بندے نے کہہ دیا کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اسی عقیدہ پر جان دی۔ وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘
پس منظر: ایک مرتبہ حضرت ابوذر غفاریؓ حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپؐ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے لیٹے ہیں۔ یہ واپس ہوگئے۔ دوبارہ حاضر ہوئے تو اٹھ چکے تھے۔ ان کو دیکھ کر فرمایا: ’’مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثَمُّ مَاتَ عَلیٰ ذٰلِکَ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَکہ جس بندے نے کہہ دیا کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اسی عقیدہ پر جان دی وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ انھوں نے پوچھا وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ۔ اگرچہ اس نے زنا کی ہو؟ اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ۔ انھوں نے پھر یہی پوچھا اور آپؐ نے پھر وہی جو اب دیا۔ انھوں نے سہ بارہ پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ عَلیٰ رَغمِ اَنْفِ اَبِیْ ذَرٍّ۔
مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَقَدْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ یعنی جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا وہ جنت میں داخل ہوا۔ یہاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ سے مراد پورا کلمہ ہی پڑھنا اور اس پر عمل کرنا ہے، اگرچہ بظاہر کلمے کا ایک حصہ بیان فرمایا گیا ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَیْنِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَ حَدَّثَہٗ، اَنَّ اَبَاالْاَسْوَدِ الدُّئَ لِیَّ حَدَّثَہٗ، اَنَّ اَبَاذَرٍّ حَدَّثَہٗ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّﷺ وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ اَبْیَضُ وَہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ اَتَیْتُہٗ وَقَدِاسْتَیْقَظَ، فَقَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلیٰ ذٰلِکَ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ قُلْتُ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَق، قُلْتُ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ، قُلْتُ: وَاِنْ زنیٰ وَاِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ عَلیٰ رَغْمِ اَنْفِ اَبِیْ ذَرٍّ۔ وَکَانَ اَبُوْذَرٍّ اِذَا حَدَّثَ بِہٰذا، قَالَ: وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ۔ قَالَ اَبُوْعَبْدِ اللّٰہِ: ہٰذَا عِنْدَالْمَوْتِ اوْقَبْلَہٗ اِذَا تَابَ وَنَدِمَ۔ وَقَالَ: لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ غُفِرَلَہٗ مَاکَانَ قَبْلُ۔ (۴۹)
۲۳۔ ایک اور موقعہ پر حضوؐر اپنے خاص صحابیوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ یکایک آپ اٹھے اور تشریف لے گئے۔ جب بہت دیرہوگئی تو صحابہؓ کو تشویش ہوئی کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔ ڈھونڈھنے نکلے۔سب سے پہلے جو صاحب گئے وہ حضرت ابوہریرہؓ تھے۔ یہ سرکا ر کو تلاش کرتے ہوئے انصار کے ایک باغ پر پہنچے جس کا دروازہ تلاش کے باوجود نہ ملا۔ آخر ایک چھوٹی سی نہر کے رستے سے اندر پہنچے۔ دیکھا کہ حضوؐر تشریف فرما ہیں۔ حضوؐر نے پوچھا : کہ کیسے آئے؟ انھوں نے ماجرا عرض کیا۔ آپؐ نے اپنی دونوں جوتیاں اٹھا کر انھیں دے دیں اور فرمایا:’’انھیں لے جائو اور باغ کے پیچھے جو شخص ایسا ملے جو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیتا ہو اور اس پر دل سے یقین رکھتا ہو اسے جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ یہ اس حکم کی تعمیل کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں سب سے پہلے حضرت عمرؓ ملے۔ انھوں نے پوچھا:’’ یہ جوتیاں کیسی ہیں۔‘‘انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی نعلین ہیں اور آپؐ نے مجھے ایسا اور ایسا کہنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر ان کے ایک زور کا دھپ رسید کیا اور کہا کہ واپس جائو۔ یہ گرتے پڑتے بھاگے اور جاکر حضوؐر سے سارا معاملہ بیان کیا۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی پہنچ گئے۔ آپؐ نے پوچھا کہ عمرؓ! ’’کس چیز نے تم کو اس حرکت پر آمادہ کیا؟‘‘انھوں نے عرض کیا۔’’میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ، کیا آپؐ نے ابوہریرہؓ کو ایسا اور ایسا کہنے کے لیے بھیجا تھا؟‘‘ حضوؐر نے فرمایا’’ہاں‘‘ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ایسا نہ کیجیے۔ مجھے خوف ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے، انھیں عمل کے لیے چھوڑ دیجیے۔ آپ نے فرمایا:’’اچھا تو انھیں عمل کے لیے چھوڑ دو۔
(تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات ۔۔۔؟)
قرآن و حدیث کی رُو سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل ، عملِ صالح نہیں ہے اور کوئی شخص جو ایمان نہ لایا ہو جنت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ زیادہ سے زیادہ جو رعایت کسی کافر کے لیے ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ اگر وہ اخلاقی لحاظ سے برائیوں کا مرتکب نہ ہو بلکہ ایسے اعمال کرتا ہو جو اخلاق حسنہ کے مطابق ہوں تو اسے اتنی سخت سزا نہ دی جائے جتنی اس کافر کو ملے گی، جو کافر بھی ہو اور اخلاقی جرائم کا مرتکب بھی۔ لیکن کفر کی سزا سے وہ نہیںبچ سکتا۔ (مکاتیب حصہ اوّل : ۹۹)
تشریح: (مندرجہ بالاتینوں حدیثوں کے ) مخاطب وہ لوگ ہیں جن کے کامل الاسلام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ وہ تعلیمات قرآنی اور قوانین اسلامی سے نہ صرف خوب واقف بلکہ ان پر پورے عامل بھی ہیں۔ ان کے سامنے حضوؐر نے جو کچھ فرمایا اس سے یہ اندیشہ کرنے کی گنجائش ہی نہ تھی کہ وہ توحید کے سوا اسلام کے دوسرے اصولی عقائد اور حقوق و فرائض کو غیر ضروری سمجھ لیں گے۔ اس لیے ان کو آپؐ نے یہ حقیقت بتادی کہ اسلام میں اصل اور بنیادی چیز عقیدۂ توحید ہے۔ انبیاء کی آمد کا اصلی مقصد یہی ہے کہ انسان کو خدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالیں اور صرف خدا کا بندہ بنائیں۔دنیا اور آخرت میں انسان کی فلاح و کامیابی کا انحصار بھی اسی پر ہے ، کہ وہ غیر اللہ کی بندگی سے نکلے اور بس ایک خدا کا بندہ بن کر رہے۔ یہ حقیقت جس نے سمجھ لی اور جس کے دل میں یہ بات خوب بیٹھ گئی کہ خدائے واحد کے سوا دنیا کی کسی چیز کو قطعاً کسی قسم کی الوہیت حاصل نہیں ہے۔ اور صرف ایک خدا ہی ہے جس کی اطاعت ، فرماں برداری ،غلامی اور بندگی اس کو کرنی ہے۔ وہ یقینا اپنی زندگی میں سیدھا راستہ اختیار کرے گا اور ٹیڑھے راستوں سے بچ کر چلے گا۔ اس کے مزاج میں راستی ہوگی، صداقت کو قبول کرے گا۔ متقی اور پرہیز گار ہوگا۔ تمام وہ حقوق ادا کرے گا جن کو خدانے حق ٹھہرایا ہے۔ اور تمام وہ فرائض بجالائے گا جن کو خدا نے فرض قرار دیا ہے۔ لہٰذا یہی ایک چیز اس کو صحیح الخیال بھی بنائے گی اور طاہر الاخلاق اور صالح الاعمال بھی۔ رہی یہ بات کہ بشری کمزوری کی بنا پر اس سے گناہ سرزد ہوجائے ، تو خدا پر ایمان اسے مجبور کرے گا کہ اس گناہ سے توبہ کرے کیونکہ ایمان کے ساتھ یہ ناممکن ہے کہ وہ گناہ اور بدکاری پر جمارہے ۔ (تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات ۔۔۔؟)
مذکورہ بالا احادیث اور ان کی ہم معنی دوسری احادیت کا یہی مفہوم صحابہؓ کرام نے سمجھا تھا اور یہی ان کا حقیقی مفہوم تھا۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ خیال نہ کیا کہ بس عقیدۂ توحید ہی کافی ہے اس کے بعد نہ رسالت کو ماننے کی ضرورت ہے، نہ کلام اللہ کو، اور نہ پاکیزگی اخلاق مطلوب ہے نہ صلاحیتِ اعمال۔ ایسا غلط مفہوم وہ کس طرح سمجھ سکتے تھے جب کہ ان کو پوری طرح بتادیا گیا تھا کہ اسلام کیا ہے ۔ اور اس میں کن چیزوں کا اعتقاد، کن عبادات کی پابندی، کن حدود کی حفاظت، کن قوانین کی اطاعت اور کن طریقوں سے اجتناب ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے یہ تعلیم صرف کاملین کو دی اور عوام کے سامنے اس کو بیان کرنے سے منع فرمادیا۔معاذ بن جبل والی حدیث میں آپؐ نے اس کی وجہ بھی خود ہی بیان فرمادی ہے کہ عام لوگ اس کو سن کر غلط فہمی میں پڑجائیں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ والی حدیث میں ایک شخص کو شبہ ہوسکتا ہے کہ آپؐ نے شاید عوام تک پہنچانے کی ہدایت فرمائی تھی، خود حضرت عمرؓ کو بھی ایسا ہی شبہ ہوا تھا لیکن دراصل حضوؐر کا مقصد کامل الاسلام لوگوں کو بشارت دینا تھا۔ چنانچہ جب حضرت عمرؓ نے اپنا اندیشہ بیان کیا تو آپؐ نے ان کی رائے سے اتفاق فرمایا۔ اسی طرح حضرت ابوذرؓ والی حدیث میں بھی کوئی شخص یہ شبہ نہیں کرسکتا کہ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ سے مراد مجرد زبانی قول ہے اس لیے کہ حضوؐر نے دوسرے مواقع پر تصریح فرمائی ہے کہ دخولِ جنت کے لیے توحید پر کامل ایمان کی ضرورت ہے۔ کہیں مستیقناً بہا قلبہ فرمایا کہیں عَبْدٌ غَیْرُ شَاکٍّ فرمایا۔ اور کہیں دوسرے الفاظ ارشاد فرمائے جو اسی معنی پر دلالت کرتے ہیں۔
بہرحال یہ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جن احادیث میں توحید کی اہمیت بیان کی گئی ہے ان کا خطاب دراصل ان لوگوں سے ہے جو تمام شرائط کے ساتھ دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں، نہ کہ ان لوگوں سے جو مسلمان ہی نہ ہوں، پھر مسلمانوں کو بھی اعتقادِتوحید پر دخول جنت کی بشارت دینے سے یہ مراد نہیں کہ بس خدا کی وحدانیت مان لو، پھر جس قسم کی بدعقیدگی اور فسق وفجور اور بدعت و معصیت میں چاہو مبتلا رہو۔ بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مسلمان کی کامیابی کا مدار سب سے بڑھ کر اعتقادِ توحید کی صحت اور مضبوطی پر ہے۔ اس میں اگر خرابی آگئی تو پھر کوئی چیز نافع نہیں ہوسکتی اور اگر یہ صحیح و مضبوط ہوتو آخری کامیابی حاصل ہوکر رہے گی۔ اسی جہت سے اس معنی کی احادیث اس آیت قرآنی سے مطابق ہوتی ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔(حٰم السجدہ: ۳۰) (تفہیمات حصہ اوّل : کیا نجات ۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ قَالَ: انَاعُمربْنُ یُونُسَ الْحَنَفِیُّ قَالَ: نَا عِکْرِمَۃْ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْکَثِیْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْہُرَیْرَۃَ قَالَ: کُنَّا، قُعُوْدًا حَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مَعنَا اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فِیْ نَفَرٍ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ بَیْنِ اَظْہُرِنَافَاَبْطَأَعَلَیْنَا فَخَشِیْنَا اَنْ یُقْتَطَعَ دُوْنَنَا وفَزِعْنَا وَقُمْنَا فَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی اَتَیْتُ حَائِطًا لِلْاَنْصَارِیِّ لِبَنِی النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِہٖ ہَلْ اَجِدُلَہٗ بَابًا فَلَمْ اَجِدْ فَاِذَا رَبِیْعٌ یَدْ خُلُ فِیْ جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَۃٍ وَالرَّبِیْعُ الْجَدْوَلُ فَاَحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: اَبُوْہُرَیْرَۃَ! فَقُلْتُ: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: مَاشَأنُکَ؟ قُلْتُ کُنْتَ بَیْنَ اَظْہُرِنَا فَقُمْتَ، فَاَبْطَأْتَ عَلَیْنَا فَخَشِیْنَا اَنْ تُقْتَطَعَ دُوْنَنَا، فَفَزِعْنَا فَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَاَتَیْتُ ہٰذَا الْحَائِطَ فَاَحْتَفَزْتُ کَمَا یَحْتَفِزُ الثَعْلَبُ وَہٰٓؤُلَآئِ النَّاسُ وَرَآئِیْ۔ فَقَالَ: یَااَبَاہُرَیْرَۃَ! وَاَعْطَانِیْ نَعْلَیْہِ، قَالَ: اذْہَبْ بِنَعْلَیَّ ہَاتَیْنِ فَمَنْ لَقِیْتَ مِنْ وَرَآئِ ہٰذَا الْحَائِطِ یَشْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُسْتَیقِنًا بِہَاقَلْبُہٗ فَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ لَقِیْتُ عُمَرُ، فَقَالَ:مَاہَاتَانِ النَّعْلَیْنِ یَا اَبَاہُرَیْرَۃَ؟ قُلْتُ: ہَا تَیْنِ نَعْلَا رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَنِیْ بِہِمَا مَنْ لَقِیْتُ یَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُسْتَیْقِنًا بہَاقَلْبُہٗ بَشَّرْتُہٗ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَضَرَبَ عُمَرُ بِیَدِہٖ بَیْنَ ثَدْیَیَّ ضَرْبَۃً فَخَرَرْتُ لِاسْتِیْ، فَقَالَ: اِرْجِعْ یَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ! فَرَجَعْتُ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاجْہَشْتُ بکَآئً وَرَکِبَنِیْ عُمَرُ فَاِذَا ہُوَ عَلیٰ اَثَرِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَالَکَ یَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قُلْتُ: لَقِیْتُ عُمَرَ فَاَخْبَرْتُہٗ بِالَّذِیْ بَعَثْتَنِیْ بِہٖ فَضَرَبَ بَیْنَ ثَدْیَیَّ ضَرْبۃً خَرَرْتُ لاِسْتِیْ، قَالَ:ارْجِعْ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَا عُمَرُ! مَاحَمَلَکَ عَلیٰ مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ، اَبَعَثْتَ اَبَاہُرَیْرَۃَ بَنَعْلَیْکَ مَنْ لَقِیَ یَشْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُسْتَیْقِنًا بِہَا قَلْبُہٗ بَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ فَاِنِّیْ اَخْشیٰ اَنْ یتَّکِلَ النَّاسُ عَلَیْہَا فَخَلِّہِمْ یَعْمَلُوْنَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَخَلِّہِمْ۔ (۵۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ہماری اس مجلس میں حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ بھی موجود تھے۔ ہمارے درمیان میں سے رسول اللہ ﷺ یکایک اٹھے اور باہر تشریف لے گئے۔ کافی دیر ہوگئی۔ آپؐ واپس تشریف نہ لائے تو ہمیں اندیشہ لاحق ہوا کہ مبادا آپؐ کو کوئی حادثہ نہ پیش آجائے۔ ہم گھبرائے اور اٹھ کھڑے ہوئے سب سے پہلا شخص میں تھا جو گھبراکر آپؐ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ انصار کے قبیلہ بنی نجّار کے باغ کے پاس پہنچ گیا۔اس باغ کے چاروں اطراف گھوما پھر ا مگر اندر جانے کا راستہ نہ پاسکا اور نہ دروازے کا سراغ ملا۔ اچانک ایک جدول پر نظر پڑی جو باہر کے ایک کنوئیں کی جانب سے اس باغ میں جاتی تھی۔ لومڑی کی طرح سمٹ کر میں اس نالی کے ذریعہ اندر گھس گیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا، ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا جی حضوؐر! آپؐ نے فرمایا ’’تمہارا کیا حال ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہؐ! آپؐ ہمارے درمیان مجلس میں تشریف فرماتھے۔ آپؐ کے اچانک باہر تشریف لے جانے پھر دیر تک واپس تشریف نہ لانے کی وجہ سے ہمیں اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ پیش آجائے۔ ہم سب گھبراگئے۔ سب سے پہلے میں گھبراکر اٹھا اور آپؐ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور اس باغ کی چار دیواری تک پہنچ گیا مگر داخلے کا کہیں راستہ یا دروازہ نظر نہیں آیا تھا۔ اتفاق سے ایک جدول باہر سے اندرجاتی نظر پڑی ۔ اس کے سوراخ میں لومڑی کی طرح سکڑ سمٹ کر اندر داخل ہوا اور آپؐ تک پہنچ گیا۔ باقی حضرات سب میرے پیچھے ہیں۔ آپؐ نے اپنی نعلین مبارک مجھے عنایت فرماکر ہدایت فرمائی کہ ’’میری یہ جوتیاں لے کر باہر جائو۔ سب سے پہلے جو شخص ایسا ملے جو اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور دل سے اس پر یقین بھی رکھتا ہو، تو اسے جنت کی خوش خبری سنادو۔ ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ میں جوتیاں لے کر باغ سے باہر آیا تو سب سے پہلے جس شخص سے ملاقات ہوئی وہ حضرت عمرؓ تھے۔ انھوں نے میرے ہاتھ میں جوتیاں دیکھ کر دریافت کیا۔ ابوہریرہ یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے بتایا کہ یہ رسولِ خدا ﷺ کی جوتیاں ہیں۔ آپؐ نے یہ مجھے دے کر بھیجا ہے کہ سب سے پہلے جو شخص ملے اگر اس کا اس پر ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس پر اس کو قلبی اطمینان و یقین بھی ہو تو اسے جنت کی بشارت سنادوں۔ یہ بات سن کر حضرت عمرؓ نے ایک دھپ میرے سینے پر رسید کیا جس سے میں پشت کے بل زمین پر جاگرا۔ حضرت عمرؓ نے کہا جائو واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس۔ میں اسی حالت میں حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور رونے والے کا سامنہ بناکر گزری ہوئی داستان سنانے والا ہی تھا کہ حضرت عمرؓ بھی آپہنچے۔ نبی کریمؐ نے مجھ سے پوچھا۔ ابوہریرہ کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا حضور والا آپ نے مجھے جو پیغام بشارت دے کر بھیجا تھا سب سے پہلی ملاقات عمرؓ سے ہوئی میں نے آپؐ کا ارشادِ گرامی ان کو سنایا تو عمرؓ نے سن کر میرے سینے پر ایک زور کی دھپ ماری کہ میں پشت کے بل زمین پر جاگرا اور مجھ سے کہا کہ واپس رسول اللہ ﷺکے پاس جائو۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ’’اے عمرؓ ایسا تم نے کیوں کیا؟‘‘ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں۔ ابوہریرہؓ کو آپؐ نے اپنی نعلین مبارک عنایت فرماکر بھیجا تھا کہ جو سب سے پہلے ملے اور اس کا اعتقاد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا مستحق عبادت کوئی ذات نہیں، اس پر اسے قلبی ایقان بھی ہو، تو اسے جنت کا مژدہ سنادے۔ آپؐ نے فرمایا’’ہاں میں نے اسے بھیجا تھا۔‘‘عمرؓ نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپؐ پر نثار ہوں ایسا نہ کیجیے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں اور عمل سے کنارہ کش ہوجائیں گے، انھیں عمل کرنے دیجیے۔ اس پر رسولؐ اللہ نے فرمایا اچھا انھیں چھوڑ دو کہ عمل کریں۔

کن حالات میں کلمۂ کفر کہنے کی رخصت ہے

۲۴۔ عمار بن یاسرؓ نے حضوؐر سے عرض کیا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَاتُرِکْتُ حَتّٰی سَبَبْتُکَ وَذَکَرْتُ اٰلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ۔ (حضور نے پوچھا) کَیْفَ تَجِدُ قَلْبَکَ (عرض کیا) مُطْمَئِنًّا بِالْاِیْمَانِ (حضور نے فرمایا) اِنْ عَادُوْا فَعُدْ۔
ترجمہ: (عمّار بن یاسرؓ کو اتنی ناقابلِ برداشت اذیّت دی گئی کہ آخر کار انھوں نے جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ کہہ دیا جو کفّار ان سے کہلوانا چاہتے تھے۔ پھر وہ روتے ہوئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا) ’’یا رسول اللہ مجھے نہ چھوڑا گیا جب تک کہ میں نے آپؐ کو برا اور ان کے معبودوں کو اچھا نہ کہہ دیا۔ ‘‘ حضوؐر نے پوچھا: ’’اپنے دل کا کیا حال پاتے ہو؟‘‘ عرض کیا ’’ایمان پر پوری طرح مطمئن۔‘‘ اس پر حضوؐر نے فرمایا:’’ اگر وہ پھر اس طرح کا ظلم کریں تو تم پھر یہی باتیں کہہ دینا۔‘‘
(یہ واقعہ ان مسلمانوں میں سے ایک کا ہے جنھیں ناقابلِ برداشت اذیتیں دی گئیں)
تشریح: یہاں ان مسلمانوں کا ذکر کیا گیا جن پر (کفار کی طرف) سے سخت مظالم توڑے جارہے تھے اور ناقابل برداشت اذیتیں دے دے کر کلمۂ کفر پر مجبور کیا جارہا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جان بچانے کے لیے کلمۂ کفر کہہ دینا چاہیے بلکہ یہ صرف رخصت ہے۔ اگر ایمان دل میں رکھتے ہوئے آدمی مجبوراً ایسا کہہ دے تو مواخذہ نہ ہوگا۔ ورنہ مقام عزیمت یہی ہے کہ خواہ آدمی کا جسم تکّا بوٹی کرڈالا جائے بہر حال وہ کلمۂ حق ہی کا اعلان کرتا رہے۔
دونوں قسم کی نظیریں نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف خَبَّابؓ بن اَرتّ ہیں جن کو آگ کے انگاروں پر لٹا یا گیا۔ یہاں تک کہ ان کی چربی پگھلنے سے آگ بجھ گئی۔ مگر وہ سختی کے ساتھ ایمان پر جمے رہے۔ بلال حبشی ہیں جن کو لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کردیا گیا، پھر تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر گھسیٹا گیا مگر وہ احد احد ہی کہتے رہے۔ حبیب بن زید بن عاصم ؓہیں جن کے بدن کا ایک ایک عضو مسلیمہ کذّاب کے حکم سے کاٹا جاتا تھا اور پھر مطالبہ کیا جاتا تھا کہ مسیلمہ کو نبی مان لیں مگر ہر مرتبہ وہ اس کے دعوائے رسالت کی شہادت دینے سے انکار کرتے تھے یہاں تک کہ اسی حالت میں کٹ کٹ کر انھوں نے جان دے دی۔ دوسری طرف مندرجہ بالا حدیث کی مثال عمار بن یاسر ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد اور ان کی والدہ کو سخت عذاب دے دے کر شہید کردیا گیا۔ (تفہیم القرآن ، ج ۲،سورہ النحل، حاشیہ:۱۰۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَابْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، قَالَ: ثَنَامُحَمَّدُبْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ الْجَزْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِبْنِ عَمَّارِبْنِ یَاسِرٍ، قَالَ: اَخَذَ الْمُشْرِکُوْنَ عَمَّارَبْنَ یَاسِرٍ فَعَذَّبُوْہُ حَتّٰی بَارَّاہُمْ۔( قَارَبَہُمْ ) فِیْ بَعْضِ مَااَرَادُوْا فَشَکَاذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺکَیْفَ تَجِدُ قَلْبَکَ؟ قَالَ: مُطْمَئِنًّا بِالْاِیْمَانِ۔قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: فَاِنْ عَادُوْا فَعُدْ۔ (۵۱)
ترجمہ: حضرت ابوعبیدہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ عمارؓ بن یاسر کو مشرکین مکہ نے پکڑ لیا اور انھیں اتنی ناقابل برداشت اذیت دی کہ انھوں نے جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ کہہ دیا جو مشرکین کہلوانا چاہتے تھے۔ پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ مجھے نہ چھوڑا گیا جب تک کہ میں نے آپؐ کو برا بھلا اور ان کے معبودوں کو اچھا نہ کہہ دیا۔ حضور ﷺ نے پوچھا ’’اپنے دل کا کیا حال پاتے ہو۔ عرض کیا ایمان پر پوری طرح مطمئن ہوں۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ’’اگر وہ پھر اس طرح کا ظلم کریں تو تم پھر یہی بات کہہ دینا۔‘‘
(۲) اَنَّہٗ سَبَّ النَّبِیَّ ﷺ وَذَکَرَ اٰلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ فَشَکَاذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا تُرِکْتُ حَتّٰی سَبَبْتُکَ وَذَکَرْتُ اٰلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ، قَالَ: کَیْفَ تَجِدُ قَلْبَکَ؟ قَالَ: مُطْمَئِنًّا بِالْاِیْمَانِ، فَقَالَ: اِنْ عَادُوْا، فَعُدْ۔ (۵۲)
(۳) کَانَ بلَالٌرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَأْبٰی عَلَیْہِمْ ذٰلِکَ وَہُمْ یَفْعَلُوْنَ بِہِ الْاَفَاعِیْلُ حَتّٰی اَنَّہُمْ لَیَضَعُوْا الصَّخْرَۃَ الْعَظِیْمَۃَعَلیٰ صَدْرِہٖ فِیْ شِدَّۃِ الْحَرِّوَیَأَمُرُوْنَہٗ بِالشِّرْکِ بِاللّٰہِ فَیَأْبٰی عَلَیْہِمْ وَہُوَ یَقُوْلُ: اَحَدٌ اَحَدٌ ویَقُوْلُ: وَاللّٰہِ لَوْاَعْلَمُ کَلِمَۃً ہِیَ اَغْیَظُ لَکُمْ مِنْہَا لَقُلْتُہَا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ۔
ترجمہ: حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کفّارکی باتیں ماننے سے انکار کرتے رہے۔ وہ انھیں ہر طرح کی اذیت پہنچاتے رہے تاآں کہ ان کے سینے پر شدید گرمی کے موسم میں بڑا بھاری پتھر رکھ کر کہتے کہ توحید کا انکار کرو اور اللہ کے ساتھ شرک کا اقرار کرو۔ مگر وہ نشۂ توحید میں سرشار احد احد پکارتے رہے، حضرت بلالؓ فرماتے تھے کہ اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوجائے جس کے ادا کرنے سے تمہارا غیظ و غضب اور بھڑکے تو میں ضرور اسے اپنی زبان سے ادا کروں۔
(۴) وَکَذَلِکَ حَبِیْبُ بْنُ زَیْدِ الْاَنْصَارِیُّ لَمَّا قَالَ لَہٗ مُسَیْلَمَۃُ الْکَذَّابُ اَتَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیَقُوْلُ اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟فَیَقُوْلُ: لَا اَسْمَعُ۔ فَلَمْ یَزَلْ یَقْطَعُہٗ اِرْبًا اِرْبًا وَہُوَ ثَابِتٌ عَلیٰ ذٰلِکَ۔ (۵۳)
ترجمہ: اسی طرح کا واقعہ حضرت حبیب بن زید الانصاری کا ہے ۔ مسیلمہ کذاب نے جب ان سے پوچھا کہ ’’تم محمد ﷺ کی رسالت کی شہادت دیتے ہو‘‘ تو انھوں نے کہا ’’ہاں‘‘ اس پر مسیلمہ نے پھر پوچھا’’مجھے رسول مانتے ہو؟‘‘ تو انھوں نے فرمایا۔’’میںسنتا نہیں ہوں، یا میں ایسی بات نہیں سن سکتا۔‘‘ چنانچہ مسیلمہ ان کے بدن کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا (اس طرح کٹ کٹ کر اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کردی) اور وہ اس دردناک اذیت پر ثابت قدم رہے۔

صرف ایک کلمۂ توحیدکا اقرار، عرب و عجم کی فرماں روائی

۲۵۔ اُرِیْدُ عَلیٰ کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ یَقُوْلُوْنَہَا تَدِیْنُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّیْ اِلَیْہِمْ بِہَا الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ۔
ترجمہ: میں ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان اور عجم ان کا باجگزار ہوجائے۔
حضوؐر کے اس ارشاد کو مختلف راویوں نے مختلف الفاظ میں نقل کیا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں۔
اَدْعُوْہُمْ اِلیٰ اَنْ یَتَکَلَّمُوْا بِکَلِمَۃٍ تَدِیْنُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ وَیَمْلِکُوْنَ بِہَا الْعَجَمُ۔
ترجمہ: میں انھیں ایک کلمہ کے قائل ہونے کی دعوت دیتا ہوں جس کے نتیجہ میں عرب ان کا تابع اور عجم ان کا باجگزار ہوجائے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے ابوطالب کے بجائے قریش کے لوگوں کو خطاب کرکے فرمایا۔
کَلِمَۃٌ وَاحِدَۃٌ تُعْطُوْنِیْہَا تَمْلِکُوْنَ بِہَا الْعَرَبُ وَتَدِیْنُ لَکُمْ بِہَا الْعَجَمُ۔
ترجمہ: ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہوجائو تو عرب و عجم کے فرماں روا ہو جائو گے۔
ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں:
اَرَأَیْتُمْ اِنْ اَعْطَیْتُکُمْ کَلِمَۃً تُکَلِّمْتُمْ بِہَا مَلَکْتُمْ بِہَا الْعَرَبَ وَدَانَتْ لَکُمْ بِہَا الْعَجَمُ۔
ترجمہ: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہیں ایک کلمہ دے رہا ہوں اس کے قائل ہونے کی وجہ سے تم عرب کے فرماں روا اور عجم تمہارا زیر نگیں ہوجائے۔
ان لفظی اختلافات کے باوجود مدعا سب کا یکساں ہے۔ یعنی حضوؐر نے ان سے کہا کہ اگر میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کروں جسے قبول کرکے تم عرب و عجم کے مالک ہوجائو گے تو بتائو کہ یہ زیادہ بہتر ہے یا وہ جسے تم انصاف کی بات کہہ کر میرے سامنے پیش کررہے ہو؟ تمہاری بھلائی اس کلمے کو مان لینے میں ہے یا اس میں کہ جس حالت میں تم پڑے ہو اسی میں تم کو پڑا رہنے دوں اور بس اپنی جگہ آپ ہی اپنے خدا کی عبادت کرتا رہوں؟
پس منظر: جب ابوطالب بیمار ہوئے اور قریش کے سرداروں نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کا آخری وقت ہے تو انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ چل کر شیخ سے بات کرنی چاہیے۔ وہ ہمارااور اپنے بھتیجے کا جھگڑا چکاجائیں تو اچھا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا انتقال ہوجائے اور ان کے بعد ہم محمد ﷺ کے ساتھ کوئی سخت معاملہ کریں اور عرب کے لوگ ہمیں طعنہ دیں کہ جب تک شیخ زندہ تھا، یہ لوگ اس کا لحاظ کرتے رہے، اب اس کے مرنے کے بعد ان لوگوں نے اس کے بھتیجے پر ہاتھ ڈالا ہے۔
اس رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا اور تقریباً ۲۵ سرداران قریش جن میں ابوجہل ، ابوسفیان، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، اسود بن المطلب، عقبہ بن ابی معیط،عتبہ اور شیبہ شامل تھے، ابو طالب کے پاس پہنچے ۔ ان لوگوں نے پہلے تو حسبِ معمول نبیﷺ کے خلاف اپنی شکایات بیان کیں، پھر کہا کہ ہم آپ کے سامنے ایک انصاف کی بات پیش کرنے آئے ہیں۔ آپ کا بھتیجا ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے اور ہم اسے اس کے دین پر چھوڑے دیتے ہیں۔ وہ جس معبود کی عبادت کرنا چاہے کرے، ہمیں اس سے کوئی تعرض نہیں۔ مگر وہ ہمارے معبودوں کی مذمت نہ کرے اور یہ کوشش نہ کرتا پھرے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑدیں۔ اس شرط پر آپ ہم سے اس کی صلح کرادیں۔ ابوطالب نے نبی ﷺ کو بلایا اور آپؐ سے کہا کہ بھتیجے! یہ تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ تم ایک منصفانہ بات پر ان سے اتفاق کرلو تاکہ تمہارا اور ان کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ پھر انھوں نے حضوؐر کو وہ بات بتائی جو سرداران قریش نے ان سے کہی تھی۔ نبی ﷺ نے جواب میں فرمایا۔ چچا جان، میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان اور عجم ان کا باج گزار ہوجائے۔
یہ سن کر پہلے تو وہ لوگ سٹپٹا گئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر کیا کہہ کر ایسے مفید کلمے کو رد کردیں۔ پھر کچھ سمجھ کر بولے، تم ایک کلمہ کہتے ہو ہم ایسے دس کلمے کہنے کو تیار ہیں مگر یہ تو بتائو کہ وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اس پر وہ سب یکبارگی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ باتیں کہتے ہوئے نکل گئے جو سورۃ (صٓ) کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے نقل کی ہیں۔
ابن سعد نے طبقات میں یہ سارا واقعہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح اوپر مذکور ہوا، مگر ان کی روایت کے مطابق یہ ابوطالب کے مرض وفات کا نہیں بلکہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضوؐر نے دعوت عام کی ابتدا کی تھی اور مکہ میں پے درپے یہ خبریں پھیلنی شروع ہوگئی تھیں کہ آج فلاں آدمی مسلمان ہوا اور کل فلاں۔ اس وقت سرداران قریش یکے بعد دیگرے کئی وفد ابوطالب کے پاس لے کر پہنچے تھے تاکہ وہ محمد ﷺ کو اس تبلیغ سے روک دیں اور انہی وفود میں سے ایک وفد کے ساتھ یہ گفتگو ہوئی تھی۔
زمخشری، رازی، نیشاپوری اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ وفد ابوطالب کے پاس اس وقت گیا تھا جب حضرت عمرؓ کے ایمان لانے پر سرداران قریش بوکھلاگئے تھے۔ لیکن کتب روایت میں سے کسی میں اس کا حوالہ ہمیں نہیں مل سکا ہے اور نہ ان مفسرین نے اپنے ماخذ کاحوالہ دیا ہے۔ تاہم اگر یہ صحیح ہو تو یہ ہے سمجھ میں آنے والی بات، اس لیے کہ کفار قریش پہلے ہی یہ دیکھ کر گھبرائے ہوئے تھے کہ اسلام کی دعوت لے کر ان کے درمیان سے ایک ایسا شخص اٹھا ہے جو اپنی شرافت اور بے داغ سیرت اور دانائی و سنجیدگی کے اعتبار سے ساری قوم میں اپنا جواب نہیں رکھتا اور پھر اس کا دست راست ابوبکرؓ جیسا آدمی ہے جسے مکے اور اس کے اطراف کا بچہ بچہ ایک نہایت شریف، راستباز اور ذکی انسان کی حیثیت سے جانتا ہے۔ اب جو انھوں نے دیکھا ہوگا کہ عمرؓ بن خطاب جیسا جری اور صاحب عزم آدمی بھی ان دونوں سے جاملا ہے تو یقینا انھیں محسوس ہوا ہوگا کہ خطرہ حد برداشت سے گزرتا جارہا ہے۔ (تفہیم القرآن،ج۴، سورۂ ص۔ تاریخی پس منظر )
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِی الْعَبَّاسُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَعْبَدٍ (بن عباس) عَنْ بَعْضِ اَہْلِہٖ عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَشَوْا اِلیٰ اَبِیْ طَالِبٍ فَکَلَّمُوْہُ وَہُمْ اَشْرَافُ قَوْمِہٖ : عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیْعَۃَ، وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیْعَۃَ، وَاَبُوْجَہْلِ ابْنِ ہِشَامٍ، وَاُمَیَّۃُ بْنُ خَلْفٍ وَاَبُوْسُفْیَانُ ابْنُ حَرْبٍ فِیْ رِجَالٍ مِنْ اَشْرَافِہِمْ، فَقَالُوْا: یَا اَبَاطَالِبٍ ! اِنَّکَ مِنَّاحَیْثُ قَدْ عَلِمْتَ وَقَدْ حَضَرَکَ مَاتَریٰ وتَخَوَّفْنَا عَلَیْکَ وَقَدْعَلِمْتَ الَّذِیْ بَیْنَنَا وبَیْنَ بْنِ اَخِیْکَ۔فَادْعُہٗ فَخُذْلَہٗ مِنَّا وَخُذْلَنَا مِنْہُ لِیَکُفَّ عَنَّا وَنَکُفَّ عَنْہُ وَلْیَدَعَنَا وَدِیْنَنَا وَنَدْعُہٗ وَدِیْنَہٗ۔ فَبَعَثَ اِلَیْہِ ابُوْطَالِبٍ فَجَآئَ ہٗ۔ فَقَالَ: یَاابْنَ اَخِیْ! ہٰؤُلَآئِ اَشْرَافُ قَوْمِکَ قَدِاجْتَمَعُوْا لَکَ لِیُعْطُوْکَ، وَلْیَاْخُذُوْا مِنْکَ، قَالَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: نَعَمْ! کَلِمَۃٌ وَاحِدَۃٌ تُعْطُوْنِیْہَاتَمْلِکُوْنَ بِہَا الْعَرَبَ وَتَدِیْنُ لَکُمْ بِہَا الْعَجَمُ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوجَہْلٍ: نَعَمْ وَاَبِیْکَ وَعَشَرُ کَلِمَاتٍ۔ قَالَ: تَقُوْلُوْنَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَتَخْلَعُوْنَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ، قَالَ: فَصَفَّقُوْا بِاَیْدِیْہِمْ،ثُمَّ قَالُوْا: اُتُرِیْدُ یا مُحَمَّدُ! اَنْ تَجْعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًا ۔ اِنَّ اَمْرَکَ لَعَجَبٌ۔۔۔۔(۵۴)
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اشراف قریش عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ابوجہل بن ہشام اور امیہ بن خلف اور ابوسفیان بن حرب وغیرہ اپنے دیگر قریشی معززین کے ہمراہ ابوطالب کے پاس گئے اور نبی ﷺ کے متعلق گفتگو کی۔ کہنے لگے اے ابوطالب! آپ کا جو مقام و مرتبہ اور حیثیت ہماری نظروں میں ہے اسے آپ بخوبی جانتے ہیں۔ آپ کی جو حالت اس وقت ہے اس سے ہمیں آپ کے بارے میں اندیشہ لاحق ہے۔ ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو نزاع برپا ہے، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ آپ اسے بلائیں اور کچھ لے اور کچھ دے کے اصول پر ہمارے درمیان تصفیہ کرادیں۔ تاکہ ہم ایک دوسرے سے رک جائیں۔ وہ ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے۔ ہم اسے اس کے دین پر چھوڑ ے دیتے ہیں۔ یہ سن کر ابوطالب نے آپ کو بلا بھیجا۔ چنانچہ آپؐ تشریف لے آئے۔ ابوطالب نے آپؐ سے مخاطب ہو کر کہا۔’’بھتیجے! یہ تیری قوم کے اشراف و معززین اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ وہ تمہیں کچھ دیں اور تم سے کچھ لیں یعنی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر مصالحت چاہتے ہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’صرف ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہو جائو تو عرب کے فرماں روا بن سکتے ہو اور عجم تمہارا مطیع و فرماں بردار بن جائے گا۔‘‘ اس پر ابوجہل جھٹ بولا۔ ہاں ، تمہارے باپ کی قسم ایسے دس کلمے پیش کروگے (تو بھی ہم ماننے کے لیے تیار ہیں) ۔ آپؐ نے فرمایا ’’تو پھر تم لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار کرو اور اس کے ماسوا سب معبودان باطل کا قلادہ گلے سے اتار پھینکو۔ یہ سن کر انھوں نے حیرت کے عالم میں اپنے ہاتھوں پر ہاتھ مارے اور کہنے لگے۔ ’’اے محمدؐ !کیا تم یہ چاہتے ہو کہ سب معبودوں کا ایک معبود بنادو۔ یہ تو بڑا عجیب معاملہ ہے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ الْحُسَیْنِ، قَالَ : ثَنَا احْمَدُبْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: ثَنَا اَسْبَاطٌ عَنِ السُّدِّیِّ، اَنَّ اُنَا سًا مِّنْ قُرَیْشٍ اجْتَمَعُوْا فِیْہِمْ اَبُوْ جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَالْاَسْوَدُبْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْاَسْوَدُبْنُ عَبْدِ یَغُوْثَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ مَشِیْخَۃِ قُرَیْشٍ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اِنْطَلِقُوْا بِنَااِلیٰ اَبِیْ طَالِبٍ فَلْنُکَلِّمْہُ فِیْہِ فَلْیَنْصِفْنَامِنْہُ فَیَاْمُرْہٗ فَلْیَکُفَّ عَنْ شَتْمِ اٰلِہَتِنَا وَنَدَعُہٗ وَاِلٰہَہُ الَّذِیْ یَعْبُدُ فَاِنَّا نَخَافُ اَنْ یَمُوْتَ ہٰذَا الشَّیْخُ فَیَکُوْنُ مِنَّا شَیْیٌٔ فَتُعِیْرُ نَا الْعَرَبُ فَیَقُوْلُوْنَ تَرَکُوْہُ حَتّٰی اِذَا مَاتَ عَمُّہٗ، تَنَاوَلُوْہُ۔ قَالَ: فَبَعَثُوْا رَجُلًا مِنْہُمْ یُدْعَی الْمُطَّلِبُ فَاسْتَاْذَنَ لَہُمْ عَلیٰ اَبِیْ طَالِبٍ، فَقَالَ: ہٰؤُلَآئِ مَشِیْخَۃُ قَوْمِکَ وَسَرَوَاتُہُمْ یَسْتَأْذِنُوْنَکَ عَلَیْکَ، قَالَ: اَدْخِلْہُمْ، فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ، قَالُوْا: یَااَبَاطَالِبٍ! اَنْتَ کَبِیْرُنَا وَسَیِّدُنَا فَانْصِفْنَا مِنَ ابْنِ اَخِیْکَ فَمُرْہُ فَلْیَکُفَّ عَنْ شَتْمِ اٰلِہَتِنَا وَنَدَعُہٗ وَاِلٰہَہٗ، قَالَ: فَبَعَثَ اِلَیْہِ اَبُوْطَالِبٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: یَابْنَ أَخِیْ! ہٰؤُلَآئِ مَشِیْخَۃُ قَوْمِکَ وَ سَرَوَاتُہُمْ وَقَدْ سَاَلُوْکَ النِّصْفَ اَنْ تَکُفَّ عَنْ شَتْمِ اٰلِہَتِہِمْ وَیَدَعُوْکَ وَاِلٰہَکَ۔ فَقَالَ: اَیْ عَمِّ! اَوَلَا اَدْعُوْہُمْ اِلیٰ مَا ہُوَ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہَا؟ قَالَ: وَإِلامَ تَدْعُوْہُمْ؟ قَالَ: اَدْعُوْہُمْ اِلیٰ اَنْ یَتَکَلَّمُوْا بِکَلِمَۃٍ تَدِیْنُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ وَیَمْلِکُوْنَ بِہَا الْعَجَمَ۔۔۔۔ (۵۵)
ترجمہ: حضرت سدّی سے منقول ہے کہ قریش کے کچھ لوگ جن میں ابوجہل بن ہشام ، عاص بن وائل، اسود بن مطّلب، اسود بن عبدیغوث وغیرہ تھے یہ سردارانِ قریش کے ساتھ جمع ہوئے۔ ان میں سے بعض ،بعض سے کہنے لگے کہ ہمیں ابوطالب کے پاس لے چلو تاکہ اس کے بارے میں ہم ان سے بات چیت کرلیں اور وہ ہماری اس سے نصف نصف (یعنی کچھ لے دے کے اصول ) پر مصالحت کرادیں، ابوطالب اسے حکم دیں کہ وہ ہمارے خدائوں کو سبّ و شتم کرنے سے بازآجائے ہم اسے اور اس کے الہٰ کو جسے وہ پوجتا ہے چھوڑ دیں گے۔ ہمیںڈر ہے کہ شیخ کے مرنے کے بعد ہماری جانب سے اسے کوئی گزند پہنچ گیا تو اہل عرب ہمیں عار دلائیں گے کہ جب تک شیخ زندہ رہا اس وقت تک تو اسے اس کے حال پر چھوڑے رکھا جونہی شیخ نے آنکھیں بند کیں اس کے بھتیجے پر ہاتھ ڈال دیا۔ (یہ سوچ کر) انھوں نے مطلب نامی ایک شخص کو ابوطالب کے پاس بھیجا کہ جاکر ابوطالب سے کہے کہ آپ کی قوم کے معززین و سردار آرہے ہیں وہ آپ کی خدمت میں حاضری کی اجازت کے طلب گار ہیں۔ ابوطالب نے اس سے کہا’’انھیں اندر لے آئو۔‘‘ چنانچہ جب وہ ابوطالب کے پاس آئے تو کہنے لگے۔’’اے ابوطالب آپ ہمارے بزرگ ہیں، ہمارے سردار ہیں، اپنے بھتیجے سے ہمیں انصاف دلائیں، اسے کہیں کہ وہ ہمارے خدائوں کو برا بھلا نہ کہے۔ ہم اسے اور اس کے الہٰ کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ ابوطالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلابھیجا آپ تشریف لائے تو ابو طالب نے کہا۔ بھتیجے یہ تیری اپنی قوم کے مشائخ اور سردار تشریف لائے ہیں تم سے انصاف کی استدعا کرتے ہیں یہ کہ تم ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دو یہ تمہیں اور تمہارے الہٰ کو تمہارے حال پر چھوڑتے ہیں۔‘‘ آپؐ نے یہ سن کر فرمایا۔ چچا جان کیا میں انھیں ایسی بات کی دعوت نہ دوں جو اس سے بہتر ہے۔‘‘ پوچھا کس چیز کی طرف تم دعوت دیتے ہو؟ فرمایا: میں انھیں ایک ایسے کلمہ کا اقرار کرنے کو کہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کے زیر نگین ہوگا اور سارے عجم کے یہ فرماں روا ہوں گے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: ثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ، اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ لَہُمْ: اَسْأَلُکُمْ اَنْ تُجِیْبُوْنِیْ اِلیٰ وَاحِدَۃٍتَدِیْنُ لَکُمْ بِہَا الْعَرَبُ وَتُعْطِیْکُمْ بِہَا الْخَرَاجَ الْعَجَمُ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تم سے ایک بات کے تسلیم کرنے کا سوال کرتا ہوں پھر سارا عرب تمہارا زیر نگیں ہوجائے گا اور عجم تمہیں خراج ادا کرے گا۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ وَابْنُ وَکِیْعٍ، قَالَا: ثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، قَالَ: ثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: ثَنَا عَبَّادٌعَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا مَرَضَ اَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَہْطٌ مِنْ قُرَیْشٍ۔ وَتَکَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا عَمِّ اِنّیْ اُرِیْدُ ہُمْ عَلیٰ کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ یَقُوْلُوْنَہَا۔ تَدِیْنُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ وَتُؤدِّیْ اِلَیْہِمْ بِہَا الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ، فَفَزِعُوْا لِکَلِمَتِہٖ وَلِقَوْلِہٖ۔ فَقَالَ الْقَوْمُ: کَلِمَۃً وَاحِدَۃً! نَعَمْ، وَاَبِیْکَ عَشَرًا ۔۔۔۔ (۵۶)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’چچا جان ! میں ان کے سامنے ایک کلمہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اسے یہ لوگ مان لیں تو سارا عرب ان کا مطیع اور عجم ان کا باجگزار ہوجائے گا۔‘‘ یہ لوگ اس بات سے ششدر سے رہ گئے اور بولے صرف ایک کلمہ، ہاں! تمہارے باپ کی قسم ایسے دسیوں کلمے (ہوں تو بھی ہم ماننے کو تیار ہیں)۔
(۵) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلَانَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَیْدِ المَعْنیٰ وَاحِدٌ، قَالَا: نَا اَبُوْاَحْمَدَ، نا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمَشِ ، عن یَحْیٰ، قَالَ: عَبْدٌ ہُوَبْنُ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ۔عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرِضَ اَبُوْطَالِبٍ فَجَائَ تْہُ قُرَیْشٌ وَجَائَ ہُ النَّبِیُّ ﷺ وَعِنْدَ اَبِی طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ۔ فَقَامَ اَبُوْجَہْلٍ کَیْ یَمْنَعَہٗ، قَالَ: وشَکَوْہُ اِلیٰ اَبِیْ طَالِبٍ، فَقَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ! مَا تُرِیْدُمِنْ قَوْمِکَ؟ فَقَالَ:اُرِیْدُ مِنْہُمْ کَلِمَۃً، تَدِیْنُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّیْ اِلَیْہِمُ الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ، قَالَ: کَلِمَۃً وَاحِدَۃً! قَالَ:کَلِمَۃً وَاحِدَۃً۔ فَقَالَ: یَاعَمِّ! قُوْلُوْا، لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ فَقَالُوْا: اِلٰہًاوَاحِدًا! مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْآخِرَۃِ، اِنْ ہٰذَا اِلّا اخْتِلَاقٌ۔۔۔ (۵۷)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوطالب بیمار ہوگئے ،تو قریش ان کے پاس آئے اور نبی ﷺ بھی ان کے پاس تشریف لے گئے۔ ان کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل کھڑا ہوا ،تاکہ آپ کو روکے اور انھوں نے ابوطالب سے آپ کا شکوہ کیا۔ ابوطالب نے پوچھا ۔ بھتیجے !اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپؐ نے فرمایا ’’میں ان سے فقط ایک کلمہ چاہتا ہوں۔ جس کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوگا اور اہل عجم انھیں جزیہ ادا کریں گے۔‘‘ انھوں نے پوچھا، صرف ایک کلمہ! فرمایا:’’چچا جان! یہ لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا اقرار کرلیں۔‘‘ بولے صرف ایک الہٰ؟ یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی۔ بس یہ تو ایک من گھڑت بات ہے۔
(۶) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ عُمَرَ الْاَسْلَمِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ لُوْطٍ النَّوفَلِیُّ عَنْ عَوْنِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ عَائِذُبْنُ یَحْیٰ، عَنْ اَبِی الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَخِی الزُّہْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرِ الْعُذْرِیِّ۔ دَخَلَ حَدِیْثُ بَعْضِہِمْ فِیْ حَدِیْثِ بَعْضٍ، قَالُوْا: لَمَّا رَأَتْ قُرَیْشٌ ظُہُوْرَالْاِسْلَامِ وَجُلُوسَ الْمُسْلِمِیْنَ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ، سُقِطَ فِیْ اَیْدِیْہِمْ۔ فَمَشَوْا اِلیٰ اَبِیْ طَالِبٍ حَتّٰی دَخَلُوْا عَلَیْہِ، فَقَالُوا:اَنْتَ سَیِّدُنَا وَاَفْضَلُنَا فِیْ اَنْفُسِنَا وَقَدْ رَاَیْتَ ہٰذَا الَّذِیْ فَعَلَ ہٰؤُلَآئِ السُّفَہَآئُ مَعَ ابْنِ اَخِیْکَ مِنْ تَرْکِہِمْ اٰلِہَتِنَا وَطَعْنِہِمْ عَلَیْنَا وَ تَسْفِیْہِہِمْ اَحْلَامَنَا، وَجَائُ وْابِعُمَارَۃَ ابْنِ الْوَلِیْدِ ابْنِ الْمُغِیْرَۃِ، فَقَالُوْا: قَدْجِئْنَاکَ بِفَتِیْ قُرَیشٍ جَمَالًا وَنَسَبًا وَنَہَا دَۃً وَشِعْرًا نَدْفَعُہٗ اِلَیْکَ فَیَکُوْنُ لَکَ نَصْرُہٗ وَمِیْرَاثُہٗ وَتَدْفَعْ اِلَیْنَا ابْنَ اَخِیْکَ لِنَقْتُلَہٗ، فَاِنَّ ذٰلِکَ اَجْمَعُ لِلْعَشِیْرَۃِ وَاَفْضَلُ فِیْ عَوَاقِبِ الْا ُمُوْرِمَغَبَّۃً۔ قَالَ اَبُوطَالِبٍ: وَاللّٰہِ مَا اَنْصَفْتُمُوْنِیْ، تُعْطُوْنَنِیْ اِبْنَکُمْ اَغْذُوْہُ لَکُمْ وَاُعْطِیْکُمُ ابْنَ اَخِیْ تَقْتُلُوْنَہٗ؟ مَا ہٰذَا بِالنَّصَفِ؟ تَسُوْمُوْنَنِیْ سَوْمَ الْعَرِیْرِ الذَّلِیْلِ! قَالُوْا: فَاَرْسِلْ اِلَیْہِ فَلَنُعْطِہِ النَّصَفَ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ اَبُوْطَالِبٍ، فَجَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ! ہٰؤُلَآئِ عَمُوْمَتُکَ وَاَشْرَافُ قَوْمِکَ وَقَدْ اَرَادُوْایُنْصِفُوْنَکَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قُوْلُوْا اَسْمَعُ، قَالُوْا: تَدَعُنَا وَاٰلِہَتَنَا، وَنَدَعُکَ وَاِلٰہَکَ۔ قَالَ اَبُوْ طَالِبٍ: قَدْ انْصَفَکَ الْقَوْمُ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَرَأَیْتُمْ اِنْ اَعْطَیْتُکُمْ ہٰذِہٖ ہَلْ اَنْتُمْ مُعْطِیَّ کَلِمَۃً اِنْ اَنْتُمْ تَکَلَّمْتُمْ بِہَا مَلَکْتُمْ بِہَا الْعَرَبَ وَدَانَتْ لَکُمْ بِہَا الْعَجَمُ۔ فَقَالَ اَبُوْجَہْلٍ: اِنَّ ہٰذِہِ لَکَلِمَۃٌ مُرْبَحَۃٌ، نَعَمْ! وَاَبِیْکَ لَنَقُوْلَنَّہَا وَعَشرَاَمْثَالِہَا، قَالَ: قُوْلُوْا، لآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاشْمَأَزُّوْا وَنَفَرُوْا مِنْہَا وَغَضِبُوْا وَقَامُوْا وَہُمْ یَقُوْلُوْنَ اِصْبِرُوْا عَلیٰ اٰلِہَتِکُمْ اِنَّ ہٰذَا لَشَیْیٌٔ یُّرَادُ۔۔۔ (۵۸)
ترجمہ: عبداللہ بن ثعلبہ سے مروی ہے جب قریش نے دیکھا کہ اسلام کا غلبہ روز افزوں ہے اور مسلمان خانہ کعبہ کے ارد گرد بیٹھنا شروع ہوگئے تو سخت بوکھلاگئے اور اٹھ کر ابوطالب کی طرف چل کھڑے ہوئے۔ ابوطالب کے پاس پہنچ کر کہنے لگے، آپ ہمارے سردار ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ صاحب فضیلت ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان بے وقوفوں نے آپ کے بھتیجے کے ساتھ ہو کر کیا کچھ کیا ہے۔ ہمارے معبودوںکو ترک کرنا اور ہم پر طعنہ زنی کرنا اور ہمارے عقلاء کو احمق کہنا وغیرہ۔
یہ وفد عمارہ بن ولید بن مغیرہ کو اپنے ہمراہ لے کر آیا تھا۔ بولے ہم آپ کی خدمت گاری کے لیے قریش کے ایک خوبرو ، عمدہ حسب نسب کے مالک، نہایت اچھے شاعر کو لے کر حاضر خدمت ہوئے ہیں۔ اسے ہم آپ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ آپ کی مدد کرے۔ آپ اس کی میراث کے بھی حقدار ہوں۔ آپ اس کے بدلہ میں اپنا بھتیجا ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اسے قتل کردیں۔ بلا شبہ یہ قبیلے کے لیے بھی مفید رہے گا اور مستقبل کے امور کے انجام کے لیے بھی بہترین رہے گا۔
ابو طالب نے کہا بخدا تم نے میرے ساتھ کیا خوب انصاف کیا ہے، کہ تم تو اپنا آدمی مجھے اس لیے دو کہ میں اسے کھلائوں پلائو ں اور پرورش کروں اور تمہیں اپنا بھتیجا قتل کرنے کے لیے دے دوں۔ یہ انصاف ہرگز نہیں ہے۔ تم مجھ سے ذلت آمیز سودا بازی کرنا چاہتے ہو؟
بولے، اچھا آپ اسے بلائیں ہم اس سے مساویانہ پیمانہ پر بات چیت کرنا چاہیں گے۔ ابو طالب نے آپؐ کو بلا بھیجا۔ آپؐ تشریف لائے تو ابو طالب نے کہا بھتیجے!یہ تیرے چچا اور تیری قوم کے سربرآوردہ حضرات آئے ہیں۔ تیرے ساتھ مساویانہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا: کہو!میں سنتا ہوں، انھوں نے کہا کہ تم ہمیں اور ہمارے اٰلہہ کو اپنے حال پر چھوڑ و، ہم تمہیں اور تمہارے الہٰ کو تمہارے حال پر چھوڑتے ہیں۔
ابوطالب نے کہا:’’ تیری قوم کے ان اشراف نے بڑی منصفانہ پیش کش کی ہے اسے قبول کرلو۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دیکھو! اگر میں تمہیں ایک ایسا کلمہ پیش کروں کہ اگر تم اس کا اقرار کرلو تو سارے عرب کے تم فرماں روا بن جائو گے اور عجم تمہارے زیر نگیں ہوجائے گا۔‘‘
ابوجہل بولا۔’’بہت نفع بخش اور سود مند بات ہے۔ ہم اسے ضرور مان لیں گے بلکہ ایسی دس باتیں اور بھی ہوں تو انھیں بھی تسلیم کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں۔‘‘
فرمایا ’’(توپھر) لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکا اقرار کرو۔‘‘ یہ سن کر وہ لوگ غیظ و غضب کی حالت میں اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ اپنے معبودوں کی (عبادت) پرڈٹے اور جمے رہو یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے) بھاگ کھڑے ہوئے۔
۲۶۔ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے لوگوں سے فرمایا کہ ’’ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہو جائو تو عرب و عجم کے فرماں روا ہو جائو گے۔‘‘
تشریح: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت ہی میں نہیں اس دنیا میں بھی قوموں کی قسمتوں کا اتار چڑھائو اخلاقی بنیادوں ہی پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عالم پر جو فرماں روائی کررہا ہے وہ اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے نہ کہ ان طبعی اصولوں پر جو اخلاقی خیر و شرکے امتیاز سے خالی ہوں۔ یہ بات کئی مقامات پر قرآن میں فرمائی گئی ہے کہ جب ایک قوم کے پاس نبی کے ذریعہ سے خدا کا پیغام پہنچتا ہے تو اس کی قسمت اس پیغام کے ساتھ معلق ہوجاتی ہے۔ اگر وہ اسے قبول کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر رد کر دیتی ہے تو اسے تباہ کرڈالا جاتا ہے۔ یہ گویا ایک ’’دفعہ‘‘ ہے اس اخلاقی قانون کی جس پر اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ معاملہ کررہا ہے۔ اسی طرح اس قانون کی ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ جو قوم دنیا کی خوشحالی سے فریب کھا کر ظلم و معصیت کی راہوں پر چل نکلتی ہے اس کا انجام بربادی ہے۔ لیکن عین اس وقت جب کہ وہ اپنے اس برے انجام کی طرف بگ ٹُٹ چلی جارہی ہو۔ اگر وہ اپنی غلطی کو محسوس کرلے اور نافرمانی چھوڑ کر خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے تو اس کی قسمت بدل جاتی ہے، اس کی مہلت عمل میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور مستقبل میں اس کے لیے عذاب کے بجائے انعام، ترقی اور سرفرازی کا فیصلہ لکھ دیا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲ ، ہود۔ حاشیہ: ۵۷)

کیا راستبازی اور خدا ترسی سے دنیا بگڑ جاتی ہے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً۔ (النحل آیت:۹۷)
ترجمہ: جو شخص بھی ایمان کے ساتھ نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، ہم اس کو پاکیزہ زندگی بسرکرائیںگے۔
اس سے لوگوں کی اس عام غلط فہمی کو دور کرنا مقصود ہے جو شیطان نے ہر نادان دنیا پرست آدمی کے کان میں پھونک رکھی ہے کہ، خدا ترسی اور راست بازی اور احساس ذمہ داری کا طریقہ اختیار کرنے سے آدمی کی آخرت بنتی ہو، تو بنتی ہو، مگر دنیا ضرور بگڑ جاتی ہے اور یہ کہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں فاقہ مستی و خستہ حالی کے سوا کوئی زندگی نہیں ہے۔ مگر یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ راہ راست کو اختیار کرنے سے صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا بھی بنے گی۔ آخرت کی طرح اس دنیا کی حقیقی عزت و کامیابی بھی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو سچی خدا پرستی کے ساتھ صالح زندگی بسر کریں، جن کے اخلاق پاکیزہ ہوں، جن کے معاملات درست ہوں، جن پر ہر معاملے میں بھروسہ کیا جاسکے، جن سے ہر شخص بھلائی کا متوقع ہو اور جن سے کسی انسان کو یا کسی قوم کو شرکا اندیشہ نہ ہو۔ (تفہیم القرآن: ج ۲: ہود: حاشیہ:۳)
یہ رحمت الٰہی صرف مسلمانوں کو ہی عطا نہیں ہوئی بلکہ بائیبل کی کتاب احبار (باب ۲۶) اور استثناء (باب ۲۸) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک تقریر نقل کی گئی ہے جس میں انھوں نے بنی اسرائیل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اگر تم احکام الٰہی کی ٹھیک ٹھیک پیروی کروگے تو کس کس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جائو گے، اور اگر کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کرنا فرمانیاں کروگے تو کس طرح بلائیںاور مصیبتیں اور تباہیاں ہر طرف سے تم پر ہجوم کریں گی۔
(تفہیم القرآن: ج ۱: المائدہ: حاشیہ: ۹۶)
یہ بات قرآن میں (بھی) متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ خدا سے بغاوت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیا میں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کردیتی ہے، اور اس کے برعکس اگر کوئی قوم نافرمانی کے بجائے ایمان و تقویٰ اور احکام الٰہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے تو یہ آخرت ہی میں نافع نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی اس پر نعمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے ’’اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔‘‘ (آیت :۱۲۴) ۔ سورۂ مائدہ میں فرمایا گیا ہے ’’اور اگر ان اہل کتاب نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا(آیت :۶۶)۔ سورۂ اعراف میں فرمایا ’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘(آیت:۹۶)۔ سورۂ ہود میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا ’’اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو ، وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔‘‘ (آیت:۵۲)۔ خود نبی ﷺ کے ذریعہ سے بھی اسی سورۂ ہود میں اہل مکہ کو مخاطب کرکے یہ بات فرمائی گئی ’’اور یہ کہ اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، تو وہ ایک مقرر وقت تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا (آیت:۳)۔
سورۂ نوح آیات (۹ تا ۱۲) میں بھی اسی قسم کا مضمون بیان ہوا ہے۔
(چنانچہ) ایک مرتبہ قحط کے موقع پر حضرت عمرؓ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا، امیر المومنین! آپ نے بارش کے لیے دعا تو کی ہی نہیں۔ فرمایا’’میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹادیاہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے ، اور پھر سورۂ نوح کی آیات (۹ تا ۱۲) لوگوں کو پڑھ کر سنادیں۔ (ابنِ جریر و ابن کثیر)
تخریج: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ یَسْتَسْقِیْ، فَمَا زَادَ عَلَی الْاِسْتِغْفَارِ ثُمَّ رَجَعَ۔ فَقَالُوْا: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! مَارَأَیْنَاکَ اسْتَسْقَیْتَ۔ فَقَالَ: لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِیْحِ السَّمَآئِ الَّتِیْ یَسْتَنْزِلُ بِہَاالْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ: اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَقَرَأَالایۃ التی فی سورۃ ہود حتّٰی بَلَغَ وَیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلیٰ قُوَّتِکُمْ۔ (۵۹)
ابن کثیر نے انہ صعد المنبر نقل کیا ہے، یعنی انھوں نے منبر پر چڑھ کر بارانِ رحمت کے لیے دعا مانگی اور طلبت المطرکی جگہ طلبت الغیث نقل کیا ہے۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حسن بصریؒ کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا اللہ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگ دستی کی شکایت کی۔ تیسرے نے کہا میرے ہا ں اولاد نہیں ہوتی۔ چوتھے نے کہا میری زمین کی پیداوار کم ہورہی ہے۔ ہر ایک کو یہی جواب دیتے چلے گئے کہ استغفار کرو۔ لوگوں نے کہا ،یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکایتوں کا ایک ہی علاج بتارہے ہیں؟ انھوں نے جواب میں سورہ نوح کی یہ آیات سنادیں۔ (کشّاف)
(تفہیم القرآن، ج۶، نوح حاشیہ:۱۲)
تخریج: وَعَنِ الْحَسن، اَنَّ رَجُلًا شَکَااِلَیْہِ الْجَدْبَ۔ فَقَالَ: اِسْتَغْفِرِاللّٰہَ، وَشَکَااِلَیْہِ آخَرُ الْفَقْرَ وَآخَرُ قِلَّۃَ النَّسْلِ وآخَرُقِلَّۃَ رِبْحِ اَرْضِہٖ فَاَمَرَ ہُمْ کُلَّہُمْ بِالْاِسْتِغْفَارِ۔ (۶۰)

گردش لیل و نہار اور ایمان باللہ

سوال: بخاری شریف کی حدیث ہے۔ فَاللّٰہُ ہُوَالدَّہْرُ۔ وَقَالَ اللّٰہُ: یَسُبُّ بَنُوْاٰدَمَ الدَّہْرَ، وَاَنَا الدَّہْرُ۔ مؤطا امام مالک: فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الدَّہْرُ و حدیث ترمذی: لو انکم دلیتم بحبل الی الارض السفلی لھبط علی اللّٰہ۔
ان سے ظاہر ہے کہ دہرہی بخاری صاحب وغیرہ کا معبود (الہٰ) ہے اور ان کا (الہٰ) صرف دہرہے۔ اب فرمائیے ان دہر کو اپنا معبود (الٰہ) ماننے والوں کی بابت آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ راغب اصفہانی کی سندزیر نظر رکھ کرجواب مرحمت کیا جائے۔
ہَلِ الدَّہْرُ اِلَّا لَیْلَۃٌ وَنَہَارُہَا
وَاِلَّا طُلُوْعُ الشَّمْسِ ثُمَّ غِیَابُہَا
جس کی رو سے تو نظام شمسی، کواکب، کرّۂ ارض عناصر یہی دہر نیچر زمانہ ہیں جن کی بابت کفار دہریے کہا کرتے تھے۔
وَقَالُوا مَاہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَا اِلَّا الدَّہْرُوَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ (سورۃ الجاثیہ:۲۴)
جواب: آپ کے ارشاد ات کا ماحصل یہ ہے کہ:
۱- امام مالکؒ اور امام بخاریؒ وغیرہ حضرات جنھوں نے اس مضمون کی احادیث کو روایت کیا ہے، دراصل ان روایات کے واضع ہیں اور یہ حدیثیں انھوں نے خود گھڑکر نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کردی ہیں۔
۲- ان روایات میں جس دہر کو بُرا کہنے سے روکا گیا ہے اس سے مراد زمانہ ہے یا نیچر ہے جس میں نظامِ شمسی کواکب، کرّۂ ارض اور عناصر سب آجاتے ہیں۔ پس ان احادیث کے وضع کرنے والے اور اس کو ماننے والے دراصل دہریے اور نیچری تھے۔
۳- یہ حدیث دہریوں کے اس اعتقاد کی تائید کرتی ہے جس کی تردید قرآن مجید نے کی ہے۔
ان تینوں بدگمانیوں کی حقیقت ترتیب وار ملاحظہ ہو:
۱- اس مضمون کی کم و بیش پندرہ سولہ روایتیں مختلف طریقوں سے امام مالک، امام احمد بن حنبل ، امام بخاری، امام مسلم اور امام ابوجعفر ابن جریر طبری نے نقل کی ہیں۔ ان تمام احادیث کو آں حضرت ﷺ سے روایت کرنے والے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور اس بات پر جمہور اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ صحابہ سب کے سب عدول ہیں۔ ان میں سے کسی پر یہ شبہ نہیں کیا جاسکتاکہ اس نے آں حضرت ﷺ پر افتریٰ باندھا ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جن لوگوں نے ان روایات کو لیا ہے ان میں محمد بن سیرین، سعید بن المسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور اعرج جیسے لوگ ہیں۔ اس کے بعد ہر مرتبہ روایت میں راوی بڑھتے جاتے ہیں اور کئی طریقوں سے یہ روایتیں ائمۂ مذکورین تک پہنچتی ہیں جن میں سے اکثر کے صحیح ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اور یہ قاعدہ ہے کہ اگر کسی ضعیف روایت کی تائید میں کوئی قوی روایت موجود ہوتو وہ ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔
ایک طرف اتنی شہادتیں ہیں اور دوسری طرف آپ کا یہ مختصر سا فیصلہ کہ تمام روایتیں جعلی ہیں۔ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ جو مضمون ان روایات میں بیان ہوا ہے وہ آپ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ روایات اور شہادتوں کو جانچنے کا یہ بالکل نیا طریقہ ایجاد ہوا ہے کہ جو روایت آپ کی سمجھ میں نہ آئے یا جس کا مضمون آپ کی رائے کے خلاف ہو، اس کو بلا تکلف غلط اور اس کے راوی کو بے تامل جھوٹا کہہ دیجیے۔ کیونکہ صداقت کے لیے لازم ہے کہ وہ آپ کی رائے اور سمجھ کے عین مطابق ہو۔ معلوم نہیں کہ یہ حق آپ نے صرف اپنے لیے محفوظ رکھا ہے یا ہر سامع کو فرداً فرداً یہی حق عطا فرماتے ہیں۔ اگر پہلی صورت ہے تو آپ اس کے مستحق ہیں کہ تمام دنیا کے واحد قاضی قرار پائیں۔ کیوں کہ اور کوئی شخص اس کا اہل نہیں ہوگا کہ کسی گواہ کی جرح یا تعدیل کرسکے۔اور اگر دوسری صورت ہے تو شہادتوں اور روایتوں کو جانچنے اور ان کو صحیح یا غلط قرار دینے کے لیے دنیا میں کوئی متفق علیہ معیار نہ ہوگا، بلکہ ہر شخص جس کو چاہے گا سچا اور جس کو چاہے گا جھوٹا کہہ دے گا ، اور اس کی زد سے خود آپ بھی نہ بچ سکیں گے۔
آپ نے اپنے اس قاعدے کے مطابق جن لوگوں کو کذّاب اور واضع حدیث، اور رسول اللہ ﷺ پر بہتان گھڑنے والے اور دہری و نیچری قرار دیا ہے ، وہ امت مسلمہ کے سب سے زیادہ نامور اور ممتاز بزرگوں میں سے ہیں۔ اپنے تقویٰ ، دینداری، صداقت، خدمت دین اور علمی تحقیق و کاوش کے لحاظ سے ان کا درجہ اتنا بلند ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد مسلمانوں کی پوری تاریخ میں شاید ان سے زیادہ بلند پایہ شخصیتیں آپ کو نہ مل سکیں گی۔ یہ مسلمانوں کے وہ ہیرو ہیں جن پر وہ تمام دنیا کی قوموں کے مقابلے میں فخر کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف زبان کھولنے اور بدترین قسم کے کذب و افتراء کا الزام لگانے اور اس سے بھی بڑھ کر کفر اور دہریت کا فتویٰ صادر کرنے سے پہلے آپ کو کافی غور و خوض اور بحث و تحقیق سے کام لینا چاہیے تھا ، اور ذرا اس پہلو پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے تھی کہ کہیں آپ خود تو غلطی پر نہیں ہیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو غلطی سے بالکل مبّرا نہیں سمجھتے تو امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبل جیسے لوگوں پر اتنے بڑے الزامات عائد کرتے ہوئے آپ کو خدا سے ڈرنا چاہیے تھا کہ اگر آپ خود غلطی پر ہوئے تو خدا کے ہاں اس گناہ کی کیسی سخت باز پرس ہوگی۔ کیا ایک ــــ ’’داعی الی اللہ‘‘ ــــ کے دل میں اللہ کا اتنا بھی خوف نہ ہونا چاہیے؟
۲- آپ نے حدیثوں کے آدھے آدھے ٹکڑے نقل کرکے ان کو بالکل غلط معنی پہنائے ہیں۔ ذیل میں ان تمام حدیثوں کو نقل کیا جاتا ہے جو اس سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں۔ ان کو ترجمے کے ساتھ پڑھ کر بتائیے کہ ان میں سے دہریت کی تائید نکلتی ہے یا صریح اور شدید تردید۔
بخاری کتاب التفسیر ، تفسیر سورہ جاثیہ، اور کتاب التوحید میں ہے:
۲۷۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یُؤذِیْنِی ابْنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّہْرَ وَاَنَا الدَّہْرُ بِیَدِی الْاَمْرُ، اُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اللہ عزّوجل کا ارشاد ہے کہ ابنِ آدم مجھ کو اذیت پہنچاتا ہے کہ زمانے کو برا کہتا ہے۔ زمانہ تو میں ہوں۔ تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں۔ میں ہی لیل و نہار کو گردش دیتا ہوں۔‘‘
طبری نے یہی حدیث دو طریقوں سے نقل کی ہے۔ مسلم اور احمد بن حنبل نے بھی اس کو لیا ہے۔ ’’یوذینی‘‘ کی تشریح میں قرطبی نے کہا ہے کہ :
انما ہذا من التوسع فی الکلام۔ والمراد ان من وقع ذٰلک منہ تعرض لسخط اللّٰہ، واللّٰہ منزّہ عن ان یصل الیہ الاذیٰ۔
تخریج: حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیانُ، قَال: حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیْدِبْنِ الْمُسَیّب، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، یُؤْذِیْنِی ابْنُ اٰدَمَ یَسُبُّ الدَّہْرَوَاَنَا الدَّہْرُ بِیَدِی الْاَمْرُ، اُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔(۶۱)
بخاری کتاب الادب باب لاتسبُّوالدہر میں ایک دوسری سند سے یہ روایت آئی ہے:
۲۸۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قَالَ اللّٰہُ، یَسُبُّ بَنُوْآدَمَ الدَّہْرَوَاَنَا الدَّہْرُ بِیَدِی اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بنی آدم زمانے کو بُرا بھلا کہتے ہیں، حالانکہ زمانہ میں ہوں ۔ لیل و نہار میرے قبضۂ قدرت میں ہیں۔‘‘
طبری نے ایک دوسرے طریقے سے یہی حدیث نقل کی ہے۔ مسلم نے بھی تھوڑے سے لفظی تغیر کے ساتھ اس کو نکالا ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوسَلَمَۃَ قَالَ: قَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَالَ اللّٰہُ یَسُبُّ بَنُوْآدَمَ الدَّہْرَوَاَنَاالدَّہْرُ بِیَدِی اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ۔ (۶۲)
مسند امام حنبل اور تفسیر ابن جریر طبری میں مختلف طریقوں اور تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ حدیث آئی ہے:
۲۹۔ لَایَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِ فَاِنِّیْ اَنَا الدَّہْرُ اُقَلِّبُ لَیْلَہٗ وَنَہَارَہٗ وَاِذَا شِئْتُ قَبَضْتُہَا۔
’’تم میں سے کوئی ہائے زمانہ نہ کہے کیونکہ زمانہ تو میں خود ہوں۔ اس کے لیل و نہار کو میں ہی گردش دیتا ہوں اور جب چاہوں گا اس کو روک دوں گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ ثنا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا یَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِ، اِنِّیْ اَنَا الدَّہْرُ اُرْسِلُ اللَّیْلَ والنَّہَارَ فَاِذَا شِئْتُ قَبَضْتُہُمَا۔ (۶۳)
حَدَّثََنَا ابْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ، اِنَّ اللّٰہ قَالَ: لَایَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِ، فَاِنِّیْ اَنَا الدَّہْرُ اُقَلِّبُ لَیْلَہٗ وَنَہَارَہٗ وَاِذَا شِئْتُ قَبَضْتُہُمَا۔ (۶۴)
امام احمد بن حنبل نے ایک دوسرے طریقے سے یہ حدیث نقل کی ہے:
۳۰۔ لَا تَسُبُّوا الدَّہْرَ۔فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: اَنَا الدَّہْرُ الْاَیَّامُ وَاللَّیَالِیُّ اُجَدِّ دُہَا وَاُبْلِیْہَا وَاٰتِیْ بِمُلُوکٍ بَعْدَ مُلُوکٍ۔
ترجمہ: زمانے کو گالیاں نہ دو کیوں کہ اللہ فرماتا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں ۔ رات اور دن میرے ہی قبضۂ قدرت میں ہیں ان کو میں ہی نیا اور پرانا کرتا ہوں اور بادشاہوں کے بعد بادشاہوں کو لاتا ہوں۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، ثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ ذَکَوَانَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَا تَسُبُّوا الدَّہْرَفَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ اَنَا الدَّہْرُ اَلْاَیَّامُ وَاللَّیَالِیُّ اُجَدِّدُہَا واُبْلِیْہَا وَاٰتِیْ بِمَلُوْکٍ بَعْدَ مُلُوْکٍ۔(۶۵)
مسلم اور طبری میں ہے:
۳۱۔ لَاتَسُبُّوا الدَّہْرَ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَالدَّہْرُ۔
ترجمہ: زمانے کو برا نہ کہا کرو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ، قَالَ: ثَنَابْنُ عُلَیَّۃَ عَن ہِشَامٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَال: لَا تَسُبُّوا الدَّہْرَ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَالدَّہْرُ۔ (۶۶)
مؤطا امام مالک باب مایکرہ من الکلام میں ہے:
۳۲۔ لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِفَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَالدَّہْرُ۔
ترجمہ: تم میں سے کوئی ہائے زمانہ، نہ کہے کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
اب فرمایے کہ دہریت اور نیچریت ان احادیث سے کہاں نکلتی ہے؟ ان کا مفہوم تو یہ ہے کہ تم پر جو مصائب و نوائب آتے ہیں ان کو تم اپنی جہالت سے زمانے کی طرف منسوب کرتے ہو اور کہا کرتے ہو کہ زمانے نے ہم کو مٹادیا۔گردش لیل و نہار نے ہم کو پیس ڈالا۔ حالانکہ تمام افعال کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ لیل و نہار جن کی گردش کا نام زمانہ ہے اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ لہٰذا تم جو زمانے کو گالیاں دیتے ہو تو دراصل وہ گالیاں خدا کی طرف راجع ہوتی ہیں۔ کیوںکہ وہ زمانہ جس کو تم مصیبت اور راحت لانے والا سمجھتے ہو، وہ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور وہ زمانہ جو گردشِ لیل و نہار سے عبارت ہے، حقیقت میں کسی فعل پر بھی قادر نہیں۔ کیا یہی بات ہے جس کو آپ دہریت اور نیچریت سے تعبیر فرمارہے ہیں؟ کیا اسی سرمایہ فہم و تدبر کے ساتھ جناب کو یہ جرأت ہوئی کہ اسلام کے جلیل القدر ائمہ پر حملہ آور ہوں۔
ذرا غور کیجیے تو معلوم ہوجائے گا کہ ان احادیث میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ نبی ﷺ کی زبان مبارک سے ضرور اداہوا ہوگا اور مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے ہوا ہوگا۔ کیونکہ مصیبت کے وقت زمانے کو کوسنا اور برا بھلا کہنا اب بھی عوام کی عادت ہے اور عہد رسالت میں اہل عرب کی بھی یہی عادت تھی۔ چنانچہ خود قرآن مجید شہادت دیتا ہے کہ عرب کے جہلا زمانے کو ہلاک اور فنا کرنے والا سمجھتے تھے۔ پس تکلیفوں کے وقت عام دستور کے مطابق مسلمانوں کی زبان سے بھی زمانے کی شکایت ضرور نکل جاتی ہوگی، اور آں حضرت ﷺ ان کو اس سے ضرور منع فرماتے ہوں گے۔ اس میں کون سی ایسی انوکھی بات ہے جو بالکل خلافِ عقل اور بعید از امکان ہو اور اس کی بنا پر ان روایات کو غلط اور ان کے راویوں کو جھوٹا قرار دینا ضروری ہوجائے؟
۳- قرآن مجید کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے وہ ان احادیث کے خلاف نہیں بلکہ ان کی مؤید ہے۔ اس آیت میں کفارِ عرب کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ’’ہماری جو کچھ بھی زندگی ہے اسی دنیا کی زندگی ہے۔ ہم مرتے اور جیتے ہیں اور زمانے کے سوا ہم کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ اس قول کو نقل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۔
’’ان کو اس کا علم نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان کا گمان ہے۔‘‘
قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمۃِ۔
’’یعنی اے محمدؐ! ان سے کہہ دو کہ تمہارا مارنے اور جلانے والا جس کو تم جہالت سے دہر کہہ رہے ہو وہ اللہ ہی ہے ۔ پھر وہی تم کو قیامت کے روز جمع کرے گا۔‘‘ اوپر احادیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے کیا وہ یہی مضمون نہیں ہے؟ ‘‘
(رسائل و مسائل )
تخریج: حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ ، عَنْ اَبِی الذِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ یَا خَیْبَۃَ الدَّہْرِ! فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَالدَّہْرُ۔ (۶۷)

کیا اسلامی معتقدات کے اقرار کرنے والے کو ملّت سے خارج کیا جاسکتا ہے؟

۳۳۔ امام شافعی اور احمد نے اپنی مسندوں میں اور امام مالک نے مؤطا میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انصار میں سے ایک صاحب ایک مرتبہ نبی ﷺ سے راز کی بات کررہے تھے۔ اتنے میں حضوؐر نے بآواز بلند فرمایا: اَلَیْسَ یَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (کیا وہ شخص لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی شہادت نہیں دیتا؟) انصاری نے عرض کیا بَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا شَہَادَۃَ لَہٗ (جی ہاں، وہ اقرار تو کرتا ہے مگر اس کے اقرار کا کچھ اعتبار نہیں)حضوؐر نے پھر فرمایا اَلَیْسَ یُصَلِّیْ؟ (کیا وہ نماز نہیں پڑھتا) انھوں نے عرض کیا بَلیٰ وَلَا صَلوٰۃَ لَہٗ (جی ہاں پڑھتا ہے مگر اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں) اس پر حضوؐر نے فرمایا اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَہَانِی اللّٰہُ عَنْ قَتْلِہِمْ (ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منع فرمایا ہے)۔
(تفہیمات حصہ دوم : فتنۂ تکفیر)
تخریج(۱): مَالِکٌعَنِ ابْنِ شِہَابِ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ اللَّیْثِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ اَنَّہٗ قَالَ:بَیْنَمَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ بَیْنَ ظَہْرَانِی النَّاسِ اِذْجَآئَ ہٗ رَجُلٌ فَسَارَّہٗ فَلَمْ نَدْرِ مَاسَارَّہٗ بِہٖ حَتّٰی جَہَرَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاِذَا ہُوَ یَسْتَاْذِنُہٗ فِیْ قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ جَہَرَ، اَلَیْسَ یَشْہَدُ اَنْ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ الرَّجُلُ: بَلیٰ! وَلَاشَہَادَۃَ لَہٗ، قَالَ: اَلَیْسَ یُصَلِّیْ؟ قَالَ بلیٰ! وَلَا صَلوٰۃَ لَہٗ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَہَانِی اللّٰہُ عَنْہُمْ۔ (۶۸)
(۲) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، انا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ، عَنْ عَطَائِ ابْنِ یَزِیْدَ اللَّیْثِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ، اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ حَدَّثَہٗ۔ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ فِیْ مَجْلِسٍ فَسَارَّہٗ یَسْتَاْذِنُہٗ فِی قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ۔ فَجَہَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: اَلَیْسَ یَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ؟ قَالَ الْاَنْصَارِیُّ ، بَلیٰ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، وَلَاشَہَادَۃَ لَہٗ قَالَ: اَلَیْسَ یُصَلِّی؟ قَالَ: بَلیٰ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! وَلَا صَلَاۃَ لَہٗ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَہَانِی اللّٰہُ عَنْہُمْ۔ (۶۹)

کسی مسلمان کو کافر قرار دینا کیسا ہے؟

۳۴۔ اَیُّمَارَجُلٍ قَالَ لِاَخِیْہِ یَا کَافِرُ فَقَدَ بَآئَ بِہَا اَحَدُہُمَا (بخاری)
ترجمہ: جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہے گا تو یہ قول دونوں میں سے کسی ایک پر ضرور پڑے گا۔
(تفہیمات حصہ دوم :فتنۂ تکفیر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَیُّمَارَجُلٍ قَالَ لِاَخِیْہِ کَافِرٌ فَقَدْ بَائَ بِہَا اَحَدُ ہُمَا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
اِذَا قَالَ الرَّجُلُ یَاکَافِرُ بَائَ اَحَدُہُمَا۔ (۷۰)
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیُّمَارَجُلٍ مُسْلِمٍ اَکْفَرَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَاِنْ کَانَ کَافِرًا وَاِلَّا کَانَ ہُوَالْکَافِرُ۔ (۷۱)
ترجمہ: جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہے گا اگر وہ کافر ہے تب تو ٹھیک ورنہ وہ خود کافر ہوگا۔

تکفیر و تفسیقِ مسلم

۳۵۔ لَا یَرْمِیْ رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوْقِ وَلَا یَرْمِیْہِ بِالْکُفْرِ الَّا ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ اِنْ لَّمْ یَکُنْ صَاحِبُہٗ کَذٰلِکَ۔ (بخاری)
ترجمہ: (حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا کہ) ’’جب کبھی ایک شخص دوسرے شخص پر فسق یا کفر کی تہمت لگائے گا تو وہ تہمت اسی پر پلٹ آئے گی اگر وہ شخص جس پر تہمت لگائی گئی ہے درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو۔
(تفہیمات حصہ دوم ص :۱۸۱-۱۸۲ طبع نہم)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ عَنِ الْحُسَیْنِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ یَعْمُرَ اَنَّ اَبَا الْاَسْوَدِ الدُّؤَلِیَّ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ : یَقُوْلُ: لَایَرْمِیْ رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوْقِ وَلَا یَرْ مِیْہِ بِالْکُفْرِ اِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ اِنْ لَمْ یَکُنْ صَاحِبُہٗ کَذٰلِکَ۔ (۷۲)
۳۶۔ مَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْکُفْرِ اَوْقَالَ عَدُوَّاللّٰہِ وَلَیْسَ کَذٰلِکَ اِلَّا حَارَّعَلَیْہِ۔ (مسلم)
ترجمہ: جس شخص نے کسی کو کافر یا دشمن خدا کہہ دیا درآں حالیکہ وہ شخص ایسا نہ تھا تو یہ قول خود قائل پر ضرور پلٹ جائے گا۔
(تفہیمات حصہ دوم : فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: نَا اَبِیْ، قَالَ: نَا حَسَنُ الْمُسْلِمُ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَاَنَّ اَبَاالْاَسْوَدِ حَدَّثَہٗ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّاَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:’’لَیْسَ مِنْ رَجُلٍ اِدَّعیٰ لِغَیْرِ اَبِیْہِ وَہُوَ یَعْلَمُہٗ اِلَّا کَفَرَ۔ وَمَنِ ادَّعیٰ مَالَیْسَ لَہٗ فَلَیْسَ مِنَّا وَلَیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔ وَمَنْ دَعَارَجُلًا بِالْکُفْرِ اَوْقَالَ عَدُوَّاللّٰہِ وَلَیْسَ کَذٰلِکَ اِلَّا حَارَّ عَلَیْہِ۔ (۷۳)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ (غفاری) سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ’’جو شخص جانتے بوجھتے اپنا نسب اپنے (حقیقی) باپ کو چھوڑ کر دوسرے شخص کی طرف منسوب کرتا ہے وہ کافر ہوا۔ اور جو شخص ایسی چیز کا بے بنیاد دعویٰ کرتا ہے جو اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے اور جس شخص نے کسی کو کافر یا دشمن خدا کہا درآںحالیکہ وہ شخص ایسا نہ تھا تو یہ قول خود قائل پر ضرور پلٹ آئے گا۔‘‘
۳۷۔ جو شخص کسی مسلمان کو ناحق کافر کہے گا، اس کا قول خود اسی پر پلٹ آئے گا۔
تشریح: اللہ نے جو شریعت نبی ﷺ کے ذریعے سے ہم کو بھیجی ہے اس کو خدا کی شریعت ماننے والے اور اسے واجب التعمیل سمجھنے والے سب کے سب مسلمان ہیں۔ اب اگر اس شریعت کے احکام کو ایک شخص کسی طرح سمجھتا ہے اور دوسرا کسی اور طرح، اور دونوں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس پر عمل کرتے ہیں، تو چاہے ان کے عمل میں کتنا ہی فرق ہو، ان میں سے کوئی بھی نوکری سے خارج نہ ہوگا اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک جس طریقہ پر چل رہا ہے یہی سمجھ کر تو چل رہا ہے کہ یہ آقا کا حکم ہے۔ پھر ایک نوکر کو یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ میں تو نوکر ہوں اور فلاں شخص نوکر نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ بس وہ یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آقا کے حکم کا صحیح مطلب سمجھا اور اس نے صحیح نہیں سمجھا۔ مگر وہ اس کو نوکری سے خارج کردینے کا مجاز کیسے ہوگیا؟ جو شخص ایسی جرأت کرتا ہے وہ گویا خود آقا کا منصب اختیار کرتا ہے۔ وہ گویا یہ کہتا ہے کہ تو جس طرح آقا کے حکم کو ماننے پر مجبور ہے اسی طرح میری سمجھ کو بھی ماننے پر مجبور ہے۔ اگر تو میری سمجھ کو نہ مانے گا تو میں اپنے اختیار سے تجھ کو آقا کی نوکری سے خارج کردوں گا۔ غور کرو یہ کتنی بڑی بات ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’جو شخص کسی مسلمان کو ناحق کافر کہے گا اس کا قول خود اسی پر پلٹ جائے گا۔‘‘ کیونکہ مسلمان کو تو خدا نے اپنے حکم کا غلام بنایا ہے، مگر یہ شخص کہتا ہے کہ نہیں ، تم میری سمجھ اور میری رائے کی بھی غلامی کرو۔ یعنی صرف خدا ہی تمہارا خدا نہیں ہے، بلکہ میں بھی چھوٹا خدا ہوں، اور میرا حکم نہ مانو گے تو میں اپنے اختیار سے تم کو خدا کی بندگی سے خارج کردوں گا، چاہے خدا خارج کرے یا نہ کرے۔ ایسی بڑی بات جو شخص کہتا ہے اس کے کہنے سے چاہے دوسرا مسلمان کافر ہو یا نہ ہو مگر وہ خود تو اپنے آپ کو کفر کے خطرے میں ڈال ہی دیتا ہے۔ (خطبات ص ۱۲۴-۱۲۵)
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُو بَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: مُحَمَّدُبْنُ بَشِیْرٍوَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ، قَالَا: ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ، عَنْ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیُّ ﷺ قَالَ: اِذَا اَکْفَرَ الرَّجُلُ اَخَاہُ فَقَدْ بَائَ بِہَا اَحَدُ ہُمَا۔ (۷۴)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر ایک شخص اپنے بھائی کو کافر کہے گا تو دونوں میں سے ایک پر یہ قول ضرور پلٹ آئے گا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ التَّمِیْمِیُّ وَیَحْیٰ بْنُ اَیُّوْبَ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِیْعًا عَنْ اِسْمَاعِیْلَ ابْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ: اَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیُّمَاامْرِی ئٍ قَالَ لِاَخِیْہِ کَافِرٌ، فَقَدْ بَائَ بِہَا اَحَدُہُمَا اِنْ کَانَ کَمَا قَالَ وَاِلَّا رَجَعَتْ عَلَیْہِ۔ (۷۵)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس شخص نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک ضرور کافر ہوجائے گا اگر وہ کافر ہے تو ٹھیک ورنہ وہ قول لازماً پلٹ آئے گا۔‘‘
۳۸۔ مَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَہُوَ کَقَتْلِہٖ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہٖ۔ (بخاری)
ترجمہ: جس نے کسی مومن پر لعنت کی اس نے گویا اسے قتل کردیا اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی اس نے گویا اسے قتل کردیا۔
تشریح: یہ کتنی بڑی زیادتی کی بات ہے کہ جو مسلمان خدا اور رسول کے بتائے ہوئے ایمانیات پر اعتقاد کا اقرار کرتا ہو اور مذکورہ بالا تصریحات کے مطابق اسلام کی سرحدوں کے اندر ہو، اسے کوئی شخص خارج از ملت قرار دے بیٹھے یہ جسارت بندوں کے مقابلے میں نہیں ، خدا کے مقابلہ میں ہے۔ درحقیقت یہ خدا ہی سے معارضہ ہے، کہ جس کے حق میں خدا کا قانون مسلمان ہونے کا فیصلہ کررہا ہے، اس کے حق میں ایک بندۂ خدا کفر کا فیصلہ صادر کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے نہایت سختی کے ساتھ تکفیر و تفسیق سے منع فرمایا ہے، اور یہاں تک فرمادیا ہے کہ جو شخص کسی کو کافر کہے گا درآںحالیکہ وہ حقیقت میں کافر نہ ہو تو وہ کفر کا فتویٰ خود تکفیر کرنے والے کی طرف پلٹ آئے گا۔
(ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ) اس طرح کی تکفیر و تفسیق محض ایک فردہی کے حق پر دست درازی نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی جرم بھی ہے۔ یہ پوری اسلامی سوسائٹی کے خلاف ایک زیادتی ہے اور اس سے مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی وجہ تھوڑے غور سے بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔
اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی معاشروں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے رنگ، نسل، زبان اور وطن کے رشتوں پر قائم ہوئے ہیں، اور اس کے برعکس اسلامی معاشرے کا قیام صرف دین کے رشتے پر ہوا ہے۔ غیراسلامی معاشروں میں عقائد و افکار کے اختلاف سے کوئی رخنہ نہیں پڑتا، اس لیے کہ خیالات اور اعتقادات کا اختلاف ان کے افراد کو اس رشتے سے خارج نہیں کرتا جو نسل یا وطن یا زبان یا رنگ کی وحدت سے قائم ہوتا ہے۔ باطن میں خواہ زمین و آسمان کا تفاوت ہوجائے، لیکن خون کا تعلق منقطع نہیں ہوسکتا، نہ وطن کا رشتہ کٹ سکتا ہے، نہ زبان کا رابطہ منفک ہوسکتا ہے، نہ رنگ کی وحدت میں کوئی فرق آسکتا ہے۔ اس لیے اختلاف عقائد سے غیر مسلم معاشروں کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ لیکن اسلام میں جو چیز مختلف نسلوں ، مختلف رنگوں ، مختلف زبانوں اور مختلف ملکوں کے افراد کو جوڑ کر ایک قوم بناتی ہے وہ عقیدے کی وحدت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہاں عقیدہ ہی سب کچھ ہے۔ نسل ، رنگ، زبان، وطن کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا جو شخص دین اور اعتقاد کے رشتے کو کاٹتا ہے وہ دراصل اللہ کی اس رسی پر قینچی چلاتا ہے جس نے ایک خدا کی پرستش کرنے والوں اور ایک رسول کے ماننے والوں اور ایک کتاب پر ایمان لانے والوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کیا ہے۔ اسلام میں کسی شخص یا گروہ کو کافر کہہ دینے کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ اس کے اعتقاد اور نیت پر حملہ کیا گیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی معاشرے اور اس کے ایک فرد یا چند افراد کے درمیان برادری، محبت، معاشرت، معاملت اور تعاون باہمی کے جتنے رشتے تھے سب کاٹ دیے گئے اور امت مسلمہ کے جسم سے اس کے ایک عضو یا متعدد اعضاء کو چھانٹ کر پھینک دیا گیا۔
یہ فعل اگر حکم خدا اور رسول کے مطابق ہو تو یقینا حق ہے۔ اس صورت میں سڑے ہوئے عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ہی اسلام کے ساتھ سچی خیر خواہی ہے۔ لیکن اگر قانون الٰہی کی رو سے عضو سڑا ہوا نہ ہو، اور محض ظلماً اس کو کاٹ ڈالا جائے تو یہ ظلم خود اس عضو سے بڑھ کر خود اس جسم پر ہوگا جس سے وہ کاٹا گیا ہے۔ (تفہیمات حصہ دوم : فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃ اَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ، حَدَّثَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلیٰ مِلَّۃِ غَیْرِ الْاِسْلَامِ فَہُوَ کَمَا قَالَ وَلَیْسَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ نَذْرٌ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہٗ بِشَیْ ئٍ فِی الدُّنْیَا عُذِّبَ بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَہُوَکَقَتْلِہٖ، ومَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہٖ۔ (۷۶)
ترجمہ: حضرت ابوقلابہ سے مروی ہے کہ ثابت بن قیس نے (جو بیعت رضوان میں شریک تھے) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور ملّت کی قسم کھائی تو وہ اپنی قسم کے مطابق ہوگا، اور کسی ابن آدم پر ایسی بات کی نذر پوری کرنا ضروری نہیںجو اس کے اختیار میں نہ ہو، اور دنیا میں جس چیز کے ساتھ کسی نے خود کشی کی ہوگی، قیامت کے روز اسے اسی سے عذاب دیا جائے گا۔ اور جس نے کسی مومن پر لعنت بھیجی اس نے گویا اسے قتل کردیا اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی اس نے گویا اسے قتل کردیا۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ مَنِیْعٍ، نا اِسْحَاقُ ابْنُ یُوسُفَ الْاَزْرَقُ، عَنْ ہِشَامِ الدَّسْتَوَائِیُّ، عَنْ یَحْیٰ ابْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ اَبِی قِلَابَۃَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: لَیْسَ عَلَی الْعَبدِ نَذْرٌ فِیْمَا لا یَمْلِکُ ولَا عِنُ المُؤْمِنِ کَقَاتِلِہٖ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًابِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَاتِلِہٖ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہٗ بِشَیْئٍ عَذَّبَہُ اللّٰہُ بِمَا قَتَلَ بِہٖ نَفْسَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ (۷۷)
وفی الباب عن ابی ذر وابن عمر ہذا حدیث حسن صحیح۔
ترجمہ: نبی اکرمؐ نے فرمایا ،کسی بندے پر اس نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے جو اس کے دائرۂ اختیار میں نہ ہو اور مومن پر لعنت کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس کا قاتل ہو، اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی وہ گویا اس کا قاتل ہے۔ اور جس نے اپنے آپ کو قتل کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے اسی آلے سے عذاب دے گا جس سے اس نے خودکشی کی ہوگی۔
۳۹۔ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔
تشریح: (ان مختلف احادیث میں) اس لیے ارشادفرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت اور جمعیت کا قیام رابطۂ دینی کے سوا کسی دوسری چیز سے نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں میں اس رابطے کا احترام نہ ہو اور وہ بات بات پر اس کو کاٹنے لگیں تو امت کا سارا شیرازہ بکھر کر رہ جائے، اور اس قوم کی کوئی اجتماعی قوت باقی ہی نہ رہے جو باطل پرستوں کے مقابلے میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور خیر و تقویٰ کی طرف دعوت دینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ ہمارا یہ منشا نہیں کہ تکفیر و تفسیق سے مطلقاً پرہیز کیا جائے حتّٰی کہ اگر کوئی شخص شریح کفریات بکنے اور لکھنے لگے تب بھی اس کو مسلمان کہا اور سمجھا جاتا رہے۔ یہ منشا نہ کتاب و سنت کی مندرجہ بالا نصوص کا ہے نہ ہماری پچھلی گزارشات کا۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا جس قدر نقصاندہ ہے، کسی کافر کو اسلامی جمعیت میں شامل کرنا یا رکھنا اس سے کچھ کم نقصان دہ نہیں ہے۔ لیکن جس بات پر ہم زور دینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کے معاملے میں انتہادرجہ کی احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے۔ اتنی ہی احتیاط جتنی ایک شخص کے قتل کا فتویٰ صادر کرنے میں ملحوظ رکھی جاتی ہے، ہر شخص جو مسلمان ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا قائل ہے اس کے حق میں یہی گمان ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں ایمان ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی بات کرتا ہے جس میں کفر کا شائبہ پایا جاتا ہو تو اس کے حق میں یہ امید رکھنی چاہیے کہ اس نے کفر کے ارادے سے ایسی بات نہ کی ہوگی بلکہ محض جہل اور ناسمجھی سے کی ہوگی اس لیے اس کی بات سنتے ہی کفر کا فتوی نہ جڑدینا چاہیے بلکہ عمدہ طریقے سے اس کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی نہ مانے اور اپنی بات پر اصرار کرے تو اس بات کو جس پر وہ اصرار کررہا ہے کتاب اللہ پر پیش کرکے دیکھا جائے کہ آیا وہ کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والی صریح نصوص کے خلاف ہے یا نہیں؟ اور اس شخص کے زیر بحث قول یا فعل میں کسی تاویل کی گنجائش ہے یا نہیں۔ اگر صریح نص کے خلاف نہ ہو اور تاویل کی گنجائش ہو تو کفر کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ زیادہ سے زیادہ ایسے شخص کو گمراہ کہا جاسکتا ہے، اور وہ بھی اس خاص مسئلہ میں نہ کہ بالکلیہ۔ البتہ اگر اس کا اعتقاد نص صریح کے خلاف ہو، اور وہ شخص یہ معلوم کرنے کے بعد بھی کہ اس کا اعتقاد کتاب اللہ کی تعلیم کے خلاف ہے اپنی بات پر قائم رہے اور اس کے قول کی کوئی مناسب تاویل بھی نہ کی جاسکتی ہو، تو ایسی صورت میں مسئلہ کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے فسق یا کفر کا حکم لگایا جاسکتا ہے لیکن اس پر بھی مدارج و مراتب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ تمام جرم اور تمام مجرم یکساں نہیں ہیں۔ ان میں بھی فرق مراتب ہوتا ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سزا تجویز کی جائے سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا یقینا بے انصافی ہے۔ (تفہیمات حصہ دوم :فتنۂ تکفیر)
کفر و اسلام کا ایک پہلوباطنی ہے اور ایک ظاہری۔ باطن کا تعلق انسان کے دل اور نیت سے ہے، اور ظاہر کا تعلق اس کی زبان اور عمل سے ۔ ہم ایک حد تک آدمی کے قول و فعل سے بھی اس کی قلبی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ مگر یہ محض قیاس و گمان ہوگا، علم و یقین نہ ہوگا۔ اور علم و یقین کے بغیر صرف قیاس و گمان کی بنا پر کسی کے ایمان یا کفر کا فیصلہ کرڈالنا یقینا ظلم ہوگا۔ اگرچہ ایسا فیصلہ نفس الامر کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ ایمان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے،کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کس کے دل میں ایمان نہیں ہے۔ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ اہْتَدیٰ (النجم : ۳۰) ہماری نظر صرف ظاہر تک جاسکتی ہے،اور ظاہری اقوال و افعال کو دیکھ کر ہم رائے قائم کرسکتے ہیں کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جو شخص ظاہر میں جہالت و نادانی سے کفریات بک رہا ہو، باطن میں وہ ایک سچا اور پکا مومن ہو اور اس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت بہت سے واعظوں اور مرشدوں سے بڑھ کر ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص زور و شور کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہو اور بظاہر احکام شریعت کی پابندی میں کوئی کمی بھی نہ کرتا ہو، درحقیقت وہ محض ایک ریاکارمنافق ہو۔ لہٰذا ظاہر کی بنا پر کسی کے کفر کا فیصلہ کرتے ہوئے انسان کو خدا کی پکڑ سے بہت ڈرنا چاہیے۔ ایسا فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لینا چاہیے۔ کہ ہم کیسی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہیں اور کیا ایسے معقول وجوہ موجود ہیں جن کی بنا پر اس ذمہ داری سے بچنے کی بہ نسبت اس کا بار اٹھالینا ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ انسانوں کی طبیعتیں، استعدادیں اور عقلی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ نہایت سادہ لوح ہوتے ہیں۔ ایک سیدھی سادی بات کو اجمالی طور پر مان لیتے ہیں۔ تفصیلات اور باریکیوں کو سمجھنے کی نہ ان میں قابلیت ہوتی ہے اور نہ وہ ان کے طالب ہوتے ہیں۔ برعکس اس کے بعض لوگوں میں غور و فکر کا مادہ ہوتا ہے۔ اجمال سے ان کی تشفی نہیں ہوتی۔ تفصیلات ڈھونڈتے ہیں تو نہیں ملتیں تو تخیل سے پیدا کرلیتے ہیں۔ پھر غور و فکر کرنے والوں کے رجحانات اور مدارجِ عقلی بھی بے شمار ہیں۔ کسی کا میلان شک کی طرف ہوتا ہے اور کسی کا یقین کی طرف ۔ کوئی مادیات و محسوسات پر فریفتہ ہے اور کوئی معقولات پر۔ کوئی بات کی تہ تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی بیچ کی راہوں میں بھٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی حقیقت پسند (Realist) ہوتا ہے اور کسی کو وہم و خیال کی وادیوں میں گھومنا ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔ غرض نظرو فکر کے بہت سے راستے ہیں جن کو انسانی اذہان اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق اختیار کرتے ہیں۔ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کی طبعی افتاد اور فطری رجحانات اور عقلی استعداد کو بدل دے اور کسی انسان کو یہ مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں ہے کہ اس کی اپنی افتاد طبع اور اس کا اپنا مذاق و رجحان ہی سب انسانوں کے لیے معیار قرار پائے جس کے مطابق ڈھل جانا سب پر فرض ہو۔
جس خدا نے اسلام کو تمام نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے اس سے بڑھ کر انسانی طبائع کے ان اختلافات کو جاننے والا، اور ان کی رعایت ملحوظ رکھنے والا اور کون ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی بنیاد ایسے سادہ اور مجمل عقائد پر رکھی ہے جنھیں ایک کم عقل دہقان سے لے کر ایک نکتہ سنج فلسفی اور ایک حقیقت طلب سائنٹسٹ تک سب قبول کرسکتے ہیں۔ ان عقائد کی یہ سادگی اور ان کا اجمال ہی وہ چیز ہے جس نے ان کو ایک عالم گیر انسانی مذہب کے لیے بنیادی اصول بننے کے قابل بنایا ہے۔ جو شخص غوروفکر کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کے لیے صرف اتنا ہی مان لینا کافی ہے کہ خدا ایک ہے، محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، قرآن اس کی کتاب ہے، اور قیامت کے روز ہمیں اس کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور جو شخص غور وفکر کی قوت رکھتا ہے، اس کے لیے اسی اجمال میں اتنی وسعتیں ہیں کہ وہ اپنی استعداد اور اپنے رجحان کے مطابق جستجوئے حقیقت کے لیے بے شمار راہوں پر جاسکتاہے، جتنی دور چاہے جاسکتا ہے۔ ساری عمر اسی جستجو میں کھپاسکتا ہے، بغیر اس کے کہ کسی مقام پر پہنچ کر وہ یہ کہہ سکے کہ جو کچھ جانتا تھا وہ میں جان چکا ہوں۔
پھر ایک سوچنے والا آدمی اپنی فکر و تلاش کے لیے کوئی راہ اختیار کرے اور خواہ کتنی ہی دور تک چلاجائے، بہر حال جب تک وہ ان حدود کے اندر چل رہا ہے جو کلام اللہ نے اسلام اور کفر کے درمیان کھینچ دی ہیں، وہ دائرۂ ایمان سے خارج نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اگرچہ اس کے ذہن کی جولانیوں سے ہم کو کتنا ہی اختلاف ہو۔
مثال کے طور پر ایمان باللہ کے مسئلے میں ملاک امر صرف یہ ہے کہ کائنات کا بنانے اور چلانے والا ایک خدا ہے اور وہی اس لائق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ اس بات کو ایک سیدھا سادھا کسان جس طور پر مان سکتا ہے ممکن نہیں ہے کہ ایک غور و فکر کرنے والا آدمی بھی بس اسی طرح اور اتنا ہی مجمل طور پر مانے ۔ پھر ایک خاص طرح کا رجحان طبع رکھنے والاآدمی اس میں تدبر کرکے خدا کی ہستی اور اس کی صفات اور کائنات کے ساتھ اس کے تعلق کی کیفیت کے متعلق جو تفصیلی تصورات اپنے ذہن میں جمائے گا، ممکن نہیں ہے کہ ان امور کے متعلق ایک دوسرے رجحان والے آدمی کے تصورات بھی بالکل اس کے مطابق ہی ہوں۔ لیکن جب تک یہ سب اصل بنیادی عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، سب کے سب مسلمان ہیں، خواہ تفصیلات میں ان کے تفکرات باہم کتنے ہی مختلف ہوں اور ان میں سے بعض نے بعض گوشوں میں کیسی ہی سخت ٹھوکریں کھائی ہوں۔
اسی طرح وحی ، رسالت، ملائکہ اور آخرت کے متعلق بھی اسلامی عقائد میں چند امور اصولی ہیں جن کو دین کی ضروریات (Essentials) کہنا چاہیے، اور باقی تفصیلات ہیں جن میں سے بعض کے لیے انسان کو کلام اللہ میں صریح یا قابل تاویل اشارات مل جاتے ہیں اور بعض کو انسان خود اپنے رجحان طبع کے مطابق اپنے ذہن سے پیدا کرلیتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر تفصیلات کا حکم لگانے میں کسی انسان کی عقل غلطی کرلے اور اس کے تصورات حقیقت سے بہت دور جاپڑیں ۔ لیکن جب تک وہ ان عقائد میں ملاکِ امر کا سررشتہ ہاتھ سے نہیں چھوڑتا، عقل و فکر کی کوئی گمراہی اس کو دائرہ دین سے خارج نہیں کرسکتی ، چاہے مرکز دین سے اس کو کتنا ہی بُعد ہوجائے اور ہمیں اس کی ان اعتقادی بے راہ رویوں پر کتنی ہی ملامت اور مذمت کرنی پڑے۔
یہاں پہنچ کر ہم ذرا ساغور کریں تو بہ آسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام میں فرقوں کی پیداوار کس طرح ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں ضروریات دین کے متعلق جو سادہ اور مختصر باتیں ارشاد ہوئی ہیں ، اور کہیں کہیں ان کی تفصیل میں جو لطیف اشارات کردیے گئے ہیں، ان کو سمجھنے میں مختلف لوگوں نے اپنی عقلی استعدادوں اور اپنے طبیعی رجحانات کی بنا پر مختلف راہیں اختیار کیں اور ان کے تفصیلی فہم کے لیے قیاس و استدلال کے ذریعے سے الگ الگ جزئیات اور فروع اخذ کرلیے۔ اس حد تک تو کچھ مضائقہ نہ تھا۔ اور اس میں بھی کوئی خرابی نہ تھی کہ ایک گروہ صرف اپنے مسلک کو حق سمجھتا اوردوسرے گروہوں سے بحث کرکے ان کو اپنے مسلک کی طرف لانے کی کوشش کرتا۔ لیکن غضب یہ ہوا کہ لوگوں نے بے جا تشدد برت کر اپنے اپنے قیاسی و تاویلی عقائد کو بھی اصول و ضروریات دین میں شامل کرلیا، اور پھر ہر ایک گروہ نے ان تمام گروہوں کی تکفیر شروع کردی جو اس کے استنباطی عقائد کے منکر تھے۔ یہیں سے حرب عقائد کی ابتداء ہوئی ہے اور یہی اس ظلم کا نقطۂ آغاز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عقائد کے باب میں قیاسات و تاویلات سے جو راہیں اختیار کی گئی ہیں۔ ان میں بہت سی راہیں غلط ہیں۔ لیکن ہر غلطی لازماً کفر ہی نہیں ہے۔ غلطی کو غلطی کہنا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو گمراہ اور غلط کار سمجھنا اور اس کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا بلا شبہ جائز ہے۔ لیکن جب تک کوئی شخص اس نفس حقیقت کا انکار نہیں کرتا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اس کو کافر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں، خواہ اس کی گمراہی کتنی ہی بڑھ گئی ہو۔
افسوس ہے کہ مدتوں کی چلی ہوئی اس روش کو چھوڑنے پر ہمارے علماء کرام کسی طرح راضی نہیں ہوتے۔ انھوں نے اصل اور فرع، نص اور تاویل کے فرق کو نظر اندازکردیا ہے۔ وہ ان فروع کو بھی اصول بنائے بیٹھے ہیں جن کو انھوں نے خود یا ان کے اسلاف نے اپنے مخصوص فہم کی بنا پر اصول سے اخذ کیا ہے۔ وہ ان تاویلات کو بھی نصوص کے درجے میں رکھتے ہیں جو نصوص کے معانی اخذ کرنے میں ان کے گروہ نے اختیار کی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنے فروع اور اپنی تاویلات کے منکر کو بھی اسی طرح کا فرقرار دیتے ہیں جس طرح اصول اور نصوص کے منکر کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کھینچ تان اور بے اعتدالی نے پہلے تو اسلامی جمعیت میں صرف تفرقہ ہی پیدا کیا تھا۔ مگر اب دیکھ رہے ہیں کہ علماء کی یہ کافر گری مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف علماء کی طرف سے ، بلکہ خود اس مذہب کی طرف سے بھی بدگمانیاں پیدا کررہی ہے جس کی نمائندگی یہ علماء کررہے ہیں۔ روز بروز علماء کا اقتدار مسلمانوں پر سے اٹھتا جارہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر دل مذہب کی طرف راغب ہونے کے بجائے اس سے دور بھاگنے لگے ہیں۔ مذہبی مجلسوں اور مذہبی تحریروں کے متعلق یہ عام خیال پیدا ہوگیا ہے کہ ان میں فضول جھگڑوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس غلبۂ کفر و فسق کے زمانے میں عام مسلمانوں کو مذہبی علوم کی واقفیت بہم پہنچانے کا اگر کوئی ذریعہ ہوسکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ علماء دین پر لوگوں کو اعتماد ہوتا اور وہ ان کی تحریروں اور تقریروں سے فائدہ اٹھاتے۔ مگر افسوس کہ ان فرقہ بندی کی لڑائیوں اور ان تکفیر کے مشغلوں سے یہ ایک ذریعہ بھی ختم ہوا جارہا ہے اور یہ مسلمانوں میں مذہب سے عام ناواقفیت اور گمراہی کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ کاش ہمارے علماء اپنی غلطی کو محسوس کریں اور اسلام اور مسلمانوں پر نہیں تو خود اپنے اوپر ہی رحم کرکے اس روش سے باز آجائیں جس نے ان کو اپنی قوم میں اس قدر رسوا کردیا ہے، درآں حالیکہ یہی وہ قوم تھی جو کبھی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی۔ (تفہیمات حصہ دوم : فتنۂ تکفیر)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَرعَرَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدٍ، قَالَ: سَاَلْتُ ابَاوَائِلٍ، عَنِ الْمُرْجِئَۃِ فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ۔ (۷۸)
ترمذی نے عبدالرحمن بن عبد اللہ بن مسعود عن ابیہ سے ایک روایت ان الفاظ میں بھی بیان کی ہے:
(۲) قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قِتَالُ الْمُسْلِمِ اَخَاہُ کُفْرٌ وسِبَابُہٗ فُسُوْقٌ۔ (۷۹)
نسائی نے کتاب التحریم میں، ابن ماجہ نے مقدمہ میں اور مسند احمد جلد اول ص ۱۷۶ پر قِتَالُ الْمُؤْمِنِ کُفْرٌ وَسِبَابُہٗ فُسُوْقٌ روایت کیا ہے۔

کلمۂ توحید کا اقرار کرنے والا قتل نہیں کیا جائے گا

اِنِّیْ لَمْ اُوْمَرْاَنْ اُنَقِّبَ عَنْ قُلُوْبِ النَّاسِ وَلَا اَشُقَّ بُطُوْنَہُمْ (بخاری و مسلم)
ترجمہ: ’’مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دل کھول کر اور پیٹ چاک کرکے دیکھوں۔‘‘
پس منظر: ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ رقم نبی ﷺ کی خدمت میں بھیجی۔اور حضوؐر نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کردیا۔ اس پر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِتِّقِ اللّٰہَ (یَا رسول اللہ!خدا سے ڈریے) حضوؐر نے فرمایا وَیْلَکَ اَوَلَسْتُ اَحَقَّ اَہْلِ الْاَرْضِ اَنْ یَّتَّقِی اللّٰہَ (افسوس تیرے حال پر،روئے زمین کے بسنے والوں میں مجھ سے زیادہ کس کو یہ سزاوار ہے کہ خدا سے ڈرے)۔ حضرت خالدؓ اس موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے عرض کیا یا رسولؐاللہ!کیا میںاسے قتل نہ کردوں؟ فرمایا لَا لَعَلَّہٗ اَنْ یَکُوْنَ یُصَلِّیْ (نہیں، شاید کہ وہ نماز پڑھتا ہو)انھوں نے عرض کیا کتنے ہی نماز پرھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ،فرمایا اِنِّیْ لَمْ اُوْمَرْاَنْ اُنَقِّبَ عَنْ قُلُوْبِ النَّاسِ وَلَا اَشُقَّ بُطُوْ نَہُمْ۔ (بخاری و مسلم) (تفہیمات حصہ دوم : فتنۂ تکفیر)
تشریح: (اس حدیث میں) حضوؐر نے اسلام کا دستوری قانون (Constitutional Law) بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص خدا کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کوماننے کا اقرار کرے تو وہ دائرہ اسلام میں آجاتا ہے اور اسلامی اسٹیٹ کا شہری (Citizen)بن جاتا ہے۔ یہ بات کہ وہ حقیقی مومن ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اللہ کرنے والا ہے ہم اس کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں کیونکہ لم اومران اشق عن قلوب الناس ولاعن بطونہم۔ جان و مال کی عصمت (Security) کلمہ توحید اور اعتقاد رسالت کے اقرار سے قائم ہو جاتی ہے۔ (تفہیمات حصہ اول: کیا نجات۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنََا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُ مَۃَ قَالَ: حَدَّثََنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ نُعْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ اَبَاسَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ یَقُوْلُ: بَعَثَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْیَمْنِ بِذُہَیْبَۃٍ فِیْ اَدِیْمٍ مَقْرُوْظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِہَا قَالَ فَقَسَمَہَا بَیْنَ اَرْبَعَۃِ نَفَرٍ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ بَدْرٍ واَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَزَیْدِ الْخَیْلِ وَالرَّابِعِ اَمَّا عَلْقَمَۃُ وَاَمَّا عَامِرُبْنُ طُفَیْلٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ: کُنَّا نَحْنُ اَحَقُّ بِہٰذَا مِنْ ہٰؤُلَآئِ قَالَ: فَبَلَغَ ذٰلِک النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: اَلَا تَاْمَنُوْٓ نِّیْ وَاَنَا اَمِیْنُ مَنْ فِی السَّمَآئِ یَاْتِیْنِیْ خَبَرُ السَّمَآئِ صَبَاحًا وَمَسَآئً قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ غَآئِرُالْعَیْنَیْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ نَاشِرُالْجَبْہَۃِ کَثُّ اللَّحْیَۃِ مَحْلُوْقُ الرَّاْسِ مُشْمِرُّالْاِزَارِ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِتَّقِ اللّٰہَ قَالَ: وَیْلَکَ اَوْلَسْتُ اَحَقُّ اَہْلِ الْاَرْضِ اَنْ یَتَّقِی اللّٰہَ قَالَ: ثُمَّ وَلیَّ الرَّجُلُ۔ قَالَ خَالِدُبْنُ الْوَلِیْدِیَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَلَا اَضْرِبُ عُنُقَہٗ قَالَ: لَا لَعَلَّہٗ اَنْ یَّکُوْنَ یُّصَلِّیْ فَقَالَ خَالِدٌ وَکَمْ مِنْ مُّصَلِّ یَقُوْلُ بِلِسَانِہٖ مَالَیْسَ فِیْ قَلْبِہٖ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّیْ لَمْ اُوْمَرْاَنْ اُنَقِّبَ عَنْ قُلُوْبِ النَّاسِ وَلَا اَشُقَّ بُطُوْنَہُمْ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ اِلَیْہِ وَہُوَ مُقَفّیً فَقَالَ: اِنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئیْ ہٰذَا قَوْمٌ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَا جِرَہُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ وَاَظُنَّہٗ قَالَ لَئِنْ اَدْرَکْتُہُمْ لَا اَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ۔ (۸۰)
ترجمہ: عبدالرحمن بن ابی نعم نے کہا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یمن سے کچھ سونا بھیجا جو ببول کی چھال سے رنگے ہوئے چمڑے کی تھیلی میں بھرا ہوا تھا اور ابھی مٹی سے جدا نہیں کیا گیا تھا۔ آپ نے وہ سونا چار اشخاص میں تقسیم کردیا (۱) عیینہ بن بدر (۲) اقرع بن جابس (۳) زید الخیل اور چوتھے شخص یا تو علقمہ تھے یا عامر بن طفیل تھے (اس تقسیم پر اعتراض کرتے ہوئے) صحابہ کرام میںسے ایک شخص نے کہا: اس سونے کے ان لوگوں کے مقابلے میں ہم زیادہ حق دار تھے، حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کی اطلاع نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمانوں میں ہے۔ میرے پاس صبح و شام آسمان سے وحی آتی ہے، ابو سعید بیان کرتے ہیں۔ پھر ایک شخص کھڑا ہوا جس کی دونوں آنکھیں اندر دھنسی ہوئی، گال پھولے ہوئے ، پیشانی ابھری ہوئی، ڈاڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا اور اپنے تہہ بند کو اٹھائے ہوئے تھا اور کہنے لگا: یا رسولؐ اللہ! اللہ سے ڈریے۔ آپؐ نے فرمایا ہلاکت ہو تیرے لیے، کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا میں نہیں ہوں؟ راوی بیان کرتے ہیں، یہ سن کر وہ شخص چلا گیا۔ اس موقع پر خالد بن ولیدؓ نے عرض کیا۔یا رسولؐ اللہ! کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں! ہوسکتا ہے وہ کبھی نماز پڑھتا ہو۔ حضرت خالدؓ نے عرض کیا: بہت سے نماز پڑھنے والے زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں! آپ نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں نقب لگائوں یا ان کا پیٹ چیر کر دیکھوں۔ پھر آپؐ نے اس شخص کی طرف دیکھا، وہ پیٹھ موڑے جارہا تھا اور فرمایا: اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن مجید روانی سے پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، دین سے اس طرح خارج ہوچکے ہوں گے جیسے تیر شکار میں سے پار ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوسعیدؓکہتے ہیں، میرا خیال ہے کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا تھا: اگر میں ان کو پائوں گا تو اسی طرح ہلاک کردوں گا جیسے قومِ ثمود ہلاک کی گئی تھی۔
( مجھ کو لوگوں کے دل چیر نے اور ان کے باطن ٹٹولنے کا یکسر حکم نہیں دیا گیا۔ (حدیث))۴۱۔ ہلَّاشَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ۔
ترجمہ: کیا تونے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔
پس منظر: ایک مرتبہ ایک سریہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کو دیکھ کر کہا السَّلام علیکم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ مگر ایک مسلمان نے یہ گمان کرکے کہ اس نے محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے اسے قتل کردیا۔ نبی ﷺ کو اس کا علم ہوا تو حضوؐر اس پر سخت ناراض ہوئے اور اس مسلمان سے باز پرس کی۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! اس شخص نے محض ہماری تلوار سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھ دیا تھا۔ اس پر سرکار نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ (تفہیمات حصہ دوم : فتنۂ تکفیر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سُویْدُبْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ السُمَیْط بْنِ السَّمِیْرِ عَنْ عِمْرَان بْنِ الْحُسَیْنِ شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَقَدْ بَعَثَ جَیْشًا مِنَ المُسْلِمِیْنَ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ فَلَمَّا لَقُوْہُمْ قَاتَلُوْہُمْ قِتَالًا شَدِیْدًا فَمَنَحُوْہُمْ اَکْتَافَہُمْ فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِیْ عَلیٰ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ بِالرُّمْحِ فَلَمَّا غَشِیَہٗ قَالَ: اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اِنِّیْ مُسْلِمٌ فَطَعَنَہٗ فَقَتَلَہٗ، فَاَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلَکْتُ، قَالَ: وَمَا الَّذِیْ صَنَعْتَ؟ مَرَّۃً اَوْمَرَّتَیْنِ۔ فَاَخْبَرَہٗ بِالَّذِیْ صَنَعَ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَہَلَّا شَقَقْتَ عَنْ بَطْنِہٖ فَعَلِمْتَ مَا فِیْ بَطْنِہٖ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ شَقَقْتُ بَطْنَہٗ لَکُنْتُ اَعْلَمُ مَا فِیْ قَلْبِہٖ قَالَ: فَلَا اَنْتَ قَبِلْتَ مَا تَکَلَّمَ بِہٖ وَلَا اَنْتَ تَعْلَمُ مَا فِیْ قَلْبِہٖ۔ (۸۱)
ترجمہ: حضرت عمران بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر تھا کہ آپؐ نے مسلمانوں میں سے ایک لشکر تیار کرکے مشرکین کی طرف روانہ فرمایا۔جب مسلمانوں کے لشکر کی مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی تو فریقین کے مابین بڑے زور کا رن پڑا۔ مسلمان بڑے بے جگڑی سے لڑے اور مشرکین کے ساتھ بڑے دائو پیچ کھیلے ۔ اتنے میں میرا ایک قریبی رشتہ دار نیزے سے ایک مشرک پر پل پڑا۔ جب اس نے مشرک پر پوری طرح قابو پالیا تو مشرک جلدی سے کلمہ شہادت اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،کہہ کر بولا کہ’’ میں مسلم ہوں‘‘ مگر اس نے نیزہ مار کر اسے قتل کردیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا، یا رسول اللہ! میں تو مارا گیا۔ آپ نے فرمایا کیا کر بیٹھے؟ آپؐ نے ایک یا دو مرتبہ یہی جملہ دہرا یا ، تو اس نے اپنا سارا واقعہ بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا، کہ تمہیں اس کی نیت کا علم ہوگیا۔‘‘ اس نے عرض کیا اے رسول خدا! اگر میں نے اس کا دل چیر کر دیکھا ہوتا تو میں واقعتا اس کی نیت سے باخبر ہوجاتا ۔ پھر فرمایا تو پھر تونے اس کے زبانی اقرار کو تسلیم کیوں نہ کیا جب کہ تجھے اس کے مافی الضمیر کا علم نہیں تھا۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ ح وَحَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَۃَ کِلَاہُمَا عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ ظُبْیَانَ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ وَہٰذَا حَدِیْثُ ابْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَرِیَّۃٍ، فَصَبَّحْنَا حُرُقَاتِ مِنْ جُہَیْنَۃَ، فَاَدْرَکْتُ رَجُلًا۔ فَقَالَ: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَطَعَنْتُہٗ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ ذٰلِکَ فَذَکَرْتُہٗ للنَّبِیِّﷺ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: أَقَالَ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَقَتَلْتَہٗ؟ قَالَ: قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّمَا قَالَہَا خَوْفًا مِنَ السَّلَاحِ، قَالَ: اَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ أَقَالَہَا اَمْ لَا۔ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا عَلَیَّ حَتّٰی تَمَنَّیْتُ اَنِّیْ اَسْلَمْتُ یَوْمَئِذٍ۔ قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: وَاَنَا وَاللّٰہِ لَا اَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتّٰی یَقْتُلَہٗ ذُوالْبُطَیْنِ یَعْنِی اُسَامَۃُ۔ قَالَ رَجُلٌ: اَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ فَقَالَ سَعْدٌ قَدْقَاتَلْنَا حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَاَنْتَ وَاَصْحَابُکَ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تُقَاتِلُوْا حَتّٰی تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ۔ (۸۲)
ترجمہ: حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا۔ علی الصبح ہم نے جہینہ کے قبیلۂ حرقات پر حملہ کردیا۔ میں نے ایک آدمی پر قابو پایا ہی تھا کہ اس نے لَآ اِلٰہَ الَّا اللّٰہُ کا اقرار کرلیا ۔ مگر میں نے (اس کی پرواہ کیے بغیر) اسے نیزہ مار کر ہلاک کردیا۔ اس فعل پر میرے دل میں اضطراب اور خلجان پیدا ہوا تو میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا ’’کیا تم نے اسے لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار کرنے کے باوجود قتل کردیا۔‘‘ اسامہ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا ’’یا رسولؐ اللہ ! اس نے محض اسلحہ کی زد سے بچنے کے لیے ایسا کیا تھا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا،’’کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ اس نے لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار دل سے کیا تھا یا نہیں۔‘‘ آپؐ یہ جملہ مسلسل دہراتے رہے حتّٰی کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ’’کاش میں آج ہی دائرۂ اسلام میں داخل ہوا ہوتا۔‘‘ حضرت سعد نے کہا کہ ’’بہ خدا میں کسی مسلمان کو قتل نہیں کروں گا تاوقتیکہ اسے اسامہ قتل نہ کرے۔‘‘ ایک آدمی نے کہا، کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی نہیں ہے کہ تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ سعد نے اس کا جواب دیا یقینا ہم لڑے کہ فتنہ باقی نہ رہے مگر تو اور تیرے ساتھی اس لیے لڑنا چاہتے ہیں کہ فتنہ برپا ہو۔
۴۲۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر ایک شخص مجھ پر حملہ کرکے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لے، کیا ایسی حالت میں اس کو قتل کرسکتا ہوں؟ حضوؐر نے فرمایا’’ نہیں‘‘۔ صحابی نے عرض کیا: یا رسول ؐاللہ! اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ آپؐ نے فرمایا باوجود اس کے تم اس کو نہیں مارسکتے۔ اگر تم نے اس کو مارا تو وہ اس مرتبے میں ہوگا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میں ہوجائو گے جس میں وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے سے پہلے تھا۔ (تفہیمات حصہ دوم ص ۱۸۱)
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَخِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہٖ اَخْبَرَنِیْ عَطَآئُ بْنُ یَزِیْدَ اللَّیْثِیُّ ثُمَّ الْجُنْدَ عِیُّ اَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ اَخْبَرَہٗ اَنَّ الْمِقْدَادَبْنَ عَمْرٍوا لکنْدِیَّ وَکَانَ حَلِیْفًا لِبَنِیْ زُہْرَۃَ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: اَرَأَیْتَ اِنْ لَقِیْتُ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ اِحْدیٰ یَدِیَّ بِالسَّیْفِ فَقَطَعَہَا، ثُمَّ لَا ذَمِنِّیْ بِشَجَرَۃٍ، فَقَالَ اَسْلَمْتُ لِلّٰہِ، أَاَقْتُلُہٗ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بَعْدَ اَن قَالَہَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَا تَقْتُلْہُ۔ فَقَالَ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہٗ قَطَع اِحْدَیٰ یَدِیَّ، ثُمَّ قَالَ ذٰلِکَ بَعْدَ مَا قَطَعَہَا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا تقْتُلْہُ فَاِنْ قَتَلْتَہٗ فَاِنَّہٗ بِمَنْزَلَتِکَ قَبْلَ اَنْ تَقْتُلَہٗ وَاِنَّکَ بِمَنْزِلَتِہٖ قَبْلَ اَنْ یَقُوْلَ کَلِمَتَہُ الَّتِیْ قَالَ۔ (۸۳)
ترجمہ: حضرت مقداد بن عمرو کندی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوچکے تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ سے عرض کیا اگر میری ملاقات کسی کافر سے ہوجائے اور ہم باہم لڑپڑیں اور وہ میرے ہاتھ پر تلوار مارکر اسے کاٹ ڈالے، اس کے بعد کسی درخت کے پیچھے چھپ کر پناہ لے لے اور اس وقت کہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں تو کیا میں اسے اس کے اقرار کے بعد قتل کرسکتا ہوں؟ آپؐ نے فرمایا ’’نہیں‘‘ میں نے عرض کیا رسولؐ اللہ! اس نے پہلے تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دیا اس کے بعد کلمۂ توحید کا اقرار کیا۔ آپؐ نے پھر ارشاد فرمایا ’’نہیں‘‘ تو اسے قتل نہ کر کیوں کہ اگر تونے اس کو قتل کیا تو وہ اس مرتبے میں ہوگا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میں ہوجائو گے جس میں وہ اَسْلَمْتُ لِلّٰہِ کہنے سے پہلے تھا۔‘‘
۴۳۔ اگر کوئی شخص کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اس وقت وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہہ دے، تو مسلمان کو لازم ہے کہ وہ فوراً اپنے نیزے کو واپس کھینچ لے۔
تخریج: اِذَاانْتَزَعَ اَحَدُکُمُ الرُّمْحَ اِلیٰ رَجُلٍ، فَکَانَ سِنَانُہٗ عِنْدَ ثَغْرَۃِ نَحْرِہٖ۔ فَقَالَ: ’’لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ‘‘ فَلْیَدْفَعْ عَنْہُ الرُّمْحَ۔ (۸۴)
ترجمہ: ’’اگر تم میں سے کوئی شخص کسی کافر آدمی پر نیزہ تانے اور سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اور اس وقت وہ لا الہ إلّااللہ کہہ دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے نیزے کو واپس کھینچ لے۔‘‘

دو مختلف ملّتوں کے لوگ ایک دوسرے سے کلی طور پر کٹ جاتے ہیں

لَایَتَوَارَثُ اَہْلُ مِلَّتَیْنِ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو مختلف ملّتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔
تشریح: اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں، بلکہ چاہے ان کے آبائو اجداد میں باہم خونی عداوتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں، جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریق فکر اور مسلک حیات میں متفق ہوگئے تو گویا الٰہی رشتے (حبل اللہ) سے باہم جڑگئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلّقات حزب الشیطان والوں سے کٹ گئے۔
پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے۔ حتّٰی کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پاسکتا۔
(تفہیمات حصہ اول: اسلامی قومیت کا۔۔۔)
المصنف میں لَا یَتَوَارَثُ اَہْلُ مِلَّتَیْنِ مُخْتَلِفَتَیْنِ ہے اور دارمی نے لَا یَتَوَارَثُ اَہْلُ دِیْنَیْنِ نقل کیا ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُوْسیٰ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِیْبِ الْمُعَلِّم، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا یَتَوَارَثُ اَہْلُ مِلَّتَیْنِ شَتّٰی۔ (۸۵)
المصنف میں لَا یَتَوَارَثُ اَہْلُ مِلَّتَیْنِ مُخْتَلِفَتَیْنِ ہے اور دارمی نے لَا یَتَوَارَثُ اَہْلُ دِیْنَیْنِ نقل کیا ہے۔

ماٰخذ

(۱) ٭ مسلم ۔ ج ۱: کتاب الایمان ٭بخاری۔ ج ۱: کتاب الایمان: باب سوال جبریل النبیﷺ عن الایمان والاسلام الخ۔ عن ابی ہریرۃ۔ بخاری میں مسلم والی روایت کا پہلا حصہ نہیں ہے اور روایت فاتاہ رجل فقال ماالایمان سے شروع ہوتی ہے ٭ابوداؤد : کتاب السنۃ: باب فی القدر ٭ترمذی: ابواب الایمان : باب ماجاء فی وصف جبریل للنبی ﷺ الایمان والاسلام۔ ترمذی نے قال فما الاسلام کے جواب میں حضوؐر کا جواب: شہادۃ ان لا الہ الااللّٰہ وان محمد اعبدہ ورسولہ واقام الصلاۃ وایتاء الزکوۃ وحج البیت وصوم رمضان الخ نقل کیا ہے ٭نسائی: کتاب الایمان و شرائعہٖ: باب صفۃ الایمان والا سلام ٭ابن ماجہ: المقدمۃ: باب فی الایمان ٭مسند احمد ج ۱: عمر بن خطاب ٭مسند ابی عوانۃ۔ ج ۱: باب الاعمال والفرائض۔
(۲) ٭بخاری۔ ج۱: کتاب الایمان: باب فان تابواواقاموا الصلوٰۃ واٰتواالزکوٰۃ فخلّوا سبیلہم۔٭ مسلم ج ۱: کتاب الایمان: باب الامر بقتال الناس حتی یقولوالالٰہ الااللّٰہ ٭ مسند احمد۔ ج ۳: جابر بن عبداللّٰہ ٭ دارقطنی: کتاب الصلوٰہ: باب تحریم دماء ہم واموالہم اذا یشہد وا بالشّہادتین ٭ کنزالعمال: ج۱۔
(۳) ٭بخاری۔ ج ۲: کتاب الادب: باب فصل صلۃ الرَّحِم ٭ مسلم۔ ج ۱:کتاب الایمان: باب السوال عن ارکان الاسلام ٭ نسائی۔ ج ۲: کتاب الصلوٰۃ: باب ثواب من اقام الصلوٰۃ۔
(۴) ٭ مسلم۔ ج۱: کتاب الایمان: باب بیان الایمان الذی یدخل بہ الجنۃ وان من تمسک بما اُمِرَبہ دخل الجنۃ۔
(۵) ٭ ابن ماجہ: کتاب الفتن: باب کف اللسّان فی الفتنۃ ٭ ترمذی: ابواب الایمان: باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ ٭مسند احمد۔ ج ۵: معاذ بن جبل٭ مسند ابی عوانۃ۔ ج ۱: باب بیان الاعمال والفرائض۔
(۶) ٭ مسلم: ج ۲ : کتاب الایمان: باب السوال عن ارکان الاسلام۔
(۷) ٭بخاری۔ ج ۱: کتاب الزکوۃ: باب وجوب الزکوٰۃ ٭بخاری۔ ج ۲: کتاب التفسیر: سورہ لقمان: باب قولہ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ٭ مسند احمد۔ ج۲ ٭مسند ابی عوانۃ۔ ج ۱: بیان الاعمال والفرائض ٭مسلم میں والذی نفسی بیدہ لا ازید علی ہذا شیئاً ولا اَنْقُصُ منہ کا اضافہ ہے۔ باقی متن حدیث بخاری والا ہے۔مسلم۔ ج ۱: کتاب الایمان: باب السوال عن ارکان الاسلام۔
(۸) ٭ بخاری۔ ج ۲: کتاب المغازی: باب بعث ابی موسیٰ ومعاذا الی الیمن قبل حجۃ الوداع ٭ بخاری۔ ج ۱: کتاب الزکوٰۃ: باب لاتوخذ کرائم اموال الناس فی الصدقۃ ٭ بخاری کی اس روایت میں وَتُوَقَّ کَرَائِمَ اموال الناس ہے۔ بخاری۔ ج ۲:کتاب الرد علیٰ الجہمیۃ وغیر ہم التوحید: باب ماجاء فی دعاء النبی ﷺ امتہ الی التوحید ٭ مسلم۔ ج ۱: کتاب الایمان: باب الدعا إلی الشہادتین و شرائع الاسلام ٭ ابوداؤد: کتاب الزکوٰۃ: باب فی زکاۃ السائمۃ ٭ ترمذی: ابواب الزکوٰۃ: باب ماجاء فی کراہیۃ اخذ خیار المال فی الصدقۃ۔ حدیث حسن صحیح ٭نسائی۔ کتاب الزکوٰۃ: باب اخراج الزکوٰۃ من بلدٍالیٰ بلدٍ ٭ابن ماجۃ: کتاب الزکوٰۃ: باب فرض الزکوٰۃ ٭ دارمی۔ کتاب الزکوٰۃ: باب فی فضل الزکوٰۃ ٭دارقطنی: کتاب الزکوٰۃ ٭مسند احمد، ج ۱:ملسم اور دیگر کتب میںافترض ہے جب کہ بخاری نے فرض نقل کیا ہے۔
(۹) ٭مسلم۔ ج ۱:کتاب الایمان: باب الامربقتال الناس حتی یقولوالاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ویقیمواالصلاۃ الخ۔
(۱۰) ٭ بخاری: کتاب الاستتابۃ المعاندین : ج ۲: باب قتل من ابی قبول الفرائض وما نسبوا الی الردۃ۔
(۱۱) ٭سنن ابی داؤد: کتاب الجہاد: باب علی ما یقاتل المشرکون۔
(۱۲) ابن ماجہ: المقدمہ: باب فی الایمان عن ابی ہریرۃ ومعاذ بن جبل ٭ کنزالعمال: ج ۱ ٭ دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ: باب تحریم دماء ہم وموالہم اذا یشہد وا بالشہادتین۔
(۱۳) ٭سنن ابی داؤد: کتاب الجہاد: باب علی ما یقاتل المشرکون ٭ ترمذی: ابواب الایمان: باب ماجاء امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللّٰہ ٭ دارقطنی:کتاب الصلوٰۃ: باب تحریم دماء ہم واموالہم اذا یشہد وا بالشہادتین ٭ نسائی: کتاب الایمان: باب علی ما یقاتل الناس: ج ۸ ٭ کنزالعمال۔ ج ۱۔
(۱۴) ٭ بخاری: کتاب الصلوٰۃ: ج ۱: باب فضل استقبال القبلۃ ٭ مسلم: ج ۱: کتاب الایمان: باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا لا لہ ال االلہ محمد رسول اللّٰہ الخ ٭ ترمذی: ابواب الایمان: باب ماجاء امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالاالہ الا اللّٰہ۔ فی الباب عن معاذ بن جبل وابی ہریرۃ ۔ ہذا حدیث حسن صحیح غریب من ہذا الوجہ ٭ابن ماجہ: کتاب الفتن: باب الکف عمن قال لا الہ الا اللّٰہ ٭ دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ: باب تحریم دماء ہم واموالہم اذا یشہد وا بالشہادتین ٭ کنزالعمال۔ ج ۱۔
(۱۵) ٭ابوداؤد کتاب السنۃ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ٭ترمذی: ابواب الایمان: ج ۲ ٭مسند احمد۔ ج ۴٭مسند احمد۔ ج ۳ معاذ بن انس ٭کنزالعمال۔ ج ۱: ٭مجمع الزوائد۔ ج۱٭ بخاری نے کتاب الایمان میں اَلْحُبُّ لِلّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ مِنَ الْاِیْمَانِ نقل کیا ہے۔
(۱۶) ٭ابن جریر: ج ۱۱ جز ۲۴/۲۷ سورہ حٰم السجدہ ٭ ترمذی: ج ۲: ابواب التفسیر: سورہ حٰم السجدہ ہذا حدیث غریب ٭ابن کثیر: ج ۴:سورہ حٰمٓ السجدہ بحوالہ نسائی ٭فتح القدیر: ج ۴ بحوالہ ابویعلی ابن ابی حاتم، ابن عدی، ابن مردویہ عن انس۔
(۱۷) ٭تفسیر ابن جریر، ج ۲۴/۲۷: سورہ حٰمٓ السجدہ ٭ ابن کثیر۔ ج ۴: سورہ حٰمٓ السجدہ۔
(۱۸) ٭ تفسیر ابن جریر، ج ۲۴/۲۷، جلد ۱۱۔
(۱۹) ٭ابن کثیر، ج ۴، سورۃ زمر بحوالہ ابن ابی حاتم۔
(۲۰) ٭ابن کثیر، ج ۴،سورۃ التغابن۔
(۲۱) ٭مسلم، ج ۲، کتاب الزہد: باب فی احادیث متفرقۃ ٭ مختصر فی شعب الایمان اور شعب الایمان للبیہقی ج۴۔
(۲۲) ٭ مسند احمد، ج۴ ٭ المستدرک ج ۴۔
(۲۳) ٭ دارمی کتاب الرقاق، باب المومن یوجرفی کل شیٔ ٭ مجمع الزوائد ج ۷، عن سعد بن ابی وقاص ۔ الفاظ مختلف ہیں۔
(۲۴) ٭الطبرانی، ج ۳ ٭ ابن کثیر ج ۴، التغابن۔ ٭ مجمع الزوائد۔ ج ۱۰، محمد بن اسماعیل بن عیاش ضعیف۔
(۲۵) ٭روح المعانی، ج ۲۲/۲۴، پ ۲۳۔ سورۃ الزمر۔
(۲۶) ٭ دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ ج ۱٭ باب النیۃ ٭ کنزالعمال ج ۱۔
(۲۷) ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۹، کتاب الجزیۃ: باب الوفاء بالعہداذا کان العقد مباحا وما ورد من التشد ید فی نقضہ ٭ شعب الایمان بیہقی، ج ۴، حدیث ۴۳۵۴، عن انس ٭ مجمع الزوائد، ج ۱، ٭مشکوٰۃ: کتاب الایمان فصل دوم ٭ ابویعلی طبرانی الاوسط بحوالہ الزوائد ٭ مسند احمد۔ ج ۳، روایت انس بن مالک۔
(۲۸) ٭مسند احمد۔ ج ۶، مسند کی ایک روایت میں وہو یخاف اللہ عزّوجل ہے ٭ ترمذی۔ ج ۲، ابواب التفسیر سورہ مومنون۔ ابن ابی حاتم نے بھی مالک بن مغول کی روایت نقل کی ہے۔
(۲۹) ٭ابن کثیر۔ ج ۳ المومنون ٭ابن ماجہ: کتاب الزہد: باب التوقی علی العمل ۔
(۳۰) مسلم: کتاب النذر۔ج ۲ ٭ مسند احمد ج ۴، عمران بن حصین ٭ ابوداؤد: کتاب الایمان والنذور: باب فی النذر فیما لایملک۔ ابودائود میں ہے: فقال یا محمدؐ ! علام تاخذنی وتاخذ سابقۃ الحاج۔ اس کے علاوہ بھی قدرے لفظی اختلاف موجود ہے۔
(۳۱) بخاری، ج ۲، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المریض ٭ مسند احمد بن حنبل۔ ج ۲۔ مرویات ابی ہریرۃ وابو سعید خدری۔
(۳۲) بخاری، ج ۲، کتاب المرضیٰ، باب وضع الید علی المریض ٭ مسلم، ج ۲، کتاب البروالصلۃ ثواب المؤمن فیما یصیبہ من مرض اوحزن ونحوذالک حتی الشوکۃ یشاکہا ٭ دارمی ج ۲، الرقاق: باب فی ثواب اجرالمریض۔
(۳۳) ترمذی ابواب التفسیر۔ سورۃ النساء۔
(۳۴) مسلم، ج ۲، کتاب البروالصلۃ: باب ثواب المؤمن فیما یصیبہ من مرض اوحزن اور نحوذٰلک حتی الشوکۃ یشاکہا۔
(۳۵) ابوداؤد۔ ج ۳، کتاب الجنائز: باب عیادۃ النساء۔
(۳۶) ابوداؤد۔کتاب الجنائز: باب الامراض المکفرۃ الذنوب
(۳۷) ٭ مسند احمد۔، ج ۱، روایت سعد بن ابی وقاص۔
(۳۸) مسند احمد ج۲، روایت ابی ہریرۃ اور ج ۵ میں٭ اور مسندابی داؤد طیالسی، سعد بن ابی وقاص ٭ابن ماجہ: کتاب الفتن: باب الصبر علی البلاء ٭ترمذی: ابواب: الزہد باب فی الصبر علی البلاء۔ ہذا حدیث حسن صحیح۔
(۳۹) مسند احمد بن حنبل۔ ج ۶، مرویات صہیب٭ مسلم ج ۲، کتاب الزہد: باب قصۃ اصحاب الاخدو دوالساحروالراہب والغلام۔مسلم میں منشار کے بجائے مئشار منقول ہے۔
(۴۰) ٭ ترمذی: ابواب التفسیر: سورۃ البروج ٭ ابن جریر۔ ج ۳۰٭ ابن جریر نے علی الحق کے بعد فاقتحمت فی النار کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔
(۴۱) ابن جریر ، ج ۲۸/۳۰ جلد ۱۲۔مسلم میں منشار کے بجائے مئشار منقول ہے۔
(۴۲) تفسیر ابن کثیر۔ ج ۴۔
(۴۳) تفسیر ابن کثیر۔ ج ۴۔
(۴۴) سیرت ابن ہشام: ج ۱ ٭ اس واقعہ کو ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ج ۴ میں اور روح المعانی نے جز ۳۰ پر نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے عبداللّٰہ بن تامر نقل کیا ہے۔
(۴۵) بخاری، ج ۲،کتاب الرد علی الجہمیۃ وغیر ہم التوحید۔ باب قول اللّٰہ ویحذرکم اللّٰہ نفسہٗ وقولہ تعالیٰ اعلم مافی نفسک ولا تعلم مافی نفسی۔ ٭ مسلم۔ ج ۲، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار: باب الحث علی ذکر اللّٰہ ٭مسند احمد، ج ۲، ابوہریرہ ٭ابن ماجہ: کتاب الادب: باب فضل العمل ٭ دارمی: کتاب الرقاق، باب حسن الظن باللّٰہ۔
(۴۶) بخاری، ج۲، کتاب الرقاق ، باب من جاہد نفسہ فی طاعۃ اللّٰہ۔ ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان: باب الدلیل علی من مات علی التوحید دخل الجنۃ۔ ٭ اوربخاری نے کتاب الرد علی الجہمیۃ وغیر ہم التوحید: باب ماجاء فی دعاء النبی ﷺ امتہ الی توحید اللّٰہ الخ میں مختصراً روایت نقل کی ہے۔ یعنی عن معاذبن جبلٍ، قال: قال النبیﷺالخ ٭بخاری: کتاب الاستیذان: باب من اجاب بلبیک وسعدیک ٭ ابن ماجہ: کتاب الزہد: باب مایرجی من رحمۃ اللّٰہ یوم القیمۃ۔
(۴۷) بخاری۔ ج ۱، کتاب العلم: باب من خصّ بالعلم قوماً کے تحت منقول روایت میں صدقاً من قلبہ کا اضافہ ہے۔
(۴۸) مسلم، ج ۱،کتاب الایمان من مات علی التوحید فقد دخل الجنۃ۔
(۴۹) بخاری، ج ۲، کتاب اللباس باب الثیاب البیض۔ کتاب الاستیذان ، کتاب الرقاق اور کتاب الرد علی الجہمیۃ وغیر ہم التوحید۔٭بخاری، ج ۱،کتاب الجنائز باب ماجاء فی الجنائز عن ابی ذرّ ٭ بخاری، ج ۱ ، کتاب بدأ الخلق ، باب ذکر الملائکۃ۔٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب الدلیل علی ان من مات لایشرک باللّٰہ شیئاً دخل الجنۃ۔٭مسند احمد ج ۵، ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۱۹۔ ٭ کنزالعمال ج ۱۔
(۵۰) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان با ب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ۔
(۵۱) تفسیر ابن جریر جلد ۷۔ سورہ نحل ٭ ابن کثیر ج ۲ ٭ فتح القدیر للشوکانی ج ۳، بحوالہ ابن سعد، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی، ابن عساکر ٭ المستدرک للحاکم ج ۲، ص ۳۵۷۔
(۵۲) تفسیر ابن کثیر ج ۲، سورۂ نحل بحوالہ بیہقی۔
(۵۳) تفسیر ابن کثیر ج ۲، سورہ نحل۔
(۵۴) سیرت ابن ہشام ج ۱، المشرکون عند ابی طالب لَمَّاثقل بہ المرض یطلبون عہدًا بینہم و بین الرسول۔ ٭ ترمذی کتاب التفسیر ج ۲ سورہ صٓ ٭ ابن جریر ج ۱، پ ۲۳۔ سورہ صٓ ٭المستدرک ج ۲، کتاب التفسیر سورہ صٓ۔ ٭ مسند احمد، ج ۱ عن ابن عباس ٭ فتح القدیر للشوکانی ج ۴، بحوالہ ابن ابی شیبۃ، عبدابن حمید، نسائی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی فی الدلائل عن ابن عباس۔
(۵۵) تفسیر ابن جریر، ج ۲۲/۲۴، سورہ صٓ ٭ ابن کثیر ج ۴، سورہ صٓ
(۵۶) تفسیر ابن جریر ج ۲۲/۲۴، سورہ صٓ۔
(۵۷) ترمذی: ابواب التفسیر سورۃ صٓ ٭ ابن جریر ج ۲۲/۲۳، سورہ صٓ ٭ ابن کثیر، ج ۴، سورۃ صٓ ٭ مسند احمد، ج ۱ ٭ المستدرک للحاکم، ج ۲ کتاب التفسیر: سورہ صٓ ٭مستدرک میں تدین کے بجائے تذل کا لفظ ہے ٭ روح المعانی جلد ۲۳روح المعانی میں وتؤدّی الیہم بہا کے الفاظ ہیں۔
(۵۸) طبقات ابن سعد: ج ۱، ذکر مشی قریش الی ابی طالب فی امرہ ﷺ۔
(۵۹) تفسیر ابن جریر جز ۲۸/۳۰، پ ۲۹ سورہ نوح ٭ تفسیرکشّاف: سورہ نوح۔ ٭ ابنِ کثیر: ج ۴، سورۂ نوح۔
(۶۰) الکشّاف، پ ۲۹، سورہ نوح۔
(۶۱) بخاری، ج ۲، کشاب التفسیر: سورہ جاثیہ: باب و مایہلکنا الاالدہر ٭ بخاری، ج ۲، کتاب التوحید: باب قول اللّٰہ یرید ون ان یبدّلواکلام اللّٰہ ٭ بخاری، ج ۲، کتاب الادب: باب الا تسبوا الدہر ٭ مسلم: ج ۲،کتاب الالفاظ۔ باب النہی عن سب الدہر ٭ ابوداؤد: کتاب الادب: باب فی الرجل یسب الدہر ٭ فتح القدیر للشوکانی: ج ۵، بحوالہ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ ٭ مسند احمد ، ج ۲، ابوہریرۃ۔
(۶۲) بخاری، ج ۲، کتاب الادب: باب لآ تَسُبُّوا الدَّہر۔
(۶۳) مسند احمد، ج ۲۔
(۶۴) تفسیر ابن جریر طبری، پ ۲۵: سورۂ جاثیہ۔
(۶۵) مسند احمد ج ۲، مرویات ابی ہریرۃ۔
(۶۶) تفسیر ابن جریر طبری: پ ۲۵، سورۃ جاثیہ ٭ مسند احمد: ج ۲، ج ۵،۔
(۶۷) مؤطا امام مالک۔ ج۲: کتاب الجامع: باب مایکرہ من الکلام۔
(۶۸) موطا امام مالک۔ کتاب الصلوٰۃ: جامع الصلوٰۃ۔ ٭ مسند احمد: ج ۵، مرویات عبید اللّٰہ بن عدی بن خیار۔
(۶۹) مسند احمد: ج ۵۔
(۷۰) بخاری، ج ۲، کتاب الادب: باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل فہو کما قال ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان: باب حال من قال لافیہ المسلم یا کفر٭ ترمذی: ابواب الایمان: باب فیمن رمیٰ اخاہ بکفر٭ مؤطا امام مالک: باب مایکرہ من الکلام ج ۲۔
(۷۱) ابوداؤد: کتاب السنۃ: باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ ٭مسند احمد۔
(۷۲) بخاری، ج ۲،کتاب الادب باب ما ینہی عن السباب واللعن۔ ٭ مسند احمد: ج ۵٭بخاری کی ایک روایت میں وَمَنْ رمیٰ مُؤْمِناً بِکفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہٖ کے الفاظ بھی ہیں۔ بخاری، ۲، کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل فہو کما قال۔
(۷۳) مسلم، ج ۱،کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر۔
(۷۴) مسلم ج ۱، کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یاکافر ۔٭ ترمذی ابواب الایمان باب فیمن رمی اخاہ بکفر۔بخاری کی ایک روایت میں وَمَنْ رمیٰ مُؤْمِنًا بِکفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہٖ کے الفاظ بھی ہیں۔
(۷۵) مسلم ج۱، کتاب الایمان باب بیان حال من قال لا خیہ المسلم یاکافر۔
(۷۶) بخاری ج ۲، کتاب الادب باب ماینہی عن السباب واللعن۔ ٭ مسلم ج ۱، کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ الخ۔ ٭ مسند احمد ج ۴۔
(۷۷) ترمذی ابواب الایمان باب فیمن رمی اخاہ بکفر۔
(۷۸) بخاری، ج ۱،کتاب الایمان باب خوف المؤمن۔ ٭ بخاری، ج ۲، کتاب الادب باب ینہی عن السباب واللعن، ٭ بخاری، ج ۲، کتاب الفتن باب قول النبی ﷺ لاترجعوا بعدی کفاراً ضرب بعضکم رقاب بعض۔ ٭ مسلم ج۱، کتاب الایمان باب بیان قول النبی ﷺ سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر۔ ٭ ترمذی ابواب البر، ابواب الایمان٭ نسائی : کتاب التحریم۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب الفتن ، المقدمۃ۔ ٭ مسند احمد : ج ۱۔ مندرجہ بالا حوالہ جات کے تحت سباب المسلم (اخاہ) فسوق و قتالہ کفر قتال مسلم المومن (اخاہ) کفر و سبابہ فسق کی روایت نقل ہوئی ہے۔٭ ترمذی، ابواب الایمان باب ماجاء سباب المسلم فسوق۔
(۷۹) ابن ماجہ: ابواب الفتن باب سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر۔٭ مسند احمد بن جنبل ج ۱، عن ابن مسعود۔
(۸۰) بخاری، ج ۲، کتاب المغازی: باب بعث علی ابن ابی طالب وخالد بن الولید الی الیمن قبل حجۃ الوداع ٭مسلم، ج ۱،کتاب الزکوٰۃ: باب اعطاء المؤلفۃ الخ ٭ مسند احمد: ج ۳، روایت ابوسعید خدری۔ ٭ البدایہ النہایہ ج۵۔
(۸۱) ابن ماجہ: کتاب الفتن ح ۳۹۳ ٭ مجمع الزوائد: ج ۱، جندب بن سفیان ۔
(۸۲) مسلم: ج ۱ کتاب الایمان، باب تحریم قتل الکافر بعد قولہٖ لاالہ الا اللّٰہ ٭ابوداؤد: کتاب الجہاد: باب علی مایقاتل المشرکون۔ ابوداؤد نے فادرکت اور فطغتہ کی جگہ فلما غشینا فضربناہ حتی قاتلنا نقل کیا ہے٭ابن ماجہ: کتاب الفتن: باب الکف عمن قال لا الہ الا اللّٰہ ٭ مسند احمد: ج ۵، اسامہ بن زید: ج ۲، ٭ مسند ابی عوانہ: ج ۱۔
(۸۳) بخاری: کتاب المغازی باب … ج ۲۔ کتاب الدیات: ج ۲ ٭ مسلم ، ج ۱،کتاب الایمان: باب تحریم قتل الکافر بعد قول لا الہ الا اللّٰہ ٭ ابوداؤد: کتاب الجہاد: باب علی مایقاتل المشرکون ٭ مسند ابی حوانۃ: ج ۱۔
(۸۴) طبرانی اوسط عن ابن مسعود ٭ کنزالعمال: ج ۱،ح ۳۶۹، بحوالہ طبرانی کبیر اور حلیہ ابی نعیم عن ابن مسعود ٭ مجمع الزوائد للہیثمی ج ۱، اس میں فلیرفع ہے۔
(۸۵) ابوداؤد: کتاب الفرائض: باب ہل یرث المسلم الکافر ٭ ترمذی: ابواب الفرائض: باب ماجاء فی ابطال المیراث

خدا کے سواہر شے فانی ہے

۴۵۔ اَنْتَ الْاَوَّلُ فلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْیٌٔ۔
ترجمہ و پس منظر: یہ نبی ﷺ کی ایک دعا کے الفاظ ہیں جنھیں امام احمد ،مسلم، ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور حافظ ابویعلی موصلی نے اپنی مسند میں حضرت عائشہؓ سے نقل کیا ہے۔ ’’تو ہی پہلا ہے، کوئی تجھ سے پہلے نہیں، تو ہی آخر ہے کوئی تیرے بعد نہیں، تو ہی ظاہر ہے کوئی تجھ سے اوپر نہیں، توہی باطن ہے کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔‘‘
تشریح: یعنی جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا۔ وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے، کیوں کہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے، کیوں کہ حواس سے اس کی ذات کو محسوس کرنا تو درکنار ، عقل و فکر و خیال تک اس کی کنہہ و حقیقت کو نہیں پاسکتے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے لیے خلود اور ابدی زندگی کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے ساتھ یہ بات کیسے نبھ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر ہے، یعنی جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا؟ اس کا جواب خود قرآن ہی میں موجود ہے کہ کُلُّ شَیْ ئٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ (القصص: ۸۸) یعنی ’’ہر چیز فانی ہے اللہ کی ذات کے سوا۔ ‘‘ دوسرے الفاظ میں ذاتی بقا کسی مخلوق کے لیے نہیں ہے اگرکوئی چیز باقی ہے یا باقی رہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے باقی رکھنے ہی سے باقی ہے اور اس کے باقی رکھنے ہی سے باقی رہ سکتی ہے، ورنہ بذات خود اس کے سوا سب فانی ہیں۔ جنت اور دوزخ میں کسی کو خلود اس لیے نہیں ملے گا کہ وہ بجائے خود غیر فانی ہے، بلکہ اس لیے ملے گا کہ اللہ اس کو حیات ابدی عطا فرمائے گا۔ یہی معاملہ فرشتوں کا بھی ہے کہ وہ بذات خود غیر فانی نہیں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ وجود میں آئے اور جب تک وہ چاہے گا اسی وقت تک وہ موجود رہ سکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن: ج ۵، الحدید: حاشیہ:۳)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ سَہْلٍ، قَالَ: کَانَ اَبُو صَالحٍ یَأَمُرُنَا اِذَا اَرَادَ اَحَدُنَا اَنْ یَّنَامَ اَنْ یَضْطَجِعَ عَلیٰ شِقِّہِ الْاَیْمَنِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: اللّٰہُمَّ! رَبَّ السَّمٰوٰتِ وَرَبَّ الْاَرْضِ وَربَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْیٍٔ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّویٰ وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ۔ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ اَنْتَ اٰخذٌ بِنَا صِیَتِہٖ۔ اللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْیٌٔ اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ۔ (۱)
ترجمہ: سہل روایت بیان کرتے ہیں کہ ابوصالح ہمیں حکم دیتے تھے کہ تم میں سے جب کوئی سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر اپنی دائیں کروٹ کے بل لیٹ کر یہ دعا پڑھا کرے۔’’اے اللہ! اے ربِ ارض و سماوات، اے ربِ عرش عظیم، اے ہمارے پروردگار، اور ہر چیز کے رب ، اے گٹھلی اور دانے کے پھاڑنے والے، تورات ، انجیل اور فرقان کے نازل فرمانے والے۔ میں ہر شریر کے شر سے تیری پناہ کا طلب گارہوں۔ اس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے۔ الٰہی تو ہی اوّل ہے، تجھ سے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں۔ توہی آخر ہے،تیرے بعد کسی شے کا وجود نہیں۔ تو ظاہر ہے۔ تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے تجھ سے مخفی تر اور کوئی چیز نہیں، ہمارا قرض ادا فرمادے اور فقر و فاقہ سے ہمیں مستغنی اور بے نیاز کردے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ، حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، حَدَّثَنَا السِّرِّیُّ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَاْ مُرُ بِفِرَاشِہٖ فَیُفْرَشُ لَہٗ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ فَاِذَا اٰوٰی اِلَیْہِ تُوَسِّدُ کَفَّہُ الْیُمْنیٰ ثُمَّ ہَمَسَ مَا یُدْریٰ مَا یَقُوْلُ فَاِذَا کَانَ فِی اٰخِرِ اللَّیْلِ رَفَعَ صَوْتَہٗ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ ورَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اِلٰہَ کُلِّ شَیْیٍٔ وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّویٰ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّکُلِّ شَیْیٍٔ اَنْتَ اٰخذٌ بِنَا صِیَتِہٖ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ الَّذِیْ لَیْسَ قَبْلَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الْآخِرُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَکَ شَیْیٌٔ۔ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْیٌٔ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْیٌٔ اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ۔ (۲)
اَلسِّرِّیّ بْن اسماعیل ہذا ہوابن عم الشعبی وہو ضعیف جدّا۔ واللّٰہ اعلم۔
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا بستر لگانے کا حکم فرماتے تو آپ کا بستر قبلہ رخ لگادیا جاتا۔ جب آپ بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بطور تکیہ استعمال کرتے ( دائیں کروٹ لیٹتے اور اپنا رخسار مبارک اپنی دائیں ہتھیلی پر رکھتے) پھر آہستہ آہستہ زیر لب کچھ کہتے جس کا پتہ نہ چلتا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو بلند آواز سے یہ دعا پڑھتے۔ ’’ اے اللہ ساتوں آسمانوں کے مالک اور عرشِ عظیم کے مالک، ہر شے کے معبود حقیقی ،تو رات و انجیل اور فرقان کے نازل فرمانے والے۔ گٹھلی اور دانے کے پھاڑنے والے۔ میں تجھ سے ہر چیز کے شر سے پناہ کی استدعا کرتا ہوں۔ ہر چیز کی پیشانی تیری گرفت میں ہے۔ الٰہی ! تیری ذات گرامی ہی ہر چیز سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں اور تیری ذات بابرکات ہی سب سے آخر ہے تیرے بعدکوئی شے نہیں۔ تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور توہی باطن ہے۔ تجھ سے مخفی تر کوئی نہیں۔ ہمارا قرض ادا فرمادے اور فقر و فاقہ سے ہمیں بے نیاز و مستغنی کردے۔‘‘

ساری مخلوق کا رازق صرف اللہ ہے

۴۶۔ اللہ تعالیٰ ہر حاملہ کے پیٹ میں ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ پیدا ہونے والے کا رزق، اس کی مدت عمر اور اس کا کام لکھ دیتا ہے۔
تشریح: اردو زبان میں رزق کا اطلاق صرف کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے۔ اس غلط فہمی میں جہلا اور عوام ہی نہیں علماء تک مبتلا ہیں۔ حالاں کہ عربی زبان میں رزق محض خوراک کے معنی تک محدود نہیں ہے بلکہ عطا، بخشش اور نصیب کے معنی میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دنیا میں انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے، حتّٰی کہ اولاد تک رزق ہے۔ اسماء الرجال کی کتابوں میں بکثرت راویوں کے نام رزق اور رزیق اور رزق اللہ ملتے ہیں جس کے معنی تقریباً وہی ہیں جو اردو میں اللہ دیے کے معنی ہیں۔ مشہور دعا ہے اَللّٰہُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًا وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَہٗ، یعنی ہم پر حق واضح کر اور ہمیں اس کے اتباع کی توفیق دے۔ محاورے میں بولا جاتا ہے رُزِقَ عِلْمًا فلاں شخص کو علم دیا گیا ہے۔
(مندرجہ بالا حدیث میں) رزق سے مراد وہ خوراک ہی نہیں ہے جو اس بچے کو آئندہ ملنے والی ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے جو اسے دنیا میں دیا جائے گا۔ خود قرآن میں ہے وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ، جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس رزق کو محض دسترخوان کی سرحدوں تک محدود سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان پابندیوں اور آزادیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملہ میں لوگوں نے بطور خود اختیار کرلی ہے، سخت غلطی ہے۔ اور یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے۔ اس کی بدولت خدا کے دین کی ایک بہت بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ یہ اسی غلطی کا تو نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حلّت و حرمت اور جواز و عدم جواز کا معاملہ توایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے، لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کرلیا جائے کہ انسان خود اپنے لیے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے اور اسی بنا پر خدا اور اس کی کتاب سے بے نیاز ہو کر قانون سازی کی جانے لگے، تو عامی تو درکنار ، علمائے دین و مفتیان شرع متین اور مفسرین قرآن و شیوخ حدیث تک کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس طرح ماکولات و مشروبات میں شریعتِ الٰہی سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کے حدود بطور خود مقرر کرلینا۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس حاشیہ:۶۰)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوالْوَلِیْدِ ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: اَنْبَانِیْ سُلَیْمَانُ الْاَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ زَیْدَبْنَ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ اِنَّ خَلْقَ اَحَدِکُمْ یُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِاَرْبَعٍ بِرِزْقِہٖ وَاَجَلِہٖ وَشَقِیٌّ اَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ فَوَاللّٰہِ اَنَّ اَحَدَ کُمْ اَوِ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہَا غَیْرُ ذِرَاعٍ اَوْذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْ خُلَہَا وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَہَا غَیْرُ ذِرَاعٍ اَوْ ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَاقَالَ اَبوعَبْدِ اللّٰہِ قَالَ آدَمُ اِلَّا ذِرَاعٌ۔ (۳)
ترجمہ: عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ ہمیں صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کی نوعیت یہ ہے کہ ماں کے رحم میں چالیس روز تک نطفہ کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر چالیس روز تک جماہوا خون (علقۃ) کی صورت میں پھر چالیس روز تک لوتھڑے یعنی (مضغہ) کی صورت میں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو چار چیزوں پر مامور ہوتا ہے۔ اس کا رزق ، اس کی موت کا وقت ، اس کا بدبخت (شقی) یا خوش بخت (سعید) ہونا درج کرتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے بہ خدا تم میں سے کوئی شخص اہل نار کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس بندے اور دوزخ کے درمیان ہاتھ برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہلِ جنت کے سے عمل کرنا شروع کردیتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے کہ اس کے اور جنت کے دخول میں صرف ایک ہاتھ برابر فاصلہ باقی رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت لے جاتی ہے اور وہ اہل نار کے سے عمل شروع کردیتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔
(۲) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالکٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ وَکَّلَ اللّٰہُ بِالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ اَیْ رَبِّ نُطْفَۃً اَیْ رَبِّ عَلَقَۃً اَیْ رَبِّ مُضْغَۃً فَاِذَا اَرَاَداللّٰہُ اَنْ یَقْضیَ خَلْقَہَا قَالَ یَارَبِّ اَذَکَرٌ اَمْ اُنْثیٰ اَشَقِیٌّ اَمْ سَعِیْدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْاَجَلُ فَیَکْتُبُ کَذٰلِکَ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ۔ (۴)
امام بخاری نے ابن مسعود کی روایت کتاب الانبیاء میں بھی بیان کی ہے۔
اس مقام پر بیان کردہ روایت میں شقیٌ اوسعید کے بعد ثم ینفخ فیہ الروح کا اضافہ ہے۔ نیز اس مقام پر انس بن مالک کی روایت بھی منقول ہے۔

بندوں کی اطاعت یا معصیت سے اللہ کی بادشاہت متأثر نہیں ہوتی

یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالیٰ یَا عِبَادِیْ لَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلیٰ اَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ مِّنْکُمْ مَازَادَ ذٰلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا ۔ یَا عِبَادِیْ لَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلیٰ اَفْجَرِقَلْبِ رَجُلٍ مِّنْکُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا۔ یَا عِبَادِیْ اِنَّمَا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہَا لَکُمْ۔ ثُمَّ اُوْفِیْکُمْ اِیَّاہَا۔ فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہٗ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو، اگر اوّل سے آخر تک تم سب انس و جن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جائو تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی اضافہ نہ ہو جائے گا۔اے میرے بندو، اگر اوّل سے آخر تک تم سب انس و جن اپنے سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل جیسے ہو جائو تو میری بادشاہی میں اس سے کوئی کمی نہ ہوجائے گی۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتا ہوں، پھر ان کی پوری پوری جزا تمہیں دیتا ہوں۔ پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہوا سے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے کچھ اور نصیب ہو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
تشریح: اللہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی خدائی میں کسی کی شکر گزاری سے نہ ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ کسی کی ناشکری و احسان فراموشی سے یک سرموکوئی کمی آتی ہے۔ وہ آپ اپنے ہی بل بوتے پر خدائی کررہا ہے، بندوں کے ماننے یا نہ ماننے پر اس کی خدائی منحصر نہیں ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں ایک جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے نقل کی گئی ہے کہ اِنْ تَکْفُرُوْا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ ۔ (ابراہیم:۸) اگر تم اور ساری دنیا والے مل کر بھی کفر کریں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل: حاشیہ:۴۹)
یعنی (انسانوں کے) کفر سے اس کی خدائی میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آسکتی۔ تم مانو گے تب بھی وہ خدا ہے اور نہ مانوگے تب بھی وہ خدا ہے اور رہے گا۔ اس کی فرماں روائی اپنے زور پر چل رہی ہے ۔ تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔ (تفہیم القرآن، ج۴: الزمر : حاشیہ: ۱۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ بَھْرَامٍ الدَّارِمِیُّ، نَا مَرْوَانُ یعنی ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِیُّ، نا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْز، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِی اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِیِّ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْمَا رُوِیَ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، اَنَّہٗ قَالَ: یَا عِبَادِیْ! اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلیٰ نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تُظَالِمُوْا، یَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ ضَٓالٌّ اِلَّا مَنْ ہَدَیْتُہٗ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ اَہْدِکُمْ۔ یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ جَآئِعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہٗ، فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ۔ یَاعِبَادِیْ! کُلُّکُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ فَاسْتَکْسُوْنِیْ، اُکْسِکُمْ۔ یَا عِبَادِیْ! اِنَّکُمْ تَخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ، اَغْفِرْلَکُمْ۔ یَا عِبَادِیْ! اِنَّکُمْ لَنْ تَبَلُغُوْا ضَرِّیْ فَتَضَرُّوْنِیْ وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِیْ فَتَنْفَعُوْنِیْ۔ یَاعِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ واِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلیٰ اَتْقیٰ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ مَازَادَذَلِکَ فِی مُلْکِیْ شَیْئًا۔ یَا عِبَادِیْ! لَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلیٰ اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُلْکِیْ شَیْئًا۔ یَا عِبَادِیْ! لَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَّاحِدٍ فَسَاَلُوْنِیْ فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَسْئَلَتَہٗ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِیْ اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمَخِیْطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ۔ یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہَا لَکُمْ ثُمَّ اُوْفِیْکُمْ اِیَّاہَافَمَن وَجَدَخَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہٗ۔ (۵)
قال سعید کان ابوادریس الخَوْلَانِیُّ اِذَا حَدَّثَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ جَثَا عَلیٰ رُکْبَتَیْہِ۔
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ عزّوجل نے فرمایا: ’’اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام کردیا ہے لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گم کردہ راہ ہو اِلّا یہ کہ جس کسی کو میں راہِ ہدایت پر چلادوں۔ پس مجھ سے راہِ رشد و ہدایت طلب کرو میں تمہیں سیدھی راہ دکھائوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو بجزاس کے کہ جسے میں کھانا عطا کروں ۔ مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو اس شخص کے سوا جسے میں نے لباس پہنایا۔ مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہاری تن پوشی کروں گا۔ اے میرے بندو! تم شب و روز خطائوں کا ارتکاب کرتے ہو اور میں سارے گناہ بخش دیتا ہوں۔ مجھ سے بخشش گناہ کی استدعا کرو میں گناہ معاف کردوں گا۔ اے میرے بندو! مجھے ضرر پہنچانا تمہاری پہنچ سے باہر ہے کہ تم مجھے ضرر دے سکو اور مجھے منفعت پہنچانا بھی تمہاری بساط سے باہر ہے کہ تم مجھے نفع پہنچا سکو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! اگر اوّل سے آخر تک تم سب انس و جن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جائو تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی اضافہ نہ ہوجائے گا۔ اے میرے بندو! اگر اوّل سے آخر تک تم سب انس اور جن اپنے سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل جیسے ہو جائو تو میری بادشاہی میں اس سے کوئی کمی نہ ہوجائے گی۔ اے میرے بندو! اگر اوّل سے آخر تک تم انس و جن سب کے سب ایک ہی میدان میں جمع ہو کر اپنی اپنی خواہش کے مطابق مجھ سے مانگو اور میں ہر ایک کو اس کی خواہش کے مطابق اس کی طلب عطا کردوں تو اس سے میرے پاس موجود (خزانوں) میں اتنی بھی کمی واقع نہیں ہوگی جتنی کمی ایک سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر میں واقع ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتا ہوں، پھر ان کی پوری پوری جزا تمہیں دیتا ہوں۔ پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہو اسے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے کچھ اور نصیب ہو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
(۲) حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ، نَا اَبُوالْاَحْوَصِ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ شَہْرِبْنِ حَوْشِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ غَنَمٍ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ : یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ ضَآلٌّ اِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ فَسَلُوْنِیْ الْہُدٰی، اَہْدِکُمْ۔ وَکُلُّکُمْ فَقِیْرٌ اِلَّامَنْ اَغْنَیْتُ فَسَلُوْنِیْ ۔اَرْزُقْکُمْ: وَکُلُّکُمْ مُذْنِبٌ اِلَّا مَنْ عَافَیْتُ فَمَنْ عَلِمَ مِنْکُمْ اِنِّیْ ذُوْقُدْرَۃٍ عَلَی الْمَغْفِرَۃِ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ غَفَرْتُ لَہٗ وَلَا اُبَالِیْ، وَلَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَحَیَّکُم ومَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَیَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا عَلیٰ اَتْقیٰ قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِیْ مَازَادَذٰلِکَ فِیْ مُلْکِیْ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ وَلَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَحَیَّکُمْ وَمَیِّتَکُمْ وَرَطْبَکُمْ وَیَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا عَلیٰ اَشْقیٰ قَلْبِ عَبْدٍ مِّنْ عِبَادِیْ مَانَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُّلْکِیْ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ۔ وَلَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وجِنَّکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَحَیّکُمْ وَمَیِّتَکُمْ وَرَطْبَکُمْ ویَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَّاحِدٍ فَسَأَلَ کُلُّ اِنْسَانٍ مِّنْکُمْ مَا بَلَغَتْ اُمْنِیَّتُہٗ فَاَعْطَیْتُ کُلَّ سَآئِلٍ مِّنْکُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُّلْکِیْ اِلَّا کَمَا لَوْاَنَّ اَحَدَکُمْ مُرَّبِالْبَحْرِ فَغَمَسَ فِیْہِ اِبْرَۃً ثُمَّ رَفَعَہَا اِلَیْہِ ذٰلِکَ بِاَنِّیْ جَوَّادٌ وَاجِدٌ مَا جِدٌ اَفْعَلُ مَا اُرِیْدُ عَطَائِیْ کَلَامٌ وَعَذَابِیْ کَلَامٌ اِنَّمَا اَمْرِیْ لِشَیْیٍٔ اِذَا اَرَدْتُّ اَنْ اَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ (۶)
ہذا حدیث حسن، وروی بعضہم ہذا الحدیث عن شہربن حوشب، عن معدیکرب، عن ابی ذر، عن النبی ﷺ نحوہ۔
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔’’اے میرے بندو! تم سب گم کردہ راہ ہو ، بجز اس کے جسے میں ہدایت سے نوازدوں۔ پس مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں راہ راست دکھائوں گا۔ اور تم سب فقیر و محتاج ہو اس شخص کے سوا جسے میں غنی بنادوں۔ مجھ سے رزق مانگو، میں تمہیں رزق عطا کروں گا۔ تم سبھی گنہہ گار ہو، اس شخص کے علاوہ جسے میں بچالوں۔تم میں سے جسے یہ علم ہے کہ میں بخشش و مغفرت کی قدرت کا مالک ہوں وہ مجھ سے معافی اور بخشش مانگے میں اسے معاف کردوں گا اور مجھے اس کی قطعاً پروا نہیں۔ اور اگر تم سب جن و انس اوّل سے آخر تک ، زندہ و مردہ، تر اور خشک ،میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائو تو میری بادشاہی میں مچھر کے پر جتنا بھی اضافہ نہ ہوجائے گا اور اگر تمہارے اوّل آخر ، زندہ و مردہ، تر و خشک ، میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل جیسے ہو جائو تو بھی میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر کمی واقع نہیں ہوگی۔ اور اگر اوّل تا آخر ، زندہ و مردہ ، رطب ویابس، تمام جن و انس ایک صاف میدان میں جمع ہوجائو اور ہر انسان اپنی انتہائی خواہش اور تمنا کے مطابق مجھ سے اپنی ضرورت طلب کرے اور میں ہر سائل کی ہر خواہش پوری کردوں تو بھی اس سے تو میری بادشاہی میں اتنی کمی بھی واقع نہ ہوگی جیسے سمندر میں سوئی ڈبو کر باہر نکالنے سے سمندر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ کیونکہ میں سخی ہوں، جوّاد ہوں،ماجد ہوں، واجد ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا عطا کرنا بھی میرے کلام پر موقوف ہے اور میرا عذاب بھی میرے کلام پر، جب مجھے کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو اسے صرف کن (ہوجا) کہتا ہوں اور وہ ہوجاتا ہے۔‘‘
حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَعَبْدُ الصَّمَدِ المعنی، قَالَا: ثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: ثنا قَتَادَۃُ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ اَبِی اَسْمَائَ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الرَّحْبِیُّ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّعَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْمَا یَرْوِیْ عَنْ رَّبِّہٖ عَزَّوَجَلَّ: اِنِّیْ حَرَّمْتُ عَلیٰ نَفْسِی الظُّلْمَ وَعَلیٰ عِبَادِیْ۔ اَلَا! فَلَا تُظَالِمُوْا کُلُّ بَنِیْ آدَمَ یُخْطِیْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِثُمَّ یَستَغْفِرُنِیْ فَاَغْفِرُلَہٗ وَلَا اُبَالِیْ۔ وَقَالَ: یَا بَنِیْ آدَمَ! کُلُّکُمْ کَانَ ضَآلًّا اِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا اِلَّا مَنْ کَسَوْتُ وَکُلُّکُمْ کَانَ جَآئِعًا اِلّامَنْ اَطْعَمْتُ وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآناًاِلَّا مَنْ سَقَیْتُ فَاسْتَہْدُوْنِیْ اَہْدِکُمْ وَاسْتَکْسُوْنِیْ اُکْسِکُمْ وَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ وَاسْتَسْقُوْنِیْ اُسْقِکُمْ۔ یَا عِبَادِیْ! لَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَجِنَّکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَصَغِیْرَکُمْ وَکَبِیرَکُمْ وَذَکَرَکُمْ واُنْثَاکُمْ۔ قَال عبدالصّمد وعُسِیَّکُمْ وبَنِیَّکُمْ عَلیٰ قَلْبِ اَتْقَاکُمْ رَجُلًا وَاحِدًا لَمْ تَزِیْدُوْا فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا، وَلَوْاَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَجِنَّکُمْ وَاِنسَکُمْ وَصَغِیْرَکُمْ وَکَبِیْرَکُمْ وَذَکَرَکُمْ وَاُنْثَاکُمْ عَلیٰ قَلْبِ اَکْفَرِکُمْ رَجُلًا لَمْ تَنْقُصُوْا مِنْ مُلْکِیْ شَیْئًا اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأَسُ الْمَخِیْطِ مِنَ الْبَحْرِ۔ (۷)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ نبی ﷺ سے ایک حدیث قدسی بیان کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’میں نے اپنے اوپر اوراپنے بندوں پر ظلم کو حرام قرار دے دیاہے۔ خبردار! آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ ساری اولادِ آدم شب و روز خطائوں کا ارتکاب کرتی ہے، پھر مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ پھر فرمایا۔ اے اولادِ آدم! تم سب گم کردہ راہ ہو بجز اس کے جسے میں راہِ ہدایت دکھائوں اور تم سب بے لباس ہو ماسوا اس کے جسے میں لباس عنایت کردوں، اور تم تمام کے تمام بھوکے ہو مگر جسے میں کھانا عطا کردوں، اور تم سب پیاسے ہو مگر جسے میں سیراب کردوں۔ لہٰذا مجھ سے راہِ ہدایت طلب کرو میں سیدھی راہ دکھائوں گا، مجھ سے لباس مانگو میں لباس دوں گا، مجھ سے کھانا طلب کرو میں کھانا دو ںگا، مجھ سے پانی مانگو میں پانی پلائوں گا۔ اے میرے بندو! اگر اوّل سے آخر تک تم سب جن و انس، چھوٹے بڑے ، مرد، عورت، کہا عبدالصمد نے ، اور تمہارے بوڑھے اور بچے اپنے میں سب سے متقی شخص کے دل جیسے ہوجائو تو میری بادشاہی میں ذرہ برابر اضافہ نہ ہوگا۔اور اگر اوّل سے آخر تک تمہارے سب جن و انس چھوٹے بڑے مذکر مونث اپنے میں سب سے زیادہ کافر کے دل جیسے ہوجائو تو میری بادشاہی میں اتنی کمی بھی واقع نہ ہوگی جتنی سمندر میں سوئی ڈبونے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے۔‘‘

تخلیقِ کائنات دلیلِ خالقِ کائنات

(حضرت قتادہؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلیٰ اَنْ یُحْیِیَ المَوْتیٰ کی تفسیر منقول ہے کہ) رسول اللہ ﷺ جب (سورہ قیامہ کی آخری آیت یعنی (اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلیٰ اَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتیٰ )’’کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے۔‘‘ تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کبھی (بلی، کیوں نہیں)کبھی سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ فَبَلیٰ،پاک ہے تیری ذات ، خداوندا ! کیوں نہیں) اور کبھی (سُبْحٰنَکَ فَبَلیٰ یا سُبْحَانَکَ وَبَلیٰ ) فرمایا کرتے تھے۔ (ابن جریر، ابن حاتم، ابوداؤد) (تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ حاشیہ:۲۵)
تخریج: قَالَ ابنُ جَرِیْرٍ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا یَزیْدُ، حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلِہٖ تعالیٰ۔ ’’اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلیٰ اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتیٰ۔‘‘ ذَکَرَ لَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا قَرَأَہَا قَالَ: سُبْحَانَکَ وَبَلیٰ۔ (۸)
فتح القدیر للشوکانی ج ۵ بہ حوالہ عبد بن حمید اور ابن الانباری عن صالح سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبَلیٰ اور ابن مردویہ نے براء بن عازب کے حوالے سے سُبْحَانَکَ رَبِّی وَبلیٰ بھی نقل کیا ہے۔
ابن ابی حاتم نے سُبْحَانَکَ فَبَلیٰ بھی نقل کیا ہے۔
۲- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا جب تم سورہ ’’تِین‘‘ میں آیت اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیںہے؟) پڑھو تو کہو بَلیٰ وَاَنَا عَلیٰ ذٰلِکَ مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (کیوں نہیں، میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں) اور جب سورہ قیامہ کی یہ آیت (اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلیٰٓ اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتیٰ) ’’کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے؟‘‘ پڑھو تو کہو بَلیٰ ۔ اور جب سورۂ مرسلات کی آیت فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ ’’ اس قرآن کے بعد یہ لوگ اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟‘‘ پڑھو تو کہو اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ہم اللہ پر ایمان لائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِنِ الزُّہْرِیُّ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اُمَیَّۃَ، سَمِعْتُ اَعْرَابِیًّا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ قَرَئَ مِنْکُمْ وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ، فَانْتَہیٰ اِلیٰ آٰخِرِہَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ؟ فَلْیَقُلْ بَلیٰ وَاَنَا عَلیٰ ذٰلِکَ مِنَ الشَّاہِدِیْنَ۔ وَمَنْ قَرَئَ لَا اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ، فَانْتَہیٰ اِلیٰ قَوْلِہٖ اَلَیسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلیٰ اَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتیٰ فَلْیَقُلْ بَلیٰ۔ وَمَنْ قَرَئَ و الْمُرْسَلَاتِ فَبَلَغَ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ یُؤْ مِنُوْنَ؟ فَلْیَقُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ۔ (۹)
(اسی مضمون کی روایت امام احمد، ترمذی، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی اور حاکم نے بھی نقل کی ہیں)
تشریح: مندرجہ بالا احادیث میں حضوؐر نے مسلمانوں کو قرآن کریم کی چند آیات کا جواب دینے کی تلقین کی ہے۔ گویا کہ ان کو صرف دل سے سمجھ لینا کافی نہیں بلکہ زبان سے صاف طور پر ان کا جواب دینا چاہیے کیونکہ تخلیق آدم، حیات بعد الموت اور خدا کی وحدانیت کے بارے میں اقوام نے ہمیشہ دھوکا کھایا ہے۔ حالانکہ ہر ذی شعور انسان فوراً ان باتوں کو سمجھ سکتا ہے۔

انسان کا تخلیقی مادہ

(غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے انسان کی حقیقت کیا ہے) انسان کا مایۂ تخلیق اس کے سوا کیا ہے کہ چندبے جان مادے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں، مثلاً کچھ کاربن، کچھ کیلشیم ، کچھ سوڈیم اورایسے ہی چند اور عناصر۔ انہی کو ترکیب دے کر وہ حیرت انگیز ہستی بناکھڑی کی گئی ہے جس کا نام انسان ہے اوراس کے اندر احساسات، جذبات ، شعور، تعقل اور تخیل کی وہ عجیب قوتیں پیدا کردی گئی ہیں جن میں سے کسی کا منبع بھی اس کے عناصر ترکیبی میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہی نہیں کہ ایک انسان اتفاقاً ایسا بن کھڑاہوا ہو، بلکہ اس کے اندر وہ عجیب تولیدی قوت بھی پیدا کردی گئی ہے جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحتیں لیے ہوئے بے شمار موروثی اور بے حدوحساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں۔ کیا (تمہاری) عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ یہ انتہائی حکیمانہ خلقت کسی صانع حکیم کی تخلیق کے بغیر آپ سے آپ ہوگئی ہے؟ کیا تم بحالت ہوش و حواس یہ کہہ سکتے ہو کہ تخلیق انسان جیسا عظیم الشان منصوبہ بنانا اور اس کو عمل میں لانا اور زمین و آسمان کی بے حدوحساب قوتوں کو انسانی زندگی کے لیے سازگار کردینا بہت سے خدائوں کی فکر و تدبیر کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟ اور کیا تمہارا دماغ اپنی صحیح حالت میں ہوتا ہے جب تم یہ گمان کرتے ہو کہ جو خدا انسان کو خالص عدم سے وجود میں لایا ہے وہ اسی انسان کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا؟

خالق کا کمالِ حکمت

(پھر) خالق کا کمالِ حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی، بلکہ اسے دو صنفوں (Sexes) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں جن کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت مختلف ذہنی و نفسی اوصاف اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے۔ ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں۔ مزید برآں وہ خالق حکیم ان دونوں صنفوں کے افراد کو آغاز آفرینش سے برابر اس تناسب کے ساتھ پیدا کیے چلا جارہا ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطۂ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں، یا کہیں کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہے۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اس معاملہ میں اثر انداز ہوسکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنانہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا ہوتے رہیں جو ایک دوسرے کا ٹھیک جوڑ ہوں، اور نہ اس معاملہ میں اس کے پاس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے۔ ہزار ہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقاً بھی نہیں ہوسکتا، اور یہ بہت سے خدائوں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ چیز صریحاً اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ایک خالق حکیم اور ایک ہی خالقِ حکیم نے اپنی غالب حکمت و قدرت سے ابتداء ً مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بے حدوحساب مرد اور بے حدوحساب عورتیں اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوں۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الروم، حاشیہ:۲۸)
اللہ کی بادشاہی کے مطلق (Absolute) ہونے کا ایک کھلا ہوا ثبوت (یہ) ہے کہ کوئی انسان خواہ وہ بڑے سے بڑے دنیوی اقتدار کا مالک بناپھرتا ہو، یا روحانی اقتدار کا مالک سمجھا جاتا ہو، کبھی اس پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ دوسروں کو دلوانا تو درکنار ، خود اپنے ہاں اپنی خواہش کے مطابق اولاد پیدا کرسکے۔ جسے خدانے بانجھ کردیا وہ کسی دوا اور کسی علاج اور کسی تعویذ گنڈے سے اولاد والا نہ بن سکا۔ جسے خدا نے لڑکیاں ہی لڑکیاں دیں وہ ایک بیٹابھی کسی تدبیر سے حاصل نہ کرسکا اور جسے خدا نے لڑکے ہی لڑکے دیے وہ ایک بیٹی بھی کسی طرح نہ پاسکا۔ اس معاملہ میں ہر ایک قطعی بے بس رہا ہے، بلکہ بچے کی پیدائش سے پہلے کوئی یہ تک نہ معلوم کرسکا کہ رحم مادر میں لڑکا پرورش پارہا ہے یا لڑکی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی خدا کی خدائی میں مختارِکل ہونے کا زعم کرے، یا کسی دوسری ہستی کو اختیارات میں دخیل سمجھے تو یہ اس کی اپنی ہی بے بصیرتی ہے جس کا خمیازہ وہ خود بھگتے گا۔ کسی کے اپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنے سے حقیقت میں ذرہ برابربھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ:۷۷)

حیات بعد موت کا امکان

حیات بعد موت کے امکان کے سلسلے میں انسان کی تخلیق سب سے بڑی دلیل ہے۔ (چنانچہ) جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق کا آغاز کرکے پورا انسان بنا دینے تک کا پورا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور حکمت کا کرشمہ ہے۔ ان کے لیے توفی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی برتیں، ان کی عقل یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجود میں لے آنے پر قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ اگر ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان کے پاس اس بات کی کیا توجیہہ ہے کہ آغاز آفرینش سے آج تک دنیا کے ہر حصے اور ہر قوم میں کس طرح ایک ہی نوعیت کے تخلیقی فعل کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش مسلسل اس تناسب سے ہوتی چلی جارہی ہے کہ کہیں زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی انسانی آبادی میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہی پیدا ہوتی چلی جائیں اور آئندہ اس کی نسل چلنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے؟ کیا یہ بھی اتفاقاً ہی ہوئے چلا جارہا ہے؟ اتنا بڑا دعویٰ کرنے کے لیے آدمی کو کم از کم اتنا بے شرم ہوجانا چاہیے کہ وہ اٹھ کر بے تکلّف ایک روز یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ لندن اور نیویارک ، ماسکو اور پیکنگ اتفاقاً آپ سے آپ بن گئے ہیں۔

ناقابلِ توجیہ حوادثِ حیات اور خالقِ کائنات

ایک معترض کے جواب میں:
(ناقابل توجیہہ حوادث حیات پر غور کرتے وقت) آپ پہلے کُل کے متعلق سوچیے کہ آیا یہ بغیر کسی خالق اور ناظم اور مدبّر کے موجود ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اگر خلقِ بے خالق اور نظم بے ناظم کے وجود پر آپ کا قلب مطمئن ہوجاتا ہے تو باقی سب سوالات غیر ضروری ہیں، کیونکہ جس طرح سب کچھ الل ٹپ بن گیا اسی طرح سب کچھ الل ٹپ چل بھی رہا ہے۔ اس میں کسی حکمت، مصلحت اور رحمت و ربوبیت کا کیا سوال؟ لیکن اگر اس چیز پر آپ کا دل مطمئن نہیں ہوتا تو پھر کُل کے جتنے پہلو بھی آپ کے سامنے ہیں؟ ان سب پر بحیثیت مجموعی غور کرکے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ ان اشیاء کی پیدائش ، ان کا وجود، ان کے حالات اور ان کے اوصاف میں ان کے خالق و مدبّر کی کن صفات کے آثار و شواہد نظر آتے ہیں۔ کیا وہ غیر حکیم ہوسکتا ہے؟ کیا وہ بے علم اور بے خبر ہوسکتا ہے؟ کیا وہ بے مصلحت اور بے مقصد اندھا دھند کام کرنے والا ہوسکتا ہے؟ کیا وہ بے رحم اورظالم اور تخریب پسند ہوسکتا ہے؟ اس کے کام اس بات کی شہادت ہیں کہ وہ بنانے والا ہے یا اس بات کی کہ وہ بگاڑنے والا ہے؟ اس کی بنائی ہوئی کائنات میں صلاح اور خیر اور تعمیر کا پہلو غالب ہے یا فساد اور شراور خرابی کا پہلو؟ ان امور پر کسی سے پوچھنے کے بجائے آپ خود ہی غور کیجیے اور خود رائے قائم کیجیے۔ اگر بحیثیت مجموعی اپنے مشاہدے میں آنے والے آثار و احوال کو دیکھ کر آپ یہ محسوس کرلیں کہ وہ حکیم و خبیر ہے، مصلحت کے لیے کام کرنے والا ہے اور اس کے کام میں اصل تعمیر ہے نہ کہ تخریب ، تو آپ کو اس بات کا جواب خود ہی مل جائے گا کہ اس نظام میں جن جزو آثار و احوال کو دیکھ کر آپ پریشان ہورہے ہیں وہ یہاں کیوں پائے جاتے ہیں۔ ساری کائنات کو جو حکمت چلارہی ہے اس کے کام میں اگر کہیں تخریب کے پہلو پائے جاتے ہیں تو لامحالہ وہ ناگزیر ہی ہونے چاہئیں۔ یہ تخریب تعمیر ہی کے لیے مطلوب ہونی چاہیے۔ یہ جزوی فساد کلی صلاح ہی کے لیے مطلوب ہونا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ ہم اس کی ساری مصلحتوں کو کیوں نہیں سمجھتے تو بہر حال یہ واقعہ ہے کہ ہم اُن کو نہیں سمجھتے۔ یہ بات نہ میرے بس میں ہے اور نہ آپ کے بس میں کہ اس امر واقعی کو بدل ڈالیں۔ اب کیا محض اس لیے کہ ہم ان کونہیں سمجھتے یا نہیں سمجھ سکتے، ہم پر یہ جھنجھلاہٹ طاری ہوجانی چاہیے کہ ہم حکیم و خبیر کے وجود ہی کا انکار کردیں؟ یہ استدلال کہ ’’ یا تو ہر جزوی حادثے کی مصلحت ہماری سمجھ میں آئے یا پھر اس کے متعلق کوئی سوال ہمارے ذہن میں پیدا ہی نہ ہو، ورنہ ہم ضرور اسے خالق کی پالیسی میں جھول قرار دیں گے، کیونکہ اس نے ہمیں سوال کرنے کے قابل تو بنادیا لیکن جواب معلوم کرنے کے ذرائع عطا نہیں کیے۔‘‘ میرے نزدیک استدلال کی بہ نسبت جھنجھلاہٹ کی شان زیادہ رکھتا ہے۔ گویا آپ خالق کو اس بات کی سزا دینا چاہتے ہیں کہ اس نے آپ کو ہر سوال کا جواب پالینے کے قابل کیوں نہ بنایا، اور وہ سزا یہ ہے کہ آپ اسے اس بات کا الزام دے دیں گے کہ تیری پالیسی میں جھول ہے۔ اچھا یہ سزا آپ اس کو دے دیں۔ اب مجھے بتائیے کہ اس سے آپ کو کس نوعیت کا اطمینان حاصل ہوا؟ کس مسئلہ کو آپ نے حل کر لیا؟ اس جھنجھلاہٹ کو اگر آپ چھوڑ دیں تو بہ آسانی اپنے استدلال کی کمزوری محسوس کرلیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال کرنے کے لیے جس قابلیت کی ضرورت ہے، جواب دینے یا جواب پانے کے لیے وہ قابلیت کافی نہیں ہوتی۔ خالق نے سوچنے کی صلاحیت تو آپ کو اس لیے دی ہے کہ اس نے آپ کو ’’انسان‘‘ بنایا ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے جو مقام آپ کو دیا گیا ہے اس کے لیے یہ صلاحیت آپ کو عطا کرنا ضروری تھا۔ مگر اس صلاحیت کی بنا پر جتنے سوالات کرنے کی قدرت آپ کو حاصل ہے ، ان سب کا جواب پانے کی قدرت عطا کرنا اس خدمت کے لیے ضروری نہیں ہے، جو مقام انسانیت پر رہتے ہوئے آپ کو انجام دینی ہے۔ آپ اس مقام پر بیٹھے بیٹھے ہر سوال کرسکتے ہیں لیکن بہت سے سوالات ایسے ہیں جن کا جواب آپ اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ مقام انسانیت سے اٹھ کر مقام الوہیت پر نہ پہنچ جائیں اور یہ مقام بہر حال آپ کو نہیں مل سکتا۔ سوال کرنے کی صلاحیت آپ سے سلب نہیں ہوگی کیونکہ آپ انسان بنائے گئے ہیں۔ پتھر یا درخت یا حیوان نہیں بنائے گئے ہیں۔ مگر ہر سوال کا جواب پانے کے ذرائع آپ کو نہیںملیں گے، کیونکہ آپ انسان ہیں خدا نہیں ہیں۔ اسے اگر آپ خالق کی پالیسی میں ’’جھول‘‘ قرار دینا چاہیں تو دے لیجیے۔

توبہ کرنے والا اللہ کو بہت پیارا لگتا ہے

حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے تمثیلاً فرمایا) کہ اگر تم میں سے کسی شخص کا اونٹ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں کھو یا گیا ہو اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اونٹ پر ہو اور وہ شخص اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مایوس ہوچکا ہو یہاں تک کہ زندگی سے بے آس ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا ہو، اور عین اس حالت میں یکایک وہ دیکھے کہ اس کا اونٹ سامنے کھڑا ہے ، تو اس وقت جیسی کچھ خوشی اس کو ہوگی، اس سے بہت زیادہ خوشی اللہ کو اپنے بھٹکے ہوئے بندے کے پلٹ آنے سے ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن :ج ۲، ہود :حاشیہ: ۱۰۱)
تخریج : (۱) حَدَّثَنَامُحَمَّدُبْنُ الصَبَّاحِ وَزُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا جَمِیْعًا: نَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ، نَاعِکْرَمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ، نَا اِسْحَاقُ بْنُ اَبِیْ طَلْحَۃَ،نَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَہُوَ عَمُّہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ عَلیٰ رَاحِلَتِہٖ بِاَرْضٍ فُلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَاَیِسَ مِنْہَا فَاَتیٰ شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّہَا قَدْاَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ فَبَیْنَا ہُوَ کَذٰلِکَ اِذْہُوَ بِہَا قَائِمَۃٌ عِنْدَہٗ فَاَخَذَ بِخِطَامِہَا، ثُمَّ قَالَ مِنَ شِدَّۃِ الْفَرَحِ: اَللّٰہُمَّ! اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ اَخْطَأَمِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ۔ (۱۰)
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ واللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا، وَقَال عُثْمَانُ: نَا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُوَیْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَبْدِ اللّٰہِ اَعُوْدُ ہٗ وَہُوَ مَرِیْضٌ فَحَدَّثَنَا بِحَدِیْثَیْنِ، حَدِیْثًا عَنْ نَفْسِہٖ وَحَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: للّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ المُؤْمِنِ مِنْ رَّجُلٍ فِیْ اَرْضٍ دَوِّیَّۃٍ مَہْلَکَۃٍ مَعَہٗ رَاحِلَتُہٗ عَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَنَامَ فَاسْتَیْقَظَ وَقَدْذَہَبَتْ فَطَلَبَہَا حَتّٰی اَدْرَکَہُ الْعَطَشُ، ثُمَّ قَالَ اَرْجِعُ اِلیٰ مَکَانِی الَّذِیْ کُنْتُ فِیْہِ، فَاَنامُ حَتّٰی اَمُوْتَ فَوَضَعَ رَأَسَہٗ عَلیٰ سَاعِدِہٖ لِیَمُوْتَ فَاسْتَیْقَظَ وَعِنْدَہٗ رَاحِلَتُہٗ وَعَلَیْہَا زَادُہٗ وَ طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَاللّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوبَۃِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ ہٰذَا بِرَاحِلَتِہٖ وَزَادِہٖ۔ (۱۱)
ترجمہ: حضرت حارث ؓبن سوید کہتے ہیں کہ عبداللہ بیمار تھے میں ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس گیا ۔ انھوں نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں ۔ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک، انھوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا فرماتے تھے۔ ’’ایک بندۂ مومن کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کو اس سے کہیں زیادہ مسرت اور خوشی ہوتی ہے جتنی خوشی اس شخص کو ہوتی ہے جو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں بھٹک گیا ہو، اس کا زاد راہ اور اس کے خوردونوش کا سامان اس کی اونٹنی پر ہو اور وہ خود سو گیا ہو تو اس کی اونٹنی چلی گئی ہو۔ اس نے اونٹنی کو بہت تلاش کیا ہواور اسی اثناء میں اسے شدت کی پیاس لگ گئی ہو۔ بالآخر وہ مایوس ہو کر یہ فیصلہ کرے کہ میں اسی جگہ جہاں پہلے سویا تھا جاکر دوبارہ سوجاتا ہوں تاکہ میں مرجائوں ۔ اس خیال سے وہ اپنی کلائی پر سررکھ کر سوجاتا ہے۔ اچانک بیدار ہوتا ہے تو اس کی اونٹنی اس کے پاس کھڑی ہوتی ہے۔ زادراہ ، سامان طعام و شراب سب کچھ اسی طرح پالیتا ہے تو اس وقت جیسی خوشی اس کو ہوگی اس سے کہیں زیادہ خوشی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندۂ مومن کے اس کی جناب میں پلٹ آنے سے ہوتی ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ، نَا اَبِی ، نا اَبُوْیُوْنُسَ عَنْ سِمَاکٍ، قَالَ: خَطَبَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیْرٍ، فَقَالَ: لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ رَجُلٍ حَمَلَ زَادَہٗ ومَزَادَہٗ عَلیٰ بَعِیْرٍ، ثُمَّ سَارَ حَتّٰی کَانَ بِفُلَاۃٍ مِنَ الْاَرْضِ فَاَدْرَکَتْہُ الْقَائِلَۃُ فَنَزَلَ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہٗ وَانْسَلَّ بَعِیْرُہٗ، فَاسْتَیْقَطَ فَسَعیٰ شَرَفًا فَلَمْ یَرَشَیْئًا، ثُمَّ سَعیٰ شَرَفًا ثَانِیًا فَلَمْ یَرَشَیْئًا، ثُمَّ سَعیٰ شَرَفًا ثَالِثًا فَلَمْ یَرَشَیْئًا، فَاَقْبَلَ حَتّٰی اَتی مَکَانَہ الَّذِیْ قَالَ فِیْہِ فَبَیْنَمَا ہُوَ قَاعِدٌ اِذَا جَائَ ہٗ بَعِیْرُہٗ یَمْشِیْ حَتّٰی وَضَعَ خِطَامَہٗ فِی یَدِہٖ فَلَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ الْعَبْدِ مِنْ ہٰذَا حِیْنَ وَجَدَ بَعِیْرَہٗ عَلیٰ حَالِہٖ۔ (۱۲)
ترجمہ: نعمان بن بشیر نے خطبہ میں فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو اپنا سامان خوردونوش اور زاد راہ اونٹ پر لاد کر کسی بے آب و گیاہ زمین میں پہنچ گیا ہو۔ وہاں نیند نے غلبہ کیا ہو۔ چنانچہ وہ قیلولہ کے لیے ایک درخت کے سایہ میں سستانے لیٹ گیا ہو اور اس پر نیند غالب آگئی ہو۔اس دوران میں اس کا اونٹ بھاگ گیا ہو ۔ جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اونٹ غائب ہے۔ ادھر بھاگتا ہے ادھر بھاگتا ہے۔ ٹیلوں پر چڑھ کر ہر طرف نظر دوڑاتا ہے مگر اونٹ کہیں نظر نہیں آتا ۔ مایوس ہو کر اسی جگہ جہاں قیلولہ کیا تھا آکر بیٹھ جاتا ہے۔ اسی پریشانی میں بیٹھا ہے کہ اچانک اونٹ ایک طرف سے چلتا ہوا آجاتا ہے اور وہ اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اپنے اونٹ کو صحیح حالت میں پانے کی وجہ سے جو مسرت اور خوشی اس بندے کو ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ خوشی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے ہوتی ہے۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ وَجَعْفَرُ بْنُ حُمیْدٍ، قَالَ جَعْفَرٌ: نا، وقَالَ یَحْیٰ: انا عُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنُ اِیَادٍ عَنْ اِیَادٍ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ تَقُوْ لُوْنَ بِفَرَحِ رَجُلٍ اِنْفَلَتَتْ مِنْہُ رَاحِلَتُہٗ تَجُرُّزِمَا مَہَا بِاَرْضٍ قَفْرٍ لَیْسَ بِہَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ وَعَلَیْہَا لَہٗ طَعَامٌ وَشَرَابٌ فَطَلَبَہَا حَتّٰی شَقَّ عَلَیْہِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجَذْلِ شَجَرَۃٍ فَتَعَلَّقَ زِمَا مُہَا فَوَجَدَہَا مُتَعَلِّقَۃً بِہٖ قُلْنَا شَدِیْدًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَمَا وَاللّٰہِ لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوبَۃِ عَبْدِہٖ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِہٖ۔ (۱۳)
ترجمہ: حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ تم اس شخص کی خوشی کے متعلق کیا کہتے ہوجس کی سواری (اونٹنی) کسی بنجر بے آباد زمین میں اپنی نکیل گھسیٹتی ہوئی نکل گئی ہو جہاں نہ کھانے کی کوئی چیز دستیاب ہو اور نہ پینے کی۔ اس کا خوردونوش کا سارا سامان اس پر لدا ہو۔ اور وہ اس کی تلاش کرکے تکان سے نڈھال ہوگیا ہو۔ پھر وہ اونٹنی ایک ٹھنٹھ (بے شاخ کے درخت کا تنہ )کے پاس سے گزری ہو اور اس کی نکیل اس میں پھنس گئی ہو اور اس نے اسے وہاں پالیا ہو‘‘، صحابہ نے عرض کیا۔ حضوؐر والا اسے توبے انتہا خوشی ہوگی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’خدا کی قسم اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔‘‘
(۵) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَلّٰہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ رَجُلٍ اَضَلَّ رَاحِلَتَہٗ بِفُلَاۃٍ مِنَ الْاَرْضِ فَالْتَمَسَہَا حَتّٰی اِذَا اَعْیٰ تَسَجَّی بثَوْبِہٖ فَبَیْنَا ہُوَ کَذٰلِکَ اِذْسَمِعَ وَجْبَۃَ الرَّاحِلَۃِ حَیْثُ فَقَدَہَا فَکَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْہِہٖ فَاِذَا ہُوَ بِرَاحِلَتِہٖ۔ (۱۴)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کے اس کی جناب میں پلٹ آنے سے جو مسرت اور خوشی حاصل ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو اس شخص کو ہوتی ہے جو بے آب و گیاہ علاقے میں اپنی سواری گم کر بیٹھے اور تلاش کرکے درماندہ ہوگیا ہو اور مایوس ہو کر چہرے پر کپڑا لپیٹ کر بیٹھ رہا ہو۔ اسی اثناء میں اچانک وہ اپنی سواری کی آواز اسی جگہ سنتاہے جہاں سے گم ہوئی تھی کپڑا چہرے سے ہٹا کر دیکھتا ہے تو گم شدہ سواری اس کے پاس کھڑی ہے۔‘‘

خالق کو اپنی مخلوق کتنی محبوب ہے

(حضوؐر نے فرمایا) اَللّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہٖ مِنْ ہٰذِہٖ بِوَلَدِہَا۔
دوسری مثال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ جنگی قیدی گرفتار ہو کر آئے۔ ان میں ایک عورت بھی تھی جس کا شیرخوار بچہ چھوٹ گیا تھا اور وہ مامتا کی ماری ایسی بے چین تھی کہ جس بچے کو پالیتی اسے چھاتی سے چمٹا کر دودھ پلانے لگتی تھی۔ نبی ﷺ نے اس کا حال دیکھ کر ہم لوگوں سے پوچھا کیا تم لوگ یہ توقع کرسکتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے کہا ہر گز نہیں، خود پھینکنا تو درکنار، وہ آپ گرتا ہو تویہ اپنی حد تک تو اسے بچانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھے گی۔ فرمایا ’’اللہ کا رحم اپنے بندوں پر اس سے بہت زیادہ ہے جو یہ عورت اپنے بچے کے لیے رکھتی ہے۔
تشریح: یعنی اللہ تعالیٰ سنگ دل اور بے رحم نہیں ہے۔ اس کو اپنی مخلوقات سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ سزا دینے ہی کو اس کا دل چاہے اور اپنے بندوں کو مار مار کر ہی وہ خوش ہو۔ تم لوگ اپنی سرکشیوں میں جب حد سے گزر جاتے ہو اور کسی طرح فساد پھیلانے سے باز ہی نہیں آتے تب وہ بادل ناخواستہ تمہیں سزا دیتا ہے ورنہ اس کا حال تو یہ ہے کہ تم خواہ کتنے ہی قصور کرچکے ہو، جب بھی اپنے افعال پر نادم ہو کر اس کی طرف پلٹو گے اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پائو گے۔ کیونکہ اپنی پیدا کی ہوئی مخلوق سے وہ بے پایاں محبت رکھتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ہود حاشیہ:۱۰۱)
احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جو ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے حتیّٰ کہ اس کی اپنے غضب پر بھی غالب ہے۔ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہمدردی آپ کہیں پاتے ہیں ظاہر بات ہے کہ اس کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اگر ایک ماں بچے کو پرورش کررہی ہے تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم اس کے دل میں ڈال دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اولاد کے لیے شفقت پیدا کردی ہے۔ ورنہ ظاہر بات ہے کہ ماں سے بڑھ کر دشمن اور کوئی نہ ہوتا کیونکہ اس کا خون چوس کر تو پرورش پائی اس نے۔ نہایت تکلیف دے کر وہ پیدا ہوا۔ جب تک پیٹ میں رہا تکلیف دیتا رہا۔ باہر نکلنے کے بعد مدتوں اس کا جینا اور اس کا کھانا اور پینا اور اس کا چین سب کچھ حرام کیا لیکن وہ ہے کہ اس پر جان دیتی ہے وہ ہے کہ اپنی جان سے بڑھ کر اس کو عزیز رکھ رہی ہے یہاں تک کہ اگر اس کو خطرہ پیش آئے تو اپنے آپ کو قربان کردیتی ہے اس کے اوپر ۔
یہ کیا چیز ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو انسانوں کی پرورش کے لیے اس نے ماں کے دل میں ڈال دی ہے۔ اسی طرح سے دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی رحمت پائی جاتی ہے وہ ساری کی ساری اس کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رحم کا پر تو جس جس چیز کے اوپر جتنا ڈال دیا اتنا ہی اس کے اندر رحم آگیا۔ ورنہ بجز پتھروں کے یہاں کچھ نہ ہوتا۔ انسان بھی ہوتے تو پتھر کی طرح سنگ دل ہوتے اور دنیا میں جس طرف بھی آپ نگاہ ڈالیں جو کچھ بھی مخلوقات کو مل رہا ہے اللہ تعالیٰ کے رحم کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو طرح طرح کی آفات میں مبتلا کردے لیکن یہ مخلوقات جو دنیا میں جی رہی ہے وہ اس کی رحمت کی وجہ سے جی رہی ہے۔ وہ رحم فرمارہا ہے اس وجہ سے لوگوں کو دنیا میں رزق بھی مل رہا ہے ۔ دنیا کو پرورش کا اور آسائش کا سامان بھی مل رہا ہے۔ (کیسٹ نمبر اسورۂ فاتحہ)
اب ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ جو خدا محبت مادری اور شفقت پدری کا خالق ہے خود اس کے اندر اپنی مخلوق کے لیے کیسی کچھ محبت موجود ہوگی۔ (تفہیم القرآن ، ج ۲، ہود حاشیہ :۱۰۱)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْیَمَ قَالَ:اَخْبَرَنَا اَبُوْغَسَّانٍ، قَالَ حَدَّثَنِیْ زَیْدُبْنُ اَسْلَمَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قُدِمَ عَلیٰ النَّبِیِّ ﷺ بِسَبْیٍ فَاِذَا اِمْرَأَۃٌ مِنَ السَّبْیِ قَدْتَحَلَّبَ ثَدْیُہَا بِسَقْیٍ اِذَا وَجَدَتْ صَبِیًّا فِی السَّبْیِ اَخَذَتْہُ فَاَلْصَقَتْہُ بِبَطْنِہَا وَاَرْضَعَتْہُ۔ فَقَالَ لَنَا النَّبِیُّ ﷺ: اَتَرَوْنَ ہٰذِہٖ طَارِحَۃً وَلَدَہَا فِی النَّارِ؟ قُلْنَا: لَا وَ ہِیَ تَقْدِرُ عَلیٰ اَلَّا تَطْرَحُہٗ، فَقَالَ: لَلّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہٖ مِنْ ہٰذِہٖ بِوَلَدِہَا۔ (۱۵)
ترجمہ: حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی آئے ان میں ایک خاتون بھی تھی۔ قیدیوں میں جب وہ کسی بچے کو پاتی تو اس کی چھاتیوں سے دودھ بہنے لگتا وہ اس بچے کو پکڑ کر سینے سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلانا شروع کردیتی۔ یہ منظر دیکھ کر نبی ﷺ نے ہم سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’کیا خیال ہے تمہارا کہ یہ عورت اپنے لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے آگ میں پھینک دے گی؟‘‘ ہم نے عرض کیا ،ہرگز نہیں، خود پھینکنا تو درکنار وہ اگر خود گرتا ہو تو وہ اپنی حد استطاعت تک اسے بچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔ آپؐ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ نِ النُّفَیْلِیُّ، ثنا مُحَمَّدُبْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الشَّامِ یُقَالُ لَہٗ اَبُوْ مَنْظُوْرٍ، عَنْ عَمِّہٖ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَمِّیْ، عَنْ عَامِرٍ، الرَّامِ اَخِی الْخَضِرِ، قَالَ اَبُو دَاؤدَ: قَالَ النُّفَیْلِیُّ: ہُوَ الْخَضِرُ وَلٰکِنْ کَذَا قَالَ، فَبیْنَا نَحْنُ عِنْدَہٗ اِذَا اَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَیْہِ کِسَائٌ وَفِیْ یَدِہٖ شَیْیٌٔ قَدْ الْتَفَّ عَلَیْہِ۔ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ لَمَّا رَأَیْتُکَ اَقْبَلْتُ اِلَیْکَ فَمَرَرْتُ بِغِیْضَۃِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِیْہَا اَصْوَاتَ فَرَاخِ طَائِرٍ فَاَخَذْ تُہُنَّ فَوَضَعْتُہُنَّ فی کسَائیْ فَجَائَ تْ اُمُّہُنَّ فَاسْتَدَاَرَتْ عَلیٰ رَأَسِیْ فکَشَفْتُ لَہَا عَنْہُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَیْہِنَّ مَعَہُنَّ فََلَفَفْتُہُنَّ بِکِسَائِیْ فَہُنَّ اُولَآئِ مَعِیْ، قَالَ: ضَعْہُنَّ عَنْکَ۔ فَوَضَعْتُہُنَّ، وَاَبَتْ اُمُّہُنَّ اِلَّا لُزُوْمَہُنَّ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَصْحَابِہٖ: اَتَعْجَبُوْنَ لِرُحْمِ، اُمِّ الْاَفْرَاخِ فَرَاخَہَا؟ قَالُوْا: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَوَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ ، لَلّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہٖ مِنْ اُمِّ الْاَفْرَاخِ بِفَرَاخِہَا الحدیث۔ (۱۶)
ترجمہ: صحابہؓ کا بیان ہے ایک روز ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا۔ چادر اس نے اوڑھی ہوئی تھی اور ہاتھ میں کوئی چیز پکڑے ہوئے تھا۔ آتے ہی بولا یا رسول اللہؐ میں نے جب آپ کو دیکھا تو آپ کی جانب متوجہ ہوا ہی تھا کہ میرا گزر درختوں کے جھنڈ پر ہوا۔ میں نے وہاں پرندوں کے چوزوں کی آوازیں سنیں ۔ میں نے انھیں پکڑکر اپنی چادرمیں لپیٹ لیا ان کی ماں آئی اور میرے سر پر چکر لگانے لگی۔ میں نے چوزوں پر سے چادر ہٹائی تو وہ بے ساختہ چادر میں گر پڑی اور بچوں کے ساتھ شامل ہوگئی۔ پس میں نے ان سب کو چادر میں اکٹھا کرلیا اور یہ میرے پاس ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ’’زمین پر رکھو‘‘، میں نے انھیں زمین پر رکھ دیا تو ان کی ماں نے انھیں چھوڑ کر جانے سے انکار کردیا اور ان کے ساتھ چمٹی رہی۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’کیا چڑیا کا اپنے بچوں سے اس قدر محبت و الفت کرنا تمہارے لیے باعث تعجب ہے؟‘‘ عرض کیا ہاں یا رسولؐ اللہ۔ ارشاد فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ اَبِیْ غَالِبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یَقُوْلُ: حَدَّثََنَا قَتَادَۃُ اَنَّ اَبَارَافِعٍ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ الْخَلْقَ اِنَّ رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ فَہُوَ مَکْتُوْبٌ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ۔ (۱۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تخلیق سے پہلے ایک نوشتہ میں یہ لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے، اوریہ ارشاد باری تعالیٰ عرش پر اس کے پاس لکھا ہوا محفوظ ہے۔‘‘

علم ماکان ومایکون صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے

مَنْ زَعَمَ اَنَّہٗ (ای النَّبِیُّ ﷺ) یَعْلَمُ مَا یَکُوْنُ فِی غَدٍ فَقَدْ اَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ، وَاللّٰہُ یَقُوْلُ قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ۔
ترجمہ: جس نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی ﷺ جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ تعالیٰ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا کیوں کہ اللہ تو فرماتا ہے، اے نبی! تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل حاشیہ: ۸۳)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ مَنِیْعٍ، نَا اِسْحَاقُ بْنُ یُوْسُفَ الْاَزْرَقُ، نا دَاؤدُبْنُ اَبِیْ ہِنْدٍ، عَنِ الشّعْبِیِْ عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: یَااَبَاعَائِشَۃَ ثَلَاثٌ مَنْ تَکَلَّمَ بِوَاحِدَۃٍمِنْہُنَّ فَقَدْ اَعْظَمَ الْفِرْیَۃَ اللّٰہِ: مَنْ زَعَمَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَاٰی رَبَّہٗ فَقَدْ اَعْظَمَ الْفِرْیَۃَ عَلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ: لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًااَوْمِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ وَکُنْتُ مُتَّکِئًا فَجَلْستُ فَقُلْتُ: یَا اُمَّ المُؤْمِنِیْنَ اَنْظِرِیْنِیْ وَلَا تَعْجِلِیْنِیْ اَلَیْسَ اللّٰہُ تَعَالیٰ یَقُوْلُ: وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِا لْاُفُقِ الْمُبِیْنِ قَالَتْ: اَنَا وَاللّٰہِ اَوَّلُ مَنْ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ہٰذا قَالَ: اِنَّمَا ذٰلِکَ جِبْرَئِیْلُ مَارَأَیْتُہٗ فِی الصُّوْرَۃِ الَّتِیْ خُلِقَ فِیْہَا غَیْرَ ہَا تَیْنِ الْمَرَّ تَیْنِ رَأَ یْتُہٗ مُنْہَبِطًا مِنَ السَّمَآئِ سَادًّا عُظْمُ خَلْقِہٖ مَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ۔ وَمَنْ زَعَمَ اَنَّ مُحَمَّدًا کَتَمَ شَیْئًا مِمَّا اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْہِ فَقَدْ اَعْظَمَ الْفِرْیَۃَ عَلَی اللّٰہِ یَقُوْلُ اللّٰہُ یَا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَمَنْ زَعَمَ اَنَّہٗ یَعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ فَقَدْ اَعْظَمَ الْفِرْیَۃَ عَلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ لَا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ۔(۱۸)
ہذا حدیث حسن صحیح و مسروق بن الاجدع یکنی اَبَاعائشۃ۔
ترجمہ: حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا۔ آپ فرمانے لگیں، اے ابوعائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر کسی شخص نے ان میں سے ایک بات بھی کہی تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ (۱) جو شخص یہ کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کو (ان آنکھوں سے) دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَاتُدْرِکْہُ الْاَبْصَارُوَہُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارَ: نگاہیں اسے نہیں پاسکتیں، وہ نگاہوں کو پاسکتا ہے اور وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے روبرو بات کرے۔ اس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے یا پردے کے پیچھے سے۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں تکیہ لگائے بیٹھا تھا یہ سن کر سیدھا بیٹھ گیا اور عرض کیا اے ام المومنین! ذرا ٹھیریے جلدی نہ کیجیے! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا: وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ (اور یقینا ایک مرتبہ اور اس نے اسے دیکھا) وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ (اور یقینا اس نے اسے روشن افق پر دیکھا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ ﷺ سے اس معاملے کو دریافت کیا۔ حضور نے فرمایا وہ تو جبریل علیہ السلام تھے۔ میں نے ان کو ان کی اصلی صورت میں جس پر اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے ان دو مواقع کے سوا کبھی نہیں دیکھا۔ ان دو مواقع پر میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا اور ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاپر چھائی ہوئی تھی (۲) اور جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس وحی میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل فرمائی کچھ چھپا رکھا تھا تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اے رسول! جو آپؐ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ پوری طرح پہنچا دو (۳) اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ محمد ﷺ یہ جانتے تھے کہ کل کیا ہونے والا ہے تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ زمین و آسمان کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ یَا اُمْتَاہُ ہَلْ رَاٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ، فَقَالَتْ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِیْ مِمَّاقُلْتَ اَیْنَ اَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَکُنَّ فَقَدْ کَذَبَ مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَاٰی رَبَّہٗ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ، وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْمِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ وَمَنْ حَدَّثَکَ اَنَّہٗ یَعْلَمُ مَافِیْ غَدٍ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَاتَکْسِبُ غَدًا، وَمَنْ حَدَّثَکَ اَنَّہٗ کَتَمَ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ یَا یُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الآیَۃ وَلٰکِنَّہٗ رَای جِبْرِیْلَ فِی صُوْرَتِہٖ مَرَّتَیْنِ۔ (۱۹)
ترجمہ: حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ سے دریافت کیا۔ اماں جان کیا محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ’’مسروق کی یہ بات سن کر میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ فرمانے لگیں مسروق تمہیں یہ تین چیزیں پیش نظر رہیں جو شخص انھیں بیان کرے اس نے جھوٹ بولا۔ جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا وہ دروغ گوہے، پھر آپ نے بطور استشہاد قرآن پاک کی آیت لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ الآیۃ پڑھی آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں وہ آنکھوں کا ادراک کرسکتا ہے وہ باریک بین اور باخبر ہستی ہے۔اللہ تعالیٰ کسی بشر سے کلام وحی کے ذریعہ سے کرتا ہے یا پس پردہ، اور جو شخص تم سے یہ کہے کہ نبی کریمؐ کل ہونے والے حالات و واقعات کا علم رکھتے ہیں وہ بھی دروغ گو ہے استشہاد کے طور پر آپ نے وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَاتَکْسِبُ غدًا تلاوت فرمائی، ’’یعنی کسی جی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کل کیا کمائے گا‘‘ اور جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ آپؐ نے کتمانِ حق کیا ہے وہ بھی دروغ گو ہے پھر قرآن کی آیت تلاوت فرمائی یَا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ۔ ’’اے رسوؐل ! تیرے رب کی جانب سے جو کچھ تجھ پر نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک بلا کم و کاست پہنچادے۔‘‘ البتہ یہ بات ہے کہ آپؐ نے جبریل امین کو دومرتبہ اس کی اپنی اصل صورت میں ضرور دیکھا ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یُوْسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ : مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ رَاٰی رَبَّہٗ فَقَدْ کَذَبَ وَہُوَ یَقُوْلُ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ، وَمَنْ حَدَّثَکَ اَنَّہٗ یَعْلَمُ الْغَیْبَ فَقَدْ کَذَبَ وَہُوَ یَقُوْلُ لَا یَعْلَمُ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت مسروق ام المومنین حضرت عائشہؓ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ’’جو کوئی تجھ سے یوں کہے کہ محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ بکا۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ آنکھیں اسے نہیں پاسکتیں۔ اور جو کوئی تجھ سے یہ کہے کہ نبی ﷺ بھی عالم الغیب ہیں وہ بھی جھوٹا ہے اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ کے سوا علم غیب کوئی نہیں جانتا۔‘‘
۵۲۔ (ابن المنذر حضرت عبداللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ) ایک شخص نے نبیﷺ سے پوچھا ’’اے محمدؐ! قیامت کب آئے گی؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی؟اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا، کل میں کیا کمائوں گا؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں ، مروں گا کہاں؟
ان سوالات کے جواب میں حضوؐر نے سورہ لقمان:۳۴ کی یہ آیت سنائی:
اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔
’’کہ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے اور وہی جانتا ہے کہ مائوں کے رحم میں کیا (پرورش پا رہا) ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی؟ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل حاشیہ:۸۳)
تخریج: حَدَّثَنَا الْحَرْثُ، قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: ثَنَا وَرْقَائُ جَمِیْعًا، عَنِ ابْنِ اَبِیْ نَجِیْحٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ۔ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ ۔۔۔ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنّ امْرَأَتِیْ حُبْلیٰ فَاَخْبِرْنِیْ مَاذَا تَلِدُ۔ وَبِلَادُنَا مَحْلُ جَدْبَۃٍ فَاَخْبِرْنِیْ مَتَی یَنْزِلُ الْغَیْثُ ۔ وَقَدْ عَلِمْتُ مَتیٰ وُلِدْتُّ فَاَخْبِرْنِیْ مَتیٰ اَمُوْتُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیَنْزل الْغَیْثَ اِلیٰ اٰخِرِ السُّوْرَۃِ۔ (۲۱)
۵۳۔ مَاالْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ۔
(بخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث کی مشہور روایت ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبرئیل نے انسانی شکل میں آکر حضوؐر سے جو سوالات کیے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضوؐر نے جواب دیا:’’ جس سے پوچھا جارہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں علم نہیں رکھتا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، اور حضوؐر نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
تشریح: (حدیث مندرجہ بالا سے واضح ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ علم الغیب کا جاننے والا ہے) آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا جن، یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے ۔ سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے۔ سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، جس سے اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔
غیب کے معنی مخفی ، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحاً اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو، جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو فرداً فرداً بعض انسانوں کے علم میں ہیں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں، اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوعِ انسانی کے علم میں نہ کبھی تھیں، نہ آج ہیں ، نہ آئندہ کبھی آئیں گی۔ ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں اور دوسری مخلوقات کا ہے کہ بعض چیزیں ان میں سے کسی سے مخفی اور کسی کو معلوم ہیں، اور بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کو بھی معلوم نہیں۔ یہ تمام اقسام کے غیب صرف ایک ذات پر روشن ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں سب شہادت ہی شہادت ہے۔
ہر صاحب عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو؟ یعنی تمام ان احوال اور اشیاء اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی؟ اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریاد رس اور حاجت روا اور مشکل کشا ہوسکے؟
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَا عِیْلُ بنُ اِبْرَاہِیْمَ اَخْبَرَنَا اَبُوْحَیَّانَ التَّیْمِیُّ، عَنْ اَبِیْ زرْعَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ بَارِزًا یَوْمًالِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَبِلِقَآئِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بالْبَعْثِ قَالَ: مَاالْاِسْلَامُ؟ قَال: اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰۃَ وَتُوَدِّیَ الزَّکوٰۃَ الْمَفْرُوْ ضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قَالَ: مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَانَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ: مَاالْمَسْمُوْلُ بِاَعْلَمَ مِنَ السَّآئِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِہَااِذَا وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّہَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُہْمِ فِی الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُہُنَّ الَّا اللّٰہُ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ الَایَۃَ ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْاشَیْئًا فَقَالَ: ہٰذَا جِبْرِیْلُ جَآئَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَہُمْ۔(۲۲) قَالَ ابو عبداللّٰہ جَعَلَ ذٰلِکَ کُلَّہٗ مِنَ الْایمان۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ایک روز نبی ﷺ لوگوں کے سامنے باہر تشریف فرماتھے۔ ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے ملاقات پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور بعث بعد الموت کو تسلیم کرے۔ پھر اس نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائے۔ نماز قائم کرے فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ پھر اس نے پوچھا کہ احسان کیا ہے؟ فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ پھر اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو وہ تو بہر حال تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے پوچھا قیامت کب قائم ہوگی؟ فرمایا۔اس بارے میں مسئول عنہ سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا، البتہ اس کی چند نشانیاں اور شرائط میں تمہیںبتائے دیتا ہوں، جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دے اور جب شتربان اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرنے لگیں گے۔قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کا علم سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں پھر آپؐ نے سورہ لقمان کی آخری آیات پڑھیں، اس کے بعد وہ سائل چلا گیا۔ آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا اسے واپس لائو۔ لیکن وہاںانھیں کچھ بھی نظر نہ آیا ۔ ارشاد فرمایا کہ یہ جبریل امین تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے تشریف لائے تھے۔

الوہیت اور علم غیب میں گہرا تعلق ہے

الوہیت اور علم غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان نے جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اس حقیقت سے بالکل بدیہی طور پر آگاہ ہے، کہ قسمتوں کا بنانا اور بگاڑنا، دعائوں کا سننا، حاجتیں پوری کرنا اور طالب امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اسی ہستی کا کام ہوسکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو۔ اسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیار کا حامل سمجھتا ہے اسے لازماً عالم الغیب بھی سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی عقل بلاریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ حقیقت ہے کہ خالق اور مدبر اور مجیب الدعوات اور رازق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آخر کون اپنے ہوش وحواس میں یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جن یا نبی یا ولی کو یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں؟ اور عالم بالا کے بے حدوحساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے؟ اور ان میں سے ہر ایک میں کس کس طرح کی مخلوقات موجود ہیں؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں؟ یہ سب کچھ اللہ کو لازماً معلوم ہونا چاہیے، کیونکہ اس نے انھیں پیدا کیا ہے، اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے ، اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے، لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اس کارخلاّقی و رزّاقی سے ہے کہ وہ ان چیزوں کو جانے؟

کیا صفت علم غیب قابل تجزیہ ہے؟

پھر یہ صفت قابل تجزیہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بندہ مثلاً صرف زمین کی حد تک اور زمین میں بھی صرف انسانوں کی حد تک عالم الغیب ہو۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوں گے رحم مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعت حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہوسکتا ہے؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا؟ کیا وہ اس بے حدوحساب خلقت کا خالق ہے؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جرثومے کو وجود بخشا تھا؟ کیا اس نے ان کی مائوں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی؟ کیا اس نے ان کی زندہ ولادت کا انتظام کیا تھا؟ کیا اس نے ان میں سے ایک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی۔ کیا وہ ان کی موت اور حیات ، ان کی صحت اور مرض ، ان کی خوشحالی اور بدحالی ، اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے یا اس کے بعد؟ اور صرف انسانوں کی حد تک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہوسکتی ہیں؟ یہ کام تو لازماً زمین اور آسمانوں کے عالم گیرانتظام کا ایک جزء ہے۔ جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کررہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کی تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بنائو اور بگاڑ کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔

یہ اسلام کا اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے

اسی بناء پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے ، اور کسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کردے، لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔ وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انھیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا۔ (الانعام:۵۹) یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْیٍٔ مِّنْ عِلْمِہٖ اِلَّا بِمَا شَآئَ۔ ’’وہ جانتا ہے کہ جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کر سکتے اِلّا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انھیں علم دے (البقرہ ۱؎:۲۵۵) عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ۔ وہ عالم الغیب ہے، پھر وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس رسول کے جس کو اس نے پسند کیا ہو، پھر وہ اس کے آگے اور پیچھے نگرانی کرنے والے لگادیتا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ان رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں۔ یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوْنُ قَرِیْبًا۔ اے نبیؐ! لوگ تم سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں، کہو اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے ، اور اے نبیؐ ، تمہیں کیا خبر، شاید کہ قیامت قریب ہی ہو۔ (الا حزاب ، رکوع:۸)
قرآن اور حدیث کی ان تصریحات کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جمیع مَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ کا علم رکھتا ہے، قطعاً ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے ۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، النمل حاشیہ:۸۳)

ماٰخذ

(۱) مسلم، ج ۲، کتاب الذِّکْروَالدُّعَا والتوبۃ والاستغفار باب الدعاء عند النوم ٭ ترمذی ابواب الدعوات، ج ۲، باب منہ ٭ مسند احمد بن حنبل ، ج ۲،روایت ابوہریرۃؓ۔
(۲) ابن کثیر ج ۴، سورۃ الحدید بحوالہ ابویعلیٰ۔
(۳) بخاری، ج ۲،کتاب القدر٭ بخاری، ج ۲، کتاب التوحید باب قولہ ولقد سبقت کلمتنا لعبادناالمرسلین ٭مسلم، ج ۲، کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الاٰدمی فی بطن امہ کتابۃ رزقہ واجلہ وعملہ وشقاوتہ وسعادتہٖ ٭ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی القدر ٭ ترمذی ابواب القدر باب ماجاء ان الاعمال بالخواتیم ٭ ابنِ ماجہ باب فی القدر۔
(۴) بخاری، کتاب القدر کتاب الرد علی الجہمیۃ الخ ٭ مسلم کتاب القدر باب کیفیۃ خلق الاٰدمی فی بطن امہ الخ۔
(۵) مسلم، ج ۲، کتاب البروالصلۃ والادب: باب تحریم الظلم ٭ الادب المفرد للبخاری، الظلم ظلمات۔ ٭المستدرک للحاکم، ج ۴۔
(۶) ترمذی: ابواب الزہد: باب … اور ابواب القیامۃ ٭ ابن ماجہ: ابواب الزہد: باب ذکر التوبۃ ٭ مسند احمد: ج۵، قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ۔
(۷) مسند احمد ج ۵۔
(۸) تفسیر ابن جریر طبری جز ۲۸/۳۰ مجلد ۱۲ سورہ قیامہ۔ ٭ تفسیر ابن کثیر ج ۴، ص ۴۵۲۔
(۹) ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب مقدار الرکوع والسجود ٭ ترمذی ابواب التفسیر ج ۲، سورہ التین ٭ابن کثیر ج ۴، ٭ روح المعانی جز ۳۰، سورۂ قیامہ بحوالہ ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی ٭ مستدرک للحاکم کتاب التفسیر ج۲، سورہ قیامہ ٭ مسند احمد ج ۲، ٭ فتح القدیر للشوکانی ج ۵۔
(۱۰) مسلم، ج ۲،کتاب التوبۃ: باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا ٭ ریاض الصالحین۔
(۱۱) مسلم، ج ۲، کتاب التوبۃ: باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا ٭ مسند احمدبن حنبل، ج ۱، عن ابن مسعود۔
(۱۲) مسلم، ج ۲، کتاب التوبۃ: باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا ٭ دارمی: کتاب الرقاق: اللّٰہ افرح بتوبۃ العبد۔
(۱۳) مسلم ج ۲، کتاب التوبۃ باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا۔
(۱۴) ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر التوبۃ۔
(۱۵) بخاری، ج ۶، کتاب الادب باب رحمۃ الولد وتقبیلہٖ ومعانقتہ۔
(۱۶) ابوداؤد کتاب الجنائز باب الامراض المکفرۃ للذنوب۔
(۱۷) بخاری، ج ۲،کتاب الرد علی الْجَہْمِیَّۃَ۔ باب قول اللّٰہ بَلْ ہُوَ قُرْآنٌ مَّجِیْد فی لوح محفوظ الخ۔
(۱۸) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الانعام اور سورۃ النجم۔
(۱۹) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر، سورۃ النجم۔
(۲۰) بخاری، ج ۱، کتاب التوحید باب قول اللّٰہ تعالیٰ اناالرزّاق ذوالقوۃ المتین۔
(۲۱) تفسیر ابن جریر جز ۲۰/۲۳ پ:۲۱، سورہ لقمان واخرج ابن المنذر عن عکرمۃ نَحوہٗ وزاد وَقَدْ عَلِمْتُ مَا کَسَبْتُ الْیَوْمَ فَمَا ذَااَکْسِبُ غَدًا وَزادایَضًا انَّہٗ سَأَلَہٗ عَنْ قِیَامِ السَّاعَۃِ ٭ تفسیر فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، سورۃ لقمان، بحوالہ ابن ابی حاتم اور فریابی۔
(۲۲) بخاری، ج ۱، کتاب الایمان باب سوال جبریل النّبی ﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان و علم الساعۃ ٭مسلم، ج۱،کتاب الایمان ٭ نسائی کتاب الایمان صفۃ الایمان والاسلام اور باب نعت الاسلام ٭ ترمذی ابواب الایمان ٭ ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی القدر ٭ ابن ماجہ باب الایمان (المقدمہ) ٭مسنداحمد ج ۲، عن ابی ہریرۃ۔

اَلْاَسْمَآئُ الْحُسْنیٰ

’’حدیث میں اس ذات پاک کے ننانوے نام گنائے گئے ہیں، جنھیں ترمذیؒ اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت سے بالتفصیل نقل کیا ہے۔ قرآن اور حدیث میں اگر آدمی ان اسماء کو بغور پڑھے تو وہ بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی کسی دوسری زبان میں اگر اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ہو تو کون سے الفاظ اس کے لیے موزوں ہوں گے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۵،الحشر، حاشیہ:۴۶)
’’ اللہ تعالیٰ کو ان ناموں سے یاد کیا جائے جو اس کے لائق ہیں اور ایسے نام اس کی ذات برتر کے لیے استعمال نہ کیے جائیں جو اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں نہیں ہیں یا جن میں اس کے لیے نقص یا گستاخی یا شرک کا کوئی پہلو نکلتا ہے، یا جن میں اس کی ذات یا صفات یا افعال کے بارے میں کوئی غلط عقیدہ پایا جاتا ہے، اس غرض کے لیے محفوظ ترین صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں جو اس نے خود قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں یا جو دوسری زبان میں ان کا صحیح ترجمہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مخلوقات کے سے نام یا مخلوقات کے لیے اللہ کے ناموں جیسے نام استعمال نہ کیے جائیں اور اگر کچھ صفاتی نام ایسے ہوں جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص نہیں ہیں، بلکہ بندوں کے لیے بھی ان کا استعمال جائز ہے۔ مثلاً رؤف، رحیم، کریم ، سمیع، بصیر وغیرہ ، تو ان میں یہ احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے کہ بندے کے لیے ان کا استعمال اس طریقے پر نہ ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا نام ادب اور احترام کے ساتھ لیا جائے، کسی ایسے طریقے پر یا ایسی حالت میں نہ لیا جائے جو اس کے احترام کے منافی ہو۔ مثلاً ہنسی مذاق میں بیت الخلاء میں یا کوئی گناہ کرتے ہوئے اس کا نام لینا یا ایسے لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کرنا جو اسے سن کر گستاخی پر اترآئیں۔ یا ایسی مجلسوں میں اس کا نام لینا جہاں لوگ بے ہودگیوں میں مشغول ہوں اور اس کا ذکر سن کر مذاق میں اڑادیں یا ایسے مواقع پر اس کا نام پاک زبان پر لانا جہاں اندیشہ ہو کہ سننے والا اسے ناگواری کے ساتھ سنے گا۔ امام مالکؒ کے حالات میں منقول ہے کہ جب کوئی سائل ان سے کچھ مانگتا اور وہ اسے کچھ نہ دے سکتے تو عام لوگوں کی طرح ’’اللہ دے گا‘‘ نہ کہتے بلکہ کسی اور طرح معذرت کردیتے تھے۔ لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ سائل کو جب کچھ نہ دیا جائے اور اس سے معذرت کردی جائے تو لامحالہ اسے ناگوار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر میں اللہ کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص اسے ناگواری کے ساتھ سنے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۶، الاعلیٰ ، حاشیہ: ۱)
اللہ تعالیٰ کے لیے انسانی زبان کے جتنے الفاظ بھی بولے جاتے ہیں وہ اپنے اصل بنیادی مفہوم کے اعتبار سے بولے جاتے ہیں نہ کہ اس کے مادی مدلولات کے اعتبار سے، مثلاً ہم اس کے لیے دیکھنے کا لفظ بولتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ انسان اور حیوان کی طرح کی آنکھ نامی ایک عضو کے ذریعے سے دیکھتا ہے۔ ہم اس کے لیے سننے کا لفظ بولتے ہیں۔ یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ ہماری طرح کانوں کے ذریعہ سے سنتا ہے۔ اس کے لیے ہم پکڑ اور گرفت کے الفاظ بولتے ہیں یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ ہاتھ نام کے ایک آلہ سے پکڑتا ہے۔ یہ سب الفاظ اس کے لیے ہمیشہ ایک اطلاقی شان میں بولے جاتے ہیں اور صرف کم عقل آدمی ہی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ سماعت اور بینائی اور گرفت کی کوئی دوسری صورت اس محدود اور مخصوص قسم کی سماعت و بینائی اور گرفت کے سوا ہونی غیر ممکن ہے جو ہمارے تجربے میں آتی ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۳، نور، حاشیہ: ۶۲)
مذکورہ بالا روایات میں سے جن روایتوں میں اسماء حسنہ کی تفصیل موجود ہے ان کی رو سے محدثین کے ہاں بیان اسماء کے تین طُرق ہیں۔ ان میں طریق اوّل امام ترمذیؒ کا ہے جو سب سے زیادہ مشہور ہے اس طریق کو محدثین کی زبان میں طریق صالح کہا جاتا ہے۔
اس طریق کو امام ترمذیؒ کے علاوہ طبرانیؒ ، ابن حبانؒ ، ابن خزیمہؒ نے بھی کسی قدر اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے۔
دوسرا طریق زہیر بن محمدؒ کا ہے جسے ابن ماجہؒ نے بیان کیا ہے اس میں امام ترمذیؒ کے نقل کردہ اسماء سے کافی زیادہ اختلاف ہے۔
تیسرا طریق عبدالعزیز بن حصینؒ کا ہے جسے حاکم نے المستدرک میں بیان کیا ہے۔ یہ طریق بعض اسماء میں ترمذیؒ اور ابن ماجہؒ دونوں سے کسی قدر مختلف ہے۔ ہم نے یہاں ترمذیؒ کے روایت کردہ طریق صفوان بن صالحؒ ہی کو مقدم رکھا ہے کیونکہ یہی طریق سب سے مشہور اور متداول ہے۔
تخریج:
قرآن مجید سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیَّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنیٰ۔
’’اے نبیؐ! ان سے کہو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں۔‘‘
سورۂ طٰہٰ آیت ۸ میں ارشاد ربّانی ہے:
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنیٰ۔
’’ وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔‘‘
سورۂ حشر آیت ۲۴ میں ارشادِ الٰہی ہے:
ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنیٰ۔
’’ وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اور اس کے لیے بہترین نام ہیں۔‘‘
مذکورہ بالا آیات قرآنی کی تفسیر میں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ننانوے نام ہیں جن کو یاد کرنا انسان کو جنت میں پہنچادیتا ہے۔ یہ احادیث درج ذیل ہیں:
صحیح بخاری میں ہے:
(۱) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَآ شُعَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوالزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ اِسْمًا مِائَۃً اِلَّا وَاحِدًا۔ مَنْ اَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ اَحْصَیْنَاہُ وَحَفِظْنَاہُ۔ (۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے، یعنی ایک کم سواسماء ہیں جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو اچھی طرح گن کر حفظ کرلیا۔
بخاری کی دوسری روایت:
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَفِظْنَاہُ عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ اِسْمًا، مِائَۃً اِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا اَحَدٌ اِلَّادَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَوِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔ قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ: مَنْ اَحْصَاہَا ــــــ مَنْ حَفِظَہَا۔ (۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ ہی سے روایت ہے ۔ انھوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں۔ جو شخص بھی انھیں یاد کرے گا وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر ہی اسے پسند ہے۔ ابوعبداللہ کہتے ہیں مَنْ اَحْصَاہَا کے معنی ہیں: مَنْ حَفِظَہَا۔ یعنی جس نے انھیں یاد کیا۔
صحیح مسلم کی روایت:
(۳) حَدَّثَنَا عَمْرٌ وَالنَّاقِدُوَزُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ جَمِیْعًا، عَنْ سُفْیَانَ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ، قَالَ: لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ اِسْمًا مَنْ حَفِظَہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَاِنَّ اللّٰہَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ وَ فِیْ رِوَایَۃِ ابْنِ اَبِیْ عُمَرَ مَنْ اَحْصَاہَا۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کوحفظ کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور وتر ہی اسے پسند ہے۔ ابن ابی عمرؓ کی روایت میں حَفِظَہَا کی جگہ اَحْصَاہَا ہے۔
مسلم کی دوسری روایت:
(۴) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنِ بْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَعَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ اِسْمًا مائَۃً اِلَّا وَاحِدًا مَنْ اَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(۳)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کو حفظ کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
ترمذی کی روایت:
(۵) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِعَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَہً وَتِسْعِیْنَ اِسْمًا مَنْ اَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ قَالَ: وَلَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ذِکْرُ الْاَسْمَائِ۔ قَالَ: وَہٰذا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے انھیں یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ ترمذی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ناموں کا ذکر نہیں ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ترمذی کی دوسری روایت:
حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْجَوْزَجَانِیُّ، حَدَّثَنِیْ صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ لِلّٰہِ تَعَالیٰ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ اِسْمًا مَنْ اَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔
ہُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ اَلرَّحِیْمُ اَلْمَلِکُ اَلْقُدُّوْسُ
اَلسَّلَامُ الْمُؤمِنُ اَلْمُہَیْمِنُ اَلْعَزِیْزُ اَلْجَبَّارُ اَلْمُتَکَبِّرُ
اَلْخَالِقُ اَلْبَارِیُٔ اَلْمُصَوِّرُ اَلْغَفَّارُ اَلْقہَّارُ اَلْوَہَّابُ
اَلرَّزَّاقُ اَلْفَتَّاحُ اَلْعَلِیْمُ اَلْقَابِضُ اَلْبَاسِطُ اَلْخَافِضُ
اَلرَّافِعُ اَلْمُعِزُّ اَلْمُذِلُّ اَلسَّمِیْعُ اَلْبَصِیْرُ اَلْحَکَمُ
اَلْعَدْلُ اَللَّطِیْفُ اَلْخَبِیْرُ اَلْحَلِیْمُ اَلْعَظِیْمُ اَلْغَفُوْرُ
اَلشَّکُوْرُ اَلَعَلِیُّ اَلْکَبِیْرُ اَلْحَفِیْظُ اَلْمُقِیْتُ اَلْحَسِیْبُ
اَلْجَلِیْلُ اَلْکَرِیْمُ اَلرَّقِیْبُ اَلْمُجِیْبُ اَلْوَاسِعُ اَلْحَکِیْمُ
اَلْوَدُوْدُ اَلْمَجِیْدُ اَلْبَاعِثُ اَلشَّہِیْدُ اَلْحَقُّ اَلْوَکِیْلُ
اَلْقَوِیُّ اَلْمَتِیْنُ اَلْوَلِیُّ اَلْحَمِیْدُ اَلْمُحْصِیْ اَلْمُبْدِیُٔ
اَلْمُعِیْدُ اَلْمُحْیٖ اَلْمُمِیْتُ اَلْحَیُّ اَلْقَیُّوْمُ اَلْوَاجِدُ
اَلْمَاجِدُ اَلْوَاحِدُ اَلصَّمَدُ اَلْقَادِرُ اَلْمُقْتَدِرُ اَلْمُقَدِّمُ
اَلْمُؤَخِّرُ اَلْاَوَّلُ اَلْاٰخِرُ اَلظَّاہِرُ اَلْبَاطِنُ اَلْوَالِیْ
اَلْمُتَعَالِیْ اَلْبَرُّ اَلتَّوَّابُ اَلْمُنتَقِمُ اَلْعَفُوُّ اَلرَّؤُفُ
مَالِکُ الْمُلْکِ ذُوالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ اَلْمُقْسِطُ اَلْجَامِعُ
اَلْغَنِیُّ اَلْمُغْنِیْ اَلْمَانِعُ اَلضَّارُّ النَّافِعُ النُّوْرُ
اَلْہَادِیْ اَلْبَدِیْعُ اَلْبَاقِیْ اَلْوَارِثُ الرَّشِیْدُ اَلصَّبُوْرُ (۴)
ابن ماجہ کی روایت:
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدِ الصَنَعَا نِیُّ، ثَنَا اَبُوا لْمُنْذِرِ زُہَیْرُ ابْنُ مُحَمَّدِ التَّمِیْمِیِّ، ثَنَا مُوْ سَی بْنُ عُقْبَۃَ ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ الْاَعْرَجُ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ اِسْمًا مِا ئَۃً اِلَّا وَاحِدًا۔ اِنَّہٗ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ مَنْ حَفِظَہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہِیَ:
اَللّٰہُ اَلْوَاحِدُ اَلصَّمَدُ اَلْاَوَّلُ اَلْآخِرُ اَلظَّاہِرُ
اَلْبَاطِنُ اَلْخَالِقُ اَلْبَارِیُٔ اَلْمُصَوِّرُ اَلْمَلِکُ اَلْحَقُّ
اَلسَّلَامُ اَلْمُؤْمِنُ اَلْمُہَیْمِنُ اَلْعَزِیْزُ اَلْجَبَّارُ اَلْمُتَکَبِّرُ
اَلرَّحْمٰنُ اَلرَّحِیْمُ اَللَّطِیْفُ اَلْخَبِیْرُ اَلسَّمِیْعُ اَلْبَصِیْرُ
اَلْعَلِیْمُ اَلْعَظِیْمُ اَلْبَارُّ اَلْمُتَعَالُ اَلْجَلِیْلُ اَلْجَمِیْلُ
اَلْحَیُّ اَلْقَیُّوْمُ اَلْقَادِرُ اَلْقَاہِرُ اَلْعَلِیُّ اَلْحَکِیْمُ
اَلْقَرِیْبُ اَلْمُجِیْبُ اَلْغَنِیُّ اَلْوَہَّابُ اَلْوَدُوْدُ اَلشَّکُوْرُ
اَلْماجِدُ اَلْوَاجِدُ اَلْوَالِیْ اَلرَّاشِدُ اَلْعَفُوُّالْغَفُوْرُ اَلْحَلِیْمُ
اَلْکَرِیْمُ اَلتَّوَّابُ اَلرَّبُّ اَلْمَجِیْدُ اَلْوَلِیُّ اَلشَّہِیْدُ
اَلْمُبِیْنُ اَلْبُرْہَانُ اَلرَّؤُفُ اَلْمُبْدِیُٔ اَلْمُعِیْدُ اَلْبَاعِثُ
اَلْوَارِثُ اَلْقَوِیُّ اَلشَّدِیْدُ اَلضَّارُّ اَلنَّافِعُ اَلْبَاقِیْ
الْوَاقِیْ اَلْخَافِضُ اَلرَّافِعُ اَلْقَابِضُ اَلْبَاسِطُ اَلْمُعِزُّ
اَلْمُذِلُّ اَلْمُقْسِطُ اَلرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ اَلْقَائِمُ
اَلدَّائِمُ اَلْحَافِظُ اَلْوَکِیْلُ اَلْفَاطِرُ اَلسَّامِعُ اَلْمُعْطِیْ
اَلْمُحْیِیْ اَلْمُمِیْتُ اَلْمَانِعُ اَلْجَامِعُ اَلْہَادِیُٔ اَلْکَافِیْ
اَلْاَبَدُ اَلْعَالِمُ اَلصَّادِقُ اَلنُّوْرُ اَلْمُنِیْرُ اَلتَّامُ
اَلْقَدِیْمُ اَلْوِتْرُ اَلْاَحَدُ ـــــــــ اَلصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔
وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (۵)
مستدرک حاکم کی روایت:
حَدَّثَنَا اَبُوْ مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ حَمْدَانُ الْجُلَّابُ بِہَمْدَانَ، ثَنَاالْاَمِیْرُاَبُوالْہَیْثَمِ خَالِدُبْنُ اَحْمَدَالزُّہْلِیُّ بِہَمْدَانَ، ثَنَا اَبُوْاَسَدٍ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ الْبَلَخِیُّ، ثَنَا خَالِدُابْنُ مَخْلَدٍ الْقَطُوْنِیُّ۔حَدَّثََنَا مُحَمَّدُبْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِیْ، وَاَبُوْ بَکْرِبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَا: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، ثَنَا اَحْمَدُبْنُ سُفْیَانَ النّسأی، ثَنَا خَالِدُبْنُ مَخلَدٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِبْنُ حُصَیْنِ بْنِ التَّرْجُمَانِ، ثَنَا اَیُّوْبُ السَّخْتِیَانِیُّ، وَہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ اِسْمًامَنْ اَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔
اَللّٰہُ اَلرَّحْمٰنُ اَلرَّحِیْمُ اَلْاِلٰہُ اَلرَّبُّ اَلْمَلِکُ
اَلْقُدُّوْسُ اَلسَّلَامُ اَلْمُؤْمِنُ اَلْمُہَیْمِنُ اَلْعَزِیْزُ اَلْجَبَّارُ
اَلْمُتَکَبِّرُ اَلْخَالِقُ اَلْبَارِیُٔ اَلْمُصَوِّرُ اَلْحَلِیْمُ اَلْعَلِیْمُ
اَلسَّمِیْعُ اَلْبَصِیْرُ اَلْحَیُّ اَلْقَیُّوْمُ اَلْوَاسِعُ اَللَّطِیْفُ
اَلْخَبِیْرُ اَلْحَنَّانُ اَلْمَنَّانُ اَلْبَدِیْعُ اَلْوَدُوْدُ اَلْغَفُوْرُ
اَلشَّکُوْرُ اَلْمَجِیْدُ اَلْمُبْدِیُٔ اَلْمُعِیْدُ اَلنُّوْرُ اَلْاَوَّلُ
اَلْآخِرُ اَلظَّاہِرُ اَلْبَاطِنُ اَلْغَفَّارُ اَلْوَہَّابُ اَلْقَادِرُ
اَلْاَحَدُ اَلصَّمَدُ اَلْکَافِیْ اَلْبَاقِیْ اَلْوَکِیْلُ اَلْمُغِیْثُ
اَلدَّائِمُ اَلْمُتَعَالُ ذُوالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ اَلْمَوْلیٰ اَلنَّصِیْرُ
اَلْحَقُّ اَلْمُبِیْنُ اَلْمُنِیْبُ اَلْبَاعِثُ اَلْمُجِیْبُ اَلْمُحْیِیْ
اَلْمُمِیْتُ اَلْجَمِیْلُ اَلصَّادِقُ اَلْحَفِیْظُ اَلْمُحِیْطُ اَلْکَبِیْرُ
اَلْقَرِیْبُ اَلرَّقِیْبُ اَلْفَتَّاحُ اَلتَّوَّابُ اَلْقَدِیْمُ اَلْوِتْرُ
اَلْفَاطِرُ الرَّزَّاقُ اَلْعَلَّامُ اَلْعَلِیُّ اَلْعَظِیْمُ اَلْغَنِیُّ
اَلْمَلِیْکُ اَلْمُقْتَدِرُ اَلْاَکْرَمُ اَلرَّؤُفُ اَلْمُدَبِّرُ اَلْمَالِکُ
اَلْقَاہِرُ اَلْقَدِیْرُ اَلْہَادِیُٔ اَلشَّاکِرُ اَلرَّفِیْعُ اَلشَّہِیْدُ
اَلْوَاحِدُ ذُوالطَّوْلِ ذُوالْمَعَارِجِ ذُوالْفَضْلِ اَلْخَلَّاقُ اَلْکَفِیْلُ
اَلْجَلِیْلُ اَلْکَرِیْمُ۔ (۶)
ہٰذا حدیث محفوظ من حدیث اَیُّوب وہِشام، عَنْ محمد بن سیرین، عَنْ ابی ہریرۃ مختصرًا دُون ذکرالاسامیٰ الزایدۃ فیہا کلہا فی القرآن وعبدالعزیز بن الحصین بن الترجمان ثقۃ وان لم یخرجاہ وانما جعلتہ شاہدا للحدیث الْاَوّلِ۔

اللہ

’’اللہ‘‘ عربوں کے لیے کوئی اجنبی لفظ نہ تھا۔ قدیم ترین زمانے سے وہ خالق کائنات کے لیے یہی لفظ استعمال کررہے تھے اور اپنے دوسرے معبودوں میں سے کسی پر بھی اس کا اطلاق نہیں کرتے تھے۔ دوسرے معبودوں کے لیے ان کے ہاں اِلٰہ کا لفظ رائج تھا۔ پھر’’ اللہ ‘‘کے بارے میں ان کے جو عقائد تھے ان کا اظہار اس موقع پر خوب کھل کر ہوگیا تھا۔ جب ابرہہ نے مکہ پر چڑھائی کی تھی۔ اس وقت خانہ کعبہ میں ۳۶۰ الٰہوں کے بت موجود تھے، مگر مشرکین نے ان سب کو چھوڑ کر صرف اللہ سے دعائیں مانگی تھیں کہ وہ اس بلا سے ان کو بچائے۔ گویا وہ اپنے دلوں میں اچھی طرح جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ اس نازک وقت میں ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ کعبے کو بھی وہ ان الہٰوں کی نسبت سے بیت الاٰلِہہ نہیں، بلکہ اللہ کی نسبت سے بَیْتُ اللّٰہ کہتے تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الاخلاص حاشیہ:۲)
اللہ تعالیٰ نے سورۂ اخلاص میں اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے:
قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔
’’کہو !وہ اللہ ہے یکتا۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ۔ کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔‘‘
(علاوہ ازیں) جگہ جگہ اس مضمون کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے تاکہ لوگ حقیقت کو پوری طرح سمجھ لیں۔مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں۔
اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۔ سُبْحَانَہٗ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ۔ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ۔
(النساء: ۱۷۱)
’’ اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، سب اس کی ملک ہے۔‘‘
اَلَآ اِنَّہُمْ مِّنْ اِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ وَلَدَا للّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکذِبُوْنَ۔ (الصافات: ۱۵۱-۱۵۲)
’’ خوب سن رکھو! یہ لوگ دراصل اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتاہے۔ فی الواقع یہ قطعی جھوٹے ہیں۔‘‘
ساری کائنات میں کوئی نہیں ہے ، نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہوسکتا ہے، جو اللہ کے مانند ، یا اس کا ہم مرتبہ ہو، یا جو اپنی صفات، افعال اور اختیارات میں اس سے کسی درجہ میں بھی مشابہت رکھتا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الاخلاص ، حاشیہ: ۶)
اگر انسان کائنات کے اس کارخانے کو، جو شب و روز اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، محض جانوروں کی طرح نہ دیکھے بلکہ عقل سے کام لے کر اس نظام پر غور کرے، اور ضد یا تعصب سے آزاد ہو کر سوچے، تو یہ آثار جو اس کے مشاہدے میں آرہے ہیں اس نتیجے پر پہنچانے کے لیے بالکل کافی ہیں کہ یہ عظیم الشان نظام ایک ہی قادرِ مطلق حکیم کے زیر فرمان ہے،تمام اختیار و اقتدار بالکل اسی ایک کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کی خود مختارانہ مداخلت یا مشارکت کے لیے اس نظام میں ذرہ برابر کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا فی الحقیقت وہی ایک خدا تمام موجودات عالم کا خدا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسری ہستی کسی قسم کے اختیارات رکھتی ہی نہیں کہ خدائی اور الوہیت میں اس کا کوئی حصہ ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرہ، حاشیہ: ۱۶۲)
خدائی کی جو صفات اللہ کے لیے خاص ہیں ان میں سے بعض کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ کے جو حقوق ہیں، وہ سب یا ان میں سے بعض حقوق یہ لوگ ان دوسرے بناوٹی معبودوں کو ادا کرتے ہیں۔ مثلاً سلسلۂ اسباب پر حکمرانی ، حاجت روائی، مشکل کشائی، فریادرسی، دعائیں سننا اور غیب و شہادت ہر چیز سے واقف ہونا، یہ سب اللہ کی مخصوص صفات ہیں اور یہ صرف اللہ ہی کا حق ہے کہ بندے اسی کو مقتدر اعلیٰ مانیں ، اسی کے آگے اعتراف بندگی میں سرجھکائیں، اسی کی طرف اپنی جاجتوں میں رجوع کریں، اسی کو مدد کے لیے پکاریں، اسی پر بھروسہ کریں، اسی سے امیدیں وابستہ کریں اور اسی سے ظاہر و باطن میں ڈریں۔ اسی طرح مالک الملک ہونے کی حیثیت سے یہ منصب بھی اللہ ہی کا ہے کہ اپنی رعیت کے لیے حلال و حرام کے حدود مقرر کرے، ان کے فرائض و حقوق معین کرے، ان کو امر ونہی کے احکام دے، اور انھیں یہ بتائے کہ اس کی دی ہوئی قوتوں اور اس کے بخشے ہوئے وسائل کو وہ کس طرح کن کاموں میں کن مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ اور یہ صرف اللہ کا حق ہے کہ بندے اس کی حاکمیت تسلیم کریں، اس کے حکم کو منبع قانون مانیں، اسی کو امرونہی کا مختار سمجھیں، اپنی زندگی کے معاملات میں اس کے فرمان کو فیصلہ کن قرار دیں، اور ہدایت و رہنمائی کے لیے اسی کی طرف رجوع کریں۔ جو شخص خدا کی ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی کسی دوسرے کی طرف منسوب کرتا ہے، اور اس کے ان حقوق میں سے کوئی ایک حق بھی کسی دوسرے کو دیتا ہے وہ دراصل اسے خدا کا مدِّمقابل اور ہمسر بناتا ہے اور اسی طرح جو شخص یا جو ادارہ ان صفات میں سے کسی کا مدعی ہو اور ان حقوق میں سے کسی حق کا انسانوں سے مطالبہ کرتا ہو، وہ بھی دراصل خدا کا مدِّمقابل اور ہمسر بنتا ہے خواہ زبان سے خدائی کا دعویٰ کرے یا نہ کرے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرہ، حاشیہ: ۱۶۳)
سورۂ آل عمران آیت ۱۸ میں ارشاد ربانی ہے:
شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الخ
’’اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔‘‘
یعنی’’ اللہ ‘‘جو کائنات کی تمام حقیقتوں کا براہِ راست علم رکھتا ہے ، جو تمام موجودات کو بے حجاب دیکھ رہا ہے، جس کی نگاہ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں، یہ اس کی شہادت ہیــــــ اور اس سے بڑھ کر معتبر عینی شہادت اور کس کی ہوگیــــــ کہ پورے عالم وجود میں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے، جو خدائی کی صفات سے متصف ہو، خدائی کے اقتدار کی مالک ہو، اور خدائی کے حقوق کی مستحق ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، آل عمران، حاشیہ:۱۴)
اللہ کا وجود محض ایک خیالی اور فرضی وجود نہیں ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کی خاطر مان لیا گیا ہو۔وہ نرافلسفیوں کے خیال کاآفریدہ ، واجب الوجود اور علت الْعلل (First Cause) ہی نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی فاعل مختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت ، اپنے ارادے ، اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تدبیر کررہا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشہ:۸)
ہر شخص جو کسی نوعیت کا شرک کرتا ہے، دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی تکذیب کرتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت نے میری بیماری دور کردی، اصل میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ شافی نہیں ہے بلکہ وہ حضرت شافی ہیں۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روزگار مل گیا، حقیقت میں یہ کہنا ہے کہ رازق اللہ نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ رازق ہیں۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں آستانے سے میری مراد برآئی، گویا دراصل یہ کہنا ہے کہ دنیا میں حکم اللہ کا نہیں بلکہ اس آستانے کا چل رہا ہے۔ غرض ہر مشرکانہ عقیدہ اور مشرکانہ قول آخری تجزیہ میں صفات الٰہی کی تکذیب ہی پر منتہی ہوتا ہے۔ شرک کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی دوسروں کو سمیع و بصیر ، عالم الغیب ، فاعل مختار، قادر و متصرّف، اور الوہیت کے دوسرے اوصاف سے متصف قرار دے رہا ہے اور اس بات کا انکار کررہا ہے کہ اکیلا اللہ ہی ان صفات کا مالک ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن ، حاشیہ: ۲۸)

الاِلٰہ

اس لفظ کا مادہ ’’ا ل ہ‘‘ ہے۔ اس مادہ سے جو الفاظ لغت میں آئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:
اَلِہَ اِذاتَحَیَّرَ: حیران و سرگشتہ ہوا۔ اَلِہْتُ اِلیٰ فُلَانٍ اَیْ سَکَنْتُ اِلَیْہِ: اس کی پنا ہ میں جاکر یا اس سے تعلق پیدا کر کے میں نے سکون و اطمینان حاصل کیا۔
اَلَہَ الرَّجُلُ یَاْ الالٰہٗ اِذَا فَزِعَ مِنْ اَمْرٍ نَزَلَ بِہٖ فَآلَہَہٗ غَیْرُہٗ اَیْ اَجَارَہٗ۔ آدمی کسی مصیبت یا تکلیف کے نزول سے خوف زدہ ہو اور دوسرے نے اس کو پناہ دی۔
اَلِہَ الرَّجُلُ اِلَی الرَّجُلِ اِتَّجَہَ اِلَیْہِ لِشِدَّۃِ شَوْقِہٖ اِلَیْہِ۔آدمی نے دوسرے کی طرف شدت شوق کی وجہ سے توجہ کی۔
اَلِہَ الْفَصِیْلُ اِذَاوَلَعَ بِاُمِّہٖ۔اونٹنی کا بچہ جو اس سے بچھڑ گیا تھا ماں کو پاتے ہی اس سے چمٹ گیا۔
لَاہَ یَلِیْہُ لَیْہًا وَلَا ہًا اِذَا احْتَجَبَ۔ پوشیدہ و مستور ہوا نیز ارتفع یعنی بلند ہوا۔
الہ الٰہۃ والوہۃً والوہیۃً عَبَدَ عبادت کی۔
ان تمام معانی مصدر یہ پر غور کرنے سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اَلَہَ یَا لَہُ اِلٰہَۃً کے معنی عبادت (پرستش) اور اِلٰہ کے معنی معبود کس مناسبت سے پید ا ہوئے۔
۱- انسان کے ذہن میں عبادت کے لیے اوّلین تحریک اپنی حاجت مندی سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کسی کی عبادت کا خیال تک نہیں کرسکتا جب تک اسے یہ گمان نہ ہو کہ وہ اس کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے، خطرات اور مصائب میں اسے پناہ دے سکتا ہے، اضطراب کی حالت میں اسے سکون بخش سکتا ہے۔
۲- پھر یہ بات کہ آدمی کسی کو حاجت روا سمجھے اس تصور کے ساتھ لازم و ملزوم کا تعلق رکھتی ہے کہ وہ اسے اپنے سے بالاتر سمجھے اور نہ صرف مرتبہ کے اعتبار سے اس کی برتری تسلیم کرے، بلکہ طاقت اور زور کے اعتبار سے بھی اس کی بالادستی کا قائل ہو۔
۳- پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سلسلۂ اسباب و علل کے تحت جن چیزوں سے بالعموم انسان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور جن کی حاجت روائی کا سارا عمل انسان کی آنکھوں کے سامنے یا اس کے حدود علم کے اندر واقع ہوتا ہے ان کے متعلق پرستش کا کوئی جذبہ اس میں پیدا نہیںہوتا۔ مثلاً مجھے خرچ کے لیے روپے کی ضرورت ہوتی ہے، میں جاکر ایک شخص سے نوکری یا مزدوری کی درخواست کرتا ہوں وہ میری درخواست کو قبول کرکے مجھے کوئی کام دیتا ہے اور اس کام کا معاوضہ مجھے دے دیتا ہے، یہ سارا عمل چونکہ میرے حواس اور علم کے دائرے کے اندر پیش آیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس نے میری یہ حاجت کس طرح پوری کی ہے، اس لیے میرے ذہن میں اس کے لائق پرستش ہونے کا وہم تک نہیں گزرتا۔ پرستش کا تصور میرے ذہن میں صرف اسی حالت میں پیدا ہوسکتا ہے جب کہ کسی کی شخصیت یا اس کی طاقت یا اس کی حاجت روائی و اثر اندازی کی کیفیت پر پردہ پڑا ہو۔ اسی لیے معبود کے معنی میں وہ لفظ اختیار کیا گیا جس کے اندر رفعت کے ساتھ پوشیدگی اور حیرانی و سرگشتگی کا مفہوم بھی شامل ہے۔
۴- پھر جس کے متعلق بھی انسان یہ گمان رکھتا ہو کہ وہ احتیاج کی حالت میں حاجت روائی کرسکتا ہے، خطرات میں پناہ دے سکتا ہے اوراضطراب میں سکون بخش سکتا ہے، اس کی طرف انسان کا اشتیاق کے ساتھ توجہ کرنا ایک امرناگزیر ہے۔
پس معلوم ہوا کہ معبود کے لیے الہٰ کالفظ جن تصورات کی بناپر بولا گیا وہ یہ ہیں:
حاجت روائی ، پناہ دہندگی، سکون بخشی، بالاتری و بالادستی ، ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائے کہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہوسکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا پراسرار ہونا یا منظر عام پر نہ ہونا۔ انسان کا اس کی طرف مشتاق ہونا۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: الہٰ، لغوی تحقیق)
زمین اور آسما ن میں ایک ہی ہستی تمام اختیارات و اقتدارات کی مالک ہے۔ خلق اسی کی ہے، نعمت اسی کی ہے، امر اسی کا ہے، قوت اور زور بالکل اس کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز چاروناچار اسی کی اطاعت کررہی ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے پاس کوئی اقتدار ہے، نہ کسی کا حکم چلتا ہے، نہ کوئی خلق اور تدبیر اور انتظام کے رازوں سے واقف ہے، اور نہ کوئی اختیارات حکومت میں ذرہ برابر شریک و حصہ دار ہے، لہٰذا اس کے سوا حقیقت میں کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اور جب حقیقت میں کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے تو تمہارا ہر وہ فعل جو تم دوسروں کو الٰہ سمجھتے ہوئے کرتے ہو اصلاً غلط ہے، خواہ وہ دعا مانگنے یا پناہ ڈھونڈھنے کا فعل ہو، یا خوف و رجا کا فعل ہو، یا سفارشی بنانے کا فعل ہو، یا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا فعل ہو۔ یہ تمام تعلقات جو تم نے دوسروں سے قائم کررکھے ہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں کیونکہ وہی اکیلا صاحب اقتدار ہے۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: قرآن کا استدلال)
الٰہیت اور اقتدار لازم و ملزوم ہیں اور اپنی روح و معنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ جو اقتدار نہیں رکھتا وہ الٰہ نہیں ہوسکتا اور اسے الٰہ نہ ہونا چاہیے۔ اور جو اقتداررکھتا ہے وہی الٰہ ہوسکتا ہے اور اسی کو الٰہ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ الٰہ سے تمہاری جس قدر ضروریات متعلق ہیں، یا جن ضروریات کی خاطر تمہیں کسی کو الٰہ ماننے کی حاجت پیش آتی ہے ان میں سے کوئی ضرورت بھی اقتدار کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی، لہٰذا غیر مقتدر کا الٰہ ہونا بے معنی ہے حقیقت کے خلاف ہے اور اس کی طرف رجوع کرنا لاحاصل ہے۔
اس مرکزی خیال کو لے کر قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے اس کے مقدمات اور نتائج حسب ذیل ترتیب کے ساتھ اچھی طرح سمجھ میں آسکتے ہیں:
۱- حاجت روائی، مشکل کشائی، پناہ دہندگی، امداد و اعانت، خبرگیری و حفاظت اور استجابت دعوات جن کو تم نے معمولی کام سمجھ رکھا ہے دراصل یہ معمولی کام نہیں ہیں بلکہ ان کا سررشتہ پورے نظام کائنات کی تخلیقی اور انتظامی قوتوں سے جاملتا ہے۔ تمہاری ذرا ذرا سی ضرورتیں جس طرح پوری ہوتی ہیں اس پر غور کرو تو تم کو معلوم ہوکہ زمین و آسمان کے عظیم الشان کارخانہ میں بے شمار اسباب کی مجموعی حرکت کے بغیر ان کا پورا ہونا محال ہے۔ پانی کا ایک گلاس جو تم پیتے ہو اور گیہوں کا ایک دانہ جو تم کھاتے ہو اس کو مہیا کرنے کے لیے سورج اور زمین اور ہوائوں اور سمندروں کو خدا جانے کتنا کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں یہ چیزیں تم کو بہم پہنچتی ہیں۔ پس تمہاری دعائیں سننے اور تمہاری حاجتیں رفع کرنے کے لیے کوئی معمولی اقتدار نہیں بلکہ وہ اقتدار درکار ہے جو زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے لیے، سیاروں کو حرکت دینے کے لیے، ہوائوں کو گردش دینے اور بارش برسانے کے لیے غرض پوری کائنات کا انتظام کرنے کے لیے درکار ہے۔
۲- یہ اقتدار ناقابل تقسیم ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خلق کا اقتدار کسی کے پاس ہو، اور رزق کا کسی اور کے پاس سورج کسی کے قبصہ میں ہو اورزمین کسی اور کے قبضہ میں، پیدا کرنا کسی کے اختیار میں ہو، بیماری و صحت کسی اور کے اختیار میں، او ر موت اور زندگی کسی تیسرے کے اختیار میں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ نظام کائنات کبھی چل ہی نہ سکتا۔ لہٰذا تمام اقتدارات و اختیارات کا ایک ہی مرکزی فرماں روا کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے۔ کائنات کا انتظام چاہتا ہے کہ ایساہو، اور فی الواقع ایسا ہی ہے۔
۳- جب تمام اقتدار ایک ہی فرماں روا کے ہاتھ میں ہے اور اقتدار میں کسی کا ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے تو لامحالہ الوہیت بھی بالکلیہ اسی فرماں روا کے لیے خاص ہے اور اس میں بھی کوئی حصہ دار نہیں ہے۔ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ تمہاری فریادرسی کرسکے، دعائیں قبول کرسکے، پناہ دے سکے، حامی و ناصر اورولی و کارساز بن سکے، نفع یا نقصان پہنچاسکے۔ لہٰذا الٰہ کا جو مفہوم تمہارے ذہن میں ہے اس کے لحاظ سے کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔ حتّٰی کہ کوئی اس معنی میں بھی الٰہ نہیں کہ فرماں روائے کائنات کے ہاں مقرب بارگاہ ہونے کی حیثیت ہی سے اس کا کچھ زور چلتا ہو اور اس کی سفارش مانی جاتی ہو۔ اس کے انتظام سلطنت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں، کوئی اس کے معاملات میں دخل نہیں دے سکتا اور سفارش قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اسی کے اختیار میں ہے ، کوئی زور کسی کے پاس نہیں ہے کہ اس کے بل پر وہ اپنی سفارش قبول کراسکے۔
۴- اقتدار اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضایہ ہے کہ حاکمیت و فرماں روائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک ہی مقتدراعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں اور حاکمیت کا کوئی جز بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب رازق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب پورے نظام کائنات کا مدبر و منتظم وہ ہے اور تدبیر و انتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں تو یقینا حاکم و آمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیے اوراقتدار کی اس شق میں بھی کسی کے شریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کے دائرے میں اس کے سوا کسی دوسرے کا فریاد رس اور حاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہے اسی طرح کسی دوسرے کا مستقل بالذات حاکم اور خودمختار فرماں روا اور آزاد قانون ساز ہونا بھی غلط ہے۔ تخلیق اور رزق رسانی ، احیا اور اماتت ، تسخیر شمس و قمر اور تکویرلیل و نہار ، قضا اور قدر، حکم اور پادشاہی ، امر اور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار و حاکمیت کے مختلف پہلو ہیں اور یہ اقتدار و حاکمیت ناقابل تقسیم ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کے حکم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہے تو وہ ویسا ہی شرک کرتا ہے جیسا ایک غیر اللہ سے دعا مانگنے والا شرک کرتا ہے اور اگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدراعلیٰ اور حاکم علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ بالکل اسی طرح خدائی کا دعویٰ ہے جس طرح فوق الطبیعی معنی میں کسی کا یہ کہنا کہ تمہارا ولی وکارساز اور مددگار و محافظ میں ہوں۔ اسی لیے جہاں خلق اور تقدیر اشیا اور تدبیر کائنات میں اللہ کے لاشریک ہونے کا ذکرکیا گیا ہے۔ وہیں لَہ الحکم ولہ الملک اور لم یکن لہ شریک فی الملک بھی کہا گیا ہے جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیت کے مفہوم میں پادشاہی و حکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اور توحید الٰہ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے بھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت نہ تسلیم کی جائے۔
فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ لَآاِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ۔ (المؤمنون :۱۱۶)
’’ پس بالا و برتر ہے اللہ جو حقیقی پادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرش بزرگ کا مالک ہے۔‘‘
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ۔ (الناس :۱-۲)
’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب سے، انسانوں کے بادشاہ سے، انسانوں کے الٰہ سے ۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: قرآن کا استدلال)
اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات کا مالک وہ خود ہی ہے۔ کوئی دوسرا نہ اس کی صفات میں اس کا شریک ہے، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھیراکر زمین یا آسمان میں جہاں بھی کسی اور کو معبود (الٰہ) بنایا جارہا ہے، ایک جھوٹ گھڑا جارہا ہے، اور حقیقت کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔
(تفہیم القرآن ج ۱ البقرۃ، حاشیہ: ۲۷۸)
جس کے سوا کسی کی یہ حیثیت اور مقام اور مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی بندگی و پرستش کی جائے۔ جس کے سوا کوئی خدائی کی صفات و اختیارات رکھتا ہی نہیں کہ اسے معبود ہونے کا حق پہنچتا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحشر ،حاشیہ:۳۳)
خدائی کے سارے اختیارات تنہا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میںہیں۔ کوئی دوسرا سرے سے یہ اختیار رکھتا ہی نہیں ہے کہ تمہاری اچھی یا بری تقدیر بناسکے۔ اچھا وقت آسکتا ہے تو اسی کے لائے آسکتا ہے، اور برا وقت ٹل سکتا ہے تو اسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سچے دل سے اللہ کو خدائے واحد مانتا ہو اس کے لیے اس کے سوا سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ پر بھروسا رکھے اور دنیا میں ایک مومن کی حیثیت سے اپنا فرض اس یقین کے ساتھ انجام دیتا چلا جائے کہ خیر بہر حال اسی راہ میں ہے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اس راہ میں کامیابی نصیب ہوگی تو اللہ ہی کی مدد اور تائید و توفیق سے ہوگی، کوئی دوسری طاقت مدد کرنے والی نہیں ہے اور اس راہ میں اگر مشکلات و مصائب اور خطرات ومہالک سے سابقہ پیش آئے گا تو ان سے بھی وہی بچائے گا، کوئی دوسرا بچانے والا نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن حاشیہ:۲۸)
کائنات کا مالک و فرماں روا ہی انسانوں کا اصل معبود ہے، اور وہی درحقیقت معبود ہوسکتا ہے، اور اسی کو معبود ہونا چاہیے۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ رب (یعنی مالک ، اور حاکم اور مربی و پروردگار) کوئی اور ہو اور الٰہ(عبادت کا مستحق) کوئی اور ہوجائے۔ عبادت کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ آدمی کا نفع و ضرر، اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا پورا ہونا، اس کی قسمت کا بننا اور بگڑنا، بلکہ بجائے خود اس کا وجود و بقا ہی جس کے اختیار میں ہے ، اس کی بالا تری تسلیم کرنا اور اس کے آگے جھکنا آدمی کی فطرت کا عین تقاضا ہے۔ اس وجہ کو آدمی سمجھ لے تو خود بخود اس کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ اختیارات والے کی عبادت نہ کرنا اور بے اختیار کی عبادت کرنا، دونوں صریح خلاف عقل وفطرت ہیں۔ عبادت کا استحقاق پہنچتا ہی اس کو ہے جو اقتدار رکھتا ہے۔ رہیں بے اختیار ہستیاں تو وہ نہ اس کی مستحق ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے، اور نہ ان کی عبادت کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے کا کچھ حاصل ہے، کیوں کہ ہماری کسی درخواست پر کوئی کارروائی کرنا سرے سے ان کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔ ان کے آگے عاجزی و نیاز مندی کے ساتھ جھکنا اور ان سے دعا مانگنا بالکل ویسا ہی احمقانہ فعل ہے جیسے کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے جانے اور اس کے حضور درخواست پیش کرنے کے بجائے جو دوسرے سائلین وہاں درخواستیں لیے کھڑے ہوں انہی میں سے کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الصافات، حاشیہ: ۴)
سورہ ٔ بنی اسرائیل : ۴۲ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ لَّوْ کَانَ مَعَہٗ اٰلِہَۃٌ کَمَا تَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً۔
’’اے محمدؐ! ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشس کرتے۔‘‘
یعنی وہ خود مالک عرش بننے کی کوشش کرتے۔ اس لیے کہ چند ہستیوں کا خدائی میں شریک ہونا دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ یا تو وہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل خدا ہوں۔ یا ان میں سے ایک اصل خدا ہو، اور باقی اس کے بندے ہوں جنھیں اس نے کچھ خدائی اختیارات دے رکھے ہوں۔ پہلی صورت میں یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ یہ سب آزادو خودمختار خدا ہمیشہ ہر معاملے میں، ایک دوسرے کے ارادے سے موافقت کرکے اس اتھاہ کائنات کے نظم کو اتنی مکمل ہم آہنگی ، یکسانیت اور تناسب و توازن کے ساتھ چلا سکتے۔ ناگزیر تھا کہ ان کے منصوبوں اور ارادوں میں قدم قدم پر تصادم ہوتا اور ہر ایک اپنی خدائی دوسرے خدائوں کی موافقت کے بغیر چلتی نہ دیکھ کر یہ کوشش کرتا کہ وہ تنہا ساری کائنات کا مالک بن جائے۔ رہی دوسری صورت ، تو بندے کا ظرف خدائی اختیارات تو درکنار خدائی کے ذرا سے وہم اور شائبے تک کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اگر کہیں کسی مخلوق کی طرف ذرا سی خدائی بھی منتقل کردی جاتی تو وہ پھٹ پڑتا۔ چند لمحوں کے لیے بھی بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوتا، اور فوراً ہی خدا وند عالم بن جانے کی فکر شروع کردیتا۔
جس کائنات میں گیہوں کا ایک دانہ اور گھاس کا ایک تنکا بھی اس وقت تک پیدا نہ ہوتا ہو جب تک کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں مل کر اس کے لیے کام نہ کریں، اس کے متعلق صرف ایک انتہا درجے کا جاہل اور کند ذہن آدمی ہی یہ تصور کرسکتا ہے کہ اس کی فرماں روائی ایک سے زیادہ خود مختار یا نیم مختار خدا کررہے ہوں گے۔ ورنہ جس نے کچھ بھی اس نظام کے مزاج اور طبیعت کو سمجھنے کی کوشش کی ہو وہ تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہاں خدائی بالکل ایک ہی کی ہے اور اس کے ساتھ کسی درجے میں بھی کسی اور کے شریک ہونے کا قطعی امکان نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن ، ج ۲، بنی اسرائیل، حاشیہ: ۴۷)
ساری کائنات اور اس کی ہرشے اپنے پورے وجود سے اس حقیقت پر گواہی دے رہی ہے کہ جس نے اس کو پیدا کیاہے، اور جو اس کی پروردگاری و نگہبانی کر رہا ہے اس کی ذات ہر عیب اور نقص اور کمزوری سے منزہ ہے، اور وہ اس سے بالکل پاک ہے کہ خدائی میں کوئی اس کا شریک و سہیم ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، بنی اسرائیل ، حاشیہ: ۴۸)

الرَّحْمٰنُ ۱؎،الرَّحِیْمُ: نہایت مہربان، رحم فرمانے والا

انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے ، اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا، تو پھر وہ اسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمان کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نکتہ پوشیدہ ہے۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ لیکن خدا کی رحمت اور مہربانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے، اس قدر وسیع ہے، ایسی بے حدوحساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا۔ اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں ’’سخی‘‘ کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس ’’داتا‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ کی تعریف میں جب ’’گورے‘‘ کو کافی نہیں پاتے تو اس پر ’’چٹے‘‘ کا لفظ اور بڑھادیتے ہیں۔ درازیٔ قد کے ذکر میں جب ’’لمبا‘‘ کہنے سے تسلی نہیں ہوتی تو اس کے بعد تڑنگا بھی کہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، سورۂ الفاتحہ، حاشیہ: ۴)
وہی ایک ہستی ایسی ہے جس کی رحمت بے پایاں ہے، تمام کائنات پر وسیع ہے، اور کائنات کی ہر چیز کو اس کا فیض پہنچتا ہے۔ سارے جہان میں کوئی دوسرا اس ہمہ گیر اور غیر محدود رحمت کا حامل نہیں ہے۔ دوسری جس ہستی میں بھی صفت رحم پائی جاتی ہے اس کی رحمت جزوی اور محدود ہے، اور وہ بھی اس کی ذاتی صفت نہیں ہے بلکہ خالق نے کسی مصلحت اور ضرورت کی خاطر اسے عطا کی ہے۔ جس مخلوق کے اندر بھی اس نے کسی دوسری مخلوق کے لیے جذبۂ رحم پیدا کیا ہے، اس لیے پیدا کیا ہے کہ ایک مخلوق کو وہ دوسری مخلوق کی پرورش اور خوشحالی کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ بجائے خود اسی کی رحمت بے پایاں کی دلیل ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحشر، حاشیہ: ۳۵)
اس مضمون کو نبی ﷺ نے دو نہایت لطیف مثالوں سے واضح فرمایا ہے۔ ایک مثال تو آپؐ نے یہ دی ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کا اونٹ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں کھویا گیا ہو اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اسی اونٹ پر ہو اور وہ شخص اس کو ڈھونڈڈھونڈ کرمایوس ہوچکا ہو یہاں تک کہ زندگی سے بے آس ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا ہو، اور عین اس حالت میں یکایک وہ دیکھے کہ اس کا اونٹ سامنے کھڑاہے، تو اس وقت جیسی کچھ خوشی اس کو ہوگی، اس سے بہت زیادہ خوشی اللہ کو اپنے بھٹکے ہوئے بندے کے پلٹ آنے سے ہوتی ہے۔ دوسری مثال اس سے بھی زیادہ مؤثر ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ جنگی قیدی گرفتار ہوکر آئے۔ ان میں ایک عورت بھی تھی جس کا شیر خواربچہ چھوٹ گیا تھا اور وہ مامتا کی ماری ایسی بے چین تھی کہ جس بچے کو پالیتی اسے چھاتی سے چمٹا کر دودھ پلانے لگتی تھی۔ نبی ﷺ نے اس کا حال دیکھ کر ہم لوگوں سے پوچھا کیا تم لوگ یہ توقع کرسکتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے عرض کیا ہرگز نہیں، خود پھینکنا تو درکنار ، وہ آپ گرتا ہو تو یہ اپنی حد تک تو اسے بچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔فرمایا اَللّٰہُ اَرْحَمُ بِعِبَادِہٖ مِنْ ہٰذِہِ بِوَلَدِہَا ’’ اللہ کا رحم اپنے بندوں پر اس سے بہت زیادہ ہے جو یہ عورت اپنے بچے کے لیے رکھتی ہے۔‘‘
اور ویسے بھی غور کرنے سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جس نے بچوں کی پرورش کے لیے ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر خدا اس محبت کو پیدا نہ کرتا تو ماں اور باپ سے بڑھ کر بچوں کا کوئی دشمن نہ ہوتا۔ کیونکہ سب سے بڑھ کر وہ انہی کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اب ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ جو خدا محبت مادری اور شفقت پدری کا خالق ہے خود اس کے اندر اپنی مخلوق کے لیے کیسی کچھ محبت موجود ہوگی۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، ہود، حاشیہ: ۱۰۱)
اس کا رحیم ہونا اس اطمینان کے لیے کافی ہے کہ جو شخص اس کی خاطر اعلائے کلمۃ الحق کے کام میں جان لڑائے گا اس کی کوششوں کووہ کبھی رائیگاں نہ جانے دے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الشعراء ،حاشیہ: ۱۳۷)
کیا شان ہے خدا کی رحیمی و غفاری کی، جو لوگ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کے طوفان اٹھاتے ہیں ان کو بھی وہ مہلت دیتا ہے اور سنتے ہی عذاب کا کوڑا نہیں برسادیتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان ، حاشیہ: ۱۳)
برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے، سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے اور عمر بھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کردینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الشعراء، حاشیہ:۶)
ایسا نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں اگر کوئی شخص یا گروہ اس کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود پکڑا نہیں جارہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ دنیا اندھیرنگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے اور درگزر سے کام لینا اس کی عادت ہے۔ عاصی اور خاطی کو قصور سرزد ہوتے ہی پکڑ لینا، اس کا رزق بند کردینا، اس کے جسم کو مفلوج کردینا، اس کو آناً فاناً ہلاک کردینا، سب کچھ اس کے قبضۂ قدرت میں ہے، مگر وہ ایسا کرتا نہیں ہے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے، سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے، اور جب بھی وہ باز آجائیں، معاف کردیتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، سبا، حاشیہ: ۴)
یہ اس کی حلیمی و رحیمی اور چشم پوشی و درگزر ہی تو ہے جس کی بدولت کفر اور شرک اور دہریت اور فسق و فجور اور ظلم و ستم کی انتہا کردینے والے لوگ بھی سالہا سال تک، بلکہ اس طرح کے پورے پورے معاشرے صدیوں تک مہلت پر مہلت پاتے چلے جاتے ہیں، اور ان کو صرف رزق ہی نہیں ملے جاتا بلکہ دنیا میں ان کی بڑائی کے ڈنکے بجتے ہیں اور زینت حیات دنیا کے وہ سروسامان انھیں ملتے ہیں جنھیں دیکھ دیکھ کر نادان لوگ اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ شاید اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن ، ج ۴، الشوریٰ حاشیہ:۵)
سورہ حٰمٓ السجدہآیت:۲ میں ارشاد ہے۔ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے نازل کردہ ـــــــــــاس کا نازل کرنے والا وہ خدا ہے جواپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان (رحمان و رحیم) ہے۔ نازل کرنے والے خدا کی دوسری صفات کے بجائے صفت رحمت کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس نے اپنی رحیمی کے اقتضاسے یہ کلام نازل کیا ہے۔ یہ تو ایک نعمت عظمیٰ ہے جو خدا نے سراسر اپنی رحمت کی بنا پر انسانوں کی رہنمائی اور فلاح و سعادت کے لیے نازل کی ہے۔ خدا اگر انسانوں سے بے رخی برتتا تو انھیں اندھیرے میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا اور کچھ پروا نہ کرتا کہ یہ کس گڑھے میں جاکر گرتے ہیں۔ لیکن یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ پیدا کرنے اور روزی دینے کے ساتھ ان کی زندگی سنوارنے کے لیے علم کی روشنی دکھانا بھی وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسی بنا پر یہ کلام اپنے ایک بندے پر نازل کر رہا ہے۔ اب اس شخص سے بڑھ کر ناشکرا اور آپ اپنا دشمن کون ہوگا جو اس رحمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا اس سے لڑنے کے لیے دوڑے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، حٰم السجدہ، حاشیہ:۱)
قرآن مجید کا نازل کیا جانا سراسر اللہ کی رحمت ہے۔ وہ چونکہ اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ہے، اس لیے اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ تمہیں تاریکی میں بھٹکتا چھوڑدے اور اس کی رحمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن بھیج کر تمہیں وہ علم عطا فرمائے جس پر دنیا میں تمہاری راست روی اور آخرت میں تمہاری فلاح کا انحصار ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن، حاشیہ: ۱)
چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے، اور خالق ہی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی مخلوق کی رہنمائی کرے اور اسے وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنا مقصد وجود پورا کرسکے، اس لیے اللہ کی طرف سے قرآن کی اس تعلیم کا نازل ہونا محض اس کی رحمانیت ہی کا تقاضانہیں ہے، بلکہ اس کے خالق ہونے کا بھی لازمی اور فطری تقاضا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کی رہنمائی نہ کرے گا تو اور کون کرے گا؟ اور خالق ہی رہنمائی نہ کرے تو اور کون کرسکتا ہے؟ اور خالق کے لیے اس سے بڑا عیب اور کیا ہوسکتا ہے کہ جس چیز کو وہ وجود میں لائے اسے اپنے وجود کا مقصد پورا کرنے کا طریقہ نہ سکھائے؟ پس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی تعلیم کا انتظام ہونا عجیب بات نہیں ہے، بلکہ یہ انتظام اگر اس کی طرف سے نہ ہوتا تو قابل تعجب ہوتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن، حاشیہ:۲)
یہ اللہ ہی کو زیب دیتا ہے کہ کسی نے خواہ اس کی کتنی ہی نافرمانیاں کی ہوں، جس وقت بھی وہ اپنی اس روش سے بازآجائے اللہ اپنا دامن رحمت اس کے لیے کشادہ کر دیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے کوئی جذبۂ انتقام وہ اپنے اندر نہیں رکھتا کہ ان کے قصوروں سے وہ کسی حال میں درگزر ہی نہ کرے اور سزا دیے بغیر نہ چھوڑے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، المدثر، حاشیہ:۴۳)
حقیقت نفس الامری کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنے سے جو منع کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری راست روی سے اس کا کوئی فائدہ اور غلط روی سے اس کا کوئی نقصان ہوتا ہے، بلکہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ راست روی میں تمہارا اپنا فائدہ اور غلط روی میں تمہارا اپنا نقصان ہے۔ لہٰذا یہ سراسر اس کی مہر بانی ہے کہ وہ تمہیں اس صحیح طرز عمل کی تعلیم دیتا ہے جس سے تم بلند مدارج تک ترقی کرنے کے قابل بن سکتے ہو اور اس غلط طرزِ عمل سے روکتا ہے جس کی بدولت تم پست مراتب کی طرف تنزل کرتے ہو۔
تمہارا رب سخت گیر نہیں ہے، تم کو سزادینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا ہے، وہ تمہیں پکڑنے اور مارنے پر تلا نہیں ہے کہ ذرا تم سے قصور سرزد ہو اور وہ تمہاری خبر لے ڈالے۔ درحقیقت وہ اپنی تمام مخلوقات پر نہایت مہربان ہے۔ غایت درجہ کے رحم و کرم کے ساتھ خدائی کررہا ہے، اور یہی اس کا معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ اسی لیے وہ تمہارے قصور پر قصور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ تم نافرمانیاں کرتے ہو، گناہ کرتے ہو، جرائم کا ارتکاب کرتے ہو، اس کے رزق سے پل کر بھی اس کے احکام سے منہ موڑتے ہو، مگر وہ حلم اور عفو ہی سے کام لیے جاتا ہے اور تمہیں سنبھلنے اور سمجھنے اور اپنی اصلاح کرلینے کے لیے مہلت پر مہلت دیے جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تمہیںدنیا سے رخصت کردیتا اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا کھڑا کرتا، یا سارے انسانوں کو ختم کرکے کوئی اور مخلوق پیدا کردیتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ: ۱۰۱)
وہ محض خالق ہی نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر غایت درجہ رحیم و شفیق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں کے لیے خود اس سے بڑھ کر فکر کرنے والا ہے، انسان دنیا میں مسلسل محنت نہیں کرسکتا بلکہ ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لیے آرام درکار ہوتا ہے تاکہ پھر چند گھنٹے محنت کرنے کے لیے اسے قوت بہم پہنچ جائے۔ اس غرض کے لیے خالق حکیم و رحیم نے انسان کے اندر صرف تکان کا احساس اور صرف آرام کی خواہش پیدا کردینے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے ’’نیند‘‘ کا ایک زبردست داعیہ اس کے وجود میں رکھ دیا جو اس کے ارادے کے بغیر ، حتیّٰ کہ اس کی مزاحمت کے باوجود خود بخود ہر چند گھنٹوں کی بیداری و محنت کے بعد اسے آدبوچتا ہے، چند گھنٹے آرام لینے پر اس کو مجبور کردیتا ہے ، اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد خود بخود اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس نیند کی ماہیت و کیفیت اور اس کے حقیقی اسباب کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا ہے۔ یہ قطعاً ایک پیدائشی چیز ہے جو آدمی کی فطرت اور اس کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے۔ اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا ہی اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ کسی حکیم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ تدبیر وضع کی ہے۔ اس میں ایک بڑی حکمت و مصلحت اور مقصدیت صاف طور پر کارفرما نظر آتی ہے۔ مزید براں یہی نیند اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جس نے یہ مجبور کن داعیہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ انسان کے حق میں خود اس سے بڑھ کر خیر خواہ ہے، ورنہ انسان بالارادہ نیند کی مزاحمت کرکے اور زبردستی جاگ جاگ کر اور مسلسل کام کرکر کے اپنی قوت کارکو ہی نہیں، قوت حیات تک کو ختم کرڈالتا۔

اَلْمَلِکُ : بادشاہ

’’الْمَلِکُ‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اصل بادشاہ وہی ہے۔ نیز مطلقاً الملک کا لفظ استعمال کرنے سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ وہ کسی خاص علاقے یا مخصوص مملکت کا نہیں بلکہ سارے جہان کا بادشاہ ہے۔ پوری کائنات پر اس کی سلطانی وفرماں روائی محیط ہے۔ ہر چیز کا وہ مالک ہے۔ ہر شے اس کے تصرف اور اقتدار اور حکم کی تابع ہے۔ اور اس کی حاکمیت (Sovereignty) کو محدود کرنے والی کوئی شے نہیں ہے۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے ان سارے پہلوئوں کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
وَلَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ۔ (الروم:۲۶)
’’زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں اس کے مملوک ہیں۔ سب اس کے تابع فرمان ہیں۔‘‘
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ۔ (السجدہ:۵)
’’ آسمان سے زمین تک وہی ہرکام کی تدبیر کرتا ہے۔‘‘
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۔ (الحدید:۵)
’’زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اسی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات رجوع کیے جاتے ہیں۔‘‘
وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (الفرقان: ۲)
’’بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔‘‘
بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَییٍٔ۔ (یٰسٓ : ۸۳)
’’ ہر چیز کی سلطانی و فرماں روائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ (البروج: ۱۶)
’’جس چیز کا ارادہ کرے اسے کر گزرنے والا۔‘‘
لَا یُسْئَلُ عَمَّایَفْعَلُ وَہُمْ یُسْئَلُوْنَ۔ (الانبیاء: ۲۳)
’’ جو کچھ وہ کرے اس پر وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے، اور سب جواب دہ ہیں۔‘‘
وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ۔ (الرعد: ۴۱)
’’ اور اللہ فیصلہ کرتا ہے، کوئی اس کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے۔‘‘
وَہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ۔ (المومنون:۸۸)
’’ اور وہ پناہ دیتا ہے اور کوئی اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دے سکتا۔‘‘
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ ط وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ۔ (اٰل عمران: ۲۶)
’’ کہو، خدایا ملک کے مالک ، تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے۔ بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘
ان توضیحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی حاکمیت کے کسی محدود یا مجازی مفہوم میں نہیں بلکہ اس کے پورے مفہوم میں، اس کے مکمل تصور کے لحاظ سے حقیقی بادشاہی ہے۔ بلکہ درحقیقت حاکمیت جس چیز کا نام ہے وہ اگر کہیں پائی جاتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس کے سوا اور جہاں بھی اس کے ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، خواہ وہ کسی بادشاہ یا ڈکٹیٹر کی ذات ہو، یا کوئی طبقہ یا گروہ یا خاندان ہو، یا کوئی قوم ہو، اسے فی الواقع کوئی حاکمیت حاصل نہیں ہے، کیوں کہ حاکمیت سرے سے اس حکومت کو کہتے ہی نہیں ہیں جو کسی کا عطیہ ہو، جو کبھی ملتی ہو اور کبھی سلب ہوجاتی ہو، جسے کسی دوسری طاقت سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہو، جس کا قیام و بقا عارضی و وقتی ہو، اور جس کے دائرۂ اقتدار کو بہت سی دوسری متصادم قوتیں محدود کرتی ہوں۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحشر، حاشیہ:۳۶)
حقیقی اختیارات کا مالک اور واقعی رب وہی ہے، اس لیے اس کی بندگی کرنے والے خائب و خاسر نہیں رہ سکتے اور دوسرے تمام معبود سراسر بے حقیقت ہیں، ان کو جن صفات اور اختیارات کا مالک سمجھ لیا گیا ہے ان کی سرے سے کوئی اصلیت نہیں ہے، اس لیے خدا سے منہ موڑ کر ان کے اعتماد پر چلنے والے کبھی فلاح و کامرانی سے ہم کنار نہیں ہوسکتے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۱۰۹)
(قیامت کے روز) ساری مجازی بادشاہیاں اور ریاستیں ختم ہوجائیں گی جو دنیا میں انسان کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہاں صرف ایک بادشاہی باقی رہ جائے گی اور وہ وہی اللہ کی بادشاہی ہے جو اس کائنات کا حقیقی فرماں روا ہے۔
سورہ مومن میں ارشاد ہوا ہے:
یَوْمَ ہُمْ بٰرِزُوْنَ لَا یَخْفیٰ عَلیٰ اللّٰہِ مِنْہُمْ شَیٌْٔ۔ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ، لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
(اٰیت: ۱۶)
’’وہ دن جب کہ یہ سب لوگ بے نقاب ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہوگی۔ پوچھا جائے گا آج بادشاہی کس کی ہے؟ ہر طرف سے جواب آئے گا اکیلے اللہ کی جو سب پر غالب ہے۔‘‘
حدیث میں اس مضمون کو اور زیادہ کھول دیا گیا ہے۔ حضوؐر نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ میں آسمانوں اور دوسرے ہاتھ میں زمین کو لے کر فرمائے گا۔ اَنَا الْمَلِکُ، اَنَا الدَّیَّانُ، اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ؟ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ؟ اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ؟ میں ہوں بادشاہ ، میں ہوں فرماں روا، اب کہاں ہیں وہ زمین کے بادشاہ ؟ کہاں ہیں وہ جبار؟ کہاں ہیں وہ متکبر لوگ؟ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ:۱۳۵)
پوری کائنات تنہا اسی کی سلطنت ہے۔ وہ صرف اس کو بنا کر اور ایک دفعہ حرکت دے کر نہیں رہ گیا بلکہ وہی عملاً اس پر ہر آن حکومت کررہا ہے۔ اس حکومت و فرماں روائی میں کسی دوسرے کا قطعاً کوئی دخل یا حصہ نہیں ہے۔ دوسروں کو اگر عارضی طور پر اور محدود پیمانے پر اس کائنات میں کسی جگہ تصرف یا ملکیت یا حکمرانی کے اختیارات حاصل ہیں تو وہ ان کے ذاتی اختیارات نہیں ہیں جو انھیں اپنے زور پر حاصل ہوئے ہوں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے ہیں، جب تک اللہ چاہے وہ انھیں حاصل رہتے ہیں، اور جب چاہے وہ انھیں سلب کرسکتا ہے۔

اَلْقُدُّوْسُ: نہایت مقدس

’’القدوس‘‘مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مادہ ’’ق د س‘‘ ہے۔ قدس کے معنی ہیں تمام بری صفات سے پاکیزہ اور مُنَزّہ ہونا۔ اور قُدُّوسکا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بدرجہا بالا و برتر ہے کہ اس کی ذات میں کوئی عیب ، یا نقص ، یا کوئی قبیح صفت پائی جائے۔ بلکہ وہ ایک پاکیزہ ترین ہستی ہے جس کے بارے میں کسی برائی کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔
قدوسیت درحقیقت حاکمیت کے اولین لوازم میں سے ہے۔ انسان کی عقل اور فطرت یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ حاکمیت کی حامل کوئی ایسی ہستی ہو جو شریر اور بدخلق اور بدنیت ہو۔ جس میں قبیح صفات پائی جاتی ہوں۔ جس کے اقتدار سے اس کے محکوموں کو بھلائی نصیب ہونے کے بجائے برائی کا خطرہ لاحق ہو۔ اسی بناپر انسان جہاں بھی حاکمیت کو مرکوز قرار دیتا ہے وہاں قدوسیت نہیں بھی ہوتی تو اسے موجود فرض کرلیتا ہے، کیونکہ قدوسیت کے بغیر اقتدار مطلق ناقابل تصور ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا درحقیقت کوئی مقتدر اعلیٰ بھی قدوس نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا۔ شخصی بادشاہی ہو یا جمہور کی حاکمیت ، یا اشتراکی نظام کی فرماں روائی، یا انسانی حکومت کی کوئی دوسری صورت ، بہر حال اس کے حق میں قدوسیت کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحشر، حاشیہ:۳۷)
اس سے بدرجہا منزہ اور پاک ہے کہ اس کے فیصلے میں کسی خطا اور غلطی کا امکان ہو۔ غلطی تمہاری سمجھ میں ہوسکتی ہے۔ اس کے فیصلے میں نہیں ہوسکتی۔

اَلسَّلَامُ: سراسر سلامتی

’’اَلسَّلام‘‘ جس کے معنی ہیں سلامتی ۔ کسی کو سلیم یا سالم کہنے کے بجائے سلامتی کہنے سے خود بخود مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ مثلاً کسی کو حسین کہنے کے بجائے حسن کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ سراپا حسن ہے اللہ تعالیٰ کو السَّلَام کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سراسر سلامتی ہے۔ اس کی ذات اس سے بالاتر ہے کہ کوئی آفت، یا کمزوری یا خامی اس کو لاحق ہو ، یا کبھی اس کے کمال پر زوال آئے۔

اَلمُؤمِنُ : امن دینے والا

’’المؤمن‘‘ کا مادہ امن ہے۔ امن کے معنی ہیں خوف سے محفوظ ہونا۔ اور مومن وہ ہے جو دوسرے کو امن دے۔ اللہ تعالیٰ کو اس معنی میں مومن کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو امن دینے والا ہے۔ اس کی خلق اس خوف سے بالکل محفوظ ہے کہ وہ کبھی اس پر ظلم کرے گا، یا اس کا حق مارے گا، یا اس کا اجرضائع کرے گا، یا اس کے ساتھ اپنے کیے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کرے گا۔ (بلکہ) اس کا امن ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کے لیے ہے۔

اَلمُہَیْمِنُ: نگہبان

’’اَلْمُہَیْمِنُ‘‘ کے تین معنی ہیں۔ ایک نگہبانی اور حفاظت کرنے والا۔ دوسرے شاہد، جو دیکھ رہاہو کہ کون کیا کرتا ہے۔ تیسرے قائم بأُمور الخلق، یعنی جس نے لوگوں کی ضروریات اور حاجات پوری کرنے کا ذمہ اٹھارکھا ہو۔ وہ تمام مخلوقات کی نگہبانی و حفاظت کررہا ہے، سب کے اعمال دیکھ رہا ہے، اور کائنات کی ہر مخلوق کی خبر گیری ، اور پرورش اور ضروریات کی فراہمی کا اس نے ذمہ اٹھا رکھا ہے۔

اَلْعَزِیْزُ : سب پر غالب، بالادست، بڑا زبردست

العزیز کا مادہ ’’ع زز‘‘ ہے عزت کا مفہوم عربی زبان میں اردو کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے۔ اردو میں عزت محض احترام اور قدر و منزلت کے معنی میں آتا ہے، مگر عربی میں عزت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسی بلند اور محفوظ حیثیت حاصل ہو جائے کہ کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ دوسرے الفاظ میں عزت ’’ناقابل ہتک حرمت‘‘ کا ہم معنی ہے۔
سورۂ نساء : ۱۳۹ میں ارشاد ہے:
فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا۔ (تفہیم القرآن، ج ۱،النساء حاشیہ:۱۶۹)
’’ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔ ‘‘
عزت سے مراد عربی زبان میں کسی شخص کا ایسا طاقت ور اور زبردست ہونا کہ اس پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، مریم، حاشیہ: ۴۹)
العزیز سے مراد ہے ایسی ہستی جس کے مقابلے میں کوئی سرنہ اٹھاسکتا ہو، جس کے فیصلوں کی مزاحمت کرنا کسی کے بس میں نہ ہو، جس کے آگے سب بے بس اور بے زور ہوں۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحشر، حاشیہ: ۴۱)
سب پر غالب اور کامل اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے کہ کوئی اس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر، حاشیہ: ۵)
کائنات میں کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے اور اس کے حکم کو نافذ ہونے سے روک سکے، ہر شے اس سے مغلوب ہے اور کسی میں اس کے مقابلے کابل بوتا نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، السجدہ، حاشیہ: ۱۱)
ایسا زبردست اور قادر و قاہر جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی ، جس کی مزاحمت کسی کے بس میں نہیں ہے، جس کی اطاعت ہر ایک کو کرنی ہی پڑتی ہے خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے۔ جس کی نافرمانی کرنے والا اس کی پکڑ سے کسی طرح بچ ہی نہیں سکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۲)
کوئی اس سے لڑکر جیت نہیں سکتا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے، لہٰذا اس کے فرمان سے منہ موڑ کر اگر کوئی شخص کامیابی کی توقع رکھتا ہو، اور اس کے رسول سے جھگڑا کرکے یہ امید رکھتا ہو کہ وہ اسے نیچا دکھا دے گا، تو یہ اس کی اپنی حماقت ہے ایسی توقعات کبھی پوری نہیں ہوسکتیں۔ (تفہیم القرآن ، ج ۴، المومن، حاشیہ:۱)
(طاقت کا مالک صرف اللہ ہی ہے) اللہ تعالیٰ نہ تو باارادہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور نہ اس کائنات میں کوئی طاقت ایسی ہے جو اس کا وعدہ پورا ہونے میں مانع ہوسکتی ہو۔ اس لیے اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا کہ ایمان و عمل صالح کے انعام میں جو کچھ اللہ نے دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ کسی کو نہ ملے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ:۱۱)
اس کی عطا و بخشش کا نظام اس کے اپنے زور پر قائم ہے۔ کسی کا یہ بل بوتا نہیں ہے کہ اسے بدل سکے، یازبردستی اس سے کچھ لے سکے، یا کسی کو دینے سے اس کو روک سکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۳۶)
اس کی قدرت تو ایسی زبردست ہے کہ کسی کو سزا دینا چاہے تو پل بھر میں مٹا کر رکھ دے ۔ مگر اس کے باوجود یہ سراسر اس کا رحم ہے کہ سزادینے میں جلدی نہیں کرتا۔ برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے، سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے، اور عمر بھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کردینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، فاطر، حاشیہ: ۳۸)
تم کچھ اپنے بل بوتے پر اس کی زمین میں نہیں دندنارہے ہو۔ اس کا ایک اشارہ اس بات کے لیے کافی ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور قوم کو تمہاری جگہ اٹھاکھڑا کرے لہٰذا اپنی اوقات پہچانو اور وہ روش اختیار نہ کرو جس سے آخر کار قوموں کی شامت آیا کرتی ہے ۔ خدا کی طرف سے جب کسی کی شامت آتی ہے تو ساری کائنات میں کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے اور اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے روک سکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، فاطر، حاشیہ: ۳۸)
وہ سب پر غالب ہے۔ زمین و آسمان کا مالک ہے، اور کائنات کی ہر چیز اس کی ملک ہے۔ اس کے سوا اس کائنات میں جن ہستیوں کو معبود بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ہستی بھی ایسی نہیں ہے جو اس سے مغلوب اور اس کی مملوک نہ ہو۔ یہ مغلوب اور مملوک ہستیاں اس غالب اور مالک کے ساتھ خدائی میں شریک کیسے ہوسکتی ہیں اور آخر کس حق کی بنا پر انھیں معبود قرار دیا جاسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، سورۂ ص، حاشیہ :۵۸)
قرآن مجید میں کم ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ قوی ، مقتدر، جبار اور ذوانتقام جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جن سے محض اس کے اقتدار مطلق کا اظہار ہوتا ہے اور یہ صرف ان مواقع پر ہوا ہے جہاں سلسلۂ کلام اس بات کا متقاضی تھا کہ ظالموں اور نافرمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرا یا جائے۔ اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر باقی جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے عزیز کا لفظ استعمال کیا گیا وہاںاس کے حکیم ، علیم ، رحیم ، غفور، وہاب اور حمیدمیں سے کوئی لفظ ضرور لایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی ایسی ہو جسے بے پناہ طاقت حاصل ہو مگر اس کے ساتھ وہ نادان ہو، جاہل ہو، بے رحم ہو، درگزر اور معاف کرنا جانتی ہی نہ ہو، بخیل ہو، اور بدسیرت ہو تو اس کے اقتدار کا نتیجہ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہورہا ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ جس شخص کو دوسروں پر بالاتری حاصل ہے وہ یا تو اپنی طاقت کو نادانی اور جہالت کے ساتھ استعمال کررہاہے، یا وہ بے رحم اور سنگدل ہے، یا بخیل اور تنگدل ہے، یا بدخو اور بدکردار ہے۔ طاقت کے ساتھ ان بری صفات کا اجتماع جہاں بھی ہو وہاں کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ اس کے حکیم و علیم اور رحیم و غفور اور حمید ووہاب ہونے کا ذکر لازماً کیا گیا ہے تاکہ انسان یہ جان لے کہ جو خدا اس کائنات پر فرماں روائی کررہا ہے وہ ایک طرف تو ایسا کامل اقتدار رکھتا ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کوئی اس کے فیصلوں کو نافد ہونے سے روک نہیں سکتا، مگر دوسری طرف وہ حکیم بھی ہے، اس کا ہر فیصلہ سراسر دانائی پر مبنی ہوتا ہے۔ علیم بھی ہے، جو فیصلہ بھی کرتا ہے ٹھیک ٹھیک علم کے مطابق کرتا ہے۔ رحیم بھی ہے، اپنے بے پناہ اقتدار کو بے رحمی کے ساتھ استعمال نہیں کرتا۔ غفور بھی ہے، اپنے زیر دستوں کے ساتھ خردہ گیری کا نہیں بلکہ چشم پوشی و درگزر کا معاملہ کرتا ہے۔ وہاب بھی ہے، اپنی رعیت کے ساتھ بخیلی کا نہیں بلکہ بے انتہا فیاضی کا برتائو کررہا ہے۔ اور حمید بھی ہے۔ تمام قابل تعریف صفات و کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔
قرآن کے اس بیان کی پوری اہمیت وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو حاکمیت (Sovereignty کے مسئلے پر فلسفۂ سیاست اور فلسفۂ قانون کی بحثوں سے واقف ہیں۔ حاکمیت نام ہی اس چیز کا ہے کہ صاحب حاکمیت غیر محدود اقتدار کا مالک ہو، کوئی داخلی و خارجی طاقت اس کے حکم اور فیصلے کو نفاذ سے روکنے ، یا اس کے بدلنے یا اس پر نظر ثانی کرنے والی نہ ہو، اور کسی کے لیے اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہو۔ اس غیر محدود اقتدار کا تصور کرتے ہی انسانی عقل لازماً یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسا اقتدار جس کو بھی حاصل ہوا سے بے عیب اور علم و حکمت میں کامل ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ اگر اس اقتدار کا حامل نادان ، جاہل، بے رحم اور بد خو ہو تو اس کی حاکمیت سراسر ظلم و فساد ہوگی۔ اسی لیے جن فلسفیوں نے کسی انسان، یا انسانی ادارے ، یاانسانوں کے مجموعے کو حاکمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ ان کو یہ فرض کرنا پڑا ہے کہ وہ غلطی سے مبرا ہوگا۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ تو غیر محدود حاکمیت فی الواقع کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہوسکتی ہے، اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی بادشاہ ،یا پارلیمنٹ ، یا قوم یا پارٹی کو ایک محدود دائرے میں جو حاکمیت حاصل ہواسے وہ بے عیب اور بے خطا طریقے سے استعمال کرسکے۔ اس لیے کہ ایسی حکمت جس میں نادانی کا شائبہ نہ ہو اور ایسا علم جو تمام متعلقہ حقائق پر حاوی ہو، سرے سے پوری نوع انسانی ہی کو حاصل نہیں ہے کجا کہ وہ انسانوں میں سے کسی شخص یا ادارے یا قوم کو نصیب ہوجائے۔ اور اسی طرح انسان جب تک انسان ہے اس کا خودغرضی، نفسانیت، خوف ، لالچ، خواہشات، تعصب اور جذباتی رضا و غضب اور محبت و نفرت سے بالکل پاک اور بالاتر ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھ کر غور کرے تو اسے محسوس ہوگا کہ قرآن اپنے اس بیان میں درحقیقت حاکمیت کا بالکل صحیح اور مکمل تصور پیش کررہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’عزیز‘‘ یعنی اقتدار مطلق کا حامل اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے، اور اس غیر محدود اقتدار کے ساتھ وہی ایک ہستی ایسی ہے جو بے عیب ہے، حکیم و علیم ہے، رحیم و غفور ہے اور حمید و وہاب ہے۔

اَلْجَبَّارُ : اپنا حکم بزور نافذکرنے والا

اس کا مادہ ’’ج ب ر‘‘ ہے۔’’ جبر‘‘ کے معنی ہیں کسی شے کو طاقت سے درست کرنا، کسی چیز کی بزور اصلاح کرنا۔ اگرچہ عربی زبان میں کبھی جبر محض اصلاح کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اور کبھی صرف زبردستی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس کا حقیقی مفہوم اصلاح کے لیے طاقت کا استعمال ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کو جَبَّار اس معنی میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کائنات کا نظم بزور درست رکھنے والا اور اپنے ارادے کو، جو سراسر حکمت پر مبنی ہوتا ہے جبراً نافذ کرنے والا ہے۔ علاوہ بریں لفظ جبّار میں عظمت کا مفہوم بھی شامل ہے۔ عربی زبان میں کھجور کے اس درخت کو جبار کہتے ہیں جو اتنا بلند و بالا ہو کہ اس کے پھل توڑنا کسی کے لیے آسان نہ ہو۔ اسی طرح کوئی کام جو بڑا عظیم الشان ہو عمل جبّار کہلاتا ہے۔

اَلْمُتَکَبِّرُ : بڑا ہی ہو کر رہنے والا

اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک وہ جو فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر خواہ مخواہ بڑابنے۔ دوسرے وہ حقیقت میں بڑاہو اور بڑا ہی ہو کر رہے۔ انسان ہو یا شیطان ، یا کوئی اور مخلوق ، چونکہ بڑائی فی الواقع اس کے لیے نہیں ہے، اس لیے اس کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں پر اپنی بڑائی جتانا ایک جھوٹا ادّعا اور بدترین عیب ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ حقیقت میں بڑا ہے اور بڑائی فی الواقع اسی کے لیے ہے اور کائنات کی ہر چیز اس کے مقابلے میں حقیر و ذلیل ہے، اس لیے اس کا بڑا ہونا اور بڑا ہی ہو کر رہناکوئی ادّعا اور تصنع نہیں بلکہ ایک امر واقعی ہے، ایک بری صفت نہیں بلکہ ایک خوبی ہے جو اس کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔

اَلْخَالِقُ : تخلیق کا منصوبہ بنانے والا

پوری دنیا اور دنیا کی ہر چیز تخلیق کے ابتدائی منصوبے سے لے کر اپنی مخصوص صورت میں وجود پذیر ہونے تک بالکل اسی کی ساختہ پر داختہ ہے۔ کوئی چیز بھی نہ خود وجود میں آتی ہے، نہ اتفاقاً پیدا ہوگئی ہے، نہ اس کی ساخت و پرداخت میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر کوئی دخل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فعل تخلیق کے تین الگ مراتب ہیں جو یکے بعد دیگرے واقع ہوتے ہیں۔ پہلا مرتبہ خلق ہے جس کے معنی تقدیر یا منصوبہ سازی کے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی انجینئرایک عمارت بنانے سے پہلے یہ ارادہ کرتا ہے کہ اسے ایسی اور ایسی عمارت فلاں خاص مقصد کے لیے بنانی ہے اور اپنے ذہن میں اس کا نقشہ (Design) سوچتا ہے کہ اس مقصد کے لیے زیر تجویز عمارت کی تفصیلی صورت اور مجموعی شکل یہ ہونی چاہیے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحشر ، حاشیہ:۴۵)
ابتداے آفرینش سے آج تک جتنے آدمی بھی پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ قیامت تک ہوں گے، ان سب کو وہ ایک آن کی آن میں پھر پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی قدرتِ تخلیق ایک انسان کو بنانے میں اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسی وقت وہ دوسرے انسان نہ پیدا کرسکے۔ اس کے لیے ایک انسان کا بنانا اور کھربوں انسانوں کابنادینا یکساں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۴، لقمان، حاشیہ:۴۹)
دنیا کی ہر شے جیسی کچھ بھی بنی ہوئی ہے، اسی کے بنانے سے بنی ہے۔ ہر چیز کو جو بناوٹ ، جو شکل و صورت ، جو قوت و صلاحیت ، اور جو صفت و خاصیت حاصل ہے، اسی کے عطیے اور بخشش کی بدولت حاصل ہے۔ ہاتھ کو دنیا میں اپنا کام کرنے کے لیے جس ساخت کی ضرورت تھی وہ اس کو دی ، اور پائوں کو جو مناسب ترین ساخت درکار تھی وہ اس کو بخشی۔ انسان، حیوان ، نباتات، جمادات، ہوا، پانی، روشنی، ہر ایک چیز کو اس نے وہ صورت خاص عطا کی ہے جو اسے کائنات میں اپنے حصہ کا کام ٹھیک ٹھیک انجام دینے کے لیے مطلوب ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، طٰہٰ، حاشیہ:۲۳)
(دوسرے الفاظ میں اسے یوں بیان کرسکتے ہیں) کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ کائنات کی ہر چیز کو وجود بخشا ہے، بلکہ وہی ہے جس نے ایک ایک چیز کے لیے صورت، جسامت ، قوت و استعداد ، اوصاف و خصائص، کام اور کام کا طریقہ، بقا کی مدت ، عروج و ارتقا کی حد، اور دوسری وہ تمام تفصیلات مقرر کی ہیں جو اس چیز کی ذات سے متعلق ہیں، اور پھر اسی نے عالم وجود میں وہ اسباب ووسائل اور مواقع پیدا کیے ہیں جن کی بدولت ہر چیز یہاں اپنے اپنے دائرے میں اپنے حصے کا کام کررہی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ: ۸)
تمہیں پیدا تو اس طرح کیا کہ ایک بہترین جسم، نہایت موزوں اعضا اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جسمانی و ذہنی قوتوں کے ساتھ تم کو عطا کیا۔ یہ سیدھا قامت، یہ ہاتھ اور یہ پائوں ، یہ آنکھ، ناک اور یہ کان، یہ بولتی ہوئی زبان اور یہ بہترین صلاحیتوں کا مخزن دماغ تم خود بنا کر نہیں لے آئے تھے، نہ تمہاری ماں اور تمہارے باپ نے انھیں بنایا تھا، نہ کسی نبی یا ولی یا دیوتا میں یہ قدرت تھی کہ انھیں بناتا۔ ان کا بنانے والا وہ حکیم و رحیم قادر مطلق ہے جس نے انسان کو وجود میں لانے کا جب فیصلہ کیا تو اسے دنیا میں کام کرنے کے لیے ایسابے نظیر جسم دے کر پیدا کیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن ، حاشیہ: ۹۱)
باوجودیکہ تمہارے قوائے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز گفتگو دوسرے سے مختلف ہے۔ اسی طرح تمہارا مادۂ تخلیق اور تمہاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار ، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی یکساں نہیں ہے۔ دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع (Variety) پائیں گے کہ اس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا۔ انسان ، حیوان ، نباتات اور دوسری تمام اشیاء کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں اس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں، حتّٰی کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے، حتّٰی کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز صاف بتارہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جس میں خود کار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیداواری (Mass Production) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیاء کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو جس سے ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاریگر کام کررہا ہے جو ہر ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن، نئے نقش و نگار، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اس کی قوت ایجاد ہر آن ہر چیز کا ایک نیا ماڈل نکال رہی ہے، اور اس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اس حیرت انگیز منظر کو جو شخص اپنی آنکھیں کھول کر دیکھے گا وہ کبھی اس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اس کارخانے کو چلا کر کہیں جاسویا ہے، یہ تو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کارِ تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کررہاہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الرُّوم، حاشیہ:۳۲)
کائنات کی ہر چیزکا عدم سے وجود میں آنا، اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا او ر بے شمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب و توازن کے ساتھ کام کرنا، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے، اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کررہا ہے۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ وہ ابتدائی قوت (Energy) کہاں سے آئی ہے جس نے مادے کی شکل اختیار کی، پھر مادے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے ساتھ یہ مدہوش کن نظام عالم کیسے بن گیا، اور اب یہ نظام کروڑہا کروڑ صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانون فطرت کی بندش میں کسا ہوا چل رہاہے، تو ہر غیر متعصب عقل اس نتیجے پر پہنچے گی کہ یہ سب کسی علیم و حکیم کے غالب ارادے کے بغیر محض بخت و اتفاق کے نتیجے میں نہیں ہوسکتا۔ اور دوسری طرف اگر یہ دیکھا کہ زمین سے لے کر کائنات کے بعید ترین سیاروں تک سب ایک ہی طرح کے عناصر سے مرکب ہیں اور ایک ہی قانون فطرت ان میں کارفرما ہے تو ہر عقل جو ہٹ دھرم نہیں ہے، بلا شبہ یہ تسلیم کرے گی کہ یہ سب کچھ بہت سے خدائوں کی خدائی کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق اور رب ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الروم، حاشیہ: ۳۱)
اس کائنات میں اللہ نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا ہے۔ صورت سے مراد محض انسان کا چہرہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اس کی پوری جسمانی ساخت ہے اور وہ قوتیں اور صلاحیتیں بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیںجو اس دنیا میں کام کرنے کے لیے آدمی کو عطا کی گئی ہیں۔ ان دونوں حیثیتوں سے انسان کو زمین کی مخلوقات میں سب سے بہتر بنایا گیا ہے، اور اسی بنا پر وہ اس قابل ہوا ہے کہ ان تمام موجودات پر حکمرانی کرے جو زمین اور اس کے گرد و پیش میں پائی جاتی ہیں۔ اس کو کھڑا قد دیا گیا، اس کو چلنے کے لیے مناسب ترین پائوں دیے گئے ہیں۔ اس کو کام کرنے کے لیے موزوں ترین ہاتھ دیے گئے۔ اس کو ایسے حواس اور ایسے آلات علم دیے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ ہر طرح کی معلومات حاصل کرتا ہے۔ اس کو سوچنے اور سمجھنے اور معلومات جمع کرکے ان سے نتائج اخذ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن دیا گیا ہے۔ اس کو اخلاقی حس اور قوت تمیز دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ بھلائی اور برائی اور صحیح اور غلط میں فرق کرتا ہے۔اس کو ایک قوت فیصلہ دی گئی ہے جس سے کام لے کر وہ اپنی راہ عمل کا خود انتخاب کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ اپنی کوششوں کو کس راستے پر لگائے اور کس پر نہ لگائے۔ اس کو یہاں تک آزادی دے دی گئی ہے کہ چاہے تو اپنے خالق کو مانے اور اس کی بندگی کرے ورنہ اس کا انکار کردے، یا جن جن کو چاہے اپنا خدا بنا بیٹھے، یا جسے خدا مانتا ہو اس کے خلاف بھی بغاوت کرنا چاہے کر گزرے۔ ان ساری قوتوں اور ان سارے اختیارات کے ساتھ اسے خدا نے اپنی پیداکردہ بے شمار مخلوقات پر تصرف کرنے کا اقتدار دیا ہے اور وہ عملاً اس اقتدار کو استعمال کررہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن، حاشیہ: ۷)
خالق اپنی مخلوق کی راہ نمائی نہ کرے گا تو اور کون کرے گا؟ اور خالق ہی رہنمائی نہ کرے تو اور کون کرسکتا ہے؟اور خالق کے لیے اس سے بڑا عیب اور کیا ہوسکتا ہے کہ جس چیز کو وہ وجود میں لائے اسے اپنے وجودکا مقصد پورا کرنے کا طریقہ نہ سکھائے؟ پس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی تعلیم کا انتظام ہونا عجیب بات نہیں۔ بلکہ یہ انتظام اگر اس کی طرف سے نہ ہوتا تو قابل تعجب ہوتا۔ پوری کائنات میں جو چیز بھی اس نے بنائی ہے اس کو محض پیدا کرکے نہیں چھوڑدیا ہے بلکہ اس کو وہ موزوں ترین ساخت دی ہے جس سے وہ نظام فطرت میں اپنے حصے کا کام کرنے کے قابل ہوسکے، اور اس کام کو انجام دینے کا طریقہ اسے سکھایا ہے۔ خود انسان کے اپنے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور ایک ایک خلیہ (Cell) وہ کام سیکھ کر پیدا ہوا ہے جو اسے انسانی جسم میں انجام دینا ہے۔پھر آخر انسان بجائے خود اپنے خالق کی تعلیم و رہنمائی سے بے نیاز کیسے ہوسکتا تھا؟ قرآن مجید میں اس مضمون کو مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا ہے۔ سورۂ لیل (آیت۱۲) میں فرمایا اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدیٰ ’’رہنمائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘سورہ نحل:۹ میں ارشاد ہوا وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْہَا جَآئِرٌ ’’ یہ اللہ کے ذمہ ہے کہ سیدھا راستہ بتائے اور ٹیڑھے راستے بہت سے ہیں۔‘‘ سورہ طٰہٰ (آیات ۴۷-۵۰) میں ذکر آتا ہے کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ ؑکی زبان سے پیغام رسالت سن کر حیرت سے پوچھا کہ آخر وہ تمہارا رب کون سا ہے جو میرے پاس رسول بھیجتا ہے، تو حضرت موسیٰ ؑنے جواب دیا کہ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطیٰ کُلَّ شَیٍٔ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدیٰ’’ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت عطا کی اور پھر اس کی رہنمائی کی۔‘‘ یعنی وہ طریقہ سکھایا جس سے وہ نظام وجود میں اپنے حصے کا کام کرسکے یہی وہ دلیل ہے جس سے ایک غیر متعصب ذہن اس بات پر مطمئن ہوجاتا ہے کہ انسان کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں اور کتابوں کا آنا عین تقاضائے فطرت ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن، حاشیہ: ۲)
اللہ تعالیٰ کے طریق تخلیق اور انسانی صناعی کا فرق بالکل واضح ہے۔ انسان جب کوئی چیز بنانا چاہتا ہے تو پہلے اس کا نقشہ اپنے ذہن میں جماتا ہے، پھر اس کے لیے مطلوبہ مواد جمع کرتا ہے، پھر اس مواد کو اپنے نقشے کے مطابق صورت دینے کے لیے پیہم محنت اور کوشش کرتا ہے، اور اس کوشش کے دوران میں وہ مواد، جسے وہ اپنے ذہنی نقشے کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے، مسلسل اس کی مزاحمت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ کبھی مواد کی مزاحمت کامیاب ہوجاتی ہے اور چیز مطلوبہ نقشے کے مطابق ٹھیک نہیں بنتی اور کبھی آدمی کی کوشش غالب آجاتی ہے اور وہ اسے اپنی مطلوبہ شکل دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک درزی قمیص بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے پہلے وہ قمیص کی صورت کا تصور اپنے ذہن میں حاضر کرتا ہے، پھر کپڑا فراہم کرکے اسے اپنے تصور قمیص کے مطابق تراشنے اور سینے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کوشش کے دوران میں اسے کپڑے کی اس مزاحمت کا مسلسل مقابلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ درزی کے تصور پر ڈھلنے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوتا، حتّٰی کہ کبھی کپڑے کی مزاحمت غالب آجاتی ہے اور قمیص ٹھیک نہیں بنتا اور کبھی درزی کی کوشش غالب آجاتی ہے اور وہ کپڑے کو ٹھیک اپنے تصور کے مطابق شکل دے دیتا ہے۔
اب اللہ تعالیٰ کا طرز تخلیق دیکھیے۔ کائنات کا مادہ دھوئیں کی شکل میں پھیلایا ہوا تھا۔ اللہ نے چاہا کہ اسے وہ شکل دے جواب کائنات کی ہے۔ اس غرض کے لیے اسے کسی انسان کا ریگر کی طرح بیٹھ کر زمین اور چاند اور سورج اور دوسرے تارے اور سیارے گھڑ نے نہیں پڑے، بلکہ اس نے کائنات کے اس نقشے کو جو اس کے ذہن میں تھا بس یہ حکم دے دیا کہ وہ وجود میں آجائے، یعنی دھوئیں کی طرح پھیلا ہوا مواد ان کہکشانوں اور تاروں اور سیاروں کی شکل میں ڈھل جائے جنھیں وہ پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس مواد میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کے حکم کی مزاحمت کرتا ۔ اللہ کو اسے کائنات کی صورت میں ڈھالنے کے لیے کوئی محنت اور کوشش نہیں کرنی پڑی۔ اُدھر حکم ہوا اور اِدھر وہ مواد سکڑ اور سمٹ کر فرماں برداروں کی طرح اپنے مالک کے نقشے پر ڈھلتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ۴۸ گھنٹوں میں زمین سمیت ساری کائنات بن کر تیار ہوگئی۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، حٰم السجدہ، حاشیہ:۱۵)
خدا ہے ، اور زمین و آسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ زمین کی بے شمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اس پیداوار پر ہے جو زمین سے نکلتی ہے۔ اس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیت بار آوری پر ہے۔ اس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے۔ خواہ وہ براہ راست زمین پر برسے، یا اس کے ذخیرے سطح زمین پر جمع ہوں، یا زیر زمین چشموں اور کنوئوں کی شکل اختیار کریں یا پہاڑوں پر یخ بستہ ہو کر دریائوں کی شکل میں بہیں ۔ پھر اس بارش کا انحصار سورج کی گرمی پر، موسموں کے ردّو بدل پر، فضائی حرارت و برودت پر، ہوائوں کی گردش پر، اور اس بجلی پر ہے جو بادلوں سے بارش برسنے کی محرک بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارش کے پانی میں ایک طرح کی قدرتی کھاد بھی شامل کردیتی ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی ان تمام مختلف چیزوں کے درمیان یہ ربط اور مناسبتیں قائم ہونا، پھر ان سب کا بے شمار مختلف النوع مقاصد اور مصلحتوں کے لیے صریحاً سازگار ہونا، اور ہزاروں لاکھوں برس تک ان کا پوری ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل سازگاری کرتے چلے جانا، کیا یہ سب کچھ محض اتفاقاً ہوسکتا ہے؟ کیا یہ کسی صانع حکیم کی حکمت اور اس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اس کی غالب تدبیر کے بغیر ہوگیا ہے؟ اور کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ زمین ، سورج، ہوا، پانی، حرارت ، برودت اور زمین کی مخلوقات کا خالق اور رب ایک ہی ہے۔
(تفہیم القران، ج ۳، الرّوم، حاشیہ: ۳۵)
یہ ایک حقیر بوند سے بولتا چالتا اور حجت و استدلال کرتا انسان بنا کھڑا کرنا۔ یہ اس کی ضرورت کے عین مطابق بہت سے جانور پیدا کرنا جن کے بال اور کھال ، خون اور دودھ ، گوشت اور پیٹھ ، ہر چیز میں انسانی فطرت کے بہت سے مطالبات کا، حتّٰی کہ اس کے ذوق جمال کی مانگ تک کا جواب موجود ہے۔ یہ آسمان سے بارش کا انتظام اور یہ زمین میں طرح طرح کے پھلوں اور غلّوں اور چاروں کی روئیدگی کا انتظام ، جس کے بے شمار شعبے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کھاتے چلے جاتے ہیں اور پھر انسان کی بھی فطری ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ یہ رات اور دن کی باقاعدہ آمد و رفت اور یہ چاند اور سورج اور تاروں کی انتہائی منظم حرکات ، جن کا زمین کی پیداوار اور انسان کی مصلحتوں سے انتہائی گہرا ربط ہے۔ یہ زمین میں سمندروں کا وجود ، اور یہ ان کے اندر انسان کی بہت سی طبعی اور جمالی طلبوں کا جواب ۔ یہ پانی کا چند مخصوص قوانین سے جکڑا ہوا ہونا، اور پھر اس کے یہ فائدے کہ انسان سمندر جیسی ہولناک چیز کاسینہ چیرتا ہوا اس میں اپنے جہاز چلاتا ہے اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک سفر اور تجارت کرتا پھرتا ہے۔ یہ دھرتی کے سینے پر پہاڑوں کے ابھار اور یہ انسان کی ہستی کے لیے ان کے فائدے ۔ یہ سطح زمین کی ساخت سے لے کر آسمان کی بلند فضائوں تک بے شمار علامتوں اور امتیازی نشانوں کا پھیلائو اور پھر اس طرح ان کا انسان کے لیے مفید ہونا۔ یہ ساری چیزیں صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایک ہی ہستی نے یہ منصوبہ سوچا ہے، اسی نے اپنے منصوبے کے مطابق ان سب کو ڈیزائن کیا ہے۔ اسی نے اس ڈیزائن پر ان کو پیدا کیا ہے، وہی ہر آن اس دنیا میں نت نئی چیزیں بنابنا کر اس طرح لارہا ہے کہ مجموعی اسکیم اور اس کے نظم میں ذرا فرق نہیں آتا ، اور وہی زمین سے لے کر آسمانوں تک اس عظیم الشان کارخانے کو چلارہا ہے۔ ایک بے وقوف یا ایک ہٹ دھرم کے سوا اور کون یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک اتفاقی حادثہ ہے؟ یا یہ کہ اس کمال درجہ منظم ، مربوط اور متناسب کائنات کے مختلف کام یا مختلف اجزامختلف خدائوں کے آفریدہ اور مختلف خدائوں کے زیر انتظام ہیں؟ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل ، حاشیہ: ۱۵)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم سمیت تمام مشرکین کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہیں۔ بجز دہریوں کے اور کسی کو بھی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے سے انکار نہیں رہا۔ اس لیے (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا) کہ میں صرف اس کی عبادت کو صحیح و برحق سمجھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ دوسری کوئی ہستی میری عبادت کی کیسے مستحق ہوسکتی ہے جب کہ میرے پیدا کرنے میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ مخلوق کو اپنے خالق کی بندگی تو کرنی چاہیے ، لیکن غیرخالق کی بندگی وہ کیوں کرے؟

اَلْبَارِیُٔ : اپنے منصوبے کو نافذکرنے والا

خلق کے بعد یہ دوسرا مرتبہ ہے ’’ بَرَء‘‘ جس کے اصل معنی ہیں جدا کرنا، چاک کرنا، پھاڑکر الگ کرنا۔ خالق کے لیے باری کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سوچے ہوئے نقشہ کو نافذ کرتا اور اس چیز کو ، جس کا نقشہ اس نے سوچا ہے، عدم سے نکال کر وجود میں لاتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے انجینئر نے عمارت کا جو نقشہ ذہن میں بنایا تھا اس کے مطابق وہ ٹھیک ناپ تول کر زمین پر خط کشی کرتا ہے، پھر بنیادیں کھودتا ، دیواریں اٹھاتا ہے اور تعمیر کے سارے عملی مراحل طے کرتا ہے۔

اَلْمُصَوِّرُ : اپنے منصوبے کے مطابق صورت گری کرنے والا

برأ کے بعد تیسرا مرتبہ ’’تصویر‘‘ ہے جس کے معنی ہیں صورت بنانا، ایک شے کو اس کی آخری مکمل صورت میں بنادینا۔ ان تینوں مراتب میں اللہ تعالیٰ کے کام اور انسانی کاموں کے درمیان سرے سے کوئی مشابہت نہیں ہے۔ انسان کا کوئی منصوبہ بھی ایسا نہیں ہے جو سابق نمونوں سے ماخوذ نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ہر منصوبہ بے مثال اور اس کی اپنی ایجاد ہے۔ انسان جو کچھ بھی بناتا ہے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ مادوں کو جوڑ جاڑ کر بناتا ہے۔ وہ کسی چیز کو عدم سے وجود میں نہیں لاتا بلکہ جو کچھ موجود ہے اسے مختلف طریقوں سے ترکیب دیتا ہے۔ بخلاف اس کے اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو عدم سے وجود میں لایا ہے اور وہ مادہ بھی بجائے خود اس کا پیدا کردہ ہے جس سے اس نے یہ دنیا بنائی ہے۔ اسی طرح صورت گری کے معاملہ میں بھی انسان موجد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورتوں کا نقّال اور بھونڈ انقال ہے۔ اصل مصور اللہ تعالیٰ ہے جس نے ہر جنس ، ہر نوع اور ہر فرد کی صورت لا جواب بنائی ہے اور کبھی ایک صورت کی ہوبہو تکرار نہیں کی ہے۔

اَلْاَوَّلُ : سب سے پہلے

سورۂ الحدید آیت ۳ میں ارشاد ہے: ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُوَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ’’جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا۔ ‘‘

اَلْاٰخِرُ : سب سے آخر

جب کچھ نہ رہے تو وہ رہے گا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے لیے خلود اور ابدی زندگی کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے ساتھ یہ بات کیسے نبھ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر ہے یعنی جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا۔
اس کا جواب خود قرآن مجید ہی میں موجود ہے کہ کُلُّ شَیٍْٔ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ (القصص:۸۸) یعنی ’’ہر چیز فانی ہے اللہ کی ذات کے سوا۔ ‘‘دوسرے الفاظ میں ذاتی بقا کسی مخلوق کے لیے نہیںہے۔ اگر کوئی چیز باقی ہے یا باقی رہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے باقی رکھنے ہی سے باقی ہے اور اس کے باقی رکھنے ہی سے باقی رہ سکتی ہے، ورنہ بذات خود اس کے سوا سب فانی ہیں۔ جنت اور دوزخ میں کسی کو خلود اس لیے نہیں ملے گاکہ وہ بجائے خود غیر فانی ہے، بلکہ اس لیے ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو حیات ابدی عطا فرمائے گا۔ یہی معاملہ فرشتوں کا بھی ہے کہ وہ بذات خود غیر فانی نہیں ہیں۔جب اللہ نے چاہا تو وہ وجود میں آئے اور جب تک وہ چاہے اسی وقت تک وہ موجود رہ سکتے ہیں۔

اَلظَّاہِرُ: سب سے بڑھ کرظاہر

وہ سب ظاہروں سے بڑھ کی ظاہر ہے، کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال اوراسی کے نور کا ظہور ہے۔

اَلْبَاطِنُ : سب سے بڑھ کر مخفی

وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے، کیونکہ حواس سے اس کی ذات کو محسوس کرنا تو درکنار، عقل و فکر و خیال تک اس کی کنہ و حقیقت کو نہیں پاسکتے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۳)
اس کی بہترین تفسیر نبی ﷺ کی ایک دعا کے یہ الفاظ ہیں جنھیں امام احمد، ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ سے اور حافظ ابویعلی موصلی نے اپنی مسند میں حضرت عائشہؓ سے نقل کیا ہے:
اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیٌْٔ وَ اَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَک شَیٌْٔ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیٌْٔ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیٌْٔ۔
ترجمہ: توہی پہلا ہے، کوئی تجھ سے پہلے نہیں۔ تو ہی آخر ہے، کوئی تیرے بعد نہیں۔تو ہی ظاہر ہے، کوئی تجھ سے اوپر نہیں۔تو ہی باطن ہے، کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں۔

اَلْحَیُّ : زندہ جاوید ہستی، اپنے بل پر آپ زندہ

سورۂ بقرہ : ۲۵۵ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْ خُذُہٗ سِنَۃٌ وّ لَا نَوْمٌ۔
ترجمہ: اللہ وہ زندۂ جاوید ہستی ہے، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔
سورۂ آل عمران : ۲ میں ہے:
المٓ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔ ا، ل، م۔
ترجمہ: اللہ وہ زندۂ جاوید ہستی ہے، جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔
سورۂ مومن آیت ۶۵ میں ارشاد ہے:
ہُوَالْحَیُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔
ترجمہ: وہی زندہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے۔
اصلی اور حقیقی زندگی اسی کی ہے۔ اپنے بل پر آپ زندہ وہی ہے۔ ازلی اور ابدی حیات اس کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔ باقی سب کی حیات عطائی ہے، عارضی ہے، موت آشنا ہے اور فنا درآغوش ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن ، حاشیہ: ۹۲)
نادان لوگوں نے اپنی جگہ چاہے کتنے ہی خدا اور معبود بنارکھے ہوں، مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری بلاشرکت غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں، بلکہ آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور جس کے بل بوتے ہی پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔

اَلْقَیُّوْمُ، اَلْقَائِمُ : اپنے بل بوتے پر آپ قائم رہنے والا، کائنات کو سنبھالنے والا

سورہ بقرہ آیت ۲۵۵ اور آل عمران آیت ۲ میں ارشاد ربانی ہے:
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔
ترجمہ: اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور اسی کے بل بوتے پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔
یہ اتھاہ کائنات اللہ تعالیٰ کے قائم رکھنے سے قائم ہے۔ کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی اس کو سنبھالے ہوئے نہیں ہے۔ کائنات کا سنبھالنا تو درکنار یہ بے بس بندے تو اپنے وجود کو سنبھالنے پر بھی قادر نہیں۔ ہر ایک اپنی پیدائش اور اپنی بقا کے لیے ہر آن اللّٰہ جل شانہ، کا محتاج ہے۔ ان میں سے کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ خدائی کی صفات اور اختیارات میں اس کا کوئی حصہ ہے، خالص حماقت اور فریب خوردگی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔

اَلْعَلِیُّ : بالا و برتر ذات

سورہ بقرہ آیت ۲۵۵ میں ہے: وَلَا یَؤُدُہٗ حِفْظُہُمَا وَہُوَا لْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
(سورہ الحج آیت ۵۲۔ سورۂ لقمان آیت ۳۰۔ سورہ سبا آیت ۲۳، اور سورہ غافر آیت ۱۲ میں ہُوَالْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ بیان ہوا ہے۔ علاوہ ازیں سورہ شوریٰ آیت ۴ اور ۵۱۔ سورہ الزخرف آیت ۴۔ النساء آیت ۳۴ ۔ مریم آیت ۵ اور ۷۵ میں بھی یہ اسم الٰہی بیان ہوا ہے)۔
ہر چیز سے بالا و برتر ہے جس کے سامنے سب پست ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ: ۵۴)
وہ عَلِیُّ العظیم ہے کہ اس کا ہمسر ہو، اور اس کی ذات ، صفات، اختیارات اور حقوق میں سے کسی چیز میں بھی حصہ دار بن سکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۲)
وہ اس سے بہت بالا و برتر ہے کہ کسی بشر سے رود ررو کلام کرے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۸۲)

اَلْعَظِیْمُ : بزرگ اور عظمت والا

سورہ البقرہ آیت ۲۵۵ میں ارشاد ربانی ہے:
وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
’’ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔‘‘
سورہ شوریٰ آیت ۴ میں ارشاد ہے:
لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے، وہ برتر اور عظیم ہے۔‘‘
سورہ الحاقہ آیت ۳۳ میں ارشاد ہے:
اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔
’’ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا ہے۔‘‘
اسی سورہ کی آیت ۵۲ میں فرمایا :
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ۔
’’پس اے نبیؐ ! اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔‘‘
وہ برتر اور عظیم ہے یعنی اس سے بالا تر اور بزرگ تر ہے کہ کوئی اس کا ہمسر ہو، اور اس کی ذات ، صفات، اختیارات اور حقوق میں سے کسی چیز میں بھی حصہ دار بن سکے۔

اَلتَّوَّابُ : بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا معاف کرنے والا

توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آگیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا۔ اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شر مسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگیا، پھر سے نظر عنایت اس کی طرف مائل ہوگئی۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرہ، حاشیہ: ۵۱)
گناہ کے بعد بندے کا خدا سے توبہ کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک غلام ، جو اپنے آقا کا نافرمان بن کر اس سے منہ پھیر گیا تھا، اب اپنے کیے پرپشیمان ہے اور اطاعت و فرماں برداری کی طرف پلٹ آیا ہے ـــــــــ اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی صرف ان بندوں کے لیے ہے جو قصداً نہیں بلکہ نادانی کی بنا پر قصور کرتے ہیں اور جب آنکھوں پر سے جہالت کا پردہ ہٹتا ہے تو شرمندہ ہو کر اپنے قصور کی معافی مانگ لیتے ہیں۔ ایسے بندے جب بھی اپنی غلطی پر نادم ہو کر اپنے آقا کی طرف پلٹیں گے تواس کا دروازہ کھلا پائیں گے کہ ؎
ایں درگہِ مادر گہ نومیدی نیست
صدبار اگر توبہ شکستی باز آ
مگر توبہ اُن کے لیے نہیں ہے جو اپنے خدا سے بے خوف اور بے پروا ہو کر تمام عمر گناہ پر گناہ کیے چلے جائیں اور پھر عین اُس وقت جب کہ موت کا فرشتہ سامنے کھڑا ہو معافی مانگنے لگیں۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ۔ ’’اللہ بندے کی توبہ اسی وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ آثار موت شروع نہ ہوں۔‘‘ کیوں کہ امتحان کی مہلت جب پوری ہوگئی اور کتاب زندگی ختم ہوچکی تو اب پلٹنے کا کون سا موقع ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجائے اور دوسری زندگی کی سرحد میں داخل ہو کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جو وہ دنیا میں سمجھتا رہا تو اس وقت معافی مانگنے کا کوئی موقع نہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء، حاشیہ: ۲۷)
قرآن اس نظریے کی تردید کرتا ہے کہ گناہ کے نتائج لازمی ہیں، اور وہ بہر حال انسان کو بھگتنے ہی ہوں گے۔ یہ انسان کے اپنے خود ساختہ گمراہ کن نظریات میں سے ایک بڑا گمراہ کن نظریہ ہے، کیونکہ جو شخص ایک مرتبہ گناہ گارانہ زندگی میں مبتلا ہوگیا، اس کو یہ نظریہ ہمیشہ کے لیے مایوس کردیتا ہے اور اگر اپنی غلطی پر متنبہ ہونے کے بعد وہ سابق کی تلافی اور آئندہ کے لیے اصلاح کرنا چاہے، تو یہ اس سے کہتا ہے کہ تیرے بچنے کی اب کوئی امید نہیں، جو کچھ تو کرچکا ہے اس کے نتائج بہر حال تیری جان کے لاگو ہی رہیں گے۔ قرآن اس کے برعکس یہ بتاتا ہے کہ بھلائی کی جزا اور برائی کی سزا دینا بالکل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ تمہیں جس بھلائی پر انعام ملتا ہے وہ تمہاری بھلائی کا طبعی نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اللہ کا فضل ہے، چاہے عنایت فرمائے ، چاہے نہ فرمائے۔ اسی طرح جس برائی پر تمہیں سزا ملتی ہے، وہ بھی برائی کا طبعی نتیجہ نہیں ہے کہ لازماً مرتب ہو کر ہی رہے گا، بلکہ اللہ پورا اختیار رکھتا ہے کہ چاہے معاف کردے اور چاہے سزا دے دے۔ البتہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت اس کی حکمت کے ساتھ ہم رشتہ ہے۔ وہ چونکہ حکیم ہے اس لیے اپنے اختیارات کو اندھا دھند استعمال نہیں کرتا۔ جب کسی بھلائی پر انعام دیتا ہے تو یہ دیکھ کر ایسا کرتا ہے کہ بندے نے سچی نیت کے ساتھ اس کی رضا کے لیے بھلائی کی تھی اور جس بھلائی کو رد کردیتا ہے، اسے اس بنا پر رد کرتا ہے کہ اس کی ظاہری شکل بھلے کام کی سی تھی، مگر اندر اپنے رب کی رضا جوئی کا خالص جذبہ نہ تھا۔ اسی طرح وہ سزا اس قصور پر دیتا ہے جو باغیانہ جسارت کے ساتھ کیا جائے اور جس کے پیچھے شرمساری کے بجائے مزید ارتکاب جرم کی خواہش موجود ہو۔ اور اپنی رحمت سے معافی اس قصور پر دیتا ہے، جس کے بعد بندہ اپنے کیے پر شرمندہ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح پر آمادہ ہو۔ بڑے سے بڑے مجرم، کٹے سے کٹے کافر کے لیے بھی خدا کے ہاں مایوسی و ناامیدی کا کوئی موقع نہیں بشر طیکہ وہ اپنی غلطی کا معترف ، اپنی نافرمانی پر نادم، اور بغاوت کی روش چھوڑ کر اطاعت کی روش اختیار کرنے کے لیے تیار ہو۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، البقرہ، حاشیہ:۵۲)
سچی توبہ کا لازمی تقاضا ہے کہ جو برائی کسی شخص نے پہلے کی ہے اس کی تلافی کرنے کی وہ اپنی حد تک پوری کوشش کرے، اور جہاں تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، وہاں اللہ سے معافی مانگے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرکے اس دھبے کو دھوتا رہے جو اس نے اپنے دامن پر لگالیا ہے لیکن کوئی توبہ اس وقت تک حقیقی توبہ نہیں ہے جب تک کہ وہ اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے نہ ہو کسی دوسری وجہ یا غرض سے کسی برے فعل کو چھوڑ دینا سرے سے توبہ کی تعریف ہی میں نہیں آتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۴۵)
حضرات کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع غزوہ تبوک کے موقع پر نفس کی کمزوری کی وجہ سے اس میں شریک نہ ہوسکے، ان کو اللہ کے دربار سے جو معافی ملی ہے اور اس معافی کے انداز بیان میں جو رحمت و شفقت ٹپکی پڑرہی ہے اس کی وجہ ان کا وہ اخلاص ہے جس کا ثبوت انھوں نے پچاس دن کی سخت سزا کے دوران میں دیا تھا۔ اگر قصور کرکے وہ اکڑتے اور اپنے لیڈر کی ناراضی کا جواب غصے اور عناد سے دیتے اور سزا ملنے پر اس طرح بپھرتے جس طرح کسی خود پرست انسان کا غرور نفس زخم کھا کر بپھرا کرتا ہے، اور مقاطعہ کے دوران میں ان کاطرز عمل یہ ہوتا کہ ہمیں جماعت سے کٹ جانا گوارا ہے مگر اپنی خودی کے بت پر چوٹ کھانا گوارا نہیں ہے، اور یہ سزا کا پورا زمانہ وہ اس دوڑ دھوپ میں گزارتے کہ جماعت کے اندر بددلی پھیلائیں اور بددل لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے ساتھ ملائیں تاکہ ایک جتھا تیار ہو، تو معافی کیسی۔ انھیں تو بالیقین جماعت سے کاٹ پھینکا جاتا اور اس سزا کے بعد ان کی اپنی منہ مانگی سزا ان کو یہ دی جاتی کہ جائو اب اپنی خودی کے بت ہی کو پوجتے رہو۔ اعلاء کلمۃ الحق کی جدوجہد میں حصہ لینے کی سعادت اب تمہارے نصیب میں کبھی نہ آئے گی۔ لیکن ان تینوں صاحبوں نے اس کڑی آزمائش کے موقع پر یہ راستہ اختیار نہیں کیا، اگرچہ یہ بھی ان کے لیے کھلا ہوا تھا۔اس کے برعکس انھوں نے وہ روش اختیار کی جو ابھی آپ دیکھ آئے ہیں۔ اس روش کو اختیار کرکے انھوں نے ثابت کردیا کہ خدا پرستی نے ان کے سینے میں کوئی بت باقی نہیں چھوڑا ہے جسے وہ پوجیں، اور اپنی پوری شخصیت کو انھوں نے راہِ خدا کی جدوجہد میں جھونک دیاہے، اور وہ اپنی واپسی کی کشتیاں اس طرح جلا کر اسلامی جماعت میں آئے ہیں کہ اب یہاں سے پلٹ کر کہیں اور نہیں جاسکتے۔ یہاں کی ٹھوکریں کھائیں گے مگر یہیں مریں گے اور کھپیں گے۔ کسی دوسری جگہ بڑی سے بڑی عزت بھی ملتی ہو تو یہاں کی ذلت چھوڑ کر اسے لینے نہ جائیں گے۔ اس کے بعد اگر انھیں اٹھا کر سینے سے لگانہ لیا جاتا تو اور کیا کیا جاسکتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی معافی کا ذکر ایسے شفقت بھرے الفاظ میں فرماتا ہے کہ ’’ہم ان کی طرف پلٹے تاکہ وہ ہماری طرف پلٹ آئیں۔‘‘ ان چند لفظوں میں اس حالت کی تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ آقا نے پہلے تو ان بندوں سے نظر پھیر لی تھی، مگر جب وہ بھاگے نہیں بلکہ دل شکستہ ہو کر اسی کے در پر بیٹھ گئے تو ان کی شان وفاداری دیکھ کر آقا سے خود نہ رہاگیا۔ جوش محبت سے بے قرار ہو کر آپ نکل آیا تاکہ انھیں دروازے سے اٹھالے۔ (تفہیم القرآن، ج۲، التوبہ ، حاشیہ: ۱۱۹)
(اسی طرح) ابولبابہ بن عبدالمنذر اور ان کے چھ ساتھیوں (کا معاملہ ہے) ابولبابہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیعت عقبہ کے موقع پر ہجرت سے پہلے ایمان لائے تھے۔ پھر جنگ بدر، جنگ احد اور دوسرے معرکوں میں برابر شریک رہے۔ مگر غزوہ تبوک کے موقع پر نفس کی کمزوری نے غلبہ کیا اوریہ کسی عذر شرعی کے بغیر بیٹھے رہ گئے ۔ ایسے ہی مخلص ان کے دوسرے ساتھی بھی تھے اور ان سے بھی یہ کمزوری سرزد ہوگئی۔ جب نبی ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کی کیا رائے ہے تو انھیں سخت ندامت ہوئی۔ قبل اس کے کہ کوئی باز پرس ہوتی انھوں نے خود ہی اپنے آپ کو ایک ستون سے باندھ لیا اور کہا کہ ہم پر خواب و خور حرام ہے۔ جب تک ہم معاف نہ کردیے جائیں، یا پھر ہم مرجائیں۔ چنانچہ کئی روز وہ اسی طرح بے آب و دانہ اور بے خواب بندھے رہے حتّٰی کہ بے ہوش ہو کرگر پڑے۔ آخر کار جب انھیں بتایا گیا کہ اللہ اور رسول نے تمہیں معاف کردیا تو انھوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ ہماری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جس گھر کی آسائش نے ہمیں فرض سے غافل کیا اسے اور اپنے تمام مال کو خدا کی راہ میں دے دیں۔ مگر نبی ﷺ نے فرمایا کہ سارا مال دینے کی ضرورت نہیں صرف ایک تہائی کافی ہے۔ چنانچہ وہ انھوں نے اسی وقت فی سبیل اللہ وقف کردیا۔
اس قصہ پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ خدا کے ہاں معافی کس قسم کی کمزوریوں کے لیے ہے۔ یہ سب حضرات عادی غیر مخلص نہ تھے بلکہ ان کا پچھلا کارنامۂ زندگی ان کے اخلاص ایمان پر دلیل تھا۔ ان میں سے کسی نے عذرات نہیں تراشے بلکہ اپنے قصور کو خود ہی قصور مان لیا۔ انھوں نے اعتراف قصور کے ساتھ اپنے طرز عمل سے ثابت کردیا کہ وہ واقعی نہایت نادم اور اپنے اس گناہ کی تلافی کے لیے سخت بے چین ہیں۔
گناہوں کی تلافی کے لیے زبان اور قلب کی توبہ کے ساتھ ساتھ عملی توبہ بھی ہونی چاہیے، اور عملی توبہ کی ایک شکل یہ ہے کہ آدمی خدا کی راہ میں مال خیرات کرے۔ اس طرح وہ گندگی جو نفس میں پرورش پارہی تھی اور جس کی بدولت آدمی سے گناہ کا صدور ہوا تھا، دور ہوجاتی ہے اور خیر کی طرف پلٹنے کی استعداد بڑھتی ہے۔ گناہ کرنے کے بعد اس کا اعتراف کرنا ایسا ہے جیسے ایک آدمی جو گڑھے میں گرگیا تھا، اپنے گرنے کو خود محسوس کرلے۔ پھر اس کا اپنے گناہ پر شرمسار ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اس گڑھے کو اپنے لیے نہایت بری جائے قرار سمجھتا ہے اور اپنی اس حالت سے سخت تکلیف میں ہے۔ پھر اس کا صدقہ و خیرات اور دوسری نیکیوں سے اس کی تلافی کی سعی کرنا گویا گڑھے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مارنا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، التوبہ، حاشیہ: ۹۹)
قصور کرنے والا بھی اگر توبہ کرکے اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور برے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو اللہ کے ہاں اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نادانستگی میں ایک قبطی کو قتل کرکے مصر سے نکلے تھے۔ اس کے بعد فوراً انھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تھی کہ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ (اے پروردگار ! میں اپنے نفس پر ظلم کرگزرا، مجھے معاف فرمادے) اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت انھیں معاف بھی فرمادیا تھا فَغَفَرَلَہٗ(القصص :۱۶)
(تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ: ۱۵)
گناہ گار کی توبہ قبول کرلینا اور اسے سزا دینے کے بجائے جنت عطا فرمادینا اللہ پر واجب نہیں ہے، بلکہ یہ سراسر اس کی عنایت و مہربانی سے ہوگی کہ وہ معاف بھی کرے اور انعام بھی دے۔بندے کو اس سے معافی کی امید تو ضرور رکھنی چاہیے مگر اس بھروسے پر گناہ نہیں کرنا چاہیے کہ توبہ سے معافی مل جائے گی۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، التحریم، حاشیہ:۲۰)
رہا توبہ کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں اس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زرّبن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعبؓ سے توبہ نصوح کا مطلب پوچھا تو انھوں نے کہاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی سوال کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہوجائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو۔‘‘ یہی مطلب حضرت عمرؓ ، حضرت عبداللہؓ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی منقول ہے، اور ایک روایت میں حضرت عمرؓ نے توبۂ نصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار، اس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے(ابن جریر)۔ حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ ایک بدّو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ توبۃُ الکذابین ہے۔ اس نے پوچھا، پھر صحیح توبہ کیا ہے؟ فرمایا، اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہئیں:
(۱) جو کچھ ہوچکا ہے اس پر نادم ہو۔ (۲) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو ان کو ادا کر۔ (۳) جس کا حق مارا ہو اس کو واپس کر۔ (۴) جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ ۔ (۵)آئندہ کے لیے عزم کرلے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔ (۶)اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلادے جس طرح تونے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اس کو طاعت کی تلخی کا مزہ چکھا جس طرح اب تک تو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزہ چکھاتا رہا ہے۔ (کشّاف)
توبہ کے سلسلہ میں چند امور اور بھی ہیں جنھیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے:
اوّل یہ کہ تو بہ درحقیقت کسی معصیت پر اس لیے نادم ہونا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے۔ ورنہ کسی گناہ سے اس لیے پرہیز کا عہد کرلینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے ، یا کسی بدنامی کا، یا مالی نقصان کا موجب ہے، توبہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ دوسرے یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہوجائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے، اسی وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں بھی ممکن ہو بلاتاخیر اس کی تلافی کردینی چاہیے، اسے ٹالنا مناسب نہیں ہے۔تیسرے یہ کہ توبہ کرکے بار باراسے توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنالینا اور اسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہو، توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے، اور بار بار کی توبہ شکنی اس بات کی علامت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیںہے۔ چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کرکے یہ عزم کرچکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا، اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اسی گناہ کا اعادہ ہوجائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ ہوگا، البتہ اسے بعدوالے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی کا مرتکب نہ ہو۔ پانچویں یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یاد آئے ، توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے، لیکن اگر اس کا نفس اپنی سابق گناہ گارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اس کے لیے لذت کے بجائے شرمساری کا موجب بن جائے۔ اس لیے کہ جس شخص نے فی الواقع خدا کے خوف کی بناپر معصیت سے توبہ کی ہو وہ اس خیال سے لذت نہیں لے سکتا کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا رہا ہے۔ اس سے لذت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے خوف نے اس کے دل میں جڑ نہیں پکڑی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، التحریم، حاشیہ:۱۹)

اَلْحَلِیْمُ : بڑا ہی برُدبار

سورہ بقرہ: ۲۲۵ میں ہے : وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْ بُکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ مزید برآں آیات ۲۳۵،۲۶۳ میں ، آلِ عمران : ۱۵۵ ، النساء :۱۲، المائدہ :۱۰۱، الحج : ۵۹ اور التغابن: ۱۷ میں بطور اسم الٰہی بیان ہوا ہے۔ علاوہ ازیں سورۃ الاسراء آیت ۴۴میں ہے: وَلٰکِنْ لا تَفْقَہُوْنَ تَسبِیْحَہُمْ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔
سورۃ الاحزاب : ۵۱ میں وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا ’’اور اللہ علیم وحلیم ہے۔‘‘
اور سورہ فاطر : ۴۱ میں اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔’’بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے۔‘‘
(حلیم) اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے مزاج پر قابو رکھتا ہو، نہ غصے اور دشمنی اور مخالفت میں آپے سے باہر ہو، نہ محبت اور دوستی اور تعلق خاطر میں حدِّ اعتدال سے تجاوز کرجائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، التوبہ ، حاشیہ:۱۱۳)
لوگوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں اور کمزوریوں کی وجہ سے ان کی بڑی بڑی خدمات اور قربانیوں پر پانی پھیردینے والا نہیں ہے۔ وہ ان سے درگزر فرمائے گا اور ان کے قصور معاف کردے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ:۱۰۳)
مخلص اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس تنگ دل آقا کا سا نہیں ہے جو بات بات پر گرفت کرتا ہو اور ایک ذراسی خطا پر اپنے ملازم کی ساری خدمتوں اور وفاداریوں پر پانی پھیردیتا ہو۔ وہ فیاض او ر کریم آقا ہے۔ جو بندہ اس کا وفادار ہو اس کی خطائوں پر چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور جو کچھ بھی خدمت اس سے بن آئی ہو ا س کی قدر فرماتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر، حاشیہ: ۵۲)
یہ اس کا حِلْم ہے کہ تم اس کی جناب میں گستاخیوں پر گستاخیاں کیے جاتے ہو، اور اس پر طرح طرح کے بہتان تراشتے ہو اور پھر بھی وہ درگزر کیے چلا جاتا ہے۔ نہ رزق بند کرتا ہے، نہ اپنی نعمتوں سے محروم کرتا ہے، اور نہ ہر گستاخ پر فوراًبجلی گرادیتا ہے۔ یہ بھی اس کی بردباری اور اس کے درگزر ہی کا ایک کرشمہ ہے کہ وہ افراد کو بھی اور قوموں کو بھی سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے، انبیاء (علیہم السلام ) اور مصلحین اور مبلغین کو ان کی فہمائش اور راہنمائی کے لیے بار بار اٹھاتا رہتا ہے، اور جو بھی اپنی غلطی کو محسوس کرکے سیدھا راستہ اختیار کرلے اس کی پچھلی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲،بنی اسرائیل ، حاشیہ:۰ ۵)
اللہ جس کے تم بندے ہو، عفو و درگزر کرنے والاہے، اس لیے تم کو بھی جہاں تک بھی تمہارے بس میں ہو،عفو و درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اہل ایمان کے اخلاق کا زیور یہی ہے کہ وہ حلیم ، عالی ظرف اور متحمل ہوں۔ بدلہ لینے کا حق انھیں ضرور حاصل ہے، مگر بالکل منتقمانہ ذہنیت اپنے اوپر طاری کرلینا ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج ، حاشیہ:۱۰۵)
یہ اس کی حلیمی و رحیمی اور چشم پوشی و درگزر ہی تو ہے جس کی بدولت کفر اور شرک اور دہریت اور فسق و فجور اور ظلم و ستم کی انتہا کردینے والے بھی سالہا سال تک ، بلکہ اس طرح کے پورے پورے معاشرے صدیوں تک مہلت پر مہلت پاتے چلے جاتے ہیں، اور ان کو صرف رزق ہی نہیں ملے جاتا بلکہ دنیا میں ان کی بڑائی کے ڈنکے بجتے ہیں اور زینت حیات دنیا کے سروسامان انھیں ملتے ہیں جنھیں دیکھ دیکھ کر نادان لوگ اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ شاید اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ:۵)
داعی حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو، متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامۃ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقاء کی کمزوریوں کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔ اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے، نہایت ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے۔ مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی، بہتان تراشی، ایذارسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو، اس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔ سخت گیری، درشت خوئی ،تلخ گفتاری اور منتقمانہ اشتعال طبع اس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیںہے، اسی چیز کو نبی ﷺ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ ’’میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ غضب اور رضا ، دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں، جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھے میرے حق سے محروم کرے میں اسے اس کا حق دوں، جو میرے ساتھ ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الاعراف، حاشیہ:۱۵۰)

اَلْوَاسِعُ : وسیع النظر، وسیع الظرف

سورہ آل عمران : ۷۳ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ ’’وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔‘‘ واسع بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا کرتا ہے۔ ایک وہ موقع جہاں انسانوں کے کسی گروہ کی تنگ خیالی و تنگ نظری کا ذکر آتا ہے اور اسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور اللہ تمہاری طرح تنگ نظرنہیں ہے۔ دوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ فراخ دست ہے، تمہاری طرح بخیل نہیں ہے۔ تیسرا وہ موقع جہاں لوگ اپنے تخیل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدودیت منسوب کرتے ہیں اور انھیں یہ بتانا ہوتا ہے کہ اللہ غیر محدود ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، آل عمران، حاشیہ: ۶۲)
اسی طرح سورہ بقرہ : ۱۱۵ میں ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ ’’اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ محدود، تنگ دل، تنگ نظر اور تنگ دست نہیں، جیسا کہ لوگوں نے اپنے اوپر قیاس کرکے اسے سمجھ رکھا ہے، بلکہ اس کی خدائی بھی وسیع ہے اور اس کا زاویۂ نظر اور دائرہ فیض بھی وسیع ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا کون سا بندہ کہاں، کس وقت کس نیت سے اسے یاد کررہا ہے۔

اَلْحَکِیْمُ: بہت ہی دانا و بینا، مقتضائے دانش کے مطابق کام کرنے والا

جو حکمت و دانائی اور علم و دانش میں کامل ہے۔ جسے اپنی خلق کے مصالح اور ان کے ماضی و حال اور مستقبل کا پورا علم ہے اور جس کی حکمت بندوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے بہترین تدابیر اختیار کرتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل ، حاشیہ: ۷)
طاقت کا مالک صرف اللہ ہی ہے اور اسی کی تدبیر و حکمت اس کائنات کا نظام چلارہی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴ لقمان، حاشیہ: ۱۱)
اللہ کی طرف سے اس نعمت بھری جنتوں کے انعام کا یہ اعلان سراسر اسکی حکمت اور اس کے عدل پر مبنی ہے۔ اس کے ہاں کوئی غلط بخشی نہیں ہے کہ مستحق کو محروم رکھا جائے اور غیر مستحق کو نواز دیا جائے۔ ایمان و عمل صالح سے متصف لوگ فی الواقع اس انعام کے مستحق ہیں اور اللہ یہ انعام انہی کو عطا فرمائے گا۔
جو فیصلہ بھی وہ کرتا ہے سراسر حکمت کی بنا پر کرتا ہے۔ کسی کو دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ حکمت اس کی مقتضی ہے اور کسی کو نہیں دیتا تو اس لیے نہیں دیتا کہ اسے دینا حکمت کے خلاف ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الفاطر، حاشیہ:۵)
جو ہدایت وہ اس کتاب میں دے رہا ہے وہ سراسر دانائی پر مبنی ہے اور صرف ایک جاہل و نادان آدمی ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب، حاشیہ:۱)
انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے جب بھی وہ کسی بندے سے رابطہ قائم کرنا چاہے، کوئی دشواری اس کے ارادے کی راہ میں مزاحم نہیں ہوسکتی، اور وہ اپنی حکمت سے اس کام کے لیے وحی کا طریقہ اختیار فرمالیتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ: ۱)
اس کی حکمت اس سے عاجز نہیں ہے کہ اپنے کسی بندے تک اپنی ہدایات پہنچانے کے لیے روبرو بات چیت کرنے کے سوا کوئی اور تدبیر نکال لے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۸۲)
اس کا حکیم ہونا اس کا مقتضی ہے کہ انسان پورے اطمینان کے ساتھ بہ رضا و رغبت اس کی ہدایات اور اس کے احکام کی پیروی کرے، کیوں کہ اس کی کسی تعلیم کے غلط یا نامناسب یا نقصان دہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الجاثیہ، حاشیہ:۱)
وہ حکیم ہے جو کچھ کرتا ہے وہ عین مقتضائے دانش ہوتا ہے اور اس کی تدبیریں ایسی محکم ہوتی ہیں کہ دنیا میں کوئی اس کا توڑ نہیں کرسکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الجمعہ، حاشیہ: ۱)
اللہ کے پاس تو ایسے لشکر ہیں جن سے وہ کفار کو جب چاہے تہس نہس کردے، مگر اس نے کچھ جان کر اور حکمت ہی کی بنا پر یہ ذمہ داری اہل ایمان پر ڈالی ہے کہ وہ کفار کے مقابلہ میں جدوجہد اور کشمکش کرکے اللہ کے دین کا بول بالا کریں۔ اسی لیے ان کے لیے درجات کی ترقی اور آخرت کی کامیابیوںکا دروازہ کھلتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الفتح، حاشیہ:۸)
وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کی تخلیق ، اس کی تدبیر، اس کی فرماں روائی، اس کے احکام، اس کی ہدایات سب حکمت پر مبنی ہیں۔ اس کے کسی کام میں نادانی اور حماقت و جہالت کا شائبہ تک نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۲)
یہ اسی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ ایسی ناتراشیدہ اُمّی قوم میں اس سے ایسا عظیم نبی پید ا کیا جس کی تعلیم و ہدایت اس درجہ انقلاب انگیز ہے، اور پھر ایسے عالمگیر ابدی اصولوں کی حامل ہے جن پر تمام نوع انسانی مل کر ایک امت بن سکتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرسکتی ہے۔ کوئی بناوٹی انسان خواہ کتنی ہی کوشش کرلیتا ، یہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ عرب جیسی پسماندہ قوم تو درکنار، دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کا کوئی ذہین سے ذہین آدمی بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ایک قوم کی اس طرح مکمل طور پر کایا پلٹ دے، اور پھر ایسے جامع اصول دنیا کو دے دے جن پر ساری نوع انسانی ایک امت بن کر ایک دین اور ایک تہذیب کا عالمگیر و ہمہ گیر نظام ابد تک چلانے کے قابل ہوجائے۔ یہ ایک معجزہ ہے جو اللہ کی قدرت سے رونما ہوا ہے، اور اللہ ہی نے اپنی حکمت کی بنا پر جس شخص ، جس ملک اور جس قوم کو چاہا ہے اس کے لیے انتخاب کیا ہے۔ اس پر اگر کسی بے وقوف کا دل دکھتا ہے تو دکھتا رہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الجمعہ، حاشیہ: ۶)
اللہ تمہارا آقا اور تمہارے معاملات کا متولی ہے۔ وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ تمہاری بھلائی کس چیز میں ہے اور جو احکام بھی اس نے دیے ہیں سراسر حکمت کی بنا پر دیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم خود مختار نہیں ہو بلکہ اللہ کے بندے ہو اور وہ تمہارا آقا ہے، اس لیے اس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں میں رد و بدل کرنے کا اختیار تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ تمہارے لیے حق یہی ہے کہ اپنے معاملات اس کے حوالے کرکے بس اس کی اطاعت کرتے رہو۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، التحریم، حاشیہ: ۵)
اللہ کے کاموں کو اس کی قدرت کے پہلو سے دیکھیے تو دل گواہی دے گا کہ وہ جب چاہے قیامت برپا کرسکتا ہے اور جب چاہے ان سب مرنے والوں کو پھر سے زندہ کرسکتا ہے جن کو پہلے وہ عدم سے وجود میں لایا تھا۔ اور اگر اس کے کاموں کو اس کی حکمت کے پہلو سے دیکھیے تو عقل شہادت دے گی کہ یہ دونوں کام بھی وہ ضرور کرکے رہے گا کیونکہ ان کے بغیر حکمت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ایک حکیم سے یہ بعید ہے کہ وہ ان تقاضوں کو پورا نہ کرے۔ جو محدود سی حکمت و دانائی انسان کو حاصل ہے اس کا یہ نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی اپنا مال یا جائداد یا کاروبار جس کے سپرد بھی کرتا ہے اس سے کسی نہ کسی وقت حساب ضرور لیتا ہے۔گویا امانت اور محاسبے کے درمیان ایک لازمی عقلی رابطہ ہے جس کو انسان کی محدود حکمت بھی کسی حال میں نظر انداز نہیں کرتی۔ پھر اسی حکمت کی بنا پر آدمی ارادی اور غیرارادی افعال کے درمیان فرق کرتا ہے، ارادی افعال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصور وابستہ کرتا ہے، افعال میں نیک اور بدکی تمیز کرتا ہے، اچھے افعال کا نتیجہ تحسین اور انعام کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے اور برے افعال پر سزا کا تقاضا کرتا ہے حتّٰی کہ خود ایک نظام عدالت اس غرض کے لیے وجود میں لاتا ہے۔ یہ حکمت جس خالق نے انسان میں پیدا کی ہے، کیا باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ خود اس حکمت سے عاری ہوگا؟ کیا مانا جاسکتا ہے کہ اپنی اتنی بڑی دنیا اتنے سروسامان اور اس قدر اختیارات کے ساتھ انسان کے سپرد کرکے وہ بھول گیا ہے، اس کا حساب وہ کبھی نہ لے گا؟ کیا کسی صحیح الدماغ آدمی کی عقل یہ گواہی دے سکتی ہے کہ انسان کے جو برے اعمال سزا سے بچ نکلے ہیں، یا جن برائیوں کی متناسب سزا انھیں نہیں مل سکی ہے ان کی باز پرس کے لیے کبھی عدالت قائم نہ ہوگی، اور جو بھلائیاں اپنے منصفانہ انعام سے محروم رہ گئی ہیں وہ ہمیشہ محروم ہی رہیں گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قیامت اور زندگی بعد موت خدائے حکیم کی حکمت کا ایک لازمی تقاضا ہے جس کا پورا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا سراسر بعید از عقل ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۹)
(ذرا) غور کیجیے، زمین میں اس مواد کا ٹھیک سطح پر یا سطح سے متصل موجود ہوناجو بے شمار مختلف اقسام کی نباتی زندگی کے لیے درکار ہے ، اور پانی کے اندر ٹھیک وہ اوصاف موجود ہونا جو حیوانی اور نباتی زندگی کی ضروریات کے مطابق ہیں ، اور اس پانی کا پے درپے سمندروں سے اٹھایا جانا اور زمین کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ایک باقاعدگی کے ساتھ برسایا جانا اور زمین، ہوا، پانی اور درجۂ حرارت وغیرہ مختلف قوتوں کے درمیان ایسا متناسب تعاون قائم کرنا کہ اس سے نباتی زندگی کو نشوونما نصیب ہو اور وہ ہر طرح کی حیوانی زندگی کے لیے اس کی بے شمار ضروریات پوری کرے، کیا یہ سب کچھ ایک حکیم کی منصوبہ بندی اور دانشمندانہ تدبیر اور غالب قدرت و ارادہ کے بغیر خود بخود اتفاقاًہوسکتا ہے؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ مسلسل ہزار ہا برس بلکہ لاکھوں کروڑوں برس تک اسی باقاعدگی سے رونما ہوتا چلا جائے؟ صرف ایک ہٹ دھرم آدمی ہی ، جو تعصب میں اندھا ہوچکا ہو اسے ایک امر اتفاقی کہہ سکتا ہے۔ کسی راستی پسند عاقل انسان کے لیے ایسا لغو دعویٰ کرنا اور ماننا ممکن نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ:۷۳)
نباتات کی ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر اس کے صرف ایک پودے ہی کی نسل کو زمین میں بڑھنے کا موقع مل جاتا تو چند سال کے اندر روئے زمین پر بس وہی وہ نظر آتی، کسی دوسری قسم کی نباتات کے لیے کوئی جگہ نہ رہتی۔ مگر یہ ایک حکیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے مطابق بے حدو حساب اقسام کی نباتات اس زمین پر اُگ رہی ہیں اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی منظر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہر نوع کی جسامت، پھیلائو، اٹھان اور نشو ونما کی ایک حد مقرر ہے جس سے نباتات کی کوئی قسم بھی تجاوز نہیں کرسکتی۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے ہر درخت، ہر پودے اور ہر بیل بوٹے کے لیے جسم، قد، شکل، برگ و بار اور پیداوار کی ایک مقدار پورے ناپ تول اور حساب و شمار کے ساتھ مقرر کر رکھی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الحجر، حاشیہ:۱۳)
یہ ایک مقرر مقدار میں نازل فرمانے کا معاملہ صرف نباتات ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام موجودات کے معاملہ میں عام ہے۔ ہوا، پانی، روشنی، گرمی، سردی، جمادات، نباتات، حیوانات، غرض ہر چیز، ہر نوع، ہر جنس اور ہر قوت و طاقت کے لیے ایک حد مقرر ہے جس پر وہ ٹھیری ہوئی ہے اور ایک مقدار مقرر ہے جس سے نہ وہ گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے۔ اسی تقدیر اور کمال درجہ کی حکیمانہ تقدیر ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک پورے نظام کائنات میں یہ توازن ، یہ اعتدال، اور یہ تناسب نظر آرہا ہے۔ اگر یہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ ہوتی ، یا بہت سے خدائوں کی کاریگری و کارفرمائی کا نتیجہ ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ بے شمار مختلف اشیاء اور قوتوں کے درمیان ایسا مکمل توازن و تناسب قائم ہوتا اور مسلسل قائم رہ سکتا؟
(تفہیم القرآن، ج ۲، الحجر، حاشیہ: ۱۴)
اجرام فلکی کے ساتھ زمین کا تعلق ، زمین کے ساتھ سورج اور چاند کا تعلق ، زمین کی بے شمار مخلوقات کی ضرورتوں سے پہاڑوں اوردریائوں کا تعلق ، یہ ساری چیزیں اس بات پر کھلی شہادت دیتی ہیں کہ ان کو نہ تو الگ الگ خدائوں نے بنایا ہے اور نہ مختلف با اختیار خدا ان کا انتظام کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ان سب چیزوں میں باہم اتنی مناسبتیں اور ہم آہنگیاں اور موافقتیں نہ پیدا ہوسکتی تھیں اور نہ مسلسل قائم رہ سکتی تھیں۔ الگ الگ خدائوں کے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ مل کر پوری کائنات کے لیے تخلیق و تدبیر کا ایسا منصوبہ بنالیتے جس کی ہر چیز زمین سے لے کر آسمانوں تک ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کھاتی چلی جائے اور کبھی ان کی مصلحتوں کے درمیان تصادم واقع نہ ہونے پائے۔
زمین کے اس عظیم الشان کرّے کا فضائے بسیط میں متعلق ہونا، اس کی سطح پر اتنے بڑے بڑے پہاڑوں کا ابھرآنا۔ اس کے سینے پر ایسے ایسے زبردست دریائوں کا جاری ہونا، اس کی گود میں طرح طرح کے بے حدوحساب درختوں کا پھلنا اور پیہم انتہائی باقاعدگی کے ساتھ رات اور دن حیرت انگیز آثار کا طاری ہونا، یہ سب چیزیں اس خداکی قدرت پر گواہ ہیں جس نے انھیں پیدا کیا۔
زمین کی ساخت میں، اس پر پہاڑوں کی پیدائش میں، پہاڑوں سے دریائوں کی روانی کا انتظام کرنے میں، پھلوں کی ہر قسم میں دو دو طرح کے پھل پیدا کرنے میں، اور رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات باقاعدگی کے ساتھ لانے میں جو بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں پائی جاتی ہیں وہ پکار پکار کر شہادت دے رہی ہیں کہ جس خدا نے تخلیق کا نقشہ بنایا ہے وہ کمال درجے کا حکیم ہے۔ یہ ساری چیزیں خبر دیتی ہیں کہ یہ نہ تو کسی بے ارادہ طاقت کی کارفرمائی ہے اور نہ کسی کھلنڈرے کا کھلونا۔ ان میں سے ہر ہر چیز کے اندر ایک حکیم کی حکمت اور انتہائی بالغ حکمت کام کرتی نظر آتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الرعد، حاشیہ: ۸)
ساری زمین کو اس نے یکساں بنا کر نہیں رکھ دیا ہے بلکہ اس میں بے شمار خطے پیدا کردیے ہیں جو متصل ہونے کے باوجود شکل میں، رنگ میں، مادۂ ترکیب میں، خاصیتوں میں، قوتوں اور صلاحیتوں میں، پیداوار اور کیمیاوی یا معدنی خزانوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ان مختلف خطوں کی پیدائش اور ان کے اندر طرح طرح کے اختلافات کی موجودگی اپنے اندر اتنی حکمتیں اور مصلحتیں رکھتی ہے کہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔ دوسری مخلوقات سے قطع نظر صرف ایک انسان ہی کے مفاد کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی مختلف اغراض و مصالح اور زمین کے ان خطوں کی گونا گونی کے درمیان جو مناسبتیں اور مطابقتیں پائی جاتی ہیں اور ان کی بدولت انسانی تمدن کو پھلنے پھولنے کے جو مواقع بہم پہنچے ہیں، وہ یقینا کسی حکیم کی فکر اور اس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اس کے دانشمندانہ ارادے کا نتیجہ ہیں۔ اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے کے لیے بڑی ہٹ دھرمی درکار ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲،الرعد، حاشیہ: ۹)
اس کرّہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادرِ مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہ ہوسکتی تھیں۔ یہ کرّہ فضائے بسیط میں معلق ہے، کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے۔اگر اس میںذرا سا بھی اہتزاز ہوتا، جس کے خطرناک نتائج کا ہم کبھی زلزلہ آجانے سے بہ آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ تھی۔ یہ کرہ باقاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے آتا ہے اور چھپتا ہے جس سے رات اور دن کا اختلاف رونما ہوتا ہے۔ اگر اس کا ایک ہی رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رخ ہر وقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیوں کہ ایک رخ کو سردی اور بے نوری نباتات اور حیوانات کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رخ کو گرمی کی شدت بے آب و گیاہ اور غیر آباد بنادیتی۔ اس کرہ پر پانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردّا چڑھا دیا گیا ہے جو شہابوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے۔ ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب ، جو ۳۰ میل فی سیکنڈ کی رفتا ر سے زمین کی طرف گرتے ہیں، یہاں وہ تباہی مچاتے کہ کوئی انسان، حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا۔ یہی ہوا درجۂ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے، یہی سمندروں سے بادل اٹھاتی اور زمین کے مختلف حصوں تک آب رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں فراہم کرتی ہے، یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی۔ اس کرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزا بڑے پیمانے پر فراہم کردیے گئے ہیں جو نباتی ، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں، جس جگہ بھی یہ سروسامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کو سہارنے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس کرے پر سمندروں ، دریائوں ، جھیلوں ، چشموں اور زیر زمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کردیا گیا ہے، اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان نہ تھا۔ پھر اس پانی ، ہوا اور تمام ان اشیاء کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں، سمیٹے رکھنے کے لیے اس کرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے۔ یہ کشش اگر کم ہوتی تو ہوا اور پانی، دونوں کو نہ روک سکتی اور درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہوجاتی ۔ یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہوجاتی ، اس کا دبائو بہت بڑھ جاتا، بخارات آبی کا اٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہو سکتیں، سردی زیادہ ہوتی، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے ، بلکہ کشش ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت میں انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی۔ علاوہ بریں، اس کرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے جو آبادی کے لیے مناسب ترین۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی، سردی بہت زیادہ ہوتی، موسم بہت لمبے ہوتے اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا۔ اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے برعکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔
یہ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے۔ کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہوگئی ہیں، اور نہ یہ گمان کرسکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور روبعمل لانے میں کسی دیوی، دیوتا، یا جنّ ، یا نبی، ولی یا فرشتے کا کوئی دخل ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ: ۷۴)
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہ نمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کردیے ہیں جن سے وہ اپنی سمت سفر اور منزل مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیںا سکی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی راہنمائی کرتے ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ: ۷۸)
اللہ نے اس کائنات میں کہیں بھی یکسانی نہیں رکھی ہے۔ ایک ہی زمین ہے، مگر اس کے قطعے اپنے اپنے رنگوں ، شکلوں اور خاصیتوں میں جدا ہیں۔ ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی ہے مگر اس سے طرح طرح کے غلے اور پھل پیدا ہورہے ہیں۔ ایک ہی درخت ہے اور اس کا ہر پھل دوسرے پھل سے نوعیت میں متحد ہونے کے باوجود شکل اور جسامت اور دوسری خصوصیات میں مختلف ہے ایک ہی جڑ ہے اور اس سے دو الگ تنے نکلتے ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی الگ انفرادی خصوصیت رکھتا ہے۔ ان باتوں پر جو شخص غور کرے گا وہ کبھی یہ دیکھ کر پریشان نہ ہوگا کہ انسانی طبائع اور میلانات اور مزاجوں میں اتنا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو سب انسانوں کو یکساں بناسکتا تھا، مگر جس حکمت پر اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے وہ یکسانی کی نہیں بلکہ تنوع اور رنگا رنگی کی متقاضی ہے۔ سب کو یکساں بنادینے کے بعد تو یہ سارا ہنگامۂ وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، الرعد ، حاشیہ: ۱۱)

اَلشَّاکِرُ : بڑا قدردان

شکرکے اصل معنی اعتراف نعمت یا احسان مندی کے ہیں۔ ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویہ یہی ہوسکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے اور زبان سے اس کااقرار کرے اور عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے۔ انہی تین چیزوں کے مجموعے کا نام شکر ہے اور اس شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اوّلاً آدمی احسان کو اسی کی طرف منسوب کرے جس نے دراصل احسان کیا ہے، کسی دوسرے کو احسان کے شکریہ اور نعمت کے اعتراف میں اس کا حصہ دارنہ بنائے۔ ثانیاً آدمی کا دل اپنے محسن کے لیے محبت اور وفاداری کے جذبہ سے لبریز ہو اور اس کے مخالفوں سے محبت و اخلاص اور وفاداری کا ذرہ برابر تعلق بھی نہ رکھے۔ ثالثاً وہ اپنے محسن کا مطیع و فرماں بردار ہو اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے منشاء کے خلاف استعمال نہ کرے۔
شکر جب اللہ کی طرف سے بندے کی جانب ہو تو اس کے معنی اعتراف خدمت یا قدر دانی کے ہوں گے، اور جب بندے کی طرف سے اللہ کی جانب ہو تو اس کو اعتراف نعمت یا احسان مندی کے معنی میں لیا جائے گا۔ اللہ کی طرف سے بندوں کا شکریہ ادا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ناقدر شناس نہیںہے، جتنی اور جیسی خدمات بھی بندے اس کی راہ میں بجالائیں، اللہ کے ہاں ان کی قدر کی جاتی ہے۔ کسی کی خدمات صلہ و انعام سے محروم نہیں رہتیں، بلکہ وہ نہایت فیاضی کے ساتھ ہر شخص کو اس کی خدمت سے زیادہ صلہ دیتا ہے۔ بندوں کا حال تویہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے کیا اس کی قدر کم کرتے ہیں اور جو کچھ نہ کیا اس پر گرفت کرنے میں بڑی سختی دکھاتے ہیں لیکن اللہ کا حال یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے نہیں کیا اس پر محاسبہ کرنے میں وہ بہت نرمی اور چشم پوشی سے کام لیتا ہے ، اور جو کچھ کیا ہے اس کی قدر اس کے مرتبے سے بڑھ کرکرتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۱،النساء ، حاشیہ: ۱۷۵-۱۷۶)
جان بوجھ کر نافرمانی کرنے والے مجرمین کے برعکس ، نیکی کی کوشش کرنے والے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ (۱) جتنی کچھ اپنی طرف سے وہ نیک بننے کی سعی کرتے ہیں، اللہ ان کو اس سے زیادہ نیک بنادیتا ہے۔ (۲) ان کے کام میں جو کوتاہیاں رہ جاتی ہیں، یا نیک بننے کی کوشش کے باوجود جو گناہ ان سے سرزد ہوجاتے ہیں، اللہ ان سے چشم پوشی کرتا ہے، اور (۳) جو تھوڑی سی نیک عمل کی پونجی وہ لے کر آتے ہیں اللہ اس پر ان کی قدر افزائی کرتا ہے اور انھیں زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔ ( تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ ۴۲)

اَلْعَلِیْمُ : سب کچھ جاننے والا

(۱) ایک انسان کے بس میں یہ ہے ہی نہیں کہ ان تمام حقائق کا احاطہ کرلے جن کا جاننا ایک صحیح راہ حیات متعین کرنے کیلیے ضروری ہے۔ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہی سمیع و علیم ہے، اس لیے وہی یہ بتا سکتا ہے کہ انسان کے لیے ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا، حق کیا ہے اور باطل کیا، خیر کیا ہے اور شر کیا؟ (تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان، حاشیہ:۵)
(۲) یہ بات اللہ ہی جانتا ہے کہ کون فی الواقع ایک اعلیٰ درجہ کا انسان ہے اور کون اوصاف کے لحاظ سے ادنیٰ درجے کا ہے۔ لوگوںنے بطور خود اعلیٰ اور ادنیٰ کے جو معیار بنارکھے ہیں یہ اللہ کے ہاں چلنے والے نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جس کو دنیا میں بہت بلند مرتبے کا آدمی سمجھا گیا ہو وہ اللہ کے آخری فیصلے میں کم ترین خلائق قرار پائے، اور ہوسکتا ہے کہ جو یہاں بہت حقیر سمجھا گیا ہو وہ وہاں بڑا اونچا مرتبہ پائے۔ اصل اہمیت دنیا کی عزت و ذلت کی نہیں بلکہ اس ذلّت و عزت کی ہے جو خدا کے ہاں کسی کو نصیب ہو۔ اس لیے انسان کو ساری فکر اس امر کی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اندر وہ حقیقی اوصاف پیدا کرے جو اسے اللہ کی نگاہ میں عزت کے لائق بناسکتے ہوں۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحجرات، حاشیہ: ۲۹)
(۳) خدا اندھا، بہرا، بے خبر خدا نہیں ہے بلکہ دانا و بینا ہے۔ اس کی خدائی میں اندھا دھند کام نہیں ہورہا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، انفال، حاشیہ: ۳۵)
(۴) آخر کار معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ اس لیے بالفرض اگر کوئی شخص دنیا میں اپنے نفاق کو چھپانے میں کامیاب ہوجائے اور انسان جن جن معیاروں پر کسی کے ایمان و اخلاص کو پرکھ سکتے ہیں ان سب پر بھی پورا اتر جائے تو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ نفاق کی سزا سے بچ نکلا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، التوبۃ، حاشیہ: ۱۰۰)
(۵) اور اس کا علم سب پر اس طرح حاوی ہے کہ کوئی متنفس اس سے چھوٹ نہیں سکتا، بلکہ کسی اگلے پچھلے انسان کی خاک کا کوئی ذرہ بھی اس سے گم نہیں ہوسکتا، اس لیے جو شخص حیات اخروی کو مستبعد سمجھتا ہے وہ خدا کی صفت حکمت سے بے خبر ہے، اور جو شخص حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ ’’جب مرنے کے بعد ہماری خاک کاذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم کیسے دوبارہ پیدا کیے جائیں گے؟‘‘وہ خدا کی صفت علم کو نہیں جانتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الحجر، حاشیہ: ۱۶)
(۶) وہ جانتا ہے کہ کس نے فی الحقیقت اسی کی راہ میں گھر بار چھوڑا ہے اور وہ کس انعام کا مستحق ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۱۰۳)
(۷) اللہ کی یہ مشیت کہ وہ کسے پاکیزگی بخشے، اندھا دھند نہیں ہے بلکہ علم کی بنا پر ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کس میں بھلائی کی طلب موجود ہے اور کون برائی کی رغبت رکھتا ہے۔ ہر شخص اپنی خلوتوں میں جو باتیں کرتا ہے انھیں اللہ سن رہا ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے دل میں بھی جوکچھ سوچا کرتا ہے، اللہ اس سے بے خبر نہیں رہتا۔ اسی براہ راست علم کی بنا پر اللہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسے پاکیزگی بخشے اور کسے نہ بخشے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النور، حاشیہ:۱۹)
(۸) سورہ احزاب کی آیت میں ارشاد ہے اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْماً یعنی حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے کہ ہمارے دین کی مصلحت کس چیز میں ہے اور کس میں نہیں ہے، اس کو ہم زیادہ جانتے ہیں۔ ہم کو معلوم ہے کہ کس وقت کیا کام کرنا چاہیے اور کون ساکام خلاف مصلحت ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب، حاشیہ: ۲)
(۹) وہ انسان کے صرف ان اعمال ہی سے واقف نہیں ہے جو لوگوں کے علم میں آجاتے ہیں بلکہ ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو سب سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ مزید براں وہ محض اعمال کی ظاہری شکل ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کے ہر عمل کے پیچھے کیا ارادہ اور کیا مقصد کارفرما تھا اور جو کچھ اس نے کیاکس نیت سے کیا اور کیا سمجھتے ہوئے کیا۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن، حاشیہ: ۹)
(۱۰) جن معاملات سے انسان کی قریب ترین دلچسپیاں وابستہ ہیں، انسان ان کے متعلق بھی کوئی علم نہیں رکھتا، پھر بھلا یہ جاننا اس کے لیے کیسے ممکن ہے کہ ساری دنیا کے انجام کا وقت کب آئے گا۔ تمہاری خوشحالی و بدحالی کا بڑا انحصار بارش پر ہے مگر اس کا سررشتہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب ،جہاں ،جتنی چاہتا ہے برساتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ تم قطعاً نہیں جانتے کہ کہاں ، کس وقت، کتنی بارش ہوگی اور کون سی زمین اس سے محروم رہ جائے گی، یا کس زمین پر بارش الٹی نقصان دہ ہو جائے گی۔ تمہاری اپنی بیویوں کے پیٹ میں تمہارے اپنے نطفے سے حمل قرار پاتا ہے جس سے تمہاری نسل کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ مگر تم نہیں جانتے کہ کیا چیز اس پیٹ میں پرورش پارہی ہے اور کس شکل میں کن بھلائیوں اور برائیوں کو لیے ہوئے وہ برآمد ہوگی۔ تم کو یہ تک پتہ نہیں ہے کہ کل تمہارے ساتھ کیا کچھ پیش آنا ہے۔ ایک اچانک حادثہ تمہاری تقدیر بدل سکتا ہے، مگر ایک منٹ پہلے بھی تم کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ تم کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ تمہاری اس زندگی کا خاتمہ آخر کار کہاں کس طرح ہوگا۔ یہ ساری معلومات اللہ نے اپنے ہی پاس رکھی ہیں اور ان میں سے کسی کا علم بھی تم کو نہیں دیا۔ان میں سے ایک ایک چیز ایسی ہے جسے تم چاہتے ہو کہ پہلے سے تمہیں اس کا علم ہو جائے تو کچھ اس کے لیے پیش بندی کرسکو۔ لیکن تمہارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ ان معاملات میں اللہ ہی کی تدبیر اور اسی کی قضا پر بھروسہ کرو۔ اسی طرح دنیا کے اختتام کی ساعت کے معاملے میں بھی اللہ کے فیصلے پر اعتماد کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ اس کا علم بھی نہ کسی کو دیا گیا ہے نہ دیا جاسکتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ: ۶۳)
(۱۱) وہ ’’سب کچھ جاننے والا‘‘ ہے یعنی وہ قیاس و گمان کی بنا پر کوئی بات نہیں کرتا بلکہ ہر چیز کا براہ راست علم رکھتا ہے، اس لیے ماورائے حس وادراک حقیقتوں کے متعلق جو معلومات وہ دے رہا ہے، صرف وہی صحیح ہوسکتی ہیں، اور ان کو نہ ماننے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی خواہ مخواہ جہالت کی پیروی کرے۔ اسی طرح وہ جانتا ہے کہ انسان کی فلاح کس چیز میں ہے اور کون سے اصول و قوانین اور احکام اس کی بہتری کے لیے ضروری ہیں۔ اس کی ہر تعلیم حکمت اور علم صحیح پر مبنی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی ہدایات کو قبول نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی خود اپنی تباہی کے راستے پر جانا چاہتا ہے۔ پھر انسانوں کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، حتّٰی کہ وہ ان نیتوں اور ارادوں تک کو جانتا ہے جو انسانی افعال کے اصل محرک ہوتے ہیں۔ اس لیے انسان کسی بہانے اس کی سزا سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ: ۱)
(۱۲) مخالفتوں کے طوفان میں جو چیز مومن کے دل میں صبر و سکون اور اطمینان کی ٹھنڈک پیدا کرتی ہے وہ یہی یقین ہے کہ اللہ بے خبر نہیں ہے۔ جو کچھ ہم کررہے ہیں اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ہمارے ساتھ کیا جارہا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے۔ ہماری اور ہمارے مخالفین کی ساری باتیں وہ سن رہا ہے اور دونوں کا طرز عمل جیسا کچھ بھی ہے اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ اسی اعتماد پر بندۂ مومن اپنا اور دشمنان حق کا معاملہ خدا کے سپرد کرکے پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، حٰم السجدہ، حاشیہ:۴۱)
(۱۳) اگر کبھی تم نے اللہ اور اس کے رسول سے بے نیاز ہو کر خود مختاری کی روش اختیار کی یا اپنی رائے اور خیال کو ان کے حکم پر مقدم رکھا تو جان رکھو کہ تمہارا سابقہ اس خدا سے ہے جو تمہاری سب باتیں سن رہا ہے اور تمہاری نیتوں تک سے واقف ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحجرات، حاشیہ:۲)
(۱۴) وہ محض کلیات ہی کا عالم نہیں ہے بلکہ جزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ ایک ایک دانہ جو زمین کی تہوں میں جاتا ہے، ایک ایک پتی اور کوپل جو زمین سے پھوٹتی ہے۔ بارش کا ایک ایک قطرہ جو آسمان سے گرتا ہے، اور بخارات کی ہر مقدار جو سمندروں اور جھیلوں سے اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہے، اس کی نگاہ میں ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ کون سا دانہ زمین میں کس جگہ پڑا ہے۔ تبھی تو وہ اسے پھاڑکر اس میں سے کونپل نکالتا ہے اور اسے پرورش کرکے بڑھاتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ بخارات کی کتنی کتنی مقدار کہاں کہاں سے اٹھی ہے اور کہاں کہاں پہنچی ہے، تبھی تو وہ ان سب کو جمع کرکے بادل بناتا ہے اور زمین کے مختلف حصوں پر بانٹ کر ہر جگہ ایک حساب سے بارش برساتا ہے۔ اسی پر ان دوسری تمام چیزوں کی تفصیلات کو قیاس کیا جاسکتا ہے جو زمین میں جاتی اور اس سے نکلتی ہیں اور آسمان کی طرف چڑھتی اور اس سے نازل ہوتی ہیں۔ ان سب پر اللہ کا علم حاوی نہ ہو تو ہر چیزکی علاحدہ علاحدہ تدبیر اور ہر ایک کا انتہائی حکیمانہ طریقہ سے انتظام کیسے ممکن ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۵)
(۱۵) اللہ کو معلوم ہے کہ کون شخص واقعی ایمان رکھتا ہے اور کس شان کا ایمان رکھتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے علم کی بناء پر اسی قلب کو ہدایت بخشتا ہے جس میں ایمان ہو، اور اسی شان کی ہدایت بخشتا ہے جس شان کا ایمان اس میں ہو۔ اپنے مومن بندوں کے حالات سے اللہ بے خبر نہیں ہے۔ اس نے ایمان کی دعوت دے کر، اور اس ایمان کے ساتھ دنیا کی شدید آزمایشوں میں ڈال کر انھیں ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس مومن پر دنیا میں کیا کچھ گزررہی ہے اور وہ کن حالات میں اپنے ایمان کے تقاضے کس طرح پورے کررہا ہے۔ اس لیے اطمینان رکھو کہ جو مصیبت بھی اللہ کے اذن سے تم پر نازل ہوتی ہے، اللہ کے علم میں ضرور اس کی کوئی عظیم مصلحت ہوتی ہے اور اس کے اندر کوئی بڑی خیر پوشیدہ ہوتی ہے، کیوں کہ اللہ اپنے مومن بندوں کا خیر خواہ ہے۔ بلاوجہ انھیں مصائب میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا۔ (تفہیم القرآن،ج ۵، التغابن، حاشیہ :۲۶)
(۱۶) کسی جگہ بھی تم اس کے علم، اس کی قدرت ، اس کی فرماں روائی اور اس کے تدبیر و انتظام سے باہر نہیں ہو۔ زمین میں، ہوا میں، پانی میں، یا کسی گوشۂ تنہائی میں، جہاں بھی تم ہو، اللہ کو معلوم ہے کہ تم کہاں ہو۔ وہاں تمہارا زندہ ہونا بجائے خود اس کی علامت ہے کہ اللہ اسی جگہ تمہاری زندگی کا سامان کررہا ہے۔ تمہارا دل اگر دھڑک رہا ہے، تمہارے پھیپھڑے اگر سانس لے رہے ہیں، تمہاری سماعت اور بینائی اگر کام کررہی ہے تو یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہے کہ اللہ کے انتظام سے تمہارے جسم کے سب کل پرُزے چل رہے ہیں۔ اور اگر کسی جگہ بھی تمہیں موت آتی ہے تو اسی وجہ سے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے بقا کا انتظام ختم کرکے تمہیں واپس بلالینے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۶)
(۱۷) اللہ نے جو طریقے اور قوانین مقرر کیے ہیں وہ سب علم و حکمت پر مبنی ہیں۔ جس چیز کو حلال کیا ہے علم و حکمت کی بنا پر حلال کیا ہے اور جسے حرام قرار دیا ہے اسے بھی علم وحکمت کی بنا پر حرام قرار دیا ہے۔ یہ کوئی الل ٹپ کام نہیں ہے کہ جسے چاہا حلال کردیا اور جسے چاہا حرام ٹھیرادیا۔ لہٰذا جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ علیم و حکیم ہم نہیں ہیں بلکہ اللہ ہے اورہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم اس کے دیے ہوئے احکام کی پیروی کریں۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، التحریم، حاشیہ: ۵)
(۱۸) مومن (کو) دنیا میں زندگی بسرکرتے ہوئے ہروقت یہ احساس اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں، اس کی نیتیں اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں ہیں اور کافر اپنی جگہ خدا سے بے خوف ہوکر جو کچھ چاہے کرتا رہے، اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں رہ سکتی۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، الملک ، حاشیہ: ۲۰)
(۱۹) کسی دوسرے کے پاس وہ علم ہی نہیں ہے جس سے وہ نظام کائنات اور اس کی مصلحتوں کو سمجھ سکتا ہو۔ انسان ہوں یا جن یا فرشتے یا دوسری مخلوقات سب کا علم ناقص اور محدود ہے۔ کائنات کی تمام حقیقتوں پر کسی کی نظر بھی محیط نہیں۔ پھراگر کسی چھوٹے سے چھوٹے جز میں بھی کسی بندے کی آزادانہ مداخلت یا اٹل سفارش چل سکے تو سارا نظام عالم درہم برہم ہوجائے۔ نظام عالم تو درکنار بندے تو خود اپنی ذاتی مصلحتوں کو بھی سمجھنے کے اہل نہیں ہیں۔ ان کی مصلحتوں کو بھی خداوندِ عالم ہی پوری طرح جانتا ہے اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس خدا کی ہدایت و رہنمائی پر اعتماد کریں، جو علم کا اصلی سرچشمہ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرہ، حاشیہ: ۲۸۲)

اَلْغَنِیُّ : ہر ایک سے مستغنی اور بے نیاز

غنی سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے، ہر ایک سے مستغنی اور بے نیاز ہے، کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ (وہ) ایسا غنی ہے جسے ہر تعریف اور شکر کا استحقاق پہنچتا ہے کیوں کہ وہ تمام موجوداتِ عالم کی حاجتیں پوری کر رہا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۴، فاطر، حاشیہ: ۳۷)
تمہارے کفر سے اس کی خدائی میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آسکتی ۔ تم مانو گے تب بھی وہ خدا ہے اور نہ مانو گے تب بھی وہ خدا ہے اور رہے گا۔ اس کی فرماں روائی اپنے زور پر چل رہی ہے۔ تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔
وہ ان حاجتوں سے بھی بے نیاز ہے جن کی وجہ سے فانی انسانوں کو اولاد کی یا بیٹا بنانے کی ضرور ت پیش آتی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۶۸)
وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی خدائی میں کسی کی شکر گزاری سے نہ ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ کسی کی ناشکری و احسان فراموشی سے یک سرِمُوکوئی کمی آتی ہے۔ وہ آپ اپنے ہی بل بوتے پر خدائی کررہا ہے، بندوں کے ماننے یا نہ ماننے پر اس کی خدائی منحصر نہیں ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں ایک جگہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے نقل کی گئی ہے۔
اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فی الْاَرْض جَمیْعًافَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ (ابراہیم : ۸)
’’اگر تم اور ساری دنیا والے مل کر بھی کفر کریں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘
اسے اپنی ذات کے لیے تم سے لینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی راہ میں تم سے کچھ خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے تو وہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے کہتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، محمد ، حاشیہ: ۴۳)
اللہ کو ایسے ایمان لانے والوں کی کوئی حاجت نہیں ہے جو اس کے دین کو ماننے کا دعویٰ بھی کریں اور پھر اس کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھیں۔ وہ بے نیاز ہے۔ اس کی خدائی اس کی محتاج نہیں ہے کہ یہ لوگ اسے خدا مانیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۵ ، الممتحنہ، حاشیہ: ۱۰)
اللہ کی کوئی غرض تو ان سے اٹکی ہوئی نہ تھی کہ وہ اسے خدا مانیں گے تو وہ خدا رہے گا ورنہ خدائی کاتخت اس سے چھن جائے گا۔ وہ نہ ان کی عبادات کا محتاج تھا، نہ ان کی حمد و ثنا کا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن، حاشیہ: ۱۳)
اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ خدا تمہارا محتاج ہے، تم اسے خدا نہ مانو گے تو اس کی خدائی نہ چلے گی، اور تم اس کی بندگی و عبادت نہ کرو گے تو اس کا کوئی نقصان ہوجائے گا۔ نہیں اصل حقیقت یہ ہے کہ تم اس کے محتاج ہو۔ تمہاری زندگی ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتی اگر وہ تمہیں زندہ نہ رکھے اور وہ اسباب تمہارے لیے فراہم نہ کرے جن کی بدولت تم دنیا میں زندہ رہتے ہو اور کام کرسکتے ہو۔ لہٰذا تمہیں اس کی اطاعت و عبادت اختیار کرنے کی جو تاکید کی جاتی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ خدا کو اس کی احتیاج ہے بلکہ اس لیے کہ اسی پر تمہاری اپنی دنیا اور آخرت کی فلاح کا انحصار ہے۔ ایسا نہ کرو گے تو اپنا ہی سب کچھ بگاڑ لوگے، خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر، حاشیہ:۳۶)
اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی نہیں ہے، اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہو، یا تمہاری فرماں برداری سے اس کو کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہو۔ تم سب مل کر سخت نافرمان بن جائو تو اس کی بادشاہی میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور سب کے سب مل کر اس کے مطیع فرمان اور عبادت گزار بن جائو تو اس کے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے اور نہ تمہاری نذرو نیاز کا، اپنے بے شمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے بغیر اس کے کہ ان کے بدلے میں اپنے لیے تم سے کچھ چاہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام ، حاشیہ: ۱۰۱)

اَلْکَرِیْمُ : بڑا بزرگ ، بہترین ، عمدہ، اپنی ذات میں آپ بزرگ

سورۂ انفطار میں ارشاد ہے:
یٰٓاَیُّہَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰکَ فَعَدَلَکَ فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّاشَآئَ رَکَّبَکَ۔ (اٰیات : ۶-۸)
’’ اے انسان! کس چیز نے تجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نک سُک سے درست کیا، تجھے متناسب بنایا، اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا۔‘‘
اوّل تو اس محسن پروردگار کے احسان و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کافرماں بردار بنتا اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی ، مگرتو اس دھوکے میں پڑگیا کہ تو جو کچھ بھی بنا ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔ دوسرے ، تیرے رب کا یہ کرم ہے کہ دنیا میں جو کچھ تو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ جونہی تجھ سے کوئی خطا سرزد ہو وہ تجھ پر فالج گرادے، یا تیری آنکھیں اندھی کردے، یا تجھ پر بجلی گرادے۔ لیکن تو نے اس کریمی کو کمزوری سمجھ لیا اور اس دھوکے میں پڑگیا کہ تیرے خدا کی خدائی میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۶ ، الانفطار، حاشیہ: ۴)
کوئی معقول وجہ اس دھوکے میں پڑنے کی نہیں ہے، تیرا وجودخود بتارہا ہے کہ تو خود نہیں بن گیا ہے، تیرے ماں باپ نے بھی تجھے نہیں بنایا ہے۔ عناصر کے آپ سے آپ جڑ جانے سے بھی اتفاقاً تو انسان بن کر پیدا نہیں ہوگیا ہے، بلکہ ایک خدائے حکیم و توانا نے تجھے اس مکمل انسانی شکل میں ترکیب دیا ہے۔ تیرے سامنے ہر قسم کے جانور موجود ہیں جن کے مقابلے میں تیری بہترین ساخت اور تیری افضل و اشرف قوتیں صاف نمایاں ہیں۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اس کو دیکھ کر تیرا سر بارِاحسان سے جھک جاتا اور اس رب کریم کے مقابلے میں تو کبھی نافرمانی کی جرأت نہ کرتا۔ تو یہ بھی جانتا ہے کہ تیرا رب صرف رحیم و کریم ہی نہیں ہے، جبار و قہار بھی ہے۔ جب اس کی طرف سے کوئی زلزلہ یا طوفان یا سیلاب آجاتا ہے تو تیری ساری تدبیریں اس کے مقابلہ میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تیرا رب جاہل و نادان نہیں بلکہ حکیم و دانا ہے، اور حکمت و دانائی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جسے عقل دی جائے اسے اس کے اعمال کا ذمہ دار بھی ٹھیرایا جائے ، جسے اختیارات دیے جائیں اس سے حساب بھی لیا جائے کہ اس نے اپنے اختیارات کو کیسے استعمال کیا، اور جسے اپنی ذمہ داری پر نیکی اور بدی کرنے کی طاقت دی جائے اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا بھی دی جائے۔ یہ سب حقیقتیں تیرے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں، اس لیے تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنے ربِّ کریم کی طرف سے جس دھوکے میں تو پڑگیا ہے اس کی کوئی معقول وجہ موجو د ہے۔ تو خو د جب کسی کا افسر ہوتا ہے تو اپنے اس ماتحت کو کمینہ سمجھتا ہے جو تیری شرافت اور نرم دلی کو کمزوری سمجھ کر تیرے سر چڑھ جائے۔ اس لیے تیری اپنی فطرت یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ مالک کا کرم ہرگز اس کا موجب نہ ہونا چاہیے کہ بندہ اس کے مقابلے میں جری ہوجائے اور اس غلط فہمی میں پڑجائے کہ میں جو کچھ چاہوں کروں، میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، الانفطار، حاشیہ: ۵)
یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ آدمی اگر اس کے بخشے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں صرف کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قراردیتا ہے، بشرطیکہ وہ قرض حسن (اچھا قرض) ہو یعنی خالص نیت کے ساتھ کسی ذاتی غرض کے بغیر دیا جائے، کسی قسم کی ریاکاری اور شہرت و ناموری کی طلب اس میں شامل نہ ہو، اسے دے کر کسی پر احسان نہ جتایا جائے، اس کا دینے والا صرف اللہ کی رضا کے لیے دے اور اس کے سوا کسی کے اجر اور کسی کی خوشنودی پر نگاہ نہ رکھے۔ اس قرض کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی گنابڑھا چڑھا کر واپس دے گا، دوسرے یہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۱۶)

اَلْعَفُوُّ : معاف کرنے والا، نرمی سے کام لینے والا

سورۂ الحج :۶۰ میں ارشاد ہے:
لَیَنْصُرَ نَّہُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔
’’اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔‘‘
سورۂ المجادلہ : ۳ میں ارشاد ہے:
وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔
’’یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔‘‘
سورۂ نساء :۴۳ میں ہے:
فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا۔
’’ اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا بخشش فرمانے والا ہے۔‘‘
سورۂ نساء :۹۹ میں ہے:
فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا۔
’’بعید نہیں کہ اللہ انھیں معاف کردے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔‘‘
سورۂ نساء :۱۴۹ میں ہے:
اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا۔
’’ اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جائو، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو، تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے، حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔‘‘
اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت بلند درجہ کی اخلاقی تعلیم دی گئی ہے۔ منافق اوریہودی اور بت پرست سب کے سب اس وقت ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی راہ میں روڑے اٹکاتے اور اس کی پیروی قبول کرنے والوں کو ستانے اور پریشان کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ کوئی بدتر سے بدتر تدبیر ایسی نہ تھی جو وہ اس نئی تحریک کے خلاف استعمال نہ کررہے ہوں۔ اس پر مسلمانوں کے اندر نفرت اور غصہ کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اس قسم کے جذبات کا طوفان اٹھتے دیکھ کر فرمایا کہ بدگوئی پر زبان کھولنا تمہارے خدا کے نزدیک کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تم مظلوم ہو اور اگر مظلوم ظالم کے خلاف بدگوئی پر زبان کھولے تو اسے حق پہنچتا ہے۔لیکن پھر بھی افضل یہی ہے کہ خفیہ ہو یا علانیہ ہر حال میں بھلائی کیے جائو اور برائیوں سے درگزر کرو، کیونکہ تم کو اپنے اخلاق میں خدا کے اخلاق سے قریب تر ہونا چاہیے۔ جس خدا کا قرب تم چاہتے ہو اس کی شان یہ ہے کہ نہایت حلیم اور بردبار ہے۔ سخت سے سخت مجرموں تک کو رزق دیتا ہے اور بڑے سے بڑے قصوروں پر بھی درگزر کیے چلا جاتا ہے۔ لہٰذا اس سے قریب تر ہونے کے لیے تم بھی عالی حوصلہ اور وسیع الظرف بنو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء ، حاشیہ: ۱۷۷)
اللہ جس کے تم بندے ہو، عفوو درگزر کرنے والا ہے، اس لیے تم کو بھی جہاں تک بھی تمہارے بس میں ہو، عفوو درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اہل ایمان کے اخلاق کا زیور یہی ہے کہ وہ حلیم اور عالی ظرف اور متحمل ہوں۔ بدلہ لینے کا حق انھیں ضرور حاصل ہے مگر باکل منتقمانہ ذہنیت اپنے اوپر طاری کرلینا ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الحج ، حاشیہ: ۱۰۵)
(سورۃ المجادلۃ : ۲ میں ہے) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔
یہ حرکت تو ایسی ہے کہ اس پر آدمی کو بہت ہی سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے اول تو ظہار کے معاملہ میں جاہلیت کے قانون کو منسوخ کرکے تمہاری خانگی زندگی کو تباہی سے بچالیا، دوسرے اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے وہ سزا تجویز کی جو اس جرم کی ہلکی سے ہلکی سزا ہوسکتی تھی، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ سزا کسی ضرب یا قید کی شکل میں نہیں بلکہ چند ایسی عبادات اور نیکیوں کی شکل میں تجویز کی جو تمہارے نفس کی اصلاح کرنے والی او ر تمہارے معاشرے میں بھلائی پھیلانے والی ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۵، المجاولہ، حاشیہ:۶)

اَلقَدِیْرُ : کامل قدرت رکھنے والا، بڑی ہی قدرت والا

سورہ بقرہ : ۲۰ میں ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ قَدِیْرٌ۔
نیز بقرہ آیات ۱۰۶، ۱۰۹،۱۴۸، ۲۵۹، ۲۸۴۔ اور آلِ عمران آیات ۲۶، ۲۹، ۱۶۵، ۱۸۹۔ اور المائدہ آیات ۱۷، ۱۹، ۴۰، ۱۲۰۔ اور الانعام آیت ۱۷۔ الانفال آیت ۴۱۔ التوبہ آیت ۳۹۔ ہود آیت ۴۔ النحل آیات ۷۰، ۷۷۔ الحج آیات ۶، ۳۹۔ النور آیت ۴۵۔ العنکبوت آیت ۲۰۔ الروم آیات ۵۰، ۵۴۔ فاطر آیت ۱۔ فصِّلت آیت ۳۹۔ الشوریٰ آیات ۹، ۲۹، ۵۰۔ الاحقاف آیت۳۳۔ الحدید آیت ۲۔ الحشر آیت ۶۔ الممتحنۃ آیت۷۔ التغابن آیت ۱۔ الطلاق آیت ۱۲۔ التحریم آیت۸۔ الملک آیت ۱۔
تمام نظام کائنات پر وہی حاکم ہے اور گردش لیل و نہار اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ جو خدا رات کی تاریکی میں سے دن کی روشنی نکال لاتا ہے اور چمکتے ہوئے دن پر رات کی ظلمت طاری کردیتا ہے، وہی خدا اس پر بھی قادر ہے کہ آج جن کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہے ان کے زوال و غروب کا منظر بھی دنیا کو جلدی ہی دکھادے، اور کفر و جہالت کی جو تاریکی اس وقت حق و صداقت کی فجر کا راستہ روک رہی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے حکم سے چھٹ جائے اور وہ دن نکل آئے جس میں راستی اور علم و معرفت کے نور سے دنیا روشن ہوجائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج ، حاشیہ: ۱۰۷)
بچپن، جوانی، اور بڑھاپا، یہ ساری حالتیں اسی کی پیداکردہ ہیں۔ یہ اسی کی مشیّت پر موقوف ہے کہ جسے چاہے کمزور پیدا کرے اور جس کو چاہے طاقت ور بنائے، جسے چاہے بچپن سے جوانی تک نہ پہنچنے دے اور جس کو چاہے جوانامرگ کردے، جسے چاہے لمبی عمر دے کر بھی تندرست و توانا رکھے اور جس کو چاہے شاندار جوانی کے بعد بڑھاپے میں اس طرح ایڑیاں رگڑوائے کہ دنیا اسے دیکھ کر عبرت کرنے لگے۔ انسان اپنی جگہ جس گھمنڈ میں چاہے مبتلا ہوتا رہے مگر خدا کے قبضۂ قدرت میں وہ اس طرح بے بس ہے کہ جو حالت بھی خدا اس پر طاری کردے اسے وہ اپنی تدبیر سے نہیں بدل سکتا۔
(تفہیم القرآن،ج۳، الرّوم، حاشیہ: ۷۹)
مغرور بندے اس غلط فہمی میں ہیں کہ زمین اور اس کے بسنے والوں کی قسمتوں کے فیصلے کرنے والے وہ خود ہیں۔ مگر جو طاقت ایک ذرا سے بیج کو ایک تناور درخت بنادیتی ہے اور ایک تناور درخت کو ہَیزم سوختنی میں تبدیل کردیتی ہے، اسی کو یہ قدرت حاصل ہے کہ جن کے دبدبے کو دیکھ کر لوگ خیال کرتے ہوں کہ بھلا ان کو کون ہلاسکے گا انھیں ایسا گرائے کہ دنیا کے لیے نمونۂ عبرت بن جائیں، اور جنھیں دیکھ کر کوئی گمان بھی نہ کرسکتا ہو کہ یہ بھی کبھی اٹھ سکیں گے انھیں ایسا سربلند کرے کہ دنیا میں ان کی عظمت و بزرگی کے ڈنکے بج جائیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ:۸۶)
کوئی انسان ، خواہ وہ بڑے سے بڑے دنیوی اقتدار کا مالک بنا پھرتا ہو، یا روحانی اقتدار کا مالک سمجھا جاتا ہو، کبھی اس پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ دوسروں کو دلوانا تو درکنار ، خود اپنے ہاں اپنی خواہش کے مطابق اولاد پیدا کرسکے۔جسے خدا نے بانجھ کردیا وہ کسی دوا اور کسی علاج اور کسی تعویذ گنڈے سے اولاد والا نہ بن سکا، جسے خدا نے لڑکیاں ہی لڑکیاں دیں وہ ایک بیٹا بھی کسی تدبیر سے حاصل نہ کرسکا، اور جسے خدا نے لڑکے ہی لڑکے دیے وہ ایک بیٹی بھی کسی طرح نہ پاسکا۔ اس معاملہ میں ہر ایک قطعی بے بس رہا ہے، بلکہ بچے کی پیدائش سے پہلے کوئی یہ تک نہ معلوم کرسکا کہ رحم مادر میں لڑکا پرورش پارہا ہے یا لڑکی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی خدا کی خدائی میں مختار کل ہونے کا زعم کرے، یا کسی دوسری ہستی کو اختیارات میں دخیل سمجھے تو یہ اس کی اپنی ہی بے بصیرتی ہے جس کا خمیازہ وہ خود بھگتے گا۔ کسی کے اپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنے سے حقیقت میں ذرہ برابر بھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۴ ، الشوریٰ، حاشیہ : ۷۷)
اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ساری کائنات کو چھوڑ کر صرف اپنی اسی زمین کو لے لیجیے، اور زمین کے بھی تمام حقائق و واقعات کو چھوڑ کر صرف انسان اور نباتات ہی کی زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہاں اس کی قدرت کے جو کرشمے آپ کو نظر آتے ہیں کیا انھیں دیکھ کر کوئی صاحب عقل آدمی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ خدا بس وہی کچھ کرسکتا ہے جو آج ہم اسے کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور کل اگر وہ کچھ اور کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا؟ خدا تو خیر بہت بلند و برتر ہستی ہے، انسان کے متعلق پچھلی صدی تک لوگوں کے یہ اندازے تھے کہ یہ صرف زمین ہی پر چلنے والی گاڑیاں بناسکتا ہے۔ ہوا پر اڑنے والی گاڑیاں بنانا اس کی قدرت میں نہیںہے۔ مگر آج کے ہوائی جہازوں نے بتادیا کہ انسان کے ’’امکانات‘‘ کی حدیں تجویز کرنے میں ان کے اندازے کتنے غلط تھے۔ اب اگر کوئی شخص خدا کے لیے اس کے صرف آج کے کام دیکھ کر امکانات کی کچھ حدیں تجویز کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے اس کے سوا وہ کچھ نہیں کرسکتا، تو وہ صرف اپنے ہی ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے، خدا کی قدرت بہر حال اس کی بندھی ہوئی حدوں میں بند نہیں ہوسکتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۹)
(اللہ مختار مطلق ہے) اس کو کسی قانون نے باندھ نہیں رکھا ہے کہ اس کے مطابق عمل کرنے پر وہ مجبور ہو، بلکہ وہ مالکِ مختار ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ، حاشیہ: ۳۳۶)
وہ قادر مطلق ہے جو کچھ کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی طاقت اس کی قدرت کو محدود کرنے والی نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵ ،التغابن ، حاشیہ: ۴)
مسیح علیہ السلام کی اعجازی پیدائش اور ان کے اخلاقی کمالات اور محسوس معجزات کو دیکھ کر جو لوگ اس دھوکہ میں پڑگئے کہ مسیح ہی خدا ہے وہ درحقیقت نہایت نادان ہیں۔ مسیح تو اللہ کے بے شمار عجائب تخلیق میںسے محض ایک نمونہ ہے جسے دیکھ کر ان ضعیف البصر لوگوں کی نگاہیں چوندھیا گئیں۔ اگر ان لوگوں کی نگاہ کچھ وسیع ہوتی تو انھیں نظر آتا کہ اللہ نے اپنی تخلیق کے اس سے بھی حیرت انگیز نمونے پیش کیے ہیں اور اس کی قدرت کسی حد کے اندر محدود نہیں ہے۔ پس یہ بڑی بے دانشی ہے کہ مخلوق کے کمالات کو دیکھ کر اسی پر خالق ہونے کا گمان کرلیا جائے۔ دانش مند وہ ہیں جو مخلوق کے کمالات میں خالق کی عظیم الشان قدرت کے نشانات دیکھتے ہیں اور ان سے ایمان کا نور حاصل کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن،ج ۱، المائدہ، حاشیہ: ۴۰)

اَللَّطِیْفُ: غیر محسوس طریقوں سے اپنے ارادے پورے کرنے والا۔ پوشیدہ حقائق جاننے والا مہربان

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ لطیف جس کا پورا مفہوم ’’مہربان‘‘ سے ادا نہیں ہوتا۔ اس لفظ میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و عنایت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے جن تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی، اور انھیں اس طرح پورا کرتا ہے کہ وہ خود بھی محسوس نہیں کرتے کہ ہماری کون سی ضرورت کب کس نے پوری کردی۔ پھر بندوں سے مراد محض اہل ایمان نہیں، بلکہ تمام بندے ہیں یعنی اللہ کا یہ لطف اس کے سب بندوں پر عام ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۳۴)
اس کی تدبیریں ایسی ہوتی ہیں کہ لوگ ان کے آغاز میں کبھی ان کے انجام کا تصور تک نہیں کرسکتے۔ لاکھوں بچے دنیا میں پیدا ہوتے ہیں، کون جان سکتا ہے کہ ان میں سے کون ابراہیم علیہ السلام ہے جو تین چوتھائی دنیا کا روحانی پیشوا ہوگا۔اور کون چنگیز ہے جو ایشیا اور یورپ کو تہ و بالا کرڈالے گا۔ خوردبین جب ایجاد ہوئی تھی اس وقت کون تصور کرسکتا تھا کہ یہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تک نوبت پہنچائے گی۔ کولمبس جب سفر کو نکل رہاتھا تو کسے معلوم تھا کہ یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بناڈالی جارہی ہے۔ غرض خدا کے منصوبے ایسے ایسے دقیق اور ناقابل ادراک طریقوں سے پورے ہوتے ہیں کہ جب تک وہ تکمیل کو نہ پہنچ جائیں کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس چیز کے لیے کام ہورہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۱۱۱)
سورہ انعام آیت ۱۰۳ میں ہے:
وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔
’’وہ نگاہوں کو پالیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے۔‘‘
سورہ یوسف آیت ۱۰۰ میں ہے:
اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآئُ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔
’’واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروںسے اپنی مشیت پوری کرتا ہے۔ بے شک وہ علیم اور حکیم ہے۔‘‘
سورہ الحج آیت ۶۳ میں ہے:
فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔
’’اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہوجاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف وخبیر ہے۔‘‘
سورہ لقمان آیت ۱۶ میں ہے:
اِنْ تَکُ مثِْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِی صَحْوَۃٍ اَوْفِی السَّمٰوٰتِ اَوْفِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِہٖ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔
’’ کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ، اللہ اسے نکال لائے گا۔ وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔
سورۃ الشوریٰ آیت ۱۹ میں ہے:
اَللّٰہُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ۔
’’ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے۔‘‘
سورۃ الملک آیت ۱۴ میں ہے:
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔
’’ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔‘‘
سورۃ الاحزاب آیت ۳۴ میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبیْرًا۔
’’ بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے۔‘‘
مخفی سے مخفی باتوں تک اس کا علم پہنچ جاتا ہے۔ اس سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
(تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب، حاشیہ: ۵۲)

اَلْخَبِیْرُ : نہایت باخبر ہستی

وہ اپنی دنیا کے حالات، مصالح اور ضروریات سے باخبر ہے، اور جانتا ہے کہ اپنی خدائی کا کام کس طرح کرے۔ اسے اپنی ہر مخلوق کے متعلق پورا علم ہے کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے، کیا اس کی ضروریات ہیں، کیا کچھ اس کی مصلحت کے لیے مناسب ہے، کیا اس نے اب تک کیا ہے اور آگے کیا اس سے صادر ہونے والا ہے، وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا سے بے خبر نہیں ہے بلکہ اسے ذرّے ذرّے کی حالت پوری طرح معلوم ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴،سبا، حاشیہ: ۳)
اللہ اندھا اور بہرا نہیں ہے کہ کسی شاہ بے خبر کی طرح اندھا دھند کام کرے اور اپنی عطا و بخشش میں بھلے اور برے کے درمیان کوئی تمیز نہ کرے۔ وہ پوری باخبری کے ساتھ اپنی اس کائنات پر فرماں روائی کررہا ہے۔ ہر ایک کے ظرف اور حوصلے پر اس کی نگاہ ہے۔ ہر ایک کے اوصاف کو وہ جانتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ تم میں سے کون کس راہ میں اپنی محنتیں اور کوششیں صرف کررہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء ، حاشیہ: ۱۶۳)
آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بے خبر ہو؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بے خبر ہوسکتی ہے، مگر خالق اس سے بے خبر نہیں ہوسکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔ تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہوا ہے۔ تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔ تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کررہا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی بات کیسے چھپی رہ سکتی ہے؟ (تفہیم القرآن،ج ۶ ، الملک، حاشیہ: ۲۱)
سورہ بقرہ آیات ۲۳۴ اور ۲۷۱ میں ہے: وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔
سورہ آل عمران آیت ۱۵۳ میں ہے: وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
المائدہ آیت ۸۔ الانعام آیت ۱۸، ۷۳، ۱۰۳۔ التوبہ آیت ۱۶۔ ہود آیت ۱، ۱۱۱۔ الحج آیت ۶۳۔ النور آیت ۳۰، ۵۳۔ النمل آیت ۸۸۔ لقمان آیت ۱۶، ۲۹، ۳۴۔ سباآیت ۱۔ فاطر آیت ۱۴،۳۱۔ الشوریٰ آیت ۲۷۔ الحجرات آیت ۱۳۔ الحدید آیت ۱۰۔ المجادلہ آیت ۳، ۱۱، ۱۳۔ الحشر آیت ۱۸۔ المنافقون: ۱۱، التغابن آیت ۸۔ التحریم آیت ۳۔ الملک آیت ۱۴۔ العادیات آیت ۱۱ میں بیان ہوا ہے۔
علاوہ ازیں النساء آیت ۳۵، ۹۴، ۱۲۸، ۱۳۵۔ الاسراء آیات ۱۷، ۳۰، ۹۶۔ الفرقان آیت ۵۸، ۵۹۔ الاحزاب آیت ۲، ۳۴۔ الفتح آیت ۱۱ میں خَبِیْرًا استعمال ہوا ہے۔
بندوں کے لیے خیر کس چیز میں ہے اور ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے کیا اصول موزوں ہیں اور کون سے ضابطے ٹھیک ٹھیک ان کی مصلحت کے مطابق ہیں، ان امور کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، کیوں کہ بندوں کی فطرت اور اس کے تقاضوں سے وہی باخبر ہے، اور ان کے حقیقی مصالح پر وہی نگاہ رکھتا ہے۔ بندے خود اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتے جتنا ان کا خالق ان کو جانتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الفاطر، حاشیہ: ۵۴)
اگر کبھی تم نے اللہ اور اس کے رسول سے بے نیاز ہو کر خود مختاری کی روش اختیار کی یا اپنی رائے اور خیال کو ان کے حکم پر مقدم رکھا تو جان رکھو کہ تمہارا سابقہ اس خدا سے ہے جو تمہاری سب باتیں سن رہا ہے اور تمہاری نیتوں تک سے واقف ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحجرات ، حاشیہ:۲)
اللہ جس کو جو اجر اور مرتبہ دیتا ہے یہ دیکھ کر دیتا ہے کہ کس نے کن حالات میں کس جذبے کے ساتھ کیا عمل کیاہے۔ اس کی بانٹ اندھی بانٹ نہیں ہے۔ وہ ہر ایک کا درجہ اور اس کے عمل کا اجر پوری باخبری کے ساتھ متعین کرتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۱۵)
(مثلاً) اگر آدمی گھر میں چپکے سے بیوی کے ساتھ ظہار کربیٹھے اور پھر کفارہ ادا کیے بغیر میاں اور بیوی کے درمیان حسب سابق زوجیت کے تعلقات چلتے رہیں، تو چاہے دنیا میں کسی کو بھی اس کی خبر نہ ہو، اللہ کو تو بہر حال اس کی خبرہوگی۔ اللہ کے مواخذہ سے بچ نکلنا ان کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، المجاولہ، حاشیہ: ۱۰)
اگر انسان کو یہ یاد رہے کہ وہ آزاد نہیں ہے بلکہ خدا کا بندہ ہے ، اور وہ خدا اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے،اور اس کے سامنے جاکر ایک دن اسے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو وہ کبھی کسی گمراہی و بدعملی میں مبتلا نہ ہو، اور بشری کمزوری سے اس کا قدم اگر کسی وقت پھسل بھی جائے تو ہوش آتے ہی وہ فوراً سنبھل جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، المنافقون، حاشیہ:۱۸)

اَلسَّمِیْعُ : سب کچھ سننے والا

سورہ بقرہ کی آیات ۱۲۷، ۱۳۷، ۱۸۱، ۲۲۴، ۲۲۷، ۲۴۴، ۲۵۶ میں یہ اسم مبارک آیا ہے۔
آل عمران : ۳۴، ۳۵، ۳۸، ۱۲۱ میں بھی۔
المائدہ : ۷۶۔ الانعام : ۱۳، ۱۱۵میں۔ الاعراف: ۲۰۰۔ الانفال : ۱۷، ۴۲، ۵۳، ۶۱ میں۔ التوبہ : ۹۸،۱۰۳۔ یونس:۶۵۔ ہود: ۲۴۔ یوسف: ۳۴۔ ابراہیم: ۳۹۔ بنی اسرائیل : ۱۔ الانبیاء : ۴۔ الحج : ۶۱، ۷۵۔ النور : ۲۱،۶۰۔ الشعراء: ۲۲۰۔ العنکبوت:۵، ۶۰۔ لقمان :۲۸۔ سبا :۵۰، حٰم السجدہ : ۲۰، ۵۶۔ المومن: ۳۶۔ الشوریٰ : ۱۱۔ الدخان : ۶ ۔ الحجرات : ۱۔ المجادلہ : ۱۔
خدا اندھا، بہرا اور بے خبر خدا نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت، حاشیہ:۷)
(لوگوں)کو اس غلط فہمی میں بھی نہ رہنا چاہیے کہ ان کا سابقہ کسی شہ بے خبر سے ہے۔ جس خدا کے سامنے انھیں جواب دہی کے لیے حاضر ہونا ہے وہ بے خبر نہیں بلکہ سمیع و علیم خدا ہے، ان کی کوئی بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
وہ بیک وقت ساری کائنات کی آوازیں الگ الگ سن رہا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو اس طرح مشغول نہیں کرتی کہ اسے سنتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ سن سکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ: ۴۹)
ایک انسان تو کیا، سارے انسان مل کر بھی اگر اپنے لیے کوئی راہِ حیات متعین کریں تو اس کے حق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، کیوں کہ پوری نوعِ انسانی یک جا ہو کر بھی ایک سمیع و علیم نہیں بنتی۔ اس کے بس میں یہ ہے ہی نہیں کہ ان تمام حقائق کا احاطہ کرے جن کا جاننا ایک صحیح راہِ حیات متعین کرنے کے لیے ضروری ہے، یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے، وہی سمیع و علیم ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان، حاشیہ: ۵)
تم لوگ جو کچھ باتیں بناتے ہو سب خدا سنتا اور جانتا ہے، خواہ زور سے کہو، خواہ چپکے چپکے کانوں میں پھونکو۔
(تفہیم القرآن،ج ۳، الانبیاء، حاشیہ: ۶)
ہر شخص اپنی خلوتوں میں جو باتیں کرتا ہے انھیں اللہ سن رہا ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے دل میں بھی جو کچھ سوچا کرتا ہے، اللہ اس سے بے خبر نہیں رہتا۔ اسی براہِ راست علم کی بنا پر اللہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسے پاکیزگی بخشے اور کسے نہ بخشے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، النور، حاشیہ:۱۹)
تمہارے معبودوں کی طرح وہ کوئی اندھا بہرا خدا نہیں ہے جسے کچھ پتہ نہ ہو کہ جس آدمی کے معاملے کا وہ فیصلہ کررہا ہے اس کے کیا کرتوت تھے۔ (تفہیم القرآن،ج ۴، المومن، حاشیہ: ۳۳)
سورۃ الشعراء آیت ۲۱۹،۲۲۰ میں نبی ﷺ کو مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَّذِیْ یَرٰکَ حِیْنَ تَقُوْمُ وَتَقَلُّبَکَ فِی السَّاجِدِیْنَ۔ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
’’تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو، اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
اس سے کئی معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپؐ جب نماز با جماعت میں اپنے مقتدیوں کے ساتھ اٹھتے اور بیٹھتے اور رکوع و سجود کرتے ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسرے جب راتوں کو اٹھ کر آپؐ اپنے ساتھیوں کو جن کے لیے ’’سجدہ گزار ‘‘کا لفظ امتیازی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے، دیکھتے پھرتے ہیں کہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں، اس وقت آپ اللہ کی نگاہ میں پوشیدہ نہیں ہوتے، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اس تمام دوڑ دھوپ اور تگ و دَو سے واقف ہے جو آپؐ اپنے سجدہ گزار ساتھیوں کی معیت میں اس کے بندوں کی اصلاح کے لیے کررہے ہیں۔ چوتھے یہ کہ سجدہ گزار لوگوں کے گروہ میں آپؐ کے تمام تصرفات اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ آپ کس طرح ان کی تربیت کررہے ہیں، کیسا کچھ تزکیہ آپؐ نے کیاہے اور کس طرح مسِ خام کو کندن بنا کر رکھ دیا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الشعراء، حاشیہ: ۱۳۹)
حٰم السجدہ : ۳۶ میں ارشاد ہے:
وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
’’ اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘
مخالفتوں کے طوفان میں اللہ کی پناہ مانگ لینے کے بعد جو چیز مومن کے دل میں صبر و سکون اور اطمینان کی ٹھنڈک پیدا کرتی ہے۔ وہ یہی یقین ہے کہ اللہ بے خبر نہیں ہے۔ جو کچھ ہم کررہے ہیں اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ہمارے ساتھ کیا جارہا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے۔ ہماری اور ہمارے مخالفین کی ساری باتیں وہ سن رہا ہے اور دونوں کا طرز عمل جیسا کچھ بھی ہے اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ اسی اعتماد پر بندۂ مومن اپنا اور دشمنان حق کا معاملہ اللہ کے سپرد کرکے پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے۔
(تفہیم القرآن،ج ۴، حٰم السجدۃ، حاشیہ: ۴۱)

الْمَوْلیٰ : آقا سرپرست، حامی و ناصر، خبرگیری کرنے والا

مولیٰ عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ رشتہ داری کا تعلق ہو یا دوستی کا یا کسی اور قسم کا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان، حاشیہ: ۳۶)
جنگ احد میں جب نبی ﷺ زخمی ہو کر چند صحابہؓ کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹھیرے ہوئے تھے اس وقت ابوسفیان نے نعرہ لگایا تھا لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ ’’ہمارے پاس عزّٰی ہے اور تمہارا عزّٰی نہیں ہے۔‘‘
اس پر نبی ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اسے جواب دو اَللّٰہُ مَوْلیٰنَا وَلَا مَوْلیٰ لَکُمْ ’’ہمارا حامی و ناصر اللہ ہے اور تمہارا حامی و ناصر کوئی نہیں۔‘‘
حضور ﷺ کا یہ جواب سورۂ محمد کی آیت ۱۱ یعنی ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لَا مَوْلیٰ لَہُمْ سے ماخوذ ہے۔ یہ اس لیے کہ ایمان والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، محمد، حاشیہ:۱۶)
سورہ تحریم آیت ۲ میں ارشاد ہے وَاللّٰہُ مَوْلٰکُمْ ’’اللہ تمہارا مولیٰ ہے۔ ‘‘ یعنی اللہ تمہارا آقا اور تمہارے معاملات کا متولی ہے۔ وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ تمہاری بھلائی کس چیز میں ہے اور جو احکام بھی اس نے دیے ہیں سراسر حکمت کی بنا پر دیے ہیں۔ تم خود مختار نہیں ہو بلکہ اللہ کے بندے ہو اور وہ تمہارا آقا ہے، اس لیے اس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں میں رد و بدل کرنے کا اختیار تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ تمہارے لیے حق یہی ہے کہ اپنے معاملات اس کے حوالے کرکے بس اس کی اطاعت کرتے رہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، التحریم، حاشیہ:۵)
سورہ آل عمران آیت ۱۵۰ میں ارشاد ربانی ہے:
بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰکُمْ وَہُوَ خَیْرُ النَّاصِرِیْنَ۔
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی ومددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔‘‘
سورہ الانفال آیت ۴۰ میں ارشادربانی ہے:
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَا عْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَوْ لٰـکُمْ نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَنِعْمَ النَّصِیْرُ
’’اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مدد گار ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۷۸ میں ارشاد ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِا اللّٰہِ ہُوَ مَوْ لٰکُمْ نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔
’’ اور اللہ سے وابستہ ہو جائو۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت اچھا ہے وہ مددگار۔‘‘
سورۃ التحریم آیت ۲ میں ارشاد ہے:
وَاللّٰہُ مَوْلٰکُمْ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔
’’ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہی علیم و حکیم ہے۔‘‘
لہٰذا اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ہدایت اور قانون زندگی بھی اسی سے لو، اطاعت بھی اسی کی کرو، مدد کے لیے بھی اسی کے آگے ہاتھ پھیلائو اور اپنے توکل و اعتماد کا سہارا بھی اسی کی ذات کو بنائو۔ (تفہیم القرآن، ج۳ ، الحج، حاشیہ:۱۳۴)
(کیوں کہ) تنہا اللہ ہی قادر مطلق ہے اور وہی تمام اختیارات کا مالک اور تمہاری بھلائی اور برائی کا مختارِ کل ہے اور اسی کے ہاتھ میں تمہاری قسمتوں کی باگ ڈور ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱ ، الانعام، حاشیہ: ۴۱)

اَلنَّصِیْرَ : بہترین مدد کرنے والا ، بہترین حامی و مدد گار

احمق لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ معبود دنیا اورآخرت میں ان کے مددگار ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا کوئی بھی مددگار نہیں ہے۔ نہ یہ معبود، کیوں کہ ان کے پاس مدد کی کوئی طاقت نہیں، اور نہ اللہ ، کیوں کہ اس سے یہ بغاوت اختیار کرچکے ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۱۲۱)
سورہ عنکبوت آیت ۲۲ میں ارشاد ہے:
وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔
’’اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔‘‘
یعنی نہ تمہارا اپنازور اتنا ہے کہ خدا کی پکڑ سے بچ جائو، اور نہ تمہارا کوئی مدد گار ایسا زور آور ہے کہ خدا کے مقابلے میں تمہیں پناہ دے سکے اور اس کے مواخذہ سے تمہیں بچا لے۔ ساری کائنات میں کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ جن لوگوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا ہے، جنھوں نے احکام خداوندی کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے، جنھوں نے جرأت و جسارت کے ساتھ خدا کی نافرمانیاں کی ہیں اور اس کی زمین میں ظلم و فساد کے طوفان اٹھائے ہیں، ان کا حمایتی بن کر اٹھے اور خدا کے فیصلۂ عذاب کو ان پر نافذ ہونے سے روک سکے، یا خدا کی عدالت میں یہ کہنے کی ہمت کرسکے کہ یہ میرے ہیں اس لیے کہ جو کچھ بھی انھوں نے کیا ہے اسے معاف کردیا جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت، حاشیہ: ۳۵)
انسان خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، خود اپنے بل بوتے پر باطل کے اِن طوفانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو۔ (تفہیم القرآن،ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ: ۸۸)
مدد سے مراد ہر قسم کی مدد ہے۔ حق اور باطل کی کش مکش میں جتنے محاذ بھی کھلیں ، ہر ایک پر اہل حق کی تائید میں کمک پہنچانا اللہ کا کام ہے۔ دلیل کی لڑائی ہو تو وہی باطل پرستوں کے دل پھاڑتا ہے اور اہل حق کے دل جوڑتا ہے۔ انسانی طاقت کا مقابلہ ہو تو وہی ہر مرحلے پر مناسب اور موزوں اشخاص اور گروہوں کو لالا کر اہل حق کی جمعیت بڑھاتا ہے۔ مادی وسائل کی ضرورت ہو، تو وہی اہل حق کے تھوڑے مال و اسباب میں وہ برکت دیتا ہے کہ اہل باطل کے وسائل کی فراوانی ان کے مقابلے میں محض دھوکے کی ٹٹی ثابت ہوتی ہے۔ غرض کوئی پہلو مدد اور راہ نمائی کا ایسا نہیں ہے جس میں اہل حق کے لیے اللہ کافی نہ ہو اور انھیں کسی دوسرے سہارے کی ضرورت ہو، بشرطیکہ وہ اللہ کی کفایت پر ایمان و اعتقاد رکھیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھے رہیں بلکہ سرگرمی کے ساتھ باطل کے مقابلے میں حق کی سربلندی کے لیے جانیں لڑائیں۔
ایمان دل میں ہو تو اس سے بڑھ کر ہمت دلانے والی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ خداوندِ عالم آپ کی مدد اور راہ نمائی کا ذمہ لے رہا ہے۔ اس کے بعد تو صرف ایک کم اعتقاد و بزدل ہی آگے بڑھنے سے ہچکچاسکتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ: ۴۳)

اَلْقَرِیْبُ، اَلْمُجِیْبُ: بہت قریب، دعائوں کا سننے اور جواب دینے والا

سوررۃ البقرۃآیت ۱۸۶ میں ارشاد ربانی ہے:
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ الخ۔
’’ اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں ، تو انھیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔‘‘
اگرچہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے اور نہ اپنے حواس سے مجھ کو محسوس کرسکتے ہو، لیکن یہ خیال نہ کرو کہ میں تم سے دور ہوں، نہیں میں اپنے ہر بندے سے اتنا قریب ہوں کہ جب وہ چاہے مجھ سے عرض معروض کرسکتا ہے، حتّٰی کہ دل ہی دل میں وہ جو کچھ مجھ سے گزارش کرتا ہے میں اسے بھی سن لیتا ہوں اور صرف سنتا ہی نہیں، فیصلہ بھی صادر کرتا ہوں۔ جن بے حقیقت اور بے اختیار ہستیوں کو تم نے اپنی نادانی سے الہٰ اور رب قرار دے رکھا ہے، ان کے پاس تو تمہیں دوڑدوڑ کر جانا پڑتا ہے اور پھر بھی نہ وہ تمہاری شُنوائی کرسکتے ہیں اور نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ تمہاری درخواستوں پر کوئی فیصلہ صادر کرسکیں۔ مگر میں کائناتِ بے پایاں کافرماں روائے مطلق ، تمام اختیارات اور تمام طاقتوں کا مالک، تم سے اتنا قریب ہوں کہ تم خود بغیر کسی واسطے اور وسیلے اور سفارش کے براہ راست ہر وقت اور ہر جگہ مجھ تک اپنی عرضیاں پہنچاسکتے ہو۔ لہٰذا تم اپنی اس نادانی کو چھوڑ دو کہ ایک ایک بے اختیاربناوٹی خدا کے درپر مارے مارے پھرتے ہو۔ میں جو دعوت تمہیں دے رہا ہوں، اس پر لبیک کہہ کر میرا دامن پکڑ لو، میری طرف رجوع کرو، اور مجھ پر بھروسہ کرو اور میری بندگی و اطاعت میں آجائو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ، حاشیہ: ۱۸۸)
سورہ ہود آیت ۶۱ میں ارشاد ہے:
فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ۔ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔
’’لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آئو، یقینا میرا رب قریب ہے اور وہ دعائوں کا جواب دینے والا ہے۔‘‘
مشرکین کی ایک بہت بڑی غلط فہمی جو بالعموم ان سب میں پائی جاتی ہے اور ان اہم اسباب میں سے ایک ہے جنھوں نے ہر زمانہ میں انسان کو شرک میں مبتلا کیا ہے (یہ ہے کہ) یہ لوگ اللہ کو راجوں،مہاراجوں اور بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں جو رعیت سے دور اپنے محلوں میں دادِ عیش دیا کرتے ہیں، جن کے دربار تک عام رعایا میں سے کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی ، جن کے حضور میں کوئی درخواست پہنچانی ہو تو مقربین بارگاہ میں سے کسی کا دامن تھامنا پڑتا ہے اور پھر اگر خوش قسمتی سے کسی کی درخواست آستانۂ بلند پر پہنچ بھی جاتی ہے تو ان کا پندارِ خدائی یہ گوارا نہیں کرتا کہ خود اس کا جواب دیں، بلکہ جواب دینے کا کام مقربین ہی میں سے کسی کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس غلط گمان کی وجہ سے یہ لوگ ایسا سمجھتے ہیں اور ہوشیار لوگوں نے ان کو ایسا سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ خداوند عالم کا آستانہ قدس عام انسانوں کی دسترس سے بہت ہی دور ہے۔ اس کے دربار تک بھلا کسی عام کی پہنچ کیسے ہوسکتی ہے۔ وہاں تک دعائوں کا پہنچنا اور پھر ان کا جواب ملنا تو کسی طرح ممکن ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ پاک روحوں کا وسیلہ نہ ڈھونڈا جائے اور مذہبی منصب داروں کی خدمات نہ حاصل کی جائیں جو اوپر تک نذریں، نیازیں اور عرضیاں پہنچانے کے ڈھب جانتے ہیں۔ یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے بندے اور خدا کے درمیان بہت سے چھوٹے بڑے معبودوں اور سفارشیوں کا ایک جم غفیر کھڑا کردیا اور اس کے ساتھ مہنت گری کا وہ نظام پیدا کیا جس کے توسط کے بغیر جاہلی مذاہب کے پیرو پیدائش سے لے کر موت تک اپنی کوئی مذہبی رسم بھی انجام نہیں دے سکتے۔
(قرآن مجید) نے جاہلیت کے اس پورے طلسم کو صرف دو لفظوں سے توڑ کر( پھینک دیا ہے) ایک یہ کہ اللہ قریب ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ مجیب ہے۔ یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ وہ تم سے دور ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ تم براہ راست اس کو پکار کر اپنی دعائوں کا جواب حاصل نہیں کرسکتے۔ وہ اگرچہ بہت بالاوبرتر ہے مگر اس کے باوجود وہ تم سے بہت قریب ہے۔ تم میں سے ایک ایک شخص اپنے پاس ہی اس کو پاسکتا ہے۔ اس سے سرگوشی کرسکتا ہے۔ خلوت اور جلوت دونوں میں علانیہ بھی اور صیغۂ راز میں بھی اپنی عرضیاں خود اس کے حضور پیش کرسکتا ہے۔ اور پھر وہ براہ راست اپنے ہر بندے کی دعائوں کا جواب خود دیتا ہے۔ پس جب سلطانِ کائنات کا دربارِ عام ہر وقت ہر شخص کے لیے کھلا ہے اور ہر شخص کے قریب ہی موجود ہے تو یہ تم کس حماقت میں پڑے ہو کہ اس کے لیے واسطے اور وسیلے ڈھونڈتے پھرتے ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ہود، حاشیہ: ۶۹)
سورہ ق آیت ۱۶ میں مذکور ہے:
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔
’’ ہم اس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔‘‘
یعنی ہماری قدرت اور ہمارے علم نے انسان کو اندر اور باہر سے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس کی رگِ گردن بھی اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا ہمارا علم اور ہماری قدرت اس سے قریب ہے۔ اس کی بات سننے کے لیے ہمیں کہیں سے چل کر نہیں آنا پڑتا، اس کے دل میں آنے والے خیالات تک ہم براہ راست جانتے ہیں۔ اسی طرح اگر اسے پکڑنا ہوگا تو ہم کہیں سے آکر اس کو نہیں پکڑیں گے، وہ جہاں بھی ہے ہر وقت ہماری گرفت میں ہے جب چاہیں گے اسے دھرلیں گے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، قٓ ،حاشیہ: ۲۰)
سورہ سبا آیت ۵۰ میں ارشاد ہے:
قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلیٰ نَفْسِیْ۔ وَاِنِ اہْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوحِیْٓ اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ۔
’’ کہو اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے۔‘‘
میرا رب قریب ہی موجود ہے اور وہ سب کچھ سن رہا ہے، اسے معلوم ہے کہ میں گمراہ ہوں یا اس کی طرف سے ہدایت یافتہ۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، سبا، حاشیہ: ۷۱)

اَلرَّقِیْبُ : ہر چیز پرنگراں

سورہ مائدہ آیت ۱۱۷ میں ارشاد ہے:
فَلَمَّاتَوَ فَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ۔
’’جب آپ نے مجھے واپس بلالیا تو آپ ان پر نگراں تھے۔‘‘
سورہ ہود میں ارشاد ہے:
وَارْتَقِبُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ رَقِیْبٌ۔
’’ میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔‘‘
سورہ قٓ آیت ۱۸ میں ارشاد ہے:
مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌعَتِیْدٌ۔
’’کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔‘‘
ایک طرف تو (اللہ تعالیٰ) خود براہ راست انسان کی حرکات و سکنات اور اس کے خیالات کو جانتا ہے، دوسری طرف ہر انسان پر دو فرشتے مامور ہیں جو اس کی ایک ایک بات کو نوٹ کررہے ہیں اور اس کا کوئی قول و فعل ان کے ریکارڈ سے نہیں چھوٹتا۔ اس کے معنی یہ ہیںکہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسان کی پیشی ہوگی اس وقت اللہ کو خود بھی معلوم ہوگا کہ کیا کرکے آیا ہے، اور اس پر شہادت دینے کے لیے دو گواہ بھی موجود ہوں گے جو اس کے اعمال کا دستاویزی ثبوت لا کر سامنے رکھ دیں گے۔یہ دستاویزی ثبوت کس نوعیت کا ہوگا، اس کا ٹھیک ٹھیک تصور کرنا تو ہمارے لیے مشکل ہے۔ مگر جو حقائق آج ہمارے سامنے آرہے ہیں انھیں دیکھ کر یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ جس فضا میں انسان رہتا اور کام کرتا ہے اس میں ہر طرف اس کی آوازیں ، اس کی تصویریں ، اور اس کی حرکات و سکنات کے نقوش ذرّے ذرّے پر ثبت ہورہے ہیں اور ان میں سے ہر چیز کو بعینہ انہی شکلوں اور آوازوں میں دوبارہ اسی طرح پیش کیا جاسکتا ہے کہ اصل اور نقل میں ذرہ برابر فرق نہ ہو۔ انسان یہ کام نہایت ہی محدود پیمانے پر آلات کی مدد سے کررہا ہے۔ لیکن خدا کے فرشتے نہ ان آلات کے محتاج ہیں نہ ان قیود سے مقید ۔ انسان کا اپنا جسم اور اس کے گردوپیش کی ہر چیز ان کی ٹیپ اور ان کی فلم ہے جس پر وہ ہر آواز اور ہر تصویر کو اس کی نازک ترین تفصیلات کے ساتھ جوں کی توں ثبت کرسکتے ہیں اور قیامت کے روز آدمی کو اس کے اپنے کانوں سے اس کی اپنی آوازمیں اس کی وہ باتیں سنوا سکتے ہیں جو وہ دنیا میں کرتا تھا، اور اس کی اپنی آنکھوں سے اس کے تمام کرتوتوں کی چلتی پھرتی تصویریں دکھا سکتے ہیں جن کی صحت سے انکار کرنا اس کے لیے ممکن نہ رہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی عدالت میں کسی شخص کو محض اپنے ذاتی علم کی بنا پر سزا نہ دے گا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کرکے اس کو سزا دے گا۔ اسی لیے دنیا میں ہر شخص کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرایا جارہا ہے تاکہ اس کی کارگزاریوں کا پورا ثبوت ناقابل انکار شہادتوں سے فراہم ہوجائے۔

اَلْحَسِیْبُ : محاسب، حساب لینے والا

سورۃ النساء آیت ۶ میں ہے:
فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ فَاشْہِدُوْا عَلَیْہِمْ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔
’’ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘
سورہ نساء آیت ۸۶ میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ حَسِیْبًا۔
’’ اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔‘‘
سورۃ الاحزاب آیت ۳۹ میں ہے:
وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔
’’ ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔‘‘
اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر خوف اور خطرے کے مقابلے میں اللہ کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے ، اس کے سوا کسی اور کی باز پرس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب، حاشیہ: ۷۶)
ہر انسان فرداً فرداً اللہ کے سامنے ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ جس پادشاہ زمین و آسمان کے سامنے جوابدہ ہے وہ غیب و شہادت کا علم رکھنے والا ہے، حتّٰی کہ دلوں کے چھپے ہوئے ارادے اور خیالات تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ، حاشیہ: ۳۳۵)
جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیااس سے ہلکا حساب لیا جائے گا یعنی اس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی۔ اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں فلاں کام تو نے کیوں کیے تھے اور تیرے پاس ان کاموں کے لیے کیا عذر ہے۔ اس کی بھلائیوں کے ساتھ اس کی برائیاں بھی اس کے نامۂ اعمال میں موجود ضرورہوں گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں سے بھاری ہے، اس کے قصوروں سے درگزر کیا جائے گا اور اسے معاف کردیا جائے گا۔
قرآن مجید میں بداعمال لوگوں سے سخت حساب فہمی کے لیے سوء الحساب (بری طرح حساب لینے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں( الرعد : ۱۸)۔ اور نیک لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کرلیں گے اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے‘‘ (الاحقاف: ۱۶)۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی جو تشریح فرمائی ہے اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، حاکم، ابن جریر، عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے مختلف الفاظ میں حضرت عائشہؓ سے نقل کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: ’’جس سے بھی حساب لیا گیا مارا گیا۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا رسول ؐ اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ ’’جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا؟‘‘ حضوؐر نے جواب دیا، ’’وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا۔‘‘ ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضوؐر کو نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ ’’خدا یا مجھ سے ہلکا حساب لے۔‘‘ آپؐ نے جب سلام پھیرا تو میں نے اس کا مطلب پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا۔’’ ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامۂ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کیا جائے گا۔ اے عائشہؓ! اس روز جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۶، الانشقاق، حاشیہ: ۶)

اَلْقَوِیُّ : بڑی قوت رکھنے والا، نہایت طاقتور ، زور آور

سورۃ الانفال آیت ۵۲ میں آیا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔
’’ اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
سورہ ہود آیت ۶۶ میں ہے:
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۔
’’بے شک تیرا رب ہی دراصل طاقت ور اور بالادست ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۴۰ میں ارشاد ہے:
وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔
’’ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ اللہ بڑا طاقت ور اور زبردست ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۷۴ میں ارشاد ہے:
مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔
’’ ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کاحق ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو بس اللہ ہی ہے۔‘‘
اس کی عطا و بخشش کا نظام اس کے اپنے زور پر قائم ہے۔ کسی کا یہ بل بوتا نہیں ہے کہ اسے بدل سکے، یا زبردستی اس سے کچھ لے سکے ، یا کسی کو دینے سے اس کو روک سکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۳۶)
اللہ تو ہر وقت یہ قدرت رکھتا ہے کہ جب چاہے اپنے ایک اشارے سے تمام کافروں کو مغلوب کردے اور اپنے رسولوں کو ان پرغلبہ و تسلّط عطا فرمادے۔ مگر اس میں پھر رسولوں پر ایمان لانے والوں کا کیا کمال ہوگا جس کی بنا پر وہ کسی انعام کے مستحق ہوں؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کام کو اپنی غالب قدرت سے انجام دینے کے بجائے طریق کار یہ اختیار فرمایا کہ اپنے رسولوں کو بینات اور کتاب اور میزان دے کر انسانوں کے درمیان مبعوث کردیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۴۷)

اَلشَّہِیْدُ : نگراں، دیکھنے والا، گواہ

شہید کے اصل معنی گواہ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دے۔ اللہ کی راہ میں لڑکر جان دینے والے کو بھی شہید اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ جان دے کر ثابت کردیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لایا تھا اسے واقعی سچے دل سے حق سمجھتا تھا اور اسے اتنا عزیز رکھتا تھا کہ اس کے لیے جان قربان کرنے میں بھی اس نے دریغ نہیں کیا۔ ایسے راستباز لوگوں کو بھی شہید کہا جاتا ہے جو اس قدر قابل اعتماد ہوںکہ جس چیز پر وہ شہادت دیں اس کا صحیح و برحق ہونا بلا تامل تسلیم کرلیا جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء ، حاشیہ: ۹۹)
کیا لوگوں کو انجام بد سے ڈرانے کے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس دعوت حق کو جھٹلانے اور زک پہنچانے کے لیے جو جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ ان کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، حٰمٓ السجدۃ، حاشیہ: ۷۱)
اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ شہید قرآن مجید کی کئی سورتوں میں مذکور ہے، مثلاً:
سورہ نساء آیت ۳۳ میں مذکور ہے:
اِنَّ اللّٰہ َ کَانَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ شَہِیْداً۔
’’یقینا اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔‘‘
آیت ۷۹ میں ارشاد ہے:
وَاَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا وَکَفیٰ بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔
’’اے محمدؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے۔‘‘
سورہ نساء آیت ۱۶۶ میں ارشاد ہے:
اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُوْنَ۔وَکَفیٰ بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔
’’ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے، اور اس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے۔‘‘
سورہ مائدہ آیت ۱۱۷ میں ارشاد ہے:
وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ۔ وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ شَہِیْدٌ۔
’’اسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں۔‘‘
سورہ یونس آیت ۲۹ میں ارشاد ہے:
فَکَفیٰ بِاللّٰہِ شَہِیْدًا م بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ۔
’’ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔‘‘
یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا، اور وہ تمام جن ، ارواح، اسلاف، اجداد، انبیاء، اولیاء، شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انھیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجالارہے ہو، تمہاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار اور فریاد ، کوئی نذر و نیاز، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ ، اور کوئی سجدہ ریزی اور آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۳۷)
سورہ رعد آیت ۴۳ میں ارشاد ہے:
وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۔ قُلْ کَفیٰ بِاللّٰہِ شَہِیْدًا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ ۔
یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہو ’’میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘
سورہ بنی اسرائیل آیت ۹۶ میں ہے:
قُلْ کَفیٰ بِاللّٰہِ شَہِیْدًا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ، اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا م بَصِیْرًا۔
اے محمدؐ ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے اور وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔‘‘
اسی طرح سورہ عنکبوت آیت ۵۲ میں ہے:
قُلْ کَفیٰ بِا للّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ شَہِیْدًا۔
(اے نبیؐ) کہو کہ ’’میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔‘‘
سورہ احزاب آیت ۵۵ میں ہے:
وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ شَہِیْدًا۔
(اے عورتوں)تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنی چاہیے۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔‘‘
خواتین کو یہ روش ہرگز نہ اختیار کرنی چاہیے کہ وہ شوہر کی موجودگی میں تو پردے کی پابندی کریں مگر جب وہ موجود نہ ہو تو غیر محرم مردوں کے سامنے پردہ اٹھادیں۔ ان کا یہ فعل چاہے ان کے شوہر سے چھپا رہ جائے خدا سے تو نہیں چھپ سکتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب، حاشیہ: ۱۰۵)
سورہ احقاف آیت ۸ میں ارشاد ہے:
قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَلَا تَمْلِکُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ہُوَاَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ۔ کَفیٰ بِہٖ شَہِیْدًا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ۔
’’ان سے کہو، ’’اگر میں نے اسے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچاسکوگے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔‘‘
مشرکین کے الزام کا محض بے اصل اور سراسر ہٹ دھرمی پر مبنی ہونا بالکل ظاہر تھا اس لیے اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ پس یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ اگر واقعی میں نے خود ایک کلام تصنیف کرکے اللہ کی طرف منسوب کرنے کا جرم عظیم کیا ہے، جیسا کہ تم الزام رکھتے ہو، تو مجھے خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے تم نہ آئو گے، لیکن اگر یہ خداہی کا کلام ہے اور تم جھوٹے الزامات رکھ رکھ کر اسے رد کر رہے ہو تو اللہ تم سے نمٹ لے گا۔ حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور جھوٹ سچ کا فیصلہ کرنے کے لیے وہ بالکل کافی ہے۔ ساری دنیا اگر کسی کو جھوٹا کہے اور اللہ کے علم میں وہ سچا ہو تو آخری فیصلہ لازماً اسی کے حق میں ہوگا۔ اور ساری دنیا اگر کسی کوسچا کہہ دے، مگر اللہ کے علم میں وہ جھوٹا ہو، تو آخر کار وہ جھوٹا ہی قرار پائے گا۔ لہٰذا الٹی سیدھی باتیں بنانے کے بجائے اپنے انجام کی فکر کرو۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحقاف، حاشیہ: ۱۰)
سورہ فتح آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
ہُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔
’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘
حدیبیہ میں جب معاہدہ صلح لکھا جانے لگا تھا اس وقت کفارِ مکہ نے حضوؐر کے اسم گرامی کے ساتھ رسولؐ اللہ کے الفاظ لکھنے پر اعتراض کیا تھا اور ان کے اصرار پر حضوؐر نے خود معاہدے کی تحریر میں سے یہ الفاظ مٹا دیے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمارہاہے کہ ’’ہمارے رسول کا رسول ہونا تو ایک حقیقت ہے جس میں کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اس کو اگر کچھ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔اس کے حقیقت ہونے پر ہماری شہادت کافی ہے۔ ان کے انکار کردینے سے یہ حقیقت بدل نہیں جائے گی، بلکہ ان کے علی الرَّغم اس ہدایت اور اس دین کو پوری جنس دین پر غلبہ حاصل ہو کر رہے گا جسے لے کر یہ رسول ہماری طرف سے آیا ہے، خواہ یہ منکرین اسے روکنے کے لیے کتنا ہی زور مارکر دیکھ لیں۔‘‘
(تفہیم القرآن،ج۵، الفتح، حاشیہ: ۵۱)
اللہ جو کائنات کی تمام حقیقتوں کا براہ راست علم رکھتا ہے، جو تمام موجودات کو بے حجاب دیکھ رہا ہے، جس کی نگاہ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں، یہ اس کی شہادت ہے ـــــــ اور اس سے بڑھ کر معتبر عینی شہادت اور کس کی ہوگیـــــ کہ پورے عالم وجود میں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے، جو خدائی صفات سے متصف ہو، خدائی کے اقتدار کی مالک ہو، اور خدائی کے حقوق کی مستحق ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، آل عمران، حاشیہ:۱۴)

اَلْحَمِیْدُ : اپنی ذات میںآپ محمود ، ستودہ صفات

سورۃ البقرۃ آیت ۲۶۷ میں ارشاد ہے:
وَلَسْتُمْ بِآخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
’’ اور تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کرو گے اِلّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جائو۔ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔‘‘
سورہ ہود آیت ۷۳ میں ارشاد ہے:
رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
’’ابراہیم کے گھر والو! تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں، اور یقینا اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۸ میں ارشاد ہے:
وَقَالَ مُوْسیٰ اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
’’اور موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ’’اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۶۴ میں ارشاد ہے:
لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۔
’’اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میںہے اور جو کچھ زمین میں ہے بے شک وہی غنی وحمید ہے۔‘‘
سورہ لقمان آیت ۱۲ میں ارشاد ہے:
وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
’’جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔‘‘
سورہ فاطر آیت ۱۵ میں ارشاد ہے:
یٰاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدٌ۔
’’لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے۔‘‘
سورہ فصلت آیت ۴۲ میں ارشاد ہے:
لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن م بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ۔
’’باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔‘‘
سورہ شوریٰ آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْ م بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ وَہُوَالْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ۔
’’وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی قابل تعریف ولی ہے۔‘‘
سورۃ الحدید آیت ۲۴ میں ہے:
وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۔
’’اب کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔‘‘
سورۃ التغابن آیت ۶ میں ہے:
فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْ اوَاسْتَغْنَی اللّٰہُ وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
’’اس طرح انھوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ۔‘‘
سورۃ البروج آیت ۸ میں ہے:
وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ یُؤْ مِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ۔
’’ اور اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘
سورہ نساء آیت ۱۳۱ میں ہے:
فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ غَنِیًّا حَمِیْدًا۔
’’آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے، ہر تعریف کا مستحق ہے۔‘‘
حمید سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ سے آپ محمود ہے، کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے مگر حمد (شکر و تعریف) کا استحقاق اسی کو پہنچتا ہے۔ ان دونوں کو (سورہ فاطر : ۱۵) میں ایک ساتھ اس لیے لایا گیا ہے کہ محض غنی تو وہ بھی ہوسکتا ہے جو اپنی دولت مندی سے کسی کو نفع پہنچائے اس صورت میں وہ غنی تو ہوگا مگر حمید نہ ہوگا۔ حمید وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ وہ کسی سے خود تو فائدہ نہ اٹھائے مگر اپنی دولت کے خزانوں سے دوسروں کو ہر طرح کی نعمتیں عطا کرے۔اللہ تعالیٰ چونکہ ان دونوں صفات میں کامل ہے اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ محض غنی نہیں ہے بلکہ ایسا غنی ہے جسے ہر تعریف اور شکر کا استحقاق پہنچتا ہے کیوں کہ وہ تمہاری اور تمام موجودات عالم کی حاجتیں پوری کررہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، فاطر، حاشیہ: ۳۷)
کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے کمال و جمال اور اس کی خلاقی اور رزاقی پر شہادت دے رہاہے اور ہر مخلوق زبان حال سے اس کی حمد بجالارہی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ: ۱۹)

اَلْمَاجِدُ : اور اَلْمَجِیْدُ : بلند پایہ، بڑی شان والا، بزرگ و برتر

سورہ ہود آیت ۷۳ میں ارشاد ہے:
اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
’’یقینا اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔‘‘
مجید کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک بلند مرتبہ ، باعظمت، بزرگ اور صاحب عزت و شرف دوسرے کریم، کثیر العطاء، بہت نفع پہنچانے والا۔
بزرگ و برتر کہہ کر انسان کو اس کمینہ پن پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسی ہستی کے مقابلہ میں گستاخی کا رویہ اختیار کرتا ہے (جو بلند پایہ، بڑی شان والی اور بزرگ و برتر ہے)۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، البروج، حاشیہ: ۷)

اَلْمُحِیْطُ : احاطہ کرنے والا، گھیرنے والا، ہر چیز پر محیط

وَاللّٰہ مُحِیْطٌ بِالْکَافِرِینَ۔ (البقرۃ: ۱۹)
’’ اور اللہ منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (آلِ عمران : ۱۲۰)
’’جو کچھ یہ کررہے اللہ اس پر حاوی ہے۔‘‘
وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیٍْٔ مُّحِیْطًا۔ (النساء : ۱۲۶)
’’اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔‘‘
وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ بِمَایَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (الانفال : ۴۷)
’’ اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، جو کچھ وہ کررہے وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔‘‘
اللہ کی قدرت اور اس کے علم نے انسان کو اندراور باہر سے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس کی رگ گردن بھی اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا اس کا علم اور اس کی قدرت اس سے قریب ہے۔ اس کی بات سننے کے لیے اسے کہیں سے چل کر نہیں آنا پڑتا، انسان کے دل میں آنے والے خیالات تک کو وہ براہ راست جانتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے پکڑنا ہوگا تو وہ کہیں سے آکر اس کو نہیں پکڑے گا، وہ جہاںبھی ہے ہمہ وقت اس کی گرفت میں ہے، جب چاہے گا اسے دھرلے گا۔۱؎
(تفہیم القرآن، ج ۵، قٓ ، حاشیہ: ۱۰)
رسول پر بھی اور فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس قدر محیط ہے کہ اگر بال برابر بھی وہ اس کی مرضی کے خلاف جنبش کریں تو فوراً گرفت میں آجائیں۔ جو پیغامات اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے اس کا حرف حرف گنا ہوا ہے ، رسولوں اور فرشتوں کی یہ مجال نہیںہے کہ ان میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی کرسکیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الجن، حاشیہ: ۳۰)
انسان ہوں یا جن یا فرشتے یا دوسری مخلوقات سب کا علم ناقص اور محدود ہے۔ کائنات کی تمام حقیقتوں پر کسی کی نظر بھی محیط نہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ، حاشیہ: ۲۸۲)
اگر انسان اللہ کے آگے سرتسلیم خم نہ کرے اور سرکشی سے باز نہ آئے تووہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتا، اللہ کی قدرت اس کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء، حاشیہ: ۱۵۱)
یہ بات کہ اللہ نے مخالفین کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور نبی کی دعوت اللہ کی حفاظت میں ہے، مکے کے ابتدائی دور کی سورتوں میں متعدد جگہ ارشاد ہوئی ہے۔ مثلاً سورہ بروج میں فرمایا:
بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِہِمْ مُّحِیطٌ۔
’’مگر یہ کافر جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔‘‘

اَلْحَفِیْظُ: ہر چیز پر نگراں، پاسبان، حفاظت کرنے والا

سورہ ہود آیت ۵۷ میںارشاد ہے:
اِنَّ رَبِّیْ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ حَفِیْظٌ۔
’’یقینا میرا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔‘‘
سورہ شوریٰ آیت ۶ میں ہے:
وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْہِمْ۔
’’ جن لوگوں نے اس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں، اللہ ہی ان پر نگراں ہے۔‘‘
سورہ سبا آیت ۲۱ میں ہے:
وَرَبُّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ حَفِیْظٌ۔
’’تیرا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔‘‘
سورۃ الشوریٰ میں اَللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْہِمْ ’’ اللہ ہی ان پر نگراں ہے۔‘‘ یعنی وہ ان کے سارے افعال دیکھ رہا ہے۔ اور ان کا نامہ اعمال تیار کررہا ہے۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اسی کا کام ہے۔ ’’تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو۔‘‘ یہ خطاب نبی ﷺ سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی قسمت تمہارے حوالہ نہیں کردی گئی ہے جو تمہاری بات نہ مانے گا اسے تم جلا کر خاک کردو گے، یا اس کا تختہ الٹ دو گے، یا اسے تہس نہس کرکے رکھو دو گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ اپنے آپ کو ایسا سمجھتے تھے اور آپ کی غلط فہمی یا برخود غلطی کو رفع کرنے کے لیے یہ بات ارشاد ہوئی ہے۔ بلکہ اس سے مقصود کفار کو سنانا ہے۔ اگرچہ بظاہر مخاطب حضوؐر ہی ہیں، لیکن اصل مدعا کفار کو یہ بتانا ہے کہ اللہ کا نبی اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں رکھتا جیسے بلند بانگ دعوے خدا رسید گی اور روحانیت کے ڈھونگ رچانے والے عموماً تمہارے ہاں کیا کرتے ہیں۔ جاہلیت کے معاشروں میں بالعموم یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ’’حضرت‘‘ قسم کے لوگ ہر اس شخص کی قسمت بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں جو ان کی شان میں کوئی گستاخی کرے۔ بلکہ مرجانے کے بعد ان کی قبر کی بھی کوئی توہین کر گزرے ، یا اور کچھ نہیں تو ان کے متعلق کوئی برا خیال ہی دل میں لے آئے تو وہ اس کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ یہ خیال زیادہ تر ’’حضرتوں‘‘ کا اپنا پھیلایا ہوا ہوتا ہے اور نیک لوگ جو خود ایسی باتیں نہیں کرتے، ان کے نام اور ان کی ہڈیوں کو اپنے کاروبار کا سرمایہ بنانے کے لیے کچھ دوسرے ہوشیار لوگ ان کے متعلق اس خیال کو پھیلاتے ہیں۔ بہر حال عوام میں اسے روحانیت و خدا رسیدگی کا لازمہ سمجھاجاتا ہے کہ آدمی کو قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات حاصل ہوں۔ اسی فریب کا طلسم توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے رسول پاک سے فرمارہا ہے کہ بلا شبہ تم ہمارے پیغمبر ہو اور ہم نے اپنی وحی سے تمہیں سرفراز کیا ہے، مگر تمہارا کام صرف لوگوں کو سیدھا راستہ دکھانا ہے۔ ان کی قسمتیں تمہارے حوالہ نہیں کردی گئی ہیں۔ وہ ہم نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہیں۔ بندوں کے اعمال کو دیکھنا اور ان کو عذاب دینا یا نہ دینا ہمارا اپنا کام ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ:۷)
اس زمین پر تمہاری بقا اور تمہاری سلامتی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔ اپنے بل بوتے پر تم یہاں مزے سے نہیں دندنارہے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ جو یہاں گزر رہا ہے، اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کی رہین منت ہے۔ ورنہ کسی وقت بھی اس کے ایک اشارے سے ایک زلزلہ ایسا آسکتا ہے کہ یہی زمین تمہارے لیے آغوش مادر کی بجائے قبر کا گڑھا بن جائے ، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہاری بستیوں کو غارت کرکے رکھ دے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الملک ، حاشیہ: ۲۶)
(جب کسی شخص کو حفیظ کہیں گے) تو ایسے شخص کو کہیں گے، جو اللہ کے حدود اور اس کے فرائض اور اس کی حرمتوں اور اس کی سپردکی ہوئی امانتوں کی حفاظت کرے، جوان حقوق کی نگہداشت کرے جو اللہ کی طرف سے اس پر عائد ہوتے ہیں، جو اس عہد و پیمان کی نگہداشت کرے جو ایمان لا کر اس نے اپنے رب سے کیا ہے، جو اپنے اوقات اور اپنی قوتوں اور محنتوں اور کوششوں کی پاسبانی کرے کہ ان میں سے کوئی چیز غلط کاموں میں ضائع نہ ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، قٓ، حاشیہ: ۴۱)

اَلْحَقُّ : سچا

سورہ انعام آیت ۶۲ میں ارشاد ہے:
ثُمَّ رُدُّوْآاِلَی اللّٰہِ مَوْلٰہُمُ الْحَقِّ۔
’’پھر سب کے سب اللہ ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں۔‘‘
اسی طرح سورہ یونس آیت ۳۰ میں ہے:
وَرُدُّوْآاِلَی اللّٰہِ مَوْلٰہُمُ الْحَقِّ۔
’’سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیردیے جائیں گے۔‘‘
پھرآیت ۳۲ میں بھی ہے:
فَذَا لِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ۔ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ۔
’’ تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے۔ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟‘‘
تمہارا حقیقی پروردگار، مالک، آقا اور تمہاری بندگی وعبادت کا حق دار اللہ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۳۸)
سورہ طٰہٰ آیت ۱۱۴ میں ارشاد ہے:
فَتَعٰلیٰ اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ۔
’’پس بالاو برتر ہے اللہ بادشاہ حقیقی۔‘‘

سورہ حج آیت ۶میں ہے:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتیٰ۔

ب رہا یہ سوال کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس قسم کے گناہ صغیرہ اور کس قسم کے کبیرہ ہیں، تو اس معاملہ میں جس بات پر ہمارا اطمینان ہے وہ یہ ہے کہ ’’ ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نص صریح نے حرام قرار دیا ہو، یا اس کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ نے دنیامیں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو، یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو۔‘‘ اس نوعیت کے گناہوں کے ماسوا جتنے افعال بھی شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ سب صغائر کی تعریف میں آتے ہیں۔ اسی طرح کبیرہ ، محض خواہش یا اس کا ارادہ بھی کبیرہ نہیں بلکہ صغیرہ ہے۔ حتّٰی کہ کسی بڑے گناہ کے ابتدائی مراحل طے کرنا بھی اس وقت تک گناہ کبیرہ نہیں ہے جب تک آدمی اس کا ارتکاب نہ کرگزرے۔ البتہ گناہ صغیرہ بھی ایسی حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے جب کہ وہ دین کے استخفاف اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں استکبار کے جذبہ سے کیا جائے، اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتناء کے لائق نہ سمجھے جس نے اسے ایک برائی قرار دیا ہے۔  ’’ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘‘
اللہ کا وجود محض ایک خیالی اور فرضی وجود نہیں ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کی خاطر مان لیا گیا ہو۔ وہ نرا فلسفیوں کے خیال کا آفریدہ ، واجب الوجود اور علّت العلل (First Cause) ہی نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی فاعل مختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت ، اپنے ارادے، اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تدبیر کررہا ہے۔وہ کھلنڈرا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے کھلونے بنائے اور پھر یونہی توڑ پھوڑ کر خاک میں ملادے۔ وہ حق ہے اس کے سب کام سنجیدہ اور بامقصد اور پرحکمت ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۸)
پورے نظام کائنات کو چھوڑ کر آدمی صرف اپنی ہی پیدائش پر غور کرے تو معلوم ہوجائے کہ ایک ایک انسان کی ہستی میں اللہ کی حقیقی اور واقعی تدبیر ہر وقت بالفعل کارفرما ہے اور ہر ایک کے وجود اور نشوو نما کا ایک ایک مرحلہ اس کے ارادی فیصلے پر ہی طے ہوتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون پر ہورہا ہے جس کو ایک اندھی بہری بے علم و بے ارادہ فطرت چلا رہی ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انھیں نظر آئے کہ ایک ایک فرد انسانی جس طرح وجود میں آتا ہے اور پھر جس طرح وہ وجود کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اس میں ایک حکیم وقادر مطلق ہستی کا ارادی فیصلہ کس شان سے کام کررہا ہے۔ آدمی جو غذا کھاتا ہے اس میں کہیں انسانی تخم موجود نہیں ہوتا ، نہ اس میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو نفس انسانی کے خواص پیدا کرتی ہو۔ یہ غذا جسم میں جاکر کہیں بال، کہیں گوشت اور کہیں ہڈی بنتی ہے، اور ایک خاص مقام پر پہنچ کر یہی اس نطفے میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے اندر انسان بننے کی استعداد رکھنے والے تخم موجود ہوتے ہیں۔ ان تخموں کی کثرت کا یہ حال ہے کہ ایک وقت میں ایک مرد سے جتنا نطفہ خارج ہوتا ہے اس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک بیضۂ انثیٰ سے مل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ کسی حکیم و قدیر اورحاکم مطلق کا فیصلہ ہے جو ان بے شمار امیدواروں میں سے کسی ایک کو کسی خاص وقت پر چھانٹ کر بیضۂ انثی سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح استقرار حمل رونما ہوتا ہے۔ پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell) کے ملنے سے جو چیز ابتداء ً بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھی جاسکتی۔ یہ حقیر سی چیز ۹ مہینے اور چند روز میں رحم کے اندر پرورش پا کر جن بے شمار مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک جیتے جاگتے انسان کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ان میں سے ہر مرحلے پر غور کرو تو تمہارا دل گواہی دے گا کہ یہاں ہر آن ایک حکیم فعال کا ارادی فیصلہ کام کرتا رہا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کسے تکمیل کو پہنچانا ہے اور کسے خون کے لوتھڑے یا گوشت کی بوٹی، یا ناتمام بچے کی شکل میں ساقط کردینا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو زندہ نکالنا ہے اور اس کو مردہ۔ کس کو معمولی انسان کی صورت و ہئیت میں نکالنا ہے اور کسے ان گنت غیر معمولی صورتوں میں سے کوئی صورت دے دینی ہے۔ کس کو صحیح و سالم نکالنا ہے اور کسے اندھا، بہرا، گونگا یا ٹنڈایا لنجا بنا کر پھینک دینا ہے۔ کس کو خوبصورت بنا نا ہے اور کسے بدصورت ۔ کس کو مرد بنانا ہے اور کس کو عورت ۔ کس کو اعلیٰ درجے کی قوتیں اور صلاحیتیں دے کر بھیجنا ہے اور کسے کودن اور کند ذہن پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق و تشکیل کا عمل ، جو ہر روز کروڑوں عورتوں کے رحموں میں ہورہا ہے، اس کے دوران میں کسی وقت کسی مرحلے پر بھی ایک خدا کے سوا دنیا کی کوئی طاقت ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہوسکتی، بلکہ کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس پیٹ میں کیا چیز بن رہی ہے اور کیا بن کر نکلنے والی ہے۔ حالانکہ انسانی آبادیوں کی قسمت کے کم از کم ۹۰فی صد فیصلے انہی مراحل میں ہوجاتے ہیں اور یہیں افراد ہی کے نہیں ، قوموں کے، بلکہ پوری نوع انسانی کے مستقبل کی شکل بنائی اور بگاڑی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو بچے دنیا میں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کسے زندگی کا پہلا سانس لیتے ہی ختم ہوجانا ہے، کسے بڑھ کر جوان ہونا ہے، اور کس کو قیامت کے بوریے سمیٹنے ہیں؟ یہاں بھی ایک غالب ارادہ کارفرمانظرآتا ہے اور غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی کارفرمائی کس عالمگیر تدبیر و حکمت پر مبنی ہے جس کے مطابق وہ افراد ہی کی نہیں، قوموں اور ملکوں کی قسمت کے بھی فیصلے کررہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کسی کو اس امر میں شک ہے کہ اللہ’’حق‘‘ ہے اور صرف اللہ ہی ’’حق‘‘ہے تو بے شک وہ عقل کا اندھا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۹)
حقیقی اختیارات کا مالک اور واقعی رب وہی ہے، اس لیے اس کی بندگی کرنے والے خائب و خاسر نہیں رہ سکتے۔اور دوسرے تمام معبود سراسر بے حقیقت ہیں، ان کو جن صفات اور اختیارات کا مالک سمجھ لیا گیا ہے ان کی سرے سے کوئی اصلیت نہیں ہے، اس لیے خدا سے منہ موڑ کر ان کے اعتماد پر جینے والے کبھی فلاح و کامرانی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔
(تفہیم القرآن، ج۳، الحج، حاشیہ: ۱۰۹)
سارے بناوٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خدا وند عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ:۰ ۱)
سورہ لقمان آیت ۳۰ میں ارشاد ہے:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ ۔
’’ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔‘‘
حقیقی فاعل مختار ہے۔ خلق و تدبیر کے اختیارات کا اصل مالک ہے۔ باقی سب (گمراہ انسانوں) کے تخیلات کے آفریدہ خدا ہیں جو فرض کرلیے گئے ہیں کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھنے والا ہے اور فلاں حضرت کو مشکل کشائی و حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں۔ حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی صاحب بھی کچھ نہیں بناسکتے۔

اَلْمُبِیْنُ : صاف صاف ،کھول کر بیان کر نے والا، واضح کرنے والا

سورۃ النور آیت ۲۵ میں ارشادہے:
یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ۔
’’ اس دن اللہ وہ بدلہ انھیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کردکھانے والا ہے۔‘‘
اپنے احکام،اپنی تعلیمات اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرنے والا، حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دینے والا۔ (ضمائر میں قدرے ردّو بدل کے ساتھ)۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ:۱)

اَلْغَفَّارُ : درگزر کرنے والا

سورہ طٰہٰ آیت ۸۲ میں ہے:
وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا۔
’’ البتہ جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔‘‘
سورہ زمرآیت ۵ میں ہے:
اَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ۔
’’جان رکھو، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔‘‘
سورۃ المومن آیت ۴۲ میں ہے:
وَاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ۔
’’حالانکہ میں تمہیں اس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں۔‘‘
سورہ صٓ آیت ۶۶میں ہے:
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ وَمَا بَیْنَہُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ۔
’’آسمانوں اور زمین کا مالک اور ان ساری چیزوں کا مالک جوان کے درمیان ہیں، زبردست اور درگزر کرنے والا۔‘‘
سورہ نوح آیت ۱۰ میں ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔
’’میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔‘‘
زبردست ایسا ہے کہ اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو کوئی طاقت اس کی مزاحمت نہیں کرسکتی۔ مگر یہ اس کا کرم ہے کہ تم یہ کچھ گستاخیاں کررہے ہو اور پھر بھی وہ تم کو فوراً پکڑ نہیں لیتا بلکہ مہلت پر مہلت دیے جاتا ہے: اس مقام پر عقوبت میں تعجیل نہ کرنے اور مہلت دینے کو مغفرت (در گزر) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر، حاشیہ: ۱۱)
مغفرت کے لیے چار شرطیں ہیں۔ اوّل توبہ، یعنی سرکشی و نافرمانی یا شرک و کفر سے باز آجانا۔ دوسرے ایمان یعنی اللہ اور رسول اور کتاب اور آخرت کو صدق دل سے مان لینا ۔ تیسرے عمل صالح، یعنی اللہ اور رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا، چوتھے اہتداء ، یعنی راہ راست پر ثابت قدم رہنا اور پھر غلط راستے پر نہ جاپڑنا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، طٰہٰ، حاشیہ: ۶۰)
صغائر کے مرتکب کا معاف کردیا جانا کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ صغیر ۱؎ہ گناہ ، گناہ نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ تنگ نظری اور خوردہ گیری کا معاملہ نہیں فرماتا۔ بندے اگر نیکی اختیار کریں اور کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اپنی رحمت بے پایاں کی وجہ سے ان کو ویسے ہی معاف کردے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۳۳)

اَلْقَہَّارُ : سب پر غالب

سورہ یوسف آیت ۳۹ میں ہے:
أَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک الہٰ جو سب پر غالب ہے۔‘‘
سورہ الرعد آیت ۱۶ میں ہے:
قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیٍْٔ وَہُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’ کہو! ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے سب پر غالب۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۴۸ میں ہے:
وَبَرَزُوْالِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
’’ اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہوجائیں گے۔‘‘
سورہ صٓ آیت ۶۵ میں ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌوَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
(اے نبیؐ) ان سے کہو! ’’میں تو بس خبر دار کردینے والا ہوں۔ کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ ، جو یکتا ہے، سب پر غالب۔‘‘
سورہ زمر آیت ۴ میں ہے:
سُبْحَانَہٗ ہُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اس کا بیٹا ہو) وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب۔‘‘
سورہ مومن آیت ۱۶ میں ہے:
لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
’’ (اس روز پکار کر پوچھا جائے گا) آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم پکاراٹھے گا) اللہ واحد قہار کی۔‘‘
وہ ہستی جو اپنے زور سے سب پر حکم چلائے اور سب کو مغلوب کرکے رکھے۔ یہ بات کہ ’’اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے‘‘ مشرکین کی اپنی ہی تسلیم کردہ حقیقت ہے جس سے انھیں کبھی انکار نہ تھا۔ اور یہ بات کہ ’’وہ یکتا اور قہار ہے۔‘‘ اس تسلیم شدہ حقیقت کا لازمی نتیجہ ہے جس سے انکار کرنا، پہلی حقیقت کو مان لینے کے بعد کسی صاحب عقل کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ جو ہر چیز کا خالق ہے، وہ لامحالہ یکتا و یگانہ ہے، کیونکہ دوسری جو چیز بھی ہے وہ اسی کی مخلوق ہے، پھر بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی مخلوق اپنے خالق کی ذات، یا صفات یا اختیارات، یا حقوق میں اس کی شریک ہو؟ اسی طرح وہ لامحالہ قہار بھی ہے، کیونکہ مخلوق کا اپنے خالق سے مغلوب ہو کر رہنا عین تصور مخلوقیت میں شامل ہے، غلبہ کامل اگر خالق کو حاصل نہ ہو تو وہ خلق ہی کیسے کرسکتا ہے۔ پس جو شخص اللہ کو خالق مانتا ہو اس کے لیے ان دو خالص عقلی و منطقی نتیجوں سے انکار کرنا ممکن نہیں رہتا، اور اس کے بعد یہ بات سراسر غیر معقول ٹھیرتی ہے کہ کوئی شخص خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی بندگی کرے۔ اور غالب کو چھوڑ کر مغلوب کو مشکل کشائی کے لیے پکارے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الرعد، حاشیہ: ۳۰)
دنیا میں جو چیز بھی ہے اس سے مغلوب اور اس کی قاہرانہ گرفت میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس کائنات میں کوئی کسی درجے میں بھی اس سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا جس کی بنا پر اس کے متعلق یہ گمان کیا جاسکتا ہو کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی رشتہ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزُّمر، حاشیہ: ۹)
معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے، کیوں کہ وہ سب پر غالب ہے، زمین و آسمان کا مالک ہے، اور کائنات کی ہر چیز اس کی ملک ہے۔ اس کے ماسوا اس کائنات میں جن ہستیوں کو تم نے معبو د بنارکھا ہے ان میں سے کوئی ہستی بھی ایسی نہیں ہے جو اس سے مغلوب اور اس کی مملوک نہ ہو۔ یہ مغلوب اور مملوک ہستیاں اس غالب اور مالک کے ساتھ خدائی میں شریک کیسے ہوسکتی ہیں اور آخر کس حق کی بنا پر انھیں معبود قرار دیا جاسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، ص ٓ، حاشیہ:۵۸)
دنیا میں تو بہت سے برخود غلط لوگ اپنی بادشاہی و جباری کے ڈنکے پیٹتے رہے، اور بہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے، (قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پوچھے گا) اب بتائو کہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے ؟ اختیارات کا اصل مالک کون ہے؟ اور حکم کس کا چلتا ہے۔ یہ ایسا مضمون ہے جسے اگر کوئی شخص گوش ہوش سے سنے تو خواہ وہ کتنا ہی بڑابادشاہ یا آمر مطلق بنا بیٹھا ہو، اس کا زہرہ آب ہوجائے اور ساری جباریت کی ہوا اس کے دماغ سے نکل جائے۔ اس موقع پر تاریخ کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی خاندان کا فرماں روا نصر بن احمد (۳۰۱-۳۳۱ھ) جب نیشا پور میں داخل ہوا تو اس نے ایک دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کارروائی کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انھوں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔ جس وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر پر ہیبت طاری ہوگئی ۔ لرزتا ہوا تخت سے اترا، تاج سر سے اتارکر سجدے میں گرگیا اور بولا اے رب، بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ:۲۷)

اَلْخَلَّاقُ : ماہر

سورۃ الحجرآیت ۸۶ میں ارشاد گرامی ہے:
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ۔
’’یقینا تمہارا رب سب کا خالق ہے۔‘‘
سورہ یٰسین آیت ۸۱ میں ارشاد گرامی ہے:
اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلیٰ اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ بَلیٰ وَہُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ۔
’’ کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے؟ کیوں نہیں، جب کہ وہ ماہر خلاق ہے۔‘‘
خالق ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی مخلوق پر کامل غلبہ و تسلّط رکھتا ہے، کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الحجر، حاشیہ: ۴۸)
خدا کی پیدا کردہ کائنات میں کہیں بھی یک رنگی و یکسانی نہیں ہے۔ ہر طرف تنوع ہی تنوع ہے۔ ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے طرح طرح کے درخت نکل رہے ہیں اور ایک درخت کے دو پھل تک اپنے رنگ ، اپنی ساخت اور سبزے میں یکساں نہیں ہیں۔ ایک ہی پہاڑ کودیکھو تو اس میں کئی کئی رنگ تمہیں نظر آئیں گے اور اس کے مختلف حصوں کی مادّی ترکیب میں بڑا فرق پایا جائے گا۔ انسانوں اور جانوروں میںایک ماں باپ کے دو بچے تک یکساں نہ ملیں گے۔ اس کائنات میں اگر کوئی مزاجوں اور طبیعتوں اور ذہنوں کی یکسانی ڈھونڈے اور وہ اختلافات دیکھ کر گھبرااٹھے تو اس کے اپنے فہم کی کوتاہی ہے ۔ یہی تنوع اور اختلاف تو پتہ دے رہا ہے کہ اس کائنات کو کسی زبردست حکیم نے بے شمار حکمتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کا بنانے والا کوئی بے نظیر خلّاق اور بے مثل صناع ہے جو ہر چیز کا کوئی ایک ہی نمونہ لے کر نہیں بیٹھ گیا ہے، بلکہ اس کے پاس ہر شے کے لیے نئے سے نئے ڈیزائن اور بے حدوحساب ڈیزائن ہیں۔ پھر خاص طور پر انسانی طبائع اور اذہان کے اختلاف پر کوئی شخص غور کرے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ درحقیقت حکمت تخلیق کاشاہکار ہے۔ اگر تمام انسان پیدائشی طور پر افتاد طبع اور اپنی خواہشات ، جذبات ، میلانات اورطرز فکر کے لحاظ سے یکساں بنادیے جاتے اور کسی اختلاف کی کوئی گنجائش نہ رکھی جاتی تو دنیا میں انسان کی قسم کی ایک نئی مخلوق پیدا کرنا ہی سرے سے لاحاصل ہوجاتا۔ خالق نے جب اس زمین پر ایک ذمہ دار مخلوق اور اختیارات کی حامل مخلوق وجود میں لانے کا فیصلہ کیا تو اس فیصلے کی نوعیت کا لازمی تقاضا یہی تھا کہ اس کی ساخت میں ہر قسم کے اختلافات کی گنجائش رکھی جاتی۔ یہ چیز اس بات کی سب سے بڑی شہادت ہے کہ انسان کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک عظیم الشان منصوبے کا نتیجہ ہے اور ظاہر ہے کہ حکیمانہ منصوبہ جہاں بھی پایا جائے گا وہاں لازماً اس کے پیچھے ایک حکیم ہستی کارفرما ہوگی۔ حکیم کے بغیر حکمت کا وجود صرف ایک احمق ہی فرض کرسکتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر حاشیہ: ۴۸)
خالق کا کمال حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی۔ بلکہ دو صنفوں (Sexes) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں۔ جن کی بناوٹ کا فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اور ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں۔ مزید براں وہ خالق حکیم ان دونوں صنفوں کے افراد کو آغاز آفرینش سے برابر اس تناسب کے ساتھ پیدا کیے چلا جارہا ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطۂ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں، یا کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہے۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اس معاملہ میں اثر انداز ہوسکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنانہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا ہوتے رہیں جو ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہوں اور نہ اس معاملہ میں اس کے پاس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے۔ ہزارہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقاً بھی نہیں ہوسکتا، اور یہ بہت سے خدائوں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ چیز صریحاً اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ ایک خالق حکیم اور ایک ہی خالق حکیم نے اپنی غالب حکمت و قدرت سے ابتداء ً مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بے حدوحساب مرد اور بے حدوحساب عورتیں اپنی اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوں ۔
(تفہیم القرآن، ج۳، الروم ، حاشیہ: ۲۸)
انسان کا مایۂ تخلیق اس کے سوا کیا ہے کہ چند بے جان مادّے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کچھ کاربن، کچھ کیلشیم، کچھ سوڈیم اور ایسے ہی چند اور عناصر۔ انہی کو ترکیب دے کر وہ حیرت انگیز ہستی بنا کھڑی کی گئی ہے جس کا نام انسان ہے اور اس کے اندر احساسات ، جذبات، شعور، تعقُّل اور تخیّل کی وہ عجیب قوتیں پیدا کردی گئی ہیں جن میں سے کسی کا منبع بھی اس کے عناصر ترکیبی میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہی نہیں کہ ایک انسان اتفاقاً ایسا بن کھڑا ہوا ہو بلکہ اس کے اندر وہ عجیب تولیدی قوت بھی پیدا کردی گئی جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحیتیں لیے ہوئے بے شمار موروثی اور بے حدوحساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں۔ کیا عقل اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ انتہائی حکیمانہ خلقت کسی صانع حکیم کی تخلیق کے بغیر آپ سے آپ ہوگئی ہے؟ (تفہیم القرآن،ج۳، الروم، حاشیہ: ۳۷)

اَلفَتَّاحُ : زبردست حاکم، ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا

سورہ سبا آیت ۲۶ میں ارشاد ربانی ہے:
قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَہُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ۔
’’کہو ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا۔ وہ زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔‘‘
حقیقت نفس الامری یہ ہے کہ ہمیں اور تمہیں دونوں ہی کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور رب وہ ہے جو حقیقت کو بھی جانتا ہے اور ہم دونوں گروہوں کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ وہاں جاکر نہ صرف اس امر کا فیصلہ ہوگا کہ ہم میں اور تم میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون ۔ بلکہ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ ہم نے تم پر حق واضح کرنے کے لیے کیا کچھ کیا اور تم نے باطل پرستی کی ضد میں آکر ہماری مخالفت کس کس طرح کی۔
(تفہیم القرآن،ج۴، سبا، حاشیہ:۴۵)
اللہ تعالیٰ کے فیصلے تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہیں کہ کسی کام کے لیے جو وقت تم مقرر کرو اسی وقت پر وہ اس کام کو کرنے کا پابند ہو۔ اپنے معاملات کو وہ اپنی ہی صوابدید کے مطابق انجام دیتا ہے۔ تم اسے کیا سمجھ سکتے ہو کہ اللہ کی اسکیم میں نوع انسانی کو کب تک اس دنیا کے اندر کا م کرنے کا موقع ملنا ہے، کتنے اشخاص اور کتنی قوموں کی کس کس طرح آزمائش ہونی ہے، اور کون سا وقت اس کے لیے موزوں ہے کہ اس دفتر کو لپیٹ دیا جائے اور تمام اولین و آخرین کو محاسبہ کے لیے طلب کرلیا جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴،سبا، حاشیہ: ۴۹)

الوَدُوْدُ : بہت محبت رکھنے والا

سورہ ہود آیت ۹۰ میں ہے:
وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْ بُوْٓا اِلَیْہِ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ۔
’’دیکھو! اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آئو، بے شک میرا رب رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے۔‘‘
سورہ بروج آیت ۱۴ میں ہے:
اِنَّہٗ ہُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ۔ وَہُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ۔
’’ وہی پہلی بار پیداکرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ بخشنے والا ہے، محبت کرنے والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ سنگ دل اور بے رحم نہیں ہے۔ اس کو اپنی مخلوق سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ سزا دینے ہی کو اس کا جی چاہے اور اپنے بندوں کو مار مار کر ہی خوش ہو۔ تم لوگ اپنی سرکشیوں میں جب حد سے گزرجاتے ہو اور کسی طرح فساد پھیلانے سے باز ہی نہیں آتے تب وہ بادل نخواستہ سزا دیتا ہے۔ ورنہ اس کا حال تو یہ ہے کہ تم خواہ کتنے ہی قصور کرچکے ہو، جب بھی اپنے افعال پر نادم ہو کر اس کی طرف پلٹو گے اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پائو گے۔ کیونکہ اپنی پیدا کی ہوئی وسیع مخلوق سے وہ بے پایاں محبت رکھتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ہود، حاشیہ:۱۰۱)

الْغَفُوْرُ : بہت ہی درگزر فرمانے والا

سورہ توبہ آیات ۲۷،۹۱، ۹۹، ۱۰۲۔ یونس آیت ۱۰۷۔ ہود آیت ۴۱۔ یوسف آیات ۵۳،۹۸۔ ابراہیم آیت ۳۶۔ الحجرآیت ۴۹۔ النحل آیات ۱۸،۱۱۰،۱۱۵، ۱۱۹۔ الکہف ۵۸۔ الحج آیت ۶۰۔النور آیات ۵،۲۲،۳۳، ۶۲۔ النمل آیات ۱۱۔ القصص آیات ۱۶۔ سبا آیات ۲،۱۵۔ فاطر آیات ۲۸،۳۰،۳۴۔ الزمر آیت ۵۳۔ حٰم سجدہ آیت ۳۲۔ الشوریٰ آیات ۵،۲۳۔ الاحقاف آیت ۸۔ الحجر ات آیات۵،۱۴۔ الحدید آیت ۲۸۔ المجادلہ آیات ۲،۱۲۔ الممتحنہ آیات ۷،۱۲۔ التغابن آیت ۱۴۔ التحریم آیت ۱۔ الملک آیت ۲۔ المزمل آیت ۲۰۔ البروج آیت ۱۴ میں یہ اسم الٰہی بیان ہوا ہے۔
’’غَفُورًا‘‘ سورہ نساء آیات ۲۳،۴۳،۹۶، ۹۹، ۱۰۰، ۱۰۶، ۱۱۰، ۱۲۹، ۱۵۲۔ سورۃ الاسراء آیات ۲۵، ۴۴۔ الفرقان آیات ۶،۷۰۔ الاحزاب آیات ۵، ۲۴، ۵۰، ۵۹، ۷۳۔ فاطر آیت ۴۱۔ الفتح آیت ۱۴آیات حٰم السجدہ وبنی اسرائیل میں بیان ہوا ہے۔
وہ بے انتہا زبردست اور سب پر پوری طرح غالب ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کے حق میں رحیم و غفور ہے، ظالم اور سخت گیر نہیں ہے، برے عمل کرنے والوں کو سزا دینے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی سزا سے بچ سکے۔ مگر جو نادم ہو کر برائی سے باز آجائے اور معافی مانگ لے اس کے ساتھ وہ درگزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۶، الملک، حاشیہ :۵)
اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت کسی سے قصور سرزد ہو اسی وقت پکڑ کر اسے سزادے ڈالے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ مجرموں کو پکڑنے میں وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور مدتوں ان کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے۔مگر سخت نادان ہیں وہ لوگ جو اس ڈھیل کو غلط معنی میں لیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ خواہ کچھ ہی کرتے رہیں، ان سے کبھی بازپرس ہوگی ہی نہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الکہف،حاشیہ:۵۵)
قصور کرنے والا اگر توبہ کرکے اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور برے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ:۱۵)

الرَّؤُفُ : بڑی شفقت اور مہر بانی فرمانے والا، خیر خواہ، نرم خو

سورہ بقرہ آیت ۱۴۳ میں ہے:
وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے۔‘‘
سورہ بقرہ آیت ۲۰۷ میں ہے:
وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ مبِالْعِبَادِ۔
’’ اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہر بان ہے۔‘‘
سورہ آل عمران آیت ۳۰ میں ارشاد ہے:
وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ م بالْعِبَادِ۔
’’ اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے۔‘‘
سورہ توبہ آیت ۱۱۷ میں ہے:
ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ اِنَّہٗ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’اللہ نے انھیں معاف کردیا، بے شک اس کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت و مہر بانی کا ہے۔‘‘
سورہ نحل آیت ۷ میں ہے:
وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلیٰ بَلَدٍ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَالِغِیْہِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’وہ تمہارے بوجھ ڈھوکر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔‘‘
سورہ نحل آیت ۴۷ میں ہے:
اَوْیَاْخُذَہُمْ عَلیٰ تَخَوُّفٍ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’ یا ایسی حالت میں انھیں پکڑے جب کہ انھیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی نرم خو اور رحیم ہے۔‘‘
سورہ حج آیت ۶۵ میں آیا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا ہی شفیق اور رحیم ہے۔‘‘
سورہ نور آیت ۲۰ میںہے:
وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے۔‘‘ (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بد ترین نتائج دکھادیتی)۔
سورہ حدید آیت ۹ میں ارشاد ہے:
لِیُخْرِ جَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔ وَاَنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔‘‘
سورہ حشر آیت ۱۰ میں آیا ہے:
وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
’’اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘
یہ اس کی انتہائی خیر خواہی ہے کہ وہ تمہیں قبل از وقت ایسے اعمال پر متنبہ کررہا ہے جو تمہارے انجام کی خرابی کے موجب ہوسکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، اٰل عمران ، حاشیہ: ۲۷)

اَلشَّکُوْرُ : قدردان

سورہ فاطر آیت ۳۰ میں آیا ہے:
لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَہُمْ وَیَزِیْدَ ہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔
’’تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے ان کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے ۔ بے شک اللہ بخشنے والااور قدر دان ہے۔‘‘
سورہ فاطر آیت ۳۴ میں ہے:
اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔
’’یقینا ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے۔‘‘
سورۃ الشوریٰ آیت ۲۳ میں ہے:
وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْلَہٗ فِیْہَا حَسَنًا اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔
’’جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بے شک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے۔‘‘
سورۃ التغابن آیت ۱۷ میں ہے:
وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ۔
’’اللہ بڑا قدردان اور برد بار ہے۔‘‘
مخلص اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس تنگ دل آقا کا سا نہیں ہے جو بات بات پر گرفت کرتا ہو اور ایک ذرا سی خطا پر اپنے ملازم کی ساری خدمتوں اور وفاداریوں پر پانی پھیر دیتا ہو۔ وہ فیاض اور کریم آقا ہے۔ جو بندہ اس کا وفادار ہو اس کی خطائوں پر چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور جو کچھ بھی خدمت اس سے بن آئی ہو اس کی قدر فرماتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، فاطر، حاشیہ:۵۲)
جان بوجھ کر نافرمانی کرنے والے مجرمین کے برعکس ، نیکی کی کوشش کرنے والے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ (۱) جتنی کچھ اپنی طرف سے نیک بننے کی سعی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو اس سے زیادہ نیک بنادیتا ہے۔ (۲)ان کے کام میں جو کوتاہیاں رہ جاتی ہیں، یا نیک بننے کی کوشش کے باوجود جو گناہ ان سے سرزد ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے چشم پوشی کرتا ہے، اور (۳) جو تھوڑی سی نیک عمل کی پونجی وہ لے کر آتے ہیں اللہ ان پر ان کی قدر افزائی کرتا ہے اور انھیں زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الشوریٰ، حاشیہ:۴۲)

اَلْبَصِیْرُ : سب کچھ دیکھنے والا

یہ اسم گرامی قرآن مجید کی بہت سی سورتوں میں آیا ہے۔ مثلاً سورہ بقرہ آیات ۹۶، ۱۱۰، ۲۳۳، ۲۳۷، ۲۶۵۔ آل عمران آیات ۱۵، ۲۰، ۱۵۶، ۱۶۳۔ المائدہ آیت ۷۱ ۔ الانفال آیات ۳۹، ۷۲۔ المومن آیت ۱۱۲۔ بنی اسرائیل آیت ۱۔ الحج آیات ۶۱، ۷۵۔ لقمان آیت ۲۸۔ سبا آیت ۱۱۔ فاطر آیت ۳۱۔ المومن آیات ۲۰ ، ۴۴، ۵۶۔ حٰم السجدہ آیت ۴۰۔ الشوریٰ آیات ۱۱، ۲۷۔ الحجرات آیت ۱۸۔ الحدید آیت ۴۔ المجادلہ آیت ۱۔ الممتحنہ آیت ۳۔ التغابن آیت ۲۔ الملک آیت ۱۹۔
وہ بیک وقت ساری کائنات کو اس کی ایک ایک چیز اور ایک ایک واقعہ کی تفصیل کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کسی چیز کے دیکھنے میں اس کی بینائی اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسے دیکھتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ دیکھ سکے۔
(تفہیم القرآن، ج۴، لقمان، حاشیہ:۴۹)
جو کچھ وہ کررہا ہے دیکھ کر ہی کررہا ہے۔ اس کی نگری اندھیر نگری نہیں ہے۔
سورہ فرقان آیت ۲۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا۔ ’’ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے۔‘‘ جس خلوص اور راست بازی کے ساتھ اس کٹھن خدمت کو تم انجام دے رہے ہو وہ بھی تمہارے رب کی نگاہ میں ہے۔اور تمہاری مساعی خیر کا مقابلہ جن زیادتیوں اور بے ایمانیوں سے کیا جارہا ہے وہ بھی اس سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے۔ لہٰذا پورا اطمینان رکھو کہ نہ تم اپنی خدمات کی قدر سے محروم رہوگے اور نہ ہی وہ اپنی زیادتیوں کے وبال سے بچے رہ جائیں گے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ: ۳۲)
جو چیز بھی دنیا میں موجود ہے اللہ کی نگہبانی کی بدولت موجود ہے۔ وہی ہرشے کے لیے وہ اسباب فراہم کررہا ہے جو اس کے وجود کے لیے درکار ہیں، اور وہی اس بات کی نگرانی کررہا ہے کہ اس کی پیدا کردہ ہر مخلوق کو اس کی ضروریات بہم پہنچیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الملک، حاشیہ: ۰ ۳)
سورۃ التغابن آیت ۲ میں ارشاد ربانی ہے: وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ ’’ اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘
اس فقرے میں ’’دیکھنے‘‘ کا مطلب محض دیکھنا ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جیسے تمہارے اعمال ہیں ان کے مطابق تم کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی حاکم اگر کسی شخص کو اپنی ملازمت میں لے کر یہ کہے کہ ’’میں دیکھتا ہوں تم کس طرح کام کرتے ہو‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹھیک طرح کام کرو گے تو تمہیں انعام اور ترقی سے نوازوں گا، ورنہ تم سے سخت مواخذہ کروں گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن، حاشیہ: ۶)
سورہ آل عمران آیت ۱۵ میں آیا ہے: وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ۔ ’’ اللہ اپنے بندوں کے رویے پر گہری نظر رکھتا ہے۔‘‘ اللہ غلط بخش نہیں ہے اور نہ سرسری اور سطحی طور پر فیصلہ کرنے والا ہے۔ وہ بندوں کے اعمال و افعال اور ان کی نیتوں اور ارادوں کو خوب جانتا ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ بندوں میں سے کون اس کے انعام کا مستحق ہے اور کون نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، آل عمران، حاشیہ: ۱۲)
کیوں کہ بندوں کی فطرت اور اس کے تقاضوں سے وہی باخبر ہے او ر ان کے حقیقی مصالح پر وہی نگاہ رکھتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر، حاشیہ: ۵۴)
سورہ حٰم السجدہ آیت ۴۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ اِنَّہٗ بِمَاتَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
’’کرتے رہو جو کچھ تم چاہو، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے۔‘‘
سورۃ الشوریٰ آیت ۱۱ میں ہے:
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیٌْٔ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔
’’کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
سورۃ الشوریٰ آیت ۲۷ میں ارشاد الٰہی ہے:
وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِیْ الْاَرْضِ وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّایَشَآئُ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌم بَصِیْرٌ۔
’’اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلارزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے۔‘‘
سورۃ الحجرات آیت ۱۸ میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
’’ اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے۔‘‘
سورۃ الحدید آیت ۴ میں ارشاد ہے:
وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
’’وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔‘‘
سورۃ المجادلۃ آیت ۱ میں ارشاد ہے:
وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔
’’اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
سورۃ الممتحنہ آیت ۳ میں ارشاد ربانی ہے:
یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
’’ اس روز (قیامت کے روز) اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا او ر وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔‘‘

سورۃ التغابن آیت ۲ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
’’ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘
سورۃ الملک آیت ۱۹ میں ہے:
مَا یُمْسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیٍْٔ م بَصِیْرٌ۔
’’رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھامے ہوئے ہو۔ وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
(گم کردہ راہ لوگوں کے خود ساختہ) معبودوں کی طرح وہ کوئی اندھا بہرہ خدا نہیں ہے جسے کچھ پتہ نہ ہو کہ جس آدمی کے معاملے کا وہ فیصلہ کررہا ہے اس کے کیا کرتوت تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ: ۳۳)

اَلْمُتَعَالُ : ہر حال میں بالا تر رہنے والا

سورہ رعد آیت ۹ میں ارشاد ربانی ہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ۔
’’ وہ پوشیدہ اور ظاہر ، ہر چیز کا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالا تر رہنے والا ہے۔‘‘

اَلْمُقِیْتُ : قدرت رکھنے والا، نگہبان، روزی دینے والا، گواہ

سورۃ النساء آیت ۸۵ میں ارشاد ہے:
وَکَانَ اللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ مُّقِیْتًا۔
’’اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔‘‘
ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک جس جس قسم کی جتنی مخلوق بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا تھا، ہر ایک کی مانگ اور حاجت کے ٹھیک مطابق غذا کا پورا سامان حساب لگا کر اس نے زمین کے اندر رکھ دیا۔ نباتات کی بے شمار اقسام خشکی اور تری میں پائی جاتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی غذائی ضروریات دوسری اقسام سے مختلف ہیں۔ جاندار مخلوقات کی بے شمار انواع ہوا اور خشکی اور تری میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اور ہر نوع ایک الگ قسم کی غذا مانگتی ہے۔ پھر ان سب سے جدا، ایک اور مخلوق انسان ہے جس کو محض جسم کی پرورش ہی کے لیے نہیں بلکہ اپنے ذوق کی تسکین کے لیے بھی طرح طرح کی خوراکیں درکارہیں۔ اللہ کے سوا کون جان سکتا تھا کہ اس کرہ خاکی پر زندگی کا آغاز ہونے سے لے کر اس کے اختتام تک کس کس قسم کی مخلوقات کے افراد کہا ں کہاں اور کب کب وجود میں آئیں گے اور ان کو پالنے کے لیے کیسی اور کتنی غذا درکار ہوگی۔ اپنی تخلیقی اسکیم میں جس طرح اس نے غذا طلب کرنے والی ان مخلوقات کو پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اسی طرح اس نے ان کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خوراک کا بھی مکمل انتظام کردیا۔
موجودہ زمانے میں مارکسی تصور اشتراکیت کے ماننے والوں کا نظریہ ہے کہ اللہ نے زمین میں سب لوگوں کے لیے برابر خوراک رکھی ہے لہٰذا ریاست کا ایک ایسا نظام درکار ہے جو سب کو غذاکا مساوی راشن دے، کیوں کہ انفرادی ملکیت کے نظام میں وہ مساوات قائم نہیں ہوسکتیـــــــ یہ حضرات یہ بات بھول جاتے ہیں کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ مختلف اقسام کی سب مخلوقات ہیں جنھیںزندہ رہنے کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا واقعی ان سب کے درمیان، یا ایک ایک قسم کی مخلوقات کے تمام افراد کے درمیان خدا نے سامان پرورش میں مساوات رکھی ہے؟ کیا فطرت کے اس پورے نظام میں کہیں آپ کو غذا کے مساوی راشن کی تقسیم کا انتظام نظر آتا ہے؟ اگر واقعہ یہ نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نباتات اور حیوانات کی دنیا میں، جہاں انسانی ریاست نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ریاست براہ راست تقسیم رزق کا انتظام کررہی ہے۔ اللہ میاں خود اپنے اس قرآنی قانون کی خلاف ورزی ـــــــبلکہ معاذ اللہ، بے انصافی ـــــــفرمارہے ہیں۔ پھر وہ یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ حیوانات بھی ہیں جنھیں انسان پالتا ہے اور جن کی خوراک کا انتظام انسان ہی کے ذمہ ہے۔ مثلاً بھیڑ ، بکری، گائے، گھوڑے، گدھے، خچر اور اونٹ وغیرہ۔ تو کیا وہ ریاست انسان اور ان حیوانات کے درمیان بھی معاشی مساوات قائم کرے گی؟
(تفہیم القرآن، ج ۴، حٰم السجدہ، حاشیہ: ۱۲)

اَلْمُسْتَعَانُ : فریاد رس ، جس سے مدد مانگی جائے، مدد کا سہارا

سورہ یوسف آیت ۱۸ میں ارشاد ربانی ہے:
وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَاتَصِفُوْنَ۔
’’جو بات تم بنارہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔‘‘
سورۃ الانبیاء آیت ۱۱۲ میں ارشاد ہے:
وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَا تَصِفُوْنَ۔
’’ ان کے مقابلے میں ہمارا ربِّ رحمن ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے۔‘‘
سورہ فاتحہ میں ارشاد ہے:
اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
’’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘
یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا رب توہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد ہی پر ہمارا اعتماد ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، الفاتحہ، حاشیہ:۷)

اَلْوَہَّابُ : اصل داتا، فیاض حقیقی

سورہ آل عمران آیت ۸ میں ہے:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً ج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ۔
’’پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے راستے پر لگا چکا ہے، توپھر کہیں ہمارے دلوںکو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو۔ ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔‘‘
سورہ ص آیت ۹ میں ارشاد ہے:
اَمْ عِنْدَ ہُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَہَّابِ۔
’’کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں۔‘‘
سورہ صٓ آیت ۳۵ میں ہے:
قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکًالَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ م بَعْدِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ۔
’’اے میرے رب! مجھے معاف کردے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو۔ بے شک تو ہی اصل داتا ہے۔‘‘
بندے کے لیے صحیح رویہ قصور کرکے اکڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ جس وقت بھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اسی وقت وہ عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے۔ اس رویہ کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف ہی نہیں کرتا بلکہ زیادہ الطاف و عنایات سے نوازتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، صٓ ، حاشیہ: ۳۶)
اللہ تعالیٰ کو بندے کی اکڑ جتنی مبغوض ہے، اس کی عاجزی کی ادا اتنی ہی محبوب ہے۔ بندہ اگر قصور کرے اور تنبیہ کرنے پر الٹا اور زیادہ اکڑ جائے تو انجام وہ ہوتا ہے (جو ابلیس کا ہوا) اس کے برعکس ذرا لغزش بھی اگر بندے سے ہوجائے اور وہ توبہ کرکے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھک جائے تو اس پر وہ نوازشات فرمائی جاتی ہیں جو دائود و سلیمان علیہما السلام پر فرمائی گئیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے استغفار کے بعد جو دعا کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کیا اور ان کو فی الواقع ایسی بادشاہی دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی تھی، نہ ان کے بعد آج تک کسی کو عطا کی گئی۔ ہوائوں پر تصرف اور جنوں پر حکمرانی ایک ایسی غیر معمولی طاقت ہے جو انسانی تاریخ میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کو بخشی گئی ہے، کوئی دوسرا اس میں ان کا شریک نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، صٓ ، حاشیہ:۴۰)
اللہ کے نیک بندے جب مصائب و شدائد میں مبتلا ہوتے ہیں تو اپنے رب سے شکوہ سنج نہیں ہوتے بلکہ صبر کے ساتھ اس کی ڈالی ہوئی آزمائشوں کو برداشت کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ ان کا یہ طریقہ نہیں ہوتا کہ کچھ مدت تک خدا سے دعا مانگتے رہنے پر بلا نہ ٹلے تو پھر اس سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانوں پر ہاتھ پھیلانا شروع کردیں۔ بلکہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ملنا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملنا ہے۔ اس لیے مصیبتوں کا سلسلہ چاہے کتنا ہی دراز ہو وہ اسی کی رحمت کے امید وار بنے رہتے ہیں۔ اسی لیے وہ ان الطاف و عنایات سے سرفراز ہوتے ہیں جن کی مثال حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، صٓ ، حاشیہ: ۴۷)

اَلْحَفِیُّ : بڑا ہی مہر بان

سورہ مریم آیت ۴۷ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَالَ سَلٰمٌ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْٓ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔
’’ ابراہیم علیہ السلام نے کہا۔ سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے، میرا رب مجھ پر بڑاہی مہربان ہے۔‘‘

الْوَارِثُ : حقیقی وارث

سورۃ الحجر آیت ۲۳ میں ارشاد ربانی ہے:
وَاِنَّا لَنَحْنُ نُحْیِیْ وَنُمِیْتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُوْنَ۔
’’ زندگی اور موت ہم دیتے ہیں اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں۔‘‘
یعنی تمہارے بعد ہم ہی باقی رہنے والے ہیں۔ تمہیں جو کچھ بھی ملا ہوا ہے محض عارضی استعمال کے لیے ملا ہوا ہے۔ آخر کار ہماری دی ہوئی ہر چیز کو یونہی چھوڑ کر تم خالی ہاتھ رخصت ہوجائو گے اور یہ سب چیزیں جوں کی توں ہمارے خزانے میں رہ جائیں گی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الحجر ، حاشیہ: ۱۵)
سورہ انبیا ء آیت ۸۹ میں ارشاد ہوا ہے:
وَزَکَرِیَّآ اِذْنَادیٰ رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ۔
’’ اور زکریّا کو، جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ ’’ اے پروردگار ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ ، اور بہترین وارث تو تو ہی ہے۔‘‘
یعنی تو اولاد نہ بھی دے تو غم نہیں، تیری ذات پاک وارث ہونے کے لیے کافی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء ، حاشیہ: ۸۶)
زمین و آسمان کی جو چیز بھی کوئی مخلوق استعمال کررہی ہے وہ دراصل اللہ کی ملک ہے اور اس پر مخلوق کا قبضہ و تصرف عارضی ہے۔ ہر ایک کو اپنے مقبوضات سے بہر حال بے دخل ہونا ہے اور آخر کار سب کچھ اللہ ہی کے پاس رہ جانے والا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، آل عمران، حاشیہ: ۱۲۷)
یہ مال تمہارے پاس ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ ایک دن تمہیں لازماً اسے چھوڑ کر ہی جانا ہے اور اللہ ہی اس کا وارث ہونے والا ہے۔ پھر کیوں نہ اپنی زندگی میں اسے اپنے ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ کردو تاکہ اللہ کے ہاں اس کا اجرتمہارے لیے ثابت ہوجائے۔ نہ خرچ کروگے تب بھی یہ اللہ ہی کے پاس واپس جاکر رہے گا، البتہ فرق یہ ہوگا کہ اس پر تم کسی اجر کے مستحق نہ ہوگے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے تم کو کسی فقراور تنگ دستی کا اندیشہ لاحق نہ ہونا چاہیے، کیوں کہ جس خدا کی خاطر تم اسے خرچ کروگے وہ زمین و آسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے، اس کے پاس تمہیں دینے کو بس اتنا ہی کچھ نہ تھا جو اس نے آج تمہیں دے رکھا ہے، بلکہ کل وہ تمہیں اس سے زیادہ دے سکتا ہے۔ (جیسا کہ سورہ سبا آیت ۳۹ میں ارشاد ہے):
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِ رُلَہٗ، وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیٍْٔ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ وَہُوَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ۔ (سبا : ۳۹)
’’ اے نبیؐ ! ان سے کہو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کی جگہ وہی مزید رزق تمہیں دیتا ہے اور وہ بہترین رزّاق ہے۔‘‘
سورۃ القصص آیت ۵ میں ہے:
وَنَجْعَلَہُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِیْنَ۔
’’اور انھیں پیشوا بنادیں اور انھیں کو وارث بنائیں۔‘‘
سورۃ القصص آیت ۵۸ میں ہے:
وَکُنَّا نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ۔
’’آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے۔‘‘
سورہ مریم آیت ۴۰ میں ارشاد ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْہَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۔
’’آخر کار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔‘‘
بڑی سے بڑی دولت بھی جو دنیا میں کسی شخص کو ملی ہے، ایک تھوڑی سی مدت ہی کے لیے ملی ہے۔ چند سال وہ اس کو برت لیتا ہے اور پھر سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوجاتا ہے۔ پھر وہ دولت بھی چاہے بہی کھاتوں میں کتنی ہی بڑی ہو، عملاً اس کا ایک قلیل سا حصہ ہی آدمی کے اپنے استعمال میں آتا ہے۔ اس مال پر اترانا کسی ایسے انسان کا کام نہیں ہے جو اپنی اور اس مال و دولت کی اور خود اس دنیا کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۵۵)

اَلْوَلِیُّ : حامی، ساتھی، دوست، سرپرست

ولی سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی پیدا کردہ ساری مخلوق کے معاملات کی متولی ہے، جس نے بندوں کی حاجات و ضروریات پوری کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ: ۴۹)
ولایت کوئی من سمجھوتے کی چیز نہیں ہے کہ آپ جسے چاہیں اپنا ولی بنا بیٹھیں اور وہ حقیقت میں بھی آپ کا سچا اور اصلی ولی بن جائے اور ولایت کا حق ادا کردے۔ یہ تو ایک امر واقعی ہے جو لوگوں کی خواہشات کے ساتھ بنتا اور بدلتا نہیں چلا جاتا، بلکہ جو حقیقت میں ولی ہے وہی ولی ہے، خواہ آپ اسے ولی نہ سمجھیں اور نہ مانیں، اور جو حقیقت میں ولی نہیں ہے وہ ولی نہیں ہے، خواہ آپ مرتے دم تک اسے ولی سمجھتے اور مانتے چلے جائیں۔ اب رہا یہ سوال کہ صرف اللہ ہی کے ولی حقیقی ہونے اور دوسرے کسی کے نہ ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا حقیقی ولی وہی ہوسکتا ہے جو موت کو حیات میں تبدیل کرتا ہے، جس نے بے جان مادوں میں جان ڈال کر جیتا جاگتا انسان پیدا کیا ہے، اور جو حق ولایت ادا کرنے کی قدرت اور اختیارات بھی رکھتا ہے۔ وہ اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو اسے ولی بنائو، اور اگر وہ صرف اللہ ہی ہے، تو پھر اس کے سوا کسی اور کو اپنا ولی بنالینا جہالت و حماقت اور خودکشی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ:۱۲)
سورہ عنکبوت آیت ۲۲ میں ارشاد ہے:
وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔
’’اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔‘‘
یعنی نہ تمہارا اپنا زور اتنا ہے کہ خدا کی پکڑ سے بچ جائو، اور نہ تمہارا کوئی ولی و سرپرست یا مددگار ایسا زور آور ہے کہ خدا کے مقابلے میں تمہیں پناہ دے سکے اور اس کے مواخذہ سے تمہیں بچالے۔ ساری کائنات میں کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ جن لوگوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا ہے، جنھوں نے احکام خداوندی کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے، جنھوں نے جرأت و جسارت کے ساتھ خدا کی نافرمانیاں کی ہیں اور اس کی زمین میں ظلم و فساد کے طوفان اٹھائے ہیں، ان کا حمایتی بن کر اٹھ سکے اور خدا کے فیصلۂ عذاب کو ان پر نافذ ہونے سے روک سکے، یا خدا کی عدالت میں یہ کہنے کی ہمت کرسکے کہ یہ میرے ہیں اس لیے جو کچھ بھی انھوں نے کیا ہے اسے معاف کردیا جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳ ، العنکبوت، حاشیہ: ۳۵)
جو ظالم اللہ ہی سے منہ موڑ لے اور اس کے بجائے دوسروں کو اپنا ولی بنا بیٹھے ، اللہ کو کچھ ضرورت نہیں پڑی ہے کہ خواہ مخواہ زبردستی اس کا ولی بنے، اور دوسرے جن کو وہ ولی بناتا ہے، سرے سے کوئی علم، کوئی طاقت اور کسی قسم کے اختیارات ہی نہیں رکھتے کہ اس کی ولایت کا حق ادا کرکے اسے کامیاب کرادیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ، حاشیہ :۱۱)
یہ اللہ تعالیٰ کے مالک کائنات اور ولی حقیقی ہونے کا فطری اور منطقی تقاضا ہے (کہ) جب بادشاہی اور ولایت اسی کی ہے تو لامحالہ پھر حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے باہمی تنازعات اور اختلافات کا فیصلہ کرنا بھی اسی کا کام ہے۔
(تفہیم القرآن،ج۴، الشوریٰ حاشیہ: ۱۴)
(ولی بمعنی سنبھالنے والا) سورہ شوریٰ آیت ۴۴ میں ارشاد ہے:
وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْ م بَعْدِہٖ۔
’’جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ اللہ نے قرآن جیسی بہترین کتاب ان لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجی جو نہایت معقول اور نہایت مؤثرو دل نشین طریقہ سے ان کو حقیقت کا علم دے رہی ہے اور زندگی کا صحیح راستہ بتارہی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ جیسا نبی ان کی رہنمائی کے لیے بھیجا جن سے بہتر سیرت و کردار کا آدمی کبھی ان کی نگاہوں نے نہ دیکھا تھا۔ اور اس کتاب اور اس رسول کی تعلیم و تربیت کے نتائج بھی اللہ نے ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں انھیں آنکھوں سے دکھا دیے۔ اب اگر کوئی شخص یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ہدایت سے منہ موڑتا ہے تو اللہ پھر اسی گمراہی میں اسے پھینک دیتا ہے جس سے نکلنے کا وہ خواہش مند نہیں ہے اور جب اللہ ہی نے اسے اپنے دروازے سے دھتکار دیا تو اب کون یہ ذمہ لے سکتا ہے کہ اسے راہ راست پر لے آئے گا۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ: ۶۹)
(ولی بمعنی ساتھی) سورہ جاثیہ آیت ۱۹ میں ارشاد ہے:
وَاِنَّ الظَّالِمِیْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ۔
’’ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔‘‘
قرآن پاک کا تتبع کرنے سے لفظ ’’ولی‘‘ کے حسب ذیل مفہومات معلوم ہوتے ہیں:
۱- جس کے کہنے پر آدمی چلے، جس کی ہدایات پر عمل کرے اور جس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں ، رسموں اور قوانین و ضوابط کی پیروی کرے۔ (النساء : ۱۱۸ تا ۱۲۰۔ الاعراف: ۳، ۲۷تا ۳۰)
۲- جس کی رہنمائی (Guidance) پر آدمی اعتماد کرے اور یہ سمجھے کہ وہ اسے صحیح راستہ بتانے والا اور غلطی سے بچانے والا ہے۔ (البقرۃ :۲۵۷۔بنی اسرائیل:۹۷۔ الکہف:۱۷،۵۰۔ الجاثیہ:۱۹)
۳- جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ میں دنیا میں خواہ کچھ کرتا رہوں ، وہ مجھے اس کے برے نتائج سے اور اگر خدا ہے اور آخرت بھی ہونے والی ہے، تو اس کے عذاب سے بچالے گا۔
(النساء :۱۲۳،۱۷۳۔ الانعام ۵۱۔ الرعد: ۳۷۔ العنکبوت:۲۲۔ الاحزاب :۶۵۔ الزمر:۳)
۴- جس شخص کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ وہ دنیا میں فوق الفطری طریقے سے اس کی مدد کرتا ہے۔ آفات و مصائب سے اس کی حفاظت کرتا ہے، اسے روزگار دلواتا ہے۔ اولاد دیتا ہے، مرادیں برلاتا ہے اور دوسری ہر طرح کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ (ہود: ۲۰۔ الرعد:۱۶۔ العنکبوت:۴۱)
بعض مقامات پر قرآن میں ولی کا لفظ ان میں سے کسی ایک معنی میں استعمال کیا گیاہے، اور بعض مقامات پر جامعیت کے ساتھ اس کے سارے ہی مفہومات مراد ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ: ۶)
انسان کا اور ساری مخلوقات کا ولی حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے، دوسرے نہ حقیقت میں ولی ہیں، نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ ولایت کا حق ادا کر سکیں، انسان کی کامیابی کا مدار اسی پر ہے کہ وہ اپنے لیے اپنے اختیار سے ولی کا انتخاب کرنے میں غلطی نہ کرے اور اسی کو اپنا ولی بنائے جو درحقیقت ولی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ : دیباچہ)

اَلْقَادِرُ : پوری قدرت رکھنے والا

سورۃ الانعام آیت ۳۷ میں ارشاد ربانی ہے:
قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلیٰ اَنْ یُنَزِّلَ اٰیَۃً۔
’’ کہو! اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ معجزہ نہ دکھائے جانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو دکھانے سے عاجز ہیں، بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے جسے یہ لوگ محض اپنی نادانی سے نہیں سمجھتے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ: ۲۶)
دوسرے مقام پر الانعام کی آیت ۶۵ میں ارشاد ہے:
قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلیٰ اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ۔
’’ کہو! وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔‘‘
جو لوگ عذاب الٰہی کو اپنے سے دور پا کر حق دشمنی میں جرأت پر جرأت (دکھاتے ہیں) انھیں متنبہ کیا جارہا ہے کہ اللہ کے عذاب کو آتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ہوا کا ایک طوفان تمہیں اچانک برباد کرسکتا ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا تمہاری بستیوں کو پیوند خاک کردینے کے لیے کافی ہے۔ قبیلوں اور قوموں اور ملکوں کی عداوتوں کے میگزین میں ایک چنگاری وہ تباہی پھیلا سکتی ہے کہ سالہا سال تک خونریزی و بدامنی سے نجات نہ ملے۔ پس اگر عذاب نہیں آرہا ہے تو یہ تمہارے لیے غفلت و مدہوشی کی پینک نہ بن جائے کہ مطمئن ہو کر صحیح و غلط کا امتیاز کیے بغیر اندھوں کی طرح زندگی کے راستے پر چلتے رہو۔ غنیمت سمجھو کہ اللہ تمہیں مہلت دے رہا ہے اور وہ نشانیاں تمہارے سامنے پیش کررہا ہے جن سے تم حق کو پہچان کر صحیح راستہ اختیار کرسکو۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ: ۴۲)
سورہ بنی اسرائیل آیت ۹۹ میں ارشاد ربانی ہے:
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلیٰٓ اَنْ یَخْلُقَ مِثْلَہُمْ۔
’’کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے۔‘‘
سورہ یٰسٓآیت ۸۱ میں ارشاد ہے:
اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلیٰ اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ۔
’’کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے۔‘‘
سورہ احقاف آیت ۳۳ میں ارشاد ہے:
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقَادِرٍ عَلیٰٓ اَنْ یُحْیِ الْمَوْتیٰ۔
’’اورکیا ان لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کے بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پرقادر ہے کہ مردوں کو جلا اٹھائے۔‘‘
سورہ قیامہ آیت ۴۰ میں ارشاد ہے:
اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلیٰ اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتیٰ۔
’’کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے؟‘‘
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق کا آغاز کرکے پورا انسان بنادینے تک کا سارا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور حکمت کا کرشمہ ہے۔ ان کے لیے تو فی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں،کیوں کہ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی برتیں، ان کی عقل یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجود میں لے آنے پر قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ اگر ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان کے پاس اس بات کی کیا توجیہہ ہے کہ آغاز آفرینش سے آج تک دنیا کے ہر حصے اور ہر قوم میں کس طرح ایک ہی نوعیت کے تخلیقی فعل کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش مسلسل اسی تناسب سے ہوتی چلی جارہی ہے کہ کہیں کسی زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی انسانی آبادی میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہی پیدا ہوتی چلی جائیں اور آئندہ اس کی نسل چلنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے؟ کیا یہ بھی اتفاقاً ہی ہوئے چلا جارہا ہے؟ اتنا بڑا دعویٰ کرنے کے لیے آدمی کو کم از کم اتنا بے شرم ہونا چاہیے کہ وہ اٹھ کر بے تکلف یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ لندن اور نیویارک، ماسکو اور پیکنگ اتفاقاً آپ سے آپ بن گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ: حاشیہ: ۲۵)
سورہ طارق آیت ۸ میں ارشاد ہے:
اِنَّہٗ عَلیٰ رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ۔
’’یقینا وہ (خالق) اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔‘‘
جس طرح وہ انسان کو وجود میں لاتا ہے اور استقرار حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے، یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں لاسکتا ہے۔ اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں زندہ موجود ہے، تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جاسکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں ہے۔ اس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے اس بات ہی کا انکا رکرنا ہوگا کہ خدا اسے وجود میں لایا ہے، اور جو شخص اس کا انکار کرے اس سے کچھ بعید نہیں کہ ایک روز اس کے دماغ کی خرابی اس سے یہ دعویٰ بھی کرادے کہ دنیا کی تمام کتابیں ایک حادثے کے طور پر چھپ گئی ہیں، دنیا کے تمام شہر ایک حادثہ کے طور پر بن گئے ہیں، اور زمین پر کوئی اتفاقی حادثہ ایسا ہوگیا تھا جس سے تمام کارخانے بن کر خود بخود چلنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کے جسم کی بناوٹ اور اس کے اندر کام کرنے والی قوتوں اور صلاحیتوں کا پیدا ہونا اور اس کا ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے باقی رہنا ان تمام کاموں سے بدرجہا زیادہ پیچیدہ عمل ہے جو انسان کے ہاتھوں دنیا میں ہوئے اور ہورہے ہیں ۔ اتنا بڑا پیچیدہ عمل اس حکمت اور تناسب اور تنظیم کے ساتھ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر ہوسکتا ہو تو پھر کون سی چیز ہے جسے ایک دماغی مریض حادثہ نہ کہہ سکے؟

اَلْغَالِبُ : غلبہ پانے والا

سورہ یوسف آیت ۲۱ میں ارشاد ہے:
وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلیٰٓ اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۔
’’ اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
زمین پر ہر طرف ایک غالب طاقت کی کارفرمائی کے یہ آثار نظر آتے ہیں کہ اچانک کبھی قحط کی شکل میں، کبھی وبا کی شکل میں، کبھی سیلاب کی شکل میں ، کبھی زلزلے کی شکل میں، کبھی سردی یا گرمی کی شکل میں، اور کبھی کسی اور شکل میں کوئی بلا ایسی آجاتی ہے جو انسان کے سب کیے دھرے پر پانی پھیردیتی ہے، ہزاروں لاکھوں آدمی مرجاتے ہیں۔ بستیاں تباہ ہو جاتی ہیں، لہلہاتی کھیتیاں غارت ہوجاتی ہیں، پیداوار گھٹ جاتی ہے۔ تجارتوں میں کساد بازاری آنے لگتی ہے۔ غرض انسان کے وسائل زندگی میں کبھی کسی طرف سے کمی واقع ہوجاتی ہے اور کبھی کسی طرف سے۔ اور انسان اپنا سارا زور لگا کر بھی ان نقصانات کو نہیں روک سکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء ، حاشیہ: ۴۵)
دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بالکل بخیرت ہی نہیں رکھا ہے کہ پورے آرام و سکون سے زندگی کی گاڑی چلتی رہے اور آدمی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے کہ اس سے بالا تر کوئی طاقت نہیں ہے جو اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ وقتاً فوقتاً افراد پر بھی اور قوموں اور ملکوں پر بھی ایسی آفات بھیجتا رہتا ہے جو اسے اپنی بے بسی کا اور اپنے سے بالا تر ایک ہمہ گیر سلطنت کی فرماں روائی کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ آفات ایک ایک شخص کو، ایک ایک گروہ کو اور ایک ایک قوم کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ اوپر تمہاری قسمتوں کو کوئی اور کنٹرول کررہا ہے۔ سب کچھ تمہارے ہاتھ میں نہیں دے دیا گیا ہے۔ اصل طاقت اسی کار فرما اقتدار کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی طرف سے جب کوئی آفت تمہارے اوپر آئے تو نہ تمہاری کوئی تدبیر اسے دفع کرسکتی ہے، اور نہ کسی جن ، یا روح یا دیوی اور دیوتا ، یا نبی اور ولی سے مدد مانگ کر تم اس کو روک سکتے ہو۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، السجدہ ، حاشیہ: ۳۳)
جب کہ ان کے تمام وسائل زندگی ہمارے ہاتھ میں ہیں، جس چیز کو چاہیں گھٹادیں اور جسے چاہیں روک لیں، تو کیا یہ اتنا بل بوتا رکھتے ہیں کہ ہمارے مقابلے میں غالب آجائیں اور ہماری پکڑ سے بچ نکلیں؟ کیا یہ آثار ان کو یہی اطمینان دلا رہے ہیں کہ تمہاری طاقت لازوال اور تمہارا عیش غیر فانی ہے اور کوئی تمہیں پکڑنے والا نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء، حاشیہ: ۴۶)
جب تک اسباب سازگار رہتے ہیں انسان کو خدا بھولا اور دنیا کی زندگی پر پھولا رہتا ہے۔ جہاں اسباب نے ساتھ چھوڑا اور وہ سب سہارے جن کے بل پر وہ جی رہا تھا ٹوٹ گئے، پھر کٹے سے کٹے مشرک اور سخت سے سخت دہریے کے قلب سے بھی یہ شہادت ابلنی شروع ہوجاتی ہے کہ اس سارے عالم اسباب پر کوئی خدا کار فرما ہے اور وہ ایک ہی خدائے غالب و توانا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۳۱)

اَلْقَاہِرُ : کامل اختیارات رکھنے والا، پوری قدرت رکھنے والا

سورۃ الانعام آیت ۱۸ میں ارشاد ربانی ہے:
وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ۔
’’وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے۔‘‘
اسی طرح آیت ۶۱ میں بھی ارشاد ہے:
وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً۔
’’اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ تنہا اللہ ہی قادر مطلق ہے، اور وہی تمام اختیارات کا مالک اور تمہاری بھلائی اور برائی کا مختار کل ہے، اور اسی کے ہاتھ میں تمہاری قسمتوں کی باگ ڈور ہے، اس کی شہادت تو تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب کوئی سخت وقت آتا ہے اور اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بے اختیار اسی کی طرف رجوع کرتے ہو۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ: ۴۱)

اَلْبَرُّ : بڑا ہی محسن

سورہ طور آیت ۲۸ میں ارشاد ربانی ہے:
اِنَّہٗ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۔
’’ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔‘‘
سورہ ابراہیم ۳۲ تا ۳۴ میں ارشاد ہے:
’’ اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریائوں کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتا رچلے جارہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔‘‘
یعنی تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی، تمہاری زندگی کے لیے جو جو کچھ مطلوب تھا مہیا کیا، تمہارے بقا اور ارتقا کے لیے جن جن وسائل کی ضرورت تھی سب فراہم کردیے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ابراہیم ، حاشیہ:۴۵)
سورۃ النحل آیات ۴ تا ۱۶ میں ارشاد ہے: اس نے انسان کو ایک ذراسی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑا لو ہستی بن گیا۔ اس نے جانور پیدا کیے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی۔ ان میں تمہارے لیے جمال ہے جب کہ صبح تم انھیں چرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جب کہ شام انھیں واپس لاتے ہو۔ وہ تمہارے لیے بوجھ ڈھوکر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جان فشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔ اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں (تمہارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے ، جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے۔ اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔
وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے۔ اس میں ایک بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
اس نے تمہاری بھلائی کے لیے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں، ان میں بھی ضرور نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں۔
وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھائواور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنھیں تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔
اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑدیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈھلک نہ جائے۔ اس نے دریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پائو۔ اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں۔
(سورۃ النحل آیات ۷۸ تا ۸۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے) اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو۔ کیاان لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں؟ اللہ کے سوا کس نے ان کو تھام رکھا ہے؟ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔ اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لیے ایسے مکان پیدا کیے جنھیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اُون اور بالوں سے تمہارے لیے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔ اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے۔
بندہ جو اپنے رب کی نعمتوں سے متمتع ہورہا ہے اپنے نزدیک یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نعمتیں کسی کی دی ہوئی نہیںہیں بلکہ آپ سے آپ اسے مل گئی ہیں، یا یہ کہ یہ نعمتیں خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت یا خوش نصیبی کا ثمرہ ہیں، یا یہ کہ یہ ہیں تو خداکا عطیہ مگر اس خدا کا اپنے بندے پر کوئی حق نہیں ہے، یا یہ کہ خدا نے خود یہ مہربانیاں اس پر نہیں کی ہیں بلکہ یہ کسی دوسری ہستی نے اس سے کروادی ہیں۔ یہی وہ غلط تصورات ہیں جن کی بنا پر آدمی خدا سے بے نیاز اور اس کی اطاعت و بندگی سے آزاد ہو کر دنیا میں وہ افعال کرتا ہے جن سے خدا نے منع کیا ہے اور وہ افعال نہیں کرتا جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ اس لحاظ سے ہر جرم اور ہر گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی تکذیب ہے قطع نظر اس سے کہ کوئی شخص زبان سے ان کا انکار کرتا ہو یا اقرار۔ مگر جو شخص فی الواقع تکذیب کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ اس کے ذہن کی گہرائیوں میں تصدیق موجود ہوتی ہے، وہ احیاناً کسی بشری کمزوری سے کوئی قصور کر بیٹھے تو اس پر استغفار کرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیز اسے مکذبین میں شامل ہونے سے بچالیتی ہے۔ اس کے سوا باقی تمام مجرم درحقیقت اللہ کی نعمتوں کے مکذب اور اس کے احسانات کے منکر ہیں۔ سورۃ الرحمن آیت ۳۹ میں ہے کہ جب تم لوگ مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہوجائو گے اس وقت ہم دیکھیں گے کہ تم ہمارے کس کس احسان کا انکار کرتے ہو۔ سورہ تکاثر میں یہی بات اس طرح فرمائی گئی ہے کہ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۔ اس روز ضرور تم سے ان نعمتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی جو تمہیں دی گئی تھیں۔یعنی پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں ہم نے تمہیں دی تھیں یا نہیں؟ اور انھیں پا کر تم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا؟ اور اس کی نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا؟
(تفہیم القرآن، ج۵، الرحمن، حاشیہ: ۳۷)
ساری نعمتیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اور ساری مخلوقات کا حقیقی محسن اس کے سوا کوئی نہیں ہے ۔ دوسری کسی ہستی کے کسی احسان کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں تو اس بنا پر کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنی نعمت اس کے ہاتھوں ہم تک پہنچائی، ورنہ وہ خود نہ اس نعمت کا خالق ہے، نہ اس کی توفیق کے بغیر وہ اس نعمت کو ہم تک پہنچاسکتا تھا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن، حاشیہ:۳)

اَلْحَافِظُ : نگہبان

سورۃ الطارق کی آیت ۴ میں ارشاد ربانی ہے:
اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ۔
’’کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔‘‘
نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے، جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آتی ہے ، جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔
رات کو آسمان میں یہ بے حد و حساب تارے اور سیارے جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے بنایا ہے، روشن کیاہے، فضا میں معلق رکھ چھوڑا ہے، اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کررہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے، نہ بے شمار تاروں کی گردش کے دوران میں وہ کسی سے ٹکراتاہے اور نہ کوئی دوسرا تارا اس سے ٹکراتا ہے۔
انسان خود ذرا اپنی ہستی ہی پر غور کرلے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے؟ کون ہے جو باپ کے جسم سے خارج ہونے والے اربوں جراثوموں میں سے ایک جرثومے اور ماں کے اندر سے نکلنے والے بکثرت بیضوں میں سے ایک بیضے کا انتخاب کرکے دونوں کو کسی وقت جوڑ دیتا ہے اور اس سے ایک خاص انسان کا استقرار حمل واقع ہوجاتا ہے؟ پھر کون ہے جو استقرار حمل کے بعد سے ماں کے پیٹ میں درجہ بدرجہ اسے نشوونما دے کر اسے ایک حد کو پہنچاتا ہے کہ وہ ایک زندہ بچے کی شکل میں پیدا ہو؟ پھر کو ن ہے جو رحم مادر ہی میں اس کے جسم کی ساخت اور اس کی جسمانی و ذہنی صلاحتیوں کا تناسب قائم کرتا ہے؟ پھر کون ہے جو پیدائش سے لے کر موت کے وقت تک اس کی مسلسل نگہبانی کرتا رہتا ہے؟ اسے بیماریوں سے بچاتا ہے، حادثات سے بچاتا ہے۔ طرح طرح کی آفات سے بچاتا ہے۔ اس کے لیے زندگی کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جن کا شمار نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے لیے ہر قدم پر دنیا میں باقی رہنے کے وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں سے اکثر کا اسے شعور تک نہیں ہوتا کجا وہ انھیں خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ کیا یہ سب کچھ ایک خدا کی تدبیر اور نگہبانی کے بغیر ہورہا ہے؟
(تفہیم القرآن، ج۶ ،الطارق، حاشیہ: ۱-۲)
قرآن مجید کی حفاظت کے ضمن میں ارشاد الٰہی ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ۔ (الحجر:۹)
’’ رہا یہ ذکر ، تو اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔‘‘
کفار سے مخاطب ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’یہ ذکر‘‘ جس کے لانے والے کو تم مجنوں کہہ رہے ہو، ہمارا نازل کیا ہوا ہے، اس نے خود نہیں گھڑا ہے۔ یہ خیال تم اپنے دل سے نکال دو کہ تم اس ’’ذکر‘‘ کا کچھ بگاڑ سکو گے۔ یہ براہ راست ہماری حفاظت میں ہے۔ نہ تمہارے مٹائے مٹ سکے گا، نہ تمہارے دبائے دب سکے گا، نہ تمہارے طعنوں اور اعتراضوں سے اس کی قدر گھٹ سکے گی، نہ تمہارے روکے اس کی دعوت رک سکے گی، نہ اس میں تحریف اور ردو بدل کرنے کا کبھی کسی کو موقع مل سکے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الحجر، حاشیہ:۶)

اَلْاَحَدُ : یکتا ویگانہ

سورۃ الاخلاص آیت :۱ میں ارشاد ہے: قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔ ’’کہو، وہ اللہ ہے یکتا۔‘‘
سب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ اَحَد جس طرح استعمال کیا گیا ہے وہ عربی زبان میں اس لفظ کا غیر معمولی استعمال ہے، معمولاً یہ لفظ یا تو مضاف یا مضاف الیہ کے طور پراستعمال ہوتا ہے،جیسے یَوْمُ الْاَحَدِ ہفتے کادن،اور فَابْعَثُوْا اَحَدَکُمْ، ’’اپنے کسی آدمی کو بھیجو۔‘‘یا نفی عام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے مَاجَآئَ نِیْ اَحَدٌ،’’میرے پاس کوئی نہیں آیا۔ ‘‘یا عمومیت کا پہلو لیے ہوئے سوالیہ فقرہ میں بولا جاتا ہے، ہَلْ عِنْدَکَ اَحَدٌ؟ ’’کیا تمہارے پاس کوئی ہے؟‘‘ یا اسی عمومیت کے پہلو سے شرطیہ جملہ میں بولا جاتا ہے، جیسے اِنْ جَآئَ کَ اَحَدٌ، ’’اگر تمہارے پاس کوئی آئے۔‘‘ یا گنتی میں بولا جاتا ہے، جیسے اَحَدٌ، اِثْنَانِ ، اَحَدَ عَشَرَ ایک، دو، گیارہ۔ ان استعمالات کے سوا نزول قرآن سے پہلے کی عربی زبان میں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ محض لفظ اَحَدْ وصف کے طور پر کسی شخص یا چیز کے لیے بولا گیا ہو، اور نزول قرآن کے بعد یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال کیا گیا ہے، دوسرے کسی کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ اس غیر معمولی طرز بیان سے خود بخود ظاہر ہوتاہے کہ یکتا و یگانہ ہونا اللہ کی خاص صفت ہے، موجودات میں سے کوئی دوسرا اس صفت سے متصف نہیں ہے۔ وہ ایک ہے، کوئی اس کا ثانی نہیں۔
مشرکین اور اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے رب کے بارے میں جو سوالات کیے تھے ان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے دیکھیے کہ ہُوَاللّٰہُ کہنے کے بعد اَحَدٌ کہہ کر ان کا جواب کس طرح دیا گیا ہے: اوّلاً، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہی اکیلا رب ہے، کسی دوسرے کا ربوبیت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اور چونکہ الٰہ (معبود) وہی ہوسکتا ہے جو رب (مالک و پروردگار) ہو، اس لیے الوہیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔
ثانیاً : اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہی تنہا کائنات کا خالق ہے، تخلیق کے اس کام میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ہے۔ وہی اکیلا مالک الملک ہے، نظام عالم کا مدبر و منتظم ہے، اپنی مخلوقات کا رزق رساں ہے، اور آڑے وقت میں مدد کرنے والا فریاد رس ہے۔ خدائی کے ان کاموں میں، جن کو تم خود مانتے ہو، کہ یہ اللہ کے کام ہیں، کسی دوسرے کا قطعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔
ثالثاً، چونکہ انھوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ اس کا نسب کیا ہے؟ وہ کس جنس سے ہے؟ کس سے اس نے دنیا کی میراث پائی ہے؟ اور اس کے بعد کون اس کاوارث ہوگا؟ اس لیے ان کے ان سارے سوالات کا جواب بھی اللہ تعالیٰ کے لیے صرف ایک لفظ اَحَد بول کردے دیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ:
۱- وہی ایک خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس سے پہلے کوئی خدا تھا، نہ اس کے بعد کوئی خدا ہوگا۔
۲- خدائوں کی کوئی جنس نہیں ہے جس کا وہ فرد ہو، بلکہ وہ اکیلا خدا ہے اور کوئی اس کا ہم جنس نہیں۔
۳- اس کی ذات محض واحد نہیں بلکہ اَحَد ہے جس میں کسی حیثیت سے بھی کثرت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ وہ اجزاء سے مرکب وجود نہیں ہے جو قابل تجزیہ و تقسیم ہو، جو کوئی شکل اور صورت رکھتا ہو، جو کسی جگہ میں رہتا ہو یا کوئی چیز اس کے اندر جگہ پاتی ہو، جس کا کوئی رنگ ہو، جس کے کچھ اعضاء ہوں، جس کی سمت اور جہت ہو، اور جس کے اندر کسی قسم کا تغیر و تبدل ہوتا ہو، تمام اقسام کی کثرتوں سے بالکل پاک اور منزہ وہ ایک ہی ذات ہے جو ہر لحاظ سے اَحَد ہے۔
اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ عربی زبان میں واحد کا لفط بالکل اسی طرح استعمال ہوتا ہے جس طرح ہم اردو میں ’’ ایک‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ بڑی سے بڑی کثرتوں پر مشتمل کسی مجموعہ کوبھی اس کے مجموعی حیثیت کے لحاظ سے واحد یا ایک کہا جاتاہے۔ جیسے ایک آدمی، ایک قوم، ایک ملک، ایک دنیا، حتی کہ ایک کائنات۔ اور کسی مجموعہ کے ہر جز کو الگ الگ بھی ایک ہی کہا جاتا ہے۔ لیکن اَحَد کا لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے قرآن مجید میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے واحد کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاںالٰہ واحد ، ایک ہی معبود،یَا اللّٰہ الْوَاحد القَہَّارُ،اکیلا اللہ جو سب کو مغلوب کرکے رکھنے والا ہے کہا گیا ہے، محض واحدکہیں نہیں کہا گیا،کیونکہ یہ لفظ ان چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو اپنی ذات میں طرح طرح کی کثرتیں رکھتی ہیں۔ بخلاف اس کے اللہ کے لیے اور صرف اللہ کے لیے اَحَد کا لفظ مطلقاً استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ وجود میں صرف وہی ایک ہستی ایسی ہے جس میں کسی حیثیت سے بھی کوئی کثرت نہیں ہے، جس کی وحدانیت ہر لحاظ سے کامل ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الاخلاص، حاشیہ: ۳)

اَلصَّمَدُ : سب سے بے نیاز

سورہ اخلاص آیت ۲ میں ارشاد ہے: اللّٰہُ الصَّمَدُ جس کا مادہ (ص م د )ہے۔ عربی زبان میں اس مادے سے جو الفاظ نکلے ہیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے معانی کی وسعت کس قدر ہے۔
الصَّمَدُ : قصد کرنا، بلند مقام جو بڑی ضخامت رکھتا ہو، سطح مرتفع، وہ آدمی جسے جنگ میں بھوک پیاس نہ لگتی ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجات میں رجوع کیا جاتا ہو۔
الصَّمَدُ : ہرچیز کا بلند حصہ، وہ شخص جس سے بالاتر کوئی دوسرا شخص نہ ہو، وہ سردار جس کی اطاعت کی جاتی ہو اور اس کے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کیاجاتا ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجت مند لوگ رجوع کرتے ہوں۔ دائم، بلند مرتبہ،ٹھوس جس میں کوئی خول یا جھول نہ ہو اور جس سے نہ کوئی چیز نکلتی ہو نہ اس میں داخل ہوسکتی ہو، وہ آدمی جسے جنگ میں بھوک پیاس نہ لگتی ہو۔
الْمُصْمَدُ: ٹھوس چیز جس کا کوئی جوف نہ ہو۔
الْمَصْمُوْدُ: مقصود جس کی طرف جانے کا قصد کیا جائے۔ سخت چیز جس میں کوئی کمزوری نہ ہو۔
بَیْتٌ مُصَمَّدٌ: وہ گھر جس کی طرف حاجات میں رجوع کیا جاتا ہو۔
بِنَآئٌ مُصْمَدٌ : بلند عمارت۔
صَمَدَہٗ و صَمَدَ اِلَیْہِ صَمْدًا: اس شخص کی طرف جانے کا قصد کیا۔
اَصْمَدَ اِلَیْہِ الْاَمْرَ: اس کے سپرد معاملہ کردیا، اس کے آگے معاملہ پیش کردیا۔ اس کے اوپر معاملہ میں اعتماد کیا۔
(صحاح، قاموس، لسان العرب)
ان لغوی معنوں کی بنا پر آیت اَللّٰہُ الصَّمَدُ میں لفظ الصَّمَدَ کی جو تفسیریں صحابہ و تابعین اور بعد کے اہل علم سے منقول ہیںانھیں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔
حضرت علیؓ ، عکرمہ اور کعب احبار : ’’صَمَدْ، وہ ہے جس سے بالا تر کوئی نہ ہو۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباس، اور ابووائل شقیق بن سلمہ: ’’وہ سردار جس کی سیادت کامل ہو اور انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔‘‘
ابن عباسؓ کا دوسرا قول: ’’صمد وہ ہے جس کی طرف لوگ کسی بلایا مصیبت کے نازل ہونے پر مدد کے لیے رجوع کریں۔‘‘
ان کا ایک اور قول: ’’وہ سردار جو اپنی سیادت میں، اپنے شرف میں، اپنی عظمت میں، اپنے حلم اور بردباری میں، اپنے علم میں اور اپنی حکمت میں کامل ہو۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ: ’’وہ جو سب سے بے نیاز ہو اور سب اس کے محتاج ہوں۔‘‘
عکرمہ کے دوسرے اقوال: ’’وہ جس میں سے نہ کوئی چیز کبھی نکلی ہو نہ نکلتی ہو۔‘‘ ’’جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو۔‘‘ اسی کے ہم معنی اقوال شعبی اور محمد بن کعب القرظی سے بھی منقول ہیں۔
سدِّی : ’’مطلوب چیزیں حاصل کرنے کے لیے لوگ جس کا قصد کریں اور مصائب میں مدد کے لیے جس کی طرف رجوع کریں۔‘‘
سعید بن جبیر: ’’وہ جو اپنی تمام صفات اور اعمال میں کامل ہو۔‘‘
ربیع بن انس: ’’ وہ جس پر کوئی آفت نہ آتی ہو۔‘‘
مقاتل بن حیان: ’’ وہ جو بے عیب ہو۔‘‘
ابن کیسان : ’’وہ جس کی صفت سے کوئی دوسرا متصف نہ ہو۔‘‘
حسن بصری اور قتادہ: ’’جو باقی رہنے والا اور لازوال ہو۔‘‘ اسی سے ملتے جلتے اقوال مجاہد اور معمر اور مرۃ الہمدانی سے بھی منقول ہیں۔
مرۃ الہمدانی کا ایک اور قول یہ ہے کہ ’’وہ جو اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے فیصلہ کرے اور جو کام چاہے کرے۔ اس کے حکم اور فیصلے پر نظر ثانی کرنے والا کوئی نہ ہو۔‘‘
ابراہیم نخعی: ’’ وہ جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں کے لیے رجوع کریں۔‘‘
ابوبکر الانباری: اہل لغت کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ صَمَد اس سردار کو کہتے ہیں جس سے بالاتر کوئی اور سردار نہ ہو، اور جس کی طرف لوگ اپنی حاجات اور اپنے معاملات میں رجوع کریں۔‘‘
اسی کے قریب الزجاج کا قول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’صمد وہ ہے جس پر سرداری ختم ہوگئی ہو اور ہر ایک اپنی حاجات کے لیے جس کی طرف رجوع کرے۔‘‘
لفظ اَحَدٌ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، کسی اور کے لیے سرے سے مستعمل ہی نہیں ہے، اس لیے اسے اَحَدٌ یعنی نکرہ کی صورت میں استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن صَمَد کالفظ چونکہ مخلوقات کے لیے بھی استعمال ہوتاہے، اس لیے اَللّٰہُ صَمَدٌ کہنے کے بجائے اَللّٰہُ الصَّمَدُ کہا گیا ہے۔ معنی یہ ہیں اصلی اور حقیقی صَمَداللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مخلوق اگر کسی حیثیت سے صَمَد ہو بھی تو کسی دوسرے حیثیت سے وہ صَمَد نہیںہے، کیونکہ وہ فانی ہے، لازوال نہیں ہے، قابل تجزیہ و تقسیم ہے، مرکب ہے، کسی وقت اس کے اجزاء بکھر سکتے ہیں، بعض مخلوقات اس کی محتاج ہیں توبعض کا وہ خود محتاج ہے، اس کی سیادت اضافی ہے نہ کہ مطلق ، کسی کے مقابلے میں وہ برتر ہے تو اس کے مقابلے میں کوئی اور برتر ہے، بعض مخلوقات کی بعض حاجات کو وہ پورا کرسکتا ہے مگر سب کی تمام حاجات کو پورا کرنا کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہے۔ بخلاف اس کے اللہ تعالیٰ کی صمدیت ہر حیثیت سے کامل ہے۔ ساری دنیا اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ دنیا کی ہر چیز اپنے وجودو بقا اور اپنی حاجات و ضروریات کے لیے شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر اسی کی طرف رجوع کرتی ہے اور سب کی حاجات پوری کرنے والا وہی ہے۔ اور غیر فانی اور لازوال ہے۔ رزق دیتا ہے لیتا نہیں ہے۔ مفرد ہے مرکب نہیں ہے کہ قابل تجزیہ و تقسیم ہو۔ ساری کائنات پر اس کی سیادت قائم ہے اور وہ سب سے برتر ہے۔ اس لیے وہ محض صَمَد نہیں بلکہ اَلصَّمَدُ ہے، یعنی ایک ہی ایسی ہستی جو حقیقت میں صمدیت سے بہ تمام و کمال متصف ہے۔
پھر چونکہ وہ اَلصَّمَدُ ہے اس لیے لازم آتا ہے کہ وہ یکتا اور یگانہ ہو، کیوں کہ ایسی ہستی ایک ہی ہوسکتی ہے جو کسی کی حاجت مند نہ ہو اور سب جس کے محتاج ہوں۔ دو یا زائد ہستیاں سب سے بے نیاز اور سب کی حاجت روا نہیں ہوسکتیں۔ نیز اس کے الصَمَد ہونے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہ ہو ، کیوں کہ جو حاجت روائی کی طاقت اور اختیارات ہی نہ رکھتا ہو اس کی بندگی و عبادت کوئی ہوشمند آدمی نہیں کرسکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الاخلاص، حاشیہ: ۴)

اَلْمَلِیْکُ : بادشاہ ، فرماں روا

سورہ قمر آیت ۵۵ میں ارشاد ہے:
فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔
’’سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔‘‘
سورہ بقرہ آیت ۱۰۷ میں ارشاد ہے:
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین و آسمان کی فرماں روائی اللہ کے لیے ہے۔‘‘
سورہ آل عمران آیت ۱۸۹ میں ارشاد ہے:
وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ قَدِیْرٌ۔
’’زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے۔‘‘
سورۃ المائدۃ آیات ۱۷، ۱۸ اور ۱۲۰ میں ہے:
وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ۔
’’زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی ملک ہیں۔‘‘
سورہ انعام آیت ۷۳ میں ہے:
قَوْلُہُ الْحَقُّ وَلَہُ الْمُلْکُ۔
’’اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اسی کی ہوگی۔‘‘
سورہ اعراف آیت ۱۵۸ میں ہے:
اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’ اے محمدؐ ! کہو کہ ’’اے انسانو، میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے۔‘‘
سورہ توبہ آیت ۱۱۶ میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ ہی کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔
سورۃ الاسراء آیت ۱۱۱ میں ہے:
وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ
اور کہو، ’’تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے۔‘‘
سورہ الحج آیت ۵۶ میں ہے:
اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ۔
’’اس روز بادشاہی اللہ کی ہوگی۔‘‘
سورۃالنور آیت ۴۲ میں ہے:
وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘
سورہ فرقان آیت ۲ سورہ صٓ آیت ۱۰ ۔ الزمر آیت ۶، ۴۴۔ الشوریٰ آیت ۴۹۔ الزخرف آیت ۸۵۔ الجاثیہ آیت۲۷۔ الفتح آیت ۱۴۔ الحدید آیت ۲، ۵۔ البروج آیت ۹میں مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ آیا ہے۔ علاوہ ازیں سورہ فرقان آیت ۲ میں وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ اور نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے۔ اور آیت ۲۶ میں اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذِنِ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔
سورہ غافر آیت ۱۶ میں ہے:
لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
’’آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ واحد قہار کی۔‘‘
سورہ ملک آیت ۱ میں ارشاد ہے:
تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ قَدِیْرٌ۔
نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
سورہ زمر آیت ۶ میں ہے:
لَہُ الْمُلْکُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۔
’’ بادشاہی اسی کی ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے۔‘‘
تمام اختیارات کا مالک وہی ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چل رہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر، حاشیہ: ۱۶)
حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے۔ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں اور جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کردی گئی ہے۔ نہ کسی نبی یا ولی یا دیوی اور دیوتا کا اس میں کوئی حصہ ہے، بلکہ اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔
(تفہیم القران، ج ۴، الشوریٰ ،حاشیہ:۷۶)
اللہ کی بادشاہی کے مطلق (Absolute)ہونے کا ایک کھلا ہوا ثبوت (یہ) ہے (کہ) کوئی انسان ، خواہ وہ بڑے سے بڑے دنیوی اقتدار کا مالک بنا پھرتا ہو، یا روحانی اقتدار کا مالک سمجھا جاتا ہو، کبھی اس پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ دوسروں کو دلوانا تودرکنار، خود اپنے ہاں اپنی خواہش کے مطابق اولاد پیدا کرسکے۔ جسے خدا نے بانجھ کر دیا وہ کسی دوا اورکسی علاج اور کسی تعویذ گنڈے سے اولاد والا نہ بن سکا، جسے خدانے لڑکیاں ہی لڑکیاں دیں وہ ایک بیٹا بھی کسی تدبیرسے حاصل نہ کرسکا ، اور جسے خدا نے لڑکے ہی لڑکے دیے وہ ایک بیٹی بھی کسی طرح نہ پاسکا۔ اس معاملہ میں ہر ایک قطعی بے بس رہا ہے، بلکہ بچے کی پیدائش سے پہلے کوئی یہ تک نہ معلوم کرسکا کہ رحم مادر میں لڑکا پرورش پارہا ہے یا لڑکی ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی خدا کی خدائی میں مختار کل ہونے کا زعم کرے یا کسی دوسری ہستی کو اختیارات میں دخیل سمجھے تو یہ اس کی اپنی ہی بے بصیرتی ہے جس کا خمیازہ وہ خود بھگتے گا۔ کسی کے اپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنے سے حقیقت میں ذرہ برابر بھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔
(تفہیم القرآن، ج ۴ ، الشوریٰ ، حاشیہ: ۷۷)
اس کی ہستی اس سے بدرجہابلند و برتر ہے کہ کوئی خدائی میں اس کا شریک ہو اور اس عظیم کائنات کی فرماں روائی میں کچھ بھی دخل رکھتا ہو۔ زمین و آسمان میں جو بھی ہیں، خواہ وہ انبیاء ہوں یا اولیاء ، فرشتے ہوں یا جن یا ارواح ، ستارے ہوں یا سیارے، سب اس کے بندے اور غلام اور تابع فرمان ہیں۔ ان کا کسی خدائی صفت سے متصف یا خدائی اختیار کا حامل ہونا قطعی ناممکن ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزحرف،حاشیہ:۶۶)
اس کی ملکیت میں، اس کی تدبیر میں اور اس کی پادشاہی و حکمرانی میں کسی کا قطعاً کوئی حصہ نہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ)
وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور اسی کے لیے ہے۔
یہ پوری کائنات تنہا اسی کی سلطنت ہے وہ صرف اس کو بنا کر اور ایک دفعہ حرکت دے کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ وہی عملاً اس پر ہر آن حکومت کررہا ہے۔ اس حکومت اور فرماں روائی میں کسی دوسرے کا قطعاً کوئی دخل یا حصہ نہیں ہے۔ دوسروں کو اگر عارضی طور پر اور محدود پیمانے پر اس کائنات میں کسی جگہ تصرف یا ملکیت یا حکمرانی کے اختیارات حاصل ہیں تو وہ ان کے ذاتی اختیارات نہیں ہیں جو انھیں اپنے زور پر حاصل ہوئے ہوں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے ہیں، جب تک اللہ چاہے وہ نہیں حاصل رہتے ہیں، اور جب چاہے وہ انھیں سلب کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۵، التغابن، حاشیہ:

اَلْمُقْتَدِرُ : قدرت رکھنے والا

سورۃ القمر آیت ۴۲ میں ہے:
کَذَّبُوْا بِاٰیَاتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذْنَا ہُمْ اَخْذَعَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔
’’مگر انھوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلادیا۔ آخر کار ہم نے انھیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے۔‘‘
سورۃ القمر آیت ۵۵ میں ہے:
انَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔
’’ نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے ، سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔‘‘
سورہ الکہف آیت ۴۵ میں ہے:
وَکَانَ اللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ مُّقْتَدِرًا۔
’’اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘
سورہ الزخرف آیت ۴۲ میں ہے:
اَوْنُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنَا ہُمْ فَاِنَّا عَلَیْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ۔
’’ یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھادیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ ہم ان پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔‘‘
وہ زندگی بھی بخشتا ہے اور موت بھی۔ وہ عروج بھی عطا کرتا ہے اور زوال بھی ۔ اس کے حکم سے بہار آتی ہے تو خزاں بھی آجاتی ہے۔ اگر آج تمہیں عیش اور خوشحالی میسر ہے تو اس غرے میں نہ رہو کہ یہ حالت لازوال ہے۔ جس خدا کے حکم سے یہ کچھ تمہیں ملا ہے اسی کے حکم سے سب کچھ تم سے چھن بھی سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الکہف، حاشیہ: ۴۱)
تمام نظام کائنات پر وہی حاکم ہے اور گردش لیل و نہار اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ جو خدارات کی تاریکی میں سے دن کی روشنی نکال لاتا ہے اور چمکتے ہوئے دن پر رات کی ظلمت طاری کردیتا ہے، وہی خدا اس پر بھی قادر ہے کہ آج جن کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہے ان کا زوال وغروب کا منظر بھی دنیا کو جلدی ہی دکھا دے، اور کفر و جہالت کی جو تاریکی اس وقت حق و صداقت کی فجر کا راستہ روک رہی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے حکم سے چھٹ جائے اور وہ دن نکل آئے جس میں راستی اور علم و معرفت کے نور سے دنیا روشن ہوجائے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الحج، حاشیہ: ۱۰۷)
تم ماں اور باپ کی صلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے۔ پھر خدا کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے ملے اور تمہارا استقرار حمل ہوا۔ پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشو ونما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل دی گئی اور تمہارے اندر تمام وہ قوتیں پیدا کی گئیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں۔ پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ ان تمام منازل سے گزرتے ہوئے تم ہر وقت پوری طرح خدا کے بس میں تھے۔ وہ چاہتا تو تمہارا استقرار حمل ہی نہ ہونے دیتا اور تمہاری جگہ کسی اور شخص کا استقرار ہوتا۔ وہ چاہتا تو ماں کے پیٹ ہی میں تمہیں اندھا، بہرا، گونگا، یا اپاہج بنادیتا یا تمہاری عقل میں کوئی فتور رکھ دیتا۔ وہ چاہتا تو تم زندہ بچے کی صورت میں پیدا ہی نہ ہوتے۔ پیدا ہونے کے بعد بھی وہ تمہیںہر وقت ہلاک کرسکتا تھا، اور اس کے ایک اشارے پر کسی وقت بھی تم کسی حادثے کا شکار ہوسکتے تھے۔ جس خدا کے بس میں تم اس طرح بے بس ہو اس کے متعلق تم نے یہ کیسے سمجھ رکھا ہے کہ اس کی شان میں ہر گستاخی کی جاسکتی ہے، اس کے ساتھ ہر طرح کی نمک حرامی اور احسان فراموشی کی جاسکتی ہے، اس کے خلاف ہر قسم کی بغاوت کی جاسکتی ہے اور ان حرکتوں کاکوئی خمیازہ تمہیں بھگتنا نہیں پڑے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، نوح، حاشیہ:۱۴)

اَلْوَکِیْلُ : کارساز، جس کے سپرد اپنے معاملات کیے جائیں، نگہبان، حوالہ دار

سورہ آل عمران آیت ۱۷۳ میں ارشاد ہے:
فَزَادَہُمْ اِیْمَانًا وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔
’’یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘
سورہ الانعام آیت ۱۰۲ میں ہے :
خَالِقُ کُلِّ شَیٍْٔ فَاعْبُدُوْہُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ وَّکِیْلٌ۔
’’ہر چیز کا خالق ، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔‘‘
سورہ ہود آیت ۱۲ میں ہے:
اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِیْرٌ وَّاللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ وَّکِیْلٌ۔
’’ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔‘‘
سورہ یوسف آیت ۶۶ میں ارشاد ہے:
فَلَمَّا اَتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلیٰ مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔
’’جب انھوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا۔ ’’دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے۔‘‘
سورہ القصص آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللّٰہُ عَلیٰ مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔
’’ ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی پوری کردوں اس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول و قرارہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔‘‘
سورہ الزمر آیت ۶۲ میں ہے:
اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیٍْٔ وَّہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ وَّکِیْلٌ۔
’’ اللہ ہر چیز کا خالق اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
سورہ النساء آیت ۸۱ میں ہے:
فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ وَکِیْلًا۔
’’ تم ان کی پروانہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔‘‘
سورہ النساء آیت ۱۳۲ میں ارشاد ہے:
وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرضِ وَکَفیٰ بِا للّٰہِ وَکِیْلًا۔
’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ، اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے۔‘‘
سورہ النساء آیت ۱۷۱ میں ہے:
لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَکَفیٰ بِا للّٰہِ وَکِیْلاً۔
’’زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی ملک ہیں، اور ان کی کفالت اور خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے۔‘‘
سورہ الاحزاب آیت ۳ میں ہے:
وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ وَکِیْلًا۔
’’ اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔‘‘
سورہ الاحزاب آیت ۴۸ میں ہے:
وَدَعْ اَذَا ہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلیَ اللّٰہِ وَکَفیٰ بِاللّٰہِ وَکِیْلًا۔
’’ کوئی پروانہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے۔‘‘
اللہ اس کے لیے بالکل کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کردے۔ وہ رہنمائی کے لیے بھی کافی ہے، اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنمائی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائج بد سے دوچار نہ ہو۔
(تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب، حاشیہ: ۴)
اس نے دنیا کو پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا ہے، بلکہ وہی ہر چیز کی خبر گیری اور نگہبانی کررہا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جس طرح اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آتی ہیں اسی طرح وہ اس کے باقی رکھنے سے باقی ہیں، اس کے پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہیں اور اس کی حفاظت و نگرانی میں کام کررہی ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر، حاشیہ: ۷۳)
جو لوگ اللہ پر اعتماد کریں۔ اور جن کا بھروسہ اسی کی رہنمائی اور توفیق اور مدد پر ہو، ان کا بھروسہ ہر گز غلط ثابت نہ ہوگا۔انھیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اللہ ان کی ہدایت کے لیے بھی کافی ہوگا اور ان کی دست گیری و اعانت کے لیے بھی۔ البتہ جن کا بھروسہ اپنی طاقت پر ہو، یا اللہ کے سوا کسی اور پر ہو، وہ اس آزمائش سے بخیریت نہ گزرسکیں گے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، بنی اسرائیل ، حاشیہ: ۸۱)
سورہ المزمل آیت ۹ میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا۔
’’ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اسی کو اپنا وکیل بنالو۔‘‘
وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس پر اعتماد کرکے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کردے۔ قریب قریب اسی معنی میں ہم اردو زبان میں وکیل کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے حوالے اپنا مقدمہ کرکے ایک آدمی مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کی طرف سے وہ اچھی طرح مقدمہ لڑے گا اور اسے خود اپنا مقدمہ لڑنے کی حاجت نہ رہے گی۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دین کی دعوت پیش کرنے پر تمہارے خلاف مخالفتوں کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جو مشکلات تمہیں پیش آرہی ہیں ان پر کوئی پریشانی تم کو لاحق نہ ہونی چاہیے۔ تمہارا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب ، یعنی ساری کائنات کا مالک ہے، جس کے سوا خدائی کے اختیارات کسی کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ تم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کردو اور مطمئن ہوجائو کہ اب تمہارا مقدمہ وہ لڑے گا ، تمہارے مخالفین سے وہ نمٹے گا اور تمہارے سارے کام وہ بنائے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، المزمل، حاشیہ: ۱۰)

اَلَہَادِیْ : رہنما

سورہ اعراف آیت ۱۸۶ میں ارشاد ربانی ہے:
مَنْ یُّضلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ۔ وَیَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ۔
’’ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کردے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ انھیں ان کی سرکشی میں بھٹکا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
سورہ فرقان آیت ۳۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَکَفیٰ بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّنَصِیْرًا۔
’’اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے۔‘‘
رہنمائی سے مراد صرف علم حق عطا کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ تحریک اسلامی کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ، اور دشمنوں کی چالوں کو شکست دینے کے لیے بروقت صحیح تدبیریں سجھانا بھی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ:۴۳)
تحریک اسلامی کے دوران میں جب کہ حق اور باطل کی مسلسل کش مکش چل رہی ہو، نبی اور اس کے پیرووں کی ہمت بندھائی جاتی رہے۔ اس کے لیے خدا کی طرف سے بار بار ، وقتاً فوقتاً ، موقع بہ موقع پیغام آنا کارگر ہے۔ اس صورت میں آدمی محسوس کرتا ہے کہ جس خدا نے اسے کام پر مامور کیا ہے وہ اس کی طرف متوجہ ہے، اس کے کام سے دلچسپی لے رہا ہے، اس کے حالات پر نگاہ رکھتا ہے، اس کی مشکلات میں رہنمائی کررہا ہے، اورہر ضرورت کے موقع پر اسے شرف بار یابی و مخاطبت عطا فرماکر اس کے ساتھ اپنے تعلق کو تازہ کرتا رہتا ہے۔ یہ چیز حوصلہ بڑھانے والی اور عزم کو مضبوط رکھنے والی ہے۔
سورہ الحج آیت ۵۴ میں ارشاد ربانی ہے:
وَاِنَّ اللّٰہَ لَہَا دِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔
’’ یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔‘‘
سورہ المومن آیت ۳۳ میں ارشاد ہے:
مَا لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ، وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ۔
’’اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکادے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔‘‘
اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالب حق کو علم کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشی جائے اور اللہ کی آیات میں اسے حقیقت تک پہنچنے کے نشانات ملتے چلے جائیں۔ بہ کثرت انسان ایسے ہیں جن کے سامنے آفاق اور اَنْفُسمیں اللہ کی بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ جانوروں کی طرح انھیں دیکھتے ہیں اور کبھی سبق حاصل نہیں کرتے۔ اور بہت سے انسان ہیں جو حیوانیات (Zoology) ، نباتیات (Botany) ، حیاتیات(Biology)، ارضیات(Geology) ، فلکیات (Astronomy) ، عضویات(Physiology) ، علم التشریح(Anatomy) اور سائنس کی دوسری شاخوں کا مطالعہ کرتے ہیں، تاریخ، آثار قدیمہ اور علوم اجتماع(Social Sciences) کی تحقیق کرتے ہیں اور ایسی ایسی نشانیاں ان کے مشاہدے میں آتی ہیں جو قلب کو ایمان سے لبریز کردیں۔ مگر چونکہ وہ مطالعے کاآ غاز ہی تعصب کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے پیش نظر دنیا اور اس کے فوائد و منافع کے سوا کچھ نہیں ہوتا اس لیے اس مشاہدہ کے دوران میں ان کو صداقت تک پہنچانے والی کوئی نشانی نہیںملتی، بلکہ جو نشانی بھی سامنے آتی ہے وہ انھیںالٹی دہریت، الحاد، مادہ پرستی اور نیچریت ہی کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ناپید نہیں ہیں جو آنکھیں کھول کر اس کارگاہ عالم کو دیکھتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ:
برگ درختان سبز درنظر ہوشیار ہرورقے دفتر یست معرفت کردگار
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ:۲۸)
دنیامیں فکر و عمل کی تمام راہیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ کوئی شخص کسی راہ پر بھی اللہ کے اذن اور اس کی توفیق کے بغیر نہیں چل سکتا۔ رہی یہ بات کہ کس انسان کو کس راہ پر چلنے کا اذن ملتا ہے اور کس راہ کی رہروی کے اسباب اس کے لیے ہموار کیے جاتے ہیں، تو اس کا انحصار سراسر آدمی کی اپنی طلب اور سعی پر ہے۔ اگر وہ خدا سے لگائو رکھتا ہے، سچائی کا طالب ہے، اور خالص نیت سے خدا کے راستے پر چلنے کی سعی کرتا ہے، تو اللہ اسی کا اذن اور اسی کی توفیق اسے عطا فرماتا ہے اور اسی راہ پر چلنے کے اسباب اس کے لیے موافق کردیتا ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص خود گمراہی کو پسند کرتا ہے اور غلط راستوں ہی پر چلنے کی سعی کرتاہے، اللہ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور وہی راہیں اس کے لیے کھول دی جاتی ہیں جن کو اس نے آپ اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ ایسے شخص کو غلط سوچنے ، غلط کام کرنے اور غلط راہوں میں اپنی قوتیں صرف کرنے سے بچالینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ اپنے نصیب کی راہ راست جس نے خود کھودی اور جس سے اللہ نے اس کو محروم کردیا، اس کے لیے یہ گم شدہ نعمت کسی کے ڈھونڈے نہیں مل سکتی۔ (تفہیم القرآن، ج۱، النساء ، حاشیہ: ۱۷۳)
اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو جسم ، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر دنیا میں بالکل بے خبر نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ ایک فطری الہام کے ذریعہ سے اس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق، بھلے اور برے کا امتیاز ، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس اتاردیا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الشمس: دیباچہ،موضوع اور مضمون)
ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات و دیعت کردیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق و اعمال اور برے اخلاق و اعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بدکرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب)ایک اچھی چیز ۔ یہ تصورات انسان کے لیے اجنبی نہیں ہیں بلکہ اس کی فطرت ان سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدائشی طور پر اس کو عطا کردی ہے۔ یہی بات سورہ بَلَدمیں فرمائی گئی ہے وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ۔ ’’اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں نمایاں راستے دکھادیے۔‘‘ (آیت :۱۰)۔ اسی کو سورۂ دہر میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّاشَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔’’ ہم نے اس کو راستہ دکھادیا خواہ شاکر بن کر رہے یا کافر(آیت:۳) ۔‘‘اور اسی بات کو سورہ قیامۃ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوّامہ (ضمیر) موجود ہے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے (آیت ۲)۔ اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں کرے مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے(آیات: ۱۴-۱۵)۔
فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے، جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ اَلَّذِیْٓ اَعْطیٰ کُلَّ شَیٍْٔ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدیٰ۔ ’’ جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی(آیت۵۰)۔‘‘ مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا ، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آجاتا ہے۔ انسان کو بھی اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اس حیثیت سے جو الہامی علم اسے دیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتا تھا۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے اس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرنیش کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے درپے اکتشافات اور ایجادات کرکے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے۔ ان ایجادات و اکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ محسوس کرے گا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جو محض انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتداء اسی طرح ہوتی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اس کی بدولت اس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیزایجاد کرلی۔ ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے، اور اس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصور ات سے خالی نہیں ہا ہے، اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایاجاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اس چیز کا ہر زمانے ، ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم و دانا نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، کیونکہ جن اجزاء سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشان دہی نہیںکی جاسکتی۔ (تفہیم القرآن، ج۶،الشمس، حاشیہ: ۵)
بھلائی اور برائی کا جوالہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے جو بجائے خود انسان کے ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیر و شر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کرکے گمراہ ہوتا رہا ہے۔ اس بناپر اللہ تعالیٰ نے اس فطری الہام کی مدد کے لیے انبیاء علیہم السلام پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کھول کر بتائیں کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الشمس:دیباچہ، موضوع اور مضمون)
پھر ایک انسان کو غور و فکر اور تحقیق و تجسس کے بغیر جو صحیح تدبیر، یا صائب رائے ، یا فکر و عمل کی صحیح راہ سجھائی جاتی ہے وہ بھی وحی ہے (وَاَوْحَیْنَآ اِلیٰ اُمِّ مُوْسیٰ ٓ اَنْ اَرْضِعِیْہِ: القصص) اور اس وحی سے کوئی بھی انسان محروم نہیں ہے۔ دنیا میں جتنے اکتشافات ہوئے ہیں، جتنی مفید ایجادیں ہوئی ہیں، بڑے بڑے مدبرین، فاتحین، مفکرین اور مصنفین نے جو معرکے کے کام کیے ہیں، ان سب میں اس وحی کی کارفرئی نظر آتی ہے۔ بلکہ عام انسانوں کو آئے دن اس طرح کے تجربات ہوتے رہتے ہیں کہ کبھی بیٹھے بیٹھے دل میں ایک بات آئی، یا کوئی تدبیر سوجھ گئی، یا خواب میں کچھ دیکھ لیا، اور بعد میں تجربے سے پتہ چلا کہ وہ ایک صحیح رہنمائی تھی جو غیب سے انھیں حاصل ہوئی تھی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل، حاشیہ:۵۶)
دنیامیں انسان کی ضرورتوں کا دائرہ صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے کہ اس کو کھانے پینے پہننے اور زندگی بسر کرنے کا سامان بہم پہنچے اور آفات، مصائب اور نقصانات سے وہ محفوظ رہے۔ بلکہ اس کی ایک ضرورت اور درحقیقت سب سے بڑی ضرورت یہ بھی ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ معلوم ہو اور وہ جانے کہ اپنی ذات کے ساتھ ، اپنی قوتوںاور قابلیتوں کے ساتھ، اس سروسامان کے ساتھ جو روئے زمین پر اس کے تصرف میں ہے ان بے شمار انسانوں کے ساتھ جن سے مختلف حیثیتوں میں اس کو سابقہ پیش آتا ہے، اور مجموعی طور پر اس نظام کائنات کے ساتھ جس کے ماتحت رہ کر ہی بہر حال اس کو کام کرنا ہے، وہ کیا اور کس طرح معاملہ کرے جس سے اس کی زندگی بحیثیت مجموعی کامیاب ہو اور اس کی کوششیں اور محنتیں غلط راہوں میں صرف ہو کر تباہی و بربادی پر منتج نہ ہوں۔ اسی صحیح طریقہ کا نام ’’حق‘‘ ہے اور جو رہنمائی اس طریقہ کی طرف انسان کو لے جائے ’’وہی ہدایت حق‘‘
انسان کی ساری ضرورتیں دو ہی نوعیت کی ہیں۔ ایک نوعیت کی ضروریات یہ ہیں کہ کوئی اس کا پروردگار ہو، کوئی ملجاو ماوی ہو، کوئی دعائوں کا سننے والا اور حاجتوں کا پورا کرنے والا ہو جس کا مستقل سہارا اس عالم اسباب کے بے ثبات سہاروںکے درمیان رہتے ہوئے وہ تھام سکے۔ دوسرے نوعیت کی ضروریات یہ ہیں کہ کوئی ایسا رہنما ہو جو زندگی بسر کرنے کے صحیح اصول بتائے اور جس کے دیے ہوئے قوانین حیات کی پیروی پورے اعتماد و اطمینان کے ساتھ کی جاسکے۔ سواس آخری سوال نے اس کا فیصلہ بھی کردیا کہ وہ بھی صرف خدا ہی ہے۔ اس کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی جس کی بنا پر انسان مشرکانہ مذاہب اور لادینی (Secular) اصول تمدن و اخلاق و سیاست سے چمٹا رہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۴۳)
دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جسے اپنی ساخت سے کام لینے اور اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرنے کا طریقہ اس نے نہ سکھایا ہو۔ کان کو سننا اور آنکھ کو دیکھنا اسی نے سکھایا ہے۔ مچھلی کو تیرنا اور چڑیا کو اڑنا اسی کی تعلیم سے آیا ہے۔ درخت کو پھل پھول دینے اور زمین کو نباتات اگانے کی ہدایت اسی نے دی ہے۔ غرض وہ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا صرف خالق ہی نہیں ، ہادی اور معلم بھی ہے۔ (تفہیم القران ، ج ۳، طٰہٰ، حاشیہ:۲۳)
خدا جو تمام کائنات کا ہادی ہے ، اورجو ہر چیز کو اس کی حالت اور ضرورت کے مطابق ہدایت دے رہا ہے، اس کے عالم گیر منصبِ ہدایت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کی شعوری زندگی کے لیے بھی رہنمائی کا انتظام کرے۔ اور انسان کی شعوری زندگی کے لیے رہنمائی کی وہ شکل موزوں نہیں ہوسکتی جو مچھلی اور مرغی کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے۔ اس کی موزوں ترین شکل یہ ہے کہ ایک ذی شعور انسان اس کی طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہو اور وہ ان کی عقل و شعور کو اپیل کرکے انھیں سیدھا راستہ بتائے ۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، طٰہٰ، حاشیہ: ۲۳)
جس لمحے انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے اسی وقت ایک طرف اس کی ماں کے سینے میں دودھ پیدا ہوجاتا ہے تو دوسری طرف کوئی ان دیکھی طاقت اسے دودھ چوسنے اور حلق سے اترانے کا طریقہ سکھادیتی ہے۔ پھر اس تربیت و رہنمائی کاسلسلہ اوّل روز پیدائش سے شروع ہوکر موت کی آخری ساعت تک برابر جاری رہتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو اپنے وجود اور نشوونما اور بقا و ارتقا کے لیے جس جس نوعیت کے سروسامان کی حاجت پیش آتی ہے وہ سب اس کے پیدا کرنے والے نے زمین سے لے کر آسمان تک ہر طرف مہیا کردیا ہے۔ اس سرو سامان سے فائدہ اٹھانے اور کام لینے کے لیے جن جن طاقتوں اور قابلیتوں کی اس کو حاجت پیش آتی ہے وہ سب بھی اس کی ذات میں ودیعت کردی ہیں۔ اور ہر شعبۂ حیات میں جس جس طرح کی رہنمائی اس کو درکار ہوتی ہے اس کا بھی پورا انتظام اس نے کردیا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الشعراء، حاشیہ: ۵۸)
سائنس کے مختلف شعبوں میں انسان تحقیق کے جتنے قدم آگے بڑھاتا جارہا ہے ، اس کے سامنے خدا کی بہت سی وہ نعمتیں بے نقاب ہوتی جارہی ہیں جو پہلے اس سے بالکل مخفی تھیں، اور آج تک جن نعمتوں پر سے پردہ اٹھا ہے وہ ان نعمتوں کے مقابلے میں درحقیقت کسی شمار میں بھی نہیں ہیں جن پر سے اب تک پردہ نہیں اٹھاہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ: ۳۶)
ہم نے اسے محض علم و عقل کی قوتیں دے کر ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ شکر کا راستہ کون سا ہے اور کفر کا راستہ کون سا، اس کے بعد جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کا ذمہ داروہ خود ہو۔ سورہ بلد میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ۔ ’’اور ہم نے اسے دونوں راستے (یعنی خیر و شر کے راستے) نمایاں کرکے بتادیے۔‘‘ اور سورہ الشمسمیں یہی بات اس طرح بیان کی گئی ہے وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا، اور قسم ہے (انسان کے) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے (تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ استوار کیا، پھر اس کا فجو ر اور اس کا تقویٰ دونوں اس پر الہام کردیے) ان تمام تصریحات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے ، اور ساتھ ساتھ قرآن مجید کے ان تفصیلی بیانات کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے دنیا میں کیا کیا انتظامات کیے ہیں، تو معلوم ہوجاتا ہے کہ راستہ دکھانے سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے مثال کے طور پر:
۱- ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو، اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کررہا ہو، حتی کہ جن لوگوں نے اپنی اغراض و خواہشات کی خاطر ایسے فلسفے گھڑلیے ہیں جن کی بنا پر بہت سی برائیوں کو انھوں نے اپنے لیے حلال کرلیا ہے، ان کا حال بھی یہ ہے کہ وہی برائیاں اگر کوئی دوسرا ان کے ساتھ کرے تو وہ اس پر چیخ اٹھتے ہیں اور اس وقت معلوم ہوجاتا ہے کہ اپنے جھوٹے فلسفوں کے باوجود حقیقت میں وہ ان کو برا ہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح نیک اعمال و اوصاف کو خواہ کسی نے جہالت اور حماقت اور دقیانوسیت ہی قرار دے رکھا ہو، لیکن جب کسی انسان سے خود اس کی ذات کو کسی نیک سلوک کا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی فطرت اسے قابل قدر سمجھنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
۲- ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوّامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کررہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو خواہ انسان کتنی ہی تھپکیاں دے کر سلائے، اور اس کو بے حس بنانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کرلے، لیکن وہ اسے بالکل فنا کردینے پر قادر نہیں ہے۔ وہ دنیا میں ڈھیٹ بن کر اپنے آپ کو قطعی بے ضمیر ثابت کرسکتا ہے۔ وہ حجتیں بگھار کر دنیا کو دھوکا دینے کی بھی ہر کوشش کرسکتا ہے۔ وہ اپنے نفس کو بھی فریب دینے کے لیے اپنے افعال کے لیے بے شمارعذرات تراش سکتا ہے، مگر اس کے باوجود اللہ نے اس کی فطرت میں جو محاسب بٹھا رکھا ہے وہ اتنا جاندار ہے کہ کسی برے انسان سے یہ بات چھپی نہیں رہتی کہ وہ حقیقت میں کیا ہے۔ یہی بات ہے جو سورہ قیامہ:۱۴-۱۵ میں فرمائی گئی ہے کہ ’’ انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے خواہ وہ کتنی ہی معذرتیں کرے۔‘‘ (آیت: ۱۵)
انسان کے اپنے وجود میں اور اس کے گردو پیش زمین سے لے کر آسمان تک ساری کائنات میں ہر طرف ایسی بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو خبردے رہی ہیں کہ یہ سب کچھ کسی خدا کے بغیر نہیں ہوسکتا، نہ بہت سے خدا اس کارخانۂ ہستی کے بنانے والے اور چلانے والے ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح آفاق اور اَنْفُس کی یہی نشانیاں قیامت اور آخرت پر بھی صریح دلالت کررہی ہیں۔ انسان اگر ان سے آنکھیں بند کرلے، یا اپنی عقل سے کام لے کر اِن پر غور نہ کرے، یا جن حقائق کی نشان دہی یہ کررہی ہیں اُن کو تسلیم کرنے سے جی چرائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تو حقیقت کی خبر دینے والے نشانات اس کے سامنے رکھ دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
۴- انسان کی اپنی زندگی میں، اس کی ہم عصر دنیا میں، اور اس سے پہلے گزری ہوئی تاریخ کے تجربات میں بے شمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں اور آتے رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک بالا تر حکومت اس پر اور ساری کائنات پر فرماں روائی کررہی ہے، جس کے آگے وہ بالکل بے بس ہے، جس کی مشیّت ہر چیز پر غالب ہے، اور جس کی مدد کا وہ محتاج ہے۔ یہ تجربات و مشاہدات صرف خارج ہی میں اس حقیقت کی خبر دینے والے نہیں ہیں، بلکہ انسان کی اپنی فطرت میں بھی اس بالا تر حکومت کے وجود کی شہادت ہے جس کی بنا پر بڑے سے بڑا دہریہ بھی برا وقت آنے پر خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے، اور سخت سے سخت مشرک بھی سارے جھوٹے خدائوں کو چھوڑ کر ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے۔
۵- انسان کی عقل اور اس کی فطرت قطعی طور پر حکم لگاتی ہے کہ جُرم کی سزا اور عمدہ خدمات کا صلہ ملنا ضروری ہے۔ اسی بناپر تو دنیا کے ہر معاشرے میں عدالت کا نظام کسی نہ کسی صورت میں قائم کیا جاتا ہے اور جن خدمات کو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے ان کا صلہ دینے کی بھی کوئی نہ کوئی شکل اختیار کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اخلاق اور قانونِ مُکافات کے درمیان ایک ایسا لازمی تعلق ہے جس سے انکارکرنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اب اگر یہ مسلم ہے کہ اس دنیا میں بے شمار جرائم ایسے تھے جن کی پوری سزا تو درکنار سرے سے کوئی سزا ہی نہیں دی جاسکتی، اور بے شمار خدمات بھی ایسی ہیں جن کا پورا صلہ تو کیا، کوئی صلہ بھی خدمت کرنے والے کو نہیں مل سکتا، تو آخرت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اِلّا یہ کہ کوئی بے وقوف یہ فرض کرلے، یا کوئی ہٹ دھرم یہ رائے قائم کرنے پر اصرار کرے کہ انصاف کا تصور رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوگیا ہے جو بجائے خودانصاف کے تصور سے خالی ہے۔ اور پھر اس سوال کا جواب اس کے ذمّہ رہ جاتا ہے کہ ایسی دنیا میں پیدا ہونے والے انسان کے اندر یہ انصاف کا تصور آخر آکہاں سے گیا ؟
۶- ان تمام ذرائع رہنمائی کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی صریح اور واضح رہنمائی کے لیے دنیا میں انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں جن میں صاف صاف بتادیا گیا کہ شکر کی راہ کون سی ہے اور کفر کی راہ کون سی اور ان دونوں راہوں پر چلنے کے نتائج کیا ہیں۔ انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی یہ تعلیمات، بے شمار محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں پھیلی ہیں کہ کوئی انسانی آبادی بھی خدا کے تصور ، آخرت کے تصور ، نیکی اور بدی کے فرق، اور ان کے پیش کردہ اخلاقی اصولوں اور قانونی احکام سے ناواقف نہیں رہ گئی ہے، خواہ اسے یہ معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ علم اسے انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی تعلیمات ہی سے حاصل ہوا ہے۔ آج جو لوگ انبیاء اور کتابوں کے منکر ہیں، یا ان سے بالکل بے خبر ہیں، وہ بھی ان بہت سی چیزوں کی پیروی کررہے ہیں جو دراصل انھیں کی تعلیمات سے چھَن چھَن کر ان تک پہنچی ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان چیزوں کا اصل ماخذ کون سا ہے۔

اَلْکَفِیْلُ : گواہ

سورہ النحل آیت ۹۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاَوْفُوْا بِعَہْدِ اللّٰہِ اِذَا عَاہَدْ تُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِہَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلاً۔ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۔
’’اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جب کہ تم اللہ کو اپنے اوپرگواہ بناچکے ہو۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔‘‘
یہاں علی الترتیب تین قسم کے معاہدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ بیان کرکے ان کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک وہ عہد جو انسان نے خدا کے ساتھ باندھا ہو، اور یہ اپنی اہمیت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ دوسرا وہ عہد جو ایک انسان یا گروہ نے دوسرے انسان یا گروہ سے باندھا ہو اور اس پر اللہ کی قسم کھائی ہو، یا کسی نہ کسی طور پر اللہ کا نام لے کر اپنے قول کی پختگی کا یقین دلایا ہو۔ یہ دوسرے درجے کی اہمیت رکھتا ہے۔ تیسرا وہ عہد و پیمان جو اللہ کا نام لیے بغیر کیا گیا ہو۔ اس کی اہمیت اوپر کی دونوں قسموں کے بعد ہے لیکن پابندی ان سب کی ضروری ہے اور خلاف ورزی ان میں سے کسی کی بھی روا نہیں ہے۔
عہد شکنی کی بدترین قسم جو دنیا میں سب سے بڑھ کر موجب فساد ہوتی ہے اور جسے بڑے بڑے اونچے درجے کے لوگ بھی کارِ ثواب سمجھ کر کرتے اور اپنی قوم سے داد پاتے ہیں۔ قوموں اور گروہوں کی سیاسی، معاشی اور مذہبی کشمکش میںآئے دن ہوتا رہتا ہے کہ ایک قوم کا لیڈر ایک وقت میں دوسری قوم سے ایک معاہدہ کرتا ہے اور دوسرے وقت میں محض اپنے قومی مفاد کی خاطر یا تو اسے علانیہ توڑ دیتا ہے یا در پردہ اس کی خلاف ورزی کرکے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ حرکتیں ایسے ایسے لوگ تک کر گزرتے ہیں جو اپنی ذاتی زندگی میں بڑے راستباز ہوتے ہیں اور ان حرکتوں پر صرف یہی نہیں کہ ان کی پوری قوم میں سے ملامت کی کوئی آواز نہیں اٹھتی ، بلکہ ہر طرف سے ان کی پیٹھ ٹھونکی جاتی ہے اور اس طرح کی چالبازیوں کو ڈپلومیسی کا کمال سمجھاجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر متنبّہ فرماتا ہے کہ ہر معاہدہ دراصل معاہدہ کرنے والے شخص اور قوم کے اخلاق و دیانت کی آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہوں گے وہ اللہ کی عدالت میں مواخذہ سے نہ بچ سکیں گے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، النحل، حاشیہ: ۹۰-۹۱)

اَلْکَافِیْ : کافی ہونے والا

سورہ الزمر آیت ۳۶ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَیْسَ اللّٰہ ُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔
’’ (اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘
سورہ الحجر کی آیات ۹۵-۹۶ میں ارشاد ہے:
اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَہْزِئِیْنَ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۔
’’ ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں، جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا۔‘‘
سورہ بقرہ کی آیت ۱۳۷ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
’’اور اگر تم سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔ لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘
خدا اپنی خدائی کا انتظام کرنے کے لیے خود کافی ہے، اس کو کسی سے مدد لینے کی حاجت نہیں کہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، النساء ، حاشیہ: ۲۱۸)

اَلْاَکْرَمُ : بڑا کریم

سورہ العلق آیت ۳ میں ارشاد ربانی ہے:
اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔
’’پڑھو اور تیرا رب بڑا کریم ہے۔‘‘
یعنی یہ اُس کا انتہائی کرم ہے کہ اس حقیر ترین حالت سے ابتداء کرکے اُس نے انسان کو صاحبِ علم بنایا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے، اور صرف صاحب علم ہی نہیں بنایا، بلکہ اُس کو قلم کے استعمال سے لکھنے کا فن سکھا یا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت ، ترقی اور نسلاً بعد نسلٍ اُس کے بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم اور کتابت کے فن کا یہ علم نہ دیتا تو انسان کی علمی قابلیت ٹھٹھر کر رہ جاتی اور اُسے نشو ونما پانے، پھیلنے اور ایک نسل کے علوم دوسری نسل تک پہنچنے اور آگے مزید ترقی کرتے چلے جانے کا موقع ہی نہ ملتا۔ (تفہیم القرآن، ج۶، العلق، حاشیہ: ۵)
لافانی اور لازوال تو صرف اُس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں۔ اب اگر تم میں سے کوئی شخص ہم چومن دیگرے نیست کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ محض اس کی کم ظرفی ہے۔ اپنے ذرا سے دائرۂ اختیار میں کوئی بے وقوف کبریائی کے ڈنکے بجالے، یا چند بندے جو اس کے ہتھے چڑھیں ، اُن کا خدا بن بیٹھے، تو یہ دھوکے کی ٹٹی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے، کائنات کی وسعتوں میں جس زمین کی حیثیت ایک مٹرکے دانے برابر بھی نہیں ہے اس کے ایک کونے میں دس بیس یا پچاس ساٹھ برس جو خدائی اور کبریائی چلے اور پھر قصّۂ ماضی بن کر رہ جائے، وہ آخر کیا خدائی اور کیا کبریائی ہے جس پر کوئی پھولے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن، حاشیہ:۲۵)
مزید تشریح الکریم کے تحت ملاحظہ ہو۔

اَلْاَعْلیٰ : سب سے برتر، غالب، سب سے بڑا

سورہ الاعلیٰ آیت ۱ میں ارشاد ربانی ہے:
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ۔
’’(اے نبیؐ) اپنے ربّ برتر کے نام کی تسبیح کرو۔‘‘
(اَلْاَعْلیٰ) جو اپنے اندر کسی قسم کے نقص ، عیب کمزوری یا مخلوقات سے تشبیہ کا کوئی پہلو نہ رکھتا ہو۔ کیوں کہ دنیا میں جتنے بھی فاسد عقائد پیدا ہوتے ہیں اُن سب کی جڑ اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی نہ کوئی غلط تصور ہے جس نے اُس ذات پاک کے لیے کسی غلط نام کی شکل اختیار کی ہے۔ لہٰذا عقیدے کی تصحیح کے لیے سب سے مقدّم یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ کو صرف اُن اسمائے حسنیٰ ہی سے یاد کیا جائے جو اس کے لیے موزوں اور مناسب ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاعلیٰ : دیباچہ)
سورہ اللّیْل آیت ۲۰ میں ارشاد ہے:
اِلَّا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلیٰ۔
’’وہ تو صرف اپنے ربّ برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے۔‘‘
قرآن مجید میں سورۂ نازعات کی آیت ۲۴ میں فرعون کا ربّ اعلیٰ ہونے کا دعوائے باطل بھی نقل کیا گیا ہے:
فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ۔
’’ اس نے پکارکر کہا ’’ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘
وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الٰہ اور ربِّ اعلیٰ کہتا تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار اعلیٰ کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیںہے، اور میرے اوپر کوئی بالا تر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہوسکتا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، النازعات، حاشیہ: ۱۱)
وہ عملاً مصر کی اور نظریے کے اعتبار سے دراصل پوری نوع انسان کی سیاسی ربوبیّت و خداوندی کا مدعی تھا اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ اس کے اوپر کوئی دوسری ہستی فرماں روا ہو جس کا نمائندہ آکر اسے ایک حکم دے اور اس حکم کی اطاعت کا مطالبہ اس سے کرے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، طٰہٰ ، حاشیہ: ۲۱)
(اس سے معلوم ہوا کہ اَلْاَعْلیٰ وہ ہے جو سب سے برتر ، سب پر غالب اور سب سے بڑا ہو۔ یہ جملہ اوصاف صرف اور صرف خالق کائنات میں پائے جاتے ہیں لہٰذا وہی اَعْلیٰ ہے دوسرا کوئی ان معنوں میں اَعْلیٰ نہیں ہے)۔

اَلرَّزَّاقُ : سب کا روزی رساں، بہتر رزق دینے والا

سورۃ الذّاریات آیت ۵۸ میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ ہُوَالرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ ۔
’’اللہ تو خود ہی رازق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔‘‘
سورہ جمعہ کی آیت ۱۱ میں ہے:
وَاللّٰہُ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ۔
’’ اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘اس دنیا میں مجازاً جو بھی رزق رسانی کا ذریعہ بنتے ہیں ان سب سے بہتر رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کو احسن الخالقین کہا گیا ہے، کہیں خیر الغافرین، کہیں خیر الحاکمین، کہیں خیرالراحمین ، کہیں خیر الناصرین۔ ا ن سب مقامات پر مخلوق کی طرف رزق ، تخلیق، مغفرت، رحم اور نصرت کی نسبت مجازی ہے اور اللہ کی طرف حقیقی۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بھی دنیا میں تم کو تنخواہ ، اُجرت یا روٹی دیتے نظر آتے ہیں، یا جو لوگ بھی اپنی صنعت و کاریگری سے کچھ بناتے نظر آتے ہیں، یا جو لوگ بھی دوسروں کے قصور معاف کرتے اور دوسروں پر رحم کھاتے اور دوسروں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں، اللہ ان سب سے بہتر رازق ، خالق ، رحیم، غفور اور مدد گار ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الجمعہ، حاشیہ:۲۱)
رازق ، صانع، موجد، مُعطی اور ایسی ہی دوسری بہت سی صفات ایسی ہیں جو اصل میں تو اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں مگر مجازاً بندوں کی طرف بھی منسوب ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ہم ایک شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے فلاں شخص کے روزگار کا بندوبست کردیا، یا اس نے یہ عطیّہ دیا، یا اس نے فلاں چیز بنائی یا ایجاد کی۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خیر الرازقین کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یعنی جن جن کے متعلق تم گمان رکھتے ہو کہ وہ روزی دینے والے ہیں ان سب سے بہتر روزی دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، سبا، حاشیہ: ۶۰)
(خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ) جملہ قرآن پاک کی کئی اور سورتوں میں بھی آیا ہے۔ مثلاً:
سورۂ مائدہ آیت ۱۱۴ میں :
وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۔
’’ہم کورزق دے اور تو بہترین رازق ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۱۵۸ میں ہے :
وَاِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ۔
’’اور یقینا اللہ ہی بہترین رازق ہے۔‘‘
سورہ سبا آیت ۳۹ میں:
وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیٍْٔ فَہُوْ یُخْلِفُہٗ وَہُوَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ۔
’’جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اس کی جگہ وہ تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے۔‘‘
سورۃ المومنون آیت ۷۲ میں ہے:
اَمْ تَسْئَلُہُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّہُوَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ۔
’’ کیا تو ان سے کچھ مانگ رہاہے؟ تیرے لیے تیرے رب کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔‘‘
یہ بے شمارچرند و پرند اور آبی حیوانات جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوا اور خشکی اور پانی میں پھررہے ہیں، ان میں سے کون اپنا رزق اٹھائے پھرتا ہے؟ اللہ ہی تو ان سب کو پال رہا ہے۔ جہاں جاتے ہیں اللہ کے فضل سے ان کو کسی نہ کسی طرح رزق مل ہی جاتا ہے۔ لہٰذا تم یہ سوچ سوچ کر ہمت نہ ہارو کہ اگر ایمان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل گئے تو کھائیں گے کہاں سے۔ اللہ جہاں اپنی بے شمار مخلوق کو رزق دے رہا ہے، تمہیں بھی دے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت ، حاشیہ:۹۹)
پیدا ہوتے ہی اس کی مہربانی سے تم نے اپنے لیے پاکیزہ رزق کا ایک وسیع خوانِ یغما بچھا ہوا پایا۔ کھانے اور پینے کا ایسا پاکیزہ سامان جو زہریلا نہیں بلکہ صحت بخش ہے کڑوا کسیلا اور بدمزہ نہیں بلکہ خوش ذائقہ ہے، سڑا بُسا اور بدبودار نہیں بلکہ خوش رائحہ ہے، بے جان پھوک نہیں بلکہ اُن حیاتینوں اور مفید غذائی مادّوں سے مالا مال ہے جو تمہارے جسم کی پرورش اور نشوونما کے لیے موزوں ترین ہیں۔ یہ پانی، یہ غلّے، یہ ترکاریاں، یہ پھل، یہ دودھ، یہ شہد، یہ گوشت، یہ نمک مرچ اور مسالے ، جو تمہارے تغذیے کے لیے اس قدر موزوں اور تمہیں زندگی کی طاقت ہی نہیں، زندگی کا لطف دینے کے لیے بھی اس قدر مناسب ہیں، آخر کس نے اس زمین پر اتنی افراط کے ساتھ مہیا کیے ہیں، اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بے حساب خزانے زمین سے پے درپے نکلتے چلے آئیں اور ان کی رسد کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔ یہ رزق کا انتظام نہ ہوتا اور بس تم پیدا کردیے جاتے تو سوچو کہ تمہاری زندگی کا کیا رنگ ہوتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ: ۹۱)
خدا سے برگشتہ لوگ دنیا میں جن جن کی بندگی بجالارہے ہیں، وہ سب درحقیقت اپنے ان بندوں کے محتاج ہیں یہ ان کی خدائی نہ چلائیں تو ایک دن بھی وہ نہ چلے۔ وہ ان کے رازق نہیں بلکہ اُلٹے یہ اُن کو رزق پہنچاتے ہیں۔ وہ ان کو نہیںکھلاتے بلکہ اُلٹے یہ اُن کو کھلاتے ہیں۔ وہ ان کی جان کے محافظ نہیں، بلکہ الٹے یہ ان کی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے لشکریہ ہیں جن کے بل پر ان کی خدائی چلتی ہے۔ جہاں بھی ان جھوٹے خدائوں کی حمایت کرنے والے بندے نہ رہے، یا بندوں نے ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا وہاں ان کے سب ٹھاٹھ پڑے رہ گئے اور دنیا کی آنکھوں نے ان کی کس مپرسی کا حال دیکھ لیا۔ سارے معبودوں میں اکیلا ایک اللہ جل شانہ ہی وہ حقیقی معبود ہے جس کی خدائی اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے جو اپنے بندوں سے کچھ لیتا نہیں بلکہ وہی اپنے بندوں کو سب کچھ دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الذاریات، حاشیہ: ۵۴)

اَلْمَتِیْنُ: زبردست ، مضبوط اور غیر متزلزل، جسے کوئی ہلا نہ سکے، جس کا کوئی توڑ نہ کرسکے،جس کا کوئی توڑ نہ ہو

سورۂ اعراف آیت ۸۳ اور سورۃ القلم آیت ۴۵ میں آیا ہے:
اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ۔
’’ میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔‘‘
سورۃ الذّاریات آیت ۵۸ میں ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُوا لْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔
’’اللہ تو خودہی رزاق ہے۔ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔‘‘

غَافِرِالذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ : گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا

سورۃ المومن آیت ۳ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
غَافِرِا لذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ۔ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ۔
’’ گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب فضل ہے۔‘‘
یہ امید اور ترغیب دلانے والی صفت ہے۔ جو لوگ اب تک سرکشی کرتے رہے ہیں وہ مایوس نہ ہوں، بلکہ یہ سمجھتے ہوئے اپنی روش پر نظر ثانی کریں کہ اگر اب بھی وہ اس روش سے باز آجائیں تو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ پاسکتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ گناہ معاف کرنا اور توبہ قبول کرنا لازماً ایک ہی چیز کے دو عنوان نہیں ہیں، بلکہ بسا اوقات توبہ کے بغیر بھی اللہ کے ہاں گناہوں کی معافی ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً ایک شخص خطائیں بھی کرتا رہتا ہے اور نیکیاں بھی ، اور اس کی نیکیاں اس کی خطائوں کے معاف ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہیں، خواہ اسے ان خطائوں پر توبہ و استغفار کرنے کا موقع نہ ملا ہو، بلکہ وہ انھیں بھول بھی چکاہو۔ اسی طرح ایک شخص پر دنیا میں جتنی بھی تکلیفیں اور مصیبتیں اور بیماریاں اور طرح طرح کی رنج و غم پہنچانے والی آفات آتی ہیں وہ سب اس کی خطائوں کا بدل بن جاتی ہیں۔ اسی بنا پر گناہوں کی معافی کا ذکر توبہ قبول کرنے سے الگ کیاگیا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ توبہ کے بغیر خطابخشی کی یہ رعایت صرف اہل ایمان کے لیے ہے اور اہل ایمان میں بھی صرف ان کے لیے جو سرکشی و بغاوت کے ہر جذبے سے خالی ہوں اور جن سے گناہوں کا صدور بشری کمزوری کی وجہ سے ہوا ہو نہ کہ استکبار اور معصیت پر اصرار کی بنا پر۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ :۱)

شَدِیْدُ الْعِقَابِ : سخت سزا دینے والا

اس صفت کا ذکر کرکے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ بندگی کی راہ اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ جتنا رحیم ہے، بغاوت و سرکشی کا رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے اتنا ہی سخت ہے۔ جب کوئی شخص یا گروہ ان تمام حدود سے گزرجاتا ہے جہاں تک وہ اس کے درگزر اور اس کی خطابخشی کا مستحق ہوسکتا ہے، تو پھروہ اس کی سزا کا مستحق بنتا ہے، اور اس کی سزا ایسی ہولناک ہے کہ صرف ایک احمق انسان ہی اس کو قابل برداشت سمجھ سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ:۱)

ذُوالطَّوْلِ : بڑا صاحب فضل

یعنی کشادہ دست، غنی اور فیاض ہے۔ تمام مخلوقات پر اس کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی ہمہ گیر بارش ہر آن ہورہی ہے۔ بندوں کو جو کچھ بھی مل رہا ہے اسی کے فضل و کرم سے مل رہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، المومن، حاشیہ: ۱)

رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ : بلند درجوں والا

سورۃ المومن آیت ۱۵ میں ارشاد ہے:
رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ، ذُوالْعَرْشِ۔
’’ وہ بلند درجوں والا، مالک عرش ہے۔‘‘
تمام موجودات سے اس کا مقام بدرجہا بلند ہے۔ کوئی ہستی بھی جو اس کائنات میں موجود ہے، خواہ وہ کوئی فرشتہ ہو یا نبی یا ولی، یا اور کوئی مخلوق اس کا مقام دوسری مخلوقات کے مقابلے میں چاہے کتنا ہی ارفع و اشرف ہو مگر اللہ تعالیٰ کے بلند ترین مقام سے اس کے قریب ہونے تک کا تصور نہیں کیا جاسکتا کجا کہ خدائی صفات و اختیارات میں اس کے شریک ہونے کا گمان کیا جاسکے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ:۲۳)

سَرِیْعُ الْحِسَابِ : بہت جلد حساب لینے والا

سورہ بقرہ آیت ۲۰۲ میں ارشاد ہے:
اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’ ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چُکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔‘‘
سورہ آل عمران آیت ۱۹ میں ارشاد ہے:
وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’ جو کوئی اللہ کے احکام و ہدایت کی اطاعت سے انکار کردے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔‘‘
سورۃ المائدہ آیت ۴ میں ارشاد گرامی ہے:
وَاتَّقُوا اللّٰہَ۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔‘‘
سورۃ الرّعد آیت ۴۱ میں ارشاد ہے:
وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ وَہُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’ اللہ حکومت کررہا ہے، کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے اور اسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۵۱ میں ارشاد ہے:
لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ ۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’ یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔‘‘
سورہ نور آیت ۳۹ میں ارشاد ہے:
وَوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰہُ حِسَابَہٗ، واللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا جس نے اس کا پوراپورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔‘‘
جو لوگ کفر و نفاق کے باوجود بظاہر کچھ نیک اعمال بھی کرتے ہوں اور فی الجملہ آخرت کے بھی قائل ہوں اور اس خیال خام میں مبتلا ہوں کہ ایمان صادق اور صفات اہل ایمان اور اطاعت و اتباع رسول کے بغیر ان کے یہ اعمال آخرت میں ان کے لیے کچھ مفید ہوں گے۔ ان کو بتایا جارہا ہے کہ تم اپنے جن ظاہری و نمائشی اعمال خیر سے آخرت میں فائدے کی امید رکھتے ہوں ان کی حقیقت سراب سے زیادہ نہیں ہے۔ ریگستان میں چمکتی ہوئی ریت کو دور سے دیکھ کر جس طرح پیاسا یہ سمجھتا ہے کہ پانی کا ایک تالاب موجیں ماررہا ہے اور منہ اٹھائے اس کی طرف پیاس بجھانے کی امید لیے ہوئے دوڑتا چلا جاتا ہے اسی طرح تم ان اعمال کے جھوٹے بھروسے پر موت کی منزل کا سفر کرتے چلے جارہے ہو۔ مگر جس طرح سراب کی طرف دوڑنے والا جب اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اسے تالاب نظر آرہا تھا تو کچھ نہیں پاتا، اسی طرح جب تم منزل موت میں داخل ہوجائو گے تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہاں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جس کا تم کوئی فائدہ اٹھا سکو، بلکہ اس کے برعکس اللہ تمہارے کفرو نفاق ، اور ان بداعمالیوں کا جو تم ان نمائشی نیکیوں کے ساتھ کررہے تھے، حساب لینے اور پورا پورا بدلہ دینے کے لیے موجود ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النور، حاشیہ: ۷۱)
سورۃ المومن آیت ۱۷ میں ارشاد ربانی ہے:
اَلْیَوْمَ تُجْزیٰ کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ۔ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔
’’ آج ہرمتنفّس کو اس کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر ظلم نہ ہوگا اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔‘‘
اللہ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ وہ جس طرح کائنات کی ہر مخلوق کو بیک وقت رزق دے رہا ہے اور کسی کی رزق رسانی کے انتظام میں اس کو ایسی مشغولیت نہیں ہوتی کہ دوسروں کو رزق دینے کی اسے فرصت نہ ملے، وہ جس طرح کائنات کی ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، ساری آوازوں کو بیک وقت سن رہا ہے، تمام چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملات کی بیک وقت تدبیر کررہا ہے، اور کوئی چیز اس کی توجہ کو اس طرح جذب نہیں کرلیتی کہ اسی وقت وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ نہ کرسکے، اُسی طرح وہ ہر ہر فرد کا بیک وقت محاسبہ بھی کرلے گا اور ایک مقدمے کی سماعت کرنے میں اسے ایسی مشغولیت لاحق نہ ہوگی کہ اُسی وقت دوسرے بے شمار مقدمات کی سماعت نہ کرسکے۔ پھر اس کی عدالت میں اس بنا پر بھی کوئی تاخیر نہ ہوگی کہ واقعات مقدمہ کی تحقیق اور اس کے لیے شہادتیں فراہم ہونے میں وہاں کوئی مشکل پیش آئے۔ حاکم عدالت براہ راست خود تمام حقائق سے واقف ہوگا۔ ہر فریق مقدمہ اس کے سامنے بالکل بے نقاب ہوگا ۔ اور واقعات کی کھلی کھلی ناقابل انکار شہادتیں چھوٹی سے چھوٹی جزئی تفصیلات تک کے ساتھ بلا تاخیر پیش ہوجائیں گی۔ اس لیے ہر مقدمے کا فیصلہ جھٹ پٹ ہوجائے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المومن، حاشیہ: ۲۹)

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین کے خالق ، آسمانوں اور زمین کا بنانے والا

سورۃ الانعام آیت ۱۴ میں ارشاد ہے:
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’ کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا کسی اور کو اپنا سرپرست بنالوں؟ اُس خدا کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے۔‘‘
مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنارکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے اُلٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جماسکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندرا مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناوٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں صرف ایک خدا وند عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کی محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ: ۱۰)
سورہ ابراہیم آیت ۱۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’ ان کے رسولوں نے کہا ’’کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔‘‘
رسولوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ ہر زمانے کے مشرکین خدا کی ہستی کو مانتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق وہی ہے۔ اسی بنیاد پر رسولوں نے فرمایا کہ آخر تمہیں شک کس چیز میں ہے؟ ہم جس چیز کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہیں وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ اللہ فاطر السمٰوٰت والارض تمہاری بندگی کا حقیقی مستحق ہے۔ پھر کیا اللہ کے بارے میں تم کو شک ہے؟ (تفہیم القرآن، ج ۲، ابراہیم، حاشیہ: ۱۷)
سورۃ الشوریٰ آیت ۱۱ میں ارشاد گرامی ہے:
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا۔
’’ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے۔‘‘
سورہ فاطر :۱ میں ارشاد ہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَآ ئِکَۃِ رُسُلًا۔
’’ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے اور فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والا ہے۔‘‘

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین کا موجد

سورہ بقرہ آیت ۱۱۷ میں ارشاد ہے:
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ۔ وَاِذَا قَضیٰٓ اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔
’’وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے ، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ اور وہ ہوجاتی ہے۔‘‘
سورۃ الانعام آیت ۱۰۱ میں ارشاد ہے:
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنّٰی یَکُونُ لَہٗ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ۔
’’وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیںہے۔‘‘
آسمانوں کو غیر محسوس اور غیر مرئی سہاروں پر قائم کیا۔ بظاہر کوئی چیز فضائے بسیط میں ایسی نہیں ہے جو ان بے حدوحساب اجرام فلکی کو تھامے ہوئے ہو۔ مگر ایک غیر محسوس طاقت ایسی ہے جو ہر ایک کو اس کے مقام و مدار پر روکے ہوئے ہے اور ان عظیم الشان اجسام کو زمین پر یا ایک دوسرے پر گرنے نہیں دیتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الرعد، حاشیہ:۲)
صرف یہی نہیں کہ (آسمان اور زمین) اس کے حکم سے ایک دفعہ وجود میں آگئے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل قائم رہنا اور ان کے اندر ایک عظیم الشان کار گاہ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر اس کا حکم انھیں برقرار نہ رکھے تو یہ سارا نظام یک لخت درہم برہم ہوجائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الروم حاشیہ: ۳۶)
حقیقت صرف اتنی ہی نہیںہے کہ زمین و آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے بلکہ درحقیقت وہی ان سب چیزوں کا مالک بھی ہے جو زمین اور آسمانوں میں پائی جاتی ہیں۔ اللہ نے اپنی یہ کائنات بنا کر یونہی نہیں چھوڑ دی ہے کہ جو چاہے اس کا ، یا اس کے کسی حصے کا مالک بن بیٹھے ۔ اپنی خلق کا وہ آپ ہی مالک ہے اور ہر چیز جو اس کائنات میں موجود ہے وہ اس کی ملک ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان، حاشیہ: ۴۶)
اس پوری کائنات کا اور اس کی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ تعالی ہے۔ اس کی ذات کے سوا ہر دوسری چیز جو یہاں پائی جاتی ہے مخلوق ہے اور اللہ اس دنیا کو بنادینے کے بعد کہیں جاکر سو بھی نہیں گیا ہے، بلکہ اپنی اس سلطنت کا تخت نشین اور حاکم و فرماں روابھی وہ آپ ہی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، السجدہ، حاشیہ: ۸)
تمام معلومات جو اس وقت تک کائنات کے متعلق بہم پہنچی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پورا عالم اسی مادّے سے بنا ہوا ہے جس سے ہماری یہ چھوٹی سی ارضی دنیا بنی ہے اور اس کے اندر وہی ایک قانون کام کررہا ہے جو ہماری زمین کی دنیا میں کارفرما ہے ، ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ہم اس زمین پر بیٹھے ہوئے اتنی دور دراز دنیائوں کے مشاہدے کرتے اور ان کے فاصلے ناپتے اور ان کی حرکات کا حساب لگاتے ۔ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ یہ ساری کائنات ایک ہی خدا کی تخلیق اور ایک ہی فرماں روا کی سلطنت ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، یٰس، حاشیہ: ۳۷)
سورہ حٰم السجدہ آیت ۱۱ میں ارشاد ہے:
ثُمَّ اسْتَویٰ اِلَی السَّمَآئِ وَہِیَ دُخَانٌ۔
’’پھروہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا۔‘‘
دھوئیں سے مراد مادّے کی وہ ابتدائی حالت ہے جس میں وہ کائنات کی صورت گری سے پہلے ایک بے شکل منتشر الاجزاء غبار کی طرح فضا میں پھیلا ہوا تھا۔ موجودہ زمانے کے سائنسدان اسی کو سحابیے سے تعبیر کرتے ہیں اور آغاز کائنات کے متعلق ان کا تصور بھی یہی ہے کہ تخلیق سے پہلے وہ مادہ جس سے کائنات بنی ہے ، اسی دخانی یا سحابی شکل میں منتشر تھا۔
(تفہیم القرآن، ج۴، حٰم السجدہ، حاشیہ: ۱۴)

نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ساری کائنات کا نور

سورہ نور میں ارشاد ربانی ہے:
اَللّٰہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
آسمانوں اور زمین کا لفظ قرآن مجید میں بالعموم’ ’ کائنات‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا دوسرے الفاظ میں آیت کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ساری کائنات کا نور ہے۔
نور سے مراد وہ چیز ہے جس کی بدولت اشیاء کا ظہور ہوتا ہے، یعنی جو آپ سے آپ ظاہر ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرے۔ انسان کے ذہن میں نور اور روشنی کا اصل مفہوم یہی ہے۔ کچھ نہ سوجھنے کی کیفیت کا نام انسان نے اندھیرا اور تاریکی اور ظلمت رکھا ہے، اور اس کے برعکس جب سب کچھ سجھائی دینے لگے اور ہر چیز ظاہر ہوجائے تو آدمی کہتا ہے کہ روشنی ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ’’نور‘‘ کا استعمال اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے کیا گیا ہے، نہ اس معنی میں کہ معاذ اللہ وہ کوئی شعاع ہے جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اور ہماری آنکھ کے پردے پر پڑکر دماغ کے مرکز بینائی کو متأثر کرتی ہے۔ روشنی کی یہ مخصوص کیفیت اس معنی کی حقیقت میں شامل نہیں ہے جس کے لیے انسانی ذہن نے یہ لفظ اختراع کیا ہے، بلکہ اس پر اس لفظ کا اطلاق ہم ان روشنیوں کے لحاظ سے کرتے ہیں جو اس مادی دنیاکے اندر ہمارے تجربے میں آتی ہیں۔ اسی طرح ’’نور‘‘ کے متعلق یہ خیال کرنا محض ایک تنگ خیالی ہے کہ اس کے معنی کا مصداق صرف اس شعاع ہی کی صورت میں پایا جاسکتا ہے جو کسی چمکنے والے جِرم سے نکل کر آنکھ کے پردے پر منعکس ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کا مصداق اس محدود معنی میں نہیں ہے بلکہ مطلق معنی میں ہے، یعنی کائنات میں وہی ایک اصل ’’سبب ظہور‘‘ ہے۔ باقی یہاں تاریکی اور ظلمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دوسری روشنی دینے والی چیزیں بھی اسی کی بخشی ہوئی روشنی سے روشن اور روشن گر ہیں، ورنہ ان کے پاس اپنا کچھ نہیں جس سے وہ یہ کرشمہ دکھا سکیں۔
نور کا لفظ علم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس کے برعکس جہل کو تاریکی اور ظلمت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معنی میں بھی کائنات کا نور ہے کہ یہاں حقائق کا علم اور راہ راست کا علم اگر مل سکتا ہے تو اسی سے مل سکتا ہے۔ اس سے فیض حاصل کیے بغیر جہالت کی تاریکی اور نتیجۃً ضلالت و گمراہی کے سوا اور کچھ ممکن نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، النور، حاشیہ:۶۲)
اللہ کو ’’نور‘‘ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ اس کی حقیقت ہی بس ’’نور‘‘ ہونا ہے۔ حقیقت میں تو وہ ایک ذات کامل و اکمل ہے جو صاحب علم ، صاحب قدرت، صاحب حکمت وغیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب نور بھی ہے۔لیکن خود اس کو نور محض اس کے کمال نورانیّت کی وجہ سے کہا گیا ہے جیسے کسی کے کمالِ فیاضی کا حال بیان کرنے کے لیے اس کو خود فیض کہہ دیا جائے، یا اس کے کمالِ خوبصورتی کا وصف بیان کرنے کے لیے خود اسی کو حسن کے لفظ سے تعبیر کردیا جائے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، النور، حاشیہ: ۶۵)
اللہ کا یہ نور مطلق (جس کا کوئی مدّ مقابل نہیں، جو کبھی زائل نہیں ہوتا، جو سدا ایک ہی شان سے ہر طرف چھایا رہتا ہے) سارے جہان کو منور کررہا ہے، مگر اس کا ادراک ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔ اس کے ادراک کی توفیق اور اس کے فیض سے مستفیض ہونے کی نعمت اللہ ہی جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے۔ ورنہ جس طرح اندھے کے لیے دن اور رات برابر ہیں، اسی طرح بے بصیرت انسان کے لیے بجلی اور سورج اور چاند اور تاروں کی روشنی تو روشنی ہے مگر اللہ کا نور اس کو سجھائی نہیں دیتا۔ اس پہلو سے اس بدنصیب کے لیے کائنات میں تاریکی ہی تاریکی ہے۔ آنکھوں کا اندھا اپنے پاس کی چیز نہیں دیکھ سکتا، یہاں تک کہ جب اس سے ٹکرا کر چوٹ کھا جاتا ہے تب اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ چیز یہاں موجود تھی۔ اسی طرح بصیرت کا اندھاان حقیقتوں کو بھی نہیں دیکھ سکتا جو عین اس کے پہلو میں اللہ کے نور سے جگمگارہی ہوں۔ اسے ان کا پتہ صرف اس وقت چلتا ہے جب وہ ان سے ٹکرا کر اپنی شامت میں گرفتار ہوچکا ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النور، حاشیہ: ۶۶)

مَالِکُ الْمُلْکِ : ملک کا مالک

کائنات کے تخت سلطنت کا مالک ہے۔
اس پورے نظام (یعنی نظام کائنات ) کا خالق، مالک، حاکم اور رب صرف ایک خدا ہے۔ اور اس حقیقت کے مقابلے میںباطل یہ ہے کہ اسے بہت سے خدائوں کی مشترک سلطنت سمجھاجائے، یایہ خیال کیا جائے کہ ایک بڑے خدا کی خدائی میں دوسرے چھوٹے چھوٹے خدائوں کا بھی کچھ دخل ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء، حاشیہ: ۱۸)
یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ کائنات کی مختلف قوتوں اور مختلف حصوں کے خالق اور مالک الگ الگ خدا ہوتے اور پھر ان کے درمیان ایسا مکمل تعاون ہوتا جیسا کہ تم اس پورے نظام عالم کی بے شمار قوتوں اور بے حد و حساب چیزوں میں اور ان گنت تاروں اور سیاروں میں پارہے ہو۔ نظام کی باقاعدگی اور اجزائے نظام کی ہم آہنگی ، اقتدار کی مرکزیت و وحدت پر خود دلالت کررہی ہے۔ اگر اقتدار بٹا ہوا ہوتا تو اصحاب اقتدار میں اختلاف رونما ہونا یقینا ناگزیر تھا۔ اور یہ اختلاف ان کے درمیان جنگ اور تصادم تک پہنچے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ یہی مضمون سورہ انبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ :
لَوْکَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا۔ (اٰیت: ۲۲)
’’اگر زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔‘‘
اور یہی استدلال سورہ بنی اسرائیل میں ہے کہ:
لَوْکَانَ مَعَہٗ اٰلِہَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّا بْتَغَوْا اِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا۔ (اٰیت:۴۲)
’’اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کرتے۔‘‘
کائنات کا پورانظام ، زمین کی تہوں سے لے کر بعید ترین سیاروں تک، ایک ہمہ گیر قانون پر چل رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا اگر اس کی بے شمار مختلف قوتوں اور بے حدوحساب چیزوں کے درمیان تناسب اور توازن اور ہم آہنگی اور تعاون نہ ہو۔ اور یہ سب کچھ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ کوئی اٹل اور غالب وقاہر ضابطہ ان بے شمار اشیاء اور قوتوں کو پوری مناسبت کے ساتھ باہم تعاون کرتے رہنے پر مجبور کررہا ہو۔ اب یہ کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے کہ بہت سے مطلق العنان فرماں روائوں کی حکومت میں ایک ضابطہ اس باقاعدگی کے ساتھ چل سکے؟ نظم کا وجود خود ہی ناظم کی وحدت کو مستلزم ہے۔ قانون اور ضابطہ کی ہمہ گیری آپ ہی اس بات پر شاہد ہے کہ اختیارات ایک ہی حاکم میں مرکوز ہیں اور وہ حاکمیت مختلف حاکمو ں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء، حاشیہ: ۲۲)
اس لیے کہ چند ہستیوں کا خدائی میں شریک ہونا دوحال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ یا تو وہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل خداہوں۔ یا ان میں سے ایک اصل خدا ہو، اور باقی اس کے بندے ہوں جنھیں اس نے کچھ خدائی اختیارات دے رکھے ہوں۔پہلی صورت میں یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ یہ سب آزاد و خودمختار خدا ہمیشہ، ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ارادے سے موافقت کرکے اس اتھاہ کائنات کے نظم کو اتنی مکمل ہم آہنگی ، یکسانیت اور تناسب و توازن کے ساتھ چلا سکتے۔ ناگزیر تھا کہ ان کے منصوبوں اور ارادوں میں قدم قدم پر تصادم ہوتا اور ہر ایک اپنی خدائی دوسرے خدائوں کی موافقت کے بغیر چلتی نہ دیکھ کر یہ کوشش کرتا کہ وہ تنہا ساری کائنات کا مالک بن جائے۔ رہی دوسری صورت ، تو بندے کا ظرف خدائی اختیارات تو درکنار خدائی کے ذراسے وہم اور شائبے تک کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اگر کہیں کسی مخلوق کی طرف ذرا سی خدائی بھی منتقل کر دی جاتی تو وہ پھٹ پڑتا، چند لمحوں کے لیے بھی بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوتا، اور فوراً ہی خدا وند عالم بن جانے کی فکر شروع کردیتا۔
جس کائنات میں گیہوں کا ایک دانہ اور گھاس کا ایک تنکا بھی اس وقت تک پیدا نہ ہوتا ہو جب تک کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں مل کر اس کے لیے کام نہ کریں، اس کے متعلق صرف ایک انتہا درجے کا جاہل اور کند ذہن آدمی ہی یہ تصور کرسکتا ہے کہ اس کی فرماں روائی ایک سے زائد خود مختار یا نیم خود مختار خداکررہے ہوں گے۔ ورنہ جس نے کچھ بھی اس نظام کے مزاج اور طبیعت کو سمجھنے کی کوشش کی ہو وہ تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہاں خدائی بالکل ایک ہی کی ہے اور اس کے ساتھ کسی درجے میں بھی کسی اور کے شریک ہونے کا قطعی امکان نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۴۷)
سورہ بنی اسرائیل آیت ۱۱۱ میں ارشاد ہے:
وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ۔
’’ اور کہو !تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹابنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو۔‘‘
مشرکین مختلف دیوتائوں اور بزرگ انسانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ میاں نے اپنی خدائی کے مختلف شعبے یا اپنی سلطنت کے مختلف علاقے ان کے انتظام میں دے رکھے ہیں، اللہ تعالیٰ خود اپنی خدائی کا بار سنبھالنے سے عاجز ہے اس لیے وہ اپنے پشتیبان تلاش کررہا ہے۔ اسی بناپر اس آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ عاجز نہیں ہے کہ اسے کچھ ڈپٹیوںاور مددگاروں کی حاجت ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، بنی اسرائیل، حاشیہ: ۱۲۵)

ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ : جلیل و کریم ذات

سورۃ الرحمن کی دو آیات میں استعما ل ہوا ہے۔ پہلی جگہ آیت ۲۷ میں:
وَیَبْقیٰ وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
’’ صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘
دوسری جگہ آیت ۷۸ میں:
تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
’’بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام ۔‘‘
لافانی اور لازوال تو صرف اس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں۔ اب اگر تم میں سے کوئی شخص ہم چومن دیگرے نیست کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ محض اس کی کم ظرفی ہے۔ اپنے ذرا سے دائرۂ اختیار میں کوئی بے وقوف کبریائی کے ڈنکے بجالے، یا چند بندے جو اس کے ہتھّے چڑھیں ، ان کا خدا بن بیٹھے، تو یہ دھوکے کی ٹٹی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے۔ کائنات کی وسعتوں میں جن میں زمین کی حیثیت ایک مٹر کے دانے کے برابر بھی نہیں ہے، اس کے ایک کونے میں دس بیس یا پچاس ساٹھ برس جو خدائی اور کبریائی چلے اورپھر قصۂ ماضی بن کر رہ جائے، وہ آخر کیا خدائی اور کیا کبریائی ہے جس پر کوئی پھولے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن، حاشیہ:۲۵)

القَابِضُ : گھٹانے والا، سمیٹنے والا

سورۃ البقرۃ آیت ۲۴۵ میں ارشاد ِ ربّانی ہے:
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُونَ۔
’’تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔‘‘
قرآن مجید میں زمین اور آسمان پر اللہ تعالیٰ کے کامل اقتدار و تصرف کی تصویر کھینچنے کے لیے مٹھی میں ہونے اور ہاتھ پر لپٹے ہونے کا استعارہ استعمال فرمایا گیا ہے جس طرح ایک آدمی کسی چھوٹی سی گیند کو مٹھی میں دبا لیتا ہے اور اس کے لیے یہ ایک معمولی کام ہے، یا ایک شخص ایک رومال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے لیے یہ کوئی زحمت طلب کام نہیں ہوتا، اُسی طرح قیامت کے روز تمام انسان جو آج اللہ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں، اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین اور آسمان اللہ کے دست قدرت میں ایک حقیر گیند اور ایک ذرا سے رومال کی طرح ہیں۔ مسند احمد ، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ ، ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایات منقول ہوئی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، دوران خطبہ میں یہ آیت وَمَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرہٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌ م بِیَمِیْنِہٖ۔۱؎ (الزمر: ۶۷) تلاوت فرمائی اور فرمایا اللہ آسمانوں اور زمینوں (یعنی سیاروں) کو اپنی مٹھی میں لے کر اس طرح پھرائے گا جیسے ایک بچہ گیند پھراتا ہے، اور فرمائے گا میں ہوں خدائے واحد ،میںہوں بادشاہ ، میں ہوں جبار، میں ہوں کبریائی کا مالک ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ کہاں ہیں جبّار؟ کہاں ہیں متکبر ؟ یہ کہتے کہتے حضوؐر پر ایسا لرزہ طاری ہواکہ ہمیں خطرہ ہونے لگا کہ کہیں آپؐ منبر سمیت گرنہ پڑیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر، حاشیہ:۷۶)
سورہ فرقان آیت ۴۶ میں ارشاد ربانی ہے:
ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَسِیْرًا۔
’’اور ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔‘‘
غفلت میں پڑے ہوئے مشرکین اگر دنیا میں جانوروں کی طرح نہ جیتے اور کچھ عقل و ہوش کی آنکھوں سے کام لیتے تو یہی سایہ جس کا تم ہر وقت مشاہدہ کرتے ہو تمہیں یہ سبق دینے کے لیے کافی تھا کہ نبی جس توحید کی تعلیم تمہیں دے رہا ہے وہ بالکل برحق ہے۔ تمہاری ساری زندگی اسی سائے کے مدّوجزر سے وابستہ ہے۔ ابدی سایہ ہوجائے تو زمین پر کوئی جاندار مخلوق، بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے، کیونکہ سورج کی روشنی و حرارت پر ہی ان سب کی زندگی موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے تب بھی زندگی محال ہے، کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ پاسکنے کی صورت میں نہ جاندار زیادہ دیر تک باقی رہ سکتے ہیں نہ نباتات، بلکہ پانی تک کی خیر نہیں۔ دھوپ اور سائے میں یک لخت تغیرات ہوتے رہیں تب بھی زمین کی مخلوقات ان جھٹکوں کو زیادہ دیر تک نہیں سہارسکتی۔ مگر ایک صانع اور قادر مطلق ہے جس نے زمین اور سورج کے درمیان ایسی مناسبت قائم کررکھی ہے جو دائماً ایک لگے بندھے طریقے سے آہستہ آہستہ سایہ ڈالتی اور بڑھاتی گھٹاتی ہے اور بتدریج دھوپ نکالتی اور چڑھاتی اتارتی رہتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان ، حاشیہ: ۵۹)

اَلْبَاسِطُ : کشادہ کرنے والا، پھیلانے والا

سورۃ الرعد آیت ۲۶ میں ارشاد ربانی ہے:
اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ۔
’’اللہ جس کو چاہتاہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔‘‘
سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۰ میں ارشاد ربانی ہے:
اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ۔
’’ تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔‘‘
سورۃ القصص آیت ۸۲ میں ارشاد ہے:
وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ۔
’’ افسوس! ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔‘‘
سورۃ العنکبوت آیت ۶۲ میں ارشاد ہے:
اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ۔
’’اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔‘‘
سورۃ الروم آیت ۳۷ میں ارشاد ہے:
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ۔
’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے)‘‘
سورہ سبا آیت ۳۶ میں ارشاد ربانی ہے:
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ۔
’’ اے نبیؐ! ان سے کہو میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا عطا کرتا ہے۔‘‘
اسی سورہ کی ۳۹ ویں آیت میں ارشاد ہے:
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ یَقْدِرُ۔
’’اے نبیؐ! ان سے کہو، ’’میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتاہے نپا تلا دیتا ہے۔‘‘
سورۃ الزمر آیت ۵۲ میں ارشاد ہے:
اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ۔
’’اور کیا انھیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟‘‘
سورۃ الشوریٰ آیت ۱۲ میں ارشاد ہے:
یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ، اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیٍْٔ عَلِیْمٌ۔
’’جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتاہے اسے ہر چیز کا علم ہے۔‘‘
رزق کی کمی و بیشی اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ اس کی رضا سے۔ مشیت الٰہی کے تحت اچھے اور برے ہر طرح کے انسانوں کو رزق مل رہا ہے۔ خدا کا اقرار کرنے والے بھی رزق پارہے ہیں اور اس کا انکار کرنے والے بھی۔ نہ رزق کی فراوانی اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی خدا کا پسندیدہ بندہ ہے، اور نہ اس کی تنگی اس امر کی علامت ہے کہ آدمی اس کا مغضوب ہے۔ مشیت کے تحت ایک ظالم اور بے ایمان آدمی پھلتا پھولتا ہے، حالانکہ ظلم اور بے ایمانی خدا کو پسند نہیں ہے۔ اور اس کے برعکس مشیت ہی کے تحت ایک سچا اور ایمان دار آدمی نقصان اٹھاتا اور تکلیفیں سہتا ہے، حالانکہ یہ صفات خدا کو پسند ہیں۔ لہٰذا وہ شخص سخت گمراہ ہے جو مادّی فوائد و منافع کو خیر و شر کا پیمانہ قرار دیتا ہے۔ اصل چیزخدا کی رضا ہے ، اور وہ ان اخلاقی اوصاف سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کو محبوب ہیں۔ ان اوصاف کے ساتھ اگر کسی کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہوں تو یہ بلا شبہ خدا کا فضل ہے جس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر ایک شخص اخلاقی اوصاف کے لحاظ سے خدا کا باغی و نافرمان بندہ ہو اور اس کے ساتھ دنیا کی نعمتوں سے نوازا جارہا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سخت باز پرس اور بدترین عذاب کے لیے تیار ہورہا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، سبا، حاشیہ: ۵۹)
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رزق کی بخشش میں کم و بیش کا جو فرق رکھا ہے انسان اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتا، لہٰذا تقسیم رزق کے فطری نظام میں انسان کو اپنی مصنوعی تدبیروں سے دخل انداز نہ ہونا چاہیے۔ فطری نامساوات کو مصنوعی مساوات میں تبدیل کرنا، یا اس نامساوات کو فطرت کی حدود سے بڑھا کر بے انصافی کی حد تک پہنچادینا، دونوں ہی یکساں غلط ہیں۔ ایک صحیح معاشی نظام وہی ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے طریق تقسیم رزق سے قریب تر ہو۔

اَلْخَافِضُ : گرانے والا اَلرَّافِعُ : بلند کرنے والا، اٹھانے والا

یہ دونوں اسماء قرآن مجید میں بطور اسماے باری تعالیٰ وارد نہیں ہوئے۔
سورہ مجادلہ آیت ۱۱ میں ارشاد ہے:
یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوتُوْا لْعِلْمَ دَرَجٰتٍ۔
’’ تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا۔‘‘
اللہ کے ہاں جھوٹے اور خبیث اور مفسدانہ اقوال کو کبھی عروج نصیب نہیںہوتا۔ اس کے ہاں تو صرف وہ قول عروج پاتاہے جو سچا ہو، پاکیزہ ہو، حقیقت پر مبنی ہو، اور جس میں نیک نیتی کے ساتھ ایک صالح عقیدے اور ایک صحیح طرزِ فکر کی ترجمانی کی گئی ہو۔ پھر جو چیز ایک پاکیزہ کلمے کو عروج کی طرف لے جاتی ہے وہ قول کے مطابق عمل ہے۔ جہاں قول بڑا پاکیزہ ہو مگر عمل اس کے خلاف ہو وہاں قول کی پاکیزگی ٹھٹھرکر رہ جاتی ہے۔ محض زبان کے پھاگ اڑانے سے کوئی کلمہ بلند نہیں ہوتا۔ اسے عروج پر پہنچانے کے لیے عمل صالح کا زور درکار ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر، حاشیہ: ۲۱)
بلند مرتبہ اللہ کے ہاں اس کا ہے جس نے آپؐ کی صحبت سے ایمان اور علم کا سرمایہ حاصل کیا اور وہ اخلاق سیکھے جو ایک مومن میں ہونے چاہئیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، المجادلہ، حاشیہ: ۲۸)
سورۃ الرحمن آیت ۷ میں ارشاد ہے:
وَالسَّمَآئَ رَفَعَہَا۔
’’آسمان کو اس نے بلند کیا۔‘‘
سورۃ الغاشیہ آیت ۱۸ میں ارشاد ہے:
وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ۔
’’ آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھا یا گیا؟‘‘
سورہ یوسف آیت ۷۶ میں ارشاد ہے:
نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُ۔
’’ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں۔‘‘
ایک بندے کے لیے اس سے بڑھ کر بلند درجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر وہ کبھی بشری کمزوری کی بنا پر خود کسی لغزش میں مبتلا ہورہا ہو تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کو بچانے کا انتظام فرمادے۔ ایسا بلند مرتبہ صرف انھیں لوگوں کو ملا کرتا ہے جواپنی سعی و عمل سے بڑی بڑی آزمائشوں میں اپنا محسن ہونا ثابت کرچکے ہوتے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یوسف، حاشیہ: ۶۰)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں سورۃ الانعام آیت ۸۳ میں ارشاد ہے:
وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرَاہِیْمَ عَلیٰ قَوْمِہٖ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُ۔
’’یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم ؑ کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی ۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔‘‘
سورۃ الرعد آیت ۲ میں ارشاد ہے:
اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَہَا۔
’’ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں۔‘‘
آسمانوں کو غیر محسوس اور غیر مرئی سہاروں پر قائم کیا۔ بظاہر کوئی چیز فضائے بسیط میں ایسی نہیں ہے جو ان بے حدو حساب اجرام فلکی کو تھامے ہو۔ مگر ایک غیر محسوس طاقت ایسی ہے جو ہر ایک کو اس کے مقام و مدار پر روکے ہوئے ہے اور عظم الشان اجسام کو زمین پر یا ایک دوسرے پر گرنے نہیں دیتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، الرعد، حاشیہ: ۲)
انبیا ے کرام کے درجات اور مراتب کے بارے میں سورۃ البقرۃ آیت ۲۵۳میں ارشاد ہے:
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ۔ مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ۔
’’ یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے۔‘‘
سورۃ الزخرف آیت ۳۲ میں ارشاد ہے:
وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا۔
’’ اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔‘‘
انسانوں کے درمیان رزق، طاقت، عزت، شہرت، دولت ، حکومت وغیرہ کی تقسیم بھی ہم ہی کررہے ہیں۔ جس کو ہماری طرف سے اقبال نصیب ہوتا ہے اسے کوئی گرا نہیں سکتا۔ اور جس پر ہماری طرف سے ادبار آجاتا ہے اسے گرنے سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ ہمارے فیصلوں کے مقابلے میں انسانوں کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الزخرف، حاشیہ:۳۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آل عمران آیت ۵۵ میں ارشاد ہے:
وَرَافِعُکَ اِلَیَّ۔
’’ اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا۔‘‘
اور سورہ نساء آیت ۱۵۸ میں ہے:
بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ۔
’’بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔‘‘
اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح کو قتل کرنے میں یہودی کامیاب نہیں ہوئے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۱ ، النساء، حاشیہ: ۱۹۵)
(نبی ﷺ کے بارے میں ارشاد ربانی ہے) وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (الم نشرح آیت ۴) ’’ اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کردیا۔‘‘
یہ بات اس زمانے میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فرد فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکہ تک محدود ہیں اس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموری اس کو حاصل ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں اپنے رسول ﷺ کو یہ خوش خبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آپؐ کے رفع ذکر کا کام اس نے خود آپؐ کے دشمنوں سے لیا۔کفار مکہ نے آپؐ کو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقعہ پر جب تمام عرب سے لوگ کھچ کھچ کر ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ یہاں ایک خطرناک شخص محمد (ﷺ) نامی ہے جو لوگوں پر ایسا جادو کرتا ہے کہ باپ بیٹے، بھائی بھائی اور شوہر اور بیوی میں جدائی پڑجاتی ہے، اس لیے ذرا اس سے بچ کر رہنا۔ یہی باتیں وہ ان سب لوگوں سے بھی کہتے تھے جو حج کے سوا دوسرے دنوں میں زیارت یا کسی کا روبار کے سلسلے میں مکہ آتے تھے۔ اس طرح اگرچہ وہ حضوؐر کو بدنام کررہے تھے، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے گوشے گوشے میں آپؐ کا نام پہنچ گیا اور مکہ کے گوشۂ گمنامی سے نکال کر خود دشمنوں نے آپؐ کو تمام ملک کے قبائل سے متعارف کرادیا۔اس کے بعد یہ بالکل فطری امر تھا کہ لوگ یہ معلوم کریں کہ وہ شخص کون ہے؟ کیا کہتا ہے؟ کیسا آدمی ہے؟ اس کے ’’جادو‘‘ سے متاثر ہونے والے کون لوگ ہیں اور ان پر اس کے ’’جادو‘‘ کا آخر کیا اثر پڑا ہے؟ کفار مکہ کا پروپیگنڈہ جتنا جتنا بڑھتا چلا گیا لوگوں میں یہ جستجو بھی بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب اس جستجو کے نتیجے میں لوگوں کو آپؐ کے اخلاق اور آپؐ کی سیرت و کردار کا حال معلوم ہوا، جب لوگوں نے قرآن سنا اور انھیں پتہ چلا کہ وہ تعلیمات کیا ہیں جو آپؐ پیش فرمارہے ہیں، اور جب دیکھنے والوں نے یہ دیکھا کہ جس چیز کو جادو کہا جارہا ہے اس سے متأثر ہونے والوں کی زندگیاں عرب کے عام لوگوں کی زندگیوں سے کس قدر مختلف ہوگئی ہیں، تو وہی بدنامی نیک نامی سے بدلنی شروع ہوگئی، حتی کہ ہجرت کا زمانہ آنے تک نوبت یہ پہنچ گئی کہ دورو نزدیک کے عرب قبائل میں شاید ہی کوئی قبیلہ ایسا رہ گیا ہو جس میں کسی نہ کسی شخص یا کنبے نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو، اور جس میں کچھ نہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اور آپؐ کی دعوت سے ہمدردی و دلچسپی رکھنے والے پیدا نہ ہوگئے ہوں۔ یہ حضورؐ کے رفع ذکر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں ایک طرف منافقین ، یہود، اور تمام عرب کے اکابر مشرکین رسول اللہ ﷺ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے،اور دوسری طرف مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست خدا پرستی و خدا ترسی، زہد و تقویٰ، طہارت اخلاق ، حسن معاشرت ، عدل و انصاف ، انسانی مساوات ، مالداروں کی فیاضی، غریبوں کی خبر گیری، عہد و پیمان کی پاسداری اور معاملات میں راستبازی کا وہ عملی نمونہ پیش کررہی تھی جو لوگوں کے دلوں کومسخر کرتا چلا جارہا تھا۔ دشمنوں نے جنگ کے ذریعہ سے حضوؐر کے اس بڑھتے ہوئے اثر کو مٹانے کی کوشش کی، مگر آپؐ کی قیادت میں اہل ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی اس نے اپنے نظم و ضبط، اپنی شجاعت ، اپنی موت سے بے خوفی اور حالت جنگ تک میں اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری اس طرح ثابت کردی کہ سارے عرب نے ان کا لوہا مان لیا۔ ۱۰ سال کے اندر حضوؐر کا رفع ذکر اس طرح ہوا کہ وہی ملک جس میں آپؐ کو بدنام کرنے کے لیے مخالفین نے اپنا سارا زور لگا دیا تھا، اس کا گوشہ گوشہ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی صدا سے گونج اٹھا۔پھر تیسرے مرحلے کا افتتاح خلافت راشدہ کے دور سے ہوا جب آپؐ کا نام مبارک تمام روئے زمین میں بلند ہونا شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتا ہی جارہا ہے اور اِنْ شاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی کوئی بستی موجود ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اذان میں بآواز بلند محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہو رہا ہو،نمازوں میں حضوؐر پر درود نہ بھیجا جارہا ہو، جمعہ کے خطبوں میں آپؐ کا ذکر خیر نہ کیا جارہا ہو، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن اور دن کے ۲۴ گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں ہے جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ حضوؐر کا ذکر مبارک نہ ہورہا ہو۔ یہ قرآن کی صداقت کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ جس وقت نبوت کے ابتدائی دور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔ اس وقت کوئی شخص یہ اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ رفع ذکر اس شان سے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہوگا۔ حدیث میں حضرت ابو سعیدخدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا میرا رب اور آپ کا رب پوچھتا ہے کہ میں نے کس طرح تمہارا رفع ذکر کیا؟ میں نے عرض کیا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا جائے گا۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، مسند ابی یعلیٰ ، ابن المُنذِر، ابن حِبّان، ابن مردویہ، ابو نُعَیم، بعد کی پوری تاریخ شہادت دے رہی ہے کہ یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، الم نشرح، حاشیہ:۳)

اَلْمُعِزُّ : عزت دینے والا

سورہ آل عمران آیت ۲۶ میں ارشاد ہے:
وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ
’’ جسے چاہے عزت بخشے۔‘‘
سورہ نساء آیت ۱۳۹ میں ارشاد ہے:
اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَ ہُمُ الْعِزَّۃَ۔ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا۔
’’کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘
’’عزت‘‘ کا مفہوم عربی زبان میں اردو کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے۔ اردو میں عزت محض احترام اور قدرومنزلت کے معنی میں آتا ہے۔ مگر عربی میں عزت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسی بلند اور محفوظ حیثیت حاصل ہوجائے کہ کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ دوسرے الفاظ میں لفظ عزت ’’ناقابل ہتک حرمت‘‘ کا ہم معنی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء ، حاشیہ: ۱۶۹)
عزت اللہ کے لیے بالذات مخصوص ہے۔ اور رسول کے لیے بربنائے رسالت، مومنین کے لیے بربنائے ایمان اور رہے کفار و فساق و منافقین، تو حقیقی عزت میں سرے سے ان کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، المنافقون، حاشیہ: ۱۶)
سورہ فاطر آیت ۱۰ میں ارشاد ہے:
مَنْ کَانَ یُرِیْدُالْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا۔
’’ جو کوئی عزت چاہتا ہواسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔‘‘
حقیقی عزت اور پائیدار عزت جو دنیا سے لے کر عقبیٰ تک کبھی ذلت آشنا نہیں ہوسکتی صرف خدا کی بندگی میں ہی میسر آسکتی ہے۔ اس کے ہوجائو گے تو وہ تمہیں مل جائے گی اور اس سے منہ موڑو گے تو ذلیل و خوار ہو کر رہو گے۔
(تفہیم القرآن،ج ۴، الفاطر، حاشیہ: ۲۰)
جب اللہ ہی کسی کو پیروی حق کی عزّت نہ دے تو پھر کون ہے جو اس کو اس عزّت سے سرفراز کردے؟
(تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۳۴)

اَلْمُذِلُّ : ذلیل کرنے والا

سورہ اٰلِ عمران آیت ۲۶ میں ارشاد ہے:
وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ۔
’’اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔‘‘
جو شخص کھلے کھلے اور روشن حقائق کو آنکھیں کھول کر نہ دیکھے، اور سمجھانے والے کی بات بھی سن کر نہ دے وہ خود ہی ذلت و خواری کو اپنے اوپر دعوت دیتا ہے، اور اللہ وہی چیز اس کے نصیب میں لکھ دیتا ہے جو اس نے خود مانگی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳ ، الحج، حاشیہ: ۳۴)
جو شخص تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ ہی نہ سمجھتا ہو بلکہ ان واقعات کی منطق پر بھی کچھ غور کرتا ہو اور ان سے نتائج بھی اخذ کرنے کا عادی ہو، وہ آسانی سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ ہزارہا برس کی انسانی تاریخ میں قوموں اور جماعتوں کا اٹھنا اور گرنا جس تسلسل اور باضابطگی کے ساتھ رونما ہوتا رہا ہے، اور پھر اس گرنے اور اٹھنے میں جس طرح صریحاً کچھ اخلاقی اسباب کار فرمارہے ہیں، اور گرنے والی قومیںجیسی جیسی عبرت انگیز صورتوں سے گری ہیں۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف کھلا اشارہ ہے کہ انسان اس کائنات میں ایک ایسی حکومت کا محکوم ہے جو محض اندھے طبیعاتی قوانین پر فرماں روائی نہیں کررہی ہے، بلکہ اپنا ایک معقول اخلاقی قانون رکھتی ہے جس کے مطابق وہ اخلاق کی ایک خاص حد سے اوپر رہنے والوں کو جزا دیتی ہے، اس سے نیچے اترنے والوں کو کچھ مدت تک ڈھیل دیتی رہتی ہے، اور جب وہ اس سے بہت زیادہ نیچے چلے جاتے ہیں توپھر انھیں گراکر ایسا پھینکتی ہے کہ وہ ایک داستان عبرت بن کر رہ جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ہود، حاشیہ: ۱۰۵)

اَلْعَدْلُ : سراپاعدل

بے لاگ انصاف کرنے والا، اپنی ساری مخلوق پر بلا امتیاز سراسر عدل و انصاف کرنے والا، سب کے لیے یکساں ، اس کے ہاں اپنے اور غیر، بڑے اور چھوٹے، غریب اور امیر، شریف اور کمین کے لیے الگ الگ حقوق نہیں ہیں، بلکہ جو کچھ ہے وہ سب کے لیے حق ہے۔ دنیامیں عدل قائم کرتا ہے۔ لوگوں کے درمیان انصاف کرتا ہے۔ ان میں بے اعتدالیوں اور بے انصافیوں کو ختم کرتا ہے۔
عدل جس کا تصوّر دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دیا جائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ’انصاف‘ سے ادا کیا جاتا ہے، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو۔ اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری۔ بعض حیثیتوں سے تو عدل بے شک افراد معاشرہ میں مساوات چاہتا ہے، مثلاً حقوق شہریت میں، مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلاف عدل ہے۔ مثلاً والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی و اخلاقی مساوات ، اور اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والوں اور کم تر درجے کی خدمت ادا کرنے والوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات۔ (تفہیم القرآن، ج۲، النحل، حاشیہ: ۸۸)
اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ یہ بے حد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کررہی ہیں، اور یہ لاتعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہاں میں پائی جاتی ہیں، ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہِ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں اُنہی کو دیکھ لیجیے۔ اُن کی زندگی اسی لیے تو برقرار ہے کہ ان کے اسباب حیات میں پورا پورا عدل اور توازن پایا جاتا ہے، ورنہ ان اسباب میں ذرہ برابر بھی بے اعتدالی پیدا ہوجائے تو یہاں زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الرحمن، حاشیہ: ۷)
چونکہ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم کیا گیا ہے، اس لیے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے۔ جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اُس میں اگر تم بے انصافی کرو گے ، اور جن حق داروں کے حقوق تمہارے ہاتھ میں دیے گئے ہیں اگر تم ان کے حق ماروگے تو یہ فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہوگی۔ اس کائنات کی فطرت ظلم و بے انصافی اور حق ماری کو قبول نہیں کرتی۔ یہاں ایک بڑا ظلم تو درکنار ، ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصے کی ایک تولہ بھر چیز بھی مارلیتا ہے تو میزان عالم میں خلل برپا کردیتا ہے۔

اَلْکَبِیْرُ : بزرگ

سورۃ الحج آیت ۶۲ میں ہے:
وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ ہُوَالْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ۔
’’ یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے۔‘‘
سورہ لقمان آیت ۳۰ میں ہے:
وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ہُوَالْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ۔
’’ اور اسے چھوڑ کر دوسری جن چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے۔‘‘
سورہ سبا آیت ۳ میں ہے:
قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ۔
’’ وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا۔ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے۔‘‘
سورۃ المومن آیت ۱۲ میں ہے:
وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْ مِنُوْا فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ۔
’’ اور جب اس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔‘‘
جب قیامت کے روز کوئی سفارش کرنے والا کسی کے حق میں سفارش کی اجازت طلب کرے گا۔ اس نقشے میں یہ کیفیت ہمارے سامنے آتی ہے کہ طلب اجازت کی درخواست بھیجنے کے بعدشافع اور مشفوع دونوں نہایت بے چینی کے عالم میںڈرتے، اور کانپتے ہوئے جواب کے منتظر کھڑے ہیں۔ آخر کار جب اوپر سے اجازت آجاتی ہے اور شافع کے چہرے سے مشفوع بھانپ جاتا ہے کہ معاملہ کچھ اطمینان بخش ہے تو اس کی جان میں جان آتی ہے اور وہ آگے بڑھ کر شافع سے پوچھتا ہے۔’’ کیا جواب آیا؟‘‘ شافع جواب دیتا ہے کہ ٹھیک ہے، اجازت مل گئی ہے۔ اس بیان سے جو بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے وہ یہ ہے کہ نادانو! جس بڑے دربار کی یہ شان ہے اس کے متعلق تم کس خیال خام میں پڑے ہوئے ہو کہ وہاں کوئی اپنے زور سے تم کو بخشوالے گا یا کسی کی یہ مجال ہوگی کہ وہاں مچل کر بیٹھ جائے اور اللہ سے کہے کہ یہ تو میرے متوسل ہیں، انھیں تو بخشنا ہی پڑے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، سبا، حاشیہ:۴۱)

اَلْمُغِیْثُ : فریاد رسی کرنے والا

جب انسان پر کوئی بڑی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے ، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدائے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹے سے کٹا دہریہ تک خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلادیتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۱، الانعام، حاشیہ: ۲۹)
یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے۔ دنیا بھرکے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے۔ حتّٰی کہ روس کے منکرین خدا جنھوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے، ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہوگیا تو انھیں خدا کو پکارنے کی ضرورت محسوس ہوگئی تھی۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل، حاشیہ: ۷۶)
(ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کے ایمان لانے کا واقعہ مشہور ہے کہ) جب مکہ معظمہ نبی ﷺ کے ہاتھ پر فتح ہوگیا توعکرمہ جدّہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبش کی راہ لی۔ راستہ میں سخت طوفان آیا اور کشتی خطرہ میں پڑگئی۔ اوّل اوّل تو دیویوں اور دیوتائوں کو پکارا جاتا رہا۔ مگر جب طوفان کی شدت بڑھی اور مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی تو سب کہنے لگے کہ یہ وقت اللہ کے سوا کسی کو پکارنے کا نہیں ہے، وہی چاہے تو ہم بچ سکتے ہیں۔ اس وقت عکرمہ کی آنکھیں کھلیں اور ان کے دل نے آواز دی کہ اگر یہاں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو کہیں اور کیوں ہو۔ یہی تو وہ بات ہے جو اللہ کا وہ نیک بندہ ہمیں بیس برس سے سمجھا رہا ہے اور ہم خواہ مخواہ اس سے لڑرہے ہیں۔ یہ عکرمہ کی زندگی میں فیصلہ کن لمحہ تھا۔ انھوں نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ اگر میں اس طوفان سے بچ گیاتو سیدھا محمد ﷺ کے پاس جائوں گا اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا، چنانچہ انھوںنے اپنے اس عہد کو پورا کیا اور بعد میں آکر نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ اپنی بقیہ عمر اسلام کے لیے جہاد کرتے گزاردی۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ:۲۹)
جب کوئی سخت وقت آتا ہے اور اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بے اختیار اسی کی طرف رجوع کرتے ہو۔ لیکن تمام اختیارات کا مالک اور بھلائی اور برائی کا مختار کل اور قسمتوں کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تسلیم کرنے کے باوجود خدائی میں بلا دلیل و حجت اور بلا ثبوت دوسروں کو اس کا شریک بناتے ہو۔ پلتے ہو اس کے رزق پر اور ان داتا بناتے ہو دوسروں کو، مدد پاتے ہو اس کے فضل و کرم سے اور حامی و ناصر ٹھیراتے ہو دوسروں کو۔ غلام ہو اس کے اور بندگی بجالاتے ہودوسروں کی۔ مشکل کشائی کرتا ہے وہ، برے وقت پر گڑگڑاتے ہو اس کے سامنے، اور جب وہ وقت گزرجاتا ہے تو تمہارے مشکل کشا بن جاتے ہیں دوسرے اور نذریں اور نیازیں چڑھنے لگتی ہیں دوسروں کے نام کی۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، الانعام، حاشیہ:۴۱)
تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا، اور وہ تمام جنّ ، ارواح، اسلاف ، اجداد، انبیاء، اولیا شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انھیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجالا رہے ہو، تمہاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار اور فریاد، کوئی نذر و نیاز ، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ:۳۷)
یہ سارے کام اللہ کے ہیں دوسرے کسی کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۳۸)
اللہ کے نیک بندے جب مصائب و شدائد میں مبتلا ہوتے ہیں تو اپنے رب سے شکوہ سنج نہیں ہوتے بلکہ صبرکے ساتھ اس کی ڈالی ہوئی آزمائشوں کو برداشت کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ ان کا یہ طریقہ نہیں ہوتا کہ اگر کچھ مدت تک خدا سے دعا مانگتے رہنے پر بلانہ ٹلے تو پھر اس سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانوں پر ہاتھ پھیلانا شروع کردیں۔ بلکہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ملنا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملنا ہے، اس لیے مصیبتوں کا سلسلہ چاہے کتنا ہی دراز ہو وہ اسی کی رحمت کے امیدوار بنے رہتے ہیں۔ اسی لیے ان الطاف و عنایات سے سرفراز ہوتے ہیں جن کی مثال حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی میںملتی ہے۔ حتّٰی کہ اگر وہ کبھی مضطرب ہو کر کسی اخلاقی مخمصے میں پھنس بھی جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں برائی سے بچانے کے لیے ایک راہ نکال دیتا ہے جس طرح اس نے حضرت ایوبؑ کے لیے نکال دی۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، صٓ، حاشیہ:۴۷)

اَلْمُؤخِّرُ : مہلت دینے والا، ٹالنے والا

سورہ ابراہیم آیت ۱۰ میں ارشاد باری ہے:
یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ اِلیٰٓ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔
’’وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۴۲ میں ہے:
اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ۔
’’ اللہ تو انھیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔‘‘
سورہ نوح آیت۴ میں ہے:
لِیَغْفِرْلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلیٰٓ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔
’’اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔‘‘
سورۃ النحل آیت ۶۱ میں ہے:
مَا تَرَکَ عَلَیْہَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُکُمْ اِلیٰٓ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔
’’روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے۔‘‘
سورہ فاطر آیت ۴۵ میں ہے:
مَا تَرَکَ عَلیٰ ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَلٰکِنْ یُؤَخِّرُہُمْ اِلیٰٓ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔
’’زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۴۴ میں ہے:
رَبَّنَآ اَخِّرْنَا اِلیٰٓ اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُّلَ۔
’’اے ہمارے رب ! ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔‘‘
مدت مقرر سے مراد افراد کی موت کا وقت بھی ہوسکتا ہے اور قیامت بھی۔ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے ان کے اٹھنے اور گرنے کے لیے اللہ کے ہاں مدت کا تعین ان کے اوصاف کی شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ ایک اچھی قوم اگر اپنے اندر بگاڑ پیدا کرلے تو اس کی مہلت عمل گھٹا دی جاتی ہے اور اسے تباہ کردیا جاتا ہے۔ اور ایک بگڑی ہوئی قوم اگر اپنے اندر برے اوصاف کو اچھے اوصاف سے بدل لے تو اس کی مہلت عمل بڑھادی جاتی ہے حتّٰی کہ وہ قیامت تک بھی دراز ہوسکتی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، ابراہیم، حاشیہ: ۱۸)
(ارشاد باری تعالیٰ ہے) کہ ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ہم ہر قوم کے لیے پہلے سے طے کرلیتے ہیں کہ اس کو سننے ، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے اتنی مہلت دی جائے گی، اور اس حد تک اس کو شرارتوں اور خباثتوں کے باوجود پورے تحمل کے ساتھ اسے اپنی من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ یہ مہلت جب تک باقی رہتی ہے، اور ہماری مقرر کی ہوئی حد جس وقت تک آنہیںجاتی ، ہم ڈھیل دیتے رہتے ہیں۔ (تفہیم القران، ج ۲، الحجر، حاشیہ: ۲)
اللہ تعالیٰ جلد باز نہیں ہے۔اس کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اسی وقت جو ایمان لے آیا بس وہ تو رحمت کا مستحق قرار پایا اور جس کسی نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تأمل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ نہیں،اللہ کا قاعدہ یہ ہے کہ اپنا پیغام پہنچانے کے بعد وہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ اور قوم کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے ، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے کافی وقت دیتا ہے۔ یہ مہلت کا زمانہ بسااوقات صدیوں تک دراز ہوتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہیے۔ پھر جب وہ مہلت ، جو سراسر انصاف کے ساتھ اس کے لیے رکھی گئی تھی، پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا، تب اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت سے نہ ایک گھڑی پہلے آسکتا ہے اور نہ وقت آجانے کے بعد ایک لمحہ کے لیے ٹل سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ:۵۸)

اَلْمُقَدِّمُ : پہلے ہی خبردار کرنے والا

سورہ قٓ آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ۔
’’ ارشاد ہوا میرے حضور جھگڑا نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا۔‘‘
(گمراہ) شخص اور اس کا شیطان ، دونوں خدا کی عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑرہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور، یہ ظالم میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اسی نے آخر کا رمجھے گمراہ کرکے چھوڑا، اس لیے سزا اس کو ملنی چاہیے۔ اور شیطان جو اب میں کہتا ہے کہ سرکار، میرا اس پر کوئی زور تو نہیں تھا کہ یہ سرکش نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے زبردستی اس کو سرکش بنا دیا ہو۔ یہ کم بخت تو خود نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لیے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی اور میری ترغیبات پر پھسلتا چلا گیا۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، قٓ، حاشیہ:۳۴)
(اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے) کہ تم دونوںہی کو میں نے متنبہ کردیا تھا کہ تم میں سے جو بہکائے گا وہ کیاسزا پائے گا اور جو بہکے گا اسے کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ میری اس تنبیہ کے باوجود جب تم دونوں اپنے اپنے حصے کا جرم کرنے سے باز نہ آئے تو اب جھگڑنے سے حاصل کیا ہے۔ بہکنے والوں کو بہکنے کی اور بہکانے والے کو بہکانے کی سزا تو اب لازماً ملنی ہی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، قٓ، حاشیہ:۳۵)

اَلمُبْدِیُٔ : ابتداء ً وجود بخشنے والا

سورہ یونس آیت ۴ میں ارشاد ہے:
اِنَّہٗ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ۔
’’بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘
سورۃ البروج آیت ۱۳ میں ہے:
اِنَّہٗ ہُوَیُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ۔
’’وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘
نوعِ انسانی کو ابتداء ً وجود بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ پھر ہر انسان کو وجود عطا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ عورت کے رحم میں نطفے کو ٹھیرانا، پھر اس خفیف سے حمل کو پرورش کرکے ایک زندہ بچے کی صورت دینا، پھر اس بچے کے اندر طرح طرح کی قوتیں اور قابلیتیں ودیعت کرنا اور اس کو صحیح و سالم انسان بنا کر پیدا کرنا، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
(تفہیم القرآن)
جب تمہاری ابتدا کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں اور انتہا کا سرا بھی اسی کے ہاتھ میں، تو خود اپنے خیر خواہ بن کر سوچوکہ آخر تمہیں یہ کیا باور کرایا جارہا ہے کہ ان دونوں سروں کے بیچ میں اللہ کے سوا کسی اور کو تمہاری بندگیوں اور نیاز مندیوں کا حق پہنچ گیا ہے۔ یہ ابتدائے خلق اور اعادۂ خلق کا کام بھی اللہ ہی کا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۲، یونس، حاشیہ: ۴۲)
سورۃ النمل آیت ۶۴ میں ارشاد ہے:
اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ۔
’’اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟‘‘
یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الٰہ اور وحدتِ الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے۔ اس وقت تک مسلّم سائنٹیفک حقیقت یہی ہے کہ بے جان مادّے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (Law of Change) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Laboratories) میں بے جان مادّے سے جاندار مادّہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناکام ہوچکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادّہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادّہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک خالق کے امروارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔
اس کے بعد آگے دیکھیے۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بے شمار متنوع صورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت روئے زمین پر حیوانیات کی تقریباً ۱۰ لاکھ اور نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے۔ یہ لکھوکھاانواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں، اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورتِ نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے (Design) کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہو۔ متحجرات (Fossils) کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجود ہ حیوانات میں بھی یہ خنثیٰ مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے، اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے، تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع حکیم، ایک خالق الباری المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۳، النمل ، حاشیہ:۸۰)

اَلْمُعِیْدُ : دوبارہ زندگی بخشنے والا، دوبارہ پیدا کرنے والا

سورۂ یونس آیت ۴ میں ارشاد ہے:
اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ۔
’’بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘
یہ فقرہ دعویٰ اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا۔ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے (اور اس سے بجز ان دہریوں کے جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیے خلق بے خالق جیسے احمقانہ نظریے کو اوڑھنے پر آمادہ ہوگئے اور کون انکار کرسکتاہے) وہ اس بات کو ناممکن یا بعید از فہم قرار نہیں دے سکتا کہ وہی خدا اس خلق کا پھر اعادہ کرے گا۔
اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ یہ اعادہ خلق، عقل و انصاف کی رو سے ضروری ہے اور یہ ضرورت تخلیق ثانیہ کے سوا کسی دوسرے طریقے سے پوری نہیں ہوسکتی۔ خدا کو اپنا واحد رب مان کر جو لوگ صحیح بندگی کا رویہ اختیار کریں وہ اس کے مستحق ہیں کہ انھیں اپنے اس بجا طرزِ عمل کو پوری پوری جزا ملے۔ اور جو لوگ حقیقت سے انکار کرکے اس کے خلاف زندگی بسر کریں وہ بھی اس کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے اس بے جا طرز عمل کا برا نتیجہ دیکھیں۔ یہ ضرورت اگر موجودہ دنیوی زندگی میں پوری نہیں ہورہی ہے (اور ہر شخص جو ہٹ دھرم نہیں ہے جانتا ہے کہ نہیں ہورہی ہے) تو اسے پورا کرنے کے لیے یقینادوبارہ زندگی ناگزیر ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس ، حاشیہ:۱۰)
کائنات میں اللہ تعالیٰ کے جو کام ہر طرف نظر آرہے ہیں جن کے بڑے بڑے نشانات سورج اور چاند اور لیل و نہار کی گردش کی صورت میں ہر شخص کے سامنے موجود ہیں، اس سے اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ اس عظیم الشان کارگاہ ہستی کا خالق کوئی بچہ نہیں ہے جس نے محض کھیلنے کے لیے یہ سب کچھ بنایا ہو اور پھر دل بھرلینے کے بعد یونہی اس گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالے۔ صریح طور پر نظر آرہا ہے کہ اس کے ہر کام میں نظم ہے، حکمت ہے۔ مصلحتیں ہیں اور ذرّے ذرّے کی پیدائش میں ایک گہری مقصدیت پائی جاتی ہے ۔ پس جب وہ حکیم ہے اور اس کی حکمت کے آثار و علائم تمہارے سامنے علانیہ موجود ہیں، تو اس سے یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ وہ انسان کو عقل اور اخلاقی حس اور آزادانہ ذمہ داری اور تصرف کے اختیارات بخشنے کے بعد اس کے کارنامۂ زندگی کا حساب کبھی نہ لے گا اور عقلی اور اخلاقی ذمہ داری کی بنا پر جزا و سزا کا جو استحقاق لازماً پیدا ہوتا ہے اسے یونہی مہمل چھوڑ دے گا۔
(نتیجہ یہ نکلا) کہ دوسری زندگی ممکن ہے کیونکہ پہلی زندگی کا امکان واقعہ کی صورت میں موجود ہے۔ اور یہ کہ دوسری زندگی کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ زندگی میں انسان اپنی اخلاقی ذمہ داری کو صحیح یا غلط طور پر جس طرح ادا کرتا ہے اور اس سے سزا اور جزا کا جو استحقاق پیدا ہوتا ہے اس کی بنا پر عقل اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ایک اور زندگی ہو جس میں ہر شخص اپنے اخلاقی رویہ کا وہ نتیجہ دیکھے جس کا وہ مستحق ہے۔
جب عقل و انصاف کی رو سے دوسری زندگی کی ضرورت ہے تو یہ ضرورت یقینا پوری کی جائے گی ، کیونکہ انسان اور کائنات کا خالق حکیم ہے اور حکیم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ حکمت و انصاف جس چیز کے متقاضی ہوں اسے وہ وجود میں لانے سے باز رہ جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ:۱۱)
تخلیق کی ابتدا کے متعلق تو مشرکین مانتے ہی تھے کہ یہ صرف اللہ کا کام ہے، ان کے شریکوں میں سے کسی کا اس کام میں کوئی حصہ نہیں۔ رہا تخلیق کا اعادہ تو ظاہر ہے کہ جو ابتداء ً پیدا کرنے والا ہے وہی اس عملِ پیدایش کا اعادہ بھی کرسکتا ہے، مگر جوابتداء ً ہی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو وہ کس طرح اعادہ پیدایش پر قادر ہوسکتا ہے۔ یہ بات اگرچہ صریحاً ایک معقول بات ہے اور خود مشرکین کے دل بھی اندر سے اس کی گواہی دیتے تھے کہ بات بالکل ٹھکانے کی ہے، لیکن انھیں اس کا اقرار کرنے میں اس بنا پر تأمل تھا کہ اسے مان لینے کے بعد انکارِ آخرت مشکل ہوجاتا ہے (حالانکہ حقیقت یہی ہے) کہ ابتدائے خلق اور اعادۂ خلق کا کام بھی اللہ ہی کا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یونس، حاشیہ: ۴۱)
اب ذرا اعادۂ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل (Mechanism) رکھ دیا ہے جو اس کے بے شمار افراد میں سے بے حد و حساب نسل ٹھیک اسی کی صورتِ نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلاجاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کارخانۂ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل (Genetics) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقاے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیہ (Cell) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے جسے بمشکل انتہائی طاقتور خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینئر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتماً اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورتِ نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انھوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے، کسی آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانۂ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانۂ جو پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے، بلکہ ناقابلِ تصوّروسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۂ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بے شمار افراد وجود میں لاتا چلاجارہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالدو تناسل کے اس خورد بینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذراسے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے، اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بے انتہا لطیف و پر پیچ عملیات (Progresses) کو دیکھے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدبر اور ایک حیّ و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کا رخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو۔
یہ حقائق ایک دہریے کے انکار خدا کی بھی اسی طرح جڑکاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہوکر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانۂ خلق و اعادۂ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جارہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، نمل، حاشیہ: ۸۰)
سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۴ بھی اس کی وضاحت کرتی ہے:
یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآئَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ،کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدُہٗ، وَعْدًا عَلَیْنَا، اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ۔
’’ وہ دن جب کہ ہم آسمان کو یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔‘‘
سورۃ العنکبوت آیت ۲۰ میں ارشاد ہے:
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ۔ فَانْظُرُواکَیْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِیُٔ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ قَدِیْرٌ۔
’’ ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھر و اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے، پھرا للہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اسی سورہ کی آیت ۱۹ میں ارشاد ہے:
اَوَلَمْ یَرَوْا کَیْفَ یُبْدِیُٔ اللّٰہُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ۔ اِنَّ ذٰلِکَ عَلیَ اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔
’’ کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا نہیں ہے کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ یقینا یہ (اعادہ تو) اللہ کے لیے آسان تر ہے۔‘‘
ایک طرف بے شمار اشیاء عدم سے وجود میں آتی ہیں، اور دوسری طرف ہر نوع کے افراد کے مٹنے کے ساتھ پھر ویسے ہی افراد وجود میں آتے چلے جاتے ہیں۔ مشرکین اس بات کو مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کی صفت خلق و ایجاد کا نتیجہ ہے انھیں اللہ کے خالق ہونے سے انکار نہ تھا، جس طرح آج کے مشرکین کو نہیں ہے۔ اس لیے ان کی اپنی مانی ہوئی بات پر یہ دلیل قائم کی گئی ہے کہ جو خدا تمہارے نزدیک اشیاء کو عدم سے وجود میں لاتا ہے، اور پھر ایک ہی دفعہ تخلیق کرکے نہیں رہ جاتا بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے مٹ جانے والی اشیاء کی جگہ پھر ویسی ہی اشیاء پے درپے وجود میں لاتا چلا جاتا ہے،اس کے بارے میں آخر تم نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعدوہ پھر تمہیں دو بارہ زندہ کرکے اٹھاکھڑا نہیں کرسکتا۔
جب خدا کی کاریگری سے بارِ اوّل کی تخلیق کا تم خود مشاہدہ کررہے ہو تو تمہیں سمجھنا چاہیے کہ اس خدا کی کاریگری سے بارِ دیگر بھی تخلیق ہوگی۔ ایسا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت، حاشیہ: ۳۲-۳۳)
صریح عقل اس بات پر شہادت دیتی ہے کہ جس کے لیے خلق کی ابتدا کرنا ممکن ہے اس کے لیے اسی خلق کا اعادہ کرنا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہے ۔ خلق کی ابتدا تو ایک امر واقعہ ہے جو سب کے سامنے موجود ہے۔ اس کے بعدیہ خیال کرنا سراسر نامعقول بات ہے کہ وہی خدا جس نے اس خلق کی ابتدا کی ہے اس کا اعادہ نہیں کرسکتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الروم، حاشیہ: ۱۳)
پہلی مرتبہ پیدا کرنا اگر اس کے لیے مشکل نہ تھا، تو آخر تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ پہلی مرتبہ کی پیدائش میں تو تم خود جیتے جاگتے موجود ہو۔ اس لیے اس کا مشکل نہ ہونا تو ظاہر ہے۔ اب یہ بالکل سیدھی سادھی عقل کی بات ہے کہ ایک دفعہ جس نے کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے وہی چیز دوبارہ بنانا نسبتاً زیادہ ہی آسان ہونا چاہیے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الروم، حاشیہ: ۳۸)
سورۃ الروم کی آیت ۳۷ سے بھی اسی کی وضاحت ہوتی ہے:
وَہُوَالَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ۔
’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘

اَلْمُحْی : زندگی بخشنے والا

سورۃ الروم آیت ۵۰ میں ارشاد ہے:
اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتیٰ۔ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیٍْٔ قَدِیْرٌ۔
’’ یقینا وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۶ میں ارشاد ہے:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتیٰ۔
’’ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘‘
’’اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘‘ یہ سن کر لوگوں کو اچنبھا ہوتا ہے کہ اللہ کسی وقت مردوں کو زندہ کرے گا، مگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انھیں نظر آئے کہ وہ تو ہر وقت مردے جلارہا ہے۔ جن مادّوں سے آپ کا جسم بنا ہے اور جن غذائوں سے وہ پرورش پاتا ہے ان کا تجزیہ کرکے دیکھ لیجیے۔ کوئلہ، لوہا، چونا، کچھ نمکیات ، کچھ ہوائیں، اور ایسی ہی چند چیزیں اور ہیں۔ ان میں سے کسی چیز میں بھی حیات اور نفسِ انسانی کے خواص موجود نہیں ہیں۔ مگر انہی مردہ، بے جان مادّوں کوجمع کرکے آپ کوجیتا جاگتا وجود بنا دیا گیا ہے۔ پھر انھیں مادّوں کی غذا آپ کے جسم میں جاتی ہے اور وہاں اس سے مردوں میں وہ تخم اور عورتوں میں وہ بیضی خلیے بنتے ہیں جن کے ملنے سے آپ ہی جیسے جیتے جاگتے انسان روز بن بن کر نکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ذرا اپنے گردو پیش کی زمین پر نظر ڈالیے۔ بے شمار مختلف چیزوں کے بیج تھے جن کو ہوا ئوں اور پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا، اور بے شمار مختلف چیزوں کی جڑیں تھیں جو جگہ جگہ پیوند خاک ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں کہیں بھی نباتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ آپ کے گردوپیش کی سوکھی زمین ان لاکھوں مردوں کی قبربنی ہوئی تھی۔ مگر جونہی کہ پانی کا ایک چھینٹا پڑا، ہر طرف زندگی لہلہانے لگی، ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کرگیا۔ یہ احیائے اموات کا عمل ہر برسات میں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ:۹)
یہ منظر ہر سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گزرتا ہے کہ زمین بالکل چٹیل میدان پڑی ہوئی ہے،زندگی کے کوئی آثار موجود نہیں، نہ گھاس پھونس ہے، نہ بیل بوٹے، نہ پھول پتی، اور نہ کسی قسم کے حشرات الارض۔ اتنے میںبارش کا موسم آگیا اور ایک دو چھینٹے پڑتے ہی اسی زمین سے زندگی کے چشمے ابلنے شروع ہوگئے۔ زمین کی تہوں میں دبی ہوئی بے شمار جڑیں یکایک جی اٹھیں اور ہر ایک کے اندر سے وہی نباتات پھر برآمد ہوگئی جو پچھلی برسات میں پیدا ہونے کے بعد مرچکی تھی۔ بے شمار حشرات الارض جن کا نام و نشان تک گرمی کے زمانے میں باقی نہ رہا تھا، یکایک پھر اسی شان سے نمودار ہوگئے جیسے پچھلی برسات میں دیکھے گئے تھے۔ یہ سب کچھ اپنی زندگی میں بار بار تم دیکھتے رہتے ہو، اور پھر بھی تمہیں یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس حیرت کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمہارا مشاہدہ بے عقل حیوانوں کاسا مشاہدہ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل، حاشیہ: ۵۳ الف)
نادان لوگ آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں اور اسی لیے اپنی جگہ اس خیال میں مگن ہیں کہ دنیا میں یہ خواہ کچھ کرتے رہیں بہر حال وہ وقت کبھی آنا نہیں ہے جب انھیں جواب دہی کے لیے خدا کے حضور حاضر ہونا پڑے گا۔ لیکن یہ محض ایک خیال خام ہے جس میں یہ مبتلا ہیں۔ قیامت کے روز تمام اگلے پچھلے مرے ہوئے انسان اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پربالکل اسی طرح یکایک جی اٹھیں گے جس طرح ایک بارش ہوتے ہی سونی پڑی ہوئی زمین یکایک لہلہا اٹھتی ہے اور مدتوں کی مری ہوئی جڑیں سرسبز و شاداب ہو کر زمین کی تہوں میں سے سرنکالنا شروع کردیتی ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الفاطر، حاشیہ: ۱۹)
جو خدا ہر آن تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ کام کررہا ہے وہ آخر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بخشنے سے عاجز کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ ہر وقت زندہ انسانوں اور حیوانات میں سے فضلات (Waste Matter) خارج کررہا ہے جن کے اندر زندگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر لمحہ بے جان مادے (Dead Matter) کے اندر زندگی کی روح پھونک کر بے شمار جیتے جاگتے حیوانات، نباتات اور انسان وجود میں لارہاہے، حالانکہ بجائے خود ان مادوں میں، جن سے ان زندہ ہستیوں کے جسم مرکب ہوتے ہیں ، قطعاً کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ وہ ہر آن یہ منظر تمہیں دکھا رہا ہے کہ بنجر پڑی ہوئی زمین کو جہاں پانی میسر آیا اور یکایک وہ حیوانی اور نباتی زندگی کے خزانے اگلنا شروع کردیتی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کارخانۂ ہستی کو چلانے والا خدا انسان کے مرجانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز ہے تو حقیقت میں وہ عقل کا اندھا ہے۔ اس کے سر کی آنکھیں جن ظاہری مناظر کو دیکھتی ہیں، اس کی عقل کی آنکھیں ان کے اندر نظر آنے والے روشن حقائق کو نہیں دیکھتیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الروم، حاشیہ: ۲۵)

اَلْمُمِیْتُ : جان سلب کرنے والا، مارنے والا، موت دینے والا

سورۃ البقرۃ آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِا للّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَا کُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔
’’ تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی، پھر وہی تمہاری جان سلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔‘‘
سورۃ المومنون آیت ۸۰ میں ارشاد ہے:
وَہُوَ الَّذِیْ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ۔
’’ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۶۶ میں ارشاد ہے:
وَہُوَ الَّذِیْٓ اَحْیَا کُمْ، ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ۔
’’ وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی تم کو پھر زندہ کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکر حق ہے۔‘‘
سورۃ الروم آیت ۴۰ میں ارشاد ربانی ہے:
اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ۔
’’ اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔‘‘
رزق، موت و زیست اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ مرجانے کے بعد زندہ کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۳، الروم، حاشیہ :۶۳)
موت کے خوف سے بھاگنا فضول ہے۔ کوئی شخص نہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے وقت سے پہلے مرسکتا ہے اور نہ اس کے بعد جی سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، آل عمران، حاشیہ: ۱۰۴)
انسان اپنی پیدائش اور اپنی تقدیر کے معاملہ ہی میں نہیں بلکہ اپنی موت کے معاملہ میں بھی یہ اپنے خالق کے آگے بالکل بے بس ہے۔ نہ اپنے اختیار سے پیدا ہوسکتا ہے، نہ اپنے اختیار سے مرسکتا ہے، اور نہ اپنی موت کو ایک لمحہ کے لیے بھی ٹال سکتا ہے۔ جس وقت، جہاں، جس حال میں بھی اس کی موت کا فیصلہ کردیا گیا ہے اسی وقت، اسی جگہ اور اسی حال میں یہ مرکر رہتا ہے ، اور جس نوعیت کی قبر بھی اس کے لیے طے کردی گئی ہے اسی نوعیت کی قبر میں ودیعت ہوجاتا ہے، خواہ وہ زمین کا پیٹ ہو، یا سمندر کی گہرائیاں ، یا آگ کا الائو، یا کسی درندے کا معدہ، انسان خود تو درکنار، ساری دنیا مل کر بھی اگر چاہے تو کسی شخص کے معاملہ میں خالق کے اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، عبس، حاشیہ:۱۴)
سورۃالجاثیہ آیت ۲۶ میں ارشاد ہے:
قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمْ یَجْمَعُکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ۔
’’ان سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘
آیت ۲۴ میں ارشاد ہے:
وَقَالُوْا مَاہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ۔ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ۔
’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو۔درحقیقت اس معاملہ میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔‘‘
کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے ان کوبہ تحقیق یہ معلوم ہوگیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لیے کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، اور یہ بات بھی انھیں معلوم ہوگئی ہو کہ انسان کی روح کسی خدا کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مرکر فنا ہوجاتا ہے۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بناپر کرتے ہیں۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں۔‘‘ لیکن یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح علمی طریقہ پر وہ یہ جاننے کا دعویٰ نہیں کرسکتے کہ آدمی کی روح خدا کے حکم سے نکالی نہیں جاتی ہے بلکہ وہ محض اسی طرح مرکر ختم ہوجاتا ہے جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کہہ سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ فی الواقع کیا صورت پیش آتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب انسانی ذرائع علم کی حد تک زندگی بعد موت کے ہونے یا نہ ہونے ، اور قبض روح واقع ہونے یا گردش ایام سے آپ ہی آپ مرجانے کا یکساں احتمال ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ امکان آخرت کے احتمال کو چھوڑ کرحتمی طور پر انکار آخرت کے حق میں فیصلہ کرڈالتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور ہے کہ دراصل اس مسئلے کا آخری فیصلہ وہ دلیل کی بناء پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے ہیں ؟ چوں کہ ان کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو اور موت کی حقیقت نیستی اور عدم نہیں بلکہ خدا کی طرف سے قبضِ روح ہو، اس لیے وہ اپنے دل کی مانگ کو اپنا عقیدہ بنالیتے ہیں اور دوسری بات کا انکار کردیتے ہیں(حالانکہ) نہ انھیں زندگی اتفاقاً ملتی ہے، نہ موت خود بخود واقع ہوجاتی ہے۔ ایک خدا ہے جو زندگی دیتا ہے اور وہی اسے سلب کرتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الجاثیہ، حاشیہ: ۳۴-۳۷)
موت کچھ یوں ہی نہیں آجاتی کہ ایک گھڑی چل رہی تھی، کوک ختم ہوئی اور وہ چلتے چلتے یکایک بند ہوگئی۔ بلکہ دراصل اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کررکھا ہے جو آکر باقاعدہ روح کو ٹھیک اسی طرح وصول کرتا ہے جس طرح ایک سرکاری امین (Official Receiver) کسی چیزکو اپنے قبضہ میں لیتا ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر اس کی مزید تفصیلات جو بیان کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس افسر موت کے ماتحت فرشتوں کا ایک پورا عملہ ہے جو موت وارد کرنے اور روح کو جسم سے نکالنے اور اس کو قبضے میں لینے کی بہت سی ’’ مختلف النوع‘‘ خدمات انجام دیتا ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت سے انسان معدوم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کی روح جسم سے نکل کر باقی رہتی ہے۔ قرآن کے الفاظ ’’موت کا فرشتہ تم کو پورے کا پورا اپنے قبضے میں لے گا۔‘‘ اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں، کیوں کہ کوئی معدوم چیز قبضے میں نہیں لی جاتی۔ قبضے میں لینے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ مقبوضہ چیز قابض کے پاس رہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت جو چیز قبضے میں لی جاتی ہے وہ آدمی کی حیوانی زندگی (Biological Life) نہیں بلکہ اس کی وہ خودی، اس کی وہ انا (Ego) ہے جو ’’میں‘‘ اور ’’ہم‘‘ اور ’’تم‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ یہ انادنیا میں کام کرکے جیسی کچھ شخصیت بھی بنتی ہے وہ پوری کی پوری ، جوں کی توں (Intact) نکال لی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس کے اوصاف میں کوئی کمی بیشی ہو۔ اور یہی چیز موت کے بعد اپنے رب کی طرف پلٹائی جاتی ہے۔ اسی کو آخرت میں نیا جنم اور نیا جسم دیا جائے گا۔ اسی پر مقدمہ قائم کیا جائے گا، اسی سے حساب لیا جائے گا، اور اسی کو جزا و سزا دیکھنی ہوگی۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، السجدہ، حاشیہ:۲۱)

اَلْجَامِعُ : جمع کرنے والا

ہر انسان جو آدم سے لے کر قیامت کی آخری ساعت تک پیدا ہوا ہے ، خواہ ماں کے پیٹ سے نکل کر اس نے ایک ہی سانس لیا ہو، اس وقت دو بارہ پیدا کیا جائے گا اور سب کو ایک وقت میں جمع کردیا جائے گا۔
سورہ آل عمران آیت ۹ میں ارشاد ہے:
رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔
’’ پروردگار! تو یقینا سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، تو ہرگز اپنے وعدہ سے ٹلنے والا نہیں ہے۔‘‘
سورۃ النساء آیت ۱۴۰ میں ارشاد ربانی ہے:
اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُناَفِقِیْنَ وَالْکَافِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعًا۔
’’ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والاہے۔‘‘
سورۃ الشوریٰ آیت ۲۹ میں ارشاد ہے:
وَہُوَ عَلیٰ جَمْعِہِمْ اِذَا یَشَآئُ قَدِیْرٌ۔
’’ وہ جب چاہے انھیں اکٹھا کرسکتا ہے۔‘‘
جس طرح وہ انھیں پھیلا دینے پر قادر ہے اسی طرح وہ انھیں جمع کرلینے پر بھی قادر ہے، لہٰذا یہ خیال کرنا غلط ہے کہ قیامت نہیں آسکتی اور تمام اولین و آخرین کو بیک وقت اٹھا کر اکٹھا نہیں کیا جاسکتا۔
سورۃ الکہف آیت ۹۹ میں ارشاد ہے:
وَتَرَکْنَا بَعْضَہُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰہُمْ جَمْعًا۔
’’ اور اس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔‘‘
سورۃ التغابن آیت ۹ میں ارشاد ہے:
یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ۔
’’جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔‘‘
اجتماع کے دن سے مراد ہے قیامت اور سب کو اکٹھا کرنے سے مراد ہے تمام ان انسانوں کو بیک وقت زندہ کرکے جمع کرناجو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک دنیا میں پیداہوئے ہوں۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ کھول کر اسے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ ہود آیت :۱۰۳میں فرمایا:
ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ۔
’’ وہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب انسان جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔‘‘
اور سورۃ واقعہ آیت:۵۰ میں فرمایا:
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلیٰ مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۔
’’ ان سے کہو کہ تمام پہلے گزرے ہوئے اور بعد میں آنے والے لوگ یقینا ایک مقررہ دن کے وقت جمع کیے جانے والے ہیں۔‘‘
وہ دن بھی (یقینا) آنا ہے جب اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کا حساب لے گا۔ دنیا میں اگر کوئی شخص اپنی گمراہی و بدعملی کے برے نتائج سے بچ بھی نکلا تو اس دن بچائو کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور بڑا ہی بد قسمت ہے وہ جویہاں بھی خراب ہو اور وہاں بھی اس کی شامت آئے۔
سورۃ النساء آیت ۸۷میں فرمایا:
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۔ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ۔ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا۔
’’ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔‘‘
کافر اور مشرک اور ملحد اور دہریے جو کچھ کررہے ہیں اس سے خدا کی خدائی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس کا خدائے واحد اور خدائے مطلق ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو کسی کے بدلے بدل نہیں سکتی۔ پھر ایک دن وہ سب انسانوں کو جمع کرکے ہر ایک کو اس کے عمل کا نتیجہ دکھا دے گا۔ اس کی قدرت کے احاطہ سے بچ کر کوئی بھاگ بھی نہیں سکتا۔ لہٰذا خدا ہرگز اس بات کا حاجت مند نہیں ہے کہ اس کی طرف سے کوئی اس کے باغیوں پر جلے دل کا بخار نکالتا پھرے اور کج خلقی اور ترش کلامی کو زخم دل کا مرہم بنائے۔
دنیا کی زندگی میں جو شخص جس طریقے پر چاہے چلتا رہے اور جس راہ میں اپنی کوششیں اور محنتیں صرف کرنا چاہتا ہے کیے جائے، آخر کار سب کو ایک دن اس خداکے سامنے حاضر ہونا ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پھر ہر ایک اپنی سعی و عمل کے نتائج دیکھ لے گا۔
سورۃ الجاثیہ آیت ۲۶میں فرمایا:
قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَارَیْبَ فِیْہِ۔
’’ اے نبیؐ! ان سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘
(جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے) کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہوگی تو وہ کہتے ہیں اٹھالائو ہمارے باپ دادا کو، گویا لازماً قبر سے ایک مردہ اٹھا کر ان کے سامنے لے آنا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ یہ نہیں مان سکتے کہ مرے ہوئے انسان کسی وقت از سرِ نو زندہ کرکے اٹھائے جانے والے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سرے سے کسی نے بھی ان سے نہیںکی تھی کہ اس دنیا میں متفرق طور پر وقتاً فوقتاً مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ یہ تھا کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا یہ متفرق طور پر نہیں ہوگا، بلکہ ایک دن سب انسانوں کو جمع کرنے کے لیے مقرر ہے اس میں ان سب کے اعمال کا محاسبہ کرکے جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔
(منکرین کا یہ خیال کہ) ابتدائے آفرینش سے قیامت تک مرنے والے بے شمار انسانوں کے جسم کے اجزاء جو زمین میں بکھرچکے ہیں اور آئندہ بکھرتے چلے جائیں گے، ان کو جمع کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے، یہ سراسر ان کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے (ورنہ)واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہر جز جس شکل میں جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ براہ راست اس کو جانتا ہے اور مزیدبراںاس کا پورا ریکارڈ اللہ کے دفترمیںمحفوظ کیا جارہا ہے جس سے کوئی ایک ذرہ بھی چھوٹا ہوا نہیں ہے جس وقت اللہ کا حکم ہوگا اسی وقت آناً فاناً اس کے فرشتے اس ریکارڈ سے رجوع کرکے ایک ایک ذرے کو نکال لائیں گے اور تمام انسانوں کے وہی جسم پھر بنادیں گے جن میں رہ کر انھوں نے دنیا کی زندگی میں کام کیا تھا۔
عالم آخرت محض ایک روحانی عالم نہیں ہوگا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم و روح کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ اب دنیا میں ہیں۔ یہی نہیں،ان کو جسم بھی وہی دیا جائے گا جس میں اب وہ رہتے ہیں۔ وہی تمام اجزاء اور جواہر (Atoms) جن سے ان کے بدن اس دنیا میں مرکب تھے، قیامت کے روز جمع کردیے جائیں گے۔ اور وہ اپنے انہی سابق جسموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کرچکے تھے۔

اَلْمُحْصِیْ : ایک ایک چیز کو گن کر رکھنے والا

خدا کے ہاں ہر شخص کا ہر کرتوت نوٹ ہوچکا ہے۔ کس شخص نے ، کب ، کہاں ، کیا حرکت کی، اس حرکت کے بعد اس کا اپنا ردّ عمل کیا تھا، اور اس کے کیا نتائج ، کہا ںکہاں، کس کس شکل میں برآمد ہوئے، یہ سب کچھ اس کے دفتر میں لکھ لیا گیا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۵، المجادلہ، حاشیہ: ۱۷)
سورۃ الجن آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصیٰ کُلَّ شَیٍْٔ عَدَدًا۔
’’ اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے۔‘‘
جو پیغامات اللہ تعالیٰ (اپنے انبیاء و رسل کی طرف) بھیجتا ہے ان کا حرف حرف گنا ہوا ہے۔ رسولوں اور فرشتوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ ان میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی کرسکیں۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الجن، حاشیہ:۳۰)
سورہ مریم آیت ۹۳،۹۴ میں ارشاد ہے:
اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا لَقَدْ اَحْصٰہُمْ وَعَدَّہُمْ عَدًّ ا۔
’’زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں، سب پر وہ محیط ہے اور اس نے ان کو شمار کررکھا ہے۔‘‘
سورہ یٰس آیت ۱۲ میں ارشاد ربانی ہے:
وَکُلَّ شَیٍْٔ اَحْصَیْنٰہُ فِیْ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔
’’ ہر ایک چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کررکھا ہے۔‘‘
انسان کا نامہ اعمال تین قسم کے اندراجات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے۔ دوسرے ، اپنے گردوپیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضاء پر جو نقوش (Impressions) بھی انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہوجاتے ہیں، اور یہ سارے نقوش ایک وقت اس طرح ابھر آئیں گے کہ اس کی اپنی آواز سنی جائے گی، اس کے اپنے خیالات اور نیتوں اور ارادوں کی پوری داستان اس کی لوح ذہن پر لکھی نظر آئے گی،اور اس کے ایک ایک اچھے اور برے فعل اور اس کی تمام حرکات و سکنات کی تصویریں سامنے آجائیں گی۔ تیسرے اپنے مرنے کے بعد اپنی آئندہ نسل پر اپنے معاشرے پر اور پوری انسانیت پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے جو اثرات وہ چھوڑ گیا ہے وہ جس وقت تک اور جہاں جہاں تک کارفرمارہیں گے وہ سب اس کے حساب میں لکھے جاتے رہیں گے۔ اپنی اولاد کو جو بھی اچھی یا بری تربیت اس نے دی ہے، اپنے معاشرے میں جو بھلائیاں یا برائیاں بھی اس نے پھیلائی ہیں، اور انسانیت کے حق میں جو پھول یا کانٹے بھی وہ بوگیا ہے ان سب کا پورا ریکارڈ اس وقت تک تیار کیا جاتا رہے گا جب تک اس کی لگائی ہوئی یہ فصل دنیا میں اپنے اچھے یا برے پھل لاتی رہے گی۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، یٰسٓ، حاشیہ:۹)
سورہ نبأ آیت ۲۷،۲۸،۲۹ میں ارشاد ہے:
اِنَّہُمْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًا۔ وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا وُکَلَّ شَیٍْٔ اَحْصَیْنٰہُ کِتٰبًا۔
’’ وہ کبھی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور ہماری آیات کو انھوں نے بالکل جھٹلادیا تھا اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی۔‘‘
ان کے اقوال و افعال ، ان کی حرکات و سکنات، حتّٰی کہ ان کی نیتوں اور خیالات اور مقاصد تک کا مکمل ریکارڈ ہم تیار کرتے جارہے تھے جن سے کوئی چیز چھوٹی ہوئی نہ تھی، اور وہ بے وقوف اس سے بے خبر اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ کسی اندھیر نگری میں جی رہے ہیں جہاںوہ اپنی مرضی اور خواہش سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں ، اس کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

اَلْوَاجِدُ : موجود ، پانے والا اَلْوَاحِدُ : ایک ، اکیلا، یکتا

سورہ بقرہ آیت ۱۶۳ میں ارشاد ربانی ہے:
وَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔
’’ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اس رحمن اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔‘‘
سورہ نساء آیت ۱۷۱ میں ارشاد ہے:
وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَاثَۃٌ اِنْتَہُوْا خَیْرًا لَّکُمْ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’اور نہ کہو کہ تین ‘‘ ہیں۔ باز آجائو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔ اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے۔‘‘
سورہ مائدہ آیت ۷۳ میں ارشاد ہے:
لَقَدْ کَفَرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلَاثَۃٍ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔‘‘
سورہ انعام آیت ۱۹ میں ہے:
قُلْ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَاِنَّنِیْ بَرِیٌْٔ مِمَّا تُشْرِکُوْنَ۔
’’کہو! خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔‘‘
سورہ یوسف آیت ۳۹ میں ہے:
أَ أَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’ تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پرغالب ہے۔‘‘
سورۃ الرعد آیت ۱۶ میں ہے:
قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیٍْٔ وَہُوَا لْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’کہو، ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۴۸ میں ارشاد ہے:
وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
’’ اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہوجائیں گے۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۵۲ میں ارشاد ہے:
ہٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنْذَرُوْا وَلِیَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا ہُوَاِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’ یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ ان کو اس کے ذریعہ سے خبردار کردیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے۔‘‘
سورۃ النحل آیت ۲۲ میں ارشاد ہے:
اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’ تمہارا خدا بس ایک ہی ہے۔‘‘
سورۃ النحل آیت ۵۱ میں ہے:
قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوْآ اِلٰہَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’اللہ کا فرمان ہے کہ دو خدا نہ بنالو، خدا تو بس ایک ہی ہے۔‘‘
سورۃ الکہف آیت ۱۱۰ میں ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْ حیٰ اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’ اے محمدؐ! کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔‘‘
سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۸ میں ہے:
قُلْ اِنَّمَا یُوْحیٰٓ اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’ ان سے کہو میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا خدا صرف ایک خدا ہے۔‘‘
سورۃ الحج آیت ۳۴ میں ہے:
فَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا۔
’’ پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔‘‘
سورۃ العنکبوت آیت ۴۶ میں ہے:
وَاِلٰہُنَا وَاِلٰہُکُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۔
’’ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں۔‘‘
سورۃ الصافات آیت ۴ میں ارشاد ربّانی ہے:
اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ۔
’’ تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے۔ وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام ان چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں اور سارے مشرقوں کا مالک۔‘‘
سورہ صٓ آیت ۶۵ میں ارشاد ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌوَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’ (اے نبی!) ان سے کہو، ’’میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں۔ کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ، جو یکتا ہے، سب پر غالب۔‘‘
سورۃ الزمر آیت ۴ میں آیا ہے:
سُبْحَانَہٗ ہُوَاللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔
’’پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اس کا بیٹا ہو) وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب ہے۔‘‘
سورہ مؤمن آیت ۱۶میں ہے:
لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَومَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
’’(اس روز پکار کر پوچھا جائے گا) آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم پکار اٹھے گا) اللہ واحد قہار کی۔‘‘
سورہ حٰم سجدہ آیت ۶ میں ہے:
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحیٰ اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔
’’ اے نبیؐ ، ان سے کہو، میں تو ایک بشرہوں تم جیسا : مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے۔‘‘
وہ اکیلا اپنی ذات میں واحد ہے، کسی جنس کا فرد نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اولاد لازماً ہم جنس ہوا کرتی ہے۔ نیز اولاد کا کوئی تصور از دواج کے بغیر نہیں ہوسکتا، اور ازدواج بھی ہم جنس سے ہی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا وہ شخص سخت جاہل و نادان ہے جو اس یکتا ویگانہ ہستی کے لیے اولاد تجویز کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الزمر، حاشیہ:۹)
معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے، کیونکہ وہ سب پر غالب ہے، زمین و آسمان کا مالک ہے ، اور کائنات کی ہر چیز اس کی مِلک ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، صٓ ، حاشیہ: ۵۸)
سورۃ المؤمن ، رکوع ۲،آیت ۱۶ میں ارشاد ہے:
یَوْمَ ہُمْ بَارِزُوْنَ۔ لَا یَخْفیٰ عَلَی اللّٰہِ مِنْہُمْ شَیٍْٔ۔ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔
’’وہ دن جب کہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھپی ہوئی نہ ہوگی (اس روز پکار کر پوچھا جائے گا) آج بادشاہی کس کی ہے (سارا عالم پکار اٹھے گا) اللہ واحد قہار کی۔‘‘
دنیا میں تو بہت سے برخود غلط لوگ اپنی بادشاہی و جباری کے ڈنکے پیٹتے رہے اور بہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے، اب بتائو کہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے؟ اختیارات کا اصل مالک کون ہے؟اور حکم کس کا چلتا ہے۔ یہ ایسا مضمون ہے جسے اگر کوئی شخص گوشِ ہوش سے سنے تو خواہ وہ کتنا ہی بڑا بادشاہ یا آمر مطلق بنا بیٹھا ہو اس کا زہرہ آب ہوجائے اور ساری جباریت کی ہوا اس کے دماغ سے نکل جائے۔ اس موقع پرتاریخ کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی خاندان کافرماں روانصربن احمد (۳۰۱-۳۳۱ھ) جب نیشا پور میں داخل ہوا تو اس نے ایک دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمایش کی کہ کارروائی کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انھوں نے یہی رکوع۱؎ تلاوت کیا۔ جس وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر پر ہیبت طاری ہوگئی۔ لرزتا ہوا تخت سے اترا۔ تاج سر سے اتار کر سجدے میں گرگیا اور بولا اے رب، بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، المؤمن ، حاشیہ:۲۷)
خدا تو بس ایک ہی خدا ہے۔ کسی اور کو خدا نہ بنائو، کسی اور کی بندگی وپرستش نہ کرو، کسی اور کو مدد کے لیے نہ پکارو، کسی اور کے آگے سرتسلیم و اطاعت خم نہ کرو، کسی اور کے رسم و رواج اور قانون و ضابطہ کو شریعت واجب الاطاعت نہ مانو۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، حٰمٓ السجدہ، حاشیہ: ۷)

اَلْمُنْتَقِمُ : بدلہ لینے والا، انتقام لینے والا، سزا دینے والا

سورۃ السجدہ آیت ۲۲ میں ارشاد ربانی ہے:
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَبِاٰیٰاتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْہَا اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۔
’’ اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیرلے۔ ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔‘‘
رب کی آیات ، یعنی اس کی نشانیوں کے الفاظ بہت جامع ہیں جن کے اندر تمام اقسام کی نشانیاں آجاتی ہیں۔ قرآن مجید کے جملہ بیانات کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشانیاں چھ قسموں پر مشتمل ہیں۔
۱- وہ نشانیاں جو زمین سے لے کر آسمان تک ہر چیز میں اور کائنات کے مجموعی نظام میں پائی جاتی ہیں۔
۲- وہ نشانیاں جو انسان کی ابتدائی اور اس کی ساخت اور اس کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔
۳- وہ نشانیاں جو انسان کے وجدان میں، اس کے لاشعور و تحت الشعور میں اور اس کے اخلاقی تصوّرات میں پائی جاتی ہیں۔
۴- وہ نشانیاں جو انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات میں پائی جاتی ہیں۔
۵- وہ نشانیاں جو انسان پر آفاتِ ارضی و سماوی کے نزول میں پائی جاتی ہیں۔
۶- اور ان سب کے بعد وہ آیات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے بھیجیں تاکہ معقول طریقے سے انسان کو انہی حقائق سے آگاہ کیا جائے جن کی طرف اوپر کی تمام نشانیاں اشارہ کررہی ہیں۔ یہ ساری نشانیاں پوری ہم آہنگی اور بلند آہنگی کے ساتھ انسان کو یہ بتارہی ہیں کہ توبے خدا نہیںہے، نہ بہت سے خدائوں کا بندہ ہے، بلکہ تیرا خدا صرف ایک ہی خدا ہے جس کی عبادت و اطاعت کے سوا تیرے لیے کوئی دوسرا راستہ صحیح نہیں ہے۔ تو اس دنیا میں آزاد و خود مختار اور غیر ذمہ دار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ تجھے اپنے کارنامۂ حیات ختم کرنے کے بعد اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر جواب دہی کرنی ہے اور اپنے عمل کے لحاظ سے جزا اور سزا پانی ہے۔ پس تیری اپنی خیر اسی میں ہے کہ تیرے خدا نے تیری رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کی پیروی کر اور خود مختاری کی روش سے باز آجا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جس انسان کو اتنے مختلف طریقوں سے سمجھا یا گیا ہو، جس کی فہمائش کے لیے طرح طرح کی اتنی بے شمار نشانیاں فراہم کی گئی ہوں، اور جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ، سننے کے لیے کان اور سوچنے سمجھنے کے لیے دل کی نعمتیں بھی دی گئی ہوں، وہ اگر ان ساری نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے، سمجھانے والوں کی تذکیر و نصیحت کے لیے بھی اپنے کان بند کرلیتا ہے، اور اپنے دل و دماغ سے بھی اوندھے فلسفے ہی گھڑنے کا کام لیتا ہے، اس سے بڑاظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ پھر اسی کا مستحق ہے کہ دنیا میں اپنے امتحان کی مدت ختم کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو تو بغاوت کی بھرپور سزا پائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، السجدہ، حاشیہ:۳۴)
سورۃ الزخرف آیت ۴۱ میں ارشاد ہے:
فَاِمَّانَذْہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ۔
’’ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اٹھالیں۔‘‘
کفارِمکہ یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد ﷺ کی ذات ہی ان کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے، یہ کانٹا درمیان سے نکل جائے تو پھر سب اچھا ہوجائے گا۔ اسی گمانِ فاسد کی بنا پر وہ شب و روز بیٹھ بیٹھ کر مشورے کرتے تھے کہ آپ کو کسی نہ کسی طرح ختم کردیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے رخ پھیر کر اپنے نبی کومخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہارے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تم زندہ رہو گے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ان کی شامت آئے گی، اٹھالیے جائو گے تو تمہارے پیچھے ان کی خبر لی جائے گی۔ شامت اعمال اب ان کی دامن گیر ہوچکی ہے جس سے یہ بچ نہیں سکتے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الزخرف، حاشیہ:۳۷)
سورۃ الدخان آیت ۱۶ میں بھی ارشاد فرمایا:
یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْریٰ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ۔
’’جس روز ہم بڑی ضرب لگائیںگے وہ دن ہوگا ہم تم سے انتقام لیں گے۔‘‘
قیامت کا انتظار کرو، اس وقت جب پوری طرح شامت آئے گی۔ تب تمہیںپتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا تھا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان، حاشیہ: ۱۳)
سورہ آل عمران آیت ۴ میں ارشاد ربانی ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ۔
’’ اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقینا سخت سزا ملے گی۔ اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے۔‘‘
سورہ ابراہیم آیت ۴۷ میں ارشاد ہے:
فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ۔ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوْانْتِقَامٍ۔
’’ پس اے نبیؐ! تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘
اس جملے میں کلام کا رخ بظاہر نبی ﷺ کی طرف ہے، مگر دراصل سنانا آپؐ کے مخالفین کو مقصود ہے۔ انھیں یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ نے پہلے بھی اپنے رسولوں سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے اور ان کے مخالفین کو نیچا دکھا یا اور اب بھی جو وعدہ وہ اپنے رسول، محمد ﷺ سے کررہا ہے اسے پورا کرے گا اور ان لوگوں کو تہس نہس کردے گا جو اس کی مخالفت کررہے ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، ابراہیم ، حاشیہ: ۵۶)
(جنگ بدر میں) مسلمان اپنی قلت تعداد اور بے سروسرمانی کے باوجود کفار کی کثیر التعداد اور بہتر اسلحہ رکھنے والی فوج کے مقابلے میں جس طرح کامیاب ہوئے، اس سے صاف معلوم ہوگیا تھا کہ ان کو اللہ کی تائید حاصل تھی۔
اللہ کی غالب طاقت سے غافل ہوکرجو لوگ اپنے سروسامان اور اپنے حامیوں کی کثرت پر پھولے ہوئے تھے ان کے لیے یہ واقعہ ایک تازیانہ تھا کہ اللہ کس طرح چند مفلس و قلاّچ غریب الوطن مہاجروں اور مدینے کے کاشتکاروں کی ایک مٹھی بھرجماعت کے ذریعہ سے قریش جیسے قبیلہ کو شکست دلواسکتا ہے، جو تمام عرب کا سرتاج تھا۔ (تفہیم القرآن، ج۱، آل عمران، حاشیہ:۱۰)
سورۃ الروم آیت ۴۷ میں ارشاد ہے:
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلیٰ قَوْمِہِمْ فَجَآئُ وْہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ۔ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤمِنِینَ۔
’’ اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر جنھوں نے جرم کیا ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں۔
سورۃ الحجر آیت ۷۸-۷۹ میں ارشاد ہے:
وَاِنْ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ لَظٰلِمِیْنَ فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ۔
’’اور ایکہ والے ظالم تھے، تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی ان سے انتقام لیا۔‘‘

اَلْمُقْسِطُ : (العادل) عدل و انصاف کرنے والا،

اس کی وضاحت العدل کے تحت ملاحظہ ہو۔

اَلْمُغْنِیْ : بے نیاز کرنے والا

سورۃ النور آیت ۳۲ میں ارشاد ہے:
اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ۔ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔
’’اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔‘‘
سورۃ التوبہ آیت ۲۸ میں ارشاد ہے:
وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ اِنْ شَآئَ۔
’’ اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔‘‘
سورۃ النساء آیت ۱۳۰ میں ارشاد ہے:
وَاِنْ یَّتَفَرَّقَایُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ۔وَکَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا۔
’’ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کردے گا۔‘‘ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔‘‘
سورۃ النجم آیت ۴۸ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاَنَّہٗ ہُوَاَغْنٰی وَاَقْنیٰ۔
’’ اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور جائداد بخشی۔‘‘
سورۃ الضحیٰ آیت ۸ میں نبی ﷺ سے خطاب ہے:
وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنیٰ۔
’’اور تمہیں نادارپایا اور پھر مالدار کردیا۔‘‘
نبی ﷺ کے لیے آپؐ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ اس طرح آپؐ کی زندگی کی ابتدا افلاس کی حالت میں ہوئی تھی۔ پھر ایک وقت آیا کہ قریش کی سب سے زیادہ مالدار خاتون حضرت خدیجہؓ نے پہلے تجارت میں آپؐ کو اپنے ساتھ شریک کیا۔ اس کے بعد انھوں نے آپؐ سے شادی کرلی اور ان کے تمام تجارتی کاروبار کو آپؐ نے سنبھال لیا۔ اس طرح آپؐ نہ صرف یہ کہ مالدار ہوگئے، بلکہ آپؐ کی مالداری اس نوعیت کی نہ تھی کہ محض بیوی کے مال پر آپؐ کا انحصار ہو۔ ان کی تجارت کو فروغ دینے میں آپ کی اپنی محنت و قابلیت کا بڑا حصہ تھا۔ (تفہیم القرآن،ج۶، الضحیٰ، حاشیہ:۸)
(نکاح کے بارے میں لڑکے اور لڑکی والے ضرورت سے زیادہ ہی حسابی بن جاتے ہیں اور لوگوں کو اس بارے میں زیادہ حسابی نہ بننا چاہیے) لڑکی والوں کو چاہیے کہ نیک اور شریف آدمی اگر ان کے ہاں پیغام دے تو محض اس کی غربت دیکھ کر انکار نہ کردیں۔ لڑکے والوں کو بھی چاہیے کہ کسی نوجوان کو محض اس لیے نہ بٹھا رکھیںکہ ابھی وہ بہت نہیںکمارہاہے اور نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ زیادہ کشائش کے انتظام میں اپنی شادی کے معاملے کو خواہ مخواہ نہ ٹالتے رہیں۔ تھوڑی آمدنی بھی ہوتو اللہ کے بھروسے پر شادی کرڈالنی چاہیے۔ بسا اوقات خود شادی ہی آدمی کے حالات درست ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بیوی کی مدد سے اخراجات قابو میں آجاتے ہیں۔ ذمہ داریاں سر پر آجانے کے بعد آدمی خود بھی پہلے سے زیادہ محنت اور کوشش کرنے لگتا ہے۔ بیوی معاش کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا سکتی ہے۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ مستقبل میں کس کے لیے کیا لکھا ہے، اسے کوئی بھی نہیں جان سکتا۔ اچھے حالات برے حالات میں بھی بدل سکتے ہیں اور برے حالات اچھے حالات میں بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا آدمی کو ضرورت سے زیادہ حساب لگانے سے پرہیزکرنا چاہیے۔

اَلضَّارُّ: نقصان اور ضرر کا مالک

(ہر انسان کو) یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ اعتماد اس کے قلب میں ایسی قوت پیدا کردے گا کہ بہت سے فضول اندیشوں اور خیالی خطروں سے اس کو نجات مل جائے گی اور وہ اشرار کو ان کے حال پر چھوڑ کر پورے اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے کام میں لگارہے گا۔ اللہ پر توکل کرنے والا مومن نہ تھڑدلا ہوتا ہے کہ ہر اندیشہ و گمان اس کے سکون کو غارت کردے۔ نہ کم ظرف ہوتا ہے کہ غلط کار لوگوں کے مقابلے میں آپے سے باہر ہوکر خود بھی خلاف انصاف حرکتیں کرنے لگے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، المجادلہ، حاشیہ: ۲۵)
معبودان غیر اللہ کسی کے قطعاً نافع اور ضار نہیں، کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کسی نفع و ضرر کی قدرت نہیں رکھتے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۱۸)
(کوئی نبی کسی کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا) ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًاً۔
’’کہو میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا۔‘‘
میرا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ خداکی خدائی میں میرا کوئی دخل ہے، یالوگوں کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا کوئی اختیار مجھے حاصل ہے۔ میں تو صرف ایک رسول ہوں اور جو خدمت میرے سپرد کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات تمہیں پہنچادوں۔ باقی رہے خدائی کے اختیارات ، تو وہ سارے کے سارے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانا تو درکنار ، مجھے تو خود اپنے نفع و نقصان کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتا، اور اللہ کے دامن کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ میرے لیے نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، الجن، حاشیہ:۲۲)
اللہ کا نبی اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں رکھتا جیسے بلند بانگ دعوے خدا رسیدگی اور روحانیت کے ڈھونگ رچانے والے عموماً کیا کرتے ہیں۔ جاہلیت کے معاشروں میں بالعموم یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ’’حضرت‘‘ قسم کے لوگ ہر اس شخص کی قسمت بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں جو ان کی شان میں کوئی گستاخی کرے۔ بلکہ مرجانے کے بعد ان کی قبر کی بھی اگر کوئی توہین کرگزرے، یا اور کچھ نہیں تو ان کے متعلق کوئی برا خیال ہی دل میں لے آئے تو وہ اس کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ یہ خیال زیادہ تر ’’حضرتوں‘‘ کا اپنا پھیلا یا ہوا ہوتا ہے ، اور نیک لوگ جو خود ایسی باتیں نہیں کرتے ، ان کے نام اور ان کی ہڈیوں کو اپنے کاروبار کا سرمایہ بنانے کے لیے کچھ دوسرے ہوشیار لوگ ان کے متعلق اس خیال کو پھیلاتے ہیں۔ بہر حال عوام میں اسے روحانیت و خدارسیدگی کا لازمہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کو قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات حاصل ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ ،حاشیہ:۷)
(یہ اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں) سورۃ الانعام آیت ۱۷ میں فرمایا۔
وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا ہُوَ۔
’’ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے۔‘‘
کفار مکہ نبی ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے معبودوں کی شان میں گستاخیاں کرتے ہواور ان کے خلاف زبان کھولتے ہو تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسی زبردست باکرامت ہستیاں ہیں۔ ان کی توہین تو جس نے بھی کی وہ برباد ہوگیا۔ تم بھی اگر اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو یہ تمہارا تختہ الٹ دیں گے۔
ان احمقوں کو اپنے معبودوں کی طاقت و عزت کا تو بڑا خیال ہے، مگر انھیں اس بات کا خیال کبھی نہیں آتا کہ اللہ بھی کوئی زبردست ہستی ہے اور شرک کرکے اس کی جو توہین یہ کررہے ہیں اس کی بھی کوئی سزا انھیں مل سکتی ہے۔
(تفہیم القرآن،ج ۴، الزمر، حاشیہ:۵۵-۵۶)
خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سررشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے۔ اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

اَلنَّافِعُ : نفع پہنچانے والا۔ نفع کا مالک

(نافع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے) معبود ان غیر اللہ قطعا نافع و ضار نہیں۔ کیونکہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کسی نفع و ضرر کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان سے دعائیں مانگ کر اور ان کے آگے حاجت روائی کے لیے ہاتھ پھیلا کر وہ اپنا ایمان تو فوراً اور یقینا کھو دیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ نفع اسے حاصل ہو جس کی امید پر اس نے انھیں پکارا تھا، تو حقیقت سے قطع نظر ظاہر حال کے لحاظ سے بھی وہ خو د مانے گا کہ اس کا حصول نہ تو یقینی ہے اور نہ قریب الوقوع۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ اس کو مزید فتنے میں ڈالنے کے لیے کسی آستانے پر اس کی مراد برلائے، اور ہوسکتا ہے کہ اس آستانے پر وہ اپنا ایمان بھی بھینٹ چڑھاآئے اور اپنی مراد بھی نہ پائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الحج، حاشیہ: ۱۸)
قیامت کے روز بھی کسی کی یہ طاقت نہ ہوگی کہ وہ کسی شخص کو اس کے اعمال کے نتائج بھگتنے سے بچاسکے۔کوئی وہاں ایسا بااثر یا زور آور یا اللہ کا چہیتا نہ ہوگا کہ عدالت خداوندی میں اَڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہہ سکے کہ فلاں شخص میرا عزیز یا متوسل ہے، اسے تو بخشنا ہی ہوگا۔ خواہ یہ دنیا میں کیسے ہی برے افعال کرکے آیا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الانفطار، حاشیہ:۸)
مشرکین کا بزرگ انسانوں یا فرشتوں یا دوسری ہستیوں کے متعلق یہ گمان کہ خدا کے ہاں ان کا بڑا زور چلتا ہے۔ جس بات پر اَڑ بیٹھیں ، وہ منوا کر چھوڑتے ہیں اور جو کام چاہیں خدا سے لے سکتے ہیں (محض باطل پر مبنی اور بے بنیاد ہے ) وہاں کسی کا زور چلانا تو درکنار ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر اور کوئی مقرب ترین فرشتہ اس پادشاہ ارض و سما کے دربار میں بلااجازت زبان تک کھولنے کی جرأت نہیں رکھتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ، حاشیہ: ۲۸۱)
خدائی کے سارے اختیارات تنہا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی دوسرا سرے سے یہ اختیار رکھتا ہی نہیں ہے کہ تمہاری اچھی یا بری تقدیر بناسکے۔ اچھاوقت آسکتا ہے تو اسی کے لائے آسکتا ہے، اور برا وقت ٹل سکتا ہے تو اسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سچے دل سے اللہ کو خدا ئے واحد مانتا ہو اس کے لیے اس کے سوا سرے سے کوئی راستہ ہی نہیںہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور دنیا میں ایک مومن کی حیثیت سے اپنا فرض اس یقین کے ساتھ انجام دیتا چلا جائے کہ خیر بہر حال اسی راہ میں ہے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اس راہ میں کامیابی نصیب ہوگی تو اللہ ہی کی مدد اور تائید و توفیق سے ہوگی، کوئی دوسری طاقت مدد کرنے والی نہیں ہے اور اس راہ میں اگر مشکلات و مصائب ا ور خطرات و مہالک سے سابقہ پیش آئے گا تو ان سے بھی وہی بچائے گا ، کوئی دوسرا بچانے والا نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، التغابن، حاشیہ: ۲۸)
سورۃ الفتح آیت ۱۱ میں ارشاد ہے:
قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَبِکُمْ ضَرًّا اَوْاَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا۔
’’ ان سے کہنا ’’ اچھا ‘‘ یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے۔‘‘

عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ : غائب و حاضر ہر چیز کا جاننے والا

سورۃ الانعام آیت ۷۳ میں ارشاد ہے:
وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ۔
’’اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز پادشاہی اسی کی ہوگی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے۔‘‘
سورۃ التوبہ آیت ۹۴ میں ارشاد ربانی ہے:
ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلیٰ عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
’’ پھر تم اس کی طرف پلٹا ئے جائو گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔‘‘
سورۃ التوبہ آیت ۱۰۵ میں ہے:
وَسَتُرَدُّوْنَ اِلیٰ عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ۔
’’پھر تم اس کی طرف پلٹا ئے جائو گے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے۔‘‘
سورۃ الرعد آیت ۹ میں ہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ۔
’’ وہ پوشیدہ اور ظاہر ، ہر چیز کا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہرحال میں بالا تر رہنے والا ہے۔‘‘
سورۃ المومنون آیت ۹۲ میں ہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ والشَّہَادَۃِ فَتَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔
’’کھلے اور چھپے کا جاننے والا، وہ بالا تر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کررہے ہیں۔‘‘
سورۃ السجدہ آیت ۶ میں ہے:
ذٰلِکَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۔
’’وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا۔ زبردست اور رحیم۔‘‘
سورہ سبا آیت ۳ میں ہے:
قُلْ بَلیٰ وَرَبِّیْ لَتَاْ تِیَنَّکُمْ عَالِمِ الْغَیْبِ۔
’’ کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگارکی، وہ تم پر آکر رہے گی۔‘‘
سورہ فاطر آیت ۳۸ میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ عَالِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔
’’بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔‘‘
سورۃ الزمر آیت ۴۶ میں ہے:
قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ والشَّہَادَۃِ۔
’’ کہو، خدایا! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضر و غائب کو جاننے والے۔‘‘
سورۃ الحشر آیت ۲۲ میں ہے:
ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ۔
’’ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والاہے۔‘‘
سورۃ الجمعہ آیت ۸ میں ہے:
ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلیٰ عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ۔
’’پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جائو گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔‘‘
سورۃ التغابن آیت ۱۸ میں ہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ والشَّہَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔
’’حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے، زبردست اور دانا ہے۔‘‘
سورۃ الجن آیت ۲۶ میں ہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖ اَحَدًا۔
’’ وہ عالم الغیب ہے۔ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔‘‘
آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان سب کا علم محدود ہے۔ سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے، سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جس سے اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔
غیب کے معنی مخفی ، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحاً اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو، جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو فرداً فرداً بعض انسانوں کے علم میں ہیں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں۔ اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کے علم میں نہ کبھی تھیں ، نہ آج ہیں، نہ آئندہ کبھی آئیں گی۔ ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں اور دوسری مخلوقات کا ہے کہ بعض چیزیں ان میں سے کسی سے مخفی اور کسی کو معلوم ہیں، اور بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کوبھی معلوم نہیں۔ یہ تمام اقسام کے غیب صرف ایک ذات پر روشن ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے لیے کوئی چیز غائب نہیں۔ سب شہادت ہی شہادت ہے۔
اب یہ ہر صاحب عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو، یعنی تمام ان احوال اور اشیا اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی۔ اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اورنہیں ہوسکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریادرس اور حاجت روا اور مشکل کشا ہوسکے؟
الوہیّت اور علمِ غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان نے جس ہستی میں خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اس حقیقت سے بالکل بدیہی طور پر آگاہ ہے کہ قسمتوں کا بنانا اور بگاڑنا دعائوں کا سننا، حاجتیں پوری کرنا اور ہر طالب امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اسی ہستی کا کام ہوسکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو۔ اسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اسے لازماً عالم الغیب بھی سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی عقل بلا ریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ حقیقت ہے کہ خالق اور مدبّر اور مجیب الدعوات اور رازق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آخر کون اپنے ہوش و حواس میں یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جن یا نبی یا ولی کو، یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں؟ اور عالم بالا کے بے حدو حساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے؟ اور ان میں سے ہر ایک میں کس کس طرح کی مخلوقات موجو د ہیں؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں؟ یہ سب کچھ اللہ کو تو لازماً معلوم ہونا چاہیے، کیونکہ اس نے انھیں پیدا کیا ہے، اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے۔لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اس کارِ خلّاقی و رزّاقی سے ہے کہ وہ ان چیزوں کو جانے؟
پھر یہ صفت قابلِ تجزیہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بندہ مثلاً صرف زمین کی حد تک ، اور زمین میں بھی صرف انسانوں کی حد تک عالم الغیب ہو۔ یہ اسی طرح قابل تجزیہ نہیں ہے جس طرح خدا کی خلّاقی و رزّاقی اور قیومی و پروردگاری قابل تجزیہ نہیں ہے۔ ابتدائے آفرنیش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوں گے، رحم مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعت حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہوسکتا ہے؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا؟ کیا وہ اس بے حدوحساب خلقت کا خالق ہے؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جرثومے کو وجود بخشا تھا؟ کیا اس نے ان کی مائوں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی؟ کیا اس نے ان کی زندہ و لادت کا انتظام کیا تھا؟کیا اس نے ان میںسے ایک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی؟ کیا وہ ان کی موت و حیات، ان کی صحت اور مرض ، ان کی خوش حالی اور بد حالی اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا ہے؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے یا اس کے بعد؟ اور صرف انسانوں کی حد تک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہوسکتی ہیں؟یہ کام تو لازماً زمین اور آسمانوں کے عالم گیر انتظام کا ایک جز ہے۔ جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کررہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کی تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بنائو اور بگاڑ کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔ اسی بناپر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے، اورکسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کردے، لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیںاور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔ وَعِنْدَہٗ مفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ۔ ’’ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انھیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا۔‘‘ (الانعام ، آیت :۵۹) اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ۔ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْاَرْحَامِ۔ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا۔ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔’’ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ مائوں کے رحم میں کیا (پرورش پارہا )ہے۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی۔‘‘ (لقمان:۳۴) یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَاخَلْفَہُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیٍْٔ مِنْ عِلْمِہٖ اِلَّا بِمَا شَآئَ۔ ’’ وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کرسکتے۔ اِلَّا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انھیں علم دے۔ (سورۃ البقرۃ: ۲۵۵)
قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر انبیاء علیہم السلام، اور خود محمد ﷺ کے بارے میں اس امر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ان کو غیب کا صرف اتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سورۃ الانعام آیت ۵۰ ، الاعراف آیت۱۸۷، التوبہ آیت ۱۰۱، ہود آیت ۳۱، الاحزاب آیت ۶۳، الاحقاف آیت ۹، التحریم آیت ۳، اور الجن آیات ۲۶ تا ۲۸، اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔
اس کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جمیع مَاکان ومایکون کا علم رکھتا ہے، قطعاً ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے۔ شیخین ، ترمذی ، نسائی، امام احمد، ابنِ جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :
مَنْ زَعَمَ اَنَّہٗ (اَی النَّبِیُّ ﷺ) یَعْلَمُ مَایَکُوْنُ فِیْ غَدٍ فَقَدْ اَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ۔
’’ جس نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی ﷺ جانتے ہیں کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا، کیونکہ اللہ تو فرماتا ہے اے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میںسے کسی کو بھی نہیں ہے۔‘‘
ابن المنذر حضرت عبداللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ ’’ اے محمدؐ! قیامت کب آئے گی؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی؟اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے، کل میں کیا کمائوں گا؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں،مروں گا کہاں؟ ان سوالات کے جواب میں سورۂ لقمان کی یہ آیت حضوؐر نے سنائی ۔اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۔ پھربخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث کی وہ مشہور روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریل علیہ السلام نے انسانی شکل میں آکر حضوؐر سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضوؐر نے جواب دیا ماالمسؤل عنہا با علم من السَّائل ’’جس سے پوچھا جارہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، النمل، حاشیہ:۸۳)
دوسرے جو بھی ہیں ان کے لیے ایک چیز ظاہر ہے تو بے شمار چیزیں ان سے پوشیدہ ہیں۔ فرشتے ہوں یاجن، یا نبی اور ولی اور برگزیدہ انسان، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو سب کچھ جاننے والا ہو۔ یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے کہ اس پر ہر چیز عیاں ہے۔ جو کچھ گزرچکا ہے، جو کچھ موجود ہے اور جو کچھ آنے والا ہے، سب اس پر روشن ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، السجدہ، حاشیہ:۱۰)
ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب و الشہادۃ نہیں ہے۔ بہت سے جرائم اس کی نگاہ سے بچ کر کیے جاسکتے ہیں۔ اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بے شمار تدبیریں ممکن ہیں۔ پھر کسی دنیوی طاقت کے قوانین بھی تمام برائیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ بیشتر برائیاں ایسی ہیں جن پر دنیوی قوانین کوئی گرفت سرے سے کرتے ہی نہیں، حالانکہ وہ ان برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اس ان دیکھے خدا سے ڈر کر برائی سے اجتناب کیا جائے جو ہر حال میں انسان کو دیکھ رہا ہے، جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جاسکتا، جس نے خیرو شر کا ایک ہمہ گیر، عالم گیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے۔ اسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑنا اور نیکی کو اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابل قدر ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا، یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں ان کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ ہوں گے، کیوں کہ ان کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، الملک، حاشیہ: ۱۸)
جن معاملات سے انسان کی قریب ترین دلچسپیاں وابستہ ہیں، انسان ان کے متعلق بھی کوئی علم نہیں رکھتا، پھر بھلا یہ جاننا اس کے لیے کیسے ممکن ہے کہ ساری دنیا کے انجام کا وقت کب آئے گا۔ تمہاری خوش حالی و بد حالی کا بڑا انحصار بارش پر ہے، مگر اس کا سررشتہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب ، جہاں، جتنی چاہتا ہے برساتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ تم قطعاً نہیں جانتے کہ کہاں، کس وقت کتنی بارش ہوگی اور کون سی زمین اس سے محروم رہ جائے گی، یا کس زمین پر بارش الٹی نقصان دہ ہو جائے گی۔ تمہاری اپنی بیویوں کے پیٹ میں تمہارے اپنے نطفے سے حمل قرار پاتا ہے جس سے تمہاری نسل کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ مگر تم نہیں جانتے کہ کیا چیز اس کے پیٹ میں پرورش پارہی ہے اور کس شکل میں، کن بھلائیوں یا برائیوں کو لیے ہوئے وہ برآمد ہوگی۔ تم کو یہ تک پتہ نہیںہے کہ کل تمہارے ساتھ کیا کچھ پیش آنا ہے۔ ایک اچانک حادثہ تمہاری تقدیر بدل سکتا ہے، مگر ایک منٹ پہلے بھی تم کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ تم کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ تمہاری اس زندگی کا خاتمہ آخر کہاں کس طرح ہوگا۔ یہ ساری معلومات اللہ نے اپنے پاس رکھی ہیں اور ان میں سے کسی کا علم بھی تم کو نہیں دیا۔ ان میں سے ایک ایک چیز ایسی ہے جسے تم چاہتے ہو کہ پہلے سے تمہیں اس کا علم ہوجائے تو کچھ اس کے لیے پیش بندی کرسکو۔ لیکن تمہارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ ان معاملات میں اللہ ہی کی تدبیر اور اسی کی قضا پر بھروسہ کرو۔ اسی طرح دنیا کے اختتام کی ساعت کے معاملے میں بھی اللہ کے فیصلے پر اعتماد کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ اس کا علم بھی نہ کسی کو دیا گیا ہے اور نہ دیاجاسکتا ہے۔ غیب نام ہی اس چیز کا ہے جو مخلوقات سے پوشیدہ ہو اور صرف اللہ پر روشن ہو، اور فی الحقیقت اس غیب کی کوئی حد نہیں ہے۔

اَلْبَاقِی : باقی رہنے والی ذات

سورۃ الرحمن آیت ۲۶،۲۷ میں ارشاد ہے:
کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَّیَبْقیٰ وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
’’ ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہونے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘
لافانی اور لازوال تو صرف اس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں۔ اب اگر تم میں سے کوئی شخص ہم چومن دیگرے نیست کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ محض اس کی کم ظرفی ہے، اپنے ذرا سے دائرۂ اختیار میں کوئی بے وقوف کبریائی کے ڈنکے بجالے، یا چند بندے جو اس کے ہتھے چڑھیں، ان کا خدا بن بیٹھے، تو یہ دھوکے کی ٹٹی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے۔ کائنات کی وسعتوں میں جس زمین کی حیثیت ایک مٹر کے دانے برابر بھی نہیں ہے۔ اس کے ایک کونے میں دس بیس یا پچاس برس جو خدائی اور کبریائی چلے اور پھر قصہ ماضی بن کر رہ جائے، وہ آخر کیا خدائی اور کیا کبریائی ہے جس پر کوئی پھولے۔
اللہ جل شانہٗ کے سوا دوسری جن ہستیوں کو بھی تم معبود و مشکل کشا اور حاجت روا بناتے ہو، خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء واولیاء ، یا چاند اور سورج ، یا اور کسی قسم کی مخلوق ، ان میں سے کوئی تمہاری کسی حاجت کو پورا نہیں کرسکتا۔ وہ بے چارے تو خود اپنی حاجات و ضروریات کے لیے اللہ کے محتاج ہیں۔ ان کے ہاتھ تو خود اس کے آگے پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی اپنے بل بوتے پر نہیں کرسکتے تو تمہاری مشکل کشائی کیا کریں گے۔ زمین سے آسمانوں تک اس ناپیدا کنار کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے تنہا ایک خدا کے حکم سے ہورہا ہے۔ کارفرمائی میں کسی کا کوئی دخل نہیں ہے کہ وہ کسی معاملہ میں کسی بندے کی قسمت پر اثر انداز ہوسکے۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الرحمن، حاشیہ:۲۵)
اللہ ہی اچھاہے اور وہی باقی رہنے والا ہے جیسا کہ سورہ طٰہٰ آیت ۷۳ میں فرمایا ہے۔ وَاللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقیٰ۔اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کوئی غیر فانی اور لازوال نہیں ہے، اور چھوٹے سے بڑے تک کوئی موجود ایسا نہیں جو اپنے وجود میں اور ضروریاتِ وجو د کے لیے خدا کا محتاج نہ ہو۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الرحمن: تمہید موضوع و مضمون)

اَلرَّشِیْدُ : راہ راست دکھانے والا

دنیا میں انسان کی ضرورتوں کا دائرہ صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے کہ اس کو کھانے پینے پہننے اور زندگی بسر کرنے کا سامان بہم پہنچے اور آفات ، مصائب ، نقصانات سے وہ محفوظ رہے۔ بلکہ اس کی ایک ضرورت اور درحقیقت سب سے بڑی ضرورت یہ بھی ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ معلوم ہو اور وہ جانے کہ اپنی ذات کے ساتھ اپنی قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ ، اس سروسامان کے ساتھ جو روئے زمین پر اس کے تصرف میں ہے، ان بے شمار انسانوں کے ساتھ جن سے مختلف حیثیتوں میں اس کو سابقہ پیش آتا ہے، اور مجموعی طور پر اس نظام کائنات کے ساتھ جس کے ماتحت رہ کر ہی بہر حال اس کو کام کرنا ہے، وہ کیا اور کس طرح معاملہ کرے جس سے اس کی زندگی بحیثیت مجموعی کامیاب ہو اور اس کی کوششیں اور محنتیں غلط راہوں میں صرف ہوکر تباہی و بربادی پر منتج نہ ہوں۔
یہ انسان کی ضرورت ہے کہ کوئی ایسا رہنما ہو جو دنیا میں زندگی بسر کرنے کے صحیح اصول بتائے اور جس کو دیے ہوئے قوانین حیات کی پیروی پورے اعتماد و اطمینان کے ساتھ کی جاسکے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے والا خداکے سوا کوئی نہیں ہے، صرف وہی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۲، یونس، حاشیہ:۴۳)

َلصَّبُوْرُ : بہت صبر کرنے والا، صبر دینے والا ۱ اَلْبَاعِثُ : بھیجنے والا، اٹھانے والا

سورۃ البقرۃ آیت ۲۱۳ میں ارشاد ربّانی ہے:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیِّیْنَ وَمُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔
’’ ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے۔ (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کجروی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے۔‘‘
ایک مدت تک نسل آدم راہِ راست پر قائم رہی اور ایک امت بنی رہی۔ پھر لوگوں نے نئے نئے راستے اور مختلف طریقے ایجاد کرلیے۔ اس وجہ سے نہیں کہ ان کو حقیقت نہیں بتائی گئی تھی، بلکہ اس وجہ سے کہ حق کو جاننے کے باوجود بعض لوگ اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات، فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم ، سرکشی اور زیادتی کرنے کے خواہش مند تھے۔ اسی خرابی کو دورکرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو مبعوث کرنا شروع کیا۔ یہ انبیاء اس لیے نہیں بھیجے گئے تھے کہ ہر ایک اپنے نام سے ایک نئے مذہب کی بنا ڈالے اور اپنی ایک نئی امت بنالے۔ بلکہ ان کے بھیجے جانے کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کے سامنے اس کھوئی ہوئی راہ حق کو واضح کرکے انھیں پھر سے ایک امت بنادیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۱، البقرۃ، حاشیہ:۲۳۰)
سورہ آل عمران آیت ۱۶۴ میں ارشاد ربّانی ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔
’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
سورۃ الجمعہ آیت ۲ میں ارشاد ربّانی ہے:
ہُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُبِیْنٍ۔
’’وہی ہے جس نے امّیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا، جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کی یہ صفات چار مقامات پر بیان کی گئی ہیں، اور ہر جگہ ان کے بیان کی غرض مختلف ہے۔ البقرۃ آیت ۱۲۹ میں ان کا ذکر اہل عرب کو یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ آں حضور ﷺ کی بعثت ، جسے وہ اپنے لیے زحمت و مصیبت سمجھ رہے تھے، درحقیقت ایک بڑی نعمت ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام اپنی اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔البقرۃ آیت ۱۵۱ میں انھیں اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان حضور ﷺ کی قدر پہچانیں اور اس نعمت سے پورا پورا فیض حاصل کریں جو حضور ﷺ کی بعثت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائی ہے۔ آل عمران آیت ۱۶۴ میں منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے ان کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ کتنا بڑا احسا ن ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اپنا رسول بھیج کر کیا ہے اور یہ لوگ کتنے نادان ہیں کہ قدر نہیں کرتے۔ اب چوتھی مرتبہ انھیں اس سورہ میں دہرایا گیا ہے جس سے مقصود یہودیوں کو یہ بتاناہے کہ محمد ﷺ تمہاری آنکھوں کے سامنے جو کام کررہے ہیں صریحاً ایک رسول کا کام ہے ، وہ اللہ کی آیات سنارہے ہیں جن کی زبان ، مضامین، انداز بیان ، ہر چیز اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ فی الواقع وہ اللہ ہی کی آیات ہیں۔ وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہے ہیں، ان کے اخلاق اور عادات اور معاملات کو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک کررہے ہیں اور ان کو اعلیٰ درجے کے اخلاقی فضائل سے آراستہ کررہے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو اس سے پہلے تمام انبیا کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ صرف آیات ہی سنانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اپنے قول اور عمل سے اور اپنی زندگی کے نمونے سے لوگوں کو کتاب الٰہی کامنشا سمجھا رہے ہیں اور ان کو اس حکمت و دانائی کی تعلیم دے رہے ہیں جو انبیا کے سوا آج تک کسی نے نہیں دی ہے۔ یہی سیرت اور کردار اور کام ہی تو انبیا کا وہ نمایاں وصف ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ پھر یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ جس کا رسول ہونا اس کے کارناموں سے علانیہ ثابت ہورہا ہے اس کو ماننے سے تم نے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ اللہ نے اسے تمہاری قوم کے بجائے اس قوم میں سے اٹھایا جسے تم اُمّی کہتے ہو۔
(تفہیم القرآن،ج۵، الجمعہ، حاشیہ:۳)
جہاں تک قوموں کا تعلق ہے ان کے اٹھنے اور گرنے کے لیے اللہ کے ہاں مدت کا تعین ان کے اوصاف کی شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ ایک اچھی قوم اگر اپنے اندر بگاڑ پیدا کرلے تو اس کی مہلت عمل گھٹا دی جاتی ہے اور اسے تباہ کردیا جاتا ہے۔ اور ایک بگڑی ہوئی قوم اگر اپنے برے اوصاف کو اچھے اوصاف سے بدل لے تو اس کی مہلت عمل بڑھا دی جاتی ہے، حتی کہ وہ قیامت تک بھی دراز ہوسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ابراہیم، حاشیہ:۱۸)
سورۃ النحل آیت ۸۴ میں ہے:
وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ۔
’’( انھیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اس روز کیا ہوگا) جب کہ ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے۔‘‘
اس امت کا نبی، یا کوئی ایسا شخص جس نے نبی کے گزر جانے کے بعد اس اُمت کو توحید اور خالص خدا پرستی کی دعوت دی ہو، شرک اور مشرکا نہ اوہام و رسوم پر متنبہ کیا ہو،اور روز قیامت کی جواب دہی سے خبردار کردیا ہو۔ وہ اس امر کی شہادت دے گا کہ میں نے پیغام حق ان لوگوں کو پہنچادیاتھا، اس لیے جو کچھ انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ جانتے بوجھتے کیا۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، النحل، حاشیہ: ۸۰)
سورۃ النحل آیت ۸۹ میں ہے:
وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا عَلَیْہِمْ مِّنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ہٰؤُ لَآئِ شَہِیْدًا۔
’’ (اے محمدؐ! انھیں اس دن سے خبردار کردو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اس کے مقابلہ میں شہادت دے گا، اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے۔‘‘
سورہ بنی اسرائیل آیت ۱۵ میں ارشاد رباّنی ہے:
وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔
’’ اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے) ایک پیغامبر نہ بھیج دیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے نظام عدالت میں پیغمبر ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پیغمبر اور اس کا لایا ہوا پیغام ہی بندوں پر خدا کی حجت ہے۔ یہ حجت قائم نہ ہوتو بندوں کو عذاب دینا خلاف انصاف ہوگا، کیوں کہ اس صورت میں وہ یہ عذر پیش کرسکیں گے کہ ہمیں آگاہ کیا ہی نہ گیا تھا پھر اب ہم پر یہ گرفت کیسی ۔ مگر جب یہ حجت قائم ہوجائے تو اس کے بعد انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان لوگوں کو سزا دی جائے جنھوں نے خدا کے بھیجے ہوئے پیغام سے منہ موڑا ہو، یا اسے پاکر پھر اس سے انحراف کیا ہو بے وقوف لوگ اس طرح کی آیات پڑھ کر اس سوال پر غور کرنے لگتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس کسی نبی کا پیغام نہیں پہنچا ان کی پوزیشن کیا ہوگی۔ حالانکہ ایک عقل مند آدمی کو غور اس بات پر کرنا چاہیے کہ تیرے پاس تو پیغام پہنچ چکا ہے۔ اب تیری اپنی پوزیشن کیا ہے۔ رہے دوسرے لوگ ، تو یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے پاس کب ، کس طرح اور کس حد تک اس کا پیغام پہنچا اور اس نے اس کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کیا اور کیوں کیا۔ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی یہ نہیں جان سکتا کہ کس پر اللہ کی حجت پوری ہوئی ہے اور کس پر نہیں ہوئی۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، بنی اسرائیل، حاشیہ: ۱۷)
سورۃ النحل آیت ۳۸ میں ارشاد ہے:
وَاَقسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لَا یَبْعَثُ اللّٰہُ مَنْ یمُوْتُ بَلیٰ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ۔
’’ یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ’’ اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کرکے نہ اٹھائے گا۔ اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
دنیا میں جب سے انسان پیدا ہوا ہے، حقیقت کے بارے میں بے شمار اختلافات رونما ہوئے ہیں۔انہی اختلافات کی بنا پر نسلوں اور قوموں اور خاندانوں میں پھوٹ پڑی ہے۔ انہی کی بنا پر مختلف نظریات رکھنے والوں نے اپنے الگ مذہب ، الگ معاشرے ، الگ تمدن بنائے یا اختیار کیے ہیں۔ ایک ایک نظریے کی حمایت اور وکالت میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے مختلف زمانوں میں جان ، مال، آبرو، ہر چیز کی بازی لگادی ہے۔ اور بے شمار مواقع پر ان مختلف نظریات کے حامیوں میں ایسی سخت کشاکش ہوئی ہے کہ ایک نے دوسرے کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کی ہے، اور مٹنے والے نے مٹتے مٹتے بھی اپنا نقطۂ نظر نہیں چھوڑا ہے۔ عقل چاہتی ہے کہ ایسے اہم اور سنجیدہ اختلافات کے متعلق کبھی توصحیح اور یقینی طور پر معلوم ہوکہ فی الواقع ان کے اندر حق کیا تھا اور باطل کیا، راستی پر کون تھا اور ناراستی پر کون۔ اس دنیا میں تو کوئی امکان اس پردے کے اٹھنے کا نظر نہیں آتا۔ اس دنیا کا نظام ہی کچھ ایسا ہے کہ اس میں حقیقت پر سے پردہ اٹھ نہیں سکتا لہٰذا لامحالہ عقل کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرا ہی عالم درکار ہے۔
اور یہ صرف عقل کا تقاضا ہی نہیں ہے بلکہ اخلاق کا تقاضا بھی ہے۔ کیوں کہ ان اختلافات اور ان کشمکشوں میں بہت سے فریقوں نے حصہ لیا ہے۔ کسی نے ظلم کیا ہے اور کسی نے سہاہے۔ کسی نے قربانیاں کی ہیں اور کسی نے ان قربانیوں کو وصول کیا ہے۔ ہر ایک نے اپنے نظریے کے مطابق ایک اخلاقی فلسفہ اور ایک اخلاقی رویہ اختیار کیا ہے اور اس سے اربوں اور کھربوں انسانوں کی زندگیاں برے یا بھلے طور پر متأثر ہوئی ہیں۔ آخر کوئی وقت تو ہونا چاہیے جب کہ ان سب کا اخلاقی نتیجہ صلے یا سزا کی شکل میں ظاہر ہو۔ اس دنیا کا نظام اگر صحیح اور مکمل اخلاقی نتائج کے ظہور کا متحمل نہیں ہے تو ایک دوسری دنیا ہونی چاہیے جہاں یہ نتائج ظاہر ہوسکیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل، حاشیہ: ۳۵)
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اور تمام اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت جلااٹھانا کوئی بڑا ہی مشکل کام ہے۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے کسی ارادے کو پورا کرنے کے لیے کسی سروسامان، کسی سبب اور وسیلے اور کسی ساز گاریٔ احوال کا محتاج نہیں ہے۔ اس کا ہر ارادہ محض اس کے حکم سے پورا ہوتا ہے۔ اس کا حکم ہی سروسامان وجود میں لاتا ہے۔ اس کے حکم ہی سے اسباب و وسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس کا حکم ہی اس کی مراد کے عین مطابق احوال تیار کرتا ہے۔ اس وقت جو دنیا موجود ہے یہ بھی مجرد حکم سے وجود میں آئی ہے اور دوسری دنیا بھی آناً فاناً صرف ایک حکم سے ظہور میں آسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل، حاشیہ: ۳۶)
سورۃ الحج آیت ۷ میں ارشاد ربّانی ہے:
وَاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَا رَیْبَ فِیْہَا وَاَنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ مَنْ فِیْ الْقُبُوْرِ۔
’’ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اس میںکسی شک کی گنجائش نہیں، اوراللہ ضرور ان لوگوں کو اٹھائے گاجو قبروں میں جاچکے ہیں۔‘‘
اللہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔ لوگوں کو تو یہ سن کر اچنبھا ہوتا ہے کہ اللہ کسی وقت مردوں کو زندہ کرے گا، مگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انھیں نظر آئے کہ وہ تو ہر وقت مردے جلارہا ہے۔ جن مادّوں سے آپ کا جسم بنا ہے اور جن غذائوں سے وہ پرورش پاتا ہے اُن کا تجزیہ کرکے دیکھ لیجیے۔ کوئلہ، لوہا، چونا ، کچھ نمکیات کچھ ہوائیں، اور ایسی ہی چند چیزیں اور ہیں۔ ان میں سے کسی چیز میں بھی حیات اور نفس انسانی کے خواص موجود نہیں ہیں۔ مگر انہی مردہ اور بے جان مادوں کو جمع کرکے آپ کو جیتا جاگتا وجودبنا دیا گیا ہے۔ پھر ان ہی مادوں کی غذا آپ کے جسم میں جاتی ہے اور وہاں اس سے مردوں میں وہ تخم اور عورتوں میں وہ بیضی خلیے بنتے ہیں جن کے ملنے سے آپ ہی جیسے جیتے جاگتے انسان روز بن بن کر نکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ذرا اپنے گردو پیش کی زمین پر نظر ڈالیے ۔ بے شمار مختلف چیزوں کے بیج تھے جن کو ہوائوں اور پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا، اور بے شمار مختلف چیزوں کی جڑیں تھیں جو جگہ جگہ پیوند خاک ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں کہیں بھی نباتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ آپ کے گردو پیش کی سوکھی زمین ان لاکھوں مردوں کی قبر بنی ہوئی تھی۔ مگر جو نہی کہ پانی کا ایک چھینٹا پڑا، ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مُردہ جڑاپنی قبر سے جی اٹھی، اور ہر بے جان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کرگیا۔ یہ احیائے اموات کا عمل ہر برسات میںآپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن،ج۳، الحج، حاشیہ: ۹)
سورۃ الانعام آیت ۳۶ میں ارشاد ہے:
وَالْمَوْتیٰ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ۔
’’ رہے مردے تو انھیں اللہ بس قبروں ہی سے اٹھائے گا۔‘‘
سورۃ المجادلہ آیت ۶ میں ارشاد ہے:
یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا۔ فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا۔
’’ جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا اور انھیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔‘‘
سورۃ التغابن آیت ۷ میں ارشاد ہے:
زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا، قُلْ بَلیٰ وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ۔
’’ منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے۔ ان سے کہو۔ ’’نہیں میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جائو گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا۔‘‘
سورۃ القصص آیت ۵۹ میں ارشاد ہے:
وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ القُریٰ حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِنَا۔
’’ اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سناتا۔‘‘
پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہوچکے تھے۔ مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انھیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کج روی سے باز نہ آئے تو انھیں ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ اب تمہیں درپیش ہے۔ تم بھی ظالم ہوچکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آگیا ہے۔ اب تم کفرو انکار کی روش اختیار کرکے اپنے عیش اور خوشحالی کوبچائو گے نہیں بلکہ الٹا خطرے میں ڈالو گے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، القصص، حاشیہ:۸۳)

الرَّبُّ : پروردگار، آقا ، مالک، حاکم

سورہ فاتحہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
’’ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔‘‘
سورہ بقرہ آیت ۲۱ میں ارشاد ہے:
یٰآَ یُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔
لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کا خالق ہے۔‘‘
سورہ انعام آیت ۷۱ میں ہے:
قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَالْہُدیٰ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
’’ کہو! حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے، اور اس کی طرف سے ہمیں حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر تسلیم خم کردو۔‘‘
سورہ انعام آیت ۱۶۴ میں ارشاد ہے:
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیٍْٔ۔
’’کہو !کیامیں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالاں کہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔‘‘
سورہ رعد آیت ۱۶ میں ہے:
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
’’ان سے پوچھو، آسمان اور زمین کا رب کون ہے؟‘‘
سورہ انبیاء آیت ۲۲ میں ہے:
فَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔
’’ پس پاک ہے اللہ رب العرش ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔‘‘
سورہ المومنون آیت ۱۱۶ میں ہے:
فَتَعَالَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ۔
’’ پس بالاو برتر ہے اللہ، بادشاہ حقیقی، کوئی خدا اس کے سوا نہیں، مالک ہے عرشِ بزرگ کا۔‘‘
اس لفظ کا مادہ( رَبَ بَ )ہے۔ جس کا ابتدائی اور اساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اسی سے تصرّف،خبر گیری، اصلاح حال اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت، سیادت، مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہوگئے۔ لغت میں اس کے استعمالات کی چند مثالیں یہ ہیں۔
۱- پرورش کرنا، نشوونما دینا، بڑھانا۔ مثلاً ربیب اور ربیبۃ پروردہ لڑکے اور لڑکی کو کہتے ہیں،نیز اس بچے کو جو سوتیلے باپ کے گھر پرورش پائے، پالنے والی دائی کو بھی ربیبہ کہتے ہیں۔ رابّہ سوتیلی ماں کو کہتے ہیں کیونکہ وہ ماں تو نہیں ہوتی مگر بچے کی پرورش کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے رَابّ سوتیلے باپ کو کہتے ہیں۔ مربب یا مربی اس دوا کو کہتے ہیں جو محفوظ کررکھی جائے۔ رَبَّ یَرُبُّ رَبًّا کے معنی اضافہ کرنے، بڑھانے اور تکمیل کو پہنچانے کے ہیں جسے رب النعمۃ یعنی احسان میں اضافہ کیا یا احسان کی حد کردی۔
۲- سمیٹنا، جمع کرنا، فراہم کرنا۔ مثلاً کہیں گے فلان یرب الناس یعنی فلاں شخص لوگوں کو جمع کرتا ہے،یا سب لوگ اس شخص پر مجتمع ہوتے ہیں۔ جمع ہونے کی جگہ کو مرب کہیں گے۔سمیٹنے اورفراہم ہو جانے کو مربب کہیں گے۔
۳- خبر گیری کرنا، اصلاح حال کرنا، دیکھ بھال اور کفالت کرنا مثلاً رب ضَیْعَتَہٗ کے معنی ہوں گے فلاں شخص نے اپنی جائداد کی دیکھ بھال اورنگرانی کی۔ ابوسفیان نے کہا تھا لاَن یَرُ بَّنِیْ رَجُلٌ مِنْ قُرَیشٍ اَحَبُّ الَّی مِنْ اَنْ یَرُبَّنِیْ رَجُلٌ مِنْ ہَوَازِنَ یعنی قریش میں سے کوئی شخص مجھے اپنی ربوبیت (سرپرستی)میں لے لے یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ ہوازن کا کوئی آدمی ایسا کرے۔ فلان یرب صنعَتہ عند فلان کے معنی ہوں گے فلاں شخص فلاں شخص کے پاس اپنے پیشہ کا کام کرتا ہے یا اس سے کاریگری کی تربیت حاصل کرتا ہے۔
۴- فوقیت، بالادستی، سرداری، حکم چلانا، تصرف کرنا۔ مثلاً قَدْرَبَّ فلَانٌ قَوْمَہٗ یعنی فلاں شخص نے اپنی قوم کو اپنا تابع کرلیا۔رَبَبْتُ الْقَوْمَ یعنی میں نے قوم پر حکم چلایا اور بالادست ہوگیا۔
۵- مالک ہونا، مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سے نبی ﷺ نے پوچھا أرَبَّ غَنَمٍ اَمْ رَبَّ اِبِلٍ تو بکریوں کا مالک ہے یا اونٹوں کا؟ اسی معنی میں گھر کے مالک کو رَبُّ الدَّارِ، اونٹنی کے مالک کو رَبُّ النَّاقَۃِ، جائداد کے مالک کو رَب الضیعۃ کہتے ہیں۔ آقا کے معنی میں بھی رب کا لفظ آتا ہے اور عبد یعنی غلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔
غلطی سے رب کے لفظ کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کرکے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیت کی تعریف میں یہ فقرہ چل پڑا ہے کہ ہُوَاِنْشَائُ الشَّیِْٔ حَالًا فَحَالًا اِلیٰ حَدِّالتَّمَامِ (یعنی ایک چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر پایہ کمال کو پہنچانا) حالانکہ یہ اس لفظ کے وسیع معانی میں سے صرف ایک معنی ہے اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ حسب ذیل مفہومات پر حاوی ہے۔
۱- پرورش کرنے والا، ضروریات بہم پہنچانے والا، تربیت اور نشوونما دینے والا۔
۲- کفیل، خبر گیراں، دیکھ بھال اور اصلاح حال کا ذمہ دار۔
۳- وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس پر متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں۔
۴- سید مطاع، سردارذی اقتدار، جس کا حکم چلے ، جس کی فوقیت و بالادستی تسلیم کی جائے جس کو تصرف کے اختیارات ہوں۔
۵- مالک، آقا۔

قرآن میں لفظ رب کے استعمالات

قرآن مجید میں یہ لفظ ان سب معانی میں آیا ہے۔ کہیں ان میں سے کوئی ایک یادو معنی مراد ہیں، کہیں اس سے زائد اور کہیں پانچوں معنی۔ اس بات کو ہم آیات قرآنی سے مختلف مثالیں دے کر واضح کریں گے۔
پہلے معنی میں:
قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیْٓ اَحْسَنَ مَثْوَایَ (یوسف:۲۳)
’’ اس نے کہا کہ پناہ بخدا! وہ تو میرا رب ہے جس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔‘‘
دوسرے معنی میں جس کے ساتھ پہلے معنی کا تصوّربھی کم و بیش شامل ہے۔
فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَہُوَ یَہْدِیْنِ۔ وَالَّذِیْ ہُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ۔ وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ۔ (الشعراء : ۷۷-۸۰)
’’ تمہارے یہ معبود تو میرے دشمن ہیں، بجز رب کائنات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جو میری رہنمائی کرتا ہے، جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘
وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّفَاِلَیْہِ تَجْئَرُوْنَ ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّعَنْکُمْ اِذَافَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّہِمْ یُشْرِکُوْنَ۔ (النحل:۵۳-۵۴)
’’ تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی سے حاصل ہوئی ہے، پھر جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اسی کی طرف تم گھبراکر رجوع کرتے ہو، مگر جب وہ تم پر سے مصیبت ٹال دیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں ایسے ہیں جو اپنے رب کے ساتھ (اس نعمت کی بخشش اور مشکل کشائی میں) دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔‘‘
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْیٍٔ۔ (انعام:۱۶۴)
’’ کہو! کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ ہر چیز کا رب وہی ہے۔‘‘
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا۔ (المزمل: ۹)
’’ وہ مشرق و مغرب کا رب ہے جس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ لہٰذا اسی کو اپنا وکیل (اپنے سارے معاملات کا کفیل و ذمہ دار) بنالے۔‘‘
تیسرے معنی میں:
ہُوَرَبُّکُمْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ (ہود: ۳۴)
’’ وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم پلٹا کر لے جائے جائو گے۔‘‘
ثُمَّ اِلیٰ رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ (الزمر :۷)
’’ پھر تمہارے رب کی طرف تمہاری واپسی ہے۔‘‘
قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا (سبا:۲۶)
’’ کہو کہ ہم دونوں فریقوں کو ہمارا رب جمع کرے گا۔‘‘
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طَآئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ مَافَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ فِیْ شَیٍْٔ ثُمَّ اِلیٰ رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ۔ (انعام:۳۸)
’’ زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور ہوا میں اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری ہی طرح ایک امت نہ ہو۔ اور ہم نے اپنے دفتر میں کسی کے اندراج سے کوتاہی نہیں کی ہے۔ پھر وہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جائیں گے۔‘‘
وَنُفخَ فِی الصُّوْرِفَاِذَا ہُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلیٰ رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ (یٰس: ۵۱)
’’ اور جو نہی کہ صور پھونکا جائے گا وہ سب اپنے ٹھکانوں سے اپنے رب کی طرف نکل پڑیں گے۔‘‘
چوتھے معنی:
میں جس کے ساتھ کم و بیش تیسرے معنی کا تصور بھی موجود ہے۔
اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (التوبۃ : ۳۱)
’’ انھوں نے اللہ کے بجائے اپنے علماء اور درویشوں کو اپنا رب بنالیا۔‘‘
وَلَا یَتَّخِذَبَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (آل عمران:۶۴)
’’اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔‘‘
دونوں آیتوں میں ارباب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو قوموں اور گروہوں نے مطلقاً اپنا رہنما و پیشوا مان لیا ہو۔ جس کے امر و نہی ، ضابطہ و قانون اور تحلیل و تحریم کو بلا کسی سند کے تسلیم کیا جاتا ہو۔ جنھیں بجائے خود حکم دینے اور منع کرنے کا حق دار سمجھا جاتا ہو۔
اَمَّا اَحَدُ کُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّہٗ خَمْرًا … وَقَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنْہُمَا اذْکُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّکَ فَاَنْسٰہُ الشَّیْطٰنُ ذِکْرَ رَبِّہٖ۔ (یوسف:۴۲)
’’ یوسف نے کہا کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب کو شراب پلائے گا۔۔۔ اور ان دونوں میں سے جس کے متعلق یوسف ؑ کا خیال تھا کہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف ؑ نے کہا کہ اپنے رب سے میرا ذکر کرنا، مگر شیطان نے اسے بھلا وے میںڈال دیا اور اس کو اپنے رب سے یوسف کا ذکر کرنے کا خیال نہ رہا۔‘‘
فَلَمَّا جَآئَ ہٗ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلیٰ رَبِّکَ فَاسْئَلْہُ مَابَالُ النِّسْوَۃِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِ یَہُنَّ اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِہِنَّ عَلِیْمٌ۔ (یوسف:۵۰)
’’ جب پیغام لانے والا یوسف ؑ کے پاس آیا تو یوسف ؑ نے اس سے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جائو اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی چال سے باخبر ہے ہی۔‘‘
ان آیات میں حضرت یوسف علیہ السلام نے مصریوں سے خطاب کرتے ہوئے بار بار فرعون مصر کو ان کا رب قرار دیا ہے، اس لیے کہ جب وہ اس کی مرکزیت اور اس کا اقتدارِ اعلیٰ اور اس کو امر و نہی کا مالک تسلیم کرتے تھے، تو وہی ان کا رب تھا۔ برعکس اس کے خود حضرت یوسف علیہ السلام اپنا رب اللہ کو قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ فرعون کو نہیں، صرف اللہ کو مقتدرِ اعلیٰ اور صاحب امرونہی مانتے تھے۔
پانچویں معنی میں:
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔ (قریش:۳-۴)
’’ لہٰذا انھیں اس گھر کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے جس نے ان کی رزق رسانی کا انتظام کیا ہے اور انھیں بدامنی سے محفوظ رکھا ہے۔‘‘
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔ (صافات:۱۸۲)
’’تیرا رب جو عزت و اقتدار کا مالک ہے ان تمام صفات عیب سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔‘‘
فَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔ (الانبیاء:۲۲)
’’ اللہ جو عرش کا مالک ہے ان تمام صفات عیب سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔‘‘
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔ (المومنون:۸۶)
’’ پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش بزرگ کا مالک کون ہے؟‘‘
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ۔ (الصّافات: ۵)
’’وہ جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان سب چیزوں کا جوآسمان و زمین کے درمیان ہیں اور سب چیزوں کا جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔‘‘
وَاِنَّہٗ ہُوَرَبُّ الشِّعْریٰ (النجم: ۴۹)
’’ اور یہ کہ شعریٰ کا مالک بھی وہی ہے۔‘‘
ان آیات کو سلسلہ وار پڑھنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن ربوبیت کو بالکل حاکمیت اور سلطانی (Sovereignty) کا ہم معنی قرار دیتا ہے اور ’’رب‘‘ کا یہ تصور ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ وہ کائنات کا سلطان مطلق اور لاشریک مالک و حاکم ہے۔
اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور تمام جہان کا پروردگار، مربی اور حاجت روا ہے۔
اسی حیثیت سے وہ ہمارا کفیل ، خبر گیران، مختار کار اور معتمد علیہ ہے۔
اسی حیثیت سے اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طور پر قائم ہوتی ہے۔ اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کے درمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے۔
اسی حیثیت سے وہ ہماری اور تمام مخلوقات کی بندگی ، اطاعت اور پرستش کا مستحق ہے۔
اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور ہر چیز کا مالک ، آقا اور فرماں روا ہے۔
اہل عرب اور دنیا کے تمام جاہل لوگ ہر زمانہ میں اس غلطی میں مبتلا تھے اور اب تک ہیں کہ ربوبیت کے اس جامع تصور کو انھوں نے پانچ مختلف النوع ربوبیتوں میں تقسیم کردیاہے اور اپنے قیاس و گمان سے یہ رائے قائم کی کہ مختلف قسم کی ربوبیتیں مختلف ہستیوں سے متعلق ہوسکتی ہیں اور متعلق ہیں۔ لیکن قرآن اپنے طاقتور استدلال سے یہ ثابت کرتا ہے کہ کائنات کے اس مکمل مرکزی نظام میں اس بات کی مطلق گنجایش نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ جس کے ہاتھ میں ہے اس کے سواربوبیت کا کوئی کام کسی دوسری ہستی سے کسی درجہ میں بھی متعلق ہو۔ اس نظام کی مرکزیت خود گواہ ہے کہ ہر طرح کی ربوبیت اسی ایک خدا کے لیے مختص ہے، جو اس نظام کو وجود میں لایا۔ لہٰذا جو شخص اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ربوبیت کا کوئی جز و کسی معنی میں بھی خدا کے سوا کسی اور سے متعلق سمجھتا ہے یا متعلق کرتا ہے وہ دراصل حقیقت سے لڑتا ہے، صداقت سے منہ موڑتا ہے، حق کے خلاف بغاوت کرتا ہے، اور امرواقعی کے خلاف کام کرکے اپنے آپ کو خود نقصان اور ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے۔
(قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: قرآن کی دعوت)
قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانہ نزول قرآن تک جتنی قوموں کا ذکر قرآن نے ظالم، فاسد العقیدہ اور بدراہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہے ان میں سے کوئی بھی خدا کی ہستی کی منکر نہ تھی، نہ کسی کو اللہ کے مطلقاً رب اور الٰہ ہونے سے انکار تھا، البتہ ان سب کی اصل گمراہی اور مشترک گمراہی یہ تھی کہ انھوں نے ربوبیت کے ان پانچ مفہومات کو جو ہم ابتداء میں لغت اور قرآن کی شہادتوں سے متعین کرچکے ہیں دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔
رب کا یہ مفہوم کہ وہ فوق الفطری طور پر مخلوقات کی پرورش ، خبر گیری، حاجت روائی اور نگہبانی کا کفیل ہوتا ہے، ان کی نگاہ میں ایک الگ نوعیت رکھتا تھا۔ اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ اگرچہ رب اعلیٰ تو اللہ ہی کو مانتے تھے مگر اس کے ساتھ فرشتوں اور دیوتائوں کو ، جنوں اور غیر مرئی قوتوں کو ، ستاروں اور سیّاروں کو، انبیاء اور اولیاء اور روحانی پیشوائوں کو بھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔
اور رب کا یہ مفہوم کہ وہ امرونہی کا مختار، اقتداراعلیٰ کا مالک، ہدایت و رہنمائی کا منبع ، قانون کا ماٰخذ،مملکت کارئیس اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہے، ان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کے بجائے صرف انسانوں ہی کو رب مانتے تھے۔ یا نظری طور پر اللہ کو رب ماننے کے باوجود عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی اور سیاسی ربوبیت کے آگے سرا طاعت خم کیے رہتے تھے۔
ان تمام مفہومات کے اعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہٗ ہے۔ ربوبیت ناقابل تقسیم ہے، اس کا کوئی جزو کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔ کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا، جس پر ایک ہی خدا فرماں روائی کررہا ہے، جس کے سارے اختیارات و اقتدارات کا مالک ایک ہی خدا ہے۔ نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے، نہ اس کی تدبیرو انتظام میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے۔ مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی و تمدنی اور سیاسی رب بھی ۔ وہی تمہارا معبود ہے۔ وہی تمہارے سجدوں اور رکوعوں کا مرجع ہے۔ وہی تمہاری دعائوں کا ملجا و ماویٰ ہے ، وہی تمہارے توکل و اعتماد کا سہارا ہے، وہی تمہاری ضرورتوں کا کفیل ہے۔
اور اسی طرح وہی پادشاہ ہے۔ وہی مالک الملک ہے۔ وہی شارع و قانون ساز اور وہی امرونہی کا مختار بھی ہے، ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرے سے الگ کیا ہے، حقیقت میں خدائی کا لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہے۔ انھیں نہ ایک دوسرے سے منفک کیا جاسکتا ہے، اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں بھی مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہرانا درست ہے۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: قرآن کی دعوت)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ اس کی رہنمائی ، پرورش ، نگہداشت ، حفاظت اور حاجت روائی کا ذمہ بھی خود ہی لے لیا ہے۔ جس لمحے انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے اسی وقت ایک طرف اس کی ماں کے سینے میں دودھ پیدا ہوجاتا ہے تو دوسری طرف کوئی ان دیکھی طاقت اسے دودھ چوسنے اور حلق سے اتارنے کا طریقہ سکھادیتی ہے۔ پھر اس تربیت و رہنمائی کا سلسلہ اول روز پیدائش سے شروع ہو کر موت کی آخری ساعت تک برابر جاری رہتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو اپنے وجود اور نشو و نما اور بقا و ارتقاء کے لیے جس جس نوعیت کے سروسامان کی حاجت پیش آتی ہے وہ سب اس کے پیدا کرنے والے نے زمین سے لے کر آسمان تک ہر طرف مہیا کردیا ہے۔ اس سروسامان سے فائدہ اٹھانے اور کام لینے کے لیے جن جن طاقتوں اور قابلیتوں کی اس کو حاجت پیش آتی ہے وہ سب بھی اس کی ذات میں ودیعت کردی ہیں اور ہر شعبۂ حیات میں جس جس طرح کی رہنمائی اس کو درکار ہوتی ہے اس کا بھی پورا انتظام اس نے کردیا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے انسانی وجود کی حفاظت کے لیے اور اس کو آفات سے، بیماریوں سے ، مہلک جراثیم سے اور زہریلے اثرات سے بچانے کے لیے خود اس کے جسم میں اتنے زبردست انتظامات کیے ہیں کہ انسان کا علم ابھی تک ان کا پورا احاطہ بھی نہیں کرسکا ہے۔ اگر یہ قدرتی انتظامات موجود نہ ہوتے تو ایک معمولی کانٹا چبھ جانا بھی انسان کے لیے مہلک ثابت ہوتا اور اپنے علاج کے لیے آدمی کی کوئی کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکتی۔ خالق کی یہ ہمہ گیر رحمت و ربوبیت جب ہر آن ہر پہلو سے انسان کی دست گیری کررہی ہے تو اس سے بڑی حماقت و جہالت اور کیا ہوسکتی ہے، اور اس سے بڑھ کر احسان فراموشی بھی اور کون سی ہوسکتی ہے کہ انسان اس کو چھوڑ کر کسی دوسری ہستی کے آگے سر نیاز جھکائے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے کسی اور کادامن تھامے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الشعراء، حاشیہ: ۵۸)

اَلْمَنَّانُ : بہت احسان کرنے والا، بہت نوازنے والا

سورہ ابراہیم آیت ۱۱ میں ہے:
قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلیٰ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ۔
’’ ان کے رسولوںنے ان سے کہا، واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔‘‘
(اللہ کے رسولوں نے اپنے اوپر اس کے احسان کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا) بلا شبہ ہم ہیں تو انسان ، مگر اللہ نے تمہارے درمیان ہم کو ہی علم حقیقت اور بصیرت کا ملہ عطا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس میں ہمارے بس کی کوئی بات نہیں یہ تو اللہ کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو جو کچھ چاہے دے۔ہم نہ یہ کرسکتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس آیا ہے وہ تمہارے پاس بھجوادیں اور نہ یہی کرسکتے ہیں کہ جو حقیقتیں ہم پر منکشف ہوئی ہیں ان سے آنکھیں بند کرلیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، ابراہیم، حاشیہ: ۲۱)
سورۃ النساء آیت ۹۴ میں فرمایا:
کَذٰلِک کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا۔
’’ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو۔‘‘
(روئے سخن صحابہ کرام کی جانب ہے) کہ ایک وقت تم پر بھی ایسا گزرچکا ہے کہ انفرادی طور پر مختلف کافر قبیلوں میں منتشر تھے، اپنے اسلام کو ظلم و ستم کے خوف سے چھپانے پر مجبور تھے، اور تمہارے پاس ایمان کے زبانی اقرار کے سوا اپنے ایمان کا کوئی ثبوت موجود نہ تھا۔ اب یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تم کو اجتماعی زندگی عطا کی اور تم اس قابل ہوئے کہ کفار کے مقابلہ میں اسلام کا جھنڈا بلند کرنے اٹھے ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء، حاشیہ:۱۲۷)
حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کے رو برو اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے احسانات کاذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں فرماتے ہیں:
قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَہٰذَآ اَخِیْ ۔ قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا۔
’’ اس نے کہا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔‘‘
صحرائی گلہ بانوں کے خاندان کا ایک فرد جس کو خود اس کے بھائیوں نے حسد کے مارے ہلاک کردینا چاہا تھا۔ زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہوا بالآخر دنیوی عروج کے انتہائی مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے قحط زدہ اہل خاندان اب اس کے دست نگر ہو کر اس کے حضور آئے ہیں اور وہ حاسد بھائی بھی جو اس کو مارڈالنا چاہتے تھے، اس کے تخت شاہی کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ یہ موقع دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے ، ڈینگیں مارنے اور گلے شکوے کرنے اور طعن و ملامت کے تیر برسانے کا تھا۔ مگر ایک سچا اور خدا پرست انسان اس موقع پر کچھ دوسرے ہی اخلاق ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے اس عروج پر فخر کرنے کے بجائے اس خدا کے احسان کا اعتراف کرتا ہے جس نے اسے یہ مرتبہ عطا کیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، یوسف، حاشیہ:۷۱)
سورۃ الحجرات آیت ۱۷ میں ارشاد ہے:
یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰ بکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔
’’یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم واقعی اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو۔‘‘
جو لوگ دل کی تصدیق کے بغیر محض زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا اسلام قبول کرکے انھوں نے کوئی احسان کیا ہے۔ دنیا میں تو ان کا شمار مسلمانوں میں ہوسکتا ہے ، معاشرے میں ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک بھی کیا جاسکتا ہے، مگر اللہ کے ہاں وہ مومن قرار نہیں پاسکتے(حالانکہ) اللہ تعالیٰ کا یہ ان پر احسان ہے کہ اس نے انھیں ایمان کی ہدایت دی۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الحجرات: موضوع اور مباحث)
سورہ آل عمران آیت ۱۶۴ میں ارشاد ربّانی ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًامِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔
’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
جس انسان کا بال بال اللہ کے احسانات میں بندھا ہوا ہے وہ اپنے محسن کی نعمتوں کا جواب کیسی کیسی نمک حرامیوں بے وفائیوں ، غدّاریوں اور سرکشیوں سے دے رہا ہے، اور پھر اس کا محسن کیسار حیم و حلیم ہے کہ ان ساری حرکتوں کے باوجود وہ سالہا سال ایک نمک حرام شخص کو اور صدہا برس ایک باغی قوم کو اپنی نعمتوں سے نوازتا چلا جاتا ہے۔ یہاں وہ بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو علانیہ خالق کی ہستی کے منکر ہیں اور پھر بھی نعمتوں سے مالامال ہوئے جارہے ہیں۔ وہ بھی پائے جاتے ہیں جو خالق کی ذات، صفات، اختیارات، حقوق، سب میں غیر خالق ہستیوں کو اس کا شریک ٹھہرارہے ہیں اور منعم کی نعمتوں کا شکریہ غیر منعموں کو ادا کررہے ہیں، پھر بھی نعمت دینے والا ہاتھ نعمت دینے سے نہیں رکتا ۔ وہ بھی ہیں جو خالق کو خالق اور منعم ماننے کے باوجود اس کے مقابلے میں سرکشی اور نافرمانی ہی کو اپنا شیوہ اور اس کی اطاعت سے آزادی ہی کو اپنا مسلک بنائے رکھتے ہیں، پھر بھی مدت العمراس کے بے حدوحساب احسانات کا سلسلہ ان پر جاری رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل حاشیہ:۱۷)

اَلْحَکَمُ : فیصلہ کرنے والا

سورۃ الانعام آیت ۱۱۴ میں ہے:
اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا۔
’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے؟‘‘
(اس قرآنی ارشاد کا) مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنی کتاب میں صاف صاف تمام حقیقتیں بیان کردی ہیں اور یہ بھی فیصلہ کردیا ہے کہ فوق الفطری مداخلت کے بغیر حق پرستوں کو فطری طریقوں ہی سے غلبۂ حق کی جدوجہد کرنی ہوگی، تو کیا اب میں اللہ کے سوا کوئی اور ایسا صاحب امر تلاش کروں جو اللہ کے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور ایسا کوئی معجزہ بھیجے جس سے یہ لوگ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں؟
سورۃ النساء آیت ۳۵ میں حَکَمٌ بمعنی فیصلہ کرنے والا بیان ہوا ہے:
وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا ۔ اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا۔
’’ اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا۔‘‘
اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے جس کی کوئی اپیل نہیں۔ اور وہ جو فیصلہ کرتا ہے خالص علم اور کامل انصاف کے ساتھ کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، ہود، حاشیہ: ۴۸)

ماٰخذ

(۱) بخاری، ج۲، کتاب التوحید باب ان لِلّٰہِ مائۃ اسم اِلَّا وَاحِدًا۔
(۲) بخاری، ج ۲،کتاب الدعوات باب لِلّٰہِ تعالیٰ مائۃ اسم غیر واحد۔
(۳) مسلم، ج ۲، کتاب الذکر والدعاء باب فی اسماء اللّٰہِ تعالیٰ وفضل من احصاہا۔
(۴) ترمذی ج ۲، ابواب الدعوات۔
(۵) سنن ابن ماجہ ،کتاب الدعاء باب اسماء اللّٰہ عزوجل۔
(۶) المستدرک للحاکم، ج ۱،کتاب الایمان باب اِنَّ لِلّٰہ تِسْعَۃً وتِسْعِیْن اسمًا من اَحْصَاہَا دخل الجنۃ۔ کنز العُمّال ج ۱، بحوالہ (ابوالشیخ وابن مردویہ فی التفسیر وابونعیم فی الاسماء الحنسی عَنْ ابی ہریرۃ)۔

خود ساختہ معبود جہنم میں اپنے پوجنے والوں کے ساتھ ہوں گے

۵۴۔ نَعَمْ، کُلُّ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّعْبَدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَہُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَہٗ۔
ترجمہ : ’’ہاںہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کے بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنھوں نے اس کی بندگی کی۔‘‘
تشریح: اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے خلق خدا کو خدا پرستی کی تعلیم دی تھی اور لوگ انہی کو معبود بنا بیٹھے تھے، یا جو غریب اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ دنیا میں ان کی بندگی کی جارہی ہے اور اس فعل میں ان کی خواہش اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ہے، ان کے جہنم میں جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وہ اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں( وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا، اور وہ تمام جنّ ، ارواح، اسلاف ، اجداد ،انبیا ،اولیاء ، شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھہراکر وہ حقوق انھیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجالارہے ہو۔ تمہاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار اور فریاد، کوئی نذر و نیاز، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔ ) البتہ جنھوں نے خود معبود بننے کی کوشش کی اور جن کا خلق خدا کے اس شرک میں واقعی دخل ہے وہ سب اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی جہنم میں جائیں گے جنھوں نے اپنی اغراض کے لیے غیر اللہ کو معبود بنوایا، کیونکہ اس صورت میں مشرکین کے اصلی معبود وہی قرار پائیں گے نہ کہ وہ جن کو ان اشرار نے بظاہر معبود بنوایا تھا۔ شیطان بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ کیوں کہ اس کی تحریک پر جن ہستیوں کو معبود بنایا جاتا ہے، اصل معبود وہ نہیں بلکہ خود شیطان ہوتا ہے جس کے امر کی اطاعت میں یہ فعل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پتھر اور لکڑی کے بتوں اور دوسرے سامان پرستش کو بھی مشرکین کے ساتھ جہنم میں داخل کیا جائے گا تاکہ وہ ان پر آتش جہنم کے اور زیادہ بھڑکنے کا سبب بنیں اور یہ دیکھ کر انھیں مزید تکلیف ہو کہ جن سے وہ شفاعت کی امید یں لگائے بیٹھے تھے وہ ان پر الٹے عذاب کی شدت کے موجب بنے ہوئے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الانبیاء، حاشیہ: ۹۵)
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثَنَا سَلَمَۃُ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَال: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا بَلَغَنِیْ یَوْمًا مَعَ الْوَلِیْدِ بْنِ المُغِیْرَۃِ، فَجَائَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتّٰی جَلَسَ مَعَہُمْ، وَفِی الْمَجْلِسِ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِّجَالِ قریْشٍ،فَتَکَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَعَرَضَ لَہٗ النَّضْرُبْنُ الْحَارِثِ وَکَلَّمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی اَفْحَمَہٗ ثُمَّ تَلَاعَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ۔ لَوْکَانَ ہٰؤُلَائِ اٰلِہَۃً مَا وَرَدُوْہَا وَکُلٌّ فِیْہَا خَالِدُوْنَ اِلیٰ قَوْلِہٖ وَہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ اَقْبَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزِبَعْرَی بْنِ قَیْسِ بْنِ عَدِیِّ السَّہْمِیُّ حَتّٰی جَلَسَ فَقَالَ الْوَلِیْدُ بْنُ الْمُغیْرَۃِ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزِّبَعْری وَاللّٰہِ، مَا قَامَ النَضْرُبْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اٰنِفًا، وَمَا قَعَدَ وَقَدْ زَعَمَ اَنَّا وَمَا نَعْبُدُ مِنْ اٰلِہَتِنَا ہٰذِہٖ حَصَبُ جَہَنَّمَ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزِّبَعْری: اَمَا وَاللّٰہِ لَوْ وَجَدْتُّہٗ لَخَصَمْتُہٗ۔ فَسَلُوْا مُحَمَّدًا اَکُلُّ مَنْ عَبَدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فِیْ جَہَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَدَہٗ فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِکَۃَ وَالْیَہُوْدُ تَعْبُدُ عُزَیْرًا، وَالنَّصَاریٰ تَعْبُدُ الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ فَعَجَبَ الْوَلِیْدُ ابْنُ المُغِیْرَۃِ وَمَنْ کَانَ فِی الْمَجْلِسِ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزِّبَعْری وَرَأَوْاَنَّہٗ قَدْ خَاصَمَ وَاحْتَجَّ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنْ قَوْلِ بْنِ الزِّبَعْری فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :نَعَمْ کُلُّ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّعْبَدَمِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَہُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَہٗ۔(۱)
ترجمہ: ابنِ اسحاق کہتے ہیں جو روایت مجھ تک پہنچی ہے اس کے مطابق ایک روز نبی ﷺ ولید کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ نضر بن الحارث ادھر آنکلا اور ان کے ساتھ شریک مجلس ہوگیا۔ اس مجلس میں کئی قریشی لوگ اور بھی شریک تھے۔ رسول اللہﷺ نے گفتگو کا آغاز فرمایا، تو نضر بن حارث درمیان میں آگیا۔ حضور ﷺ نے گفتگو اس انداز اور سلیقے سے فرمائی کہ وہ لاجواب ہوگیا۔پھر نبی کریم ﷺ نے نضر بن حارث اور دیگر قریشی لوگوں کے سامنے قرآن مجید کی یہ آیت مبارک پڑھی : اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبدُونَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ۔ لَوْکَانَ ہٰؤُلَآ ئِ اٰلِہَۃً مَّاوَرَدُوْہَا وَکُلٌّ فِیْہَا خَالِدُوْنَ سے وَہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ تک۔ اس کے بعد آپ اٹھ گئے اور عبداللہ بن زِبَعْری آیا اور بیٹھ گیا۔ ولید بن مغیرہ بولا بہ خدا نضر بن حارث، ابن عبدالمطلب (محمد ﷺ) کے احترام کی خاطر کھڑا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے لیے پھر بیٹھا۔ کیوں کہ ابن عبدالمطلب کا زعم ہے کہ ہم اور ہمارے معبود جنھیں ہم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہیں سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس پر ابن زبْعری بول اٹھا کہ خدا کی قسم ! اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں مخاصمہ کروں گا۔
لہٰذا تم محمدؐ سے پوچھو کہ کیا وہ سب جہنمی ہیں جنھیں اللہ کے سوا پوجا جاتا ہے یعنی یہ معبود اور عابد دونوں جہنم میں جائیں گے؟ (اگر ایسا ہے) تو ہم ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں جب کہ یہود عزیر کی اور نصاریٰ ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ مجلس میں موجود ولید بن مغیرہ اور دیگر اصحاب نے زبعری کے اس اعتراض کو بہت عمدہ قرار دیا اور انھوں نے خیال کیا کہ اس شخص نے بڑی وزنی دلیل دی ہے اور جیت گیا ہے جب یہ گفتگو نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ کے بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنھوں نے اس کی بندگی کی۔‘‘

بچوں کے ذہن میں نقشِ توحید کس طرح بٹھایا جائے؟

۵۵۔کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَفْصَحَ الْغُلَامُ مِنْ بَنِیْ عَبْدِ المُطَّلِبِ عَلَّمَہٗ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ۔
ترجمہ: نبی ﷺ کا یہ قاعدہ تھا کہ حضوؐر کے خاندان میں جب کسی بچے کی زبان کھل جاتی تھی تو آپ یہ آیت اسے سکھاتے تھے۔
مصنَّف عبدالرزاق و مَصنَّفِ ابن ابی شیبۃ، بروایت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ۔
تشریح: (اس حدیث میں جس آیت کی تعلیم کا ذکر ہے، سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر ۱۱۱ میں ہے کہ وہ جو زمین اور آسمانوں کا بادشاہی کا مالک ہے ، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقرر کی)۔
اس آیت میں توحید کی پوری تعلیم سمیٹ دی گئی ہے۔ قرآن کی جامع آیات میں سے یہ ایک عظیم الشان آیت ہے جس کے چند الفاظ میں اتنا بڑا مضمون سمودیا گیا ہے کہ ایک پوری کتاب بھی اس کی وسعتوں کا احاطہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ (حضور کا بچوں کو یہ آیت سکھانا واضح کرتا ہے کہ) آدمی کے ذہن میں توحید کا پورا تصور بٹھانے کے لیے یہ آیت ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس کے بچے جب ہوشیار ہونے لگیں تو آغاز ہی میں ان کے ذہن پر یہ نقش ثبت کردے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ:۸)
تخریج:(۱) عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ بْنِ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُعَلِّمُ الْغُلَامَ مِنْ بَنِیْ ہَاشِمٍ اِذَا اَفْصَحَ سَبْعَ مَّراتٍ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ۔(۲)
ترجمہ: عبدالکریم ابوامیہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ آپ بنی ہاشم کے ہر بچے کو جب وہ بولنا شروع کرتا سات مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِدْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ کی تعلیم دیتے تھے یعنی’’تعریف اس خدا کے لیے ہے جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا، اور جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘
(۲) عَنْ عَمْروبْنِ شُعیب، قَالَ:کَانَ الْغُلَامُ اِذَا اَفْصَحَ مِنْ بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَلَّمَہُ النَّبِیُّ ﷺ ہٰذِہِ الْآ یَۃَ سَبْعًا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا۔ (۳)

مشرکین سے ایک سوال

۵۶۔ بَلِ اللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقیٰ وَاَجَلُّ واَکْرَمُ۔
ترجمہ: روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ جب سورہ نمل کی آیت ۵۹ تلاوت فرماتے ۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلیٰ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ ط آٰ للّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْ نَ۔کہ (ان سے پوچھو) اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنھیں یہ لوگ اس کا شریک بنارہے ہیں؟ تو فوراً اس کے جواب میں فرماتے :’’نہیںبلکہ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا اور بزرگ و برتر ہے۔‘‘
تشریح: بظاہر یہ سوال عجیب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بہتر ہے یا معبود ان باطل ۔حقیقت کے اعتبار سے تو معبودانِ باطل میں کسی خیر کا سوال ہی نہیں ہے کہ اللہ سے ان کا مقابلہ کیا جائے۔ رہے مشرکین تو وہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے کہ اللہ کا اور ان کے معبودوں کا کوئی مقابلہ ہے۔ لیکن یہ سوال ان کے سامنے اس لیے رکھا گیا کہ وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص دنیا میں کوئی کام بھی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے نزدیک اس میں کسی بھلائی یا فائدے کا خیال نہ رکھتا ہو۔ اب اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی عبادت کے بجائے ان معبودوں کی عبادت کرتے تھے، اور اللہ کو چھوڑ کر ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کرتے تھے، تو یہ اس کے بغیر بالکل بے معنی تھا کہ ان معبودوں میں کوئی خیر ہو۔اسی بنا پر ان کے سامنے صاف الفاظ میں یہ سوال رکھا گیا کہ بتائو اللہ بہتر ہے یا تمہارے یہ معبود؟ کیونکہ اس دوٹوک سوال کا مقابلہ کرنے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ ان میں سے کوئی کٹے سے کٹا مشرک بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کرسکتا تھا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں۔ اور یہ مان لینے کے بعد کہ اللہ بہتر ہے، ان کے پورے دین کی بنیاد ڈھے جاتی تھی، اس لیے کہ پھر یہ بات سراسرنامعقول قرار پاتی تھی کہ بہتر کو چھوڑ کر بدتر کو اختیار کیا جائے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النمل حاشیہ: ۷۲)
تخریج: وَفِیْ بَعْضِ الْآثَارِ اَنَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا قَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ، قَالَ: بَلِ اللّٰہُ خَیْرٌ وّ اَبْقیٰ وَاَجَلُّ وَاَکْرَمُ۔(۴)

خواہش نفس بدترین معبود

۵۷۔ مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَآئِ مِنْ اِلٰہٍ یُّعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ اَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ہَوًی یُتَّبَعُ۔
ترجمہ: اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جارہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بدترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جارہی ہو۔ (طبرانی)
تشریح: خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔ جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کے لیے صحیح راہ کون سی ہے اور غلط کون سی۔ وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا بھی ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جاسکتا ہے،اور یہ اعتماد بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کرلے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا۔لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بے مہارہے۔ اسے تو اس کی خواہشات جدھر جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے۔ پھر بھلا کون اسے سمجھا کر راستی کا قائل کرسکتا ہے۔ اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی لے تو اسے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنا دینا تو کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الفرقان ، حاشیہ:۵۶)
تخریج: عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَآئِ مِنْ اِلٰہٍ یُّعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ اَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ہَوًی یُتَّبَعُ۔ (۵)
ترجمہ: حضرت ابوامامہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جارہے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جارہی ہو۔

کیا شرک کے ساتھ نیکی کا کوئی وزن ہے؟

۵۸۔ ترجمہ: نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی، ایک شرک ، دوسرے والدین کی حق تلفی ، تیسرے میدان قتال فی سبیل اللہ سے فرار۔
ہر شخص جو کسی نوعیت کا شرک کرتا ہے دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی تکذیب کرتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت نے میری بیماری دور کردی، اصل میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ شافی نہیں ہے بلکہ وہ حضرت شافی ہیں۔ کسی کا یہ کہناکہ فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روزگار مل گیا، حقیقت میں یہ کہنا ہے کہ رازق اللہ نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ رازق ہیں۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں آستانے سے میری مراد برآئی، گویا دراصل یہ کہنا ہے کہ دنیا میں حکم اللہ کا نہیں بلکہ اس آستانے کا چل رہا ہے۔ غرض ہر مشرکانہ عقیدہ اور مشرکانہ قول آخری تجزیہ میں صفاتِ الٰہی کی تکذیب ہی پر منتہی ہوتا ہے۔ شرک کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی دوسروں کو سمیع و بصیر، عالم الغیب ، فاعل مختار، قادر و متصرف اور الوہیت کے دوسرے اوصاف سے متصف قرار دے رہا ہے اور اس بات کا انکار کررہا ہے کہ اکیلا اللہ ہی ان صفات کا مالک ہے۔
تخریج : وَقَالَ الْحَافِظُ اَبُوالْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ مُحَمَدِبْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰ بْنِ حَمْزَۃَ، حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمُ اَبُو النَّصْرِ، حَدَّثَنَا یَزِیْدُبْنُ رَبِیْعَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُوالْاَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ مَرْفُوْعًا عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: ثَلَاثَۃٌ لَا یَنْفَعُ مَعَہُنَّ عَمَلٌ۔ الشِّرْکُ بِاللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ۔(۶)
وہٰذا ایضا حدیث غریب جدا۔
ترجمہ: ابوالاشعث حضرت ثوبان سے روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’تین گناہ ایسے ہیں ان کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔ ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، دوسرا والدین کی نافرمانی و حق تلفی اور تیسرا میدان قتال فی سبیل اللہ سے فرار۔‘‘

شرک سب سے بڑا گناہ ہے

۵۹۔ اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہُوَ خَلَقَکَ۔ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ اَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ۔ اَنْ تَزَانِیَ حَلِیْلَۃَ جَارِکَ۔
ترجمہ : عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا، سب سے بڑا گناہ کیاہے؟ فرمایا ’’یہ کہ تو کسی کو اللہ کا مدّ مقابل اور ہمسر ٹھیرائے، حالانکہ تجھے اللہ نے پیدا کیاہے۔‘‘ پوچھا گیا اس کے بعد؟ فرمایا ’’یہ کہ تو اپنے بچے کو اس خوف سے قتل کرڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گا۔‘‘ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ’’یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے۔‘‘ (بخاری ، مسلم ، ترمذی، نسائی، احمد)
تشریح :اگرچہ کبیرہ گناہ اور بھی بہت سے ہیں( مگراس حدیث میں تین کا ذکر کیا گیاہے) عرب کی سوسائٹی پر اُس وقت سب سے زیادہ تسلّط انہی تین گناہوں کا تھا۔
اہلِ عرب اگرچہ شرک میں مبتلا تھے اور سخت تعصّب کی حد تک مبتلا تھے، مگر درحقیقت اس کی جڑیں اوپری سطح ہی تک محدود تھیں، کچھ گہری اتری ہوئی نہ تھیں، اور دنیا میں کبھی کہیں بھی شرک کی جڑیں انسانی فطرت میں گہری اتری ہوئی نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس خالص خدا پرستی کی عظمت اُن کے ذہن کی گہرائیوںمیں رچی ہوئی موجود تھی جس کو اُبھارنے کے لیے اوپر کی سطح کو بس ذرا زور سے کھُرچ دینے کی ضرورت تھی۔ جاہلیت کی تاریخ کے متعدد واقعات ان دونوں باتوں کی شہادت دیتے ہیں۔ مثلاً اَبْرَہَہ کے حملے کے موقع پر قریش کا بچّہ بچّہ یہ جانتا تھا کہ اس بلا کو وہ بُت نہیں ٹال سکتے جو خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے ہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ٹال سکتاہے جس کا یہ گھر ہے۔ آج تک وہ اشعار اور قصائد محفوظ ہیں جو اصحاب الفیل کی تباہی پر ہم عصر شعراء نے کہے تھے۔ اُن کا لفظ لفظ گواہی دیتاہے کہ وہ لوگ اس واقعہ کو محض اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ سمجھتے تھے اور اس امر کا ادنی سا گمان بھی نہ رکھتے تھے کہ اُس میں ان کے معبودوں کا کوئی دخل ہے۔ اسی موقعہ پر شرک کا یہ بدترین کرشمہ بھی قریش اور تمام مشرکینِ عرب کے سامنے آیا تھا کہ ابرہہ جب مکّے کی طرف جاتے ہوئے طائف کے قریب پہنچا تو اہلِ طائف نے اس اندیشے سے کہ یہ کہیں ان کے معبود ’’لات‘‘ کے مندر کو بھی نہ گرادے، اپنی خدمات کعبے کو منہدم کرنے کے لیے اس کے آگے پیش کردیں اور اپنے بدرقے اس کے ساتھ کردیے تاکہ وہ پہاڑی راستوں سے اس کے لشکر کو بخیریت مکّہ تک پہنچادیں۔ اس واقعہ کی تلخ یاد مدّتوں تک قریش کو ستاتی رہی اور سالہا سال تک وہ اُس شخص کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے جو طائف کے بدرقے کا سردار تھا۔ علاوہ بریں قریش اور دوسرے اہلِ عرب اپنے دین کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اپنے بہت سے مذہبی اور معاشرتی مراسم اور خصوصاً مناسکِ حج کو دینِ ابراہیم کے اجزاء قراردیتے تھے،اور یہ بھی مانتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خالص خدا پرست تھے، بتوں کی پرستش انہوں نے کبھی نہیں کی۔ان کے ہاں کی روایات میں یہ تفصیلات بھی محفوظ تھیں کہ بُت پرستی اُن کے ہاں کب سے رائج ہوئی اور کون سا بُت کب، کہاں سے، کون لایا۔ اپنے معبودوں کی جیسی کچھ عزت ایک عام عرب کے دل میں تھی اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ جب کبھی اس کی دعاؤں اور تمنّاؤں کے خلاف کوئی واقعہ ظہور میں آجاتا تو بسا اوقات وہ معبود صاحب کی توہین بھی کرڈالتا تھا اور اس کی نذر ونیاز سے ہاتھ کھینچ لیتاتھا۔ ایک عرب اپنے باپ کے قاتل سے بدلہ لینا چاہتاتھا۔ ذوالخَلَصَہ نامی بُت کے آستانے پر جاکر اس نے فال کھلوائی۔ جواب نکلا کہ یہ کام نہ کیا جائے۔ اس پر عرب طیش میں آگیا ۔ کہنے لگا:
لَوْکُنتَ یَا ذَا الْخَلَصِ الْمَوْتُوْرَا
مِثْلِیْ وَکَانَ شَیْخُکَ الْمَقْبُوْرَا
لَمْ تَنْہَ عَنْ قَتْلِ الْعِدَاۃِ زُوْرا
’’یعنی اے ذوالخَلَصَہ! اگر میری جگہ تو ہوتا اور تیرا باپ مارا گیا ہوتا تو ہرگز تویہ جھوٹی بات نہ کہتاکہ ظالموں سے بدلہ نہ لیاجائے۔‘‘
ایک اور عرب صاحب اپنے اونٹوں کا گلہ اپنے معبود سَعد نامی کے آستانے پر لے گئے تاکہ ان کے لیے برکت حاصل کریں۔ یہ ایک لمبا تڑنگا بت تھا جس پر قربانیوں کا خون لتھڑا ہوا تھا۔ اونٹ اسے دیکھ کر بھڑک گئے اور ہرطرف بھاگ نکلے۔ عرب اپنے اونٹوں کو اس طرح تِتّر بِتّر ہوتے دیکھ کر غصّے میں آگیا۔ بُت پر پتھّر مارتاجاتاتھا اور کہتا جاتاتھا کہ ’’خدا تیرا ستیا ناس کرے۔ میں آیا تھا برکت لینے کے لیے اور تونے میرے رہے سہے اونٹ بھی بھگادیے۔‘‘ متعدد بُت ایسے تھے جن کی اصلیت کے متعلق نہایت گندے قصّے مشہور تھے مثلاً اساف اور نائلہ جن کے مجسّمے صفا اور مروہ پر رکھے ہوئے تھے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دراصل ایک عورت اور ایک مرد تھے جنہوں نے خانہ کعبہ میں زنا کا ارتکاب کیا تھا اور خدا نے ان کو پتھر بنادیا۔ یہ حقیقت جن معبودوں کی ہو، ظاہر ہے کہ ان کی کوئی حقیقی عزّت تو عابدوں کے دِل میں نہیں ہوسکتی۔ ان مختلف پہلوؤں کو نگاہ میں رکھاجائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ خالص خدا پرستی کی ایک گہری قدرومنزلت تو دلوں میں موجود تھی، مگر ایک طرف جاہلانہ قدامت پرستی نے اس کو دبا رکھاتھا، اور دوسری طرف قریش کے پروہت اُس کے خلاف تعصّبات بھڑکاتے رہتے تھے، کیونکہ بتوں کی عقیدت ختم ہوجانے سے ان کو اندیشہ تھا کہ عرب میں ان کو جو مرکزیت حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی اور ان کی آمدنی میں بھی فرق آجائے گا۔ ان سہاروں پر جو مذہب شرک قائم تھا وہ توحید کی دعوت کے مقابلے میں کسی وقار کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتاتھا۔ (تفہیم القرآن،ج۳، الفرقان، حاشیہ: ۸۴)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَنْ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْصُوْرٌ وسُلَیْمَانُ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ اَبِیْ مَیْسَرَۃٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ وَاصِلٌ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: سَاَلْتُ اَوْ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللّٰہِ اَکْبَرُ؟ قَالَ: اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَھُوَ خَلَقَکَ، قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ اَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ، قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ اَنْ تَزَانِیْ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ، قَالَ وَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الاْٰیَۃُ تَصْدِیْقًا لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْنَ لاَیَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ وَلاَیَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ۔ (۷)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیںکہ میں نے پوچھا یا آپؐ سے پوچھاگیا کہ یا رسولؐ اللہ!سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ فرمایا ’’یہ کہ تو کسی کو اللہ کا ہمسر ومدّ مقابل ٹھہرائے حالانکہ تجھے پیدا اللہ تعالیٰ نے کیاہے۔‘‘ پوچھا گیا اس کے بعد؟ فرمایا ’’یہ کہ تو اپنے بچّے کو اس خوف سے قتل کرڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گا۔‘‘ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ’’یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے زناکرے۔‘‘ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کے ارشاد گرامی کی تصدیق کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔’’ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے۔ ‘‘

کیا اسلام میں قبر پرستی کی گنجائش ہے؟

لَعَنَ اللّٰہُ تَعَالٰی الْیَھُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔
(احمد، بخاری، مسلم، نسائی)
ترجمہ : اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصاریٰ پر، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔
(تفہیم القرآن، ج ۳،الکہف ،حاشیہ: ۲۱)
تشریح : (اس) سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں جن کو غالی معتقدین داتا، مشکل کشا، فریادرس، غریب نواز، گنج بخش اورنہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ عرب میں اس نوعیت کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ جاہلیتِ عرب کی تاریخ سے اس کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ کون پڑھا لکھا نہیں جانتاہے کہ عرب کے متعدد قبائل ربیعہ، کَلْب، تَغْلِب، قُضَاعَہ، کِنَانہ، حَرْث، کعب، کِنْدہ وغیرہ میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے۔اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیاء، اولیاء اور شہداء کی پرستش سے آلودہ تھے، پھر مشرکینِ عرب کے اکثر نہیں تو بہت سے معبود وہ گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنہیں بعد کی نسلوں نے خدا بنالیا تھا۔
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَعَمْرُو النَّاقِدُ، قَالاَ: نا ھَاشِمُ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: نَا شَیْبَانٌ عَنْ ھِلاَلِ بْنِ اَبِیْ حُمَیْدٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ،عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِیْ لَمْ یَقُمْ مِنْہُ: لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُورَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔(۸)
قَالَتْ فَلَوْلاَ ذَاکَ اُبْرِزَ قَبْرُہٗ غَیْرَ اَنَّہٗ خُشِیَ اَنْ یُتَّخَذَ مَسْجِدًا وفی روایۃ ابنِ ابی شیبۃ وَلَولاَ ذَاکَ لَمْ یذکر قالت۔
ترجمہ :حضرت عائشہؓ سے مروی ہے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں ارشاد فرمایا جس سے آپؐ اٹھ نہ سکے۔ ’’اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی یہود ونصاریٰ پر، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَ اللَّہُ الْیَھُوْدَ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔ (۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ یہود کا ستیا ناس کرے انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔‘‘ (یعنی ان پر سجدے کرنے لگے)۔
انہی سے مر وی دوسری روایت میں لَعَنَ اللّٰہُ الیہود والنَّصاریٰ اتَّخَذوا قبور انبیاء ہم مساجد کے الفاظ بھی ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ : اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ۔اَنَّ عَائِشَۃَ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالاَ: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَفِقَ یَطْرَحُ خَمِیْصَۃً لَہٗ عَلٰی وَجْھِہٖ فَاِذَا اغْتَمَّ بِھَا کَشَفَھَا عَنْ وَجْھِہٖ فَقَالَ وَھُوَ کَذٰلِکَ: لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْیَھُوْدِ وَالنَّصَاریٰ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ یُحَذِّرُ مَاصَنَعُوْا۔ (۱۰)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ اور حضرت ابنِ عباسؓ دونوں سے مروی ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ شدید علیل ہوئے تو کبھی آپؐ اپنے چہرہ مبارک پر چادر ڈال لیتے اور جب مرض شدت اختیار کرتا تو آپؐاپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹادیتے۔
اسی حالت میں ارشاد فرمایا۔ یہود ونصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، اس فرمان سے آپ کا مقصد مسلمانوں کو یہود ونصاریٰ کے طور طریقوں سے ڈرانا اور تنبیہ کرناتھا۔
۶۱۔ بخاری میں ابنِ عباس کی روایت ہے کہ وَدّ، سُواع، یغوث، یَعُوق، نسر، یہ سب صالحین کے نام ہیں جنہیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے۔
حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ اِساف اور نائلہ دونوں انسان تھے۔ اسی طرح کی روایات لات اور مناۃ اور عُزّٰی کے بارے میں بھی موجود ہیں۔ اور مشرکین کا یہ عقیدہ بھی روایات میں آیاہے کہ لات اور عُزّٰی اللہ کے ایسے پیارے تھے کہ اللہ میاں جاڑ الات کے ہاں اور گرمی عُزّٰی کے ہاں بسر کرتے تھے۔سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ۔
(تفہیم القرآن،ج۲، النحل، حاشیہ: ۱۹)
تخریج : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: اَخْبَرَنا ھِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَقَالَ عَطَائٌ عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، صَارَتِ الْاَوْثَانُ الَّتِیْ کَانَتْ فِیْ قَوْمِ نُوْحٍ فِی الْعَرَبِ بَعْدُ۔ اَمَّا وُدٌّکَانَتْ لِکَلْبٍ بِدُوْمَۃِ الْجَنْدَلِ، وَاَمَّا سُوَاعٌ فَکَانَتْ لِھُذَیْلٍ، وَاَمَّا یَغُوْثُ، فَکَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِیْ غُطَیْفٍ بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَا وَاَمَّا یَعُوْقُ فَکَانَتْ لِھَمْدَانَ، وَاَمَّا نَسْرٌ فَکَانَتْ لِحِمْیَرَ لِاٰلِ ذِی الْکُلاَعِ وَنَسْرًا اَسْمَائُ رِجَالٍ صَالِحِیْنَ مِنْ قَوْمِ نوحٍ۔ فَلَمَّا ھَلَکُوْا اَوْحَی الشَّیْطَانُ اِلٰی قَوْمِھِمْ اَنْ اَنْصِبُوْا اِلٰی مَجَالِسِھِمْ الَّتِیْ کَانُوْا یَجْلِسُوْنَ اَنْصَابًا وَسَمُّوْھَا بِاَسْمَائِھِمْ فَفَعَلُوْا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ اُولٓئِکَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ۔(۱۱)

زیارتِ قبور

لَعَنَ اللّٰہُ تَعَالٰی زَائِرَاتِ الْقُبُوْرِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْھَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ۔
(احمد، ترمذی، ابوداؤد، نَسائی، ابن ماجہ)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر، اور قبروں پرمسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الکہف، حاشیہ: ۲۱)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُوْرِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْھَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ۔ (۱۲)
وفی الباب عن ابی ھریرۃوَعَائشۃ، قَال ابوعیسی حدیث ابن عباس حدیث حسن۔
ترجمہ : حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر، اور ان پر مساجد بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ۔ وفی الباب عن ابن عباس وحسان بن ثابت۔قَالَ ابوعیسی وھذاحدیث حسن صحیح۔
وَقَدْ رَاٰی بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ اَنَّ ھٰذَاکَانَ قَبْلَ اَنْ یُرَخِّصَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِیْ رُخْصَتِہٖ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ وَقَالَ بَعْضُھُمْ: اِنَّمَا کَرِہَ زِیَارَۃَ الْقُبُوْرِ فِی النِّسَائِ لِقِلَّۃِ صَبْرِھِنَّ وَکَثْرَۃِ جَزْعِھِنَّ۔ (۱۳)
ترجمہ : امام ترمذی کہتے ہیں کہ بعض اہلِ علم کی یہ رائے ہے کہ آپ کا یہ ارشاد زیارتِ قبور کی رخصت دیے جانے سے پہلے کا ہے۔ جب آپ نے اس کی اجازت مرحمت فرمادی تو اس میں مرد وعورت سبھی شامل ہوگئے۔ بعض اہلِ علم نے اس کی تطبیق اس طرح کی ہے کہ عورتوں کے زیارتِ قبور کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدہ اس بناء پر ٹھیرایاہے کہ ان میں صبر بہت کم ہے اور جزع فزع بہت کرتی ہیں۔
ابن ماجہ میں عبدالرحمن بن حسان بن ثابت عن ابیہ اور ابن عباس دونوں کی روایات ہیں۔ (۱۴)
۶۳۔ اَلاَ وَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِ ھِمْ مَسَاجِدَ فَاِنِّیْ اَنْھٰکُمْ عَنْ ذَالِکَ۔ (مسلم)
ترجمہ : خبردار رہو! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بناہ لیتے تھے، میں تمہیں اس حرکت سے منع کرتاہوں۔ (مسلم) (تفہیم القرآن، ج۳، الکہف، حاشیہ: ۲۱)
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: نَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عمْرٍو، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِیِّ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ جُنْدُبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ اَنْ یَمُوْتَ بِخَمْسٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: اِنِّیْ اَبْرَأُ اِلَی اللّٰہِ اَنْ یَکُوْنَ لِیْ مِنْکُمْ خَلِیْلٌ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ اتَّخَذَنِیْ خَلِیْلاً کَمَا اتَّخَذَ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلاًوَلَوْکُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ اُمَّتِیْ خَلِیْلاً لاَتَّخَذْتُ اَبَابَکْرٍ خَلِیْلاً۔ اَلاَوَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ اَنْبِیَآئِھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدَ، اَلاَ! فَلاَتَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ اِنِّیْ اَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰلِکَ۔ (۱۵)
ترجمہ : جندب بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے پانچ روز قبل یہ ارشاد فرماتے سناہے کہ میں اللہ تعالٰی کے حضور اس سے اپنی براء ت کا اظہار کرتاہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل بناؤں کیونکہ اللہ تعالٰی نے مجھے اپنا خلیل بنالیاہے جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایاتھا اور اگر میںاپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو یقینا وہ (حضرت) ابوبکر ہوتے جنہیں میں اپنا خلیل بناتا۔ سنو! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا۔ تم قبروں کو مساجد نہ بنا لینا۔ میں تمہیں اس فعل کے ارتکاب سے منع کرتاہوں۔
۶۴۔ اِنَّ اُولٰٓئِکَ اِذَا کَانَ فِیْھِم الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلٰی قَبْرِہٖ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرَ اُولٰٓئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (احمد، بخاری، مسلم، نسائی)
ترجمہ : ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان میں کوئی مرد صالح ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر مسجدیں بناتے اور اس  تشریح: احادیث نمبر ۶۲،۶۳،۶۴ کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تصریحات کی موجودگی میں کون خدا ترس آدمی یہ جرأت کرسکتاہے کہ قرآن مجید (سورۃ الکہف کی آیت نمبر  ۲۱) (اَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوْآ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لاَرَیْبَ فِیْھَاج اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَھُمْ اَمْرَھُمْ فَقَالُوْا ابْنُوْا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًاط رَبُّھمْ اَعْلَمُ بِھِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمَرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا o ( الکھف: ۲۱)
ترجمہ : اس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی (مگر ذرا خیال کروکہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑرہے تھے کہ ان (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا۔ ’’ان پر ایک دیوار چُن دو، ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتاہے۔‘‘ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا’’ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔‘‘ )میں عیسائی پادریوں اور رومی حکمرانوں کے جس گمراہانہ فعل کا حکایۃً ذکر کیا گیا ہے اس کو ٹھیک وہی فعل کرنے کے لیے دلیل وحجت ٹھہرائے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الکہف، حاشیہ: ۲۱)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سَلَامٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ اُمَّ سَلَمَۃَ ذَکَرَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَنِیْسَۃً رَأَتْہَا بِاَرْضِ الْحَبْشَۃِ یُقَالُ لَہَا مَارِیَۃُ فَذَکَرَتْ لَہٗ مَا رَأَتْ فِیْہَا مِنَ الصُّوَرِ۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُوْلٰٓئِکَ قَوْمٌ اِذَا مَاتَ فِیْہِمُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ اَوِالرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلیٰ قَبْرِہٖ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرَاُوْلٰٓئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضرت اُمّ سلمہ نے رسول اللہ ﷺ سے ماریہ نامی ایک گرجا کا ذکر کیا جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔ اس میں جو تصاویر وغیرہ دیکھی تھیں ان کا ذکر بھی کیا۔ یہ سب سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔’’یہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان میں کاکوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو یہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنالیتے اوراس میں یہ تصویریں آویزاں کردیتے تھے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوقات میں سب سے بدتر اور شریر لوگ ہیں۔‘‘
ایک روایت میں اُم حبیبہ اور اُم سلمہ دونوں کا نام ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ اُمَّ حَبِیْبَۃَ وَاُمَّ سَلَمَۃَ ذَکَرَتَا کَنیسَۃً رَاَیْنَہَا بِا لْحَبَشَۃِ فِیْہَا تَصَاوِیْرُ فَذَکَرَتَاذٰلِکَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: اِنَّ اُولٰٓئِکَ اِذَا کَانَ فِیْہِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلیٰ قَبْرِہٖ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرَوَاُولٰٓئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(۱۷)
اس روایت میں صورتِ واقعہ بیان کرنے میں حضرت امّ سلمہؓ کے ساتھ حضرت امّ حبیبہؓ کا بھی ذکر ہے۔کی تصویریں تیار کرتے تھے۔ یہ قیامت کے روز بدترین مخلوقات ہوں گے۔

مقبولیّتِ دُعا کے لیے قبروں پر چلّہ کشی

اوّل تو دین میں اصل چیز کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ہے نہ کہ بزرگوں کے اقوال وافعال ۔ دوسرے خود بزرگوں کے اقوال وافعال کے متعلق جو مواد تذکروں میں ملتاہے، وہ بھی ایسا مستند نہیں ہے کہ اس کی بناء پر اطمینان کیا جاسکے کہ واقعی ان بزرگوں کے اقوال وافعال وہی تھے جو ان کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ ایسی چیزوں کو ماخذ مان کر اُن کی پیروی کرنا میرے نزدیک سخت بے احتیاطی ہے۔ محفوظ طریقہ وہی ہے جو ہمیں قرآن وحدیث سے ملتاہے، اور جس کو امّت کے محدّثین اور فقہاء نے منقّح اور مدوّن کرکے رکھ دیاہے۔ لہٰذا جو شخص دین کی یقینی اورقابلِ اعتماد راہ پر چلنا چاہتاہے، اس کو اس محفوظ طریقے سے تجاوز کا کبھی خیال بھی نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ باہر جو کچھ ہے وہ کم از کم خطرے سے تو خالی نہیں ہے۔ جن تذکروں میں یہ ذکر ملتاہے کہ فلاں فلاں بزرگوں نے یہ کام کیا تھا، ان کی روایات کا حدیث کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلہ میں بھی آخر کیا پایہ ہے؟ کس سند کی بنا پر اعتماد یا گمانِ غالب ہوسکتاہے کہ ان بزرگوں نے واقعی ایسا کیا تھا؟ فرض کیجیے کہ حقیقت میں انہوںنے ایسا نہ کیا ہو۔ اس صورت میں اُن بے سند روایات کی پیروی کرکے ہم آخرت میں کس چیز کا سہارا لے کرجواب دہی کرسکیں گے؟ اگر عاقبت کی ہمیں فکر ہو اور ہم خود بھی اپنی خیر چاہتے ہوں تو یہ کام کرنے سے پہلے ہم کو دین کے محفوظ طریقہ کی طرف رجوع کرکے اطمینان کرلینا چاہیے کہ وہاں کسبِ فیض یا قبولیّتِ دعا کے لیے یہ راستہ بتایاگیاہے یا نہیں؟ صحابہ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک پر کبھی چلّہ کھینچا یا مراقبہ کیا؟ تابعین نے کبھی کسی صحابی کی قبر پر یہ کام کیا۔ فقہاء ومحدثین میں سے کسی نے اس کو مشروع طریقہ بنایا؟ سب سے بڑھ کر خود اللہ میاں نے قرآن میں کہیں یہ تعلیم دی کہ قبروں پر حصولِ فیض یا استجابتِ دعا کے لیے جاؤ؟ یا اللہ کے رسولؐ نے اس طریق کار کی طرف کوئی اشارہ کیا؟ ان ذرائع سے اس کا کوئی ثبوت ملتاہو تو اطمینان کے ساتھ یہ کام کیا جاسکتاہے ورنہ یہ بالکل غلط نہ سہی مشتبہ تو ماننا ہی پڑے گا۔ ایسا مشتبہ کام کرکے کیا میں یہ خطرہ مول نہ لوں گا کہ شاید آخرت میں وہ غلط ثابت ہو اور میں اللہ تعالیٰ کو اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکوں کہ جب دین کی حقیقی راہ معلوم کرنے کے قابل اعتماد ذرائع موجود تھے تو میں مشتبہ ذرائع کی طرف کیوں گیا؟

علماء اور درویشوں کو رب بنانا

۶۵۔ترجمہ : حدیث میں آتاہے کہ حضرت عدی بن حاتم، جو پہلے عیسائی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے تو انہوں نے منجملہ اور سوالات کے ایک سوال یہ بھی کیا تھا کہ سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۳۱ میں ہم پر اپنے علماء اور درویشوں کو خدا بنالینے کا جو الزام عائد کیا گیاہے اس کی اصلیت کیاہے؟ جواب میں حضورؐ نے فرمایا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ جو کچھ یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم حرام مان لیتے ہو اور جو کچھ یہ حلال قراردیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیاکہ یہ تو ضرور ہم کرتے رہے ہیں۔ فرمایا بس یہی ان کو خدا بنالیناہے۔
تشریح : اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کی سند کے بغیر جو لوگ انسانی زندگی کے لیے جائزو ناجائز کی حدود مقرر کرتے ہیں وہ دراصل خدائی کے مقام پر بزعمِ خود متمکن ہوتے ہیں اور جو ان کے اس حقِ شریعت سازی کو تسلیم کرتے ہیں وہ انہیں خدا بناتے ہیں۔ (تفہیم القرآن،ج ۲، التوبہ، حاشیہ: ۳۱)
ایک طرف اللہ کی خداوندی کا اقرار کرنا اور دوسری طرف اللہ سے پھرے ہوئے لوگوں کے احکام پر چلنا اور ان کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی پابندی کرنا، شرک ہے، توحید یہ ہے کہ زندگی سراسر اللہ کی اطاعت میں بسر ہو۔ اللہ کے ساتھ اگر دوسروں کو اعتقاداً مستقل بالذّات مُطاع مان لیاجائے تو یہ اعتقادی شرک ہے اور اگر عملاً ایسے لوگوں کی اطاعت کی جائے جو اللہ کی ہدایت سے بے نیاز ہوکر خود امرو نہی کے مختار بن گئے ہوں تو یہ عملی شرک ہے۔ (تفہیم القرآن،ج۱،الانعام، حاشیہ: ۸۷)
اسلام کے نقطۂ نظر سے جس طرح پرستش کا مستحق تنہا اللہ تعالیٰ ہے، اسی طرح بندوں کے لیے قانون بنانے اور جائز وناجائزکی حدیں مقرر کرنے کا حق دار بھی صرف اللہ ہے۔ لہٰذا جس طرح کسی دوسرے کے آگے پرستش کے افعال میں سے کوئی فعل کرنا اسے خدا کا شریک بنانے کا ہم معنی ہے، اسی طرح کسی کے خود ساختہ قانون کو برحق سمجھتے ہوئے اسکی پابندی کرنا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کو واجب الاطاعت ماننا بھی اسے خدائی میں اللہ کا شریک قرار دینے کا ہم معنی ہے۔ یہ دونوں افعال بہر حال شرک ہیں، خواہ ان کا مرتکب ان ہستیوں کو زبان سے اِلٰہ اور رب کہے یا نہ کہے جن کے آگے وہ نذر ونیاز پیش کرتاہے یا جن کے مقرر کیے ہوئے قانون کو واجب الاطاعت مانتاہے۔ (تفہیم القرآن،ج۱،الانعام، حاشیہ: ۱۰۷)
اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اربابا من دون اللّٰہ کا اطلاق پتھر کے بتوں پر نہیں ہوتا بلکہ ان جیتے جاگتے آقاؤں پر راست آتی ہے جو عملاً آدمی کو متضاد احکام دیتے ہیں اور فی الواقع اس کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ پتھر کے بُت کسے حکم دیا کرتے ہیں اور کب کسی کو کھینچ کر اپنی خدمت کے لیے بلاتے ہیں۔ یہ کام تو زندہ آقاؤں ہی کے کرنے کے ہیں۔ ایک آقا آدمی کے اپنے نفس میں بیٹھا ہوا ہے جو طرح طرح کی خواہشات اس کے سامنے پیش کرتاہے اور اسے مجبور کرتارہتاہے کہ وہ انہیں پورا کرے۔ دوسرے بے شمار آقا گھر میں ، خاندان میں، برادری میں، قوم اور ملک کے معاشرے میں، مذہبی پیشواؤں میں، حکمرانوں اور قانون سازوں میں، کاروبار اور معیشت کے دائروں میں اور دنیا کے تمدّن پر غلبہ رکھنے والی طاقتوں میں ہرطرف موجود ہیں جن کے متضاد تقاضے اور مختلف مطالبے ہروقت آدمی کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور ان میں سے جن کا تقاضا پورا کرنے میں بھی وہ کوتاہی کرتاہے وہ اپنے دائرۂ کار میں اس کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ البتہ ہرایک کی سزا کے ہتھیار الگ الگ ہیں۔ کوئی دل مسوستاہے، کوئی روٹھ جاتاہے۔ کوئی نِکّو بناتاہے۔ کوئی مقاطعہ کرتاہے، کوئی دیوالہ نکالتاہے۔ کوئی مذہب کا وار کرتاہے اور کوئی قانون کی چوٹ لگاتاہے۔ اس ضیق سے نکلنے کی کوئی صورت انسان کے لیے اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ توحیدکا مسلک اختیار کرکے صرف ایک خدا کا بندہ بن جائے اور ہردوسرے کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الزمر، حاشیہ: ۴۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ یَزِیْدَ الْکُوْفِیُّ نَا عَبْدالسَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ غُطَیْفِ ابْنِ اَعْیُنَ، عَنْ مُصْعَبِ بنِ سَعْدٍ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ : اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِیْ عُنُقِیْ صَلِیْبٌ مِنْ ذَھَبٍ، فَقَالَ : یَا عَدِیُّ اِطْرَحْ عَنْکَ ھٰذَا الْوَثْنَ وَسَمِعْتُہٗ یَقْرَأُ فِیْ سُوْرَۃِ بَرَائَ ۃٍ۔ اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ اَمَا اَنَّھُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یَعْبُدُوْنَھُمْ وَلٰکِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا اَحَلُّوْا لَھُمْ شَیْئًا اِسْتَحَلُّوْہُ وَاِذَا حَرَّمُوْا عَلَیْھِمْ شَیْئًا حَرَّمُوْہُ۔(۱۸)
ہذا حدیث حسن غریب لانعرفہ الامن حدیث عبدالسلام بن حرب وغطیف بن اعین لیس بمعروف فی الحدیث۔
ترجمہ : حضرت عدی بن حاتم نے بیان کیا کہ میں رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت سونے کی صلیب میرے گلے میں لٹک رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا ’’اے عدی اس بت کو اپنے گلے سے اتار پھینک ۔‘‘ (تعمیلِ ارشاد میں، میں نے اسے اتار پھینکا اور آپؐ کے قریب پہنچ گیا)۔ اس وقت آپ سورہ برأۃ کی تلاوت فرمارہے تھے، چنانچہ آپؐ نے یہ آیت مبارکہ پڑھی اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللّٰہ۔ یعنی انہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا۔ (تو میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے) حضورؐ نے فرمایا، ’’کیا وہ اللہ تعالیٰ کی حلال چیزوں کو حرام نہیں ٹھیراتے تھے۔ ان کی پیروی میں پھر تم لوگ بھی اسے حرام مان لیتے تھے اور جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھیرایا ہوتا اسے وہ حلال قراردیتے اور اسے حلال مان لیتے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ عَمْرٍو السَّکُوْنِیُّ، قَالَ: ثنا بَقِیَّۃُ عَنْ قَیْسِ بْنِ الرَّبِیْعِ عَنْ عَبْدِالسَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ النَّھْدِیِّ عَنْ غُطَیْفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَدِیِّ ابْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ سُوْرَۃَ بَرَائَ ۃٍ فَلَمَّا قَرَأَ اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ، قُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمَا اَنَّھُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یُصَلُّوْنَ لَھُمْ، قَالَ:صَدَقْتَ وَلٰکِنْ کَانُوْا یُحَلُّوْنَ لَھُمْ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیَسْتَحِلُّوْنَہٗ وَیُحَرِّمُوْنَ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَھُمْ فَیُحَرِّمُوْنَہٗ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت عدی بن حاتم نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۂ براء ت کی قرأت فرماتے سنا۔ جب آپ نے آیت اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابًا من دون اللّٰہپڑھی تو میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! وہ ان کے لیے نمازیں تو نہیں پڑھتے تھے۔ حضورؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ’’تونے ٹھیک کہاہے لیکن ان پادریوں اور راہبوں نے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو ان کے لیے حلال قراردے دیا تو انہوں نے ان چیزوں کو حلال مان لیا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو انہوں نے حرام قراردیا تو حرام مان لیا۔‘‘

ماں باپ بھی شرک کا حکم دیں تو انکار کردو

ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص، ۱۸،۱۹ سال کے تھے جب انھوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کی ماں حمنہ بنتِ سفیان بن اُمیہ (ابوسفیان کی بھتیجی) کو جب معلوم ہوا کہ بیٹا مسلمان ہوگیا ہے تو اس نے کہا کہ جب تک تومحمدؐ کا انکار نہ کرے گا میں نہ کھائوں گی نہ پیوں گی، نہ سائے میں بیٹھوں گی۔ ماں کا حق ادا کرنا تو اللہ کا حکم ہے۔ تو میری بات نہ مانے گا تو اللہ کی بھی نافرمانی کرے گا۔ حضرت سعد اس پر سخت پریشان ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا ط وَاِنْ جَاہَدَاک لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا۔
’’ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘
تشریح: منشا یہ ہے کہ انسان پر مخلوقات میں سے کسی کا حق سب سے بڑھ کر ہے تو وہ اس کے ماں باپ ہیں، لیکن ماں باپ بھی اگر انسان کو شرک پر مجبور کریں تو ان کی بات قبول نہ کرنی چاہیے۔ کجا کہ کسی اور کے کہنے پر آدمی ایسا کرے۔ پھر الفاظ یہ ہیں کہ وَاِنْ جَاہَدٰکَ ’’اگر وہ دونوں تجھے مجبور کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگادیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ کم تر درجے کا دبائو، یا ماں باپ میں سے کسی ایک کا زور دینا تو بدرجہ اولیٰ رد کردینے کے لائق ہے۔ اس کے ساتھ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (جسے تو میرے شریک کی حیثیت سے نہیں جانتا) کا فقرہ بھی قابل غور ہے۔
اس میںان کی بات نہ ماننے کے لیے ایک معقول دلیل دی گئی ہے۔ ماں باپ کا یہ حق تو بے شک ہے کہ اولاد ان کی خدمت کرے، ان کا ادب و احترام کرے، ان کی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کرے۔ لیکن یہ حق ان کو نہیں پہنچتا کہ آدمی اپنے علم کے خلاف ان کی اندھی تقلید کرے۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک بیٹا یا بیٹی صرف اس بنا پر ایک مذہب کی پیروی کیے جائے کہ یہ اس کے ماں باپ کا مذہب ہے۔ اگر اولاد کو یہ علم ہوجائے کہ والدین کا مذہب غلط ہے تو اسے اس مذہب کو چھوڑ کر صحیح مذہب اختیار کرنا چاہیے اور ان کے دبائو ڈالنے پر بھی اس طریقے کی پیروی نہ کرنی چاہیے جس کی گمراہی اس پر کھل چکی ہو۔ اور یہ معاملہ جب والدین کے ساتھ ہے تو پھر دنیا کے ہر شخص کے ساتھ بھی یہی ہونا چاہیے۔ کسی شخص کی تقلید بھی جائز نہیں ہے جب تک آدمی یہ نہ جان لے کہ وہ شخص حق پر ہے۔
یہ دنیا کی رشتہ داریاں اور ان کے حقوق تو بس اسی دنیا کی حد تک ہیں۔ آخر کار ماں باپ کو بھی اور اولاد کو بھی اپنے خالق کے حضور پلٹ کر جانا ہے، اور وہاں ہر ایک کی باز پرس اس کی شخصی ذمہ داری کی بنا پر ہونی ہے۔ اگر ماں باپ نے اولاد کو گمراہ کیا ہے تو وہ پکڑے جائیں گے۔ اگر اولاد نے ماں باپ کی خاطر گمراہی قبول کی ہے تو اسے سزا ملے گی۔ اور اگر اولاد نے راہ راست اختیار کی اور ماں باپ کے جائز حقوق ادا کرنے میں بھی کوتاہی نہ کی، لیکن ماں باپ نے صرف اس قصور پر اسے ستایا کہ اس نے گمراہی میں ان کا ساتھ کیوں نہ دیا تو وہ اللہ کے مواخذہ سے بچ نہ سکیں گے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت ، حاشیہ: ۱۱-۱۲)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ، حَدَّثَنِیْ اَبیْ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اُنْزِلَتْ فِیَّ اَرْبَعُ اٰیَاتٍ یَوْمَ بَدْرٍ اَصَبْتُ سَیْفًا فَاَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَفِّلْنِیْہِ، فَقَالَ: ضَعْہُ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَفِّلْنِیْہِ۔ فَقَالَ: ضَعْہُ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَفِّلْنِیْہِ، اجعَلْ کَمَنْ لَا غِنَائَ لَّہٗ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: ضَعْہُ مِنْ حَیْثُ اَخَذْتَہٗ، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ، یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ۔ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ۔ قَالَ: وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ طَعَامًا فَدَعَانَا فَشَرِبْنَا الْخَمْرَحَتَّی انْتَشَبْنَا، قَالَ: فَتَفَاخَرَتِ الْاَنْصَارُوَقُرَیْشٌ۔ فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ: نَحْنُ اَفْضَلُ مِنْکُمٌ وَقَالَتْ قُرَیْشٌ نَحْنُ اَفْضَلُ مِنْکُمْ، فَاَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ لَحْیَ جَزُوْرٍ فَضَرَبَ بِہٖ اَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَہٗ، قَالَ: فَکَانَ اَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُوْرًا، قَالَ: قَالَ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُوَالْمَیْسِرُوَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔قَالَ: وَقَالَتْ اُمُّ سَعْدٍ: اَلَیْسَ اللّٰہُ قَدْ اَمَرَ ہُمْ بِالْبِرِّ۔ فَوَاللّٰہِ لَا اَطْعَمُ طَعَامًا، وَلَا اَشْرَبُ شَرَابًا حَتّٰی اَمُوْتَ اَوْتَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ۔
قَالَ: فَکَانُوْا اِذَا اَرَادُوْااَنْ یُطْعِمُوْہَا شَجَرُوْافَاہَا بِعَصَاثُمَّ اَوْجَرُوْہَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ، وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا۔
قَالَ: وَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلیٰ سَعْدٍ وَہُوَمَرِیْضٌ یَعُوْدُہٗ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اُوْصِیْ بِمَالِیْ کُلِّہٖ؟ قَالَ لَا، قَالَ: فَبِثُلُثَیْہِ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ: فَبِثُلُثِہٖ؟ قَالَ: فَسَکَتَ۔ (۲۰)
ترجمہ: حضرت سعد سے مروی ہے انھوں نے بتایا کہ میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں (پہلا موقع تو وہ تھا) جب غزوۂ بدر میں ایک تلوار میرے ہاتھ لگی ۔میںاسے لے کر حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے عنایت فرمادی جائے۔ آپؐ نے فرمایا ’’رکھ دو اسے‘‘۔ اس نے کھڑے ہو کر پھر پہلے والا مطالبہ دہرایا کہ ’’مجھے یہ تلوار عنایت فرمادی جائے۔‘‘ آپؐ نے پھرفرمایا ’’اسے وہیں رکھ دو جہاں سے لیا ہے۔‘‘پھر اس نے کھڑے ہو کر عرض کیا ’’یا رسول اللہ ! مجھے یہ تلوار مالِ غنیمت کا میرا حصہ سمجھ کر عنایت فرمادیں۔‘‘ آپؐ نے پھر اشارہ فرمایا کہ ’’جہاں سے اسے لیا ہے وہیں رکھ دو۔‘‘اسی موقع کی مناسبت سے آیت انفال یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْانْفَالُ لِلّٰہِ ولِلرَّسُوْلِ الخ نازل ہوئی۔’’یعنی آپؐ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں ان سے کہہ دیں کہ انفال تو اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔‘‘ دوسرا موقع وہ ہے کہ ایک انصاری نے کھانا تیار کیا اور ہمیں اس پر مدعوکیا۔ ہم نے اتنی شراب نوشی کی کہ گتھم گتھا ہوگئے اور قریش اور انصاریوں کے درمیان مجلس مفاخرت جم گئی۔ انصارمدعی تھے کہ ہم تم سے افضل ہیں۔ قریش اپنی جگہ دعوی دار تھے کہ ہمیں تم پر فضیلت و فوقیت حاصل ہے۔ اسی اثناء میں ایک انصاری نے اونٹ کی جبڑے کی ہڈی اٹھا کر حضرت سعدؓ کی ناک پر دے ماری جس سے ان کی ناک پھٹ گئی۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت سعد کی ناک پھٹی ہوئی تھی تو اس موقع کی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی۔ یَآایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ تیسرا موقع وہ ہے کہ جب اُمِّ سعد نے کہا کہ کیا اللہ نے انھیں نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا۔ ’’بخدا میں اس وقت تک نہ کچھ کھائوں گی نہ پیوں گی جب تک کہ وہ یعنی سعد محمد ﷺ کا انکار نہ کردے یا میں خود فاقہ کشی سے مرنہ جائوں۔‘‘
راوی کا بیان ہے کہ جب اس کے اہل خانہ اسے کچھ کھلانا چاہتے تو لکڑی کی چھڑی سے ان کا منہ کھولتے پھر اس میں کچھ کھانا ڈالتے۔ اس موقع کی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی۔ وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
راوی کا بیان ہے کہ حضرت سعد بیمار تھے، رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو انھوں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ کہ ایسا نہ کرنا‘‘ تو انھوں نے دو تہائی مال وصیت کرنے کی اجازت مانگی ۔ آپؐ نے اس سے بھی منع فرمادیا، تو پھر سعد نے ایک تہائی مال وصیت کرنے کی اجازت طلب کی۔ اس پر آپؐ خاموش رہے۔

شرک ظلم عظیم ہے

ظلم کے اصل معنی ہیں کسی کا حق مارنا اور انصاف کے خلاف کام کرنا۔ شرک اس وجہ سے ظلم عظیم ہے کہ آدمی ان ہستیوں کو اپنے خالق اور رازق اور منعم کے برابر لاکھڑا کرتا ہے جن کا نہ اس کے پیدا کرنے میں کوئی حصہ، نہ اس کو رزق پہنچانے میں کوئی دخل ، اور نہ ان نعمتوں کے عطا کرنے میں کوئی شرکت جن سے آدمی اس دنیا میں متمتع ہورہا ہے۔ یہ ایسی بے انصافی ہے جس سے بڑھ کر کسی بے انصافی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پھر آدمی پر اس کے خالق کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی بندگی و پرستش کرے۔ مگر وہ دوسروں کی بندگی بجالا کر اس کا حق مارتا ہے۔ پھر اس بندگیٔ غیر کے سلسلے میں آدمی جو عمل بھی کرتا ہے اس میں وہ اپنے ذہن و جسم سے لے کر زمین و آسمان تک کی بہت سی چیزوں کو استعمال کرتا ہے، حالانکہ یہ ساری چیزیں اللہ وحدہٗ لاشریک کی پیدا کردہ ہیں ا ور ان میں سے کسی چیز کو بھی اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں استعمال کرنے کا اسے حق نہیں ہے۔ پھر آدمی پر خود اس کے اپنے نفس کا یہ حق ہے کہ وہ اسے ذلت اور عذاب میں مبتلا نہ کرے، مگر وہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی بندگی کرکے اپنے آپ کو ذلیل بھی کرتا ہے اور مستحق عذاب بھی بناتا ہے۔ اس طرح مشرک کی پوری زندگی ایک ہرجہتی اور ہمہ وقتی ظلم بن جاتی ہے جس کا کوئی سانس بھی ظلم سے خالی نہیں رہتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، لقمان ، حاشیہ: ۲۱)

ماٰخذ

(۱) تفسیر ابن جریر، ج۹، پ:۱۷ سورۃ الانبیاء ٭تفسیر ابن کثیر ج ۳، الانبیاء ٭سیرت ابن ہشام، ج۱، ذکر مالقی رسول اللّٰہ ﷺ من قومہ من الاذی۔
(۲) المصنف لعبد الرزاق،ج ۴، کتاب العقیقہ باب مایستحب للصبیِّ اَنْ یُعَلم اذا تکلَّم۔
(۳) مصنف ابن ابی شیبۃ، ج۱۰ ٭ الدرالمنثور للسیوطی ج ۴۔
(۴) روح المعانی جز ۱۹/۲۱، پ ۹سورۃ النمل تفسیر زیراٰیت اَاللّٰہ خیرا مایشرکون۔
(۵) روح المعانی پ:۱۹، سورۃ الفرقان، آیت اَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوَاہُ بحوالہ طبرانی کبیر ، ابونعیم ٭مجمع الزوائد ج ۱، ص ۱۸۸۔ ٭ طبرانی کبیر کی روایت میں حسن بن دینارہے جو متروک الحدیث ہے۔
(۶) تفسیر ابن کثیر ج ۲، سورۃ الانفال ٭طبرانی کبیر ج ۲، وفیہ یزید بن ربیعہ ضعیف جدًا۔
(۷) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر سورۂ فرقان باب قولہ والذین لَایدعون مع اللّٰہ الہًا اٰخر الخ ٭بخاری، کتاب الادب ، ج ۲، باب قتل الولد خشیۃ ان یاکل معہ٭ مسلم کتاب الایمان ج ۱، ٭ ترمذی ابواب التفسیر سورۃ فرقان ٭نسائی کتاب تحریم الدم باب ذکر اعظم الذنب۔ ٭مسند احمد، ج۱، مرویات عبداللّٰہ بن مسعود ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، عن ابن مسعود۔
(۸) مسلم، ج ۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ باب النہی عن بناء المسجد علی القبور٭ نسائی کتاب الجنائز باب ۱تخاذ القبور مساجد۔
(۹) بخاری، ج۱، کتاب الصلوٰۃ ٭ مسلم، ج ۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ باب النہی عن بناء السمجد علی القبور الخ ٭ابودائود کتاب الجنائز باب فی البناء علی القبر ٭نسائی کتاب الجنائز باب اتخاذ القبور مساجد ٭مسند احمد ج۲، عن ابی ہریرۃ۔
(۱۰) بخاری،ج ۱،کتاب الصلاۃ ٭ بخاری، کتاب الجنائز، کتاب الانبیاء، کتاب اللباس، کتاب المغازی ٭مسلم، ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ باب النہی عن بناء المسجد علی القبور ٭دارمی کتاب الصلاۃ باب ۱۲۰ باب النہی عن اتخاذ القبور مساجد۔
(۱۱) بخاری کتاب التفسیر ج ۲، سورۃ نوح ۔ فتح القدیر للشوکانی ، ج ۵، بحوالہ ابن المنذر، ابن مردویہ ٭ابن جریر، ج ۱۲، پ ۱۹۔
(۱۲) ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی کراہیۃ ان یتخذ علی القبر مسجد٭ابوداؤد کتاب الجنائز باب فی زیارۃ النساء القبور۔
(۱۳) ترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی کراہیۃ زیارۃ القبور للنساء ٭ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی اتباع النساء الجنائز۔
(۱۴) مسند احمد ج ۱، ج ۲، ج ۵ ج ۶۔
(۱۵) مسلم، ج ۱، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب النہی عن بناء المسجد علی القبور الخ۔
(۱۶) بخاری، ج ۱،کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ فی البیعۃ الخ وَقَالَ عمر رضی اللّٰہ عنہ انا لاند خل کنساء کم من اجل التماثیل التی فیہا۔٭مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ باب النہی عن بناء المسجد علی القبور واتخاذ الصور فیہا والنہی عن اتخاذ القبور مساجد ٭نسائی کتاب المساجد باب النہی عن اتخاذ القبور مساجد۔
(۱۷) بخاری کتاب الصلاۃ، باب ہل ینبش قبور مشرکی الجاہلیۃ ج۱ ٭مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ باب النہی عن بناء المسجد علی القبور الخ۔
(۱۸) ترمذی ابواب التفسیر سورہ توبہ ج ۲، ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج ۲، بحوالہ ابن سعد، عبدبن حمید ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم ابوالشیخ، ابن مردویہ، البیہقی فی سننہٖ۔تفسیر ابن جریر جلد ۶ سورۃ توبۃ ص ۸۱۔ زیر آیت اتخذوا احبار ہم ورہبانہم اربابا من دون اللّٰہ۔ اس نے آخر میں قَالَ فَتِلْکَ عِبَادَتُہُمْ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔
(۱۹) ابن جریر، ج ۶، سورہ برأۃ اتخذوا احبار ہم ورہبا نہم۔
(۲۰) مسند احمد ج ۱، سعد بن ابی وقاص۔

قضائِ مبرم اور قضائِ معلَّق

لَا یَرُدُّالْقَضَآئَ اِلَّا الدُّعَآئُ۔
ترجمہ: قضا کو کوئی چیز نہیں پھیرتی مگر دعا۔
علم العقائد میں قضائیں دو طرح کی مانی جاتی ہیں۔ ایک قضائے مبرم ، دوسری قضائے معلق ۔ قضائے معلق کی تعریف یہی ہے کہ وہ دعا اور توبہ سے بدل جاتی ہے اور اس کی دلیلیں قرآن اور حدیث دونوں میں موجود ہیں۔
(مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودوی حصہ اوّل ص : ۱۴۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَلْمَانُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازیُّ وَسَعِیْدُبْنُ یَعْقُوْبَ، قَالَا : نَا یَحْیَی بْنُ الضُّرَیْسِ عَنْ اَبِی مَوْدُوْدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیْ، عَنْ ابِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَرُدُّ الْقَضَآئَ اِلّا الدُّعَآئُ وَلَا یَزِیْدُ فِی الْعُمْرِ اِلَّا الْبِرُّ۔ (۱)
وفی الباب عَن ابی اُسَیدٍ ہذا حدیث حسن غریب لا نعرفہ اِلَّا من حدیث یحیٰ بن الضریس وابومودود اثنان احداہما یقال لہ فضۃ والآخر عبدالعزیز بن ابی سلیمان۔ احداہما بصری والآخرمدینی وکان فی عصر واحد۔
وابومودود الذی روی ہذا الحدیث اسمہ فضۃ بصری۔
ترجمہ: حضرت سلمان بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’قضا کو کوئی چیز نہیں پھیرتی مگر دعا، اور عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کرتی مگر نیکی۔‘‘
(۲) لَا یَرُدُّالْقَدْرَاِلَّا الدُّعَآئُ۔ (۲)
ترجمہ: قدر کو کوئی چیز نہیں پھیرتی مگر دعا۔
(۳) فَاِنَّ الدُّعَآئَ یَرُدُّالْقَضَآئَ الْمُبْرَمَ۔ (۳)
ترجمہ: بلا شبہ دعا قضائِ مبرم کو بھی پھیر دیتی ہے۔
مستدرک حاکم کی روایت کے آحر میں یہ اضافہ ہے:
واِنَّ الرَّجُلَ لَیَحْرُمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیْبُہٗ۔ (۴)
ترجمہ: اور آدمی اپنے خود کردہ گناہوں کی وجہ سے اس رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اسے پہنچ رہا ہوتا ہے۔

قضا کے معنی

قضا کے معنی فیصلہ کے ہیں اور قضا کو ٹال دینے اور فیصلے بدل دینے میں درحقیقت کوئی فرق نہیں ہے حضوؐر کے ارشاد لَا یَرُدُّ الْقَضَاء اِلَّا الدُّعَائُ (قضا کو کوئی چیز نہیں پھیرتی مگر دعا) کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو قضادعا نہ کرنے کی صورت میں نافذ ہوجانے والی ہو وہ دعا کرنے سے پلٹ جاتی ہے یا نافذ ہونے سے رک جاتی ہے۔اس کو اگر یوں بیان کیا جائے تو کیا قباحت ہے کہ دعاء نہ کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا جو فیصلہ رو بعمل آنے والا ہوتا ہے اسے دعا کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے فضل سے بدل دیتا ہے۔ یہی بات سورہ نوح میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ یَغْفِرْلَکُمْ مِّن ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی۔ یعنی حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ کی بندگی اور تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت قبول کرلو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور ایک وقت خاص تک تمہیں مہلت دے دے گا۔‘‘ اس آیت میں یُؤخِّرکُمْ کا لفظ صاف اشارہ کررہا ہے کہ کفر و شرک پر جمے رہنے کی صورت میں فیصلہ یہ تھا کہ اس قوم کو ہلاک کردیا جائے۔ لیکن اگر وہ بندگی اور تقویٰ اور اطاعت رسول اختیار کرلے تو وہ فیصلہ اس فیصلے سے بدل جائے تا کہ اسے مزید مہلت عمل دے دی جائے۔
(مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودی، حصہ اوّل : ۱۴۵ ۳؎ )

مسئلہ جبر و قدر

اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَکَانِہٖ فَصَدِّقُوْابِہٖ وَاِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَیَّرَ عَنْ خُلْقِہٖ فَلَا تُصَدِّقُوا بِہٖ فَاِنَّہٗ یَصِیْرُ عَلیٰ مَاجُبِل عَلَیْہِ۔
ترجمہ: جب تم سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا تو اس کی تصدیق کرسکتے ہو لیکن اگر سنو کہ ایک شخص اپنی طینت سے ہٹ گیا تو اس کی ہر گز تصدیق نہ کرنا، کیونکہ آدمی ویسا ہی ہوکر رہتا ہے جیسا اس کا خمیر ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، قَالَ: ثَنَا اَبِیْ، قَالَ: سَمِعْتُ یُوْنُسَ یُحَدِّثُ عَنِ الزُّہْرِیِّ اَنَّ اَبَا الدَّرْدَآئِ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ نَتَذَاکَرُمَا یَکُوْنُ، اِذْقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَکَانِہٖ فَصَدِّ قُوْا وَاِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَیَّرَ عَنْ خُلْقِہٖ فَلَا تُصَدِّقُوْا بِہٖ وَاِنَّہٗ یَصِیْرُ اِلیٰ مَاجُبِلَ عَلَیْہِ۔ (۵)
ترجمہ: یونس زہری سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداؓنے بتایا کہ ایک موقع پر ہم حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر تھے اور آئندہ ہونے والے واقعات کے بارے میں گفتگو کررہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ جب تم سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا ہے تو اس کی تصدیق کرسکتے ہو، لیکن اگر سنو کہ ایک شخص اپنی طینت سے ہٹ گیا ہے تو اس کی ہرگز تصدیق نہ کرنا، کیوں کہ آدمی ویسا ہی ہو کر رہتا ہے جیسا اس کا خمیر ہے۔
۶۹۔ اِنَّ القُلُوْبَ بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ اللّٰہِ یُقَلِّبُہَا کَیْفَ یَشَآئُ۔
ترجمہ: دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، جس طرح چاہتا ہے انھیں پھیر تا ہے۔ (مسئلہ جبر و قدر :مقدمہ)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ، نَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ،عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ ، فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اٰمَنَّا بِکَ وَبِمَا جئْتَ بِہٖ فَہَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ ، اِنَّ الْقُلُوْبَ بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ اللّٰہِ یُقَلِّبُہَا کَیْفَ شَآئَ۔ (۶)
وفی الباب عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَاُمِّ سَلَمَۃَ وَعَائِشَۃَ وَاَبِیْ ذرٍّ ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَہٰکَذارَویٰ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ جابرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَحَدِیْث ُ اَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ اَنَسٍ اَصَحُّ۔
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بکثرت یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ (اے دلوں کے پھیرنے والے،میرے قلب و ضمیر کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما)پڑھتے رہتے تھے حضرت انس کا بیان ہے کہ میں نے خدمت اقدس میں عرض کیا۔ یا نبیؐ اللہ ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی تمام تعلیمات پر ایمان لائے ہیں تو کیا آپؐ کو ہمارے متعلق اندیشہ ہے؟ فرمایا: ’’ہاں ، بلاشبہ دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں جس طرح چاہتا ہے انھیں پھیر تا ہے۔
مسلم اور مسند احمد نے اس روایت کو مندرجہ ذیل الفاظ سے نقل کیا ہے:
(۲) اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِ وبْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ، اِنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ قُلُوْبَ بَنِیْ آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُصَرِّفُہٗ حَیْثُ یَشآئُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اللّٰہُمَّ! مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ طَاعَتِکَ۔ (۷)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ سارے نبی آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان اس طرح ہیں جیسے کہ ایک دل ہو۔ پھیرتا ہے انھیں جس طرح چاہتا ہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اَللّٰہُمَّ! مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ طَاعَتِکَ۔’’اے اللہ ! دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیردے۔‘‘
اور عبداللہ بن عمر و بن العاص سے مروی ایک دوسری روایت کے الفاظ :
(۳) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: قَلْبُ بْنِ آدَمَ عَلیٰ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الْجَبَّارِ عَزَّوَجَلَّ اِذَا شَآئَ اَنْ یُقَلِّبَہٗ قَلَّبَہٗ فَکَانَ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ۔(۸)
ترجمہ: آپؐ نے فرمایا: ’’ابن آدم کا دل جبّار عزوجل کی دو انگلیوں پر ہے ، جب اس کے دل کو پھیرنا چاہتا ہے پھیر دیتا ہے لہٰذا آپ بہ کثرت یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ پڑھتے رہتے تھے۔

مسئلہ تقدیر کی نوعیت

تقدیر سابق اور انسان کی آزادیٔ ارادہ کے درمیان کس نوعیت کا تعلق ہے اور ان دونوں کے حدود کیا ہیں، یہ مسئلہ درحقیقت ہماری گرفت سے باہر ہے اور اس کے متعلق کوئی یقینی بات کہنے کی پوزیشن میں ہم نہیں ہیں البتہ اصولی طور پر تین باتیں ایسی ہیں جو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔
ایک یہ کہ انسان اپنی تقدیر خود بنانے پر قادر نہیں ہے بلکہ جو طاقت پوری کائنات کا نظام چلا رہی ہے وہی انسان کی (بحیثیت نوع، بحیثیت قوم، بحیثیت گروہ اور بحیثیت فرد) تقدیر بناتی ہے۔ البتہ اس کا ایک حصہ (جس کی مقدار ہمیں معلوم نہیں) انسان کے دائرۂ اختیار میں ہے۔
دوسرے یہ کہ اللہ کا علم سابق انسان کے تمام آنے والے حالات پر حاوی ہے۔ خدائی کا عظیم الشان کام ایک دن بھی نہیں چل سکتا اگر خدا اپنی کائنات میں ہونے والے واقعات سے بے خبر ہو اور کوئی واقعہ جب پیش آجائے تب ہی اسے خبر ہو۔
تیسرے یہ کہ اللہ کی قدرت نے انسان کو محدود پیمانے پر کچھ اختیارات دیے ہیں جن کے لیے آزادیٔ ارادہ ناگزیر ہے اور اللہ کا علم خود اسی کی قدرت کے کسی فعل کو باطل نہیں کرتا۔

انسان اور شیطان کی باہمی آویزش

قرآن کا پیش کردہ تصوّر یہ ہے کہ خدا نے انسان کو ایک محدود نوعیت کی آزادی و خود مختاری دے کر اس دنیا میں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور شیطان کو خود اس کے مطالبے پر یہ آزادی عطا کی ہے کہ وہ اس امتحان میں انسان کو ناکام کرنے کے لیے جو کوشش کرنا چاہے کرسکتا ہے، بشرطیکہ وہ صرف ترغیب و تحریص کی حد تک ہو۔ زبردستی اپنے راستے پر کھینچ لے جانے کے اختیارات اسے نہیں دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے خود بھی انسان کو جبراً راہ راست پر چلانے سے احتراز فرمایا ہے، اور صرف اس بات پر اکتفا فرمائی ہے کہ انسان کے سامنے انبیا ء اور کتابوں کے ذریعہ سے راہ راست کو پوری طرح واضح کردیاجائے۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو خدا کی پیش کردہ راہ کو اپنے لیے چن لے اور اس پر چلنے کا فیصلہ کرے اور چاہے تو شیطان کی ترغیبات قبول کرلے اور اس راہ میں اپنی کوششیں اور محنتیں صرف کرنے پر آمادہ ہوجائے جو شیطان اس کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان دونوں راہوں میں سے جس کو بھی انسان خود اپنے لیے انتخاب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی پر چلنے کے مواقع اسے دے دیتا ہے ، کیوں کہ اس کے بغیر امتحان کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اس پوزیشن کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بتائیے کہ شیطان کا چیلنج دراصل کس کے لیے ہے؟ خدا کے لیے یا انسان کے لیے؟ اور انسانوں میں سے جو لوگ شیطان کی راہ پر جاتے ہیں ان کے معاملہ میں شیطان کی جیت خدا پر ہوتی ہے یا انسان پر؟ خدانے تو آدمی اور شیطان کو آزادانہ کشتی لڑنے کا موقع دیا ہے اور بتادیا ہے کہ آدمی جیتے گا تو جنت میں جائے گا، اور شیطان جیتے گا تو ہارنے والا آدمی اور اس کو غلط راہ پر لے جانے والا شیطان دونوں جہنم میں جائیں گے۔
(رسائل و مسائل حصہ چہارم : چند جدید ملحدانہ۔۔۔ ۵؎)

فضول باتوں اور کثرتِ سوال سے اجتناب

۷۰۔ اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایاآدمی کے اسلام کی بہتری اس میں ہے کہ وہ بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔ یہ حدیث امام زہری نے امام زین العابدین کے واسطے سے روایت کی ہے۔ (ترمذی)
تشریح: حدیث نبوی میں کثرت سوال اور فضول باتوں میں تکلف کرنے کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ تقدیر کا مسئلہ بھی منجملہ انہی مسائل کے ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے بار بار تاکید فرمائی ہے کہ اس مسئلہ میں بحث کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
(مسئلہ جبرو قدر : صحیح اسلامی مسلک)
تخریج: مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ۔ (۹)
ترمذی نے اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ نقل کرکے لکھا ہے: ہکذارویٰ غیرواحدٍ من اصحاب الزہری عن الزہری عن علی بن الحسین عن النبی ﷺ نحو حدیث مالک۔
ترمذی نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بھی نقل کی ہے اور اس کے الفاظ : مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ بیان کرکے لکھا ہے۔
ہذا حدیث غریب لانعرفہ من حدیث ابی سلمۃ عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ الامن ہذہ الوجہ۔
بخاری میں کتاب الایمان میں صرف ایک باب کا عنوان باب حسن اسلام المرء ہے:
مِنْ حُسْن اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ۔ (۱۰)
عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ قِلَّۃُ الْکَلَامِ فِیْمَا لَا یَعْنِیْہ۔ (۱۱)
ترجمہ: حضرت حسین بن علی سے مروی ہے انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’ کہ آدمی کے اسلام کی بہتری اس میں ہے کہ بے فائدہ و لایعنی باتوں میں گفتگو کم کرے۔‘‘
۷۱۔ ترجمہ: ایک مرتبہ صحابہؓ آپس میں اس مسئلہ میں بحث کررہے تھے۔ اتنے میں آں حضرت ﷺ تشریف لے آئے اور یہ باتیں سن کر آپؐ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا ’’ کیا انہی باتوں کا تم کو حکم دیا گیا ؟ کیا اسی لیے میں تم میں بھیجا گیا ہوں؟ ایسی ہی باتوں سے پچھلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں۔ میرا فیصلہ یہ ہے کہ تم اس معاملہ میں جھگڑا نہ کرو۔
ایک دوسرے موقع پر آپؐ نے فرمایا : ’’ جو شخص تقدیر کے بارے میں گفتگو کرے گا اس سے تو قیامت کے روز سوال کیا جائے گا، مگر جو خاموش رہے گا اس سے کچھ سوال نہ ہوگا۔‘‘
یہ حدیث مختلف طریقوں سے حضرت عمرؓ ، حضرت عائشہؓ ، حضرت انسؓ ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ (ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ ان معاملات میں سے نہیں ہے جن کے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے قائم کرنا شرعاً تمہارے لیے ضروری ہو۔ لہٰذا اگر تم اس معاملہ پر کوئی گفتگو نہ کرو، تو قیامت میں تم سے کوئی سوال نہ ہوگا۔ لیکن اگرتم نے کلام کیا تو لامحالہ وہ غلط ہوگا یا صحیح، اور غلط ہونے کی صورت میں تم ایک ایسی بات میں پکڑے جائو گے جس سے بحث کرنے کی تم کو ضرورت نہ تھی پس بولنے میں نقصان کا احتمال ہے اور نہ بولنے میں کوئی نقصان نہیں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْجُمَحِیُّ ، نَا صَالِحٌ الْمُرِّیُّ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ حِبَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ونَحْنُ نَتَنَازَعُ فِی الْقَدْرِ فَغَضِبَ حَتّٰی اَحْمَرَّ وَجْہُہٗ حَتّٰی کَاَنَّمَا فُقِیَٔ فِیْ وَجْنَتَیْہِ الرُّمَّانُ، فَقَالَ: اَبِہٰذَا اُمِرْتُمْ اَمْ بِہٰذَا اُرْسِلْتُ اِلَیْکُمْ؟ اِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حِیْنَ تَنَا زَعُوْا فِیْ ہٰذَا الْاَمْرِ عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ اَلَّا تَنَازَعُوْا فِیْہِ۔(۱۲)
وفی الباب عن عمر و عائشۃ و انس۔
وہٰذَا حدیثٌ غَرِیْبٌ لَا نَعْرِفُہٗ اِلَّا مِنْ ہٰذَا الْوَجْہِ مِنْ حَدِیْثِ صَالِحٍ الْمُرِّیِّ لَہٗ غَرَائِبُ یَتَفَرَّدُبِہَا۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بحث کررہے تھے (مسئلہ تقدیر میں) کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ ہماری باتیں سن کر آپ کا چہرہ مبارک غصّے سے انار کے دانوں کی طرح سرخ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا، کیا انہی باتوں کا تمہیں حکم دیا گیا ہے؟ کیا اسی لیے میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ گزشتہ اقوام نے بھی جب اس مسئلہ میں بحث ومباحثہ کیا تو ہلاک ہوگئیں۔ میں تم پر یہ لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں جھگڑا نہ کرو۔
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ، ثَنا دَاؤدُبْنُ اَبِیْ ہِنْدٍ، عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ علیٰ اَصْحَابِہٖ وَہُمْ یَخْتَصِمُوْنَ فِی الْقَدْرِ فَکَانَّمَا یُفْقَأْفِیْ وَجْہِہٖ حَبُّ الرُّمَّانِ عَنِ الْغَضَبِ، فَقَالَ: بِہٰذَا اُمِرْتُمْ اَوْ بِہٰذَا خُلِقْتُمْ؟ تَضْرِبُوْنَ الْقُرْاٰنَ بَعْضَہٗ بِبَعْضٍ بِہٰذَاہَلَکَتِ الْا ُمَمُ قَبْلَکُمْ۔ (۱۳)
فی الزوائد: ہذا اسناد صحیح، رجالہ ثقات۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے۔ وہ اس وقت تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑرہے تھے، یہ مباحثہ سن کر آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا گویا کہ اس پرانا ر کے دانے نچوڑدیے گئے ہوں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو کہ قرآن کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ٹکرائو۔اسی وجہ سے پہلی امتیں تباہ و برباد ہوئیں۔‘‘
(۳)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکَرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا مَالِکُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ مَوْلٰی اَبِیْ بَکْرٍ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَذَکَرَ لَھَا شَیْئًا مِنَ الْقَدْرِ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ تَکَلَّمَ فِیْ شَیٍٔ مِنَ الْقَدْرِ سُئِلَ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یَتَکَلَّمْ فِیْہِ لَمْ یُسْاَلْ عَنْہُ۔ (۱۴)
فی الزوائد ۔اسناد ھذا الحدیث ضعیفٌ۔
ترجمہ : یحییٰ بیان کرتے ہیںکہ میرے والد عبداللہ بن ابی ملیکہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقدیر کے بارے میں ان کے سامنے کچھ بات کی۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سُناہے فرماتے تھے جو شخص تقدیر کے بارے میں کسی قسم کی گفتگو کرے گا اس سے قیامت کے روز سوال کیا جائے گا۔ اور جو اس بارے میں کوئی بات نہ کرے گا اس سے کچھ سوال نہ ہوگا۔
(۴) مَنْ تَکَلَّمَ فِی الْقَدْرِ فِی الدُّنْیَا سُئِلَ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَاِنْ اَخْطَأَ ھَلَکَ، وَمَنْ لَّمْ یَتَکَلَّمْ لَمْ یُسْأَلْ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (۱۵)
ترجمہ : جس نے دنیا میں تقدیر کے بارے میں کسی قسم کی گفتگو کی تواگر اس میں خطا ہوئی تو وہ مارا گیا اور جو خاموش رہا اور کوئی بات نہ کی تو اس سے قیامت کے روز کوئی باز پرس نہ ہوگی۔
۷۲۔ ایک اور موقع پر نبیﷺرات کے وقت حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیہما السلام کے مکان پر تشریف لے گئے اور پوچھا تم لوگ نماز تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا یا رسول اللہؐ! ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ ہیں وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اُٹھ جائیں گے۔‘‘ یہ سن کر حضور فوراً واپس ہوگئے اور ران پر ہاتھ مار کر فرمایا:
وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیٍْٔ جَدَلًا۔
ترجمہ: انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَ وَحَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ سَلَامٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِیْرٍ، عَنْ اِسْحَاقَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ اَنَّ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ اَخْبَرَہٗ، اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ طَرَقَہٗ وَفَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلَا تُصَلُّوْنَ قَالَ عَلِیٌّ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ اِنَّ اَنْفُسَنَا بِیَدِ اللّٰہِ فَاِذَا شَآئَ اَنْ یَبْعَثَنَا بَعَثْنَا فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَیْنَ قَالَ لَہٗ ذٰلِکَ وَلَمْ یَرْجِعْ اِلَیْہِ شَیْئًا ثُمَّ سَمِعْتُہٗ وَہُوَ مُدْبِرٌ یَضْرِبُ فَخِذَہٗ وَہُوَ یَقُوْلُ وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیٍْٔ جَدَلًا۔ (۱۶)
قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ۔ مَااَتَا کَ لَیْلًا فَہُوَ طَارِقٌ وَیُقَالُ الطَّارِقُ النَّجْمُ وَالثَّاقِبُ الْمُضِیُٔ یُقَالُ اَثْقِبْ نَارَکَ لِلْمُوقِدِ۔
ترجمہ: حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک موقع پر نبی ﷺ رات کے وقت حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے مکان پر تشریف لے گئے اور پوچھا کہ تم لوگ نماز تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ میں نے جواب دیا ،یا رسول اللہ ! ہمارے نفس اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اٹھ جائیں گے۔ یہ سن کر حضور ﷺ فوراً واپس ہوگئے اور انھیں اس وقت کچھ نہیں کہا۔ میں نے سنا کہ واپس جاتے ہوئے حضوؐر نے اپنی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ’’انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔‘‘
اس حدیث کو زہری نے امام زین العابدین سے او ر انھوں نے حسین ابن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ (بخاری و نسائی) محدثین نے آں حضرت ﷺ کے واپس پلٹ جانے اور آیت پڑھنے کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ مگر میں اس کے صاف معنی یہ سمجھتا ہوں کہ عملی زندگی کے مسائل میں تقدیر کے مسئلہ سے استدلال کرنے کو رسول اللہ ﷺ نے پسند نہیں فرمایا۔
۷۳۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین اور فقہاء کے گروہ نے صرف والقدرخیرہٖ وشرہٖ من اللہ (تقدیر اچھی اور بری اللہ کی طرف سے ہے) کے مجمل اعتقاد پر اکتفا کیا ہے اور اس باب میں زیادہ کھوج لگانے اور جبر یا قدر کا قطعی حکم لگانے والوں کی سخت مذمت کرتے رہے ہیں لیکن رسول اکرم ﷺ اور بزرگان سلف کی ممانعت کے باوجود دوسری قوموں کے مسائل فلسفہ و طبیعات کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے یہ مسئلہ مسلمانوں میں بھی پیدا ہوا اور اس کثرت سے اس پر بحث کی گئی کہ آخر کار یہ اسلامی علم کلام کے مہمات مسائل میں داخل ہوگیا۔ (مسئلہ جبر و قدر : صحیح اسلامی مسلک)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَآ مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلَانَ، نَا اَبُوْدَاؤدَ اَنْبَانَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ جَرَاشٍ عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِاَرْبَعٍ یَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ، وَیُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ، وَیُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْتِ وَیُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت علیؓ سے مروی ہے بیان کیا انھوں نے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ، ’’کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لائے، پہلی یہ کہ اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا برحق رسول ہوں اور مرنے اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوا لْخَطَّابِ زِیَادُ بْنُ یَحْیَ البَصَرِیُّ نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَیْمُوْنٍ عَنْ جَعْفَرِبْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَابِرِبْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یُؤمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ وَحَتّٰی یَعْلَمَ اَنَّ مَا اَصَابَہٗ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَہٗ وَاَنَّ مَا اَخْطَأَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَہٗ۔(۱۸)
وفی الباب عن عبادۃ وجابر و عبداللّٰہ ابن عمر۔ ہذا حدیث غریب من حدیث جابر، لاتعرفہ الا من حدیث عبداللہ ابن میمون ۔ وعبد اللہ بن میمون منکرالحدیث۔
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ تقدیر کے خیر اور شر (اچھے برے) ہونے پر ایمان نہ لائے اور اس بات کا اسے علم نہ ہوجائے کہ جو کچھ اسے پہنچنا ہے وہ اس سے خطا نہیں جاسکتا، اور جو کچھ اس سے خطا ہوگیا وہ اسے کسی بھی صورت پہنچنے والا نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبیْ ثَنَا اَبُوْنُعَیْمٍ ، ثنا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو۔عَنِ النَّبِیّ ﷺ قَالَ: لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ۔’’ بندہ اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان نہ لائے۔

عقیدۂ تقدیر کا فائدہ عملی زندگی میں

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
۷۴۔ لَا یَحِلُّ لِامْرأَۃٍ تَسْئَالُ طَلَاقَ اُخْتِہَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَہَا فَاِنَّمَا لَہَا مَا قُدِّرَلَہَا۔
ترجمہ: کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی دوسری بہن (یعنی سوکن) کو طلاق دینے کا مطالبہ اس خیال سے کرے کہ اس کے تمتعات اور حظوظ میں کوئی دوسرا شریک نہ رہے اور رزق کا پیالہ تنہا اس کے لیے خالی ہوجائے اس لیے کہ بہرصورت اس کو وہی ملے گا جو اس کے لیے مقدر کردیا گیا ہے۔ (بخاری کتاب النکاح باب الشروط التی لاتحل فی النکاح)
اسی کے قریب قریب بیہقی اور ابونعیم اصبہانی نے دوسرے طریقوں سے نقل کیا ہے۔ علّامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ اہل علم کے نزدیک یہ حدیث ان تمام احادیث میں سب سے بہتر ہے جو تقدیر کے مسئلہ میں منقول ہیں۔ اس کا منشا یہ ہے کہ اگر شوہر عورت کی بات مان بھی لے اور اس بیوی کو طلاق بھی دے دے جس کے متعلق وہ عورت یہ گمان کرتی ہے کہ وہ اس کے رزق میں شریک ہوجائے گی تب بھی اس تدبیر سے آپ کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اس کو صرف اتنا ہی ملے گا جتنا خدا نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، خواہ شوہر اس کی شرط قبول کرے یا نہ کرے۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَآ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکٌ ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ، لَا تَسْئَلِ الْمَرْأَۃُ طَلَاقَ اُخْتِہَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَہَا وَلِتَنْکِحَ فَاِنَّ لَہَا مَا قُدِّرَلَہَا۔ (۲۰)
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تَسْاَلُ طَلَاقَ اُخْتِہَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَہَا فَاِنَّمَا لَہَا مَا قُدِّرَلَہَا۔ (۲۱)
یہی حدیث بخاری میں کتاب النکاح کے علاوہ کتاب الشروط اور کتاب البیوع میں بھی ہے۔ مزید برآں اسے مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔
مسلم میں فانما لہا ما قُدِّرلہا کی جگہ فانہالہا ماکتب اللّٰہ لہا اور فان اللّٰہ راز قہا ہے۔
نسائی کی ایک روایت میں بھی فانما لہا ماکتب اللّٰہ لہا مروی ہے۔
ایک دوسری حدیث:
۷۵۔ ترجمہ: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں بہت سی لونڈیاں ہمارے ہاتھ آئیں اور ہم نے ان سے تمتع کیا۔ مگر اس خیال سے کہ اولاد نہ ہو ، عزل کرنے لگے ۔ پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا حکم پوچھا ۔ آپؐ نے سنتے ہی فرمایا:
’’اَوَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُوْنَ؟‘‘
’’کیا واقعی تم ایسا کرتے ہو؟‘‘
یہی سوال آپؐ نے تین مرتبہ دہرایا ، پھر فرمایا:
مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا ہِیَ کَائِنَۃٌ۔
’’ قیامت کے دن تک جو بچے پیدا ہونے ہیں وہ تو پیدا ہو کر ہی رہیں گے۔‘‘
تشریح: ان دونوں حدیثوں میں جن اصولوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، اگر ان کو وسعت کے ساتھ ہم اپنی زندگی کے معاملات میں استعمال کریں تو وہ معاشی کش مکش اور مزاحمت جس نے دنیا سے سکون و اطمینان چھین لیا ہے کس قدر جلد ختم ہوجائے۔ نہ کوئی کسی کو اپنے رزق کا چھیننے والا سمجھے اور نہ اپنے رزق کی حفاظت کے لیے کسی کی مزاحمت کرے، نہ سرمایہ دار اور مزدور کا سوال پیدا ہو اور نہ کسان اور زمیندار کا، نہ کروگواور بیسیل زہاروف پیدا ہوں، نہ لینن اور اسٹالین، نہ معاشی اور تمدنی مشکلات کو حل کرنے کے لیے اسقاطِ حمل اور منع حمل کی طرف رجوع کیا جائے اور نہ اللہ کے انتظام میں اصلاح کی کوشش کی جائے۔
یہ اور ایسے ہی بے شمار اخلاقی اور عملی فوائد ہیں، جو قضا و قدر کی اسلامی تعلیم سے حاصل ہوتے ہیں، اور انہی فوائد کا حصول اصلی مقصود بھی تھا۔ مگر ہماری بدقسمتی کہ ہم نے اس کے عملی اور اخلاقی پہلو کو نظر انداز کرکے اپنی ساری توجہات فلسفیانہ پہلو کی طرف پھیر دیں اور اپنے مذاق طبیعت کے مطابق کلام اللہ اور کلام رسولؐ سے ان مسائل فلسفہ کو حل کرنے لگے جو کلام الناس سے ہم نے اخذ کیے تھے۔ حالانکہ نہ قرآن مجید ہم کو مابعد الطبیعات کی تعلیم دینے کے لیے اتارا گیا تھا، نہ رسول عربی ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ آپؐ فلسفہ کے پروفیسر کا کام انجام دیں اور نہ خدا اور رسول نے کبھی اس کو پسند کیا کہ ہم اپنی زندگی کے عملی معاملات کو چھوڑ کر ان مابعد الطبیعی مسائل میں الجھ جائیں جن سے دین و دنیا کا کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
(مسئلہ جبر و قدر اشاعت ہشتم ص: ۸۳-۸۵)( مسئلہ جبر و قدرپر مزید تفصیلی بحث مصنف کے رسالہ مسئلہ جبر و قدر میں ملاحظہ فرمائیں ۔ )
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ اَسْمَائَ قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ عَنْ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ بْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: اَصَبْنَا سَبْیًا فَکُفَّانَعْزِلُ فَسَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اَوَ اِنَّکُمْ لَتَفْعَلُوْنَ قَالَہَا ثَلَاثًا: مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اِلَّا ہِیَ کَائِنَۃٌ۔(۲۲)
(۲)حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسیٰ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ مُحَیْرِیْزِ نِ الْجُمَحِیُّ، اَنَّ اَبَاسَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ اَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ بَیْنَمَا ہُوَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ: جَائَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا نُصِیْبُ سَبْیًا وَنُحِتُ الْمَالَ کَیْفَ تَریٰ فِی الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَوَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ لَا عَلَیْکُمْ اَنْ لَّا تَفْعَلُوْا فَاِنَّہٗ لَیْسَتْ نَسَمَۃٌ کَتَبَ اللّٰہُ اَنْ تَحْرُجَ اِلَّا ہِیَ کَائِنَۃٌ۔ (۲۳)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر میں نبی ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آیا اور پوچھنے لگا یا رسول اللہ کچھ قیدی ہمارے ہاتھ آئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ مال و دولت حاصل ہو، تو عزل کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ یہ سن کر آپؐ نے ارشاد فرمایا۔’’ کیا تم اس طرح کرتے ہو، اگر ایسا نہ کرو تب بھی کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ کوئی روح ایسی نہیں جس کے پیدا ہونے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ لکھ دیا ہوا اور وہ معرض وجود میں نہ آئے۔‘‘

کیا مشرکین کے بچے جنت میں جائیں گے؟

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْوَائِدَۃُ وَالْمَوْؤُدَۃُ فِی النَّارِ۔
(مشکوٰۃ، باب الایمان بالقدر)
ترجمہ: (حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) ’’لڑکی کو زندہ گاڑنے والی اور وہ لڑکی جو زندہ گاڑی گئی دونوں جہنم میں جائیں گی۔‘‘
تشریح: اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ بچے جو سن رشد کو پہنچنے اور کسی مذہب حق یا مذہب باطل کو بالارادہ اختیار کرنے سے پہلے ہی مرگئے ان کا انجام کیا ہوگا؟ اس مسئلے پر روشنی ڈالنے والی بہت سی احادیث پائی جاتی ہیں، مگر ان میں بڑا اختلاف ہے۔ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب جنت میں جائیں گے، بعض کہتی ہیں کہ کفار و مشرکین کے بچے دوزخ میں اور اہل ایمان کے بچے جنت میں جائیں گے اور بعض سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے معاملے کا فیصلہ اپنے اس علم کے لحاظ سے کرے گا کہ وہ کیا کرنے والے تھے، یعنی جو ان ہو کر مومن صالح بنتے یا کچھ اور۔ انہی مختلف المعنی احادیث میں سے ایک (مذکورہ بالا) حدیث بھی ہے۔ (یہ ) ان احادیث کے سلسلے میں آتی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کفار و مشرکین کے بچے جہنم میں جائیں گے، یا بالفاظ دیگر بچوں کے ساتھ آخرت میںوہی معاملہ کیا جائے گا جس کے مستحق ان کے والدین ہوں گے۔
تخریج: حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُوْسیٰ الرَّازِیُّ، ثَنَا بْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْوَائِدَۃُ وَالْمَوْئُ وْدَۃُ فِی النَّارِ۔(۲۴)
قَالَ یَحیٰ (بْنُ زَکَرِیَّا) قَالَ اَبِیْ: فَحَدَّثَنِیْ اَبُواِسْحَاقَ اِنَّ عَامِرًا حَدَّثَہٗ بِذٰلِکَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔
جب احادیث میں اس طرح کا کھلا کھلا اختلاف واقع ہوجائے، اور ان کو جمع کرکے کوئی ایسا مفہوم تلاش کرنا مشکل ہوجس میں سب کے درمیان مطابقت پیدا ہوسکے تو پھر یہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کون سند کے لحاظ سے زیادہ قوی اور معنی کے لحاظ سے قرآن اور دین کے اصول عامہ کے مطابق ہیں۔ جو احادیث ایسی ہوں ان کو دوسری تمام احادیث پر ترجیح دی جائے گی اور انہی کو قبول کیا جائے گا۔
علمائے محققین نے اس قاعدے کے مطابق ان مختلف احادیث کو جانچ کر مسئلہ زیر بحث میں جس چیز کو مذہب صحیح قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ ایسے تمام بچے جنت میں جائیں گے، کیوں کہ اسی مضمون کی احادیث زیادہ قوی ہیں۔ قرآن کے مطابق ہیں، اور دین کے اصولِ عامہ بھی انہی کی تائید کرتے ہیں۔ چنانچہ امام نووی شرح مسلم میں اس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’رہے مشرکین کے بچے ، تو ان کے بارے میں تین مذہب ہیں۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباء واجداد کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ ایک گروہ ان کے معاملے میں توقف کرتا ہے اور تیسرا مذہب یہ ہے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں یہی مذہب صحیح ہے، اسی کو محققین نے اختیار کیا ہے، او ر اس کی تائید بہت سی چیزوں سے ہوتی ہے۔ مثلاً بخاری کی وہ حدیث جس میں بیان ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنت میں دیکھا اور ان کے ارد گرد لوگوں کے بچے تھے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں مشرکین کے بچے بھی تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ’’مآکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ ’’ ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں۔‘‘ اور یہ بات متفق علیہ ہے کہ بچے پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ رسول کا قول اس پر لازم ہوتا ہے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے۔ (بخاری کتاب القدر، باب معنی کل مولودیولدعلی الفطرۃ)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ اَبُوْہِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبورَجَائٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِمَّا یُکْثِرُ اَنْ یَقُوْلَ لِاَصْحَابِہٖ ہَلْ رَأی اَحَدٌ مِّنْکُمْ؟ قَالَ: فَیَقُصُّ عَلَیْہِ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَّقُصَّ وَاَنَّہٗ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاۃٍ اَنَّہٗ اَتَانِی اللَّیْلَۃَ اٰتِیَانٌ …الخ وَاَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِیْلُ الَّذِیْ فِی الرَّوْضَۃِ اَنَّہٗ اِبْرَاہِیْمُ وَاَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِیْنَ حَوْلَہٗ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍ مَاتَ عَلیٰ الْفِطْرَۃِ قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِیْنَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (۲۵)
ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اوقات اپنے صحابہ کرام سے پوچھتے کہ آج رات تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے تو بیان کرے چنانچہ اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو وہ سنا دیتا۔ ایک روز علی الصبح آپؐ نے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ میرے پاس آج رات دو آنے والے آئے …… آپؐ نے ایک لمبا خواب سنایا جس کے آخر کا حصہ یہ تھا۔پس وہ دراز قد آدمی جو باغ میں تشریف فرما تھے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ا ور ان کے ارد گرد جو بچے بیٹھے تھے وہ ایسے بچے تھے جو اپنی اصل فطرت پر فوت ہوئے تھے یعنی بلوغ سے پہلے۔ راوی کا بیان ہے کہ بعض مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ! کیا مشرکین کی اولاد بھی؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا ۔ ’’ ہاںمشرکین کی اولاد بھی۔‘‘
جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے وہ اگرچہ اس کی صراحت نہیں کرتا کہ غیر مکلف انسان سب کے سب جنت میں جائیں گے، مگر اس معاملہ میں وہ صاف فیصلہ دیتا ہے کہ جہنم میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی دعوت سے منہ موڑ کر شیطان کا اتباع کریں۔
لِئَلَّایَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُل (النساء: ۱۶۵)
لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ (صٓ:۸۵)
کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا، بَلیٰ قَدْجَآئَنَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا۔
(الملک: ۸-۹)
لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ۔ (البقرہ: ۱۸۶)
یہ اور بہت سی دوسری آیات اس معاملہ میں بالکل صاف ہیں۔
اب رہ گئیں احادیث ، تو ان میں بکثرت ایسی صحیح روایات موجود ہیں جو یا تو اس کی صراحت کرتی ہیں کہ بچے جنت میں جائیں گے، یا اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ عذاب آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور وہ روایت ہے جو صحیحین میں کئی طریقوں سے آئی ہے۔
(۱) مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَہِیْمَۃُ جَمْعَائَ ہَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ۔
کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو۔ بعد میں اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی ، مجوسی بنالیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جانور کے پیٹ سے صحیح و سالم جانور پیدا ہوتا ہے۔ کیا ان میں سے تم کسی کو کن کٹا پاتے ہو ( ان کے کان تو بعد میں جاہل لوگ اپنی رسموں کی وجہ سے کاٹتے ہیں)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ ، اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ یُصَلّٰی عَلیٰ کُلِّ مَوْلُوْدٍ مُتَوَفًّی وَاِنْ کَانَ لِغَیَّۃٍ (وَلَدُالزِّنَا) مِنْ اَجْلِ اَنَّہٗ وُلِدَ عَلیٰ فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ یَدَّعِیْ اَبَوَاہُ الْاِسْلَامَ اَوْاَبُوْہُ خَاصَّۃً وَاِنْ کَانَتْ اُمُّہٗ عَلیٰ غَیْرِ الْاِسْلَامِ اِذَاسْتَہَلَّ صَارِخًا صُلِّیَ عَلَیْہِ وَلَا یُصَلّٰی عَلیٰ مَنْ لَّا یَسْتَہِلُّ مِنْ اَجْلِ اَنَّہٗ سِقْطٌ فَاِنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یُحَدِّثُ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَہِیْمَۃُ بَہِیْمَۃً جَمْعَائَ ہَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْہَا الآیۃ۔ (۲۶)
ترجمہ: ابن شہاب کا قول ہے ۔ اگر نو مولود مرجائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اگر اس نے بوقت ولادت چیخ ماری ہو، خواہ وہ ولدالزنا ہی کیوں نہ ہو اس وجہ سے کہ اس کی پیدائش فطرتِ اسلام پر ہوئی ہے۔ اس کے والدین اسلام کے داعی ہوں یا صرف باپ ہی اسلام کا دعویٰ کرتا ہو خواہ اس کی ماں مسلمان نہ ہو۔ بصورت دیگر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ کیوں کہ چیخ نہ مارنے کی صورت میں وہ گراہوا تصور کیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اصل انسانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں یہودی یا عیسائی یا مجوسی وغیرہ بناڈالتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہر جانور کے پیٹ سے پورے کا پورا۔ صحیح و سالم جانور برآمد ہوتا ہے۔کیا تم ان میں سے کسی کو کن کٹا پاتے ہو۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہؓ یہ آیت تلاوت فرماتے۔ فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ علیہا۔
امام بخاری نے باب فی القدر میں ایک روایت ابوہریرہؓ سے ان الفاظ میں نقل کی ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اوَیُنَصِّرَانِہٖ کَمَا تُنْتِجُوْنَ الْبَہِیْمَۃَ ہَلْ تَجِدُوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ حَتّٰی تَکُوْنُوْا اَنْتُمْ تَجْدَ عُوْلَہَا؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَرَأَیْتَ مَنْ یَمُوْتُ وَہُوَ صَغِیْرٌ؟ قَالَ: اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔ (۲۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ ابتداء ً ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ جیسے تمہارے جانوروں کے پیٹ سے صحیح و سالم جانور پیدا ہوتے ہیں کیا ان میں سے اس وقت کسی کو کن کٹا پاتے ہو یہاں تک کہ تم خود ان کے کان کاٹ دیتے ہو؟ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! جو بچہ صغر سنی میں فوت ہوجائے اس کے متعلق آپؐ کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔‘‘ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔
اس حدیث میں فطرت پر پیدا ہونے سے مراد اسلام پر پیدا ہونا ہے، کیوں کہ یہودیت ، نصرانیت، اور مجوسیت کو اس کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس کی بعض روایتوں میں علیٰ فطرۃ الاسلام اور علی ہذہ الملّۃ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں جو بات کو بالکل واضح کردیتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ خود بخود نکلتا ہے کہ بچہ خواہ کافرماں باپ ہی کا کیوں نہ ہو، اپنے والدین کے مذہب پر نہیں بلکہ اس فطری مذہب پر پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ فِطْرَت اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْہَا۔ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ۔(الروم:۳۰) ( قائم ہوجائو اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے۔)وہ ماں کے پیٹ سے کفر لے کر نہیں آتا، بلکہ کفر، شرک، دہریت ، جو کچھ بھی اس کو لاحق ہوتی ہے، بعد میں اپنے ماحول سے لاحق ہوتی ہے۔ اب اگر وہ اس عمر کو نہ پہنچا ہو جس میں یہ بیرونی اثرات اس پر پڑیں اور وہ ان کو قبول کرکے کافر یا مشرک یا دہریہ بنے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی اس صحیح فطرت پر دنیا سے رخصت ہوگیا جو کفر اور معصیت سے پاک ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس دارالعذاب میں بھیجا جائے جو صرف کافروں اور فاسقوں ہی کے لیے بنایا گیا ہے۔
اسی مضمون سے ملتی جلتی وہ حدیث ہے جس میں نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں:
۷۷۔ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّہُمْ وَاِنَّہُمْ اَتَتْہُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْہُمْ عَنْ دِیْنِہِمْ (مسلم)
ترجمہ: میں نے اپنے بندوں کو حنیف پیدا کیا بعد میں شیاطین آئے اور انھیں ان کے دین سے ہٹالے گئے۔
اس حدیث کی بعض روایتوں میں حنفاء مسلمین کے الفاظ ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلم حنیف پیدا فرمایا تھا۔اس سے بھی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو انسان شیطانی گمراہیوں کو اخذ اور اختیار کرنے سے پہلے مرجائیں وہ اسی حنیف کے عالم میں مرتے ہیں جو ان کا پیدائشی دین ہے، اور ان کے عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ غَسَّانِ الْمِسمَعِیُّ، وَمُحَمَّدُبْنُ مُثَنّٰی، وَمُحَمَّدُبْنُ بَشَّارِبْن عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ غَسَّانَ وَابْنُ مُثَنّٰی قَالَا: نَا مُعَاذُبْنُ ہِشَامٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِخِّرِ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارِالْمُجَاشِعِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِیْ خُطْبَتِہٖ: اَلَا اِنَّ رَبِّیْ اَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا کُلُّ مَالٍ نَحِلْتُہٗ عَبْدًا حَلَالٌ وَاِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّہُمْ وَاِنَّہُمْ اَتَتْہُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْہُمْ عَنْ دِیْنِہِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَیْہِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَہُمْ وَاَمَرَتْہُمْ اَنْ یُّشْرِکُوْا بِیْ مَالَمْ اُنْزِلْ بِہٖ سُلْطَانًا ۔(۲۸)
۷۸۔ اس کے بعد وہ احادیث ملاحظہ ہوں جن میں صراحت ہے کہ کافرو مومن سب کے بچے جنت میں جائیںگے۔ اس معنی میں سب سے زیادہ معتبر وہ حدیث ہے جو امام بخاریؒ نے کتاب التعبیراور کتاب الجنائز میں حضرتسَمُرۃؓ بن جُنْدُب سے نقل کی ہے۔اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے بعد حضور ﷺ نے اپنا ایک طویل خواب سنایا جو آپؐ نے رات کے وقت دیکھا تھا۔ اس خواب میں حضوؐر کو ثواب و عذاب سے مناظر دکھائے گئے تھے اور ایک جگہ جنت میں آپ کی ملاقات ایک طویل القامت بزرگ سے ہوئی تھی، جن کے گردو پیش بہت سے بچے (اولاد الناس) تھے۔ سیر کرانے والے فرشتے (جبریل ؑ) نے آپؐ کو بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ وَاَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِیْنَ حَوْلَہٗ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔’’رہے یہ بچے جو ان کے گردو پیش ہیں، تو ان میں ہر وہ بچہ شامل ہے جو فطرت پر مرا ہے۔‘‘
اس کی تشریح چاہتے ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا واولا دالمشرکین؟ کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی شامل تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ۔‘‘ ہاں مشرکین کے بچے بھی۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ اَبُوْہِشامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ،قَالَ، حَدَّثَنَا اَبُوْرَجَاٰئٍ، حَدَّثَنَا، سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِمَّا یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ لِاَصْحَابِہٖ ہَلْ رَای اَحَدٌ مِّنْکُمْ؟ قَالَ فَیَقُصُّ عَلَیْہِ مَن شَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَّقُصَّ وَاَنَّہٗ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاۃٍ اِنَّہٗ اَتَانِی اللَّیْلَۃَ اٰتِیَانٌ وَاِنَّہُمَاابْتَعْثَانِیْ وَاِنَّہُمَا قَالَا لِیْ انطَلِقْ، وَاِنِّیْ انطَلَقْتُ مَعَہُمَا وَاِنَّا اَتَیْنَا عَلیٰ رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَاِذَا اٰخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِصَخْرَۃٍ وَاِذَا ہُوَیَہْوِیْ بِالصَّخْرَۃِ لِرَاْسِہٖ فَیَثْلَغُ رَاسَہٗ فَیَتَدَہْدَہُ الْحَجَرَہٰہُنَا فَیَتَّبِعُ الْحَجَرَفَیَاخُذُہٗ فَلَا یَرْجِعُ اِلَیْہِ حَتّٰی یَصِحَّ رَأْسُہٗ کَمَا کَانَ ثُمَّ یَعُوْدُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ بِہٖ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِہِ الْمَرَّۃَ الْاُوْلیٰ قَالَ: قُلْتُ: لَہُمَا سُبْحَانَ اللّٰہِ مَا ہٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَالِیْ انْطَلِقْ اِنْطَلِقْ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلیٰ رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَضَاہُ وَاِذَا اٰخَرُقآئِمٌ عَلَیْہِ بِکَلُّوْبٍ مِنْ حَدِیْدٍ وَاِذَا ہُوَیَأَتِیْ اَحَدَ شَقِیَّ وَجْہِہٖ فَیُشَرْشِرُ شِدْقَہٗ اِلیٰ قَفَاہُ وَمَنْخِرَہٗ اِلیٰ قَفَاہُ وَعَیْنَہٗ اِلیٰ قَفَاہُ قَالَ وَرُبَّمَاقَالَ اَبُوْرَجَائٍ: فَیَشُقُّ۔ ثُمَّ یَتَحَوَّلُ اِلَی الْجَانِبِ الْاٰخِرِ فَیَفْعَلُ بِہٖ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْاَوَّلِ فَمَا یَفْرُغُ مِنْ ذٰلِکَ الْجَانِبِ حَتَّی یُصِحَّ ذٰلِکَ الْجَانِبُ کَمَا کَانَ ثُمَّ یَعُوْدُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ بِہٖ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّۃَ الْاُوْلیٰ قَالَ: قُلْتُ سُبْحَانَ اللّٰہِ مَا ہٰذَانِ، قَالَ: قَالَا لِیْ اِنْطَلِقْ اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلَی مِثْلِ التَّنُّوْرِ قَالَ وَاَحْسِبُ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ فَاِذا فِیْہِ لَغَطٌوَ اَصْوَاتٌ قَالَ: فَاطَّلَعْنَا فِیْہِ فَاِذَا فِیْہِ رِجَالٌ وَنِسَآئٌ عُرَاۃٌ فَاِذَا ہُمْ یَاْ تِیْہِمْ لَہَبٌ مِنْ اَسْفَلَ مِنْہُمْ فَاِذَا اَتَاہُمْ ذٰلِکَ اللَّہَبُ ضَوْضَوْا قَالَ: قُلْتُ لَہُمْ: مَا ہٰؤْلَآئِ: قَالَ: قَالَا لِیْ اِنْطَلِقْ اِنْطَلِقْ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلیٰ نَہْرٍ حَسِبْتُ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ اَحْمَرُ مِثْلَ الدَّمِ وَاِذَا فِی النَّہْرِ رَجُلٌ سَابِحٌ یَسْبَحُ وَاِذَا عَلیٰ شَطِّ النَّہْوِ رَجُلٌ قَدْجُمِعَ عِنْدَہٗ حِجَارَۃٌ کَثِیْرَۃٌ وَاِذَا ذٰلِکَ السَّابحُ یَسْبَحُ مَا یَسْبَحُ ثُمَّ یَاْ تِیْ ذٰلِکَ الَّذِیْ قَدْ جُمِعَ عِنْدَہُ الْحِجَارَۃُ فَیَفْغَرُ لَہٗ فَاہُ فَیُلْقِمُہٗ حَجَرًا فَیَنْطَلِقُ فَیَسْبَحُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَیْہِ کُلَّمَا رَجَعَ اِلَیْہِ فَغَرَلَہٗ فَاہُ فَالْقَمَہٗ حَجَرًا قَالَ: قُلْتُ لَہُمَا مَا ہٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَالِیْ اِنْطَلِقْ اِنْطَلِقْ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلیٰ رَجُلٍ کَرِیْہِ الْمَرْاٰۃِ کَاَکْرَہِ مَا اَنْتَ رَائٍ رَجُلًا مَرْاٰۃ وَاِذَا عِنْدَہٗ نَارٌ لَّہٗ یَحُشُّہَاوَیَسْعٰی حَوْلَہَا قَالَ: قُلْتُ لَہُمَا مَا ہٰذَا؟ قَالَ: قَالَا لِیْ اِنْطَلِقْ اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلیٰ رَوْضَۃٍ مُعْتَمَّۃٍ فِیْہَا مِنْ کُلِّ نَوْرِالرَّبِیْعِ وَاِذَا بَیْنَ ظَہْرِی الرَّوْضَۃِ رَجُلٌ طَوِیْلٌ لَا اَکَادُ اَرٰی رَأسَہٗ طُوْلًا فِی السَّمَآئِ وَاِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ اَکْثَرَ وِلْدَانٍ رَأَیْتُہُمْ قَطُّ قَالَ: قُلْتُ لَہُمَا مَا ہٰذَا مَا ہٰؤُلَآئِ قَالَ: قَالَا لِیْ اِنْطَلِقْ اِنْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَہَیْنَا اِلیٰ رَوْضَۃٍ عَظِیْمَۃٍ لَمْ اَرَرَوْضَۃً قَطُّ اَعْظَمَ مِنْہَا وَلَا اَحْسَنَ قَالَ: قَالَا لِیْ اِرْقِ فِیْہَا قَالَ: فَارْتَقَیْنَا فِیْہَا فَانْتَہَیْنَا اِلیٰ مَدِیْنَۃ بِلَبِنِ ذَہَبٍ وَلَبِنِ فِضَّۃٍ، فَاَتَیْنَا بَابَ الْمَدِیْنَۃِ فاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَاہَاَفَتَلَقَّانَا فِیْہَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِہِمْ کَاَحْسَنِ مَا اَنْتَ رَائٍ وَشَطْرٌ کَاَقْبَحِ مَا اَنْتَ رَائٍ قَالَ: قَالَا لَہُمْ اِذْہَبُوْا فَقَعُوْا (امرٌ من وقع یقع) فِیْ ذٰلِکَ النَّہْرِ قَالَ وَاِذَا نَہْرٌ مُعْتَرَضٌ یَجْرِیْ کَاَنَّ مَائَ ہُ الْمَحْضُ فِی الْبَیَاضِ۔ فَذَہَبُوْا فَوَقَعُوْا فِیْہِ ثُمَّ رَجُعُوْا اِلَیَْنَا قَدْ ذَہَبَ ذٰلِکَ السُّوْئُ عَنْہُمْ فَصَارُوْا فِی اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ قَالَ: قَالَا لِیْ ہٰذِہٖ جَنَّۃُ عَدْنٍ وَہٰذَاکَ مَنْزِلُکَ۔ قَالَ: فَسَمَا بَصَرِیْ صُعُدًا فَاِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَۃِ الْبَیْضَآئِ قَالَ: قَالَا لِیْ ہٰذَاکَ مَنْزِلُکَ قَالَ: قُلْتُ لَہُمَا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکُمَا ذَرَانِیْ فَاَدْخُلَہٗ قَالَا اَمَّا الْاٰنَ فَلَا وَاَنْتَ دَاخِلُہٗ قَالَ: قُلْتُ لَہُمَا: فَاِنِّیْ قَدْ رَأَیْتُ مُنْذاللَّیْلَۃِ عَجَبًا فَمَا ہٰذَا الَّذِیْ رَاَیْتُ قَالَ: قَالَا لِیْ اَمَّا اِنَّا سَنُخْبِرُکَ اَمَّا الرَّجُلُ الْاَوَّلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِ یُثْلَغُ رَأسُہُ بِالْحَجَرِ فَاِنَّہُ یَأخُذُ الْقُرْاٰنَ فَیَرْفُضُہٗ (یَترک) وَیَنَامُ عَنِ الصَّلوٰۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ، وَاَمَّا الرَّجُلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِ یُشَرْشَرُشِدْقُہٗ اِلیٰ قَفَاہُ وَ منْخِرُہ اِلیٰ قَفَاہُ وَعَیْنُہٗ اِلیٰ قَفَاہُ فَاِنَّہُ الرَّجُلُ یَغْدُوْا مِنْ بَیْتِہٖ فَیَکْذِبُ الْکَذْبَۃَ تَبْلَغُ الْآفَاقَ، وَاَمَّا الرَّجُلُ وَالنِّسَآئُ الْعُرَاۃُ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ مِثْلِ بِنَآئِ التَّنُّوْرِ فَاِنَّہُمُ الزُّنَاۃُ وَالزَّوَانِیُّ، وَاَمَّا الرَّجُلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِ یَسْبَحُ فِی النَّہْرِ وَیُلْقمُ الْحِجَارَۃَ فَاِنَّہٗ اٰکِلُ الرِّبٰووَاَمَّاالرَّجُلُ الْکَرِیْہُ الْمَرْاٰۃِ الَّذِیْ عِنْدَ النَّارِحُشُّہَا وَیَسْعیٰ حَوْلَہَا فَاِنَّہٗ مَالِکٌ خَازِنُ جَہَنَّمَ وَاَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِیْلُ الَّذِیْ فِی الرَّوْضَۃِ فَاِنَّہٗ اِبْرَاہِیْمُ وَاَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِیْنَ حَوْلَہٗ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِیْنَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ وَاَمَّا الْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَانُوْا شَطْرٌ مِنْہُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِّنْہُمْ قَبِیْحٌ فَاِنَّہُمْ قَوْمًاخَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَاٰخَرَسَیِّئًا تَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْہُمْ۔ (۲۹)
ترجمہ: حضرت سمرۃ بن جندبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام سے اکثر فرمایا کرتے کہ ’’کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟‘‘ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو بیان کردیتا اور آپؐ اس کی تعبیربیان فرمادیتے۔ ایک دن صبح کے وقت آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا کہ دوشخص میرے پاس آئے اور اٹھا کر مجھے اپنے ساتھ لے چلے۔ چلتے چلتے ہم ایسے مقام پر پہنچے جہاں ایک شخص لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے سامنے کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں بھاری پتھر تھا جس سے اس لیٹے ہوئے آدمی کا سر پھوڑ رہا تھا ۔ جب پتھر سر کو پھوڑکر آگے لڑھک جاتا تھا تو وہ شخص اس پتھر کو لینے کے لیے آگے بڑھتا تو اس کی واپسی پر اس کا سر ٹھیک ہو جاتا وہ دوبارہ اس کے سر پر پتھر مار کر سر پھوڑدیتا ۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں شخص کون ہیں؟ میرے ساتھیوں نے جواب دیا کہ آگے چلو جب ہم آگے چلے تو آگے ایک شخص چت لیٹا ہوا تھا اس کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں زنبور تھا جس سے وہ اس لیٹے ہوئے شخص کے جبڑے کو چیر کر گدّی تک لے جاتا۔ اسی طرح دوسری جانب سے اس کے جبڑے کو جب چیرتا تو پہلی جانب سے ٹھیک ہوجاتا۔ میں نے کہا سبحان اللہ یہ کون شخص ہیں ؟ تو میرے ساتھیوں نے جواب دیا کہ آگے چلوجب ہم آگے چلے تو تنور کی طرح ایک غار دیکھا جس میں شور و غل کی آواز آرہی تھی اور اس میں بہت سے مرد او ر عورتیں تھیں جو بالکل برہنہ تھے جب آگ کے شعلے اوپر کو اٹھتے تو وہ لوگ بھی ساتھ ہی اوپر تک آجاتے اور جب آگ کے شعلے نیچے کی طرف ہوجاتے تو وہ لوگ بھی نیچے کی طرف چلے جاتے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو میرے ساتھیوں نے جواب دیا آگے چلو۔ جب ہم آگے چلے تو آگے ایک ندی دیکھی جس کا پانی خون کی طرح سرخ تھا۔ اس نہر میں ایک شخص تیررہا تھا اور ندی کے کنارے ایک شخص کھڑا تھا جس کے پاس بہت سے پتھر پڑے ہوئے تھے جب وہ تیرنے والا شخص ندی کے کنارے آنے لگتا تو باہر والا اس کے منہ کو کھولتا اور اس میں پتھرڈالتا پھر وہ شخص وہاں ہی پہنچ جاتا جہاں سے وہ آیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو میرے ساتھیوں نے جواب دیا کہ آگے چلو۔ جب ہم آگے چلے تو ایک نہایت بدصورت آدمی نظر آیا جس کے سامنے آگ تھی جس کو دھونک رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے؟ میرے ساتھیوں نے جواب دیا کہ آگے چلو۔ جب ہم آگے آئے تو ایک باغ نظر آیا جو کہ پھل اور پھول سے نہایت مزین تھا۔ اس باغ میں ایک طویل القامت شخص تھا اور اس شخص کے گرد اگر د بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے اور یہ بچے کن لوگوں کے ہیں؟ تو میرے ساتھیوں نے کہا آگے چلو۔ ہم آگے چل پڑے پھر ہمیں ایک عظیم الشان باغ دکھائی دیا۔ اس جیسا عظیم اور حسین باغ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ اس باغ میں چڑھو تو ہم اوپر چڑھے اور ایسے شہر تک پہنچ گئے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی تھی تو ہم اس شہر کے دروازہ کے پاس آگئے پھر ہم نے دروازہ کھولنے کو کہا تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ ہم اس شہر میں داخل ہوئے تو ہمیںاس شہر میں کچھ لوگ ایسے ملے جن کا ایک رخ اس سے بھی حسین تر تھا جو حسین ترین تم نے دیکھا ہو اور دوسرا رخ اس سے بھی بدشکل تھا جیسا بد شکل تم نے دیکھا ہو۔میرے دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ اس سامنے کی نہر میں غوطہ لگائو۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ نہر کشادہ اور صاف و شفاف پانی والی ہے چنانچہ وہ لوگ اس نہر میں غوطہ لگانے کے لیے کود پڑے اور پھر اس نہر سے اس حالت میں نکلے کہ نہایت خوبصورت تھے اور ان کی بدصورتی دور ہوگئی ۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ سامنے تیرا گھر ہے۔ پس میرے ساتھیوں نے میری نظر اوپر کی طرف اٹھوائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک محل ہے جو کہ سفید بادل کی شکل کا تھا۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ تیرا گھر ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ، تمہیں برکت عطا کرے مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اپنے گھر میں داخل ہو جائوں۔ انھوں نے کہا کہ ابھی نہیں اور عنقریب آپ اپنے گھر چلے جائیں گے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج کی رات میں نے بہت سے عجائبات کا مشاہدہ کیا ہے۔ مجھے یہ بتلائو کہ ان عجائبات کی حقیقت کیا ہے؟ میرے ساتھیوں نے جواباً کہا کہ ابھی بتلائے دیتے ہیں۔ سنو پہلا شخص جس کو تم نے دیکھا کہ جس کا سر پھوڑا جاتا تھا وہ حافظ قرآن ہے جس نے قرآن بھلا دیا اور رات کو فرض نماز پڑھے بغیر سوجاتا ہے اور جس شخص کو تم نے دیکھا تھا کہ لوہے کے زنبور سے اس کے جبڑے کو چیرا جاتا تھا وہ ایسا جھوٹا آدمی ہے جس کا جھوٹ دنیا بھر میں مشہور ہوجاتا ۔ اور جن برہنہ مردوں اور عورتوں کوتنور میں دیکھاتھا وہ زانی اور زانیہ مرد عورتیں ہیں۔ اور جو شخص اس نہر میں تیرتا تھا اور کنارے والا آدمی اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا تھا وہ سود خوار ہے۔ اور وہ نہایت بدصورت شخص جو آگ دہکارہا تھا وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی فرشتہ ہے۔ اور وہ طویل القامت شخص جو باغ میں بیٹھا تھا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ان کے آس پاس جو بچے تھے وہ تمام وہ بچے ہیں جو دین فطرت پر مرے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ اس موقع پر بعض مسلمانوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اور مشرکین کے بچے بھی؟ تو آپؐ نے فرمایا ’’ہاں مشرکین کے بچے بھی۔‘‘ اور وہ لوگ جو اس شہر میں آپؐ نے دیکھے جن کی صورت کچھ اچھی اور کچھ بری تھی وہ ایسے لوگ ہیں جنھوں نے دنیا میں اچھے اعمال کے ساتھ برے اعمال ملا رکھے تھے ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہ معاف فرمادیے۔
(۲) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ ہُوَابْنِ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبْورَجَائٍ، عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا صَلَّی صَلَاۃً اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہٖ فَقَالَ: مَنْ رَأَی مِنْکُم اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا ؟ قَالَ: فَاِنْ رَأی اَحَدٌ قَصَّہَا فَیَقُولُ مَا شَآئَ اللّٰہُ فَسَالَنَا یَوْمًا فَقَالَ: ہَلْ رَأی مِنْکُمْ اَحَدٌ رُؤْیًا قُلْنَا: قَالَ: لٰکِنّیْ رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ رَجُلَیْنِ اَتَیَانِیْ فَاَخَذَ بِیَدَیَّ فَاَخْرَجَانِیْ اِلیٰ اَرْضٍ مُقَدَّسَۃٍ فَاِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ ، ورَجُلٌ قَائِمٌ بِیَدِہٖ قَالَ بَعْضُ اَصْحَابِنَا عَنْ مُوْسیٰ کَلُّوْبٍ مِنْ حَدِیْدٍ یُدْخِلُہٗ فِی شِدْقِہٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاہُ ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْ قِہِ الْآخَرِ مِثْلَ ذٰلِکَ وَیَلْتَئِمُ شِدْقُہٗ ہٰذَا فَیَعُوْدُ فَیَصْنَعُ مِثْلَہٗ فَقُلْتُ مَا ہٰذَا قَالَا: اِنْطَلِقْ قَانْطَلَقْنَا حَتّٰی اَتَیْنَا عَلیٰ رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلیٰ قَفَاہُ وَرَجُلٌ قَآئِمٌ عَلیٰ رَأْسِہٖ بِفِہْرٍ اَوْصَخْرَۃٍ فَیَشْدَخُ بِہَا رَأسَہٗ فَاِذَا ضَرَبَہٗ تَدَہْدَہٗ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ اِلَیْہِ لِیَأْخُذَہٗ فَلَا یَرْجِعُ اِلیٰ ہٰذَا حَتّٰی یَلْتَئِمَ رَأسُہٗ وَعَادَ رَأْسُہٗ کَمَا ہُوَ فَعَادَااِلَیْہِ فَضَرَبَہٗ قُلْتُ مَنْ ہٰذَا قَالَا اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا اِلیٰ نَقْبٍ مِثْلَ التَّنُّورِ اَعْلَاہُ ضَیِّقٌ واَسْفَلُہٗ وَاسِعٌ تَتَوَقَّدُ تَحْتَہٗ نَارٌ فَاِذَا اقْتَرَبَ اِرْتَفَعُوْا حَتّٰی کَادُوْا یَخْرُجُوْنَ فَاِذَا خَمِدَتْ رَجَعُوْا فِیْہَا وَفِیْہَا رِجَالٌ وَنِسَآئٌ عُرَاۃٌ فَقُلْتُ : مَا ہٰذَا ؟ قَالَا: اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی اَتَیْنَا عَلیٰ نَہْرٍ مِنْ دَمٍ فِیْہِ رَجُلٌ قَائِمٌ وَعَلیٰ وَسْطِ النَّہْرِ قَالَ یَزِیْدُ ابْن ہَارُوْنَ وَوَہَیْب بن جریربن حازمٍ وَعَلیٰ شطِّ النَّہْرِ رَجُلٌ بَیْنَ یَدَیْہِ حِجَارَۃٌ فَاَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِیْ فِی النَّہْرِ فَاِذَا اَرَادَاَنْ یَخْرُجَ رَمَاہُ الرَّجُلُ بِحَجْرٍ فِی فِیْہِ فَرَدَّہٗ حَیْثُ کَانَ فَجَعَلَ کُلَّمَا جَآئَ لِیَخْرُجَ رَمیٰ فِیْ فِیْہِ بِحَجَرٍ فَیؤجِعُ کَمَا کَانَ فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قالا اِنْطَلِقْ فانْطَلَقْنَا حَتّٰی اَتَیْنَا اِلیٰ رَوْضَۃٍ خَنْضَرآئَ فِیْہَا شَجَرَۃٌ عَظِیْمَۃٌوَفِیْ اَصْلِہَا شَیْخٌ وَصِبْیَانٌ وَاِذَا رَجُلٌ قَرِیْبٌ مِنَ الشَّجَرَۃِ بَیْنَ یَدیْہِ نَارٌ یُوْقِدُہَا فصَعِدَ انِیْ فِی الشَّجَرَۃِ فَاَدْخَلَانِیْ دَارًا لَمْ اَرَقَطُّ اَحْسَنَ وَاَفْضَلَ مِنْہَا فِیْہَا رِجَالٌ شُیُوْخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَآئٌ وَصِبْیَانٌ ثُمَّ اَخْرَجَانِیْ مِنْہَا فَصَعِدَا بِی الشَّجَرَۃَ فَادْخََلَانِیْ دَارًا ہِیَ اَحْسَنُ واَفَضَلُ فِیْہَا شَیُوْخٌ وشَبَابٌ قُلْتُ طَوَّفْتُمَا نِی اللَّیْلَۃَ فَاخْبِرَانِیْ عَمَّارَأَیْتُ قَالَآ: نَعَمْ اَمَّا الَّذِیْ رَأَیْتَہٗ یُشَقُّ شِدْقُہٗ فَکذَّابٌ یُحَدِّثُ بِالْکَذٰبَۃِ فَتُحْمَلُ عَنْہُ حَتّٰی تَبْلُغَ الْاٰفَاقَ فَیُصْنَعُ بِہٖ اِلیٰ یَوْم الْقِیٰمَۃِ وَالَّذِیْ رَأَیتَہٗ یُشْدَخُ رَأسُہٗ فَرَجُلٌ عَلَّمَہُ اللّٰہُ الْقُرْاٰنَ فَنَامَ عَنْہُ بِاللَّیْلِ وَلَمْ یَعْمَلْ فِیْہِ بِالنَّہَارِ یُفْعَلُ بِہٖ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَالَّذِیَ رَاَیْتَہٗ فِی النَّقَبِ فَہُمُ الزُّنَاۃُ وَالَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِی النَّہْرِ اٰکِلُوا الرِّبٰو۔ وَالشَّیْخُ الَّذِیْ فِی اَصْلِ الشَّجَرَۃِ اِبْرَاہِیْمُ وَالصِّبْیَانُ حَوْلَہٗ فَاوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِیْ یُوْقِدُ النَّارَ مَالِکٌ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُالْاُوْلیٰ الَّتِیْ دَخَلْتَ دَارُ عَآ مَّۃِ الْمُؤْ مِنِیْنَ وَاَمَّاہٰذِہِ الدَّارُفَدَارُ الشُّہَدَآئِ وَاَنَا جِبْرِئیْلُ وہٰذَا مِیْکَائِیْلُ فَارْفَعْ رَأسَکَ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذا فَوْقِیْ مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا: ذٰلِکَ مَنْزِلُکَ فَقُلْتُ: دَعَانِیْ وَاُتْرکَانِیْ، اَدْخُلُ مَنْزِلِیْ قَالَا: اِنَّہٗ بَقِیَ لَکَ عُمْرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْہُ فَلَواستَکْمَلْتَ اَتَیْتَ مَنْزِلَکَ۔ (۳۰)
۷۹۔ اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد میں خَنْساء بنت معاویۃ بن صریم سے مروی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میری پھوپھی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: مَنْ فِی الْجَنَّۃِ؟ جنتی کون ہے؟ حضور ﷺنے فرمایا: النَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ، وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃ وَالْمَوْلُودُفِی الْجَنَّۃِ۔ نبی جنتی ہے، شہیدجنتی ہے ،بچہ جنتی ہے۔
بعض علماء نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن مجید میںجن کو غِلمان اور وِلْدَانٌ مُخَلَّدُوْنَ (ہمیشہ حالت طفلی ہی میں رہنے والے لڑکے) کہا گیا ہے وہ یہی بچے ہوں گے۔ یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے اور بعید نہیں کہ اس کی صورت یہ ہو کہ جن بچوں کے والدین جنتی نہ ہوں وہ اہل جنت کے دائمی اور ابدی خادم بنادیے جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اس بات کو اصل قرار دینے کے بعد دوسری تمام احادیث کی یا تو اس کے مطابق تاویل کی جائے گی، یا پھر ان کے بارے میں توقف کیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ صحیح ہوں مگر ان کے کوئی ایسے معنی ہوں جو روایت کردہ الفاظ سے پوری طرح ظاہر نہ ہو رہے ہوں ۔ (رسائل و مسائل حصہ سوم : کیا مشرکین کے۔۔۔؟)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَزِیْدُبْنُ زُرَیْعٍ، ثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَتْنَا حَسَنَائُ بِنْت مُعَاوِیَۃَ الصَّرِیْمِیَّۃُ قَالَتْ: ثَنَا عَمِّیْ، قَالَ: قُلْتُ: لِلنَّبِیِّ ﷺ مَنْ فِی الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ، وَالشَّہِیْدُ فی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْلُوْدُ (فی الْجَنَّۃِ) وَالْوَئِیْدُ (فِی الْجَنَّۃِ)۔ (۳۱)

انسان کے ’’فطرت‘‘ پرپیدا ہونے کا مفہوم

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُعَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ۔
ترجمہ: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (سلیمہ) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنالیتے ہیں۔
تشریح: اس حدیث میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے وہ دراصل یہ ہے کہ انسان خدا کے ہاں سے کفر یا شرک یا دہریت لے کر نہیں آتا بلکہ وہ خالص فطرت لے کر آتا ہے جو خدا کے سوا اپنے کسی معبود کو نہیں جانتی اور شرائع الٰہیہ کے فطری اصولوں کے سوا کسی چیز سے مانوس نہیں ہوتی۔ اگر اس فطرت پر آدمی برقرار رہے اورکوئی بگڑا ہوا ماحول اسے مشرکانہ افکار و اعمال اور گمراہانہ اخلاق و اوصاف کی طرف نہ موڑ دے تو اسے انبیاء علیہم السلام کی پیش کردہ تعلیمات کو قبول کرنے میں ذرا تامل نہ ہو۔ وہ اس چیز کو اس طرح لے جیسے اس کی اپنی چیز تھی جو کسی نے لا کر اسے دے دی۔
لیکن یہ حقیقت کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’’اسلام‘‘ جس چیز کو کہتے ہیں وہ کسی آدمی کو خود بخود حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ صرف انبیاء علیہم السلام کے واسطے سے ہی ملتی ہے، اور ایک آدمی مسلم اسی وقت ہوتا ہے جب کہ انبیاء کے پیش کردہ دین کو جان کر دل سے اس کی تصدیق کرے۔ حتّٰی کہ اگر کوئی شخص سن شعور کو پہنچنے تک ٹھیک ٹھیک اسی فطرت پر قائم ہوجس پر اللہ نے اسے پیدا کیا تھا، تب بھی اس کا مسلم ہونا اسی پر موقوف ہوگا کہ نبی کے واسطے سے اس کو دین ملے اور وہ اسے قبول کرے۔ جو شخص اس بات کو نہیں مانتا وہ دراصل یہ کہتا ہے کہ آدمی ماں کے پیٹ سے جو فطرت لے کر آتا ہے وہی پورا کا پورا اسلام ہے اور وہی آدمی کے ہدایت یافتہ ہونے کے لیے کافی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیں کہ شرائع کا نزول اور انبیاء کی آمد بالکل غیر ضروری ہے۔ حالانکہ قرآن جس بات کو بار بار وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو بہر حال خدا کی طرف سے ایک رہنمائی کی ضرورت ہے اور وہ ہر شخص کو براہ راست نہیں بلکہ انبیاء کے واسطے سے ہی مل سکتی ہے، اور اسی کا اتباع قبول کرنے پر آدمی کی نجات کا مدار ہے۔ دیکھیے ، جس وقت کوئی اجتماعی ماحول سرے سے موجود نہ تھا اور کسی یہودیت یا نصرانیت یا مجوسیت کا نام و نشان تک نہ تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے نوعِ انسانی کو خطاب کرکے فرمایا:
فَاِمَّا یَاْ تِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔
’’ پس اگر میری طرف سے تمہارے پاس رہنمائی آئے تو جو لوگ میری رہنمائی کی پیروی کریں گے ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی جس فطرت کو اللہ نے فجوراور تقویٰ کی ایک الہامی معرفت بخشی ہے وہ اگر اپنی سلیم حالت میں بھی محفوظ ہو پھر بھی وہ خود راستہ پالینے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے وحی کی رہنمائی ناگزیر ہے، فطرت کی صلاحیت زیادہ سے زیادہ بس اتنی ہی ہے کہ وحی کے ذریعہ سے جب اس کے سامنے راہ حق پیش کی جائے تو وہ اسے پہچان لیتی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے مگر وحی کے بغیرخود راہ یاب ہوجانا اس کے بس میں نہیں ہے۔ نبی ﷺ سے بڑھ کر سلیم الفطرت آخر کون ہوسکتا ہے؟ آپ کا حال یہ تھا کہ جب تک وحی نے رہنمائی نہ کی، آپ ٹھٹکے کھڑے تھے اور کچھ نہ جانتے تھے کہ راستہ کدھر ہے۔ وَوَجَدَکَ ضَالًّا فَہَدیٰ اور کَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِنْ اَمْرِنَا، مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ۔
اس سلام کے متعلق آخر کوئی صاحب علم و عقل آدمی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ مسلمان گھر میں پیدا ہونے والے ہر آدمی کو آپ سے مل جاتا ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لیے سرے سے کسی علم و شعور اور ارادی تصدیق کی حاجت ہی نہیں ہے؟
(رسائل و مسائل اوّل: انسان کے’’ فطرت‘‘۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا اٰدَمُ حَدَّثَنَا بْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ۔ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَہِیْمَۃِ تُنْتِجُ الْبَہِیْمَۃَ ہَلْ تَریٰ فِیْہَا جَدْعَائَ؟ (۳۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اصل انسانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں عیسائی یا یہودی وغیرہ بناڈالتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہر جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح و سالم جانور برآمد ہوتا ہے۔ کوئی بچہ بھی کٹے ہوئے کان لے کر نہیں آتا، بعد میں مشرکین اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر اس کے کان کاٹتے ہیں۔
مسند احمد بن حنبل میں ابوہریرہ ؓ سے مروی روایت کے الفاظ:
مَامِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یَکُوْنَ اَبَوَاہُ اللَّذَانِ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ کَمَا تُنْتِجُوْنَ اَنْعَامَکُمْ ہَلْ تَکُوْنُ فِیْہَا جَدْ عَاء حَتّٰی تَکُوْنُوْا اَنْتُمْ تَجْدَعُوْنَہَا قَالَ رَجُلٌ: واَیْنَ ہُمْ؟ قَالَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ قَالَ قَیْسٌ : مَا اَرٰی ذٰلِکَ الرَّجُلَ اِلَّا کَانَ قَدَرِیًّا۔
ابودائود میں ہے:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہٗ یُہَوِّدَانِہٖ ویُنَصِّرَانِہٖ کَمَا تَنَا تَجُ الْاِبِلُ مِنْ بَہِیْمَۃٍ جَمْعَائَ ہَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَائَ؟ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَرَأَیْتَ مَنْ یَمُوْتُ وَہُوَ صَغِیْرٌ؟ قَالَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔ (۳۳)
ترمذی نے ابوہریرہؓ سے مروی روایت کے الفاظ اس طرح بیان کیے ہیں:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِﷺکُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْمِلَّۃِ: فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُشَرِّکَانِہٖ قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَمَنْ ہَلَکَ قَبْلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ بِہٖ۔ (۳۴)
مسلم نے ابوہریرہؓ سے یہ روایت بھی بیان کی ہے:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: کُلُّ اِنْسَانٍ تَلِدُہٗ اُمُّہٗ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَاَبَوَاہُ بَعْدُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْیُمَجِّسَانِہٖ فَاِنْ کَانَ مُسْلِمَیْنِ، فَمُسْلِمٌ۔ کُلُّ اِنْسَانٍ تَلِدُہٗ اُمُّہٗ یَلْکِزُ الشَّیْطَانُ فِیْ حِضْنَیْہِ۔اِلَّا مَرْیَمَ وَابْنَہَا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ہر انسان کو اس کی ماں فطرت(اسلام) پر جنم دیتی ہے۔ پھر بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ پس اگر وہ دونوں مسلمان ہوں تو وہ (بچہ) بھی مسلمان ہوگا۔ ہر انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے کولہوں میںٹھونکا دیتا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ کے۔
مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے:
فی حدیث ابن نُمَیْرٍ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُو لَدُ اِلَّا وَہُوَ عَلَی الْمِلَّۃِ۔
ترجمہ: کوئی ایک بچہ بھی ایسا نہیں جو ملّت اسلام پر پیدا نہ ہوتا ہو۔
وفی روایۃ ابی بکرعن ابی معاویۃ:
اِلَّا عَلیٰ ہٰذِہِ الْمِلَّۃِ حَتّٰی یُبَیِّنَ عَنْہُ لِسَانُہٗ۔
ترجمہ: ہر بچہ اسلام پر پیدا ہوتا ہے تاآنکہ اس کی زبان نہ کھل جائے۔
وفی روایۃ ابی کریب عن ابی معاویۃ:
لَیْسَ مِنْ مَوْلُودٍ یُولَدُ اِلَّا عَلیٰ ہٰذِہِ الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعَبِّرَ عَنْہُ لِسَانُہٗ۔ (۳۵)
ترجمہ: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے تاآنکہ اس کی زبان نہ کھل جائے۔
۸۱۔ کُلُّ نَسَمَۃٍ تُوْلَدُ عَلَی الْفِطَرَۃِ حَتّٰی یُعَرِّبَ لِسَانُہَا فَاَبَوَاہَا یُہَوِّدَانِہَا اَوْیُنَصِّرَانِہَا۔
ترجمہ: ہر متنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی زبان کھلنے پر آتی ہے تو ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنالیتے ہیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُبْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ الْمُنَادِیِّ ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُؤْدِّبُ،ثَنَا اَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ سُرَیْعٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ خَیْبَرَ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِکِیْنَ فَاَقْضیٰ بِہِمُ الْقَتْلُ اِلَی الذُّرِّیَّۃِ فَلَمَّا جَائُ وْا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلیٰ قَتْلِ الذُّرِّیَّۃِ؟ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ اِنَّمَا کَانُوا اَوْلَادَ الْمُشْرِکِیْنَ قَالَ: وَہَلْ خِیَارُکُمْ اِلَّا اَوْلَادُالْمُشْرِکِیْنَ؟ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدِ بَیَدِہٖ: مَا مِنْ نَسَمَۃٍ تُوْلَدُ اِلَّا عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتَّی یُعَرِّبَ عَنْہَا لِسَانُہَا۔ (۳۶)
ترجمہ: حضرت اسود بن سریع سے مروی ہے : رسول اللہ ﷺ نے معرکۂ خیبر کے روز ایک سریہ روانہ کیا وہ مشرکین سے لڑے یہاں تک کہ بچے بھی قتل کیے گئے، یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے تو آپؐ نے فرمایا ’’بچوں کے قتل پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟‘‘ بولے یا رسول اللہ! یہ تو مشرکوں کے بچے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا’’تمہارے بہترین لوگ بھی تو مشرکین کی اولاد ہیں۔ قسم ہے اس ذاتِ گرامی کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ ہر متنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے جب تک کہ اس کی زبان نہ کھل جائے۔‘‘
۸۲۔ ایک جنگ میں مسلمانوں نے دشمنوں کے بچوں تک کو قتل کردیا۔ نبی ﷺ کو خبر ہوئی تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا مَا بَالُ اَقْوَامٍ جَاوَزَہُمُ الْقَتْلُ اَلْیَوْمَ حَتّٰی قُتِلَ الذُّرِّیَّۃُ، ’’ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ آج وہ حد سے گزر گئے اور بچوں تک کو قتل کرڈالا۔‘‘ ایک شخص نے عرض کیا کیا یہ مشرکین کے بچے نہ تھے؟ فرمایااِنَّمَا خِیَارُکُمْ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ۔ ’’تمہارے بہترین لوگ مشرکین ہی کی تو اولاد ہیں۔‘‘ پھر فرمایا کُلُّ نَسَمَۃٍ تُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعَرِّبَ عَنْہُ لِسَانُہَا ۔ فَاَبَوَاہَا یُہَوِّدَانِہَا اَوْ یُنَصِّرَانِہَا۔
ترجمہ: ہر متنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی زبان کھلنے پر آتی ہے تو ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنالیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الروم، حاشیہ: ۴۵)
تخریج: عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ سُرَیْعٍ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَغَزَوْتُ مَعَہٗ فَاَصَبْتُ ظَفْرًا فَقَاتَلَ النَّاسُ یَوْمَئِذٍ حَتّٰی قَتَلُوا الْوِلْدَانَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: مَا بَالُ اَقْوَامٍ جَاَوزَہُمُ الْقَتْلُ الْیَوْمَ حَتّٰی قَتَلُوْا الذُّرِّیَّۃَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَمَاہُمْ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ فَقَالَ: لَا اِنَّمَا خِیَارُکُمْ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ قَالَ: لَا تَقْتُلُوْا ذُرِّیَّۃً لَا تَقْتُلُوْا ذُرِّیَّۃً وَقَالَ: کُلُّ نَسَمَۃٍ تُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعَرِّبَ عَنْہُ لِسَانُہٗ فَاِذَا عَبَّرَ عَنْہُ لِسَانُہٗ اِمَّا شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا۔ (۳۷)
ترجمہ: حضرت اسود بن سریع سے مروی ہے انھوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کی معیت میں غزوات میں شریک ہوا اور کامیاب و کامران ہوا، اس روز لوگوں میں قتال کا بازار گرم ہوا یہاں تک کہ انھوں نے معصوم بچوں کو بھی قتل کرڈالا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو ارشاد فرمایا ’’ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ آج قتل کی نوبت معصوم تک پہنچ گئی۔ ایک آدمی بولا یا رسول اللہ کیا یہ مشرکین کے بچے نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ’’نہیں، تمہارے بہترین اور چیدہ لوگ بھی تو آخر مشرکین کے بچے ہیں۔ معصو م بچوں کو قتل نہ کرو، معصوم بچوں کو قتل نہ کرو۔ اور مزید برآں فرمایا: ’’ہرمتنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان کھل جاتی ہے۔ جب اس کی زبان کھل جاتی ہے تو پھر یا تو وہ شکرگزار بندہ بن جاتا ہے یا انکار کی روش اختیار کرلیتا ہے۔‘‘
۸۳۔ اِنَّ رَبِّیْ یَقُوْلُ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّہُمْ وَاِنَّہُمْ اَتَتْہُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاَضَلَّتْہُمْ عَنْ دِیْنِہِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَیْہِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَہُمْ واَمَرَتْہُمْ اَنْ یُّشْرِکُوا بِیْ مَا لَمْ اُنْزِلْ بِہٖ سُلْطَانًا۔
ترجمہ: (حدیث قدسی) جو امام احمدؒ نے عیاض حمار المجاشعی سے نقل کی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ایک روز نبی ﷺ نے اپنے خطبہ کے دوران میں فرمایا: ’’ میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آکر انھیں ان کے دین سے گمراہ کیا، اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اسے حرام کیا اور انھیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھیرائیں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے۔‘‘
تشریح: یعنی تمام انسان اس فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ ان کا کوئی خالق اور کوئی رب اور کوئی معبود و مطاعِ حقیقی ایک اللہ کے سوا نہیں ہے۔ اسی فطرت پر تم کو قائم ہوجانا چاہیے۔ اگر خود مختاری کا رویہ اختیار کرو گے تب بھی فطرت کے خلاف چلو گے اور اگر بندگی ٔ غیر کا طوق اپنے گلے میں ڈالو گے تب بھی اپنی فطرت کے خلاف کام کرو گے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳،الروم ، حاشیہ: ۴۵)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا ہِشَامٌ، ثَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ اَنَّ النَّبِیَّﷺ خَطَبَ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ فِیْ خُطْبَتِہٖ: اِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ فِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا کُلُّ مَا نَحِلْتُہٗ عِبَادِیْ حَلَالٌ وَ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّہُمْ وَاِنَّہُمْ اَتَتْہُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاَضَلَّتْہُمْ عَنْ دِیْنِہِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَیْہِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَہُمْ وَاَمَرَتْہُمْ اَنْ یُّشْرِکُوْابِیْ مَا لَمْ اُنْزِلْ بِہٖ سُلْطَانًا۔ (۳۸)
ترجمہ: حضرت عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ ایک روز نبی ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: دوران خطبہ فرمایا کہ ’’میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ آج جتنا کچھ علم مجھے دیا گیا ہے اس میں سے جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کی تعلیم تمہیں دوں، ارشاد الٰہی ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عطا فرمایا ہے سب حلال ہے اور میں نے اپنے سارے بندوں کو مسلم پیدا کیا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ ان کے پاس شیاطین آتے ہیں اور انھیں ان کے دین سے برگشتہ و گمراہ کردیتے ہیں ، جو چیزیں میں نے ان کے لیے حلال ٹھیرائی ہیں وہ ان کو ان پر حرام کردیتے ہیں اور یہ شیاطین انسانوں کو حکم دیتے ہیں کہ ایسی چیزوں کو میرا ساجھی اور شریک بنائو جن کے بارے میں میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔

ماٰخذ

(۱) ترمذی ابواب القدر باب ماجاء لا یردالقدر الاالدعاء۔
(۲) مسند احمد ج ۵، عن ثوبان۔
(۳) کنزالعمال ، ج ۲، عن انس بحوالہ ابوالشیخ ٭المستدرک ، ج ۱،کتاب الدعاء باب لا یردالقدر الاالدعاء۔
(۴) ابن ماجہ المقدمہ باب فی القدر۔
(۵) مسند احمد بن حنبل ج ۶۔
(۶) ترمذی، ابواب القدر باب ماجاء ان القلوب بین اصبعی الرحمٰن اور ابواب الدعوات٭ ابن ماجہ المقدمہ باب فیما انکرت الجہمیۃ ٭ ابن ماجہ میںیا مقلب القلوب کی جگہ یا مُثَبِّتَ الْقُلُوْبَ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلیٰ دِیْنَکِ ہے۔ مسند احمد، ج ۴ ٭ مسند احمد، ج ۶، پر وانما قلوب العباد بین اصبعی الرحمٰن انہ اذا ارادان یقلب قلب عبد قلّبہ ہے اورپر بھی ہے۔
(۷) مسلم، ج ۲، کتاب القدر باب تصریف اللّٰہ تعالیٰ القلوب کیف یشاء٭ مسند احمد ج ۲، اور مسند ج۳۔ اللّٰہُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ اِصْرِفْ قُلُوْبَنَا اِلیٰ طَاعَتِکَ۔
(۸) مسند احمد ج ۲، عبداللّٰہ بن عمرو۔
(۹) مؤطا امام مالک کتاب الجامع ماجاء فی حسن الخلق٭ ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ۔ ابن ماجہ نے ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے۔٭ترمذی ابواب الزہد ج ۲٭ شعب الایمان ، بیہقی، ج ۷، حدیث:۱۰۸۰۵، ۱۰۸۰۶۔
(۱۰) مسند احمد ، ج ۱،مرویات حسین بن علی۔
(۱۱) مسند احمد، ج ۱، مرویات حسین بن علی۔
(۱۲) ترمذی ابواب القدر عن رسول اللّٰہ ﷺ باب ماجاء من التشد دید فی الخوض فی القدر۔
(۱۳) ابن ماجہ المقد مۃ باب فی القدر۔
(۱۴) ابن ماجہ المقدمۃ باب فی القدر٭ کنزالعمال، حدیث ۶۱۶ بحوالہ دارقطنی فی الافراد عن ابی ہریرۃ۔
(۱۵) کنزالعمال ، ج ۱ حدیث: ۶۱۶ بحوالہ دارقطنی فی الافراد عن ابی ہریرۃ۔
(۱۶) بخاری، ج ۲،کتاب الاعتصام باب قَوْلِہٖٖ وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْیٍٔ جَدَلًا ٭ بخاری، ج ۱، کتاب التہجدجد باب تحریض النبی ﷺ علی قیام اللیل٭ مسلم ، ج۱،کتاب صلاۃ المسافرین و قصرہا باب الحث علی صلاۃ اللّیل وان قَلَّتْ ٭نسائی کتاب قیام اللیل وتطوع النہار باب الترغیب فی قیام اللیل۔ ٭مسند احمد، ج ۱، مروویات علی ابن ابی طالب۔
(۱۷) ترمذی ابواب القدر باب ماجاء فی الایمان ٭ ابن ماجہ المقدمۃ باب فی القدر ٭ مسند احمد، ج ۱، عن علی٭ابوداؤد طیالسی عن علی بن ابی طالب جزاوّل ٭مستدرک حاکم کتاب الایمان،ج ۱۔
(۱۸) ترمذی، ابواب القدر باب ماجاء فی الایمان بالقدر خیرہٖ وشرہٖ٭ کنزالعمال ج ۱۔
(۱۹) مسند احمد ، ج ۲، روایت عبداللہ بن عمر و بن العاص۔
(۲۰) بخاری، ج ۲،کتاب القدر باب قولہ وکان امر اللّٰہ قدر مقدورا٭بخاری ، ج ۲، کتاب النکاح باب الشروط الّتی لاتحل فی النکاح ٭ مؤطا امام مالک کتاب الجامع جامع ماجاء فی اہل القدر ٭مسند احمد، ج ۲، مرویات ابی ہریرۃ ۔
(۲۱) مسلم، ج ۱، کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتہا و خالتہا فی النکاح٭مسلم ج ۲، کتاب البیوع باب تحریم بیع الرجل علی بیع اخیہ وسومہ علی سومہ الخ٭ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی المراۃ تسال زوجہا طلاق امرأۃ لہٗ٭ترمذی ابواب الطلاق باب ماجاء لاتسال المرأۃ طلاق اختہا٭نسائی کتاب الجیوع باب سوم الرجل علی سوم اخیہ ٭ دار قطنی ج ۳، کتاب البیوع۔
(۲۲) بخاری، ج ۲، کتاب النکاح باب العزل٭ مسلم، ج ۱،کتاب النکاح باب حکم العزل ٭ابواداؤد کتاب النکاح باب ماجاء فی العزل ٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب العزل ٭مسند احمد، ج ۳، وغیرہ مرویات ابوسعید خدری ٭مؤطا امام مالک کتاب الطلاق باب ماجاء فی العزل۔
(۲۳) بخاری، ج ۲، کتاب القدر باب قولہ وکان امر اللّٰہ قدرًا مقدورًا۔
(۲۴) ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی ذراری المشرکین٭طبرانی کبیر ج ۴، سلمۃ بن یزیدجعفی ٭مسنداحمد، ج ۳، ٭ کنزالعمال ، ج ۱، حدیث :۲۸۱ عن سلمۃ بن یزید الجعفی۔
(۲۵) بخاری، ج ۲، کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلوٰۃ الصبح۔
(۲۶) بخاری، ج ۱، کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبیّ فمات ہلی یصلی علیہ الخ۔
(۲۷) بخاری، ج ۲، کتاب القدر باب اللّٰہ اعلم بما کانوا عاملین٭ مسلم ، ج ۲، کتاب القر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ وحکم موت اطفال الکفار واطفال المسلمین۔
(۲۸) مسلم، ج ۲، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ٭تفسیر ابن کثیر، ج ۲، ٭ مسند احمد ج ۴، مرویات عیاض بن حمار۔
(۲۹) بخاری، ج ۲، کتاب التعبیر باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح۔
(۳۰) بخاری ، کتاب الجنائز ج ۱۔
(۳۱) ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی فضل الشہادۃ ٭ مسند احمد جلد ۵، حدیث رجال من الانصار رضی اللّٰہ عنہم ٭کنزالعمال ج ۱۴، حدیث :۳۹۳۱۹ ٭ مجمع الزوائد ، ج ۷، اس نے بھی والموؤدۃ نقل کیا ہے ٭ مسند احمد نے والوئید اور والموء ودۃ دونوں لفظ نقل کئے ہیں۔
(۳۲) بخاری، ج ۱، کتاب الجنائز باب ماقیل فی اولاد المشرکین٭ مسند احمد بن حنبل ، ج ۲، مرویات ابی ہریرۃ ۔
(۳۳) ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی ذراری المشرکین۔
(۳۴) ترمذی ابواب القدر باب ماجاء کا مولود یولد علی الفطرۃ۔ مسلم، ج ۲، کتاب القدر باب معنی کل مولودیولدعلی الفطرۃ الخ ٭مؤطا امام مالک کتاب الجنائز۔ جامع الجنائز ۔
(۳۵) مسلم، ج ۲، کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ۔
(۳۶) المستدرک للحاکم کتاب الجہاد، ج ۲، باب مامن نسمۃ تولد علی الفطرۃ ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، عن اسود بن سریع بحوالہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ، ابن مردویۃ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ، ج ۹، کتاب السیرباب الولد تبع لابویہ حتّٰی یعرب عنہ اللسان۔
(۳۷) ابن کثیر، ج ۳، ٭ مسند احمد ج ۳، مرویات اسود بن سریع، ٭نسائی کتاب السیر۔
(۳۸) مسند احمد ج ۴، روایت عیاض بن حمار٭ ابن کثیر ج ۲، سورہ روم زیر تفسیر آیت فطرۃ اللّٰہ التی فطرالناس علیہا الخ ٭ ابن کثیر ج ۲، اٰیت یا اہل الکتب قد جاء کم الرسول ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، عیاض بن حمار ٭مسلم، ج ۲، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا۔ مسلم میں فَاَضَلَّتْہُمْ کی بجائے فاْجتالتہم ہے۔

ذات باری تعالیٰ احادیث کی روشنی میں

باری تعالیٰ کی عالم سماوی سے نسبت

۸۴۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہوگیا ہے، کیا میں اس لونڈی کو آزاد کرسکتا ہوں؟ حضوؐر نے اس لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا۔حضور نے پوچھا اور میں کون ہوں؟ اس نے پہلے آپؐ کی طرف اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا جس سے اس کا یہ مطلب واضح ہورہا تھا کہ آپؐ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اس پر حضوؐر نے فرمایا: اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔ (اسی سے ملتا جلتا قصہ مؤطّا مسلم اور نسائی میں بھی روایت ہوا ہے)۔
تشریح: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ کسی آفت کے موقع پر سب سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رخ کرکے خدا سے فریاد کرتا ہے۔ کوئی ناگہانی بلا آپڑتی ہے تو کہتا ہے کہ یہ اوپر سے نازل ہوئی ہے۔ غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے، یہ عالم بالا سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی یا کتب آسمانی کہا جاتا ہے۔ اس ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ جب وہ خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف جاتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، ص ۴۸، الملک حاشیہ: ۲۵)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْجَوْزَجَانِیُّ، ثَنَا یَزِیْدُبْنُ ہَارُوْنَ، قَالَ: اَخْبَرَنِی المَسْعُوْدِیُّ عَنْ عَوْنِِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ﷺ بِجَارِیَۃٍ سَوْدَائَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ عَلَیَّ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَقَالَ لَہَا اَیْنَ اللّٰہُ؟ فَاَشَارَتْ اِلَی السَّمَآئِ بِاِصْبَعِہَا فَقَالَ لَہَا مَا اَنَا؟ فَاَشَارَتْ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَاِلَی السَّمَآئِ یَعْنِی اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَقَالَ: اَعْتِقْہَا فَاِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔(۱)
مسند احمد ج ۲، ص ۲۹۱ مرویات ابی ہریرہؓ ۔
(۲) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ: جَارِیَۃٌ لِیْ صَکَکْتُہَا صَکَّۃً، فَعَظُمَ ذٰلِکَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ: اَفَلَا اُعْتِقُہَا؟ قَالَ ’’ائْتِنِیْ بِہَا‘‘ قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا، قَالَ: ’’اَیْنَ اللّٰہُ ؟‘‘قَالَتْ: ’’فِی السَّمَآئِ‘‘، قَاَلَ ’’ مَنْ اَنَا؟‘‘ قَالَتْ: اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَالَ: اَعْتِقْہَا فَاِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔ (۲)
ترجمہ: معاویہ بن حکم سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے تھپڑ مارا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کی طبع مبارک پر گراں گزری تو میں نے عرض کیا کیا میں اسے آزاد کردوں؟ حضوؐر نے فرمایا ’’اسے میرے پاس لے آئو۔‘‘ میں اسے آپؐ کی خدمت میں لے آیا، آپ نے اس سے پوچھا ۔ ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘وہ بولی ’’آسمان پر‘‘ حضور نے پھر پوچھا کہ میں کون ہوں؟‘‘ اس نے جواب دیا۔ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ حضوؐر نے ارشاد فرمایا کہ’’اسے آزاد کردو یہ مومنہ ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ عُتْبَۃَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ جَآئَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِجَارِیَۃٍ لَّہٗ سَوْدَآئَ فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ: اِنَّ عَلَیَّ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَاِنْ کُنْتَ تَرَاہَا مُؤْمِنَۃً أُعْتِقْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَتَشْہَدِیْنَ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ؟ قَالَتْ: نَعَم قَالَ: اَتَشْہَدِیْنَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَتْ : نَعَمْ، قَالَ اَتُوْقِنِیْنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَتْ نَعَم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَعْتِقْہَا۔ (۳)
ترجمہ: حضرت عبید اللہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنی ایک سیاہ فام لونڈی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا! کہ مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہوگیا ہے اگر آپؐ کی رائے اس کے بارے میں یہ ہو کہ یہ مومنہ ہے، تو میں اسے آزاد کردوں۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ ’’کیا تو اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود حقیقی نہیں؟‘‘ اس نے کہا ’’ہاں میں اس کی شہادت دیتی ہوں۔‘‘ آپؐ نے پھر پوچھا ’’کیا تو اس بات کی شہادت بھی دیتی ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘‘ وہ بولی ’’ہاں میں اس کی بھی شہادت دیتی ہوں۔‘‘آپؐ نے پھر پوچھا:’’کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے (بعث بعد الموت) پر یقین رکھتی ہے۔‘‘ اس نے کہا ’’ہاں میرا اس پر یقین ہے۔‘‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسے آزاد کردو۔‘‘
مؤطا میں ایک دوسرے مقام پر یہ حدیث قدرے وضاحت سے مروی ہے:
عَنْ عُمَربْنِ الْحَکَمِ اَنَّہٗ قَالَ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ: اِنَّ جَارِیَۃً لِّیْ کَانَتْ تَرْعیٰ غَنَمًا لِیْ فَجِئْتُہَا وَقَدْفُقِدَتْ شَاۃٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَاَلْتُہَا عَنْہَا فَقَالَتْ: اَکَلَہَا الذِّئْبُ فَاَسِفْتُ عَلَیْہَا وَکُنْتُ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْہَہَا وَعَلَیَّ رَقَبَۃٌ اَفَأُعْتِقُہَا؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیْنَ اللّٰہُ؟ فَقَالَتْ: فِی السَّمَآئِ؟ فَقَالَ: مَنْ اَنَا؟ فَقَالَتْ: اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَعْتِقْہَا۔ (۴)
ترجمہ: عمر بن حکم بیان کرتے میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!(ﷺ) میری ایک لونڈی ہے جو میری بکریاں چراتی ہے میں اس کے پاس گیا تو بکریوں میں سے ایک بکری کو کم پایا۔ میں نے اس سے بکری کے متعلق دریافت کیا تو بولی کہ اسے بھیڑ یا کھا گیا ہے۔ یہ سن کر مجھے اس پر بڑا غصہ آیا یہ اس لیے کہ میں بھی آخر اولاد آدم میں سے ہوں۔ میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کردیا اور مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا : ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا‘‘ آسمان میں۔ ‘‘ پھر آپؐ نے دریافت فرمایا کہ ’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے جواب دیا کہ ’’آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اسے آزاد کردو۔‘‘
عن عمر بن الحکم: قال النسائی کذا یقول مالک عمر بن الحکم وغیرہ یقول معاویۃ بن الحکم السلمی وقال ابن عبدالبر ہکذا قال مالک عمر بن الحکم وہو وہم عند جمیع اہل العلم بالحدیث ولیس فی الصحابۃ رجل یقال لہ عمر بن الحکم وانماہو معاویۃ بن الحکم کذا قال فیہ کل من روی ہذا الحدیث عن ہلال اوغیرہ ومعاویۃ بن الحکم معروف فی الصحابۃ وحدیثہٖ ہذا معروف لہ۔ وممن نص علیٰ ان مالکا وہم فی ذٰلک البزاروغیرہ۔ (۵) (مرتب)
رؤیت باری تعالیٰ اور اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہؓ
۸۵۔ ترجمہ: حضرت مسروق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا۔ ’’امّاں جان!’’کیا محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ ’’تمہاری اس بات سے میرے رونگٹے کھرے ہوگئے۔ تم یہ کیسے بھول گئے کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کا اگر کوئی شخص دعویٰ کرے تو جھوٹا دعویٰ کرے گا۔‘‘ (ان میں سے پہلی بات حضرت عائشہؓ نے یہ فرمائی کہ ) ’’جو شخص تم سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹ کہتا ہے۔‘‘ پھر حضرت عائشہؓ نے یہ آیتیں پڑھیں (لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ) نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور (مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہٗ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًااَوْمِنْ وَرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ) کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر یا تو وحی کے طور پر، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ ایک فرشتہ بھیجے اور وہ اس پر اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ وہ چاہے۔ اس کے بعد انھوں نے فرمایا: ’’لیکن رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا تھا۔ (اس حدیث کا ایک حصہ بخاری کتاب التوحید باب ۴ میں بھی ہے)۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِی یَحْیٰ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ: یَا اُمَّتَاہ ہَلْ رَاٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ؟ فَقَالَتْ : لَقَدْ قَفَّ شَعْرِیْ مِمَّا قُلْتَ اَیْنَ اَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ؟ مَنْ حَدَّثَکَہُنَّ فَقَدْ کَذَبَ، مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَاٰی رَبَّہٗ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَاَتْ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْمِنْ وّ رَآئِ حِجَابٍ، وَمَنْ حَدَّثَکَ اَنَّہٗ یَعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ وَمَا تَدْ رِیْ نَفْسٌ مَا ذَاتَکْسِبُ غَدًا، وَمَنْ حَدَّثَکَ اَنَّہٗ کَتَمَ فلقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ یٰاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ اَلْاٰیۃ وَلٰکِنَّہٗ رَای جِبْرئِیْلَ فِیْ صُوْرَتِہٖ مَرَّتَیْنِ۔ (۶)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یُوْسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَاٰی رَبَّہٗ فَقَدْ کَذَبَ، وَہُوَ یَقُوْلُ: لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَمَنْ حَدَّثَکَ اَنَّہٗ یَعْلَمُ الْغَیْبَ فَقَدْ کَذَبَ وَہُوَ یَقُوْلُ لَا یَعْلَمُ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ۔ (۷)
ترجمہ: حضرت مسروق سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ’’جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو وہ جھوٹ کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اسے نگاہیں نہیں پاسکتیں اور جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ غیب جانتے ہیں، تو وہ جھوٹ کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرا کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘
۸۶۔ ترجمہ: کتاب بدء الخلق میں مسروق کی جو روایت امام بخاری نے نقل کی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ کی یہ بات سن کر عرض کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہوگا؟ (ثُمَّ دَنیٰ فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَینِ اَوْاَدْنیٰ) اس پر انھوں نے فرمایا: ’’اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ وہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے انسانی شکل میں آیا کرتے تھے مگر اس موقع پر وہ اپنی اصلی شکل میں آپؐ کے پاس آئے اور سارا افق ان سے بھر گیا۔
(تفہیم القرآن ، ج ۵، النجم ، حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ، ثَنَا اَبُوْاُسَامَۃَ، ثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ عَنِ بْنِ الْاَشْوَعِ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَۃَ فَاَیْنَ قولُہٗ۔ ثُمَّ دَنیٰ فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنی ‘‘ قَالَتْ ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ کَانَ یَاْتِیْہِ فِیْ صُوْرَۃِ الرَّجُلِ وَاِنَّہٗ اَتَاہُ ہٰذِہِ الْمَرَّۃَ فِیْ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ ہِیَ صُوْرَتُہٗ فَسَدَّالْاُفُقَ (۸)
(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ حَدَّثَنَا مَصْرُوْفُ بْنُ عَمْرٍو الیَامِی ابوالْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنِ الْوَلِیْدِ ہُوَ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ اَبِی الْکَتْلَۃَ اَظُنُّہٗ ذَکَرَہٗ ،عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمْ یَرَ جِبْرِیْلَ فِیْ صُوْرَتِہٖ اِلَّا مَرَّتَیْنِ اَمَّاوَاحِدَۃٌ فَاِنَّہٗ سَأَلَہٗ اَنْ یَّرَاہُ فِیْ صُوْرَتِہٖ فَسَدَّالْاُفُقَ وَاَمَّا الثَّانِیَۃُ فَاِنَّہٗ کَانَ مَعَہٗ حَیْثُ صَعَدَ۔ (۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو دو ہی مرتبہ دیکھا ہے ایک موقع تو وہ تھا جب آپؐ نے جبریل سے کہا کہ وہ اپنی اصل شکل میں ظاہر ہوں (چنانچہ جبریل اپنی شکل میں رونما ہوئے) تو سارا افق اس سے بھر گیا اور دوسرا موقع وہ تھا جب حضوؐر جبریل کی معیت میں آسمان پر چڑھے۔

رؤیتِ جبریل ؑ

۸۷۔ انَّمَا ہُوَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، لَمْ اَرَہٗ عَلیٰ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ خُلِقَ عَلَیْہَا غَیْرَ ہَاتَیْنِ الْمَرَّتَیْنِ رَاَیْتُہٗ مُنْہَبِطًا مِّنَ السَّمَآئِ سَادًّا عُظْمَ خَلْقِہٖ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ۔
ترجمہ: مسلم کتاب الایمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہیٰ میں حضرت عائشہؓ سے مسروق کی یہ گفتگو زیادہ تفصیل کی ساتھ نقل ہوئی ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ یہ ہے:
۸۸۔حضرت عائشہؓ نے فرمایا ’’ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افتراء کرتا ہے۔‘‘مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ یہ بات سن کر میں اٹھ بیٹھا اور میں نے عرض کیا، ام المومنین جلدی نہ فرمائیے ، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ؟ اور لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ؟ حضرت عائشہؓنے جواب دیا اس امت میں سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ ﷺ سے اس معاملے کو دریافت کیا تھا۔ حضوؐر نے فرمایا: ’’وہ تو جبریل علیہ السلام تھے۔ میں نے ان کو ان کی اس اصلی صورت میں جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، ان دو مواقع کے سوا کبھی نہیں دیکھا۔ ان دو مواقع پر میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، اور ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم ، حاشیہ:۱۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَازُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَااِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: کُنْتُ مُتَّکِئًاعِنْدَ عَائِشَۃَ قَالَتْ: یٰاَبَا عَائِشَۃَ ثَلَاثٌ مَنْ تَکَلَّمَ بِوَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ فَقَدْ اَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ قُلْتُ: مَا ہُنَّ؟ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَاٰی رَبَّہٗ فَقَدْ اَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ ، قَالَ: وَکُنْتُ مُتَّکِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ: یَا اُمَّ المُؤْمِنِیْنَ اَنْظِرِیْنِیْ وَلَا تَعْجَلِیْنِیْ اَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَلَقَدْ راٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی؟ فَقَالَتْ: اَنَا اَوَّلُ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ سَأَلَ عَنْ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اِنَّمَا ہُوَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمْ اَرَہُ عَلیٰ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ خُلِقَ عَلَیْہَا غَیْرَ ہَاتَیْنِ الْمَرَّتَیْنِ رَأَیْتُہٗ مُنْہَبِطًا مِّنَ السَّمَآئِ سَادًّا عُظْمَ خَلْقِہٖ مَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ فَقَالَتْ: اَوَلَمْ تَسْمَعْ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ لَا تُدْرِکُہ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ اَوَلَمْ تَسْمَعْ اَنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْمِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْیُرْسِلَ رَسُوْلًا اِلیٰ قَوْلِہٖ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ؟ قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَتَمَ شَیْئًا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ فَقَدْ اَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ، وَاللّٰہُ یَقُوْلُ یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ قَالَتْ : وَمَنْ زَعَمَ اَنَّہٗ یُخْبِرُ بِمَا یَکُوْنُ فِیْ غَدٍ فَقَدْ اَعْظَمَ عَلَی اللّٰہِ الْفِرْیَۃَ، واللّٰہُ یَقُوْلُ قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیبْبَ اِلَّا اللّٰہُ۔ (۱۰)
ترجمہ: حضرت مسروقؓ سے مروی ہے کہ میں حضرت عائشہؓکے پاس بیٹھا تھا انھوں نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔’’تین امور ایسے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے بارے میں اگر کوئی بات کرے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔‘‘ میں نے عرض کیا اماں جان وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ’’جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افتریٰ کرتا ہے۔‘‘ مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور میں نے عرض کیا۔اُمّ المومنین جلدی نہ فرمائیے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ الخ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا اس امت میں سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ ﷺ سے اس معاملے کو دریافت کیا تھا۔ حضورؐ نے فرمایا تھا ’’وہ تو جبریل ؑ تھے میں نے ان کو ان کی اصلی صورت میں جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا ہے ان دو مواقع کے سوا کبھی نہیں دیکھا۔ ان دو مواقع پر میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا اور ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔‘‘ اس کے بعد حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا کہ نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے، وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے اور یہ ارشاد: کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس کے روبرو بات کرے۔اس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اس حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے ، وہ برتر اور حکیم ہے۔ پھرفرمایا کہ جو کوئی یہ گمان کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتاب اللہ میں سے کچھ چھپالیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۔ یعنی اے نبی آپؐ پرجو کچھ آپؐ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کی تبلیغ کرو، لوگوں تک من و عن پہنچادو اگر ایسا نہ کیا تو آپؐ نے حق رسالت ادا نہ کیا۔ اور تیسرے یہ کہ جو کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ مستقبل میں پیش آنے والی باتوں کا علم رکھتے ہیں تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، ارشاد ربانی ہے کہ اے محمد کہہ دو کہ آسمانوں اور زمینوں میں سوائے خدا کے او ر کوئی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، نَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِی رِزْمَۃَ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ، مَا کَذَبَ الْفُوَادُ مَا رَاٰی قَالَ: رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جِبْرَئِیْلَ فِیْ حُلَّۃٍ مِّنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَمَابَیْنَ السَّمَآئِ والْاَرضِ۔(۱۱) (ہذا حدیث حسن صحیح)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے ارشاد باری تعالیٰ مَاکَذَبَ الْفَوَادُمَارَاٰی (نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا) کی تفسیر میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل کو دبیز ریشم کے حلہ میں ملبوس دیکھا کہ وہ آسمان و زمین کے درمیان ساری فضا پر چھائے ہوئے ہیں۔
۸۹۔ ترجمہ: ابن مردویہ نے مسروق کی اس روایت کو جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں:حضرت عائشہؓ نے فرمایا! سب سے پہلے میںنے ہی رسول اللہ ﷺ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضوؐر نے جواب دیا نہیں، میں نے تو جبریل ؑکوآسمان سے اترتے دیکھا تھا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵،النجم،حاشیہ:۱۴)
تخریج: عَنْ مَسْرُوْقٍ فَقَالَتْ: اَنَا اَوَّلُ مَنْ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ہٰذَا فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ؟ فَقَالَ اِنَّمَا رَأَیْتُ جِبْرَئِیْلَ مُنْہَبِطًا۔ (۱۲)

قَابَ قَوْسَیْن کا مفہوم

۹۰۔ ترجمہ: بخاری کتاب التفسیر ، مسلم کتاب الایمان اور ترمذی ابواب التفسیر میں زرّبن حُبَیش کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے (فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ) کی تفسیر یہ بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو اس صورت میں دیکھا کہ ان کے چھے سو بازو تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ:۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوالنُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّیْبَانِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرًّا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ فَاَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ ۔ قَالَ حَدَّثَنَابْنُ مَسْعُوْدٍ اَنَّہٗ رَاٰی جِبْرئِیلَ لَہٗ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ۔ (۱۳)
۹۱۔ مسلم کی دوسری روایات میں مَاکَذَبَ الْفُؤَادُمَارَاٰی اور لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ کی بھی یہی تفسیر زرّبن حبیش نے عبداللہ بن مسعودؓ سے نقل کی ہے (کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھے سو پر تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم ، حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱) قَالَ سَاَلْتُ زِرَّبْنَ حُبَیْشٍ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالیٰ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ قَالَ: اَخْبَرَنِی بْنُ مَسْعُوْدٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ رَاٰی جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَہٗ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ۔
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ قَالَ رَاٰی جِبْرِیْلَ فِی صُوْرَتِہٖ لَہٗ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ۔ (۱۴)
۹۲۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَاَیْتُ جِبْرِیْلَ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عَلَیْہِ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ۔
ترجمہ: (مسند احمد میں زِرّبن حبیش کی دو روایتیں اور نقل ہوئی ہیں جن میں) حضرت عبداللہ بن مسعود وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی، عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہیٰ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبریل ؑ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھے سو پر تھے۔
۹۳۔ اسی مضمون کی روایت امام احمدؒ نے شقیق بن سَلَمہ سے بھی نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زبان سے یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود یہ فرمایا تھا کہ میں نے جبریل علیہ السلام کو اس صورت میں سدرۃ المنتہیٰ پر دیکھا تھا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ:۱۴)
تخریج:(۱) عن زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّہٗ قَالَ فِی ہٰذِہِ الْاٰیَۃِ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَاَیْتُ جِبْرِیْلَ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عَلَیْہِ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ یَنْشُرُ مِنْ رِیْشِہٖ التَّہَاوِیْلُ الدُّرُّ وَالْیَاقُوْتُ۔ (۱۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود نے وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ کی تفسیر میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’میں نے جبریل ؑ کو سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ان کے چھے سو پر تھے۔اس کے ہر پر میں سے یاقوت اور موتیوں کی بارش ہورہی تھی۔ جو سرخ، سبز اور زرد رنگ تھے۔‘‘
(۲) عَنِ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَأَیْتُ جِبْرِیْلَ عَلَی السِّدْرَۃِ الْمُنْتَہیٰ وَلَہٗ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ قَالَ: سَاَلْتُ عَاصِمًا عَنِ الْاَجْنِحَۃِ فَاَبیٰ اَنْ یُخْبِرَنِیْ قَالَ: فَاَخْبَرَنِیْ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ اَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔ (۱۶)
ترجمہ: حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ پر دیکھا تھا۔ ان کے چھے سو پر تھے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پروں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بتانے سے انکار کردیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ایک پراس قدر بڑا تھا جتنا مشرق و مغرب کے مابین فاصلہ ہے۔
(۳) عَنِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّہٗ قَالَ: اِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ یَرَجِبْرِیْلَ فِیْ صُوْرَتِہٖ اِلَّا مَرَّتَیْنِ اَمَّا مَرَّۃٌ فَاِنَّہٗ سَاَلَہٗ اَنْ یُرِیَہٗ نَفْسَہٗ فِیْ صُوْرَتِہٖ فَاَرَاہ صُوْرَتَہٗ فَسَدَّ الْاُفُقَ، وَاَمَّا الْاُخْریٰ فَاِنَّہٗ صَعَدَ مَعَہٗ حِیْنَ صَعَدَ بِہٖ۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل کو دو مرتبہ ان کی اصل شکل میں دیکھا۔ ایک مرتبہ تو اس موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے خود جبریل ؑ سے فرمایا کہ ’’ وہ اپنی اصل شکل و صورت میں سامنے آئیں تو جبریل رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی اصل شکل و صورت میں آئے۔‘‘ اس وقت انھوں نے پورے افق کو گھیر رکھا تھا اور دوسری مرتبہ اس موقع پر جب آپؐ جبریل کی معیت میں آسمان پر تشریف لے گئے۔
وَقَولُہٗ : وَہُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلیٰ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ فَاَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہٖ مَآ اَوْحیٰ قَالَ: فَلَمَّا اَحَسَّ جِبْرِیْل رَبَّہٗ عَادَفی صُوْرَتِہٖ وَسَجَدَ الخ۔
۹۴۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے عطاء بن ابی رباح نے آیت لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ کا مطلب پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ (رَاٰی جبریل علیہ السلام) حضوؐر نے جبریل کو دیکھا تھا۔ (مسلم کتاب الایمان) (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ:۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ قَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ (۱۸)
۹۵۔ ترجمہ: حضرت ابوذر غفاریؓ سے عبداللہ بن شقیق کی دوروایتیں امام مسلم نے کتاب الایمان میں نقل کی ہیں۔ ایک روایت میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضوؐر نے جواب دیا (نُورٌاَنّٰی اَرَاہُ)۔
اور دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب آپؐ نے یہ دیا کہ (رَأَیْتُ نُوْرًا) حضوؐر کے پہلے ارشاد کا مطلب ابن القیم نے زاد المعاد میں یہ بیان کیا ہے کہ ’’میرے اور رؤیت رب کے درمیان نور حائل تھا۔‘‘ دوسرے ارشاد کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نے اپنے رب کو نہیں بلکہ بس ایک نور دیکھا۔ ‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبِنْ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ: نَا وَکِیْعٌ عَنْ یَزِیْدَبْنِ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ ہَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ فَقَالَ: نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ۔ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ رَأَیْتُ نُوْرًا۔ (۱۹)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاری سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ حضورؐ نے جواب میں فرمایا’’ وہ نور ہے ، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے نور دیکھا ہے۔
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِاَبِیْ ذَرٍّ: لَوْرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَسَأَلْتُہٗ فَقَالَ: عَنْ اَیِّ شَیٍْٔ کُنْتَ تَسْأَلُہٗ: کُنْتُ اَسْأَلُہٗ ہَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ اَبُوذَرٍّ: قَدْ سَأَلْتُہٗ فَقَالَ: رَأَیْتُ نُوْرًا۔(۲۰)
ترجمہ: عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ میں نے ابوذرؓ سے عرض کیا کہ اگر مجھے رسول اللہ ﷺ کا دیدار نصیب ہوتا تو میں ان سے ضرور پوچھ لیتا۔ ابوذر نے پوچھا کس چیز کے بارے میں پوچھتے؟ میں نے بتایا کہ میں آپؐ سے پوچھتا کہ آیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر نے جواب دیا کہ میں نے اس بارے میں آپؐ سے پوچھا تھا تو آپؐ نے فرمایا تھا ’’میں نے نور دیکھاتھا۔‘‘

رؤیت قلبی کے بارے میں روایات

۹۶۔ مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے (مَاکَذَبَ الْفُؤَادُمَارَاٰی ، وَلَقَدْرَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی) کا مطلب پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کودو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاَبُوْسَعِیْدِ نِ الْاَشَجُّ جَمِیْعًا عَنْ وَکِیْعٍ، قَالَ: الْاَشَجُّ: ثَنَا وَکِیْعٌ قَالَ: نَا الْاَعْمَشُ عَن زِیَادِبْنِ الْحُصَیْنِ اَبِی جَہْمَۃَ عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ قَالَ رَاٰہُ بِفُؤَادِہٖ مَرَّتَیْنِ۔ (۲۱)
(۲) عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَاٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ قُلْتُ: اَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُوْلُ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَقَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ اِذَا تَجَلّٰی بِنُوْرِہِ الَّذِیْ ہُوَ نُوْرُہٗ وَقَدْ رَاٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ مَرَّتَیْنِ۔ (۲۲)
ترجمہ: حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ محمد (ﷺ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ میں نے کہا تو پھر اللہ تعالیٰ کے ارشاد لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُو ہُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارَ کا کیا مطلب ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ افسوس ہے (تجھے اس کا صحیح علم نہیں ) اس سے مراد یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حقیقی نور سے تجلی فرمائی (تو اس لمحہ کسی کو یارائے نظر نہیں ہوسکتا) محمد(ﷺ) نے تو بلا شبہ دو مرتبہ اپنے رب کا دیدار کیاہے۔
عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ ’’ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اْخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی ۔ فَاَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہٖ مَآ اَوْحیٰ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ فَقَالَ بْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ رَاٰہُ النَّبِیُّ ﷺ۔ (۲۳)
(ہذا حدیث حسن)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْسَعِیْدٍ الْاَشَجُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْخَالِدٍ عَنْ مُوْسیٰ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ کَعْبٍ، قَالَ: قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ: رَأَیْتُہٗ بِفُؤَادِیْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ قَرَأَ مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی۔ (۲۴)
ترجمہ: محمد بن کعب سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ جواب میں حضوؐر نے فرمایا ’’ میں نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا ہے۔‘‘پھر آپ نے آیت مَاکَذَبَ الفُؤَادُ مَارَاٰیپڑھی۔
۹۷۔ ترجمہ: نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوذرؓ کا قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ ’’رسول اللہؐ نے اپنے رب کو دل سے دیکھا تھا، آنکھوں سے نہیں دیکھا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۵،النجم حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱) وَرُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ اَخْرَجَ النَّسَائِیُّ عَنْہُ اَنَّہٗ قَالَ رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَبَّہٗ بَقَلْبِہٖ وَلَمْ یَرَہٗ بِبَصَرِہٖ۔
(۲) اَخْرَجَ عَبْدُبْنُ حُمَیْدٍ ، وَابْنُ الْمُنْذِرِ،وَابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ عَنْہُ اَنَّہٗ قَالَ: قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ رَأَیْتَ رَبَّکَ: قَالَ: رَأَیْتُہٗ بِفُؤَادِی مَرَّتَیْنِ۔ وَلَمْ اَرَہٗ بِعَیْنَیَّ ثُمَّ قَرَأَمَا کَذَبَ الْفُؤَادُمَارَاٰی۔ (۲۵)
ترجمہ: عبدبن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم کی متفقہ روایت ہے کہ صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ فرمایا ’’ میں نے اپنے دل سے دو مرتبہ دیکھا ہے اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا۔‘‘ پھر آیت مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی پڑھی۔
۹۸۔ ابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح کے حوالہ سے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھا تھا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ اَبِیْ رِزمَۃَ وَاَبُوْ نُعَیْمٍ عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال: مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی قَالَ: رَاٰہُ بِقَلْبِہٖ۔(۲۶)
(ہٰذَا حدیث حسن)
ترجمہ: حضرت عکرمہ نے مَاکَذَبَ الْفُؤَادُمَا رَاٰی کی تفسیر ابن عباسؓ کے حوالہ سے بیان کی ہے کہ ’’ آپؐ نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا۔‘‘

عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَاٰہُ بِقَلْبِہٖ۔ (۲۷)
ترجمہ: حضرت عطاء نے ابن عباس کے حوالہ سے بیان کیا کہ ’’ آپؐ نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا۔‘‘
(۲) رَوٰی ذٰلِکَ ابْنُ مَرْدُوَیْہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ مروی اَیْضًا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَاَحْمَدَبْنِ حَنْبَلٍ وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ رَاٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِہٖ۔
ترجمہ: ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے اسی طرح حضرت ابن مسعودؓ ، حضرت ابوہریرہؓ اور احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے کہ آپؐ نے اپنے رب کو دل سے دیکھا۔
۹۹۔ محمد بن کعب القرظی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے بعض صحابہؓ نے پوچھاآپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا۔ ’’ میں نے اس کو دو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا۔‘‘ (ابن ابی حاتم)
تخریج: عَنِ ابْنِ حُمَیْدٍ، عَن مِہْرَانَ مُوْسیٰ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ کَعْبٍ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ: لَمْ اَرَہٗ بِعَیْنَیَّ وَرَأَیْتُہٗ بِفُؤَادِیْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ تَلَاثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔
ترجمہ: محمد بن کعب نے بعض اصحاب نبیؐ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! (ﷺ) ’’کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔‘‘ فرمایا ’’ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا البتہ دل سے دو مرتبہ دیدار نصیب ہوا ہے۔‘‘ پھر آیت دَنَافَتَدَلّٰی پڑھی۔
۱۰۰۔ اس روایت کو ابن جریر نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا ’’ میں نے اس کو آنکھ سے نہیں بلکہ دل سے دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم حاشیہ:۱۴)
۱۰۱۔ ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے امام مسلم کتاب الایمان میں یہ روایت لائے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا مَا انْتَہیٰ اِلَیْہِ بَصَرٌ مِّنْ خَلْقِہٖ ’’اللہ تعالیٰ تک اس کی مخلوق میںسے کسی کی نگاہ نہیں پہنچی۔ ‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاَبُوْ کُرَیْبٍ، قَالَا: نَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: نا الْاَعْمَشُ عَن عَمروبْنِ مُرَّۃَعَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہٗ اَنْ یَنَامَ یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہٗ یُرْفَعُ اِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّہَارِ وعَمَلُ النَّہَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّیْلِ حِجَابُہُ النُّوْرُ۔ وَفِیْ رِوَایَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ النَّارُ لَوْ کَشَفَہٗ لَاَحْرَقَتْ سُبْحَانُ وَجْہِہٖ مَا انْتَہیٰ اِلَیْہِ بَصُرُہٗ مِنْ خَلْقِہٖ۔ (۲۸)
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ: رسول اللہ ﷺ ایک روز ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں ارشاد فرمائیں فرمایا: لاریب اللہ تعالیٰ کو نیند لاحق نہیں ہوتی۔ اور سوجانا اس کی شان کے شایان بھی نہیں۔ وہی میزان عدل کو نیچے اور اوپر کرتا ہے۔ انسانوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اس کے حضور پیش کردیے جاتے ہیں۔ اور اس کا پردہ نور ہے۔ اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ اس کا پردہ آگ ہے اگر وہ اس پردے کو ہٹادے تو اس کے چہرے کی شعاعیں مخلوق کو جلاکر خاکستر کردیں، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے۔
۱۰۲۔ ترجمہ: طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا، ایک مرتبہ آنکھوں سے اور دوسری مرتبہ دل سے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج: رِوَایَۃٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَخْرَجَ الطَّبَرَانِیُّ وَابْنُ مَرْدُوَیْہ عَنْہُ اَنَّہٗ قَالَ: اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاٰی رَبَّہٗ عَزَّوَجَلَّ مَرَّتَیْنِ مَرَّۃً بِبَصَرِہٖ وَمَرَّۃً بِفُؤَادِہٖ۔ (۲۹)
۱۰۳۔ترجمہ: نسائی میں عکرمہ کی روایت ہے کہ ابن عباس نے فرمایا: اَتَعْجَبُوْنَ اَنْ تَکُوْنَ الْخُلَّۃُ لِاِبْرَاہِیْمَ وَالْکَلَامُ لِمُوْسیٰ وَالرُّؤْیَۃُ لِمُحَمَّدٍ؟’’کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلام سے سرفراز کیا اور محمد ﷺ کو رویت کا شرف بخشا۔‘‘ (حاکم نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے)۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ:۱۴)
تخریج: (۱) قَالَ النَسَائِیُّ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُبْنُ ہِشَامٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:اَتَعْجَبُوْنَ اَنْ تَکُوْنَ الْخُلَّۃُ لِاِبْرَاہِیْمَ وَالْکَلَامُ لِمُوْسیٰ، والرُّؤْیَۃُ لِمُحَمَّدٍ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ۔ (۳۰)
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اِسْحَاقَ الْفَقِیْہ اَنْبَأَہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ السَّدُوْسِیُّ، ثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ ثَنَاہِشَامُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: وَاَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ زِیَادٍ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَسَارٍ وَمُحَمَّدُبْنُ المُثَنّٰی، قَالَ: ثَنَآ مُعَاذُبْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: اَتَعْجَبُوْنَ اَنْ تَکُوْنَ الْخُلَّۃُ لِاِبْرَاہِیْمَ وَالْکَلَامُ لِمُوْسیٰ وَالرُّؤْیَۃُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ (۳۱) (ہذا حدیث صحیح علی شرط البخاری ولم یخرجاہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفیٰ اِبْرَاہِیْمَ بِالْخُلَّۃِ وَاصْطَفیٰ مُوْسیٰ بِالْکَلَامِ واصْطَفیٰ مُحَمَّدًا بِا لرُّؤْیَۃِ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ۔ (۳۲)
۱۰۴۔ ترجمہ: ابن عباسؓ نے ایک مجلس میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت اور اپنے کلام کو محمد ﷺ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کردیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے دو مرتبہ کلام کیا، اور محمد ﷺ نے دو مرتبہ اس کو دیکھا۔‘‘ ابن عباس کی اس گفتگو کو سن کر مسروق حضرت عائشہؓ کے پاس گئے تھے اور ان سے پوچھا تھا۔ (ان کا سوال جواب مندرجہ بالا ابتدائی احادیث میں نقل کردیا گیا ہے)۔
تخریج: حَدَّثَنَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، نَا سُفْیَانُ، عَنْ مَجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: لَقِیَ ابْنُ عَبّاسٍ کَعْبًا بِعَرَفَۃَ فَسَاَلَہٗ عَنْ شَیْیٍٔ فَکَبَّرَ حَتّٰی جَاوَبَتْہُ الْجِبَالُ فَقَالَ بْنُ عَبَّاسٍ: اَنَا بَنُوْ ہَاشِمٍ فَقَالَ کَعْبٌ: اِنَّ اللّٰہَ قَسَّمَ رُؤْیَتَہٗ وَ کَلَامَہٗ بَیْنَ مُحَمَّدٍ وَّمُوْسیٰ فَکَلَّمَ مُوْسیٰ مَرَّتَیْنِ وَرَاٰہُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَیْنِ۔
فَقَالَ مَسْرُوْقٌ: فَدَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: ہَلْ رَاٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَکَلَّمْتَ بِشَیٍْٔ قَفَّ لَہٗ شَعْرِیْ قُلْتُ : رُوَیْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ فَقَالَتْ: اَیْنَ یُذْ ہِبُ بِکَ؟ اِنَّمَا ہُوَجِبْرِیْلُ۔ مَنْ اَخْبَرَکَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَاٰی رَبَّہٗ اَوْ کَتَمَ شَیْأً مِمَّا اُمِرَ بِہٖ اَوْ یَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِیْ قَالَ اللّٰہُ ’’اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ فَقَدْ اَعْظَمَ الْفِرْیَۃَ وَلٰکِنَّہٗ رَاٰی جِبْرِیْلَ لَمْ یَرَہٗ فِیْ صَوْرَتِہٖ اِلَّا مَرَّتَیْنِ مَرَّۃَ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہیٰ وَمَرَّۃً فِیْ جِیَادٍ لَہٗ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّالْاُفُقَ۔ (۳۳)
وقد روی داؤد بن ابی ہند عن الشعبی عن مسروق عن عائشۃ ان النبی ﷺ نحو ہذا الحدیث وحدیث داؤد اقصر من حدیث مجالد۔
۱۰۵۔ ترمذی میں دوسری روایات جو ابن عباسؓ سے منقول ہوئی ہیں ان میں سے ایک میں وہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔ دوسری میں فرماتے ہیں دو مرتبہ دیکھا تھا اور تیسری میں ان کا ارشاد یہ ہے کہ آپؐ نے اللہ کو دل سے دیکھا تھا۔ (تفہیم القرآن، ج ۵ النجم، حاشیہ:۱۴)
۱۰۶۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَأَیْتُ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ۔
ترجمہ : مسند احمد میں ابن عباس کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم ، حاشیہ: ۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَسْوَدُبْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عِکْرِمَۃ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: رَأَیْتُ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ۔(۳۴)
وَقَدْ سَمِعْتُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ اَبِیْ، اَمْلیٰ عَلَیَّ فِیْ مَوْضِعٍ اٰخَرَ۔
۱۰۷۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اَتَانِیْ اللَّیْلَۃَ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ۔ احْسِبُہٗ یَعْنِیْ فِی النَّوْمِ۔
ترجمہ: (ابن عباس کی دوسری روایت) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ آج رات میرا رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضوؐر کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ خواب میں آپؐ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ ‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ: ۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَایَحْیٰ بْنُ سَعِیْدٍ، عَن سُفْیَانَ، عَنِ الْاَعْمَشِ نَحْوَہٰذَا الْحَدِیْثِ، وَقَالَ یَحْیٰ بْنُ عُمَارَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَن مَعْمَرٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَتَانِیْ فِی اللَّیْلَۃِ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ قَالَ: اَحْسِبُہٗ قَالَ: فِی الْمَنَامِ۔ (۳۵) (الحدیث)
۱۰۸۔ حَتّٰی جَآئَ سِدْرَۃَ الْمُنْتَہیٰ وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَلّٰی حَتّٰی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ فَاَوْحَی اللّٰہُ فِیْمَا اَوْحیٰ اِلَیْہِ خَمْسِیْنَ صَلوٰۃً۔
ترجمہ: حضرت انسؓ بن مالک کی ایک روایت جو قصۂ معراج کے سلسلے میں شریک بن عبداللہ کے حوالے سے امام بخاریؒ نے کتاب التوحید میں نقل کی ہے۔ اس میں یہ الفاظ آتے ہیں۔ جب آپ سدرۃ المنتہیٰ پرپہنچے تو اللہ رب العزت آپؐ کے قریب آیا اور آپؐ کے اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ آپؐ کے اور اس کے درمیان بقدر دو کمان یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا، پھر اللہ نے آپؐ پر جو امور وحی فرمائے ان میں سے ایک ۵۰ نمازوں کا حکم تھا۔
تشریح: (مندرجہ بالا روایت پر) علاوہ ان اعتراضات کے جو اس روایت کی سند اور مضمون پر امام خطابی ، حافظ ابن حجر، ابن حزم اور حافظ عبدالحق وصاحب الجمع بین الصحیحین نے کیے ہیں، سب سے بڑا اعتراض اس پر یہ وارد ہوتا ہے کہ یہ صریح قرآن کے خلاف پڑتی ہے کیونکہ قرآن مجید دو الگ الگ روئتوں کا ذکرکرتا ہے، جن میں سے ایک ابتداء ً افق اعلیٰ پر ہوئی تھی اور پھر اس میں دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ کا معاملہ پیش آیا تھا، اور دوسری سدرۃ المنتہیٰ کے پاس واقع ہوئی تھی۔ لیکن یہ روایت ان دونوں رؤیتوں کو خلط ملط کرکے ایک رؤیت بنادیتی ہے اس لیے قرآن مجید سے متعارض ہونے کی بنا پر اس کو تو کسی طرح قبول ہی نہیں کیا جاسکتا۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ سُلَیْمَانُ عَنْ شَرِیْکِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ،قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: لَیْلَۃُ اُسْرِیَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَۃِ …… ثُمَّ عَلَابِہٖ فَوْقَ ذٰلِکَ بِمَا لَا یَعْلَمُہٗ اِلَّا اللّٰہُ حَتّٰی جَائَ سِدْرَۃَ الْمُنْتَہیٰ وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَلّٰی حَتّٰی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ ۔ فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلَیْہِ فِیْمَا یُوْحِی اللّٰہُ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً عَلیٰ اُمَّتِکَ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ۔ (۳۶)

روایات کا ماحصل

اب رہیں وہ دوسری روایات جو ہم نے اوپر نقل کی ہیں تو ان میں سب سے زیادہ وزنی روایتیں وہ ہیں جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عائشہؓ سے منقول ہیں۔ کیوں کہ ان دونوں نے بالاتفاق خود رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ان دونوں مواقع پر آپؐ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا، اور یہ روایت قرآن مجید کی تصریحات اور اشارات سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں۔ مزید برآں ان کی تائید حضوؐر کے ان ارشادات سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے آپؐ سے نقل کیے ہیں۔ اس کے برعکس حضرت عبداللہ بن عباس سے جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں۔ ان میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔ کسی میں وہ دو رؤیتوں کو عینی کہتے ہیں، کسی میں دونوں کو قلبی قرار دیتے ہیں، کسی میں ایک کو عینی اور دوسری کو قلبی بتاتے ہیں، اور کسی میں عینی رؤیت کی صاف صاف نفی کردیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں ہے جس میں وہ رسول اللہ ﷺ کا اپنا کوئی ارشاد نقل کررہے ہوں۔ اور جہاں انھوں نے خود حضوؐر کا ارشاد نقل کیا ہے، وہاں اوّل تو قرآن مجید کی بیان کردہ ان دونوں رؤیتوں میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں ہے اور مزید برآں ان کی ایک روایت کی تشریح دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضوؐر نے کسی وقت بحالت بیداری نہیں بلکہ خواب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔اس لیے درحقیقت ان آیات کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منسوب روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح محمد بن کعب القرظی کی روایات بھی، اگرچہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد نقل کرتی ہیں، لیکن ان میں ان صحابۂ کرام کے ناموں کی کوئی تصریح نہیں ہے جنھوں نے حضوؐر سے یہ بات سنی، نیز ان میں سے ایک میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضوؐر نے عینی رؤیت کی صاف صاف نفی فرمادی تھی۔
(چنانچہ ان روایات سے اس بات کی تصریح ہوجاتی ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپؐ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھاوہ بھی اللہ نہ تھا اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا تھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپؐ نے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جلّ شانہٗ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی بڑی بات تھی کہ ضرور اس کی تصریح کردی جاتی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تھی، اور انھیں جواب دیا گیا تھا کہ لَنْ تَرَانِیْ ’’ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ (الاعراف :۱۴۳) اب یہ ظاہر ہے کہ اگر یہ شرف، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا نہیں کیا گیا تھا، رسول کریم ﷺ کو عطا کردیا جاتا تو اس کی اہمیت خود ایسی تھی کہ اسے صاف الفاظ میں بیان کردیا جاتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ حضوؐر نے اپنے رب کو دیکھا تھا، بلکہ واقعۂ معراج کا ذکر کرتے ہوئے سورۂ بنی اسرائیل میں بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے کہ ’’اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘ (لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیَاتِنَا)اور یہاں سدرۃ المنتہیٰ پر حاضری کے سلسلے میں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ’’ اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں‘‘ (لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ)۔
(تفہیم القرآن، ج ۵، النجم، حاشیہ:۱۴)

ماٰخذ

(۱) ابوداؤد کتاب الأیمان والنذ ور باب فی الرقبۃ المؤمنۃ۔٭ مسند احمد ، ج ۲، مرویات ابی ہریرۃؓ۔
(۲) ابوداؤد کتاب الأیمان والنذور باب فی الرقبۃ المومنۃ۔
(۳) مؤطا امام مالک کتاب العتاقۃ والولاء۔
(۴) مؤطا امام مالک کتاب العتاقۃ والولاء۔
(۵) تنویرالحوالک للسیوطی حاشیہ مؤطا امام مالک ، ج ۲۔
(۶) بخاری، ج۲، کتاب التفسیر، سورۃ النجم ٭مسند ابی عوانۃ ، ج ۱۔
(۷) بخاری، ج ۲، کتاب التوحید باب قول اللّٰہ عالم الغیب فلایظہر عَلیٰ غیبہ احدا ٭قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ تفسیر ابن جریر میں بھی یہ روایت درج ہے۔ ابن جریر، ج ۱۱ سورۃ النجم۔
(۸) بخاری، ج ۲، کتاب بدأ الخلق باب اذا قال احد کم آمین والملائکۃ فی ا لسماء آمین الخ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قول اللّٰہ عزوجل ولقد رَاٰہ نزلۃ اخری ٭ تفسیر ابن جریر، ج ۱۱، سورۃ النجم ٭ ابن کثیر، ج ۴، سورۃ النجم۔
(۹) ابن کثیر ، ج ۴، النجم، بحوالہ ابن ابی حاتم ٭ تفسیر ابن جریر، ج ۱۱، پ:۲۷، سورۃ النجم ٭ فتح القدیر، ج۴، بحوالہ طبرانی ، ابوالشیخ فی العظمۃ ٭مسند احمد، ج ۱، عبداللّٰہ بن مسعود ٭مسند ابی عوانۃ، ج ۱ ٭ طبرانی ، ابوالشیخ فی العظمۃ بحوالہ فتح القدیر، ج ۴۔
(۱۰) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب قول اللّٰہ عزوجل ولقد راٰہُ نزلۃ اخری وہل رای النبی ﷺ ربہ لیلۃ الاسراء ٭ تفسیر ابن جریر، ج ۱۱، سورۃ النجم ٭ روح المعانی جز ۲۷، سورۃ النجم ٭ ابن کثیر، ج ۴۔
(۱۱) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النجم ٭المستدرک للحاکم، ج ۲، کتاب التفسیر ٭مسند احمد، ج ۱، روایت عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن حمید ، ابن منذر، الطبرانی، ابوالشیخ فی العظمۃ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج۵، بحوالہ عبداللّٰہ بن حمید، بن المنذر، الطبرانی، ابوالشیخ فی العظمۃ ابن مردویہ ابو نعیم اور بیہقی۔
(۱۲) روح المعانی، ج ۲۷، سورۃ النجم بحوالہ ابن مردویہ۔
(۱۳) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ فکان قاب قوسین اوادنیٰ ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قول اللّٰہ عَزّ وجل ولقد راہ نزلۃ اخریٰ٭ ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النجم، ج ۲ ٭ مسند ابی عوانۃ ، ج ۱ ٭تفسیر ابن جریر، ج ۱۱ ٭ روح المعانی، جز ۲۷، سورۃ النجم ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، سورۃ النجم۔
(۱۴) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر، باب قولہ تعالیٰ فکان قاب قوسین اوادنیٰ ٭ مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قول اللّٰہ عزوجل ولقد رَاٰہ نزلۃ اخریٰ ٭ترمذی، ابواب التفسیر سورۃ النجم، ج ۲ ٭ مسند ابی عوانۃ ، ج ۱۔
(۱۵) مسند احمد، ج ۱، روایت عبداللّٰہ بن مسعود ٭ ابن کثیر، ج ۴ ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، سورۃ النجم، بحوالہ ابن جریر، اورابوالشیخ۔
(۱۶) مسند احمد، ج ۱، ابن مسعود۔
(۱۷) مسند احمد، ج ۱، روایت عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۱۸) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قول اللّٰہ عَزّوَجَلَّ وَلقد راٰہ نزلۃ اخرٰی۔
(۱۹) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قوم اللّٰہ عزوجل ولقد رَاٰہ نزلۃ اُخْرٰی وہل راٰی النبی ﷺ ربہ لیلۃ الاسراء ٭ترمذی ابوب التفسیر سورۃ النجم ٭ مسند احمد، ج۵، ابوذرغفاری ٭فتح القدیر، ج ۵، سورۃ النجم بحوالہ ابن مردویہ۔ مسند ابی عوانہ ج ۱، قول النبی نورانّٰی اراہ۔
(۲۰) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قلوْلَ اللّٰہ عَزَّوجل ولقد راہ نزلۃ اخریٰ وہل رای النبی ﷺ ربہ لیلۃ الاسریٰ ٭ترمذی ابواب التفسیر، سورۃ النجم ٭ فتح القدیر للشَّوکانی، ج ۵، سورۃ النجم، بحوالہ ابن مردویہ۔
(۲۱) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قول اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وَلَقَدْ رَاٰہُ ونَزْلَۃً اُخْریٰ ٭ مسند احمد، ج ۱، عن ابن عباس قال رَاٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہٗ عَزَّوَجَلَّ بِقَلْبِہٖ مَرَّتَیْنِ ٭ فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، بحوالہ طبرانی ، ابن مردویہ بیہقی فی الاسماء والصفات۔
(۲۲) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النجم ٭ ابن کثیر، ج ۴۔
(۲۳) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النجم۔
(۲۴) ابن کثیر ، ج ۴، سورۃ النجم بحوالہ ابن ابی حاتم۔
(۲۵) روح المعانی، ج ۲۷ ٭ مسند ابی عوانۃ، ج ۱۔
(۲۶) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النجم ٭ تفسیر ابن جریر، ج ۱، سورۃ النجم۔
(۲۷) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب معنی قول اللّٰہ عزوجل ولقد راہ نزلۃ اخریٰ۔
(۲۸) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب اثبات رویۃ المومنین فی الآخرۃ ربہم سبحانہ وتعالیٰ ٭ ابن ماجہ المقدمۃ باب فیما انکرت الجہمیۃ ۔
(۲۹) روح المعانی، ج ۲۷، بحوالہ طبرانی ، ابن مردویہ ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، سورۃ النجم۔
(۳۰) تفسیر ابن کثیر ج ۴، سورۃ النجم ٭ فتح القدیر للشوکانی ج ۵، سورۃ النجم۔ بحوالہ ابن مردویہ۔
(۳۱) المستدرک للحاکم جلد۱، کتاب الایمان راٰی محمد ﷺ رَبَّہٗ اور جلد ۲۔
(۳۲) تفسیر ابن جریر، جلد ۱۱، سورۃ النجم ٭ مجمع الزوائد ، ج ۱ (مختصر)۔
(۳۳) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ النجم ٭ ابن کثیر، ج ۴، سورۃ النجم۔
(۳۴) مسند احمد ج ۱۔
(۳۵) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ صٓ ٭ مسند احمد ج ۱، ابن عباس٭ ابن کثیر ج ۴۔
(۳۶) بخاری، ج ۲، کتاب التوحید باب قول اللّٰہِ وکلَّم اللّٰہ موسیٰ تکلیماً۔

آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ

آخرت میں دیدار الٰہی کی کیفیت

۱۰۹۔ اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ عِیَانًا۔
ترجمہ: (حضوؐر نے فرمایا ہے کہ ) ’’تم اپنے رب کو علانیہ دیکھو گے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۶، القیامۃ، حاشیہ: ۱۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ یُوْسُفَ الْیَرْبُوْعِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ شِہَابٍ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَن قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ جَرِیْرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ عِیَانًا۔ (۱)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْجُعْفِیُّ عَنْ زَائِدَۃ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَیَانُ ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ،قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کَمَا تَرَوْنَ ہٰذَا لآ تُضَآمُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہٖ۔ (۲)
ترجمہ: حضرت جریر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک چاندنی رات میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’قیامت کے روز تم اپنے رب کو (بغیر کسی مزاحمت و رکاوٹ کے) اسی طرح دیکھو گے جس طرح چودھویں کے اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کی رؤیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَآرِیُّ، قَالَ: اَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ خَالِدٍ: قَالَ: نَا قَیْسُ بْنُ اَبِیْ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ، جَرِیْرَبْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَہُوَ یَقُوْلُ: کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِذْنَظَرَ اِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ فَقَالَ: اَمَا اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہٰذَا الْقَمَرَ لَا تَضَآمُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہٖ فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلیٰ صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا یَعْنِی الْفَجْرَ وَالْعَصْرَثُمَّ قَرَأَجَرِیْرٌ فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا۔(۳)
ترجمہ: جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپؐ کی نظر چودھویں کے چاند کی جانب اٹھ گئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تم اپنے رب کو (قیامت کے روز) اسی طرح دیکھو گے جس طرح بلا کسی مزاحمت کے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ لہٰذا ممکن حد تک صلاۃ فجر و مغرب کا خیال رکھو۔‘‘ پھر حضرت جریر بن عبداللہ نے قرآن پاک کی آیت فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا پڑھی۔ یعنی طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کی۔
(۴) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنا سُفْیَانُ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہٗ سَمِعَہٗ یُحَدِّثُ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اَنَریٰ رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ہَلْ تَضَآرُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ الشَّمْسِ فِی الظَّہِیْرَۃِ لَیْسَتْ فِی سَحَابَۃٍ؟ قَالُوا : لَا، قَالَ: ہَلْ تَضَآرُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ الْقَمْرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِلَیْسَ فِی سَحَابَۃٍ؟ قَالُوْا: لَا، قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَا تُضَآرُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہٖ اِلَّا کَمَا تَضَآرُّوْنَ فی رُؤْیَۃِ اَحَدِہِمَا۔ (۴)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے رسولِ ؐ خدا کیا ہم قیامت کے روز اپنے رب کو دیکھیں گے۔ آپؐ نے ان سے پوچھا بتائو دوپہر کا وقت ہو، مطلع بالکل صاف ہو، ابر آلود نہ ہو اس وقت تمہیں سورج کے دیکھنے میں کسی قسم کی مزاحمت ، دقت یا رکاوٹ پیش آتی ہے؟ پھر استفسار فرمایا کہ چاند چودھویں رات کا ہو ، آسمان پر بادل بھی نہ ہوں تو کیا رویت قمر میں تمہیں کوئی مزاحمت پیش آتی ہے؟ انھوں نے عرض کیا۔ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات اقدس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، تمہیں بھی (روز قیامت) رویت باری تعالیٰ میں اسی طرح کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی جس طرح ان دونوں کی رویت میں رکاوٹ پیش نہیں آتی۔‘‘
(۵) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثنا یَزِیْدُبْنُ ہَارُوْنَ، انا حَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ وَکِیْعِ ابْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّہٖ اَبِیْ رَزِیْنٍ، قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنَرَی اللّٰہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ وَمَا آیَۃُ ذٰلِکَ فِیْ خَلْقِہٖ؟ قَالَ: یَا اَبَارَزِیْنٍ! اَلَیْسَ کُلُّکُمْ یَرَی الْقَمَرَ مُخْلِیًا بِہٖ؟ قَالَ: قُلْتُ، بَلیٰ، قَالَ: فَاللّٰہُ اَعْظَمُ، وَذٰلِکَ آیَۃٌ فِیْ خَلْقِہٖ۔ (۵)
ترجمہ: حضرت ابورزین سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا ہم کو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا؟ (اگر ہوگا) تو اس کی مخلوق کی مثال سے ذرا سمجھادیجیے۔ حضوؐر نے جواب میں ارشاد فرمایا۔’’ اے ابورزین چاند جب چودھویں کا ہو اور سب سے الگ نمایاں ہو تو کیا تم میں سے ہر ایک اسے نہیں دیکھتا؟‘‘ ابورزین کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا ’’ہاں‘‘ فرمایا ’’تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی تو بہت عظیم ہے۔ اس کی مخلوق میں یہ چاند اس بات کی مثال ہے۔‘‘
ابوداؤد میں ہُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ، فاللّٰہ اَجَلُّ واعظم کا اضافہ ہے۔
۱۱۰۔ ترجمہ: بخاری مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم قیامت کے روز اپنے رب کو دیکھیں گے؟ حضور نے فرمایا: کیا تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے میںکوئی دقت ہوتی ہے جب کہ بیچ میں بادل بھی نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھو گے۔
اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک اور روایت بخاری و مسلم میں حضرت جریر بن عبداللہ سے مروی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ، حاشیہ: ۱۷)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدِبْنِ یَزِیْدَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ہِلَالٍ،عَنْ زیْدٍ، عَنْ عَطَآئِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلْ نَرٰی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ہَلْ تَضَآرُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ الشَّمْسِ اِذَا کَانَتْ ضَحْوًا؟ قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَاِنَّکُمْ لَا تَضَآرُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ رَبِّکُمْ یَوْمَئِذٍ اِلَّا کَمَا تَضَآرُّوْنَ رُؤْیتَہَا۔ (۶) (الحدیث)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول ؐ اللہ! کیا ہم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ آپؐ نے فرمایا ’’ جب سورج چاشت کے وقت پوری طرح روشن ہو تو اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت پیش آتی ہے؟ ‘‘ عرض کیا نہیں، آپؐ نے فرمایا: ’’ اس روز تم اپنے رب کو اسی طرح بغیر کسی روکاوٹ کے دیکھو گے جس طرح اس سورج کو دیکھ رہے ہو۔‘‘
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اِنَّ النَّاسَ قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلْ نَریٰ رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ہَلْ تَضَآرُّوْنَ فِی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ؟ قَالُوْا لَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: فَہَلْ تَضَآرُّوْنَ فِی الشَّمْسِ لَیْسَ دُوْنَہَا اسَحَابٌ ؟ قَالُوْا لَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: فَاِنَّکُمْ تَرَوْنَہٗ ۔ (۷) (الحدیث)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ! کیا ہمیں قیامت کے دن ہمارے پروردگار کا دیدار نصیب ہوگا؟ آپ نے فرمایا، ’’کیا تمہیں چودھویں کے بے حجاب چاند کو دیکھنے میں رکاوٹ یا دقت محسوس ہوتی ہے۔ عرض کیا یا رسول اللہ نہیں۔پھر آپؐ نے فرمایا جب مطلع ابر آلود نہ ہو اور سورج اپنی تابانیاں دکھا رہا ہو اس وقت اسے دیکھنے میں کوئی دقت محسوس کرتے ہو؟ عرض کیا نہیں، فرمایا ’’ تو تم اسی طرح عیاں طور پر اپنے رب کا دیدار کروگے۔‘‘
۱۱۱۔ترجمہ: مسلم اور ترمذی میں حضرت صہیبؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں مزید کچھ دوں؟ وہ عرض کریں گے کیا آپ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیے؟ کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کردیا اور جہنم سے بچا نہیں لیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا اور ان لوگوں کو جو کچھ انعامات ملے تھے ان میں سے کوئی انعام بھی انھیں اس سے زیادہ محبوب نہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کی دید سے مشرف ہوں، اور یہی وہ مزید انعام ہے جس کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا ہے کہلِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنی وَزِیَادَۃٌ یعنی ’’جن لوگوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے اچھا اجر ہے اور اس پر مزید بھی۔‘‘ (یونس :۲۶)
(تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ ، حاشیہ:۱۷)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیٍّ، قَالَ: نَا حَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتِ الْبَنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ صُہَیْبٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ قَالَ: یَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ تُرِیْدُوْنَ شَیْئًا اَزِیْدُکُمْ؟فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا؟ اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ؟ وَتُنْجِنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا اُعْطُوا شَیْئًا اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظْرِ اِلیٰ رَبِّہِمْ وَہِیَ الزِّیَادَۃُ ثُمَّ تَلَاہٰذِہِ الْاٰیَۃَ: لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنیٰ وَزِیَادَۃٌ۔ (۸)
(۲) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بْنُ وَہْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ زَیْدِبْنِ اَسَلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ،قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ لِاَہْلِ الْجَنَّۃِ یَااَہْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَاوَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِیْ یَدَیْکَ فَیَقُوْلُ: ہَلْ رَضِیْتُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَا لَنَا لَا نَرضیٰ یَا رَبِّ وَقَدْ اَعْطَیْتَنَامَالَمْ تُعْطِ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ: اَلَا اُعْطِیْکُمْ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: یَا رَبِّ وَاَیُّ شَیٍْٔ اَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ؟ فَیَقُوْلُ: اُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِیْ فَلَا اَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ اَبَدًا۔ (۹)
ترجمہ: حضرت ابوسعیدؓ خدری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا کہ اے اہل جنت! وہ عرض کریں گے۔ اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں سعادت تیرے ہاتھ میں ہے اور بھلائی کا تو ہی مالک ہے۔ ارشاد ربانی ہوگا کیا تم راضی ہو، عرض کریں گے کیا وجہ ہے کہ ہم راضی نہ ہوں اے ہمارے پروردگار جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں ایسی چیز عطا نہ کروں جو اس سے افضل ہے۔‘‘ عرض کریں گے پروردگار وہ کون سی چیز ہے جو اس سے افضل ہے؟ ارشاد ہوگا ’’میری رضا، یعنی میں اب تم سے ہمیشہ راضی رہوں گا اور کبھی ناراض نہ ہوں گا۔‘‘
۱۱۲۔ ترجمہ: (مسند احمد، ترمذی، دارقُطنی، ابن جریر، ابن المُنذِر، طَبَرانی، بیہقی، ابن ابی شَیبہ اور بعض دوسرے محدثین نے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ) اہل جنت میں کم سے کم درجے کا جو آدمی ہوگا وہ اپنی سلطنت کی وسعت دوہزار سال کی مسافت تک دیکھے گا، اور ان میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہرروز دو مرتبہ اپنے رب کو دیکھیں گے۔ پھر حضوؐر نے یہ آیت پڑھی کہ ’’اُس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ ، حاشیہ: ۱۷)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَبُومُعَاوِیَۃَ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ اَبْجَرَ عَنْ ثُوَیْدِبْنِ اَبِی فَاخِتَۃَ ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اَدْنیٰ اَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً لَیَنْظُرُفِیْ مُلْکٍ اَلْفَیْ سَنَۃٍ یَریٰ اَقْصَاہُ کَمَا یَریٰ اَدْنَاہُ یَنْظُرُفِیْ اَزْوَاجِہٖ وَخَدَمِہٖ۔ وَاِنَّ اَفْضَلَہُمْ مَنْزِلَۃً لَیَنْظُرُفِی وَجْہِ اللّٰہِ تَعَالیٰ کُلَّ یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ۔ (۱۰)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُبْنُ حُمَیْدٍ، اَخْبَرَنِیْ شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ ثُوَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اَدْنیٰ اَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً لَمَنْ یَنْظُرُ اِلیٰ جِنَانِہٖ وَزَوْجَاتِہٖ وَنَعِیْمِہٖ وَخَدَمِہٖ وَسُرُرِہٖ مَسِیْرَۃَ اَلْفِ سَنَۃٍ، وَاَکْرَمَہُمْ عَلَی اللّٰہِ مَنْ یَنْظُرُ اِلیٰ وَجْہِہٖ غُدْوَۃً وَعَشِیَّۃً ثُمَّ قَرَأَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍنَّاضِرَۃٌ اِلیٰ رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ (۱۱)
ترجمہ: حضرت ثویر سے مروی ہے کہ: میں نے ابن عمر کو یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ اہل جنت میں سے کم سے کم درجہ کا جو آدمی ہوگا وہ بھی اپنے باغات ، اپنی بیویاں ، اپنی عطا شدہ نعمتیں اور اپنے خادم اور اپنے پلنگ ہزار سال کی مسافت سے دیکھے گا اور ان میں سے سب سے معزز آدمی وہ ہوگا جو صبح و شام دیدار الٰہی سے لطف اندوز ہوگا۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے سورہ قیامہ کی آیت پڑھی: اس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
وقد روی ہذا الحدیث من غیر وجہ عن اسرائیل عن ثویر عن بن عمر مرفوعًا۔ ورواہ عبدالملک بن اَبْجَرَ عن ثویر عن ابن عمر مرفوعًا۔ ورواہ عبید اللّٰہ الاشجعی عن سفیان عن ثویر عن مجاہد عن ابن عمر قولہ ولم یرفعہ۔
۱۱۳۔ ترجمہ: ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ اللہ ان کی طرف دیکھے گا اور وہ اللہ کی طرف دیکھیں گے،پھر جب تک اللہ ان سے پردہ نہ فرمالے گا اس وقت تک وہ جنت کی کسی نعمت کی طرف توجہ نہ کریں گے اور اسی کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ، حاشیہ: ۱۷)
تشریح: (حضوؐر کی ان احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے) کہ آخرت میں اللہ کے مکرم بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔ اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے کہ کَلَّا اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ’’ہر گز نہیں، وہ (یعنی فجار) اس روز اپنے رب کی دید سے محروم ہوں گے۔‘‘ (المطففین:۱۵) اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ محرومی فجار کے لیے ہوگی نہ کہ ابرار کے لیے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسان خداکو دیکھ کیسے سکتا ہے؟ دیکھنے کے لیے تو لازم ہے کہ کوئی چیز کسی خاص جہت، مقام، شکل اور رنگ میں سامنے موجود ہو، روشنی کی شعاعیں اس سے منعکس ہو کر انسان کی آنکھ پر پڑیں اور آنکھ سے دماغ کے مرکز بینائی تک اس کی تصویر منتقل ہو۔ کیا اللہ رب العالمین کی ذات کے متعلق اس طرح قابل دید ہونے کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ انسان اس کو دیکھ سکے؟ لیکن یہ سوال دراصل ایک بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس میں دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کیا گیا ہے۔ ایک چیز ہے دیکھنے کی حقیقت اور دوسری چیز ہے دیکھنے کا فعل صادر ہونے کی وہ خاص صورت جس سے ہم اس دنیا میں آشنا ہیں۔ دیکھنے کی حقیقت یہ ہے کہ دیکھنے والے میں بینائی کی صفت موجود ہو، وہ نابینا نہ ہو، اور دیکھی جانے والی چیز اس پر عیاں ہو، اس سے مخفی نہ ہو۔ لیکن دنیا میں ہم کو جس چیز کا تجربہ اور مشاہدہ ہوتا ہے وہ صرف دیکھنے کی وہ خاص صورت ہے جس سے کوئی انسان یا حیوان بالفعل کسی چیز کو دیکھا کرتا ہے، اور اس کے لیے لامحالہ یہ ضروری ہے کہ دیکھنے والے کے جسم میں آنکھ نامی ایک عضو موجود ہو، اس عضو میں بینائی کی طاقت پائی جاتی ہو۔ اس کے سامنے ایک ایسی محدود مجسم رنگ دار چیز حاضر ہو جس سے روشنی کی شعاعیں منعکس ہو کر آنکھ پر پڑیں اور آنکھ میں اس کی شکل سماسکے۔ اب اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ دیکھنے کی حقیقت کا عملی ظہور صرف اسی خاص صورت میں ہوسکتا ہے جس سے ہم اس دنیا میں واقف ہیں تو یہ خود اس کے اپنے دماغ کی تنگی ہے، ورنہ درحقیقت خدا کی خدائی میں دیکھنے کی ایسی بے شمار صورتیں ممکن ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس مسئلے میں جو شخص الجھتا ہے وہ خود بتائے کہ اس کا خدا بینا ہے یا نابینا؟ اگر وہ بینا ہے اور اپنی ساری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کو دیکھ رہا ہے تو کیا وہ اسی طرح آنکھ نامی ایک عضو سے دیکھ رہا ہے جس سے دنیا میں انسان و حیوان دیکھ رہے ہیں، اور اس سے بینائی کے فعل کا صدور اسی طریقے سے ہورہا ہے جس طرح ہم سے ہوتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے اور جب اس کا جواب نفی میں ہے تو آخر کسی صاحب عقل و فہم انسان کو یہ سمجھنے میں کیوں مشکل پیش آتی ہے کہ آخرت میں اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کادیدار اس مخصوص شکل میں نہیں ہوگا جس میں انسان دنیا میں کسی چیز کو دیکھتا ہے، بلکہ وہاں دیکھنے کی حقیقت کچھ اور ہوگی جس کا ہم یہاں ادراک نہیں کرسکتے؟ واقعہ یہ ہے کہ آخرت کے معاملات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لینا ہمارے لیے اس سے زیادہ مشکل ہے جتنا ایک دو برس کے بچے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ازدواجی زندگی کیا ہوتی ہے، حالانکہ جوان ہو کر اسے خود اس سے سابقہ پیش آنا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، القیامہ ، حاشیہ:۱۷)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْد الْمَلِکِ بْنِ اَبِی الشَّوَارِبِ، ثَنَا اَبُوْعاصِمٍ اَلعَبَّادَانِیُّ ، ثَنَا الْفَضْلُ الرَّفَاشِیُّ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ الْمُنْکَدِرِ،عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَا اَہْلُ الْجَنَّۃِ فی نَعِیْمِہِمْ اِذْ سَطَعَ لَہُمْ نُوْرٌ فَرَفَعُوْا رُؤْسَہُمْ فَاِذَا الرَّبُّ قَدْ اَشْرَفَ عَلَیْہِمْ مِنْ فَوْقِہِمْ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَہْلَ الْجَنَّۃِ قَالَ: وَذٰلِکَ قَوْلُ اللّٰہِ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔ قَالَ: فَیَنْظُرُ اِلَیْہِمْ وَیَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ فَلَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلیٰ شَیٍْٔ مِنَ النَّعِیْمِ مَادَامُوْا یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ حَتّٰی یَحْتَجِبَ عَنْہُمْ وَیَبْقیٰ نُوْرُہٗ وَبَرَکَتُہٗ عَلَیْہِمْ فِیْ دِیَارِہِمْ۔ (۱۲)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ اہل جنت، اپنی نعمتوں میں مگن ہوں گے کہ اچانک ان کے سامنے ایک نور بلند ہوگا۔ یہ اپنی نظریں اوپراٹھاکر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان کا پروردگار اوپر سے جلوہ نما ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوگا اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَہْلَ الْجَنَّۃِ (جنتیو! تم پر سلامتی ہو) یہی اللہ تعالیٰ کے فرمان سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ کی تفسیر ہے۔پھر آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت کی طرف دیکھے گا اور جنتی اپنے رب کا دیدار کریں گے اور جب تک اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے رہیں گے اپنی نعمتوں کی طرف ذرہ بھر ملتفت نہ ہوں گے تاآنکہ اللہ تعالیٰ ان کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گااور اس کی نور انیت، اس کی برکات ان کی قیام گاہوں میں ان پر باقی رہیں گی۔
قَالَ السیوطی فی مصباح الزجاجۃ۔ والذی رأیتہ انافی کتاب العقیلی مانصہ عبداللّٰہ بن عبید اللّٰہ ابوعاصم العبادانی منکرالحدیث وکان الفضل یری القدر: کاد ان یغلب علی حدیثہ الوہم۔
اَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوَیْہ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ’’وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَاضِرَۃٌ اِلیٰ رَبِّہَا نَا ظِرَۃٌ‘‘ قَالَ: یَنْظُرُوْنَ اِلیٰ رَبِّہِمْ بِلَا کَیْفِیَّۃٍ وَلَا حَدِّحُدُوْدٍ وَلَا صِفَۃٍ مَعْلُوْمَۃٍ۔ (۱۳)
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ (اس روز) کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اس کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ لوگ اپنے رب کا دیدار کریں گے لیکن یہ