ریڈ مودودی ؒ کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔
فصل اوّل: وحی وحی کا آغاز کس طرح ہوا
۱۔(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی ﷺ پر وحی آنے کی ابتدا ہی سچّے خوابوں سے ہوئی تھی۔ (بخاری ومسلم)
(۲) متعدد احادیث میں یہ ذکر بھی آیاہے کہ حضورؐ نے فرمایا: فلاں بات میرے دل میں ڈالی گئی ، یا مجھے اس امر کی اطلاع دی گئی ہے، یا مجھے یہ حکم دیاگیاہے، یا مجھے فلاں چیز سے منع کیا گیاہے۔
معراج کے موقع پر حضورؐ کو وحی کی دوسری قسم سے مشرف فرمایا گیا۔ یہ وحی بہ صورت مکالمہ ہے۔
(۳) متعدد صحیح احادیث میں آںحضورﷺ کو پنج وقتہ نماز کا حکم دیے جانے( معراج کے موقع پر) اور آںحضورﷺ کے اس پر بار بار عرض معروض کرنے کا ذکر جس طرح آیاہے اُس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ اُس وقت اللہ اور اُس کے بندے محمدﷺکے درمیان ویساہی مکالمہ ہوا تھا جیسا دامنِ طُور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوا۔
نبی ﷺ کو وحی کے تینوں طریقوں سے ہدایات دی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی قسم خواب ہے۔ آپؐ پر خوابوںکا سلسلہ ابتدائے وحی سے شروع ہوا تھا اور پھر بعد میں بھی جاری رہاتھا۔ احادیث میں آپؐ کے بہت سے خوابوں کا ذکر ملتاہے، جن میں آپؐ کو کوئی تعلیم دی گئی ہے یا کسی بات پر مطلع کیا گیاہے۔ قرآن مجید میں بھی آپؐ کے ایک خواب کا صراحت کے ساتھ ذکر آیاہے۔ (الفتح :۲۷)
ایسی(جو پہلی حدیث میں مذکور ہیں)تمام چیزیں وحی کی پہلی قسم سے تعلق رکھتی ہیں اور احادیثِ قدسیہ بھی زیادہ تر اسی قبیل سے ہیں۔
رہی تیسری قسم تو اس کے متعلق قرآن خود شہادت دیتاہے کہ اسے جبریلؑ امین کے ذریعہ سے رسول اللہﷺ تک پہنچایاگیاہے۔ (تفہیم القرآن ج۴،الشوری، حاشیہ: ۸۳)
تخریج : حَدَّثَنٓا یَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ اَخْبَرَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّھَا قَالَتْ : اَوَّلُ مَابُدِیَٔ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ۔ فَکَانَ لاَیَرٰی رُؤْیًا اِلاَّ جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ۔(۱) (الحدیث)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺپر وحی کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے، اس کی تعبیرروزِ روشن کی طرح واضح طور پر سامنے آجاتی۔
خواب کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر
سوال: خواب کے متعلّق یہ امرتحقیق طلب ہے کہ خواب کیسے بنتاہے؟ اور اس معاملہ میں اسلامی نقطۂ نظر کیاہے۔
فرائڈ کے نزدیک لاشعور کی خواہشات ، شعور میں آنا چاہتی ہیں مگر سوسائٹی کی بندشوں اور اَنا (Ego)کے دباؤ سے لاشعور میں دبی رہتی ہیں۔ رات کو سوتے وقت شعور سوجاتاہے اور لاشعور چپکے سے ان خواہشات کو شعور میں لے آتاہے۔ مگر ان خواہشوں کو لاشعور بھیس بدلوادیتاہے۔ (فرائڈ کے نزدیک سب خواب جنسی نوعیت کے Sexual ہوتے ہیں) چنانچہ جاگنے کے بعد خواب میں جو کچھ دیکھا تھا اس کے لیے فرائیڈ Manifest Contentکی حد استعمال کرتاہے اور یہ اپنے اندر علامتیں (Symbols) رکھتاہے جن کا مطلب کچھ اور ہوتاہے۔ خواب کا اصل مطلب ان علامتوں کی تعبیر کرکے پتہ چلتاہے اور اصل مطلب کیاہے، ان علامتوں کا؟ یہ لاشعوری خواہشات میں چھپاہوتاہے۔ ان شعوری خواہشات کے لیے فرائیڈLatent Content کی حد استعمال کرتاہے۔ نفسیات کے نزدیک تعبیر خواب دراصل یہ ہے کہ: Manifest Content یعنی ظاہر خواب سے اور اس کی علامتوں سے Latent Thoughtمعلوم کیا جائے۔ اس کے لیے نفسیات دان Free Associationکی تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ اورخواب کی علامتوں(Symbols) کو جنسی معنی پہناتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک:
)۱( خواب کس طرح تشکیل پاتاہے؟
)۲( اس کی علامتوں کے معنی کیسے جانے جاتے ہیں۔ یعنی کس تکنیک سے؟ انبیاؑء وصحابہ کرام کس طرح علامتوں کو معنی دیتے تھے؟
)۳( کیا معیار ہے کہ جو معانی خوابوں کی علامات کو ہم نے پہنائے ہیں وہ اسلامی نظریۂ خواب وتعبیر کے مطابق ہیں؟
اس سلسلے میں چند سوالات یہ ہیں:
ا۔ علامہ ابنِ سیرینؒ اور صحابہ کرامؓ کی تعبیراتِ خواب قرآنی نظریۂ خواب کہلائیں گی یا ’’مسلم مفکّرین کا نظریۂ خواب وتعبیر‘‘ کے تحت ان کو لایاجائے گا؟
ب۔کیا وقت بھی خوابوں کی سچائی کی مقدار پر اثر انداز ہوتاہے؟ جیسا کہ کہاجاتاہے کہ صبح کا خواب زیادہ سچّا ہوتاہے۔
ج۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہے؟ (بخاری)
جواب : موجودہ زمانہ کے نفسیات دان دوامراض میں مبتلا ہیں ایک یہ کہ وہ کسی عالمِ بالا کے قائل نہیں ہیں جو انسان پر اور اس کے گردو پیش کی کائنات پر اثر انداز ہوتاہے۔
دوسرے یہ کہ وہ بنیادی طور پر انسان کو صرف ایک ذی شعور حیوان سمجھتے ہیں اور اس کے اندر حیاتیاتی زندگی (Biological Life) سے بالاتر کسی رُوح اور روحانیت کے وجود کو نہیں مانتے۔ اسی لیے انہوں نے خواب کی وہ توجیہات کی ہیں جو آپ کو فرائیڈ وغیرہ کے ہاں نظر آتی ہیں۔
اسلام چونکہ عالم بالا کا بھی قائل ہے اور انسان کے اندر رُوح کے وجود کو بھی مانتاہے اس لیے اسے خواب کی ان توجیہات سے قطعی انکارہے۔ وہ خواب کو دو بڑی اقسام پر تقسیم کرتاہے ایک رؤیائے صادقہ اور دوسرے اضغاثُ احلام۔
رویائے صادقہ
رویائے صادقہ جیسا کہ خود اس کے اصطلاحی نام ہی سے ظاہر ہے،سچے خواب ہی کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسا خواب جو شعور کی مداخلت سے آزاد ہوکر مَلائِ اعلیٰ کے ساتھ انسانی رُوح کا رابطہ قائم ہوجانے کے نتیجے میں نظر آتاہے۔ اس حالت میں بسا اوقات آدمی کسی حقیقت کو، یا کسی ہونے والے واقعہ کو بالکل اصل شکل میں دیکھتاہے، کبھی آدمی کو کسی مسئلہ میں بالکل صریح اور صاف علم یا مشورہ دیاجاتاہے اور وہ یوں محسوس کرتاہے کہ گویا اس نے دن کی روشنی میں بحالتِ بیداری کوئی بات سُنی یا کوئی چیز دیکھی ہے۔ او رکبھی آدمی کو یہ امور کسی علامتی تمثیل کی شکل(Symbolic Form)میں نظر آتے ہیں۔ جس کے معنی متعیّن کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تعبیرِ خواب میں بصیرت رکھنے والے ان تمثیلات کے معنی بسا اوقات ٹھیک ٹھیک متعیّن کرلیتے ہیں اور اگر اس طرح وہ متعیّن نہ ہوں تو بعد میں کسی وقت جب ان کی تعبیر عملاً سامنے آجاتی ہے تب یہ معلوم ہوجاتاہے کہ فلاں خواب جو ہم نے دیکھا تھا اور اس کے معنی ہم نہ سمجھ سکے تھے، اس کی صحیح تعبیر یہ تھی۔ ان تمثیلی اشکال کی تعبیر کے لیے صحیح طریقے کی طرف ہماری رہنمائی وہ دو خواب کرتے ہیں، جو حضرت یوسف علیہ السلام کو نظر آئے تھے اور ان کی تعبیر خود قرآن مجید میں بھی بتلائی گئی ہے۔ اس کے بعض اصول ان تعبیروں سے بھی معلوم ہوتے ہیں جو نبیﷺ یا صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے بعض خوابوں کی بیان کی ہیں۔ لیکن تعبیرِ خواب کا بہت بڑا انحصار خدا داد بصیرت پر ہے۔ اس کے کچھ لگے بندھے اصول نہیں ہیں کہ فنِّ تعبیر کو ایک سائنس کی طرح منضبِط کیا جاسکے اور ہر تمثیلی شکل یا لفظ کے لیے ایک خاص معنی کا تعیّن کیا جاسکے۔
اضغاثِ احلام
رہے اضغاث احلام، تو وہ مختلف اسباب سے مختلف نوعیّت کے ہوتے ہیں، مثلاً ایک قسم ان خوابوں کی ہے جن میں ایک گمراہ آدمی یا کمزور عقائد کے آدمی کو شیطان آکر کسی باطل کے حق ہونے یا کسی حق کے باطل ہونے کا یقین دِلاتاہے۔ اور اسے کچھ ایسی شکلیں دکھاتاہے اور ایسی باتیں سناتاہے جو اس کو گمراہ کرنے کی موجب ہوتی ہیں۔ ایک اور قسم ان خوابوں کی ہوتی ہے جو کسی بیماری کے اثر سے آدمی دیکھتاہے۔ ان مختلف قسم کے خوابوں کو اگر جمع کیا جائے تو ان سب کی توجیہہ فرائڈ کے نظریات کے تحت نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ ان سے نتائج اخذ کرنے، یا ان کے معنی متعین کرنے کے لیے موجودہ نفسیات کے طریقے (Techniques)کافی ہیں۔ ان لوگوں کا عیب یہ ہے کہ پہلے ایک نظریہ قائم کرلیتے ہیں اور پھر اپنے قائم کردہ نظریے کے تحت سارے خوابوں کی ایک خاص لگی بندھی تعبیر کرتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ بہ کثرت خوابوں کو جمع کرکے ، اور ان کے دیکھنے والوں کی زندگی کا اچھی طرح مطالعہ کرکے یہ رائے قائم کی جائے کہ اضغاثُ احلام کس کس قسم کے ہوتے ہیں اور مختلف حالات میں مختلف لوگوں کو وہ کن کن اسباب سے نظر آتے ہیں۔
سچے خواب کو نبوّت کے اجزاء میں سے ایک جُز قراردینے کے دومطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی کی نوعیّت لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اضغاثُ احلام کی قسم کے نہیں ہوتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ سچّا خواب چونکہ انسانی رُوح اور ملائِ اعلیٰ کے درمیان ایک ایسے رابطہ کا نتیجہ ہوتاہے جس میں انسانی خواہش، ارادہ یا شعور حائل نہیں ہوتا، اس لیے وہ بہت خفیف سی مماثلت اس رابطہ کے ساتھ رکھتاہے جو نہایت اعلیٰ اور مکمل صورت میں نبی کے قلب اور ملائِ اعلیٰ کے درمیان بہ شکل وحی والہام سے قائم ہوتاہے۔ (رسائل ومسائل حصہ پنجم ،عام مسائل: خواب کے متعلق۔۔۔)
آغازِ وحی
۲۔ محدثین نے آغازِ وحی کا قِصّہ اپنی اپنی سندوں کے ساتھ امام زہری سے اور انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیاہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے (اور بعض روایات میں ہے اچھے) خوابوں کی شکل میں ہوئی۔ آپؐ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر آپؐ تنہائی پسند ہوگئے اور کئی کئی شب وروز غارِ حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہؓ نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیاہے جس کی تشریح امام زہری نے تعبُّد سے کی ہے۔ یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپؐ کرتے تھے، کیونکہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایاگیاتھا) آپؐ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جاکر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپؐ کے لیے مہیّا کردیتی تھیں۔
ایک روز جب کہ آپؐ غارِ حرا میں تھے، یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپؐ سے کہاپڑھو۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ خود رسول اللہ ﷺ کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا’’میںتو پڑھاہوا نہیں ہوں‘‘۔اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ میری قُوّتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا۔’’میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا پڑھو۔ میں نے پھر کہا۔ ’’میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے تیسری مرتبہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اُس نے مجھے چھوڑدیا اور کہا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ’’پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا‘‘ یہاں تک کہ مَالَمْ یَعْلَمْ ’’جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘ تک پہنچ گیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺکانپتے لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خدیجہؓ کے پاس پہنچ کر کہا۔’’مجھے اُڑھاؤ مجھے اُڑھاؤ‘‘۔ چنانچہ آپؐ کواُڑھادیا گیا۔ جب آپؐ پر سے خوف زدگی کی کیفیت دور ہوگئی تو آپؐ نے فرمایا۔’’اے خدیجہؓ یہ مجھے کیا ہوگیاہے۔‘‘ پھر سارا قصّہآپؐ نے ان کو سنایا اور کہا’’مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔’’ ہرگز نہیں۔ آپ خوش ہوجایئے، خدا کی قسم! آپؐ کوخداکبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپؐ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں ـــــایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ امانتیں ادا کرتے ہیں ـــــ بے سہارا لوگوں کا بار برداشت کرتے ہیں، نادار لوگوں کو کماکر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں۔‘‘
پھر وہ حضورؐ کو ساتھ لے کر وَرَقَہ بن نَوفَل کے پاس گئیں جو ان کے چچازاد بھائی تھے، زمانۂ جاہلیّت میں عیسائی ہوگئے تھے، عربی اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھے۔ بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اُن سے کہا بھائی جان! ذرا اپنے بھتیجے کا قصّہ سنیئے۔ وَرَقہ نے حضور ؐسے کہا بھتیجے تم کو کیا نظر آیا؟ رسُول اللہ ﷺنے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ وَرَقہ نے کہا’’ یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو اللہ نے موسیٰ ؑپر نازل کیا تھا۔ کاش میں آپؐ کے زمانۂ نبوت میں قوی جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپؐ کی قوم آپؐ کو نکالے گی۔‘‘ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ’’کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے۔‘‘ وَرَقہ نے کہا: ’’ہاں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیاہو جو آپؐ لائے ہیں اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے آپؐ کا وہ زمانہ پایا تو میں آپؐ کی پُرزور مدد کروں گا۔‘‘ مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ وَرَقَہ کا انتقال ہوگیا۔
تخریج: حَدَّثَنَایَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، ح و حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ ابْنُ مَرْوَانَ الْبَغْدَادِیُّ، قَالَ :ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِبْنِ اَبِیْ رِزْمَۃَ، قَالَ اَبُوْصَالِحٍ سَلْمُوْیَۃُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ، عَنْ یُوْنُسَ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ : اَخْبَرَنِی ابْنُ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ ابْنَ الزُّبَیْرِ اَخْبَرَہٗ، اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قالَتْ: کَانَ اَوَّلُ مَابُدِیَٔ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ، فَکَانَ لاَیَرٰی رُؤْیًا اِلاَّ جَآئَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلاَئُ فَکَانَ یَلْحَقُ بِغَارِ حَرَآئَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیْ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ یَّرْجِعَ اِلٰی اَھْلِہٖ، وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی خَدِیْجَۃَ فَیَتَزَوَّدُ بِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِئَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حَرَآئَ فَجَآئَ ہُ الْمَلَکُ فَقَالَ : اِقْرَأْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ، قَالَ : فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیْ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ ! قُلْتُ: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ، قَالَ: فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلْنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجُھْدُ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الآیَات اِلٰی قَوْلِہٖ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ ۔
فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَرْجُفُ (تَضْطَرِبُ) بَوَادِرُہٗ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ (الخَوْفُ) قَالَ لِخَدِیْجَۃَ اَیْ خَدِیْجَۃُ مَالِی خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ فَاَخْبَرَھَا الْخَبَرَ فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ :کَلاَّ اَبْشِرْ فَوَاللّٰہِ لاَیُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا فَوَاللّٰہِ اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِہٖ خَدِیْجَۃُ حَتّٰی اَتَتْ بِہٖ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ اَخِیْ اَبِیْھَا، وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ وَیَکْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ بِالْعَرَبِیَّۃِ مَاشَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَّکْتُبَ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ قَالَتْ خَدِیْجَۃُ: یَابْنَ عَمٍّ اِسْمَعْ مِنَ ابْنِ اَخِیْکَ قَالَ وَرَقَۃُ: یَا ابْنَ اَخِیْ مَاذَا تَرٰی؟ فَاَخْبَرَہُ النَّبِیُّ ﷺ خَبْرَ مَارَاٰی فَقَالَ وَرَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی لَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعٌ لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ حَیًّا وَذَکَرَ حَرْفًا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَوْمُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ قَالَ وَرَقَۃُ، نَعَمْ! لَمْ یَاْتِ رَجُلٌ بِمَا جِئْتَ بِہٖ اِلاَّ اُوْذِیَ وَاِنْ یُدْرِکْنِیْ یَوْمُکَ حَیًّا اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا۔ ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوَفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الخ۔ (۲)
بخاری نے کتاب التعبیر باب اول مابدی بہ رسول اللّٰہ ﷺ من الوحی الرویا الصالحۃ کے تحت جو روایت نقل کی ہے اس کے آخر میں، ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوَفِّیَ وَفَتَرَا لْوَحْیُ فَتْرَۃً حتَیّٰ حَزِنَ النَّبِیُّ ﷺ کے بعد مندرجہ ذیل اضافہ ہے:
فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْ یَتَرَدّٰی مِنْ رُؤٗسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ فَکُلَّمَا اَوْفٰی (اَشْرَفَ) بِذُرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْ یُلْقِیَ نَفْسَہٗ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہٗ جِبْرَئِیْلُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ، اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا، فَیَسْکُنُ لِذٰلِکَ جَاشُہٗ، وَتَقِرُّ نَفْسُہٗ فَیَرْجِعُ فَاِذَا طَالَتْ عَلَیْہ فَتْرَۃُالْوَحْیِ، غَدَ الْمِثْلَ ذٰلِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذُرْوَۃِ الْجَبَلِ تَبَدَّی لَہٗ جِبْرَئِیْلُ فَقَالَ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ۔(۳)
ترجمہ : ہمیں جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق آپ کا رنج وغم اس حدتک بڑھ گیا کہ آپؐ کئی مرتبہ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاتے کہ اپنے آپ کو وہاں سے نیچے گرا کر ہلاک کرلیں، مگر عین اسی موقعہ پر حضرت جبرئیل ؑ تشریف لاکر آپ کو تسلّی دیتے اور فرماتے: اے محمدؐ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کو سکون اور طمانیتِ قلب حاصل ہوتا اور آپ کی طبع مبارک کے ہیجان میں کمی آجاتی اور آپؐ واپس گھر تشریف لے آتے۔ مگر جب پھر وحی کے آنے میں زیادہ مدت گزرجاتی اور پھر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنے آپ کو وہاں سے نیچے گراکر ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتے، تو جبریل امین پھر نمودار ہوکر تسلّی دیتے کہ آپؐ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
کیا نزولِ وحی سے قبل آپ ؐاس کے منتظر تھے؟
نزولِ وحی کی کیفیت کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نبی ﷺ کو اچانک اس صورتِ حال سے سابقہ پیش آیاتھا۔ آپ کو اس سے پہلے کبھی یہ گمان بھی نہ گزرا تھا کہ آپؐ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ نہ اس کی کوئی خواہش آپؐ کے دل کے کسی گوشے میں موجود تھی۔ نہ اس کے لیے آپؐ پہلے سے کوئی تیاری کررہے تھے اور نہ اس کے مُتَوقِّع تھے کہ ایک فرشتہ اوپر سے پیغام لے کر آئے گا۔ آپؐ خلوت میں بیٹھ بیٹھ کر مراقبہ اور عبادت ضرور فرماتے تھے لیکن نبی بنائے جانے کا کوئی تصوّر آپؐ کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھا۔ اس حالت میں جب یکا یک غارِ حرا کی اس تنہائی میں فرشتہ آیا تو آپ کے اوپر فطرتاً اس پہلے عظیم اور غیر معمولی تجربے سے وہی گھبراہٹ طاری ہوئی جو لامحالہ ایک بشر پر طاری ہونی ہی چاہیے، قطع نظر اس کے کہ وہ کیسا ہی عظیم الشان بشر ہو۔ یہ گھبراہٹ بسیط نہیں، بلکہ مرکّب نوعیّت کی تھی۔ طرح طرح کے سوالات حضورؐ کے ذہن میں پیدا ہورہے تھے۔ جنہوں نے طبع مبارک کو سخت خلجان میں مبتلا کردیاتھا۔ کیا واقعی میں نبی ہی بنایا گیا ہوں؟ کہیں مجھے سخت آزمایش میں تو نہیں ڈال دیا گیاہے؟ یہ بارِ عظیم آخر میں کیسے اٹھاؤں گا؟ لوگوں سے کیسے کہوں کہ میں تمہاری طرف نبی مقرر ہوا ہوں؟ لوگ میری بات کیسے مان لیں؟ آج تک جس معاشرے میں عزّت کے ساتھ رہاہوں اب لوگ میرا مذاق اڑائیں گے اور مجھے دیوانہ کہیں گے۔ اس جاہلیّت کے ماحول سے آخر میں کیسے لڑسکوں گا؟ غرض اس طرح کے نہ معلوم کتنے سوالات ہوں گے جو آپؐکو پریشان کررہے ہوں گے۔ اسی وجہ سے جب آپ گھرپہنچے تو کانپ رہے تھے۔ جاتے ہی فرمایا کہ مجھے اُڑھادو، مجھے اُڑھادو۔ گھروالوں نے آپ کو اُڑھادیا۔ کچھ دیر کے بعد جب ذرا دل ٹھیرا تو خدیجہ ؓکو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا: لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ۔ ’’مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘ انہوں نے آپ کو اطمینان دلایا کہ کَلاَّ وَاللّٰہِ مَا یَحْزَنُکَ اللّٰہُ اَبَدًا۔اِنَّک لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔ ’’ہرگز نہیں، خدا کی قسم! آپؐکواللہ کبھی رنج نہ دے گا۔ آپؐ تورشتہ داروں کے کام آتے ہیں،بیکسوں کی مدد کرتے ہیں، نادار کی دست گیری کرتے ہیں، مہمان کی تواضع کرتے ہیں، اور تمام نیک کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔‘‘ پھر وہ وَرَقَہ بن نَوفَل کے پاس آپؐکو لے گئیں ، کیونکہ وہ اہل کتاب میں سے تھے اور انبیائے سابقین کے حالات سے باخبر تھے۔ انہوں نے حضورؐ سے کیفیّت سن کر بلاتامّل تصدیق کی کہ’’یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ پر آیاتھا۔‘‘ اس لیے کہ وہ بچپن سے لے کر جوانی تک آپؐکی انتہائی پاکیزہ سیرت سے خوب واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ یہاں پہلے سے نبوت کے دعوے کی کسی تیاری کا شائبہ تک نہیں پایا گیاہے۔ ان دونوں باتوں کو جب انہوں نے اس واقعہ سے ملایا کہ یکایک غیب سے ایک ہستی آکر ایسے شخص کو ان حالات میں وہ پیغام دیتی ہے جو عین تعلیماتِ انبیاء کے مطابق ہے تو یہ ضرورسچی نبوّت ہے۔
یہ سارا قصہ ایسا فطری اور معقول ہے کہ اس صورتِ حال میں یہی کچھ ہونا چاہیے تھا۔ اس پر شکوک کا پیدا ہونا تو درکنار، میرے نزدیک تو یہ رسول اللہ ﷺکے نبیِٔ صادق ہونے کے اہم ترین دلائل میں سے ایک ہے۔ اگریہ معاملہ اس طرح پیش نہ آتا اور آپؐیکا یک حرا سے آتے ہی بڑے اطمینان کے ساتھ فرشتے کی آمد کا واقعہ مجمع عام میں سناکر اپنی نبوّت کا دعویٰ پیش فرماتے تو ایک آدمی یہ شک کرسکتاتھا کہ حضرت پہلے سے اپنے آپ کو نبوت کا اہل سمجھے بیٹھے تھے اور دُور ایک غار میں بیٹھ بیٹھ کر اس کا انتظار کررہے تھے کہ کب کوئی کشف والہام ہوتاہے۔ آخر شدّتِ مراقبہ نے ذہن کے سامنے ایک فرشتے کا نقشہ پیش کرہی دیا اور کانوں میں آوازیں بھی آنے لگیں۔ معاذ اللہ! لیکن خدا کے فضل سے وہاں نبوت کا ارادہ اور اس کی خواہش اور کوشش تو درکنار، جب بالفعل وہ مل گئی تب بھی چند ساعتوں تک عالمِ حیرت ہی طاری رہا۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ بے نظیر شخصیّت کے مالک ہونے پر بھی وہ ذات عُجب وخود پسندی سے اس درجہ خالی تھی کہ جب نبوّت کے منصبِ عظیم پر یکا یک مامور کردیے گئے اس وقت بھی کافی دیر تک یہ اطمینان نہ ہوتا تھا کہ دنیا کے کروڑوں انسانوں میں سے تنہا ایک میں ہی اس قابل ہوں کہ اس منصب کے لیے ربِّ کائنات کی نگاہ انتخاب میرے اُوپر پڑے۔
(رسائل ومسائل ، سوم، چند مزید اعتراضات: ابتدائے۔۔۔)
وحی کی اقسام اور الہام : جبلّی یا طبیعی وحی
وحی کی ایک قسم وہ ہے جسے وحی جبلّی یا طبیعی کہاجاسکتاہے جس کے ذریعہ سے اللہ ہر مخلوق کو اس کے کرنے کا کام سکھاتاہے۔ یہ وحی انسانوں سے بڑھ کر جانوروں اور شاید ان سے بھی بڑھ کر نباتات وجمادات پر ہوتی ہے۔
جُزئی وحی
دوسری قسم وہ ہے جسے وحی جُزئی کہاجاسکتاہے، جس کے ذریعے سے کسی خاص موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو امورِ زندگی میں سے کسی امر کے متعلق کوئی علم یا کوئی ہدایت یا کوئی تدبیر سجھادیتاہے۔ یہ وحی آئے دن عا م انسانوں پر ہوتی رہتی ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی ایجادیں اس وحی کی بدولت ہوئی ہیں۔ بڑے بڑے اہم علمی انکشافات اسی وحی کے ذریعے سے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے اہم تاریخی واقعات میں اسی وحی کی کارفرمائی نظر آتی ہے، جب کہ کسی شخص کو کسی اہم موقع پر کوئی خاص تدبیر بلاغور وفکر اچانک سُوجھ گئی اور اس نے تاریخ کی رفتار پر ایک فیصلہ کُن اثر ڈال دیا۔ ایسی ہی وحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر بھی ہوئی تھی۔
انبیاء کے لیے مخصوص وحی
ان دونوں قسم کی وحیوں سے بالکل مختلف نوعیّت کی وحی وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو حقائق غیبیہ پر مطّلع فرماتاہے اور اُسے نظام زندگی کے متعلق ہدایات بخشتاہے۔ تاکہ وہ اس علم اور اس ہدایت کو عام لوگوں تک پہنچائے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ یہ وحی انبیاء کے لیے خاص ہے۔ قرآن سے صاف معلوم ہوتاہے کہ اس نوعیت کا علم، خواہ اس کا نام اِلقاء رکھیے، کشف رکھیے، الہام رکھیے یا اصطلاحاً اسے وحی سے تعبیر کیجیے، انبیاء ورسل کے سوا کسی کو نہیں دیا جاتا۔ اور یہ علم صرف انبیاء ہی کو اِس طورپر دیا جاتاہے کہ انہیں اس کے مِن جانب اللہ ہونے، اور شیطان کی دراندازی سے بالکل محفوظ ہونے اور خود اپنے ذاتی خیالات، تصوّرات اور خواہشات کی آلائشوں سے بھی پاک ہونے کا پورا یقین ہوتاہے نیز یہی علم حُجّتِ شرعی ہے۔ اس کی پابندی ہر انسان پر فرض ہے اوراس کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور اس پر ایمان کی دعوت سب بندگانِ خدا کو دینے پر انبیاء علیہم السلام مامور ہوتے رہے ہیں۔
کیا غیر نبی پر اس وحی کا نزول ہوسکتاہے
نبیاء کے سوا دوسرے انسانوں کو اگر اس تیسری قسم کے علم کا کوئی جُز نصیب بھی ہوتاہے، تو وہ ایسے دُھندلے اشارے کی حد تک ہوتاہے جسے ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے وحیٔ نبوت کی روشنی سے مدد لینا ( کتاب وسنت پر پیش کرکے اس کی صحت وعدمِ صحت کو جانچنا اور بصورتِ صحت اس کا منشا متعیّن کرنا) ضروری ہے۔ اس کے بغیر جو شخص اپنے الہام کو ایک مستقل بالذّات ذریعۂ ہدایت سمجھے اور وحیٔ نبوّت کی کسوٹی پر اس معاملے کو پرکھے بغیر اس پر عمل کرے اور دوسروں کو اس کی پیروی کی دعوت دے، اس کی حیثیت ایک جعلی سکّہ ساز کی سی ہے، جوشاہی ٹکسال کے مقابلہ میں اپنی ٹکسال چلاتاہے۔ اس کی یہ حرکت خود ہی ثابت کرتی ہے کہ فی الواقع خدا کی طرف سے اس کو الہام نہیں ہوتا۔
یہ جو کچھ میں عرض کررہاہوں، قرآن میں اس کو متعدد مقامات پر صاف صاف بیان کیا گیاہے۔ خصوصاً سورۂ جن کی آخری آیات: ۲۶-۲۸ میں تو اسے بالکل ہی کھول کر فرمادیاگیاہے:
عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَیُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا اِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِھِّمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْھِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔
آپ اگر اس بات کوسمجھنے کی کوشش فرمائیں تو آپ کو خود معلوم ہوجائے گاکہ اُمّت کے صالح ومُصلح آدمیوں کو نبی کا ساکشف والہام نہ دینے اور اس سے کم تر ایک طرح کا تابعانہ کشف والہام دینے میں کیا مصلحت ہے۔ پہلی چیز عطا نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہی چیز نبی اور اُمّتی کے درمیان بِنائے فرق ہے، اسے دُور کیسے کیا جاسکتاہے۔ اور دوسری چیز دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ نبی کے بعد اس کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں، وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ دین میں اُن کو حکیمانہ بصیرت اور اقامتِ دین کی سعی میں ان کو صحیح رہنمائی اللہ کی طرف سے حاصل ہو۔ یہ چیز غیرشعوری طور پرتو ہرمخلص اور صحیح الفکر خادمِ دین کو بخشی جاتی ہے، لیکن اگر کسی کو شعوری طور پر بھی دے دی جائے تو یہ اللہ کا انعام ہے۔ (تجدید واحیائے دین: کشف و الہام کی حقیقت)
نزول وحی کی کیفیّت
۳۔حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺپر وحی اس حالت میں نازل ہوئی کہ آپؐ اپنا زانومیرے زانو پر رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ میرے زانو پر اس وقت ایسا بوجھ پڑا کہ معلوم ہوتاتھا کہ اب ٹوٹ جائے گا۔ (تفہیم القرآن ،ج۶، المزمل، حاشیہ: ۵)
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ :حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَھْلُ بْنُ سَعْدِ نِالسَّاعِدِیُّ اَنَّہٗ رَاٰی مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ فِی الْمَسْجِدِ فَاَقْبَلْتُ حَتّٰی جَلَسْتُ اِلٰی جَنْبِہٖ فَاَخْبَرَنَا۔ اَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ اَمْلٰی عَلَیْہِ لاَیَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَجَآئَ ہُ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ وَھُوَ یُمِلُّھَا عَلَیَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَاللّٰہِ لَوْاَسْتَطِیْعُ الْجِھَادَ لَجَاھَدْتُّ۔ وَکَانَ اَعْمٰی فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَفَخِذُہٗ عَلٰی فَخِذِیْ فَثَقُلَتْ عَلَیَّ حَتّی خِفْتُ اَنْ تُرَضَّ فَخِذِیْ ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ غَیْرَ اُولِی الضَّرَرِ۔(۴)
ترجمہ:حضرت زیدبن ثابت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺمجھے ’’لایستوی القاعدون من المؤمنین والمجاھدون فی سبیل اللّٰہ ‘‘ لکھوارہے تھے کہ اسی دوران میں ابن اُمِّ مکتوم نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ اگر مجھ میں جہاد پر جانے کی استطاعت ہوتی تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ کیونکہ ابنِ اُمِّ مکتوم نابینا تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل فرمائی کہ اولی الضرر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ جس وقت وحی کا نزول ہورہاتھا آپ کا زانومیرے زانو پر تھا تو میرے زانو پر اتنا بوجھ پڑا جس سے مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں اب یہ ٹوٹ نہ جائے ۔۔۔
۴۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضورؐ پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے۔ آپ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتاتھا۔ (تفہیم القرآن ، ج۶ ، المزمل، حاشیہ: ۵)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ اَخْبَرَنَا مَالِکٌ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ یَاْتِیْکَ الْوَحْیُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَحْیَانًا یَاْتِیْنِیْ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرَسِ وَھُوَ اَشَدُّعَلَیَّ فَیُفْصَمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعَیْتُ عَنْہُ مَا قَالَ، وَاَحْیَانًا یَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلَکُ رَجُلاً فَیُکَلِّمُنِیْ فَاَعِیْ مَایَقُوْلُ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہٗ یَنْزِلُ عَلَیْہِ الْوَحْیُ فِی الْیَوْمِ الشَّدِیْدِ الْبَرْدِ فَیَفْصِمُ عَنْہُ وَاِنَّ جَبِیْنَہٗ لَیَتفَصَّدُ عَرَقًا۔(۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا’’اے رسولِ خدا آپؐ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟‘‘ جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’بسا اوقات تو وحی گھنٹی کی آواز کی طرح سنائی دیتی ہے۔ وحی کی یہ صورت مجھ پر بڑی گراں ہوتی ہے۔ پس جب وہ مجھ سے جُدا ہوتی ہے تو میں ساری وحی کو یاد کرچکاہوتاہوں اور کبھی ایک فرشتہ انسانی شکل میں میرے روبرو آکر بات کرتاہے تو میں اس کی ساری باتیں اس کے جانے سے پہلے یاد کرلیتاہوں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ’’ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضوؐر پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے پس جب وہ آپؐ سے جدا ہوجاتی تو آپؐ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتاتھا۔‘‘
مسلم نے کتاب الفضائل باب طیب عرقہ ﷺ میں مندرجہ ذیل روایت بھی درج کی ہے:
(۲) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ : کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ کُرِبَ لِذٰلِکَ وَتَرَبَّدَ وَجْھُہٗ۔
ترجمہ : حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ اس کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتے اور آپ کے چہرۂ مبارک پر پسینہ آجاتا۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، قَالَ: نَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، عَنْ ھِشَامٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اَنْ کَانَ لَیَنْزِلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی الْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ ثُمَّ تَفِیْضُ جَبْھَتُہٗ عَرَقًا۔(۶)
۵۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ جب کبھی آپؐ پر اس حالت میں وحی نازل ہوتی کہ آپؐ اونٹنی پر بیٹھے ہوں تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پرٹِکادیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزولِ وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتاتھا۔
(تفہیم القرآن ج۶، المزمل، حاشیہ: ۵)
تشریح :قرآن کو بھاری کلام اس بناء پر بھی کہاگیاہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کر دکھانا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلے میں اٹھنا، اور اس کے مطابق عقائد وافکار، اخلاق وآداب اور تہذیب وتمدّن کے پورے نظام میں انقلاب برپا کردینا ایک ایسا کام ہے جس سے بڑھ کر کسی بھاری کام کا تصوّر نہیں کیا جاسکتا اور اس بناء پر بھی اس کو بھاری کلام کہاگیاہے کہ اس کے نزول کا تحمل بڑا دشوار کام تھا۔ (تفہیم القرآن، ج۶، المزمل ،حاشیہ:۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، حَدَّثَنَا بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا اُوْحِیَ اِلَیْہِ وَھُوَ عَلٰی نَاقَتِہٖ وَضَعَتْ جِرَانَھَا۱؎ فَمَا تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَحَرَّکَ حَتّٰی یُسَرّٰی عَنْہُ۔ (۷) (ھذا مرسلٌ)
ترجمہ : حضرت عروہؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺپر وحی اس حالت میں نازل ہوتی کہ آپؐ اونٹنی پر سوار ہوتے، تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پر ٹکادیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزول وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتا۔
حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
(۲) قَالَتْ اِنْ کَانَ لَیُوْحیٰ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِھَا۔ (۸)
ترجمہ: جب آپؐپر وحی ایسی حالت میں نازل ہوتی کہ آپؐاپنی سواری پر ہوتے تو وہ سواری اپنا سینہ زمین پر ٹیک دیتی۔
جبریلؑ کے ساتھ ساتھ وحی کے الفاظ دُہرانے کی ممانعت
۶۔ مسند احمد ، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، طبرانی، بَیْہقی اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے کہ:
’’جب حضور پر قرآن نازل ہوتاتھا تو آپؐاس خوف سے کہ کہیں کوئی چیز بھول نہ جائیں، جبریل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ وحی کے الفاظ دہرانے لگتے تھے۔ اس پر فرمایا گیاکہ لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔
یہی بات شَعبی، ابن زید، ضحّاک، حسن بصری، قَتَادہ، مجاہد اور دوسرے اکابر مفسّرین سے منقول ہے۔
تشریح : نبوّت کے ابتدائی دَور میں، جب کہ حضوؐر کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی۔ آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی توآپؐکو یہ اندیشہ لاحق ہوجاتاتھا کہ جبریل علیہ السلام جو کلامِ الٰہی آپ کو سنارہے ہیں وہ آپؐکو ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں، اس لیے آپؐوحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اُس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل سورہ قیامہ کی یہ آیات (۱۶تا۱۹) آپؐکو سنارہے تھے۔ چنانچہ سلسلۂ کلام توڑ کر آپؐ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپؐوحی کے الفاظ یاد کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ غور سے سنتے رہیں،اسے یاد کرادینا اوربعد میں ٹھیک ٹھیک آپؐسے پڑھوادینا ہمارے ذمّہ ہے، آپ مطمئن رہیںکہ اس کلام کا ایک لفظ بھی آپؐنہ بھولیں گے نہ کبھی اسے اداکرنے میں غلطی کرسکیں گے۔ (تفہیم القرآن ،ج۶،القیامہ، حاشیہ: ۱۱)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ :حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، وَکَانَ ثِقَۃً۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ حَرَّکَ بِہٖ لِسَانَہٗ۔ وَوَصَفَ سُفْیَانُ یُرِیْدُ اَنْ یَحْفَظَہٗ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ۔ (۹)
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے سعید بن جبیر روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺپر وحی نازل ہوئی تو آپ اپنی زبان مبارک کو حرکت دیتے۔ سفیان نے اپنی زبان کو حرکت دے کر دکھایا کہ حضورﷺ ایسا اس لیے کرتے کہ آپؐ وحی کو یاد کرنا چاہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ ’’تم اپنی زبان کو حرکت نہ دو تاکہ اسے جلدی سے یاد کرلو۔‘‘
بخاری ،مسلم میں ابن عباس ؓسے مروی روایت:
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ جِبْرِیْلُ بِالْوَحْیِ کَانَ مِمَّا یُحَرِّکُ بِہٖ لِسَانَہٗ وَشَفَتَیْہِ فَیَشُدُّ عَلَیْہِ فَکَانَ ذٰلِکَ یُعْرَفُ مِنْہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اَخْذَہٗ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ اِنَّ عَلَیْنَا اَنْ نَجْمَعَہٗ فِیْ صَدْرِکَ وَقُرْاٰنَہٗ فَتَقْرَأہُ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ قَالَ اَنْزَلْنٰہُ فَاسْتَمِعْ لَہٗ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ اَنْ نُبَیِّنَہٗ بِلِسَانِکَ فَکَانَ اِذَا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ اَطْرَقَ فَاِذَا ذَھَبَ قَرَاَہٗ کَمَا وَعَدَہٗ اللّٰہُ۔(۱۰)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ارشادِ گرامی لاتحرک بہ لسانک کے بارے میں ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جبریل امین جب وحی لے کر آپؐ کے پاس حاضر ہوتے تو حضور ﷺساتھ ساتھ پڑھتے جاتے۔ یہ صورت آپ پر بہت گراں گزرتی اور اس کا اظہار آپؐ کے چہرے سے ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت لاتحرک بہ لسانکنازل فرمائی کہ قرآن کے اخذ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیں۔ اس کا یاد کرانا اور پڑھوادینا ہمارے ذ مہ ہے۔ یعنی اسے تمہارے سینہ میں محفوظ کرنااور اسے پڑھوادینا ہماری ذمہ داری ہے لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں تو تم اس کی قرأت غور سے سنتے رہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ہم نے اسے نازل کیاہے اسے غور سے سنو اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد جب جبریل وحی لے کر آتے تو آپ خاموش ہوکر بغور سنتے۔ اور جب جبریل فارغ ہوکر چلے جاتے تو وعدۂ خدا وندی کے مطابق آپ اسے پڑھ لیتے۔
(۳) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ مُوْسَی بْنِ اَبِیْ عَائِشَۃَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِیْ قَوْلِہٖ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ۔ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِیْلِ شِدَّۃً کَانَ یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ فَقَالَ لِیَ ابْنُ عَبَّاسٍ، اَنَا اُحَرِّکُھُمَا لَکَ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یُحَرِّکُھُمَا فَقَالَ سَعِیْدٌ: اَنَا اُحَرِّکُھُمَا کَمَا کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُحَرِّکُھُمَا فَحَرَّکَ شَفَتَیْہِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ لاَتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ قَالَ: جَمَعَہٗ لَکَ فِیْ صَدْرِکَ ثُمَّ تَقْرَئَ ہٗ فَاِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَہٗ وَاَنْصِتْ ثُم َّ اِنَّ عَلَیْنَا اَنْ تَقْرَئَ ہٗ قَالَ : فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ اسْتَمَعَ فَاِذَا انْطَلَقَ جِبْرِیْلُ قَرَأَہُ النَّبِیُّ ﷺ کَمَا اَقْرَأَ ہُ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت سعید بن جبیر نے لاتحرک بہ لسانک کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت ابن عباسؓکا قول بیان کیا ہے کہتے ہیں نبی ﷺنزولِ وحی کے وقت مشقت ودقت محسوس کرتے تھے اور اپنے لبوں کو حرکت دینے لگتے تھے یعنی ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ (سعیدؓ کہتے ہیں ابنِ عباس ؓنے مجھ سے کہا کہ اپنے ہونٹ اسی طرح ہلاکر تمہیں دکھاتاہوں جس طرح رسول اللہ ﷺاپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے۔ سعید نے کہا میں تمہیں اپنے ہونٹ اسی طرح ہلاکر دکھاتاہوں جس طرح ابنِ عباس نے اپنے ہونٹ ہلائے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلاکر دکھائے) تو اللہ تعالیٰ نے آیت لاَ تَحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَاجَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ نازل کی۔۔۔ابن عباسؓ کہتے ہیں اس کے بعد رسول اللہﷺجبریل ؑ کی آمد پر پوری توجہ سے سنتے اور ان کے چلے جانے کے بعد اسی طرح پڑھتے جس طرح جبریل ؑ نے پڑھایا ہوتا۔
آپ الفاظِ وحی دہرانے کی ضرورت کیوں محسوس کرتے تھے؟
۷۔ حاکم نے حضرت سعدؓ بن ابی وقّاص سے اور ابنِ مَردُوْیَہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔
ـــــ مجاہد اور کلبی کہتے ہیں کہ جبریل ؑوحی سناکر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضورؐ بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصّہ دہرانے لگتے تھے۔
تشریح : اسی وجہ سے قرآن کریم میں (تین(سورہ طٰہٰ :۱۱۴، سورہ قیامہ :۱۶ تا ۱۹ اور سورۃ الاعلیٰ :۶)جگہوںپر) نبی ﷺکو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپؐ خاموشی سے سنتے رہیں، ہم آپ ؐ کو اسے پڑھوادیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو یا د ہوجائے گی، اس بات کا کوئی اندیشہ آپ ؐنہ کریں کہ اس کا کوئی لفظ بھی آپ بھُول جائیں گے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الاعلیٰ، حاشیہ: ۷)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا ھُشیْمٌ اَنْبَأَ یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ، عَنِ الْقَاسِمِ ابْنِ رَبِیْعَہَ قَالَ : کَانَ سَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍؓ اِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الاَْعْلٰی قَالَ : سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰی قَالَ : یَتَذَکَّرُ الْقُرْاٰنَ مَخَافَۃَ اَنْ یَنْسٰی۔(۱۲)
ھٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔
ترجمہ : قاسم بن ربیعہ سے منقول ہے کہ حضرت سعدبن ابی وقّاص جب سورہ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الاَْعْلٰی کی تلاوت کرتے اور اس میں سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰیپڑھتے تو فرماتے کہ نبی ﷺقرآن کے الفاظ کو اس خوف سے دہراتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔
فترۃالوحی کا دَور اورآپ ؐکا اضطراب
۸۔ امام زُہریؒ بیان کرتے ہیں:’’ ایک مدّت تک رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول بند رہا اور اُس زمانہ میں آپ ؐ پر اس قدر شدید غم کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپ ؐ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرادینے کے لیے آمادہ ہوجاتے تھے۔ لیکن جب کبھی آپ ؐکسی چوٹی کے کنارے پہنچتے تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر آپ ؐسے کہتے کہ آپ ؐاللہ کے نبی ہیں۔ اس سے آپ ؐکے دل کو سکون ہوجاتاتھا اور وہ اضطراب کی کیفیت دُور ہوجاتی تھی۔ (تفہیم القرآن ،ج ۶، المدثر:زمانہ نزول)
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، قَالَ :ثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: فَتَرَ الْوَحْیُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَتَرَۃً فَحَزِنَ حَزَنًا فَجَعَلَ یَعْدُوْا اِلٰی شَوَاھِقِ رُؤُسِ الْجِبَالِ لِیَتَرَدّٰی مِنْھَا فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذُرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدیّٰ لَہٗ جَبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَقُوْلُ اِنَّکَ نَبِیُّ اللّٰہِ فَیَسْکُنُ جَاشُہٗ، وَتَسْکُنُ نَفْسُہٗ۔ فَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُحَدِّثُ عَنْ ذٰلِکَ قَالَ : بَیْنَمَا اَنَا اَمْشِیْ یَوْمًا اِذْ رَأَیْتُ الْمَلَکَ الَّذِیْ کَانَ یَاْتِیْنِیْ بِحَرَائَ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْہُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ اِلٰی خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلْنَاہٗ اَیْ فَدَثَّرْنَاہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ یٰاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ۔
قَالَ الزُّہْرِیُّ فَکَانَ اَوَّلُ شَیٍْٔ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خلَقَ حَتّٰی بَلَغَ مَالَمْ یَعْلَمْ(روایت کا آخری حصہ صرف ابنِ جریر میں ہے۔ بخاری اور مسند احمد میں نہیں۔)(۱۳)
ترجمہ: پھر خود نبی ﷺنے یہ واقعہ سنایاکہ میں ایک روز جارہاتھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور اس نے ساری فضائے ارض وسما کوگھیر رکھا ہے یہ کیفیت دیکھ کر میں اس سے دہشت زدہ ہوکر واپس خدیجہؓ کے پاس آگیا اور اس سے کہاکہ مجھے اُڑھادو۔ تو ہم نے آپؐ کو کمبل اوڑھادیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورہ مدثّر نازل فرمائی کہ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اُٹھو اور قوم کو بیدار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
بخاری میںجَاشُہٗکے بعدوَتَقِرُّ نَفْسُہٗ فَیَرْجِعُ فَاِذَا طَالَتْ عَلَیْہِ فَتْرَۃُ الْوَحْیِ غَدَا الْمِثْلُ ذٰلِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذُرْوَۃِ الْجَبَلِ تَبَدَّی لَہٗ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ۔
۹۔امام زُہری حضرت جابر بن عبداللہ کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا: ایک روز میں راستے سے گزررہاتھا۔ یکایک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہواہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہوگیا اور گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ۔چنانچہ گھروالوں نے مجھ پر لحاف (یاکمبل) اڑھادیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ۔۔۔پھر لگاتار مجھ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا۔
(بخاری، مسلم،مسند احمد، ابن جریر)
تشریح :(سورۃ المُدَثِّرکی ) پہلی سات آیات مکّہ معظّمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ بعض روایات جو بخاری، مسلم، تِرمذی اور مُسند احمد وغیرہ میں حضرت جابر بن عبداللہ سے منقول ہیں ان میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کی اوّلین آیات ہیں جو رسول اللہ ﷺپر نازل ہوئیں۔ لیکن امّت میں یہ بات قریب قریب بالاتفاق مسلّم ہے کہ پہلی وحی جو حضورؐ پر نازل ہوئی وہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۱؎سے مَالَمْ یَعْلَمْ تک ہے۔ البتہ صحیح روایات سے جوکچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس پہلی وحی کے بعد کچھ مدت تک رسول اللہ ﷺپر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، پھر اس وقفہ کے بعد جب از سرِ نو نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا آغاز سورۂ مدثّر کی انہیں آیات سے ہوا تھا اور ان میں پہلی مرتبہ آپؐ کو یہ حکم دیاگیا کہ آپؐ اٹھیں اور خَلْقِ خُدا کو اُس روش کے انجام سے ڈرائیں جس پر وہ چل رہی ہے، اور اس دنیا میں جہاں دوسروں کی بڑائی کے ڈنکے بج رہے ہیں، خدا کی بڑائی کا اعلان کریں۔ اس کے ساتھ آپؐ کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب جو کام آپؐ کو کرناہے اس کا تقاضایہ ہے کہ آپؐ کی زندگی ہرلحاظ سے انتہائی پاکیزہ ہو، اور آپؐ تمام دنیوی فائدوں سے قطع نظر کرکے کامل اخلاص کے ساتھ خلقِ خُدا کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیں۔پھر آخری فقرے میں آپؐ کو تلقین کی گئی کہ اس فریضہ کی انجام دہی میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں اُن پر آپؐ اپنے رب کی خاطر صبر کریں۔ (تفہیم القرآن ،ج۶، المدثر : موضوع اور مضمون)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: سَمِعْتُ اَبَا سَلَمَۃَ: قَالَ اَخْبَرَنِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَۃِ الْوَحْیِ فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِیْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ السَّمَآئِ فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ قِبَلَ السَّمَآئِ فَاِذَا الْمَلَکُ الَّذِیْ جَآئَ نِیْ بِحَرَائَ قَاعِدٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْہُ، حَتّٰی ھَوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ فَجِئْتُ اَھْلِیْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ اِلٰی قَوْلِہٖ فَاھْجُرْ قَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ ۔ وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ۔ اَلْاَوْثَانَ ثُمَّ حَمِی الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ۔ (۱۴)
(۲) حَدَّثَنَا یَحْيٰ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمُبَارَکِ، عَنْ یَحْيٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، سَاَلْتُ اَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْاٰنِ قَالَ: یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُلْتُ: یَقُوْلُوْنَ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ فَقَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ : سَأَلْتُ جَابِرَبْنَ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ ذٰلِکَ وَقُلْتُ لَہٗ مِثْلَ الَّذِیْ قُلْتَ فَقَالَ جَابِرٌ: لَآ اُحَدِّثُکَ اِلاَّ مَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ : جَاوَرْتُ (اعْتَکَفْتُ) بِحَرَآئَ فَلَمَّا قَضَیْتُ جَوَارِیْ (اعْتَکَافِیْ) ھَبَطْتُّ، فَنُوْدِیْتُ، فَنَظَرْتُ عَنْ یَمِیْنِیْ فَلَمَ اَرَ شَیْئًا،وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ اَرَ شَیْئًا، وَنَظَرْتُ اَمَامِیْ فَلَمْ اَرَشَیْئًا، وَنَظَرْتُ خَلْفِی فَلَمْ اَرَشَیْئًا فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَرَأیْتُ شَیْئًا فَاَتَیْتُ خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ : دَثِّرُوْنِیْ وَصُبُّوْا عَلَیَّ مَآئً بَارِدًا قَالَ : فدَثَّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَآئً بَارِدًا قَالَ فَنَزَلَتْ یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّر۔(۱۵)
ترجمہ : یحيٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا قرآن کا کون سا حصّہ سب سے پہلے نازل ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیاکہ یٰٓاَیُّھَا الْمُدَثِّرْ۔ میں نے عرض کیا مجھے تو یہ بتایاگیاہے کہ پہلے اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ نازل ہوا ہے۔
ابوسلمہ نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ سے پوچھا تھا کہ قرآن کا کون سا حصہ سب سے پہلے نازل ہواہے اور میں نے بھی ان سے یہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے تو انہوں نے کہامیں تو تجھے وہی خبردوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا، ’’میں غارِ حرا میں تھا جب میں نے اپنا اعتکاف ختم کرلیا تو وہاں سے نیچے اترا اور ابھی وادی کے بیچ میں تھا کہ آواز سنائی دی۔ پھر میں نے اپنے آگے پیچھے، دائیں بائیں نظر دوڑائی تو کچھ نظر نہ آیا۔ پھر میں نے سر اٹھایا تو ایک چیز دیکھی۔ اس کے بعد میں نے خدیجہؓ کے پاس آکر کہا کہ مجھے اڑھاؤ اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ انہوں نے مجھے اڑھادیا اور ٹھنڈا پانی ڈالا۔ پس ا س موقع پر یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ مجھ پر نازل ہوئی۔
دورِ فترۃ وحی کا اختتام
۱۰۔ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ بڑے اضطراب انگیز حالات سے گزررہے تھے۔ حضورؐ کو اور آپؐ کے صحابیوں کو ہروقت وحی کا انتظار رہتاتھاتاکہ اس سے رہنمائی بھی ملے اور تسلّی بھی حاصل ہو۔ جوں جوں وحی آنے میں دیر ہورہی تھی اضطراب بڑھتاجاتاتھا۔ اس حالت میں جبریل علیہ السلام فرشتوںکے جھُرمٹ میں تشریف لائے۔ پہلے وہ فرمان سنایا جو موقع کی ضرورت کے لحاظ سے فوراً درکار تھا۔ پھر آگے بڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اشارے سے یہ چند کلمات اپنی طرف سے کہتے ہیںجن میں اتنی دیر تک اپنے حاضر نہ ہونے کی معذرت بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرفِ تسلّی بھی، اور ساتھ ساتھ صبرو ضبط کی تلقین بھی۔ (تفہیم القرآن، ج۳، مریم، حاشیہ: ۳۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْنُعَیْمٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُبْنُ ذَرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺَ لِجِبْرِیْلَ مَایَمْنَعُکَ اَنْ تَزُوْرَنَا اَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا؟ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا۔(۱۶)
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل سے پوچھا کہ بہ کثرت تمہاری ہم سے ملاقات ہوتی تھی۔ اب اس میں کون سی چیز مانع ہوئی ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ہم امرِربانی کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ ہمارے سامنے اور ہمارے پیچھے جو کچھ ہے اسی کا ہے۔
(۲) عَنْ مُجَاھِدٍ، قَالَ : لَبِثَ جِبْرَئِیْلُ عَنْ مُحَمَّدٍ اثْنَتَی عَشَرَۃَ لَیْلَۃً وَیَقُوْلُوْنَ قَلٰی فَلَمَّا جَآئَ ہٗ قَالَ: اَیْ جِبْرَئِیْلُ لَقَدْ رَثَتَّ عَلَیَّ حَتّٰی ظَنَّ الْمُشْرِکُوْنَ کُلَّ ظَنٍّ، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا۔(۱۷)
ترجمہ :حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ بارہ روز جبریل علیہ السلام محمد ﷺکے پاس نہ آئے تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ وہ ناراض ہوگیاہے۔ پھر جب جبریل علیہ السلام آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؐ نے فرمایا،’’ آپ ؑنے میرے پاس آنے میں کافی تاخیر کردی جس کے نتیجہ میں مشرکین طرح طرح کی بدگمانیاں پھیلاتے رہے۔‘‘ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم آپؐکے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ ہمارے آگے پیچھے جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے اس کا بھی وہی مالک ہے اور آپؐکا رب بھولتا نہیں۔
فتح القدیر میں یہ بھی ہے:
(۳) قِیْلَ اِحْتَبَسَعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا، وَقِیْلَ خَمْسَۃَ عَشَرَ، وَقِیْلَ اِثْنَی عَشَرَ، وَقِیْلَ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ الخ (۱۸)
ترجمہ:کہاگیاہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺکی خدمت میں چالیس روز تک حاضر نہیں ہوئے، یہ بھی کہاگیاہے کہ پندرہ روز اور یہ بھی کہاگیاہے کہ بارہ روز اور یہ بھی کہاگیاہے کہ تین روز حاضر نہیں ہوئے۔
(۴) حُدِّثْتُ عَنِ الْحُسَیْنِ، قَالَ:سَمِعْتُ اَبَا مُعَاذٍ یَقُوْلُ: ثَنَا عُبَیْدٌ قَالَ: سَمِعْتُ الضَّحَّاکَ یَقُوْلُ فِیْ قَوْلِہٖ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ اِحْتَبَسَ عَنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺَ حَتّٰی تَکَلَّمَ الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ وَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ فَاَتَاہُ جَبْرَئِیْلُ فَقَالَ: اشْتَدَّ عَلَیْکَ اِحْتَبَاسَنَا عَنْکَ وَتَکَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ الْمُشْرِکُوْنَ وَاِنَّمَا اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ اِذَا اَمَرَنِیْ بِاَمْرٍ اَطَعْتُہٗ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ یَقُوْلُ بِقَوْلِ رَبِّکَ الخ۔ (۱۹)
ترجمہ: عبید نے بیان کیا کہ میں نے ضحّاک کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ کے متعلق بیان کرتے سناہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا بند کردیا اور مشرکین نے اس پر باتیں بنانا شروع کردیں۔ یہ صورت حال آپؐپر بڑی گراں گزری۔ اتنے میں جبریل ؑ تشریف لے آئے۔ فرمایا ’’ہمارا آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونے سے رُک جانا، اور مشرکین کا اس بارے میں باتیں بنانا گراں گزرا ہے۔‘‘ (واقعہ یہ ہے) کہ میں تو صرف اللہ کا بندہ اور اُس کا فرستادہ ہوں۔ جب وہ مجھے کسی امر کا حکم صادر فرماتے ہیں تو اس کی تعمیل کرتاہوں۔ ہم آپؐکے رب کے اذن کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ یہ گویا وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ ہی کو بیان کررہے تھے۔
(۵) قَالَ الْحَکَمُ بْنُ اَبَانٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ اَبْطَأَ جِبْرَئِیْلُ النُّزُوْلَ عَلَی النَّبِیِّ ﷺَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺَ :مَانَزَلْتَ حَتّٰی اشْتَقْتُ اِلَیْکَ فَقَالَ لَہٗ جَبْرِیْلُ : بَلْ اَنَا کُنْتُ اِلَیْکَ اَشُوْقُ وَلٰکِنِّیْ مَامُوْرٌ فَاَوحَی اللّٰہُ اِلٰی جَبْرِیْلَ اَنْ قُلْ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ۔(۲۰)
ترجمہ:حضرت جبریل ؑ نبی ﷺکی خدمت میں چالیس روز تک نہ آئے۔ پھر تشریف لائے تو نبی ﷺ نے فرمایا مجھے آپ کے نزول کا اشتیاق ہی رہتاہے۔ جبریل نے فرمایا میں بھی آپؐ کی ملاقات کا مشتاق رہتاہوں لیکن میں تو مامور ہوں (جب ارشاد باری تعالیٰ ہوتاہے تو آتاہوں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم فرمایا کہ یوں کہو ’’ہم آپؐکے رب کے اذن کے بغیر نہیں اترا کرتے۔
۱۱۔ جُندب بن عبداللہ البجلی کی روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام کے آنے کا سلسلہ رُک گیا تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمدؐ کو ان کے رب نے چھوڑدیاہے۔ (ابن جریر، طبرانی، عبدبن حمید، سعید بن منصور ابن مردویہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: ثَنَا غُنْدُرٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ قَیْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِیَّ قَالَتِ امْرَأَ ۃٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اَرٰی صَاحِبَکَ اِلاَّ اَبْطَئَکَ فَنَزَلَتْ مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ (۲۱)
ترجمہ :جندب بجلی سے مروی ہے کہ ایک عورت نے پوچھا یا رسولؐ اللہ! معلوم ہوتاہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہیں چھوڑدیاہے، اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہواہے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ قَیْسٍ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْیَانَ، قَالَ: اشْتَکیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلَمْ یَقُمْ لَیْلَتَیْنِ اَوْثَلاَثًا فَجَائَ تِ امْرَأَ ۃٌ فَقَالَتْ : یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ لَاَرْجُوْا اَنْ یَکُوْنَ شَیْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ لَمْ اَرَہٗ قَرِبَکَ لَیْلَتَیْنِ اَوْ ثَلاَثٍ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ (۲۲)
ترجمہ :حضرت جندب بن سفیان نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺکی طبیعت ناساز ہوگئی تو آپ دو یا تین رات قیام اللیل نہ فرماسکے۔ ایک عورت آپؐ کی خدمت میں آکر کہنے لگی اے محمد (ﷺ)مجھے لگتاہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑدیاہے۔ مجھے وہ تمہارے پاس دو یا تین راتوں سے نظر نہیں آیا، تو اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی یعنی’’قسم روز روشن کی اور رات کی جب کہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے۔ اے نبیؐ! تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔‘‘
بخاری نے کتاب التہجدمیں جُندب بن عبداللہ سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
(۳) اِحْتَبَسَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺَ فَقَالَتِ امْرَأَ ۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ اَبْطَأَ عَلَیْہِ شَیْطَانُہٗ فَنَزَلَتْ وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجیٰ مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔(۲۳)
۱۲۔ عوفی اور ابن جریر نے ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ کئی روز تک جبریل کی آمد رک جانے سے حضورؐ پریشان ہوگئے اور مشرکین کہنے لگے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہوگیاہے اور اس نے انہیں چھوڑدیاہے۔
قتادہ اور ضحّاک کی مُرسَل روایات میں بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔
دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل نے جو حضور ؐ کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضورؐ کے مکان سے متصل تھا، آپؐ سے کہا۔’’معلوم ہوتاہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑدیاہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۶، الضحیٰ، حاشیہ: ۳)
تخریج: قَالَ الْعَوْفِیْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا نَزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْقُرْاٰنَ اَبْطَأَ عَنْہُ جِبْرَئِیْلُ اَیَّامًا فَتَغَیَّرَ بِذَالِکَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ وَدَعَہٗ رَبُّہٗ وَقَلاَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔(۲۴)
ترجمہ :حضرت ابنِ عباسؓ نے بتایا کہ نزولِ قرآن کے دوران چند روز جبریل نے آنے میں تاخیر کردی۔ اس سے آپؐ کی طبع مبارک متغیّر سی ہوگئی اور مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ اسے اُس کے رب نے چھوڑدیا اور اُس سے ناراض ہوگیاہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔’’تیرے رب نے نہ تو تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔‘‘
تشریح : روایات سے معلوم ہوتاہے کہ کچھ مدّت تک رسول اللہ ﷺپر وحی کا نزول بند رہاتھا۔ مختلف روایات میں یہ مدّت مختلف بیان کی گئی ہے۔ ابنِ جُریج نے بارہ روز، کَلْبِی نے پندرہ روز، ابنِ عباس نے ۲۵روز سُدّی اور مُقاتِل نے ۴۰ روز اس کی مدّت بیان کی ہے۔(روح المعانی جز ۳۰ ص۱۵۷۔) بہر حال یہ زمانہ اتنا طویل تھا کہ رسول اللہ ﷺبھی اس پر سخت غمگین ہوگئے تھے اور مخالفین بھی آپؐ کو طعنے دینے لگے تھے، کیونکہ حضورؐ پر جو نئی سورہ نازل ہوتی تھی اسے آپؐ لوگوں کو سنایا کرتے تھے، اس لیے جب اچھی خاصی مدّت تک آپؐ نے کوئی نئی وحی لوگوں کو نہیں سنائی تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہوگیاہے جہاں سے کلام آتاتھا۔
اِس صورتِ حال میں حضورؐ کے شدید رنج وغم کا حال بھی متعدد روایات میں آیاہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ محبوب کی طرف سے بظاہر عدم التفات، کفروایمان کے درمیان جنگ چھڑجانے کے بعد اُسی ذریعۂ طاقت سے بظاہر محرومی جو اس جاں گُسل کشمکش کے منجدھار میں آپؐ کے لیے واحد سہارا تھا، اور اُس پر مزید دشمنوں کی شَماتَت، یہ ساری چیزیں مل جل کر لامحالہ حضوؐر کے لیے سخت پریشانی کا موجب ہورہی ہوںگی اور آپؐ کو بار بار یہ شبہ گزرتاہوگا کہ کہیں مجھ سے کوئی قصور تو نہیں ہوگیاہے کہ میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہو اور اس نے مجھے حق وباطل کی اس لڑائی میں تنہا چھوڑدیا ہو۔
(تفہیم القرآن ،ج۶، الضحی، حاشیہ: ۳)
۱۳۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک موقع پر حضورؐنے فرمایا: ’’میں کبھی حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا۔ کسی صحابی نے عرض کیا’’یا رسولؐ اللہ! کبھی کبھی آپؐ ہم لوگوں سے ہنسی مذاق بھی تو کرلیتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’فی الواقع میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۵، النجم، حاشیہ: ۴)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکَ، عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ تُدَاعِبُنَا قَالَ اِنِّیْ لاَاَقُوْلُ اِلاَّحَقًّا۔ (۲۵)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں عرض کیا گیا یا رسول اللہ! آپؐ کبھی ہم لوگوں سے ہنسی مذاق بھی تو کرلیتے ہیں۔ فرمایا: ’’فی الواقع میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔‘‘
۱۴۔ حضرت عبداللہ بن عَمرو بن عاص کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جو کچھ بھی رسول اللہ ﷺکی زبان مبارک سے سنتاتھا وہ لکھ لیا کرتاتھا تاکہ اسے محفوظ کرلوں۔ قریش کے لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے، تم ہربات لکھتے چلے جاتے ہو، حالانکہ رسول اللہﷺانسان ہیں، کبھی غصّے میں بھی کوئی بات فرمادیتے ہیں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑدیا۔ بعد میں اس بات کا ذکر میں نے حضورؐ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا:’’تم لکھے جاؤ، اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْيَ بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ الْاَخْنَسِ اَنَا الْوَلِیْدُ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاھِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : کُنْتُ اَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ اَسْمَعُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اُرِیْدُ حِفْظَہٗ فَنَھَتْنِیْ قُرَیْشٌ فَقَالُوا اِنَّکَ تَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ تَسْمَعُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَشَرٌ یَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَائِ فَاَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَقَالَ: اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَاخَرَجَ مِنِّیْ اِلاَّحَقٌّ۔(۲۶)
تشریح : (یہ احادیث ان باتوں سے متعلق ہیں) جو آپؐ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے زندگی کے عام معاملات میں کرتے تھے، جن کا تعلُّق فرائض نبوّت سے نہ تھا، جو آپؐ نبی ہونے سے پہلے بھی کرتے تھے اور نبی ہونے کے بعد بھی کرتے رہے۔ اس نوعیت کی باتوں کے متعلق سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے بارے میں کفار سے کوئی جھگڑا نہ تھا۔ کفّار نے ان کی بناء پر آپ کو گمراہ اور بد راہ نہیں کہا تھا۔(اشارہ اس کی طرف ہے کہ حضوؐرتبلیغِ دین، دعوتِ الی اللہ، اعلائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد اور اقامتِ دین کی خدمات کے سلسلے میں جو باتیں کرتے تھے کفّار ان پر معترض تھے اور آپؐ پرگمراہ اور بد راہ ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ (مؤلّف)
۲؎ اشارہ سورۃ النحل کی آیت ۱۰۳۔ وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُبِیْنٌ کی طرف ہے۔ یعنی کہ یہ شخص حضوؐرکو پڑھاتا تھا۔)یہ امر واقعہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے کوئی بات اپنی زندگی کے اس نجی پہلو میں بھی کبھی خلافِ حق نہیں نکلتی تھی، بلکہ ہروقت ہر حال میں آپؐ کے اقوال وافعال ان حدود کے اندر محدود رہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبرانہ اور مُتّقیانہ زندگی کے لیے آپ کو بتادی تھیں۔ اس لیے درحقیقت وحی کا نور اُن میں بھی کارفرماتھا۔ (تفہیم القرآن، ج۵، النجم، حاشیہ: ۴)
دارمی میں فَاَمْسَکْتُکے بعد فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ فَاَوْمَأَ بِاِصْبَعِہٖ اِلٰی فِیْہِ وَقَالَ : اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَاخَرَجَ مِنْہُ اِلاَّ حَقٌّ ہے۔
اہل مکّہ کی بدگمانی کہ آپؐکو چند مخصوص آدمی تعلیم دیتے ہیں
۱۵۔ روایات میں مختلف اشخاص کے متعلق بیان کیا گیاہے کہ کفّار مکّہ اُن۲؎ میں سے کسی پر گمان کرتے تھے۔ ایک روایت میں اس کا نام جبر بیان کیا گیاہے جو عامر بن حضرمی کا ایک رومی غلام تھا۔ دوسری روایات میں حُویطب بن عبدالعزّٰی کے ایک غلام کا نام لیا گیاہے جسے عائش یا یعیش کہتے تھے۔ ایک اور روایت میں یَسار کا نام لیا گیاہے جس کی کنیت ابو فَکَیْہَہ تھی اور جو مکّے کی ایک عورت کا یہودی غلام تھا۔ ایک اور روایت بَلْعَان یا بَلْعَام نامی ایک رُومی غلام سے متعلق ہے۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو،کفّارِ مکّہ نے محض یہ دیکھ کرکہ ایک شخص تورات وانجیل پڑھتاہے اور محمدؐ سے اس کی ملاقات ہے بے تکلف یہ الزام گھڑدیاکہ اس قرآن کو دراصل وہ تصنیف کررہاہے اور محمد (ﷺ) اسے اپنی طرف سے خدا کا نام لے لے کر پیش کررہے ہیں۔ اس سے نہ صرف یہ اندازہ ہوتاہے کہ آنحضرت ﷺکے مخالفین آپؐکے خلاف افترا پردازیاں کرنے میں کس قدر بے باک تھے بلکہ یہ سبق بھی ملتاہے کہ لوگ اپنے ہم عصروں کی قدرو قیمت پہچاننے میں کتنے بے انصاف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے سامنے تاریخ انسانی کی ایک ایسی عظیم شخصیت تھی جس کی نظیر نہ اس وقت دنیا بھر میں کہیں موجود تھی نہ آج تک پائی گئی ہے۔ مگر ان عقل کے اندھوں کو اُس کے مقابلہ میں ایک عجمی غلام جو کچھ توراۃ وانجیل پڑھ لیتاتھا،قابل تر نظر آرہاتھا اور وہ گمان کررہے تھے کہ یہ گو ہر نایاب اس کوئلے سے چمک حاصل کررہاہے۔ ( تفہیم القرآن، ج۲، النحل، حاشیہ: ۱۰۷)
تخریج:(۱) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فِی السِّیْرَۃِ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا بَلَغَنِیْ کَثِیْرًا مَا یَجْلِسُ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ اِلٰی سُبَیْعَۃَ غُلاَمٍ نَصْرَانِیٍّ یُقَالُ لَہٗ جَبَرٌ عَبْدٌ لِبَعْضِ بَنِی الْحَضْرَمِیِّ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ) وَکَذَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ کَثِیْرٍ وَعَنْ عِکْرِمَۃَ وَقَتَادَۃَ کَانَ اِسْمُہٗ یَعِیْش۔
ترجمہ :محمد بن اسحاق اپنی سیرت (سیرت ابن ہشام) میں بیان کرتے ہیں کہ جو روایات مجھ تک پہنچی ہیں ان کی رُو سے رسول اللہ ﷺاکثر اوقات مروہ پہاڑی کے دامن میں سُبَیْعہ نامی ایک نصرانی غلام کے پاس بیٹھتے تھے جسے جبر کہتے تھے۔ یہ بنی حضرمی کے ایک شخص کا غلام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے وَلَقَدْ نَعْلَمُ الآیہ یعنی ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتاہے۔ حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔
(۲) وَقَالَ ابْنُ جَرِیْرٍ:حَدَّثَنِیْ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطُّوْسِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْعَامِرٍ، حَدَّثَنَا اِبْرَھِیْمُ بْنُ طَھْمانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَلاَئِیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَعْلَمُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ وَکَانَ اسْمُہٗ بَلْعَامٌ وَکَانَ اَعْجَمِیُّ اللِّسَانِ وَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَرَوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ وَیَخْرُجُ مِنْ عِنْدِہٖ فَقَالُوْا اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَلْعَامٌ۔
وَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُسْلِمٍ :کَانَ لَنَا غُلاَمَانِ رُوْمِیَانِ یَقْرَاٰنِ کِتَابًا لَھُمَا بِلِسَانِھِمَا فَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَمُرُّ بِھِمَا فَیَقُوْمُ فَیَسْمَعُ مِنْھُمَا فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ یَتَعَلَّمُ مِنْھُمَا۔
وَقَالَ الزُّھْرِیُّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ الَّذِیْ قَالَ ذٰلِکَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ رَجُلٌکَانَ یَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَارْتَدَّ بَعْدَ ذٰلِکَ عَنِ الْاِسْلاَمِ وَافْتَرٰی ھٰذِہِ الْمَقَالَۃَ۔(۲۷)
ترجمہ: ابنِ عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک لوہار کو جانتے تھے، جس کا نام بَلْعَام تھا۔ مشرکین نے اس کے پاس آپ ؐ کی آمد ورفت دیکھ کر کہنا شروع کردیا کہ بَلْعَام اسے پڑھاتاسکھاتاہے۔
عبیداللہ بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمارے دو رومی غلام تھے وہ اپنی مذہبی کتاب پڑھا کرتے تھے۔ نبی ﷺکا ان کے پاس سے گزرہوتا تو آپؐ کھڑے ہوکر سننا شروع کردیتے۔ اس سے مشرکین نے مشہور کردیا کہ یہ (محمدؐ) ان دونوں سے تعلیم حاصل کرتاہے۔
سعید بن مُسَیَّب کہتے ہیں کہ یہ بات مشرکین کے اس آدمی نے مشہور کی جو کاتب وحی رہ چکا تھا بعد میں مرتد ہوگیا۔ اس نے یہ قصہ گھڑا ہے۔
ماٰخذ
(۱) بخاری ج۱، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ ،ج۲،کتاب التفسیر سورۂ علق باب قولہٖ اقرأ وربک الاکرم٭کتاب التعبیر باب اول ما بدی بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ٭مسلم ج۱کتاب الایمان باب بدئِ الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ اورکتاب الصلاۃ۔ مسلم نے الرؤیا الصالحۃ کے بجائے الرؤیا الصادقۃ نقل کیاہے٭ مُسند احمد ج۶ص۱۵۳۔۲۳۲٭ مُسندِ ابی عوانۃ ج۱ص۱۱۰٭ سیرت ابن ھشام ج ۱،ص۳۳۴ باب اول مابدیٔ بہ رسول اللّٰہ ﷺ الرؤیا الصادقۃ۔
(۲) بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورہ اقرأ باسم ربک ،ج۱، کتاب الایمان باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللّٰہ ﷺ ٭مسلم ج۱،کتاب الایمان باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ٭ مسند احمد ج۶،ص۲۳۲۔۲۳۳ روایت عائشۃ٭روح المعانی پ۳۰،ص۱۷۸(مختصر)٭ابنِ کثیر ج۴ سورہ علق ص۵۲۷٭ابنِ جریر ج۲۸؍۳۰ جلد۱۲ سورۃ العلق ٭ مسندِ ابی عوانۃ ج۱ص۱۱۱۔۱۱۲٭ المصنف لعبد الرّزاق ج۵ص۳۲۱۔۳۲۴ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵،ص۴۷۲ سورہ العلق۔
(۳) بخاری ج۲، کتاب التعبیر۔ باب اوّل ما بدیٔ بہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الوحی الرؤیا الصالحۃ۔ مسند احمد ج۶، ص۲۳۳عن عائشۃ۔
(۴) بخاری کتاب التفسیر ج۲، سورۃ النساء باب لایستوی القاعدون من المومنین والمجاھدون فی سبیل اللّٰہ۔، ج۱کتاب الصلاۃ باب ما یذکر فی الفخذ۔٭ترمذی ج۲ابواب التفسیر، ھذا حدیث حسن صحیح۔ ٭المعجم الطبرانی الکبیر،ص۱۲۳۔۱۲۴زید بن ثابت٭ نسائی کتاب الجھاد باب فضل المجاھدین علی القاعدین ٭ مسندِ احمد ج۵ص۱۹۱۔ ٭السنن الکبریٰ للبَیْھَقِی ج۹، کتاب التفسیر ٭ابنِ کثیر ج۴ ص۴۳۵۔
(۵) بخاری ج۱، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ٭ بخاری ج۱، کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ پر مختصر ہے٭ مسلم ج۱،کتاب الایمان باب بدء الوحی الیٰ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۶) مسلم ج۲ کتاب الفضائل باب طیب عرقہ ص۴۵۲٭ ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء کیف کان ینزل الوحی علی النبیؐ٭ مسند احمد ج۶ص۱۵۸ تا ۲۵۷ قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ٭ نسائی کتاب الافتتاح جامع ماجاء فی القرآن٭ موطأ امام مالک کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی القرآن۔
(۷) ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۸۰٭ ابنِ کثیر ج۴، سورۃ المزمل ٭المستدرک ج۲، تفسیر سورۃ المزمل توضیح معنی آیۃ انا سنلقی علیک قولاً ثقیلا ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵، بحوالہ عبد بن حُمَید، ابن نصرص۳۲۰
(۸) مُسندِ احمد ج۵۔ص۱۱۸ روایت عائشہ۔
(۹) بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورہ قیامۃ باب وَقولہ لاتحرّک بہٖ لسانک لتعجل بہ٭ ترمذی ابواب التفسیر سورہ القیامۃ ج۲٭مسند احمد ج۱، ص۲۲۰عن ابن عباس۔
(۱۰) بخاری ج۲،کتاب ابواب فضائل القرآن۔ باب الترتیل فی القرأۃ۔٭کتاب التفسیر سورۃ القیامۃ، باب قولہ فاذا قرأناہ فاتبع قرآنہ۔٭ مسلم ج۱کتاب الصلاۃ باب الاستماع للقرأۃ۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ص۳۴۰عن ابن عباس۔
(۱۱) کتاب الرد علی الجھمیۃ وغیرھم التوحید باب قول اللّٰہ لاتحرک بہ لسانک ٭مُسند احمد ج۱ص۳۴۳، عن ابن عباس٭نسائی ج۲ جامع ماجاء فی القراٰن٭فتح القدیر ج۵،ص۳۴۰٭ابن کثیر ج۴، عن ابن عباس۔
(۱۲) المستدرک للحاکم ج۲، کتاب التفسیر ۔ تفسیر سورۃ سبح اسم ربک الاعلیٰ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵ بحوالہ ابنِ مردویہ۔
(۱۳) ابنِ جریر جز۲۸؍۳۰ج۱۲، سورۃ المدثر٭ بخاری ج۲، کتاب التعبیر باب اول ما بدیٔ بہ رسول اللّٰہ ﷺ من الوحی الرُّؤیا الصالحۃ ٭ مُسندِ احمد ج۶ص۲۳۳، روایت عائشۃؓ ٭ مسند ابی عوانہ ج۱ص۱۱۲)
(۱۴) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ المدثر ٭مسلم ج۱کتاب الایمان باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ٭ترمذی ج۲ابواب التفسیر سورۃ المدثر٭مُسند احمد ج۳ص۳۲۵، جابر بن عبداللّٰہ۔ابنِ کثیر ج۴، سورۃ المدثر ٭ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ج۱۲، سورۃ المدثر۔مسند احمد نے زَمِّلُوْنی تین مرتبہ نقل کیاہے۔ ٭ فتح القدیر للشَّوکانی ج۵ ص۳۲۸۔
(۱۵) بخاری ج۲،کتاب التفسیر سورۃ المدثّر ٭ مسلم ج۱، کتاب الایمان باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ ﷺ ٭فتح القدیر ج۵ص۳۲۸٭ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ المدثر٭مُسندِ ابی عوانَۃج۱ص۱۱۵۔
(۱۶) بخاری ج۲،کتاب التفسیر سورہ کٰھٰیٰعٓصٓ باب وما نتنزل الا بامر ربک ٭ترمذی ج۲،ابواب التفسیر سورہ مریم ھذا حدیث حسن غریب ٭ روح المعانی جز ۱۶؍۱۸ پ۱۶ص۱۰۴٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۳ ص۳۴۵ ٭ابنِ جریر جز ۱۵؍۱۶ج۸ص۷۸٭مسندِ احمد ج۱ عن ابن عباس٭ ابنِ کثیر ج۱، سورہ مریم ٭ابنِ ابی حاتم بحوالہ ابنِ کثیر ج۳ص۱۳۰۔
(۱۷) ابن جریر جز۱۵؍۱۶ مجلد ۸ص۷۸،٭ ابن کثیر ج۳، سورہ مریم۔
(۱۸) فتح القدیر للشوکانی ج۳ص۳۴۵۔
(۱۹) ابنِ جریر جز ۱۵؍۱۶ج۸۔ص۷۸۔
(۲۰) ابنِ کثیر ج۳، سورہ مریم ٭ ابنِ جریر ج۸ ص۷۸٭ فتح القدیر للشوکانی ج۳ص۱۴۵۔
(۲۱) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ الضّحیٰ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵،ص۴۵۶بحوالہ فریابی، عبدبن حُمَید، سعید بن منصور، طَبَرانی، ابن مردویہ۔
(۲۲) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ الضحیٰ٭ مسلم ج۲، کتاب الجھاد والسیر باب ما لقی النبی ﷺ من المشرکین ٭تِرمذی ج۲ ابواب التفسیر سورۃ الضُّحیٰ ٭ ابنِ جریرجز۲۸؍۳۰ جلد۱۲سورۃ الضُّحیٰ ٭ ابنِ کثیرج۴ ص۵۲۲٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۵، الضُّحیٰ ٭روح المعانی جز ۲۸؍۳۰ الضُّحٰی٭مسند احمد ج۴، ص۳۱۲ جُندُب بَجَلی۔
(۲۳) بخاری ج۱ کتاب التہجد باب ترک القیام للمریض۔
(۲۴) ابن کثیر ج۴ص۵۲۲ ٭ابنِ جریر جز ۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۱۴۸۔
(۲۵) مسند احمد ج۲،ص۳۶۰ روایت ابی ھریرۃ۔
(۲۶) مسندِ احمد ج۲ص۱۶۲، روایت عبداللّٰہ بن عَمْرو ٭ ابوداؤد ج۳، کتاب العلم باب فی کتاب العلم۔ابوداؤد نے ما خَرَجَ کے بجائے مَا یَخْرُجُ منہ نقل کیاہے٭دارمی مقدمہ باب ۱۰۳ باب من رخص فی کتابۃ العلم۔
(۲۷) ابنِ کثیر ج۲ سورۃ النّحل ۔
فصل دوم: تکمیلِ ایمان کے لیے نبیؐ کے ساتھ محبت کا معیار
بخاری ومسلم نے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ روایت کیاہے:
۱۶۔ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔ ‘‘
تشریح : یعنی نبی ﷺ کا مسلمانوں سے اور مسلمانوں کا نبی ﷺسے جو تعلّق ہے وہ تو تمام دوسرے انسانی تعلّقات سے ایک بالاتر نوعیت رکھتاہے۔ کوئی رشتہ اُس رشتے سے اور کوئی تعلّق اُس تعلّق سے جونبی اور اہلِ ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نبی ﷺمسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں،ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کرسکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کراسکتے ہیں، ان کو جہنّم میں دھکیل سکتے ہیں۔ مگر نبی ﷺاُن کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں اُن کی حقیقی فلاح ہو۔ وہ خود اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارسکتے ہیں۔ حماقتیں کرکے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرسکتے ہیں۔ لیکن نبی ﷺاُن کے لیے وہی کچھ تجویز کریں گے جو فی الواقع ان کے حق میں نافع ہو اور جب معاملہ یہ ہے تو نبی ﷺکا بھی مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ آپؐ کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھیں، دنیا کی ہرچیز سے زیادہ آپؐ سے محبت رکھیں، اپنی رائے پر آپ کی رائے کو اور اپنے فیصلے پر آپؐکے فیصلے کو مقدم رکھیں اور آپؐکے ہرحکم کے آگے سرِ تسلیم خم کردیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب حاشیہ: ۱۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِیْ اَیَاسٍ، قَالَ:ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔ (۱)
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے باپ اور اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔
ایک روایت میں مسلم نے یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں:
(۲) حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ : نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ح وَحَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْوَارِثِ کِلاَھُمَا عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ لاَیُؤْمِنُ عَبْدٌ وَفِی حَدِیْثِ عَبْدِ الْوَارِثِ الرَّجُلُ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَھْلِہٖ وَمَالِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔(۲)
ترجمہ :کوئی بندہ یا کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے اہل وعیال اُس کے مال واسباب اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔
کنزالعمال میں مسند احمد، بخاری اور ابویعلیٰ فی مسندہٖ کے حوالہ سے یہ الفاظ بھی نقل کیے گئے ہیں:
(۳) وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَایُؤمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ۔(۳)
(۴) لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہٖ۔ (۴) (عن عبداللّٰہ بن ہشام)
(۵) وَاللّٰہِ لَا یَکُوْنُ اَحَدُکُمْ مُؤْمِنًا حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہٖ وَوَالِدِہ۔(۵)(عن فاطمۃ بنت عتبہ)
ایمانِ کامِل کے لیے فیصلہ کن سند
۱۷۔ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنُ ھَوَاہٗ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیاہوں۔‘‘
تشریح : جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺلائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت ورہنمائی کے تحت آپؐ نے عمل کیاہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، النساء حاشیہ: ۹۵)
تخریج :(۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہؓبن عمرو سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیاہوں۔‘‘
(۲) لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ مُتَّبِعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔ (۷)
ترجمہ: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس طریقہ کی متبع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیاہوں۔‘‘
لذّتِ ایمان اور اس کی چاشنی کسے نصیب ہوتی ہے
۱۸۔ ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلاَمِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلاً۔ (مسلم)
’’ایمان کا لذّت شناس ہوگیا وہ شخص جو راضی ہوا اس بات پر کہ اللہ ہی اس کا رب ہو، اور اسلام ہی اس کا دین ہو اور محمدؐ ہی اس کے رسول ہوں۔‘‘
تشریح : جن کی اطاعت محض ظاہری نہیں ہے، بادلِ نخواستہ نہیں ہے، بلکہ دل سے وہ اسلام ہی کی رہنمائی کو حق مانتے ہیں۔ ان کا ایمان یہی ہے کہ فکرو عمل کا جو راستہ قرآن اور محمد ﷺنے دکھایاہے وہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے اور اسی کی پیروی میں ہماری فلاح ہے۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے غلط کہہ دیاہے ان کی اپنی رائے بھی یہی ہے کہ وہ یقینا غلط ہے، اور جسے اللہ اور اس کے رسول نے حق کہہ دیاہے ان کا اپنا دل ودماغ بھی اسے برحق ہی یقین کرتاہے۔ ان کے نفس اور ذہن کی حالت یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت سے جو حکم ثابت ہو اُسے وہ نامناسب سمجھتے ہوں اور اس فکر میں غلطاں وپیچاں رہیں کہ کسی طرح اسے بدل کر اپنی رائے کے مطابق، یا دنیا کے چلتے ہوئے طریقوں کے مطابق ڈھال بھی دیاجائے اور یہ الزام بھی اپنے سر نہ لیاجائے کہ ہم نے حکمِ خدا و رسولؐ میں ترمیم کرڈالی ہے۔ (تفہیم القرآن ،ج۴، الاحزاب، حاشیہ : ۵۵)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَحْیَ بْنُ اَبِیْ عُمَرَالْمَکِّیُّ وَبِشْرُبْنُ الْحَکَمِ، قَالَا: نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ وَہُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَزِیْدَبْنِ الْہَادِ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ ابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلًا۔(۸)
رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے
۱۹۔ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ۔
’’جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔‘‘
تشریح : یہ حدیث اس مضمون کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی نظام کی دوسری بنیاد رسولؐ کی اطاعت ہے یہ کوئی مستقل بالذّات نہیں ہے بلکہ اطاعتِ خدا کی عملی صورت ہے۔ رسول اس لیے مُطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقے سے کرسکتے ہیں کہ رسول کی اطاعت کریں۔ کوئی اطاعتِ خدا رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے اور رسول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے۔
(تفہیم القرآن ،ج۱، النساء، حاشیہ: ۸۹)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ بْنُ عَبْدالرَّحْمٰنِ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔(۹)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا،’’ جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘
ایک مثال سے رسالتِ محمدی کی وضاحت
۲۰۔میری اور تم لوگوں کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں۔ مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کر کھینچ رہاہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا۔
’’اچھا تو اے محمدؐ! شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائیں۔‘‘
یہ اشارہ اس حالت کی طرف ہے جس میں اس وقت نبی ﷺمبتلاتھے۔ اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ آپؐ کو رنج اُن تکلیفوں کا نہ تھا جو آپؐ کو اور آپؐ کے ساتھیوں کودی جارہی تھیں، بلکہ جو چیز آپؐ کو اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی وہ یہ تھی کہ آپؐ اپنی قوم کو گمراہی اور اخلاقی پستی سے نکالنا چاہتے تھے اور وہ کسی طرح نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ آپؐ کویقین تھاکہ اس گمراہی کا لازمی نتیجہ تباہی اور عذاب الٰہی ہے۔ آپؐ ان کو اس سے بچانے کے لیے اپنے دن اور راتیں ایک کیے دے رہے تھے مگر انہیں اصرار تھا کہ وہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہوکر ہی رہیں گے۔ (تفہیم القرآن ،ج۳، الکہف ،حاشیہ: ۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُو الَیَمَان، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِالرحْمٰنِ، اَنَّہٗ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یَقُوْلُ: اِنَّمَا مَثلِیْ وَمَثَلُ النَّاسِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اِسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا اَضَآئَ تْ مَاحَوْلَہٗ جَعَلَ الْفِرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِیْ تَقَعُ فِی النَّارِ یَقَعْنَ فِیْھَا وجَعَلَ یَنْزِعُھُنَّ وَیَغْلِبْنَہٗ فَیَقْتَحِمْنَ فِیْھَا فَانَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَھُمْ یَقْتَحِمُوْنَ فِیْھَا۔ (۱۰)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوںنے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ’’میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں، مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔‘‘
مسلم نے حضرت جابرؓ سے بھی ایک روایت نقل کی ہے، اس میں ہے:
(۲) مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نارًا فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ یَقَعْنَ فِیْہَا وَہُوَیَذُبُّہُنَّ عَنْہَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تُفْلِتُوْنَ مِنْ یَدِیَّ۔(۱۱)
مسلم کی ایک روایت میں یَقْتَحِمُوْنَ کی جگہ تقحَّمون فیہا بھی ہے۔
نبوّتِ محمدیؐ پر ایمان نہ لانے والے دوزخی ہیں
۲۱۔ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدہٖ لاَیَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ، یَھُوْدِیٌّ وَلاَ نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ م بِالَّذِی ْاُرْسِلْتُ بِہٖ اِلاَّ کَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔ (مسلم)
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کہ اس امت کا کوئی شخص ایسا نہیں ہے، خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی، جو میری رسالت کی خبر سنے اور اس پیغام کو جو میں لایا ہوں نہ مانے اور پھر دوزخیوں میں شامل نہ ہو۔ ‘‘ (تفہیمات اوّل: ایمان بالرسالۃ)
تخریج: (۱) حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ، قَالَ: انَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ: وَاَخْبَرَنِیْ عَمْرٌو اَنَّ اَبَایُوْنُسَ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ ﷺ بِیَدِہٖ لَا یَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ وَلَا نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِیْ اُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔ (۱۲)
دارقطنی نے الافراد میں بحوالہ ابن مسعود بایں الفاظ درج ذیل روایت بھی نقل کی ہے:
(۲)مَنْ سَمِعَ بِیْ مِنْ یَہُوْدِیٍّ اَوْ نَصْرَانِیٍّ ثُمَّ لَمْ یَتْبَعْنِیْ فَہُوَ فِی النَّارِ۔
(۳) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَایَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ اَوْنَصْرَانِیٌّ ثُمَّ لَا یُؤْمِنُ بِیْ اِلَّا دَخَلَ النَّارَ۔ (۱۳)
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا کوئی شخص ایسا نہیں ہے خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی جو میری رسالت کی خبر سنے پھر مجھ پر ایمان نہ لائے پھر وہ آگ (دوزخ) میں داخل نہ ہو۔‘‘
مسند احمد میں حضرت ابوموسیٰ اشعری سے ایک روایت بایں الفاظ بھی منقول ہے:
(۴) مَنْ سَمِعَ بِیْ مِنْ اُمَّتِیْ اَوْ یَہُوْدِیٌّ اَوْ نَصْرَانِیٌّ فَلَمْ یُؤْمِنْ بِیْ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ۔ (۱۴)
ترجمہ: میری اُمت کا کوئی شخص یا یہودی یا عیسائی میری رسالت کی خبر سنے مگر ایمان نہ لائے تو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
سر چشمۂ ہدایت محض قرآن مجید اور اُسوۂ حسنہ ہے
۲۲۔ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ عنہ توریت کا ایک نسخہ لیے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتے گئے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوتا چلا گیا ایک صحابی نے حضرت عمرؓ سے کہا: تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ غصّے سے کتنا سرخ ہورہا ہے اور تم پڑھے چلے جارہے ہو۔ حضرت عمرؓ یہ دیکھ کر رک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج اگر موسیٰ بھی ہوتے تو میری پیروی کرنے کے سوا ان کے لیے کوئی چارۂ کار نہ ہوتا۔
تشریح : موسیٰ علیہ السلام اپنے زمانے کے نبی تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اور قرآن کے آجانے کے بعد کوئی دوسرا سرچشمۂ ہدایت نہیں رہا جس کی طرف انسان رجوع کرسکے۔ ہدایت اگر موجود ہے تو رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ پاک اور اللہ تعالیٰ کی اس کتاب پاک میں ہے، اس کے باہر کسی جگہ کوئی ہدایت موجود نہیں ہے جس طرف بھی کوئی جائے گا بجز گمراہی اور ضلالت کے کچھ نہ پائے گا۔ (اسلام کا سرچشمۂ قوت، ص:۵)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْعَلَائِ ثنا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ اَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ بِنُسْخَۃٍ مِنَ التَّوْرَاۃِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہٰذِہ نُسْخَۃٌ مِنَ التَّوْرٰۃِ فَسَکَتَ فَجَعَلَ یَقْرَأُ وَوَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یتَغَیَّرُ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ثَکِلَتْکَ الثَّوَاکِلُ مَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَنَظَرَ عُمَرُ اِلیٰ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اَعُوْذُ بِااللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللّٰہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِہٖ۔ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّاوَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًاوَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْ بَدَاَلَکُمْ مُوْسیٰ فَاتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ وَلَوْکَانَ حَیًّا وَاَدْرَکَ نُبُوَّتِیْ لَا تَّبَعْنِیْ۔ (۱۵)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا عَبْدُ الرَّزّاقِ انا سُفْیَانُ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثابِتٍ، قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ مَرَرْتُ بِاَخٍ لِّیْ مِنْ قُرَیْظَۃَ فَکَتَبَ لِیْ جَوَامِعَ مِنَ التَّورَاۃِ اَلَا اَعْرِضُہَا عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فقالَ عَبْدُ اللّٰہِ یَعْنِیْ ابْنَ ثَابِتٍ فَقُلْتُ لَہٗ: اَلَا تَرٰی مَا بِوَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ تَعَالیٰ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلًا۔ قَالَ: فَسُرِّیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْاَصْبَحَ فِیْکُمْ مُوْسیٰ ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوْہُ وَتَرَکْتُمُوْنِیْ لَضَلَلْتُمْ اِنَّکُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ وَاَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ۔ (۱۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسولؐ اللہ میرا گزر ایک قریظی بھائی کے پاس سے ہوا انھوں نے مجھے تورات میں سے چند اصول تحریر کردیے ہیں۔ اجازت ہو تو آپؐ کے حضور پیش کروں؟ عبداللہ کہتے ہیں۔ یہ سنتے ہی رسالت مآب ﷺ کا رخ مبارک سرخ ہوگیا۔عبداللہ بن ثابت کا بیان ہے۔ میں نے عمرؓ سے کہا۔ دیکھتے نہیں، آپؐ کے رخ انور کا رنگ متغیر ہوگیا ہے۔ یہ دیکھتے ہی حضرت عمرؓنے عرض کیا میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی، اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی سے۔ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلًا۔راوی کا بیان ہے کہ اس سے آںحضور ﷺکے رخِ انور سے غصّے کے آثار دور ہوگئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا، ’’ قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے۔ اگر آج تم میں موسیٰؑ آجائیںاور تم ان کی پیروی کرنے لگو اور میری اتباع چھوڑ دو تو یقینا تم گمراہ ہوجائو گے۔ بے شک تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصّہ ہوں۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یُوْنُسُ وَغَیْرُہٗ قَالَ: ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنُ زَیْدٍ، ثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرِ نِالشَّعْبِیِّ عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْد اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:لَاتَسْأَ لُوْا اَہْلَ الْکِتٰبِ عَنْ شَیٍْٔ فَاِنَّہُمْ لَنْ یَّہْدُوْکُمْ وَقَدْ ضَلُّوْا فَاِنَّکُمْ اِمَّا اَنْ تُصَدِّ قُوْا بِبَاطِلٍ اَوْتُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ فَاِنَّہٗ لَوْکَانَ مُوْسیٰ حَیًّا بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ مَاحَلَّ لَہٗ اِلَّا اَنْ یَّتَّبِعَنِیْ۔ (۱۷)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کچھ دریافت نہ کرو وہ تمہاری رہنمائی کے اہل نہیں ہیں۔ وہ خود گم کردہ راہ ہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا یا تو تم باطل کی تصدیق کروگے یا پھر حق کی تکذیب کے مرتکب ہوگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام تمہارے اندر زندہ موجود ہوتے تو انھیںبھی میری اتباع کے بغیر اور کوئی چیز حلال نہ ہوتی۔
(۴) اَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ بِکِتَابٍ اَصَابَہٗ مِنْ بَعْضِ اَہْلِ الْکِتٰبِ فَقَرَاَہُ النَّبِیَّ ﷺ فَغَضِبَ فَقَالَ: اَمُتَہَوِّکُوْنَ فِیْہَا یَابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَاٰئَ نَقِیَّۃً لَاتَسْئَلُوْہُمْ عَنْ شَیٍْٔ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہٖ اَوْبِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْاَنَّ مُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَم کَانَ حَیًّا مَا وَسِعَہٗ اِلَّا اَنْ یَّتَّبِعَنِیْ۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ عمرؓبن الخطاب نبی ﷺ کے پاس ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انھیں اہل کتاب میں سے کسی سے ملی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اسے پڑھ کر نبی ﷺ کو سنایا۔ آپؐ نے غصہ ہو کر فرمایا: ’’اے ابن خطاب کیا تم بھی اسی گڑھے میں گرنا چاہتے ہو (جس میں اہلِ کتاب گر چکے ہیں) قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں بلا شبہ تمہارے پاس صاف و شفاف اور روشن شریعت لے کر آیا ہوں۔ اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق نہ پوچھو تاکہ یہ صورت پیش نہ آئے کہ وہ تمہیں حق کی خبر دیں اور تم اس کی تکذیب کردو یا باطل پیش کریں اور تم اس کی تصدیق کردو ! بخدا! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام آج زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اتباع کے بغیر کوئی گنجائش نہ پاتے۔
(۵) عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ اَتَاہُ عُمَرُ فَقَالَ: اِنَّا نَسْمَعُ اَحَادِیثَ مِنْ یَہُوْدَ تُعْجِبُنَا اَفَتَرٰی اَنْ نَکْتُبَ بَعْضَہَا؟ فَقَالَ: اَمُتَہَوِّکُوْنَ اَنْتُمْ کَمَا تَہَوَّکَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہَا بَیْضَائَ نَقِیَّۃً وَلَوْکَانَ مُوْسیٰ حَیًّا مَا وَسِعَہٗ اِلَّا اتِّبَاعِی۔ (۱۹)
ترجمہ:حضرت جابرؓ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم یہود سے بعض ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں آپؐ کا کیا ارشاد ہے ، کیا ہم ان میں سے کچھ لکھ نہ لیا کریں؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم بھی (گمراہی کے) اس گڑھے میں گرنا چاہتے ہو جس میں یہود و نصاریٰ گرچکے ہیں؟ میں تمہارے پاس وہ شریعت لے کر آیا ہوں جو بالکل صاف و شفاف اور روشن ہے۔ اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو انھیں بھی میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
دوہرے اجر کے مستحق لوگ
۲۳۔ ثَلٰثَۃٌ لَہُمْ اَجْرَانِ۔ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِیِّہٖ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ الخ۔ (بخاری و مسلم)
’’حضرت ابوموسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن کے لیے دوہرا اجر ہے ان میں سے ایک ہے اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے سابق نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر محمد (ﷺ) پر بھی ایمان لے آیا۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۵، الحدید، حاشیہ:۵۵)
تشریح : بظاہر تو یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص پہلے نبی کو مانتا ہے اور بعد والے نبی کو بھی ماننے لگا اسے دوہرا اجر ملے مگر جس نے بعد والے نبی کو نہ مانا وہ پہلے نبی کو ماننے کے اجر سے بھی محروم ہوجائے ۔ سطحی نظر میں سیدھا حساب تو یہی نظر آتا ہے کہ اگر دو نبیوں کو ماننے کے دو اجر ہیں تو ایک کے ماننے پر ایک اجر ہونا چاہیے ۔ مگر یہ صرف ریاضی کا مغالطہ ہے، جو تھوڑے تامل سے دور ہوجاتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص ہے، جو حکومت کے مقرر کیے ہوئے پہلے گورنر کے تحت عمدہ خدمات بجالاتا رہا۔ پھر حکومت نے اس کی جگہ دوسرا گورنر بھیجا تو وہ اس کی ماتحتی بھی اسی حسن خدمت کے ساتھ کرتا رہا۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم اس کی پچھلی خدمات کا صلہ بھی دیں گے اور بعد کی خدمات کا بھی۔ اب کیا حکومت کے اس بیان سے آپ یہ نتیجہ نکالنے میں حق بہ جانب ہوں گے کہ جس شخص نے پہلے گورنر کو تو مانا اور اس کی خوب اطاعت کی مگر دوسرے گورنر کو اس نے تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا اسے حکومت ان خدمات کا اجر تو ضرور ہی دے گی جو اس نے پہلے گورنر کے ماتحت انجام دی تھیں؟ اس سوال کا جو کچھ بھی آپ جواب دیں گے وہی اس مسئلہ کا حل بھی ہے کہ دونوں پیغمبروں کے ماننے والے کا اجر دوہرا کیوں ہے اور بعد میں آنے والے پیغمبر کا انکار کرکے جو شخص پہلے پیغمبر ہی کے ساتھ وابستہ رہے وہ کسی بنا پر سرے سے کسی اجر کا مستحق ہی نہیں رہتا۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ اگر وہ بدکاریاں اور ظلم و ستم نہیں کرتا تو اس کا حشر ان لوگوں کے ساتھ نہ ہوگا جو ظالم و بدکار ہیں۔
(تفہیمات اوّل:ایمان بالرسالۃ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَابْنُ سَلَامٍ، قَالَ: انا المُحَارِبِیُّ، ناصَالِحُ بْنُ حَیَّانٍ، قَالَ عَامِرُ نِالشَّعْبِیُّ حَدَّثَنِیْ اَبُوبُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثلٰثَۃٌ لَہُمْ اَجْرَانِ رَجُلٌ مِن اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمَنَ بِنَبِیِّہٖ واٰمَنَ بِمُحَمَّدٍ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْکُ اِذَا اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہٗ اَمَۃٌ یَطَأُہَا فَاَدَّبَہَا فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبَہَا وَعَلَّمَہَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَہَا ثُمَّ اعْتَقَہَا فَتَزَوَّجَہَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۰) (الحدیث)
ترجمہ : حضرت عامر الشعبی نے بیان کیا کہ ابوبردہ نے اپنے والد کے حوالے سے مجھے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ تین آدمی ایسے ہیں جو دوہرے اجر کے مستحق ہیں۔ ایک تو اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ دوسرا وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کا حق بھی پورا ادا کیا اور اپنے آقائوں کا بھی ۔ اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس لونڈی ہو، جس سے وہ مباشرت بھی کرتا ہو اور اسے زیورِ ادب و تعلیم سے اچھی طرح آراستہ کرے، پھر اسے آزاد کرے اور اسے اپنی زوجیت میں لے آئے۔ یہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ ، قالَ: انا ہُشَیمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الہَمْدَانِیِّ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَجُلًا مِّنْ اَہْلِ خُرَاسَانَ سََأَلَ الشَّعْبِیَّ فَقَالَ: یَا اَبَا عَمْرٍو اِنَّ مِنْ قِبَلِنَا مِنْ اَہْلِ خُرَاسَانَ یَقُوْلُوْنَ فِی الرَّجُلِ اِذَا اعْتَقَ اَمَتَہٗ ثُمَّ تَزَوَّجَہَا فَہُوَ کَالرَّاکِبِ بَدَنَتَہٗ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ حَدَّثَنِیْ ابُوْبُرْدَۃَ بْنُ اَبِیْ مُوْسیٰ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ثَلَاثَۃٌ یُوْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ رَجُلٌ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیِّہٖ وَاَدْرَکَ النَّبِیَّ ﷺ فَاٰمَنَ بِہٖ وَاتَّبَعَہ وَصَدَّقَہٗ فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوْکٌ اَدَّیٰ حَقَّ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَحَقَّ سَیِّدِہٖ فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ لَہٗ اَمَۃٌ فَغَذَاہَا فَاَحْسَنَ غِذَائَ ہَا ثُمَّ اَدَّبَہَا فَاَحْسَنَ اَدَبَہَا ثُمْ اَعْتَقَہَا وَتَزَوَّجَہَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۱) (الحدیث)
ترجمہ: امام شعبی سے ایک خراسانی باشندے نے پوچھا اے ابوعمرو! ہماری طرف خراسان کے لوگ اس شخص کے بارے میں جو اپنی لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے، کہتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ہی اونٹنی پر سوار ہو، شعبی نے جواب دیا مجھے ابوبردہ نے اپنے والد کے حوالے سے حضور ﷺ کا ارشاد گرامی سنایا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تین آدمی ایسے ہیں جنھیں دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو پہلے اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبی ﷺ کا زمانۂ رسالت پایا تو آپؐ پر بھی ایمان لے آیا، آپؐ کی اتباع و پیروی کی اور آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی اس کے لیے دو اجر ہیں۔ دوسرا شخص وہ غلام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا، اور اپنے آقا کا بھی اس کے لیے دواجر ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جس کی ایک لونڈی ہو۔ اس نے اس کی عمدہ خوراک دے کر پرورش کی، اچھا ادب سکھایا پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارِ الْمَرْوَزِیُّ قَالَ: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسیٰ، عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، یُؤتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ قَالَ: اَجْرَیْنِ لِاِیْمَانِہِمْ بِعِیْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَم وَتَصْدِیْقِہِمْ بِالتَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَاِیْمَانِہِمْ بِمُحَمَّدٍ ﷺ وَتَصْدِیْقِھِمْ۔(۲۲)
ترجمہ: ابنؓ عباس کا قول ہے وہ (اللہ تعالیٰ) تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ ایک اجر حضرت عیسیٰؑ پر ایمان لانے اور تورات و انجیل کی تصدیق کی وجہ سے اور دوسرا محمد ﷺ پر ایمان لانے اور آپؐ کی تصدیق کرنے کی بنا پر۔
آپؐ کی رسالت عالم گیر اور ہمہ گیر ہے
۲۴۔ بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ۔
نبی ﷺ نے احادیث میںبار بار بیان فرمایا ہے کہ:’’میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ: بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَہْرًا یَرْعَبُ مِنِّی الْعَدُوُّ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ، وَ قِیْلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہٗ فَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْ وَہِیَ نَائِلَۃٌ مِنْکُمْ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالیٰ مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا۔ (۲۳)
ترجمہ : حضرت ابوذرؓ راوی ہیں نبی ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ اعزازات ایسے دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے۔ (۱) میں کالے گورے سب کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ (۲) ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنادی گئی ہے۔ (۳) غنیمت کے مال میرے لیے حلال کردیے گئے ہیں مجھ سے پہلے کسی کے لیے یہ حلال نہیں تھے۔ (۴) ایک مہینے کی مسافت سے رعب و دبدبے سے میری مدد کی گئی ہے۔ یعنی دشمن ایک ماہ کے فاصلے سے مجھ سے خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ (۵) مجھے کہا گیا کہ مانگو دیے جائو گے تو میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپالیا۔ وہ ان شاء اللہ تم میں سے اس شخص کو جس نے شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو مل کر رہے گی۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثنا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ یَزِیْد بْنِ اَبِی زِیَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ وَلَا اَقُوْلُہٗ فَخْرًا بُعِثْتُ اِلیٰ کُلِّ اَحْمَرَوَ اَسْوَدَ فَلَیْسَ مِنْ اَحْمَرَ وَلَا اَسْوَدَ یَدْخُلُ فِیْ اُمَّتِیْ اِلَّا کَانَ مِنْہُمْ وَ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا۔ (۲۴)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’مجھے پانچ عطیے ایسے دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے اور میں یہ بات فخر یہ طور پر نہیں کہتا۔ میری بعثت ہرسرخ و سیاہ کی طرف ہوئی ہے۔ سرخ و سیاہ جو بھی میری امت میں داخل ہوگیا وہ انھیں میں سے ہے اور ساری زمین میرے لیے مسجد بنادی گئی ہے۔‘‘
۲۵۔کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔
’’پہلے ایک نبی خاص طور پر اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں عام طور پر تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیاہوں۔ ‘‘
(بخاری و مسلم)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَیَّارٌ ہُوَاَبُوا لْحَکَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ الْفَقِیْرُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ مِنَ الْاَنْبِیَائِ قَبْلِیْ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا وَاَیُّمَارَجُلٍ مِنْ اُمَّتِیْ اَدْرَکَتْہُ الصَّلوٰۃُ فَلْیُصَلِّ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَآفَّۃً وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ۔ (۲۵)
ترجمہ: جابرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی بنا پر ایک مہینے کی مسافت سے میرا رعب دشمن پر طاری ہوجاتا ہے۔ (۲)ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنادی گئی ہے۔ لہٰذا میری امت کے ہر فرد بشر کو اجازت ہے کہ جہاں نماز کا وقت آجائے اسی جگہ نماز پڑھ لے۔ (۳) مالِ غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ (۴) اس سے پہلے نبی بطور ِ خاص صرف کسی ایک قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور میری بعثت تمام لوگوں کی جانب ہے۔ (۵) اور مجھے شفا عت یعنی (شفاعت کبریٰ) کا اعزاز دیا گیا ہے۔‘‘
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَد، وَقَالَ: اِنِّیْ اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ مِنَ الْاَنْبِیَائِ قَبْلِیْ فَذَکَرَ مِنْہُنَّ اَنَّہٗ کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَآصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔ (۲۶)
۲۶۔ وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔
’’میں ساری خلقت کی طرف بھیجا گیا ہوں اور ختم کردیے گئے میری آمد پر انبیاء ۔‘‘ (مسلم)
تخریج: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَائِ بِسِتٍّ۔ اُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، وَ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔ (۲۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ مجھے انبیاء کے مقابلے میں چھ چیزوں کی فضیلت دی گئی ہے۔ جو امع الکلم سے نوازا گیا ہوں، رعب و دبدبہ سے نصرت فرمائی گئی ہے۔ غنیمتیں میرے لیے حلال قرار دی گئی ہیں۔ زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک ٹھہرایا گیا ہے۔ ساری مخلوق کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور نبیوں کو مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے۔
۲۷۔اَمَّا اَنَا فَاُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّہِمْ عَامَّۃً وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا یُرْسَلُ اِلیٰ قَوْمِہٖ۔ (مسند احمد)
’’میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا ۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا بَکْرُبْنُ مُضَرَعَنِ ابْنِ الْہَادِ، عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَامَ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّیْ فَاجْتَمَعَ وَرَأَہ رِجَالٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ یَحْرِسُوْنَہٗ حَتّٰی اِذَا صَلّٰی وَانْصَرَفَ اِلَیْہِمْ فَقَالَ لَہُمْ: لَقَدْ اُعْطِیْتُ اللَّیْلَۃَ خَمْسًا مَا اُعْطِیَہُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ:
اَمَّا اَنَا فَاُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّہِمْ عَامَّۃً وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا یُرْسَلُ اِلیٰ قَوْمِہٖ۔
وَنُصِرْتُ عَلَی الْعَدُوِّبِالرُّعْبِ ولَوْکَانَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ لَمُلِئَی مِنْہُ رُعْبًا۔
وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ اَکْلَہَا وَکَانَ مِنْ قَبْلِیْ یُعَظِّمُوْنَ اَکْلَہَا کَانُوْا یُحَرِّقُوْنَہَا۔
وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسَاجِدَ وَطُہُوْرًا اَیْنَمَا اَدْرَکَتْنِی الصَّلوٰۃُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّیْتُ فَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ یُعَظِّمُوْنَ ذٰلِکَ اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ فِیْ کَنَآئِسِہِمْ وَبِیْعِہِمْ۔
وَالْخَامِسَۃُ ہِیَ مَاہِیَ قِیْلَ لِیْ سَلْ فَاِنَّ کُلَّ نَبِیٍّ قَدْ سَأَلَ فَاَخَّرْتُ مَسْأَلَتِیْ اِلیٰ یَوْمِ القِیَامَۃِ فَہِیَ لَکُمْ وَلِمَنْ شَہِدَ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ (۲۸)
ترجمہ : عمروؓبن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے سال ایک رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپؐ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپؐکے گرد پہرہ دینے کے لیے جمع ہوگئے۔ جب آپؐ نے نماز پڑھ لی تو ان کی جانب رخِ انور پھیرا اور فرمایاکہ: ’’آج رات مجھے پانچ ایسے اعزازات دیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے:
(۱) پہلا تو یہ کہ مجھے تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔
(۲) دشمن پر میرا رعب و دبدبہ ڈال کر میری نصرت فرمائی گئی اگرچہ اس دشمن کے اور میرے درمیان ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ ہو۔ وہ اتنے فاصلے سے مرعوب ہو کر خوف زدہ ہوجائے گا۔
(۳) مالِ غنیمت کا کھانا میرے لیے حلال قرار دیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے پیشتر لوگ اسے بہت بڑا گناہ تصوّر کرتے تھے اور اسے جلادیتے تھے۔
(۴) ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک قرار دے دی گئی ہے۔ جہاں نماز کا وقت ہوجائے( پانی نہ ملنے کی صورت میں) مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھ لوں۔ مجھ سے پہلی امتوں کے لوگ اسے بھی بہت بُرا سمجھتے تھے اور وہ نمازیں صرف اپنے کنیسوں اور گرجوں میں پڑھنا جائز سمجھتے تھے۔
(۵) پانچویں چیز جو مجھے عطا ہوئی ہے وہ یہ کہ مجھے مانگنے کی اجازت دی گئی کہ جو چاہوں مانگوں کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا ہے ۔ میںنے اس پیشکش کو قیامت کے روز کے لیے مؤخر رکھ لیا ہے یہ تمہارے لیے اور ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں۔
۲۸۔ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَا تَیْنِ یَعْنِی اِصْبَعَیْنِ۔ (بخاری و مسلم)
’’میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں، یہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔‘‘
تشریح :محمد ﷺ کی رسالت کسی ایک ملک کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ہے اور اپنے ہی زمانے کے لیے نہیں، آنے والے تمام زمانوں کے لیے ہے۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ مثلاًفرمایا: یٰٓاَ یُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔(الاعراف : ۱۵۸)’’ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ۔(الانعام : ۱۹)’’میری طرف یہ قرآن بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو خبردار کروں اور جس جس کو بھی یہ پہنچے۔‘‘ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّاکَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا۔(سبا: ۲۸) ’ ’ہم نے تم کو سارے انسانوں کے لیے بشارت دینے والا اور خبر دار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔(الانبیاء : ۱۰۷) ’’ اور ہم نے آپؐ کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۳، الفرقان، حاشیہ: ۴)
(حدیث نمبر ۲۸) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی حائل نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے۔ میرے بعد بس قیامت ہی ہے اور قیامت تک میں نبی رہنے والا ہوں۔
یہ بات کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشری کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلاً:
وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ۔(الانعام : ۱۹)
’’ اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔‘‘
قُلْ یٰآَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔ (الاعراف:۱۵۸)
’’اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘
وَمَآاَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (الانبیاء : ۱۰۷)
’’اور اے نبیؐ! ہم نے نہیں بھیجا تم کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت کے طور پر۔‘‘
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ (الفرقان:۱)
’’بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہاں والوں کے لیے متنبہ کرنے والا ہو۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان ، حاشیہ:۴)
جنّ و انس دونوں کے نبیؐ
۲۹۔ لَقَدْ قَرَأْ تُہَا عَلَی الْجِنِّ لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَکَانُوْا اَحْسَنَ مَرْدُوْدًا مِنْکُمْ، کُنْتُ کُلَّمَا اَتَیْتُ عَلیٰ قَوْلِہٖ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَّانِ قَالُوْا لاَ بِشَیْئٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔
’’ترمذی، حاکم اور حافظ ابوبکر بزّار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب لوگ سورۂ رحمن کو سن کر خاموش رہے تو آپؐ نے فرمایا۔’’ میں نے یہ سورہ اس رات جنّوں کو سنائی تھی جس میں وہ قرآن سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہ اس کا جواب تم سے بہتر دے رہے تھے۔ جب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچتا تھا کہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے، تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، حمد تیرے ہی لیے ہے۔‘‘
تشریح : اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ احقاف : ۲۹-۳۲ میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے جنّوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس موقع پر حضوؐر نماز میں سورۂ رحمن تلاوت فرمارہے تھے۔ یہ (سیرۃ ابن ہشام ، جلد اول ص ۲۳۶ اور ص ۳۱۴ اوّل من جہر بالقرآن مطبوعہ مصطفی البابی مصر)۱۰ نبوی کا واقعہ ہے جب آپ سفر طائف سے واپسی پر نخلہ میں کچھ مدت ٹھہرے تھے۔ اگرچہ بعض دوسری روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اُس موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یہ معلوم نہ تھا کہ جِنّ آپؐ سے قرآن سن رہے ہیں بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو یہ خبر دی کہ وہ آپ ؐکی تلاوت سن رہے تھے۔ لیکن یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو جنّوں کی سماعت قرآن پر مطلع فرمایا تھا اُسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے آپؐ کو یہ اطلاع بھی دے دی ہوکہ سورۂ رحمن سنتے وقت وہ اس کا کیا جواب دیتے جارہے تھے۔
ان روایات سے تو صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ رحمن ، سورۂ حجر اور سورۂ احقاف سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس کے بعد ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکہ معظّمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔
ابن اسحاق حضرت عروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابہ کرامؓ نے آپس میں کہا کہ قریش نے کبھی کسی کو علانیہ، بآواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے ہم میں کون ہے جو ایک دفعہ ان کو کلام پاک سنا ڈالے؟ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں۔ صحابہؓ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے۔ ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے جس کا خاندان زبردست ہو، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے یہ کام کر ڈالنے دو۔ میرا محافظ اللہ ہے۔ پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے جب کہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عبداللہؓ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورۂ رحمن کی تلاوت شروع کردی۔ قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں۔پھر جب انھیں پتہ چلا کہ یہ وہ کلام ہے جسے محمد ﷺخدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو وہ اُن پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے۔ مگر حضرت عبداللہ ؓ نے پرواہ نہ کی۔ پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔جب تک ان کے دم میں دم رہا۔ قرآن سناتے چلے گئے۔ آخر کار جب وہ اپنا سوجا ہوا منہ لے کر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا۔ انھوں نے جواب دیا۔ آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لیے کبھی ہلکے نہ تھے، تم کہو تو کل پھر انھیں قرآن سنائوں۔ سب نے کہا، بس اتنا ہی کافی ہے۔ جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انھیں سنادیا ۔۱؎
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرحْمٰنِ بْنُ وَاقِدٍ اَبُوْ مُسْلِمٍ، نا الْوَلِیْدُبْنُ مُسْلِمٍ عَنْ زُہَیْرِبْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ الْمُنْکَدِر عَنْ جَابِرٍ، قَال: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلیٰ اَصْحَابِہٖ فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ مِنْ اَوَّلِہَا اِلیٰ اٰخِرِ ہَا فَسَکَتُوْا فَقَالَ: لَقَدْ قَرَأْتُہَا عَلَی الْجِنِّ لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَکَانُوْا اَحْسَنَ مَرْدُوْدًا مِنْکُمْ کُنْتُ کُلَّمَا اَتَیْتُ عَلیٰ قَوْلِہٖ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ قَالُوْا: لَا بِشَیٍْٔ مِنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔ (۲۹)
ہٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لاَنَعْرِفُہٗ اِلاَّمِنْ حَدِیْثِ الْوَلِیْدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ قَالَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ کَانَ زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ اَلَّذِیْ وَقَعَ بِالشَّامِ لَیْسَ ہُوَالَّذِیْ یُرْوَی عَنْہُ بِالْعِرَاقِ کَاَنَّہٗ رَجُلٌ اٰخَرَ قَلَبُوْا اِسْمَہٗ یَعْنِیْ لَمَایَرْوَوْنَ عَنْہٗ مِنَ الْمَنَاکِیْرِ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیَّ یَقُوْلُ اَہْلُ الشَّامِ یَرْوَوْنَ عَنْ زُبَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مَنَاکِیْرَ وَاَہْلُ الْعِرَاقِ یَرْوَوْنَ عَنْہُ اَحَادِیْثَ مُقَارَبَۃٍ۔
ترجمہ: حضرت جابرؓ کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور انھیں سورۃ الرحمن اوّل تا آخر پڑھ کر سنائی۔ صحابہؓ سن کرخاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا :’’ میں نے لیلۃ الجن میں اس سورت کو جنوں کے سامنے پڑھاانھوں نے تم لوگوں سے بہتر اس کا جواب دیا تھا۔ میں جب فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ کی آیت پڑھتا تو وہ اسے سن کر لاَبِشَیْ ئٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُکہتے۔ ’’ یعنی اے ہمارے پروردگار ہم تیری کسی نعمت کی تکذیب نہیں کرتے۔ حمد و ستائش صرف تیرے لیے مخصوص ہے۔‘‘
(۲) عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: لَمَّا قَرَأَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ عَلیٰ اَصْحَابِہٖ حَتّٰی فَرَغَ قَالَ: مَالِیْ اَرَاکُمْ سَکُوْتًا لَلْجِنُّ کَانُوْا اَحْسَنَ مِنْکُمْ رَدًّا مَاقَرَأْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ مَّرَّۃٍ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَاتُکَذِّبٰنِ اِلَّا قَالُوْا وَلَا بِشَیْ ئٍ مِنْ نِعْمَتِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔ صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔(۳۰)
ترجمہ :حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الرحمن اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی، جب آپؐ فارغ ہوئے تو اظہار تعجب کے طور پر فرمایا کیا بات ہے کہ تمہیں خاموش دیکھ رہا ہوں ؟ تم سے بہتر جواب تو جنوں نے دیا تھا۔ جب میں فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنپر پہنچتا تو وہ وَلَابِشَیٍٔ مِنْ نِّعْمَتِکَ رَبَّنَانُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُکہہ کر جواب دیتے۔
(۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَرَأَ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ اَوْقُرِئَتْ عِنْدَہٗ فَقَالَ: مَالِیْ اَسْمَعُ الْجِنَّ اَحْسَنَ جَوَابًا لِرَبِّہَا مِنْکُمْ ؟ قَالُوْا: وَمَا ذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَا اَتَیْتُ عَلیٰ قَوْلِ اللّٰہِ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ اِلَّا قَالَتِ الْجِنُّ لَابِشَیٍْٔ مِنْ نِعْمَۃِ رَبِّنَا نُکَذِّبُ۔ (۳۱)
ترجمہ: ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ سورۃ الرحمن کی تلاوت فرمائی یا آپؐ کے پاس تلاوت کی گئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میرے لیے یہ صورت حال بڑی عجیب و غریب ہے کہ جنوں سے اپنے رب کے کلام کا تمہارے مقابلہ میں بہتر جواب سن رہا ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ کیا جواب تھا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’میں نے جب بھی سورہ الرحمن کی آیت فَبِاَیِّ آلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پڑھی تو جنوں نے اسے سن کر کہا لَا بِشَیٍْٔ مِنْ نِعْمَۃِ رَبِّنَا نُکَذِّبُ۔‘‘
جن و انس دونوں کو خطاب
قرآن مجید کی یہ ایک ہی سورہ ہے جس میں انسان کے ساتھ زمین کی دوسری بااختیار مخلوق، جنوں کو بھی براہ راست خطاب کیا گیا ہے۔ اور دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمالات، اس کے بے حدو حساب احسانات ، اس کے مقابلے میں ان کی عاجزی و بے بسی اور اُس کے حضوؐر اُن کی جوابدہی کا احساس دلا کر اُس کی نافرمانی کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے اور فرماں برداری کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔اگرچہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانو ںکی طرح جن بھی ایک ذی اختیار اور جوابدہ مخلوق ہیں جنھیں کفر و ایمان اور طاعت و عصیان کی آزادی بخشی گئی ہے اور اُن میں بھی انسانوں ہی کی طرح کافر و مومن اور مطیع و سرکش پائے جاتے ہیں، اور ان کے اندر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور کتب آسمانی پر ایمان لائے ہیں، لیکن یہ سورہ اس امر کی قطعی صراحت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ اور قرآن مجید کی دعوت جن اور انس دونوں کے لیے ہے اور حضورؐ کی رسالت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔
سورہ کے آغاز میں تو خطاب کا رُخ انسانوں کی طرف ہی ہے، کیوں کہ زمین کی خلافت انہی کو حاصل ہے، خداکے رسول انہی میں سے آئے ہیں، اور خدا کی کتابیں انہی کی زبانوں میں نازل کی گئی ہیں، لیکن آگے چل کر آیت ۱۳ سے انسان اور جن کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے اور ایک ہی دعوت دونوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۵،الرحمن: موضوع اور مضمون)
جنوں کو دعوتِ توحید
۳۰۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مکہ میں رات بھر غائب رہے۔ ہم لوگ سخت پریشان تھے کہ کہیں آپؐ پر کوئی حملہ نہ کردیا گیا ہو۔ صبح سویرے ہم نے آپؐ کو حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، پوچھنے پر آپؐ نے بتایا کہ ایک جن مجھے بلانے آیاتھا، میں نے اس کے ساتھ آکر جنوں کے ایک گروہ کو قرآن سنایا۔ (مسلم، مسند احمد،ترمذی ، ابودائود)
۳۱۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہی کی ایک اور روایت ہے کہ ایک مرتبہ مکہ میں حضورؐ نے صحابہؓ سے فرمایاکہ آج رات تم میں سے کون میرے ساتھ جنوں کی ملاقات کے لیے چلتا ہے؟ میں آپؐ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوگیا۔ مکہ کے بالائی حصہ میں ایک جگہ حضورؐ نے لکیر کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ اس سے آگے نہ بڑھنا۔ پھر آپؐ آگے تشریف لے گئے اور کھڑے ہوکر قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں نے دیکھاکہ بہت سے اشخاص ہیں جنھوں نے آپؐ کو گھیر رکھا ہے اور وہ میرے اورآپؐ کے درمیان حائل ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحقاف، حاشیہ: ۳۵)
۳۲۔ ایک موقع پر رات کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور مکہ معظمہ میں حجون کے مقام پر جنوں کے ایک مقدمہ کا آپؐ نے فیصلہ فرمایا۔ اس کے سالہا سال بعد ابن مسعودؓنے کوفہ میں جاٹوں کے ایک گروہ کو دیکھ کر کہا حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا وہ ان لوگوں سے بہت مشابہ تھا۔ (ابن جریر)
تشریح : معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے پے درپے وفود نبی ﷺ کے پاس حاضر ہونے لگے اور آپؐ سے ان کی رُو در رُوملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اس بارے میں جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کم از کم چھ وفد آئے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الاحقاف، حاشیہ: ۳۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْاَعْلیٰ، عَنْ دَاؤدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَئَلْتُ عَلْقَمَۃَ ہَلْ کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ شَہِدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ: فَقَالَ عَلْقَمَۃُ : اَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَقُلْتُ: ہَلْ شَہِدَاَحَدٌ مِنْکُمْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلٰکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَفَقَدْنَاہُ فَالْتَمَسْنَاہُ فِی الْاَوْدِیَۃِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا: اُسْتُطِیْرَاَوْاُغْتِیْلَ، قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّلَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ۔ فَلَمَّا اَصْبَحْنَا اِذَا ہُوَ جَآئٍ مِنْ قِبَلِ حِرَآئَ قَالَ: فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَدْنَاکَ فَطَلْبَنَاکَ فَلَمْ نَجِدْکَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ فَقَالَ: اَتَانِیْ دَاعِی الْجِنِّ فَذَہَبْتُ مَعَہٗ فَقَرَأْتُ عَلَیْہِمِ الْقُرْاٰنَ قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَاَرَانَا آثَارَہُمْ وَاٰثَارَ نِیْرَانِہِمْ وَسَأَلُوْہُ الزَّادَ فَقَالَ: لَکُمْ کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یَقَعُ فِیْ اَیْدِیْکُمْ اَوْفَرَ مَایَکُونُ لَحْمًا وَکُلُّ بَعْرَۃٍ عَلَفٌ لِدَوَآبِّکُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَلَا تَسْتَنْجُوْا بِہِمَا فَاِنَّہُمَا طَعَامُ اِخْوَانِکُمْ۔ (۳۲)
ترجمہ: حضرت عامر سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علقمہ سے پوچھا کہ کیا ابن مسعودؓ لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے؟علقمہ نے جواب دیا میں نے یہی سوال ابن مسعود سے خود بھی کیا تھا کہ کیا آپ میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے نفی میں جواب دیا کہ نہیں لیکن ایک رات ہم آپؐ کے ساتھ تھے، پھر ہم نے آپؐ کو گم پایا۔ ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں بہت تلاش کیا مگرآپؐ نہ ملے تو ہمیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ آپؐکسی ناگہانی مصیبت کا شکار نہ ہوگئے ہوں یا پھر دشمنوں نے اچانک پکڑ کر ہلاک نہ کردیا ہو۔ ابن مسعود کا بیان ہے، یہ رات ہماری بہت پریشانی کی رات تھی۔ صبح کے وقت اچانک آپؐ غار حرا کی جانب سے آتے ہوئے نظر آئے ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم نے آپ کو گم پایا۔ آپؐ کو ہم نے بہت تلاش کیا مگر پا نہ سکے لہٰذا رات انتہائی پریشانی میں گزاری۔آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے ایک جن بلانے آیا تھا۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے جنوں کو قرآن پڑھ کر سنایا۔‘‘راوی کا بیان ہے ۔ پھر آپؐ ہمیں وہاں لے گئے اور ان کے آثار اور آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ جنوں نے آپؐ سے اپنی خوراک کے متعلق دریافت کیا۔ آپؐ نے انھیں بتایا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، وہ بطور گوشت تمہاری خوراک ہے اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہے۔ پھرآپؐ نے انسانوں کے لیے حکم صادر فرمادیا کہ تم ان دونوں چیزوں کو استنجاء کے لیے استعمال نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں (جنوں) کی خوراک ہیں۔
(۲) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ وَہْبُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ یُوْنُسُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْعُثْمَانُ بْنُ شَبَّۃَ الْخُزَاعِیُّ وَکَانَ مِنْ اَہْلِ الشَّامِ، اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَصْحَابِہٖ وَہُوَبِمَکَّۃَ مَنْ اَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یَّحْضُرَاَمْرَالْجِنِّ اللَّیْلَۃَ، فَلْیَفْعَلْ فَلَمْ یَحْضُرْ مِنْہُمْ اَحَدٌ غَیْرِیْ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِاَعْلیٰ مَکَّۃَ خَطَّ لِیْ بِرِجْلِہٖ خَطًّا ثُمَّ اَمَرَنِیْ اَنْ اَجْلِسَ فِیْہِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّی قامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْاٰنَ فَغَشِیَتْہُ اَسْوِدَۃٌ کَبِیْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ حَتّٰی مَا اَسْمَعُ صَوْتَہٗ ثُمَّ طَفِقُوْا یَتَقَطَّعُوْنَ مِثْلَ قَطْعِ السَّحَابِ ذَاہِبِیْنَ حَتّٰی بَقِیَ مِنْہُمْ رَہْطٌ فَفَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَعَ الْفَجْرِ فَانْطَلَقَ مُتَبَرِّزًا ثُمَّ اَتَانِیْ فَقَالَ:مَافَعَلَ الرَّہْطُ؟ قُلْتُ ہُمْ اُولٰٓئِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَخَذَ عَظْمًا اَوْرَوْثًا اَوْجَمْجَمَۃً فَاعْطَاہُمْ اِیَّاہُ زَادًا ثُمَّ نَہٰی اَنْ یَسْتَطِیْبَ اَحَدٌ بِعَظْمٍ اَوْرَوْثٍ۔ (۳۳)
ترجمہ:ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میںاپنے ساتھیوں سے فرمایا، ’’آج رات جو شخص جنوں کی کارروائی میں حاضر ہونا چاہے اسے اجازت ہے۔‘‘ لیکن میرے سوا کوئی نہ آیا۔ کہتے ہیں ہم چل پڑے۔ جب مکہ کے بالائی حصہ میں پہنچے تو آپؐ نے اپنے پائوں سے ایک دائرہ بنا کر مجھے اس کے اندر بیٹھنے کی تلقین فرمائی اور خود آگے تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کردیا۔ آپؐ کو لوگوں کے ایک بڑے ہجوم نے گھیر لیا جو میرے اور آپ کے درمیان اس طرح حائل ہوگیا کہ میں آپؐ کی آواز نہ سن سکتا تھا۔ پھر وہ بادلوں کی طرح چھٹنے لگے اور کچھ لوگ ان میں سے باقی رہ گئے۔ آپ فجر کے وقت ان سے فارغ ہوئے۔پھر وہاں سے آپ قضائے حاجت کے لیے گئے۔ پھر میرے پاس تشریف لائے۔ فرمایا: وہ لوگ کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا۔ اے رسولِ خدا ﷺ وہ تو یہ ہیں۔ آپؐنے ایک ہڈی یا لید یا سر کی کھوپڑی اپنے دست مبارک سے پکڑ کر انھیں دیا کہ اسے خوراک بنائیں۔ پھر آپؐ نے منع فرمادیا کہ ہم میںسے کوئی ان چیزوں کو قضائے حاجت کے بعد ڈھیلے کے طور پر استعمال کرے۔
(۳) حَدَّثَنابِشْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ قَالَ: ثنا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلَہٗ وَاِذْصَرَفْنَا اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ قَالَ: ذُکِرَ لَنَا اَنَّہُمْ صَرَفُوْا اِلَیْہِ مِنْ نَیْنَوٰی قَالَ: فَاِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَقْرَأَ الْقُرْاٰنَ عَلَی الْجِنِّ فَایُّکُمْ یَتْبَعْنِیْ فَاَطْرَقُوْا ثُمَّ اسْتَتْبَعَہُمْ فَاَطْرَقُوْا ثُمَّ اسْتَتْبَعَہُمُ الثَّالِثَۃَ فَاَطْرَقُوْا فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ لَذُوبَدِئۃِ ( ابن کثیر میں لَذُوْنَدِبَۃٍ وَحُرَرٍہے۔)۱ فَاَتْبَعَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ شِعْبًا یُقَالُ لَہٗ شِعْبُ الْحَجُوْنِ قَالَ: وَخَطَّ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ خَطًّا لِیُثَبِّتَہٗ بِہٖ۔ قَالَ : فَجَعَلَتْ تَہْوِیْ بِیْ وَاَرٰی اَمْثَالَ النَّسُوْرِ تَمْشِیْ فِیْ دُفُوْفِہَاوَسَمِعْتُ لَغَطًا شَدِیْدًا حَتّٰی خِفْتُ عَلیٰ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ تَلَاالْقُرْاٰنَ فَلَمَّا رَجَعَ نَبِیُّ اللّٰہِ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مَا اللَّغَطُ الَّذِیْ سَمِعْتُ؟ قَالَ: اجْتَمَعُوْا اِلَیَّ فِیْ قَتِیْلٍ کَانَ بَیْنَہُمْ فَقَضیٰ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَذُکِرَلَنَا اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ لَمَّا قَدِمَ الْکُوْفَۃَ رَاٰی شُیُوْخًا شَمْطًا مِنَ الزُّطِّ فَرَاعُوْہُ قَالَ: مَنْ ہٰٓؤُ لَآئِ؟ قَالُوْا: نَفَرٌ مِنَ الْاَعَاجِمِ، قَالَ: مَارَأَیْتُ لِلَّذِیْنَ قَرَأَ عَلَیْہِمُ النَّبِیُّ ﷺ الْاِسْلَامَ مِنَ الْجِنِّ شَبَہًا اَدْنیٰ مِنْ ہٰؤُلَآئِ۔(۳۴)
ترجمہ:حضرت قتادہ وَاِذْ صَرَفْنَا اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَکی تفسیر میں فرماتے ہیںکہتے ہیں ہمیں بتایا گیا کہ جنوں کا ایک گروہ نینویٰ سے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو قرآن پڑھ کر سنائوں تم میں سے کون میرے ساتھ جانے کو تیار ہے ‘‘سب نے سر جھکالیے اور خاموش رہے۔ آپؐ نے پھر پوچھا کہ میری رفاقت میں کون جانے کو تیار ہے۔ پھرسب نے اپنے سرجھکائے رکھے اور خاموش رہے۔ اسی طرح تیسری بار آپؐ نے پھر پوچھا لیکن سب سرجھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہی ان کے سامنے جاسکتے ہیں۔ پھر عبداللہ بن مسعود ؓ آپؐ کے ساتھ جانے کو تیار ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ حجون نامی گھاٹی میں داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعودؓ کے سامنے ایک لکیر کھینچ دی تاکہ اس میں ابن مسعودؓ کو بٹھادیں۔ ابن مسعود کا بیان ہے کہ وہ میرے قریب اترنے لگے اور مجھے ایسا لگا گویا گدھ پر پھیلائے زمین پر اتررہے ہیں اور میں نے سخت شور و غوغا سنا کہ مجھے نبی ﷺ کی جان کا خطرہ محسوس ہوا۔ پھر آپؐ نے قرآن پاک پڑھ کر جنوں کو سنایا۔ جب آپؐ واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی ﷺ وہ شورو غوغا کیسا سنائی دے رہا تھا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’جنات ایک مقدمۂ قتل میرے پاس فیصلہ کے لیے لائے تھے۔‘‘آپؐ نے ان کے اس مقدمہ قتل کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمادیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ابن مسعودؓ جب کوفہ میں تشریف لائے تو وہاں انھوں نے جاٹوں کے کچھ بوڑھے لوگوں کو دیکھا اور وہ بھی آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کہا گیا کہ چند عجمی لوگ ہیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا جنھیں نبی ﷺ نے اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ کی تھی وہ ان لوگوں سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔
پیغمبر علیہ السلام کاکون سا ظن واجب الاتّباع ہے؟
۳۳۔ صحیح مسلم میں کتاب الفضائل کے تحت ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے۔ باب وجوب امتثال ماقالہ شَرْعَا دُوْنَ مَا ذکرہٗ ﷺ من معایش الدنیا علی سبیل الرّای، باب اس امر کے بیان میں کہ نبی ﷺ نے شرعی طریقہ پر جو کچھ فرمایا اس کا امتثال واجب ہے نہ کہ اس بات کا جسے آپؐ نے دنیوی معاملات میں اپنی رائے کے طور پر بیان کیا ہو۔‘‘ اس باب میں امام موصوف حضرت طلحہؓ ، حضرت رافع بن خدیج، حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ کے حوالہ سے یہ قصہ نقل کرتے ہیں کہ جب حضورؐ مدینے تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ اہل مدینہ مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا : مَا اَظُنُّ یُغْنِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا۔ لَعَلَّکُمْ لَوْلَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا ’’میں نہیں سمجھتاکہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید اچھا ہو۔‘‘ لوگوں نے سنا تو، ایسا کرنا چھوڑ دیا مگر اس سال پھل اچھا نہ آیا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا۔ اِنْ کَانَ یَنْفَعُکُمْ ذٰلِکَ فَلْیَصْنَعُوْہُ فَاِنِّیْ اِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤاخِذُوْنِیْ بِالظَّنِّ وَلٰکِنْ اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ شَیْئًا فَخُذُوْابِہٖ۔ اِنِّیْ لَمْ اَکْذِبْ عَلَی اللّٰہِ۔’’ اگر تم لوگوں کو یہ کام نفع دیتا ہے تو ضرور اسے کریں ۔ میں نے تو ظن کی بنا پر ایک بات کہی تھی۔ تم ظن پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کرو۔ البتہ جب میں اللہ کی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو اسے لے لو کیونکہ میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولاہوں۔‘‘ (رسائل و مسائل سوم، چند مزید اعتراضات: احادیث دجال)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْد نِالثَّقَفِیُّ وَاَبُوکَامِلِ الْجَحْدَرِیُّ وَتَقَارَبَا فِی اللَّفْظِ وَہٰذَا حَدِیْثُ قُتَیْبَۃَ قَالَا نَا اَبُوعَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ مُوْسیٰ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِقَوْمٍ عَلیٰ رُؤُسِ النَّخْلِ فَقَالَ: مَا یَصْنَعُ ہٰؤُلَآئِ؟ فَقَالُوْا : یُلَقِّحُوْنَہٗ یَجْعَلُوْنَ الذَّکَرَ فِی الْاُنْثیٰ فَتَلَقَّحُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اَظُنُّ یُغْنِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا قَالَ: فَاُخْبِرُوْا بِذٰلِکَ فَتَرَکُوْہُ فَاُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِذٰلِکَ فَقَالَ: اِنْ کَانَ یَنْفَعُہُمْ ذٰلِکَ فَلْیَصْنَعُوْہُ فَاِنِیِّ اِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤَاخِذُوْنِیْ بِالظَّنِّ وَلٰکِنْ اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ شَیْئًا فَخُذُوْا بِہٖ فَاِنِّیْ لَنْ اَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (۳۵)
ترجمہ:حضرت موسیٰ بن طلحہؓ اپنے والد کے حوالہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے پوچھا یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ وہ مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگارہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ انھیں اس کی خبر ہوگئی تو لوگوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر لوگوں کو یہ کام نفع دیتا ہے تو وہ ضرور اسے کریں۔ میں نے تو ظن کی بنا پر ایک بات کہی تھی۔ تم مجھ پر ظن سے مواخذہ نہ کرو۔ البتہ جب میں اللہ کی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو اسے لے لو کیوں کہ میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہوں۔‘‘
رسول خدؐا کی بشری اور نبوی حیثیت میں فرق کے چند واقعات
۳۴۔ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیٍْٔ مِنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَـْیئٍ مِّنْ رَاْئِیْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ۔
’’میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔ جب میں تم کو تمہارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے مانو اور جب میں اپنی رائے سے کچھ کہوں تو بس میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔‘‘
تشریح :اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جن معاملات کو دین اسلام نے اپنے دائرۂ رہنمائی میں لیا ہے ان میں تو حضورؐ کے ارشاد گرامی کی پیروی لازم ہے، البتہ جن معاملات کو دین نے اپنے دائرے میں نہیں لیا ہے ان میں آپؐ کی رائے واجب الاتباع نہیں ہے۔ اب ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ دین نے کن معاملات کو اپنے دائرے میں لیا ہے کن کو نہیں لیا۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کو باغبانی یا درزی کا کام یا باورچی کا کام سکھانا دین نے اپنے ذمہ نہیں لیا ہے لیکن خود قرآن ہی اس بات پر شاہد ہے کہ دیوانی اور فوجداری قوانین، عائلی قوانین، معاشی قوانین اور اس طرح اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق احکام و قوانین بیان کرنے کو دین اسلام نے اپنے دائرہ عمل میں لیا ہے۔ ان امور کے متعلق نبی ﷺ کی ہدایت کو رد کردینے کے لیے مذکورہ بالاحدیث کو دلیل کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الرُّومِیِّ الْیَمامِیُّ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ الْعَنْبَرِیُّ، وَاَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُعْقِرِیُّ: قَالُوْا : نَاالنَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ناعِکْرِمَۃُ وَہُوَبْنُ عَمَّارٍ، قَالَ ثَنِیْ آبُوْالنَّجَاشِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَافِعُ بْنُ خُدَیْجٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَہُمْ یَاْبِرُوْنَ النَّخْلَ یَقُوْلُ یُلَقِّحُوْنَ النَّخْلَ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُوْنَ؟ قَالُوْا: کُنَّا نَصْنَعُہٗ قَالَ: لَعَلَّکُمْ لَو لَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَیْرًا قَالَ: فَتَرَکُوْہُ فَنَفَضَتْ اَوْقَالَ فَنَقَصَتْ قَالَ: فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ: اِنَّمَا اََنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَـْیئٍ مِّنْ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَـْیئٍ مِّنْ رَاْئِیْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ قَالَ عِکْرِمَۃُ اَوْ نَحْوَ ہٰذَا قَالَ الْمَعْقِرِیُّ فَنَفَضَتْ وَلَمْ یَشُکَّ۔ (۳۶)
ترجمہ: رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجور کے خوشوں میں پیوند کاری کررہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا’’ یہ تم لوگ کیا کرتے ہو؟‘‘ بولے ہم یہ نر و مادہ کھجور کی باہم پیوند کاری کیا کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔’’تم اگر ایسا نہ کرو تو شاید یہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔‘‘ راوی کا بیان ہے انھوں نے اسے ترک کردیا اور پھل کم پیدا ہوا۔ راوی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں اس نقصان کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا:’’بھئی میں بھی انسان ہوں جب تمہیں دینی امور میں سے کسی کا حکم دوں تو اسے بے چون و چرا لے لو اور جب کوئی بات میں اپنی رائے سے کہوں تو بہر حال میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔‘‘
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَا ہُمَاعَنِ الْاَسْوَدِ ابْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ مَرَّبِقَوْمٍ یُلَقِّحُوْنَ فَقَالَ: لَوْلَمْ تَفْعَلُوْا لَصَلُحَ قَالَ: فَخَرَجَ شِیْصًا فَمَرَّ بِہِمْ فَقَالَ: مَا لِنَخْلِکُمْ؟ قَالُوْا: قُلْتَ کَذَاوَکَذَا قَالَ: اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَا کُمْ۔(۳۷)
ترجمہ:حضرت ثابت بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا جو تابیر نخل میں مشغول تھے، آپؐ نے فرمایا: ’’ تم لوگ اگر ایسانہ کرو تو (میرے خیال میں) بہتر رہے گا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ پھل ناقص پیدا ہوا۔ پھر انھیں لوگوں کے پاس سے آپؐ گزرے تودریافت فرمایا کہ تمہاری کھجوروں کو کیا ہوا؟ انھوں نے عرض کیا آپؐ نے جیسا فرمایا تھا (ویسا ہم نے کیا) اس پر آپؐ نے فرمایا تم اپنے دنیوی معاملات کو مجھ سے زیادہ سمجھتے ہو۔
جنگ بدر کے موقع پر رائے قبول فرمانا
۳۵۔ جنگ بدر کے موقع پر حضورؐ ابتدا میں جہاں خیمہ زن ہوئے تھے وہ جگہ مناسب نہ تھی۔ حضرت حباب بن منذر نے آپؐ سے دریافت کیا کہ اس جگہ کا انتخاب وحی کے ذریعہ کیا گیا ہے یا محض ایک تدبیر جنگ کے طور پر ہے؟فرمایا وحی نہیں ہے۔ انھوں نے عرض کیا اگر ایسا ہے تو میری رائے میں آگے بڑھ کر خیمہ زن ہونا چاہیے۔ حضورؐ نے ا ن کی رائے کو قبول فرمایا اور اسی پر عمل کیا۔
تخریج: وَالْمَعْرُوْفُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا سَارَ اِلیٰ بَدْرٍ نَزَلَ عَلیٰ اَدْنیٰ مَائٍ ہُنَاکَ اَیْ اَوَّلَ مَائٍ وَجَدَہٗ فَتَقَدَّمَ اِلَیْہِ الحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہٰذَا الْمَنْزِلُ الَّذِیْ نَزَلْتَہٗ مَنْزِلٌ اَنْزَلَکَ اللّٰہُ اِیَّاہُ فَلَیْسَ لَنَا اَنْ نُّجَاوِزَہٗ اَوْمَنْزِلٌ نَزَلْتَہٗ لِلْحَرْبِ وَالْمَکِیْدَۃِ؟ فَقَالَ: بَلْ مَنْزِلٌ نَزَلْتُہٗ لِلْحَرْبِ وَالْمَکِیْدَۃِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ہٰذَا لَیْسَ بِمَنْزِلٍ وَلٰکِنْ سِرْبِنَا حَتّٰی نَنْزِلَ عَلیٰ اَدْنیٰ مَائٍ یَلِی الْقَوْمَ وَنَغُوْرُ مَا وَرَائَ ہُ مِنَ الْقَلْبِ ونَسْتَقِی الْحِیَاضَ فَیَکُوْنُ لَنا مَائٌ وَلَیْسَ لَہُمْ مَائٌ فَسَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَفَعَلَ کَذٰلِکَ۔ (۳۸)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ جب بدر کی طرف چلے تو میدان بدر میں اس مقام پر خیمہ زن ہوگئے جہاں سب سے پہلے پانی دستیاب ہوا۔ حباب بن منذرآگے بڑھے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! یہ جگہ جہاں آپؐ فروکش ہوئے ہیں وحی کے ذریعہ منتخب کی گئی ہے یا محض ایک تدبیر جنگ کے طور پر؟ اگر بذریعہ وحی منتخب کی گئی ہے پھر تو ہم اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ فرمایا وحی نہیں! محض تدبیر جنگ کے طور پر انتخاب کیا ہے۔ انھوں نے عرض کیا اگر ایسا ہے تو یہ جگہ پڑائو کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آپؐ ہمیں آگے ایسی جگہ لے چلیں جہاں پانی بھی ہو اور قوم قریش کے قریب بھی۔ اور مرکزی مقام سے ہم پورے ماحول پر نظر رکھ سکیں۔ اور وہاں حوض بنا کر پینے اور استعمال کے لیے پانی جمع کرلیں۔ اس طری ہمارے پاس پانی ہوگا اور حریف اس سے محروم رہے گا۔ آپؐ انھیں لے کر آگے تشریف لے گئے اور اسی تجویز کے مطابق عمل کیا۔
اسیران بدر کے بارے میں مشورہ لینا
سیران بدر کے مسئلے میں حضورؐ نے صحابہ کی جماعت سے مشورہ لیا اورخود بھی ایک عام رکن جماعت کی حیثیت سے رائے دی۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے آپؐ کی اور صدیق ؓ اکبر کی رائے سے بے تکلف اختلاف کیا جس کا واقعہ تمام تاریخوں میں مشہور ہے۔ اسی مجلس میں حضورؐ نے خود اپنے داماد ابوالعاص کا مسئلہ بھی پیش کیا اور صحابہ سے فرمایا کہ اگر تمہاری مرضی ہے تو ان سے فدیہ میں جوہار لیا گیا ہے وہ انھیں واپس کردیا جائے۔ جب صحابہ نے بہ خوشی اس کی اجازت دی تب آپؐ نے ہار انھیں واپس کیا۔
غزوۂ خندق کے موقع پر بنی غطفان سے صلح
غزوۂ خندق کے موقع پر حضورؐ نے بنی غطفان سے صلح کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انصار کے سرداروں نے عرض کیا کہ اگر یہ ارادہ وحی کی بنا پر ہے تو مجالِ کلام نہیں، اور اگر حضورؐ اپنی رائے سے ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس تجویز سے اختلاف ہے۔ حضورؐ نے انہی کی رائے قبول فرمائی اور اپنے ہاتھ سے صلح نامہ کا مسودہ چاک کر ڈالا۔
صلح حدیبیہ
صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو بظاہر دب کر صلح کرنا پسند نہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے علانیہ اس سے اختلاف کیا۔ مگر جب حضورؐ نے فرمایا کہ یہ کام میں خدا کے پیغمبرؐ کی حیثیت سے کررہا ہوں، تو باوجود یکہ غیرت اسلامی کی بنا پر سب ملول تھے، کسی نے دم مارنے کی جرأت نہ کی ۔ حضرت عمرؓ مرتے دم تک اس غلطی کے کفارے طرح طرح سے ادا کرتے رہے کہ وہ ایک ایسے امر میں حضوؐر سے اختلاف کربیٹھے جو بحیثیت رسول کیا جارہا تھا۔
جنگ حنین میں تقسیم غنائم کے موقع پر
جنگ حنین کے موقع پر تقسیم غنائم میں آپؐ نے مؤلفۃ القلوب کے ساتھ جو فیاضی ظاہر فرمائی تھی اس پر انصار چیںبہ جبیں ہوئے۔ حضورؐ نے ان کو بلایا۔ اپنے فعل کی تائید میں یہ نہیں فرمایا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ جو چاہوں کروں، بلکہ ایک تقریر کی۔ جس طرح ایک جمہوری حکومت کا سردار اپنی رائے سے اختلاف رکھنے والوں کے سامنے کرتا ہے اور ان کے ایمان بالرسالت سے اپیل نہیں کی۔ بلکہ ان کی عقل اور ان کے جذبات سے اپیل کی اور انھیں مطمئن کرکے واپس فرمایا۔۱؎
بریرہ کو اس کے شوہر کے بارے میں مشورہ
۳۶۔بریرہ ایک لونڈی تھی جو اپنے شوہر سے متنفر ہوگئی تھی مگر شوہر اس کا عاشق زار تھا وہ اس کے پیچھے روتاپھرتا تھا۔ نبیﷺ نے اس سے کہا کہ تو اپنے شوہر سے رجوع کرلیتی تو اچھا تھا۔ اس نے پوچھا ’’یارسول اللہ ! کیا آپؐ حکم دیتے ہیں؟‘‘ آپؐ نے جواب دیا۔ ’’حکم نہیں بلکہ سفارش کرتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا’’ اگر یہ سفارش ہے تو میں اس کے پاس جانا نہیں چاہتی۔‘‘
تشریح :اس قسم کی اور بہت سی مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب قرینہ سے یا خود حضوؐ ر کی تصریح سے لوگوں کو یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ آپؐ کوئی بات اپنی رائے سے فرمارہے ہیں تو وہ آزادی کے ساتھ اس میں اظہار رائے کرتے تھے اور آپؐ خود اس آزادانہ اظہار رائے میں ان کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ ایسے مواقع پر اختلاف کرنا نہ صرف جائز تھا، بلکہ آپؐ کے نزدیک پسندیدہ تھا اور آپؐ خود بسااوقات اپنی رائے سے رجوع فرمالیتے تھے۔ (تفہیمات اوّل : آزادی کا اسلامی تصور)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ زَوْجَ بَرِیْرَۃَ کَانَ عَبْدًا یُقَالُ لَہٗ مُغِیْثٌ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ یَطُوْفُ خَلْفَہَا یَبْکِیْ وَدُمُوْعُہٗ تَسِیْلُ عَلیٰ لِحْیَتِہٖ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِعَبَّاسٍ: یَا عَبَّاسُ اَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِیْثٍ بَرِیْرَۃً وَمِنْ بُغْضِ بَرِیْرَۃَ مُغِیْثًا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَوْ رَاجَعْتِیْہِ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: اِنَّمَا اَشْفَعُ قَالَتْ: فَلَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ۔ (۳۹)
ترجمہ: حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے۔ مغیث نام تھا۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ گویا وہ منظر بعینہٖ میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ روتا ہوا بریرہ کے پیچھے پیچھے چلاجارہا تھا اور آنسو اس کی ڈاڑھی پر بہہ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے حضرت عباسؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ عباس! مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت کیسی تعجب خیز ہے۔ پھر نبی ﷺنے بریرہ سے فرمایا کاش کہ تو مغیث کی طرف رجوع کرلیتی۔ بریرہ بولی یا رسولؐاللہ! آپؐمجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ’’میں محض سفارش کررہا ہوں‘‘( یہ سن کر ) بریرہ نے جواب دیا حضورؐ والا پھر مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔
خواب میں زیارتِ نبویؐ اور زندگی پر اس کا اثر
۳۷۔ حضور ﷺ کی حدیث ہے کہ ’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا، تو درحقیقت اس نے مجھے ہی دیکھا،کیونکہ شیطان میری تمثال میں نہیں آسکتا۔
تشریح :اس حدیث کی صحیح تشریح یہ ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو حضورؐ کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا اُس نے درحقیقت آپؐ ہی کو دیکھا۔ کیوں کہ شیطان کو یہ قدرت نہیں دی گئی ہے کہ وہ آپؐ کی صورت میں آکر کسی کو بہکاسکے۔ اس کی یہی تشریح ابن سیرین رحمہ اللہ نے کی ہے۔ امام بخاری کتاب التعبیر میں ان کا یہ قول نقل کرتے ہیںکہ اِذَا رَاٰہُ فِیْ صُوْرَتِہٖ ’’جب کہ دیکھنے والے نے آپؐ کو آپ ہی کی صورت میں دیکھا ہو‘‘ علامہ ابن حجر صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص ابن سیرین سے کہتا کہ میں نے خواب میں نبی ﷺ کو دیکھا ہے تو وہ اس سے پوچھتے تھے کہ تونے کس شکل میں دیکھا؟ اگر وہ آپؐ کی کوئی ایسی شکل بیان کرتا جو آپؐ کے حلیہ سے نہ ملتی تھی، تو ابن سیرین کہہ دیتے تھے کہ تونے حضورؐ کو نہیں دیکھا ہے۔ یہی طرز عمل ابنِ عباسؓ کا بھی تھا جیسا کہ حاکم نے بہ سند صحیح نقل کیا ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ خود حدیث کے الفاظ بھی اسی معنی کی توثیق کرتے ہیں۔ جن مختلف الفاظ میں یہ حدیث صحیح سندوں سے منقول ہوئی ہے ان سب کا مفہوم یہی ہے کہ ’’شیطان نبی ﷺ کی شکل میں نہیں آسکتا۔‘‘ نہ یہ کہ شیطان کسی شکل میں آکر آدمی کو یہ دھوکہ نہیں دے سکتا کہ وہ آں حضور کو دیکھ رہا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی جان لینی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں نبی ﷺ کو دیکھے اور آپؐ سے کوئی امر یا کوئی نہی کا حکم سنے، یا دین کے معاملے میں کسی قسم کا ایما آپؐ سے پائے تو اس کے لیے اس خواب کی پیروی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ اس تعلیم یا ایماء کے مطابق کتاب و سنت ہونے کا اطمینان نہ کرلے۔ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے لیے دین کا معاملہ خوابوں اور کشفوں اور الہاموں پر نہیں چھوڑا ہے۔ حق اور باطل اور صحیح اور غلط کو ایک روشن کتاب اور ایک مستند سنت میں پیش کردیا گیا ہے جسے بیداری میں اور پورے شعور کی حالت میں دیکھ کر راہِ راست معلوم کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی خواب یا کشف یا الہام اِس کتاب اور اس سنت کے مطابق ہے تو خدا کا شکر ادا کیجیے کہ اللہ نے حضورؐ کی زیارت نصیب کی، یا کشف و الہام کی نعمت سے نوازا۔ لیکن اگر وہ اس کے خلاف ہے تو اُسے رد کردیجیے اور اللہ سے دعا مانگیے کہ وہ ایسی آزمائشوں سے آپ کو اپنی پناہ میں رکھے۔
ان دو باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہ کثرت لوگ گمراہ ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں۔ متعدد آدمی میرے علم میں ایسے ہیں جو صرف اس بناپر ایک گمراہ مذہب کے پیرو ہوگئے کہ انھوں نے خواب میں نبی ﷺ کو اس مذہب کے بانی کی توثیق کرتے یا اس کی طرف التفات فرماتے دیکھا تھا۔ وہ اس گمراہی میں نہ پڑتے اگر اس حقیقت سے واقف ہوتے کہ خواب میں کسی شکل کے انسان کو نبی ﷺ کے نام سے دیکھ لینا درحقیقت حضورؐ کو دیکھنا نہیں ہے اور یہ کہ خواب میں واقعی حضورؐ ہی کی زیارت نصیب ہو تب بھی کوئی حکم شرعی اور امر دینی ایسے خواب سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر شیطان کے فریب سے تحفظ صرف اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آدمی حضوؐر کو آپؐ کی اصلی شکل میں دیکھے تو اس کا فائدہ صرف انھیں لوگوں کو حاصل ہوسکتا تھا، جنھوں نے آپ کو بیداری میں دیکھا تھا کہ بعد کے لوگ آخر کیسے جان سکتے ہیں کہ جو شکل وہ خواب میں دیکھ رہے ہیں وہ حضورؐ ہی کی ہے یا کسی اور کی؟ ان کو اس حدیث سے کیا تسلی ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعد کے لوگ اس بات کا اطمینان تو نہیں کرسکتے کہ انھوں نے جو شکل خواب میں دیکھی، وہ حضورہی کی شکل تھی،مگر یہ تو معلوم کرسکتے ہیں کہ خواب کے معنی اور مضمون کی مطابقت قرآن و سنت کی تعلیم سے ہے یا نہیں۔ مطابقت پائی جاتی ہو تو پھر زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ انھوں نے خواب میں حضورؐ ہی کی زیارت کی ہے، کیوں کہ شیطان کسی کو راہِ راست دکھانے کے لیے تو بہروپ نہیں بھرا کرتا۔ (رسائل و مسائل چہارم ،عام مسائل: خواب۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنا عَبْدُ اللّٰہِ، عَنْ یونُسَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوسَلَمَۃَ، اَنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَسَیَرَانِیْ فِی الْیَقْظَۃِ وَلَا یَتَمَثَّلُ الشَّیْطَانُ بِیْ۔ (۴۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا فرماتے تھے’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا، تو وہ عنقریب حالت بیداری میں مجھے دیکھ لے گا کیوں کہ شیطان میری تمثال میں نہیں آسکتا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ اَسَدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِبْنُ مُخْتَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْرَاٰنِیْ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَایَتَخَیَّلُ بِیْ وَرُؤْیَاالْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّاَرْبَعِیْنَ جُزْئً مِنَ النُّبُوَّۃِ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا۔ اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ: قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ خَبَّابٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍنِ الخُدْرِیِّ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ رَاٰنِیْ فَقَدْ رَاٰی الْحَقَّ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَکَوَّنُنِیْ۔ (۴۱)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ راوی ہیں انھوں نے آپؐ کایہ ارشاد گرامی خود سنا کہ ’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے حقیقتاً مجھے ہی دیکھا کیوں کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کرسکتا۔‘‘
(۴) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: نَارُوْحٌ، قَالَ: نازَکَرِیَّا بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوالزُّبَیْرِ اِنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ رَاٰنِیْ فِیْ النَّوْمِ فَقَدْ رَاٰنِیْ فَاِنَّہٗ لَایَنْبَغِیْ لِلشَّیْطَانِ اَنْ یَّتَشَبَّہَ بِیْ۔ (۴۲)
ترجمہ:حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے دیکھا اس لیے کہ شیطان کو یہ اختیارہی نہیں کہ مجھ سے مشابہ بن سکے۔
(۵) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا لَیْثٌ ح قَالَ: وَثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، قَالَ: اَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ رَاٰنِیْ فِی النَّوْمِ فَقَدْ رَاٰنِیْ اِنَّہٗ لَا یَنْبَغِیْ لِلشَّیْطَانِ اَنْ یَّتَمَثَّلَ فِیْ صُوْرَتِیْ الحدیث۔ (۴۳)
ترجمہ:حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:’’جس نے نیند کی حالت میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔ شیطان سے یہ بات مناسبت نہیں رکھتی کہ وہ میری صورت بنا کر آئے۔‘‘
کیا کسی کو ہدایت دینا نبی ﷺ کے اختیار میں ہے؟
۳۸۔صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت۱؎ نبی ﷺ کے چچا ابوطالب کے معاملے میں نازل ہوئی ہے۔ ان کا جب آخری وقت آیا تو حضورؐ نے اپنی حد تک انتہائی کوشش کی کہ وہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر ایمان لے آئیں تاکہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو، مگر انھوں نے ملّت عبدالمطلب ہی پر جان دینے کو ترجیح دی۔
تشریح : محدثین اور مفسرین کا یہ طریقہ معلوم و معروف ہے کہ ایک آیت عہد نبوی کے جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے اسے وہ آیت کی شان نزول کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس لیے اس روایت اور اسی مضمون کی ان دوسری روایات سے جو ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرات ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ ، ابن عمروغیرہم سے مروی ہیں، لازماً یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ سورۂ قصص کی یہ آیت ابوطالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی تھی بلکہ ان سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مضمون کی صداقت سب سے زیادہ اس موقع پر ظاہر ہوئی۔ اگر چہ حضورؐ کی دلی خواہش تو ہر بندۂ خدا کو راہ راست پر لانے کی تھی، لیکن سب سے بڑھ کراگر کسی شخص کا کفر پر خاتمہ حضورؐ کو شاق ہوسکتا تھا، اور ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر سب سے زیادہ کسی شخص کی ہدایت کے آپؐ آرزو مند ہوسکتے تھے تو وہ ابو طالب تھے۔ لیکن جب ان کو بھی ہدایت دینے پر آپؐ قادر نہ ہوئے تو یہ بات بالکل ظاہر ہوگئی کہ کسی کو ہدایت بخشنا اور کسی کو اس سے محروم رکھنا نبی کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ معاملہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ کے ہاں یہ دولت کسی رشتہ داری و برادری کی بناپر نہیں بلکہ آدمی کی قبولیت و استعداد اور مخلصانہ صداقت پسندی کی بنا پر عطا ہوتی ہے۔
(تفہیم القرآن ج ۳، القصص، حاشیہ:۷۹)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ قَالَ: اَخْبَرَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سَعِیْدُبْنُ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہٗ اَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ لَمَّا حَضَرَتْ اَبَا طَالِبِ نِالْوَفَاۃُ جَائَ ہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَوَجَدَعِنْدَہٗ اَبَاجَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ اُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَبِیْ طَالِبٍ، اَیْ عَمِّ قُلْ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کَلِمَۃً اَشْہَدُ لَکَ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ فَقَالَ اَبُوْ جَہْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ اُمَیَّۃَ: یَا اَبَاطَالِبٍ اَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَعْرِضُہَا عَلَیْہِ وَیَعُوْدَانِ تِلْکَ الْمَقَالَۃَ حَتّٰی قَالَ اَبُوْ طَالِبٍ اٰخِرَمَا کَلَّمَہُمْ بِہٖ ہُوَعَلیٰ مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاَبیٰ اَنْ یََّقُوْلَ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَمَاوَاللّٰہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَالَمْ اُنْہَ عَنْہُ (عنک) فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ الآیۃ۔ (۴۴)
ترجمہ :سعید ؓ اپنے باپ مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انھیں بتایا کہ جب ابوطالب کی وفات کا آخری وقت قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے۔ ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بن المغیرہ وہاں پہلے سے موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے روئے سخن ابوطالب کی طرف کرکے فرمایا: چچا جان ! لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے قائل ہوجائو۔ میں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے دربار میں اس کے بدلے شہادت دوں گا (کہ انھوں نے کلمۂ توحید کا اقرار کرلیا تھا) ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے : ابوطالب ! کیا تم اس آخری وقت میں ملت عبد المطلب سے روگردانی کرتے ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی پیشکش دہراتے رہے اور وہ دونوں اپنی بات کا اعادہ کرتے رہے۔ آخر کار ابو طالب نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی کہ وہ ملت عبدالمطلب پر جان دے رہا ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ سے انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخدا! میں ان کے لیے استغفار کرتا رہوں گاتاوقتیکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ اَلْآیۃ۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ الْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُبْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ اَبَاطَالِبٍ الْوَفَاۃُ جَائَ ہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: قُلْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کَلِمَۃٌ اُحَآجُّ بِہَا عِنْدَ اللّٰہِ۔ (۴۵)
ترجمہ: حضرت مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آگیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’ اے چچاجان لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا اقرار کرلو میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں اسی کو آپ کے حق میں حجت بنائوں گا (اسے ہی بطور دلیل پیش کرکے بخشش کی درخواست کرو ں گا)۔
(۳) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَیْمُوْنٍٍ قَالَ: نا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا یَزِیْدُبْنُ کَیْسَانَ، قَالَ: انا اَبُوْحَازِمٍ اَلْاَشْجَعِیُّ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَمِّہٖ قُلْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَشْہَدُ لَکَ بِہَایَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ: لَوْلَا اَنْ یُعَیِّرَنِیْ قُرَیْشٌ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا حَمَلَہٗ عَلیٰ ذٰلِکَ الْجَزْعُ لَاَقْرَرْتُ بِہَا عَیْنَکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ۔ (۴۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا کہ ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کے قائل ہوجائو قیامت کے روز اس کی بنا پر میں تمہارے حق میں شہادت دوں گا۔ ابوطالب نے جواب دیا۔ اگر قریش مجھ پر طعنہ زنی نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ سردار نے ڈرکے مارے ایسا کیا ہے تو میں تیری آنکھیں اقرار توحید سے ٹھنڈی کردیتا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ۔
کوہِ صفا سے دعوتِ توحید
۳۹۔ یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، یَا عَبَّاسُ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، اَنَقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَاشِئْتُمْ۔
’’اے بنی عبدالمطلب ، اے عباس، اے صفیہ رسولؐ اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمدؐ کی بیٹی ، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرلو، میں خدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچاسکتا۔البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو۔‘‘
تشریح :آپؐ نے صبح سویرے صفا کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر فرمایا : یَا صَبَاحَاہُ۔’’ہائے صبح کا خطرہ‘‘ اے قریش کے لوگو، اے بنی کعب بن لُوئَ یّ اے بنی مُرّہ، اے آلِ قُصَی، اے بنی عبدِ مناف، اے بنی عبدِ شمس، اے بنی ہاشم، اے آلِ عبدالمطلب ۔ اسی طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپؐ نے آواز دی ـــــ عرب میں قاعدہ تھاکہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پتہ چل جاتا وہ اسی طرح پکارنا شروع کردیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہی ہر طرف سے دوڑپڑتے ـــــ چنانچہ حضوؐر کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے اور جو خود نہ آسکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا:’’لوگو! ’’اگر میں تمہیں بتائوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو تم میری بات سچ مانوگے،سب نے کہا ہاں، ہمارے تجربے میں تم کبھی جھوٹ بولنے والے نہیں رہے ہو۔‘‘ آپؐ نے فرمایا:’’اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سرپر اٹھائے ہوئے ہو۔ اس وقت تم پکاروگے یا محمدؐ ! مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیرلوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۳، الشعراء ، حاشیہ: ۱۳۵)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَزُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ناجَرِیْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُرَیْشًا فَاجْتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ: یَا بَنِیْ کَعْبِ بْنِ لُؤْیٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِِنَ النَّارِ یَا بَنِیْ عَبْدِ شَمْسٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا بَنِیْ ہَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا فَاطِمَۃُ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا غَیْرَاَنَّ لَکُمْ رَحِمًاسَاَبُلُّہَا بِبِلَالِہَا۔(۴۷)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ جب آیت وَاَنْذِر عَشِیْرَتَک الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو پکارا۔ آپؐ نے پہلے عام انداز میں ڈرایا پھر خاص اندازمیں خطاب فرمایا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اے بنی کعب بن لُؤی جہنم کی آگسے اپنے آپ کو بچائو۔ اے بنی مرہ بن کعب جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچائو۔اے بنی عبدشمس جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچائو۔اے بنی عبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو۔اے فاطمہؓ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے تمہیںذرا بھی نہ بچاسکوں گا۔ البتہ دنیا میں قرابتداری کی وجہ سے تمہارے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرتا رہوں گا۔
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ :یَا فَا طِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، یَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِئْتُمْ۔ (۴۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب آیۂ کریمہ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اے فاطمہؓ بنت محمدﷺ ، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے بنی عبدالمطلب میں (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ کی گرفت سے تمہیں ذرا بھی نہ بچا سکوں گا۔ البتہ میرے دنیاوی مال و متاع میں سے جو چاہو مانگ لو۔
(۳) قَبِیْصَۃُ بْنُ المُخَارِقِ وَزُہِیْرُ بْنُ عَمْرٍ وقَالَا: لَمَّا نَزلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَالَ: اِنْطَلَقَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی رَضْمَۃٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا اَعْلَاہَا حَجْرًا ثُمَّ نَادیٰ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اِنِّیْ نَذِیْرٌ اِنَّمَا مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَی الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ یَرْبَأُ اَہْلَہٗ فَخَشِیَ اَنْ یَسْبِقُوْہُ فَجَعَلَ یَہْتِفُ یَا صَباحَاہَ۔(۴۹)
ترجمہ: حضرت قبیصہ بن مخارق اور زہیر بن عمرو سے روایت ہے دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَکا نزول ہوا تو نبی ﷺ پہاڑ کی ایک چٹان کے پاس تشریف لے گئے اور سب سے اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اے عبدِ مناف کی اولاد! میں تم کو متنبہ کرنے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو دشمن کو دیکھ کر اپنے اہل و عیال کو بچانے کے لیے چل پڑے اور اس اندیشہ کے پیش نظر کہ مبادا دشمن پہلے پہنچ جائے وہ یَاصَبَاحَاہُ ’’ہائے صبح کی مصیبت‘‘ کی صدا زور زور سے لگانے لگے۔
(۴) حَدَّثَنِیْ حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: اَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِی ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَاَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ: وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ’’ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ۔ یَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِیْ مَا شِئْتِ لآ اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔‘‘ (۵۰)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو آپؐ نے فرمایا:’’ اے معشرقریش! اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچائو کے لیے نیک اعمال کے بدلے اپنی جانوں کو خرید لو۔ میں عذاب الٰہی سے بچانے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔ اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے بھی کسی کام نہیں آسکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ اے صفیہ رسول خدا کی پھوپھی جان! میں اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔اے فاطمہؓ لختِ جگر محمدؐ! مانگ لو مجھ سے جو جی چاہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تمہیں بچانے کے لیے کسی کام نہیں آسکوں گا۔
(۵)حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُبْنُ الْمُسَیَّبِ وَاَبُوْسَلَمَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَالَ: یَا مَعْشَرَقُرَیْشٍ اَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ لَا اُغنِیْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ لَااُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیئًا یَاعَبَّاس بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًاوَیَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَآ اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ﷺ سَلِیْنِیْ مَا شِئْتِ مِنْ مَّالِیْ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ (۵۱)
تابعہ اصیغ عَنِ بْن وہب عن یونس عن ابن عباس۔
(۶) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الاقْرَبِیْنَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُرَیْشًا فَخَصَّ وَعَمَّ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا یا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا یَا مَعْشَرَ بَنِیْ قُصَیٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا یا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ المُطَّلِبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّاوَّ لَا نَفْعًا یَا فَاطِمَۃُ بِنْتِ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنّی لَآ اَمْلِکُ لَکِ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِنَّ لَکِ رَحِمًا وَسَاَبُلُّہَا ؎ ۱ بِبِلَالِہَا۔(۵۲)
ہذاحدیث حسن غریب من ہذا الوجہ۔
(۷) حَدَّثَنَا اَبُوالْاَشْعَثِ اَحْمَدُبْنُ الْمِقْدَامِ الْعَجَلِیُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الطَّنَاوِیُّ نَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ عَبْد الْمُطَّلِبِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَاشِئْتُمْ۔ (۵۳)
ہذا حدیث حسن صحیح وہکذا روی وکیع وغیروا حد ہذا الحدیث عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ نحو حدیث محمد بن عبدالرحمٰن الطناوی وروی بعضہم عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن النبی ﷺ مرسلاً ولم یذکرفیہ عن عائشۃ وفی الباب عن علی وابن عباس۔
(۸) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُبْنُ الْعَلَائِ، قَالَ: نَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَرَہْطَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی صَعِدَ الصَّفَا فَہَتَفَ یَا صَبَاحَاہ! فَقَالُوْا: مَنْ ہٰذَا الَّذِیْ یَہْتِفُ؟ قَالُوْا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: یَا بَنِیْ فُلَانٍ، یَا بَنِیْ فُلَانٍ، یَا بَنِیْ فُلَانٍ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَا جْتَمَعُوْا فَقَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْاَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ ہٰذَا الْجَبَلِ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیّ؟ قَالُوْا:مَاجَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا قَالَ ﷺ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ قَالَ: فَقَالَ اَبو لَہَبٍ تَبًّا لَکَ اَمَّا جَمَعْتَنَا اِلَّا لِہٰذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ السُّوْرَۃُ تَبَّتْ یَدَآاَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ کذا قرأ الاعمش الٰی اخرالسورۃ۔ (۵۴)
ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب آیت وَاَنْذِر عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَرَہْطَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ نازل ہوئی ’’اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے قبیلے کے مخلص لوگوں کو متنبہ کردو‘‘ تو رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور کوہِ صفا پر چڑھ کر یَاصَبَاحَاہُ ’’ہائے صبح کی مصیبت‘‘کی صدا سے لوگوں کو بلایا: لوگ یہ آواز سن کر پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے جو پکار رہا ہے؟ لوگوں نے کہا محمدؐ ہیں۔ آپؐ کی آواز سن کر سب لوگ آپؐ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپؐ نے ہر ایک قبیلے کو مخاطب کرکے فرمایا اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اے بنی عبد مناف، اے بنی عبدالمطلب۔ جب وہ سب اکٹھے ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا: ’’ کیا سمجھتے ہو اگر میں تمہیں خبردوں کہ اس پہاڑ کے نیچے سے سواروں کا ایک دستہ نکل رہا ہے کیا تم میری اس بارے میں تصدیق کروگے؟‘‘ وہ بیک زبان بولے ہم نے تمہاری کوئی بات جھوٹی نہیں پائی۔ تو آپؐ نے فرمایا: ’’میں تمہیں سخت عذاب سے خبردار کرتا ہوں۔‘‘ اس پر ابولہب بولا۔ تیرا ستیاناس جائے کیا تو نے ہم سب کو اسی لیے جمع کیا تھا۔
(۹) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ابْنِ اَبِیْ حُبَیْبَۃَ عَنْ دَاؤدَ بْنِ الْحَُصَیْنِ، عَنْ عِکْرَمَۃ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا اُنْزِلَتْ وَاَنْذِرعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ صَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الصَّفَا، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَقُرَیْشٍ! فَقَالَتْ قُرَیْشٌ: مُحَمَّدٌ عَلَی الصَّفَا یَہْتِفُ فَاَقْبَلُوْا وَاجْتَمَعُوْا فَقَالُوْا: مَالَکَ یَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْاَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِسَفْحِ ہٰذَا الْجَبَلِ اَکُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنَنِیْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، اَنْتَ عِنْدَنَا غَیْرُ مُتَّہَمٍ، وَمَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا قَطُّ، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، یا بنی زُہْرَۃَ، حَتّٰی عَدَّدَالْاَفْخَاذَ مِنْ قُرَیْشٍ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اُنْذِرَ عَشِیْرَتِی الْاَقْرَبِیْنَ وَاِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ الدُّنْیَا مَنْفَعَۃً وَلَا مِنَ الْآخِرَۃِ نَصِیْبًا اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: یَقُوْلُ اَبُوْلَہْبٍ تَبًّا لَّکَ سَائِرَالْیَوْمِ اَلِہٰذا جَمَعْتَنَا؟ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ السورۃ کلہا۔ (۵۵)
(۱۰) حَدَّثَنَا عُمَرُبْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ مُرَّۃَ عَن سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ صَعِدَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَا بَنِیْ فِہْرٍ، یَا بَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتّٰی اجْتَمَعُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَّخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَا ہُوَ؟ فَجَآئَ اَبُوْ طَالِبٍ وَقُرَیْشٌ فَقَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْاَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ فَقَالَ اَبُوْلَہَبٍ:تَبًّا لَّکَ سَائِرَالْیَوْمِ اَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّ تَبَّ مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَا لُہٗ وَمَا کَسَبَ۔ (۵۶)
ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جب نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر بآواز بلند قریشی قبائل کو پکارنا شروع کیا۔ اے بنی فہر، اے بنی عدی وغیرہ حتیّٰ کہ وہ جمع ہوگئے۔ جو آدمی خود نہ جاسکتا تھا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ صورتِ حال کا جائزہ لے اور ابوطالب، قبیلہ قریش کے اور لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: کہ ’’بتائو کہ اگر تمہیں میں اس بات کی خبر دوں کہ اس وادی میں لشکر جرّار تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بالکل تیار کھڑا ہے تو کیا تم میری بات کو سچ تسلیم کروگے؟ وہ سب بولے ہاں۔ ہم نے آپ کو اپنے تجربے میں ہمیشہ سچا اور راست گو ہی پایا۔ آپؐ نے فرمایا:’’ میں عذابِ شدید کی آمد سے پہلے تمہارے لیے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس پر ابولہب بولا۔ تیرا ستیاناس جائے آج، تونے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟ اس موقع پر تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ مَا اَغْنیٰ عَنْہُ مَا لُہٗ وَمَا کَسَبَ نازل ہوئی۔
(۱۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ زِیَادٍ، نَا اَبُوْزَیْدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ، قَالَ: ثَنِی الْاَشْعَرِیُّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِصْبَعَیْہِ فِیْ اُذُنَیْہِ فَرَفَعَ صَوْتَہٗ فَقَالَ: یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ یَا صَبَاحَاہ! (۵۷)
ہذا حدیث غریب من ہذا الوجہ وقد رواہ بعضہم عن عوف عن قسامۃ ابن زہیر عن النبی ﷺ مرسلاً وہوا صح ولم یذکرفیہ عن ابی موسیٰ۔
ترجمہ:اشعری سے منقول ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے پکارا اے بنی عبدمناف ہائے صبح کا اندیشہ و خطرہ۔
(۱۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: ثنا اَبِیْ، ثَنا الْاَعْمَشُ، قَالَ: ثنی عَمْرُوبْنُ مُرَّۃَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یُنَادِیْ یَا بَنِی فِہْرٍ، یا بَنِیْ عَدِیٍّ بِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ وَقَالَ لَنَا قَبِیْصَۃُ: ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ عَنْ سَعِیْدِبْنِ جُبَیْرٍ۔
(۱۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَ اَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یَدْعُوْہُمْ قَبَآئِلَ قَبَآئِلَ۔ (۵۸)
ترجمہ :ابن عباسؓ سے منقول ہے وہ کہتے ہیں جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے قبائل قریش کو نام بنام پکارا۔
(۱۴) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، انا شُعَیْبٌ، ثنا اَبُوْ الزّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اشتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ، یَا اُمَّ الزُّبَیْرِبْنِ الْعَوَّامِ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، اِشْتَرِیَا اَنْفُسَکُم مِنَ اللّٰہِ لَآاَمْلِکُ لَکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا سَلَانِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِئْتُمَا۔ (۵۹)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا اور اے بنی عبد مناف اپنے نفسوں کو بیچ لو۔ اے بنی عبدالمطلب اپنے نفسوں کو بیچ لو( اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے) اے اُمِّ زبیر بن عوام رسولؐ خدا کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت محمدؐ! اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت سے اپنے نفسوں کو بچانے کی فکر کرو۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے میں تمہارے ذرّہ برابر کام نہیں آسکوں گا۔ میرے دنیوی مال میں سے جس چیز کا چاہو مطالبہ کرلو۔
(۱۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِیْرٍ ثنا مِسْعَرٌ ثناعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ مُوسیٰ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ جَعَلَ یَدْعُوْبُطُوْنَ قُرَیْشٍ بَطْنًا بَطْنًا یَابَنِیْ فُلَانٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِحَتّٰی انْتَہیٰ اِلیٰ فَاطِمَۃَ فَقَالَ: یَا فَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا غَیْرَ اَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّہَا بِبِلَالِہَا۔ (۶۰)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے منقول ہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کے چھوٹے بڑے ہر قبیلے کو نام بنام پکارا کہ اے بنی فلاں اپنی جانوں کو آگ سے بچائو۔ آخر کار حضرت فاطمہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اے فاطمہؓ بنت محمدؐ! اپنی جان کو آگ سے بچا۔میں اللہ کے عذاب سے یا اس کی گرفت سے تمہارے کسی کام نہیں آسکوںگا بجز اس کے کہ میرا تمہارے ساتھ خونی رشتہ ہے۔ یہاںمیں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا۔‘‘
ماٰخذ
(۱) بخاری ج ۱،کتاب الایمان باب حُب الرَّسول ﷺ من الإِیمان ٭مسلم ج ۱، کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ ﷺ٭دارمی کتاب الرقاق باب لایؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ٭مسند احمد ج۳،ص۲۰۷،۲۵۱،۲۷۲،۲۷۵،۲۸۹مرویات انس بن مالک٭کنزالعُمَّال ج۱ص۳۷۔ کنزالعمال اور مسلم کی روایت میں وَالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ کے بجائے وَلَدِہٖ وَوَالِدِہٖ ہے۔
(۲) مسلم، ج۱، کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ ﷺ٭ نسائی کتاب الایمان وَشَرائعہٖ ج۷؍۸ باب علامۃ الایمان٭ابن ماجہ المقدمۃ باب فی الایمان ح۶۷٭مسند ابی عوانہ ج۱ص۳۳۔
(۳) کنزالعمال، ج۱ص۳۸۔
(۴) کنزالعمال، ج۱ص۴۱۔
(۵) کنزالعمال، ج۱ص۴۱۔
(۶) مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل دوم بحوالہ شرح السنۃ ٭شرح اربعین نوویٰ، عن ابی محمد عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص قال النووی ہٰذا حدیث صحیح ٭ابن کثیر ج ۱ص۵۲۰ زیر تفسیر اٰیت۔ثُمَّ لاَیَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ ابنِ کثیر نے وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ نقل کیاہے۔
(۷) کنزالعمال،ج۱،ص۲۱۷بہ حوالہ الحکیم وابونصر السجزی فی الابانۃ وقال حسن غریب والخطیب عن ابن عمرو۔
(۸) مسلم، ج۱، کتاب الایمان باب الدّلیل علی ان من رضی باللّٰہ ربًّا وبِالْاِسلامِ دینا وبِمحمد نبیّا ﷺ رسولا فہو مومن وان ارتکب المعاصی الکبائر٭ترمذی ابواب الایمان ج ۲ص۹۱٭ مسند احمد ج ۱ص۲۰۸ ٭کنزالعمال ج ۱ص۲۵۔ مسلم کتاب الایمان، ترمذی ابواب الایمان میں اور مسند احمد ج ۱ص۱۸،۲۰، میں ثلاث من کن فیہ وجد طعم الایمان کے الفاظ بھی آئے ہیں۔علاوہ ازیں ابوداؤد نے کتاب الزکاۃ میں، ترمذی نے ابواب العلم میں، نسائی نے کتاب الایمان میں، ابن ماجہ نے کتاب الفتن میں اور امام احمد نے مسند کی ج ۲ص۲۹۸، پراور۵۲۰ پربھی انہی الفاظ میں نقل کیا ہے۔
(۹) بخاری، ج ۲، کتاب الاحکام، باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم اور بخاری، ج۱، کتاب الجہاد باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ اور کتاب الاعتصام باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ ﷺ میں یہ الفاظ ہیں: فَمَنْ اَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصیٰ مُحَمَّدًا ﷺَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ مسلم ج۲ کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ وتحریمھا فی المعصیۃ۔٭نسائی کتاب البیعۃ۔ الترغیب فی طاعۃ اللّٰہ ٭ابن ماجہ المقدمۃ۔ باب اتباع سنۃ رسول اللّٰہ ﷺ اور کتاب الجہاد باب فی طاعۃ الامام ٭ کنزالعمال ج ۶ص۵۲٭ابن کثیر ج۱، عن ابی ہریرۃ بحوالہ ابن ابی حاتم ٭ابوداؤد الطیالسی مرویات ابی ہریرۃ (ابوعلقمۃ عن ابی ہریرۃ) ٭مسند احمد ج ۲ص۲۴۴،۲۵۳،۲۷۰، ۳۱۳،۳۴۲،۳۸۶،۴۱۶، ۴۶۷، ۴۷۱، ۵۱۱ ٭ ریاض الصالحین ، باب فی وجوب طاعۃ ولاۃ امورفی غیر معصیۃ الخ۔
(۱۰) بخاری ج۲، کتاب الرقاق، باب الانہاء عن المعاصی٭مسلم ج۲، کتاب الفضائل باب شفقتہ ﷺ علیٰ امتہٖ ومبالغتہ فی تحذیر ہم ما یضرہم٭مسند احمد، ج۲ص۳۱۲ تا۵۴۰، عن ابی ہریرۃ۔
(۱۱) مسلم ج ۲، کتاب الفضائل باب شفقتہ ﷺ ٭ ریاض الصالحین ص۵۹، عن جابر ٭ترمذی ابواب الامثال باب ماجاء مثل ابن اٰدم واجلہ واملہ٭مسند احمد ج ۳ص۱۶۱،۳۹۲، عن جابر ٭مجمع الزوائد ج ۸ص۲۶۲۔
(۱۲) مسلم ج۱،کتاب الایمان باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ٭مسند احمد ج ۲ص۳۵۰، عن ابی ہریرۃ ٭مسند احمد کی ایک روایت میں ولایہودی ولا نصرانی ہے یعنی دونوں جگہ ولا ہے ٭مسند احمد ج ۲،ص۲۵۰،۳۱۷ عن ابی ہریرۃ، ج۴ص۷۰ج۵ص۳۸۲ج۶ص۳۸۲ پر ولایومن باللّٰہ من لایومن بی بھی ہے۔ کنزالعمال ج ۱ص۲۶۸٭مجمع الزوائد ج ۸ص۲۶۲۔
(۱۳) تفسیر ابن کثیر ج ۲ص۴۴۰٭مجمع الزوائد ج ۸ص۲۶۱۔
(۱۴) مُسند احمد ج ۴ص۳۹۶،۳۹۸ ٭کنزالعُمَّال ج ۱ص۲۶۸، بحوالہ ٭ابن جریر اور طبرانی۔
(۱۵) دارمی،ج۱، باب ۳۹ مایتقی من تفسیر حدیث النبی اور مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ٭ابن حبّان نے باسناد صحیح روایت کیاہے۔ بحوالہ دارمی ج ۱ص۹۵، حاشیہ حدیث ۴۴۱٭کنزالعُمَّال جلد ۱ص۲۰۱۔
(۱۶) مسند احمدج ۴ص۲۶۶، مرویات عبداللّٰہ بن ثابت٭مجمع الزوائدج۱ص۱۷۳٭کنزالعمال ج۱ص۲۰۱، بحوالہ ابن سعد ، الحاکم فی الکنیٰ طبرانی، بیہقی فی شعب الایمان عن عبداللّٰہ ابن ثابت۔
(۱۷) مسند احمد بن حنبل ج ۳ص۳۳۸، مرویات جابر بن عبداللّٰہ۔
(۱۸) مسند احمد ج۳ص۳۸۷، مرویات جابر بن عبداللّٰہ ٭کنزالعمَّال ج۱ص۲۰۰٭ مجمع الزوائد ہیشمی ج۱ص۱۷۳اورج ۸ص۲۶۲۔
(۱۹) مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ بحوالہ بیہقی فی شعب الایمان ٭ابن حبّان بحوالہ کنزالعُمَّال ج۱ ص۲۰۱٭مجمع الزوائد۔ج۱ص۱۷۴۔
(۲۰) بخاری، ج ۱، کتاب العلم: باب تعلیم الرجل اَمَتَہ واہلہ ٭مسند احمد ج ۴، مرویات ابی موسیٰ اشعری۔
(۲۱) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الی جمیع الناس ونسخ الملۃ بملتہ٭دارمی کتاب النکاح باب فضل من اعتق امۃ ثم تزوجہا٭مسند احمد ج ۴ص۴۰۲ تا۴۰۵٭ ابن جریر ج ۱۱ ص۱۴۱۔
(۲۲) ابن جریر جز ۲۴؍۲۷، جلد۱۱ص۱۴۰۔
(۲۳) دارمی کتاب السیر باب ان الغنیمۃ لا تحل لا حد قبلنا ٭مجمع الزوائد ج ۸ ص۲۵۸عن ابی موسیٰ۔
(۲۴) مسند احمد ج ۱ص۲۵۰۔ ان ہی سے مروی ایک روایت میں بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْاحْمَرِ والْاَسْوَدِ الخ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ مسند احمد ج ۱ص۳۰۱۔
(۲۵) بخاری،ج۱،کتاب الصلاۃ باب قول النبی ﷺ جعلت لِی الارض مسجدًا وَطہورا ٭مسلم ج ۱، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ٭دارمی کتاب الصلوٰۃ باب الارض کلہا طاہرۃ ماخلا المقبرۃ والحمام ٭مسند احمد ج۳ص۳۰۴، عن جابر ٭مجمع الزوائد ج ۶ص۶۵ عن ابی سعید مختصر ٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۹ص۴۔
(۲۶) تفسیر ابن کثیر ج ۳،سورہ فرقان٭ نسائی، ج ۱ کتاب الطہارۃ باب التیمم بالصعید۔
(۲۷) مسلم ج ۱ کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ٭ترمذی ابواب السیر۔ باب ماجاء فی الغنیمۃ۔ ہذا ہدیث حسن۔
(۲۸) مسند احمد ج ۲ص۲۲۲، روایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ۔
(۲۹) ترمذی ابواب التفسیرج۴، باب سورۃ الرحمٰن٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۵ص۱۳۰، بحوالہ ابن المنذر، ابوالشیخ فی العظمۃ ابن مردویہ۔ بَیْہَقِی فی الدلائل۔
(۳۰) المستدرک للحاکم ج ۲، کتاب التفسیر سورۃ الرحمٰن۔
(۳۱) تفسیر ابن جریر،پ۲۷، سورۃ الرحمٰن ص۷۲۔رواہ الحافظ البزار عن عمرو بن مالک بہ ثم قال لا نعلمہ یروی عن النبی ﷺ الامن ہذہ الوجہ بہذالاِسناد ٭تفسیر ابن کثیر ج ۴، سورۃ الرحمٰن۔
(۳۲) مسلم ج ۱،کتاب الصلاۃ باب الجہر بالقرأۃ فی الصبح والقرأۃ علی الجن٭ترمذی ابواب تفسیر القرآن سورۃ الاحقاف ہذا حدیث حسن ٭ابوداؤد الطیالسی ج ۱ص۳۷، مرویات ابن مسعود٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ص۲۸بہ حوالہ عبد بن حمید٭مسند احمد ج ۱ص۳۹۸،۴۰۲،۴۴۹،۴۵۵،۴۵۷،۴۵۸ان صفحات پر یہ حدیث بہت مختصر ہے۔
(۳۳) تفسیر ابن جریر ج ۲۴؍۲۷ سورۃ الاحقاف ٭مسند احمد ج ۱ص۴۵۹، مرویات عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۳۴) تفسیر ابن جریر ج ۲۴؍۲۷سورۃ الاحقاف۔
(۳۵) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب امتثال ماقال شرعا دون ماذکرہ ﷺ من معایش الدنیا علی سبیل الرأی۔
(۳۶) مسلم ج ۲، کتاب الفضائل باب امتثال ماقال شرعاً دون ماذکرہٗ ﷺ معایش الدنیا ۔
(۳۷) مسلم ج ۲، کتاب الفضائل باب امتثال ماقال شرعاً الخ۔
(۳۸) تفسیر ابن کثیر ج ۲، سورۃ الانفال ۔
(۳۹) بخاری ج ۲، کتاب الطلاق باب شفاعۃ النبی ﷺ فی زوج بریرۃ٭نسائی کتاب اٰداب القاضی باب شفاعۃ الحاکم للخصوم قبل فصل الحکم جز۸ص۲۴۵٭دارقطنی کتاب الزکوٰۃ باب فی اوامرالنبی ﷺ ج ۲ص۱۵۴۔
(۴۰) بخاری ج ۲، کتاب التعبیر باب من رأی النبی ﷺ فی المنام۔
(۴۱) بخاری ج۲، کتاب التعبیر باب من راٰی النبی ﷺ فی المنام ٭مسلم کتاب الرؤیا۔
(۴۲) مسلم، ج ۲، کتاب الرؤیا ٭مسند احمد بن حنبل ج۳ص۳۵۰، مرویات جابر۔
(۴۳) مسلم، ج ۲، کتاب الرُؤیا۔
(۴۴) بخاری کتاب الجنائز ج۱، باب اذا قال المشرک عند الموت لا اٰلہ اِلَّا اللّٰہ ٭ج ۲کتاب مناقب الانصار اور تفسیر سورہ توبہ،٭مسلم،ج۱، کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ اسلام من حضرہ الموت مالم یشرع فی النزع الخ۔ مسلم نے ماکان للنبی والذین اٰمنوا ان یستغفروا المشرکین مکمل آیت نقل کرکے آخر میں۔ وَاَنْزَلَ اللّٰہ تعالٰی فی ابی طالب فقال لرسول اللّٰہ ﷺ اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ نقل کیا ہے ٭نسائی کتاب الجنائز النہی عن الاستغفار للمشرکین ٭امام احمد اور نسائی نے اشہد لک بہا کی جگہ احاجّ لک بہا عند اللّٰہ عزّوجل روایت کیا ہے ٭مسند احمد ج ۵ص۴۳۳ مرویات المسیب بن حزن ٭ ابن کثیر ج۳ص۳۹۴،۳۹۵۔
(۴۵) بخاری ج ۱ کتاب الایمان والنذورباب اذقال واللّٰہ لا اتکلم الیوم۔
(۴۶) مسلم ج۱، کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ اسلام من حضرہ الموت مَالَم یشرع فی النزع وہو الغرغرۃ الخ٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ القصص٭ابن کثیر ج ۳القصص آیت ۵۶٭مسند احمد بن حنبل ج ۲ص۴۳۴، مرویات ابی ہریرۃ ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۴، القصص اٰیت ۵۶ ٭مسند ابی عوانۃ ، ج ۱۔
(۴۷) مسلم، ج ۱، کتاب الایمان باب بیان من مات علی الکفر فھو فی النّار ولا تنالہ شفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ٭مسند ابی عوانہ، ج ۱ص۹۳۔
(۴۸) مسلم کتاب الایمان باب بیان من مات علی الکفر فھو فی النار ولاتنالہ الشفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱۔
(۴۹) مسلم کتاب الایمان باب بیان أنہ من مات علی الکفر فھو فی النار ولاتنالہ الشفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ٭مسند ابی عوانۃ ، ج۱ص۹۳۔
(۵۰) مسلم ج ۱،کتاب الایمان باب فی قولہ تعالی: وأنذر عشیرتک الأقربین ٭مسند ابی عوانۃ ۔
(۵۱) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ وانذر عشیر تک الاقربین۔ سورۃ الشعراء ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱ص۔۹۵ ٭بخاری، ج۱، کتاب الوصایا، باب ہل یدخل النساء والولد فی الاقارب٭نسائی کتاب الوصایا باب اذا اوصی لعشیرتہ الاقربین۔
(۵۲) ترمذی ابواب تفسیر القراٰن ۔ الشعراء٭نسائی کتاب الوصایا باب اذا اوصی لعشیرتہ الاقربین ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱ص۹۴٭مسند احمد ج ۲ص۳۶۰، مرویات ابی ہریرۃ۔
(۵۳) ترمذی ابواب تفسیر الْقرآن، الشعرا٭نسائی کتاب الوصایا باب اذا اوصیٰ لعشیرتہ الاقربین ٭مسند ابی عوانۃ، ج۱ ص۹۵۔
(۵۴) مسلم ج ۱، کتاب الایمان باب فی قولہ تعالیٰ : وأنذر عشیرتک الأقربین ٭مسند ابی عوانۃ ج۱ص۹۲٭سیرت ابن ہشام، ج ۱ص۳۵۱، حاشیہ:۲۔
(۵۵) طبقات لابن سعد ، ج۱، ذکردعاء رسول اللّٰہ ﷺ الناس اِلی الاسلام٭مسند ابی عوانہ ، ج۱ص۹۲۔
(۵۶) بخاری ، ج۲، کتاب التفسیر باب قولہ وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ اَلِنْ جناحَکَ ۔
(۵۷) ترمذی ابواب تفسیر القراٰن، الشعراء۔
(۵۸) بخاری، ج ۱، کتاب المناقب باب من انتسب الیٰ اٰبَائہٖ فی الاسلام والجاہلیۃ۔
(۵۹) بخاری ، ج۱، کتاب المناقب باب من انتسب الیٰ اٰبَائِہٖ فِی الْاِسْلَامِ وَالجاہلیۃ الخ ٭مسند ابی عوانۃ، ج ۱ص۹۶۔
(۶۰) مسند احمد بن حنبل ج۲ص۳۳۳، مرویات ابی ہریرۃ ۔
فصل سوم: دورمصائب و آلام
۴۰۔ بیہقی نے عروہ بن زبیر کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’قریش ابوطالب کی وفات تک بزدل بنے رہے۔‘‘ حاکم نے عروہ بن زبیر کی یہی روایت انہی الفاظ میں حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا۔
۴۱۔ ابن اسحاق نے قریش کی بڑھتی ہوئی جرأتوں کی ایک مثال عروہ بن زبیر کے حوالہ سے بیان کی ہے کہ ایک روز قریش کے ایک اوباش نے سربازار حضورؐ کے سرمبارک پر مٹی ڈال دی۔ آپؐ اسی حال میں گھر تشریف لے گئے۔ صاحبزادیوں میں سے ایک آپؐ کا سردھوتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اور حضوؐر انھیں تسلی دینے کے لیے یہ فرماتے جاتے تھے کہ ’’رونہیں میری بیٹی ، اللہ تیرے باپ کا حامی ہے۔‘‘ (سیرت سرور عالم، ج ۲،باب۱۰: کفّار کی۔۔۔)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ فَلَمَّا ہَلَکَ اَبُوْطَالِب، نَالَتْ قُرَیْشٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْاَذیٰ مَالَمْ تَکُنْ تَطْمَعُ بِہٖ فِیَ حَیَاۃِ اَبِیْ طَالِبٍ، حَتّٰی اعْتَرَضَہٗ سَفِیْہٌ مِنْ سُفَہَآئِ قُرَیْشٍ، فَنَثَرَ عَلیٰ رَأسِہٖ تُرَابًا۔ قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: لَمَّا نَثَرَ ذٰلِکَ السَّفِیْہُ عَلیٰ رَأسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ ذٰلِکَ التُّرَابَ، دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْتَہٗ وَالتُّرَابُ عَلیٰ رَأسِہٖ، فَقَامَتْ اِلَیْہِ اِحْدیٰ بَنَاتِہٖ، فَجَعَلَتْ تَغْسِلُ عَنْہُ التُّرَابَ وَہِیَ تَبْکِیْ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ لَہَا: لَا تَبْکِیْ یَا بُنَیَّۃُ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ مَانِعٌ اَبَاکِ۔ (۱)
۴۲۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے کہ حضوؐر ایک روز کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور قریش کے لوگ اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے ـــــ مسلم کی روایت میں تصریح کی ہے کہ ابوجہل نے ـــــ کہا تم میں سے کون ہے جو جاکر فلاں شخص کے گھر سے ذبح کی ہوئی اونٹنی ـــــ مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جو ایک دن پہلے ذبح کی گئی تھی ـــــ کے پیٹ کی آلائش اور اس کا اوجھ اور خون سے لتھڑی ہوئی بچہ دانی اٹھالائے اور اس شخص کی پیٹھ پر سجدے کی حالت میں رکھ دے؟اس پر اُن کا سب سے زیادہ شقی آدمی، عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور یہ گندگی لاکر اس نے سجدے کی حالت میں حضوؐر کی پیٹھ پر یا دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ اس کے بوجھ کی وجہ سے حضوؐر سجدے ہی میں پڑے رہے، سر نہ اٹھاسکے۔ قریش کے لوگ یہ منظر دیکھ دیکھ کر ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے اور ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔ اتنے میں کسی نے جاکر آپؐ کے گھر یہ خبر پہنچادی۔ حضرت فاطمہؓ سن کر دوڑی ہوئی آئیں، اور انھوں نے یہ گندگی کا انبار آپؐ کے اوپر سے کھینچ کھینچ کر پھینکا، اور پھرقریش کے لوگوں کو مخاطب کرکے انھیں بہت بری طرح ڈانٹا اور ان لوگوں کو بددعائیں دیں جنھوں نے یہ حرکت کی تھی (حافظ بزّار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ کفار میں سے کسی نے حضرت فاطمہؓ کو کچھ نہ کہا) نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے فرمایا ’’خدایا!قریش سے نمٹ لے۔‘‘ کسی روایت میں یہ ہے کہ حضورؐنے یہ بات دو مرتبہ فرمائی اور کسی میں ہے تین مرتبہ فرمائی۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضورؐ کی یہ بددعا قریش کو بہت شاق گزری، اور مسلم کی روایت ہے کہ حضورؐ کی آواز سن کر اُن لوگوں کی ساری ہنسی رخصت ہوگئی اور وہ آپؐ کی بددعا سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضورؐ نے نام لے لے کر ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو بددعا دی۔ (اس حدیث کو بخاری و مسلم کے علاوہ امام احمد، نسا ئی، بزّار، طبرانی اور ابودائود طیالسی وغیر ہم نے بھی نقل کیا ہے۔ طیالسی کی روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول بھی منقول ہوا ہے کہ میں نے حضوؐر کو اُس دن کے سوا کبھی ان لوگوں کے حق میں بددعا کرتے نہیں سنا)۔
(سیرت سرورعالم ج۲،باب۱۰: کفّار کی۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ اِسْحَاقَ السُّوْرَ مَارِیُّ، قَالَ: نَاعَبَیْدُاللّٰہِ بْنُ مُوْسیٰ، قَالَ: نَااِسْرَائِیْلُ عَنْ اَبِیْ اسحَاقَ، عَنْ عَمْرِوابْنِ مَیْمُوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَائِمٌ یُصَلِّی عِنْدَ الْکَعْبَۃِ وَجَمْعٌ مِّنْ قُرَیْشٍ فِیْ مَجَالِسِہِمْ اِذْقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ اَلَا تَنْظُرُوْنَ اِلیٰ ہٰذَا الْمُرَائِی اَیُّکُمْ یَقُوْمُ اِلیٰ جَزُوْرِاٰلِ فُلَانٍ فَیَعْمِدُ اِلیٰ فَرْثِہَا وَدَمِہَا وَسَلَاہَا فَیَجِیُٔ بِہٖ ثُمَّ یُمْہِلُہُ حَتّٰی اِذَا سَجَدَ وَضَعَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ فَانْبَعَثَ اَشْقَاہُمْ فَلَمَّا سَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَضَعَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ وَثَبَتَ النَّبِیُّ ﷺ سَاجِدًا، فَضَحِکُوْا حَتّٰی مَالَ بَعْضُہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ مِنَ الضِّحْکِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ اِلٰی فَاطِمَۃَ وَہِیَ جُوَیْرِیَّۃٌ فَاَقْبَلَتْ تَسْعیٰ وَثَبَتَ النَّبِیُّ ﷺ سَاجِدًا، حَتّٰی اَلْقَتْہُ عَنْہُ وَاَقْبَلَتْ عَلَیْہِمْ تَسُبُّہُمْ فَلَمَّا قَضیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الصَّلوٰۃَ قَالَ: اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ ثُمَّ سَمّٰی اَللّٰہُمْ عَلَیْکَ بِعَمْرِوْبْنِ ہِشَامٍ، وَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ وَالْوَلِیْدَ بْنِ عُتْبَۃَ وَاُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعَیْطٍ وَعُمَارَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَاللّٰہِ لَقَدْ رَاَیْتُہُمْ صَرْعیٰ یَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوْا اِلَی الْقَلِیْبِ قَلِیْبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : وَاُتْبِعَ اَصْحَابُ الْقَلِیْبِ لَعْنَۃً۔(۲)
اہل طائف کا حضوؐر پر ظلم عظیم
بن اسحاق اور واقدی وغیرہ کا بیان ہے کہ طائف کی سرداری اُس وقت عمروبن عمیر بن عوف کے تین لڑکوں، عبدیالیل، مسعود اور حبیب کے ہاتھ میں تھی، جن میں سے ایک کے گھر میں قریش کی عورت صفیہ بنت معمر جمحی تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان سے ملے، ان کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اُن سے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ اسلام کے کام میں میری مدد کریں، اور میری قوم کے جو لوگ میری مخالفت کررہے ہیں ان کے مقابلے میں آپ لوگ میری حمایت کریں۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا کہ’’میں کعبے کے پردے نوچ ڈالوں گا اگر اللہ نے تم کو رسول بنایاہے۔‘‘ دوسرے نے کہا:’’کیا خدا کو تمہارے سوا کوئی رسول بنانے کے لیے نہیں ملا؟‘‘ تیسرے نے کہا: ’’میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا، کیو ں کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو تم اس سے بزرگ تر ہو کہ میں تمہاری بات کا جواب دوں، اور اگر تم اللہ کا نام لے کر جھوٹ بول رہے ہو تو اس قابل نہیں ہو کہ تم سے بات کی جائے۔‘‘ یہ سن کر حضوؐر اُٹھ گئے اور آپؐ کو ان سے کسی بھلائی کی توقع باقی نہیں رہی۔ چلتے ہوئے آپؐ نے ان سے کہا کہ ’’خیر، جو کچھ برتائو تم نے مجھ سے کیا سو کیا، مگر کم از کم اتنا کرو کہ میری بات کو مخفی رکھو۔‘‘ یہ بات آپؐ نے اس لیے فرمائی کہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اگر قریش تک یہ خبر پہنچے گی تو وہ اور جری ہوجائیں گے۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور اپنے لچوں لفنگوں اور غلاموں کو آپؐ کے خلاف ہشکار دیا اور وہ آپؐ کو گالیاں دینے اور آپؐ پر آواز کسنے لگے، یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہوگئے اور آپؐ کو ایک باغ کی دیوار تک پہنچاکر چھوڑاجو عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کا تھا۔
واقدی سے ابن سعد کی روایت میں یہ ہے کہ آپؐ ثقیف کے اشراف و رئوساء میں سے ایک ایک کے پاس گئے، مگر کسی نے آپؐکی بات نہ مانی، بلکہ انھیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ان کے نوجوانوں کو بگاڑ نہ دیں، اس لیے انھوں نے کہا ’’اے محمد! تم ہمارے شہر سے نکل جائو اور زمین میں تمھارے جو دوست بھی ہوں ان سے جاملو‘‘ پھر انھوں نے اپنے اوباشوں اور غلاموں کو آپ کے خلاف اکسایا اور انھوں نے آپؐ کو گالیاں دیں، اور شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کرلیا۔ موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے تاک تاک کر آپؐ کے ٹخنوں اور ایڑیوں پر پتھر مارے۔ راستے کے دونوں جانب وہ صفیں بنائے کھڑے تھے، اور جیسے جیسے آپؐ قدم اٹھا کر چلتے جاتے تھے، وہ سنگباری کیے چلے جاتے تھے، یہاں تک کہ آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔ سلیمان التیمی کا بیان ہے کہ چوٹوں کی تکلیف سے جب آپؐ بیٹھ جاتے تو وہ آپؐ کو پکڑ کر کھڑا کردیتے تاکہ آپؐ پر پھر پتھر برسائیں، چنانچہ جب آپؐ مجبوراً چلنا شروع کرتے تو وہ پتھر مارتے اور ٹھٹھے لگاتے چلے جاتے تھے۔ واقدی کی روایت ابن سعد نے نقل کی ہے کہ اس موقع پر حضرت زیدؓ بن حارثہ آپؐ کو پتھروں سے بچانے کے لیے خود پتھروں کی بارش اپنے اوپر لیتے رہے یہاں تک کہ ان کا سرپھٹ گیا۔ (ان روایات کی تخریج اس کتاب میں سورہ اللھب کی فضیلت کے تحت مذکور ہے وہاں ملاحظہ ہو۔ (مرتب))(سیرت سرورعالم، ج۲،باب ۱۰:کفّار کی۔۔۔)
ابولہب کی اذیت رسانیاں
بن عباسؓ سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو دعوت عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپؐ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپؐ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ ’’ہائے صبح کی آفت۔‘‘ عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھٹ پٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ لیتا تھا۔ حضورؐ کی آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکاررہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ محمد (ﷺ) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندانوں کے لوگ آپؐ کی طرف دوڑپڑے، جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپؐ نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبدالمطلب ، اے بنی فہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمھیں یہ بتائوں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانو گے؟ لوگوں نے کہا ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو تمھیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آرہا ہے۔ اس پر قبل اس کے کہ کوئی اور بولتا حضورؐ کے اپنے چچا ابولہب نے کہا، تَبًّا لَّکَ اَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا؟’’ستیاناس جائے تیرا، کیا اس لیے تونے ہمیں جمع کیا تھا؟‘‘ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تاکہ رسول اللہ ﷺپر کھینچ مارے۔ (مجمع الزوائد ، ج۶،ص۱۸،۱۹ ۔) (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر)
۴۳۔مکہ میں ابولہب حضورؐ کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اُس کے علاوہ حکم بن عاص (مروان کا باپ) عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراء اور ابن الاصداء الہذلی بھی آپؐ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی حضورؐ کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپؐ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اُوپر سے بکری کا اوجھ آپؐ پر پھینک دیتے۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ حضورؐ باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے۔ ’’اے عبد مناف، یہ کیسی ہمسائیگی ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۶،اللہب: پس منظر)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَکَانَ النَّفَرُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِی بَیْتِہٖ: اَبَالَہَبٍ، وَالْحَکَمَ بْنَ الْعَاصِ بْنِ اُمَیَّۃَ، وَعُقْبَۃَ بْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ، وَعَدِیَّ بْنَ حَمْرَائَ الثَّقَفِیَّ، وَابْنَ الْاَصْدَائِ الْہُذَالِیّ وَکَانُوْا جِیْرَانَہٗ لَمْ یُسْلِمْ مِنْہُمْ اَحَدٌ اِلَّا الْحَکَمُ بْنُ اَبِی الْعَاصِ، فَکَانَ اَحَدُہُمْ۔ فِیْمَا ذُکِرَ لِیْ۔ یَطْرَحُ عَلَیْہِ ﷺ رَحِمَ الشَّاۃِ وَہُوَ یُصَلِّیْ وَکَانَ اَحَدُہُمْ یَطْرَحُہَا فِیْ بُرْمَتِہٖ اِذَا نُصِبَتْ لَہٗ، حَتّٰی اتَّخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِجْرًا یَسْتَتِرُبِہٖ مِنْہُمْ اِذَا صَلّٰی، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا طَرَحُوْا عَلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَذٰی کَمَا حَدَّثَنِیْ عُمَرُابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَخْرُجُ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْعُوْدِ، فَیَقِفُ بِہٖ عَلیٰ بَابِہٖ، ثُمَّ یَقُوْلُ: یا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، اَیَّ جَوَارِہٰذَا؟ ثُمَّ یُلْقِیْہِ فِی الطَّرِیْقِ۔ (۳)
۴۴۔ ابن زید کی روایت ہے کہ ابولہب نے رسول اللہ ﷺ سے ایک روز پوچھا اگر میں تمھارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ حضورؐ نے فرمایا اور آپؐ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا:
تَبًّا لِہٰذَا الدِّیْنِ تَبَّا اَنْ اَکُوْنَ وَہٰؤُلَآئِ سَوَائً۔ (ابن جریر)
’’ناس جائے اس دین کا جس میں مَیں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ زَیْدٍ فِی قَوْلِ اللّٰہِ تَبَّت یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ: قَالَ التَّبُّ الْخُسْرَانُ۔ قَالَ: قَالَ اَبُوْ لَہَبٍ لِلنَّبِیِّ ﷺ : مَا ذَا اُعْطَیٰ یَامُحَمَّدُ، اِنْ اٰمَنْتُ بِکَ؟ قَالَ کَمَا یُعْطَی الْمُسْلِمُوْنَ، فَقَالَ مَا لِیْ عَلَیْہِمْ فَضْلٌ؟ قَالَ: وَاَیَّ شَیْیٍٔ تَبْتَغِیْ؟ قَالَ: تَبًّا لِہٰذَا مِنْ دِیْنٍ تَبًّا اَنْ اَکُوْنَ اَنَا وَہٰؤُلَآئِ سَوَائً۔ (۴)
۴۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس، ابن زید، ضحاک اور ربیع بن انس کہتے ہیں:ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل راتوں کو خاردار درختوں کی ٹہنیاں لاکر رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر ڈال دیتی تھی۔ (ابن جریر)
سعید بن المسیب، حسن بصری اور قتادہ کہتے ہیں کہ وہ ایک بہت قیمتی ہارگردن میں پہنتی تھی، اور وہ کہا کرتی تھی کہ لات اور عزّیٰ کی قسم! میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد (ﷺ) کی عداوت میں خرچ کردوں گی۔
۴۶۔ نبوت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی دو صاحب زادیاں ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ نبوت کے بعد جب حضورؐ نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (ﷺ) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی۔ اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضورؐ کے سامنے آکر اس نے کہا کہ میں النَّجْمِ اِذَا ہَویٰ اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰیکا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے حضورؐ کی طرف تھوکا جو آپؐ پر نہیں پڑا۔ حضورؐ نے فرمایا خدا یا! اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کردے(اس کی تخریج بھی سورۃ اللھب کی فضیلت کے ضمن میں دیکھی جائے۔ (مرتب)) اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوران سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑائو کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابولہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو، کیونکہ مجھے محمدؐ کی بددعا کا خوف ہے۔ اس پر قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پڑکر سورہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کر اس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا (الاستیعاب لابنِ عبدالبرّ، الاصابہ لابن حجر، دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسہیلی)۔ روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اعلان نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ تَبَّتْ یَدَآاَبِیْ لَہَبٍ کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابولہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ۔ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کرکے حضورؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتیبہ تھا)۔
اس کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبداللہ کا بھی انتقال ہوگیا تو اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبردی کہ لو آج محمد (ﷺ) بے نام و نشان ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے، یہ آپؐ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپؐ کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عبادالدیلی بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا ۔ وہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ کہہ رہے تھے۔’’لوگو! کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، فلاح پائو گے۔‘‘ اور آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جارہا تھا کہ ’’یہ جھوٹا ہے دین آبائی سے پھر گیا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔‘‘ (مسند احمد، بیہقی) دوسری روایت انہی حضرت ربیعہ سے یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ ایک ایک قبیلے کے پڑائو پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’اے بنی فلاں ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمھیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میراساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ’’اے بنی فلاں! یہ تم کو لات اور عزّیٰ سے پھیر کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔‘‘ میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے ۔ (مسند احمد ، طبرانی) طارق بن عبداللہ المحاربی کی روایت بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ’’لوگو لاالٰہ ا لّا اللہ کہو، فلاح پائو گے۔‘‘ پیچھے ایک شخص ہے جو آپ کو پتھر ماررہا ہے یہاں تک کہ آپؐ کی ایڑیاں خون سے تر ہوگئی ہیں، اور وہ کہتا جاتا ہے کہ ’’یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو۔‘‘ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟’’لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل روایت حضرت عمرو بن عاص کی ہے اور عبداللہ بن عمرو نے غالباً اپنے والد سے سنی ہوئی روایت بیان کی ہے کیوں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ۶۵ھ میں وفات پائی۔ وفات کے وقت ان کی عمر ۷۲ سال تھی۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو وہ اس واقعہ کے عینی شاہد نہیں ہوسکتے تھے، کیونکہ ان کی پیدائش ہجرت سے سات سال پہلے یعنی ۶ بعد بعثت میں ہوئی تھی۔ ) ‘‘ (ترمذی)
نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ ﷺ کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تو تنہا یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفارقریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ مگر ابولہب کا حال یہ تھا کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ اس سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں، تمھیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کردوں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بے چارہ اپنے بھوک سے ٹرپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا ۔ پھر ابولہب انہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھائو خرید لیتا۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، اللہب : پس منظر)
۴۷۔ بخاری میں حضرت عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے پوچھا کہ آپ نے مشرکین کا سب سے زیادہ سخت برتائو نبی ﷺ کے ساتھ کیا دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا ایک روز آپؐ کعبہ کے صحن میں (اور ایک روایت میں ہے حجرۂ کعبہ میں) نماز پڑھ رہے تھے۔ یکایک عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا اور اس نے آپؐ کی گردن میں کپڑا ڈال کر اسے بل دینا شروع کردیا تاکہ گلاگھونٹ کر آپؐ کو مارڈالے مگر عین وقت پر حضرت ابوبکرؓ پہنچ گئے اور انھوں نے دھکا دے کر اسے ہٹا دیا۔ حضرت عبداللہ کا بیان ہے جس وقت ابوبکرصدیقؓ اس ظالم سے کشمکش کررہے تھے اس وقت ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے :
اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ؟
’’کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟‘‘
۴۸۔ امام بخاریؒ نے یہ قصہ کئی جگہ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ کسی جگہ روایت حضرت عمرو بن العاص سے اور کسی جگہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے(ا بن عبدالبر نے سیرت میں اس روایت کو موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ محمد بن عبدالرحمن ابوالاسود اور یعقوب بن حمید بن کا سب کے حوالہ سے بھی نقل کیا ہے) ایک جگہ حضرت عمروبن العاص کی روایت یہ ہے کہ میں نے کبھی قریش کو رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔ وہ لوگ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور حضورؐ مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں انھوں نے ایک دوسرے کو آپؐ کے خلاف بھڑکایا۔ آخر عقبہ بن ابی معیط اٹھااور اس نے اپنی چادر آپؐ کے گلے میں ڈال کر کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپؐ گھٹنوں کے بل ٹک گئے اور لوگوں میں شور مچ گیا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے’’ کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟‘‘
پھر لوگ آپؐ کے پاس سے ہٹ گئے ۔ نماز سے فارغ ہو کر جب آپؐ قریش کے ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمھاری طرف ذبح کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس پر ابوجہل بولا:اے محمدؐ تم کبھی نادان نہ تھے۔ حضوؐر نے فرمایا ’’اور تم انھیں میں سے ہو۔ ‘‘ (ابویعلیٰ ، ابن حبان، طبرانی، بیہقی)
۴۹۔ صحیح بخاری کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ مشرکین نے حضوؐر کی ڈاڑھی اور سر کے بال نوچ ڈالے اور اکثر بال اکھڑگئے، حضرت ابوبکرؓ آپؐ کی حمایت میں اٹھے اور وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ ’’کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا:’’ چھوڑ دوانھیں اے ابوبکرؓ ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان کی طرف ذبح کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔‘‘ یہ سن کر ساری بھیڑ آپؐ کے پاس سے چھٹ گئی۔
تخریج: (۱) حَدَّثَنَاعَیَّاشُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَآ الْوَلِیْدُبْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِی الْاَوْزَاعِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَحْیَیٰ بْنُ اَبِی کَثِیْر عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، قَالَ: سَاَلْتُ بْنَ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ، اَخْبِرْنِیْ بِاَشَدِّشَیْیٍٔ صَنَعَہُ الْمُشْرِکُوْنَ بِالنَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: بَیْنَا النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّیْ فی حِجْرِالْکَعْبَۃِ اِذْ اَقْبَلَ عُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ، فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ فَخَنَقَہٗ خَنْقًا شَدِیْدًا، فَاَقْبَلَ اَبُوْبَکْر حَتّٰی اَخَذَ بِمَنْکِبَیْہِ، وَدَفَعَہٗ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِیَّ اللّٰہُ الآیۃ۔ تَابَعَہُ ابْنُ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ عُرْوَۃ، عَنْ عُرْوَۃَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو،وَقَالَ عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامٍ،عَنْ اَبِیْہِ، قِیْلَ لِعَمْرِوبْنِ الْعَاصِ، وَقَالَ مُحَمَّدُبْنُ عَمْرٍ وعَنْ اَبِیْ سَلَمۃَ حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ۔(۵)
(۲)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَزِیْدَ الْکُوْفِیُّ، ثَنَآ الْوَلِیْدُ عَنِ الْاَوْزاعِیِّ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنَ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عُرْوَۃَبْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ سَاَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ اَشَدِّمَا صَنَعَ الْمُشْرِکُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: رَأَیْتُ عُقْبَۃَ بْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ جَآئَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَوَضَعَ رِدَآء ہٗ فِیْ عُنُقِہٖ، فَخَنَقَہٗ خَنْقًا شَدِیْدًا، فَجَآئَ اَبُوْبَکْرٍ حَتّٰی دفَعَہٗ عَنْہُ فَقَالَ: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِیَّ اللّٰہُ وقَدْجَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُم؟(۶)
(۳) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ یَحْیٰ ابْنُ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ لَہٗ: مَااَکْثَرُ مَا رَأَیْتَ قُرَیْشًا اَصَابُوْا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فِیْمَا کَانُوْا یُظْہِرُوْنَ مِنْ عَدَاوَتِہٖ؟ قَالَ: حَضَرْتُہُمْ، وَقَدْاجْتَمَعَ اَشْرَافُہُمْ یَوْمًا فِی الْحِجْرِ، فَذَکَرُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالُوْا:مَارَأَیْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَیْہِ مِنْ اَمْرِہٰذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّہَ اَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَائَ نَا، وَعَابَ دِیْنَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِہَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْہُ عَلیٰ اَمْرٍ عَظِیْمٍ، اَوْکَمَا قَالُوْا: فَبَیْنَا ہُمْ فِیْ ذالِکَ، اِذَا طَلَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَاَقْبَلَ یَمْشِیْ حَتَّی اسْتَلَمَ الرُّکْنَ، ثُمَّ مَرَّبِہِمْ طَائِفًا بالْبَیْتِ، فَلَمَّا مَرَّبِہِمْ غَمَزُوْہُ، بِبَعْضِ الْقَوْلِ۔ قَالَ: فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: ثُمَّ مَضیٰ، فَلَمَّا مَرَّبِہِم الثَّانِیَۃَ غَمَزُوْہُ بِمِثْلِہَا، فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ ثُمَّ مَرَّبِہِم الثَّالِثَۃَ فَغَمَزُوْہُ بِمِثْلِہَا فَوَقَفَ، ثُمَّ قَالَ: اَتَسْمَعُوْنَ یَامَعْشَرَ قُرَیشٍ، اَمَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ، لَقَدْ جئْتُکُمْ بِالذَّبْحِ، قَال: فَاخَذَتِ الْقَوْمَ کَلِمَتُہٗ، حَتّٰی مَامِنْہُمْ رَجُلٌ اِلَّا کَاَنَّمَا عَلیٰ رَأسِہٖ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتّٰی اِنَّ اَشَدَّہُمْ فِیْہِ وَصَاۃً قَبْلَ ذٰلِکَ، لِیَرْفَؤُہُ بِاَحْسَنِ مَایَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ،حَتّٰی اِنَّہٗ لَیَقُوْلُ: اِنْصَرِفْ یَا اَبَا الْقَاسِمِ، فَوَاللّٰہِ مَاکُنْتَ جَہُوْلًا۔ قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، حَتّٰی اِذَا کَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ وَاَنَا مَعَہُمْ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: ذَکَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْکُمْ، وَمَا بَلَغَکُمْ عَنْہُ، حَتّٰی اِذَا بَادَاکُمْ بِمَا تَکْرَہُوْنَ تَرَکْتُمُوْہُ فَبَیْنَمَاہُمْ فِی ذٰلِکَ طَلَعَ (عَلَیْہِمْ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَوَثَبُوْا اِلَیْہِ وِثْبَۃَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ، وَاَحَاطُوْا بِہٖ، یَقُوْلُوْنَ: اَنْتَ الَّذِیْ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا، لِمَا کَانَ یَقُوْلُ مِنْ عَیْبِ اٰلِہَتِہِمْ ودِیْنِہِمْ، فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: نَعَمْ : اَنَا الَّذِی اَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُ رَجُلًا مِّنْہُمْ اَخَذَ بِمَجْمَحِ رِدَائِہٖ۔ قَالَ: فَقَامَ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دُوْنَہٗ وَہُوَیَبْکِیْ وَیَقُوْلُ: ’’اَتَقْتُلُوْنَ رَجْلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ؟‘‘ ثُمَّ انْصَرَفُوْا عَنْہُ۔ فَاِنَّ ذٰلِکَ لَأَشَدُّ مَارَأَیْتُ قُرَیْشًا نَالُوْا مِنْہُ قَطُّ۔ (۷)
ترجمہ: ابن اسحاق نے کہا کہ روایت بیان کی مجھ سے یحيٰ نے اپنے والد عروہ بن زبیر کے حوالے سے۔ عروہ کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے پوچھا کہ قریش ، جو رسول اللہ ﷺ سے اپنی عداوت کا اظہار کیا کرتے تھے اس سلسلہ میں آپ نے ان کو زیادہ سے زیادہ کس قدر تکلیف حضوؐر کو پہنچاتے دیکھا ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس ایک روز ایسے وقت گیاجبکہ قریش کے اشراف مقام حجر میں جمع تھے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے کہ ہم نے اس شخص کے بارے میں اتنا صبرکیا ہے کہ کسی دوسرے معاملے میں اس کی نظیر و مثال نہیں ملتی ، اس نے ہمارے دانائوں اور زیرک دانش مندوں کو احمق اور نادان قرار دیا، ہمارے اسلاف اور بزرگوں کو گالیاں دیں۔ ہمارے دین میں عیب نکالے، ہماری جماعت کو پارہ پارہ کرکے منتشر کردیا، اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا، (اس کے برعکس) ہم نے اس کی بڑی بڑی باتوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا (راوی کہتا ہے) قریش کے اشراف نے یہی الفاظ کہے یا اسی طرح کے کچھ اور الفاظ کہے۔اشراف قریش یہی باتیں کررہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ ادھر تشریف لے آئے۔ آپؐ نے حجراسود کو بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے (آپؐکو دیکھ کر) انھوں نے آپؐ کے بارے میں طعن و تشنیع کی باتیں کیں۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضور ﷺکے رخ انور پر اس کے اثرات ملاحظہ کیے پھر آپؐ وہاں سے چلے گئے اور دوسری مرتبہ پھر جب آپؐ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انھوں نے حسب سابق طعنہ زنی کی۔ اس کا بھی اثر میں نے حضور ﷺ کے روئے مبارک پر محسوس کیا۔ تیسری مرتبہ پھر آپؐ ان کے پاس سے گزرے تو انھوں نے پھر اسی طرح طعن و طنز کے نشتر چلائے۔ (اس مرتبہ) آپؐ نے کھڑے ہوکر فرمایا: أَتَسْمَعُوْنَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْش، اَمَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِالذَّبْحِ۔’’اے معشرقریش! کیا تم سن رہے ہو؟ اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میں تمھاری طرف ذبح کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔‘‘ بس پھر تو آپؐ کے ان الفاظ نے ان کو جکڑ لیا اور ان کی حالت ایسی ہوگئی کہ گویا ان کے سر پر کوئی پرندہ ٹوٹا پڑرہا ہو۔ اب ان کے سخت مخالف افراد بھی جو آپؐ کے خلاف لوگوں کو ابھارا کرتے تھے،بہتر سے بہتر الفاظ میں، جو انھیں ملے، آپؐکی مدارات اور دلجوئی کرنے لگے اور بولے اے ابوالقاسم تشریف لے جائیے، بخدا آپؐ نے کبھی جہالت و نادانی کی باتیں نہیں کیں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے بعد لوٹ آئے۔پھر دوسرے روز یہی لوگ حجر میں پھر جمع ہوئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ اور ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ کچھ یاد ہے تمھاری طرف سے کیا پیام دیا گیا تھا اور اس کی جانب سے تمھیں کیا جواب ملا تھا؟ حتّٰی کہ جب آپؐ نے ڈنکے کی چوٹ پرایسی باتیں کہیں جو تمھیں ناپسند اور ناگوار تھیں تو تم نے اسے چھوڑ دیا۔ ابھی وہ لوگ یہ باتیں کررہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، آپؐ کو دیکھتے ہی سب یکبارگی یہ کہتے ہوئے آپؐ پر ٹوٹ پڑے کہ کیا تووہی شخص ہے جس نے ایسا اور ایسا کہا ہے؟ یعنی وہ باتیںجو آپؐ ان کے دین اور معبودوں کے عیوب میں بیان فرمایا کرتے تھے، آپؐ نے فرمایا: نَعَمْ اَنَا الَّذِیْ اَقُوْلُ ذٰلِکَ ’’ ہاں میں ہی وہ شخص ہوں جو ایسی باتیں کہتا ہوں۔‘‘راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کو نوں کو پکڑ لیا۔ اس موقع پرحضرت ابوبکرؓآپؐ کی مدافعت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ پھر انھوں نے آپؐ کو چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ یہ وہ بدترین سلوک تھاجو اشراف قریش کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
شعب ابی طالب
اس زمانے میں قریش کا غصہ اسلام اور محمد ﷺ کے خلاف روز بروز زیادہ بھڑکتا چلاجارہا تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کی ساری کوششوں کے باوجودمکے میں بھی اسلام اندر ہی اندر پھیلتا جارہا ہے اور بیرونی قبائل کے لوگ بھی پے درپے مسلمان ہورہے ہیں۔ پھر یہ معاملہ صرف عرب تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ حبش تک اس کی جڑیں پھیل گئی ہیں، نجاشی کھلم کھلا مسلمانوں کا حامی بن گیا ہے ، اور وہاں سے اسلام قبول کرنے کے لیے محمد ﷺ کے پاس وفد آنے لگے ہیں۔ اس پر مزید اُن کی آتش غضب کو یہ چیز بھڑکارہی تھی کہ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ جیسے بہادر اور بااثر سرداروں کی شمولیت سے ان مسلمانوں کی ہمتیں بڑھ گئی ہیں جو ہجرت حبشہ کے بعد مکہ میں رہ گئے تھے۔ ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’واللہ ہم بیت اللہ کے گرد نماز نہ پڑھ سکتے تھے جب تک کہ عمرؓ اسلام نہ لے آئے۔‘‘ بخاری میں انہی حضرت ابن مسعودؓ کا یہ قول بھی منقول ہے کہ مَازِلْنَا اَعِزَّۃً مُنْذُاَسْلَمَ عُمَرُ ’’عمرؓکے مسلمان ہونے کے بعد سے ہم برابر زور آورہی رہے۔‘‘
ان اسباب نے مل جل کر آخر کا ر قریش کی جاہلیت کو اس قدر برافروختہ کردیا کہ انھوں نے بالاتفاق ایک دستاویز لکھی جس میں اللہ کی قسم کھا کر یہ عہد کیا گیا تھا کہ جب تک بنی ہاشم اور بنی المطلب محمد (ﷺ) کو ان کے حوالہ نہ کردیں اُس وقت تک ان سے میل جول، شادی بیاہ بول چال اور خرید و فروخت کا کوئی تعلق نہ رکھا جائے گا۔ قریش کے تمام خاندانوں کے سربراہوں نے اس دستاویز کی توثیق کی اور اسے خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔ ابن سعد اور ابن عبدالبر کا بیان ہے کہ یہ یکم محرم ۷ بعد بعثت کا واقعہ ہے۔
موسیٰ بن عقبہ نے امام زہری کے حوالہ سے اپنی مغازی میں لکھا ہے( مذکورہ بالا حدیث۔ (مرتب) )کہ ابوطالب کو جب معلوم ہوا کہ قریش کے لوگ محمد ﷺ کی جان کے درپے ہیں، تو انھوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کو بلایا اور ان سے کہا کہ محمد ﷺ کو ساتھ لے کر سب کے سب شعب ابی طالب(ایضًا۔) میں جمع ہوجائیں اور آخر وقت تک آپ کی حفاظت کریں۔ اس تجویز کو دونوں خاندانوں نے قبول کیا اور اُن کے کافر اور مسلمان ، سب شعب ابی طالب میں سمٹ آئے۔ اس کے بعد قریش کے باقی خاندانوں نے آپس میں وہ معاہدہ کیا (سیرت ابن ہشام ج اوّل۔ (مرتب))جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔
اس کے برعکس ابن سعد نے واقدی کا اور ابن ہشام نے ابن اسحاق کا بیان نقل کیا ہے کہ پہلے قریش کے لوگوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کے مقاطعہ کا عہد نامہ لکھا، اور اس کے بعد یہ دونوں خاندان ابوطالب کی ہدایت پر شعب ابی طالب میں محصور ہوکر بیٹھ گئے۔ یہی بات ابن عبدالبر نے بھی سیرت میںلکھی ہے۔ ابولہب اس موقع پر اپنے خاندان سے الگ رہا اور اس نے مقاطعہ کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ بنی عبدمناف کے باقی دو خاندان ، بنی عبدشمس اور بنی نوفل بھی اپنے ہم جد رشتہ داروں کو چھوڑ کر مقاطعہ کرنے والے دشمنوں کے ساتھ رہے۔
ابن اسحاق کے حوالہ سے ابن ہشام نے محصوری کا زمانہ دو یا تین سال لکھا ہے۔ مگر ابن سعد اور موسیٰ بن عقبہ نے تعین کے ساتھ اس کی مدت تین سال بیان کی ہے۔ اس پورے زمانہ میں قریش کا محاصرہ بڑی سختی کے ساتھ جاری رہا۔ محصورین کی ایسی ناکہ بندی کردی گئی تھی کہ ان کو کھانے پینے کی چیزیں پہنچنے کے تمام راستے بند ہوگئے۔ موسیٰ بن عقبہ کا بیان ہے کہ باہر کے تاجر اگر مکّے آتے تو قریش کے لوگ جلدی کرکے ان کا سب سامان خرید لیتے تاکہ محصورین ان سے کوئی چیز نہ خرید سکیں۔ ابولہب کے متعلق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہ محصورین کو کوئی چیز خریدتے دیکھتا تو پکار کرتاجر سے کہتا کہ ان سے اتنی زیادہ قیمت مانگو کہ یہ خریدنہ سکیں، پھر میں وہی چیز تم سے خریدلوں گا اور تمھارا نقصان نہ ہونے دوں گا۔ ابن سعد اور بیہقی کی روایت ہے کہ محصورین کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ ان کے بھوکے بچوں کے رونے اور بلکنے کی آوازیں شعب ابی طالب کے باہر سنی جاتی تھیں۔ یہ لوگ صرف حج کے زمانے میں نکلتے تھے اور دوسرا حج آنے تک اپنے محلے میں بند رہتے تھے۔
اس زمانے میں صرف حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام اور نضلہ بن ہاشم بن عبدمناف کے بھتیجے (اس کے ماں جائے بھائی کے بیٹے) ہشام بن عمرو العامری، چوری چھپے صلہ رحمی کا حق ادا کرتے رہے۔ ابن اسحاق کے حوالہ سے ابن ہشام نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نے حکیم بن حزام کو اپنے پھوپھی صاحبہ کے لیے غلہ لے جاتے ہوئے پکڑ لیا اور کہا: ’’تم بنی ہاشم کے لیے خوراک کا سامان لے جارہے ہو؟ اچھا، میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا جب تک مکّہ بھر میں تم کو رسوا نہ کردوں۔ اتنے میں ابوالبختری بن ہشام ، جوبنی اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی میں سے تھا اور حضرت خدیجہؓ کا قریبی رشتہ دار ہوتا تھا، وہاں پہنچ گیا اور اس نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ ابوجہل نے کہا کہ یہ بنی ہاشم کے لیے غلہ لے جا رہا ہے۔ وہ بولا چھوڑدے اس کو۔ یہ اس کی پھوپھی کاغلہ ہے جو وہ ان کے پاس لے جارہا ہے۔ کیا تو ان کی اپنی چیز ان کے پاس نہیں لے جانے دے گا؟ ابوجہل نے انکار کیا۔ اس پر دونوں میں لڑائی ہوگئی اور ابوالبختری نے اسے بری طرح رگیداحتّٰی کہ اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اس کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس کا سرپھٹ گیا۔ اس سارے معاملے کو حضرت حمزہؓ دیکھ رہے تھے، اس لیے دونوں کافروں نے شرما کر اپنا جھگڑا ختم کردیا تاکہ بنی ہاشم اس پر خوش نہ ہوں۔ (سیرت سرور عالم، ج ۲: باب۱۰)
حضرت عمرؓ کا قبول اسلام
۵۰۔خباب بن ارت بیان کرتے ہیںمیں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا! ابوالحکم (ابوجہل) بن ہشام یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنادے۔
تشریح :(حضرت عمرؓ)کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمھاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعیدؓ بن زید بیٹھے ہوئے خباب بن ارت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔حضرت عمرؓ کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمرؓ اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انھوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انھیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سرپھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں ہم مسلمان ہوچکے ہیں تم سے جو کچھ ہوسکے کرلو۔ حضرت عمرؓاپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھائو جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑنہ دیں گے۔ پھر کہا کہ جب تک تم غسل نہ کرلو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگاسکتے۔ حضرت عمرؓنے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں سورہ طہٰ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا’’ کیاخوب کلام ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارتّ جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے باہر آگئے اور کہا کہ بخدا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے۱؎۔ (اور فرمایا) پس اے عمر! اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو۔
اس۲؎ فقرے نے رہی سہی کسر پوری کردی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جاکر حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔۳؎ (تفہیم القرآن، ج۳، طٰہٰ: زمانہ نزول)
تخریج:(۱) فَقَالَ لَہٗ یَا عُمَرُ، وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَرْجُوْا اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ قَدْ خَصَّکَ بِدَعْوَۃِ نَبِیِّہٖ فَاِنِّیْ سَمِعْتُہٗ اَمْسَ وَہُوَ یَقُوْلُ : اَللّٰہُمَّ اَیِّدِالْاِسْلَامَ بِاَبِی الْحَکَمِ ابْنِ ہِشَامٍ اَوْبِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَاللّٰہَ اللّٰہَ یا عُمَرُ۔(۸)
ترجمہ: انھوں نے کہا: اے عمر ! بہ خدا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو تمھارے لیے خاص کردیا ہے۔ کیوں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ خدا یا ابوالحکم (ابوجہل) بن ہشام یا عمر بن الخطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنادے۔ پس اے عمر! اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو۔
(۲) وَکَانَ عُمَرُ شَدِیْدًا عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَیٰ الْمُؤْ مِنِیْنَ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: اللّٰہُمَّ اَیِّدْ دِیْنَکَ بِاِبْنِ الْخَطَّابِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے خلاف شدید عناد رکھتے تھے۔ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ یا الٰہی! ابن خطاب کے ذریعہ اپنے دین کی تقویت فرما۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ، ثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِاَبِیْ جَہْلٍ اَوْبِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَکَانَ اَحَبَّہُمَا اِلَی اللّٰہِ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ۔ (۱۰)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی: الٰہی ! ابوجہل یا ابن خطاب میں سے جو تجھے پسند ہو اس کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطا فرما۔ پس ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کو عمر بن خطاب محبوب تھے۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ نا یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ، عَنِ النَّضْرِ اَبِیْ عُمَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ: اَللّٰہُمَّ اَعِزَّالْاِسْلَامَ بِاَبِیْ جَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: فَاَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ۔(۱۱)
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ مِّنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُھُمْ فِیْ النَّضْرِ اَبِیْ عَمْرٍو وَھُوَیَرْوِیْ مَنَاکِیْرَ۔
ترجمہ:حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعاکی۔ الٰہی! ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطا فرما۔ پس صبح عمرؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔
(۵)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ اَبُوْ عُبَیْدٍ اَلْمَدِیْنِیُّ۔ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنَ الْمَاجِشُوْنَ،حَدَّثَنِیْ الزَّنْجِیُّ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں یوں استدعا کی۔’’اے اللہ! عمر بن خطاب ہی کے ذریعہ اسلام کو قوت عطا فرما۔‘‘
یہودیوں کی سازش
۵۱۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی ﷺ اور آپؐ کے خاص خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور پر یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے۔ لیکن عین وقت پر اللہ کے فضل سے نبی ﷺ کو اس سازش کا حال معلوم ہوگیا اور آپؐ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، المائدہ، حاشیہ: ۳۰)
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثَنی اَبِیْ، قَالَ: ثنی عَمِیّ، قَالَ:ثَنی اَبِیْ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ اْبنِ عَبَّاسٍ قولہ۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِلیٰ قَوْلِہٖ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ۔ ذٰلِکَ اَنَّ قَوْمًامِنَ الْیَہُوْدِ صَنَعُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ وَاَصْحَابِہٖ طَعَامًا لِیَقْتُلُوْہُ اِذَا اَتٰی الطَّعَامَ فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلَیْہِ بِشَانِہِمْ فَلَمْ یَأْتِ الطَّعَامَ وَاَمَرَ اَصْحَابَہٗ فَاَبَوْہُ۔(۱۳)
عتبہ بن ربیعہ کی پیشکش
۵۲۔ عتبہ سرداران قریش کی ایک محفل سے اٹھ کر نبی ﷺ کے پاس جابیٹھا۔ آپؐ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا۔ بھتیجے! تم اپنی قوم میں اپنے نسب اور خاندان کے اعتبار سے جو حیثیت رکھتے ہو وہ تمھیں معلوم ہے۔ مگر تم اپنی قوم پر ایک بڑی مصیبت لے آئے ہو۔ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھیرایا، قوم کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ اور ایسی باتیں کرنے لگے جن کے معنی یہ ہیں کہ ہم سب کے باپ دادا کافر تھے۔ اب ذرا میری بات سنو۔ میں کچھ تجویزیں تمھارے سامنے رکھتا ہوں۔ ان پر غور کرو۔ شاید کہ ان میں سے کسی کو تم قبول کرلو۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوالولید! آپ کہیں، میں سنوں گا۔‘‘ اس نے کہا، ’’بھتیجے، یہ کام جو تم نے شروع کیا ہے، اس سے اگر تمھارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم سب مل کر تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجائو۔اگر اس سے اپنی بڑائی چاہتے ہو تو ہم تمھیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں، کسی معاملہ کا فیصلہ تمھارے بغیر نہ کریں گے۔ اگر بادشاہی چاہتے ہو تو ہم تمھیں اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی جن آتا ہے جسے تم خود دفع کرنے پر قادر نہیں ہوتو ہم بہترین اطباء بلواتے ہیں اور اپنے خرچ پر تمھارا علاج کراتے ہیں۔‘‘ عتبہ یہ باتیں کرتا رہا اور حضوؐر خاموش سنتے رہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ابوالولید! آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے؟‘‘ اس نے کہا ’’ہاں‘‘ آپؐ نے فرمایا:’’اچھا اب میری سنو۔ اس کے بعد آپ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سورۃ (حٰم السجدہ)کی تلاوت شروع کی اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ سورہ سجدہ (آیت :۳۸) پر پہنچ کر آپؐ نے سجدہ کیا۔ پھر سراٹھاکر فرمایا۔ اے ابوالولید! میرا جواب آپ نے سن لیا۔ اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔‘‘
تشریح : نبی ﷺ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق نے مشہور تابعی محمد بن کعب القرظی کے حوالے سے یہ قصہ نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ قریش کے کچھ سردار مسجد حرام میں محفل جمائے بیٹھے تھے اور مسجد کے ایک دوسرے گوشے میں رسول اللہ ﷺ تنہا تشریف رکھتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت حمزہؓ ایمان لاچکے تھے اور قریش کے لوگ مسلمانوں کی جمعیت میں روز افزوں اضافہ دیکھ دیکھ کر پریشان ہورہے تھے۔ اس موقع پر عتبہ بن ربیعہ (ابوسفیان کے خسر) نے سرداران قریش سے کہا کہ صاحبو! اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جاکر محمد (ﷺ) سے بات کروں اور ان کے سامنے چند تجویزیں رکھوں، شاید کہ وہ ان میں سے کسی کو مان لیں اور ہم بھی اسے قبول کرلیں اور اس طرح وہ ہماری مخالفت سے باز آجائیں۔ سب حاضرین نے اس سے اتفاق کیا اور عتبہ اٹھ کر نبی ﷺ کے پاس جابیٹھا (آپؐ کی اس کے ساتھ مندرجہ بالا حدیث میں بیان کردہ گفتگو ہوئی) عتبہ اٹھ کر سرداران قریش کی مجلس کی طرف چلا تولوگوں نے دور سے اس کو دیکھتے ہی کہا، خدا کی قسم! عتبہ کا چہرہ بدلا ہوا ہے، یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر یہ گیا تھا۔ پھر جب وہ آکر بیٹھا تو لوگوں نے کہا: کیا سن آئے؟ اس نے کہا: بہ خدا ! میں نے ایسا کلام سنا کہ کبھی اس سے پہلے نہ سنا تھا۔ خدا کی قسم! نہ یہ شعر ہے ، نہ سحر ہے، نہ کہانت۔ اے سرداران قریش! میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کلام کچھ رنگ لاکر رہے گا۔ فرض کرو اگر عرب اس پر غالب آگئے تو اپنے بھائی کے خلاف ہاتھ اٹھانے سے تم بچ جائو گے اور دوسرے اس سے نمٹ لیں گے۔ لیکن اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمھاری بادشاہی، اور اس کی عزت تمھاری عزت ہی ہوگی۔‘‘ سرداران قریش اس کی یہ بات سنتے ہی بول اٹھے۔ ’’ابوالولید آخر اس کا جادو تم پربھی چل گیا۔‘‘ عتبہ نے کہا، میری جو رائے تھی وہ میں نے تمھیں بتادی اب تمھارا جو جی چاہے کرتے رہو۔
(ابن ہشام، جلد ۱، ص: ۳۱۳۔۳۱۴)
اس قصے کو متعدد دوسرے محدثین نے حضرت جابر بن عبداللہ سے بھی مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے، جس میں تھوڑا بہت لفظی اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جب حضوؐر تلاوت کرتے ہوئے آیت : فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ’’اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تمھیں عاد اور ثمود کے عذاب جیسے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں‘‘پر پہونچے تو عتبہ نے بے اختیار آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا، ’’خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔‘‘ بعد میں اس نے سرداران قریش کے سامنے اپنے اس فعل کی وجہ یہ بیان کی کہ ’’آپ لوگ جانتے ہیں، محمدؐ کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہوکر رہتی ہے۔ اس لیے میں ڈر گیا کہ کہیں ہم پر عذاب نازل نہ ہوجائے۔‘‘ ( تفہیم القرآن، ج ۴ ، حمٰ السجدہ : زمانہ نزول)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الْاَجْلَحِ، عَنِ الزَّیَّالِ ابْنِ حَرْمَلَۃَ الْاَسَدِیِّ، عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اِجْتَمَعَتْ قُرَیْشٌ یَوْمًا، فَقَالُوْا: اُنْظُرُوْا اَعْلَمَکُمْ بِالسِّحْرِ وَالْکَہَانَۃِ وَالشِِّعْرِ، فَلْیَاْتِ ہٰذَا الرَّجُلَ الَّذِیْ قَدْ فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَشَتَّتَ اَمْرَنَا وَعَابَ دِیْنَنَافَلْیُکَّلِمْہُ وَلْنَنْظُرْمَاذَا یَرُدُّ عَلَیْہِ فَقَالُوْا: مَا نَعْلَمُ اَحَدًا غَیْرَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ، فَقَالُوْا: اَنْتَ یَا اَبَاالْوَلِیْدِ، فَأتَاہُ عُتْبَۃُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ اَنْتَ خَیْرٌ اَمْ عَبْدُ اللّٰہِ؟ فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ۔ فَقَالَ:اَنْتَ خَیْرٌ اَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ اِنْ کُنْتَ تَزْعُمُ اَنَّ ہٰؤُلَآئِ خَیْرٌ مِّنْکَ، فَقَدْ عَبَدُوْا الْاٰلِہَۃَ الَّتِیْ عَبَتَّ، وَاِنْ کُنْتَ تَزْعُمُ اَنَّکَ خَیْرٌ مِّنْہُمْ، فَتَکَلَّمْ حَتّٰی نَسْمَعَ قَوْلَکَ وَاِنَّا وَاللّٰہِ مَارَاَیْنَا سَخْلَۃً قَطُّ اَشْأَمَ عَلیٰ قَوْمِکَ مِنْکَ، فَرَّقْتَ جَمَا عَتَنَا وَشَتَّتَّ اَمْرَنَا وَعِبْتَ دِیْنَنَا وَفَضَحْتَنَا فِی الْعَرَبِ، حَتّٰی لَقَدْ طَارَفِیْہِمْ اَنَّ فِیْ قُرَیْشٍ سَاحِرًا وَأَنَّ فِیْ قُرَیْشٍ کَاہِنًا، وَاللّٰہِ مَا نَنْتَظِرُ اِلَّا مِثْلَ صَیْحَۃِ الجُبْلیٰ اَنْ یَّقُوْمَ بَعْضُنَا اِلیٰ بَعْضٍ بِالسُّیُوْفِ حَتّٰی نَتَفانیٰ اَیُّہَا الرَّجُلُ اِنْ کَانَ اِنَّمَا بِکَ الْحَاجَۃُ، جَمَعْنَا لَکَ حَتّٰی تَکُوْنَ اَغْنیٰ قُرَیْشٍ رَجُلًاوَاحِدًا، وَاِنْ کَانَ اِنَّمَا بِکَ الْبَائَ ۃُ، فَاخْتَرْاَیَّ نِسَآئِ قُرَیْشٍ شِئْتَ، فَلَنُزوِّجْکَ عَشْرًا۔
فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَرَغْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔حَتّٰی بَلَغَ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ۔ فَقَالَ عُتْبَۃُ:حَسْبُکَ حَسْبُکَ مَا عِنْدَ کَ غَیْرَ ہٰذَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَا، فَرَجَعَ اِلٰی قُرَیْشٍ فَقَالُوْا: مَا وَرَائَ کَ؟ قَالَ: مَا تَرَکَتُ شَیْئًاأری اَنَّکُمْ تُکَلِّمُوْنَ بِہٖ اِلَّا کَلَّمْتُہٗ قَالُوْا: فَہَلْ اَجَابَکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَاوَالَّذِیْ نَصَبَہَا بَنِیَّۃً مَا فَہِمْتُ شَیْئًا مِمَّا قَالَہٗ غَیْرَ اَنَّہٗ اَنْذَرَکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُوْدَ، قَالُوْا: وَیْلَکَ یُکَلِِّمُکَ الرَّجُلُ بِالْعَرَبیَّۃِ لَاتَدْرِیْ مَاقَالَ؟ قَالَ: لآ وَاللّٰہِِ مَا فَہِمْتُ شَیْئًا مِمَّا قَالَ غَیْرَ ذِکْرِ الصَّاعِقَۃِ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن قریشی سرداروں کا اجتماع ہوا اور کہنے لگے کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو سب سے زیادہ جادواور کہانت اور شعر کے فن سے واقف ہو۔ وہ اس شخص کے پاس جائے جس نے ہمارا نظم منتشر کردیا ہے اور ہمارے معاملے کو پارہ پارہ کردیا ہے اور ہمارے مذہب و دین کو معیوب قرار دیا ہے اس سے بات چیت کرے۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتا ہے۔ وہ بولے کہ عتبہ بن ربیعہ کے ماسوا تو ہمیں اور کوئی آدمی نظر نہیں آتا جو ان صفات سے متصف ہو۔ چنانچہ انھوں نے عتبہ سے مخاطب ہو کر کہا۔ اے ابوالولید! تم ہی یہ کام کر سکتے ہو۔ عتبہ آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اے محمدؐ! بتائو تم بہتر ہو یا عبداللہ؟ یہ سن کر آپؐ خاموش رہے عتبہ نے پھر کہا۔ تم بہتر ہو یا عبدالمطلب ؟ نبی ﷺ پھر خاموش رہے۔ پھر کہنے لگا کہ اگر تمھارا یہ گمان ہے کہ یہ حضرات (عبداللہ اور عبدالمطلب) تم سے بہتر ہیں پھر تو یہ لوگ ان خدائوں کی عبادت کرتے تھے جن کا تم انکار کرتے ہو اور اگر تمھارا یہ خیال ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو پھر کہو ہم سنتے ہیں۔ بہ خدا ہم نے کبھی کوئی ایسا ذلیل شخص نہیں دیکھا جو تمھاری قوم کے لیے تم سے زیادہ باعث نحوست بنا ہو ۔ تو نے ہماری جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ ہمارے دینی اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے اور ہمارے دین کو معیوب ٹھہرایا ہے، عرب میں ہمیں رسوا کردیا ہے۔ حتیّٰ کہ اس قسم کی باتیں زبان زد عوام ہیں کہ قریش میں ایک ساحر پیدا ہوگیا ہے، قریش میں ایک کاہن پیدا ہوگیا ہے وغیرہ (اور اب معاملہ اس انتہا کو پہنچ گیا ہے کہ جس طرح بچہ پیدا ہونے میں حاملہ کی ایک چیخ کا انتظار ہوتا ہے) ہم بھی بس ایک چیخ کے منتظر ہیں جس کے بعد ہم تلواریں سونت کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں اور فناکے گھاٹ اترجائیں۔ اے شخص! اگر تمھیں مال و دولت کی ضرورت ہے تو ہم تمھارے لیے اتنا مال و دولت جمع کردیتے ہیں کہ تم قریش کے سب سے بڑے صاحب ثروت آدمی بن جائو، اگر تمھیں شادی کی خواہش و ضرورت ہے تو قریش کی کسی دوشیزہ کا انتخاب کرلو، ہم اس سے تمھارا نکاح کردیتے ہیں۔ ایک کیا دس قریشی دوشیزائیں بیاہ دیتے ہیں۔
آپؐ نے سب کچھ سن کر فرمایا ’’ کیا تم فارغ ہوگئے؟‘‘ اس نے کہا ہاں! مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اپنی گفتگو کا آغاز فرمایا۔ پھر حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی تلاوت شروع کی۔ جب آپؐ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ تک پہنچے تو عتبہ چلاّ اٹھا بس، بس۔ کیا اس کے سوا آپؐ کے پاس کچھ نہیں؟ فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ یہ سن کر عتبہ قریش کے پاس واپس آیا انھوں نے پوچھا: کیا ماجرا پیش آیا؟ اس نے بتایا میں نے تو کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ جو باتیں تم نے کی تھیں وہ ساری باتیں میں نے ان سے کہہ دیں۔ انھوں نے پوچھا کیا اس نے آپ کی بات کا جواب دیا۔ بولا ہاں قسم ہے اس ذات کی جس نے خانہ کعبہ کو بلند کیا۔ اس نے جو کچھ کہا اس میں سے میں نے صرف اتنی بات سمجھی ہے کہ وہ تمھیں اس طرح کے عذاب سے خبردار کرتا ہے اور ڈراتا ہے جیسا عذاب عاد و ثمود پر آیا تھا۔
انھوں نے کہا افسوس ہے تم پر، وہ شخص عربی میں گفتگوکرتا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس نے جو کچھ کہا ہے میں نہیں سمجھا۔ اس نے پھر کہا بہ خدا میں صاعقہ کے ذکر کے ماسوا اس کی بات ذرا نہیں سمجھا۔
(۲) عَنِ الزَّبَّالِ بْنِ حَرْمَلَۃَ، عَنْ جَابِِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللّٰہُ عَنْہُ، وَذکرالحدیث الٰی قولہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ۔ فَاَمْسَکَ عُتْبَۃُ عَلٰی فِیْہِ وَنَاشَدَہٗ بِالرَّحِمِ، وَرَجَعَ اِلٰی اَہْلِہٖ وَلَمْ یَخْرُجْ اِِلٰی قُرَیْشٍ وَاحْتَبَسَ عَنْہُمْ فَقَالَ اَبُوْجَہْلٍ:یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ! وَاللّٰہِِ مَانَریٰ عُتْبَۃَ اِلَّا قَدْ صَبَأ اِلیٰ مُحَمَّدٍ وَاَعْجَبَہٗ طَعَامُہٗ وَمَاذَاکَ اِلَّا مِنْ حَاجَۃٍ اَصَابَتْہُ، فَانْطَلِقُوْا بِنَا اِلَیْہِ فَانْطَلَقُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: اَبُوْجَہْلٍ: یَا عُتْبَۃُ مَا حَبَسَکَ عَنَّا اِلَّا اَنَّکَ صَبَأْتَ اِلیٰ مُحَمَّدٍ وَأعْجَبَکَ طَعَامُہٗ؟ فَاِنْ کانَتْ بِکَ حَاجَۃٌ جَمَعْنَا لَکَ مِنْ اَمْوَالِنَا مَا یُغْنِیْکَ عَنْ طَعَامِ مُحَمَّدٍ، فَغَضِبَ عُتْبَۃُ وَاَقْسَمَ اَنْ لاَیُّکَلِّمَ مُحَمَّدًا اَبَدًا قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ عَلِمْتُمْ اِنِّیْ مِنْ اَکْثَرِ قُرَیْشٍ مَالًا وَلٰکِنِّیْ اَتَیْتُہٗ وَقَصَصْتُ عَلَیْہِ الْقِِصَّۃَ فَاَجَابَنِیْ بِشَیٍٔ وَاللّٰہِ مَا ہُوَ بِشِعْرٍ وَلَآ کَہَانَۃٍ وَلَاسِحْرٍ وَقَرَأَ السُّوْرَۃَ اِلیٰ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِِقَۃِ عَادٍوَّثَمُوْدَ فَامْسَکْتُ بِفِیْہِ وَنَا شَدْتُّہٗ بِالرَّحِمِِ اَنْ یَّکُفَّ وَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنَّ مُحَمَّدًا اِِذَا قَالَ شَیْئًا لَّمْ یَکْذِِبْ فَخَشِیْتُ اَنْ یَّنْزِلَ بِکُمُ الْعَذَابُ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے آیۂ کریمہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃِ مِّثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ تلاوت فرمائی تو عتبہ نے آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رحم کی درخواست کرنے لگا۔ گھر جاکر چھپ گیا اور قریش کے روبرو نہ ہوا۔ ابوجہل بولا اے قبیلۂ قریش بہ خدا ہمیں ایسا معلوم ہورہا ہے کہ عتبہ کا میلان محمدؐ کی جانب ہوگیا ہے اور اسے اس کا پیش کردہ کھانا لبھاگیا ہے ممکن ہے ایسا اس لیے ہوا ہو کہ اسے کسی قسم کی ضرورت لاحق ہوگئی ہو، آئو اس کے پاس چلیں۔ چنانچہ وہ سب عتبہ کی طرف گئے۔ ابوجہل بولا۔ اے عتبہ کیا محمدؐ کی طرف میلان نے ہم سے ملنے سے روک رکھا ہے۔ اس کی دعوت خوب پسند آئی۔ اگر تمھیں کوئی حاجت و ضرورت پیش آگئی ہے تو اپنے اموال میں سے اتنا کچھ جمع کیے دیتے ہیں کہ محمدؐ کے کھانے سے بے نیاز ہوجائو گے۔ اس پر عتبہ غضب ناک ہوا اور قسم کھائی کہ آئندہ کبھی محمد سے ہم کلام نہیں ہوں گا۔ پھر بولا خدا کی قسم! تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ قریش کے بہت سے لوگوں سے میرے پاس مال زیادہ ہے۔ میں اس (محمدؐ) کے پاس گیا اور اسے ساری روداد سنائی۔ اس نے جواب میں مجھے ایسا کلام سنایا جو کسی طرح بھی نہ شعر ہے نہ کہانت اور نہ جادو۔ اس نے فَاِنْ اَعْرَضُوْا سے لے کر مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ تک پڑھ کر سنایا تو میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بند کردیا اور رحم کی درخواست کی۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ محمدؐ جب کوئی بات کہہ دے تو وہ جھوٹی ثابت نہیں ہوتی ۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا مبادا تم پر عذاب نازل ہوجائے۔
(۳) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ زِیَآدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ نِالْقُرَظِیِّ قَالَ:حُدِّثْتُ اَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ، وَکَانَ سَیِّدًا قَالَ یَوْمًا وَہُوَ جَالِسٌ فِی نَادِیِ قُرَیْشٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ فِیْ الْمَسْجِدِ وَحْدَہٗ: یَامَعْشَرَقُرَیْشٍ! اَلَا اَقُوْمَ اِلیٰ مُحَمَّدٍ فَاُکَلِّمَہٗ وَاَعْرِضَ عَلَیْہِ اُمُوْرًا لَعَلَّہٗ یَقْبَلُ بَعْضَہَا فَنُعْطِیْہِ اَیَّہَا شَائَ وَ یَکُفَّ عَنَّا؟ وَذٰلِکَ حِیْنَ اَسْلَمَ حَمْزَۃُ، وَرَأَوْا اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَزِیْدُوْنَ وَیَکْثُرُوْنَ، فَقَالُوْا: بَلٰی یَا اَبَاالْوَلِیْدِ! قُمْ اِلَیْہِ فَکَلِّمْہُ، فَقَامَ اِلَیْہِ عُتْبَۃُ حَتّٰی جَلَسَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : یَابْنَ اَخِیْ، اِنَّکَ مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتَ مِنَ السِّطَّۃِِ فِی الْعَشِیْرَۃِ، وَالْمَکَانِ فِی النَّسَبِ، وَاِنَّکَ قَدْ اَتَیْتَ قَوْمَکَ بِاَمْرٍ عَظِیْمٍ فَرَّقْتَ بِہٖ جَمَاعَتَہُمْ وَسَفَّہْتَ بِِہٖٖ اَحْلَامَہُمْ ، وَعِِبْتَ بِہٖ اٰلِھَتَھُمْ وَدِیْنَھُمْ وَکَفَّرْتَ بِہ مَنْ مَضیٰ مِنْ اٰبَائِہِمْ، فَاسْمَعْ مِنِّیْ اَعْرِضُ عَلَیْکَ اُمُوْرًا تَنْظُرْ فِیْہِ لَعَلَّکَ تَقْبَلُ مِنْہَا بَعْضَہَا قَالَ: فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُلْ یَا اَبَاالْوَلِیْدِ، اَسْمَعُ قَالَ: یَابْنَ اَخِیْ ! اِنْ کُنْتَ اِنَّمَا تُرِِیْدُ بِمَا جِئْتَ بِِہٖ مِنْ ہٰذَا الْاَمْرِ مَالًا، جَمَعْنَا لَکَ مِنْ اَمْوَالِنَا حَتّٰی تَکُوْنَ اَکْثَرَنَا مَالًا، وَاِِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ بِہٖ شَرَفًا، سَوَّدْنَاکَ عَلَیْنَا حَتّٰی لَا نَقْطَعَ اَمَرًا دُوْنَکَ، وَاِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ بِہٖ مُلْکًا، مَلَّکْنٰکَ عَلَیْنَا، وَاِنْ کَانَ ہٰذَا الَّذِیْ یَأْتِیْکَ رَئِیَّا ( ما یتراء ی للا نسان من الجن۔) تَرَاہُ لَاتَسْتَطِیْعُ رَدَّہٗ عَنْ نَّفْسِکَ، طَلَبْنَا لَکَ الطِّبَّ وَبَذَلْنَا فِیْہِ اَمْوَالَنَاحَتّٰی نُبْرِئَکَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ رُبَمَا غَلَبَ التَّابِعُ عَلَی الرَّجُلِ حَتّٰی یُدَاوَی مِنْہُ اَوْ کَمَاقَالَ لَہٗ حَتّٰی اِذَا فَرَغَ عُتْبَۃُ وَرَسُوْلُ اللّہِ ﷺ یَسْتَمِعُ مِنْہُ قَالَ: أَقَدْ فَرَغْتَ یَا اَبَا الْوَلِیْدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاسْمَعْ مِنِّیْ، قَالَ: اِفْعَلْ، فَقَالَ:بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کِتَابٌ فُصِّلَتْ اٰیَاتُہٗ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا فَاَعْرَضَ اَکْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِی اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ ثُمَّ مَضیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْہَا یَقْرَؤُہَا عَلَیْہِ فَلَمَّا سَمِعَ مِنْہُ عُتْبَۃُ اَنْصَتَ لَہَا وَاَلْقیٰ یَدَیْہِ خَلْفَ ظَہْرِہٖ مُعْتَمِدًا عَلَیْہِمَا یَسْمَعُ مِنْہُ ثُمَّ انْتَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلیٰ السِّجْدَۃِ مِنْہَافَسَجَدَ ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتَ یَا اَبَاالْوَلِیْدِ مَا سَمِعْتَ، فَاَنْتَ وَذَاکَ۔ فَقَامَ عُتْبَۃُ اِلیٰ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: نَحْلِفُ بِاللّٰہِ لَقَدْ جَآئَ کُمْ اَبُوالْوَلِیْدِ بِغَیْرِ الْوَجْہِ الَّذِیْ ذَہَبَ بِہٖ فَلَمَّا جَلَسَ اِلَیْہِمْ قَالُوْا : مَا وَرَائَ کَ یَا اَبَا الْوَلِیْدِ؟ قَالَ: وَرَانِیْ اِنِّیْ سَمِعْتُ قَوْلًا وَاللّٰہِ مَاسَمِعْتُ مِثْلَہٗ قَطُّ وَاللّٰہِ مَا ہُوَ الشِّعْرُ وَلَا بِالسِّحْرِ وَلَا بِالْکَہَانَۃِ، یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اَطِیْعُوْنِیْ واجْعَلُوْہَا بِیْ وَخَلُّوْا بَیْنَ ہٰذَا الرَّجُلِ وَبَیْنَ مَا ہُوَ فِیْہِ فَاعْتَزِلُوْہُ فَوَاللّٰہِ لَیَکُوْنَنَّ لِقَوْلِہِ الَّذِیْ سَمعْتُ مِنْہُ نَبَأٌعَظِیْمٌ فَاِنْ تُصِبْہُ الْعَرَبُ فَقَدْ کَفَیْتُمُوْہُ بِغَیْرِکُمْ وَاِنْ یَظْہَرْعَلَی الْعَرَبِ، فَمُلْکُہٗ مُلْکُکُم وَعِزُّہٗ عِزُّکُمْ وَکُنْتُمْ اَسْعَدَ النَّاسِ بِہٖ۔ قَالُوْا:سَحَرَکَ وَاللّٰہ یَا اَبَالْوَلِیْدِ بِلِسَانِہٖ، قَالَ: ہٰذَا رَاْئِیْ فِیْہِ فَاصْنَعُوْا مَابَدَالَکُمْ۔ (۱۶)
ترجمہ : حضرت محمد بن کعب قرظی سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ عتبہ بن ربیعہ بڑا معتبر سردار تھا۔ ایک دن وہ قریش کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ مسجد میں تنہا تشریف فرماتھے۔عتبہ بولا۔ اے اہل قریش ! کیا میں محمد (ﷺ) کے پاس نہ جائوں کہ ان سے بات کروں اور چند باتیں ان کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھوں شاید ان میں سے کچھ ان کے لیے قابل قبول ہوں تو ہم انھیں ان کی پسند کے مطابق وہ (مراعات) دے دیں۔ اس طرح وہ ہمارے درپے ہونے سے باز آجائے۔ یہ اس موقع کی بات ہے جب حضرت حمزہؓ دائرۂ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور انھیں نظر آرہا تھا کہ محمدؐ کے ساتھی روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہاں ، اے ابوالولید! اٹھو جاکر ان سے بات کرو۔عتبہ آپؐ کے پاس گیا اور آپؐ کے قریب بیٹھ کر کہنے لگا بھتیجے ہمارے خاندان میں جو بزرگی اور شرف تمھیں حاصل ہے اس کا تمھیں بہ خوبی علم ہے اور نسب کے لحاظ سے جو مقام خاندان میں تمھارا ہے اسے بھی تم جانتے ہو۔ تم نے قوم کو ایک بڑے المیے سے دو چار کردیا ہے۔ جس سے ان کا شیرازہ بکھر گیا ہے انھیں بیوقوف اور بے عقل ٹھہرایا ہے۔ ان کے معبودوں کو برا کہا ہے۔ ان کے گزشتہ آبائو اجداد کو کافر قرار دیا ہے۔ لہٰذا میری بات ذرا غور سے سنو۔ میں چند باتیں تمھارے سامنے رکھتا ہوں، تم ان پر غور کرلو شاید ان میں سے کچھ تمھارے لیے قابل قبول ہوں۔ یہ سب سننے کے بعد آپؐ نے عتبہ سے کہا اے ابوالولید کہو۔ میں ضرور سنو ں گا۔ بولا بھتیجے جو پیغام دعوت تو لے کر آیا ہے اس کا مقصد اگر مال و دولت کمانا ہے تو ہم اپنے ذاتی اموال میں سے اتنا مال جمع کردیتے ہیں کہ تم ہم میں سے سب سے زیادہ صاحب مال ہوجائو۔ اوراگر اس سے تم شرف و بزرگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہم تمھیں اپنا سردار بنالیتے ہیں۔ تمھارے اشارۂ ابرو کے بغیر ہم کوئی فیصلہ نہ کیا کریں گے۔ اگر اس سے تمھارا مقصد بادشاہ بننا ہے تو ہم تم کو اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں اور اگر تمھیں جن بھوت کی شکایت ہے جسے تم اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتے تو ہم تمھارے علاج کے لیے کسی طبیب کو بلوالیتے ہیں۔ اس کے مصارف اس وقت تک ہم خود برداشت کرتے رہیں گے جب تک تم صحت یاب نہ ہوجائو۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کا تابع (ہمزاد) اس پر غالب آجاتا ہے تو اس کا علاج معالجہ کرنا پڑتا ہے۔ جب تک عتبہ نے اپنی بات نہیں کرلی آپؐ بغور اس کی باتیں سنتے رہے۔ پھر پوچھا اے ابوالولید فارغ ہوگئے؟ اس نے کہا ہاں۔ آپؐنے فرمایا:’’اچھا اب میری سنو۔‘‘بولا سنائو۔ آپؐ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے گفتگو کا آغاز فرمایا اور حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کِِتَابٌ فُصِّلَتْ اٰیَاتُہٗ الخ پڑھنا شروع کی۔ آپ پڑھتے رہے اور عتبہ کمر کے پیچھے دونوں ہاتھوں کے سہارے بیٹھا سنتا رہا۔ جب آپؐ سجدہ کی آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا اور فرمایا:
’’ابوالولید! جو کچھ آپ نے سنا بس میرے پاس یہی ہے۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے۔‘‘ عتبہ آپؐ کے پاس سے اٹھ کر اپنے ساتھیوں کی جانب چلا تو اسے آتا دیکھ کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! ابوالولید کا وہ چہرہ نہیں ہے جو وہ لے کر گیا تھا۔ جب وہ ان کے پاس بیٹھ گیا تو پوچھنے لگے۔ ابوالولید! تم کیا کرکے آئے ہو۔اس نے کہا کہ میرا ماجرا یہ ہے کہ میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ خدا کی قسم! وہ کلام نہ تو شعر ہے اور نہ جادو اور کہانت ۔ سرداران قریش ! میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور اس سے الگ رہو۔ خدا کی قسم! جو کلام میں نے اس کی زبان سے سنا ہے وہ ایک دن کسی بڑی عظیم خبر کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔اور اگر اہل عرب اس پر غالب آگئے تو تمھارے کچھ کیے بغیر ہمیں اس سے نجات مل جائے گی اور اگر وہ ان پرغالب آگیا تو اس کی بادشاہی تمھاری بادشاہی ہوگی۔اس کی عزت تمھاری عزت ہوگی اور اس کی وجہ سے تم لوگوں میں سب سے زیادہ خوش بخت و سعادت مند ہوجائو گے۔ یہ سن کر وہ بولے ابوالولید! خدا کی قسم! تم پر بھی اس کی زبان کا جادو چل گیا ہے۔ ابوالولید نے جواب دیا یہ میری رائے تھی جو میں نے تمھارے سامنے رکھ دی۔ اب تمھاری سمجھ میں جو آئے سو کرو۔
ابوجہل کی بے ہودگیاں
۵۳۔ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا ’’کیا محمد (ﷺ) تمھارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹکاتے ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا ’’لات اور عزّیٰ کی قسم! اگر میں نے ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا۔‘‘ پھر ایسا ہوا کہ حضورؐ کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ آگے بڑھاتاکہ آپؐ کی گردن پر پائوں رکھے مگر یکایک لوگوں نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اُس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہوگیا؟ اس نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اس کے چیتھڑے اُڑادیتے۔ ۱؎
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ الْقَیْسِیُّ، قَالاَ: نَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نُعَیْمُ بْنُ اَبِیْ ہِنْدٍ، عَنْ اَبِی حَازِمٍ۔ عَنْ ابِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ جَہْلٍ: ہَلْ یُعَفِِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْہَہٗ بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالعُزّٰی لَئِن رَأَیْتُہٗ یُصَلِّیْ کَذٰلِکَ لَأَطَأَنَّ عَلیٰ رَقَبَتِہٖ وَلَأَعْفِرَنَّ وَجْہَہٗ فِی التُّرَابِ، فَاَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ لِیَطَأَ عَلیٰ رَقَبَتِہٖ، قَالَ: فَمَا فَجَأَ ہُمْ مِنْہُ اِلَّاوَہُوَ یَنْقُصُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَیتَّقِیْ بِیَدَیْہِ قَالَ: فَقِیْلَ لَہٗ مَا لَکَ؟ فَقَالَ اِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ خَنْدَقًا مِنْ نَّارٍ وَہَوْلًا وَاَجْنِحَۃً۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْدَنَا مِِنِّیْ لاَخْتَطَفَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عُضْوًا عُضْوًا۔ (۱۷)
۵۴۔ابن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں نے محمد ﷺ کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پائوں تلے دبادوں گا۔ نبی ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اسے آپکڑیں گے۔ ۲؎
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ الْجَزْرِیِّ، عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ اَبُوْ جَہْلٍ، لَئِنْ رَأَیْتُ مُحَمَّدًا یُصَلِّیْ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ لَأَطَأَنَّ عَلیٰ عُنُقِہٖ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: لَوْ فَعَلَہٗ لَاَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ۔ (۱۸)
ترجمہ:ابن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں نے محمد ﷺ کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پائوں تلے دبادوں گا۔ نبی ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا’’ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اسے آپکڑیں گے۔‘‘
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْجَہْلٍ: لَئِنْ عَادَ مُحَمَّدٌ یُصَلِّیْ عِنْدَ الْمَقَامِ لَاَقْتُلَنَّہٗ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِِقْرَأْ بِِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ حَتّٰی بَلَغَ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِیَۃِ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ فَلْیَدْعُ نَادِیَۃَ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَّۃَ۔ فَجَآئَ النَّبِیُّ ﷺ فَصَلّٰی فَقِیْلَ مَا یَمْنَعُکَ؟ قَالَ: قَدِاسْوَدَّ مَا بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ مِنَ الْکَتَائِبِ۔ (۱۹)
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللّٰہِ لَوْ تَحَرَّکَ لَاَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ۔
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ ابوجہل بولا اگر محمدؐ نے مقام ابراہیم پر دو بارہ نماز پڑھی تو میں اسے لازماً قتل کرڈالوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ علق کی آیات اِقْرَأْ بِاسمِ رَبِِّکَ سے سَنَدْعُ الزَّبَانِیَّۃَ تک نازل فرمائیں۔ نبی ﷺ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور نماز ادا کی۔ ابوجہل سے کسی نے پوچھا کس چیز نے تجھے باز رکھا؟ بولا میرے اور اس کے درمیان بے شمار لشکر حائل ہوگئے۔
ابن عباس کا قول ہے کہ اگر یہ ذرا بھی حرکت کرتا تو ملائکہ اسے دبوچ لیتے اور لوگ اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتے۔
۵۵۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل کاادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا اے محمدؐ، کیا میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا تھا؟ اور اس نے آپؐ کو دھمکیاں دینی شروع کیں۔ جواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا اے محمدؐ! تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو۔ خدا کی قسم! اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ (احمد، ترمذی، نسائی ، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر ، طبرانی، ابن مردویہ)
تشریح : اس سلسلے میں کئی احادیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہیں جن میں ابوجہل کی ان بیہودگیوں کا ذکر کیا گیاہے۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کے بعد قبل اس کے کہ حضورؐ اسلام کی علانیہ تبلیغ کا آغاز کرتے ، آپؐ نے حرم میں اس طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کردی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سکھائی تھی، اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپؐ کسی نئے دین کے پیرو ہوگئے ہیں۔ دوسرے لوگ تو اسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، مگر ابوجہل کی رگ جاہلیت اس پر پھڑک اٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کردیا کہ اس طریقے پر حرم میں عبادت نہ کریں۔
(تفہیم القرآن، ج۶، العلق: دوسرے حصے کی۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا الْحَکَمُ بْنُ جُمَیْعٍ، قَالَ: ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ جَمِیْعًا عَنْ دَاؤُدَ بْنِ اَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِِکْرِمَۃَ عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّی عِنْدَ الْمَقَامِ، فَمَرَّبِہٖ اَبُوْجَھْلِ ابْنُ ہِِشَامٍ فَقَال: یَامُحَمَّدُ، اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ وَتَوَعَّدَہٗ فَاغْلَظَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَانْتَہَرَہٗ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! بِاَیِّ شَیٍْٔ تُہَدِّدُنِیْ؟ اَمَاوَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَکْثَرُہٰذَا الْوَادِیْ نَادیًا، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فَلْیَدْعُ نَادِیَہْ سَنَدْعُ الزَّبَانِیْہ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْدَعَا نَادِیَہٗ لَاَخَذَتْہُ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ مِنْ سَاعَتِہٖ۔(۲۰)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَعِیْدِ الْاَشَجُّ، نَاابُوْخَالِِِدٍ نِالْاَحْمَدُ عَنْ دَاؤدَ بْنِ اَبِیْ ہِنْدٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّیْ فَجَائَ اَبُوْ جَہْلٍ فَقَالَ: اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ اَلَمْ اَنْہَکَ عَنْ ہٰذَا؟ فَانْصَرَفَ النَّبِیُّ ﷺ فَزَجَرَہٗ فَقَالَ اَبُوْجَہْلٍ: اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا بِہَا نَادٍ اَکْثَرَ مِنِّیْ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَلْیَدْعُ نَادِیَۃَ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ۔ (۲۱)
قَالَ ابْنُ عَبّاسٍ: وَاللّٰہِ لَوْدَعَا نَادِیَہْ لَاَخَذَتْہُ زَبَانِیَّۃُ اللّٰہِ۔
ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ صَحِیْحٌ وَفِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔
کفار مکہ کی مخالفانہ روش میں شدّت
۵۶۔ جب کفار مکہ کی مخالفانہ روش شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی تو نبی ﷺ نے دعا کی کہ خدایا! یوسف ؑ کے قحط جیسے ایک قحط سے میری مدد فرما۔
تشریح :حضورؐ کا خیال یہ تھا کہ جب ان لوگوں پر مصیبت پڑے گی تو انھیں خدا یاد آئے گا اور ان کے دل نصیحت قبول کرنے کے لیے نرم پڑجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعا قبول فرمائی اور سارے علاقے میں ایسے زور کا قحط پڑاکہ لوگ بلبلا اٹھے۔ آخر کار بعض سردارانِ قریش ، جن میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود نے خاص طورپر ابوسفیان کا نام لیا ہے حضورؐ کے پاس آئے اور آپؐ سے درخواست کی کہ اپنی قوم کو اس بلا سے نجات دلانے کے لیے اللہ سے دعا کریں۔
حضورؐ نے (قحط کی) دعا اس خیال سے کی تھی کہ مصیبت پڑے گی تو کفار کی اکڑی ہوئی گردنیں ڈھیلی پڑجائیںگی، شاید کہ پھر حرف نصیحت ان پر کارگر ہو۔ یہ توقع اس وقت کسی حد تک پوری ہوتی نظر آرہی تھی، کیونکہ بڑے بڑے ہیکٹر دشمنان حق کال کے مارے پکاراٹھے تھے کہ پروردگار، یہ عذاب ہم پر سے ٹال دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس پر (سورہ دخان میں) نبیﷺ سے فرمایا گیا کہ ایسی مصیبتوں سے یہ لوگ کہاں سبق لینے والے ہیں، انھوں نے جب اس رسول کی طرف سے منہ موڑ لیا جس کی زندگی سے، جس کے کردار سے اور جس کے کام اور کلام سے علانیہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ یقینا خدا کا رسول ہے، تو اب محض ایک قحط ان کی غفلت کیسے دور کردے گا۔ دوسری طرف کفار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم بالکل جھوٹ کہتے ہو کہ یہ عذاب تم پر سے ٹال دیا جائے تو تم ایمان لے آئو گے۔ ہم اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں، ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ تم اپنے اس وعدے میں کتنے سچے ہو۔ تمھارے سر پر تو شامت کھیل رہی ہے۔ تم ایک بڑی ضرب مانگ رہے ہو، ہلکی چوٹوں سے تمھارا دماغ درست نہیں ہوگا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان: موضوع اور مباحث)
تخریج: حَدَّثَنَا بِشْرُبْنُ خَالِدٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ وَمَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِی الضُّحیٰ عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَ مُحَمَّدًا ﷺ وَقَالَ: قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِِّفِیْنَ ـــــــ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا رَاٰی قُرَیْشَاً نِِاسْتَعْصَوْا عَلَیْہِ فَقَالَ:اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْہِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ، فَاَخَذَتْہُمُ السَّنَۃُ حَتّٰی حَصَّتْ کُلَّ شَیٍْٔ حَتّٰی اَکَلُوْا الْعِظَامَ وَالْجُلُوْدَ فَقَالَ اَحَدُہُمْ: حَتّٰی اَکَلُوا الْجُلُوْدَ وَالْمَیْتَۃَ وَجَعَلَ یَخْرُجُ مِنَ الْاَرْضِ کَہَیْئَۃِ الدُّخَانِ فَاَتَاہُ اَبُوْسُفْیَانَ فَقَالَ: اَیْ مُحَمَّدُ اِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ہَلَکُوْا فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّکْشِفَ عَنْہُمْ فَدَعَا۔ الحدیث۔ (۲۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور حکم دیا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ اس (تبلیغ رسالت)پر تم سے کسی قسم کا اجر نہیں مانگتا۔ اور میں بناوٹی لوگوں میں سے بھی نہیں ہوںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھاکہ قریش مکہ نے آپؐ کی مخالفت میں شدت اختیار کرلی ہے تو آپؐ نے دعا فرمائی: خدایا یوسف ؑ کے قحط جیسے ایک قحط سے ان کے خلاف میری مدد فرما۔ چنانچہ دعا قبول ہوئی اور ان کو قحط نے آدبوچا (قحط سالی اتنی شدید تھی) کہ اس نے ہر چیز کا صفایا کردیا نوبت بایں جارسید کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑے تک کھاگئے۔
ایک راوی کا بیان ہے کہ لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھالیے ہیں اور شدت بھوک کی وجہ سے زمین سے دھواں سا نکلتا دکھائی دینے لگا تو ابوسفیان نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے محمد (ﷺ) تیری قوم فاقوں سے ہلاک ہورہی ہے اللہ سے دعا کر کہ وہ اس حالت کو دور فرمادے۔ چنانچہ آپؐ نے بارگاہ رب العزت میں دعا فرمائی۔
کفار مکہ کی طرف سے سمجھوتے کی پیشکش
۵۷۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہم آپؐ کو اتنا مال دیے دیتے ہیں کہ آپؐ مکہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپؐ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپؐ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپؐ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی برائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپؐ کو منظور نہیں تو ہم ایک اور تجویز آپؐ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپؐ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضوؐر نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا ایک سال آپؐ ہمارے معبودوں لات اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپؐ کے معبود کی عبادت کریں۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا، ٹھیرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم آتا ہے۔ اس پر وحی نازل ہوئی قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔۔۔الخ اور یہ کہ قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْنِیّْ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِِلُوْنَ (الزُّمَر: ۶۴) ’’اُن سے کہو، اے نادانو! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کروں؟‘‘ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی)
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسَی الْحَرْشِیُّ، قَالَ:ثَنَا اَبُوْ خَلْفٍ، قَالَ: ثنا دَاؤُدُ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اِنَّ قُرَیْشًا وَعَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُعْطَوْہُ مَالًا فَیَکُوْنُ اَغْنیٰ رَجُلٍ بِمَکَّۃَ وَیُزَوِّجُوْہُ مَا اَرَادَ مِنَ النِّسَآئِ وَیَطَئُوْا عَقَبَہٗ فَقَالُوْا لَہٗ ہٰذَا لَکَ عِنْدَنَا یَا مُحَمَّد وَکُفَّ عَنْ شَتْمِ اٰلِہَتِنَا فَلَا تَذْکُرْہَا بِسُوْئٍ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَاِنَّا نَعْرِضُ عَلَیْکَ خَصْلَۃً وَاحِدَۃً فَہِیَ لَکَ وَلَنَا فِیْہَا صَلَاحٌ قَالَ: مَاہِیَ؟ قَالُوْا: تَعْبُدُ اٰلِہَتِنَا سَنَۃً اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَنَعْبُدُ اِلٰہَکَ سَنَۃً، قَالَ: حَتّٰی اَنْظُرَ مَایَاْتِیْ مِنْ عِنْدِ رَبِِّیْ فَجَائَ الْوَحْیُ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ السُّوْرَۃ وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْ مُرُوْنِّیْ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِلُوْنَ اِلیٰ قَوْلِہٖ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ۔(۲۳)
۵۸۔ سعید بن مینا (ابوالبختری کے آزاد کردہ غلام ) کی روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل، اسود بن المطلب اور ا میہ بن خلف رسول اللہ ﷺ سے ملے اور آپؐ سے کہا۔اے محمدؐ! آئو ہم تمھارے معبود کی عبادت کرتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اور ہم اپنے سارے کاموں میں تمھیں شریک کیے لیتے ہیں۔اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمھارے ساتھ اس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اس سے پالیں گے۔ اور اگر وہ چیز جو ہمارے پاس ہے اس سے بہتر ہوئی جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ اس میں شریک ہوگے اور اس سے اپنا حصہ پالوگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ قُلْ یَا اَیُّہَا الْکٰـفِرُوْنَ۔۔۔ (ابن جریروابنِ ابی حاتم، ابن ہشام نے بھی سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے)۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ، قَالَ: ثنابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ ثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ مِیْنَائَ مَوْلَی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: لَقِیَ الْوَلِیْدُبْنُ الْمُغِیْرَۃِ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَالْاَسْوَدُبْنُ مُطَّلِبِ وَاُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ ہَلُمَّ فَلْنَعْبُدْ مَا تَعْبُدْ وَتَعْبُدُ مَانَعْبُدُ وَنُشْرِکَکَ فِیْ اَمْرِنَا کُلِّہٖ فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ جِئْتَ بِہٖ خَیْرًا مِمَّا بِاَیْدِیْناَ کُنَّا قَدْ شَرَکْنَاک فِیْہِ وَاَخَذْنَا بِحَظِّنَا مِنْہُ وَاِنْ کَانَ الَّذِِیْ بِاَیْدِینَا خَیْرًا مِمَّا فِیْ یَدَیْکَ کُنْتَ قَدْ شَرَکْتَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَاَخَذْتَ مِنْہُ بِحَظِّکَ فَاَنْزلَ اللّٰہُ قُلْ یٰٓاَیُّہَاالْکٰفِرُوْنَ حَتّٰی انْقَضَّتِ السُّوْرَۃُ۔(۲۴)
۵۹۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت یہ ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضورؐ سے کہا ’’اے محمدؐ! اگر تم ہمارے معبودوں کو چوم لو تو ہم تمھارے معبود کی عبادت کریں گے۔‘‘ اس پر سورہ (الْکفِرُوْن) نازل ہوئی۔ (عبدبن حمید)
تخریج: اَخْرَجَ عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ وابْنُ الْمُنْذِرِ وَابْنُ مَرْدُوَیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ قُرَیْشًا قَالَتْ لَوْ اِسْتَلَمْتَ آلِہَتَنَا لَعَبَدْنَا اِلٰہَکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ السورۃ کلہا۔ (۲۵)
اہل ایمان کے لیے مصائب و آلام کا دور
۶۰۔ حضرت خباب بن ارت فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں مشرکین کی سختیوں سے ہم بری طرح تنگ آئے ہوئے تھے، ایک روز میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ ہمارے لیے دعانہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپؐ کا چہرہ جوش اور جذبے سے سرخ ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا، تم سے پہلے جو اہل ایمان گزرچکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے ۔ کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے تھے تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم! یہ کام پورا ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ ایک شخص صنعاء سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گااور اللہ کے سوا کوئی نہ ہوگا جس کا وہ خوف کرے۔
تشریح : جن حالات میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ تھے کہ مکہ معظمہ میں جو شخص بھی اسلام قبول کرتا تھا اس پر آفات ، اور مصائب اور مظالم کا ایک طوفان ٹوٹ پڑتا تھا۔ کوئی غلام یا غریب ہوتا تو اس کو بری طرح مارا پیٹا جاتا اور سخت ناقابل برداشت اذیتیں دی جاتیں ۔ کوئی دکاندار یا کاریگر ہوتا تو اس کی روزی کے دروازے بند کردیے جاتے یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آجاتی۔ کوئی کسی بااثر خاندان کا آدمی ہوتا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کو طرح طرح سے تنگ کرتے اور اس کی زندگی اجیرن کردیتے تھے۔ ان حالات نے اگرچہ راسخ الایمان صحابہ کے عزم و ثبات میں کوئی تزلزل پیدا نہ کیا تھا لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اکثر ان پر بھی ایک شدید اضطراب کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔
اس اضطرابی کیفیت کو ٹھنڈے صبر و تحمل میں تبدیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سورۃ العنکبوت کی آیات ۱ تا ۷میں سمجھایا ہے کہ ہمارے جو وعدے دنیا اور آخرت کی کامرانیوں کے لیے ہیں، کوئی شخص مجرد زبانی دعوائے ایمان کرکے ان کا مستحق نہیں ہوسکتا، بلکہ ہر مدعی کو لازماً آزمائشوں کی بھٹی سے گزرناہوگا تاکہ وہ اپنے دعوے کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہماری جنت اتنی سستی نہیں ہے، اور نہ دنیا ہی میں ہماری خاص عنایات ایسی ارزاں ہیں کہ تم بس زبان سے ہم پر ایمان لانے کا اعلان کرو اور ہم وہ سب کچھ تمھیں بخش دیں۔ ان کے لیے تو امتحان شرط ہے۔ ہماری خاطر مشقتیں اٹھانی ہوں گی۔ جان و مال کا زیاں برداشت کرنا ہوگا۔ طرح طرح کی سختیاں جھیلنی ہوں گی۔ خطرات ، مصائب اور مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ خوف سے بھی آزمائے جائو گے اور لالچ سے بھی ۔ ہر چیز جسے عزیز و محبوب رکھتے ہو، ہماری رضا پر اسے قربان کرنا پڑے گا، اور ہر تکلیف جو تمھیں ناگوار ہے ہمارے لیے برداشت کرنی ہوگی۔ تب کہیں یہ بات کھلے گی کہ ہمیں ماننے کا جو دعویٰ تم نے کیا تھا وہ سچا تھا یا جھوٹا۔ یہ بات قرآن مجید میں ہر اُس مقام پر کہی گئی ہے جہاں مصائب و شدائد کے ہجوم میں مسلمانوں پر گھبراہٹ کا عالم طاری ہوا ہے۔ ہجرت کے بعد مدینے کی ابتدائی زندگی میں جب معاشی مشکلات، بیرونی خطرات ، اور یہود و منافقین کی داخلی شرارتوں نے اہل ایمان کو سخت پریشان کررکھا تھا، اس وقت فرمایا:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَاسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتّٰی نَصْرُ اللّٰہِ، اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ (البقرہ: ۲۱۴)
’’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے (اہل ایمان) پر گزرچکے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور وہ ہلامارے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی (تب انھیں مژدہ سنایا گیا کہ) خبرداررہو! اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘
اسی طرح جنگ اُحد کے بعد جب مسلمانوں پر پھر مصائب کا ایک سخت دور آیا تو ارشاد ہوا:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔
(آل عمران : ۱۴۲)
’’ کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں داخل ہوجائو گے، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد میں جان لڑانے والے اور پامردی دکھانے والے کون ہیں۔‘‘
(گویا کہ) آزمائش ہی وہ کسوٹی ہے جس سے کھوٹا اور کھرا پرکھا جاتا ہے۔ کھوٹا خود بخود اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے اور کھرا چھانٹ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ کے ان انعامات سے سرفراز ہو جو صرف صادق الایمان لوگوں کا ہی حصہ ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، العنکبوت، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: ثَنَا بَیَانٌ وَاِسْمَاعِیْلُ، قَالَا: سَمِعْنَا قَیْسًا قَالَ: سَمِعْتُ خَبَّابًا یَقُوْلُ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَہٗ وَہُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ وَقَدْ لَقِیْنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ شِدَّۃً فَقُلْتُ: اَلَا تَدْعُوا اللّٰہَ فَقَعَدَ وَہُوَ مُحْمَرٌّ وَجْہُہٗ فَقَالَ: لَقَدْ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَیُمْشَطُ بِمَشاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عِظَامِہٖ مِنْ لَحْمٍ اَوْ عَصَبٍ مَا یَصْرِفُہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ وَیُوْضَعُ الْمِنْشَارُ عَلیٰ مَفْرَقِ رَأْسِہٖ فَیُشَقُّ بِاثنَیْنِ مَا یَصْرِفُہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ ہٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰی یَسِیْرَا لرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلیٰ حَضْرَمَوْتَ مَایَخَافُ اِلَّا اللّٰہ۔ زادبیان وَالذِّئبَ عَلٰی غَنَمِہٖ۔ (۲۶)
بخاری نے کتاب الاکراہ میں خباب بن الارتّ سے اسی روایت کو مندرجہ ذیل الفاظ میں روایت کیا ہے:
(۲) عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ، قَالَ شَکَوْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہٗ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَقُلْنَا: اَلَاتَسْتَنْصِرُ اَلَا تَدْ عُوْ لَنَا؟ فَقَالَ: قَدْ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُلَہٗ فِی الْاَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْہَا فَیُجَآئُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلیٰ رَأَسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ لَحْمِہٖ وَعَظْمِہٖ فَمَا یَصُدُّہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ۔ وَاللّٰہِ لَیُتِمَّنَّ ہٰذَا الْاَمْرُ حَتّٰی یَسِیْرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَآفُ اِلَّا اللّٰہَ وَالذِّئْبَ عَلیٰ غَنَمِہٖ وَلٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ (۲۷)
ترجمہ : حضرت خباب بن ارت سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے حضور شکوہ کیا آپؐ اس وقت کعبہ کی دیوار کے سایہ میںایک چادرکی تکیہ لگائے تشریف فرماتھے۔ ہم نے عرض کیا: آپؐ ہمارے لیے مدد کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کو پکڑلیا جاتا تھا اور زمین میں اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا تھا۔ اس میں اسے ڈال دیا جاتا، پھر اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے جسم کے دو ٹکڑے کردیے جاتے اور کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے (تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے) لیکن یہ اذیت رسانیاں اسے اپنے دین سے روگرداں نہ کرسکتی تھیں۔ خدا کی قسم! یہ کام پورا ہوکر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہ ہوگا اور اپنی بکریوںپر بھی اسے بھیڑیے کے سوا کسی کا اندیشہ نہ ہوگا مگر تم لوگ ہو کہ جلدی مچارہے ہو۔
ہجرت مدینہ کے موقع پر آپؐ کو قتل کرنے کی ایک خفیہ سازش
جب قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ گیا کہ اب محمدؐ بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گا۔ چنانچہ انھوں نے آپؐ کے معاملے میں ایک آخری فیصلہ کرنے کے لیے دارالندوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشورت کی کہ اس خطرے کا سدباب کس طرح کیا جائے۔ ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر ایک جگہ قید کردیا جائے اور جیتے جی رہا نہ کیا جائے۔ لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا۔ کیوں کہ کہنے والوں نے کہا کہ اگر ہم نے اسے قید کردیا تو اس کے جو ساتھی قید خانے سے باہر ہوں گے وہ برابر اپنا کام کرتے رہیںگے اور جب ذرا بھی قوت پکڑ لیں گے تو اسے چھڑانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے میں بھی دریغ نہ کریں گے۔ دوسرے فریق کی رائے یہ تھی کہ اسے اپنے ہاں سے نکال دو۔ پھر جب یہ ہمارے درمیان نہ رہے تو ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ بہر حال اس کے وجود سے ہمارے نظام زندگی میں خلل پڑنا تو بند ہوجائے گا لیکن اسے بھی یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ یہ شخص جادو بیان آدمی ہے، دلوں کو موہنے میں اسے بلا کا کمال حاصل ہے، اگر یہ یہاں سے نکل گیا تو نہ معلوم عرب کے کن کن قبیلوں کو اپنا پیرو بنا لے گا اور پھر کتنی قوت حاصل کرکے قلب عرب کو اپنے اقتدار میں لانے کے لیے تم پر حملہ آور ہوگا۔ آخر کار ابوجہل نے رائے پیش کی کہ ہم اپنے تمام قبیلوں میں سے ایک ایک عالی نسب، تیز دست جوان منتخب کریں اور یہ سب مل کر یکبارگی محمدؐپر ٹوٹ پڑیں اور اسے قتل کرڈالیں۔ اس طرح محمد کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے گا اور بنو عبد مناف کے لیے ناممکن ہوجائے گا کہ سب سے لڑسکیں اس لیے مجبوراً خون بہا پر فیصلہ کرنے کے لیے راضی ہوجائیں گے۔ اس رائے کو سب نے پسند کیا، قتل کے لیے آدمی بھی نامزد ہوگئے اور قتل کا وقت بھی مقرر کردیا گیا، حتّٰی کہ جو رات اس کام کے لیے تجویز کی گئی تھی اس میں ٹھیک وقت پر قاتلوں کا گروہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ بھی گیا۔ لیکن ان کا ہاتھ پڑنے سے پہلے نبی ﷺان کی آنکھوں میں خاک جھونک کر نکل گئے اور ان کی بنی بنائی تدبیر عین وقت پر ناکام ہوکر رہ گئی۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، الانفال،حاشیہ:۲۵)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ مَنْ لا اُتُّہِمَ مِِنْ اَصْحَابِنَا، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ نَجِیْحٍ، عَنْ مُجَاہِدِبْنِ جُبَیْرٍ اَبِی الْحَجَّاجِ وَغَیْرِہٖ مِمَّنْ لَا اُتُّہِمَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَال: لَمَّا اَجْمَعُوْا لِذٰلِکَ وَاتَّحَدُوْا اَنْ یَّدْخُلُوا فِیْ دَارِ النَّدْوَۃِ، لِیَتَشَاوَرُوْا فِیْہَا فِیْ اَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اِنَّ ہٰذَا الرَّجُلَ قَدْ کَانَ مِنْ اَمْرِہٖ مَا قَدْ رَأَیْتُمْ فَاِنَّا وَاللّٰہِ مَا نَأمَنُہٗ عَلَی الْوُثُوْبِ عَلَیْنَا فِِیْمَنْ قَدْ اتَّبَعَہٗ مِنْ غَیْرِنَا فَاجْمِعُوْا فِیْہِ رَأْیًا قَالَ: فَتَشَاوَرُوْا ثُمَّ قَالَ قَائِلٌ مِّنْہُمْ: اِحْبِسُوْہُ فِی الْحَدِیْدِ، وَاَغْلِقُوْا عَلَیْہِ بَابًا، ثُمَّ تَرَبَّصُوْا بِہٖ مَا اَصَابَ اَشْبَاہَہٗ مِنَ الشُّعَرَائِ الَّذِیْنَ کَانُوْا قَبْلَہٗ زُہَیْرًا وَالنَّابِِغَۃَ، وَمَنْ مَضیٰ مِنْہُمْ، مِنْ ہٰذَا الْمَوْتِ، حَتّٰی یُصِیْبَہٗ مَااَصَابَہُمْ، قَالَ الشَّیْخُ النَّجْدِیُّ:لَاوَاللّٰہِ، مَاہٰذَا لَکُمْ بِرَأْیٍ۔ وَاللّٰہِ لَئِنْ حَبِسْتُمُوْہُ کَمَا تَقُوْلُوْنَ، لَیَخْرُجَنَّ اَمْرُہٗ مِنْ وَرَائِ الْبَابِ الَّذِیْ اَغْلَقْتُمْ دُوْنَہٗ اِلیٰ اَصْحَابِہٖ، فَلَاؤشَکُوْا اَن یَّثِبُوْا عَلَیْکُمْ، فَیَنْزِِعُوْہُ مِنْ اَیْدِیْکُمْ، ثُمَّ یُکَاثِرُوکُمْ بِہٖ، حَتّٰی یَغْلِبُوْکُمْ عَلیٰ اَمْرِکُمْ، مَا ہٰذَا لَکُمْ بِرَأْیٍ، فَانْظُرُوْا فِی غَیْرِہٖ۔ فَتَشَاوَرُوْا، ثُمَّ قَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ: نُخْرِجُہٗ مِنْ بَیْنِ اَظْہُرِِنَا، فَنَنْفِیْہِ مِنْ بِلَادِنَا، فَاِذَا اُخْرِجَ عَنَّا فَوَاللّٰہِِ مَانُبَالِیْ اَیْنَ ذَہَبَ، وَلَاحَیْثُ وَقَعَ، اِذَا غَابَ عَنَّا وَفَرَغْنَا مِنْہُ، فَاصْلَحْنَا اَمْرَنَا واُلْفَتَنَا کَمَاکَانَتْ۔ فَقَالَ الشَّیْخُ النَّجْدِیُّ: لَا وَاللّٰہِ،مَاہٰذَا لَکُمْ بِرَأْیٍ، اَلَمْ تَرَوْا حُسْنَ حَدِیْثِہٖ وَحَلَاوَۃَ مَنْطِقِہٖ، وَغَلَبَتَہٗ عَلیٰ قُلُوْبِ الرِّجَالِ بِِمَا یَاْتِیْ بِہٖ، وَاللّٰہِ لَوْ فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ مَا اَمِنْتُمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلیٰ حَیٍّ مِنَ الْعَرَبِِ، فَیَغْلِبُ عَلَیْہِمْ بِذٰلِکَ مِنْ قَوْلِہٖ وَحَدِیْثِہٖ حَتّٰی یَتَابَعُوْہُ عَلَیْہِ، ثُمَّ یَسِیْرُبِہِمْ اِلَیْکُمْ حَتّٰی یَطَأَکُمْ بِہِمْ فِیْ بِلَادِکُمْ، فَیَاخُذَ اَمْرَکُمْ مِنْ اَیْدِیْکُمْ، ثُمَّ یَفْعَلُ بِکُمْ مَااَرَادَ، دَبِّرُوْا فِیْہِ رَاْیًا غَیْرَہٰذَا قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ: وَاللّٰہِ اِنَّ لِیْ فِیْہِ لَرَأْیًا، مَاأَرَاکُمْ وَقَعْتُمْ عَلَیْہِ بَعْدُ، قَالُوا: وَمَا ہُوَیا اَبَاالْحَکَمِ؟ قَالَ: اَرٰی اَنْ نَاْخُذَمِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ فَتًی شَابًّا جَلِیْدًا نَسِیْبًا وَسِیْطًا فِیْنًا، ثُمَّ نُعْطِیْ کُلَّ فَتًی مِّنْہُمْ سَیْفًا صَارِمًا، ثُمَّ یَعْمِدُوْا اِلَیْہِ، فَیَضْرِبُوہُ بِہَا ضَرْبَۃَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ، فَیَقْتُلُوْہُ، فَنَسْتَرِیْحُ مِنْہُ، فَاِنَّہُمْ اِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ، تَفَرَّقَ دَمُہٗ فِی الْقَبَائِلِ جَمِیْعًا فَلَمْ یَقْدِرْبَنُوْعَبْدِ مَنَافٍ عَلیٰ حَرْبِ قَوْمَہِمْ جَمِیْعًا، فَرَضُوْا مِنَّا بِالْعَقْلِ، فَعَقَلْنَاہُ لَہُمْ۔ قَالَ: فَقَالَ الشَّیْخُ النَّجْدِیُّ: اَلْقَوْلُ مَاقَالَ الرَّجُلُ، ہٰذَا الرَّایُ الَّذِیْ لَاَرَأیَ غَیْرَہٗ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ عَلیٰ ذٰلِکَ وَہُمْ مُجْمَعُوْنَ لَہٗ۔(۲۸)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ جب سرداران قریش نے دارالنَّدوہ میں جمع ہونے پر اتفاق کرلیا اور نبی ﷺ کے معاملہ کے بارے میں دارالندوہ میں بیٹھ کر مشورہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے تو پھر اس کے بعد وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اس شخص کا معاملہ تو دیکھ ہی چکے ہو۔واللہ! اب ہمارے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کے پیروبن چکے ہیں ان کی معیت میں ہم اپنے اوپر اس کے حملہ سے بے خوف نہیں رہ سکتے، لہٰذا سب مل کر کوئی متفقہ رائے سوچو۔راوی کا بیان ہے کہ سب نے اجتماعی طور پر مشورہ کیا۔ان میں سے ایک نے یہ رائے دی کہ اسے لوہے (کی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں ) میںجکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دو اور اسی طرح اس کی موت کا انتظارکرو جس طرح اس سے پہلے دو شعراء زہیر اور نابغہ پر اور ان پر جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں موت آئی۔ یہ بھی ان کی موت مرجائے گا۔شیخ نجدی بولا نہیں۔ خدا کی قسم! تمھاری یہ رائے تمھارے اپنے حق میں ٹھیک نہیں ہے۔ اگر تم نے اسے قید کردیا جس طرح کہ تمھارا خیال ہے تو اس کا حکم بنددروازے سے باہر اس کے ساتھیوں کو پہنچ جائے گا۔ عین قرین قیاس ہے کہ وہ تم پر حملہ کردیں اور اسے تمھارے ہاتھوں سے چھین لے جائیں۔ پھر وہ اپنی تعدادتمھارے مقابلہ میں بڑھائیں اور تم پر غالب آجائیں۔ یہ رائے تمھارے حق میں ٹھیک نہیں لہٰذا اور کوئی تدبیر سوچو۔ پھر ان لوگوں نے باہمی مشورہ کیا۔ ایک صاحب نے یہ رائے پیش کی کہ اسے اپنے ہاں سے نکال باہر کریں۔ شہر بدر کردیں۔ جب وہ ہمارے ہاں سے نکل جائے گا تو پھر ہمیں کوئی پروا نہیں کہ وہ کہاںجاتا ہے اور کہاں بستا ہے۔ جب وہ ہماری آنکھوں سے دور ہوجائے گااور ہمیں اس سے کوئی سروکار نہ رہے گا تو پھر ہم اپنے معاملات اور محبت کے روابط و تعلقات کو اسی طرح درست کرلیں گے جس طرح پہلے تھے۔ شیخ نجدی نے کہا نہیں نہیں، خدا کی قسم تمھاری یہ رائے بھی تمھارے لیے ٹھیک نہیں۔ کیا تم اس کی گفتار کی شیرینی اور کلام کی خوبی اور اس کی پیش کردہ دعوت کا لوگوں کے دلوں پر غلبہ کا مشاہدہ نہیں کرچکے۔ بہ خدا! اگر تم نے ایسا کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ عرب کے جس قبیلے میں قیام پذیر ہوگا اس پر اپنے کلام و گفتار سے ایسا غلبہ حاصل کرے گاکہ وہ سب اس کے پیرو ہوجائیں گے۔ پھر انھیں لے کر تم پر چڑھ دوڑے گا۔ ان کے ذریعہ تمھیں پامال کرے گا۔ اور تمھارا اقتدار چھین لے گا اور تم سے جو چاہے گا سلوک کرے گا۔ کوئی اور تدبیر سوچو! راوی کا بیان ہے کہ ابوجہل بولا۔ واللہ ! میری بھی اس کے بارے میں ایک رائے ہے۔میرے خیال کے مطابق اب تک تم میں سے کسی نے اس کا خیال نہیں کیا۔ سب بیک زبان بولے۔ اے ابوالحکم وہ کیا رائے ہے؟ اس نے کہا۔ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلے میں سے ایک ایک نو عمر، قوی، شریف النسب جوان مرد لے لیں اور ہر ایک کو ایک ایک تلوار دے دیں اور پھر سب اکٹھے اس پر تلواروں کا اس طرح وار کریں کہ گویا ایک شخص نے وار کیا ہے اور اسے قتل کردیں۔ اس طرح ہمیں اس سے نجات مل جائے گی اور اس کے خون کی ذمہ داری سب قبائل کے سر پر پڑجائے گی اور بنی عبد مناف پوری قوم سے جنگ نہ کرسکیں گے۔ مجبوراً ہم سے خون بہا لینے پر رضا مند ہوجائیں گے اور ہم انھیں خون بہا ادا کریں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ شیخ نجدی بولا: بات تو بس یہی ہے جو اس شخص نے کہی ہے۔ یہ ایسی صائب رائے ہے کہ اس کے ماسوا اور کوئی رائے درست نہیں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد متفرق ہوگئے جب کہ آپؐ کے قتل پر یہ سب متفق تھے۔
ماٰخذ
(۱) سیرت ابنِ ہشام ج اول ص۴۱۶٭ طَبَقات ابن سعد ج اول ص۲۰۰،۲۰۱۔
(۲) بخاری ج۱، کتاب الصلاۃ باب المرأۃ تطرح عن المصلّی شیْئًا مِنَ الاذی ٭کتاب الطہارۃ باب اذا القی علی ظہر المصلی قذرٌاوجیفۃ لَم تفسد علیہ صلاتہ۔ ٭کتاب الجہاد باب طرح جیف المشرکین فی البئرولایوخذ لہم ثَمَنٌ ٭کتاب المناقب باب ذکر مالقی النبیؐ واصحابہ من المشرکین بمکۃ ج ۲، کتاب المغازی باب دعاء النبیﷺ علی کفار قریش شیبہ وعتبہ والولید وابی جہل بن ہشام وہلاکہم ٭مسلم ج۲، کتاب الجہاد والسیر باب مالقی النبیﷺ من اذی المشرکین٭مسند ابی داؤد طیالسی ج۲، ص۴۳ مرویات ابن مسعود۔قال عبداللّٰہ فمارأیت رسول اللّٰہ ﷺ دعاعلیہم الّا یَوْمئذٍ الخ ٭مسند احمد ج۱، روایت ابن مسعود ٭مجمع الزوائد ج۶ص۱۸، قدرے مختصر ٭السنن الکبری بیہقی ج ۹ص۷،۸۔
(۳) سیرت ابن ہشام، ج اول ص۴۱۶٭طبقات ابن سعد ج اول ص۲۰۱۔
(۴) ابن جریر مجلد ۱۲ پ:۳۰سورہ اللھب۔
(۵) بخاری ج۱، کتاب مناقب الانصار باب مَالَقِیَ النّبِیّ ﷺ واصحابہ من المشرکین بمکۃ۔
(۶) بخاری ج۱کتاب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۹ص۷٭ مسند احمد،ج۲ ص۲۰۴، مناقب ابی بکر الصدیق ٭بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورۃ المؤمن۔
(۷) سیرت ابن ہشام ج۱، ذکرمالقی رسول اللّٰہ ﷺ من قومہ۔ حدیث ابن العاص عن اکثر مارأی قریشاً نالتہ من رسول اللّٰہ ﷺ ٭مجمع الزوائد ج۶، کتاب المغازی والسیر باب تبلیغ النبی ﷺ ما أرسل بہ وصبرہ علی ذلک ٭مسند احمد ج ۲ص۲۱۸، مرویات عبداللہ بن عمرو بن العاص۔
(۸) سیرت ابن ہشام ج۱ص۳۴۵٭ المصنف لعبد الرزاق ج ۵ص۳۲۵۔
(۹) المصنف لعبد الرزاق ج ۵، کتاب المغازی باب اسلام عمر رضی اللّٰہ عنہ ٭ المستدرک للحاکم ج ۳ص۸۳، مستدرک کی روایت میں صرف اَللّٰہُمَّ اَیِّدِ الدِّیْنَ بِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ ہے۔ المصنف کی روایت کا پہلا حصہ نہیں ہے۔
(۱۰) مُسند احمد ج ۲ص۹۵ مرویات عبداللّٰہ بن عمر ٭ المستدرک ج ۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ۔
(۱۱) ترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ ٭مجمع الزوائد ج ۹ص۶۱، عن عبد اللّٰہ بن مسعود ۔ مستدرک میں فَجَعَلَ اللّٰہُ دَعْوَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہے۔
(۱۲) ابن ماجہ المقدمۃ فضل عمر رضی اللّٰہ عنہ ٭المستدرک للحاکم ج۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ۔ فی الزوائد: حدیث عائشۃ ضعیف فیہ عبدالمَلِک بن الماجشون ضعفہ بعض ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات۔ وفیہ مسلم بن خالدٍ الزنجی، قال البخاری منکر الحدیث وضعفہ ابوحاتم والنسائی وغیر ہم ووثقہ ابن معین وابن حبان۔
(۱۳) ابن جریر المجلد۴ص۹۴۔
(۱۴) ابن کثیر ج۴،سورہ حٰمٓ السجدہ ص۹۰ بحوالہ عبدبن حمید ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۴، بحوالہ ابن ابی شیبۃ، ابویعلیٰ، ابن مردویہ، ابونعیم اور بیہقی فی الدلائل، ابن عساکر عن جابر بن عبداللّٰہ ٭مجمع الزوائد ج ۶ص۱۸۔
(۱۵) تفسیر ابن کثیر ج ۱ بحوالہ ابویعلیٰ الموصلی فی مسندہ۔
(۱۶) سیرت ابن ہشام ج ۱ص۲۹۳،۲۹۴٭ البدرایہ والنہایۃ ج ۳ص۶۲تا۶۴۔
(۱۷) مسلم ج ۲، کتاب صفات المنافقین واحکامہم باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار٭مسند احمدج۲ص۳۷۰، روایت ابی ہریرۃ ٭ابن جریر۲۸؍۳۰مجلد ۱۲ص۱۶۳٭ابن کثیر ج ۴ص۵۲۹٭فتح القدیرللشوکانی ج۵ ص۴۷۱ ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۵ بحوالہ ابن المنذر، ابن مردویہ، ابونعیم البیہقی۔
(۱۸) بخاری ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ کلا لَئِنْ لم ینتہ لنسفعاً بالناسیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ ٭ابن کثیر ج ۴ ص۵۲۸ ٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ اقرأباسم ربک اور لاخذتہ الملائکۃ کے بعد عَیَاناً کا اضافہ نقل کیا ہے۔ ہذا حدیث حسن غریب صحیح کہا ہے۔ ٭فتح القدیر ج ۵ بحوالہ عبدالرزاق ، عبدبن حُمَید، ابن جریر ، ابن المنذر، ابن مردویہ، ابونعیم اورالبیہقی۔
(۱۹) ابن جریر۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۱۶۵٭ابن کثیر ج ۴ص۵۲۹٭فتح القدیر ج ۵ص۴۷۱۔
(۲۰) ابن جریر۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ سورہ علق ٭ابن کثیر ج ۴، ص۵۲۹٭روح المعانی جز۳۰ص۱۸۷٭مسند احمد ج ۱ص۳۲۹ ابن عباس ٭فتح القدیر ج ۵ص۴۷۱ بحوالہ ابن المنذر، الطبرانی، ابن مردویہ، ابونعَیم اور البیہقی۔
(۲۱) ترمذی ابواب التفسیر سورہ اقرأ باسم ربِّکَ۔
(۲۲) بخاری ج۲، کتاب التفسیر سورۃ الدخان اور کتاب الدعوات اور کتاب الاستسقاء ٭ابن جریر،جلد۲۴؍۲۷ سورۃ الدخان ٭مسند احمد ج۱ص۴۳۱،۴۴۱٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الدخان٭ابن کثیر ج ۴، الدخان ٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۴ص۵۷۲٭روح المعانی ج ۹ پ ۲۵، الدخان۔
(۲۳) ابنِ جریر جز۲۸؍۳۰ج ۱۲ص۴۱۲۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵سورۃ الکافرون۔ بحوالہ ابنِ ابی حاتم الطبرانی۔
(۲۴) ابن جریرجز۲۸؍۳۰ج۱۲،سورہ کافرون٭روح المعانی ج ۲ پ:۳۰ ص۲۵۰٭سیرت ابن ہشام ج ۲ص۳۶۲ ٭سبب نزول سورۃ قُل یا ایہاالکافرون ٭فتح القدیر للشَّوکانی ج ۵ص۵۰۸۔ابن ابی حاتم، ابن الانباری فی المصاحف، عن سعید بن مینا بحوالہ فتح القدیرللشوکانی ج ۵۔ص۵۰۸
(۲۵) فتح القدیر للشوکانی ج ۵ص۵۰۸۔
(۲۶) بخاری باب بنیان الکعبۃ ج ۱، باب ذکرما لقی النبی ﷺ واصحابہ من المشرکین بمکۃ۔
(۲۷) بخاری ج ۱، کتاب الاکراہ باب من اختار الضرب والقتل والَہَوان علی الکفر٭ ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الاسیر یکرہ علی الکفر۔ ابوداؤد نے ولٰکِنَّکُمْ تَعْجِلُوْن بیان کیا ہے ٭مسند احمدج ۵ ص۱۰۹مرویات خباب بن الارت اس میں لا یخاف کی جگہ لایخشی الا اللّٰہ تعالٰی ہے ٭المعجم الکبیر للطبرانی ج۴ص۶۲-۶۵ عن خباب بن ارتّ۔
(۲۸) سیرۃ ابن ہشام ج۱، ہجرۃ الرسول ﷺ۔
فصل چہارم: رسالت مآبؐ کے اخلاق و شمائل صاحب خلق عظیم
۶۱۔ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ۔
(امام احمد، مسلم، ابودائود ، نسائی ، ابن ماجہ، دارمی اور ابن جریر نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ قول متعدد سندوں سے نقل کیا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۶، القلم، حاشیہ: ۴))’’(حضرت عائشہؓ نے فرمایا) کہ’’قرآن آپؐ کا اخلاق تھا۔۱ ‘‘
تشریح :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی بہترین تعریف فرمائی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھادیا تھا۔ جس چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپؐ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپؐ نے خود سب سے زیادہ اجتناب فرمایا ، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضیلت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپؐ کی ذات اُن سے متصف تھی، اور جن صفات کو اُس میں ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپؐ اُن سے پاک تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، القلم، حاشیہ: ۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ:ثَنَا مُبَارَکٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِبْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: اَتَیْتُ عَائِِشَۃَ فَقُلْتُ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَخْبِریْنِیْ بِخُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَتْ: کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ۔ اَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ؟ الخ۔(۱)
ترجمہ :سعد بن ہشام بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا اے ام المومنین! مجھے نبی ﷺ کے خلق کے متعلق بتائیں۔ انھوں نے فرمایا۔ آپؐ کا خلق قرآن تھا۔ کیا تم نے قرآن پاک میں یہ ارشاد ربّانی نہیں پڑھا؟ آپؐ بلاشبہ خلق عظیم پر ہیں۔
حسن سے بھی ایک روایت منقول ہے :
(۲)عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ۔(۲)
(۳) اَخْبَرَنِیْ اَحْمَدُبْنُ جَعْفَرِنِالْقُطَیْعِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَحْمَدَبْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ سَعیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفیٰ، عَنْ سَعْدِبْنِ ہِشَامٍ، اَنَّہٗ دَخَلَ مَعَ حَکِیْمِ بْنِ اَفْلَحَ عَلیٰ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَسَأَلَہَا فَقَالَ: یَااُمَّ الْمُوْمِنِیْنَ أَنْبِئِیْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَتْ:اَلَیْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: بَلیٰ، قَالَتْ: فَاِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺَ الْقُرْاٰنُ۔(۳)
ہذاحدیث صحیح علی شرط الشیخین وَلَمْ یخرجاہ۔
ترجمہ:سعد بن ہشام سے روایت ہے وہ کہتے ہیںکہ میں حکیم بن افلح کی رفاقت میں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے اُمّ المومنین سے پوچھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کچھ بتائیں۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں، حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کے نبی کا خلق تو قرآن ہے۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المثَنّٰی الْعَنَزِیُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُبْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ عَن زُرَارَۃُ اَنَّ سَعْدَ بْنَ ہِشَامِ ابْنِ عَامِرٍ ــــــ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ اِلیٰ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْبِئِیْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَتْ: اَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ؟ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَتْ فَاِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ کَانَ الْقُرْآنَ الحدیث۔(۴)
ترجمہ: سعد بن ہشام سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے خلق کے بارے میں ارشاد فرمائیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم قرآن مجید نہیں پڑھتے؟‘‘ میں نے عرض کیا:’’کیوں نہیں، پڑھتا ہوں؟‘‘ انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کا خُلق تو پورا قرآن ہے۔‘‘
خادموں سے حسن سلوک
۶۲۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپؐ نے کبھی میری کسی بات پر اُف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا تو نے یہ کیوں کیا، اور کبھی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تونے یہ کیوں نہ کیا۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۶، القلم، حاشیہ: ۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِِسْکِیْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا، یَقُوْلُ: حَدَّثَنَا اَنَسٌ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ، فَمَا قَالَ لِیْ اُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا اَلَّا صَنَعْتَ۔(۵)
(۲) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ اَخَذَ اَبُوْ طَلْحَۃَ بِِیَدَیَّ، فَانْطَلَقَ بِیْ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، اِنَّ اَنَسًا غُلَامٌ کَیِّسٌ فَلْیَخْدِمْکَ قَالَ: فَخَدَمْتُہٗ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِوَاللّٰہِ مَاقَالَ لِیْ لِِشَیٍْٔ صَنَعْتُہٗ لِمَ صَنَعْتَ ہٰذَا ہٰکَذَا؟ وَلَا لِشَـْیٍٔ لَمْ اَصْنَعْہٗ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا ہٰکَذَا؟
(۳) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ:خَدَمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تِسْعَ سِنِیْنَ فَمَا اَعْلَمُہٗ قَالَ لِیْ قَطُّ لِمَا فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ وَلَاعَابَ عَلَیَّ شَیْئًا قَطُّ۔
(۴) قَالَ اَنَسٌ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَاَرْسَلَنِیْ یَوْمًا لِحَاجَۃٍ فَقُلُتُ: وَاللّٰہِ لَا اَذْہَبُ وَفِیْ نَفْسِیْ اَنْ اَذْہَبَ۔ لَمَّا اَمَرَ نِیْ بِہٖ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فَخَرَجْتُ حَتّٰی اَمُرَّعَلَی الصِّبْیَانِ، وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ فِیْ السُّوْقِ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ قَبَضَ بِِقَفَای مِنْ وَّرَائِیْ قَالَ: فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقَالَ: یَا اُنَیْسُ: ! أَ ذَہَبْتَ حَیْثُ اَمَرْتُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، اَنَا اَذْہَبُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اَنَسٌ: وَاللّٰہِِ لَقَدْ خَدَمْتُہٗ تِسْعَ سِنِیْنَ مَا عَلِمْتُہٗ قَالَ لِشَیٍْٔ صَنَعْتُہٗ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ اَوْ لِشَیٍْٔ تَرَکْتُہٗ ہَلَّافَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ (۶)
ترجمہ: حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ ایک روز آپؐ نے مجھے کسی کام سے بھیجنا چاہا تو میں نے زبان سے تو انکار کردیا مگر دل میں تھا کہ جائوں گا، چنانچہ میں گھر سے باہر نکلا۔ سرِراہ میرا گزر بچوں پر ہوا جو گلی میں کھیل کود رہے تھے۔ میں بھی کھیل میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ اچانک رسول اللہ نے پیچھے سے میری گدّی پکڑلی۔ میں نے آپؐ کی طرف مڑکر دیکھا تو آپؐ مسکرارہے تھے۔ فرمانے لگے انیس ! میں نے تمھیں جہاں جانے کے لیے کہا تھا وہاں گئے؟ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ میں جارہا ہوں۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ بہ خدا! میں نے رسول اللہ ﷺ کی نو سال تک خدمت کی، مجھے کوئی ایسا موقع یاد نہیں جب آپؐ نے میرے کیے ہوئے کام کے متعلق فرمایا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا میں نے کوئی کام نہ کیا ہو اور آپؐ نے فرمایا ہو کہ ’’تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔‘‘؟
ابودائود کی روایت میں مزید یہ الفاظ ہیں:
(۵) قَالَ اَنَسٌ : وَاللّٰہِ لَقَدْ خَدَمْتُہٗ سَبْعَ سِنِیْنَ اَوْتِسْعَ سِنِیْنَ۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضَّبْعِیُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ فَمَا قَالَ لِیْ اُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِشَیٍْٔ صَنَعْتُہٗ لِمَ صَنَعْتَہٗ؟ وَلَا لِشَیٍْٔ تَرَکْتُہٗ لِمَ تَرَکْتَہٗ؟ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِِ خُلُقًا وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا، وَلَاحَرِیْرًا وَلَاشَیْئًا اَلْیَنَ مِنْ کَفِّ رَسُوْلِِ اللّٰہِ ﷺ وَلَاشَمِِمتُ مِسْکًا قَطُّ، وَلَاعِطْرًا کَانَ اَطْیَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۷)
ترجمہ: حضرت انسؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپؐ نے اس عرصہ میں کبھی مجھے اُف تک نہ کہا؟ میں نے کوئی کام اپنی مرضی سے کرلیا تب بھی کبھی نہیں فرمایا کہ یہ کیوں کیا ہے؟ اور اگر کسی کام کو انجام نہ دیا تب بھی نہ پوچھا کہ یہ کیوں نہ کیا؟ رسول اللہﷺ حسن اخلاق میں تمام لوگوں سے بہتر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی اتنی نرم تھی کہ میں نے اتنا نرم اور ملائم ریشم بھی کبھی نہیں دیکھا اور آپ کا پسینہ ایسا خوشبودار تھا کہ اتنی خوشبو میں نے مشک اور عطر میں بھی نہیں پائی۔
(۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثنا سُلَیْمَانُ۔ یعنی ابن المُغیْرَۃَ۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَشَرَ سِنِیْنَ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَنَا غُلَامٌ لَیْسَ کُلُّ اَمْرِیْ کَمَا یَشْتَہِیْ صَاحِبِیْ اَنْ اَکُوْنَ عَلَیْہِ مَا قَالَ لِیْ (فِیْہَا) اُفٍّ قَطُّ، وَمَا قَالَ لِیْ: لِمَ فَعَلْتَ ہٰذَا؟ اَوْاَلَّا فَعَلْتَ ہٰذَا؟(۸)
ترجمہ: حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ میں نے مدینہ منورہ میں دس سال تک نبی ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔ میں بچہ ہی تھا میرا ہر کام ٹھیک اس معیار کے مطابق تو نہ ہوسکتا تھا جس پر میرے آقا مجھے دیکھنے کے خواہش مندتھے۔ لیکن نبیﷺ نے مجھے اُف تک نہ کہا، نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ اور نہ یہ کہ یہ کیوں نہ کیا؟
اپنی ذات کے لیے انتقام
۶۳۔ مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖ فِی شَیٍْٔ قَطُّ اِلَّا اَنْ تُنْہَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ۔ (بخاری و مسلم)
’’حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ البتہ جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تب آپؐ سزادیتے تھے۔‘‘
تشریح: (گویا کہ مومن) غُصَیل اور جھلّے نہیں ہوتے، بلکہ نرم خواور دھیمے مزاج کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی بلکہ وہ بندگان خدا سے درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہیں ، اور کسی بات پر غصہ آبھی جاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں۔ یہ وصف انسان کی بہترین صفات میں سے ہے جسے قرآن مجید میں (بھی) نہایت قابل تعریف قرار دیا گیا ہے (آل عمران :۱۳۴) اور رسول اللہ ﷺ کی کامیابی کے بڑے اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔(آل عمران: ۱۵۹) (تفہیم القرآن، ج ۴، الشوریٰ، حاشیہ:۵۹)
تخریج: (۱) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ اَخْبَرَنَا عُرْوَۃُ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا اِنْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖ فِیْ شَیٍْٔ یُؤْتیٰ اِلَیْہِ حَتّٰی یُنْتَہَکَ مِنْ حُرُمَاتِ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ۔(۹)
بخاری نے کتاب الادب میں درج ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّہَا قَالَتْ: مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ اَمْرَیْنِ قَطُّ اِلَّا اخْتَارَ اَیْسَرَہُمَا مَا لَمْ یَکُنْ اِثْمًا، فَاِنْ کَانَ اِثْمًا، کَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖ فِیْ شَیٍْٔ قَطُّ اِِلَّا اَنْ تُنْتَہَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِہَا۔(۱۰)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: نَا ابُوْاُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِِ ﷺ شَیْئًاقَطُّ بِیَدِہٖ وَلَا امْرَأَۃً وَلَاخَادِمًا اِلَّا اَنْ یُجَاہِدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِِ وَمَا نِیْلَ مِنْہُ شَیٌْٔ قَطُّ فَیَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِہٖ اِلَّا اَنْ یَنْتَہَکَ شَیْئًا مِنْ مَّحَارِمِ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے کبھی کسی عورت اور خادم کو نہیں مارا بہ جز جہاد فی سبیل اللہ کے ۔ آں جنابؐ کو اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچی ہوتی تو اس سے بھی کبھی انتقام نہیں لیا الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو توڑا جائے تو پھر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے انتقام لیتے۔
آپؐ کا حسن انتخاب
ایک روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
۶۴۔’’رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپؐ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپؐ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپؐ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو اور آپؐ کا طریقہ یہ تھا کہ جب دو کاموں میں سے ایک کا آپؐ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھے اِلّا یہ کہ وہ گناہ ہو اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپؐ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے۔ ‘‘ (مسند احمد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الطُّفَاوِیُّ قَالَ: ثنا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَادِمًا لَہٗ قَطُّ، وَلَا امْرَأَۃً لَّہٗ قَطُّ، وَلَاضَرَبَ بِیَدِہٖ اِلَّا اَنْ یُجَاہِدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَمَا نِیْلَ مِنْہُ شَیٌْٔ فَانْتَقَمَہٗ مِنْ صَاحِبِہٖ اِلَّا اَنْ تُنْتَہَکَ مَحَارِمُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ وَمَا عُرِضَ عَلَیْہِ اَمْرَانِ اَحَدُہُمَا اَیْسَرُمِنَ الْآخَرِ اِلَّا اَخَذَ بِاَیْسَرِہِمَا اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ مَأْثَمًا فَاِنْ کَانَ مَأْثَمًا کَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کبھی اپنے دست مبارک سے کسی خادم کو مارا اور نہ اپنی کسی اہلیہ کو اور نہ کبھی کسی شخص کو اپنے ہاتھ سے مارا بہ جز جہاد فی سبیل اللہ کے۔ آپؐ کو اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچی ہوتی تو اس سے انتقام نہیں لیا اِلّا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو توڑاجائے تو محض اللہ تعالیٰ کے لیے سزا دیتے ۔ آپؐ کے سامنے جب دو کام پیش کیے جاتے تو ان میں سے آسان ترکا انتخاب فرماتے الّا یہ کہ کوئی گناہ کا کام ہو۔ اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ تمام لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِِیُّ، ثنا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ مَارَأیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مُنْتَصِراً مِنْ مَظْلَمَۃٍ ظُلِمَہَا قَطُّ مَالَمْ یُنْتَہَکَ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَعَالیٰ شَیٌْٔ فَاِذَا انْتُہِکَ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ تَعَالیٰ شَیٌْٔ، کَانَ مِنْ اَشَدِّہِمْ فِیْ ذٰلِکَ غَضَبًا، وَمَا خُیِّرَ بَیْنَ الْاَمَرَیْنِ، اِلَّا اخْتَارَ اَیْسَرَ ہُمَا مَالَمْ یَکُنْ مَاْ ثَمًا۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی اپنے اوپر کیے گئے ظلم کا انتقام و بدلہ لیتے نہیں دیکھا۔ تاوقتے کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کو پامال نہ کیا گیا ہو، جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تو آپ کا غیظ و غضب تمام لوگوں سے زیادہ ہوتا۔ آپ کو دو معاملوں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان ترکو اختیار فرماتے، بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔
اختیار اہون البلیتین
اِخْتِیَارُ اَہْوَنَ الْبَلِیَّتَیْنِسے مراد یہ ہے کہ جب دو ناجائز کاموں میں سے کسی ایک کا اختیار کرنا ناگزیر ہوجائے تو ان میں سے وہ اختیار کیا جائے جو کم تر درجے کا ناجائز کام ہو۔ اس میں شرط اول یہ ہے کہ خیر کی راہ بالکل بند ہو اور اسے اختیارکرنے کا قطعاً کوئی امکان نہ ہو۔ صرف اسی صورت میں آدمی کے لیے اہون البلیتین کو اختیار کرنا جائز ہوسکتا ہے۔ ورنہ خیر کی راہ کا کچھ بھی امکان ہو تو وہ شخص گنہگار ہوگاجومحض اپنی کم ہمتی کی بنا پر اپنے آپ کو دوناجائز کاموں میں سے کسی ایک میں مبتلا کردے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ دو ناجائز کاموں میں سے ایک کو اہون بس یونہی نہ ٹھیرالیا جائے بلکہ اصول شریعت کے لحاظ سے دیکھا جائے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کس بلا کو اہون اور کس کواشد قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص سخت بھوک میں مبتلا ہے اور موت سے بچنے کے لیے اس کے سامنے صرف دو ہی غذائیں موجود ہیں۔ ایک سور کا گوشت، دوسرے گدھ کا گوشت، اب اگر وہ اسلامی نقطۂ نظر سے فیصلہ کرے تو لامحالہ گدھ کا گوشت اہون ہوگا، کیونکہ اس کے حرام ہونے کی صراحت قرآن میں نہیں کی گئی ہے، بلکہ حدیث میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے جس کا اطلاق گدھ پر بھی ہوتا ہے۔ یا مثلاً کوئی طاقتور ظالم کسی بے گناہ کی جان کے درپے ہو اور وہ بے گناہ آپ کے پاس پناہ لے اور آپ کسی طرح لڑکر اس بے گناہ کو نہ بچاسکتے ہوں۔ ایسی صورت میں اگر وہ ظالم آکر آپ سے اس کا پتہ پوچھے تو آپ کے لیے دو صورتیں ممکن ہوں گی۔ یا تو جھوٹ بول کر اس کی جان بچالیں یا اس کا پتہ بتا کر اسے قتل کے لیے پیش کردیں۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں جھوٹ بولنا اہون ہے کیوں کہ سچ بولنے سے ایک شدید تر برائی یعنی ’’قتل مظلوم‘‘ لازم آتی ہے۔ (رسائل و مسائل دوم ، فقہی مسائل: اختیار۔۔۔)
بخاری ، مسلم ، طبرانی، بیہقی، ابن سعد اور ابن اسحاق وغیرہ نے متعدد سندوں سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ آں حضورؐ نے جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی صحابہ کی ایک جماعت کو بنی قریظہ کی ایک بستی پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا اور بہ تاکید فرمایا کہ تم میں سے کوئی عصر کی نماز (اور بعض روایات کے مطابق ظہر کی نماز) نہ پڑھے جب تک وہاں پہنچ نہ جائے۔ مگر ان لوگوں کو راستے میں دیر لگ گئی اور نماز کا وقت ختم ہونے لگا۔ اجتماعی طور پر وہ فیصلہ نہ کر سکے کہ آیا وقت پر نماز پڑھنے کے حکم عام کو چھوڑیں یا حضوؐر کے اس حکم خاص کو ؟ آخر کار بعض لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نماز پڑھ لیں گے اور پھر آگے جائیں گے۔ ان کا استدلال تو یہ تھا کہ حضوؐر دراصل یہ چاہتے تھے کہ ہم جلدی جلدی کوچ کرکے وہاں پہنچ جائیں نہ یہ کہ ہم نماز ہی نہ پڑھیں۔ اور بعض نے فیصلہ کیا کہ ہم وہاں پہنچنے سے پہلے نماز ہی نہ پڑھیں گے کیوں کہ حضوؐر نے صاف الفاظ میں یہی حکم دیا ہے۔ بعد میں جب حضوؐر کے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا تو آپؐ نے ان میں سے کسی کے فعل کو بھی غلط نہ کہا۔ اب دیکھ لیجیے یہاں دو واجب الاطاعت احکام میں جب عملاً تضاد واقع ہوگیا تو ان میں سے کسی ایک کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنے کا فیصلہ ہر سپاہی نے اپنی صوابدید کے مطابق بطور خود کیا اور یہ کام خود صاحب شریعت ؐ کی زندگی میں کیا گیا۔ اگر اس قسم کے فیصلے کا ان لوگوں کو حق نہ ہوتا تو حضوؐر صاف فرمادیتے کہ تم نے دین میں وہ اختیار استعمال کیا ہے، جو شرعاً تمھیں حاصل نہ تھا۔
(تفہیمات سوم،باب دوم: حکمت عملی۔۔۔)
ایک نابینا سے بے رخی پر عتاب الٰہی
۶۵۔ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں مکہ معظمہ کے چند بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے اور حضورؐ ان کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش فرمارہے تھے۔ اتنے میں ابن اُمّ مکتوم نامی ایک نابینا حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپؐ سے اسلام کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا۔ حضورؐ کو ان کی یہ مداخلت ناگوار ہوئی اور آپؐ نے ان سے بے رخی برتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۂ عَبَس نازل ہوئی۔
تشریح :حدیث کی جن روایات میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے اُن میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت وہ اسلام لاچکے تھے اور بعض سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی طرف مائل ہوچکے تھے اور تلاش حق میں حضورؐ کے پاس آئے تھے۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ انھوں نے آکر عرض کیا تھا: ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اَرْشِدْنِیْ ’’یا رسول اللہ ! مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔‘‘
(ترمذی، حاکم، ابن حبان، ابن جریر، ابویعلی)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ وہ آکر قرآن کی ایک آیت کا مطلب پوچھنے لگے اورحضورؐسے عرض کیا یا رسول اللّٰہ عَلِّمْنِیْ مِِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ’’یا رسول اللہ ! مجھے وہ علم سکھائیے جو اللہ نے آپؐ کو سکھایا ہے۔‘‘
(ابن جریر ۲۸؍۳۰ جلد۱۲ سورہ عبس۔ ابن ابی حاتم)
ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضورؐ کو خدا کا رسول اور قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کرچکے تھے۔ دوسری طرف ابن زید سورہ عبس :۳کے الفاظ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی کا مطلب لَعَلَّہٗ یُسْلِم ’’شاید کہ وہ اسلام قبول کرلے‘‘ بیان کرتے ہیں۔
(ابن جریر۲۸؍۳۰ج ۱۲ ، سورہ عبس)
اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ’’تمھیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟‘‘ اور ’’یہ کہ جو خود تمھارے پاس دوڑاآتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے، اُس سے تم بے رخی برتتے ہو‘‘ (عبس :۸۔۱۰) اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اُس وقت ان کے اندر طلب حق کا گہرا جذبہ پیدا ہوچکا تھا، وہ حضوؐر ہی کو ہدایت کا منبع سمجھ کر آپؐ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے تھے کہ اُن کی یہ طلب یہیں سے پوری ہوگی، اور یہ بات ان کی حالت سے ظاہر ہورہی تھی کہ انھیں ہدایت دی جائے تو وہ اس سے مستفید ہوں گے۔
جو لوگ اُس وقت حضورؐ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ مختلف روایات میں ان کے ناموں کی صراحت کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ہمیں عتبہ ، شیبہ، ابوجہل، امیہ بن خلف، ابی بن خلف جیسے بدترین دشمنان اسلام کے نام ملتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُس زمانہ میں پیش آیاتھا جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان لوگوں کا میل جول ابھی باقی تھا اور کشمکش اتنی نہ بڑھی تھی کہ آپؐ کے ہاں اُن کی آمد و رفت اور آپؐ کے ساتھ اُن کی ملاقاتوں کا سلسلہ بند ہوگیا ہو۔
آپؐ کا ایک نابینا سے بے رخی برتنا اور سرداران قریش کی طرف توجہ کرنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ آپؐ بڑے لوگوں کو معزز اور ایک بے چارے نابینا کو حقیر سمجھتے تھے، اور معاذ اللہ یہ کوئی کج خلقی آپؐ کے اندر پائی جاتی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی۔ بلکہ معاملہ کی اصل نوعیت یہ ہے کہ ایک داعی جب اپنی دعوت کا آغاز کرنے لگتا ہے تو فطری طورپر اس کا رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ قوم کے بااثر لوگ اس کی دعوت قبول کرلیں تاکہ کام آسان ہوجائے، ورنہ عام بے اثر، معذور یا کمزور لوگوں میں دعوت پھیل بھی جائے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑسکتا۔ قریب قریب یہی طرز عمل ابتدا میں رسول اللہ ﷺ نے بھی اختیار فرمایا تھا جس کا محرک سراسر اخلاص اور دعوت حق کو فروغ دینے کا جذبہ تھا نہ کہ بڑے لوگوں کی تعظیم اور چھوٹے لوگوں کی تحقیر کا تخیل ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۂ عبس نازل کرکے آپؐ کو سمجھایا کہ اسلامی دعوت کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے، بلکہ اس دعوت کے نقطۂ نظر سے ہر وہ انسان اہمیت رکھتا ہے جو طالب حق ہو، چاہے وہ کیسا ہی کمزور ، بے اثر، یا معذور ہو، اور ہر وہ شخص غیر اہم ہے جو حق سے بے نیازی برتے ، خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی بڑا مقام رکھتا ہو۔ اس لیے آپؐ اسلام کی تعلیمات کو ہانکے پکارے سب کو سنائیں۔ مگر آپؐ کی توجہ کے اصل مستحق وہ لوگ ہیں جن میں قبول حق کی آمادگی پائی جاتی ہو، اور آپؐ کی بلند پایہ دعوت کے مقام سے یہ بات فروتر ہے کہ آپؐ اُسے اُن مغرور لوگوں کے آگے پیش کریں جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں یہ سمجھتے ہوں کہ اُن کو آپؐ کی نہیں بلکہ آپؐ کو اُن کی ضرورت ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، عبس : موضوع اور مضمون)
تخریج:(۱) اَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَعِِنْدَہٗ صَنَادِیْدُ قُرَیْشٍ عُتْبَۃُ وَشَیْبَۃُ اِبْنَارَبِیْعَۃَوَاَبُوْجَھْلٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ وَالْوَلِیْدُبْنُ الْمُغِیْرَۃَ یُنَاجِیْہِمْ وَیَدْعُوْہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِِ رَجَائَ اَنْ یُّسْلِمَ بِاِسلاَمِہِمْ غَیْرَہُمْ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَقْرِئْنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَکَرَّ رَ ذٰلِکَ وَلَمْ یَعْلَمْ تَشَاغُلَہٗ بِالْقَوْمِِ فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَطْعَہٗ لِکَلامِہٖ وَعَبَسَ وَاَعْرَضَ عَنْہُ فَنَزَلَتْ الخ۔(۱۴)
ترجمہ: ابن اُمّ مکتوم رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں اس وقت حاضر ہوئے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــجب آپ سرداران قریش، یعنی ربیعہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ،ابوجہل اور عباس بن عبدالمطلب اور امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ سے گفتگو فرمارہے تھے۔ آپ انھیں اسلام کی طرف دعوت دے رہے تھے اس امید پر کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیںــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور انھوں نے آتے ہی رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ مجھے پڑھائیے مجھے وہ کچھ سکھائیے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سکھایا ہے۔ یہ سوال وہ بار بار کرتے رہے اور انھیں یہ نہ معلوم ہوا کہ حضورؐ لوگوں سے محو گفتگو ہیں۔ آپ کو اس موقع پر قطع کلام ناگوار گزرا ۔ آپؐ کی پیشانی شکن آلود ہوگئی اور ان کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدِ نِ الْاُمَوِیُّ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ہٰذَا مَا عَرَضْنَا عَلیٰ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، وَعَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلّٰی فِی ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ الْاَعْمیٰ اَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرْشِِدْنِیْ وَعِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَجُلٌ مِّنْ عُظَمَائِ الْمُشْرِکِیْنَ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُعْرِضُ عَنْہُ ویُقْبِلُ عَلَی الْاٰخَرِ یَقُوْلُ: اَتَرٰی بِمَا اَقُوْلُ بَاسًا فَیَقُوْلُ: لَا فَفِیْ ہٰذَا اُنْزِلَ۔ ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔(۱۵)
وَرَوَی بَعْضُہُمْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ اُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلّٰی فِیْ ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ وَلَمْ یَذْکُرْفِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ۔
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ عَبَسَ وَتَوَلّٰی ابن اُمّ مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوئے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ جب مشرکین کے عظماء میں سے ایک شخص آپؐ کے پاس بیٹھا تھاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ اور وہ آتے ہی کہنے لگے اے رسول خدا! مجھے رہ نمائی فرمائیں۔ آپؐ اس وقت ان سے اعراض فرماتے رہے اور اس سردار کی جانب متوجہ ہو کر فرماتے رہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں کیا اس میں کوئی بات غلط ہے؟ وہ کہتا کہ نہیں۔ بس اسی کے بارے میں یہ سورہ نازل ہوئی ہے۔
آپؐ کے روبرو اعمال اُمّت پیش کیے جانے کا مطلب
۶۶۔ یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔
’’اے نبیؐ! ہم نے تمھیں بھیجا ہے گواہ بناکر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر۔‘‘
تشریح :بعض لوگوں نے اس شہادت کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ آخرت میں لوگوں کے اعمال پر شہادت دیں گے، اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ حضور تمام لوگوں کے اعمال دیکھ رہے ہیں، ورنہ بے دیکھے شہادت کیسے دے سکیں گے۔ لیکن قرآن مجید کی رو سے یہ تاویل قطعاًغلط ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ لوگوں کے اعمال پر شہادت قائم کرنے کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا ہی انتظام فرمایا ہے۔ اس غرض کے لیے اس کے فرشتے ہرشخص کا نامۂ اعمال تیار کررہے ہیں (ملاحظہ ہو قٓ :۱۷-۱۸ اور الکہف:۱۴۹) اور اس کے لیے وہ لوگوں کے اپنے اعضاء سے بھی گواہی لے لے گا (یٰسٓ :۶۵۔ حٰمٓ السجدہ:۰ ۲-۲۱) رہے انبیاء علیہم السلام ، تو ان کا کام بندوں کے اعمال پر گواہی دینا نہیں بلکہ اس بات پر گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچادیا گیا تھا۔ قرآن صاف فرماتا ہے:
یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔ (المائدہ:۱۰۹)
’’جس روز اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا، پھر پوچھے گا کہ تمھاری دعوت کا کیا جواب دیا گیا، تو وہ کہیں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں۔ تمام باتوں کو جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔‘‘
اور اسی سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ جب ان سے عیسائیوں کی گمراہی کے متعلق سوال ہوگا تو وہ عرض کریں گے:
وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ۔ (المائدہ: ۱۱۷)
’’میں جب تک ان کے درمیان تھا اسی وقت تک ان پر گواہ تھا۔ جب آپ نے مجھے اٹھالیا تو آپ ہی ان پر نگراں تھے۔‘‘
یہ آیات اس باب میں بالکل صریح ہیں کہ انبیاء علیہم السلام اعمال خلق کے گواہ نہیں ہوں گے۔ پھر وہ گواہ کس چیز کے ہوں گے؟ اس کا جواب قرآن اتنی ہی صراحت کے ساتھ یہ دیتا ہے:
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِتَکُونُوْا شُہَدَآء عَلَی الناسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا۔ (البقرہ: ۱۴۳)
’’اور اے مسلمانو! اسی طرح ہم نے تم کو ایک امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوا اور رسول تم پر گواہ ہوں۔‘‘
وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِی کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا عَلَیْہِمْ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْدًا عَلیٰ ہٰٓؤُلَآئِ۔ (النَّحْل: ۸۹)
’’اورجس روز ہم ہر امت میں انہی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو ان پر گواہی دے گا اور (اے محمدؐ!) تمھیں ان لوگوں پر گواہ کی حیثیت سے لائیں گے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز نبی ﷺ کی شہادت اپنی نوعیت میں اس شہادت سے مختلف ہوگی جسے ادا کرنے کے لیے حضورؐکی امت کو اور ہر امت پر گواہی دینے والے شہداء کو بلایاجائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو ان سب کا بھی حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے اور اگر یہ گواہ صرف اس امر کی شہادت دینے کے لیے بلائے جائیں گے کہ خلق تک اس کے خالق کا پیغام پہنچ گیا تھا تو لامحالہ حضورؐ بھی اسی غرض کے لیے پیش ہوں گے۔
اس مضمون کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن کو بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ اور امام احمد وغیرہم نے عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس ، ابوالدّرداءؓ ، انس بن مالک اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نقل کیا ہے۔ یہ مضمون اتنے صحابہؓ سے اتنی کثیر سندوںکے ساتھ نقل ہوا ہے کہ اس کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔
اس سے یہ بات صریحاً ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ اپنی امت کے ایک ایک شخص اور اس کی ایک ایک حرکت کے شاہد قطعاً نہیں ہیں۔ رہی وہ حدیث جس میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضورؐ کے سامنے آپؐ کی امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو وہ کسی طرح بھی اس سے متعارض نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضوؐر کو امت کے حالات سے باخبر رکھتا ہے۔ اس کے یہ معنی کب ہیں کہ حضوؐر ہر شخص کے اعمال کا عینی مشاہدہ فرمارہے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب، حاشیہ:۸۲)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِِ بْنُ مُحَمَّدِبْنِِ اَسْمَائِ نِالضَّبُعِیُّ وَشَعْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ ابْنُ مَیْمُوْنٍ، قَالَ: نَاوَاصِلٌ مَوْلیٰ اَبِیْ عُیَیْنَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَ، عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ الدِّیْلِیِّ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُہَا وَسَیِّئُہَا فَوَجَدْتُّ فِیْ مَحاسِنِ اَعْمَالِہَا الاَذٰی یُمَاطُ عَنِ الطَّرِیْقِ وَوَجَدْتُّ فِی مَسَاوِیئِ اَعْمَالِہَا النُّحَائَ ۃُ تَکُوْنُ فِی الْمَسْجِد وَلَا تُدْفَنُ۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاریؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے اچھے ، برے اعمال میرے روبرو پیش کیے گئے۔ ان کے اچھے اعمال میں، میں نے یہ بھی پایا کہ تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹادیا جائے، اور ان کے برے اعمال میں، میں نے یہ بھی پایا کہ بلغم مسجد میں پڑا ہے اور اسے دفن نہیں کیا جاتا۔
نبی کریم ﷺ کے چلنے کا انداز
۶۷۔ نبی ﷺ مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے کہ گویا نشیب کی طرف اتررہے ہیں۔
تشریح :حضرت عمرؓ کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ انھوں نے ایک جوان آدمی کو مریل چال چلتے دیکھا تو روک کر پوچھا کیا تم بیمار ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے دُرّہ اٹھاکر اسے دھمکایا اور بولے قوت کے ساتھ چلو۔
(اس میں) غور طلب پہلو یہ ہے کہ آدمی کی چال میں آخر وہ کیا اہمیت ہے جس کی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ فرقان کی آیت ۶۳ میں ارشاد ہے : وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا الایۃ۔’’رحمان کے اصلی بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں۔‘‘اس سوال کو ذرا تامل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتارہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کے ذہن اور اس کی سیرت و کردار کی اولین ترجمان بھی ہوتی ہے۔ ایک عیار آدمی کی چال، ایک غنڈے بدمعاش کی چال، ایک ظالم و جابر کی چال، ایک خود پسند متکبر کی چال، ایک باوقار مہذب آدمی کی چال، ایک غریب مسکین کی چال اور اسی طرح مختلف اقسام کے دوسرے انسانوں کی چالیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتی ہیں کہ ہر ایک کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے۔ مدعا یہ ہے کہ رحمان کے بندوں کو تو عام آدمیوں کے درمیان چلتے پھرتے دیکھ کر ہی بغیر کسی سابقہ تعارف کے الگ پہچان لوگے کہ یہ کس طرز کے لوگ ہیں۔ خدا کی بندگی نے ان کی ذہنیت اور سیرت کو جیسا کچھ بنادیا ہے اس کا اثر ان کی چال تک میں نمایاں ہے۔ ایک آدمی انھیں دیکھ کر پہلی نظر میں جان سکتا ہے کہ یہ شریف اور حلیم ہمدرد لوگ ہیں۔ ان سے کسی شر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الفرقان، حاشیہ: ۷۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، وَغَیْرُ وَاحِدٍ، قَالُوْا : حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، عَنْ عُمَرَبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ مَوْلیٰ غَفَرَۃَ، حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِّنْ وُّلْدِِ عَلِیِِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ عَلِیٌّ، اِذَا وَصَفَ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: اِذَا مَشیٰ تَقَلَّعَ کَاَنَّمَا یَنْحَطُّ فِیْ صَبَبٍ۔
ترجمہ:ابراہیم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ جب نبی ﷺ کی تعریف بیان کرتے تو فرماتے: ’’نبی کریم ﷺ مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے کہ گویا نشیب کی طرف اُتر رہے ہیں۔‘‘
(۲) عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اِذَا مَشیٰ تَکَفَّأَکَاَنَّمَا یَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ۔(۱۷)
(۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُعَاذِبْنِ خَلِیْفٍ، ثَنَا عَبْدُ الْاَعْلیٰ، ثَنَا سَعِیْدُ نِاَلْجَرِیْرِیُّ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ:رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُلْتُ کَیْفَ رَأَیْتَہٗ؟ قَالَ: کَانَ اَبْیَضَ مَلِیْحًا اِذَا مَشیٰ کَاَنَّمَا یَہْوِیْ فِیْ صَبَبٍ۔(۱۸)
ترجمہ :سعید جریری روایت کرتے ہیں کہ ابوالطفیل نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سعید کہتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے رسالت مآب کو کیسا دیکھا۔ بولے: ’’آپ نہایت خوبصورت گورے رنگ کے تھے جب چلتے تو گویا نشیب کی طرف اتررہے ہیں۔‘‘
آپؐ کی عائلی زندگی
۶۸۔ ہُنَّ کَمَا تَریٰ یَسْأَلْنَنِیْ النَّفَقَۃَ۔
’’صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپؐ کی ازواج آپؐ کے گرد بیٹھی ہیں اور آپؐ خاموش ہیں۔ آپؐ نے حضرت عمرؓ کو خطاب کرکے فرمایا: یہ میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ مجھ سے خرچ کے لیے روپیہ مانگ رہی ہیں۔‘‘
تشریح : اس پر دونوں صاحبوںنے اپنی اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تنگ کرتی ہو اور وہ چیز مانگتی ہو جو آپؐ کے پاس نہیں ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ اس وقت کیسی مالی مشکلات میں مبتلاتھے اور کفر و اسلام کی انتہائی شدید کشمکش کے زمانے میں خرچ کے لیے ازواج مطہرات )کے تقاضے مزاج مبارک پر کیا اثر ڈال رہے تھے۔یہ واقعہ جنگ احزاب اور بنی قریظہ سے متصل زمانے ۵ھ کا ہے۔)
(تفہیم القرآن ، ج۴، الاحزاب، حاشیہ: ۴۱)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الْمَالِکِ بْنُ عُمَرَ وَاَبُوْعَامِرٍ، قَالَ ثَنَازَکَرِیّا یعنی ابْنَ اِسْحَاقَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اَقْبَلَ اَبُوْبَکْرٍ یَسْتَأْذِنُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ بِبابِہٖ جُلُوْسٌ فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ، ثُمَّ اَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَلَمْ یُؤذَنْ لَہٗ، ثُمَّ اُذِنَ لِاَبِیْ بَکْرٍوَّعُمَرَ فَدَخَلَا، وَالنَّبِیُّ ﷺ جَالِسٌ وَحَوْلَہٗ نِسَآئُ ہٗ وَہُوَ سَاکِتٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: لَاُکَلِّمَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَعَلَّہٗ یَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ رَأَیْتُ بِنْتَ زَیْدٍ اِمْرَأَۃَ عُمَرَ سَأَلَتْنِی النّفَقَۃَ اٰنِفًا فَوَجَأْتُ عُنُقَہَا، فَضَحِکَ النَّبِِیُّ ﷺ حَتّٰی بَدَا نَوَاجِذُہٗ قَالَ: ہُنَّ حَوْلِیْ کَمَا تَرٰی یَسْئَلْنَنِی النَّفَقَۃَ۔ فَقَامَ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِلیٰ عَائِشَۃَ لِیَضْرِبَہَا وَقَامَ عُمَرُاِلیٰ حَفْصَۃَ، کِلَاہُمَا یَقُوْلَانِ: تَسْأَلَانِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَا لَیْسَ عِنْدَہٗ فَنَہَا ہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْنَ نِسَآؤُہُ وَاللّٰہِ لآنَسْأَلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعْدَ ہٰذَا الْمَجْلِِسِ مَالَیْسَ عِنْدَہٗ الحدیث۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دروازہ پر لوگ بیٹھے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ آئے، اجازت مانگی لیکن اجازت نہ ملی۔ پھر حضرت عمرؓ آئے اور اجازت طلب کی لیکن اجازت نہ ملی، تھوڑی دیر بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کو اجازت دے دی گئی، دونوں اندر چلے گئے۔ نبی ﷺ تشریف فرما ہیں اور آپؐ کی ازواج مطہرات آپؐ کے گرد جمع ہیں، آپؐ خاموش ہیں۔ حضرت عمرؓ نے دل میں کہا، میں رسول اللہ ﷺسے ضرور (دل لگی کی) بات کروں گا شاید آپؐ ہنس پڑیں (خوش ہوجائیں) اس فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے عمرؓ نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! اگر میں زید کی بیٹی، عمرؓ کی بیوی کو اس وقت نفقہ کا مطالبہ کرتے ہوئے پائوں تو اس کی گردن دبوچ ڈالوں۔
اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے حتیّٰ کہ آپؐ کی ڈاڑھیں نمایاں ہوگئیں اور فرمایا یہ تو میرے گردجمع ہیں، تم دیکھ ہی رہے ہو اور نفقہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔ اس پر ابوبکرؓ عائشہ کو مارنے کے لیے اور عمرؓ حفصہ کو مارنے کے لیے یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے تم رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کی طلب کرتی ہو جو آپؐ کے پاس نہیں ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو مارنے سے روک دیا، اس پر ازواج نے عرض کیا، اللہ کی قسم! اس نشست کے بعد ہم رسول اللہ ﷺ سے کسی ایسی چیز کی طلب نہیں کریں گی جو آپؐ کے پاس نہ ہو۔‘‘
ازواج مطہرات کے ساتھ آپؐ کا عدل
۶۹۔بخاری‘ مسلم‘ نسائی‘ ابوداؤد وغیرہم حضرت عائشہ ؓکا قول نقل کرتے ہیں کہ:
سورہ احزاب کی آیت۱ ۵ تُرْجِیْ مَنْ تَشآء ُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکَ۔ ’’تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو‘‘ کے نزول کے بعد بھی حضورؐ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ آپ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے یہاں جاتے تواس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔
ابوبکر جصّاص عُروَہ بن زبیر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے اُن سے فرمایا : ’’رسول اللہ ﷺ باریوں کے تقسیم میں ہم میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگرچہ کم ہی ایسا ہوا تھا کہ آپؐ کسی روز اپنی سب بیویوں کے یہاں نہ جاتے ہوں مگرجس بیوی کی باری کا دن ہوتا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے۔‘‘
اور یہ روایت بھی حضرت عائشہؓ ہی کی ہے کہ جب حضور ﷺاپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپؐ کے لیے مشکل ہو گئی توآپؐ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہؓ کے ہاں رہنے دو، اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپؐ نے آخری زمانہ حضرت عائشہؓ کے ہاں گزارا۔ (تفہیم القرآن ج ۴ ،الاحزاب، حاشیہ: ۹۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسٰی قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ اَخْبَرَنَا عَاصِمُ الْاَحْوَلُ، عَنْ مُعَاذَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ،کَانَ یَسْتَاْذِنُ فِیْ یَْومِ الْمَرْأَۃِ مِنَّا بَعْدَ اَنْ اُنْزِلتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ۔ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْک مَنْ تَشَآئُ الخ۔(۲۰)
(۲) رَوَی عَاصِمُ نِالاَحْوَلُ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَسْتَأْذِِنُنَا فِیْ یَوْمِ اِحْدَانَا بَعْدَ مَا اُنْزِِلَ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ الخ۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ سورہ احزاب کی آیہ کریمہ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ الخ کے نزول کے بعد حضور کا طریقہ یہی رہا کہ آپؐ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے ہاں جاتے تو اس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، قَال:حَدَّثَنَا اَبُوْ دَاؤدَ قَالَ:حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ یعنی ابْنَ اَبِی الزِّنَادِ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا ابْنَ اُخْتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایَفْضُلُ بَعْضَنَا عَلیٰ بَعْضٍ فِی الْقِسْمِ مِنْ مَکْثِہٖ عِنْدَہَا وَکَانَ قَلَّ یَوْمٍ اِلَّا وَہُوَ یَطُوْفُ عَلَیْنَا جَمِیْعًا فَیَدْنُوْ مِنْ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْ غَیْرِ مَسِیْسٍ حَتّٰی یَبْلُغَ اِلَی الَّتِیْ ہُوَ یَوْمَہَا فَیَبِیْتُ عِنْدَہَا الخ ۔(۲۲)
ترجمہ:ابوبکر جصّاص عروہ بن زبیر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے ان سے فرمایا، اے بھانجے رسول اللہ ﷺ باریوں کی تقسیم میں ہم میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگرچہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ آپؐ کسی روز اپنی سب بیویوں کے ہاں نہ جاتے ہوں مگر جس بیوی کی باری کا دن ہوتا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے۔
(۴) حَدَّثَنَا سَعِیْدُبْنُ عُفَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی اللَّیْثُ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاشْتَدَّبِہٖ وَجَعُہٗ اِسْتَأْذَنَ اَزْوَاجَہٗ اَنْ یُّمَرِّضَ فِیْ بَیْتِیْ فَاَذِنَّ لَہٗ الحدیث۔(۲۳)
ترجمہ: عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عائشہؓ نے فرمایا جب حضوؐر اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپؐ کے لیے مشکل ہوگئی تو آپؐ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہؓ کے ہاں رہنے دو، اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپؐ نے آخری زمانہ حضرت عائشہؓ کے ہاںگزارا۔
حضورؐ کا اخلاقی رُعب
۷۰۔(قاضی ابوالحسن الَماوَردیِ نے اپنی کتاب اعلام الّنُبوۃ میں لکھا ہے) ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا ۔وہ بچہ ایک روز اس حالت میں اُس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے اور اُس نے التجا کی کہ اُس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اس سے کچھ دے دے مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجہ تک نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے آخر کار مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں نے ازراہِ شرارت اس سے کہا کہ محمد(ﷺ) کے پاس جاکر شکایت کر، وہ ابوجہل سے سفارش کرکے تجھے تیرا مال دلوادیں گے۔ بچہ بے چارہ ناواقف تھا کہ ابوجہل کا حضورؐسے کیا تعلق ہے اور یہ بدبخت اُسے کس غرض کے لیے مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ سیدھا حضورؐ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپؐ سے بیان کیا۔ آپؐ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن ابوجہل کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپؐ کو دیکھ کر اس نے آپ کا استقبال کیا اور جب آپؐ نے فرمایا کہ اس بچے کا حق اسے دے دو تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لاکر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں، ان دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ وہ کسی مزے دار جھڑپ کی امید کررہے تھے۔ مگر جب انھوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران ہو کر ابوجہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے۔ اس نے کہا خدا کی قسم! میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد (ﷺ) کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی۔
تشریح :اس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں عرب کے ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں کا یتیموں اور دوسرے بے یارومددگار لوگوں کے ساتھ کیا سلوک تھا، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپؐ کے اس اخلاق کا آپؐ کے بدترین دشمنوں تک پر کیا رعب تھا۔
(تفہیم القرآن، ج ۶،الماعون ، حاشیہ: ۵)
۷۱۔ایک دفعہ قبیلہ ٔ اَرَاش کا ایک شخص کچھ اونٹ لے کر مکہ آیا۔ ابوجہل نے اس کے اونٹ خرید لیے اور جب اس نے قیمت طلب کی تو ٹال مٹول کرنے لگا۔ اَرَاشی نے تنگ آکر ایک روز حرمِ کعبہ میں قریش کے سرداروں کو جاپکڑا اور مجمع عام میں فریاد شروع کردی۔ دوسری طرف حرم کے ایک گوشے میں نبی ﷺ تشریف فرماتھے۔ سرداران قریش نے اس شخص سے کہا کہ ’’ہم کچھ نہیں کرسکتے، دیکھو! وہ صاحب جو اس کونے میں بیٹھے ہیں، ان سے جاکر کہو وہ تم کو روپیہ دلادیں گے۔‘‘ اراشی نبی ﷺ کی طرف چلا، اور قریش کے سرداروں نے آپس میں کہا۔’’ آج لطف آئے گا۔‘‘ اراشی نے جاکر حضوؐر سے اپنی شکایت بیان کی۔ آپؐ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابوجہل کے مکان کی طرف روانہ ہوگئے۔ سرداروں نے پیچھے ایک آدمی لگادیا کہ جو کچھ گزرے اس کی خبر لاکردے۔ نبی ﷺسیدھے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور کنڈی کھٹکھٹائی۔ اس نے پوچھا۔’’کون؟‘‘ آپؐ نے جواب دیا’’محمد‘‘ وہ حیران ہوکر باہر نکل آیا۔ آپؐ نے اس سے کہا ’’اس شخص کاحق ادا کردو۔‘‘ اس نے جواب میں کوئی چون وچرانہ کی، اندرگیا اور اس کے اونٹوں کی قیمت لاکر اس کے ہاتھ میں دے دی۔ قریش کا مخبریہ حال دیکھ کر حرم کی طرف دوڑا اور سرداروں کو سارا ماجرا سنادیا اور کہنے لگا کہ واللہ! آج وہ عجیب ماجرا دیکھا ہے جو کبھی نہ دیکھا تھا، حکم بن ہشام (ابوجہل) جب نکلا ہے تو محمد کو دیکھتے ہی اُس کا رنگ فق ہوگیا اور جب محمدؐ نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردو تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حکم بن ہشام کے جسم میں جان نہیں ہے۔ (ابن ہشام، ج اول ص۳۸۹،ج۲،ص۲۹،۳۰: مطبعہ البابی مصر)
تشریح : کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سرگوشیاں کیا کرتے تھے جن کو نبی ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی بڑی فکر لاحق تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص بہر حال نبی تو ہو نہیں سکتا کیوں کہ ہم ہی جیسا انسان ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جو اس کو ہم سے ممتاز کرتی ہو اور ہماری بہ نسبت اس کو خدا سے ایک غیر معمولی تعلق کا مستحق بناتی ہو؟ البتہ اس شخص کی باتوں میں اور اس کی شخصیت میں ایک جادو ہے کہ جو اس کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کے قریب جاتا ہے وہ اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو نہ اس کی سنو اور نہ اس سے میل جول رکھو۔ کیوں کہ اس کی باتیں سننا اور اس کے قریب جانا گویا آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنسنا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء، حاشیہ: ۵)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْمَلِکِ بنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ الثَّقَفِیُّ، وَکَانَ وَاعِیَۃً، قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ اِرَاشٍ۔ قَالَ ابْنُ ہِشَامٍ: وَیُقَالُ: اِرَاشَۃٌ۔ بِابِلٍ لَّہٗ مَکَّۃَ، فَابْتَاعَہَا مِنْہُ اَبُوْجَہْلٍ، فَمَطَلَّہٗ بِاَثْمَانِہَا فَاَقْبَلَ الْاِرَاشِیُّ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ نَادٍ مِّنْ قُرَیْشٍ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ جَالِسٌ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْش، مَنْ رَجُلٌ یُؤدِّیْنیْ عَلیٰ اَبِیْ الْحَکَمِ بْنِ ہِشَامٍ، فَاِنِّیْ رَجُلٌ غَرِیْبٌ ابْنُ سَبِیْلٍ، وَقَدْ غَلَبَنِیْ عَلیٰ حَقِّیْ؟ قَالَ فَقَالَ لَہٗ اَہْلُ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ: اَتَریٰ ذٰلِکَ الرَّجُلَ الْجَالِسَ ـــ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، وَہُمْ یَہْزَئُ وْنَ بِہٖ لَمَّا یَعْلَمُوْنَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ اَبِیْ جَہْلٍ مِنَ الْعَدَاوۃِ ـــ اِذْہَبْ اِلَیْہِ فَاِنَّہٗ یُؤدِّیْکَ عَلَیْہِ۔
فَاَقْبَلَ الْاِرَاشِیُّ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّ اَبَاالْحَکَمِ بْنِ ہِشَامٍ قَدْ غَلَبَنِیْ عَلیٰ حَقٍّ لِّیْ قِبَلَہٗ، وَاَنَا رَجُلٌ غَرِیْبٌ۔ ابْنُ سَبِیْلٍ، وَقَدْ سَأَلْتُ ہٰؤُلَآئِ الْقَوْمَ عَنْ رَجُلٍ یُؤَدِّیْنِیْ عَلَیْہِ، یَأْخُذُ لِیْ حَقِّیْ مِنْہُ، فَاَشَارُوْا لِیْ اِلَیْکَ، فَخُذْ لِیْ حَقِّیْ مِنْہُ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، قَالَ: انْطَلِقْ اِلَیْہِ، وَقَامَ مَعَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَلَمَّارَأَوْہُ قَامَ مَعَہٗ۔ قَالُوْا لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَہُمْ: اِتَّبِعْہُ فَانْظُرْمَاذَا یَصْنَعُ۔
قَالَ:وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی جَائَ ہٗ فَضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہٗ، فَقَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ مُحَمَّدٌ، فَاخْرُجْ اِلَیَّ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، وَمَا فِِیْ وَجْہِِہٖ مِِنْ رَائِحَۃٍ، قَدِانْتُقِعَ لَوْنُہٗ فَقَالَ: اعْطِ ہٰذَا الرَّجُلَ حَقَّہٗ، قَالَ: نَعَمْ، لَا تَبْرَحْ حَتّٰی اُعْطِیَہُ الَّذِیْ لَہٗ، قَالَ: فَدَخَلَ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ بِحَقِّہٖ، فَدَفَعَہٗ اِلَیْہِ۔ قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَقَالَ لِلْاِرَاشِیِّ: اِلْحَقْ بِشَأنِکَ، فَاَقْبَلَ الْاِرَاشِیُّ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ، فَقَالَ: جَزَاہٗ اللّٰہُ خَیْرًا، فَقَدْ واللّٰہِ اَخَذَ لِیْ حَقِّیْ۔
قَالَ:وَجَائَ الرَّجُلُ الَّذِیْ بَعَثُوْا مَعَہٗ، فَقَالُوْا: وَیْحَکَ! مَاذَا رَأَیْتَ؟ قَالَ: عَجَبًا مِنَ الْعَجَائِبِ، وَاللّٰہِ مَا ہُوَ اِلَّا اَنْ ضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہٗ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ وَمَا مَعَہٗ رُوْحُہٗ، فَقَالَ لَہٗ: اَعْطِ ہٰذَا حَقَّہٗ، فَقَالَ نَعَمْ، لَا تَبْرَحْ حَتّٰی اُخْرِجَ اِلَیْہِ حَقَّہٗ۔ فَدَخَلَ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ بِحَقِّہٖ، فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔ قَالَ: لَمْ یَلْبَثْ اَبُوْجَہْلٍ اَنْ جَائَ، فَقَالُوْا لَہٗ: وَیْلَکَ! مَالَکَ؟ وَاللّٰہِِ مَارَأیْنَا مِثْلَ مَاصَنَعْتَ قَطُّ! قَالَ وَیْحَکُمْ وَاللّٰہِ مَا ہُوَ اِلَّا اَنْ ضَرَبَ عَلَیَّ بَابِیْ، وَسَمِعْتُ صَوْتَہٗ، فَمُلِئْتُ رُعْبًا، ثُمَّ خَرَجْتُ اِلَیْہِ وَاِنَّ فَوْقَ رَأْسِہٖ لَفَحْلًا مِنَ الْاِِبِلِ، مَارَأَیْتُ مِثْلَ ہَامَتِہٖ، وَلَا قَصْرَتِہٖ، وَلَا اَنْیَابِہٖ، لِفَحْلٍ قَطُّ، وَاللّٰہِ لَواَ بَیْتُ لَا کَلَنِیْ۔(۲۴)
آپؐ پر ساحری کا الزام
۷۲۔ جس چیز کی وجہ سے وہ نبی ﷺ پر ’’سحر‘‘ کا الزام چسپاں کرتے تھے اس کی چند مثالیں آپؐ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق متوفی ۱۵۲ھ نے بیان کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ (ابوسفیان کے خسر، ہند جگر خوار کے باپ) نے سرداران قریش سے کہا، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جاکر محمدؐ سے ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں۔ یہ حضرت حمزہؓ کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے جب کہ نبی ﷺ کے صحابہ کی تعداد روز بروزبڑھتے دیکھ کر اکابر قریش سخت پریشان ہورہے تھے۔ لوگوں نے کہا ابولولید، تم پر پورا اطمینان ہے، ضرور جاکر اس سے بات کرو۔ وہ حضوؐر کے پاس پہنچا اور کہنے لگا بھتیجے، ہمارے ہاں تم کو جو عزت حاصل تھی، تم خود جانتے ہو، اور نسب میں بھی تم ایک شریف ترین گھرانے کے فرد ہو۔ تم اپنی قوم پر یہ کیا مصیبت لے آئے ہو؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھہرایا اس کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ باپ دادا جو مرچکے ہیں ان سب کو تم نے گمراہ اور کافر بنادیا۔ بھتیجے، اگر ان باتوں سے تمھارا مقصد دنیا میں اپنی بڑائی قائم کرنا ہے تو آئو ہم سب مل کر تم کو اتنا روپیہ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہو جائو۔ سرداری چاہتے ہو تو ہم تمھیں سردار مانے لیتے ہیں۔ بادشاہی چاہتے ہو تو بادشاہ بنادیتے ہیں۔ اور اگر تمھیں کوئی بیماری ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تم کو واقعی سوتے یا جاگتے میں کچھ نظر آنے لگا ہے تو ہم سب مل کر بہترین طبیبوں سے تمھارا علاج کرائے دیتے ہیں۔ یہ باتیں وہ کرتا رہا اور نبی ﷺ خاموش سنتے رہے۔
جب وہ خوب بول چکا تو آپؐ نے فرمایا۔ اچھا اب میری سنو۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، حٰمٓ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسلسل آپ سورۂ حٰمٓ السجدہ کی تلاوت فرماتے رہے اور عتبہ پیچھے ہاتھ ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ اڑتیسویں آیت پر پہنچ کر آپؐ نے سجدہ کیا۔ اور پھر سراٹھاکر عتبہ سے فرمایا، ’’ابوالولید، جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام‘‘ عتبہ وہاں سے اُٹھ کر سرداران قریش کی طرف پلٹا تو لوگوں نے دور ہی سے اس کو آتے دیکھ کر کہا۔ ’’خدا کی قسم!ابوالولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے۔ یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر وہ گیا تھا۔‘‘ اس کے پہنچتے ہی لوگوں نے سوال کیا، کہو ابوالولید! کیا کرآئے ہو؟ اس نے کہا۔ ’’خدا کی قسم! آج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ واللہ یہ شعر نہیں ہے ، نہ سحر ہے اور نہ کہانت۔ اے معشر قریش! میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کی باتیں جو میں نے سنی ہیں، رنگ لاکر رہیں گی۔اگر عرب اس پر غالب آگئے تو اپنے بھائی کا خون تمھاری گردن پر نہ ہوگا، دوسروں پر ہوگا۔ اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمھاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمھاری عزت ۔ لوگوں نے کہا۔ ’’واللہ ! ابوالولید تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’یہ میری رائے ہے، اب تم جانو اور تمھارا کام۔‘‘ یہ تھا کلام کا اثر جس کو وہ لوگ جادو قرار دیتے تھے اور ناواقف لوگوں کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ جانا ورنہ جادو کردے گا اور وہ تھا شخصیت اور سیرت و کردار کا اثر۔ (ابن ہشام۱؎ جلد اول ،ص:۳۱۳،۳۱۴)
بیہقی نے اس واقعہ کے متعلق جو روایات جمع کی ہیں ان میں سے ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضورؐ سورہ حٰمٓ السجدہکی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃَ مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍوَّ ثَمُوْدَ۔تو عتبہ نے بے اختیار آگے بڑھ کر آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔
(تفہیم القرآن، ج ۳، الانبیاء ، حاشیہ:۵)
آں حضورؐ اور شعرو شاعری
۷۳۔ (معتبر روایات میں آیا ہے) کہ کوئی شعر حضورؐ کو پورا یاد نہ تھا۔ دوران گفتگو کبھی کسی شاعر کا کوئی اچھا شعر زبان مبارک پر آتا بھی تو غیرموزوں پڑھ جاتے تھے۔ حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوران تقریر آپؐ نے شاعر کا مصرعہ یوں نقل کیا:
کَفیٰ بِالْاِسْلَامِ وَالشَّیْبِ لِلْمَرْئِ نَا ہِیًا
حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یارسولؐاللہ! اصل مصرعہ یوں ہے:
کَفَی الشَّیْبُ وَالْاِسْلَامُ لِلْمَرْئِ نَا ہِِیًا
ایک مرتبہ عباس بن مرداس سلمی سے آپؐ نے پوچھا، کیا تم ہی نے یہ شعر کہا ہے:
اَتَجْعَلُ نَھْبِیْ وَنَھْبَ الْعبِیْدِ وَبَیْنَ الْاَقْرَعِ وَعُیَیْنَۃَ
انھوں نے عرض کیا آخری فقرہ یوں نہیں ہے بلکہ یوں ہے ۔ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَع۔ آپؐ نے فرمایا: معنی میںتو دونوں یکساں ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الشعراء، حاشیہ: ۱۴۳)
تخریج:(۱) قَالَ ابنُ اَبِیْ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْسََلَمَۃَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ عَلِّیِ بْنِ زَیْدٍٍٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصَرِیّ قَالَ: اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَتَمثَّلُ بِھٰذَا الْبَیْتِ کَفٰی بِالْاِسْلَامِ وَالشَّیْبِ لِلْمَرْئِ نَاھِیًا فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ رََضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَفیَ الْشّیْبُ وَالْاِسْلَامُ نَاھِیاً۔(۲۵)
(۲) قَالَ ابْنُ ہِشَامٍ وَحَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ اَنَّ عَبَّاسَ بْنَ مرْدَاسٍ اَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْتَ الْقَائِلُ فَاَصْبَحَ نَہْبِیْ وَنَہْبُ الْعَبِیْدِ بَیْنَ الْاَقْرَعِ وَعُیَیْنَۃَ؟ فَقَالَ اَبُوْبَکْرنِالصِّدّیْقُ۔ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَعِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ہُمَا وَاحِدٌ۔ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: اَشْہَدُ اَنَّکَ، کَمَا قَالَ اللّٰہُ: وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ۔(۲۶)
ترجمہ:ابن ہشام کا بیان ہے کہ مجھے بعض اہل علم نے بتایا کہ عباس بن مرداس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آں حضورؐ ﷺنے اس سے پوچھا : کہ یہ شعر فَاَصْبَحَ نَہْبِیْ وَنَہْبُ الْعَبیْد بَیْنَ الْاَقْرَع وَعُیَیْنَۃَ تم نے ہی کہا ہے؟ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ صدیق نے عرض کیا۔ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَع ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔’’معنی میں تو دونوں یکساں ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ ارشادِ باری تعالیٰ وَمَا عَلَّمْنَا ہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ کے صحیح مصداق ہیں۔
۷۴۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیاکہ حضورؐ کبھی اشعار بھی اپنی تقریروں میں استعمال فرماتے تھے؟ انھوں نے فرمایا شعر سے بڑھ کر آپؐ کو کسی چیز سے نفرت نہ تھی ۔ البتہ کبھی کبھار بنی قیس کے شاعر کا ایک شعر پڑھتے تھے مگر اوّل کو آخر اور آخر کو اوّل پڑھ جاتے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ عرض کرتے یا رسول اللہ ﷺیوں نہیں بلکہ یوں ہے، تو’’ آپؐ فرماتے کہ بھائی میں شاعر نہیں ہوں، اور نہ شعر گوئی میرے کرنے کا کام ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن ،ج۳ ،الشعراء ،حاشیہ :۱۴۳)
تخریج:(۱) قَالَ بَلَغَنِیْ اَنَّہٗ قِِیْلَ لِِعَائِشَۃَ۔ ہَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَمَثَّلَ بشَیٍْٔ مِنَ الشِِّعْرِ؟ قَالَتْ: کَانَ اَبْغَضَ الْحَدِیْثِ اِلَیْہِ، غَیْرَ اَنَّہٗ کَانَ یَتَمَثَّلُ بِبَیْتِ اَخِیْ بَنِیْ قَیْسٍ فَیَجْعَلُ اَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ یَقُوْلُ: وَیَاتِیْکَ مَنْ لَّمْ تُزَوِّد بِالْاَخْبَارِفَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: لَیْسَ ہٰکَذا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّیْ وَاللّٰہِ مَا اَنَا بِشَاعِرٍ وَلَا یَنْبَغیْ لِیْ۔(۲۷)
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ اَبِی الرَّبِیْعِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فیْ قَوْلِہٖ۔وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ قَالَ: بَلَغْنِیْ اَنَّ عَائِشَۃَ سُئِلَتْ ہَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَتَمَثَّلُ بِشَیٍْٔ مِّنَ الشِّعْرِ فَقَالَتْ: لَا اِلَّا بِبَیْتِ اَخِیْ بَنِیْ قَیْسِ بْن طَرَفَۃَ۔
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَاکُنْتَ جَاہِلًا وَیَأْ تِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّد
قَالَ فَجَعَلَ النَّبِِیُّ ﷺ یَقُوْلُ:
یَأْتِیْکَ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدْ بِالْاَخْبَارِ
فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: لَیْسَ ہٰکَذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: اِنِّیْ لَسْتُ بِِشَاعِرٍ وَلَا یَنْبَغِیْ لِیْ۔(۲۸)
۷۵۔ لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا خَیْرٌلَّہٗ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیَٔ شِعْرًا۔
’’تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر ے۔‘‘
تشریح : جس قسم کے مضامین سے عرب کی شاعری لبریزتھی وہ یا تو شہوانیت اور عشق بازی کے مضامین تھے، یا شراب نوشی کے، یا قبائلی منافرت اور جنگ و جدل کے، یا نسلی فخروغرور کے، نیکی اور بھلائی کی باتیں ان میں بہت ہی کم پائی جاتی تھیں۔ پھر جھوٹ، مبالغہ، بہتان، ہجو، بے جا تعریف، ڈینگیں، طعن، پھبتیاں اور مشرکانہ خرافات تو اس شاعری کی رگ رگ میں پیوست تھیں۔ اسی لیے نبی ﷺ کی رائے اس شاعری کے بارے میں یہ تھی کہ تم میں سے کسی شخض کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے کیوںکہ شاعر ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں یعنی کوئی ایک راہ متعین نہیں ہے جس پر وہ سوچتے اور اپنی قوت گویائی صرف کرتے ہوں۔ بلکہ ان کا تَوسَنِ فکر ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہر وادی میں بھٹکتا پھرتاہے اور جذبات یا خواہشات و اغراض کی ہر نئی رَو اُن کی زبان سے ایک نیا مضمون اداکراتی ہے جسے سوچنے اور بیان کرنے میں اس بات کا کوئی لحاظ سرے سے ہوتا ہی نہیں کہ یہ بات حق اور صدق بھی ہے۔ کبھی ایک لہر اٹھی تو حکمت اور موعظت کی باتیںہونے لگیں اور کبھی د وسری لہر آئی تو اس زبان سے انتہائی گندے سفلی جذبات کا ترشح شروع ہو گیا۔ کبھی کسی سے خوش ہوئے تو اُ سے آسمان پر چڑھا دیا اور کبھی بگڑ بیٹھے تو اسکو تحت الثّریٰ میں جا گرایا۔ ایک بخیل کو حاتم اور ایک بزدل کو رستم و اسفندیار پر فضیلت دینے میں انھیں ذرا تامل نہیں ہوتا اگر اس سے کوئی غرض وابستہ ہو۔ اس کے برعکس کسی سے رنج پہنچ جائے تو اس کی پاک زندگی پر دھبّہ لگانے اوراس کی عزت پر خاک پھینکنے میں، بلکہ اس کے نسب پر طعن کرنے میں بھی ان کو شرم محسوس نہیں ہوتی۔ خدا پرستی اور دہریت ، مادہ پرستی اور روحانیت، حسن اخلاق اور بداخلاقی، پاکیزگی اور گندگی، سنجیدگی اور ہزل، قصیدہ اور ہجو سب کچھ ایک ہی شاعر کے کلام میں آپ کو پہلو بہ پہلو مل جائے گا۔ شعراء کی ان معروف خصوصیات سے جو شخص واقف ہو اس کے دماغ میں آخریہ بے تکی بات کیسے اتر سکتی ہے کہ اس قرآن کے لانے والے پر شاعری کی تہمت رکھی جائے جس کی تقریر جچی تلی، جس کی بات دو ٹوک، جس کی راہ بالکل واضح اور متعین ہے اور جس نے حق اور راستی اور بھلائی کی دعوت سے ہٹ کر کبھی ایک کلمہ بھی زبان سے نہیں نکالا ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳، الشعراء، حاشیہ :۱۴۳)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسیٰ، قَالَ: اَخْبَرَنَا حَنْظَلَۃُ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَنْ یَّمْتَلِیَ شِعْرًا۔(۲۹)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے انھوں نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کیا کہ آپؐ نے فرمایا’’تم میں سے کسی شخص کاپیٹ پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔‘‘
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَاَنْ یَّمْتَلِیَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَیْحًا حَتّٰی یَرِیَۃٗ، خَیْرٌمِّنْ اَنْ یَّمْتَلِیَ شِعْرًا۔(۳۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی کا پیٹ اگر پیپ سے اس قدر بھر جائے کہ وہ اس کے پھیپھڑوں تک پہنچ جائے، اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ اپنے پیٹ کو شعر سے بھرے۔
(۳) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَالْعَرَج اِذْعَرَضَ شاعِرٌ یُنْشِِدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: خُذُوْا الشَّیْطَانَ! اَوْاَمْسِکُوا الشَّیْطَانَ، لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا، خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ یَّمْتَلِیَٔ شِعْرًا۔(۳۱)
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے : ’’ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام عرج پر سفر کررہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے سے شعر کہتا ہوا نمودار ہواتو نبی ﷺ نے فرمایا:پکڑو اس شیطان کو یا فرمایا روکو اس شیطان کو، تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرجانا اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔‘‘
۷۶۔ اِنَّ مِنَ الِشّعْرِ لَحِکْمَۃً۔
’’جس شعر میں کوئی اچھی بات ہوتی تو آپؐ اس کی داد دیتے، آپؐ کا ارشاد تھا: ’’بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں ۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: نَااَخْبَرَنِْی اَبُوْبَکْرِبْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، اَخْبَرَہٗ اِنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِبْنَ عَبْدِیَغُوْثَ۔اَخْبَرَہٗ اَنَّ اُبَیَّ ابْنَ کَعْبٍ، اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ: اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔(۳۲)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب نے بتایا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں۔‘‘
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَآئَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَجَعَلَ یَتَکَلَّمُ بِکَلَامٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا، وَاِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکَمًا۔(۳۳)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ ایک بدوی دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہایت عمدہ انداز میں گفتگو کرنا شروع کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بعض گفتگوئیں سحر انگیز ہوتی ہیں اور بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں۔
۷۷۔ اٰمَنَ شِعْرُہٗ وَکَفَرَ قَلْبُہٗ۔
’’امیّہ بن ابی الصَّلت کا کلام سن کر آپؐ نے فرمایا کہ ’’اس کا شعر مومن ہے مگر اس کا دل کافر ہے۔‘‘
تخریج:(۱) وَکَانَ اُمَیَّۃُ قَدْ قَرَئَ الْکُتُبَ وَرَغِبَ عَنْ عِبَادَۃِ الْاَوْثَانِ وَکَانَ یُخْبِرُ بِاَنَّ نَبِیًّا یُبْعَثُ قَدْ اَظَلَّ زَمَانُہٗ فَلَمَّا سَمِعَ بِخُرُوْجِ النَّبِیِّ ﷺ کَفَرَ حَسَدًا لَّہٗ۔ وَلَمَّا اَنْشَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ شِعْرَہ قَالَ: اٰمَنَ لِسَانُہٗ وَکَفَرَ قَلْبُہٗ۔(۳۴)
ترجمہ : اُمیہ بن ابی الصلت سابقہ کتب (سماوی) پڑھ کر بتوں کی پوجا پاٹ سے بے زار و بے رغبت ہوچکا تھا۔ اور لوگوں کو یہ خبردیتا تھا کہ ایک عظیم نبی کی بعثت کا وقت آن پہنچا ہے ۔ مگر جب اس نے سنا کہ نبی ﷺ نے ظہورفرمایا ہے تو مارے حسد کے آپ کی نبوت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ جب کبھی اس کا شعر پڑھتے تو فرماتے کہ اس کی زبان (شعر) مومن ہے مگر اس کا دل کافر ہے۔
۷۸۔ایک مرتبہ ایک صحابی نے سو کے قریب عمدہ عمدہ اشعار آپؐ کو سنائے اور آپؐ فرماتے گئے ’’اور سناؤ‘‘۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُوالنَّاقِدُ، وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، کِلَاہُمَا عَنِ ابْنِِ اَبِیْ عُیَیْنَۃَ، قَالَ ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ اِبْرَا ہِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ عُمَرَبْنِ الشَّرِیْدِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: رَدَفْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ: ہَلْ مَعَکَ مِنْ شِعْرِ اُمَیَّۃَ بْنِ اَبِی الصَّلْتِ شَیْئًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ہِیْہِ، فَانْشَدْ تُّہٗ بَیْتًا۔ فَقَالَ: ہِیْہِ۔ ثُمَّ اَنْشَدْ تُّہٗ، بَیْتًا، فَقَالَ: ہِیْہِ حَتّٰی اَنْشَدْ تُّہٗ مِائَۃَ بَیْتٍ۔(۳۵)
ترجمہ: عمر اپنے باپ شرید سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک روز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ہی کی سواری پر سوار تھا کہ آپؐ نے فرمایا اُمیہ بن ابی الصّلت کا کوئی شعر تمھیں یاد ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا، ہاں، آپؐ نے فرمایا ’’سنائو‘‘ چنانچہ میں نے آپؐ کو امیہ کا ایک شعر سنایا۔ پھر فرمایا: ’’اور سنائو‘‘ میں نے ایک اور شعر سنادیا۔پھر فرمایا: اور سنائو، اس طرح میں نے آپؐ کو امیہ کے سو شعر سنائے۔
دفاعی شاعری
۷۹۔ اُھْجُھُمْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ عَلَیْھِمْ مِنَ النَّّبْلِ۔
’’ حضرت کعب بن مالکؓ سے آپؐ نے فرمایا: ’’ان کی ہجو کہو، کیونکہ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ تمھارا شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیزہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا جَعْفَرابْنُ سُلَیْمَانَ، انبانا ثَابِِِتٌ عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ دَخَلَ مَکَّۃَ فِی عُمْرَۃِ الْقَضَائِ، وَابْنُ رَوَاحَۃَ یَمْشِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَہُوَ یَقُوْلُ: خَلُّوْا بَنِی الکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہٖ الْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلیٰ تَنْزِیْلِہٖ ضَرْبًا یُزِیْلُ الْہَامَ عَنْ مَقِیْلِہٖ وَیُذْہِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہٖ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ: یَابْنَ رَوَاحَۃَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَفِیْ حَرَمِ اللّٰہِ تَعَالیٰ تَقُوْلُ شِعْرًا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: خَلِّ عَنْہُ یَا عُمَرُ، فَلَہِیَ اَسْرَعُ فِیْہِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ۔(۳۶)
ترجمہ: حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عمرۃ القضاء کے لیے مکہ میں داخل ہوئے۔ ابن رواحہ آپؐ کے آگے آگے یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔’’ اے کفار کی اولاد ان کے راستہ سے ہٹ جائو۔ آج رسول اللہ ﷺ کو روکنے پر ہم تمھاری کھوپڑیوں پر تلوار کی ایسی ضرب لگائیں گے کہ سرتن سے جدا ہوجائیں گے۔ اور دوست اپنے دوست کو بھول جائے گا۔ حضرت عمرؓ بولے ۔ اے ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے آگے حرم مکہ میں شعر کہہ رہے ہو۔ نبی ﷺ نے عمرؓ کی بات سن کر فرمایا: عمرؓ! ان اشعار کا اثر ان پر تیر سے بھی زیادہ تیز ہے لہٰذا اسے چھوڑ و کہنے دو۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ خَالِدُ ابْنُ یَزیْدَ، حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُبْنُ اَبِیْ ہِلَالٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غزِیَّۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اُہْجُوْا قُرَیْشًَا فَاِنَّہٗ اَشَدُّعَلَیْہِمْ مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ۔(۳۷)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت حسان کو حکم دیا کہ قریش کی ہجو کہو۔ کیوں کہ یہ ان پر تیر سے زیادہ گراں گزرتی ہے۔
(۳) اَخْرَجَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ سیرین قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃً وَہُمْ فِیْ سَفَرٍ اَیْنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ؟ فَقَالَ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَیْکَ قَالَ:خُذْ! فَجَعَلَ یُنْشِدُہٗ وَیُصْغِیْ اِلَیْہِ حَتّٰی فَرَغَ نَشِیْدَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ: لَہٰذَا اَشَدُّ عَلَیْہِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ۔(۳۸)
ترجمہ:ابن سیرین سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک رات جب کہ وہ سب سفر میں تھے، فرمایا کہ ’’حسان کہاں ہیں؟ حسانؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سعادت سے نوازے، حضور ﷺنے فرمایا: خبر لو! چناں چہ انھوں نے شعر کہنا شروع کردیے۔ آپؐ پوری توجہ سے ان کے اشعار سماعت فرماتے رہے تا آں کہ حضرت حسّانؓ نے شعر گوئی بند کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یقینا یہ شعر ان پر تیر سے زیادہ سخت ہے۔‘‘
۸۰۔ اُھْجُھُمْ وَجِبْرِیْلُ مَعَکَ – قُلْ وَرُوْحُ الْقُدُسِ مَعَکَ۔
’’ان کی خبر لو اور جبریل تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ ’’کہو اور روح القدس تمھارے ساتھ ہیں۔‘‘
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا سُلْیمَانُ بْنُ حَرْبٍٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابتٍ۔عَنِ الْبَرَآئِ، اَنَّ النَّبیَّﷺ، قَالَ لِحَسَّانَ، اُھْجُھُمْ، اَوْقَالَ: ھَاجِھِمْ وَجِبْرِیْلُ مَعَکَ۔(۳۹)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت حسّان سے فرمایا کہ ان کی ہجو کہو، جبریل ؑ تمھارے ساتھ ہیں۔
(۲) زَادَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ طَہْمَاَنَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ قُرَیْظَۃَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اُہْجُ الْمُشْرِکِیْنَ فَاِنَّ جِبْرِیْلَ مَعَکَ۔(۴۰)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قریظہ کے ساتھ معرکہ آرائی کے روز حضرت حسانؓ کو حکم دیا کہ مشرکین کی ہجو کہوجبرئیل ؑ تمہارے ساتھ ہیں۔
(۳)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُوْسیٰ الْفَزَاریُّ، وَعَلیُّ بْنُ حَجْرٍوَالْمَعْنیٰ وَاحِدٌ قَالَا: انبانا عَبْدُ الرّحْمٰنِ بْنُ اَبِی الزِّنَادِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَضَعُ لِحَسَّانَ ابْنِ ثَابِتٍ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہِ قَائِمًا۔ یُفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَوْقالَ یُنَافِحُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: اِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِِرُوحِ الْقُدُسِ مَا یُنَافِحُ اَوْیُفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۴۱)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حسّان بن ثابت کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھواتے تھے۔ حسّان اس پر سیدھے کھڑے ہوکر اشعار کہتے جن سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَصِیْصِیُّ (لوین)، ثنا ابی الزِّنَادِ عَنْ ابِیْہِ، عَنْ عُرْوَۃَ، وَہِِشَامٍ عَنْ عُرْوۃ،عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ یَہْجُوْمَنْ قَالَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۴۲)
۸۱۔ اِنّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہٖ وَلِسَانِہٖ۔
’’مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور زبان سے بھی۔‘‘
تشریح : (شاعروںکو مندرجہ بالا احادیث میں یہ کہا گیا ہے کہ) وہ شخصی اغراض کے لیے تو کسی کی ہجو نہ کریں، نہ ذاتی یا نسلی وقومی عصبیتوں کے خاطر انتقام کی آگ بھڑکائیں، مگر جب ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے ضرورت پیش آئے تو پھر زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیروشمشیرسے لیتا ہے۔ ہر وقت گھگھیاتے ہی رہنا اور مقابلے میں نیاز مندانہ معروضات ہی پیش کرتے رہنا مومنوں کا شیوہ نہیں ہے اسی کے متعلق روایات میں ہے کہ کفار و مشرکین کے شاعر، اسلام اور نبی ﷺ کے خلاف الزامات کا جو طوفان اٹھاتے اور نفرت و عداوت کا جو زہر پھیلاتے تھے اس کا جواب دینے کے لئے حضورؐ خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳ ، شعراء،حاشیہ:۴۵ ۱)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہٗ قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَنْزَلَ فیِ الشُّعَرَآئِ مَااَنْزَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ۔اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُبِسَیْفِہٖ وَلِسَانِہٖ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَکَأَنَّ مَاتَرْمُوْنَھُمْ بِہٖ نَضْحَ النَّبْلِ۔(۴۳)
ترجمہ: عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالکؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیاکہ اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں شعراء کے بارے میں جو کچھ نازل فرمایا ہے وہ تو نازل فرمایا ہی ہے ( آپؐ کو اچھی طرح معلوم ہے) اس پر نبیﷺ نے فرمایا :’’بے شک مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور اپنی زبان سے بھی۔ قسم ہے اس ذات گرامی کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمھارا شعر ان پر تیر کی طرح لگتا ہے۔‘‘
وَفِیْ الْاِسْتِیْعَابِ لِابْنِ عَبْدِالْبَرِّّ قَالَ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَاذَا تَریٰ فِی الشِّعْرِ؟ فَقَالَ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاہِدُ بِسَیْفِہٖ وَلِسَانِہٖ۔
سفر طائف سے واپسی پرربِّ کائنات کے حضور دعا
۸۲۔خداوندا! میں تیرے ہی حضور اپنی بے بسی وبے چارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی تو ہی ہے ۔ مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ سے درشتی کے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پا لے؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی مصیبت کی پرواہ نہیں، مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہو جائے تو اس میں میرے لئے زیادہ کشادگی ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اُس نور کی جو اندھیرے میں اُجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے۔ مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پہ نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہو جاؤں۔ تیری مرضی پر راضی ہوں یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے، کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں۔ (ابن ہشام،ج۲،ص:۶۲)
تشریح: ۱۰ نبوی حضورؐ کی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا۔ تین برس سے قریش کے تمام قبیلوں نے مل کر بنی ہاشم اور مسلمانوں کا مکمل مقاطعہ کر رکھا تھا اور حضورؐ اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شِعبِ ابی طالب( شعبِ ابی طالب مکہ معظمہ کے محلے کا نام ہے جس میں بنی ہاشم رہاکرتے تھے۔ شعب عربی زبان میں گھاٹی کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ محلہ کوہ ابو قبیس کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں واقع تھا اور ابوطالب بنی ہاشم کے سردار تھے۔ اس لیے اسے شعبِ ابی طالب کہاجاتاتھا۔ مکہ معظمہ میں جو مکان آج مقامی روایات کے مطابق نبی ﷺ کے مقامِ پیدائش کی حیثیت سے معروف ہے، اسی کے قریب یہ گھاٹی واقع تھی۔ اب اسے شعبِ علی یاشعبِ بنی ہاشم کہتے ہیں۔
) میں محصور تھے۔ قریش کے لوگوں نے ہر طرف سے اس محلے کی ناکہ بندی کر رکھی تھی جس سے گزر کر کسی قسم کی رسد اندرنہ پہنچ سکتی تھی۔ صرف حج کے زمانہ میں یہ محصورین نکل کر کچھ خریداری کر سکتے تھے، مگر ابو لہب جب بھی ان میں سے کسی کو بازار کی طرف، یا کسی تجارتی قافلے کی طرف جاتے دیکھتا، پکار کر تاجروں سے کہہ دیتاکہ جو چیزیہ خریدنا چاہیں اس کی قیمت اتنی زیادہ بتاؤکہ یہ نہ خرید سکیں، پھر وہ چیز میں تم سے خرید لونگا اورتمہارا نقصان نہ ہونے دوں گا۔ متواتر تین سال کے اس مقاطعہ نے مسلمانوں اور بنی ہاشم کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ اور ان پر ایسے ایسے سخت وقت گزر گئے جس میں بسا اوقات گھاس اور پتے کھانے کی نوبت آ جاتی۔
خدا خدا کر کے یہ محاصرہ اس سال ٹوٹاہی تھا کہ حضورؐ کے چچا ابو طالب جو دس سال سے آپؐ کے لئے ڈھال بنے ہوئے تھے، وفات پا گئے۔ اور اس سانحے پر بمشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ آپؐ کی رفیق حیات حضرت خدیجہؓ بھی انتقال فرماگئیں جن کی ذات آغازِ نبوت سے لے کر اس وقت تک آپ کے لئے وجہ سکون وتسلی بنی رہی تھی۔ ان پے درپے صدموں اور تکلیفوں کی وجہ سے حضورؐ اس سال کو عام الحزن (رنج و غم کا سال) فرمایا کرتے تھے۔
حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات کے بعدکفارِ مکّہ نبی ﷺ کے مقابلے میں اورزیادہ دلیر ہو گئے پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے۔ حتّٰی کہ آپ کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا۔ اسی زمانے کا یہ واقعہ ابنِ ہشام نے بیان کیا ہے کہ ایک روزقریش کے اوباشوں میں سے ایک شخص نے سرِ بازار آپؐ کے سر پہ مٹی پھینک دی۔
آخر کار آپؐ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ بنی ثقیف کو اسلام کی دعوت دیں اور اگر وہ اسلام نہ قبول کریں تو انھیں کم ازکم اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپؐ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں۔ آپؐ کو اس وقت کوئی سواری تک میسّر نہ تھی۔ مکہ سے طائف تک کا سارا سفر آپؐ نے پیدل طے کیا۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ کے ساتھ صرف زید بن حارثہ تھے۔ وہاں پہنچ کر چند روزآپؐ نے قیام کیا اور ثقیف کے سرداروں اور معزّزین میں سے ایک ایک کے پاس جاکر بات کی۔ مگر انھوں نے نہ صرف یہ کہ آپؐ کی کوئی بات نہ مانی، بلکہ آپؐ کو صاف صاف نوٹس دے دیا کہ ان کے شہر سے نکل جائیں کیونکہ ان کو اندیشہ ہو گیا تھاکہ کہیں آپ کی تبلیغ ان کے نوجوانوں کو’’ بگاڑ‘‘ نہ دے۔ مجبوراً آپؐ کو طائف چھوڑ دینا پڑا۔ جب آپؐ وہاں سے نکلنے لگے تو ثقیف کے سرداروں نے اپنے ہاں کے لفنگوں کوآپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ راستے کے دونوں طرف دور تک آپؐ پر آوازیں کستے، گالیاں دیتے اور پتھر مارتے چلے گئے یہاں تک کہ آپؐ زخموں سے چور ہو گئے۔ اور آپؐ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔اس حالت میں آپؐ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے (مندرجہ بالا) دعا کی۔
دل شکستہ و غمگین پلٹ کر جب آپؐ قَرنِ المنازل کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ آسمان پر ایک بادل سا چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام سامنے تھے۔ انھوں نے پکار کر کہا۔ ’’آپؐ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیا ہے اللہ نے اسے سن لیا، اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجاہے، آپؐ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں۔‘‘ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے آپؐ کو سلام کر کے عرض کیا۔ ’’آپؐ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں‘‘۔آپؐ نے جواب دیا، نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا کرے گاجو اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کریںگے۔ ‘‘
(بخاری، مسلم،نسائی)
اس کے بعد آپؐ چند روز نخلہ کے مقام پر جا کر ٹھہر گئے، پریشان تھے کہ اب کیسے مکّہ واپس جاؤں۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں پہنچ چکی ہوں گی۔ اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہو جائیں گے۔ انہیں ایّام میں ایک روز رات کو آپؐ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا، انھوں نے قرآن سنا، ایمان لائے واپس جاکراپنی قوم میںاسلام کی تبلیغ شروع کر دی، اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کو یہ خوش خبری سنائی کہ انسان چاہے آپؐ کی دعوت سے بھاگ رہے ہوں، مگر بہت سے جن اس کے گرویدہ ہو گئے ہیں اور وہ اسے اپنی جنس میں پھیلا رہے ہیں۔
(تفہیم القرآن ج۴، الاحقاف:تاریخی پس منظر)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ زیَادٍٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِِ کَعْبِ نِالْقُرَظِیِّ قَالَ: ـــــ فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فِیْمَا ذُکِرَ لِیْ۔ اَللّٰھُمَّ! اِلَیْکَ اَشْکُوْا ضَعْفَ قُوَّتِِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَاَنْتَ رَبِّی، اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ؟ اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمَنِیْ؟اَمْ اِلٰی عَدُوٍّ مَلَّکْتَہٗ اَمْرِِیْ؟ اِِنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلاَ اُبَالِیْ، وَلٰکِنْ عَافِیَتَکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ وَصَلَحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ مِنْ اَنْ تَنْزِلَ بِیْ غَضَبُکَ اَوْیَحِِلَّ عَلَیَّ سَخْطُکَ لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّۃَ اِلاَّ بِکَ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، اَنَا بْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، ثَنِیْ عُرْوَۃُ، اَنَّ عَائِِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ حَدَّثَتْہُ، اَنَّھَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ﷺ ھَلْ اَتٰی عَلَیْکَ یَوْمٌ کَانَ اَشَدُّ عَلَیْکَ مِنْ یَوْمِ اُحُدٍ؟ قَالَ: لَقَدْ لَقِیْتُ مِنْ قَوْمِکَ مَالَقِیْتُ وَکَانَ اَشَدُّ مَا لَقِیْتُ مِنْھُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ اِذَا عَرَضْتُ نَفْسِیْ عَلَی ابْنِ عَبْدِ یَالِیْلَ ابْنِ عَبْدِ کُلاَلٍ فَلَمْ یُجِبْنِیْ اِلٰی مَا اَرَدْتُّ، فَانْطَلَقْتُ وَاَنَا مَھْمُوْمٌ عَلٰی وَجْھِیْ فَلَمْ اَسْتَفِقْ اِلاَّوَاَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا اَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ اَظَلَّتَنِیْ فَنَظَرْتُ فَاِذَا فِِیْھَا جِبْریْلُ نَادَانِیْ فَقَالَ:اِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَارَدُّوْا عَلَیْکَ وَقَدْ بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہٗ بِمَا شِئْتَ فِیْھِمْ، فَنَادَانِیْ مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ:یَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ ذٰلِکَ فَمَا شِئْتَ۔ اِنْ شِئْتَ اَنْ اُطْبِقَ عَلَیْھِمُ الْاَخْشَبَیْنِ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : بَلْ اَرْجُوْ اَنْ یُخْرِجَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ اَصْلاَبِھِمْ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَحْدَہٗ لاَیُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا۔(۴۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا۔’’ کیاآپؐ پر اُحد کے دن سے زیادہ شدید اور سخت دن بھی گزرا ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا۔ ’’تیری قوم سے مجھے دکھ پہنچے وہ تو پہنچے ہی ہیں مگر عقبہ کے روز مجھ پرجو گزری وہ اس سے شدید ترین تھی جب کہ میں نے ابنِ عبدِ یا لیل کے رو برو اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس نے میری خواہش کے مطابق جو اب نہ دیا، دل شکستہ وغمگین ہوکر میں قرن الثعالب پر پہنچا تو میں نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر دیکھا تو محسوس ہوا کہ آسمان پر بادل چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام سامنے تھے۔ انہوں نے پکار کر کہا۔ آپؐ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیاہے اللہ نے اسے سن لیا، اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجا ہے، آپؐ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں۔‘‘ پھر پہاڑوں کے فرشتہ نے آپؐ کو سلام کرکے عرض کیا۔ آپؐ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں۔‘‘ آپؐ نے جواب میں فرمایا: نہیں! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کریں گے۔‘‘
حضورؐ کا رفع ذکر
۸۳۔ حضرت ابوسعید خُدریؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا میرا رب اور آپ ؐ کا رب پوچھتاہے کہ میں نے کس طرح تمہارا رفعِ ذکر کیا؟ میں نے عرض کیا اللہ ہی بہتر جانتاہے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا ( ابن جریر، ابنِ حاتم، مُسند ابی یعلٰی، ابن المنذِر، ابن حبان، ابن مردویہ، ابونعیم ۔)جائے گا۔
تشریح : یہ بات اُس زمانے میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فردِ فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکّہ تک محدود ہیں اُس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموَری اس کو حاصل ہوگی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں اپنے رسول ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آپؐ کے رفع ذکر کا کام اس نے خود آپؐکے دشمنوں سے لیا۔ کفارِ مکّہ نے آپؐکو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے اُن میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھچ کھچ کر ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ یہاں ایک خطرناک شخص محمد (ﷺ) نامی ہے جو لوگوں پر ایسا جادو کرتاہے کہ باپ بیٹے، بھائی بھائی اور شوہر بیوی میں جدائی پڑجاتی ہے، اس لیے ذرا اُس سے بچ کر رہنا۔ یہی باتیں وہ اُن سب لوگوں سے بھی کہتے تھے جو حج کے سوا دوسرے دنوں میں زیارت یا کسی کاروبار کے سلسلے میں مکہ آتے تھے۔ اس طرح اگرچہ وہ حضورؐ کو بدنام کررہے تھے، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے گوشے گوشے میں آپؐکا نام پہنچ گیا اور مکّہ کے گوشۂ گمنامی سے نکال کر خود دشمنوں نے آپؐکوتمام ملک کے قبائل سے متعارف کرادیا۔ اس کے بعد یہ بالکل فطری امر تھا کہ لوگ معلوم کریں کہ وہ شخص ہے کون؟ کیا کہتا ہے؟ کیسا آدمی ہے؟ اس کے ’’جادو‘‘ سے متأثر ہونے والے کون لوگ ہیں اور ان پر اس کے ’’جادو‘‘ کا آخر کیا اثر پڑا ہے؟کفارِ مکّہ کا پروپیگنڈا جتنا جتنا بڑھتا چلاگیا لوگوں میں یہ جستجو بھی بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب اس جستجو کے نتیجے میں لوگوں کو آپؐکے اخلاق اور آپؐکی سیرت وکردارکا حال معلوم ہوا، جب لوگوں نے قرآن سنا اور انہیں پتہ چلا کہ وہ تعلیمات کیا ہیں جو آپؐپیش فرمارہے ہیں اور جب دیکھنے والوں نے یہ دیکھا کہ جس چیز کو جادو کہاجارہاہے اس سے متأثر ہونے والوں کی زندگیاں عرب کے عام لوگوں کی زندگیوں سے کس قدر مختلف ہوگئی ہیں، تو وہی بدنامی نیک نامی سے بدلنی شروع ہوگئی حتّٰی کہ ہجرت کا زمانہ آنے تک نوبت یہ پہنچ گئی کہ دور ونزدیک کے عرب قبائل میں شاید ہی کوئی قبیلہ ایسا رہ گیا ہو جس میں کسی نہ کسی شخص یا کنبے نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو، اور جس میں کچھ نہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺسے اور آپؐکی دعوت سے ہمدردی ودلچسپی رکھنے والے پیدا نہ ہوگئے ہوں۔ یہ حضورؐ کے رفع ذکرکا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں ایک طرف منافقین، یہود اور تمام عرب کے اکابر مشرکین رسول اللہﷺ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے، اور دوسری طرف مدینۂ طیبہ کی اسلامی ریاست خدا پرستی وخدا ترسی، زہدو تقویٰ، طہارتِ اخلاق، حسنِ معاشرت، عدل وانصاف، انسانی مساوات، مالداروں کی فیاضی، غریبوں کی خبرگیری عہدوپیمان کی پاسداری اور معاملات میں راستبازی کا وہ عملی نمونہ پیش کررہی تھی جولوگوں کے دلوں کو مسخّر کرتاچلاجارہاتھا۔ دشمنوں نے جنگ کے ذریعہ سے حضورؐ کے اس بڑھتے ہوئے اثر کو مٹانے کی کوشش کی، مگرآپؐکی قیادت میں اہلِ ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی اس نے اپنے نظم وضبط، اپنی شجاعت، اپنی موت سے بے خوفی اور حالتِ جنگ تک میں اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری اس طرح ثابت کردی کہ سارے عرب نے ان کا لوہا مان لیا۔ ۱۰ سال کے اندر حضور کا رفع ذکر اس طرح ہوا کہ وہی ملک جس میں آپ کو بدنام کرنے کے لیے مخالفین نے اپنا سارا زور لگادیا تھا، اُس کا گوشہ گوشہ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی صدا سے گونج اٹھا۔ پھر تیسرے مرحلے کا افتتاح خلافت راشدہ کے دور سے ہوا جب آپؐ کا نام مبارک تمام روئے زمین میں بلند ہونا شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتا ہی جارہا ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلاجائے گا۔ دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی کوئی بستی موجود نہ ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اذان میں بآواز بلند محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہورہا ہو، نمازوں میں حضور پر درود نہ بھیجا جارہا ہو، جمعہ کے خطبوں میں آپ کا ذکر خیر نہ کیا جارہا ہو ، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن اور دن کے۴ ۲ گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں ہے۔ جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ حضورؐ کا ذکر مبارک نہ ہورہا ہو۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الم نشرح ، حاشیہ:۳)
تخریج: قَالَ ابْنُ جَرِیْرٍ: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ، اَخْبَرَنَا عَمْرُوبْنُ الْحَارِث، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ اَبِیْ الْہَیْثَمِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: اَنَّہٗ قَالَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: اِنَّ رَبِّیْ وَرَبُّکَ یَقُوْلُ: کَیْفَ رَفَعْتُ لَکَ ذِکْرَکَ؟ قَالَ: اللّٰہُ اَعْلَمُ، قَالَ: اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِِیْ۔(۴۶)
امت کو حاصل ہونے والی فتوحات کی خوشخبری
۸۴۔ طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش کی گئیں جو میرے بعد میری امت کو حاصل ہونے والی ہیں۔ اس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا کہ آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔(الضحیٰ:۴)
تشریح :یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو ایسی حالت میں دی تھی جب کہ چند مٹھی بھر آدمی آپؐ کے ساتھ تھے، ساری قوم آپؐ کی مخالف تھی، بہ ظاہر کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ اسلام کی شمع مکہ ہی میں ٹمٹمارہی تھی اور اسے بجھادینے کے لیے ہر طرف سے طوفان اٹھ رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپؐ ذرا پریشان نہ ہوں۔ ہر بعد کا دور پہلے دور سے آپ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔آپؐ کی قوت ، آپؐ کی عزت و شوکت اور آپؐ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپؐ کا نفوذ و اثر پھیلتا چلا جائے گا۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے، اس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آخرت میں جو مرتبہ آپؐ کو ملے گا وہ اس مرتبے سے بدرجہا بڑھ کر ہوگاجو دنیا میں آپ کو حاصل ہوگا۔ (تفہیم القرآن، ج۶ ، الضحیٰ،حاشیہ: ۴)
تخریج: قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْ عَمْرٍو اَلْاَوْزَاعِیُّ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی الْمُہَاجِرِ الْمَخْزُوْمِیِّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ : عُرِضَ عَلٰی رَسُوْلِِ اللّٰہِ ﷺ مَاہُوَ مَفْتُوْحٌ عَلیٰ اُمَّتِہٖ مِنْ بَعْدِہٖ کَنْزًا کَنْزًا، فَسُرَّبِذَالِکَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَسَوْفُ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ فَاَعْطَاہُ فِی الْجَنَّۃِ اَلْفَ اَلْفِ قَصْرٍ فِیْ کُلِّ قَصْرٍمَّا یَنْبَغِیْ لَہٗ مِنَ الْاَزْوَاجِ وَالْخَدَمِ۔(۴۷)
آپ کی تواضع اور انکساری
۸۵۔اِعْمَلُوْا وَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ اَحَدًا لَنْ یُّدْخِلَہٗ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ۔وَلَااَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَتِِہٖ۔
’’آپؐ نے فرمایا: عمل کرو اور اپنی حدِّ استطاعت تک زیادہ سے زیادہ ٹھیک کام کرنے کی کوشش کرو،میانہ روی اختیار کرو، مگر یہ جان لو کہ کسی شخص کو محض اس کا عمل ہی جنت میں نہ داخل کردے گا۔‘‘لوگوں نے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہ! کیا آپؐ کا عمل بھی؟‘‘ فرمایا:ہاں میں بھی محض اپنے عمل کے زور سے جنت میں نہ پہنچ جائوں گا۔ الا یہ کہ مجھے میرا رب اپنی رحمت سے ڈھانک لے۔‘‘
تشریح :اس سے انسان کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کامیابی کسی شخص کو نصیب نہیں ہوسکتی جب تک اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو۔ اگرچہ آدمی کو انعام اس کے اپنے حسن عمل ہی پر ملے گا، لیکن اوّل تو حسن عمل ہی کی توفیق آدمی کو اللہ کے فضل کے بغیر کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔ پھر جو بہتر سے بہتر عمل بھی آدمی سے بن آسکتا ہے وہ کبھی کامل و اکمل نہیں ہوسکتا جس کے متعلق دعوے سے یہ کہا جاسکے کہ اس میں نقص کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ وہ بندے کی کمزوریوں اور اس کے عمل کی خامیوں کو نظر انداز کرکے اُس کی خدمات کو قبول فرمالے اور اسے انعام سے سرفراز فرمائے۔ ورنہ باریک بینی کے ساتھ حساب کرنے پر وہ اترآئے تو کس کی یہ ہمت ہے کہ اپنی قوت بازو سے جنت جیت لینے کا دعویٰ کرسکے۔
(تفہیم القرآن، ج ۴، الدخان، حاشیہ: ۴۴)
تخریج:(۱) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: اعْمَلُوْا وَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ اَحَدًا لَنْ یُّدْخِلَہٗ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ ﷺَ:وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ۔(۴۸)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: عمل کرتے رہو، حتی المقدور زیادہ سے زیادہ درست عمل کرنے کی سعی کرتے رہو، میانہ روی اختیارکرو، اور اچھی طرح جان لو کہ کسی شخص کو محض اس کا عمل ہی جنت میں داخل نہ کردے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا’’یا رسولؐ اللہ ! کیا آپؐ کا عمل بھی ؟‘‘ فرمایا: ہاں میں بھی صرف اپنے عمل کے زور سے جنت میں نہ پہنچ جائوں گا اِلّا یہ کہ مجھے میرا رب اپنی رحمت میں ڈھانک لے۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ، عَنْ مُوْسیٰ ابْنِ عُقْبَۃَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ سَدِّدُوْا وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوْا اَنْ لَّنْ یُدْخِلَ اَحَدَکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ۔(۴۹)
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الزِّبَرْقَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: سَدِّدُوْا وَقَارِبُوا وَاَبْشِرُوا فَاِنَّہٗ لَایُدْخِلُ اَحَدًا الْجَنَّۃَ عَمَلُہٗ، قَالُوْا وَمَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ۔(۵۰)
(۴) قَالَ قَرَأنَا عَلیٰ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ہَمَامِ بْنِ مُنَبِّہٍ اَنَّہٗ سَمِِعَ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ وَاحِدٌ مِنْکُمْ بِمُنْجِیۃِ عَمَلُہٗ وَلٰکِنْ سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَارسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلَآ اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَفَضْلٍ۔(۵۱)
تزکیہ نفس کے لیے حضورؐ کی دعا
۸۶۔ اَفْلَحَتْ نَفْسٌ زَکَّاہَا اللّٰہُ عَزَّوجَلَّ۔
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فلاح پاگیا وہ نفس جس کو اللہ عزوجل نے پاک کردیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنَا اَبُوزَرْعَۃَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا اَبُومَالِکٍ یعنی ابْنَ الحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ عَمْرِوبْنِ ہَاشِمٍ، عَنْ جُرَیْرٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَفْلَحَتْ نَفْسٌ زَکَّاہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔(۵۲)
۸۷۔اللّٰہُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرٌ مَنْ زَکَّاہَا، اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔
’’حضور ؐیہ دعا مانگا کرتے تھے کہ خدایا ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کو پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے جو اس کو پاکیزہ کرے، تو ہی اس کا سرپرست اور مولیٰ ہے۔‘‘
تشریح : (مندرجہ بالا پہلی) جو حدیث ابن ابی حاتم نے عن جویبربن سعید عن الضحاک عن ابن عباس کی سند سے نقل کی ہے درحقیقت حضور ؐ سے ثابت نہیں ہے کیوں کہ اس کی سند میں جو یبرمتروک الحدیث ہے اور ابن عباسؓ سے ضحاک کی ملاقات نہیں ہے۔ البتہ وہ حدیث (جو اوپر درج ہے) صحیح ہے۔ یہ امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے حضرت زیدبن ارقم سے روایت کی ہے۔ اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں حضورؐ کی یہ دعا حضرت عبداللہ بن عباس سے طبرانی، ابن مردویہ اور ابن المنذر نے اور حضرت عائشہؓ سے امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ بندہ تو صرف تقویٰ اور تزکیہ کی خواہش اور طلب ہی کرسکتا ہے، رہا اس کا نصیب ہوجانا، وہ تو بہر حال اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶، الشمس ، حاشیہ: ۶)
روح نبوت جہاں جس انسان پر بھی نازل ہوئی ہے یہی ایک دعوت لے کر آئی ہے کہ خدائی صرف ایک اللہ کی ہے اور بس وہی اکیلا اس کا مستحق ہے کہ اُس سے تقویٰ کیاجائے، کوئی دوسرا اس لائق نہیں کہ اس کی ناراضی کا خوف ، اس کی سزا کا ڈر، اور اس کی نافرمانی کے نتائج بد کا اندیشہ انسانی اخلاق کا لنگر اور انسانی فکر و عمل کے پورے نظام کا محور بن کر رہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، النحل ، حاشیہ: ۵۔)
اللہ کے بجائے کسی اور کا خوف اور کسی اور کی ناراضی سے بچنے کا جذبہ تمھارے نظام زندگی کی بنیاد بنے۔
(تفہیم القرآن، ج۲، النحل، حاشیہ:۵ ۴)
سورۂ توبہ آیت۰۹ ۱ میں ارشاد ربانی ہے:
اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلیٰ تَقْویٰ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَبِہٖ فِیْ نَارِجَہَنَّمَ۔
’’پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جاگری؟‘‘
جو لوگ اپنے عمل کی بنیاد خدا سے بے خوفی اور اس کی رضا سے بے نیازی پر رکھتے ہیں ان کی تعمیر حیات کو (اس آیت) میں اُس عمارت سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایک کھوکھلے بے ثبات کنارۂ دریا پر اٹھائی گئی ہو۔ یہ ایک بے نظیر تشبیہ ہے جس سے زیادہ بہتر طریقہ سے اس صورت حال کی نقشہ کشی نہیں کی جاسکتی۔ اس کی پوری معنویت ذہن نشین کرنے کے لیے یوں سمجھیے کہ دنیوی زندگی کی وہ ظاہری سطح جس پر مومن، منافق، کافر، صالح، فاجر، غرض تمام انسان کام کرتے ہیں، مٹی کی اُس اوپری تہہ کے مانند ہے جس پر دنیا میں ساری عمارتیں بنائی جاتی ہیں۔ یہ تہہ اپنے اندر خود کوئی پائیداری نہیں رکھتی ، بلکہ اس کی پائیداری کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے نیچے ٹھوس زمین موجود ہو۔ اگر کوئی تہہ ایسی ہو جس کے نیچے کی زمین کسی چیز، مثلاً دریا کے پانی سے کٹ چکی ہو تو جو ناواقف انسان اس کی ظاہری حالت سے دھوکا کھاکر اس پر اپنا مکان بنائے گا اسے وہ اس کے مکان سمیت لے بیٹھے گی اور وہ نہ صرف خود ہلاک ہوگا بلکہ اس ناپائیدار بنیاد پر اعتماد کرکے اپنا جو کچھ سرمایۂ زندگی وہ اس عمارت میں جمع کرے گا وہ بھی برباد ہوجائے گا۔بالکل اسی مثال کے مطابق حیات دنیا کی وہ ظاہری سطح بھی جس پر ہم سب اپنے کارنامۂ زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں، بجائے خود کوئی ثبات و قرار نہیں رکھتی بلکہ اس کی مضبوطی و پائیداری کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے نیچے خدا کے خوف، اُس کے حضور جواب دہی کے احساس اور اُس کی مرضی کے اتباع کی ٹھوس چٹان موجود ہو۔ جو نادان آدمی محض حیاتِ دنیا کے ظاہری پہلو پر اعتماد کرلیتا ہے اور دنیا میں خدا سے بے خوف اور اس کی رضا سے بے پروا ہوکر کام کرتا ہے وہ دراصل خود اپنی تعمیر زندگی کے نیچے سے اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتا ہے اور اس کا آخری انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ بے بنیاد سطح ، جس پر اس نے اپنی عمر بھر کا سرمایہ عمل جمع کیا ہے ایک دن یکایک گرجائے گا اور اسے اس کے پورے سرمائے سمیت لے بیٹھے گا۔ (تفہیم القرآن، ج ۲، التوبہ، حاشیہ: ۱۰۳)
اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو اور تمھاری دلی خواہش یہ ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہونے پائے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو، تو اللہ تعالیٰ تمھارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کردے گا جس سے قدم قدم پر تمھیں خود یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کون سا رویہ صحیح ہے اور کون سا غلط، کس رویہ میں خدا کی رضاہے اور کس میں اس کی ناراضی، زندگی کے ہر موڑ، ہر دوراہے، ہر نشیب اور ہر فراز پر تمھاری اندرونی بصیرت تمھیں بتانے لگے گی کہ کدھر قدم اٹھانا چاہیے اور کدھر نہ اٹھانا چاہیے، کون سی راہ حق ہے اور خدا کی طرف جاتی ہے اور کون سی راہ باطل ہے اور شیطان سے ملاتی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۲، الانفال، حاشیہ: ۲۴)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، وَمُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ والَّلفْظُ لِابْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ: اِسْحَاقُ اَنَا، وَقَالَ الْاٰخَرَانِ: نا ابُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ، عَنْ زَیْدِبْنِ اَرْقَمَ، قَالَ: لَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِلَّا کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِِ ﷺ یَقُوْلُ: قَالَ کَانَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِِکَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْکَسْلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْہَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ اَللّٰہُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاہَا، وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اٰعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْتَجَابَ لَہَا۔(۵۳)
(۲) حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ نَافعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَن عَائِشَۃَ اَنَّہَا فَقَدَتِ النَّبِِیَّ ﷺ مِنْ مَضْجِعِہٖ فَلَمَسَتْہُ بِیَدِہَا فَوَقَعَتْ عَلَیْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ وَہُوَ یَقُوْلُ رَبِّ اَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔(۵۴)
ترجمہ: حضرت صالح بن سعید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ کوبستر سے غائب پایا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے ٹٹولناشروع کیا اور ہاتھ حضورﷺ کے جسم اطہر پر جا لگا۔ آپ اس وقت ربِّ کائنات کے حضور سجدہ ریز تھے اور حالتِ سجدہ میں دعامانگ رہے تھے۔ اے میرے رب میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے جو اس کو پاکیزہ کرے، توہی اس کا سرپرست اور مولیٰ ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ، حَدَّثَنَآ یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدِ نِ الْمَدَنِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الاُمَوِیَّ حَدَّثَنَا مَعْنُ ابْنُ مُحَمَّدِ نِالْغِفارِیُّ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ابْنِ عَلیٍّ الْاسْلَمِیّ، عَن اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقْرَأُ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَاوَتَقْوَاہَا قَالَ: اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔(۵۵)
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِبْنُ زِیَادٍ، ثَنَا عَاصِمُ نِاَلْاَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا، وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا، اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔(۵۶)
شکرگزار بندہ
۸۸۔جب صحابۂ کرام حضورؐ کو عبادت میں غیر معمولی مشقتیں اٹھاتے ہوئے دیکھتے تھے تو عرض کرتے تھے کہ آپؐ کے تو اگلے پچھلے قصور معاف ہوچکے ہیں، پھر آپؐ اپنی جان پر اتنی سختی کیوں اٹھاتے ہیں،اور آپؐ جواب میں فرماتے تھے اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا’’کیا میں ایک شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘ (تفہیم القرآن ج۵، الفتح،حاشیہ:۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَّنَا اَبُونُعَیْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زِیَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ یَقُوْلُ: اِنْ کَانَ النَّبِیُّﷺ لَیَقُوْمُ اَوْلَیُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ اَوْسَاقَاہُ فَیُقَالُ لَہٗ: فَیَقُوْلُ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا؟(۵۷)
ترجمہ: زیاد سے روایت ہے کہ میں نے مغیرہ سے سنا ہے وہ بیان کررہے تھے کہ نبی ﷺ قیام فرماتے یا نماز پڑھتے تو اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپؐ کے پائوں مبارک یا پنڈلیاں سوج جاتیں، آپؐ سے عرض کیا جاتا (کہ آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں) تو فرماتے کہ ’’کیا میں (اپنے اللہ تعالیٰ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ : اَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ عَنْ اَبِیْ الْاَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوۃ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ، کَانَ یَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَقَدَمَاہُ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ لِمَ تَصْنَعُ ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟فَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا فَلَمَّا کَثُرَ لَحْمُہٗ صَلّٰی جَا لِسًا فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ اتنا لمبا قیام اللیل کرتے تھے کہ آپؐ کے پائوں سوج جاتے۔ حضرت عائشہؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا۔’’ کیامجھے یہ محبوب نہیں ہے کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنوں؟ پھر جب آپؐ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپؐ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے اور تھوڑی تلاوت فرماکر رکوع کرلیتے۔
(۳) حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِیَادٌ اَنَّہٗ سَمِعَ الْمُغیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَامَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِیْلَ لَہٗ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔(۵۸)
(۴) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، نَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلاَقَۃَ عَنِ الْمُغِِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃ۔اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلّٰی حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاہُ فَقِیْلَ لَہٗ اَتَتَکَلَّفُ ہٰذَا وَقَدَ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ فَقَاَلَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(۵) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَابْنُ نُمَیْرٍ، قَالَا: نَا سُفْیَانُ عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلاَقَۃَ سَمِعَ الْمُغیْرَۃَ ابْنَ شُعْبَۃَ، یَقُوْلُ قَامَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی وَرِمَتْ قَدَمَاہُ، قَالُوْا: قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ، قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْراً۔(۵۹)
(۶) حَدَّثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَہَارُوْنُ بْنُ سَعِیْدٍ الْاَیْلیُّ، قَالَا: ناابْنُ وَہْبٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبُوْصَخْرٍ عَنِ ابْنِ قُسَیْطٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا صَلّٰی قَامَ حَتّٰی تَفَطَّرَ رِجْلَاہُ قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَصْنَعُ ہٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ فَقَالَ: یَاعَائِِشَۃُ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا۔(۶۰)
(۷) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَبِشْرُ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: انا اَبُوْعَوَانَۃَ، عَنْ زِیَادِبْنِ عَلَا قَۃَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی انْتَفَخَتْ قَدَمَاہُ فَقِِیْلَ لَہٗ: اَتَتَکَلَّفُ ہٰذَا وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(۸)حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمَّارَ نِ الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ، اَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسیٰ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ قَالَ: فَقِیْلَ لَہٗ، تَفْعَلُ ہٰذَا وَقَدْ جَائَ کَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ غَفَرَلَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(۹) حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِیْسَی ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الرَّمْلِیُّ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْمُ یُصَلِّیْ حَتّٰی یَنْتَفِخَ قَدَمَاہُ فَیُقَالُ لَہٗ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَفْعَلُ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّ مَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا۔(۶۱)
نوٹ:ان احادیث میں جو مختلف الفاظ منقول ہیں ان کے معنی قریب قریب ایک جیسے ہی ہیں مثلاً تتفطّر، تورّمت، انتفخت، ورمت، تفطّر، ترم وغیرہ سب کے معنی تقریباً پائوں کا سوج جانا ہیں۔ (مرتب)
ماٰخذ
(۱) مُسند احمد بن حنبل، ج ۶ ص۹۱-۱۶۳٭طبقات ابنِ سعد ج ۱۔ص۸۹۔
(۲) مسند احمد ج۶،ص۲۱۶ ابوداؤد، ج ۲، کتاب الصلوٰۃ باب فی صلاۃ اللیل٭السنن الکبری للْبَیْہَقی، ج ۷ باب ماوجب علیہ من قیام اللیل۔
(۳) المستدرک للحاکم ، ج ۲، کتاب التاریخ ٭نَسائی ج ۳؍۴کتاب قیام اللیل وتطوع النہار باب قیام اللیل۔
(۴) مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافر وقصرہا۔ باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی الخ ٭ابوداؤدج اول کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ اللیل ۔٭ تفسیر ابن کثیر، ج ۳، تفسیر سورۃ المؤمنون۔
(۵) بخاری ،ج۲، کتاب الادب ، باب حسن الخلق والسخاء وما یکرہ من البخل۔
(۶) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب حسن خلقہ ﷺ ٭ابوداؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی ﷺ۔
(۷) ترمذی ابواب الشمائل، باب ماجاء فی خُلق رسول اللّٰہ ﷺ ٭ ریاض الصالحین۔ص۱۸۵۔
(۸) ابوداؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی ﷺ۔
(۹) بخاری ، ج ۲، کتاب المحاربین من اہل الکفرۃ والردۃ باب کم التعزیروالادب۔
(۱۰) بخاری،ج۲،کتاب الادب باب قول النبی ﷺ یسِّروا ولا تعسروا وکان یجب التخفیف والیسر علی الناس ٭بخاری، ج ۲، کتاب الحدود باب اقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللّٰہ ٭ابوداؤد کتاب الادب باب التجاوز فی الامر ٭ریاض الصالحین ۔ص۱۸۸
(۱۱) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب مباعدتہ ﷺ للاٰثام واختیارہ مِنَ المباح اسہلہ وانتقامہ للّٰہ تعالٰی عند انتہاک حرماتہ ٭ ریاض الصالحین ص۔۱۸۹٭ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی حسن الخلق۔
(۱۲) مسند احمد بن حنبل ج ۶، ص۳۲ مرویات عائشہؓ۔
(۱۳) ترمذی، شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ﷺ۔
(۱۴) روح المعانی، ج ۳۰، سورۂ عبس۔
(۱۵) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ عبس۔حاکم نے المستدرک کتاب التفسیر ج ۲، سورہ عبس کے تحت یہی روایت بیان کرکے آخر میں لکھا ہے۔ ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ فقد أرسلہ جماعۃ عن ہشام بن عروۃ۔
(۱۶) مسلم،ج۱، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ۔باب النہی عن البصاق فی المسجد فی الصلوٰۃ وغیرہا الخ ٭مسند احمد ج ۵،۱۷۸ مرویات ابی ذر٭ابن ماجہ کتاب الادب باب اماطۃ الاذی عن الطریق۔
(۱۷) ترمذی ، شمائل الترمذی ، باب ماجاء فی مشیہٖ رسول اللّٰہ ﷺ ٭مسند احمد ،ج ۱، مرویات علی ٭ المستدرک للحاکم، ج ۲، کتاب التاریخ حلیۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۱۸) ابوداؤد کتاب الادب فی ہدی الرّجل۔
(۱۹) مسند احمد ، ج۳ص۳۲۸، جابر بن عبداللّٰہ ٭ابن کثیر، ج ۳ سورۃ الاحزاب۔
(۲۰) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر باب قولہ ترجی من تشاء منہن وتُؤویْ الیک من تشاء ٭مسلم، ج ۱، کتاب الطلاق باب ان تخییرہٗ امرأتہٗ لَا یکون طلاقًا الابالنِّیَّۃ ٭ابوداؤد، ج۲، کتاب النکاح باب فی القسم بین النساء۔
(۲۱) احکام القراٰن، ج ۳، سورۃ الاحزاب باب مَا اَحَلَّ اللّٰہ تعالیٰ لِرسولہ من النساء۔
(۲۲) احکام القراٰن للجصاص ج ۳، سورۃ الاحزاب باب احلّ اللّٰہ تعالیٰ لرسولہ من النسآء۔
(۲۳) بخاری، ج ۲، کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ ووفاتہٖ الخ۔
(۲۴) سیرت ابن ہشام، ج ۱ امرالاِراشَی الذی باع اباجہل ابلہ۔
(۲۵) تفسیر ابن کثیر، ج ۳، سورۃ یٰس ٭ابن سعد ، ج ۱۔ص۳۸۲۔
(۲۶) سیرت ابن ہشام ، ج۲شعر ابن مردا س، یستقل ما اخذ وا رضاء الرَّسول لہ۔٭ ابن کثیر،ج۳بحوالہ البیہقی فی الدلائل۔ ابن کثیر نے ہُمَا وَاحِدٌ کی جگہ اَلْکُلُّ سَوَائٌ نقل کیا ہے۔
(۲۷) فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، سورہ یٰسٓ بحوالہ عبدالرزاق، عبدبن حُمَید، ابنِ جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
(۲۸) احکام القراٰن للجصّاص ج ،۳، سورہ یٰسٓ۔
(۲۹) بخاری، ج ۲، کتاب الادب باب مایکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر الخ ٭ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر ٭مجمع الزوائد ج ۸ کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر و الشعراء۔
(۳۰) بخاری،ج۱،کتاب الادب باب مایکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر حَتّٰی یصدّہٗ عَنْ ذکر اللّٰہ والعلم والقراٰن٭مسلم،ج۲، کتاب الشعر عن سعد ٭ترمذی ابواب الاستیذان باب ماجاء لان یمتلیٔ جوف احدکم قیحاًخیرلہ من ان یمتلی شعراً٭ابن ماجہ کتاب الادب باب الشعر٭فتح القدیرللشوکانی،ج۴ ص۱۲۴٭مجمع الزوائد، ج۸،ص۱۲۰ عن سلمان ٭دارمی کتاب الاستیذان باب ۶۹لان یمتلی جوف احدکم اس میں قیحا اودماً ہے۔
(۳۱) مسلم،ج۲،ص۲۴۰کتاب الشعر٭مسند احمد،ج۲ص۳۹،۹۶ج۳،ص۳،۸،۴۱ابوسعیدخدری٭ ابن کثیر، ج۳، سورہ شعراء ٭فتح القدیر للشوکانی ج ۴،ص۱۲۳ عن ابی سعید خدری الشعراء بحوالہ ابن ابی شیبۃ۔
(۳۲) بخاری،ج۲، کتاب الادب، باب مایجوز من الشعر والرجزوالحداء ومایکرہ مِنْہُ وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی والشعراء یتبعہم الغاؤن الخ ٭ترمذی ابواب الاستیذان ، باب ماجاء ان من الشعرحکمۃ ٭ابوداؤدکتاب الادب،ج۴، باب ماجاء فی الشعر ٭ابن ماجہ کتاب الادب، باب الشعر٭فتح القدیر للشوکانی،ج ۴،ص۱۲۳بحوالہ ابن مردویہ۔ اس میں ان من الشعرلحکمۃ ہے ٭دارمی کتاب الاستیذان، ج ۲، باب ۶۸، فی ان من الشعر حکمۃ ٭مجمع الزوائد، ج ۸،ص۱۲۳عن عائشۃ۔
(۳۳) ابوداؤدکتاب الادب،ج۴، باب مَاجَائَ فی المتشدق فی الکلام ٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع مایکرہ من الکلام بغیر ذکر اللّٰہ٭ترمذی ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء ان من البیان سِحْرًا۔ اور ابواب الاستیذان باب ماجاء وان من الشعرحکمۃ ٭ابن ماجہ کتاب الادب باب الشعر٭فتح القدیر،ج ۴،ص۱۲۳بحوالہ ابن ابی شیبہ عن ابن مسعود ٭مجمع الزوائد ج۸،ص۱۲۳٭الطبرانی الکبیر، ج اول ص۲۶۰۔
(۳۴) المَعَارِف لابنِ قُتَیْبَۃَ دِیْنَوَرِی۔ص ۲۸۔
(۳۵) مسلم، ج۲، کتاب الشعر ٭ترمذی، شمائل ترمذی باب مَاجآء فی صفۃ کلام رسول اللّٰہ ﷺ ٭ابن ماجہ کتاب الادب، باب الشعر، السنن الکبریٰ للبَیْہَقی ج۱۰کتاب الشھادات ج ۱۰،ص۲۲۷ ٭طبرانی کبیر،ج۷ص۳۱۵، عَمروبن شرید عن ابیہ ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴ص۱۴۴، الشعراء۔
(۳۶) شمائل ترمذی باب ماجاء فی صفۃ کلام رسول اللّٰہ ﷺ فی الشعر ٭ترمذی ابواب الاستیذان باب ماجاء فی انشاد الشعر٭نسائی کتاب الحج باب استقبال الحج ٭نسائی کتاب الحج باب انشاد الشعر فی الحرم والمشی بین یدی الامام۔
(۳۷) بخاری،ج۲، کتاب الادب باب ہجاء المشرکین ٭بخاری، ج۲، کتاب المغازی باب مرجع النبیؐ فی الاحزاب الخ۔ ٭ مسلم ج۲۔ کتاب الفضائل باب فضائل حسان بن ثابت۔
(۳۸) فتح القدیر للشوکانی،ج۴، ص۱۲۳ الشعراء بحوالہ ابن سعد، ابن ابی شیبۃ عن براء ابن عازب۔
(۳۹) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فضائل حسان بن ثابت۔
(۴۰) روح المعانی ، ج۱۹، سورہ شعراء۔
(۴۱) ترمذی شمائل ترمذی باب ماجاء فی صفۃ کلام رسول اللّٰہ ﷺ فی الشعر، ابواب الاستیذان باب ماجاء فی انشاء الشعر۔
(۴۲) ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر۔
(۴۳) مسند احمد،ج۳،ص۴۵۶،۴۶۰ ج ۶ص ۳۶۷روایت کعب بن مالک ٭ابن کثیر،ج۳ص۳۵۵٭روح المعانی، ج۱۹، سورۃ الشعراء ٭فتح القدیر للشوکانی،ج۴ص۱۲۳الشعراء بحوالہ بخاری فی التاریخ، ابویعلٰی، ابن مردویہ عن کعب بن مالک ٭مشکوٰۃ باب البیان والشعر فصل دوم بحوالہ شرح السنۃ۔
(۴۴) سیرت ابن ہشام،ج ۱ص۔۴۲۰٭کنزالعمال،ج۲ص۱۷۵حدیث۳۶۱۳،بحوالہ طبرانی ص۶۹۸۔۶۹۹ح ۵۱۲۰، بحوالہ ابن عدی فی الکامل۔
(۴۵) بخاری،ج۱، کتاب بدأ الخلق اذا قال احدکم اٰمین والملائکۃ فی السمآء آمین الخ ٭مسلم،ج۲، کتاب الجہاد والسیر باب مالقی النبی من اذی المشرکین والمنافقین۔
(۴۶) ابن جریر،ج ۲۸؍۳۰، جلد ۱۲سورہ اَلَمْ نشرح ٭ابن کثیر،ج۴،ص۵۲۴٭ابن ابی حاتم ٭مسند ابی یعلیٰ ٭روح المعانی جز۳۰، جلد۱۲ص۱۶۹، بحوالہ ابن المنذر،ابن حبان، ابن مردویہ اور ابونعیم فی الدلائل ٭فتح القدیر للشوکانی جلد ۵ سورہ الم نشرح وقال۔اَخْرَجَہ اَبُویَعْلٰی مِنْ طَرِیْقِ ابْن لِہَیَعَۃَ عَنْ دَرَّاجٍ۔ واخرَجہ ابن ابی حاتم من طریق یونُس بْنِ عَبْدِ الاعْلیٰ بِہٖ۔اَخْرَجَ بْنُ عَسَاکِرٍ مِنْ طَرِیْقِ الْکَلْبِیِّ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
(۴۷) تفسیر ابن کثیر،ج۴، سورۃ الضحٰی٭الطبرانی فی الاوسط، البیھقی فی الدلائل عن ابن عباس٭ابن جریر، پ:۳۰، ج ۱۲، الضحٰی٭ فتح القدیرللشوکانی،ج ۵،ص۱۵۹بحوالہ ابن ابی شیبۃ، عبد ابن حمید، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ ٭المستدرک للحاکم،ج ۲۔ص۵۲۶۔
(۴۸) تفسیر ابن کثیر، ج ۴، سورۃ الدخان۔
(۴۹) بخاری،ج۲،کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل۔
(۵۰) بخاری، ج۲، کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل۔
(۵۱) المصنف لعبد الرزاق، ج ۱۱ باب دخول الجنۃ ٭ابن ماجہ کتاب الزہد باب التوقی علی العمل ٭دارمی ج ۲، کتاب الرقاق باب لن ینجی احدکم عملہ۔
(۵۲) ابن کثیر،ج۴بحوالہ ابن ابی حاتم ٭فتح القدیر للشوکانی، ج۵ ص۴۵۱، بحوالہ ابوالشیخ، ابن مردویہ اور دیلمی من طریق جویبر عن الضحاک عن ابن عباس۔
(۵۳) مسلم، ج ۲، کتاب الذکر باب فی الادعیۃ ٭نسائی کتاب الاستعاذۃ باب الاستعاذۃ من العجز ٭ کنزالعمال ج۲، حدیث نمبر۳۶۱۹، بحوالہ عبدبن حمید، عن زید بن ارقم۔
(۵۴) مسند احمد،ج ۶ص۲۰۹، مرویات عائشۃ ٭مسند احمد، ج ۴ص۳۷۱۔
(۵۵) ابن کثیر، ج ۴، بحوالہ ابن ابی حاتم و طبرانی کبیر۔
(۵۶) مسند احمد، ج۴ص۳۷۱٭فتح القدیر،ج۵ص۵۴۰، بحوالہ ابن ابی شیبۃ، ابن المنذر، طبرانی اور ابن مردویہ نے اس روایت کو ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
(۵۷) بخاری،ج۱،کتاب التہجد باب قیام النبیﷺ اللیل حَتّی ترم قدماہ وقالت عائشۃ حتی تفطَّرقدماہ والفطور الشقوق، انفطرت انشقت۔ج۲،کتاب الرقاق، باب الصبر عن محارم اللّٰہ وانَّمَایوفَّی الصابرون اجرہم بغیرحساب۔ اس روایت میں ہے کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّیْ حَتّی تَرِِمَ اَوْ تَنْتَفِخَ قَدَمَاہُ الخ۔
(۵۸) بخاری،ج۲، کتاب التفسیر، باب قولہ لیغفرلک اللّٰہ ما تقدم من ذنبک وما تاخَّر ویتم نعمتہ عَلَیْک وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا۔
(۵۹) مسلم، ج ۲، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب اکثار الاعمال والاجتہاد فی العبادۃ۔
(۶۰) مسلم،ج۲،کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب اکثار الاعمال والاجتہاد فی العبادۃ ٭مسند احمد، ص۱۱۵، عن عائشۃ۔
(۶۱) ترمذی ابواب الشمائل باب ماجاء فی عبادۃ رسول اللّٰہ ﷺ٭ترمذی ابواب الصلاۃ باب ماجاء فی الاجتہاد فی الصلوٰۃ٭ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصَّلوٰۃ والسنۃ فیہا باب ماجاء فی طول القیام فی الصلوٰۃ ٭طبقات ابن سعد ، ج۲ص۲۰۹٭السنن الکبری للبیہقی،ج ۷، کتاب النکاح باب ماوجب علیہ من قیام اللیل ٭مسند احمد،ج ۴، ص۴۵۱تا۴۵۵اورج۶ص۱۱۵٭نسائی ج۳کتاب قیام اللیل باب احیاء اللیل٭المصنف لعبد الرزاق ج۳۔ کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ من اللیل ۔
فصل پنجم: ختم نبوت ختم نبوت کے بارے میں نبی ﷺ کے ارشادات
۸۹۔ قَالَ النَّبِِیُّ ﷺ کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْ سُہُمُ الْاَنْبِیَآئُ۔ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَاِنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَائُ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَاشُعْبَۃُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاحَازِمٍ، قَالَ:قَعَدْتُّ اَبَاہُرَیْرَۃَ خَمْسَ سِنِیْنَ فَسَمِعْتُہٗ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْ سُہُمْ الْاَنْبِیَآئُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَاِنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَآئُ فَیَکْثُرُوَنَ قَالُوْا: فَمَاتَأْمُرُنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟قَالَ: اَوْ فُوْا بِبَیْعَۃِ الْاَوَّلِ فَالْاَوَّلِ اُعْطُوْہُمْ حَقَّہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ۔(۱)
ترجمہ :حضرت ابوحازم سے مروی ہے ان کا بیان ہے میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہؓ کی مجلس میں بیٹھا ۔ میں نے انھیں نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بیان کرتے ہوئے سنا کہ:بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کیا کرتے تھے جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگاصرف خلفاء ہوں گے اور بہ کثرت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اگر ایسی صورت ہے تو ہمارے لیے کیا ارشاد ہے۔ فرمایا جو پہلے خلیفہ بنے اس کی بیعت کے ساتھ وفا کرو۔اس کے بعد اس کی جو پہلے خلیفہ بنے۔ تم ان کے حقوق ادا کرو اور اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ان کے سپرد کیا ہے ان کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ ان سے باز پرس کرے گا۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانَتْ تَسُوْسُہُمْ اَنْبِیَآئُ ہُمْ کُلَّمَا ذَہَبَ نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ لَیْسَ کَائِنٌ بَعْدِیْ نَبِیٌّ فِیْکُمْ۔ قَالُوْا: فَمَا یَکُوْنُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: تَکُوْنُ خُلَفَآئُ فَیَکْثُرْ قَالُوْا: فَکَیْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: اَوْ فُوْا بِبَیْعَۃِ الْاَوَّلِ فَالْاَوَّلِ۔ اَدُّوْا الَّذِیْ عَلَیْکُمْ فَسَیَسْأَ لُہُمْ اللّٰہُ عَزّوَجَلَّ عَنِِ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ۔(۲)
۹۰۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْن جُبَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہ ابْنَ عَمْرِو ابْنِ عَاصٍ یَقُوْلُ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ ثلاثاً وَلَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ (مسند احمد)
’’عبداللہ بن جبیر کہتے ہیںکہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو یہ کہتے سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان تشریف لائے اس انداز سے کہ گویا آپؐ ہم سے رخصت ہورہے ہیں۔ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا: ’’میں محمد نبی اُمّی ہوں۔‘‘ پھر فرمایا ’’اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِِیْ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا بْنُ لَہِیَعَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْن ہُبَیْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِِ مَرِیْجِ الْخَوْلَانِیَّ قَالَ:سَمِعْتُ اَبَا قَیْسٍ مَوْلٰی عُمَروبْنِ العَاصِ،یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی عَلی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ وَمَلائِکَتُہٗ سَبْعِیْنَ صَلَاۃً فَلْیَقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذٰلِکَ اَوْلِیَکْثُرْ، وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عَمْرو یَقُوْلُ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ: اَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ قَالَہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلَانَبِیَّ بَعْدِیْ۔ اُوْتِِیْتُ فَوَاتِحَ الْکَلِم، وَخَوَاتمِہٖ، وَجَوَامِعہ وَعُلِّمْتُ کَمْ خَزَنَۃُ النَّارِ وَحَمَلَۃُ الْعَرْشِ، وَتُجُوِّزَبِِیْ وَعُوْفِیْتُ وَ عُوْفِیَتْ اُمَّتِیْ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا مَادُمْتُ فِیْکُمْ فَاِِذَا ذَہَبَ بِیْ فَعَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ اَحِلُّوْاحَلَالَہٗ وحَرِِّمُوْا حَرَامَہٗ۔(۳)
ترجمہ:ابوقیس کہتے ہیں میں نے ابن عمرو سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ پر ایک مرتبہ درودپڑھا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ستّر مرتبہ درود پڑھتے ہیں اب جو شخص چاہے تھوڑا پڑھے یا زیادہ۔ اور میں نے عبداللہ بن عمروبن عاص کو یہ کہتے بھی سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے مکان سے نکل کر اس انداز سے ہمارے درمیان تشریف لائے گویاآپؐ ہم سے رخصت ہورہے ہیں اور آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا ’’میں محمد نبی اُمّی ہوں‘‘، پھر فرمایا:’’اور میرے بعدکوئی نبی نہیں۔ مجھے افتتاحی، اختتامی اور جامع کلمات عطا فرمائے گئے۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ جہنم کے داروغہ کتنے ہیں، عرشِ الٰہی کو کتنے فرشتوں نے اٹھا رکھا ہے اور مجھے معاف کردیا گیا ہے اور درگزر کیا گیا ہے اور میری امت کو بھی معاف کردیا گیا ہے۔ لہٰذا جب تک میں تم میں زندہ ہوں اس وقت تک میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب مجھے اللہ لے جائے تو تم کتاب اللہ کو لازم پکڑ لو۔ اس کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھو۔ ‘‘
۹۱۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ لَانُبُوَّۃَ بَعْدِیْ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔قِیْلَ:وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ الرُّؤیَاالْحَسَنَۃُ اَوْ قَالَ الرُّؤْیَاالصَّالِحَۃُ۔ (مسند احمد ، نسائی، ابوداؤد)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں۔عرض کیا گیا وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسولؐ اللہ؟ فرمایا اچھا خواب یا فرمایا صالح خواب۔‘‘
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ یعنی وحی کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب کے ذریعہ سے مل جائے گا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ زَیْدٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَیْد نِالرَّاسِِبِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاالطُّفَیْلِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَانُبُوَّۃَ بَعْدِیْ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔ قِیْلَ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: الرُّؤْیَاالْحَسَنَۃُ، اَوْقَالَ الرُّؤْیَاالصَّالِحَۃُ۔ (۴)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہُرِیِّ، حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ، اَنَّ اَبَاہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ۔(۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرمارہے تھے۔ نبوت اب باقی نہیں رہی بجز بشارت دینے والی باتوں کے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا، وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا:’’اچھا خواب۔‘‘
نسائی میں ہے:
(۳) اَنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاہَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرَاہَا۔(۶)
ترجمہ:اب مبشرات نبوت تو باقی نہیں رہے صرف اچھا خواب ہے جسے ایک مسلم خواب میں دیکھے یا اسے دکھایاجائے۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِِ مَالِکٍ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:رُؤْیَا الْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَاَرْ بَعِیْنَ جُزْأً مِنَ النُّبُوَّۃِ۔(۷)
ترجمہ: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃ عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِی طَلْحَۃ عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّاَرْبَعِِیْنَ جُزْأًمِّنَ النُّبُوَّۃِ۔(۸)
ترجمہ : صالح آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(۶) اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ جُزْئٌ مِّنْ سِتَّۃٍ وَّاَرْبَعِیْنَ جُزْئً مِّنَ النُّبُوَّۃِ۔(۹)
ترجمہ: صالح خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ سِبَائِ ابْنِ ثَابِتٍ، عَنْ اُمِّ کُرْزٍالْکَعْبِیَّۃِ، قَالَتْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: ذَہَبَتِ النُّبُوَّۃُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتُ۔(۱۰)
ترجمہ: ام کرزکہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے فرمارہے تھے۔نبوت چلی گئی یعنی ختم ہوگئی۔ اب بشارت دینے والی باتیں باقی ہیں۔
(۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الحَضْرَمِیُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ اَلْحُلْوَانِیُّ ثَنَا اَبُوعَاصِمٍ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُوْنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَہبَتِ النُّبُوَّۃُ فَلَا نُبُوَّۃَ بَعْدِی اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ۔(۱۱)
ترجمہ: نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعدکوئی نبی نہیں البتہ خوش خبری دینے والی باتیں باقی ہیں۔
(۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ عَنْ اِِسْحَاقَ بْن عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ زُفَرِِبْنِ صَعْصَعَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا انْصَرَفَ صَلَاۃَ الْغَدِ یَقُوْلُ: ہَلْ رَاٰی اَحَدٌ مِّنْکُمْ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا؟ وَیَقُوْلُ: اِنَّہٗ لَیْسَ یَبْقیٰ بَعْدِِیْ مِِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ۔ (۱۲)
ترجمہ : ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوکر اپنا منہ مقتدیوں کی طرف پھیرتے تو دریافت فرماتے، کیا آج رات تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اور ساتھ ہی فرماتے کہ میرے بعد نبوت تو باقی نہیں البتہ صالح خواب ہیں۔
۹۲۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ، وَلَا نَبِیَّ۔ ۱؎
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ ‘‘
(ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ نِِالزَّعْفَرَانِیُّ، نَاعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نَاعَبْدُالْوَاحِدِ،نَا الْمُخْتَارُ ابْنُ فُلْفُلٍ، نَااَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الرِّسَالَۃَ والنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُوْلَ بَعْدِیْ، وَلَانَبِیَّ، قَالَ فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ۔ فَقَالَ لٰکِنَّ الْمُبَشِّرَاتِ، فَقَالُوا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِ، وَہِیَ جُزْئٌ مِّنْ اَجْزَائِ النُّبُوَّۃِ۔(۱۳)
وَفِی الْبَابِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، وَحُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَاُمِّ کُرْزٍ۔
ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ مِّنْ ہٰذَا الْوَجْہِ مِنْ حَدِیْثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فِلْفِلٍ۔
قصر نبوت کی آخری اینٹ میں ہوں
۹۳۔میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک نہایت خوبصورت مکان بنایااور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ اب جو لوگوں نے اس کے گرد چکر لگایا تو وہ خالی جگہ انھیں کھٹکنے لگی اور وہ کہنے لگے اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہوجاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
تشریح :اس مثال سے ختم نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ جب دین کامل ہوچکا، آیات الٰہی پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکیں، اوامر و نواہی ، عقائد و عبادات، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست ، غرض انسانی زندگی کے ہر شعبے کے متعلق پورے پورے احکام بیان کردیے گئے اور دنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اسوہ حسنہ اس طرح پیش کردیا گیا کہ ہر قسم کی تلبیس و تحریف سے پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے، تو نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ صرف تجدید و تذکیر کی ضرورت رہ گئی ہے جس کے لیے علمائے حق اور مومنین صادقین کی جماعت کافی ہے۔ (تفہیمات دوم: قرآن۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا اَبُوْعامِرٍ الْعَقَدِیُّ، نَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِِ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَثَلِیْ فِی النَّبِیِّیْنَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا، فَاَحْسَنَہَا، وَاَکْمَلَہَا وَاَجْمَلَہَا، وَتَرَکَ مِنْہَا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِالْبِنَائِ، وَیَعْجَبُوْنَ مِنْہُ، وَیَقُوْلُوْنَ: لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ، وَاَنَا فِی النَّبِیِّیْنَ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ۔ وَبِہٰذَا الْاِسْنَادِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَاکَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیِّیْنَ، وَخَطِیْبَہُمْ، صَاحِب شِفَاعَتِہِمْ غَیْرَفَخْرٍ۔(۱۴) (ہذا حدیث حسن صحیح غریب)
ترجمہ : حضرت طفیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ انبیاء میں میری مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک شخص نے خوبصورت اور حسین و جمیل مکان بنایا۔ اسے مکمل بھی کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔اب جو لوگوں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا تو اسے پسند کیا۔ لیکن کہنے لگے کاش یہ آخری اینٹ کی جگہ بھی مکمل کردی جاتی ـــــ تو مکان بالکل مکمل ہوجاتا ـــــیہ بات ذہن نشین رہے کہ انبیاء علیہم السلام میں میرا مقام اسی اینٹ کا ہے۔ اسی اسناد سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی مروی ہے کہ قیامت کے روز میں انبیاء کا امام ، ان کا خطیب اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، البتہ اس پر فخر نہیں کروں گا۔
۹۴۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّامَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّاوُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃُ، فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں ـــــیعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے، جسے پر کرنے کے لیے کوئی نبی آئے۔‘‘
اس مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل باب خاتم النبیین میں ہیں اور آخری حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں: فَجِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَاء ’’پس میں آیا اور میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔‘‘
یہی حدیث انہی الفاظ میں ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل النبی اور کتاب الآداب باب الامثال میں ہے۔
مسند ابوداؤد، طیالسی میں یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلہ میں آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: خُتِمَ بِیَ الْاَنْبِیَاء۔ ’’میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا۔‘‘
مسند احمد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ اس مضمون کی احادیث حضرت ابی بن کعب، حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کی گئی ہیں۔ (ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دیْنَارٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ مَثَلِیْ، وَمَثَلَ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَتَعَجَّبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّاوُضِعَتْ ہٰذِِہٖ اللَّبِنَۃُ، قَالَ: فَاَنَا اللَّبِنَۃُ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔(۱۵)
(۲) حَدَّثَنَا سَلِیْمُ بْنُ حَیَّانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنائَ، عَنْ جابِرِ بْن عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ دَارًا فَاَکْمَلَہَا وَاَحْسَنَہَا اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَکَانَ مَنْ دَخَلَہَا وَنَظَرَ اِلَیْہَا، قَالَ مَا اَحْسَنُہَا اِلَّا مَوْضِعَ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃِ فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ خُتِمَ بِیَ الْاَنْبِیَائُ۔(۱۶)
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ اَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا نَااِسْمَاعِیْلُ یَعْنُوْنُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ السَّمَّاکِ۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلی کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بُنْیَانًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ مِّنْ زَوَایَاہُ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّاوُضِعَتْ ہٰذِہٖ اللَّبِنَۃُ؟ قَالَ: فَاَنَا اللَّبِنَۃُ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔(۱۷)
(۴) حَدَّثَنَا عَمْرٌوالنَّاقِدُ، قَالَ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ اَبِی الزِّنَاد، عَنِ الْاَعْرَج، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃُ، عَنِِ النَّبِیّ ﷺ قَالَ: مَثَلیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَاء کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ بُنْیَانًا فَاَحْسَنَۃٗ وَاَجْمَلَہٗ فَجَعَلَ النَّاسُ یُطِیْفُوْنَ بِہٖ یَقُوْلُوْنَ مَا رَأَیْنَا بُنْیَاناً اَحْسَنَ مِنْ ہٰذَا اِلَّا ہٰذِہٖ اللَّبِنَۃُ فَکُنْتُ اَنَا تِلْکَ اللَّبِنَۃُ۔
(۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ رَافِعٍ، قَالَ: نَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: نَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبّہٍ، قَالَ: ہٰذَا مَا حَدَّثَنَا اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرَ اَحَادِیْثَ مِنْہَا وَقَالَ اَبُوالْقَاسِم ﷺ۔مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنیٰ بُیُوْتًا فَاَحْسَنَہَا، وَاَجْمَلَہَا وَاَکْمَلَہَا، اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ مِّنْ زَوَایَا ہَا فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ، وَیُعْجِبُہُمُ الْبُنْیَانُ فَیَقُوْلُوْنَ: اَلَا وَضَعْتَ ہَاہُنَا لَبِنَۃً فَیُتِمَّ بُنْیَانُکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ ﷺ: فَکُنْتُ اَنَّااللَّبِنَۃُ۔
(۶)حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَفَّانُ، قَالَ: نَا سَلِیْمُ بْنُ حَیَّانَ، قَالَ: نَا سَعِیْدُ بْنُ مِیْنَآئَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ دَارًا فَاَتَمَّہَا، وَاَکْمَلَہَا اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَدْخُلُوْنَہَا وَیَتَعَجَّبُوْنَ مِنْہَا وَیَقُوْلُوْنَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَائَ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ۔(۱۸)
۹۵۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنَبِیَآئِ بِسِتٍّ۔ أُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً، وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجھے چھ باتوںمیں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے: (۱)مجھے جامع و مختصربات کہنے کی صلاحیت دی گئی۔ (۲) مجھے رعب کے ذریعہ سے نصرت بخشی گئی۔(۳) میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے۔ (۴)میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنادیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ یعنی میری شریعت میں نماز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جاسکتی ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ اور پانی نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کرکے وضو کی حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی۔(۵)مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنایا گیا۔ (۶) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب: ضمیمہ)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ اَیُّوْبَ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا: نَااِسْمَاعِیْلُ وَہُوَابْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَآئِ بِسِتٍّ، اُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ طُہُوْرًا وَمَسْجِدًا وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً، وَخُتِمَ بِِیَ النَّبِیُّوْنَ۔(۱۹)
۹۶۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا اِلاَّحَذَّرَ اُمَّتَہُ الدَّجَّالَ وَاَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ وَہُوَ خَارِجٌ فِیْکُمْ لَا مَحَالَۃَ۔ (ابن ماجہ)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو ـــــمگر ان کے زمانے میں وہ نہ آیاـــــاب میں آخری نبی ہوں ، اور تم آخری امت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمھارے اندر ہی نکلنا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃ الشَّیْبَانِیِّ یَحْیَی ابن اَبِیْ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاہِِلِیِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَ اَکْثَرُ خُطْبَتِہٖ حَدِیْثًا، حَدَّثَنَاہُ عَنِ الدَّجَّالِ، وَحَذَّرْنَا ہُ فَکَانَ مِنْ قَوْلِہٖ اَنْ قَالَ: اِنَّہٗ لَمْ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ مُنْذُ ذَرَأَ اللّٰہُ ذُرِّیَّۃَ آدَمَ اَعْظَمَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ، وَاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا اِلَّا حَذَّرَ اُمَّتَہُ الدَّجَّالَ وَاَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآئِ، وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ، وَہُوَ خَارِجٌ فِیْکُمْ لَا مَحَالَۃَ الخ۔(۲۰)
۹۷۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَ اُمَّتِیْ۔ (بیہقی،طبرانی)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت ـــــکسی نئے آنے والے نبی کی امت ـــــ نہیں۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، ثَنا مُعَاذٌ یعنی ابْنَ ہِشَامٍ، قَالَ وَجَدْتُ فِی کِتَابِ اَبِیْ بِخَطِّ یَدِہٖ، وَلَمْ اَسْمَعْہُ مِنْہُ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِیْ مِعْشَرٍ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخَعِیِّ، عَنْ ہَمَّامٍ، عَنْ حُذَیفَۃَ، اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَۃٌ وَعِشْرُوْنَ مِنْہُمْ اَرْبَعٌ نِسْوَۃٌ وَاِنِّیْ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔(۲۱)
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ستائیس جھوٹے دجال نمودار ہوں گے ان میں چار عورتیں بھی ہوں گی۔ میں بہر حال خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۸۔عَنْ ثوْبَانَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ۔۔۔وَاِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ (ابوداؤد)
’’ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔۔۔اور یہ کہ میری امت میں تیس کذّاب ہوںگے جن میںسے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ وَاِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَقَالَ زُہَیْرٌ: نَاعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَہُوَ بْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذّاَبُوْنَ قَرِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے فریبی دجّال نہ نکلیں گے۔ ان میں سے ہر ایک اللہ کا رسول ہونے کا مدعی ہوگا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ یَعْنِی ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَلَاثُوْنَ دَجَّالُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس دجال ظاہر نہ ہوں۔ ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مَعَاذٍ، ثنا اَبیْ ثنا مُحَمَّدٌ۔ یعنی ابْنَ عَمْرِو، عَنْ اَبِِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَلَاثُونَ کَذَّابًا دَجَّالًا کُلُّہُمْ یَکْذِبُ عَلَی اللّٰہِ وَعَلیٰ رَسُوْلِہٖ۔(۲۳)
ترجمہ : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی تاوقتے کہ تیس جھوٹے فریبی دجال نہ نکلیں۔ ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا۔
(۴) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلَانَ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَامَعْمَرٌ، عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبَّہٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْبَعَثَ کَذَّابُوْنَ دَجَّالُوْنَ قَرِیْبٌ مِّنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔(۲۴)
ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔ وَفِی الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ وَابْنِ عُمَرَ۔
ٔٔ(۵) حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْن شُعَیْب بْنِ شَابُوْرٍ، ثَنَا سَعِیْدُبْنُ بَشِیْرٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، اَنَّہٗ حَدَّثَہُمْ عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ الْجَرْمِیّ عَبْد اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَبیْ اَسْمَائَ الرَّحَبِِیّ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: وَاِنَّ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ دَجَّالِیْنَ کَذَّابِیْنَ قَرِِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِِیْنَ کُلُّہُمْ یَزعُمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ الحدیث۔(۲۵)
ترجمہ : قیامت سے قبل تیس کے قریب جھوٹے دجال ہوں گے جن میں سے ہرایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔
(۶) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیْسیٰ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی زَویٰ لِیَ الْاَرْضَ فَرَأَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَاِنَّ مُلْکَ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مَازُوِیَ لِیْ مِنْہَا، وَاُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالَاَبْیَضَ، وَاِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِِّیْ لِاُمَّتِیْ اَنْ لَّا یُّہْلِکَہَا بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ وَلَا یُسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِویٰ اَنْفُسِہِمْ، فَیَسْتَبِِیْحَ بِیْضَتَہُمْ وَاِنَّ رَبِّـیْ قَالَ لِیْ: یَا مُحَمَّدُ! اِنِّیْ اِذَا قَضَیْتُ قَضَائً فَاِنَّہٗ لَا یُرَدُّ وَلَااُہْلِکُہُمْ بِسَنَۃٍ بِِعَامَّۃٍ وَلَا اُسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِویٰ اَنْفُسِہِمْ فَیَستَبِیْحَ بِیْضَتَہُمْ وَلَوِاجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنِ اَقْطَارِہَا اَوْقَالَ بِاَقْطَارِہَاحَتّٰی یَکُوْنَ بَعْضُہُمْ یُہْلِکُ بَعْضًا وَحَتّٰی یَکُوْنُ بَعْضُہُمْ یَسْبِیْ بَعْضًا وَاِنَّمَا اَخَافُ عَلیٰ اُمَّتِیْ الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّیْنَ وَاِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِیْ اُمَّتِیْ لَمْ یُرْفَعْ عَنْہَا اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِِکِیْنَ حَتّٰی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ الْاَوْثَانَ وَاِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُونَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَاَنَا خاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا تَزَالُ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ قَالَ ابْنُ عِیْسیٰ ظَاہِرِیْنَ ثُمَّ اتَّفَقَا لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ تَعَالیٰ۔(۲۶)
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روئے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کامشاہدہ کیا۔ میری امت کی سلطنت وہاں تک ضرور پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین کو میرے لیے سکیڑا گیا اور مجھے دوخزانے بھی عطا کیے گئے ایک سرخ اور دوسرا سفید اور میں نے اپنے رب سے استدعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط سالی میں مبتلا کرکے ہلاک نہ کرے اور ان پر اپنوں کے سوا اغیار میں سے ایسادشمن مسلط نہ کرے جو ان کی نسل کشی کردے اورمیرے رب نے فرمایا اے محمدؐ! میں جو فیصلہ کردوں وہ رد نہیں کیا جاسکتا۔ میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سالی میں مبتلا کرکے ہلاک نہیں کروں گا اور ان کے اپنوں کے علاوہ ان پر دوسرا کوئی دشمن بھی مسلط نہیں کروںگا جو ان کی نسل کشی کردے۔ خواہ دنیا کے گوشے گوشے سے دشمن اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف اقدام کریں۔ تاوقتے کہ مسلمان باہم ایک دوسرے کو قتل نہ کریں اور ایک دوسرے کو قید نہ کرلیں۔ اور مجھے اپنی امت کے لیے سب سے زیادہ اندیشہ ائمہ مضلین کا ہے اور جب میری امت میں شمشیر چل پڑی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــامت میں باہمی لڑائی شروع ہوگئیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ ـــــ تو قیامت تک وہ پھر نہ اٹھے گی۔ اور قیامت اس وقت تک برپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین کے ساتھ نہ جاملیں اور بتوں کی پوجا شروع نہ کردیں اور یہ کہ میری امت میں تیس کذاب ضرور پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گاکہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ محمد بن عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ غالب رہے گا۔ مخالف ان کا کچھ نہ بگاڑسکیں گے تاآں کہ امر الٰہی آجائے۔
۹۹۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث ابوداؤدنے کتاب الملاحم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبانؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے یہ دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
حَتّٰی یَبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلاَثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ،’’یہاں تک کہ اٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فریبی، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گاکہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔‘‘ (ختم نبوت:ختم نبوت ۔۔۔)
۱۰۰۔قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحیٰ بِہِ الْکُفْرُ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی عَقَبِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ ۔
(بخاری ومسلم، المستدرک للحاکم)
’’نبی ﷺنے فرمایا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفرمحو کیا جائے گا۔میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے ـــــ میرے بعد اب بس قیامت ہی آنی ہے ـــــ اور میں عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔‘‘ (ختم نبوت :ختم نبوت۔۔۔)
اسی مضمون کی روایات حضرت جبیر بن مطعم سے امام مالک ، بخاری، مسلم، دارمی، ترمذی اور نسائی نے نقل کی ہیں حضورؐ کا یہ اسم گرامی صحابہ میں معروف تھا، چنانچہ حضرت حسان بن ثابت کا شعر ہے:
صَلَّی الْاِلٰہُ وَمَنْ یَحُفُّ لِعَرْشِہٖ وَالطَّیِّبُوْنَ عَلَی الْمُبَارَکِ اَحْمَدِ
’’اللہ نے اوراس کے عرش کے گرد جمگھٹا لگائے ہوئے فرشتوں نے اور سب پاکیزہ ہستیوں نے بابرکت احمد پردرود بھیجا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، وَابْنُ اَبِیْ عَمْرٍو، وَاللَّفْظُ لِزُہَیْرٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: انا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ، سَمِعَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِِبْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ وَسَلَّمَ قَالَ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحیٰ بِیَ الْکُفْرُ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلیٰ عَقَبِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ۔(۲۷)
(۲) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ، قَالَ: انا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ،عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُسَمِّیْ لَنَا نَفْسَہٗ اَسْمَائً، فَقَالَ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَحْمَدُوَالْمُقَفِّیْ، وَالْحَاشِرُوَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ، وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِِ۔(۲۸)
(۳) حَدَّثَنِیْ حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: انا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ لِیْ اَسْمَائٌ، اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُوْ اللّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُالنَّاسُ عَلیٰ قَدَمِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ اَحَدٌ، وَقَدْ سَمَّاہُ اللّٰہُ رَؤُوْفًا رَّحِیْمًا۔(۲۹)
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرٍ مُحَمَّدُبْنُ اَحْمَدَ ابْنِ حَاتِمٍ الْمُزَکِّیْ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا اَبُوْنُعَیْمٍ، ثنا اَلْمَسْعُوْدِیُّ عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃ، عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، قَالَ: سَمَّی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ نَفْسَہٗ اَسْمَائً فَمِنْہَا مَاحَفِظْنَاہُ وَمِنْھَا مَانَسِیْنَاہُ قَالَ: اَنَامُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَالْمُقَفِِّیْ، وَالْحَاشِرُ، ونَبِیُّ التَّوْبَۃِ، وَالْمَلْحَمَۃِ۔(۳۰)
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاَسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
ترجمہ :رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے کئی نام بتائے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جنھیں ہم نے یاد رکھا اور کچھ ایسے ہیں جنھیں ہم بھول گئے۔ آپؐ نے فرمایا: میں محمدؐ ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفی ہوں، میں حاشرہوں، میں نبی التوبہ ہوں اور میں نبی الملحمۃ ہوں۔
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا اَسْوَدُبْنُ عَامِرٍ، ثنا اَبُوْبَکْرٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ اَبِِیْ وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ حُذَیْفَۃُ۔اَنَااَمْشِیْ فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ: اِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَمْشِیْ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ، وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَالْحَاشِرُ والْمُقَفِّی وَنَبِیُّ الْمَلَاحِمِ۔(۳۱)
(۶) حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنِیْ مَعْنٌ، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ بْنِ شِہَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِِ جُبَیْربْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِیْ خَمْسَۃُ اَسْمَائٍ: اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِی یَمْحُوا للّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلیٰ قَدَمِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ۔(۳۲)
احمد کے معنی
(یہاں) نبی کریم ﷺ کا اسم گرامی احمد بتایا گیا ہے۔ احمد کے دو معنی ہیں۔ ایک وہ شخص جو اللہ کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو، دوسرے وہ شخص جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو، یا جو بندوں میں سب سے زیادہ قابل تعریف ہو، تاریخ سے بھی یہ ثابت ہے کہ حضوؐر کا نام مبارک صرف محمدؐ ہی نہ تھا بلکہ احمدؐ بھی تھا۔ عرب کا پورا لٹریچر اس بات سے خالی ہے کہ حضوؐر سے پہلے کسی کا نام احمدؐ رکھا گیا ہواور حضوؐر کے بعد احمد اور غلام احمد اتنے لوگوں کے نام رکھے گئے ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے بڑھ کر اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ زمانۂ نبوت سے لے کر آج تک تمام امت میں آپؐ کا یہ اسم گرامی معلوم و معروف رہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الصف ، حاشیہ:۸)
۱۰۱۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَلِیٍّ اَنْتَ مِنَّیْ بِِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰؑ۔اِلَّا اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔
(بخاری ومسلم)
’’ رسول اللہ ﷺنے حضرت علیؓ سے فرمایا میرے ساتھ تمھاری نسبت وہی ہے جو موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارونؑ کی تھی مگرمیرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘
تشریح :بخاری ومسلم نے یہ حدیث غزوۂ تبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔ مسند احمد نے اس مضمون کی دو حدیثیں حضرت سعد بن ابی وقّاص سے روایت کی ہیں۔ جن میں سے ایک کاآخری فقرہ یوں ہے: اِلَّا اَنَّہٗ لَانُبُوَّۃَ بَعْدِیْ۔ ’’مگر میرے بعدکوئی نبوت نہیں ہے۔‘‘ ابوداؤد، طیالسی، امام احمد اور محمد بن اسحاق نے اس سلسلے میں جو تفصیلی روایات نقل کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے جاتے وقت نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ منورہ کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی باتیں ان کے بارے میں کہنی شروع کردیں۔ انھوں نے جاکر حضورؐ سے عرض کیا ’’یا رسولؐ اللہ ! کیا آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟‘‘ اس موقع پر حضورؐنے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم تو میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو، جو موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارونؑ رکھتے تھے۔‘‘ یعنی جس طرح موسیٰؑ نے کوہِ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارونؑ کو بنی اسرائیل کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑا تھا اسی طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لیے چھوڑے جارہا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حضورؐ کو اندیشہ ہوا کہ حضرت ہارون کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے، اس لیے فوراً آپؐ نے یہ تصریح فرمادی کہ میرے بعدکوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔ (ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا غُنْدُرٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اِبْرَاہِِیْمَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ قَالَ النَّبِیُّﷺ لِعَلِیٍّ: اَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ؟(۳۳)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا غُنْدُرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ ح قَالَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ مُثَنّٰی وابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: نا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِبْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ۔ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ! اَتُخَلِّفُنِیْ فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ:اَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ غَیْرَ اَنَّہٗ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ؟(۳۴)
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضرت علیؓ کو اپنے پیچھے چھوڑا تو انھوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! آپؐ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا:کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمھاری نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارونؑ کی موسیٰ سے تھی ۔ بہ جزء اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟
(۳) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ اِلیٰ تَبُوْکَ فَاسْتَخْلَفَ عَلِیًّا قَالَ: اَتُخَلِّفُنِیْ فِی الصِّبْیَانِ وَالنِّسَآئِ؟ قَالَ: اَلَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسیٰ اِلَّا اَنَّہٗ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ۔(۳۵)
(۴) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَمُحَمَّدُ ابْنُ عَبَّادٍ وتَقَارَبَا فِی اللَّفْظِ، قَالَا:نَاحَاتِمٌ وَہُوَ ابْنُ اِسْمٰعِیْلَ عَنْ بُکَیْرِبْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدِبْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، عَنْ اَبِیْہِ، فَقَالَ لَہٗ عَلِیٌّ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! خَلَّفْتَنِیْ مَعَ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ! فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ اِلَّا اَنَّہٗ لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِیْ اَلْحَدِیْث۔(۳۶)
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثنا اَبُوْسَعِیْدٍ مَوْلیٰ بَنِیْ ہَاشِمٍ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثَنَا الْجُعَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہَا اَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَرَجَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ حَتّٰی جَائَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَبْکِیْ یَقُوْلُ: تُخَلِّفُنِیْ مَعَ الْخَوَالِفِ فَقَالَ: اَوَمَا تَرْضیٰ اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ اِلَّا النُّبُوَّۃَ۔(۳۷)
۱۰۲۔ قَالَ النَّبِِیُّ ﷺ: لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ۔ (ترمذی)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن خطاب ہوتے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شُعَیْبٍ، نَاالْمُقْرِیُٔ عَنْ حَیْوَۃَ ابْنِ شُرَیْحٍ،عَنْ بَکْرِبْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْن ہَاعَان، عَنْ عُقْبَۃَ بْن عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ۔(۳۸)
ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ لَا نَعْرِفُہٗ اِلاَّمِنْ حَدِیْثِ مِشْرَحِِِ ابْنِ ہَاعَانَِ۔
۱۰۳۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَقَدْ کَانَ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ مِّنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالٌ یُکَلَّمُوْنَ مِنْ غَیْرِِاَنْ یَکُوْنُوْا اَنْبِیَآئَ فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْ اُمَّتِیْ اَحَدٌ فَعُمَرُ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے جوبنی اسرائیل گزرے ہیں، ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں، جن سے کلام کیا جاتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمر ہوگا۔‘‘
تشریح :مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے اس میں یُکَلَّمُوْنکے بجائے مُحَدَّثُوْنَ کا لفظ ہے۔ لیکن مکلَّم اور محدَّث دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، یعنی ایسا شخص جو مکالمۂ الٰہی سے سرفراز ہو، یا جس کے ساتھ پر دۂ غیب سے بات کی جائے اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کے بغیر مخاطبۂ الٰہی سے سرفراز ہونے والے بھی اس امت میں اگر کوئی ہوتے تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔
(ختم نبوت:ختم نبوت۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ فَزَعَۃَ، ثَنَا اِبْرَاہیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِِ، عَنْ اَبیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَقَدْکَانَ فِیْمَا کَانَ قَبْلَکُمْ مِّنَ الْاُمَمِ نَاسٌ مُحَدَّثُوْنَ، فَاِنْ یَّکُ فِیْ اُمَّتِیْ اَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ، زَادَ زَکَریَّابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ عَنْ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّﷺ: قَدْ کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالٌ یُکَلَّمُوْنَ مِنْ غَیْرِاَنْ یَکُوْنُوْا اَنْبِیَآئَ، فَاِنْ یَّکُ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْہُمْ اَحَدٌ، فَعُمَرُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ نَبِیٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ۔(۳۹)
۱۰۴۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاِنِّیْ آخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَاِنَّ مَسْجِدِیْ اٰخِرُالْمَسَاجِدِ۔ (مسلم)
منکرین ختم نبوت اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جس طرح حضوؐر نے اپنی مسجد کو آخر المساجد فرمایا، حالانکہ وہ آخری مسجد نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بھی بے شمار مسجدیں دنیا میں بنی ہیں۔ اسی طرح جب آپؐ نے فرمایا کہ میں آخر الانبیاء ہوں تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپؐ کے بعد نبی آتے رہیں گے، البتہ فضیلت کے اعتبار سے آپؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ لیکن درحقیقت اسی طرح کی تاویلیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ خدا اور رسولؐ کے کلام کو سمجھنے کی اہلیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ صحیح مسلم کے جس مقام پر یہ حدیث وارد ہوئی ہے اس کے سلسلے کی تمام احادیث کو ایک نظر ہی آدمی دیکھ لے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ حضوؐر نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کس معنی میں فرمایا ہے۔اس مقام پر حضرت ابوہریرہؓ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حضرت میمونہؓ کے حوالہ سے جو روایات امام مسلم نے نقل کی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کو عام مساجد پر فضیلت حاصل ہے، جن میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزارگنا زیادہ ثواب رکھتا ہے، اور اسی بنا پر صرف انہی تین مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرکے جانا جائز ہے۔باقی کسی مسجد کا یہ حق نہیں ہے کہ آدمی دوسری مسجدوں کو چھوڑ کر خاص طور پر ان میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرے۔ ان میں سے پہلی مسجد، مسجد الحرام ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ دوسری مسجد، مسجد اقصیٰ ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا۔ اور تیسری مسجد، مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی ہے جس کی بناء حضور نبی اکرم ﷺ نے رکھی ۔ حضوؐر کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، اس لیے میری اس مسجد کے بعد دنیا میں کوئی چوتھی مسجد ایسی بننے والی نہیں ہے جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نماز کی غرض سے سفر کرکے جانا درست ہو۔
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ( مسجد نبوی) ہے۔ ‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ:نَاعِیْسَی بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِیُّ، قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا الزُّبَیْدِ یُّ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَاَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَغَرُّمَوْلَی الجُہَنِیِّیْنَ، وَکَانَ مِنْ اِصْحَابِ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّہُمَا سَمِعَا اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَفْضَلُ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ اِلَّا الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ، وَاِنَّ مَسْجِدَہٗ اٰخِرُالْمَسَاجِدِ۔
قَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ وَاَبُوْعَبْدِ اللّٰہِ: لَمْ نَشُکَّ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یَقُوْلُ: عَنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہ ِﷺ فَمَنَعْنَا ذٰلکَ اَنْ نَسْتَثْبِتَ اَبَاہُرَیْرَۃَ عَنْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ حَتّٰی اِذَا تَوَفّٰی اَبُوْہُرَیْرَۃَ تَذَاکَرْنَا ذَالِکَ وَتَلَاوَمْنَا اَنْ لَّا َنکُوْنَ کَلَّمْنَا اَبَاہُرَیْرَۃَ فی ذٰلِکَ حَتّٰی یُسْنِدَہٗ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِنْ کَانَ سَمِعَہٗ مِنْہُ فَبَیْنَا نَحْنُ عَلیٰ ذٰلِکَ جَالَسْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اِِبْرَاہِیْمَ ابْنِ قَارِظٍ فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ الْحَدِیْثَ وَالَّذِیْ فَرَّطْنَا فِیْہِ مِنْ نَصِّ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْہُ فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ اِبْرَاہِیْمَ ابْنِ قَارِِظٍ: اَشْہَدُ اَنِّیْ سَمِعْتُ اَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَاِنِّیْ اٰخِِرُالْاَنْبِیَائِ وَاِنَّ مَسْجِدِیْ آخِرُالْمَسَاجِدِ۔(۴۰)
نسائی کی ایک روایت میں ہے :
(۲) فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَمَسْجِدُہٗ اٰخِِرُ الْمَسَاجِدِ۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۳) فَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآئِ، وَاِنَّہٗ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مسجدِ حرام کے علاوہ باقی تمام مساجد سے مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز سے بھی زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی مسجد آخری مسجد ہے۔
ابوسلمہ اور ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ ابوہریرہؓ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سن کر ہی بیان کی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے ابوہریرہؓ سے اس حدیث کے بارے میں توثیق نہیں کرائی۔ حتیّٰ کہ جب حضرت ابوہریرہؓ وفات پاگئے تو ہمیں اس بات کا خیال آیا اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس حدیث کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے دریافت کیوں نہ کیا تاکہ وہ بیان کردیتے کہ انھوں نے آں حضرت ﷺ سے یہ حدیث خود سنی ہے یا نہیں۔
ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ ہمیں عبداللہ بن ابراہیم کے ساتھ نشست کا موقع مل گیا۔ ہم نے ان سے اس حدیث کا ذکر کیا اور اپنی اس کوتاہی کا بھی ذکر کیا جو حضرت ابوہریرہؓ سے اس کی اسنادکے طلب کرنے میں ہم سے سرزد ہوئی تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے خود ابوہریرہؓ کو کہتے سنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْمُثَنّٰی، وَابْنُ اَبیْ عُمَرَ جَمِیْعًا عَنِ الثَّقَفِیِّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنّٰی: نَا عَبْدُ الْوَہَّابِ، قَالَ:سَمِعْتُ یَحْیَ بْنَ سَعِیْدٍ، یَقُوْلُ: سَأَلْتُ بِصَالِحٍ ہَلْ سَمِعْتَ اَبَاَہْرَیْرَۃَ یَذْکُرُ فَضْلَ الصَّلوٰۃ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: لاَوَلٰکِنْ اخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِِ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ ابْنِ قَارِظٍ۔ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَاہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:صَلَاۃٌ فِی مَسْجِدِِیْ ہٰذَا خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ صَلوٰۃٍ اَوْ کَاَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ اِلَّااَنْ یَّکُوْنَ الْمَسْجِِدُ الْحَرَامُ۔(۴۱)
(۵) حَدَّثَنِیْ زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَا: نَا یَحْیٰ وَہُوَ الیَقَظَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نافِعٌ، عَنِِ ابْنِ عُمَرَ عَنِِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا اَفْضَلُ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِِیْمَا سِوَاہُ اِلَّا الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔(۴۲)
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْعٍ جَمِیْعًا عَنِ اللَّیْثِ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ قُتَیْبَۃُ: نا لَیْثٌ عَنْ نَافِِعٍ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعبَدٍ، عَنِ ابْنِِ عَبَّاسٍ: اَنَّہٗ قَالَ: اِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شکْویٰ فَقَالَتْ: اِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَاَخْرُجَنَّ فَلَاُصَلِّیَنَّ فِیْ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَبَرَأَتْ ثُمَّ تَجَہَّزَتْ تُرِِیْدُ الْخُرُوْجَ فَجَائَ تْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ تُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَاَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ فَقَالَتْ اِجْلِسِیْ فَکُلِیْ مَاصَنَعْتِ وَصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِﷺ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ : صَلَاۃٌ فِیْہِ اَفْضَلُ مِِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسٰجِدِ اِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ۔(۴۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہتے ہیںایک عورت بیمار ہوگئی تو اس نے نذر مانی کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے شفاء عطا فرمائی تو میں ضروربیت المقدس میں نماز ادا کروں گی۔ اللہ کی مہربانی سے وہ شفایاب ہوگئی۔ اس نے سفر کی تیاری کی۔ پھر وہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے پاس گئی اور انھیں سلام کیا اور اپنے ارادے سے انھیں آگاہ کیا: حضرت میمونہ ؓ نے فرمایا کہ بیٹھ جائو، جو کچھ تیار کیا ہے اسے کھائو اور مسجد الرسول (مسجد نبوی)میں نماز پڑھ لو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے کہ میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد میں ایک ہزار نماز سے افضل ہے مگر بیت اللہ شریف اس سے مستثنیٰ ہے۔
ختم کے لغوی معنی
منکرین ختم نبوت رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات کے مقابلہ میں اگر کوئی چیز پیش کرتے ہیں تو وہ یہ روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’ ’ قُوْلُوْا اَنَّہٗ خَاتَمَ الْاَنْبِیَآئِ وَلاَ تَقُوْلُوْا لاَ نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔‘‘ یہ تو کہو کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ لیکن اول تو حضوؐر کے صاف صاف ارشادات کے مقابلہ میں حضرت عائشہؓ کے کسی قول کو پیش کرنا ہی سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ حضرت عائشہؓ کی طرف جس روایت میں یہ قول منسوب کیا گیا ہے وہ بجائے خود غیر مستند ہے۔ اسے حدیث کی کسی معتبر کتاب میں کسی قابل ذکرمحدث نے نقل نہیں کیا ہے۔ تفسیرکی ایک کتاب درِّمنثور اور لغت حدیث کی ایک کتاب تکملۂ مجمع البحار سے اس کو نقل کیا جاتا ہے، مگر اس کی سند کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ایسی ایک ضعیف ترین روایت اور وہ بھی ایک صحابیہ کے قول کو لاکر نبی اکرم ﷺ کے ان ارشادات کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا ہے، جنھیںتمام اکابر عربی لغت اور محاورے کی رُو سے ’’ختم‘‘ کے معنی مہر لگانے، بندکرنے ، آخر تک پہنچ جانے اور کسی کام کو پورا کرکے فارغ ہوجانے کے ہیں۔ خَتَمَ الْعَمَلکے معنی ہیں فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ’’کام سے فارغ ہوگیا۔‘‘
خَتَمَ الْاِنَائَکے معنی ہیں۔ ’’برتن کا منہ بند کردیا اور اس پر مہر لگادی تاکہ نہ کوئی چیزاس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو۔‘‘
خَتَمَ الْکِتَابَکے معنی ہیں۔ ’’خط بند کرکے اس پر مہر لگادی تاکہ خط محفوظ ہوجائے۔‘‘
خَتَمَ عَلَی الْقَلْبِ’’دل پر مہر لگادی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نکل سکے۔‘‘
خِتَامُ کُلِّ مَشْرُوْبٍ’’وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے۔‘‘
خَاتِِمَۃُ کُلِّ شَـْیئٍ، عَاقِبَتُہٗ وَاٰخِرَتُہٗ’’ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت۔‘‘
خَتَمَ الشَّیْئُ بَلَغَ اٰخِرَہٗ’’کسی کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا۔‘‘ اس معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے۔
خَاتَمُ الْقَوْمِ،اٰخِرُہُمْ’’خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کاآخری آدمی۔‘‘(ملاحظہ ہو لسان العرب ، قاموس اور اقرب الموارد)
تشریح :یہ احادیث۱؎بہ کثرت صحابہؓنے نبی ﷺ سے روایت کی ہیں اوربہ کثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضوؐر نے مختلف مواقع پر، مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے، کہ آپؐ آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہوچکا ہے، اور آپؐ کے بعد جو لوگ بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں، وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’خاتم النبیین‘‘ کی اس سے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہوسکتی ہے۔ رسول پاک کا ارشاد تو بجائے خود سندو حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کررہا ہو، تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجت بن جاتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہوسکتا ہے کہ وہ ختم نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا کیا معنی، قابل التفات بھی سمجھیں۔
محدثین نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
صحابہ کرام کا اجماع
قرآن و سنت کے بعد اہم ترین حیثیت صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ، اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی، ان سب کے خلاف صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق جنگ کی تھی۔
اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ مسلیمۂ کذاب کا معاملہ قابل ذکر ہے۔یہ شخص نبی ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے حضوؐر کے ساتھ شریک نبوت بنایا گیاہے۔ اُس نے حضوؐر کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپؐ کو لکھا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں:
مِنْ مُسَیْلَمَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ الٰی مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰہِ سَلاَمٌ عَلَیْکَ فَاِنِّیْ اُشرِِکتُ فِی الْاَمْرِمَعَکَ۔ (طبری۔ جلد دوم ص ۳۹۹ طبع مصر)
’’مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کی طرف ۔ آپؐ پر سلام ہو۔ آپؐ کو معلوم ہو کہ میں آپؐ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں۔‘‘
علاوہ بریں مؤرخ طبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِکے الفاظ بھی کہے جاتے تھے۔ اس صریح اقرار رسالت محمدیؐ کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنفیہ نیک نیتی کے ساتھ (In Good Faith) اس پر ایمان لائے تھے اور انھیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو خود شریک رسالت کیا ہے۔ نیز قرآن کی آیات کو اُن کے سامنے مسیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینہ طیبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کرکے گیا تھا (البدایہ والنہایہ لابن کثیر ج ۵ ص ۵۱)۔ مگر اس کے باوجودصحابہ کرامؓ نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہؓ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کے جرم میں جنگ کی تھی۔ اسلامی قانون کی رو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگرجنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیران جنگ غلام نہیں بنائے جاسکتے۔ بلکہ مسلمان تو درکنار ، ذمی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ لیکن مسیلمہ اور اس کے پیرؤوں پرجب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابوبکرؓ نے اعلان فرمایا کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا۔ اور جب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا، چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصے میں آئی جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیت محمد بن حنفیہ (حنفیہ سے مراد ہے قبیلۂ بنو حنفیہ کی عورت۔) نے جنم لیا۔ (البدایہ والنہایہ ،ج ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۶ ،ص:۳۱۶،۳۲۵)
اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔ یہ کارروائی حضوؐر کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابوبکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے اور صحابہؓ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے۔ اجماع صحابہؓ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔
تمام علمائے امت کا اجماع
اجماع صحابہ کے بعد مسائل دین میں جس چیز کو حجت کی حیثیت حاصل ہے وہ دور صحابہ کے بعد کے علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صدی سے لے کر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام میں ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیںکہ محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیںہوسکتا، اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے، یا اس کو مانے ، وہ کافر، خارج از ملت اسلام ہے۔اس سلسلہ کے بھی چند شواہد ملاحظہ ہوں:
(۱) امام ابوحنیفہؒ (۸۰ – ۱۵۰ھ) کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا ۔ ’’مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں۔‘‘ اس پر امام اعظمؒ نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی (مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لابن احمد المکی ج ۱ ص ۱۶۱۔ مطبوعہ حیدرآباد ۱)علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا ۔۔۔۔
(۲) علامہ ابن جریر طبری (۲۲۴ھ-۳۱۰ھ) اپنی مشہور تفسیر قرآن میں آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ کا مطلب بیان کرتے ہیں:
اَلَّذِیْ خَتَمَ النُّبُوَّۃَ فَطَبَعَ عَلَیْہَا فَلاَ تُفْتَحُ لِاَحَدٍ بَعْدَہٗ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ۔
’’جس نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی اب قیامت تک یہ دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلے گا۔‘‘
(تفسیر ابن جریر، جلد ۲۲،ص:۱۲)
(۳) امام طحاوی (۲۳۹ھ-۳۲۱ھ) اپنی کتاب ’’عقیدۂ سلفیہ‘‘ میں سلف صالحین اور خصوصاً امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے نبوت کے بارے میں یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں: اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں اور وہ خاتم الانبیاء، امام الاتقیاء، سید المرسلین اور حبیب رب العالمین ہیں، اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ گمراہی اور خواہش نفس کی بندگی ہے۔ (شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیہ، دارالمعارف مصر، صفحات ۱۵،۷ ۸، ۹۶، ۹۷،۰۰ ۱،)‘‘
(۴) علامہ ابن حزم اندلسی (۳۸۴-۴۵۶ھ) لکھتے ہیں: یقینا وحی کا سلسلہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد منقطع ہوچکا ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی نہیں ہوتی مگر ایک نبی کی طرف اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے کہ محمدؐ نہیں ہیں تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ ، مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ (المحلی ج ۱،ص:۲۶)
( امام غزالی کی اس رائے کو ہم ان کی اصل عبارت کے ساتھ اس لیے نقل کر رہے ہیں کہ منکرین ختم نبوت نے اس حوالے کی صحت کو بڑے زورو شور سے چیلنج کیا ہے۔)(۵) امام غزالی (۴۵۰ھ-۵۰۵ھ) فرماتے ہیں۳:
لَوْفُتِحَ ہٰذَا الْبَابُ (اَیْ بَابَ اِنْکَارِکَوْنُ الْاِجْمَاعِ حُجَّۃٌ) اِنْجَرَّاِلٰی اُمُوْرٍ شَنِیْعَۃٍ وَہُوَاَنَّ قَائِلاً لَوْقَالَ یَجُوْزُ اَنْ یُّبْعَثَ رَسُوْلٌ بَعْدَ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ فَیُبْعَدُ التَّوَقُّفُ فِیْ تَکْفِیْرِہِ وَمُسْتَبْعَدٌ اِسْتِحَالَۃُ ذٰلِکَ عِنْدَالْبَعْثِ تُسْتَمَدُّ مِنَ الْاِجْمَاعِ لاَمُحَالَۃَ، فَاِنَّ الْعَقْلَ لاَیَحِیْلُہٗ، وَمَا نُقِلَ فِیْہِ مِنْ قَوْلِہٖ لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ، وَمِنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ، فَلاَ یُعْجِزُ ہٰذَا الْقَائِلَ عَنْ تَاْوِیْلِہٖ، فَیَقُوْلُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ اَرَادَ بِہٖ اُوْلُوْا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ، فَاِنْ قَالُوْا النَبِیِّیْنَ عَامٌ، فَلاَیُبْعَدُ تَخْصِیْصُ الْعَامِ، وَقَوْلُہٗ لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ لَمْ یَرِدْ بِہٖ الرَّسُوْلَ وَفَرْقُ بَیْنَ النَّبِیِّ وَالرَّسُوْلِ وَالنَّبِیُّ اَعْلٰی مَرْتَبَۃً مِّنَ الرَّسُوْلِ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مِنْ اَنْوَاعِ الْہِذْیَانِ، فَہٰذَا وَاَمْثَالُہٗ لاَیُمْکِنُ اَنْ نَدَّعِیْ اِسْتِحَالَتَہٗ مِنْ حَیْثُ مُجَرَّدِ اللَّفْظِ، فَاِنَّا فِیْ تَاْوِیْلِ ظَوَاہِرِ التَّشْبِیْہِ قَضَیْنَا بِاِحْتِمَالاَتٍ اَبْعَدَہٗ مِنْ ہٰذِہٖ، وَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ مُبْطِلاً لِلنُّصُوْصِ، وَلٰکِنَّ الرَّدَّ عَلٰی ہٰذَا الْقَائِلِ اَنَّ الْاُمَّۃَ فَہِمَتْ بِالْاِجْمَاعِ مِنْ ہٰذَا اللَّفْظِ وَمِنْ قَرَائِنِ اَحْوَالِہٖ اَنَّہٗ اَفْہَمَ عَدَمَ نَبِیٍّ بَعْدَہٗ اَبَدًا وَعَدَمَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَبَدًا وَاَنَّہٗ لَیْسَ فِیْہِ تَاْوِیْلٌ وَلاَتَخْصِیْصٌ فَمُنْکِرُہٰذَا لاَیَکُوْنُ اِلاَّمُنْکِرُ الْاِجْمَاعِ۔
(الاقتصاد فی الاعتقاد، المطبعۃ الادبیۃ، مصر،ص:۱۱۴)
’’اگر یہ دروازہ ـــــیعنی اجماع کو حجت ماننے سے انکار کا دروازہـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــکھول دیا جائے تو بڑی قبیح باتوںتک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ مثلاً اگر کہنے والا کہے کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے بعد کسی رسول کی بعثت ممکن ہے تو اس کی تکفیر میں تامل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بحث کے موقع پر جو شخص اس کی تکفیر میں تامل کو ناجائزثابت کرنا چاہتا ہو تو اسے لامحالہ اجماع سے مدد لینی پڑے گی۔ کیوں کہ عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اور جہاں تک نقل کا تعلق ہے اس عقیدے کا قائل لانبی بعدی اور خاتم النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ ہوگا۔ وہ کہے گا کہ خاتم النبیین سے مراد اولواالعزم رسولوں کا خاتم ہونا ہے اور اگر کہا جائے کہ نبیین کا لفظ عام ہے تو عام کو خاص قرار دے دینا اس کے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا۔ اور لانبی بعدی کے متعلق وہ کہہ دے گا کہ لارسول بعدی تو نہیں کہا گیا ہے، رسول اور نبی میں فرق ہے، اور نبی کا مرتبہ رسول سے بلند تر ہے۔ غرض اس طرح کی بکواس بہت کچھ کی جاسکتی ہے اور محض لفظ کے اعتبار سے ایسی تاویلات کو ہم محال نہیں سمجھتے، بلکہ ظواہر تشبیہ کی تاویل میں ہم اس سے زیادہ بعید احتمالات کی گنجائش مانتے ہیں۔ اور اس طرح کی تاویلیں کرنے والے کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ نصوص کا انکار کررہا ہے۔ لیکن اس قول کے قائل کی تردید میں ہم یہ کہیں گے کہ امت نے بالاتفاق اس لفظ ـــــلاَنَبِیَّ بَعْدِیْ ـــــسے اور نبی ﷺ کے قرائن احوال سے یہ سمجھا ہے کہ حضورؐ کا مطلب یہ تھا کہ آپؐ کے بعد کبھی نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔ نیز امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس میں کسی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو منکر اجماع کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘
(۶) محی السنہ بغوی (متوفی۵۱۰ھ) اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں: اللہ نے آپؐ کے ذریعہ سے نبوت کو ختم کیا، پس آپؐ انبیاء کے خاتم ہیں۔۔۔ اور ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (جلد ۳، ص:۱۵۸)
(۷) علامہ زمخشری (۴۶۷ھ-۵۳۸ھ ) تفسیر کشاف میں لکھتے ہیں: اگر تم کہو کہ نبی ﷺ آخری نبی کیسے ہوئے جب کہ حضرت عیسیٰؑ آخر زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپؐ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، اورعیسیٰؑ اُن لوگوں میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں۔‘‘ (جلد ۲ ص ۲۱۵)
(۸) قاضی عیاض (متوفی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں: جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعویٰ کرے یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی نبوت کا اکتساب کرسکتا ہے اور صفائی قلب کے ذریعہ سے مرتبہ نبوت کو پہنچ سکتا ہے ، جیسا کہ بعض فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں، اور اسی طرح جو شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔۔۔ ایسے سب لوگ کافر اور نبی ﷺ کے جھٹلانے والے ہیں۔ کیوں کہ آپؐ نے خبردی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ آپؐ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی طرف آپؐ کو بھیجا گیا ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر مفہوم پر محمول ہے، اس کے معنی و مفہوم میں کسی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا اُن تمام گرو ہوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ، بربنائے اجماع بھی اور بربنائے نقل بھی۔ (شفاء جلد۲، ص:۲۷۰-۲۷۱)
(۹) علّامہ شہرستانی (متوفّٰی۵۴۸ھ) اپنی مشہور کتاب ’’الملل والنحل‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’اور اسی طرح جو کہے۔۔۔کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے (بہ جزعیسیٰ علیہ السلام کے) تو اس کے کافر ہونے میں دوآدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ (جلد ۳، ص:۲۴۹)
(۱۰) امام رازی (۵۴۳ھ-۶۰۶ھ) اپنی تفسیر کبیر میں آیت خاتم النبیین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سلسلۂ بیان میں وَخَاتَمَ النبیین اس لیے فرمایا گیا کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو وہ اگر نصیحت اور توضیح احکام میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اسے پورا کرسکتا ہے۔مگر جس کے بعد کوئی آنے والا نبی نہ ہو وہ اپنی امت پر زیادہ شفیق ہوتا ہے اور اس کو زیادہ واضح رہنمائی دیتا ہے، کیوں کہ اس کی مثال اُس باپ کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ اس کے بیٹے کا کوئی ولی و سرپرست اس کے بعد نہیں ہے۔ (جلد،۶ ص: ۵۸۱)
(۱۱) علّامہ بیضاوی (متوفی ۶۸۵ھ) اپنی تفسیر’’ انوار التنزیل ‘‘میں لکھتے ہیں: یعنی آپؐ انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں جس نے ان کا سلسلہ ختم کردیا، یا جس سے انبیاء کے سلسلے پر مہر کردی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس ختم نبوت میں قادح نہیں ہے کیوں کہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپؐ ہی کے دین پر ہوں گے۔
(جلد ۴، ص:۱۶۴)
(۱۲) علّامہ حافظ الدین النّسفی (متوفی ۷۱۰ھ) اپنی تفسیر ’’مدارک التنزیل‘‘ میں لکھتے ہیں: اورآپؐ خاتم النبیین ہیں۔۔۔ یعنی نبیوں میں سب سے آخری۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ رہے عیسیٰ ؑتو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جو آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمد ﷺ پر عمل کرنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے گویا کہ وہ آپؐ کی امت کے افراد میں سے ہیں۔‘‘ (ص:۴۷۱)
(۱۳) علّامہ علائوالدین بغدادی (متوفی ۷۲۵ھ) اپنی تفسیر ’’خازن‘‘ میں لکھتے ہیں: وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ۔یعنی اللہ نے آپؐپر نبوت ختم کردی، اب نہ آپؐ کے بعد کوئی نبوت ہے نہ آپؐ کے ساتھ کوئی اس میں شریک۔۔۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَـْیئٍ عَلِیْمًا۔’’یعنی یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (ص: ۴۷۱-۴۷۲)
(۱۴) علّامہ ابن کثیر (متوفی ۷۷۴ھ) اپنی مشہور و معروف تفسیرمیں لکھتے ہیں: پس یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور جب آپؐ کے بعد نبی کوئی نہیں تو رسول بدرجۂ اولیٰ نہیںہے، کیوں کہ رسالت کا منصب خاص ہے اور نبوت کا منصب عام، ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔۔۔ حضورؐ کے بعد جو شخص بھی اس مقام کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری ، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والاہے۔ خواہ وہ کیسے ہی خرق عادت اور شعبدے اور جادو اور طلسم اور کرشمے بنا کر لے آئے ۔۔۔ یہی حیثیت ہر اس شخص کی ہے جو قیامت تک اس منصب کا مدّعی ہو۔‘‘ (ج ۳ ،ص:۴۹۳-۴۹۴)
(۱۵) علّامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ) تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَـْیئٍ عَلِیْمًا،’’یعنی اللہ اس بات کو جانتا ہے کہ آں حضرت ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور عیسی جب نازل ہوں گے تو آپ ہی کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے۔ (ص: ۷۶۸)
(۱۶) علّامہ ابن نجیم (متوفی۹۷۰ھ) اصول فقہ کی مشہور کتاب ’’ اَلْاَشباہ والنَّظَائر، کتاب السِّیَر، باب الردّۃ میں لکھتے ہیں: ’’اگرآدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے ، کیوں کہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن کا جاننا اور ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔ ‘‘ (ص:۱۷۹)
(۱۷) ملّاعلی قاری (متوفی ۱۰۱۶ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے نبی ﷺکے بعد نبوت کا دعویٰ کرنابالاجماع کفر ہے۔‘‘ (ص:۲۰۲)
(۱۸) شیخ اسماعیل حقی (متوفی۱۱۳۷ھ) تفسیر’’ روح البیان‘‘ میں اس آیت۱؎ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: عاصم نے لفظ خاتم ’’تَ‘‘کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی ہیں آلۂ ختم کے، جس سے مہر کی جاتی ہے۔ جیسے طابع اس چیز کو کہتے ہیںجس سے ٹھپا لگایا جائے۔ مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ انبیاء میں سب سے آخر تھے جن کے ذریعہ سے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگادی گئی۔ فارسی میں اسے ’’مہر پیغمبران‘‘ کہیں گے، یعنی آپؐ سے نبوت کا دروازہ سر بہ مہر کردیاگیا اور پیغمبروں کاسلسلہ ختم کردیا گیا۔ باقی قاریوں نے اسے ’’تِ‘‘ کے زیر کے ساتھ خاتم پڑھا ہے، یعنی آپ مہر کرنے والے تھے۔ فارسی میں اسے مہر کنندہ پیغمبران کہیں گے۔ اس طرح یہ لفظ بھی خاتم کا ہم معنی ہی ہے۔۔ ۔ اب آپؐ کی امت کے علماء آپ سے صرف ولایت ہی کی میراث پائیں گے، نبوت کی میراث آپؐ کی ختمیت کے باعث ختم ہوچکی اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپؐ کے بعد نازل ہونا آپؐ کے خاتم النبیین ہونے میں قادح نہیں ہے۔ کیوں کہ خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے گا۔۔۔ اور عیسیٰ ؑآپ سے پہلے ہی نبی بنائے جاچکے تھے۔ اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت محمدی ﷺکے پیرو کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپؐ ہی کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں گے۔ آپؐ کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوں گے۔ نہ ان کی طرف وحی آئے گی اور نہ وہ نئے احکام دیں گے۔بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔۔۔اور اہل سنت والجماعت اس بات کے قائل ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ ،اور رسول اللہ ﷺنے فرمادیا لاَنَبِیَّ بَعْدِیْاب جوکوئی کہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعدکوئی نبی ہے تو اس کو کافر قرار دیا جائے گا، کیوں کہ اس نے نص کا انکار کیا۔ اور اسی طرح اُس شخص کی تکفیرکی جائے گی جو اس میں شک کرے، کیوں کہ حجت نے حق کو باطل سے ممیز کردیا ہے اور جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ باطل کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ (جلد ۲۲، ص :۱۸۸)
(۱۹) فتاویٰ عالمگیری ، جسے بارھویں صدی ہجری میں اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے ہندوستان کے بہت سے اکابر علماء نے مرتب کیا تھا، اس میں لکھا ہے: اگر آدمی یہ نہ سمجھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلم نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا میں پیغمبر ہوں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔ (ج ۲، ص:۲۶۳)
(۲۰) علّامہ شوکانی (متوفی ۱۲۵۵ھ) اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھتے ہیں۔ ’’جمہورنے لفظ خاتم کو’’ت‘‘ کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم نے زبر کے ساتھ ۔ پہلی قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ نے انبیاء کو ختم کیا، یعنی سب کے آخرمیں آئے۔ اور دوسری قرأت کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ اُن کے لیے مہر کی طرح ہوگئے جس کے ذریعہ سے ان کا سلسلہ سربہ مہر ہوگیااور جس کے شمول سے ان کا گروہ مزین ہوا۔ (ج۴، ص:۲۷۵)
(۲۱) علامہ آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ) تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: ’’نبی کا لفظ رسول کی بہ نسبت عام ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے خود بخود لازم آتا ہے کہ آپؐ خاتم المرسلین بھی ہوں۔اور آپؐ کے خاتم انبیاء و رسل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں وصف نبوت سے آپؐ کے متصف ہونے کے بعد اب جن و انس میں سے ہر ایک کے لیے نبوت کا وصف منقطع ہوگیا۔ (جلد ۲۲، ص: ۳۲) رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص وحی نبوت کا مدعی ہواسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (جلد ۲۲، ص: ۳۸) ’’رسول اللہ ﷺکا خاتم النبیین ہونا ایک ایسی بات ہے جسے کتاب اللہ نے صاف صاف بیان کیا، سنت نے واضح طور پر اس کی تصریح کی اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ لہٰذا جو اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا ۔ (ج۲۲، ص: ۳۹)
یہ ہندوستان سے لے کر مراکش اور اندلس تک اور ٹرکی سے لے کریمن تک ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء و فقہاء اور محدثین و مفسرین کی تصریحات ہیں۔ ہم نے ان کے ناموں کے ساتھ ان کے سنین ولادت ووفات بھی دے دیے ہیں جن سے ہر شخص بیک نظر معلوم کرسکتا ہے کہ پہلی صدی سے تیرھویں صدی تک تاریخ اسلام کی ہر صدی کے اکابر ان میں شامل ہیں۔ اگرچہ ہم چودھویں صدی کے علمائے اسلام کی تصریحات بھی نقل کرسکتے ہیں مگر ہم نے قصداً انھیں اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی تفسیر کے جواب میں ایک شخص یہ حیلہ کرسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اس دور کے مدعی نبوت کی ضد میں ختم نبوت کے یہ معنی بیان کیے ہیں۔ اس لیے ہم نے پہلے علماء کی تحریریں نقل کی ہیں جو ظاہر ہے کہ آج کے کسی شخص سے کوئی ضد نہ رکھ سکتے تھے۔ ان تحریروں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ پہلی صدی سے آج تک پوری دنیائے اسلام متفقہ طور پر ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ’’آخری نبی‘‘ ہی سمجھتی رہی ہے۔ حضورؐ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے، اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے جس کی تصریح نبی ﷺ نے خود فرمادی ہے ، جس پر صحابۂ کرام کا اجماع ہے اور جسے صحابہ کرامؓ کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے، اور ایسے لوگوں، کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جاسکتاہے، جنھوں نے باب نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب حریم نبوت میں داخل بھی ہوگئے ہیں اور یہ لوگ ان کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔
اس سلسلے میں تین باتیں اور قابل غور ہیں:
- کیا اللہ کو ہمارے ایمان سے کوئی دشمنی ہے۱
پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر ، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر۔ ایک ایسے نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجۂ اولیٰ توقع نہیں کی جاسکتی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلاکھلا اعلان کراتا اور حضور ؐ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی امت کو اچھی طرح خبردار نہ کردیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمھیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کوہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ حضور ؐ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہوسکتے مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا، بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول ، دونوں ایسی باتیں فرمادیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضور ؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
اب اگربہ فرض محال نبوت کادروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آبھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کردیںگے۔خطرہ ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہوسکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا۔تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسرعدالت لاکر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہوجائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے میں تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہی نے ہمیں ڈالا تھا۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ اس ریکارڈ کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزاد ے ڈالے گا۔ لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والانہیں ہے، اور اس کے بعد کوئی شخص کسی مدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لیناچاہیے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لیے وہ کون ساریکاڈ خدا کی عدالت میں پیش کرسکتا ہے جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو۔ عدالت میں پیشی ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہیے، اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کرکے خودہی دیکھ لینا چاہیے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کررہا ہے کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کرکے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟
اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟
دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو ہر اُس شخص میں پیدا ہوجایا کرے جس نے عبادت اور عمل صالح میں ترقی کرکے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو۔نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے جو کچھ خدمات کے صلے میں عطا کیا جاتا ہو۔ بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لیے مامور کیا جاتا ہے، اور جب ضرورت نہیں ہوتی یا باقی نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیاء پر انبیاء نہیں بھیجے جاتے۔
قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں:
اوّل یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے ہو کہ اس میں پہلے کوئی نبی نہ آیا تھا اور کسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اس تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
دوم یہ کہ نبی بھیجنے کی ضرورت اس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھلادی گئی ہو، یا اس میں تحریف ہوگئی ہو، اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہاہو۔
سوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعہ مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کے لیے مزید انبیاء کی ضرورت ہو۔
چہارم یہ کہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لیے ایک اور نبی کی ضرورت ہو۔
اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی نبی ﷺ کے بعد باقی نہیں رہی ہے۔
قرآن خود کہہ رہا ہے کہ حضوؐر کو تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتارہی ہے کہ آپؐ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپؐ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاء آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔
قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیںہوا ہے۔ جو کتاب آپؐ لائے تھے اس میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہوسکتی ہے۔جو ہدایت آپؐ نے اپنے قول و عمل سے دی اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپؐ کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لیے دوسری ضرورت بھی ختم ہوگئی۔
پھر قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضوؐر کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کردی گئی۔ لہٰذا تکمیل دین کے لیے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔
اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت ، تو اگر اس کے لیے کوئی نبی درکار ہوتا، تو وہ حضورؐ کے زمانے میں آپؐ کے ساتھ مقرر کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہوگئی۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے جس کے لیے آپؐ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو۔ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے اس لیے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لیے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لیے وہ آئے؟ نبی تو اس لیے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے، اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے یا پچھلے کام کی تکمیل کرنے کے لیے، یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لیے قرآن اور سنت محمد ﷺ کے محفوظ ہوجانے اور دین کے مکمل ہوجانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہوچکی ہیں، تو اب اصلاح کے لیے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی۔
نئی نبوت اب امت کے لیے رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے
تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا فوراً اس میں کفر و ایمان کا سوال اُٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے وہ ایک اُمت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیںگے وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسابنیادی اختلاف ہوگا جو انھیں اُس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑدے۔ پھر ان کے لیے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے، کیوں کہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بنا پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اس پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ختم نبوت امت مسلمہ کے لیے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ جس کی بدولت ہی اس امت کا ایک دائمی اور عالم گیر برادری بننا ممکن ہوا ہے اس چیزنے مسلمانوںکو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کردیا ہے جو ان کے اندرمستقل تفریق کا موجب ہو سکتا ہو۔اب جو شخص بھی محمد ﷺ کو اپنا ہادی ورہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو وہ اس برادری کافرد ہے اور ہر وقت ہوسکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہوسکتی تھی اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوجاتا۔ کیوں کہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔
آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لیے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کردی جائے اور جب اس نبی کی تعلیم کو پوری طرح محفوظ بھی کردیا جائے، تو نبوت کا درواہ بند ہوجانا چاہیے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہوکر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلا ضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ’’ظلی‘‘ ہو یا ’’بروزی‘‘ امتی ہو یا صاحب شریعت اور صاحب کتاب، بہر حال جو شخص نبی ہوگا وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا۔ اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافرقرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس کے آنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے تو خدا کی حکمت اور اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انھیں کبھی ایک امت نہ بننے دے۔ لہٰذا جو کچھ قرآن سے ثابت ہے اور جو کچھ سنت اور اجماع سے ثابت ہے عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہی رہنا چاہیے۔
ختم نبوّت کے خلاف شبہات کا بطلان
۱۰۵۔ لَوْعَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا۔
’’اگر ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــرسول اللہ ﷺ کے صاحب زادیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔‘‘
تشریح :اس حدیث سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ چار وجوہ سے غلط ہے:
اوّل یہ کہ جس روایت میں اسے خود نبی ﷺ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اس کی سند ضعیف ہے اور محدثین میں سے کسی نے بھی اس کو قوی تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوم یہ کہ نووی اور ابن عبدالبر جیسے اکابر محدثین اس مضمون کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ امام نوویؒ اپنی کتاب ’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘ میں لکھتے ہیں:
اَمَّا مَارُوِیَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَقَدِّمِیْنَ لَوْعَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا فَبَاطِلٌ وَجَسَارَۃٌ عَلٰی الْکَلاَمِ عَلَی الْمُغِیْبَاتِ وَمُجَازِفَۃٌ وَہُجُوْمٌ عَلٰی عَظِیْمٍ۔
’’رہی وہ بات جو بعض متقدمین سے منقول ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ تو وہ باطل ہے اور غیب کی باتوں پر کلام کرنے کی بے جا جسارت ہے۔ اور بے سوچے سمجھے ایک بڑی بات منہ سے نکال دینا ہے۔‘‘
اور علامہ ابن عبدالبر تمہید میں لکھتے ہیں:
لاَاَدْرِیْ مَا ہٰذَا فَقَدْ وَلَدُ نُوْحٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ غَیْرُ نَبِیٍّ وَلَوْلَمْ یَلِدِ النَّبِیُّ اِلاَّنَبِیًّا لَکَانَ کُلُّ اَحَدٍ نَبِیًّا لِاَنَّہُمْ مِّنْ نُوْحٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔
’’میں نہیں جانتا کہ یہ کیا مضمون ہے۔ نوح علیہ السلام کے ہاں غیر نبی اولاد ہوچکی ہے۔ حالانکہ اگر نبی کا بیٹا نبی ہی ہونا ضروری ہوتا تو آج سب نبی ہوتے، کیوں کہ سب کے سب نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں۔‘‘
سوم یہ کہ اکثر روایات میں اسے نبی ﷺ کے بجائے بعض صحابیوں کے قول کی حیثیت سے نقل کیا گیا ہے۔ اور وہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی کردیتے ہیں کہ نبی ﷺ کے بعد چوں کہ کوئی نبی نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کے صاحب زادے کو اٹھالیا۔ مثال کے طور پر بخاری کی روایت یہ ہے:
عَنْ اِسْمٰعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ ابِیْ اَوْفیٰ رَأَیْتَ اِبْرَاہِیْمَ بْنَ النَّبِیِّ ﷺ؟ قَالَ مَاتَ صَغِِیْرًا وَلَوْقَضیٰ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِیٌّ عَاشَ ابْنُہٗ وَلٰکِنْ لَّانَبِیَّ بَعْدَہٗ۔ (بخاری)
’’اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ (صحابی) سے پوچھا کہ آپ نے نبی ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا وہ بچپن ہی میں مرگئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا صاحب زادہ زندہ رہتا، مگر حضور کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے۔‘‘
اس سے ملتی جلتی روایت حضرت انسؓ سے بھی منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
وَلَوْبَقٰی لَکَانَ نَبِیًّا لٰکِنَّ لَمْ یَبْقَ لِاَنَّ نَبِیَّکُمْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ۔(تفسیر روح المعانی ج ۲۲ص۳)
’’اگر وہ زندہ رہ جاتے تو نبی ہوتے مگر وہ زندہ نہ رہے کیوں کہ تمھارے نبی آخری نبی ہیں۔‘‘
چہارم یہ کہ اگر بالفرض صحابہ کرام کی یہ تصریحات بھی نہ ہوتیں، اور محدثین کے وہ اقوال بھی موجود نہ ہوتے جس میں اس روایت کو جو نبی ﷺکے قول کی حیثیت سے منقول ہوئی ہے، ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، تب بھی وہ کسی طرح قابل قبول نہ ہوتی، کیوں کہ یہ بات علم حدیث کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اگر کسی ایک روایت سے کوئی ایسا مضمون نکلتا ہو جوبہ کثرت صحیح احادیث کے خلاف پڑتا ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایک طرف وہ کثیر التعداد صحیح اور قوی السند احادیث ہیں جن میں صاف صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور دوسری طرف یہ اکیلی روایت ہے جو باب نبوت کے کھلے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔آخر کس طرح جائز ہے کہ اس ایک روایت کے مقابلے میں ان سب روایتوں کو ساقط کردیا جائے؟ (رسائل و مسائل سوم: ختم نبوت کے۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ:حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قُلْتُ لِابْنِ اَبِیْ اَوْفٰی:رَأَیْتَ اِبْرَاھِیْمَ ابْنَ النَّبِیِّﷺ؟ قَالَ:مَاتَ صَغِیْرًا وَلَوْقُضِیَ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِیٌّ عَاشَ ابنُہٗ وَلٰکِنْ لاَّنَبِیَّ بَعْدَہٗ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، ثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ السُّدِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ ابْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: لَوْعَاشَ اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ النَّبِیِّ ﷺ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔(۴۵)
انبیاء و رسل کی تعداد:
۱۰۶۔ نبی ﷺسے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے ۳۱۳ یا ۳۱۵ بتائی اور انبیاء کی تعداد پوچھی گئی تو آپؐ نے ایک لاکھ۲۴ ہزار بتائی۔
تشریح : اگرچہ اس حدیث کی سندیں ضعیف ہیں، مگر کئی سندوں سے ایک بات کا نقل ہونا اس کے ضعف کو بڑی حد تک دور کردیتا ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوالْمُغِیْرَۃِ، ثَنَا مَعَانُ بْنُ رِفَاعَۃَ حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْمَسْجِدِ جَالِسًا وَکَانُوْا یَظُنُّوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ عَلَیْہِ۔ الحدیث، قَالَ:قُلْتُ:یَانَبِیَّ اللّٰہِ فَاَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوَّلُ؟ قَالَ: اٰدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ: قُلْتُ:یَانَبِیَّ اللّٰہِ اَوَ نَبِیٌّ کَانَ اٰدَمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہٖ ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِ رُوْحَہٗ ثُمَّ قَالَ لَہٗ یَا اٰدَمُ قَبْلًا قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! کَمْ وَفِیْ عِدَّۃِ الْاَنْبِیَائِ قَالَ مِائۃُ اَلْفٍ وَارْبَعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ اَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غفِیْرًا۔(۴۶)
رسول کسے کہتے ہیں؟
رسول کے معنی ہیں ’’فرستادہ ‘‘ بھیجا ہوا۔ اس معنی کے لحاظ سے عربی زبان میں قاصد، پیغام بر، ایلچی اور سفیر کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور قرآن میں یہ لفظ یا تو ان ملائکہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کارِ خاص پر بھیجے جاتے ہیں، یا پھر ان انسانوں کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے خلق کی طرف اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مامور فرمایا۔
نبی کے معنی
’’نبی‘‘ کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو لفظ نَبَا سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی خبر کے ہیں، اور اس اصل کے لحاظ سے نبی کے معنی ’’خبردینے والے‘‘ کے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کا مادہ نَبَؤہے، یعنی رفعت اور بلندی۔ اور اس معنی کے لحاظ سے نبی کا مطلب ہے ’’بلند مرتبہ‘‘ اور ’’عالی مقام‘‘ ازہری نے کسائی سے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لفظ دراصلنَبِیئٌ ہے جس کے معنی طریق اور راستے کے ہیں، او ر انبیاء کو نبی اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔
پس کسی شخص کو ’’رسول نبی‘‘کہنے کا مطلب یا تو ’’عالی مقام پیغمبر‘‘ ہے، یا ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں دینے والا پیغمبر‘‘ یا پھر ’’وہ پیغمبر جو اللہ کا راستہ بتانے والا ہے۔‘‘
قرآن مجید ان الفاظ کا استعمال کن معانی میں کرتا ہے
قرآن مجید میں یہ دونوں الفاظ بالعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ۔لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے اورکام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے۔ مثلاً سورۂ حج، رکوع ۷ میں فرمایا وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَا نَبِیٍّ اِلَّا۔۔۔ ’’ ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ نبی مگر۔۔۔‘‘ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ رسول اور نبی دو الگ اصطلاحیں ہیںجن کے درمیان کوئی معنوی فرق ضرور ہے۔اسی بنا پر اہل تفسیر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ اس فرق کی نوعیت کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی کی الگ الگ حیثیتوں کا تعین نہیں کرسکا ہے۔زیادہ سے زیادہ جو بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول کا لفظ نبی کی بہ نسبت خاص ہے، یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتاہے، مگر ہرنبی رسول نہیں ہوتا،یا بالفاظ دیگر انبیاء میں سے رسول کا لفظ ان جلیل القدر ہستیوں کے لیے بولا گیا ہے جن کو عام انبیاء کی بہ نسبت زیادہ اہم منصب سپرد کیا گیا تھا۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔جو امام احمد نے حضرت امامہ سے اور حاکم نے حضرت ابوذرؓ سے نقل کی ہے اور جو اوپر درج ہوچکی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، مریم، حاشیہ: ۳۰)
ماٰخذ
(۱) بخاری، ج ۱، کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اِسْرَائیل ٭مسلم، ج ۲، کتاب الامارۃ باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ الْاَوَّل ٭مسند احمد ، ج ۲ص۲۹۷عن ابی ہریرۃ ٭کنزالعمال ج ۶، حدیث ۱۴۸۰۵۔
(۲) ابن ماجہ کتاب الجہاد باب الوفاء بالبیعۃ۔
(۳) مسند احمد ج ۲ص۱۷۲٭ عَبْدُ اللّٰہِ بن عمرو بن العاص٭ابن کثیر، ج ۳ ، سورۃ احزاب۔
(۴) مسند احمد ج۵ ص۴۵۴، مرویات ابوالطفیل ٭ ابن کثیر ج۳ص۴۹۳٭مجمع الزوائد ج ۷ص۱۷۳۔ ٭الطبرانی الکبیر بحوالہ الزوائد۔
(۵) بخاری، ج۲، کتاب التعبیر باب مبشرات ٭ ابن ماجہ کتاب تعبیر الرؤیا باب :۱٭نسائی کتاب الصلوٰۃ باب الذکر فی الرکوع اور کتاب الافتتاح باب الامر بالاجتہاد فی الدعاء فی السجود۔
(۶) ابوداؤد، ج ۱، کتاب الصلاۃ باب الدعاء فی الرکوع والسجود٭دارمی کتاب الصلاۃ باب :۷۷، النہی عن القراء ۃ فی الرکوع والسجود ٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی الرؤیا۔مؤطا میںحضرت ابوہریرہؓ سے لَیْسَ یَبْقیٰ بَعْدِیْ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤیَا الصَّالحَۃُ بھی نقل کیا ہے۔٭مسند احمد ج۱ص۲۱۹۔ ج۳ص۵۰،۱۱۹،۱۲۲، ۱۳۷، ۲۱۹، ۲۳۲، ۲۳۳، ۲۶۹، ۳۱۴، ۳۲۵، ۳۴۲، ۳۶۹، ۴۳۸، ۴۹۵، ۵۰۷۔ ج۵ ص۳۱۵، ۳۲۱، ۳۲۵۔ ج۶ ص۱۲۹، ۱۵۳، ۲۳۲،۴۴۵،۴۴۷،۴۵۲۔
(۷) بخاری، ج ۲۔ص۱۰۳۵۔
(۸) بخاری، ج ۲ص۱۰۳۴٭مؤطا امام مالک، کتاب الجامع باب ماجاء فی الرؤیا۔
(۹) بخاری، ج ۲ص۱۰۳۴٭ترمذی ابواب الرؤیا باب ان رؤیا المومن جزء من ستۃ واربعین جزئً ا مِن النُّبُوَّۃ ٭ابن ماجہ کتاب تعبیرالرؤیا باب الرؤیا الصالحۃ یراہا المسلم اوتریٰ لہ ٭مجمع الزوائدج۷ ٭طبرانی کبیر والصغیر بحوالہ الزوائد۔
(۱۰) دارمی جز۲،کتاب الرؤیا باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات ٭ابن ماجہ کتاب تعبیر الرؤیا باب الرؤیا الصالحۃ یرا ہا المسلم اوتریٰ لہ۔
(۱۱) المعجم الکبیر للطبرانی ،ج ۳ حدیث ۳۰۵۱٭مجمع الزوائد، ج ۷۔ص۱۷۳۔
(۱۲) ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الرؤیا ٭ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی الرؤیا٭مسند احمد، ج ۲،ص۳۲۵ ج ۶۔ص۱۲۹۔
(۱۳) ترمذی ابواب الرویا باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات٭ابن کثیر ج ۳ص۴۹۳٭مسند احمدج۳، مرویات انس بن مالک مسند میں امام احمد نے فلا رسول بعدی ولا نبی بعدی نقل کیا ہے۔
(۱۴) ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی ﷺ ٭ فتح القدیر ، ج ۴ص۲۸۶٭ابواب الامثال عن جابر بن عبداللہ قدرے لفظی اور ضمائر کے الفاظ کے ساتھ ٭ ابن کثیر ج ۳۔ص۴۹۳۔
(۱۵) بخاری، ج۱، کتاب المناقب باب خاتم النبیین ٭مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین ٭ترمذی ابواب الامثال باب ماجاء مثل النبی والانبیاء ﷺ اجمعین ٭مسند احمد ج ۲ص۲۴۴، ۲۵۶، ۳۱۲، ۳۹۸،۴۱۲ج۳ص۹،۳۶۱ ٭ابن کثیر ج ۳ص۴۹۳ ٭مسند ابی داؤد طِیَالِسی جزء ۸، حدیث نمبر۱۷۸۵ ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴۔ص۲۸۶۔
(۱۶) ابن کثیر ، ج ۳ص۴۹۳ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۹، کتاب السیرباب مبتدا الخلق۔
(۱۷) مسلم ،ج۲، کتاب الفضائل باب ذکرﷺ خاتم النبیین ٭لفظ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ مذکورہ روایات کے علاوہ مندرجہ ذیل روایتوں میں بھی ہے۔ البتہ بخاری میں خاتم الانبیا ہے٭بخاری ج ۲، سورۃ الاسراء ٭مسلم کتاب الایمان ٭ابوداؤد کتاب الفتن ٭ترمذی ، ابواب القیامۃ باب:۱۰٭دارمی مقدمہ باب:۸ ٭ابن کثیر ، ج ۳، ص۴۹۳ مسند احمد، ج ۱،ص۲۹۶ج ۲،ص۳۹۸،۴۳۶ ج ۴،۱۲۷،۱۲۸ج ۵ص۲۷۸۔
(۱۸) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین ٭ فتح القدیرللشَّوکانی ج۴، ص۲۸۶۔
(۱۹) مسلم، ج ۱، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ٭ترمذی، ج ۱، ابواب السیر، باب ماجاء فی الغنیمۃ۔ عن ابی ہریرۃ ۔ ہذا حدیث حسن صحیح ٭مسند احمد، ج۲،ص۴۱۲ عن ابی ہریرۃ ٭ابن کثیر ج ۳ص۴۹۳ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۹، ص۵۔
(۲۰) ابن ماجہ کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال ٭المستدرک،ج۴، ص۵۳۶کتاب الفتن ان اللّٰہ تعالٰی لم یبعث نبیاً الاحذر امتہ الدجال۔
(۲۱) مسند احمد، ج ۵ ص۳۹۶٭طبرانی کبیرج۳،ص۱۷۰حذیفۃ بن الیمان۔ طبرانی نے وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ نقل کیا ہے ٭مجمع الزوائد ج۷۔ص۳۳۲۔
(۲۲) ابوداؤد کتاب الفتن باب ذکر الفتن وَدَلَائِلِہَا ٭ابن ماجہ کتاب الفتن باب مایکون من الفتن٭ابن ماجہ میں وانا خاتم النبیین لانبی بعدی منقول نہیں ہے ٭ المستدرک للحاکم ، ج ۴ کتاب الفتن والملاحم اذا وضع السیف فی امتی لم یرفع عنہا الٰی یوم القیامۃ۔
(۲۳) مسلم، ج ۲، کتاب الفتن باب فی قولہ ﷺ ان بین یدی الساعۃ کذابین قریباً من ثلاثین ٭ مسند احمد، ج۲، ص۲۳۷، روایت ابی ہریرۃ ٭مجمع الزوائد، ج۷، ص۳۳۲۔
(۲۴) ابوداؤد کتاب الملاحم باب فی خبرابن الصائد۔
(۲۵) ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتّٰی یخرج کذابون۔
(۲۶) ابن ماجہ کتاب الفتن باب مایکون من الفتن۔
(۲۷) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ ﷺ٭دارمی کتاب الرقاق باب فی اسماء النبی ﷺ٭ابن کثیر ج۳۔ص۴۹۴۔
(۲۸) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسماء النبی ﷺ۔
(۲۹) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ ﷺ ٭ابن کثیر، ج۳ص۴۹۴٭زادالمعاد، ج۱،ص۳۴ فی اسماء ہٖ ﷺ۔
(۳۰) المستدرک للحاکم،ج۲،کتاب التاریخ باب ذکر اسماء النبی ﷺ ٭ابوداؤد طیالسی جز۲،ص۶۷ ابوموسیٰ اشعری ٭زاد المعاد ، ج۱ص۳۴، فی اسماء ہٖ ﷺ۔٭ابن کثیر،ج ۴ ص۳۶۰٭طبقات ابن سعد، ج ۱۔
(۳۱) مجمع الزوائد، ج ۸، کتاب علامات النبوۃ باب فی اسماء ہ ﷺ عن حذیفۃ۔
(۳۲) بخاری، ج ۲، کتاب التفسیر سورہ الصف باب یاتی من بعدی اسمہ احمد ٭بخاری، ج ۱،کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللّٰہ ﷺ٭ مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ ﷺ ٭ترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی اسماء النبی ﷺ ٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع ماجاء فی اسماء النبیﷺ ٭ابن کثیر، ج ۴٭فتح القدیر للشوکانی،ج۵٭المعجم الکبیر للطبرانی، ج۲،ص۱۲۰،۱۲۱،۱۳۳جبیر بن مطعم ٭طبقات بن سعد،ج۱،ص۱۰۴،۱۰۵ ذکر اسماء الرسول ﷺ وکنیتہ ٭زاد المعاد، ج۱، ص۳۴ فی اسماء ہ ﷺ جبیر بن مطعم۔
(۳۳) بخاری،ج۱، کتاب المناقب۔ مناقب علی ابن ابی طالب ٭ ابوداؤد طیالسی، ج۱،ص۲۹سعد بن ابی وقاص ٭ طبرانی کبیر،ص۲۴۸سعدبن ابی وقّاص۔
(۳۴) مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب من فضائل علی ابن ابی طالب٭ابوداؤد طیالسی ، ج۱ص۲۹، عن سعد بن ابی وقّاص۔
(۳۵) بخاری، ج ۲، کتاب المغازی باب غزوہ تبوک ٭مسند احمد، ج۱،ص۱۷۷روایت سعد بن ابی وقّاص ٭سیرت ابن ہشام ،ج۴ص۵۲۰، شان علی بن ابی طالب ٭ المستدرک،ج۳ص۱۳۳، عن ابن عباس اس میں لیس بعد ی نبی ہے۔
(۳۶) ترمذی ابواب المناقب علی ابن ابی طالب ٭ البدایہ والنہایۃ ،ج۵،ص۲٭مسند احمد ج۱ ص۱۸۵ روایت سعد بن ابی وقاص۔
(۳۷) مسند احمد، ج۱ص۱۷۰۔
(۳۸) ترمذی ابواب المناقب، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب باب …٭مسند احمدج۴،ص۱۵۴روایت عقبۃ بْن عامرجُہَنی٭مجمع الزوائدج۹ص۶۸٭مسند احمد میں لوکَان من بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب ہے ٭المستدرک للحاکم، ج ۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ لوکان بعدی نبی لکان عمر۔
(۳۹) کتاب المناقب، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب۔ اور کتاب الانبیاء٭مسلم، ج ۲، کتاب الفضائل باب من فضائل عمر بن الخطاب قال ابن وہب تفسیر مُحَدَّثُوْنَ مُلْہَمُوْنَ ٭ترمذی ابواب المناقب مناقب ابی حفص عمروابن الخطاب۔ ہذا حدیث حسن صحیح٭مسند احمد، ج۶ عن عائشہؓ ٭المستدرک للحاکم ، ج۳ کتاب معرفۃ الصحابۃ، رؤیا النبی ﷺ فی فضیلۃ علم عمر ٭مجمع الزوائدج۹ص۶۹عن ابی سعید خدری ٭ ریاض الصالحین، ص۳۶۵ حدیث: ۱۵۰۱۔
(۴۰) مسلم، ج ۱، کتاب الحج باب فضل الصلاۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ ٭نسائی کتاب المساجد باب فضل مسجد النبی ﷺ والصلوٰۃ فیہ۔
(۴۱) مسلم، ج ۱، کتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثۃ٭ ترمذی ابواب المواقیت باب ماجاء فی ای المساجد افضل اور ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل المدینۃ ٭نسائی کتاب المناسک۔ باب فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام ٭ ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ باب۱۹۵ماجاء فی فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام ومسجد النبی ﷺ ٭مؤطّا امام مالک ج۱ص۱۵۵،۱۵۶، باب ماجاء فی مسجد النبی ﷺ ، مسند احمد، ج۲،ص۱۶، ۲۹، ۵۳، ۵۴، ۶۸،۱۰۲،۲۳۹،۲۵۱،۲۵۶،۲۷۷،۲۷۸،۳۸۶،۳۹۷،۴۶۶،۴۶۸،۴۷۳،۴۸۴،۴۸۵،۴۹۹ج ۴ص۵۔
(۴۲) مسلم،ج۱،کتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثۃ ٭ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل المدینۃ ٭ترمذی ابواب المواقیت باب ماجاء فی ای المساجد افضل ٭نسائی ج۵کتاب المساجد باب فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام ، اورکتاب المناسک باب فضل الصلاۃ فی المسجد الحرام ومسجد النبی ﷺ ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوۃ الخ باب ۱۹۵ ماجاء فی فضل الصلوۃ فی المسجد الحرام ومسجد النبی ﷺ٭مؤطا امام مالک، ج ۱، باب ماجاء فی مسجد النبی ﷺ ٭مسند احمد، ج ۴ص۵۔
(۴۳) مسلم،ج۱،کتاب الحج باب فضل المساجد الثلاثۃ ٭نسائی کتاب المساجد باب فضل الصلاۃ فی المسجد الحرام ٭نسائی کتاب المناسک ج۵، باب فضل الصلوٰۃ فی المسجد الحرام٭نسائی میں ان مسجدہ اٰخرا المساجد ہے۔
(۴۴) بخاری، ج۲، کتاب الادب باب من سمی باسماء الانبیاء ٭ ترمذی ابواب المناقب٭ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اللہ ﷺ وذکر وفاتہ ٭مسند احمد ،ج۴۔
(۴۵) مسند احمد،ج۳،ص۱۳۳ انس بن مالک الماوردی عن انس٭کنزالعمال ج۱۱،ص۴۶۹ اور۴۷۰ عن ابن عباس بحوالہ ابن عساکر عن بن عباس اور عن ابن ابی اوفٰی۔
(۴۶) مسنداحمد،ج۵ص۲۶۵،۲۶۶، روایت ابی أمامۃ ٭بیہقی ،ج۹ص۴،کتاب السیر باب مبتدء الخلق، تفرد بہ یحیٰ بن السعیدی ٭ابن کثیر ج ۴ص۵۷۵٭ابن کثیر نے خمسۃ عشر بھی بیان کیا ہے٭المستدرک للحاکم، ج۲ص۵۹۷، عن ابی ذرٍ٭طبقات ابن سعد ج ۱ص۵۴، عن ابی ذرٍّ٭مجمع الزوائد للہیثمی ج۱ص۱۵۹ بحوالہ طبرانی، ج ۸ص۲۱۰۔
فصل ششم : واقعۂ معراج، اُس کی کیفیت اور مشاہدات
معراج، پیغمبر اسلام کی زندگی کے اُن واقعات میں سے ہے، جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے۔ عام روایت کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے ۲۷؍ رجب کی رات کوپیش آیا اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن یہ بتاتاہے کہ معراج کس غرض کے لیے ہوئی تھی اور خدا نے اپنے رسولؐ کو بلاکر کیا ہدایات دی تھیں۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اس سفر میں کیا واقعات پیش آئے۔
اس واقعہ کی تفصیلات ۲۸ ہمعصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں سات راوی وہ ہیں جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے اور۱ ۲ وہ جنہوں نے بعد میں نبی ﷺ کی اپنی زبان مبارک سے اس کا قصہ سنا۔ مختلف روایتیں قصہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور سب کو ملانے سے ایک ایسا سفر نامہ بن جاتاہے جس سے زیادہ دلچسپ، معنی خیز او ر نظر افروز سفر نامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔
حضرت محمد ﷺ کو پیغمبری کے منصب پرسرفراز ہوئے ۱۲سال گزرچکے تھے۔ ۵۲ برس کی عمر تھی، حرم کعبہ میں سورہے تھے۔ یکا یک جبریلؑ فرشتے نے آکر آپؐ کو جگایا۔ نیم خفتہ ونیم بیدار حالت میں اٹھاکر آپؐکو زمزم کے پاس لے گئے، سینہ چاک کیا۔ زمزم کے پانی سے اس کو دھویا، پھر اُسے علم، بُردباری، دانائی اور ایمان ویقین سے بھردیا۔ اس کے بعد آپؐکی سواری کے لیے ایک جانور پیش کیا جس کا رنگ سفید اور قد خچّرسے کچھ چھوٹا تھا۔ برق کی رفتار سے چلتا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’بُرّاق‘‘ تھا۔ پہلے انبیاء بھی اس نوعیت کے سفر میں اسی سواری پر جایا کرتے تھے۔ جب آپؐ سوار ہونے لگے تو وہ چمکا۔ جبریلؑ نے تھپکی دے کر کہا، دیکھ کیا کرتاہے۔ آج تک محمدؐ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا ہے۔ پھر آپؐاس پر سوار ہوئے اور جبریل ؑآپؐکے ساتھ چلے۔ پہلی منزل مدینہ کی تھی جہاں اتر کر آپؐنے نماز پڑھی۔ جبریلؑ نے کہا اس جگہ آپؐہجرت کرکے آئیں گے۔ دوسری منزل طور سینا کی تھی۔ جہاں خدا حضرت موسیٰؑ سے ہم کلام ہوا۔ تیسری منزل بیتِ لحم کی تھی جہاں حضرت عیسیٰؑ پیدا ہوئے۔ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھاجہاں بُرّاق کاسفر ختم ہوا۔
اس سفر کے دوران میں ایک جگہ کسی پکارنے والے نے پکارا ادھر آؤ۔ آپؐنے توجّہ نہ کی۔ جبریل ؑ نے بتایا یہ یہودیت کی طرف بلارہاتھا۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔ ادھر آؤ۔ آپؐ اس کی طرف بھی ملتفت نہ ہوئے۔ جبریل نے کہا یہ عیسائیت کا داعی تھا۔ پھر ایک عورت نہایت بنی سنوری نظر آئی۔ اور اس نے اپنی طرف بلایا۔ آپؐنے اس سے بھی نظر پھیرلی۔ جبریلؑ نے کہا یہ دنیا تھی۔ پھر ایک بوڑھی عورت سامنے آئی۔ جبریلؑ نے کہا کہ دنیا کی عمر کا اندازہ اس کی عمر سے کرلیجیے۔ پھر ایک اور شخص ملاجس نے آپؐکو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ مگر آپؐ اُسے بھی چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جبریل ؑنے کہا یہ شیطان تھا جو آپؐکو راستے سے ہٹانا چاہتاتھا۔
بیت المقدس پہنچ کر آپؐ براق سے اتر گئے اور اسی مقام پر اُسے باندھ دیا جہاں پہلے انبیاء اس کو باندھا کرتے تھے۔ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوئے تو ان سب پیغمبروں کو موجود پایا جو ابتدائے آفرینش سے اس وقت تک دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔ آپؐکے پہنچتے ہی نماز کے لیے صفیں بندھ گئیں۔ سب منتظر تھے کہ امامت کے لیے کون آگے بڑھتاہے۔ جبریل ؑنے آپؐ کاہاتھ پکڑ کر آگے بڑھادیا اور آپؐنے سب کو نماز پڑھائی۔ پھر آپؐ کے سامنے تین پیالے پیش کیے گئے۔ ایک میں پانی، دوسرے میں دودھ، تیسرے میں شراب۔ آپؐنے دودھ کا پیالہ اٹھالیا۔ جبریل ؑ نے مبارکباد دی کہ آپؐفطرت کی راہ پاگئے۔
اس کے بعد ایک سیڑھی آپؐکے سامنے پیش کی گئی اور جبریلؑ اس کے ذریعہ سے آپؐکو آسمان کی طرف لے چلے۔ عربی زبان میں سیڑھی کو معراج کہتے ہیںاور اسی مناسبت سے یہ سارا واقعہ معراج کے نام سے مشہور ہواہے۔
پہلے آسمان پر پہنچے تو دروازہ بند تھا۔ محافظ فرشتوں نے پوچھا کہ کون آتاہے؟ جبریل نے اپنا نام بتایا۔ پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبریلؑ نے کہا محمدؐ۔ پوچھا کیاانہیں بلایا گیاہے؟ کہا ہاں۔تب دروازہ کھلا اور آپؐکا پُرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ یہاں آپؐ کاتعارف فرشتوں اور انسانی ارواح کی ان بڑی بڑی شخصیتوں سے ہوا جو اُس مرحلہ پر مقیم تھیں۔ اُن میں نمایاں شخصیّت ایک ایسے بزرگ کی تھی جو انسانی بناوٹ کا مکمل نمونہ تھے۔ چہرے مُہرے اور جسم کی ساخت میں کسی پہلو سے کوئی نقص نہ تھا۔ جبریلؑ نے بتایا یہ آدمؑ ہیں۔ آپؐ کے مورثِ اعلیٰ۔ ان بزرگ کے دائیں بائیں بہت لوگ تھے۔ وہ دائیں جانب دیکھتے تو خوش ہوتے اور بائیں جانب دیکھتے تو روتے۔ پوچھا یہ کیا ماجراہے؟ بتایا گیا کہ یہ نسلِ آدم ہے۔ آدمؑ اپنی اولاد کے نیک لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور بُرے لوگوں کو دیکھ کر روتے ہیں۔
پھر آپؐکو تفصیلی مشاہدہ کا موقع دیا گیا۔ ایک جگہ آپؐنے دیکھا کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں اور جتنی کاٹتے جاتے ہیںاتنی ہی وہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ خداکی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔
پھر دیکھا کچھ لوگ ہیں جن کے سرپتھروں سے کچلے جارہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی انہیں نماز کے لیے اٹھنے نہ دیتی تھی۔
کچھ اور لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں آگے اور پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے اور وہ جانور وں کی طرح گھاس چررہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ ہیں جو اپنے مال میں سے زکوٰۃ خیرات کچھ نہ دیتے تھے۔
پھر ایک شخص کو دیکھا کہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کرکے اٹھانے کی کوشش کرتاہے اور جب وہ نہیں اٹھتا تو اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھالیتاہے۔ پوچھا یہ کون احمق ہے؟ کہا گیا یہ وہ شخص ہے جس پر امانتوں اور ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ تھاکہ اٹھانہ سکتا تھا۔ مگر یہ ان کو کم کرنے کی بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بار اپنے اوپر لادے چلا جاتاتھا۔
پھر دیکھا کہ کچھ لوگوں کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کترے جارہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟کہا گیا یہ غیرذمہ دار مقرر ہیںجو بے تکلّف زبان چلاتے اور فتنہ برپا کیا کرتے تھے۔
ایک اور جگہ دیکھا کہ ایک پتھر میں ذرا سا شگاف ہوا اور اس سے ایک بڑا موٹا سا بیل نکل آیا۔ پھر وہ بیل اسی شگاف میں واپس جانے کی کوشش کرنے لگا مگر نہ جاسکا۔ پوچھا یہ کیا معاملہ ہے؟ کہا گیا یہ اس شخص کی مثال ہے جو غیرذمہ داری کے ساتھ ایک فتنہ انگیز بات کرجاتاہے پھر نادم ہوکر اس کی تلافی کرنا چاہتاہے مگر نہیں کرسکتا۔
ایک اور مقام پر کچھ لوگ تھے جو اپنا گوشت کاٹ کاٹ کر کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ دوسروں پر زبانِ طعن دراز کرتے تھے۔
ایک اور مقام پر کچھ اورلوگ تھے جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے اور ان کی عزّت پر حملے کیا کرتے تھے۔
کچھ اور لوگ دیکھے جن کے ہونٹ اونٹوں کے مشابہ تھے۔ اور وہ آگ کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ یتیموں کا مال ہضم کرتے تھے۔
پھر دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بے انتہا بڑے اور سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے ہوئے گزرتے ہیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا یہ سودخوار ہیں۔
پھر کچھ اور لوگ نظر آئے جن کے ایک جانب نفیس چکنا گوشت رکھا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ وہ اچھا گوشت چھوڑ کرسڑا ہوا گوشت کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے حلال بیویوں اور شوہروں کے ہوتے حرام سے اپنی خواہش نفس پوری کی۔
پھر دیکھا کہ کچھ عورتیں اپنی چھاتیوں کے بل لٹک رہی ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں کے سر ایسے بچے منڈھ دیے جو اُن کے نہ تھے۔
انہی مشاہدات کے سلسلہ میں نبی ﷺ کی ملاقات ایک ایسے فرشتے سے ہوئی جو نہایت تُرش روئی سے ملا۔ آپؐنے جبریلؑ سے پوچھا، اب تک جتنے فرشتے ملے تھے سب خندہ پیشانی اور بشاش چہروں کے ساتھ ملے، ان حضرت کی خشک مزاجی کا کیا سبب ہے؟ جبریلؑ نے کہا اس کے پاس ہنسی کا کیا کام، یہ تو دوزخ کا داروغہ ہے۔ یہ سن کر آپؐنے دوزخ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے یکایک آپؐکی نظر کے سامنے سے پردہ اٹھادیا اور دوزخ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ نمودار ہوگئی۔
اس مرحلہ سے گزر کر آپؐدوسرے آسمان پر پہنچے۔ یہاں کے اکابر میں دونوجوان سب سے ممتاز تھے۔ تعارف پر معلوم ہوا یہ یحیٰؑ اور عیسیٰؑ ہیں۔
تیسرے آسمان پر آپؐکا تعارف ایک ایسے بزرگ سے کرایا گیا جن کا حُسن عام انسانوں کے مقابلہ میں ایسا تھا جیسے تاروں کے مقابلے میں چودھویں کاچاند۔ معلوم ہوا یہ یوسف علیہ السلام ہیں۔
چوتھے آسمان پر حضرت ادریس ؑ، پانچویں پر حضرت ہارون ؑ، چھٹے پر حضرت موسی ؑ آپؐسے ملے۔ ساتویں آسمان پر پہنچے تو ایک عظیم الشان محل (بیت المعمور) دیکھا۔ جہاں بے شمار فرشتے آتے اور جاتے تھے۔ اس کے پاس آپؐکی ملاقات ایک ایسے بزرگ سے ہوئی جو خود آپؐسے بہت مشابہ تھے۔ تعارف پر معلوم ہواحضرت ابراہیمؑ ہیں۔
پھر مزید ارتقا شروع ہوا یہاں تک کہ آپؐ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے جو پیش گاہِ ربُّ العزّت اور عالمِ خلق کے درمیان حدِّ فاصل کی حیثیت رکھتاہے۔ نیچے سے جانے والے یہاں رُک جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اور قوانین براہِ راست یہاں آتے ہیں۔ اسی مقام کے قریب آپؐکو جنت کا مشاہدہ کرایا گیا۔ اور آپؐنے دیکھا کہ اللہ نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ مہیا کررکھاہے جونہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا اور نہ کسی ذہن میں اس کا تصور تک گزرسکا۔
سدرۃ المنتہیٰ پر جبریل ٹھہرگئے اور آپ تنہا آگے بڑھے۔ ایک بلند ہموار سطح پر پہنچے تو بارگاہِ جلال سامنے تھی۔ ہم کلامی کا شرف بخشا گیا۔ جو باتیں ارشاد ہوئیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ ہرروز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔
۲۔ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں تعلیم فرمائی گئیں۔
۳۔ شرک کے سوا دوسرے سب گناہوں کی بخشش کا امکان ظاہر کیا گیا۔
۴۔ ارشاد ہوا کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتاہے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ مگر جو برائی کا ارادہ کرتاہے اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا جاتا اور جب وہ اس پر عمل کرتاہے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔
پیشیٔ خداوندی سے واپسی پر نیچے اُترے تو حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے روداد سُن کرکہا کہ میں بنی اسرائیل کا تلخ تجربہ رکھتاہوں، میرا اندازہ ہے کہ آپؐ کی اُمّت پچاس نمازوں کی پابندی نہیں کرسکتی۔جایئے اور کمی کے لیے عرض کیجیے۔ آپؐگئے اور اللہ جل شانہٗ نے دس نمازیں کم کردیں۔ پلٹے تو حضرت موسیٰؑ نے پھر وہی بات کہی۔ ان کے کہنے پر آپؐ باربار اوپر جاتے رہے اور ہر بار دس نمازیں کم کی جاتی رہیں۔ آخر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم ہوا اور فرمایا گیا کہ یہی پچاس کے برابر ہیں۔
واپسی کے سفرمیں آپؐ اسی سیڑھی سے اُتر کر بیت المقدس آئے۔ یہاں پھر تمام پیغمبر موجودتھے۔ آپؐنے ان کو نماز پڑھائی جو غالباً فجر کی نماز تھی۔ پھر براق پر سوار ہوئے اور مکّہ واپس پہنچ گئے۔
سب سے پہلے آپؐنے اپنی چچازاد بہن اُمِّ ہانی کو یہ روداد سنائی۔ پھر باہر نکلنے کا قصد کیا۔ انہوں نے آپؐکی چادر پکڑلی اور کہا خدا کے لیے یہ قصّہ لوگوں کو نہ سنایئے گا ورنہ اُن کو آپؐکامذاق اڑانے کے لیے ایک اور شوشہ ہاتھ آجائے گا، مگر آپؐیہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے کہ میں ضرور بیان کروں گا۔ حرمِ کعبہ میں پہنچے تو ابوجہل سے آمنا سامنا ہوا۔ اُس نے کہا۔ کوئی تازہ خبر؟ فرمایا ہاں۔ پوچھا کیا؟ فرمایاکہ میں آج کی رات بیت المقدس گیا تھا۔ کہا بیت المقدس؟ راتوں رات ہو آئے اور صبح یہاں موجود؟ فرمایا ہاں۔ کہا قوم کو جمع کروں، سب کے سامنے یہی بات کہوگے؟ فرمایا’’بیشک‘‘ ابوجہل نے آواز یں دے دے کر سب کو جمع کرلیا اور کہا، لو اب کہو۔ آپؐ نے سب کے سامنے پورا قصّہ بیان کردیا۔ لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کیا۔ دومہینے کا سفر ایک رات میں؟ ناممکن! محال! پہلے توشک تھا، اب یقین ہوگیا کہ تم دیوانے ہوگئے ہو۔
آناً فاناً یہ خبر تمام مکّہ میں پھیل گئی۔ بہت سے مسلمان اس کو سن کر اسلام سے پھر گئے۔ لوگ اس امید پر حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے کہ یہ محمدؐ کے دستِ راست ہیں، یہ پھر جائیں تو اس تحریک کی جان ہی نکل جائے۔ انہوں نے یہ قصہ سُن کر کہا کہ اگر واقعی محمد ﷺنے یہ واقعہ بیان کیا ہے تو ضرور سچ ہوگا، اس میں تعجّب کی کیا بات ہے، میں تو روز سنتاہوں کہ ان کے پاس آسمان سے پیغام آتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتاہوں۔
حضرت ابوبکرؓ حرم کعبہ میں آئے ۔ رسولؐ اللہ موجود تھے۔ اور ہنسی اُڑانے والا مجمع بھی۔ پوچھا کیا واقعی آپؐنے ایسا فرمایاہے؟ جواب دیا، ہاں۔ کہا بیت المقدس میرا دیکھاہوا ہے۔ آپؐوہاں کا نقشہ بیان کریں۔ آپؐ نے فوراً نقشہ بیان کرنا شروع کردیا اور ایک ایک چیز اس طرح بیان کی گویا بیت المقدس سامنے موجود ہے اور دیکھ دیکھ کر اس کی کیفیّت بتارہے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی اس تدبیر سے جھٹلانے والوں کو ایک شدید ضرب لگی۔ وہاں بہ کثرت ایسے آدمی موجود تھے جو تجارت کے سلسلہ میں بیت المقدس جاتے رہتے تھے۔ وہ سب دلوں میں قائل ہوگئے کہ نقشہ بالکل صحیح ہے۔ اب لوگ آپؐکے بیان کی صحت کا مزید ثبوت مانگنے لگے۔ فرمایا جاتے ہوئے میں فلاں مقام پر فلاں قافلہ پر سے گزرا۔ جس کے ساتھ یہ سامان تھا، قافلہ والوں کے اونٹ براق سے بھڑکے، ایک اونٹ فلاں وادی کی طرف بھاگ نکلا، میں نے قافلہ والوں کو اس کا پتہ دیا۔ واپسی میں فلاں وادی میں فلاں کے قبیلے کاقافلہ مجھے ملا، سب لوگ سورہے تھے۔ میں نے ان کے برتن سے پانی پیا اوراس بات کی علامت چھوڑ دی کہ اس سے پانی پیا گیاہے۔ ایسے ہی کچھ اور اَتے پَتے آپؐنے دیے اور بعد میں آنے والے قافلوں سے ان کی تصدیق ہوئی۔ اس طرح زبانیں بند ہوگئیں۔ مگر دل یہی سوچتے رہے کہ یہ کیسے ہوسکتاہے؟ آج بھی بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہوا؟ (نشری تقریریں :معراج کا سفر نامہ)
تشریح :یہ وہی واقعہ ہے جو اصطلاحاً ’’معراج‘‘ اور ’’اسر اء‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر اور معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بہ کثرت صحابہؓ سے مروی ہیں، جن کی تعداد پچیس تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایات حضرت انس بن مالکؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ، حضرت عائشہؓ اور متعدد دوسرے صحابہؓ نے بھی اس کے بعض اجزا بیان کیے ہیں۔
اس سفر کی کیفیت کیا تھی؟ یہ عالمِ خواب میں پیش آیا تھا یا بیداری میں؟ اور آیا حضورؐ بذاتِ خود تشریف لے گئے تھے یا اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض روحانی طورپر ہی آپؐکو یہ مشاہدہ کرادیاگیا؟ ان سوالات کا جواب قرآن مجید کے الفاظ خود دے رہے ہیں۔ سُبْحٰنَ الَّذِیْ ٓاَسْرٰی سے بیان کی ابتداء کرنا خود بتارہاہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا جواللہ تعالیٰ کی غیرمحدود قدرت سے رُونما ہوا۔ ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کا اس طرح کی چیزیں دیکھ لینا یا کشف کے طورپر دیکھنا یہ اہمیت نہیں رکھتاکہ اسے بیان کرنے کے لیے اس تمہید کی ضرورت ہو کہ تمام کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یہ خواب دکھایا یا کشف میں یہ کچھ دکھایا۔ پھر یہ الفاظ بھی کہ ’’ایک رات اپنے بندے کو لے گیا‘‘ آپؐکے جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لیے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ مانے بغیرچارہ نہیں کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کرایا۔
اب اگر ایک رات میں ہوائی جہازکے بغیر مکّہ سے بیت المقدس جانا اور آنا اللہ کی قدرت سے ممکن تھا تو آخر ان دوسری تفصیلات کو ناممکن کہہ کر کیوں رد کردیاجائے جو حدیث میں بیان ہوئی ہیں؟ ممکن اور ناممکن کی بحث تو صرف اُس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب کہ کسی مخلوق کے باختیارِ خود کوئی کام کرنے کا معاملہ زیر بحث ہو۔ لیکن جب ذکریہ ہوکہ خدا نے فلاں کام کیا تو پھرامکان کا سوال وہی شخص اٹھاسکتاہے جسے خدا کے قادر مطلق ہونے کا یقین نہ ہو۔ اس کے علاوہ جودوسری تفصیلات حدیث میں آئی ہیں ان پر منکرینِ حدیث کی طرف سے متعدد اعتراضات کیے جاتے ہیں، مگران میں سے صرف دوہی اعتراضات ایسے ہیں جو کچھ وزن رکھتے ہیں۔
ایک یہ کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا کسی خاص مقام پر مقیم ہونا لازم آتاہے، ورنہ اس کے حضور بندے کی پیشی کے لیے کیا ضرورت تھی کہ اسے سفر کراکے ایک مقامِ خاص تک لے جایا جاتا؟
دوسرے یہ کہ نبی ﷺکو دوزخ اور جنت کا مشاہدہ اور بعض لوگوں کے مبتلائے عذاب ہونے کا معائنہ کیسے کرادیا گیا جب کہ ابھی بندوں کے مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوا ہے؟ یہ کیا کہ سزا وجزا کا فیصلہ تو ابھی ہونا ہے قیامت کے بعد، اور کچھ لوگوں کو سزا دے ڈالی گئی ہے ابھی سے؟
لیکن دراصل یہ دونوں اعتراض بھی قلتِ فکر کا نتیجہ ہیں۔ پہلا اعتراض اس لیے غلط ہے کہ خالق اپنی ذات میں تو بلاشبہ اطلاقی شان رکھتاہے، مگر مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ اپنی کسی کمزوری کی بنا پر نہیں بلکہ مخلوق کی کمزوریوں کی بناء پر محدود وسائط اختیار کرتاہے۔ مثلاً جب وہ مخلوق سے کلام کرتاہے تو کلام کا وہ محدود طریقہ استعمال کرتاہے جسے ایک انسان سُن اور سمجھ سکے، حالانکہ بجائے خود اس کا کلام ایک اطلاقی شان رکھتاہے۔ اسی طرح جب وہ اپنے بندے کو اپنی سلطنت کی عظیم الشان نشانیاں دکھانا چاہتاہے تو اسے لے جاتاہے اور جہاں جو چیز دکھانی ہوتی ہے اسی جگہ دکھاتاہے، کیونکہ وہ ساری کائنات کو بیک وقت اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح خدا دیکھتاہے۔ خدا کو کسی چیز کے مشاہدے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر بندے کو ہوتی ہے۔ یہی معاملہ خالق کے حضور بازیابی کا بھی ہے کہ خالق بذاتِ خود کسی مقام پر متمکن نہیں ہے، مگر بندہ اس کی ملاقات کے لیے ایک جگہ کا محتاج ہے جہاں اس کے لیے تجلّیات کو مرکوز کیا جائے ورنہ اُس کی شانِ اطلاق میں اس سے ملاقات بندۂ محدود کے لیے ممکن نہیں ہے۔
رہا دوسرا اعتراض تو وہ اس لیے غلط ہے کہ معراج کے موقع پر بہت سے مشاہدات جو نبی ﷺ کو کرائے گئے تھے ان میں بعض حقیقتوں کو ممثّل کرکے دکھایا گیاتھا۔ مثلاً ایک فتنہ انگیز بات کی یہ تمثیل کہ ایک ذراسے شگاف میں سے ایک موٹاسا بیل نکلا اور پھر اس میں واپس نہ جاسکا۔ یازناکاروں کی یہ تمثیل کہ ان کے پاس تازہ نفیس گوشت موجود ہے مگر وہ اسے چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں۔ اسی طرح بُرے اعمال کی جو سزائیں آپ کو دکھائی گئیں وہ بھی تمثیلی رنگ میں عالمِ آخرت کی سزاؤں کا پیشگی مشاہدہ تھیں۔
اصل بات جو معراج کے سلسلے میں سمجھ لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے ان کے منصب کی مناسبت سے ملکوتِ سمٰوٰت وارض کامشاہدہ کرایاہے اور مادّی حجابات بیچ میں سے ہٹاکر آنکھوں سے وہ حقیقتیں دکھائی ہیں جن پر ایمان بالغیب لانے کی دعوت دینے پر وہ مامورکیے گئے تھے، تاکہ ان کا مقام ایک فلسفی کے مقام سے بالکل ممیّز ہوجائے۔ فلسفی جوکچھ بھی کہتاہے قیاس اور گمان سے کہتاہے، وہ خود اگر اپنی حیثیت سے واقف ہوتو کبھی اپنی کسی رائے کی صداقت پر شہادت نہ دے گا۔ مگر انبیاء جو کچھ کہتے ہیں وہ براہِ راست علم اور مشاہدے کی بناء پر کہتے ہیں، اور وہ خلق کے سامنے یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ ہم ان باتوں کو جانتے ہیں اور یہ ہماری آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔
(تفہیم القرآن ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیٍْرٍ، قَالَ: ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ،عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:کَانَ اَبُوْذَرٍّ یُحَدِّثُ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ:فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَیْتِیْ وَاَنَا بِمَکَّۃَ، فَنَزَلَ جِبْرَائِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَفَرَجَ صَدْرِیْ ثُمَّ غَسَلَہٗ بِمَائِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَآئَ بِطَشْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مُمْتَلِیئٍ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا فَاَفْرَغَہٗ فِیْ صَدْرِیْ ثُمَّ اَطْبَقَہٗ ثُمَّ اَخَذَ بِیَدِیْ فَعَرَجَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ فَلَمَّا جِئْتُ اِلَی السَّمَآئِ الدُّنْیَا قَالَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لِخَازِنِ السَّمَآئِ اِفْتَحْ قَالَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا جِبْرِیْلُ قَالَ: ھَلْ مَعَکَ اَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ مَعِیْ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ:أَ اُرْسِلَ اِلَیِْہِ؟ قَالَ:نََعَمْ، فَلَمَّا فُتِحَ عَلَوْنَا السَّمَآئَ الدُّنْیَا فَاِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلٰی یَمِیْنِہٖ اَسْوِدَۃٌ وَعَلٰی یَسَارِہٖ اَسْوِدَۃٌ اِذَا نَظَرَ قِبَلَ یَمِیْنِہٖ ضَحِکَ وَاِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِہٖ بَکیٰ فَقَالَ:مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاِبْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ لِجِبْرَئِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:ھٰذَااٰدَمُ وَھٰذِہِ الْاَسْوِدَۃُ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ نَسَمُ بَنِیْہِ فَاَھْلُ الْیَمِیْنِ مِنْھُمْ اَھْلُ الْجَنَّۃِ وَالْاَسْوِدَۃُ الَّتِیْ عَنْ شِمَالِہٖ اَھْلُ النَّارِ فَاِذَا نَظَرَ عَنْ یَمِیْنِہٖ ضَحِکَ وَاِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِہٖ بَکیٰ۔
حَتّٰی عَرَجَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الثَّانِیَۃِ فَقَالَ: لِخَازِنِھَا:اِفْتَحْ فَقَالَ لَہٗ خَازِنُھَا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُ فَفُتِحَ قَالَ اَنَسٌ:فَذَکَرَ اَنَّہٗ وَجَدَ فِی السَّمٰوٰتِ اٰدَمَ وَاِدْرِیْسَ وَمُوْسیٰ وَعِیْسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ وَلَمْ یَثْبُتْ کَیْفَ مَنَازِلُھُمْ غَیْرَ اَنَّہٗ ذَکَرَ اَنَّہٗ وَجَدَ اٰدَمَ فِی السَّمَآئِ الدُّنْیَا وَاِبْرَاھِیْمَ فِی السَّمَآئِ السَّادِسَۃِ۔
قَالَ اَنَسٌ:فَلَمَّا مَرَّ جِبْرَائِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالنَّبِیِّ ﷺ بِاِدْرِیْسَ قَالَ:مَرْحَبًابِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاَخِ الصَّالِحِ فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:ھٰذَا اِدْرِیْسُ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوْسٰی فَقَالَ:مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا مُوْسٰی ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِیْسٰی فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا عِیْسیٰ ثُمَّ مَرَرْتُ بِاِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاِبْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ : مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ ھٰذَا اِبْرَاھِیْمُ۔
قَالَ ابْنُ شِھَابٍ:فَاَخْبَرَنِی بْنُ حَزْمٍ اَنَّ بْنَ عَبَّاسٍ وَاَبَا حَبَّۃَ الْاَنْصَارِیَّ کَانَا یَقُوْلاَنِ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ ثُمَّ عُرِجَ بِیْ حَتّٰی ظَھَرْتُ لِمُسْتَوًی اَسْمَعُ فِیْہِ صَرِیْفَ الْاَقْلاَمِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَاَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ فَفَرَضَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی اُمَّتِیْ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً فَرَجَعْتُ بِذَالِکَ حَتّٰی مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی فَقَالَ:مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَکَ عَلٰی اُمَّتِکَ؟ قُلْتُ:فَرَضَ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً۔ قَالَ:فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لاَتُطِیْقُ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَھَا فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی قُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَھَا فَقَالَ:رَاجِعْ رَبَّکَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لاَتُطِیْقُ ذٰلِکَ، فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرََھَا فَرَجَعْتُ اِلَیْہِ فَقَالَ: اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَاتُطِیْقُ ذٰلِکَ، فَرَاجَعْتُہٗ، فَقَالَ: ھِیَ خَمْسٌ وَھِیَ خَمْسُوْنَ لاَیُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّکَ فَقُلْتُ اسْتَحْیَیْتُ مِنْ رَّبِّیْ ثُمَّ اَنْطَلَقَ بِیْ حَتَّی انْتُھِیَ بِیْ اِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی وَغَشِیَھَا اَلْوَانٌ لاَاَدْرِی مَاھِیَ ثُمَّ اُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا فِیْھَاحَبَائِلُ اللُّؤْلُؤِوَاِذَا تُرَابُھَا الْمِسْکُ۔(۱)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ابوذر غفاری حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کہ میں مکّہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھُل گئی۔ جبریل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ کھولا اور آبِ زمزم سے اسے دھویا۔ پھر سنہری طشت لایا گیا جو حکمت وایمان سے لبریز تھا۔ جبریل نے اسے میرے سینے میں انڈیل کر بند کردیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے چڑھے۔ جب میں آسمانِ دنیا تک پہنچا تو جبریلؑ نے آسمان کے نگراں داروغہ سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اس نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ جبریل ہیں۔ اس نے پلٹ کر پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی اوربھی ہے؟ جبریل نے جواب دیا ہاں میرے ساتھ محمدؐ ہیں۔ اس نے پوچھا:
کیا ان کو بلایاگیا ہے۔ جبریل نے جواب دیا ہاں۔ انہیں بلایا گیاہے۔ جب دروازہ کھولاگیا تو ہم آسمانِ دنیا پر چڑھ گئے۔ وہاں بیٹھا ہوا ایک آدمی نظر آیا جس کے دائیں اور بائیں روحوں کے جھنڈ تھے۔ جب وہ شخص اپنی دائیں طرف نظر اٹھاتا تو مسکرادیتا اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتا تو روپڑتا۔ جب ان کی نظر محمدؐ پر پڑی تو انہوں نے اے صالح نبی اور صالح بیٹے کے الفاظ سے آپ کا خیرمقدم کیا۔ میں نے جبریل سے دریافت کیاکہ یہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ یہ آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے دائیں بائیں لوگوں کے جو گروہ نظر آرہے ہیں وہ ان کی اولاد ہیں۔ دائیں جانب وہ لوگ ہیں جو جنت میں جائیں گے اوربائیں جانب والے دوزخ میں داخل ہوں گے۔ اس لیے جب ان کی نظر دائیں جانب اٹھتی ہے تو ہنستے مسکراتے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے ہیں تو رودیتے ہیں۔
پھر آپؐ نے فرمایاکہ جبریل امین مجھے لے کر اوپر چڑھے حتّٰی کہ دوسرے آسمان تک پہنچ گئے۔ اور اس کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولیے۔ اس نے بھی آسمانِ دنیا کے کلید بردار کی طرح سوال وجواب کے بعد دروازہ کھولا۔ راویٔ حدیث حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے آسمانوں میں حضرات آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو پایا۔ آپؐنے ان کی منازل کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا۔ بس اتنا بتایا کہ آدم علیہ السلام پہلے آسمان پر اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر تھے۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جب جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کو لے کر ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اے صالح نبی اور صالح برادر کے الفاظ سے آپؐ کا خیر مقدم کیا۔تو میں نے دریافت کیا یہ صاحب کون ہیں؟ جبریلؑ نے بتایا یہ ادریسؑ ہیں۔ پھر میرا گزر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا تو انہوں نے بھی اے صالح نبی اور صالح بھائی کہہ کر خیرمقدم کیا۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ جبریل نے بتایا کہ یہ موسی علیہ السلام ہیں۔ پھر میرا گزر عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا تو انہوں نے بھی اے صالح نبی اور صالح بھائی کہہ کر استقبال کیا۔میں نے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ جبرئیل ؑ نے بتایا کہ یہ عیسیٰؑ ہیں۔ پھر میرا گزر ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہوا تو انہوں نے اے صالح نبی اور صالح بیٹا کہہ کر خوش آمدید کہا۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ جبریل نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔
ابنِ شہاب زُہری کہتے ہیں کہ مجھے ابنِ حزم نے بتایا کہ ابنِ عباس اور ابو حبّۃ الانصاری دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے اور اوپر چڑھایا گیا کہ میں ایک ایسے بلند وبالا ہموار مقام پر پہنچ گیاجہاں سے میں قلموں کے لکھنے کی آواز سن رہاتھا۔ ابنِ حزم اور انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ جب میں واپس ہوا تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا ہے؟میں نے بتایا کہ پچاس نمازیں۔ انہوں نے مشورہ دیاکہ اپنے پروردگار کے پاس جاؤ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ میں واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک حصہ معاف کردیا۔ اس کے بعد پھر میں واپس موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حصہ وضع کردیاہے تو موسیٰ علیہ السلام نے پھر مشورہ دیا کہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس جاؤ۔ کیونکہ تمہاری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ میں پھر واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک حصہ مزید کم فرمادیا۔ میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر فرمایا کہ اپنے رب کے حضورؐ واپس جاؤ۔ تمہاری امت اس کی طاقت بھی نہیں رکھتی۔ لہٰذا میں پھر واپس گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا پانچ نمازیں ہیں اور وہ پچاس کے برابر ہیں۔ ساتھ ہی ارشادِ باری ہوا۔ لاَیُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ’’میرے ہاں بات میں ردو بدل نہیں ہوا کرتا‘‘ میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹا تو انہوںنے کہا جاؤ واپس جاؤ اپنے رب کے پاس۔ میں نے عرض کیا اب بارگاہِ رب العزّت میں جاتے ہوئے شرم وحیا مانع ہے۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چلے اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے۔ اس پر ایسے رنگوں کا غلبہ تھا جنہیں میں سمجھنے سے قاصرتھا۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا۔ وہاں موتیوں کے ٹیلے تھے جن کی مٹی مشک تھی۔
(۲) حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ، قَالَ: نَاعَمَادُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ :نَاثَابِتٌ الْبَنَانِیُّ،عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اُتِیْتُ بِالْبُرَاقِ وَھُوَ دَآبَّۃٌ اَبْیَضُ طَوِیْلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُوْنَ الْبَغْلِ یَضَعُ حَافِرَہٗ عِنْدَ مُنْتَھٰی طَرْفِہٖ قَالَ:فَرَکِبْتُہٗ حَتّٰی اَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ:فَرَبَطْتُّہٗ بِالْحَلْقَۃِ الَّتِیْ یَرْبِطُ بِہِ الْاَنْبِیَآئُ : قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّیْتُ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ، فَجَآئَ نِیْ جِبْرِیْلُْ بِاِنَآئٍ مِّنْ خَمْرٍ، وَاِنَآئٍ مِنْ لَّبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ: اَخْتَرْتَ الْفِطْرَۃَ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ، فَقِیْلَ مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ:وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: وََقَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ قَالَ: قَدْبُعِثَ اِلَیْہِ،:فَفُتِحَ لَنَا فَاِذَا اَنَا بِآدَمَ ﷺ فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ الثَّانِیَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقِیْلَ : مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ : جِبْرِیْلُ، قِیْلَ : وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ، قَالَ: فَفُتِحَ لَنَا فَاِذَا اَنَابِابْنَی الْخَالَۃِ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَیَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا صَلَّی اللّٰہُ عََلَیِِْھِمَا وَسَلَّمَ فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِیْ بِخَیْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ الثَّالِثَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ فَقِیْلَ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ:جِبْرِیْلُ، قِیْلَ:وَمَنْ مَّعَکَ؟ قَالَ: مُحََمَّدٌ، قِیْلَ:وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ، فَفَتَحَ لَنَا فَاِذَا اَنَابِیُوْسُفَﷺوَاِذَا ھُوَ قَدْ اُعْطِیَ شَطْرُالْحُسْنِ، قَالَ فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ الرَّابِعَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ، قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ وَمَنْ مَّعَکَ؟قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ:وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ؟ قَالَ:قَدْبُعِثَ اِلَیْہِ، فَفَتَحَ لَنَا فَاِذَا اَنَا بِاِدْرِیْسَ ﷺ فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا۔ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ الْخَامِسَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ فَقِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:جِبْرِیْلُ،قِیْلَ:وَمَنْ مَّعَکَ؟قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ:وَقَدْبُعِثَ اِلَیْہِ؟ قَالَ:قَدْبُعِثَ اِلَیْہِ۔فَفُتِحَ لَنَا فَاِذَا اَنَا بِھَارُوْنَﷺ فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ،ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ السَّادِسَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَّعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْبُعِثَ اِلَیْہِ فَفُتِحَ لَنَا فَاِذَا اَنَابِمُوْسٰیﷺ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِیْ بِخَیْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَآئِ السَّابِعَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ فَقِْیَل:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَّعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ:وَقَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا فَاِذَا اَنَابِاِبْرَاھِیْمَ ﷺ مُسْنِدًا ظَھْرَہٗ اِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ وَاِذَا ھُوَیَدْخُلُہٗ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلِکٍ لاَیَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ،ثُمَّ ذَھَبَ بِیْ اِلَی السِّدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی فَاِذَا وَرَقُھَا کَاٰذَانِ الْفِیْلَۃِ، وَاِذَاثََمَرُھَا کَالْقِلاَلِ، قَالَ: فَلَمَّا غَشِیَھَا مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ مَاغَشِیَ تَغَیَّرَتْ فَمَا اَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَنْعَتَھَا مِنْ حُسْنِھَا، فَاَوْحٰی اِلَیَّ مَااَوْحٰی، فَفَرَضَ عَلَیَّ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَنَزَلْتُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ:مَافَرَضَ رَبُّکَ عَلٰی اُمَّتِکَ؟ قُلْتُ: خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً، قَالَ:اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ، فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ، فَاِنَّ اُمَّتَکَ لاَیُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ، فَاِنِّیْ قَدْ بَلَوْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، وَخَبَّرْتُھُمْ قَالَ:فَرَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ فَقُلُْت:یَارَبِّ خَفِّفْ عَلٰی اُمَّتِیْ، فَحَطَّ عَنِّیْ خَمْسًا فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقُلْتُ حَطَّ عَنِّیْ خَمْسًا قَالَ:اِنَّ اُمَّتَکَ لاَیُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْئَلْہُ التَّخْفِیْفَ، قَالَ: فَلَمْ اَزَلْ اَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّیْ وَبَیْنَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، حَتّٰی قَالَ:یَامُحَمَّدُ! اِنَّھُنَّ خَمْسُ صَلَوٰتٍ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ لِکُلِّ صَلٰوۃٍ عَشْرٌ فَذٰلِکَ خَمْسُوْنَ صَلٰوۃً، وَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کَتَبْتُ لَہٗ حَسَنَۃً فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبْتُ لَہٗ عَشْرًا وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا لَمْ تُکْتَبْ شَیْئًا فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ سَیِِّئَۃٌ وَاحِدَۃٌ قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَھَیْتُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ: اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ، فَسْئَلْہٗ التَّخْفِیْفَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَقُلْتُ:قَدْ رَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ۔(۲)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا۔ جس کا رنگ سفید قد گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اس کا ہرقدم اس کی حدِّ نظر تک پڑتاتھا۔ اس پر میں سوار ہوا اور بیت المقدس پہنچ گیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے اسے اس جگہ باندھ دیا جہاں انبیاء سابق اسے باندھتے رہے۔ آپؐنے فرمایا: اس کے بعدمیں مسجد میں داخل ہوا اوراس میں دورکعت نماز پڑھی۔ پھر باہر نکلا تو جبریل نے دوبرتن میرے سامنے پیش کیے۔ ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ ان میں سے میں نے دودھ والا برتن منتخب کیا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا: آپؐ نے فطرت کا انتخاب کرلیا۔ پھر براق ہمیں آسمانِ دنیا کی طرف لے گیا۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوانا چاہا تو پوچھا گیا کہ کون ہے؟ جواب دیا جبریل۔ پھر دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبریل نے جواب دیا محمدؐ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں دعوت دی گئی ہے۔ جو اب ملا ہاں انہیں دعوت دی گئی ہے۔پھر دروازہ کھولاگیاتو میں نے اپنے آپ کو حضرت آدم علیہ السلام کے روبرو پایا۔ انہوں نے خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان پر چڑھایا گیا۔ جبریل نے دروازہ کھلوانا چاہاتو دریافت کیا گیا کہ تم کون ہو؟ جواب دیا کہ جبریل ؑ،پھرپوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبریل ؑ نے کہا محمدؐ۔ پوچھاگیا کہ انہیں مدعو کیا گیاہے؟۔ جبریل ؑنے جواب دیا کہ ہاں انہیں مدعوکیا گیاہے۔ پھر دروازہ کھولا گیاتو میں نے اپنے آپ کو خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریاصلی اللہ علیہما کے سامنے پایا۔ ان دونوں نے مرحبا کہہ کر خیر مقدم کیا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبریلؑ نے دروازہ کھلوانا چاہا تو دریافت کیا گیا کہ تم کون ہو؟ جبریلؑ نے کہا کہ میں جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوںنے کہا محمدؐ۔ پوچھا گیا۔ کیا انہیں بلایا گیاہے؟ جواب دیا ہاں انہیں بلایا گیاہے؟ پھر ہمارے لیے دروازہ کھولاگیا تو میں یوسف علیہ السلام کے سامنے تھا۔ میں نے دیکھا کہ انہیں اہلِ دنیا کے حسن کا نصف حصّہ عطا کیا گیاہے۔ انہوں نے مرحبا کہہ کرمیرا استقبال کیا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبریلؑ نے دروازہ کھلوانا چاہا تو دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ محمدؐ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیاہے؟ کہا کہ ہاں انہیں بلایا گیاہے۔ پھر دروازہ کھولا گیاتو میں نے اپنے آپ کو ادریس علیہ السلام کے سامنے پایا۔ انہوں نے مرحبا کہہ کر میرا خیر مقدم کیا اور دعائے خیردی۔ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا ’’ہم نے اسے بلند وبالا مقام ومرتبہ عطا کیا‘‘ اس کے بعد پھر ہمیں پانچویں آسمان کی جانب چڑھایا گیا۔جبریل نے دروازہ کھلوانا چاہا تو دریافت کیا گیا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا محمدؐ۔ دریافت کیا گیا۔ کیا انہیں بلایا گیاہے؟ جبریلؑ نے کہا ہاں انہیں بلایا گیاہے۔ پھر دروازہ کھولاگیا اور میں ہارون علیہ السلام کے سامنے تھا۔ انہوں نے مجھے مبارکباد دی اور خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ بعد ازاں ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو جبریلؑ نے دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کو ن ہے؟ جواب دیا کہ محمدؐ۔ پوچھا گیا کہ انہیں بلایا گیاہے؟ بتایا گیاکہ انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر دروازہ کھولاگیاتو میں موسیٰ ﷺ کے سامنے تھا۔ انہوں نے مرحبا کہہ کر مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیردی۔ اس کے بعد ہمیں ساتویں آسمان کی جانب چڑھایا گیاجبریل نے دروازہ کھلوانا چاہا تو دریافت کیا گیا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب میں بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمدؐ۔ دریافت کیا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ بتایا گیاکہ ہاں انہیں بلایا گیاہے۔ تو پھر دروازہ کھولا گیا تو میں نے اپنے آپ کو ابراہیم ﷺ کے سامنے پایا جو بیت المعمور کے ساتھ اپنی پشت لگاکر بیٹھے تھے۔ بیت المعمور وہ ہے جس میں ہرروز ستّر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں مگر دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا جس کے پتّے ہاتھی کے کانوں جتنے بڑے تھے اور پھل بڑے مٹکوں کے برابر۔ چنانچہ جب اس درخت کو تجلّیاتِ الہٰی نے ڈھانپ لیا تو اس کی حالت ایسی دگرگوں ہوگئی کہ مخلوق میں سے کوئی شخص بھی اس کے حُسن اور خوبصورتی کو بیان نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جوکچھ مجھے وحی فرمانی تھی فرمائی۔ اور مجھ پر شب وروز میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ پس وہاں سے اترکر میںموسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوںنے دریافت کیا کہ تمہارے پروردگار نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے جواب دیا پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا۔ اپنے رب کے حضور لوٹ جاؤ اور ان میں تخفیف کی استدعا کرو۔ کیونکہ تمہاری امت اس کی استطاعت نہیں رکھے گی۔ میں بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزما چکاہوں۔ مجھے اس کا تلخ تجربہ ہے۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کی خدمت میں واپس لوٹ گیا اور عرض کیا کہ یارب میری امت پر تخفیف فرما۔ تو اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو میں نے انہیں بتایا کہ میری امت پر پانچ نمازوں کی تخفیف کردی گئی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تمہاری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ اس لیے پھر بارگاہِ رب العزّت میں جاؤ اور مزید تخفیف کی درخواست کرو۔نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اسی طرح اللہ تعالیٰ اور موسی ؑکے مابین آتاجاتارہا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمدؐ! شب وروز میں پانچ نمازیں ہیں۔ہر ایک نماز پردس نمازوں کا ثواب ہے اس طرح وہ پچاس نمازیں ہوگئیں اور جو شخص نیکی وبھلائی کا ارادہ وقصد کرے لیکن عملی جامہ نہ پہنائے تو اس کے کھاتے میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو ارادہ کے ساتھ عملاً بھی انجام دے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ او رجوکوئی برائی کا ارادہ (نیت) کرے لیکن اس کا ارتکاب نہ کرے تو اس کے کھاتے میں کچھ نہیں لکھاجاتا مگر جو شخص برائی کی نیت بھی کرے اورعملاًاس کا مرتکب بھی ہوتو اس کے کھاتے میں ایک برائی درج کی جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایاکہ پھر میں نیچے اُترکر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ جاؤ اپنے پروردگار کے حضوراور تخفیف کی استدعا کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ میں اپنے رب کے پاس اتنی بارجاچکاہوں کہ اب مجھے شرم محسوس ہونے لگی ہے۔
(۳)حَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اُتِیْتُ بِدَابَّۃٍ فَوْقَ الْحِمَارِوَدُوْنَ الْبَغْلِ خَطْوُھَا عِنْدَ مُنْتَھٰی طَرْفِھَا فَرَکِبْتُ وَمَعِیَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَسِرْتُ فَقَالَ: اِنْزِلْ فَصَلِّ، فَفَعَلْتُ، فَقَالَ: اَتَدْرِیْ اَیْنَ صَلَّیْتَ؟ صَلَّیْتَ بِطَیْبَۃَ، وَاِلَیْھَا الْمُھَاجِرَۃُ ثُمَّ قَالَ: اِنْزِلْ فَصَلِّ فَصَلَّیْتُ فَقَالَ: اَتَدْرِیْ اَیْنَ صَلَّیْتَ؟ صَلَّیْتَ بِطُوْرِ سِیْنَائَ حَیْثُ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثُمَّ قَالَ: اِنْزِلْ فَصَلِّ فَنَزَلْتُ فَصَلَّیْتُ فَقَالَ: اَ تَدْرِیْ اَیْنَ صَلَّیْتَ؟ صَلَّیْتَ بِبَیْتِ لَحْمٍ حَیْثُ وُلِدَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ ثَمَّ دَخَلْتُ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَجُمَِع لِیَ الْاَنْبِیَائُ عَلَیْھِمُ السَّلاَمُ فَقَدَّمَنِْی جِبْرَئِیْلُ حَتّٰی اَمَمْتُھُمْ ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الدُّنْیَا فَاِذَا فِیْھَا آدَمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الثَّانِیَۃِ فَاِذَا فِیْھَا اِبْنَا الْخَالَۃِ عِیْسٰی وَیَحْیٰی عَلَیْھِمَا السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الثَّالِثَۃِ فَاِذَا فِیْھَا یُوْسُفُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ، ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الرَّابِعَۃِ فَاِذَا فِیْھَا ھَارُوْنُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ الْخَامِسَۃِ فَاِذَا فِیْھَا اِدْرِیْسُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ السَّادِسَۃِ فَاِذَا فِیْھَا مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، ثُمَّ صُعِدَ بِیْ اِلَی السَّمَآئِ السَّابِعَۃِ فَاِذَا فِیْھَا اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثُمَّ صُعِدَ بِیْ فَوْقَ سَبْعِ سَمٰوٰتٍ فَاَتَیْنَاسِدْرَۃَالْمُنْتَھٰی فَغَشِیَتْنِیْ ضَبَابَۃٌ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا فَقِیْلَ لِیْ اِنِّیْ یَوْمَ خَلَقْتُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَرَضْتُ عَلَیْکَ وَعَلٰی اُمَّتِکَ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃً فَقُمْ بِھَا اَنْتَ وَاُمَّتُکَ فَرَجَعْتُ اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ فَلَمْ یَسْأَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ ثُمَّ اَتَیْتُ عَلٰی مُوْسٰی فَقَالَ کَمْ فُرِضَ عَلَیْکَ وَعَلٰی اُمَّتِکَ؟ قُلْتُ: خَمْسِیْنَ صَلوٰۃً قَالَ:فَاِنَّکَ لاَتَسْتَطِیْعُ اَنْ تَقُوْمَ بِھَا اَنْتَ وَلاَاُمَّتُکَ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ فَرَجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ، فَخَفَّفَ عَنِّیْ عَشْرًا ثُمَّ اَتَیْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَاَمَرَنِیْ بِالرُّجُوْعِ فَرَجَعْتُ فَخَفَّفَ عَنِّیْ عَشْرًا ثُمَّ أَتَیْتُ مُوْسٰی، فَاَمَرَنِیْ بِالرُّجُوْعِ فَرَجَعْتُ فَخَفَّفَ عَنِّیْ عَشْرًا ثُمَّ رُدَّتْ اِلٰی خَمْسِ صَلَوَاتٍ قَالَ: فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ فَاِنَّہٗ فَرَضَ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ صَلوٰتَیْنِ فَمَا قَامُوْا بِھَا فَرَجَعْتُ بِھَا اِلٰی رَبِّی عَزَّوَجَلَّ فَسَأَلْتُہُ التَّخْفِیْفَ فَقَالَ: اِنِّیْ یَوْمَ خَلَقْتُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فَرَضْتُ عَلَیْکَ وَعَلٰی اُمَّتِکَ خَمْسِیْنَ صَلوٰۃً فَخَمْسٌ بِخَمْسِیْنَ فَقُمْ بِھَا اَنْتَ وَاُمَّتَکَ، فَعَرَفْتُ اَنَّھَا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ صِرَّی فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ فَارْجِعْ فَعَرَفْتُ اَنَّھَا مِنَ اللّٰہِ صِرَّی یَقُوْلُ حَتْمٌ فَلَمْ اَرْجِعْ۔(۳)
(۴)حَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَۃ، قَالَ۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَا اَنَا عِنْدَ الْبَیِْت بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْظَانِ، فَذَکَرَ رَجُلاً بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ فَاُتِیْتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مَلَآنِ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا، فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ اِلٰی مَرَاقِ الْبَطْنِ ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَآئِ زَمْزَمَ، ثُمَّ مُلِیئَ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا، وَاُتِیْتُ بِدَآبَّۃٍ اَبْیَضَ دُوْنَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ الْبُرَاقُ فَانْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرَئِیْلَ حَتّٰی اَتَیْنَا السَّمَآئَ الدُّنْیَا قِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قِیْلَ:جِبْرَائِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَّعَکَ؟ قِیْلَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ:وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیِْہِ؟ قَالَ:نَعَمْ، قِیْلَ:مَرْحَبًا بِہٖ وَلَنِعْمَ الْمَجِیٓیُ جَآئَ، فَاَتَیْتُ عَلٰی اٰدَمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِکَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِیٍّ، فَاَتَیْنَا السَّمَآء الثَّانِیَۃَ قِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:جِبْرَائِیْلُ، قِیْلَ:وَمَنْ مَّعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: اُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ قِیْلَ:مَرْحَبًا بِہٖ وَلَنِعْمَ الْمَجِیْئُ جَآئَ، فَاَتَیْتُ عَلٰی عِیْسٰی وَیَحْییٰ، فَقَالاَ: مَرْحَبًا بِکَ مِنْ اَخٍ وَنَبِیٍّ، فَاَتَیْنَا السَّمَآئَ الثَّالِثَۃَ، قِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قِیْلَ:جِبْرَائِیْلُ، قِیْلَ:مَنْ مَّعَکَ، قِیْلَ:مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ:مَرْحَبًا بِہٖ وَلَنِعْمَ الْمَجِیْیئُ جَآئَ فَاَتَیْتُ عَلٰی یُوْسُفَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ:مَرْحَبًا بِکَ مِنْ اَخٍٍ وَنَبِیٍّ فَاَتَیْنَا السَّمَآئَ الرَّابِعَۃَ قِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ:جِبْرَئِیْلُ، قِیْلَ:مَنْ مَّعَکَ؟ قِیْلَ: مُحَمَّدٌ ﷺ، قِیْلَ: وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قِیْلَ:نَعَمْ، مَرْحَبًا بِہٖ، وَلَنِعْمَ الْمَجِیْیٓئُ جَآئَ فَاَتَیْتُ عَلٰی اِدْرِیْسَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ:مَرْحَبًا بِکَ مِنْ اَخٍ وَّنَبِیٍّ فَاَتَیْنَا السَّمَآئَ الْخَامِسَۃَ، قِیْلَ:مَنْ ھٰذَا؟ قِیْلَ، جِبْرَئِیْلُ قِیْلَ:وَمَنْ مَّعَکَ؟ قِیْلَ:مُحَمَّدٌ، قِیْلَ:وَقَدْاُرْسِلَ اِلَیْہِ قِیَْل:نَعَمْ، قَالَ: مَرْحَبًا بِہٖ وَلَنِعْمَ الْمَجِیْیٓئُ جَآئَ فَاَتَیْنَا عَلٰی ھَارُوْنَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِکَ مِنْ اَخٍ وَنَبِیٍّ فَاَتَیْنَا عَلَی السَّمَآئِ السَّادِسَۃِ، قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قِیْلَ: جِبْرَئِیْلُ، قِیْلَ: مَنْ مَّعَکَ؟ قِیْلَ: مُحَمَّدٌ ﷺ قِیْلَ: وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ مَرْحَبًا بِہٖ وَلَنِعْمَ الْمَجِیٓیْئُ جَآئَ فَاَتَیْتُ عَلٰی مُوْسٰی فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِکَ مِنْ اَخٍ وَنَبِیٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُ بکیٰ فَقِیْلَ: مَااَبْکَاکَ؟ قَالَ:یَارَبِّ ھٰذَا الْغُلاَمُ الَّذِیْ بُعِثَ بَعْدِیْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِہٖ اَفْضَلُ مِمَّا یَدْخُلُ مِنْ اُمَّتِیْ فَاَتَیْنَا السَّمَآئَ السَّابِعَۃَ قِیْلَ مَنْ ھٰذَا؟ قِیْلَ جِبْرَئِیْلُ، قِیْلَ:مَنْ مَّعَکَ؟ قِیْلَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ وَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ، قِیْلَ: نَعَمْ، قَالَ: مَرْحَبًا بِہٖ وَلَنِعْمَ الْمَجِیْیٓئُ فَاَتَیْتُ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِکَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِیٍّ فَرُفِعَ لِیَ الْبَیْتُ الْمَعْمُوْرُ فَسَأَلْتُ جِبْرَئِیْلَ فَقَالَ:ھٰذَا الْبَیْتُ الْمَعْمُوْرُ یُصَلِّیْ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ اِذَا خَرَجُوْا لَمْ یَعُوْدُا آخِرَ مَاعَلَیْہِ وَرُفِعَتْ لِیْ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی، فَِاذَا نَبَقُھَا کَاَنَّہٗ قِلاَلُ ھَجَرَ وَوَرَقُھَا کَاَنَّہٗ اٰذَانُ الْفُیُوْلِ فِیْ اَصْلِھَا اَرْبَعَۃُ اَنْھَارٍ نَھْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَھْرَانِ ظَاھِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرَئِیْلَ فَقَالَ:اَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِیْ الْجَنَّۃِ وَاَمَّاالظَّاھِرَانِ فَالْفُرَاتُ وَالنِّیْلُ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَیَّ خَمْسُوْنَ صَلوٰۃً، فَاَقْبَلْتُ حَتّٰی جِئْتُ مُوْسٰی فَقَالَ:مَاصَنَعْتَ؟ قُلْتُ: فُرِضَتْ عَلَیَّ خَمْسُوْنَ صَلوٰۃً، قَالَ: اَنَا اَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْکَ عَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَشَدَّ المُعَالَجَۃِ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لاَتُطِیْقُ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْئَلْہُ فَرَجَعْتُ فَسَأَلْتُہٗ فَجَعَلَھَا اَرْبَعِیْنَ ثُمَّ مِثْلَہٗ ثُمَّ ثَلٰثِیْنَ ثُمَّ مِثْلَہٗ فَجَعَلَ عِشْرِیْنَ ثُمَّ مِثْلَہٗ فَجَعَلَ عَشْرًا فَاَتَیْتُ مُوْسٰی فَقَالَ: مِثْلَہٗ فَجَعَلَھَا خَمْسًا فَاَتَیْتُ مُوْسٰی فَقَالَ مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ جَعَلَھَا خَمْسًا فَقَالَ مِثْلَہٗ قُلْتُ: سَلَّمْتُ فَنُوْدِیَ اَنِّیْ قَدْ اَقْضَیْتُ فَرِیْضَتِیْ وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِیْ وَاَجْزِیْ الْحَسَنَۃَ عَشْرًاوَقَالَ ھَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ۔(۴)
مسلم میں یدخل الجنۃ من امتہ افضلکی جگہاَکْثَرُ ہے۔
(۵) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، اَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَامَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اُتِیَ بِالْبُرَاقِ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِہٖ مُلْجَمًا مُسَرَّجًا فَاسْتَصْعَبَ عَلَیْہِ فَقَالَ لَہٗ جِبْرِیْلُ اَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ ھٰذَا؟ فَمَا رَکِبَکَ اَحَدٌ اَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنْہُ قَالَ فَارْفَضَ عَرَقًا۔(۵)
ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ وَلاَنَعْرِفُہٗ اِلاَّ مِنْ حَدِیْثِ عَبْدِالرَّزَّاقِ۔
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اسراء کی رات نبیﷺ کے پاس لگام ڈال کر اور زین باندھ کر براق لایاگیا۔ وہ اچھل کود کرنے لگا، تو جبرئیل ؑنے کہا: محمدﷺکے ساتھ یہ خرمستی! اللہ کے ہاں ان سے زیادہ قدرومنزلت رکھنے والے نے تجھ پر سواری نہیں کی، کہتے ہیں کہ یہ سن کر اس کا پسینہ چھوٹ گیا۔
(۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: لَمَّا اُسْرِیَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اُنْتُھِیَ بِہٖ اِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی وَھِیَ فِی السَّمَآئِ السَّادِسَۃِ اِلَیْھَا یَنْتَھِیْ مَایَعْرُجُ بِہٖ مِنَ الْاَرْضِ فَیُقْبَضُ مِنْھَا وَاِلَیْھَا یَنْتَھِیْ مَایَھْبِطُ بِہٖ مِنْ فَوْقِھَا فَیُقْبَضُ مِنْھَا، قَالَ:اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَایَغْشٰی قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَھَبٍ قَالَ فَاُعْطِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثًا اُعْطِیَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَاُعْطِیَ خَوَاتِیْمُ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَّمْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ مِنْ اُمَّتِہٖ شَیْئًا الْمُقْحِمَاتِ۔(۶)
ترجمہ :عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں، جب رسول اللہﷺ کو اسراء (معراج) کرایا گیا تو آپؐ کو سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچایاگیا، یہ چھٹے آسمان پر ہے۔ زمین سے چڑھنے والی چیزیں یہاں پہنچ کر رک جاتی ہیں۔ اور وہاں انہیں وصول کرلیاجاتاہے اور اس کے اوپر سے آنے والی چیز یہاں رک جاتی ہے۔ اور وہاںسے اُسے زمین پر لانے کے لیے وصول کرلیاجاتاہے۔ کہتے ہیں اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَایَغْشٰی ’ ’جب ڈھانپ لیا سدرہ کو ڈھانپنے والی چیز نے‘‘ سے سونے کے پروانے مراد ہیں جو اسے ڈھانپتے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺکو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ نمازیں، سورۂ بقرہ کی آخری آیات اور شرک نہ کرنے والے اُمّتیوں کے گناہوں کی مغفرت۔
(۷) حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ:نَا حُجَیْنُ بْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ: نَاعَبْدُ الْعَزِیْزِ وَھُوَ ابْنُ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ فِی الْحِجْرِ وَقُرَیْشٌ تَسْأَلُنِیْ عَنْ مَسْرَایَ فَسَأَلَتْنِیْ عَنْ اَشْیَآئَ مِنْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ اُثْبِتْھَا فَکُرِبْتُ کُرْبَۃً مَاکُرِبْتُ مِثْلَہٗ قَطُّ۔ قَالَ: فَرَفَعَہُ اللّٰہُ لِیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ مَایَسْاَلُوْٓ نِّیْ عَنْ شَیْئٍ اِلاَّ اَنْبَأْتُھُمْ بِہٖ وَقَدْ رَأَیْتُنِیْ فِیْ جَمَاعَۃٍ مِّنَ الْاَنْبِیَآئِ فَاِذَا مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ فَاِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّہٗ مِنْ رِّجَالِ شَنُوْئَ ۃَ وَاِذَا عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ اَقْرَبُ النَّاسِ بِہٖ شَبَھًا عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدِنِ الثَّقَفِیُّ وَاِذَا اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ اَشْبَہَ النَّاسِ بِہٖ صَاحِبُکُمْ یَعْنِیْ نَفْسَہٗ ﷺ فَحَانَتِ الصَّلوٰۃُ فَاَمَمْتُھُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلوٰۃِ قَالَ قَائِلٌ یَامُحَمَّدُ ھٰذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ فَالْتَفَتُّ اِلَیْہِ فَبَدَأَنِیْ بِالسَّلاَمِ۔(۷)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں مقامِ حجر میں تھا۔ قریش مجھ سے اسراء (معراج) کے بارے میںپوچھنے لگے۔ انہوں نے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کے متعلق سوالات کیے۔ مجھے وہ یاد نہیں تھیں تو میں اتنا پریشان ہوا کہ اس سے پہلے اتنا کبھی نہیں ہوا تھا۔ نبی ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میری آنکھوں کے روبرو کردیا۔ اب وہ جس چیز کے متعلق سوال کرتے، میں دیکھ کر انہیں بتادیتا۔ پھر میں نے جماعتِ انبیاء کرام ؑ میں اپنے آپ کو پایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ گھنگریالے بالوں والے خوب رُو انسان جو قبیلۂ شنوء ۃ کے آدمیوں کے مشابہ نظر آرہے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰ بن مریم کو دیکھا کہ وہ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ لوگوں میں ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا وہ بھی کھڑے نماز ادا کررہے تھے ان کی شکل وصورت اور حُلیۂ مبارک مجھ سے ملتاجُلتاتھا۔ اسی اثناء میں نماز کا وقت آگیا۔ میں نے ان سب کو نماز پڑھائی۔ جب میں نماز ادا کرچکا تو کسی کہنے والے نے کہا اے محمدؐ یہ جہنم کے داروغہ ’’مالک‘‘ ہیں۔ انہیں سلام کریں، میں نے ان کی جانب رُخ کیا ہی تھا کہ انہوں نے پہلے سلام کیا۔
(۸) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھَبٍ، قَالَ اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ،قَالَ اَبُوْسَلَمَۃَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ، یَقُوْلُ لَمَّاکَذَّبَنِیْ قُرَیْشٌ قُمْتُ الْحِجْرَ ۱؎ فَجَلَّی اللّٰہُ لِیْ بَیْتَ الْمُقَدَّسِ فَطَفِقْتُ اُخْبِرُھُمْ عَنْ آیَاتِہٖ وَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْہِ الخ۔(۸)
ترمذی نے اس حدیث کو حضرت انس سے انا انظرتک روایت کیاہے اور لکھا ہے ھذا حدیث حسن صحیح۔
(۹)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا لَیْثٌ حَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: اَنَا اللَّیْثُ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ۔عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ:قَالَ:عُرِضَ عَلَیَّ الْاَنْبِیَآئُ فَاِذَا مُوْسٰی ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ کَأَنَّہٗ مِنْ رِّجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَرَاَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖ شَبَھًا عُرْوَۃُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَاَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖ شَبَھًا صَاحِبُکُمْ یَعْنِیْ نَفْسَہٗ وَرَاَیْتُ جِبْرَئِیْلَ عَلَیِِْہِ السَّلاَمُ فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖ شَبَھًا دِحْیَۃُ وَفِیْ رِوَایَۃِ ابْنِ رُمْحٍ دِحْیَۃُ بْنُ خَلِیْفَۃَ۔(۹)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء کرام میرے روبرو کیے گئے تو میں نے دیکھاحضرت موسیٰؑ کی مشابہت انسانوں میں قبیلہ شنوء ۃ کے مردوں سے بہت زیادہ تھی۔ اور حضرت عیسیٰؑ کو دیکھا تو ان کی مشابہت میری نظر میں عروہ بن مسعود ثقفی سے تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو میری صوابدید کے مطابق ان کی شکل وصورت تمہارے صاحب یعنی خود نبی کریم ﷺ سے مشابہ تھی اور میں نے جبریلؑ کو دیکھا تو ان کی شکل وصورت دحیہؓ سے اور ابن رمح کی روایت میں ہے دحیہ بن خلیفہ سے ملتی جلتی تھی۔
(۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ حَ وَحَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ: قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِاِیْلِیَائَ بِقَدَحَیْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ اِلَیْھِمَا فَاَخَذَ اللَّبَنَ قَالَ جَبْرَئِیْلُ:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَاکَ لِلْفِطْرَۃِ لَوْاَخَذْتَ الْخَمْرَغَوَتْ اُمَّتُکَ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓسے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ شبِ اسراء میں مقامِ ایلیاء پر رسول اللہؐ کے روبرو، دوپیالے، ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا پیش کیے گئے، آپؐ نے ان دونوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا پھر دودھ کا پیالہ لے لیا۔ جبریلؑ نے یہ دیکھ کر کہا اس خدا کا شکر ہے جس نے آپؐ کو فطرت صحیحہ کی رہنمائی فرمائی۔ اگر آپؐ جام شراب پکڑلیتے تو آپؐ کی اُمّت راہِ راست سے بھٹک جاتی۔
(۱۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَسُرَیْجُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالاَ: نَاھُشَیْمٌ، قَالَ: اَنَا دَاؤدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مََّر بِوَادِی الْاَزْرَقِ فَقَالَ:اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: ھٰذَا وَادِیُ الْاَزْرَقِ قَالَ:کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی مُوْسٰی ھَابِطًا مِنَ الثَّنِیَّۃِ وَلَہٗ جَوَارٌ اِلَی اللّٰہِ بِالتَّلْبِیَّۃِ، ثُمَّ اَتٰی عَلٰی ثَنِیَّۃِ ھَرْشٰی، فَقَالَ:اَیُّ ثَنِیَّۃٍ ھٰذِہٖ؟ قَالُوْا:ثَنِیَّۃُ ھَرْشٰی، قَالَ کَأَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی عَلٰی نَاقَۃٍ حَمْرَآئَ جَعْدَۃٍ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِّنْ صُوْفٍ خِطَامُ نَاقَتِہٖ خُلْبَۃٌ وَھُوَ یُلَبِّیْ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِیْ حَدِیْثِہٖ قَالَ ھُشَیْمٌ یَعْنِیْ لِیْفًا۔(۱۱)
ترجمہ :حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادی ازرق سے گزرے تو آپؐ نے دریافت فرمایا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ازرق نامی وادی ہے۔ آپؐ نے فرمایا گویا کہ میں موسیٰؑ کو ٹیلے سے نیچے اترتے ہوئے دیکھ رہاہوں اور وہ زور زور سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہرشی نامی گھاٹی پر آئے اور آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون سی گھاٹی ہے؟‘‘ عرض کیا گیا ہرشیٰ نامی گھاٹی ہے، فرمایا:’’گویا کہ میں یونسؑ بن متی کو ایک سرخ اور پرگوشت اونٹنی پر سوار دیکھ رہاہوں۔ ان کے بدن پر اونی جُبّہ ہے۔ ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کی چھال سے بٹی ہوئی رسّی کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ ابن حنبل کہتے ہیں کہ ہشیم نے کہا کہ ’’خُلْبَۃٌ‘‘ سے مراد کھجور کی چھال ہے۔
(۱۲) حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الدَّوْرَقِیُّ، نَا اَ بُوْتَمِیْلَۃَ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ جَنَادَۃَ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ: قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَمَّا انْتَھَیْنَا اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جَبْرَئِیْلُ بِاِصْبَعِہٖ فَخَرَقَ بِھَا الْحَجَرَ وَشَدَّ بِہِ الْبُرَاقَ۔(۱۲) (ھذا حدیث غریب)
ترجمہ: ابن بُریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب ہم بیت المقدس پہنچ گئے تو جبرئیلؑ نے اپنی انگشت کے اشارے سے ایک پتھر میں سوراخ کیا اوراس کے ساتھ براق کو باندھ دیا۔
(۱۳)حَدَّثَنِیْ یُْوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ:ثَنِیْ یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ ھَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:لَمَّاجَآئَ جَبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالْبُرَاقِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَأَنَّھَا ضَرَبَتْ بِذَنْبِھَا فَقَالَ لَھَا جَبْرَئِیْلُ: مَہْ یَابُرَاقُ فَوَاللّٰہِ اِنْ رَکِبَکَ مِثْلَہٗ فَسَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاِذَا ھُوَبِعَجُوْزٍنَائَ عَنِ الطَّرِیْقِ اَیْ عَلٰی جَنْبِ الطَّرِیْقِ (قَالَ اَبُوْجَعْفَرٍ یَنْبَغِیْ اَنْ یُّقَالَ نَائِیَۃٌ وَلٰکِنْ أُسْقِطَ مِنْھَا التَّانیث) فَقَالَ: مَاھٰذِہٖ یَاجِبْرَئِیْلُ؟ قَالَ:سِرْیَا مُحَمَّدُ فَسَارَ مَاشَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَّسِیْرَ فَاِذَا شَیْیئٌ یَّدْعُوْہُ مُتَنَحِّیًا عَنِ الطَّرِیْقِ یَقُوْلُ: ھَلُمَّ یَامُحَمَّدُ قَالَ جَبْرَئِیْلُ:سِرْیَا مُحَمَّدُ فَسَارَمَاشَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَّسِیْرَ قَالَ:ثُمَّ لَقِیَہٗ خَلْقٌ مِّنَ الْخَلاَئِقِ فَقَالَ:اَحَدُھُمُ السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَااَوَّلُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاآخِرُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاحَاشِرُ فَقَالَ لَہٗ جَبْرَئِیْلُ:اُرْدُدِ السَّلاَمَ یَامُحَمَّدُ قَالَ:فَرَدَّ السَّلاَمَ ثُمَّ لَقِیَہُ الثَّانِیْ فَقَالَ لَہٗ:مِثْلَ مَقَالَۃِ الْاَوَّلِیْنَ حَتَّی انْتَھٰی اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَعُرِضَ عَلَیْہِ الْمَآئُ وَاللَّبَنُ وَالْخَمْرُ، فَتَنَاوَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اللَّبَنَ فَقَالَ لَہٗ جَبْرَئِیْلُ اَصَبْتَ یَامُحَمَّدُ الْفِطْرَۃَ، وَلَوْشَرِبْتَ الْمَآئَ لَغَرَقْتَ،وَغَرَقَتْ اُمَّتُکَ وَلَوْشَرِبْتَ الْخَمْرَ لَغَوَیْتَ، وَغَوَتْ اُمَّتُکَ ثُمَّ بُعِثَ لَہٗ اٰدَمُ فَمِنْ دُوْنِہٖ مِنَ الْاَنْبِیَآئِ فَأَمَّھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ ثُمَّ قَالَ لَہٗ جَبْرَئِیْلُ:اَمَّاالْعَجُوْزُ الَّتِیْ رَأَیْتَ عَلٰی جَانِبِ الطَّرِیْقِ فَلَمْ یَبْقَ مِنَ الدُّنْیَا اِلاَّبِقَدْرِمَابَقِیَ مِنْ عُمُرِ تِلْکَ الْعَجُوْزِ وَاَمَّا الَّذِیْ اَرَادَ اَنْ تَمِیْلَ اِلَیْہِ فَذَاکَ عَدُوُّ اللّٰہِ اِبْلِیْسُ اَرَادَ اَنْ تَمِیْلَ اِلَیْہِ وَاَمَّا الَّذِیْنَ سَلَّمُوْا عَلَیْکَ فَذَاکَ اِبْرَاھِیْمُ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت انسؓ بن مالک کا بیان ہے کہ: جب جبریل علیہ السلام براق لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو براق نے اپنی دم ہلائی( ذرا بد کا) یہ دیکھ کر جبریلؑ نے اس سے کہا کہ رک جاؤ اے براق! کیونکہ بخدا اس جیسا شاہسوار آج تک تجھ پر سوار نہیں ہوا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لے چلے۔ دیکھا کہ راستے میں ایک جانب ایک بڑھیا کھڑی ہے۔ آپؐ نے جبریلؑ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، یہ کون ہے؟ جبریل نے عرض کیا۔ اے محمد (ﷺ) آپؐتشریف لے چلیں۔ لہٰذا آپؐچلے جہاں تک خدا کو منظور ہوا۔ پھر راستے کے ایک کنارے سے کسی پکارنے والے نے آوازدی۔ اے محمد (ﷺ)ادھر آئیں۔ جبریلؑ نے اس موقع پر بھی عرض کیا۔ اے محمد!(ﷺ) آگے تشریف لے چلیں لہٰذا آپؐآگے وہاں تک تشریف لے گئے جہاں تک خدا کو منظور تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد آپؐکوکچھ لوگ ملے۔ ان میں سے ایک نے اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَوَّلُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اٰخِرُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاحَاشِرُ کے خیر مقدمی الفاظ سے سلام کیا۔جبریلؑ نے فرمایا اے محمدؐ آپؐ اس کے سلام کا جواب دیں توآپؐ نے اس کا جواب دیا۔ اس کے بعد پھر دوسرا ملا۔ اس نے بھی اسی طرح سلام کیا جس طرح پہلے لوگوں نے کیا تھا، تاآنکہ آپؐ بیت المقدس پہنچ گئے۔ یہاںآپؐ کے سامنے پانی، دودھ، اور شراب پیش کیے گئے۔آپؐ نے دودھ نوش فرمایا۔ جبریلؑ نے کہا اے محمدؐ!آپؐنے فطرت کو پالیا۔ اگرآپؐ پانی پی لیتے تو خود بھی غرق ہوتے اور امت بھی غرق ہوتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو خود بھی گم کردہ راہ ہوجاتے اور امت بھی بدراہ ہوتی۔ پھر آدم علیہ السلام کو آپؐکے سامنے لایاگیا، اور باقی انبیاء کوبھی۔آپؐ نے ان سب کی اس رات امامت فرمائی۔ اب جبریل علیہ السلام نے(دوران سفر میں پیش آمدہ واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا) کہ راستے کے ایک کنارے جو بڑھیا آپؐ کو نظر آئی تھی اس سے مراد یہ ہے کہ اب دنیا کی عمر بس اتنی باقی ہے جتنی اس بڑھیا کی۔ اور وہ شخص جس نے آپؐ کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی وہ دشمنِ خدا ابلیس تھا وہ چاہتاتھا کہ آپ اس کی طرف مائل ہوں اور جن حضرات نے آپؐکو سلام کیا تھا وہ حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام تھے۔
ابن کثیر نے ان رکبک مثلہ کے بجائے مارکبک مثلہ نقل کیاہے۔
(۱۴) حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ سَھْلٍ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ:اَخْبَرَنَا اَبُوْجَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ اَنَسٍ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ الرِّیَاحِیَّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَوْغَیْرَہٗ(شَکَّ اَبُوْجَعْفَرٍ)فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَاحَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیَاتِنَا اِنَّہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ، قَالَ:
جَآئَ جَبْرَئِیْلُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَمَعَہٗ مِیْکَائِیْلُ فَقَالَ جَبْرَئِیْلُ لِمِیْکَائِیْلَ: اِئْتِنِیْ بِطَسْتٍ مِّنْ مَّآئِ زَمْزَمَ کَیْمَا اُطَھِّرَ قَلْبَہٗ، وَاَشْرَحْ لَہٗ صَدْرَہٗ، قَالَ فَشَقَّ عَنْ بَطْنِہٖ، فَغَسَلَہٗ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَاخْتَلَفَ اِلَیْہِ مِیْکَائِیْلُ بِثَلاَثِ طَسَاتٍ مِّنْ مَّآئِ زَمْزَمَ فَشَرَحَ صَدْرَہٗ وَنَزَعَ مَاکَانَ فِیْہِ مِنْ غِلٍّ وَمَلأَہٗ حِلْمًا وَعِلْمًا وَاِیْمَانًا وَیَقِیْنًا وَاِسْلاَمًا، وَخَتَمَ بَیْنَ کَتِفَیِِْہِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّۃِ ثُمَّ اَتَاہُ بِفَرَسٍ فَحُمِلَ عَلَیْہِ کُلُّ خُطْوَۃٍ مِنْہُ مُنْتَھٰی طَرْفِہٖ وَاَقْصٰی بَصَرِہٖ، قَالَ: فَسَارَوَسَارَ مَعَہٗ جَبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَاَتٰی عَلٰی قَوْمٍ یَزْرَعُوْنَ فِیْ یَوْمٍ، وَیَحْصُدُوْنَ فِیْ یَوْمٍ کُلَّمَا حَصَدُوْا عَادَکَمَاکَانَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: یَاجَبْرَئِیْلُ مَاھٰذَا؟ قَالَ: ھٰؤُلَآئِ الْمُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تُضَاعَفُ لَھُمُ الْحَسَنَۃُ بِسَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ، وَمَا اَنْفَقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ وَھَُوخَیْرُالرَّازِقِیْنَ ثُمَّ اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ تُرْضَخُ رُؤُسُھُمْ بِالصَّخْرِ کُلَّمَارُضِخَتْ عَادَتْ کَمَا کَانَتْ لاَیَفْتُرُ عَنْھُمْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ فَقَالَ:مَاھٰٓؤُلَآئِ یَاجَبْرَئِیْلُ؟ قَالَ:ھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ تَتَثَاقَلُ رُؤُسُھُمْ عَنِ الصَّلوٰۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ، ثُمَّ اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ عَلٰی اَقْبَالِھِمْ رِقَاعٌ،وَعَلٰی اَدْبَارِھِمْ رِقَاعٌ یَسْرَحُوْنَ کَمَا تَسْرَحُ الْاِبِلُ وَالْغَنَمُ وَیَاْکُلُوْنَ الضَّرِیْعَ وَالزَّقُّوْمَ وَرَضْفَ جَھَنَّمَ وَحِجَارَتِھِمْ، قَالَ:مَاھٰٓؤُلَآئِ یَاجَبْرَئِیْلُ قَالَ:ھٰٓؤُلَآئِِ الَّذِیْنَ لاَیُؤَدُّوْنَ صَدَقَاتِ اَمْوَالِھِمْ وَمَاظَلَمَھُمُ اللّٰہُ شَیْئًا وَمَا اللّٰہُ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ثُمَّ اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ لَحْمٌ نَضِیْجٌ فِیْ قُدُوْرٍ وَلَحْمٌ آخَرُنَیِّئٌ قَذْرٌ خَبِیْثٌ فَجَعَلُوْا یَأْکُلُوْنَ مِنَ النَّیِّیئِ وَیَدَعُوْنَ النَّضِیْجَ الطَّیِّبَ فَقَالَ:مَا ھٰٓؤُلَآئِِ یَاجِبْرَئِیْلُ؟ قَالَ:ھٰذَا الرَّجُلُ مِنْ اُمَّتِکَ تَکُوْنُ عِنْدَہُ الْمَرْاَۃُ الْحَلاَلُ الطَّیِّبُ فَیَاْتِیْ اِمْرَأَۃً خَبِیْثَۃً فَیَبِیْتُ عِنْدَھَا حَتّٰی یُصْبِحَ، وَالْمَرْأَۃُ تَقُوْمُ مِنْ عِنْدِ زَوْجِھَا حَلاَلاً طَیِّبًا فَتَاْتِیْ رَجُلاً خَبِیْثًا فَتَبِیْتُ مَعَہٗ حَتّٰی تُصْبِحَ، قَالَ: ثُمَّ اَتٰی عَلٰی خَشَبَۃٍ فِی الطَّرِیْقِ لاَیَمُرُّبِھَا ثَوْبٌ اِلاَّشَقَّتْہُ وَلاَشَیْئٌ اِلاَّخَرَقَتْہُ قَالَ مَاھٰذَا یَاجَبْرَئِیْلُ؟قَالَ: ھٰذَا مَثَلُ اَقَوَامٍ مِنْ اُمَّتِکَ یَقْعُدُوْنَ عَلَی الطَّرِیْقِ فَیَقْطَعُوْنَہٗ ثُمَّ قَرَأَ وَلاَتَقْعُدُوْا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ الآیۃ ثُمَّ اَتٰی عَلٰی رَجُلٍ قَدْ جَمَعَ حُزْمَۃَ حَطَبٍ عَظِیْمَۃٍ لاَیَسْتَطِیْعُ حَمْلَھَا وَھُوَ یَزِیْدُ عَلَیْھَا فَقَالَ: مَاھٰذَا یَاجَبْرَئِیْلُ؟ قَالَ:ھٰذَا الرَّجُلُ مِنْ اُمَّتِکَ تَکُوْنُ عِنْدَہٗ اَمَانَاتُ النَّاسِ لاَیَقْدِرُ عَلٰی اَدَائِھَا وَھُوَیَزِیْدُ عَلَیْھَا وَیُرِیْدُ اَنْ یَحْمِلَھَا فَلاَیَسْتَطِیْعُ ذٰلِکَ ثُمَّ اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ تُقْرَضُ اَلْسِنَتُھُمْ وَشِفَاھُھُمْ بِمَقَارِیْضَ مِنْ حَدِیْدٍکُلَّمَا قَرَضَتْ عَادَتْ کَمَا کَانَتْ لاَیَفْتُرُ عَنْھُمْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ قَالَ:مَاھٰٓؤُلَآئِ یَاجَبْرَئِیْلُ؟ فَقَالَ:ھٰٓؤُلآئِ خُطَبَآئُ اُمَّتِکَ خُطَبَآئُ الْفِتْنَۃِ یَقُوْلُوْنَ مَالاَیَفْعَلُوْنَ ثُمَّ اَتٰی عَلٰیجُحْرٍ صَغِیْرٍ یَخْرُجُ مِنْہُ ثَوْرٌ عَظِیْمٌ فَجَعَلَ الثَّوْرُ یُرِیْدُ اَنْ یَرْجِعَ مِنْ حَیْثُ خَرَجَ فَلاَیَسْتَطِیْعُ فَقَالَ:مَاھٰذَا یَا جَبْرَئِیْلُ؟ قَالَ: ھٰذَا الرَّجُلُ یَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ الْعَظِیْمَۃِ ثُمَّ یَنْدَمُ عَلَیْھَا فَلاَیَسْتَطِیْعُ اَنْ یَّرُدَّھَا ثُمَّ أَتٰی عَلٰی وَادٍ فَوَجَدَ رِیْحًا طَیِّبَۃً بَارِدَۃً وَفِیْہِ رِیْحُ الْمِسْکِ وَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: یَاجَبْرَئِیْلُ مَاھٰذِہِ الرِّیْحُ الطَّیِّبَۃُ الْبَارِدَۃُ؟وَھٰذِہِ الرَّائِحَۃُ الَّتِیْ کَرِیْحِ الْمِسْکِ وَمَاھٰذَا الصَّوْتُ؟ قَالَ : ھٰذَا صَوْتُ الْجَنَّۃِ تَقُوْلُ: یَارَبِّ اٰتِنِیْ مَاوَعَدْتَّنِیْ فَقَدْ کَثُرَتْ غُرَفِیْ وَاِسْتَبْرَقِیْ وَحَرِیْرِیْ وَسُنْدُسِیْ وَعَبْقَرِیْ وَلُؤْلُؤِیْ وَمَرْجَانِیْ وَفِضَّتِیْ وَذَھَبِیْ وَاَکْوَابِیْ وَصِحَافِیْ وَاَبَارِیْقِیْ وَفَوَاکِھِیْ وَنَخْلِیْ وَرُمَّانِیْ وَلَبَنِیْ وَخَمْرِیْ فَاٰتِنِیْ مَاوَعَدْتَنِیْ فَقَالَ: لَکَ کُلُّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَۃٍ وَمُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَۃٍ وَمَنْ اٰمَنَ بِیْ وَبِرُسُلِیْ، وَعَمِلَ صَالِحًا،وَلَمْ یُشْرِکْ بِیْ وَلَمْ یَتَّخِذْ مِنْ دُوْنِْی اَنْدَادًا،وَمَنْ خَشِیَنِیْ فَھَُوَاٰمِنٌ،وَمَنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہٗ وَمَنْ اَقْرَضَنِیْ جَزَیْتُہٗ، وَمَنْ تَوَکَّلَ عَلَیَّ کَفَیْتُہٗ، اِنِّیْ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اَنَا لاَ اُخْلِفُ الْمِیْعَادَ وَقَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔قَالَتْ قَدْرَضِیْتُ۔ ثُمَّ اَتٰی عَلٰی وَادٍ فَسَمِعَ صَوْتًا مُنْکَرًا وَوَجَدَ رِیْحًا مُنْتَنَۃً فَقَالَ: مَاھٰذِہِ الرِّیْحُ یَاجَبْرَئِیْلُ وَمَاھٰذَا الصَّوْتُ؟ قَالَ: ھٰذَا صَوْتُ جَھَنَّمَ تَقُوْلُ:یَارَبِّ اٰتِنِیْ مَاوَعَدْتَّنِیْ فَقَدْکَثُرَتْ سَلاَسِلِیْ وَاَغْلاَلِیْ وَسَعِیْرِیْ وَجَحِیْمِیْ وَضَرِیْعِیْ وَغَسَّاقِیْ وَعَذَابِیْ وَعِقَابِیْ وَقَدْ بَعُدَ قَعْرِیْ وَاشْتَدَّ حَرِّیْ فَاٰتِِنِیْ مَاوَعَدْتَّنِیْ قَالَ:لَکَ کُلُّ مُشْرِکٍ وَّمُشْرِکَۃٍ وَکَافِرٍ وَکَافِرَۃٍ وَکُلُّ خَبِیْثٍ وَخَبِیْثَۃٍ وَکُلُّ جَبَّارٍ لاَیُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ قَالَتْ قَدْ رَضِیْتُ قَالَ:ثُمَّ سَارَحَتّٰی اَتٰی بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَ فَرَبَطَ فَرَسَہٗ اِلٰی صَخْرَۃٍ ثُمَّ دَخَلَ فَصَلّٰی مَعَ الْمَلاَئِکَۃِ فَلَمَّا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ قَالُوْا یَاجَبْرَئِیْلُ مَنْ ھٰذَا مَعَکَ؟ قَالَ:مُحَمَّدٌ۔فَقَالُوْا: اَوَقَدْ اُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ:نَعَمْ قَالُوْا:حَیَّاہُ اللّٰہُ مِنْ اَخٍ وَمِنْ خَلِیْفَۃٍ فَنِعْمَ الْاَخُ وَنِعْمَ الْخَلِیْفَۃُ وَنِعْمَ الْمَجِیْیٓئُ جَآئَ ثُمَّ لَقِیَ اَرْوَاحَ الْاَنْبِیَآئِ فَاَثْنَوْا عَلٰی رَبِّھِمْ الحدیث۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺکی خدمت میں جبریلؑ حاضر ہوئے۔میکائیلؑ بھی ان کے ساتھ تھے۔ جبریلؑ نے میکائیلؑ سے کہا کہ آبِ زمزم کا ایک طشت میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان (نبی ﷺ) کا قلب خوب پاک کردوں اور ان کا سینہ کھول دوں۔ راوی کہتے ہیں کہ جبریلؑ نے آپؐ کا پیٹ چاک کیا اوراسے تین مرتبہ دھویا۔اس دوران میں میکائیلؑ آبِ زمزم کا طشت تین مرتبہ لانے کے لیے آتے جاتے رہے۔ جبریلؑ نے آپ ؐکاسینہ کھولا اور اس میں جومیل کچیل از قسمِ غِل تھا اسے باہر نکال کر اس میں علم، حلم، ایمان، یقین اور اسلام بھردیا۔ اور دونوں کندھوں کے درمیان ختم نبوت کی مہر لگادی۔ پھر آپؐکو ایک گھوڑے کے پاس لاکر اس پر سوار کیا گیا۔اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا ہرقدم وہاں پڑتاتھا جہاں اس کی نظر پہنچتی تھی۔ پس آپؐ جبریلؑ کے ساتھ چلے اور ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو ایک روز کھیتی بوتے تو دوسرے روز اسے کاٹ لیتے ہیں۔ جونہی کٹائی سے فارغ ہوتے ہیں فضل دوبارہ لہلہانے لگتی ہے۔ نبی ﷺ نے جبریلؑ سے دریافت کیا: جبریلؑ یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو راہِ خدا میں جہاد کرتے ہیں۔ ان کی نیکیاں دوگناسے بڑھاکر سات سوگنا تک ہوتی ہیں۔ اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر لوٹا دیتاہے وہ بہترین رازق ہے۔ پھر دیکھاکہ کچھ لوگ ہیں جن کے سرپتھروں سے کچلے جارہے ہیں۔ کچلنے کے بعد پھر پہلی طرح ٹھیک ہوجاتے ہیں اور مسلسل ایسا ہورہاہے۔ پوچھا یہ کو ن ہیں اے جبرئیل؟ کہا گیا یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی انہیں نماز کے لیے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ پھر کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن کے کپڑوں میں آگے پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چرر ہے تھے اور تھوہڑ اورجہنم کے گرم پتھر کھارہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیںاے جبرئیل؟ جبریلؑ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال میں سے صدقہ وخیرات کچھ نہ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ پھر کچھ اور لوگوں کے پاس آئے جن کے ایک طرف نفیس، چکنا، پکا ہوا گوشت رکھا ہوا ہے اور دوسری طرف سڑا ہوا کچّاگوشت رکھا ہے جس سے سخت بدبوآرہی تھی۔ یہ لوگ نفیس اور عمدہ گوشت چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھارہے تھے۔ پوچھا اے جبریلؑ یہ کون ہیں؟ جبریلؑ نے بتایا کہ یہ آپ ؐکی امّت کے وہ مرداور عورتیں ہیں جنہوں نے حلال شوہروں اور بیویوں کے ہوتے ہوئے حرام سے اپنی خواہشِ نفس پوری کی۔پھر راستے میں گاڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آئے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتاہے اس کا کپڑا پھاڑدیتی اور جو چیز وہاں سے گزرتی ہے اسے چیردیتی ہے۔ پوچھا اے جبریلؑ یہ کیاہے؟ کہا یہ آپ ؐکی اُمّت کے وہ لوگ ہیں جو گزرگاہوں اور راستوں پر بیٹھ کر ڈکیتی کی واردات کرتے ہیں پھر قرآن مجیدکی آیت وَلاَتَقْعُدُوْا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ تلاوت فرمائی۔ پھر ایک شخص کو دیکھا کہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کرکے اٹھانے کی کوشش کرتاہے اور جب وہ نہیں اٹھتا تو اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے۔ پوچھا یہ کون احمق ہے؟ بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جس پر امانتوں اور ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ تھا کہ اٹھا نہ سکتا تھا مگر یہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بار اپنے اوپر لادے چلاجاتاتھا اور انہیں ادا کرناچاہتاہے لیکن اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتا۔ پھر کچھ ایسے لوگوں کے پاس آئے جن کے ہونٹ اور زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کترے جارہے تھے۔ اور ہردفعہ کٹنے کے بعد پھر اسی طرح صحیح سالم ہوجاتے تھے جیسا کہ پہلے تھے۔ اور یہ عمل برابر جاری تھا۔پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریلؑ نے بتایا یہ غیرذمہ دار مقرّر اور خطیب ہیں جو بے تکلّف زبان چلاتے اور فتنہ برپا کیا کرتے تھے۔ اور جو کہتے تھے خود نہ کرتے تھے، پھر ایک چھوٹے پتھر کے پاس آئے دیکھاکہ اس میں ذرا سا شگاف ہے اور اس میں سے ایک بڑا مو ٹا سا بیل نکل آیا۔ پھر وہ بیل اس سوراخ میںدوبارہ داخل ہونے کی کوشش کرنے لگا مگر نہ جاسکا۔ پوچھا یہ کیا معاملہ ہے؟ جبریل نے بتایا یہ اس شخص کی مثال ہے جو غیرذمہ داری کے ساتھ، ایک فتنہ انگیز بات کرجاتاہے پھر نادم وپشیمان ہوکر اس کی تلافی کرنا چاہتاہے مگر نہیں کرسکتا۔ پھر ایک ایسی وادی کے پاس پہنچے جس سے ٹھنڈی خوشبودار ہوا آرہی تھی جو کستوری کی بھینی بھینی خوشبو کی طرح تھی اور وہاں ایک آواز بھی سنائی دی۔ آپ ؐنے جبریل سے دریافت کیا کہ یہ خوشبواور یہ آواز کیسی ہے؟ جبریلؑ نے بتایا:کہ یہ آواز تو جنت کی ہے جو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کررہی ہے کہ جو وعدہ آپ نے مجھ سے فرمایا اسے پورا فرمایئے۔ میرے بالاخانے بے شمار وکثیر ہیں۔ میرے ہاں کا لباس نہایت لطیف ریشم کاہے۔ اس میں اطلس ودیبا کا لباس ہے۔ موتی، مرجان، سونا، چاندی کی بہتات ہے، آب خورے۔ بڑے بڑے کاسے، چھاگلیں اور جام اَن گنت ہیں۔ اور میوہ جات، کھجوریں، انار ، دودھ، شرابِ طہور اور مائِ طہور کی نہریں رواں دواں ہیں۔ مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے اسے پورا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔تیرے لیے ہرمومن مرد وعورت اور ہرمسلمان مردو عورت ہے اور ہروہ جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور عمل صالح کرے۔ اور جس نے میرے سوا کسی کو شریک وہمسر ومقابل نہ بنایا ہو۔ جو مجھ سے خوف زدہ ہوا وہ امن میں آگیا اور جس نے مجھ سے مانگا میں نے اسے عطا کیا اور جس نے مجھ سے قرض کا تقاضا کیا اسے دیا۔ جس نے مجھ پر بھروسہ وتوکلّ کیا اسے میں کافی ہوں گا۔ میں ایسا اِلٰہ ہوں کہ میرے سوا اور کوئی الٰہ نہیں، میں وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ مومنین یقینا فلاح یاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہے۔ جنت بولی میں راضی ہوں۔ اس کے بعد ایک وادی پر آئے۔ غیرمانوس آواز اورنہایت گندی بو محسوس کی۔ آپ ؐنے پوچھا جبریلؑ یہ آواز کیسی ہے؟ اور یہ بدبو کہاں سے آرہی ہے؟ جبریلؑ نے بتایا یہ جہنم کی آواز ہے۔کہہ رہی ہے کہ اے پروردگار! مجھ سے جو وعدہ آپ ؐنے فرمایاہے اسے پورا کیجیے۔ میرے پاس بہ کثرت زنجیریں ہیں، طوق ہیں، آتشِ شُعلہ بار ہے، گرم کھولتاہوا پانی ہے، خوراک کے لیے خارو خس خشک وتلخ ہے دوزخیوں کے زخموں سے رِستاہوا پیپ ہے اور میری سخت سزا وعذاب ہے۔ میری گہرائی بہت ہے تپش شدید ہے۔ لایئے وعدہ پورا فرمایئے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تیرے واسطے ہرمشرک مردو عورت اور کافر مردو عورت اور ہرخبیث وبدباطن مردو عورت اور ہرسرکش وجابر جو یومِ حساب کو نہیں مانتا تھا۔ جہنّم بولی میں راضی ہوں۔ آپ ؐنے فرمایا پھر وہاںسے چلے اور بیت المقدس پہنچے۔ وہاں نیچے اتر کر آپ ؐنے اپنا گھوڑا پتھر کے ساتھ باندھ دیا۔ پھر ملائکہ کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوکر نماز پڑھی۔ جب نماز پڑھی جاچکی تو فرشتوں نے جبریل سے پوچھا۔ یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد ﷺ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیاہے؟ جبریلؑ نے بتایا کہ ہاں۔ ملائکہ نے دعائیہ انداز میں مبارکباد دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے۔ کیسے اچھے اور عمدہ بھائی اور خلیفہ ہیں اور آنے والے کیسے بہترین ہیں۔ پھر وہ نبیوں کی ارواح سے ملے، انہوں نے اپنے رب کی ثنا خوانی کی۔
(۱۵) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ :حَدَّثَنَا اَبِیْ ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدََّثَنَا خَالِدُ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ مَالِکٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:لَمَّاکَانَ لَیْلَۃُ اُسْرِیَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ اَتَاہُ جَبْرِیلُ بِدَآبَّۃٍ فَوْقَ الْحِمَارِ دُوْنَ الْبَغْلِ حَمَلَہٗ جَبْرِیْلُ عَلَیْھَا یَنْتَھِیْ خُفُّھَا حَیْثُ یَنْتَھِیْ طَرْفُھَا فَلَمَّا بَلَغَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ وَبَلَغَ الْمَکَانَ الَّذِیْ یُقَالُ لَہٗ بَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ اَتٰی اِلَی الْحَجَرِ الَّذِیْ ثَمَّۃَ فَغَمَزَہٗ جَبْرِیْلُ بِاِصْبَعِہٖ فَثَقَبَہٗ ثُمَّ رَبَطَھَا ثُمَّ صََعَدَ فَلَمَّا اسْتَوَیَا فِیْ صَرْحَۃِ الْمَسْجِدِ قَالَ جَبْرِیْلُ: یَامُحَمَّدُ ھَلْ سَاَلْتَ رَبَّکَ اَنْ یُّرِیَکَ الْحُوْرَ الْعِیْنَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَانْطَلِقْ اِلٰی اُوْلٰٓئِکَ النِّسْوَۃِ فَسَلِّمْ عَلَیْھِنَّ وَھُنَّ جُلُوْسٌ عَنْ یَسَارِ الصَّخْرَۃِ، قَالَ: فَاَتَیْتُھُنَّ فَسَلَّمْتُ عَلَیْھِنَّ فَرَدَدْنَ عَلَیَّ السَّلاَمَ فَقُلْتُ مَنْ اَنْتُنَّ؟ فَقُلْنَ : نَحْنُ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ نِسَآئٌ قَوْمٌ اَبْرَارٌ نَقُوْا فَلَمْ یَدْرَنُوْا وَاَقَامُوْا فَلَمْ یَظْعَنُوْا وَخَلَدُوْا فَلَمْ یَمُْوتُوْا: قَالَ:ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَلَمْ اَلْبَثْ اِلاَّیَسِیْرًا حَتَّی اجْتَمَعَ نَاسٌکَثِیْرٌ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ وَاُقِیْمَتِ الصَّلٰوۃُ قَالَ: فَقُمْنَا صُفُوْفًا نَنْتَظِرُ مَنْ یَّؤُمُّنَا فَاَخَذَ بِیَدِیْ جَبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَدَّمَنِیْ فَصَلَّیْتُ بِھِمْ فَلَمَّا انْصَرَفْتُ قَالَ جَبْرِیْلُ:یَامُحَمَّدُ اَتَدْرِیْ مَنْ صَلَّی خَلْفَکَ؟ قَالَ:قُلْتُ:لاَ، قَالَ: صَلّٰی خَلْفَکَ کُلُّ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّالخ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو راتوں رات بیت المقدس لے جایا گیا، جبریل علیہ السلام اس رات ایک چوپایہ لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ جبریلؑ نے آپؐ کو اس پر سوار کیا۔ سبک رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا قدم منتہائے نظر کی حدتک جاتاتھا۔ بیت المقدس میں جب باب محمد ﷺ پر پہنچے توآپؐ ایک پتھر کے پاس پہنچے۔ جبریلؑ نے اپنی انگشت مارکر اس میں سوراخ کیا اور اس جانور کو اس کے ساتھ باندھ دیا۔ پھر اوپر چڑھے جب مسجد کے صحن میں پہنچے تو جبریلؑ نے آپؐ سے پوچھا اے محمد (ﷺ) کیا آپؐ نے اپنے رب سے حورِ عین دکھائے جانے کی درخواست کی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ جبریلؑ نے کہا تو پھر آپ ان عورتوں کی جانب تشریف لے جایئے اور انہیں سلام کہیے۔ اور وہ صخرہ نامی پتھر کے بائیں جانب بیٹھی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں ان کے پاس گیا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے ان سے پوچھا تم کون ہوتی ہو؟ بولیں۔ ہم ’’خیراتِ حسان‘‘ عورتیں، نیک اور پاک گروہ ہیں، پاک صاف ہیں، میلی کچیلی نہیں، مقیم ہیں مسافر نہیں، تادیر زندگی والی، مرنے والی نہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: پھر میں وہاں سے پھرا تو تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ ایک مؤذّن نے اذان دی۔ نماز کی اقامت کہی گئی۔ آپؐ نے فرمایا: ہم نے کھڑے ہوکر صفیں درست کرلیں اور انتظار کرنے لگے کہ امامت کے فرائض کون انجام دیتاہے۔ اتنے میں جبریلؑ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کردیا۔ میں نے انہیں نماز پڑھائی۔ جب میں وہاں سے پلٹا تو جبریلؑ نے مجھ سے پوچھا: اے محمد (ﷺ) جانتے ہیں آپؐ کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے کون تھے؟ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ جبریلؑ نے بتایا کہ تمام انبیاء تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایاہے۔
ماٰخذ
(۱) بخاری ج۱ کتاب الصلاۃ باب کیف فرضت الصلوٰۃ الخ اورکتاب الانبیاء باب ذکر ادریس الخ۔ مسلم ج۱ کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللّٰہ ﷺ الی السمٰوٰت وفرض الصلوٰت الخ۔ ٭تفسیر ابنِ جریرج۸ پ۱۵، سورہ بنی اسرائیل ٭ ابن کثیر ج۳ بنی اسرائیل۔
(۲) کتاب الایمان۔ باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السمٰوٰت وفرض الصلوات۔
(۳) نسائی ج۱کتاب الصلاۃ فرض الصَّلاَۃ وذکر اختلاف النَّاقلین فی اسناد حدیث انس بن مالک الخ۔ ٭ابن کثیر ج۳ بحوالہ ابنِ ابی حاتم ۔
(۴) بخاری ج۱ کتاب بدأ الخلق، باب ذکر الملائکۃ۔٭بخاری بنیان الکعبۃ، باب المعراج۔٭ مسلم ج۱ کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السمٰوٰت وفرض الصلوٰت۔٭ نسائی کتاب الصلوۃ باب فرض الصلوٰۃ وذکر اختلاف الناقلین فی اسنادِ حدیث انس بن مالکؓ واختلاف الفاظھم فیہ۔
(۵) ترمذی ابواب التفسیر سورہ بنی اسرائیل۔
(۶) مسلم ج۱کتاب الایمان باب معنی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ۔ ٭ نسائی ج۱کتاب الصلوۃ۔ باب فرض الصلاۃ الخ۔
(۷) مسلم ج۱کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ ﷺ اِلَی السَّمٰوٰتِ وفرض الصَّلوات۔
(۸) بخاری ج۲ کتاب التفسیر سورہ بنی اسرائیل باب قولہ اسریٰ بعبدہٖ لیلاً الخ۔٭ مسلم ج۱ کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السمٰوٰت وفرض صلوات۔٭ترمذی ابواب التفسیر سورۂ بنی اسرائیل۔
(۹) مسلم ج۱کتاب الایمان، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السمٰوٰت وفرض الصلوٰت۔
(۱۰) بخاری ج۲کتاب التفسیر باب قولہ اسری بعبدہ لیلا الخ۔٭مسند احمد ج۲۔ص۲۷۲۔
(۱۱) مسلم ج۱ کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السموات وفرض الصلوٰت۔
(۱۲) ترمذی ابواب التفسیر سورہ بنی اسرائیل۔
(۱۳) تفسیر ابنِ جریر ج۸ سورہ بنی اسرائیل۔٭ ابن کثیر ج۳ سورہ بنی اسرائیل۔
(۱۴) تفسیر ابنِ جریر ج۸ سورہ بنی اسرائیل۔٭ ابن کثیر ج۳ سورہ بنی اسرائیل۔
(۱۵) تفسیر ابنِ کثیر ج۳ سورہ بنی اسرائیل۔
فصل ہفتم: ختم نبوت اور نزول عیسٰی ابن مریمؑ
احادیث درباب نزولِ عیسٰی ابن مریم ؑ:
۱۰۷۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدَلاً فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْحَرْبَ وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لاَیَقْبَلَہٗ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور اتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر، پھر وہ صلیب کو توڑڈالیں گے اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے(صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کردینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہوجائے گی۔ دینِ عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ خدانے اپنے اکلوتے بیٹے ( حضرت عیسیٰؑ) کو صلیب پر ’’لعنت‘‘ کی موت دی، جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر خدا کی پوری شریعت رد کردی۔ حتیّٰ کہ خنزیر تک کو حلال کرلیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہاہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود آکر اعلان کردیں گے کہ نہ میں خدا کا بیٹاہوں، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی کے گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرؤں کے لیے سؤر حلال کیا تھا اور نہ اُن کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔)۔ اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے ۔ دوسری روایت میں حرب کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے، یعنی جزیہ ختم کردیں گے (دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت ملّتوں کے اختلافات ختم ہوکر سب لوگ ایک ہی ملّتِ اسلام میں شامل ہوجائیں گے۔ اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔) اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کا قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور حالت یہ ہوجائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور ایک سجدہ کرلینا دنیا ومافیہا سے زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘
تشریح :نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ’’مسیح موعود‘‘ کے آنے کی خبردی گئی ہے اور مسیح نبی تھے،اس لیے ان کے آنے سے ختمِ نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی، بلکہ ختمِ نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق۔
اسی سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’مسیح موعود‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ اُن کا تو انتقال ہوچکا۔ اور جس کے آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے وہ مثیلِ مسیح، یعنی حضرت عیسیٰ کے مانند ایک مسیح ہے اور وہ فلاں شخص ہے جو آچکاہے۔ اس کا ماننا عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔
اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کیے دیتے ہیں، جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان احادیث کو دیکھ کر ہرشخص خود معلوم کرسکتاہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا تھااور آج اس کو کیا بنایاجارہاہے۔
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ، اَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا اَبِیْ عَنْ صَالِحٍ، عَنِ بْنِ شِھَابٍ، اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَنْزِلَ فِیْکُمُ بْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْحَرْبَ وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لاَیَقْبَلَہٗ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا۔ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ:وَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ۔ وَاِنْ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا۔(۱)
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ بْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لاَیَقْبَلَہٗ اَحَدٌ۔(۲) (ھذا حدیٹ حسن صحیح)
۱۰۸۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:کَیْفَ اَنْـتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔ (بخاری، مسلم، مسنداحمد)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیسے ہوگے تم جب تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہاراامام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔‘‘(یعنی نماز میں حضرت عیسی ؑ امامت نہیں کریں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے)
تخریج : حَدَّثَنَا بْنُ بُکَیْرٍ، ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلٰی اَبِیْ قَتَادَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ بْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ تَابَعَہٗ عُقَیْلٌ وَالْاَوْزَاعِیُّ۔(۳)
ایک اور روایت حضرت ابوہریرہؓ سے ان الفاظ میںمروی ہے:
۱۰۹۔ لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔ (بخاری، ابن ماجہ)
’’قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسیٰ ابن مریم۔ؑ‘‘
تخریج : عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ فِیْکُمُ بْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لاَیَقْبَلَہٗ اَحَدٌ۔(۴)
(بخاری، ابنِ ماجہ)
۱۱۰۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ فَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَمْحُوا الصَّلِیْبَ وَتُجْمَعُ لَہُ الصَّلوٰۃُ وَیُعْطِی الْمَالَ حَتّٰی لاَیُقْبَلَ وَیَضَعُ الْخَرَاجَ وَیَنْزِلُ الرَّوْحَائَ فَیَحُجُّ مِنْھَا اَوْیَعْتَمِرُ اَوْیَجْمَعُھُمَا۔ (مسند احمد، مسلم)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ پھر وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقسیم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور روحاء(مدینہ سے پہلے ۳۵ میل کے فاصلے پر ایک مقام)کے مقام پر منزل کرکے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں کو جمع کریں گے۔ (راوی کو شک ہے کہ حضورؐ نے ان میں سے کون سی بات فرمائی تھی)۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَزِیْدُ، اَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ حَنْظَلَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ فَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَمْحُوالصَّلِیْبَ وَتُجْمَعُ لَہُ الصَّلاَۃُ وَیُعْطِی الْمَالَ حَتّٰی لاَیُقْبَلَ وَیَضَعُ الْخَرَاجَ وَیَنْزِلُ الرَّوْحَائَ فَیَحُجُّ مِنْھَا۔ اَوْیَعْتَمِرُ اَوْیَجْمَعُھُمَا الخ۔(۵)
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، وَعَمْرُونِالنَّاقِدُ، وَزُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ، قَالَ سَعِیْدٌ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی الزُّھْرِیْ عَنْ حَنْظَلَۃَ الْاَسْلَمِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاھُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُھِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَائِ حَآجًّا اَوْلَیَثْنِیَنَّھُمَا۔(۶)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے آپ کا ارشاد بیان کیا۔ اس ذا ت کی قسم ہے جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ابنِ مریم ضرور فج الروحاء مقام سے حج کے لیے یا حج وعمرہ دونوں کے لیے تلبیہ کا آغاز کریں گے۔
۱۱۱۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (بَعْدَ ذکر خروج الدّجال) فَبَیْنَاھُمْ یَعُدُّوْنَ لِلْقِتَالِ یُسَوُّوْنَ الصُّفُوْفَ اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلوٰۃُ فَیَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ فَاَمَّھُمْ فَاِذَا رَاٰہُ عَدُوُّاللّٰہِ یَذُوْبُ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَآئِ فَلَوْتَرَکَہٗ لاَ نْذَابَ حَتّٰی یَھْلِکَ وَلٰکِنْ یَقْتُلَہٗ اللّٰہُ بِیَدِہٖ فَیُرِیْھِمْ دَمَہٗ فِیْ حَرْبَتِہٖ۔
(مشکوٰۃ بحوالہ مسلم)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے (دجال کے خروج کا ذکر کرنے کے بعد حضورؐ نے فرمایا)اس اثنا میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیرِ اقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوجائیں گے۔ اور نماز میںمسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کا دشمن ( دجّال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھُلتاہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اس کے حال پر چھوڑدیںگے تو وہ آپ ہی گھُل کر مرجائے۔ مگر اللہ اس کو ان کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ، حَرْبٍ، نَامُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ، نَاسُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، نَاسُھَیْلٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (بعد ذکرخروج الدّجال) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ۔۔۔فَبَیْنَاھُمْ یَعُدُّوْنَ لِلْقِتَالِ یُسَوُّوْنَ الصُّفُوْفَ اِذْ اُقِیْمَتِ الصَّلوٰۃُ فَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ ﷺ فَاَمَّھُمْ فَاِذَا رَاٰہُ عَدُوُّ اللّٰہِ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ فَلَوْتَرَکَہٗ لاَنْذَابَ حَتّٰی یَھْلِکَ وَلٰکِنْ یُقْتِلُہُ اللّٰہُ بِیَدِہٖ فَیُرِیْھِمْ دَمَہٗ فِیْ حَرْبَتِہٖ۔(۷)
۱۱۲۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ(یعنی عِیسٰی) وَاِنَّہٗ نَازِلٌ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاَعْرِفُوْہُ رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، بَیْنَ مُمَصَّرَتَیْنِ کَأَنَّ رَأْسَہٗ یَقْطُرُوَاِنْ لَّمْ یُّصِبْہُ بَلَلٌ فَیُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الْاِسْلاَمِ۔ فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہٖ الْمِلَلَ کُلَّھَا اِلاَّ الْاِسْلاَمَ وَیُھْلِکُ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ فَیَمْکُثُ فِیْ الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔ (ابوداؤد، مسند احمد)
’’ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا میرے اور ان ( عیسی ؑ) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ اُترنے والے ہیں، پس جب تم اُن کو دیکھو تو پہچان لینا(مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام کو فوراً پہچان لیں گے۔ جس طرح حضرت مسیح نازل ہوں گے وہ ایسا طریقہ ہوگا کہ مسلمانوں کو ان کے پہچاننے میں کوئی دِقت نہ ہوگی۔ان میں یہ بتایا گیاہے کہ جس وقت دمشق میں مسلمان دجال کے مقابلہ کے لیے صف آرا ہوں گے، اور صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوں گے اس وقت یکایک حضرت مسیح منارۂ بیضا کے قریب نازل ہوں گے اور پھر مسلمان ان کو نماز پڑھانے کے لیے کہیں گے۔ مکاتیب اول:۵،نزول۔۔)۔ وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں، رنگ مائل بہ سرخی وسپیدی ہے، دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سرکے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پرلوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کردیں گے۔ خنزیر کو قتل کردیں گے، جزیہ ختم کردیں گے۔ اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملّتوں کو مٹادے گا، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے، اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر اُن کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا ھَمَّامُ بْنُ یَحْیٰی، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اٰدَمَ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ:لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ یَعْنِیْ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ، رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ بَیْنَ الْمُمَصَّرَتَیْنِ کَاَنَّ رَأْسَہٗ یَقْطُرُوَاِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ فَیُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الْاِسْلاَمِ فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّھَا اِلاَّ الْاِسْلاَمَ وَیُھْلِکَ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔(۸)
۱۱۳۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ۔۔۔ فَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ ﷺ فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ تَعَالَ فَصَلِّ لَنَا فَیَقُوْلُ لاَ اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اُمَرَائُ تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔
(مسلم، مسند احمد )
’’ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ۔۔۔پھر عیسیٰ ابنِ مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گاکہ آیئے، آپ نماز پڑھایئے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں‘‘ تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو(یعنی تمہارا امیر خود تمہی میں سے ہونا چاہیے۔) یہ وہ اُس عزت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جو اللہ نے اس امت کو دی ہے(واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحب کو مثیلِ مسیح قرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا نہ عمرہ)۔ ‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ شُجَاعٍ، وَھَارُوْنُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالُوْا: نَاحَجَّاجٌ، وَھُوَابْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ بْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَ بُوالزُّبَیْرَ اِنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ ابْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ:لاَتَزَالُ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قَالَ : فَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ ﷺ فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَیَقُوْلُ لاَ، اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اُمَرَآئُ تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت جابربن عبداللہ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے خود سناہے فرمارہے تھے۔ میری امت میں ایک گروہ ایسا بالضرور رہے گا جو حق کے لیے قتال کرے گا اور قیامت تک غالب رہے گا۔ پھر فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ آیئے آپ نماز پڑھائیں مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو، یہ وہ اس عزت وتکریم کا لحاظ کرتے ہوئے فرمائیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی ہے۔
۱۱۴۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ (فِی قِصَّۃِ ابن صیّاد) فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اِئْذَنْ لِیْ فَاَقْتُلْہٗ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنْ یَّکُنْ ھُوَفَلَسْتَ صَاحِبَہٗ، اِنَّمَا صَاحِبُہٗ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ، وَاِنْ لاَیَکُنْ فَلَیْسَ لَکَ اَنْ تَقْتُلَ رَجُلاً مِّنْ اَھْلِ الْعَھْدِ۔ (مشکوٰۃ)
’’جابر بن عبداللہ (قصّہ ابنِ صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمرؓ بن خطاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اسے قتل کردوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اگر یہ وہی شخص ( دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو، بلکہ اسے توعیسیٰ ابن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد ( ذمّیوں) میں سے ایک آدمی کے قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ طَھْمَانَ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، (فِیْ قِصَّۃِ ابْنِ صَیّادٍ) فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اِئْذَنْ لِیْ فَاَقْتُلْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنْ یَّکُنْ ھُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَہٗ اِنَّمَا صَاحِبُہٗ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ وَاِنْ لاَّیَکُنْ ھُوَ فَلَیْسَ لَکَ اَنْ تَقْتُلَ رَجُلاً مِّنْ اَھْلِ الْعَھْدِالخ۔ (۱۰)
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ اِسْحٰقُ :اَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ:نَاجَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَمَرَرْنَا بِصِبْیَانٍ فِیْھِمُ ابْنُ صَیَّادٍ فَفَرَّ الصِّبْیَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَیَّادٍ فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ کَرِہَ ذٰلِکَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ تَرِبَتْ یَدَاکَ اَتَشْھَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: لاَ بَلْ تَشْھَدُ اَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:ذَرْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ حَتّٰی اَقْتُلَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنْ یَّکُنِ الَّذِیْ یُّریٰ فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ قَتْلَہٗ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں جارہے تھے کہ ہمارا گزر کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے ہوا۔ ان میں ابن صیّاد بھی تھا۔ عام بچے بھاگ گئے مگر یہ بیٹھ گیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ گویا رسول اللہ ﷺکو یہ ناگوار گزرا۔ نبی ﷺ نے ابنِ صیاد کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو اس بات کی شہادت نہیں دیتاکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ وہ بولا نہیں بلکہ تو اس بات کی شہادت دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ (جو اس سفر میں آپؐ کے ساتھ تھے) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تو میں اسے تہہ تیغ کردیتاہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے تو تم اسے قتل نہیں کرسکتے۔
دوسری روایت میں:
(۳) فَقَالَ عُمَرُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ دَعْنِیْ فَاَضْرِبْ عُنُقَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: دَعْہُ فَاِنْ یَکُنِ الَّذِیْ تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِیْعَ قَتْلَہٗ۔(۱۱)
ترجمہ:حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمجھے ذرا چھوڑیں کہ میں اس کی گردن تن سے جدا کردوں۔ فرمایا: چھوڑو اسے، اگر یہ وہ شخص ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے کسی صورت بھی قتل نہیں کرسکتے۔
مشکوٰۃ میں ہے:
(۴) قَالَ عُمَرُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَاْذَنُ لِیْ فِیْہِ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہٗ۔(۱۲)
۱۱۵۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ (فِیْ قِصَّۃِ الدَّجَّالِ) فَاِذَا ھُمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَتُقَامُ الصَّلوٰۃُ فَیُقَالُ لَہٗ تَقَدَّمْ یَارُوْحَ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ لَیَتَقَدَّمَ اِمَامُکُمْ فَلْیُصَلِّ بِکُمْ فَاِذَا صَلّٰی صَلوٰۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا اِلَیْہِ۔قَالَ فَحِیْنَ یَرَی الْکَذَّابُ یَنْمَاثُ کَمَایَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَآئِ فَیَمْشِیْ اِلَیْہِ فَیَقْتُلُہٗ حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ یُنَادِیْ یَارُوْحَ اللّٰہِ ھٰذَا الْیَھُوْدِیُّ، فَلاَیَتْرُکْ مِمَّنْ کَانَ یَتْبَعُہٗ اَحَدٌ اِلاَّقَتَلَہٗ۔ (مسنداحمد)
’’جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ (دجّال کا قصّہ بیان کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا) اس وقت یکایک عیسی ابن مریم ؑ مسلمانوں کے درمیان آجائیںگے۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اوران سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں،تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہیے۔ وہی نماز پڑھائے۔ پھر صبح کی نماز سے فارغ ہوکر مسلمان دجّال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا جب وہ کذّاب حضرت عیسیٰؑ کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گاجیسے نمک پانی میں گھلتاہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اُسے قتل کردیں گے۔ اور حالت یہ ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپاہے۔ دجال کے پیرؤوں میں سے کوئی نہ بچے گا جو قتل نہ کردیاجائے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَامُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَااِبْرَاھِیْمُ بْنُ طَھْمَانَ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ (فِیْ قِصَّۃ الدَّجَّالِ) فَاِذَا ھُمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَتُقَامُ الصَّلوٰۃُ فَیُقَالُ لَہٗ تَقَدَّمْ یَارُوْحَ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ:لَیَتَقَدَّمَ اِمَامُکُمْ فَلْیُصَلِّ بِکُمْ۔ فَاِذَا صَلّٰی صَلاۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا اِلَیْہِ قَالَ : فَحِیْنَ یَرَی الْکَذَّابُ یَنْمَاثُ کَمَایَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَآئِ، فَیَمْشِیْ اِلَیْہِ فَیَقْتُلُہٗ حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ یُنَادِیْ یَارُوْحَ اللّٰہِ ھٰذَا الْیَھُوْدِیُّ، فَلاَیُتْرَکُ مِمَّنْ کَانَ یَتْبَعُہٗ اَحَدٌ اِلاَّقَتَلَہٗ۔(۱۳)
۱۱۶۔ عَنِ النَّوَّاسِ ابْنِ سَمْعَانَ (فی قصۃ الدجال) فَبَیْنَمَا ھُوَکَذٰلِکَ اِذْبَعَثَ اللّٰہُ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ فَیَنْزِلُ عِنْدَالْمَنَارَۃِ الْبَیْضَآئِ شَرْقِیِّ دِمَشْقَ بَیْنَ مَھْرُوْذَتَیْنِ وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ اِذَا طَاْطَاَ رَأْسَہٗ قَطَرَ وَاِذَا رَفَعَہٗ تَحَدَّرَ مِنْہُ جُمَانٌ کَاللُّؤْلُؤِ فَلاَیَحِلَّ لِکَافِرٍ یَجِدُ رِیْحَ نَفْسِہٖ اِلاَّ مَاتَ وَنَفْسُہٗ یَنْتَھِیْ اِلٰی حَیْثُ یَنْتَھِیْ طَرَفُہٗ فَیَطْلُبُہٗ حَتّٰی یُدْرِکَہٗ بِبَابِ لُدَّ فَیَقْتُلَہٗ۔
(مسلم، ابوداؤد،ترمذی، ابن ماجہ)
’’حضرت نوّاس بن سمعان کلابی (قصہ دجال بیان کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں:اس اثنا میں کہ دجّال یہ کچھ کررہاہوگا، اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں، سفید مینار کے پاس، زردرنگ کے دوکپڑے پہنے ہوئے، دوفرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سرجھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں، اور جب سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافرتک پہنچے گی اور وہ ان کی حدِّ نظر تک جائے گی وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابنِ مریم دجّال کا پیچھا کریں گے اور لدّ(واضح رہے کہ لُدّ (LYDDA)فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارالسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اوریہودیوں نے وہاں بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھاہے)کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔ ‘‘ (ختم نبوت ص۳ ۴ تا۳ ۵ اشاعت سوم ۱۹۶۲ء)
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُوْخَیْثَمَۃَ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، نَاالْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ یَزِیْدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِیْ یَحْيَ بْنُ جَابِرٍ الطَّائِیُّ قَاضِیْ حِمْصَ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرِ الْحَضْرَمِیِّ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلاَبِیَّ ح وَحَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ مِھْرَانَ الرَّازِیُّ، وَاللَّفْظُ لَہٗ نَا الْوَلِیْدُ بْنُ مِسْلِمٍ، ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ یَزِیْدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ یَحْیَ بْنِ جَابِرٍ الطَّائِیِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنِ النَّوَّاسِ ابْنِ سَمْعَانَ فِیْ قِصَّۃِ الدجال۔
فَبَیْنَمَا ھُوَکَذٰلِکَ اِذْ بَعَثَ اللّٰہُ الْمَسِیْحَ ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَآئِ شَرْقِیِّ دِمَشْقَ بَیْنَ مَھْرُوْذَتَیْنِ وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ اِذَا طَأْطَأَ رَأْسَہٗ قَطَرَ وَاِذَا رَفَعَہٗ تَحَدَّرَ مِنْہُ جُمَانٌ کَاللُّؤْ لُؤِ فَلاَیَحِلُّ لِکَافِرٍ یَجِدُ رِیْحَ نَفْسِہٖ اِلاَّمَاتَ وَنَفْسُہٗ یَنْتَھِیْ حَیْثُ یَنْتَھِیْ طَرَفُہٗ فَیَطْلُبُہٗ حَتّٰی یُدْرِکَہٗ بِبَابِ لُدَّ فَیَقْتُلُہٗ الخ۔(۱۴)
۱۱۷۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ۔۔۔قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی اُمَّتِیْ فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ (لاَاَدْرِیْ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَوْاَرْبَعِیْنَ شَھْرًا اَوْ اَرْبَعِیْنَ عَامًا) فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ کَأَنَّہٗ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ فَیَطْلُبُہٗ فَیُھْلِکُہٗ ثُمَّ یَمْکُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِیْنَ لَیْسَ بَیْنَ اثْنَیْنِ عَدَاوَۃٌ۔ (مسلم)
’’عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجّال میری اُمّت میں نکلے گا اور چالیس (میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا(یہ عبداللہ بن عمرو کا اپنا قول ہے)۔پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ اُن کا حلیہ عروہ بن مسعودؓ(ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اُسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دوآدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ مُعَاذِ نِالْعَنْبَرِیُّ، نَا اَبِیْ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ یَعْقُوْبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ مَسْعُوْدِ نالثَّقَفِیَّ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمْرٍو، وَجَآئَ ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا ھٰذَا الْحَدِیْثُ الَّذِیْ تُحَدِّثُ بِہٖ؟ تَقُوْلُ: اِنَّ السَّاعَۃَ تَقُوْمُ اِلٰی کَذَا وَکَذَا فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ اَوْلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ لاَّ اُحَدِّثَ اَحَدًا شَیْئًا اَبَدًا اِنَّمَا قُلْتُ اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِیْلٍ اَمْرًا عَظِیْمًا یُحَرَّقُ الْبَیْتُ وَیَکُوْنُ وَیَکُوْنُ ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی اُمَّتِیْ، فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ لاَاَدْرِیْ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَوْاَرْبَعِیْنَ شَھْرًا اَوْ اَرْبَعِیْنَ عَامًا، فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ کَأَنَّہٗ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، فَیَطْلُبُہٗ فَیُھْلِکُہٗ ثُمَّ یَمْکُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِیْنَ لَیْسَ بَیْنَ اثْنَیْنِ عَدَاوَۃٌ الحدیث۔(۱۵)
۱۱۸۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اَسِیْدِ الْغِفَارِیِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَاتَذْکُرُوْنَ قَالُوْا نَذْکُرُ السَّاعَۃَ قَالَ اِنَّھَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَھَا عَشَرَ اٰیَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّۃَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا وَنُزُوْلَ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَیَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَثَلٰثَۃُ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَاٰخِرُ ذَالِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ اِلٰی مَحْشَرِھِمْ۔ (مسلم، ابوداؤد)
’’حذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کررہے تھے۔ آپؐ نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ فرمایا: وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں۔ پھر آپؐ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں۔ (۱) دھواں (۲) دجّال (۳) دابۃ الارض (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (۵) عیسیٰ ا بنِ مریم کا نزول (۶) یاجوج وماجوج (۷) تین بڑے خسف، ایک مشرق میں (۸) دوسرا مغرب میں(۹)تیسرا جزیرۃ العرب میں (۱۰) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوخَیْثَمَۃَ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ الْمَکِّیُّ، وَاللَّفْظُ لِزُھَیْرٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَقَالَ الْاٰخَرَانِ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ فُرَاتِنِالْقَزَّازِ، عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ابْنِ اَسِیْدِ الْغِفَارِیِّ، قَالَ:اِطَّلَعَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ: مَاتَذْکُرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْکُرُ السَّاعَۃَ، قَالَ:اِنَّھَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَھَا عَشَرَآیَات،ٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّۃَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا، وَنُزُوْلَ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ، وَیَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَثَلاَثَۃَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، وَاٰخِرُ ذٰلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ اِلٰی مَحْشَرِھِمْ۔(۱۶)
ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِعَدْنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ۔
ایک اور روایت میں ہے لاَیَذْکُرُ النَّبِیُّﷺ۔
وَقَالَ اَحَدُھُمَا فِی الْعَاشِرَۃِ نُزُوْلَ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَقَالَ الْآخَرُ وَرِیْحٌ تُلْقِی النَّاسَ فِی الْبَحْرِ۔
۱۱۹۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عَنِ النَّبِیِّﷺ عِصَابَتَانِ مِنْ اُمَّتِیْ اَحْرَزَھُمَا اللّٰہُ تَعَالٰی مِنَ النَّارِ۔ عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْھِنْدَ، وَعِصَابَۃٌ تَکُوْنُ مَعَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔
(نسائی، مسند احمد)
’’نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: میری امت کے دولشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسیٰ ابنِ مریم کے ساتھ ہوگا۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحِیْمِ، قَالَ، حَدَّثَنَا اَسَدُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِیَّۃٌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوبَکْرِ الزُّبَیْدِیُّ عَنْ اَخِیْہِ، مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِیْدِ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِالْاَعلٰی ابْنِ عَدِیِّ الْبَھْرَانِیِّ۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : عِصَابَتَانِ فِیْ اُمَّتِیْ اَحْرَزَھُمَا اللّٰہُ مِنَ النَّارِ۔ عِصَابَۃٌ تَغْزُوالْھِنْدَ، وَعِصَابَۃٌ تَکُوْنُ مَعَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔(۱۷)
۱۲۰۔ عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِیَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقْتُلُ بْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ۔
(مسند احمد، ترمذی)
’’مجمع بن جاریۃ انصاری کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ابنِ مریم دجّال کو لُدّ کے دروازے پر قتل کریں گے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ ثَعْلَبَۃَ الْاَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیِّ۔
عَنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّیْ مُجَمِّعَِ بْنِ جَارِیَۃَ الْاَنْصَارِیَّ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:یَقْتُلُ بْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ۔(۱۸)
وَفِی الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ وَنَافِعِ بْنِ عُتْبَۃَ وَاَبِیْ بَرْزَۃَ وَحُذَیْفَۃَ ابْنِ اُسَیْدٍ وَّاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَکَیْسَانَ وَعُثْمَانَ بْنِ اَبِیْ الْعَاصِ وَجَابِرٍ وَاَبِیْ اُمَامَۃَ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو وَسَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَعَمُرِو بْنِ عَوْفٍ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ۔ ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ۔
۱۲۱۔عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ (فی حدیث طویل فی ذکر الدجال) فَبَیْنَمَا اِمَامُھُمْ قَدْتَقَدَّمَ یُصَلِّیْ بِھِمُ الصُّبْحَ اِذَا نَزَلَ عَلَیْھِمْ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَالِکَ الْاِمَامُ یَنْکُصُ یَمْشِی الْقَھْقَرٰی لِیَتَقَدَّمَ عِیْسٰی لِیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَیَضَعُ عِیْسٰی یَدَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ ثُمَّ یَقُوْلُ لَہٗ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَاِنَّھَا لَکَ اُقِیْمَتْ فَیُصَلِّیْ بِھِمْ اِمَامُھُمْ فَاِذَا انْصَرَفَ قَالَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ اِفْتَحُوا الْبَابَ فَیُفْتَحُ وَوَرَائَ ہُ الدَّجَّالُ وَمَعَہٗ سَبْعُوْنَ اَلْفَ یَھُوْدِیٍّ کُلُّھُمْ ذُوْسَیْفٍ مُحَلَّی وَسَاجٍ فَاِذَا نَظَرَ اِلَیْہِ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَآئِ وَیَنْطَلِقُ ھَارِبًا وَیَقُوْلُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ اِنَّ لِیْ فِیْکَ ضَرْبَۃً لَنْ تَسْبِقَنِیْ بِھَا فَیُدْرِکُہٗ عِنْدَ بَابَ اللُّدِّ الشَّرْقِیِّ فَیَقْتُلُہٗ فَیَھْزَمُ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ۔۔۔ وَتَمْلَأُ الْاَرْضُ مِنَ السِّلْمِ کَمَا یُمْلأُ الإِنَائُ مِنَ الْمَآئِ وَتَکُوْنُ الْکَلِمَۃُ وَاحِدَۃً فَلاَیُعْبَدُ اِلاَّ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ (ابن ماجہ )
’’ابوامامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجّال کا ذکر کرتے ہوئے) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکا ہوگا عیسیٰؑ ابنِ مریم ان پر اتر آئیں گے۔ امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰؑ آگے بڑھیں، مگر عیسیٰؑ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے، چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰؑ کہیں گے کہ دروازہ کھولو، چنانچہ وہ کھولاجائے گا۔باہر دجّال ستّر ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جونہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھلنے لگے گا جیسے کہ نمک پانی میں گھلتاہے اور وہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰؑ کہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے توبچ کرنہ جاسکے گا۔ پھر وہ اسے لُدّ کے مشرقی دروازے پر جالیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا۔۔۔اور زمین امن وسلامتی سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجائے۔ سب دنیا کا کلمہ ایک ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَافِعٍ، اَبِیْ رَافِعٍ عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ الشَّیْبَانِیَّ، یَحْيَ ابْنَ اَبِیْ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَکَانَ اَکْثَرُ خُطْبَتِہٖ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ عَنِ الدَّجَّالِ (فی حدیث طویل فی ذکر الدجال)۔
فَقَالَتْ اُمُّ شَرِیْکٍ بِنْتُ اَبِی الْعَسْکَرِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَیْنَ الْعَرَبُ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ھُمْ یَوْمَئِذٍ قَلِیْلٌ وَجُلُّھُمْ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَاِمَامُھُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ۔ فَبَیْنَمَا اِمَامُھُمْ قَدْتَقَدَّمَ یُصَلِّیْ بِھِمُ الصُّبْحَ، اِذْ نَزَلَ عَلَیْھِمْ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذٰلِکَ الْاِمَامُ یَنْکُصُ، یَمْشِی الْقَھْقَرٰی لِیَتَقَدَّمَ عِیْسٰی یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَیَضَعُ عِیْسٰی یَدَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ ثُمَّ یَقُوْلُ لَہٗ:تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَاِنَّھَا لَکَ اُقِیْمَتْ فَیُصَلِّیْ بِھِمْ اِمَامُھُمْ فَاِذَا انْصَرَفَ، قَالَ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ اِفْتَحُوا الْبَابَ، فَیُفْتَحُ، وَوَرَائَ ہُ الدَّجَّالُ مَعَہٗ سَبْعُوْنَ اَلْفَ یَھُوْدِیٍّ کُلُّھُمْ ذُوْسَیْفٍ مُحَلَّی وَسَاجٍ۔ فَاِذَا نَظَرَ اِلَیْہِ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَآئِ وَیَنْطَلِقُ ھَارِبًا۔ وَیَقُوْلُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ :اِنَّ لِیْ فِیْکَ ضَرْبَۃً لَنْ تَسْبِقَنِیْ بِھَا فَیُدْرِکُہٗ عِنْدَ بَابَ اللُّدِّ الشَّرْقِیِّ فَیَقْتُلُہٗ فَیَھْزَمُ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ۔۔۔وَتَمْلأُ ُالْاَرْضُ مِنَ السِّلْمِ کَمَا یُمْلأُ الإِنَائُ مِنَ الْمَآئِ وَتَکُوْنُ الْکَلِمَۃُ وَاحِدَۃً فَلاَیُعْبَدُ اِلاَّ اللّٰہُ الخ۔(۱۹)
۱۲۲۔عَنْ عُثْمَان بْنُ اَبِی الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ۔۔۔وَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ صَلوٰۃِ الْفَجْرِ فَیَقُوْلُ لَہٗ اَمِیْرُھُمْ رُوْحَ اللّٰہِ تَقَدَّمْ، صَلِّ، فَیَقُوْلُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اُمَرَائُ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ فَیُقَدِّمُ اَمِیْرُھُمْ فَیُصَلِّیْ فَاِذَا قَضٰی صَلوٰتَہٗ اَخَذَ عِیْسٰی حَرْبَتَہٗ فَیَذْھَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ فَاِذَا رَاٰہُ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاصُ فَیَضَعُ حَرْبَتَہٗ بَیْنَ تَنْدُوَتَہٖ فَیَقْتُلُہٗ وَیَنْھَزِمُ اَصْحَابُہٗ فَلَیْسَ یَوْمَئِذٍ شَـْیئٌ یُوَارِیْ مِنْھُمْ اَحَدًا حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَ لَتَقُوْلُ یَا مُؤْمِنُ ھٰذَا کَافِرٌ وَیَقُوْلُ الْحَجَرُ یَامُؤْمنُ ھٰذَا کَافِرٌ ۔ (مسند احمد، طبرانی، حاکم)
’’عثمان بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا۔۔۔اور عیسیٰ ابن مریم ؑ فجر کی نماز کے وقت اتر آئیں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ اے روح اللہ! آپ نماز پڑھایئے۔وہ جواب دیں گے کہ اس اُمّت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا پھر نماز سے فارغ ہوکر عیسیٰؑ اپنا حربہ لے کر دجّال کی طرف چلیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتاہے۔ عیسی علیہ السلام اپنے حربے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھاکر بھاگیں گے مگر کہیں انہیں چھپنے کی جگہ نہ ملے گی، حتّی کہ درخت پکاریں گے اے مومن! یہ کافر یہاں موجود ہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن! یہ کافر یہاں موجود ہے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ،عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ قَالَ:اَتَیْنَا عُثْمَانَ بْنَ اَبِی الْعَاصِ فِی یَوْمِ جُمُعَۃَ لِنُعْرِضَ عَلَیْہِ مُصْحَفًا لَّنَا عَلٰی مُصْحَفِہٖ۔۔۔ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : وَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ صَلوٰۃِ الْفَجْرِ، فَیَقُوْلُ لَہٗ اَمِیْرُھُمْ رُوْحُ اللّٰہِ تَقَدَّمْ، صَلِّ، فَیَقُوْلُ:ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اُمَرَائٌ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔ فَیَتَقَدَّمُ اَمِیْرُھُمْ فَیُصَلِّیْ فَاِذَا قَضٰی صَلاَتَہٗ اَخَذَ عِیْسٰی حَرْبَتَہٗ فَیَذْھَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ فَاِذَا رَاٰہُ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاصُ فَیَضَعُ حَرْبَتَہٗ بَیْنَ تَنْدُوَتَہٖ فَیَقْتُلُہٗ وَیَنْھَزِمُ اَصْحَابُہٗ فَلَیْسَ یَوْمَئِذٍ شَـْیئٌ یُوَارِیْ مِنْھُمْ اَحَدًا حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَ لَتَقُوْلُ: یَامُؤْمِنُ ھٰذَا کَافِرٌ، وَیَقُوْلُ الْحَجَرُ:یَامُؤْمنُ ھٰذَا کَافِرٌ ۔(۲۰)
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاَسْنَادِ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ بِذِکْرِ اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ یُخْرِجَاہُ۔
مستدرک کے الفاظ یہ ہیں:
(۲)فَلَیْسَ شَیْئٌ یَوْمَئِذٍ یَحْبِسُ مِنْھُمْ اَحَدًا حَتّٰی اَنَّ الْحَجَرَ یَقُوْلُ: یَامُؤْمِنُ ھٰذَا کَافِرٌ فَاقْتُلْہُ۔(۲۱)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ نَامُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثَنَا عُبَیْدُاللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لَتُقَاتِلَنَّ الْیَھُوْدُ فَلْتَقْتُلُنَّھُمْ حَتّٰی یَقُوْلَ الْحَجَرُ یَا مُسْلِمُ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ۔
(۴) حَدَّثَنَااَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، نَا اَبُوْاُسَامَۃَ، اَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا یَقُوْلُ: اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:تَقْتَتِلُوْنَ اَنْتُمْ وَیَھُوْدُ حَتّٰی یَقُوْلَ الْحَجَرُ یَامُسْلِمُ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ وَرَائِیْ تَعَالَ فَاقْتُلْہُ۔
(۵) حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، اَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، حَدَّثَنِیْ سَالِمٌ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْن عُمَرَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:تُقَاتِلُکُمُ الْیَھُوْدُ فَتُسَلِّطُوْنَ عَلَیْھِمْ حَتّٰی یَقُوْلَ الْحَجَرُ: یَا مُسْلِمُ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ وَرَائِیْ فَاقْتُلْہُ۔(۲۲)
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، نَا یَعْقُوْبُ یعنی ابْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ سُھَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَھُوْدَ فَیَقْتُلُھُمُ الْمُسْلِمُوْنَ حَتّٰی یَخْتَبِیئَ الْیَھُوْدُ مِنْ وَّرَائِ الْحَجَرِ اَوِالشَّجَرِ فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ وَالشَّجَرُ: یَا مُسْلِمُ یَاعَبْدَاللّٰہِ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ خَلْفِیْ فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ اِلاَّ الْغَرْقَدُ فَاِنَّہٗ مِنْ شَجَرِ الْیَھُوْدِ۔(۲۳)
۱۲۳۔ عَنْ سَمْرُۃَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : (فی حدیث طویل) فَیُصْبِحُ فِیْھِمْ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ فَیَھْزِمُہُ اللّٰہُ وَجُنُوْدَہٗ حَتّٰی اَنَّ اَجْزَمَ الْحَائِطِ وَاَصْلَ الشَّجَرِ لَیُنَادِیْ یَامُؤْمِنُ ھٰذَاکَافِرٌ یَسْتَتِرُ بِیْ فَتَعَالَ اُقْتُلْہُ۔ (مسند احمد، حاکم)
’’سمرہ بن جُندُب (ایک طویل حدیث میں) نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں: پھر صبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آجائیں گے اور اللہ تعالیٰ دجّال اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن!یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے آ اور اسے قتل کر۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَااَبُوْکَامِلٍ، ثَنَازُھَیْرٌ، ثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ قَیْسٍ، ثَنَا ثَعْلَبَۃُ بْنُ عَبَّادِ نِالْعَبَدِیُّ مِنْ اَھْلِ الْبَصَرَۃِ قَالَ:شَھِدْتُّ یَوْمًا خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَکَرَفِیْ خُطْبَتِہٖ حَدِیْثًا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔۔۔ثُمَّ یُھْلِکُہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَجُنُوْدَہٗ حَتّٰی اَنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ اَوْقَالَ اَصْلَ الْحَائِطِ۔۔۔وَاَصْلَ الشَّجَرَۃِ لَیُنَادِیْ اَوْقَالَ یَقُوْلُ یَامُؤْمِنُ اَوْقَالَ یَامُسْلِمُ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ اَوْقَالَ ھٰذَا کَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْہُ الخ۔(۲۴)
مستدرک میں ہے:
(۲) فیقتل الدجال ویھزم اصحابہ حتّٰی ان الشجرۃ والحجر والمدر یقول یامومن ھٰذا یھودی عندی فاقتلہ۔(۲۵)
۱۲۴۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لاَتَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ عَلٰی مَنْ نَأوَاھُمْ حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَیَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔
(مسند احمد)
’’عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایساموجود رہے گا جو حق پر قائم ہو اور مخالفین پر بھاری ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فیصلہ آجائے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوجائیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ،حَدَّثَنِیْ اَبِیْ،ثَنَا بَھْزٌ، ثَنَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ،اَنَا قَتَادَۃُ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لاَتَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ عَلٰی مَنْ نَأوَاھُمْ حَتّٰی یَأْتِیَ اَمْرُاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔(۲۶)
۱۲۵۔عَنْ عَائِشَۃؓ (فِی قِصَّۃِ الدَّجَّالِ) فَیَنْزِلُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَقْتُلُہٗ ثُمَّ یَمْکُثُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً اِمَامًا عَادِلاً وَحَکَمًا مُقْسِطًا۔ (مسنداحمد)
’’حضرت عائشہؓ (دجّال کے قصے میں) روایت کرتی ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امامِ عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ، قَالَ: ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ الْحَضْرَمِیُّ بْنُ لاَحِقٍ اِنَّ ذَکَوَانَ اَبَا صَالِحٍ اَخْبَرَہٗ اَنَّ عَائِشَۃَ اَخْبَرَتْہُ (فِی قصۃ الدجال) فَیَنْزِلُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَقْتُلُہٗ ثُمَّ یَمْکُثُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً اِمَامًا عَادِلاً وَحَکَمًا مُقْسِطًا۔(۲۷)
۱۲۶۔ فَیَنْزِلُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَیَقْتُلُہُ اللّٰہُ تَعَالٰی عِنْدَ عَقَبَۃِ اَفِیْقٍ۔ (مسند احمد)
’’رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سفینہ (دجال کے قصہ میں) روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ دجال کو افیق (اجین جسے آج کل افیق کہتے ہیں۔ شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ ریاست شام کا آخری شہرہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طبریہ نامی جھیل ہے جس میں سے دریائے اُرْدُن نکلتاہے اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستہ ہے جو تقریباً ڈیڑھ دوہزار فیٹ تک گہرائی میں اتر کر اس مقام پر پہنچتاہے جہاں سے دریائے اُرْدن طبریہ میں سے نکلتاہے اس پہاڑی راستے کو عقبۂ افیق (افیق کی گھاٹی) کہتے ہیں۔ الاحزاب ص :۱۶۲۔)کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِی،ثَنَااَبُوالنَّضْرِ،ثَنَاحَشْرَجٌ، حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ ابْنُ جَمْھَانَ، عَنْ سَفِیْنَۃَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ قَالَ۔۔۔ثُمَّ یَسِیْرُ حَتّٰی یَاْتِیَ الشَّامَ فَیُھْلِکَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَۃِ اَفِیْقٍ۔(۲۸)
۱۲۷۔عَنْ حُذَیْفَۃَ (فِی ذکر الدجّال) فَلَمَّا قَامُوْا یُصَلُّوْنَ نَزَلَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ اَمَامَھُمْ فَصَلّٰی بِھِمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ھٰکَذَا افْرُجُوْا بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَدُوِّ اللّٰہِ۔۔۔وَسَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَقْتُلُوْنَھُمْ حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ لَیُنَادِیْ یَا عَبْدَاللّٰہِ یَا عَبْدَالرَّحْمٰنِ یَامُسْلِمُ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ فَاقْتُلْہٗ فَیُفْنِیْھِمُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَیَظْھَرُ الْمُسْلِمُوْنَ فَیَکْسِرُوْنَ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُوْنَ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُوْنَ الْجِزْیَۃَ۔ (مستدرک حاکم)
’’حضرت حذیفہ بن یمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں: پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان کی آنکھوں کے سامنے عیسی ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اس دشمنِ خدا کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔۔۔اور اللہ دجّال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا اور مسلمان انہیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے۔ اے عبداللہ! اے عبدالرحمان! اے مسلمان! یہ رہا ایک یہودی، مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کردے گا اور مسلمان غالب ہوں گے، اور صلیب توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ ساقط کردیں گے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُوْبَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ بَابَوَیْہِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْھَرِیُّ، ثَنَا سَعِیْدُ ابْنُ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ، ثَنَا خَلْفُ بْنُ خَلِیْفَۃَ الْاَشْجَعِیُّ، ثَنَا اَبُوْمَالِکِ نِالْاَشْجَعِیُّ، عَنْ اَبِیْ حَازِمِ الْاَشْجَعِیِّ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ عِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ (فِی ذکر الدجال) فَلَمَّا قَامُوْا یُصَلُّوْنَ نَزَلَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ اَمَامَھُمْ فَصَلّٰی بِھِمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ھٰکَذَا افْرُجُوْا بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَدُوِّاللّٰہِ وَسَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَقْتُلُوْنَھُمْ حَتّٰی اَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ لَیُنَادِیْ یَاعَبْدَ اللّٰہِ، یَاعَبْدَالرَّحْمٰنِ یَامُسْلِمُ ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ فَاقْتُلْہُ فَیُفْنِیْھِمُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَیَظْھَرُ الْمُسْلِمُوْنَ فَیَکْسِرُوْنَ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُوْنَ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُوْنَ الْجِزْیَۃَ۔(۲۹)
تشریح : جوشخص بھی ان احادیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی ’’مسیح موعود‘‘ یا ’’مثیلِ مسیح‘‘ یا ’’بروز مسیح‘‘ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس امر کی کوئی گنجایش ہے کہ کوئی شخص اس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نطفے سے پیدا ہوکر یہ دعویٰ کردے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں جس کے آنے کی سیّدنا محمد ﷺنے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں ان عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبردے رہی ہیں جو اب سے دوہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لاحاصل ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں یا زندہ کہیں موجود ہیں۔ بالفرض وہ وفات پاہی چکے ہوں تو اللہ انہیں زندہ کرکے اٹھالانے پر قادر ہے(جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں انہیں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۲۵۹ ملاحظہ فرمالینی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتاہے کہ اس نے اپنے ایک بندے کو سوبرس تک مردہ رکھا اور پھر زندہ کردیا۔ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ۔)۔ وگرنہ یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو اپنی کائنات میں کہیں ہزارہا سال تک زندہ رکھے اور جب چاہے دنیا میں واپس لے آئے۔ بہرحال اگر کوئی شخص حدیث کو مانتاہوتو اُسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابنِ مریم ہوںگے۔ اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتاہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کاقائل ہی نہیں ہوسکتا، کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ تو لے لیا جائے احادیث سے اور پھر انہی احادیث کی اِس تصریح کو نظر انداز کردیاجائے کہ وہ آنے والے عیسیٰؑ ابن مریم ہوں گے نہ کہ کوئی مثیلِ مسیح۔
دوسری بات جو اتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہوکر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا ۔ نہ اُن پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے، نہ وہ شریعتِ محمدیؐ میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے، نہ اُن کو تجدید دین کے لیے دنیا میں لایا جائے گا، نہ وہ آکر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے، اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ امت بنائیں گے(علمائے اسلام نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیاہے۔ علامہ تفتازانی(۷۲۲ھ سے۷۹۲ھ) شرح عقائد نسفی میں لکھتے ہیں:
ثبت انہ اٰخر الانبیاء۔۔۔فان قیل قد روی فی الحدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام بعدہ قلنا نعم لکنہ یتابع محمداً علیہ السلام لأن شریعتہ قد نسخت فلایکون الیہ وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفۃ رسول اللہ علیہ السلام۔ (طبع مصر، ص:۱۳۵)
’’یہ ثابت ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔۔۔ اگر کہاجائے کہ آپؐ کے بعد عیسی ؑ کے نزول کا ذکر احادیث میں آیاہے، تو ہم کہیں گے کہ ہاں، آیا ہے، مگر وہ محمد ﷺکے تابع ہوں گے، کیونکہ ان کی شریعت تو منسوخ ہوچکی ہے اس لیے نہ اُن کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے بلکہ وہ رسول اللہ کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔ ‘‘
اور یہی بات علاّمہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں:
ثُمَّ انہ علیہ السلام حین ینزل باق علی نبوتہ السابقۃ لم یعزل عنھا بحال لکنہ لایتعبد بھا لنسخھا فی حقہٖ وحقِ غیرہ وتکلیفہ باحکام ھٰذہ الشریعۃ اصلاً وفرعاً فلایکون الیہ علیہ السلام وحی ولانصب احکام بل یکون خلیفۃ لرسول اللہ ﷺ وحاکما من حکام ملتہ بین امتہ ۔ (ج۲۲، ص:۳۲)
’’پھر عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے۔ بہر حال اس سے معزول تو نہ ہوجائیں گے، مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے کیوں کہ وہ ان کے اور دوسرے سب لوگوں کے حق میں منسوخ ہوچکی ہے، اور اب وہ اصول اور فروع میں اس شریعت کی پیروی پر مکلف ہوں گے، لہٰذا ان پر نہ اب وحی آئے گی اور نہ انہیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نائب اور آپؐ کی امت میں ملتِ محمد یہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔‘‘
امام رازی اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
انتھاء الانبیاء الی مبعث محمد ﷺ فعند مبعثہ انتھت تلک المدۃ فلایبعد ان یصیر (ای عیسی ابن مریم) بعد نزولہ تبعاً لمُحَمّد۔ (تفسیر کبیر۔ج۳، ص:۳۴۳)
’’انبیاء کا دَور محمد ﷺ کی بعثت تک تھا۔ جب آپؐ مبعوث ہوگئے تو انبیاء کی آمد کا زمانہ ختم ہوگیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہونے کے بعد محمد ﷺ کے تابع ہوں گے۔ ‘‘) وہ صرف ایک کارِ خاص کے لیے بھیجے جائیں گے، اور وہ یہ ہوگاکہ دجّال کے فتنے کا استیصال کردیں۔ اس غرض کے لیے وہ ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان ان کا نزول ہوگا انہیں اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجائیں گے جو بھی مسلمانوں کا امام اس وقت ہوگا اسی کے پیچھے نماز پڑھیں گے(اگرچہ دوروایتوں (نمبر ۹۷ اور نمبر۱۱۳) میں بیان کیا گیاہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہونے کے بعد پہلی نماز خود پڑھائیں گے لیکن بیشتر اور قوی تر روایات یہی کہتی ہیں کہ وہ نماز میں امامت کرانے سے انکار کریں گے اور جو اس وقت مسلمانوں کا امام ہوگا اسی کو آگے بڑھائیں گے۔ اسی بات کو محدثین اور مفسرین نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ )۔ اور جو بھی اس وقت مسلمانو ںکا امیر ہوگا اسی کو آگے رکھیں گے، تاکہ اس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجایش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہوتو نہ اس کا کوئی امام دوسرا شخص ہوسکتا ہے اور نہ امیر،پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آکر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اس امر کا اعلان ہوگا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں، اور اس بنا پر ان کی آمد سے مہرنبوّت کے ٹوٹنے کا قطعًا کوئی سوال پیدا نہیں ہوگا۔
ان کا آنا بلاشبہ اسی نوعیت کا ہوگا جیسے کہ ایک صدرِ ریاست کے دَور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے ـــــایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتاہے کہ ایک صدر کے دَور میں کسی سابق صدر کے محض آجانے سے آئین نہیں ٹوٹتا۔ البتہ دوصورتوں میں آئین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے ـــــ ایک یہ کہ سابق صدر آکر پھر سے فرائض صدارت سنبھالنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص اس کی سابق صدارت کا بھی انکار کردے، کیونکہ یہ ان تمام کاموں کے جوازکو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا جو اس کے دور صدارت میں انجام پائے تھے۔ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی نہ ہو تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آئینی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا بھی ہے کہ ان کے محض آجانے سے ختمِ نبوت نہیں ٹوٹتی۔ البتہ اگر وہ آکر پھر نبوّت کا منصب سنبھال لیں اور فرائضِ نبوت انجام دینے شروع کردیں، یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کا بھی انکار کردے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے آئینِ نبوّت کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ دونوں صورتوں کا سدِ باب کردیاہے۔ ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبوّت نہیںہے۔ اور دوسری طرف وہ خبر دیتی ہیں کہ عیسی ابن مریمؑ دوبارہ زندہ ہوںگے۔ اس سے صاف ظاہرہوجاتاہے کہ ان کی یہ آمد ثانی منصبِ نبوّت کے فرائض انجام دینے کے لیے نہ ہوگی۔
اسی طرح ان کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر وایمان کا بھی کوئی نیاسوال پیدا نہ ہوگا۔ اُن کی سابقہ نبوّت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہوجائے۔ محمد ﷺ خود ان کی اس نبوّت پر ایمان رکھتے تھے اور آپؐ کی ساری امت ابتدا سے ان کی مومن ہے۔ یہی حیثیت اس وقت بھی ہوگی۔ مسلمان کسی تازہ نبوّت پر ایمان نہ لائیں گے بلکہ عیسیٰ ابن مریمؑ کی سابقہ نبوّت ہی پر ایمان رکھیں گے جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختمِ نبوت کے خلاف ہے نہ اُس وقت ہوگی۔
آخری بات جو ان احادیث سے، اوربہ کثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دجّال جس کے فتنۂ عظیم کا استیصال کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجا جائے گا، یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے آپ کو ’’مسیح‘‘ کی حیثیت سے پیش کرے گا۔ اس معاملے کی حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے مذہبی تصوّرات سے واقف نہ ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل پے درپے تنزّل کی حالت میں مبتلاہوتے چلے گئے،یہاں تک کہ آخر کار بابِل اور اسیریا کی سلطنتوںنے ان کو غلام بناکر زمین میں تتّر بتّر کردیا تو انبیائے بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف سے ایک ’’مسیح‘‘ آنے والا ہے جو ان کو اس ذلّت سے نجات دلائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کی بنا پر یہودی ایک مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہو، لڑکر ملک فتح کرے، بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لاکر فلسطین میں جمع کرے، اور ان کی ایک زبردست سلطنت قائم کردے، لیکن ان کی ان توقعات کے خلاف جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام خدا کی طرف سے مسیح ہوکر آئے تو کوئی لشکر ساتھ نہ لائے تو یہودیوں نے ان کی مسیحیت تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور انہیں ہلاک کرنے کے درپے ہوگئے۔ اس وقت سے آج تک دنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود (PROMISED MESSIAH)کے منتظر ہیں جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں۔ اُن کا لٹریچر اس آنے والے دَورکے سہانے خوابوں سے بھرا پڑا ہے۔ تلمود اور ربّیوں کے ادبیات میں اُس کا جو نقشہ کھینچاگیا ہے اُس کی خیالی لذّت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ اُمید لیے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی وسیاسی لیڈر ہوگا جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ (جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لاکر اس ملک میں پھرسے جمع کردے گا۔
اب اگر کوئی شخص مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبی ﷺ کی پیشین گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو وہ فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اُس دجّالِ اکبر کے ظہور کے لیے اسٹیج بالکل تیار ہوچکاہے جو حضور کی دی ہوئی خبروں کے مطابق یہودیوں کا ’’مسیح موعود‘‘ بن کر اٹھے گا۔ فلسطین کے بڑے حصے سے مسلمان بے دخل کیے جاچکے ہیں اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کردی گئی ہے۔ اس ریاست میں دنیا بھر کے یہودی کھچ کھچ کر چلے آرہے ہیں ۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس کو ایک زبردست جنگی طاقت بنادیاہے۔ یہودی سرمائے کی بے پایاں امداد سے یہودی سائنسدان اور ماہرینِ فنون اس کو روز افزوں ترقی دیتے چلے جارہے ہیں اور اُس کی یہ طاقت گردو پیش کی مسلمان قوموں کے لیے ایک خطرۂ عظیم بن گئی ہے۔ اس ریاست کے لیڈروںنے اپنی اس تمنّا کو کچھ چھپاکر نہیں رکھاہے کہ وہ اپنی ’’میراث کا ملک‘‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل کی یہودی سلطنت کا جونقشہہ (مذکورہ یہودی ریاست کا نقشہ تفہیم القرآن ج ۴،ضمیمہ الاحزاب:وہ یہودی ۔۔۔میں ملاحظہ فرمائیں)وہ ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کررہے ہیں اس سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ پورا شام، پورالبنان، پورا اُردُن اور تقریباً سارا عراق لینے کے علاوہ ٹرکی سے اسکندروں، مصر سے سینا اور ڈیلٹا کا علاقہ اور سعودی عرب سے بالائی حجاز ونجد کا علاقہ لینا چاہتے ہیں۔ جس میں مدینہ منوّرہ بھی شامل ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتاہے کہ آئندہ کسی عالمگیر جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھاکر وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ٹھیک اس موقع پر وہ دجالِ اکبر ان کا مسیح موعود بن کر اٹھے گا جس کے ظہور کی خبر دینے ہی پر نبی ﷺنے اکتفانہیں فرمایاہے بلکہ یہ بھی بتادیاہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں پر مصائب کے ایسے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ ایک دن ایک سال کے برابر محسوس ہوگا۔ اسی بنا پر آپؐ فتنۂ مسیح دجّال سے خودبھی خدا سے پناہ مانگتے تھے اور اپنی امت کو بھی پناہ مانگنے کی تلقین کرتے تھے۔
اس مسیح دجّال کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کسی مثیلِ مسیح کو نہیں بلکہ اُس اصلی مسیح کو نازل فرمائے گا جسے آج سے دوہزار سال پہلے یہودیوں نے ماننے سے انکار کردیا تھا اور جسے وہ اپنی دانست میں صلیب پر چڑھا کر ٹھکانے لگاچکے تھے۔ اس حقیقی مسیح کے نزول کی جگہ ہندوستان یا افریقہ یا امریکہ میں نہیں بلکہ دمشق میں ہوگی کیونکہ یہی مقام اس وقت عین محاذِ جنگ پر ہوگا(تفہیم القرآن جلد چہارم ص۱۶۸ ملاحظہ فرمائیں)۔اسرائیل کی سرحد سے دمشق بہ مشکل۰ ۵یا۶۰ میل کے فاصلے پر ہے۔ جو احادیث ہم نقل کرآئے ہیں ان کا مضمون اگر آپ کو یاد ہے تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہ ہوگی کہ مسیح دجّال۰ ۷ ہزار یہودیوں کا لشکرلے کر شام میں گھسے گا اور دمشق کے سامنے جاپہنچے گا۔ ٹھیک اس نازک موقع پر دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب حضرت عیسیٰ ابن مریم صبح دم نازل ہوں گے اور نمازِ فجر کے بعد مسلمانوں کو اس کے مقابلے پر لے کر نکلیں گے۔ اُن کے حملے سے دجال پسپا ہوکر افیق کی گھاٹی سے (ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۱۱۲) اسرائیل کی طرف پلٹے گا۔ اور وہ اس کا تعاقب کریں گے۔ آخرکار لُدّ کے ہوائی اڈے پر پہنچ کر وہ ان کے ہاتھ سے ماراجائے گا۔ (حدیث نمبر۱۰۲۔۱۰۶۔۱۰۷)اس کے بعد یہودی چن چن کر قتل کیے جائیں گے اور ملتِ یہود کا خاتمہ ہوجائے گا(حدیث نمبر ۱۰۱۔۱۰۷۔۱۱۳)عیسائیت بھی حضرت عیسیٰؑ کی طرف سے اظہارِ حقیقت ہوجانے کے بعد ختم ہوجائے گی(حدیث نمبر۹۳۔۹۶۔۹۸) اور تمام ملّتیں ایک ہی ملتِ مسلمہ میں ضم ہوجائیں گی (حدیث نمبر۹۸۔۱۰۷)۔
یہ ہے وہ حقیقت جو کسی اشتباہ کے بغیر احادیث میں صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد اس امر میں کیا شک باقی رہ جاتاہے کہ’’مسیح موعود‘‘ کے نام سے جو کاروبار ہمارے ملک (مراد پاکستان) میںپھیلایا گیا ہے وہ ایک جعل سازی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اس جعل سازی کا سب سے زیادہ مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب اپنے آپ کو ان پیشین گوئیوں کا مصداق قرار دیتے ہیں انہوں نے خود عیسیٰ ابن مریم بننے کے لیے یہ دلچسپ تاویل فرمائی ہے:
’’اس نے ( اللہ تعالیٰ نے) براہین احمدیہ کے تیسرے حصّے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے، دوبرس تک صفت مریمت میں میں نے پرورش پائی۔۔۔پھر ۔۔۔مریمؑ کی طرح عیسیٰؑ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھیرایا گیا، اور آخر کئی مہینے بعد، جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اُس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰؑ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھیرا ۔‘‘
(کشتی نوح ، ص:۸۷تا۸۹)
یعنی پہلے مریم بنے، پھر خود ہی حاملہ ہوئے، پھر اپنے پیٹ سے آپ عیسیٰ ابن مریم بن کر تولّد ہوگئے۔ اس کے بعد یہ مشکل پیش آئی کہ عیسیٰ ابنِ مریم کا نزول تو احادیث کی رُو سے دمشق میں ہوناتھا جو کئی ہزار برس سے شام کا ایک مشہور ومعروف مقام ہے اور آج بھی دنیا کے نقشے پر اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک دوسری پر لُطف تاویل سے یوں رفع کی گئی۔
’’واضح ہوکہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے اوپر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیاہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جویزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔۔۔یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مشابہت اور مناسبت رکھتاہے‘‘۔
(حاشیۂ ازالہ ٔ اوہام ، ص: ۶۳تا۷۳)
پھر ایک اورالجھن یہ باقی رہ گئی کہ احادیث کی رُو سے ابنِ مریم کو ایک سفید منارہ کے پاس اترناتھا۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مسیح صاحب نے آکر اپنا منارہ خود بنوالیا۔ اب اسے کون دیکھتاہے کہ احادیث کی رُو سے منارہ ابن مریمؑ کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہیے تھا، اور یہاں وہ مسیح موعود صاحب کی تشریف آوری کے بعد تعمیر کیاگیا۔
آخری اور زبردست الجھن یہ تھی کہ احادیث کی رُو سے تو عیسیٰ ابنِ مریمؑ کو لُدّ کے دروازے پر دجّال کو قتل کرناتھا۔ اس مشکل کو رفع کرنے کی فکر میں پہلے طرح طرح کی تاویلیں کی گئیں۔ کبھی تسلیم کیا گیا کہ لُدّ بیت المَقْدِس کے دیہات میں سے ایک گاؤں کا نام ہے (ازالۂ اوہام، شائع کردہ انجمن احمد یہ لاہور، بتقطیع خورد ص۔۲۲۰) پھر کہاگیا کہ’’ لُدّ ‘‘ اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑا کرنے والے ہوں۔۔۔جب دجّال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعودظہور کرے گا اوراس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کردے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ،ص ۷۳۰) لیکن جب اس سے بھی بات نہ بنی تو صاف کہہ دیا گیا کہ لُدّ سے مراد لدھیانہ ہے اور اس کے دروازے پر دجّال کے قتل سے مراد یہ ہے کہ اشرار کی مخالفت کے باوجود وہیں سب سے پہلے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ (الہدیٰ، ص:۹۱)
ان تاویلات کو جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹے بہروپ(FALSE IMPERSONATION)کا صریح ارتکاب ہے جو علی الاعلان کیا گیاہے۔
(تفہیم القرآن ج۴ ،الاحزاب، ضمیمہ: وہ یہودی۔۔۔)
ماخذ
(۱) بخاری ج۱ کتاب الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم علیہ السلام۔٭مسلم ج۱کتاب الایمان باب نزول عیسی بن مریم علیہ السلام۔٭مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ علیہ السلام۔
(۲) ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی نزول عیسی بن مریم۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم۔ ٭مُسندِ احمد ج۲ص۲۴۰ روایت ابی ھریرۃ۔
(۳) بخاری ج۱کتاب المظالم باب کسر الصلیب وقتل الخنزیر۔٭ ابنِ ماجہ ابواب الفتن باب فتنۃ الدجال۔ ٭مُسندِ احمد ج۲ص۲۴۰۔۲۷۲ روایت ابی ھریرۃ۔
(۴) بخاری ج۱ کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام۔مسلم، ج۱ کتاب الایمان باب نزول عیسی بن مریمؑ ٭ مسند احمد ج۲ص۳۹۴ ج۳ص۱۰۲، ۱۳۶، ۱۵۴،۲۴۵۔
(۵) مُسندِ احمد ج۲ص۲۹۰روایت ابی ھریرۃ۔
(۶) مسلم ج۱ کتاب الحج باب جواز التمتع فی الحج والقِران۔٭مسندِ احمدج۲ص۲۴۰ روایت ابی ھریرۃ۔
(۷) مسلم ج۲ کتاب الفتن واشراط الساعۃ۔٭المُستدرک للحاکم ج۴۔ کتاب الفتن والملاحم ذکر قتل الدجال بید عیسی علیہ السلام۔ ٭مشکوٰۃ کتاب الفتن واشراط الساعۃ۔ فصل فی امارات الساعۃ۔
(۸) ابوداؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال٭مسند احمد ج۲ص۴۰۶ روایت ابی ھریرۃ۔
(۹) مسلم ج۱ کتاب الایمان باب نزول عیسی بن مریم علیہ السلام۔ ٭مسنداحمدج ۳ص۳۸۴ جابر بن عبداللہ۔ ٭مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ علیہ السلام۔
(۱۰) مُسندِاحمد ج۳ص۳۶۸ روایت جابر بن عبداللہ۔٭مشکوٰۃ کتاب الفتن باب قصہ ابن صیاد۔
(۱۱) مسلم ج۲کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر ابنِ صیّاد۔٭
(۱۲) مشکوٰۃ باب قصۃ ابن صیاد۔
(۱۳) مسندِ احمد ج۳ ص۳۶۷،۳۶۸روایت جابر بن عبداللّٰہ۔
(۱۴) مسلم ج۲ کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر الدجال۔٭ابوداؤد، کتاب الملاحم باب خروج الدجال۔ ٭ابن ماجہ کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال٭ المستدرک للحاکم ۴کتاب الفتن والملاحم۔
(۱۵) مسلم ج۲کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکرالدجال۔ مطبوعہ اصح المطابع کراچی۔٭المستدرک للحاکم ج۴کتاب الفتن والملاحم ذکر یوم الخلاص۔
(۱۶) مسلم ج۲کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب فی ظھور عشر ایات۔ ٭ابوداوٗد کتاب الملاحم باب امارات الساعۃ۔ ٭ ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی الخسف۔ ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ النَّاسَ اَوْتَحْشُرُ النَّاسَ فَتَبِیْتَ مَعَھُمْ حَیْثُ بَاتُوْا وَتَقِیْلُ مَعَھُمْ حَیْثُ قَالُوْا۔٭ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب الآیات۔ ٭المستدرک للحاکم ۴ کتاب الفتن والملاحم لاتقوم الساعۃ حتیّٰ تکون عشر آیات۔٭المعجم الکبیر الطبرانی ج۴ص۱۷۱تا۱۷۳۔حُذیفۃ بن اَسِید۔
(۱۷) نسائی ج۳ کتاب الجھاد باب غزوۃ الھند۔٭مسندِ احمدج۵ ص ۲۷۸روایت ثوبان۔
(۱۸) ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی قتل عیسی بن مریم الدجال۔٭ابوداؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال۔ ابوداؤد نے نواس بن سمعان کی روایت بیان کی ہے۔ ٭مسند احمد ج۳ص ۔۴۲۰ روایت مجمع بن جاریہ۔ مُسندِ احمد میں اَوْاِلٰی جَانِبِ لُدّ کے الفاظ بھی ہیں۔٭ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم۔ الخ
(۱۹) ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال وخروج عیسٰی علیہ السلام۔
(۲۰) مسنداحمد ج۴ ص۔۲۱۷روایت عثمان بن ابی العاص۔
(۲۱) المستدرک للحاکم ج۴۔کتاب الفتن والملاحم۔
(۲۲) مسلم ج۲کتاب الفتن واشراط الساعۃ۔٭ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی الدّجّال۔
(۲۳) مسلم ج۲ کتاب الفتن واشراط الساعۃ۔٭ابنِ ماجہ، کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مَرْیَمَ وخروج یاجوج وماجوج۔٭مسنداحمدج۲۔ص۔۴۱۷۔
(۲۴) مسندِاحمد ج۵ص ۱۶مرویاتِ سمرۃ بن جندب۔
(۲۵) المستدرک للحاکم ج۴ ص۵۳۰ کتاب الفتن والملاحم ۔٭المعجم الکبیر للطبرانی ج۷۔۱۹۲،۱۹۳۔
(۲۶) مسندِ احمد ج۵۔ص۴۲۹۔المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الفتن والملاحم۔
(۲۷) مسندِ احمد ج۶۔ص۷۵۔
(۲۸) مسندِ احمد ج۵۔ص۔۲۲۲سفینۃ ابوعبدالرحمن ۔مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری جلد ۶ ص۴۵۰ میں اسے صحیح قرار دیاہے۔
(۲۹) المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الفتن والملاحم۔
فصل ہشتم:کیا صحابہؓ آنحضورؐ کی تجہیز وتکفین چھوڑ کر فکرِ خلافت میں لگے رہے؟
۱۲۸۔یہ قصّہ کہ رسول اللہ ﷺ کا جنازہ بے گورو کفن پڑا تھا اور صحابہ کرامؓ حضورؐ کی تجہیز وتکفین کی فکر چھوڑ کر خلافت کی فکر میں پڑگئے، درحقیقت بالکل ہی بے سروپا داستان ہے۔ اصل واقعات یہ ہیں کہ حضورؐ کی وفات پیر کے روز شام کے قریب ہوئی۔ بخاری ومسلم میں حضورؐکے خادمِ خاص انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ’’آخرِ یوم‘‘ کا لفظ استعمال کیاہے۔ جس سے یہی سمجھا جاسکتاہے کہ یہ سانحۂ عظیم عصر ومغرب کے درمیان پیش آیاتھا۔ فطری بات ہے کہ اس سے پوری جماعت اہلِ ایمان کے ہوش پراگندہ ہوجانے چاہیے تھے، چنانچہ یہی ہوا۔ حضرت عمرؓ کو تو یہی یقین نہ آتاتھا کہ سرورِ عالم ﷺواقعی وفات پاگئے ہیں۔ ابوبکرؓ نے جب تقریر کی تو لوگوں کو پوری طرح یقین ہوا کہ وہ ناگزیر بات جو پیش آنی تھی پیش آچکی ہے۔ اتنے میں رات آگئی۔ یہ ممکن اور مناسب نہ تھا کہ راتوں رات تجہیز وتکفین کرکے حضورؐکو دفن کردیا جاتا۔ کیونکہ جنازے میں شرکت سے محروم رہ جانا اُن ہزاروں مسلمانوں کو ناگوار ہوتا جو مدینۂ طیّبہ اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے تھے۔ لازماً ان کو شکایت ہوتی، کہ آپ لوگوں نے ہمیں آخری دیدار اور نمازِ جنازہ کا موقع بھی نہ دیا۔ اس لیے رات بہر حال گزارنی تھی۔ اس رات صحابہ کے مختلف گروہ اپنی اپنی جگہ جمع ہوکر سوچ رہے تھے کہ اب کیا ہوگا۔ ازواجِ مطہرات حضرت عائشہؓ کے ہاں گریہ وزاری میں مشغول تھیں، جہاں حضورؐ نے وفات پائی تھی۔ حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہ ؓاور دوسرے قرابت دارانِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سیّدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے گھر جمع تھے۔ مہاجرین کی ایک اچھی خاصی تعداد حضرت ابوبکرؓکے پاس غمگین ومتفکّر بیٹھی تھی۔ انصار کے مختلف گروہ اپنے اپنے قبیلوں کی چوپالوں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــسقیفہ کے اصل معنی چوپال ہی کے ہیںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ میں اکٹھے ہورہے تھے۔ اتنے میں کسی نے آکر خبردی کہ بنی ساعدہ کی چوپال میں انصار کا ایک بڑا گروہ جمع ہے۔اور وہاں رسول اللہ ﷺ کی جانشینی کا مسئلہ چھڑگیاہے۔ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور ابوعُبیدہ بن الجراحؓ جو حضورؐ کے بعد مسلمانوں کی جماعت میں ’’بڑے‘‘ (SENIOR)سمجھے اور مانے جاتے تھے، یہ خبر سن کر فکر مند ہوئے، کہ ابھی سردارِ ملّت کی آنکھ بند ہوئی ہے، ساری اُمّت اس وقت بے سرہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے اور جماعت کا نظم از سرِ نو قائم ہونے سے پہلے ہی بدنظمی اپنے قدم جمالے۔ اس لیے یہ تینوں حضرات فوراً برسرِ موقع پہنچ گئے اور راتوں رات انہوں نے حضور ؐکی جانشینی کے مسئلے کو، جوایک فتنہ خیز صورت میں طے ہواچاہتاتھا، اس صحیح شکل میں سلجھالیا، جس کے صحیح ہونے پر تاریخ اپنی مہرِ تصدیق ثبت کرچکی ہے۔ یہ سارا واقعہ اُسی رات کا ہے، جس کی شام کو حضورؐ کی وفات ہوئی تھی۔ رات کوبہر حال حضورؐکی تجہیز وتکفین نہیں کرنی تھی۔ جس کی مصلحت اوپر بیان کی جاچکی ہے۔ اسی رات میں خلافت کا مسئلہ طے کیا گیا۔ صبح سویرے مسجد نبوی میں حضر ت ابوبکرؓ کی خلافت کا اعلان ہوا۔ مہاجرین وانصار سب نے اسے قبول کرکے جماعت کا نظام بحال کردیا اور اس کے بعد بلاتاخیر حضور ﷺ کی تجہیزوتکفین کا کام شروع ہوگیا۔
یہ کہنا بالکل ہی خلافِ واقعہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں لگے رہے اورحضورؐکی تجہیز وتکفین بس آپؐ کے اہلِ بیت نے کی۔یہ تجہیز وتکفین کسی نے بھی پیر اور منگل کی درمیانی شب میں نہ کی تھی۔ اس کا آغاز منگل کی صبح کو اس وقت ہوا ہے جب کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تھی اور یہ کام حضرت عائشہؓ کے حجرے میں ہوا ہے جس کا ایک دروازہ اسی مسجدِ نبوی میں کھلتاتھا، جہاں مدینہ طیّبہ کے سارے صحابہ جمع تھے، جہاں گرد ونواح کے لوگ وفات کی خبر سُن سُن کر چلے آرہے تھے، اور جہاں حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی گئی تھی۔ جن لوگوں کو کبھی مسجدِ نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے، اور جنہوں نے اپنی آنکھوںسے دیکھا ہے کہ حجرۂ عائشہ ؓ (جس میں سرکارؐمدفون ہیں) اور مسجدِ نبوی کا مکانی تعلّق کیا ہے، وہ یہ بات سُن کر ہنس دیں گے کہ صحابہؓ مسجد نبوی میں اپنی خلافت کی فکر میں لگے ہوئے تھے، اور بیچارے اہلِ بیت حجرۂ عائشہؓ میں حضورؐ کی تجہیز وتکفین کررہے تھے۔ غلط بات تصنیف کرنی بھی ہوتو اس کے لیے کم از کم کچھ سلیقہ توچاہیے۔
یہ بات کہ حضورؐکوغسل وکفن صرف اہلِ بیت نے دیا یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے۔ اس خدمت کو انجام دینے والے حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ، فضلؓ بن عباسؓ، قُثم بن عباس،اسامہ بن زید اور شقرانؓ (حضورؐکے آزاد کردہ غلام تھے) اور انہوں نے اس خیال سے حجرے کا دروازہ بند رکھاتھا کہ لوگوںکا ہجوم باہرزیارت کے لیے بے چین کھڑا تھا۔ اگردروازہ کھلا رہنے دیا جاتا تو اندیشہ تھاکہ زیادہ لوگ اندر آجائیں گے اور کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پھر بھی انصارنے جب شور مچایا کہ ہمیں بھی تو اس سعادت میں حصّہ ملنا چاہیے تو اُن میں سے ایک صاحب (اوس بن خولی) کو اندر بُلالیا گیا۔ کفن پہنانے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ حضورؐ کے لیے قبر کہاں تیار کی جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ حدیث پیش کی کہ مَاقُبِضَ نَبِیٌّ اِلاَّ دُفِنَ حَیْثُ یُقْبَضُ’’نبی کا انتقال جہاں ہوتاہے وہیں اس کو دفن کیا جاتاہے‘‘ اور اسی پرفیصلہ ہوا کہ حضرت عائشہؓ ہی کے حجرے میںآپؐ کے لیے قبر تیار کی جائے۔ حضرت ابوطلحہؓ زید بن سہل انصاری نے قبر کھودی۔ پھر لوگوں نے گروہ درگروہ اندر جاکر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی۔ اور رات تک مسلسل یہ سلسلہ چلتا رہا۔ حتّٰی کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو نصف شب کے قریب دفن کرنے کی نوبت آئی۔ معلوم نہیں کہ اس پوری مدّت میں آخر وہ کون سا وقت تھا جب صرف حضورؐکے اہلِ بیت بے یارو مددگار آپؐ کے جسدِ اطہر کو لیے بیٹھے رہے اور صحابہ کرام اپنی خلافت کی فِکر میں مشغول رہے۔ (رسائل ومسائل حصہ سوم ،ص:۴۱۴،۴۱۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ ابْنُ مَالِکٍ اَنَّہٗ سَمِعَ خُطْبَۃَ عُمَرَ الآخِرَۃَ حِیْنَ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَذٰلِکَ الْغَدَ مِنْ یَوْمٍ تُوُفِّیَ النَّبِیُّ ﷺ فَتَشَھَّدَ وَاَبُوْبَکْرٍ صَامِتٌ لاَیَتَکَلَّمُ قَالَ:کُنْتُ اَرْجُوْ اَنْ یَّعِیْشَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی یُدْبِرَنَا یُرِیْدُ بِذٰلِکَ اَنْ یَکُوْنَ اٰخِرَھُمْ، فَاِنْ یَّکُ مُحَمَّدٌ ﷺ قَدْ مَاتَ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ جَعَلَ بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ نُوْرًا تَھْتَدُوْنَ بِہٖ ھُدَی اللّٰہِ مُحَمَّدًا ﷺ وَاَنَّ اَبَابَکْرٍصَاحِبَ رَسْوِل اللّٰہِ ﷺ، وَثَانِیَ اثْنَیْنِ، وَاَنَّہٗ اَوْلَی الْمُسْلِمِیْنَ بِاُمُوْرِکُم، فَقُوْمُوْا فَبَایِعُوْہُ وَکَانَتْ طَآئِفَۃٌ مِنْھُمْ قَدْ بَایَعُوْہُ قَبْلَ ذٰلِکَ فِیْ سَقِیْفَۃِ بَنِیْ سَاعِدَۃَ وَکَانَتْ بَیْعَۃُ الْعَامَّۃِ عَلَی الْمِنْبَرِ۔(۱)
قَالَ الزُّھْرِیُّ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُوْلُ لِاَبِیْ بَکْرٍ یَوْمَئِذٍ:اِصْعَدِالْمِنْبَرَ فَلَمْ یَزَلْ بِہٖ حَتّٰی صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَبَایَعَہُ النَّاسُ عَامَّۃً۔
ترجمہ: حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کا وہ آخری خطبہ جوانہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے دوسرے روز منبر پر بیٹھ کردیا تھا، اپنے کانوں سے سنا۔ انہوں نے حمدو ثنا پڑھی اور کلمۂ شہادت ادا کیا۔ حضرت ابوبکرؓ خاموش بیٹھے تھے کوئی بات نہیں کررہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا میرا خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے آخرتک دنیا میں رونق افروز ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اگروفات پاچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک روشنی پیدا کردی ہے اس کے ذریعہ تم راہِ راست پاسکتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺکو ہادی بناکر بھیجا۔ ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ کے رفیق اور ساتھی ہیں (ثانی اثنین) ہیں۔ تمہارے معاملات کو چلانے کے لیے سب مسلمانوں سے زیادہ انسب اور موزوں ترین آدمی ہیں۔ لہٰذا اٹھو! اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ اس سے پہلے ایک گروہ تو سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کی بیعت کرچکا تھا اوراب یہ منبر پر بیعتِ عام تھی۔ انس بن مالک کہتے ہیں اس روز میں نے سنا حضرت عمرؓ حضرت ابوبکرؓ سے کہہ رہے تھے منبر پر تشریف رکھیں۔ یہ جملہ حضرت عمرؓ دہراتے ہی رہے تاوقتیکہ حضرت ابوبکرؓ منبر پر چڑھ کر بیٹھ نہ گئے۔ پھر لوگوں نے عام بیعت کی۔
(۲) حَدَّثَنَا مَعَلَّی بْنُ اَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُھَیْبٌ عَنْ ھِشَامٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اَبِی بَکْرٍ فَقَالَ فِیْ کَمْ کَفَنْتُمُ النَّبِیَّ ﷺ قَالَتْ: فِیْ ثَلاَثَۃِ اَثْوَابٍ بِیْضٍ سَحُوْلِیَّۃٍ لَیْسَ فِیْھَا قَمِیْصٌ وَلاَعَمَامَۃٌ وَقَالَ لَھَا فِیْ اَیِّ یَوْمٍ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَتْ:یَوْمُ الْاِثْنَیْنِ قَالَ:فَاَیَّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالَتْ:یَوْمُ الْاِثْنَیْنِ قَالَ:اَرْجُوْ فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَ اللَّیْلِ، فَنَظَرَ اِلٰی ثَوْبٍ عَلَیْہِ کَانَ یُمَرَّضُ فِیْہِ بِہٖ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانَ، فَقَالَ:اغْسِلُوْا ثَوْبِیْ ھٰذَا وَزِیْدُوْا عَلَیْہِ ثَوْبَیْنِ فَکَفِّنُوْنِیْ فِیْْھِمَا قُلْتُ:اِنَّ ھٰذَا خَلَقٌ قَالَ: اِنَّ الْحَیَّ اَحَقُّ بِالْجَدِیْدِ مِنَ الْمَیِّتِ اِنَّمَا ھُوَلِلْمُھْلَۃِ فَلَمْ یَتَوَفَّ حَتّٰی اَمْسٰی مِنْ لَیْلَۃِ الثُّلَثَائِ وَدُفِنَ قَبْلَ اَنْ یُصْبِحَ۔(۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں (حضرت) ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایاکہ تم لوگوں نے نبی ﷺ کو کتنے کپڑوں کا کفن دیا۔انہوں نے بتایا کہ یمنی سفید رنگ کے تین کپڑوں میں۔ جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ۔ پھر (حضرت) ابوبکرؓنے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کس روز ہوئی تھی۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ سوموار کا دن تھا۔ نبیؐ نے دریافت فرمایاتھا کہ کون سا دن ہے۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ سوموار ہے (حضور ﷺ نے یہ سن کر) فرمایا اُمید ہے کہ رات ہی میرے درمیان ہے۔ پھر آپؐنے مرض کے دوران اپنے اوپر والے کپڑے کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’میرے اسی کپڑے کودھو ڈالو (کیونکہ اس میں زعفران کی خوشبو کا اثر تھا) اور مزید دوکپڑے اس کے ساتھ اضافہ کرلینااور مجھے ان میں کفنادینا‘‘ (حضرت عائشہ فرماتی ہیں) میں نے عرض کیا یہ تو پراناہے فرمایا: ’’نئے کپڑے کا مرنے والے کی بہ نسبت زندہ زیادہ حق دار ہے یہ کفن کا کپڑا تو میت کی پیپ کے لیے ہوتاہے‘‘ (اس لیے نیا ضروری نہیں) پس آپؐ منگل کی رات کو وفات پاگئے اورصبح ہونے سے پہلے ہی آپؐکوسپردِ خاک کردیاگیا۔
(۳) حَدَّثَنَا یَحْییَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ، اَنَّ عَائِشَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ اَبَابَکْرٍ اَقْبَلَ عَلٰی فَرَسٍ مِنْ مَسْکَنِہٖ بِالسُّنْحِ حَتّٰی نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ یُکَلِّمِ النَّاسَ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَتَیَمَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَمَغْشِیٌّ بِثَوْبٍ حِبْرَۃٍ، فَکَشَفَ عَنْ وَجْھِہٖ، ثُمَّ اَکَبَّ عَلَیْہِ فَقَبَّلَہٗ وَبَکیٰ ثُمَّ قَالَ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ وَاللّٰہِ لاَیَجْمَعُ اللّٰہُ عَلَیْکَ مَوْتَتَـیْنِ اَمَّا الْمَوْتَۃُ الَّتِیْ کُتِبَتْ عَلَیْکَ فَقَدْ مُتَّھَا۔
قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَحَدَّثَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ اَبَابَکْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ یُکَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ:اِجْلِسْ یَاعُمَرُ فَاَبٰی عُمَرُ اَنْ یَجْلِسَ، فَاَقْبَلَ النَّاسُ اِلَیْہِ وَتَرَکُوْا عُمَرَ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: اَمَّابَعْدُ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُاللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لاَیَمُوْتُ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی’’وَمَامُحَمَّدٌ اِلاَّرَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اِلَی الشَّاکِرِیْنَ۔ وَقَالَ وَاللّٰہِ لَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ۔ حَتّٰی تَلاَھَا اَبُوْبَکْرٍ فَتَلَقَّاھَا مِنْہُ النَّاسُ کُلُّھُمْ۔ فَمَا اَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ اِلاَّیَتْلُوْھَا فَاَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ: اَنَّ عُمَرَ قَالَ: وَاللّٰہِ مَاھُوَ اِلاَّ اَنْ سَمِعْتُ اَبَابَکْرٍ تَلاَھَا فَعَتَرْتُ حَتّٰی مَا تَقِلَّنِیْ رِجْلاَیَ وَحَتّٰی اَھْوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ حِیْنَ سَمِعْتُہٗ تَلاَھَا اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَدْمَاتَ۔(۳)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ نے خبردی کہ حضرت ابوبکرؓ مقام سُنح پر اپنی قیام گاہ سے گھوڑے پر سوار ہوکر تشریف لائے۔ نیچے اترے اور سیدھے مسجد میں داخل ہوئے۔ لوگوں سے کوئی بات کیے بغیر سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کی طرف (جن پر یمنی چادر ڈالی گئی تھی) گئے، آپؐکے رُخ مبارک سے کپڑا ہٹایا، اور آپ پر جھُک کر آپ کا بوسہ لیا اور رو پڑے۔ پھر فرمایا : ’’میرے ماںباپ آپ پر نثار ہوں خدائے ذوالجلال کی قسم آپ پر اللہ تعالیٰ دوموتیں کبھی جمع نہیں کرے گا۔ پس جوموت آپؐکے لیے مکتوب تھی وہ آگئی ہے۔‘‘
امام زہری کا بیان ہے کہ مجھے ابوسلمۃ نے ابنِ عباس کے حوالہ سے بتایا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ جب باہر نکلے تو اس وقت حضرت عمرؓ لوگوں سے باتیں کررہے تھے، حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔ عمرؓ بیٹھ جاؤ مگروہ نہ بیٹھے۔ لوگ حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت عمرؓ کی طرف سے توجہ ہٹالی پھر حضرت ابوبکرؓ نے خطاب فرمایا:’’اما بعد تم میں سے جو شخص محمد (ﷺ) کی عبادت کرتاتھا (توکان کھول کر سن لو) محمد ﷺپر موت وارد ہوچکی ہے۔ اور جو تم میں سے اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرتاہے تو اللہ زندۂ جاوید ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’نہیں ہے محمدؐ، مگر ایک رسول، اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں۔‘‘ آپ نے یہ آیت ’’الشَّاکِرِین‘‘ تک تلاوت کی۔راوی کا بیان ہے کہ بخدا اس وقت ایسا محسوس ہوا گویا لوگوں کو یہ معلوم ہی نہ تھاکہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے اور حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے اس آیت مبارکہ کے تلاوت کرنے سے پتہ چلا۔ پھر سب لوگوں نے حضرت ابوبکرؓسے اس آیت کو لے لیااور اب سب لوگوں کی زبان پر میں نے اس آیت کے سوا اور کوئی چیز نہ سُنی۔ مجھے سعید بن المسیّب نے خبردی کہ حضرت عمرؓنے کہاکہ بخدا میں نے حضرت ابوبکرؓ کویہ آیت تلاوت کرتے سنا تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں خاموش بے جان ساکت کھڑا رہ گیا اور جب میں نے یہ سنا کہ نبی ﷺ وفات پاچکے ہیں تو میں یہ سنتے ہی زمین پر گرپڑا۔
(۴)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، ثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَاتَ وَاَبُوْبَکْرٍ بِالسُّنْحِ۔ قَالَ اِسْمَاعِیْلُ:یَعْنِیْ بِالْعَالِیَۃِ، فَقَامَ عُمَرُ یَقُوْلُ:وَاللّٰہِ مَامَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَتْ: وَقَالَ عُمَرُ وَاللّٰہِ مَاکَانَ یَقَعُ فِیْ نَفْسِیْ اِلاَّذَاکَ وَلَیَبْعَثَنَّہُ اللّٰہُ فَلَیُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَ رِجَالٍ وَاَرْجُلَھُمْ فَجَآئَ اَبُوْبَکْرٍ فَکَشَفَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَبَّلَہٗ فَقَالَ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ طِبْتَ حَیًّا وَمَیِّتًا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لاَیُذِیْقَکَ اللّٰہُ الْمَوْتَتَیْنِ اَبَدًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:اَیُّھَاالْحَالِفُ عَلٰی رِسْلِکَ فَلَمَّا تَکَلَّمَ اَبُوْبَکْرٍ جَلَسَ عُمَرُ فَحَمِدَ اللّٰہَ اَبُوْبَکْرٍ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ:اَلاَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًاﷺ قَدْمَاتَ، وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لاَیَمُوْتُ وَقَالَ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ وَقَالَ:وَمَامُحَمَّدٌ اِلاَّرَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشَّاکِِرِیْنَ۔ قَالَ فَنَشِجَ النَّاسُ یَبْکُوْنَ۔قال: وَاجْتَمَعَتِ الْاَنْصَارُ اِلٰی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فِیْ سَقِیْفَۃِ بَنِیْ سَاعِدَۃَ فَقَالُوْا:مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ۔ فَذَھَبَ اِلَیْھِمْ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ وَاَبُوْعُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَذَھَبَ عُمَرُ یَتَکَلَّمُ فَاَسْکَتَہٗ اَبُوْبَکْرٍ وَکَانَ عُمَرُ یَقُوْلُ:وَاللّٰہِ مَااَرَدْتُّ بِذٰلِکَ اِلاَّ اَنِّیْ قَدْ ھَیَّأْتُ کَلاَمًا قَدْ اَعْجَبَنِیْ خَشِیْتُ اَنْ لاَیَبْلُغَہٗ اَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ تَکَلَّمَ اَبُوْبَکْرٍ فَتَکَلَّمَ اَبْلَغَ النَّاسِ فَقَالَ فِیْ کَلاَمِہٖ:نَحْنُ الْاُمَرَآئُ وَاَنْتُمُ الْوُزَرَآئُ۔ فَقَالَ حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ:لاَوَاللّٰہِ لاَنَفْعَلُ مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: وَلٰکِنَّا الْاُمَرَائُ وَاَنْتُمُ الْوُزَرَائُ ھُمْ اَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَاَعْرَبُھُمْ اَحْسَابًا فَبَایِعُوْاعُمَرَ اَوْ اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نُبَایِعُکَ اَنْتَ فَاَنْتَ سَیِّدُنَا، وَخَیْرُنَا، وَاَحَبُّنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَخَذَ عُمَرُ بِیَدِہٖ فَبَایَعَہٗ وَبَایَعَہُ النَّاسُ۔ فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ قَالَ عُمَرُ: قَتَلَہُ اللّٰہُ الحدیث۔(۴)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت حضرت ابوبکرؓ مقام سُنح میں تھے۔ عمرؓ کھڑے ہوکرکہنے لگے کہ قسم ہے خدا ئے پاک کی محمد رسول اللہ ﷺفوت نہیں ہوئے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عمرؓ نے کہا بخدا میرے جی میں یہی بات آئی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــکہ آپؐفوت نہیں ہوئیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــاور یہ کہ اللہ تعالیٰ ضرور آپ ؐکواٹھائے گا اور آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے۔اتنے میں حضرت ابوبکرؓ تشریف لے آئے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر بوسہ دیا اور فرمایا: ’’میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ ؐنے پاکیزہ زندگی گزاری اور پاکیزہ موت کے ساتھ رخصت ہوئے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز دومرتبہ موت کا ذائقہ نہیں چکھائے گا۔‘‘ پھر باہر آکر حضرت عمرؓ سے کہا اے قسم کھانے والے ہٹ جاؤ۔حضرت ابوبکرؓ نے جب گفتگو شروع کی تو حضرت عمرؓ بیٹھ گئے۔ ابوبکرؓ نے خدا کا شکر ادا کیا اور حمد وثناء باری کے بعد بولے، سنو!’’جو کوئی محمدؐ کی عبادت کرتاتھا تو محمد ﷺ بلاشبہ وفات پاچکے ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو وہ اللہ بلاشبہ زندہ ہے اسے موت لاحق نہیں ہوسکتی‘‘ (پھر حضرت ابوبکرؓ نے قرآن پاک کی دو آیتیں بطور استشہاد پڑھ کرسنائیں )۱۔ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ ’’بلاریب تو بھی مرنے والا ہے اور وہ سب بھی مرنے والے ہیں‘‘۲۔ وَمَامُحَمَّدٌ اِلاَّرَسُوْل الخ ۔’’محمدﷺ صرف اللہ کے رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزرچکے ہیں۔اس پر طبعی موت وارد ہوجائے یا اسے قتل کردیاجائے تو کیا تم اُلٹے پھر جاؤگے۔ جوکوئی اپنی ایڑیوں کے بَل پھِرجائے گا اللہ تعالیٰ کو وہ ذرہ برابر بھی نقصان وضرر نہ پہنچا سکے گا۔شکر گزار بندوں کو اللہ تعالیٰ ضرور ان کے اعمال کی جزادے گا۔‘‘ پس لوگ ایسے رونے لگے کہ ان کی ہچکی بندھ گئی۔راوی بیان کرتے ہیںکہ سقیفہ بنی ساعدہ میں لوگ سعد ؓ بن عبادہ کو امیر بنانے کی خاطر جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگااور ایک تم میں سے۔ حضرات ابوبکرؓ، عمرؓاور ابوعبیدہ بن الجراح تینوںاکٹھے ان کے پاس گئے۔ حضرت عمرؓ گفتگو کا آغاز کرنا چاہتے تھے مگر حضرت ابوبکرؓ نے انہیں خاموش کردیا۔ حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ بخدا میں صرف اس لیے تقریر کرنا چاہتاتھا کہ میں نے اپنے خیال کے مطابق اپنے ذہن میں ایک عمدہ تقریر تیار کرلی تھی اور ڈرتھاکہ شاید ابوبکرؓ کے ذہن میں یہ باتیں نہ آئی ہوں۔ لیکن ابوبکرؓ نے بات کا آغاز کیا اور تمام لوگوں سے بڑھ کر مؤثّر باتیں کہیں۔ فرمایا کہ امراء ہم ہیں اور وزراء تم ہو۔ اس پر حُبابؓ بن منذر اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: ’’ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہوگا۔ ‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: ’’نہیں بھائی ایسا نہیں امراء ہم سے اور وزراء تم سے ہوں گے۔ یہ قریش کے لوگ عرب میں حسب ونسب اور مقام ومرتبہ کے اعتبار سے اونچا مرتبہ رکھتے ہیں لہٰذا میری تجویز یہ ہے کہ تم عمرؓکی بیعت کرلو یا ابوعبیدہؓ کی۔‘‘ حضرت عمرؓ بولے : نہیں ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ آپ ہمارے سردار ہیں۔ ہم سے بہتر ہیں۔ اور ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کو محبوب ہیں۔ حضرت عمرؓ نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کرلی۔ پھر لوگوں نے بھی آپ کی بیعت کرلی، کسی نے کہا کہ تم لوگوں نے سعدؓ بن عبادہ کو قتل کردیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب میں کہا اسے اللہ تعالیٰ نے قتل کیاہے۔
(۵) حَدَّثَنِیْ یَحْيٰ عَنْ مَالِکٍ اَنَّہٗ بَلَغَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تُوُفِّیَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَدُفِنَ یَوْمَ الثُّلَثَائِ وَصَلّٰی عَلَیْہِ النَّاسُ اَفْذَاذًا لاَیَؤُمُّھُمْ اَحَدٌ فَقَالَ نَاسٌ:یُدْفَنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، وَقَالَ اٰخَرُوْنَ: یُدْفَنُ بِالْبَقِیْعِ فَجَآئَ اَبُوْبَکْرِنِالصِّدِّیْقُ فَقَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ:مَادُفِنَ نَبِیٌّ قَطُّ اِلاَّفِیْ مَکَانِہِ الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ فَحُفِرَ لَہٗ فِیْہِ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ غُسْلِہٖ اَرَادُوْا نَزْعَ قَمِیْصِہٖ فَسَمِعُوْا صَوْتًا یَقُوْلُ:لاَتَنْزِعُوْا الْقَمِیْصَ فَلَمْ یُنْزَعِ الْقَمِیْصُ وَغُسِّلَ وَھُوَ عَلَیْہِ ﷺ۔(۵)
ترجمہ: امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سوموار کو فوت ہوئے اوربروز منگل انہیں دفن کیا گیا اور صحابہ نے جنازہ الگ الگ پڑھا،کسی نے ان کی امامت نہیں کرائی پھر اختلاف رائے پیدا ہوا اور بعض کی رائے تھی کہ آپؐ کو منبرِ رسول(ﷺ) کے پاس ہی دفن کیاجائے اور بعض کا خیال تھاکہ جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ اسی اثناء میں حضرت ابوبکرؓ تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ نبی جس جگہ پر فوت ہواسی جگہ اسے دفن کیاجاتاہے۔ چنانچہ اس فرمان کی روشنی میں جہاں آپ نے وفات پائی تھی وہیں قبر کھودی گئی۔ نیز یہ کہ غسل دینے کے وقت صحابہؓ نے آپ کی قمیص اتارنی چاہی تو انہوں نے یہ آواز سنی کہ قمیص جسم مبارک سے مت اتارو۔ لہٰذا قمیص کو نہیں اتارا گیا اور اسی حالت میں آپ کو غسل دیا گیا۔
(۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:لَمَّاقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَبُوْبَکْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِہِ ابْنَۃِ خَارِجَۃَ بِالْعَوَالِیْ فَجَعَلُوْا یَقُوْلُوْنَ لَمْ یَمُتِ النَّبِیُّﷺ اِنَّمَاھُوَبَعْضُ مَاکَانَ یَاْخُذُہٗ عِنْدَالْوَحْیِ فَجَائَ اَبُوْبَکْرٍ فَکَشَفَ عَنْ وَجْھِہٖ، وَقَبَّلَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَقَالَ:اَنْتَ اَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّمِیْتَکَ مَرَّتَیْنِ قَدْ وَاللّٰہِ مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ۔ وَعُمَرُ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ یَقُوْلُ وَاللّٰہِ مَامَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ وَلاَیَمُوْتُ حَتّٰی یُقْطَعَ اَیْدِیَ اُنَاسٍ مِّنَ الْمُنَافِقِیْنَ کَثِیْرٍ، وَاَرْجُلُھُمْ فَقَامَ اَبُوْبَکْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ:مَنْ کَانَ یَعْبُدُاللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَيٌّ لَمْ یَمُتْ، وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا، فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَامُحَمَّدٌ اِلاَّرَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَإِنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشَّاکِرِیْنَ قَالَ عُمَرُ: فَلَکَأَنِّیْ لَمْ اَقْرَئْ ھَا اِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔(۶)
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺکا انتقال ہواتو حضرت ابوبکرؓ عوالی میں اپنی بیوی بنت خارجہ کے پاس تھے۔ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نبی ﷺکا انتقال نہیں ہوا بلکہ یہ وہی کیفیت ہے جو بعض اوقات نزولِ وحی کے وقت آپ پر طاری ہوتی ہے۔ (یہ باتیں ہورہی تھیں) کہ حضرت ابوبکرؓ تشریف لے آئے۔ انہوں نے آپؐ کے رُخِ منوّر سے کپڑا ہٹایا اور دونوں آنکھوں اور پیشانی کا بوسہ لیا اور فرمایا:’’اللہ عزّوجّل کے ہاں آپؐ سب سے زیادہ معزّز ومکرّم ہیں وہ آپؐپردومرتبہ موت وارد نہیں فرمائے گا۔خداکی قسم! رسول اللہ ﷺ وفات پاچکے ہیں۔ اسی دوران میں حضرت عمرؓ مسجد کے کونے میں کھڑے یہ کہہ رہے تھے کہ خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ پر موت وارد نہیں ہوئی اور نہ کبھی ہوگی (جو ایسی بات منہ سے نکالے گا) وہ منافقین میں سے ہے اور ان لوگوں کے ہاتھ اور ٹانگیںتوڑدی جائیں گی۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکرؓ اٹھے اور منبر پر چڑھ کر خطاب فرمایا’’(لوگو! سُن لو) جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتاہے تو اللہ عزوجل تو زندہ ہے اسے کبھی موت لاحق نہیں ہوگی۔ البتہ جوکوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتاتھا تو محمد ﷺ پر تو موت وارد ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کایہ ارشادہے:’’ نہیں ہیں محمدؐ مگر ایک رسول( خدا نہیں ہیں)ان سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں تو کیا اگر آپ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ اُلٹے پاؤں پھِر جاؤگے۔ (یادر کھو) جو الٹا پھرے گا وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہ بگاڑسکے گا۔ ’’یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا: مجھے ایسا محسوس ہواکہ یہ آیت میں نے آج سے پہلے پڑھی ہی نہیں تھی۔
(۷) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ نِالْجَھْضَمِیُّ، أَنْبَأَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، ثَنَا اَبِیْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ عِکْرِمَۃَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: لَمَّااَرَادُوْا اَنْ یَّحْفِرُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَعَثُوْا اِلٰی اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَکَانَ یَضْرَحُ کَضَرِیْحِ اَھْلِ مَکَّۃَ۔ وَبَعَثُوْا اِلٰی اَبِیْ طَلْحَۃَ وَکَانَ ھُوَالَّذِیْ یَحْفِرُ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔ وَکَانَ یَلْحَدُ۔ فَبَعَثُوْا اِلَیْھِمَا رَسُوْلَیْنِ فَقَالُوْا: اَللّٰھُمَّ! خِرْلِرَسُوْلِکَ۔ فَوَجَدُوْا اَبَاطَلْحَۃَ فَجِیْیئَ بِہٖ، وَلَمْ یُوْجَدْ اَبُوْعُبَیْدَۃَ فَلَحَدَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:فَلَمَّا فَرَغُوْا مِنْ جَھَازِہٖ یَوْمَ الثُّلاَثَائِ، وُضِعَ عَلٰی سَرِیْرِہٖ فِی بَیْتِہٖ۔ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَرْسَالاً ؎ ۱ یُصَلُّوْنَ عَلَیْہِ حَتّٰی اِذَا فَرَغُوْا اَدْخَلُوْا النِّسَآئِ حَتّٰی اِذَا فَرَغُوْا اَدْخَلُوا الصِّبْیَانَ وَلَمْ یَؤُمَّ النَّاسَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَحَدٌ۔ لَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُوْنَ فِی الْمَکَانِ الَّذِیْ یُحْفَرُلَہٗ۔ فَقَالَ قَائِلُوْنَ:یُدْفَنُ فِیْ مَسْجِدِہٖ، وَقَالَ قَائِلُوْنَ: یُدْفَنُ مَعَ اَصْحَابِہٖ۔ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَاقُبِضَ نَبِیٌّ اِلاَّدُفِنَ حَیْثُ یُقْبَضُ۔قَالَ: فَوَضَعُوْا فِرَاشَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الَّذِیْ تُوُفِّیَ عَلَیْہِ فَحَفَرُوْا لَہٗ ثُمَّ دُفِنَ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ وَسْطَ اللَّیْلِ مِنْ لَیْلَۃِ الْاَرْبِعَائِ۔ وَنَزَلَ فِیْ حُفْرَتِہٖ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقُثَمُ اَخُوْہُ وَشُقْرَانُ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ اَوْسُ ابْنُ خَوْلِیٍّ، وَھُوَاَبُوْلَیْلٰی، لِعَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ اَنْشُدُکَ اللّٰہَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَہٗ عَلِیٌّ: اِنْزِلْ وَکَانَ شُقْرَانُ مَوْلاَہُ اَخَذَ قَطِیْفَۃً کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَلْبَسُھَا فَدَفَنَھَا فِی الْقَبْرِ وَقَالَ وَاللّٰہِ لاَیَلْبِسُھَا اَحَدٌ بَعْدَکَ اَبَدًا فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابنِ عباس سے منقول ہے کہ جب صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے قبر مبارک کھودنا چاہی تو انہوں نے ابوعبیدہؓ بن الجراح کو جو اہلِ مکّہ کی طرز پرگورکنی کرتے تھے، اور ابوطلحہؓ کو جو اہلِ مدینہ کی طرز پرلحد والی گورکنی کرتے تھے، بلوانے کے لیے دوآدمی بھیجے اور ساتھ ہی انہوں نے دعا بھی کی کہ الہٰی اپنے رسول کے لیے ان دونوں میں سے بہتر کو منتخب فرمالے۔ چنانچہ ابوطلحہ ؓ انہیں مل گئے اور انہیں بلالیااور ابوعبیدہؓ نہ ملے۔ ابوطلحہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے لحد والی قبر کھودی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب صحابہ کرامؓ آپؐ کے غُسل اور کفن سے فارغ ہوئے تو منگل کے دن آپ کا جسدِ مبارک آپ کے گھر میں ایک چارپائی پر رکھ دیا گیا۔پھر لوگ گروہوں اور ٹولیوں کی صورت میں اندر داخل ہوتے اور نمازِ جنازہ پڑھ کر باہر نکل جاتے۔ جب مرد نماز سے فارغ ہوگئے تو خواتین داخل ہوئیں۔ پھر ان کے فارغ ہونے کے بعد بچوں کی باری آئی رسول اللہ ﷺ کی نماز ِ جنازہ میں کسی نے امامت نہیں کرائی۔ انفرادی طورپر سب نے پڑھی۔ پھر لوگوں میں اس بات پر اختلاف پیدا ہوگیا کہ آپؐ کو دفن کس جگہ کیاجائے۔ کچھ نے یہ رائے دی کہ مسجدِ نبوی میں دفن کیا جائے اور کچھ نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ جنت البقیع میں دفن کیاجائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے کہ نبی کا انتقال جس جگہ ہوتاہے اسی جگہ اسے دفن کیا جاتاہے۔ پس صحابہؓ نے رسول اللہ ﷺ کا وہ بستر اٹھایا جس پر آپ نے وفات پائی تھی اور آپ کی قبر کھودی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کوبدھ کی نصف شب کو دفن کیا گیا۔ علیؓبن ابی طالب، فضلؓ بن عباسؓ، قُثَم اور ان کے بھائی شُقران رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام، آپؐ کی قبر میں اُترے۔ اوس بن خولی نے حضرت علیؓ سے کہا ہمارا بھی اس سعادت میں حصّہ ہے۔ حضرت علیؓنے انہیں اجازت دے دی کہ وہ بھی قبر میں اترجائیں اور شُقران مولیٰ رسول اللہ ﷺ نے آپ کی چادر مبارک جو آپ پہنا کرتے تھے اٹھا کر آپؐ کے ساتھ ہی قبر میں یہ کہہ کر دفن کردی کہ خدا کی قسم! آپؐ کے بعد اسے کوئی اور نہیں پہنے گا۔
(۸) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ نِالْجَھْضَمِیُّ، اَنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ دَاوٗدَ، قَالَ:حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ نُبَیْطٍ، اَخْبَرَنَا عَنْ نَعِیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنْ نُبَیْطِ بْنِ شُرَیْطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَیْدٍ وَکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃٌ، قَالَ: اُغْمِیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ مَرَضِہٖ فَاَفَاقَ فَقَالَ:حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَقَالُوْا:نَعَمْ، فَقَالَ:مُرُوْا بِلاَلاًفَلْیُؤَذِّنْ وَمُرُوْااَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ اَوْقَالَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ اُغْمِیَ عَلَیْہِ فَاَفَاقَ فَقَالَ:حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ قَالُوْا:نَعَمْ، فَقَالَ: مُرُوْا بِلاَلاًفَلْیُؤَذِّنْ وَمُرُوْااَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ باِلنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ:اِنَّ اَبِیْ رَجُلٌ اَسِیْفٌ اِذَا قَامَ ذٰلِکَ الْمَقَامَ بَکیٰ فَلاَیَسْتَطِیْعُ فَلَوْ اَمَرْتَ غَیْرَہٗ۔ قَالَ: ثُمَّ اُغْمِیَ عَلَیْہِ فَاَفَاقَ فَقَالَ: مُرُوْا بِلاَلاًفَلْیُؤَذِّنْ وَمُرُوْااَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَاِنَّ کُنَّ صَوَاحِبَ اَوْصَوَاحِبَاتِ یُوْسُفَ قَالَ:فَأُمِرَ بِلاَلٌ فَاَذَّنَ وَاُمِرَ اَبُوْبَکْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَجَدَخِفَّۃً فَقَالَ: انْظُرُوْا اِلٰی مَنْ اَتَّکِیئُ عَلَیْہِ فَجَآئَ تْ بَرِیْرَۃُ وَرَجُلٌ اٰخَرَ فَاتَّکَأَ عَلَیْھِمَا فَلَمَّا رَاٰہُ اَبُوْبَکْرٍ ذَھَبَ لِیَنْکِصَ فَاَوْمٰی اِلَیْہِ اَنْ یَّثْبُتَ مَکَانَہٗ حَتّٰی قَضیٰ اَبُوْبَکْرٍ صَلاَتَہٗ ثُمَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُبِضَ فَقَالَ عُمَرُ:وَاللّٰہِ لاَاَسْمَعُ اَحَدًا یَذْکُرُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُبِضَ اِلاَّضَرَبْتُہٗ بِسَیْفِیْ ھٰذَا، قَالَ: وَکَانَ النَّاسُ اُمِّیِّیْنَ لَمْ یَکُنْ فِیْھِمْ نَبِیٌّ قَبْلَہٗ فَاَمْسَکَ النَّاسُ قَالُوْا:یَاسَالِمُ اِنْطَلِقْ اِلٰی صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَادْعُہٗ فَاَتَیْتُ اَبَابَکْرٍ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَاَتَیْتُہٗ اَبْکِیْ دَھِشًا( متحیرًا) فَلَمَّا رَاٰنِیْ قَالَ لِیْ: أَ قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قُلْتُ: اِنَّ عُمَرَ یَقُوْلُ لاَاَسْمَعُ اَحَدًا یَذْکُرُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُبِضَ اِلَّاضَرَبْتُہٗ بِسَیْفِیْ ھٰذَا فَقَالَ لِیْ اِنْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ فَجَآئَ ھُوَ وَالنَّاسُ قَدْدَخَلُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اَفْرِجُوْا لِیْ فَاَفَرَجُوْا لَہٗ فَجَآئَ حَتّٰی اَکَبَّ عَلَیْہِ وَمَسَّہٗ فَقَالَ: اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ، ثُمَّ قَالُوْا: یَاصَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اَقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ، قَالَ:نَعَمْ، فَعَلِمُوْا اَنْ قَدْصَدَقَ قَالُوْا: یَاصَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہ أَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ:یَدْخُلُ قَوْمٌ فَیُکَبِّرُوْنَ وَیَدْعُوْنَ وَیُصَلُّوْنَ ثُمَّ یَخْرُجُوْنَ ثُمَّ یَدْخُلُ قَوْمٌ فَیُکَبِّرُوْنَ وَیُصَلُّوْنَ وَیَدْعُوْنَ ثُمَّ یَخْرُجُوْنَ حَتّٰی یَدْخُلَ النَّاسُ، قَالُوْا:یَاصَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَیُدْفَنُ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ قَالَ:نَعَمْ، قَالُوْا:اَیْنَ؟ قَالَ: فِی الْمَکَانِ الَّذِی قَبَضَ اللّٰہُ فِیْہِ رُوْحَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَقْبِضْ رُوْحَہٗ اِلاَّفِیْ مَکَانٍ طَیِّبٍ فَعَلِمُوْا اَنْ قَدْصَدَقَ ثُمَّ اَمَرَھُمْ اَنْ یَغْسِلَہٗ بَنُوْا اَبِیْہِ وَاجْتَمَعَ الْمُھَاجِرُوْنَ یَتَشَاوَرُوْنَ فَقَالُوْا: اِنْطَلِقْ بِنَا اِخْوَانَنَا مِنَ الْاَنْصَارِ نُدْخِلْھُمْ مَعَنَا فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ: مِنَّا اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ فَقَالَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَنْ لَہٗ مِثْلَ ھٰذِہِ الثَّلٰثِ ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ اِذْیَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لاَتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا مَنْ ھُمَا؟ قَالَ ثُمَّ بَسَطَ یَدَہٗ فَبَایَعَہٗ وَبَایَعَہُ النَّاسُ بَیْعَۃً حَسَنَۃً جَمِیْلَۃً۔(۸)
ترجمہ:سالم بن عبید ایک صحابی ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺپر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی ۔جب افاقہ ہوا تو پوچھا نماز کا وقت ہوگیاہے؟ لوگوں نے کہاہاں! آپؐ نے فرمایا ’’کہ بلالؓ سے کہوکہ اذان دے اور ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘ اس کے بعد پھر آپؐ پر غشی طاری ہوگئی۔ پھر افاقہ ہوا تو پوچھا نماز کا وقت ہوگیاہے؟ لوگوں نے کہا ہاں نماز کا وقت ہوگیاہے آپؐ نے پھر فرمایا : ’’بلالؓ سے کہو کہ اذان دے اور ابوبکرؓ سے کہوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘ حضرت عائشہؓ بولیں میرے ابّا جان رقیق القلب اور نرم مزاج انسان ہیں جب اس مقام پر کھڑے ہوں گے تو روپڑیں گے اور نماز نہیں پڑھاسکیں گے۔ اگر آپؐ کسی دوسرے کو حکم دیں تو بہتر ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپ پر پھر غشی طاری ہوگئی۔ پھر افاقہ ہوا، تو فرمایا: ’’بلالؓ سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکرؓ نماز پڑھائے۔‘‘ بلاشبہ تم عورتیں وہی ہو جنہوں نے یوسف کو ورغلایا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ بلالؓ کو اذان کہنے کا حکم دیا گیا اور حضرت ابوبکرؓکو نماز پڑھانے کا۔ بلالؓ نے اذان دی اور ابوبکرؓنے نماز پڑھائی۔ پھر رسول اللہ ﷺنے ذرا تخفیف محسوس کی تو فرمایا :’’کوئی ایسا شخص دیکھو جس کامیں سہارا لے سکوں۔‘‘ بریرہ اور ایک دوسرا آدمی آگئے۔ آپؐ نے ان دونوں کا سہارا لیا اور مسجد میں پہنچ گئے۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے دیکھا کہ آپؐ تشریف لارہے ہیں تو اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپؐ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر قائم رہو اور ابوبکرؓ نے نماز پوری کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو حضرت عمرؓ بولے خداکی قسم! اگر کسی نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ کی روح قبض ہوگئی ہے تو میں اس کی گردن اپنی اس تلوار سے ماردوں گا۔ راوی کہتاہے، لوگ اَن پڑھ یعنی اُمّی تھے کوئی نبی ان میں پہلے آیانہیںتھا، لہٰذا وہ ایسا کہنے سے باز آگئے۔ لوگوں نے سالم سے عرض کیا۔ کہ اے سالم! رسول اللہ ﷺ کے رفیق اور ساتھی کے پاس جاؤ اور انہیں بلاکر لاؤ۔ میں حضرت ابوبکر کے پاس آیا وہ اس وقت مسجد میں تھے اور حیرانگی اور سراسیمگی کے عالم میں روتاہواان کے پاس پہنچا۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پوچھا کیا رسول اللہ ﷺوفات پاگئے ہیں؟ میں نے بتایا کہ عمرؓ کہتے ہیں کہ جس کو میں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺوفات پاگئے ہیں، میں اپنی اس تلوار سے اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ یہ سن کر ابوبکرؓ نے مجھے کہا کہ چلو۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ وہ آئے تو لوگ رسول اللہ ﷺکے پاس جمع ہوچکے تھے۔ابوبکرؓ نے لوگوں سے کہاکہ میرے لیے راستہ کشادہ کرو۔ انہوں نے راستہ کشادہ کردیا۔ ابوبکرؓ آئے اور آپؐ پر جھکے اور ہاتھ سے چھوکر دیکھا اور کہا اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّھُمْ مَیِّتُوْن۔ لوگوں نے دریافت کیا۔ اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی کیا آپؐ کی روح قبض ہوچکی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ’’ہاں آپؐ کی روح مبارک پرواز کرچکی ہے۔‘‘ تب انہیں معلوم ہوا کہ جو واقعہ پیش آناتھا وہ آچکاہے۔ پھر لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کہ اے صاحب ِ رسول اللہ ﷺ کیا ہم رسول اللہ ﷺ کی نمازِ جنازہ پڑھیں؟ ابوبکرؓنے جواب دیا ’’ہاں پڑھو۔‘‘ پھر لوگوں نے پوچھا نماز کس طرح پڑھی جائے؟ بتایا کہ کچھ لوگ اندر حجرے میں داخل ہوں تکبیر کہیں ، دُعا مانگیں اور آپؐ پر صلوۃ وسلام بھیجیں اور باہرنکل آئیں۔ پھر کچھ لوگ داخل ہوں اسی طرح تکبیر، دعا اور صلوٰۃ وسلام سے فارغ ہوکر باہر آجائیں۔ پھر پوچھا ، کیا رسول اللہﷺ کو دفن کیا جائے گا؟ابوبکرؓ نے کہا’’ہاں آپؐ کو دفن کیا جائے گا۔‘‘ پوچھا کس جگہ دفن کیا جائے گا؟ بتایا کہ اس جگہ دفن کیا جائے گاجس جگہ اللہ نے آپؐ کی روح قبض کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی روح نہایت عمدہ مقام پر قبض کی ہے۔ لوگ بولے کہ سچ فرمایا۔ پھر انہیں حکم دیا کہ آپؐ کو غسل آپؐ کے ددھیال والے دیں۔ ادھر مہاجرین نے مجلسِ مشاورت منعقد کی اور ابوبکرؓ سے عرض کیا ہمارے ساتھ انصار بھائیوں کے پاس چلیں۔ اس امر میں ہم انہیں اپنے ساتھ شامل کرلیں۔ انصار نے نعرہ لگایا ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’وہ کون ہے جسے یہ تین فضائل حاصل ہوں؟‘‘ دو میں کا دوسرا جب دونوں غارِ ثور میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھی (ابوبکرؓ) کو تسلّی دیتے ہوئے فرمارہے تھے خوف نہ کھا اللہ بلاشبہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ دونوں کون تھے؟ راوی کا بیان ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے ابوبکرؓ کا ہاتھ پھیلاکر بیعت کرلی۔ پھر دوسرے لوگوں نے بھی نہایت عمدہ طریقہ سے بیعت کرلی۔
(۹)حَدَّثَنَا اَبُوْعَمَّارِ الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَغَیْرُ وَاحِدٍ قَالُوْا: ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ،عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: اٰخِرُ نَظْرَۃٍ نَظَرْتُھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَشَفَ السِّتَارَۃَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ فَنَظَرْتُ اِلٰی وَجْھِہٖ کَأَنَّہٗ وَرَقَۃُ صُحُفٍ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ فَاَشَارَ اِلَی النَّاسِ اَنِ اثْبُتُوْا وَاَبُوْبَکْرٍ یَؤُمُّھُمْ وَاَلْقَی السَّجْفَ وَتُوُفِّیَ مِنْ اٰخِرِ ذٰلِکَ الْیَوْمِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار اس وقت کیا جب سوموار کے روز حضورؐ نے پردہ اٹھایا میں نے آپ کے روئے مبارک پر نظر ڈالی تو چہرہ مبارک مصحف کا ورق معلوم ہوتاتھا ۔ لوگ حضرت ابوبکرؓ کی امامت واقتداء میں نماز اداکررہے تھے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ قائم وثابت رہیں۔ حضرت ابوبکرؓ ان کی امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ آپ نے دروازے کا پردہ ڈال دیا۔ اس دن کے آخری حصہ میں آپؐ نے وفات پائی۔
(۱۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُمَرَ، ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ فَمَکَثَ ذَالِکَ الْیَوْمَ وَلَیْلَۃَ الثُّلَثَائِ وَدُفِنَ مِنَ اللَّیْلِ وَقَالَ سُفْیَانُ وَقَالَ غَیْرُہٗ یُسْمَعُ صَوْتُ الْمَسَاحِیْ مِنْ اٰخِرِ اللَّیْلِ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسوموار کے روز فوت ہوئے۔ اس روز اور منگل کی رات تک تدفین نہ ہوئی اور رات جسدِ مبارک کو دفن کیا گیا۔ یہ سفیان سے مروی روایت کے مطابق ہے۔ دوسرے کہتے ہیں کہ رات کے آخری حصہ میں کدالوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔
(۱۱) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعُلاَئِ، ثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ ھُوَابْنُ الْمُلَیْکِیِّ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّاقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اخْتَلَفُوْا فِیْ دَفْنِہٖ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ شَیْئًا مَانَسِیْتُہٗ قَالَ:مَا قَبَضَ اللّٰہُ نَبِیًّا اِلاَّ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِیْ یُحِبُّ اَنْ یُدْفَنَ فِیْہِ اِدْفِنُوْہُ فِیْ مَوْضِعِ فِرَاشِہٖ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیںکہ جب رسول اللہ ﷺکا انتقال ہوا تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ آپ کو دفن کہاں کیا جائے۔ ابوبکرؓ نے بتایا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے میں اسے بھولا نہیں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تھا ’’اللہ تعالیٰ نبی کی روح اسی جگہ قبض کرتاہے جہاں اسے دفن کیا جانا محبوب ہوتاہے۔‘‘ لہٰذا رسول اللہ ﷺکو آپ کے بستر کی جگہ میں دفن کرو۔
خلافت ِابی بکرؓ صدیق اور حضرت علیؓ
معاملۂ خلافت مسجدِ نبوی میں نہیں، بلکہ سقیفہ بنی ساعدہ میں اس رات طے ہوا تھا جس کی شام کو حضور ﷺ کاانتقال ہوا۔ اس وقت مہاجرین وانصار میں سے کوئی بھی وہاں بُلایا ہوا نہیں گیاتھا۔ دراصل انصار کا ایک بڑا گروہ اس جگہ جمع ہوگیا تھا اور خلافت کے مسئلے کو طے کرنا چاہتاتھا۔ جونہی کہ ان کے اس اجتماع اور ارادے کی اطلاع حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ کو ہوئی وہ فوراً وہاں پہنچ گئے اورایک فتنۂ عظیم کا دروازہ بندکرنے کے لیے انہوں نے اسی وقت انصار کی اس جماعت کو سمجھا بجھا کر اس مسئلے کا ایک ایسا فیصلہ تسلیم کرالیا جس میں امت کی خیر تھی۔ وہ وقت آدمی بھیج بھیج کر لوگوں کو گھروں سے بلانے کا نہ تھا،اگر یہ تینوں حضرات ذراسی تاخیر بھی کرگئے ہوتے تو وہاںمسلمانوں کے درمیان ایک بڑی خانہ جنگی کی بنا پڑگئی ہوتی، جو بعد کے فتنۂ ارتداد میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی۔ اس حالت میں کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ تجویز لے کر نہیںاٹھ سکتاتھا، کہ صاحبو، دوچار روز اس معاملے کو ملتوی رکھو۔ کل رسول اللہ ﷺکی تجہیز وتکفین سے فارغ ہوکر ایک کانفرنس کا اعلان کریں گے۔ اور پھر اس میں یہ مسئلہ طے کرلیا جائے گا کہ حضورؐ کا جانشین کون ہو؟ اس طرح کی تجویز پیش کرنے کے معنی یہ ہوتے کہ ایک طرف تو سرکار رسالتمآب کے وفات پاجانے کی خبرعرب کے مختلف حصّوں میں اس تصریح کے ساتھ پھیلتی کہ کوئی شخص آپؐ کی جگہ اُمّت کا کام سنبھالنے کے لیے مقرّر نہیں ہواہے۔ اور یہ چیز ان عناصر کی ہمّتیں کئی گُنا زیادہ بڑھادیتی جواسلام کے خلاف بغاوت برپاکردینے کے لیے موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ اور دوسری طرف مجوزہ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے انصارکے درمیان یہ رائے پختہ ہوچکی ہوتی کہ خلیفہ یا تو کوئی انصاری ہونا چاہیے، یا پھر ایک امیر انصار میں سے اور ایک مہاجرین میں سے ہونا چاہیے۔ حضرت عمرؓ کی بصیرت اس غلطی کے نتائج کو اچھی طرح سمجھ رہی تھی، اس لیے انہوں نے وہیں اسی وقت مسئلے کا تصفیہ کرالینا ضروری سمجھاتاکہ کسی فتنے کو پرورش پانے کا موقع نہ ملے، اور بلاتاخیر اس شخص کی خلافت پر بیعت کرالی جسے تمام عرب رسول اللہ ﷺکے دستِ راست کی حیثیت سے جانتا تھا، جس کے متعلق دوست اور دشمن، سب ہی یہ رائے رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں حضور اکرم ﷺ کے بعد اگر دوسرے درجے کی کوئی شخصیّت ہے تو اسی کی ہے۔
دوسرے روز صبح کو مسجدنبوی میں جو اجتماع ہوا، وہ بیعتِ عام کے لیے تھانہ کہ مسئلہ خلافت کے تصفیہ کرنے کے لیے اُس وقت خلافت کے اُس مسئلے کو جورات بڑی مشکل سے طے ہوا تھا، از سرِ نو بحث کرنے کے لیے کھولنے کے کوئی معنی ہی نہ تھے۔ یہ اگر بحث کے لیے کھل سکتاتھا تو اسی طرح کہ عام مسلمان رات کی قرار داد کو قبول کرنے سے انکار کردیتے لیکن جب انہیں اس فیصلے سے مطّلع کیا گیا تو سب نے اسے بخوشی قبول کرلیا اور بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ سوال یہ ہے کہ اس قبولِ عام کی صورت میں آخر کیوں اسے نئے سرے سے ایک تصفیہ طلب مسئلہ بناکر بحث کے لیے سامنے رکھاجاتا؟
اس اجتماع میں کوئی بھی گھر سے نہیںبلایا گیاتھا۔ سارے لوگ دُور دُور سے آکر اس لیے اکٹّھے ہوئے تھے کہ حضورؐ کے انتقال کی خبر سن کر لامحالہ انہیں اُسی مسجدِ نبوی کا رُخ کرناتھا جس سے مُتّصِل حجرۂ عائشہؓ میں حضورؐ کا جسدِ اطہر آرام فرماتھا۔
رہا یہ سوال کہ حضرت علیؓ نے کب حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ممدوح نے اسی روز سب مسلمانوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔ طَبری نے سعید بن زید کے حوالے سے، بیہقی نے ابوسعیدخدریؓ کے حوالے سے، اور موسیٰ بن عقبہ صاحب المغازی نے عبدالرحمان بن عوفؓ کے حوالہ سے عمدہ سند کے ساتھ یہ روایات نقل کی ہیں۔ اس کے بعد آنجناب سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس خاطر سے چھ مہینے خانہ نشین رہے۔ اور پھر ان کی وفا ت کے بعد دوبارہ تجدیدِ بیعت کرکے کاروبارِ خلافت میں ویسی ہی دلچسپی لینی شروع کی، جیسی ان کے شایان شان تھی۔ طبری نے اپنی تاریخ میں اور علامہ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں یہ واقعہ بھی نقل کیاہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تو ابوسفیان نے آکر ان سے کہا کہ ’’یہ کیاغضب ہوگیا؟‘‘ قریش کے سب سے چھوٹے قبیلے کا آدمی کیسے خلیفہ بنادیاگیا؟ ’’اے علیؓ! اگر تم چاہو تو خداکی قسم! میں اس وادی کو سواروں اور پیادوں سے بھردوں۔‘‘ اس پر انہوں نے جو جواب دیاوہ سننے کے قابل ہے۔ فرمایا: ’’اے بوسفیان! تم ساری عمر اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کرتے رہے، مگر تمہاری دشمنی سے نہ اسلام کاکچھ بگڑسکا، نہ اہلِ اسلام کا۔ ہم ابوبکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں۔‘‘ (رسائل ومسائل سوم، اختلافی مسائل: اہل سنّت۔۔۔)
حدیث اَنَا مَدِیْنَۃُ العِلْمِ کی علمی تحقیق
۱۲۹۔اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا، فَمَنْ اَرَادَ الْمَدِیْنَۃَ فَلْیَأْتِ الْبَابَ۔
’’میں علم کا شہرہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے۔ پس جو شخص شہر میں آنا چاہے وہ اس کے دروازے سے آئے۔ ‘‘
تشریح: احادیث سے استناد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے روایت کے اعتبار سے دیکھاجائے کہ وہ کہاں تک قابلِ اعتماد ذرائع سے مروی ہوئی ہیں۔ پھر ان کے معنی پر غور کیا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ بشرطِ صحت، ان کا صحیح مُدّعا کیا ہوسکتاہے۔ کسی حدیث کا کوئی ایسا مفہوم لے لینا جو حضورؐ کے دوسرے بہت سے ارشادات سے ٹکراتاہو، یا جس سے بہت سی قباحتیں لازم آتی ہوں، کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ اس کے بجائے اس کا اگر کوئی ایسا مفہوم ہو سکتا ہو جو آنحضور ﷺ کے دوسرے ارشادات سے مطابقت بھی رکھتاہو اور ہرقباحت سے بھی خالی ہو، تو ایک ذی فہم آدمی کے لیے وہی قابلِ قبول ہونا چاہیے۔
اس قاعدے کو نگاہ میں رکھ کر پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ حدیث اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَاکا بہ لحاظ روایت کیا مقام ہے۔ صحاح میں سے اس کو صرف ترمذی نے لیاہے اور اس میں انا مدینۃ العلم کے بجائے یہ الفاظ ہیں۔ اَنَا دَارُالْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا ’’میں حکمت کا گھر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے‘‘ راوی اس کے خود علیؓ ہیں۔ امام ترمذی اس کو نقل کرنے کے بعد اس کی روایتی حیثیت پر جوتبصرہ کرتے ہیں وہ یہ ہے:
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ مُنْکَرٌ۔ رَویٰ بَعْضُھُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ شُرَیْکٍ وَلَمْ یَذْکُرُوْا فِیْہٖ عَنِ الصَّنَّابِحِیِّ۔ وَلاَنَعْرِفُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ اَحَدٍ مِّنَ الثِّقَاتِ غَیْرَشُرَیْکٍ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ یہ حدیث غریب اور منکر ہے۔ بعض راویوں نے اسے صرف شریک (تابعی) سے روایت کیاہے اور اس کی سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ شریک کے سوا تمام ثقات میں سے کسی نے بھی اس کو روایت کیا ہو۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِیْمِ الْھَرْوِیُّ بِالرَّمْلَۃِ ثَنَا اَبُوالصَّلْتِ عَبْدُالسَّلاَمِ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا اَبُومُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا۔ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ﷺ: اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا فَمَنْ اَرَادَ الْمَدِیْنَۃَ فَلْیَأْتِ الْبَابَ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓاس کا دروازہ، پس جو اس شہر میں آنا چاہے وہ دروازے سے آئے۔ ‘‘
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاَسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاہ ـــــ وَاَبُوالصَّلْتِ ثِقَۃٌ مَاْمُوْنٌ فَاِنِّی سَمِعْتُ اَبَاالْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ یَعْقُوْبَ فِیْ التَّارِیْخِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدِ نِالدَّوْرِیِّ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ یَحْیٰی بْنَ مُعِیْنٍ عَنْ اَبِی الصَّلْتِ الْھَرَوِیِّ فَقَالَ: ثِقَۃٌ فَقُلْتُ اَلَیْسَ قَدْ حَدَّثَ عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ فَقَالَ: قَدْ حَدَّثَ بِہٖ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَیْدِیُّ وَھُوَثِقَۃٌ مَاْمُوْنٌ سَمِعْتُ اَبَانَصْرٍاَحْمَدَ بْنَ سَھْلٍ اَلْفَقِیْہَ الْقُبَانِیَّ اِمَامَ عَصْرِہٖ بِبُخَارٰی یَقُوْلُ: سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیْبَ الْحَافِظَ یَقُوْلُ وَسُئِلَ عَنْ اَبِی الصَّلْتِ الْھَرْوِیِّ فَقَالَ: دَخَلَ یَحْییٰ بْنُ مُعِیْنٍ وَنَحْنُ مَعَہٗ عَلَی اَبِیْ الصَّلْتِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمَّا خَرَجَ تَبِعْتُہٗ فَقُلْتُ لَہٗ مَاتَقُوْلُ رَحِمَکَ اللّٰہُ فِیْ اَبِی الصَّلْتِ فَقَالَ ھُوَ صَدُوْقٌ فَقُلْتُ لَہٗ اَنَّہٗ یَرْوِیْ حَدِیْثَ الْاَعْمَشِ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا فَاِنْ اَرَادَ الْعِلْمَ فَلْیَاْتِھَا مِنْ بَابِھَا فَقَالَ قَدْرَوَی ھٰذَا ذَاکَ الْفَیْدِیُّ عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ کَمَا رَوَاہُ اَبُوالصَّلْتِ۔
(۲)حَدَّثَنَا بِصِحَۃٍ مَاذَکَرَہُ الْاِمَامُ اَبُوْزَکَرِیَّا، یَحْییٰ بْنُ مُعِیْنٍ، ثَنَا اَبُوالْحُسَیْنِ مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ تَمِیْمٍ الْقَنْطَرِیِّ، ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ فَھْمٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْییٰ بْنُ الضَّرْ لِیْسَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ الْفَیْدِیِّ، ثَنَا اَبُومُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا فَمَنْ اَرَادَ الْمَدِیْنَۃَ فَلْیَاْتِ الْبَابَ۔
قَالَ الْحُسَیْنُ بْنُ فَھْمٍ حَدَّثَنَاہُ اَبُوالصَّلْتِ الْھَرْوِیُّ عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ الْحَاکِمُ لَیَعْلَمَ الْمُسَتَفِیْدُ لِھٰذَا الْعِلْمِ اَنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ فَھْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ثِقَۃٌ مَاْمُوْنٌ حَافِظٌ۔
(۳) وَلِھٰذَا الْحَدِیْثِ شَاھِدٌ مِّنْ حَدِیْثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ بِاَسْنَادِ الصَّحِیْحِ: حَدَّثَنِیْ اَبُوبَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَقِیْہَ الْاِمَامَ الشَّاشِیْ الْقَفَّالَ بِبُخَارٰی وَاَنَا سَأَلْتُہٗ۔ حَدَّثَنِیُ النُّعْمَانُ بْنُ الْھَارُوْنَ الْبَلَدِیِّ بِبَلَدٍ مِّنْ اَصْلِ کِتَابِہٖ۔ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ الْحَرَّانِیُّ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَیْثَمٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ۔جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا فَمَنْ اَرَادَ الْعِلْمَ فَلْیَاْتِ الْبَابَ۔(۱۲)
(۴)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُوْسٰی نَامُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الرُّوْمِیُّ، نَاشَرِیْکٌ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُھَیْلٍ، عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ عَنِ الصَّنَابِحِیِّ، عَنْ عَلِیٍّ۔ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَنَا دَارُالْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا۔(۱۳)
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ مُنْکَرٌ رَویٰ بَعْضُھُمْ ھٰذَا الْحَدِیثَ عَنْ شُرَیْکٍ وَلَمْ یَذْکُرُوْا فِیْہِ عَنْ الصَّنَابِحِیَّ وَلَانَعْرِفُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ اَحَدٍ مِّنَ الثِّقَاتِ غَیْرَشُرَیْکٍ وَفِیْ الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
حدیثِ غریب اور حدیثِ منکر
غریب، اصطلاحِ علمِ حدیث میں اس روایت کو کہتے ہیں جس کا مدار سند کے کسی مرحلہ میں صرف ایک راوی پر رہ جائے۔ اور منکر اس روایت کو کہتے ہیں جونری غریب ہی نہ ہو بلکہ اس کا راوی بھی ضعیف ہو۔ اس سے معلوم ہوجاتاہے کہ سند کے لحاظ سے ترمذیؒ کی اس روایت کا پایہ کیاہے اور اس پر سارے دین کی بنا رکھ دینا کہاں تک دُرست ہوسکتاہے۔
المستدرک کا معتبر کتبِ احادیث میں مقام
ترمذی کے بعد اس مضمون کی روایات کا سارا دارو مدار حاکم کی مستدرک پر رہ جاتاہے جو بجائے خود ہی حدیث کی معتبر کتابوںمیں شمار نہیں ہوتی۔ اس میں وہ ابنِ عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دوروایتیں مختلف الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔ ابن عبّاس والی روایت کے الفاظ ہیں’’اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا فَمَنْ اَرَادَ الْمَدِیْنَۃَ فَلْیَاْتِ الْبَابَ۔ ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے۔ پس جو شخص شہر میں آنا چاہے وہ اس کے دروازے سے آئے‘‘اور جابر بن عبداللہ والی روایت میں آخری فقرہ یہ ہے : فَمَنْ اَرَادَ الْعِلْمِ فَلْیَاْتِ الْبَاب’’جو علم حاصل کرنا چاہے، اسے دروازے پر آنا چاہیے۔‘‘
حدیثِ مذکور علماء ناقدینِ حدیث کی نظر میں
حاکم نے ان دونوں حدیثوں کے صحیح ہونے کا دعویٰ کیاہے لیکن علمِ حدیث کے بڑے بڑے ناقدین کی رائے میں نہ صرف یہ دونوں، بلکہ اس مضمون کی ساری روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ ابنِ عباس والی روایت کے متعلق حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ صحیح ہونا تو درکنار، یہ تو موضوع ہے۔ اور جابر بن عبداللہ والی روایت پر وہ یہ رائے دیتے ہیں:
اَلْعَجْبُ مِنَ الْحَاکِمِ وَجُرْأَتِہٖ فِی تَصْحِیْحِہٖ ھٰذَا وَاَمْثَالِہٖ مِنَ الْبَوَاطِیْلِ، وَاَحْمَدُ ھٰذَا دَجَّالٌ کَذَّابٌ۔
’’حاکم پر سخت تعجب ہے کہ کس جرأت کے ساتھ وہ (مستدرک کے ذیلی حاشیہ پر ذہبی کی تلخیص ہے وہاں یہ عبارت منقول ہے۔ المستدرک ج۳ ص۱۲۶۔۱۲۷ کے ذیلی حاشیہ پر ذہبی کی یہ رائے ابوالصلت لا واللّٰہ لاثقۃ )ولامامون مرقوم ہے۔
اس روایت اور ایسی ہی دوسری باطل روایتوں کو صحیح کہہ دیتاہے یہ احمدـــــیعنی احمد بن عبداللہ بن یزید الحرّانی جس کی سند سے یہ روایت حاکم نے نقل کی ہیـــــدجّال اور سخت جھوٹا ہے۔‘‘
یحيٰ بن معین اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ لاَاَصْلَ لَہٗ ’’اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے‘‘ بخاریؒ کی رائے ہے اِنَّہٗ منکرٌ، وَلَیْسَ لَہٗ وَجْہٌ صَحِیْحٌ ۔ ’’یہ منکر روایت ہے اور اس کی نقل کا کوئی طریقہ بھی صحیح نہیں ہے‘‘ نووی اور جزری اس کو موضوع کہتے ہیں۔ ابن دقیق العید کے نزدیک بھی یہ ثابت نہیں ہے۔ ابنِ جوزیؒ نے مفصل بحث کرکے یہ ثابت کیاہے کہ اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ والی روایت جتنے طریقوں سے بھی مروی ہوئی ہے سب کے سب موضوع ہیں۔
لائق اعتناء بات
لائقِ غور بات یہ ہے کہ جس حدیث کا سند کے اعتبار سے یہ حال ہو اس پر اتنے بڑے فیصلے کی بنا رکھ دینا کہاں تک درست ہوسکتاہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے دین کے احکام صرف حضرت علیؓکے واسطے سے حاصل کریں گے اور دوسرے صحابہؓ کو حصولِ علم کا ذریعہ سرے سے مانیں گے ہی نہیں؟ ظاہر ہے یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔ قرآن مجید کے بعد ہمارے لیے ہدایت ورہنمائی کا سرچشمہ اگر کوئی ہے تو وہ رسول اللہ ﷺکا اسوۂ حسنہ ہے اور صحابہ کرامؓ وہ ذریعہ ہیں جن کے واسطے سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ حضور ﷺنے زندگی کے مختلف حالات میں کیا رہنمائی فرمائی ہے۔ اب اگر ہم اس حدیث پر اعتماد کرکے اس علم کے لیے صرف ایک سیّدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر انحصار کرلیں تو لامحالہ ہمیں علم کے اس بڑے حصے سے محروم ہونا پڑے گا جو دوسرے صحابہ کے ذریعے سے منقول ہوا ہے۔ کیا عقل یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے حضور ﷺ کاارشاد ہم کو اس حدیث کی بہ نسبت بہت زیادہ قوی اور مستند ومعتبر ذریعہ سے پہنچنا چاہیے تھا؟ بلکہ اسے تو بہت سی صحیح اور مضبوط سندوں سے مروی ہونا چاہیے تھا، یہاں تک کہ اس کی صحت میںکسی شک کی گنجایش باقی نہ رہتی؟
ظاہری الفاظ سے مترشح مفہوم لینے کی قباحت
اب دیکھیے کہ اگر اس حدیث کا وہی مفہوم لیا جائے جو اس کے ظاہر الفاظ سے مترشح ہوتاہے تو وہ نبی ﷺ کے بہ کثرت ارشادات سے اور آپؐ کی زندگی بھر کے عمل سے کس طرح ٹکراتاہے۔ حضور ﷺ نے بہت سے صحابہؓ کو اپنی حیاتِ طیبہ میں فوج کا افسر بنا کر مہمّات پر بھیجا۔مملکتِ اسلامیہ کے مختلف علاقوں پر عامل مقرر کیا۔ تحصیل صدقات کے منصب پر مامور کیا۔ نماز پڑھانے کی خدمت سپرد کی۔ تعلیم اور تبلیغ کے لیے اطراف ونواحی میں روانہ فرمایا۔ یہ تاریخی حقائق ہیں جن سے انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب خدمات کیا علمِ دین کے بغیر ہی انجام دی جاتی تھیں؟ یا یہ سارے صحابہ رسول اللہ ﷺ کے نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے؟ اگر یہ دونوں باتیں غلط ہیں تو پھر صحیح بات صرف یہی ہوسکتی ہے کہ ان صحابہؓ نے ’’مدینۃ العلم‘‘ یا ’’دار الحکمۃ‘‘ سے براہِ راست علم وحکمت کی تعلیم حاصل کی تھی اور یہ سب بھی حضرت علیؓ کی طرح شہر علم اور دارِ حکمت کے دروازے تھے۔
پھر جس شخص نے بھی سیرتِ پاک کا کبھی مطالعہ کیا ہے وہ جانتاہے کہ نبوّت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعدسے حیاتِ دنیوی کی آخری ساعت تک حضورؐ براہ راست خود دین کی تعلیم وتبلیغ فرماتے رہے اور جو لوگ بھی دین کے متعلّق کچھ پوچھنا چاہتے تھے، وہ بلاواسطہ حضور ﷺہی سے پوچھتے اور جواب حاصل کرتے رہے۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ حضور ﷺکو خدا کی طرف سے جو احکام پہنچے ہوں وہ آپؐ نے صرف حضرت علیؓ کو بتائے ہوں اور دنیا تک انہیں پہنچانے کی خدمت تنہا حضرت علیؓنے انجام دی ہو؟یا کوئی شخص حضور ﷺ سے دین کی کوئی بات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہو اور آپؐ نے فرمایا ہوکہ علیؓ سے جاکر پوچھو، یا علیؓ کے توسط سے میرے پاس آؤ؟ اگر نبوّت کی ۲۳سالہ زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تو آخر اس قول کا کیا مطلب ہوسکتاہے کہ مدینۃ العلم کا صرف ایک دروازہ ہے اور وہ حضرت علیؓ ہیں؟
خود حاکم جنہوں نے اس حدیث کو بڑے زور سے صحیح قراردیاہے، اپنی مستدرک میں ہزاروں حدیثیں دوسرے صحابہؓ سے نقل کرتے ہیں، اور ان میں سے بہ کثرت احادیث ایسی ہیں جن کی ہم معنی کوئی حدیث حضرت علیؓ سے ان کی کتاب میں منقول نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حاکم کے نزدیک یہ حدیث صحیح تھی اور مدینۃ العلم تک پہنچنے کا دروازہ صرف ایک ہی تھا تو یہ دوسرے بہت سے دروازے کہاں سے پیدا ہوگئے اور وہ کیوں اُن پر گئے؟
حضرت علیؓ کا اپنا دعویٰ بھی یہ نہیں تھا کہ انہیں حضورؐ نے کوئی ایسا علم دیا تھا جو دوسروں کو نہ دیا ہو۔ بخاری، مسلم، اور مسنداحمد میں صحیح سندوں کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ حضرت علیؓ نے باربار برسرِ عام ان لوگوں کے خیال کی تردید فرمائی تھی جو ایسا سمجھتے تھے۔ آپ نے اپنی تلوارکے پَرتلے سے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر لوگوں کو دکھادیا تھا کہ اس کے سوا کوئی خاص چیز ایسی نہیں ہے جو میں نے حضورؐسے سُن کر ثبت کی ہو۔ اور اُس پُرزے میں صرف چار پانچ فقہی احکام تھے۔ مسند احمد میں ۱۳ مختلف سندوں سے حضرت علیؓکا یہ ارشاد منقول ہوا ہے۔ان سب روایتوں کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتاہے کہ حضرت ممدوح نے متعدد موقع پر عوام کی اس غلط فہمی کو خود رفع فرمایا تھا کہ نبی ﷺاپنے داماد کو راز میں دین کے کچھ اسرار تعلیم فرماگئے ہیں، جو دوسروں کو آپ نے نہیں بتائے۔ بہت سے لوگوں نے آنجناب کی اپنی زبان سے اس باطل خیال کی تردید سُنی۔ اور یہ تردید اتنی مختلف سندوں سے محدثین کو پہنچی کہ اس کی صحت میں مشکل ہی سے شک کیا جاسکتاہے .(ملاحظہ ہو مسند احمد (مطبوع دارالمعارف مصر) احادیث نمبر ۵۹۹،۶۱۵،۷۸۲،۷۹۸،۸۵۸، ۸۷۴،۶۵۴، ۹۵۹،۹۶۲، ۹۹۳،۱۰۳۷،۱۲۹۷،۱۳۰۶۔)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: اَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ھَلْ عِنْدَکُمْ کِتَابٌ؟ قَالَ:لَا،اِلاَّ کِتَابُ اللّٰہِ اَوْفَھْمٌ اُعْطِیَہٗ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اَوْمَافِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ، قَالَ قُلْتُ:وَمَافِی ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ؟ قَالَ الْعَقْلُ وَفِکَاکُ الْاَسِیْرِ۔ وَلاَیُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ۔(۱۴)
ترجمہ: حضرت ابوجحیفہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیاکہ آیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ (یعنی لکھی ہوئی کوئی چیز ہے) انہوں نے جواب دیا کہ کتاب اللہ کے سوا ہمارے پاس تو اور کوئی کتاب نہیں ہے یا پھر وہ فہم ہے جو ایک مسلمان کو عطا کیا جاتاہے یا پھر یہ صحیفہ ہے۔ میں نے عرض کیا یہ صحیفہ کیسا ہے؟ انہوں نے بتایاکہ اس میں دیت کا ضابطہ اور قیدیوں کی رہائی کے چند احکام ہیں۔ نیز یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے۔
۱۳۰۔اس کے بعد جب ہم ان بہت سی احادیث کو دیکھتے ہیں جو دوسرے صحابہؓ کے متعلق نبی ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں تو صاف نظر آتاہے کہ یہ حدیث ان سب کے خلاف ہے۔ مسنداحمد اور ترمذی کی روایت ہے کہ حضورؐ نے زید بن ثابتؓ کے متعلق فرمایا اَفْرَضُھُمْ ’’یعنی صحابہ میں علم میراث کے وہ سب سے بڑے ماہر ہیں۔‘‘ معاذؓ بن جبل کے متعلق فرمایا اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ۔ ’’حلال وحرام کو وہ سب سے زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ اُبیّ بن کعب کے متعلق فرمایا اَقْرَؤُھُمْ۔ ’’قرآن کے سب سے بڑے قاری ہیں ۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَاسُفْیَانُ بْنُ وَکِیْعٍ،نَاحُمَیْدُبْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ،عَنْ دَاؤدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَبُوْبَکْرٍ وَاَشَدُّھُمْ فِیْ اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرُوَاَصْدَقُھُمْ حَیَائً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَاَعْلَمُھُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَاَفْرَضُھُمْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَاَقْرَؤُھُمْ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَمِیْنٌ وَاَمِیْنُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اَبُوْعُبَیْدَۃُ بْنُ الْجَرَّاحِ۔(۱۵)
ھَذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَانَعْرِفُہٗ مِنْ حَدِیْثِ قَتَادَۃَ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَقَدْ رَوَاہُ اَبُوْقِلَابَۃَ عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ نَحْوَہُ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’میری امت کا سب سے زیادہ رحم ومہربانی کرنے والا شخص ابوبکرؓ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت آدمی عمرؓ ہے اور سب سے زیادہ شرم وحیا کرنے والا عثمانؓ ہے اور حلال وحرام کو سب سے زیادہ جاننے والا معاذؓ بن جبل ہے اور علم میراث کے سب سے بڑے ماہر زیدؓ بن ثابت ہیں اور قرآن پاک کے سب سے بڑے قاری اُبی بن کعب ہیں اور ہر امت میں ایک امین ہے۔ اس امت کا امین (نہایت امانتدار) ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔‘‘
۱۳۱۔ مسند احمد میں خود حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَوْکُنْتُ مُؤَمِّرًا اَحَدًا مِنْ اُمَّتِیْ مِنْ غَیْرِمَشْوَرَۃٍ لَاَمَّرْتُ عَلَیْھِمِ ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ۔ ’’اگر میں اپنی امّت میں سے کسی کو بلامشورہ امیر بنانے والا ہوا تو ابن اُمِّ عبد (عبداللہ بن مسعود) کو بناتا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِی ثَنَا اَبُوْسَعِیْدٍ ثَنَا اِسْرَائِیْلُ، ثَنَااَبُوْاِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْقُلْتُ مُؤَمِّرًا اَحَدًا دُوْنَ مَشْوَرَۃِالْمُؤْمِنِیْنَ لَاَمَّرْتُ ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ۔(۱۶)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ۔ عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوِ اسْتَخْلَفْتُ اَحَدًا عَنْ غَیْرِمَشْوَرَۃٍ لاِسْتَخْلَفْتُ ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ۔(۱۷)
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُوْسَی بْنُ دَاوٗدَ، ثَنَا زُھَیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ الْاَعْوَرِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْکُنْتُ مُؤَمِّرًا اَحَدًا مِّنْ اُمَّتِیْ مِنْ غَیْرِمَشْوَرَۃٍ لَاَمَّرْتُ عَلَیْھِمُ ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ۔(۱۸)
۱۳۲۔ ترمذی میں حضرت حُذیفہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: لَا اَدْرِیْ مَابَقَائِیْ فِیْکُمْ، فَاقْتَدُوْا بِالَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِیْ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ۔
’’ میں نہیں جانتا کہ میں کب تک تمہارے درمیان رہوں گا۔ تم میرے بعد ان دوآدمیوں کی پیروی کرنا، ابوبکرؓ اور عمرؓ کی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَاسَعِیْدُ بْنُ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدِ نِالْاَمَرِیُّ، نَاوَکِیْع عَنْ سَالِمٍ اَبِی الْعَلاَئِ الْمُرَارِیِّ عَنْ عَمْرِوبْنِ ھَرَمٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ:کُنَّاجَلُوْسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنِّیْ لاَ اَدْرِیْ مَابَقَائِیْ فِیْکُمْ، فَاقْتَدُوْا بِالَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِیْ وَاَشَارَ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔(۱۹)
۱۳۳۔حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا: مَامِنْ نَبِیٍّ اِلاَّ وَلَہٗ وَزِیرَانِ مِنْ اَھْلِ السَّمَائِ وَوَزِیْرَانِ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ۔فَاَمَّا وَزِیْرَایَ مِنْ اَھْلِ السَّمَائِ فَجِبْرِیْلُ وَمِیْکَائِیْلُ وَاَمَّا وَزِیرَایَ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ فَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ۔
’’ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دووزیر زمین والوں میں سے ہوئے ہیں۔ میرے آسمانی وزیر جبریلؑ ومیکائیلؑ ہیں اور زمینی وزیرابوبکرؓ اور عمرؓ۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْسَعِیْدِ الْاَشَجُّ، نَاتَلِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ اَبِیْ الْجَحَّافِ عَنْ عَطِیَّۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَامِنْ نَبِیٍّ اِلاَّوَلَہٗ وَزِیْرَانِ مِنْ اَھْلِ السَّمَآئِ وَوَزِیْرَانِ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ فَاَمَّا وَزِیْرَایَ مِنْ اَھْلِ السَّمَآئِ فَجِبْرَئِیْلُ وَمَیْکَائِیْلُ وَاَمَّا وَزِیرَایَ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ فَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ۔(۲۰)
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَاَبُوالْجَحَّافِ اِسْمُہٗ دَاؤُدُ بْنُ اَبِیْ عَوْفٍ وَیَرْوِیْ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ قَالَ نَا اَبُوالْجَحَّافِ وَکَانَ مَرَضِیًّا۔
۱۳۴۔ ترمذی میں عقبہؓ بن عامر کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ۔’’ اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیْبٍ، نَاالْمُقْرِیُٔ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ ھَاعَانٍ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْکَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ۔(۲۱)
ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ لاَنَعْرِفُہٗ اِلاَّمِنْ حَدِیْثِ مِشْرَحِ بْنِ ھَاعَانَ۔
۱۳۵۔ بخاری ومسلم میں حضرت سعد بن ابی وقّاص روایت کرتے ہیں کہ سرکارؐ نے حضرت عمرؓ کو خطاب کرکے فرمایا: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَالَقِیْکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ اِلاَّسَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔ ’’خطّاب کے بیٹے! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، جس راستے پر بھی شیطان کی تجھ سے مڈبھیڑ ہوجاتی ہے، اس کو چھوڑ کر وہ کسی ایسے راستے پر چلاجاتاہے جہاں تو اس کے سامنے نہ ہو۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍح وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، ثَنَا یَعْقُوْبُ ابْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا اَبِیْ عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَخْبَرَنِیْ عَبْدُالْحَمِیْدِ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ ابْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ اَخْبَرَہٗ اَنَّ اَبَاہُ قَالَ: اسْتَاْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺوَعِنْدَہٗ نِسْوَۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ یُکَلِّمْنَہٗ وَیَسْتَکْثِرْنَہٗ عَالِیَۃً اَصْوَاتَھُنَّ عَلٰی صَوْتِہٖ فَلَمَّا اسْتَاذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَاَذِنَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ:اَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ عَجِبْتُ مِنْ ھٰٓؤُلَآئِ اللاَّتِیْ کُنَّ عِنْدِیْ فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ فَقَالَ عُمَرُ: فَاَنْتَ اَحَقُّ اَنْ یَّھَبْنَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ:یَاعَدُوَاتِ اَنْفُسِھِنَّ أَتَھَبْنَنِیْ وَلاَتَھَبْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْنَ: نَعَمْ، اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِیْہٍ یَاابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَالَقِیْکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ اِلاَّسَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص کے بیٹے نے بیان کیا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ عمر بن خطاب نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی۔ اس وقت حضور کی خدمت میں قریش کی کچھ خواتین حاضر تھیں اور آپؐ سے بے تکلّف باتیں کررہی تھیں اور ان کی آوازیں حضورؐ کی آوازسے بلند سنائی دیتی تھیں۔ حضرت عمرؓ کو آپؐ نے اندرآنے کی اجازت دے دی اور جونہی وہ اندر داخل ہوئے ان خواتین نے دوڑ کر اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیں۔ حضورؐ نے یہ صورت حال دیکھ کر ہنس دیے۔ حضرت عمرؓنے عرض کیا کہ خداکرے آپ ہمیشہ ہنستے مسکراتے ہی رہیں۔ نبی ﷺنے فرمایا۔ ’’یہ میرے پاس جو قریش کی عورتیں بیٹھی تھیں میں ان کی حرکت پر حیران ہوں جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً پردہ کرنے کے لیے لپکیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: یا رسول اللہ ﷺ آپؐ اس کا زیا دہ حق رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے ڈریں۔اس کے بعد عمرؓ نے روئے سخن ان کی طرف کرکے فرمایا:’’اپنی جان کی دشمنو! کیا مجھ سے ڈرتی ہو، اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈرتیں۔‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ہاںہم تم سے ڈرتی ہیں کیونکہ تم رسول اللہ ﷺ کی بہ نسبت سخت کلام اور سخت گیر آدمی ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے خطاب کے بیٹے! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جس راستے میں بھی شیطان کی تجھ سے مڈ بھیڑہوجاتی ہے، اس کو چھوڑ کر وہ کسی ایسے راستے پر چلاجاتاہے جہاں تو اس کے سامنے نہ ہو۔‘‘
۱۳۶۔ابوداؤد میں حضرت ابوذرؓ نبی ﷺ کا ارشاد روایت کرتے ہیں کہ: اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یَقُوْلُ بِہٖ۔
’’اللہ نے حق عمرؓ کی زبان پر رکھ دیاہے۔ اسی کے مطابق وہ بات کرتاہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ،ثَنَا زُھَیْرٌ، ثَنَامُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنْ مَکْحُوْلٍ،عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَرْثِ۔عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یَقُوْلُ بِہٖ۔(۲۳)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سناہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق عمرؓ کی زبان پر رکھ دیاہے، اسی کے مطابق وہ بات کرتاہے۔
(۲) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ خَالِدٍ،ثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَائِذٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُ، ثَنَا عِیْسَی ابْنُ یُونُسَ، حَدَّثَنِیْ فِیْمَا حَدَّثَنَا ابْنُ لِعَدِیِّ بْنِ عَدِیٍّ الْکِنْدِیُّ، اَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ کَتَبَ:اِنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَیْئِ فَھُوَ مَاحَکَمَ فِیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَرَاٰہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَدْلاً مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ جَعَلَ اللّٰہُ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖالخ۔(۲۴)
ترجمہ: عمر بن عبدالعزیز نے (اپنے کسی عامل کو لکھا) کہ جو فئے کے مصارف کے بارے میں پوچھے تو اسے حضرت عمربن الخطابؓ کے فیصلوں سے آگاہ کردیا جائے کیونکہ حضرت عمرؓ کے بارے میں اہلِ ایمان لوگوں کی رائے یہ ہے کہ وہ عدل وانصاف کرنے والے اور کتاب وسنت کے موافق فیصلہ کرنے والے ہیں۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں’’اللہ تعالیٰ نے حق عمر بن خطاب کی زبان اور اس کے دل میں رکھ دیاہے۔‘‘
۱۳۷۔ بخاری ومسلم میں ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضورؐ نے فرمایا: رات میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور وہ چھوٹے بڑے کرتے پہنے ہوئے ہیں۔ کسی کا کُرتا سینے تک ہے، کسی کا زیادہ نیچے تک، اور عمرؓ میرے سامنے پیش کیے گئے تو ان کا کُرتا زمین پر گھسٹ رہاتھا۔ حاضرین نے پوچھاکہ پھر حضور ﷺنے اس کی کیا تاویل فرمائی؟ ارشاد ہوا کہ کُرتے سے مُراد دین ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَایَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ، ثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ بْنِ شِھَابٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبُوْاُمَامَۃَ بْنُ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:بَیْنَ اَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ النَّاسَ عُرِضُوْا عَلَیَّ وَعَلَیْھِمْ قُمُصٌ فَمِنْھَا مَایَبْلُغُ الثُّدِیَّ، وَمِنْھَا مَایَبْلُغُ دُوْنَ ذٰلِکَ وَعُرِضَ عَلَیَّ عُمَرُوَعَلَیْہِ قَمِیْصٌ اجْتَرَّہٗ قَالُوْا: فَمَا اَوَّلْتَہٗ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: اَلدِّیْنَ۔(۲۵)
مسلم نے عُرِضُوْا عَلَیَّ کی جگہ یعرضون علی اور عُرِضَ عَلَیَّ عمر کی جگہ مَرَّعمربن الخطاب وعلیہ قمیص یجرّہنقل کیاہے۔
یہ روایات تو دوسرے صحابہؓ کی ہیں۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو نہایت صحیح اور معتبر روایتیں کتب حدیث میں واردہوئی ہیں وہ ملاحظہ ہوں:
۱۳۸۔ بخاری میں حضرت علیؓ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد سے پوچھاکہ نبی ﷺ کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ فرمایا، ابوبکرؓ۔میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟ فرمایاعمرؓ۔ اس کے بعد مجھے اندیشہ ہوا کہ میں پھر یہی سوال کروں گا تو کہہ دیں گے عثمانؓ۔ اس لیے میں نے پوچھا، ان کے بعد کیا آپ ہیں؟ فرمایا : مَااَنَا اِلاَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ ’’میں کچھ نہیں ہوں مگر بس مسلمانوں میں سے ایک آدمی۔‘‘ یہ جواب ٹھیک اس بلند اور پاکیزہ سیرت کے مطابق ہے جو سیدنا علی ؓکی تھی۔ اُن جیسے عالی ظرف انسان کا یہی مقام تھا کہ اپنے مرتبے کی فضیلت بیان کرنے سے اجتناب فرماتے اور اپنی ذات کو عام مسلمانوں کی صف ہی میں رکھتے۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَنَا سُفْیَانَ، ثَنَا جَامِعُ بْنُ اَبِیْ رَاشِدٍ، ثَنَا اَبُوْیَعْلٰی عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِیَّۃِ، قَالَ:قُلْتُ لِاَبِی اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ بَعْدَ النَّبِیِّ ﷺ؟ قَالَ:اَبُوْبَکْرٍ۔ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ۔ وَخَشِیْتُ اَنْ یَّقُوْلَ عُثْمَانُ قُلْتُ: ثُمَّ اَنْتَ؟ قَالَ:مَااَنَا اِلاَّرَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(۲۶)
۱۳۹۔ مُسند احمدمیں امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ (اور یہ روایت ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے) ان کے والد سیدنا علی ؓ نے بیان کیا:کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَاَقْبَلَ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ یَا عَلِیُّ ھٰذَانِ سَیَّدَا کَھُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَشَبَابِھَا بَعْدَ النَّبِیِّیْنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔’’میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ابوبکرؓ اور عمرؓ سامنے سے آتے نظر آئے۔ حضورؐ نے مجھ سے فرمایا: اے علیؓ! یہ دونوں پیغمبروں کے بعدتمام سن رسیدہ اور جوان اہلِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘ ( مسند احمد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ الْوَاسِطِیُّ، ثَنَا عَمْرُوبْنُ یُوْنُسَ یَعْنِیَ الْیَمَامِیْ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ الْیَمَامِیِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَسَنٍ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ اَبِیْہ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَاَقْبَلَ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا فَقَالَ:یَا عَلِیُّ ھٰذَانِ سَیَّدَا کَھُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَشَبَابِھَا بَعْدَ النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔(۲۷)
ترمذی نے بروایت حارث عن علی مندرجہ ذیل الفاظ بیان کیے ہیں:
(۲) عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ سَیِّدَا کَھُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ مَاخَلاَ النَّبِیِیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ لاَتُخْبِرْھُمَا یَا عَلِیُّ۔(۲۸)
ایک روایت میں مَاخَلاَکی جگہ اِلاَّ بھی آیاہے۔
ابن ماجہ نے لاَتُخْبِرْھُمَا یَا عَلِیُّ کے ساتھ مَادَامَا حَیَّیْنِ بھی نقل کیاہے۔
۱۴۰۔ ایک اور حدیث جو مُسند احمد، بزّار اور طبرانی میں حضرت علیؓ سے بسندِ صحیح منقول ہوئی ہے، یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حضورؐ کے بعد کون امیر ہوگا؟ آپؐ نے جواب دیا: اِنْ تُؤَمِّرُوْا اَبَا بَکْرٍ تَجِدُوْہُ اَمِیْنًا زَاھِدًا فِی الدُّنْیَا رَاغِبًا اِلَی الْآخِرَۃِ،وَاِنْ تُؤَمِّرُوْا عُمَرَ تَجِدُوْہُ قَوِیًّااَمِیْنًالاَیَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ، وَاِنْ تُؤَمِّرُوْا عَلِیًّا وَلاَاَرَاکُمْ فَاعِلِیْنَ، تَجِدُوْہُ ھَادِیًا مَھْدِیًّا یَأْخُذُبِکُمُ الطَّرِیْقَ الْمُسْتَقِیْمَ۔’’اگر تم ابوبکرؓ کو امیر بناؤگے تو اسے امین ، دنیا کے معاملہ میں زاہد اور آخرت کی طرف راغب پاؤگے۔ اور اگر عمرؓ کو امیربناؤگے تو اسے طاقتور، امین، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی پروانہ کرنے والا پاؤگے، اور اگر علیؓ کو امیر بناؤگے، اور میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کروگے تو اسے ہادی ومہدی پاؤگے۔ جو تم کو سیدھے راستے پر چلائے گا۔‘‘ (مسند احمد )
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبیْ، ثَنَا اَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالْحَمِیْدِ بْنُ اَبِیْ جَعْفَرٍ یَعْنِی الْفَرَّائَ عَنْ اِسْرَائِیْلَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ یَشِیْعَ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قِیْلَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ یُؤَمَّرُ بَعْدَکَ؟ قَالَ: اِنْ تُؤَمِّرُوْا اَبَابَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَجِدُوْہُ اَمِیْنًا زَاھِدًا فِی الدُّنْیَا رَاغِبًا فِی الْآخِرَۃِ، وَاِنْ تُؤَمِّرُوْا عُمَرَ تَجِدُوْہُ قَوِیًّا اَمِیْنًا لاَیَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ، وَاِنْ تُؤَمِّرُوْا عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَلاَاَرَاکُمْ فَاعِلِیْنَ تَجِدُوْہُ ھَادِیًا مَھْدِیًّا یَأْخُذُبِکُمُ الطَّرِیْقَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ (۲۹)
۱۴۱۔ اسی مُسنداحمد میں ۲۶ صحیح سندوں سے یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت علیؓ نے ایک تقریر میں برسرِ منبر صاف صاف فرمایاکہ نبی ﷺکے بعد امّت کے بہترین آدمی ابوبکرؓ ہیں اور ان کے بعد عمرؓ۔ ان روایات میں سے اکثر کے تمام راوی ثقہ ہیں اور کسی پر کوئی جرح نہیں ہے۔۲۳ روایتیں فنِ حدیث کے لحاظ سے صحیح اور ۲ حسن ہیں۔ صرف ایک ضعیف ہے۔ ان میں سے ۱۲کے راوی حضرت ابوجحیفہ صحابی ہیں جو حضرت علیؓ کے دورِ حکومت میں پولیس اور بیت المال کے افسر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے دورانِ تقریر میں سوال کیاکہ جانتے ہو، نبی ﷺ کے بعد اس امّت کا سب سے بہتر انسان کون ہے؟ میں نے عرض کیا: امیرالمؤمنین آپ ہیں۔ فرمایا: نہیں حضور ﷺکے بعداس امت کے بہترین انسان ابوبکر ؓ ہیں اور ان کے بعد عمرؓ۔‘‘
ایک اور راوی عبدِ خیر ہمدانی ہیں جن تک ۱۳ روایتوں کا سلسلہ پہنچتاہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے حضرت علیؓ کا یہ ارشاد خود ان کی زبان سے سناہے؟ تو انہوں نے کہا’’ میرے کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے اس کو خود ان کی زبان سے نہ سُنا ہو۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ، ثَنَا مَنْصُوْرُ بْنُ اَبِیْ مُزَاحِمٍ ثَنَا خَالِدُ بْنُ الذَّیَّاتِ۔حَدَّثَنِیْ عَوْنُ بْنُ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ، قَالَ:کَانَ اَبِیْ مِنْ شُرْطٍ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ وَکَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ فَحَدَّثَنِیْ اَبِیْ اَنَّہٗ صَعِدَالْمِنْبَرَ یعنی عَلِیًّا فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَصَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ ﷺ وَقَالَ: خَیْرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا اَبُوْبَکْرٍ وَالثَّانِیْ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔(۳۰)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِی،ثَنَااِسْمَاعِیْلُ بْن اِبْرَاھِیْمَ، اَنْبَانَا مَنْصُوْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ یعنی الغدانی الاشل عَنِ الشَّعْبِیِّ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْجُحَیْفَۃَ الَّذِیْ کَانَ عَلِیٌّ یُسَمَّیْہِ وَھْبَ الْخَیْرِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ یَااَبَا جُحَیْفَۃَ! اَلاَاُخِبْرُکَ بِاَفْضَلِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا؟ قَالَ: قُلْتُ:بَلٰی، قَالَ: وَلَمْ اَکُنْ اَرَی اَنَّ اَحَدًا اَفْضَلُ مِنْہُ قَالَ اَفْضَلُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا اَبُوْبَکْرٍ وَبَعْدَ اَبِیْ بَکْرٍ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَبَعْدَھُمَا اٰخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ یُسَمِّہٖ۔(۳۱)
ترجمہ : حضرت علیؓ نے فرمایا۔ ’’اے ابا جحیفہ! کیا میںتجھے نبی ﷺکے بعد اس امت کا سب سے بہترین آدمی نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کیا ہاں ضرور بتائیں، تو انہوں نے فرمایا مجھے ان سے افضل آدمی نظر نہیں آیا۔ فرمایا: اس امت کے نبی یعنی نبی ﷺکے بعد اس امت کا افضل آدمی ابوبکرؓ ہیں۔ اور ابوبکرؓ کے بعد عمرؓ ہیں اور ان دونوں کے علاوہ ایک اور تیسرا ہے۔ اس کا انہوں نے نام نہیں لیا۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْصَالِحٍ ھَدْیَۃُ بْنُ عَبْدِ الْوَھَّابِ بِمَکَّۃَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِالطَّنَافَسِیُّ، ثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْبَجَلِیُّ عَنِ الشَّعْبِیّ، عَنْ وَھْبِ السُّوَالِیٓ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ مَنْ خَیْرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا؟ فَقُلْتُ: اَنْتَ یَااَمِیْرَ المُؤْمِنِیْنَ قَالَ: لاَ، خَیْرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا اَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَمَا نُبْعِدُ اَنَّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔(۳۲)
ترجمہ : حضرت وہب سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے خطاب فرمایا اور پوچھا کہ نبی (رسول اللہ ﷺ) کے بعد اس امت کا سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ تو میں نے جواب میں عرض کیاآپ ہی ہیں اے امیر المومنین! فرمایانہیں، نبی ﷺ کے بعد اس امت کا بہترین آدمی ابوبکرؓ پھر عمرؓہیں۔ ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکینت عمرؓ کی زبان سے بولتی ہو۔
ـــــــایک روایت میںاَفْضَلُ ھٰذِہٖ الْاُمَّۃِکے الفاظ ہیں۔
۱۴۲۔ایک اور راوی ابراہیم نَخَعی ہیں جو کہتے ہیں کہ علقمہ نے کوفے کی مسجد کے منبر پر ہاتھ مار کر کہا کہ اس منبر پر میں نے حضرت علیؓ کو خطبے میں یہ فرماتے سُنا ہے کہ خَیْرُ النَّاسِ کَانَ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ۔( ان روایات کے لیے ملاحظہ ہو مسند احمد، احادیث نمبر ۸۳۳ تا ۸۳۷۔۸۷۱،۸۷۸ تا۸۸۰،۹۰۹،۹۲۲، ۹۳۲ تا ۹۳۴،۱۰۳۰ تا۱۰۳۲، ۰۴۰ ۱،۱۰۵۱،۱۰۵۲، ۱۰۵۴، ۱۰۵۵، ۱۰۵۹، ۱۰۶۰۔)
۱۴۳۔بیہقی اور مسند احمد میں حضرت علیؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ مَاکُنَّا نُبْعِدُ اَنَّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ۔ ’’ہم لوگ اس بات کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکینت عمرؓ کی زبان سے بولتی ہو۔‘‘
۱۴۴۔بخاری ومسلم اور مسند احمد میں ابن ِ عباس کی روایت ہے کہ جب حضرت عمرؓ کا انتقال ہوگیااور آپ کو غسل دینے کے لیے تختے پر لاکر رکھاگیاتو چاروں طرف لوگ کھڑے ہوئے ان کے حق میں دعائے خیر کررہے تھے۔ اتنے میں ایک شخص پیچھے سے میرے شانے پر کہنی ٹیک کر جھکا اور کہنے لگا:’’اللہ تم پر رحمت فرمائے، تمہارے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کے متعلق میرے دل میں یہ تمنّا ہوکہ میں اس کا سا نامۂ اعمال لے کر اپنے اللہ کے حضور حاضرہوں۔ میں امید رکھتاہوں کہ اللہ تم کو ضرور اپنے دونوں رفیقوں( رسول اکرم ﷺاور ابوبکر صدیق ؓ) کے ساتھ ہی رکھے گا کیونکہ میں اکثر حضور ﷺکو یوں فرماتے سنا کرتاتھا کہ فلاں جگہ میں اور ابوبکرؓ وعمرؓ تھے۔ فلاں کام میں نے اور ابوبکرؓ وعمرؓ نے کیا۔ فلاں جگہ میں اور ابوبکرؓ وعمرؓ گئے۔ فلاں جگہ سے میں اور ابوبکرؓوعمرؓ نکلے۔ابنِ عباس کہتے ہیں کہ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ علیؓ بن ابی طالب تھے۔
تشریح : اب غورطلب بات یہ ہے کہ اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ اگر صحیح ہے اور وہی کچھ اس کا مطلب ہے جو اس سے لیاجاتاہے تو آخر اتنی کثیر التعداد احادیث کے متعلق کیا کہاجائے گا جو دوسرے صحابہ کرام کے متعلق اس سے بہت زیادہ قوی اور معتبر سندوں کے ساتھ وارد ہوئی ہیں؟ کس دلیل سے اس کمزوراور نہایت مشتبہ سند کی حدیث کے مقابلے میں ان سب کو جھٹلایا جائے گا؟ اور اگر انہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا تو ان کی کیا ایسی تاویل کی جائے گی جس سے حضرت علیؓ مدینۃ العلم کے بابِ واحد بھی رہیں اور پھر دوسرے صحابہ کے متعلق نبی ﷺکے اور خودعلیؓ کے یہ ارشادات بھی سچّے قرارپائیں؟ میں عرض کرتاہوں کہ اوّل تو سیّدنا علی کرّم اللہ وجہہ کی شان میں صحیح اور معتبر حدیثوں کی کمی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ ایک ایسی حدیث ان کے حق میں لانے کی کوشش کی جائے جو سند کے لحاظ سے ضعیف کے مرتبے سے بھی گری ہوئی ہے۔ تاہم اگر کسی کو اس کی صحت پر اصرار ہی ہوتو اس کا یہ حصّہ بالکل غلط ہے کہ ’’جس کو اس شہر میں آناہو وہ اس دروازے سے آئے۔‘‘ کیونکہ یہ حضورؐکے بہت سے ارشادات اور آپؐ کی زندگی بھرکے عمل کے خلاف ہے اور حضرت علیؓ کے اپنے ارشادات سے بھی ٹکراتاہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کے پہلے حصے یعنی اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا کو صحیح مانا جاسکتاہے اور وہ بھی اس معنی میں نہیں کہ اس شہر کا صرف ایک ہی دروازہ ہے اور وہ علیؓ ہے، بلکہ اس معنی میں کہ اس شہر کے دروازوں میں سے ایک دروازہ علیؓ ہے۔ یہ معنی حق بھی ہیں اور حضورؐکے دوسرے اقوال اور آپؐ کے عمل سے مطابقت بھی رکھتے ہیں۔ (رسائل ومسائل سوم، چند مزید اعتراضات : حدیث اَنَا۔۔۔)
تخریج : حَدَّثَنَاالْوَلِیْدُ بْنُ صَالِحٍ،ثَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ،ثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ حُسَیْنٍ الْمَکِّیُّ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنِّیْ لَوَاقِفٌ فِیْ قَوْمٍ فَدَعَوَا اللّٰہَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْوُضِعَ عَلٰی سَرِیْرِہٖ اِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ قَدْوَضَعَ مِرْفَقَہٗ عَلٰی مَنْکِبِیْ یَقُوْلُ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ اَنْ کُنْتُ لَاَرْجُوْ اَنْ یَجْعَلَکَ اللّٰہُ مَعَ صَاحِبَیْکَ لَاَنِّیْ کَثِیْرًا مَاکُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ کُنْتُ وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَاَنْ کُنْتُ لَاَرْجُوْ اَنْ یَّجْعَلَکَ اللّٰہُ مَعَھُمَا فَاَلْتَفَتُّ فَاِذَا عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍ۔(۳۳)
واقعۂ قرطاس کی تحقیق
۱۴۵۔ ذَرُوْنِیْ فَالَّذِیْ اَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِمَّا تَدْعُوْنِیْ اِلَیْہِ۔ قُوْمُوْا عَنِّیْ وَلاَیَنْبَغِیْ عِنْدِی التَّنَازُعُ۔
’’مجھے میرے حال پر چھوڑد و، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے پاس جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ مُسْلِمِ نِالْاَحْوَلِ، اَنَّہٗ سَمِعَ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: یَوْمُ الْخَمِیْسِ وَمَایَوْمُ الْخَمِیْسِ؟ ثُمَّ بَکیٰ حَتّٰی بَلَّ دَمْعُہُ الْحَصٰی، قُلْتُ:یَااَبَا عَبَّاسٍ وَمَا یَوْمُ الْخَمِیْسِ؟قَالَ:اشْتَدَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَجَعُہٗ، فَقَالَ:ائْتُوْنِیْ بِکَتْفٍ، اَکْتُبُ لَکُمْ کِتَابًا لاَتَضِلُّوْا بَعْدَہٗ اَبَدًا۔
فَتَنَازَعُوْا وَلاَیَنْبَغِیْ عِنْدَ نَبِیٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوْا: مَالَہٗ اَ ھْجَرَ اِسْتَفْھَمُوْہُ، فَقَالَ:ذَرُوْنِی الَّذِیْ اَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْعُوْنِّیْ اِلَیْہِ (تَدْعُوْنَنِیْ) فَاَمَرَھُمْ بِثَلاَثٍ، فَقَالَ: اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَاَجِیْزُوا الْوَفَدَ بِنَحْوِمِمَّاکُنْتُ اُجِیْزُھُمْ وَالثَّالِثَۃُ، اَمَّااَنْ سَکَتَ عَنْھَا وَاَمَّا اَنْ قَالَھَا فَنَسِیْتُھَا قَالَ سُفْیَانُ:ھٰذَا مِنْ قَوْلِ سُلَیْمَانَ۔(۳۴)
ترجمہ : سعید ابن جبیرؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کو فرماتے سنا: جمعرات کا دن، ہائے جمعرات کا دن! کس قدر مصیبت کا دن ہے۔ یہ کہہ کر آپ اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں سے سنگریزے تر ہوگئے۔ میں نے عرض کیا اے ابوالعباس! یہ جمعرات کے دن کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہاکہ اس دن نبی کریم ﷺ کے مرض نے انتہائی شدت اختیار کرلی تھی اور آپؐ نے فرمایا تھا:کوئی کاغذلاؤ۔میں تم کو ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
آپ کا یہ ارشاد سن کر حاضرین میں باہم اختلاف ہوگیا حالانکہ نبی کریم ﷺکے حضور جھگڑنا مناسب نہیں تھا۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ آپؐ سے پھردریافت کرلو۔ کہیں یہ بات آپؐ نے غلبۂ مرض کی حالت میں گھبراہٹ میں نہ فرمائی ہو۔ اس پر آپؐنے فرمایا: مجھے میرے حال پرچھوڑدو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو، میرے پاس سے اُٹھ جاؤ۔ پھر آپؐ نے تین باتوں کا حکم دیا :(۱) یہ کہ جزیرۃالعرب سے مشرکوں کو نکال دیاجائے۔ (۲) اور مہمانوں کی اس طرح خاطر مدارت کرو جس طرح میں کرتاہوں اورتیسری بات یا تو آپ نے فرمائی نہیں یا فرمائی تو میں بھول گیا۔
تشریح : اس واقعہ کے متعلّق امام بخاریؒ نے کتاب العلم، کتاب الجزیہ اور کتاب المغازی میں، امام مسلم نے کتاب الوصیّۃ میں اور امام احمد نے مسند ابن عباس میں متعدد روایات مختلف سندوں سے نقل کی ہیں جن کا سلسلہ ابنِ عباس ؓ پر تمام ہوتاہے۔ کسی دوسرے صحابی سے اس باب میں کوئی صریح روایت منقول نہیں ہوئی ہے۔ خلاصہ ان سب روایات کا یہ کہ وفات سے چار روز پہلے جمعرات کے دن حضور نبی کریم ﷺ پر مرض کی شدید تکلیف طاری تھی،اور آخری وقت قریب معلوم ہورہاتھا۔ اس حالت میں آپؐ نے حاضرین سے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ اُس وقت گھر میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ اس وقت سخت تکلیف میں ہیں۔ ہمارے پاس قرآن موجود ہے، اللہ کی کتاب ہمارے لیے کافی ہے، اس پر اختلاف ہوگیا۔ بعض لوگوں نے کہا،نہیں، سامانِ کتابت لے آنا چاہیے تاکہ حضورؐ وہ چیز لکھوادیں جس کے بعد ہم گمراہ نہ ہوسکیں۔ اور بعض اصحاب نے حضرت عمرؓ کے خیال کی تائید کی۔ کچھ اور لوگوںنے کہا کہ حضورؐ سے پھر دریافت کرلو، آپ واقعی کچھ لکھوانا چاہتے ہیں یا یہ بات آپؐ نے غلبۂ مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں فرمائی ہے۔(اصل الفاظ ہیں۔ مَاشَاْنُہٗ اَھَجَرَ؟ اِسْتَفْھَمُوْہ بعض لوگوں نے غلطی سے اَھْجَر سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ تمام معتبر روایات میں اَھَجَرآیاہے، یعنی اس میں ہمزہ استفہام کا ہے۔ اور ھَجَرَ یَھْجُرُ کے معنی ہیں وہ باتیں جو مریض غلبۂ مرض کی حالت میں گھبراہٹ کی وجہ سے یا بے حواسی کے عالم میں کرتاہے۔ نیز یہ قول کسی روایت میں بھی حضرت عمرؓ کی طرف منسوب نہیں کیا گیاہے بلکہ قالوا کے ساتھ منقول ہواہے۔ یعنی جولوگ وہاں موجود تھے، ان میں سے بعض نے یہ کہا)۔ اس طرح بعض لوگ آپس میں بحث کرنے لگے۔ اور بعض حضورؐ سے اس کا مدعا پوچھنے میں لگ گئے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا:
ذَرُوْنِیْ فَالَّذِیْ اَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِمَّا تَدْعُوْنِیْ اِلَیْہِ۔ قُوْمُوْا عَنِّیْ وَلاَیَنْبَغِیْ عِنْدِی التَّنَازُعُ۔
’’مجھے میرے حال پر چھوڑدو، میں جس حالت میں ہوں،وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو، میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے پاس جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے تین باتوں کی وصیّت فرمائی۔ ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا۔ دوسرے یہ کہ جووفود باہر سے آئیں ان کی اسی طرح خاطر داری کرنا جس طرح میں کرتاتھا۔ اور تیسری بات یا تو حضورؐ ہی کی زبان سے ادا نہ ہوئی، یا راوی سے فراموش ہوگئی۔ روایات اس باب میں بھی واضح نہیں ہیں کہ ابنِ عباسؓ نے اس کو فراموش کیا یا بیچ کے کسی راوی نے۔
یہ ہے کُل کائنات اس قصّے کی۔اگر کوئی سیدھے طریقے سے یہ بات سمجھنا چاہے تو اصل صورتِ معاملہ کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔ اپنے محبوب ترین پیشوا اور رہبر کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ کر سب لوگوں پر اضطراب کا عالم طاری تھا۔ مرض شدّت پکڑ چکاتھا۔ سب کی آنکھوں کے سامنے حضورؐ سخت کرب کی حالت میں مبتلاتھے۔ ابنِ عباسؓکا اپنا یہ حال تھا کہ اس واقعہ کے سالہا سال بعد ایک روز شاگردوںکے سامنے ان کی زبان پر جمعرات کا لفظ آیا اور یکا یک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ شاگردوں نے پوچھا، جمعرات کا کیا قصّہ ہے جسے یاد کرکے آپ یوں بدحال ہوئے جارہے ہیں۔ فرمایا: ’’وہ دن آنحضرت ﷺ پر سخت تکلیف کا تھا ’’اشتدّ بالنَّبی ﷺ وجعہ‘‘ اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ عین اس وقت جب کہ حضورؐ پر یہ حالت طاری تھی۔ آپؐ کے جاں نثارخادموں پر کیا گزررہی ہوگی۔ اس حالت میں قلم دوات منگوانے کے لیے حضورؐنے ارشاد فرمایا اور غرض یہ بیان فرمائی کہ ایسی کوئی چیز لکھوادیں جس سے اُمّت بعد میں گمراہ نہ ہونے پائے۔ مرض کی شدّت میں ممکن ہے کہ بات صاف بھی زبان مبارک سے ادا نہ ہوئی ہو۔ اسی وجہ سے بعض حاضرین کو شبہ ہوا کہ گھبراہٹ میں آپ نے کچھ فرمادیاہے جسے پھر پوچھ کر تحقیق کرنا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر جو کچھ کہا، اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ حضورؐ اس وقت سخت تکلیف میں مبتلا ہیں، اس حالت میں آپؐ امّت کے لیے فکر مندہورہے ہیںاور کچھ لکھوانے کی زحمت اٹھانا چاہتے ہیں، تاکہ لوگ آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائیں۔ لیکن اس وقت آپ کو یہ زحمت دینی مناسب نہیں ہے۔ امّت کی ہدایت کے لیے قرآن موجود ہے۔ اِن شاء اللہ وہی گمراہی سے بچانے کے لیے کافی ہوگا۔ ممکن ہے اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کو یہ بھی اندیشہ ہوا ہوکہ اگر تحریر لکھواتے لکھواتے حضورؐ کا وقت آن پورا ہوا، اور بات ادھوری رہ گئی تو کہیں وہ اُلٹی فتنے ہی کا موجب نہ بن جائے۔ بہر حال یہ بالکل فطری امر تھا کہ اُس موقع پر کوئی علم اور ہدایت کی حرص میں اس بات کا طالب ہوا کہ حضورؐ سے ضرور کچھ لکھوا لیا جائے، اور کسی نے محبت کی وجہ سے بھی اور دور اندیشی کی بنا پر بھی آپؐ کویہ زحمت دینا مناسب نہ سمجھا، اور کوئی اس شک میں پڑگیا کہ حضورؐ کچھ لکھوانا ہی چاہتے ہیں یا شدّتِ مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں کچھ فرمارہے ہیں۔ ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے کسی کی بات بھی ایسے موقع پر نہ تو خلافِ توقع ہی تھی اور نہ اسے نامناسب کہا جاسکتاہے۔
اب رہ گئی یہ بات کہ حضورؐ جو کچھ لکھوانا چاہتے تھے۔ آیا اس کی نوعیّت عام نصائح کی تھی یا کسی ایسے اہم حکم کی، جسے ثبت کرادینا امّت کی ہدایت کے لیے ضروری تھا، تو اس کا فیصلہ بعد کے واقعات نے خود ہی کردیا۔ حضورؐ اس واقعہ کے بعد بھی چار دن تک زندہ رہے۔ ان دنوںمیں مرض کی شدت کا حال بھی یکساں نہیں رہا۔ اور اس زمانے وہی سب لوگ آپ کے پاس بیٹھے بھی نہیں رہے جو جمعرات کے دن اس وقتِ خاص پر موجود تھے، بلکہ اس مدّت میں آپؐ کومسجدِ نبوی میں تشریف لے جانے اور جماعتِ صحابہ سے خطاب کرنے کا موقع بھی ملاتھا۔ اگر واقعی کوئی اہم حکم ایسا ہوتا جسے ضبطِ تحریرمیں لانا ضروری تھا تو حضورؐ ان دنوں میں کسی وقت بھی اپنے کاتبوںمیں سے یا خود اہل بیت میں سے کسی کو بلاکر لکھواسکتے تھے۔ یا زبانی ارشاد فرماسکتے تھے۔ اس سے حضرت عمرؓکے موقف کی صحّت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ انہوں نے ٹھیک سمجھاتھا کہ شدّتِ مرض میں اُمّت کی فلاح کے لیے حضور ؐ فکر مند ہورہے ہیں اور کچھ نصائح لکھوانا چاہتے ہیں، کسی بنیادی مسئلے کا فیصلہ لکھوانا اس حالت میں پیش نظر نہیں ہے۔ اس لیے اس تکلیف اور کرب کے عالم میں حضورؐ کو یہ زحمت دینا ٹھیک نہیں ، ہمیں قلم دوات لانے کے بجائے حضورؐ کو یہ اطمینان دلانا چاہیے کہ آپ ؐہمارے لیے پریشان نہ ہوں، آپ ؐاپنی امّت کو وہ کتابِ ہدایت دے کر جارہے ہیں جو اِن شاء اللہ اسے کبھی گمراہ نہ ہونے دے گی۔
آخر میں حضرت علی ؓ کی بھی ایک روایت ملاحظہ فرمالی جائے، جسے مُسنداحمد میں نقل کیا گیاہے۔ اس میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا بَکْرُ ابْنُ عِیسٰی الرَّاسِبِیُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَلِیِّ ابْن اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ:اَمَرَنِی النَّبِیُّ ﷺ اَنْ اٰتِیْہِ بِطَبَقٍ یَکْتُبُ فِیْہِ مَالاَتَضِلُّ اُمَّتُہٗ مِنْ بَعْدِہٖ۔ قَالَ: فَخَشِیْتُ اَنْ تَفُوْتَنِیْ نَفْسَہٗ، قَالَ: قُلْتُ اِنِّیْ اَحْفَظُ وَاَعِیْ، قَالَ اُوْصِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکَاۃِ وَمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔ (مسنداحمد)
’’مجھے نبی ﷺنے حکم دیا کہ شانے کی ایک ہڈی لے آؤں، تاکہ آپ ؐ اس میں ایک ایسی چیز لکھ دیں، جس سے آپ ؐکی امّت آپ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائے۔ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے لاتے لاتے آپ ؐکی وفات نہ ہوجائے۔ اس لیے میں نے عرض کیا۔آپ ؐ فرمائیں میں یاد رکھوں گا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا: میں وصیّت کرتاہوں نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرنے کی اور ان غلاموںکے ساتھ حسنِ سلوک کی جو تمہاری مِلک میں ہوں۔ ‘‘ (رسائل ومسائل سوم: ا ختلافی مسائل)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سُلَیْمَانَ الْاَحْوَلِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَوْمَ الْخَمِیْسِ وَمَایَوْمُ الْخَمِیْسِ؟ اشْتَدَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَجَعُہٗ فَقَالَ: ائتُوْنِیْ اَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَہٗ اَبَدًا، فَتَنَازَعُوْا وَلاَیَنْبَغِیْ عِنْدَ نَبِیٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوْا: مَا شَاْنُہٗ اَھَجَرَ اِسْتَفْھَمُوْہُ فَذَھَبُوْا یَرُدُّوْنَ عَلَیْہِ فَقَالَ:دَعُوْنِیْ فَالَّذِی اَنَافِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّاتَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ وَاَوْصَاھُمْ بِثَلاَثٍ قَالَ:اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، وَاَجِیْزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَاکُنْتُ اُجِیْزُھُمْ، وَسَکَتَ عَنِ الثَّالِثَۃِ اَوْقَالَ فَنَسِیْتُھَا۔(۳۵)
ترجمہ : حضرت سعید بن جبیرؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایاکہ ابنِ عباس کی زبان پر جمعرات کا لفظ آیا (پوچھا) جمعرات کا کیا قصّہ ہے؟ (انہوں نے بتایا) کہ اس روز رسول اللہ ﷺ پر سخت تکلیف تھی (اسی حالت میں) فرمایا: ’’لاؤ میرے پاس (قلم دوات) کہ میں تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔‘‘ (اس کا نتیجہ یہ ہوا) کہ سامعین میں تنازعہ پیدا ہوگیا۔ حالانکہ نبی ﷺ کے پاس جھگڑا مناسب نہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ ؐسے ہی دریافت کرلیں کہ یہ بات آپ ؐنے غلبۂ مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں فرمائی ہے۔ اس طرح بعض لوگ حضورﷺسے اس کامدّعا پوچھنے لگے۔ اس موقعہ پر آپ ؐنے فرمایا مجھے میرے حال پر چھوڑدو، میں جس حالت میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو، اورآپ ؐ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا۔دوسرے یہ کہ جو وفودباہر سے آئیں ان کی اسی طرح خاطر داری کرنا جس طرح میں کرتا تھا اور تیسری بات یا تو حضور ہی نے بیان نہ فرمائی یا راوی نے کہا کہ میں بھول گیا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عِنْدَ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّاحُضِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺوَفِی الْبَیْتِ رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ ھَلُمُّوا اَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لاَتَضِلُّوْا بَعْدَہٗ قَالَ بَعْضُھُمْ : اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْ غَلَبَہُ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ الْقُرْاٰنُ حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ، فَاخْتَلَفَ اَھْلُ الْبَیْتِ فَاخْتَصَمُوْا فَمِنْھُمْ مَنْ یَّقُوْلُ قَرِّبُوْا یَکْتُبُ لَکُمْ کِتَابًا لاَتَضِلُّوْا بَعْدَہٗ، وَمِنْھُمْ مَنْ یَقُوْلُ غَیْرَذٰلِکَ فَلَمَّا اَکْثَرُوا اللَّغْوَ وَالْاِخْتِلاَفَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قُوْمُوْا۔ فَکَانَ یَقُوْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنَّ الرَّزِیَّۃَ کُلَّ اارَّزِیَّۃِ مَاحَالَ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَبَیْنَ اَنْ یَّکْتُبَ لَھُمْ ذٰلِکَ الْکِتَابَ لاِِخْتِلاَفِھِمْ وَلَغَطِھِمْ۔(۳۶)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی موت کا وقت قریب تھا، اس وقت گھر میں کچھ لوگ موجودتھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’لاؤ! میں تمہارے لیے ایک ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔‘‘ بعض لوگوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ پر شدتِ درد وتکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور خدا کی کتاب ہی ہمارے لیے کافی ہے۔ گھر والوں یعنی گھر میں موجود لوگوں کی آراء مختلف ہوگئیں جس وجہ سے جھگڑے کی سی صورت پیدا ہوگئی۔ جس کے نتیجہ میں کچھ حضرات کی رائے تھی کہ مطلوب چیز آپؐ کے قریب کردو۔آپؐ ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم لوگ گمراہ نہ ہوگے۔ اور کچھ نے اس کے خلاف رائے دی۔ جب اختلاف رائے کی وجہ سے ہنگامہ کی صورت پیدا ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’سب اٹھ جاؤ‘‘۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ ابنِ عباس کہاکرتے ہیں کہ شدّت مرض کی وجہ سے انتہائی تکلیف تھی۔ اور آپؐ کے کسی تحریر کا نہ لکھوانے کا باعث بھی ان کا اختلاف اور شوروغل ہی تھا۔
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِیِّﷺ وَجَعُہٗ قَالَ: ائْتُوْنِیْ بِکِتَابٍ اَکْتُبُ لَکُمْ کِتَابًا لاَتَضِلُّوْا بَعْدَہٗ، قَالَ عُمَرُ وَاِنَّ النَّبِیَّﷺغَلَبَہُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا کِتَابُ اللّٰہِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوْا وَکَثُرَاللَّغَطُ، قَالَ: قُوْمُوْا عَنِّی وَلاَیَنْبَغِیْ عِنْدِی التَّنَازُعُ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: اِنَّ الرَّزِیَّۃَ کُلَّ الرَّزِیَّۃِ۔ مَاحَالَ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَبَیْنَ کِتَابِہٖ۔(۳۷)
ابوجہل کی بیٹی کو حضرت علی ؓکا پیغامِ نکاح
اس واقعہ کو امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ اور ابوملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس کی تائید حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ نیز ابوحنظلہ اور سوید بن عقلہ کی مرسل روایات بھی اس کی مؤیّد ہیں۔ امام بخاری نے کتاب فرض الخمس، کتاب فضائل اصحاب النبیؐ اور کتاب النکاح میں۔ مسلم نے کتاب فضائل الصحابۃ میں، ابوداؤد نے کتاب النِّکاح میں، ابنِ ماجہ نے بھی کتاب النکاح میں، ترمذی نے کتاب المناقب میں اور حاکم نے کتاب معرفۃ الصحابۃمیں متعدد سندوں سے ان روایات کو نقل کیاہے۔
تفصیل اس قصے کی یہ ہے کہ فتح مکّہ کے بعد جب ابوجہل کا خاندان مسلمان ہوگیا تو حضرت علیؓ نے اس کی بیٹی سے (جس کا نام کسی نے جویریہ ، کسی نے عوراء، اور کسی نے جمیلہ بیان کیا ہے) نکاح کرنا چاہا۔ لڑکی کے خاندان والوںنے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺکی بیٹی پر بیٹی نہ دیں گے، جب تک آپؐ سے پوچھ نہ لیں۔چنانچہ انہوں نے اس کا ذکر حضورؐ سے کیا۔ ایک روایت کی رُو سے خود حضرت علیؓ نے بھی اشارۃً کنایۃً حضورؐسے اجازت طلب کی اور بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت فاطمہ ؓ نے بھی ان باتوں کا چرچا سن لیا اور جاکر اپنے والد ماجد کی خدمت میں عرض کیا کہ ’’آپؐ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپؐ کو اپنی بیٹیوں کی پروا نہیں ہے۔ دیکھیے یہ علیؓ ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔‘‘ اس پر حضورؐ نے ایک خطبہ میں فرمایا:
۱۴۶۔اِنَّ بَنِیْ ھِشَامِ ابْنِ الْمُغِیْرَۃِ اسْتَاْذَنُوْنِیْ اَنْ یَنْکِحُوْا ابْنَتَھُمْ عَلِیَّ ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فَلاَآذَنُ ثُمَّ لاَآذَنُ، ثُمَّ لاَآذَنُ اِلاَّاَنْ یُّرِیْدَ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اَنْ یُّطَلِّقَ ابْنَتِیْ وَیَنْکِحَ ابْنَتَھُمْ فَاِنَّمَا ھِیَ بِضْعَۃٌ مِنِّیْ، یُرِیْبُنِیْ مَااَرَابَھَا وَیُؤذِیْنِیْ مَا آذَاھَا۔
’’بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی علی ابن ابی طالب کے نکاح میں دیں۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا۔ الاّیہ کہ ابوطالب کا بیٹا میری لڑکی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کرلے۔ میری لڑکی میرا ٹکڑا ہے۔ جو کچھ اسے ناگوار ہوگا، وہ مجھے ناگوار ہوگا، اور جو چیز اسے تکلیف دے گی، وہ مجھے تکلیف دے گی۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ حَنْظَلَۃَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ مَکَّۃَ اَنَّ عَلِیًّا خَطَبَ ابْنَۃَ اَبِیْ جَھْلٍ فَقَالَ لَہٗ اَھْلُھَا لاَنُزَوِّجُکَ عَلَی ابْنَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی الّٰلہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ فَقَالَ: اِنَّمَا فَاطِمَۃُ مُضْغَۃٌ مِنِّیْ فَمَنْ اَذَاھَا فَقَدْ اَذَانِیْ۔(۳۸)
ترجمہ : ابوحنظلہ مکّہ کے ایک آدمی ہیں۔ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔ لڑکی کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی پر بیٹی نہ دیں گے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک بھی پہنچ گئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اسے تکلیف دے گی وہ مجھے تکلیف دے گی۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ:حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنِ الْمِسْوَرِبْنِ مَخْرَمَۃَ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، اِنَّ بَنِیْ ھِشَامِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ اسْتَاذَنُوْنِیْ فِی اَنْ یُنْکِحُوْا ابْنَتَھُمْ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فَلاَاٰذَنُ فَلاَاٰذَنُ ثُمَّ لاَ اٰذَنُ اِلاَّ اَنْ یُّرِیْدَ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اَنْ یُّطَلِّقَ ابْنَتِیْ وَیَنْکِحُ ابْنَتَھُمْ فَاِنَّمَا ھِیَ بَضْعَۃٌ مِّنِّیْ یُرِیْبُنِیْ مَا اَرَابَھَا وَیُؤْذِیْنِی مَا اَذَاھَا ھٰکَذَا۔(۳۹)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوالْوَلِیْدِ، ثَنَا بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ بْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:فَاطِمَۃُ بَضْعَۃٌ مِّنِّیْ فَمَنْ اَغْضَبَھَا فَقَدْ اَغْضَبَنِیْ۔(۴۰)
ترجمہ : حضرت مسور نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فاطمہؓ میرا ٹکڑا ہے پس جس کسی نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَا اِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ عَلِیًّا ذَکَرَ بِنْتَ اَبِیْ جَھْلٍ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: اِنَّمَا فَاطِمَۃُ بَضْعَۃٌ مِنِّیْ یُؤْذِیْنِیْ مَاآذَاھَا وَیُنْصِبُنِیْ مَااَنْصَبَھَا۔(۴۱) (ھذا حدیث حسن صحیح)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا۔ یہ بات نبی ﷺ تک بھی پہنچ گئی۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ جو چیز اسے تکلیف دیتی اور باعثِ اذیّت بنتی ہے، وہ میرے لیے بھی باعثِ اذیّت ہے اور جو چیز اس کے لیے موجبِ کوفت ہوگی وہ میرے لیے بھی باعثِ کوفت ہوگی۔‘‘
۱۴۷۔وَاِنِّیْ لَسْتُ اُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ اُحِلُّ حَرَامًا وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ لاَتَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَبِنْتُ عَدُوِّاللّٰہِ اَبَدًا۔
’’میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔ مگر خداکی قسم! اللہ کے رسولؐ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔‘‘
۱۴۸۔ (وفی روایۃ) اِنَّ فَاطِمَۃَ مِنِّیْ وَاَنَا اَتَخَوَّفُ اَنْ تَفْتِنَ فِیْ دِیْنِھَا۔
(ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا) ’’فاطمہ مجھ سے ہے اور میں ڈرتاہوں کہ وہ کہیں اپنے دین کے معاملے میں فتنے میں نہ پڑجائے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ نِالْجَرْمِیُّ ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا اَبِیْ اَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ کَثِیْرٍ حَدَّثَہٗ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ حَلْحَلَۃَ الدُّؤَلِیِّ، حَدَّثَہٗ اَنَّ ابْنَ شِھَابٍ حَدَّثَہٗ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ حُسَیْنٍ، حَدَّثَہٗ اَنَّھُمْ حِیْنَ قَدِمُوْا الْمَدِیْنَۃَ مِنْ عِنْدِ یَزِیْدَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ مَقْتَلُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ لَقِیَہُ الْمِسْوَرُبْنُ مَخْرَمَۃَ فَقَالَ لَہٗ: ھَلْ لَکَ اِلَیَّ مِنْ حَاجَۃٍ تَاْمُرُنِیْ بِھَا؟ فَقُلْتُ لَہٗ:لاَ، فَقَالَ لَہٗ :ھَلْ اَنْتَ مُعْطِیَّ سَیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ فَاِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَغْلِبَکَ الْقَوْمُ عَلَیْہِ وَاَیْمُ اللّٰہِ لَئِنْ اَعْطَیْتَنِیْہِ لاَیُخْلَصُ اِلَیْہِ اَبَدًا حَتّٰی تُبْلَغَ نَفْسِیْ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ اَبِیْ جَھْلٍ عَلٰی فَاطِمَۃَ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ النَّاسَ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی مِنْبَرِہٖ ھٰذَا وَاَنَا یَوْمَئِذٍ لَمُحْتَلِمٌ فَقَالَ: اِنَّ فَاطِمَۃَ مِنِّیْ وَاَنَا اَتَخَوَّفُ اَنْ تَفْتِنَ فِیْ دِیْنِھَا ثُمَّ ذَکَرَ صِھْرًا لَّہٗ مِنْ بَنِیْ عَبْدِ شَمْسٍ فَاَثْنٰی عَلَیْہِ فِیْ مُصَاھَرَتِہٖ اِیَّاہُ قَالَ: حَدَّثَنِیْ فَصَدَّقَنِیْ وَوَعَدَنِیْ فَوَفّٰی لِیْ وَاِنِّیْ لَسْتُ اُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَاُحِلُّ حَرَامًا وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ لاَتَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَبِنْتُ عَدُوِّاللّٰہِ اَبَدًا۔(۴۲)
ترجمہ :ابن شہاب کا بیان ہے کہ علی بن حسین نے مجھ سے بیان کیا کہ شہادتِ حسین کے بعد جب ہم یزید کے ہاں سے مدینہ واپس پہنچے تو مسوربن مخرمہ مجھ سے ملے اور انہوں نے کہاکہ آپ کی کوئی ضرورت وحاجت اگر میرے لائق ہوتو ارشاد فرمائیں۔ میں نے کہا کوئی ایسی حاجت نہیں ہے۔ پھر انہوں نے کہاکہ کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی شمشیر عنایت فرماسکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ لوگ آپ پر غلبہ پالیں گے۔ (اورشمشیرِ رسالتمآب چھین لیں گے) اگر آپ یہ مجھے عنایت فرمادیں تو میں تادمِ زیست اس کی حفاظت کروں گا اور کوئی شخص اسے مجھ سے نہ چھین سکے گا (اور مسور بن مخرمہؓ نے بیان کیا کہ) علیؓ بن ابی طالب نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کی موجودگی میں ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا۔ میں (اس روز محتلم تھا) نے رسول اللہ ﷺ کو اسی منبر پر ارشاد فرماتے سنا کہ : ’’بلاشبہ فاطمہ مجھ سے ہے اور میں ڈرتاہوں کہ وہ کہیں اپنے دین کے معاملہ میں فتنے میں نہ پڑجائے۔‘‘ پھرآپؐ نے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا جوبنی عبدالشمس سے تھا، آپؐ نے اس کی تعریف فرمائی اور فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی اسے سچّا کردکھایا اور جو وعدہ مجھ سے کیا اسے پورا کیا۔ اور فرمایا کہ میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کررہا۔ مگر خدا کی قسم! اللہ کے رسولؐ کی بیٹی اور دشمنِ خداکی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الدَّارِمِیُّ، اَنَااَبُوالْیَمَانِ، اَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ اَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اَخَبَرَہٗ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ اَبِیْ جَھْلٍ وَعِنْدَہٗ فَاطِمَۃُ بِنْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذٰلِکَ فَاطِمَۃُ اَتَتِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَتْ لَہٗ:اِنَّ قَوْمَکَ یَتَحَدَّثُوْنَ اَنَّکَ لاَتَغْضَبُ لِبَنَاتِکَ وَھٰذَا عَلِیٌّ نَاکِحًا ابْنَۃَ اَبِیْ جَھْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِیُّ ﷺ فَسَمِعْتُہٗ حِیْنَ تَشَھَّدَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَنْکَحْتُ اَبَاالْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ فَحَدَّثَنِیْ فَصَدَّقَنِیْ وَاِنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَۃٌ مِنِّیْ وَاِنَّمَا اَکْرَہُ اَنْ یَّفْتِنُوْھَا وَاِنَّھَا وَاللّٰہِ لاَتَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَبِنْتُ عَدُوِّاللّٰہِ عِنْدَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ اَبَدًا قَالَ فَتَرَکَ عَلِیٌّ اَلْخِطْبَۃ۔(۴۳)
ترجمہ : حضرت مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ علیؓ بن ابی طالب نے ابوجہل کی بیٹی کے لیے پیغامِ نکاح دیا، جب کہ نبی ﷺ کی صاحبزادی ان کے نکاح میں پہلے سے موجود تھیں۔ چنانچہ حضرت فاطمہؓ نے یہ بات سنی تو وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیاکہ آپؐکی قوم کے لوگ باتیں کرتے ہیں کہ آپؐاپنی بیٹیوں کی خاطر ناراض نہیں ہوتے۔ دیکھیے یہ علیؓ، ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔ حضرت مِسوَر کا بیان ہے کہ اس پر حضورﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیاجس میں تشہد پڑھا پھر فرمایا کہ’’میں نے ابوالعاص بن ربیع سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اس نے مجھ سے جوبات کی اسے سچا کر دکھایا۔ اورفاطمہ بنت محمدؐ میرے جگر کا ٹکڑا ہے میں اس کے کسی آزمائش میں مبتلاہونے کو ناپسند کرتاہوں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ خدا کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک آدمی کے پاس جمع نہیں ہوسکتیں۔ راوی کا بیان ہے کہ حضورؐ کا یہ خطبہ سن کر حضرت علیؓ نے نکاح کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔
تشریح :اس واقعہ پر آدمی کو یہ شبہ لاحق ہوسکتاہے کہ رسول اللہ ﷺنے خود بھی بہت سی شادیاں کیں اور عام لوگوں کو بھی چارتک بیویاں بیک وقت رکھنے کی اجازت دی۔ مگر خود اپنی بیٹی پر ایک سوکن کا آنا بھی آپؐ نے گوارا نہ کیا۔ سوکن کے آنے سے جو اذیّت آپؐ کی بیٹی کو، اور بیٹی کی خاطر خود آپؐ کو ہوسکتی تھی، وہی اذیّت دوسری عورتوں اور ان کے ماں باپ کو بھی تو لاحق ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپؐ نے اپنے حق میں تو اسے برداشت نہ کیا اور دوسروں کے حق میں اسے جائز رکھا۔
بظاہر یہ ایک سخت اعتراض ہے اور معاملے کی سادہ صورت دیکھ کر آدمی بڑی الجھن میں پڑجاتاہے۔ لیکن تھوڑا سا غور کیا جائے، تو اس کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے۔ یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ ایک عورت کا شوہر اگر دوسری بیوی لے آئے تو اس عورت کو فطرۃً یہ ناگوار ہوتاہے اور اس کے ماں باپ، بھائی بہن اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس سے اذیّت ہوتی ہے۔ شریعت نے ایک سے زیادہ نکاحوں کی اجازت اس مفروضے پر نہیں دی ہے کہ یہ چیز اس عورت کو اور اس کے رشتہ داروں کو ناگوار نہیں ہوتی جس پر سوکن آئے۔ بلکہ اس امرِ واقعہ کو جانتے ہوئے شریعت نے اسے اس لیے حلال کیا ہے کہ دوسری اہم تراجتماعی اور معاشرتی مصلحتیں اس کو جائز کرنے کی متقاضی ہیں۔ شریعت یہ بھی جانتی ہے کہ سوکنیں بہرحال سہیلیاں اور شوہر شریک بہنیں بن کر نہیں رہ سکتیں۔ ان کے درمیان کچھ نہ کچھ کشمکش اور چپقلش ضرور ہوگی۔ اور خانگی زندگی تلخیوں سے محفوظ نہ رہ سکے گی۔ لیکن یہ انفرادی قباحتیں اُس عظیم تراجتماعی قباحت سے کم تر ہیں جو یک زوجی کو بطورِ قانون لازم کرنے سے پورے معاشرے میں پیدا ہوتی ہے اسی وجہ سے شریعت نے تعدّدِ ازواج کو حلال قراردیاہے۔
اب دیکھیے کہ رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں کیا پیچیدگی واقع ہوئی ہے۔ شرعًا آپ کی بیٹی پر بھی سوکن لانا آپؐ کے داماد کے لیے حلال تھا۔ اسی لیے حضرت علیؓ نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا۔ اور اسی وجہ سے حضورﷺ نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لیے یہ فعل حرام ہے۔ بلکہ آپؐ نے خود تصریح فرمائی کہ میں حلال کو حرام نہیں کرتا۔ لیکن یہاں حضورؐ کی ایک ہی شخصیت میں دومختلف حیثیتیں جمع تھیں۔ ایک حیثیت میںآپؐ انسان تھے اور فطرۃً یہ ممکن نہ تھا کہ آپؐ کی صاحبزادی کے گھر میں سوکن آنے سے جو تلخی پیدا ہو اس کا تھوڑا یا بہت اثر آپ کی طبیعت پر نہ پڑے۔ دوسری حیثیت میںآپؐ اللہ کے رسولؐ تھے اور رسول کی حیثیت سے آپؐ کامقام یہ تھا کہ آپؐ کے ساتھ اگر کسی شخص کے تعلّقات خراب ہوجائیں اور کوئی شخص بھی آپؐ کے لیے موجبِ اذیّت ہوجائے تو اس کے دین وایمان کی بھی خیر نہ تھی۔ اسی وجہ سے حضورؐ نے حضرت علیؓ کو اور بنی ہشام بن مغیرہ کو بھی اس کام سے روک دیا۔ کیونکہ اگرچہ شرعاً یہ حلال تھا مگر اس کے کرنے سے یہ اندیشہ تھا کہ یہ چیز حضرت علیؓ اور ان کی دوسری بیوی اور اس کے خاندان والوں کے ایمان اور ان کی عاقبت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
ایک اور بات جس کا حضورؐ نے اپنے خطبے میں ذکر فرمایا وہ یہ تھی کہ بنی ہشام بن مغیرہ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے بدترین دشمن رہ چکے تھے اور فتح مکّہ کے بعد تازہ تازہ مسلمان ہوئے تھے۔خود اس لڑکی کے باپ ابوجہل کے متعلّق تو سب کو معلوم ہے کہ حضورؐکی دشمنی میں وہ تمام کفّار سے بازی لے گیاتھا۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ جنگِ بدر میںوہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا خاندان برسوں اس کے جذبۂ انتقام میں تڑپتا رہا۔ اب اگرچہ یہ لوگ اسلام قبول کرچکے تھے، لیکن یہ تحقیق ہونا ابھی باقی تھا کہ یہ قبولِ اسلام واقعی پورے اخلاص اور قلوب کی مکمل تبدیلی کا ثمرہ ہے، یا محض شکست کا نتیجہ۔ اس حالت میں اس خاندان کی لڑکی، اور وہ بھی خاص ابوجہل کی بیٹی کا اس گھر میں پہنچ جانا، جہاں رسول اللہﷺ کی صاحبزادی ملکۂ بیت تھیں، بڑے فتنوں کا سبب بن سکتاتھا۔ ان لوگوں کی تالیفِ قلب تو کی جاسکتی تھی،ا ور کی بھی گئی، لیکن اسلام کے ساتھ ان کے تعلّق کا حال جب تک ٹھیک ٹھیک معلوم نہ ہوجائے، انہیں عین خاندانِ رسالت میں گھُسالانا اور خود رسول اکرم ﷺ کی صاحبزادی کے بالمقابل لاکھڑا کرنا سخت نا مناسب اور پُرخطر تھا۔ اس وجہ سے بھی حضورؐ نے اس رشتے کو ناپسند فرمایا اور علی الاعلان کہا کہ خدا کے رسولؐ کی بیٹی اور خدا کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہوسکتیں۔نیزاس بات کی طرف بھی آپؐ نے اشارہ فرمادیاکہ اس سے فاطمہؓ کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص کو اپنی بیاہ شادی کے معاملے میں (اگرچہ وہ بجائے خود حلال ہی سہی) ایسی آزادی نہیں دی جاسکتی جس سے ایک پوری ملّت کے لیے فتنہ وشر کا خطرہ پیدا ہوجائے۔
بے شک یہاں یہ اعتراض اُٹھ سکتاہے کہ ابوجہل کے خاندان سے ابوسفیان کا خاندان اسلام کی عداوت میں کچھ کم نہ تھا، پھر اگر ابوجہل کے خاندان کی لڑکی کا خانوادۂ رسالت میں آنا موجب فتنہ بن سکتاتھا تو ابوسفیان کی صاحبزادی (حضرت اُمّ حبیبہؓ) کا خود نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں شامل ہوجانا کیوں خطرے سے خالی تھا؟ لیکن دونوں کے حالات کا فرق نگاہ میں ہو تو یہ اعتراض آپ سے آپ ختم ہوجاتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابوجہل کی لڑکی اور ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ ابوجہل کی لڑکی اور اس کے چچا اور بھائی، سب کے سب فتح مکّہ کے بعد ایمان لائے تھے۔ ان کے بارے میں یہ امتحان ہونا ابھی باقی تھا کہ ان کا ایمان کس حد تک اخلاص پر مبنی ہے۔ اور کہاں تک اس میں شکست خوردگی کا اثر ہے۔ بخلاف اس کے حضرت اُمّ حبیبہؓ اس بڑے سے بڑے امتحان سے گزر کر جو اکابرِ صحابہ میں سے بھی کم ہی کسی کو پیش آیاتھا، اپنے کمالِ اخلاص اور اپنی صداقتِ ایمانی کا پورا ثبوت دے چکی تھیں۔ انہوں نے دین کی خاطر وہ قربانیاں کی تھیں، جن کی نظیر مشکل ہی سے کہیں اور نظر آسکتی ہے۔ ذرا غور کیجیے، ابوسفیان کی بیٹی، ہند بنت عتبہ (مشہور ہندِ جگر خوار) کی لختِ جگر، جس کی پھوپھی وہ عورت تھی جسے قرآن میں حمالۃ الحطب کا خطاب دیاگیاہے۔ جس کا نانا عُتبہ بن ربیعہ نبی ﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ اس خاندان سے اور اس ماحول سے نکل کر وہ حضرت عمرؓ اور حضرت حمزہؓ سے بھی پہلے ایمان لاتی ہیں، اپنے شوہر کو مسلمان کرتی ہیں، خاندان والوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر مہاجرینِ حبشہ کے ساتھ ہجرت کرجاتی ہیں۔ حبش جاکر شوہر عیسائی ہوجاتاہے اور وہ دین کی خاطر اس کو بھی چھوڑدیتی ہیں۔ غریب الوطنی کی حالت میں تن تنہا ایک چھوٹی سی بچّی کے ساتھ رہ جاتی ہیں اور ان کے عزمِ ایمانی میں ذرہ برابر تزلزل نہیں آتا۔ کئی برس اس حالت میں جب گزرجاتے ہیں اور ایک بے سہارا خاتون دیارِ غیر میں ہرطرح کے مصائب جھیل کر یہ ثابت کردیتی ہے کہ دین کو جس پائے کا خلوص، جس مرتبے کی سیرت اور جس درجے کا کردار مطلوب ہے، وہ سب یہاں موجود ہے۔ تب نبی ﷺ کی نگاہ انتخاب ان پر پڑتی ہے۔ اور آپؐ حبش ہی میں ان کو نکاح کا پیغام بھیجتے ہیں۔غزوۂ خیبر کے بعد وہ حبش سے واپس آکر حرمِ نبوی میں داخل ہوتی ہیں۔اس کے تھوڑی ہی مدت بعدقریش صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ نبی ﷺ اب مکّے پر چڑھائی کردیں گے۔ اس موقع پر ابوسفیان صلح کی بات چیت کے لیے مدینے آتاہے اور اس امید پر بیٹی کے ہاں پہنچتاہے کہ اس کے ذریعہ صلح کی شرائط طے کرنے میں سہولت ہوگی۔ برسوں کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ باپ سے بیٹی کو ملنے کا موقع ملتاہے۔ مگر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے فرش پر بیٹھنے کا ارادہ کرتاہے تو بیٹی فوراً یہ کہہ کر فرش اٹھالیتی ہے کہ رسولؐ کے فرش پر ایک دشمنِ اسلام نہیں بیٹھ سکتا۔ ایسی خاتون کا خانوادۂ رسالت میں داخل ہونا تو ہیرے کا ہار میں ٹھیک اپنی جگہ پالینا تھا۔ اس سے کسی فتنے کے رُونما ہونے کا کوئی بعید تر امکان کیا، وہم بھی نہ ہوسکتاتھا۔ البتہ اس لڑکی کا اس خاندان میں آنا ضرور فتنے کے امکانات اپنے اندر رکھتاتھا جسے اور جس کے خاندان کو صرف فتح نے اسلام میں داخل کیا تھا اور اسلام میں آئے ہوئے جس کو ابھی صرف چند مہینے ہی ہوئے تھے۔ اُسی کے بارے میں یہ سوال ہوسکتاتھا کہ اسلام اور نبی ﷺ کی عداوت کے اثرات سے اس کا اور اس کے خاندان والوں کا دل پوری طرح پاک ہوا ہے یا نہیں۔
(رسائل ومسائل سوم: اختلافی مسائل)
قرآن وحدیث کی رُوسے اہلِ بیت سے کیا مراد ہے؟
قرآن وحدیث کی رُوسے اہلِ بیت سے کیا مراد ہے؟
۱۴۹۔ تَسْأَلُنِیْ عَنْ رَجُلٍ کَانَ مِنْ اَحَبِّ النَّاسِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَانَتْ تَحْتَہُ ابْنَتُہٗ وَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیْہ۰۰۰اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَئِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاذْھَبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا۔
’’حضرت عائشہؓ سے ایک مرتبہ حضرت علیؓ کے متعلق پوچھاگیا تو انہوں نے فرمایا:’’تم اس شخص کے متعلق پوچھتے ہو جو رسول اللہ ﷺکے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور جس کی بیوی حضورؐ کی وہ بیٹی تھی جو آپؐ کو سب سے بڑھ کر محبوب تھی۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ حضورؐ نے حضرت علی اور فاطمہ اور حسن اورحسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان پر ایک کپڑا ڈال دیا اور دعا فرمائی: ’’خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں،ان سے گندگی کو دُور کردے اور انہیں پاک کردے۔‘‘ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔میں بھی تو آپؐ کے اہلِ بیت میں سے ہوں (مجھے بھی اس کپڑے میں داخل کرکے میرے حق میں دعا فرمایئے) حضورؐ نے فرمایا : ’’تم الگ رہو، تم تو خیر ہوہی۔‘‘
تشریح : اس سے ملتے جُلتے مضمون کی بہ کثرت احادیث مسلم، ترمذی، احمد، ابنِ جریر، حاکم، بیہقی وغیرہ محدّثین نے ابوسعیدخدریؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت انسؓ، حضرت امِّ سلمہؓ، حضرت واثلہ بن اسقع اور بعض دوسرے صحابہؓ سے نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ وفاطمہؓ اور ان کے دونوں صاحبزادوں کو اپنا اہلِ بیت قرار دیا۔ لہٰذا اُن لوگوں کا خیال غلط ہے جو ان حضرات کو اس سے خارج ٹھہراتے ہیں۔ (چنانچہ) اگر کوئی یہ کہے کہ اہلِ بیت کا لفظ صرف ’’ازواج‘‘ کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس میں دوسرا کوئی داخل نہیں ہوسکتا تو یہ بات غلط ہوگی۔ صرف یہی نہیں کہ ’’گھروالوں‘‘ کے لفظ میں آدمی کے سب اہل وعیال شامل ہوتے ہیں بلکہ نبی ﷺنے خود اس کی تصریح فرمائی کہ وہ بھی شامل ہیں۔
تخریج:(۱) قَالَ بْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنَا شُرَیْحُ بْنُ یُوْنُسَ اَبُوالْحَارِثِ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیْدَ عَنِ الْعَوَّامِ یعنی ابْنَ حَوْشَبٍ ؓ، عَنْ عَمٍّ لَّہٗ قَالَ:دَخَلْتُ مَعَ اَبِیْ عَلٰی عَائِشَۃَ فَسَأَلْتُھَا عَنْ عَلِیٍّ ؓ فَقَالَتْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا:تَسْأَلُنِیْ عَنْ رَجُلٍ کَانَ مِنْ اَحَبِّ النَّاسِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَکَانَتْ تَحْتَہُ ابْنَتُہٗ وَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیْہِ؟ لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ دَعَا عَلِیًّا وَفَاطِمَۃَ وَحَسَنًا وَحُسَیْنًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ فَاَلْقٰی عَلَیْھِمْ ثَوْبًا، فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَآئِ اَھْلُ بَیْتِیْ، فَاذْھَبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا، قَالَتْ: فَدَنَوْتُ مِنْھُمْ، فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَاَنَامِنْ اَھْلِ بَیْتِکَ فَقَالَ ﷺ تَنَحِّیْ فَاِنَّکِ عَلٰی خَیْرٍ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنِیْ اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ دَارِمٍ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ الْعَبَسِیُّ ثَنَا مَالِکُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ النَّھْدِیُّ، ثَنَا عَبْدُالسَّلاَمِ بْنَ حَرْبٍ، عَنْ اَبِی الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِیْ عَلٰی عَائِشَۃَ فَسُئِلَتْ اَیُّ النَّاسِ کَانَ اَحَبَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَتْ: فَاطِمَۃُ، قِیْلَ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُھَا اِنْ کَانَ مَاعَلِمْتُہٗ صَوَّامًا قَوَّامًا۔(۴۵)
ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔
ترجمہ : جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی چچی کے ہمراہ اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ام المومنینؓ سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کو کون سی شخصیت سب سے زیادہ محبوب تھی؟ آپ نے فرمایا: حضرت فاطمہؓ۔ پوچھا گیا: اور مردوں میں سے محبوب کون تھے؟ آپ نے فرمایا ان کے شوہر حضرت علیؓ۔ کیونکہ میرے علم کی حد تک وہ بہت روزے رکھنے والے اور قیام اللیل کرنے والے (تہجد گزار)تھے ۔ یہ حدیث صحیح ہے۔لیکن شیخین نے اس کی تخریج نہیں کی۔
(۳) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْاَصْبَھَانِیِّ عَنْ یَحْيَ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ رَبِیْبِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا فِیْ بَیْتِ اُمِّ سَلَمَۃَ، فَدَعَا فَاطِمَۃَ وَحَسَنًا وَحُسَیْنًا فَجَلَّلَھُمْ بِکِسَائٍ وَعَلِیٌّ خَلْفَ ظَھْرِہٖ فَجَلَّلَہٗ بِکِسَائٍ ثُمَّ قَالَ:اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَآئِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاذْھَبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا۔
قَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ:وَاَنَا مَعَھُمْ یَانَبِیَّ اللّٰہِ قَالَ: اَنْتِ عَلٰی مَکَانِکِ وَاَنْتِ عَلٰی خَیْرٍ۔(۴۶)
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ مِنْ حَدِیْثِ عَطَائٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ۔
ترجمہ : حضرت عمربن ابی سلمۃ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر قرآن مجید کی آیت اِنَّمَایُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا نازل ہوئی تو اس وقت آپ ام المومنین حضرت ام سلمہ کے حجرے میں تشریف فرماتھے۔ آپؐ نے اس وقت حضرت فاطمہؓ، حسنؓ اور حسینؓ کو بلایا اور ان پر ایک چادر ڈال دی۔ اس وقت حضرت علیؓ آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے ان پر بھی چادر ڈال دی۔ پھر دعا فرمائی۔ خدایا! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ ان سے گندگی کو دور کردے اور انہیں اچھی طرح پاک کردے۔
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیایا نبی اللہ! میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ فرمایا’’تم اپنی جگہ کھڑ ی رہو، تم تو خیر ہوہی۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ بَکْرٍ قَالاَ:ثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ بِشْرٍ عَنْ زَکَرِیَّا، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَۃُ خَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ غَدَاۃً وَعَلَیْہِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِّنْ شَعْرٍ اَسْوَدَ فَجَآئَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ فَاَدْخَلَہٗ ثُمَّ جَآئَ الْحُسَیْنُ فَدَخَلَ مَعَہٗ ثُمَّ جَآئَ تْ فَاطِمَۃُ فَاَدْخَلَھَا ثُمَّ جَآئَ عَلِیٌّ فَاَدْخَلَہٗ ثُمَّ قَالَ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔(۴۷)
ترجمہ :حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ ایک صبح نبی ﷺ گھرسے نکلے تو ان پر سیاہ بالوں سے بُنی ہوئی منقش گرم چادر تھی۔ اتنے میں حسن بن علی ؓ آگئے انہیںآپؐنے اپنی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر حسینؓ آنکلے تو انہیں بھی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر فاطمہؓ آگئیں تو انہیں بھی ان کے ساتھ چادر میں داخل کرلیا۔ آخر میں حضرت علیؓ بھی آگئے۔ ان کو بھی ان کے ساتھ چادر میں داخل کرلیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد تلاوت فرمایاکہ اللہ تعالیٰ تم سے گندگی کو دور کرنا چاہتاہے اے اہلِ بیت، اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کرناچاہتاہے۔
کیا ازواج اہل بیت میں شامل نہیں؟
اسی طرح اُن لوگوں کی رائے بھی غلط ہے جو مذکورہ بالا احادیث کی بنیاد پر ازواج مطہرات کو اہلِ بیت سے خارج ٹھیراتے ہیں۔ اوّل تو جو چیز صراحۃً قرآن سے ثابت ہوا سے کسی حدیث کے بل پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے خود ان احادیث کا مطلب بھی وہ نہیںہے جو ان سے نکالاجاتاہے۔ ان میں سے بعض روایات میں جو یہ بات آئی ہے کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت امِّ سلمہ ؓ کو حضورؐ نے اس چادر کے نیچے نہیں لیا، جس میں حضورؐ نے ان چاروں اصحاب کو لیا تھا، اُس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضورؐ نے ان کو اپنے’’گھروالوں‘‘ سے خارج قراردیاتھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیویاں تو اہلِ بیت میں شامل تھیں ہی کیونکہ قرآن نے (سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۳۳ میں اہل بیت کہہ کر) ان ہی کو مخاطب کیاتھا، لیکن حضورؐ کو اندیشہ ہوا کہ ان دوسرے اصحاب کے متعلّق ظاہر قرآن کے لحاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوجائے کہ یہ اہلِ بیت سے خارج ہیں، اس لیے آپؐ نے تصریح کی ضرورت ان کے حق میں محسوس فرمائی نہ کہ ازواج مطہرات کے حق میں۔
اہل البیت کا عربی میں صحیح استعمال
علاوہ بریں’’اہل البیت‘‘ کا لفظ عربی زبان میں ٹھیک انہیں معنوں میں استعمال ہوتاہے جن میں ہم ’’گھروالوں‘‘ کا لفظ بولتے ہیں، اور اس کے مفہوم میں آدمی کی بیوی اور اس کے بچّے دونوں شامل ہوتے ہیں۔ بیوی کو مستثنیٰ کرکے اہلِ خانہ کا لفظ کوئی نہیں بولتا۔
خود قرآن مجید میں (تین مقامات پر)یہ لفظ آیاہے اور (تینوں) جگہ اس کے مفہوم میں بیوی شامل، بلکہ مقدّم ہے۔ (سورۂ احزاب میں جہاں نبیؐ کی بیویوں سے خطاب فرمایااس میں فرمایا کہ اِنَّمَا یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔’’اللہ تو یہ چاہتاہے کہ تم اہلِ بیتِ نبی سے گندگی کو دُور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے۔‘‘
سورۂ ہود میں جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی پیدایش کی بشارت دیتے ہیں تو ان کی اہلیہ اسے سُن کر تعجب کا اظہار کرتی ہیں کہ بھلا اس بڑھاپے میں ہمارے ہاں بچّہ کیسے ہوگا۔ اس پر فرشتے کہتے ہیں اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْت۔ ’’کیا تم اللہ کے اس امر پر تعجب کرتی ہو؟ اس گھر کے لوگو! تم پر تو اللہ کی رحمت ہے اور اس کی برکتیں ہیں۔ ‘‘
سورۂ قصص میں جب حضرت موسیٰؑ ایک شیرخوار بچّے کی حیثیت سے فرعون کے گھر میں پہنچتے ہیں اور فرعون کی بیوی کو کسی ایسی انّا کی تلاش ہوتی ہے جس کا دودھ بچّہ پی لے تو حضرت موسیٰؑ کی بہن جاکر کہتی ہیں ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰٓی اَھْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَہٗ لَکُمْ۔’’کیا میں تمہیں ایسے گھروالوں کا پتہ نہ دوں جو تمہارے لیے اس بچّے کی پرورش کاذمہ لیں۔‘‘ پس محاورہ اور قرآن کے استعمالات، اور آیات (کے) سیاق وسباق، ہر چیز اس بات پر قطعی دلالت (کرتے ہیں) کہ نبی ﷺ کے اہلِ بیت میں آپؐ کی ازواج مطہرات بھی داخل ہیں.(سورۃ الاحزاب کی آیت ۳۳ کے متعلّق ابنِ عباسؓ اور عروہ بن زبیرؓ اور عکرمہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں اہل البیت سے مراد ازواج النّبی ﷺ ہیں۔ ( تفہیم القرآن ج۴ ،الاحزاب، حاشیہ:۰ ۵)
آپ کے متعلق ایک بے اصل روایت کی حقیقت
۱۵۰۔ یَا اَبَا الْحَسَنِ اِنَّ ھٰذَا الشَّرْفَ بَاقٍ مَا دُمْنَ عَلٰی طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاَیَّتُھُنَّ عَصَتِ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعْدِی بِالْخُرُوْجِ عَلَیْکَ فَطَلِّقْھَا مِنَ الْاَزْوَاجِ وَاَسْقِطْھَا مِنْ شَرْفِ اُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
’’اے ابوالحسن!یہ شرف تو اسی وقت تک باقی ہے جب تک وہ سب اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں۔ لہٰذا میری بیویوں میں سے جو بھی میرے بعد تیرے خلاف خروج کرکے اللہ کی نافرمانی کرے اسے توطلاق دے دیجیو اور اس کو امّہات المومنین کے شرف سے ساقط کردیجیو۔‘‘
تشریح : اصولِ روایت کے اعتبار سے تو یہ روایت سراسر بے اصل ہے ہی، لیکن اگر آدمی سورۂ احزاب کی آیات (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔
’’اے نبیؐ! اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہوتو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلاکر بھلے طریقے سے رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دارِ آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کررکھاہے۔)۲۸،۲۹ اور ۲۵( تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْھُنَّ وَتُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ ط وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکَ ط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلاَیَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَافِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًاO لاَیَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْ م بَعْدُ وَلَآاَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلاَّ مَامَلَکَتْ یَمِیْنُکَ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ رَّقِیْبًا۔
’’ تم کو اختیار دیاجاتاہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہواپنے سے الگ رکھو۔ جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بُلالو۔ اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوںگی اور جو کچھ بھی تم ان کو دوگے اس پر وہ سب راضی رہیں گی۔ اللہ جانتاہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علیم وحلیم ہے۔ اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، خواہ ان کا حُسن تمہیں کتنا ہی پسندیدہ ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے۔ اللہ ہرچیز پر نگراں ہے۔)
،۵۲ پر غور کرے تو معلوم ہوجاتاہے کہ یہ روایت قرآن کے بھی خلاف پڑتی ہے۔کیونکہ آیتِ تخییر کے بعد جن ازواجِ مطہرات نے ہر حال میں رسول اللہ ﷺ ہی کی رفاقت کو اپنے لیے پسند کیا تھا انہیں طلاق دینے کا اختیار حضورؐ کو باقی نہ رہا۔
علاوہ بریں ایک غیر متعصّب آدمی اگر محض عقل ہی سے کام لے کر اس روایت کے مضمون پر غور کرے تو صاف نظر آتاہے کہ یہ انتہائی لغو اور رسولِ پاکؐ کے حق میں سخت توہین آمیز افتراء ہے۔ رسول کا مقام تو بہت بالا وبرتر ہے، ایک معمولی شریف آدمی سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی وفات کے بعد بیوی کو طلاق دینے کی فکر کرے گا اور دنیا سے رُخصت ہوتے وقت اپنے داماد کو یہ اختیار دے جائے گا کہ اگر کبھی تیرا اس کے ساتھ جھگڑا ہو تو میری طرف سے تو اسے طلاق دے دیجیو۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ جو لوگ اہل البیت کی محبت کے مدّعی ہیں ان کے دلوں میں صاحب البیت کی عزت وناموس کا پاس کتنا کچھ ہے، اور اس سے بھی گزر کر خود اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا وہ کتنا احترام کرتے ہیں۔
ایسی روایت کے وضع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
(دراصل) ایک گروہ نے جب حضرت علی وفاطمہ ؓ اور ان کی اولاد کو مرکزِ دین بناکر سارا نظامِ دین انہیں کے گرد گھمادیا، اور اس بنا پر دوسرے بہت سے صحابہؓ کے ساتھ حضرت عائشہؓ کو بھی ہدفِ لعن وطعن بنایا تو ان کی راہ میں قرآن مجید کی یہ آیت حائل ہوگئی جس کی رُو سے ہر اُس شخص کو انہیں اپنی ماں تسلیم کرنا پڑتاہے جو ایمان کامدعی ہو۔آخر کار اس مشکل کو رفع کرنے کے لیے یہ عجیب وغریب دعویٰ کیاگیا کہ حضور نبی کریم ﷺنے حضرت علیؓ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپؐ کی ازواج مطہّرات میں سے جس کو چاہیں آپؐ کی زوجیت پر باقی رکھیں اور جسے چاہیں آپؐ کی طرف سے طلاق دے دیں۔ ابومنصور احمد بن ابوطالب طبرسی نے کتاب الاحتجاج میں یہ بات لکھی ہے اور سلیمان بن عبداللہ البحرانی نے اسے نقل کیا ہے . ( تفہیم القرآن ج۴،الاحزاب ،حاشیہ :۷۳۔)
وَمِمَّا یَقْضِیْ مِنْہُ الْعَجَبُ مَا رَأَیْتُہٗ فِیْ بَعْضِ کُتُبِ الشِّیْعَۃِ مِنْ اَنَّھَا خَرَجَتْ مِنْ اُمَّھَاتِ الْمُوْمِنِیْنَ بَعْدَ تِلْکَ الْوَقْعَۃِ لِاَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لِلْاَمِیْرِ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٌ قَدْ اَذِنْتُ لَکَ اَنْ تُخْرِجَ بَعْدَ وَفَاتِیْ مِنَ الزَّوْجِیَّۃِ مَنْ شِئتَ مِنْ اَزْوَاجِیْ، فَاَخْرَجَھَا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ مِنْ ذٰلِکَ لَمَّا صَدَرَ مِنْھَا مَعَہٗ مَاصَدَرَ الخ۔ )روح المعانی ج ۱۸؍۱۶ پ ۱۸ ص ۱۱۹ مطبوعہ تھران۔)
وَذُکِرَ فِی الْمَوَاھِبِ اَنَّ فِیْ حَلِّ مَنْ اِخْتَارَتْ مِنْھُنَّ الدُّنْیَا لِلْاَزْوَاجِ طَرِیْقَیْنِ اَحَدُھُمَا طَرْدِ الْخِلاَفِ وَالثَّانِیْ الْقَطْعُ بِالْحِلِّ وَاخْتَارَ ھٰذَا الْاِمَامُ الْغَزَالِیْ وَحَکَی الْقَوْلَ بِاَنَّ الْمُطَلَّقَۃَ لاَیَثْبُتُ لَھَا ھٰذَا الْحُکْمُ عَنِ الشِّیْعَۃِ۔
وَقَدْ رَأَیْتُ فِیْ بَعْضِ کُتُبِھِمْ نَفْیَ الْاُمُوْمَۃِ عَنْ عَائِشَہؓ قَالُوْا لِاَنَّ النَّبِیَّ ﷺ فَوَّضَ اِلٰی عَلِیٍّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ اَنْ یُبْقِیَ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ اَزْوَاجِہٖ وَیُطَلِّقَ مَنْ یَّشَآئُ مِنْھُنَّ بَعْدَ وَفَاتِہٖ وَکَالَۃً عَنْہٗ عَلَیْہِ الصَّلٰوٰۃُ وَالسَّلاَمُ وَقَدْ طَلَّقَ عَائِشَۃَؓ یَوْمَ الْجَمَلِ فَخَرَجَتْ عَنِ الْاَزْوَاجِ وَلَمْ یَبْقِ لَھَا حُکْمُھُنَّ۔
وَبَعْدَ اَنْ کَتَبْتُ ھٰذَا اتُّفِقَ لِیْ اَنْ نَظَرْتُ فِیْ کِتَابٍ اَلَّفَہٗ سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ الْبَحْرَانِیِّ عَلَیْہِ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی مَا یَسْتَحِقُّ فِیْ مَثَالِبِ جَمْعٍ مِّنَ الصَّحَابَۃِ حَاشٰی رِضَی اللّٰہِ تَعَالٰی عَنْھُمْ فَرَأَیْتُ مَانَصَّہٗ رَوَی اَبُوْمَنْصُوْرٍ اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ الطَّبْرَسِیْ فِیْ کِتَابِ الْاِحْتَجَاجِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّہٗ سَأَلَ الْقَائِمَ الْمُنْتَظِرِ وَھُوَطِفْلٌ فِیْ حَیَاۃِ اَبِیْہِ فَقَالَ لَہٗٗ یَامَوْلاَنَا وَابْنَ مَوْلاَنَا رَوَی لَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ جَعَلَ طَلاَقَ نِسَائِہٖ اِلٰی اَمِیْرِالْمُوْمِنِیْنَ عَلِیِّ کَرّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ حَتّٰی اَنَّہٗ بَعَثَ فِیْ یَوْمِ الْجَمَلِ رَسُوْلاً اِلٰی عَائِشَۃَ وَقَالَ اِنَّکِ اَدْخَلْتِ الْھَلاَکَ عَلَی الْاِسْلاَمِ وَاَھْلَہٗ بِالْغَشِّ الَّذِیْ حُصِلَ مِنْکِ وَأَوْرَدْتِ اَوْلَادَکِ فِیْ مَوْضَعِ الْھَلَاکِ بِالْجِھَالَۃِ فَاِنِ امْتَنَعْتِ وَاِلَّاطَلَّقْتُکِ۔ فَاخْبِرْنَا یَا مَوْلَانَا عَنْ مَعْنٰی الطَّلاَقِ الَّذِیْ فَوَّضَ حُکْمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی اَمِیْرِالْمُوْمِنِیْنَ فَقَالَ اَنَّ اللّٰہَ تَقَدَّسَ اِسْمَہٗ عَظُمَ شَأْنُ نِسَآئِ النَّبِیِّ ﷺ فَخَصَّھُنَّ بِشَرْفِ الْاُمَّھَاتِ فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ یَا اَبَاالْحَسَنِ اِنَّ ھٰذَا الشَّرْفَ بَاقٍ مَا دُمْنَ عَلٰی طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاَیَّتُھُنَّ عَصَتِ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعْدِیْ بِالْخُرُوْجِ عَلَیْکَ فَطَلِّقْھَا مِنَ الْاَزْوَاجِ وَاَسْقِطْھَا مِنْ شَرْفِ اُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ ثُمَّ قَالَ وَرَوَی الطَّبْرَسِی ایضًا فِی الْاِحْتِجَاجِ عَنِ الْبَاقِرِ انہ قال لما کان یوم الجمل وقد رشق ھودج عائشۃ بالنبل قال علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ۔
وَاللّٰہِ مَااَرَانِیْ اِلاَّ مُطَلِّقُھَا فَاَنْشَدَاللّٰہَ تَعَالٰی رَجُلاً سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یقول:یَاعَلِیُّ اَمْرُ نِسَآئِیْ بِیَدِکَ مِنْ بَعْدِیْ لَمَّا قَامَ فَشَھِدَ فَقَامَ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً فَشَھِدُوْا بِذٰلِکَ الْحَدِیْثَ۔(۴۸)
عترتِ رسولؐ
۱۵۱۔ اِنِّی تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ، کِتَابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتِیْ۔
’’میں تمہارے درمیان دوبھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں پہلی کتاب اللہ اور دوسری میری عترت۔‘‘
تشریح :یہ حدیث مختلف الفاظ میں مختلف سندوں سے بیان ہوئی ہے ۔جن میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض قوی۔ سب سے زیادہ قوی سند سے اور تفصیل کے ساتھ جو روایت آئی ہے وہ حضرت زید بن ارقم سے مسلم میں مروی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نبیﷺ نے غدیرِ خُم کے مقام پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ: لوگو!’’میں ایک انسان ہوں،ہوسکتاہے کہ اللہ کا فرستادہ (قضا کا پیغام لے کر) جلد ہی آجائے، اور میں اس پر لبیّک کہوں ( دنیا سے رخصت ہوجاؤں) میں تمہارے درمیان دوبھاری چیزیں چھوڑرہاہوں۔ پہلی اس میں سے کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت او ر روشنی ہے۔ پس تم کتاب اللہ کو لو اور اسے مضبوط تھامو۔‘‘ اس سلسلے میں آپؐ نے حاضرین کو کتاب اللہ کی پیروی پر ابھارا اور اس کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا:’’اور دوسری چیز میرے اہلِ بیت ہیں۔ میں اپنے اہلِ بیت کے معاملے میں تم کو اللہ کی یاد دلاتاہوں۔‘‘ اس حدیث میں کوئی اشارہ اس طرف نہیں ہے کہ کتاب اللہ کے بعد بس میرے اہلِ بیت ہی ہیں جن سے تمہیں اپنا دین سیکھنا چاہیے اور جن کی پیروی پر حصر کرنا چاہیے۔ بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کو ثقلین (بھاری چیزیں) دو الگ الگ معنوں میں فرمایا گیاہے۔ کتاب اللہ اس لیے بھاری چیز ہے کہ وہی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اسے چھوڑنا یا اس سے منحرف ہونا تباہی وضلالت کا موجب ہے۔ اور اہل بیت کو بھاری اس لیے فرمایا کہ ہمیشہ اکابرِ نوع انسانی کے اہلِ بیت ان کے پیروؤں کے لیے سخت وجۂ آزمایش ثابت ہوئے ہیں۔ کسی نے ان کے حق میں افراط کی ہے اور غلو کرکے پیر زادوں کو معبود بنا ڈالا ہے اور کسی نے اُن کے حق میں تفریط کی ہے اور اُن پر ظلم وستم ڈھائے ہیں تاکہ اُمّت کو جوفطری عقیدت اپنے رہبر اور ہادی کے خاندان والوں سے ہوتی ہے اس کو زبردستی دبایا جائے۔ اسی غرض کے لیے حضورؐ نے فرمایا کہ میں اپنے اہلِ بیت کے معاملہ میں تم کو خدا کی یاد دلاتاہوں۔ یعنی اُن کے معاملے میں خداسے ڈرو اور افراط وتفریط کے پہلو اختیار کرنے سے بچو۔
دوسرے، اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حضورؐ نے اپنی عترت یا اہلِ بیت (دونوں ہی الفاظ حدیث میں آئے ہیں) سے دین سیکھنے کا ہی حکم دیا ہے، تو ان الفاظ کا مفہوم آخر صرف اولادِ علیؓ تک ہی کیوں محدود کردیا گیا؟اس میں از رُوئے قرآن ازواجِ نبیؓ بھی داخل ہیں اور ان میں آلِ جعفر، آلِ عقیل، آلِ عباس اور تمام بنوہاشم بھی داخل ہیں جن پر حضورؐ نے صدقہ حرام کیا۔
تیسرے یہ کہ، حضورؐ نے صرف یہی نہیں فرمایاہے کہ تَرَکْتُ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ۔۔۔بلکہ یہ بھی فرمایاہے کہ عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْن’’میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر چلو‘‘ اور یہ بھی فرمایاہے کہ اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ ’’میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کسی کی پیروی کروگے، ہدایت پاؤگے‘‘پھر آخر کیا وجہ ہے کہ حضورؐکے ایک ارشاد کو تولیا جائے اور دوسرے ارشادات کو چھوڑدیا جائے؟ کیوں نہ اہلِ بیت سے بھی علم حاصل کیا جائے اور ان کے ساتھ خلفاء راشدین اور اصحابِ نبی رضی اللہ عنہم سے بھی؟
چوتھے یہ کہ عقل بھی کسی طرح یہ باور نہیں کرسکتی کہ تئیس سال کے دوران میں جو عظیم الشان کام نبی ﷺنے سینکڑوں، ہزاروں آدمیوں کی شرکت ورفاقت میں سرانجام دیا اور جسے لاکھوں آدمیوں نے اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا، اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں صرف آپ کے گھر والوں پر ہی حصرکرلیا جائے۔ اور ان بہت سے دوسرے لوگوں کو نظر انداز کردیا جائے، جو اس کام میں شریک ہوئے اور جنہوں نے اسے دیکھا۔ حالانکہ حضورؐ کے گھر والوں میں سے خواتین کو اگر موقع ملاہے تو زیادہ تر آپؐ کی خانگی زندگی دیکھنے کا موقع ملا ہے، اور مردوں میں ایک حضرت علیؓ کے سوا کوئی دوسرا ا یسا نہیں ہے جسے آپؐ کی رفاقت کا اتنا موقع ملاہو جتنا حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان، ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور دوسرے بہت سے صحابہؓ کو ملا۔ پھر آخر محض اہلِ بیت ہی پر حصر کرلینے کی کون سی معقول وجہ ہے؟
اس سوال کو رد کرنے کے لیے بالآخر ایک گروہ کو یہ کہنا پڑا کہ گنتی کے چند آدمیوں کے سوا باقی تمام صحابہ معاذ اللہ منافق تھے۔ مگر یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتاہے جو تعصب میں اندھا ہوچکا ہو جسے نہ اس بات کی پرواہو کہ تاریخ اُس کی تمام خاک اندازیوں کے باوجود کس طرح اس کے قول کو جھٹلارہی ہے اور نہ اس امر کی پروا ہو کہ اس قول سے خود سرکار رسالت مآب اور آپؐ کے مشن پر کیسا سخت حرف آتاہے۔کون معقول آدمی یہ تصوّر کرسکتاہے کہ نبی ﷺنے ۲۳ سال تک اپنے جن رفقاء پر پورا اعتماد کیا اور جنہیں ساتھ لے کر عرب کی اصلاح کا اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا وہ سب منافق تھے؟ کیا حضورؐ ان کے نفاق سے آخروقت تک بے خبررہے؟ اگر سچ ہے تو حضور ﷺ کی مردم شناسی وفراست مشتبہ ہوئی جاتی ہے (معاذ اللہ) اور اگر یہ غلط ہے اور یقینا غلط ہے تو آخر کیوں دین کاعلم حاصل کرنے میں ان سب کی معلومات معتبرنہ ہوں۔ (رسائل ومسائل حصہ دوم ص۳۳۷ تا ۳۴۰)
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ جَمِیْعًا عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ، قَالَ: زُھَیْرٌ حَدَّثَنَا اِسْمٰعِیْلُ ابْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْحَیَّانَ، حَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ حَیَّانَ، قَالَ: اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَحُصَیْنُ بْنُ سَبْرَۃَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ اِلٰی زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْتُ اِلَیْہِ قَالَ لَہٗ حُصَیْنٌ لَقَدْ لَقِیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَسَمِعْتَ حَدِیْثَہٗ، وَغَزَوْتَ مَعَہٗ، وَصَلَّیْتَ خَلْفَہٗ لَقَدْ لَقِیْتَ یَازَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا حَدِّثْنَا یَازَیْدُ مَاسَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ قَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ وَاللّٰہِ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّیْ، وَقَدُمَ عَھْدِیْ، وَنَسِیْتُ بَعْضَ الَّذِیْ کُنْتُ اَعِیْ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاَقْبَلُوْا وَمَالاَفَلاَتُکَلِّفُوْنِیْہِ ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فِیْنَا خَطِیْبًا بِمَائٍ یُدْعیٰ خُمًّا بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ فَحَمِدَاللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ ثُمَّ قَالَ:اَمَّابَعْدُ اَلاَاَیُّھَا النَّاسُ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ یُوْشِکُ اَنْ یَاْتِیَ رَسُوْلُ رَبِّیْ فَاُجِیْبُ وَاَنَاتَارِکٌ فِیْکُمْ ثَقَلَیْنِ اَوَّلَھُمَا کِتَابُ اللّٰہِ فِیْہِ الْھُدیٰ وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوْا بِہٖ فَحَثَّ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ ثُمَّ قَالَ: وَاَھْلُ بَیْتِیْ اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَھْلِ بَیْتِیْ اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَھْلِ بَیْتِی اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَھْلِ بَیْتِیْ فَقَالَ لَہٗ حُصَیْنٌ وَمَنْ اَھْلُ بَیْتِہٖ یَازَیْدُ؟اَلَیْسَ نِسَآئُ ٗہ مِنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ؟ قَالَ : نِسَآئُ ہٗ مِنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ وَلٰکِنْ اَھْلُ بَیْتِہٖ مَنْ حُرِمَ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ بَعْدَہٗ۔ قَالَ: وَمَنْ ھُمْ؟ قَالَ: ھُمْ آلُ عَلِیٍّ وَاٰلُ عَقِیْلٍ وَاٰلُ جَعْفَرٍ وَاٰلُ عَبَّاسٍ قَالَ کُلُّ ھٰؤُلَآئِ حُرِمَ الصَّدَقَۃُ قَالَ: نَعَمْ۔(۴۹)
ترجمہ : یز یدبن حیّان بیان کرتے ہیں کہ میں اور حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم تینوں زید بن ارقم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے عرض کیا کہ اے زید بن ارقم آپ نے خیر کثیر پایا ہے۔ آپ نے رسول اللہﷺ کو اپنی آنکھوںسے دیکھا ہے۔ ان کے ارشاد سماعت فرمائے ہیں۔ غزوات میں ان کے ساتھ شریک ہوئے ہیں۔ ان کی اقتداء وامامت میں نمازیں پڑھی ہیں۔ بلاشبہ اے زید بن ارقم خیر کثیر پایاہے آپ نے۔ رسول اللہ ﷺسے جو احادیث آپ نے سنی ہیں وہ ہمیں سنائیں۔ زید نے کہا: بھتیجے! خدا شاہد ہے کہ میں بوڑھا ہوچکاہوں۔ میرا زمانہ ماضی کی نذر ہوچکاہے۔ بعض ارشاداتِ نبوی جو میں نے سنے تھے، بھول چکاہوں۔ اب میں تمہیں جو کچھ سناؤں اسے قبول کرو اور جو نہ سناؤں تم مجھے خواہ مخواہ مشقّت میں نہ ڈالو۔ پھر خود بیان کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز غدیر خُم کے چشمہ پر ہم سے مخاطب ہوکر فرمایا (یہ خُم مکّہ اور مدینہ کے درمیان پانی کا ایک گھاٹ ہے)پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا فرمائی پھر وعظ ونصیحت کی اور تذکیر کی۔ بعد میں فرمایا لوگو! میں بھی ایک انسان ہی ہوں قریب ہے کہ میرے رب کا فرشتہ پیغامِ اجل لیے میرے پاس آئے اور میں قبول کرلوں۔ میں تم میں دوبھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں۔ان میں سے ایک تو کتاب اللہ ہے اس میں رشدو ہدایت اور نورو روشنی ہے پس تم کتاب اللہ کو پکڑلو اور مضبوطی سے اس کے ساتھ چمٹ جاؤ، پھر آپ نے کتاب اللہ کے بارے میں ترغیب دلائی اور ابھارا۔ پھر فرمایا دوسری میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیںاپنے گھر والوں کے بارے میں اللہ سے ڈراتاہوں اور اس کی یاد دلاتاہوں۔ تین مرتبہ آپؐ نے یہی کلمات دہرائے۔ حصین نے ان سے دریافت کیا کہ اہل بیت سے کیا مراد ہے؟ کیا خواتینِ خانہ اہلِ بیت نہیں؟ انہوں نے جواب دیا خواتینِ خانہ تو اہلِ بیت ہیں ہی۔ لیکن اہلِ بیت سے مراد وہ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ اس نے پھر پوچھا وہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ ان میں آلِ علی، آل عقیل، آل جعفر، آلِ عبّاس ہیں۔ اس نے دریافت کیا۔کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔
(۲) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْکُوْفِیُّ، نَازَیْدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّتِہٖ یَوْمَ عَرَفَۃَ وَھُوَ عَلٰی نَاقَتِہٖ الْقَصْوَآئَ یَخْطُبُ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَنْ اِنْ اَخَذْتُمْ بِہٖ لَنْ تَضِلُّوْا، کِتَابُ اللّٰہِ وَعِتْرَتِیْ وَاَھْلُ بَیْتِیْ۔
وَفِی الْبَابِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ وَاَبِیْ سَعِیْدٍ وَزَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ۔
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ حَسَنٌ مِّنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَزَیْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَویٰ عَنْہُ سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانُ وَ غَیْرُ وَاحِدٍ مِّنْ اَھْلِ الْعِلْمِ۔
ترجمہ : حضرت جابر ؓبن عبداللہ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج کے ایّام میں عرفہ کے دن اپنی اونٹنی قصواء پر لوگوں کو خطاب فرماتے سنا، فرمارہے تھے۔ لوگو! میں تم میں وہ چیزیں چھوڑ کر جانے والا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب اللہ اور دوسرے میرے اہل بیت۔
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْکُوْفِیُّ، نَامُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، ناالْاَعْمَشُ عَنْ عَطِیَّۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، وَالْاَعْمَشُ عَنْ حَبِیْبِ ابْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمْ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِہٖ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِیْ اَحَدُھُمَا اَعْظَمُ مِنَ الْاٰخَرِ۔کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَّمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ، وَعِتْرَتِیْ وَاَھْلُ بَیْتِیْ وَلَنْ یَّتَفَرَّقَا حَتّٰی یَرِدَ عَلَیَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوْا کَیْفَ تَخْلُفُوْنِیْ فِیْھِمَا؟(۵۰) (ھذا حدیث حسن غریب
مسند میں اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ اَحْدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ بھی ہے۔ ایک روایت میں خَلِیْفَتَیْنِبھی ہے۔ (ج۵ ،ص:۱۸۲)
ترجمہ :حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں اگر تم نے انہیں خوب پکڑلیا تو میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے کہیں عظیم تر ہے۔ کتاب اللہ جس کا سر رشتہ آسمان سے زمین تک ہے ،اور میرے اہلِ بیت۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گے تا وقتیکہ حوض کوثر پر مجھے آملیں۔ پس غور کرلو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میرا حقِ نیابت کس طرح ادا کرتے ہو۔
(۴) حَدَّثَنِیْ عَنْ مَالِکٍ أَنَّہٗ بَلَغَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَاتَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا، کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہٖ۔(۵۱)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ’’میں نے تمہارے درمیان دوامور چھوڑے ہیں جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ ایک کتاب اللہ، دوسرے اللہ کے نبی کی سنت۔
(۵) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ مَعْمَرِبْنِ حَزْمٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ عَمَّتِہٖ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبٍ، وَکَانَتْ عِنْدَ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:وَقَدْتَرَکْتُ فِیْکُمْ مَا اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ فَلَنْ تَضِلُّوْا اَبَدًا اَمْرًا بَیِّنًا کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہٖ۔(۵۲)
ترجمہ : میںنے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو توکبھی بھی گمراہ نہ ہوگے۔ یہ واضح فرمان ہے کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت۔
مستدرک میں اَمْراً بَیِّنًا نہیں ہے۔
ابوداوٗد نے بَابُ صِفَۃِ حَجَّۃِ النَّبِیِّ ﷺ کے تحت روایت بیان کی ہے۔ طویل روایت ہے۔ اس میں بطن وادی میں حضور ﷺ کا خطبہ نقل کیاہے۔ اس کے مندرجات میں یہ بھی ارشاد گرامی ہے:
(۶) وَاِنِّیْ قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَالَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَہٗ اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ کِتَاب اللّٰہِ۔(۵۳)
ترجمہ : بلا شبہ میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو تو کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے کتاب اللہ۔
ایک واقعہ کی اصل حقیقت
۱۵۲۔(بعض مفسرین جو سورۃ الدّھر یا اس کی بعض آیات کو مدنی قراردیتے ہیں۔ ان کا یہ خیال اس روایت کی بناپر ہے) جو عطاء نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرات حسن وحسین رضی اللہ عنہما بیمار ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ اور بہت سے صحابہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ بعض صحابہؓ نے حضرت علیؓ کو مشورہ دیا کہ آپ دونوں بچّوں کی شفا کے لیے اللہ تعالیٰ سے کوئی نذر مانیں۔ چنانچہ حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور ان کی خادمہ فِضّہؓ نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے دونوں بچّوں کو شفا عطا فرمادی تو یہ سب شکرانے کے طورپر تین دن کے روزے رکھیں گے، اللہ کا فضل ہوا کہ دونوں تندرست ہوگئے اور تینوں صاحبوں نے نذر کے روزے رکھنے شروع کردیے۔ حضرت علیؓ کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ انہوں نے تین صَاع جو قرض لیے (اور ایک روایت میں ہے محنت مزدوری کرکے حاصل کیے) پہلا روزہ کھول کر جب کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک مسکین نے کھانا مانگا۔ گھروالوں نے سارا کھانا اسے دے دیا اور خود پانی پی کر سورہے۔ دوسرے دن پھر افطار کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک یتیم آگیا اور اس نے سوال کیا۔ اُس روز بھی سارا کھانا انہوں نے اس کو دے دیا اور پانی پی کر سورہے۔ تیسرے دن روزہ کھول کر ابھی کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ ایک قیدی نے آکر وہی سوال کردیا اور اُس روز کا بھی پورا کھانا اسے دے دیا گیا۔ چوتھے روز حضرت علیؓ دونوں بچوں کو لیے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؐ نے دیکھاکہ بھوک کی شدّت سے تینوں باپ بیٹوں کا بُرا حال ہورہاہے۔ آپ اُٹھ کر اُن کے ساتھ حضرت فاطمہؓ کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بھی ایک کونے میں بھوک سے نڈھال پڑی ہیں۔ یہ حال دیکھ کر حضورؐ پر رقّت طاری ہوگئی۔ اتنے میں جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ لیجیے، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اہلِ بیت کے معاملہ میں آپ کو مبارکباد دی ہے۔ حضورؐ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں پوری سورہ الدّھر آپؐ کو پڑھ کر سنائی ـــــابن مہران کی روایت میں ہے کہ : اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنسے لے کر آخر تک کی آیات سنائیں۔ مگر ابن مَردُویہ نے ابنِ عباس سیجو روایت نقل کی ہے اس میں صرف یہ بیان کیا گیاہے کہ آیت وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ۔۔۔حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس قصّے کا اُس میں کوئی ذکر نہیں ہےــــ یہ پورا قصّہ علی بن احمد الواحدی نے اپنی تفسیر الْبَسِیْط میں بیان کیا ہے اور غالباً اسی سے زمخشری رازی اور نیسا بوری وغیرہم نے اسے نقل کیاہے۔
تخریج : وَمِنْ رِوَایَۃِ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: اَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ مَرَضَا فَعَادَھُمَا جَدُّھُمَا مُحَمَّدٌ ﷺ وَمَعَہٗ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَا وَعَادَھُمَا مَنْ عَادَھُمَا مِنَ الصَّحَابَۃِ۔ فَقَالُوْا لِعَلِیٍّ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ یَا اَبَاالْحَسَنِ لَوْنَذَرْتَ عَلٰی وَلَدَیْکَ فَنَذَرَ عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَفَضَّۃُ جَارِیَۃٌ لَّھُمَا اِنْ بَرَآمِمَّا بِھِمَا اَنْ یَّصُوْمُوْا ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ شُکْرًا فَاَلْبَسَ اللّٰہُ تَعَالٰی الْغُلاَمَیْنِ ثَوْبَ الْعَافِیَۃِ وَلَیْسَ عِنْدَ اٰلِ مُحَمَّدٍ قَلِیْلٌ وَلاَکَثِیْرٌ فَانْطَلَقَ عَلِیٌّ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ اِلٰی شَمْعُوْنِ الْیَھُوْدِیِّ الْخَیْبَرِیِّ فَاسْتَقْرَضَ مِنْہُ ثَلاَثَۃَ اَصْوَعٍ مِنْ شَعِیْرٍ فَجَائَ بِھَا فَقَامَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا اِلٰی صَاعٍ فَطَحَنَتْہُ وَخَبَزَتْ مِنْہُ خَمْسَۃَ اَقْرَاصٍ عَلٰی عَدَدِھِمْ وَصَلَّی عَلِیٌّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَتَی الْمَنْزِلَ فَوُضِعَ الطَّعَامُ بَیْنَ یَدَیْہِ۔
فَوَقَفَ بِالْبَابِ سَائِلٌ فَقَالَ: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَااَھْلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ ﷺ اَنَا مِسْکِیْنٌ مِنْ مَسَاکِیْنِ الْمُسْلِمِیْنَ اَطْعِمُوْنِیْ اَطْعَمَکُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ مَوَائِدِ الْجَنَّۃِ فَاٰثَرُوْہُ وَبَاتُوْا لَمْ یَذُوْقُوْا شَیْئًا اِلاَّ الْمَائَ وَاَصْبَحُوْا صِیَامًا ثُمَّ قَامَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا اِلٰی صَاعٍ اٰخَرَ فَطَحَنَتْہُ وَخَبَزَتْہٗ وَصَلَّی عَلِیٌّ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَتَی الْمَنْزِلَ فَوُضِعَ الطَّعَامُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَوَقَفَ یَتِیْمٌ بِالْبَابِ وَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ ﷺ یَتِیْمٌ مِنْ اَوْلاَدِ الْمُھَاجِرِیْنَ اَطْعِمُوْنِیْ اَطْعَمَکُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ مَّوَائِدِ الْجَنَّۃِ فَاٰثَرُوْہُ وَمَکَثُوْا یَوْمَیْنِ وَلَیْلَتَیْنِ لَمْ یَذُوْقُوْا شَیْئًا اِلاَّالْمَآئَ الْقَرَاحَ وَاَصْبَحُوْا صِیَامًا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثِ قَامَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا اِلَی الصَّاعِ الثَّالِثِ وَطَحَنَتْہُ وَخَبَزَتْہُ وَصَلّٰی عَلِیٌّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ الْمَغْرِبَ فَاَتَی الْمَنْزِلَ فَوُضِعَ الطَّعَامُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَوَقَفَ اَسِیْرٌ بِالْبَابِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ ﷺ اَنَا اَسِیْرُ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ اَطْعِمُوْنِیْ اَطْعَمَکُمُ اللّٰہُ فَاٰثَرُوْہُ وَبَاتُوْا لَمْ یَذُوْقُوْا اِلاَّالْمَآئَ الْقَرَاحَ فَلَمَّا اَصْبَحُوْا اَخَذَ عَلِیٌّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَاَقْبَلُوْا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَرَاٰھُمْ یَرْتَعِشُوْنَ کَالْفَرَاخِ مِنْ شِدَّۃِ الْجُوْعِ قَالَ یَا اَبَاالْحَسَنِ مَا اَشَدَّ مَایَسُوئُ نِیْ مَااَرٰی بِکُمْ وَقَامَ فَانْطَلَقَ مَعَھُمْ اِلٰی فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا فَرَاٰھَا فِیْ مِحْرَابِھَا قَدِالْتَصَقَ بَطْنُھَا بِظَھْرِھَا وَغَارَتْ عَیْنُھَا مِنْ شِدَّۃِ الْجُوْعِ فَرَقَّ لِذٰلِکَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَائَ ہٗ ذٰلِکَ، فَھَبِطَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ خُذْھَا یَامُحَمَّدُ ھُنَاکَ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیْ اَھْلِ بَیْتِکَ قَالَ وَمَا آخُذُ یَاجِبْرِیْلُ! فَاَقْرَأَہُ ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ السُّوْرۃ وَفِی رِوَایَۃِ بْنِ مِھْرَانِ فَوَثَبَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی فَاطِمَۃَ فَاَکَبَّ عَلَیْہِ یَبْکِیْ فَھَبِطَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَم بِھٰذِہِ الْاٰیَۃِ اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔
وَفِیْ رِوَایَۃِ عَنْ عَطَآئٍ اَنَّ الشَّعِیْرَ کَانَ عَنْ اُجْرَۃِ سَقی نَخْلٍ وَاَنَّہٗ جَعَلَ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ ثُلث مِنْہُ مصیْدَۃً فَاٰثَرُوْا بِھَا وَاَخْرَجَ ابْنُ مَرْدُوَیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہٗ قَالَ فِیْ قَوْلِہٖ سُبْحَانَہٗ وَیُطْعِمُوْنَ نَزَلَتْ فِیْ عَلِیٍّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ وَفَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی َعَلَیْھِمَا وَسَلَّمَ وَلَمْ یَذْکُرُ الْقِصَّۃَ۔(۵۴)
وَالْخَبْرُ مَشْھُوْرٌ بَیْنَ النَّاسِ وَذَکَرَہُ الْوَاحِدِیُّ فِیْ کِتَابِ الْبَسِیْطِ۔
روایت باعتبارِ سند
یہ روایت اوّل تو سند کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے۔ پھر درایت کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسکین، ایک یتیم اور ایک قیدی اگر آکر کھانا مانگتاہے تو گھر کے پانچوں افراد کا پورا کھانا اس کو دے دینے کی کیا معقول وجہ ہوسکتی ہے۔ ایک آدمی کا کھانا اس کو دے کر گھر کے پانچ افراد چار آدمیوں کے کھانے پر اکتفا کرسکتے تھے۔ پھر یہ بھی باور کرنا مشکل ہے کہ دوبچّے جو ابھی ابھی بیماری سے اٹھے تھے اور کمزوری کی حالت میں تھے، انہیں بھی تین دن بھوکا رکھنے کو حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ جیسی کامل فہمِ دین رکھنے والی ہستیوں نے نیکی کا کام سمجھا ہوگا۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے معاملہ میں یہ طریقہ اسلامی حکومت کے دَور میں کبھی نہیں رہا کہ انہیں بھیک مانگنے کے لیے چھوڑدیاجائے۔ وہ اگر حکومت کی قید میں ہوتے تو حکومت ان کی خوراک اور لباس کا انتظام کرتی تھی، اور کسی شخص کے سپرد کیے جاتے تو وہ شخص انہیں کھلانے پلانے کا ذمہ دار ہوتاتھا۔ اس لیے مدینہ طیبہ میں یہ بات ممکن نہ تھی کہ کوئی قیدی بھیک مانگنے کے لیے نکلتا۔ (تفہیم القرآن ج۶، الدھر: زمانہ نزول)
ماخذ
(۱) بخاری ج ۲ کتاب الاحکام باب الاستخلاف۔
(۲) بخاری کتاب الجنائز ج۱ باب موت یوم الاثنین۔٭ المستدرک للحاکم ج۳ کتاب معرفۃ الصحابہ۔
(۳) بخاری ج۲کتاب المغازی باب مرض النَّبِیِّ ﷺ ووفاتہ وقولہ تَعَالٰی اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّھُمْ مَیِّتُْوْنَ۔٭نسائی کتاب الجنائز باب تقبیل المیت۔ نسائی نے فَقَدْمُتَّھَا تک نقل کیاہے۔
(۴) بخاری ج۱کتاب المناقب باب فضل ابی بکر۔٭المستدرک للحاکم ج۳ص۷۶عن ابی سعید خدری۔
(۵) مؤطا امام مالک کتاب الجنائزباب ماجاء فی دفن المیت۔
(۶) ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی ذکر مرض رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۷) ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ذکر وفاتہ ودفنہ ﷺ۔
(۸) ترمذی شمائل ترمذی باب ماجاء فی وفات رسول اللہ ﷺ۔
(۹) شمائل ترمذی باب ماجاء فی وفاۃ رسول اللہ ﷺ۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی ذکر مرض رسول اللہ ﷺ۔٭ نسائی کتاب الجنائز باب الموت یوم الاثنین۔
(۱۰) ترمذی ابواب الشمائل باب ماجاء فی وفاۃ رسول اللہ ﷺ۔
(۱۱) ترمذی ابواب الشمائل باب ماجاء فی وفاۃ رسول اللہ ﷺ۔
(۱۲) المستدرک للحاکم ج۳ کتاب معرفۃ الصحابۃ انا مدینۃ العلم وعلی بابھا۔ ٭مجمع الزوائد ج۹ عن ابن عباس بحوالہ الطبرانی فیہ عبدالسلام ابن صالح الھروی وھوضعیف۔
(۱۳) ترمذی کتاب المناقب۔ مناقب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔
(۱۴) بخاری ج۱کتاب العلم باب کتابۃالعلم ٭مسنداحمدج۱ص۷۹ مرویات علی بن ابی طالب۔
(۱۵) ترمذی ابواب المناقب۔ مناقب معاذ بن جبل وزید بن ثابت وابی بن کعب وابی عبیدۃ بن الجراح۔٭ مسند احمد ج۳ ص ۱۸۴ روایت انس بن مالک ٭مسند احمد کی جگہ روایت میں فی امر اللہ کی جگہ فی دین اللہ ہے۔
(۱۶) مسند احمد ج۱ مرویات علی بن ابی طالب۔
(۱۷) مسند احمد ج۱ ص۹۵۔
(۱۸) مسنداحمد ج۱ص۱۰۷۔
(۱۹) ترمذی ابواب المناقب۔ باب مناقب ابی بکرالصدیق۔ابن ماجہ فی فضائل اصحاب النبیؐ فضل ابی بکر ٭ المستدرک للحاکم ج۳ کتاب معرفۃ الصحابۃ، فضائل احادیث الشیخین۔
(۲۰) ترمذی ابواب المناقب۔ مناقب ابی بکرالصدیق۔ ٭مجمع الزوائد ج۹ص۵۱۔
(۲۱) ترمذی ابواب المناقب۔ مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ۔
(۲۲) بخاری ج۱کتاب المناقب۔ مناقب عمربن الخطاب ابی الحفص القرشی الْعَدَوِی۔٭مسلم ج۲کتاب الفضائل باب من فضائل عمر بن الخطاب۔
(۲۳) ابوداؤد کتاب الخراج ج۳ باب فی تدوین العطاء۔٭ابنِ ماجہ المقدمہ فضل عمر رضی اللہ عنہ۔
(۲۴) ابوداؤد کتاب الخراج ، ج۳باب فی تدوین العطاء۔٭ ترمذی کتاب المناقب۔ مناقب ابی حفص عمربن الخطاب۔ ٭المستدرک للحاکم ج ۳کتاب معرفۃ الصحابۃ ان اللہ جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ۔
(۲۵) بخاری ج۱کتاب المناقب۔ مناقب عمربن الخطاب۔٭مسلم ج۲کتاب الفضائل۔ باب من فضائل عمربن الخطاب۔ ٭مُسنداحمد ج۳ص۸۶۔ روایت ابی سعیدخدری۔
(۲۶) بخاری ج۱ کتاب المناقب۔ باب مناقب المھاجرین وفضلھم منھم ابوبکر۔٭ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی التفضیل۔
(۲۷) مسند احمدج۱مرویات علی۔
(۲۸) ترمذی ابواب المناقب، مناقب ابی بکرالصدیق۔٭ مجمع الزوائدج۹ص۵۳۔٭ابن ماجہ مقدمہ فی فضائل اصحاب النبی ﷺ فضل ابی بکر الصدیق۔
(۲۹) مسنداحمد ج۱مرویات علیؓ۔
(۳۰) مسنداحمد ج۱ص۱۰۶۔
(۳۱) مسنداحمد ج۱ص۱۰۶۔
(۳۲) مسنداحمد ج۱ص۱۰۶مرویات علیؓ۔
(۳۳) بخاری ج۱ کتاب المناقب، مناقب المھاجرین وفضلھم منھم ابوبکر۔ ٭مسلم ج۲کتاب الفضائل باب فضائل عمرؓ۔
(۳۴) بخاری ج۱کتاب الجھاد باب اخرج الیھود من جزیرۃ العرب۔ ٭بخاری ج۱کتاب الجھاد باب جوائر الوفدکے تحت سلیمان الاحول سے یہی روایت مروی ہے۔ اس روایت میں ذَرُوْنِیْکے بجائے دَعُوْنِیْ فَالَّذِیْ اَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِمَّا تَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِالخ ہے۔ ٭ مسلم ج۲پر یہی روایت منقول ہے اس میں دَعُوْنِیْ فَالَّذِیْ اَنَافِیْہِہے، مسلم میںاِئْتُوْنِیْ بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ اَوِاللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ روایت کیا گیاہے۔
(۳۵) بخاری ج۲کتاب المغازی باب مرض رسول اللہ ﷺ٭مسنداحمدج۱ص۲۲۲عن ابن عباس۔
(۳۶) بخاری ج۱کتاب العلم باب کتاب العلم۔
(۳۷) بخاری ج۲ کتاب المغازی باب مرض رسول اللہ ٭ مسلم ج۲ کتاب الوصیۃ۔
(۳۸) المستدرک للحاکم ج۳۔کتاب معرفۃ الصحابۃ منع علیًّا عن نکاح بنت ابی جھل۔
(۳۹) بخاری ج۲کتاب النکاح باب ذب الرجل عن ابنتہ فی الغیرۃ والانصاب۔٭مسلم ج۲کتاب الفضائل باب من فضائل فاطمۃ رضی اللہ عنھا۔٭ابوداؤد کتاب النکاح باب مایکرہ ان یجمع بینھن من النساء۔ ٭ترمذی ابواب المناقب، باب ماجاء فی فضل فاطمۃ رضی اللہ عنھا۔٭ابن ماجہ ابواب النکاح باب الغیرۃ۔ ٭مسنداحمد ج۴ روایت مسوربن مخرمۃ ٭المستدرک للحاکم ج۳کتاب معرفۃ الصحابۃ منع النبی علیًّا عن النکاح بنت ابی جھل۔ انما فاطمۃ بضعۃ منی یؤذینی من اذاھا وینصبنی من انصبھا۔
(۴۰) بخاری ج۱کتاب المناقب۔ مناقب فاطمۃؓ الخ۔
(۴۱) ترمذی ابواب المناقب۔ باب ماجاء فی فضل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنھا۔٭المستدرک للحاکم ج۳ کتاب معرفۃ الصحابۃ منع النبیؐ علیاً عن النکاح بنت ابی جھل۔
(۴۲) بخاری ج۱کتاب الجھاد باب ماذکر من درع النبی ﷺ الخ٭ مسلم ج۲کتاب الفضائل باب من فضائل فاطمۃؓ۔ مسلم نے فاثْنٰیکی جگہ فاحسن اور آخر میں وَلٰکِنَّ واللہ لاتجتمع بنت رسول اللہ وبنت عدوا للہ مکاناً واحدابیان کیاہے۔ ٭ابوداوٗد کتاب النکاح باب مایکرہ ان یجمع بینھن من النساء۔٭ مسند احمد ج۴مسور بن مخرمۃ۔
(۴۳) مسلم ج۲ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنھا۔٭بخاری ج۱کتاب المناقب باب ذکرا صھار النبی ﷺ ابوالعاص بن الربیع۔٭ ابنِ ماجہ ابواب النکاح باب الغیرۃ۔ ابن ماجہ نے فترک کی جگہ فنزل او ان یفتنوھا کی جگہ ان تفتنوھا نقل کیاہے۔
(۴۴) ابن کثیر ج۳ سورۃ الاحزاب۔ بحوالہ ابنِ ابی حاتم۔
(۴۵) المستدرک للحاکم ج۳ کتاب معرفۃ الصحابۃ۔
(۴۶) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الاحزاب٭ابن جریر ج۲۲؍۲۳ جلد ۱ص۷۔٭ابنِ کثیر ج۳ ص۴۸۴، ص۴۸۵۔ ٭ المستدرک للحاکم ج۲کتاب التفسیر سورۂ احزاب۔٭مُسندِ احمد ج۴ص۱۰۷واثلۃ بن اسقع اور ج۱ص۳۳۱۔ج۳ص۲۵۹،۲۸۵۔ج۶ص۲۹۲،۲۹۸،۳۰۴۔
(۴۷) مسلم ج۲کتاب الفصائل باب من فضائل الحسن والحسین رضی اللہ عنھما۔
(۴۸) روح المعانی ج۲۱سورۃ الاحزاب۔
(۴۹) مسلم ج۲کتاب الفضائل باب فضائل علیؓ۔
(۵۰) ترمذی ابواب المناقب، مناقب اھلِ بیت النبی ﷺ۔٭کنزالعمّال ج۱ص۶۳۴بحوالہ بویعلی۔طبری۔ ٭المُستدرک للحاکم ج۳کتاب معرفۃ الصحابۃ۔٭مجمع الزوائد ج۹ص۱۶۳۔٭ مُسنداحمد ج۳ص۱۷۔
(۵۱) مؤطا امام مالک، کتاب الجامع۔ النھی عن القول فی القدر ج۲۔
(۵۲) سیرت ابنِ ہشام ج۴ص۶۰۴۔خطبۃ الرسول فی حجۃ الوداع۔ المستدرک للحاکم ج۱کتاب العلم باب خطبۃ النبی فی حجۃ الوداع۔
(۵۳) ابوداوٗد کتاب المناسک باب صفۃ حجۃ النبی ﷺ۔٭حیاۃ الصحابۃ ج۳ص۴۰۲خطباتہ ﷺ۔٭مستدرک ج۱ص۹۳۔کتاب العلم۔
(۵۴) روح المعانی جز ۲۸؍۳۰ج۱۰ص۱۹۸۔
کتاب الآخرۃ:فصل اوّل: قیامت کی نشانیاں
قیامت کی آمد میں کتنی دیر ہے؟
۱۔(بخاری، مسلم، تِرمذی اور مسنداحمد میں حضرت انس، حصرت سہل بن سَعد ساعِدی اور حضرت بریدہؓ کی روایات منقول ہیں کہ حضورؐ نے اپنی انگشتِ شہادت اور بیچ کی انگلی کھڑی کرکے فرمایا: بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ’’میری بعثت اور قیامت ان دوانگلیوں کی طرح ہیں۔ ‘‘
تشریح : اس سے مراد قربِ قیامت ہے، یعنی اب وہ وقت دُور نہیں ہے جب لوگوں کو اپنا حساب دینے کے لیے اپنے رب کے آگے حساب دینا پڑے گا۔ محمد ﷺکی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ نوع انسانی کی تاریخ اب اپنے آخری دَور میں داخل ہورہی ہے۔ اب وہ اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔آغاز اور وسط کے مرحلے گزرچکے ہیں۔ اور آخری مرحلہ شروع ہوچکاہے۔ اسی مضمون کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مندرجہ بالا حدیث میں بیان فرمایاہے۔ یعنی میرے بعد بس قیامت ہی ہے۔ کسی اور نبی کی دعوت بیچ میں حائل نہیں ہے۔ سنبھلناہے تو میری دعوت پر سنبھل جاؤ، کوئی اور ہادی اور بشیرو نذیر آنے والا نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳، الانبیاء، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْغَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْحَازِمٍ عَنْ سَھْلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ ھٰکَذَا وَیُشِیْرُبِاِصْبَعَیْہِ فَیَمُدُّھُمَا۔(۱)
حضرت انسؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۲)بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ۔
کیا حیات بعدالموت بعید ازامکان ہے؟
۲۔ابنِ عبّاس، قَتادہ اور سعید بن جبیر کی روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ایک موقعہ پر کفّارِ مکّہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مُردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی ﷺ کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزاء ہوا میں اُڑاکر آپ سے کہا۔ ’’اے محمدؐ، تم کہتے ہوکہ مردے پھر زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ بتاؤ، ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟‘‘
تشریح :کفارکا یہ سوال کہ ’’قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی؟‘‘ کچھ اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے، بلکہ اس بنا پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کے دوبارہ اٹھائے جانے کو بعید از امکان، بلکہ بعید از عقل سمجھتے تھے۔ (تفہیم القرآن ج۴، یٰسٓ، حاشیہ:۴ ۶)
مکّہ میں جو لوگ اس کا انکار کرتے تھے وہ بار بار یہ کہتے تھے کہ آخر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزرچکے ہیں، جن کے جسم کا ذرّہ ذرّہ خاک میں مل کر پراگندہ ہوچکا ہو، جن کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہوکر نہ معلوم زمین میں کہاں کہاں منتشر ہوچکی ہوں، جن میں سے کوئی جل مرا ہو کوئی درندوں کے پیٹ میں جاچکاہو، کوئی سمندر میں غرق ہوکر مچھلیوں کی غذا بن چکا ہو، ان سب کے اجزائے جسم پھر سے جمع ہوجائیں۔ اور ہرانسان پھر وہی شخص بن کر اٹھ کھڑا ہو جو دس بیس ہزار برس پہلے کبھی وہ تھا؟ اس کا نہایت معقول اور پُر زور جواب اللہ تعالیٰ نے اس مختصر سے سوال کی شکل میں دے دیا ہے کہ ’’کیا انسان یہ سمجھ رہاہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو کبھی جمع نہ کرسکیں گے؟‘‘ یعنی اگر تم سے یہ کہا گیا ہوتا کہ تمہارے یہ منتشر اجزائے جسم کسی وقت آپ سے آپ جمع ہوجائیں گے اور تم آپ سے آپ اسی جسم کے ساتھ جی اٹھوگے، تو بلاشبہ تمہارا اس کو ناممکن سمجھنا بجا ہوتا۔ مگر تم سے تو کہا یہ گیاہے کہ یہ کام خود نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا۔ اب کیا واقعی یہ سمجھ رہے ہو کہ کائنات کا خالق، جسے تم خود بھی خالق مانتے ہو اس کام سے عاجز ہے، یہ ایسا سوال تھا جس کے جواب میں کوئی شخص جو خدا کو خالقِ کائنات مانتاہو، نہ اس وقت یہ کہہ سکتا تھا اور نہ آج یہ کہہ سکتا ہے کہ تم آج جس جسم میں اس وقت موجود ہو اس کے بے شمار اجزاء کو ہوا اور پانی اور مٹّی اور نہ معلوم کہاں کہاں سے جمع کرکے اس خدا نے کیسے یہ جسم بنادیا جس کے متعلق تم یہ کہہ رہے ہو کہ وہ پھر ان اجزاء کو جمع نہیں کرسکتا۔ (تفہیم القرآن ج۶،القیامۃ، حاشیہ: ۳)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ: ثَنَایَزِیْدُ قَالَ: ثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلُہٗ تَعَالٰی مَنْ یُّحْیِی الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ۔ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ اُبَیَّ بْنَ خَلَفٍ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بِعَظْمٍ حَائِلٍ فَفَتَّہٗ ثُمَّ ذَرَّاہُ فِی الرِّیْحِ ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ! مَنْ یُّحْیِیْ ھٰذَا وَھُوَ رَمِیْمٌ قَالَ: اَللّٰہُ یُحْیِیہِ الخ۔
ترجمہ :حضرت قتادہ اللہ تعالیٰ کے ارشادمَنْ یُّحْیِی الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ ابی بن خلف ایک نہایت بوسیدہ ہڈی لے کر رسول اللہﷺ کی خدمتِ اقدس میں آیا اور اپنی انگلیوں سے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اسے ہوا میں اڑادیا اور کہنے لگا’’اے محمد! (ﷺ) کیا اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو جب کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہے دوبارہ زندہ کرے گا۔‘‘ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ہاں اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ اٹھائے گا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: ثَنا ھُشَیْمٌ، قَالَ:اَخْبَرَنَا اَبُوْبِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: جَآئَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلِ السَّھْمِیُّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِعَظْمٍ حَائِلٍ فَفَتَّہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! اَیَبْعَثُ اللّٰہُ ھٰذَا حَیًّا بَعْدَ مَا اَرَمَّ؟ قَالَ: نَعَمْ یَبْعَثُ اللّٰہ ھٰذَا۔(۲)
دس نشانیاں
۳۔ حذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک روز ہم قیامت کے متعلق آپس میں گفتگو کررہے تھے، اتنے میں حضورؐ برآمد ہوئے اور فرمایا ’’قیامت قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات یکے بعد دیگرے ظاہر نہ ہولیں گی:سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابّہ، یاجوج وماجوج کا خروج، عیسی ابن مریم کا نزول، زمین کا دھنسنا مشرق میں، مغرب میں اور جزیرۃ العرب میں۔ اور عدن سے آگ کا نکلنا جولوگوں کو ہانکتی ہوئی لے جائے گی۔ (یاجوج ماجوج سے مراد ایشیا کے شمال مشرقی علاقے کی وہ قومیں ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر غارت گرانہ حملے کرتی رہی ہیں۔ اور جن کے سیلاب وقتاً فوقتاً اُٹھ کر ایشیا اور یورپ، دونوں طرف رخ کرتے رہے ہیں۔بائیبل کی کتاب پیدایش (باب:۱۰) میں ان کو حضرت نوحؑ کے بیٹے یافث کی نسل میں شمار کیاگیاہے، اور یہی بیان مسلمان مؤرخین کا بھی ہے۔ حزقی ایل کے صحیفے (باب :۳۸،۹ ۳) میں ان کا علاقہ روس اور توبل (موجودہ توبالسک) اور مسک (موجودہ ماسکو) بتایاگیاہے اسرائیلی مورّخ یوسیفوس ان سے مراد سیتھئین قوم لیتاہے جس کا علاقہ بحرِ اسود کے شمال اور مشرق میںواقع تھا۔ جیرم کے مطابق ماجوج کا کیشیا کے شمال میں بحرِ خزر کے قریب آباد تھے۔ ) (تفہیم القرآن ج۳،الکھف، حاشیہ:۹ ۶)
(تفہیم القرآن ج۴، الدخان، حاشیہ:۱۳)
تشریح : رسول اللہ ﷺ نے جو پیشین گوئیاں ارشاد فرمائی ہیں ان میں سے کسی کے ظہور کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے بلکہ صرف اُن حالات کی طرف اشارہ کیا گیاہے جن میں کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے۔ اس طرح کے بیانات کی بناء پر قطعیت کے ساتھ کسی وقت بھی یہ نہیں کہا جاسکتاکہ کب کس پیشین گوئی کا ظہور ہوجائے گا۔ ہوسکتاہے کہ ہم جن حالات کو دیکھ کر یہ رائے قائم کریں کہ یہ فلاں پیشین گوئی کے ظہور کا وقت ہے مگر ان کے بارے میں ہمارا اندازہ غلط ہو۔ویسے تو ظہورِ قیامت کی علامات بھی اب بڑی حد تک دنیا میں پائی جاتی ہیں، لیکن قطعیت کے ساتھ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اب اس کے برپا ہونے کا وقت آگیاہے۔ )تصریحات ازسید مودودی، ص: ۱۵۹، اشاعت سوم مطبوعہ مکتبہ ذکریٰ رامپور۔)
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْخَیْثَمَۃَ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ الْمَکِّیُّ وَاللَّفْظُ لِزُھَیْرٍ قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ نَاسُفْیَانُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ فُرَاتِ القَزَّازِ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ،عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اَسِیْدِ نِالْغَفَارِیِّ قَالَ: اِطَّلَعَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ۔ فَقَالَ: مَاتَذْکُرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْکُرُ السَّاعَۃَ قَالَ: اِنَّھَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَھَا عَشْرَ آیَاتٍ۔ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّآبَّۃَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا وَنُزُوْلَ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ ﷺ وَیَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَثَلاَثَۃَ خُسُوْفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَاٰخِرُ ذٰلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ اِلٰی مَحْشَرِھِمْ۔(۳)
ایک روایت میں نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَاور ایک دوسری روایت میں وَرِیْحٌ تُلْقِی النَّاسَ فِی الْبَحْرِ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔
۴۔کَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لاَیَدْرِیْ اَھْلُھَا مَتٰی تَفْجَؤُھُمْ بِوَلَدِھَا لَیْلاً اَوْنَھَارًا۔
’’ایک اور حدیث میں یاجوج ماجوج کی یورش کا ذکر کرکے حضورؐ نے فرمایا: اُس وقت قیامت اس قدرقریب ہوگی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ کہ نہیں کہہ سکتے کب وہ بچہ جن دے، رات کو یا دن کو۔‘‘
تشریح :یاجوج ماجوج کے کھول دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے جیسے کوئی شکاری درندہ یکا یک پنجرے یا بندھن سے چھوڑدیا گیا ہو،’’وعدہ حق پورا ہونے کا وقت قریب آلگے۔‘‘ یعنی یاجوج ماجوج کی یہ عالمگیر یورش آخری زمانہ میں ہوگی اور اس کے بعدجلد ہی قیامت آجائے گی۔ (تفہیم القرآن ج۳ ،الانبیاء، حاشیہ: ۹۳)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا ھُشَیْمٌ اَنَا الْعَوَّامُ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ عَنْ مُؤَثِّرِ بْنِ مُفَازَۃَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَقِیْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ اِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی قَالَ: فَتَذَاکَرُوْا اَمْرَالسَّاعَۃِ فَرَدُّوْا اَمْرَھُمْ اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ: لاَعِلْمَ لِیْ بِھَا فَرَدُّوْا الْاَمْرَ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: لاَعِلْمَ لِیْ بِھَا فَرَدُّوا الْاَمْرَ اِلٰی عِیْسٰی فَقَالَ:اَمَّا وَجَبَتْھَا فَلاَیَعْلَمُھَا اَحَدٌ اِلاَّاللّٰہُ ذٰلِکَ فِیْمَا عَھِدَ اِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔ اِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ وَمَعِیْ قَضِیْبَانِ فَاِذَا رَآنِیْ ذَابَ کَمَایَذُوْبُ الرَّصَاصُ قَالَ فَیُھْلِکُہُ اللّٰہُ حَتّٰی اَنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَیَقُوْلُ یَامُسْلِمُ اِنَّ تَحْتِیْ کَافِرًا فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ قَالَ فَیُھْلِکُھُمُ اللّٰہُ ثُمَّ یَرْجِعُ النَّاسُ اِلٰی بِلاَدِھِمْ وَاَوْطَانِھِمْ قَالَ فَعِنْدَ ذٰلِکَ یَخْرُجُ یَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ فَیَطَؤُنَ بِلاَدَھُمْ لاَیَاْتُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ اِلاَّاَھْلَکُوْہُ وَلاَیَمُرُّوْنَ عَلٰی مَآئٍ اِلاَّ شَرِبُوْہُ ثُمَّ یَرْجِعُ النَّاسُ اِلَیَّ فَیَشْکُوْنَھُمْ فَادْعُوا اللّٰہَ عَلَیْھِمْ فَیُھْلِکُھُمُ اللّٰہُ وَیُمِیْتُھُمْ حَتّٰی تَجْرِی الْاَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِیْحِھِمْ قَالَ فَیَنْزِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرَفُ اَجْسَادَھُمْ حَتّٰی یَقْذِفَھُمْ فِی الْبَحْرِ قَالَ فَفِیْمَا عَھِدَ اِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اِنَّ ذٰلِکَ اِذَا کَانَ کَذٰلِکَ فَاِنَّ السَّاعَۃَ کَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِیْ لاَیَدْرِیْ اَھْلُھَا مَتٰی تَفْجَؤُھُمْ بِوِلاَدِھَا لَیْلاً اَوْنَھَارًا۔(۴)
ترجمہ : حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’جس رات مجھے آسمانوں کا مشاہدہ کرایا گیا اس شب میری ملاقات حضرت ابراہیمؑ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ سے ہوئی اور فرمایا کہ قیامت کے بارے میں ان کے مابین مذاکرہ ہوا۔ سب نے یہ معاملہ حضرت ابراہیمؑ کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا ’’مجھے اس کا علم نہیں۔‘‘ پھر حضرت موسیٰؑ کے آگے پیش کیا۔ انہوں نے بھی فرمایا مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰٰؑؑ کے آگے پیش کیا تو انہوں نے فرمایا۔ ’’قیامت آئے گی تو ضرور مگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں۔‘‘ اور جو کچھ میرے پروردگار نے مجھے بتایا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ دجال ظاہر ہونے والا ہے اور میرے ساتھ دوقضیب (اونٹنیاں یا چھڑیاں یا شمشیر بُراں) ہوں گی۔ جب اس کی نظر مجھ پر پڑے گی تو سیسہ کی طرح پگھل جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردے گا اور صورتِ حال یہ ہوگی کہ حجرو شجر بھی پکار اٹھیں گے اے مسلم!میرے نیچے کافر چھپا بیٹھا ہے آ اور اسے قتل کر۔ اور اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کردے گا۔ پھر لوگ اپنے اپنے وطنوں اور گھروں کو واپس ہوجائیں گے۔ آپ نے فرمایا ’’اس وقت یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا اور وہ ہربلندجگہ سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے اور شہروں کو روند ڈالیں گے، جس چیز پر ان کا گزرہوگا اسے تباہ وبرباد کردیں گے ۔ جس چشمہ پر وارد ہوں گے اس کا سارا پانی پی جائیں گے۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور ان کی شکایت کریں گے اور میں اللہ تعالیٰ سے ان کی ہلاکت وموت کی دعا کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک فرمادے گا اور وہ اس طرح مر مر کر گریں گے کہ ان کے گلنے سڑنے کی بدبوسے زمین بھرجائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جو اِن کے اجساد کو بہاکر سمندر میں پھینک دے گی۔ اسی موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ یہ ایسا وقت ہوگا جب قیامت بالکل قریب ہوگی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ کہ نہیں کہہ سکتے کہ کب بچہ جن دے دن کو یا رات کو۔‘‘
۵۔نبی ﷺ نے دھوئیںکو علامتِ قیامت میں شمار کیا ہے، اور یہ بھی حضورؐ نے فرمایاہے کہ وہ دھواں جب چھاجائے گا تو مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا اور کافر کی نَس نَس میں وہ بھرجائے گا اور اس کے ہرمَنْفَذ سے نکلے گا۔
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ:حَدَّثَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ حَدَّثَنَا خَلِیْلٌ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یَھِیْجُ الدُّخَانُ بِالنَّاسِ فَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَأْخُذُہُ الزَکْمَۃُ وَاَمَّاالْکَافِرُ فَیُنْفِخُہٗ حَتّٰی یَخْرُجُ مِنْ کُلِّ مَسْمَعٍ مِّنْہُ۔(۵)
یہ روایت سعید بن ابی عروبہ اور سعید بن عوف کے واسطہ سے ابوسعید خدری سے موقوف بھی بیان کی گئی ہے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ:ثَنَاسُفْیَانُ بْنُ سَعِیْدٍ الثَّوْرِیُّ قَالَ:ثَنَا مَنْصُوْرُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَوَّل الْاٰیَاتِ الدَّجَّالُ وَنُزُوْلُ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ اَبْیَنٍ تَسُوْقُ النَّاسَ اِلَی الْمَحْشَرِ تَقِیْلُ مَعَھُمْ اِذَا قَالُوْا: وَالدُّخَانُ قَالَ:حُذَیْفَۃُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاالدُّخَانُ؟ فَتَلاَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الآیَۃَ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ یَغْشَی النَّاسَ ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ یَمْلأُمَابَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ یَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا وَلَیْلَۃً اَمَّاالْمُؤْمِنُ فَیُصِیْبُہٗ مِنْہُ کَھَیْئَۃِ الزَّکَامِ وَاَمَّاالْکَافِرُ فَیَکُوْنُ بِمَنْزِلَۃِ السَّکَرَانِ یَخْرُجُ مِنْ مَنْخَرَیْہِ وَاُذُنَیْہِ وَدُبُرِہٖ۔(۶)
ترجمہ : حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کی پہلی نشانیاں، دجال کا خروج، عیسیٰ بن مریم کا نزول اور آگ ہوگی جو عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف ہانک لے جائے گی جہاں لوگ قیلولہ کریں گے، وہیں وہ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی (جہاں لوگ تھک ہار کر آرام کے لیے ٹھہرجائیں گے وہیں آگ بھی ٹھہر جایا کرے گی) صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! دخان سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے قرآن مجید کی آیت یَوْمَ تَأْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ یَغْشَی النَّاسَ ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌپڑھی۔ اور فرمایا کہ یہ دھواں مشرق ومغرب کے مابین ہرچیز کو بھردے گا۔ چالیس شب وروز زمین پر ٹھہرے گا۔ اور وہ جب زمین پر چھائے گا تو مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا اور کافر کی نَس نَس میں سرایت کرجائے گا جس سے کافر مدہوش ہوجائے گا اور اس کے دونوں نتھنوں، کانوں اور دُبرسے خارج ہوگا۔
(۳) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ:ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَیَّاشٍ، قَالَ:ثَنِیْ اَبِیْ قَالَ:ثَنِیْ ضَمْضَمُ ابْنُ زُرْعَۃَ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ مَالِکِ نِالْاَشْعَرِیِّ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ رَبَّکُمْ اَنْذَرَکُمْ ثَلاَثًا الدُّخَانُ یَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ کَالزَّکْمَۃِ وَیَأْخُذُ الْکَافِرَ فَیَنْتَفِخُ حَتّٰی یَخْرُجَ مِنْ کُلِّ مَسْمَعٍ مِنْہُ وَالثَّانِیَۃُ الدَّآبَّۃُ وَالثَّالِثَۃُ الدَّجَّالُ۔(۷)
ترجمہ : حضرت ابومالک اشعری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’تمہارے پروردگار نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا ہے۔ پہلا، وہ دھواں جو ایک مومن پر زکام کی طرح اثر انداز ہوگا اور کافر کو ایسا پکڑے گا کہ اس کا جسم پھول جائے گا اور اس کی ایک ایک نس سے یہ دھواں خارج ہوگا۔ دوسرا وہ جانور ہے جسے دابّۃ الارض کہتے ہیں اور تیسرا دجّال ہے۔
ان احادیث کی تائید ابومالک اشعری کی وہ روایت کرتی ہے جسے ابن جریر اور طبرانی نے نقل کیاہے اور ابوسعیدخُدری کی روایت جسے ابنِ ابی حاتم نے نقل کیاہے۔ (تفہیم القرآن ج۴ ، الدخان، حاشیہ: ۱۳)
قیامت کیسے بپا ہوگی؟
۶۔ حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ راستوں پر چل رہے ہوں گے، بازاروں میں خریدو فروخت کررہے ہوں گے، اپنی مجلسوں میں بیٹھے گفتگو ئیں کررہے ہوں گے۔ ایسے میں یکایک صور پھونکا جائے گا۔ کوئی کپڑا خرید رہا ہوگا تو ہاتھ سے کپڑا رکھنے کی نوبت نہ آئے گی کہ ختم ہوجائے گا۔ کوئی اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے حوض بھرے گا اور ابھی پلانے نہ پائے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ کوئی کھانا کھانے بیٹھے گا اور لقمہ اٹھاکر منہ تک لے جانے کی بھی اسے مہلت نہ ملے گی۔
تشریح : ایسا نہیں ہوگا کہ قیامت آہستہ آہستہ آرہی ہے اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ آرہی ہے۔ بلکہ وہ اس طرح آئے گی کہ لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی دنیا کے کاروبار چلارہے ہیں اور ان کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ تصوّر موجود نہیں ہے کہ دنیا کے خاتمہ کی گھڑی آپہنچی ہے۔ اس حالت میں اچانک ایک زور کا کڑا کا ہوگا اور جو جہاں تھا وہیں دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔
(تفہیم القرآن ج۴، یٰسٓ، حاشیہ:۶ ۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوالزِّنَادِ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَاِذَا طَلَعَتْ وَرَاٰھَا النَّاسُ اٰمَنُوْا اَجْمَعُوْنَ فَذٰلِکَ لاَیَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِھَا خَیْرًا وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْنَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَھُمَا بَیْنَھُمَا فَلاَیَتَبَایَعَانِہٖ وَلاَیَطْوِیَانِہٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہٖ فَلاَیَطْعَمُہٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَھُوَیَلِیْطُ حَوْضَہٗ فَلاَیَسْقِیْ فِیْہِ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ اُکْلَتَہٗ اِلٰی فِیْہِ فَلاَیَطْعَمُھَا۔(۸)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی تاوقتیکہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔ پھر جب سورج مغرب سے نکلے گا تو سب لوگ اسے دیکھ کر ایمان لے آئیں گے۔ مگر اس وقت کا ایمان لانا نفع بخش نہیں ہوگا۔ یہی بات اس آیت میں ارشاد فرمائی گئی ہے: لاَیَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَاالخ ’’یعنی کسی نفس کو جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہویا اس نے ایمان لانے کے بعد بھلائی نہ کی ہو، اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، قیامت بالضرور قائم ہوکر رہے گی اور حالت یہ ہوگی کہ دوشخص خریدوفروخت کے لیے اپنے سامنے کپڑا پھیلائے بیٹھے ہوں گے مگر خریدو فروخت کا عمل پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا ہوگا اور نہ وہ اسے لپیٹ سکے ہوں گے کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ قیامت لازماً برپا ہوکر رہے گی اور حالت یہ ہوگی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ کر واپس گھر پلٹ رہاہوگا کہ قیامت برپا ہوجائے گی مگر وہ اسے پی نہ سکے گا۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حالت یہ ہوگی کہ ایک شخص اپنا حوض مرمت کررہاہوگا (لیپ رہاہوگا) مگر اس میں سے پی نہ سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت قائم ہوجائے گی ایسی حالت میں کہ ایک آدمی نے کھانے کے لیے لقمہ اٹھایا ہوگا مگر اسے کھانہ سکے گا کہ قیامت برپاہوجائے گی۔
(۲) حَدَّثَنَا بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:ثَنَا ابْنُ عَدِیٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ: ثَنَا عَوْفُ بْنُ اَبِیْ جَمِیْلَۃَ، عَنْ اَبِیْ الْمُغَیْرَۃِ الْقَوَّاسِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَیُنْفَخَنَّ فِی الصُّوْرِ وَالنَّاسُ فِیْ طُرُقِھِمْ وَاَسْوَاقِھِمْ وَمَجَالِسِھِمْ حَتّٰی اَنَّ الثَّوْبَ لَیَکُوْنُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ یَتَسَاوَمَانِ فَمَایُرْسِلُہٗ اَحَدُھُمَا مِنْ یَدِہٖ حَتّٰی یُنْفَخَ فِی الصُّوْرِ وَحَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیَغْدُوْا مِنْ بَیْتِہٖ فَلاَیَرْجِعُ حَتّٰی یُنْفَخَ فِی الصُّوْرِ وَھِیَ اطلَّتِیْ قَالَ اللّٰہُ مَایَنْظُرُوْنَ اِلاَّصَیْحَۃً وَاحِدَۃً تَأْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ فَلاَیَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً الآیۃ۔(۹)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ صورمیں لازماً پھونکا جائے گا۔ اور حالت یہ ہوگی کہ لوگ راستوں اور بازاروں میں چل پھر رہے ہوں گے اور اپنی مجلسوں میں بیٹھے خوش گپیوں میںمشغول ہوںگے، حتّٰی کہ دوشخصوں کے درمیان کپڑا خریدو فروخت کی غرض سے رکھاہوگا، بھاؤ لگارہے ہوں گے مگر ان میں سے کوئی ایک بھی کپڑے کو اپنے ہاتھ سے چھوڑنے نہ پائے گا کہ صور پھونک دیا جائے گا۔ اور حتّٰی کہ ایک شخص صبح اپنے گھر سے نکلا ہوگا واپس گھر نہ آنے پائے گا کہ صور پھونک دیاجائے گا۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے (سورہ یٰسٓ) میں کھینچاہے۔ ’’یہ لوگ بس ایک چیخ کا انتظار کررہے ہیں جو انہیں آپکڑے گی ایسی حالت میں کہ وہ باہم لڑ جھگڑ رہے ہوںگے۔ انہیں اتنی مہلت بھی نہ ملے گی کہ وصیّت ہی کرسکیں۔ ‘‘
دابۃ الارض کا ظہور
۷۔’’دابۃ ُالارض‘‘ کے نکلنے کاوقت کون سا ہوگا اس کے متعلق حضورؐ کا ارشاد ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور ایک روز دن دہاڑے یہ جانور نکل آئے گا۔ ان میں سے جو نشانی بھی پہلے ہو وہ بہرحال دوسری کے قریب ہی ظاہر ہوگی۔ (مسلم)
۸۔دوسری روایات جو مسلم، ابنِ ماجہ، ترمذی اور مسنداحمد وغیرہ میں آئی ہیں ان میں حضورؐ نے بتایاہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں دجّال (دجال کے خروج پر بحث ’’پیشین گوئیاں‘‘ کے تحت تفصیل سے درج ہے۔) کا خروج ، دابۃ الارض کا ظہور، دخان (دھواں) اور آفتاب کا مغرب سے طلوع وہ نشانیاں ہیں جو یکے بعد دیگر ے ظاہر ہوں گی۔
تشریح :ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب زمین میں کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابنِ مردویَہ نے ایک حدیث ابوسعید خدری سے نقل کی ہے جس میںوہ فرماتے ہیںکہ یہی بات انہوں نے خود حضورؐ سے سُنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امربالمعروف اور نہی عن المنکرچھوڑدیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانورکے ذریعے سے آخری مرتبہ اپنی حجت قائم فرمائے گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنسِ حیوان ہوگی جس کے بہت سے افراد روئے زمین پر پھیل جائیں گے۔ (سورۃ النمل : ۲۸ میں) دَابَّۃٌ مِّنَ الْاَرْضکے الفاظ ہیں جن میں دونوںمعنوں کا احتمال ہے۔ بہر حال جوبات وہ کہے گا وہ یہ ہوگی کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر یقین نہیں کرتے تھے جن میں قیامت کے آنے اور آخرت برپاہونے کی خبریں دی گئی تھیں، تولو اب اس کا وقت آن پہنچا ہے اور جان لوکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سچی تھیں۔ سورۃ النمل : ۲۸ کے یہ الفاظ اِنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَالاَیُوْقِنُوْن۔ ’’لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔‘‘ یا تو اس جانور کے اپنے کلام کی نقل ہے، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کلام کی حکایت۔ اگر یہ اُسی کے الفاظ کی نقل ہے تو ’’ہماری‘‘ کا لفظ وہ اسی طرح استعمال کرے گا جس طرح ایک حکومت کا ہر کا رندہ ’’ہم‘‘ کا لفظ اس معنی میں بولتاہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے بات کررہاہے نہ کہ اپنی شخصی حیثیت میں۔
اس جانور کی ماہیت، شکل وصورت، نکلنے کی جگہ اورایسی ہی دوسری تفصیلات کے متعلّق طرح طرح کی روایات نقل کی گئی ہیں جو باہم بہت مختلف اور متضاد ہیں۔ ان چیزوں کے ذکر سے بجز ذہن کی پراگندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور ان کے جاننے کا کوئی فائدہ بھی نہیں کیونکہ جس مقصد کے لیے قرآن میں یہ ذکر کیا گیاہے اس سے ان تفصیلات کا کوئی تعلّق نہیں ہے۔
رہا کسی جانور کا انسانوں سے انسانی زبان میں کلام کرنا،تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ وہ جس چیز کو چاہے نطق کی طاقت بخش سکتاہے۔ قیامت سے پہلے تو وہ ایک جانور ہی کو نطق بخشے گا۔ مگر جب وہ قیامت قائم ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسان کی آنکھ اور کان اوراس کے جسم کی کھال تک بول اٹھے گی جیسا کہ قرآن میں بہ تصریح بیان ہوا ہے۔ حَتَّی اِذَا مَاجَآئُ وْھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔۔۔وَقَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا قَالُوْآاَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْطَقَ کُلَّ شَـْیئٍ(حم السجدہ :۲۰،۲۱)۔ (تفہیم القرآن ج۳ ، النحل، حاشیہ:۱۰۱)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوْاِسْحَاقَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْيٰ، ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ، ثَنَااَبُوْسَعِیْدِنِالْاَشَجُّ ثَنَا اَبُوْاُسَامَۃَ عَنْ اِدْرِیْسَ بْنِ یَزِیْدَالْاَوْدِیِّ، عَنْ عَطِیَّۃَ عَنِ بْنِ عَمْرٍوؓ فِیْ قَوْلِہٖ وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ اَخْرَجْنَا لَھُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ قَالَ اِذَا لَمْ یَأْمُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَلَمْ یَنْھَوْا عَنِ الْمُنْکر۔(۱۰)
ابن کثیر نے ج۳ص۴۷۳۔۵۷۳ پر دابۃ الارض کے بارے میں کافی تفصیلات نقل کی ہیں وہاں ملاحظہ ہو۔
ترجمہ : عطیہؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمالخ ’’یعنی جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان پر آپہونچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے‘‘ کے بارے میں یہ ہے کہ یہ خروج دابۃ الارض اس وقت ہوگا جب لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کوچھوڑدیں گے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ نَامُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ اَبِیْ حَیَّانَ عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ :حَفِظْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَدِیْثًا لَمْ اَنْسَہٗ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اَوَّلَ الْاٰیَاتِ خُرُوْجًا طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا وَخُرُوْجِ الدَّآبَّۃِ عَلَی النَّاسِ ضُحًی وَاَیُّھُمَا مَاکَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِھَا فَالْاُخْرٰی عَلٰی اَثَرِھَا قَرِیْبٌ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی تھی جسے پھر کبھی نہیں بھولا۔ میں نے رسول اللہﷺسے سنا فرماتے تھے کہ قیامت کی اوّلین نشانیوں میں سے سورج کا مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہونا اور دن دہاڑے دابۃ الارض کا لوگوں کے سامنے نکلنا۔ ان میں سے جو نشانی بھی پہلے ہو دوسری اس کے فوراً بعد اور قریب ہی ہوگی۔
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ اَیُّوْبَ وَقُتَیْبَۃُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا: نَا اِسْمَاعِیْلُ یَعْنُوْنُ ابْنُ جَعْفَرٍ،عَنِ الْعَلاَئِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ سِتَّۃً طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّآبَّۃُ وَخَاصَۃُ اَحَدِکُمْ وَاَمْرُالْعَامَۃِ۔(۱۲)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاچھ چیزوں کی آمد سے پہلے جلدی جلدی عمل کرلو، سورج کا مغرب سے طلوع، دھواں، دجال کا خروج، دابۃ الارض کے ظہور اور ہرایک کااپنی موت اور قیامت کے برپا ہونے سے پہلے۔
نفخ صور
۹۔اس طویل حدیث سے وہی بات معلوم ہوتی ہے جو ابن جریر اور طبرانی اور ابنِ ابی حاتم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس میں نبی ﷺ نے بتایاہے کہ نفخ صو ر کے تین مواقع ہیں۔ ایک نفخ فزع، دوسرا نفخ صعق اور تیسرا نفخ قیام لربِّ العالمین ـــــپہلے نفخ کی تفصیلی حالت بیان کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایاکہ ـــــ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہوگی جو موجوں کے تھپیڑے کھاکر ڈگمگارہی ہو یا اُس معلّق قندیل کی سی جس کو ہوا کے جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔
تشریح : قیامت کے بپا ہونے کی ابتدائی کیفیات زلزلۂ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے اور اغلب یہ ہے کہ اس کا وقت وہ ہوگا جب کہ زمین یکایک الٹی پھرنی شروع ہوجائے گی اور سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ یہی بات قدیم مفسرین میں سے علقمہ اور شعبی نے بیان کی ہے کہ یَکُوْنُ ذٰلِکَ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا۔
حدیث بالا میں نفخ کے تین مواقع بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا نفخ عام سراسیمگی پیدا کرے گا۔ دوسرے نفخ پر سب گرکر مرجائیں گے اور تیسرے نفخ پر سب لوگ زندہ ہوکر خدا کے حضور پیش ہوجائیں گے۔
اس وقت زمین کی آبادی پر جو کچھ گزرے گی اس کا نقشہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کھینچا گیا ہے۔ فرمانِ ربانی ہے:
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۔ (الحاقۃ)
’’پس جب صور میں ایک پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑ اٹھاکر ایک ہی چوٹ میں توڑ دیے جائیں گے تو وہ واقعۂ عظیم پیش آجائے گا۔‘‘
اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا۔ (الزلزال)
’’جب کہ زمین پوری کی پوری ہلاماری جائے گی اور وہ اپنے پیٹ کے بوجھ نکال پھینکے گی اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہوگیا ہے۔‘‘
یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ قُلُوبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ اَبْصَارُھَا خَاشِعَۃ۔ (النازعات)
’’جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا ایک جھٹکا اور اس کے بعد دوسرا جھٹکا، اس دن دل کانپ رہے ہوںگے اور نگاہیں خوف زدہ ہوں گی۔ ‘‘
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَکَانَتْ ھَبَآئً مُّنْبَثًّا۔ (الواقعۃ)
’’جس روز زمین جھنجھوڑ ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر غبار کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ‘‘
فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا نِالسَّمَآئُ مُنْفَطِرٌ م بِہ۔ (المزمل:۱۷،۱۸)
’’اگر تم نے پیغمبر کی بات نہ مانی تو کیسے بچوگے اس دن کی آفت سے جو بچوںکو بوڑھا کردے گی اور جس کی شدت سے آسمان پھٹا پڑتاہوگا۔ ‘‘
اگرچہ بعض مفسرین نے اس زلزلے کا وقت وہ بتایاہے جب کہ مُردے زندہ ہوکر اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور اس کی تائید میں متعدد احادیث بھی نقل کی ہیں، لیکن قرآن کے صریح بیانات ان روایات کو قبول کرنے میں مانع ہیں۔ قرآن اس کا وقت وہ بتاتاہے کہ جب مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے پلاتے چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوں گی اور پیٹ والیوں کے پیٹ گرجائیں گے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ آخرت کی زندگی میں نہ کوئی عورت اپنے بچے کو دودھ پلارہی ہوگی اور نہ کسی حاملہ کے وضع حمل یا اسقاط کاکوئی موقع ہوگا کیونکہ قرآن کی واضح تصریحات کی رُو سے وہاں سب رشتے منقطع ہوچکے ہوں گے اور ہرشخص اپنی انفرادی حیثیت سے خدا کے سامنے جواب دینے کے لیے کھڑا ہوگا۔ لہٰذا قابلِ ترجیح وہی روایت ہے جو ہم نے پہلے نقل کی ہے۔ اگر چہ اس کی سند ضعیف ہے۔ مگر قرآن سے مطابقت اس کے ضعف کو دور کردیتی ہے اور یہ دوسری روایات گو سنداً قوی تر ہیں لیکن قرآن کے ظاہر بیان سے عدم مطابقت ان کو ضعیف کردیتی ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳ ،الحج، حاشیہ:۱)
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ:ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَافِعِ الْمَدَنِیِّ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ نِالْقُرَظِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَمَّا فَرَغَ اللّٰہُ مِنْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ خَلَقَ الصُّوْرَ فَاَعْطَاہُ اِسْرَافِیْلَ فَھُوَ وَاضِعُہٗ عَلٰی فِیْہِ شَاخِصٌ بِبَصَرِہٖ اِلَی الْعَرْشِ یَنْتَظِرُ مَتٰی یُؤْمَرُ قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاالصُّوْرُ؟ قَالَ: قَرْنٌ، قَالَ:وَکَیْفَ ھُوَ؟ قَالَ: قَرْنٌ عَظِیْمٌ یُنْفَخُ فِیہِ ثَلاَثُ نَفَخَاتٍ، اَلْاُوْلٰی نَفْخَۃُ الْفَزَعِ وَالثَّانِیَۃُ نَفْخَۃُ الصَّعِقِ وَالثَّالِثَۃُ نَفْخَۃُ الْقِیَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ یَأْمُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِسْرَافِیْلَ بِالنَّفْخَۃِ الْاُوْلٰی فَیَقُوْلُ : انْفُخْ نَفْخَۃَ الْفَزَعِ فَیَفْزَعُ اَھْلُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ وَیَأْمُرُہُ اللّٰہُ فَیُدِیْمُھَا وَیُطَوِّلُھَا فَلاَیَفْتَرُ وَھِیَ الَّتِیْ یَقُوْلُ اللّٰہُ مَایَنْظُرُ ھٰٓؤُلَآئِ اِلاَّصَیْحَۃً وَاحِدَۃً مَالَھَا مِنْ فَوَاقٍ۔ فَیُسَیِّرُاللّٰہُ الْجِبَالَ فَتَکُوْنُ سَرَابًا وَتَرُجُّ الْاَرْضُ بِاَھْلِھَا رَجًّا وَھِیَ الَّتِیْ یَقُوْلُ اللّٰہُ یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَاجِفَۃٌ فَتَکُوْنُ الْاَرْضُ کَالسَّفِیْنَۃِ الْمُوْبِقَۃِ فِی الْبَحْرِ تَضْرِبُھَا الْاَمْوَاجُ تَکْفَأُ بِاَھْلِھَا اَوْکَالْقِنْدِیْلِ الْمُعَلَّقِ بِالْعَرْشِ تَرَجَّحَہُ الْاَرْوَاحُ فَتَمِیْدُ النَّاسُ عَلٰی ظَھْرِھَا فَتَذْھَلُ الْمُرَاضِعُ وَتَضَعُ الْحَوَامِلُ وَتَشِیْبُ الْوِلْدَانُ الخ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان یعنی کائنات کے پیدا کرنے کے بعد صورکو پیدا کیا اور اسے اسرافیل کے سپرد کردیا۔ وہ اُسے اپنے مُنہ سے لگائے ہوئے ہیں اور عرشِ الٰہی کی طرف ٹکٹکی باندھے اس انتظار میں ہیں کہ کب صور پھونکنے کا حکم ہوتاہے۔ ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ یا رسول اللہ! یہ صور کیا ہے؟ فرمایا’’یہ ایک سینگ ہے۔‘‘ پھر ابوہریرہؓ نے عرض کیا ، یہ کیسا ہے؟ آپؐ نے بتایا یہ بڑا نرسنگھا ہے، اس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا نَفْخَۃُ الْفَزَعْ، دوسرا نَفْخَۃُ الصَّعْقِاور تیسرا نَفْخَۃُ الْقِیَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِیْن۔ اللہ تعالیٰ اسرافیل کونَفْخَۃُ الْاُوْلٰی کا حکم دے کر فرمائے گا۔نَفْخَۃُ الْفَزَعْکے لیے پھونکو! تو سب اہلِ ارض وسما پر گھبراہٹ اور خوف زدگی کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ صرف وہ بچ رہیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ بچانا چاہے گا اور پھر انہیں حکم ملے گا تو اسے اور لمبا کردیں گے۔ اور اس کے تسلسل میں وقفہ نہیں ہوگا۔ ہاں یہ موقع ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَایَنْظُرُ ھٰٓؤُلَآئِ اِلاَّصَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَالَھَا مِنْ فَوَاقٍ۔ ’’یہ لوگ بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد دوسرا کوئی دھماکہ نہ ہوگا‘‘پھر پہاڑ چلیں گے اور مٹی کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین اپنے باسیوں کو لے کر شدت سے جنبش کرے گی اور یہی موقع ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یَوْمَ تَرْجُفُ۔۔۔ وَاجِفَۃ جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا۔ کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔‘‘ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہوگی جوموجوں کے تھپیڑے کھاکر ڈگمگارہی ہو یا اس معلّق قندیل کی سی جس کو ہوا کے جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔ پس لوگ اس کی پیٹھ پر پھیل جائیں گے۔ دودھ پلانے والی دودھ پلانا بھول جائے گی۔ عورتوں کے حمل گرجائیں گے۔ بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔
۱۰۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’اسرافیل صور پر منہ رکھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب پھونک مارنے کا حکم ہوتاہے۔‘‘ یہ صور،تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا نَفْخَۃُ الْفَزَع جو زمین وآسمان کی ساری مخلوق کو سہمادے گا۔ دوسرا نَفْخَۃُ الصَّعْق جسے سنتے ہی سب ہلاک ہوکر گرجائیں گے۔ پھر جب اللہ واحد صمد کے سواکوئی باقی نہ رہے گا تو زمین بدل کر کچھ کی کچھ کردی جائے گی اور اسے عکاظی بساط کی طرح ایسا سپاٹ کردیا جائے گا کہ اس میں کوئی ذرا سی سَلْوٹ تک نہ رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی خلق کو بس ایک جھڑکی دے گا جسے سنتے ہی ہرشخص جس جگہ مرکر گرا تھا اسی جگہ وہ اس بدلی ہوئی زمین پر اُٹھ کھڑا ہوگا اور یہی نَفْخَۃُ الْقِیَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ہے۔
تشریح :پہلے صور اور دوسرے صور کے درمیان کتنا زمانہ ہوگا، اس کے متعلّق کوئی معلومات ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ ہوسکتاہے کہ یہ زمانہ سینکڑوں اور ہزاروں برس طویل ہو۔ (تفہیم القرآن ج۴ ، یٰسٓ، حاشیہ:۷ ۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مُحَمَّدِنِالْمُحَارِبِیُّ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَافِعٍ، عَمَّنْ ذَکَرَہٗ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِنالْقُرَظِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ خَلَقَ الصُّوْرَ فَاَعْطَاہُ اِسْرَافِیْلَ فَھُوَ وَاضِعُہٗ عَلٰی فِیْہِ شَاخِصٌ بِبَصِرِہٖ اِلَی الْعَرْشِ یَنْتَظِرُ مَتٰی یُؤْمَرُ۔ قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاالصُّوْرُ؟ قَالَ: قَرْنٌ، قَالَ: وَکَیْفَ؟ قَالَ: قَرْنٌ عَظِیْمٌ یُنْفَخُ فِیْہِ ثَلاَثُ نَفَخَاتٍ، اَلْاُوْلٰی نَفْخَۃُ الْفَزَعِ، وَالثَّانِیَۃُ نَفْخَۃُ الصَّعِقِ، وَالثَّالِثَۃُ نَفْخَۃُ الْقِیَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ یَأْمُرُ اللّٰہُ اِسْرَافِیْلَ بِالنَّفْخَۃِ الْاُوْلٰی فَیَقُوْلُ اُنْفُخْ نَفْخَۃَ الْفَزَعِ فَیَفْزَعُ اَھْلُ السَّمٰوٰتِ وَاَھْلُ الْاَرْضِ اِلاَّمَاشَآئَ اللّٰہُ، وَیَأْمُرُہُ اللّٰہُ فَیُدِیْمُھَا وَیُطَوِّلُھَا فَلاَیَفْتُرُ وَھِیَ الَّتِیْ یَقُوْلُ اللّٰہُ وَمَایَنْظُرُھٰٓؤُلآَئِ اِلاَّصَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَالَھَا مِنْ فَوَاقٍ۔ ثُمَّ یَأْمُرُاللّٰہُ اِسْرَافِیْلَ بِنَفْخَۃِ الصَّعِقِ فَیَقُوْلُ انْفُخْ نَفْخََۃَ الصَّعِقِ۔ فَیَصْعَقُ اَھْلُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ فَاِذَا ھُمْ خَامِدُوْنَ۔ ثُمَّ یُمِیْتُ مَنْ بَقِیَ فَاِذَا لَمْ یَبْقَ اِلاَّاللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ بَدَّلَ الْاَرْضَ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتِ فَیَبْسُطُھَا وَیَسْطَحُھَا وَیَمُدُّ مَدَّ الْاَدِیْمِ الْعُکَاظِیِّ لاَتَریٰ فِیْھَا عِوَجًا وَلاَاَمْتًا، ثُمَّ یَزْجِرُاللّٰہُ الْخَلْقَ زَجْرَۃً فَاِذَا ھُمْ فِیْ ھٰذِہٖ الْمُبَدَّلَۃِ فِیْ مِثْلِ مَوَاضِعِھِمْ مِنَ الْاُوْلٰی مَاکَانَ فِیْ بَطْنِھَا کَانَ فِیْ بَطْنِھَا وَمَاکَانَ عَلٰی ظَھْرِھَا کَانَ عَلٰی ظَھْرِھَا۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’اللہ تعالیٰ جب آسمانوں اور زمین یعنی کائنات کی تخلیق سے فارغ ہوا تو پھر اس نے صور کو پیدا کیا اور اسرافیل کے سپر دکردیا، چنانچہ اب اسرافیل اسے اپنے منہ سے لگائے، عرشِ معلّٰی کی جانب نظریں جمائے، اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب اس میں پھونک مارنے کا حکم دیا جاتاہے۔ ابوہریرہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ﷺ) یہ صور کیاہے؟ فرمایا’’یہ ایک سینگ ہے۔‘‘ پھر ابوہریرہؓ نے عرض کیا یہ کیسا ہے؟ ارشاد ہوا ایک بہت بڑا سینگ ہے۔اس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا پہلا نفخۃ الفزع، دوسرا نفخۃ الصعق اور تیسرا نفخۃ القیام لربِّ العالمین۔ پہلے نفخہکے وقت اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم فرمائیں گے کہ نفخۃ الفزع کے لیے صور پھونکو (تعمیل ارشاد الٰہی میں اسرافیل صور پھونکیں گے) تو آسمانوں اور زمین کی ہرشے بجز اس کے جسے اللہ چاہے گا باقی سب سہم جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم فرمائیں گے کہ اسے بالکل ہموار شکل میں دراز کردو اور اس کے تسلسل میں وقفہ نہ ہونے پائے۔ یہ وہی نقشۂ احوال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے ’’پس یہ لوگ صرف ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکہ نہ ہوگا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو نفخۃ الصعق کا حکم فرمائیں گے کہ وہ نفخۃ الصعق پھونکیں (چنانچہ تعمیل ارشاد میں وہ صور پھونکیں گے) جس کے نتیجہ میں آسمانوں اور زمین یعنی ساری کائنات کی مخلوق بے ہوش ہوکر گرجائے گی بجز ا س کے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ بس وہ سب بجھ کر رہ جانے والے ہوجائیں گے۔ پھر باقی ماندہ مرجائیں گے۔ اب جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی باقی نہیں بچے گا تو اللہ تعالیٰ زمین اور آسمانوں کی موجودہ حالت کو بدل دے گا اور اسے عکاظی بساط کی طرح ایسا سپاٹ کردیا جائے گا کہ اس میں ذراسی سلوٹ تک نہ رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی خلق کو بس ایک جھڑکی دے گا جسے سنتے ہی ہرشخص جس جگہ مرکر گراتھا، اسی جگہ وہ اس بدلی ہوئی زمین پر اٹھ کھڑا ہوگا۔ اس کے پیٹ والا پیٹ میں اور اس کی پشت والا پشت پر رہ جائے گا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَاالْمُحَارِبِیُّ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَافِعٍ الْمَدَنِیِّ عَنْ یَزِیْدَ عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِنِالْقُرَظِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ثَلاَثُ نَفَخَاتٍ اَلْاُوْلٰی نَفْخَۃُ الْفَزَعِ وَالثَّانِیَۃُ نَفْخَۃُ الصَّعِقِ، وَالثَّالِثَۃُ نَفْخَۃُ الْقِیَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔یَأْمُرُ اللّٰہُ اِسْرَافِیْلَ بِالنَّفْخَۃِ الْاُوْلٰی فَیَقُوْلُ انْفُخْ نَفْخَۃَ الْفَزَعِ فَتَفْزَعُ اَھْلُ السَّمٰوٰتِ وَاَھْلُ الْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَمَنِ اسْتَثْنٰی حِیْنَ یَقُوْلُ فَفَزَعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلاَّمَنْ شَآئَ اللّٰہُ؟ قَالَ:’’اُولٰٓئِکَ الشُّھَدَآئُ‘‘ وَاِنَّمَا یَصِلُ الْفَزَعُ اِلَی الْاَحْیَائِ اُولٰٓئِکَ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ وَقَاھُمُ اللّٰہُ فَزَعَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَاٰمَنَھُمْ ثُمَّ یَأْمُُرُ اللّٰہُ اِسْرَافِیْلَ بِنَفْخَۃِ الصَّعِقِ فَیَقُوْلُ انْفُخْ نَفْخَۃَ الصَّعِقِ فَیَھْلِکُ اَھْلُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ فَاِذَاھُمْ خَامِدُوْنَ ثُمَّ یَأْتِیْ مَلَکُ الْمَوْتِ اِلَی الْجَبَّارِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَیَقُوْلُ:یَارَبِّ قَدْمَاتَ اَھْلُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلاَّمَنْ شِئْتَ فَیَقُوْلُ لَہٗ وَھُوَ اَعْلَمُ فَمَنْ بَقِیَ؟ فَیَقُوْلُ: بَقِیْتَ اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لاَیَمُوْتُ وَبَقِیَ حَمَلَۃُ عَرْشِکَ وَبَقِیَ جِبْرِیْلُ وَمِیْکَائِیْلُ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ لَہٗ اُسْکُتْ اِنِّیْ کَتَبْتُ الْمَوْتَ عَلٰی مَنْ کَانَ تَحْتَ عَرْشِیْ ثُمَّ یَأْتِیْ مَلَکُ الْمَوْتِ فَیَقُوْلُ یَارَبِّ قَدْمَاتَ جِبْرِیْلُ وَمِیْکَائِیْلُ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ وَھُوَ اَعْلَمُ فَمَنْ بَقِیَ فَیَقُوْلُ بَقَیْتَ اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لاَیَمُوْتُ وَبَقِیَ حَمَلَۃُ عَرْشِکَ وَبَقَیْتُ اَنَا فَیَقُوْلُ اللّٰہُ فَلْیَمُتْ حَمَلَۃُ الْعَرْشِ فَیَمُوْتُوْنَ وَیَأْمُرُ اللّٰہُ تَعَالٰی الْعَرْشَ فَیَقْبِضُ الصُّوْرَ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ قَدْ مَاتَ حَمَلَۃُ عَرْشِکَ فَیَقُوْلُ مَنْ بَقِیَ وَھُوَ اَعْلَمُ فَیَقُوْلُ: بَقَیْتَ اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لاَیَمُوْتُ وَبَقَیْتُ اَنَا قَالَ:فَیَقُوْلُ اللّٰہُ اَنْتَ مِنْ خَلْقِیْ خَلَقْتُکَ لَمَّا رَأَیْتُ فَمُتْ لاَتُحْیِیْ فَیَمُوْتُ الخ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’تین مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخۃ الفزع دوسرا نفخۃ الصعق اور تیسرا نفخۃ القیام لربِّ العالمین۔ اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دے گا کہ نفخۃ الفزع کا صور پھونکو۔ وہ پھونکیں گے تو اہل ارض وسما بجز ان کے سب سہم جائیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ خود بچانا چاہے گا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ جب اہلِ ارض وسما سب سہمے ہوئے ہوں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ بچانا چاہے گا، حضرت ابوہریرہؓ نے پوچھا:اس وقت اس سے کوئی مستثنیٰ بھی ہوگا؟آپ نے فرمایا ’’وہ شہداء ہوں گے۔ یہ گھبراہٹ اور سہم جانے کی کیفیت وحالت صرف دنیا میں زندوں پر طاری ہوگی۔ یہ شہداء اللہ تعالیٰ کے پاس بقید حیات ہوں گے، وہاں رزق پارہے ہوں گے۔ اس دن کی گھبراہٹ سے اللہ تعالیٰ انہیں محفوظ ومامون رکھے گا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو نفخۃ الصعق کا حکم دیں گے کہ نفخۃ الصعق پھونکو! وہ پھونکیں گے تو سب اہلِ ارض وسما سنتے ہی ہلاک ہوجائیں گے صرف وہ بچ رہیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ بچانا چاہے گا۔ اس کے بعد ملک الموت اللہ تعالیٰ جبّار کے پاس حاضر ہوکر عرض کرے گا۔ پروردگار سوائے اس کے جسے تونے بچایاہے، باقی ساری کائنات والے مرگئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا باوجودیکہ اسے صحیح علم ہے کون زندہ بچ گیاہے، کون باقی رہ گیاہے؟ اسرافیل عرض کریں گے آپ کی ذات لازوال ولایزل، حاملینِ عرش، اور جبریل ؑومیکائیلؑ زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’چپ رہو میں نے تحت العرش فرشتوں پر بھی موت لکھ دی ہے۔‘‘ ملک الموت پھر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر عرض کرے گا یارب جبریل ؑ ومیکائیل بھی مرچکے ہیں۔ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کون باقی رہ گیاہے ان سے دریافت فرمائے گا کہ کون باقی بچ گیاہے؟ وہ عرض کریں گے آپ کی زندہ جاوید ولازوال ذات اقدس اور حاملینِ عرش معلّٰی اور میں باقی ہوں۔ اللہ تعالیٰ حاملین عرش کو حکم دے گا کہ وہ مرجائیں۔ حکم پاتے ہی وہ سب مرجائیں گے اب عرش سے اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ وہ صور کو تھا م لے وہ بہ تعمیلِ ارشاد الٰہی صور کو پکڑ کر عرض کرے گا۔ اے میرے رب! حاملین عرش تو مرچکے ہیں باوجودیکہ اسے بخوبی علم ہوگا کہ کون باقی رہ گیاہے، دریافت فرمائے گا، کون باقی رہ گیاہے؟ وہ عرض کرے گا آپ کی واجب الوجود لازوال ذات مقدس اور میں باقی ہوں۔ اب اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا، ’’تو بھی میری مخلوق میں سے ہے میں نے تجھے پیدا کیا ہے لہٰذا تو بھی مرجا۔ زندہ مت رہ، پس وہ بھی مرجائے گا۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ نَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَابَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ۔ قَالُوْا:یَااَبَاھُرَیْرَۃَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا؟ قَالَ: اَبَیْتُ، قَالُوْا: اَرْبَعِیْنَ شَھْرًا؟ قَالَ:اَبَیْتُ قَالُوْا: اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً؟ قَالَ: اَبَیْتُ ثُمَّ یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا یَنْبُتُ الْبَقْلُ۔ قَالَ: وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْئٌ لاَّیَبْلٰی اِلاَّعَظْمًا وَاحِدًا وَھُوَعَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ :رسول اللہ ﷺنے فرمایا دونفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہے۔ شاگردوں نے ابوہریرہؓ سے پوچھا چالیس سے چالیس دن مراد ہیں؟ ابوہریرہؓ بولے کہ میں اس بارے میں اثبات میں جواب دینے سے انکاری ہوں۔پھر پوچھا چالیس مہینے؟ انہوں نے پھر کہا میں اثبات میں جواب دینے سے انکاری ہوں۔ پھر پوچھا چالیس سال؟ جواب میں پھر وہی کہاکہ میں اس سے انکار کرتاہوں۔ پھر آسمان سے بارش ہوگی تو یہ لوگ ساگ کی پنیری کی طرح زمین سے اُگ آئیں گے اور فرمایا کہ ریڑھ کی ہڈی کے نچلے مہرہ کے سوا انسان کی کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ سب گل سڑکر بوسیدہ ہوجائے گی، اسی مہرے سے قیامت کے روز اسے پھر جوڑدیاجائے گا۔
اُس روز لوگ کس حالت میں اُٹھیں گے؟
۱۱۔احادیث میں مختلف طریقوں اور سندوں سے یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’قیامت کے روز سب لوگ ننگے بُوچے اٹھیں گے۔‘‘ آپؐ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے (بروایت بعض حضرت عائشہؓ نے) اور بروایت بعض حضرت سودہؓ، اور بروایتِ بعض ایک خاتون نے گھبراکر پوچھا، یا رسول اللہ کیا ہمارے ستر اُس روز سب کے سامنے کھلے ہوں گے؟ حضورؐنے سورۂ عبس کی یہ آیت کہ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ٰ (عبس :۳۷)’’ان میں سے ہرشخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گاکہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔‘‘ تلاوت فرماکر بتایا کہ اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔
( تفہیم القرآن ج۶، عبس، حاشیہ: ۲۳)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، نَایَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ اَبِیْ صَغِیْرَۃَ، حَدَّثَنِیْ ابْنُ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: یُحْشَرُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلرِّجَالُ وَالنِّسَآئُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ؟ قَالَ:یَاعَائِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ۔(۱۷)
مسند میں یا عائشۃ اَنَّ الْاَمْرَ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَھُمَّھُمْ ذَالِکَ بیان ہواہے۔
(۲) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارِبْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ اَبُوْزَیْدِ الْعَبَادَانِیُّ عَنْ ھِلاَلَ بْنِ حُبَابٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً مَشَاۃً غُرْلاً قَالَ: فَقَالَتْ زَوْجَتُہٗ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَنْظُرُ اَوْیَرَی بَعْضُنَا عَوْرَۃَ بَعْضٍ؟ قَالَ: لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ اَوْقَالَ مَااَشْغَلَہٗ عَنِ النَّظْرِ۔(۱۸)
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے روزلوگ ننگے دھڑنگے اٹھیں گے۔ نہ جسم پر لباس ہوگا اور نہ پاؤں میں جوتیاں اور نامختون ہوں گے۔ آپؐ کی زوجہ محترمہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم ایک دوسرے کے قابل ستر اعضا کو دیکھیں گے۔ فرمایا اس روز ہرشخص پر ایسا وقت آن پڑے گاکہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا یا فرمایا اس روز کسی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔
(۳) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ اَیْضًا حَدَّثَنَا اَبِیْ حَدَّثَنَا اَزْھَرُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی، عَنْ عَائِذِ بْنِ شُرَیْحٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ : سَاَلَتْ عَائِشَۃُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ۔ اِنِّیْ سَاَلْتُکَ عَنْ حَدِیْثٍ فَتُخْبِرَنِیْ اَنْتَ بِہٖ قَالَ اِنْ کَانَ عِنْدِیْ مِنْہُ عِلْمٌ قَالَتْ یَانَبِیَّ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الرِّجَالُ؟ قَالَ:حُفَاۃً عُرَاۃً قَالَتْ:وَاَسْوَأتَاہ مِنْ یَّوْمِ الْقِیَامَۃِ قَالَ: وَعَنْ اَیِّ ذٰلِکَ تَسْأَلِیْنَ اِنَّہٗ قَدْنَزَلَ عَلَیَّ آیَۃً لاَیَضُرُّکِ کَانَ عَلَیْکِ ثِیَابٌ اَوْلاَیَکُوْنُ قَالَتْ: اَیَّۃُ اٰیَۃٍ ھِیَ یَانَبِیَّ اللّٰہِ؟ قَالَ: لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔(۱۹)
قَالَ اَبُوحاتم الرازی عائض بن شریح ضعیف وفی حدیثہ ضعف۔
ترجمہ : حضرت انس بن مالک نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں آپؐ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتی ہوں آپ بتائیں۔ فرمایا اگر مجھے اس کا علم ہوگا تو ضرور بتاؤں گا۔ پوچھا یا نبی اللہ!قیامت کے روز لوگ حشر میں کس طرح اکٹھے کیے جائیں گے؟ فرمایا مادر زاد ننگے۔ حضرت عائشہؓ نے اظہارِ تاسّف کرتے ہوئے کہاہائے قیامت کے دن لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا بنے گا۔ آپؐ نے فرمایا: تم پوچھنا کیا چاہتی ہو؟ مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ خواہ تمہارے جسم پر لباس ہو یا نہ ہو اس وقت کسی کو کچھ نقصان نہ پہنچے گا۔ عرض کیا وہ کون سی آیت ہے۔ فرمایا: لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔
(۴) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ فَقَالَ:اِنَّکُمْ مَحْشُوْرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاًکَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ الآیۃ الخ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ قیام فرما ہوئے اور خطاب فرمایا کہ ’’تم سب قیامت کے روز اسی طرح ننگے بوچے اکٹھے کیے جاؤگے جس طرح پیدائش کے وقت تھے۔
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، نَامُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، نَاثَابِتُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ ھِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّﷺ، قَالَ:تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ: اَیَبْصُرُ اَوْیَرٰی بَعْضُنَا عَوْرَۃَ بَعْضٍ؟ قَالَ:یَافُلاَنَۃُ لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔(۲۱)
ھذا حدیث حسن صحیح قد روی من غیر وجہ عن ابن عباس۔
ترجمہ:نبی ﷺنے فرمایا ’’تمہیں ننگے بوچے اور غیر مختون اٹھایا جائے گا۔‘‘ ایک عورت نے عرض کیا، کیا ہم ایک دوسرے کے ستر دیکھیں گے؟ فرمایا: ’’اے خاتون اس روز ہرشخص پر ایسا وقت آن پڑا ہوگا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔‘‘
(۶) اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرٍ اَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیْہِ بِبَغْدَاد، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ عَیَّاشٍ، عَنْ عَطَائِ ابْنِ یَسَارٍ۔عَنْ سَوْدَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یُبْعَثُ النَّاسُ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً یُلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ وَیَبْلُغُ شَحْمَۃَ الْاُذُنِ، قَالَتْ: قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، وَاَسْوَئَ تَاہ یَنْظُرُ بَعْضُنَا اِلٰی بَعْضٍ۔ قَالَ: شَغَلَ النَّاسُ عَنْ ذٰلِکَ وَتَلاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔(۲۲)
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ عَلیَ شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ بِھٰذَا اللَّفْظِ وَاتَّفَقَا عَلَی حَدِیْثِ حَاتِمِ بْنِ اَبِیْ صَغِیْرَۃَ عَنْ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ مُخْتَصَراً۔
ترجمہ : اُمُّ المومنین حضرت سودہؓ روایت بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’حشر کے دن لوگ ننگے بوچے نا مختون اٹھیں گے۔ پسینے میں شرابور ہوں گے حتّٰی کہ پسینہ کانوں کی لو تک پہنچ چکا ہوگا۔‘‘ فرماتی ہیں میں نے افسوس کرتے ہوئے کہا یا رسولؐ اللہ! ہم برہنہ ہوں گے اور ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ رہے ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اس روز کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا ہوش نہیں ہوگا۔‘‘ پھر قرآن کی یہ آیت پڑھ کر سنائی۔’’اس روز آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے دُور بھاگے گا‘‘ ان میں سے ہرشخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔‘‘
(۷) اَخْبَرَنِیْ عَمْرُوبْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِی الزُّبَیْدِیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ الزُّھْرِیُّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یُبْعَثُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً فَقَالَتْ عَائِشَۃُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَکَیْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ فَقَالَ:لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔(۲۳)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’قیامت کے روز لوگوں کو ننگے بوچے اور نامختون اٹھایا جائے گا۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا۔ پھر قابلِ ستر اعضاء کاکیا ہوگا؟ فرمایا’’اس روز ہرشخص پر ایسا وقت آن پڑا ہوگا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔‘‘
خواہشات نفس کی پیروی اور تنگ دلی کی غلامی
۱۲۔حَتّٰی اِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَھَوًی مُتَّبَعًا وَاِعْجَابَ کُلِّ ذِیْ رَأیٍ بِرَاْیِہٖ فَعَلَیْکَ بِخُوِیَّصَۃِ نَفْسِکَ۔
’’جب تو دیکھے کہ لوگ اپنی تنگ دلی کے غلام اور خواہشاتِ نفس کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور ہرشخص خود رائی میں مبتلا ہے تو پھر تجھے چاہیے کہ بس اپنی نجات کی فکر کرے۔ ‘‘
تشریح : یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ کسی پوری قوم میں یا ساری کی ساری دنیا میں ’’شُحِّ مطاع‘‘ اور ’’ہوائے متبع‘‘ کے سوا اب کچھ بھی نہیں رہا، تجربے کی ضرورت ہے نہ کہ اپنی جگہ سمجھ بیٹھنے کی۔ اگر کوئی شخص حق کی طرف لوگوں کو دعوت دے اور تبلیغ کا جو حق ہے وہ اداکرے۔ اور پھر تجربے سے ثابت ہوکہ کوئی بھی اپنی ہوائے نفس کی پیروی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے اور سب کے سب باطل پرستی پر مصر ہیں، تب اس حدیث کے منشا کے مطابق آدمی کے لیے یہ درست ہوسکتاہے کہ وہ لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑدے اور صرف اپنی نجات سے غرض رکھے لیکن عملاً کوشش کیے بغیر پہلے ہی سے یہ سمجھ لینا کہ دعوت اور تبلیغ وتذکیر سے کچھ حاصل نہیں ہے، محض ادائے فرض سے جی چرانے کا ایک بہانہ ہے۔ آج اگر ہم اس حدیث (دراصل اس حدیث کا یہ منشا ہے ہی نہیں کہ بحیثیت مجموعی کسی پوری آبادی کے متعلّق یہ قیاس کرلیا جائے کہ اس میں شحّ مطاع اور ہوائے متّبع کے سوا کچھ نہیں ہے لہٰذا نصیحت اور تذکیر سے کچھ حاصل نہیں، بلکہ اس کا منشا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ ایسا ہو جس کے سامنے دعوتِ حق کو ٹھیک ٹھیک طریقے سے پیش کیا جائے اور پھر اس کے رویے سے یہ معلوم ہو کہ وہ اپنی شحّ اور اپنی ہوائے نفس کا بندہ بنا ہوا ہے تب اس کے اوپر تذکیر میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔ یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ آئی ہے کہ ’’اَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَاور فَذَکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْری’جو لوگ جہالت پر اُتر آئیں ان کے پیچھے نہ پڑو۔ اور نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔‘‘ (رسائل ومسائل اوّل، ص:۵۲)(کو حجت بنا کر اپنا وہ فرض ادا کرنے کی کوشش نہ کریں جو مومن ہونے کی حیثیت سے ہم پر عائد ہوتاہے۔ تو دنیا میں ہم اپنے نفس کو مطمئن کرسکتے ہیں لیکن قیامت کے روز اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کی باز پرس کے جواب میں یہ حدیث معذرت کے طورپر پیش کی اور نبی ﷺ نے اسی وقت ہمارے منہ پر اس کی تردید کردی کہ میرا مدعا یہ نہ تھا اور ان لوگوں نے میری حدیث سے غلط معنی نکال کر محض حیلہ بازی کی تھی تو ہمارے پاس جواب دہی کے لیے کیا باقی رہ جائے گا؟ (رسائل ومسائل اوّل ،اشاعت سوم ،ص: ۵۹،۶۰ )
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوالرَّبِیْعِ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ الْعَتَکِیُّ، ثَنَاابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ اَبِیْ حَکِیْمٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ جَارِیَۃَ اللَّخْمِیُّ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْاُمَیَّۃَ الشَّعْبَانِیُّ، قَالَ: سَأَلْتُ اَبَاثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیَّ، فَقُلْتُ: یَا اَبَا ثَعْلَبَۃَ، کَیْفَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ (عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ)؟ قَالَ: اَمَا وَاللّٰہِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْھَا خَبِیْرًا، سَأَلْتُ عَنْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنَاھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، حَتّٰی اِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَھَوًی مُتَّبَعًا وَدُنْیًا مُؤْثَرَۃً وَاِعْجَابَ کُلِّ ذِیْ رَاْیٍ بِرَأْیِہٖ فَعَلَیْکَ ــــ یَعْنِیْ بِنَفْسِکَ ــــ وَدَعْ عَنْکَ الْعَوَّامَ۔
فَاِنَّ مِنْ وَّرَآئِکُمْ اَیَّامَ (الصَّبْرِ) الصَّبْرُ فِیْہِ مَثَلُ قَبْضٍ عَلَی الْجَمَرِ، لِلْعَامِلِ فِیْھِمْ مِثْلُ اَجْرِ خَمْسِیْنَ رَجُلاً یَعْمَلُوْنَ مِثْلَ عَمَلِہٖ وَزَادَنِیْ غَیْرُہٗ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَجْرُ خَمْسِیْنَ مِنْھُمْ؟ قَالَ اَجْرُ خَمْسِینَ مِنْکُمْ۔(۲۴)
ابن ماجہنے وَأَعْجَابُ کَلِّ ذِیْ رَأْیٍ بِرَأْیِہٖکے بعدوَرَأَیْتَ اَمْراً لاَیَدَانِ لَکَ بِہٖ فَعَلَیْکَ خُوِیَّصَۃَ نَفْسِکَ بیان کیاہے۔
ترجمہ : ابوامیہ شعبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ کی خدمت میں حاضر ہوکر یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ کے بارے میں ان سے پوچھا کہ آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ابوثعلبہ نے جواب دیا کہ بخدا آپ نے جاننے والے سے پوچھا ہے۔ میں نے اس کے بارے میں نہایت باخبر ہستی یعنی رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ ’’تم لوگ نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتی کہ جب تم دیکھو کہ لوگ اپنی تنگ دلی کے غلام اور خواہشات نفس کے پیرو بن گئے ہیں، دنیا کوترجیح دی جاتی ہے اور ہرشخص خود رائی میں مبتلاہے تو سمجھو کہ معاملہ تمہارے اختیار سے باہر ہوگیاہے تو پھرتمہیں چاہیے کہ بس اپنی ذات کی فکر کرو۔ اور لوگوں کو اپنے سے دور کردو ۔
تمہارے بعد ایسے ایّام آنے والے ہیں کہ جن میں (حق پر) جمے رہنا ایسا ہوگا جیسے انگارہ مٹھی میں لینا۔ ایسے حالات میں جوشخص عمل کرے گا اس کا عمل پچاس عمل کرنے والوں کے برابر ہوگا۔ دوسری روایت میں ہے کہ صحابی نے پوچھا، یا رسول اللہؐ! اس وقت کے پچاس آدمیوں کے برابر ہوگا؟ آنحضورؐ نے فرمایاکہ ’’تم میں سے پچاس کے برابر ہوگا۔‘‘
پچھلی اُمتوں کی روش پر چلنے کی پیشین گوئی
۱۳۔آپؐ نے فرمایا کہ تم بھی آخر کار پچھلی امتوں ہی کی روش پر چل کررہوگے حتی کہ اگر وہ کسی گوہ کے بِل میں گھُسے ہیں تو تم بھی اسی میں گھسوگے۔ صحابہؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود ونصاریٰ مراد ہیں؟ آپؐ نے فرمایا:’’اور کون؟‘‘
تشریح : نبی اکرم ﷺکا یہ ارشاد محض ایک توبیخ نہ تھا بلکہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے آپ یہ جانتے تھے کہ انبیاء کی امتوں میں بگاڑ کن کن راستوں سے آیا اور کن کن شکلوں میں ظہور کرتارہا۔
اس سے پیروانِ محمد ﷺ کو سبق دینا مقصود ہے کہ وہ اس انحطاط کے گڑھے میں گرنے سے بچیں جس میں پچھلے انبیاء کے پیرو گرگئے۔ یہودیوں کی اخلاقی کمزوریوں، مذہبی غلط فہمیوں اور اعتقادی وعملی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی نشاندہی کرکے اس کے بالمقابل دین حق کے مقتضیات بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان اپنا راستہ صاف دیکھ سکیں اور غلط راہوں سے بچ کر چلیں۔ (تفہیم القرآن ج۱، البقرۃ، حاشیہ: ۵۶) تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْعُمَرَ الصَّنْعَانِیُّ مِنَ الْیَمَنِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا ذِرَاعًا حَتّٰی لَوْدَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوْھُمْ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَلْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی قَالَ: فَمَنْ؟(۲۵)
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْغَسَّانٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ زَیْدُ ابْنُ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْسَلَکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ سَلَکْتُمُوْہُ، قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَاریٰ، قَالَ: فَمَنْ؟(۲۶)
(۳) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْمَخْزُوْمِیُّ، نَاسُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ اَبِیْ سِنَانٍ، عَنْ اَبِیْ وَاقِدِنِاللَّیْثِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا خَرَجَ اِلٰی حُنَیْنٍ مَرَّبِشَجَرَۃٍ لِلْمُشْرِکِیْنَ یُقَالُ لَھَا ذَاتُ اَنْوَاطٍ یَعْلِقُوْنَ عَلَیْھَا اَسْلِحَتَھُمْ، قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ اَنْوَاطٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ سُبْحَانَ اللّٰہِ ھٰذَا کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی اجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃً وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَرْکَبُنَّ سُنَّۃَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ۔(۲۷) (ھذا حدیث حسن صحیح)
ترجمہ : ابوواقد لیثی روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کی طرف نکلے تو آپؐ کا گزر مشرکین کے ایک ذات انواط نامی درخت کے پاس سے ہواجس پر وہ برکت کے لیے اپنا اسلحہ لٹکادیا کرتے تھےـــ لوگوںنے عرض کیا یا رسول اللہ! جس طرح مشرکین کا یہ درخت ہے اسی طرح کا ہمارے لیے بھی متعیّن فرمادیں۔ آپؐ نے فرمایا’’سبحان اللہ ۔ یہ تو اسی طرح کا تقاضا ہے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے کیا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا ہی الٰہ بنادیں جیسے ان کے اِلٰہ ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم بھی آخر کار لازماً اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے راستہ پر چلوگے۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ:حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَأْخُذَ اُمَّتِیْ بِاَخْذِ الْقُرُوْنِ قَبْلَھَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ فَقِیْلَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ کَفَارِسٍ وَالرُّوْمِ قَالَ: وَمَنِ النَّاسُ اِلاَّاُولٰٓئِکَ؟(۲۸)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ میری امت بھی پہلے لوگوں کی روش اختیار نہ کرے گی۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! فارس اور روم کے لوگوں کی؟ فرمایا: ’’ان لوگوں کے علاوہ اور کون ہیں؟‘‘
قیامت کا منظر
۱۴۔مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ کَأَنَّہٗ رَأْیُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ، وَاِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ، وَاِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ۔
’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ ﷺکا یہ ارشاد بیان کیاہے کہ ’’جوشخص چاہتاہو کہ روزِ قیامت کو اس طرح دیکھ لے جیسے آنکھوں سے دیکھا جاتاہے تو وہ سورۂ تکویر، اور سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق کو پڑھ لے۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۶،الانفطار: موضوع اور مضمون)
تخریج :حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِیْمِ الْعَنْبَرِیُّ نَاعَبْدُالرَّزَّاقِ نَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بُجَیْرٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَھُوَ بْنُ یَزِیْدَ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ سَمِعْتُ بْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ کَاَنَّہٗ رَأَیُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَاِذَاالسَّمَآئُ انْفَطَرَتْ وَاِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ۔(۲۹)
قیامت کی آمد سے پہلے اس کے لیے تیاری کی ضرورت
۱۵۔ وَیْحَکَ اَنَّھَا کَائِنَۃٌ لاَمَحَالَۃَ فَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا؟
’’(صحاح اور سُنن اور مسانید میں حدِّ تواتر کو پہنچی ہوئی روایت ہے کہ) ایک مرتبہ حضورؐ سفر میںکہیں تشریف لے جارہے تھے۔ راستہ میں ایک شخص نے دُور سے پکارا یا محمدؐ! آپؐ نے فرمایا بولو کیا کہنا ہے؟ اس نے کہا قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے جواب دیا ’’بندۂ خدا وہ تو بہر حال آنی ہی ہے۔ تونے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟‘‘
تشریح : اس ارشاد سے سامعین کواحساس دلایا گیاہے کہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنے کی فکر میں کہاں پڑے ہو، فکر اس بات کی کرو کہ جب وہ آئے گی تو اپنی ان گمراہیوں کا تمہیںکیا خمیازہ بھگتناپڑے گا۔ (تفہیم القرآن ج۴، حٰم السجدہ، حاشیہ: ۶۲)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ :حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَجُلاً مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَائِمَۃٌ؟ قَالَ:وَیْلَکَ وَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟ قَالَ: مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا اِلاَّ اِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ قَالَ:اِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ الخ۔(۳۰)
ترجمہ : حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی بدوی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: ’’افسوس تجھ پر! تونے اس کی آمد کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ ‘‘ عرض کیا۔ میں نے تو اس کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐسے محبت کے سوا کچھ بھی تیار نہیں کیا۔ آپؐنے فرمایا ’’بلاشبہ تو اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ:حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ، قَالَ: نَااَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ:بَیْنَمَا اَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَارِجَیْنِ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَقِیْنَا رَجُلٌ عِنْدَسُدَّۃِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟ قَالَ:فَکَاَنَّ الرَّجُلَ اسْتَکَانَ، ثُمَّ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا کَثِیْرٍ صَلاَۃٍ وَلاَصِیَامٍ وَلاَصَدَقَۃٍ وَلٰکِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ، قَالَ: فَاَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔‘‘(۳۱)
ترجمہ :حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ ایک روز میں اور رسول اللہ ﷺ مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ مسجد کے دروازے پر ہمیں ایک آدمی ملا۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ!قیامت کب آئے گی؟ آپؐنے فرمایا: ’’تونے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے۔‘‘ راوی کا بیان ہے اس جواب کو اس نے ہلکا سمجھا۔ تھوڑی دیر بعد خودہی بولا۔ یارسول اللہ ؐ! میں نے اس کی تیاری کے لیے نہ تو بہت نمازیں پڑھی ہیں، نہ کثرت سے روزے رکھے ہیں ، اور نہ ہی بہت زیادہ صدقہ وخیرات ہی کیاہے۔ لیکن مجھے اللہ اور اس کا رسول نہایت محبوب ہیں۔ آپ نے فرمایا’’تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کی ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّہٗ قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتٰی قِیَامُ السَّاعَۃِ؟ فَقَامَ النَّبِیُّ ﷺ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَلَمَّا قَضٰی صَلاَتَہٗ قَالَ:اَیْنَ السَّائِلُ عَنْ قِیَامِ السَّاعَۃِ؟ فَالَ الرَّجُلُ اَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: مَااَعْدَدْتَّ لَھَا؟ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَااَعْدَدْتُّ لَھَا کَبِیْرَ صَلٰوۃٍ وَلاَصَوْمٍ اِلاَّ اِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ’’اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ وَاَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ‘‘ فَمَا رَأَیْتُ فَرِحَ الْمُسْلِمُوْنَ بَعْدَالْاِسْلاَمِ فَرْحَھُمْ بِھَا۔(۳۲) (ھٰذا حدیث صحیح)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺکی خدمت اقدس میںحاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب برپا ہوگی؟ نبی ﷺنماز کے لیے کھڑے ہوگئے جب نماز پوری کرلی اور فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ ’’وہ سائل کہاں ہے جو قیامت کی آمد کے متعلّق پوچھ رہاتھا۔‘‘ وہ بولا میں ہوں یا رسول اللہؐ۔ آپؐنے پوچھا ’’تونے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ بولا یا رسول اللہ! میں نے اس کے لیے صوم وصلاۃ تو زیادہ جمع نہیں کیے اِلاَّ یہ کہ میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتاہوں۔ آپؐنے فرمایا:’’آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت کرتاہے اور تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتاہے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ اسلام کے بعد آج تک مسلمان کبھی اتنے خوش نہیں ہوئے تھے جتنے اس جواب سے ہوئے۔
قیامت سے پہلے کا دَورِ پُرفتن
۱۶۔ اَلْقَائِمُ فِیْھَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ۔
’’فتنے کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’اس میں کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور بیٹھ جانے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہے۔‘‘
تشریح : اس فتنے سے مراد مسلمانوں کی وہ باہمی لڑائی ہے جس میں فریقین عصبیت اور حمیّتِ جاہلیہ اور طلبِ دنیا کے لیے لڑرہے ہوں اور دونوں میںسے کوئی بھی حق پر نہ ہو۔ (تفہیم القرآن ج۵، الحجرات، حاشیہ: ۱۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِاللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ وَحَدَّثَنِیْ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ، عَنِ بْنِ شِھَابٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَتَکُوْنُ فِتَنٌ اَلْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ السَّاعِیْ مَنْ تَشَرَّفَ لَھَا تَسْتَشْرَفْہُ فَمَنْ وَجَدَ فِیْھَا مَلْجَأً وَمَعَاذًا فَلْیَعُذْبِہٖ۔(۳۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔’’عنقریب فتنوں کا آغاز ہوگا۔ ان میں بیٹھنے والا کھڑے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہے۔ جس نے جھانک کر اسے دیکھا،اسے وہ اُچک لیں گے جوشخص ان حالات میں کوئی جائے پناہ پائے اسے چاہیے کہ اس میں پناہ لے لے۔ ‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُسْلِمُ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ یَکُوْنُ الْمُضْطَجِعُ فِیْھَا خَیْرًامِنَ الْجَالِسِ وَالْجَالِسُ خَیْرًا مِّنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَیْرًا مِّنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ خَیْرًا مِّنَ السَّاعِیْ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا تَأْمُرُنِیْ؟ قَالَ: ’’مَنْ کَانَتْ لَہٗ اِبِلٌ فَلْیَلْحَقْ بِاِبِلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ لَہٗ غَنَمٌ فَلْیَلْحَقْ بِغَنَمِہٖ وَمَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ فَلْیَلْحَقْ بِاَرْضِہٖ‘‘ قَالَ فَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ شَیْئٌ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ فَلْیَعْمَدْ اِلٰی سَیْفِہٖ فَلْیَضْرِبْ بِحَدِّہٖ عَلٰی حَرَّۃٍ ثُمَّ لَیَنْجُوْا مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ۔(۳۴)
ترجمہ : حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ، عنقریب فتنوں کا آغاز ہوگا۔ اس میں لیٹنے والا بیٹھے ہوئے سے، اور بیٹھا ہوا کھڑے سے، اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے ولادوڑنے والے سے بہترہے۔ ابوبکرہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپؐ میرے لیے کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ آپؐنے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہو، اسے چاہیے کہ اپنے اونٹ سے ملحق ہوجائے اور جس کے پاس اپنی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں سے ملحق ہوجائے اور جس کے پاس زمین ہو اسے اپنی زمین سے ملحق ہوجانا چاہیے حضرت ابوبکرہ نے کہا کہ جس کے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ فرمایا، جس کے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو، وہ اپنی تلوار کو پتھر پر مار کر کُند کرلے اور جہاں تک ہوسکے اپنی نجات کی فکر کرے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَ بْنِ فَارِسٍ، ثَنَا عَفَّانُ ابْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ، ثَنَا عَاصِمٌ اَلْاَحْوَلُ، عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا مُوْسیٰ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ فِتْنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْھَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا اَلْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ فِیْھَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ کُوْنُوْا اَمْلاَسِ بُیُوْتِکُمْ۔‘‘(۳۵)
ترجمہ : ابوکبشہ بیان کرتے ہیں میں نے ابوموسیٰ اشعری کو بیان کرتے سناہے کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے کہ ’’تمہارے سامنے فتنے شبِ تاریک کے ٹکڑوں کی طرح آئیں گے۔ اس دورِ فتن میں ایک آدمی صبح مومن ہوگا شام کو کافر۔ شام حالتِ ایمان میں ہوگی توصبح حالتِ کفر میں طلوع ہوگی۔ بیٹھنے والا اس میں کھڑا رہنے والے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے، اور چلنے والا بھاگنے دوڑنے والے سے بہتر ہے۔‘‘ عرض کیا ہمارے لیے آپؐکا ارشاد کیاہے؟ فرمایا ’’تم اپنے گھروں سے چمٹے رہنا۔‘‘
(۴) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْھَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا اَلْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ السَّاعِیْ: فَکَسِّرُوْا قَسِیَّکُمْ وَقَطِّعُوْا اَوْتَارَکُمْ وَاضْرِبُوْا بِسُیُوْفِکُمُ الْحِجَارَۃَ فَاِنْ دُخِلَ عَلٰی اَحَدِکُمْ فَلْیَکُنْ کَخَیْرِ بَنِیْ آدَمَ۔(۳۶)
ماخذ
(۱) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب قول النبی ﷺ بعثت انا والساعۃ کھاتین الخ۔ کتاب الطلاق وکتاب التفسیر سورۃ النازعات، عن سھل بن سعد۔٭مسلم ج۲ کتاب الفتن باب قرب الساعۃ اور کتاب الجمعۃ۔٭ابوداؤد الطیالسی عن انس۔٭ ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی قول النبی ﷺ بعثت انا والساعۃ کھاتین۔٭مسنداحمد ج۲روایت ابی ھریرۃج۴ص۳۰۹ج۵ص ۹۳،۱۰۳،۱۰۸۔٭طبرانی کبیرج اوّل ص۲۵۷۔٭دارمی کتاب الرقاق باب فی قول النبی ﷺ بعثت انا والساعۃ کھاتین۔٭ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ اور المقدمہ۔ ٭کنزالعمال ج۱۴ص۹۵،۱۹۴۔
(۲) تفسیر ابن جریر ج۱۰پ۳سورۂ یٰسٓ۔٭ابن کثیر ج۳ سورۂ یٰسٓ بحوالہ ابنِ ابی حاتم۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲کتاب التفسیر سورۂ یٰسٓ۔
(۳) مسلم ج۲کتاب الفتن باب امارات الساعۃ۔٭ابوداؤد کتاب الملاحم باب امارات الساعۃ۔٭ترمذی ابواب الفتن باب فی الخسف۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب الآیات۔ ٭مستدرک للحاکم ج۴کتاب الفتن والملاحم باب لاتقوم الساعۃ حتی تکون عشرآیات۔٭تفسیر ابن کثیر ج۳ سورہ نمل۔٭ابوداؤد الطیالسی ص۱۴۳ عن حذیفہ بن اسید غفاری۔٭طبرانی کبیر ج۳ص۱۷۱۔۱۷۲٭ مجمع الزوائد ج۷ص۳۲۸۔
(۴) مسنداحمد ج۱ص۳۷۵ عبداللہ بن مسعود۔٭المستدرک للحاکم ج۴ص۵۴۶کتاب الفتن۔٭ابنِ ماجہ ابواب الفتن باب فتنۃ الدجّال وخروج عیسیٰ بن مریم ویاجوج وماجوج۔٭ابن کثیر ج۳سورۃ الانبیاء۔
(۵) ابنِ کثیر ج۴ص۱۳۹۔
(۶) ابن جریر ج۲۴؍۲۷سورۃ الدخان۔٭ابنِ کثیر ج۴ص۱۳۹۔٭المستدرک للحاکم ج۴ص۴۵۸ ابن عمرؓ سے مروی ہے۔
(۷) ابن جریر ج۲۴؍۲۷سورہ الدخان٭ ابنِ کثیر ج ۴ ص۱۳۹۔٭طبرانی ج۳ص۲۹۲ عن ابی مالک اشعری۔
(۸) بخاری ج۲کتاب الرقاق۔ ٭مسلم ج۲ کتاب الفتن باب قرب الساعۃ۔ ٭مسنداحمد ج۲ص۳۶۹۔ عن ابی ھریرۃ۔٭المستدرک للحاکم ج۴ عن عقبہ ابن عامر مختصر اور لفظی اختلاف۔ ٭مجمع الزوائد ج۱۰ ص۳۳۱ عن ابی ھریرۃ۔
(۹) تفسیر ابنِ جریر ج۱۰ پ۲۳ ۔سورۂ یٰسٓ۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۴ص۳۷۵ بحوالہ عبدالرزاق، الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، وغیرہ نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اسی معنی کی روایات نقل کی ہیں۔
(۱۰) المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الفتن والملاحم۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۴بحوالہ ابن المبارک فی الزھد، عبدالرزاق، الفریابی، ابنِ ابی شیبۃ، نعیم بن حماد، عبدبن حمید، ابنِ ابی الدنیا، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ عن ابن عمر۔ ٭ اخرج ابنُ مردویہ من حدیث ابی سعید الخدری مرفوعاً یترک الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔ ٭روح المعانی ج۲۰ص۱۹سورۃ النمل۔ ٭ابن جریر ج۲؍۲۳ پ۲۰ ص۱۰۔
(۱۱) مسلم ج۲ کتاب الفتن باب ذکر الدجال۔٭ابنِ ماجہ کتاب الفتن٭ابوداؤد کتاب الملاحم باب امارات الساعۃ۔ مسندِ احمد ج۲ص۱۶۴۔۲۰۱عمرو بن العاص۔
(۱۲) مسلم ج۲کتاب الفتن۔٭ابنِ ماجہ کتاب الفتن باب طلوع الشمس من مغربھا۔٭ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی الخسف۔ ٭مسندِ احمد ج۲ص۳۳۷۔
(۱۳) ابن جریر ج۱۷؍۱۹ ج۹ سورۃ الحج۔ ٭ابن کثیر ج۳ص۲۰۳۔
(۱۴) ابنِ جریر جز۲۳ص۱۰ سورہ یٰسین۔
(۱۵) تفسیر ابنِ جریر ج۲۴؍۲۷ ص۲۰۔۲۱سورۃ الزمر۔
(۱۶) مسلم ج۲کتاب الفتن واشراط الساعۃ۔٭مسنداحمد ج۲ص۳۲۲ عن ابی ھریرۃ۔ ٭تفسیر ابنِ جریر ج۱۱ پ۲۴ ص۲۱۔
(۱۷) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب کیف الحشر۔٭مسلم ج۲ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیامۃ۔٭مسنداحمد ج۶ص۵۳عن عائشۃ صدیقۃ۔
(۱۸) ابن کثیر ج۴ بحوالہ ابن ابی حاتم۔٭مجمع الزوائدج۲عن سھل بن سعد۔
(۱۹) ابن کثیر ج۴ بحوالہ ابنِ ابی حاتم۔ابن جریرج۱۲پ۳۰ سورۂ عبس۔
(۲۰) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب کیف الحشر٭ مسلم ج ۲کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ ٭ترمذی ابواب صفۃ الجنۃ باب فی شان الحساب والقصاص۔٭ نسائی کتاب الجنائز باب البعث۔
(۲۱) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ عبس۔
(۲۲) المستدرک للحاکم ج۲ کتاب التفسیر سورہ عبس۔٭مجمع الزوائد ج۱۰ص۳۳۳عن سودۃ۔٭ابن کثیر ج۴ص۴۷۴ بحوالہ تفسیر البغوی۔٭روح المعانی ج۱۰پ۳۰ ص۴۸ سورۂ عبس بحوالہ طبرانی، ابن مردویہ، بیھقی۔
(۲۳) نسائی کتاب الجنائز باب البعث مسنداحمد ج۶ص۰۹ روایت عائشۃ۔ ابنِ کثیر ج۴ص۴۷۴۔
(۲۴) ابوداوٗد کتاب الملاحم باب الامروالنھی۔٭ ابنِ ماجہ ج۲کتاب الفتن باب قولہ تعالیٰ یایھا الذین امنواعلیکم انفسکم ٭ترمذی ابواب التفسیر۔ سورۃ المائدہ٭ المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الفتن والملاحم۔
(۲۵) بخاری ج۲ کتاب الاعتصام باب قول النبی ﷺ لتتبعن سنن من کان قبلکم۔٭مسلم ج۲کتاب العلم۔ باب النھی عن اتباع متشابہ الخ۔٭المُستدرک للحاکم ج۱ کتاب الایمان اتباع ھذہ الامۃ سنن من قبلھم۔ ٭مُسنداحمد ج۳ص۸۴۔
(۲۶) بخاری ج۱کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل۔
(۲۷) ترمذی ابواب الفتن باب لترکبن سنۃ من کان قبلکم۔
(۲۸) بخاری ج۲ کتاب الاعتصام باب قول النبی ﷺ لَتَتَّبِعُنَّ سنن مَنْ قَبْلَکُمْ ٭مسنداحمد ج۲ مرویات ابی ھریرۃ ص۳۲۷،۴۵۰،۵۱۱،۵۲۷،ج۳ص۸۴،۸۹،۹۴٭ابن ماجہ کتاب الفتن باب افتراق الامم۔
(۲۹) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ اذا الشمس کوّرَت۔٭مسنداحمد بن حنبل ج۲مرویات ابن عمر۔٭المستدرک للحاکم میں یہ روایت بایں الفاظ منقول ہے۔مَنْ احبَّ ان ینظر الی یوم القیامۃ فلیقرأ اذاالشمس کوِّرت۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲کتاب التفسیر سورہ اذا الشمس کُوِّرت۔ ٭روح المعانی ج۳۰۔سورۃ التکویر۔٭ابنِ کثیر ج۴ سورۂ الانفطار اور سورۂ تکویر۔
(۳۰) بخاری ج۲کتاب الادب باب ماجاء فی قول الرجل ویلک۔
(۳۱) بخاری ج۲کتاب الاحکام۔ باب القضاء والفتیا فی الطریق۔٭مسلم ج۲کتاب البر والصلۃ باب المرء مع من احب۔٭مُسند ابوداؤد الطیالسی ص۲۸۴عن انس۔
(۳۲) ترمذی ابواب الزھد باب المرء مع من احب۔٭مسندِاحمد بن حنبل ج۳ص۱۶۵۔انس بن مالک۔ مُسند میں مااعددت لھا من کبیر احمد علیہ نفسی کے الفاظ ہیں جسے مسلم نے بھی کتاب البروالصلۃ باب المرء مع من احب میں بیان کیاہے۔٭مسنداحمد ج۳ص۱۶۷پر ویحک ومااعددت لھا قال اعددت لھا حب اللہ ورسولہ الخ ہے۔ یہ حدیث مسنداحمد ج۳مرویات انس بن مالک میں قدرے اختلاف الفاظ کے ساتھ درج ذیل صفحات پر بھی ہے۔ ۱۱۰،۱۶۵،۱۶۷، ۱۶۸،۱۷۲،۱۷۳،۱۷۸،۱۹۲،۲۰۰،۲۰۲،۲۰۷، ۲۰۸،۲۱۳، ۲۲۶، ۲۲۷۔ ۲۲۸،۲۵۵، ۲۷۶، ۲۸۲،۲۸۸۔
(۳۳) بخاری ج۲کتاب الفتن باب قَوْل النّبی ﷺ تکون فتنۃ الْقَاعِد فِیْھَا خَیْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ۔٭ مسلم ج۲کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ظھور الفتن کمواقع القطر القاعد فیھا خیر من الماشی والماشی فیھا خیر من الساعی۔ ٭مستدرک للحاکم ج۴کتاب الفتن۔ اس میں والساعی کے بعد والساعی خیر من الراکب والراکب خیر من الموضع کا اضافہ ہے۔
(۳۴) ابوداؤد کتاب الفتن والملاحم باب فی النھی عن السعی فی الفتنۃ۔
(۳۵) ابوداؤد کتاب الفتن والملاحم باب فی النھی عن السعی فی الفتنۃ۔
(۳۶) ابن ماجہ کتاب الفتن باب التثبت فی الفتنۃ۔٭ المستدرک للحاکم ۴کتاب الفتن والملاحم قدرے اختلافِ الفاظ کے ساتھ۔
فصل دوم :سکرات الموت سے عالمِ برزخ تک
سکرات الموت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی
۱۷۔ اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ۔
’’اللہ بندے کی توبہ بس اسی وقت تک قبول کرتاہے جب تک کہ آثارِ موت شروع نہ ہوں۔‘‘
تشریح :توبہ کے معنی پلٹنے اوررجوع کرنے کے ہیں۔ گناہ کے بعد بندے کاخدا سے توبہ کرنا یہ معنی رکھتاہے کہ ایک غلام، جو اپنے آقا کا نافرمان بن کراس سے منہ پھیر گیاتھا، اب اپنے کیے پرپشیمان ہے اور اطاعت وفرمانبرداری کی طرف پلٹ آیاہے۔ اورخدا کی طرف سے بندے پر توبہ یہ معنی رکھتی ہے کہ غلام کی طرف سے مالک کی نظرِ عنایت جوپھر گئی تھی وہ از سرِ نو اس کی طرف منعطف ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ میرے ہاں معافی صرف ان بندوں کے لیے ہے جو قصداً نہیں بلکہ نادانی کی بنا پر قصور کرتے ہیں، اور جب آنکھوں پر سے جہالت کا پردہ ہٹتاہے توشرمندہ ہوکراپنے قصور کی معافی مانگ لیتے ہیں۔ ایسے بندے جب بھی اپنی غلطی پر نادم ہوکر اپنے آقا کی طرف پلٹیں گے اس کا دروازہ کھلاپائیں گے کہ ؎
ایں درگہِ مادرگہِ نومیدی نیست صد بارا گر توبہ شکستی باز آ
مگر توبہ اُن کے لیے نہیں ہے جو اپنے خدا سے بے خوف اوربے پروا ہوکر تمام عمر گناہ پر گناہ کیے چلے جائیں۔ اور پھر عین اس وقت جب کہ موت کا فرشتہ سامنے کھڑا ہو معافی مانگنے لگیں۔ کیونکہ امتحان کی مہلت جب پوری ہوگئی اور کتابِ زندگی ختم ہوچکی تو اب پلٹنے کا کون سا موقع ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجائے اور دوسری زندگی کی سرحد میں داخل ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ معاملہ اُس کے برعکس ہے جو وہ دنیا میں سمجھتارہا تھا تو اس وقت معافی مانگنے کا کوئی موقع نہیں۔ (تفہیم القرآن ج۱، النساء، حاشیہ:۷ ۲)
اُس وقت (اس سے) یہ نہیں کہا جائے گا کہ اب اپنے رب سے اپنے قصوروں کی معافی مانگ کیونکہ وہ فیصلے کا وقت ہوگا معافی طلب کرنے کا وقت گزرچکا ہوگا۔ قرآن اور حدیث دونوں اس معاملہ میں ناطق ہیں کہ توبہ واستغفار کی جگہ دنیا ہے نہ کہ آخرت۔ اور دنیا میں بھی اس کا موقع صرف اسی وقت تک ہے جب تک آثارِ موت طاری نہیں ہوجاتے۔ جس وقت آدمی کو یقین ہوجائے کہ اس کا آخری وقت آن پہنچاہے اُس وقت کی توبہ ناقابلِ قبول ہے۔ موت کی سرحد میں داخل ہوتے ہی آدمی کی مہلتِ عمل ختم ہوجاتی ہے اور صرف جزا وسزا ہی کا استحقاق باقی رہ جاتاہے۔ (تفہیم القرآن ج۲ ،النحل، حاشیہ: ۸۲)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ یَعْقُوْبَ، نَاعَلِیُّ بْنُ عَیَّاش نِ الْحِمْصِیُّ، نَاعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ مَکْحُوْلٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ۔(۱) (ھذا حدیث حسن غریب)
(۲) حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِیْدِ الرَّمْلِیُّ، اَنْبَأَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ مَکْحُوْلٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَقْبَلَ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ۔(۲)
عذابِ قبر کا ذکر قرآن مجید میں
۱۸۔ابنِ جریر، ترمذی اور ابن المُنذِر وغیرہ محدثین نے حضرت علیؓ کا یہ قول نقل کیاہے کہ ’’ہم عذابِ قبر کے بارے میں برابر شک میں پڑے رہے یہاں تک کہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر نازل ہوئی۔‘‘
تشریح :اس کو سورۂ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل قرار دیا گیاہے کہ عذابِ قبر کا ذکر مدینے ہی میں ہواتھا، مکّہ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہواتھا مگر یہ بات غلط ہے۔ قرآن کی مکّی سورتوں میں بکثرت مقامات پر قبر کے عذاب کا ایسے صریح الفاظ میں ذکر کیا گیاہے کہ شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہو الانعام: ۹۳، النحل:۸ ۲، المومنون: ۹۹،۱۰۰،المومن :۴۵،۴۶ یہ سب مکّی سورتیں ہیں۔ اس لیے حضرت علی کے ارشاد سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا مکی سورتوں کے نزول سے پہلے سورۂ تکاثر نازل ہوچکی تھی اور اُس کے نزول نے عذابِ قبر کے بارے میں صحابہ کے شک کو دور کردیاتھا۔
(تفہیم القرآن ج۶، التکاثر: زمانۂ نزول)
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ نَاحُکَّامُ بْنُ مُسْلِمِ نِالرَّازِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ اَبِیْ قَیْسٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ ابْنِ حُبَیْشٍ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: مَازِلْنَا نَشُکُّ فِیْ عَذَابِ الْقَبْرِ حَتّٰی نَزَلَتْ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ۔(۳)
قَالَ اَبُوْکُرَیْبٍ مُرَّۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ اَبِیْ قَیْسٍ عَنِ ابْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنِ الْمِنْہَالِ، ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ
لفظ ’’قبر‘‘ کا عالمِ برزخ کے لیے مجازًا استعمال
قرآن وحدیث کی روشنی میں موت اور قیامت کی درمیانی حالت کا نقشہ
حقیقت یہ ہے کہ قرآن وحدیث، دونوں سے موت اور قیامت کے درمیان کی حالت کا ایک ہی نقشہ معلوم ہوتاہے، اور وہ یہ ہے کہ موت محض جسم وروح کی علیٰحدگی کا نام ہے نہ کہ بالکل معدوم ہوجانے کا۔ جسم سے علیحدہ ہوجانے کے بعد روح معدوم نہیں ہوجاتی بلکہ اُس پوری شخصیت کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو دنیا کی زندگی کے تجربات اور ذہنی واخلاقی اکتسابات سے بنی تھی۔ اُس حالت میں روح کے شعور، احساس ،مشاہدات اور تجربات کی کیفیت خواب میں ملتی جلتی ہوتی ہے۔ ایک مجرم روح سے فرشتوںکی باز پرس اور پھر اُس کا عذاب اور اذیت میں مبتلا ہونا اور دوزخ کے سامنے پیش کیا جانا، سب کچھ اُس کیفیت سے مشابہ ہوتاہے جو ایک قتل کے مجرم پر پھانسی کی تاریخ سے ایک دن پہلے ایک ڈراؤ نے خواب کی شکل میں گزرتی ہوگی ۔ اسی طرح ایک پاکیزہ روح کا استقبال، اور پھر اُس کا جنت کی بشارت سننا اور اُس کا جنت کی ہواؤں اور خوشبوؤں سے متمتع ہونا، یہ سب بھی اُس ملازم کے خواب سے ملتا جلتا ہوگا جو حسنِ کارکردگی کے بعد سرکاری بلاوے پر ہیڈ کوارٹر میں حاضر ہوا ہواور وعدۂ ملاقات کی تاریخ سے ایک دن پہلے آئندہ انعامات کی اُمیدوں سے لبریز ایک سہانا خواب دیکھ رہاہو۔ یہ خواب یک لخت نفخ صوردوم سے ٹوٹ جائے گااور یکایک میدانِ حشر میں اپنے آپ کو جسم وروح کے ساتھ زندہ پاکر مجرمین حیرت سے کہیں گے کہ : یٰوَیْلَنَا مَنْم بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا’’ارے یہ کون ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھالایا‘‘ مگر اہل ایمان پورے اطمینان سے کہیں گے کہ ھٰذَا مَاوَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْن ’’یہ وہی چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کا بیان سچا تھ مجرمین کا فوری احساس اُس وقت یہ ہوگا کہ وہ اپنی خواب گاہ میں جہاں بستر موت پر انہوں نے دنیا میں جان دی تھی ـــــ شاید کوئی ایک گھنٹہ بھر سوئے ہوں گے اور اب اچانک اس حادثہ سے آنکھ کھلتے ہی کہیں بھاگے چلے جارہے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان پورے ثباتِ قلب کے ساتھ کہیں گے کہ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُوْنَ۔’’اللہ کے دفتر میں توتم روز حشر تک ٹھہرے رہے ہو اور یہی روز حشر ہے مگر تم اس چیز کو جانتے نہ تھے۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۲، النحل، حاشیہ:۲۶)
موت کے بعد روح کی کیفیت
مرنے کے بعد آدمی کی روح زندہ رہتی ہے، اس میں پورا شعور موجود رہتاہے۔ نیک آدمی قیامت تک سرکاری مہمان (STATE GUEST) کی حیثیت سے رہتاہے اور بد انسان زیرِ حراست ملزم (UNDER TRIAL PRISONER) کی حیثیت سے۔
(مکاتیب ،ص:۴۰)
برزخ
سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ لغت کے اعتبار سے برزخ کا مفہوم کیاہے۔ دوچیزوں کے درمیان جو چیز واقع ہو، اور ان کو باہم ملنے سے روک دے یا ان کو الگ الگ کردے وہ عربی زبان میں ’’برزخ‘‘ کہلاتی ہے، خواہ وہ پردہ ہو یا اوٹ ہو یا زمانہ یا کوئی اور شے۔ بَیْنَھُمَا بَرْزَخٌ لاَّیَبْغِیَانِاور جَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ میں برزخ سے مراد وہ روک ہے جو دوسمندروں کو ملنے سے باز رکھتی ہے۔ ایک حدیث میں ذکر آیاہے کہ اَنَّہٗ صَلّٰی بِقَوْمٍ فَاَسْوٰی بَرْزَخًا۔ یعنی آپ نے ایک جماعت کو نماز پڑھائی اور قرأت پڑھتے پڑھتے ایک مقام سے سلسلہ منقطع فرماکر دوسرے مقام سے تلاوت شروع کردی۔ یہاں اس حصہ کو جوچھوڑدیا گیاتھا ’’برزخ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیاہے ایک دوسری حدیث میں وساوس کو برازخ الایمان کہا گیا ہے یعنی شک اور یقین کی درمیانی حالت۔ مفسرین اور ائمۂ لُغت نے برزخ کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ:
lاَلْبَرْزَخُ، اَلْحَاجِزُ وَالْمُھْلَۃُ مُتَقَارِبَاتُ الْمَعْنٰی۔ (ابن جریر)
lاَلْبَرْزَخُ، مَابَیْنَ کُلَّ شَیْئَیْنِ مِنْ حَاجِزٍ۔ (نھایۃ لابن اثیر)
lاَلْبَرْزَخُ، اَلْحَاجِزُ وَالْحَدُّبَیْنَ الشَّیْئَیْنِ۔ (راغب)
اصطلاحی معنی
اسی لفظ کوقرآن مجید نے اصطلاحاً اس مدت یا اس حالت کے لیے استعمال کیا ہے جو انسان کی موت سے لے کر قیامت کے دن تک ہے۔ جس آیت میں یہ لفظ وارد ہے وہ خود اس کے اصطلاحی معنی کو واضح کرتی ہے:
حتَیّٰٓ اِذَا جَآئَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلآَّ اِنَّھَا کَلِمَۃٌ ھُوَقَآئِلُھَا وَمِنْ وَّرَآئِ ھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔(المومنون: ۹۹،۱۰۰)
’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ پروردگار مجھے واپس کردیجیے۔ امید ہے کہ میں اس زندگی میں جس کو چھوڑآیاہوں نیک عمل کروں گا۔ ہرگز نہیں! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہتاہے اور ان کے آگے ایک برزخ ہے اس وقت تک جب کہ وہ اٹھائے جائیں گے۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ موت کے وقت سے روزِ قیامت تک جو کچھ ہے اس کا نام برزخ ہے۔ آپ چاہیں تو اسے روک یا آڑ کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر یہ آڑ ہے بھی تو میت اوردنیا کے درمیان ہے یا میت اور قیامت کے درمیان ہے۔ خدا اور بندے کے درمیان ہرگز نہیں ہے۔ قرآن مجید میں کوئی اشارہ ایسا نہیں ملتا جس سے یہ مفہوم نکلتاہو کہ برزخ میں مردے اپنے رب کی حضوری سے آڑ میں رکھے جاتے ہیں۔ یہ محض ایک بے بنیاد قیاس ہے۔
برزخ کی کیفیت
اب سوال یہ ہے کہ برزخ کی کیفیت کیاہے۔ آیا اس میں انسان کے لیے کوئی زندگی ہے یا نہیں؟ وہاں صالحین کے لیے کوئی راحت اور فاسقین کے لیے اذیت ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ برزخ میں نفسِ انسانی کس حال میں رہتاہے؟
۱۔ (کیا) مرنے والے برزخ میں اپنے رب کی حضوری سے آڑ میں رکھے جاتے ہیں اور صرف قیامت کے روز ان کی پیشی ہوگی؟
۲۔ (کیا) برزح مطلقاً عالمِ ممات ہے جس میں حیات، علم، احساس، شعور کچھ نہیں ہوتا، اور اس لیے عذاب وثواب اور راحت واذیت بھی وہاں نہیں ہے؟
۳۔ (کیا) برزخ میں رہنے سے مراد اللہ کے نوشتے میں رہنا ہے۔ یعنی انسان اس دنیا میں آخری سانس لینے کے بعد معدوم ہوجاتاہے، اور صرف ا س کا اندراج اللہ کے دفتر میں رہتاہے۔ پھر جب قیامت ہوگی تو ان سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا جو اس دفتر میں مندرج ہیں۔ پس موت سے قیامت تک نفس یا روح کی حالت ایک معدومیت اور فنائیت کی حالت ہے۔ اور اس کے لیے اگر موجودیت ہے تو وہ صرف کتاب اللہ میں ہے؟
۴۔ (کیا) صرف وہ لوگ جو فی سبیل اللہ جنگ کرکے مارے جاتے ہیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ مرنے کے بعد زندہ رہتے ہیں، اپنے رب کی حضوری سے آڑ میں نہیں رکھے جاتے بلکہ اسی وقت حاضر کردیے جاتے ہیں اور ان کو روزی ملنے لگتی ہے؟
ہم کودیکھنا ہے کہ یہ (مستثنیٰ ہونے کا) دعویٰ قرآن سے ثابت ہوتاہے یا نہیں۔ اور قرآن مجید کی رُو سے مذکورہ بالا سوالات کا صحیح حل کیاہے؟
موت اور حیات کا مفہوم
اس بحث میں پہلا حل طلب سوال یہ ہے کہ زندگی اور موت سے کیا مراد ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ۔ (البقرہ:۲۸)
’’تم مردہ تھے، پھر تم کو زندہ کیا، پھر وہ تم کو مارے گا پھر وہ تم کو جلائے گا۔‘‘
اس آیت میں دو موتوں اور دوزندگیوں کا ذکر کیا گیاہے :
۱۔ پہلی موت سے مراد وہ حالت ہے جو قالبِ خاکی میں نفخ روح سے پہلے تھی۔ جیسا کہ آیت وَبَدَأَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ۔۔۔ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃ (السجدہ:۷تا۹) سے معلوم ہوتاہے۔
۲۔ پہلی زندگی سے مراد وہ حالت ہے جو جسم میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ہوتی ہے اور جس میں انسان اپنے جسمانی کانوں سے سُنتا، جسمانی آنکھوں سے دیکھتا اور جسمانی دل ودماغ سے سونچتاہے اس کی طرف بھی آیت مذکورہ بالا اشارہ کرتی ہے۔
۳۔ دوسری موت سے مراد وہ حالت ہے جو جسدِ خاکی سے نفس یا روح کے سلب کرلیے جانے کے بعد ہوتی ہے۔ اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا(الزمر:۴۲) اور وَلَوْتَرٰی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُوْا اَیْدِیْھِمْ اَخْرِجُوْآ اَنْفُسَکُمْ ۔ (الانعام:۹۳)
۴۔ دوسری زندگی سے مراد وہ حالت ہے جس میں قیامت کے روز وہی جان جو موت کے وقت جسم سے نکالی گئی تھی دوبارہ جسم میں پھونکی جائے گی۔ اس پر وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَت(التکویر:۷) اور کَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ (الانبیاء:۱۰۴) اور ایسی ہی بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں۔
جسمانی موت کے بعد روحانی زندگی
پس معلوم ہوا کہ قرآن مجید نے عموماً موت سے جسم وروح کا انفصال اور زندگی سے جسم وروح کا اتّصال مراد لیاہے۔ لیکن اس معنی میں جس حالت کو وہ موت کہتاہے اس سے مراد عدم نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایک طور کی زندگی ہے جن میں روح بولتی اور سنتی اور شعور وادراک رکھتی ہے چنانچہ خود قرآن مجید سے اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ دیکھیے پہلی موت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ :
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنم بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا۔ (الاعراف:۱۷۲)
’’اور جب کہ تیرے رب نے بنی آدم سے ان کی پیٹھوں میں سے ان کی ذریّت کو نکالا اور خود ان کے اوپر ان کوگواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا ہاں، ہم گواہ ہوئے۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب روحیں جسموں میں پھونکی نہ گئی تھیں، اور جب کہ ان پر موت طاری تھی اس وقت بھی وہ اس معنی میںمردہ نہ تھیں کہ ان میں سماعت اور گویائی اور علم وشعور نہ تھا۔ حق تعالیٰ نے ان سے جوسوال کیا اس کو انہوں نے سنا، اس کا جواب دیا، اور جواب علم کی بنا پر دیا۔ پس وہ موت محض اجساد سے جدائی کا اعتبار کرتے ہوئے تھی، ورنہ حقیقت میں وہ بھی زندگی ہی تھی،کیونکہ علم اور سمع اور گویائی کی صفات زندگی ہی میں پائی جاتی ہیں۔
پھر دوسری موت کی حالت میں بھی ارواح کا ان اوصاف سے متصف ہونا، قرآن مجید کی متعدد آیات سے ثابت ہوتاہے فرمایا:
حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلِّیْ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلاَّ اِنَّھَا کَلِمَۃٌ ھُوَ قَآئِلُھَا وَمِنْ وَّرَآئِ ھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔(المؤمنون:۹۹،۱۰۰)
’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھ کو واپس کردیجیے، امید ہے کہ میں اس زندگی میں جس کو میں چھوڑآیاہوں نیک عمل کروں گا، ہرگز نہیں! یہ توایک بات ہے جو وہ کہتاہے اور ان کے آگے برزخ ہے اٹھائے جانے کے دن تک۔‘‘
اس آیت میں اِرْجِعُوْنِاور فِیْمَا تَرَکْتُاورمِنْ وَّرَآئِ ھِمْ بَرْزَخ کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ ذکر اس حالت کا ہے جب دنیا چھوٹ چکی ہے، برزخ اس کے اور دنیا کے درمیان حائل ہوچکی ہے اور دنیا میں رہنے کا نہیں بلکہ دنیا میں واپس جانے کا مسئلہ درپیش آگیاہے۔ اس حالت موت میں انسان اپنے رب سے کلام کرتاہے اور دنیامیں واپسی کی خواہش ظاہر کرتاہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں خوف ورجا کے جذبات ہوں گے، اپنی دنیوی زندگی کے کارنامے اسے یاد ہوں گے، ان پر ندامت اور مستقبل کے خطرات کا احساس ہوگا، اپنے پروردگار کو وہ جانتاہوگا، اور اس میں گویائی کی قوت بھی ہوگی، جبھی تو وہ ایسی بات کہے گا۔ کیا یہ مطلق عالم ممات ہوسکتاہے جس کے متعلق (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ اس میں حیات کاکوئی شائبہ نہیں؟
دوسری آیات بھی اس کی تائید کرتی ہیں:
وَاَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلُ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیٓ اِلٰی اَجَلٍ قَرِیْبٍ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ۔ (المنافقون:۱۰)
’’اور خرچ کرو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو عطا کیا ہے قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے پھر وہ کہے کہ پروردگار! کاش تو مجھے تھوڑی مہلت اور دیتا میں خیرات کرتا اور صالحین میں سے ہوتا۔‘‘
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلَآئِکَۃُ ظَالِمِیٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَا کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْآ اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا۔ (النساء:۹۷)
جن لوگوں کی جانیں ملائکہ نے اس حال میں قبض کیں کہ وہ (کفار کی سرزمین میں رہ کر) اپنے اوپر آپ ظلم کر رہے تھے۔ ان سے ملائکہ نے کہاکہ تم یہ کس حال میں پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم زمین میں بے بس تھے۔ فرشتوں نے کہا کہ اللہ کی زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟‘‘
حَتّٰی اِذَا جَآئَ تْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ قَالُوْآ اَیْنَمَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَشَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کَافِرِیْنَ۔ قَالَ ادْخُلُوْا فِیٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ۔ (الاعراف:۳۷،۳۸)
’’یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرستادے ان کی روح قبض کرنے کو پہنچ گئے تو کہا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے معبود جن کو تم خدا کے سوا پکارتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ہمارا ساتھ چھوڑ گئے اور انہوں نے اپنے اوپر گواہی دی کہ وہ کافر تھے۔ خدا نے کہا کہ تم بھی ان قوموں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجاؤ جو از قسم جن وانس تم سے پہلے گزرچکی ہیں۔‘‘
اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلَآئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
(النحل:۳۲)
’’جن لوگوں کی جانیں ملائکہ اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک تھے، تو ان سے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو! جنت میں داخل ہوجاؤ اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔‘‘
اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلَآئِکَۃُ ظَالِمِیٓ اَنْفُسِھِمْ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَاکُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْئٍٓ بَلٰی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ فَادْخُلُوا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْھَا۔ (النحل: ۲۸،۲۹)
’’جن لوگوں کی جانیں ملائکہ اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے، تو وہ ان سے دوستی ڈالیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو کوئی بُرا عمل نہ کرتے تھے اس پر کہا جائے گا کہ ہاں خدا جانتاہے جو کچھ تم کرتے تھے پس تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ جہاں تم ہمیشہ رہوگے۔‘‘
وَلَوْتَرٰی اِذْیَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الْمَلَآئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۔ (الانفال :۵۰)
’’اور کاش تو دیکھتا جب کہ ملائکہ ان لوگوں کی جانیں قبض کرتے ہیں جنہوں نے کفر کیاہے، وہ ان کو آگے اور پیچھے سے مارتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ عذابِ دوزخ کے مزے چکھو۔ ‘‘
یہ اور ایسی بہت سی آیات ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ عرف عام میں جس انفصال روح وجسم پر لفظ موت کا اطلاق ہوتاہے وہ ایسی موت نہیں ہے جس میں مطلق کسی قسم کا احساس وشعور اور شائبہ حیات موجود نہ ہو ۔ برعکس اس کے اس حالت میں بھی روح میں زندگی کے وہ تمام آثار موجود ہوتے ہیں، جو جسمانی زندگی میں ہوا کرتے ہیں، البتہ ان کا طور وانداز بدلا ہوا ہوتاہے، اور جسمانی زندگی سے وہ حالت مختلف ہوتی ہے۔
عُرفی موت پر زندگی کا اطلاق
چونکہ انسان کے نزدیک زندگی سے مراد جسمانی زندگی ہے اور موت سے مراد جسمانی موت ہے اور اسی مفہوم کے لیے انسانی زبان میں موت اور حیات کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اس وجہ سے حق تعالیٰ نے بھی اپنے کلام میں عموماً موت اور حیات کو جسمانی موت اور جسمانی حیات کے معنی میں استعمال کیا ہے لیکن بعض مواقع ایسے بھی آئے ہیں جہاں انسان کے اس جاہلانہ خیال کی تردید کرنا ضروری ہوگیا کہ زندگی حقیقت میں جسمانی زندگی ہے، اور جسمانی موت حقیقی موت ہے جس میں ’’حیات کا کوئی شائبہ‘‘ نہیں۔ جب حق کی خاطر جان دینے کا سوال پیش آتاہے تو یہ جاہلانہ خیال انسان کی ہمت کو پست کردیتاہے۔ وہ اس وقت اپنی جان قربان کرتے ہوئے ہچکچاتاہے، اور سمجھتاہے کہ اگر مارے گئے تو زندگی کے مزے چھوٹ جائیں گے اور جسم سے جان نکلتے ہی ہم فنا ہوجائیں گے۔ ایسے موقع پر حق تعالیٰ اس حقیقت کو بے نقاب کرتاہے کہ جس کو تم موت کہتے ہواور سمجھتے ہو وہ حقیقت میں موت نہیں ہے۔ ہماری راہ میں جان دے کر تم ’’مطلق عالَمِ ممات میں نہ چلے جاؤگے بلکہ پھر بھی زندہ ہی رہوگے اور ہمارے رزق کے مزے اس حال میں بھی تم کو نصیب ہوں گے :
وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ۔ (اٰل عمران :۱۶۹)
’’اور تو ان لوگوں کو جو خداکی راہ میں مارے جاتے ہیں مرا ہوا نہ سمجھ، وہ تو زندہ ہیں۔ ان کے رب کے پاس انہیں رزق دیا جاتاہے۔‘‘
وَلاَتَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآئٌ وَلٰکِنْ لاَّتَشْعُرُوْنَ۔(البقرہ:۱۵۴)
’’اور تم ان لوگوں کو مردہ نہ کہو جو اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں، وہ تو زندہ ہیں مگر تم جانتے نہیں ہو۔‘‘
ان مواقع پر چونکہ پردہ پڑا رہنے سے ایک بڑی مصلحت فوت ہورہی تھی، اس لیے حقیقت کو بے نقاب کردیا گیا۔ مگر غور سے دیکھیے۔ یہ نہیں کہاکہ جو لوگ فی سبیل اللہ مارے جاتے ہیں، ان پر وہ موت طاری نہیں ہوتی جس کو عرفِ عام میں موت کہا جاتاہے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کی موت کو حقیقی موت نہ سمجھو اور نہ کہو۔ وہ مارے ضرور جاتے ہیں، ان کے جسم سے جان ضرور نکلتی ہے، وہ دنیا سے رخصت ضرور ہوتے ہیں، ان کو دفن بھی کیا جاتاہے، ان کی عورتیں بیوہ اور ان کے بچے یتیم بھی ہوجاتے ہیں، ان کے ترکے تقسیم بھی ہوتے ہیں۔ ان تمام حیثیتوں سے وہ دنیا اور دنیا والوں کے لیے مرجاتے ہیں۔ مگر اس جسمانی موت کے بعد بھی ایک زندگی ہے جو ان کو حاصل رہتی ہے، اور اس کے بعد بھی اللہ کے رزق اور اس کی بخششوں کا سلسلہ جاری رہتاہے اگر چہ تم کو اس کا شعور نہیں ہے۔
(بعض) لوگ اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے عرفی موت اور حقیقی موت میں فرق نہ کیا ۔ انہوں نے اس مصلحت پر بھی غور نہ کیا کہ خاص شہداء کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے اس فرق کو کس لیے واضح کیا ہے۔ ان کی نظران آیات کے معانی تک بھی نہ پہنچ سکی جن سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ فرق محض شہداء کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام مرنے والوں کے لیے عرفی موت کے بعد بھی ایک روحانی زندگی ہے جس میں احساس، شعور، سمع، گویائی وغیرہ قوتیںبدستور باقی رہتی ہیں۔ اس پہلی اور بنیادی غلطی نے ان کو پے درپے غلطیوں میں مبتلا کردیا اور آخر تک ان کے قیاسات غلط ہوتے چلے گئے۔
برزخ میں روحوں کے مقامات
جسمانی موت کے بعد روحانی زندگی کا ثبوت مل چکا۔ اب ہم کو آگے بڑھ کر یہ دیکھنا ہے کہ مرنے کے بعد انسانی نفوس کے ساتھ کیا معاملہ ہوتاہے اور وہ کہاں رکھے جاتے ہیں۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ برزخ میں نفوس کے مقام کا انحصار ان کی دنیوی زندگی کے اعمال پر ہے۔ جو نفوس دنیا میں تقویٰ اور عمل صالح کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں وہ اتنے لطیف ہوجاتے ہیں کہ مقامات رفیعہ کی طرف پرواز کرنے لگتے ہیں۔ جسم سے نکلتے ہی فرشتے ان کو کامیابی کی خوشخبری سناتے ہیں۔ ان کا نام عالمِ بالا کے دفتر میں لکھا جاتا ہے، اور یوم الفصل کے انتظار کی مدت وہ ایسی بلند منزلوں میں گزارتے ہیں جہاں ان کو جنت کی خوشبوئیں آتی ہیں، بلکہ درحقیقت وہ جنت ہی کی ابتدائی منازل ہوتی ہیں:
اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلَآئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ (النحل:۳۲)
’’ جن لوگوں کی جانیں ملائکہ اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک تھے، اُن سے وہ کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، جنت میں داخل ہو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔‘‘
وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْمَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًا حَسَنًا وَّاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُّدْخَلاً یَّرْضَوْنَہٗ۔ (الحج :۵۸،۵۹)
’’اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے، اللہ ان کو اچھا رزق عطا کرے گا اور حقیقت میں اللہ ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ وہ ضرور ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔‘‘
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ۔ وَلَئِنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْتُمْ لاَ ْاِلَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ۔ (اٰل عمران :۱۵۷،۱۵۸)
’’ اور یقین رکھو کہ اگر تم راہِ خدا میں مارے گئے یا مرگئے تو اللہ کی مغفرت اور رحمت اس مال ودولت سے بہتر ہے جو لوگ دنیا میں جمع کرتے ہیں۔ اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے تو اللہ ہی کی طرف لے جائے جاؤگے‘‘( ان دونوں آیات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ تمام صالحین کے ساتھ ایک ہی معاملہ ہوتاہے اور اس میں شہید وغیرشہید کا کوئی فرق نہیں ہے۔ نیز(اس سے ان لوگوںکے) اس خیال کی بھی تردید ہوجاتی ہے کہ شہداء کے سوا باقی تمام روحیں برزخ میں اپنے رب کی حضوری سے آڑ میں رکھی جاتی ہیں (
وَجَآئَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ۔۔۔اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ۔ (یٰسٓ :۲۱،۲۵،۲۶)
’’اور ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا کہ لوگو! رسول کی پیروی کرو۔۔۔میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں، میری بات سنو (اس پر لوگوں نے اسے قتل کردیا (قرآن مجید میں اس شخص کے مارے جانے کا ذکر نہیں ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے قتل کردیا گیاتھا اور جو شخص روایات کو ظنّی اور ناقابلِ اعتبار سمجھتا ہو اس کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کا حکم مرنے کے بعد دیا گیا۔ ) اس سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا۔‘‘
اِنَّ کِتَابَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ وَمَآ اَدْرٰکَ مَاعِلِّیُّوْنَ۔کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ ؎۳ ( المطففین:۱۸تا۲۱)
’’ نیک لوگوں کا دفتر علّیین میں ہے اور علّیین کو تو کیا جانتاہے کہ کیاہے؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی، مقربین اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ ‘‘)(بعض لوگوں نے) اس آیت اور اس سلسلہ کی ایک دوسری آیت کا مفہوم نہیں سمجھا۔ علّیّون کے دومعنی ہوسکتے ہیں یا تو اس سے مراد منازلِ عالیہ ہیں۔ یا عالی مقام لوگ۔ اسی طرح سجین سے مراد یا قید خانہ ہے یا قیدیوں کا گروہ۔ صالحین وابرار کے نام اس دفتر میں لکھے جاتے ہیں جو علّیّین کے لیے مخصوص ہیں اور فاسقین وفجار کے نام سجین کے دفتر میں مندرج ہوتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نفوس فنا ہوجاتے ہیں اور صرف رجسٹر میں نام رہ جاتے ہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کی روحیں علّیّین وسجین میں داخل ہوجاتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ مدرسہ میں بچہ کا نام لکھاگیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بچہ غائب ہوگیا اور صرف اس کا نام رجسٹر میں رہ گیا۔)
بخلاف اس کے جو لوگ فسق وفجور میں جان دیتے ہیں ان کی روحیں گندی ہوجاتی ہیں۔ ان کے لیے مقامات عالیہ کے دروازے نہیں کھلتے۔ جسم سے نکلتے ہی ان پر سختیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ان کو ذلت اور مصیبت کے قیدخانوں میں رکھا جاتاہے جہاں ان کو اپنے ہولناک انجام کے آثار نظر آنے لگتے ہیں، اور وہ کثافتیں جو دنیوی زندگی کے بُرے اعمال سے انہوں نے سمیٹ لی تھیں ان کو بے چین وبے قرار رکھتی ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لاَتُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ ۔(الاعراف:۴۰)
’’جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔‘‘
وَلَوْتَرٰی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلَآئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۔ (الانفال :۵۰)
’’اور کاش تو دیکھتا جب کہ ملائکہ ان لوگوں کی جانیں قبض کرتے ہیں جنہوں نے کفر کیا ہے، وہ ان کو آگے اور پیچھے سے مارتے جاتے ہیں کہ آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘
اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٌ۔ وَمَا اَدْرٰکَ مَاسِجِّیْنٌ۔ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ۔ (المطففین :۷۔۹)
’’بدکاروں کے نام (قیدیوںکے دفتر) سجّین میں لکھے جاتے ہیں۔ اور تو کیا جانے کہ سجّین کیاہے! وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔‘‘
ان کے علاوہ متعدد آیات ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ فاسقین پر موت کے بعد ہی سختیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ مثلاً آلِ فرعون کے متعلق ارشاد ہے کہ :
وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْئُ الْعَذَابِ النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَّیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ۔ (المومن:۴۵،۴۶)
’’اور آلِ فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ وہ آگ کا عذاب ہے جس پر وہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت قائم ہوگی تو حکم دیا جائے گا کہ آلِ فرعون کو اس سے سخت ترعذاب میں داخل کرو۔‘‘
اس آیت کے الفاظ اتنے واضح ہیں کہ مفہوم میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں۔ صاف معلوم ہوتاہے کہ غرق ہوتے ہی آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیرلیا۔ اب وہ دائماً آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت قائم ہوگی تو اس سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ (بعض لوگوں نے) پہلے سے چند نظریات قائم کرلیے ہیں جو قرآن مجید کی بعض آیات کے غلط مفہوم پر مبنی ہیں، اور بجائے اس کے کہ وہ ایسی صاف اور صریح آیات کو دیکھ کر ان نظریات میں ترمیم کرتے، وہ کوشش کررہے ہیں کہ ان کی تاویل کرکے ان غلط نظریوںکے مطابق ڈھال لیں۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو انسان کو قرآن کا صحیح مفہوم سمجھنے نہیں دیتی۔
اسی کے قریب المعنی وہ آیت ہے جو مدینہ اور گردو پیش کے منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے:
سَنُعَذِّبُھُمْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔ (التوبۃ:۱۰۱)
’’عنقریب ہم ان کو دومرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ زیادہ بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے۔‘‘
یہاں بھی الفاظ صریح اور مفہوم واضح ہے۔ عذاب کے تین مرتبے بتائے گئے ہیں۔ ایک دنیا کا عذاب کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوئے اور ان کی ساری تدبیریں ناکام کردی گئیں۔ دوسرا برزخ کا عذاب اور تیسرا عذابِ عظیم جو قیامت کے بعد ہوگا۔ لیکن یہاں پھر (ان لوگوں) کے نظریات نے ان کو ایک صاف بات سمجھنے سے روک دیا۔
چند غلط نظریات
(ان لوگوں) کے نظریات میں پہلا نظریہ یہ ہے کہ وہ برزخ کو مطلق عالمِ ممات سمجھتے ہیں جس میں حیات کا کوئی شائبہ نہیں۔ اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ برزخ میں نہ راحت ہے اور نہ اذیت۔ لیکن اس کی تائید میں جوآیات وہ پیش کرتے ہیں وہ ان کے مدعا کی تائید نہیں کرتیں۔ بالفرض اگر قرآن مجید میں مشرکین وکفّار کے معبودوں سے مراد انبیاء،اولیاء، صلحا، اور دوسرے انسان ہیں جو وفات پاچکے ہیں تب بھی ان آیات سے صرف یہی ثابت ہوتاہے کہ وہ آدمیوں کی پکار نہیں سنتے، ان کی دعاؤں سے غافل ہیں، اور ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ مگراس سے یہ کہاں ثابت ہوتاہے کہ وہ بجائے خود بے حس، بے جان، بے شعور، بے علم اور بالکل غافل وبے خبر ہیں؟ اگر وہ اس عالم کی باتیں نہیں سنتے اور اس عالم کے لوگوں کو جواب نہیں دے سکتے، تو اس سے یہ نتیجہ کیوںکر نکالاجاسکتاہے کہ جس عالم میں وہ ہیں، وہاں بھی ان میں بولنے اور سننے اور محسوس کرنے کی قوت نہیںہے؟ پہلے ایک مضمون کی آیات پر غور کیے بغیر ایک غلط نظریہ قائم کرنا، پھر اس نظریہ کی بنا پر دوسری صریح آیات کی تاویل کرنا اور الفاظ کو ان کے صاف مفہوم سے پھیرنا وہ طریقہ نہیں ہے جس سے آدمی قرآن مجید کے علوم سے استفادہ کرسکتاہو۔ قرآن مجید ایک جگہ کہتاہے کہ تم مُردوں کونہیں سنا سکتے، اور مردے تمہاری دعاؤں کاجواب نہیں دے سکتے۔ دوسری جگہ وہی قرآن کہتاہے کہ فرشتے مردوں سے باتیں کرتے ہیں اور مردے ان کو جواب دیتے ہیں کیا ان دونوں باتوں میں کوئی تناقض ہے؟ اگر نہیں تو یہ لوگ جس طرح پہلی بات کو مانتے ہیں، اسی طرح دوسری کو بھی مانیں اگر تناقض ہے تو ثابت کریں۔
دوسرا نظریہ ،یہ ہے کہ ’’قرآن کی رُو سے انسان کے لیے دوہی موتیں اور دوہی زندگیاں ہیں۔‘‘ دنیوی زندگی کے بعد ’’دوسری زندگی حشر کے دن ملے گی نہ کہ قبر میں۔ لہٰذا اس دنیوی زندگی کے منقطع ہوجانے کے بعد اہل برزخ میں مطلقاً زندگی کا کوئی شائبہ نہیں۔‘‘ یہاں دراصل موت اور حیات کا مفہوم سمجھنے میں (بعض لوگوںسے) لغزش ہوئی ہے۔ جس انفصالِ جسم وروح پر لفظ موت کا اطلاق کیا گیا ہے اس کے متعلق (بعض حضرات نے فرض کرلیا کہ اس میں مطلقاًزندگی کاکوئی شائبہ نہیں، اور زندگی محض اتصالِ جسم وروح کا نام ہے۔ لیکن اوپر قرآن مجید کی آیات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ یہ مفروضہ بالکل غلط ہے۔
تیسرا نظریہ بھی ایسا ہی عجیب وغریب ہے۔ ایک آیت میں وارد ہواہے کہ مردے جب حشر کے دن اٹھائے جائیں گے تو کہیں گے کہ ’’ہائے کس نے ہم کو ہماری خواب گاہ سے اٹھادیا۔‘‘ بعض اور آیات میں ہے کہ دنیوی زندگی اور قیامت کے درمیان وہ زیادہ سے زیادہ ایک گھڑی کا فصل سمجھیں گے اس سے (بعض لوگوں) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ برزخ میں مردے بالکل غافل وبے خبر پڑے ہوئے ہیں، اور ان کو زمانے کا مطلق احساس نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے اور عذاب یا ثواب ان پر ہورہاہوتا تو اس طویل مدت کو بھول نہ جاتے ۔ لیکن قرآن میں یہ بھی توفرمایا گیا ہے کہ حشر کے دن لوگ اپنے قیامِ زمین کی مدّت کا اندازہ ایک دن یا زیادہ سے زیادہ دس لگائیں گے۔ پھر کیا بالکل اسی طرح اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالاجاسکتاکہ دنیا کی زندگی میں بھی انسان غفلت وبے خبری اور ’’مطلق عالمِ ممات‘‘ میں پڑا رہا؟ سوال یہ ہے کہ آخر اس قسم کی قیاس آرائیاں کرنے کی ضرورت کیاہے؟ جو نتیجہ (یہ حضرات) نکال رہے ہیں وہ قرآن میں مذکور نہیں۔ قرآن میں صرف ایک واقعہ کے طورپر یہ بیان ہوا ہے کہ قیامت کے روز جب دوبارہ اجساد میں جان ڈالی جائے گی اور لوگ نشأۃ آخرت میں داخل ہوں گے تو ان کو ایسا اور ایسا محسوس ہوگا۔ یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ اس سے پہلے برزخ میں وہ بیہوش، بے حس اور مطلق عالم ممات میں ہوں گے۔ یہ اس واقعہ پر محض قیاس ہے اور اس قیاس کو (یہ حضرات) اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ قرآن کریم کی ان صریح آیات کو جن میں اہلِ برزخ کی سماعت، گویائی اور ان کی راحت یا تکلیف کا ذکر کیا گیاہے، ان کے صاف مفہوم سے پھیر کر اس قیاس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا قرآن کو قرآن سے سمجھنے کا یہی طریقہ ہے؟ اگر قیاس ہی کرنا تھا تو یہ قیاس کیوں نہ کیا کہ ایک عالم سے دوسرے عالم میں پہنچنے کے بعد انسان پہلے عالم کو فراموش کرجاتاہے، یا اس کو پہلے عالم کا محض ایک موہوم سا خیال رہتاہے، یا پہلے عالم میں اپنی حالت کے متعلق اس کا اندازہ غلط ہوتا ہے جیسا کہکَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَسے ظاہر ہورہاہے جہاں تک میں سمجھتاہوں (ان حضرات کے) قیاس کی بہ نسبت یہ قیاس قرآن مجید کے ارشادات سے زیادہ مطابقت رکھتاہے۔
(ان حضرات کا) آخری نظریہ ان آیات پر مبنی ہے جن میں صرف دنیا اور آخرت کے عذاب وثواب کا ذکر ہے، اور برزخ کا ذکر نہیں ہے، اور جن میں صرف دارآخرت کو دارالجزاء فرمایاگیاہے۔ اس سے (یہ حضرات) نتیجہ نکالتے ہیں کہ دنیوی زندگی کے بعد اور قیامت سے پہلے کوئی عذاب وثواب نہیں ہے۔ لیکن یہ نظریہ متعدد وجوہ سے باطل ہے:
(۱) ان آیات میں کہیں برزخ کی روحانی زندگی اور اس کے عذاب وثواب کی نفی نہیں کی گئی ہے بلکہ ان میں دنیا وآخرت کے عذاب وثواب کا ذکر اسی طرح ایک واقعہ کے طورپر کیا گیاہے جس طرح بعض دوسری آیات میں برزخ کی زندگی اور اس کے عذاب وثواب کا ذکر بطور واقعہ آیاہے۔ پھر پہلی قسم کی آیات دوسری قسم کی آیات کے لیے ناقض کیوںکر ہوسکتی ہیں۔
(۲) یہ بالکل صحیح ہے کہ دارالجزاء اور یوم الفصل دراصل دارِ آخرت ہی ہے لیکن قرآن مجید کی متعدد آیات سے یہ ثابت کیا جاچکاہے کہ برزخ میں انسان کو ایک طرح کی روحانی زندگی حاصل ہوگی جس میں شعور واحساس پایا جائے گا۔ ایسی صورت میں یہ ناگزیر ہے کہ فیصلہ کے دن تک انتظار کرنے کے لیے نفوسِ انسانی جہاںرکھے جائیں گے وہاں نفوسِ زکیہ کے لیے راحت اور نفوس خبیثہ کے لیے اذیت ہو۔ اگرچہ ان کے اعمال کی پوری پوری جزا وسزا ان کو فیصلے کے دن ہی ملے گی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انتظار کی مدت میں دونوں قسم کے نفوس ایک ہی حال میں رکھے جائیں۔
(۳) (یہ حضرات) خود تسلیم کرتے ہیں کہ شہدا کو مرنے کے بعد ہی ثواب ملنا شروع ہوجائے گا۔ اب غور فرمایئے کہ یہ ثواب یوم الفصل سے پہلے ہے یا اس کے بعد ؟ اگر بعد ہے تو کیا شہدا کی قیامت عام لوگوں کی قیامت سے پہلے قائم ہوجائے گی؟ اور اگر یہ ثواب یوم الفصل سے پہلے اور دنیوی زندگی ختم ہونے کے بعد ہے تو (ان حضرات کا) نظریہ ٹوٹ گیا۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوجاتاہے کہ انتظار کی مدت میں نفوس کو رزق عطا ہونا قرآن مجید کے اس ارشاد کے خلاف نہیں کہ اصلی جزا وسزا کا دن قیامت کا دن ہے۔ (ترجمان القرآن ج۵،عدد ۶، ص:۴۳۷ تا۴۵۱)
حیات برزخ کا ثبوت
۱۹۔ نَصَحَ قَوْمَہٗ حَیًّا وَّمَیِّتًا. ( اس حدیث سے حیاتِ برزخ کا صریح ثبوت ملتاہے۔)
’’(حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ) اس شخص نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیرخواہی کی اور مرکربھی۔‘‘
تشریح : یہ ایک مرد مومن کے کمالِ اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔ جن لوگوں نے اسے ابھی ابھی قتل کیا تھا اُن کے خلاف کوئی غصّہ اور جذبۂ انتقام اس کے دل میں نہ تھا کہ وہ اللہ سے ان کے حق میں بددعا کرتا۔ اس کے بجائے وہ اب بھی ان کی خیرخواہی کیے جارہاتھا۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر کوئی تمنّا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش میری قوم میرے اس انجام نیک سے باخبر ہوجائے اور میری زندگی سے نہیں تو میری موت ہی سے سبق لے کر راہِ راست اختیار کرلے۔ وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے لیے بھی جہنّم نہ چاہتاتھابلکہ یہ چاہتاتھا کہ وہ ایمان لاکر جنت کے مستحق بنیں۔
اس واقعہ کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکّہ کو درپردہ اس حقیقت پر متنبّہ فرمایاہے کہ محمد ﷺاور ان کے ساتھی اہلِایمان بھی اس طرح تمہارے سچے خیرخواہ ہیں جس طرح وہ مردِ مومن اپنی قوم کا خیرخواہ تھا۔یہ لوگ تمہاری تمام ایذارسانیوں کے باوجود تمہارے خلاف کوئی ذاتی عناد اور کوئی جذبۂ انتقام نہیں رکھتے۔ ان کو دشمنی تم سے نہیں بلکہ تمہاری گمراہی سے ہے۔ یہ تم سے صرف اس لیے لڑرہے ہیں کہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ اس کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔
اس سے معلوم ہوتاہے کہ مرنے کے بعد سے قیامت تک کا زمانہ خالص عدم اور کامل نیستی کا زمانہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض کم علم لوگ گمان کرتے ہیں بلکہ اس زمانے میں جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے، کلام کرتی اور سنتی ہے، جذبات واحساسات رکھتی ہے، خوشی اور غم محسوس کرتی ہے اور اہلِ دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں اگر یہ نہ ہوتا تومرنے کے بعد اس مرد مومن کو جنت کی بشارت کیسے دی جاتی اور وہ اپنی قوم کے لیے یہ تمنا کیسے کرتاکہ کاش وہ اس کے انجامِ نیک سے باخبر ہوجائے۔ (تفہیم القرآن ج۴، یٰس ٓ ،حاشیہ :۲۳)
تخریج : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَصَحَ قَوْمَہٗ فِیْ حَیَاتِہِ بِقَوْلِہٖ یَا قَوْمِی اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ وَبَعْدَ مَمَاتِہٖ فِیْ قَوْلِہٖ یَا لَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔(۴)
عالم برزخ میں صبح وشام دوزخ وجنت پیش کی جاتی ہے
۲۰۔ اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہٗ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ اِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَمِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَیُقَالُ ھٰذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی یَبْعَثَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد)
’’حضورؐ نے فرمایا، ’’تم میں سے جوشخص بھی مرتاہے اسے صبح وشام اس کی آخری قیام گاہ دکھائی جاتی رہتی ہے، خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی، اس سے کہاجاتاہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تجھے قیامت کے روز دوبارہ اٹھاکر اپنے حضور بلائے گا۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۴، المؤمن، حاشیہ: ۶۳)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوالنُّعْمَانَ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا مَاتَ اَحَدُکُمْ عُرِضَ عَلٰی مَقْعَدِہٖ غُدْوَۃً وَعَشِیَّۃً اِمَّاالنَّارُ وَاِمَّا الْجَنَّۃُ فَیُقَالُ:ھٰذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی تُبْعَثَ۔(۵)
(۲) حَدَّثَنَا اِسْمٰعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَامَاتَ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہٗ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ اِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَاِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَمِنْ اَھْلِ النَّارِ فَیُقَالُ ھٰذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی یَبْعَثَکَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃ۔(۶)
۲۱۔بخاری کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’جوشخص بھی جنت میں جائے گا اسے وہ مقام دکھادیا جائے گا جو اسے دوزخ میں ملتا اگر وہ بُراعمل کرتا، تاکہ وہ اور زیادہ شکر گزار ہو۔ اور جو شخص بھی دوزخ میں جائے گا اسے وہ مقام دکھادیا جائے گاجواسے جنت میں ملتا اگر اس نے نیک عمل کیا ہوتا، تاکہ اسے اور زیادہ حسرت ہو۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۵ ،التغابن، حاشیہ:۰ ۲)
فَوَقٰہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَامَکَرُوْا وَحَاقَ بِٰالِ فِرْعَوْنَ سُوْئُ الْعَذَابِo اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَاب۔ (المؤمن:۴۵،۴۶)
’’آخر کار ان لوگوں نے جو بُری چالیں اس مومن کے خلاف چلیں اللہ نے ان سب سے اس کو بچالیا اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیرمیں آگئے، دوزخ کی آگ ہے جس پر صبح وشام وہ پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگاکہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو۔‘‘
یہ آیت اُس عذابِ برزخ کا صریح ثبوت ہے جس کا ذکر بکثرت احادیث میں آیاہے۔ یہاں عذاب کے دومرحلوں کا ذکر ہے۔ ایک کم تردرجے کا عذاب جو قیامت کے آنے سے پہلے فرعون اور آلِ فرعون کو اب دیا جارہاہے، اور وہ یہ ہے کہ انہیں صبح وشام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتاہے جسے دیکھ کر وہ ہروقت ہول کھاتے رہتے ہیں کہ یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخر کار ہمیں جاناہے۔ اس کے بعد جب قیامت آجائے گی تو انہیں وہ اصلی اور بڑی سزا دی جائے گی جوان کے لیے مقدر ہے۔ یعنی وہ اُسی دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے جس کا نظارہ انہیں غرقاب ہوجانے کے وقت سے آج تک کرایا جارہاہے اور قیامت کی گھڑی تک کرایا جاتارہے گا۔
اور یہ معاملہ صرف فرعون اور آلِ فرعون کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے۔ تمام مجرموں کو موت کی ساعت سے لے کر قیامت تک وہ انجام بد نظر آتارہتاہے جو ان کا انتظار کررہاہے اور تمام نیک لوگوں کو اس انجامِ نیک کی حسین تصویر دکھائی جاتی رہتی ہے جو اللہ نے ان کے لیے مہیّا کررکھا ہے۔ (تفہیم القرآن ج۴، المؤمن، حاشیہ:۶۳)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوا الْیَمَانِ، قَالَ:اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوالزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَیَدْخُلُ اَحَدُنِالْجَنَّۃَ اِلاَّاُرِیَ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ لَوْاَسَائَ لِیَزْدَادَ شُکْرًا وَلاَیَدْخُلُ النَّارَ اَحَدٌ اِلاَّاُرِیَ مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ لَوْاَحْسَنَ لِیَکُوْنَ عَلَیْہِ حَسْرَۃً۔(۷)
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ اَھْلِ النَّارِ یَرٰی مَنْزِلَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ یَقُوْلُ لَوْھَدَانَا اللّٰہُ، فَیَکُوْنُ حَسْرَۃٌ عَلَیْھِمْ وَکُلُّ أَھْلِ الْجَنَّۃِ یَرٰی مَنْزِلَہٗ مِنَ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَوْلاَ اَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ فَھٰذَا شُکْرُھُمْ۔(۸)
ماخذ
(۱) ترمذی ابواب الدعوات ج۲ ۔٭ ریاض الصالحین ج۱ ص۸۔ عن ابن عمر ۔
(۲) ابن ماجہ ابواب الزھد باب ذکر التوبۃ۔ ٭ابنِ ماجہ کی روایت کی سند میں ولید بن مسلم اور مکحول دونوں پر کلام کیا گیاہے۔ فی الزوائد: فی اسنادہ الولید بن مسلم وھو مدلّس، وقد عنعنہ، وکذلک مکحول الدمشقی۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الحدود۔٭ مسندِ احمد ج۲ص۱۳۲،۱۵۳عبد اللہ بن عمر٭ المستدرک للحاکم ج۴کتاب التوبۃ والانابۃ ، باب انّ اللہ یغفر لعبدہ مالم یغرغر۔٭ شرح السنۃ للبغوی ج۵،ص۹۱، ھذا حدیث حسن غریب ورجالہ ثقات وسندہ حسن وصحہ ابن خیام ووافقہ الذھبی۔
(۳) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الھکم التکاثر٭ ابنِ جریرج۸،۲۸؍۳۰جلد۱۲ص۱۸۳الھکم التکاثر۔٭کنزالعمّال ج۲ص۵۵۵ بحوالہ ابن المنذر، ابنِ مردویہ، بیھقی فی الشعب۔
(۴) تفسیر ابن کثیر ج۳ سورۂ یٰسٓ۔ ٭تفسیر روح المعانی ج۲۲؍۲۴سورۂ یٰسٓ۔
(۵) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب سکرات الموت۔٭ نسائی کتاب الجنائز باب وضع الجریدۃ علی القبر۔
(۶) بخاری ج۱ کتاب الجنائز باب المیّت یُعْرَضُ عَلَیْہِ مقعدہ بالغداۃ وَالْعَشِیّ۔ اور کتاب الرقاق۔ ٭مسلم ج۲ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب عرض مقعد المیت من الجنۃ والنار۔ ٭ترمذی ابواب الجنائز ج۱۔ باب ماجاء فی عذاب القبر۔ ھذا حدیث حسن صحییح۔ ٭نسائی کتاب الجنائز باب وضع الجریدۃ علی القبر۔ نسائی نے یُعْرَضُ علی احدکم بیان کیاہے۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الزھد باب ۳۲ باب ذکر القبر والبلی۔٭مؤطا امام مالک کتاب الجنائز جامع الجنائز۔٭مسندِاحمد ج۲ص۵۱۔۱۱۳۔۱۲۳۔روایت عبداللہ بن عمر۔
(۷) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار۔٭تفسیر بحر المحیط لابنِ حیان اندلسی ج۸ سورۃ التغابن۔ ٭مسندِ احمد ج۲ص۴۱۵روایت ابی ھریرۃ۔
(۸) فتح القدیر للشوکانی ج۲سورہ اعراف۔
فصل سوم : میدان حشر اور نوع انسانی
قیامت میں زمین وآسمان بالکل نیست ونابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظامِ طبیعی کو درہم برہم کرڈالا جائے گا۔ اس کے بعد نفخِ صورِ اوّل اور نفخِ صورِ آخر کے درمیان ایک خاص مدت میں، جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے، زمین اور آسمانوں کی موجودہ ہیئت بدل دی جائے گی اور ایک دوسرا نظامِ طبیعت، دوسرے قوانینِ فطرت کے ساتھ بنادیاجائے گا، وہی عالمِ آخرت ہوگا۔ پھر نفخِ صُورِ آخر کے ساتھ ہی تمام وہ انسان جو تخلیقِ آدم سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے تھے، از سرِ نَو زندہ کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ اسی کا نام قرآن کی زبان میں حشر ہے جس کے لغوی معنی سمیٹنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ قرآن کے اشارات اور حدیث کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا، یہیں عدالت قائم ہوگی، یہیں میزان لگائی جائے گی اور قضیہ زمین برسرزمین ہی چکایا جائے گا۔ نیز یہ بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ ہماری وہ دوسری زندگی جس میں یہ معاملات پیش آئیں گے، محض روحانی نہیں ہوگی بلکہ ٹھیک اسی طرح جسم وروح کے ساتھ ہم زندہ کیے جائیں گے جس طرح آج زندہ ہیں اور ہرشخص ٹھیک اسی شخصیّت کے ساتھ وہاں موجود ہوگا جسے لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوا تھا۔ (تفہیم القرآن ج۲، ابراہیم، حاشیہ:۷ ۵)
میدانِ حشر اور ربِّ کائنات
۲۲۔ اِنَّہٗ تَعَالٰی یَطْوِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ بِیَدِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ، اَنَا الْجَبَّارُ، اَنَا الْمُتَکَبِّرُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ؟ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ، اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ۔ (مسند احمد)
’’نبی ﷺنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔’’اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اپنی مٹھی میںلے کر پکارے گا میں ہوں پادشاہ، میں ہوں جبّار، میں ہوں متکبّر، کہاں ہیں وہ جو زمین میں بادشاہ بنتے تھے؟ کہاں ہیں جبّار؟ کہاں ہیں متکبّر؟ ‘‘
پس منظر: عبداللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضورؐ خطبہ میں یہ الفاظ فرمارہے تھے، اس وقت آپؐ پر ایسا لرزہ طاری تھا کہ ہم ڈررہے تھے کہ کہیں آپ منبر سے گِر نہ پڑیں۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، ص:۴۱،۴۲)
تشریح : وہ ساری مجازی بادشاہیاں اور ریاستیں ختم ہوجائیں گی جو دنیا میں انسان کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہاں صرف ایک بادشاہی باقی رہ جائے گی اور وہ وہی اللہ کی بادشاہی ہے جو اس کائنات کا حقیقی فرمانروا ہے۔ سورۂ مومن میں ارشاد ہوا ہے کہ یَوْمَ ھُمْ بَارِزُوْنَ لاَیَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْھُمْ شَیْئٌ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ، لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ’’وہ دن جب کہ یہ سب لوگ بے نقاب ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہوگی۔ پوچھا جائے گا آج بادشاہی کس کی ہے؟ ہرطرف سے جواب آئے گا اکیلے اللہ کی جوسب پر غالب ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳ ، الفرقان، حاشیہ :۳۹)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، اَخْبَرَنَا عَبْدُاللّٰہِ، قَالَ اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ وَیَطْوِی السَّمَآئَ بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ: اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ۔(۱)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ نبی ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ارض وسما کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ کر فرمائے گا۔‘‘ ’’میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں ارضی فرمانروا؟‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، ثَنَا اَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، اَنَا اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ یعنی ابْنَ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَرَأَ ھٰذِہِ الْآیۃَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ وَمَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّایُشْرِکُوْنَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ ھٰکَذَا بِیَدِہٖ وَیُحَرِّکُھَا یُقْبِلُ بِھَا وَیُدْبِرُ یُمَجِّدُالرَّبَّ نَفْسَہٗ: اَنَا الْجَبَّارُ، اَنَا الْمُتَکَبِّرُ، اَنَا الْمَلِکُ، اَنَا الْعَزِیْزُ، اَنَا الْکَرِیْمُ، فَرَجَفَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْمِنْبَرَحَتّٰی قُلْنَا لَیَخِرَّنَّ بِہٖ۔(۲)
ترجمہ : حضرت ابنِ عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز منبرپر خطبہ کے دوران میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ رہے تھے وَمَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّایُشْرِکُوْنرسول اللہ ﷺ اس طرح دست مبارک کو آگے پیچھے حرکت دے کر سمجھارہے تھے۔ اپنے پروردگار کی بزرگی اور اس کی عظمت وکبریائی بایں الفاظ نقل فرمارہے تھے۔ ’’میں جبار ہوں، میں بڑائی کا مالک ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں غالب ہوں، میں کریم ہوں۔ جس وقت آپؐ خطبہ میں یہ الفاظ فرمارہے تھے اس وقت آپؐ پر ایسا لرزہ طاری تھا کہ ہمیں خیال ہوا کہ کہیں منبر آپؐ کو لے کر گرنہ جائے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، نَا اَبُوْاُسَامَۃَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَۃَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَطْوِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ السَّمٰوٰتِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ یَاْخُذُھُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ یَقُوْلُ:اَنَا الْمَلِکُ، اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ، اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ؟ ثُمَّ یَطْوِی الْاَرْضَ (اَلْاَرْضِیْنَ) بِشِمَالِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ: اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ؟اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ؟
(۴) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، نَا یَعْقُوْبُ یعنی ابْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْحَازِمٍ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ مِقْسَمٍ اَنَّہٗ نَظَرَ اِلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ کَیْفَ یَحْکِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ:یَاْخُذُ اللّٰہُ سَمٰوٰتِہٖ وَاَرْضِیْہِ بِیَدَیْہِ وَیَقُوْلُ: اَنَا اللّٰہُ وَیَقْبِضُ اَصَابِعَہٗ وَیَبْسُطُھَا اَنَا الْمَلِکُ حَتّٰی نَظَرْتُ اِلَی الْمِنْبَرِ یَتَحَرَّکُ مِنْ اَسْفَلَ شَیْئٌ مِنْہُ حَتّٰی إِنِّیْ لَاَقُوْلُ أَسَاقِطٌ بِرَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ۔(۳)
ترجمہ : دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کواپنے ہاتھوں میں پکڑ کر فرمائے گا:’’ میں ہوں اللہ، اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کھولتے اور بند کرتے ہوئے فرمائے گا۔ میں ہوں بادشاہ :‘‘ اسی اثناء میں جب کہ میری نظر منبر پر پڑی تو میں نے دیکھاکہ وہ آخر تک لرزرہاہے اور مجھے خوف لاحق ہواکہ یہ منبر رسول اللہ ﷺ کو لے کر نیچے گرنہ جائے۔
(۵) حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ: ثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ ابْنُ اَبِیْ حَازِمٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَعَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ:یَاْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِہٖ وَاَرْضِیْہِ بِیَدِہٖ (وَقَبَضَ یَدَہٗ، فَجَعَلَ یَقْبِضُھَا وَیَبْسُطُھَا) ثُمَّ یَقُوْلُ: اَنَا الْجَبَّارُ، اَنَا الْمَلِکُ، اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ؟ اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ؟ قَالَ وَیَتَمَایَلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ حَتّٰی نَظَرْتُ اِلَی الْمِنْبَرِ یَتَحَرَّکُ مِنْ اَسْفَلَ شَیْئٌ مِنْہُ حَتّٰی اِنِّی لَاَقُوْلُ أَسَاقِطٌ ھُوَبِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۴)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبرپر خطبہ ارشاد فرماتے سُنا۔ آپؐ فرمارہے تھے:جبار آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمائے گا (یہ فرماتے وقت آپؐنے اپنا ہاتھ بند کرلیا۔ پھر آپ اسے مسلسل کھولتے اور بند کرتے رہے) ’’میں جبّار ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ کہاںہیں دنیا کے جبّار؟ کہاں ہیں دنیا کے متکبرین؟ راوی کہتا ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب جھک جاتے حتیّٰ کہ میں نے دیکھاکہ منبرنیچے تک حرکت کررہاہے اور مجھے خیال ہوا کہ مبادا یہ آپ کو گرانہ دے۔
(۶) اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَطْوِی السَّمٰوٰتِ بِیَمِیْنِہٖ وَیَاْخُذُ الْاَرْضِیْنَ بِیَدِہِ الْاُخْرٰی ثُمَّ یَقُوْلُ: اَنَاالْمَلِکُ اَنَاالدَّیَّانُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ؟ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ؟ اَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ؟(۵)
ترجمہ :اللہ تعالی آسمانوں اور زمینوں کو اپنی مٹھی میں لے کر پکارے گا۔ میں ہوں بادشاہ، میں ہوں سردارِ مختار۔ زمین پر بادشاہی کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں؟ کہاں ہیں وہ جبّار؟ کدھرگئے وہ متکبّر لوگ؟
(۷) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُفَیْرٍ، قَالَ:حَدَّثَنِی اللَّیْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ وَیَطْوِی السَّمٰوٰت بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ:اَنَا الْمَلِکُ، اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ؟(۶)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سناہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں دے کر اور آسمانوں کو اپنے سیدھے ہاتھ میں لپیٹ کر ارشاد فرمائے گا۔‘‘’’میں ہوں بادشاہ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟‘‘
۲۳۔مسندِ احمد، بخاری، مسلم،نسائی، ابن ماجہ، ابنِ جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ کی روایات منقول ہوئی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔ دورانِ خطبہ میں یہ آیت آپؐنے تلاوت فرمائی کہ ’’قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دستِ راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘ (الزمر، آیت:۷ ۶) اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں ( سیّاروں) کو اپنی مٹّھی میں لے کر اس طرح پھر ائے گا جیسے ایک بچّہ گیند پھراتا ہے، اور فرمائے گا کہ میں ہوں خدائے واحد، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں جبّار، میں ہوں کبریائی کا مالک، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ کہاں ہیں جبّار؟ کہاں ہیں متکبّر؟ یہ کہتے کہتے حضورؐپر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ ہمیں خطرہ ہونے لگا کہیں آپ منبر سمیت گرنہ پڑیں۔
تشریح : زمین اور آسمان پر اللہ تعالیٰ کے کامل اقتدار وتصرّف کی تصویر کھینچنے کے لیے مٹھی میں ہونے اور ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونے کا استعارہ استعمال فرمایا گیاہے۔ جس طرح ایک آدمی ایک چھوٹی سی گیند کو مٹھی میں دبالیتاہے اور اس کے لیے یہ ایک معمولی کام ہے، یا ایک شخص ایک رومال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیتاہے اور اس کے لیے یہ کوئی زحمت طلب کام نہیں ہوتا۔ اسی طرح قیامت کے روز تمام انسانـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــجوآج اللہ کی عظمت وکبریائی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین وآسمان اللہ کے دستِ قدرت میں ایک حقیر گیند اور ایک ذراسے رومال کی طرح ہیں۔
(تفہیم القرآن ج۴، الزمر، حاشیہ :۷۶)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ قَالَ: ثَنَا بْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّہٗ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ النَّاسَ فَمَرَّ بِھٰذِہِ الْآیَۃِ وَمَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَاْخُذُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیْنَ السَّبْعَ فَیَجْعَلُھَا فِیْ کَفِّہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ بِھِمَاکَمَا یَقُوْلُ الغُلاَمُ بِالْکُرَۃِ۔ اَنَا اللّٰہُ الْوَاحِدُ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ حَتّٰی لَقَدْ رَأَیْنَا الْمِنْبَرَ وَاِنَّہٗ لَیَکَادُ اَنْ یَسْقُطَ بِہٖ۔(۷)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرمارہے ہیں۔ اور جب آپؐآیت وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ۔ وَالْاَرْضُ جَمِیْعاً قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔پر پہنچے تو فرمایا، ’’اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر گھمائے گا جس طرح بچہ گیند کو گھماتاہے، اور فرمائے گا میں ہوں اللہ واحد، میں ہوں اللہ قدرت وغلبے والا۔‘‘جس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ فرمارہے تھے ایسا معلوم ہوتاتھا کہ منبر آپؐکو لے کر لڑھک جائے گا اور آپ گرجائیں گے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں:
(۲) مَاالسَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُوْنَ السَّبْعُ فِیْ یَدِاللّٰہِ اِلاَّ کَخَرْدَلَۃٍ فِیْ یَدِاَحَدِکُمْ ۔(۸)
ترجمہ :حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اس طرح ہیں جس طرح تم میں سے کسی کے ہاتھ میں رائی کا دانہ ہو۔
میدانِ حشر کا نقشہ
۲۴۔ حاکم نے مُستَدرک میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیاہے کہ ’’قیامت کے روز زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھادی جائے گی، پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی۔‘‘
تشریح : یعنی اس روز سمندر اور دریا پاٹ دیے جائیں گے۔ پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں گے، اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کرکے اسے ایک ہموار میدان بنادیا جائے گا۔ قرآن میں کئی جگہ اس بات کو بیان کیا گیاہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اُس دن تمام انسانوں کو جو اوّل روزِ آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کرکے عدالتِ الہٰی میں پیش کیا جائے گا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل ، گھاٹیاں اور پست وبلند علاقے سب کے سب ہموار کرکے پورے کرۂ زمین کو ایک میدان بنادیا جائے تاکہ اس پر ساری نوعِ انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پاسکیں۔ (تفہیم القرآن ج۶، الانشقاق، حاشیہ: ۲)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اِسْمٰعِیْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشِّعْرَانِیُّ، ثَنَا جَدِّیْ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ جَابِرٍؓ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: تُمَدُّ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَدَّالْعَظْمَۃِ الرَّحْمٰنِ ثُمَّ لاَیَکُوْنُ لِبَشَرٍ مِنْ بَنِیْ آدَمَ اِلاَّمَوْضِعَ قَدَمَیْہِ الحدیث۔(۹)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’قیامت کے روز زمین عظمتِ رحمن کے مانند پھیلادی جائے گی پھر بھی کسی بنی آدم کے لیے قدم رکھنے سے زائد جگہ نہیں ہو گی۔
(۲)وَقَالَ السُّیُوطِیُّ بِسَنَدٍ جَیِّدٍ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ تُمَدُّ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَدَّ الْاَدِیْمِ ثُمَّ لاَیَکُوْنُ لِاِبْنِ اٰدَمَ فِیْھَا اِلاَّ مَوْضِعُ قَدَمَیْہِ۔(۱۰)
ترجمہ :نبی ﷺنے فرمایا:’’قیامت کے روززمین دسترخوان کی طرح پھیلادی جائے گی۔ پھربھی ایک آدمی کے لیے اپنے قدموں سے زائد جگہ نہ ہوگی۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا ابْنُ الْاَعْلٰی، قَالَ: ثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ مَدَّ اللّٰہُ الْاَرْضَ حَتّٰی لاَیَکُوْنَ لِبَشَرٍ مِنَ النَّاسِ اِلاَّمَوْضِعُ قَدَمَیْہِ۔
ترجمہ :نبی ﷺنے فرمایا ’’ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ زمین کو پھیلادے گا، حتّی کہ ایک انسان کے لیے فقط اپنے قدموں کی جگہ ہوگی۔‘‘
میدانِ حشر میں نیک لوگ کس حال میں ہوںگے؟
۲۵۔ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّہٗ لَیُخَفَّفُ عَلَی الْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَکُوْنَ اَخَفَّ عَلَیْہِ مِنْ صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ یُصَلِّیْھَا فِی الدُّنْیَا۔
’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کردیا جائے گا حتّٰی کہ اس سے بھی ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۳، الفرقان، حاشیہ:۸ ۳)
تشریح : رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے دن کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ تو بڑا ہی طویل دن ہوگا۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے میں جتنا وقت لگتاہے مومن کے لیے وہ دن اس سے بھی زیادہ ہلکا ہوگا۔ (تفہیم القرآن ج۶ ،المعارج، حاشیہ: ۸)
میدانِ حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ مجرمین سے مختلف معاملہ ہوگا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روزِ حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لیے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں کے لیے ہوں گی نہ کہ نیکوکاروں کے لیے۔( مفسرین کے ایک گروہ نے اس فقرے(یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآئُ کَالْمُھْلِ۔ المعارج:۸) کا تعلق فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ سے ماناہے اور وہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال مدّت جس دن کی بتائی گئی ہے اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
حدیث بالا کی روایت اگر صحیح سند سے منقول ہوتی تو پھر اس کے سوا اس آیت (المعارج:۸) کی کوئی دوسری تاویل نہیں کی جاسکتی تھی۔ لیکن اس روایت کی سند میں درّاج اور شیخ ابوالہیثم دونوں ضعیف ہے۔ (مؤلف)) (تفہیم القرآن ج۳ ، الفرقان، حاشیہ:۸ ۳)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا حَسَنٌ ثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ، ثَنَا دَرَّاجٌ، عَنْ اَبِی الْھَیْثَمِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ، قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ مَا اَطْوَلَ ھٰذَا الْیَوْمُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّہٗ لَیُخَفَّفُ عَلَی الْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَکُوْنَ اَخَفَّ عَلَیْہِ مِنْ صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ یُصَلِّیْھَا فِی الدُّنْیَا۔(۱۱)
میدانِ حشر میں صالحینِ امّت کی پہچان
۲۶۔ قتادہ کی مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ (قیامت کے روز) کسی کا نور اتنا تیز ہوگا کہ مدینہ سے عدن تک کی مسافت کے برابر فاصلے تک پہنچ رہاہوگا، اور کسی کا نور مدینہ سے صنعا تک، اور کسی کا اس سے کم، یہاں تک کہ کوئی مومن ایسابھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا۔‘‘ (ابن جریر)
۲۷۔ اَعْرِفُھُمْ بِنُوْرِھِمِ الَّذِیْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ ۔
(حاکم ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)
’’ حضرت ابوذرؓ اور ابوالدَّرداء سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:’’میں اپنی اُمّت کے صالحین کو وہاں ان کے اس نور سے پہچانوںگا جو ان کے آگے اور ان کے دائیں اوربائیں دوڑرہاہوگا۔‘‘
تشریح :گویا کہ میدانِ حشر میں نُور صرف مومنین صالحین کے لیے مخصوص ہوگا، رہے کفار ومنافقین اور فُسَّاق وفُجَّار تو وہ وہاں بھی اس طرح تاریکی میں بھٹک رہے ہوں گے جس طرح دنیا میں بھٹکتے رہے تھے۔ وہاں روشنی جو کچھ بھی ہوگی، صالح عقیدے اور صالح عمل کی ہوگی۔ ایمان کی صداقت اور سیرت وکردار کی پاکیزگی ہی نور میں تبدیل ہوجائے گی جس سے نیک بندوں کی شخصیت جگمگا اُٹھے گی۔ جس شخص کا عمل جتنا تابندہ ہوگا اس کے وجود کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی اور جب وہ میدانِ حشر سے جنت کی طرف چلے گا تو اُس کا نور اُس کے آگے دوڑرہاہوگا۔ (تفہیم القرآن ج ۵، الحدید، حاشیہ: ۱۷)
حدیث بالا کا مطلب یہ ہے کہ جس کی ذات سے دنیا میں جتنی بھلائی پھیلی ہوگی اس کا نوراتناہی تیز ہوگا، اور جہاں جہاں تک دنیا میں اس کی بھلائی پہنچی ہوگی میدانِ حشر میں اتنی ہی مسافت تک اس کے نور کی شعاعیں دوڑرہی ہوںگی۔
(تفہیم القرآن، ج۵، الحدید، حاشیہ:۱۷)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَابِشْرٌ، قَالَ: ثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ: ثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلِہٖ یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ الآیۃ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَنْ یُّضِیْیئُ نُوْرُہُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی عَدَنٍ أَبْیَنَ فَصَنْعَائَ فَدُوْنَ ذٰلِکَ حَتّٰی أَنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَنْ لاَیُضِییئُ نُوْرُہٗ اِلاَّ مَوْضِعَ قَدَمَیْہِ۔ (۱۲)
(۲) اَخْبَرَنَا الشَّیْخُ اَبُوْبَکْرِ بْنُ اِسْحَاقَ، اَنْبَأَ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ، ثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ قَیْسِ بْنِ السَّکَنِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہٖ عَزَّوَجَلَّ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ قَالَ یُؤْتَوْنَ نُوْرَھُمْ عَلٰی قَدْرِاَعْمَالِھِمْ مِنْھُمْ مَنْ نُوْرُہٗ مِثْلُ الْجَبَلِ وَاَدْنَاھُمْ نُوْرًا مِنْ نُوْرِہٖ عَلٰی اِبْھَامِہٖ یُطْفِیْ مَرَّۃً وَیَقِدُ اُخْرٰی۔(۱۳)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے ارشاد گرامی’’ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ کے بارے میں عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے انہوں نے اس کی تفسیر میں بیان کیا کہ قیامت کے روز لوگوں کو ان کے اعمال کے اندازے کے مطابق نور دیا جائے گا۔ ان میں ایسے بھی ہوںگے جن کا نور پہاڑ کی مثل ہوگا اور ان میں سے ادنی ترین نور والا وہ شخص ہوگا جس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھوں تک ہوگا ۔ کبھی بجھ جائے گا کبھی روشن ہوگا۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ: ثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یَذْکُرُ عَنِ الْمِنْھَالِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ قَیْسِ بْنِ سَکَنٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ : عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ فِی قَوْلِہٖ تَعَالٰی ’’یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ‘‘ قَالَ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ یَمُرُّوْنَ عَلَی الصِّرَاطِ مِنْھُمْ مَنْ نُوْرُہٗ مِثْلُ الْجَبَلِ وَمِنْھُمْ مَنْ نُوْرُہٗ مِثْلُ النَّخْلَۃِ وَمِنْھُمْ مَنْ نُوْرُہٗ مِثْلُ الرَّجُلِ الْقَائِمِ وَاَدْنَاھُمْ نُوْرًا مَنْ نُوْرُہٗ فِیْ اِبْھَامِہٖ یَتَّقِدُ مَرَّۃً وَیَطْفَأُ مَرَّۃً۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود نے اللہ عزوجل کے اس ارشاد گرامی یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ کی تفسیر بایں الفاظ فرمائی ہے کہ قیامت کے روز لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پل صراط پر گزریں گے۔ ان میں وہ بھی ہوگا جس کا نور پہاڑ کی مانند ہوگا، اور وہ شخص بھی ہوگا جس کا نور کھجور کی مثل ہوگا، اور ایسا شخص بھی ہوگا جس کا نور سیدھے کھڑے آدمی کی طرح ہوگا۔ ان میں سے ادنی ترین باعتبار نور کے وہ شخص ہوگا جس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے تک پہنچ رہاہوگا۔ اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ کبھی بجھ جائے گا اور پھر روشن ہوجائے گا۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذِ الْعَدْلُ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْحُسَیْنِ ابْنِ دِیْزِیْلَ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ المِصْرِیُّ، حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ جُبَیْرِبْنِ نُفَیْرٍ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَاذَرٍّ وَاَبَاالدَّرْدَائِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، قَالاَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَنَا اَوَّلُ مَنْ یُوْذَنُ لَہٗ فِی السُّجُوْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاَوَّلُ مَنْ یُّوْذَنُ لَہٗ اَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہٗ فَاَرْفَعُ رَأْسِیْ فَاَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیَّ فَاَعْرِفُ اُمَّتِیْ مِنَ الْاُمَمِ، وَاَنْظُرُ عَنْ یَمِیْنِیْ فَاَعْرِفُ اُمَّتِیْ مِنْ بَیْنِ الْاُمَمِ وَاَنْظُرُ عَنْ شِمَالِیْ فَاَعْرِفُ اُمَّتِیْ مِنْ بَیْنِ الْاُمَمِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَکَیْفَ تَعْرِفُ اُمَّتَکَ مِنْ بَیْنِ الْاُمَمِ مَابَیْنَ نُوْحٍ اِلٰی اُمَّتِکَ؟ قَالَ: غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ مِنْ اَثَرِ الْوُضُوْئِ وَلاَیَکُوْنُ لِاَحَدٍ مِنَ الْاُمَمِ غَیْرِھِمْ وَاَعْرِفُھُمْ اَنَّھُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَھُمْ بِاَیْمَانِھِمْ وَاَعْرِفُھُمْ بِسِیْمَاھُمْ فِی وُجُوْھِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ وَاَعْرِفُھُمْ بِنُوْرِھِمِ الَّذِیْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ۔(۱۵)
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاَسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
ترجمہ : حضرت ابوذر اور حضرت ابوالدّرداء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’میں پہلا شخص ہوں گا جسے قیامت کے روز سجدہ کی اجازت دی جائے گی اور میں ہی وہ سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے سراٹھانے کی اجازت ملے گی، چنانچہ میں سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے آگے کی طرف دیکھوں گا اور امتوں میں اپنی امت کو پہچان لوں گا اور اپنی دائیں جانب نظر اٹھاؤں گا تو اپنی امت کو دیگر امم میں سے پہچان لوں گا۔ اسی طرح اپنی بائیں جانب دیکھوں گا اور اپنی امّت کو دوسری امتوں میں سے پہچان لوں گا۔
ایک آدمی نے پوچھا۔’’یا رسول اللہ ﷺ آپ اپنی امّت کو کیسے پہچانیں گے؟ جب کہ اس روز حضرت نوحؑ سے لے کر آپؐ کی اُمّت تک سب امّتیں وہاں ملی جلی ہوں گی۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کے لوگوں کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضوء کی وجہ سے چمکتے ہوں گے یہ علامت کسی دیگر امت کے لوگوں میں نہیں پائی جائے گی۔اسی واضح اور نمایاں نشانی سے میںاپنی امت کو بآسانی پہچان لوں گا۔ مزید برآں یہ کہ انہیں اعمال نامے ان کے سیدھے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور ان کے چہروں پر سجدہ ریزی کے نمایاں اثرات ہوں گے اور میں انہیں اس روشنی کی وجہ سے بھی پہچان لوں گا جوان کے آگے اوردائیں جانب اور بائیں جانب دوڑرہی ہوگی۔‘‘
آسان حساب کا مفہوم
۲۸۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’جس سے بھی حساب لیا گیا وہ مارا گیا۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا؟‘‘ حضورؐ نے جواب دیا’’وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ ماراگیا۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۶، الانشقاق، حاشیہ:۶)
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ یَحْیٰی، عَنْ اَبِیْ یُونُسَ، حَاتِمِ بْنِ أَبِیْ صَغِیْرَۃَ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَیْسَ اَحَدٌ یُحَاسَبُ اِلاَّھَلَکَ، قَالَتْ : قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَائَ کَ اَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا؟ قَالَ:’’ذَاکَ الْعَرْضُ یُعْرَضُوْنَ وَمَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ ھَلَکَ۔‘‘(۱۶)
ترجمہ :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص سے بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا۔ ‘‘فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ مجھے آپؐ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا؟ تو آپؐ نے فرمایا:’’یہ تو صرف نامۂ عمل کی پیشی ہوگی۔ ہاں جس سے پوچھ گچھ ہوئی وہ ہلاک ہوگیا۔‘‘
۲۹۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میںنے ایک مرتبہ حضورؐ کو نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سناکہ ’’خدایا مجھ سے ہلکا حساب لے۔‘‘ آپؐ نے جب سلام پھیرا تو میں نے اس کا مطلب پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’’ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامۂ اعمال کودیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کیا جائے گا۔ اے عائشہ! اس روز جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا۔‘‘ ( تفہیم القرآن ج۶، الانشقاق، حاشیہ:۶)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اِسْمٰعِیْلُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ صَلاَتِہٖ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ یَانَبِیَّ اللّٰہِ مَاالْحِسَابُ الْیَسِیْرُ؟ قَالَ اَنْ یُنْظَرَ فِیْ کِتَابِہٖ فَیُتَجَاوَزَ عَنْہُ اَنَّہٗ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَئِذٍ یَاعَائِشَۃُ ھَلَکَ۔(۱۷)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ، ثَنَامُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْھَرِیُّ، ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ،ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ الْیَمَامِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ حَاسَبَہُ اللّٰہُ حِسَابًا یَسِیْرًا وَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِہٖ، قَالُوْا: لِمَنْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: تُعْطِیْ مَنْ حَرَمَکَ وَتَعْفُوْ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَکَ۔ قَالَ فَاِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَمَالِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ اَنْ تُحَاسَبَ حِسَابًا یَسِیْرًا وَیُدْخِلَکَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِہٖ۔(۱۸)
ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاَسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’تین خصلتیں ایسی ہیں جس میں یہ پائی جائیں گی اس سے اللہ تعالیٰ حساب ہلکا لے گا، اور اسے اپنی رحمتِ خاص سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ کس خوش نصیب کے لیے یہ مژدہ ہے؟ فرمایا’’جوتجھے محروم کرے اسے تو دے، اور جو تجھ پر ظلم وستم کرے، اسے معاف کرے اور جو تجھ سے تعلّقات منقطع کرے اس سے صلہ رحمی کرے۔ صحابی نے عرض کیا اگر میں ایسا کروں تو مجھے کیا ملے گااے رسولِؐ خدا؟ ارشاد ہوا ’’ تم سے حساب ہلکا لیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘
اعمال نامے اور سخت حساب فہمی
۳۰۔حضرت عائشہؓ سے ابوداؤد میں مروی ہے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ’’میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے زیادہ خوفناک آیت وہ ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْئً یُّجْزَبِہٖ ’’جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا‘‘ اس پر حضورؐ نے فرمایا : ’’عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خداکے مطیع ِ فرمان بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے، حتیّٰ کہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھتاہے، تو اللہ اسے اس کے کسی نہ کسی قصور کی سزا قرار دے کر دنیا ہی میں اس کا حساب صاف کردیتاہے؟ آخرت میں تو جس سے بھی محاسبہ ہوگا وہ سزا پاکر رہے گا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب کیاہے کہ فَاَمَّامَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ ’’ جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔‘‘ حضورؐ نے جواب دیا، ’’اس سے مرادہے پیشی اس کی بھلائیوں کے ساتھ اس کی برائیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ضرور پیش ہوں گی ـــــ مگر جس سے باز پرس ہوئی وہ تو بس سمجھ لو کہ مارا گیا۔
تشریح : بری حساب فہمی یا سخت حساب فہمی یہ ہے کہ آدمی کی کسی خطا اور کسی لغزش کو معاف نہ کیاجائے، کوئی قصور جو اس نے کیا ہو مؤاخذے کے بغیر نہ چھوڑا جائے۔
قرآن ہمیں بتاتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کا محاسبہ اپنے اُن بندوں سے کرے گا جو اس کے باغی بن کر دنیا میں رہے۔ بہ خلاف اس کے جنہوں نے اپنے خدا سے وفاداری کی ہے اور اس کے مطیع فرمان بن کر رہے ہیں ان سے ’’حسابِ یسیر‘‘ یعنی ہلکا حساب لیا جائے گا، اُن کی خدمات کے مقابلے میں ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور اُن کے مجموعی طرزِ عمل کی بھلائی کو ملحوظ رکھ کر ان کی بہت سی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کرلیاجائے گا۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص اپنے وفادار اور فرماں بردار ملازم کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں پر کبھی سخت گرفت نہیں کرتا بلکہ اس کے بڑے بڑے قصوروں کوبھی اس کی خدمات کے پیش نظر معاف کردیتاہے۔ لیکن اگرکسی ملازم کی غدّاری وخیانت ثابت ہوجائے تو اس کی کوئی خدمت قابلِ لحاظ نہیں رہتی اور اس کے چھوٹے بڑے سب قصور شمارمیں آجاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج۲، الرعد، حاشیہ:۴ ۳)
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ثَنَا یَحْیٰی حَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ:اَبُوْدَاؤدَ وَھٰذَا لَفْظُ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ اَبِیْ عَامِرِ الْخَزَّازِ، عَنِ بْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ۔ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی لَاَعْلَمُ اَشَدَّ آیَۃٍ فِی الْقُرْاٰنِ، قَالَ۔ أَیَّۃُ آیَۃٍ یَا عَائِشَۃُ؟ قَالَتْ: قَوْلُ اللّٰہِ تَعَالٰی مَنْ یَّعْمَلْ سُوْئً یُّجْزَبِہٖ، قَالَ:اَمَا عَلِمْتِ یَاعَائِشَۃُ اَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِیْبُہُ النَّکْبَۃُ اَوِالشَّوْکَۃُ فَیُکَافَأُ بِاَسْوَئِ عَمَلِہٖ وَمَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ؟ قَالَتْ: اَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا؟ قَالَ: ذَاکُمُ الْعَوْضُ یَاعَائِشَۃُ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ۔(۱۹)
اعضائے انسانی کی اس کے خلاف شہادت
۳۱۔ جب کوئی ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار ہی کرتا چلاجائے گا اور تمام شہادتوں کو بھی جھٹلانے پر تُل جائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے جسم کے اعضاء ایک ایک کرکے شہادت دیں گے کہ اس نے ان سے کیاکیاکام لیے تھے۔
تشریح : یہ مضمون حضرت انسؓ، حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابن عباسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزار وغیرہ محدثین نے ان روایات کو نقل کیاہے۔
اس سے ثابت ہوتاہے کہ عالمِ آخرت محض ایک روحانی عالم نہیں ہوگا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ اب اس دنیا میں ہیں۔ یہی نہیں، اُن کو جسم بھی وہی دیا جائے گا جس میں اب وہ رہتے ہیں۔ وہی تمام اجزاء اور جواہر (ATOMS) جن سے اُن کے بدن اس دنیا میں مرکّب تھے، قیامت کے روز جمع کردیے جائیں گے اور وہ اپنے انہی سابق جسموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کرچکے تھے، ظاہر ہے کہ انسان کے اعضاء وہاں اُسی صورت میں تو گواہی دے سکتے ہیں جب کہ وہ وہی اعضاء ہوں جن سے اس نے اپنی پہلی زندگی میں کسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس مضمون پر قرآن کی بہت سی آیات دلیلِ قاطع ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، حٰم السجدہ، حاشیہ:۵ ۲)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ اَبِی النَّضْرِ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْالنَّضْرِ ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ نَا عُبَیْدُاللّٰہِ الْاَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ نِالْمُکْتِبِ، عَنْ فُضَیْلٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَضَحِکَ فَقَالَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا اَضْحَکُ؟ قَالَ: قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَۃِ الْعَبْدِ رَبَّہٗ فَیَقُوْلُ:یَارَبِّ اَلَمْ تُجِرْنِیْ مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ:یَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ: فَیَقُوْلُ:فَاِنِّیْ لاَاَجِیْزُ عَلٰی نَفْسِیْ اِلاَّشَاھِدًا مِنِّیْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ:کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ شَھِیْدًا وَبِالْکِرَامِ الْکَاتِبِیْنَ شُھُوْدًا، قَالَ: فَیُخْتَمُ عَلٰی فِیْہِ، فَیُقَالُ لِاَرْکَانِہٖ اِنْطِقِیْ، قَالَ: فَتَنْطِقُ بِاَعْمَالِہٖ قَالَ:ثُمَّ یُخَلّٰی بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْکَلاَمِ، قَالَ: فَیَقُوْلُ بُعْدًا لَکُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْکُنَّ کُنْتُ اُنَاضِلُ (اُجادلُ۔ اُدافعُ) ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ : ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضرتھے کہ آپؐ ہنسے! پھر پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس بنا پر ہنساہوں؟صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:’’بندے کے اپنے پروردگار کے ساتھ مکالمے پر ہنسا ہوں۔ بندہ عرض کرتاہے یارب! تومجھے ظلم سے نہیں بچائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ’’کیوں نہیں۔‘‘ بندہ پھر عرض کرتاہے میں اپنے خلاف اپنے سوا کسی دوسرے کو بطور گواہ جائز نہیں سمجھتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج تیرے نفس کی شہادت اور معزز کاتبوں کی شہادت تیرے لیے کافی ہے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’پھر اس کے منہ پر مہر ثبت کردی جائے گی اور اس کے اعضاء کو حکم دیا جائے گاکہ وہ بول کر گواہی دیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’پس ہرعضو بول کر اس کے کرتوت بیان کرے گا پھر اس بندے کوتنہاچھوڑدیا جائے گا کہ اپنے اعضا کی گفتگو سن لے۔‘‘
بندہ اپنے اعضا سے مخاطب ہوکر انہیں لعن طعن کرے گا اور کہے گا دفع ہوجاؤ ــــمیری آنکھوں سے پرے ہٹ جاؤ میں تمہاری طرف سے لڑتارہا اور مدافعت کرتا رہا (اور تم میرے خلاف گواہی دیتے ہو)۔
(۲) قَالَ الْحَافِظُ اَبُوْیَعْلٰی، حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنِ ابْنِ لَھِیَعَۃَ، قَالَ دَرَّاجٌ عَنْ اَبِی اللَّیْثِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ عَرَفَ الْکَافِرُ بِعَمَلِہٖ، فَجَحَدَ وَخَاصَمَ فَیَقُوْلُ: ھٰؤُلَآئِ جِیْرَانُکَ یَشْھَدُوْنَ عَلَیْکَ فَیَقُوْلُ:کَذَبُوْا،فَیَقُوْلُ: اَھْلُکَ عَشِیْرَتُکَ، فَیَقُوْلُ:کَذَبُوْا فَیَقُوْلُ: اِحْلِفُوْا فَیَحْلِفُوْنَ ثُمَّ یُصَمِّتُھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَتَشُدُّ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتَھُمْ وَیُدْخِلُھُمُ النَّارَ۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت ابی سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ: نبی ﷺنے فرمایا: ’’قیامت کے روز کافر اپنے اعمال پہچان لے گا اور انکارکرے گا اور جھگڑے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا’’یہ تیرے ہمسائے تیرے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔‘‘ کافر بولے گا جھوٹ بکتے ہیں یہ۔ اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا ’’یہ تیرے اہل وعیال اور قبیلہ کنبہ والے تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں وہ بولے گا جھوٹ بولتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ گواہوں سے فرمائے گا کہ ’’تم قسم کھاؤ۔‘‘ چنانچہ وہ کھائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کفار کو خاموش کرادے گا اور ان کی زبانیں بند کردے گا اور انہیں دوزخ میں داخل کردے گا۔‘‘
سب سے پہلے سایۂ الٰہی میں جانے والے لوگ
۳۲۔ اَلَّذِیْنَ اِذَا اُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوْہُ، وَاِذَا سُئِلُوہُ بَذَلُوْہُ، وَحَکَمُوا النَّاسَ کَحُکْمِھِمْ لِاَنْفُسِھِمْ۔
’’حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا۔’’جانتے ہوقیامت کے روز کون لوگ سب سے پہلے اللہ کے سایہ میں جگہ پائیں گے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اللہ کا رسول ہی زیادہ جانتاہے۔ فرمایا: ’’وہ جن کا حال یہ تھا کہ جب ان کے آگے حق پیش کیا گیا انہوں نے قبول کرلیا، جب ان سے حق مانگا گیا انہوں نے ادا کردیا، اور دوسروں کے معاملہ میں ان کا فیصلہ وہی کچھ تھا جو خود اپنی ذات کے معاملہ میں تھا۔‘‘ (مسندِ احمد)
تشریح : (اس) سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی اور حق پرستی میں سب پر سبقت لے گئے ہوں، بھلائی کے ہرکام میں سب سے آگے ہوں، خدا اور رسول کی پکار پر سب سے پہلے لبیّک کہنے والے ہوں، جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کا یا خدمتِ خلق کا یا دعوتِ خیر اور تبلیغِ حق کا، غرض دنیا میں بھلائی پھیلانے اور برائی مٹانے کے لیے ایثار وقربانی اور محنت وجانفشانی کا جو موقع بھی پیش آئے اس میں وہی آگے بڑھ کے کام کرنے والے ہوں۔ اس بناء پر آخرت میں بھی سب سے آگے وہی رکھے جائیں گے۔ گویا اللہ کے دربار کا نقشہ یہ ہوگا کہ دائیں بازو میں صالحین،بائیں بازو میں فاسقین اور سب سے آگے بارگاہِ خداوندی کے قریب سابقین۔ (تفہیم القرآن ج۵،الواقعہ ،حاشیہ: ۷)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ اَبِیْ عِمْرَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ:اَتَدْرُوْنَ مَنِ السَّابِقُوْنَ اِلٰی ظِلِّ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔ قَالَ:اَلَّذِیْنَ اِذَا اُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوْہُ وَاِذَا سُئِلُوْہُ بَذَلُوْہُ وَحَکَمُوْا لِلنَّاسِ کَحُکْمِھِمْ لِاَنْفُسِھِمْ۔(۲۲)
جہنم سے شفاعت کے ذریعے نجات پانے والے لوگ
۳۳۔وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے بُرے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں ان کے متعلق احادیث میں آیاہے کہ ’’جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں موت دے دے گا، پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں جنت کی نہروں پر لاکر ڈالی جائیں گی اور اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس پانی سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے نباتات پانی پڑنے سے اُگ آتی ہیں۔
تشریح : یہ مضمون رسول اللہ ﷺسے مسلم میں حضرت ابوسعیدخدریؓ اور بزّار میں حضرت ابوہریرہؓ کے حوالہ سے منقول ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن ج۶، الاعلیٰ، حاشیہ: ۱۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَھْضَمِیُّ، قَالَ: نَابِشْرٌ یَعنِی ابْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ اَبِیْ مَسْلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَمَّا اَھْلُ النَّارِ الَّذِیْنَ ھُمْ اَھْلُھَا فَاِنَّھُمْ لاَیَمُوْتُوْنَ فِیْھَا وَلاَیَحْیُوْنَ وَلٰکِنْ نَاسٌ مِنْکُمْ اَصَابَتْھُمُ النَّارُ بِذُنُوْبِھِمْ اَوْقَالَ: بِخَطَایَاھُمْ، فَاَمَاتَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِمَاتَۃً حَتّٰی اِذَاکَانُوْا فَحْمًا اُذِنَ بِالشَّفَاعَۃِ، فَجِیْئَ بِھِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوْا عَلٰی اَنْھَارِالْجَنَّۃِ ثُمَّ قِیْلَ: یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ اَفِیْضُوْا عَلَیْھِمْ فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحَبَّۃِ تَکُوْنُ فِی حَمِیْلِ السَّیْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ :کَاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْکَانَ بِالْبَادِیَۃِ۔(۲۳)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’وہ اہلِ نار جو اس آگ ہی میں رہنے والے ہوں گے ان کی حالت یہ ہوگی کہ نہ انہیں موت آئے گی اور نہ (زندوں کی طرح) زندہ ہی رہیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں جہنم کی آگ ان کے گناہوں کے مطابق چھوئے گی۔ پس اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر موت وارد کردے گا یہاں تک کہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے۔ پھر اذنِ شفاعت ہوگا اور انہیں گروہ درگروہ نکال کر باہر لایا جائے گا اور جنت کی نہروں کے کناروں پر ڈال دیا جائے گا۔ پھر اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی انڈیلیں ۔ پھر وہ سیلاب کے راستے میں پڑے ہوئے دانے کی طرح اُگ آئیں گے یعنی زندہ ہوجائیں گے۔‘‘ ایک آدمی بولا حضور ﷺ ایسی مثال سے سمجھارہے ہیں گویا آپؐ دیہات میں رہے ہیں۔
(۲) حَدَّثَنَا مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا وُھَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ:اِذَا دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَاَھْلُ النَّارِ النَّارَ یَقُوْلُ اللّٰہُ: مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ اِیْمَانٍ، فَاَخْرِجُوْہُ فَیُخْرَجُوْنَ، وَقَدِامْتُحِشُوْا وَعَادُوْا حُمَمًا فَیُلْقَوْنَ فِیْ نَھْرِ الْحَیَاۃِ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ اَوْقَالَ: حَمِیَّۃِ السَّیْلِ وَقَالَ النَّبِیُّﷺ: تَرَوْا اَنَّھَا تَنْبُتُ صَفْرَائَ مُلْتَوِیَۃً۔(۲۴)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا، ’’جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہے اسے دوزخ سے باہرنکال لو۔‘‘ چنانچہ ایسے لوگوں کو دوزخ سے باہر نکال لیا جائے گا جب کہ وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ پھر انہیں نہرِ حیات میں ڈال دیا جائے گا وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح سیلاب کے پانی سے نباتات اُگ آتی ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، اَنَا سَعِیْدُ بْنُ یَزِیْدَ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَمَّا اَھْلُ النَّارِ الَّذِیْنَ ھُمْ اَھْلُھَا لاَیَمُوْتُوْنَ وَلاَیَحْیُوْنَ وَاَمَّا اُنَاسٌ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِھِمُ الرَّحْمَۃَ فَیُمِیْتُھُمْ فِی النَّارِ فَیَدْخُلُ عَلَیْھِمُ الشُّفَعَائُ فَیَاخُذُ الرَّجُلُ الضِّبَارَۃَ فَیَنْبُتُھُمْ اَوْقَالَ یَنْبُتُوْنَ فِی نَھْرِ الْحَیَاۃِ اَوْقَالَ الْحَیَاۃِ اَوْقَالَ الْحَیَوَانِ اَوْقَالَ نَھْرِ الْجَنَّۃِ فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحَبَّۃِ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ قَالَ وَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَمَاتَرَوْنَ الشَّجَرَۃَ تَکُوْنُ خَضْرَائَ ثُمَّ تَکُوْنُ صَفْرَائَ ثُمَّ تَکُوْنُ خَضْرَائَ قَالَ: فَقَالَ بَعْضُھُمْ کَاَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ بِالْبَادِیَۃِ۔(۲۵)
ترجمہ :وہ اہلِ دوزخ جنہیں دوزخ ہی میں رہنا ہوگا وہ تو نہ مرسکیں گے اور نہ ان کا جینا جینا ہی ہوگا۔ لیکن وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمانا چاہے گا انہیں جہنم میں موت سے دوچار کردے گا پھر شفاعت کرنے والے ان کے پاس آئیں گے اور ایک ایک کرکے ہرگروہ کو باہر نکال لے جائیں گے اور وہ نہر حیات میں یا آپ نے فرمایا: حیات میں (یا حیوان فرمایا، یا نہر جنت فرمایا) اس طرح اُگیں گے جیسے سیلاب کی گزرگاہ میں پڑا دانہ اُگ آتاہے۔ نبی ﷺنے فرمایاکیا تم نے درخت کی مختلف کیفیات پر غور نہیں کیا، کبھی سبزو شاداب ہوتاہے پھر پیلا پڑجاتاہے پھر سبز ہوجاتاہے۔‘‘ لوگ ایک دوسرے سے سرگوشی کے انداز میں کہنے لگے آپؐ کے ارشاد سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ آپؐ دیہات میں رہے ہیں۔
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنْ سُلَیْمَانَ یعنی التَّیْمِیِّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِنَّ اَھْلَ النَّارِ الَّذِیْنَ لاَیُرِیْدُ اللّٰہُ اِخْرَاجَھُمْ لاَیَمُوْتُوْنَ فِیْھَا وَلاَیَحْیُوْنَ وَاِنَّ اَھْلَ النَّارِ الَّذِیْنَ یُرِیْدُ اللّٰہُ اِخْرَاجَھُمْ یُمِیْتُھُمْ فِیْھَا اِمَاتَۃً حَتّٰی یَصِیْرُوْا فَحْمًا ثُمَّ یَخْرُجُوْنَ ضَبَائِرَ فَیُلْقَوْنَ عَلٰی اَنْھَارِ الْجَنَّۃِ فَیُرَشُّ عَلَیْھِمْ مِنْ اَنْھَارِ الْجَنَّۃِ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ۔(۲۶)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ وہ دوزخی جنہیں اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکالنا نہ چاہے گا، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہیں گے اور جن دوزخیوں کو دوزخ سے نکالنا مقصود ہوگا انہیں اس طرح مارے گا کہ جل بھن کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ پھر وہ جماعتوں اور ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلیں گے اور ان کو جنت کی نہروں کے کنارے پھینک دیا جائے گا اور ان پر ان نہروں سے پانی چھڑکا جائے گا، تو وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح پانی کی گزرگاہ میں نباتات اُگ آتی ہے۔‘‘
(۵) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ثَنَایَحْیٰی، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ ثَنَا اَبُوْ رَجَائٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: یَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَۃِ مُحَمَّدٍ، فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَیُسَمُّوْنَ الْجَھَنَّمِیِّیْنَ۔(۲۷)
ترجمہ : حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’محمد ﷺ کی شفاعت سے بہت سے لوگ جہنم سے نکل آئیں گے۔ اور جنت میں چلے جائیں گے ان کا نام جہنمی پڑجائے گا۔‘‘
کیا خائن لوگ شفاعت نبوی کے مستحق ہوں گے؟
۳۴۔قیامت کے روز یہ خائن لوگ اس حالت میں آئیں گے کہ ان کی گردن پر اُن کی خیانت سے حاصل کیا ہوا مال لدا ہوگا اور وہ مجھے پکاریں گے کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ’’یارسول اللہ! میری مدد فرمایئے۔‘‘ مگر میں جواب دوں گا کہ لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا، قَدْ اَبْلَغْتُکَ ’’میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک خداکا پیغام پہنچادیا تھا۔‘‘ ( مشکوٰۃ)
پس منظر: حدیث میں حضورؐ کا ایک طویل خطبہ مروی ہے جس میں آپ نے جرمِ خیانت کی شدّت بیان کرتے ہوئے یوں فرمایا تھا۔
تشریح : نبی ﷺآخرت میں یقینا شفاعت فرمائیں گے، مگر یہ شفاعت اللہ کے اذن سے ہوگی اور اُن اہلِ ایمان کے حق میں ہوگی جو اپنی حدّوسع تک نیک عمل کرنے کی کوشش کے باوجود گناہوں میں آلودہ ہوگئے ہوں۔ جان بوجھ کر خیانتیں اور بدکاریاں کرنے والے ، اور کبھی خدا سے نہ ڈرنے والے لوگ حضورؐ کی شفاعت کے مستحق نہیں ہیں۔ (رسائل ومسائل دوم، ص:۳۴۹،۳۵۰)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ حَیَّانَ، ثَنِیْ اَبُوزُرْعَۃَ، ثنی اَبُوھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ ﷺ فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ اَمْرَہٗ قَالَ لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَھَا ثُخَآئٌ، عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَہٗ حَمْحَمَۃٌ، یَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ: لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ، وَعَلٰی رَقَبَتِہٖ بَعِیْرٌ لَہٗ رُغَآئٌ یَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ: لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ،وَعَلٰی رَقَبَتِہٖ صَامِتٌ فَیَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ:لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ، وَعَلٰی رَقَبَتِہٖ رِقَاعٌ تُخْفِقُ فَیَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ:لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْاَبْلَغْتُکَ۔(۲۸)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپؐ نے غلول (مالِ غنیمت میں خیانت) کا ذکرفرمایا اور اس فعلِ قبیح کی برائی بیان فرمائی اور اسے گناہِ عظیم قراردیا۔ پھر فرمایا: کہ تم میں سے کسی کو میں قیامت کے روز ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری سوار ہواور وہ میں میں کررہی ہو اور یا پھر گردن پر گھوڑا سوار ہو اور وہ ہنہنارہاہو، اور وہ مجھ سے فریاد رسی کی درخواست کرے۔ میں تو اُسے صاف کہہ دوں گا کہ میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا( دنیا میں) میںنے تجھے سب کچھ واضح طور پر بتادیاتھا۔ اور یہ کہ اس کی گردن پر شُتر سوار ہو اور بلبلارہاہو۔ وہ مجھ سے فریادرسی کی درخواست کرے تو میں صاف طورپر اسے جواب دوں گا کہ میں نے دنیا میں تجھے واضح طور پر بتادیاتھا اب میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا اور یہ کہ اس کی گردن پر سونا چاندی سوار ہو اور وہ مجھ سے فریادرسی کی درخواست کرے تو میں صاف کہہ دوں گا کہ میں یہاں تیرے کسی کام نہیں آسکتا کیونکہ میں دنیا میں سب کچھ تمہیں پہنچا چکاہوں اور یہ کہ اس کی گردن پر کپڑوں کا گٹھا ہو جس نے اس کی گردن بوجھ سے جھکارکھی ہو اور وہ مجھ سے درخواست کرے کہ میں اس کی فریادرسی کروں۔ میں صاف جواب دوں گا کہ میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا میں تو خدا کا پیغام پہنچا چکاہوں۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ:نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اَبِیْ حَیَّانَ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ، فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ َاَمْرَہٗ ثُمَّ قَالَ: لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ بَعِیْرٌ لَّہٗ رُغَائٌ یَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ، فَاَقُوْلُ: لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْاَبْلَغْتُکَ لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَّہٗ حَمْحَمَۃٌ، فَیَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ:لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ۔ لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَّھَا ثُغَائٌ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ: لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ۔ لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ نَفْسٌ لَّھَا صَیَاحٌ فَیَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ: لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ۔ لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ رِقَاعٌ تُخْفِقُ فَیَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ: لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ۔ لاَاُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ یَجِیْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ صَامِتٌ فَیَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَغِثْنِیْ فَاَقُوْلُ لاَاَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ اَبْلَغْتُکَ۔(۲۹)
(۳) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ اَبِی الْجَھْمِ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِنِالْاَنْصَارِیِّ، قَالَ:بَعَثَنِی النَّبِیُّ ﷺ سَاعِیًا ثُمَّ قَالَ: انْطَلِقْ اَبَامَسْعُوْدٍ وَلاَاُلْفِیَنَّکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَجِیئُ عَلٰی ظَھْرِکَ بَعِیْرٌ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ لَہٗ رُغَائٌ قَدْ غَلَلْتَہٗ، قَالَ:اِذًا لاَاَنْطَلِقُ، قَالَ:اِذًا لاَاُکْرِھُکَ۔(۳۰)ترجمہ : حضرت ابومسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ :مجھے رسول اللہ ﷺنے محصّلِ خراج وصدقات بناکر بھیجا ، روانگی کے وقت نصیحت فرمائی کہ’’ ابومسعود جاؤ میں تمہیں قیامت کے روز ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر صدقہ کا اونٹ بلبلا رہاہو جسے تم نے خیانت کرکے حاصل کرلیاہو، ابومسعود نے عرض کیا تب میں نہیں جاؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا ’’پھر میں بھی تمہیں مجبور نہیں کروں گا۔‘‘
اہل ایمان کے تین طبقات کا حساب
۳۵۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ سَبَقُوْا فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِحِسَابٍ، وَاَمَّا الَّذِیْنَ اقْتَصَدُوْا فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُحَاسَبُوْنَ حِسَابًا یَّسِیْرًا، وَاَمَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ فَاُولٰٓئِکَ یُحْبَسُوْنَ طُوْلَ الْمَحْشَرِ ثُمَّ ھُمُ الَّذِیْنَ تَتَلَقَّاھُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَتِہٖ فَھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ۔
’’جولوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے ہیں وہ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے اور جو بیچ کی راس رہے ہیں ان سے محاسبہ ہوگا مگر ہلکا محاسبہ ،رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیاہے تو وہ محشر کے پورے طویل عرصہ میں روک رکھے جائیں گے۔ پھر انہی کو اللہ اپنی رحمت میں لے لے گا اور یہی لوگ ہیں جو کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کردیا ۔ (مسند احمد میں ابوالدرداء سے یہ روایت منقول نہیں ہے۔ (مرتب))‘
تشریح : اس حدیث میں حضورؐ نے اہلِ ایمان کے تینوں طبقوں کا انجام الگ الگ بتادیاہے۔ بیچ کی راس والوں سے ’’ہلکا محاسبہ‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کفّار کو تو ان کے کفر کے علاوہ ان کے ہر ہر جرم اور گناہ کی جداگانہ سزابھی دی جائے گی، مگر اس کے برعکس اہلِ ایمان میں جو لوگ اچھے اور برے دونوں طرح کے اعمال لے کر پہنچیں گے ان کی نیکیوں اور ان کے گناہوں کا مجموعی محاسبہ ہوگا۔ یہ نہیں ہوگا کہ ہرنیکی کی الگ جزا اور ہر قصور کی الگ سزا دی جائے۔ اوریہ جو فرمایا کہ اہلِ ایمان میں سے جن لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہوگا وہ محشر کے پورے عرصے میں روک رکھے جائیں گے، اس کامطلب یہ ہے کہ وہ جہنّم میں نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ ان کو ’’تابرخاستِ عدالت‘‘ کی سزا دی جائے گی، یعنی روزِ حشر کی پوری طویل مدّت ـــــ جو نہ معلوم کتنی صدیوں کے برابر طویل ہوگی ـــــ اُن پر اپنی ساری سختیوں کے ساتھ گزر جائے گی، یہاں تک کہ آخر کار اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور خاتمۂ عدالت کے وقت حکم دے گا کہ اچھا، انہیں بھی جنت میں داخل کردو۔ اسی مضمون کے متعدد اقوال محدثین نے بہت سے صحابہ مثلاًحضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت ابوسعید خُدریؓ اور حضرت براء بن عازبؓ سے نقل کیے ہیں۔ اور ظاہر ہے صحابہ ایسے معاملات میں کوئی بات اس وقت تک نہیں کہہ سکتے تھے جب تک انہوں نے خود نبی ﷺ سے اس کو نہ سنا ہو۔ مگر اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے ’’اپنے نفس پر ظلم کیا ہے‘‘ ان کے لیے صرف ’’تابرخاستِ عدالت‘‘ ہی کی سزا ہے اور ان میں سے کوئی جہنم میں جائے گا ہی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں متعدد ایسے جرائم کا ذکر ہے جن کے مرتکب کو ایمان بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکتا۔ مثلاً جو مومن کسی مومن کو عمداً قتل کردے اس کے لیے جہنم کی سزا کا اللہ تعالیٰ نے خود اعلان فرمادیا ہے۔ اسی طرح قانونِ وراثت کی خداوندی حدود کو توڑنے والوں کے لیے بھی قرآن مجید میں جہنم کی وعید فرمائی گئی ہے۔ سود کی حرمت کا حکم پھر سود خواری کرنے والوں کے لیے بھی صاف صاف اعلان فرمایا گیاہے کہ وہ اصحاب النّار ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اور کبائر کے مرتکبین کے لیے بھی احادیث میں تصریح ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔ (تفہیم القرآن ج۴ ،فاطر، حاشیہ:۷ ۵)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ یُوْنُسَ بْنِ عِیَاضٍ نِاللَّیْثِیُّ اَبُوْحَمْزَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْاَزَدِیِّ۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِؓ ۱؎ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی:ثُمَّ اَوْرَثَنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ فَاَمَّا الَّذِیْنَ سَبَقَوْا فَاُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اقْتَصَدُوْا فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُحَاسَبُوْنَ حِسَابًا یَّسِیْرًا وَاَمَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُحْبَسُوْنَ فِیْ طُوْلِ الْمَحْشَرِ ثُمَّ ھُمُ الَّذِیْنَ تَلاَفَاھُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَتِۃٖ فَھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔ اَلَّذِیْ اَحَلَّنَا دَارَالْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ لاَیَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ وَلاَیَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ۔(۳۱)
ترجمہ : حضرت ابوالدرداء ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے۔ آپؐ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی سنارہے تھے ثُمَّ اَوْرَثَنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہ۔ پھر اس کی تفسیر ارشاد فرمائی کہ ’’جولوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے ہیں وہ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے اور جو بیچ کی راس رہے ان سے محاسبہ ہوگا مگر ہلکا محاسبہ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو وہ محشر کے پورے طویل عرصہ میں روک رکھے جائیں گے۔ پھر انہی کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے لے گا اور یہی لوگ ہیں جو کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کردیا۔ ہمارا رب یقینا بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے جس نے اپنے فضلِ خاص سے ہمیں مقامِ عزت پر اتارا ہے جس میں نہ تکان کا احساس ہے اور نہ تھکاوٹ ونقاہت کا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ:ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتٍ اَوْعَنْ اَبِیْ ثَابِتٍ، اَنَّ رَجُلاً دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ آنِسْ وَحْشَتِیْ وَارْحَمْ غُرْبَتِیْ وَارْزُقْنِیْ جَلِیْسًا حَبِیْبًا صَالِحًا فَسَمِعَہٗ اَبُوالدَّرْدَآئِ فَقَالَ: لَئِنْ کُنْتَ صَادِقًا لَاَنَا اَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْکَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ قَالَ الظَّالِمُ یُؤْخَذُ مِنْہُ فِیْ مَقَامِہٖ فَذٰلِکَ الْھَمُّ وَالْحُزْنُ وَمِنْھُمْ مُقْتَصِدٌ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا وَمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ فَذٰلِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔(۳۲)
ترجمہ : حضرت ابوثابت بیان کرتے ہیں کہ دمشق کی جامع مسجد میں ایک آدمی یوں دعا کرتے ہوئے داخل ہوا، اے اللہ! میری وحشت کے لیے میرا مونس بنا اور میری غربت پر نظرِ رحم فرما اور مجھے ایک صالح، نیک دوست جو میرا ہم جلیس ہو نصیب فرما۔ اس کی یہ بات حضرت ابوالدردا ؓنے سن لی اور کہا کہ اگر تو صادق ہے تو میں تجھ سے زیادہ سعادت مند ہوں بقول تیرے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنافرماتے تھے۔
’’پس ان میں وہ بھی ہیں جو اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا میدانِ محشر میں دی جائے گی یہی ہم وحزن ہے۔ اور ان میں سے کچھ بیچ کی راہ پر رہے ہوں گے، ان کا ہلکا حساب لیاجائے گا ۔ اور ان میں سے وہ لوگ بھی ہوں گے جونیکیوں میں سبقت لے گئے ہوں گے وہ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے۔‘‘
ساقیِٔ کوثرؐ، حوضِ کوثر پر
۳۶۔ اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اَصْحَابِیْ یُؤْخَذُ بِھِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَاَقُوْلُ اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ فَیَقُوْلُ اِنَّھُمْ لَمْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ مُنْذُ فَارَقْتَھُمْ فَاَقُوْلُ مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْھِمْ۔ اِلٰی قَوْلِہٖ الحکیم۔
’’جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’قیامت کے دن میرے بعض اصحاب‘‘ کو بائیں طرف سے گرفتار کیا جائے گا، تو میں کہوں گا (انہیں کچھ نہ کہو) یہ تو میرے اصحاب ہیں۔ یہ تو میرے اصحاب ہیں۔جو اب ملے گاکہ تیری وفات کے بعد یہ لوگ الٹی چال چلے۔ اس کے بعد میں حضرت عیسیؑ کی طرح کہوں گا کہ خداوندا ! جب تک میں ان میں موجود رہا ان کے اعمال کا نگراں رہا، لیکن جب تونے مجھے واپس بلالیا توتوہی ان کا رقیب تھا۔‘‘ (بخاری)
تشریح :امام بخاری نے یہ حدیث کتاب الانبیاء میں دوجگہ ابنِ عباسؓ کے حوالہ سے روایت کی ہے۔ ایک باب قَوْلُ اللّٰہ تَعَالٰی وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلاً میں ۔ دوسرے باب وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَم میں۔ اس کے علاوہ اسی مضمون کی متعدد احادیث انہوں نے کتاب الرقاق باب فی الحوض میں انس بن مالک، سہل بن سعد، ابوسعید خدری اور ابوہریرہؓ سے نقل کی ہیں۔ ان سب کو جمع کرنے کے سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱۔ یہ معاملہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو نبی ﷺ کے عہد میں اصحاب کے زمرے میں شمار ہوتے تھے، مگر آپؐ کے بعد مرتد ہوگئے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ اِنَّھُمْ لَنْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ مُنْذُ فَارَقْتَھُمْ۔ ’’یہ آپؐ کے جُدا ہونے کے بعد اُلٹے پلٹ گئے تھے اور پلٹے رہے، یعنی مرتد ہونے کے بعد پھر انہوںنے توبہ نہ کی‘‘دوسری روایت میں ہے کہ اِنَّھُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَعْقَابِھِمِ الْقَھْقَرٰی، اَوْعَلٰی اَدْبَارِھِمِ الْقَھْقَرٰی ’’وہ الٹے پھرگئے تھے، یعنی جس کفر سے آئے تھے اسی کی طرف واپس چلے گئے۔‘‘
۲۔ یہ معاملہ ان لوگوں سے بھی متعلّق ہے جنہوں نے حضورؐ کے عہد میں اسلام تو قبول کرلیا تھا، مگر بعد میں بُری روش اختیار کرلی۔ چنانچہ متعدد روایات میں ہے کہ لاَتَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ اور اِنَّکَ لاَعِلْمَ لَکَ بِمَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ ’’آپؐ نہیں جانتے کہ آپؐ کے بعد انہوں نے کیا کچھ کیا۔‘‘
دونوں صورتوں میں معاملہ بعض اصحاب سے متعلق ہے نہ کہ تمام اصحاب سے۔ ظاہر ہے کہ حضورؐ کے زمانے میں جن لاکھوں آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا وہ آپؐکے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ مگر انہی میں سے کچھ لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے فتنۂ ارتداد میں حصّہ لیا اور اسی حالت میں جان دی۔ اور یہ بھی بعید ازقیاس نہیں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں جنہوں نے منافقانہ اسلام قبول کیا ہو اور اپنے نفاق کو چھپائے رکھا ہو۔ اپنے اصحاب میں ایسے لوگوں کی موجودگی کا امکان فرض کرکے اگر آپؐنے کچھ باتیں بطور تنبیہ ارشاد فرمائی ہوں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے اور اس سے تمام صحابہ پر حرف نہیں آتا۔ مذکورہ بالا احادیث دراصل اسی تنبیہ کے قبیل سے ہیں اور ان سے مقصود یہ بتاناہے کہ جولوگ اپنے دین کی حفاظت نہ کریں گے، کبائر میں مبتلا ہوں گے انہیں آخرت میں محض شرفِ صحبت خدا کی گرفت سے نہ بچا سکے گا۔ (رسائل ومسائل سوم، ص: ۲۰۹ تا۱۱ ۲)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، ثَنَا سُفْیَانُ، ثَنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ رَوَاہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِنَّکُمْ مُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ وَاَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِبْرَاھِیْمُ وَاِنَّ نَاسًا (اناسًا) مِنْ اَصْحَابِیْ یُؤْخَذُ بِھِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَاَقُوْلُ: اُصَیْحَابِیْ اُصَیْحَابِیْ(اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ) فَیَقُوْلُ:اِنَّھُمْ لَمْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ مُنْذُ فَارَقْتَھُمَ فَاَقُوْلُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِح ُ(عیسیٰؑ) وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْھِمْ اِلٰی قَوْلِہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔(۳۳)
ترجمہ :حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ ننگے بوچے اور نامختون حشر کے دن اٹھائے جاؤگے۔ استشہاد کے طورپر آپؐ نے قرآن مجید کی آیت کَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ تلاوت فرمائی اور فرمایا: ’’قیامت کے روز سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایاجائے گا وہ حضرت ابراہیم ؑ ہوں گے۔ میرے کچھ صحابہ کو بائیں جانب سے پکڑ لیاجائے گا اور میں بارگاہِ رب العزّت میں عرض کروں گا، یہ تو میرے صحابی ہیں۔وہ فرمائے گا جب سے تو ان سے جدا ہواہے اس وقت سے یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل دین سے پھر گئے تھے (یہ لوگ مرتد ہوگئے تھے) تو میں اس وقت وہی بات کہوں گا جو بندہ صالح حضرت عیسیٰؑ نے کہی تھی کہ جب تک میں ان کے درمیان رہا اس وقت تک میں ان پر نگران تھا، جب آپ نے مجھے واپس بلالیا تو آپ ان پر نگراںتھے۔ اور آپ تو ساری چیزوں پر نگراں ہیں۔ اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِالْاَعْلٰی وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ، قَالاَ: نَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ اَلْاَشْجَعِیِّ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَرِدُ عَلَیَّ اُمَّتِی الْحَوْضَ وَاَنَا اَذُوْدُ النَّاسَ عَنْہُ کَمَا یَزُوْدُ الرَّجُلُ اِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ اِبِلِہٖ، قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ تَعْرِفُنَا، قَالَ:نَعَمْ لَکُمْ بِسِیْمًا لَیْسَتْ لِاَحَدٍ غَیْرَکُمْ تَرِدُوْنَ عَلَیَّ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنْ اٰثَارِ الْوُضُوْئِ وَلَیُصَدَّنَّ عَنِّیْ طَائِفَۃٌ مِنْکُمْ فَلاَیَصِلُوْنَ فَاَقُوْلُ:یَارَبِّ ھٰٓؤُلَآئِ مِنْ اَصْحَابِیْ، فَیُجِیْبُنِیْ مَلَکٌ فَیَقُوْلُ: وَھَلْ تَدْرِیْ مَااَحْدَثُوْا بَعْدَکَ؟(۳۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’حوض پر میری امت میرے پاس آئے گی میں دوسری امتوں کے آدمیوں کو حوض کوثر سے اس طرح ہٹادوں گا جس طرح ایک شتربان دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے الگ کردیتاہے۔ صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ فرمایا :’’ہاں تمہاری ایک نشانی ایسی ہوگی جو تمہارے سواکسی دوسرے میں نہ ہوگی۔ تم میرے پاس وضو کی وجہ سے چمکتے چہروں اور درخشاں ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے۔ تم میں سے ایک گروہ کو مجھ سے روک لیا جائے گا، وہ مجھ تک پہنچ نہ پائے گا۔ تو میں بارگاہِ رب العزّت میں استدعا کروں گا۔ پروردگار یہ تو میرے صحابی ہیں ۔ فرشتہ مجھے جواب دے گا کہ آپؐ کو معلوم ہے انہوں نے آپؐکے بعدکیا کیا نئی چیزیں دین میں داخل کرلی تھیں؟‘‘
دوسری ایک روایت میں ہے:
(۳) وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنِّی لَاَذُوْدُ عَنْہُ الرِّجَالَ کَمَا یَذُوْدُ الرَّجُلُ الْاِبِلَ الْغَرِیْبَۃَ عَنْ حَوْضِہٖ۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ، نَاسُفْیَانُ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَآ اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ۔ فَاَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی اِبْرَاھِیْمُ ثُمَّ یُؤْخَذُ بِرِجَالٍ مِنْ اَصْحَابِیْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ فَاَقُوْلُ: اَصْحَابِیْ فَیُقَالُ: اِنَّھُمْ لَمْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ مُنْذُ فَارَقْتَھُْم فَاَقُوْلُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ : وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔(۳۵)
ذکر عن ابی عبداللّٰہ عن قبیصۃ قَالَ ھم الْمُرتدُّون الذین ارتدوا علی عھد ابی بکر، فقاتلھم ابوبکر۔
(۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرِ السَّعْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ، قَالَ: نَاالْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح وَحَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاللَّفْظُ لَہٗ، قَالَ: اَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ اَظْھُرِنَا اِذَ اغْفٰی اِغْفَائَ ۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا:مَا اَضْحَکَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اُنْزِلَتْ عَلَیَّ اٰنِفًا سَوْرَۃٌ فَقَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَبْتَرُ۔ ثُمَّ قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَاالْکَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہٗ نَھَرٌ وَعَدَنِیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ خَیْرٌ کَثِیْرٌ وَھُوَحَوْضٌ تَرِدُ عَلَیْہِ اُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اٰنِیَتُہٗ عَدَدُ النُّجُوْمِ فَیُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْھُمْ فَاَقُوْلُ: رَبِّ اِنَّہٗ مِنْ اُمَّتِیْ فَیَقُوْلَ: مَاتَدْرِیْ مَااَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔(۳۶)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺہمارے درمیان تشریف فرماتھے۔ اچانک آپ پر ذرا اونگھ سی طاری ہوگئی۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو مسکرا رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ کس چیزنے آپ کو ہنسایا۔ فرمایا:’’ابھی مجھ پر ایک سورہ نازل ہوئی ہے پھر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِکے بعد سورۂ کوثر اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَبْتَر۔پڑ ھ کر پوچھا۔ جانتے ہوکوثر کیاہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہترجانتاہے۔ فرمایا :’’وہ ایک نہر ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا۔ وہ خیر کثیر پر مشتمل ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت مجھ سے بروز قیامت ملے گی۔ اس کے آبخورے تعداد میں تاروں جتنے ہیں۔ میری امت میں سے ایک بندہ کو کھینچ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا یا رب! یہ تو میرا امتی ہے۔ کہا جائے گا تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے بعد اس نے کیا کیابدعات نکالی تھیں۔
(۶) حَدَّثَنَایَحْیَ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْعَوَانَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ، عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ح وَحَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَلَیُرْفَعَنَّ رِجَالٌ مِنْکُمْ ثُمَّ لَیُخَتَلَجُنَّ دُوْنِیْ فَاَقُوْلُ: یَارَبِّ اَصْحَابِیْ فَیُقَالُ:اِنَّکَ لاَتَدْرِیْ مَااَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔(۳۷)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:’’میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رَو ہوںگا تم میں سے کچھ لوگوں کو اٹھایا جائے گا پھر مجھ سے دور ہٹادیا جائے گا، تو میں عرض کروں گا پروردگار! یہ تو میرے صحابی ہیں۔ جواب دیا جائے گا، تجھے کیا معلوم تیرے بعد انہوں نے کیا کیا نئی چیزیں داخلِ دین کرلی تھیں۔‘‘
(۷) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، قَالَ:سَمِعْتُ سَھْلَ ابْنَ سَعْدٍ، یَقُوْلُ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ مَنْ وَرَدَہٗ شَرِبَ مِنْہُ وَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَأْ اَبَدًا لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ اَقْوَامٌ اَعْرِفُھُمْ وَیَعْرِفُوْنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ قَالَ اَبُوْحَازِمٍ فَسَمِعَنِی النُّعْمَانُ بْنُ اَبِیْ عَیَّاشٍ وَاَنَا اُحَدِّثُھُمْ ھٰذَا فَقَالَ: ھٰکَذَا سَمِعْتُ سَھْلاً، فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ وَاَنَا اَشْھَدُ عَلٰی اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ سَمِعْتُہٗ یَزِیُدُ فِیْہِ، قَالَ: اِنَّھُمْ مِنِّیْ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لاَتَدْرِیْ مَابَدَّلُوْا بَعْدَکَ فَاَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِیْ۔(۳۸)
(۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ، قَالَ:حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، قَالَتْ اَسْمَآئُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اَنَا عَلٰی حَوْضِیْ اَنْتَظِرُ مَنْ یَّرِدُ عَلَیَّ فَیُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ دُوْنِیْ فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ فَیُقَالُ:لاَتَدْرِیْ مَشَوْا عَلَی الْقَھْقَریٰ الخ۔(۳۹)
ترجمہ : حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:’’حوضِ کوثر پر میں وہاں آنے والوں کا منتظر ہوں گا کہ کچھ لوگوں کو مجھ سے ورے پکڑلیا جائے گا، (اور حوضِ کوثر کی طرف نہ آنے دیا جائے گا) تو میں عرض کروں گا میرا امتی ہے۔ جواب دیا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ یہ تو الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔‘‘
(۹) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُھَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ، عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ اَصْحَابِی الْحَوْضَ حَتّٰی عَرَفْتُھُمْ اُخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ فَاَقُوْلُ: اَصْحَابِیْ فَیَقُوْلُ: لاَتَدْرِیْ مَااَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔(۴۰)
(۱۰) قَالَ اَحْمَدُ بْنُ شَبِیْبِ بْنِ سَعِیْدِنِالْحَبَطِیُّ: حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ کَانَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:یَرِدُ عَلَیَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَھْطٌ مِنْ اَصْحَابِیْ فَیُحَلَّئُوْنَ عَنِ الْحَوْضِ فَاَقُوْلُ: یَارَبِّ اَصْحَابِیْ فَیَقُوْلُ: اِنَّکَ لاَعِلْمَ لَکَ بِمَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ اِنَّھُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِم الْقَھْقَرٰی الخ۔(۴۱)
(۱۱) حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ ھِلاَلٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: بَیْنَا اَنَا قَائِمٌ اِذَا زُمْرَۃٌ حَتّٰی اِذَا عَرَفْتُھُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ فَقَالَ: ھَلُمَّ فَقُلْتُ:اَیْنَ؟ قَالَ:اِلَی النَّارِ، وَاللّٰہِ قُلْتُ:وَمَا شَاْنُھُمْ؟ قَالَ:اِنَّھُمُ ارْتَدُّوْا بَعْدَکَ عَلٰی اَدْبَارِھِمِ الْقَھْقَرٰی ثُمَّ اِذَا زُمْرَۃٌ حَتّٰی اِذَا عَرَفْتُھُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ، فَقَالَ: ھَلُمَّ قُلْتُ: اَیْنَ؟ قَالَ: اِلَی النَّارِ وَاللّٰہِ قُلْتُ: وَمَا شَاْنُھُمْ؟ قَالَ: اِنَّھُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِم الْقَھْقَریٰ فَلاَ اَرَاہُ یَخْلُصُ فِیْھِمْ اِلاَّمِثْلَ ھَمَلِ النَّعَمِ۔(۴۲)
عالمِ آخرت میں مفلس کون ہوگا؟
۳۷۔مسلم اور مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ اپنی مجلس میں لوگوں سے پوچھا، ’’جانتے ہو مفلس کون ہوتاہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا ’’ہم میں سے مفلس وہ ہوتاہے جس کے پاس مال و متاع کچھ نہ ہو۔‘‘ فرمایا: ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز نماز اور روزہ اور زکوٰۃ ادا کرکے حاضر ہوا ہو، مگر اس حال میں آیا ہوکہ کسی کو اس نے گالی دی تھی اور کسی پر بہتان لگایا تھا اور کسی کا مال مار کھایا تھا اور کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا پیٹا تھا۔ پھر ان سب مظلوموں میں سے ہرایک پر اس کی نیکیاں لے لے کر بانٹ دی گئیں اور جب نیکیوں میں سے کچھ نہ بچا جس سے ان کا بدلہ چکایا جاسکے تو ان میں سے ہرایک کے کچھ کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دیے گئے، اور وہ شخص دوزخ میں پھینک دیا گیا۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۵، التغابن، حاشیہ: ۲۰)
تخریج :حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ: نَا اِسْمَاعِیْلُ وَھُوَ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَئِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَاالْمُفْلِسُ؟ قَالُوْا: الْمُفْلِسُ فِیْنَا مَنْ لاَدِرْھَمَ لَہٗ وَلاَمَتَاعَ۔ فَقَالَ: اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ یَّاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِصَلاَۃٍ وَصِیَامٍ وَزَکوٰۃٍ وَیَاْتِیْ قَدْ شَتَمَ ھٰذَا وَقَذَفَ ھٰذَا وَاَکَلَ مَالَ ھٰذَا وَسَفَکَ دَمَ ھٰذَا وَضَرَبَ ھٰذَا فَیُعْطیٰ ھٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہٖ فَاِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہٗ قَبْلَ اَنْ یُقْضٰی مَاعَلَیْہِ اُخِذَ مِنْ خَطَایَاھُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ۔(۴۳)
مکافاتِ عمل کا دن
۳۸۔بخاری، کتاب الرّقاق میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جس شخص کے ذمے اس کے کسی بھائی پر کسی قسم کے ظلم کا بار ہو اسے چاہیے کہ یہیں اس سے سبکدوش ہولے، کیونکہ آخرت میں دینار ودرہم تو ہوں گے ہی نہیں، وہاں اس کی نیکیوں میں سے کچھ لے کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی، یا اگر اس کے پاس نیکیاں کافی نہ ہوں تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ (تفہیم القرآن ج۵، التغابن، حاشیہ:۲۰)
ـــــ قتادہؓ نے حضرت انسؓ کے حوالہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیاہے’’کہ اللہ تعالیٰ مومن پر ظلم نہیں کرتا۔ دنیا میں اس کی نیکیوں کے بدلے وہ رزق دیتاہے اور آخرت میں ان کی جزا دے گا۔ رہا کافر، تو دنیا میں اس کی بھلائیوں کا بدلہ چکادیا جاتاہے، پھر جب قیامت ہوگی تو اس کے حساب میں کوئی نیکی نہ ہوگی۔ (تفہیم القرآن ج۶، الزلزال، حاشیہ: ۷)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ، عَنْ سَعِیْدِنِالْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہٗ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْھَا فَاِنَّہٗ لَیْسَ ثَمَّ دِیْنَارٌ وَلاَدِرْھَمٌ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُؤْخَذَ لِاَخِیْہِ مِنْ حَسَنَاتِہٖ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ اَخِیْہِ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنَا اٰدَمُ بْنُ اَبِیْ اِیَاسٍ، ثَنَا بْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، ثَنَا سَعِیْدُنِالْمَقْبُرِیُّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ کَانَتْ لَہٗ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہٖ اَوْ شَیْئٌ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ اَنْ لاَیَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَلاَدِرْھَمٌ اِنْ کَانَ لَہٗ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہٖ فَحُمِلَ عَلَیْہِ۔(۴۵)
ترجمہ : جس شخص کے ذمے اس کے کسی بھائی کی عزت وآبرو پر ظلم کا بار ہو یا کوئی دوسری نوعیت ظلم کی ہو تو اُسے چاہیے کہ آج ہی اس روز سے پہلے سبکدوش ہولے جس میں نہ دینار ہوں گے نہ درہم۔ وہاں اگر اس کا کوئی صالح عمل ہوگاتو اس کے ظلم کے برابر اس میں سے لے کر مظلوم کو دلوادیا جائے گا اور اگر وہاں اس کی نیکیاں ہی نہ ہوں گی تو پھر ایسی صورت میں مظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔‘‘
ترمذی میں فی ارضٍ او مال کے الفاظ ہیں۔
۳۹۔ مسند احمد میں حضرت جابر بن عبداللہ بن انیس کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا:’’کوئی جنتی جنت میں اور کوئی دوزخی دوزخ میں اس وقت تک نہ جاسکے گا جب تک اس ظلم کا بدلہ نہ چکادیا جائے جو اس نے کسی پر کیا ہو۔ حتیٰ کہ ایک تھپڑ کا بدلہ بھی دینا ہوگا‘‘، ہم نے عرض کیا یہ بدلہ کیسے دیا جائے گا جب کہ قیامت میں ہم ننگے بوچے ہوں گے؟ فرمایا: ’’اپنے اعمال کی نیکیوں اور بدیوں سے بدلہ چکانا ہوگا۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۵، التغابن، حاشیہ:۲۰)
تشریح : بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیاہے کہ اس روز اہلِ جنت اہلِ دوزخ کا وہ حصہ مارلے جائیں گے جو ان کو جنت میںملتا اگر وہ جنّتیوں کے سے کام کرکے آئے ہوتے، اور اہلِ دوزخ جنتیوں کا وہ حصّہ لوٹ لیں گے جو انہیں دوزخ میں ملتا اگر انہوں نے دنیا میں دوزخیوں کے سے کام کیے ہوتے۔ (تفہیم القرآن ج۵ ،التغابن ،حاشیہ:۰ ۲)
بعض اور مفسرین کہتے ہیں کہ اس روز ظالم کی اتنی نیکیاں مظلوم لوٹ لے جائے گا جو اس کے ظلم کا بدلہ ہوسکیں، یا مظلوم کے اتنے گناہ ظالم پرڈال دیے جائیں گے جو اس کے حق کے برابر وزن رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ قیامت کے روز تو بس آدمی کے پاس کوئی مال وزر تو ہوگا نہیں کہ وہ مظلوم کا حق ادا کرنے کے لیے کوئی ہرجانہ یا تاوان دے سکے۔ وہاں تو بس آدمی کے اعمال ہی ایک زرِ مبادلہ ہوںگے۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا میں کسی پر ظلم کیا ہو وہ مظلوم کا حق اسی طرح ادا کرسکے گا کہ اپنے پلّے میں جو کچھ بھی نیکیاں رکھتاہو اُن میں سے اُس کا تاوان اداکرے، یا مظلوم کے گناہوں میں سے کچھ اپنے اوپر لے کر اس کا جرمانہ بھُگتے۔ (تفہیم القرآن ج۵، التغابن، حاشیہ:۰ ۲)
تخریج : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّار، قَالاَ: ثَنَا اَبُوْدَاؤدَ، قَالَ: ثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ لاَیَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَۃً یُثَابُ عَلَیْھَا الرِّزْقُ فِی الدُّنْیَا وَیَجْزِیْ بِھَا فِی الْآخِرَۃِ وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیُعْطِیْہِ بِھَا فِی الدُّنْیَا فَاِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ حَسَنَۃٌ۔ (۴۶)
۴۰۔حضرت بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: حضورؐ نے فرمایا کہ ’’کسی مجاہد کے پیچھے اگر کسی شخص نے اس کی بیوی اور اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خیانت کی توقیامت کے روزوہ اس مجاہد کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گاکہ اس کی نیکیوں میں سے جوکچھ توچاہے لے لے۔‘‘ پھرحضورؐ نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’پھرتمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ یعنی تم کیا اندازہ کرتے ہو کہ وہ اس کے پاس کیا چھوڑے گا ۔ (تفہیم القرآن ج۵ ،التغابن، حاشیہ:۰ ۲)
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا وَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: حُرْمَۃُ نِسَآئِ الْمُجَاھِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ کَحُرْمَۃِ اُمَّھَاتِھِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِیْنَ یَخْلُفُ رَجُلاً مِنَ الْمُجَاھِدِیْنَ فِی اَھْلِہٖ فَیَخُوْنَہٗ فِیْھِمْ اِلاَّوُقِفَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَأْخُذُ مِنْ عَمَلِہٖ مَاشَآئَ، فَمَا ظَنُّکُمْ؟(۴۷)
کیا دورِ جاہلیت کا نیک عمل سود مند ہوگا؟
۴۱۔ مسروق حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھاکہ عبداللہ بن جُدعان جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی کرتاتھا، مسکین کو کھانا کھلاتاتھا، مہمان نواز تھا، اسیروں کو رہائی دلاتاتھا۔کیا آخرت میں یہ اس کے لیے نافع ہوگا؟ حضورؐنے فرمایا:’’نہیں، اس نے مرتے وقت تک کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ’’میرے پروردگار! روزِ جزا میں میری خطا معافکیجیو۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۶، الزلزال، حاشیہ:۷)
حدیث میں آیاہے کہ حاتم طائی کی سخاوت کی وجہ سے اس کو ہلکا عذاب دیا جائے گا۔(روح المعانی)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَاحَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ دَاؤدَ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ یَصِلُ الرِّحمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَھَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ ﷺ : لاَیَنْفَعُہٗ اِنَّہٗ لَمْ یَقُلْ یَوْمًارَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔(۴۸)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ، قَالَ: ثَنَا سُلَیْمَانُ الْاَعْمَشُ، عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ یَقْرِی الضَّیْفَ وَیَفُکُّ الْعَانِیْ وَیَصِلُ الرَّحِمَ وَیُحْسِنُ الْجَوَارَ فَاثْنَیْتُ عَلَیْہِ فَھَلْ یَنْفَعُہٗ ذٰلِکَ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :لاَاِنَّہٗ لَمْ یَقُلْ قَطُّ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔(۴۹)
داعیٔ ضلالت پر گناہ کا دوہرا بوجھ
۴۲۔ مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہٗ لاَیَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلاَلَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ اَثَامٍ مَنْ تَبِعَہٗ لاَیَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اَثَامِھِمْ شَیْئًا۔
’’جس شخص نے راہِ راست کی طرف دعوت دی اس کو ان سب لوگوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا جنہوں نے اس کی دعوت پر راہِ راست اختیار کی بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کوئی کمی ہو۔اور جس شخص نے گمراہی کی طرف دعوت دی اس کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی بغیر اس کے کہ اُن کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔‘‘
تشریح : وہ لوگ جن کے بارے میں یہ حدیث ہے وہ خدا کے ہاں اگرچہ دوسروں کابوجھ تونہیں اٹھائیں گے، لیکن دوہرا بوجھ اٹھانے سے بچیں گے بھی نہیں۔ایک بوجھ ان پر خود گمراہ ہونے کا لدے گا، اور دوسرا بوجھ دوسروں کو گمراہ کرنے کابھی ان پر لادا جائے گا۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص خود بھی چوری کرتاہے اور کسی دوسرے شخص سے بھی کہتاہے کہ وہ اس کے ساتھ چوری کے کام میں حصّہ لے۔ اب اگر وہ دوسرا شخص اس کے کہنے سے چوری کرے گا تو کوئی عدالت اسے اس بنا پر نہ چھوڑ دے گی کہ اس نے دوسرے کے کہنے پر جرم کیاہے۔ چوری کی سزا تو بہر حال اسے ملے گی اور کسی اصولِ انصاف کی رُوسے بھی یہ درست نہ ہوگا کہ اسے چھوڑکر اس کے بدلے کی سزا اس پہلے چور کو دی جائے جس نے اسے بہکا کر چوری کے راستے پر ڈالا تھا، لیکن وہ پہلا چور اپنے جُرم کے ساتھ اس جرم کی سزا بھی پائے گا کہ اس نے خود چوری کی، سوکی، ایک دوسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ چور بنا ڈالا۔ قرآن مجید میں اس قاعدے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے:
وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ اَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِھِمْ وَلَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَمَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۔ (العنکبوت: ۱۳)
’’ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی اور قیامت کے روز یقینا ان سے اِن افترا پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔ ‘‘
ایک اور جگہ فرمایا:
لِیَحْمِلُوْا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ۔(النحل :۲۵)
’’تاکہ وہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے پورے اٹھائیں، اور ان لوگوں کے بوجھوں کا بھی ایک حصّہ اٹھائیں جن کو وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۳ ، العنکبوت، حاشیہ: ۱۹)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالُوْا نَا اِسْمَاعِیْلُ یَعْنُوْنُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَئِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَہٗ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہٗ لاَیَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا، وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلاَلَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ لاَیَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اٰثَامِھِمْ شَیْئًا۔(۵۰)
(۲) حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِیُّ، اَنْبَأْنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: اَیُّمَا دَاعٍ دَعَا اِلٰی ضَلاَلَۃٍ فَاتُّبِعَ فَاِنَّ لَہٗ مِثْلَ اَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَہٗ وَلاَیَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئًا وَاَیُّمَا دَاعٍ دَعَا اِلٰی ھُدًی فَاتُّبِعَ فَاِنَّ لَہٗ مِثْلَ اُجُوْرِ مَنِ اتَّبَعَہٗ وَلاَیَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا۔(۵۱)
ترجمہ : حضرت انسؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’جس داعی نے کسی قسم کی ضلالت وگمراہی کی طرف بلایا اور اس کی اتباع کی گئی توداعی کے لیے گناہوں کا اتنا ہی بوجھ ہوگا جتنا پیروی کرنے والے کے لیے ہوگا اور ان کے گناہوں میں ذرا بھر کمی نہیں ہوگی‘‘اور جس داعی نے رشدو ہدایت کی دعوت دی اور اس کی پیروی کی گئی تو اس داعی الی الخیر کو اتنا ہی اجرو ثواب ملے گا جتناکہ اس کی پیروی کرنے والے کو ملے گا اور ان کے اجرو ثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوگی۔‘‘
دورِ جاہلیت کے گناہوں کی معافی
۴۳۔ سنن دارمی کے پہلے ہی باب میں یہ حدیث منقول ہے کہ ایک شخص نے حضورؐ سے اپنے عہد جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی، جب میں اسے پکارتا تو دوڑی دوڑی میرے پاس آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ راستہ میں ایک کنواں آیا میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنویں میں دھکا دے دیا۔ آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ تھی ہائے ابّا، ہائے ابّا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ رودیے اور آپؐ کے آنسو بہنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا اے شخص تو نے حضورؐ کو غمگین کردیا ۔ حضورؐ نے فرمایا اسے مت روکو، جس چیز کا اسے سخت افسوس ہے اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو۔ پھر آپؐنے اس سے فرمایا کہ اپنا قصّہ پھر بیان کر۔ اس نے دوبارہ اسے بیان کیا اور آپؐسن کر اس قدر روئے کہ آپؐکی ڈاڑھی آنسوؤں سے ترہوگئی۔ اس کے بعد آپؐنے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ نے اسے معاف کردیا، اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر۔ (تفہیم القرآن ج۶، التکویر، حاشیہ: ۹)
تشریح : عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا یہ بے رحمانہ طریقہ قدیم زمانے میں مختلف وجوہ سے رائج ہوگیا تھا۔ ایک معاشی خستہ حالی، جس کی وجہ سے لوگ چاہتے تھے کہ کھانے والے کم ہوں اور اولاد کو پالنے پوسنے کا باران پر نہ پڑے۔ بیٹوں کو تو اس امید پر پال لیا جاتھا کہ بعد میں وہ حصولِ معیشت میں ہاتھ بٹائیں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتاتھا کہ انہیں جوان ہونے تک پالنا پڑے گا اور پھر انہیں بیاہ دینا ہوگا۔ دوسرے، عام بدامنی، جس کی وجہ سے بیٹوں کو اس لیے پالا جاتاتھا کہ جس کے جتنے زیادہ بیٹے ہوں گے اس کے اتنے ہی حامی ومددگار ہوں گے، مگر بیٹیوں کو اس لیے ہلاک کردیا جاتاتھا کہ قبائلی لڑائیوں میں اُلٹی ان کی حفاظت کرنی پڑتی تھی اور دفاع میں وہ کسی کام نہ آسکتی تھیں۔ تیسرے، عام بدامنی، کا ایک شاخسانہ یہ بھی تھاکہ دشمن قبیلے جب ایک دوسرے پر اچانک چھاپے مارتے تھے تو لڑکیاں بھی ان کے ہاتھ لگتی تھیں انہیں لے جاکر وہ یا لونڈیاں بناکر رکھتے تھے یا کہیں بیچ ڈالتے تھے۔ ان وجوہ سے عرب میں یہ طریقہ چل پڑا تھا کہ کبھی تو زچگی کے وقت ہی عورت کے آگے ایک گڑھا کھود رکھا جاتاتھا تاکہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دی جائے۔ اور کبھی اگر ماں اس پر راضی نہ ہوتی یا اس کے خاندان والے اس میں مانع ہوتے تو باپ بادلِ نخواستہ اسے کچھ مدت تک پالتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جاکر زندہ دفن کردیتا۔
یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ اہلِ عرب اس انتہائی غیرانسانی فعل کی قباحت کا سرے سے کوئی احساس ہی نہ رکھتے تھے۔ ظاہر بات ہے کہ کوئی معاشرہ خواہ کتناہی بگڑ چکاہو، وہ ایسے ظالمانہ افعال کی برائی کے احساس سے بالکل خالی نہیں ہوسکتا۔ عرب کی تاریخ سے بھی معلوم ہوتاہے کہ بہت سے لوگوں کو زمانۂ جاہلیت میں اس رسم کی قباحت کا احساس تھا۔ طبرانی کی روایت ہے کہ فرزدق شاعر کے دادا صعصعہ بن ناجیہ المجاشعی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ، میں نے جاہلیت کے زمانے میں کچھ اچھے اعمال بھی کیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے ۳۶۰ لڑکیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچایا اور ہرایک کی جان بچانے کے لیے دودو اونٹ فدیے میں دیے۔ کیا مجھے اس پر اجر ملے گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں تیرے لیے اجر ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے تجھے اسلام کی نعمت عطا فرمائی۔‘‘
اہل عرب کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جاہلیت نے ان کو اخلاقی پستی کی کس انتہا پر پہنچادیا ہے کہ وہ اپنی اولاد ہی کو اپنے ہاتھوں زندہ درگور کرتے ہیں، پھر بھی انہیں اصرار ہے کہ اپنی اسی جاہلیت پر قائم رہیں گے اور اس اصلاح کو قبول نہ کریں گے جو محمد رسول اللہ ﷺ ان کے بگڑے ہوئے معاشرے میں کرنا چاہتے ہیں۔ (نیز) اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل بھی ہے۔ جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو دادرسی ہونی چاہیے، اور جن ظالموں نے یہ ظلم کیا، آخر کبھی تو وہ وقت آنا چاہیے جب ان سے اس بے دردانہ ظلم کی باز پرس کی جائے، دفن ہونے والی لڑکی کی فریاد دنیا میں تو کوئی سننے والا نہ تھا۔ جاہلیت کے معاشرے نے اس فعل کو بالکل جائز کررکھا تھا۔ نہ ماں باپ کو اس بات پر شرم آتی تھی، نہ خاندان میں کوئی ان کو ملامت کرنے والا تھا، نہ معاشرے میں کوئی ان پر گرفت کرنے والا تھا۔ پھر کیا خدا کی خدائی میں یہ ظلمِ عظیم بالکل ہی بے داد رہ جانا چاہیے؟
درحقیقت یہ اسلام کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ عرب سے اس انتہائی سنگدلانہ رسم کا خاتمہ کیا، بلکہ اس تخیُّل کو مٹایا کہ بیٹی کی پیدایش کوئی حادثہ اور مصیبت ہے جسے بادلِ ناخواستہ برداشت کیا جائے۔ اس کے برعکس اسلام نے یہ تعلیم دی کہ بیٹیوں کو پرورش کرنا، انہیں عمدہ تعلیم وتربیت دینا اور انہیں اس قابل بنا ناکہ وہ ایک اچھی گھر والی بن سکیں، بہت بڑا نیکی کا کام ہے۔ یہی وہ تعلیم ہے جس نے لڑکیوں کے متعلق لوگوں کا نقطۂ نظر صرف عرب ہی میں نہیں بلکہ دنیاکی ان تمام قوموں میں بدل دیا جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوتی چلی گئیں۔ (تفہیم القرآن ج۶ ، التکویر، حاشیہ: ۹)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِیُّ عَنْ سَبْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ، مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ اَبِی الْحَرَمِ مِنْ لَحْمٍ عَنْ ۔۔۔اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا کُنَّا اَھْلَ جَاھِلِیَّۃٍ وَعِبَادَۃَ اَوْثَانٍ، فَکُنَّا نَقْتُلُ الْاَوْلاَدَ، وَکَانَتْ عِنْدِی ابْنَہٌ لِیْ فَلَمَّا اَجَابَتْ وَکَانَتْ مَسْرُوْرَۃً بِدُعَائِی اِذَا دَعَوْتُھَا فَدَعَوْتُھَا یَوْمًا فَاتَّبَعَتْنِیْ، فَمَرَرْتُ حَتّٰی اَتَیْتُ بِئْرًا مِنْ اَھْلِیْ غَیْرَ بَعِیْدٍ، فَاَخَذْتُ بِیَدِھَا فَرَدَّیْتُھَا فِی الْبِئْرِ وَکَانَ اٰخِرُ عَھْدِیْ بِھَا اَنْ تَقُوْلَ یَااَبَتَاہُ یَااَبَتَاہُ فَبَکیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی وَکَفَ دَمْعُ عَیْنَیْہِ، فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَحْزَنْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ لَہٗ: کَفِّ فَاِنَّہٗ یَسْأَلُ عَمَّااَھَمَّہٗ، ثُمَّ قَالَ لَہٗ: اَعِدْ عَلَیَّ حَدِیْثَکَ، فَاَعَادَہٗ، فَبَکیٰ وَکَفَ الدَّمْعُ مِنْ عَیْنَیْہِ عَلٰی لِحْیَتِہٖ، ثُمَّ قَالَ لَہٗ:اِنَّ اللّٰہَ قَدْ وَضَعَ عَنِ الْجَاھِلِیَّۃِ مَاعَمِلُوْا فَاسْتَاْنِفْ عَمَلَکَ۔(۵۲)
(۲) حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ وَالْاَعْمَشَ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اٰنُؤَاخَذُ بِمَاعَمِلْنَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟ قَالَ: مَنْ اَحْسَنَ فِی الْاِسْلاَمِ، لَمْ یُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، وَمَنْ اَسَآئَ فِی الْاِسْلاَمِ، اُخِذَ بِالْاَوَّلِ وَالْاٰخِرِ۔(۵۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ (ﷺ) کیا ہم سے ان اعمال کا مؤاخذہ ہوگا جو دورِ جاہلیت میں ہم نے کیے تھے۔ فرمایا:’’جس نے اسلام کی حالت میں عمدہ اور اچھے عمل کیے تو اس سے جاہلیت کے دور میں کیے ہوئے اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، البتہ جس نے اسلام کی حالت میں براے اعمال کیے تو اس سے اگلے پچھلے سبھی اعمال کا مؤاخذہ ہوگا۔‘‘
نارِ جہنم سے بچنے کی ترکیب
۴۴۔بخاری ومسلم میں حضرت عدی بن حاتم سے یہ روایت منقول ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: دوزخ کی آگ سے بچو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا دینے یا ایک اچھی بات کہنے ہی کے ذریعہ سے ہو۔ (تفہیم القرآن ج۶، الزلزال، حاشیہ:۷)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ خَیْثَمَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ :مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلاَّسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہٗ تَرْجَمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلاَیُریٰ شَیْئًا قُدَّامَہٗ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلَہُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَتَّقِی النَّارَ وَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔
ترجمہ : عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جس سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کلام نہ فرمائے جبکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔پھر بندہ سامنے دیکھے گا تو کوئی شے نہ پائے گا۔ پھر سامنے دیکھے گا تو اسے اپنے سامنے دوزخ کی آگ ہی نظر آئے گی، پس جو کوئی تم میں سے اس آگ سے بچنے کا سامان کرسکے کرلے، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دینے کے ذریعے سے ہو۔
(۲) قَالَ الْاَعْمَشُ: حَدَّثَنِیْ عَمْرٌو عَنْ خَیْثَمَۃَ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اتَّقُوْا النَّارَ ثُمَّ اَعْرَضَ وَاَشَاحَ ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ اَعْرَضَ وَاَشَاحَ ثَلاَثًا حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ یَنْظُرُ اِلَیْھَا ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔(۵۴)
ترجمہ : عدی بن حاتم سے مروی ہے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’آگ سے بچو، پھر اس ارشاد کو مختلف انداز میں تین بار دہرایا حتیّٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپؐ اس آگ کو دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا: ’’آگ سے بچو چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں دینے کے ذریعے سے ہو اور اگر یہ بھی نہ ملے تو پاکیزہ بول کے ذریعے آگ سے بچو۔ ‘‘
نسائی میں ہے:
(۳) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ النَّارَ فَاَشَاحَ بِوَجْھِہٖ وَتَعَوَّذَ مِنْھَا ذَکَرَ شُعْبَۃُ اَنَّہٗ فَعَلَہٗ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ التَّمْرَۃِ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔(۵۵)
کوئی نیک کام بے وزن اور حقیر نہیں
۴۵۔ حضرت عدِی سے صحیح روایت میں حضورؐ کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ ’’کسی نیک کام کو بھی حقیر نہ سمجھو، خواہ وہ کسی پانی مانگنے والے کے برتن میں ایک ڈول ڈال دینا ہو، یا یہی نیکی ہوکہ تم اپنے کسی بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو۔
(تفہیم القرآن ج۶ ، الزلزال، حاشیہ:۷)
خواتین کوہدایت
۴۶۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے عورتوںکو خطاب کرکے فرمایا:’’اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہاں کوئی چیز بھیجنے کو حقیرنہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۶، الزلزال، حاشیہ:۷)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ ھُوَالْمُقْبُرِیُّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ یَا نِسَآئَ الْمُسْلِمَاتِ لاَتَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْفِرْسَنَ شَاۃٍ۔(۵۶)
صغائر سے اجتناب کی تلقین
۴۷۔ ۱ مسند احمد، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ فرمایا کرتے تھے۔ ’’اے عائشہؓ ان گناہوں سے بچی رہنا جن کو چھوٹا سمجھاجاتاہے کیونکہ اللہ کے ہاں ان کی پرسش بھی ہونی ہے۔‘‘
تخریج : وَقَالَ الْاِمَامُ اَحْمَدُ: حَدَّثَنَا اَبُوْعَامِرٍ، حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ،حَدَّثَنِیْ عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَیْلِ، اَنَّ عَائِشَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ:یَاعَائِشَۃُ اِیَّاکِ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوْبِ، فَاِنَّ لَھَا مِنَ اللّٰہِ طَالِبًا۔(۵۷)
۴۸۔ مسندِ احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ حضورؐ نے فرمایا:’’خبردار، چھوٹے گناہوں سے بچ کررہنا، کیونکہ وہ سب آدمی پر جمع ہوجائیں گے یہاں تک کہ اسے ہلاک کردیں گے۔ ‘‘
تشریح :اسی طرح کے جوابات رسول اللہ ﷺ نے بعض اور لوگوں کے بارے میں بھی دیے ہیں جو جاہلیت کے زمانہ میں نیک کام کرتے تھے، مگر مرے کفر وشرک ہی کی حالت میں تھے۔ لیکن حضورؐ کے بعض ارشادات سے معلوم ہوتاہے کہ کافر کی نیکی اُسے جہنم کے عذاب سے تو نہیں بچاسکتی، البتّہ جہنّم میں اس کو وہ سخت سزا نہ دی جائے گی جو ظالم اور فاسق اور بدکار کافروں کو دی جائے گی۔
یہ (احادیث) انسان کو ایک اہم حقیقت پر متنبّہ کرتی (ہیں) اور وہ یہ ہے کہ ہرچھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اپنا ایک وزن اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے، اور یہی حال بدی کا بھی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے، یونہی نظر انداز کردینے والی چیز نہیں ہے۔ اس لیے کسی چھوٹی نیکی کوچھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے، کیونکہ ایسی بہت سی نیکیاں مل کر اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک بہت بڑی نیکی قرار پاسکتی ہیں، اور کسی چھوٹی سے چھوٹی بدی کا ارتکاب بھی نہ کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بہت سے چھوٹے گناہ مل کر گناہوںکا ایک انبار بن سکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج۶، الزلزال، حاشیہ:۷)
تخریج:(۱) قَالَ الْاِمَامُ اَحْمَدُ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہٖ، عَنْ اَبِیْ عِیَاضٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِیَّاکُمْ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوْبِ فَاِنَّھُنَّ یَجْتَمِعْنَ عَلَی الرَّجُلِ حَتّٰی یُھْلِکْنَہٗ۔(۵۸)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوالْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَھْدِیٌّ، عَنْ غَیْلاَنَ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالاً ھِیَ اَدَقُّ فِیْ اَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ اِنْ کُنَّا نَعُدُّ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ﷺ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ۔(۵۹)
ترجمہ :حضرت انسؓ کا قول ہے کہ لوگو! تم ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی کہیں زیادہ باریک ہیں، مگر ہم عہدِ رسالت میں انہیں ہلاک کرنے والی خطاؤں میں شمار کرتے تھے۔
احتساب اخروی کی یاددہانی
۴۹۔حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ کو تروتازہ کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا:’’یہ اُن نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔ (تفہیم القرآن ج۶ ،ا لتکاثر، حاشیہ:۴)
۵۰۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے کہا کہ چلو ابوالہیثم بن التیہان انصاری کے ہاں چلیں۔ چنانچہ ان کو لے کر آپؐ ابن التیّہان کے نخلستان میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے لاکر کھجوروں کا ایک خوشہ رکھ دیا۔ حضورؐ نے فرمایاتم خود کیوں نہ کھجوریں توڑلائے؟ انہوں نے عرض کیا، میں چاہتاتھا کہ آپ حضرات خود چھانٹ چھانٹ کر کھجوریں تناول فرمائیں۔ چنانچہ انہوں نے کھجوریں کھائیں اور ٹھنڈا پانی پیا۔ فارغ ہونے کے بعد حضورؐ نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تمہیں قیامت کے روز جوابدہی کرنی ہوگی، یہ ٹھنڈا سایہ، یہ ٹھنڈی کھجوریں، یہ ٹھنڈا پانی۔‘‘
تشریح :اس قصّے کو مختلف طریقوں سے مسلم، ابنِ ماجہ، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابنِ جریر اور ابویعلیٰ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کیاہے جن میں سے بعض میں اُن انصاری بزرگ کا نام لیاگیاہے اور بعض میں صرف انصار میں سے ایک شخص کہاگیاہے۔ اس قصّے کو مختلف طریقوں سے متعدد تفصیلات کے ساتھ ابنِ ابی حاتم نے حضرت عمرؓ سے اور امام احمد نے ابوعسیب ـــــ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ـــــ سے نقل کیاہے۔ ابن حبّان اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ قریب قریب اسی طرح کا واقعہ حضرت ابوایوب انصاری کے ہاں پیش آیاتھا۔
ان احادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سوال صرف کفّار ہی سے نہیں، مومنین صالحین سے بھی ہوگا۔ رہیں خدا کی وہ نعمتیں جو اس نے انسان کو عطاکی ہیں، تو وہ لامحدود ہیں، اُن کا کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا، بلکہ بہت سی نعمتیں تو ایسی ہیں کہ انسان کو ان کی خبر بھی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیاہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لاَتُحْصُوْھَا۔’’اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو توتم ان کا پورا شمار نہیں کرسکتے۔‘‘ (ابراہیم:۳۴)ان نعمتوں میں سے بے حدو حساب نعمتیں تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے براہِ راست انسان کو عطاکی ہیں، اوربہ کثرت نعمتیں وہ ہیں جو انسان کو اس کے اپنے کسب کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں۔ انسان کے کسب سے حاصل ہونے والی نعمتوں کے متعلق اُس کو جوابدہی کرنی پڑے گی کہ اس نے ان کو کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوںمیں خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی براہِ راست عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں اسے حساب دینا ہوگا کہ ان کو اس نے کس طرح استعمال کیا اور مجموعی طورپر تمام نعمتوں کے متعلّق اس کو بتانا پڑے گا کہ آیا اُس نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ یہ نعمتیں اللہ کی عطاکردہ ہیں اور ان پر دل، زبان اور عمل سے اس کا شکر ادا کیا تھا؟ یایہ سمجھاتھا کہ یہ سب کچھ اسے اتفاقاً مل گیا ہے یا یہ خیال کیا تھا کہ بہت سے خدا ان کے عطا کرنے والے ہیں؟یایہ عقیدہ رکھا تھا کہ یہ ہیں تو خدا ہی کی نعمتیںمگر ان کے عطا کرنے میں بہت سی دوسری ہستیوں کابھی دخل ہے اور اس بناء پر انہیں معبود ٹھیرالیا تھا اور انہی کے شکریے ادا کیے تھے؟
(تفہیم القرآن ج۶، التکاثر، حاشیہ:۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا خَلْفُ بْنُ خَلِیْفَۃَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ اَوْلَیْلَۃٍ فَاِذَا ھُوَ بِاَبِیْ بَکْرٍ وعُمَرَ فَقَالَ مَا اَخْرَجَکُمَا مِنْ بُیُوْتِکُمَا ھٰذِہِ السَّاعَۃَ؟ قَالاَ: الْجُوْعُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ:وَاَنَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَاَخْرَجَنِیْ الَّذِیْ اَخْرَجَکُمَا قُوْمُوْا فَقَامُوْا مَعَہٗ فَاَتٰی رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ فَاِذَا ھُوَ لَیْسَ فِیْ بَیْتِہٖ فَلَمَّا رَاَتْہُ الْمَرْأَۃُ، قَالَتْ: مَرْحَبًا وَاَھْلاً فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَیْنَ فُلاَنٌ؟ قَالَتْ: ذَھَبَ یَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَائَ اِذْ جَآئَ الْاَنْصَارِیُّ فَنَظَرَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَصَاحِبَیْہِ ثُمَّ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مَااَحَدٌ الْیَوْمَ اَکْرَمَ اَضْیَافًا مِنِّیْ قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَآئَ ھُمْ بِعِذْقٍ فِیْہِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ:کُلُوا مِنْ ھٰذِہٖ وَاَخَذَ الْمِدْیَۃَ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِیَّاکَ وَالْحُلُوْبَ فَذَبَحَ لَھُمْ فَاَکَلُوْا مِنَ الشَّاۃِ وَمِنْ ذٰلِکَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوْا فَلَمَّا اَنْ شَبِعُوا وَرَوُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا النَّعِیْمِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُیُوْتِکُمُ الْجُوْعُ حَتّٰی اَصَابَکُمْ ھٰذَا النَّعِیْمُ۔(۶۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیںکہ ایک دن یاایک رات رسول اللہ ﷺ گھر سے باہرتشریف لائے، تو اچانک ابوبکر اور عمررضی اللہ عنہما کو موجود پایا۔ آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا: ’’ اس وقت تمہیں کس چیز نے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیاہے؟‘‘ دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ)بھوک نے۔ آپؐنے فرمایا بخدا جس ذات کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے مجھے بھی اسی چیز نے گھر سے باہر نکالاہے جس نے تمہیں نکالاہے۔ اچھا اٹھو! چنانچہ وہ آپؐکے ہمراہ ہولیے اور ایک انصاری کے گھر پر پہنچے دیکھا تو وہ خود گھر پر موجود نہیں تھے۔ مگر جب ان کی اہلیہ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو خوش ہوکر عرض کیا، آپؐکی تشریف آوری مبارک! رسول اللہ ﷺ نے اس خاتونِ خانہ سے دریافت فرمایا: کہ فلاں صاحبِ خانہ کہاں ہیں؟ عرض کیاکہ ہمارے پینے کے لیے آبِ شیریں لینے گئے ہیں۔ اتنے میں انصاری آگئے اور جونہی ان کی نظر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دوساتھیوں کی جانب اٹھی تو انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا آج کسی کے ہاں میرے مہمانوں سے بڑھ کر معزز مہمان نہیں آئے۔ پھر وہ چلے گئے اور ان کے لیے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے جس میں گدری، خشک اور تر ملی جلی کھجوریں تھیں، پیش خدمت کرتے ہوئے عرض کیا نوش فرمائیں اور خود چھری لے کر جانور ذبح کرنے کے لیے تیار ہوئے توآپؐنے فرمایا:’’دودھ والی ذبح نہ کرنا۔ ‘‘انہوں نے بکری ان کے لیے ذبح کی۔ انہوں نے بکری کا گوشت تناول فرمایا، کھجور کھایا،پانی پیا۔ جس سے سیر ہوگئے تو رسول اللہ ﷺنے ابوبکرؓ و عمرؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے روز تم سے اس نعمت کے بارے میںپرسش ہوگی ۔ بھوک نے تمہیں گھروں سے نکالا کہ تمہیں یہ نعمت نصیب ہوئی۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُوْسٰی، ثَنَا حَمَّادٌ یعنی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ اَبِیْ عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اَتَانِی النَّبِیُّﷺ وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فَاَطْعَمْتُھُمْ رُطَبًا وَاَسْقَیْتُھُمْ مَائً فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ ھٰذَا مِنَ النَّعِیمِ الَّذِیْ تُسْئَلُوْنَ بِہٖ۔(۶۱)
ترجمہ : حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ میرے ہاں نبی ﷺ، ابوبکرؓ اور عمرؓ تشریف لائے۔ میں نے انہیں ترکھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:’’یہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ہے جس کے بارے میں تم سے باز پرس ہوگی۔‘‘
(۳) حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ سَھْلٍ الرَّمْلِیُّ، قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِلاَلٍ، فَقَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ اَبِیْ عَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، یَقُوْلُ اَتَانَا النَّبِیُّ ﷺ وَاَبُوْبَکْرٍوعُمَرؓ فَاطْعَمْنَاھُمْ رُطَبًا وَسَقَیْنَاھُمْ مَائً فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :ھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسْئَلُوْنَ بِہٖ۔(۶۲)
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ، اَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ رُطَبًا وَشَرِبُوْا مَائً فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسْئَلُوْنَ بِہٖ۔(۶۳)
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، نَاشَبَابَۃُ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْعَلاَئِ، عَنِ الضَّحَّاکِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ عَرْزَمِ الْاَشْعَرِیِّ، سَمِعْتُ اَبَاھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اَوَّلَ مَایُسْأَلُ الْعَبْدُ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ النَّعِیْمِ اَنْ یُقَالَ لَہٗ: اَلَمْ نُصِحَّ لَکَ جَسَدَکَ وَنَرْوِکَ مِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ۔(۶۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے جس نعمت کے بارے میں سوال ہوگا وہ یہ ہیں: اس سے پوچھا جائے گا کیا ہم نے تجھے جسمانی صحت سے نہیں نوازاتھا اور پینے کے لیے ٹھنڈا پانی نہیں دیاتھا۔‘‘
(۶) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْزُرْعَۃَ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الْجَزَّارُ الْمُقْرِیئُ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ اَبُوْخَالِدٍ الْجَزَّارُ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عِنْدَ الظَّھِیْرَۃِ فَوَجَدَ اَبَابَکْرٍ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا اَخْرَجَکَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ؟ فَقَالَ اَخْرَجَنِیْ الَّذِیْ اَخْرَجَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: وَجَآئَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: مَا اَخْرَجَکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: اَخْرَجَنِی الَّذِیْ اَخْرَجَکُمَا قَالَ فَقَعَدَ عُمَرُ وَاَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُحَدِّثُھُمَا ثُمَّ قَالَ: ھَلْ بِکُمَا مِنْ قُوَّۃٍ تَنْطَلِقَانِ اِلٰی ھٰذَا النَّخْلِ فَتُصِیْبَانِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَظِلاًّ؟ قُلْنَا:نَعَمْ، قَالَ: مُرُّوا بِنَا اِلَی مَنْزِلِ ابْنِ التَّیِّھَانِ اَبِی الْھَیْثَمِ الْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ اَیْدِیْنَا فَسَلَّمَ وَاسْتَاْذَنَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَاُمُّ الْھَیْثَمِ مِنْ وَّرَائِ الْبَابِ تَسْمَعُ الْکَلاَمَ تُرِیْدُ اَنْ یَّزِیْدَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ السَّلاَمِ فَلَمَّا اَرَادَ اَنْ یَّنْصَرِفَ خَرَجَتْ اُمُّ الْھَیْثَمِ تَسْعٰی خَلْفَھُمْ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ وَاللّٰہِ سَمِعْتُ تَسْلِیْمَکَ وَلٰکِنْ اَرَدْتُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ مِنْ سَلاَمِکَ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:خَیْرًا ثُمَّ اَیْنَ اَبُوالْھَیْثَمِ لاَاَرَاہُ قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھُوَقَرِیْبٌ ذَھَبَ یَسْتَعْذِبُ الْمَآئَ اُدْخُلُوْا فَاِنَّہٗ یَاْتِی السَّاعَۃَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ فَبَسَطَتْ بِسَاطًا تَحْتَ شَجَرَۃٍ، فَجَآئَ اَبُوالْھَیْثَمِ، فَفَرِحَ بِھِمْ وَقَرَّتْ عَیْنَاہُ بِھِمْ، فَصَعِدَ عَلٰی نَخْلَۃٍ، فَصَرَم لَھُمْ اَعْذَاقًا، فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: حَسْبُکَ یَااَبَاالْھَیْثَمِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ تَاْکُلُوْنَ مِنْ بُسْرِہٖ وَمِنْ رُطَبِہٖ وَمِنْ مَذْنُوْبِہٖ ثُمَّ اَتَاھُمْ بِمَآئٍ فَشَرِبُوْا عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسْأَلُوْنَ بِہٖ۔(۶۵)
ھذا غریب من ھذا الوجہ۔
ترجمہ : حضرت ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ میں نے عمر بن خطاب کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز عین دوپہر کے وقت باہر نکلے تو ابوبکرؓ کو مسجد میں پایا، دریافت فرمایاکہ اس وقت تمہیں گھر سے باہر کس چیز نے نکالا؟ ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ جس چیز نے آپ کو نکالا ہے۔ اسی اثناء میں عمر بن خطاب بھی آگئے، ان سے بھی آپؐ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ جس چیزنے آپ دونوں کو نکالا اسی نے مجھے نکالا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ عمر بن خطاب بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ متوجّہ ہوکر دونوں سے باتیں کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد پوچھا کہ کیا تم دونوں اس باغ تک جانے کی قوت اپنے اندر پاتے ہو؟ وہاں تمہیں کھانا اور پانی ملے گا اور بیٹھنے کے لیے سایہ میسّرہوگا۔ ہم نے عرض کیا ہاں! پھر آپؐ نے فرمایا: ہمیں ابن تیہان ابوالہیثم کی رہائش گاہ کی طرف لے چلو۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے آگے چلے۔ منزلِ مطلوب پر پہنچ کر حضورؐ نے سلام کہا اور اجازت طلب فرمائی۔ تین مرتبہ ایسا کیا۔ ام الہیثم دروازے کی اوٹ میں کھڑی آپؐ کا کلام سن رہی تھیں۔ جواب اس خیال سے نہ دیا کہ آپؐ انپر زیادہ سے زیادہ سلامتی کی دعا فرمائیں۔ جب امِّ ہیثم نے دیکھا کہ حضورؐ واپس جانے والے ہیں تو دروازے سے باہر نکل کر سب کے پیچھے بھاگنے لگیں اور عرض کیا یارسول اللہ(ﷺ) ! میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا میری خواہش تھی کہ آپؐ ہمارے لیے زیادہ سے زیادہ سلامتی کی دعا فرماتے رہیں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا: بہتر! اچھا ابوالہیثم کہاں ہیں؟ مجھے دکھائی نہیں دے رہے، عرض کیا یارسول اللہ (ﷺ) وہ یہیں قریب ہی آبِ شیریں لینے باہرگئے ہیں۔ اندر تشریف لے آئیں وہ ابھی آیا چاہتے ہیں ان شاء اللہ! یہ کہہ کر انہوں نے درخت کے نیچے چٹائی بچھادی۔ اتنے میں ابوالہیثم بھی آگئے اور آپ سب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ سب کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ پھر ابوالہیثم کھجور کے ایک درخت پر چڑھے اور کھجوروں کے کئی گچّھے لاکر خدمتِ نبوی میں پیش کردیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوالہیثم بس رُک جاؤ کافی ہیں۔ ابوالہیثم نے عرض کیایہ گچھّے اس لیے لایا ہوںتاکہ آپ حسبِ پسند گدری اور ترکھجور نوشِ جاں فرمائیں پھر ابوالہیثم نے ٹھنڈا پانی پیش کیا۔ کھانے کے بعد سب نے پانی پیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’یہ ان نعمتوں میں سے ہے جس کے متعلق تم سے پرسش ہوگی۔‘‘
(۷) حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الصَّدَائِیُّ، قَالَ:ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:بَیْنَمَا اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرؓ جَالِسَانِ اِذْجَائَ النَّبِیُّ ﷺ فَقَالَ: مَااَجْلَسَکُمَا ھٰھُنَا؟ قَالاَ: الْجُوْعُ، قَالَ:وَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ مَااَخْرَجَنِیْ غَیْرُہٗ فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی اَتَوْا بَیْتَ رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ فَاسْتَقْبَلَتْھُمُ الْمَرْأَ ۃُ فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ﷺ:اَیْنَ فُلاَنٌ؟ فَقَالَتْ: ذَھَبَ یَسْتَعْذِبُ لَنَا مَائً فَجَائَ صَاحِبُھُمْ یَحْمِلُ قِرْبَتَہٗ فَقَالَ: مَرْحَبًا مَازَارَ الْعِبَادَ شَیْئٌ اَفْضَلُ مِنْ شَیْئٍ زَارَ فِی الْیَوْمِ فَعَلَقَ قِرْبَتَہٗ بِکَرْبِ نَخْلَۃٍ وَانْطَلَقَ فَجَائَ ھُمْ بِعِذْقٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَلاَ کُنْتَ اجْتَنَیْتَ؟ فَقَالَ: اَحْبَبْتُ اَنْ تَکُوْنُوا الَّذِیْنَ تَخْتَارُوْنَ عَلٰی اَعْیُنِکُمْ ثُمَّ اَخَذَ الشُّفْرَۃَ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ:اِیَّاکَ وَالْحُلُوْبَ فَذَبَحَ لَھُمْ یَوْمَئِذٍ، فَاَکَلُوْا فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُیُوْتِکُمُ الْجُوْعُ فَلَمْ تَرْجِعُوْا حَتّٰی اَصَبْتُمْ ھٰذَا فَھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ۔(۶۶)
(۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا سُرَیْجٌ ثَنَا حَشْرَجٌ عَنْ اَبِیْ نُصَیْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَسِیْبٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلاً فَمَرَّ بِیْ فَدَعَانِیْ اِلَیْہِ فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِاَبِیْ بَکْرٍ فَدَعَاہُ فَخَرَجَ اِلَیْہِ ثُمَّ بِعُمَرَ فَدَعَاہُ فَخَرَجَ اِلَیْہِ فَانْطَلَقَ حَتّٰی دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْاَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ اَطْعِمْنَا بُسْرًا فَجَآئَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَہٗ فَاَکَلَ فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَصْحَابُہٗ ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ، قَالَ: فَاَخَذَ عُمَرُالْعِذْقَ فَضَرَبَ بِہِ الْاَرْضَ حَتّٰی تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَ اِنَّا لَمَسْئُوْلُوْنَ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ اِلاَّ مِنْ ثَلاَثٍ۔ خِرْقَۃٌ کَفَّ بِھا الرَّجُلُ عَوْرَتَہٗ اَوْکِسْرَۃٌ سَدَّبِھَاجُوْعَتَہٗ اَوْحُجْرٌ یَتَدَخَّلُ فِیْہِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقَرِّ۔(۶۷)
ابن کثیر نے یتدخل کی جگہ یدخلوا نقل کیاہے۔
ترجمہ : ابوعسیب نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات گھر سے باہر نکلے اور میرے پاس سے گزرے تو مجھے اپنی طرف بلایا میں بھی نکل کھڑا ہوا۔ اتنے میں ابوبکرؓ کے پاس سے گزر ہوا تو انہیں بھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف بلایا، وہ بھی آگئے۔ پھر عمرؓ کو بلایا تو وہ بھی ساتھ ہولیے۔ پھر آپؐ چلتے رہے ۔ حتی کہ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور حضورؐ نے باغ کے مالک سے فرمایا:’’ہمیں گدری کھجوریں کھلاؤ۔‘‘ مگر اس نے کھجوروں کا گچھا حضور اقدس کی خدمت میں پیش کردیا۔ میزبان نے خود بھی کھایا اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے اصحاب نے بھی نوش فرمایا۔ اس کے بعد آپؐ نے ٹھنڈا پانی طلب فرمایا (اس نے لاکر پیش کیا) اور آپؐ نے نوش فرمایا۔ پھر فرمایا:’’قیامت کے روز تم سے ان چیزوں کے بارے میں پرسش ہوگی۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے وہ گچھا زمین پر ایسے مارا کہ کھجوریں رسول اللہ ﷺ کے سامنے بکھرگئیں اور عرض کیا یا رسول اللہؐ قیامت کے روز کیا ہم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا:’’ہاں ایسا ہی ہوگا مگر تین چیزیں مستثنی ہیں۔ایک کپڑے کا وہ ٹکڑا جو انسان کے قابلِ ستر حصّوں کے لیے کافی ہو۔ دوسرا غذا کا وہ ٹکڑا جس سے بھوک کا دربندکیا جاسکتاہو۔ تیسرا وہ مختصر مکان جس میں سردی اورگرمی سے بچاؤ کی خاطر داخل ہوسکیں۔‘‘
(۹) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ، قَالَ الزُّبَیْرُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَاَیُّ النَّعِیْمِ نُسْأَلُ عَنْہُ؟ وَاِنَّمَا ھُوَالْاَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَائُ، قَالَ: اَمَّا اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ۔(۶۸) (ھذا حدیث حسن)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا بیان ہے کہ جب آیت ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ نازل ہوئی تو حضرت زبیرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یارسول اللہ (ﷺ) وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کے بارے میں ہم سے باز پرس ہوگی؟یہاں تو صرف یہ دوسیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’یقیناً یہی ہوں گی۔‘‘
ماخذ
(۱) بخاری ج۲کتاب الرقاق باب یقبض اللہ الارض۔ ٭ مسلم ج۲ کتاب صفات المنافقین واحکامھا۔ باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار۔٭ابنِ ماجہ المقدمۃ باب فیما انکرت الجھمیۃ۔ ٭فتح القدیر ج۴۔ ٭مسنداحمد ج۲ص۳۷۱۔
(۲) مسند احمد ج۲ص۷۲۔۸۸ روایت عبداللہ بن عمر۔
(۳) مسلم ج۲کتاب صفۃ المنافقین واحکامھا باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنَّار۔٭ابوداؤد ج۴کتاب السنۃ۔ ٭مجمع الزوائدج۴ص۳۴۴ عن ابن عمر۔
(۴) ابنِ ماجہ کتاب الزھد باب ذکر البعث اور المقدمۃ فیما انکرت الجھمیۃ٭ مجمدالزوائد ج۱ص۸۴ عبداللہ بن عمر۔
(۵) تفسیر ابن کثیر ج۳سورہ فرقان۔
(۶) بخاری ج۲ کتاب التفسیر سورۃ الزمر باب قولہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویات۔ ٭ دارمی کتاب الرقاق ج۲ باب فی شان الساعۃ ونزول رب تعالٰی۔ ٭مجمع الزوائد ج۱ص۸۴۔ابن عمر۔
(۷) تفسیر ابن جریر ج۲۴؍۲۷ سورۃ الزمر۔
(۸) حوالہ متذکرہ بالا۔
(۹) المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الاھوال۔ تشریح آیۃ یوم تبدل الارض غیر الارض۔
(۱۰) فتح القدیر للشوکانی ج۵ سورۃ الانشقاق۔ ٭روح المعانی ج۳۰ص۷۹ ٭ ابن جریر۲۸؍۳۰ سورۃ الانشقاق۔ ٭ ابنِ کثیر ج۴ سورۃ الانشقاق۔
(۱۱) مسندِ احمد ج۳ص۷۵ روایت ابی سعید خدری۔٭ابنِ جریر ج۴،۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ سورۃ المعارج۔ ٭تفسیر ابن کثیر ج۳ سورہ الفرقان۔ ٭بیھقی کتاب البعث والنشور۔
(۱۲) ابن جریر پ۲۷۔ سورۃ الحدید ٭ابنِ کثیر ج۴۔ سورۃ الحدید۔ ٭ابن ابی حاتم ۔ بحوالہ ابنِ کثیر ج۴ ص۳۰۸۔
(۱۳) ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔٭ المستدرک للحاکم کتاب التفسیر سورۃ الحدید۔
(۱۴) ابن جریر ج۱۱پ۲۷ سورۃ الحدید۔ ٭ابن کثیر ج۴ص۳۰۸٭فتح القدیر ج۵ سورۃ الحدید بحوالہ ابن ابی شیبۃ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم۔
(۱۵) المستدرک للحاکم ج۲ کتاب التفسیر سورۃ الحدید۔٭ ابنِ کثیر سورۃ الحدید بحوالہ ابن ابی حاتم۔
(۱۶) بخاری ج۲ کتاب التفسیر، سورۃ الانشقاق۔٭بخاری کتاب الرقاق باب من نوقش الحساب عذب ۔ اس باب میں مروی روایت کے آخر میں ارشاد نبوی یوں ہے:اِنَّمَا ذٰلِکَ الْعَرْضُ وَلَیْسَ اَحَدٌ مِّنَّا یُنَاقَشُ الْحِسَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلاَّعُذِّبَ۔ ٭مسلم ج۲کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب اثبات الحساب۔٭ ترمذی ابواب الزھد باب ماجاء فی العرض۔٭ ابنِ کثیر ج۴ص۸۸۴۔ ٭روح المعانی ج۳۰ ص۸۰٭مُسنداحمد ج۶ ص۴۷ روایت عائشۃؓ اور ص۱۰۸،۱۲۷٭ المستدرک للحاکم ج۴ کتاب التوحید والانابۃ۔
(۱۷) مسند احمدج۶ ص۴۸ روایت عائشۃ۔ ٭ ابنِ جریر ج۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۷۴۔٭ ابنِ کثیر ج۴ص۴۸۹۔ ٭روح المعانی ج۳۰ص۸۰۔٭عبد بن حمید، ابنِ مَردویہ، بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج۵ص۴۰۹۔
(۱۸) المستدرک ج۲کتاب التفسیر۔
(۱۹) ابوداؤدج۱کتاب الجنائز باب عیادۃ النساء ۔
(۲۰) مسلم ج۲ کتاب الزھد فصل فی بیان ان الاعضاء منطقۃٌ شاھدۃٌ یوم القیامۃ۔٭ابن جریر ج۲۴؍۲۷ حٰمٓ السجدۃ۔٭ابن کثیر ج۴ ص بحوالہ ابوبکر بزّاز، ابن ابی حاتم۔٭ابن ابی الدنیا فی التوبۃ، ابن مردویہ، البیھقی فی الاسماء والصفات بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج۴سورۂ یسٓ۔
(۲۱) ابن کثیر ج۴ حم السجدہ بحوالہ ابویعلٰی۔
(۲۲) مسند احمد بن حنبل ج۶ص۶۷،۶۹ مرویات عائشۃ۔٭ ابن کثیرج۴ سورۃ الواقعۃ زیرتفسیر ایت السابقون السابقون۔٭رُوح المعانی ج۲۷ سورۃ الواقعۃ۔٭البحر المحیط ج۸سورۃ الواقعۃ۔ ٭فتح القدیر للشَّوکانی ج۵ سورۃ الواقعۃ۔
(۲۳) مسلم ج۱کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النَّار۔٭مسند احمد ج۳ص۱۱ عن ابی سعید خدری۔
(۲۴) بخاری ج۲کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار۔
(۲۵) ابن کثیر ج۴ص۵۰۰۔
(۲۶) مسنداحمد ج۳ص۵۔٭ابنِ کثیر ج۴ص۵۰۰۔
(۲۷) ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی الشفاعۃ۔٭مسنداحمد بن حنبل ج۳۔ص۲۱۳،۲۱۸۔
(۲۸) بخاری ج۱ کتاب الجھاد باب الغلول۔٭ مسند احمدج۲ ص۴۲۶ عن ابی ھریرۃ۔
(۲۹) مسلم ج۲ کتاب الامارۃِ باب غلظ تحریم الغلول۔٭ ابنِ جریر ج۳ سورہ آل عمران۔٭ابنِ کثیر ج۱۔
(۳۰) ابوداؤد کتاب الخراج الخ باب فی غلول الصدقۃ۔٭ابنِ کثیر ج۱۔
(۳۱) ابن کثیر ج۳ص۵۵۵ سورہ فاطر بحوالہ مسندِ احمد۔٭ ابنِ جریر سورۂ فاطر ص۹۰۔٭ فتح القدیر للشوکانی ج۴۔ ص۳۵۱،۳۵۲۔ بحوالہ الفریابی، عبد بن حُمَید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الطَبَرانی، ابنِ مردویہ، البیھقی فی البعث عن ابی الدرداء۔
(۳۲) مسندِ احمد ج۶ص۴۴۴ابوالدرداء۔٭المستدرک للحاکم ج۲ص۴۲۶۔
(۳۳) بخاری ج۱کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالٰی واتخذوا ابراھیم خلیلاً۔ ج۲ کتاب التفسیر سورۃ الانبیاء۔ ٭مسنداحمد مرویات ابن عباس۔
(۳۴) مسلم ج۱کتاب الطھارۃ باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیلِ فی الوضوء اور کتاب الفضائل٭صحیحن کے علاوہ اس روایت کو قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ امام مالک نے کتاب الجہاد میں،ترمذی نے ابواب القیامۃ ، ابواب التفسیر سورہ الانبیاء میں ، نسائی نے کتاب الافتتاح، کتاب الحج اور کتاب الجنائز میں۔، ابنِ ماجہ نے کتاب المناسک باب الخطبۃ یوم النّحر باب ۷۶میں اور مسنداحمد نے ج اول ص۳۹،۵۰،۲۳۵،۲۵۳، ۳۸۴، ۴۰۱، ۴۰۶، ۴۰۷،۴۲۵، ۴۳۹،۴۵۳،۴۵۵ پر ج۳ ص۳۸،۱۰۲،۲۸۱پر ج۴ ص۳۹۶پر۔ اور ج۵۔ ص۴۱، ۵۰،۳۱۸،۴۰۰،۴۱۲ پر نقل کیاہے۔
(۳۵) بخاری ج۱کتاب الانبیاء باب قول اللہ عزوجل واذکر فی الکتاب مریم اذانتبذت من اھلھا الخ۔
(۳۶) مسلم ج۱ کتاب الصلاۃ باب حُجَّۃِ مَنْ قَالَ البسملۃ ایۃ من اوّل کل سورۃ سوٰی سورۃ براء ۃ۔
(۳۷) بخاری ج۲ کتاب الحوض، باب قول اللہ انا اعطیناک الکوثر۔
(۳۸) بخای ج۲ کتاب الفتن باب ماجاء فی قول اللہ واتقوا فتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصّۃ۔
(۳۹) بخاری ج۲ کتاب الفتن باب ماجاء فی قول اللہِ واتقوا فتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصّۃ۔
(۴۰) بخاری ج۲ کتاب الحوض باب قول اللہ تعالٰی انا اعطینک الکوثر۔
(۴۱) بخاری ج۲ کتاب الحوض باب قَوْلَ اللّٰہِ اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَر۔
(۴۲) بخاری ج۲ کتاب الحوض باب قول اللہ اِنَّا اعطیناک الکوثرالخ۔
(۴۳) مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم۔
(۴۴) بخاری ج۲ کتاب الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ۔٭مسندِ احمد ج۲ص۵۰۶ عن ابی ھریرۃ۔
(۴۵) بخاری ج۱ ابواب المظالم والقصاص باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل فحلّلھا لہ۔ ٭مسندِ احمد ج۲ص۴۳۵۔ ص۵۰۶ عن ابی ھریرۃ۔ ٭ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ باب ماجاء فی شان الحساب والقصاص۔
(۴۶) ابن جریر ج۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۱۷۵ سورۂ زلزال۔
(۴۷) مسلم ج۲ کتاب الامارۃ باب حرمۃ نساء المجاھدین واثم من خانھم فیھنَّ۔٭نسائی کتاب الجھاد باب من خان غازیاً فی اھلہ۔٭ابوداؤد کتاب الجھاد باب فی حرمۃ نساء المجاھدین علی القاعدین۔ ٭ السنن الکبریٰ بیھقی ج۹۔ کتاب السیر باب ماجاء فی حرمۃ نساء المجاھدین۔ ابوداؤد نے الانصب لہ یوم القیامۃ۔ فقیل لہ ھٰذا قد خلفک فی اھلک فخذ من حسناتہٖ ماشِئتَ فالتفت الینا رسول اللہ ﷺ فقال: ماظنّکم نقل کیاہے۔٭شعب الایمان ج۴ص۳۷۔
(۴۸) مسلم ج۱کتاب الایمان باب الدلیل علی ان من مات علی الکفر لاینفعہ عملہ۔٭مسند احمد ج۶ص۹۳ عن عائشۃ۔٭ ابن جریر ج۲۸؍۳۰جلد ۱۲ سورۃ الزلزال۔
(۴۹) مسنداحمد ج۶ ص۱۲۰۔٭ ابنِ جریر حوالہ مذکور۔
(۵۰) مسلم ج۲ کتاب العلم باب من سنّ سنۃ حسنۃً اوسَیئَۃ ومن دعیٰ الی ھدی اوضلالۃ الخ۔٭ترمذی ابواب العلم باب فی من دعا الی ھدی فاتبع۔٭ مسنداحمد ج۲ص۵۰۵مرویات ابی ھریرۃ۔٭ ابنِ ماجہ المقدمہ باب من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ۔
(۵۱) حوالہ مذکورہ بالا۔
(۵۲) سنن دارمی جزاول باب ماکان علیہ الناس قبل مبعث النبی ﷺ۔
(۵۳) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب من نوقش الحساب عذب۔ ٭مسلم ج۱ کتاب الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ او کلمۃ طیبۃ انھا حجاب من النار۔
(۵۴) نسائی کتاب الزکاۃ باب القلیل فی الصدقۃ۔٭مُسنداحمد ج۴ص۲۶۵۔۳۷۷عدی بن حاتم۔
(۵۵) بخاری ج۲ کتاب الادب باب لاتحقرنَّ جارۃ لجارتھا اور کتاب الھبۃ۔٭مسلم ج۱کتاب الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ ولوبالقلیل الخ۔٭ترمذی ابواب الولاء باب ماجاء فی حَثّ النبی ﷺ علی الھدیۃ۔ وَلاَتَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْبِشِقِّ فِرْسِنِ شَاۃٍ۔٭دارمی کتاب الزّکاۃ باب کراھیۃ رد السائل بغیر شیء۔٭مؤطا امام مالک کتاب الجامع صفۃ النبیؐ۔ ٭دارمی اور موطا نے وَلَوْ کُرَاعَ شَاۃٍ مُحْرَقًا نقل کیاہے (بکری کا بھنا ہوا پایا) ٭مُسندِ احمد ج۲ ص۲۶۴،۳۰۷،۴۳۲،۴۹۳،۵۰۶،ج۴ص۶۴، ج۵ص۳۷۷،ج۶ص۴۳۴۔
(۵۶) دارمی ج۲کتاب الرّقاق باب فی المحقرات۔٭مسنداحمد بن حنبل ج ۶ص۷۰ اور ۱۵۱ مرویات عائشۃ۔ ٭تفسیر ابنِ کثیر ج۴ص۵۴۰۔٭ابنِ ماجہ کتاب الزھد باب ذکرالذنوب۔
(۵۷) مسندِ احمد بن حنبل ج اول مرویات عبداللہ بن مسعود اور تفسیر ابنِ کثیر ج۴ص۵۴۱۔
(۵۸) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب مایتقی من محقّرات الذنوب۔
(۵۹) بخاری ج۲کتاب استتابۃ المعاندین وقتالھم۔ ٭مسلم ج۱کتاب الایمان، باب ھل یؤخذ باعمال الجاھلیۃ۔٭سنن دارمی مقدمہ باب ماکان علیہ النّاس قبل مبعث النبی ﷺ من الجھل والضلالۃ۔ ٭ابنِ ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الذنوب۔٭مسندِ احمد ج۱ روایت عبداللہ بن مسعودص۴۰۹،۴۲۹، ۱۳۱،۴۶۲۔ مسند احمد کی ایک روایت میں قال ناس ہے۔ ایک دوسری روایت میں اتی النبی ﷺ رجل فقال یا رسول اللہ اذا احسنت فی الاسلام الخ ہے۔ ابنِ ماجہ کی روایت میں ہے عن عبداللہ قال قال قلنا یا رسول اللہ الخ۔
(۶۰) مسلم ج۲ کتاب الاشربۃ باب جواز استتباعۃ غیرہ الی دار من یثق برضاہ الخ۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ سورۃ التکاثر۔
(۶۱) مسنداحمد ج۳ص۳۳۸ روایت جابر بن عبداللہ۔٭ محمد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیھقی فی الشعب بحوالہ فتح القدیر ج۵ص۴۹۰۔
(۶۲) ابن جریر ج۲۸؍۳۰ جلد ۱۲ص۱۸۵سورۃ التکاثر۔
(۶۳) ابن کثیر ج۴ سورۃ التکاثر۔
(۶۴) ترمذی ابواب التفسیر سورۃ التکاثر۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ سورۃ التکاثر بحوالہ مسنداحمد فی الزھد، عبد بن حمید، ابن المنذر۔ ابن مردویہ، بیھقی فی الشعب۔
(۶۵) ابن کثیر ج۴ بحوالہ ابن ابی حاتم، ابویعلٰی۔٭ابنِ جریر ج۱۲ پ۳۰ ص۱۸۵٭ مجمع الزوائد ج۱۰ ص۳۱۶۔۳۱۷ عن ابن عباس۔
(۶۶) ابنِ جریر ج۲۸؍۳۰ جلد۱۲سورۃ التکاثر۔٭ابن کثیر ج۴ سورۃ التکاثر۔
(۶۷) مسند احمد ج۵ ص۸۱ روایت ابوعسیب۔٭ابن کثیر ج۴ص۵۴۶۔
(۶۸) ترمذی ابواب التفسیر سورہ الھٰکم التکاثر۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ سورۃ التکاثر بحوالہ ابن ابی شیبہ، ابنِ مردویہ اور بیھقی فی الشعب۔
فصل چہارم:جنت اور اس کی کیفیّات
اہلِ جنت کے لیے اَن دیکھی نعمتیں
۵۱۔قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَعَیْنٌ رَأَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔
’’اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کررکھاہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا، نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکاہے۔‘‘
تشریح : بخاری ، مسلم، ترمذی اور مسنداحمد میں متعدّد طریقوں سے حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے۔ یہی مضمون تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت مغیرہؓ بن شعبہ اور حضرت سہل بن سعد ساعدی نے بھی حضورؐ سے روایت کیاہے، جسے مسلم، احمد، ابنِ جریر اور ترمذی نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیاہے۔ (تفہیم القرآن ج۴، السجدہ، حاشیہ: ۱)
یہ انعامات آخرت میں اُن نیک انسانوں اور جنوں کو عنایت کیے جائیںگے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کی زندگی بسر کی ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کام کیاہے کہ ہمیں ایک روز اپنے رب کے سامنے پیش ہوکر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
(تفہیم القرآن ج۵، الرحمن: موضوع اور مضمون)
تخریج : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ اَسَدٍ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُاللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ھَمَّامٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: قَالَ اللّٰہُ۔ اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِی الصَّالِحِیْنَ مَالاَعَیْنٌ رَأَتْ وَلاَاُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔(۱)
جنت کی مختلف کیفیات اور اس کی بناوٹ
۵۲۔حضرت ابوموسی اشعریؓ سے اُن کے صاحبزادے ابوبکر نے روایت کی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’دوجنتیں سابقین، یا مقربین کے لیے ہوں گی جن کے برتن اور آرائش کی ہرچیز سونے کی ہوگی ، اور دوجنّتیں تابعینیا اصحاب الیمین کے لیے ہوںگی جن کی ہرچیز چاندی کی ہوگی۔ (تفہیم القرآن ج۵ ، الرحمن ،حاشیہ:۴۹)
تشریح :قرآن مجید میںکہیں تو اِس پورے عالم کو جس میں نیک لوگ رکھے جائیں گے جنت کہا گیاہے، گویا کہ وہ پورے کا پورا ایک باغ ہے اور کہیں فرمایا گیاہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات ہوں گے۔ ہرنیک شخص کو اس بڑی جنت میں دو دو جنتیں دی جائیں گی جو اسی کے لیے مخصوص ہوں گی، جس میں اس کے اپنے قصر ہوں گے، جن میں وہ اپنے متعلقین اور خدّام کے ساتھ شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہے گا۔
(تفہیم القرآن ج۵، الرحمن، حاشیہ:۱ ۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَھْلٍ، قَالَ: ثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ حَمَّادٌ لاَ اَعْلَمُہٗ اِلاَّ رَفَعَہٗ، فِیْ قَوْلِہٖ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ، قَالَ جَنَّتَانِ مِنْ ذَھَبٍ لِلْمُقَرَّبِیْنَ اَوْلِلسَّابِقِیْنَ وَجَنَّتَانِ مِنْ وَرَقٍ لِاَصْحَابِ الْیَمِیْنِ۔(۲)
ترجمہ : حضرت حمّاد نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِاور وَمِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتَانِ کی تفسیر بایں الفاظ بیان کی ہے۔ مقربین یا سابقین کے لیے سونے کی دوجنتیں ہوں گی اور چاندی کی دوجنتیں اصحاب الیمین کے لیے ہوںگی۔
البحر المحیط میں ہے:
(۲) قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیُّ: جَنَّۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ لِلسَّابِقِیْنَ وَجَنَّۃٌ مِنْ فِضَّۃٍ لِلتَّابِعِیْنَ۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْعِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ خَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ عَرْضُھَا سِتُّوْنَ مِیْلاً فِیْ کُلِّ زَاوِیَۃٍ مِنْھَا اَھْلٌ، مَایَرَوْنَ الْآخَرِیْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّۃٍ اٰنِیَتُھُمَا وَمَافِیْھِمَا۔ وَجَنَّتَانِ مِنْ کَذَا اٰنِیَتُھُمَا وَمَافِیْھِمَا وَمَا بَیْنَ الْقَوْمِ وَبَیْنَ اَنْ یَنْظُرُوْا اِلٰی رَبِّھِمْ اِلاَّ رِدَائُ الْکِبْرِ عَلٰی وَجْھِہٖ فِیْ جَنَّۃِ عَدْنٍ۔(۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جنت میںکھوکھلے موتی کا ایک خیمہ ہوگا جس کا عرض ساٹھ میل ہوگا۔ اس کے ہرگوشے میں جنتیوں کے اہلِ خانہ ہوں گے جو ایک دوسرے کو نہ دیکھ پائیں گے۔ مومنین ان پر گردش کریں گے۔ اور دوجنتیںچاندی کی ہوں گی ان کے برتن اور ہرچیز چاندی کی بنی ہوئی ہوگی، اور دوجنتیں اسی طرح اور ہوں گی۔ ان کے برتن اور جملہ دیگر چیزیں بھی اسی طرح ہوں گی۔ اور جنت میں لوگوں اور باری تعالیٰ کے مابین اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر کے سوا ،جو ذاتِ اقدس کے رخِ انور پر ہوگی اور کوئی پردہ حائل نہ ہوگا۔
جنت کا محلِّ وقوع
حضرت آدمؑ جس جنت میں رکھے گئے تھے وہ اسی زمین پر تھی۔ مفسرین نے اس سلسلے میں تین مختلف قول اختیار کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جنت آسمان پرتھی، دوسرا یہ کہ وہ زمین پرتھی، تیسرا یہ کہ اس معاملہ میں سکوت ہی بہتر ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ فلاں قول واجب الاذعان اسلامی عقید ہ ہے اور اس کے خلاف کہنے والا قابلِ الزام ہے۔
(رسائل ومسائل چہارم ،اشاعت ا وّ ل، ص :۲۰)
جنت، اہل جنت کے لیے ابدی مقام
۵۳۔ یُقَالُ لِاَھْلِ الْجَنَّۃِ اِنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلاَتَمْرِضُوْا اَبَدًا، وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَعِیْشُوْا فَلاَتَمُوْتُوْا اَبَدًا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَشِبُّوْا وَلاَتَھْرِمُوْا اَبَدًا، وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تُقِیْمُوْا فَلاَتَظْعَنُوْا اَبَدًا۔ (تفسیر ابن کثیر )
’’اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہوگے، کبھی بیمار نہ پڑوگے، اب تم ہمیشہ زندہ رہوگے، کبھی موت تم کو نہ آئے گی۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہوگے، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا۔ اور اب تم ہمیشہ مقیم رہوگے، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۲ ، الحجر، حاشیہ:۹ ۲)
تشریح : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہلِ جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہوگے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہوگے کبھی نہ مروگے، ہمیشہ خوشحال رہوگے کبھی خستہ حال نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہوگے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ (مسلم )
گویا خدا ترس لوگ امن کی جگہ میںہوں گے، امن سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو، کوئی غم کوئی پریشانی، کوئی خطرہ اور کوئی اندیشہ، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف لاحق نہ ہو۔ (تفہیم القرآن ج۴،الدخان، حاشیہ:۰ ۴)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ وَاللَّفْظُ لِاِسْحَاقَ، قَالاَ: اَنَاعَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ، قَالَ الثَّوْرِیُّ، فَحَدَّثَنِیْ اَبُوْاِسْحَاقَ اِنَّ الْاَغَرَّ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:یُنَادِیْ مُنَادٍ اِنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلاَتَسْقَمُوْا اَبَدًا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَحْیُوا فَلاَتَمُوْتُوْا اَبَدًا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَشِبُّوْا فَلاَتَھْرِمُوْا اَبَدًا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَنْعَمُوْا فَلاَتَبْأَسُوْا اَبَدًا فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ عَزَّوَجَلَّ وَنُوْدُوْااَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃَ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔(۴)
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ـــــ وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃَ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ـــــ قَالَ: نُوْدُوْا اَنْ صَحُّوْا فَلاَتَسْقَمُوْا، وَاَنْعِمُوْا فَلاَتَبْأَسُوْا، وَشَبُّوْا فَلاَتَھْرِمُوْا، وَاخْلُدُوْا فَلاَتَمُوْتُوْا۔(۵)
ترجمہ :حضرت ابوسعید خدریؓ اور ابوہریرہؓ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃَ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنی تفسیر میں نبی ﷺ کا ارشاد بیان کیاہے کہ آپؐ نے فرمایا:’’اہل جنت سے کہہ دیاجائے گا کہ تندرست رہوگے کبھی بیمار نہ ہوگے، خوش حال رہوگے خستہ حال نہ ہوگے، جوان رہوگے بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہوگے کبھی نہ مروگے۔ ‘‘
اہلِ جنت کی عمریں کیا ہوں گی؟
۵۴۔ شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا نے حضورؐ سے عرض کیا میرے حق میں جنت کی دعا فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا:’’جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی، وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ ’’اسے بتاؤ، وہ بڑھاپے کی حالت میں داخلِ جنت نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انہیں خاص طورپر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور باکرہ بنادیں گے۔ (تفہیم القرآن ج۵، الواقعہ، حاشیہ: ۱۷)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا الْمُبَارَکُ بْنُ فُضَالَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: اَتَتْ عَجُوْزٌ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یُّدْخِلَنِی الْجَنَّۃَ فَقَالَ:یَا اُمَّ فُلاَنٍ اِنَّ الْجَنَّۃَ لاَتَدْخُلُھَا عَجُوْزٌ۔ قَالَ: فَوَلَّتْ تَبْکِیْ، فَقَالَ: اَخْبِرُوْھَا اِنَّھَا لاَتَدْخُلُھَا وَھِیَ عَجُوْزٌ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: اِنَّا اَنْشَاْنَا ھُنَّ اِنْشَآئَ فَجَعَلْنَا ھُنَّ اَبْکَارًا۔(۶)
ترجمہ : حضرت حسنؓ سے روایت ہے کہ ایک بڑھیا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے استدعا کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمائے۔ آپؐنے جواباً فرمایا: ’’اے فلاںکی ماں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی،‘‘ تو وہ بڑھیا روتی ہوئی واپس ہوگئی۔ آپؐنے حاضرین سے فرمایا: ’’ اس کو بتادو کہ جنت میں وہ بڑھاپے کی حالت میں نہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ہم دنیاکی عورتوں کو ایک نئی اٹھان پر اٹھائیں گے پس ہم ان کو کنواریاں بنادیں گے۔‘‘
۵۵۔قرآن مجید کی سورہ واقعہ کی آیات ۳۵،۳۶ کی تشریح کرتے ہوئے حضورؐ نے فرمایا کہ ’’اس سے مراد دنیا کی وہ نیک عورتیں ہیں جو اپنے ایمان اور عمل صالح کی بناء پر جنت میں جائیں گی۔ خواہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ (اس روایت کو ابن ابی حاتم نے حضرت سلمہ بن یزید سے نقل کیاہے) ۔ (تفہیم القرآن ج۵ ، الواقعہ، حاشیہ:۱۷)
تخریج : قَالَ بْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ الْحِمْصِیُّ، حَدَّثَنَا اٰدَمُ یَعْنِی بْنَ اَبِی اِیَاسٍ، حَدَّثَنَا شَیْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی:’’اِنَّا اَنْشَأْنَا ھُنَّ اِنْشَآئَ‘‘ یَعْنِی الثَّیِّبَ وَالْاِبْکَارَ اللاَّتِیْ کُنَّ فِی الدُّنْیَا۔(۷)
۵۶۔ھُنَّ اللَّوَاتِیْ قُبِضْنَ فِیْ دَارِالدُّنْیَا عَجَائِزَ رَمْصًا شَمْطًا خَلَقَھُنَّ اللّٰہُ بَعْدَالْکِبَرِ فَجَعَلَھُنَّ عَذَارٰی۔
’’یہ طبرانی میں حضرت اُمِّ سلمہ کی ایک طویل روایت ہے جس میں وہ جنت کی عورتوں کے متعلق قرآن مجید کے مختلف مقامات کا مطلب حضورؐسے دریافت فرماتی ہیں۔ اس سلسلے میں حضور کا ایک ارشاد یہ ہے کہ ’’یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا کی زندگی میں مری ہیں، بوڑھی پھونس، آنکھوں میں چیپڑ، سر کے بال سفید، اس بڑھاپے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو پھر سے باکرہ پیدا کردے گا۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۵، الواقعہ، حاشیہ:۱۷)
تخریج : قَالَ اَبُوالْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ، حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ سَھْلٍ الدِّمْیَاتِیُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ھَاشِمٍ اَلْبَیْرُوْتِیْ اَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ اَبِیْ کَرِیْمَۃَ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اُمِّہٖ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی’’حُوْرٌ عِیْنٌ‘‘ قَالَ: حُوْرٌ بَیْضُ عَیْنٍ ضِخَامُ الْعُیُوْنِ شَفْرُ الْحَوْرَائِ بِمَنْزِلَۃِ جَنَاحِ النَّسْرِ، قُلْتُ: اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی ’’کَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ‘‘ قَالَ: صَفَائُ ھُنَّ صَفْائَ الدُّرِّ الَّذِیْ فِی الْاَصْدَافِ الَّذِیْ لَمْ تَمَسَّہُ الْاَیْدِیْ، قُلْتُ: اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِہٖ فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ۔ قَالَ: خَیْرَاتُ الْاَخْلاَقِ حِسَانُ الْوُجُوْہِ قُلْتُ۔ اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِہٖ ’’کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَکْنُوْنٌ‘‘ قَالَ:رِقَّتُھُنَّ کَرِقَّۃِ الْجِلْدِ الَّذِیْ رَأَیْتَ فِیْ دَاخِلِ الْبَیْضَۃِ مِمَّا یَلِی الْقَشْرَ وَھُوَالْغَرْقِیُٔ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِہٖ ’’عُرُبًا اَتْرَابًا‘‘ قَالَ ھُنَّ اللَّوَاتِیْ قُبِضْنَ فِی الدَّارِ الدُّنْیَا عَجَائِزَ رَمْصًا شَمْطًا خَلَقَھُنَّ اللّٰہُ بَعْدَالْکِبَرِ فَجَعَلَھُنَّ عَذَارٰی عُرُبًا مُتَعَشِّقَاتٍ مُحَبِّبَاتٍ اَتْرَابًا عَلٰی مِیْلاَدٍ وَاحَدٍ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ نِسَآئُ الدُّنْیَا اَفْضَلُ اَمِ الْحُوْرِ الْعِیْنِ؟ قَالَ: بَلْ نِسَآئُ الدُّنْیَا اَفْضَلُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ کَفَضْلِ الظَّھَارَۃِ عَلَی الْبِطَانَۃِ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!وَبِمَ ذَاکَ؟ قَالَ:بِصَلاَتِھِنَّ وَصِیَامِھِنَّ وَعِبَادَتِھِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَلْبَسَ اللّٰہُ وُجُوھَھُنَّ النُّوْرَ وَاَجْسَادَھُنَّ الْحَرِیْرَ، بَیْضُ الْاَلْوَانِ خُضْرُ الثِّیَابِ صُفْرُ الْحُلِیِّ مَجَامِرُھُنَّ الدُّرُّ وَاَمْشَاطُھُنَّ الذَّھَبُ یَقُلْنَ :
نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلاَنَمُوْتُ اَبَدًا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلاَنَبْأسُ اَبَدًا۔ وَنَحْنُ الْمُقِیْمَاتُ فَلاَ نَظْعَنُ اَبَدًا۔ وَنَحْنُ الرَّاضِیَاتُ فَلاَنَسْخَطُ اَبَدًا طُوْبٰی لِمَنْ کُنَّا لَہٗ وَکَانَ لَنَا۔
قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْمَرْأَۃُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ زَوْجَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ وَالْاَرْبَعَۃَ ثُمَّ تَمُوْتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ وَیَدْخُلُوْنَ مَعَھَا مَنْ یَکُوْنُ زَوْجُھَا قَالَ: یَا اُمَّ سَلَمَۃَ اِنَّھَا تُخَیَّرُ فَتَخْتَارُ اَحْسَنَھُمْ خُلْقًا فَتَقُوْلُ یَارَبِّ اِنَّ ھٰذَا کَانَ اَحْسَنَ خُلْقًا مَعِیْ فَزَوِّجْنِیْہِ، یَااُمَّ سَلَمَۃَ! ذَھَبَ حُسْنُ الْخُلْقِ بِخَیْرِالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔(۸)
ترجمہ :حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے، میںنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ! مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’حُوْرٌ عِیْنٌ‘‘کے متعلق بتایئے (اس سے کیا مراد ہے؟) آپؐ نے ارشاد فرمایا: اس سے مراد گورے رنگ کی حوریں ہیں جو بڑی بڑی آنکھوں والی اور گہرے سیاہ لمبے لمبے بالوں والی ہیں گویا ان کے بال گدھ کے پر ہیں۔ پھر میں نے عرض کیا حضورؐ مجھے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ’’ کَاَمْثَالِ اللُّؤْ لُؤِ الْمَکْنُوْنِ‘‘ کے بارے میں بتایئے (کہ اس سے کیا مراد ہے؟) آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’اس سے مراد ان کی صفائی اور خوبصورتی ہے جو صدف میں چھپے ہوئے موتی کی سی ہوگی، جسے کسی ہاتھ نے چھوا تک نہ ہو۔‘‘ میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌکے متعلق بتایئے (کہ اس سے کیا مراد ہے؟) آپ نے ارشاد فرمایا:’’کہ اس سے مراد ہے بہترین اخلاق وعادات سے آراستہ اور خوبرو اور حسین وجمیل حوریں۔‘‘ پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ مجھے ارشادِ الٰہی کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَکْنُوْن کا مطلب بتایئے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’ان کے جسم کی نرمی اور نزاکت اس جھلّی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے کے اندر کی جانب ہوتی ہے۔‘‘ پھرمیںنے عرض کیا یا رسولؐ اللہ مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’ عُرُبًا اَتْرَابًا‘‘کا مطلب بتایئے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو دنیا میںاس حالت میں مریں کہ بوڑھی پھونس ہوچکی تھیں۔ آنکھوں میں چیپڑ اور سر کے بال سفید تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں نئے سرے سے کنواریاں، خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بناکر پیدا فرمائے گا‘‘ وہ فرماتی ہیں میں نے حضورؐ سے پوچھا یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: دنیا کی عورتیں افضل ہیں۔ دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔‘‘ میں نے پوچھا کس بناء پر؟ فرمایا: ’’اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو منوّر کردے گا، ان کے جسم پر ریشمی لباس ہوگا۔ گورے چٹّے چہرے ہوں گے۔ سبزپوشاک سے آراستہ ہوں گی۔ سنہری زیور پہنے ہوئے ہوں گی۔ ان کے عود دان موتیوں کے ہوں گے۔ کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ یہ نغمہ وترانہ الاپ رہی ہوں گی:
ہم ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ موت ہم پر کبھی طاری نہ ہوگی۔ ہم نازو نعمت کی پروردہ ہیں۔ کبھی مایوس وپریشان نہ ہوں گی۔ ہم دائماً مقیم ہیں کبھی سفر پر نہ جائیں گی۔ خوش رہنے والیاں ہیں ہم کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔ خوش بخت ہے وہ جس کے لیے ہم ہیں اور وہ ہمارے لیے۔
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں :’’میں نے عرض کیایارسول اللہ! ہم میں سے ایک عورت دنیا میں دو،تین اور چارتک شوہرکرلیتی ہے۔ مرنے کے بعد وہ عورت اور اس کے سب شوہر جنت میں چلے جاتے ہیں تو وہ ان میں سے کس شوہر کو ملے گی۔ حضورؐ فرماتے ہیں:’’اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جسے چاہے چُن لے، اور وہ اس شخص کو چُنے گی جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گی کہ اے رب! اس کا برتاؤ میرے ساتھ سب سے اچھا تھا اس لیے مجھے اسی کی بیوی بنادے۔ اے ام سلمہؓ! حسنِ اخلاق دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لوٹ لے گیاہے۔
۵۷۔ یَدْخُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّـۃَ جُرْدًا مُرْدًا بِیْضًا جِعَادًا مُکَحَّلِیْنَ اَبْنَائُ ثَلاَثٍ وَثَلاَثِیْنَ۔
’’ایک حدیث میں آتاہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے۔ مسیں بھیگ رہی ہوں گی مگر ڈاڑھی نہ نکلی ہوگی۔ گورے چٹّے ہوں گے۔ گٹھے ہوئے بدن ہوں گے۔ آنکھیں سرمگیں ہوں گی سب کی عمریں ۳۳ سال کی ہوں گی۔ (مسند احمد) قریب قریب یہی مضمون ترمذی میں حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوسعیدخدریؓ سے بھی مروی ہے۔ (تفہیم القرآن ج۵،الواقعہ، حاشیہ: ۱۹)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ، اَنَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ:یَدْخُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ جُرْدًا مُرْدًا بِیْضًا جِعَادًا مُکَحَّلِیْنَ اَبْنَائُ ثَلاَثٍ وَثَلاَثِیْنَ عَلٰی خَلْقِ آدَمَ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا فِیْ عَرْضٍ سَبْعُ اَذْرُعَ۔(۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’اہل جنت جب جنت میںداخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے، مَسیں بھیگ رہی ہوںگی مگر ڈاڑھی نہ نکلی ہوگی، گورے چٹے ہوں گے، گٹھے ہوئے بدن ہوں گے، آنکھیں سرمگیں ہوںگی۔ سب کی عمریں۳۳ سال کی ہوں گی۔ اور سب کا جسم حضرت آدمؑ کی ساختِ جسم کی طرح ساٹھ ہاتھ لمبا اور سات ہاتھ چوڑا ہوگا۔‘‘
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْھُرَیْرَۃَ، مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسِ الْبَصَرِیُّ، نَااَبُوْدَاوٗدَ، نَاعِمْرَانُ اَبُوالْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ شَھْرِ بْنِ حَوْشِبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ یَدْخُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ جُرْدًا مُرْدًا مُکَحَّلِیْنَ اَبْنَائُ ثَلاَثِیْنَ اَوْثَلاَثٍ وَثَلاَثِیْنَ سَنَۃً۔(۱۰)
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاَبُوْھِشَامٍ الرِّفَاعِیُّ، قَالاَ: نَامُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَامِرِنِ الْاَحْوَلِ، عَنْ شَھْرِ بْنِ حُوْشِبٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَھْلُ الْجَنَّۃِ جُرْدٌ مُرْدٌ کَحْلٰی لاَیَفْنٰی شَبَابُھُمْ وَلاَتُبْلٰی ثِیَابُھُمْ۔(۱۱) (ھٰذا حدیث غریب)
(۴)حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، نَاعَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ مَھْدِیٍّ، نَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:مَنْ یَّدْخُلِ الْجَنَّۃَ یَنْعَمْ وَلاَیَبْأسْ لاَتَبْلٰی ثِیَابُھُمْ وَلاَیَفْنٰی شَبَابُھُمْ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے بیان کرتے ہیں جو جنت میںداخل ہوگیا عیش وتنعم میں رہے گا۔ مایوس وپریشان نہ ہوگا۔ ان کا لباس کبھی بوسیدہ وپرانا نہ ہوگا اور نہ ان کا شباب فنا ہوگا۔
(۵) وَقَالَ اَبُوْبَکْرِ ابْنُ اَبِیْ دَاوٗدَ: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالاَ: حَدَّثَنَاعَنِ الْاَوْزَاعِیِّ عَنْ ھَارُوْنَ بْنِ ذِئَابٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یُبْعَثُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ عَلٰی صُوْرَۃِ آدَمَ فِیْ مِیْلاَدِ عِیْسٰی ثَلاَثٌ وَثَلاَثِیْنَ جُرْدًا مُرْدًا مُکَحَّلِیْنَ ثُمَّ یَذْھَبُ بِھِمْ اِلٰی شَجَرَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ فَیُکْسَوْنَ مِنْھَا لاَتَبْلٰی ثِیَابُھُمْ وَلاَیَفْنٰی شَبَابُھُمْ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اہلِ جنت کو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی صورت پر اٹھائے گا۔ سب حضرت عیسیؑ کی عمر یعنی ۳۳برس کے ہوں گے۔ جسم پر بال نہیں ہوں گے۔ مسّیں بھیگ رہی ہوں گی مگر ڈاڑھی نہیں نکلی ہوگی۔ آنکھیں سرمگیں ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایک درخت کی طرف لے جائے گا۔ اس سے انہیں لباس پہنایا جائے گا جو کبھی بوسیدہ اور پرانا نہ ہوگا اور جوانی وشباب ایسا کہ کبھی فنا نہ ہوگا۔‘‘
حوران جنت اور خواتینِ دنیا
۵۸۔ حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟ حضورؐ نے جواب دیا، دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کس بنا پر؟ فرمایا اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔ (طبرانی)
تشریح :اہل جنت کی بیویاں تو وہ خواتین ہوں گی جو دنیا میں ایمان لائیں، اور اعمال صالحہ کرتی ہوئی دنیا سے رخصت ہوئیں۔ یہ اپنے ایمان وحسن عمل کے نتیجے میں داخلِ جنت ہوں گی اور بذاتِ خود جنت کی نعمتوں کی مستحق ہوں گی۔ یہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق یا تو اپنے سابق شوہروں کی بیویاں بنیں گی اگر وہ بھی جنتی ہوں، یا پھر اللہ تعالیٰ کسی دوسرے جنتی سے ان کو بیاہ دے گا جب کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی رفاقت پسند کریں۔ رہیں حوریں، تو وہ اپنے کسی حسنِ عمل کے نتیجے میں خود اپنے استحقاق کی بنا پر جنتی نہیں بنیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح انہیں بھی اہلِ جنت کے لیے ایک نعمت کے طورپر جوان اور حسین وجمیل عورتوں کی شکل دے کر جنتیوں کو عطا کردے گا تاکہ وہ ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن بہرحال یہ جنّ وپَری کی قسم کی مخلوق نہ ہوں گی، کیونکہ انسان کبھی صحبتِ ناجنس سے مانوس نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اغلب یہ ہے کہ یہ وہ معصوم لڑکیاں ہوں گی جو نابالغی کی حالت میں فوت ہوگئیں اور اُن کے والدین جنت کے مستحق نہ ہوئے کہ وہ ان کی ذرّیت کی حیثیت سے جنت میں ان کے ساتھ رکھی جائیں۔) حدیث نمبر ۵۶کے تحت تخریج آچکی ہے۔ ( (تفہیم القرآن ج۵، الرحمن، حاشیہ: ۵۱)
تخریج:(۱) قَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ، قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! نِسَآئُ الدُّنْیَا اَفْضَلُ اَمِ الْحُوْرُالْعِیْنُ؟ قَالَ: نِسَآئُ الدُّنْیَا اَفْضَلُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ کَفَضْلِ الظَّھَارَۃِ عَلَی الْبِطَانَۃِ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَبِمَ ذٰلِکَ؟ قَالَ بِصَلاَتِھِنَّ وَصِیَامِھِنَّ وَعِبَادَتِھِنَّ اَلْبَسَ اللّٰہُ وُجُوْھَھُنَّ النُّوْرَ، وَاَجْسَادَھُنَّ الْحَرِیْرَ، بیْضُ الْوُجُوْہِ، خُضْرُ الثِّیَابِ، صُفْرُ الْحُلِیِّ، مَجَامِرُھُنَّ الدُّرُّ وَاَمْشَاطُھُنَّ الذَّھَبُ یَقُلْنَ:
اَلاَنَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلاَنَمُوْتُ اَبَدًا اَلاَوَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلاَنَبْأَسُ اَبَدًا طُوْبٰی لِمَنْ کُنَّا لَہٗ وَکَانَ لَنَا الخ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ام سلمہ سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں’’میںنے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، یارسول اللہؐ! دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟ حضورؐ نے جواب دیا، ’’دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔ میںنے پوچھا کس بناء پر؟ فرمایا:’’اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے چہروں پر نور کا لباس پہنادے گا۔ ان کے جسموں پر ریشمی لباس ہوگا، گورے چٹّے چہرے ہوں گے، سبز پوشاک ہوگی اور سنہری زیور،ان کے عود دان موتی کے ہوں گے کنگھیاں سونے کی، اور ان کا ترانہ یہ ہوگا:
سن لوکہ! ہم ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں، موت ہم پر کبھی طاری نہ ہوگی، ہم نازونعمت کی پروردہ ہیں، کبھی مایوس وپریشان نہ ہوں گی، خوش بخت ہے وہ جس کے لیے ہم ہیں اور وہ ہمارے لیے۔
(۲) حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ وَاَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، قَالاَ: نَااَبُوْمُعَاوِیَۃَ، نَاعَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ اِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُوْرِ الْعِیْنِ یَرْفَعْنَ بِاَصْوَاتٍ لَمْ یَسْمَعِ الْخَلاَئِقُ مِثْلَھَا یَقُلْنَ:
نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلاَنَبِیْدُ (نَھْلِکُ) وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلاَنَبْأَسُ وَنَحْنُ الرَّاضِیَاتُ فَلاَنَسْخَطُ طُوْبٰی لِمَنْ کَانَ لَنَا وَکُنَّا لَہٗ۔(۱۵)
وفی الباب عن ابی ھریرۃ وَاَبی سعید وانس حدیث علیّ حدیث غریب۔
ترجمہ : حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جنت میں حورِ عین کے لیے ایک اجتماع گاہ ہوگی جہاں وہ بلند آواز سے ایسے ترانے اور نغمے الاپ رہی ہوں گی کہ مخلوقات میں سے کسی نے ایسے نغمات نہ سنے ہوں گے۔ نغمہ سرائی ان الفاظ میں کررہی ہوںگی:
ہم ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہیں، کبھی ہلاک نہ ہوں گی۔ ہم عیش وتنعم کی پروردہ ہیں کبھی مایوس وپشیمان نہ ہوںگی۔ ہم راضی رہنے والی ہیںکبھی ناراض نہ ہوں گی۔ خوش بختی ہے اس شخص کے لیے جو ہمارے لیے اور ہم اس کے لیے ہیں۔
دنیا کی نیک خواتین کا جنت میں مقام
۵۹۔اِنَّھَا تُخَیَّرُ فَتَخْتَارُ اَحْسَنَھُمْ خُلُقًا فَتَقُوْلُ یَارَبِّ اِنَّ ھٰذَا کَانَ اَحْسَنَ خُلُقًا مَعِیْ فَزَوِّجْنِیْھَا، یَااُمَّ سَلَمَۃَ، ذَھَبَ حُسْنُ الْخُلْقِ بِخَیْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔؎۱
’’ حضرت اُمّ سلمہؓ نے حضورؐ سے پوچھا کہ اگرکسی عورت کے دنیا میں کئی شوہر رہ چکے ہوں اور وہ سب جنت میں جائیں تووہ ان میں سے کس کو ملے گی؟ حضورؐ فرماتے ہیں’’اس کو اختیار دیاجائے گاکہ وہ جسے چاہے چُن لے، اور وہ اس شخص کو چنے گی جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کاتھا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گی کہ اے رب! اس کا برتاؤ میرے ساتھ سب سے اچھا تھا اس لیے مجھے اسی کی بیوی بنادے۔ اے اُمّ سلمہؓ !حسنِ اخلاق دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لوٹ لے گیاہے۔‘‘
تشریح :گویا کہ دنیا کی وہ نیک خواتین جو اپنے ایمان وعمل صالح کی بنا پر جنت میں جائیں گی،اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنادے گا، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں۔ نہایت خوبصورت بنادے گا۔ خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں۔ باکرہ بنادے گا، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہوکر۔ ان کے شوہر بھی اگر ان کے ساتھ جنت میں پہنچیں گے تو وہ ان سے ملادی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جنتی سے بیاہ دے گا۔ (تفہیم القرآن ج۵، الواقعہ، حاشیہ:۱۷)
جنت کی حوریں
۶۰۔ حضرت اُمِّ سلمہؓ نبی ﷺ سے (روایت کرتے ہوئے) فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت (الصّٰفّٰت :۹۴) کا مطلب حضورؐ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایاکہ:’’ ان کی نرمی ونزاکت اس جھلّی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے۔‘‘ (ابنِ جریر)
تشریح : یہ حدیث سورۃ الصّٰفّٰت کی آیت نمبر۹ ۴ کی تفسیر میں ہے۔ آیت میں فرمانِ ربّانی ہے۔ ’’جنت میں نیک لوگوں کے پاس نگاہیں بچانے والی، خوب صورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی، ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلّی۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۴ ، الصافات، ترجمہ آیت:۴۸ ،۴۹)
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ وَھْبٍ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرْجِ الصَّدَفِیُّ الدِّمْیَاطِیُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ھَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ کَرِیْمَۃَ، عَنْ ھِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ اُمِّہٖ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِہٖ کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ، قَالَ:رِقَّتُھُنَّ کَرِقَّۃِ الْجِلْدَۃِ الَّتِیْ رَأَیْتَھَا فِیْ دَاخِلِ الْبَیْضَۃِ الَّتِیْ تَلِیَ الْقَشْرَ وَھِیَ الْغَرْقِیئُ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت امِ سلمہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! آیت کانھن بیض مکنون کاکیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ان کی جلد ایسی نرم باریک لطیف ہوگی جیسے انڈے کی اندرونی جھلّی ہوتی ہے۔‘‘
جنت کا شہد
۶۱۔وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا ہوا شہد نہ ہوگا۔
تشریح : قرآن میں فرمان ربّانی ہے کہ جنت میں نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفّاف شہدکی۔ یہ حدیث اس کی تشریح ہے یعنی وہ بھی چشموں سے نکلے گا اور نہروں میں بہے گا۔ اسی لیے اس کے اندر موم اور چھتّے کے ٹکڑے اور مری ہوئی مکھیوں کی ٹانگیں ملی ہوئی نہ ہوں گی بلکہ وہ خالص شہد ہوگا۔ (تفہیم القرآن ج۵،محمد، حاشیہ:۳ ۲)
تخریج:(۱) قَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ اِنَّہٗ لَمْ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ فَرَثٍ وَدَمٍ وَاِنَّ خَمْرَھَا لَمْ تَدُسَّھَا الرِّجَالُ بِاَرْجُلِھَا۔ وَاِنَّ عَسَلَھَا لَمْ یَخْرُجْ مِنْ بُطُوْنِ النَّحْلِ۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں جنت کا دودھ گوبر اور خون کے بیچ میں سے نکلا ہوا نہیں ہوگا اور جنت کی شراب کو مردوں نے اپنے پاؤں سے پائمال کرکے تیار نہیں کیاہوگا، اور جنت کا شہد مکھیوں کے پیٹ سے نکلا ہوا نہ ہوگا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَایَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، نَاالْجُرَیْرِیُّ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَحْرَ الْمَآئِ وَبَحْرَالْعَسَلِ وَبَحْرَاللَّبَنِ وَبَحْرَالْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْاَنْھَارُ۔(۱۸)
ھذا حدیث حسن صحیح۔
ترجمہ : حضرت حکیم اپنے والد معاویہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے دریا بہہ رہے ہیں پھر ان سے نہریں نکالی گئی ہیں۔
(۳) قَالَ الْحَافِظُ اَبُوالْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ:حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ وَعَبْدُاللّٰہِ ابْنُ الصَّفَرالسَّکَرِیُّ، قَالاَ:حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُرَاسَانِیُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ،حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ دَلْھَمٍ، عَنِ الْاَسْوَدِ، قَالَ دَلْھَمٌ: وَحَدَّثَنِیْہِ اَیْضًا اَبُوالْاَسْوَدِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ لَقِیْطٍ، قَالَ:اِنَّ لَقِیْطَ بْنَ عَامِرٍ خَرَجَ وَافِدًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَاتُطْلِعُ مِنَ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ ﷺ: عَلٰی اَنْھَارِ عَسَلٍ مُصَفّٰی، وَاَنْھَارٍ مِّنْ خَمْرٍ مَابِھَا صُدَاعٌ وَلاَنَدَامَۃٌ، وَاَنْھَارٍ مِنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَمَآئٍ غَیْرِاٰسِنٍ وَفَاکِھَۃٍ الخ ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت عاصم بن لقیطؓ بیان کرتے ہیں کہ لقیط بن عامر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہؐ! جنت کی کس چیز پر آپ مطلع فرماتے ہیں؟ فرمایا:’’شہد خالص کی نہروں پر، شرابِ طہور کی نہروں پر جس میں سرگرانی اور پشیمانی نہیں ہوگی اور دودھ کی نہریں ہوں گی، جس کا ذائقہ متغیّر نہیں ہوگا اور صاف ستھرے پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کسی قسم کی بو نہ ہوگی اور پھل اور میوے ہوں گے۔
مشرکین کے بچّے جنتیوں کے خادم
۶۲۔ ابوداؤد طیالسی، طبرانی اور بزّار نے حضرت انسؓ اور حضرت سمرہؓ بن جندب سے نقل کیاہے کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’مشرکین کے بچے اہلِ جنت کے خادم ہوں گے۔‘‘
تشریح : یہ خادم اہلِ دنیا کے وہ بچّے ہوں گے جوبالغ ہونے سے پہلے مرگئے، اس لیے نہ ان کی کچھ نیکیاں ہوں گی کہ ان کی جزا پائیں اور نہ بدیاں ہوں گی کہ ان کی سزا پائیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد صرف وہی اہلِ دنیا ہوسکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو۔ رہے مومنین صالحین، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی ذرّیّت ان کے ساتھ جنت میں لاملائی جائے گی(الطور:۲۱)۔ (تفہیم القرآن ج۵،الواقعہ، حاشیہ: ۹)
اس کی مزید تفصیل حضرت انس اور حضرت سمرہ بن جندبؓ کی ان روایات میں ملتی ہیں جو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کی ہیں۔ یہ روایات اگرچہ سنداً ضعیف ہیں، لیکن متعدد دوسری احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ جو بچّے سنِ رشد کو نہیں پہنچے ہیں وہ جنت میں جائیں گے پھر یہ بھی احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ جن بچّوں کے والدین جنتی ہوں گے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہیں گے تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اس کے بعد لامحالہ وہ بچّے رہ جاتے ہیں جن کے ماں باپ جنتی نہ ہوں گے۔ سو اُن کے متعلّق یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے کہ وہ اہلِ جنت کے خادم بنادیے جائیں ( اس کے متعلق تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری اور عمدۃ القاری کتاب الجنائز باب ماقیل فی اولاد المشرکین۔ (رسائل ومسائل سوم ،ص: ۱۷۷ تا۱۸۷)
قرآن میں ان بچّوں کے متعلق متعدد مقامات پر ذکر آیاہے:
وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُؤْلُوئٌ مَّکْنُوْنٌ۔(الطور :۲۴)
’’اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ان کے خادم لڑکے، ایسے خوبصورت جیسے صدف میں چھپے ہوئے موتی۔ ‘‘
وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ اِذَا رَأَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُؤْ لُؤًا مَّنْثُوْرًا۔
’’اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہنے والے ہیں۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی بکھیردیے گئے ہیں۔‘‘(الدہر: ۱۹) (تفہیم القرآن ج۴، الصافات ،حاشیہ:۶ ۲)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوْدَاوٗدَ قَالَ:حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ عَنْ یَزِیْدَ، قَالَ: قُلْنَا لِاَنَسٍ:یَااَبَا حَمْزَۃَ مَاتَقُوْلُ فِیْ اَطْفَالِ الْمُشْرِکِیْنَ؟ فَقَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَمْ تَکُنْ لَھُمْ سَیِّئَاتٌ فَیُعَاقَبُوْا بِھَا فَیَکُوْنُوْا مِنْ اَھْلِ النَّارِ وَلَمْ تَکُنْ لَھُمْ حَسَنَاتٌ فَیُجَازُوْا بِھَا فَیَکُوْنُوْا مِنْ مُلُوْکِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ھُمْ خُدَمُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت یزید کہتے ہیں ہم نے حضرت انسؓ سے عرض کیا اے ابوحمزہ! مشرکین کے بچوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’ان کے اعمال نامے میں برائیاں تو ہیں نہیں کہ ان کے مطابق سزادی جائے اور وہ جہنمی قرار پائیں اور نہ ان کی بھلائیاں اور نیک اعمال ہیں کہ ان سے درگزر کردیاجائے اور وہ اہلِ جنت کے سرداروں میں سے ہوجائیں۔ وہ تو اہلِ جنت کے خادم ہوں گے۔‘‘
(۲) وَرُوِیَ ھٰذَا عَنْ اَمِیْرِ الْمُوْمِنِیْنَ عَلِیٍّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ وَاشْتَھَرَ
اَنَّہٗ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ قَالَ: اَوْلاَدُ الْکُفَّارِ خَدَمُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔(۲۱)
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مُکَرَّمِ نِالضَّبِیُّ، ثَنَا عِیْسَی بْنُ شُعَیْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِیْ رَجَائِ، عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَطْفَالِ الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ: ھُمْ خَدَمُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔(۲۲)
ترجمہ :نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’کفار کی اولاد جنتیوں کی خادم ہوگی۔‘‘
(۴) اِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ اَوْلاَدَ الْمُشْرِکِیْنَ فَاَعْطَانِیْھِمْ خَدَمًا لِاَھْلِ الْجَنَّۃِ۔(۲۳)
ترجمہ :نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میں نے اپنے رب سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورِ اہلِ جنت کے خادم مجھے عطافرمادیا۔‘‘
جنت میں بے داغ لوگ داخل ہوںگے
۶۳۔ دنیا کی زندگی میں نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں، بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں رہی ہوں تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی۔ ان کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں گے۔ وہ مخلص دوستوں کی حیثیت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ اُن میں سے کسی کو یہ دیکھ کر تکلیف نہ ہوگی کہ فلاں جو میرا مخالف تھا اور فلاں جو مجھ سے لڑا تھا اور فلاں جس نے مجھ پر تنقید کی تھی، آج وہ بھی اس ضیافت میں میرے ساتھ شریک ہے۔ اسی کے بارے میں حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ میرے اور عثمانؓ اور طلحہؓ اور زبیرؓ کے درمیان بھی صفائی کرادے گا۔
اگر اس کو ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ صالح انسانوں کے دامن پر اس دنیا کی زندگی میں جو داغ لگ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان داغوں سمیت انہیں جنت میں نہ لے جائے گا بلکہ وہاں داخل کرنے سے پہلے اپنے فضل سے انہیں پاک صاف کردے گا اور وہ بے داغ زندگی لیے ہوئے وہاںجائیں گے۔ (تفہیم القرآن ج۲، الاعراف، حاشیہ: ۳۲)
تخریج : وَقَالَ قَتَادَۃُ: قَالَ عَلِیؓ: اِنِّیْ لَاَرْجُوْاَنْ اَکُوْنَ اَنَاوَعُثْمَانُ وَطَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ مِنَ الَّذِیْنَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیْھِمْ وَنَزَعْنَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ۔(۲۴)
کیاجنت میںداخلہ عمل کی بنیاد پر ہوگا؟
۶۴۔ اِعْلَمُوْا اَنَّ اَحَدَکُمْ لَنْ یُّدْخِلَہٗ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپؐ بھی؟ فرمایا ہاں میں بھی اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَدَّنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ’’حضورؐ نے فرمایا:خوب جان لو کہ تم محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ پہنچ جاؤگے۔ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا آپؐ بھی؟ فرمایا :’’ہاں میں بھی، اِلاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔‘‘
تشریح : یہ ایک نہایت لطیف معاملہ ہے جووہاں پیش آئے گا۔ اہلِ جنت اس بات پر نہ پھولیں گے کہ ہم نے کام ہی ایسے کیے تھے جن پر ہمیں جنت ملنی چاہیے تھی بلکہ وہ خدا کی حمد وثنا اور شکرو احسان مندی میں رطب اللسان ہوں گے اور کہیں گے کہ یہ سب ہمارے رب کا فضل ہے ورنہ ہم کس لائق تھے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ ان پر اپنا احسان نہ جتائے گا بلکہ جواب میں ارشاد فرمائے گا کہ تم نے یہ درجہ اپنی خدمات کے صلے میں پایاہے، یہ تمہاری اپنی محنت کی کمائی ہے جو تمہیں دی جارہی ہے، یہ بھیک کے ٹکڑے نہیں ہیں بلکہ تمہاری سعی کا اجر ہے، تمہارے کام کی مزدوری ہے، اور وہ باعزت روزی ہے جس کا استحقاق تم نے اپنی قوتِ بازو سے اپنے لیے حاصل کیاہے۔ (تفہیم القرآن ج۲ ، الاعراف، حاشیہ: ۳۳)
درحقیقت یہی معاملہ دنیا میں بھی خدا اور اس کے نیک بندوں کے درمیان ہے۔ ظالموں کو جو نعمت دنیا میں ملتی ہے وہ اس پر فخر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ہماری قابلیت اور سعی وکوشش کا نتیجہ ہے، اور اسی بنا پر وہ ہرنعمت کے حصول پر اور زیادہ متکبّر اور مفسدبنتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس صالحین کو جو نعمت بھی ملتی ہے وہ اسے خدا کا فضل سمجھتے ہیں، شکر بجالاتے ہیں، جتنے نوازے جاتے ہیں اتنے ہی زیادہ متواضع اور رخیم وشفیق اور فیّاض ہوجاتے ہیں۔ پھر آخرت کے بارے میں بھی وہ اپنے حسنِ عمل پر غرور نہیں کرتے کہ ہم تو یقینا بخشے ہی جائیں گے بلکہ اپنی کوتاہیوں پر استغفار کرتے ہیں، اپنے عمل کی بجائے خداکے رحم اور فضل سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ ڈرتے ہی رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے حساب میں لینے کے بجائے کچھ دیناہی نہ نکل آئے۔ (تفہیم القرآن ج۲، الاعراف، حاشیہ: ۳۳)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اٰدَمُ، قَالَ حَدَّثَنِیْ ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ سَعِیْدِ نِالْمَقْبُرِیِّ۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَنْ یُنْجِیَ اَحَدًا مِّنْکُمْ عَمَلُہٗ، قَالُوْا:وَلاَاَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ:وَلاَاَنَا اِلاَّاَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ۔سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَغَدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَیْئٌ مِنَ الدُّلْجَۃِ وَالْقَصْدَ وَالْقَصْدَ تَبْلُغُوْا۔(۲۵)
مسلم کی روایت میں سَدِّدُوْا تک ہے۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات نہیں دلاسکے گا۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ! کیا آپؐ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔ فرمایا:’’ہاں! میں بھی محض اپنے عمل کی بدولت نجات نہیں پاسکوںگا جب تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک نہ لے۔‘‘ پھر فرمایا کہ : ’’ سیدھے سیدھے اور قریب قریب چلو یعنی افراط وتفریط سے بچنے کی کوشش کرو۔ صبح وشام بلکہ رات کا کچھ حصّہ بھی عمل میں بسر کرو۔ میانہ روی اور اعتدال کی روش اختیار کرو، منزلِ مقصود پر پہنچ جاؤگے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاَبْشِرُوْا فَاِنَّہٗ لاَیُدْخِلُ اَحَدًا الْجَنَّۃَ عَمَلُہٗ قَالُوْا: وَلاَاَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلاَاَنَا اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ۔(۲۶)
ترجمہ :حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:’’سیدھے سیدھے رہو اور قریب قریب رہو اور لوگوں کو خوشخبری دو۔ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل جنت میںنہیں پہنچائے گا۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا آپؐ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا؟ فرمایا ’’ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلاجاؤں گا۔جب تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانک نہ لے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاعْلَمُوْا اَنْ لَّنْ یُدْخِلَ اَحَدَکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ الخ ۔(۲۷)
ایک روایت میں لن ینجیء احدا منکم عملہ بھی مروی ہے۔ (۲۸)
ترجمہ :حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کہ سیدھے سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان لوکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں کبھی نہیں پہنچائے گاالخ۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی، نَاابْنُ عَدِیٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَیْسَ اَحَدٌ مِنْکُمْ یُنْجِیْہِ عَمَلُہٗ، قَالُوْا: وَمَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ وَلاَ اَنَا اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ الخ۔
(۵) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، نَااَبُوْعُبَّادٍ، نَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، نَا ابْنُ شِھَابٍ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدٍ مَوْلٰی عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، لَنْ یُّدْخِلَ اَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ، قَالُوْا: وَلاَ اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلاَ اَنَا اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَۃٍ۔
(۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، نَااَبِیْ، نَااَلْاَعْمَشُ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّہٗ لَنْ یَنْجُوْا اَحَدٌ مِنْکُمْ بِعَمَلِہٖ قَالُوا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَلاَاَنْتَ؟ قَالَ:وَلاَاَنَا اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَفَضْلٍ۔(۲۹)
(۷) حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْعُبَیْدٍ مَوْلٰی عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لَنْ یُّدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ، قَالُوْا: وَلاَاَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلاَاَنَا اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَۃٍ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَلاَیَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَزْدَادَ خَیْرًا وَاِمَّا مُسِیِّئًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یُّسْتَعْتَبَ۔(۳۰)
عالمِ آخرت میں قوائے انسانی
عالم آخرت میں انسان کی قوتوں کا پیمانہ وسیع ہوجائے گا۔وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ جنت اور دوزخ اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیںگے۔ وہاں آواز اور سماعت بھی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوگی کہ ان مختلف دنیاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے بہ آسانی گفت وشنید کرسکیں گے۔ ایسے بیانات جو عالمِ آخرت کے متعلّق ہمیں قرآن میں ملتے ہیں، اس بات کا تصوّر دلانے کے لیے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبیعی سے بالکل مختلف ہوںگے، اگرچہ ہماری شخصیتیں یہی رہیں گی جو یہاں ہیں۔ جن لوگوں کے دماغ اس عالمِ طبیعی کے حدود میں اس قدر مقیّد ہیں کہ موجودہ زندگی اور اس کے مختصر پیمانوں سے وسیع تر کسی چیز کا تصوّر ان میں نہیں سماسکتا۔ وہ قرآن اور حدیث کے ان بیانات کو بڑے اچنبھے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بسا اوقات ان کا مذاق اڑا کر اپنی خفیف العقلی کا مزید ثبوت بھی دینے لگتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بے چاروں کا دماغ جتنا تنگ ہے زندگی کے امکانات اتنے تنگ نہیں ہیں۔
(تفہیم القرآن ج۲، الاعراف، حاشیہ: ۳۵)
آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہوگی؟ جنت میں بیٹھا ہوا ایک آدمی ( جب چاہے گا) کسی ٹیلی ویژن کے آلے کے بغیر بس یونہی جھک کر ایک ایک ایسے شخص کو دیکھ لے گا جو اس سے نہ معلوم کتنے ہزار میل کے فاصلے پر جہنم میں مبتلائے عذاب ہوگا۔ پھر یہی نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، بلکہ ان کے درمیان کسی ٹیلی فون یا ریڈیو کے توسّط کے بغیر براہ راست کلام بھی ہوتاہے۔ وہ اتنے طویل فاصلے سے بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج۴ ، الصافات، حاشیہ: ۳۲)
جو بوؤگے سو کاٹوگے
۶۵۔اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْآخِرَۃِ۔
’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔‘‘
تشریح :دنیا اور آخرت دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلہ ہے جس کی ابتدا دنیا ہے اور انتہا آخرت ہے۔ اور دونوں میں وہی تعلّق ہے جو کھیتی اور فصل میں ہوتاہے۔ آپ زمین میں ہل جوتتے ہیں، پھر بیج بوتے ہیں، پھر پانی دیتے ہیں، پھر کھیتی کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ فصل تیار ہوجاتی ہے، اور اس کو کاٹ کر آپ سال بھر تک مزے سے کھاتے رہتے ہیں۔ آپ زمین میں جس چیز کی کاشت کریں گے، اسی کی فصل تیار ہوگی۔ گیہوں بوئیں گے تو گیہوں پیدا ہوگا۔ کانٹے بوئیں گے تو کانٹے پیدا ہوں گے۔ کچھ نہ بوئیں گے تو کچھ نہ پیدا ہوگا۔ ہل چلانے اور بیج بونے اور پانی دینے اور کھیتی کی رکھوالی کرنے میں جو جو غلطیاں اور کوتاہیاں آپ سے ہوں گی اُن سب کا بُرا اثر آپ کو فصل کاٹنے کے موقع پر معلوم ہوگا۔ اور اگر آپ نے یہ سب کام اچھی طرح کیے ہیں تو ان کا فائدہ بھی آپ فصل ہی کاٹنے کے وقت دیکھیں گے۔ بالکل یہی حال دنیا اور آخرت کا ہے۔ دنیا ایک کھیتی ہے۔اس کھیتی میں آدمی کو اس لیے بھیجاگیاہے کہ اپنی محنت اور اپنی کوشش سے اپنے لیے فصل تیار کرے۔ پیدایش سے لے کر موت تک کے لیے آدمی کو اس کام کی مہلت دی گئی ہے۔ اس مہلت میں جیسی فصل آدمی نے تیار کی ہے ویسی ہی فصل وہ موت کے بعد دوسری زندگی میں کاٹے گا۔ اور پھر جو فصل وہ کاٹے گا اسی پر آخرت کی زندگی میں اس کا گزر بسر ہوگا۔ اگر کسی نے عمر بھر دنیا کی کھیتی میں اچھے پھل بوئے ہیں اور اُن کو خوب پانی دیاہے اور ان کی خوب رکھوالی کی ہے، تو آخرت کی زندگی میں جب وہ قدم رکھے گا، تو اپنی محنت کی کمائی ایک سرسبزو شاداب باغ کی صورت میں تیار پائے گا۔ اور اسے اپنی اُس دوسری زندگی میں پھر کوئی محنت نہ کرنی پڑے گی، بلکہ دنیا میں عمر بھر محنت کرکے جو باغ اس نے لگایا تھا، اسی باغ کے پھلوں پر وہ آرام سے زندگی بسر کرے گا۔ اسی چیز کا نام جنت ہے اور آخرت میں بامراد ہونے کا یہی مطلب ہے۔ اس کے مقابلے میں جو شخص اپنی دنیا کی زندگی میں کانٹے اور کڑوے کسیلے، زہریلے پھل بوتارہاہے آخرت کی زندگی میں انہی کی فصل اسے تیار ملے گی۔ وہاں پھر اس کو دوبارہ اتنا موقع نہیں ملے گا کہ اپنی اس حماقت کی تلافی کرسکے اور اس خراب فصل کو جلا کر دوسری اچھی فصل تیار کرسکے۔ پھر تو اس کو آخرت کی ساری زندگی اسی فصل پر بسر کرنی ہوگی جسے وہ دنیا میں تیار کرچکا ہے۔ جو کانٹے اس نے بوئے تھے انہی کے بستر پر اسے لیٹنا ہوگا اور جو کڑوے کسیلے زہریلے پھل اس نے لگائے تھے، وہی اس کو کھانے پڑیں گے۔ یہی مطلب ہے آخرت میں ناکام ونامراد ہونے کا۔
آخرت کی یہ شرح جو بیان کی گئی ہے، حدیث اور قرآن سے یہی شرح ثابت ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ آخرت کی زندگی میں انسان کا نامراد یا بامراد ہونا اور اس کے انجام کا اچھا یا برا ہونا دراصل نتیجہ ہے دنیا کی زندگی میں اس کے علم اور عمل کے صحیح یا غلط ہونے کا۔ (خطبات، ص: ۷۲تا۷۴)
تخریج : قَالَ السَّخَاوِیُّ: لَمْ اَقِفْ عَلَیْہِ مَعَ اِیْرَادِ الْغَزَالِیِّ فِی الْاِحْیَائِ۔ قُلْتُ : مَعْنَاہُ صَحِیْحٌ یُقْتَبَسُ مِنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْآخِرَۃِ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ۔(۳۱) (الشوریٰ:۲۰)
ماخذ
(۱) بخاری ج۲ کتاب الرد علی الجھمیّۃ وغیرھم التوحید، باب قول اللّٰہ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ الخ لقول فصل حق وماھو بالھزل باللعب۔٭ کتاب التفسیر سورۃالسجدۃ۔٭ج۱کتاب بدأ الخلق باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ۔٭مسلم ج۲ص کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ اور کتاب الایمان۔٭ ترمذی ابواب التفسیر سورۃ السجدۃ۔ ترمذی نے حسن صحیح قراردیاہے۔ ٭ ابواب التفسیر سورۂ واقعہ ۔٭ ابن ماجہ کتاب الزھد باب صفۃ الجنۃ۔٭ شعب الایمان اللبیھقی ج۱ حدیث ۳۸۲۔٭ دارمی ج۲۔ الرقاق باب من یدخل الجنۃ ینعم لایبأس۔٭ المعجم الکبیر للطبرانی ج۶ص۱۲۲۔۲۰۱۔ اس میں علی قلب احدٍ بھی ہے۔ ٭ریاض الصالحین ص۴۶۶۔٭ابن جریر۲۲؍۲۴سورہ السجدۃ ۔٭ المستدرک للحاکم ج۲سورہ السجدہ۔ ٭مسندِاحمدج۲ص۳۱۳،۳۷۰،۴۰۷،۴۱۶،۴۳۸،۴۶۲،۴۶۶،۵۰۶ابوھریرۃ۔ج۳ص۱۰۴،۱۷۲،۲۰۰، ۲۰۷، ۲۰۸، ۲۵۵ ج۵ ص۳۳۴۔٭مجمع الزوائد ج۱۰ ص۴۱۲۔ ابوسعید خدری۔٭ ابنِ جریر نے مغیرہ بن شعبہ، ابوسعید خدری، سہل بن سعد ساعدی کی روایات بھی ص۶۶اور ۶۷پر نقل کی ہیں۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۴ص۲۵۵۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ابنِ کثیر ج۳ص۴۶۰۔۴۶۱۔
(۲) تفسیر ابن جریر ج۱۱پ۲۷ سورہ الرحمن ٭ فتح القدیرللشوکانی ج۵ ص۱۴۴ بحوالہ ابن ابی شیبۃ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، اور بیھقی فی البعث٭تفسیر ابنِ کثیر ج۴ سورہ الرحمن۔ ٭ البحر المحیط ج ۸ ص۱۹۶۔
(۳) بخاری ج۲کتاب التفسیر۔٭مسلم ج۲ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ص۱۴۴۔ ٭دارمی ج۲ کتاب الرقاق باب۱۰۳۔٭ترمذی ابواب صفۃ الجنۃ باب ماجاء فی صفۃ غرف الجنۃ۔ ٭ھذا حدیث صحیح۔
(۴) مسلم ج۲کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔٭ ترمذی ج۲ابواب التفسیر سورۃ الزمر۔ ترمذی نے وروی ابن المبارک وغیرہ ھذا الحدیث عن الثوری ولم یرفعوہ بھی نقل کیاہے۔٭ مسنداحمد ج۳ ص۸۳ عن ابوسعید خدری۔ ٭ریاض الصالحین ص۴۶۸ عن ابی ھریرۃ۔٭ تفسیر ابن کثیر ج۲ سورۃ الحجر۔
(۵) دارمی ج۲کتاب الرقاق باب مایقال أھل الجنۃ اذا دخلوھا۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۲ سورۃ الاعراف۔ بحوالہ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابنِ جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابنِ مرودیہ۔
(۶) ترمذی ابواب الشمائل باب ماجاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ۔٭ابن کثیر ج۴ سورۃ الواقعۃ بحوالہ عبد بن حمید۔ ٭مجمع الزوائد ج۱۰۔ عن عائشۃ۔٭ البدایہ والنھایہ ج۶ص۴۷،۴۸۔ ھذا مرسل من ھذا الوجہ۔
(۷) ابن کثیر ج۴ سورۃ الواقعۃ بحوالہ ابن ابی حاتم۔٭ فتح القدیر للشوکانی ج۵بحوالہ الطبرانی، ابن مردویہ، ابن قانع، البیھقی فی البعث۔٭ ابوداؤد الطیالسی ص۱۸۵، سلمۃ بن یزید الجعفی۔ ٭ابوداؤد طیالسی نے قال: من الثیب وغیرالثیب کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ ٭ابن جریرج۱۱پ۲۷، سورہ واقعہ۔ ٭مجمع الزوائد ج۷ ص۱۱۹۔
(۸) ابن کثیر ج۴ سورۃ الواقعۃ بحوالہ الطبرانی۔٭ ابن جریر ج۱۱پ۲۷ سورہ واقعہ ابن جیر میں ھن اللواتی سے لے کر فجعلھن عذاری تک ہے۔ ٭مجمع الزوائد ج۷ص۱۱۹ اور ج۱۰ ص۴۱۷۔ ٭کنز العمّال ج۱۶ ص۵۶۔
(۹) احمد بن حنبل ج۲ص۲۹۵مرویات ابی ھریرہ۔٭ مجمع الزوائد ج۱۰ ص۳۹۹ عن ابی ھریرۃ۔
(۱۰) ترمذی ابواب صفۃ الجنۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فی سن اھل الجنۃ۔ طبرانی نے بھی اسے روایت کیاہے اس میں وھم علی خلق آدم ستون ذراعاً منقول ہے۔٭ ابنِ کثیر ج۴ سورۃ الواقعۃ۔ ٭مجمع الزوائد ج۱۰۔ عن معاذ بن جبل۔ ان شھرا لم یدرک معاذ بن جبل۔
(۱۱) ترمذی ابواب صفۃ الجنۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فی صفۃ ثیاب اھل الجنۃ۔
(۱۲) مسلم ج۲کتاب الجنۃ وصفہ نعیمھا واھلھا۔٭مجمع الزوائد ج۱۰ص۳۹۷۔ عن ابن عمر۔
(۱۳) تفسیر ابنِ کثیر ج۴ سورۃ الواقعۃ۔
(۱۴) تفسیر روح المعانی جز ۲۷سورۃ الرحمن۔٭ ابن کثیر ج۴ بحوالہ الطبرانی۔
(۱۵) ترمذی ج۲ ابواب صفۃ الجنۃ۔ باب ماجاء فی کلام الحور العین۔٭ ابنِ کثیر ج ۴ص۲۹۲۔۲۹۳۔
(۱۶) تفسیر ابن جریر جز۲۲؍۲۴ ص۳۷ سورۃ الصافات۔٭ ابن کثیر ج۴ سورہ صافات اور سورہ واقعہ۔
(۱۷) ابن کثیر ج۴ سورہ محمد فی حدیث مرفوع۔٭ روح المعانی ج۹ پ۲۶ص۴۴ پر بھی سعید بن جبیر کا مذکورہ بالا قول نقل کیا گیاہے۔
(۱۸) ترمذی ابواب صفۃ جھنم۔ ج۲ باب ماجاء فی صفہ انھار الجنۃ۔٭ مسنداحمد ج۵ص۵۔ معاویۃ بن حیدہ عن النبی ﷺ وھو جد بھز بن حکیمؓ۔٭ ابن کثیر ج۴ ص۱۷۶۔ ٭ فتح القدیر ج۵ سورہ محمد بحوالہ ابن المنذر، ابنِ مردویہ اور بیھقی فی البعث۔
(۱۹) ابنِ کثیر ج۴ سورۂ محمد بحوالہ الطبرانی۔
(۲۰) مسند ابی داؤد الطیالسی مرویاتِ انس بن مالک یزید بن ابان عن انس۔
(۲۱) روح المعانی ج۹ پ۲۷ سورۃ الواقعۃ۔
(۲۲) المعجم الکبیر للطبرانی ج۷ حدیث ۶۹۹۳۔٭ مجمع الزوائد ج۷۔ کتاب القدر باب فی اولاد المشرکین۔ ٭کنز العمّال ج۱۴ حدیث ۳۹۳۰۴ کنز العمال نے طبرانی اوسط کے حوالہ سے اولاد المشرکین خدم اھل الجنۃ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
(۲۳) کنز العمال ج۱۴ حدیث ۳۹۳۰۶ بحوالہ ابوالحسن بن ملۃ فی امالیہ عن انس۔
(۲۴) ابن کثیر جلد ۲ سورۂ اعراف۔
(۲۵) بخاری ج۲ کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل۔٭مسلم ج۲ کتاب صفۃ المنافقین واحکامھا باب لن یدخل احدا الجنۃ بعملہ بل برحمۃ اللہ۔٭ مجمع الزوائد ج۱۰ عن ابی ھریرۃ۔
(۲۶) بخاری ج۲ کتاب الرقاق۔ باب القصد والمداومۃ علی العمل۔٭ مسلم ج۲ کتاب صفۃ المنافقین واحکامھا، باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ بل برحمۃ اللہ۔٭ مسند احمد ج۶ روایت عائشۃ۔
(۲۷) بخاری ج ۲کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل۔ ٭ دارمی ج۲کتاب الرقاق باب لمن ینجی احدکم عملہ۔
(۲۸) ابن ماجہ ابواب الزھد باب التوقی علی العمل ج۲ص۱۴۰۵۔ ابن ماجہ اور دارمی میں منقول روایت کے آخر میں برحمۃ وفضل ہے۔٭ ابن کثیر ج۲ ۔ سورۃ الاعراف۔ ٭مسند احمد ج۲ ص۲۳۵، ۲۵۶، ۲۶۴، ۳۱۹، ۳۲۶، ۳۴۴،۳۸۵،۳۹۰،۴۵۱،۴۶۵،۴۶۹،۴۷۳،۴۸۲،۴۸۸،۴۹۵،۵۰۳،۵۰۹،۵۱۴،۵۱۹،۵۲۴،۵۳۷۔ج۳ص۵۲ ۳۳۷،۳۶۲،۳۹۴۔ج۶ص۱۲۵۔
(۲۹) مسلم ج۲کتاب صفۃالمنافقین واحکامھا، باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ بل برحمۃ اللہ۔
(۳۰) بخاری ج۲کتاب المرضیٰ باب تمنی المریض الموت۔
(۳۱) الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ۔ ص۹۹۔ ح۲۰۵۔
زبان: اُردو
صفحات: 382
ادارہ معارف اسلامی، لاہور