تفہیم الاحادیث (جلدسوم)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔

چند باتیں

قارئین محترم کی خدمت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و قلم کے شاہ کار تفہیم الاحادیث کا زیر نظر حصہ پیش کرتے ہوے ہمیں یک گونہ خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کے لیے اس کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات و فرمودات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پیش کرنے کی توفیق بخشی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور حدیث کے اس مبارک سلسلے کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور انھیں پیغام رسولؐ سے روشناس کرانے میں مکتبے کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ ہوگا۔
تفہیم الاحادیث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ، بلکہ یہ ان احادیث کا مجموعہ ہے، جو مولانا محترم نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور بعض دوسری تصانیف میں حسب موقع نقل کی ہیں ۔
صورت واقعہ یہ ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس نہج پر اپنی مقبول عام تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ کی چھے۶ جلدیں تحریر کی تھیں، بالکل اسی نہج پر وہ احادیث پر بھی کام کرنے کا عزم مصمّم کرچکے تھے۔ نہ صرف عزم مصمم کرچکے تھے، بلکہ انھوں نے اس کام کے لیے ایک ابتدائی خاکہ بھی تیار کرلیا تھا ـــــــلیکن اچانک وہ بیمار ہوگئے، پھر بیماری کا یہ سلسلہ اتنا طویل ہوتا گیا کہ انھیں اس سے نجات ہی نہ مل سکی۔ اسی بیماری میں ان کی مہلتِ عمر بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد یہ کام التوا میں پڑگیا۔ وفات کے کافی دنوں کے بعد مولانا محترم کے رفیق خاص مولانا خلیل احمد حامدیؒڈائریکٹر ادارۂ معارف اسلامی منصورہ کو اس کام کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انھوں نے ذمے داروں اور دوسرے ارباب علم و دانش کے مشوروں سے علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے فاضل مشہور عالم و محقق مولانا عبدالوکیل علوی کو یہ ذمّے داری تفویض کی کہ وہ تفہیم القرآن اور دوسری تصانیف کی مدد سے مولانا محترم کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے پورے کام کااز سر نو خاکہ تیارکیا اور ضروری کتب فراہم کرکے کام کا آغاز کردیا۔
مولانا عبدالوکیل علوی کا نام تحریکی حلقے کے لیے غیر معروف و اجنبی نہیں ہے۔ وہ عربی ادب کے مایۂ ناز فاضل، اسلامی علوم کے ذہین عالم اور صاحب طرز اہل قلم کی حیثیت سے تعارف رکھتے ہیں۔اس سے پہلے مولانا مودودیؒ کی تصانیف کی مدد سے وہ متعدد ترتیبی و تخریجی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔سیرت سرور عالم کی دو جلدیں ان کی ترتیبی و تخریجی صلاحیتوں کی بہترین نمایندگی کرتی ہیں۔
مولانا عبدالوکیل علوی نے اس کام میں کتنا وقت صرف کیا ہے ،اورانھوں نے احادیث کی چھان بین یا ترتیب و تخریج میں کتنی عرق ریزی اور دقّتِ نظر سے کام لیا ہے، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پڑھنے والے خود ہی اس کا ادراک کرلیں گے۔ ’’مشک آنست کہ خود بہ بوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ اصلی مشک خود اپنی مہک سے پہچان لیا جاتا ہے، اس کے لیے کسی عطار کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس کوشش کو شرفِ قبول سے نوازے، تمام انسانوں کے لیے اِسے نفع بخش بنائے اور اس کی تیاری میں جن رفقاء اور کارکنوں نے حصہ لیا ہے، انھیں حدیثِ رسول ؐ کی خدمت کی برکات سے سرفراز کرے۔
ناشر
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی

عرض مرتب

الحمد للہ تفہیم الاحادیث کے جس کار عظیم کو آج سے چند سال قبل شروع کیا تھا، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔ یہ سعادت محض خالق ارض وسما کے فضل وکرم اور اس کی توفیق خاص کی مرہون منت ہے، ورنہ ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کٹھن مراحل سے گزر کر ساحل تکمیل تک پہنچنے کی اپنی حد تک ایک کاوش کی ہے۔
جب یہ کام شروع کیا گیا تب اندازہ ہوا کہ ایک ٹھوس علمی وتحقیقی کتاب اپنی طرف سے مدون ومرتب کرنے کے مقابلے میں مولانا محترم رحمتہ اللہ علیہ کے پورے ذخیرۂ کتب میں سے عبارتیں نکال کر کوئی کتاب ترتیب دینے کا کام کتنا محنت طلب ہے۔ تفہیم القرآن کی چھے جلدوں کے ساتھ ساتھ مولانا کے وسیع لٹریچر کو ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھنا، تمام احادیث کے متون، تراجم، تشریحات اور فقہی مسائل کی الگ الگ نشان زدگی، پھر اس کی تشریح کے لیے مفید مطلب مناسب و موزوں عبارات پر نشان لگانا، ان کی نقول تیار کرنا اور سب سے آخر میں ان کی بہ اعتبارِ ابواب و فصول ترتیب اور ان کی عنوان بندی، یہ سارا کام اتنا صبر آزماتھا کہ بار بار دامن ہمت تار تار ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتارہا۔ مگر ایسے مواقع پر فضل ایزدی نے ڈھارس بندھائی اور کام جاری رہا۔ الحمد للہ آج اس کاوش اور سعی وجہد کا ثمرہ آپ کے سامنے ہے۔
تالیف وتدوین کا یہ کام اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جتنا اہم اور عظیم ہے، اپنے حجم کے لحاظ سے اُسی قد ر ضخیم بھی۔ مولانا کی تصانیف میں سے انتخاب کرکے جو مواد نقل کیا گیا، وہ سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جمع کی گئی ہیں، جنہیں مولانا محترم نے اپنے پورے لٹریچر میں استعمال کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اسے نقل کرنے سے پہلے پورے کا پورا لٹریچر ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھاگیا، مفید مطلب عبارات پر نشان لگایا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ حدیث کا متن ہے اور یہ اس کا ترجمہ وتشریح۔ جن احادیث سے فقہی مسائل استنباط کیے گئے، ان پر الگ نشان لگایاگیا، متنِ حدیث کی بجائے کہیں محض ترجمہ ملا تو اسے بھی نکال لیا گیا۔
اس کام کی تکمیل پر کس قدر محنت کی گئی یا کتنی عرق ریزی سے یہ کام انجام پایا؟ اس کا صحیح اندازہ صرف انہیں کو ہوسکتاہے، جنہوں نے کبھی اس وادیٔ پر خار میں قدم رکھاہو۔ مولانا محترم نے زیادہ تر مقامات پر احادیث نقل کرتے وقت صرف اتنا کہہ دیاہے کہ فلاں حدیث بخاری ومسلم میں ہے یا متفق علیہ یا ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ اسی طرح احادیث کی دوسری کتب کے حوالے بھی دیے ہیں، مگر بخاری ومسلم نے اس حدیث کو کس کتاب میں، کس فصل یا باب میں اور کس عنوان کے تحت یا کتاب کے کس صفحے پر روایت کیاہے؟ اس کا التزام کم ہی کیا جاسکاہے۔ پھر مولانا محترم نے اکثر مقامات پر حدیث کا صرف اتنا ہی جز نقل کیاہے جتنا انہیں اس مقام کے لحاظ سے استشہاد کے لیے مطلوب تھا۔ پوری حدیث نقل نہیں کی اور پوری سند تو بہت ہی کم نقل ہوسکی ہے۔
اس نقل شدہ مواد کو ایک مفید کتاب کی صورت میں مرتب ومدون کرنے کے لیے ان تمام نقل شدہ احادیث کی سندیں شامل کی گئیں۔ جہاں حدیث کا ایک جزو استعمال کیا گیا، وہ پوری حدیث مع سند نقل کی گئی تاکہ قاری یہ جان سکے کہ یہ کس حدیث کا جزو ہے یا کس محدث نے اپنی کس کتاب اوراس کتاب کے کس باب یا فصل میں اور کس عنوان کے تحت روایت کیا ہے وغیرہ اورحدیث کے بارے میں محدث کی محدثانہ رائے کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف وغیرہ بھی درج کی گئی ہے۔ مزید برآں ایسی احادیث بھی شامل کی گئی ہیں، جو ان کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جنہیں مویدات کہہ سکتے ہیں۔ اس مفید اضافے سے اصل مواد کی ضخامت تو واقعۃً بڑھ گئی مگر فوائد میں بے حساب اضافہ بھی ہوا ہے۔
حدیث کی تخریج کے لیے جو اصول پیش نظر رکھاگیاہے وہ یہ ہے:
سب سے پہلے حدیث کو( بخاری ومسلم) میں تلاش کیاگیا۔ اگروہ ان میں مل گئی اور دونوں کے الفاظ بھی یکساں ملے تو اس صورت میں سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیا اور حوالے میں متفق علیہ درج کیا گیاہے۔ اگر صحیحین کی روایت میں معنوی یکسانی تو موجود ہے مگر لفظی اختلاف ہے تو اس صورت میں بھی سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیاہے اور صحیح مسلم کا اختلاف اور فرق الگ سے واضح کردیاگیاہے۔ اگر مولانا محترم نے خود ہی صحیح مسلم کی روایت لی ہے تو پھر اصل متن اسی روایت کو قراردیا گیاہے اور صحیح بخاری کی روایت میں جو اختلاف ہے، اسے واضح کرکے اس کا حوالہ دیاہے اور اگر مولانا نے صحیحین کے علاوہ باقی کتب اربعہ یعنی سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کا حوالہ دیا ہے اور وہ حدیث صحیحین میں سے کسی ایک میں بھی قدرے لفظی اختلاف یا فرق کے ساتھ موجود ہے تو اس صورت میں اصل ماخذ بیان کرنے کے بعد صحیحین کا حوالہ اور فرق واختلاف بھی درج کرنے کی محتاط کوشش کی گئی ہے۔اگرکوئی حدیث صحیحین میں نہ ملی تو پھر ابوداؤد کی روایت کو ترجیحاً نقل کیاگیاہے۔ اگر ابوداؤد اور دیگر کتب میں بھی کوئی حدیث موجود ہے تو اصل متن کے طورپر ابوداؤد کی روایت درج کی گئی ہے اور باقی ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ اور دیگر کتب کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ ممکن الحصول ماخذ ومصادر درج کیے جائیں۔ اصل کتب ماخذ جتنی مجھے دستیاب ہوسکیں، ان سب کے حوالے دینے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ تخریج مواد، اس کو نقل کرنے، عبارات پر اعراب لگانے اور اضافہ شدہ عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کے بعد نقل شدہ مواد کی روشنی میں اسے ایک کتابی صورت میں لانے کے لیے اس کی پہلے ابواب بندی کی گئی اور پھر انہیں فصول اور مختلف عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا، پھرذیلی عنوانات قائم کیے گئے۔ بعد ازاں حوالے جات اور احادیث کے نمبر لگائے گئے اور ان حوالوں کو اپنے اپنے مقام پر درج کیا گیا تاکہ قاری کو اگر کسی عبارت کے اصل ماخذ کی ضرورت محسوس ہوتو وہ بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے اصل ماخذ سے رجوع کرسکے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعاہو ںکہ اس کام کو اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبول حاصل ہو اور یہ مولانا محترم کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے۔
وماتوفیقی الا باللہ
خاکسار
عبدالوکیل علوی

کتاب الصَّلوٰۃ

وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔ (الحشر :۷)

’’جو کچھ رسُولؐ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیزسے تم کو روک دے اس سے رُک جاؤ۔‘‘

فصل :۱ ہرکام کی ابتدا اللہ کے نام سے

کُلُّ اَمْرٍ ذیْ بَالٍ لَا یُبْدَأُفِیْہِ بِحَمْدِ اللّٰہِ فَہُوَ اَبْتَرُ
نبی ﷺ کا مستقل معمول تھا کہ آپ ہمیشہ اپنے خطبوں کا آغاز حمد و ثنا سے فرمایا کرتے تھے۔ (لہٰذا )جب تم اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ (تفہیم القرآن،ج ۵، الطور، حاشیہ :۴۰)
’’ہر وہ کام جو کوئی اہمیت رکھتا ہو، اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ابتر ہے۔‘‘
تخریج: قُرِیَٔ عَلٰی اَبِی الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَاَنَا اَسْمَعُ، حَدّثَکُمْ دَاوُدُبْنُ رَشِیْدٍ، ثَنا الْوَلِیْدُ عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ، عَنْ قُرَّۃَ، عَنِ
شِہَابٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَایُبْدَأُ فِیْہِ بِحَمْدِ اللّٰہِ اَقْطَعُ  (۱) تَفَرَّدَبِہٖ قُرَّۃُ عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، وَاَرْسَلَہٗ غَیْرُہٗ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَقُرَّۃُ لَیْسَ بِقَوِیٍّ فِی الْحَدِیْثِ۔ وَرَوَاہُ صَدَقَۃٗ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبَیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، وَلَا یَصِحُّ الْحَدِیْثُ، وَصَدَقَۃٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ ضَعِیْفَانِ، وَالْمُرْسَلُ ہُوَ الصَّوَابُ۔

مفہوم

یعنی اس کی جڑکٹی ہوئی ہے، اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہے۔ یا اس کا انجام اچھا نہیں ہے۔

ابتر کے معنی

یہ لفظ بَـتـَرَ سے ہے، جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ نامراد آدمی کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہوجانے والا بھی ابتر کہلاتا ہے۔ جس شخص کے لیے کسی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہی ہو اور جس کی کامیابی کی سب امیدیں منقطع ہوگئی ہوں، وہ بھی ابتر ہے۔ جو آدمی اپنے کنبے، برادری اور اعوان و انصار سے کٹ کر اکیلا رہ گیا ہو، وہ بھی ابتر ہے۔ جس آدمی کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہو یا مرگئی ہو، اس کے لیے بھی ابتر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے پیچھے اس کا نام لیوا باقی نہیں رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہوجاتا ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن،ج ۶، الکوثر، حاشیہ: ۴)
تشریح: اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتا ہے، اس کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر کام کی ابتدا خدا کے نام سے کرے۔ اس قاعدے کی پابندی اگر شعور اور خلوص کے ساتھ کی جائے تو اس سے لازماًتین فائدے حاصل ہوں گے۔
ایک یہ کہ آدمی بہت سے برے کاموں سے بچ جائے گا ، کیونکہ خدا کا نام لینے کی عادت اسے ہر کام شروع کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور کردے گی کہ کیا واقعی میں اس کام پر خدا کا نام لینے میں حق بجانب ہوں؟
دوسرے یہ کہ جائز ،صحیح اور نیک کاموں کی ابتدا کرتے ہوئے خدا کا نام لینے سے آدمی کی ذہنیت بالکل ٹھیک سمت اختیار کرلے گی اور وہ ہمیشہ صحیح ترین نقطہ سے اپنی حرکت کا آغاز کرے گا۔
تیسرا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ خدا کے نام سے اپنا کام شروع کرے گا تو خدا کی تائید اور توفیق اس کے شامل حال ہوگی۔ اس کی سعی میں برکت ڈالی جائے گی اور شیطان کی فساد انگیزیوں سے اس کو بچایا جائے گا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ جب بندہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ بھی بندے کی طرف توجہ فرماتا ہے۔
دعا کی ابتدا اس ہستی کی تعریف سے کی جانی چاہیے جس سے ہم دعا مانگنا چاہتے ہیں یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے مانگو۔ یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کردیا ۔ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو پہلے اس کی خوبی کا، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔
تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں، دو وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔
۔ ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو، قطع نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔
۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو اور ہم اعتراف نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی خوبیاں بیان کریں۔
اللہ تعالیٰ کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضا بھی ہے اور احسان شناسی کا بھی کہ ہم اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوں۔
دنیا میں جہاں ، جس چیز اور جس شکل میں بھی کوئی حسن، کوئی خوبی ، کوئی کمال ہے اس کا سرچشمہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ کسی انسان، کسی فرشتے، کسی دیوتا، کسی سیارے، غرض کسی مخلوق کا کمال بھی ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا عطیہ ہے۔ پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار ، احسان مند اور شکر گزار ، نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالق کمال ہے نہ کہ صاحب کمال ۔ (تفہیم القرآن ،ج ۱، فاتحہ، حاشیہ:۱ ،۲)

حمد کے معنی

حمد کا لفظ تعریف اور شکر دونوں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اصل معنی تعریف کے ہیں۔ شکر کے معنی ضمناً پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک آدمی کسی کا احسان مند ہوتا ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے، اس وجہ سے شکر کا مفہوم اس کے اندر آپ سے آپ آجاتا ہے۔ اسی لیے بسا اوقات جب کوئی آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا ہے؟ آپ کہتے ہیں الحمدللہ؛ تو وہ الحمد للہ شکر کے معنی میں ہوتا ہے ۔ کھانا کھاکر آپ اٹھتے ہیں آپ کہتے ہیں الحمد للہ۔ پانی پیتے ہیں آپ کہتے ہیں الحمد للہ۔ یہ سارا الحمد للہ شکر کے معنیٰ میں ہے۔ لیکن اس کی بنا کیا ہے؟ اس کی بنا یہ ہے کہ آدمی جب کسی کا شکر گزار ہوتا ہے اور اپنے دل میں احسان مندی محسوس کرتا ہے تو وہ اس کی تعریف کرتا ہے اور اس تعریف کا جواصل محرک ہوتا ہے وہ شکر کا جذبہ ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ آپ دیکھیں گے کہ کسی شخص نے اگر ان کے اوپر بہت بڑا احسان کیا ہے وہ کہیں گے اجی اس کا کیا کہنا! وہ تو بڑا سخی آدمی ہے۔ بڑا فیاض آدمی ہے۔ بڑا ہمدرد آدمی ہے۔ اب یہ ساری باتیں جو وہ کہہ رہا ہے تو وہ ظاہر ہے تعریف کررہا ہے۔ درحقیقت وہ اظہار شکر کررہا ہے۔ محرک اس کا شکر ہوتا ہے۔ لیکن بنا جو اصل ہے وہ حمد کی ہے وہ تعریف ہے۔ اور تعریف دو طرح سے ہوا کرتی ہے۔ ایک بجائے خود کسی کے کمال کی تعریف ہوتی ہے اور ایک کسی کے ایسے کمال کی تعریف ہوتی ہے، جو ہمارے لیے نافع ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک پھول کو آپ دیکھتے ہیں۔ اس کے حسن کی آپ تعریف کرتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ آپ کے لیے نافع ہے، یا نہیں۔ یعنی بجائے خود وہ پھول اتنا حسین ہے کہ آپ اس کی تعریف کررہے ہیں، وہ اس تعریف کا مستحق ہے۔ ایک دوا کی آپ تعریف کرتے ہیں۔ یہ تعریف اس بنا پر ہے کہ اس کے خواص آپ کے لیے نافع ہیں۔

تعریف اللہ ہی کے لیے مخصوص کیوں ہے؟

اللہ تعالیٰ کی جو تعریف ہے وہ ان دونوں وجوہ سے ہے۔ اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ بجائے خود کامل ہے، بجائے خود تمام کمالات کا اور ساری خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ اس بنا پر بھی ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی قابل تعریف ہے اس کے اندر جو صفت بھی پیدا ہوتی ہے تعریف کی، وہ اللہ کے پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ تو وہ منبع کمالات بھی ہے اور سرچشمہ کمالات بھی ہے۔ تمام خوبیوں کی ابتدا اسی کی ذات سے ہوتی ہے اور تمام خوبیاں اسی کی پیدا کردہ ہیں اور اس بنا پر بھی ہے کہ اس کی بے شمار صفات ایسی ہیں جو براہ راست ہمارے وجود کا سبب بنی ہیں۔ براہ راست ہمارے لیے جو کچھ بھی ہم کو بھلائی پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے پہنچتی ہے۔ تو ان فوائد و منافع کی وجہ سے بھی جو اللہ سے ہم کو پہنچتے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور بجائے خود اس کے کمالات کی بنا پر بھی تعریف کرتے ہیں کہ جس چیز میں بھی جو کچھ کمال ہے اس کا سرچشمہ اس کی ذات ہے۔ جب الحمد للہ کہا جائے تو اس کے اندر خود یہ مفہوم شامل ہوجاتا ہے کہ حقیقت میں تعریف جس چیز کا نام ہے اس کا مستحق وہی ہے۔ یعنی دوسرا کوئی کسی تعریف کا مستحق نہیں ہے۔ دوسرا اگر تعریف کا مستحق ہے تو مجازاً ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالذات مستحق ہے اور حقیقت میں تعریف اگر پہنچتی ہے تو اسی کو پہنچتی ہے۔ مثلاً آپ چیز دیکھتے ہیں کہ بڑی اچھی بنی ہوئی ہے۔ جب آپ اس کی تعریف کرتے ہیں کہ کیا خوب بنی ہوئی ہے تو حقیقت میں اس بنانے والے کی تعریف کرتے ہیں۔ یعنی وہ چیز بجائے خود تعریف کی مستحق نہیں ، بنانے والا تعریف کا مستحق ہے جس نے اتنی اعلیٰ درجے کی چیز بنائی۔ تو جتنی چیزیں بھی ہیں جن کی کوئی شخص تعریف کرتا ہے حقیقت میں وہ ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے ـــــــ اگر تعریف کا مستحق اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے تو باقی وہ کون ہیں جو معبود ہونے کے مستحق ہیں: ظاہر بات ہے کہ اگر تمام تعریف اللہ کے لیے ہے تو یقینا ساری عبادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ کوئی دوسرا کسی عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اگر اس میں کوئی کمال ہے بھی تو عطیہ ہے اللہ تعالیٰ کا۔ اپنا ذاتی کوئی کمال نہیں۔ ذاتی کمال جب اس کا نہیں ہے تو وہ عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے۔ ایک نبی بلاشبہ نہایت ہی مقدس ہستی ہے نہایت پاکیزہ ہستی ہے۔ لیکن کس بنا پر وہ قابل تعریف ہے اس بنا پر کہ اللہ نے نبی بنایا ہے۔ جب اللہ کا بنایا ہوا نبی ہونے کی وجہ سے وہ قابل تعریف ہے اور جو کچھ اس کے کمالات ہیں وہ اللہ کے دیے ہوئے ہیں تو معبود نبی کو ہونا چاہیے کہ اللہ کو ہونا چاہیے؟ اسی طرح دوسری جو ہستیاں بھی ہیں اگر فرض کیجیے کوئی شخص سورج کی عبادت کررہا ہے۔ سورج کو روشنی کہاں سے ملی۔ سورج کو حرارت کہاں سے ملی۔ یہ انرجی جو سورج دے رہا ہے یہ اُسے کہاں سے حاصل ہوئی؟ اگر اس کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور ظاہر بات ہے کہ اللہ ہی ہے تو معبود ہونے کا مستحق سورج نہیں ہے بلکہ اللہ ہے۔ تو اس طرح سے الحمد للہ کا لفظ خود شرک کی جڑکاٹ دیتا ہے۔ یہیں سے آغاز ہوجاتا ہے شرک کی جڑ کاٹنے کا اور توحید کے اثبات کا۔
(کیسٹ سورۃ الفاتحہ، تفسیر سید مودودیؒ، ادارہ الابلاغ نور چیمبر لاہور)

پوری زمین پاک اور عبادت کی جگہ ہے

۲۔ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِداً وَّ طُہُوْراً۔
’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔ ‘‘
(تفہیم القرآن ، ج ۶، الجن، حاشیہ: ۱۹)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَیَّارٌہُوَ اَبُوالْحَکَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ نِ الْفَقِیْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُعْطِیْتُ خَمْساً لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌمِّنَ الْاَنْبِیآئِ قَبْلِیْ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِداً وَطُہُوْراً وَاَیَّمَا رَجُلٍ منْ اُمَّتِیْ اَدْرَکَتْہُ الصَّلوٰۃُ فَلْیُصَلِّ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَآئِمُ وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلیٰ قَوْمِہِ خَآصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَآفَّۃً وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ۔(۲)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے پانچ (امتیازات) ایسے عطا کیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیے گئے۔ ایک مہینے کی مسافت کی بقدر (دشمنوں پر) رعب و دبدبہ سے میری نصرت فرمائی گئی، میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے، اور میرا کوئی امتی، جب اسے نماز کا وقت آن پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز پڑھ لے۔ اور غنائم میرے لیے حلال قرار دیئے گئے ہیں۔ دوسرا نبی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور شفاعت (کبریٰ) کا اعزاز مجھے عطا ہوا ہے۔

تشریح: نماز پڑھنے کے لیے اس امر کے علم کی ضرورت نہیں ہے کہ جگہ پاک ہے، بلکہ ہر خشک جگہ کو پاک ہی سمجھنا چاہیے جب تک کہ اس کے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو۔ اس لیے محض شک اور وہم کی بنا پر نماز قضا کرنا درست نہیں۔ اگر طبیعت کا وہم دور نہ ہو تو اپنا ہی کوٹ (وغیرہ) اتار کر کہیں بچھالیجیے اور اس پر پڑھ لیجیے ۔ (رسائل ومسائل دوم، فقہی مسائل :دارالکفر میں۔۔۔ )

ماخذ

(۱) سنن دار قطنی ج ۱کتاب الصلوٰۃ ٭ ابن ماجہ: کتاب النکاح، باب خطبۃ النکاح قال السندی: الحدیث قد حسنہ ابن الصلاح والنووی وَاَخْرَجہ ابن حبان فی صحیحہ والحاکم فی المستدرک۔٭ السنن الکبری للبیہقی ج۳ کتاب الجمعۃ، باب مایستدل بہ علی وجوب التحمید فی خطبۃ الجمعۃ ٭ کنزالعمال ج۱، حدیث ۲۵۱۱۔ ٭ مجمع الزوائد: ج ۲ ٭ ریاض الصالحین: کتاب حمد اللّٰہ تعالی و شکرہ۔ ٭ فتح القدیر للشو کانی ج ۱ ص۲۱۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۹کتاب الادب باب ماقالوا یستحب ان یبدأ بہ من الکلام۔ ابن ابی شیبۃ میں’’کل کلام ذی بال، لایبدأ فیہ بالحمد للّٰہ فہو اقطع‘‘ منقول ہے اور المصنف میں عبدالرزاق نے ج۶-ص۱۸۹ پر’’کل کلام ذی بال لا یبدأ فیہ بذکر اللّٰہ فہوابتر‘‘ اور مسند احمد ج۲، ص ۳۵۹ پر عن ابی ہریرۃ ’’کل کلام او امرذی بال لایفتح بذکر اللّٰہ عزوجل فہو ابتر اوقال اقطع‘‘ مذکور ہے اور سنن دارقطنی ج ۱،کتاب الصلوٰۃ میں حضرت ابوہریرۃ سے کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بذکر اللّٰہ اقطع‘‘ روایت کیا ہے۔ کنزالعمال ج ۱، احادیث ۲۵۰۹۔۲۵۱۰۔ ۲۵۱۱ میں’’کل امر ذی بال لا یبدافیہ بحمد اللّٰہ والصلوٰۃ علی فہو اقطع ابتر ممحوق من کل برکۃ‘‘ ذکر کیا ہے۔ فتح المجید کے ص ۶ پر’’کل امر ذی بال لایبدأ فیہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم فہو اقطع اخرجہ ابن حبان، قال ابن الصلاح والحدیث حسن ذکر ہے۔کنزالعمال ج۱۔۵۵۵ پر فی فضائل السور والاٰیات والبسملۃ کے تحت عبدالقادر الرہاوی فی الاربعین عن ابی ہریرۃ کے حوالہ سے ’’کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بسم اللّٰہ الرحیم۱؎ اقطع‘‘مذکور ہے۔ ابوداؤد نے ج ۴،کتاب الادب باب الہدی فی الکلام میں ’’کل کلام لایبدا فیہ بالحمد للّٰہ فہو اجزم‘‘ بھی بیان کیا ہے۔
(۲) بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب قول النبی ﷺ جعلت الارض مسجدا وطہورا۔ کتاب التیمم میںکافۃ کی بجائے عامۃ ہے۔٭مسلم: کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ٭ ترمذی: ابواب السیر، باب ماجاء فی الغنیمۃ اور ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء ان الارض کلہا مسجدٌ إلا المقبرۃ٭نسائی کتاب الغسل اورکتاب المساجد ٭ ابن ماجہ: کتاب المساجد والجماعات، باب المواضع التی تکرہ فیہا الصلوٰۃ۔ ابن ماجہ نے بھی ترمذی کی ابواب الصلوٰۃ والی روایت بیان کی ہے۔٭دارمی: کتاب السیر، باب ان الغنیمۃ لاتحل لاحد قبلنا ٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب الارض کلہا طاہرۃ ماخلا المقبرۃ والحمام٭مسند احمد، ج۵، ص ۱۴۵- ۱۴۸- ۱۶۱- ۲۴۸- ۲۵۶- ۳۸۳-مسند احمد ج۱، ص ۲۵۰-۳۰۱، ج۲، ص ۲۲۲- ۲۴۰- ۲۵۰- ۴۱۲-۴۴۲-۵۰۲، ج۳ ، ص۳۰۴، ج ۴، ص ۴۱۶٭ مجمع الزوائد ہیشمی ج ۱،کتاب الطہارۃ، باب فی التیمم٭الطبرانی اور بزار بحوالہ مجمع الزوائد٭ مسند ابی عوانۃ ج ۱، ص ۳۹۶ ٭ تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۳۲۱-۳۰۸- سورہ فرقان اور ج ۱، ص ۵۰۵ عن جابر٭ احکام القرآن للجصاص ج ۴ ، ص ۲۶۰۔

فصل :۲ وضو کے مسائل۔ چہرے میں منہ اور ناک ، سر میں کان شامل ہیں

۳۔ ’’نبی ﷺ نے فرمایاکہ وضو کے دوران منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَمَّادٌ ح وَثَنَا مُسَدَّدٌ وَقُتَیْبَۃُ عَنْ حَمَّادِ ابْنِ زَیْدٍ، عَنَ سِنَانِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ شَہْرِبْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، ذَکَرَ وُضُوْئَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ الْمَأقَیْنِ قَالَ: وَقَالَ (الْاُذُنَانِ مِنَ الرَّاسِ)۔ (۱)
ترجمہ : حضرت ابوامامہؓ (باہلی) سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا ذکر کیا اور بیان کیا کہ آپؐ ناک کی طرف کے گوشہ چشم کا مسح فرماتے اور فرمایا، کان سر کا ایک حصہ ہیں۔
ابن ماجہ نے اسے مرفوع نقل کیا ہے:
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْاُذُنَانِ مِنَ الرَّاْسِ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن زید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں۔
 ابودائود نے اس پر جرح کرتے ہوئے کہا ہے اور ترمذی نے بھی:
ـــــــ قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: یَقُوْلَہَا اَبُواُمَامَۃَ۔ قَالَ قُتَیْبَۃُ: قَالَ حَمَّادُ: لَا اَدْرِیْ ہُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ اَوْ (من) اَبِیْ اُمَامَۃَ۔ یَعْنِیْ قِصَّۃَ الاُذُنَیْنِ، قَالَ قُتَیْبَۃُ عَنْ سِنَانٍ ابِیْ رَبِیْعَۃَ قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ : وَہُوَ ابْنُ رَبِیْعَۃَ، کُنِّیَّتُہٗ اَبُوْ رَبِیْعَۃَ ۔(۲)
ـــــــسلیمان بن حرب کا قول ہے کہ یہ ’’الاذنان من الراس‘‘ کا جملہ ابو امامہ کا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان نہیں۔ قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد کا قول ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ جملہ نبی ﷺ کا فرمودہ ہے یا ابوامامہ کا اپنا قول۔
تشریح :  بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور کان چونکہ سر کا ایک حصہ ہیں، اس لیے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھولینے چاہییں تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کررہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔                       (تفہیم القرآن،ج ۱، مائدہ، حاشیہ: ۲۴)

وضو سے فراغت کے بعد دعا

۴۔اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ، اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔
’’ میں شہادت دیتا ہوں کہ ایک اکیلے لا شریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا جَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِیُّ الْکُوْفِیُّ نَازَیْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ ابْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ الدمَشْقِیِّ، عَنْ اَبِیْ ادْرِیْسَ الْخَوْلَا نِیِّ وَاَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَن تَوَضَّأَفَاَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَالَ:’’اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ، وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔ فُتِحَتْ لَہٗ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ اَیِّہَا شَآئَ‘‘وَفِی الْبَابِ عَنْ اَنَسٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ۔(۳)
ترجمہ:حضرت عمربن الخطاب سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا پھر وضو کے بعد اَشْہَدُ اَنْ لّآ اِلٰہ الاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ الخ پڑھا کہ ’’ میں شہادت دیتا ہوں کہ ایک لا شریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔‘‘ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ جس میں سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: حَدِیْثُ عُمَرَ قَدْ خُوْلِفَ زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ رَویٰ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ وَغَیْرُہُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ جُبَیْرِبْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ عُمَرَ۔ وَہٰذَا حَدِیْثٌ فِیْ اسْنَادِہٖ اِضْطِرَابٌ۔ وَلَا یَصِحُّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ کَبِیْرُ شَییٍٔ۔ قَالَ مُحَمَّدُ: اَبُوْ اِدْرِیْسَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَیْئًا۔
تشریح: وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضاء دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کاذکر کرتے رہو اور فارغ ہو کر وہ (مندرجہ بالا) دعا پڑھو جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی ہے ، تو محض تمہارے اعضاء ہی نہ دھلیں گے، بلکہ ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی دھل جائے گا۔
(خطبات، باب سوم، نماز میں۔۔۔)

نواقض وضو

نواقض وضو کے مسئلے کی صحیح صورت یہ ہے کہ شریعت میں جن جن باتوں سے وضو کے ٹوٹنے اور تجدید وضو لازم آنے کا حکم لگایا گیا ہے، پہلے ان سب کو اپنے ذہن سے نکال دیجیے۔ پھر خود اپنے طور پر سوچیے کہ عام انسانوں کے لیے ( جن میں عالم اور جاہل ، عاقل اور کم عقل، طہارت پسند اور طہارت سے غفلت کرنے والے، سب ہی قسم کے لوگ مختلف درجات و حالات کے موجود ہیں) آپ کو ایک ایسا ضابطہ بنانا ہے جس میں حسب ذیل خصوصیات موجود ہوں:
(۱) لوگوں کو بار بار صاف اور پاک ہوتے رہنے پر مجبور کیا جائے اور ان میں نظافت کی حس اس قدر بیدار کردی جائے کہ وہ نجاستوں اور کثافتوں سے خود بچنے لگیں۔
(۲) خدا کے سامنے حاضر ہونے کی اہمیت اور امتیازی حیثیت ذہن میں بٹھائی جائے، تاکہ نیم شعوری طور پر آدمی خود بخود اپنے اندر یہ محسوس کرنے لگے کہ نماز کے قابل ہونے کی حالت، دنیا کی دوسری مشغولیتوں کے قابل ہونے کی حالت سے لازماً مختلف ہے۔
(۳) لوگوں کے اپنے نفس اور اس کے حال کی طرف توجہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے، تاکہ وہ اپنے پاک یا ناپاک ہونے، اور ایسے ہی دوسرے احوال سے جو ان پر وارد ہوتے رہتے ہیں، بے خبر نہ ہونے پائیں اور ایک طرح سے خود اپنے وجود کا جائزہ لیتے رہیں۔
(۴) ضابطہ کی تفصیلات کو ہر شخص کے اپنے فیصلہ اور رائے پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ایک طریق کار معین ہو، تا کہ انفرادی طور پر لوگ طہارت میں افراط و تفریط نہ کریں۔
(۵) ضابطہ اس طرح بنایا جائے کہ اس میں اعتدال کے ساتھ طہارت کا مقصد حاصل ہو، نہ اتنی سختی ہو کہ زندگی تنگ ہو کر رہ جائے اور نہ اتنی نرمی کہ پاکیزگی ہی باقی نہ رہے۔
ان پانچ خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر آپ خود ایک ضابطہ تجویز کریں اور خیال رکھیں کہ اس میں کوئی بات اس نوعیت کی نہ آنے پائے جس پر اعتراضات ہوسکتے ہیں۔
اس قسم کا ضابطہ بنانے کی کوشش میں اگر آپ صرف ایک ہفتہ صرف کریں گے تو آپ کی سمجھ میں خود بخود یہ بات آجائے گی کہ ان خصوصیات کو ملحوظ رکھ کر صفائی وطہارت کا کوئی ایسا ضابطہ نہیں بنایا جاسکتا جس پر اعتراضات واردنہ ہوسکتے ہوں۔آپ کو بہر حال کچھ چیزیں ایسی مقرر کرنی پڑیں گی جن کے پیش آنے پر ایک طہارت کو ختم شدہ فرض کرنا اور دوسری طہارت کو ضروری قرار دینا ہوگا۔ آپ کو یہ بھی متعین کرنا ہوگا کہ ایک طہارت کی مدت قیام (Duration) کن حدود تک رہے گی اور کن حدود پر ختم ہوجائے گی۔ ا س غرض کے لیے جو حدیں بھی آپ تجویز کریں گے، ان میں ناپاکی ظاہر اورنمایاں اور محسوس نہ ہوگی بلکہ فرضی اور حکمی ہی ہوگی اور لامحالہ بعض حوادث ہی کو حد بندی کے لیے نشان مقرر کرنا ہوگا۔
جب آپ اس زاویہ نظر سے اس مسئلہ پر غور کریں گے تو آپ خود بخود اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ شارع نے جو ضابطہ تجویز کردیا ہے، وہی ان اغراض کے لیے بہترین اور غایت درجہ معتدل ہے۔ اس کے ایک ایک جزئیہ کو الگ الگ لے کر علت و معلول اور سبب و مسبب کا ربط تلاش کرنا معقول طریقہ نہیںہے ۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا بہ حیثیت مجموعی ان اغراض و مصالح کے لیے جو اوپر بیان ہوئی ہیں، اس سے بہتر اور جامع تر کوئی ضابطہ تجویز کیا جاسکتا ہے؟ لوگوں کو احکام وضو میں جو غلط فہمی پیش آتی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ اس بنیادی حکمت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو بہ حیثیت مجموعی ان احکام میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔ بلکہ ایک ایک جزئی حکم کے متعلق یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں فعل میں آخر کیا بات ہے کہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی ضرب آخر کس طرح شکست وضو کا سبب بن جاتی ہے۔
(رسائل و مسائل اول،فقہی مسائل: نواقض وضو)

سگریٹ نوشی سے وضو نہیں ٹوٹتا

سوال: ’’مولانا! وضو کی حالت میں سگریٹ پینا کیسا ہے؟‘‘
جواب: ’’کوئی حرج نہیں۔ وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ نماز سے پہلے کلی کرکے منہ کو اچھی طرح صاف کرلینا چاہیے تاکہ سگریٹ کی بو باقی نہ رہے۔‘‘ (۵- اے ذیلدار پارک دوم، ص :۱۷۲)

جرابوں پر مسح

۵۔ مَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔
نبی ﷺ نے اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔‘‘
نسائی کے سوا تمام کتب سنن اور مسند احمد میں بہ روایت مغیرہ بن شعبہ موجود ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، عَنْ وَکِیْعٍ، عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ قَیْسِ نِ الْاَوْدِیْ ہُوَ عَبْدُ الرَّ حْمٰنِ بْنُ ثَرْوَانَ، عَنْ ہُزَیْلِ بْنِ شُرَ حْبِیْلَ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّاَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْ رَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔
ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ:ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ، وَہُوَقَوْلُ غَیْرِ وَاحِدٍ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ وَبِہٖ یَقُوْلُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ قَالُوْا  یَمْسَحُ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا نَعْلَیْنِ اِذَا کَانَا ثِخِّیْنَیْنِ۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ:کَانَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیْ لاَ یُحَدِّثُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ، لِاَنَّ الْمَعْرُوْفَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ مَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔
ـــــــ  حضرت مغیرہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
ـــــــ قَالَ ابُوْدَاوٗدَ: وَرُوِیَ ہٰذَا اَیْضاً عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّعَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ مَسَحَ عَلیٰ الْجَوْرَبَیْنِ وَلَیْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلَا بِالْقَوِیِّ۔
ـــــــ ’’ابودائود کا خیال ہے کہ ابو موسیٰ الاشعری کے واسطہ سے مسح علی الجور بین والی روایت متصل بھی نہیں اور نہ وہ قوی ہے۔‘‘
ـــــــ قَالَ اَبُوْ دَاوُدَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، وَابْنُ مَسْعُوْدٍ، وَالْبَرَآئُ بْنُ عَازِبٍ، وَاَنَسُ ابْنُ مَالِکٍ، وَاَبُوْ اُمَا مَۃَ، وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُ وْبْنُ حُرَیْثٍ، وَرُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخطَّابِ وَابْنِ عَبَّاسٍ۔(۴)
ترجمہ : حضرت علیؓ بن طالب ، عبداللہ بن مسعودؓ ، براء بن عازب ؓ ، انس بن مالکؓ ، ابو امامہ ؓ ، سہل بن سعدؓ، عمروبن حریثؓ نے جرابوں پر مسح کیا ہے۔ حضرت عمرؓ بن الخطاب اور ابن عباسؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
۶۔ حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے جوتوں اور پائوں پر مسح فرمایا۔
تخریج:(۱)وَقَالَ عبادٌ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتیٰ کِظَامَۃَ قَوْمٍ ـــــ یَعْنِی اَلْمِیْضَاَۃَ ـــــ وَلَمْ یَذْکُرْ مُسَدَّدٌ اَلْمِیْضَاَۃَ وَالکِظَاَمَۃَ ثُمَّ اتَّفَقَا فَتَوَضَّأ وَمَسَحَ عَلیٰ نَعْلَیْہِ وَقَدَ مَیْہِ۔    (ابوداؤد)
(۲)حدَّثنا مُسَدَّدٌ وَعَبَادُبْنُ مُوْسیٰ قَالَا: ثَنَا ہُشیْمٌ عَنْ یَعْلیٰ بْنِ عَطَآئٍ عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ عبادٌ: قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَوْسُ بْنُ اَوْسٍ الثَّقَفِیُّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ توضأ ومَسَحَ عَلیٰ نعْلَیْہِ وَقَدَمَیْہ ۔
تشریح:  سنت سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا ہے۔ ابودائود کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ حضرت عبداللہ بن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیا ہے۔ نیز حضرت عمرؓ اور ابن عباسؓ سے بھی یہ فعل مروی ہے۔ بلکہ بیہقی نے ابن عباس اور انس بن مالک سے اور طحاوی نے اوس بن ابی اوس سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے صرف جوتوں پر مسح فرمایا ہے۔اس میں جرابوں کا ذکر نہیں ہے۔ اور یہی عمل حضرت علی سے بھی منقول ہے۔ ان مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف جراب اور صرف جوتے، اور جرابیں پہنے ہوئے جوتے پر مسح کرنا بھی اسی طرح جائز ہے جس طرح چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا۔ ان روایات میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ نبی ﷺ نے فقہاء کی تجویز کردہ شرائط   جہاں تک چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کا تعلق ہے اس کے جواز پر قریب قریب تمام اہل سنت کا اتفاق ہے۔ مگر سوتی اور اونی جرابوں کے معاملے میں عموماً ہمارے فقہاء نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ موٹی ہوں، اور شفاف نہ ہوں کہ ان کے نیچے سے پائوں کی جلد نظر آئے۔ اور وہ کسی قسم کی بندش کے بغیر خود قائم رہ سکیں۔ میں نے اپنی امکانی حد تک یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ ان شرائط کا ماخذ کیا ہے مگر سنت میں ایسی کوئی چیز نہ مل سکی۔ (از مولف)
میں سے کوئی شرط بیان فرمائی ہو۔ اور نہ یہ ذکر کسی جگہ ملتا ہے کہ جن جرابوں پر حضور اور مذکورہ بالا صحابہ نے مسح فرمایا وہ کس قسم کی تھیں۔ اس لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ فقہاء کی عائد کردہ ان شرائط کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور فقہاء چونکہ شارع نہیں ہیں، اس لیے ان کی شرطوں پر اگر کوئی عمل نہ کرے، تو وہ گنہگار نہیں ہوسکتا۔
امام شافعی اور امام احمد کی رائے یہ ہے کہ جرابوں پر اس صورت میں آدمی مسح کرسکتا ہے جب کہ آدمی جوتے اوپر سے پہنے رہے۔ لیکن اوپر جن صحابہ کے آثار نقل کیے گئے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس شرط کی پابندی نہیں کی ہے۔
(رسائل و مسائل دوم، فقہی مسائل: جرابوں پر مسح)

مَسَحٌ عَلَی الْخُفَّیْنِ (موزوں پر مسح)

مسح علی الخفین کے مسئلے پر غور کرکے میں نے جو کچھ سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ دراصل یہ تیمم کی طرح ایک سہولت ہے جو اہل ایمان کو ایسی حالتوں کے لیے دی گئی ہے جب وہ کسی صورت سے پائوں ڈھانکے رکھنے پر مجبور ہوں اور بار بار پائوں دھونا ان کے لیے موجب نقصان یا وجہ مشقت ہو۔ اس رعایت کی بنا اس مفروضے پر نہیں ہے کہ طہارت کے بعد موزے پہن لینے سے پائوں نجاست سے محفوظ رہیں گے۔ اس لیے ان کو دھونے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بلکہ اس کی بنا اللہ کی رحمت ہے جو بندوں کو سہولت عطا کرنے کی مقتضی ہوئی۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو سردی سے، یا راستے کے گردوغبار سے بچنے کے لیے، یا پائوں کے کسی زخم کی حفاظت کے لیے آدمی پہنے اور جس کے بار بار اتارنے اور پھر پہننے میں آدمی کو زحمت ہو، اس پر مسح کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ اونی جراب ہو، یا سوتی۔ چمڑے کا جوتا ہو یا کرمچ کا، یا کوئی کپڑا ہی ہو جو پائوں پر لپیٹ کر باندھ لیا گیا ہو۔ میں جب کبھی کسی کو وضو کے بعد مسح کے لیے پائوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ بندہ اپنے خدا سے کہہ رہا ہے کہ ’’حکم ہو تو ابھی یہ موزے کھینچ لوں اور پائوں دھوڈالوں۔ مگر چونکہ سرکار ہی نے رخصت عطا فرمادی ہے، اس لیے مسح پر اکتفا کرتا ہوں۔‘‘ میرے نزدیک دراصل یہی معنی مسح علی الخفین وغیرہ کی حقیقی روح ہیں۔ اور اس روح کے اعتبار سے وہ تمام چیزیں یکساں ہیں جنہیں ان ضروریات کے لیے آدمی پہنے، جن کی رعایت ملحوظ رکھ کر مسح کی اجازت دی گئی ہے۔
(رسائل و مسائل ، دوم، فقہی مسائل: جرابوں پر مسح)
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدِنِ الْحَرَّانِیُّ، قَالَ: ثَنَااللَّیْثُ عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ سَعْدِ ابْنِ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ نَا فِعِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ عُرْوَۃَبْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ اَبِیْہِ الْمُغِیْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہُ خَرَجَ لِحَاجَتِہِ فَاتَّبَعَہُ الْمُغِیْرَۃُ بِاِدَاوَۃٍ فِیْہَا مَآ ئٌ فَصَبَّ عَلَیْہ حِیْنَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِہ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔(۵)
ترجمہ : حضرت مغیرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ قضاء حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ مغیرہ بن شعبہ پانی کا لوٹا لے کر آپ کے پیچھے ہولیے۔ جب آپ قضاء حاجت سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پانی ڈالا۔ آپؐ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔

وضو کے احکام قرآن کو سمجھنے میں حدیث نبویؐ سے مدد

(ایک سائل کے جواب میں) بلا شبہ وضو کے بارے میں قرآن مجید میں یہی حکم ہے کہ جب نماز کے لیے اٹھو تو وضو کرو، مگر نبیﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ اس کا منشا کیا ہے؟ اسی طرح قرآن میں صرف منہ دھونے کا حکم ہے مگر آں حضرت ﷺ نے ہمیں منہ دھونے کا صحیح طریقہ اور معنی بتائے کہ اس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی دینا بھی شامل ہے۔ قرآن میں صرف سر کے مسح کا حکم ہے، مگر حضورؐ نے ہمیں بتایاکہ سر کے مسح میں کان کا مسح بھی شامل ہے۔ آپ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وضو شروع کرتے وقت پہلے ان ہاتھوں کو پاک کر لو، جن سے تمہیں وضو کرنا ہے۔ یہ باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے حکم قرآنی کی تشریح کرکے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔ قرآن کے ساتھ نبی کے آنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ کتاب کے منشا کو کھول کر ہمیں بتائے اور اس پر عمل کرکے بتائے۔ آیت وَاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْہِمْ (النحل:۴۴) میںاسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اے نبی! ہم نے یہ ذکر لوگوں کے پاس براہ راست بھیج دینے کے بجائے تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے سامنے وضاحت کے ساتھ اس ہدایت کی تشریح کرو جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے۔
اس بات کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں تو آپ کو اپنے اس سوال کا جواب سمجھنے میں بھی کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھنا کیوں جائز ہے۔ دراصل نبی ﷺ نے ہمیں بتایا کہ ایک وضو کی مدت قیام کس قدر ہے اور کن چیزوں سے یہ مدت ختم ہوتی ہے۔ اگر حضورؐ یہ نہ بتاتے تو ایک شخص یہ غلطی کرسکتا تھا کہ تازہ وضو کے بعد پیشاب کرلیتا، یا کسی دوسرے ناقض وضو فعل کا صدور اس سے ہوجاتا اور وہ پھر بھی نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا۔ یا مثلاً دوران نماز میں ریح خارج ہوجانے کے باوجود نماز پڑھ ڈالتا۔ قرآن میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نماز کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وضو کب تک باقی رہتا ہے اور کن چیزوں سے ساقط ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص بہ طور خود یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ابھی ابھی جس شخص نے وضو کیا ہے، ریح خارج ہونے سے اس کے وضو میں کیا قباحت واقع ہوجاتی ہے۔ اب جبکہ حضورؐ نے واضح طور پر یہ بتادیا کہ وضو کو ساقط کرنے والے اسباب کیا ہیں تو اس سے خود بخود یہ بات نکل آئی کہ جب تک ان اسباب میں سے کوئی سبب رونما نہ ہو، وضو باقی رہے گا۔ خواہ اس پر کتنے ہی گھنٹے گزر جائیں اور جب ان میں سے کوئی سبب رونما ہوجائے تو وضو باقی نہیں رہے گا۔ خواہ آدمی نے ابھی ابھی تازہ وضو کیا ہو اور اس کے اعضاء بھی پوری طرح خشک نہ ہوئے ہوں۔
اب اگر (کوئی صاحب یہ کہتے ہیں) کہ قرآن میں چونکہ حکم ان الفاظ میں آیا ہے(کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو وضو کرو، اس لیے ہر نماز کے لیے تازہ وضو ضروری ہے) تو اسی طرح کا استدلال کرکے ایک شخص یہ حکم لگاسکتا ہے کہ ہر مستطیع مسلمان کو ازروئے قرآن ہر سال حج کرنا چاہیے اور یہ بھی دعویٰ کرسکتا ہے کہ عمر بھر میں ایک دفعہ زکوٰۃ دے کر آدمی قرآن کا حکم پورا کردیتا ہے۔ تشریح رسولؐ سے بے نیاز ہو کر تو ہر مسلمان شخص قرآن کی ہر آیت کی ایک نرالی تعبیر و تاویل کرسکتا ہے اور کسی کی رائے بھی کسی دوسرے شخص کے لیے حجت نہیں بن سکتی۔ (رسائل و مسائل دوم، تفسیر آیات ۔۔۔ حدیث کے۔۔۔)

احکام وضو کی تشریح

منہ اور پائوں (وضو میں) دھونے کے حکم کی جو وجہ بعض لوگوں نے سمجھی ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم محض گرد صاف کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اور جہاں گرد و غبار نہ ہو وہاں اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے ہی نہیں۔ دراصل اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کے قابل ہونے اور قابل نہ ہونے کی حالت کے درمیان فرق کیا جائے تاکہ آدمی جب اس کی عبادت کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے جسم اور لباس کا جائزہ لے کر دیکھے کہ آیا میں خدا کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہوں یا نہیں؟ اور جانے سے پہلے اپنے آپ کو پاک صاف کرکے اہتمام کے ساتھ جائے۔ اس طرح عبادت کی اہمیت دل میں جاگزیں ہوتی ہے۔ اور آدمی اسے اپنے عام معمولی کاموں سے ایک مختلف اور بالاتر نوعیت کا کام سمجھ کر بجالاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پانی نہ ملے وہاں تیمم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ تیمم سے بہ ظاہر کوئی صفائی بھی نہیں ہوتی۔
علاوہ بریں وضو میں جس صفائی کا حکم دیا گیا ہے اس سے ایک ضمنی مقصد یہ بھی ہے کہ پنج وقتہ نماز کی وجہ سے آدمی کو پاک رہنے کی عادت پڑجائے۔ گندگی لازماً صرف مٹی اور گرد و غبار کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی، بلکہ آدمی کے مسامات سے ہر وقت کچھ نہ کچھ فضلات خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اگر اسے دھویا نہ جاتا رہے تو یہ مادے جسم کی سطح پر جم جم کر بوپیدا کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب لوگوں کے منہ سے بھی بو آتی ہے ، ان کے بدن میں بھی ایک طرح کی سڑاند ہوتی ہے، اور ان کے پائوں تو سخت بدبودار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے جوتوں اور جرابوں میں بھی ایک تعفن پیدا ہوجاتا ہے۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے پیرو کسی حیثیت سے بھی نفرت انگیز حالت میں رہیں۔ یورپ کے لوگ اس بدبو کو دبانے کے لیے عطریات اور لونڈر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ بدبو کو اوپری خوشبوئوں سے دبانا کوئی پاکیزگی و طہارت نہیں ہے۔
جاڑے کے زمانے میں یا سرد علاقوں میں پائوں دھونے کی زحمت سے بچانے کے لیے شریعت نے پہلے ہی یہ آسانی رکھ دی ہے کہ آدمی ایک دفعہ وضو میں پائوں دھونے کے بعد موزے پہن لے۔ پھر ۲۴ گھنٹے تک مقیم کے لیے اور ۷۲ گھنٹے تک مسافر کے لیے پائوں دھونے کی حاجت نہیں ہے بشرطیکہ اس دوران میں وہ موزے نہ اتارے۔
(رسائل و مسائل سوم،فقہی مسائل: اجتہاد کے حدود)

آیت وضو میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف

آیت وضو (سورۂ مائدہ، رکوع دوم) کے متعلق شیعوں اورسنیوں کے درمیان یہ اختلاف بہت پرانا ہے کہ آیا اس میں پائوں دھونے کا حکم دیا گیاہے یا ان پر صرف مسح کرنے کا۔ ان کو یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن میں صاف پیروں کے مسح کرنے کا حکم ہے اور اہل سنت نے محض حدیث کی بنیاد پر دھونے کا مسلک اختیار کرلیا ہے۔ اگر صاف حکم یہی موجود ہوتا تو پھر کس کی مجال تھی کہ اس کے خلاف عمل کرتا۔ اصل مختلف فیہ سوال تو یہی ہے کہ قرآن فی الواقع ان دونوں فعلوں میں سے کس کا حکم دیتا ہے اور اس کا حقیقی منشا کیا ہے۔
آیت کے الفاظ یہ ہیں:
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْ ہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ۔ط (المائدۃ: ۶)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، جب تم اٹھو نماز کے لیے تو دھوئو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پائوں ٹخنوں تک۔‘‘
اس میں لفظ وَاَرْجُلکُمْکی دو قرأ تیں متواتر ہیں۔ نافع، ابن عامر، حفص، کسائی اور یعقوب کی قرأ ت وَاَرْجُلَکُمْ (بفتح لام)ہے، اور ابن کثیر، حمزہ، ابو عمرو اور عاصم کی قرأ ت وَاَرْجُلِکُمْ (بکسرلام) ہے۔ ان میں سے کسی قرأ ت کی حیثیت بھی یہ نہیں ہے کہ بعد میں کسی وقت بیٹھ کر نحویوں نے اپنے اپنے فہم اور منشا کے مطابق الفاظ قرآنی پر خود اعراب لگادیے ہوں، بلکہ یہ دونوں قرأ تیں متواتر طریقے سے منقول ہوئی ہیں۔ اب اگر پہلی قرأ ت اختیار کی جائے تو وَاَرْجُلَکُمْکا تعلق فاغْسلُوْا کے حکم سے جڑتا ہے اور معنی یہ ہو جاتے ہیں اور دھوئو اپنے پائوں ٹخنوں تک ، اور اگر دوسری قرأت قبول کی جائے تو اس کا تعلق وامْسَحُوْ ابِرُء ُ وْسِکُمْ سے قائم ہوتاہے اور معنی یہ نکلتے ہیں: ’’ اور مسح کرو اپنے پائوں پر ٹخنوں تک۔‘‘
یہ صریح اختلاف ہے جو ان دو مشہور و معروف اور متواتر قراء توں کی وجہ سے آیت کے معنی میں واقع ہوجاتا ہے ۔ اس تعارض کو رفع کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ دونوں قراء توں کو کسی ایک ہی مفہوم (غسل یا مسح) پر محمول کیا جائے۔ لیکن اس کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں وہ ہمیں کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچاتیں۔ کیونکہ جتنے وزنی دلائل کے ساتھ ان کو غسل پر محمول کیا جاسکتا ہے قریب قریب اتنے ہی وزنی دلائل مسح پر محمول کرنے کے حق میں بھی ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ محض قواعد زبان کی بنا پر ان میں کسی ایک معنی کو ترجیح دی جائے۔ لیکن یہ صورت بھی مفید مطلب نہیں، کیونکہ دلائل ترجیح دونوں پہلوئوں میں قریب قریب برابر ہیں۔ اب آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے عمل کو دیکھا جائے۔
ظاہر ہے کہ وضو کا حکم کہیں خلا میں تو نہیں دیا گیا تھا، اور نہ وہ محض قرآن کے مصحف پر لکھا ہوا ہمیں مل گیا ہے۔ یہ تو ایک ایسے فعل کا حکم ہے جو پنج وقتہ نمازوں کے موقع پر عمل کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ حضوؐر خود اس پر ہر روز کئی کئی بار عمل فرماتے تھے۔ اور آپؐ کے متبعین ، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب روزانہ اس حکم کی تعمیل اس طریقے پر کرتے تھے جو انہوں نے آںحضورؐ کے قول اور عمل سے سیکھا تھا۔ آخر ہم کیوں نہ یہ دیکھیں کہ قرآن کے اس حکم پر ہزارہا صحابہؓ نے حضوؐر کو اور بعد کے بے شمار مسلمانوں نے صحابہؓ کو کس طرح عمل کرتے دیکھا؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات واضح نہ ہوئی ہو اسے سمجھنے کے لیے اس ذریعہ سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کون سا ہو سکتا ہے۔
اس ذریعہ علم کی طرف جب ہم رجوع کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ صحابہؓ کی اتنی کثیر تعداد رسول اللہ ﷺ سے پائوں دھونے کے قول اور عمل کو نقل کرتی ہے اور تابعین کی اس سے بھی زیادہ تعداد صحابہؓ سے اس کو روایت کرتی ہے کہ اس خبر کی صحت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ تھوڑی سی روایات مسح کے حق میں بھی ہیں، لیکن ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کا عمل مسح کا تھا، بلکہ دو تین صحابیوں کی اپنی رائے یہ تھی کہ قرآن صرف مسح کا حکم دیتا ہے نیز ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ اگر وضو سے ہوتے اور پھر نماز کے وقت تجدید وضو کرنا چاہتے تو صرف مسح پر اکتفا کرتے تھے۔دوسری طرف متعدد مستند روایات خود اہل تشیع کے ہاں ایسی ملتی ہیں، جن سے پائوں دھونے کا حکم اور عمل ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً محمد بن نعمان کی روایت ابوعبداللہؓ سے جس کو کلبی اور ابوجعفر طوسی نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم سرکا مسح بھول جائو اور پائوں دھو بیٹھو، تو پھر سر کا مسح کرو اور دوبارہ پائوں دھولو۔‘‘ اس طرح محمد بن حسن الصفار حضرت زید بن علیؓ سے ، وہ اپنے والد امام زین العابدین سے، وہ اپنے والد امام حسین ؓ سے اور وہ اپنے والد سیدنا علیؓ سے ان کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’’میں وضو کرنے بیٹھا، سامنے سے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں پائوں دھونے لگا تو آپؐ نے فرمایا ’’اے علی! انگلیوں کے درمیان خلال کرلو۔‘‘ الشرف الرضی نے نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کی جو کیفیت نقل کی ہے اس میں بھی وہ پائوں دھونے ہی کا ذکر فرماتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایات کا وزن تمام تر غسل قدمین کے حق میں ہے۔ اور محض مسح کی تائید بہت ہی کم اور سنداً و معنی کمزور روایتیں کرتی ہیں۔
اب عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو پائوں دھونے ہی کا عمل زیادہ معقول اور قرآن کے منشا کے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ وضو میں جتنے اعضاء کی صفائی کا حکم دیا گیا ہے، ان میں سب سے زیادہ گندگی اور میل کچیل لگنے کا امکان اگر کسی عضو کو ہے تو وہ پائوں ہی ہیں۔ اور سب سے کم جس حصہ جسم کے آلودہ ہونے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں وہ سر ہے۔ یہ عجیب بات ہوگی کہ دوسرے سب اعضاء کو تو دھونے کا حکم ہو اور پائوں مسح کے حکم میں سرکے ساتھ شامل کیے جائیں۔ پھر پائوں پر مسح اگر وضو کے آخر میں کیا جائے تو لامحالہ گیلے ہاتھ ہی پھیرنے ہوں گے۔ اس صورت میں پائوں پر جو گردوغبار یا میل کچیل ہوگا وہ گیلے ہاتھ پھیرنے سے اور بھی زیادہ گندہ ہوجائے گا۔ علاوہ بریں اگر آدمی پائوں پر صرف مسح کرے تو آیت کے دو محتمل معنوں میں سے ایک ( غسل قد مین) لازماً چھوٹ جاتا ہے اور صرف ایک ہی مفہوم کی تعمیل ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی پائوں دھوئے بھی اور اچھی طرح ہاتھوں سے مل کر ان کو صاف بھی کردے تو آیت کے دونوں مفہوموں پر بدرجہ اتم عمل ہوجاتا ہے، کیونکہ اس صورت میں غسل اور مسح دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔
البتہ مسح کے حکم پر عمل رسول اللہ ﷺ نے اس حالت میں بیان کیا ہے جبکہ آپؐ موزے پہنے ہوئے تھے۔ یہ آیت کے دوسرے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ بکثرت روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور سراسر معقول بھی۔ مگر تعجب ہے کہ شیعہ حضرات اسے نہیں مانتے، حالانکہ یہ ان کے اپنے مسلک سے بھی قریب تر ہے۔
(رسائل و مسائل دوم، اختلافی مسائل، اہل سنت۔۔۔)

ماخذ

(۱) ابوداؤد ج۱، کتاب الطہارۃ، باب صفۃ وضوء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ٭ ترمذی: کتاب الطہارۃ، باب ماجاء ان الأذنین من الراس٭ ابن ماجہ: کتاب الطہارۃ و سننہا، باب الْاُذُنَانِ مِنَ الرَّاْسِ۔
(۲) دارقطنی نے کتاب الطہارۃ ج۱ ص ۹۷ پر باب ماروی من قول النبی ﷺ الاذنان من الراسپر تفصیل سے بحث کی ہے۔
(۳) ترمذی ج۱ ابواب الطہارۃ، باب مایقال بعد الوضوء۔ مسلم نے کتاب الطہارۃ میں عقبہ بن عامر سے باب الذکر المستحب عقب الوضوء، ابوداؤد نے کتاب الطہارۃ، باب مایقول الرجل اذا توضا، دارمی نے کتاب الصلوٰۃ، باب القول بعد الوضوء ص ۱۴۷ پر اور مسند احمد ج ۴ ، ص ۱۴۶ روایت عقبہ بن عامر سے صرف’’ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمد اعبدہ ورسولہ الا فتحت لہ ابواب الجنۃ الثمانیۃ یدخل من ایہاشاء‘‘ نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں ابن خزیمہ ، ابن حبان اور ابن ابی شیبہ نے بھی اتنا ہی روایت کیا ہے۔ تاریخ بغداد ج ۵ص۲۷۰ پر بھی مذکور ہے۔
(۴) ابوداودج۱ کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الجوربین ٭ ترمذی: ابواب الطہارۃ، باب فی المسح علی الجوربین والنعلین٭ ابن ماجہ: ابو اب الطہارۃ وسننہا، باب المسح علی الجوربین والنعلین٭مسند احمد ج۴، ص ۲۵۲، مغیرۃ بن شعبۃ٭موارد الظمأن۔ کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الجوربین والنعلین والخمار۔
(۵) بخاری ج۱کتاب الوضوء، باب المسح علی الخفین٭مسلم ج۱کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین٭ ابوداؤدج۱، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین٭ ترمذی ج۱ ابواب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین ٭ نسائی ج۱کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ اور باب المسح علی الخفین فی السفر٭ابن ماجہ ج۱ کتاب الطہارۃ، باب ماجاء فی المسح علی الخفین٭ دارمی،ج۱،کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین ٭دارقطنی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین٭ موطا امام مالک، باب ماجاء فی المسح علی الخفین ٭مسند احمد، ج ۴، ص ۲۴۴، مغیرہ بن شعبۃ،ج۱، ص ۱۴، ۱۵، ۲۰، ۲۳، ۳۵، ۴۴، ۴۹، ۵۴، ۱۰۰، ۱۱۳، ۱۸۶، ۳۲۳، ۳۶۶۔ ج ۴، ص ۱۳۹، ۱۷۹، ۲۴۰، ۲۵۱، ۲۵۳۔ ج ۵، ص ۲۱۳، ۲۸۱، ۲۸۷، ۲۸۸، ۳۵۱، ۳۸۲، ۴۰۲، ۴۳۹، ۴۴۰۔ ج ۶، ص ۱۲، ۱۵، ۳۳۳۔

فصل :۳ غسل کے مسائل غسل جنابت کے لیے پانی کی مقدار

۷۔ابو سلمہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’میں اور حضرت عائشہؓ کے بھائی حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ کے بھائی نے ان سے نبی ﷺ کے غسل کی بابت دریافت کیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انہوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اس حال میں کہ ہمارے اور ان کے درمیان (ایک) پردہ تھا ۔ ( بخاری)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ شُعْبَۃُ ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ اَبُوْ بَکْرِ ابْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا سَلَمَۃَ یَقُوْلُ: دَخَلْتُ اَنَاوَاَخُوعَائِشَۃَ علی عائشۃ فَسَاَلَہَا اَخُوْہَا عَنْ غُسْلِ النَّبِیِّﷺ فَدَعَتْ بِاَنَائٍ نَحْوٍمِّنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَاَفَاضَتْ عَلیٰ رَاْسِھَا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا حِجَابٌ۔(۱)
ترجمہ:حضرت ابو بکرؓ نے بتایا کہ میں نے ابو سلمہؓ کو یہ بیان کرتے سنا ہے کہ ’’میں اور حضرت عائشہؓ کے بھائی حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہ ؓ کے بھائی نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے غسل کی بابت دریافت کیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگوایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انہوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اس حال میں کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ تھا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ: قَالَ یَزِیْدُبْنُ ہَارُوْنَ وَبَہْزٌ وَالْجَدِّیُّ عَنْ شُعْبَۃَ قَدْرَ صَاعٍ۔
(۲) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَۃَ، اَنَآ وَاَخُوْھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ فَسَاَلَہَا عَنْ غُسْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ فَدَعَتْ بِاِنَآئٍ قَدْرَ الصَّاعِ۔ (فَاغْتَسَلَتْ) وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا سِتْرٌ۔ وَأَفْرَغَتْ عَلیٰ رَاْسِہَا ثَلَاثاً۔(۲)
ترجمہ:حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبدالرحمن اور حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھائی حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھائی نے ان سے نبی ﷺ کے غسل جنابت کی بابت دریافت کیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگوایا جو بقدر صاع تھا۔ انہوں نے غسل فرمایا اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی گرایا (بہایا)۔ در آں حالیکہ ان کے اور ہمارے درمیان ایک پردہ تھا۔
تشریح: اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ ابو سلمہؓ کا نام پڑھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی غیر شخص تھے، حالانکہ وہ حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھانجے تھے، جنہیں حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق ؓ نے دودھ پلایا تھا۔ پس دراصل یہ دونوں صاحب جو حضرت عائشہؓ سے مسئلہ پوچھنے گئے تھے، آپ کے محرم ہی تھے، ان میں سے کوئی غیر نہ تھا۔
پھر دوسری غلطی، بلکہ زیادتی وہ یہ کرتے ہیں کہ روایت میں تو صرف ’’ حجاب‘‘ یعنی پردے کا ذکر ہے مگر یہ لوگ اپنی طرف سے اس میں یہ بات بڑھالیتے ہیں کہ وہ پردہ باریک تھا۔ اور اس اضافے کے لیے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر باریک نہ ہوتا جس میں سے حضرت عائشہؓ نہاتی ہوئی نظر آسکتیں تو پھر اسے درمیان ڈال کر نہانے سے کیا فائدہ تھا؟ حالانکہ اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ اس وقت مسئلہ کیا درپیش تھا جس کی تحقیق کے لیے یہ دونوں صاحب اپنی خالہ اور بہن کے پاس گئے تھے، تو انہیں اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا اور یہ سوچنے کی ضرورت بھی نہ پیش آتی کہ پردہ باریک ہونا چاہیے تھا۔
دراصل وہاں سوال یہ نہ تھا کہ غسل کا طریقہ کیا ہے؟ بلکہ بحث یہ چھڑ گئی تھی کہ غسل کے لیے کتنا پانی کافی ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں کو نبی ﷺ کے متعلق یہ روایت پہنچی تھی کہ آپؐ ایک صاع بھر پانی سے غسل کرلیتے تھے۔ اتنے پانی کو لوگ غسل کے لیے ناکافی سمجھتے تھے۔ اور بنائے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ غسل جنابت اور غسل بغرض صفائی بدن کا فرق نہیں سمجھ رہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے ان کو تعلیم دینے کے لیے بیچ میں ایک پردہ ڈالا جس سے صرف ان کا سر اور چہرہ ان دونوں صاحبوں کو نظر آتا تھا اور پانی منگاکر اپنے اوپر بہایا۔ اس طریقے سے حضرت عائشہؓ ان کو دو باتیں بتانا چاہتی تھیں۔ ایک یہ کہ غسل جنابت کے لیے صرف جسم پر پانی بہانا کافی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے صاع بھر پانی کفایت کرتا ہے۔
(رسائل و مسائل دوم،تفسیر آیات۔۔۔ چنداحادیث ۔۔۔

اس تشریح کے بعد آپ خود سوچیں کہ اس میں آخر قابل اعتراض کیا چیز ہے جس کی بنا پر خواہ مخواہ ایک مستند حدیث کا انکا کرنے کی ضرورت پیش آئے اور پھر اسے تمام حدیثوں کے غیر معتبر ہونے پر دلیل ٹھہرایا جائے؟

 

بربنائے عذر کھڑے ہوکر پیشا ب کرنا

۸۔حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور نبی ﷺ چلے جارہے تھے کہ راستے میں آپ ؐ کو ڑے کے ڈھیر کی طرف گئے جو ایک دیوار کے پیچھے تھا اور آپ ؐ کھڑے ہوئے جیسے تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے اور آپؐ نے پیشاب کیا۔ میں ہٹ کر دور جانے لگا تو مجھے آپؐ نے اشارہ کیا اور میںآپؐ کے پیچھے کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپؐ فارغ ہوگئے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: رَایْتُنِیْ اَنَاوَالنَّبِیُّﷺ نَتَمَاشَی فَاَتیٰ سُبَاطَۃَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ کَمَا یَقُوْمُ اَحَدُکُمْ، فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْہُ فَاَشَارَ اِلَیَّ فَجِئْتُہُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِہِ حَتیّٰ فَرَغَ۔(۳)
ترمذی نے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۲)عَنْ حُذَیْفَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتٰی سُبَاطَۃَ قَوْمٍ، فَبَالَ عَلَیْہَا قَائِمًا، فَاَتَیْتُہُ بِوَضُوٌئٍ فَذَ ہَبْتُ لِاَتَاَخَّرَعَنْہُ، فَدَعَانِیْ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبَیْہِ، فَتَوَضَّأ، وَمَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہ۔(۴)
ترجمہ: حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قوم کے کوڑے کے ڈھیر کی طرف آئے اور کھڑے کھڑے اس پر پیشاب کیا۔ میں وضو کا برتن لے کر حاضر خدمت ہوا اور آپؐ سے ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہونا چاہا۔ آپؐ نے مجھے بلایا یہاں تک کہ میں آپؐ کے پیچھے کھڑا ہوگیا پھر آپؐ نے وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: وَہٰکَذَارَوَی مَنْصُوْرٌوَعُبَیْدَۃَ الضَّبِّیُ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ مِثْلَ رِوَایَۃِ الْاَعْمَشِ وَرَوَی حَمَّادُبْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ وَعَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃَ بْنِ شَعْبَۃَ عَنِ النَّبِیِّﷺ۔ وَحَدِیْثُ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَصَحُّ۔ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ اَہْلِ الْعِلْمِ فِی الْبَوْلِ قَائِماً۔
(۳) عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: اَتَی النَّـبِّیُ ﷺ سُبَاطَۃَ قَومٍ فَبَالَ قَائِماً ثُمَّ دَعَا بِمَآئٍ فجئتہ بمائٍ فَتَوَضَّأَ۔(۵)
ترجمہ : حضرت حذیفہؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ قوم کے ایک کوڑے کے ڈھیر کی طرف آئے اور کھڑے کھڑے پیشاب کیا، پھر پانی طلب فرمایا اور وضو کیا۔
(۴) عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ:اَتَی النَّـبِّیﷺ سُبَاطَۃَ قَومٍ فَبَالَ قَائِماً ثُمَّ دَعَابِمَآئٍ  فَمَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہِ۔(۶)
ترجمہ:حضرت حذیفہؓ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ قوم کے ایک کوڑے کے ڈھیر کی طرف آئے اور کھڑے کھڑے پیشاب کیا۔ پھر آپؐ نے پانی طلب فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
تشریح: یہ حدیث بخاری کتاب الوضوء کے متعدد ابواب میں آئی ہے اور حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے دیوار اور ڈھیر کے درمیان کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ تاکہ دونوں طرف سے پردہ رہے۔ اور حضرت حذیفہ ؓ کو روک کر پیچھے کھڑا کیا۔ کیونکہ اس صورت میں نظر آنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مستند روایات کے مطابق نبیؐ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے، مگر اس موقع پر آپؐ نے کسی عذر کی وجہ سے ہی ایسا کیا تھا اور حضرت حذیفہؓ نے یہ روایت اس لیے بیان کی تھی کہ ان کے زمانے میں بعض لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو قطعی ناجائز قرار دینے لگے تھے۔    (رسائل و مسائل دوم، تفسیر آیات۔۔۔:چند احادیث ۔۔۔ )
جہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا ممکن نہ ہو وہاں کھڑے ہوکر کرنے میں مضائقہ نہیں۔ اگر احتیاط برتی جائے توکپڑے چھینٹوں سے بچائے جاسکتے ہیں۔ اگر باہر کہیں رفع حاجت کرکے پانی استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو کاغذ استعمال کرلیں اور بعد میں قیام گاہ پر آکر پانی سے استنجا کریں۔

اگر مکھی مشروب میں گر جائے؟

۹۔اگر مکھی کسی پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے غوطہ دے کر نکالو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا۔ (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا خَالِدُبْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنی عُتْبَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ، اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہ ابْنُ حُنَیْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ شَرَابِ اَحَدِ کُمْ فَلْیَغْمِسْہُ ثُمَّ لَیَنْزَعْہُ ، فَاِنَّ فِیْ اِحْدیٰ جَنَاحَیْہِ دَائً وَالْاُخْرٰی شِفَائً۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی گرجائے تو اسے غوطہ دے کر باہر نکالو اور پھینک دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔
ـــــــ (اس روایت میں وقع کے بجائے سقطہے۔ دونوں کے معنی قریب قریب ’’گرنا‘‘ ہیں)۔ (از مرتب)
(۲) حَدَثَّنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا بِشْرٌ یعنی ـــــ اِبْنَ الْمُفَضَّلِ ـــــ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِیْدِنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ’’اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ اِنَائِ اَحَدِکُمْ فَامْقُلُوْہُ، فِاِنَّ فِیْ اَحَدِ جَنَاحَیْہِ دَائً وَفِیْ الْاٰخَرِ شِفَائً، وَاِنَّہٗ یَتَّقِیْ بِجَنَاحِہٖ الَّذِیْ فِیْہِ الدَّائُ، فَلْیَغْمِسْہُ کُلَّہٗ۔(۸)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے بتایا ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جب تمہارے کسی کے برتن (کھانے کے برتن) میں مکھی گرجائے تو اسے خوب غوطہ دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔‘‘ اور مکھی (برتن میں گرتے وقت) اپنے بیماری والے پرسے اپنا بچاؤ کرتی ہے (یعنی کھانے پینے کے برتن میں اسی کے بل گرتی ہے) لہٰذا اسے پوری طرح غوطہ دے کر نکالا کرو۔
مشکوٰۃ نے شرح السنہ کے حوالہ سے کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ فصل دوم میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے اس میں ہے:
(۳) فَانَّ فِیْ اَحَدِ جَنَا حَیْہِ سَمًّا وَفِی الْاٰخَرِ شِفَائً وَاِنَّہ یُقَدِّمُ السَّمَّ وَیُوَخِّرُ الشِّفَائَ۔
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ ’’جب مکھی کھانے میں گر جائے تو اسے خوب غوطہ دے کر نکال لو، کیونکہ اس کے ایک پر میں زہر ہوتا ہے اور دوسرے میں شفاء ۔ زہر والے پر کو وہ آگے کرتی ہے اور شفا والے کو پیچھے رکھتی ہے۔
تشریح: اس مضمون کی روایات بخاری نے کتاب بدء الخلق اور کتاب الطب میں نقل کی ہیں۔ نیز ابن ماجہ، نسائی، ابودائود اور دارقطنی میں بھی یہ موجود ہیں۔ بعض شارحین نے اس حدیث کے الفاظ کو ٹھیک ان کے لغوی معنوں میں لیا ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ فی الواقع مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں اس کا تریاق پایا جاتا ہے ، اس لیے جب یہ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے ڈبوکرنکالا جائے۔

 جدید طبّی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مکھی کے پروں میں ایک خاص قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جن کو جراثیم کش یا جراثیم خور (Bacteriophge) کہا جاتا ہے۔ یہ مکھی کے جسم کے دوسرے جراثیم کو بآسانی ہلاک کرسکتے ہیں۔
اور بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبی ﷺ دراصل اس بے جا غرور کا علاج کرنا چاہتے تھے جس کی بنا پر بعض لوگ دودھ کے اس پیالے یا سالن کی اس پوری رکابی سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں جس میں مکھی گری ہو۔ اور پھر یا تو اسے پھینک دیتے ہیں یا اپنے خادموں کو کھانے کے لیے دے دیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا غرور توڑنے کے لیے آپؐ نے فرمایا کہ مکھی اگر تمہارے کھانے میں گرجائے تو اسے ڈبو کر نکالو اور پھر اس کھانے کو کھائو۔ اس کے ایک پر میں بیماری ہے، یعنی کبرو غرور کی بیماری جو اسے دیکھ کر تمہارے نفس میں پیدا ہوتی ہے اور دوسرے پر میں اس کا تریاق ۔ یعنی اس کبرو غرور کا علاج جس کی وجہ سے تم ایسے کھانے کو پھینک دیتے ہو یا اپنے خاص خادموں کو کھلاتے ہو۔ اس معنی کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن میں نبیﷺ نے برتن میں تھوڑا کھانا چھوڑ کر اٹھ جانے کو ناپسند فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی رکابی کو صاف کرکے اٹھو۔ اس حکم کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو شخص اس طرح برتن میں کچھ چھوڑ کر اٹھتا ہے وہ گویا یہ چاہتا ہے کہ یا تو اس بقیہ کھانے کو پھینک دیا جائے یا اسے کوئی دوسرا کھائے۔ (رسائل و مسائل دوم، تفسیر آیات ۔۔۔ چند احادیث ۔۔۔)

عورت اور احتلام

۱۰۔نَعَمْ۔ فَمِنْ اَیْنَ یَکُوْنُ الشَّبَہُ!اِنَّ مَآئَ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ اَبْیَضُ۔ وَمَآئَ الْمَرْاَۃِ رَقِیْقٌ اَصْفَرُ۔ فَمِنْ اَیِّہِمَا عَلَا، اَوْ سَبَقَ، یَکُوْنُ مِنْہُ الشَّبَہُ۔ (بخاری و مسلم)
’’ام سلیم نے آکر نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھا کرتا ہے ( یعنی اس کو احتلام ہو) تو کیا کرے؟ آپؐ نے فرمایا ’’غسل کرے‘‘۔ اس پر حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا ’’عورت کو بھی یہ معاملہ پیش آتا ہے؟‘‘ ان کا مطلب یہ تھا کہ کیا عورت کو بھی انزال اور احتلام ہوا کرتا ہے؟ حضوؐر نے جواب دیا: ’’ہاں! ورنہ آخر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوجاتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سپیدی مائل ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زردی مائل۔ پھر ان میں سے جو بھی غالب آجاتا ہے یا جو بھی سبقت لے جاتا ہے، بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔‘‘
۱۱۔ وَہَلْ یَکُوْنُ الشَّبَہُ اِلَّا مِنْ قِبَلِ ذٰلِکَ۔ اِذَاعَلَا مَآئُ ہَا مَآئَ الرَّجُلِ اَشْبَہَ الْوَلَدُ اَخْوَالَہُ۔ وَاِذَا عَلاَمَآئُ الرَّجُلِ مَآئَ ہَا اَشْبَہَ اَعْمَامَہُ۔
’’ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک خاتون کے سوال پر حضرت عائشہؓ نے بھی اسی طرح کے تعجب کا اظہار کیا تھا اور اس پر حضورؐ نے فرمایا تھا:’’اور کیا بچے کا ماں کے مشابہ ہونا اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے؟ جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنی ننھیا ل پر جاتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سَلَامٍ ، قَالَ: اَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ زَیْنَبَ ابنۃ اُمِّ سَلَمَۃَ، عن اُم سلمۃ قَالَتْ: جَآئَ تْ اُمُّ سُلَیْمٍ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ فَہَلْ عَلَی الْمَرْاَۃِ مِنْ غُسْلٍ اِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ النَّبِیُّﷺ اِذَا رَأَتِ الْمَآئَ فَغَطَّتْ اُمُّ سَلَمَۃَ تَعْنِیْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَتَحْتَلِمُ الْمَرْاَۃُ؟ قَالَ نَعَمْ تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ فَبِمَ یُشْبِہُمَا وَلَدُہَا۔(۹)
ترجمہ:حضر ت ام سلمہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلیم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ؐ بلا شبہ اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل ہے؟ اس پر نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’جب عورت پانی دیکھے‘‘ (تو اس وقت غسل ہے)۔ (یہ سن کر) ام سلمہ نے اپنا منہ چھپا لیا اور عرض کیا یارسول اللہؐ کیا عورت کو بھی انزال اور احتلام ہوا کرتا ہے؟ حضوؐر نے جواب دیا تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہوتا ہے؟
کتاب الانبیاء میں مروی روایت کے الفاظ:
(۲) اِنَّ اُمَّ سُلَیْمٍ قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ فَہَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ الْغُسْلُ اِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: نَعَمْ اِذَا رَأَتِ الْمَآئَ۔ فَضَحِکَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ، فَقَالَتْ:تَحْتَلِمُ الْمَرْأَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ’’فَبِمَ یُشْبِہُ الْوَلَدُ؟‘‘(۱۰)
ترجمہ:حضرت ام سلیم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ بے شک اللہ تعالیٰ حق کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہوجائے؟ فرمایا! ہاں، جب اسے پانی نظر آجائے۔ یہ سن کر ام سلمہ ہنس کر بولیں ’’عورت کو بھی احتلام ہوا کرتا ہے؟‘‘ رسول اللہ ؐ نے فرمایا تو پھر بچے کی اس سے مشابہت کیسے ہوتی ہے؟
ـــــــ یہ روایت موطا امام مالک میں بھی ہے مگر اِذَا رَأَتِ الْمَائَ تک ہے۔
ابودائود میں اسی مضمون کی دو روایتیں حضرت عائشہؓ صدیقہ سے مروی ہیں:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا یَذْکُرُ اِحْتِلَامًا، قَالَ: یَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ یَرٰی اَنْ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا یَجِدُ الْبَلَلَ قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ: اَلْمَرْاَۃُ تَرٰی ذٰلِکَ اَعَلَیْہَا غُسْلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ اِنَّمَا النِّسَآئُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو خواب میں تری پاتا ہے مگر احتلام اسے یاد نہیں۔ فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ اور ایک دوسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے احتلام لاحق ہوجاتا ہے مگر تری اسے نظر نہیں آتی، اس کے بارے میں فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے۔ (اس موقعہ پر ) ام سلیم نے دریافت کیا۔ عورت اگر ایسی صورت حال سے دوچار ہو تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ فرمایا: ہاں! عورتیں مردوں کا حصہ ہیں۔
(۴) عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ اُمَّ سُلَیْمِ نِالْاَنْصَارِیَّۃَ وَہِیَ اُمُّ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ(ل) لایَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ اَرَاَیْتَ الْمَرْاَۃُ اِذَا رَأتْ فِی النَّوْمِ مَا یَرَی الرَّجُلُ اَتَغْتِسِلُ امْ لَا؟ قَالَتْ عائِشَۃُ: فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ اِذَا وَجَدَتِ الْمَآئَ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَاَقْبَلْتُ عَلَیْہَا فَقُلْتُ اُفٍّ لَّکِ وَہَلْ تَرٰی ذٰلِکَ الْمَرْأَ ۃُ۔ فَاَقْبَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ یَا عَائِشَۃُ! وَمِنْ اَیْنَ یَکُوْنُ الشَّبَہُ۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے حضرت انسؓ کی والدہ حضرت ام سلیم نے رسول اللہ ؐ سے دریافت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اس کو احتلام ہو) تو عورت غسل کرے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں جب وہ پانی دیکھے تو غسل کرے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں ام سلیم کی طرف متوجہ ہوئی اور اس سے کہا کہ افسوس ہے تم پر اتنا بھی پتہ نہیں کہ عورت کو یہ حالت لاحق نہیں ہوتی۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے میری جانب روئے سخن فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو اے عائشہؓ !یہ مشابہت پھر کہاں سے آجاتی ہے۔
ترمذی نے یہ حدیث ام سلمہ سے روایت کی ہے:
(۵) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَآ ئَ تْ اُمُّ سُلَیْمٍ بنت مَلِحانَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، فَہَلْ عَلَی الْمَراَۃِ ـــــ تَعْنِی غُسْلاًـــــ اِذَا ہِیَ رَاَتْ فِی الْمَنَامِ مِثْلَ مَا یَرَی الرَّجُلُ؟ قَالَ : نَعَمْ اِذَا ہِیَ رَأتِ الْمَآئَ فَلْتَغْتَسِلْ۔ قَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ: قُلْتُ لَہَا: فَضَحْتِ النِّسَآئَ یَا اُمَّ سُلَیْمٍ۔(۱۳)
ـــــــ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ام سلمہؓ نے حضرت ام سلیم ؓ کا سوال سن کر فرمایا اے ام سلیم تو نے تو عورتوں کو رسوا کردیا۔
ـــــــ نسائی نے حضرت انسؓ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت ام سلمہؓ اور خولہ بنت حکیم کی روایات بیان کی ہیں۔ اختلافِ الفاظ کے قدرے فرق کے باوجود مضمون روایت وہی ہے جو متذکرہ روایات کا ہے۔(۱۴)
(۶) حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ، قَالَ: نَایَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ، قَالَ: نَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، اَنَّ اَنَسَ بْنَ مالِکٍ، حدَّثَہُمْ، اَنَّ اُمَّ سُلَیْمٍ حَدَّثَتْ: اَنَّہَا سَالَتْ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْمَرْاَۃِ تَرٰی فِیْ مَنَا مِہَا مَایَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَارَاَتْ ذٰلِکَ الْمَرْاَۃُ فَلْتَغْسِلْ، فَقَالَتْ اُمُّ سُلَیم: وَاسْتَحْیَیْتُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَتْ: وَہَلْ یَکُوْنُ ہٰذَا؟ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ ، فَمِنْ اَیْنَ یَکُوْنُ الشَّبَہُ؟ اِنَّ مَائَ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ اَبْیَضُ، وَمَائَ الْمَرْأَۃِ رَقِیْقٌ اَصْفَرُ، فَمِنْ اَیِّہِمَا عَلَا اَوْسَبَقَ یَکُوْنُ مِنْہُ الشَّبَہُ ۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت انس بن مالک سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ ام سلیم نے خود بیان کیا کہ اس نے نبی ﷺ سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا کہ جو خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔ ام سلیم خود کہتی ہیں کہ مجھے اس سے شرم محسوس ہوئی اور کہنے لگی کہ ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں! ورنہ آخر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوجاتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سپیدی مائل ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زردی مائل۔ پھر ان میں سے جو بھی غالب آجاتا ہے، یا جو بھی سبقت لے جاتا ہے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُوْسٰی الرَّازِیُّ وَسَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَاَبُوْ کُرَیْبٍ۔ وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ کُرَیْبٍ، قَالَ سَہْلٌ: ثَنَا وَقَالَ الْاٰخَرَانِ: انَا ابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ امْرَاَۃً قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: ہَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْاَۃُ اِذَا احْتلَمَتْ، وَاَبْصَرَتِ الْمَائَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ: تَرِبَتْ یَدَاکِ وَاُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: دَعِیْہَا، وَہَلْ یَکُوْنُ الشَّبَہُ اِلَّا مِنْ قِبَلِ ذٰلِکَ؟ اِذَا عَلَامَائُ ہَا مَائَ الرَّجُلِ اَشْبَہَ الْوَلَدُ اَخْوَالَہٗ۔ وَاِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَ ہَااَشْبَہَ اَعْمَامَہُ۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ جب عورت کو احتلام ہوجائے اور وہ پانی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ حضوؐر نے فرمایا: ہاں! حضرت عائشہؓ نے اس عورت کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تجھے نیزہ لگے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: عائشہ ؓ !چھوڑ و اسے، کیا بچے کا ماں کے مشابہ ہونا اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے؟ جب عورت کا پانی (منی) مرد کے پانی (منی) پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنی ننھیال پر جاتا ہے اور جب مرد کا پانی (منی) عورت کے پانی (منی) پر غالب آتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے۔
۱۲۔مَآئُ الرَّجُلِ اَبْیَضُ وَمَآئُ الْمَرْاَۃِ اَصْفَرُ، فَاِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَنِیُّ الرَّجُلِ مَنِیَّ الْمَرْاَۃِ اَذْکَرَابِاِذْنِ اللّٰہِ، وَاِذَا عَلَامَنِیُّ الْمَرْاَۃِ مَنِّیَ الرَّجُلِ، اٰنَثَا بِاِذْنِ اللّٰہِ۔
’’ایک اور روایت میں ہے کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ سے اولاد کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے جواب میں فرمایا: ’’مرد کا پانی سفیدی مائل اور عورت کا پانی زردی مائل ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے بیٹا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔‘‘
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ’’اگر یہ مرکب مائل بہ سفیدی ہوتو بچہ ہوتا ہے ورنہ بچی۔‘‘ اور نہ یہ کہ’’اگر مجامعت کے وقت مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر؟‘‘ (رسائل و مسائل دوم،تفسیر آیات ۔۔۔چند احادیث ۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ ، قَالَ: نَا اَبُوْ تَوْبَۃَ وَہُوَ رَبِیْعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: نَامُعَاوِیَۃُ ـــــ یَعْنِیْ ابْنَ سَلَّامٍ ـــــ عَنْ زَیْدٍ ـــــ یَعْنِیْ اَخَاہُ ـــــ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ اَسْمَائِ الرَّحْبِیُّ، اَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَدَّثَہُ، قَالَ: کُنْتُ قَائِماً عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَجَائَ حِبْرٌ مِنَ الْاَحْبَارِ الْیَہُوْدِفَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ، فَدَفَعْتُہُ دَفْعَۃً کَادَ یُصْرَعُ مِنْہَا، فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِیْ؟ فَقُلْتُ: اَلَّا تَقُوْلَ یَا رَسُوْلِ اللّٰہِ؟ فَقَالَ الْیَہُوْدِیُّ: اِنَّمَا نَدْعُوْہُ بِاسْمِہِ الَّذِیْ سَمَّاہُ بِہ اَہْلُہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اِسْمِیْ مُحَمَّدٌ الَّذِیْ سَمَّانِیْ بِہ اَہْلِیْ۔ فَقَالَ الْیَہُوْدِیُّ: جِئْتُ اَسْئَالُکَ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَیَنْفَعُکَ شَیْیٌٔ اِنْ حَدَّثْتُکَ قَالَ: اَسْمَعُ بِاُذُنِیْ فَنَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِعُوْدٍ مَعَہُ، فَقَالَ سَلْ، فَقَالَ الْیَہُوْدِیُّ: اَیْنَ یَکُوْنُ النَّاسُ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ہُمْ فِیْ الظُّلْمَۃِ دُوْنَ الْجَسْرِ، قَالَ: فَمَنْ اَوَّلُ النَّاسِ اِجَازَۃً؟ فَقَالَ: فُقَرَائُ الْمُہَاجِرِیْنَ، قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: فَمَآ تُحْفَتُہُمْ حِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: زِیَادَۃُ کَبِدِ النُّوْنِ، قَالَ: فَمَا غَدَائُ ہُمْ عَلیٰ اَثِرِہَا؟ قَالَ: یُنْحَرُ لَہُمْ ثَوْرُالْجَنَّۃِ الَّذِیْ کَانَ یَاْکُلُ مِنْ اَطْرَافِہَا، قَالَ: فَمَا شَرَابُہُمْ عَلَیْہِ؟ قَالَ: مِنْ عَیْنٍ فِیْھَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلًا قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: وَجِئْتُ اَسْئَالُکَ عَنْ شَییٍٔ لَا یَعْلَمُہُ اَحَدٌ مِنْ اَہْلِ الْاَرْضِ اِلَّا نَبِیٌّ اَوْرَجُلٌ اَوْ رَجُلَانِ، قَالَ: یَنْفَعُکَ اِنْ حَدَّثْتُکَ قَالَ: اَسْمَعُ بِاُذُنِیْ، قَالَ: جِئْتُ اَسْئَا لُکَ عَنْ الْوَلَدِ قَالَ: مَائُ الرَّجُلِ اَبْیَضُ، وَمَا ئُ الْمَرْاَۃِ اَصْفَرُ، فَاِذَا اجْتَمَعَا، فَعَلَا مَنیُّ الرَّجُلِ مَنِیَّ الْمَرْاَۃِ اَذْکَرَا بِاِذْنِ اللّٰہِ ، وَاِذَا عَلَا مَنِیُّ الْمَرْاَۃِ مَنِیَّ الرَجُلِ اٰنَثَا بِاِذْنِ اللّٰہِ، قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: لقَدْ صَدَقْتَ وَاِنَّکَ لَنَبِیٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَذَہَبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَقَدْ سَئَالَنِیْ ہٰذَا عَنِ الَّذِیْ سَئَا لَنِیْ عَنْہُ وَمَا لِیْ عِلْمٌ بِشَیٍٔ مِّنْہُ حَتّٰی اَتَانِیَ اللّٰہُ بہِ۔(۱۷)
ترجمہ:حضرت ثوبان، رسول اللہ ﷺ کے مولا (یعنی آزاد کردہ غلام) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں علماء یہود کا ایک عالم آیا۔ اور السلام علیک یا محمد کہا۔ یہ سن کر میں نے اسے ایسا دھکا دیا، قریب تھا کہ زمین پر گرپڑتا۔ وہ بولا تم نے مجھے دھکا کیوں دیا؟ میں نے جواب دیا کہ تو یارسول اللہؐ کہہ کر حضورؐ سے مخاطب کیوں نہیں ہوا؟ یہودی عالم بولا میں نے تو آپؐ کو اس نام سے بلایا ہے جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے۔ (یہ مکالمہ) سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واقعتامیرا نام محمد ہے۔ میرے گھر والوں نے میرا یہی نام رکھا ہے۔ اب یہودی نے کہا میں آپ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ حضورؐ نے اس سے فرمایا: میں اگر تجھے کچھ بتائوں تو کیا کوئی چیز تیرے لیے سود مند ہوگی؟ وہ بولا میں بغور کان لگا کر سنوں گا (یعنی پوری توجہ اور انہماک سے سنوں گا)۔ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں لکڑی تھی۔ آپؐ نے اس سے زمین پر خط کشیدگی شروع کردی اور فرمایا ’’پوچھو! یہودی نے دریافت کیا ، ’’ لوگ اس روز کہاں ہوں گے جب زمین اور آسمانوں کو ان کی موجودہ حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کردیا جائے گا۔‘‘ آپؐ نے جواب دیا کہ ’’پل صراط کے ورے تاریکی میں ہوں گے۔‘‘ پھر پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے (جنت میں داخلہ کی) اجازت کسے ملے گی؟ فرمایا ’’فقراء مہاجرین کو۔‘‘ پھر پوچھا کہ ’’جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے کس چیز سے ان کی تواضع کی جائے گی؟ ‘‘ ( سب سے پہلے کون سا تحفہ انہیں دیا جائے گا) فرمایا ’’مچھلی کی کلیجی۔‘‘ پھر پوچھا کہ ’’اس کے بعد کون سا کھانا پیش کیا جائے گا۔‘‘ فرمایا کہ ’’ان کی مہمان نوازی کے لیے جنت کا وہ بیل نحر کیا جائے گا جو جنت میں چرکر پلا ہوگا۔‘‘ پھر اس نے پوچھا، ’’انہیں مشروب کون سا دیا جائے گا؟‘‘ فرمایا ’’سلسبیل نامی چشمہ کا پانی۔‘‘ (یہ جوابات سن کر بولا آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا کہ میںآپ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھنے حاضر ہوا ہوں جسے سوائے ایک نبی کے روئے زمین کے دوسرے کسی کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ آپؐ نے فرمایا’’میں اگر کچھ بتائوں تو تجھے اس کا کچھ فائدہ ہوگا؟‘‘ وہ بولا میں آپ کا ارشاد بغور کان لگا کر سنوں گا۔ اس نے سوال کیا میں آپ سے بچے کی پیدائش کے بارے میں پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا مرد کا پانی (منی) سپیدی مائل اور عورت کا پانی (منی ) زردی مائل ہوتا ہے، جب یہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔ (یہ جواب ) سن کر یہودی عالم بول اٹھا ’’آپ نے سچ فرمایا بلاشبہ آپ نبی ہیں۔ ‘‘ پھر پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ اس شخص نے مجھ سے ایسی بات دریافت کی جس کا مجھے اس سے پہلے کوئی علم نہیں تھا، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے علم عطا فرمایا۔

ماخذ

(۱) بخاری ج۱، کتاب الغسل، باب الغسل بالصاع و نحوہ۔٭ مسند احمد ج۶، ص ۷۲، عن عائشۃ۔
(۲) مسلم ج۱، کتاب الحیض، باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ۔
(۳) بخاری ج ۱،کتاب الوضوء، باب البول عندصاحبہ والتستربالحائط۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۱،کتاب الطہارۃ، باب البول قائما۔
(۴) ترمذی ج۱ ابواب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذلک٭ السنن الکبریٰ ج۱،کتاب الطہارۃ، باب البول قائماً۔
(۵) بخاری ج۱،کتاب الوضوء، باب البول قائماً وقاعداً ٭بخاری: ابواب المظالم والقصاص، باب الوقوف والبول عند سباطۃ قوم ٭ مسلم ج۱، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین ٭دارمی:کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی البول قائماً ٭ مسند احمد، ج ۵، ص ۳۸۲، عن حذیفۃ۔
(۶) ابو داؤدج۱، کتاب الطہارۃ، باب البول قائماً ٭ مسند احمد ، ج ۵، ص ۴۰۲، حذیفۃ بن الیمانج ۱، ص ۲۸۴ ج ۴، ص ۲۴۶، مغیرہ بن شعبہ ٭ نسائی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی البول فی الصحراء قائماً ٭ ابن ماجہ: کتاب الطہارۃ وسننہا، باب ماجاء فی البول قائماً٭دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی البول قائماً٭نسائی اور مسند احمد دونوں نے ’’مشیٰ الی سباطۃ قوم۔۔۔ ‘‘بھی نقل کیا ہے۔
(۷) بخاری ج۱،کتاب بدا الخلق، باب اذا وقع الذباب فی شراب احد کم فَلْیَغْمِسْہُ فان فی احدی جناحیہ داء وفی الاخریٰ شفائً۔ج۲ کتاب الطب، باب اذا وقع الذباب فی الاناء ۔ ٭سنن دارمی ج۲،کتاب الاطعمۃ، باب الذباب یقع فی الطعام٭ مسند احمد، ج ۲، ص ۲۲۹،۲۳۰، ۲۴۶، ۲۶۳، ۳۴۰، ۳۵۵، ۳۸۸، ۳۹۸، ۴۴۳، عن ابی ہریرۃ ج ۳، ص ۲۴۔ ٭نسائی ج۷، کتاب الفرع والعتیرۃ، باب الذباب یقع فی الماء مختصرًا عن ابی سعیدٍ خدری٭ ابن ماجہ: کتاب الطب، باب یقع الذباب فی الاناء۔ عن ابی ہریرۃ۔ ابن ماجہ نے ’’فلیغمسہ فیہ ثم لیطرحہ‘‘ روایت کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱، کتاب الطہارۃ، باب مالانفس لہ سائلۃ اذامات فی الماء القلیل۔
(۸) ابو داؤد ج۳، کتاب الاطعمۃ، باب فی الذباب یقع فی الطعام۔ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱،کتاب الطہارۃ، باب مالانفس لہ سائلۃ اذامات فی الماء القلیل ۔
(۹) بخاری ج۱ کتاب العلم، باب الحیاء فی العلم الخ۔ کتاب الغسل، باب اذا احتلمت المراۃ ج۲ کتاب الادب، باب اذا لم تستحی فاصنع ماشئت ج۱ کتاب الانبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ ٭مسلم ج۱کتاب الحیض، باب وجوب الغسل علی المرأۃ بخروج المنی منہا۔ مسلم نے ’’فغطت ام سلمۃ و جہہا‘‘ نقل کیا ہے۔
(۱۰) موطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، غسل المرأۃ اذارأت فی المنام مثل مایری الرجل ۔
(۱۱) ابوداؤد ج۱، کتاب الطہارۃ، باب فی الرجل یجد البلۃ فی منامہ ٭ ترمذی ج۱، ابواب الطہارۃ، باب فیمن یستیقظ ویری بللا ولا یذکر احتلاماً ٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی المرأۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۲) ابوداؤدج۱، کتاب الطہارۃ: باب فی المرأۃ تری مایری الرجل٭دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ والطہارۃ، باب فی المرأۃ تری فی منامہا٭ موطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، غسل المراۃ اذارأت فی المنام مثل مایری الرجل ۔
(۱۳) ترمذی ج۱، ابواب الطہارۃ، باب ماجاء فی المرأۃ تری فی المنام مثل ما یری الرجل٭ابن ماجہ ج۱ کتاب الطہارۃ، باب فی المراۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۴) نسائیج۱، کتاب الطہارۃ، غسل المرأۃ تری فی منامہا مایری الرجل٭ ابن ماجہ ج۱، کتاب الطہارۃ، باب فی المرأۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۵) مسلم ج۱، کتاب الحیض، باب وجوب الغسل علی المرأۃ بخروج المنی منہا٭ ابن ماجہ :کتاب الطہارۃ، باب فی المراۃ تری فی منامھا مایری الرجل ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب المراۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۶) مسلم ج۱، کتاب الحیض، باب وجوب الغسل علی المر أۃ بخروج المنی منہا ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۱ کتاب الطہارۃ، باب المراۃ تری فی منامہا مایری الرجل۔
(۱۷) مسلم ج۱،کتاب الحیض، باب بیان صفۃ منی الرجل والمراۃ وان الولد مخلوق من مائہما ٭طبقات ابن سعد ، ج۱، ص۱۷۵، ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۱، کتاب الطہارۃ، باب صفۃ ماء الرجل وماء المراۃ الذین یوجبان الغسل۔

فصل :۴ اذان کا آغاز کس طرح ہوا؟

۱۳۔مشکوٰۃ کی کتاب الصلوٰۃ میں باب الاذان میں جو احادیث جمع کی گئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں جب نماز باجماعت کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا تو اوّل اوّل اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت اس بارے میں نہیں آئی تھی کہ نماز کے لیے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے۔ حضوؐر نے صحابہ کرام ؓکو جمع کرکے مشورہ کیا۔ بعض لوگوں نے رائے دی کہ آگ جلائی جائے تاکہ اس کا دھواں بلند ہوتے دیکھ کر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ نماز کھڑی ہورہی ہے۔ بعض دوسرے لوگوں نے ناقوس بجانے کی رائے دی۔ لیکن کچھ اور لوگوں نے کہا کہ پہلا طریقہ یہود کا اور دوسرا نصاریٰ کا ہے۔ ابھی اس معاملہ میں کوئی آخری فیصلہ نہ ہوا تھا اور اسے سوچا جارہا تھا کہ حضرت عبداللہ ؓ بن زید انصاری نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ناقوس لیے جارہا ہے۔ انہوں نے اس سے کہا، اے بندۂ خدا یہ ناقوس بیچتا ہے؟ اس نے پوچھا اس کا کیا کروگے؟ انہوں نے کہا نماز کے لیے لوگوں کو بلائیں گے۔ اس نے کہا میں اس سے اچھا طریقہ تمہیں بتاتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اذان کے الفاظ انہیں بتائے۔ صبح ہوئی تو حضرت عبداللہ ؓ نے آکر حضورؐ کواپناخواب سنایا۔ حضوؐر نے فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے ، اٹھو اور بلالؓ کو ایک ایک لفظ بتاتے جائو، یہ بلند آواز سے پکارتے جائیں گے۔ جب اذان کی آواز بلند ہوئی تو حضرت عمرؓ دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ خدا کی قسم آج میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے۔ حضوؐر نے فرمایا فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ (مشکوۃ کی احادیث درباب اذان کا خلاصہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیْنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَ یَجْتَمِعُوْنَ فیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلوٰۃَ لَیْسَ یُنَادَیْ لَہَا فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اتَّخِذُوْا نَاقُوْسًا مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ بُوْقًا، مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُوْدِ۔ فَقَال عُمَرُ: اَوَلَا تَبْعَثُوْنَ رَجُلاً یُّنَادِیْ بِالصَّلوٰۃِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا بِلَالُ قُمْ، فَنَادِ بِالصَّلوٰۃِ۔(۱)
ترجمہ:ابن عمر بیان کرتے تھے کہ مسلمان جب ہجرت کرکے مدینہ میں آئے تو نماز کی ادائیگی کے لیے وقت کے تعین کے لیے جمع ہوئے۔ اس وقت تک نماز کی منادی کرنے والا کوئی مقرر نہیں تھا۔ اس بارے میں گفتگو ہوئی۔ کچھ نے کہا نصاریٰ کی طرح ناقوس بنالو۔ اور کچھ نے رائے دی کہ یہود کی طرح بوق بنالو۔ ساری کارروائی سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم لوگ کسی ایسے آدمی کو کیوں نہیں مقرر کرتے جو نماز کی منادی کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلالؓ ! تم اٹھو اور نماز کے لیے منادی کرو۔
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ یَحْیٰ بن سعیدٍ الْاُمَویَّ، نَا اَبِیْ، نَامُحَمَّدُبْنُ اسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیْدٍ، عَنْ ابِیْہِ، قَالَ: لَمَّا اَصْبَحْنَا اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاَخْبَرْتُہُ بِالرُّؤْیَا، فَقَالَ: اِنَّ ہٰذِہِ لَرُوْیَا حقٍّ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَانَّہُ اَنْدٰی وَاَمَدُّ صوْتًا مِنْکَ، فَاَلْقِ عَلَیْہِ مَاقِیْلَ لَکَ وَلْیُنَادِبِذٰلِکَ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَآئَ بِلَالٍ بِالصَّلوٰۃِ خَرَجَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یَجُرُّ اِزَارَہُ وَہُوَ یَقُوْلُ یَا رَسُوْل اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَاَیْتُ مِثْلَ الَّذِیْ قَالَ، ]قَالَ[: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ، فَذٰلِکَ اَثْبَتُ۔(۲)
ترجمہ: عبداللہ اپنے باپ زید سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے صبح کی تو ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میںنے اپنا خواب آپ کو سنایا تو آپ نے فرمایا یہ برحق خواب ہے۔ بلالؓ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ کیونکہ ان کی آواز تم سے اونچی اور لمبی ہے۔اور جو کچھ تجھے خواب میںبتایا گیا ہے وہ ان کو بتاتے اور سناتے جائو۔ وہ اس کو اونچی آواز سے پکاریں۔ راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر ؓ نے بلالؓ کی نماز کے لیے منادی سنی تو گھر سے اپنی ازار کھینچتے ہوئے حضورؐ کی خدمت میں پہنچے، یہ کہتے ہوئے کہ اے اللہ کے رسول قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی خواب میں یہی کچھ دیکھا ہے جو اس نے کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فللّٰہ الحمد۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: حِدِیْثُ عِبْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیْدٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَقَدْرَوَی ہٰذَا الْحَدِیْثَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ اَتَمَّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَاَطْوَلَ۔ وَذَکَرَ فِیْہِ قِصَّۃَ الْاَذَانِ مَثْنٰی مَثْنٰی وَالْاِقَامَۃَ مَرَّۃً مَرَّۃً وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ ہُوَ ابْنُ عَبْدِرَبِّہٖ، وَیُقَالُ ابْنُ عَبْدِرَبٍّ وَلَا نَعْرِ فُ لَہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ شَیْئًا یَصِحُّ اِلَّا ہٰذَا الْحَدِیْثُ الْوَاحِدِ فِی الْاَذَانِ۔ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَاصِمِ الْمَازِنِیُّ لَہٗ اَحَادِیْثٌ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، وَہُوَ عَمُّ عُبَّادُبْنُ تَمِیْمٍ۔
(۳)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ الطُّوْسِیُّ، ثَنَا یَعْقُوْبُ، ثَنَا اَبِیْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ : لَمَّا اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِا لنَّاقُوْسِ یُعْمَلُ لِیُضْرَبَ بِہِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلوٰۃِ طَافَ بِیْ وَاَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْ یَدِہِ فَقُلْتُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ ، اَتَبِیْعُ النَّاقُوْسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِہِ؟ فَقُلْتُ نَدْعُوْبِہِ اِلَی الصَّلوٰۃِ، قَالَ: اَفَلَا اَدُلُّکَ عَلیٰ مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ ؟ فَقُلْتُ: (لَہُ): بَلیٰ قَالَ: فَقَالَ تَقُوْلُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اََللّٰہُ اَکبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ،اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَاْخَرَ عَنِّیْ غَیْرَ بَعِیْدٍ ثُمَّ قَالَ: وَتَقُوْلُ اِذَا اَقَمْتَ الصَّلوٰۃَ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاَخْبَرْتُہُ بِمَا رَاَیْتُ، فَقَالَ: اِنَّہَا لَرُئْ یَا حَقٍّ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَاَلْقِ عَلَیْہِ مَارَاَیْتَ فَلْیُوَذِّنْ بِہِ، فَاِنَّہُ اَنْدیٰ صَوْتًا مِنْکَ۔ فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَجَعَلْتُ اُلْقِیْہِ عَلَیْہِ وَیُوَذِّنُ بِہِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذٰلِکَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ وَہُوَ فِیْ بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّرِدَائَ ہُ وَیَقُوْلُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْرَاَیْتُ مِثْلَ مَارَاَی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ:(۳)
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوُدَ: ہٰکَذَارِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اکْبَرُ، وَقَالَ مَعْمَرٌ وَیُوْنُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِیْہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اکْبَرُ لَمْ یُثَنِّیَا۔
تشریح: اس سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز کے لیے اذان دینے کا طریقہ مشورے سے نہیں طے ہوا، بلکہ الہام سے ہوا ہے، اور یہ الہام بصورت خواب حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمرؓ پر ہوا تھا۔ لیکن مشکوۃ کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں جو روایات آئی ہیں، ان سب کو اگر جمع کیا جائے تو ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جس روز ان صحابیوں کو خواب میں اذان کی ہدایت ملی اسی روز خود نبی ﷺ کے پاس بھی بذریعہ وحی یہ حکم آگیا تھا۔
فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے ان روایات کو جمع کردیا ہے۔ (سنت کی آئینی حیثیت :اعتراضات اور ۔۔۔)

اذان

دن میں پانچ وقت آپ کو یہ کہہ کر پکارا جاتا ہے:
۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، ’’خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا ہے‘‘۔
۔ اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ، کوئی بندگی کا حق دار نہیں‘‘۔
۔ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
۔ حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، ’’آئو نماز کے لیے ‘‘۔
۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، ’’آئو اس کام کے لیے جس میں فلاح ہے‘‘۔
۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے‘‘۔
۔ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘۔
دیکھو یہ کیسی زبردست پکار ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ یہ آواز کس طرح تمہیں یاد دلاتی ہے کہ ’’زمین میں جتنے بڑے خدائی کے دعویدار نظر آتے ہیں سب چھوٹے ہیں۔ زمین و آسمان میں ایک ہی ہستی ہے جس کے لیے بڑائی ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ آئو اس کی عبادت کرو۔ اسی کی عبادت میں تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔‘‘ کون ہے جو اس آواز کو سن کر ہل نہ جائے گا؟ کیونکر ممکن ہے کہ جس کے دل میں ایمان ہو، وہ اتنی بڑی گواہی اور ایسی زبردست پکار سن کر اپنی جگہ بیٹھا رہے اور اپنے مالک کے آگے سرجھکانے کے لیے دوڑ نہ پڑے؟ (خطبات،باب سوم: اذان ۔۔۔)
سوال: حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دوران بعض لوگوں نے مکانوں کی چھتوں پر خوف خدا سے اذانیں دیں، ایسا کرنا کہاں تک جائز ہے؟ کیا یہ فعل مستحب ہے یا گناہ ہے یا خلاف شرع ہے؟
جواب : سیلاب یا کثرت بارش، یا کسی اور آفت کے موقع پر اذانیں دینا مسلمانوں میں رائج ہوگیا ہے، لیکن میرے علم کی حد تک یہ طریقہ کسی سند پر مبنی نہیں ہے، بلکہ غالباً لوگوں نے اسے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکار نے کی ایک صورت سمجھ کر اختیار کیاہے۔ اگر لوگ اسے مشروع سمجھ کر کریں تو غلط ہے، اور اگر محض اللہ سے فریاد کرنے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے کریں تو مباح ہے۔ ( رسائل و مسائل پنجم،فقہی ومعاشی مسائل: کوے کی۔۔۔)

اذان سن کر شیطان کا گوز کرنا

حضوؐر کا فرمانا کہ اذان سن کر شیطان گوز کرتا ہوا بھاگتا ہے۔ اس حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:
۱۴۔ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہٗ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّاْ ذِیْنَ فَاِذَا قَضَی النِّدَائُ اَقْبَلَ حَتّٰی اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ حَتّٰی اِذَا قَضَی التَّثْوِیْبُ اَقْبَلَ حَتّٰی یَخْطُرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہٖ یَقُوْلُ اُذْکُرْ کَذَا أُذکرکذا لِمَا لَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ حَتّٰی یَظِلَّ الرَّجُلُ لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔
’’جب نماز کے لیے ندا کی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں کہ اذان نہ سنے پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پلٹ آتا ہے۔ پھر جب نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگتا ہے اور جب تکبیر ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے کہ وسوسہ ڈالے آدمی اور اس کے نفس کے درمیان۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر۔ ایسی ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جن کا اس کو نماز سے پہلے خیال تک نہ تھا۔ حتیٰ کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔‘‘
بخاری میں مروی روایات:
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَخْبَرَ نَا مَالِکٌ عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّاذِیْنَ، فَاِذَا قَضَی النِّدَائُ اَقْبَلَ حَتّٰی اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلوٰۃِ اَدْبَرَحَتّٰی اِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ اَقْبَلَ حَتّٰی یَخْطِرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ یَقُوْلُ: اُذْکُرْ کَذَا، اُذْکُرْ کَذَا، لِمَالَمْ یَکُنْ یَذْکُرُہُ حَتّٰی یَظِلَّ الرَّجُلُ لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔(۴)
حضرت ابوہریرہ سے مروی دوسری روایت :
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرِیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَانُوْدِیَ بِالصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ وَلَہُ ضُرَاطٌ، فَاِذَا قُضِیَ اَقْبَلَ، فَاِذَا ثُوِّبَ بِہَا اَدْبَرَ، فَاِذَاقُضِیَ اَقْبَلَ حَتّٰی یَخْطِرَ بَیْنَ الْاِنْسَانِ وَقَلْبِہِ، فَیَقُوْلُ: اُذْکُرْ کَذَا، وَکَذَا، حَتّٰی لَا یَدْرِیْ، اَثَلَاثًا صَلّٰی اَمْ اَرْبَعًا ، فَاِذَا لَمْ یَدْرِ ثَلَاثًا صَلّٰی أَوْ اَرْبَعًا سَجَدَ سَجْدَتَی السَّہْوِ۔(۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کافرمان ہے ’’جب نماز کے لیے ندا کی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں۔ پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے۔ تو واپس پلٹ آتا ہے۔ پھر جب نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جاتی ہے تو پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے۔اور جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو واپس آجاتا ہے کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان خطرے (وساوس) ڈالے کہ فلاںاور فلاں بات یاد کر۔ حتیٰ کہ نمازی نہیں جانتا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار۔ جب اسے یہ یاد نہیں رہتا ہے کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار، تو پھر سجدہ سہو کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے مروی تیسری روایت:
(۳) قَالَ اَبُوْ ہُرَیْرۃَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا اُذِّنَ بِالصَّلوٰۃِ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ لَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَایَسْمَعَ التَّاذِیْنَ، فَاِذَا سَکَتَ الْمُوَذِّنُ اَقْبَلَ، فَاِذَا ثُوِّبَ اَدْبَرَ، فَاِذَا سَکَتَ اَقْبَلَ ، فَلَا یَزَالُ بِالْمَرْئِ یَقُوْلُ لَہُ: اُذْکُرْ مَالَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ حَتّٰی لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی۔(۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں کہ اذان نہ سنے۔ جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو پھر واپس پلٹ آتا ہے۔ پھر جب تکبیر اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے۔ پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو واپس آجاتا ہے۔ اسی طرح بندے کے ساتھ رہتا اور اسے کہتا ہے یاد کر ایسی چیزیں جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔
(۴)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا اَذَّنَ الْمُوَذِّنُ اَدْبَرَ الشَّیْطٰنُ وَلَہُ حُصَاصٌ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب موذن اذان کہتا ہے تو شیطان دم دبا کر پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگتا ہے۔‘‘
ایک روایت میں ولّٰی ولہُ حُصاصٌ ہے۔
دارمیاور دارقطنی نے مندرجہ ذیل روایت بیان کی ہے:
(۵) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قال : اِذَا اَذَّنَ الْمُوَذِّنُ، خَرَجَ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَہُ حُصَاصٌ، فَاِذَا سَکَتَ الْمُوَذِّنُ رَجَعَ، فَاِذَا اَقَامَ الْمُوَذِّنُ الصَّلوٰۃَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَہُ ضُرَاطٌ فَاِذَا سَکَتَ رَجَعَ، حَتّٰی یَاْتِیَ الْمَرْئَ الْمُسْلِمَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیَدْخُلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ نَفْسِہِ لَا یَدْرِیْ اَزَادَفِیْ صَلَاتِہِ اَمْ نَقَصَ۔(۸)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب موذن اذان کہتا ہے تو شیطان دم دبا کر مسجد سے بھاگتا ہے۔ پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو واپس لوٹ آتا ہے۔ پھر جب موذن تکبیر اقامت کہتا ہے تو مسجد سے باہر نکل بھاگتا ہے اور اس کے گوز صادر ہوتے ہیں۔ پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو واپس لوٹ آتا ہے۔ تاآنکہ ایک مسلم آدمی کے پاس آتا ہے جب کہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔ پھر اس آدمی کے اور اس کے نفس کے درمیان داخل ہوجاتا ہے اور نمازی نہیں جانتا کہ اس نے نماز زیادہ پڑھ لی ہے یا کم۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، (قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَ قَالَ الْآخَرَانِ : نَاجَرِیْرٌ) عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ:’’اِنَّ الشَّیْطٰنَ اِذَا سَمِعَ النِّدَآ ئَ بِا لصَّلَاۃِ ذَہَبَ حَتّٰی یَکُوْنَ مَکَانَ الرَّوْحَآئِ‘‘ قَالَ سُلَیْمَانُ: فَسَاَلْتُہُ عَنِ الرَّوْحَآئِ؟ فَقَالَ ہِیَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃٌ وَّثَلَاثُوْنَ مِیْلًا ۔(۹)
ترجمہ: حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے خود سنا ہے، فرمارہے تھے: ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان جب نماز کے لیے کی گئی ندا سنتا ہے تو مقام روحاء تک بھاگتا چلا جاتا ہے۔‘‘ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے روحاء کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ ایک مقام ہے جو مدینہ منورہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
تشریح: حدیث کی روایت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر وضع یا ضعف کا حکم لگایا جاسکے۔ اس کو امام بخاری نے خفیف سے لفظی تغیر کے ساتھ تین مختلف ابواب میں تین طریقوں سے روایت کیا ہے۔ کتاب الاذان، باب فضل التاذین میں عبداللہ بن یوسف، مالک، ابوالزناد اعرج اور ابوہریرہ اس کے راوی ہیں۔ باب تفکر الرجل الشیٔ فی الصلوٰۃ میں یحییٰ بن بکیر، لیث ، جعفر بن ربیعہ، اعرج اور ابوہریرہ نے اس کو روایت کیا ہے۔ اور کتاب بدء الخلق باب صفۃ الابلیس وجنودہ میں محمد بن یوسف، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ اور ابوہریرہ کے نام اس کے اسناد میں نظر آتے ہیں۔ نسائی نے بھی باب فضل التاذین میں اس روایت کو نقل کیاہے۔ سلسلہ اسناد میں قتیبہ اور مالک آتے ہیں۔ مسلم نے بھی باب فضل الاذان میں اس مضمون کی پانچ روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض میں لَہٗ ضُرَاطٌ کی جگہ لَہٗ حُصَاصٌ آیا ہے۔ جس کی تفسیر اصمعی نے شدت فرار سے کی ہے۔ ایک اور حدیث جو مسلم نے جابر سے نقل کی ہے، یہ ہے کہ شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو روحاءروحاء ایک مقام ہے مدینہ سے کئی میل کے فاصلہ پر۔ تک بھاگتا چلا جاتا ہے۔
اب رہا متن حدیث تو اس میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس کی صداقت پر نماز پڑھنے والا گواہی دے سکتا ہے۔ اذان اور تکبیر کی آواز سن کر فی الواقع انسان خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اس وقت کوئی خطرہ اس کے قلب میں نہیں آتا۔ مگر نماز شروع کرتے ہی طرح طرح کے وسوسے آنے لگتے ہیں۔ اس کیفیت کی وجہ کو مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔ مقصود صرف یہ بتانا تھا کہ اذان کی آواز سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ اس میں فرار کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے کہیں فرمایا گیا ہے کہ وہ روحاء تک بھاگتا چلا جاتاہے۔ یعنی میلوں تک نہیں ٹھہرتا، کہیں وہی مفہوم لہ حصاص کے لفظ سے ادا فرمایا ہے اور کہیں لہ ضراط کہہ کر شدت کے ساتھ کراہت کا بھی اظہار کردیا گیا ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہیں کہ شیطان دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ محض استعارہ ہوگا۔ اب اگر کوئی شخص اس مجازی کلام کو حقیقت پر محمول کرے اور یہ فرض کرلے کہ شیطان واقعی ایک دم رکھتا ہے اور بھاگتے وقت اس کو ٹانگوں میں دبا لیتا ہے ۔ تو یہ قائل کے بیان کا نہیں، سامع کی عقل کا قصور ہوگا۔ اسی طرح شیطان کے گوز کرتے ہوئے بھاگنے سے بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ شیطان واقعی پیٹ رکھتا ہے اور اس میں غذا ہضم ہوتی ہے اور اس سے ریاح خارج ہوتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ یکسر کودن آدمی ہے۔ بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ ایسی باتوں پر اعتراض کرنے والے تو محض فتنہ پرداز ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے، جو انہیں سیدھی سی بات کو بھی سیدھی طرح نہیں سمجھنے دیتی۔ مگر افسوس ان مسلمانوں پر ہے جو ایسے اعتراضات کو سن کر لاجواب اور شرمندہ ہوتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، ج ۴، عدد ۵، ص ۳۰۵-۳۰۷)

حدیث اَدْبَرَ الشَّیْطَانُ لَہٗ ضُرَاطٌ کی مزید تشریح

مختلف احادیث پر نظر ڈالنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت ﷺ نے مختلف مواقع پر اذان کی تاثیر کو مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ ان سب ارشادات کو ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصل مقصد اذان کا یہ اثر بیان کرنا تھا کہ اس کو سن کر شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کے دوران میں انسان شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔
میں نے جہاں تک کتاب اللہ کا مطالعہ کیا ہے، اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت اور جن، انسان اور حیوان کی طرح مادی جسم نہیں رکھتے، بلکہ آتشیں مخلوق ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں ابلیس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِیْنٍ (الاعراف:۲۲) اور جنوں کے متعلق حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا ہے کہ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِنْ نَّارٍ (الرحمٰن :۱۵) اور ابلیس کے متعلق ارشاد ہے کہ کَانَ مِنَ الْجِنِّ۔ (الکھف:۵۰) ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان کی حقیقت انسان سے مختلف ہے۔ نہ وہ انسان کا سا جسم رکھتا ہے اور نہ اس پر وہ احوال گزرتے ہیں جو انسان پر گزرا کرتے ہیں، مثلااکل طعام و اخراج ریاح وغیرہ۔ باقی رہی یہ بات کہ حدیث نبوی کے الفاظ لہ ضراط کو شیطان کے صاحب شکم ہونے اور اس سے ریاح خارج ہونے کے لیے دلیل قرار دیا جائے تو میرے خیال میں یہ صحیح نہیں ہے۔ لغت عرب میں ضراط کا لفظ محض ریح شکم کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ مجازاً بہت سے معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً خفت کے معنی میں، چنانچہ بالوں کی کمی کو الضراط کہتے ہیں اور جس شخص کی داڑھی ہلکی ہو اس کو اضرط کہا جاتا ہے۔ جس عورت کی بھویں ہلکی ہوں وہ ضرطاء کہلاتی ہے۔ انکار اور استخفاف کے معنی میں: یُقَالُ اَضْرَطَ فُلاَنٌ بِفُلاَنٍ اِذَا اسْتَخَفَّ بِہٖ وَسَخِرَ مِنْہُ اور حدیث علیؓ میں ہے کہ اِنَّہٗ دَخَلَ بَیْتَ الْمَالِ فَاَضْرَطَ بِہٖ اَی اسْتَخَفَّ بِہٖ وَسَخِرَ مِنْہُ ناپسندیدگی اور کراہت کے معنی میں: وَفِی الْمَثَلِ اَلْاَکَلُ سَرْطَانٌ وَالْفَضَائُ ضَرْطَانٌ وَتَاوِیْلُ ذلِکَ اَنْ تَأْخُذَ وَتَکْرَہَ اَنْ تَرُدَّاس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں شیطان کے بھاگنے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضورؐ نے لہ ضراط جو فرمایا ہے، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بھاگتے وقت فی الواقع اس کے پیٹ سے ریاح خارج ہوتی ہیں، بلکہ اس سے مراد ایسی شدت فرار ہے جس میں خوف اور کراہت اور گھبراہٹ بھی شامل ہے۔ خود ہماری زبان کے محاورات میں بھی گوز کرنے کا لفظ حقیقی معنی پر محمول نہیں کیا جاتا، بلکہ اس سے اضطراب اور خوف اور بد حواسی اور عجز وغیرہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کہیں کہ فلاں شخص گوز کرتا ہوا بھاگا، تو کوئی بھی اس کا یہ مفہوم نہیں لیتا کہ فی الواقع بھاگتے وقت اس کے پیٹ سے ریاح خارج ہورہی تھی، بلکہ اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ سخت بدحواسی اور خوف کی حالت میں بھاگا۔ پس جب انسان کے متعلق یہ الفاظ سن کر آپ ان کو حقیقت پر محمول نہیں کرتے، حالانکہ انسان پیٹ رکھتا ہے اور اس سے ریاح خارج ہونا ایک امر طبیعی ہے، تو پھر شیطان کے حق میں یہ الفاظ سن کر آپ ان کو حقیقت پر کس طرح محمول کرسکتے ہیں، درآں حالیکہ وہ انسان و حیوان کا سا جسم نہیں رکھتا؟
میں اپنے محدود علم کی بناپر اس حدیث کے معنی کی جو تحقیق کرسکتا تھا وہ میں نے بیان کردی ہے۔ اگر کوئی شخص میری تحقیق کو غلط ثابت کردے تو میں اس سے رجوع کرنے میں کبھی تامل نہ کروں گا۔ الحمد للہ ،میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی رائے کو وحی و الہام سمجھتے ہیں، اور اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دیتے ہیں۔
رہا آپ کا یہ سوال کہ جب اذان سن کر شیطان بھاگ جاتا ہے تو نماز پڑھنے میں واپس کیوں آجاتا ہے؟ اور کیا نماز اذان سے فرو تر چیز ہے؟ تو اس کا جواب میرے ذمہ نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرنا چاہیے کہ اس نے اذان اور نماز کے درمیان کیا فرق رکھا ہے جس کا یہ اثر ہے، یا پھر شیطان سے پوچھنا چاہیے کہ تواذان کی آواز سن کر بھاگ کیوں جاتا ہے اور نماز پڑھنے میں واپس کیوں آجاتا ہے؟ مگر ایک بات میں بھی آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ حدیث میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے آیا وہ صحیح ہے، یا نہیں؟ آپ کا خود اپنا تجربہ اس کی تصدیق کرتا ہے، یا نہیں؟
دوسرے نماز پڑھنے والوں کے تجربات بھی اس کی تائید کرتے ہیں، یا نہیں؟ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اذان کی آواز سن کر ہر نمازی مسلمان کا دل یکایک ذکر الٰہی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور یہ چند لمحے شیطانی وساوس سے خالی گزرتے ہیں، لیکن نماز پڑھنے میں طرح طرح کے خیالات آکر اس کو گھیر لیتے ہیں، اور ایسی ایسی باتیں یاد آتی ہیں جو نماز شروع کرنے سے پہلے اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوتیں؟ اگر یہ واقعہ ہے اور آپ کا ذاتی تجربہ بھی اس کا شاہد ہے تو آپ اس کی تصدیق کو اس کی وجہ معلوم ہونے پر کیوں موقوف رکھتے ہیں؟ کیا واقعہ کو واقعہ تسلیم کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کو اس کی وجہ معلوم ہوجائے ؟ اگر کسی واقعہ کی وجہ نہ معلوم ہو تو کیا آپ اس کے واقعہ ہونے سے انکار کردیں گے؟ اگر آپ کے سر میں درد ہو اور اس کی وجہ سمجھ میں نہ آئے تو کیا آپ اپنے احساس درد کو جھٹلا دیں گے؟ یہ بات تو بالکل عقل عام (Common Sense) سے تعلق رکھتی ہے کہ واقعہ کو واقعہ ماننے کے لیے وجہ کا معلوم ہونا شرط نہیں ہے۔ آپ دنیا کے بہت سے واقعات کو تسلیم کرتے ہیں۔ درآں حالیکہ آپ کو ان کی وجہ معلوم نہیںہوتی۔ پھر آخر یہ حجت طلبی مذہبی لٹریچر ہی کے ساتھ کیوں مخصوص ہوگئی ہے کہ اگر اس کے کسی بیان کی تائید تجربہ و مشاہدہ سے بھی ہوجائے تو اسے ماننے کو دل نہیں چاہتا جب تک کہ اس کی وجہ معلوم نہ ہوجائے؟ اور اگر ا س کی وجہ بھی معلوم ہوجائے تو پھر تصدیق میں یہ سوال مانع ہوجاتا ہے کہ جب اس خاص معاملہ میں یہ واقعہ پیش آتا ہے تو ایک دوسرے معاملہ میں بھی یہی واقعہ کیوں پیش نہیں آتا۔
آپ پوچھتے ہیں کہ کیا نماز اذان سے بہتر ہے یا نماز میں کوئی ایسی خرابی موجود ہے جس کے باعث حالت نماز میں شیطان کو تسلط کا موقع مل جاتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ شیطان کے بھاگنے اور واپس آجانے سے نہ تو نماز پر اذان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور نہ نماز میں کسی خرابی کا موجود ہونا لازم آتا ہے۔ اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اذان اور نماز کی کیفیات میں فرق ہے۔ شیطان کے لیے ان دونوں میں جو کچھ فرق ہے اس کو ہم نہیں جان سکتے اور نہ وہ ہم کو بتایا گیا ہے۔ البتہ نفس انسانی کے یے ان دونوں میں جو فرق ہے وہ ہم سمجھ سکتے ہیں۔ نفسیات کا ایک معمولی نکتہ ہے کہ جب کوئی آواز انسان کی توجہ کو دفعتاً اپنی طرف جذب کرتی ہے تو تھوڑی دیر کے لیے انسان کا نفس دوسرے مشاغل سے ہٹ کر اس کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے۔مگر جب انسان کسی کام میں زیادہ دیر تک مشغول رہتا ہے، تو بغیر خاص کوشش کے اس کو پوری جمعیت خاطر (Concentration) حاصل نہیں ہوتی، اورخیالات ادھر ادھر بھٹکنے لگتے ہیں۔ عوام پر یہ حالت اکثر گزرتی ہے، کیونکہ وہ جمعیت خاطر اور کامل توجہ الی اللہ بہم پہنچانے پر کم قادر ہوتے ہیں۔ لیکن خواص بھی اس پر خاص قدرت رکھنے کے باوجود کبھی کبھی بتقاضائے بشریت محض اضطراری طور پر انتشار خیال میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اذان اور نماز کا یہ فرق دونوں کی کیفیتوں کے فرق پر مبنی ہے، نہ کہ خدا کی جناب میں ان کی مقبولیت اور ان کے مراتب کے فرق پر۔ (ترجمان القرآن، جلد ۵، عدد ۶، ص ۱۵۴ تا ۱۵۷)

اَلَاصَلُّوْا فِی الرِّحَالِ کا حکم کن حالات میںہے؟

۱۵۔نماز کے بارے میں شرعی حکم یہی ہے کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو وہاں کے لوگوں کو مسجد میں حاضر ہونا چاہیے۔ الاّ یہ کہ کوئی عذر شرعی مانع ہو۔ عذر شرعی یہ ہے کہ آدمی بیمار ہو، یا اسے کوئی خطرہ لاحق ہو۔ یا کوئی ایسی چیز مانع ہو جس کا شریعت میں اعتبار کیا گیا ہو۔ بارش اور کیچڑ، پانی ایسے ہی موانع میں سے ہے۔ چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ اس حالت میں اذان کے ساتھ اَلاَصَلُّوْافِیْ رِحَالِکُمْ کی آواز لگادیتے تھے، تاکہ لوگ اذان سن کر اپنی اپنی جگہ ہی نماز پڑھ لیں۔
(رسائل و مسائل دوم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ، قَالَ: اذَّنَ ابْنُ عُمَرَ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ قَالَ:صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ وَاَخْبَرَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَاْمُرُمُوَذِّنًا یُوَذِّنُ ثُمَّ یَقُوْلُ عَلیٰ اِثْرِہِ اَلَا صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ فِیْ اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ اَوِالْمَطِیْرَۃِ فِی السَّفَرِ۔(۱۰)
ترجمہ:حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر نے مقام ضجنان پر، سرد رات میں اذان کہی اور پھر صلوا فی رحالکم (اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو)کہا۔ اور ہمیں خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے موذن سے فرمایا کرتے تھے کہ وہ اذان کہے اور پھر الاصلوا فی الرحال کہے۔ سردرات یا سفر میں بارش کے موقع پر یہ ارشاد فرماتے۔
ابن ماجہ کی روایت میں ہے:
(۲)کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُنَادِیْ مُنَادِیْہِ فِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیْرَۃِ اَوِاللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ ذَاتِ الرِّیْحِ، صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ ۔
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ اپنے موذن سے فرمادیا کرتے تھے کہ جب رات بارش والی ہو یا سرد و ٹھنڈی یخ بستہ ہوا چل رہی ہوتو صلوا فی الرحال کی ندا دے دیا کرو۔
(۳)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ۔ فَمُطِرْنَا۔ فَقَالَ: لِیُصَلِّ مَنْ شَائَ مِنْکُمْ فِیْ رَحْلِہٖ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک سفر پر نکلے۔ راستے میں بارش نے آلیا۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا ’’تم میں سے جو اپنے ٹھکانہ پر نماز پڑھنا چاہے وہ پڑھ سکتا ہے۔
اور ترمذی میں حضرت جابرؓ سے مروی روایت:
(۳) عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: کُنَّامَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ، فَاَصَابَنَا مَطَرٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ شَآئَ فَلْیُصَلِّ فِیْ رَحْلِہِ۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں باران رحمت ہوئی تو آپؐ نے اعلان کروادیا ’’جو کوئی چاہے وہ اپنے ٹھکانے پر نماز پڑھ لے۔
ـــــــ امام ترمذی کی تحقیق کے مطابق، بعض اہل علم نے بارش اور کیچڑ کی حالت میں نماز باجماعت اور جمعہ میں حاضری سے رخصت دی ہے۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَسَمُرَۃَ، وَاَبِیْ الْمَلِیْحِ عَنْ اَبِیْہِ، وَعَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ جَابِرٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَقَدْرَخَّصَ اَہْلُ الْعِلْمِ فِی الْقُعُوْدِ عَنِ الْجَمَاعَۃِ وَالْجُمُعَۃِ فِی الْمَطَرِ وَالطِّیْنِ۔ وَبِہٖ یَقُوْلُ اَحْمَدُ، وَاِسْحَاقُ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَازَرْعَۃَ یَقُوْلُ رَوَی عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَلِیٍّ حَدِیْثًا۔ وَقَالَ اَبُوْزَرْعَۃَ لَمْ نَرَبِالْبَصَرَۃَ اَحْفَظُ مِنْ ہٰوُلَآئِ الثَّلَاثَۃِ: عَلِیُّ بْنُ الْمَدِیْنِیِّ، وَابْنُ الشَّاذَکُوْنِی وَعَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، وَاَبُو الْمَلِیْحِ بْنِ اُسَامَۃَ اِسْمُہٌ عَامِرٌ وَیُقَالُ ’’ زَیْدُ بْنُ اُسَامَۃَ بْنِ عُمَیْرِ الْہَذَلِیِّ۔

ماخذ

(۱) بخاری ج۱، کتاب الاذان، باب بدء الاذان وَقَوْلُہُ تَعَالیٰ وَاِذَانَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُواً وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِانَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ وَقوْلُہُ تَعْالیٰ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ۔ ٭مسلم ج۱کتاب الصلوۃ، باب بدء الاذان۔ مسلم میں بَلْ بُوْقَا کی جگہ قَرْنا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُوْدِ ہے۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی بدء الاذان ٭ترمذی نے’’فیتحینون الصلوات‘‘ نقل کیا ہے۔ قال ابوعیسیٰ : ہذا حدیث حسن صحیح غریب من حدیث ابنِ عمر۔
(۲) ترمذی ج۱ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی بدء الاذان۔
(۳) ابوداود ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الاذان۔
(۴) بخاری ج۱، کتاب الاذان، باب فضل التأذین اورکتاب التہجد، باب ماجاء فی السھوکے تحت ’’باب اذالم ید رکم صلی ثلاثا او اربعا۔٭ مسلم ج۱: کتاب المساجد،اورکتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان وہرب الشیطن۔٭ ابوداؤد ج۱ کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الصوت بالأذان۔٭نسائی ج۲،کتاب الاذان، باب فضل التاذین۔٭ کنزالعمال، ج۷، ص۶۹۱۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب الترغیب فی الاذان۔٭ موطا امام مالک: باب ماجاء فی النداء للصلوٰۃ۔٭دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل اذالم یدرأ ثلاثا صلی أم اربعاً۔٭ مسند ابی عوانہ،ج۲، ص۱۹۲، ج ۱، ص ۳۳۴۔
(۵) بخاری ج۱، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ۔
(۶) بخاری ج۱، کتاب التہجد، باب یفکر الرجل الشئی فی الصلوٰۃ۔
(۷) مسلم ج۱ کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان وہرب الشیطان عند سماعہ۔٭ مسند ابی عوانۃ، ج۱، ص ۳۳۴۔
(۸) دارقطنی، کتاب الصلوٰۃ، باب ادبار الشیطان من سماع الاٰذان٭دارمی ج۱ کتاب الصلوٰۃ، باب الشیطان اذا سمع النداء فر۔
(۹) مسلم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان وہرب الشیطان عند سماعہ۔٭ مسند ابی عوانۃ ج۱باب الترغیب فی الاذان۔٭ کنزالعمال، ج۷، ص۶۹۲، بحوالہ ابن خزیمہ۔٭السنن الکبریٰ ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الترغیب فی الاٰذان۔
(۱۰) بخاری ج۱، کتاب الاذان، باب الاٰذان للمسافر اذا کانوا جماعۃ ٭مسلم ج۱،کتاب صلوٰۃ المسافر وقصرہا، باب الصلوٰۃ فی الرحال فی المطر٭ ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ اواللیلۃ المطیرۃ٭ نسائی ج۲، کتاب الاذان، باب الاذان فی التخلف عن شہود الجماعۃ فی اللیلۃ المطیرۃ عن ابن عمر۔٭مسند احمد، ج ۲، ص ۴، عبداللہ بن عمر۔٭مسند ابی عوانۃ،ج۲، ص ۳۴۸۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا:، باب الجماعۃ فی اللیلۃ المطیرۃ۔٭السنن الکبریٰ ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب تاخیر الکلام الیٰ آخر الاذان، عن ابن عمر۔
(۱۱) مسلم ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا، باب الصلوٰۃ فی الرحال فی المطر۔
(۱۲) ترمذی: ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللّٰہ ﷺ، باب ماجاء اذا کان المطر فالصلوۃ فی الرحال۔

فصل :۵ کیفیات صلوٰۃ ۔ جسمانی و بدنی طہارت

اس آواز (اذان) کو سن کر تم اٹھتے ہو اور سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کر دیکھتے ہو کہ میں پاک ہوں یا ناپاک؟ میرے کپڑے پاک ہیں یا نہیں؟ مجھے وضو ہے یا نہیں؟ گویا تمہیں اس بات کا احساس ہے کہ پادشاہ دوعالم کے دربار میں حاضری کا معاملہ دنیا کے دوسرے سب معاملات سے مختلف ہے۔ دوسرے کام تو ہر حال میں کیے جاسکتے ہیں، مگر یہاں جسم اور لباس کی پاکی اور اس پاکی پر مزید طہارت ( وضو) کے بغیر حاضری دینا سخت بے ادبی ہے۔ اس احساس کے ساتھ تم پہلے اپنے پاک ہونے کا اطمینان کرتے ہو اور پھر وضو شروع کردیتے ہو۔ اس وضو کے دوران میں اگر تم اپنے اعضاء دھونے کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر کرتے رہو اور فارغ ہوکر وہ دعا پڑھو جو رسول اللہؐ نے سکھائی ہے تو محض تمہارے اعضاء ہی نہ دھلیں گے بلکہ ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی دھل جائے گا ۔اس دعا کے الفاظ یہ ہیں:
۱۶۔ اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔
’’میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔‘‘ (خطبات ، ص :۱۴۸،۱۴۹)
تخریج:(۱) حَدَثَّنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِیُّ الْکُوْفِیُّ، نَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ الدِمَشْقِیِّ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِیِّ وَاَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْئَ، ثُمَّ قَالَ: اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابٍ مِنَ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ اَیِّہَا شَآئَ۔(۱)
ترجمہ:حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا، پھر یہ دعا پڑھی ’’میں شہادت دیتا ہوں کہ اکیلے ایک لاشریک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ خدایا مجھے توبہ کرنے والوں میں شامل کر اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا۔ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے جس میں سے چاہے داخل ہوجائے۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنْ اَنَسٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ حَدِیْثُ عُمَرَ قَدْ خُوْلِفَ زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ رَوَی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ وَغَیْرُہٗ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَعَنْ رَبِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ عَنْ جُبَیْرٍ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ عُمَرَ۔ وَہٰذَا حَدِیْثٌ فِیْ اِسْنَادِہٖ اِضْطِرَابٌ۔ وَلَایَصِحُّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ کَبِیْرُ شیْ۔ قَالَ مُحَمَّدُ: وَأَبُوْاِدْرِیْسَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَیْئاً۔
(۲) عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ یَحْیٰ عَنِ ابْنِ الْعلَائِ عَنِ الْاَ عْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: اِذَا تَوَ ضَّاَ الرَّجُلُ فَلْیَقُلْ: اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ اللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔(۲)
ابن ابی شیبہ میں عقبہ بن عامر سے مروی روایت میں ہے:
(۲)قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ تَوَضَّاَفَاَتَمَّ وُضُوْئَ ہُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ اِلَی السَّمَآئِ، فَقَال: اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اللّٰہُ الخ۔(۳)

نیت نماز

اس کے بعد تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو۔ منہ قبلہ کے سامنے ہے۔ پاک صاف ہو کر پادشاہ عالم کے دربار میں حاضر ہو، سب سے پہلے تمہاری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں: اللہ اکبر،’’ اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ اس زبردست حقیقت کا اقرار کرتے ہوئے تم کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہو ، گویا دنیا و مافیہا سے دست بردار ہورہے ہو۔ پھر ہاتھ باندھ لیتے ہو، گویا اب تم بالکل اپنے بادشاہ کے سامنے باادب دست بستہ کھڑے ہو۔ اس کے بعد تم کیا عرض معروض کرتے ہو۔

تسبیح

۱۷۔ سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ۔
’’ تیری پاکی بیان کرتا ہوں اے اللہ! اور وہ بھی تیری تعریف کے ساتھ۔ بڑی برکت والا ہے تیرا نام ، سب سے بلند و بالاہے تیری بزرگی اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عِیْسٰی، ثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَامٍ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ اَلْمَلَائِیُّ، عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ اَبِی الْجَوْزَائِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلوٰۃَ قَالَ: سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔(۴)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرنا چاہتے تو فرماتے: ’’اے اللہ تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ: وَہٰذَا الْحَدِیْثُ لَیْسَ بِالْمَشْہُوُرِ عَنْ عَبْدِالسَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، لَمْ یَرَوْہُ اِلَّا طَلْقُ بْنُ غِنَامٍ، وَقَدْرَوَیَ قِصَّۃُ الصَّلوٰۃِ عَنْ بُدَیْلٍ جَمَاعَۃٌ لَمْ یَذْکُرُوْا فِیْہِ شَیْئاً مِنْ ہٰذَا۔(۴)
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِن الْخُدْرِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثَلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ثَلَاثًا اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفَثِہِ ثُمَّ یَقْرَاُ ۔(۵)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو پہلے اللہ اکبر کہتے پھر فرماتے اے اللہ! تو پاک ہے ا ور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر فرماتے اللہ اکبر کبیراً۔ (تین مرتبہ) ’’میں اللہ سمیع و علیم کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود کی شرارتوں اور اس کے ہمزسے، اس کے نفخ سے اور اس کے نفث سے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: وَحَدِیْثُ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَشْہَرُ حَدِیْثٍ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ، وَقَدْ اَخَذَ قَوْمٌ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَأَمَّاأَکْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ فَقَالُواْ اِنَّمَا یُرْویٰ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَااِلٰہَ غَیْرُ کَ۔ وَہٰکَذَاَ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، وَ الْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذَا عِنْدَ اَکْثَرِ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِیْنَ وَغَیْرِہِمْ، وَقَدْ تَکَلَّمَ فِیْ اِسْنَادٍ۔ وَحَدِیْثُ اَبِیْ سَعِیْدٍ کَانَ یَحْییٰ بْنَ سَعِیْدٍ یَتَکَلَّمُ فِیْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ، وَقَالَ اَحْمَدُ لَایَصِحُّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِہْرَ انَ الرَّازِیُّ، قَالَ: نَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: نَا الْاَوْزَاعِیُّ عَنْ عَبْدَۃَ أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، کَانَ یَجْہَرُ بِہٰوُلَا ٓئِ الْکَلِمَاتِ یَقُوْلُ: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عمر بن الخطابؓ ان کلمات کو جہراً پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! اور سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے اور تیری شان بلند و برتر ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

تعوذ

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ
’’خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں شیطان مردود کی دراندازی اور شرارت سے۔‘‘

بسملہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (خطبات، باب سوم: نماز میں ۔۔۔)

شیطان سے پناہ مانگنے کی حکمت

قرآن مجید میں یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جب تم قرآن پڑھو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو شیطان رجیم سے ـــــ اسی حکم کی بناء پر قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ سے کیا جاتا ہے ـــــ یہ ہدایت کیوں دی گئی ہے؟
پناہ مانگنے میں آپ سے آپ کچھ باتیں شامل ہوتی ہیں۔ پناہ مانگنے کے عین مفہوم میں کچھ چیزیں شامل ہیں۔ ایک خود پناہ۔ دوسرے پناہ مانگنے والا۔ تیسرے وہ جس سے پناہ مانگی جائے۔
پناہ مانگنے والا پناہ ہمیشہ اس صورت میں مانگا کرتا ہے جب کہ اسے کسی خطرے کا احساس ہو۔ اگر خطرے کا احساس ہی نہ ہو تو پناہ کا کوئی تصور اس کے ذہن میں نہیں آتا اور پناہ ہمیشہ اس سے مانگی جاتی ہے جس کے متعلق آدمی کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ ہمیں محفوظ کرسکتا ہے اس خطرے سے جس کا ہم احساس رکھتے ہیں۔ جب تک یہ دونوں باتیں شامل نہیں ہوں گی، آدمی کے ذہن میں نہ کوئی پناہ لینے کا تصور آئے گا اور نہ کسی کی طرف وہ توجہ کرے گا، مانگنے کی۔
ظاہر بات ہے کہ اگر کسی آدمی کو پناہ لینے کی ضرورت کا احساس ہی نہ ہو تو وہ کبھی نہیں بھاگے گا۔ جیسے مثلاً زلزلہ اچانک آتا ہے۔ چونکہ لوگوں کو احساس نہیںہوتا کہ کوئی خطرہ پیش آنے والا ہے، اس لیے لوگ اطمینان سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر ایک منٹ پہلے بھی انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ زلزلہ آنے والاہے اور ہمارے مکان کو گرجانے کا خطرہ ہے، تو بے خبری ہی کی وجہ سے آدمی خطرے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر خطرے کا احساس ہوجائے، یہ معلوم ہوجائے کہ مثلاً شیر آرہا ہے، یہ معلوم ہوجائے کہ مکان گرنے والا ہے، یہ معلوم ہوجائے کہ آگ لگنے والی ہے تو آدمی فوراً ہوشیار ہوجاتا ہے۔ وہ پناہ لینے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح سے اگر آدمی کو یہ اطمینان نہ ہو کہ فلاں جگہ مجھے تحفظ حاصل ہوگا تو اطمینان کے ساتھ اس جگہ کی طرف رخ نہیں کرتا۔ اگر ایک آدمی مثلاً خطرہ محسوس کرتا ہے لیکن اسے جائے پناہ نہیں معلوم ۔ آپ دیکھیں گے کہ گھبرایا پھرے گا۔ گھبرایاگھبرایا چاروں طرف پھرے گا۔ چونکہ اس کو یہ اطمینان نہیں ہے کہ فلاں جگہ ہے جہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔ اطمینان کے ساتھ کسی ایک ہی طرف رخ اسی صورت میں کیا کرتا ہے جب کہ اسے پورا یقین ہو کہ فلاں جگہ ہے جہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔ اب دیکھئے قرآن مجید پڑھنے سے پہلے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو، شیطان رجیم سے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ شیطان رجیم سے خطرہ عظیم ہے انسان کو ۔ کیوں؟ اس وجہ سے کہ اول روز پیدائش سے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تھا اسی وقت سے وہ بھی خار کھائے بیٹھا ہے کہ جس خلافت کے منصب پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو مامور کیا ہے اس خلافت کے منصب کا میںاس کو نااہل ثابت کروں گا۔ میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو خلافت سونپی جاتی ۔ میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا اور فساد برپا کرے گا اور خرابیاں لائے گا جو خلافت کے منصب کے لیے موزوں نہیں۔
یہ قرآن مجید اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ تمہارا ازلی دشمن شیطان ہے، جو اس بات کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکائے، تمہارے دلوں میں وسوسے ڈالے، تم کو دنیا پر فریفتہ کرے، آخرت کو بھلائے حتیٰ کہ خود اللہ تعالیٰ کے وجودکے سلسلے میں بھی تمہارے دلوں میں شک ڈالے۔ ہر ممکن طریقے سے وہ تم کو بہکانے پر تلا ہوا ہے۔ اب جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ زلزلہ مثلاً اچانک آتا ہے، آدمی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں زمین کے اندر وہ مواد پک رہا ہے جو زلزلہ لائے گا۔ تو بے خبر آدی خطرے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اگر اس کو خبردارکر دیا جائے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔ اور آدمی یہ محسوس کرے کہ یہ میرے لیے خطرناک ہے تو اس صورت میں آدمی پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔
قرآن مجید یہ کام کرتا ہے کہ وہ خبردار کردیتا ہے آدمی کو کہ تمہارے لیے شیطان ایک خطرہ ہے جو اس بات پر تلا ہوا ہے کہ تم قرآن مجید کو نہ سمجھو اور کوشش کرتا ہے کہ تم الٹا سمجھو، کوشش کرتا ہے تمہارے دلو ںمیں شکوک ڈالنے کی۔ کوشش کرتا ہے تمہیں راہ ہدایت سے بھٹکانے کی۔ یہ آخری چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ہدایت کے لیے نازل کی ہے۔ لیکن شیطان کی کوشش یہ ہے کہ یہیں سے آدمی ہدایت نہ پائے اور اگر یہاں سے اس نے ہدایت نہ پائی تو پھر دنیا میں اور کہیں سے ہدایت وہ پا نہیں سکتا۔ اس وجہ سے چونکہ یہی ایک منبع ہدایت ہے، یہی سرچشمہ ہے راہنمائی کا۔ اور شیطان اس پر تلا ہو ا ہے کہ تم یہاں سے ہدایت نہ پانے پائو۔ اس وجہ سے تم کو اس خطرے کو محسوس کرنا چاہیے۔ جب تم قرآن پڑھنے بیٹھو تو اس خطرے کو محسوس کرو کہ شیطان پیچھے ہے۔ دیکھیے قرآن مجید میں بکثرت وہ باتیں کی گئی ہیں کہ جو بہت سے خود ساختہ انسانی نظریات کے خلاف پڑتی ہیں۔ بہت سی وہ باتیں کی گئی ہیں جو انسان کی خواہشات نفس کے خلاف پڑتی ہیں۔ بہت سی وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو انسان میں جو مختلف قسم کے اوہام اور رسوم و آداب رائج ہیں ان کے خلاف پڑتی ہیں۔ پھر بہت سی وہ چیزیں ہیں جو متشابہات کے (قبیل سے ہیں)، جن میں اس بات کا امکان ہے کہ اگر آدمی غلط معنی لے بیٹھے تو بالکل کفر میں مبتلا ہوجائے۔ مثلاً قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا ذکر کرتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں کہ جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں۔ اگر آدمی اس کے غلط معنی لے بیٹھے، تو کفر میں مبتلا ہوجائے ۔ میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ بلکہ فی الواقع آپ کے اندر احساس ہونا چاہیے کہ شیطان رجیم ایک خطرہ ہے اور دوسری یہ کہ اللہ کی پناہ جب مانگنے جائیں تو اپنی طرف سے وہ کام نہ کریں کہ جس کی وجہ سے آپ اللہ کی پناہ سے محروم ہوجائیں ۔ کیوں؟ مثلاً آدمی زبان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ لیکن اپنے وہ تصورات جو اس کے دماغ میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کو نہیں نکالتا، اپنے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کے اوپر جما ہوا ہے۔ کوشش یہ کررہا ہے کہ قرآن اس کے مطابق ہی ملے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کو نہ خطرہ لاحق ہے، نہ خطرے کا احساس ہوا ہے، نہ وہ اللہ کی پناہ فی الواقع مانگ رہا ہے۔ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ذہن کو دوسرے تصورات سے خالی کر لے اور اس ارادے سے بیٹھے کہ یہاں سے ہدایت پانی ہے، اس کے بعد اللہ کی پناہ آپ کو ملے گی۔ اور جس وقت آپ کے دل میں کوئی احساس پیدا ہوا، آپ محسوس کرجائیں اس بات کو کہ کوئی وسوسہ آرہا ہے، کوئی شک آرہا ہے، تو پھر کانپ جائیے اور اللہ سے پناہ مانگئے ۔ تب جاکر یہ نسخہ کارگر ہوسکتا ہے۔ یہ حقیقت میں کوئی تعویذ نہیں ہے، یا عملیات کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہے کہ زبان سے نکالتے ہی پھر وہ حصار ہوگیا آپ کے گرد۔ اور اب شیطان نہیں آسکتا۔ یہ نہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہم کو یہ ہدایت کی ہے کہ میری کتاب کو پڑھتے ہوئے چوکنے رہو۔ بالکل ہوشیار رہو۔ (کیسٹ نمبر ۱، سورۃ فاتحہ کے ضمن میں تعوذ پر گفتگو)

سورۂ فاتحہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَoلا
’’ تعریف خدا کے لیے ہے، جو سارے جہان والوں کا پروردگار ہے۔‘‘
۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِoلا
’’نہایت رحمت والا بڑا مہربان ہے۔‘‘
۔ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ oط
’’روز آخرت کا مالک ہے۔‘‘  (جس میں اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل ملے گا)۔
۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُoط
’’مالک! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘
۔ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَoلا
’’ ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔‘‘
۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْoلا
’’ ایسے لوگوں کا راستہ، جن پر تونے فضل کیا اور انعام فرمایا۔‘‘
۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاَالضَّآلِّیْنَoع
’’ جن پر تیرا غضب نازل نہیں ہوا اور جو بھٹکے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔‘‘
۔ آمِیْن
’’خدایا ایسا ہی ہو، مالک ہماری اس دعا کو قبول فرما۔‘‘                (خطبات،باب سوم :نماز میں ۔۔۔)

الحمد للہ کے ترجمہ پر اعتراض اور اس کا جواب

سوال: تفہیم القرآن میں آپ نے الحمد للہ کا ترجمہ ’’تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کیا ہے۔حالانکہ مترجمین سلف وخلف نے اس کا ترجمہ ’’ تمام خوبیاں اللہ کے لیے‘‘، ’’ سب تعریف اللہ کے لیے ‘‘ کیا ہے۔ تفہیم القرآن کا ترجمہ کچھ نامکمل ، یا ناتمام سا محسوس ہوتا ہے۔
جواب: اردو زبان میں ’’اللہ کے لیے تعریف ہے‘‘ اور ’’تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کے درمیان معنی کے اعتبار سے بہت بڑا فرق ہے۔ اللہ کے لیے تعریف ہے، کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ جس طرح دوسروں کے لیے تعریف ہوسکتی ہے اسی طرح اللہ کے لیے بھی ہے۔ لیکن جب ’’تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ کہا جائے گا تو مطلب یہ ہوگا کہ تعریف جس چیز کا نام ہے وہ اپنے تمام مفہومات کے ساتھ اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے، کسی دوسرے کو یہ تعریف نہیں پہنچتی ۔ میں نے اس ترجمے میں بعینہ اس مضمون کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے جو الحمد للہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس انداز بیان کو اختیار کرنے سے وہ معنی زیادہ اچھی طرح ادا ہوجاتے ہیں۔ جو دوسرے مترجمین نے ’’تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں‘‘ ، یا ’’ساری خوبیاں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یا ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ ، اور ایسے ہی دوسرے الفاظ سے ادا کرنا چاہتے ہیں۔
(رسائل ومسائل پنجم، تفسیر آیات ۔۔۔:تفہیم القرآن میں۔۔۔)

رکوع

اس کے بعد تم اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع کرتے ہو، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے مالک کے آگے جھکتے ہو اور بار بار کہتے ہو:
۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
’’پاک ہے میرا پروردگار، جو بڑا بزرگ ہے۔‘‘

قومہ

پھر سیدھے کھڑے ہوجاتے ہو اور کہتے ہو:
۔ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ
’’ اللہ نے سن لی اس شخص کی بات جس نے اس کی تعریف بیان کی۔

سجدہ

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں گرجاتے ہو اور بار بار کہتے ہو:
۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
’’ پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بالا و برتر ہے۔

تشہد

پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھاتے ہو اور نہایت ادب سے بیٹھ کر یہ پڑھتے ہو:
۔ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔

مکمل تخریج ، درود و سلام کی فصل میں ملاحظہ ہو۔ (مرتب)
’’ہماری سلامیاں، ہماری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ کے لیے ہیں۔ سلام آپ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور برکتیں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘

 

تشہد میں انگشت شہادت اٹھانا:

یہ شہادت دیتے وقت تم شہادت کی انگلی اٹھاتے ہو، کیونکہ یہ نماز میں تمہارے عقیدے کا اعلان ہے اور اس کو زبان سے ادا کرتے وقت خاص طور پر توجہ اور زور دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد تم درود پڑھتے ہو۔

درود

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ ابِرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

مکمل تخریج ،درود و سلام کی فصل میں ملاحظہ ہو ۔ (مرتب)
’’خدایا رحمت فرما ہمارے سردار اور مولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر، جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم ؑ اور آل ابراہیم ؑ پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔ اور خدا یا برکت نازل فرما ہمارے سردار اور مولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم ؑ اور آل ابراہیم ؑ پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔
(خطبات،باب سوم: نماز میں ۔۔۔)

رکوع اور سجدہ کی دعا کا ماخذ

۱۸۔حضرت عقبہؓ بن عامرجہنی سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پڑھنے کا حکم (سورۃ الاعلیٰ کی آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی) کی بنا پر دیا تھا، اور رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم پڑھنے کا جو طریقہ حضور ؐ نے مقرر فرمایا تھا، وہ سورۂ واقعہ کی آخری آیت فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ پر مبنی تھا۔

تفہیم القرآن ، ج ۶ ، الاعلیٰ ،حاشیہ ۱، ص :۳۱۰۔
(مسند احمد، ابودائود، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، ابن المنذر)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ نَافِعٍ اَبُوْ تَوْبَۃَ وَمُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ المعنی قَالَا: ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ مُوْسٰی، قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ: مُوْسٰی ابْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ عَمِّہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ’’فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ‘‘ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اجْعَلُوْ ہَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ ، قَالَ: اجْعَلُوْہَا فِیْ سُجُوْدِ کُمْ۔(۷)
ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب آیت فَسَبِّحْ بِا سْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (الواقعۃ:۷۴) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی (الاعلٰی:۱) نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجود میں پڑھا کرو۔‘‘
عقبہ بن عامر سے مروی ایک دوسری روایت:
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ،ثَنَا اللَّیْثُ ـــــ یعنی ابْنُ سَعْدٍ ـــــ عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ مُوْسٰی اَوْمُوْسَی بْنِ اَیُّوْبَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، بِمَعنَاہُ زَادَقَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا رَکَعَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ ثَلَاثًا، وَاِذَا سَجَدَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی وَبِحَمْدِہِ ثَلَاثًا۔(۸)
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع فرماتے تو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہ تین بارپڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖتین بار کہتے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَہٰذِہٖ الزِّیَادَۃُ نَخَافُ اَنْ لَّا تَکُوْنَ مَحْفُوْظَۃٌ۔ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ: اِنْفَرَدَ اَہْلُ مِصْرَ بِاِسْنَادِ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ: حَدِیْثُ الرَّبِیْعِ، وَحَدِیْثُ اَحْمَدَ بْنِ یُوْنُسَ۔
حضرت حذیفہؓ سے مروی روایت:
(۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُلَیْمَانَ اَدْعُوْ فِی الصَّلوٰۃِ اِذَا مَرَرْتُ بِآیَۃِ تَخَوُّفٍ؟ فَحَدَّثَنِیْ عَنْ سَعْدِبْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ مُسْتَوْرِدٍ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، وَمَا مَرَّ بِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ عِنْدَہَا، فَسَاَلَ، وَلَابِاٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ عِنْدَہَا، فَتَعَوَّذَ۔(۹)
ترجمہ: حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، کہتے تھے اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، جب آیت رحمت پر گزر ہوتا تو وہاں ذرا ٹھہر کر اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے اور جب ایسی آیت پر گزر ہوتا جس میں عذاب الٰہی کا ذکر ہوتا تو وہاں بھی قدرے توقف کرکے اس سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
عبداللہ ؓ بن مسعود سے مروی روایت:
(۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَزِیْدَ الْہُذَلِیِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِذَا رَکَعَ اَحَدُ کُمْ فَقَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُکُوْعُہُ وَ ذٰلِکَ اَدْنَاہُ، وَاِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُوْدُہُ وَذٰلِکَ اَدْنَاہُ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے جب کوئی رکوع کرے تو وہ اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ تین بار کہے۔ جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور یہ کم سے کم ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو اسے اپنے سجدہ میں تین بار سُبْحَانَ رَبِیَّ الْاَعْلٰیکہنا چاہیے جب اس نے ایسا کرلیا تو اس نے سجدہ پورا کرلیا اور یہ کم سے کم ہے (یا اس کا سجدہ مکمل ہوگیا) ۔
قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ لَیْسَ اِسْنَادُہٗ بِمُتَّصِلٍ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ لَمْ یَلْقِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ۔ وَالْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذَا عِنْدَ اَہْلِ الْعِلْمِ۔
ابن ماجہ اور بیہقی میں ابن مسعود سے مروی روایت میں ہے:
(۵) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَارَکَعَ اَحَدُ کُمْ فَقَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ۔(۱۱)

سجدہ باعث قرب الٰہی

۱۹۔صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ’’بندہ سب سے زیادہ اپنے رب سے اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۶، العلق ،حاشیہ :۱۶)
تخریج : حَدَّثَنَا ہَا رُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَعَمْرُ وبْنُ سَوَّادٍ، قَالَا: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِ و ابْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ، عَنْ سُمّیٍ مَوْلٰی اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا صَالِحٍ ذَکَوَانَ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہِ وَہُوَ سَاجِدٌ فَاَکْثِرُ وْا الدُّعَآئَ۔ (۱۲)

دعابعد درود

۲۰۔ اللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہنَّمَ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَالْمَمَاتِ وَاعُوذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔
’’خدا یا! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں (اس گمراہ کرنے والے) دجال کے فتنے سے (جو زمین پر چھاجانے والا ہے)اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔ خدا یا میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے اعمال کی ذمہ داری اور قرض داری سے۔‘‘
تخریج : اَخْبَرَنَا اَبُوْ الْیَمَانِ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبِیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ فی الصَّلوٰۃِ۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَفِتْنَۃِ الْمَمَاتِ، اللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔(۱۳)

سلام

یہ دعا پڑھنے کے بعد تمہاری نماز پوری ہوگئی۔ اب تم مالک کے دربار سے واپس ہوتے ہو اور واپس ہو کر پہلا کام کیا کرتے ہو؟ یہ کہ دائیں اور بائیں مڑکر تمام حاضرین اور دنیا کی ہر چیز کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہو:
۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔
گویا یہ بشارت ہے جو خدا کے دربار سے پلٹتے ہوئے تم دنیا کے لیے لائے ہو۔
یہ ہے وہ نماز جو تم صبح اٹھ کر دنیا کے کام کاج شروع کرنے سے پہلے پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے کام کاج میں مشغول رہنے کے بعد دوپہر کو خدا کے دربار میں حاضر ہو کر دوبارہ یہی نماز ادا کرتے ہو۔ پھر چند گھنٹوں کے بعد تیسرے پہر کو یہی نماز پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے مشغول رہنے کے بعد شام کو اسی نماز کا اعادہ کرتے ہو۔ پھر دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے آخری مرتبہ اپنے مالک کے سامنے جاتے ہو۔ اس آخری نماز کا خاتمہ و تر پر ہوتا ہے، جس کی تیسری رکعت میں تم ایک عظیم الشان اقرار نامہ اپنے مالک کے سامنے پیش کرتے ہو۔ یہ دعائے قنوت ہے۔
قنوت کے معنی ہیں خدا کے آگے ذلت و انکساری ، اطاعت اور بندگی کا اقرار ۔ یہ اقرار تم کن الفاظ میں کرتے ہو۔ ذرا غور سے سنو۔

دعائے قنوت

۲۱۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَھْدِیَکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُوْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہُ، نَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ، اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ۔
’’خدا یا! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے ہدایت طلب کرتے ہیں، تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تیرے ہی اوپر بھروسہ رکھتے ہیں، اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں۔ ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں، ناشکری نہیں کرتے۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ دیں گے، جو تیرا نافرمان ہو۔ خدا یا! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز اور سجدہ کرتے ہیں اور ہماری ساری کوشش اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے۔ ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تیرا سخت عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔‘‘
(خطبات ، باب سوم: نماز میں ۔۔۔)
تخریج:(۱) وَکَانَ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَتِہِ وَیُعَلِّمُ اَصْحَابَہُ اَنْ یَّقُوْلُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَہْدِیَہُ وَمِنْ دُعَآئِ الْقُنُوْتِ الَّذِیْ کَانَ یَدْعُوْبِہٖ عُمَرُ وَغَیْرُہُ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَہْدِیَکَ۔(۱۴)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اپنے خطبہ میں اکثر فرمایا کرتے تھے اور اپنے صحابہؓ کو سکھایا کرتے تھے کہ وہ یہ دعا پڑھا کریں: سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے طلب ہدایت کے خواستگار ہیں۔ حضرت عمرؓ جو دعائے قنوت پڑھتے تھے وہ بھی اسی طرح شروع ہوتی ہے۔ خدایا! ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے ہی ہدایت طلب کرتے ہیں۔‘‘
(۲)اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ ثَنَا اَبُوْا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَابَحْرُ بْنُ نَصْرِالْخَوْلَانِّیُ، قَالَ: قُرِیَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ: اَخْبَرَکَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْقَاہِرِ، عَنْ خالِدِ بْنِ اَبِیْ عِمْرَانَ، قَالَ: بَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدْعُوْ عَلیٰ مُضَرَ اِذجَآئَ ہُ جِبْرَئِیْلُ فَاَوْمَاَاِلَیْہِ اَنْ اَسْکُتَ فَسَکَتَ، فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْکَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا وَاِنَّمَا بَعَثَکَ رَحْمَۃً وَلَمْ یَبْعَثْکَ عَذَابًا ’’لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْٔاَاوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظَالِمُوْنَ(آل عمران:۱۲۸)        ثُمَّ عَلَّمَہُ ہٰذَا الْقُنُوْتَ۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُوْمِنُ بِکَ وَنَخْضَعُ لَکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَکْفُرُکَ، اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ وَنَخَافُ عَذَابَکَ الْجِدَّ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِیْنَ مُلْحِقٌ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت خالد بن عمران سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک موقعہ پر قبیلہ مضر کے حق میں بددعا کررہے تھے کہ جبرئیل تشریف لے آئے ، جبرئیل نے آپ کو اشارہ کیا کہ خاموش ہوجائیں۔ چنانچہ آپؐ خاموش ہوگئے، تو جبرئیل نے کہا اے محمدؐ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالی گلوچ دینے والا، لعن طعن کرنے والا بنا کر تو نہیں بھیجا، بلکہ اس نے تو آپ کو رحمت بناکر بھیجا ہے اور اس نے آپؐ کو عذاب بناکر بھی نہیں بھیجا۔ فیصلوں کے اختیارات میں آپ کا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے اللہ ان کی توبہ قبول کرے، چاہے انہیں عذاب دے۔ اس لیے کہ وہ ظالم ہیں۔ پھر انھوں نے حضوؐر کو یہ قنوت سکھائی۔
خدایا! ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اور تجھ سے بخشش و مغفرت مانگتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے حضور جھکتے ہیں۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے قطع تعلق کرلیں گے جو تیرا انکار کرے۔ خدایا! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہماری ساری کوشش اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔
ــــــ ہٰذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَحِیْحاً مَوْصُوْلًا۔
حضرت عمرؓ سے منقول دعائے قنوت:
(۳) اِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ وَانْصُرْہُمْ عَلیٰ عَدُوِّکَ وَعَدُوِّہِمْ اَللّٰہُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَہْلِ الْکِتَابِ اَلَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ وَیُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَائَکَ اَللّٰہُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِہِمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَہُمْ وَاَنْزِلْ بِہِمْ بَاْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ  وَنَسْتَغْفِرُکَ  وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَلَکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَخْشیٰ عَذَابَکَ الْجِدَّ نَرْجُوْ رَحْمَتَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِیْنَ مُلْحِقٌ۔
(رواہ سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ عن ابیہ عن عمر فخالف ہذافی بعضہ)
ترجمہ:حضرت عمرؓ رکوع کے بعد دعائے قنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔ خدایا! ہمیں بخش دے۔ مومن مردوں اور عورتوں کو، مسلمان مردوں اور عورتوں سب کو بخش دے۔ اور ان کے دلوں میں الفت و محبت پیوست کردے اور ان کی اصلاح احوال فرمادے۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد و نصرت فرما، خدایا ! اہل کتاب کے ان کافروں پر لعنت برسا جو تیرے راستہ سے رکتے اور روکتے ہیں، تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور تیرے نیک بندوں (اولیاء) کو قتل کرتے ہیں۔ خدایا !ان کے قول (کلمہ) میں مخالفت پیدا کردے۔ ان کے قدم اکھاڑدے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جو مجرم قوم سے ٹلا نہیں کرتا۔
آغاز اللہ رحمن و رحیم کے نام سے: خدایا! ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اور تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور تیری ہم تعریف کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ لیں گے جو تیرا نافرمان ہوگا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہر بان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ خدایا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہماری ساری کوششیں اور دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار رہتے ہیں۔ یقینا تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔
(۴) اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُوْالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ اَنْبَاَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، حَدَّثَنِیْ عَبْدَۃُ بْنُ اَبِیْ لُبَابَۃَ عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبْزٰی، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلوٰۃَ الصُّبْحِ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ بَعْدَ الْقِرَاَئَ ۃِ قَبْلَ الرُّکُوْعِ: الَلّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ نَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِیْنَ مُلْحِقٌ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَلَانَکْفُرُکَ وَنُوْمِنُ بِکَ وَنَخْضَعُ لَکَ وَنَخْلَعُ مَنْ یَّکْفُرُکَ۔ (۱۶)
ترجمہ:  عبدالرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کی اقتداء میں نماز فجر ادا کی۔ میں نے سنا کہ حضرت عمرؓ قراء ت کے بعد اور رکوع جانے سے پہلے یہ کہہ رہے تھے:
’’اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نمازپڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ہماری ساری کوشش اور دوڑ دھوپ تیری خوشنودی کے لیے ہے ۔ تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بلاشبہ تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑے گا جو کافر ہیں۔ خدایا! ہم تجھ سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے تمام گناہوں کی تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور ساری تعریف تیرے ہی لیے خاص کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے اور تجھ پر ایمان لاتے اور تیرے حضور جھکتے ہیں اور ہر اس شخص سے قطع تعلق کرتے ہیں جو تیرا نافرمان ہو۔‘‘
ـــــــکَذَاقَالَ قَبْلَ الرُّکُوْعِ وَہُوَ وَاِنْ کَانَ اِسْنَاداً صَحِیْحاً فَمَنْ رَوَی عَنْ عُمَرَ قُنُوْتَہٗ بَعْدَ الرُّکُوْعِ اَکْثَرُ، فَقَدْ رَوَاہُ اَبُوْرَافِعٍ، وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ، وَاَبُوْ عُثْمَانَ النَّہْدِیٌّ، وَزَیْدُ بْنُ وَہَبٍ، وَالْعَدَدُ اَوْلیٰ بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَفِیْ حُسْنِ سِیَاقِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ لِلْحَدِیْثِ دَلاَلَۃٌ عَلیٰ حِفْظِہٖ وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْہٗ، وَرَوَیْنَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّہٗ قَنَتَ فِی الْفَجْرِ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ، وَرَوَیْنَا عَنْ اَبِیْ عَمْرِو بْنِ الْعَلَائِ اَنَّہٗ کَانَ یَقْرَئُ فِیْ دُعَائِ الْقُنُوْتِ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ یَعْنِیْ بِخَفْضِ الْحَائِ۔

سورج کا عرش الٰہی کے نیچے سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ـــــــایک ضمنی بحث

۲۲۔’’نبی ﷺ نے فرمایا، جانتے ہو سورج غروب ہو کر جاتا کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے (یعنی پھر مشرق سے طلوع ہونے کی) اور اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا، مگر اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ پلٹ جا اور وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَاطذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ oط(یٰس:۳۸) (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یُوْسُفَ ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِاَبِیْ ذَرٍّ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِیْ اَیْنَ تَذْہَبُ؟ قُلْتُ : اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُوْذَنُ لَہَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَ فَلَایُقْبَلُ مِنْہَا وَتَسْتَاْذِنُ فُلَا یُوْذَنُ لَہَا یُقَالُ لَہَا اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِہَا فَذٰلِکَ قُوْلُہُ تَعَالٰی وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍ لَّہَاطذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔oط (یس:۳۸) (۱۷)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے اس وقت پوچھا جب سورج غروب ہوچکا تھا کہ ’’جانتے ہو یہ کہاں چلاگیا؟‘‘ ابوذر کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا :وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور پھر( مشرق سے طلوع ہونے کی) اجازت مانگتا ہے اور اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا، مگر اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ پلٹ جا تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی، وَالشَّمْسُ تَجْرِی الآیۃ۔
مسند احمد نے الفاظ قدرے مختلف نقل کیے ہیں:
(۲)قَالَ یَااَبَاذَرٍّ اَیْنَ تَذْہَبُ الشَّمْسُ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَ بَیْنَ یَدَیْ رَبِّہَا عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فَیُوْذَنُ لَہَا وَکَاَنَّہَا قَدْقِیْلَ لَہَا اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّکَانِہَا وَذٰلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَّہَا قَالَ مُحَمَّدٌ ثُمَّ قَرَأَ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍ لَّہَا ۔(۱۸)
ترجمہ: حضورؐ نے فرمایا اے ابوذر! سورج غروب ہو کر کہاں چلا جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ پھر اجازت طلب کرتا ہے اسے اجازت دے دی جاتی ہے، گویا اسے یوں کہا جاتا ہے کہ واپس پلٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ تو وہ اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے۔
ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِکے ضمن میں ابوذر ؓسے ایک اور روایت ملاحظہ ہو:
(۳)عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ فَقَالَ: یَا اَبَا ذَرٍّ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ؟ قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ: فَاِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَذٰلِکَ قُوْلُہْ تَعْالیٰ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّہَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔
ترجمہ: حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں غروب شمس کے وقت نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپؐ نے فرمایا ’’ابوذر جانتے ہو یہ غروب ہو کر کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’ وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے یہ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّہَا۔۔۔ الخ۔
مسلم نے ابوذر سے اس روایت کے الفاظ ، درج ذیل نقل کیے ہیں:
(۴)عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ، یَوْمًا اَتَدْرُوْنَ اَیْنَ تَذْہَبُ ہٰذِہِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ ، قَالَ: اِنَّ ہٰذِہِ تَجْرِیْ حَتّٰی تَنْتَہِیَ اِلٰی مُسْتَقَرِّ ہَا تَحْتَ الْعَرْشِ۔ فَتَخِرُّ سَاجِدَۃً فَلَا تَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰی یُقَالَ لَہَا: اِرْتَفِعِیْ، اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جئْتِ۔ فَتَرْجِعُ۔ فَتُصْبِحُ طَالِعۃً مِنْ مَطْلَعِہَا۔ ثُمَّ تَجْرِیْ حَتّٰی تَنْتَہِیَ اِلیٰ مُسْتَقَرِّہَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّسَاجِدَۃً وَلاَتَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰی یُقَالَ لَہَا: اِرْتَفِعِیْ۔ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ، فَتَرْ جِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَۃً مِنْ مَطْلَعِہَا ثُمَّ تَجْرِیْ لَا یَسْتَنْکِرُ النَّاسُ مِنْہَا شَیْئًا حَتّٰی تَنْتَہِیَ اِلٰی مُسْتَقَرِّہَا ذَاکَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَـیُقَالُ لَہَا اِرْتَفِعِیْ اِصْبِحِیْ طَالِعَۃً مِنْ مَّغْرِبِکِ فَتُصْبِحُ طَالِعَۃً مِنْ مَغْرِبِہَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَتَدْرُوْنَ مَتٰی ذَاکُمْ؟ ذَاکَ حِیْنَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے دریافت کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسولؐ ہی زیادہ جانتے ہیں۔‘‘ فرمایا ’’یہ سورج چلتا رہتا ہے تاآنکہ عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچ کر سجدہ میں گرپڑتا ہے۔ اسی حالت پر رہتا ہے کہ اسے حکم دیا جاتا ہے کہ اٹھو جہاں سے آئے تھے، وہیں جائو تو وہ واپس پلٹ آتا ہے، اور صبح اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر وہ چلتا رہتا ہے تا آنکہ عرش کے نیچے اپنے مستقر تک پہنچ کر سجدہ ریز ہوجاتا ہے ۔ پھر اسی حالت پر رہتا ہے کہ اسے حکم دیا جاتا ہے ’’اٹھو اور جہاں سے آئے تھے، وہیں لوٹ جائو۔‘‘ تو وہ واپس لوٹ آتا ہے اور صبح اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر چلتا ہے لوگ اس کی کسی چیز میں کمی محسوس نہیں کریں گے کہ یہ عرش کے نیچے اپنے ایک مستقر تک پہنچ جاتا ہے تو اسے حکم دیا جاتا ہے اٹھو اور صبح مغرب سے طلوع ہو تو وہ صبح مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہویہ کب ہوگا؟ (پھر خود ہی فرمایا) یہ اس وقت ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان لانا نفع بخش نہیں رہے گا جب کہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو۔۔۔الخ۔
تشریح: اس میں دراصل جو مضمون بیان کیا گیا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ’’سورج ہر آن اللہ تعالیٰ کے حکم کا تابع ہے، اس کا طلوع بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے اور اس کا غروب بھی‘‘ سورج کا سجدہ کرنا ظاہر ہے کہ اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں، بلکہ اس معنی میں ہے کہ جس میں قرآن دنیا کی ہر چیز کو خدا کے آگے سر بسجود قرار دیتا ہے، یعنی کلیتاً تابع امررب ہونا۔ پھر سورج کا مغرب بھی ایک نہیں ہے، بلکہ قرآن کی رو سے بہت سے مغرب ہیں۔ کیونکہ وہ ہر آن ایک خطہ زمین میں غروب اور ہر آن دوسرے خطے میں طلوع ہوتا ہے۔ اس لیے اجازت مانگ کر طلوع و غروب ہونے کا مطلب ہر آن امر الٰہی کے تحت ہونا ہے۔رہا اس کا کسی وقت مغرب سے طلوع ہونا، تویہ بھی کوئی بعید بات نہیں ہے۔ ہر وقت اس امر کاامکان ہے کہ دنیا کا قانون جذب و کشش یکایک ایک پلٹی کھاجائے اور سیاروں کی رفتار بالکل الٹ جائے۔ طبیعیات اور ہیئت کے ماہرین میں سے کوئی بھی اس قانون کو اٹل نہیں مانتا اور نہ اس میں تغیر واقع ہونے، یا ا س کے بالکل درہم برہم ہوجانے کو ناممکن سمجھتا ہے۔
رہا یہ امر کہ اس حدیث میں طلوع و غروب کو سورج کی گردش کا نتیجہ سمجھا گیا ہے، نہ کہ زمین کی گردش کا، تو اس پر اعتراض کرنے والے کو دو باتیں اچھی طرح جان لینی چاہئیں ، اول یہ کہ انبیاء علیہم السلام طبیعات اور ہیئت اور کیمیا کے مسائل بتانے نہیں آئے تھے، بلکہ عرفان حقیقت بخشنے اور فکر و عمل کی تصحیح کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان کا کام یہ بتانا نہ تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے یا سورج، بلکہ یہ بتانا تھا کہ ایک ہی خدا زمین اور سورج کا مالک و فرمانروا ہے اور ہر چیز ہر آن اس کی بندگی کررہی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ بات حکمت تبلیغ کے بالکل خلاف ہے کہ مبلغ کے اپنے زمانے میں جو علم اشیاء موجود ہوں ان کو چھوڑ کر وہ ہزارہا سال بعد کے علم اشیاء کو تعلیم حقیقت کا ذریعہ بنائے۔ اسے جن حقائق کو ذہن نشین کرنا ہوتا ہے ان کی تفہیم کے لیے اس کو لامحالہ اپنے زمانے ہی کے مواد علمی سے کام لینا پڑتا ہے، ورنہ اگر وہ ان معلومات سے کام لے جو صدیوں بعد انسان کے علم میں آنے والی ہوں تو اس کے معاصرین اس کی اصل تعلیم کو چھوڑ کر اس بحث میں لگ جائیں کہ یہ شخص کس عالم کی باتیں کررہا ہے اور ان میں سے ایک شخص بھی اس کی تبلیغ سے متاثر ہوکر نہ دے۔ اب یہ آپ خود سوچ لیں کہ اگر کسی نبی کی تعلیم اس کے معاصرین ہی کی سمجھ میں نہ آتی اور اس کے عہد کے ہی لوگوں میں مقبول نہ ہوتی، تو وہ بعد کی نسلوں تک پہنچتی کیسے؟ اب سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے اگر اوپر والی حدیث کا مضمون اس ڈھنگ سے بیان کیا جاتا کہ سننے والا طلوع و غروب کا سبب سورج کے بجائے زمین کی حرکت کو سمجھتا تو بے شک آج کے لوگ اسے علم کا ایک معجزہ قرار دیتے، مگر آپ کا کیا خیال ہے کہ خود اس زمانے کے لوگ اس معجزۂ علمی کا استقبال کس طرح کرتے ؟ اور پھر وہ اصل بات بھی کہاں تک ان کے دل و دماغ میں اترتی جو اس مضمون میں بیان کرنی مقصود تھی؟ اور جب کہ اس عہد کے لوگ ہی ایسے’’علمی معجزات ‘‘ کی بدولت ایمان لانے سے محروم رہ جاتے تو یہ معجزے آپ تک پہنچتے ہی کیا کہ آپ ان کی داد دیتے؟ ( رسائل و مسائل دوم: چند احادیث ۔۔۔)

نماز کے بعد ذکر

۲۳۔صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ غریب مہاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہؐ مالدار لوگ تو بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’کیاہوا؟ ‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں، جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، مگر وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز بتائوں جسے اگر تم کرو تو تم دوسرے لوگوں سے بازی لے جائو گے بجز ان کے جو وہی عمل کریں جو تم کرو گے؟ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اور اللہ اکبر کہا کرو۔ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی یہ بات سن لی ہے اور وہ بھی یہی عمل کرنے لگے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ۔ ایک روایت میں ان کلمات کی تعداد ۳۳،۳۳ کے بجائے دس دس بھی منقول ہوئی ہے۔                            (تفہیم القرآن ،ج ۵،قٓ ،حاشیہ: ۵۱)
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّیِمْیُّ، قَالَ: نَاالْمُعْتَمَرٌ وَقَالَ: نَا عُبَیْدُ اللّٰہِ ح وَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا: لَیْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، کِلَاہُمَا عَنْ سُمِّیٍّ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَہٰذَا حَدِیْثُ قُتَیْبَۃَ اَنَّ فُقَرَآئَ الْمُہَاجِرِیْنَ اَتَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا: ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلیٰ وَالنَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ، فَقَالَ: وَمَاذَاکَ؟ قَالُوْا: یُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّیْ وَیَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ۔ وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَلَانَتَصَدَّقُ وَیُعْتِقُوْنَ، وَلَا نُعْتِقُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَفَلَا اُعَلِّمُکُمْ شَیْئًا تُدْرِکُوْنَ بِہِ مَنْ سَبَقَکُمْ وَتَسْبِقُوْنَ بِہِ مَنْ بَعْدَ کُمْ؟ وَلَا یَکُوْنُ اَحَدٌ اَفْضَلَ مِنْکُمْ اِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ؟ قَالُوْا: بَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، قَالَ: تُسَبِّحُوْنَ وَتُکَبِّرُوْنَ وَتَحْمَدُوْنَ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ مَرَّۃً۔ قَالَ اَبُوْ صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَآئُ الْمُہَاجِرِیْنَ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا: سَمِعَ اِخْوَانُنَا اَہْلُ الْاَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوْا مِثْلَہُ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔(۲۰)
(۲) حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا یَزِیْدُ اَخْبَرَنَا وَرَقَائُ عَنْ سُمِّیٍّ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ ابِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالدَّرَجَاتِ وَالنَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ قَالَ: کَیْفَ ذَاکَ؟ قَالُوْا : صَلُّوْا کَمَا صَلَّیْنَا وَجَاہَدُوْا کَمَا جَاہَدْنَا، وَاَنْفَقُوْا مِنْ فُضُوْلِ اَمْوَالِہِمْ، وَلَیْسَتْ لَنَا اَمْوالٌ، قَالَ: اَفَلَا اُخْبِرُ کُمْ بِاَمْرٍ تُدْرِکُوْنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَتَسْبِقُوْنَ مَنْ جَائَ بَعْدَ کُمْ، وَلَا یَاْتِیْ اَحْدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتُمْ اِلَّا مَنْ جَاء بِمِثْلِہِ تُسَبِّحُوْنَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُوْنَ عَشْرًا وَتُکَبِّرُونَ عَشْرًا۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ( غریب ) مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا یا رسول اللہؐ !مالدار لوگ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضورؐ نے پوچھا وہ کیسے؟ انہوں نے عرض کیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بھی جہاد میں حصہ لیا جیسے ہم لیتے ہیں اور انہوں نے مزید برآں اپنے زائد مال (راہ خدا میں) خرچ کیے جبکہ ہمارے پاس مال و دولت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتائوں جس سے تم اپنے سے پہلوں کے درجے پالو اور بعد میں آنے والوں سے بازی لے جائو۔ اور کوئی بھی وہ مرتبہ لے کر نہ آئے جو تم لائو۔ بجز اس کے جو وہی عمل کرے جو تم کرو، وہ عمل یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔
کعب بن عجرہ کی روایت:
(۳) حَدَّثَنَا نَضْرُ بْنُ عَلِیِّ نِ الْجَہْضَمِیُّ، قَالَ: نَا اَبُوْ اَحْمَدَ، قَالَ : نَا حَمْزَۃُ الزَّیَّاتُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مُعَقِّبَاتٌلَا یَخِیْبُ قَائِلُہُنَّ اَوْفَاعِلُہُنَّ ثَلاَثٌ وَّثَلَاثِیْنَ تَسْبِیْحَۃً وَثَلَاثٌ وَّثَلٰثِیْنَ تَحْمِیْدَۃً وَاَرْبَعٌ وَّثَلَاثِیْنَ تَکْبِیْرَۃً فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت کعب بن عجرہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ،آپ نے فرمایا: کچھمعقبات (یعنی ہر نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات) ہیں،ان کے کہنے یا کرنے والا خائب و خاسر نہیں رہتا، یعنی ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ،۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر۔
عبداللہ بن عمرو سے مروی روایت:
(۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ وقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ، خُلَّتَانِ لَا یُحْصِیْہَا رَجُلٌ مُّسْلِمٌ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، اَلَا وَہُمَا یَسِیْرٌ وَمَنْ یَّعْمَلْ بِہِمَا قَلِیْلٌ، یُسَبِّحُ اللّٰہَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاہٍ عَشْرًا، وَیَحْمَدُہُ عَشْرًا، وَیُکَبِّرُہُ عَشْرًا۔ قَالَ فَاَنَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَعْقِدُہَا بِیَدِہِ، قَالَ فَتِلْکَ خَمْسُوْنَ وَمِائَۃٌ بِاللِّسَانِ وَاَلْفٌ وَخَمْسُمِائَۃٍ فِیْ الْمِیْزَانِ، وَاِذَا اَخَذْتَ مَضْجَعَکَ تُسَبِّحُہُ وَتُکَبِّرُہُ وَتَحْمَدُہُ مِائَۃً فَتِلْکَ مِائَۃٌ بِاللِّسَانِ وَاَلْفٌ فِیْ الْمِیْزَانِ، فَاَیُّکُمْ یَعْمَلُ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ اَلْفَی وَخَمْسُمِائَۃٍ سَیِّئَۃً؟ قَالُوْا فَکَیْفَ لَانُحْصِیْہَا۔ قَالَ یَاْتِیْ اَحَدَکُمْ الشَّیْطَانُ وَہُوَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیَقُوْلُ اُذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا حَتّٰی یَنْفَتِلَ فَلَعَلَّہُ لَّا یَفْعَلَ وَیَاتِیْہِ وَہُوَ فِیْ مَضْجَعِہِ فَلَا یَزَالُ یُنَوِّمُہُ حَتّٰی یَنَامَ۔(۲۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلم مرد ان کی حفاظت نہیں کرتا مگر جنت میں داخل ہوتا ہے۔ سنو! وہ معمولی ہیں، عمل بھی تھوڑا سا کرنا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ اور دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبرکہا کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ حضوؐر اپنی انگلیوں پر ان کو گن رہے تھے۔ پھر فرمایا: یہ مجموعی طور پر ۱۵۰ ہیں۔ زبان پر تو ۱۵۰ ہیں، مگر میزان میں یہ ڈیڑھ ہزار کے برابر ہے۔ (دوسرے) جب سونے کے لیے بستر پر جائو تو سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر سو مرتبہ کہو، زبان پر تو یہ سو ہوں گے، مگر میزان میں دوہزار پانچ سو کے برابر ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا ہم کیسے ان کی حفاظت نہ کریں گے۔ فرمایا: تمہارے ایک کے پاس شیطان نماز میں آکر کہتا ہے فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر۔ حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہوجاتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ کیا ہے یا نہیں۔ اور بستر پر وہ آکر سلانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آدمی سوجاتا ہے۔
ـــــــ ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَفِی الْبَابِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَ اَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ۔
۲۴۔حضرت زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ہدایت فرمائی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد ۳۳،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور الحمد للہ کہا کریں اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ بعد میں ایک انصاری نے عرض کیا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی کہتا ہے کہ اگر تم ۲۵،۲۵ مرتبہ یہ تین کلمہ کہو اور پھر ۲۵ مرتبہلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا اسی طرح کیا کرو۔   (احمد،نسائی، دارمی)
تفہیم القرآن ج۵، قٓ، حاشیہ:۵۱۔
تخریج :حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، اَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ کَثِیْرِبْنِ اَفْلَحَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: اُمِرْنَا اَنْ نُسَبِّحَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَنَحْمَدَ               ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَنُکَبِّرَ اَرْبَعًا وَّثَلَاثِیْنَ، فَاَتٰی رَجُلٌ فِی الْمَنَامِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقِیْلَ لَہُ اَمَرَ کُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اَنْ تُسَبِّحُوْا فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ کَذَا وَکَذَا قَالَ الْاَنْصَارِیُّ فِیْ مَنَامِہِ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوْہَا خَمْسًا وَّ عِشْرِیْنَ خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ وَاجْعَلُوْا فِیْہَا التَّہْلِیْلَ فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا عَلی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَخْبَرَ ہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَافْعَلُوْا۔(۲۴)
۲۵۔ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَoج وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ oج  وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَoع
’’حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوکر جب پلٹتے تھے تو میں نے آپؐ کو یہ الفاظ کہتے سنا ہے۔‘‘   (احکام القرآن للجصاص)
تخریج: رَویٰ اَبُوہَارُوْنَ الْعَبْدِیُّ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ آخِرِصَلَاتِہِ عِنْدَ اِنْصِرَافِہِ، سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ  رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔(۲۵)
تشریح: اس کے علاوہ بھی ذکر بَعْدَ الصَّلوٰۃ کی متعدد صورتیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوئی ہیں۔ جو حضرات اس پر عمل کرنا چاہیں وہ مشکوٰۃ بَابُ الذِّکْرِ بَعْدَ الصَّلوٰۃِ میں سے کوئی ذکر جو ان کے دل کو سب سے زیادہ لگے چھانٹ کر یاد کر لیں اور اس کا التزام کریں۔ رسول اللہ ﷺ کے اپنے بتائے ہوئے ذکر سے بہتر کون سا ذکر ہوسکتا ہے مگر یہ خیال رکھیں کہ ذکر سے اصل مقصود چند مخصوص الفاظ کو زبان سے گزاردینا نہیں، بلکہ ان معانی کو ذہن میں تازہ اور مستحکم کرنا ہے جو ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس لیے جو ذکر بھی کیا جائے اس کے معنی اچھی طرح سمجھ لینے چاہئیں۔ اور پھر معنی کے استحضار کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔

ذکر الٰہی اور اس کے طریقے

سوال: ذکر الٰہی کے مسنون، یا غیر مسنون ہونے کے معاملے میں مجھے بعض ذہنی اشکالات پیش آرہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا ایک اثر بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنے بعض شاگردوں کو دیکھا کہ وہ ذکر کے لیے ایک مقررہ جگہ پر جمع ہوا کرتے ہیں تو غصے میں فرمایا کہ کیا تم اصحاب رسول اللہؐ سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں تو میں نے اس طرح کا ذکر نہیں دیکھا، پھر تم لوگ کیوں یہ نیا طریقہ نکال رہے ہو؟
دوسری طرف مشکوٰۃ میں متعدد احادیث ایسی موجود ہیں جن سے اجتماعی ذکر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت انسؓ راوی ہیں کہ نبی ﷺ نے ذکر کے حلقوں کو جنت کے باغوں سے تشبیہ دی ہے۔ حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ آں حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں بیٹھتی کوئی قوم ذکر الٰہی کے لیے مگر یہ کہ گھیر لیتے ہیں، اسے فرشتے اور چھا جاتی ہے اس پر رحمت۔ اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ فرشتے ذکر الٰہی کی مجالس کو ڈھونڈتے ہیں اور ان میں بیٹھتے ہیں۔
ان احادیث کی روشنی میں حلقہ ذکر کا بدعت ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ واضح کریں کہ ارشادات نبویؐ کی موجودگی میں حضرت ابن مسعود سے مروی اثر کی کیا صحیح توجیہ ہوسکتی ہے؟
جواب: لفظ ’’ذکر‘‘ کا اطلاق بہت سی چیزوں پر ہوتا ہے۔ اس کے ایک معنی دل میں اللہ کو یاد کرنے، یا یاد رکھنے کے ہیں۔ دوسرے معنی اٹھتے بیٹھتے ہر حال میں طرح طرح سے اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔ مثلاً موقع بموقع الحمد للہ ، ماشاء اللہ، انشاء اللہ، سبحان اللہ وغیرہ کہنا، بات بات میں کسی نہ کسی طریقے سے اللہ کا نام لینا، رات دن کے مختلف احوال میں اللہ سے دعا مانگنا، اور اپنی گفتگوئوں میں اللہ کی نعمتوں اور حکمتوں اور اس کی صفات اور اس کے احکام وغیرہ کا ذکر کرنا۔
تیسرے معنی قرآن مجید اور شریعت الٰہیہ کی تعلیمات بیان کرنے کے ہیں، خواہ وہ درس کی شکل میں ہوں، یا باہم مذاکرہ کی شکل میں، یا وعظ و تقریر کی شکل میں۔
چوتھے معنی تسبیح و تہلیل و تکبیر کے ہیں۔ جن احادیث میں ذکر الٰہی کے حلقوں اور مجلسوں پر حضورؐ کے اظہار تحسین کا ذکر آیا ہے۔ ان سے مراد تیسری قسم کے حلقے ہیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے جس چیز پر اظہار ناراضی کیا ہے۔ اس سے مراد چوتھی قسم کا حلقہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں حلقے بناکر تسبیح و تہلیل کا ذکر جہری کرنا رائج نہ تھا، نہ حضورؐ نے اس کی تعلیم دی اور نہ صحابہؓ نے یہ طریقہ کبھی اختیار کیا۔ رہا پہلے دو معنوں میں ذکر الٰہی ،تو ظاہر ہے کہ وہ سرے سے حلقے بناکر ہوہی نہیں سکتا، بلکہ وہ لازماً انفرادی ذکر ہی ہوسکتا ہے۔ ( رسائل ومسائل: پنجم، عام مسائل: ذکرالہٰی ۔۔۔)

۶نماز کی اہمیت ۔فصل

۲۶۔ بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ ۔
’’بندے اور کفر کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَاوَکِیْعٌ، ثَنا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔(۲۶)
ترجمہ: کفر اور ایمان کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے۔
ـــــــترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔
ایک روایت میںہے :
(۲) بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْشِّرْکِ اَوِالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔
ترجمہ: بندہ اور شرک یا کفر کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں جو حضرت جابر سے مروی ہے :
(۳) بَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ لَیْسَ بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ اِلَّا تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔(۲۷)
تشریح : جس پر نماز گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ خدا کی بندگی و اطاعت کے لیے تیار نہیں ہے۔ یعنی ترک صلوٰۃ وہ پل ہے جس کو عبور کرکے آدمی ایمان سے کفر کی طرف جاتا ہے۔ اسی بنا پر رحمۃٌ للعالمین نے فرمایا کہ ’’جو لوگ اذان کی آواز سن کر گھروں سے نہیں نکلتے، میرا جی چاہتا ہے کہ جاکر ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔‘‘ اور اسی بنا پر فرمایا: اَلْعَہْدُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمُ الصَّلوٰۃُ فَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ کَفَرَ۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
۲۷۔ہمارے اور عرب کے بدئوں کے درمیان تعلق کی بنا نماز ہے۔ جس نے اسے چھوڑ دیا وہ کافر قرار پائے گا۔ اور اس سے ہمارا تعلق ٹوٹ جائے گا۔
تخریج: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُریْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ الْعَہْدَ الَّذِیْ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمُ الصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَہَا فَقَدْ کَفَرَ۔(۲۸)
ترجمہ:حضرت عبداللہؓ اپنے والدبریدہؓ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یقینا ہمارے اور ان کے (کفار کے) مابین صلوٰۃ واسطہ ہے۔ لہٰذا جس نے اسے ترک کردیا، وہ کافر ہوگیا۔‘‘
۲۸۔کَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ ﷺ لاَیَرَوْنَ شَیْئاً مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْکُہٗ کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلوٰۃِ۔ (ترمذی)
’’مستند روایت ہے کہیعنی نبی ﷺ کے صحابہ میں یہ بات متفق علیہ تھی کہ اسلامی اعمال میں سے صرف نماز ہی وہ عمل ہے جس کو چھوڑ دینا کفر ہے۔ ‘‘ (اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، نماز: فرض شناسی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا بِشْرُبْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجَرَیْرِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ، قَالَ: کَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ: لَا یَرَوْنَ شَیْئًا مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْکُہُ کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلوٰۃِ۔(۲۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن شقیق عقیلی نے بیان کیا کہ :’’نبی ﷺ کے صحابہ سوائے ترک صلوٰۃ کے دوسرے کسی عمل کو کفر تصور نہیں کرتے تھے۔‘‘
(۲)بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا تَرَکَہَا فَقَدْ اَشْرَکَ۔(۳۰)
ترجمہ: بندے اور کفر اور ایمان کے درمیان نماز واسطہ ہے۔ لہٰذا جب کسی نے اسے ترک کردیا تو اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔
(۳) بَیْنَ الْعَبْدِ وَالْکُفْرِ اَوِالشِّرْکِ تَرَکُ الصَّلوٰۃِ فَاِذَا تَرَکَ الصَّلَا ۃَ فَقَدْ کَفَرَ ۔ (۳۱)
ترجمہ: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان ترک صلوٰۃ واسطہ ہے لہٰذا جب کسی نے ترک صلوٰۃ کیا تو وہ کافر ہوگیا۔
(۴) لَیْسَ بَیْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْکِ اِلَّا تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔ فَاِذَا تَرَکَہَا فَقَدْ اَشْرَکَ۔(۳۲)
ترجمہ: بندے اور شرک کے درمیان نہیں ہے واسطہ مگر ترک صلوٰۃ۔ لہٰذا جب کسی نے اسے ترک کیا تو اس نے شرک کیا۔
(۵) مَا بَیْنَ الْکُفْرِ اَوِ الشِّرْکِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ۔(۳۳)
ترجمہ:کفر یا شرک اور ایمان کے مابین جو چیز واسطہ ہے۔ وہ ترک صلوٰۃ ہے۔
(۶) مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ جِہَارًا۔(۳۴)
ترجمہ: جس نے عمداً یعنی جان بوجھ کر ترک صلوٰۃ کیا تو اس نے علانیہ سب کے روبرو کفر کا ارتکاب کیا۔
(۷) قَالَ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : مَنْ تَرَکَ الصَّلَا ۃَ فَقَدْ کَفَرَ ۔(۳۵)
ترجمہ: ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیںکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے نماز کو ترک کیا تو اس نے یقینا کفر کیا۔‘‘
(۸) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍالْمَرْوَزِیُّ:سَمِعْتُ اِسْحَاقَ یَقُوْلُ:صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اِنَّ تَارِکَ الصَّلوٰۃِ کَا فِرٌ۔(۳۶)
ترجمہ: محمد بن نصر مروزی نے بیان کیا کہ میں نے اسحاق کو نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا: ’’تارک صلوٰۃ یقینا کافر ہے۔‘‘
(۹) عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: مَنْ لَّمْ یُصَلِّ فَہُوَ کَافِرٌ ۔(۳۷)
ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’جس نے نماز نہ پڑھی ، وہ کافر ہے۔‘‘
(۱۰) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ فَلَا دِیْنَ لَہُ۔(۳۸)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے کہ ’’جس نے ترک صلوٰۃ کیا اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘
(۱۱) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَنْ تَرَکَ الصَّلوٰۃَ فَقَدْ کَفَرَ۔(۳۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے کہ ’’جس نے نماز ترک کی، وہ یقینا کافر ہوگیا۔‘‘
(۱۲) وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: مَنْ لَّمْ یُصَلِّ فَہُوَ کَافِرٌ۔(۴۰)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہؓ کا قول ہے کہ ’’جس نے نماز نہ پڑھی، وہ کافر ہے۔‘‘
(۱۳) وَعَنْ ابِیْ الدَّرْدَائِ قَالَ: لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا صَلَاۃَ لَہُ وَلَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہُ۔(۴۱)
ترجمہ: حضرت ابودردا ءؓ کا قول ہے کہ ’’جس کی نماز نہیں، اس کا دین ہی نہیں اور جس کا وضو نہیں اس کی نماز ہی نہیں۔‘‘
تشریح: آج دین سے قطعی ناواقفیت کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ، جو اذان کی آواز سن کر ٹس سے مس نہیں ہوتے، جن کو یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ موذن کس کو بلا رہا ہے اور کس کام کے لیے بلا رہا ہے، وہ بھی مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ اور یہ خیال عام ہوگیا ہے کہ نماز کی کوئی اہمیت اسلام میں نہیں ہے، اس کے بغیر بھی آدمی مسلمان ہوسکتا ہے۔ بلکہ مسلمانوں کا امام اور ملت کا قائد بھی ہو سکتا ہے۔( مگر) جب اسلام ایک تحریک کی حیثیت سے زندہ تھا۔ اس وقت یہ حال نہ تھا۔
(اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر، نماز:فرض شناسی)

اقامت دین میں نماز کا مقام

۲۹۔اَلَااَدُلُّکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِوَعُمُوْدِہِ وَذِرْوَۃِ سِنَامِہِ قَالَ بَلیٰ؟یَارَسُوْلَ اللّٰہِ۔قَالَ رَاْسُ الْاَمْرِالْاِسْلَامُ وَعُمُوْ دُہُ الصَّلوٰۃُ وَذِرْوَۃُ سِنَامِہِ الْجِہَادُ۔ (رسائل ومسائل چہارم، ص: ۳۶۳)
’’کیا میں تمہیں دین و شریعت کی اساس و اصل، اس کا ستون و عمود اور اس کی بلندی شان و عظمت نہ بتائوں؟ عرض کیا، ہاں یارسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: اسلام اس کا رأس الامر ہے۔ عمود اس کا صلوٰۃ ہے، بلندی عظمت و شان اس کی جہاد (فی سبیل اللہ) ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِیُّ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ اَبِی النَّجُوْدِ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ، فَاَصْبَحْتُ یَوْ مًا قَرِیْبًا مِّنْہُ وَنَحْنُ نَسِیْرُ۔ فَقُلْتُ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ وَیُبَاعِدْنِیْ مِنَ النَّارِ قَالَ: لَقَدْ سَاَلْتَنِیْ عَنْ عَظِیْمٍ، وَاِنَّہُ لَیَسِیْرٌ عَلیٰ مَنْ یَّسَّرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ ۔ تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِ کْ بِہِ شَیْئًا، وَتُقِیْمُ الصَّلوٰۃَ، وَتُوْتِی الزَّکَاۃَ، وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ، ثُمَّ قَالَ: اَلَا اَدُلُّکَ عَلیٰ اَبْوَابِ الْخَیْرِ؟ اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ۔ وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِی الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِی الْمَآئُ النَّارَ۔ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ قَالَ: ثُمَّ تَلَا ’’ تَتَجَافیٰ جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ‘‘حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ‘‘(السجدۃ:۱۶،۱۷)ثُمَّ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ کُلِّہِ وَعمُوْدِہِ، وَذِرْوَۃِ سِنَامِہِ؟ قُلْتُ: بَلیٰ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعمُوْدُہُ الصَّلَاۃُ وَذِرْوَۃُ سِنَامِہِ الْجِہَادُ۔ ثُمَّ قَالَ اَلَا اُخْبِرُ کَ بِمِلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہِ؟ قُلْتُ بَلیٰ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، فَاَخَذَ بِلِسَانِہ قَالَ: کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا، فَقُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! وَاِنَّا لَمُوَاخذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہِ؟ فَقَال: ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ یَا مُعَاذُ! وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسُ فِی النَّارِ عَلیٰ وُجُوْہِہِمْ اَوْعَلیٰ مَنَاخِرِ ہِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِہِمْ (ہذا حدیث حسن صحیح)۔(۴۲)
ترجمہ: حضرت معاذؓ بن جبل سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں حضور ﷺ کی معیت میں تھا۔ ایک دن صبح سویرے آںجناب کا قرب نصیب ہوا۔ ہم چلے جارہے تھے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ! مجھے ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ (دوزخ کی آگ) سے دور کردے۔‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’تم نے ایک بہت بڑی چیز کے متعلق مجھ سے پوچھا ہے، اللہ تعالیٰ جس پر اسے آسان فرمائے ، اس پر یہ بہت آسان ہے، (وہ یہ ہے) کہ تو صرف ایک اللہ کی عبادت کر، اور اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ ٹھہرا، اور نماز قائم کر اور زکوٰۃدے۔ اور رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کاحج کر، پھر فرمایا! کیا میں تجھے بھلائی کے دروازوں کی راہنمائی نہ کروں۔‘‘ (پھر خود ہی فرمایا) ’’ روزہ ڈھال ہے، صدقہ و خیرات گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آدمی کی صلوٰۃ شب ۔(یہ بیان فرماکر) آپ نے قرآن پاک کی آیت بطور استشہاد تلاوت فرمائی ’’(ایسے لوگ) کہ جن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرتے ہیںالآیۃ۔‘‘ پھر فرمایا! ’’کیا میں تجھے سارے کا سارا راس الامر،اس کا عمود اور اس کی بلند چوٹی نہ بتائوں۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’ہاں یا رسول اللہ ؐ (ضرور ارشاد فرمائیں) حضورؐ نے فرمایا : ’’راس الامراسلام ہے، اس کا ستون صلوٰۃ ہے اور اس کی بلند و بالا چوٹی جہاد ہے‘‘ پھر ارشاد فرمایا ، ’’کیا میں تجھے اس سب کا لب لباب نہ بتائوں۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ’’ہاں یارسول اللہؐ! (ضرور ارشاد فرمائیں) راوی کا بیان ہے کہ آپؐ نے اپنی زبان اپنے ہاتھ سے پکڑ کر فرمایا: ’’بس اسے روک لو۔‘‘ تو میں نے عرض کیا، ’’اے رسول خدا ﷺ !کیا ہم سے ہماری باتوں اور گفتگوئوں کا مواخذہ بھی ہوگا؟ فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے لوگ جہنم میں اوندھے منہ اس زبان کی کاٹی ہوئی فصل کے سوا اور کس وجہ سے گرائے جائیں گے۔‘‘ (زبان سے کاٹی ہوئی فصل سے مراد کلمات کفر و شرک و الحاد ، قذف ، سب و شتم، غیبت، بہتان وغیرہ ہیں(از مرتب)) ۔
تشریح:نماز ، روزہ، حج اور زکوۃ اس دین کے ارکان ہیں جن پر یہ دین قائم ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو قائم کرنا اقامت دین کے لیے مطلوب ہے اور جہاد چونکہ دین کو اس کے نظام کے ساتھ قائم کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے وہ بھی اقامت دین ہی کے لیے مطلوب ہے۔ (رسائل و مسائل چہارم ،ص: ۳۶۳)
سوال:کیا نماز اقامت دین کا حکم بھی دیتی ہے؟
جواب: نماز ہی تو حکم دیتی ہے اقامت دین کا ــــــ جب آپ کہتے ہیں ’’ نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ‘‘ تو دشمنان دین سے آپ کی لڑائی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ (۵ اے ذیلدار پارک دوم ،ص :۲۳۰)
۳۰۔ مَنْ صَلّٰی صَلوٰتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذَالِکَ الْمُسْلِمُ۔۔۔ الخ ۔
’’آپؐ نے فرمایا جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا، وہ مسلمان ہے۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا عَمْرُ وْ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَہْدِیِّ، قَالَ: حَدَّثَناَ مَنْصُوْرُبْنُ سَعْدٍ،عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ سَیَاہٍ، عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَلّٰی صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا۔ فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِیْ لَہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ فَلَا تُخْفِرُ وْا اللّٰہَ فِیْ ذِمَّتِہ۔(۴۳)
ترجمہ:حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا، وہ مسلمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی امان میں ہے۔ لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کی امان میں خیانت نہ کرو، یا بے وفائی نہ کرو۔
تشریح: نماز پڑھنے اور قبلے کی طرف رخ کرنے کے باوجود ایک شخص اس وقت تک اسلام میں پوری طرح جذب نہیں ہوتا جب تک کہ وہ کھانے پینے کے معاملے میں پچھلی جاہلیت کی پابندیوں کو توڑ نہ دے اور ان توہمات کی بندشوں سے آزاد نہ ہوجائے جو اہل جاہلیت نے قائم کررکھی تھیں۔ کیوں کہ اس کا ان پابندیوں پر قائم رہنا اس بات کی علامت ہے کہ ابھی تک اس کی رگ و پے میں جاہلیت کا زہر موجود ہے۔
(یہاں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ) اگر تم ایمان لاکر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو پھر وہ ساری چھوت چھات اور زمانہ جاہلیت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو، جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربیوں اور پادریوں نے ، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھائو پیو۔ (تفہیم القرآن،ج۱،البقرۃ، حاشیہ:۱۷۰)

نماز کی ایک اہم خوبی

۳۱۔ مَنْ لَّمْ تَنْہَہُ صَلَاتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ۔ (ابن ابی حاتم)
’’جسے اس کی نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُوْنَ الْمَخْرَمِیُّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ نَافِعٍ اَبُوْ زِیَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ اَبِیْ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ ’’اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَر‘‘(العنکبوت:۴۵) قَالَ: مَنْ لَّمْ تَنْہَہٗ صَلَاتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ۔(۴۴)
۳۲۔ مَنْ لَّمْ تَنْہَہَ صَلوٰتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لَمْ یَزْدَدْبِہَا مِنَ اللّٰہِ اِلَّا بُعْدًا۔(ابن ابی حاتم، طبرانی)
’’جس کی نماز نے اسے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کو اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دور کردیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ، حَدَّثَنَا یَحیٰ بْنُ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَرْبُوْعِیُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ لَیْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ لَّمْ تَنْہَہٗ صَلَاتُہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ لَمْ یَزْدَدْ بِہَا مِنَ اللّٰہِ اِلَّا بُعْدًا۔(۴۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا، ’’ جس کی نماز نے اسے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کو اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دور کردیا۔‘‘
۳۳۔ لَا صَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ الصَّلوٰۃَ، وَطَاعَۃُ الصَّلوٰۃِ اَنْ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ۔
( ابن جریر، ابن ابی حاتم)
’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہے جس نے نماز کی اطاعت نہ کی، اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رک جائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ بْنُ الْبَرِیْدِ عَنْ جُوَیْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ،عَنِ النَّبِیِّﷺ اِنَّہُ قَال:لَاصَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ الصَّلَاۃَ، وَطَاعَۃُ الصَّلوٰۃِ اَنْ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ الخ۔(۴۶)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں، جس نے نماز کی اطاعت نہ کی، اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رک جائے۔
تشریح: نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک اہم وصف کو مندرجہ بالا احادیث میں پیش کیا گیا ہے۔ اور اقامت صلوٰۃ کو فحشاء و منکر سے روکنے کا ذریعہ بتایا ہے۔
فحشاء اور منکر کا اطلاق جن برائیوں پر ہوتا ہے انہیں انسان کی فطرت برا جانتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم اور ہر معاشرے کے لوگ، خواہ وہ عملاً کیسے ہی بگڑے ہوئے ہوں، اصولاً ان کو برا ہی سمجھتے رہے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت عرب کا معاشرہ بھی اس عام کلیے سے مستثنیٰ نہ تھا۔ اس معاشرے کے لوگ بھی اخلاق کی معروف خوبیوں اور برائیوں سے واقف تھے، بدی کے مقابلے میں نیکی کی قدر پہچانتے تھے، اور شاید ہی ان کے اندر کوئی ایسا شخص ہو جو برائی کو بھلائی سمجھتا ہو، یا بھلائی کو بری نگاہ سے دیکھتا ہو۔ اس حالت میں اس بگڑے ہوئے معاشرے کے اندر کسی ایسی تحریک کا اٹھنا جس سے وابستہ ہوتے ہی خود اسی معاشرے کے افراد اخلاقی طور پر بدل جائیں اور اپنی سیرت و کردار میں اپنے ہم عصروں سے نمایاں طور پر بلند ہوجائیں، لامحالہ اپنا اثر کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ عرب کے عام لوگ برائیوں کو مٹانے والی اور نیک اور پاکیزہ انسان بنانے والی اس تحریک کا اخلاقی وزن محسوس نہ کرتے اور اس کے مقابلے میں محض جاہلی تعصبات کے کھوکھلے نعروں کی بنا پر ان لوگوں کاساتھ دیئے چلے جاتے، جو خود اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھے اور جاہلیت کے اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے لڑرہے تھے، جو ان برائیوں کو صدیوں سے پرورش کررہا تھا۔
نماز کی یہ خوبی جوآیت :إنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ(العنکبوت:۴۵)۔اور ( مندرجہ بالا احادیث) میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا وصف لازم ہے۔ یعنی یہ کہ وہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے اور دوسرا اس کا وصف مطلوب ہے، یعنی یہ کہ اس کا پڑھنے والا واقعی فحشاء اور منکر سے رک جائے۔ جہاں تک روکنے کا تعلق ہے، نماز لازماً یہ کام کرتی ہے۔ جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر ذرا سا غور کرے گا وہ یہ تسلیم کرے گا کہ انسان کو برائیوں سے روکنے کے لیے جتنے بریک بھی لگانے ممکن ہیں، ان میں سب سے زیادہ کارگر بریک نماز ہی ہوسکتی ہے۔ آخر اس سے بڑھ کر موثر مانع اور کیا ہوسکتا ہے کہ آدمی کو ہر روز دن میں پانچ وقت خدا کی یاد کے لیے بلایا جائے اور اس کے ذہن میں یہ بات تازہ کی جائے کہ تو اس دنیا میں آزادو خودمختار نہیں ہے بلکہ ایک خدا کا بندہ ہے، اور تیرا خدا وہ ہے جو تیرے کھلے اور چھپے تمام اعمال سے، حتیٰ کہ تیرے دل کے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، اور ایک وقت ضرور ایسا آنا ہے جب تجھے اس خدا کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ پھر اس یاد دہانی پر بھی اکتفا نہ کی جائے بلکہ آدمی کو عملاً ہر نماز کے وقت اس بات کی مشق کرائی جاتی رہے کہ وہ چھپ کر بھی اپنے خدا کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔ نماز کے لیے اٹھنے کے وقت سے لے کر نماز ختم کرنے تک مسلسل آدمی کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جن کو اس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسری ہستی یہ جاننے والی نہیں ہوتی کہ اس شخص نے خدا کے قانون کی پابندی کی ہے، یا اسے توڑ دیا ہے۔ مثلاً اگر آدمی کا وضو ساقط ہوچکا ہو، اور وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے تو اس کے اور خدا کے سوا آخر کسے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ وضو سے نہیں ہے۔ اگر آدمی نماز کی نیت ہی نہ کرے اور بظاہر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرتے ہوئے اذکار نماز پڑھنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ غزلیں پڑھتا رہے تو اس کے اور خدا کے سوا کسی پر یہ راز فاش ہوسکتا ہے کہ اس نے دراصل نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس کے باوجود جب آدمی جسم اور لباس کی طہارت سے لے کر نماز کے ارکان اور اذکار تک قانون خداوندی کی تمام شرائط کے مطابق ہر روز پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نماز کے ذریعہ سے روزانہ کئی کئی بار اس کے ضمیر میں زندگی پیدا کی جارہی ہے، اس میں ذمہ داری کا احساس بیدار کیا جارہا ہے، اسے فرض شناس انسان بنایا جارہا ہے اور اس کو عملاً اس بات کی مشق کرائی جارہی ہے کہ وہ خود اپنے جذبہ اطاعت کے زیر اثر خفیہ اور علانیہ ہر حال میں اس قانون کی پابندی کرے جس پر وہ ایمان لایا ہے، خواہ خارج میں اس سے پابندی کرانے والی کوئی طاقت موجود ہو، یا نہ ہو اور خواہ دنیا کے لوگوں کو اس کے عمل کا حال معلوم ہو یا نہ ہو۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تویہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ نماز صرف یہی نہیں کہ آدمی کو فحشاء اور منکر سے روکتی ہے بلکہ درحقیقت دنیا میں کوئی دوسرا طریق تربیت ایسا نہیں ہے جو انسا ن کو برائیوں سے روکنے کے معاملے میں اس درجہ موثر ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ آدمی نماز کی پابندی اختیار کرنے کے بعد عملاً بھی برائیوں سے رکتا ہے یا نہیں، تو اس کا انحصار خود اس آدمی پر ہے جو اصلاح نفس کی یہ تربیت لے رہا ہو۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی نیت رکھتا ہو اور اس کی کوشش کرے تو نماز کے اصلاحی اثرات اس پر مترتب ہوں گے، ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر اصلاح بھی اس شخص پر کارگر نہیں ہوسکتی۔ جو اس کا اثر قبول کرنے کو تیار ہی نہ ہو، یا جان بوجھ کر اس کی تاثیر کو دفع کرتا رہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے غذا کی لازمی خاصیت، بدن کا تغذیہ اور نشوونما ہے، لیکن یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آدمی اسے جزو بدن بننے دے۔ اگر کوئی شخص ہر کھانے کے بعد فوراً ہی قے کر کے ساری غذا باہر نکالتا چلا جائے تواس طرح کا کھانا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ایسے شخص کی نظیر سامنے لا کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ غذا موجب تغذیہ بدن نہیں ہے کیونکہ فلاں شخص کھانا کھانے کے باوجود سوکھتا چلا جارہا ہے، اسی طرح بدعمل نمازی کی مثال پیش کرکے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نماز برائیوں سے روکنے والی نہیں ہے، کیونکہ فلاں شخص نماز پڑھنے کے باوجود بدعمل ہے۔ ایسے نمازی کے متعلق تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ درحقیقت نماز نہیں پڑھتا جیسے کھانا کھاکر قے کر دینے والے کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ درحقیقت کھانا نہیں کھاتا۔

رَویٰ بَعْضُ الْاِمَامِیَّۃِ عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّہُ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّعْلَمَ قُبِلَتْ صَلَاتُہُ اَمْ لَمْ تُقْبَلْ فَلْیَنْظُرْ ہَلْ مَنَعَتْہُ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ فَبِقَدْرِ مَا مَنَعَتْہُ قُبِلَتْ مِنْہُ۔ ( روح المعانی، ج ۱۹-۲۱، ص: ۱۴۲ )

امام جعفر صادق (اسی کے بارے میں) فرماتے ہیں، جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہیں، اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کی نماز نے اسے فحشاء اور منکر سے کہاں تک باز رکھا ۔ اگر نماز کے روکنے سے وہ برائیاں کرنے سے رک گیا ہے تو اس کی نماز قبول ہوئی ہے۔ (تفہیم القرآن سوم، العنکبوت، حاشیہ:۷۸)

نماز اصلاح کا آخری رشتہ ہے

۳۴۔حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ دن کو نمازیں پڑھتا ہے اور رات کو چوریاں کرتا ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ،یا تو چوری اس سے نماز چھڑوادے گی، یا نماز اس سے چوری چھڑوادے گی۔ (ابن کثیر، ج ۳، ص: ۴۱۵)
تخریج: قَالَ الْحَافِظُ اَبُوْبَکْرِنِ البَزَّارُ:حَدَّثَنَا یُوْسُفُ ابْنُ مُوْسٰی، اَنْبَاَنَا جَرِیْرٌ۔ یَعْنِیْ اِبْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ ، قَالَ : اُرَاہُ عَنْ جَابِرٍ، شَکَّ الْاَعْمَشُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ ﷺ اِنَّ فُلَا نًا یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَاِذَا اَصْبَحَ سَرَقَ قَالَ: سَیَنْہَاہُ مَاتَقُوْلُ وَقَالَ الامامُ اَحْمَدَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، اَخْبَرَنَا الْاَ عْمَشُ، قَالَ: اَریٰ اَبَا صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِی ِّﷺ فَقَالَ: اِنَّ فُلَا نًا یُصَلِّیْ بِا للَّیْلِ فَاِذَا اَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ: اِنَّہُ سَیَنْہَاہُ مَاتَقُوْلُ۔(۴۷)
تشریح: یہ تو ہے رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی تعلیم۔ اب اگر ایک آدمی اصلاح کے جوش میں آکر ایسے شخص سے یہ کہے کہ کم بخت جب تو چوری کرتا ہے تو تیری نماز کس کام کی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی اصلاح کی آخری امید منقطع کرنا چاہتے ہیں۔ چوری میں تو وہ مبتلا ہے ہی۔ اب آپ اس سے نماز بھی چھڑوانا چاہتے ہیں۔ نماز ایک آخری رشتہ ہے جس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ مکمل بھلائی کی طرف پلٹ آنے میں اس کی مدد کرے۔ لیکن آپ وہ رشتہ بھی جوش اصلاح میں کاٹ دینا چاہتے ہیں۔ اپنے نزدیک تو آپ نے بڑی اصلاح کی بات کی۔ لیکن حقیقت میں آپ نے اسے جہنم کی طرف ڈھکیلنے میں حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ جب وہ شخص چوری کرتا ہے تو نماز سے اسے کیا حاصل ؟ بلکہ یہ فرمایا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ایک وقت آئے گا کہ یا تو اس کی نماز اس سے چوری چھڑوادے گی، یا چوری نماز چھڑادے گی۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ اصلاح کی باتیں تو کرتے ہیں۔ لیکن اصلاح کے لیے جس حکمت کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس کے ابتدائی تقاضوں سے بھی واقف نہیں ہوتے اور بسا اوقات اپنے غیر حکیمانہ طرز عمل سے درست ہوتے ہوئے آدمیوں کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔ (۵ اے ذیلدار پارک دوم، ص :۲۱۷،۲۱۸)
سوال:کیا نماز ،روزے سے نفس کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے؟
جواب: مسلمان کی نماز تو اسے یہی حکم دیتی ہے کہ وہ برائی سے بچے بشرطیکہ نماز پڑھنے والا یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اگر وہ بلا سوچے، یا نماز کے مقصد کو نظر انداز کرکے پڑھے گا تو پھر نماز پڑھ کر رشوت لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھے گا۔ اگر رشوت لینے والا نماز پڑھے گا اور سمجھے گا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو یہ خیال کرکے کہ میں تو حرام کھا رہا ہوں، وہ رشوت کے قریب بھی نہیں جائے گا۔ (۵ اے ذیلدار پارک دوم، ص: ۲۳۰)

شب و روز کی فرض نمازیں

۳۵۔ ایک شخص کے پوچھنے پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ تم پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں۔ اس نے پوچھا، کیا اس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا ، نہیں، الاّ یہ کہ  اپنی پچاس نمازوں والا واقعہ معتبر احادیث میں آیاہے۔ اس سے جو سبق ملتاہے وہ یہ ہے کہ نماز کے لیے شب وروز میں پانچ وقت زیادہ نہیں ہیں، بلکہ جتنی بار انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہیے اس کے مقابلے میں بہت کم ہیں، اور یہ کہ ان اوقات میں سے کسی وقت کی نماز کو آدمی ضائع کرتاہے تو ایک نہیں، بلکہ گویا دس نمازوں کو ضائع کرتا ہے۔ (مکاتیب اول، ص ۲۹: مورخہ ۱۹ مئی ۶۲ء)

خوشی سے کچھ پڑھو۔‘‘ ۲؎
(بخاری و مسلم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ عَنْ عَمِّہِ اَبِیْ سُھَیْلِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ: جَآئَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَھْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّاْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہِ وَلَانَفْقَہُ مَا یَقُوْلُ حَتّٰی دَنَا فَاِذَا ھُوَیَسْاَلُ عَنِ اْلِاسْلاَمِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَمْسُ صَلَوٰتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ، فَقَالَ: ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَصِیَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ : لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ: وَذَکَرَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الزَّکٰوۃَ، قَالَ: ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ: فَاَدْبَرَ الرَّجُلُ وَھُوَ یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ لاَ اَزِیْدُ عَلٰی ھٰذَا وَلاَ اَنْقُصُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَفْلَحَ اِنْ صَدَقَ۔(۴۸)
ترجمہ: مالک نے بیان کیاکہ طلحہ بن عبیداللہ کو اس نے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ’’ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کا تعلق اہل نجد سے تھا۔ سرکے بال پراگندہ تھے۔ ہم اس کی گنگناہٹ تو سن رہے تھے (لیکن)جو کچھ وہ کہہ رہاتھا اسے سمجھ نہیں رہے تھے۔ اتنے میں وہ حضورؐ کے قریب ہوا اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگا(کہ اسلام کیاہے؟) ا ٓپؐ نے فرمایا: ’’شب وروز میں پانچ نمازیں۔‘‘ اس نے پھر پوچھا، کیا اس کے سوابھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا ’’نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ پڑھو۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے (مزید برآں) فرمایا: ’’رمضان کے روزے۔‘‘ اس نے پوچھا،کیااس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا: ’’نہیں‘‘ الایہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ (روزے) رکھو۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر بھی فرمایا۔‘‘ اس نے پوچھا، کیا اس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا: ’’نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ مزید دو۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ وہ آدمی یہ کہتا ہوا چلاگیا کہ ’’بخدا میں اس میں نہ بیشی کروں گا نہ کمی۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’کامیاب ہوگیا، اگر اس نے سچ کہا۔‘‘
ابن کثیر نے صرف مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے:
(۲) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِذٰلِکَ الرَّجُلِ: خَمْسُ صَلَوٰتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ، قَالَ : ھَلْ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ : لاَ اِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ ۔(۲۹)
ترجمہ:دن رات میں صرف پانچ نمازیں۔ اس نے پوچھا، کیا اس کے سوابھی مجھ پر کچھ لازم ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا:نہیں، الاّیہ کہ تم اپنی مرضی سے کچھ پڑھو۔

نماز باجماعت کی اہمیت

۳۶۔’’نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ جو لوگ اذان کی آواز سن کر اپنے گھروں سے نہیں نکلتے، میرا جی چاہتاہے کہ جاکر ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : لَیْسَ صَلَا ۃٌ اَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَآئِ وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَاَ تَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا، لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ الْمُوَذِّنَ، فَیُقِیْمُ ، ثُمَّ اٰمُرَ رَجُلًا یَوُمُّ النَّاسَ ثُمَّ اٰخُذَ شُعْلًا مِنْ نَّارٍ، فَاُ حَرِّقُ عَلیٰ مَنْ لَا یَخْرُجُ اِلَی الصَّلوٰۃِ بَعْدُ۔(۵۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’منافقین پر فجر اور عشاء کی نمازیں سب سے زیادہ گراں اور بوجھل ہیں۔ اگر انہیں اس کا علم ہوتا کہ ان دونوں کا کتنا (ثواب و اجر) ہے تو یہ کولہوں کے بل گھسٹ کر بھی آتے۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ موذن کو اشارہ کروں کہ وہ اقامت کہے پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود آگ بھڑکا کرلے جائوں جو لوگ اذان سننے کے بعد بھی نماز کے لیے نہ نکلیں، انہیں آگ لگا کر جلادوں۔‘‘
مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت:
(۲)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: فَقَدَ نَاسًا فِیْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ: لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ رَجُلًا یُّصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ اُخَالِفُ اِلیٰ رِجَالٍ یَّتَخَلَّفُوْنَ عَنْہَا فَاٰمُرَبِہِمْ فَیُحَرِّقُوْا عَلَیْہِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُیُوْتَہُمْ وَلَوْ عَلِمَ اَحَدُہُمْ اَنَّہُ یَجِدُ عَظْمًا سَمِیْنًا لَشَہِدَہَا یَعْنِیْ صَلَاۃَ الْعِشَآئِ۔(۵۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض نمازوں سے کچھ لوگوں کو غیر حاضر پایا، تو فرمایا: ’’میں نے ارادہ کرلیا کہ کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور خود میں ان لوگوں کی طرف جائوں جو نمازوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھرلوگوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھوں کو آگ لگا کر ان کے گھروں کو جلادیں۔ ان میں سے کسی کو اگر یہ معلوم ہو کہ اسے وہاں موٹے تازے پائے ملیں گے تو لازماً نماز عشاء میں حاضر ہوجائیں۔‘‘
ترمذی نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فیمن سمع الندا ء فلا یجیبمیں بیان کرکے لکھا ہے:
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، وَاَبِی الدَّرْدَائِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ، وَجَابِرٍ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیثُ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَنَّہُمْ قَالُوْا: مَنْ سَمِعَ النِّدَا ئَ فَلَمْ یُجِبْ فَلَا صَلوٰۃَ لَہٗ وَقَالَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ: ہٰذَا عَلَی التَّغْلِیْظِ وَالتَّشْدِیْدِ وَلَارُخْصَۃَ لِاَحَدٍ فِیْ تَرْکِ الْجَمَاعَۃِ اِلَّامِنْ عُذْرٍ۔ قَالَ مُجَاہِدٌ: وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ لَا یَشْہَدُ جُمُعَۃً وَلاَ جَمَاعَۃً، فَقَالَ: ہُوَ فِی النَّارِ۔
ـــــــ’’امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بیان کرکے فرمایا کہ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ اسے بہت سے اصحاب نبیﷺ نے بیان کیاہے۔ انہوں نے اپنی رائے یوں بیان کی ہے کہ جو اذان سنے اور اس کا جواب نہ دے، یعنی نماز کے لیے مسجد میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں، بعض اہل علم کی رائے اس بارے میں یہ ہے کہ اس انداز بیان کو اظہار شدت پر محمول کیا جائے گا۔ عذر (شرعی) کے بغیر کسی کے لیے بھی ترک جماعت کی اجازت و رخصت نہیں ہے۔‘‘ مجاہد کا بیان ہے کہ ابن عباس سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے ، مگر وہ نہ تو جمعہ میں حاضر ہوتا ہے اور نہ نماز باجماعت میں شریک ہوتا ہے۔ ابن عباسؓ نے جواب دیا کہ وہ تو دوزخ میں جائے گا۔
تشریح: نماز دن میں پانچ وقت بگل بجاتی ہے، تاکہ اللہ کے سپاہی اس کو سن کر ہر طرف سے دوڑے چلے آئیں اور ثابت کریں کہ وہ اللہ کے احکام کو ماننے کے لیے مستعد ہیں۔ جو مسلمان اس بگل کو سن کر بھی بیٹھارہتاہے اور اپنی جگہ سے نہیں ہلتا، وہ دراصل یہ ثابت کرتاہے کہ وہ یا تو فرض کو پہچانتاہی نہیں، یا اگر پہچانتاہے تو وہ اتنا نالائق اور ناکارہ ہے کہ خدا کی فوج میں رہنے کے قابل نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حدیث میں نماز کو کفر اور اسلام کے درمیان وجہ تمیز قراردیاگیاہے۔ عہد رسالتؐ اور عہد صحابہؓ میں کوئی ایسا شخص مسلمان ہی نہ سمجھا جاتاتھا جو نماز کے لیے جماعت میں حاضر نہ ہوتا ہو۔ حتیٰ کہ منافقین بھی ، جنہیں اس امر کی ضرورت ہوتی تھی کہ ان کو مسلمان سمجھا جائے، اس امر پر مجبور ہوتے تھے کہ نماز باجماعت میں شریک ہوں۔ چنانچہ قرآن میں جس چیز پر منافقین کو ملامت کی گئی ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے، بلکہ یہ ہے کہ بادل نخواستہ نہایت بددلی کے ساتھ نماز کے لیے اٹھتے ہیں۔ وَاِذَا قَامُوْآاِلَی الصَّلوٰۃِ قَامُوْا کُسَالیٰ(النساء: ۱۴۲) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کسی ایسے شخص کے مسلمان سمجھے جانے کی گنجائش نہیں ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔ اس لیے کہ اسلام محض ایک اعتقادی چیز نہیں ہے، بلکہ عملی چیز ہے، اور عملی چیز بھی ایسی کہ زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ایک مسلمان کو اسلام پر عمل کرنے اورکفر و فسق سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسی زبردست عملی زندگی کے لیے لازم ہے کہ مسلمان خدا کے احکام بجالانے کے لیے ہر وقت مستعد ہو۔ جو شخص اس قسم کی مستعدی نہیں رکھتا وہ اسلام کے لیے قطعاً ناکارہ ہے۔ اس لیے دن میں پانچ وقت نماز فرض کی گئی، تاکہ جو لوگ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں، ان کا بار بار امتحان لیا جاتا رہے کہ وہ فی الواقع مسلمان ہیں یا نہیں۔ اگر وہ خدائی پیریڈ کا بگل سن کر جنبش نہیں کرتے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اسلام کی عملی زندگی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد ان کا خدا کو ماننا اور رسولؐ کو ماننا محض بے معنی ہے۔ اسی بنا پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ :  وَ اِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخَاشِعِیْنَ (البقرہ: ۴۵) یعنی جو لوگ خدا کی اطاعت و بندگی کے لیے تیار نہیں ہیں صرف انہی پر نماز گراں گزرتی ہے اور جس پر نماز گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ وہ خدا کی بندگی و اطاعت کے لیے تیار نہیں ہے۔
نماز کی پابندی احساس فرض کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اگر ایک آدمی ایمانداری کے ساتھ یہ محسوس کرلے کہ جس خدا پر میں ایمان لایا ہوں اس نے نماز مجھ پر فرض کی ہے اور میں منافق ہوں گا کہ ایمان کا دعویٰ بھی کروں اور خدا کا عائد کردہ فرض بھی ادا نہ کروں تو وہ کبھی نماز پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن اگر آدمی اس فرض کے احساس ہی سے خالی ہو تو اس سے نماز کی پابندی نہیں ہوسکتی۔        (مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودی دوم، ص: ۳۲۵)

نماز ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟

نمازوں کو ضائع کرنے سے مراد ترک نماز بھی ہے ، نماز باجماعت کے اہتمام سے غفلت بھی، اور اس میں وہ مفہوم بھی آجاتا ہے جو آپ نے سمجھا ہے۔ یعنی نماز کے حقیقی فائدوں کو ضائع کرنا اور ادائے نماز کے باوجود خوف خدا سے خالی رہنا۔
(مکاتیب ص ۳۸، مورخہ ۸ دسمبر ۶۲ء)

ماخذ

(۱) مسند احمد ، ج ۱، ص ۱۹،بروایت عمر بن خطاب ۔ ٭ ترمذی: ابواب الطہارۃ: باب مایقال بعد الوضوء ۔
(۲) المصنف ج۱، باب القول اذا فرغ من الوضوء ۔ ابن السنی ، الخطیب ابن النجار عن ثوبان بحوالہ کنزالعمال ج۹،ص ۲۹۷،حدیث نمبر ۲۶۰۸۳۔ ٭ کنزالعمال ج ۹،ص ۲۹۶،حدیث نمبر ۲۶۰۷۶۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ ج۱، کتاب الدعاء ماید عوبہ الرجل اذا فرغ من وضوئہ۔
(۳) ابن ابی شیبہ ج۱، کتاب الدعاء۔٭ابوداود ج۱،کتاب الطہارۃ، باب ما یقول الرجل اذاتوضأ۔٭ابوداود میں ’’اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المطہرین‘‘ منقول نہیںہے۔
(۴) ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔ ٭ نسائی ج۳،کتاب الافتتاح، باب نوع آخر من الذکر بین الصلوۃ و بین القراء ۃ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب افتتاح الصلوٰۃ۔ ٭ دارقطنی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء الاستفتاح بعد التکبیر۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء افتتاح الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔ ٭ دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال بعد افتتاح الصلوٰۃ- مستدرک میں ’’صحیح وفی حارثۃ لین‘‘ ہے۔ ٭ مسند احمد ج ۳، ص ۶۹ روایت ابی سعید خدری۔
(۵) ابوداود ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللہم و بحمدک۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا: باب افـتـتاح الصلوٰۃ ٭ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب مایقول عند افتتاح الصلوٰۃ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۲، باب استفتاح الصلوٰۃ۔ ٭ السنن الکبرٰی للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ،باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔
(۶) مسلم ج۱،کتاب الصلوٰۃ، بابحجۃ من قال لایجھر بالبسملۃ٭المستدرک للحاکم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء افتتاح الصلوٰۃ۔ وقد أسند ہذا الحدیث عن عمر ولا یصح۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ،باب الاستفتاح بسبحانک اللہم وبحمدک۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۲،باب استفتاح الصلوٰۃ۔٭دارقطنی کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء الاستفتاح بعد التکبیر۔ ہذا صحیح عن عمر قولہ’’وقد اسندہ بعضہم عن عمر ولا یصح‘‘ (حاشیہ)۔
(۷) ابوداود ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ ٭ مسند ابی داود الطیالسی جز ۴، عن عقبۃ بن عامر۔ ٭ ابن ماجہ ج۱ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا،باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔ ٭مسند احمد ج ۴۔ص۱۵۵۔ عن عقبۃ بن عامر۔ ٭ السنن الکبری للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول فی الرکوع۔ عن عقبہ بن عامر٭سنن دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع ۔٭ روح المعانی جز ۲۷ ص۱۴۰، سورہ واقعہ۔ ٭ ابن کثیر ج ۴ ص ۲۲۷، سورہ واقعہ ٭ المستدرک للحاکم ج۱،کتاب الصلوٰۃ ٭ ابن المنذر اور ابن مردویہ عن عقبہ بن عامر جھنی، بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج ۵ ص ۴۲۶۔
(۸) ابوداؤد ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ ۔
(۹) ابوداود ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ۔٭ترمذی ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔ عن حذیفہ۔٭ترمذی نے’’وما مر‘‘ کی جگہ ’’ومااٰتی علیٰ ایۃ‘‘ نقل کیا ہے اور اسے ’’حسن صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔٭نسائی ج۲، کتاب الافتتاح، باب الدعاء فی السجود۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔٭سنن دارمی ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع۔ ٭مسند احمد، ج ۵ ، ص ۲۸۹- ۳۸۲- ۳۸۴- ۳۹۴- ۳۹۷۔
(۱۰) ترمذی ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح فی الرکوع والسجود۔
(۱۱) السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول فی الرکوع۔ ہذا مرسل ، عون بن عبداللّٰہ لم یدرک عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۱۲) مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود۔ ٭ ابوداود: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الدعاء فی الرکوع والسجود۔ ٭نسائی ج۲، اقرب مایکون العبد من اللّٰہ عزوجل۔٭مسند احمد ج۲، روایت ابی ہریرہ۔ ٭ مسند ابی عوانہ ج۲، بیان ثواب السجود والترغیب فی کثرۃ السجود۔
(۱۳) بخاری ج۱،کتاب الاذان، باب الدعاء قبل السلام۔ ٭ بخاری: کتاب الدعوات اور کتاب الفتن۔٭ مسلم ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر۔٭ ابوداود ج۱، عن ابن عباس۔ ابوداود میں ’’فتنۃ المحیاو الممات‘‘ تک ہے۔٭نسائی: کتاب الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من عذاب جہنم وشر مسیح الدجال۔٭ ابن ماجہ: کتاب الدعاء، باب ماتعوذ منہ رسول اللہ ﷺ ۔٭ دارمی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الدعاء بعد التشہد۔٭السنن الکبریٰ ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب ما یستحب لہ ان لا یقصر عنہ من الدعاء قبل السلام۔ ٭ مسند احمد ، ج ۶، ص ۵۳-۸۹، مرویات عائشہ۔
(۱۴) کتاب التوضیح عن توحید الخلاق لمحمد بن عبدالوہاب، ص ۱۸۳۔
(۱۵) السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء القنوت۔
(۱۶) السنن الکبریٰ ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب دعاء القنوت۔
(۱۷) بخاری: کتاب بدا الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر بحسبان۔٭مسند احمد،ج۵، ص۱۷۷۔ روایات ابوذر غفاری۔٭ترمذی نے’’فانہا تذہب فتستاذن فی السجود فیوذن لہا وکأنہا قد قیل لہا الخ‘‘ بیان کیا ہے۔ ٭ترمذی ج۲، ابواب التفسیر، سورۂ یٰسین۔
(۱۸) مسند احمدج۵، ص۱۷۷۔ ٭ مسلم ج۱، کتاب الایمان، باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان۔
(۱۹) مسلم ج۱،کتاب الایمان، باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان۔
(۲۰) مسلم ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭بخاری ج۱،کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭ابوداود ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی۔٭مسند احمد ج ۲،ص۲۳۸، عن ابی ہریرۃ۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایقال بعد التسلیم۔٭دارمی ج۱: کتاب الصلوٰۃ ، باب التسبیح فی دبر الصلوٰۃ۔
(۲۱) بخاری کتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوٰۃ۔
(۲۲) مسلم ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔٭ترمذی ج۲، ابواب الدعوات، باب منہ، باب ماجاء فی التسبیح والتکبیر والتحمید عند المنام۔
(۲۳) ترمذی: ابواب الدعوات، باب منہ۔٭ابوداود،کتاب الادب: باب فی التسبیح عند النوم۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایقال بعد التسلیم۔
(۲۴) مسند احمد، ج۵، زید بن ثابت۔٭دارمی ج۱،کتاب الصلوۃ، باب التسبیح فی دبر الصلوٰۃ۔٭ابن حبان، ابن خزیمۃ بحوالہ دارمی۔ دارمی میں ’’ ان تسبحوا ‘‘ کے بجائے ’’ان تسبحوا اللّٰہ‘‘ ہے۔٭نسائی ج۳، کتاب الصلوٰۃ، نوع آخر من عدد التسبیح۔٭ احکام القرآن للجصاص، ج ۳، سورۂ ق۔
(۲۵) احکام القرآن للجصاص ج ۳، سورۂ ق۔
(۲۶) ابوداود ج۴،کتاب السنۃ، باب فی رد الارجاء۔٭ترمذی ج۲،ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔٭ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ۔٭دارقطنی، ج ۲، ٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱، حدیث نمبر۱۰۴۴۳، عن جابر۔ ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۱، بیان افضل الایمان۔
(۲۷) نسائی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الحکم فی ترک الصلوٰۃ: اور ابن ماجہ نے کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ اور دارقطنی نے ج ۲، ص ۵۳ پر نقل کیا ہے اور مسند ابی عوانہ نے ج۱، ص ۶۱ پر نقل کیا ہے اور ایک اور روایت بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلوٰۃِ جسے مسلم ج۱، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ۔٭ سنن دارمی :کتاب الصلوٰۃ، باب فی تارک الصلوٰۃ۔٭مسند احمد، ج ۳، ص۳۷۰، ۳۸۹، جابر بن عبداللہ۔ ٭ مسند ابی عوانہ ج ۱، ص ۶۱۔
(۲۸) نسائی ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الحکم فی تارک الصلوٰۃ۔٭ ترمذی ج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔ ہذا حدیث حسن صحیح غریب ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی من ترک الصلوٰۃ۔ ٭مسند احمد، ج ۵، ص ۳۴۶۔ ٭ دارقطنی ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ترک الصلوٰۃ و کفر من ترکہا۔٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱ کتاب الایمان والرؤیۃ، حدیث نمبر ۱۰۴۴۵ عن بریدۃ۔
(۲۹) ترمذی ج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلوٰۃ۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱۱، ص ۴۹، حدیث نمبر۱۰۴۹۵۔
(۳۰) حافظ ہبۃ اللّٰہ الطبری قال المنذری صحیح۔
(۳۱) محمد بن نصرالمروزی فی کتاب الصلوٰۃ۔
(۳۲) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ۷۷، فیمن ترک الصلوٰۃ۔
(۳۳) دارقطنی ج ۲،کتاب الصلوٰۃ، ص ۵۳۔
(۳۴) الطبرانی فی الاوسط باسنادٍ لاباس بہ٭التعلیق المغنی شمس الحق عظیم آبادی۔٭دار قطنی،ج۲، ص۵۳، (حاشیہ)۔
(۳۵) ابن ابی شیبہ بحوالہ دارقطنی، ج ۲، ص ۵۳۰، حاشیہ۔
(۳۶) بحوالہ دارقطنی، ج ۲، ص ۵۳-۵۴(حاشیہ)۔
(۳۷) ابن ابی شیبہ ج۱۱، فی کتاب الایمان ، حدیث نمبر۱۰۴۸۵والبخاری فی تاریخہ موقوفا۔
(۳۸) محمد بن نصر موقوفا۔٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج ۱۱، من لم یصل فلا دین لہ، عن ابن مسعود ۔
(۳۹) محمد بن نصر، ابن عبدالبر موقوفا۔
(۴۰) ابن عبدالبر موقوفا۔
(۴۱) ابن عبدالبر وغیرہ موقوفا بحوالہ دارقطنی ج ۲، ص ۵۳، (حاشیہ)۔
(۴۲) ترمذیج۲، ابواب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ۔ ٭مسند احمد ج۵، ص۲۳۱۔ معاذ بن جبل۔٭ابن ماجہ: کتاب الفتن، باب۱۲۔ کف اللسان فی الفتنۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۹، کتاب السیر، باب اصل فرض الجہاد عن معاذ بن جبل۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ، ج ۱۱، ص۸۔ (مختصر روایت)
(۴۳) بخاری ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل استقبال القبلۃ، مطبوعہ اصح المطابع، کراچی۔٭نسائی نے کتاب الایمان و الشرائع، باب صفۃ المسلم کے تحت حضرت انسؓ سے یہی روایت نقل کی ہے ۔ اس میں فذلک المسلم تک ہے۔
(۴۴) ابن کثیر، ج ۳، سورۃ العنکبوت، بحوالہ ابن ابی حاتم۔٭روح المعانی ج۲۱، سورۃ العنکبوت۔٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۴، سورۃ العنکبوت بحوالہ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ۔ ٭عبد بن حمید اور بیہقی فی شعب الایمان بحوالہ روح المعانی، ج ۲۱، سورۃ العنکبوت۔
(۴۵) ابن کثیر، ج۳، سورۃ العنکبوت۔٭مجمع الزوائد: ج۲، باب صلوٰۃ اللیل تنہی عن الفحشآء رواہ الطبرانی فی الکبیر۔ وفیہ لیث بن سلیم وہو ثقۃ ولکنہ مدلس۔ باطل وہو مع اشتہارہ علی الالسنۃ، لایصح من قبل اسنادہ ولامن جہۃ متنہ۔ اما اسنادہ، فقد اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر (ج ۳ ورقہ ۱۰۶، وجہ ۲، من مخطوطہ الظاہریہ) والقضاعی فی مسند الشہاب ۴۳/۲۔ وابن ابی حاتم کمافی تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۱۴۔ والکواکب الدراری ۸۳/ ۲/۱ من طریق لیث عن طاوس عن ابن عباس ۔ وہذا اسناد ضعیف۔ (من اجل لیث وہو ابن ابی سلیم فانہ ضعیف ۔ الاحادیث الضعیفہ ص ۱۴۔(ناصر الدین البانی)۔
(۴۶) تفسیر ابن جریر، جزء۲۰/۲۳ جلد ۱۰، ص ۹۹۔ سورۃ العنکبوت۔ ابن کثیر نے ابن مسعود سے مروی تمام روایات کو موقوف قرار دیا ہے۔
(۴۷) ابن کثیر، ج ۳، ص ۴۱۵۔
(۴۸) بخاری ج۱،کتاب الایمان، باب الزکوٰۃ من الاسلام وقولہ تعالیٰ وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین الخ۔ ٭بخاری: کتاب الصوم، کتاب الحیل، کتاب الشہادات۔٭مسلم،ج۱،کتاب الایمان، باب الصلوات التی ھی احد ارکان الاسلام۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ۔٭ ترمذی ج۱، ابواب الزکوٰۃ، باب ماجاء اذا أدیت الزکوٰۃ فقد قضیت ماعلیک ٭نسائی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب کم فرضت فی الیوم واللیلۃ کتاب الصیام اور کتاب الایمان۔٭موطا امام مالک،ج۱، جامع الترغیب فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر البیان ان لافرض فی الیوم واللیلۃ من الصلوات اکثر من خمس۔
(۴۹) ابن کثیر ج۴، ص ۴۳۹۔
(۵۰) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ۔کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب ذکر العشاء والعتمۃ (مختصر) عن ابی ہریرۃ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب فضل الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا وانہافرض کفایۃ۔٭ابوداود،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ترک الصلوٰۃ عن ابی الدرداء۔٭مسند احمد، ج ۵، ص ۱۴۰-۱۴۱۔ عن ابی بن کعب (مختصر روایت ہے)۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر عن ابی ہریرۃ٭مسلم، ابوداود دونوں نے آخر میں ’’لایشہدون الصلوٰۃ فاحرق علیہم بیوتہم بالنار‘‘ نقل کیا ہے۔
(۵۱) مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، باب فضل الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا۔٭نسائی: کتاب الامامۃ، باب التشدید فی ترک الجماعۃ۔٭ابن ماجہ: ابواب المساجد والجماعات، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ۔٭موطا امام مالک،ج۱، باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ علی صلوٰۃ الفذ عن ابی ہریرۃ۔٭دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب فیمن تخلف عن الصلوٰۃ۔ دارمی میں’’لقد ہممت ان آمر فتیانی فیجمعوا حطباً‘‘ ہے۔٭مسند ابی عوانہ: کتاب الصلوٰۃ، بیان ایجاب إتیان الجماعۃ۔٭السنن الکبریٰ،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر۔

فصل :۷ امامت صلوٰۃ امامت جبریل اور نماز پنج گانہ کے اوقات

۳۷۔(نبی ﷺ نے فرمایا) : ’’جبریل نے دومرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی۔ پہلے دن ظہرکی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ درازنہ تھا، پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر تھا، پھر مغرب کی نماز ٹھیک اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے، پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھادی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ دوسرے دن انہوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا، اور عصر کی نماز اس وقت جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا، اور مغرب کی نماز اس وقت جب کہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے ، اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزر جانے پر، اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر۔ پھر جبریل نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمدؐ یہی اوقات انبیاء کے نماز پڑھنے کے ہیں۔ اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ عَنْ سُفْیَانَ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ فُلَانِ بْنِ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ، قَالَ اَبُوْ دَاؤُدَ: ہُوَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِبْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ، فَصَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاکِ وَصَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ، وَصَلّٰی بِیَ ـــــ یَعْنِی الْمَغْرِبَ ـــــ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَآئَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ حِیْنَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّآئِمِ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ صَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ وَصَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَیْہِ، وَصَلّٰی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّآئِمُ، وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَآئَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَصَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ فَاَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ہٰذَا وَقْتُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ مَابَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔(۱)
(۲)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، ثَنَالَیْثٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، اَنَّ عُمَرَ ابْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اَخَّرَ الْعَصْرَ شَیْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ: اَمَا اَنَّ جِبْرَئِیْلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلّٰی اَمَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ عُمَرُ: اِعْلَمْ مَا تَقُوْلُ یَا عُرْوَۃُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ بَشِیْرَبْنَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا مَسْعُودٍ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: نَزَلَ جِبْرَئِیْلُ فَاَمَّنِیْ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ، یَحْسِبُ بِاَصَابِعِہِ خَمْسَ صَلوٰتٍ۔ (۲)
ترجمہ: عمر بن عبدالعزیز نے ایک روز نماز عصر ذرا تاخیر سے پڑھی، تو عروہ نے کہا جبرئیل ناز ل ہوئے اور حضور ﷺ کی امامت کراکر نماز پڑھائی۔ عمر بن عبدالعزیز نے متنبہ کیا، عروہ! کیا کہہ رہے ہو، سوچ لو! عروہ نے کہا میں نے بشیر بن ابو مسعود سے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود سے سنا ہے ، کہہ رہے تھے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ حضورؐ ارشاد فرمارہے تھے ’’جبرئیل نازل ہوئے، اور امامت کرائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار فرمائیں۔
(۳)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ، فَصَلَّی الظُّہْرَ فِی الْاُوْلٰی مِنْہُمَا حِیْنَ کَانَ الْفَیْیُٔ مِثْلَ الشِّرَاکِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ کُلُّ شَیْیٍٔ مِثْلَ ظِلِّہِ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَاَفْطَرَ الصَّآئِمُ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَآئَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ حِیْنَ بَرِقَ الْفَجْرُ وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَی الصَّآئِمِ وَصَلَّی الْمَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْٔمِثْلَہٗ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْاَمْسِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْمِثْلَیْہِ،  ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ لِوَقْتِہِ الْاَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَآئَ الْا ٓخِرَۃِ حِیْنَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ، ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَ اَسْفَرَتِ الْاَرْضُ ثُمَّ الْتَفَتَ اِلَیَّ جِبْرَئِیْلُ، فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! ہٰذَا وَقْتُ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔(۳)
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ:حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔ وقَالَ مُحَمَّدُ: اَصَحُّ شَیْفِی الْمَوَاقِیْتِ حَدِیْثُ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کے پاس جبریل نے دو مرتبہ مجھے نماز پڑھائی ۔ پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ سایہ ایک جوتی کے تسمے جتنا تھا۔ پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا، پھر مغرب ایسے وقت پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا اور روزہ دارنے روزہ افطار کیا، پھر عشاء کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی ، پھر فجر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب فجر روشن ہوگئی اور روزہ دار کے لیے کھانا حرام ہوگیا۔ اور دوسرے روز ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا۔ یعنی جو گزشتہ روز نماز عصر کا وقت تھا، پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہو گیا، پھر مغرب اوّل روز کے وقت پر پڑھائی ، پھر عشاء کی آخری نماز ایک تہائی رات گزرنے پر پڑھائی ، پھر صبح کی نماز ایسے وقت پڑھائی جب روشنی اتنی پھیل گئی کہ زمین صاف نظر آنے لگی۔ اس کے بعد جبرئیل نے میری جانب متوجہ ہوکر فرمایا: اے محمد! آپؐ سے پہلے انبیاء کا یہی وقت تھا ان دونوں اوقات کے مابین نماز کا وقت ہے۔
دارقطنی میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی روایت:
(۴)عَنْ جَابِرْ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ: اَنَّ جِبْرَئِیْل عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ یُعَلِّمُہُ الصَّلوٰۃَ، فَجَآئَ ہُ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ صَارَ الظِّلُ مِثْلَ قَامَۃِ شَخْصِ الرَّجُلِ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہٗ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الْعَصْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقی الحدیث۔ وَقَالَ فِیْہِ: ثُمَّ اَتَاہُ الْیَوْمَ الثَّانِیْ حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ، فَتَقَدَّمَ جِبْرَئِیْلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلْفَہُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَقَالَ فِیْ آخِرِہِ: ثُمَّ قَالَ : مَابَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ وَقْتٌ، قَالَ فَسَاَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الصَّلوٰۃِ فَصَلّٰی بِہِمْ کَمَا صَلّٰی بِہِ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، ثُمَّ قَالَ: اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلوٰۃِ؟ مَابَیْنَ الصَّلَا تَیْنِ وَقْتٌ۔
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نماز کی تعلیم دینے کے لیے نبی ﷺ کے پاس آئے۔ ابھی سورج ڈھلاہی تھا کہ جبرئیل تشریف لے آئے۔ جبرئیل آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور دوسرے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بستہ ہوگئے، تو انھوں نے نماز ظہر پڑھائی۔ پھر جبرئیل ،نبی ﷺ کے پاس ایسے وقت آئے جب سایہ ایک انسان کے قد کے برابر ہوگیا، تو جبرئیل آگے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور باقی لوگ آپؐ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھائی۔ پھر ایسے وقت جبرئیل آئے کہ سورج غروب ہوگیا، آگے ہو کر جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے پیچھے صف بستہ لوگوں کو نماز مغرب پڑھائی ۔ پھر دوسرے روز بھی اُسی وقت جبرئیل آئے جب سورج غروب ہوگیا (یعنی ایک ہی وقت) جبرئیل آگے ہوئے، رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے اور دوسرے لوگ آپؐ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوئے۔ جبرئیل نے نماز پڑھائی ۔ آخر میں فرمایا: نمازوں کے ان اوقات کے مابین نماز کا وقت ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے متعلق پوچھا توآپؐ نے انہیں اسی طرح نماز پڑھائی جس طرح جبرئیل نے آپؐ کو پڑھائی تھی۔ پھر فرمایا، نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ (پھر خود فرمایا) ’’ان دونوں اوقات نماز کے درمیان وقت ہے۔‘‘
انہی سے مروی ایک اور روایت:
(۵)قَالَ:جَآئَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ الظُّہْرَ، فَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَکَثَ حَتّٰی کَانَ فَیْیُٔ الرَّجُلِ مِثَلَہُ، فَجَآئَ ہُ الْعَصْرَ، فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ، ثُمَّ مَکَثَ حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ فَصَلَّا ہَا حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَائً، ثُمَّ مَکَثَ حَتّٰی ذَہَبَ الشَّفَقُ فَجَآئَ ہُ قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَآئَ، فَقَامَ فَصَلَّا ہَا، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِا الصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ مِنَ الْغَدِ حِیْنَ کَانَ فَیْیُٔ الرَّجُلِ مِثْلَہُ، فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَلِّ الظُّہْرَ، فَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ حِیْنَ کَانَ فَیْیُٔ الرَّجُلِ مِثْلَیْہِ، فَقَالَ: قُمْ یَامُحَمَّدُ! فَصَّلِ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ، ثُمَّ جَآئَ ہُ لِلْمَغْرِبِ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ یَزَلْ عَنْہُ، قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَآئَ ہُ لِلْعِشَآئِ حِیْنَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاَوَّلِ ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَآئَ، فَصَلَّی، ثُمَّ جَآئَ ہُ لِلصُّبْحِ حِیْنَ اَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَالَ: مَابَیْنَ ہٰذَیْنِ کُلِّہِ وَقْتٌ۔ (۴)
ترجمہ: حضرت جابرؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ جبرئیل رسول اللہ ﷺکے پاس عین اس وقت آئے جب دن ڈھلا ہی تھا، جبریل نے کہا اے محمدؐ! اٹھیے اور ظہر کی نماز پڑھیے، آپؐ اٹھے اور دن ڈھلا ہی تھا کہ آپؐ نے نماز ظہر پڑھی۔ پھر اتنی دیر ٹھہرے کہ مرد کا سایہ اس کے قدکے برابر ہوگیا۔ پھر عصر کے وقت جبرئیل آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا، اے محمدؐ ! اٹھیے اور نماز عصر پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر غروب آفتاب تک آپ ٹھہرے رہے۔ جبرئیل نے آکر کہا، اٹھیے اور نماز مغرب پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اورسورج پوری طرح جب غروب ہوگیا تو نماز مغرب پڑھی۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے کہ شفق غائب ہوگئی تو جبرئیل نے پھر آکر کہا اٹھیے اور نماز عشاء پڑھیے ۔آپؐ اٹھے اور نماز عشاء پڑھی ۔ پھر ایسے وقت آئے جب پوپھٹ رہی تھی۔ جبرئیل نے کہا، اٹھیے اے محمدؐ! اور نماز پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر اگلے روز ایسے وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا تھا۔ جبرئیل نے کہا اٹھیے اے محمدؐ !اور ظہر کی نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور نماز ظہر پڑھی۔ پھر ایسے وقت آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا۔ جبرئیل نے کہا اے محمد!اٹھیے اور نماز عصر پڑھیے۔ آپؐ اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر مغرب کی نماز کے لیے آئے جب سورج غروب ہوگیا، وہ ایک ہی وقت ہے۔ کہا، اٹھیے نماز پڑھیے۔ پھر عشاء کے لیے ایسے وقت آئے جب اوّل رات کی ایک تہائی گزرچکی تھی۔ جبرئیل نے کہا ’’اٹھیے اور عشاء کی نماز پڑھیے۔ آپؐنے نماز عشاء پڑھی۔ پھر صبح کی نماز کے لیے ایسے وقت آئے کہ اچھی طرح روشنی ہوچکی تھی۔ جبرئیل نے کہا، اٹھیے اور صبح کی نماز پڑھیے۔ پھر فرمایا ان اوقات کے مابین وقت ہے۔‘‘
تشریح:(یہاں) یہ بتایا گیا ہے کہ پنج وقتہ نماز ،جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی، اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔ (قرآن میں) حکم ہوا ہے کہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے اور باقی چار نمازیں زوال آفتاب کے بعد سے ظلمت شب تک پڑھی جائیں۔ (پھر جبریل علیہ السلام نے حکم الٰہی کی تشریح کی اور) ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبیﷺ کو دی ۔                  (تفہیم القرآن ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۹۵)
قرآن مجید میں نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف مختلف مواقع پر اشارے کیے گئے ہیں۔ چنانچہ سورۂ ہود میں فرمایا:
ـــــــ وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّیْلِ۔(آیت :۱۱۴)
’’نماز قائم کر دن کے دونوں کناروں پر ( فجر اور مغرب ) اور کچھ رات گزرنے پر (عشاء)۔‘‘
اور سورۂ  طٰہ میں ارشاد ہوا:
ـــــــ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَاج وَمِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّہَارِ۔                (آیت:۱۳۰)
’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر طلوع آفتاب سے پہلے (فجر ) اور غروب آفتاب سے پہلے (عصر) اور رات کے اوقات میں پھر تسبیح کر (عشاء) اور دن کے سروں پر ( صبح، ظہر اور مغرب)۔‘‘
پھر سورۂ روم میں ارشاد ہوا:
ـــــــ فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ o  وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ o                       (آیت: ۱۷،۱۸)
’’پس اللہ کی تسبیح کرو جب کہ تم شام کرتے ہو (مغرب) اور جب صبح کرتے ہو (فجر)۔ اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور اس کی تسبیح کرو دن کے آخری حصے میں (عصر) اور جب کہ تم دو پہر کرتے ہو (ظہر)۔‘‘
(بخاری، مسلم، ابودائود، ترمذی اور موطا وغیرہ کتب حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ ) جبرئیل علیہ السلام نے آپؐ کو نمازوں کے صحیح اوقات بتانے کے لیے دو روز تک پانچوں وقت کی نمازیںآپؐ کو پڑھائیں۔ ان میں آپؐ مقتدی تھے اور جبرئیل امام۔
بعض لوگ اس مقام پر یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ جبرئیل امین کو رسول اللہ ﷺ کا (امام) کیسے قرار دیا جاسکتا ہے، اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ وہ استاد ہیں اور حضوؐر شاگرد اور اس سے حضوؐر پر جبرئیل کی فضیلت لازم آئے گی ۔ لیکن یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ جبرئیل اپنے کسی ذاتی علم سے حضوؐر کو تعلیم نہیں دیتے تھے، جس سے آپؐ پر ان کی فضیلت لازم آئے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے آپؐ تک علم پہنچانے کا ذریعہ بنایا تھا اور وہ محض واسطہ تعلیم ہونے کی حیثیت سے مجازاً آپؐ کے معلم تھے۔ اس سے ان کی فضیلت کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ محض تعلیم کی غرض سے ان کا امام بنایا جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ آپؐ سے افضل تھے۔ (تفہیم القرآن،ج ۵، النجم حاشیہ: ۵)

امامت کے شرائط و آداب: (۱)متقی اور پرہیزگار

۳۸۔حکم ہے کہ امام ایسے شخص کو بنایا جائے جو پرہیز گار ہو، علم میں زیادہ ہو، قرآن زیادہ جانتا ہو، اور سن رسیدہ بھی ہو۔ حدیث میں ترتیب بھی بتادی گئی ہے کہ ان صفات میں کون سی صفت کس صفت پر مقدم ہے۔

یہیں سے یہ تعلیم بھی دے دی گئی کہ سردار قوم کے انتخاب میں کن باتوں کا لحاظ کرنا چاہیے
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ مُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ مُثَنّٰی: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَائٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا مَسْعُوْدٍ، یَقُوْلُ : قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَئُ ہُمْ لِکِتٰبِ اللّٰہِ وَاَقْدَمُہُمْ قِرَائَ ۃً۔ فَاِنْ کَانَتْ قِرَائَ تُہُمْ سَوَآئً فَلْیَؤُمُّہُمْ اَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْہِجْرَۃِ سَوَآئً فَلْیَؤُمُّہُمْ اَکْبَرُ ہُمْ سِنًّا۔ وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ فِیْ اَہْلِہِ وَلَافِیْ سُلْطَانِہِ۔ وَلَا تَجْلِسْ عَلیٰ تَکْرِمتِہِ فِیْ بَیْتِہِ، اِلَّا اَنْ یَاْذَنَ لَکَ اَوْ بِاِذْنِہٖ۔(۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا ، ’’لوگوں کی امامتِ نماز ایسا آدمی کرے جس نے قرآن زیادہ پڑھا ہو، اور جسے قرآن پڑھے زیادہ عرصہ گزرا ہو۔ اگر قراء ت ( قرآن خوانی ) میں لوگ مساوی المرتبہ ہوں، تو پھر وہ آدمی امامت کرائے جس نے ہجرت پہلے کی ہو۔ پھر اگر ہجرت میں برابر ہوں تووہ آدمی امامت کرائے جو ان میں زیادہ سن رسیدہ ہو۔ اور ایک آدمی کو نہ تو دوسرے کے گھر میں امامت کرانی چاہیے نہ دوسرے کے حدود اختیار میں ، اور نہ بغیر اجازت اسے صاحب خانہ کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھنا چاہیے۔
مسلم نے ایک اور روایت بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَأُہُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْقِرَائَ ۃِ سَوَائً فَاَعْلَمُہُمْ بِالسُّنَّۃِ۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی السُّنَّۃِ سَوَائً فَاَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْہِجْرَۃِسَوَائً فَاَقْدَمُہُمْ سِلْمًا۔۔۔ الخ
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’لوگوں کا (نماز کے لیے ) امام ایسا ہو جو قرآن سب سے زیادہ پڑھاہوا ہو۔ اگر اس میں سب برابر ہوں تو ایسے شخص کو امامت کرانی چاہیے جسے سنت رسولؐ کا زیادہ علم ہو۔ پھر اگر سنت کے علم میں برابر ہوں تو ایسا شخص امامت کرائے جس نے ہجرت پہلے کی ہو۔ پھر اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ایسا آدمی امامت کرائے جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو۔‘‘
دارقطنی نے ابو مسعود سے دو روایتیں نقل کی ہیں، ایک درج ذیل ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَؤُمُّ الْقَوْمَ اَکْثَرُ ہُمْ قُرْاٰنًا۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْقُرْآنِ وَاحِدًا فَاَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً۔ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْہِجْرَۃِ وَاحِدًا فَاَفْقَہُہُمْ فِقْہًا۔ فَاِنْ کَانَ الْفِقْہُ وَاحِدًا فَاَکْبَرُ ہُمْ سِنًّا۔(۶)
ترجمہ: حضرت ابومسعود سے روایت ہے: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو نماز وہ آدمی پڑھائے جسے قرآن سب سے زیادہ آتا ہو، اگر قرآن میں سب یکساں یعنی ایک ہی حیثیت کے ہوں تو ایسا آدمی ہو جس نے ہجرت سب سے پہلے کی ہو۔ پھر اگر ہجرت میں ایک ہی مرتبہ کے ہوں تو پھر ان میں سب سے زیادہ فقیہ پڑھائے۔ اگر فقاہت میں بھی مساوی المرتبہ ہوں تو پھر ایسا آدمی پڑھائے جس کی عمر سب سے زیادہ ہو۔‘‘
امام بخاری نے کتاب الاذان کے بَابُ اِذَا اسْتَوَوْا فِی الْقِراَئَ ِۃ فَلْیَوُ مُّہُمْ اَکْبَرُ ہُمْ کے تحت مالک بن حویرث سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۴) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ فَلَبِثْنَا عِنْدَہُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً وَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ رَحِیْمًا فَقَالَ: لَوْ رَجَعْتُمْ اِلیٰ بِلَادِ کُمْ فَعَلِّمْتُمُوْہُمْ مُرُوْہُمْ فَلْیُصَلُّوْا صَلَاۃَ کَذَا فِیْ حِیْنِ کَذَاوَصَلَاۃَ کَذَا فِیْ حِیْنِ کَذَا وَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُوَذِّنْ لَکُمْ اَحَدُکُمْ وَلَیَؤُمَّکُمْ اَکْبَرُکُمْ۔(۷)
ترجمہ: حضرت مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نوجوان تھے، بیس دن رات کے لگ بھگ ہم آپ کے پاس ٹھہرے۔ نبی ﷺ نہایت رحیم و شفیق تھے، اس لیے ارشاد فرمایا:’’اگر تم لوگ اپنے وطن کو واپس پلٹ جائو اور انہیں جا کر تعلیم دو اور انہیں بتائو کہ فلاں نماز، فلاں وقت اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک صاحب اذان کہے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو، وہ امامت کرائے۔‘‘

(۲)اکثریت کا نمائندہ

حکم ہے کہ امام ایسا شخص نہ ہو جس سے جماعت کی اکثریت ناراض ہو، یوں تو تھوڑے بہت مخالف کس کے نہیں ہوتے۔ لیکن اگر جماعت میں زیادہ تر آدمی کسی شخص سے نفرت رکھتے ہوں تو اسے امام نہ بنایا جائے۔

یہاں پر سردار قوم کے انتخاب کا ایک قاعدہ بتا دیا گیا
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْاَعْلٰی بْنُ وَاصِلٍ الْکُوْفِیُّ، نَامُحَمَّدُبْنُ قَاسِمٍ اَلْاَسَدِیُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْہَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَۃً رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ، وَامْرَاۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَلَیْہَا سَاخِطٌ، وَرَجُلٌ سَمِعَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ثُمَّ لَمْ یُجِبْ۔ (۸)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک کہتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے تین آدمیوں پر لعنت کی ہے۔ ایک وہ آدمی جو مقتدیوں کی ناپسندیدگی کے باوجود ان کا امام بنے، دوسرے وہ عورت جو ایسی حالت میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے وہ آدمی جس نے حی علی الفلاح کی ندا سنی اور نماز کے لیے حاضر نہ ہوا۔‘‘
ـــــــ وَفِی الْبَابِ۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَلَحَۃَ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، وَاَبِیْ اُمَامَۃَ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ اَنَسٍ لَایَصِحُّ، لِاَنَّہٗ قَدْرَوَی ہٰذَا عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مُرْسَلٌ۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ تَکَلَّمَ فِیْہِ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَضَعَّفَہٗ وَلَیْسَ بِالْحَافِظِ۔
ـــــــ وَقَدْ کَرِہَ قَوْمٌ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ اَنْ یَؤمَّ الرَّجُلُ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کارہُوْنَ، فَاِذَا کَانَ الْاِمَامُ غَیْرَ ظَالِمٍ فَاِنَّمَا الْاِثْمُ عَلیٰ مَنْ کَرِہَہُ، وَقَالَ اَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ فِیْ ہٰذَا: اِذَا کَرِہَ وَاحِدٌ اَوْ اِثْنَانٌ اَوْثَلَاثَۃٌ فَلَا بَأْسَ اَنْ یُصَلِّیَ بِہِمْ حَتّٰی یَکْرَہَہٗ اَکْثَرُ الْقَوْمِ۔
ـــــــکچھ اہل علم نے اس کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے کہ ایسا آدمی لوگوں کی امامت کرائے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ہاں اگر امام ظالم نہ ہوں تو پھر گناہ اس پر جو اسے ناپسند کرتا ہے۔ امام احمد اور امام اسحاق کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ ناپسند کرنے والے جب ایک یادو یاتین آدمی ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں جب تک کہ اکثریت اسے ناپسند نہ کرے۔
(۲) اَبُوْاُمَامَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثَلَاثَۃٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُہُمْ اٰذَانَہُمْ۔ اَلْعَبْدُ الْاٰبِقُ حَتّٰی یَرْجِعَ ، وَامْرَاَۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَلَیْہَا سَاخِطٌ ، وَاِمَامُ قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ۔(۹)
ترجمہ:حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے کانوں سے آگے تجاوز نہیں کرتی۔ ایک بھگوڑا غلام تاآنکہ واپس آقا کے پاس آجائے ۔ دوسرے وہ عورت جس نے رات ایسی حالت میں گزاری کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو۔ تیسرے وہ امام ،قوم جسے ناپسند کرتی ہو۔‘‘
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ مِنْ ہٰذَا الْوَجْہِ، وَاَبُوْ غَالِبٍ اِسْمُہٗ حَزَوَّرَ۔
ابودائود اور ابن ماجہ نے ابوامامہ سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ ہیں:
(۳) ثَلَا ثَۃٌ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُمْ صَلوٰۃً: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ۔ (۱۰)
ترجمہ: ’’ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز کو شرف قبولیت نہیں بخشاجاتا۔ ایک وہ آدمی جو آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائے حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔‘‘
ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے ایک اور روایت بھی نقل کی ہے:
(۴) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَۃٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُہُمْ فَوْقَ رُئُ وْسِہِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ کَارِہُوْنَ۔۔۔ الخ۔ (۱۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اونچی اٹھائی نہیں جاتی (ان میں سے ایک) وہ آدمی ہے جو لوگوں کو نماز پڑھائے اس حال میں کہ وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں۔‘‘

(۳)مقتدیوں کا ہمدرد ہو

۳۹۔’’نبی ﷺ کو نماز پڑھاتے میں کسی بچے کے رونے کی آواز آجاتی تو نماز مختصر کردیتے تھے تاکہ اگر بچے کی ماں جماعت میں شریک ہے، تو اسے تکلیف نہ ہو۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: نَا مَالِکٌ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُ کُمْ لِلنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْہِمُ الضَّعِیْفَ، وَالسَّقِیْمَ، وَالْکَبِیْرَ وَاِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ لِنَفْسِہِ فَلْیُطَوِّلْ مَاشَآئَ۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سے اگر کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تواُسے مختصر نماز کردینی چاہیے۔ کیونکہ ان میں کمزور بھی ہیں، بیمار بھی ہیں اور بوڑھے بھی ہیں، البتہ جب تم میں سے کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہو، تو جتنی چاہے لمبی کرلے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِنِّی لَاَتَاَخَّرُ عَنِ الصَّلوٰۃِ فِی الْفَجْرِ مِمَّا یُطِیْلُ بِنَا فُلَانٌ فِیْہَا، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا رَاَیْتُہُ غَضِبَ فِیْ مَوْعِظَۃٍ کَانَ اَشَدَّ غَضْبًا مِنْہُ یَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ مِنْکُمُ مُنَفِّرِیْنَ فَمَنْ اَمَّ مِنْکُمُ النَّاسَ فَلْیَتَجَوَّزْ، فَاِنَّ خَلْفَہُ الضَّعِیْفَ، وَالْکَبِیْرَ، وَذَاالْحَاجَۃِ۔(۱۳)
ترجمہ:حضرت ابومسعودؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنا واقعہ سنایا کہ میں فلاں صاحب کی طویل قراء ت کی وجہ سے نماز فجر میں شمولیت سے پیچھے رہتا ہوں، (یہ واقعہ سن کر) رسول اللہ ﷺ اتنے ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے وعظ و نصیحت کے مواقع پر کبھی میں نے اتنا ناراض نہیں دیکھا تھا۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’لوگو! تم میں یقینا نفرت پیدا کرنے والے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ نماز مختصر کردے کیونکہ اس کے پیچھے کمزور بھی ہوتے ہیں ، بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں جلدی نماز پڑھ کر اپنی حاجت کے لیے جانا ہوتا ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، اَنَّ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، حَدَّثَہُ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنِّیْ لَاَدْخُلُ فِی الصَّلوٰۃِ وَاَنَا اُرِیْدُ اِطَالَتَہَا، فَاَسْمَعُ بُکَآئَ الصَّبِیِّ فَاَتَجَوَّزُ فِیْ صَلَاتِیْ مِمَّا اَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ اُمِّہِ مِنْ بُکائِہِ ۔(۱۴)
ترجمہ:حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ کہ میں نماز میں داخل ہوچکا ہوتا ہوں، ارادہ بھی ہوتا ہے کہ قراء ت ذرا لمبی کروں، مگر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اپنی نماز مختصر کردیتا ہوں، اس وجہ سے کہ مجھے اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ بچے کے رونے کی وجہ سے (شریک جماعت ) ماں کو تکلیف ہوگی۔‘‘
حضرت انس بن مالک سے مروی دوسری روایت:
(۴) یَقُوْلُ مَا صَلَّیْتُ وَرَآئَ اِمَامٍ قَطُّ اَخَفَّ صَلَاۃً وَلَااَتَمَّ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ وَاِنْ کَانَ لَیَسْمَعُ بُکَآئَ الصَّبِیِّ فَیُخَفِّفُ مَخَافَۃَ اَنْ تُفْتَنَ اُمُّہُ۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے کبھی ایسی نماز نہیں پڑھی جس کی نماز نبی ﷺ کی نماز سے مختصر بھی ہو اور پوری بھی ہو۔ (اس کے باوجود) آپ اگر بچے کے رونے کی آواز سنتے، تو نماز مختصر کردیتے، اس اندیشہ کے پیش نظر کہ کہیں اس کی ماں فتنہ کاشکار نہ ہوجاے۔‘‘ (آزمائش میں نہ پڑجائے)۔
بخاری کی ایک روایت میں ہے:
(۵) فَاَتَجَوَّزُ فِیْ صَلاَ تِیْ کَرَاہِیَۃَ اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمِّہٖ۔
تشریح: حکم ہے کہ جو شخص جماعت کا امام بنایا جائے، وہ نماز ایسی پڑھائے کہ جماعت کے ضعیف ترین آدمی کو بھی تکلیف نہ ہو۔ محض جو ان ، مضبوط، تندرست اور فرصت والے آدمیوں کو ہی پیش نظر رکھ کر لمبی لمبی قراء ت اور لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ کرنے لگے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ جماعت میں بوڑھے بھی ہیں، بیمار بھی ہیں، کمزور بھی ہیں اور ایسے مشغول بھی ہیں جو جلدی نماز پڑھ کر اپنے کام پر واپس جانا چاہتے ہیں، نبی ﷺ نے اس معاملہ میں یہاں تک رحم اور شفقت کا نمونہ پیش فرمایا ہے کہ نماز پڑھاتے میں کسی بچے کے رونے کی آواز آجاتی تو نماز مختصر کردیتے تھے۔ تاکہ اگر بچے کی ماں جماعت میں شریک ہے تو اسے تکلیف نہ ہو۔ یہ گویا سردار قوم کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ جب سردار بنایا جائے تو قوم کے اندر اس کا طرز عمل کیسا ہونا چاہیے۔

(۴) معذوری میں جگہ خالی کردے

حکم ہے کہ امام کو اگر نماز پڑھاتے میں کوئی حادثہ پیش آجائے ،جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھانے کے قابل نہ رہے تو فوراً ہٹ جائے اور اپنی جگہ پیچھے کے آدمی کو کھڑا کردے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سردار قوم کا بھی یہی فرض ہے، جب وہ سرداری کے قابل اپنے آپ کو نہ پائے تو اسے خود ہٹ جانا چاہیے اور دوسرے اہل آدمی کے لیے جگہ خالی کردینی چاہیے۔ اس میں نہ شرم کا کچھ کام ہے اور نہ خود غرضی کا۔

(۵) امام کی کامل اطاعت

۴۰۔ حکم ہے کہ امام کے فعل کی سختی کے ساتھ پابندی کرو۔ اس کی حرکت سے پہلے حرکت کرناسخت ممنوع ہے، یہاں تک کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدے میں جائے اس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ گدھے کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ یہاں گویا قوم کو سبق دیا گیا ہے کہ اسے اپنے سردار کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیے۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ، قَالَ : سَمِعْتُ اَبَاہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَمَایَخْشٰی اَحَدُ کُمْ اَوْ اَلَایَخْشٰی اَحَدُ کُمْ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ قَبْلَ الْاِمَامِ اَنْ یَجْعَلَ اللّٰہُ رَاْسَہُ رَاْسَ حِمَارٍ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ صُوْرَتَہُ صُوْرَۃَ حِمَارٍ۔(۱۶)
ترجمہ: محمد بن زیاد نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہؓ کو نبی ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بیان کرتے سنا ہے: ’’ آیا تم میں سے کسی کو یہ خوف لاحق نہیں ہوتا کہ اگر اس نے اپنا سر امام سے پہلے اٹھالیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنادے یا اس کی شکل و صورت بگاڑ کر گدھے ایسی شکل بنادے۔‘‘
موارد الظماٰن میں ایک اور روایت:
(۲)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَمَا یَخْشٰی الَّذِیْ یَرْفَعُ رَأْسَہٗ قَبْلَ الْاِمَامِ اَنْ یُّحَوِّلَ اللّٰہُ رَأْسَہٗ رَأْسَ الْکَلْبِ۔(۱۷)

(۶) غلطی پر تنبیہ

امام اگر نماز میں غلطی کرے، مثلاً جہاں اسے بیٹھنا چاہیے تھا وہاں کھڑا ہوجائے، یا جہاں کھڑا ہونا چاہیے تھا وہاں بیٹھ جائے، تو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر اسے غلطی پر متنبہ کردو۔ سبحان اللہ کے معنی یہ ہیں ’’ اللہ پاک ہے‘‘ امام کی غلطی پر سبحان اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ غلطی سے تو صرف اللہ ہی پاک ہے۔ تم انسان ہو، تم سے بھول چوک ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ طریقہ ہے امام کو ٹوکنے کا۔ اور جب اس طرح سے اسے ٹوکا جائے تو اس کو لازم ہے کہ بلا کسی شرم و لحاظ کے اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔ البتہ اگر ٹوکے جانے کے باوجود امام کو یقین ہو کہ اس نے صحیح فعل کیا ہے تو وہ اپنے یقین کے مطابق عمل کرسکتا ہے اور اس صورت میں جماعت کا کام یہ ہے کہ اس عمل کو غلط جاننے کے باوجود اس کا ساتھ دے۔ نماز ختم ہوجانے کے بعد مقتدی حق رکھتے ہیں کہ امام پر اس کی غلطی ثابت کریں اور نماز دوبارہ پڑھانے کا اس سے مطالبہ کریں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ اَبِیْ حَازِمِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ سَہْلِ ابْنِ سَعْدٍ السَّاعدِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ذَہَبَ اِلیٰ بَنِیْ عَمْرِ وْبْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ، فَحَانَتِ الصَّلَاۃُ، فَجَائَ الْمُوَذِّنُ اِلیٰ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَال: اَتُصَلِّیْ لِلنَّاسِ، فَاُقِیْمُ، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلّٰی اَبُوْبَکْرٍ، فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ فِی الصَّلوٰۃِ، فَتَخَلَّصَ حَتّٰی وَقَفَ فِی الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَکَانَ اَبوْبَکْرٍ لَا یَلْتَفِتُ فِیْ صَلَا تِہِ فَلَمَّا اَکْثَر النَّاسُ التَّصْفِیْقَ الْتَفَتَ، فَرَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، فَاَشَارَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ فَرَفَعَ اَبُوْ بَکْرٍ یَدَیْہِ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلیٰ مَااَمَرَہُ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ ذٰلِکَ ثُمَّ اسْتَاخَرَ اَبُوْ بَکْرٍ حَتّٰی اسْتَوٰی فِی الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَصَلّٰی فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا اَبَابَکْرٍ! مَا مَنَعَکَ اَنْ تَثْبُتَ اِذْاَمَرْتُکَ؟ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: مَا کَانَ لِابْنِ اَبِیْ قُحَافَۃَ اَنْ یُّصَلِّیَ بَیْنَ یَدَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَالِیْ رَاَیْتُکُمْ اَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیْقَ مَنْ نَابَہُ شَیْٔفِیْ صَلَاتِہ فَلْیُسَبِّحْ فَاِنَّہُ اِذَا سَبَّحَ اُلْتُفِتَ اِلَیْہِ وَاِنَّمَا التَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ۔(۱۸)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے ہاں ان میں صلح کرانے تشریف لے گئے، تو وہاں نماز کا وقت ہوگیا (آپ واپس تشریف نہ لاسکے) تو موذن حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آکر کہنے لگے اگر آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو اقامت کہہ دیتا ہوں۔ ابوبکر ؓ نے کہا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کی، اسی دوران رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے ، لوگ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچ گئے تو لوگوں نے تالی پیٹنا شروع کردی۔ حضرت ابوبکرؓ نماز کی حالت میں ادھر ادھر ذرہ برابر بھی التفات نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب دیکھا کہ اکثر لوگ تالیاں بجارہے ہیں تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسول اللہ (تشریف لے آئے ہیں) آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو، مگر حضرت ابوبکرؓ کو رسول اللہ ﷺ نے جو یہ حکم دیا (کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہو اور نماز پڑھاؤ) اس کے لیے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کرکے اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا اور پیچھے ہٹ گئے (یعنی پچھلی صف میں آگئے) اور رسول اللہ ﷺ پہلی صف میں تشریف لے گئے۔ حضور اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی ۔ جب نماز سے فارغ ہو کر منہ پھیرا تو حضرت ابوبکرؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: جب میں نے تمہیں اے ابوبکرؓ اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیا تو کس چیز نے تجھے اپنے مقام پر کھڑا رہنے سے منع کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب ہی نہیں دیتا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھے اور آپؐ نے مقتدیوں کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا: کیا ہوا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے تالی بہت بجائی (پیٹی) ہے (یاد رکھو!) نماز میں جب کسی کو کوئی ناگہانی چیز پیش آجائے تو اسے سبحان اللہ کہنا چاہیے۔ اس لیے کہ جب سبحان اللہ کہے گا تو اس کی جانب متوجہ ہوا جائے گا۔ تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔‘‘ (ران پر ہاتھ مارکر تالی بجانا)۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۲) اَبُوْہُریْرَۃَ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَاِل وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَآئِ۔(۱۹)

(۷)معصیت میں اطاعت نہیں

امام کے ساتھ جماعت کا یہ برتائو صرف ان حالات کے لیے ہے جب کہ غلطی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہو۔ لیکن اگر امام سنت نبویؐ کے خلاف نماز کی ترکیب بدل دے، یا نماز میں قرآن کو جان بوجھ کر غلط پڑھے، یا نماز پڑھاتے ہوئے کفر و شرک یا صریح گناہ کا ارتکاب کرے تو جماعت کا فرض ہے کہ اسی وقت نماز توڑ کر اس امام سے الگ ہوجائے۔ (خطبات ، باب سوم:امامت کے۔۔۔)

مشینی امامت

ریڈیو پر ایک شخص کی امامت میں دور دراز کے مقامات کے لوگوں کا نماز پڑھنا یا گرامو فون کے ذریعہ سے نماز کا ریکارڈ بنانا اور پھر کسی جماعت کا اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا، اصولاً صحیح نہیں ہے۔ اس کے وجوہ پر آپ غور کریں تو خود آپ کی سمجھ میں آسکتے ہیں۔
امام کا کام محض نماز پڑھانا ہی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک طرح سے مقامی جماعت کا رہنما ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ اپنے مقام کے لوگوں سے شخصی ارتباط قائم کرے۔ ان کے اخلاق ، معاملات اور مقامی حالات پر نظر رکھے اور حسب موقع و ضرورت اپنے خطبوں میں یا دوسرے مفید مواقع پر اصلاح و ارشاد کے فرائض انجام دے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں کی دوسری چیزوں کے ساتھ اس ادارہ میں بھی اب انحطاط رونما ہوگیا ہے لیکن بہر حال نفس ادارہ کو تو اپنی اسی صورت پر قائم رکھنا ضروری ہے۔ اگر ریڈیو پر نمازیں ہونے لگیں۔ اگر گراموفون سے امامت و خطابت کا کام لیا جانے لگے تو امامت کی اصل روح ہمیشہ کے لیے فنا ہوجائے گی۔
نماز دوسرے مذاہب کی عبادتوں کی طرح محض ’’پوجا‘‘ نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی امامت سے شخصیت کو خارج کردینا اور اس میں ’’مشینیت ‘‘ پیدا کردینا، دراصل اس کی قدر و قیمت کو ضائع کردینا ہے۔
علاوہ بریں اگر کسی مرکزی مقام سے کوئی شخص ریڈیو، یا گراموفون کے ذریعہ سے امامت و خطابت کے فرائض انجام دے اور مقامی امامتوں کا خاتمہ کردیا جائے، تو یہ ایک ایسی مصنوعی یکسانیت ہوگی جو اسلام کی جمہوری روح کو ختم کردے گی اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ کو ترقی دے گی۔ یہ چیز ان نظامات کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہے جن میں پوری پوری آبادیوں کو ایک مرکز سے کنٹرول کرنے اور تمام لوگوں کو ایک لیڈر کا بالکلیہ تابع بنا دینے کا اصول اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے فاشزم اور کمیونزم۔ لیکن اسلام ایک مرکزی امام، یا امیر کے اقتدار کو ایسا ہمہ گیر بنانا نہیں چاہتا کہ مقامی لوگوں کی باگ ڈور بالکل اس کے ہاتھوں میں چلی جائے اور خود ا ن کے اندر اپنے مفاد کو سوچنے اور اپنے معاملات کو سمجھنے اور ان کو طے کرنے کی صلاحیت ہی نشوونما نہ پاسکے۔
نبی کریم ﷺ کی قرن خیر القرون میں ’’امام‘‘ محض پجاری کی حیثیت نہیں رکھتے تھے جن کا کام چند مذہبی مراسم کو ادا کردینا ہو۔ بلکہ وہ مقامی لیڈر کے طور پر مقرر کیے جاتے تھے۔ ان کا کام تعلیم و تزکیہ اور اصلاح تمدن و معاشرت تھا اور مقامی جماعتوں کو اس غرض کے لیے تیار کرنا تھا کہ وہ بڑی اور مرکزی جماعت کی فلاح و بہبود میں اپنی قابلیتوں کے مطابق حصہ لیں۔ ایسے اہم مقاصد ریڈیو سیٹ، یا گراموفون سے کیوںکر پورے ہوسکتے ہیں۔ آلات، انسان کا بدل کبھی نہیں ہوسکتے۔ صرف مددگار ہوسکتے ہیں۔ ان وجوہ سے میں سمجھتا ہوں کہ ’’مشینی امامت‘‘ اسلام کی روح کے بالکل خلاف ہے۔
(رسائل و مسائل دوم،فقہی مسائل:مشینی امامت)

ماخذ

(۱) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی المواقیت۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللّٰہ ﷺ، باب ماجآء فی مواقیت الصلوٰۃ عن النبی۔٭ دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر بیان المواقیت الخ۔ ٭ المستدرک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب اوقات الصلوات الخمس ۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب جماع ابواب المواقیت۔
(۲) بخاری،ج۱، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملٰئکۃ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد، باب اوقات الصلوات الخمس۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی المواقیت۔ ٭ ترمذی ،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی مواقیت الصلوٰۃ عن النبی ﷺ مختصر۔٭ ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، ابواب مواقیت الصلوٰۃ۔٭موطا امام مالک ج۱، ص ۱۴، وقوت الصلوٰۃ۔٭مسند احمد، ج۱، ص۳۳۳:۳۵۴۔ ج۳، ص۳۰۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب جماع ابواب المواقیت۔
(۳) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی مواقیت الصلوۃ عن النبی ﷺ ٭ نسائی : کتاب المواقیت: باب من ادرک رکعتین من العصر۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب آخر وقت الظہر و اوّل وقت العصر۔
(۴) دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب امامۃ جبرئیل۔٭السنن الکبریٰ،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب وقت المغرب۔
(۵) مسلم،ج۱،کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ۔باب من أحق بالامامۃ٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من احق بالامامۃ۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب من احق بالامامۃ۔٭نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، باب من احق بالامامۃ۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب من احق بالامامۃ۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص۱۱۸-۱۲۱، ج ۵، ص ۲۷۲۔
(۶) دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من احق بالا مامۃ۔
(۷) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب اذا استووا فی القرآن فلیو مہم اکبر ہم۔ ٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب ۴۲من احق بالامامۃ۔
(۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء من أم قوما وہم لہ کارہون۔
(۹) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء من أم قوماً وہم لہ کارہون۔
(۱۰) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل یؤم القوم وہم لہ کارہون٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ۴۳من أم قوماً وہم لہ کارہون۔
(۱۱) ابن ماجہ : کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب۴۳ من ام قوماً وہم لہ کارہون۔
(۱۲) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ماشاء۔ ٭ نسائی:ج۲، کتاب الامامۃ، باب ماعلی الامام من التخفیف۔
(۱۳) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من شکا امامہ اذا طول۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب من أم قوماً فلیخفف۔
(۱۴) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من اخف الصلوٰۃ عند بکاء الصبی۔٭مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب امر الائمۃ بتخفیف الصلوٰۃ فی تمام٭ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب تخفیف الصلوٰۃ للأمریحدث٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء ان النبی ﷺ قَالَ انی لَاَسْمع بکاء الصبی فی الصلوٰۃ فاخفف۔٭ نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، باب ماعلی الامام من التخفیف۔ نسائی نے اِنِّیْ لَاَقُوْمُ فِی الصَّلوٰۃِ فَاَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ فَأَوجز فِیْ صَلَاتِیْ کَرَاہِیَۃَ اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمہ نقل کیا ہے۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الامام یتخفف الصلوٰۃ اذا حدث امر۔٭مسند احمد، ج۳، ص ۱۰۹، ۱۵۳، ۱۵۶، ۱۸۲، ۱۸۸، ۲۰۵، ۲۳۳، ۲۴۰، ۲۵۷۔
(۱۵) بخاری،ج۱،کتاب الاذان: باب من اخف الصلوٰۃ عند بکاء الصبی۔٭مسلم کتاب الصلوٰۃ، باب امر الائمۃ بتخفیف الصلوٰۃ فی تمام۔ ٭ ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء ان النبی ﷺ قاَل انی لا سمع بکاء الصبی فی الصلوٰۃ فاخفف۔٭مسند احمد،ج۲،ص۴۳۲۔
(۱۶) ٭بخاری،ج۱،کتاب الاذان: باب اثم من رفع راسہ قبل الامام۔ ٭ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تحریم سبق الامام برکوع او سجود ۔۔۔ الخ۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فیمن یرفع قبل الامام او یضع قبلہ۔٭ ترمذی، ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء من التشدید فی الذی یرفع رأسہ قبل الامام، حدیث حسن صحیح۔٭نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، باب مبادرۃ الامام۔ اس میں ’’الایخشی‘‘ ہے۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب النہی ان یسبق الامام بالرکوع والسجود۔٭دارمی: باب النہی عن مبادرۃ الائمۃ بالرکوع والسجود۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب اثم من رفع راسہ قبل الامام عن ابی ہریرہ۔
(۱۷) موارد الظمٰان: باب فیمن رفع راسہ قبل الامام۔
(۱۸) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من دخل لیؤم الناس فجاء الامام الاول، فتأخر الاول أولم یتأخر جازت صلوٰتہ۔ مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب تقدم الجماعۃ من یصلی بہم اذا تأخر الامام۔۔۔ الخ۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التصفیق فی الصلوٰۃ۔٭ نسائی، ج۲، کتاب الامامۃ، باب اذا تقدم الرجل من الرعیۃ ثم جاء الوالی ہل یتاخر اورج۳، پر بھی ہے٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا نابہ شییٔ فی صلوٰتہ۔٭موطا امام مالک،ج۱، الالتفات والتصفیق عندالحاجۃ فی الصلوٰۃ عن سہل بن سعد الساعدی۔
(۱۹) مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب تسبیح الرجال وتصفیق النساء اذانا بہما شیئی فی الصلوٰۃ۔٭ ابوداؤد، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التصفیق فی الصلوٰۃ۔٭ترمذی،ج۱، ابواب المواقیت، باب ماجاء ان التسبیح للرجال والتصفیق للنساء۔٭نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب التصفیق فی الصلوٰۃ۔ ج۲،کتاب الامامۃ، باب اذا تقدم الرجل من الرعیۃ ثم جاء الوالی ہل یتاخر۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التسبیح للرجال فی الصلوٰۃ والتصفیق للنساء ۔ ٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح للرجال والتصفیق للنسآء۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا نابہ شئی فی صلوٰۃ۔٭مسند احمدج۱،ص۲۹۰۔ ۵۴۱۔ ج ۲، ص ۲۴۱، ۲۶۱، ۳۱۷، ۳۷۶، ۴۳۲، ۴۴۰، ۴۷۳، ۴۷۹، ۴۹۲، ۵۰۷، ۵۲۹۔ ج ۳، ص ۳۴۰، ۳۴۸، ۳۵۷۔ ج ۵ ص ۳۳۰، ۳۳۳۔

فصل :۸ تلاوت حضوؐر کا طرزِ تلاوت

۴۱۔رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کا طریقہ حضرت انسؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر بتایا کہ آپؐ اللہ ، رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
(بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ قِرَائَ ۃِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَقَالَ: کَانَ یَمُدُّمَدًّا۔(۱)
ترجمہ: حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓبن مالک سے نبی ﷺ کی قراء ت کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ’’آپؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔‘‘
 حضرت انسؓ سے مروی دوسری روایت:
(۲)عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ: سُئِلَ اَنَسٌکَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ النَّبِیِّ ﷺ ؟ فَقَالَ: کَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ یَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰہِ وَیَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ وَیَمُدُّ بِالرَّحِیْمِ۔(۲)
ترجمہ:حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ انس بن مالک سے نبی ﷺ کی قراء ت کا طریقہ پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا   ’’آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ خود پڑھ کر بتایا کہ حضور ﷺ بسم اللہ،  رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھتے تھے۔‘‘
نسائی میں ہے:
(۳)عَنْ قَتَا دَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَاً کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: کَانَ یَمُدُّ صَوْتَہُ مَدًّا۔(۳)
ترجمہ:  حضرت قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک سے رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپؐ اپنی آواز کو اچھی طرح کھینچتے تھے۔
۴۲۔حضرت ام سلمہؓ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضورؐ ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھہرتے جاتے تھے، مثلاً  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ کر رک جاتے ۔ پھر اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پر ٹھیرتے اور اس کے بعد رک کر مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے۔           (مسند احمد ، ابودائود، ترمذی)
 حضرت ام سلمہؓ سے مروی روایت:
تخریج: عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَتْ: کَانَ یَقْطَعُ قِرَاَء تَہُ آیَۃً آیَۃً۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔
ترجمہ: حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپؐ ہر آیت کو جدا جدا کرکے پڑھتے تھے۔ مثلاً بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (یہاں ٹھہرتے) پھراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  (یہاں ٹھہرتے) مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ (یہاں ٹھہرتے)۔
۴۳۔ دوسری ایک روایت میں حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضوؐر ایک ایک لفظ واضح طور پر پڑھاکرتے تھے۔ ‘‘
          (ترمذی ، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خَالِدِبْنِ مُوْہِبٍ الرَّمَلِیُّ، ثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ یَعْلیٰ بْنِ مَمْلَکٍ، اَنَّہُ سَاَلَ اُمَّ سَلَمَۃَ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَصَلَاتِہِ، فَقَالَتْ: وَمَا لَکُمْ وَصَلَاتَہُ؟کَانَ یُصَلِّیْ وَیَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ، ثُمَّ یُصَلِّیْ قَدْرَ مَانَامَ، ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَمَا صَلَّی حَتّٰی یُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ قِرَائَ تَہُ فَاِذَا ہِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ تَہُ حَرْفًاحَرْفًا۔(۴)
ترجمہ: یعلی بن مملک بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قراء ت اور آپؐ کی نماز کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپؐ کی نماز کے متعلق کیا پوچھتے ہو؟ آپؐ جتنی دیر نماز پڑھتے ، اتنی دیر سو بھی لیتے پھر (اٹھ کر) اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر آپؐ سو چکے ہوتے، پھر اتنا سو جاتے جتنی دیر نماز پڑھ چکے ہوتے۔ یہ عمل صبح تک رہتا۔ پھر انہوں نے آپؐ کی قراء ت کا طریقہ بیان فرمایا کہ ’’حضور ﷺ ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف واضح طور پر پڑھا کرتے تھے۔‘‘
۴۴۔ حضرت حذیفہؓ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضورؐ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپؐ کی قراء ت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے، جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا، وہاں پناہ مانگتے۔                      (مسلم، نسائی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ ح  وَحَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ جَمِیْعًا عَنْ جَرِیْرٍ۔ کُلُّہُمْ عَنِ الْاَعْمَشٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَ نَا اَبِیْ قَالَ: نَا الاَعْمَشُ عَنْ سَعْدِبْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ الْمَسْتَوْرِدِبْنِ الْاَحْنَفِ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ۔ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ فَقُلْتُ : یَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَۃِ، ثُمَّ مَضیٰ فَقُلْتُ: یُصَلِّیْ بِہَا فِیْ رَکْعَۃٍ، فَمَضیٰ۔ فَقُلْتُ : یَرْ کَعُ بِہَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَآئَ فَقَرَاَہَا۔ ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَ ہَا یَقْرَاُ مُتَرَ سِّلًا۔ اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَسْبِیْحٌ سَبَّحَ۔ وَاِذَا مَرَّ بِسُوَالٍ سَاَلَ۔ وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوَّذٍ تَعَوَّذَ۔ ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ فَکَانَ رُکُوْعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہ۔ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ثُمَّ قَامَ طَوِیْلًا۔ قَرِیْبًا مِمَّا رَکَعَ۔ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ فَکَانَ سُجُوْدُ ہُ قَرِیْبًا مِنْ قِیَامِہِ۔ قَالَ وَفِیْ حَدِیْثِ جَرِیْرٍ مِنَ الزِّیَادَۃِ فَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔(۵)
ترجمہ: حضرت حذیفہ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے سورۂ بقرہ پڑھنا شروع کردی۔ میرا خیال تھا کہ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے، مگر آپؐ نے تلاوت جاری رکھی تو میں نے خیال کیا کہ پوری سورۃ بقرہ ایک ہی رکعت میں پڑھیں گے۔ پھر رکوع کریں گے (مگر میرا یہ اندازہ صحیح نہ نکلا) آپؐ نے سورۂ بقرہ کے اختتام کے بعد سورۂ نساء پھر سورہ آل عمران شروع کی اور ساری پڑھ لی، آپؐ نے قراء ت آہستہ آہستہ فرمائی۔ جب آپ ایسی آیت پرسے گزرتے جس میں تسبیح کا موقع ہوتا، تو وہاں تسبیح فرماتے اور جب ایسی کسی آیت پر سے گزر ہوتا جس میں سوال و دعا کا موقع ہوتا، تو وہاں دعا مانگتے اور جب ایسی کسی آیت پر سے گزر ہوتا جس میں پناہ مانگنے کا موقع ہوتا، تو وہاں پناہ مانگتے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور اس میں سبحان ربی العظیم پڑھا۔ آپؐ نے رکوع میں تقریباً اتنا وقت لگایا جتنا عموماً حالت قیام میں لگاتے۔ پھر اٹھتے ہوئے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا۔ پھر اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر رکوع میں رہے تھے۔ پھر اس کے بعد سجدے میں گئے اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا۔ آپؐ کا سجدہ بھی حالت قیام جتنا لمبا تھا۔
(۲)عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، وَمَا اَتٰی عَلیٰ اٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ، وَمَا اَتٰی عَلیٰ اٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ۔(۶)
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ : وَہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
ترجمہ: حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضورؐ نے اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا۔ جب کوئی آیت رحمت آتی تو وہاںٹھیرتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور جب کسی آیت عذاب پر پہنچتے تو وہاں ٹھیرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے۔
ابودائود نے عوف بن مالک اشجعی سے بھی روایت نقل کی ہے:
(۳)قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ لَیْلَۃً، فَقَامَ فَقَرَأَ سُوْ رَۃَ الْبَقَرَۃِ: لَا یَمُرُّبِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا یَمُرُّ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ۔(۷)
ترجمہ: حضرت عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں ایک رات نماز میں حضوؐر کے ساتھ کھڑا ہوا۔ آپؐ نے حالت قیام میں سورۂ بقرہ پڑھی۔ کسی ایسی آیت کے پاس سے نہیں گزرتے تھے جس میں رحمت باری کا ذکر ہو، مگر وہاں ٹھیرتے اور رحمت کی استدعا فرماتے اور نہ کسی ایسی آیت سے گزرتے تھے جس میں عذاب الٰہی کا تذکرہ ہو، مگر وہاں بھی ٹھیرتے اور اس سے  اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے۔
ـــــــنسائی کی ایک راویت میں   وَلاَ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ اِلاَّاسْتَجَارَ بھی ہے۔
نسائی کی مروی روایت میں ہے نہ آیت عذاب سے گزرتے ، مگر تحفظ کی استدعا فرماتے:
(۴) عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّ النَّبِیَّﷺ صَلّٰی۔ فَکَانَ اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ سَاَلَ، وَ اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ، اسْتَجَارَ، وَاِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہٌ لِلّٰہِ سَبَّحَ۔(۸)
ترجمہ: حضرت حذیفہؓ نے روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز پڑھی ۔ پس جب آپؐ کا گزر ایسی آیت پر ہوتا جس میں رحمت الٰہی کا ذکر ہوتا تو دعا فرماتے ۔ اور جب ایسی کسی آیت پر گزر ہوتا جس میں عذاب الٰہی کا تذکرہ ہوتا تو اس سے بچنے کی درخواست فرماتے اور جب ایسی آیت پر گزر ہوتا جس میں رب کائنات کی تنزیہہ بیان کی ہوتی تو وہاں تسبیح فرماتے۔
(۵)عَنْ اَبِیْ لَیْلیٰ، قَالَ: صَلَّیْتُ اِلیٰ جَنْبِ النَّبِیِّ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تَطَوُّعًا۔ فَمَرَّ بِاٰیَۃِ عَذَابٍ، فَقَالَ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَوَیْلٌ لِاَ ہْلِ النَّارِ۔(۹)
 ترجمہ: حضرت ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات جب کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے، آپؐ کے پہلو میں ساتھ کھڑاہوگیا۔ لہٰذا آپؐ  آیت عذاب سے گزرے تو اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَوَیْلٌ لِاَہْلِ النَّارِ فرمایا۔
حضرت حذیفہ سے مروی روایت کا متن:
(۶) عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، وَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ، وَمَا یَأْتِیْ عَلیٰ ٰایَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّاوَقَفَ عِنْدَہَا فَسَاَلَ، وَمَا یَأْتِیْ عَلیٰ اٰیَۃِ عَذَابٍ الَّا تَعَوَّذَ۔(۱۰)
ترجمہ: حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ اور آپؐ اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور اپنے سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکہتے تھے ۔ جب آیت رحمت پر پہنچتے تو وہاں ٹھیرتے اور دعائے رحمت کرتے اور جب آیت عذاب پر پہنچتے تو وہاں بھی ٹھیرتے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
۴۵۔اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَج وَاِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فِاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ  (المائدۃ:۱۱۸)
’’حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضوؐر اس مقام پر پہنچے   ( اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو تو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔‘‘
(مسند احمد، بخاری)
 تخریج:(۱)  حَدَّثَنَا نُوْحُ بْنُ حَبِیْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدِنِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا  قُدَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَسْرَۃَ بِنْتُ دَجَاجَۃً قَالَتْ: سَمِعْتُ اَبَا ذَرٍّ یَقُوْلُ: قَامَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی اِذَا اَصْبَحَ بِاٰ یَۃٍ وَالْاٰیَۃُ: اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ (غفاری) بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ رات کی نماز کے قیام میں صبح تک یہ آیت پڑھتے رہے، ’’کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو ، توغالب اور دانا ہے۔‘‘
مسند احمد میں ہے:
(۲)عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃً، فَقَرَاَ بِآیَۃٍ حَتّٰی اَصْبَحَ یَرْ کَعُ بِہَا وَیَسْجُدُ بِہَا اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَانَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ فَلَمَّا اَصْبَحَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَازِلْتَ تَقْرَاُ ہٰذِہِ الآ یَۃَ حَتّٰی اَصْبَحْتَ تَرْ کَعُ بِہَا وَتَسْجُدُ بِہَا قَالَ: اِنِّیْ  سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّ و جَلَّ الشَّفَاعَۃَ لِاُمَّتِیْ فَاَعْطَا نِیْہَا وَہِیَ نَائِلَۃٌ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لِمَنْ لآ یُشْرِکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت ابوذرؓ (غفاری) سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی۔صبح تک اپنے رکوع و سجود میں یہی دہراتے رہے، ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو،  تو غالب اور دانا ہے۔ صبح میں نے عرض کیا یارسول اللہ !صبح تک آپؐ اسی آیت مبارکہ کو اپنے سجدے اور رکوع میں پڑھتے رہے ہیں۔ حضورؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا، میں اپنے پروردگار سے اپنی امت کی شفاعت کے لیے سوال کرتا رہاہوں،اس نے مجھے عطا فرمادی ہے اور امت ان شاء اللہ اسے پالے گی ، مگر وہ آدمی اس سے محروم رہے گا ، جس نے کسی شے کو اللہ کا شریک ٹھیرایا۔
ترمذی نے حضرت عائشہؓ سے صرف مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۳)عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قَامَ النَّبِیُّ ﷺ بِاٰ یَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَیْلَۃً۔(۱۳)
ابن ماجہ نے حضرت ابوذرؓ سے بایں الفاظ روایت کیا ہے:
(۴)قَامَ النَّبِیُّ ﷺ بِاٰ یَۃٍ حَتّٰی اَصْبَحَ یُرَدِّدُہَا۔ وَالْاٰیَۃُ ’’اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔‘‘(۱۴)
تشریح:گویا کہ حضورؐ کی قراء ت تیز تیز رواں دواں نہ ہوتی تھی،بلکہ آپؐ ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ زبان سے ادا کرتے تھے اور ہر آیت پر ٹھیرتے تاکہ ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات و صفات کا ذکر ہے ،تو اس کی عظمت و ہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے، تو دل جذبات تشکر سے لبریز ہو جائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے، تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے، تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قراء ت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے۔         (تفہیم القرآن،ج ۶، المزمل، حاشیہ: ۴)

نماز میں کسی خاص سورہ کا التزام

کسی نماز میں کسی خاص سورہ کا التزام کرلینادرست نہیں ہے۔ عادتاً پڑھنے میں مضائقہ نہیں مگر کبھی کبھی اس کے خلاف بھی کر لینا چاہیے تاکہ بدعت کی سی صورت نہ پیدا ہو۔

نماز میں قرآن اعتدال سے پڑھنے کی ہدایت

۴۶۔ ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ مکے میں جب نبی ﷺ یا دوسرے صحابہؓ نماز پڑھتے وقت بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو کفار شور مچانے لگتے اور بساا وقات گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردیتے تھے۔ (تفہیم القرآن، ج ۲،بنی اسرائیل،حاشیہ:۱۲۴)
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ ہُشَیْمٍ، عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَاتَجْہَرْ صَلوٰتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا قَالَ : اُنْزِلَتْ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُتَوَارٍ بِمَکَّۃَ، فَکَانَ اِذَا رَفَعَ صَوْتَہُ سَمِعَ الْمُشْرِ کُوْنَ فَسَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ اَنْزَلَہُ وَمَنْ جَآئَ بِہ وَقَالَ اللّٰہُ: وَلَا تَجْہَرْ بِصَلٰوتِکَ وَلاَتُخَافِتْ بِھَا لَاتَجْھَرْ بِصَلٰوتِکَ حَتّٰی یَسْمَعَ الْمُشْرِکُوْنَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا عَنْ اَصْحَابِکَ فَلَا تُسْمِعُہُمْ وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً اَسْمِعْہُمْ وَلَا تَجْہَرْ حَتّٰی یَاْخُذُوْا عَنْکَ الْقُرْآنَ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلوٰتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَاکا شان نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ یہ آیت مبارکہ اس موقع پر نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے ۔ پس جب آپؐ بلند آواز سے پڑھتے تو مشرک سن کر قرآن ، اور اللہ تعالیٰ اور جبریل کو گالیاں دینا شروع کردیتے، تو اس موقعہ پر ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ’’ (اے نبیؐ) اور آپ اپنی نماز میں نہ زیادہ اونچی آواز سے پڑھیے اور نہ ہی بالکل پست آواز سے (یعنی)آپ اسے اپنی نماز میں اتنی اونچی آواز سے نہ پڑھیں کہ مشرکین اسے سن لیں اور اتنا پست و دھیمی آواز سے بھی نہ پڑھیں کہ آپؐ کے ساتھی بھی سن نہ سکیں۔ بلکہ دونوں کے مابین راستہ تلاش کریں کہ اپنے ساتھیوں کو سناسکیں تاکہ وہ آپؐ سے قرآن اخذ کرلیں۔‘‘
تشریح: (ان حالات میں حکم الٰہی نازل ہوا کہ) نہ تو اتنے زورسے پڑھو کہ کفار سن کر ہجوم کریں، اور نہ اس قدر آہستہ پڑھو کہ تمہارے ساتھی بھی نہ سن سکیں۔ یہ حکم صرف انھیں حالات کے لیے تھا۔ مدینے میں جب حالات بدل گئے تو یہ حکم باقی نہ رہا۔ (ایضاً)

اگر امام کوئی آیت پڑھنا بھول جائے

۴۷۔ (صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ) ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ قراء ت کے دوران میںایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد حضرت ابی بن کعب نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے؟ حضوؐر نے فرمایا نہیں، میں بھول گیا تھا۔ (تفہیم القرآن،ج ۶، الاعلیٰ ،حاشیہ: ۸)
تخریج :(۱) اِنَّہُ ﷺ اَسْقَطَ اٰیَۃً فِی قِرَائَ تِہِ فِی الصَّلوٰۃِ وَکَانَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَحَسِبَ اُبَیٌّ اَنَّہَا نُسِخَتْ فَسَاَلَہُ عَلَیْہِ الصَّلَا ۃُ وَالسَّلَامُ ، فَقَالَ: نَسِیْتُہَا۔(۱۶)
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثَنَایَعْقُوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیُّ ، ثَنَا عُمَرُبْنُ نَجِیْحٍ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاذٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ صَلَّی رَسُوْل اللّٰہِ ﷺ صَلَاۃً فَقَرَاَسُوْرَۃً، فَاَسْقَطَ مِنْہَا اٰیَۃً ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اٰیَۃُ کَذَاوَکَذَااَنُسِخَتْ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَاِنَّکَ لَمْ تَقْرَأْہَا قَالَ: اَفَلَا لَقَّنْتَنِیْہَا؟(۱۷)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھی۔ اس میں آپؐ نے ایک سورہ تلاوت فرمائی۔ دوران قراء ت اس کی ایک آیت چھوڑ گئے۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا ’’اے اللہ کے رسولؐ کیا فلاں اور فلاں آیت منسوخ ہوچکی ہے۔‘‘ جواب میں ارشاد فرمایا، ’’نہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’آپؐ نے اسے (بہر حال) پڑھا نہیں ہے۔‘‘ فرمایا، ’’پھر تم نے مجھے یاد کیوں نہ دلایا۔‘‘
(۳)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عُبَیْدِبْنِ مَیْمُوْنٍ، اَخْبَرَنَا عِیْسٰی بْنُ یُوْنُسَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:سَمِعَ النَّبِیﷺ رَجُلًا یَقْرَأُ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ:رَحِمَہُ اللّٰہُ لَقَدْاَذْکَرَنِیْ کَذَا وَکَذَا اٰیَۃٍ اَسْقَطْتُّہُنَّ مِنْ سُوْرَۃِ کَذَاوَکَذَا الخ۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے مسجد میں ایک آدمی کو قراء ت کرتے سنا تو اس کے حق میں فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو کہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلادی ہیں جنہیں میں فلاں فلاں سورۃ سے چھوڑ گیا تھا۔‘‘
ابودائود کتاب الحروف والقراء ۃ میں ایک روایت نقل کرتے ہیں:
(۴) اِنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ، فَقَرَاَ فَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالْقُرْاٰنِ، فَلَمَّا اَصْبَحَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَرْحَمُ اللّٰہُ فُلَا نًا کَائِنٌ مِّنْ اٰیَۃٍ اَذْکَرَنِیْہَا اللَّیْلَۃَ کُنْتُ قَدْ اَسْقَطْتُّہَا۔(۱۹)
ترجمہ: ایک آدمی نے قیام اللیل کیا اور قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کی۔ صبح کو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے دعائے رحمت فرمائی کہ فلاں صاحب پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے کہ اس نے رات مجھے وہ آیت یاد دلا دی جسے میں چھوڑ گیا تھا۔

ماخذ

(۱) بخاری،ج۲، کتاب ابواب فضائل القرآن، باب مدالقراء ۃ ٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ۔
(۲) بخاری،ج۲،کتاب ابواب فضائل القرآن، باب مدالقراء ۃ۔٭ المستدرک، ج۱، ص۲۳۳۔
(۳) نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب مدالصوت بالقراء ۃ۔٭ترمذی،ابواب الشمائل، باب ماجاء فی قراء ۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔
(۴) ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ۔٭ ترمذی: ابواب الشمائل، باب ماجاء فی قراء ۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔٭نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب تزیین القرآن بالصوت۔٭مسنداحمد، ج۶، ص۲۹۴۔ عن ام سلمہ۔ ٭نسائی اور مسند احمد میں’’ تنعت قراء ۃ مفسرۃ حرفاً ‘‘حرفاً ہے۔
(۵) مسلم،ج۱،کتاب صلوٰۃ المسافرین و قصر ہا، باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۶) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ۔
(۷) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ۔٭مسند احمد، ج ۵، ص ۳۸۲-۳۸۴۔ ج۶، ص۲۴، عوف بن مالک اشجعی۔٭نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب تعوذ القاری اذامر باٰیۃ عذاب اورکتاب التطبیق۔
(۸) ابن ماجہ،ج۱،کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی القرآء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۹) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی القراء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۱۰) دارمی :کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع ۔
(۱۱) نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب تردید الآیۃ۔
(۱۲) مسند احمد،ج۵، ابوذرغفاری۔
(۱۳) ترمذی،ج۱، ابواب صلوٰۃ اللیل۔
(۱۴) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی القراء ۃ فی اللیل۔٭المستدرک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب قام النبی ﷺ بِاٰیۃ حتیٰ اصبح یرددہا۔
(۱۵) بخاری،ج۲،کتاب التوحید، باب الرد علی الجہمیۃ الخ وقولہ انزلہ بعلمہ والملائکۃ یشہدون۔کتاب التفسیر، سورہ بنی اسرائیل۔٭ مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التوسط فی القراء ۃ الجہریۃ بین الجہر والاسرارالخ۔ ٭ ترمذی: ابواب تفسیر القرآن، سورہ بنی اسرائیل۔ حدیث حسن صحیح۔ ترمذی نے ’’ شتموا ‘‘ نقل کیا ہے۔ نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، قولہ عزوجل ولا تجہر بصلوٰتک ولاتخافت بہا۔٭مسند احمد، ج۱، ص ۲۱۵۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاختیار للامام والماموم فی ان یخفیاالذکر۔مسلم نے ’’مختفی‘‘ اور نسائی نے ’’مختف بمکۃ‘‘ نقل کیا ہے۔ جب کہ بخاری نے متذکرہ بالا روایت میں ’’متواربمکۃ‘‘ بیان کیا ہے۔
(۱۶) روح المعانی، ج۳۰، سورۃ الاعلیٰ۔
(۱۷) دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب تلقین الماموم لا مامہ اذا وقف فی قراء تہ۔
(۱۸) بخاری، ج۱،کتاب الشہادات، باب شہادۃ الاعمی وامرہ الخ ۔ج۲،کتاب ابواب فضائل القرآن، باب نسیان القرآن۔کتاب الدعوات، باب قول اللّٰہ تعالیٰ وصل علیہم٭مسلم،کتاب صلوۃ المسافرین، باب امر من نعس فی صلوٰتہ الخ۔٭ ابوداؤد،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلوٰۃ اللیل۔
(۱۹) ابوداؤد،ج۴،کتاب الحروف۔

فصل: ۹ جماعت میں شمولیت کے آداب۔ نماز باجماعت میں شمولیت کے آداب

۴۸۔حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نماز کھڑی ہو تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آئو۔ بھاگتے ہوئے نہ آئو، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اس میں شامل ہو جائو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘ (صحاح ستّہ)
تخریج: حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَاابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیْدٍ وَاَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، ح و حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلَا ۃُ فَلَاتَاْتُوْہَا تَسْعَوْنَ وَاْتُوْہَا تَمْشُوْنَ عَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ، فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا۔(۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ : ’’ جب نماز کھڑی ہوچکی ہو تو اس کی طرف بھاگتے ہوئے نہ آئو، بلکہ سکون و وقار کے ساتھ آئو۔ پھر جتنی نماز بھی مل جائے اتنی پڑھو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘ (صحاح ستّہ)
۴۹۔ حضرت ابوقتادہ انصاریؓ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ ہم حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ یکایک لوگوں کے بھاگ بھاگ کر چلنے کی آواز آئی۔ نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے ان لوگوںسے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ ان لوگوں نے عرض کیا ہم نماز میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر آرہے تھے۔ فرمایا :ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب بھی آئو، پورے سکون کے ساتھ آئو۔ جتنی مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو، جتنی چھوٹ جائے وہ بعد میں پوری کرلو۔ (بخاری، مسلم)
(تفہیم القرآن، ج۵، الجمعہ، حاشیہ:۱۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیٰ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ اِذَا سَمِعَ جَلَبَۃَ الرِّجَالِ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: مَاشَاْنُکُمْ؟ قَالُوْا: اِسْتَعْجَلْنَا اِلَی الصَّلَا ۃِ قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوْا، اِذَا اَتَیْتُمُ الصَّلوٰۃَ فَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ فَمَآ اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا۔(۲)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے ہیںکہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ حضوؐر نے لوگوں کے بھاگ کر چلنے کی آواز سنی۔ نماز سے فارغ ہو کر حضورؐ نے لوگوں سے پوچھا’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے نماز میں شامل ہونے کے لیے جلدی کی۔ فرمایا: ’’ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب آئو تو پورے سکون کے ساتھ آئو۔ جتنی مل جائے، اس کو پڑھ لو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘
بخاری کی ایک روایت میں:
(۲) اِذَا سَمِعْتُمُ الْاِقَامَۃَ فَامْشُوْا اِلَی الصَّلوٰۃِ وَعَلَیْکُمُ بِالسَّکِیْنَۃِ وَالْوَقَارِ وَلَاتُسْرِعُوْا فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا۔(۳)
ترجمہ: جب اقامت تمہیں سنائی دے تو نماز کی طرف نہایت سکون و وقارکے ساتھ آئو۔ جلدی بھاگ دوڑ کر مت آئو۔ جتنی مل جائے ، اتنی امام کے ساتھ پڑھ لو اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کر لو۔
ابوداؤد نے کِتَابُ الصَّلوٰۃِ کے بَابُ ’’السَّعْیِ اِلَی الصَّلوٰۃِ‘‘ میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی اس روایت کو نقل کرکے آخر میں راویان حدیث کے لفظی اختلاف کو بیان کیا ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ ، کَذَا قَالَ الزُّبَیْدِیُّ، وَابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ ، وَاِبْرَ اہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، وَ مَعْمَرٌ، وَشُعَیْبُ بْنُ اَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، ’’وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا ‘‘ وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَحْدَہٗ فَاقْضَوْا۔ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَ جَعْفَرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: فَاَتِمُّوْا۔ وَابْنُ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَاَبُوْقَتَادَۃَ واَنَسُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، کُلَّہُمْ (قَالُوْا) فَاَتِمُّوْا۔(۴)
اس روایت پر امام ترمذی کا تبصرہ:
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ : اِخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ فِی الْمَشْیِ اِلَی الْمَسْجِدِ۔ فَمِنْہُمْ مَنْ رَأیَ الاْسْراَعَ اِذَا خَافَ فَوْتَ التَّکْبِیْرَۃِ الْاُوْلیٰ حَتّیٰ ذُکِرَ عَنْ بَعْضِہِمْ اَنَّہٗ کَانَ یُہَرْوِلُ اِلَی الصَّلوٰۃِ۔ وَمِنْہُمْ مَنْ کَرِہَ الاْسْرَاعَ۔ وَاخْتَارَ اَنْ یَّمْشِیَ عَلَی تَوْدَۃٍ وَوَقَارٍ۔وَبِہٖ یَقُوْلُ اَحْمَدُ وَ اِسْحَاقُ۔ وَقَالَا:اَلْعَمَلُ عَلَی حَدِیْثِ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔ وَقَالَ اِسْحَاقُ اِنْ خَافَ فَوْتَ التَّکْبِیْرَۃِ الْاُوْلیٰ فَلَا بَاسَ اَنْ یَّسْرَعَ فِی الْمَشْیِ۔(۵)
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں ۔ مسجد کی جانب نماز کے لیے جانے کے انداز کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ کچھ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر تکبیر اولیٰ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو بھاگ کر شامل ہونے میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ وہ تیز دوڑکر شامل ہوسکتا ہے۔ البتہ بعض اہل علم ایسے ہیں جو تیز دوڑکر جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ اور ان کا مختار مسلک یہ ہے کہ سکون و وقار سے چلاجائے۔ یہ رائے امام احمد و اسحاق کی ہے۔ انہوں نے رائے یہی دی ہے کہ ابوہریرہ والی حدیث کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔

نماز میں سلام کاجواب اشارہ سے دیا جاسکتا ہے

۵۰۔ترمذی میں حضرت بلالؓ سے اور نسائی میں حضرت صہیبؓ سے مروی ہے کہ جب آں حضرت ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیاجاتا تو آپؐ ہاتھ کے اشارے سے جواب دیتے تھے۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرٍ، عَنَ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَائِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُہَیْبٍ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَرَرْتُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَرَدَّ عَلَیَّ اِشَارَۃً وَلَا اَعْلَمُ اِلَّا اَنَّہُ قَالَ: بِاِصْبِعِہِ۔(۶)
ترجمہ: حضرت صہیب ؓ صاحب رسالت مآب بیان کرتے ہیں کہ میرا رسول ﷺ پر ایسی حالت میں گزر ہوا کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ پس میں نے آپؐ کو سلام کیا اور آپؐ نے مجھے اشارہ سے جواب دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اشارہ آپؐ نے اپنی انگشت مبارک سے کیا تھا۔
(۲) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ مَنْصُوْرٍ الْمَکِّیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ مَسْجِدَ قُبَائَ لِیُصَلِّیْ فِیْہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ رِجَالٌ یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ، فَسَاَلْتُ صُہَیْبًا وَکَانَ مَعَہُ، کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَصْنَعُ اِذَا سُلِّمَ عَلَیْہِ؟ قَالَ: کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہِ۔(۷)
ترجمہ: حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عمرؓ نے بتایا تھا کہ نبی ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ اتنے میں چند آدمی مسجد میں داخل ہوئے۔ اور انہوں نے آپؐ کو سلام کیا۔ میں نے صہیب سے پوچھا کہ آپ تو حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ان لوگوں نے آپؐ کو سلام کیا تو آپ نے کیسے جواب دیا؟ انھوں نے بتایا کہ’’ آپؐ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ، نَا وَکِیْعٌ، نَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ حِیْنَ کَانُوْا یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ وَہُوَ فِی الصَّلوٰۃِ؟ قَالَ:کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہِ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ زَیْدِبْنِ اَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَصْنَعُ حَیْثُ کَانُوْا یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ عَمْرِوبْنِ عَوْفٍ؟ قَالَ: کَانَ یَرُدُّ اِشَارَۃً۔(۸)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا کہ ’’نماز میں جب لوگ مسجد عمرو بن عوف میں حضور ﷺ کو سلام کہتے تھے تو آپ انہیں کس طرح جواب دیتے تھے؟بلالؓ نے جواب دیا، کہ ’’آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے۔‘‘
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں حضرت صہیب سے مروی حدیث حسن کی مرتبہ کی ہے۔ مجھے یہ حدیث لیث عن بکیر کے علاوہ اور دوسری سند معلوم نہیں اور یہ روایت زید بن اسلم نے ابن عمر کے حوالہ سے بھی بیان کی ہے۔ اس میں ہے کہ ابن عمر نے بلال سے پوچھا نبی ﷺ نے لوگوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جب مسجد بنی عمرو بن عوف میں انہوں نے آپ کو سلام کیا۔ اس نے جواب دیا کہ آپ اشارہ سے ان کے سلام کا جواب دیتے تھے۔
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں دونوں حدیثیں صحیح ہیں اگرچہ دونوں کے مواقع الگ الگ ہیں۔ ممکن ہے ابن عمر نے دونوں سے روایت کیا ہو۔
(۴) عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ، اَنَّہُ سَلَّمَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَرَدَّ عَلَیْہِ۔
ترجمہ: حضرت عمار بن یاسرؓ راوی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی حالت میں سلام کیا، جب کہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپؐ نے ان کے سلام کا جواب دیا۔
(۵)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ اَدْرَکْتُہُ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَاَشَارَ اِلَیَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِیْ فَقَالَ: اِنَّکَ سَلَّمْتَ عَلَیَّ آنِفًا وَاَنَا اُصَلِّیْ وَاِنَّمَا ہُوَ مُوَجِّہٌ یَوْمَئِذٍ اِلَی الْمَشْرِقِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت جابرؓ خود روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا (واپسی) پر میں نے آپ کو نماز پڑھتے پایا، تو میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلا کر فرمایا: تو نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس روز آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔
تشریح: اگر آدمی نماز میں ہو اور کوئی سلام کرے تو اشارے سے جواب دینا مفسد صلوٰۃ نہیں۔
۵۱۔حضرت عائشہؓ کا ارشاد ہے کہ جب نبی ﷺ کا مرض سخت ہوگیا تو آپؐ کے حکم سے حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے لگے۔ ایک روز حضورؐ نے مرض میں کمی محسوس فرمائی اور نماز میں شریک ہونے کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب آپؐ کے آنے کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ مگر آپؐ نے اشارے سے ان کو منع کیا۔ چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے اور آں حضرت ﷺ ان کی بائیں جانب جاکر بیٹھ گئے۔ (متفق علیہ)
تخریج: حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ہِشَامُ ابْنُ عُرْوَۃ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَبَا بَکْرٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ فِیْ مَرَضِہِ، فَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمْ۔قَالَ عرْوَۃُ: فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ، فَاِذَا اَبُوْبَکْرٍ یَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَاٰہُ اَبُوْبَکْرٍ اسْتَاْخَرَ، فَاَشَارَ اِلَیْہِ اَنْ کَمَا اَنْتَ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِذَآئَ اَبِیْ بَکْرٍ اِلٰی جَنْبِہِ فَکَانَ اَبُوْبَکْرٍ یُصَلِّیْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ بِصَلَاۃِ اَبِیْ بَکْرٍ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کو حکم دیا کہ آپؐ کے مرض کے دوران میں لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ عروۃ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں قدرے افاقہ محسوس فرمایا تو مسجد کی جانب نکلے (تو دیکھا) کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھارہے ہیں، مگر ابوبکر نے جب حضوؐر کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ حضورؐ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر اسی حالت پر قائم رہیں۔ آپؐ ابوبکر کے برابر ایک پہلو میں بیٹھ گئے۔ اب ابوبکر رسول اللہ ﷺ کی نماز کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے اور دوسرے لوگ حضرت ابوبکرؓ کی اقتداء میں۔

خشوع قلب و جوارح

۵۲۔ لَوْ خَشَعَ قَلْبُہُ خَشَعَتْ جَوَارِحُہُ۔
’’ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ داڑھی کے بالوں سے کھیلتا جاتا ہے، اس پر آپؐ نے فرمایا:’’اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے جسم پر بھی خشوع طاری ہوتا۔‘‘
تخریج:(۱) عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَبَانَ، قَالَ: رَاٰی ابْنُ الْمُسَیَّبِ رَجُلًا یَعْبَثُ بِلِحْیَتِہِ فِی الصَّلوٰۃِ فَقَالَ: اِنِّیْ لَاَرٰی ہٰذَا لَوْخَشَعَ قَلْبُہُ، خَشَعَتْ جَوَارِحُہُ۔
ترجمہ: حضرت ابن مسیب نے دیکھا کہ ایک آدمی نماز میں اپنی ڈاڑھی کے بالوں سے کھیل رہاہے۔ تو انہوں نے کہا میں یقینا اسے دیکھ رہا ہوں ۔ اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے جسم پر بھی خشوع طاری ہوتا۔
دوسری روایت:
(۲)عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: رَاٰی ابْنُ الْمُسَیّبِ اَعْبِثُ بِالْحَصٰی فِی الصَّلوٰۃِ فَقَالَ: لَوْخَشَعَ قَلْبُہُ، خَشَعَتْ جَوَارِحُہُ۔(۱۱)
ترجمہ: ایک آدمی نے بیان کیا کہ ابن مسیب نے مجھے نماز میں سنگریزوں کے ساتھ بے فائدہ چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھ کر فرمایا: ’’اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء و جوارح پر بھی خشوع طاری ہوتا۔‘‘
(۳)وقَدْ اَخْرَجَ الْحَکِیْمُ اَلتِّرْمِذِیُّ فِیْ نَوَادِرِ الْاُصُوْلِ لٰـکِنْ بِسَنَدٍ ضَعِیْفٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا یَعْبِثُ بِلِحْیَتِہِ فِیْ صَلَاتِہِ۔ فَقَالَ: لَوْ خَشَعَ قَلْبُ ہٰذَا۔ خَشَعَتْ جَوَارِحُہُ۔(۱۲)
ترجمہ: ایک ضغیف السند روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے نماز میں ایک آدمی کو اپنی ڈاڑھی سے کھیلتے دیکھا تو فرمایا:’’اگر اس کے قلب میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء و جوارح پر بھی خشوع طاری ہوتا۔‘‘
ـــــــ قَالَ الزَّیْنُ الْعِرَاقِیُّ فِیْ شَرْحِ التِّرْمِذِیِّ۔ وَسُلَیْمَانُ بْنُ عَمْرٍ و ہُوَ اَبُوْدَاؤدَ النَّخَعِیُّ مُتَّفَقٌ عَلَی ضُعْفِہٖ۔
ـــــــ وَاِنَّمَا یُعْرَفُ ہٰذَا عَنْ ابْنِ الْمُسَیَّبِ۔ وَقَالَ فِیْ الْمُغْنِیْ: سَنَدُہٗ ضَعِیْفٌ وَالْمَعْرُوْفُ اَنَّہٗ مِنْ قَوْلِ سَعِیْدٍ، رَوَاہُ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَہَ فِیْ مُصَنَّفِہٖ، وَفِیْہِ رَجُلٌ لَمْ یُسَمِّ۔ وَقَالَ الزَّیْلَعِیُّ: قَالَ ابْنُ عَدِیٍّ: اَجْمَعُوْا عَلیٰ اَنَّہٗ یَضَعُ الْحَدِیْثَ۔
ـــــــ قُلْتُ: رَوَاہُ مَوْقُوْ فًا عَلَی سَعِیْدٍ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْمُبَارَکِ فِی الزُّہْدِ، ج ۱، ص ۲۱۳: اَنَا مَعْمَرٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْہُ بِہٖ وَہٰذَا سَنَدٌ ضَعِیْفٌ بِجِہَالَۃِ الرَّجُلِ۔
ـــــــ قُلْتُ: فَالْحَدِیْثُ مَوْضُوْعٌ مَرْفُوْعاً ضَعِیْفٌ مَوْقُوْفاً، بَلْ مَقْطُوْعاً۔(۱۳)
ترمذی نے فضل بن عباس سے ان الفاظ سے روایت بیان کی ہے:
(۴) عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ الصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنیٰ تَشَہُّدٌ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَخَشُّعٌ وَتَضَرُّعٌ وَتَمَسْکُنٌ وَتَقَنُّعُ یَدَیْکَ یَقُوْلُ تَرْفَعُہُمَا اِلیٰ رَبِّکَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُوْ نِہِمَا وَجْہَکَ وَتَقُوْلُ یَا رَبِّ یَا رَبِّ! وَمَنْ لَّمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ فَہُوَ کَذَا وَکَذَا۔(۱۴)
ترجمہ: حضرت فضل بن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز، دو، دو رکعت ہے۔ (دو،دورکعات کرکے پڑھنی چاہیے) اور ہر دو رکعت میں تشہد ہے اور خشوع و خضوع ، انکساری اور عجز ہے، دست بستہ کھڑاہونا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ دونوں ہاتھوں کا سیدھے رخ اپنے رب کے حضور بلند کرکے یارب یا رب پکارنا ہے۔ جس کسی نے ایسا نہ کیا، وہ ایسا ایسا ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِسْمَاعِیْلَ یَقُوْلُ: رَوَی شُعْبَۃُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ عَبْدِ رَبِّہٖ بْنِ سَعِیْدٍ، فَاَخْطَاَ فِیْ مَوَاضِعٍ، فَقَالَ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِیْ اَنَسٍ، وَہُوَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِیْ اَنَسٍ وَقَالَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ وَاِنَّمَا ہُوَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ نَافِعِ بْنِ الْعُمْیَا عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ شُعْبَۃُ: عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، وَاِنَّمَا ہُوَعَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّؐ قَالَ مُحَمَّدُ: وَحَدِیْثُ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدِ أَصَحُّ مِنْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ۔
(۵) اَخْرَجَ الْحَکِیْمُ التِّرْمِذیُّ مِنْ طَرِیْقِ الْقَاسِمِ ابْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ اُمِّ رُوْمَانَ وَالِدَۃِ عَائِشَۃَ رَضِی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہَاقَالَتْ:رَاٰنِیْ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَتَمَیَّلُ فِیْ صَلَاتِیْ فَزَجَرَنِیْ زَجْرَۃً، کِدْتُّ اَنْصَرِفُ عَنْ صَلَاتِیْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِذَا قَامَ اَحَدُ کُمْ فِیْ الصَّلَا ۃِ فَلْیَسْکُنْ اَطْرَ افُہُ لَا یَتَمَیَّلُ تَمَیُّلَ الْیَہُوْدِ، فَاِنَّ سُکُوْنَ الْاَ طْرَافِ فِی الصَّلوٰۃِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت ام رومان والدہ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے بیان کیا، کہ مجھے ابوبکر نے دیکھ لیا کہ میں نماز میں جھوم رہی ہوں۔ تو انہوں نے مجھے تنبیہ کرتے ہوئے ذرا ڈانٹ کر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہو ، تو اس کے اعضاء میں سکون ہونا چاہیے۔ یہود کی طرح نازو انداز نہ کیا جائے، کیونکہ نماز میں اعضاء کا سکون پذیر ہونا بھی نماز کی تکمیل کا ایک حصہ ہے۔
تشریح: خشوع کے اصل معنی ہیں کسی کے آگے جھک جانا، دب جانا، اظہار عجز و انکسار کرنا۔ اس کیفیت کا تعلق دل سے بھی ہے او ر جسم کی ظاہری حالت سے بھی، دل کا خشوع یہ ہے کہ آدمی کسی کی ہیبت اور عظمت و جلال سے مرعوب ہو۔ اور جسم کا خشوع یہ ہے کہ جب وہ اس کے سامنے جائے تو سرجھک جائے۔ اعضاء ڈھیلے پڑجائیں، نگاہ پست ہوجائے، آواز دب جائے اور ہیبت زدگی کے وہ سارے آثار اس پر طاری ہوجائیں ،جو اس حالت میں فطرتاً طاری ہوجایا کرتے ہیں، جب کہ آدمی کسی زبردست باجبروت ہستی کے حضور پیش ہو۔ نماز میں خشوع سے مراد دل اور جسم کی یہی کیفیت ہے اور یہی نماز کی اصل روح ہے۔
اگرچہ خشوع کا تعلق حقیقت میں دل سے ہے اور دل کا خشوع آپ سے آپ جسم پر طاری ہوتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ابھی معلوم ہوا۔ لیکن شریعت میں نماز کے کچھ ایسے آداب بھی مقرر کردیے گئے ہیں جو ایک طرف قلبی خشوع میں مدد گار ہوتے ہیں اور دوسری طرف خشوع کی گھٹتی بڑھتی کیفیات میں فعل نماز کو کم از کم ظاہری حیثیت سے ایک معیار خاص پر قائم رکھتے ہیں۔ ان آداب میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی دائیں بائیں نہ مڑے اور نہ سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھے (زیادہ سے زیادہ صرف گوشہ چشم سے ادھر ادھر دیکھا جاسکتا ہے۔ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک نگاہ سجدہ گاہ سے متجاوز نہ ہونی چاہیے، مگر مالکیہ اس بات کے قائل ہیں کہ نگاہ سامنے کی طرف رہنی چاہیے)۔ نماز میں ہلنا اور مختلف سمتوں میں جھکنا بھی ممنوع ہے۔ کپڑوں کو بار بار سمیٹنا، یا ان کو جھاڑنا، یا ان سے شغل کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس بات سے بھی منع کیا گیا کہ سجدے میں جاتے وقت آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ یا سجدے کی جگہ صاف کرنے کی کوشش کرے۔ تن کر کھڑے ہونا، بہت بلند آواز سے کڑک کر قراء ت کرنا، یا قراء ت میں گانا بھی آداب نماز کے خلاف ہے۔ زور زور سے جمائیاں لینا اور ڈکاریں مارنا بھی نماز میں بے ادبی ہے۔ جلدی جلدی مارا مار نماز پڑھنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے۔ حکم یہ ہے کہ نماز کا ہر فعل پوری طرح سکون اور اطمینان سے ادا کیا جائے اور ایک فعل مثلاً رکوع یا سجود یا قیام یا قعود جب تک مکمل نہ ہولے دوسرا فعل شروع نہ کیا جائے۔ نماز میں اگر کوئی چیز اذیت دے رہی ہو تو اسے ایک ہاتھ سے دفع کیا جاسکتا ہے ، مگر بار بار ہاتھوں کو حرکت دینا، یا دونوں ہاتھوں کو استعمال کرنا ممنوع ہے۔
ان ظاہری آداب کے ساتھ یہ چیز بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ آدمی نماز میں جان بوجھ کر غیر متعلق باتیں سوچنے سے پرہیز کرے۔ بلا ارادہ خیالات ذہن میں آئیں اور آتے رہیں تو یہ نفس انسانی کی ایک فطری کمزوری ہے۔ لیکن آدمی کی پوری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ نماز کے وقت اس کا دل خدا کی طرف متوجہ ہو اور جو کچھ وہ زبان سے کہہ رہا ہو وہی دل سے بھی عرض کرے۔اس دوران میں اگر بے اختیار دوسرے خیالات آجائیں تو جس وقت بھی آدمی کو ان کا احساس ہو اسی وقت اسے اپنی توجہ ان سے ہٹا کر نماز کی طرف پھیر لینی چاہیے۔                   (تفہیم القرآن،ج ۳، المومنون ،حاشیہ: ۳)

نماز باجماعت میں آگے پیچھے دیکھنے کی آپؐ کی خصوصیت

۵۳۔ یَااُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا۔(بخاری)
’’اے محمدؐ کی قوم! خدا کی قسم اگر تم کو وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور بہت روتے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّہُ قَالَ :یَااُمَّۃَ مُحَمَّدٍ! وَاللّٰہِ لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ  لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا۔(۱۶)
حاکم نے مستدرک میں حضرت ابوذر غفاری سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۱) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَا لَاتَسْمَعُوْنَ اَطَتِ السَّمَآئُ وَحَقٌّ لَّہَا اَنْ تَئِطَّ مَا فِیْہَا مَوطِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ اِلَّا وَمَلَکٌ وَاضِعٌ جَبْہَتَہُ سَاجِدًا لِلّٰہِ وَاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بالنِّسَآئِ عَلَی الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ اِلَی الصَّعِدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَی اللّٰہِ وَلَوَدِدْتُّ اِنِّی کُنْتُ شَجَرَۃً تُعْضَدُ۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاری ؓسے روایت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، تمہیں وہ دکھائی نہیں دے رہا اور جو کچھ میں سن رہا ہوں وہ تمہیں سنائی نہیں دے رہا۔ (میں سن رہا ہوں) کہ آسمان سے چڑچڑاہٹ کی آواز آرہی ہے اسے مناسب یہی ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ چپہ بھی جگہ کہیں خالی نظر نہیں آتی کہ ہر جگہ فرشتہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشانی ٹکائی ہوئی ہے۔ بخدا ، اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو پھر کم ہنستے اور روتے زیادہ۔ اور اپنی بیویوں سے زن و شو کے تلذذ کو چھوڑ دیتے اور بلند مقامات کی جانب نکل کھڑے ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ تلاش کرتے۔ میری خواہش تھی کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ ڈالا جاتا۔
ـــــــ ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاِسْنَادِ عَلیٰ شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
۵۵۔ لَا َرَاکُمْ مِنْ وَّرَائِی کَمَا اَرَاکُمْ۔(بخاری)
’’میں تم کو پیچھے سے بھی ایسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے دیکھتا ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ: اَنَا مَالِکٌ ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ہَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِیْ ہٰہُنَا؟ فَوَاللّٰہِ مَا یَخْفیٰ عَلَیَّ خُشُوْ عُکُمْ وَلَا رُکُوْعُکُمْ اِنِّیْ لَاَرَاکُمْ مِنْ وَرَآئِ ظَہْرِیْ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’کیا ادھر میرے سامنے سے تمہیں کچھ نظر آتا ہے؟ خدا کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع۔ یقینا میں تمہیں اپنی پشت پیچھے سے دیکھ رہا ہوتاہوں۔
حضرت انس بن مالک سے مروی روایت :
(۲) قَالَ: صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃً ثُمَّ رَقِیَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: فِی الصَّلوٰۃِ وَفِی الرُّکُوْعِ اِنِّیْ لَاَرَاکُمْ مِنْ وَّرَآئِ کَمَا اَرَاکُمْ ۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ، نماز کے بعد آپؐ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: ’’تمہاری نماز اورتمہارے رکوع میں، میں تمہیں پیچھے سے بھی ایسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے سے دیکھتا ہوں۔‘‘
بخاری نے کتاب الاذان میں انہیں سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۳) اَقِیْمُوْا الصُّفُوفَ فَاِنِّیْ اَرَاکُمْ خَلْفَ ظَہْرِیْاوراَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَآصُّوا فَاِنِّیْ اَرَاکُمْ مِنْ وَّرَآئِ ظَہْرِیْ۔ (۱۹)
ترجمہ: فرمایا صفیں قائم کرو۔ کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ صفیں باندھو اور ترتیب سے ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہو، کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
 انس بن مالک سے روایت :
(۴) اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لِلنَّاسِ اَحْسِنُوْا صَلوٰتِکُمْ۔ فَاِنِّی اَرَاکُمْ خَلْفِی کَمَا اَرَاکُمْ اَمَامِی۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: اپنی نمازوں میں حسن پیدا کرو (خوب اچھے طریقے سے پڑھو) کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے آگے سے دیکھتا ہوں۔
تشریح: بہ کثرت آیات اور روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رسولوں کو جو علم غیب دیا گیا تھا وہ اس سے بہت زیادہ تھا جو ان کے واسطے سے بندوں تک پہنچا اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا ہو۔ کیونکہ بندوں کو تو غیب کی صرف وہی باتیں معلوم ہونے کی ضرورت ہے، جن کا تعلق عقائد ایمانیہ سے ہے۔ لیکن رسولوں کو ان کے سوا اور بہت سی ایسی معلومات ہونی چاہئیں جو فرائض رسالت انجام دینے میں ان کے لیے مددگار ہوں۔ جس طرح سلطنت کی پالیسی اور اس کے اسرار سے نائب السطنت اور گورنروں کا ایک خاص حد تک واقف ہونا ضروری ہے اور عام رعایا تک ان رازوں کا پہنچ جانا بجائے مفید ہونے کے الٹا مضر ہوتا ہے۔ اسی طرح ملکوت الٰہی کے بھی بہت سے اسرار ہیں جو خدا کے خاص نمائندے اور اس کے رسول جانتے ہیں اور عام رعیت ان سے بے خبر ہے۔ یہ علم غیب رسولوں کو تو اپنے فرائض انجام دینے میں مدد دیتا ہے لیکن عام رعایا نہ اس علم کی ضرورت ہی رکھتی ہے اور نہ اس کا تحمل ہی کرسکتی ہے۔ (زیادہ صحت کے ساتھ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ مجملاً بس اس قدر ہے کہ نبی کا علم خدا کے علم سے کم اور بندوں کے علم سے زیادہ ہوتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ کتنا ہوتا ہے اور کتنا نہیں تو اس کو ناپنے کا کوئی پیمانہ ہمارے پاس نہیں ہے۔)                                        (رسائل و مسائل حصہ اوّل، علم غیب رسل)

خانہ کعبہ میں آپؐ کی نماز کا واقعہ

۵۵۔مسند احمد میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو حرم میں خانہ کعبہ کے اس گوشے کی طرف رخ کرکے نماز پرھتے دیکھا جس میں حجراسود نصب ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب کہ ابھی فاصْدَعْ بِمَاتُوْمَرُ(الحجر:۹۴)’’جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے ، اسے ہانکے پکارے کہہ دو) کا فرمان الٰہی نازل نہیں ہوا تھا۔ مشرکین اس نماز میں آپؐ کی زبان سے فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (الرحمن:۱۳،۱۶،۲۱وغیرہ)کے الفاظ سن رہے تھے۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج ۵:تمہید سورۂ رحمن )
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ،حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ اِسْحَا قَ، قَالَ: انا ابْنُ لَہْیَعَۃَ عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یَقْرَأُ وَہُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَالرُّکْنِ قَبْلَ اَنْ یَّصْدَعَ بِمَا یُوْمَرُ وَالْمُشْرِ کُوْنَ یَسْتَمِعُوْنَ فَبِاَ یِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔(۲۱)

ماخذ

(۱) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب المشی الی الجمعۃ الخ۔ قول اللّٰہ عزوجل فاسعوا الی ذکر اللّٰہ الخ۔٭مسلم، ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب استحباب اتیان الصلوٰۃ بوقار الخ۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب السعی الی الصلوٰۃ۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی المشی الی المسجد۔٭ نسائی،ج۲،کتاب الامامۃ، السعی الی الصلوٰۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب المساجد و الجماعات، باب المشی الی الصلوٰۃ۔٭موطا امام مالک ج۱، باب ماجاء فی النداء ٭مسند احمد، ج ۲، ص ۲۳۷۔ ۲۳۸۔ ۲۳۹۔ ۲۷۰۔ ۲۸۲۔ ۳۱۸۔ ۳۸۶۔ ۳۸۷۔ ۴۲۷۔ ۴۵۲۔ ۴۶۰۔ ۴۷۲۔ ۴۸۹۔ ۵۲۹۔ ۵۳۲۔ ج ۵، ص ۳۰۶۔ ۳۱۰۔٭مسند ابی عوانہ،ج۱، باب حظر السعی لاتیان المسجد۔ نسائی نے ابتدا ’’اذا اتیتم الصلوٰۃ‘‘ اوراختتام ’’فاقضوا‘‘پرکیا ہے۔٭دارمی،ج۱، باب کیف یمشی الی الصلوٰۃ۔
(۲) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب قول الرجل فاتتناالصلوٰۃ الخ۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب اتیان الصلوٰۃ بوقارو سکینۃ الخ ۔٭مسند احمد بن حنبل، ج۵، ابوقتادہ انصاریؓ۔ مسلم اور مسنداحمد میں ’’فاتکم‘‘ کی جگہ’’ماسبقکم‘‘ ہے۔٭دارمی،ج۱، باب ۵۹کیف یمشی الی الصلوٰۃ۔دارمی میں’’اذا اتیتم‘‘ سے آخر تک ہے۔٭ مسند ابی عوانہ ، ج ۲، ص ۸۳ نہی النبی عن الاستعجال الیٰ الصلوٰۃ۔
(۳) بخاری، ج۱، کتاب الاذان، باب لایسعی إلی الصلوۃ ولیأت بالسکینۃ۔
(۴) ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب السعی الی الصلوٰۃ٭کنزالعمال ج۷، ص۶۴۵ تا ۶۴۷پرمزید روایات یکجا نقل کی گئی ہیں۔
(۵) ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی المشی الی الصلوٰۃ۔
(۶) نسائی، ج۳،کتاب السہو، باب رد السلام بالا شارۃ فی الصلوٰۃ۔٭ ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الاشارۃ فی الصلوٰۃ۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۳۳۲، عن صہیب بن سنان۔
(۷) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب رد السلام بالا شارۃ فی الصلوٰۃ٭ابن ماجہ:کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب المصلی یسلم علیہ کیف یرد۔
(۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الاشارۃ فی الصلوٰۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الاشارۃ بردالسلام۔
(۹) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب رد السلام بالا شارۃ فی الصلوٰۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔
(۱۰) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب من قام الی جنب الامام لعلۃ۔کتاب الانبیاء۔ ٭ مسلم ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر من مرض الخ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی صلوٰۃ رسول اللہ ﷺ فی مرضہ۔٭مسند احمد، ج ۱، ص ۲۱۔۳۹۶۔۴۰۵، ج ۵، ص ۴۶۱۔ (قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ)۔
(۱۱) المصنف لعبد الرزاق ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب العبث فی الصلوٰۃ۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب فی مس اللحیۃ فی الصلوٰۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۲٭کنزالعمال،ج۸، عن علی العسکری فی المواعظ وفیہ زیاد بن المنذر، متروک۔٭روح المعانی، جز۱۸، ص۳، مجلد ۱۶-۱۸ سورہ مومنون زیر آیت ’’الذین ہم فی صلوٰتہم خاشعون‘‘ کے تحت بیان کرتے ہیں۔
(۱۲) بحوالہ الاحادیث الضعیفہ للألبانی، ص ۱۰۔٭ کنزالعمال، ج۳، ص۱۴۶بحوالہیٔ الحکیم عن ابی ہریرہ۔
(۱۳) الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ، ص ۱۰ حدیث نمبر ۱۱۰۔
(۱۴) ترمذی ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التخشع فی الصلوٰۃ۔
(۱۵) تفسیر روح المعانی ، جز ۱۸، سورۃ المومنون۔ زیر آیت الذین ہم فی صلوٰتہم خاشعون۔
(۱۶) بخاری،ج۲،کتاب الأیمان والنذور، باب کیف کان یمین النبی ﷺ۔ ج۱،کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف۔ ج۲،کتاب النکاح،کتاب الرقاق،٭مسلم،ج۲،کتاب الفضائل، باب توقیرہ ﷺ وتبرک اکثار سوالہ الخ اورج۱،کتاب الکسوف، ٭ترمذی، ج۲،ابواب التفسیر، اور ابواب الزہد۔٭نسائی،ج۳،کتاب الکسوف، باب نوع آخر منہ عن عائشہ۔٭ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن والبکاء۔٭موطا امام مالک، ج۱،ص ۱۵۰، العمل فی صلوٰۃ الکسوف۔٭دارمی، ج۲، کتاب الرقاق، باب لوتعلمون ما اعلم، عن انس۔٭مسند احمد، ج ۲، ص ۳۱۲، ۳۱۳، ۳۵۸، ۴۱۸، ۴۳۲، ۴۵۳، ۴۶۷، ۴۷۷، ۵۰۲۔ مسند میں ’’والذی نفس محمد بیدہ‘‘ سے آغاز کیا گیا ہے۔
(۱۷) المستدرک،ج۴، ص۵۸۹،کتاب الاہوال۔
(۱۸) بخاری،ج۱، کتاب الصلوۃ، باب عظۃ الامام الناس فی الصلوٰۃ وذکر القبلۃ۔
(۱۹) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب اقبال الامام علی الناس عند تسویۃ الصفوف٭مسلم،ج۱،کتاب الصلوۃ، باب الأمر بتحسین الصلوٰۃ واتمامہا والخشوع فیہا۔٭موطا امام مالک،ج۱، باب العمل فی جامع الصلوٰۃ، عن ابی ہریرۃ۔
(۲۰) مسند احمد، ج ۲، ص ۳۷۹ اور ج ۳، ص۲۴۰۔
(۲۱) مسند احمد، ج ۶، ص ۳۴۹۔

فصل :۱۰ عورتوں کی نماز باجماعت میں شمولیت

۵۶۔لاَ تَمْنَعُوْا اِمَآئَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ وَلٰکِنْ لِیَخْرُجْنَ وَہُنَّ تَفِلَاتٌ

تَفِلَاتٌ۔ وَاحِدُ التَّفِلَۃُ الَّتِیْ لَاطِیْبَ لَہَا (مرتب)۔
’’ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے منع نہ کرو، مگر وہ خوشبو لگاکر نہ آئیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَا عِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَا تَمْنَعُوْا اِمَآئَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ وَلٰکِنْ لِیَخْرُجْنَ وَہُنَّ تَفِلَاتٌ۔(۱)
عبداللہ بن عمر سے مروی روایت:
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَاتَمْنَعُوْا اِمَآئَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ۔(۲)
ابن ماجہ میں ابن عمر سے مروی روایت:
(۳) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: لَا تَمْنَعُوْا اِمَآئَ اللّٰہِ اَنْ تُصَلِّیْنَ فِی الْمَسْجِدِ الخ۔(۳)
بخاری میں ابن عمرؓ سے مروی روایت:
(۴) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اِذَا اسْتَأذَنَتْ اِمْرَاَۃُ اَحَدِ کُمْ فَلَا تَمْنَعْہَا۔(۴)
ـــــــ نسائی نے فَلاَ تَمْنَعْہَاکے بجائے فَلاَ یَمْنَعْہَاروایت کیا ہے۔
ابن عمرؓ سے مروی ایک اور روایت:
(۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: اِذَا اسْتَاْذَنَکُمْ نِسَآئُ کُمْ بِاللَّیْلِ اِلَی الْمَسْجِدِ فَاْذَنُوْا لَہُنَّ۔(۵)
مسلم میں ابن عمرؓ کی ایک اور روایت:
(۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِئْذِنُوْ ا لِلنِّسَآئِ بِا للَّیْلِ اِلَی الْمَسَاجِدِ۔(۶)

عورت کا خوشبو لگا کر مسجد میں آنا

۵۷۔ایک عورت مسجد سے نکل کر جارہی تھی کہ حضرت ابوہریرہؓ اس کے پاس سے گزرے اور انہوں نے محسوس کیا کہ وہ خوشبو لگائے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسے روک کر پوچھا ، ’’اے خدائے جبار کی بندی !کیا تو مسجد سے آرہی ہے؟ اس نے کہا ’’ہاں‘‘۔ بولے میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو عورت مسجد میں خوشبو لگا کر آئے اس کی نماز اس وقت تک مقبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ گھر جاکر غسل جنابت نہ کرلے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَآ سُفْیَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ عُبَیْدٍ (اللّٰہِ)مَوْلیٰ اَبِیْ رُہْمٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: لَقِیَتْہُ امْرَاَۃٌ وَجَدَ مِنْہَا رِیْحَ الطِّیْبِ (یَنْفَحُ) وَلِذَیْلِہَا اِعْصَارٌ ، فَقَالَ: یَا اَمَۃَ الْجَبَّارِ، جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، قَالَ: وَلَہُ تَطَیَّبْتِ؟ قَالَتْ : نَعَمْ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ حِبِّیْ اَبَا الْقَاسِمِ ﷺ یَقُوْلُ: لَاتُقْبَلُ صَلَاۃٌ لِامْرَاَۃٍ تَطَیّبَتْ لِہٰذَا الْمَسْجِدِ حَتّٰی تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔(۷)
۵۸۔اِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْاَۃُ فَمَرَّتْ عَلَی الْقَوْمِ لِیَجِدُوْا ریْحَہَا فَہِیَ کَذَاوَکَذَا قَالَ قَوْلًا شَدِیْدًا۔
’’جو عورت عطر لگا کر راستے سے گزرے تاکہ لوگ اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہوں تو وہ ایسی ایسی ہے۔آپ نے اس کے لیے بڑے سخت الفاظ استعمال فرمائے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ ، اَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عَمَّارَۃَ، حَدَّثَنِیْ غُنَیْمُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْاَۃُ فَمَرَّتْ عَلَی الْقَوْمِ لِیَجِدُوْا رَیْحَہَا فَہِیَ کَذَاوَکَذَاقَالَ قَوْلًا شَدِیْدًا۔(۸)
ترمذی نے متذکرہ بالا حدیث کے علاوہ ایک اور روایت بھی نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ کُلُّ عَیْنٍ زَانِیَۃٌ، وَالْمَرْاَۃُ اِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَہِیَ کَذَا وَکَذَا، یَعْنِیْ زَانِیَۃٌ۔(۹)
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ سے مروی ہے ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے حوالہ سے آپ کا ارشاد بیان کیا کہ ’’ہر آنکھ مرتکب زنا ہونے والی ہے اور جب عورت عطر لگا کر راستے سے لوگوں کے پاس سے گزرے تو وہ ایسی ایسی ہے۔‘‘ یعنی زانیہ ہے۔
مسلم اور نسائی نے زینب ثقفیہ سے ایک اور روایت نقل کی ہے:
(۳) اِنَّ زَیْنَبَ الثَّقَفِیَّۃَ کَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، اَنَّہُ قَالَ اِذَا شَہِدَتْ اِحْدَاکُنَّ الْعِشَآئَ، فَلَا تَطَیَّبْ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت زینب ثقفیہ رسول اللہ کے حوالہ سے بیان کرتی ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا : ’’جب تم عورتوں میں سے کوئی نماز عشاء میں حاضر ہو تو اس رات خوشبو نہ لگائے۔‘‘
ابودائود نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے:
(۴)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَیُّمَاامْرَاَۃٍ اَصَابَتْ بَخُوْرًا فَلَا تَشْہَدَنَّ مَعَنَاالْعِشَائَ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو عورت بخور کی خوشبو لگائے تو وہ ہمارے ساتھ نماز میں کسی صورت بھی حاضر نہ ہو۔‘‘

عورت کیسی خوشبو استعمال کرے

۵۹۔آپ کی ہدایت تھی کہ عورتوں کو وہ خوشبو استعمال کرنی چاہیے جس کا رنگ تیز ہو اور بو ہلکی ہو۔ (ابودائود)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ۔ نَا اَبُوْدَاوُدَ الْحَفْرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ الْجَرِیْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ رَجُلٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ طِیْبُ الرِّجَالِ مَا ظَہَرَ رِیْحُہُ وَخَفِیَ لَوْ نُہُ وَطِیْبُ النِّسَائِ مَا ظَہَرَ لَوْ نُہُ وَخَفِیَ رِیْحُہُ۔(۱۲)
ترجمہ: مردوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس کی بو نمایاں ہو اور رنگ پوشیدہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس کا رنگ نمایاں ہو اور بوہلکی ہو۔
ابودائود نے لمبی حدیث بیان کی ہے، اس کے آخری فقروں میں ارشاد ہے:
(۲) اَلَا وَاِنَّ طِیْبَ الرِّجَالِ مَاظَہَرَ رِیْحُہُ، وَلَمْ یَظْہَرْ لَوْنُہُ، اَلَا اِنَّ طِیْبَ النِّسَائِ مَاظَہَرَ لَوْنُہُ وَلَمْ یَظْہَرْ رِیْحُہُ۔(۱۳)
ترجمہ: ’’سنو، کہ مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو تیز ہو اور رنگ تیز نہ ہو۔ اور سنو کہ عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ تیز یعنی نمایاں ہو اور اس کی بو ہلکی ہو۔‘‘
(۳) اَ لاَ وَطِیْبُ الرِّجَالِ رِیْحٌ لَا لَوْ نَ لَہُ اَلَا وَطِیْبُ النِّسَائِ لَوْنٌ لَا رِیْحَ لَہُ ۔
ترجمہ: سنو، مردوں کی خوشبو کی بو ہوتی ہے، اس کی رنگت نہیں ہوتی ۔اور عورتوں کی خوشبو کی رنگت ہوتی ہے، بو نہیں ہوتی۔
تشریح:(مندرجہ بالا احادیث سے واضح ہے کہ رسول ﷺ نے نگاہ کے علاوہ دوسرے حواس کو مشتعل کرنے والی چیزوں سے بھی قرآن کی روشنی میں منع فرمادیا کہ یہ اظہار زینت میں شامل ہے) چنانچہ آپؐ نے عورتوں کو حکم دیا کہ (وہ) خوشبو لگا کر باہر نہ نکلیں۔
اسی طرح آپؐ نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایا کہ عورتیں بلا ضرورت اپنی آواز مردوں کو سنائیں۔ ضرورت پڑنے پر بات کرنے کی اجازت تو خود قرآن میں دی گئی ہے، اور لوگوں کو دینی مسائل خود نبی ﷺ کی ازواج مطہرات بتایا کرتی تھیں۔ لیکن جہاں اس کی نہ ضرورت ہو اور نہ کوئی دینی یا اخلاقی فائدہ ، وہاں اس بات کو پسند نہیں کیا گیا ہے کہ عورتیں اپنی آواز غیر مردوں کو سنائیں ۔ چنانچہ نماز میں اگر امام بھول جائے تو مردوں کو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہیں، مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے ایک ہاتھ تفہیم القرآن،ج ۳، النور حاشیہ: ۴۷۔پر دوسرا ہاتھ مار کر امام کو متنبہ کریں۔ اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ۔(بخاری و مسلم )
گر کوئی شخص بلا عذر مسجد میں حاضر نہ ہوا اور اپنے گھر میں نماز پڑھے تو نبی ﷺ کے قول کے مطابق اس کی نماز مقبول نہیں ہوتی۔ (ابودائود ، ابن ماجہ، دارقطنی، حاکم بروایت ابن عباس) لیکن نبی ﷺ نے عورتوں کو جمعہ کی فرضیت سے مستثنیٰ قرار دیا۔ ابودائود بروایت ام عطیہ۔ (تفہیم القرآن، ج ۳،النور ،حاشیہ: ۴۹)
۶۰۔اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روکو نہیں، اگرچہ ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَایَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ، اَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوَشَبٍ، حَدَّثَنِیْ حَبِیْبُ ابْنُ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَا تَمْنَعُوْا نِسَآئَ کُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُیُوْتُہُنَّ خیْرٌ لَّہُنَّ۔ (۱۴)
(۲) لَا تَمْنَعُوْا نِسَآئَ کُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُیُوْتُہُنَّ خَیْرٌ لَّہُنَّ۔

عورت کا مسجد کی بجائے اپنے گھر نماز پڑھنا بہتر ہے

۶۱۔ام حمید ساعد یہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہؐ مجھے آپؐ کے پیچھے نماز پڑھنے کا بڑا شوق ہے۔‘‘ فرمایا، ’’تمہارا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا برآمدے میں پڑھنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے گھر میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں پڑھنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا جامع مسجد میں پڑھنے سے بہتر ہے۔ (احمد ، طبرانی)
(تفہیم القرآن،ج ۳، النور، حاشیہ: ۴۹ )
تخریج:(۱) حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ہَارُوْنُ ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ دَاوُدُبْنُ قَیْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سُوَیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ عَمَّتِہِ اُمِّ حُمَیْدٍ اَمْرَاَۃِ اَبِیْ حُمَیْدِ نِ السَّا عِدِیِّ، اَنَّہَا جَآئَ تِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُحِبُّ الصَّلوٰۃَ مَعَکَ قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ اَنَّکِ تُحِبِّیْنَ الصَّلوٰۃَ مَعِیْ، وَصَلَاتُکِ فِیْ بَیْتِکِ خَیْرٌ لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ حُجْرَتِکِ، وَصَلَاتُکِ فِیْ حُجْرَتِکِ خَیْرٌ لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ دَارِکِ، وَصَلَاتُکِ فِیْ دَارِکِ خَیْرٌ لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ، وَصَلَاتُکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ خَیْرُلَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ مَسْجِدِیْ، قَالَ: فَاَمَرَتْ فَبُنِیَ لَہَا مَسْجِدٌ فِیْ اَقْصیٰ شَیْیٍٔ مِنْ بَیْتِہَا وَاَظْلِمِہِ فَکَانَتْ تُصَلِّیْ فِیْہِ حَتّٰی لَقِیَتِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔(۱۵)
ابودائود نے عبداللہ بن مسعود سے مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: صَلَاۃُ الْمَرْاَۃِ فِیْ بَیْتِہَا اَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِہِا فِیْ حُجْرَتِہِا، وَصَلَا تُہَا فِیْ مَخْدَعِہَا اَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِہَا فِیْ بَیْتِہَا۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ سے روایت ہے۔ انہوں نے نبی ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ ’’عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا ، اپنے برآمدے میں پڑھنے سے افضل ہے اور اس کا اپنی عقبی کوٹھڑی میں (بڑے کمرے میں جو کوٹھڑی ہوتی ہے) نماز پڑھنا اس کے اپنے ذاتی کمرے میں پڑھنے سے افضل ہے۔
۶۲۔خَیْرُ مَسَاجِدِ النِّسَائِ قَعْرُ بُیُوْتِہِنَّ۔
ترجمہ: (حضرت ام سلمہؓ کی روایت میں نبی ﷺ کے یہ الفاظ ہیں)’’کہ عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کے گھروں کے اندرونی حصے ہیں۔‘‘ (احمد، طبرانی) (تفہیم القرآن ،ج۳،النور، حاشیہ: ۴۹)
تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ غَیْلَانَ، قَالَ: ثَنَا رُشْدَیْنُ، حَدَّثَنِیْ عَمْرٌو، عَنْ اَبِی السَّمْحِ عَنِ السَّائِبِ مَوْلیٰ اُمِّ سَلَمَۃَ، عَنْ رَّ سُوْلِ اللّٰہِ ﷺ خَیْرُ مَسَاجِدِ النِّسَائِ قَعْرُ بُیُوْتِہِنَّ۔(۱۷)
۶۳۔مسجد نبوی میں حضور ﷺ نے عورتوں کے داخل ہونے کے لیے ایک الگ دروازہ مخصوص کردیا تھا۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ، ثَنَاعَبْدُالْوَارِثِ، ثَنَا اَیُّوْبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ تَرَ کْنَا ہٰذا الْبَابَ لِلنِّسَآئِ ۔ قَالَ نَافِعٌ : فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ ابْنُ عُمَرَ حَتّٰی مَاتَ۔(۱۸)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بیان فرمایا: ’’کاش ! ہم اس خاص دروازے کو عورتوں کے لیے مخصوص کردیں۔‘‘ نافع کہتے ہیں تادم زیست ابن عمر پھر کبھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوئے۔
قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: رَوَاہُ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ:قَالَ عُمَرُ، وَہٰذَا اَصَحُّ۔
۶۴۔جماعت میں عورتوں کی صفیں مردوں سے پیچھے رکھی جاتی تھیں اور نماز کے خاتمے پر حضور سلام پھیرنے کے بعد کچھ دیر توقف فرماتے تھے، تاکہ مردوں کے اٹھنے سے پہلے عورتیں اٹھ کر چلی جائیں۔ (احمد و بخاری)
(تفہیم القرآن،ج ۳، النور ، حاشیہ: ۴۹)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ قَزْعَۃَ قَالَ: حَدَّثَنآ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ ہِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَآئُ حِیْنَ یَقْضِیْ تَسْلِیْمَہُ وَیَمْکُثُ ہُوَ فِیْ مَقَامِہِ یَسِیْرًا قَبْلَ اَنْ یَّقُوْمَ، قَالَ: نَرٰی وَاللّٰہُ اَعْلَمُ اَنَّ ذٰلِکَ کَانَ لِکَیْ تَنْصَرِفَ النِّسَآئُ قَبْلَ اَنْ یُدْرِکَہُنَّ مِنَ الرِّجَالَ۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ پوری طرح سلام پھیرتے تو عورتیں اپنی جگہ سے اٹھ جاتی تھیں اور حضور ؐ اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کہ وہ اٹھ جائیں۔ راوی کہتا ہے ہمارا خیال ہے کہ حضورؐ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ عورتیں اپنی جگہ سے اٹھ جائیں قبل اس کے کہ کسی مرد سے ان کا آمنا سامنا ہو۔

مردوں اور عورتوں کے لیے بہترین صف

۶۵۔آپؐ کا ارشاد تھا کہ مردوں کی بہترین صف سب سے آگے کی صف ہے اور بدترین صف سب سے پیچھے (یعنی عورتوں سے قریب) کی صف ہے۔ اور عورتوں کی بہترین صف سب سے پیچھے کی صف ہے اور بدترین صف سب سے آگے کی (یعنی مردوں سے قریب کی ) صف ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۳، النور،حاشیہ: ۴۹)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا زُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ سُہَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ اَوَّلُہَا، وَشَرُّہَا اٰخِرُہَا، وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَآئِ اٰخِرُہَا، وَشَرُّہَا اَوَّلُہَا۔ (۲۰)
(۲) سَاَلَ رَجُلٌ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ : ہَلْ کُنَّ النِّسَآئُ یَشْہَدْنَ الصَّلوٰۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ؟ قَالَ اِیْہَا اللّٰہِ! اِذًا فَلِمَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَآئِ اَلصَّفُّ الْمُوَخَّرُ وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَآئِ اَلصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَخَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالَ اَلصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّ صُفُوفِ الرِّجَالَ اَلصَّفُّ الْمُوَخَّرُ۔
ترجمہ: ایک آدمی نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا کہ آیا عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضرہوتی تھیں تو انہوں نے جواب دیا۔ ہاں، خدا کی قسم! اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر حضورؐ کے مندرجہ ذیل ارشاد کا کیا مطلب ہے؟ ’’عورتوں کی بہترین صف، پیچھے کی صف ہے اور بدترین صف سب سے آگے کی اور مردوں کی بہترین صف سب سے آگے کی صف ہے اور بدترین صف سب سے پیچھے کی صف ہے۔‘‘

نماز عیدین میں عورتوں کی شرکت

۶۶۔عیدین کی نماز میں عورتیں شریک ہوتی تھیں، مگر ان کی جگہ مردوں سے الگ تھی اور نبی ﷺ خطبے کے بعد عورتوں کی طرف جاکر ان کو الگ خطاب فرماتے تھے۔ (ابودائود ،بخاری و مسلم ) (تفہیم القرآن،ج ۳، النور، حاشیہ: ۴۹)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: ثَنَایَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ : اُمِرْنَا اَنْ نُخْرِجَ الْحُیَّضَ یَوْمَ الْعِیْدَیْنِ وَذَوَات الْخُدُوْرِ فَیَشْہَدْنَ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَدَعْوَتَہُمْ وَتَعْتَزِلَ الحُیَّضُ عَنْ مُصَلَّاہُنَّ الخ۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت ام عطیہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ عید کے روز حائضہ عورتوں اور کنواریوں کو ساتھ لائیں کہ وہ مسلمانوں کی جماعت ، اور ان کی دعامیں موجود ہوں۔ البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رہیں۔
ترمذی نے قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ روایت نقل کرکے لکھا ہے:
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی: حَدِیْثُ اُمِّ عَطِیَّۃَ، حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ اِلیٰ ہٰذَاالْحَدِیْثِ، وَرَخّصَ لِلنِّسَآئِ فِی الْخُرُوْجِ اِلَی الْعِیْدَیْنِ، وَکَرِہَہ بَعْضُہُمْ۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ اَنَّہُ قَالَ: اَکْرَہُ الْیَوْمَ الْخُرُوْجَ لِلنِّسَآئِ فِی الْعِیْدَیْنِ۔ فَاِنْ اَبَتِ الْمَرْاَۃُ اِلَّا اَنْ تَخْرُجَ فَلْیَاْذَنْ لَہَا زَوْجُہَا اَنْ تَخْرُجَ فِیْ اَطْمَارِہَا(پرانا لباس) وَلَا تَتَزَیَّنُ فَاِنْ اَبَتْ اَنْ تَخْرُجَ کَذٰلِکَ فَلِلزَّوْجِ اَنْ یَمْنَعَہَا عَنِ الْخُرُوْجِ۔
ـــــــ امام ترمذی نے حضرت ام عطیہ سے مروی حدیث کو حسن صحیح قرار دے کر اس مسئلہ میں اہل علم کی مختلف آراء نقل کی ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کو لیا ہے اور انہوں نے نماز عیدین کے لیے عورتوں کے نکلنے کی رخصت دی ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسے ناپسند کیا ہے۔ ابن المبارک کا یہ قول منقول ہے کہ آج ( اپنے دور میں) عیدین کے لیے عورتوں کے نکلنے کو میں اچھا نہیں سمجھتا۔ البتہ اگر عورت نکلنے پر بضد ہو اور اصرار کرے تو اس کے شوہر کو اس شرط کے ساتھ اجازت دینی چاہیے کہ وہ اپنے سادہ اور پرانے لباس میں جائے گی اور زیب و زینت سے نہیں نکلے گی۔ اگر یہ شرط اسے منظور نہ ہو تو شوہر اسے روک دے۔
(۲) وَیُرْویٰ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَوْ رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا اَحْدَثَ النِّسَآئُ لَمَنَعَہُنَّ الْمَسْجِدَ کَمَا مُنِعَتْ نِسَآئُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَیُرْویٰ عَن سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ اَنَّہُ کَرِہَ الْیَوْمَ الخُرُوْجَ لِلنِّسَآئِ اِلَی الْعِیْدِ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، فرماتی ہیں: اگر رسول اللہ ﷺ وہ چیزیں ملاحظہ فرمالیتے جو عورتوں نے ایجاد کرکے اختیار کرلی ہیں تو لازماً انہیں روک دیتے۔ سفیان ثوری سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے میں عورتوں کا عید کے لیے نکلنا مکروہ قرار دیا۔

مردو عورت کی آمد و رفت کے جدا جدا راستے

۶۷۔ اِسْتَاْخِرْنَ فَاِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ اَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِیْقَ، عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْقِ ۔
ایک مرتبہ مسجد نبوی کے باہر آں حضرت ﷺ نے دیکھا کہ راستے میں مرد اور عورت سب گڈمڈ ہوگئے ہیں۔ اس پر آپ نے عورتوں سے فرمایا: ’’ٹھہر جائو، تمہارے لیے سڑک کے بیچ میں چلنا درست نہیں ہے، کنارے پر چلو‘‘۔ یہ ارشاد سنتے ہی عورتیں کنارے ہوکر دیواروں کے ساتھ چلنے لگیں۔ (ابودائود) (تفہیم القرآن، ج ۳، النورحاشیہ: ۴۹)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثَنَاعَبْدُ الْعَزِیْزِ یَعْنِیْ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْ الْیَمَانِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَبِیْ عَمْرِو بْنِ حَمَّاسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ اَبِیْ اُسَیْدِ نِ الْاَنْصَارِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ وَہُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَآئِ فِی الطَّرِیْقِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِلنِّسَآئِ اِسْتَاْخِرْنَ فَاِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ اَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِیْقَ (ای ’’لیس لکن ان تمشی فی وسطہا)‘‘ عَلَیْکُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِیْقِ فَکَانَتِ الْمَرْاَۃُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِحَتّٰی اَنَّ ثَوْبَہَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوْقِہَا بِہِ۔(۲۳)
ترجمہ: حضرت ابواسید انصاری سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد سے باہر نکلتے وقت یہ ارشاد فرماتے سنا، جب کہ مرد اور عورتیں سب ایک راستہ میں گڈ مڈ ہوگئے تھے۔ حضورؐ نے عورتوں سے فرمایا: ٹھہر جائو تمہارے لیے سڑک کے بیچ میں چلنا ٹھیک نہیں ہے۔ کنارے، کنارے چلو۔ یہ ارشاد سنتے ہی عورتیں کنارے ہوکر دیواروں کے ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔ حتیٰ کہ ان کے کپڑے دیوار سے چمٹ جاتے تھے۔
ابوداؤد نے ایک اور روایت ابن عمر سے درج ذیل الفاظ میں نقل کی ہے:
(۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ نَہٰی اَنْ یَمْشِیَ یَعْنِیْ الرَّجُلَ بَیْنَ المَرْاَتَیْنِ۔(۲۴)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔
تشریح: اسلام عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول اور مخلوط سوسائٹی (Mixed Society) کا قطعی قائل نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب عورتوں نے یہ چاہا کہ انہیں مسجد نبوی میں آکر حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے تو آپؐ نے انہیں منع تو نہیں کیا، مگر فرمایا کہ:
’’تمہارا اپنے گھر میں نماز پڑھنا میری مسجد میں آکر پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا اپنے گھر کے اندر کے کسی حجرے میںنماز پڑھنا اپنے گھر کے دالان میں پڑھنے سے بہتر ہے۔
پھر جب عورتوں نے اس شوق کا اظہار کیا کہ وہ آپؐ کے پیچھے نماز باجماعت میں شریک ہوں تو آپؐ نے صرف صبح اور عشاء کے وقت آنے کی اجازت دی۔ ان کے آنے جانے کے لیے الگ دروازہ مخصوص کردیا اور ان کے لیے مردوں کی صفوں کے پیچھے کی صفیں مقرر فرمائیں۔ اس زمانے میں صبح کی نماز ایسے وقت ختم ہوتی تھی جب نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے واپس جاتے وقت بھی اتنا اندھیرا ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو پہچانا نہیں جاسکتا تھا۔ عشاء کی نماز میں شریک ہونے کی اجازت بھی اس لیے دی گئی تھی کہ اس زمانے میں بجلی کی روشنی نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے پیچھے کی صفوں میں کھڑی ہونے والی عورتیں چھپی رہتی تھیں۔ پھرحکم یہ تھا کہ نماز ختم ہونے کے بعد مرد بیٹھے رہیں اور جب عورتیں چلی جائیں اس وقت اٹھیں۔
جس مذہب کی یہ تعلیمات ہوں اس کے متعلق پوچھنا کہ وہ عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماعات کی اجازت دیتا ہے (نہایت مضحکہ خیز بات ہے)۔ (تصریحات ،ص ۲۲۴،۲۲۵ مرتبہ سید منصور خالد)

ماخذ

(۱) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی خروج النساء الَی المسجد۔ ٭دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب۵۷ النہی عن منع النساء عن المسجد وکیف یخرجن اذا خرجن۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳٭مصنف عبدالرزاق،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب شہود النساء الجماعۃ۔٭کنزالعمال، ج ۱۶، ص ۴۱۴، حدیث ۴۵۱۷۵۔
(۲) مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب خروج النساء الَی المساجد۔ ٭ موطا امام مالک: ماجاء فی خروج النساء الی المساجد۔
(۳) ابن ماجہ، المقدمہ باب تعظیم حدیث رسول اللّٰہ ﷺ والتغلیظ علی من عارضہ۔٭مسند احمد،ج۲، ص ۱۶، ۳۶، ۱۵۱۔ ج۵، ص ۱۹۲-۱۹۳۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۳، ص ۱۳۲۔٭ مجمع الزوائد، ج ۲، ص۳۳۔٭کنزالعمال ، ج ۱۶، ص ۴۱۴۔
(۴) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب استیذان المراۃ زوجہا بالخروج الی المسجد۔٭نسائی،ج۲،کتاب المساجد، باب النہی عن منع النساء من اتیانہن المسجد۔ ٭ دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب۵۷، النہی عن منع النساء من المساجد و کیف یخرجن اذا خرجن۔ دارمی میں ’’امراۃ احد کم‘‘ کے بجائے ’’زوجتہ‘‘ ہے۔ ٭ مصنف عبدالرزاق،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب شہود النساء الجماعۃ۔
(۵) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب خروج النساء الی المساجد باللیل والغلس ۔ ٭ مسند احمد: ج ۲، ص۴۹ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی: ج ۳، ص ۱۳۲۔
(۶) مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب خروج النساء الی المساجد۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد۔٭ ترمذی:ج۱، ابواب السفر، باب فی خروج النساء الی المساجد۔
(۷) ابوداؤد،ج۴، کتاب الترجل، باب ماجاء فی المراۃ تتطیب للخروج۔ ٭نسائی:ج۸، کتاب الزینۃ، باب اغتسال المراۃ من الطیب۔ ٭ مسند احمد، ج۲، روایات ابی ہریرۃ۔٭ کنز العمال ، ج ۱۶، حدیث ۴۵۱۸۳، ابوہریرہ۔
(۸) ابوداؤد، ج۴،کتاب الترجل، باب ماجاء فی المراۃ تتطیب للخروج۔٭نسائی،ج۸، کتاب الزینۃ، باب مایکرہ للنساء من الطیب۔٭کنزالعمال، ج ۱۶، حدیث، ۴۵۰۱۰۔٭ مسند احمد، ج۴، ص ۴۰۰، ۴۱۴، ۴۱۸ ٭سنن دارمی،ج۲،باب ۱۸،کتاب الاستیذان۔
(۹) ترمذی،ج۲، کتاب الأدب: باب ماجاء فی کراہیۃ خروج المراۃ متعطرۃ۔ حدیث حسن صحیح٭ نسائی نے ’’فہی زانیۃ‘‘ نقل کیا ہے٭کنزالعمال ، ج ۱۶، حدیث نمبر ۴۵۰۱۷۔
(۱۰) مسلم،ج۱، کتاب الصلوۃ، باب خروج النساء الی المساجد الخ۔٭ نسائی،ج۸،کتاب الزینۃ، باب النہی للمراۃ ان تشہد الصلوۃ اذا اصابت من البخور۔ نسائی میں ’’فلا تمس طیباً‘‘ ہے۔٭موطا امام مالک،ج۱، باب ماجاء فی خروج النساء الی المساجد۔ موطا نے ’’فلا تمسن طیباً‘‘ روایت کیا ہے بروایت بسربن سعید ٭کنزالعمال، ج ۱۶، حدیث ۴۵۱۸۲۔
(۱۱) ابوداؤد،ج۴، کتاب الترجل، باب ماجاء فی المراۃ تتطیب للخروج۔٭ مسلم: ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب خروج النساء الی المساجد الخ۔٭نسائی،ج۸، کتاب الزینۃ، باب النہی للمرأۃ أن تشہد الصلوٰۃ اذا اصابت من البخور۔٭کنز العمال ج۱۶، ص ۴۱۵، حدیث، ۴۵۱۸۱۔
(۱۲) ترمذی،ج۲،کتاب الأدب: باب ماجاء فی طیب الرجال والنساء۔ ٭ نسائی،ج۸، کتاب الزینۃ، باب الفصل بین طیب الرجال وطیب النساء، عن ابی ہریرۃ۔
(۱۳) ابوداؤد،ج۲،کتاب النکاح، باب مایکرہ من ذکر الرجل یکون من اصابتہ اہلہ۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص۴۴۲۔ عمران بن حصین۔
(۱۴) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوۃ، باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد۔ ٭ مسند احمد، ج ۲، ص ۷۶ روایات ابن عمرؓ ۔٭ المستدرک، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب لا تمنعوا نساء کم المساجد الخ۔٭ السنن الکبریٰ، ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب خیر مساجد النساء قعر بیوتہن۔٭ مسند احمد، ج ۲، ص۱۶ پر حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے ’’لاتمنعوا امآء اللّٰہ مساجد۔‘‘
(۱۵) مسند احمد، ج ۶، ص ۳۷۱، مرویات ام حمید الساعدیہ۔
(۱۶) ابوداود،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التشدید فی ذالک۔٭المستدرک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب لاتمنعوا نساء کم المساجد الخ۔ ٭کنز العمال، ج ۱۶، حدیث ۴۵۱۸۸۔ ٭ السنن الکبریٰ، ج ۳، ص۱۳۱۔
(۱۷) مسند احمد، ج۶، ص ۲۹۷، مرویات ام سلمہ۔ ٭ المستدرک ، ج ۱، ص۲۰۹٭کنزالعمال، ج۱۶، حدیث نمبر ۴۵۱۸۶۔ ٭السنن الکبریٰ ، ج ۳، ص ۱۳۱۔ ٭ مجمع الزوائد، ج ۲، ص ۳۳، عن ام سلمہ۔
(۱۸) ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف وإقامتھا وفضل الاول فالأول منھا الخ ( باب التشدید فی ذالک)۔
(۱۹) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب صلوٰۃ النساء خلف الرجال۔ ٭ مسند احمد، ج۶، ص ۲۹۶ مرویات ام سلمہ۔
(۲۰) مسلم،ج۱، کتاب الصلوۃ، باب امر النساء المصلیات وراء الرجال الخ۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوۃ، باب صف النساء وکراہیۃ التاخر عن الصف الاول۔٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوۃ، باب ماجاء فی فضل الصف الاول۔ ٭نسائی ج۲،کتاب الامامۃ الخ، باب ذکر خیر صفوف النساء وشرصفوف الرجال۔٭ابن ماجہ: ابواب اقامۃ الصلوات، باب صفوف النساء ۔٭ مصنف عبدالرزاق،ج۳،کتاب الصلوۃ، باب شہود النساء الجماعۃ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب مایستحب للمراۃ من ترک التجافی فی الرکوع والسجود۔ عن ابی سعید خدری۔ صرف پہلا جز نقل کیا ہے۔
(۲۱) بخاری،ج۱،کتاب الصلوۃ، باب وجوب الصلوۃ فی الثیاب وقول اللّٰہِ خذوا الخ۔ ٭ مسلم،ج۱، کتاب العیدین، فصل فی اخراج العواتق وذوات الخدور والحیض الی العید٭ ابوداؤد، ج۱، باب فی خروج النساء فی العید۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب العیدین، باب فی خروج النساء فی العیدین ٭ نسائی،ج۳،کتاب صلوٰۃ العیدین، خروج العواتق وذوات الخدور فی العیدین۔ عن ام عطیہ قدرے لفظی اختلاف) ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی خروج النساء فی العیدین۔
(۲۲) السنن الکبریٰ: ج ۳، ص ۱۳۳۔
(۲۳) ابوداؤد،ج۴،کتاب الادب، باب فی مشی النساء مع الرجال فی الطریق ۔٭کنزالعمال، ج ۱۶، حدیث نمبر ۴۵۰۳۶۔
(۲۴) ابوداؤد،ج۴،کتاب الادب، باب فی مشی النساء مع الرجال فی الطریق۔

فصل :۱۱ وہ اوقات جن میں نماز پڑھنا شرعاً ممنوع ہے

۶۸۔صَلِّ صَلوٰۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ اقْصِرْعَنِ الصَّلوٰۃِ حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتّٰی تَرْتَفِعَ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ حِیْنَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَی الشَّیْطٰنِ وَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہُ الْکُفَّارُ ۔
’’صبح کی نماز پڑھو اور جب سورج نکلنے لگے تو نماز سے رک جائو، یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے۔ کیونکہ سورج جب نکلتا ہے تو شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج ۲، بنی اسرائیل، حاشیہ: ۹۵)
۶۹۔ثُمَّ اقْصِرْعَنِ الصَّلوٰۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَاِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَی الشَّیْطٰنِ وَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ ۔ (مسلم)
’’آپؐ نے عصر کی نماز کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ’’ پھر نماز سے رک جائو یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ اَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقَرِیُّ، قَالَ : نَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ : نَا عِکْرِ مَۃُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: نَا شَدَّادُ۔ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اَبُوْ عَمَّارٍ وَیَحْیٰ بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ عِکْرِمَۃُ: وَلَقِیَ شَدَّا دٌ اَبَا اُمَامَۃَ وَوَاثَلَۃَ وَصَحِبَ اَنَسًا اِلَی الشَّامِ وَاَثْنیٰ عَلَیْہِ فَضْلًا وَخَیْرًا، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُ وبْنُ عَبَسَۃَ السُّلَمِیُّ: کُنْتُ وَاَنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ اَظُنُّ النَّاسَ عَلیٰ ضَلَالَۃٍ وَاَنَّہُمْ لَیْسُوْا عَلیٰ شَیْیٍٔ وَہُمْ یَعْبُدُوْنَ الْاَوْثَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُ اَخْبَارًا فَقَعَدْتُّ عَلیٰ رَاحِلَتِیْ فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُسْتَخْفِیاً جُرَاٰئُ عَلَیْہِ قَوْمُہُ فَتَلَطَّغْتُ حَتّٰی دَخَلْتُ عَلَیْہِ بِمَکَّۃَ، فَقُلْتُ لَہُ: مَا اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَا نَبِیٌّ، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِیٌّ؟ قَالَ: اَرْسَلَنِی اللّٰہُ، فَقُلْتُ: بِاَیِّ شَیْئٍ اَرْسَلَکَ؟ قَالَ : اَرْسَلَنِیْ بِصِلَۃِ الْاَرْحَامِ وَکَسْرِ الْاَوْثَانِ وَاَنْ یُّوَحِّدَ اللّٰہَ لَا یُشْرَکُ بِہِ شَیْٔ، قُلْتُ لَہُ: فَمَنْ مَّعَکَ عَلیٰ ہٰذَا؟ قَالَ: حُرٌّ وَّعَبْدٌ، قَالَ: وَمَعَہُ یَوْمَئِذٍ اَبُوْ بَکْرٍ وَبِلَالٌ مِّمَنْ اٰمَنَ بِہِ، فَقُلْتُ: اِنِّیْ مُتَّبِعُکَ قَالَ: اِنَّکَ لَاتَسْتَطِیْعُ ذٰلِکَ یَوْمُکَ ہٰذَا اَلَا تَرٰی حَالِیْ وَحَالَ النَّاسِ وَلٰکِنِ ارْجِعْ اِلیٰ اَہْلِکَ فَاِذَا سَمِعْتَ بِیْ قَدْ ظَہَرْتُ فَأْتِنِیْ، قَالَ: فَذَہَبْتُ اِلیٰ اَہْلِیْ وَقَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَکُنْتُ فِیْ اَہْلِیْ فَجَعَلْتُ اَتَخَبَّرُ الْاَخْبَارَ وَاَسْئَالُ النَّاسَ حِیْنَ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ حَتّٰی قَدِمَ عَلَیَّ نَفَرٌ مِنْ اَہْلِ یَثْرِبَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ؟ فَقَالُوْا: النَّاسُ اِلَیْہِ سِرَاعٌ وَقَدْ اَرَادَ قَوْمُہُ قَتْلَہُ فَلَمْ یَسْتَطِیْعُوْا ذٰلِکَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتَعْرِفُنِیْ ؟ قَالَ : نَعَمْ اَنْتَ الَّذِیْ لَقِیْتَنِیْ بِمَکَّۃَ، قَالَ: فَقُلْتُ بَلیٰ فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اَخْبِرْنِیْ عَمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ وَاَجْہَلُہُ، اَخْبِرْنِیْ عَنِ الصَّلوٰۃِ، قَالَ: صَلِّ صَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلوٰۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتّٰی تَرْتَفِعَ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ حِیْنَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَی شَیْطَانٍ وَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُلَہَا الْکُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَاِنَّ الصَّلوٰۃَ مَشْہُوْدَۃٌ مَحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی یَسْتَقِلَّ الظِلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ اَقْصِرْعَنِ الصَّلوٰۃِ فَاِنَّ حِیْنَئِذٍ تُسْجَرُ جَہَنَّمُ فَاِذَا اَقْبَلَ الْفَـْیُٔ فَصَلِّ فَاِنَّ الصّلَاۃَ مَشْہُوْدَۃٌ مَحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلوٰۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَاِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَی شَیْطَانٍ وَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ قَالَ: فَقُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ فَالْوُضُوْئُ حَدِّثْنِیْ عَنْہُ، قَالَ: مَامِنْکُمْ رَجُلٌ یُقَرِّبُ وَضُوْئَ ہُ فَیُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ فَیَنْتَثِرُ اِلَّاخَرَّتْ خَطَایَا وَجْہِہِ وَفِیْہِ وَخَیَاشِیْمِہِ، ثُمَّ اِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ کَمَا اَمَرَہُ اللّٰہُ اِلَّا خَرَّتْ خطَایَا وَجْہِہِ مِنْ اَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَآئِ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ اِلَّا خَرَّتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ اَنَامِلِہِ مَعَ الْمَآئِ ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَایَا رَاْسِہِ مِنْ اَطَرَافِ شَعْرِ ہِ مَعَ الْمَآئِ ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ اِلَّا خَرَّتْ خَطَایَا رِجْلَیْہِ مِنْ اَنَامِلِہِ مَعَ الْمَآئِ فَاِنْ ہُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَمَجَّدَہُ بِالَّذِیْ ہُوَ لَہُ اَہْلٌ وَفَرَغَ قَلْبُہُ لِلّٰہِ اِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِیْئَتہِ کَہَیْئتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ اُمَّہُ الخ۔(۱)
ترجمہ:’’حضرت عمرو بن عَبَسہ سلمی بیان کرتے ہیں کہ دور جاہلیت میں، میں سمجھتا تھا کہ لوگ گم کردہ راہ ہیں ، ضلالت میں پڑے ہوئے ہیں، ان کا کوئی دین و مذہب نہیں، بت پرست ہیں۔ میں نے سنا کہ مکہ میں ایک ایسا آدمی ہے جو بڑی عظیم اور عجیب خبریں بتاتا ہے۔ لہٰذا میں اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کے پاس پہنچ گیا۔ آپؐ چھپے ہوئے تھے۔ قوم آپؐ پر جری ہوگئی تھی۔ پس میں حیلہ کرکے مکہ میں آپؐ کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ میں نے آپؐ سے پوچھا آپؐ کیا ہیں؟ حضوؐر نے جواب میں ارشاد فرمایا، ’’میں نبی ہوں‘‘۔ میں نے اس پر پھر پوچھا کہ ’’نبی کیا ہوتاہے؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔‘‘ میں نے پھر پوچھا ’’کون سی چیز دے کر آپؐ کو بھیجا ہے؟ ‘‘آپؐ نے فرمایا، ’’مجھے صلہ رحمی، بتوں کو توڑنے اور توحید خالص ــــــ یعنی اس کے ساتھ کسی شے کو شریک و ساجھی نہ بنایا جائے ــــــ کی دعوت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘ میں نے پھر پوچھا ’’اس آواز و دعوت پر آپؐ کا ساتھ کس نے دیا ہے؟‘‘ فرمایا، ’’آزاد اور ایک غلام نے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ’’ان دنوں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ آپؐ پر ایمان لانے والوں میں تھے۔‘‘ یہ سن کر میں نے عرض کیا ’’میں بھی آپؐ کی اتباع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ فرمایا، میرا اور میرے رفقاء کا حال تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کن مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لہٰذا تم اپنے وطن، اپنے اہل و عیال کے پاس واپس لوٹ جائو۔ جب تجھے یہ خبر ملے کہ میں غالب آگیا ہوں تو میرے پاس آجانا۔ تعمیل ارشاد کرتے ہوئے میں اپنے گھر واپس چلا آیا۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں جلوہ افروز ہوگئے۔ میں ان دنوں اپنے اہل و عیال میں گھر ہی پر تھا اورنئی اطلاعات کی ٹوہ میں رہتا تھا۔ آپؐ کی مدینہ تشریف آوری کے متعلق لوگوںسے پوچھتا رہتا تھا حتیٰ کہ اہل مدینہ یعنی یثرب کے کچھ لوگ میرے پاس آئے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ مدینہ میں تشریف لانے والے نے کیا کیا ہے؟ وہ بولے کہ لوگ اس کی طرف لپک لپک کر جا رہے ہیں حالانکہ اس کی اپنی قوم کے لوگوں نے اسے قتل کرنا چاہا تھا، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے بعد میں خود مدینہ میں آیا اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپؐ نے مجھے پہچانا؟ فرمایا، ’’ہاں تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔‘‘ میں نے عرض کیا، ’’جی ہاں‘‘ (حضوؐر میں وہی ہوں) ۔ پھر میں نے عرض کیا ، ’’اے رسول الٰہی !مجھے وہ کچھ سکھائیں، جس کی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تعلیم دی ہے، مجھے اس کا علم نہیں ہے۔‘‘ ایک تو مجھے نماز کے متعلق ارشاد فرمائیں۔فرمایا، صبح کی نماز پڑھ کر رک جائو، حتیٰ کہ سورج پوری طرح نکل کر بلند ہوجائے۔ کیونکہ وہ طلوع ہوتے وقت شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھو یہ ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جسے شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے۔ یہ عمل استواء کے وقت تک ہے۔ استواء کے وقت رک جائو کیونکہ اس وقت آتش جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جب زوال ہوجائے تو نماز پڑھ لو۔ یہ نماز بھی ایسی ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور شرف قبولیت اسے حاصل ہوتا ہے۔ یہ عمل نماز عصر پڑھنے تک جاری رکھا جاسکتا ہے۔ نماز عصر پڑھ چکنے کے بعد غروب آفتاب تک رکے رہو۔ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت بھی کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر میں نے عرض کیا، حضورؐ مجھے وضو کے متعلق بھی کچھ ارشاد فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک اپنا وضو کا برتن اپنے قریب نہیں کرتا، پھر کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا پھر اسے جھاڑتا ہے مگر اس کے چہرے ، منہ اور ناک کے اندر کی رگوں سے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنا چہرہ نہیں دھوتا ، مگر اس کے چہرہ، یعنی داڑھی کے اطراف سمیت پانی کے آخری قطرے کے ساتھ سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ کہنیوں تک اپنے بازو نہیں دھوتا کہ اس کے ہاتھ کی انگلیوں کے پور تک کے گناہ پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے سر کا مسح نہیں کرتا، مگر اس کے سر کے بالوں کے اطراف سے سارے گناہ پانی کے ساتھ جھڑجاتے ہیں۔ پھر وہ ٹخنوں تک اپنے پائوں نہیں دھوتا، مگر اس کے پائوں کی انگلیوں کے پور تک کے گناہ پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتے ہیں۔ پھر اگر اس نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ،اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور اس کی بزرگی بیان کی، جس کا وہ اہل اور لائق ہے اور اپنے دل کو محض اللہ کے لیے فارغ کرلیا ، تو اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور وہ اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے کہ گویا ابھی اس نے شکم مادر سے جنم لیا ہے۔
(۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعَوُا الصَّلوٰۃَ حَتّٰی تَبْرُزَ وَاِذَاغَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعَوُ ا الصَّلوٰۃَ حَتّٰی تَغِیْبَ، وَلَا تَحَیَّنُوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَہَا فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ اَوِالشَّیْطَانِ۔ لَا اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَ ہِشَامٌ۔(۲)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوجائے تو نماز پڑھنا چھوڑ دیا کرو تاآنکہ اچھی طرح ظاہر ہو جائے۔ نیز جب سورج کا ایک کنارہ ڈوب جائے تو بھی نماز پڑھنا بند کردیا کرو یہاں تک کہ وہ اچھی طرح چھپ جائے۔ اور طلوع شمس اور غروب کے اوقات میں نماز کا ارادہ نہ کیا کرو، کیونکہ ان اوقات میں سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔‘‘
(۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: سَاَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ سَائِلُکَ عَنْ اَمْرٍ اَنْتَ بِہ عَالِمٌ وَاَنَابِہ جَاہِلٌ، قَالَ: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: ہَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سَاعَۃٌ تُکْرَہُ فِیْہَا الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ اِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلوٰۃَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بِقَرْنَیِ الشَّیْطَانِ۔ ثُمَّ صَلِّ فَالصَّلَاۃُ مَحْضُوْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تَسْتَوِیَ الشَّمْسُ عَلٰی رَاْسِکَ کَالرُّمْحِ۔ فَاِذَا کَانَتْ عَلٰی رَاْسِکَ کَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلوٰۃَ۔ فَاِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ تُسْجَرُ فِیہَا جَہَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِیْہَا اَبْوَابُہَا۔ حَتّٰی تَزِیْغَ الشَّمْسُ عَنْ حَاجِبِکَ الْاَیْمَنِ۔ فَاِذَا زَالَتْ فَالصَّلَاۃُ مَحْضُوْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ۔ ثُمَّ دَعِ الصَّلوٰۃَ حَتّٰی تَغِیْبَ الشَّمْسُ۔(۳)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، حضرت صفوان بن معطل نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے رسول الٰہی! میں آپؐ سے اس امر کے متعلق پوچھنے والا ہوں جس کا آپ کو علم ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا، آپ یہ ارشاد فرمائیں کہ شب و روز میں کوئی ایسی گھڑی بھی ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو؟ ‘‘ فرمایا، ’’ہاں‘‘ ۔ جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو پھر طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھو ، کیونکہ اس وقت سورج شیطان کے سینگوں کے ساتھ نکلتا ہے۔ پھر نماز پڑھو کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اسے شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سورج چڑھ کر نیزے کی طرح سیدھا تمہارے سر پر آجائے۔ تو اس وقت بھی نماز چھوڑ دو کیونکہ اس وقت آتش جہنم کو خوب بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ یہ وقت تمہارے دائیں جانب سورج کے ڈھلنے تک رہتا ہے۔ پس جب وہ زوال پذیر ہوجائے تو پھر نماز پڑھ ،یہ نماز وہ نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اسے شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے۔ یہ وقت تمہارے نماز عصر پڑھنے تک ہے پھر نماز چھوڑ دو حتیٰ کہ سورج غروب ہوجائے۔
(۴) عَنْ عَمْرِ وبْنِ عَبَسَۃَ، قَالَ : اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ،فَقُلْتُ: ہَلْ مِنْ سَاعَۃٍ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اُخْریٰ ؟ قَالَ: نَعَمْ، جَوْفُ اللَّیْلِ الْاَوْسَطُ۔ فَصَلِّ مَا بَدَالَکَ حَتّٰی یَطْلُعَ الصُّبْحُ ثُمَّ انْتَہِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَمَا دَامَتْ کَاَنَّہَا حَجَفَۃٌ حَتّٰی تُبَشْبِشَ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَالَکَ حَتّٰی یَقُوْمَ الْعَمُوْدُ عَلیٰ ظِلِّہِ، ثُمَّ انْتَہِ حَتّٰی تَزِیْغَ الشَّمْسُ فَاِنَّ جَہَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّہَارِ۔ ثُمَّ صَلِّ مَابَدَالَکَ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ۔ ثُمَّ انْتَہِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَاِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ وَتَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَی الشَّیْطَانِ۔(۴)
ترجمہ: حضرت عمرو بن عَبَسہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوکر پوچھا کہ کوئی ایسی گھڑی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کو دوسری گھڑی کے بہ نسبت زیادہ محبوب و پسندیدہ ہو؟ حضورؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا، ’’رات کا درمیانی حصہ۔ پس جتنی نماز پڑھ سکتے ہو، پوپھٹنے تک پڑھتے رہو، پھر طلوع آفتاب تک رک جائو۔‘‘ اس وقت سورج ڈھال کی طرح نظر آتا ہے حتیٰ کہ وہ پورا کشادہ رونظر آنے لگتا ہے۔ تو پھر اس وقت تک جتنی نماز پڑھ سکتے ہو، پڑھو کہ ستون اپنے اصلی سایہ پر کھڑا ہوجائے ،یعنی وقت استواء تک۔ پھر رک جائو کہ سورج مائل بہ زوال ہوجائے۔ کیونکہ عین زوال یعنی نصف النہار کے وقت آتش جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جتنی نماز پڑھ سکتے ہو، پڑھو حتیٰ کہ نماز عصر پڑھ لو۔ پھر رک جائو اور مغرب تک رکے رہو کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان میں غروب ہوتا اور شیطان کے سینگوں کے درمیان میں سے ہی طلوع کرتا ہے۔
(۵) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: قَالَ نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ صَلَاتَیْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔(۵)
ترجمہ : ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر کے بعد جب تک سورج اچھی طلوع نہ ہوجائے اور نماز عصر کے بعد جب تک سورج غروب نہ ہوجائے، نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘

بخاری میں اس سلسلہ کی چند روایات:

ابن عباسؓ سے مروی روایت:
(۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَہِدَعِنْدِی رِجَالٌ مَرْضیُّوْنَ وَاَرْضَاہُمْ عِنْدِیْ عُمَرُ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ نَہٰی عَنِ الصَّلوٰۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تُشْرِقَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ۔(۶)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ بعض صحابہ جو نہایت پسندیدہ تھے اور ان میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت حضرت عمرؓ کی تھی، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
ابن عمرؓ سے مروی روایت:
(۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَہَا، وَقَالَ:حَدَّثَنِی ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَاَخِّرُوا الصَّلوٰۃَ حَتّٰی تَرْ تَفِعَ وَاِ ذَاغَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَاَخِّرُوا الصّلَاۃَ حَتّٰی تَغِیْبَ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب دونوں اوقات میں نماز پڑھنے کی کوشش نہ کیا کرو۔ ابن عمر نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بیان کیا ۔ فرمایا، ’’جب سورج کا کنارہ نظر آئے تو اس کے اچھی طرح بلند ہونے تک نماز کو موخر کیے رکھو اور اسی طرح جب سورج کا کنارہ چھپ جائے تو اس کے اچھی طرح ڈوب جانے تک نماز کو موخر کیے رکھو۔
ابو سعید خدریؓ سے مروی روایت:
(۸) یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لَا صَلَاۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغِیْبَ الشَّمْسُ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، ارشاد فرمارہے تھے کہ ’’نماز صبح کے بعد اس وقت تک اور کوئی نماز نہیں، جب تک کہ سورج اچھی طرح بلند نہ ہوجائے اور اسی طرح نماز عصر کے بعد اور کوئی نماز نہیں، جب تک کہ سورج اچھی طرح غروب نہ ہوجائے۔‘‘
تشریح: اللہ تعالیٰ نے نماز کا یہ نظام مقرر کرنے میں جو مصلحتیں ملحوظ رکھی ہیں، ان میں سے ایک اہم مصلحت یہ بھی ہے کہ آفتاب پرستوں کے اوقات عبادت سے اجتناب کیا جائے۔ آفتاب ہر زمانے میں مشرکین کا سب سے بڑا، یا بہت بڑا معبود رہا ہے اور اس کے طلوع و غروب کے اوقات خاص طور پر ان کے اوقات عبادت رہے ہیں ، اس لیے ان اوقات میں تو نماز پڑھنا حرام کر دیا گیا ۔ اس کے علاوہ آفتاب کی پرستش زیادہ تر اس کے عروج کے اوقات میں کی جاتی رہی ہے، لہٰذا اسلام میں حکم دیا گیا کہ تم دن کی نمازیں زوال آفتاب کے بعد پڑھنی شروع کرو اور صبح کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لیا کرو۔ اس مصلحت کو نبی ﷺ نے خود متعدد احادیث میں بیان فرمایا ہے۔
(مندرجہ بالا احادیث) میں سورج کا شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہونا ایک استعارہ ہے۔ یہ تصور دلانے کے لیے کہ شیطان اس کے نکلنے اور ڈوبنے کے اوقات کو لوگوں کے لیے ایک فتنہ عظیم بنا دیتا ہے۔ گویا جب لوگ اس کو نکلتے اور ڈوبتے دیکھ کر سجدہ ریز ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیطان اسے اپنے سر پر لیے ہوئے آیا ہے۔ اور سر ہی پر لیے جارہا ہے۔ اس استعارے کی گرہ حضورؐ نے خود اپنے اس فقرے میں کھول دی ہے کہ ’’اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔‘‘

نیندکے غلبے کے وقت نماز کا حکم

۷۰۔نبی ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ جب کسی شخص پر نیند کا غلبہ ہورہا ہو اور وہ نماز پڑھنے میں بار بار اونگھ جاتاہو تو اسے نماز چھوڑ کر سوجانا چاہیے۔
حضرت عائشہ سے مروی روایت:
تخریج:(۱) عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ : اِذَا نَعَسَ اَحَدُکُمْ وَہُوَ یُصَلِّیْ فَلْیَرْقُدْ حَتّٰی یَذْہَبَ عَنْہُ النَّوْمُ فَاِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا صَلَّی وَہُوَ نَاعِسٌ لَا یَدْرِیْ لَعَلَّہُ یَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہُ۔(۸)
ترجمہ: حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ’’تم میں سے جب کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھ جائے تو اسے اس وقت تک سوجانا چاہیے جب تک نیند کا غلبہ اس سے دور نہ ہوجائے۔ کیونکہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھتے ہوئے اونگھ رہا ہو، تو اسے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ شاید وہ استغفار کررہا ہے کہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہے۔
بخاری میں حضرت انس سے روایت ہے:
(۲) اِذَا نَعَسَ فِی الصَّلوٰۃِ فَلْیَنَمْ حَتّٰی یَعْلَمَ مَا یَقْرَاُ۔(۹)
ترجمہ: حضرت انس فرماتے ہیں، اگر نماز میں اونگھ آجائے تو اسے اس وقت تک سوجانا چاہیے کہ اسے اپنی قراء ت کا علم تو ہو (کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے) ۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُہَیْبٍ،عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ فَاِذَا حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ، فَقَالَ مَا ہٰذَا الْحَبْلُ؟ قَالُوْا ہٰذَا حَبْلٌ لِزَیْنَبَ، فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ : لَاحُلُّوْہُ لِیُصَلِّ اَحَدُ کُمْ نَشَاطَہُ فَاِذَا فَتَرَ فَلْیَقْعُدْ۔(۱۰)
تشریح:بعض لوگ (قرآن مجید کی) اس آیت یٰٓاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوْا الصَّلوٰۃَ وَاَنْتُمْ سُکَاریٰ حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (النساء: ۴۳) سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جوشخص نماز کی عربی عبارات کا مطلب نہیں سمجھتا اس کی نماز نہیں ہوتی، لیکن یہ ایک بے جاتشدد ہے (مطلب یہ ہے کہ) آدمی کو نماز میں اتنا ہوش رہنا چاہیے کہ وہ یہ جانے کہ وہ کیا چیز اپنی زبان سے ادا کررہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کھڑا تو ہو نماز پڑھنے اور شروع کردے کوئی غزل۔ (تفہیم القرآن ، ج ۱، النساء ،حاشیہ : ۶۶)

ماخذ

(۱) مسلم،ج۱، کتاب فضائل القرآن و ما یتعلق بہ، باب الأوقات التی نہی عن الصلوٰۃ فیہا۔٭ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من رخص فیہما اذا کانت الشمس مرتفعۃ (مختصراً)۔٭ نسائی،ج۱، کتاب المواقیت، اباحۃ الصلوٰۃ الیٰ ان یصلی الصبح۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۱۱۱۔ عمرو بن عَبَسہ، مختصرًا۔
(۲) بخاری،ج۱،کتاب بدا الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ۔ ٭ مسلم، ج ۱، کتاب المساجد، باب اوقات الصلوات الخمس۔ اس میں ہے ’’فامسک عن الصلوٰۃ فانہا تطلع بین قرنی الشیطان۔‘‘
(۳) ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الساعات التی تکرہ فیہا الصلوٰۃ۔
(۴) ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الساعات التی تکرہ فیہا الصلوٰۃ۔
(۵) بخاری،ج۱، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب لا یتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس۔٭ مسلم،ج۱، کتاب فضائل القرآن، باب الاوقات التی نہی عن الصلوٰۃ فیہا۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ عن رسول اللّٰہِﷺ، باب ماجاء فی کراہیۃ الصلوٰۃ بعد العصر وبعد الفجر۔ ٭نسائی، ج۱،کتاب المواقیت، باب الساعات التی نہی عن الصلوٰۃ فیہا۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب النہی عن الصلوٰۃ بعد الفجر وبعد العصر۔
(۶) بخاری،ج۱، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ بعد الفجر الخ۔ ٭مسلم، ج۱، کتاب فضائل القرآن، باب الاوقات التی نہی عن الصلوٰۃ فیہا۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ۔ ابن ماجہ میں’’وفیہم عمر بن الخطاب‘‘ بھی ہے۔ ٭نسائی،ج۱، کتاب المواقیت، باب النہی عن الصلوٰۃ بعد الصبح۔
(۷) بخاری:ج۱، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب لاتتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس۔٭مسلم،ج۲،کتاب فضائل القرآن ومایتعلق بہ، باب الاوقات التی نہی عن الصلوٰۃ۔٭نسائی،ج۱،کتاب المواقیت، باب النہی عن الصلوٰۃ بعد العصر ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ و سننہا، باب النہی عن الصلوٰۃ بعد الفجر وبعدالعصر۔
(۸) بخاری،ج۱،کتاب الوضوء، باب الوضوء من النوم ومن لم یرمن النعسۃ والنعستین او الخفقۃ وضوء۔٭مسلم،ج۱، کتاب المسافرین و قصرہا، باب امر من نعس فی صلا تہ۔
(۹) بخاری حوالہ متذکرہ بالا۔ ٭ ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ، ابواب التطوع، باب النعاس فی الصلوٰۃ۔٭ترمذی، ج۱، ابوب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الصلوٰۃ عند النعاس، حدیث حسن صحیح۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ وسننہا، باب ماجاء فی المصلی اذا نعس۔٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب کراہیۃ الصلوٰۃ للناعس٭موطاامام مالک: باب صلوٰۃ اللیل٭مسند احمد ج۲ص۵۶-۲۰۲-۲۰۵-۲۵۹ ان مقامات پر مندرجہ ذیل الفاظ منقول ہیں۔ ’’لایدری لعلہ یستغفر فیسب نفسہ۔‘‘
(۱۰) بخاری،ج۱،کتاب التہجد، باب مایکرہ من التشدید فی العبادۃ۔٭مسلم،ج۱،کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصر ہا، باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل۔٭ ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، ابواب قیام اللیل٭نسائی ، ج۳ ٭ ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی المصلی اذا نعس۔

فصل: ۱۲ آداب نماز لوگوں کو پھاند کر آگے بڑھنے کی ممانعت

۷۱۔حضور ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کے اوپر سے پھاندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ آپؐنے پکارکر فرمایا ’’بیٹھ جائو، تم نے لوگوں کو تکلیف دی۔ (تفہیمات دوم،نماز اور۔۔۔: چند خطب ماثورہ)
تخریج : حَدَّثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ، ثَنَا بِشْرُبْنُ السِّرِّیِّ، ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ اَبِی الزَّاہَوَیْہِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِیِّ ﷺ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَجَآئَ رَجُلٌ یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُسْرٍ:جَائَ رَجُلٌ یَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ: اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ۔(۱)
ترجمہ: حضرت ابوزاہویہ سے روایت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جمعہ کے روز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھی عبداللہ بن بسر کے ساتھ تھا۔ اتنے میں ایک آدمی لوگوں کے اوپر سے ان کی گردنیں پھاندتا ہوا آگے بڑھا۔ اس پر عبد اللہ بن بسر نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ)ایک آدمی لوگوں کے اوپر سے ان کی گردنیں پھاندتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ حضور ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔ اسی حالت میں آپؐ نے اسے پکار کر فرمایا۔ ’’بیٹھ جائو، تم نے لوگوں کو تکلیف دی۔‘‘

نماز میں حرکت کرنا

۷۲۔نبی ﷺ ایک مرتبہ اس حال میں نماز پڑھارہے تھے کہ آپؐ کے کندھے پر ایک بچی (امامہ بنت ابی العاص، یہ نبیﷺ کی نواسی تھیں۔ حضرت زینب بنت رسول اللہؐ کی بیٹی) بیٹھی ہوئی تھی۔ آپؐ جب رکوع میں جاتے تو اس کو اتاردیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے پھر کندھے پر بٹھا لیتے۔ ( تفہیمات دوم:نماز میں۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: اَنَا مَالِکٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَمْرِ وبْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ، عَنْ اَبِی قَتَادَہَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّیْ وَہُوَ حَامِلٌ اُمَامَۃَ بِنْتَ زَیْنَبَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَلِاَبِیْ الْعَاصِ ابْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ ، فَاِذَا سَجَدَ وَضَعَہَا وَاِذَا قَامَ حَمَلَہَا۔(۲)
ابودائود نے حضرت ابوقتادہ کے واسطہ سے درجہ ذیل روایت بھی نقل کی ہے:
(۲) بَیْنَا نَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ جُلُوْسٌ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَحْمِلُ اُمَامَۃَ بِنْتَ اَبِیْ الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِیْعِ، وَاُمُّہَا زَیْنَبُ بِنْتُ رُسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہِیَ صَبِیَّۃٌ، یَحْمِلُہَا عَلیٰ عَاتِقِہِ، فَصَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَہِیَ عَلَی عَاتِقِہِ۔ یَضَعُہَا اِذَارَکَعَ وَیُعِیْدُہَا اِذَا قَامَ، حَتّٰی قَضٰی صَلَاتَہُ یَفْعَلُ ذٰلِکَ بِہَا۔(۳)
ترجمہ: ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ایسی حالت میں تشریف لائے کہ امامہ بنت ابی العاص رسول اللہ ﷺکی لخت جگر حضرت زینب کی صاحبزادی کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ ابھی بچی ہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تو یہ آپؐ کے کندھوں پر سوار تھی۔ رکوع کرتے وقت اسے اتاردیتے پھر جب قیام فرماتے تو اسے اٹھالیتے۔ اسی عمل کی تکرار میں آپؐ نے اپنی نماز پوری کی۔

نماز میںبچھو مارنا نماز کو فاسد نہیں کرتا

۷۳۔اُقْتُلُوا الْاَسْوَدَیْنِ وَلَوْکُنْتُمْ فِی الصَّلوٰۃِ۔
ترجمہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے۔ اتنے میں ایک بچھونے آپؐ کو کاٹ لیا اور اسی حالت میں آپؐ نے اپنی جوتی رکھ کر اس کو مار ڈالا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ بچھو اور سانپ کو مارو، خواہ تم نماز ہی میں کیوں نہ ہو۔ ‘‘ (تفہیمات دوم:نماز میں ۔۔۔)
تخریج:(۱)اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، وَاَبُوْبَکْرٍ الْقَاضِیْ ، قَالَا: نَا اَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُبْنُ یَعْقُوْبَ، نَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَارِدِیُّ، نَا اَبِیْ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ الضَّبِیُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ کَعْبٍ الْقُرَ ظِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ یَرْفَعُ الْحَدِیْثَ اِلَی النَّبِیِّﷺ قَالَ: اِنَّ لِکُلِّ شَـْیٍٔ شَرَفًا،وَاَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتَقْبَلَ بِہِ الْقِبْلَۃَ لَا تُصَلُّوْا خَلْفَ نَائِمٍ وَلَا مُتَحَدِّثٍ وَاقْتُلُوا الْحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ صَلَاتِکُمْ ، وَلَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَبِالثَّوْبِ۔(۴)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ نبی ِ نے فرمایا: ہر چیز کے لیے ایک شرف (بلندی و بزرگی) ہوتی ہے اور مجالس کی بزرگی اور بلندی وہ ہے جو اسے قبلہ رخ رکھے۔ تم سوئے ہوئے کی امامت میں نماز نہ پڑھو اور نہ ایسے شخص کے پیچھے پڑھو جو بے وضو ہو اور سانپ اور بچھو کو مار ڈالو خواہ تم نماز پڑھ رہے ہو اور دیواروں پر کپڑوں کے پردے نہ لٹکائو۔
وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، وُروِیَ ذٰلِکَ اَیْضًاعَنْ ہِشَامِ بْنِ زِیَادٍ اَبِی الْمِقْدَامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرٍ مُنْقَطَعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ وَلَمْ یُثْبَتْ فِیْ ذٰلِکَ اِسْنَادٌ۔
(۲) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَ ہِیْمَ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ،عَنْ اَبِیْ ہُرَیرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اُقْتُلُوا الْاَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلوٰۃِ: الْحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ۔(۵)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : ’’دو کالوں (اسودین) یعنی بچھو اور سانپ کو نماز میں ہی مار ڈالو۔‘‘
نسائی اور مسند احمد میں یہ روایت بایں الفاظ منقول ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِقَتْلِ الْاَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلوٰۃ ۔ (۶)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ نے اسودین( یعنی بچھو اور سانپ) کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ایک دوسری روایت کے الفاظ:
(۴) اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہﷺ اَنْ نَقْتُلَ الْاَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلوٰۃِ: الْعَقْرَبَ وَالْحَیَّۃَ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اسودین، یعنی بچھو اور سانپ کو نماز میں ماردیا کریں۔‘‘
(۵) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِقَتْلِ الْاَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلوٰۃِ: الْحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ۔(۸)
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَاَبِیْ رَافِعٍ، قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: حَدِیْثُ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، وَالْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذا عِنْدَ بَعْضِ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّﷺ وَغَیْرِ ہِمْ: وَبِہ یَقُوْلُ اَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ۔ وَکَرِہَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ قَتْلَ الْحَیَّۃِ وَالْعَقْرَبِ فِی الصَّلوٰۃِ۔ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ: اِنَّ فِی الصَّلوٰۃِ لَشُغَلاً۔ وَالْقَوْلُ الْاَوَّلُ اَصَحُّ۔
ـــــــ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کو حسن صحیح قرار دے کر مختلف مذاہب بیان کیے ہیں ’’کچھ صحابہ کرام اور دوسرے اہل علم کی رائے یہی ہے جو حضرت ابوہریرہ کی روایت میں بیان ہوئی ہے یہ مسلک امام احمد اور امام اسحاق کا ہے۔ البتہ بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اوربچھو کو مارنا ناپسند کیا ہے۔ ابراہیم کا قول تو یہ ہے کہ نماز میں بجائے خود ایک مشغولیت ہے۔
(۶) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیْمِ الْاَوْدِیُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الدُہَّانُ، ثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ، عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَدَغَتِ النَّبِیَّ ﷺ عَقْرَبٌ وَہُوَ فِی الصَّلوٰۃِ، فَقَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْعَقْرَبَ، مَاتَدَعُ الْمُصَلِّیْ وَغَیْرَ الْمُصَلِّیْ۔ اُقْتُلُوْہَا فِی الْحِلِّ وَالْحَرَمِ۔ (۹)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کو نماز میں ایک بچھو نے کاٹ لیا، تو اس موقعہ پر فرمایا ’’اللہ کی لعنت ہو بچھو پر یہ کم بخت نہ نمازی کو چھوڑتا ہے اور نہ غیر نمازی کو ۔ حرم مکہ کے باہر ہو یا حرم میں اسے مار ڈالو۔‘‘
ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حالت نماز میں بچھوکو مارا ہے:
(۷) حَدَّ ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَحْیٰ، ثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ جَمِیْلٍ ثَنَا مَنْدَلٌ عَنِ ابْنِ اَبِیْ رَافِعِ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَتَلَ عَقْرَبًا وَہُوَ فِی الصَّلَاۃ۔(۱۰)
ـــــــ فی الزوائد: فی اسنادہ مندل، وہو ضعیف۔
ترجمہ: ابورافع سے روایت ہے انہوں نے اپنے والد کے حوالہ سے، ان کے دادا کی روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز میں بچھو کو خود مارا ہے۔
(۸) عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ، قَالَ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ صَلَاتِہِ اِذْ ضَرَبَ شَیْئًا فِیْ صَلَاتِہِ ، فَاِذَا ہِیَ عَقْرَبٌ ضَرَبَہَا، فَقَتَلَہَا، وَاَمَرَ بِقَتْلِ الْعَقْرَبِ وَالْحَیَّۃِ الخ(۱۱)

جوتے پہن کر نماز پڑھنا

۷۴۔مسند احمد اور ابودائود میں ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے۔ اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین سے رگڑ کر صاف کرلے اور انہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ نُعَامَۃَ السَّعْدِیِّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ بِاَصْحَابِہِ اِذْخَلَعَ نَعْلَیْہِ، فَوَضَعَہُمَا عَنْ یَسَارِہِ فَلَمَّا رَاٰی ذٰلِکَ الْقَوْمُ اَلْقَوْا نِعَالَہُمْ ، فَلَمَّا قَضیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺصَلَاتَہُ، قَالَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلیٰ اِلْقَآئِ نِعَالِکُمْ؟ قَالُوْا: رَاَیْنَاکَ اَلْقَیْتَ نَعْلَیْکَ، فَاَلْقَیْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ جِبْرَئِیْلَ اَتَانِیْ، فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّ فِیْہِمَا قَذَرًا، اَوْقَالَ: اَذًی ، وَقَالَ: اِذَاجَآئَ اَحَدُکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَلْیَنْظُرْ، فَاِنْ رَاٰی فِیْ نَعْلَیْہِ قَذَرًا اَوْاَذًی فَلْیَمْسَحْہُ وَلْیُصَلِّ فِیْہِمَا۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو نماز پڑھائی۔ اس دوران اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیئے ۔ جب آپ کے اس عمل کو صحابہ نے دیکھا تو (جذبہ اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتاردیئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو روئے سخن ان کی طرف کرکے فرمایا کہ اپنے جوتے اتارنے پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے دیکھا کہ آپؐ نے اپنے جوتے اتار کر رکھ دیئے ہیں تو ہم نے بھی اتار کر رکھ دیئے، (تاکہ اتباع ہوجائے)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی جبریل نے آکر مجھے بتایا کہ میرے دونوں جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے اور فرمایا کہ: ’’جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے۔ اگر ان میں کوئی گندگی اسے نظر آئے تو زمین سے رگڑ لے اور انہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے۔‘‘
د وسری روایت:
۷۵۔ خَالِفُوْا الْیَہُوْدَ فَاِنَّہُمْ لاَیُصَلَّوْنَ فِیْ نِعَالِہِمْ وَلاَخِفَافِہِمْ
’’یہودیوں کے خلاف عمل کرو کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔‘‘ (ابودائود)
۷۶۔حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت ہے کہ یہودیوں اور نصاریٰ کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ چمڑے کے موزے پہن کر اور جوتوں میں نماز نہیںپڑھتے۔
تخریج: ’حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ، عَنْ ہِلَالِ ابْنِ مَیْمُوْنٍ الرَّمَلِیِّ، عَنْ یَعْلیٰ بْنِ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : خَالِفُوْا الیَہُوْدَ فَاِنَّہُمْ لا یُصَلُّوْنَ فِیْ نِعَالِہِمْ وَلَا خِفَافِہِمْ۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت شداد بن اوس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہودیوں کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔‘‘
۷۷۔یُطَہِّرْہُ مَابَعْدَہٗ
’’(حضرت ام سلمہؓ کی روایت) ایک جگہ گندگی لگی ہوگی تو دوسری جگہ جاتے جاتے خود زمین ہی اس کو پاک کردے گی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ ابْنِ عَمْرِ و بْنِ حَزْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ اُمِّ وَلَدٍ لِاِبْرَاہِیْمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، اَنَّہَا سَاَلَتْ اُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَتْ: اِنّیْ امْرَاَۃٌ اُطِیْلُ ذَیْلِیْ، وَاَمْشِیْ فِی الْمَکَانِ الْقَذَرِ، فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یُطَہِّرُہُ مَا بَعْدَہُ۔
ترجمہ: ایک خاتون نے بیان کیا کہ اس نے ام سلمہؓ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سے پوچھا کہ میرے قمیص کا دامن لمبا ہے اور گندگی والی جگہ چلتی پھرتی ہوں (مجھے کیا کرنا چاہیے) حضرت ام سلمہؓ نے جواب میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سنادیا: آپ نے فرمایا (اگر ناپاک زمین سے دامن آلودہ ہوجائے، تو دوسری جگہ کی) پاک زمین پر چلنا اسے پاک کردے گا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ وَاَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَا: ثَنَا زُہِیْرٌ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عِیْسیٰ عَنْ مُوْسٰی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنِ امْرَاَۃٍ مِنْ بَنِیْ عَبْدِ الْاَ شْہَلِ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ لَنَا طَرِیْقًااِلَی الْمَسْجِدِ مُنْتَنَۃً، فَکَیْفَ نَفْعَلُ اِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: اَلَیْسَ بَعْدَہَا طَرِیْقٌ ہِیَ اَطْیَبُ مِنْہَا؟ قَالَتْ: قُلْتُ: بَلیٰ ، قَالَ: فَہٰذِہِ بِہٰذِہِ۔(۱۴)
ترجمہ: بنی عبدالاشہل کی ایک عورت بیان کرتی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ،یا رسول اللہ ﷺ !مسجد کی جانب جانے والا ہمارا راستہ بڑا گندہ ہے۔ جب بارش ہوجائے تو ہم کیا کریں؟ فرمایا، کیا اس کے بعد اس سے اچھا صاف ستھرا راستہ نہیں آتا؟ اس نے عرض کیا ہاں( ایسا تو ہے) حضورؐ نے فرمایا پس یہ اس کے بدلے میں ہے۔
۷۸۔(ابوہریرہؓ کی روایت میں حضورؐ کے یہ الفاظ ہیں) ’’اگر تم میں سے کسی نے اپنے جوتے سے گندگی کو پامال کیا ہو، تو مٹی اس کو پاک کردینے کے لیے کافی ہے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا اَبُوْ الْمُغِیْرَۃِ ح وَثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ مُزِیْدٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ ح وَثَنَامَحْمُوْدُبْنُ خَالِدٍ ثَنَا عُمَرُ ـــــ یَعْنِیْ ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ ـــــ عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ، الْمَعْنی قَالَ: اُنْبِئْتُ اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ اَبِیْ سَعِیْدِ الْمَقْبُرِیَّ حَدَّثَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: اِذَا وَطِیَٔ اَحَدُکُمْ بِنَعْلِہِ الْاَذٰی فَاِنَّ التُّرَابَ لَہُ طَہُوْرٌ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے تم میں سے اگر کسی کا جوتے پہن کر گندگی پر سے گزرہو تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ایک دوسری روایت میں ہے:
(۲) اِذَا وَطِیَٔ الْاَذٰی بِخُفَّیْہِ فَطُہُوْرُہُمَا التُّرَابُ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے فرمایا ’’اگر چمڑے کے موزوں کے ساتھ گندگی پر گزرے تو مٹی ان دونوں کو پاک کردے گی۔
(۳) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ،عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ ِوَسَلَّمَ یُصَلِّیْ حَافِیًا وَمُنْتَعِلاً۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے حوالہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ (ان کے دادا کا قول ہے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو جوتے پہنے ہوئے بھی اور جوتے اتار کر دونوں حالتوں میں نماز پڑھتے (اپنی آنکھوں سے) دیکھاہے۔
ابن اوس روایت کرتے ہیں:
(۴) قَالَ:جَدِّیْ اَوْسٌ اَحْیَانًا یُصَلِّیْ فَیُشِیْرُ اِلَیَّ وَھُوَ فِی الصَّلوٰۃِ فَاُعْطِیْہِ نَعْلَیْہِ وَیَقُوْلُ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ ُعَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فِیْ نَعْلَیْہِ۔(۱۷)
ترجمہ: ابن ابی اوس نے بیان کیاکہ میرے دادا اوس کبھی کبھار نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے، تو میں ان کو ان کے جوتے دے دیتا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھاہے۔
تشریح: (ان احادیث) کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، اس لیے دونوں طرح عمل کرو۔ عمروبن عاصؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
ان کثیر التعداد روایات کی بنا پر امام ابو حنیفہؒ، امام ابویوسفؒ، امام اوزاعیؒ، اور اسحاق بن راہویہ ؒ وغیرہ فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ جوتا ہر حال میں زمین کی مٹی سے پاک ہوجاتا ہے۔ ایک قول امام احمدؒ اور امام شافعی ؒ کا بھی اس کی تائید میں ہے۔ مگر امام شافعی ؒ کا مشہور قول اس کے خلاف ہے۔ غالباً وہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کو ادب کے خلاف سمجھ کر منع کرتے ہیں، اگرچہ سمجھا یہی گیا ہے کہ ان کے نزدیک جوتا مٹی پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوتا (اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسجد نبویؐ میں چٹائی تک کا فرش نہ تھا، بلکہ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں) لہٰذا ان احادیث سے استدلال کرکے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے، تو یہ صحیح نہ ہوگا۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت بھی جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں، وہ دراصل احکام سے ناواقف ہیں) ۔
(تفہیم القرآن ،ج ۳، طٰہٰ، حاشیہ: ۷)

ننگے سر نماز پڑھنا

سوال: ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے، جب کہ ٹوپی یا کپڑا موجود ہو؟
جواب: نماز میں سر ڈھانکنے کا کوئی حکم، یا ننگے سر نماز پڑھنے کی کوئی نہی، میرے علم میں نہیں ہے۔ البتہ یہ معلوم ہے کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ عمامہ یا ٹوپی پہنے ہوئے ہی نماز پڑھتے تھے۔ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف:۳۱) کے حکم کا تقاضا بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز اچھا لباس پہن کر پڑھی جائے اور ٹوپی یا عمامہ بھی اس میں داخل ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص ننگے سر نماز پڑھے تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ (رسائل ومسائل پنجم، فقہی ومعاشی مسائل : کوے کی۔۔۔)

نماز میں چھینک

۷۹۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھارہے تھے۔ حضرت رفاعہ بن رافع کو چھینک آئی اور انہوں نے زور سے کہا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی نماز ختم ہونے کے بعد حضورؐ نے فرمایا ’’یہ کون تھا جس نے یہ فقرہ کہا تھا؟‘‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زیادہ فرشتے اس قول کو لے جانے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے تھے۔ ( تفہیمات دوم:نماز میں۔۔۔)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا رِفَاعَۃُ بْنُ یَحْییٰ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیُّ، عَنْ عَمِّ اَبِیْہِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ، فَقُلْتُ : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی۔ فَلَمَّا صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: مَنِ الْمُتَکَلِّمُ فِی الصَّلوٰۃِ؟ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ اَحَدٌ، ثُمَّ قَالَھَا الثَّانِیَۃَ مَنِ الْمُتَکَلِّمُ فِی الصَّلاَ ۃِ؟ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ اَحَدٌ، ثُمَّ قَالَھَا الثَّالِثَۃَ مَنِ الْمُتَکَلِّمُ فِی الصَّلوٰۃِ؟ فَقَالَ : رِفَاعَۃُ ابْنُ رَافِعِ بْنِ عَفْرَآئَ : اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ : کَیْفَ قُلْتَ؟ قَالَ : قُلْتُ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَایُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی، فَقَالَ: النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَقَدْ ابْتَدَرَھَا بِضْعَۃٌ وَثَلاَثُوْنَ مَلَکًا اَیُّھُمْ یَصْعَدُبِھَا۔(۱۸)
ترجمہ: حضرت رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ نماز میں چھینک ماری تو میں نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی کہا پس جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ کر مقتدیوں کی طرف منہ پھیرا تو پوچھا کہ نماز میں یہ بولنے والا کون ہے؟ کسی نے بھی کوئی جواب نہ دیاتو آپؐ نے دوبارہ دریافت فرمایا کہ یہ بولنے والا کون ہے؟ مگر اس دفعہ بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون آدمی تھا جو نماز میں بولا تھا؟ رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا حضور !وہ تو میں ہوں، رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا کہ تم نے وہ کلمات کیسے کہے تھے میں نے دوبارہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا الخ پڑھ کر سنادیا تو نبی ﷺنے ارشاد فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تیس سے زیادہ فرشتے اس قول کو لے جانے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے تھے۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنْ اَنَسٍ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ رِفَاعَۃَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ، وَکَانَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ عِنْدَ بَعْضِ اَھْلِ الْعِلْمِ اَنَّہٗ فِی التَّطَوُّعِ۔ لِاَنَّ غَیْرَ وَاحِدٍ مِّنَ التَّابِعِیْنَ قَالُوْا: اِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِی الصَّلوٰۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ اِنَّمَا یَحْمَدُ اللّٰہَ فِیْ نَفْسِہٖ، وَلَمْ یُوَسِّعُوْا فِی اَکْثَرِ مِنْ ذٰلِکَ۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نُعَیْمِ ْبِن عَبْدِاللّٰہِ الْمُجْمَرِ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیٰ، ابنِ خَلاَّدِ الزُّرَقِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ، قَالَ: کُنَّا یَوْمًا نُصَلِّیْ وَرَآئَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ، قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، قَالَ رَجُلٌ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ مَنِ الْمُتَکَلِّمُ؟ قَالَ : اَنَا، قَالَ : رَاَیْتُ بِضْعَۃً وَثَلَاثِیْنَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَھَا اَیُّھُمْ یَکْتُبُھَا اَوَّلَ۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت رفاعہ بن رافع زرقی نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ ایک روز ہم نبی ﷺکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپؐ نے رکوع سے سر اٹھایا تو سمع اللّٰہ لمن حمدہ کہا۔ پیچھے سے ایک آدمی نے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً کَثِیْراً طیبًا مبارکًا فِیْہِ کہا۔ جب حضوؐر نماز سے فارغ ہوکر مقتدیوں کی طرف پھرے تودریافت فرمایاکہ یہ فقرہ کہنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا، ’’حضورؐ وہ تو میں ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس فقرہ کو پہلے لکھنے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے تھے۔
(۳) عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَجُلًا جَآئَ فَدَخَلَ فِی الصَّفِّ وَقَدْ حَفَزَہُ النَّفْسُ، فَقَالَ : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ۔ فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَتَہُ قَالَ:اَیُّکُمُ الْمُتَکَلِّمُ الْکَلِمَاتِ؟ فَاَرَمَّ الْقَوْمُ۔ فَقَالَ: اَیُّکُمُ الْمُتَکَلِّمُ بِھَا؟ فَاَرَمَّ الْقَوْمُ۔ فَقَالَ: اَیُّکُمُ الْمُتَکَلِّمُ؟ فَاِنَّہُ لَمْ یَقُلْ بَاْسًا، فَقَالَ رَجُلٌ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِی النَّفَسُ فَقُلْتُھَا، فَقَالَ : لَقَدْ رَاَیْتُ اثْنَی عَشَرَ مَلَکًا یَبْتَدِ رُوْنَہَآ اَیُّہُمْ یَرْفَعُہَا الخ۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آکر صف میں شامل ہوا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ اسی کیفیت میں اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْراً طیباً مّبارکًا فِیْہِ کہا۔ نمازپوری کرکے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ کلمات کہنے والا تم میں سے کون ہے؟ ‘‘ سب لوگ خاموش رہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟‘ ‘ سب لوگ خاموش رہے۔ پھر تیسری مرتبہ ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟‘‘ گویا آپؐ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، تو ایک آدمی بول اٹھا، ’’میں آیا تو میری سانس پھولی ہوئی تھی اسی حالت میں، میں نے یہ کلمات کہے ہیں۔‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا:’’ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اسے اوپر لے جانے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔‘‘

ماخذ

(۱)  ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب تفریع ابواب الجمعۃ، باب تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی کراہیۃ التخطی یوم الجمعۃ۔٭نسائی:ج۳، کتاب الجمعہ، باب النہی عن تخطی رقاب الناس والامام علی المنبر یوم الجمعۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ وسننہا، باب ماجاء فی النہی عن تخطی الناس یوم الجمعہ۔ ابن ماجہ میں فقد اٰذیت کے بعد و آنیت بھی ہے ٭مسند احمد، ج ۳، ص ۴۱۷۔۴۳۷، ج ۴، ص ۱۹۰۔
(۲) بخاری،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب اذا حمل جاریۃ صغیرۃ علی عنقہ فی الصلوٰۃ۔ ٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلوٰۃ۔ ٭ نسائی،ج۳،کتاب السہوباب حمل الصبایا فی الصلوٰۃ ووضعہن فی الصلوٰۃ۔٭سنن دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب العمل فی الصلوٰۃ۔ ٭ موطا امام مالک، ج۱،    کتاب الصلوٰۃ جامع الصلوٰۃ۔ ٭ مسند احمد، ج۵، ص ۲۹۵، عن ابی قتادۃ انصاری۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲، جامع ابواب الکلام فی الصلوٰۃ، باب حمل الصبی ووضعہ فی الصلوٰۃ۔ ٭مسند ابی عوانہ ، ج۲، ص۱۴۵، شفقۃ النبی علی ابنۃ ابنتہ۔
(۳) ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب العمل فی الصلوٰۃ۔
(۴) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۷،کتاب الصداق، باب ماجاء فی تستیر المنازل۔٭ المستدرک للحاکم،ج۴،          کتاب الادب،  باب اشرف المجالس۔ اُقْتُلُوا الْحَیَّۃَ وَالعقرب وان کنتم فی الصلوٰۃ۔٭کنز العمال،ج۱۵،ص۴۳، حدیث ۴۰۰۰۳، بحوالہ طبرانی، عن ابن عباس۔
(۵) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب العمل فی الصلوٰۃ۔
(۶) نسائی،ج۳،کتاب السہو، باب قتل الحیۃ والعقرب فی  الصلوٰۃ۔ ٭ مسند احمد، ج ۲، ص ۳۳۳ ابوہریرہ۔
(۷) مسند احمد، ج ۲، ص ۲۸۴، ابوہریرہ٭ مصنف عبدالرزاق،ج۱،ص۴۴۹، باب قتل الحیۃ والعقرب فی الصلوٰۃ۔
(۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی قتل الاسودین فی الصلوٰۃ۔ ٭دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب قتل الحیۃ والعقرب فی الصلوٰۃ۔٭مسند احمد،ج ۲، ص ۲۴۸، ۴۷۳،۴۹۰۔
(۹) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ الخ، باب ماجاء فی قتل الحیۃ والعقرب فی الصلوٰۃ۔
فی الزوائد: فی اسنادہ الحکم بن عبدالملک، وہوضعیف، لٰکن لاینفرد بہ الحکم۔ فقد رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ عن محمد بن  بشار عن محمد بن جعفر، عن   شعبۃ، عن  قتادۃ۔ وقال قد رواہ الترمذی  من حدیث ابی ہریرۃ وقال: حدیث حسن، وفی الباب  عن ابن عباس وابی رافع۔
(۱۰) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی قتل الحیۃ والعقرب فی الصلوٰۃ۔
(۱۱) مجمع الزوائد ، ج۳، ص ۲۲۹۔ ٭ رواہ البزار، وفیہ یوسف بن نافع ، ذکرہ ابن ابی حاتم ولم یجرحہ ولم یوثقہ  وذکرہ ابن حبان فی الثقات۔
(۱۲) ابوداؤد، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ فی النعل۔٭ السنن دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ فی النعلین۔ ٭مسند احمد، ج ۳، ص۲۰، عن ابی سعید خدری اور ج۱، ص ۴۶۱۔ ج۵، ص۸۴۔ج ۶، ص۲۲۱۔
(۱۳) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ فی النعل٭ موارد الظمٰان الی زوائد ابن حبان: کتاب الصلوٰۃ،             باب الصلوٰۃ فی النعلین الخ عن ابی ہریرۃ۔ اس میں ’’خالفوا الیہود و النصاریٰ‘‘ ہے۔
(۱۴) ابوداؤد،ج۱،کتاب الطہارۃ، باب فی الأذی یصیب الذیل۔
(۱۵) ابوداؤد، ج۱،کتاب الطہارۃ، باب فی الاذی یصیب النعل۔
(۱۶) ابوداوؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ فی النعل۔
(۱۷) ابوداوؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ فی النعل۔
(۱۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوۃ، باب ماجاء فی الرجل یعطس فی الصلوٰۃ٭نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب قول الماموم اذا عطس خلف الامام ٭مسند احمد،ج۴،ص۳۴۰، روایت رفاعہ بن رافع۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب القول عند رفع الراس من الرکوع واذا استوی قائماً۔٭المستدرک للحاکم، ج۱،      کتاب الصلوٰۃ، ان دونوں میں چھینک کا ذکر نہیں۔
(۱۹) بخاری، ج ۱،ص ۱۱۰، کتاب الاذان: باب ۔۔۔۔
(۲۰) مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۹۹۔٭نسائی،ج۱، کتاب الافتتاح، باب نوع آخر من الذکر بعد التکبیر۔(نوٹ بخاری اور نسای دونوں میں چھینک والا واقعہ نہیںہے)۔

فصل: ۱۳ تحویل قبلہ

۸۰۔(پہلی روایت)ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی ﷺ بشر بن براء بن معرور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے ۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا اور آپؐ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے سے یہ آیت قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِیْ السَّمَآئِ ج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہٰاص فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِط (البقرہ : ۱۴۴) نازل ہوئی اور اسی وقت آپؐ اور آپؐ کی اقتداء میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینے اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔( خیال رہے کہ بیت المقدس مدینے سے عین شمال میں ہے اور کعبہ بالکل جنوب میں ۔ نماز باجماعت پڑھتے ہوئے قبلہ تبدیل کرنے میں لامحالہ امام کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا، بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنی پڑی ہوں گی۔ چنانچہ بعض روایات میں یہی تفصیل مذکور ہے)۔
تخریج: وَیُقَالُ: بَلْ زَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اُمَّ بِشْرِ بْنِ الْبَرَآئِ بْنِ مَعْرُوْرٍ فِیْ بَنِیْ سَلَمَۃَ فَصَنَعَتْ لَہُ طَعَامًا، وَحَانَتِ الظُّہْرُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِاَصْحَابِہِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ اَمَرَ اَنْ یُوَجِّہَ اِلَی الْکَعْبَۃِ فَاسْتَدَارَ اِلَی الْکَعْبَۃِ وَاسْتَقْبَلَ الْمِیْزَابَ فَسُمِّیَ الْمَسْجِدَ مَسْجِدُ الْقِبْلَتَیْنِ۔(۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ قبیلۂ بنو سلمہ میں ام بشربن البراء بن معرور سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ام بشر نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا کہ اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہوگیا۔ آپؐ نے اپنے صحابہ کو دو رکعتیںہی پڑھائی تھیں کہ وحی کے ذریعہ سے حکم آگیا کہ اپنا رخ کعبہ کی طرف کرلیں۔ چنانچہ حضورؐ نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور میزاب کو اپنے سامنے کرلیا۔ اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد قبلتین (دو قبلوں والی مسجد) پڑگیا۔
۸۱۔(دوسری روایت) براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع میں تھے۔ حکم سنتے ہی سب کے سب اسی حالت میں کعبے کی طرف مڑگئے۔
بخاری نے براءؓ کی ایک روایت میں نماز عصر کے وقت تحویل قبلہ کا ذکر کیا ہے:
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَآئَ ، قَالَ : نَااِسْرَائِیْلُ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَآئِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نَحْوَبَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا اَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُحِبُّ اَنْ یُّوَجَّہَ اِلَی الْکَعْبَۃِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ‘‘ فَتَوَجَّہَ نَحْوَالْقِبْلَۃِ قَالَ السُّفَہَآئُ مِنَ النَّاسِ وَہُمُ الْیَہُوْدُ مَاوَلّٰہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْہَا قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ، فَصَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ﷺ رَجُلٌ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلّٰی فَمَرَّ عَلیٰ قَوْمٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ فِیْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ یُصَلُّوْنَ نَحْوَبَیْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ: ہُوَ یَشْہَدُ اَنْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاِنَّہُ تَوَجَّہَ نَحْوَالْکَعْبَۃِ فَتَحَرَّفَ الْقَوْمُ حَتّٰی تَوَجَّہُوْا نَحْوَالْکَعْبَۃِ۔(۲)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مدینہ منورہ میں) سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ آپ کی ہمیشہ سے یہ آرزو اور خواہش تھی کہ کسی طرح خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر فرمادیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ اس کے بعدحضورؐ نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا۔ یہود کے کچھ نادان لوگوں نے بے جا اعتراض جڑدیا کہ ان کو اپنے پہلے قبلہ سے دوسرے قبلہ کی طرف کس چیز نے پھیر دیا۔ ان سے کہہ دیجئے کہ مشرق و مغرب سب اللہ کے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی فرمادیتا ہے۔ (اس موقعہ پر) ایک آدمی نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ نماز کے بعد وہ وہاں سے نکل کر انصار کے ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اس آدمی نے گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے او ر آپؐ نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی جانب کر لیا ہے۔ یہ ندا سن کر لوگوں نے اپنے رخ پھیر کر خانہ کعبہ کی طرف کرلیے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ ، سَمِعَ زُہَیْرٌ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَآئِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلّٰی اِلیٰ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا وَکَانَ یُعْجِبُہُ اَنْ تَکُوْنَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ وَاَنَّہُ صَلّٰی اَوْصَلَّا ہَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِّمَّنْ کَانَ صَلّٰی مَعَہُ فَمَرَّ عَلیٰ اَہْلِ الْمَسْجِدِ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ قَالَ: اَشْہَدُ بِاللّٰہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّﷺ قِبَلَ مَکَّۃَ فَدَا رُوْا کَمَا ہُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ وَکَانَ الَّذِیْ مَاتَ عَلَی الْقِبْلَۃِ قَبْلَ اَنْ تُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَیْتِ رِجَالٌ قُتِلُوْا لَمْ نَدْرِمَا نَقُوْلُ فِیْہِمْ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔(۳)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ، حالانکہ آپ کی پسند یہ تھی کہ بیت اللہ قبلہ ہونا چاہیے۔ اور آپ نے نماز عصر پڑھی اور آپ کے ساتھ اور لوگوں نے بھی پڑھی۔ ان نمازیوں میں سے ایک آدمی جس نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، نکل کر چلا گیا اور ایک اہل مسجد کے پاس سے اس کا گزر ہوا کہ وہ رکوع میں تھے۔ اس نے اشہد باللہ کہہ کہ آواز دی کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے۔ چنانچہ یہ نداسن کر جس حالت میںوہ تھے، اسی میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ البتہ تحویل قبلہ سے پہلے فوت ہونے والوں کے بارے میں تشویش ذہنوں میں پیدا ہوئی کہ ان کی نمازوں کا کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ(البقرہ:۱۴۳)۔
۸۲۔انس بن مالک کہتے ہیں کہ بنی سلمہ میں اطلاع دوسرے روز صبح کی نماز کے وقت پہنچی۔ لوگ ایک رکعت پڑھ چکے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز پڑی: ’’خبردار رہو، قبلہ بدل کر کعبے کی طرف کردیا ہے۔‘‘ (یہ) سنتے ہی پوری جماعت نے اپنا رخ بدل دیا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَفَّانُ، قَالَ: نَاحَمَّادُبْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّیْ نَحْوَبَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَتْ: قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِج فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَاص فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ سَلَمَۃَ وَہُمْ رُکُوْعٌ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔ وَقَدْصَلُّوْا رَکْعَۃً، فَنَادٰی: اَلَا اَنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ، فَمَالُوْا کَمَا ہُمْ، نَحْوَالْقِبْلَۃِ۔(۴)
ترجمہ: حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ ج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا ص فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام ط (البقرۃ:۱۴۴)بنی سلمہ کے ایک آدمی کا گزر اس وقت ہوا جب وہ حالت رکوع میں تھے اور ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔ اس نے زور سے پکار کر کہا سن لو! قبلہ تبدیل کردیا گیا۔ یہ نداسنتے ہی لوگ جس حالت میں تھے اس سے قبلہ کی طرف پھر گئے۔ (۴)
دارقطنی میں حضرت انسؓ سے مروی روایت میں ہے:
(۲)جَآئَ مُنَا دِیُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: اِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ اِلَی الْکَعْبَۃِ، وَالْاِمَامُ فِی الصَّلوٰۃِ قَدْ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ الْمُنَادِیُّ: قَدْ حُوِّلَتِ الْقِبْلَۃُ اِلَی الْکَعْبَۃِ، فَصَلُّوا الرَّکْعَتَیْنِ الْبَاقِیَتَیْنِ اِلَی الْکَعْبَۃِ۔(۵)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کے منادی نے بلند آواز سے ندا دی کہ قبلہ کا رخ تبدیل کرکے خانہ کعبہ کی طرف کردیا گیا ہے۔ (جب یہ ندا دی گئی) تو اس وقت امام مقتدیوں کو دورکعتیں پڑھاچکا تھا۔ جونہی منادی نے ندا دی کہ تحویل قبلہ کا حکم آگیا۔ اب رخ خانہ کعبہ کی طرف ہے تو باقی دو رکعتیں لوگوں نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھیں۔
تشریح: اور یہ جو فرمایا کہ ’’ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ’’ ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیر دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔‘‘ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے نبی ﷺ اس کے منتظر تھے۔ آپؐ خود یہ محسوس فرمارہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیت بھی رخصت ہوئی۔ اب اصل مرکز ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۱، البقرہ، حاشیہ: ۱۴۶)
۸۳۔مسجد قبا میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے کہ تحویل قبلہ کی منادی ان کے کانوں میں پہنچی اور انہوں نے اسی حالت میں اپنا رخ کعبہ کی طرف پھیردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس فعل کو نہ صرف جائز رکھا بلکہ پسند فرمایا۔
تخریج:حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ بِقُبَائَ اِذْ جَآئَ ہُمْ اٰتٍ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اللَّیْلَۃَ وَقَدْاُمِرَ اَنْ یَّسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوْہَا وَکَانَتْ وُجُوْہُہُمْ اِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا اِلَی الْقِبْلَۃِ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والا آیا اور اس نے بآواز بلند کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر رات ہی وحی نازل ہوئی ہے اور اس میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رخ کعبہ کی طرف کرلو۔ لہٰذا تم بھی اپنے رخ خانہ ٔکعبہ کی طرف کرلو۔ حالانکہ ان کے رخ شام کی طرف تھے۔ چنانچہ ندا سنتے ہی انہوں نے بھی اپنے رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیے۔ (۶)
فقہی استنباط: اسی سے فقہاء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر کوئی شخص سمت قبلہ سے ناواقف ہو اور گمان غالب کی بنا پر کسی رخ پر نماز پڑھ رہا ہو، پھر اسی حالت میں کوئی اسے قبلہ کی صحیح سمت بتا دے تو اسی وقت اس کو صحیح سمت کی طرف پھر جانا چاہیے۔
اسی طرح کی اور بھی بہ کثرت مثالیں آثار و حدیث میں ہیں۔ اور ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر غیر مصلی کے ذریعے سے بھی مقتدیوں کو امام کے رکوع و سجود اور قیام و قعود کی اطلاع پہنچے، اور وہ ذریعہ قابل اعتماد ہو، تو اس کے مطابق حرکت کرنے سے نماز میں کوئی قباحت واقع نہیں ہوتی۔ قاطع صلوٰۃ جو چیز ہے وہ دراصل اس نوعیت کا فعل ہے جس میں آپ کو مشغول دیکھ کر ناواقف آدمی یہ گمان کرے کہ آپ نماز نہیں پڑھ رہے ہیں، یاپھر مصلی اور غیر مصلی کے درمیان ایسا معاملہ ہو جو مکالمہ اور تعلیم و تعلم کی حد تک پہنچا ہوا ہو ۔ ( تفہیمات دوم:نماز میں ۔۔۔)

نماز فجر میں طوالت قراء ت کی خاص اہمیت

۸۴۔نبی ﷺ نے فجر کی نماز میں طویل قراء ت کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا۔
پھر صحابہ کرامؓ نے اس کی پیروی کی اور بعد کے ائمہ نے اسے مستحب قرار دیا۔ (فجر کے وقت کی قراء ت کو قرآن میں مشہود قرار دیا گیا ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے گواہ بنتے ہیں۔ احادیث سے واضح ہے کہ فرشتے ہر نماز کے گواہ بنتے ہیں، لیکن جب خاص طور پر فجر کی قراء ت پر ان کی گواہی کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے فجر کی نماز میں طویل قراء ت کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا) ۔
(تفہیم القرآن، ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ : ۹۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ عُبَیْدُبْنُ اَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَرْشِیُّ قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃِ ’’ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوْدًا‘‘ قَالَ: تَشْہَدُہُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُ النَّہَارِ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ نے قرآن مجید کی آیت وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِط اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوْدًا(بنی اسرائیل:۷۸)کی تفسیر نبی ﷺ سے بایں معنی میں بیان کی ہے کہ اس میں دن اور رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
(۲) حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَیَّارُبْنُ سَلَامَۃَ، قَالَ: دَخَلْتُ اَنَاوَاَبِیْ عَلیٰ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ فَسَاَلْنَاہُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ،فَقَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی الظُّہْرَ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَیَرْجِعُ الرَّجُلُ اِلیٰ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ، وَنَسِیْتُ مَاقَالَ فِی الْمَغْرِبِ، وَلَایُبَالِیْ بِتَاخِیْرِ الْعِشَائِ اِلیٰ ثُلُثِ اللَّیْلِ وَلَا یُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَلَا الْحَدِیْثَ بَعْدَہَا، وَیُصَلِّی الصُّبْحَ، فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَیَعْرفُ جَلِیْسَہُ وَکَانَ یَقْرَاُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ اَوْاِحْدٰہُمَا مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی الْمِائَۃِ۔(۸)
ترجمہ: سیاربن سلامہ کا بیان ہے کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی کے پاس گئے اور ان سے اوقات صلوٰۃ کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے کہا : نبی ﷺ نماز ظہر سورج کے زوال کے بعد پڑھتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ ایک آدمی نماز عصر پڑھ کر مدینہ سے دور اپنے گھر پہنچ جاتا تھا۔ اس وقت سورج زندہ ہوتا تھا۔ اور مجھے یاد نہیں رہا کہ آپ نے مغرب کے بارے میں کیا فرمایا۔ نماز عشاء کو تہائی رات تک موخر کرنے میں بھی حضور ﷺ کوئی پروا نہیں کرتے تھے۔ نماز عشاء سے پہلے سونے اور بعد میں (غیر ضروری) باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے اور صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ نمازی جب نماز سے فارغ ہو کر پھرتا تو وہ ساتھی کو پہچان لیتا اور آپؐ دونوں رکعتوں میں ،یا ایک رکعت میں ساٹھ سے سو آیا ت تک تلاوت فرماتے تھے۔

گرمی میں نماز ظہر کے لیے ابراد کا حکم

۸۵۔نبی ﷺ نے فرمایا ’’جب گرمی کا زور ہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو (یعنی دیر کرکے پڑھو یہاں تک کہ گرمی کی شدت میں کمی ہوجائے)۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ قَالَ صَالِحُ ابْنُ کَیْسَانَ، حَدَّثَنَا الْاَعْرَجُ عَبْدُالرَّحْمٰنِ وَغَیْرُہُ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَنَافِعٍ مَوْلیٰ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّہُمَا حَدَّثَا ہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، اَنَّہُ قَالَ: اِذَا اشْتَدَّالْحَرُّفَاَبْرِدُوْابِالصَّلوٰۃِ فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ۔(۹)
ترجمہ: عبدالرحمن ،حضرت ابوہریرہؓ اور نافع مولی عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کیا۔ فرمایا’’جب گرمی کی شدت ہوتو پھر نماز کو ٹھنڈا کرلو۔ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔
(۲) حَدَّثَنَامُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْمُہَاجِرِ اَبِیْ الْحَسَنِ، سَمِعَ زَیْدَبْنَ وَہْبٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: اَذَّنَ مُوَذِّنُ النَّبِیِّ ﷺ الظُّہْرَ، فَقَالَ: اَبْرِدْ اَبْرِدْ اَوْقَالَ اِنْتَظِرْ اِنْتَظِرْ، وَقَالَ: شِدَّۃُ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ فَاِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّفَاَبْرِدُوْا عَنِ الصَّلوٰۃِ حَتّٰی رَاَیْنَا فَیْئَی التَّلُوْلِ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے موذن نے ظہر کی اذان کہی تو حضورؐ نے فرمایا:’’ابھی ٹھنڈا کرو، ابھی ٹھنڈا کرو‘‘ یا فرمایا کہ ’’ابھی انتظار کرو، ابھی انتظار کرو‘‘۔ ساتھ ہی فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔ لہٰذا جب گرمی زوروں پر ہو تو نمازکو ٹھنڈا کرلو۔ ( اس ارشاد کی روشنی میں ہم اتنا انتظار کرتے کہ) ہم ٹیلوں کا سایہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔‘‘
۸۶۔گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔ جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا کہ اے رب! میرے اجزا ایک دوسرے کو کھائے جاتے ہیں۔ اس کے رب نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی۔ ایک مرتبہ جاڑے میں اور دوسری مرتبہ گرمی میں۔ گرمی کا سانس اس شدید ترین گرمی جیسا ہوتا ہے جو تم لوگ موسم گرما میں پاتے ہو، اور سردی کا سانس اس شدید ترین سردی جیسا ہوتا ہے جو تم موسم سرما میں پاتے ہو۔
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَنَّہُ قَالَ: اِذَا اشْتَدَّالْحَرُّفَاَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ شِدَۃَ الْحَرِّمِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ وَاشْتَکَتِ النَّار اِلیٰ رَبِّہَا فَقَالَتْ یَارَبِّ! اَکَلَ بَعْضِیْ بَعْضًا فَاَذِنَ لَہَا بِنَفَسَیْنِ نَفَسٌفِی الشِّتَآئِ وَنَفَسٌ فِی الصَّیْفِ وَہُوَ اَشَدُّمَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّوَاَشَدُّمَاتَجِدُوْنَ مِنَ الزَّ مْہَرِیْرِ۔(۱۱)
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ اَبِیْ حَکِیْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزِّبْرِ قَانَ یُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَۃَبْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ زَیْدِبْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ وَلَمْ یَکُنْ یُصَلِّیْ صَلَاۃً اَشَدَّعَلیٰ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ مِنْہَا قَالَ فَنَزَلَتْ حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوٰۃِ الْوُسْطیٰ وَقَالَ: اِنَّ قَبْلَہَا صَلَاتَیْنِ وَبَعْدَہَا صَلَا تَیْنِ۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز دن ڈھلنے کے وقت پڑھاتے تھے۔ اس نماز سے بڑھ کر کوئی نماز اصحاب رسول اللہ ﷺ پر شاق نہ تھی۔ پس حَافِظُوْا عَلٰی الصَّلَوٰاتِ وَالصَّلوٰۃِ الْوُسْطٰیق‘‘(البقرۃ:۲۳۸)کی آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اس نماز سے پہلے دو نمازیں ہیں اور دو اس کے بعد ہیں۔(۱۲)
تشریح: اس حدیث پر اعتراض کرنے سے پہلے اس امر پر غور کرلیجیے کہ نبی ﷺ کا اصل مقصد اس بیان سے آخر کیا ہوسکتا تھا؟ کیا یہ کہ آپؐ ایک عالم طبیعیات کی حیثیت سے موسمی تغیرات کے وجوہ بیان فرمانا چاہتے تھے، یا یہ کہ آپؐ ایک نبی کی حیثیت سے گرمی کی تکلیف محسوس کرنے والوں کو جہنم کا تصور دلانا چاہتے تھے؟ جس شخص نے بھی قرآن اور سیرت نبیؐ پر کچھ غور کیا ہوگا وہ بلاتامل کہہ دے گا کہ آپؐ کی حیثیت پہلی نہ تھی، بلکہ دوسری تھی۔ اور گرمی کی شدت کے زمانے میں ظہر کی نماز ٹھنڈی پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے آپؐ نے جو کچھ فرمایا،اس سے آپؐ کا مقصد دوزخ سے ڈرانا اور ان کاموں سے روکنا تھا جو آدمی کو دوزخ کا مستحق بناتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپؐ کا یہ ارشاد قرآن کے اس ارشاد سے ملتا جلتا ہے جو غزوۂ تبوک کے موقع پر فرمایا گیا تھا کہ’’ وَقَالُوْا لَاتَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّط قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا‘‘ط(التوبۃ:۸۱) انہوں نے کہا کہ اس شدید گرمی میں جہادکے لیے نہ نکلو۔’’ اے نبیؐ! ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس گرمی سے زیادہ گرم ہے۔‘‘ جس طرح یہاں قرآن علم طبیعیات کا کوئی مسئلہ بیان نہیں کررہا ہے، اسی طرح نبی ﷺ کی یہ حدیث بھی طبیعیات کا درس دینے کے لیے نہیں ہے۔ قرآن دنیا کی گرمی کا جہنم کی گرمی سے مقابلہ اس لیے کر رہا ہے کہ پس منظر میں وہ لوگ موجود تھے جو اس گرمی سے گھبراکر جہاد کے لیے نکلنے سے جی چرارہے تھے۔ اسی طرح نبی ﷺ بھی دنیاکی شدید گرمی اور شدید سردی کو دوزخ کی محض دو پھونکوں کے برابر اس لیے بتارہے ہیں کہ پس منظر میں وہ لوگ موجود تھے جو جاڑے میں صبح کی اور گرمی میں ظہر کی نماز کے لیے نکلنے سے گھبراتے تھے۔ چنانچہ مسند احمد میں زیدؓ بن ثابت کی یہ روایت آئی ہے کہ لَمْ یَکُنْ یُصَلِّیْ صَلوٰۃً اَشَدُّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ مِنْہَاظہر کی نماز سے بڑھ کر کوئی نماز اصحاب رسول اللہؐ پر شاق نہ تھی۔ اور اس کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جس نے گرمی کے زمانے میں عرب کی دوپہر کبھی دیکھی ہو۔
اس کے بعد اب حدیث کے اصل الفاظ کی طرف آئیے۔ فَاِنَّ شِدَّۃَ اَلْحَرِّمِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ’’گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے ‘‘کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ دنیا میں گرمی جہنم کی پھونک کی وجہ سے ہوتی ہے، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جہنم کی پھونک کی قسم یا جنس سے ہے۔ اس لیے کہ عربی زبان میں لفظ مِن، بیان جنس کے لیے بکثرت استعمال ہوتا ہے اور خود قرآن میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جیسے مَایَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ۔ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہٖ مِنْ آیَۃ اور اِجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔
رہاآخری فقرہ تو اس میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دنیا میں گرمی اور جاڑے کے موسم دوزخ کی ان دو پھونکوں کے سبب سے آتے ہیں، بلکہ الفاظ یہ ہیں فَاَذِنَ لَہَا بِنَفْسَیْنِ، نَفْسُ فِی الشِّتَائِ وَنَفْسٌ فِی الصَّیْفِ اَشَدُّ مَاتَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّوَاَشَدُّ مَاتَجِدُوْنَ مِنَ الزَّمْہَرِیْرِ۔ ’’پس اس کے رب نے اس کو دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں، جو اس شدید ترین گرمی جیسا ہے جو تم پاتے ہو اور اس شدید ترین سردی جیسا ہے جو تم پاتے ہو۔‘‘
(رسائل و مسائل دوم: چند احادیث ۔۔۔)
سوال: امام مالک کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سال میں جہنم دو مرتبہ دو مختلف قسم کے سانس لیتی ہے۔ ایک سرد، ایک گرم۔ سرد سانس دنیامیں سردی کے اثرات پھیلاتا ہے اور گرم سانس گرمی کی تکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس حدیث میں اشکال یہ ہے کہ پھر تمام دنیا میں سردی اور گرمی کے اثرات یکساں طور پر کیوں نہیں پھیلتے۔ کہیں کم کہیں زیادہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اصل میں بڑی ایک مصیبت ہے کہ کلام کے مدعا کو سمجھے بغیر سوالات کئے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب علم موسمیات کا ایک مضمون بیان کرنا نہیں تھا کہ موسم کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ اور نہ کوئی علم موسمیات کی نبی ﷺ نے کلاس کھولی تھی کہ جس میں یہ بتانا آپؐ چاہتے ہیں کہ گرمی دنیا میں کیسے آتی ہے اور سردی کیسے آتی ہے؟ درحقیقت نبیؐ کا کام خلق خدا کو راہ راست دکھانا ہے۔ آپؐ دنیا کی ہر چیز سے آدمی کو وہ سبق دینے کی کوشش کرتے تھے جو انسان کو راہ راست کی طرف لے آئے۔ گرمی اگر آتی تو نبی ﷺ اس وقت یہ احساس دلاتے تھے کہ ذرا اس گرمی کو دیکھو اور خود جہنم کا تصور کرو تو جہنم میں کیا حال ہوگا تمہارا۔ جیسے کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ جنگ تبوک کے موقع کے پر سخت گرمی کے زمانے میں نبی ﷺ صحابہ کرام کو لے کر نکلنے لگے تو بہت سے منافقین نے یہ معذرت کی کہ سخت گرمی کا زمانہ ہے۔ ہم سے سفر نہیں ہوسکے گا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرّاً (التوبۃ:۸۱)اے نبیؐ ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس گرمی سے زیادہ سخت ہے کہ جو یہاں عرب کے تپتے ہوئے ریگستان میں تم محسوس کرتے ہو۔ تونبی ﷺ نے دراصل یہ احساس دلایا ہے کہ یہ دنیا کی گرمی جو تم کو پریشان کرتی ہے، یہ جہنم کی گرمی کا ایک ہلکا سا اثر ہے، کم سے کم ہلکی سی ہلکی گرمی جو جہنم کی ہوسکتی تھی یوں سمجھئے کہ اس کی ایک پھونک یہاں آگئی ہے جو تم کو اس شکل میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح جہنم کے بعض حصے انتہائی سرد ہوں گے، جیسے قرآن مجید میں بھی ارشاد کیا گیا ہے کہ جہنم کے بعض حصے انتہائی سرد ہوں گے۔ اس کی تکلیف اسی طرح کی ہوگی جیسے کہ آگ کی ہوتی ہے۔ سردی کی شدت قریب قریب وہی اثرات ڈالتی ہے جو آگ کے ہیں تو جاڑے کی سردی میں حضورؐ یہ احساس دلاتے ہیں کہ ذرا جہنم کے ٹھنڈے خطوں کا خیال کرو۔ اصل مقصود جہنم سے ڈرانا ہے نہ کہ محکمہ موسمیات سے متعلق معلومات فراہم کرکے دینا ہے۔ (کیسٹ نمبر ۱: وقفہ سوالات)

دلوک الشمّس کے معنی

۸۷۔بعض احادیث میں نبی ﷺ سے دلوک شمس کی یہی (آفتاب کا نصف النہار سے ڈھل جانا) تشریح منقول ہے، اگرچہ ان کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا خَالِدُبْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: ثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ ثَنِیْ اَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَمَرِ وبْنِ حَزْمٍ الْاَنْصَارِیُّ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَبْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَتَانِیْ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ حِیْنَ زَالَتْ فَصَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’میرے پاس جبریل علیہ السلام دلوک الشمس یعنی ڈھلے سورج کے وقت آئے اور مجھے ظہر کی نماز پڑھائی۔‘‘
(۲)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: دُلُوْکُہَا مَیْلُہَا یَعْنِی الشَّمْسُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِیْ قَوْلِہِ اَقِمِ الصَّلَاۃ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ قَالَ: دُلُوْکُہَا مَیْلُہَا۔
ترجمہ: عبداللہ بن مسعود نے دلوک کے معنی ڈھلنے کے کیے ہیں۔ عبد اللہ نے دلوک کے معنی اللہ تعالیٰ کے ارشاد اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ(بنی اسرائیل:۷۸)کی روشنی میں سورج کے ڈھلنے کے لیے ہیں۔
(۳)عَنِ الْحَسَنِ، فِیْ قَوْلِہ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ قَالَ: دُلُوْکُہَا زَوَالُہَا۔
ترجمہ:حسن بصری نے دلوک کو زوال کے معنی میں لیا ہے۔
(۴)عَنْ اَبْیِ جَعْفَرٍ: فِیْ اَقِمِ الصَّلَاۃ لِدُ لُوْکِ الشَّمْسِ، قَالَ: لِزَوَالِ الشَّمْسِ۔
ترجمہ: ابوجعفر سے بھی دلوک الشمس کے معنی زوال آفتاب کے منقول ہیں۔
(۵)عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دُلُوْکُ الشَّمْسِ زَیْغُہَابَعْدَ نِصْفِ النَّہَارِ یَعْنِی الظِّلَ۔
ترجمہ: ابن عباس نے دلوک بمعنی زیغ، یعنی نصف دن کے بعد سایہ کا ڈھلنا لیا ہے۔
(۶) عَنْ قَتَادَۃَ، قَوْلُہُ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اَیْ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَآئِ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ۔
ترجمہ: قتادہ سے دلوک الشمس کے معنی آفتاب کے نماز ظہر کے لیے بطن آسمان سے ڈھل جانا منقول ہے۔
(۷) عَنْ مُجَاہِدٍ: قَالَ دُلُوْکُ الشَّمْسِ حِیْنَ تَزِیْغُ۔
ترجمہ: مجاہد نے دلوک کے معنی تزیغ لیا ہے۔
(۸) قَالَ اَبُوْبَرْزَۃَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّی الظُّہْرَ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ، تَلَا اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ۔ (۱۴)
ترجمہ: ابوبرزہؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ۔
تشریح:’’زوال آفتاب‘‘ ہم نے دلوک الشمس کا ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ و تابعین نے دلوک سے مراد غروب بھی لیا ہے، لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ اس سے مراد آفتاب کا نصف النہار سے ڈھل جانا ہے۔ حضرت عمرؓ ،ابن عمرؓ ،انسؓ بن مالک، ابوبرزۃ الاسلمی، حسن بصریؒ، شعبیؒ ،عطاءؒ ،مجاہدؒ اور ایک روایت کی رو سے ابن عباسؓ بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے بھی یہی قول مروی ہے۔ (تفہیم القرآن ،ج ۲،بنی اسرائیل ،حاشیہ :۹۲)

صلوٰۃ وسطیٰ سے کون سی نماز مراد ہے؟

۸۸۔(جنگ احزاب کے موقع پر) آپؐ نے فرمایا: خدا ان لوگوں کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھردے، انہوں نے ہماری صلوٰۃ وسطیٰ فوت کرادی۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَنْصَارِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامُ ابْنُ حَسَّانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سِیْرِیْنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: مَلَأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَقُبُوْرَہُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلوٰۃِ الْوُسْطٰی حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ خندق کے دن ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’خدا ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے ، انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ سے ایسا مشغول رکھا کہ سورج ڈوب گیا۔‘‘
(۲) عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ الْاَحْزَابِ: شَغَلُوْنَا عَنْ صَلَاۃِ الْوُسْطیٰ حَتّٰی اٰبَتِ۔ الشَّمْسُ مَلَا اللّٰہُ قُبُوْرَہُمْ نَارًا، وبُیُوْتَہُمْ اَوْ بُطُوْنَہُمْ شَکَّ شُعْبَۃُ فِیْ الْبُیُوْتِ وَالْبُطُوْنِ۔(۱۶)
ترجمہ:حضرت علیؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ سے ایسا غافل کردیا کہ آفتاب غروب ہوگیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور ان کے گھروںاور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھردے۔‘‘
ـــــــحضرت علی سے متعدد راویوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ کسی نے غَابَتِ الشَّمْسُاور کسی نے اٰبَتِ الشَّمْسُاور پھر کسی نے مَلَأَ اللّٰہُ قُبُورَہُمْ وَبُیُوتَہُمْاور کسی نے اَجْوَافَہُمْ وَقُبُوْرَہُمْاور کسی نے بُیُوتَہُمْ اور بُطُونَہُمْ روایت کیا ہے۔ ایک روایت میں مَلَأَ اللّٰہُ بُیُوتَہُمْ وَقُبُورَہُمْ نَاراً ثُمَّ صَلاَّہَا بَیْنَ الْعِشَائَیْنِ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بیان کیا۔
تشریح: وسطیٰ کے معنی بیچ والی چیز کے بھی ہیں اور ایسی چیز کے بھی جو اعلیٰ اور اشرف ہو۔ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد بیچ کی نماز بھی ہوسکتی ہے اور ایسی نماز بھی جو صحیح وقت پر پورے خشوع اور توجہ الی اللہ کے ساتھ پڑھی جائے اور جس میں نماز کی تمام خوبیاں موجود ہوں۔
(صلوٰۃ الوسطیٰ سے) بعض مفسرین نے صبح کی نماز مراد لی ہے، بعض نے ظہر ، بعض نے مغرب اور بعض نے عشاء ۔ لیکن ان میں سے کوئی قول بھی نبی ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ صرف اہل تاویل کا استنباط ہے۔ سب سے زیادہ اقوال نماز عصر کے حق میں ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ نبیؐ نے اسی نماز کو صلوٰۃ وسطیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن جس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر نبی ﷺ کو مشرکین کے حملے نے اس درجہ مشغول رکھا کہ سورج ڈوبنے کو آگیا اور آپؐ نماز عصر نہ پڑھ سکے۔ اس وقت آپؐ نے (مندرجہ بالا الفاظ فرمائے) ۔ اس سے یہ سمجھا گیا کہ آپؐ نے نماز عصر کو صلوٰۃ وسطیٰ فرمایا ہے، حالانکہ اس کا یہ مطلب ہمارے نزدیک زیادہ قرین صواب ہے کہ اس مشغولیت نے اعلیٰ درجے کی نماز ہم سے فوت کرادی، ناوقت پڑھنی پڑے گی، جلدی جلدی ادا کرنی ہوگی، خشوع و خضوع اور اطمینان و سکون کے ساتھ نہ پڑھ سکیں گے۔
(تفہیم القرآن ،ج ۱، البقرہ ،حاشیہ : ۲۶۳)

نماز سے غفلت برتنے والے لوگ

۸۹۔حضرت سعد بن ابی وقاص سے ان کے صاحبزادے مصعب بن سعد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا تھا جو نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں (ابن جریر، ابویعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن۔ یہ روایت حضرت سعد کے اپنے قول کی حیثیت سے بھی موقوفاً نقل ہوئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی حیثیت سے اس کی مرفوعاً روایت کو بیہقی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا ہے)۔
۹۰۔حضرت مصعب کی دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد سے پوچھا کہ اس آیت (اَلَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلوٰتِہِمْ سَاہُوْنَ۔ (الماعون:۵) پر آپ نے غور فرمایا؟کیا اس کا مطلب نماز کو چھوڑ دینا ہے؟ یااس سے مراد نماز پڑھتے پڑھتے آدمی کا خیال کہیں اور چلا جانا ہے؟ خیال بٹ جانے کی حالت ہم میں سے کس پر نہیں گزرتی؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، اس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا ہے اور اسے وقت ٹال کر پڑھنا ہے۔
(ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابویعلی، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زَکَرِیَّابْنُ اَبَّانَ الْمِصْرِیُّ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُوبْنُ طَارِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: ثَنَاعَبْدُ الْمَلِکِ ابْنُ عُمَیْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِبْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، قَالَ: سَالْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ، قَالَ: ہُمْ الَّذِیْنَ یُؤَ خِّرُوْنَ الصَّلوٰۃَ عَنْ وَقْتِہَا۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد اَلَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلوٰتِہِمْ سَاہُوْنَ (الماعون:۵) کے بارے میں عرض کیا کہ ان سے کون لوگ مراد ہیں۔آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں۔‘‘
تشریح: اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز میں دوسرے خیالات کا آجانا اور چیز ہے اور نماز کی طرف کبھی متوجہ بھی نہ ہونا اور اس میں ہمیشہ دوسری باتیں ہی سوچتے رہنا بالکل دوسری چیز۔ پہلی حالت تو بشریت کا تقاضا ہے۔ بلا ارادہ خیالات آہی جاتے ہیں اور مومن کو جب بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نماز سے اس کی توجہ ہٹ گئی ہے تو وہ پھر کوشش کرکے اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ دوسری حالت نماز سے غفلت برتنے کی تعریف میں آتی ہے، کیونکہ اس میں آدمی صرف نماز کی ورزش کرلیتا ہے، خدا کی یاد کا کوئی ارادہ اس کے دل میں نہیں ہوتا، نماز شروع کرنے سے سلام پھیرنے تک ایک لمحہ کے لیے اس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، اور جن خیالات کو لیے ہوئے وہ نماز میں داخل ہوتا ہے انہی میں مستغرق رہتا ہے۔
(تفہیم القرآن ، ج ۶، الماعون، حاشیہ:۹)

منافق کی نماز

۹۱۔ تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ،تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطٰنِ، قَامَ فَنَقَرَاَرْبْعًا، لَایَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلًا۔
’’رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’یہ منافق کی نماز ہے، یہ منافق کی نماز ہے، یہ منافق کی نماز ہے۔ عصر کے وقت بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے (یعنی غروب کا وقت قریب آجاتا ہے) تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے، جن میں اللہ کو کم ہی یاد کرتا ہے۔‘‘ (بخاری ، مسلم، مسند احمد) (تفہیم القرآن،ج۶، الماعون، حاشیہ:۹)
ـــــــ ثبت فی الصحیحین
تخریج:(۱) اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، تَلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلًا۔(۱۸)
(۲)حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ، عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّہُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلیٰ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَعْدَ الظُّہْرِ فَقَامَ یُصَلِّی الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلوٰتِہِ ذَکَرْنَا تَعْجِیْلَ الصَّلوٰۃِ، اَوْذَکَرَہَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ،یَقُوْلُ: تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِیْنَ، تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِیْنَ، تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِیْنَ، یَجْلِسُ اَحَدُہُمْ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ اَوْعَلیٰ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلاً۔(۱۹)
ترجمہ: علاء ابن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ ہم انس بن مالک کی خدمت میں نماز ظہر کے بعد حاضر ہوئے ہی تھے کہ انہوں نے کھڑے ہوکر عصر کی نماز پڑھ لی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے جلدی نماز پڑھنے کا ذکر چھیڑا، یا خود انہوں نے اس جلدی پڑھنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے۔ ’’یہ منافق لوگوں کی نماز ہے، یہ منافق لوگوں کی نماز ہے، یہ منافق لوگوں کی نماز ہے کہ ان میں سے ایک بیٹھا رہتا ہے، جب آفتاب پیلا پڑجاتا ہے تو اس وقت وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ تو یہ اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو کم ہی یاد کرتا ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ اَیُّوْبَ وَمُحَمَّدُبْنُ الصَّبَّاحِ وَقُتَیْبَۃُ وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا: نَااِسْمَاعِیْلُ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّہُ دَخَلَ عَلیٰ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ دَارِہِ بِالْبَصَرَۃِ حِیْنَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّہْرِ وَدَارُہُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَاعَلَیْہِ، قَالَ: اَصَلَّیْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَالَہُ، اِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَۃَ مِنَ الظُّہْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، فَقُمْنَا فَصَلَّیْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلًا۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت علاء بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ وہ حضرت انس بن مالک کے پاس بصرہ میں ان کی قیام گاہ پر گئے۔ ان کا گھر مسجد کے پہلو میں واقع تھا۔ وہ نماز ظہر پڑھ کر واپس آئے تھے۔ جب ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ تو ہم نے جواب میں عرض کیا ’’ابھی تو ہم نماز ظہر سے واپس ہوئے ہیں۔ بہر حال انہوں نے کہا کہ تم لوگ عصر کی نماز پڑھ لو، لہٰذا ہم نے اٹھ کر نماز پڑھ لی۔ جب ہم واپس جانے لگے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے، فرماتے تھے ’’یہ منافق کی نماز ہے جوبیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان ہوتا( غروب کے قریب ) تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو کم ہی یاد کرتا ہے۔
دارقطنی میں حضرت انسؓ سے منقول روایت:
(۴) عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِصَلوٰۃِ الْمُنَافِقِ؟ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتْ فَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا، لَایَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلاً۔؟(۲۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے باخبر نہ کروں ،وہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ پیلا پڑجاتا ہے۔ اس وقت وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے جس میں ذکر الٰہی کم ہی ہوتا ہے۔
مسند احمد کی ایک اور روایت:
(۵) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلیٰ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ حِیْنَ صَلَّیْنَا الظُّہْرَفَدَعَا الْجَارِیَۃَ بِوَضُوْئٍ، فَقُلْنَا لَہُ: اَیَّ صَلوٰۃٍ تُصَلِّیْ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْا ٓنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، یَقُوْلُ: تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ یَتْرُکُ الصَّلوٰۃَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ فِیْ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ، اَوْبَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ صَلّٰی لَایَذْکُرُ اللّٰہِ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلًا۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک انصار کا آدمی دونوں ظہر کی نماز پڑھ کر انس بن مالک کے پاس گئے۔ انہوں نے لونڈی سے کہا کہ ’’وہ وضوء کا برتن لائے۔‘‘تو ہم نے پوچھا کہ ’’یہ کون سی نماز جو آپ پڑھنے لگے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’عصر کی نماز ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا کہ ’’ہم نے تو ابھی ظہر کی ہی نماز پڑھی ہے۔‘‘ یہ سن کر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے خود سنا ہے ’’یہ منافق کی نماز ہے، نماز چھوڑ کر بیٹھا رہتا ہے کہ جب سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو نماز پڑھتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔
ان سے مروی ایک اور روایت میں ہے:
(۶) فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ،تِلْکَ صَلوٰۃُ الْمُنَافِقِ، یَجْلِسُ اَحَدُہُمْ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ اَوْ عَلَی قَرْنِ الشَّیْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا اِلَّا قَلِیْلًا۔(۲۳)
ترجمہ: حضرت علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے ، ’’یہ منافق کی نماز ہے ، یہ منافق کی نماز ہے (منافق کا حال یہ ہے) کہ بیٹھا رہتا ہے حتیٰ کہ سورج زرد پڑجاتا ہے اور اس وقت یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان ہوتا ہے، یا فرمایا سینگوں پر ہوتا ہے تو یہ اٹھ کر چار ٹھونگیں مارلیتا ہے جس میں ذکر الٰہی کم ہی ہوتا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے:
(۷) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلَا اُخْبِرُ کُمْ بِصَلوٰۃِ الْمُنَافِقِ یَدَعُ العَصْرَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ اَوْ عَلَی قَرْنِ الشَّیْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ ہَا نَقَرَاتِ الدِّیْکِ لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہَا الَّا قَلَیْلًا۔(۲۴)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے باخبر نہ کروں، نماز عصر چھوڑے بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو، اٹھتا ہے اور مرغ کی طرح چند ٹھونگیں مارلیتا ہے جس میں ذکر الٰہی کم ہی ہوتا ہے۔

قطبین میںنماز

قطبین کے قریب علاقوں کے اوقات عبادات کے معاملے میں میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں رات اور دن کا الٹ پھیر ۲۴ گھنٹے کے اندر ہوجاتا ہے ان میں روزہ و نماز کے اوقات اسی قاعدے پر ہونے چاہییں جو خط استوا سے قریب تر مقامات کے لیے ہے، خواہ رات دو ہی گھنٹے کی ہو، یا دن دو ہی گھنٹے کا رہ جائے۔ البتہ اس کے آگے جہاں رات اور دن ۲۴ گھنٹوں سے متجاوز ہوجاتے ہیں، وہاں گھڑیوں کے حساب سے اوقات مقرر کیے جانے چاہییں، اور ایسے مقامات پر تعین اوقات مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کے معیارپر کیا جانا چاہیے۔ (رسائل و مسائل دوم قطبین میں نماز)

انگریزی میں نماز

نماز صرف عربی زبان ہی میں ادا کی جاسکتی ہے، کیونکہ نماز کا سب سے اہم جز قرآن کی تلاوت ہے جو عربی زبان میں نازل ہوا ہے، اور اس کا ترجمہ کتنا ہی صحیح ہو، بہر حال قرآن نہیںہے، نہ اس پر کلام اللہ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ دوسری جو چیزیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ سب نبی ﷺ نے مقرر کی ہیں اور جن الفاظ میں آں حضرت ﷺ نے ان کی تعلیم دی ہے، انہی میں ان کو پڑھنا چاہیے۔ دوسری زبان کے الفاظ اوّل تو ان کے صحیح معنی ادا نہیں کرتے، اور کسی حد تک وہ ادا کریںبھی تو بہر حال وہ پیغمبر ﷺ کے بتائے ہوئے الفاظ کے قائم مقام نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع سے آج تک کے فقہائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ نماز عربی زبان ہی میں ادا کی جانی چاہیے۔ نہ قرآن کے اصل الفاظ کی جگہ ان کا ترجمہ پڑھا جاسکتا ہے اور نہ نبی ﷺ کے بتائے ہوئے الفاظ کو دوسرے الفاظ سے بدلا جاسکتا ہے۔
البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ جو غیر عرب انسان نیا نیا مسلمان ہو اور فوراً ہی عربی زبان میں قرآن اور دوسرے اذکار صلوٰۃ پڑھنے کے قابل نہ ہوسکے وہ کیاکرے؟ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ (امام ابوحنیفہؒ کے دو فاضل شاگردوں) کی رائے یہ ہے کہ ایسا شخص اپنی زبان میں ترجمہ پڑھ سکتا ہے، مگر اسے جلدی سے جلدی کوشش کرنی چاہیے کہ عربی زبان میں نماز پڑھنے کے قابل ہو جائے۔ امام ابوحنیفہؒ پہلے اس بات کے قائل تھے کہ عربی زبان کے تلفظ کی قدرت رکھنے والے شخص کے لیے بھی غیر عربی میں نماز پڑھنا جائز ہے، مگر بعد میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا اور وہی رائے اختیار کی جو ان کے دونوں جلیل القدر شاگردوں ، امام ابویوسفؒ اورامام محمدؒ نے ظاہر کی ہے۔ لیکن امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ نماز کسی حال میں بھی عربی کے سوادوسری زبان میں ادا نہیں کی جاسکتی۔ جو شخص عربی تلفظ پر قادر نہ ہو وہ نماز میں سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ جیسے مختصر الفاظ پڑھتا رہے اور اس امر کی کوشش کرے کہ جلدی سے جلدی عربی میں نماز ادا کرنے کی قدرت اسے حاصل ہوجائے۔

 آپ اس مسئلے کی تحقیق کرنا چاہیں تو ہدایہ کی مشہور شرح فتح القدیر ، جلد اوّل ، ص ۱۹۹، ۲۰۱، امام سرخسی کی المبسوط، جلد اول ، ص ۲۷، اور بزدوی کی کشف الاسرار : ص ۲۵ ملاحظہ فرمائیں 
ایک ایسی زبان میں نماز پڑھنا جس کو آدمی نہ سمجھتا ہو اور جن کے صرف الفاظ ہی وہ زبان سے ادا کررہا ہو، بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے اور سرسری نگاہ میں آدمی اس کو کچھ غیر فطری سا محسوس کرتا ہے۔ لیکن آپ ذرا گہری نگاہ سے دیکھیں تو اس کی عظیم مصلحتیں آپ کے سامنے واضح ہوجائیں گی۔
ایک مذہب کے اپنی اصلی شکل اور روح کے ساتھ برقرار رہنے کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہے کہ اس کی تعلیم اپنے اصل الفاظ میں محفوظ رہے۔ ایک زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں کبھی اصل کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ نہ اصل کی پوری روح اور اس کی کامل معنویت دوسری زبان میں منتقل کی جاسکتی ہے۔ ترجمہ ہر شخص اپنی فہم کے مطابق کرے گا، اور دو مترجموں کے ترجمے کبھی متفق نہ ہوسکیں گے۔ یہ معاملہ تو انسانی تصنیفوں کے ترجمے میں ہم آئے دن دیکھتے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کے کلام اور پیغمبرانہ الفاظ کو پوری روح اور معنویت کے ساتھ دوسری زبان میں منتقل کیا جاسکے اور یہ کہا جاسکے کہ یہ ترجمہ اصل کا قائم مقام ہے۔
دنیا کے مذاہب کو بگاڑنے میں ایک بڑا دخل اس چیز کا ہے کہ ان کی بنیادی کتابیں اپنی اصل زبان میں محفوظ نہیں رہیں اور ان کے پیرئوں کا سارا انحصار مختلف زبانوں کے مختلف ترجموں پر ہوگیا، جن میں باہم کوئی موافقت نہیں ہے اور جن کے اندر آئے دن ترمیمیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔
مسلمانوں کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کے مذہب کا مدار جس کتاب پر اور جس پیغمبر کی ہدایات پر ہے، وہ کتاب بھی اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے اور اس پیغمبر کی تعلیمات بھی اسی زبان میں محفوظ ہیں، جس میںوہ دی گئی تھیں۔ اب یہ ہماری طرف سے بڑی نادانی ہوگی کہ ہم اس نعمت کی قدر نہ کریں اور اپنے مذہب کا مدار بھی ترجموں ہی پر رکھنے کا دروازہ کھول دیں۔ سب سے بڑی طاقت جو ہمیں قرآن اور پیغمبر تعلیم سے وابستہ رکھتی ہے، یہی نماز ہے جسے ہم روزانہ پانچ وقت پڑھتے ہیں۔ اس کی زبان بدلنے کے بعد مشکل ہی سے اپنے دین کے اصل سرچشموں سے ہمارا رشتہ قائم رہ سکے گا۔
ایک مذہب کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ چیز بھی نہایت ضروری ہے کہ اس کی عبادات اپنی اصل شکل پر قائم رہیں اور لوگ ان کے اندر اپنے حسب منشا ردوبدل کرلینے میں آزادنہ ہوں۔ مذہب کا سب سے اہم حصہ اس کی عبادات ہوتی ہیں۔ انہی کے اتباع اور احترام اور التزام سے بقیہ تعلیمات دین کو قوت نفاذ حاصل ہوتی ہے۔ اورخود ان عبادات کو جو چیز پیروان مذہب کے لیے مقدس و محترم اور واجب الاتباع بناتی ہے، وہ یہ یقین ہے کہ ان کا ہر جز و اور ہر لفظ اس اقتدار اعلیٰ کا مقرر کردہ ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں۔ یہ یقین ایسی صورت میں ختم ہوجائے گا جب کہ عبادات کی شکلیں اور ان کے الفاظ مقرر کرنے میں لوگوں کی اپنی رائے اور مرضی کا دخل شروع ہوجائے۔ اوراس کے متزلزل ہوتے ہی پورے دین کے مسخ ہونے اور اس کے احکام کی پیروی سے لوگوں کے آزاد ہونے کا راستہ کھل جائے گا۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ تمام دنیا میں ہر قوم اور ہر ملک کے لیے اور ہر زبان بولنے والوں کے لیے اذان اور نماز کی ایک ہی زبان ہونا وہ عظیم الشان قوت رابطہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت اور ایک عالمگیر برادری بناتی ہے۔ آپ خواہ اس کرۂ زمین کے کسی گوشے میں چلے جائیں۔ اذان کی آواز سنتے ہی محسوس کرلیں گے کہ یہاں آپ کی ملت کا کوئی شخص یا گروہ موجود ہے اور وہ نماز کے لیے بلارہا ہے۔ نماز کے لیے آپ جہاں بھی جائیں گے، وہی ایک جانی پہچانی آواز سنیں گے خواہ آپ لندن میں ہوں ،یا نائیجریا میں، یا انڈونیشیا میں۔ اپنے ساتھی مسلمانوں کی زبان کا ایک لفظ بھی چاہے آپ نہ جانتے ہوں ، مگر نماز میں نہ آپ ان کے لیے اجنبی ہوں گے نہ وہ آپ کے لیے ۔ اس کے بجائے اگر نماز ہر ایک اپنی مادری زبان میں پڑھنے لگے اور اذان بھی ہر جگہ مقامی زبان ہی میں دی جانے لگے تو یہ عالمگیر برادری بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ برعظیم ہندوپاکستان میں تین سو سے زائد زبانیں ہیں۔ صرف اسی سرزمین میں ایک مسلم ملت کے اتنے ہی ٹکڑے ہوجائیں گے جتنی یہاں زبانیں ہیں اور ایک مسلمان اپنے علاقے سے باہر نکل کر نہ اذان کو پہچان سکے گا، نہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھ سکے گا۔
یہی کیفیت دنیا کے دوسرے خطوں میں پیش آئے گی، اور پھر حج کے موقع پر تو شاید منارۂ بابل کی سی حالت رونما ہو۔ یہ دراصل مسلمانوں میں اسی (Nationalisation of the Church) کی ابتدا ہوگی جس میں مسیحی دنیا مبتلا ہوکر نبرد آزما قومیتوں میں بٹ گئی ہے۔ کیا آپ کو اس نعمت کا احساس نہیں ہے کہ قوم پرستی ، نسل پرستی،رنگ پرستی اور زبان پرستی سے پارہ پارہ ہوجانے والی انسانیت کے لیے اسلام نے عالمگیروحدت کا یہ کتنا بڑا ذریعہ پیدا کیا ہے جو دنیا کے لیے عربی اذان، عربی نماز ، عربی کلمہ اور عربی زبان کی چند معروف اور مشترک مذہبی اصطلاحات کی شکل میں آپ کو نظر آرہا ہے؟ اسی ’’سرکاری زبان‘‘ کی بدولت ہی تو مسلمان ہر جگہ مسلمان کو پہچانتا اور اس کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے جیسے ازل سے ان دونوں کی روحوں میں کوئی قریبی رشتہ ہو۔
جہاں تک نماز کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت کا تعلق ہے، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،مگر یہ ضرورت اس بڑے نقصان کو، جس کا میں اوپر ذکر کرچکا ہوں، انگیز کیے بغیر بھی پوری کی جاسکتی ہے۔ نماز کے لیے قرآن کی چند سورتیں کافی ہیں اور قرآن کے سوا باقی تمام اذکار جو نماز میں پڑھے جاتے ہیں صرف چند فقروں پر مشتمل ہیں۔ ان کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ بآسانی ذہن نشین کیا جاسکتا ہے۔ (رسائل و مسائل دوم :انگریزی میں نماز)

بھولی ہوئی نماز کی ادائیگی کا وقت

۹۲۔مَنْ نَسِیَ صَلَاۃً فَلْیُصَلِّہَا اِذَاذکَرَ ہَا لَا کَفَّارَۃَ لَہَا اِلَّا ذٰلِکَ۔
’’حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’جو شخص کسی وقت کی نماز بھول گیا ہو، اسے چاہیے کہ جب یاد آئے ادا کرلے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔‘‘ (بخاری ، مسلم، احمد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ وَمُوْسیٰ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ،قَالاَ: حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: مَنْ نَسِیَ صَلَاۃً فَلْیُصَلِّ اِذَا ذَکَرَ لَا کَفَّارَۃَ لَہَا اِلَّا ذٰلِکَ۔ وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ۔ قَالَ مُوْسٰی: قَالَ ہَمَّامٌ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ بَعْدُ وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ، وَقَالَ حِبَّانٌ : ثَنَا ہَمَّامٌ، ثَنَا قَتَادَۃُ، قَالَ حَدَّثَنَا اَنَسٌ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ نَحْوَہ۔(۲۵)
مسلم میں انس بن مالک سے مروی روایت:
(۲)عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ نَبِیٌّ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ نَسِیَ صَلَاۃً اَوْ نَامَ عَنْہَا، فَکَفَّارَتُہَا اَنْ یُّصَلِّیْہَا اِذَا ذکَرَہَا۔(۲۶)
ترجمہ:’’حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ’’جو شخص کسی وقت کی نماز بھول گیا ہو، یا اس وقت سو گیا ہو، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے تو اسے چاہیے کہ وہ ادا کرلے۔‘‘
مسلم اور نسائی کی ایک روایت میں ہے:
(۳) اِذَا رَقَدَ اَحَدُ کُمْ عَنِ الصَّلوٰۃِ اَوْ غَفَلَ عَنْہَا، فَلْیُصَلِّہَا اِذَا ذَکَرَہَا۔ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ(طہ:۱۴)۔(۲۷)
ترجمہ: ’’جب تم میں سے کسی کی سونے کی وجہ سے نماز رہ جائے ،یا اسے یا دنہ رہی ہو، تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے ادا کرلے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :مجھے یاد کرنے کے لیے نماز قائم کیجیے۔‘‘
۹۳۔ابوقتادہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ سے پوچھا گیا کہ اگر ہم نماز کے وقت سوگئے ہوں تو کیا کریں؟ آپؐ نے فرمایا’’نیند میں کچھ قصور نہیں، قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے، یا سوجائے تو جب بیدار ہویا جب یاد آئے نماز پڑھ لے۔‘‘ (ترمذی، نسائی، ابودائود)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَہُ، نَا حَمَّادُبْنُ زَیْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ الْاَنْصَارِیِّ، عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ، قَالَ: ذَکَروا للنَّبِیَّ ﷺ نَوْ مَہُمْ عَنِ الصَّلوٰۃِ، فَقَالَ: اِنَّہُ لَیْسَ فِی النَّوْمِ تَفْرِیْطٌ، اِنَّمَا التَّفْرِیْطُ فِی الْیَقْظَۃِ۔ فَاِذَا نَسِی اَحَدُ کُمْ صَلَاۃً اَوْ نَامَ عَنْہَا فَلْیُصَلِّہَا اِذَا ذَکَرَہَا۔(۲۸)
ترجمہ: ’’حضرت ابوقتادہؓ سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازکے وقت اپنے سونے کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا :’’نیند میں کچھ قصور نہیں، قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے۔‘‘ پس جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے یا سوجائے تو جب بیدار ہو،یا جب یاد آئے تو نماز پڑھ لے۔‘‘
وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، وَاَبِیْ مَرْیَمَ، وَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، وَجُبَیْرِ بْنِ مَطْعَمٍ، وَاَبِیْ جُحَیْفَۃَ، وَعَمْرِو بْنِ اُمَیَّۃَ الضَّمَرِیِّ، وَذِیْ مُخْبِرٍ، وَہُوَ ابْنُ اٰخیٰ النَّجَاشِیِّ۔ قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: حَدِیْثُ قَتَادَۃَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ فِی الرَّجُلِ یَنَامُ عَنِ الصَّلوٰۃِ اَوْیَنْسَاہَا فَیَسْتَیْقِظُ اَوْ یَذْکُرُ وَہُوَ فِیْ غَیْرِ وَقْتِ صَلَاۃٍ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ اَوْ عِنْدَ غُرُ وْبِہَا، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : یُصَلِّیْہَا اِذَا اسْتَیْقَظَ اَوْذَکَرَ، وَاِنْ کَانَ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ اَوْ عِنْدَ غُرُوْبِہَا وَہُوَ قُوْلُ اَحْمَدَ، وَاِسْحَاقَ، وَالشَّافِعِیِّ، وَمَالِکٍ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : لَایُصَلِّی حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبَ۔
مسلم نے ابوہریرہ کی روایت قدرے وضاحت سے نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ، سَارَ لَیْلَۃً۔ اِذَا اَدْرَکَہُ الْکَرٰی عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ اِکْلَا لَنَا اللَّیْلَ، فَصَلّٰی بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَہُ۔ وَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَصْحَابُہُ۔ فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اِسْتَنَدَ بِلَالٌ اِلیٰ رَاحِلَتِہِ مُوَاجَہَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلَالاً عَیْنَاہُ وَہُوْ مُسْتَنِدٌ اِلیٰ رَاحِلَتِہِ۔ فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَلَا بِلَالٌ وَلَا اَحَدٌ مِّنْ اَصْحَابِہِ حَتّٰی ضَرَبَتْہُمُ الشَّمْسُ۔ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَوَّلُہُمْ اِسْتِیْقَاظًا۔ فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ فَقَالَ اَیْ بِلَالُ،فَقَالَ بِلَالٌ: اَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِیْ اَخَذَ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ بِنَفْسِکَ، قَالَ: اِقْتَادُوْا فَاقْتَادَوْا رَوَاحِلَہُمْ شَیْئًا۔ ثُمَّ تَوَضَّارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَمَرَ بِلَالًا فَاقَامَ الصَّلوٰۃَ۔ فَصَلّٰی بِہِمُ الصُّبْحَ۔ فَلَمَّا قَضَی الصَّلوٰۃَ، قَالَ: مَنْ نَسِیَ الصَّلوٰۃَ فَلْیُصَلِّہَا اِذَا ذَکَرَ ہَا فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَالَ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِی (طٰہٰ:۱۴) قَالَ یُوْنُسُ: وَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقْرَاُہَا لِلذِّکْرٰی۔(۲۹)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ خیبر سے لوٹ رہے تھے تو آپؐ نے رات کا سفر اختیار کیا۔ جب نیند نے غلبہ کیا تو آپؐ نے شب بسری کے لیے قیام فرمایا۔ اس موقع پرآپؐ نے بلالؓ سے فرمایا ’’تم آج رات کی ہمارے لیے حفاظت کرو۔ چنانچہ بلال نے تعمیل ارشاد میں جتنی نماز ان کے بس میں تھی ، اتنی پڑھی۔ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے ساتھی سب سوگئے۔ جب پوپھٹنے کا وقت قریب آیا تو بلال طلوع آفتاب کی جانب منہ کرکے اپنی سواری یا پالان سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوگئے۔ بس اتنے میں بلال پر نیند غالب آگئی اور پالان سے ٹیک لگاتے ہوئے سوگئے۔ نہ رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے نہ بلال اور نہ کوئی دوسرے صحابی بیدار ہوسکے، حتیٰ کہ سورج نے انہیں بیدار کیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے بیدار ہوئے اور گھبراگئے۔ فرمایا اے بلال (کیا ہوا؟) ۔ بلال ؓنے عرض کیا،یا رسول اللہ ؐ میرے ماں باپ آپؐ پر نثار ہوں، جس نے آپؐ پر غلبہ کیا وہی مجھ پر بھی غالب آگئی۔ ( مجھ پر نیند غالب آگئی)۔ حضور نے ارشاد فرمایا یہاں سے کوچ کرو۔ لہٰذا صحابہؓ نے وہاں سے تھوڑا آگے کوچ کرلیا۔ پھر یہاں آپؐ نے وضوفرمایا اور بلال کو حکم دیا۔ چنانچہ بلال نے نماز کے لیے اقامت کہی تو آپؐ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپؐ نے فرمایا’’جو شخص یہ نماز بھول گیا ہو، تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے اسے ادا کرلے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے میرے یاد دلانے کے وقت نماز قائم کرو۔
(۳) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیٰ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جَآئَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ یَسُبُّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَاکِدْتُّ اُصَلِّی الْعَصْرَحَتّٰی کَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ،قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَاصَلَّیْتُہَا فَقُمْنَا اِلیٰ بُطْحَانَ، فَتَوَضَّاَ لِلصَّلَاۃِ وَتَوَضَّاْنَا لَہَا، فَصَلَّی الْعَصْرَبَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ہَا الْمَغْرِبَ۔(۳۰)
ترجمہ:حضرت جابربن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ بن الخطاب جنگ خندق کے روز غروب آفتاب کے بعد تشریف لائے اور کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہؐ! میں نے ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی کہ سورج ڈوبنے لگا۔ ’’ نبی ﷺ نے فرمایا: میں نے بھی (ابھی تک)نماز نہیں پڑھی ہے۔‘‘ ہم بطحان (یعنی سنگریزے والی جگہ) کی طرف اٹھ کر گئے۔ آپؐ نے وضو فرمایا۔ ہم نے بھی وضو کیا۔ پھر آپؐ نے غروب آفتاب کے بعد نماز عصر پڑھائی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔
(۴) حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَیْسَرَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ فُضَیْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَیْنٌ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ النَّبِیِّﷺ لَیْلَۃً، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْعَرَّسْتَ بِنَایَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ : اَخَافُ اَنْ تَنَامُوْا عَنِ الصَّلوٰۃِ، قَالَ بِلَالٌ: اَنَا اُوْقِظُکُمْ، فَاضْطَجَعُوْا وَاَسْنَدَ بِلَالٌ ظَہْرَہُ اِلٰی رَاحِلَتِہِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَا ہُ فَنَامَ فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ﷺ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ : یَا بِلَالُ اَیْنَ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: مَا اُلْقِیَتْ عَلَیَّ نَوْمَۃٌ مِثْلَہَا قَطُّ، قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ قَبَضَ اَرْوَاحَکُمْ حِیْنَ شَآئَ وَرَدَّہَا عَلَیْکُمْ حِیْنَ شَآئَ یَا بِلَالُ! قُمْ فَاَذِّنْ بِالنَّاسِ بِالصَّلوٰۃِ، فَتَوَضَّاَفَلَمَّا اِرْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْیَضَّتْ قَامَ فَصَلّٰی۔(۳۱)
ترجمہ: حضرت ابوقتادہؓ سے مروی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ رات کو سفر کررہے تھے۔ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کاش کہ آپؐ تھوڑی دیر رات میں آرام کا موقع مرحمت فرمادیں۔ حضورؐ نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ سوتے میں تمہاری نماز نہ رہ جائے۔‘‘ بلال نے عرض کیا ’’حضورؐ میں سب کو بیدار کردوں گا۔‘‘ یہ سن کر سب سوگئے اور بلال اپنی سواری یا پالان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور سوگئے۔ اچانک نبی ﷺ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ سورج کا کنارہ نکل چکا ہے۔ بلال سے مخاطب ہوکر فرمایا: بلال! اپنی بات کا پاس نہ کرسکے۔ عرض کیا جناب ایسی گہری نیند تو آج تک کبھی مجھ پر مسلط نہیں ہوئی تھی۔ حضورؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحوں کو قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا تم پر لوٹا دیتا ہے۔ لہٰذا بلال اٹھو اور اذان دو کہ لوگ نماز کے لیے آئیں۔ پھر آپؐ نے وضو فرمایا، پھر جب سورج بلند ہوا اور اچھی طرح روشن ہوگیا تو پھر آپؐ نے نماز پڑھائی۔
نسائی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے فجر کی سنتیں بھی پڑھیں، روایت کے آخر میں ہے:
(۵)حَتّٰی اَیْقَظَہُمْ حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوْا، فَقَالَ: تَوَضَّؤُوْا ثُمَّ اذَّنَ بِلَالٌ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَصَلُّوا رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلُّوا الْفَجْرَ۔(۳۲)
ترجمہ:نسائی کی روایت میں ہے (اتنے گہرے سوئے) کہ سورج کی حرارت نے انہیں بیدار کیا تو وہ اٹھے ، ارشاد فرمایا کہ وضو بنالو۔ پھر بلال نے اذان کہی۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں تو صحابہ نے بھی فجر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔ اس کے بعد نماز فجر ادا کی۔
ـــــــ دارقطنی میں اس سے متعلق سارا مواد کِتَابُ الصَّلوٰۃِ: بَابُ قَضَائِ الصَّلوٰۃِ بَعْدَ وَقْتِہَا میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ امام ترمذی نے حضرت انسؓ کی روایت سے فقہی مسالک مستنبط کرکے نقل کیے ہیں:
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: حَدِیْثُ اَنَسٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
ـــــــ وَیُرْوٰی عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ : اَنَّہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ یَنْسَی الصَّلوٰۃَ یُصَلِّیْہَا مَتٰی ذَکَرَہَا فِیْ وَقْتٍ اَوْ فِیْ غَیْرِ وَقْتٍ۔ وَہُوَ قَوْلُ اَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ۔ وَیُرْوٰی عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ: اَنَّہُ نَامَ عَنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، فَاسْتَیْقَظَ عِنْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ، فَلَمْ یُصَلَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَقَدْ ذَہَبَ قَوْمٌ مِنْ اَہْلِ الْکُوْفَۃِ اِلٰی ہٰذَا۔ وَاَمَّا اَصْحَابُنَا فَذَہَبُوْ اِلیٰ قَوْلِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبِ۔
ـــــــ’’حضرت علیؓ نے اس شخص کے بارے یہ رائے دی ہے کہ بھول کر نماز ترک کرنے والا جب اسے یاد آئے خواہ وقت ہو یا نہ ہو، اسے ادا کرلینی چاہیے۔ یہ امام احمد، اسحاق کا مسلک ہے۔ ابوبکرہ سے منقول ہے کہ انہیں نماز عصر کے وقت نیند آگئی۔ غروب شمس کے قریب بیدار ہوئے تو انہوں نے نماز نہ پڑھی جب تک سورج پوری طرح ڈوب نہ گیا۔ اہل کوفہ کے لوگوں نے اسے اختیار کیا ہے، لیکن ہمارے اصحاب کا رجحان حضرت علیؓ کے قول کی جانب ہے۔‘‘
نسائی نے ابن مسعودؓ کی روایت مختلف الفاظ میں روایت کی ہے:
(۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَآئِ فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلَیَّ۔ فَقُلْتُ فِیْ نَفْسِیْ: نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ بِلَالًا فَاَقَامَ فَصَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ ثُمَّ اَقَامَ، فَصَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ، ثُمَّ اَقَامَ، فَصَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ اَقَامَ، فَصَلّٰی بِنَا الْعِشَآئَ ، ثُمَّ طَافَ عَلَیْنَا ، فَقَالَ: مَا عَلَی الْاَرْضِ عِصَابَۃٌ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَیْرُ کُمْ۔ (۳۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ہمیں ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ (جنگ میں مشغولیت کی وجہ سے نہ پڑھی جاسکیں) یہ مجھ پر بڑی گراں گزری۔ دل ہی دل میں، میں نے کہا ہم رسالت مآبؐ کی معیت میں ہیں، جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلے ہیں۔ (پھر ایسا کیوں ہوا ہے)۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے بلال کو حکم دیا۔ انھوں نے اقامت کہی۔ پھر آپؐ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر بلال نے اقامت کہی اور آپؐ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ پر انھوں نے اقامت کہی اور آپؐ نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ؐ نے عشاء کی نماز پڑھائی ۔ پھر ہمارے گرد چکر لگا کر فرمایا، روئے زمین پر کوئی گروہ تمہارے سوا ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس وقت یاد کررہا ہو۔
(۷) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : اِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ شَغَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَرْبَعِ صَلَوٰتٍ یَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتّٰی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَاشَآئَ اللّٰہُ، فَاَمَرَ بِلَالاً، فَاَذَّنَ، ثُمَّ اَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ، ثُمَّ اَقَامَ فَصَلّٰی الْعَصْرَ، ثُمَّ اَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ، ثُمَّ اَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَآئَ۔(۳۴)
ترجمہ: حضرت عبداللہ (بن مسعود) سے مروی ہے کہ جنگ خندق کے روز مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو چار نمازوں سے غافل کردیا ۔ یہاں تک اللہ کی مشیئت کے مطابق رات کا کچھ حصہ گزر گیا۔ اب آپؐ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی۔ پھر اقامت کہی تو آپؐ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر بلال نے اقامت کہی تو آپؐ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ بلال نے پھر اقامت کہی اور آپؐ نے نماز مغرب پڑھائی۔ پھر بلال نے اقامت کہی اور آپؐ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَجَابِرٍ، قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: حَدِیْثُ عَبْدِ اللّٰہِ لَیْسَ بِاِسْنَادِہِ بَاْسٌ اِلَّا اَنَّ اَبَا عُبَیْدَۃَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ۔ وَہُوَ الَّذِیْ اَخْتَارَہُ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ فِی الْفَوَائِتِ: اَنْ یُقِیْمَ الرَّجُلُ لِکُلِّ صَلَاۃٍ اِذَا قَضَاہَا۔ وَاِنْ لَّمْ یُقِمْ اَجْزَاہُ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ۔
تشریح: جس شخص کو بھول لاحق ہو جائے اسے جب بھی یاد آئے نماز ادا کرلینی چاہیے۔ (تفہیم القرآن ، ج۳ ، طہٰ، حاشیہ : ۹)

چھوٹے ہوئے فرائض شرعیہ کی قضا

کسی عمل کا قبول کرنا یا نہ کرنا انسانوں کے اختیار میں نہیں ہے۔ خدا وند عالم کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کے ذمے فرضوں کی قضا لازم ہو تو فرض کی قضا ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاص کی بنا پر وہ سنن و نوافل بھی ادا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے اس خلوص کو رد فرمادے۔ ہاں،اگر فرض کی قضا سے غافل رہ کر یہ کام کرے تو امید نہیں کہ یہ فعل اللہ کے ہاں مقبول ہوگا، کیونکہ فرض کی قضا بہ منزلہ قرض کے ہے، اور قرض ادا کرنے سے غفلت برت کر خیرات کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
البتہ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایک زمانہ حالت جاہلیت میں گزاردیا ہو اور اس میں بے شمار نمازیں چھوڑدی ہوں، ان کے لیے پچھلی قضا بھی ادا کرنا اور سنن و نوافل بھی پڑھنا مشکل ہے۔ اس میں اندیشہ ہے کہ اکثر کسل کی بنا پر وہ قضا ادا کرنے سے رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اس میں بڑی سہولت ہے کہ ہر وقت کی فرض نماز کے بعد جتنی سنتیں بالعموم پڑھی جاتی ہیں ان کو سنت کی نیت سے پڑھنے کے بجائے آدمی پچھلے چھوٹے ہوئے فرائض کی قضا کے طور پر پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اس امر کا گمان غالب ہوجائے کہ پچھلی سب قضائیں ادا ہوچکی ہیں۔ اس طرح آدمی بغیر کسی دقت کے بہ آسانی اس فرض سے سبکدوش ہوسکتا ہے۔
چھوٹی ہوئی نمازوں ہی کی طرح قضا روزوں کا معاملہ بھی ہے۔ جس کے فرض روزے چھوٹ گئے ہوں وہ نفل روزے رکھنے کے بجائے فرض کی نیت سے پچھلی قضا کیوں نہ ادا کرے۔
یہی معاملہ زکوۃ کا بھی ہے۔ آپ خود سوچئے، آخر یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ جس کے ذمہ فرض زکوۃ واجب ہو وہ اسے تو ادا نہ کرے اور یوں خیرات کرتا پھرے ۔آخر کیوں نہیں وہ اسی خیرات کو زکوۃ کا حساب لگا کر ادا کرتا ؟ ضائع کرنے یا قبول کرلینے کے اختیارات تو اللہ کو ہیں، مگر جو بات ہماری اور آپ کی عقل میں آجاتی ہے کہ فریضے سے غفلت برت کر نوافل ادا کرنے میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ میاں کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہ آئے گی؟ اگر وہ پوچھیں کہ جو کچھ میں نے لازم کیا تھا وہ تو تونے ادا نہیں کیا اور اپنی خوشی سے یہ سب کچھ دے آیا تو آخر کسی کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟
تحقیق کے بعد (مجھے) یہ معلوم ہوا کہ اگر آدمی کافرنہ تھا، صرف جہالت اور غفلت کی بنا پر تارک نماز رہا، تو اس کے لیے صرف توبہ کافی نہیں، بلکہ پچھلی نمازوں کی قضا بھی کرنی چاہیے۔ ابن تیمیہؒ نے اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے یہ اصولی بات بیان کی ہے کہ توبہ کے ساتھ سابق کی تلافی اور آئندہ کے لیے اصلاح دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی گناہ ایسا ہو جس کی تلافی کے امکانات ہی نہ ہوں تو بات دوسری ہے۔ اس صورت میں توبہ اور ندامت و شرمساری کافی ہوسکتی ہے۔ لیکن جن گناہوں کی تلافی ممکن ہو، ان پر توبہ کے ساتھ تلافی کیے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ مثلاً کسی کا قرض آپ کے ذمہ تھا اور آپ نے مدتوں اسے ادا نہ کیا تو اب اس گناہ کی معافی صرف توبہ سے نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ قرض ادا کرنا بھی اس کے ساتھ ناگزیر ہے۔
رہا یہ سوال کہ سنتیں فرائض کے نقائص میںجو جبر، کسرکاکام کرتی ہیں، یہ توقضائے فوائت کی صورت میں نہ ہوسکے گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ قضائے فوائت کا ثواب انشاء اللہ یہ کسر پوری کردے گا۔ آدمی کا پچھلے گناہ پر نادم ہوکر اس کی تلافی کے لیے کوشش کرنا اپنے اندر ایک زائد ثواب رکھتا ہے۔ بقیہ عمر کتنی رہ گئی ہے؟ اس کی تو آدمی کو خبر نہیں ہوسکتی۔ لیکن جس وقت بھی آدمی تلافی مافات شروع کردے، اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرمائے گا۔ او ر اگر تمام مافات کی تلافی کرنے سے پہلے اس کی اجل آجائے تو امید ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی یہ کوشش اتنی مقبول ہوگی کہ اللہ تعالیٰ خود ہی اس کے مافات کو معاف فرمادے گا۔
(رسائل و مسائل دوم:چھوٹے ہوئے فرائض۔۔۔)

جمع بین الصلوٰتین

حنفیہ جمع بین الصلوٰتین کے جس معنی میں قائل ہیں وہ یہ ہے کہ ایک نماز کا وقت ختم ہورہا ہو اور دوسری کا شروع ہورہا ہو، اس وقت دونوں وقت کی نمازیں ملا کر پڑھ لی جائیں۔
سفر میں اگرآدمی وقت پر نماز ادا کرنے کا موقع پائے تو ادا کرلے ورنہ مجبوراً قضا کرکے دوسرے وقت کی نماز کے وقت اس کو ادا کرے۔ (مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودی دوم، ص: ۳۲۳)

 

ماخذ

۱) طبقات ابن سعد: ج۱، ص ۲۴۲۔
(۲) بخاری،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان الخ۔ ٭ طبقات ابن سعد:ج ۱۔ قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ۔٭ترمذی، ج۲، ابواب التفسیر، سورۃ البقرۃ۔
(۳) بخاری،ج۲، کتاب التفسیر، باب قولہ سیقول السفہاء من الناس الخ۔ج۱،کتاب الایمان، باب الصلوٰۃ من الایمان۔ اس مقام پر روایت کا آغاز ہے: ان النبی ﷺکان اول ماقدم المدینۃ نزل علی اجد ادہ او قال اخوالہ الخ۔٭ مسلم،ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب تحویل القبلۃ من القدس الی الکعبۃ۔٭نسائی، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فرض القبلۃ۔٭مسند احمد، ج ۴،ص۲۸۳، روایت براء بن عازب۔ ٭دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التحویل الی الکعبۃ الخ۔ ٭ السنن الکبریٰ، ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب تحویل القبلۃ من بیت المقدس الی الکعبۃ۔
(۴) مسلم:ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب تحویل القبلۃ من القدس الی الکعبۃ۔ ٭ طبقات ابن سعد: ج۱، ص ۲۴۲۔
(۵) دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التحویل الی الکعبۃ۔
(۶) بخاری:ج۲،کتاب التفسیر، باب قولہ ومن حیث خرجت فول وجہک شطر المسجد الحرام وحیث ماکنتم الیٰ قولہ ولعلکم تہتدون۔ ٭ مسلم: ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب تحویل القبلۃ من القدس۔ بخاری و مسلم دونوں کی ایک دوسری روایت میں ’’اِلَی الکعبۃ‘‘ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔٭نسائی: ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فرض القبلۃ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب تحویل القبلۃ من بیت المقدس الیٰ الکعبۃ۔ ٭دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التحویل الی الکعبۃ الخ۔٭سنن دارمی، ج۱، کتاب الصلوٰۃ،باب فی تحویل القبلۃ من بیت المقدس الی الکعبۃ۔
(۷) ابن جریر، ج ۸، سورہ بنی اسرائیل۔
(۸) بخاری، ج۱، کتاب الاذان، باب القرآء ۃ فی الفجر۔٭مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب القراء ۃ فی الصبح۔ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی القراء ۃ فی الصبح٭نسائی، ج۱،کتاب المواقیت، باب ما یستحب من تأخیر العشاء۔٭ ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب القراء ۃ فی صلوٰۃ الفجر۔٭سنن دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ: باب قدر القراء ۃ فی الفجر۔٭مسند احمد، ج۴، ص۴۲۰،عن ابی برزہ اسلمی٭ترمذی نے صرف روی عنہ انہ کان یقرأ فی الفجر من ستین اٰیۃ الیٰ مائۃ ‘‘ نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب قدر القراء ۃ فی صلوٰۃ الصبح۔
(۹) بخاری،ج۱،کتاب المواقیت، باب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ۔ ٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی وقت صلوٰۃ الظہر۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی تأخیر الظہر فی شدۃ الحر۔٭نسائی،ج۱،کتاب المواقیت، باب الابراد بالظہر اذا اشتد الحر۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الصلوٰۃ، ابواب مواقیت الصلوٰۃ، باب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر۔٭موطا امام مالک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب النہی عن الصلوٰۃ بالہاجرۃ۔٭دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الابراد بالظہر۔٭مسند احمد، ج۲، ص ۲۲۹، ۲۳۸، ۲۵۶، ۲۸۵، ۳۹۳۔روایات ابی ھریرۃ٭مسند ابی عوانہ، ج۱، ص ۳۴۸، ۳۴۹۔ ٭ موارد الظماٰن الی زوائد ابن حبان :کتاب المواقیت، باب وقت صلوٰۃ الظہر۔
(۱۰) بخاری،ج۱،کتاب مواقیت الصلوۃ، باب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر۔٭مسلم،ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر۔٭ابوداؤد، ج ۱، ص ۱۱۰، کتاب الصلوٰۃ: باب فی وقت صلوٰۃ الظہر ۔ ٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی تاخیر الظہر فی شدۃ الحر۔
(۱۱) بخاری،ج۱، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر اور بدا الخلق الخ٭ مسلم: کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الابراد بالظہر فی شدۃ۔ ٭موطا امام مالک،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب النہی عن الصلوٰۃ بالہاجرۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب الزہد، باب صفۃ النار۔
(۱۲) مسند احمد، ج ۵، ص ۱۸۳، مرویات زید بن ثابت۔
(۱۳) ابن جریر، ج ۸، سورہ بنی اسرائیل ، اقم الصلوٰۃ لد لوک الشمس الی غسق اللیل ۔ ٭ روح المعانی، ج۱۳، سورہ بنی اسرائیل۔
(۱۴) ابن جریر، ج ۸، ص ۹۱، ۹۲۔ ٭فتح القدیر للشوکانی، ج ۳، ص ۲۵۰۔ ٭ روح المعانی، جز ۱۵، ص۱۲۱، ۱۲۲۔ ٭ ابن کثیر: ج ۳، ص ۵۳، ۵۴۔
(۱۵) بخاری،ج۲،کتاب الدعوات، باب الدعاء علی المشرکین۔کتاب التفسیر، باب قولہ حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی۔ اور کتاب الاجارہ اور کتاب المواقیت۔ ٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب الدلیل لمن قال الصلوٰۃ الوسطیٰ ہی صلوٰۃ العصر۔٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی صلوٰۃ الوسطیٰ۔٭السنن الکبریٰ، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من قال ہو صلوٰۃ العصر۔٭مسند احمد، ج۱، ص۱۳۵، ۱۴۴، ۱۵۴، ۳۹۲۔
(۱۶) مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب الدلیل لمن قال الصلوٰۃ الوسطیٰ ہی صلوٰۃ العصر۔ ٭ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی وقت صلوٰۃ العصر۔ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب المحافظۃ علی صلوٰۃ العصر۔ ٭السنن الکبریٰ،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من قال ہی صلوٰۃ العصر۔ابن ماجہ میں یوم الاحزاب کی جگہ یوم الخندق ہے اور عبد اللّٰہ سے مروی روایت کا آغاز ’’حبس المشرکون‘‘ سے کیا ہے۔٭مسند احمد، ج ۱، ص۷۹، ۱۳۷، ۱۵۰، ۱۵۴۔٭مسند ابی عوانہ،کتاب الصلوٰۃ، باب فی تشدید فی وقت صلوٰۃ العصر ص ۳۵۶۔
(۱۷) تفسیر ابن جریر، ج ۱۲، سورہ ماعون۔ ٭ تفسیر ابن کثیر، ج ۴، سورہ ماعون۔٭تفسیر فتح القدیر للشوکانی، ج۵، سورہ ماعون۔ ابویعلی، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم۔ طبرانی اوسط ، ابن مردویہ، بیہقی وغیرہ نے بھی اس روایت کو سعد بن ابی وقاص سے نقل کیا ہے۔ بحوالہ فتح القدیر، للشوکانی، ج۵، ص۵۰۱۔
(۱۸) تفسیر ابن کثیر، ج۴، سورہ ماعون۔
(۱۹) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی وقت صلوٰۃ العصر۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ،باب کراہیۃ تاخیر العصر۔٭مسند ابی عوانہ ، ج۱، ص۳۵۶۔
(۲۰) مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب التبکیر۔٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی تعجیل العصر۔ قال ابو عیسی ہذا حدیث حسن صحیح۔٭نسائی: کتاب المواقیت، باب التشدید فی تاخیر العصر۔ نسائی نے یجلس کے بجائے جلس سے بیان کیا ہے۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی:ج۱، کتاب الصلوٰۃ ٭مسند احمد، ج ۳، ص ۱۸۵، انس بن مالک۔
(۲۱) دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر بیان المواقیت۔
(۲۲) مسند احمد، ج۳، ص ۱۰۲، ۱۰۳۔ روایات انس بن مالک۔
(۲۳) مسند احمد، ج۳، ص۱۸۵۔
(۲۴) مسند احمد، ج ۳، ص۲۴۷۔
(۲۵) بخاری،ج۱،کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب من نسی صلوٰۃ فلیصل اذاذکر۔ لا یعید الاتلک الصلوٰۃ وقال ابراہیم من ترک صلوٰۃً واحدۃً عشرین سنۃ لم یعد الاتلک الصلوٰۃ الواحدۃ۔٭مسلم، ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ الخ۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی من نام عن الصلوٰۃ اونسیہا۔٭ مسنداحمد، ج۳، ص ۲۶۹، عن انس۔٭ السنن الکبریٰ:ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب لا تفریط علی من نام عن صلوٰۃ اونسیہا۔
(۲۶) مسلم،ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ واستحباب تعجیل قضائہا۔٭مسند احمد، ج ۳، ص ۱۰۱۔۲۸۲، عن انس۔٭ السنن الکبریٰ ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب لاتفریط علی من نام۔
(۲۷) مسلم،ج۱، کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ۔٭نسائی،ج۱،کتاب المواقیت، باب فیمن نام عن صلوٰۃ۔ نسائی نے یرقد اور یغفل یعنی ماضی کے بجائے مضارع کا صیغہ نقل کیا ہے۔٭مسند احمد، ج۳، ص۱۸۴-۲۱۶، عن انس ۔ ص ۲۱۶ پر یر قد اور یغفل کے الفاظ ہیں۔
(۲۸) ترمذی، ج۱، ص۴۳، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی النوم عن الصلوٰۃ۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من نام عن الصلاۃ او نسیہا۔٭ نسائی،ج۱، کتاب المواقیت، باب فیمن نام عن صلوٰۃ۔٭ دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوٰۃ بعد وقتہا الخ۔٭ ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب من نام عن الصلوٰۃ اونسیہا۔
(۲۹) مسلم،ج۱، کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ واستحباب تعجیل قضائہا۔٭نسائی، ج۱،کتاب المواقیت، باب اعادۃ مانام عن الصلوٰۃ لوقتہا من الغد۔٭ابن ماجہ کتاب الصلوٰۃ، باب من نام عن الصلوٰۃ اونسیہا۔ نسائی نے اس روایت کو قدرے اختصار سے نقل کیا ہے۔ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من نام عن صلوٰۃ اونسیہا۔٭موطا امام مالک،ج۱، وقوت الصلوٰۃ، باب النوم عن الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب لا تفریط علی من نام عن صلوٰۃ او نسیہا۔
(۳۰) بخاری،ج۱، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب من صلی بالناس جماعۃ بعد ذہاب الوقت۔٭مسلم،ج۱، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب الدلیل لمن قال الصلوٰۃ الوسطیٰ ہی صلوٰۃ العصر۔٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الرجل تفوتہ الصلوات بایتہن یبدأ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب قضاء الصلوات الاولی فالاولی۔
(۳۱) بخاری،ج۱،کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الأذان بعد ذہاب الوقت۔
(۳۲) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الرجل ینسی الصلوٰۃ۔
(۳۳) نسائی، ج۱،کتاب المواقیت، باب کیف یقضی الفائت من الصلوٰۃ۔
(۳۴) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ: باب ماجاء فی الرجل تفوتہ الصلوات بایتہن یبدأ۔

فصل: ۱۴ نماز قصر نبی ﷺ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے

۹۴۔ ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ سفروں میں رہا ہوں اور کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے قصر نہ کیا ہو۔ اس کی تائید میں ابن عباس اور دوسرے متعدد صحابہؓ سے مستند روایات منقول ہیں۔
تشریح: بعض ائمہ نے یہ سمجھا ہے کہ سفر میں قصر کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ محض اس کی اجازت ہے۔ آدمی چاہے تو اس سے فائدہ اٹھائے ورنہ پوری نماز پڑھے اور یہی رائے امام شافعیؒ نے اختیار کی ہے، اگرچہ وہ قصر کرنے کو افضل اور ترک قصر کو ترک اولیٰ قرار دیتے ہیں۔ امام احمد ؒ کے نزدیک قصر کرنا واجب تو نہیں ہے، مگر نہ کرنا مکروہ ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قصر کرنا واجب ہے۔ اور یہی رائے ایک روایت میں امام مالک سے بھی منقول ہے۔ کسی معتبر روایت میں یہ منقول نہیں ہے کہ آپؐ نے کبھی سفر میں چار رکعتیں پڑھی ہوں۔ (تفہیم القرآن، ج۱، النساء ، حاشیہ :۲ ۱۳)

آیت فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْ امِنَ الصَّلوٰۃِ (النساء:۱۰۱) سے یہ سمجھا ہے۔
حضرت عمرؓ سے مروی روایت:
تخریج:(۱) عَنْ عُمَرَ، قَالَ: صَلَاۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَانِ۔ وَالْجُمُعَۃُ رَکْعَتَانِ۔ وَالْعِیْدُ رَکْعَتَانِ، تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ، عَلیٰ لِسَانِ مُحَمَّدٍ ﷺ۔(۱)
ترجمہ: حضرت عمرؓ سے ان کا قول منقول ہے کہ مسافر کی نماز دو رکعت ، جمعہ کی نماز دو رکعت، نماز عید کی دو رکعت یہ پوری نماز ہے، قصر نہیں ہے۔ رسالت مآبؐ کی زبان مبارک سے ہم نے یونہی سنا ہے۔
حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ، قَالَتْ: فَرَضَ اللّٰہُ الصَّلوٰۃَ حِیْنَ فَرَ ضَہَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَاُقِرَّتْ صَلَاۃُ السَّفَرِ وَزِیْدَ فِیْ صَلَاۃِ الْحَضَرِ۔(۲)
ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب نماز فرض فرمائی تو اس وقت دو دو رکعتیں ہی فرض فرمائی تھیں۔ یعنی سفر میں بھی دو اور حضر میں بھی دو۔ بعد میں سفر کی نماز اسی طرح برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا۔
بخاری میں انہی سے مروی روایت میں ہے کہ:
(۳) اَلصَّلَاۃُ اَوَّلُ مَافُرِضَتْ، رَکْعَتَانِ فَاُقِرَّتْ صَلَاۃُ السَّفَرِ وَاُتِمَّتْ صَلَاۃُ الْحَضَرِ۔(۳)
ترجمہ: اوّل اوّل جب نماز فرض فرمائی گئی تو دو رکعت ہی تھی۔ البتہ بعد میں نماز سفر تو اسی حالت پر برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز کو پورا کردیا گیا۔
(۴) ورویٰ مسلم : ثُمَّ اَتَمَّہَا فِی الْحَضَرِ فَاُقِرَّتْ صَلَاۃُ السَّفَرِ عَلیٰ الْفَرِیْضَۃِ الْاُوْلیٰ۔(۴)
ترجمہ:’’ مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب نماز فرض فرمائی تو دو رکعت ہی فرض فرمائی۔ پھر حضر کی نماز پوری کردی گئی اور نماز سفر پہلی حالت فرضیت پر برقرار رہی۔
مسلم اور نسائی اور السنن الکبریٰ وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے ایک روایت بیان کی ہے جس میںہے:
(۵) اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ فَرَضَ الصَّلوٰۃَ عَلَی لِسَانِ نَبِیْکُمْ الخ۔ (۵)
ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک پر مسافر پر دو رکعت اور مقیم پر چار رکعت فرض فرمائی ہیں اور حالت خوف میں صرف ایک رکعت۔
ـــــــ نسائی نے فُرِضَتْ صَلٰوۃُ الْحَضَرِاور ابن ماجہ نے اِفْتَرَضَ اللّٰہُ عَلیٰ لِسَانِ نَبِیِّکُم یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے حضر میں چار ، سفر میں دو اور حالت خوف میں ایک رکعت فرض فرمائی ہے۔
عبداللہ بن عمر سے مروی روایت:
(۶)حَدَّثَنِیْ یحیی عن مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اٰلِ خَالِدِبْنِ اَسِیْدٍ، اَنَّہُ سَاَلَ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اِنَّانَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ فِی الْقُرْاٰنِ، وَلَانَجِدُ صَلَاۃَ السَّفَرِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: یَا ابْنَ اَخِیْ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ بَعَثَ اِلَیْنَا مُحَمَّدًا ﷺ وَلَا نَعْلَمُ شَیْئًا فَاِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَاَیْنَاہُ یَفْعَلُ۔(۶)
ترجمہ: آل خالد بن اسید کے کسی صاحب نے حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا کہ ابو عبدالرحمن !قرآن مجید میں ہمیں صلوٰۃ خوف اور صلوٰۃ حضر کاذکر تو ملتا ہے، مگر نماز سفر کا کہیںذکر نہیں پایا۔سائل کا مدعا غالباً یہ تھا کہ سورۂ نساء میں جس قصر کا ذکر ہے اس میں صرف حالت جنگ اور دشمن سے مقابلے کے لیے نکلنے کی صورت بیان ہوئی ہے۔ ہر حالت اور مطلق سفر کا ذکر نہیں۔ (مرتب)

 عبداللہ ابن عمرؓ نے فرمایا بھتیجے ! اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ ہمیں کسی چیز کا علم نہ تھا۔ ہم تو بس اسی طرح کرتے ہیں جس طرح آپؐ کو ہم نے کرتے دیکھا ہے۔
ـــــــامام شوکانی نے اپنی تفسیر فتح القدیر ، ج ۱، ص ۵۰۹ پر عبدبن حمید ، ابن حبان اور بیہقی وغیرہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ساری روایت نقل کرکے آخر میں ابن عمر کی رائے بیان کی ہے:
(۷)وَقَصْرُ الصَّلوٰۃِ فِی السَّفَرِ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ کی حتمی رائے ہے کہ سفر میں قصر نماز پڑھنا سنت ہے۔ جسے رسول ﷺ نے جاری فرمایا ہے۔
(۸)حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ،قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ بِمِنیٰ رَکْعَتَینِ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ اِمَارِتِہِ ثُمَّ اَتَمَّہَا۔(۸)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ میں نے منیٰ میں نبی ﷺ اور ابوبکر و عمر کے ساتھ اور حضرت عثمانؓ کے خلافت کے ابتدائی دور میں نماز قصر ادا کی ہے۔ البتہ حضرت عثمانؓ نے بعد میں پوری نماز پڑھی ہے۔
(۹) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِبْنِ الْمُنْکَدِرِ، وَاِبْرَاہِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: صَلَّیْتُ الظُّہْرَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِالْمَدِیْنَۃ اَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ۔(۹)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے نماز ظہر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعات (پوری نماز) پڑھیں اور نماز عصر ذوالحلیفہ کے مقام پر دو رکعت (قصر) پڑھی۔‘‘
(۱۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اَقَامَ النَّبِیُّ ﷺ تِسْعَۃَ عَشَرَ یَقْصُرُ فَنَحْنُ اِذَا سَافَرْ نَا تِسْعَۃَ عَشَرَ قَصَرْنَا وَاِنْ زِدْنَا اَتْمَمْنَا۔ (۱۰)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ’’نبی ﷺ نے انیس روز (ایک جگہ) قیام فرمایا تو آپؐ نماز قصر ادا فرماتے رہے۔ اسی بنا پر ہم نے جب انیس روز کے سفر کا عزم کیا تو ہم نے بھی نماز قصر ادا کی، البتہ جب انیس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہوا تو پوری نماز پڑھی۔‘‘
ـــــــحضرت عباسؓ کا اپنا ذاتی عمل یہ تھا کہ آپ پندرہ روز مکہ میں قیام پذیر رہے۔ اس عرصہ میں آپ نماز کی دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
ـــــــ نسائی نے اسی باب میں ص ۲۲۲ پر علاء بن الحضرمی کی روایت میں یَمْکُثُ الْمُہَاجِرُ بِمَکَّۃَ بَعْدُ یَعْنِیْ نُسُکَہٗ ثَلاَثاً بھی نقل کیا ہے۔
علاء بن حضرمی والی روایت مسلم اور بیہقی کبیر دونوں نے بیان کی ہے۔ (۱۱)
(۱۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ اَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسًا،یَقُوْلُ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلیٰ مَکَّۃَ فَکَانَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَینِ حَتّٰی رَجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، قُلْتُ: اَقمْتُمْ بِمَکَّۃَ شَیْئًا، قَالَ: اَقَمْنَا بِہَا عَشْرًا۔(۱۲)
ترجمہ: ابن ابو اسحاق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ہم نبی ﷺ کی معیت میں مدینہ سے مکہ کی جانب نکلے تو مدینہ واپسی تک ہم دو دو رکعت نماز (نماز قصر) ہی ادا کرتے رہے۔ میں نے پوچھا۔ آپ لوگ تھوڑا سا ٹھہرے ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ہم وہاں دس روز ٹھہرے تھے۔
ـــــــ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہُ، قَالَ: مَنْ اَقَامَ عَشَرَۃَ اَیَّامٍ اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ، وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہُ قَالَ: مَنْ اَقَامَ خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ۔ وَرُوِیَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ اَنَّہُ، قَالَ: اِذَا اَقَامَ اَرْبَعًا صَلَّی اَرْبَعًا، وَرَوٰی عَنْہُ ذٰلِکَ قَتَادَۃُ وَعَطَائٌ الخُرَاسَانِیُّ۔ وَرَوٰی عَنْہُ دَاوٗدُبْنُ اَبِیْ ہِنْدٍ خِلَافَ ہٰذَا۔ وَاخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ بَعْدُ فِیْ ذٰلِکَ۔ فَاَمَّا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَاَہْلُ الْکُوْفَۃِ فَذَہَبُوْا اِلیٰ تَوْقِیْتِ خَمْسَ عَشَرَۃَ، وَقَالُوْا : اِذَا اَجْمَعَ عَلیٰ اِقَامَۃِ خَمْسَ عَشَرَۃَ اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ، وَقَالَ الْاَوْزَاعِیُّ: اِذَا اَجْمَعَ عَلیٰ اِقَامَۃِ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ، وَقَالَ مَالِکٌ وَالشَّافَعِیُّ وَاَحْمَدُ: اِذَا اَجْمَعَ عَلَی اِقَامَۃِ اَرْبَعٍ اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ وَامَّا اِسْحَاقُ فَرَاٰی اَقْوَی الْمَذَاہِبِ فِیْہِ حَدِیْثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لِاَنَّہُ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ثُمَّ تَاَوَّلَہُ بَعْدَ النَّبِیِّ ﷺ اِذَا اَجْمَعَ عَلیٰ اِقَامَۃِ تِسْعَ عَشَرَۃَ اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ۔ ثُمَّ اَجْمَعَ اَہْلُ الْعِلْمِ عَلیٰ اَنَّ الْمُسَافِرَ یَقْصُرُ مَالَمْ یَجْمَعْ اِقَامَۃً وَاِنْ اَتٰی عَلَیْہِ سِنُوْنٌ۔ (۱۳)
ـــــــحضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جو کوئی دس روز قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ ابن عمر سے اس طرح منقول ہے کہ جو کوئی پندرہ روز قیام پذیر رہے، وہ پوری نماز پڑھے اور ان سے ایک قول بارہ دن کا بھی منقول ہے۔ سعید بن مسیب سے ان کی رائے یوں منقول ہے کہ جب چار روز کا قیام ہو تو چار رکعت (پوری نماز) پڑھے۔ ان کا یہ قول قتادہ اور عطا خراسانی نے بیان کیاہے۔ البتہ دائود ابو ہند کی روایت اس کے برخلاف ہے۔ بعد میں اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہوا ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کے نزدیک پندرہ دن، کہ جب پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو پوری نماز پڑھے۔امام اوزاعی کے نزدیک بارہ دن۔ یعنی جب بارہ دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو پوری نماز پڑھے۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی رائے ہے کہ جب چار روز تک قیام کا ارادہ ہو تو پوری نماز پڑھے۔ امام اسحاق کی رائے یہ ہے کہ ان سب میں ابن عباسؓ کا مسلک زیادہ قوی ہے۔ کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ کے انیس روز قیام سے دلیل پکڑی ہے کہ انیس روز ٹھہرے تو پوری نماز پڑھے۔ اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ ایک مسافر جب تک کسی جگہ ٹھہرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو پھر نماز قصر ہی پڑھے خواہ کئی سال تک ہو۔
حارث بن وہب کی روایت:
(۱۲) قَالَ: صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ﷺ اٰمَنَ مَا کَانَ بِمِنیٰ رَکْعَتَیْنِ۔(۱۴)
ترجمہ:حارث بن وہب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حالت امن میں ہمیں منیٰ میں دو رکعت پڑھائیں۔
ابن عباسؓ کی روایت:
(۱۳)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلیٰ مَکَّۃَ لَا یَخَافُ اِلَّا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔(۱۵) (ہذا حدیث صحیح)
ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ سے مکہ کی جانب نکلے۔ ماسوار ب کائنات کسی کا خوف و ہراس نہیں تھا، پھر بھی آپ نے دو رکعت ہی پڑھیں۔

قصر کے لیے نصاب مسافت

۹۵۔فقہاء کی آرا اس معاملہ میں مختلف ہیں۔ چنانچہ قصر صلوٰۃ کے لیے کم از کم ۹ میل اور زیادہ سے زیادہ ۴۸ میل کا نصاب سفر مقرر کیا گیا ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَمُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، کِلَاہُمَا عَنْ غُنْدُرٍ، قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: نَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ غُنْدُرٌ عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْن یَزِیْدَ الْہُنَائِ یِ، قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَ ابْنَ مَالِکٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلوٰۃِ؟ فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا خَرَجَ مَسِیْرَۃَ ثَلَاثَۃِ اَمْیَال اَوْثَلَاثَۃِ فَرَاسِخَ (شُعْبَۃُ الشَّاکُّ) صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔(۱۶)
ترجمہ: یحییٰ بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے نماز قصر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب تین امیال یا تین فرسخ کا سفر کیا تو آپؐ نے نماز قصر یعنی دو رکعت پڑھی۔
(۲) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِیْلَ بْنِ السِّمْطِ اِلیٰ قَرْیَۃٍ عَلیٰ رَاْسِ سَبْعَۃَ عَشَرَ اَوْ ثَمَا نِیَۃَ عَشَرَ مِیْلاً ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ لَہُ: فَقَالَ: رَاَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلّٰی بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ فَقُلْتُ لَہُ: فَقَالَ: اِنَّمَا اَفْعَلُ کَمَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَفْعَلُ۔(۱۷)
ترجمہ:حضرت جبیر بن نفیر نے بیان کیا کہ میں شرحبیل بن سمط کی معیت میں ایک ایسے گائوں کی جانب نکلا جس کا فاصلہ سترہ یا اٹھارہ میل کے لگ بھگ تھا تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ میں نے ان سے(اس سلسلے میں) دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے عمرؓ کو ذی الحلیفہ کے مقام پر دو رکعت پڑھتے دیکھا۔ میں نے ان سے (پھر)پوچھاتو انہوںنے جواب دیا کہ میں تو اسی طرح کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے۔
(۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ:أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِتَبُوْکَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا یَقْصِرُالصَّلوٰۃَ۔(۱۸)
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیس روز تبوک میں قیام فرمایا، آپ قصر ہی پڑھتے رہے۔
(۴)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: یَا اَہْلَ مَکَّۃَ، لَا تَقْصُرُوْا الصَّلوٰۃَ فِیْ اَدْنٰی مِنْ اَرْبَعَۃِ بُرْدٍ مِنْ مَّکَّۃَ اِلیٰ عُسْفَانَ۔(۱۹)
نہایہ ابن اثیر میں چار برد کو سولہ فرسخ اور ایک فرسخ کو تین میل بیان کیا گیا ہے۔( مرتب)ترجمہ:حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار برد

سے کم فاصلہ پر، یعنی مکہ سے عسفان اتنی مسافت سے کم پر قصر نہ کیا کرو۔
تشریح: اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ آں حضورؐ سے اس معاملہ میں کوئی صریح ارشاد منقول نہیں ہے اور نص صریح کی غیر موجودگی میں جن دلائل سے استنباط کیا گیا ہے ان کے اندر مختلف اقوال کی گنجائش ہے۔ صحیح یہ ہے کہ قصر کے لیے مسافت کا ایسا تعین جس میں ایک نقطہ خاص سے تجاوز کرتے ہی قصر کا حکم لگایا جاسکے، شارع کا منشا نہیں۔ شارع نے سفر کے مفہوم کو عرف عام پر چھوڑ دیا ہے۔ اوریہ بات ہر شخص خود بآسانی جان سکتا ہے کہ کب وہ سفر میں ہے اور کب سفر میں نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم اگر شہر جاتے ہیں تو کبھی مسافر ہونے کا احساس ہمارے ذہن میں نہیں ہوتا، بخلاف اس کے جب واقعتا سفر درپیش ہوتا ہے تو ہم مسافرت کی کیفیت خود محسوس کرتے ہیں۔ اسی احساس کے مطابق قصر اور اتمام کیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ شرعی معاملات میں صرف اس شخص کا فتوائے قلب معتبر ہے جو شریعت کی پابندی کا ارادہ رکھتا ہو، نہ کہ بہانہ بازی کا۔
( رسائل و مسائل اول : سفر میں ۔۔۔ )

نماز کی قصر و قضا کے بعض احکام

۹۶۔مسافر کے معاملہ میں امام شافعیؒ ،امام احمدؒ اور ایک روایت کی رو سے اما م مالک ؒ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جو شخص کسی مقام پر چار دن، یا اس سے زیادہ ٹھیر نے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے پوری نماز پڑھنی چاہیے۔ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت علیؓ کا مسلک یہ ہے کہ دس دن، یا اس سے زیادہ ٹھیرنے کی نیت مسافر کو مقیم بنادیتی ہے۔ امام اوزاعیؒ بارہ دن کی اور امام ابوحنیفہؒ پندرہ دن کی حد مقرر کرتے ہیں۔ علماء اسلام میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اپنے شہر سے باہر نکل کر کسی دوسرے مقام پر کوئی شخص چاہے مہینوں اور برسوں رہے مگر وہ مسافر ہی رہے گا اور قصر کرتا رہے گا۔ البتہ فقہاء یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی مقام پر اس طرح رکا ہوا ہو کہ ہر وقت اس کے کوچ کرجانے کا امکان ہو اور ٹھہرنے کی نیت نہ ہو، تو خواہ وہاں اسے مہینوں رکارہ جانا پڑے، وہ قصر کرسکتا ہے۔ انہی وجوہ سے نبی ﷺ نے تبوک میں پندرہ دن اور فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ دن قصر فرمایا۔ (مسند احمد و ابودائود) اور انہی وجود سے صحابہ کرام ؓ کا لشکر آذر بائیجان کی مہم میں دو مہینے قصر کرتارہا۔ (مسند احمد)
(قضائے نماز) بکثرت احادیث سے ثابت ہے اور تمام فقہائے اسلام بالاتفاق اس کے قائل ہیں۔ پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک قابل ذکر فقیہ بھی اس کا قائل نہیں ہوا ہے کہ روزے کی قضا تو واجب ہے، مگر نماز کی قضا واجب نہیں۔ بخاری، مسلم، نسائی، ابودائود، ابن ماجہ، ترمذی اور مسند احمد میں متعدداحادیث حضرت انسؓ، ابوہریرہؓ اور ابوقتادہ انصاریؓ سے مروی ہیں، جن میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نماز کو انسان بھول جائے، یا سوتا رہ جائے اور نماز کا وقت نکل گیا ہو، تو جس وقت بھی اسے یاد آئے، یا وہ بیدار ہواسے وہ چھوٹی ہوئی نماز پڑھ لینی چاہیے۔
یہ تو ہے حضور ﷺ کا قولی حکم ۔ رہا آپؐ کا اپنا فعل ، تو ابو سعید خدریؓ ،جابر بن عبداللہ ؓ اور عمران بن حصین سے متعدد واقعات مسند احمد، بخاری، مسلم اور نسائی میں منقول ہیں جن میں وہ بتاتے ہیں کہ نبی ﷺ اور صحابہؓ نے چھوٹی ہوئی نمازیں ادا کی ہیں۔ ایک سفر میں رات بھر چل کر آخر وقت میں قافلے نے پڑائو کیا اور اترتے ہی سب پر نیند غالب ہوگئی۔ یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا تو لوگ اس کی گرمی سے بیدار ہوئے۔ حضور ﷺ نے فوراً اذان دلوائی اور جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ غزوۂ خندق میں ایک روز عصر کی نماز قضاء ہوئی اور حضور ﷺ نے مغرب کے وقت ادا کی، ایک اور دن اسی غزوہ میں ظہر ، عصر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوئیں اور ایسے وقت یہ تینوں نمازیں ادا کی گئیں جب کہ عشاء کا وقت شروع ہورہا تھا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ جو نماز چھوٹ گئی ہے وہ معاف ہے؟ (رسائل و مسائل سوم:نماز کی۔۔۔ )
ابودائود نے مدت قصر کے متعلق چند روایات جمع کی ہیں جو درج ذیل ہیں:
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ، حَ وَثَنَا اِبْرَاہِیْمُ ابْنُ مُوْسٰی ، اَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، وَہٰذَا لَفْظُہُ۔ اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللٰہِ ﷺ وَشَہِدْتُّ مَعَہُ الْفَتْحَ، فَاَ قَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانِیَ عَشَرَۃَ لَیْلَۃً لَا یُصَلِّیْ اِلَّارَکْعَتَیْنِ، وَیَقُوْلُ: یَا اَہْلَ الْبَلَدِ صَلُّوْا اَرْبَعًا فَاِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں غزوات میں شریک ہو ا ہوں۔ فتح مکہ کے روز بھی میں حاضر تھا۔ آپؐ نے مکہ میں اٹھارہ روز قیام فرمایا۔ اس اثناء میں آپ دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔ اہل شہر سے آپ فرما دیا کرتے تھے کہ ’’ہم مسافر ہیں لہٰذا تم لوگ چار رکعتیں ہی پڑھو۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ الْعَلَائِ وَعُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ الْمَعنی وَاحِدٌ۔ قَالَا: ثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَقَامَ سَبْعَ عَشَرَۃَ بِمَکَّۃَ یَقْصُرُ الصَّلوٰۃَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَنْ اَقَامَ سَبْعَ عَشَرَۃَ قَصَرَ، وَمَنْ اَقَامَ اَکْثَرَ اَتَمَّ۔
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں سترہ روز قیام فرمایا۔ اس اثناء میں قصر نماز پڑھتے رہے۔ ابن عباس نے بھی اس طرح فتویٰ دیا ہے جو شخص سترہ روز قیام پذیر رہے وہ قصر نماز پڑھے اور جس کو اس سے زیادہ دن قیام کرنا ہو تو وہ پوری نماز پڑھے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ: قَالَ عَبَّادُبْنُ مَنْصُوْرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اَقَامَ تِسْعَ عَشَرَۃَ۔
(۳) حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَن الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِمَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشَرَۃَ یَقْصُرُ الصَّلوٰۃَ۔
ترجمہ: ابن عباس سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر پندرہ روزہ اپنے قیام کے دوران قصر نماز پڑھی ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوُدَ: رَوٰی ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، وَاَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہبِیُّ وَسَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ لَمْ یَذْکُرُوْا فِیْہِ ابْنَ عَبَّاسٍ۔
(۴) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ وَمُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْمَعْنَی ، قَالَا : ثَنَا وُہَیْبٌ، حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلیٰ مَکَّۃَ فَکَانَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ ، فَقُلْنَا: ہَلْ أَقَمْتُمْ بِہَا شَیْئًا؟ قَالَ: اَقَمْنَا بِھَا عَشْرًا۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے ۔ مدینہ واپسی تک حضورؐ دو رکعت نماز قصر ہی پڑھتے رہے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ وہاں کچھ ٹھہرے بھی تھے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ’’ہم نے دس روز وہاں قیام کیا تھا۔‘‘
(۵) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،ثَنَاعَبْدُالرَّزَّاقِ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ،عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِتَبُوْکَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا یَقْصُرُ الصَّلوٰۃَ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک میں بیس روز قیام فرمایا (ان ایام میں) آپؐ قصر نماز ہی پڑھتے رہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ دَاوُدَ: غَیْرُ مَعْمَرٍ لَا یُسْنِدُہُ۔

حالت جنگ اور حالت امن میں قصر

۹۷۔ صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِہَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَہٗ۔’’ یہ قصر کی اجازت ایک انعام ہے جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے، لہٰذا اس کے انعام کو قبول کرو۔‘‘فوجی جب اپنی چھائونی سے نکلا تو اب اس کے لیے قصر جائز ہے جب تک وہ واپس چھائونی میں نہیں آئے گا، قصر کرتا رہے گا کیونکہ فوج جب کوچ کرتی ہے تو نہ قافلے کو علم ہوتا ہے کہ کہاں جانا ہے اور نہ میعاد معین ہوتی ہے کہ کتنے روز ایک جگہ پڑائو رہے گا۔ البتہ یہ بات ہے کہ ہوسکے تو نماز فجر کی سنتیں اور عشاء کے وتر بھی ادا کیے جائیں دوسرے اوقات کی سنتیں اگر پڑھ سکیں تو پڑھیں اور اگر فوجی ضروریات اس کی اجازت نہ دیں تو صرف فرض قصر کرکے پڑھتے رہیں۔ (۵ اے ذیلدار پارک دوم، ص: ۴۰)

تخریج :(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَاَبُوْکُرَیْبٍ، وَزُہَیْرُبْنُ حَرْبٍ وَاِسْحَاقُ ابْنُ اِبْرَاہِیْمَ، (قَالَ اِسحَاقُ: اَنَا، وَقَالَ الْاٰخَرُوْنَ: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ)، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بَابَیْہِ عَنْ یَعْلیٰ بْنِ اُمَیَّۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ’’لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلوٰۃِ صلیق اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘(النساء:۱۰۱) فَقَدْ اٰمَنَ النَّاسُ؟ فَقَال: عَجِبْتُ مِمَّاعَجِبْتَ مِنْہُ۔ فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِہَا عَلَیْکُمْ فَاِقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔(۲۳)
ترجمہ: یعلی بن امیہ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے عمر بن خطاب سے قرآن مجید کی آیت لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا۔۔۔ الایۃکے متعلق پوچھا کہ لوگ تو اب امن و امان میں ہیں (یعنی حالت امن میں فتنہ و فساد باقی نہیں رہا تو کیا اب بھی قصر کرنا چاہیے)۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ جس نے تمہیں حیرانگی اور تعجب میں ڈال دیا ہے اس نے مجھے بھی تعجب میں مبتلا کیا تھا، تو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے اس تشویش کے بارے میں سوال کیا تھا تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ قصر کی اجازت ایک انعام ہے جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے۔ لہٰذا اس کے انعام کو قبول کرو۔
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا ہُشَیْمٌ، عَنْ مَنْصُوْرِبْنِ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلیٰ مَکَّۃَ لَا یَخَافُ اِلَّا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔(۲۴)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے، ماسوا رب کائنات کے کسی کاڈر اور خوف نہیں تھا پھر بھی آپؐ نے دو رکعت (نماز قصر) ہی پڑھیں۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ الْوَلِیْدِ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: انبانا اَبُوْاِسْحَاقَ، سَمِعْتُ حَارِثَۃَ بْنَ وَہْبٍ، قَالَ:صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ﷺ اٰمِنٌ مَاکَانَ بِمِنیٰ رَکْعَتَیْنِ۔(۲۵)
ترجمہ:حضرت حارث بن وہب کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت ہی پڑھائیں جب کہ آپؐ ہر طرح کی حالت امن میں تھے۔
تشریح:(بعض نے) اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ قصر صرف حالت جنگ کے لیے ہے اور حالت امن کے سفر میں قصر کرنا قرآن کے خلاف ہے۔ لیکن حدیث میں مستند روایت سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب یہی شبہ نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تو حضورؐ نے مندرجہ بالا حدیث ارشاد فرمائی۔ یہ بات قریب قریب تواتر سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے امن اور خوف دونوں حالتوں کے سفر میں قصر فرمایا ہے۔ ابن عباس تصریح کرتے ہیں۔ اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلیٰ مَکَّۃَ لاَّیَخَافُ اِلاَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔‘‘نبیؐ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور اس وقت رب العالمین کے سوا کسی کا خوف نہ تھا، مگر آپؐ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج ۱، النساء،حاشیہ: ۱۳۳)
قرآن صرف حالت خوف میں قصر کی صورت بتاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حالت میں امام کے سوا دوسروں کے لیے صرف ایک رکعت بھی کفایت کرتی ہے۔ اس حکم میں کہیں حالت امن کے قصر کی نفی نہیں ہے۔ یہ دوسرا حکم ہم کو نبی ﷺ کے ذریعہ سے پہنچا ہے اور وہ یہ ہے کہ سفر کی حالت میں صبح اور مغرب کے فرض تو پورے پڑھے جائیں ، البتہ ظہر، عصر اور عشاء کے فرضوںمیں صرف دو دو رکعتیں پڑھ لی جائیں۔
اس قصر کو جو شخص خلاف قرآن کہتا ہے وہ دو بڑی غلطیاں کرتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ کسی حکم کے قرآن میں نہ ہونے اور خلاف قرآن ہونے کو ایک چیز سمجھتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ نبیؐ کے واسطے کو درمیان سے ہٹا کر براہ راست قرآن کو لینا چاہتا ہے، حالانکہ قرآن اس کے پاس براہ راست نہیں آیا، بلکہ نبیؐ کے واسطے سے آیا ہے اور خدا نے یہ واسطہ اسی لیے اختیار کیا ہے کہ نبیؐ اسے قرآن کا منشا سمجھا ئے۔ کیا وہ شخص یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا نے یہ واسطہ فضول ہی اختیار کیا؟ (رسائل ومسائل دوم: حدیث کے۔۔۔)
ایک نوجوان کا سوال:
’’مولانا! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سفر میں نماز قصر کی اجازت اس دور کے لیے تھی جب لوگ اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کرتے تھے۔ لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔ اب سفر بالعموم ریل گاڑیوں اور بسوں وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اس میں اتنی سہولتیں ہوتی ہیں کہ نماز قصر کی رخصت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ لازم ہے کہ پوری نماز ادا کی جائے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘
جواب: مولانا محترم نے فرمایا:
’’بسوں کے سفر کا حال تو سب پر عیاں ہے۔ یہ سفر جتنی ’’سہولت‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے اس سے اکثر لوگوں کو سابقہ پڑتا رہتا ہے ــــجو لوگ ریل گاڑیوں کی سہولت پر اپنی اس موقف کی بنیاد رکھ رہے ہیں کہ قصر نماز کے بجائے پوری نماز پڑھی جائے، انہوں نے شاید کبھی تھرڈ کلاس میں سفر نہیں کیا، جس میں بعض مرتبہ تو اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ آدمی اپنی جگہ پر کھڑا حرکت تک نہیں کر سکتا۔ اگر ان کا خیال یہ ہو کہ جب گاڑی کسی اسٹیشن پر کھڑی ہو تو پوری نماز پڑھ لی جائے تو یہ بھی عملاً ممکن نہیں۔ پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ گاڑیاں نمازوں کے اوقات کے مطابق ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پہنچ جاتی ہوں۔ اور اس وقت تک کھڑی رہتی ہوں جب تک لوگ وضو کرکے نماز سے فارغ نہ ہوجائیں ــــ لیکن ان باتوں سے قطع نظر تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیجیے کہ اس سلسلہ میں جملہ سہولتیں میسر آجاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو سہولت اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دی ہے، اسے ان سے چھیننے کا کسی کو کیا حق ہے؟ کیا خدا کو علم نہ تھا کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا جب میرے بندے اونٹوں اور گھوڑوں کے بجائے ریل گاڑیوں اور بسوں اور ہوائی جہازوں سے سفر کرنا شروع کردیں گے؟ ــــ فی الحقیقت ’’نماز قصر کا تعلق‘‘، ’’سفر کی سہولتوں ‘‘ سے نہیں، بلکہ خود سفر سے ہے۔ سفر میں انسان ایک مقررہ، یا محدود وقت میں کوئی کام نمٹا نے کے لیے نکلتا ہے۔ اس لیے وہ سفر کے دوران میں ہر بات اور ہر معاملے میں عجلت سے کام لینے پر مجبور ہوتا ہے۔ بعض حالات میں تو ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے۔ ایسی مثالیں بھی دیکھنے میں آتی رہتی ہیں کہ کچھ معاملات ادھورے چھوڑ کر واپس ہوجانا پڑتا ہے۔ ایک سفر کی نوعیت دوسرے سفر سے مختلف ہوسکتی ہے۔ لیکن وقت کی کمی، عجلت، گھبراہٹ یا روز مرہ کے معمولات میں فرق پیدا ہوجانے کی کیفیت عام طور پر ہر سفر میں مشترک ہوتی ہے۔ آمدو رفت کے ذرائع بدل جانے سے ان حقائق پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سفر ہر حال میں سفر ہی ہوتا ہے۔
ایک صاحب نے کہا: ’’گویا سفر میں سہولت ہو تو اس کے باوجود حالت سفر میں ہونے کی جو مدت ہے، اس میں قصر کرنا چاہیے؟‘‘
مولانا نے فرمایا: ’’اس کی اہمیت کو آپ یوں سمجھ لیں کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب ایک شخص نے نبی ﷺ سے قصر کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ ہے تمہارا جی چاہے تو اسے رد کردو ــــیہ ارشاد ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رعایت سے فائدہ نہ اٹھانا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے۔‘‘
(۵ اے ذیلدار پارک،ج ۱، طبع سوم، ص: ۱۶۸-۱۷۰)

دوران سفر میں سنن و نوافل

۹۸۔آپؐ سفر میں فجر کی سنتوں اور عشاء کے وتر کا تو التزام فرماتے تھے مگر باقی اوقات میں صرف فرض پڑھتے تھے۔ البتہ نفل نمازوں کا جب موقع ملتا، پڑھ لیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سواری پر بیٹھے ہوئے پڑھتے رہتے تھے۔
(تفہیم القرآن ،ج ۱، النساء، حاشیہ:۱۳۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، اَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ حدَّثَہٗ، قَالَ: سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: صَحِبْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَلَمْ اَرَہُ یُسَبِّحُ فِی السَّفَرِ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الأحزاب:۲۱)۔(۲۶)
ترجمہ:حضرت حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن عمر نے (ایک مرتبہ) سفر کیا۔ تو انہوں نے(دوران سفر سنن و نوافل کے بارے میں) کہاکہ میں نبی ﷺ کے ساتھ (سفر میں) رہا ہوں، میں نے تو آپؐ کو دوران سفر نوافل پڑھتے نہیں دیکھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول کی ذات (اقدس) میں بہترین نمونہ ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ عِیْسیٰ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ اَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، یَقُوْلُ: صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَ لَا یَزِیْدُ فِی السَّفَرِ عَلیٰ رَکْعَتَیْنِ وَاَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَذٰلِکَ۔(۲۷)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا ہوں۔ آپؐ دوران سفر دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ نیز حضرات ابوبکر و عمرو عثمان رضی اللہ عنہم کا بھی یہی طریقہ تھا۔
(۳) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا یَزِیْدُ (یَعْنِی ابْنَ زُرَیْعٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ: عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرْضًا۔ فَجَآئَ ابْنُ عُمَرَ یَعُوْدُنِیْ ، قَالَ: وَسَاَلْتُہُ عَنِ السَّبْحَۃِ فِی السَّفَرِ؟ فَقَالَ: صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِی السَّفَرِ۔ فَمَا رَاَیْتُہُ یُسَبِّحُ وَلَوْ کُنْتُ مُسَبِّحًا لَاَتْمَمْتُ وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب:۲۱)۔(۲۸)
ترجمہ: حضرت حفص بن عاصم نے بیان کیا کہ میں کسی سخت بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ ابن عمر میری بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں نے ان سے سفر میں سنن و نوافل پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں دوران سفر رسول اللہ ﷺ کا مصاحب رہا ہوں۔ میں نے تو آپ کو سنن و نوافل پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔ اگر میں سنن و نوافل پڑھتا تو پھر نماز پوری پڑھتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین اسوہ، یعنی نمونہ ہے۔
حفص بن عاصم کہتے ہیں:
(۴) صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِیْ طَرِیْقِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَصَلّٰی لَنَا الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ اَقْبَلَ وَاَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتّٰی جَآئَ رَحْلَہُ، وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَہُ۔ فَحَانَتْ مِنْہُ الْتِفَاتُہُ نَحْوَحَیْثُ صَلّٰی، فَرَاٰی نَا سًا قِیَامًا، فَقَالَ: مَا یَصْنَعُ ہٰٓؤُلَائِ؟ قُلْتُ: یُسَبِّحُوْنَ، قَالَ: لَوْ کُنْتُ مُسَبِّحًا اَتْمَمْتُ صَلَاتِیْ یَا ابْنَ اَخِی! اِنِیْ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِی السَّفَرِ فَلَمْ یَزِدْ عَلیٰ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ وَصَحِبْتُ اَبَا بَکْرٍ فَلَمْ یَزِدْ عَلیٰ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ یَزِدْ عَلیٰ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ یَزِدْ عَلیٰ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب:۲۱)۔(۲۹)
ترجمہ: حضرت حفص بن عاصم نے بیان کیا کہ مکہ کی طرف سفر میں، میں ابن عمر کا ساتھی تھا۔ انہوں نے ظہر کی ہمیں صرف دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آگے بڑھے اور ہم بھی ان کے ساتھ آگے بڑھے کہ وہ اپنی سواری کے پاس پہنچ کر بیٹھ گئے۔ ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اچانک ان کی نظر اس طرف اٹھ گئی جہاں انہوں نے نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے کچھ لوگ دیکھے جو کھڑے تھے۔ پوچھا یہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ میں نے عرض کیا سنن و نوافل پڑھ رہے ہیں۔ فرمایا کہ اگر میں سنن و نوافل پڑھنے والا ہوتا تو اپنی فرض نماز ہی پوری پڑھتا۔ بھتیجے! میں دوران سفر میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھی رہا ہوں ۔ آپؐ نے تادم زیست کبھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں۔ اسی طرح ابوبکرؓ و عمرؓ کے ساتھ بھی سفر کیا۔ انہوں نے بھی مرتے دم تک دو رکعت پر اضافہ نہیں کیا۔ پھر حضرت عثمان ؓ کا سفری ساتھی بھی رہا ہوں۔ انہوں نے بھی زندگی بھر کبھی دو رکعت سے زائد نہیں پڑھیں۔ اللہ عزو جل کا فرمان ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے واسطے بہترین اسوہ ہے۔
امام ترمذی کا ابن عمرؓ کی روایت پر تبصرہ:
(۵)عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکَانُوْا یُصَلُّوْنَ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، لَایُصَلُّوْنَ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا۔(۳۰)
ـــــــ وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَوْکُنْتُ مُصَلِّیاً قَبْلَہَا اَوْ بَعْدَہَا لَاَتْمَمْتُہَا۔ وَفِی الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِیٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَاَنَسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، وَعَائِشَۃَ۔ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَحَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ لَانَعْرِفُہٗ اِلَّامِنْ حَدِیْثِ یَحْیَ بْنِ سُلَیْمٍ مِثْلَ ہٰذَا۔
ـــــــ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ: وَقَدْ رُوِیَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اٰلِ سُرَاقَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ
ــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَطِیَّۃَ الْعَوْفِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔اَنَّ النَّبِیَّﷺ کَانَ یَتَطَوَّعُ فِی السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ وَبَعْدَہَا۔ وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّﷺ اَنَّہٗ کَانَ یَقْصُرُ فِی السَّفَرِ، وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَ عُثْمَانُ صَدْراً مِنْ خِلَافَۃٍ۔ وَالْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذَا عِنْدَ اَکْثَرِ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَغَیْرِہِمْ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّہَا کَانَتْ تُتِمُّ الصَّلوٰۃَ فِی السَّفَرِ۔ وَالْعَمَلُ عَلیٰ مَارُوِیَ عَنِ النَّبِیِّﷺ وَاَصْحَابِہٖ وَہُوَقُوْلُ الشَّافِعِیِّ، وَاَحْمَدَ، وَاِسْحَاقَ، اِلَّااَنَّ الشَّافِعِیَّ یَقُوْلُ: اَلتَّقْصِیْرُ رُخْصَۃٌ لَہٗ فِی السَّفَرِ، فَاِنَّ اَتَمَّ الصَّلوٰۃَ اَجْزَأَ عَنْہُ۔
ـــــــ ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ ابن عطیہ کے حوالہ سے ابن عمر سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد نوافل پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ نبی ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپؐ سفر میں ہمیشہ قصر کرتے رہے ہیں اسی طرح ابوبکرؓ و عمرؓ بھی اور عثمانؓ اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں قصر کرتے رہے ہیں۔ اہل علم اصحاب نبی ﷺ اور دوسرے اصحاب علم کا اسی پر عمل رہا ہے۔ البتہ حضرت عائشہؓ سے ان کا ذاتی عمل اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ وہ دوران سفر پوری نماز پڑھا کرتی تھیں۔ حالانکہ عمل اسی پر ہے جس پر نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ عمل پیرارہے۔ یہی رائے امام شافعی ، امام احمد اور اسحاق کی ہے البتہ امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ قصر حالت سفر میں رخصت (چھوٹ ) ہے۔ اگر پوری نماز پڑھے تو بھی ادا ہوجائے گی۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَااللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ اَبِیْ بُسْرَۃَ الْغِفَارِیِّ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَسَفَراً، فَمَا رَاَیْتُہٗ تَرَکَ الرَّکْعَتَیْنِ اِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّہْرِ۔ وفی الباب عن ابن عمر۔(۳۱)
ترجمہ: براء بن عازب نے بیان کیا کہ اٹھارہ سفروں میں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا، مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپؐ نے دو رکعت ترک کی ہوں۔
قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ۔حَدِیْثُ الْبَرَائِ حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔ قَالَ وَسَاَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْہُ فَلَمْ یَعْرِفْہُ اِلَّامِنْ حَدِیْثِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ۔ وَلَمْ یُعْرَفْ اِسْمُ اَبِیْ بُسْرَۃَ الْغِفَارِیِّ، وَرَاٰہُ حَسَناً۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ لَا یَتَطَوَّعُ فِی السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ وَلَا بَعْدَہَا۔ وَرُوِیَ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّﷺ: اَنَّہٗ کَانَ یَتَطَوَّعُ فِی السَّفَرِ۔ ثُمَّ اخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَرَاٰی بَعْضُ اَصْحَابِ النَّبِیِّﷺ اَنْ یَّتَطَوَّعَ الرَّجُلُ فِی السَّفَرِ۔ وَبِہٖ یَقُوْلُ اَحْمَدُ وَ اِسْحَاقُ۔ وَلَمْ تَرَطَائِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ اَنْ یُّصَلِّیَ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا۔
وَمَعْنَی مَنْ لَّمْ یَتَطَوَّعْ فِی السَّفَرِ قُبُوْلُ الرُّخْصَۃِ، وَمَنْ تَطَوَّعَ فَلَہٗ فِیْ ذٰلِکَ فَضْلٌ کَثِیْرٌ، وَہُوَ قَوْلُ اَکْثَرِ اَہْلِ الْعِلْمِ یَخْتَارُوْنَ التَّطَوُّعَ فِی السَّفَرِ۔
ـــــــ امام ترمذی نے اس حدیث کے متعلق کہا ہے کہ براء بن عازب کی اس سند کے ساتھ روایت غریب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اس کے متعلق محمد بن اسماعیل بخاری سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ لیث بن سعد کی حدیث کے علاوہ مجھے اس کی کوئی روایت معلوم نہیں اور ابوبسرۃ کا نام بھی مجھے معلوم نہیں۔ رہا یہ کہ ابن عمر سے دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک یہ کہ نبی ﷺ سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد میں سنت و نفل نہیں پڑھتے تھے اور دوسری روایت ہے کہ آپؐ سفر میں نوافل پڑھتے تھے۔ اس وجہ سے اہل علم کی آراء مختلف ہوگئیں۔ بعض اصحاب نبی ﷺ کی رائے یہ قرار پائی کہ آدمی سفر میں نوافل پڑھ لے۔ اس رائے کو امام احمد اور اسحاق نے اختیار کیا ہے۔ اہل علم کا ایک گروہ یہ رائے رکھتا ہے کہ فرض نماز سے پہلے اور بعد میں نوافل پڑھ نہیں سکتا۔ جس نے سفر میں نفل نہ پڑھا اس نے رخصت کو قبول کرلیا اور جس نے نوافل پڑھا اسے بہت فضیلت ملے گی۔ یہ قول بہت سے اہل علم حضرات کا ہے۔ انہوں نے سفر میں نوافل پڑھنے کو اختیار کیا ہے۔
ابن عمرؓ سے مروی روایت:
(۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطِیَّۃَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ اَلظُّہْرَ فِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ۔(۳۲)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ کی رفاقت میں نماز ظہر دوران سفر دورکعتیں پڑھیں اوربعد میں بھی دو رکعت مزید پڑھیں۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔
(۸) وَقَدْ رَوَاہُ ابْنُ اَبِیْ لَیْلیٰ عَنْ عَطِیَّۃَ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ: فَصَلَّیْتُ مَعَہُ فِی الْحَضَرِ الظُّہْرَ اَرْبَعاً وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْتُ مَعَہُ فِی السَّفَرِّ الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ، وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ وَلَمْ یُصَلِّ بَعْدَہَا شَیْئًا، وَالْمَغْرِبَ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَائٌ ثَلٰثُ رَکْعَاتٍ، لَا تُنْقَصُ فِی الْحَضَرِ وَلَافی السَّفَرِ وَہِیَ وِتْرُ النَّہَارِ وَبَعْدَہَا رَکْعَتَیْنِ۔
ترجمہ: ابن ابو لیلیٰ نے عطیہ اور نافع نے ابن عمر سے درج ذیل روایت بھی نقل کی ہے۔ ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضر و سفر میں نبیؐ کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔ نماز ظہر حضر میں پہلے چار رکعتیں اور بعد میں (فرض نماز کے بعد) دو رکعتیں، اور دوران سفر میں دو رکعت (فرض) پہلے پھر بعد میں دو رکعت اور عصر کی نماز میں سفر میں صرف دو رکعت ۔ بعد میں کچھ بھی نہیں۔ اور حضر و سفر دونوں میں مغرب کی نماز پوری تین رکعات۔ اس میں دونوں حالتوں میں کوئی کمی بیشی نہیں۔ یہ دن کے وتر ہیں۔اور مغرب کے بعد دورکعت۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: ہَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَقُوْلُ مَارَوَی اِبْنُ اَبِیْ لَیْلیٰ حَدِیْثًا اَعْجَبَ اِلَیَّ مِنْ ہَذَا۔
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں سنا۔ انہوں نے فرمایا ابو لیلیٰ والی روایت میرے نزدیک بہت عمدہ ہے۔
تشریح: اس امر میں اختلاف ہے کہ سفر میں صرف فرض پڑھے جائیں یا سنتیں بھی۔ سنتیں پڑھنے کا التزام آپؐ سے ثابت نہیں ہے۔ اسی بنا پر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے لوگوں کو سفر میں فجر کے سوا دوسرے اوقات کی سنتیں پڑھنے سے منع کیا ہے۔ مگر اکثر علماء ترک اور فعل دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور اسے بندے کے اختیار پر چھوڑ دیتے ہیں۔ حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ مسافر جب راستہ طے کررہا ہو تو سنتیں نہ پڑھنا افضل ہے اور جب کسی مقام پر منزل کرے اور اطمینان حاصل ہو تو پڑھنا افضل ہے۔ (ایضاً)

ماخذ

۱) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر۔٭ نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب عدد صلوٰۃ الجمعۃ، قال ابوعبدالرحمٰن : عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ لم یسمع من عمر۔
(۲) بخاری،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب کیف فرضت الصلوٰۃ فی الاسراء۔
(۳) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب یقصر اذا خرج من موضعہ الخ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب من ترک القصر فی السفر غیر رغبۃ عن السنۃ۔٭مسلم، ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین و قصرہا، عن عائشۃ۔٭ ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب السفر، باب صلوٰۃ المسافر۔٭موطا امام مالک، ج۱، قصر الصلوٰۃ فی السفر۔ عن عائشۃ۔
(۴) السنن الکبریٰ، ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب رخصۃ القصر فی کل سفر الخ۔
(۵) نسائی، ج ۳، ص ۱۱۸ پر فُرِضَتْ صَلَاۃُ الْحَضْر عَلَی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ اور ابن ماجہ نے کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ میں باب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر کے تحت اِفْتَرَضَ اللّٰہُ الصَّلوٰۃَ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ روایت کیا ہے۔
(۶) موطا امام مالک، ج۱، کتاب قصر الصلوٰۃ فی السفر۔٭ نسائی، ج۳، کتاب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر۔
(۷) فتح القدیر للشوکانی، ج۱، ص ۵۰۹۔
(۸) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ بمنی۔٭ مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین و قصرہا۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب القصر فی السفر۔٭ نسائی،ج۳،کتاب تقصیرالصلوٰۃ فی السفر، باب الصلوٰۃبمنی، عن ابن عمر۔
(۹) بخاری:ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب یقصر اذا خرج من موضعہ الخ ٭ مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا۔ ٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب صلوٰۃ السفر، باب صلوٰۃ المسافر۔ عن انس۔ ٭ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب التقصیر فی السفر، عن انس۔ ہذا حدیث صحیح۔٭ نسائی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب عدد صلوٰۃ الظہر فی الحضر۔ ٭سنن دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب قصر الصلوٰۃ فی السفر۔ ٭ مسند احمد، ج ۳، ص ۱۷۷، عن انس۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب لا یقصر الذی یرید السفر حتیٰ یخرج من بیوت القریۃ ثم یقصر حتیٰ یدخل ادنیٰ بیوتہا، عن انس۔
(۱۰) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التقصیر وکم یقیم حتی یقصر۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء فی کم تقصر الصلوٰۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب کم یقصر الصلوٰۃ المسافر اذا قام ببلدۃ۔ ٭ سنن دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب قدر المسافۃ التی تقصر فی مثلہا۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے اتممنا کے بجائے صلینا اربعاً نقل کیا ہے۔ ٭ نسائی نے ج۳،کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب المقام الذی یقصر بمثلہ الصلوٰۃ اور ابن ماجہ نے باب کم یقصر الصلوٰۃ المسافر اذا قام ببلدۃ میں ابن عباس سے اَقَامَ بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ نقل کیا ہے۔
(۱۱) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب من اجمع اقامۃ اربع اتم۔
(۱۲) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التقصیر وکم یقیم حتیٰ یقصر۔ ٭ مسلم، ج۱، کتاب الصلوٰۃ المسافرین وقصرہا۔ ٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب صلوٰۃ السفر، باب صلوٰۃ المسافر، عن ابن عباس۔ ٭ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء فی کم تقصر الصلوٰۃ۔٭ نسائی،ج۳، کتاب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر، باب المقام الذی یقصر بمثلہ الصلوٰۃ ۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب کم یقصر الصلوٰۃ المسافر اذا قام ببلدۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب اتمام المغرب فی السفر والحضر وان لا قصر فیہا اور کتاب الصلوٰۃ، باب السفر الذی تقصر فی مثلہ الصلوٰۃ۔
(۱۳) ترمذی ابواب السفر، باب ماجاء فی کم تقصر الصلوٰۃ۔ ٭ دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب قدر المسافۃ فی مثلہا الخ۔ ’’فان زدنا اتممنا‘‘ تک بیان کیا ہے۔
(۱۴) بخاری، ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ بمنیٰ٭مسلم، ج۱، کتاب تقصیر الصلوۃ فی السفر، باب الصلوۃ بمنیٰ ٭ نسائی، ج۳، کتاب تقصیر الصلوۃ فی السفر، باب الصلوۃ بمنیٰ۔
(۱۵) ترمذی، ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء فی التقصیر فی السفر۔٭ نسائی،ج۲، کتاب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر، عن ابن عباس۔
(۱۶) مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصر ہا٭ ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب صلوٰۃ السفر، باب متیٰ یقصر المسافر؟ ٭مسند ابی عوانہ، ج۲، ص ۳۴۶۔
(۱۷) مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصر ہا۔٭مسند ابی عوانہ،ج۲۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الصلوٰۃ، باب لایقصر الذی یرید السفر الخ۔
(۱۸) ابوداؤد ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب صلوٰۃ السفر، باب اذا اقام بأرض العدویقصر۔
(۱۹) دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب قدر المسافۃ التی تقصر فی مثلہا۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب السفر لاتقصر فی مثلہ الصلوٰۃ، عن ابن عباس۔
(۲۰) ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الصلوٰۃ السفر، باب متی یتم المسافر۔٭مسند احمد، ج ۴، ص ۴۳۲، عمران بن حصین۔ ٭ السنن الکبریٰ ،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب المسافر یصلی بالمسافرین والمقیمین۔
(۲۱) ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب صلوٰۃ السفر، باب متی یتم المسافر۔
(۲۲) ابوداؤد ، کتاب الصلوٰۃ، باب اذا اقام بارض العد ویقصر۔
(۲۳) مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا۔٭ ابوداؤدج۲، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب السفر، باب صلوٰۃ المسافر۔ ٭ ترمذی، ج۲، ابواب التفسیر، سورہ نساء ۔ ہذا حدیث حسن صحیح۔٭نسائی،ج۳، کتاب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ، باب تقصر الصلوٰۃ فی السفر۔ ٭ دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب قصر الصلوٰۃ فی السفر۔ ٭ مسند احمد، ج۱، ص ۲۵-۳۶، ج ۶، ص ۶۳۔ قال علی بن المدینی ۔ ہذا حدیث حسن صحیح من حدیث عمر، ولا یحفظ الا من ہذا الوجہ، ورجالہ معروفون۔٭ ابن کثیر، ج ۱، ص۵۴۴، سورہ نساء۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۳۔ کتاب الصلوٰۃ: باب من ترک القصر فی السفر غیر رغبۃ عن السنۃ۔
(۲۴) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ السفر، باب التقصیر فی السفر۔ ہذا حدیث صحیح۔٭نسائی،ج۳، کتاب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب رخصۃ القصر فی کل سفر۔
(۲۵) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ بمنیٰ۔
(۲۶) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلاہ، باب من لم یتطوع فی السفر دبر الصلوات وقبلہا۔
(۲۷) بخاری،ج۱، ابواب تقصیر الصلوٰۃ، باب من لم یتطوع فی السفر دبر الصلوات وقبلہا۔
(۲۸) مسلم،ج۱، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصر ہا۔ ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۳۳۷۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب التخفیف فی ترک التطوع فی السفر۔
(۲۹) مسلم ،ج۱،کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التطوع فی السفر۔٭ نسائی،ج۳،کتاب تقصیر الصلوٰۃ فی السفر، باب ترک التطوع فی السفر۔٭ابن ماجہ : کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب التطوع فی السفر۔٭مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص۳۳۷۔٭السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب التخفیف فی ترک التطوع فی السفر۔
(۳۰) ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب التقصیر فی السفر۔ ٭ مسند ابی عوانہ ، ج ۲، ص ۳۳۶۔
(۳۱) ترمذی ابواب السفر، باب ماجاء فی التطوع فی السفر۔٭ ابوداؤد نے براء کی روایت قبل الظہر تک کتاب الصلوٰۃ، باب التطوع فی السفر میں نقل کی ہے۔
(۳۲) ترمذی ابواب السفر، باب ماجاء فی التطوع فی السفر۔

فصل: ۱۵ صلوٰۃ خوف اور اس کے احکام

۹۹۔نبی ﷺ کے فعل سے ثابت ہے کہ آپؐ نے غزوۂ خندق کے موقع پر چار نمازیں نہیں پڑھیں اور پھر موقع پاکر علی الترتیب انھیں ادا کیا۔ (تفہیم القرآن ج ۱، النساء حاشیہ :۱۳۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ النَّبِیُّ ﷺ وَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ، فَکَبَّرَ، وَکَبَّرُ وْا مَعَہُ وَرَکَعَ، وَرَکَعَ نَاسٌ مِنْہُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوْا مَعَہُ، ثُمَّ قَامَ لِلثَّانِیَۃِ فَقَامَ الَّذِیْنَ سَجَدُوْا وَحَرَسُوْا اِخْوَانَہُمْ وَاَتَتِ الطَّائِفَۃُ الْاُخْرٰی ، فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا مَعَہُ وَالنَّاسُ کُلُّہُمْ فِیْ صَلَاۃٍ وَلٰکِنْ یَحْرُسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔(۱)
ترجمہ:’’حضرت ابن عباسؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ساتھ ہی دوسرے لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے اللہ اکبر کہا تو لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا۔ آپؐ نے رکوع فرمایا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر تھوڑے توقف کے بعد آپؐ نے سجدہ کیا، تو لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا۔ (ایک رکعت مکمل کرکے) دوسری کے بعد آپؐ کھڑے ہوئے تو جن لوگوں نے آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کی حفاظت کرتے رہے۔ اب ایک دوسرا گروہ آیاانہوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا۔ اس صورت حال میں تمام سپاہ حالت نماز میں ہوتے ہوئے ایک دوسرے کی حفاظت کا فریضہ و ذمہ داری بھی نبھاتے رہے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُو الْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: سَاَلْتُہٗ ہَلْ صَلَّی النَّبِیُّ ﷺ یعنی صَلَاۃَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ: اَخْبَرَنِی سَالِمٌ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَیْنَا الْعَدُوَّ، فَصَافَفْنَا لَہُمْ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ لَنَا، فَقَامَتْ طَآئِفَۃٌ مَعَہُ، وَاَقْبَلَتْ طَآئِفَۃٌ عَلَی الْعَدُوِّ وَ رَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِمَنْ مَّعَہُ۔ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَ فُوْا مَکَانَ الطَآئِفَۃِ الَّتِیْ لَمْ تُصَلِّ۔ فَجَآئُ وْا فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِہِمْ رَکْعَۃً وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْہُمْ فَرَکَعَ لِنَفْسِہِ رَکْعَۃً وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔(۲)
ترجمہ:’’شعیب نے زہری کے حوالہ سے بیان کیا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ آیا نبی ﷺ نے صلوٰۃ خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمیں سالم نے خبردی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نجد کی طرف لڑائی پر گیا۔ ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوگیا۔ ہم نے ان سے معرکہ آرا ہونے کے لیے صف بندی کی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے۔ ایک جماعت آپؐ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوگئی اور ایک حریف کے مقابلے میں رہی۔ رسول اللہ ﷺ نے جماعت میں شامل لوگوں کے ساتھ رکوع فرمایا اور دو سجدے بھی کیے۔ پھر یہ لوگ ان کے جگہ پر چلے گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ وہ لوگ آئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے پورے کرائے (یعنی ایک رکعت پڑھائی) پھر آپؐ نے سلام پھیر دیا۔ مقتدیوں میں سے ہر ایک نے اپنے طور پر ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھ کر دو دو رکعتیں پوری کیں۔
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمُبَارَکِ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: جَآئَ عُمَرُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَجَعَلَ یَسُبُّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ، وَیَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا صَلَّیْتُ الْعَصْرَحَتّٰی کَادَتِ الشَّمْسُ اَنْ تَغِیْبَ،فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: وَاَنَا وَاللّٰہِ مَا صَلَّیْتُہَا بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ اِلیٰ بُطْحَانَ فَتَوَضَّاَ، وَصَلَّی الْعَصْرَ بَعْدَ مَاغَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ بَعْدَہَا۔ (۳)
ترجمہ: ’’حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ جنگ خندق کے روز حضرت عمرؓ آئے اور قریشی کافروں کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ اور ساتھ ہی حضوؐر کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہؐ !میں نے آج نماز عصر ایسے وقت میں پڑھی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بالکل قریب تھا۔ یہ سن کر نبی ﷺ نے فرمایا۔ بہ خدا! میں نے ابھی تک نہیں پڑھی ہے۔ یہ کہہ کر آپؐ بطحان (پہاڑی نالہ) کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں وضو فرمایا اور غروب آفتاب کے بعد پہلے عصر کی نماز ادا فرمائی پھر مغرب کی۔
امام بخاری نے باب الصلوٰۃ عند مناہضۃ الحصون کے تحت لکھا ہے:
ـــــــ وَقَالَ الْاَوْزَاعِیُّ اِنْ کَانَ تَہَیَّا الْفَتْحُ وَلَمْ یَقْدِرُوْا عَلیٰ الصَّلوٰۃِ صَلُّوا اِیْمَآئً کُلُّ امْرِیٍ لِنَفْسِہِ۔ فَاِنْ لَّمْ یَقْدِرُوْا عَلَی الْاِیْمَآئِ اَخَّرُوا الصَّلوٰۃَ حَتّٰی یَنْکَشِفَ القِتَالُ اَوْ یَأْمَنُوْا فَیُصَلُّوْا رَکْعَتَیْنِ فَاِنْ لَّمْ یَقْدِرُوْا صَلُّوْا رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ۔ فَاِنْ لَّمْ یَقْدِرُوْا لَا یُجْزِئُہُمْ التَکْبِیْرُ وَیُوَخِّرُوْنَہَا حَتّٰی یَاْمَنُوْا وَبِہِ۔ قَالَ مَکْحُوْلٌ: وَقَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ حَضَرْتُ عِنْدَ مُنَا ہَضَۃِ حِصْنٍ تُسْتَرَ عِنْدَ اِضَائَ ۃِ الْفَجْرِ وَاشْتَدَّ اشْتِعَالُ الْقِتَالِ فَلَمْ یَقْدِرُوْا عَلَی الصَّلوٰۃِ فَلَمْ نُصَلِّ اِلَّا بَعْدَ اِرْتِفَاعِ النَّہَارِ فَصَلَّیْنَاہَا وَنَحْنُ مَعَ اَبِیْ مُوْسیٰ فَفُتِحَ لَنَا، وَقَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: وَمَا یَسُرُّنِیْ بِتِلْکَ الصَّلوٰۃِ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔(۴)
ـــــــ امام اوزاعی کی رائے ہے کہ اگر فتح و کامرانی کے آثار نمایاں ہوں اور لڑنے والے نماز نہ پڑھ سکتے ہوں تو ہر مجاہد سپاہی اپنے طور پر اشارہ سے پڑھ لے۔ اگر اشارہ سے پڑھنا بھی ممکن نہ رہے تو لڑائی کے فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہونے یا حالت امن نصیب ہونے تک نماز موخر کردیں۔ پھر دو رکعتیں ہی پڑھیں۔ اگر دو رکعت پڑھنے کا موقعہ اور مہلت نہ ملے تو ایک رکعت ہی پڑھ لیں۔ اگر جنگی حالات اس کے بھی متقاضی نہ ہوں اور وہ ایسا بھی نہ کرسکیں تو تکبیر پر اکتفا نہ کریں تاوقتیکہ وہ حالت امن میں آجائیں۔مکحول کی یہی رائے ہے۔ اور انس بن مالک نے بیان کیا کہ میں صبح کے وقت جب کہ قلعہ تستر پر چڑھائی ہورہی تھی، موجود تھا، جنگ کی آگ بہت مشتعل تھی۔ لوگ نماز ادا کرنے پر قادر نہ تھے۔ آفتاب کے بلند ہونے کے بعد ہم نماز ادا کرنے پر قادر ہوسکے تو ہم لوگوں نے نماز پڑھی اس وقت ہم ابوموسیٰ کے ساتھ تھے۔ پھر وہ قلعہ ہمارے لیے فتح ہوگیا۔ انس بن مالک کا بیان ہے کہ اس نماز کے بدلے میں ہمیں دنیا و مافیہا کے حاصل ہونے سے بھی خوشی نہ ہوتی۔
(۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ ، قَالَ: نَا اَبِیْ ، قَالَ: نَاشُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ۔ صَلَّی بِاَصْحَابِہِ فِی الْخَوْفِ۔ فَصَفَّہُمْ خَلْفَہُ صَفَّیْنِ۔ فَصَلَّٰی بِالَّذِیْنَ یَلُوْنَہُ رَکْعَۃً۔ ثُمَّ قَامَ فَلْم یَزَلْ قَآئِمًا حَتّٰی صَلَّی الَّذِیْنَ خَلْفَہُمْ رَکْعَۃً ثُمَّ تَقَدَّمُوْا وَتَاخَّرَ الَّذِیْنَ کَانُوْا قُدَّ امَہُمْ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً ثُمَّ قَعَدَ حَتّٰی صَلَّی الَّذِیْنَ تَخَلَّفُوْا رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ۔(۵)
ترجمہ:حضرت سہل بن ابی حشمہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رفقاء کو صلوٰۃ خوف پڑھائی۔ آپؐ کے پیچھے انہوں نے دو صفیں باندھیں۔ جو لوگ آپؐ کے قریب تھے (یعنی پہلی صف) ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور اس وقت تک حالت قیام میں رہے جب تک کہ آپؐ کے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ نہ لی۔ پھر یہ لوگ آگے ہوئے اور آگے والے پیچھے آئے۔ انہیں بھی آپؐ نے ایک رکعت پڑھائی۔ اس کے بعد آپؐ قعدہ میں بیٹھ گئے۔ اس وقت تک آپؐ اسی حالت میں بیٹھے رہے جب تک کہ پچھلے لوگوں نے ایک رکعت نہ پڑھ لی۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔
(۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: شَہِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ؐ صَلَاۃَ الْخَوْفِ۔ فَصَفَّنَا صَفَّیْنِ۔ صَفٌّ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَالْعَدُوُّ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ۔ فَکَبَّرَ النَّبِیُّ ﷺ وَکَبَّرْنَا جَمِیْعًا۔ ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا جَمِیْعًا۔ ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِیْعًا۔ ثُمَّ انْحَدَرَ بِا السُّجُوْدِ۔ وَالصَّفُّ الَّذِیْ یَلِیْہِ۔ وَقَامَ الصَّفُّ المُوَخَّرُ فِیْ نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السُّجُوْدَ، وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِیْ یَلِیْہِ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُوخَّرُ بِالسُجُوْدِ، وَقَامُوْا، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُوَخَّرُ۔ وَتَاَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ۔ ثُمَّ رَکَعَ النَّبِیُّ ﷺ وَرَکَعْنَا جَمِیْعًا۔ ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِیْعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُوْدِ وَالصَّفُّ الَّذِیْ یَلِیْہِ الَّذِیْ کَانَ مُوَخَّرًا فِی الرَّکْعَۃِ الْاُوْلیٰ۔ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُوَخَّرُ فِیْ نُحُوْرِالْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ ﷺ السُّجُوْدَ۔ وَالصَّفُّ الَّذِیْ یَلِیْہِ۔ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُوَخَّرُ بِالسُّجُوْدِ۔ فَسَجَدُوْاثُمَّ سَلَّمَ النَّبِیُّ ﷺ وَسَلَّمْنَا جَمِیْعًا۔ قَالَ جَابِرٌ:کَمَا یَصْنَعُ حَرَسُکُمْ ہٰوُلَآئِ بِاُمَرَائِ ہِمْ۔(۶)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ صلوٰۃ خوف کے وقت میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا۔ آپؐ نے ہمیں دو صفوں میں بانٹ دیا۔ ایک صف آپؐ کی اقتداء میں کھڑی ہوگئی ۔ دشمن اس وقت ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ نبیﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ آپؐ نے رکوع فرمایا، ہم سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے بھی اپنے سر اٹھائے۔ پھر آپؐ سجدہ میں چلے گئے اور پہلی صف والے بھی سجدہ میں چلے گئے۔ دوسری صف دشمن کے مقابلہ میں کھڑی رہی۔ پس جب آپؐ نے سجدہ پورا کرلیا اور پہلی صف کھڑی ہوگئی تو دوسری صف سجدہ میں چلی گئی پھر سب کھڑے ہوگئے۔اب آخری صف والے آگے آگئے اور پہلی صف والے پیچھے چلے گئے، تو پھر نبی ﷺ نے رکوع فرمایا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے رکوع سے سر اٹھایا۔ ہم سب نے بھی اپنے سر اٹھائے۔ پھر آپؐ سجدہ میں چلے گئے اور پہلی صف جو اس سے پہلے دوسری صف تھی، بھی سجدے میں چلی گئی اور دوسری صف دشمن کے مقابلہ میں کھڑی ہوگئی۔ پس جب نبی ﷺ اور پہلی صف نے سجدہ پورا کرلیا تو دوسری صف بھی سجدے میں چلی گئی اور انہوں نے سجدہ کیا۔ پھر نبی ﷺ نے سلام پھیر دیا اور ہم سب نے بھی سلام پھیر دیا۔
ـــــــجابر کہتے ہیں کہ یہ صورت تو بعینہ وہی صورت ہے جیسی کہ تم لوگ اپنے امراء و حکام کے لیے حفاظتی دستہ متعین کرتے ہو۔
(۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ صَلوٰۃَ الْخَوْفِ بِاِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنَ رَکْعَۃً۔ وَالطَّآئِفَۃُ الْاُخْرٰی مُوَاجَہَۃَ الْعَدُوِّ۔ ثُمَّ انْصَرَفُوْا وَقَامُوْا فِیْ مَقَامِ اَصْحَابِہِمْ۔ مُقْبِلِیْنَ عَلَی الْعَدُوِّ، وَجَآئَ اُوْلٰئِکَ ثُمَّ صَلّٰی بِہِمُ النَّبِیُّ ﷺ رَکْعَۃً۔ ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِیُّ ﷺ ثُمَّ قَضیٰ ہٰوُلَآئِ رَکْعَۃً وَہٰوُلَآئِ رَکْعَۃً۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کو صلوٰۃ خوف ایک رکعت پڑھائی جب کہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہا۔ پھر یہ لوگ اپنے ان ساتھیوں کی جگہ پر دشمن کے مدمقابل چلے گئے۔ (جو نماز میں شریک نہ ہوئے تھے) اور یہ لوگ آگے آئے تو نبی ﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔ ان دونوں نے اپنی اپنی جگہ ایک ایک رکعت پڑھ لی۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت:
(۷)فَاِذَا کَانَ خَوْفُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَصَلِّ رَاکِباً اَوْقَائِماً تُؤمِیْ اِیْمَآء۔(۸)
ترجمہ: جب خوف اس سے بھی زیادہ بڑھ جائے تو پھر پیدل، سوار، اشارہ کنایہ سے جس طرح ممکن ہو، پڑھ لے۔
(۸) عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلَّی صَلوٰۃَ الْخَوْفِ بِاحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ رَکْعَۃً، وَالطَّائِفَۃُ الْاُخْرٰی مُوا جَہَۃَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوْا، فَقَامُوْا فِیْ مَقَامِ اُولٰئِکَ، وَجَآئَ اُولٰئِکَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً اُخْرٰی، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ، فَقَامَ ہٰوُلَا ٓئِ فَقَضَوْا رَکْعَتَہُمْ، وَقَامَ ہٰولَا ٓئِ فَقَضَوْا رَکْعَتَہُمْ۔(۹)
ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی فوج کے ایک حصہ کو صلوٰۃ خوف ایک رکعت پڑھائی۔ اور دوسرا حصہ دشمن کے مدمقابل کھڑا رہا۔ پھر ان لوگوں نے ایک دوسرے کی جگہ لی۔ آپؐ نے انہیں بھی ایک رکعت ہی پڑھائی۔ اور سلام پھیر دیا۔ یہ لوگ اٹھے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ اٹھے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَحُذَیْفَۃَ، وَزَیْدِبْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ، وَسَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، وَاَبِیْ عَیَّاشٍ الزُّرَقِیِّ، وَاِسْمُہُ زَیْدُبْنُ صَامِتٍ، وَاَبِیْ بَکْرَۃَ۔ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ: وَقَدْ ذَہَبَ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ فِیْ صَلوٰۃِ الْخَوْفِ اِلیٰ حَدِیْثِ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ۔ وَقَالَ اَحْمَدُ: قَدْرُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلوٰۃُ الْخَوْفِ عَلیٰ اَوْجُہٍ ــــ وَہٰکَذَا قَالَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ۔ قَالَ: ثَبَتَتِ الرِّوَایَاتُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ صَلوٰۃِ الْخَوْفِ، وَرَاٰی اَنَّ کُلَّ مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ صَلوٰۃِ الْخَوْفِ فَہُوَ جَائِزٌ۔ وَہَذَا عَلیٰ قَدْرِ الْخَوْفِ۔ قَالَ اِسْحَاقُ: وَلَسْنَا نَخْتَارُ حَدِیْثَ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ عَلیٰ غَیْرِہِ مِنَ الرِّوَایَاتِ۔ وَحَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔ وَقَدْ رَوَاہُ مُوْسَی ابْنُ عُقْبَۃَ عَن نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ نَحْوَہُ۔
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں کہ اس مسئلہ میں امام مالکؒ نے سہل بن ابی حثمہ والی حدیث کو اختیار کیا ہے۔ امام شافعیؒ کا ایک قول بھی اسی طرح کا ہے۔ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ صلوٰۃ خوف کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بہت سی روایات مروی ہیں۔ اس باب میں مجھے ایک حدیث صحیح ملی ہے۔ وہ ہے سہل بن ابی حشمہ کی۔ اسی طرح اسحاق بن ابراہیم کا قول ہے کہ صلوٰۃ خوف کے بارے میں آپؐ سے کئی روایات ثابت ہیں۔ اس بارے میں آپؐ سے جو کچھ مروی ہے وہ سب جائز ہے۔ بس یہ خوف کے اندازے اور مقدار کے اعتبار سے ہے۔ اسحاق کی رائے یہ ہے کہ ہم سہل کی روایت کو دوسری روایات پر ترجیح نہیں دے سکتے۔
(۹) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، ثَنَا اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِیُ، ثَنَا حَیْوَۃُ وَابْنُ لَہَیَعَۃَ، قَالَا: اَخْبَرَنَا اَبُوْالْاَسْوَدِ اَنَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یُحَّدِثُ عَنْ مَرْوَانَ ابْنِ الْحَکَمِ، اَنَّہُ سَاَلَ اَبَا ہُرَیْرَۃَ: ہَلْ صَلَّیْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَسَلَّمَ صَلوٰۃَ الْخَوْفِ؟ قَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: نَعَمْ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مَتٰی؟ قَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: عَامَ غَزْوَۃِ نَجْدٍ۔ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی صَلوٰۃِ الْعَصْرِ، فَقَامَتْ مَعَہُ طَآئِفَۃٌ، وَطَآئِفَۃٌ اُخْرٰی مُقَابِلَ الْعَدُوِّ وَظُہُوْرُ ہُمْ اِلَی الْقِبْلَۃِ، فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَکَبَّرُوْا جَمِیْعًا الَّذِیْنَ مَعَہُ، وَالَّذِیْنَ مُقَابِلُو الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً، وَرَکَعَتِ الطَّآئِفَۃُ الَّتِیْ مَعَہُ۔ ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّآئِفَۃُ الَّتِیْ تَلِیْہِ۔ وَالْاٰخَرُوْنَ قِیَامٌ مُقَابِلُو الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَقَامَتِ الطَّآئِفَۃُ الَّتِیْ مَعَہُ، فَذَہَبُوْ اِلَی الْعَدُوِّفَقَابَلُوْ ہُمْ وَاَقْبَلَتِ الطَّآئِفَۃُ الَّتِیْ کَانَتْ مُقَابِلِی الْعَدُوِّ، فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَآئِمٌ کَمَا ہُوَ، ثُمَّ قَامُوْا فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَکْعَۃً اُخْرٰی وَرَکَعُوْا مَعَہُ وَسَجَدَ وَسَجَدُوْا مَعَہُ، ثُمَّ اَقْبَلَتِ الطَّآئِفَۃُ الَّتِیْ کَانَتْ مُقَابِلِی الْعَدُوِّ، فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَاعِدٌ وَمَنْ کَانَ مَعَہُ، ثُمَّ کَانَ السَّلَامُ فَسَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَسَلَّمُوْا جَمِیْعًا، فَکَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَکْعَتَانِ، وَلِکُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّآئِفَتَیْنِ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ۔(۱۰)
ترجمہ: مروان بن حکم نے ابو ہریرہؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلوٰۃ خوف بھی پڑھی ہے؟ ابوہریرہؓ نے کہا ’’ہاں‘‘ ۔ انھوں نے پھر پوچھا۔ ’’کب؟‘‘ ابوہریرہؓ نے بتایا کہ غزوہ نجد کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے ایک جماعت آپؐ کے ساتھ کھڑی ہوئی۔ جب کہ دوسری دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہوئی۔ ان کی پشتیں قبلہ رخ تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی تو سب لوگوں نے جو آپؐ کے ساتھ شریک جماعت تھے اور جو دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے تھے تکبیر تحریمہ کہی۔ پھر آپ نے ایک رکوع کیا اور ان لوگوں نے بھی رکوع کیا جو آپؐ کے قریب تھے۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا تو قریب والی صف نے بھی سجدہ کیا۔ اور دوسری صف والے دشمن کے مقابل کھڑے رہے۔ پھر آپؐ اٹھے اور آپؐ کے ساتھ شریک نماز لوگ اٹھ کر دشمن کے مدمقابل چلے گئے اور جو لوگ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے تھے، وہ آگے آئے۔ انہوں نے آکر رکوع وسجود کیے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ حالت قیام میں رہے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے تو آپؐ نے دوسری رکعت کا رکوع کیا۔ انہوں نے بھی رکوع کیا۔ آپؐ نے سجدہ کیا۔ انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ پھر دشمن کے مدمقابل گروہ آگے آیا۔ انہوں نے رکوع و سجود خود بخود ادا کیے۔ آپؐ اس وقت قعدہ میں بیٹھے رہے اور آپؐ کے ساتھ والے بھی اسی حالت میں بیٹھے رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سب لوگوں کے ساتھ سلام پھیرا ۔ اس طرح رسول اللہ کی دو رکعتیں اور باقی ہر آدمی کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
(۱۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ، ثَنَا اَبِیْ، ثَنَا الْاَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، قَالَ:صَلّٰی النَّبِیُّ ﷺ فِیْ خوْفِ الظُّہْرَ، فَصَفَّ بَعْضُہُمْ خَلْفَہُ وَبَعْضُہُمْ بِاِزَآئِ الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ الَّذِیْنَ صَلُّوْا مَعَہٗ فَوَقَفُوْا مَوقِفَ اَصْحَابِہِمْ، ثُمَّ جَآئَ اُوْلٰئِکَ فَصَلُّوْا خَلْفَہُ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَرْبَعًا، وَلِاَصْحَابِہِ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَبِذٰلِکَ کَانَ یُفْتِی الْحَسَنُ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت ابو بکرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت خوف میں نماز ظہر پڑھائی۔ کچھ لوگ آپؐ کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور کچھ دشمن کے مد مقابل ۔ آپؐ نے شریک جماعت لوگوں کو دو رکعت پڑھاکر سلام پھیر دیا۔ پھر یہ لوگ جنہوں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، ان لوگوں کی جگہ چلے گئے جو دشمن کے مقابلہ میں کھڑے تھے۔ یہ لوگ آگے بڑھے تو نبی ﷺ نے ان کو بھی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس طرح آپؐ کی چار اور آپؐ کے ساتھیوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ حسن بصری اسی کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔
دارقطنی نے ابوبکرہ سے مغرب کی نماز بھی روایت کی ہے:
(۱۱) عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ ، صَلّٰی بِالْقَوْمِ صَلوٰۃَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثَ رَکْعَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ۔ وَجَآئَ الْاٰخَرُوْنَ۔ فَصَلّٰی بِہِمْ ثَلَاثَ رَکْعَاتٍ، فَکَانَتْ للنَّبِیِّ ﷺ سِتَّ رَکْعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ ثَلٰثٌ ثَلٰثٌ۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت ابوبکر ہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو (حالت خوف) میں مغرب کی نماز بھی پڑھائی۔ پہلے ایک دستے کو تین رکعات اور دوسرے کو بھی تین رکعات۔ اس صورت میں آپؐ کی چھ اور لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوئیں۔
ابن مسعودؓ سے مروی روایت:
(۱۲) حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَیْسَرَۃَ، ثَنَا ابن فُضَیْلٍ، ثَنَا خُصَیْفٌ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ صَلوٰۃَ الْخَوْفِ، فَقَامُوْا صَفًّا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلُ الْعَدُوِّ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَکْعَۃً ثُمَّ جَآئَ الْاٰخَرُوْنَ فَقَامُوْا مَقَامَہُمْ، وَاسْتَقْبَلَ ہٰوُلَآئِ الْعَدُوِّ، فَصَلّٰی بِہِمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ ہٰوُلَآئِ فَصَلُّوْا لِاَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمُوْا ، ثُمَّ ذَہَبُوْا، فَقَامُوْا مَقَامَ اُوْلٰئِکَ مُسْتَقْبِلِی الْعَدُوِّ وَرَجَعَ اُوْلٰئِکَ اِلیٰ مَقَامِہِمْ فَصَلُّوْا لِاَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمُوْا۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صلوٰۃ خوف پڑھائی۔ صحابہ نے ایک صف تو رسول اللہؐ کے پیچھے باندھی اور ایک صف دشمن کے مد مقابل کھڑی ہوگئی۔ شریک نماز صحابہؓ کو آپؐ نے ایک رکعت پڑھائی۔ پھر دوسرے اصحاب آگے آئے اور یہ لوگ ان کی جگہ دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ پھر آپؐ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ یہ لوگ اٹھے اور اپنے طور پر ایک رکعت پڑھ لی اور سلام پھیر دیا اور چلے گئے اور جاکر دشمن کے مقابلے کھڑے حضرات کی جگہ کھڑے ہوگئے اور دوسرے ان کی جگہ پر آگئے اور اپنے طور پر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔
مسلم میں حضرت جابرؓ سے مروی روایت:
(۱۳) اَنَّ جَابِرًا اَخْبَرَہُ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ صَلوٰۃَ الْخَوْفِ۔فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِاِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ صَلّٰی بِالطَّائِفَۃِ الْاُخْرٰی رَکْعَتَیْنِ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ وَصَلّٰی بِکُلِّ طَآئِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ۔(۱۴)
ترجمہ:حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں صلوٰۃ خوف پڑھی ہے۔ رسول اللہ ﷺنے اپنے ساتھیوں کے دو گروہ بنائے ۔ ایک کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر دوسرے کو الگ سے دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح آپؐ نے چار رکعتیں پڑھیں اور ہر گروہ نے دودو رکعتیں۔
حضرت جابرؓ سے ایک اور روایت:
(۱۴) عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ: کُنَّا اِذَا اَتَیْنَا عَلیٰ شَجَرَۃٍ ظَلِیْلَۃٍ تَرَکْنَا ہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: فَجَآئَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ، وَسَیْفُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَۃٍ، فَاَخَذَ سَیْفَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ فَاخْتَرَطَہُ۔ فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، اَتَخَافُنِیْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّیْ؟ قَالَ: اَللّٰہُ یَمْنَعُنِیْ مِنْکَ، قَالَ: فَتَھَدَّدَہٗ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَغْمَدَالسَّیْفَ وَعَلَّقَہُ۔ قَالَ: فَنُوْدِیَ بِالصَّلاَۃِ فَصَلّٰی بِطَآئِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ تَاَخَّرُوْا وَصَلّٰی بِالطَّآئِفَۃِ الْاُخْرٰی رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہُ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آرہے تھے کہ ذات الرقاع نامی جگہ پر پہنچ گئے ۔ ہم نے یہ طے کرلیا کہ جب کوئی سایہ دار درخت ہمارے سامنے آئے، اسے ہم آپؐ کے لیے چھوڑدیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مشرکین میں سے اچانک ایک آدمی آنکلا۔ رسول اللہ ﷺ کی تلوار ایک درخت سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے آتے ہی آپؐکی تلوار اپنے قبضے میں کرکے کہاکہ کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں؟ حضوؐر نے فرمایا ’’ہرگز نہیں۔‘‘ وہ بولا ’’ مجھ سے تمہیں کون بچائے گا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’اللہ‘‘ مجھے تجھ سے بچائے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ آپؐ کے صحابہؓ نے اسے خوب دھمکایا ڈرایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال دی۔ راوی کہتا ہے پھر منادی کر دی گئی ۔ رسول اللہ ؐنے اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ یہ پھر پیچھے ہوگئے اور آپؐ نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح آپؐ کی چار اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔
(۱۵) عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ مَنْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاۃَ الْخَوْفِ۔ اِنَّ طَائِفَۃً صَفَّتْ مَعَہُ، وَطَآئِفَۃً وِجَاہَ الْعَدُوِّ۔ فَصَلّٰی بِالَّذِیْنَ مَعَہُ رَکْعَۃً، ثُمَّ ثَبَتَ قَآئِمًا۔ وَاَتَمُّو ا لِاَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوْا فَصَفُّوْا وِجَاہَ الْعَدُوِّ۔ وَجَآئَ تِ الطَّآئِفَۃُ الْاُخْرٰی ، فَصَلّٰی بِہِمُ الرَکْعَۃَ الَّتِیْ بَقِیَتْ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَاَتَمُّوْا لِاَنْفُسِہِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِہِمْ۔(۱۶)
ترجمہ: صالح بن خوات اس شخص سے بیان کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے روز آپؐ کے ساتھ صلوٰۃ خوف پڑھی تھی۔ اس کا بیان ہے کہ ایک ٹولی نے آپؐ کے ساتھ صف باندھی اور دوسری دشمن کے مد مقابل کھڑی ہوگئی۔ آپؐ نے اپنے ساتھ شریک نماز ساتھیوں کو ایک رکعت پڑھائی اور حالت قیام میں کھڑے رہے۔ تاآنکہ انہوں نے دوسری رکعت اپنے طور پر پڑھ لی اور جاکر دشمن کے مقابل کھڑے ہوگئے۔ دوسری صف والے آگے آئے۔ انہیں آپؐ نے اپنی ایک باقی رکعت پڑھائی اور حالت تشہد میں بیٹھے رہے تاآنکہ انہوں نے اپنے طور پر دوسری رکعت پوری کرلی۔ تب آپؐ نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔
(۱۶) عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، اَنَّہُ قَالَ فِیْ صَلَاۃِ الْخَوْفِ، قَالَ: یَقُوْمُ الْاِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ وَتَقُوْمُ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَعَہُ، وَطَآئِفَۃٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وُجُوْہُہُمْ اِلَی الْعَدُوِّ، فَیَرْکَعُ بِہِمْ رَکْعَۃً وَیَرْکَعُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً وَیَسْجُدُونَ لِاَنْفُسِہِمْ سَجْدَتَیْنِ فِیْ مَکَانِھِمْ۔۔۔الحدیث۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت سہل بن ابی حثمہ سے مروی روایت میں صلوٰۃ خوف کی ایک ترکیب یوں مروی ہے: امام قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہوگا۔ ساتھیوں میں سے ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہوگی اور ایک جماعت دشمن کی جانب رخ کرکے مد مقابل ہوگی۔ امام انہیں ایک رکعت پڑھائے گا اور دوسری رکعت کھڑے ہوکر از خود پڑھیں گے۔
ـــــــ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: سَاَلْتُ یَحْیٰ بْنَ سَعِیْدٍ عَنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ؟ فَحَدَّثَنِیْ عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: بِمِثْلٍ حَدِیْثِ یَحْیٰ ابْنِ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ۔ وَقَالَ لِیْ یحیٰی: اُکْتُبُہُ اِلیٰ جَنْبِہِ وَلَسْتُ اَحْفَظُ الْحَدِیْثَ وَلٰکِنَّہُ مِثْلَ حَدِیْثِ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی: وَہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، لَمْ یَرْفَعُہُ یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ (وَ) ہٰکَذَا رَوَاہُ اَصْحَابُ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ مَوْقُوْفًا، وَرَفَعَہُ شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ وَرَویٰ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ عَنْ یَزِیْدَ ابْنِ رُوْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ مَنْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ﷺ صَلَاۃَ الْخَوْفِ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی: ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، وَبِہِ یَقُوْلُ مَالِکٌ وَالشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ وَرُوِیَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلّٰی بِاِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ رَکْعَۃً رَکْعَۃً فَکَانَتْ لِلَنَّبِیِّ ﷺ صَلّٰی رَکْعَتَانِ، وَلَہُمْ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ۔
ابو عیاش الزرقی سے مروی روایت:
(۱۷) قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِعُسْفَانَ، وَعَلَی الْمُشْرِکِیْنَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْد، فَصَلَّیْنَا الظُّہْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: لَقَدْ اَصَبْنَا مِنْہُمْ غَرَّۃً وَلَقَدْ اَصَبْنَا مِنْہُمْ غَفْلَۃً فَنَزلَتْ یعنی صَلوٰۃَ الْخَوْفِ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ صَلوٰۃَ الْعَصْرِ فَفَرَقْنَا فِرْقْتَیْنِ فِرْقَۃٌ تُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ وَفِرْقَۃٌ یَحْرِسُوْنَہُ فَکَبَّرَ بِالَّذِیْنَ یَلُوْنَہُ وَالَّذِیْنَ یَحْرِسُوْنَہُمْ ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعَ ہٰوُلَآئِ وَاُولٰئِکَ جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُ وَتَاَخَّرَ ہٰوُلَائِ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُ وَتَقَدَّمَ الْاٰخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ بِہِمْ جَمِیْعًا الثَّانِیَۃَ بِالَّذِیْنَ یَلُوْنَہُ وَبِالَّذِیْنَ یَحْرِسُوْنَہُمْ ، ثُمَّ سَجَدَ بِالَّذِیْنَ یعنی یَلُوْنَہُ، ثُمَّ تَاَخَّرُوْافَقَامُوْا فِیْ مَصَافِ اَصْحَابِہِمْ وَتَقَدَّمَ الْاٰخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَکَانَتْ لِکُلِّہِمْ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ مَعَ اِمَامِہِمْ وَصَلّٰی مَرَّۃً بِاَرْضِ بَنِیْ سُلَیْم۔(۱۸)
ترجمہ: ابوعیاش زرقی بیان کرتے ہیں کہ مقام عسفان پر ہم رسول اللہؐ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے ہمیں وہاں نماز ظہر پڑھائی۔ مشرکین کی سپہ سالاری ان دنوں خالد بن ولید کے پاس تھی۔ مشرکوں نے سوچا کہ ہم اچانک ان پر حملہ کریں گے۔ ہم حالت بے خبری میں ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اس موقعہ پر، یعنی ظہر و عصر کے درمیان صلوٰۃ خوف کا حکم نازل ہوا۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی۔ وہ اس طرح کہ ہم دوٹولیوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک ٹولی نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی اور دوسری دشمن کے حملے سے آپؐ کی حفاظت پر مامور ہوگئی۔ آپؐ نے اپنے ساتھ والے اور محافظ دستہ کے لوگوں کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہی۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا۔ ان لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ رکوع تک سب شامل رہے۔ پھر آپؐ کے قریب والوں نے سجدہ کیا اور پیچھے ہٹ گئے اور پچھلے لوگوں نے آگے بڑھ کر سجدہ کیا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور سب کو ملا کر دوسرا رکوع کیا۔ اس میں پہلی صف والوں کے ساتھ حفاظت پر مامور لوگ تھے۔ پھر آپ نے اپنے قریب والوں کے ساتھ سجدہ کیا اور یہ پیچھے ہٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی ڈیوٹی سنبھال لی۔ پچھلے لوگ آگے آئے اور سجدہ کیا۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔ اس صورت میں ہر ایک کی دو دو رکعت امام کی اقتداء میں پڑھی گئیں۔ ایک مرتبہ بنی سلیم کی علاقہ میں بھی صلوٰۃ خوف پڑھی گئی۔
ابوہریرہ سے مروی روایت:
(۱۸) اَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُبْنُ عُبَیْدٍ الْہُنَائِیُّ، قَال: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ شَقِیْقٍ، قَال: حَدَّثَنَا اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَازِلًا بَیْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ مُحَاصِرَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: اِنَّ لِہٰوُلَا ٓئِ صَلوٰۃً ھِیَ اَحَبُّ اِلَیْہِمْ مِنْ اَبْنَآئِہِمْ وَاَبْکَارِ ہِمْ اَجْمِعُوْا اَمْرَکُمْ ثُمَّ مِیْلُوْا عَلَیْہِمْ مَیْلَۃً وَّاحِدَۃً، فَجَآئَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامَ، فَاَمَرَہُ اَنْ یَقْسِمَ اَصْحَابَہُ نِصْفَیْنِ، فَیُصَلِّیْ بِطَآئِفَۃِ مِّنْہُمْ، وَطَآئِفَۃٌ مُقْبِلُوْنَ عَلیٰ عَدُوِّہِمْ، قَدْ اَخَذُوْا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ۔ فَیُصَلِّیْ بِہِمْ رَکْعَۃً، ثُمَّ یَتَاَخَّرْ ہٰوُلَآئِ وَیَتَقَدَّمُ اُولٰئِکَ، فَیُصَلِّیْ بِہِمْ رَکْعَۃً تَکُوْنُ لَہُمْ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ رَکْعَۃً رَکْعَۃً وَلِلنَّبِیِّ ﷺ رَکْعَتَانِ۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضجنان اور عسفان کے درمیان مشرکین کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ مشرکوں نے سوچا کہ ان لوگوں کو نماز اپنے بیٹوں اور دوشیزائوں سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔ (لہٰذا) اتفاق کرکے ان پر یک بارگی پل پڑو۔ اتنے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف فرما ہوئے انہوں نے حضور ؐ کو مشورہ دیا کہ اپنے ساتھیوں کو دو جماعتوں میں بانٹ لیں۔ ایک جماعت کو آپ نماز پڑھائیں اور دوسرے گروہ کے لوگ دشمن کے مد مقابل رہیں۔ اور اپنا دفاعی و حفاظتی اسلحہ لے لیں۔ آپؐ نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی۔ یہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے آگے آگئے۔ انہیں بھی آپؐ نے ایک رکعت پڑھائی۔ اس طرح نبی ﷺ کے ساتھ ان کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی ﷺ کی دو رکعت۔
(۱۹) اَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنِ بُکَیْرِبْنِ الْاَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَضَ اللّٰہُ الصَّلوٰۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ﷺ فِی الْحَضَرِ اَرْبَعًا وَفِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ وَفِی الْخَوْفِ رَکْعَۃً۔(۲۰)
ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک پر حضر میں چار اور سفرمیں دو اور حالت خوف میں ایک رکعت فرض کی ہے۔
تشریح: (جب) جنگ ہورہی ہو تو اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک نماز موخر کردی جائے گی۔ امام مالکؒ اور امام ثوریؒ کے نزدیک اگر رکوع و سجود ممکن نہ ہو تو اشاروں سے پڑھ لی جائے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک نماز ہی کی حالت میں تھوڑی سی زدو خورد بھی کی جاسکتی ہے۔
غزوۂ خندق میں آپؐ نے نمازیں قضا کیں۔ اگرچہ اس سے پہلے صلوٰۃ خوف کا حکم آچکا تھا۔ چنانچہ صلوٰۃ خوف کی ترکیب کا انحصار بڑی حد تک جنگی حالات پر ہے۔ نبی ﷺ نے مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے نماز پڑھائی ہے اور امام وقت مجاز ہے کہ ان طریقوں میں سے جس طریقہ کی اجازت جنگی صورت حال دے اسی کو اختیار کرلے۔

جنگ کے دنوں میں جنگی حالات کے تحت جس طرح بھی مناسب ہو، نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ عام حکم ہے کہ پانی قریب ہوتو تیمم نہیں ہوسکتا۔ لیکن بعض اوقات فوجی مورچوں کے بالکل قریب پانی موجود ہوتا ہے۔ لیکن مورچوں سے باہر نکلنا خطرناک ہوتا ہے۔ اس صورت میں مورچے کے اندر ہی مٹی سے تیمم کرکے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔‘‘ (۵ اے ذیلدار پارک، حصہ دوم، ص ۳۹
سوال: جو مسلمان اپنی ریاست کے دفاع کے لیے محاذ پر برسرپیکار ہیں، ان کے بارے میں نماز فرض کا کیا حکم ہے؟ موجودہ حالات میں فرض نماز کے ادا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
جواب: اگر عملاً لڑائی نہ ہورہی ہو، بلکہ فوجی دستہ محاذ جنگ کی کسی چوکی پر صرف مدافعت کے لیے مستعد بیٹھا ہو تو ایسی حالت میں صلوٰۃ خوف باجماعت اس طرح ادا کی جائے کہ پہلے آدھے سپاہی ایک جگہ جمع ہو کر فرض نماز قصر ادا کریں اور پھر باقی آدھے نماز ادا کرلیں۔ نماز کے وقت سپاہیوں کو اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھنے چاہئیں۔
اگر دشمن کے حملے کا فوری خطرہ ہو اور کوئی سپاہی اپنی جگہ سے نہ ہٹ سکتا ہو تو پھر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو سپاہی جس جگہ ہو اور جس حال میں ہو۔ بیٹھے ،کھڑے، یا لیٹے ہوئے اشاروں سے، صرف فرض نماز قصر کے ساتھ ادا کر لے۔ اس حالت میں قبلہ رخ ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ اگر قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز نہ پڑھی جاسکتی ہو تو صرف نیت قبلے کی طرف منہ کرکے باند ھ لی جائے اور پھر جدھر بھی جنگی ضرورت کے لیے رخ کرنا پڑے اسی طرف رخ کرکے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ رکوع و سجدہ نہ ہوسکے تو صرف اشاروں سے ہی نمازپڑھ لی جائے۔ دوران نماز اگر دشمن حملہ کردے تو اسی حالت میں فائر کرسکتے ہیں۔ البتہ اگر اپنی جگہ سے حرکت کرنا اور ساتھیوں سے بات کرنا ضروری ہو تو پھر نماز توڑدیں اور اس کی قضا بعد میں جب موقع ہو ادا کرلیں۔
اگر عملاً معرکہ کارزار گرم ہو جائے اور نماز پڑھنے کا بالکل موقع ہی نہ مل رہا ہو تو پھر نماز قضا کی جاسکتی ہے۔ ان حالات میں جتنی نمازیں بھی قضا ہوں انہیں معرکہ ختم ہونے کے بعد ادا کرلیا جائے۔ ( رسائل و مسائل ، حصہ پنجم،صلوٰۃ خوف)

ماخز

(۱) بخاری،ج۱، ابواب صلوٰۃ الخوف، باب یحرس بعضہم بعضا فی صلوٰۃ الخوف۔٭ نسائی،ج۲، کتاب صلوٰۃ الخوف۔ ٭ دارمی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب العدو یکون وجاہ القبلۃ۔
(۲) بخاری،ج۱، ابواب صلوٰۃ الخوف، وقال اللّٰہ عزوجل واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح الیٰ قولہ عذابا مہینا۔ ٭ نسائی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب من قال یصلی بکل طائفۃ ثم یقضون الرکعۃ الاخری بعد سلام الامام۔
(۳) بخاری،ج۱، ابواب صلوٰۃ الخوف، باب الصلوٰۃ عند مناہضۃ الحصون ولقاء العدو۔٭مسلم،ج۱،کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب الدلیل لمن قال الصلوٰۃ الوسطی ہی صلوٰۃ العصر، عن جابر بن عبداللّٰہ۔
(۴) بخاری،ج۱، ابواب صلوٰۃ الخوف، باب الصلوٰۃ عند مناہضۃ الحصون الخ۔
(۵) مسلم،ج۱، باب صلوٰۃ الخوف۔٭ ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الخوف۔٭موطا امام مالک، کتاب صلوٰۃ الخوف۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب کیفیۃ صلوٰۃ الخوف فی السفر۔
(۶) مسلم،ج۱، باب صلوٰۃ الخوف۔٭نسائی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیہا۔ ٭ دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف، باب العدو یکون وجاہ القبلۃ۔
(۷) مسلم،ج۱، باب صلوٰۃ الخوف٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یصلی بکل طائفۃ رکعۃ الخ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی صلوٰۃ الخوف۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف، باب من قال یصلی بکل طائفۃ ثم یقضون الرکعۃ الاخری بعد سلام الامام۔
(۸) دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا۔ ٭ موطا امام مالک: کتاب صلوٰۃ الخوف۔
(۹) ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء فی صلوٰۃ الخوف۔٭ نسائی:ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف ٭السنن الکبریٰ،ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف، باب من قال یصلی بکل طائفۃ رکعۃً الخ۔
(۱۰) ابوداؤد، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یکبرون جمیعاً الخ۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۳ ۔٭ نسائی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف۔
(۱۱) ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یصلی بکل طائفۃ رکعتین۔٭ نسائی، ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف۔ ٭دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب الامام یصلی بکل طائفۃ رکعتین ویسلم۔
(۱۲) السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب الامام یصلی بکل طائفۃ رکعتین الخ۔
(۱۳) ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یصلی بکل طآئفۃ رکعۃ ثم یسلم الخ۔٭دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب من قال فی ہذا کبر بالطائفتین جمیعاً ثم قضی کل طائفۃ رکعتہا الباقیۃ مناوبۃ۔
(۱۴) مسلم،ج۱، باب صلوٰۃ الخوف۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف، باب الامام یصلی بکل طائفۃ رکعتین ویسلم۔
(۱۵) مسلم،ج۱، باب صلوٰۃ الخوف۔٭ ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الخوف۔٭نسائی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف ٭ دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا ٭موطا امام مالک: کتاب صلوٰۃ الخوف۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب الامام یصلی بکل طائفۃ رکعتین ویسلم۔
(۱۶) مسلم،ج۱، باب صلوٰۃ الخوف۔٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الخوف۔٭نسائی، ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف ٭دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا ٭موطا امام مالک: کتاب صلوٰۃ الخوف۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب کیفیۃ صلوٰۃ الخوف فی السفر، اذا کان العدومن غیر جہۃ القبلۃ اوجہتہا غیر مامونین۔
(۱۷) ترمذی،ج۱، ابواب السفر، باب ماجاء فی صلوٰۃ الخوف۔٭ نسائی:ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا: باب ماجاء فی صلوٰۃ الخوف۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ الخوف،باب کیفیۃ صلوٰۃ الخوف فی السفر۔
(۱۸) ابوداؤد،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الخوف۔٭نسائی،ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف۔٭دارقطنی: باب صفۃ صلوٰۃ الخوف واقسامہا۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب کیفیۃ صلوٰۃ الخوف فی السفر۔
(۱۹) نسائی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف۔٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب العدو یکون وجاہ القبلۃ، عن جابر بن عبداللّٰہ، السنن الکبریٰ کی روایت کے الفاظ مختلف ہیں۔ السنن الکبریٰ ہی میںابوعیاش الزرقی سے بھی ایک روایت منقول ہے۔ اس میں ’’ہی احب الیہم من ابنائہم واموالہم وانفسہم‘‘ ہے۔
(۲۰) نسائی،ج۳،کتاب صلوٰۃ الخوف۔٭مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۳۳۵۔ ٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الخوف۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب صلوٰۃ الخوف، باب من قال صلی بکل طائفۃ رکعۃً ولم یقضوا۔

فصل: ۱۶ سترہ اور اس کے احکام

۱۰۰۔ مُسْلِمٌ، کِتَابُ الصَّلوٰۃِ، بَابُ سُتْرَۃِ الْمُصَلِّیْ میں امام مسلم نے وہ پورا مواد جمع کیا ہے جو سترے کے مسئلے سے متعلق ان کو معتبر سندوں سے پہنچا تھا اور اس کے سارے پہلو ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں۔ اس کی کسی ایک روایت کو لے کر کوئی نتیجہ نکال بیٹھنا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ساری روایتوں پر جامع نگاہ ڈالنے ہی سے آدمی صحیح نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ اصل بات جو ان احادیث سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ نبی ﷺ نے نمازی کو اپنے آگے سترہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سمجھاتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ اگر آدمی سترہ رکھے بغیر نماز کے لیے کسی کھلی جگہ کھڑا ہوجائے گا تو عورتیں ، کتے، گدھے سب اس کے سامنے سے گزریں گے۔ اس بات کو سن کر بعض لوگ اس مسئلہ کو یوں بیان کرنے لگے کہ عورت ،کتیّ اور گدھے کے گزرنے سے نماز قطع ہوجاتی ہے۔ یہ باتیں جب حضرت عائشہؓ کو پہنچیں تو انہوں نے فرمایا اِنَّ الْمَرْاَۃَ لَدَابَّۃُ سَوْئ ’’ پھر تو عورت بڑی بری جانور ہوئی۔‘‘ عَدَّلْتُمُوْنَا بِالْکِلاَبِ وَالْحُمْرُ’’تم لوگوں نے تو ہم کو گدھوں اور کتوں کے برابر کردیا۔‘‘ اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یصلی من اللیل وانا معترضۃ بینہ وبین القلبۃ کا عتراض الجنازۃ۔ (نبی ﷺ تورات کو نماز پڑھتے تھے اور میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح پڑی ہوتی تھی‘‘۔ (رسائل و مسائل اوّل : چند احادیث ۔۔۔)

سترہ اس چیز کو کہتے ہیں جسے کھلی جگہ پر نماز پڑھتے وقت ایک آدمی اس غرض سے سامنے رکھ لیتا ہے کہ آگے سے گزرنے والوں کے اور اس نمازی کے درمیان آڑ کا کام دے۔

حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَمْرُوالنَّاقِدُ، وَاَبُوْ سَعِیْدٍ الْاَشَجُّ، قَالَا:نا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ح قَالَ:وَحَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ حَفْصِ بْنِ غَیَاثٍ وَاللَّفْظُ لَہُ، قَالَ: نَا اَبِیْ، نَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ الْاَعْمَشُ وَحَدَّثَنِیْ مُسْلِمٌ عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، وَذُکِرَ عِنْدَہَا مَا یَقْطَعُ الصَّلوٰۃَ، الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْاَۃُ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: قَدْ شَبَّہْتُمُوْنَا بِالْحَمِیْرِ وَالْکِلَابِ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ وَاِنِّیْ عَلَی السَّرِیْرِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ مُضْطَجِعَۃٌ، فَتَبْدُوْلِیَ الْحَاجَۃُ، فَاَکْرَہُ اَنْ اَجْلِسَ فَاُوْذِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَانْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَیْہِ۔(۱)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ان کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ کتے، گدھے اور عورت کے نمازی کے آگے گزرنے سے نماز قطع ہوجاتی ہے۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم لوگوں نے تو ہمیں گدھوں اور کتوں کے ساتھ ملادیا حالانکہ خدا کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو بہ چشم خود دیکھا ہے کہ آپؐ نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں اس دوران میں چار پائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ میری چار پائی قبلہ اور آپؐ کے درمیان ہوتی تھی۔ اچانک مجھے کوئی ضرورت و حاجت پیش آجاتی تو میں بیٹھنے کو ناپسند کرتی کہ اس طرح رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچے، لہٰذا میں آپؐ کے پائوں کی جانب سے کھسک جاتی۔
حضرت عائشہؓ ایک دوسری روایت میں فرماتی ہیں:
(۲) کُنْتُ اَنَامُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَرِجْلَایَ فِیْ قِبْلَتِہِ، فَاِذَا سَجَدَ غَمَزَنِیْ، فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ وَاِذَا قَامَ، بَسَطْتُّہُمَا، قَالَتْ: وَالْبُیُوْتُ یَوْمَئِذٍ لَیْسَ فِیْہَا مَصَابِیْحُ۔(۲)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سوئی ہوتی اور میرے پائوں آپؐ کے قبلہ رخ ہوتے۔ جب آپؐ سجدہ میں جاتے تو مجھے چٹکی بھرتے۔ میں اپنے پائوں سیکٹر لیتی۔ جب آپؐ کھڑے ہوتے تو پھر پائوں پھیلالیتی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ان دنوں گھروں میں دیا تک نہ ہوتا تھا۔
ابودائود نے کِتَابُ الصَّلوٰۃِ، تَفْرِیْعُ اَبْوَابِ الصُّفُوْفِکے تحت طلحہ بن عبید اللہ کی یہ روایت بھی بیان کی ہے:
(۳) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا جَعَلْتَ بَیْنَ یَدَیْکَ مِثْلَ مُوْخِرَۃِ الرَّحْلِ فَلَا یَضُرُّکَ مَنْ مَرَّبَیْنَ یَدَیْکَ۔(۳)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تو اپنے سامنے کاٹھی جتنی کوئی چیز رکھ لے تو پھر کسی کے آگے گزرنے سے تجھے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ایک روایت:
(۴) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ فَلْیَجْعَلْ تِلْقَآئَ وَجْہِہِ شَیْئًا، فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَلْیَنْصِبْ عَصًا فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ مَّعَہُ عَصًا فَلْیَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا یَضُرُّہُ مَا مَرَّ اَمَامَہُ۔(۴)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے قبلہ رخ کوئی چیز کرلے۔ اگر اسے کوئی چیز میسر نہ ہوسکے تو اپنا عصا ہی سامنے گاڑلے۔ اگر اس کے ساتھ عصا (لاٹھی) بھی نہ ہو تو وہ زمین پر خط کھینچ دے۔ اس صورت میں بھی اس کے آگے گزرنے والی کوئی چیز اس کے لیے ضرر رساں ثابت نہ ہوگی۔
(۵) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ، وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، وَاَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ یَحْیٰ : اَخْبَرَنَا وَقَالَ الْاَخَرَانِ: نَا اَبُوْ الْاَحْوَصِ، عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُوْسَیٰ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا وَضَعَ اَحَدُ کُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ مِثْلَ مُوْخِرَۃِ الرَّحْلِ فَلْیُصَلِّ وَلَایُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَآئَ ذٰلِکَ۔
ترجمہ: حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے (نماز پڑھتے وقت) کاٹھی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو پھرنماز پڑھی جائے اور اس سے آگے کسی چیز کے گزر نے کی قطعاً پروانہ کی جائے۔
موسیٰ ؓ بن طلحہ عن ابیہ سے دوسری روایت:
(۶) قَالَ:کُنَّا نُصَلِّیْ وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَیْنَ اَیْدِیْنَا ، فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ: مِثْلُ مُؤْخِرَۃِ الرَّحْلِ تَکُوْنُ بَیْنَ یَدَیْ اَحَدِکُمْ، ثُمَّ لَا یَضُرُّہُ مَا مَرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ۔ وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ: فَلَا یَضُرُّہُ مَنْ مَرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ۔
ترجمہ: حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے تھے ۔ اس کا ہم نے رسول اللہ ؐسے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا’’تم میں سے کسی کے سامنے کاٹھی کی مثل اگر کوئی چیز ہوگی تو پھر آگے سے کسی کے گزرنے کاکوئی نقصان نہیں۔‘‘
حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
(۷) عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّہَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ سُتْرَۃِ الْمُصَلِّیْ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مُؤْخِرَۃِ الرَّحْلِ۔
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سترۂ نمازی کے متعلق پوچھا گیا(کہ اس کی نوعیت و کیفیت کیا ہے تو آپؐ نے فرمایا بس پالان کی آخری لکڑی کے برابر کوئی سی چیز۔
حضرت عائشہؓ ایک دوسری روایت میں بیان کرتی ہیں:
(۸) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ سُئِلَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ، عَنْ سُتْرَۃِ الْمُصَلِّیْ؟ فَقَالَ: کَمُؤْخِرَۃِ الرَّحْلِ۔
ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقعہ پر آپؐ سے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپؐ نے جواب دیا تھا کہ کاٹھی کے مثل کوئی چیز ہونی چاہیے۔
عبداللہ بن عمرؓ سے مروی روایت:
(۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ مُثَنّٰی، قَالَ: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ وَاللَّفْظُ لَہُ، قَالَ: نَا اَبِیْ، قَالَ: نَا عُبَیْدُ اللّٰہِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا خَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِ اَمَرَ بِالْحَرْبَۃِ فَتُوْضَعُ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَیُصَلِّیْ اِلَیْہَا، وَالنَّاسُ وَرَآئَ ہُ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَہَا الْاُمَرَائُ۔(۵)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے روز نماز کے لیے نکلتے تو نیزہ ساتھ لے جانے کا حکم فرماتے ،جسے آپؐ کے سامنے رکھا جاتا۔ اور آپؐ اسی کے پیچھے نماز پڑھاتے۔ صحابہ کرامؓ آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ یہ عمل آپؐ (عموماً) دوران سفر میں فرماتے۔ اسے اب امراء نے اپنا لیا ہے۔
ابن عمرؓ کی ایک دوسری روایت میں:
(۱۰) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَرْکُزُوَیُصَلِّی اِلَیْہَا۔
ترجمہ: ابن عمرؓ کی مروی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نیزہ کو زمین میں گاڑ کر اس کی اوٹ میں نماز پڑھتے۔
ابن عمرؓ سے مروی ایک اور روایت:
(۱۱) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُعَرِّضُ رَاحِلَتَہٗ فَیُصَلِّی اِلَیْہَا۔(بخاری)
ترجمہ: ابن عمرؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اپنی سواری یا کجاوہ کو سامنے رکھتے اور نماز پڑھ لیتے۔
ایک اور روایت:
(۱۲) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُصَلِّیْ اِلٰی رَاحِلَتِہِ، وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلّٰی إلیٰ بَعِیْرٍ۔(۶)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اپنی سواری کے اوٹ میں نماز پڑھتے تھے۔ ابن نمیر نے کہا کہ نبی ﷺ اونٹ کو آگے بٹھاکر نماز پڑھ لیتے (اونٹ کو سترہ بنالیتے)۔
ابو جحیفہ سے مروی روایت:
(۱۳) قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ بِمَکَّۃَ وَہُوَ بِالْاَبْطَحِ فِی قُبَّۃٍ لَّہُ حَمْرَآئَ مِنْ اَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوْئِ ہِ فَمِنْ نَائِلٍ وَنَا ضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَائُ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی بِیَاض سَاقَیْہِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَاَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُ فَاہُ ہَاہُنَا، وَہَاہُنَا یَقُوْلُ: یَمِیْنًا وَشِمَالًا، یَقُوْلُ: حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔ قَالَ : ثُمَّ رُکِزَتْ لَۃٗ عَنَزَۃٌ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ الْحِمَارُ وَالْکَلْبُ لَا یُمْنَعُ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ لَمْ یَزَلْ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔(۷)
ترجمہ: حضرت ابو جحیفہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مقام ابطح پر سرخ رنگ کے چرمی خیمہ میں تشریف فرماتھے۔ راوی کہتا ہے حضرت بلال آپ کے وضو کا برتن لے کر حاضر ہوئے جس میں آپ کے وضو کا پانی تھا۔ کچھ لوگ تو اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور کچھ نے اپنے چہروں پر چھینٹے مارلیے۔ راوی کا بیان ہے کہ نبی ﷺ سرخ حلّہ زیب تن فرمائے باہر تشریف لائے۔ میں گویا اب بھی آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے وضو فرمایا۔ بلال نے اذان کہی ۔ میں اذان کے دوران بلال کے دائیں بائیں حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کہنے کے لیے ان کے منہ کے ادھر ادھر پھرنے پر اپنی نظر رکھنے لگا۔ پھر آپ کے لیے ایک چھوٹا نیزہ بطور سترہ گاڑا گیا تو آپ نے آگے بڑھ کر ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس دوران میں گدھے اور کتے آپ کے سامنے سے گزرتے رہے۔ انہیں روکا نہیں گیا۔ پھر آپ نے نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر مدینہ واپسی تک آپ دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
ابن عباس کہتے ہیں:
(۱۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلیٰ اَتَانٍ وَاَنَا یَوْمَئِذٍ قَدْ نَاہَزْتُ الْاِحْتِلَامَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ بِمِنَی ، فَمَرَرْتُ بَیْنَ یَدَیِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ، فَاَرْسَلْتُ الْاَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِی الصَّفِّ، فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیَّ اَحَدٌ۔(۸)
ترجمہ: حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں خچر پر سوار ہو کر آیا۔ ان دنوں میں سن سلوغ کے قریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھارہے تھے۔ میں صف کے آگے سے گزرگیا۔ میں اپنے گدھے سے نیچے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ کر خود صف میں داخل ہوگیا۔ میرے اس فعل پر کسی نے مجھ پر اظہار ناپسندیدگی نہیں کیا۔
ابوسعید خدریؓ سے مروی روایت:
(۱۵) فَقَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ اِلیٰ شَیْیٍٔ یَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ۔ فَاَرَادَاَحَدٌ اَنْ یَجْتَازَ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَلْیَدْفَعْ فِیْ نَحْرِہ، فَاِنْ اَبٰی، فَلْیُقَاتِلْہُ۔ فَاِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ۔(۹)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جب کوئی کسی چیز کو لوگوں کے درمیان سترہ بناکر اس کے پیچھے نماز پڑھے۔ پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ نہ رکے اور گزرنے پر اصرار کرے تو اس سے مقاتلہ کرے۔ کیونکہ وہ شیطان ہے۔
ابن عمرؓ سے مروی روایت:
(۱۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: اِذَا کَانَ اَحَدُ کُمْ یُصَلِّی فَلَا یَدَعْ اَحَدٌ یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ فَاِنْ اَبٰی فَلْیُقَاتِلْہُ فَاِنَّ مَعَہُ القَرِیْنَ۔
ترجمہ: عبداللہ بن عمرؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے آگے سے کسی کو گزرنے نہ دے۔ ہاں! اگر وہ گزرنے پر اصرار کرے تو اس سے مقاتلہ کرے کیونکہ ساتھی (شیطان) اس کے ساتھ ہے۔
سہلؓ بن سعد الساعدی سے مروی روایت:
(۱۷) قَالَ کَانَ بَیْنَ مُصَلَّی رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ وَبَیْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّالشَّاۃِ۔(۱۰)
ترجمہ:حضرت سہلؓ بن سعد ساعدی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مصلی اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے جتنی جگہ کا فاصلہ ہوتا تھا۔
(۱۸) حَدَّثَنَا مَحْمُودُبْنُ خَالِدنِ الدِمَشْقِیُّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبَّاسٍ، ثَنَا اَبُوْ عُبَیْدَۃَ الْوَلِیْدُ بْنُ کَامِلٍ، عَنِ الْمُہَلَّبِ بْنِ حَجْرٍ الْبَہْرَانِیِّ، عَنْ ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ اَبِیْہَا، قَالَ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّیْ اِلیٰ عُوْدٍ وَلَا عَمُوْدٍ وَلَا شَجَرَۃٍ اِلَّا جَعَلَہُ عَلیٰ حَاجِبِہِ الْاَیْمَنِ اَوِ الْاَیْسَرِ وَلَا یَصْمُدْ لَہُ صَمَدًا(۱۱)

یُرِیْدُ اَنْ لاَیَجْعَلُہٗ تِلْقَائَ وَجْھِہٖ
ترجمہ: ضباعہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتی ہیں کہ میرے والد نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب کبھی کسی لکڑی، ستون ، درخت وغیرہ کو سترہ کے طور پر استعمال کرکے نماز پڑھتے دیکھا تو آپؐ نے اسے اپنی دائیں یا بائیں ابرو کے سامنے رکھا۔ کبھی بالکل پیشانی کی سیدھ میں نہیں رکھا۔
سہل ؓ بن ابی حثمہ سے مروی ہے:
(۱۹) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ اِلیٰ سُتْرَۃٍ فَلْیَدْنُ مِنْہَا لَا یَقْطَعُ الشَّیْطَانُ عَلَیْہِ صَلَا تَہُ۔(۱۲)
ترجمہ: حضرت سہلؓ بن ابی حثمہ جو اپنی روایت کو مرفوع بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا’’تم میں سے جب کوئی سترہ کھڑا کرکے نماز پڑھ رہا ہو تو اسے سترہ کے قریب ہوجانا چاہیے۔ اس طرح شیطان اس کی نماز قطع نہیں کرسکتا۔‘‘
ترمذی نے اَبْوَابُ الصَّلوٰۃِ، بَابُ مَاجَائَ فِی سُتْرَۃِ الْمُصَلِّیْ کے تحت موسیٰ بن طلحہ عن ابیہ کی روایت بیان کی ہے:
(۲۰) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا وَضَعَ اَحَدُکُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ مِثْلَ مُؤْخِرَۃِ الرَّحْلِ فَلْیُصَلِّ وَلَایُبَالِیْ مَنْ مَرَّمِنْ وَّرَآئِ ذٰلِکَ۔(۱۳)
ترجمہ: جب کوئی نمازی اپنے سامنے کاٹھی کی مثل کوئی چیز رکھ لے تو پھر نماز پڑھتا رہے۔ اس سترہ کے آگے سے گزرنے والی چیز کی قطعاً پروانہ کرے۔
ابوذرؓ سے مروی روایت:
(۲۱) عَنْ اَبِیْ ذَرِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ فَاِنَّہُ یَسْتُرُہٗ اِذَاکَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ مِثْلُ اٰخِرَۃِ الرَّحْلِ، فَاِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَ یَدَیْہِ مِثْلُ اٰخِرَۃِ الرَّحْلِ، فَاِنَّہُ یَقْطَعُ صَلَاتَہُ الْحِمَارُ وَالْمَرْاَۃُ وَالْکَلْبُ الْاَسْوَدُ، قُلْتُ: یَا اَبَا ذَرٍّ! مَابَالُ الْکَلْبِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْکَلْبِ الْاَحْمَرِ مِنَ الْکَلْبِ الْاَصْفَرِ؟ قَالَ: یَاابْنَ اَخِیْ! سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَمَاسَاَلْتَنِیْ، فَقَالَ: الْکَلْبُ الْاَسْوَدُ شَیْطَانٌ۔(۱۴)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو اسے سترہ کا انتظام کر لینا چاہیے۔ اور وہ کاٹھی جتنی ہونی چاہیے۔ جب اس کے سامنے ایسی کوئی چیز نہ ہوگی تو پھر اس کی نماز کو گدھا، عورت، کالا کتا قطع کر دیں گے۔ ابوذر کے ایک شاگرد نے پوچھا اے ابوذر! یہ کالا کتا کیوں ، سرخ پیلا کتا کیوں نہیں؟ ابوذر نے جواب دیا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے تمہاری طرح سوال کیا تھا تو آپؐ نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
(۲۲) قَالَتْ عَائِشَۃُ: مَایَقْطَعُ الصَّلوٰۃَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: اَلْمَرْاَۃُ وَالْحِمَارُ، فَقَالَتْ: اِنَّ الْمَرْاَۃَ لَدَابَّۃُ سَوْئٍ لَقَدْ رَاَیْتُنِیْ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُعْتَرِضَۃً کَاِعْتِرَاضِ الْجَنَازَۃِ وَہُوَ یُصَلِّیْ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا کہ نماز کو کون سی چیز قطع کرتی ہے؟ ہم نے عرض کیا عورت اور گدھا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: پھر تو عورت ایک نہایت برا جانور ٹھہری۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس طرح لیٹی ہوتی تھی جس طرح جنازہ رکھا ہوتا ہے حالانکہ آپؐ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔
مسلم میں یہ بھی ہے:
(۲۳)کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ وَاَنَا مُعْتَرِ ضَۃٌ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ کَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَۃِ۔(۱۶)
ترجمہ:مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپؐ رات کی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپؐ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔
ـــــــ موطا امام مالک میں ابو سعید خدری اورابن عباس کی روایات ابن عمرؓ اور حضرت علیؓ بن ابی طالب سے موقوف روایات بیان کی گئی ہیں (موطا امام مالک، کتاب قصر الصلوٰۃ فی السفر)۔
ـــــــ نسائی نے کِتَابُ الْقِبْلَۃَ میں سُتْرَۃُ الْمُصَلِّیْ کے تحت اس موضوع پر احادیث جمع کی ہیں جن کا مضمون کم و بیش وہی ہے جو دیگر کتب احادیث کی مرویات میں بیان ہوا ہے۔
(۲۴) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ خَلِیْلٍ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہَا مَا یَقْطَعُ الصَّلَوۃَ؟ فَقَالُوْا: یَقْطَعُہَا الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْاَۃُ، قَالَتْ: لَقَدْ جَعَلْتُمُوْنَا کِلَابًا، لَقَدْ رَاَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ یُصَلِّیْ وَاِنِّیْ لَبَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ وَاَنَا مُضْطَجِعَۃٌ عَلَی السَّرِیْرِ، فَتَکُوْنُ لِیَ الْحَاجَۃُ، وَاَکْرَہُ اَنْ اَسْتَقْبِلَہُ فَاَنْسَلُّ اِنْسِلَالًا۔ وَعَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ نَحْوَہُ۔(۱۷)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ ان کے پاس نماز کو قطع کرنے والی چیزوں کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کون سی چیز نماز کو قطع کرتی ہے؟ لوگوں نے کہا : کتا، گدھا اور عورت نماز قطع کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: پھر تو تم لوگوں نے ہمیں کتا بنادیا۔ حالانکہ یہ واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور آپؐ کے اور قبلہ کے درمیان، میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی۔ جب اچانک مجھے کوئی ضرورت و حاجت پیش آتی تو میں آگے سے گزرنے کو ناپسند کرتی ہوئی پائوں کی جانب سے کھسک جاتی۔
ـــــــ انہی سے مروی دوسری روایت میں جسے امام بخاری نے ج ۱، ص ۷۳ پر بَابٌ مَنْ لَّا یَقْطَعُ الصَّلوٰۃَ شئْیٌ کے تحت بیان کیا ہے۔ اس میں شَبَّہْتُمُوْنَا بِالْحُمُرِ وَالْکِلاَبِ کے الفاظ ہیں۔ اور بَابُ الصَّلوٰۃِ اِلَی السَّرِیْرِکے ضمن میں جو روایت نقل کی ہے اس میں قَالَتْ أَعَدَلْتُمُوْنَا بِالْکَلْبِ وَالْحِمَارِ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
(۲۵) قَالت : بِئْسَمَا عَدَلْتُمُوْنَا بِالْحِمَارِ وَالْکَلْبِ۔(۱۸)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی الفاظ یوں بھی ہیں: کہ تم لوگوں نے تو ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابرلاکھڑا کیا ہے۔

نماز کے متعلق ایک عام شبہ

نمازوں میں اثر پذیری کیوں نہیں: اسلامی عبادات کا نظریہ اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ عقل حکم لگاتی ہے کہ جس غرض کے لیے یہ عبادات فرض کی گئیں ہیں وہ ان سے بدرجہ اتم پوری ہونی چاہیے، کیونکہ انسان کے نفس کو خدا کی طرف متوجہ کرنے اور احکام خداوندی کی اطاعت کا خوگر بنانے کے لیے اس سے بہترکوئی عملی طریقہ نہیںہوسکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالم واقعہ میں بھی اس نظریہ کی صحت ثابت ہوچکی ہے۔ قرون اولیٰ میں اسی نماز، روزے اور حج و زکوۃ نے اسلام کے نصب العین کے مطابق عرب و عجم کے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی روحانی و اخلاقی تربیت کی تھی اور ان کے اخلاق و سیرت اور کردار پر وہی اثر ڈالا تھا جو اسلام کا مقصود تھا۔ اب اگر ہم کسی شخص یا جماعت کی عملی زندگی میں ان عبادات کے وہ اثرات نہیں دیکھتے، تو ان عبادات کی تاثیر میں شبہ کرنے کے بجائے ہم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نفوس کی اثر پذیری کی صلاحیت کسی وجہ سے مائوف ہوگئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آگ لکڑی کو جلادیتی ہے۔ تجربہ و مشاہدہ کی تکرار نے اس امر میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے کہ آگ کا کام جلانا اور لکڑی کا کام جل جاناہے۔ اس یقینی علم کے بعد اگر کسی وقت ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لکڑی کو آگ پر رکھا جارہا ہے اور وہ نہیں جلتی تو ہم کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت نہیں رہی ہے، بلکہ ہم یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ لکڑی گیلی ہے، اس میں آگ کا اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جس طریق تربیت و ہدایت کے متعلق از روئے عقل ہم جانتے ہیں کہ نفوس پر اس سے ایک خاص اثر مترتب ہونا چاہیے اور اس کی عین فطرت اس کی مقتضی ہے کہ اس سے نفوس پر وہی اثر مترتب ہو۔ اور تجربے سے ثابت بھی ہوچکا ہے کہ مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں بے شمار نفوس پر فی الواقع وہی اثر مترتب ہوا ہے، اس کی تاثیر کو اگر ہم بعض نفوس کے حق میں ناکام دیکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے دل میں اس کی تاثیر کے متعلق کوئی شک پیدا ہو؟ کیوں نہ ہم سمجھیں کہ گیلی لکڑی کی طرح ان نفوس میں بھی اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے؟
جہاں تک نماز کی ظاہری صورت کا تعلق ہے وہ تو اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ اوقات مقررہ پر چند جسمانی حرکات کا اعادہ اور چند مقرر الفاظ کی تکرار ہے۔ اور یہی حال دوسری عبادات کا بھی ہے۔ ایک خاص مہینے میں صبح سے شام تک اکل و شرب اور مباشرت سے مجتنب رہے، اس کا نام روزہ ہوگیا۔ سال میں ایک مرتبہ اپنے مال میں سے ایک مقررہ مقدار مخصوص مصارف کے لیے نکال دی، یہ زکوٰۃ ہوگئی۔ ایک خاص زمانے میں حجاز کا سفر کرلیا اور مخصوص مقامات پر چند مناسک ادا کردیے، یہ حج ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ بجائے خود ان افعال میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انسان کے نفس پر اثر انداز ہوسکتی ہو۔ مجردافعال ہونے کے لحاظ سے نماز اور ایک جسمانی ورزش ، روزے اور فاقے، زکوٰۃ اور سرکاری ٹیکس، حج اور عام سفروں کے درمیان کچھ بھی فرق نہیں ۔ اور کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ ورزش جسمانی سے روح میں لطافت پیدا ہوتی ہے، یا فاقہ کرنے سے اخلاقی تربیت ہوتی ہے، یا ٹیکس ادا کرنے اور کسی مقام کا سفر کر آنے سے انسان میں اعلیٰ درجے کے اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں۔
مگر جو چیز ان اعمال کو دوسرے افعال سے ممتاز کرتی اور ان کو تہذیب اخلاق و تزکیہ نفس و تصفیہ روح کا ایک بہترین ذریعہ بناتی ہے وہ ایمان ہے۔ ایمان ہی رکوع و سجود اور قیام و قعود کو ’’نماز‘‘ بناتا ہے۔ وہی فاقے کو ’’روزے‘‘ میں تبدیل کردیتا ہے۔ وہی ٹیکس کی ماہیت میں انقلاب پیدا کرکے اسے ’’زکوۃ‘‘ کا بلند مرتبہ بخشتا ہے اور وہی ایک خاص قسم کے سفر کو سیرو سیاحت کے ادنیٰ مقام سے اٹھا کر ’’حج ‘‘ کے اعلیٰ مقام پر پہنچادیتا ہے۔ درحقیقت ان تمام عبادات کی روح اور ان کا جوہر وہی ہے۔ اسی سے ارکان عبادت میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ وہی ان ارکان کو تاثیر کی قوت بخشتاہے۔ اسی کی بدولت نفس میں ان سے متاثر ہونے کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔
اب ظاہر ہے کہ اگرکوئی شخص واقعی ایمان رکھتا ہو، خدا کو اپنا خدا سمجھتا ہو، آخرت کی زندگی پر عقیدہ رکھتا ہو، محمد ﷺ کو خدا کا رسول مانتا ہو، اور ان کی لائی ہوئی تعلیم کو خدا کی تعلیم سمجھتا ہو تو ممکن نہیںہے کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز کا سبق تازہ کرے اور پھر بھی اس کی لوح دل اس سبق کے اثر سے یکسر خالی رہے اور ا س کی روزمرہ زندگی میں خوف خدا اور اطاعت احکام الٰہی کا کوئی نشان نمایاں نہ ہو۔ ہر سال پورے ایک مہینے تک سخت ضوابط کے ماتحت پرہیز گاری اور خدا ترسی کی تربیت پاتا رہے۔ اور پھر بھی اس کی زندگی میں قطعاً کوئی انقلاب نہ ہو، حتیٰ کہ وہ بالکل ایسا کورے کا کورا رہ جائے کہ گویا اس نے کوئی تربیت پائی ہی نہیں۔ خالص ایمان بالغیب کی تحریک پر ہر سال اپنے محبوب مال کی قربانی کرتا رہے اور پھر بھی اسی شح نفس اور قساوت قلب اور حرام خوری و خود غرضی کے مرض میں مبتلا رہے، جو ایک بے ایمان، خود پرست انسان میں پائی جاتی ہے۔ اپنے رب کی پکار پر لبیک لبیک کہتا ہوا اپنا گھر بار چھوڑ کا اپنے مفید و محبوب مشاغل ترک کرکے فقیرانہ لباس پہن کر نکلے۔ ایک مدت دراز تک اسی شوق اور عشق کی لگن دل میں لیے ہوئے سفر کرے، یہاں تک کہ مرکز اسلام میں پہنچ کر اپنی آنکھوں سے اللہ کی ان روشن نشانیوں کا مشاہدہ کرلے جو خدا کے سچے اور مطیع فرمان بندوں کی سرفرازیوں پر اور سرکشوں کی نامرادیوں پر کھلی گواہی دے رہی ہیں، اور پھر بھی جب واپس آئے تو اس سفر کے آثار اور نتائج سے اس کی سیرت ایسی معرا ہو کہ وہ گویا کہیں گیا ہی نہیں اور اس کی آنکھوں نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔
یہ ضرور ہے کہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ہر نفس پر ان عبادات کی تاثیرات یکساں نہیں ہوسکتیں۔ نفوس کی کم و بیش صلاحیتوں کے لحاظ سے، اور قوت ایمانی کی زیادتی اور کمی کے لحاظ سے ان کا کم و بیش اور شدید و ضعیف ہونا ایک فطری بات ہے۔ لیکن یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایمان کے ساتھ جو عبادت کی جائے وہ بالکل ہی بے اثر ثابت ہو۔ ہم یہ بات قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص نماز کو فحشاء و منکر کے ساتھ جمع کرتا ہے، جس کی زندگی میں روزہ اور فسق ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ جس کی سیرت میں حرام خوری اور زکوٰۃ دونوں بہم ہیں، جو حج اور ہتک حرمات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملارہا ہے۔ اس کی نماز ’’نماز‘‘ نہیں، ایک عادی حرکت ہے۔ اس کا روزہ ’’روزہ‘‘ نہیں، فاقہ ہے۔ اس کی زکوٰۃ ، ’’زکوٰۃ‘‘ نہیں، چندہ، یا ٹیکس ہے۔ اس کا حج، ’’حج‘‘ نہیں بلکہ اس کے حق میں ویسا ہی ایک سفر ہے جیسا پیرس اور لندن کا سفر۔
یہ جو کچھ کہا گیا، اس کے مصداق صرف وہی لوگ ہیں جن کی سیرت اور کردار پر عبادات اسلامی کا کوئی اثر مترتب نہیں ہوتا۔ لیکن مجھے یہ تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہے کہ مسلمانوں میں جتنے نمازی، روزہ دار، زکوٰۃ کے پابند اور حج ادا کرنے والے ہیں، سب کے سب ایسے ہی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک قلیل تعداد ایسے منافقین پر بھی مشتمل ہو، لیکن الحمدللہ کہ اکثریت کا یہ حال نہیں ہے۔ اکثریت جس مرض میں مبتلا ہے، وہ نفاق نہیں بلکہ ضعف ایمانی ہے۔ اسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ عبادات کی تاثیریںبھی ضعیف ہوگئی ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں ، حج بھی کرآتے ہیں، مگر یہ سب چیزیںدلوں کو مس کرتی ہوئی اس طرح گزر جاتی ہیں جیسے بھاپ آئینے کی سطح پر ایک ہلکی سی نمی چھوڑ کر گزر جائے۔ یہ تاثیر کا عدم نہیں بلکہ اس کا ضعف ہے۔ ایمان کی چنگاریاں دلوں میں دبی چھپی اب بھی موجود ہیں، اور ان کی حرارت سے عبادتیں کچھ نہ کچھ اثر ضرور کررہی ہیں، لیکن وہ اثر اتنا کمزور ہوتا ہے کہ عبادت گزاروں کی سیرت اور کردار میں اس کے نشانات کچھ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتے۔
میں یہ ماننے سے بھی انکار کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں جو لوگ عبادات کے پابند ہیں، ان کاحال عبادت نہ کرنے والوں سے بدتر،یا ان کے برابر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں اب بھی اگر مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تو اخلاقی حیثیت سے وہی عنصر زیادہ بہتر پایا جائے گا جو نماز روزے کا پابند ہے۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی نگاہوں میں خدافراموش لوگوں کی بہ نسبت عبادت گزاروں کی برائیاں زیادہ کھٹکتی ہیں۔ ایک تارک صوم و صلوٰۃ کی بدسیرتی و بدمعاملگی اتنی زیادہ بری معلوم نہیں ہوتی، جتنی ایک پابند صوم و صلوٰۃ کی بدسیرتی و بدمعاملگی ۔ بے نمازی سے برائی ہی متوقع ہوتی ہے۔ اس لیے جب وہ برائی کرتا ہے تو اس کی کچھ زیادہ شکایت نہیں ہوتی۔ مگر نمازی سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرنے والا اور پرہیز گارہوگا۔ اس لیے جب اس سے عام توقعات کے خلاف برے اوصاف کا ظہور ہوتا ہے تو یہ معاملہ ہر آنکھ میں کھٹک اور ہر زبان پر شکایت پیدا کردیتا ہے۔ سفید دیوار پر سیاہی کی ایک چھینٹ بھی ہو تو ہردیکھنے والا اس عیب پر انگلی اٹھائے گا۔ باورچی خانے کی سیاہ دیوار وں پر جتنا چاہے کوئلہ مل دیکھیے کسی کو بھی اس کی پروانہ ہوگی۔
بے جا مبالغہ اگر نہ کیا جائے تو حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم اکثریت ایسے نمازیوں اور عبادت گزاروں اور حاجیوں کی ہے، جو ان عبادات سے اصلاح نفس کے وہ پورے فوائد حاصل نہیں کررہی ہے، جو دراصل ان سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اور یہ بات کچھ بے سبب نہیں ہے۔ اس کا ایک اہم سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ ایمان، جو ان عبادات کی جان اور ان کی تاثیر کا اصل موجب تھا، دلوں میں ضعیف ہوگیا ہے۔
پھر ضعف ایمان کا بھی ایک سبب ہے اور وہ ہے قرآن کی تعلیم سے نابلد ہونا۔ خدا نے ایمان کی دعوت دینے کے لیے جس چیز کو ذریعہ بنایا تھا وہ تو یہی قرآن تھا۔ مگر عام مسلمان اسی کے فہم سے محروم اور اسی کی تعلیم سے ناواقف ہیں۔ اب آخر دلوں میں ایمان کی نشوونما ہو تو کس طرح؟
ایک اور چیز جس کا ہماری عبادتوں کو ضعیف الاثر بنانے میں بڑا حصہ ہے، دین اور دنیا کی علیحدگی کا غلط تخیل ہے۔ یہ دراصل جاہلیت کا اعتقاد تھا جس کو اسلام نے بالکل مٹا دیا تھا، مگر نہ معلوم اس نے کس طرح مسلمانوں میں راہ پالی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ دین انسانی زندگی کے شعبوں میں سے محض ایک شعبہ ہے، جس کا دوسرے شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہبی رسوم، عبادات اور قربانیاں محض اس لیے ضروری ہیں کہ خدایا دیوتائوں کو خوش کیا جائے۔ اور زندگی کے معاملات میں ان کی تائید حاصل کی جائے۔ ان فرائض کو انجام دے کر جب انسان عبادت گاہوں سے باہر نکلے تو مذہب کی طرف سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور وہ مختار ہوتا ہے کہ اپنی دنیا کے معاملات جس ڈھنگ پر چاہے، چلائے۔ اسلام نے اس غلط حد بندی کو مٹایا۔ دین کو زندگی کا ایک شعبہ نہیں، بلکہ پوری زندگی کا نظام العمل قرار دیا۔ عقائد اور اخلاق کے درمیان، ایمان اور سیرت کے درمیان، عبادات اور معاملات کے درمیان، مذہبی اعمال اور دنیوی اعمال کے درمیان ایک گہرا ربط قائم کیا۔ اور انسان کی دنیوی زندگی ہی کو بالکلیہ دینی زندگی بنادیا۔ اس نے بتایا کہ دین اس دنیا کے معاملات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اسی دنیا کے کاروبار میں اللہ تعالیٰ کے قانون کی پیروی اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی ، اور اس کی رضا کے اتباع کا نام دین ہے۔ عبادات اور معاملات دو مختلف چیزیں نہیں ہیں بلکہ معاملات ہی میں حدود اللہ کی پابندی اور خوشنودی الٰہی کی طلب، اور تقرب الی اللہ کی سعی کا نام عبادت ہے۔ نماز روزے اور حج و زکوۃ کو عبادت اور فرض قرار دینے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ عبادت کو انہی اعمال میں منحصر کردیا جائے، بلکہ دراصل یہ اعمال انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے مستعد کرنے والے ہیں، جس کا دائرہ اس کی پوری زندگی پر وسیع ہے۔ مسلمان کی عبادت گاہ پوری کائنات ہے۔ اس کی ساری زندگی عبادت ہے۔ اس کو ہر آن خدا کا عبادت گزار بندہ ہونا چاہیے۔ اس کا معبد صرف اس کی مسجد تک محدود نہیں، بلکہ مسجد اس کی تربیت گاہ ہے، جہاں وہ عبادت کی قابلیت پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کی نماز اور اس کے روزے اور اس کی دوسری عبادتوں کا ربط اس کے معاملات سے منقطع ہوجائے اور وہ اپنی زندگی کے اعمال میں قانون الٰہی کے اتباع سے آزاد ہو تو محض صوم و صلوٰۃ کی پابندی سے وہ دیندار اور عبادت گزار بندہ نہیں بن سکتا۔
افسوس ہے کہ دین کا یہ تصور رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ذہن سے محو ہوتا جارہاہے اور دین و دنیا کی علیٰحدگی کا وہی جاہلی تصور اس کی جگہ لے رہا ہے جس کو اسلام نے مٹا دیا تھا اور یہ اسی غلط تصور کا نتیجہ ہے کہ عبادات اور معاملات کا باہمی تعلق منقطع ہوگیا۔ عملی زندگی سے نمازوں کا ربط ٹوٹ گیا۔ معاشیات پر زکوٰۃ کی فرماں روائی باقی نہ رہی۔ سال کے گیارہ مہینے رمضان کی حکومت سے آزاد ہوگئے، بلکہ رمضان المبارک غریب خود بھی اپنے حدود میں صرف حلق کادربان بناکر رکھ دیا گیا۔ حج کی حیثیت ہندوئوں کی جاترا اور عیسائیوں کے Pilgrimage سے زیادہ نہ رہی۔ اور یہ غلط فہمی عام طور پر لوگوں میں پھیل گئی کہ نماز اور فحشاء و منکر، روزے اور فسق و فجور، زکوٰۃ اور حرام خوری، حج اور ہتک حرمات ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔
(تفہیمات، ج۲: نماز کے۔۔۔)

ماخز

(۱) مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ باب الاعتراض بین یدی المصلی۔٭بخاری،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی السریر۔ باب من لا یقطع الصلوٰۃ شییٔ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الدلیل علی ان مرور المراۃ بین یدیہ لا یفسد الصلوٰۃ۔
(۲) مسلم،ج۲، کتاب الصلوٰۃ،باب الاعتراض بین یدی المصلی۔٭ بخاری،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التطوع خلف المرأۃ۔
(۳) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، ابواب الصفوف، باب مایستر المصلی۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایسترالمصلی۔
(۴) ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الصفوف، باب الخط اذا لم یجد العصا۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب مایستر المصلی۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الخط اذا لم یجد عصا۔
(۵) مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ المصلی۔٭ بخاری،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ الامام سترۃ من خلفہ۔٭ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الصفوف، باب مایسترالمصلی۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، ص۲۶۹، کتاب الصلوٰۃ، باب مایکون سترۃ المصلی۔ اس صفحہ پر بیہقی نے موسیٰ بن طلحہ عن ابیہ سے مروی دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور ص ۲۶۸ پر حضرت عائشہؓ سے منقول روایت بیان کی ہے۔ اور عبداللہ بن عمر والی روایت بھی ص ۲۶۹ پر نقل کی ہے۔
(۶) مسلم ج۱،کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلی۔٭ ابوداؤد ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی الراحلۃ۔
(۷) مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ المصلی۔٭ ابوداؤد، ج ۱، (مختصر) ٭السنن الکبریٰ ج ۲، ص۲۷۰۔
(۸) مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ المصلی۔٭ بخاری:ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ الامام من خلفہ۔ ٭السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من صلی الیٰ غیر سترۃ۔
(۹) مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ: باب صنع الماربنیں یدی المصلی۔٭بخاری،ج۱، کتاب الصلوٰۃ: باب لیرد المصلی من مربین یدیہ الخ۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب المصلی یدفع الماربین یدیہ۔
(۱۰) بخاری،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب قدر کم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ۔٭مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب سترۃ المصلی۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الدنومن السترۃ۔
(۱۱) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب اذا صلی الیٰ ساریۃ أو نحوہا این یجعلہا منہ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب السنۃ فی وقوف المصلی اذا صلی الی اسطوانۃ او ساریۃ اونحوہا۔
(۱۲) ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الدنو من السترۃ۔٭موارد الظمآن: کتاب الصلوٰۃ، باب السترۃ للمصلی۔ ٭ابوداؤد نے باب سترۃ الامام ، سترۃ من خلفہ، باب من قال المراۃ لا تقطع الصلوٰۃ، باب من قال الحمار لا یقطع الصلوٰۃ، باب من قال الکلب لا یقطع الصلوٰۃ، باب من قال لا یقطع الصلوٰۃ شیئی کے تحت ایسی روایات جمع کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔٭ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، ابواب متذکرہ بالا۔٭ابن ماجہ: کتاب الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔٭دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ السہوفی الصلوٰۃ واحکامہ واختلاف الروایات وانہ لا یقطع الصلوٰۃ شیئی۔٭ موارد الظمآن: کتاب الصلوٰۃ۔
(۱۳) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی سترۃ المصلی۔
(۱۴) مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ،باب قدر مایستر المصلی۔٭ ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب مایقطع الصلوٰۃ ومالایقطعہا، باب مایقطع الصلوٰۃ ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یقطع الصلوٰۃ اذا لم یکن بین یدیہ سترۃ المراۃ والحمار والکلب الاسود۔ ٭ ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء انہ لایقطع الصلوٰۃ الاالکلب والحمار والمراۃ۔٭ ترمذی میں الکلب الاصفر کی جگہ ومن الابیض ہے۔
(۱۵) مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الاعتراض بین یدی المصلی۔٭ السنن الکبریٰ، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الدلیل علی ان مرور المراۃ بین یدیہ لا یفسد الصلوٰۃ۔
(۱۶) مسلم، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الاعتراض بین یدی المصلی۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الدلیل علی أن مرورالمرأۃ بین یدیہ لایفسدالصلوٰۃ۔
(۱۷) بخاری،ج۱، کتاب الصلوۃ، باب استقبال الرجل الرجل الخ۔
(۱۸) بخاری، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی السریر۔٭ ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال المراۃ لاتقطع الصلوٰۃ۔ ٭ ابوداؤد نے بھی بئسما والی عبارت نقل کی ہے۔

فصل: ۱۷ اذان اور نماز کی دعائوں کی تشریح

اذان میں محمد ﷺ کے رسول ہونے کی شہادت دی جاتی ہے۔ یہ رسالت کی شہادت اس لیے دی جاتی ہے کہ ہم خدا کی عبادت اس عقیدے اور طریقے کے مطابق کررہے ہیں جو رسول اللہ ؐنے ہمیں سکھایا ہے۔ ہم نے خود اپنی فکر سے یہ طریقہ اور عقیدہ ایجاد نہیں کرلیا ہے۔
تشہد کی پوری عبارت پر آپ غور کریں۔ پہلے آپ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا سلام پیش کرتے ہیں، پھر رسول ؐ کے لیے رحمت و برکت کی دعا کرتے ہیں۔ پھر اپنے حق میں اور تمام نیک بندوں کے حق میں سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور محمد ﷺ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں جو دراصل اللہ تعالیٰ ہی سے اس امر کی دعا ہے کہ وہ حضورؐ پر اپنی نوازشات کی بارش فرمائے۔ پھر اللہ سے اپنے حق میں اور اپنے والدین کے حق میں بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ یہ ساری دعائیں اللہ تعالیٰ ہی سے ہیں۔
دعا تو روح عبادت ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ان مشرکین کو جو غیر اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں، غیر اللہ کی عبادت کرنے والا قرار دیا گیا ہے، حتیٰ کہ اکثر مقامات پر یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِکہنے کے بجائے یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ اللہ ہی سے دعا مانگو۔
یہ تشہد جو ہم پڑھتے ہیں ، یہ حضورؐ نے صحابہؓ کو سکھایا تھا اور انہیں ہدایت فرمائی تھی کہ تم یہ پڑھا کرو۔ اس لیے ہم کو نماز میں یہی پڑھنا چاہیے۔ رہا حضورؐ کا اپنا تشہد ، تو اس کے متعلق احادیث میں کوئی صراحت نہیں ہے کہ حضورؐ خود کیا پڑھتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ آپؐ کے تشہد میں الفاظ کچھ مختلف ہوتے ہوں اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ حضورؐ خود بھی یہی تشہد پڑھتے ہوں۔ اگر ہم نماز میں اپنے لیے دعا کرتے ہیں تو آخر اس پر کیا اعتراض ہے کہ حضورؐ بھی نماز میں اپنے لیے دعا فرماتے ہوں؟ اسی طرح اگر ہم حضورؐ کے نبی ہونے کی شہادت نماز میں دیتے ہیں تو اس میں آخر کیا خرابی ہے کہ نبی ﷺ بھی اپنی نبوت کی شہادت دیتے ہوں؟

فرض ، سنت او رنفل کا مفہوم

فرض نماز کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو اس کے عائد کردہ فریضہ صلوٰۃ کو ادا کرنے کے لیے کم سے کم لازم ہے۔ جس کے بغیر حکم کی تعمیل سے ہم قاصر رہ جائیں گے۔سنت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو فرض کے علاوہ نبی ﷺ ہمیشہ ادا کیا کرتے تھے۔ اور جس کی آپؐ نے ہمیں تاکید کی ہے۔ نفل سے مراد ہے خدا کی وہ عبادت جو ہم اپنی خوشی سے کرتے ہیں۔ جسے ہم پر نہ لازم کیا گیا ہے اور نہ جس کی تاکید کی گئی ہے۔ ’’سنت رسول اللہ کی‘‘ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رسول اللہؐ کی نماز پڑھی جارہی ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے جو رسول اللہ ﷺ فرض سے زائد پڑھا کرتے تھے اور آپؐ کے اتباع میں ہم بھی پڑھتے ہیں۔
سلام ـــــــ نماز کے آخر میں
کسی عمل کو ختم کرنے کے لیے آخر اس کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔ نماز ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ جو قبلہ رو بیٹھ کر عبادت کررہے تھے، اب دونوں طرف منہ پھیر کر اس عمل کو ختم کردیں۔ اب منہ پھیرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ چپکے سے منہ پھیر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ خدا سے تمام خلق کے لیے سلامتی کی دعا کرتے ہوئے منہ پھیریں۔
(رسائل و مسائل سوم: اذان اور۔۔۔)

عبادات میں تدریج

۱۰۱۔امام احمد بن حنبلؒ حضرت معاذبن جبلؓ سے ایک طویل تشریحی بیان نقل کرتے ہیں، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ نماز اور روزہ، دونوں کی موجودہ صورت بتدریج قائم کی گئی ہے۔ نماز میں پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کیا جاتا تھا۔ پھر مکے کی طرف رخ پھیراگیا۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کو نماز کے وقت اطلاع دیتے تھے، پھر اذان کا طریقہ مقرر کیا گیا۔ پہلے طریقہ یہ تھا کہ اگر ایک شخص بیچ کے کسی مرحلے پر آکر جماعت میں شریک ہوتا تھا تو پہلے اپنی نماز کا چھوٹا ہوا حصہ ادا کرنے کے بعد امام کی پیروی شروع کرتا تھا۔ پھر یہ طریقہ مقرر کیا گیا کہ جماعت جس مرحلے پر بھی ہو، آکر شریک ہو، امام کی پیروی میں نماز پڑھنی شروع کردو۔ پھر امام کے سلام پھیر دینے کے بعد اٹھ کر اپنی نماز پوری کرلو۔ اسی طرح روزے کے احکام بھی بتدریج آئے ہیں۔ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپؐ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے ، اور ایک روزہ محرم کی دسویں کو رکھا کرتے تھے۔ پھر اللہ نے رمضان کے روزے فرض کیے۔ مگر یہ رعایت رکھی کہ جو روزہ نہ رکھے وہ ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ اس کے بعد یہ حکم آیاکہ رمضان کے روزے ضرور رکھے جائیں۔ اور تندرست مقیم آدمی کے لیے فدیے کی رعایت منسوخ کردی۔ پہلے لوگ افطار کے بعد اس وقت تک کھانا پینا ، مباشرت کرنا جائز سمجھتے تھے جب تک سونہ جائیں۔ سونے کے بعد وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے دن کا روزہ شروع ہوگیا۔ اگرچہ اس باب میں کوئی صریح حکم نہ تھا، مگر لوگ ایسا ہی سمجھے ہوئے تھے۔ بعد میں حکم آیا کہ اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِ کُمْ ۔۔۔ اِلٰی قَوْلِہٖ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ اِلَی اللَّیْلِ۔(البقرہ:۱۸۷)
(ابن کثیر، ج ۱، ص ۲۱۴)
تخریج:(۱) وَقَالَ الْاِمَامُ اَحْمَدُ: حَدَّثَنَا اَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: اُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃُ اَحْوَالٍ وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃُ اَحْوَالٍ۔ فَاَمَّا اَحْوَالُ الصَّلوٰۃِ، فَاِنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَہُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا اِلیٰ بَیْتِ الْمَقْدِسِ۔ ثُمَّ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ عَلَیْہِ، قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا الآیۃ (البقرۃ:۱۴۴) فَوَجَّہَہُ اللّٰہُ اِلیٰ مَکَّۃَ ہٰذَا حَوْلٌ قَالَ: وَکَانُوْا یَجْتَمِعُوْنَ لِلصَّلَاۃِ وَیُوْذِنُ بِہَا بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی نَقَسُوْا اَوْکَادُوْا یَنْقِسُوْنَ۔ ثُمَّ اِنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدِبْنِ عَبْدِ رَبَّہِ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، اِنِّیْ رَاَیْتُ فِیْمَا یَرَی النَّائِمُ وَلَوْقُلْتُ اِنِّی لَمْ اَکُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ اِنِّیْ بِیْنَا اَنَا بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْظَانِ اِذْ رَاَیْتُ شَخْصًا عَلَیْہِ ثَوْبَانِ اَخْضَرَانِ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ، فَقَالَ: اللّٰہُ اَکْبَرُ، اللّٰہُ اَکْبَرُ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مَثْنٰی، حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْاَذَانِ، ثُمَّ اَمْہَلَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِیْ قَالَ غَیْرَ اَنَّہُ یَزِیْدُ فِیْ ذٰلِکَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ مَرَّتَیْنِ۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلِّمْہَا بِلَالًا فَلْیُوَذِّنْ بِہَا، فَکَانَ بِلَالٌ اَوَّلُ مَنْ اَذَّنَ بِہَا، قَالَ: وَجَآئَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ طَافَ بِیْ مِثْلُ الَّذِیْ طَافَ بِہِ غَیْرَ اَنَّہُ سَبَقَنِیْ۔
فَہٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَاْتُوْنَ الصَّلوٰۃَ وَقَدْ سَبَقَہُمُ النَّبِیُّ ﷺ بِبَعْضِہَا فَکَانَ الرَّجُلُ یُشِیْرُ اِلَی الرَّجُلِ اِذَنْ کَمْ صلّٰی؟ فَیَقُوْلُ: وَاحِدَۃً اَوْاِثْنَیْنِ، فَیُصَلِّیْہِمَا ثُمَّ یَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِیْ صَلَاتِہِمْ ، قَالَ: فَجآئَ مُعَاذٌ۔ فَقَالَ: لااَجِدُہٗ عَلیٰ حَالٍ اَبَدًا اِلَّا کُنْتُ عَلَیْہَا ثُمَّ قَضَیْتُ ما سَبَقَنِیْ۔
قَالَ: فَجَآئَ وَقَدْ سَبَقَہُ النَّبِیُّ ﷺ بِبَعْضِہَا۔ قَالَ: فَثَبَتَ مَعَہُ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَامَ فَقَضیٰ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّہُ سَنَّ لَکُمْ مُعَاذٌ فَہٰکَذَا فَاصْنَعُوْا فَہٰذہِ ثَلَاثَۃُ اَحْوَالٍ:
وَاَمَّا اَحْوَالُ الصِّیَامِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَلَ یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔ وَصَامَ عَاشُوْرَآئَ ثُمَّ اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ عَلَیْہِ الصِّیَامَ وَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالیٰ (یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ) اِلیٰ قَوْلِہِ (وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃُ طَعَامِ مِسْکِیْنٍ ط ، (البقرہ:۱۸۳،۱۸۴) فَکَانَ مَنْ شَآئَ صَامَ وَمَنْ شَآئَ اَطْعَمَ مِسْکِیْنًا فَاَجْزَأَ ذٰلِکَ عَنْہُ۔ ثُمَّ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ الآیَۃَ الْاُخْرٰی (شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ) اِلیٰ قَوْلِہِ (فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ، (البقرۃ:۱۸۵) فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرَ وَثَبَتَ الْاِطْعَامَ لِلْکَبِرِ الَّذِیْ لَایَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ، فَہٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَا کُلُوْنَ وَیَشْرَبُوْنَ وَیَاْتُوْنَ النِّسَآئَ مَالَمْ یَنَامُوْا، فَاِذَا نَامُوْا، اِمْتَنَعُوْ اثُمَّ اِنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ صِرْمَۃٌ کَانَ یَعْمَلُ صَآئِمًا حَتّٰی اَمْسٰی فَجَآئَ اِلیٰ اَہْلِہِ فَصَلّٰی الْعِشَآئَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ یَاْکُلْ وَلَمْ یَشْرَبْ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَصْبَحَ صَائِمًا، فَرَاٰہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَقَدْ جَہَدَ جُہْدًا شَدِیْدًا، فَقَالَ: مَالِیْ اَرَاکَ قَدْ جَہَدْتَّ جُہْدًا شَدِیْدًا؟ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ عَمِلْتُ اَمْسِ، فَجِئْتُ حِیْنَ جِئْتُ فَاَلْقَیْتُ نَفْسِیْ، فَنِمْتُ، فَاَصْبَحْتُ حِیْنَ اَصْبَحْتُ صَآئِمًا۔ قَالَ وَکَانَ عُمَرُ قَدْ اَصَابَ مِنْ النِّسَآئِ بَعْدَمَا نَامَ، فَاَتَی النَّبِیَّﷺ فَذَکَرَلَہُ ذٰلِکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلیٰ نِسَآئِکُمْ) اِلیٰ قَوْلِہِ(ثُمَّ اَتِمُّوا الصِیَّامَ اِلَی اللَّیْلِ، (البقرہ:۱۸۷) (۱)
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ نماز اور روزے کی تین تین حالتیں بدلی گئیں۔ جہاں تک نماز کی تبدیلیوں کا تعلق ہے تو وہ اس طرح ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے تو وہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر قَدْنَرٰی الخ (البقرۃ:۱۴۴) والی آیت نازل فرمائی تو اللہ نے آپؐ کا رخ مکہ کی طرف پھیر دیا۔ ایک تبدیلی تو یہ ہوئی ۔ اور دوسری تبدیلی یہ کہ لوگ جب نماز کے لیے اکٹھے ہوتے تو ایک دوسرے کو کیفیت نماز سے آگاہ کردیتے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے معیوب سمجھا،یا قریب تھا کہ اسے معیوب سمجھتے کہ ایک انصاری حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے رسول خداؐ !میں نے خواب میں دیکھا ،وہ خواب گویا بیداری کی سی حالت میں تھاکہ ایک شخص ہے جس کے جسم پر دو سبز رنگ کے کپڑے ہیں (گویا سبزسوٹ میں ملبوس ہے) روبقبلہ ہو کر دو دو بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہہ رہا ہے۔ جب وہ اذان سے فارغ ہوا تو چند ساعت کے بعد اس نے تکبیر کہی، جس میں دو مرتبہ قد قامت الصلوٰۃ کا اضافہ کیا۔ رسول ﷺ نے فرمایا: بلال کو یہ کلمات سکھادو کہ وہ اذان کہے ۔ چانچہ حضرت بلالؓ پہلے شخص ہیں جن کو اذان کہنے کا شرف حاصل ہوا۔ راوی کا بیان ہے کہ اتنے میں حضرت عمرؓ آگئے، انہوں نے کہا اے رسول خداؐ !خواب میں میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عبداللہ مجھ سے سبقت لے گئے ہیں۔
یہ تھیں دو تبدیلیاں ۔ اور تیسری تبدیلی کی نوعیت یہ تھی کہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز باجماعت میں ایسی حالت میں شریک ہوتے جب کہ آپؐ کچھ نماز پڑھ چکے ہوتے تو آنے والا نمازی سے دریافت کرتا کہ کتنی رکعتیں ہوچکی ہیں۔ وہ نماز کی حالت ہی میں کہتا کہ ایک رکعت، یا کہتا دو رکعت (ہوچکی ہیں) تو وہ بعد میں شریک نماز ہونے والا پہلے دو رکعتیں الگ سے پڑھتا پھر جماعت کے ساتھ شریک ہوتا۔ ایک مرتبہ حضرت معاذؓ آئے اور کہنے لگے کہ میں تو حضورؐ کو جس حالت میں پائوں گا اسی میں شامل ہو جائوں گا اور جتنی نماز رہ جائے گی اسے حضورؐ کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کرلوں گا۔
راوی کہتے ہیں کہ معاذؓ ایک مرتبہ اس وقت جماعت میں شامل ہوئے جب کہ نبی ﷺ کچھ نماز پڑھا چکے تھے۔ جب آپؐ نماز پوری کرکے سلام پھیر چکے تو معاذ اٹھے اور باقی نماز پوری کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معاذ نے تمہارے لیے اچھا طریقہ نکالا ہے۔ لہٰذا تم بھی اب اسی طرح کیا کرو۔ یہ تو تھیں تین تبدیلیاں نماز کی۔
اب روزوں کی تین تبدیلیاں ملاحظہ ہوں۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے اور عاشورہ کا روزہ بھی رکھا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ الایۃ (البقرۃ:۱۸۳) نازل فرما کر رمضان کے روزے فرض کردیے۔ اور جو لوگ روزے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ انہیں روزے کی جگہ مسکین کو فدیہ دینے کی گنجائش رکھ دی۔ پس جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دے دے تو یہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرمائی۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ الخ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ۔اس طرح مقیم اور تندرست آدمی کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور مسافر اور بیمار آدمی کو رخصت دے دی اور جو بوڑھا روزہ نہ رکھ سکے اس کے لیے کھانا دینے کی گنجائش باقی رکھی۔ یہ تھیں روزہ کے متعلق دو تبدیلیاں۔ اور تیسری صورت یہ تھی کہ ابتدا میں سونے سے پہلے پہلے کھانا پینا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز تھا۔ سونے کے بعد یہ رعایت نہیں تھی۔ ہوا یہ کہ صرمہ نامی ایک انصاری دن بھر محنت مزدوری اور کام کاج کرکے تھکے ہوئے شام کو اپنے گھر آئے۔ نماز عشاء ادا کرکے لیٹ گئے کہ نیند نے ایسا غلبہ پایا کہ دوسرے روز بغیر کچھ کھائے پئے روزہ رکھا، جس کی وجہ سے دن کو ان کی حالت بہت خراب ہوگئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ انھوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ ادھر یہ واقعہ رونما ہوا اور دوسری طرف حضرت عمرؓ سوجانے کے بعد اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھے اور صبح حضورؐ کی خدمت میں حسرت اور ندامت کی حالت میں پیش ہوکر اپنے قصور کا اعتراف و اقرار کیا۔ اس پر اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِ کُمْ ــــــ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ اِلَی اللَّیْلِ (البقرہ:۱۸۷)تک آیت نازل ہوئی (اور مغرب کے بعد سے صبح صادق تک رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور اپنی بیویوں کے پاس جانے کی رخصت مل گئی)۔
ـــــــ وَاَخْرَجَہُ اَبُوْ دَاؤُدَ فِیْ سُنَنِہِ وَالْحَاکِمُ فِیْ مُسْتَدْرَکِہِ مِنْ حَدِیْثِ الْمَسْعُوْدِیِّ بِہِ وَقَدْ اَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّہَا قَالَتْ کَانَ عَاشُوْرَآئُ یُصَامُ فَلَمَّا نَزَلَ فَرْضُ رَمَضَانَ کَانَ مَنْ شَآئَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَفْطَرَ۔ وَرَوَی الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ عَمْرِ وبْنِ مَسْعُوْدٍ مِثْلَہُ۔
(۲) حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ۔ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَتْ قُرَیْشٌ تَصُوْمُ عَاشُوْرَآئَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ یَصُوْمُہُ فَلَمَّا ہَاجَرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، صَامَہُ وَاَمَرَہُ بِصِیَامِہِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَہْرُ رَمَضَانَ، قَالَ: مَنْ شَآئَ صَامَہُ ، وَمَنْ شَآئَ تَرَکَہُ۔
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے دور میں عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی اس روزے کو رکھا کرتے تھے۔ جب آپؐ مدینہ ہجرت کرکے تشریف لے آئے تو خود بھی یہ روزہ رکھا اور اپنے صحابہؓ کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیا۔لیکن جب رمضان کے روزے فرض قرار دیے گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ جو رکھنا چاہے، رکھے اور جو نہ رکھنا چاہے نہ رکھے۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، وَاللَّفْظُ لَہُ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ، اَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ اَنَّ اَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ کَانُوْا یَصُوْمُوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ وَاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَامَہُ وَالْمُسْلِمُوْنَ قَبْلَ اَنْ یُفْتَرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ عَاشُوْرَآئَ یَوْمٌ مِّنْ اَیَّامِ اللّٰہِ فَمَنْ شَآئَ صَامَہُ ، وَمَنْ شَآئَ تَرَکَہُ۔
ترجمہ: عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ دور جاہلیت کے لوگ عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ رمضان کی فرضیت سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے ساتھی بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ لیکن جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو آپؐ نے اجازت دے دی کہ جو چاہے رکھے اور جو نہ چاہے، نہ رکھے۔
(۴) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلُ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ: دَخَلَ الْاَشْعَثُ بْنُ قَیْسٍ عَلَی ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَہُوَ یَاْکُلُ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اِنَّ الْیَوْمَ، یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ، فَقَالَ: قَدْ کَانَ یُصَامُ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِکَ فَاِنْ کُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ۔(۲)
ترجمہ: حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ اشعث بن قیس، ابن مسعود کے پاس گئے۔ عاشورہ کا دن تھا اور وہ کچھ نوش فرما رہے تھے۔ اشعث بن قیس نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن !آج تو عاشورہ کا دن ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان کی فرضیت کے نزول سے پہلے یہ روزہ رکھا جاتا تھا۔ جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو اسے ترک کردیا گیا۔اگر آپ روزہ افطار کرنا چاہتے ہیں تو کھانا تناول فرمائیں۔
(۵) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَامَ النَّبِیُّ ﷺ عَاشُوْرَائَ وَاَمَرَ بِصِیَامِہِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَصَانُ تُرِکَ۔ وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ لَایَصُوْمُہُ اِلَّا اَنْ یُّوَافِقَ صَوْمَہُ۔(۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا ہے اور اس کے رکھنے کا آپؐ نے حکم بھی فرمایا ہے۔ لیکن جب رمضان فرض کردیا گیا تو اسے ترک کردیا گیا ۔ عبداللہ بذات خود یہ روزہ نہیں رکھتے تھے الاّ یہ کہ معمول کے روزوں میں یہ دن آجائے۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیْدَبْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ۔ اِنَّ عَرَاکَ ابْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُ اَنَّ عُرْوَۃَ اَخْبَرَہُ عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ قُرَیْشًا کَانَتْ تَصُوْمُ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ ثُمَّ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِصِیَامِہِ حَتّٰی فُرِضَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ شَآئَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ شَآئَ اَفْطَرَ۔(۴)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ دور جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے رکھنے کا فرمان جاری کردیا۔ یہ فرمان رمضان کی فرضیت تک تو رہا، مگر جب فرضیت رمضان کا حکم نازل ہوا تو آپؐ نے رخصت دے دی کہ جو رکھنا چاہے رکھے اور جو نہ رکھنا چاہے وہ چھوڑ دے۔
ابودائود میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
(۷) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ یَوْمًا تَصُوْمُہُ قُرَیْشٌ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ صَامَہُ وَاَمَرَ بِصِیَامِہِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ ،کَانَ ہُوَ الْفَرِیْضَۃُ۔ وَتُرِکَ عَاشُوْرَآئُ فَمَنْ شَآئَ صَامَہُ وَمَنْ شَآئَ تَرَکَہُ۔ (۵)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عاشورہ کا دن ایسا دن ہے جس میں قریش جاہلیت کے ایام میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی بعثت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپؐ مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے تو خود بھی یہ روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم بھی فرمایا۔ لیکن جب رمضان کے روزے فرض کیے گئے تو آپؐ نے عاشورہ کا روزہ ترک کردیا۔ جو چاہتا تھا، رکھ لیتا تھا اور جو چھوڑنا چاہتا ، چھوڑدیتا۔
(۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَآئِ، قَالَ: کَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ اِذَا کَانَ الرَّجُلُ صَآئِمًا فَحَضَرَ الْاِفْطَارُ۔ فَنَامَ قَبْلَ اَنْ یُفْطِرَ لَمْ یَاْ کُلْ لَیْلَتَہُ وَلَا یَوْمَہُ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَاِنَّ قَیْسَ بْنَ صِرْمَۃَ الْاَنْصَارِیَّ کَانَ صَآئِمًا ۔ فَلَمَّا حَضَرَالْاِفْطَارُ اَتٰی امْرَاَتَہُ، فَقَالَ لَہَا اَعِنْدَکِ طَعَاْمٌ؟ قَالَتْ:لَا، وَلٰکِنْ اَنْطَلِقُ وَاَطْلُبُ لَکَ وَکَانَ یَوْمُہُ یَعْمَلُ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ فَجَآئَ تْہُ اِمْرَاَتُہُ فَلَمَّا رَاَتْہُ، قَالَتْ: خَیْبَۃً لَّکَ۔ فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّہَارُ، غُشِیَ عَلَیْہِ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الاٰیَۃُ ’’اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلیٰ نِسَآئِ کُمْ‘‘ فَفَرِحُوْابِہَا فَرْحًا شَدِیْدًا۔ وَنَزَلَتْ ’’وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ص (البقرۃ:۱۸۷)۔ (۶)
ترجمہ: حضرت براء سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ اصحاب محمد ﷺ کا عام معمول تھا کہ جب کوئی روزے سے ہوتا اور افطاری کا وقت ہوجاتا، مگر وہ افطار کرنے سے پہلے سو جاتا تو پھر وہ شب و روز کچھ نہ کھاتا پیتا حتیٰ کہ شام ہوجاتی۔ (اسی طرح کا ایک واقعہ) کہ قیس بن صرمہ انصاری روزے سے تھے۔ افطاری کے وقت اپنی اہلیہ کے پاس آئے۔ دریافت کیا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے۔ وہ بولی فوری طور پر تو کچھ نہیں۔ تاہم میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کچھ تلاش کرتی ہوں۔ چونکہ وہ سارا دن محنت مزدوری کرتے رہے تھے۔ لہٰذا نیند نے غلبہ کیا اور سوگئے۔ ان کی اہلیہ آئیں تو خاوند کو سویا پا کر افسوس سے بولیں وائے رے تیری محرومی! (معمول کے مطابق وہ اپنے کام پر چلے گئے) جب آدھا دن گزرا تو کمزوری کی شدت سے غشی کے دورے پڑنے لگے۔ اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا گیا۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَام الرَّفَثُ الایۃ۔
تشریح: اس مضمون کی تائید میں بخاری ، مسلم، ابودائود اور دوسرے محدثین نے متعدد روایات نقل کی ہیں۔ جو حضرت عائشہؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے مروی ہیں۔مشہور مفسرابن جریر طبری (متوفی۳۱۰ھ) نے پوری سند کے ساتھ جن صحابہؓ اور تابعینؒسے اس کی تائید میں روایات نقل کی ہیں، ان کے نام یہ ہیں: معاذ بن جبلؓ، ابن عمرؓ، ابن عباسؓ ،سلمہ بن اکوعؓ، علقمہ عکرمہؓ، حسن بصریؒ، شعبیؒ ، عطاءؒ، زہریؒ۔ ان میں سے ایک روایت میں وہ حضرت معاذ بن جبلؓ کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں کہ پہلے چونکہ اہل عرب روزوں کے عادی نہ تھے اور روزہ ان پر سخت گراں گزرتا تھا۔ اس لیے ان کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ رمضان میں جس دن روزہ نہ رکھیں اس دن کسی مسکین کو کھانا کھلادیں۔ بعد میں تاکیدی حکم آگیا کہ پورے مہینے کے روزے رکھو، الا یہ کہ تم مریض ہو، یا سفر پر ہو۔ ایک اور روایت میں وہ ابن عباسؓ کی یہ تصریح نقل کرتے ہیں کہ پہلے سال کے روزوں میں اللہ تعالیٰ نے فدیے کی رخصت رکھی تھی، مگر دوسرے سال جو حکم آیا اس میں مریض و مسافر کی رعایت تو بحال تھی، لیکن مقیم کے لیے فدیے کی رعایت کا ذکر نہ تھا، اس لیے یہ رعایت منسوخ ہوگئی۔
(رسائل و مسائل اوّل: کیا روزے۔۔۔)

عبادات کس صورت میں برائی سے بچنے کا ذریعہ ہیں

نماز، روزہ وغیرہ اعمال صرف اسی صورت میں برائی سے بچنے کا بہترین ذریعہ اور معاشرے کو صحیح ڈگر پر چلانے کا آلہ ہوسکتے ہیں، جب کہ انہیں خلوص کے ساتھ کیا جائے اور خلوص کے ساتھ آدمی ان پر اسی صورت میں کاربند ہوسکتا ہے جب وہ ایمانداری سے یہ سمجھتا ہو کہ خدا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور کوئی آخرت آنے والی ہے جس میں مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ان سب باتوں کو خلاف واقعہ سمجھتا ہو، اور یہ خیال کرتا ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے محض اصلاح کے لیے یہ ڈھونگ رچایا ہوا ہے ،تو کیا اس صورت میں بھی یہ عبادات برائی سے بچنے کا ذریعہ اور معاشرے کو صحیح ڈگر پر چلانے کا آلہ بن سکیں گی۔ ایک طرف ان عبادات کے یہ فوائد بیان کرنا اور دوسری طرف ان فکری بنیادوں کو خود ڈھا دینا جن پر ان عبادات کے یہ فوائد منحصر ہیں۔ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی کار توس سے سارا گن پائوڈر نکال دیں اور پھر کہیں کہ یہ کارتوس شیر کے شکار میں بہت کار گر ہے۔ ( رسائل و مسائل

ماخز

(۱) تفسیر ابن کثیر، ج ۱۔ ٭ مسند احمد، ج ۵، روایت معاذ بن جبلؓ۔
(۲) مسلم،ج۱، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء۔٭ ابوداؤد،ج۲،کتاب الصیام، باب فی صوم یوم عاشوراء۔ ٭السنن الکبریٰ،ج۴،کتاب الصیام، باب فی صوم یوم عاشوراء۔
(۳) بخاری،ج۱،کتاب الصوم، باب وجوب صوم رمضان الخ۔٭مسلم،ج۱،کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء۔
(۴) بخاری،ج۱، کتاب الصوم، باب وجوب صوم رمضان وقول اللّٰہ تعالیٰ یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۴،کتاب الصیام، باب من زعم ان صوم عاشوراء کان واجبا ثم نسخ وجوبہ۔
(۵) ابوداؤد،ج۲، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ۔
(۶) بخاری،ج۱،کتاب الصوم، باب قول اللّٰہ اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِ کُمْ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ الخ۔٭ابوداؤد،ج۱، کتاب الصیام، باب مبدء فرض الصیام۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۴، کتاب الصیام، باب ماکان علیہ حال الصیام۔

حصہ دوم۔وہ مسائل جن میں رائے کا اختلاف موجود ہے۔فصل : ۱ فاتحہ خلف الامام

۱۔فاتحہ خلف الامام کے بارے میں جو کچھ میں نے تحقیق کیا ہے، اس کی رو سے زیادہ صحیح مسلک یہ ہے کہ جب امام بآواز بلند پڑھ رہا ہو تو مقتدی خاموش رہیں اور جب امام آہستہ پڑھ رہا ہو تو مقتدی بھی فاتحہ پڑھیں۔ اس طرح کسی حکم قرآنی اور کسی حدیث کی خلاف ورزی کا اندیشہ نہیں رہتا اور تمام مختلف دلائل کودیکھ کر یہ ایک متوسط طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ امام مالک اور امام احمد نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن جو شخص امام کے پیچھے کسی صورت میں بھی فاتحہ نہیں پڑھتا، یا ہر حال میں پڑھتا ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی نماز نہیں ہوتی۔ کیونکہ دونوں مسلکوں کی تائید میں دلائل موجود ہیں اور وہ شخص جان بوجھ کر حکم کی خلاف ورزی نہیں کررہا ہے، بلکہ جو حکم اس کے نزدیک دلیل سے ثابت ہے اسی پر عمل کررہا ہے۔ لہٰذا اس پروہ الزام نہیں رکھا جاسکتا جو حکم شرعی کی بالقصد مخالفت کرنے والے پر رکھا جاتا ہے۔                        (رسائل و مسائل دوم :مذہب حنفی۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ، عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ الرَّبِیْعِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الکِتٰبِ۔(۱)
ترجمہ:حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی، اس کی نماز نہیں ہوئی۔
(۲) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ، قَالَ: اَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَـیْنَۃَ عَنِ الْعَلَائِ (بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ) عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: مَنْ صَلّٰی صَلوٰۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ فَہِیَ خِدَاجٌ، ثَلَاثًا غَیْرُ تَمَامٍ، فَقِیْلَ لِاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اِنَّا نَکُوْنُ وَرَآئَ الْاِمَامِ، فَقَالَ: اِقْرَأْ بِہَا فِیْ نَفْسِکَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ قَسَمْتُ الصَّلوٰۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ، وَلِعَبْدِیْ مَاسَاَلَ، فَاِذَا قَالَ الْعَبْدُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، قَالَ اللّٰہُ تَعالیٰ: حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ، وَاِذَا قَالَ: اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،قَالَ اللّٰہُ: اَثْنیٰ عَلَیَّ عَبْدِیْ، وَاِذَا قَالَ: مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ، قَالَ: مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ وَقَالَ مَرَّۃً فَوَّضَ اِلَیَّ عَبْدِیْ، فَاِذَا قَالَ: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ قَالَ ہٰذا بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِیْ، وَلِعَبْدِیْ مَا سَاَلَ، فَاِذَا قَالَ: اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہَمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ، قَالَ: لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ۔(۲)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے نماز پڑھی۔ اس میں ام القرآن یعنی سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز خداج ہے یعنی ناتمام، ادھوری ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے کسی نے پوچھا کہ ہم توامام کے پیچھے ہوتے ہیں (اس میں کیسے پڑھیں) فرمایا، اپنے جی میں پڑھ لے۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ اللہ عزوجل نے اپنے اور بندے کے درمیان نماز (سورہ فاتحہ) کو نصف نصف حصہ میں تقسیم کردیا ہے۔میرا بندہ جو سوال کرے وہ پورا ہوگا۔ (تقسیم یوں ہے) جب میرا بندہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَکہتا ہے تو     اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ۔ اور جب وہ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری مدح و ثنا کی اور جب وہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا۔ اور جب بندہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے مابین ہے۔ میرے بندے کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے مانگا۔ اور جب اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَالضَّآلِّیْنپڑھتا ہے تو ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ میرے بندے کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے طلب کیا ہے۔
ابو دائود نے  بَابٌ  مَنْ تَرَکَ الْقِرَائَ ۃَ فِیْ صَلوٰتِہٖ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِکے تحت کافی مواد یکجا بیان کیا ہے:
(۱) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ: اُمِرْنَا اَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ وَمَا تَیَسَّرَ۔
(۲) اَبُوْہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اُخْرُجْ فَنَادِ فِی الْمَدِیْنَۃِ اَنَّہُ لَاصَلَاۃَ اِلَّابِقُرْآنٍ وَلَوْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ فَمَا زَادَ۔
(۳) دوسری روایت:
اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ اُنَادِیَ اَنَّہُ لَا صَلَاۃَ اِلَّا بِقِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ فَمَا زَادَ۔
(۴) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ فَصَاعِدًا، قَالَ سُفْیَانُ: لِمَنْ یُصَلِّیْ وَحْدَہُ۔
(۵) دوسری روایت:
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: کُنَّا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔ فَقَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَاَئَ ۃُ فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: لعَلَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ خَلْفَ اِمَامِکُمْ۔ قُلْنَا نَعَمْ، ھَذًّا      یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: لَاتَفْعَلُوْا اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ فَاِنَّہُ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْبِہَا۔
(۶) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلوٰۃٍ جَہَرَفِیْہَا بِالْقِرَائَ ۃِ، فَقَالَ: ہَلْ قَرَأَ مَعِیْ اَحَدٌ مِّنْکُمْ اٰنِفًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: اِنِّیْ اَقُوْلُ مَالِیْ اُنَازَعُ الْقُرْاٰنَ؟ قَالَ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَاَئَ ۃِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فِیْمَا جَہَرَفِیْہِ النَّبِیُّ ﷺ بِالْقِرَاَئَ ۃِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِیْنَ سَمِعُوْا ذٰلِکَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۳)
ــ قَالَ اَبُوْدَاوٗدَ: رَویَ حَدِیْثَ ابْنِ اُکَیْمَۃَ ہٰذَا مَعْمَرٌ، وَیُوْنُسُ، وَاُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ عَلیٰ مَعْنَی مَالِکٍ۔
یَعْنِیْ عَلیٰ مَعْنَی حَدِیْثِ مَالِکٍ۔
ترجمہ:
(۱) حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ (سورہ فاتحہ) کے پڑھنے کا حکم دیا ہے اور مزید برآں جتنا آسانی سے پڑھا جاسکے، یا جتنا کچھ اسے میسر ہو۔
(۲) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوہریرہؓ !باہر نکل کر مدینہ میں منادی کردو کہ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ (سورہ فاتحہ) کے بغیر کوئی نماز نہیں اور اس پر مزید اضافہ بھی کرلیا جائے۔
(۳)  دوسری روایت ہے کہ مجھے آپؐ نے حکم دیا کہ میں اس بات کی منادی کردوں کہفَاتِحَۃُ الْکِتَابِ کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اور مزید کچھ اضافہ بھی۔
(۴) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے جو وہ نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں، یعنی مرفوع روایت ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔ اور اس پر کچھ زیادہ بھی پڑھے۔ سفیان نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہ حکم مفرد نمازی کے لیے ہے۔
(۵) عبادہ بن صامت سے دوسری روایت میں ہے کہ ہم نبی ﷺ کی اقتدامیں صبح کی نماز میں تھے۔ آپؐ نے قراء ت فرمائی تو آپ کو دقت پیش آئی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو مقتدیوں کی طرف رخ کرکے فرمایا شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ !ہم ایسا کرتے ہیں۔ فرمایا، ایسا نہ کیا کرو، البتہ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ پڑھا کرو، کیونکہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی نماز نہیں ہوئی۔
(۶) حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر مقتدیوں کی طرف پھرے۔ یہ نماز وہ تھی جس میں آپؐ نے جہری قراء ت فرمائی تھی۔ آپؐ نے اپنے مقتدیوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ پڑھا تھا؟ ایک مقتدی بولا، یا رسول اللہ! میں نے پڑھا تھا۔ فرمایا: میں کہہ رہا تھا کہ کیوں تلاوت قرآن میں میرے ساتھ کشاکشی ہو رہی ہے۔ راوی کا قول ہے کہ لوگوں نے نبی ﷺ کے ساتھ پڑھنا بند کردیا۔ یہ بات ان نمازوں میں تھی جن میں آپ جہری قراء ت فرماتے تھے اور مقتدی آپؐ کی قراء ت سنتے ہوتے تھے۔
حضرت انسؓ سے ایک روایت اس مفہوم کی بھی مروی ہے کہ امام کے پیچھے اپنے جی میں فاتحہ پڑھی جائے:
(۳)عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَلّٰی بِاَصْحَابِہ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ اَقْبَلَ عَلَیْہِمْ بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: اَتَقْرَئُ وْنَ فِیْ صَلَاتِکُمْ خَلْفَ الْاِمَامِ وَالْاِمَامُ یَقْرَأُ؟ فَسَکَتُوْا۔ قَالَہَاثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ اَوْ قَائِلُوْنَ: اِنَّا لَنَفْعَلُ، قَالَ: لَاتَفْعَلُوْا وَلْیَقْرَأْ اَحَدُ کُمْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ فِیْ نَفْسِہِ۔(۴)
ترجمہ:حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز پوری کرلی تو اپنا رخ مبارک مقتدیوں کی جانب پھیر کر دریافت فرمایا۔ کیا تم امام کے پیچھے جب کہ امام قراء ت جہری کر رہا ہو، کچھ پڑھا کرتے ہو؟ سب خاموش رہے۔ آپؐ نے یہ سوال تین مرتبہ دہرایا تو ایک یا زیادہ کہنے والوں نے عرض کیا ہاں ہم ضرور ایسا کرتے ہیں۔ فرمایا، ایسا مت کرو۔ البتہ تم میں سے ہر ایک سورہ فاتحہ اپنے جی میں ضرور پڑھا لیا کرے۔
ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۴)قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِاُمِّ الْقُرْاٰنِ فَہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ۔(۵)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی جس میں ام القرآن (فاتحہ)  کی تلاوت نہ کی، تو وہ نماز خداج رہی، یعنی ناتمام ونامکمل۔
(۵)حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْجَزَرِیُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْاَعْلیٰ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ عَبَّادِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: کُلُّ صَلَاۃٍ لَا یُقْرَأُ فِیْہَا بِاُمِّ الْکِتٰبِ فَہِیَ خِدَاجٌ۔
ترجمہ:  حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سناہے: ’’ہر وہ نماز جس میں ام الکتاب (سورۂ فاتحہ) نہ پڑھی جاتی ہو، وہ خداج ہے۔‘‘
(۶)عَنْ عَمْرِ وبْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: کُلُّ صَلوٰۃٍ لَا یُقْرَاُفِیْہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ فَہِیَ خِدَاجٌ، فَہِیَ خِدَاجٌ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’ ’ ہر ایسی نماز جس میں       فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ نہ پڑھی جاتی ہو، وہ خداج ہے، وہ خداج ہے ( ناقص ہے)۔
ـــــــ امام ترمذی نے ’’بَابُ مَاجَائَ فِی الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ ‘‘ اور ’’بَابُ مَاجَائَ فِیْ تَرْکِ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ اِذَا جَہَرَ الْاِمَامُ بِالْقِراَئَ ۃِ ‘‘ میں اچھی اور مفید بحث کی ہے۔
(۷)عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الصُّبْحَ، فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَاَئَ ۃُ۔ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: اِنِّیْ اَرَاکُمْ تَقْرَئُ وْنَ وَرَآئَ اِمَامِکُمْ، قَالَ: قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِیْ وَاللّٰہِ، قَالَ: لَاتَفْعَلُوْا اِلَّا بِاُمِّ الْقُرْاٰنِ، فَاِنَّہُ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَاْبِہَا۔(۷)
ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر پڑھائی۔ آپ کو قراء ت میں دقت محسوس ہوئی۔ جب نماز سے فارغ ہو کر مقتدیوں کی طرف منہ پھیرا تو دریافت فرمایا ’’ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے رہتے ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ بخدا ہم ایسا کرتے ہیں۔ فرمایا ’’ ام القرآن (سورہ فاتحہ)  کے ماسوا اور کچھ نہ پڑھا کرو۔ یہ اس لیے کہ جس نے اسے نماز میں نہ پڑھا اس کی نماز نہیںہوئی۔
ـــــــ قَالَ وَفِی الْبَابِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، وَعَائِشَۃَ، وَاَنَسٍ، وَاَبِیْ قَتَادَۃَ، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و، قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: حَدِیْثُ عُبَا دَۃَ حَدْیِثٌ حَسَنٌ۔ وَرَوٰی ہٰذَا الْحَدِیْثَ الزُّہْرِیُّ، عَنْ مَحْمُوْدِبْنِ الرَّبِیْعِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ۔ وَہٰذَا اَصَحُّ وَالْعَمَلُ عَلیٰ ہَذَا الْحَدِیْثِ فِی الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ عِنْدَ اَکْثَرَ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَالتَّابِعِیْنَ۔ وَہُوَقَوْلُ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ، وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ یَرَوْنَ الْقِرَائَ ۃَ خَلْفَ الْاِمَامِ۔
قراء ۃ خلف الامام کا دوسرا رخ
تخریج:(۱)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلوٰۃٍ جَہَرَفِیْہَا بِالْقِرَائَ ۃِ،فَقَالَ: ہَلْ قَرَاَمَعِیْ اَحَدٌ مِّنْکُمْ اٰنِفًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: اِنِّیْ اَقُوْلُ مَالِیْ اُنَازَعُ الْقُرْاٰنَ، قَالَ: فَانْتَہیَ النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا یَجْہَرُ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الصَّلَواتِ بِالْقِرَائَ ۃِ حِیْنَ سَمِعُوْا ذٰ لِکَ مِنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ۔وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَعِمْرَ انَ بْنِ حُصَیْنٍ، وَجَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ۔(۸)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ایک نماز سے فارغ ہو کر مقتدیوں کی جانب منہ پھیرا ۔ اس میں جہری قراء ت فرمائی تھی۔ کیا تم میں سے کسی نے اس نماز میں میرے ساتھ کچھ پڑھاتھا؟ ایک مقتدی نے عرض کیا۔ ہاں، اے اللہ کے رسولؐ! آپؐ نے فرمایا! میں بھی دل میں کہہ رہا تھا کہ مجھے کیا ہوا کہ قرآن کی تلاوت میں میرے ساتھ تکرار ہورہی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ جن نمازوں میں آپؐ جہری قراء ت فرماتے تھے ان میں لوگوں نے آپؐ کے پیچھے پڑھنا چھوڑدیا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسیٰ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔ وَابْنُ اُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیْ، اِسْمُہُ عُمَارَۃُ، وَیُقَالُ عَمْرُوبْنُ اُکَیْمَۃَ۔
ـــــــ وَرَوٰی بَعْضُ اَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ وَذَکَرُوْا ہٰذَا الْحَرْفَ، قَالَ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ حِیْنَ سَمِعُوْا ذٰلِکَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔
ـــــــ  وَلَیْسَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَا یَدْخُلُ عَلیٰ مَنْ رَاٰی الْقِرَاَئَ ۃَ خَلْفَ الْاِمَامِ۔ لِاَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ہُوَ الَّذِیْ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ہٰذَا الْحَدِیْثَ۔ وَرَوٰی اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ، قَالَ مَنْ صَلّٰی صََلوٰۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِاُمِّ الْقُرْاٰنِ فَہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ۔ فَقَالَ لَہُ حَامِلُ الْحَدِیْثِ اِنِّیْ اَکُوْنُ اَحْیَانًا وَرَآئَ الْاِمَامِ، قَالَ: اِقْرَاْبِہَا فِیْ نَفْسِکَ۔
ـــــــ وَرَوٰی اَبُوْ عُثْمَانَ النَّہْدِیُّ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: اَمَرَنِی النَّبِیُّ ﷺ اَنْ اُنَادِیَ اَنْ لَّا صَلوٰۃَ اِلَّا بِقِرَائَ ۃِ۔ فَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ۔
ـــــــ وَاخْتَارَ اَصْحَابُ الْحَدِیْثِ اَنْ لَّا یَقْرَأَ الرَّجُلُ اِذَا جَہَرَ الْاِمَامُ بِالْقِرَائَ ۃِ، وَقَالُوْا:یَتَّبِعْ سَکْتَاتِ الْاِمَامِ وَقَدِ اخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ فِی الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ،
ـــــــ فَرأیٰ اَکْثَرُ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَالتَّابِعِیْنَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ الْقِرَاَئَ ۃَ خَلْفَ الْاِمَامِ، وَبِہ یَقُوْلُ مَالِکٌ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُبَارَکِ اَنَّہُ قَالَ اَنَا اَقْرَاُ خَلْفَ الْاِمَامِ وَالنَّاسُ یَقْرَئُ وْنَ اِلَّا قَوْمٌ مِنَ الْکُوْفِّیِیِّنَ۔ وَاَرٰی اَنَّ مَنْ لَّمْ یَقْرَأْ صَلوٰتُہُ جَائِزَۃٌ۔ وَشَدَّ دَ قَوْمٌ مِنْ اَہْلِ الْعِلْمِ فیْ تَرْکِ فَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ وَاِنْ کَانَ خَلْفَ الْاِمَامِ۔ فَقَالُوْ ا لَا تُجْزِیُ صَلوٰۃٌ اِلَّا بِقِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، وَحْدَہٗ کَانَ اَوْ خَلْفَ الْاِمَامِ، وَذَہَبُوْا اِلیٰ مَارَویٰ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَقَرَأَ عُبَادَۃُ ابْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِیِّ ﷺ خَلْفَ الْاِمَامِ وَتَاَوَّلَ قَوْلَ النَّبِیِّ ﷺ لَاصَلوٰۃَ اِلَّابِقِرَائَ ۃِ فَاِتِحَۃِ الْکِتَابِ وَبِہِ یَقُوْلُ الشَّافِعِیُّ وَاِسْحَاقُ وَغَیْرُہُمَا۔ وَاَمَّا اَحْمَدُبْنُ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: مَعْنٰی قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ لَاصَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ اِذَا کَانَ وَحْدَہُ۔ وَاحْتَجَّ بِحدِیْثِ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ حَیْثُ قَالَ مَنْ صَلّٰی رَکْعَۃً لَمْ یَقْرَاْفِیْہَا بِاُمِّ الْقُرْاٰنِ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ وَرَآئَ الْاِمَامِ۔ قَالَ اَحْمَدُ: فَہٰذَا رَجُلٌ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّﷺ تَاَوَّلَ قَوْلَ النَّبِیِّ ﷺ لَا صَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَاْبِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ۔ اِنَّ ہٰذَا اِذَا کَانَ وَحْدَہُ وَاخْتَارَ اَحْمَدُ مَعَ ہٰذَا الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ وَاَنْ لَّا یَتْرُکَ الرَّجُلُ فَاتِحَۃَ الْکِتٰبِ وَاِنْ کَانَ خَلْفَ الْاِمَامِ۔
ـــــــ اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ وغیرہ سے روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی کی رائے ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ ابن اکیمہ اللیثی کا نام عمارۃ ہے اور کبھی عمرو بن اکیمہ بھی بولا جاتا تھا۔
اس حدیث کو امام زہری کے بعض شاگردوں نے بایں الفاظ بھی روایت کیا ہے کہ زہری نے کہا ہے کہ جس وقت لوگ نبی ﷺ کی قراء ت سنتے تھے تو خود رک جاتے تھے۔
اس حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو قرا ء ت خلف الامام کے لیے راستہ نہ نکالتی ہو۔ کیونکہ ابوہریرہؓ اس کے راوی ہیں اور ان کی روایت میں صاف طور پر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کوئی نماز پڑھی، جس میں اس نے اُم القرآن کو نہ پڑھا وہ نماز خداج، یعنی ناتمام ہے۔ایک صاحب نے ابوہریرہؓ سے پوچھا کہ اکثر اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں۔ ابوہریرہؓ نے جواب دیا کہ اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔
حضرت ابوہریرہؓ سے ابو عثمان نہدی نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مجھے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ میں یہ منادی کر دوں کہ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
اصحاب الحدیث نے اس کو مختار مسلک قرار دیا ہے کہ جب امام جہراًپڑھ رہا ہو تو پھر مقتدی کو کچھ نہ پڑھنا چاہیے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ امام جہاں جہاں سکتہ، یعنی وقفہ کرے وہاں پڑھ لیا کرے۔ اہل علم کے مابین قراء ۃ خلف الامام کے مسئلہ میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔
نبی ﷺ کے اکثر صاحب علم صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کی اکثریت اس طرف ہے کہ فاتحہ خلف الامام پڑھی جائے۔ امام مالکؒ ،ابن مبارک ، امام شافعی، امام احمد واسحاق وغیرہ کی یہی رائے ہے۔ عبداللہ بن مبارک سے یہ منقول ہے کہ میں خود بھی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتا ہوں اور دوسرے لوگ بھی، سوائے اہل کوفہ کے ایک گروہ کے ۔ اور میرا خیال ہے کہ جس نے امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز جائز ہے۔ اہل علم میں سے بعض نے فاتحہ خلف الامام کے ترک کے سلسلے میں سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انسان تنہا ہو یا جماعت کے ساتھ، دونوں صورتوں میں فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ انہوں نے دلیل کے لیے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت کو بنیاد بنایا ہے۔ عبادہ بن صامت نے خود نبیﷺ کے بعد امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی ہے اورنبی ﷺ کے ارشاد گرامی  لاَصَلوٰۃَ اِلاَّبِقِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتٰبِکو انہوںنے بنیاد بنایا ہے۔ امام شافعی اور امام اسحاق وغیرہ کی یہی رائے ہے۔ لیکن امام احمد بن حنبل نے نبی ﷺ کے ارشاد سے معنی یہ لیا ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اکیلا نماز پڑھ رہا ہو، اس نے اگر فاتحہ نہ پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوگی ۔اور  جابر بن عبداللہ کی روایت سے انہوں نے دلیل پکڑی ہے۔ جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں ام القرآن اس نے نہ پڑھی تو اس نے نماز بھی نہیں پڑھی۔ الا یہ کہ امام کے پیچھے ہو۔ امام احمد کا قول ہے۔ یہ اصحاب نبی ﷺ میں سے ہیں۔ انہوں نے لاَصَلوٰۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتٰبکی تاویل اس طرح کی ہے کہ اس سے مراد وہ صورت ہے جس میں انسان تنہا نماز پڑھ رہا ہو۔ امام احمد کا مختار مسلک یہ ہے کہ فاتحہ خلف الامام پڑھی جائے اور انسان خواہ امام کی اقتداء میں ہو، فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ نہ چھوڑے۔
جابر بن عبداللہ سے مروی روایت:
(۲) اَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَبْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، یَقُوْلُ: مَنْ صَلَّی رَکْعَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِاُمِّ الْقُرْاٰنِ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ وَرَاء الْاِمَامِ۔(۹)
ـــــــ (قَالَ اَبُوْعِیْسٰی) ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے خود نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس کسی نے ایک رکعت بھی پڑھی ۔ اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو اس نے کوئی نماز نہ پڑھی، الا یہ کہ امام کے پیچھے ہو۔
(۳)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَ لَہُ اِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الْاِمَامِ لَہُ قِرَائَ ۃٌ، لَمْ یُسْنِدْ ہُ عَنْ مُوْسیٰ بْنِ اَبِیْ عَائِشَۃَ غَیْرُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَا رَۃَ وَہُمَا ضَعِیْفَانِ۔(۱۰)
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی کا امام ہو تو امام کی قراء ت اس کی قراء ت ہے۔
ـــــــاس کے علاوہ اور روایات بھی جمع کی ہیں مزید بر آں ہر ایک روایت پرنقد و جرح بھی کی ہے، ص ۱۲۲، ج۱،سے آگے۔(۱۱)

ماخز

(۱) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب وجوب القراء ۃ للامام و الماموم فی الصلوات کلہا فی الحضر والسفر وما یجہر فیہا وما یخافت۔٭مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ الخ۔٭ ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراء ۃ فی صلوٰتہ بفاتحۃ الکتاب۔ ٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء انہ لاصلوٰۃ الابفاتحۃ الکتاب۔ ٭نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب ایجاب قراء ۃ فاتحۃ الکتاب فی الصلوٰۃ۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب القراء ۃ خلف الامام۔ ٭ دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب القراء ۃ اُمِّ الکتب فی الصلوٰۃ وخلف الامام۔ ٭ السنن الکبریٰ ج۲، کتاب الصلوٰہ، باب من قال یقرأ خلف الامام فیما یجہر فیہ ویسرفیہ۔
(۲) مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ الخ۔ ٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب من ترک القراء ۃ فی صلوٰتہ بفاتحۃ الکتٰب۔٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء انہ لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتٰب۔٭نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب قراء ۃ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم فی فاتحۃ الکتٰب۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب الادب، باب۵۲ ثواب القرآن۔٭موطا امام مالک،ج۱،کتاب الصلوٰہ، ترک القراء ۃ خلف الامام فیما لا یجہر فیہ بالقراء ۃ۔ ٭ مسند احمد، ج۲، ص ۲۴۱، ۲۸۵، ۴۶۰۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یقرء خلف الامام فیہا یجہر فیہ بالقراء ۃ بفاتحۃ الکتٰب وفیما یسرفیہ بفاتحۃ الکتٰب فصاعدا٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب لاَصلوٰۃ الابفاتحۃ الکتٰب عن عبادۃ بن الصامت ان رسول اللّٰہ ﷺ قال: من لم یقرأ بأم الکتٰب فلا صلوٰۃ لہ۔٭ موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان: کتاب الصلوٰۃ، باب القراء ۃ فی الصلوٰۃ۔
(۳) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من کرہ القراء ۃ بفاتحۃ الکتٰب اذا جہر الامام۔ ٭ نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب ترک القراء ۃ خلف الامام فیما جہربہ۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب القراء ۃ خلف الامام۔ ٭موطا امام مالک،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، ترک القراء ۃ خلف الامام فیما یجہر فیہ۔٭ دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قراء ۃ أم الکتٰب فی الصلوٰۃ وخلف الامام ۔٭ موارد الظمآن: کتاب الصلوٰۃ، باب القراء ۃ فی الصلوٰۃ۔ ٭دارمی، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب لاصلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتٰب۔ دارمی نے ’’ان رسول اللّٰہ ﷺ قال: من لم یقرأ بام الکتٰب فلاصلوٰۃ لہ‘‘ بیان کیا ہے۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یترک الماموم القراء ۃ فیما جہرفیہ الامام بالقرا ء ۃ۔
(۴) موارد الظمآن: کتاب الصلوٰۃ، باب القراء ۃ فی الصلوٰۃ۔
(۵) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب القراء ۃ خلف الامام۔
(۶) ابن ماجہ : کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب القراء ۃ خلف الامام۔
(۷) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی القراء ۃ خلف الامام۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یقرأ خلف الامام فیما یجہر فیہ وفیما یسرفیہ۔
(۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی ترک القراء ۃ خلف الامام اذا جہر الامام بالقراء ۃ۔
(۹) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی ترک القراء ۃ خلف الامام اذا جہر الامام بالقراء ۃ۔
(۱۰) دارقطنی، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر قولہ ﷺ من کان لہ امام فقراء ۃ الا مام لہ قراء ۃ وَاختلاف الروایات فی ذٰلک۔
(۱۱) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من قال لایقرا خلف الامام علی الاطلاق٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب۱۳ اذا قرأ الامام فانصتوا۔ قال فی الزوائد فی اسنادہ جابر الجعفی کذاب ، والحدیث مخالف لما رواہ الستّۃ۔

فصل:۲ رفع یدین اور آمین بالجہر

۲۔’’رفع یدین‘‘ اور ’’ آمین بالجہر‘‘ کے فعل اور ترک (پر) دونوں کی تائید میں دلائل مجھ کو تقریباً مساوی الوزن نظر آتے ہیں۔ اس لیے جو ان افعال کو کرتا ہے وہ بھی حدیث کی خلاف ورزی نہیں کررہا ہے اور جو انہیں ترک کرتا ہے اسے بھی مخالفت حدیث کاالزام نہیں دیا جاسکتا ۔ مجھے تویوں معلوم ہوتا ہے کہ صاحب شریعت علیہ السلام نے مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے عمل کیا ہے، اور اسی طرح صحابہ کرامؓ نے بھی ۔اب ایک شخص جس طریقے کی بھی پیروی کرتا ہے وہ صاحب شریعت ہی کا متبع ہے۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ اسے غیریت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے، یا اسے اپنے ہی پسندیدہ طریقہ کی طرف تشددسے کھینچا جائے۔ ہاتھ اٹھانا یا نہ اٹھانا، اور آمین زور سے کہنا یا آہستہ کہنا کوئی ایسی اہمیت نہیں رکھتا کہ ایک کا التزام اور دوسرے کے ترک کا اہتمام کیا جائے۔ (رسائل و مسائل اوّل : مذہب حنفی ۔۔۔)

رفع یدین کی فقہی حیثیت

رفع یدین کے متعلق نبی ﷺ سے پانچ مختلف طرز عمل منقول ہیں:
(۱) ابن عمرؓ کی روایت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ تین مواقع پر رفع یدین کرتے تھے۔ افتتاح صلوٰۃ کے وقت، رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھ کر۔
(۲) مالک بن حویرث کی روایت جس میں دو مو قعوں پر رفع یدین کا ذکر ملتا ہے، افتتاح صلوٰۃ کے وقت اور رکوع سے اٹھ کر۔

مالک بن حویرث سے بھی تین مواقع پر رفع یدین منقول ہے۔ یعنی افتتاح صلوۃ کے وقت ،رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھ کر۔ (مرتب)
(۳) وائل بن حجر کی روایت ، جس میں چار مواقع پر اس کا ہونا مذکور ہے۔ افتتاح صلوٰۃ کے وقت ، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، سجدہ کے موقع پر۔
(۴) ابوحمید ساعدی کی روایت۔ اس میں بھی چار موقع پر رفع یدین کا ذکر ہے، مگر چوتھا موقع سجدہ کے بجائے تیسری رکعت میں قعدہ سے اٹھنے پر بیان کیا گیا ہے۔
(۵) عبداللہ بن مسعود اور براء بن عازب کی روایت جس میں صرف ایک مرتبہ رفع یدین کرنے کا ذکر ہے یعنی افتتاح صلوٰۃ کے موقع پر۔
ابن عمر سے مروی روایت :
تخریج:(۱) حَدَّثَنا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺکَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ، وَاِذَا کَبَّرَ لِلرُّکُوْعِ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ رَفَعَہُمَا کَذٰلِکَ اَیْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَکَانَ لَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی السُّجُوْدِ۔(۱)
ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد (عبداللہ بن عمرؓ) کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ افتتاح صلوٰۃ کے موقع پر اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھایا کرتے تھے اور جب رکوع کے لیے تکبیر فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے دونوں موقعوں پر بھی رفع الیدین کرتے تھے اور یہ کلمات پڑھتے تھے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ جس نے اس کی حمد کی اس کی اس نے دعا سن لی۔ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ اے پروردگار اور حمد تیرے ہی لیے سزا وار ہے۔ سجدہ کی حالت میں ایسا نہ کرتے تھے۔
(۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَیْتُ رسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ فِی الصَّلوٰۃِ رَفَعَ یَدَیْہ حتّٰی تَکُوْنا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ حِیْنَ یُکَبِّرُ للرُّکُوعِ، وَیَفْعَلُ ذٰلِکَ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ و یقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حمدَہ ولا یفْعَلُ ذٰلِکَ فِی السُّجُودِ۔(۲)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، جب آپؐ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ دونوں کندھوں تک ہوتے، اور یہ فعل آپؐ رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے وقت بھی کرتے تھے اور رکوع سے سر اوپراٹھاتے وقت بھی اور سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ سجدے کی حالت میں ایسا نہ کرتے تھے۔
(۳) اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: رَاَیْتُ النَّبِیّ ﷺ افْتَتَحَ التَّکْبِیْرَ فِی الصَّلوٰۃِ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ حِیْنَ یُکَبِّرُ حَتّٰی یَجْعَلَہُمَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَاِذَا کَبَّرَ لِلرُّکُوْعِ فَعَلَ مِثْلَہُ، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، فَعَلَ مِثْلَہُ، وَقَالَ: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ حِیْنَ یَسْجُدُ وَلاَحِیْنَ یَرْفَعُ رَاْسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ۔(۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو خو ددیکھا ہے کہ آپ نماز کے آغاز کے لیے جب تکبیر تحریمہ کہتے تو ساتھ ہی اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ کندھوں کے برابر ہوجاتے، اور جب رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ اور جب رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہتے توبھی اسی طرح کرتے اور ساتھ ہی رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ بھی کہتے۔ ایسا آپؐ سجدے میں اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت نہ کرتے تھے۔
(۴) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ (بْنُ مُحَمَّدِ) بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ مَنْکِبَیْہِ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَرْکَعَ وَبَعْدَمَا یَرْفَعُ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ ، وَاَکْثَرُ مَا کَانَ یَقُوْلُ: وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَلَایَرْفَعُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔(۴)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خود دیکھا ہے جب آپؐ نماز کا آغاز فرماتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے، یہاں تک کہ اپنے کندھوں کے برابر تک لے جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے۔
ـــــــ ابن عمر نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ سجدوں کے درمیان آپؐ اس طرح نہ کرتے تھے۔
امام ترمذی نے روایت نقل کرنے کے بعد مندرجہ ذیل الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے:
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی : حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَبِہٰذَا یَقُوْلُ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ ، مِنْہُمْ ابْنُ عُمَرَ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَاَبُوْ ہُرَیْرَۃَ وَاَنَسٌ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ وَغَیْرُ ہُمْ۔
ـــــــ وَمِنَ التَّابِعِیْنَ الْحَسَنُ الْبَصَرِیُّ، وَعَطَائٌ، وَطَاوُسٌ، وَمُجَاہِدٌ، وَنَافِعٌ، وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، وَسَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ، وَغَیْرُہُمْ، وَبِہِ یَقُوْلُ مالک، ومعمر، والأوزاعی، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، وَالشَّافِعِیُّ، وَاَحْمَدُ، وَاِسْحَاقُ، وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکَ قَدْ ثَبَتَ حَدِیْثُ مَنْ یَّرْفَعُ یَدَیْہِ وَذَکَرَ حَدْیِثَ الزُّہْرِیِّ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، وَلَمْ یَثْبُتْ حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَمْ یَرْفَعْ (یَدَیْہِ) اِلَّافِیْ اَوَّلِ مَرَّۃٍ۔
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں کہ ابن عمر کی روایت حسن صحیح ہے۔ اہل علم صحابہ کرامؓ میں سے ابن عمر، جابر ابن عبداللہ، ابوہریرہ، انس ، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ اسی کے قائل تھے۔
تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طائوس ، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ اور سعید بن جبیر وغیرہ بھی اسی کے قائل تھے۔ ائمہ میں سے مالک، معمر، اوزاعی،عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق نے بھی اسی رائے کو اختیار کیاہے۔ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث ثابت ہوچکی ہے۔ اور زہری نے سالم عن ابیہ کے حوالہ سے بیان کی ہے۔ البتہ ابن مسعود کی یہ روایت کہ نبی ﷺ نے صرف افتتاح صلوٰۃ کے وقت ہی رفع الیدین کیا ہے، ثابت نہیں ہے۔
(۵) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلیٰ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللّٰہِ وَہُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلوٰۃِ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَرْکَعَ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَاِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ کَذٰلِکَ حَذْوَالْمَنْکِبَیْنِ۔(۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو آپ رفع الیدین کرتے اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ فرماتے تب بھی اور جب رکوع سے سراٹھاتے تب بھی اور دو رکعت کے (تشہدکے) بعد اٹھتے وقت بھی رفع الیدین کرتے تھے۔ اور دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔
مالک بن الحویرث سے مروی روایت:
(۶) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ الْوَاسِطیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، اَنَّہُ رَاٰی مَالِکَ بْنَ الْحُوَیْرِثِ اِذَا صَلّٰی کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَرْکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ رَفَعَ یَدَیْہِ وَحَدَّثَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَنَعَ ہٰکَذَا۔(۶)
ترجمہ: ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مالک بن حویرث کو دیکھا ہے کہ وہ جب نماز پڑھنے لگتے تو اللہ اکبر کہتے اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ اوپر اٹھاتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو بھی اپنے ہاتھ اوپر اٹھاتے (رفع الیدین کرتے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع الیدین کرتے اور مالک بن حویرث نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔
نسائی نے اس روایت کو درج ذیل عبارت میں روایت کیا ہے:
(۷) عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ کَانَ اِذَا صَلّٰی رَفَعَ یَدَیْہِ حِیْنَ یُکَبِّرُ حِیَالَ اُذُنَیْہِ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ۔(۷)
ترجمہ:حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے ( اور مالک بن حویرث صحابیؓ ہیں) کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو تکبیر (اللہ اکبر کہنے کے ساتھ) اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کرنا چاہتے اس وقت بھی اور رکوع سے سر اٹھانے کے موقع پر بھی رفع الیدین کرتے تھے۔
ابودائود نے مالک بن الحویرث سے جو روایت نقل کی ہے اس میں ہے:
(۸) رَاَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا کَبَّرَ، وَاِذَا رَکَعَ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ، مِنَ الرُّکُوْعِ، حَتّٰی یَبْلُغَ بِہِمَا فُرُوْعَ اُذُنَیْہِ۔(۸)
ترجمہ: حضرت مالک بن حویرث کا بیان ہے کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ نبی ﷺ جب تکبیر (تحریمہ) کہتے تب بھی اور جب رکوع کرتے تب بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی رفع الیدین کرتے تھے۔ آپؐ اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کی کنپٹیوں تک اٹھاتے تھے۔
وائل بن حجر سے مروی روایت:
(۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَبْنِ مَیْسَرَۃَ الْجُشَمِیُّ، ثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ ابْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ جُحَادَۃَ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْجَبَّارِ ابْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: کُنْتُ غُلَامًا لَا اَعْقِلُ صَلَاۃَ اَبِیْ، قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ اِذَا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ اَخَذَ شِمَالَہُ بیَمِیْنِہِ وَاَدْخَلَ یَدَیْہِ فِیْ ثَوْبِہِ، قَالَ: فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَرْکَعَ اَخْرَجَ یَدَیْہِ ثُمَّ رَفَعَہُمَا، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ رَفَعَ یَدَیْہِ، ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْہَہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ اَیْضًا رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی فَرَغَ مِنْ صَلوٰتِہِ۔(۹)
ترجمہ: وائل ابن حجر کے صاحب زادے عبدالجبار کا بیان ہے کہ میں بچہ تھا اور اپنے ابا جان کی نماز نہیں سمجھتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وائل بن علقمہ نے وائل بن حجر کے حوالے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔ آپ جب اللہ اکبر کہتے تھے تو رفع الیدین بھی کرتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر انہوں نے اپنے آپ کو کپڑے میں لپیٹ لیا اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا اور اپنا ہاتھ کپڑے میں چھپا لیا۔ راوی کا بیان ہے کہ جب رکوع میںجانے کا ارادہ ہوتا تو ہاتھ کپڑے سے باہر نکال کر رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھانے کا ارادہ ہوتا تو بھی رفع الیدین کرتے۔ پھر آپ نے سجدہ کیا، اپنا چہرہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان میں رکھا اور جب سجدے سے سر اٹھایا تو اسی طرح رفع الیدین کیا۔ تاآنکہ نماز سے فارغ ہوگئے۔ محمد کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر حسن بن ابو الحسن سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے۔ جس نے اس کے مطابق کیا اس نے سنت کے مطابق کیا اور جس نے اسے ترک کردیا اس نے سنت ترک کی۔ ابودائود نے کہا کہ اس حدیث کو ابن جحادہ کے واسطہ سے ہمام نے بھی روایت کیا ہے، اس نے تو سجدے سے سر اٹھا تے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا۔
ـــــــ قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلْحَسَنِ بْنِ اَبِیْ الْحَسَنِ ، فَقَالَ: ہِیَ صَلوٰۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَعَلَہُ مَنْ فَعَلَہُ وَتَرَکَہُ مَنْ تَرْکَہُ، قَالَ اَبُوْدَاؤٗدَ: رَویٰ ہٰذَا الْحَدِیْثَ ہَمَّامٌ، عَنِ ابْنِ جَحَادَۃَ، لَمْ یَذْکُرْ اَلرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُوْدِ۔
(۱۰) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَاَنْظُرَنَّ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ یُصَلِّیْ۔ فَقَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا أُذْنَیْہِ، فَلَمَّا رَکَعَ رَفَعَہُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ۔ فَلَمَّا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، رَفَعَہُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے تہیّا کر لیا تھا کہ میں آپ کی نماز ضرور اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا کہ آپ کس طرح پڑھتے ہیں۔ آپ نماز کے لیے قبلہ رخ کھڑے ہوئے۔ اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے کہ کانوں تک پہنچ گئے۔ جب آپ نے رکوع کیا تو اسی طرح رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر بھی پہلے کی طرح رفع الیدین کیا۔
ابن عمر کا ذاتی عمل:
(۱۱)عَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلوٰۃِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا رَکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، رَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ، رَفَعَ یَدَیْہِ، وَرَفَعَ ذٰلِکَ ابْنُ عُمَرَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ : رواہ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَرَوَاہُ ابْنُ طَہْمَانَ عَنْ اَیُّوْبَ وَمُوْسٰی بْنِ عُقْبَۃَ مُخْتَصَرًا۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت نافع ابن عمر کا اپنا معمول بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کے ساتھ ہی رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع الیدین کرتے اور جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہتے تب بھی رفع الیدین کرتے اور جب تشہد سے اٹھتے تو بھی رفع الیدین کرتے۔ ابن عمر اس عمل کو مرفوع بیان کرتے تھے ( یہ فعل نبیﷺ کا ہے)۔
ابودائود نے اس طرح بھی بیان کیا ہے:
(۱۲) عَنِ ابْنِ عَمَرَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ وَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ (۱۲)
ترجمہ: عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دو رکعت کے بعد تشہد پڑھ کر کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔
حضرت علیؓ بن ابی طالب کی روایت:
(۱۳) عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہُ کَانَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلوٰۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَیَصْنَعُ مِثْلَ ذٰلِکَ اِذَا قَضیٰ قِرَائَ تَہُ وَاَرَادَ اَنْ یَرْکَعَ وَیَصْنَعُہُ اِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوْعِ وَلَا یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِیْ شَییٍٔ مِنْ صَلوٰتِہِ وَہُوَ قَاعِدٌ وَاِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ کَذٰلِکَ وَکَبَّرَ۔(۱۳)
ترجمہ:حضرت علیؓ بن ابو طالب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ، تکبیر کہتے اور رفع الیدین کرتے اور دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جب آپؐ قراء ت پوری فرمالیتے اور رکوع کو جانے لگتے تب بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے تب بھی رفع الیدین کرتے۔ قعدے کی حالت میں نماز کے کسی حصے میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے اور جب دو سجدوں سے اٹھتے تو بھی رفع الیدین کرتے اور تکبیر کہتے۔
ابو حمید الساعدی سے مروی روایت:
(۱۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ح َ وَثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنا یَحْیٰ وَہٰذا حَدِیْثُ اَحْمَدَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ یَعْنِیْ ابْنُ جَعْفَرٍ، اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ عَمْرِ و بْنِ عَطَآئٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاحُمَیْدِنِ السَّاعِدِیَّ فِیْ عَشْرَۃٍ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنْہُمْ اَبُوْ قَتَادَۃَ، قَالَ اَبُوْ حُمَیْدٍ: اَنَا اَعْلَمُکُمْ بِصَلوٰۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالُوْا : فَلِمَ؟ فَوَ اللّٰہِ مَا کُنْتَ بِاَکْثَرِ نَا لَہُ تَبْعَۃً وَلَا اَقْدَمَنَا لَہُ صُحْبَۃً، قَالَ: بَلیٰ، قَالُوْا: فَاَعْرِضْ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلوٰۃِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حَتّٰی یَقِرَّ کُلُّ عَظْمٍ فِیْ مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ یَقْرَاُثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ ثُمَّ یَرْکَعُ وَیَضَعُ رَاحَتَیْہِ عَلیٰ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ یَعْتَدِلُ فَلَا یَصُبُّ رَاْسَہُ وَلَا یُقْنِعُ ثُمَّ یَرْفَعُ رَاْسَہُ فَیَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَ ہُ ثُمَّ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ مُعْتَدِ لًا ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ یَہْویْ اِلَی الْاَرْضِ فَیُجَافِیْ یَدَیْہِ عَنْ جَنَبَیْہِ ثُمَّ یَرْفَعُ رَاْسَہُ وَیُثْنِیْ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَیَقْعُدُ عَلَیْہَا وَیَفْتَحُ اَصَابِعَ رِجْلَیْہِ اِذَا سَجَدَ وَیَسْجُدُ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَیَرْفَعُ (رَأْسَہٗ وَ یُثْنِیْ رِجْلَہٗ الْیُسْرٰی فَیَقْعُدُ عَلَیْھَا حَتّٰی یَرْجِعَ کُلُّ عَظِمٍ اِلی مَوْضِعِہِ، ثُمَّ یَصْنَعُ فِی الْاُخْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ اِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْن کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ کَمَا کَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلوٰۃِ، ثُمَّ یَصْنَعُ ذٰلِکَ فِیْ بَقِیَّۃِ صَلَاتِہِ حَتّٰی اِذَا کَانَتِ السَّجْدَۃُ الَّتِیْ فِیْہَا التَّسْلِیْمُ اَخَّرَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَقَعَدَ مُتَوَرِّ کًا عَلیٰ شِقِّہِ الْاَیْسَرِ، قَالُوْا: صَدَقْتَ ہٰکَذَا کَانَ یُصَلِّی ﷺ۔(۱۴)
ترجمہ: محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ میں نے ابوحمید ساعدی کو دس صحابہؓ کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بھی تھے، یہ بیان کرتے سنا ہے کہ رسول اللہؐ کی نماز کا مجھے تم حضرات سے زیادہ علم ہے (کہ کس طرح پڑھتے تھے) دوسرے صحابہؓ نے پوچھا وہ کس طرح؟ جب کہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ کے ساتھ نہیں رہے اور ہم سے زیادہ قدیم آپ کی مصاحبت بھی نہیں ہے۔ ابوحمید نے کہا ہاں! (ایسا ہی ہے) انہوں نے کہا اچھا تو پھر پیش کرو۔ ابو حمید نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے۔ پھر اللہ اکبر کہتے۔ یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی اپنی اصل جگہ پر اعتدال کے ساتھ سکون پذیر ہوجاتا۔ پھر آپؐ قراء ت فرماتے۔ پھر اللہ اکبر کہتے اورساتھ ہی رفع الیدین کرتے کہ دونوں ہاتھ کندھوں تک لے جاتے۔ پھر رکوع میں جاتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھتے۔ اس طرح کہ نہ تو سر پیٹھ سے اونچا اٹھا ہوا ہوتا اور نہ نیچے ہوتا۔( اعتدال و تواز ن کے ساتھ پشت کی سطح برابر ہوتی)۔ پھر رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور دونوں ہاتھوں کو اتنا اونچا اٹھاتے کہ کندھوں کے برابر ہوجاتے اور حالت اعتدال میں کھڑے ہوتے۔ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھک جاتے، یعنی سجدہ میں چلے جاتے۔ دونوں بازو اپنے پہلوئوں سے ذرا ہٹا کر رکھتے پھر سجدہ سے سراٹھاتے اور بایاں پائوں زمین پر بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور پاؤں کی انگلیوں کو سجدے میں جاتے وقت کھول دیتے اور حالتِ سجدہ میں کہتے۔ اللہ اکبر۔ پھر اپنا سرسجدے سے اٹھاتے اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے۔ اس اعتدال و سکون کے ساتھکہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر سکون پذیر ہوجاتا۔ پھر اسی طرح دوسری رکعت کرتے جب دو رکعت کے بعدتشہد سے اٹھتے تو پھر رفع الیدین کرتے اور دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اپنے کندھوں تک اوپر اٹھاتے جس طرح افتتاح صلوٰۃ کے وقت اٹھاتے تھے۔ پھر اپنی باقی نماز بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔ البتہ جب نماز کاآخری سجدہ ہوتا تو پھر اس طرح بیٹھتے کہ بایاں پائوں دائیں ران کے نیچے سے بڑھاکر اپنی سرین پر بیٹھ جاتے ۔ سب بولے آپؐ نے بالکل سچ اور درست بیان کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے رہے تھے۔
عبداللہ ؓ بن مسعود سے مروی روایت:
(۱۵) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَناوَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، یَعْنِیْ اِبْنَ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ: اَلَا اُصَلِّیْ بِکُمْ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ فَصَلَّی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ اِلَّا مَرَّۃً، قَالَ اَبُوْ دَاوُدَ: ہٰذَا حَدِیْثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ وَلَیْسَ ہُوَ بِصَحِیْحٍ عَلیٰ ہٰذَا اللَّفْظِ۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت علقمہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھائوں (یہ کہہ کر) انہوں نے نماز پڑھائی اور رفع الیدین ایک ہی موقعہ پر کیا۔ ابودائود نے کہا کہ یہ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ ان الفاظ سے یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
نسائی میں ہے:
(۱۶)اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِصَلوٰۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔(۱۶)
ترجمہ: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتائوں ، یہ کہہ کر کھڑے ہوئے پہلے موقع پر رفع الیدین کی پھر اس کا اعادہ نہیں کیا۔
(۱۷) عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ: اَلَا اُصَلِّیْ بِکُمْ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ؟ فَصَلّٰی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ اِلَّا فِیْ اَوَّلِ مَرَّۃٍ، قَالَ: وَفِی الْبَابِ عَنِ الْبَرَآئِ بْنِ عَازِبٍ: قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی : حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ وَبِہِ یَقُوْلُ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَالتَّابِعِیْنَ وَہُوَ قُوْلُ سُفْیَانَ وَاَہْلِ الْکُوْفَۃِ۔(۱۷)
ترجمہ: علقمہ سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں، پھر نماز پڑھائی رفع الیدین صرف افتتاح الصلوٰۃ کے وقت کیا۔
ـــــــ امام ترمذی نے ابن مسعود کی روایت کو حسن کہا ہے۔ بہت سے اہل علم صحابہؓ اور تابعین مثلاً سفیان اور اہل کوفہ نے اسی کو اختیار کیا۔
ـــــــ وَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَدْ ثَبَتَ حَدِیْثُ مَنْ یَرْفَعُ وَذَکَرَ حَدِیْثَ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، وَلَمْ یَثْبُتْ حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَمْ یَرْفَعْ (یدیہ) اِلَّا فِیْ اَوَّلِ مَرَّۃٍ۔(۱۸)
ـــــــ عبداللہ بن مبارک نے کہاکہ رفع الیدین والی حدیث ثابت ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ مواقع والی۔ ابن مسعود کی حدیث ثابت نہیں کہ نبی ﷺ نے صرف افتتاح صلوٰۃ کے وقت ہی رفع الیدین کیا ہے۔
براء بن عازب کی روایت:
(۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ یَزِیْدَ ابْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنِ الْبَرَآئِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ اِلیٰ قَرِیْبٍ مِنْ اُذُنَیْہِ، ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔(۱۹)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کا افتتاح فرماتے تو اپنے دونوں کانوں کے قریب تک رفع الیدین کرتے۔ مگر پھر دوبارہ ایسا نہ کرتے تھے۔
سفیان نے کہا، بعد میں کوفہ میں ہم سے ثُمَّ لَا یَعُوْدُ بیان کیا۔
ـــــــ قَالَ سُفْیَانُ: قَالَ لَنَابِالْکُوْفَۃِ بَعْدُ، ثُمَّ لَا یَعُوْدُ، قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَرَوٰی ہٰذَا الْحَدِیْثَ ہُشَیْمٌ وَخَالِدٌ وَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ یَزِیْدَ وَلَمْ یَذْ کُرُوْا ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔
ابودائود کی رائے ہے کہ یزید سے بن ادریس خالد اور ہشیم نے بھی اس روایت کو بیان کیاہے، مگر انہوں نے ثُمَّ لَایَعُوْدُ ذکر نہیں کیا۔
(۱۹) عَنِ الْبَرَآئِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ رَفَعَ یَدَیْہِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ ثُمَّ لَمْ یَرْفَعْہُمَا حَتّٰی انْصَرَفَ۔(۲۰)
ترجمہ: براء بن عازب سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو افتتاح صلوٰۃ کے موقع پر رفع الیدین کرتے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ اختتام نماز تک آپؐ نے کسی موقع پر رفع الیدین نہیں کیا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: ہٰذا الْحَدِیْثُ لَیْسَ بِصَحِیْحٍ۔
ـــــــ ابودائود کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
ـــــــ مصنف ابن ابی شیبہ میں اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ لَا یَرْ فَعُہُمَا حَتّٰی یَفْرُغَ منقول ہے۔مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ نبی ﷺ افتتاح صلوٰۃ کے وقت تو رفع الیدین کرتے تھے۔ پھر نماز سے فارغ ہونے تک رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
جابر بن عبداللہ سے مروی روایت:
(۲۰) عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، اَنَّ جَابِرَ ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ، کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ وَاِذَا رَکَعَ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ وَیَقُوْلُ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ وَرَفَعَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ طَہْمَانَ یَدَیْہِ اِلیٰ اُذُنَیْہِ۔(۲۱)
ترجمہ: حضرت ابوالزبیر روایت کرتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے۔ جب رکوع میں جاتے اس وقت بھی اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی رفع الیدین کرتے اور فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان نے بھی کانوں تک رفع الیدین کیا ہے۔
ابن عمرسے مروی روایت:
(۲۱) کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ لِلصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی تَکُوْنَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ثُمَّ کَبَّرَ۔ (۲۲)
ترجمہ: ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھاتے کہ کندھوں کے برابر ہوجاتے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع فرماتے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت :
(۲۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی الصَّلوٰۃِ حَذْوَمَنْکبیْہِ حِیْنَ یَفْتَتِحُ الصَّلوٰۃَ وَحِیْنَ یَرْکَعُ وَحِیْنَ یَسْجُدُ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آغاز نماز، او ر رکوع میں جاتے وقت اور سجدہ کرتے وقت اپنے کندھوں تک رفع الیدین کرتے خود دیکھا ہے۔
عمیر بن حبیبؓ کہتے ہیں:
(۲۳) کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَرْفَعُ یَدَیْہِ مَعَ کُلِّ تَکْبِیْرَۃٍ، فِی الصَّلوٰۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ۔ (۲۳)
ترجمہ: حضرت عمیر بن حبیب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرض نماز کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
ابن عباسؓ کی بھی ایک روایت:
(۲۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ عِنْدَ کُلِّ تَکْبِیْرَۃٍ۔ (۲۴)
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر تکبیر کے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
حضرت انسؓ سے مروی روایت:
(۲۵) عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلوٰۃِ، وَاِذَا رَکَعَ۔(۲۵)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے اور جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
تشریح: ان مختلف روایات میں سے (۱) کو (امام) شافعی، احمد اور ابوثور نے، نیز اہل الحدیث اور اہل الظاہر کی اکثریت نے اختیار کیا اور ایک روایت امام مالک سے بھی یہی ہے کہ وہ اس کو ترجیح دیتے تھے۔ (۴) کو اہل حدیث کے ایک گروہ نے مرجح ٹھہرایا اور (۵)کو ابراہیم نخعی، شعبی، سفیان ثوری، ابوحنیفہ، اور تمام فقہائے کوفہ نے ترجیح دی۔ لیکن یہ واضح رہے کہ سوال صرف ترجیح کا ہے نہ کہ رد و قبول کا۔ ائمہ سلف میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ جن مختلف طریقوں کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں آیا ہے ان میں سے کسی پر حضورؐ نے عمل نہیں کیا تھا، بلکہ کہتے صرف یہ ہیں کہ جس خاص طریقہ کو ہم نے مرجح ٹھہرایا ہے وہ حضوؐر کا عام معمول تھا اور دوسرے طریقوں پر آپؐ کبھی کبھی عمل کرلیتے تھے۔ پس جب معاملہ کی حقیقت یہ ہے تو ان طریقوں میں سے جس پر بھی کوئی عمل کررہاہے، حدیث ہی کی پیروی کررہا ہے اور اس پر نکیر کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اتباع پیغمبر پر نکیر کی جاتی ہے جس کی جرات مقلدین کو بھی زیبا نہیں۔ کجا کہ اہل حدیث اس کا ارتکاب کریں۔ پھر اگر کوئی شخص ان طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ پر جامد ہونے کے بجائے وقتاً فوقتاً ان سب طریقوں پر عمل کرتا رہے جو حدیث میں مذکور ہیں تو یہ نبی ﷺ کی زیادہ صحیح و مکمل پیروی ہوگی، اور لفظ عمل بالحدیث کا اطلاق اس طرز عمل پر زیادہ صحیح معنی میں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ابتداء میں ایک طریقہ کو ترجیح دینے اور باقی سب طریقوں کو ترک کردینے کے بجائے ان سب طریقوں کو نماز میں اختیار کرنے کی گنجائش رکھی جاتی تو شاید بعد کے ادوار میں وہ جمود و تعصب پیدا ہی نہ ہوتا جس کی بدولت نوبت یہ آگئی ہے کہ لوگ نماز کی جس صورت کے عادی ہیں اس سے ذرا سی بھی مختلف صورت بھی جہاں انہوں نے دیکھی اور بس وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس شخص کا دین بدل گیا ہے اور ہماری امت سے نکل کر دوسری امت میں جاملا ہے۔
یہ رائے صرف میری انفرادی رائے ہی نہیں ہے بلکہ پہلے بھی متعدد اہل تحقیق اسی خیال کا اظہار کرچکے ہیں۔ اس وقت میرے پاس سفر میں کتابیں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے میں زیادہ وسیع پیمانہ پر شواہد پیش نہیں کرسکتا، لیکن حجۃ اللہ البالغہ خوش قسمتی سے

اس خط کا جواب دہلی میں دیا گیا تھا۔

مل گئی ہے۔ اس سے چند حوالے یہاں نقل کرتا ہوں ۔ شاہ صاحب پہلے تو یہ اصولی بات ارشاد فرماتے ہیں کہ:
اَلْاَصْلُ اَنْ یَّعْمَلَ بِکُلِّ حَدِیْثٍ اِلَّا اَنْ یَّمْتَنِعَ الْعَمَلَ بِالْجَمِیْعِ لِلتَّنَاقُضِ۔
(باب القضاء فی الاحادیث المختلفۃ)
’’اصولی بات یہ ہے کہ آدمی ہر حدیث پر عمل کرے، الاّ یہ کہ کسی مسئلہ میں سب حدیثوں پر عمل کرنا تناقض کی وجہ سے غیر ممکن ہو۔‘‘
پھر آگے چل کر فَصْلٌ فِیْ عِدَّۃِ اُمُوْرٍ مُشْکِلَۃٍ مِّنَ التَّقْلِیْدِ وَاخْتِلَافِ الْمَذَاہِبِ میں فرماتے ہیں:
اِنَّ اَکْثَرَ صُوَرِالْاِ خْتِلَافِ بَیْنَ الْفُقَہَائِ لَا سِیَّمَا فِی الْمَسَائِلِ الَّتِیْ ظَہَرَ فِیْہَا اَقْوَالُ الصَّحَابَۃِ فِیْ الْجَانِبَیْنِ کَتَکْبِیْرَاتِ التَّشْرِیْقِ وَ تَکْبِیْرَاتِ الْعِیْدَیْنِ وَنِکَاحِ الْمُحْرِمِ وَتَشَہُّدِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَالْاِخْفَائِ بِالْبِسْمِلَۃِ وَبِآمِیْنٍ وَالْاِشْفَاعِ وَالْاِیْتَارِفِی الْاِقَامَۃِ وَنَحْوَذٰلِکَ اِنَّمَا ہُوَ فِیْ تَرْجِیْحِ اَحَدِ الْقَوْلَیْنِ وَکَانَ السَّلَفُ لَایَخْتَلِفُوْنَ فِیْ اَصْلِ الْمَشْرُوْعِیَّۃِ وَاِنَّمَا کَانَ خِلَافُہُمْ فِیْ أُوْلیٰ الأْمْرَیْنِ وَنَظِیْرُہٗ اِخْتِلَافُ الْقِرَائَ ۃِ فِیْ وُجُوْہِ الْقِرَائَ ۃِ وَقَدْ عَلَّلُوْا کَثِیْراً مِنْ ہٰذَا الْبَابِ بِاَنَّ الصَّحَابَۃَ مُخْتَلِفُوْنَ وَاِنَّہُمْ جَمِیْعاً عَلَی الْہُدٰی۔
واقعہ یہ ہے کہ فقہاء کے درمیا ن اختلاف کی اکثر صورتیں، بالخصوص ان مسائل میں جن میں صحابہ کے اقوال دونوں طرف پائے جاتے ہیں، مثلاً تکبیرات تشریق، تکبیرات عیدین، نکاح محرم، تشہد ابن عباس وابن مسعود، بسم اللہ اور آمین کا اخفاء، تکبیر اقامت میں کلمات کو ایک ایک مرتبہ یادو دو مرتبہ پڑھنا وغیرہ۔ ان میں اختلاف دراصل اس امر میں ہے کہ دو اقوال میں سے کس کو کس پر ترجیح ہے۔ ورنہ ان مختلف طریقوں کے بجائے خود مشروع ہونے میں سلف کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا۔ ان کا اختلاف تو صرف اس اعتبار سے تھا کہ دو مختلف امور میں اولیٰ کون سا ہے؟ اور یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسے قراء ت کی مختلف صورتوں میں قاریوں کے درمیان اختلاف ہے۔ اس معاملے میں بیشتر امور کے اختلاف کی وجہ سلف نے یہ بتائی ہے کہ صحابہ کرام خود ان میں مختلف تھے اور ظاہر ہے کہ صحابہ سب کے سب ہدایت پر تھے۔ پھر بَابُ اِذْکَارِ الصَّلوٰۃِ وَہَیْءآتِہَا الْمَنْدُوْبِ الِیْہَا میں فرماتے ہیں:
وَہُوَ(اَیْ رَفْعُ الْیَدَیْنِ) مِنَ الْہَیْئَاٰتِ وَفَعَلَہٗ النَّبِیُّ ﷺ مَرَّۃً وَتَرَکَہٗ مَرَّۃً وَالْکُلُّ سُنَّۃٌ وَاَخَذَ بِکُلِّ وَاحِدٍ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِیْنَ وَمَنَ بَعْدَ ہُمْ وَہٰذَا اَحَدُ الْمَوَاضِعِ الَّتِیْ اِخْتَلَفَ فِیْہَا الْفَرِیْقَانِ اَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ وَالْکُوْفَۃِ وَلِکُلِّ وَاحِدٍ أَصْلُ أَصِیْلٍ وَالْحَقُّ عِنْدِیْ فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ اَنَّ الْکُلَّ سُنَّۃٌ۔
اور وہ (رفع الیدین) نماز کی ان ہیئتوں میں سے ہے، جن کو نبی ﷺ نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا اور یہ دونوں طریقے سنت ہیں، صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے ایک ایک جماعت نے ان میں سے ایک ایک طریقے کو اختیار کیا ہے اور یہ من جملہ ان معاملات کے ہیں جن میں اہل مدینہ اور اہل کوفہ کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے۔ لیکن ہر ایک کے لیے ایک ثابت شدہ اصل شریعت میں موجود ہے اور ایسے مسائل میں میرے نزدیک حق یہ ہے کہ سب مختلف طریقے یکساںسنت ہیں۔
شاہ صاحب کی ان تصریحات کے بعد اس امر کی ضرورت نہیں رہتی کہ میں آمین کے مسئلہ کے متعلق الگ بحث کروں۔ تاہم اس معاملہ میں صاحب الجوہر النقی کا یہ قول نقل کردینا کافی سمجھتا ہوں کہ : وَالصَّوَابُ اَنَّ الْخَبْرَیْنِ بِالْجَہْرِ بِہَا وَالْمَخَافَۃِ صَحِیْحَانِ وَعَمِلَ بِکُلٍّ مِّنْ فِعْلَیْہِ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الْعُلَمَائِ۔اور صحیح یہ ہے کہ آمین زور سے کہنے اور آہستہ دونوں کی روایتیں صحیح ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر علماء کی ایک ایک جماعت نے عمل کیا ہے۔
(رسائل ومسائل اوّل: فقہی اختلافات ۔۔۔)

۳۔آمین بالجہر

تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَاَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، اَنَّہُمَا اَخْبَرَاہُ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِذَا اَمَّنَ الْاِمَامُ فَاَمِّنُوْا، فَاِنَّہُ مَنْ وَافَقَ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَکَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اٰمِیْنَ۔(۲۶)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ پس جس کی آمین ملائکہ کی آمین سے ہم آہنگ ہوگئی تو اس کے پہلے کے گناہ معاف کردیے گئے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آمین کہا کرتے تھے۔
اسی باب کے تحت امام بخاری نے لکھا ہے:
(۲) وَقَالَ عَطَائٌ : اٰمِیْن دُعَائٌ۔ اَمَّنَ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَمَنْ وَرَآئَ ہُ حَتّٰی اَنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّۃً۔ وَکَانَ اَبُوْہُرَیْرَۃَ یُنَادِی الْاِمَامَ لَا تَفُتْنِیْ بِاٰمِیْنَ، وَقَالَ نَافِعٌ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَدَ عُہُ وَیَحُضُّہُمْ وَسَمِعْتُ مِنْہُ فِیْ ذٰلِکَ۔(۲۷)
ترجمہ : عطاء کہتے ہیں کہ آمین دعا ہے۔ ابن زبیر نے آمین کہی۔ مقتدیوں نے بھی ان کے پیچھے آمین اس طرح کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ حضرت ابوہریرہؓ امام سے کہا کرتے تھے کہ آمین نہ چھوڑ دینا۔ نافع کہتے ہیں ابن عمر اسے نہیں چھوڑتے تھے، بلکہ وہ دوسرے لوگوں کو ابھارتے تھے، میں نے اس بارے میں ان سے سنا ہے۔

ابوہریرہؓ سے فضل التامین کے باب میں ایک اور روایت:
(۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِذَا قَالَ اَحَدُکُمْ اٰمِیْنَ وَقَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ فِی السَّمَآئِ اٰمِیْنَ فَوَافَقَتْ اِحْدَاہُمَا الْاُخْرٰی، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔(۲۸)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان میں آمین کہتے ہیںاور دونوں کی آمین ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
دارمی کے الفاظ:
(۴)اِذَا قَالَ الْقَارِیُٔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ، فَقَالَ مَنْ خَلْفَہُ اٰمِین۔ فَوَافَقَ ذٰلِکَ اَہْلَ السَّمَآئِ غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ۔
ترجمہ: جب قاری غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَ کہتا ہے اس کے مقتدی اس کے پیچھے آمین کہتے ہیں۔ تو یہ اہل آسمان کی آمین سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے اور اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
جَہْرُ الْمَأْمُوْمِ بِالتَّاْمِیْنِ کے باب میں ابوہریرہؓ سے مروی ایک روایت:
(۵) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ فَقُوْلُوْا اٰمِیْنَ فَاِنَّہُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَآ ئِکَۃِ غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔(۲۹)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کرگئی تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے گئے۔
ابودائود نے کِتَابُ الصَّلوٰۃِ میں بَابُ التَّاْمِیْنِ وَرَائَ الْإمَامِ کے زیر عنوان وائل بن حجر، ابوہریرۃ وغیرہ کی روایات نقل کی ہیں:
ـــــــ تَابَعَہُ محمد بن عمر و عن ابی سلمۃ عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ ونعیم المجمر عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ۔
(۶)عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ اَنَّہُ صَلّٰی خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَجَہَرَ بِآمِیْن وَسَلَّمَ عَنْ یَمِیْنِہ وَعَنْ شِمَالِہِ حَتّٰی رَاَیْتُ بِیَاضَ خَدِّہِ۔
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپؐ نے آمین جہراً کہا۔ دائیں، بائیں سلام پھیرا تو مجھے آپؐ کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آگئی۔
ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۷)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا تَلَاغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ، قَالَ: آمِیْن حَتّٰی یَسْمَعَ مَنْ یَلِیْہِ مِنَ الصَّفِّ الْاَوَّلِ۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ پڑھا تو آمین اتنی بلند آواز سے کہی کہ ساتھ والی پہلی صف والوں نے آپؐ کی آواز سنی۔
دوسری روایت:
(۸) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ ، قَالَ: اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ فَقُوْلُوْا آمِیْنَ، فَاِنَّہُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔(۳۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا’’ جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ کہے تو تم سب آمین کہو۔ جس کی آمین ملائکہ کی آمین سے موافق ہوگئی اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے گئے۔
ابو زہیر نمیری سے مروی روایت۔ ابو مصبح مقرائی کہتے ہیں:
(۹)کُنَّا نَجْلِسُ اِلیٰ اَبِیْ زُہَیْرٍ النُّمَیْرِیِّ۔ وَکَانَ مِنَ الصَّحَابَۃِ فَیَتَحَدَّثُ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ فَاِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَآئٍ، قَالَ: اخْتِمْہُ بِاٰمِیْن۔ فَاِنَّ اٰمِیْنَ مِثْلُ الطَّابِعِ عَلَی الصَّحِیْفَۃِ۔ قَالَ اَبُوْ زُہَیْرٍ : اُخْبِرُکُمْ عَنْ ذٰلِکَ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَاَتَیْنَا عَلیٰ رَجُلٍ قَدْ اَلَحَّ فِی الْمَسْألَۃِ، فَوَقَفَ النَّبِیُّ ﷺ یَسْتَمِعُ مِنْہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اَوْجَبَ اِنْ خَتَمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ: بِاَیِّ شَیٍٔ یَخْتِمُ؟ قَالَ: بِاٰمِین۔ فَاِنَّہُ اِنْ ختَمَ بِاٰمِیْنِ فَقَدْ اَوْجَبَ ۔ فَانْصَرَ فَ الرَّجُلُ الَّذِیْ سَاَلَ النَّبِیَّ ﷺ فَاَتَی الرَّجُلَ،فَقَالَ:اخْتِمْ یَا فُلَا نُ بِاٰمین وَاَبْشِرْ۔
ترجمہ: ہم ابوزہیر نمیری کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ صحابی تھے اور حدیث بہت عمدہ بیان کیا کرتے تھے۔ جب ہم میں سے کوئی دعامانگتا تو اسے آمین کہہ کر ختم کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ آمین کی حیثیت صحیفہ پر مہر کی سی ہے۔ ابوزہیر بولے کہ میں تمہیں اس بارے میں کچھ سناتا ہوں۔ کسی رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے کہ ایک آدمی کے پاس پہنچے جو بڑے اصرار و انہماک سے دعا کررہا تھا۔ آپؐ اس کی دعا سننے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس کی دعا سن کر آپؐ نے فرمایا: واجب ہوگئی اگر اس نے مہر لگادی۔ ایک آدمی نے اس پر عرض کیا حضورؐ کس چیز سے مہر لگائے؟ پھر فرمایا آمین کہہ کر۔ اس لیے کہ اگر دعا آمین پر ختم کی جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے۔ جس آدمی نے آپؐ سے سوال کیا وہ اٹھ کر دعا مانگنے والے کے پاس گیا اور اسے کہا اے فلاں! آمین کہہ کر دعا ختم کرو اور بشارت لے لو۔
ـــــــ وَہٰذَا لَفْظُ مَحْمُوْدٍ۔ قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ الْمَقْرَائُ قَبِیْلَۃٌ مِّنْ حِمْیَرٍ۔
نسائی نے عبدالجبار بن وائل عن ابیہ سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۱۰) عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَلَمَّا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ اَسْفَلَ مِنْ اُذُنَیْہِ، فَلَمَّا قَرَاَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ، قَالَ اٰمِیْن، فَسَمِعْتُہُ وَاَنَا خَلْفَہُ الحدیث۔(۳۱)
ترجمہ:حضرت وائل بن حجر سے ان کے صاحبزادے عبدالجبار روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (اقتداء) میں نماز پڑھی۔ جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے نچلے حصہ تک اٹھایااور جب آپؐ نے غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ کہا تو آمین کہا۔ میںنے خود اپنے کانوں سے سنا ہے کیونکہ میں آپؐ کے بالکل پیچھے تھا۔
مَوَارِدُ الظَّمَآنِ: بَابُ الْقِرَائَ ۃِ فِی الصَّلَاۃِمیں ابوہریرہ سے مروی روایت:
(۱۱) عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ، قَالَ: صَلَّیْتُ وَرَآئَ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، فَقَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ثُمَّ قَرَأَ باُمِّ الْقُرْآنِ حَتّٰی اِذَا بَلَغَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ۔ قَالَ: اٰمِیْنَ وَقَالَ النَّاسُ: اٰمِیْن، الحدیث۔(۳۲)
ترجمہ: حضرت نعیم المجمرسے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے ابو ہریرہ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ انہوں نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (جہراً) پڑھی۔ پھر ام القرآن پڑھی۔ جب غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَپر پہنچے تو آمین کہی اور مقتدیوں نے بھی آمین کہی۔
ـــــــ السنن نے قَالَ آمِیْنُ کے بعد ، ’’ ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ اِنِّی ْلَا شْبَہُکُمْ صَلَاۃً برَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ‘‘ نقل کیا ہے۔
نسائی میں ابوہریرہؓ سے مروی ایک اور روایت:
(۱۲) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ، فَقُوْلُوْا اٰمِیْن۔ فَاِنَّ الْمَلٰئِکَۃَ تَقُوْلُ اٰمین۔ وَاِنَّ الْاِمَامَ یَقُوْلُ اٰمِین۔ فَمَنْ وَافَقَ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنَ الْمَلٰئِکَۃِ، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔(۳۳)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنہے تو تم آمین کہو۔ کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس کی آمین کی آواز فرشتوں کی آمین کی آواز سے ہم آہنگ ہوگئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے گئے۔
ایک اور روایت جو انہی سے مروی ہے:
(۱۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اِذَا قَالَ اَحَدُکُمْ اٰمِیْن وَقَالَتِ الْمَلٰئِکَۃُ فِی السَّمَآئِ اٰمِیْن۔ فَوَافَقَتْ اِحْدَاہُمَا الْاُخرٰی، غُفِرَلَہُ ، مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ۔(۳۴)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں یہ دونوں ایک دوسری سے ہم آہنگ ہوجاتی ہیں تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
ابوہریرہؓ سے مروی ایک اور روایت:
(۱۴) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: تَرَکَ النَّاسُ التَّاْمِیْنَ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَالَ’’ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ‘‘ قَالَ: اٰمِیْن۔ حَتّٰی یَسْمَعَہَا اَہْلُ الصَّفِّ الْاَوَّلِ۔ فَیَرْتَجُّ بِہَا الْمَسْجِدُ۔(۳۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ لوگوں نے آمین کہنا ترک کردیا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ جب غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ کہتے تو آمین اتنی آواز سے کہتے کہ پہلی صف والے آپؐ کی آواز سن لیتے اور اس سے مسجد گونج اٹھتی۔
ـــــــحضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباس دونوں کی روایت کا مفہوم الفاظ کی کمی و بیشی کے باوجود ایک ہی ہے۔
(۱۵) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَاحَسَدَتْکُمُ الْیَہُوْدُ عَلیٰ شَییٍٔ مَاحَسَدَتْکُمْ عَلیٰ اٰمِیْن، فَاَکْثِرُوْامِنْ قَوْلِ اٰمِیْن۔(۳۶)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ دونوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ یہود تمہارے آمین کہنے پر جتنا حسد کرتے ہیں اتنا اور کسی پر نہیں کرتے، لہٰذا تم بہ کثرت آمین کہا کرو۔
ـــــــحضرت عائشہؓ سے مروی روایت میں عَلَی السَّلَامِ وَالتَّامِیْنِ ہے۔
امام ترمذی نے بَابُ مَاجَائَ فِی التَّاْمِیْنِ کے تحت وائل بن حجر کی روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کی ہے:
(۱۶) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ قَرَأَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ وَقَالَ: امِیْن، وَمَدَّبِہَا صَوْتَہُ۔ وفی الباب عن علی، وابی ہریرۃ۔(۳۷)
ترجمہ:حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ کے بعد آمین کہتے خود سنا ہے اور آمین کہتے ہوئے آپؐ نے اپنی آواز کو لمبی کیا۔
علقمہ بن وائل اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں:
(۱۷) عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ اَبِیْہ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَرَأَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ، فَقَالَ اٰمِیْن، وَخَفَضَ بِہَا صَوْتَہُ۔(۳۸)
ترجمہ: علقمہ اپنے والد وائل سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ کہہ کر آمین کہا اور اپنی آواز کو دھیما رکھا۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَقُوْلُ حَدِیْثُ سُفْیَانَ اَصَحُّ مِنْ حَدِیْثِ شُعْبَۃَ فِیْ ہٰذَا۔ وَاَخْطَأَ شُعْبَۃُ فِیْ مَوَاضِعَ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ فَقَالَ: عَنْ حُجْرٍ اَبِی الْعَنْبَسِ، وَاِنَّمَا ہُوَ حُجْرُبْنُ الْعَنْبَسِ وَیُکَنّٰی اَبَا السَّکَنِ، وَزادَ فِیْہِ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ۔ وَلَیْسَ فِیْہِ عَنْ عَلْقَمَۃَ، وَاِنَّمَا ہُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَقَالَ: وَخَفَضَ بِہَا صَوْتَہُ۔ وَاِنَّمَا ہُوَ مَدَّ بِہَا صَوْتَہُ، قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: وَسَألْتُ اَبَا زُرْعَۃَ عَنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ فَقَالَ حَدِیْثُ سُفْیَانَ فِیْ ہٰذَا اَصَحُّ۔ وَرَوٰی الْعَلَائُ بْنُ صَالِحٍ الْاَسَدِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ نَحْوَ حَدِیْثِ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ۔
ـــــــ امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ سفیان کی حدیث شعبہ کے مقابلہ میں اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبہ نے بہت سے مقامات پر خطا کی ہے۔ اس نے عن حجرابی العنبس روایت کیا حالانکہ وہ حجر بن العنبس ہے۔ اور اس کی کنیت ابوالسکن ہے۔ اور سند میں مزید اضافہ یہ کیا ہے۔ عن علقمہ بن وائل، حالانکہ اس سند میں عن علقمہ نہیں ہے۔ وہ تو صرف حَجَرُ بْنُ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلٍ بْنِ حَجْرٍ ہے اور اس نے روایت متن میں خَفِضَ بِہَا صَوْتَہٗنقل کیا ہے۔ حالانکہ وہ مَدَّبِہَا صَوْتَہٗ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ اس حدیث کے متعلق میں نے ابوزرعہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی رائے دی کہ سفیان کی حدیث اصح ہے۔ سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُھَیْلٍ کی سند سے مروی حدیث کی طرح کی حدیث علاء بن صالح اسدی نے سَلَمَۃُ بْنُ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجْرٍ کے حوالہ سے آپؐ سے روایت کی ہے۔
ـــــــ دارقطنی نے کِتَابُ الصَّلوٰۃِ، بَابُ التَّاْمِیْنِ فِی الصَّلوٰۃِ بَعْدَ فَاتِحَۃِ الْکِتٰبِ وَالْجَہْرِ بِہَا کے تحت وائل بن حجر اور ابوہریرہؓ کی روایات جمع کرکے ان کی حیثیت متعین کی ہے۔
(۱۸) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَسَمِعْتُہُ حِیْنَ قَالَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ، قَالَ امِیْن وَاَخْفٰی بِہَا صَوْتَہُ، وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلَی الْیُسْرٰی، وَسَلَّمَ عَنْ یَمِیْنِہ وَشِمَالِہ۔کَذَا قَالَ شُعْبَۃُ۔ وَاَخْفٰی بِہَا صَوْتَہُ، وَیُقْالُ اِنَّہُ وَہَمَ فِیْہِ لِاَنَّ الْسُّفْیَانَ الثَّوْرِیَّ وَمُحَمَّدَبْنَ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ وَغَیْرَہُمَا رَوَوْہُ عَنْ سَلَمَۃَ، فَقَالُوْا: وَرَفَعَ صَوْتَہُ بِاٰمِیْنَ وَہُوَالصَّوَابُ۔ (۳۹)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ کو غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَکہتے وقت میں نے آپؐ کو آمین کہتے خود سنا ہے۔ مگر آوا ز آپ نے مخفی رکھی اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور دائیں ، بائیں ،دونوں جانب سلام پھیرا۔ اسی طرح شعبہ نے کہا کہ آپؐ نے اپنی آواز آمین کہتے وقت مخفی رکھی۔اور کہا جاتا ہے کہ شعبہ کو اس بارے میں وہم ہوا ہے۔ کیونکہ سفیان ثوری اور مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ کُھَیْلٍ وغیرہ نے سلمہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپؐ نے آمین کہتے وقت آواز کو اونچا کیا اور یہی صحیح ہے۔

اختلافی مسائل پر امت سازی کا فتنہ

اصولی حیثیت سے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شرعی مسائل میں کسی شخص یا گروہ کا کسی خاص طریق ِتحقیق و استنباط یا کسی مخصوص مذہبِ فقہی کی پیروی کرنا اور چیز ہے اور اس کا اپنے خاص طریقہ، یا مذہب کے لیے متعصب ہونا اور اس کی بنا پر جتھہ بندی کرنا اور اس سے مختلف مذہب رکھنے والوں سے مغایرت و منافرت برتنا اور اس کی پابندی ترک کرنے والوں کو اس طرح ملامت کرنا کہ گویا ان کے دین میں کوئی نقص آگیا ہے۔ بالکل ایک دوسری چیز ہے۔ پہلی چیز کے لیے تو شریعت میں پوری گنجائش ہے، بلکہ خود صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے طرز عمل سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ اور دین میں اس سے کوئی خرابی رونما نہیں ہوتی۔ لیکن دوسری چیز بعینہ وہ تَفَرَّقٌ فِی الدِّیْنِ ہے جس کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے، اور اس تفرق کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ لوگ فقہی مسائل ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھتے ہیں، پھر ان مسائل میں ذرا ذرا سے اختلاف پر ان کے درمیان الگ الگ امتیں بنتی ہیں، پھر ان فروعی بحثوں میں وہ اس قدر الجھتے اور ایک دوسرے سے بیگانہ ہوجاتے ہیں کہ ان کے لیے امت مسلمہ کی زندگی کے اصل مقصد ( اعلائے کلمۃ اللہ) اور اقامت دین کی خاطر مل کر جدوجہد کرنا غیر ممکن ہوجاتا ہے۔
مسلک فقہی کے اعتبار سے کسی کا طریق اہل حدیث یا طریق حنفی یا شافعی وغیرہ پر چلنا بجائے خود کسی قباحت کا موجب نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ چیز آگے بڑھ کر یہ صورت اختیار کرلے کہ مسلمان فی الحقیقت ایک امت نہ رہیں بلکہ اہل حدیث، احناف، شوافع وغیرہ ناموں کے ساتھ الگ الگ مستقل امتیں بن جائیں اور شرعی اعمال کی جو خاص صورتیں ان مختلف گروہوں نے اختیار کی ہیں، وہ ہر ایک گروہ کے مخصوص شعائر قرار پاجائیں جن کی بنا پر ان گروہوں میں مغائرت اور امتیاز واقع ہو، تو پھر یقینا یہ دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے اور میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دین اسلام میں اس تقسیم اور تعصب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ رفع یدین کرنا ،یا نہ کرنا، آمین زور سے کہنا، یا آہستہ کہنا، اور ایسے ہی دوسرے امور صرف اسی وقت تک شرعی اعمال ہیں جب تک کوئی شخص ان کے ترک یا فعل کو اس بناپر اختیار کرے کہ اس کی تحقیق میں صاحب شریعت سے ایسا ہی ثابت ہے، یا یہ کہ ایسا کرنا دلائل شرعیہ کی بنا پر راجح اورا ولیٰ ہے۔ مگر جب یہی اعمال کسی مخصوص فرقے کے شعار بن جائیں اور ان کا ترک یا فعل وہ علامت قرار پائے جس کی بنا پر یہ فیصلہ کیا جانے لگے کہ آپ کس فرقہ میں داخل اور کس سے خارج ہیں اور پھر انہی علامتوں کے لحاظ سے یہ طے ہونے لگے کہ کون اپنا ہے اور کون غیر؟ تو اس صورت میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا یا آمین زور سے کہنا یا آہستہ کہنا یا ایسے ہی دوسرے امور کا ترک اور فعل دونوں یکساں بدعت ہیں اور بدترین قسم کی بدعت ہیں۔ اس لیے کہ سنت رسول اللہ ﷺ میں بجائے خود تو ان اعمال کا ثبوت ملتا ہے، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ان اعمال کو مسلمانوں کے اندر گروہ بندیوں اور فرقہ سازیوں کے لیے علامات اور شعائر بنایا جائے۔ ایسا کرنا دراصل حدیث کا نام لے کر صاحب حدیث علیہ السلام کے منشا کے بالکل برعکس کام کرنا ہے اور اس اصل کام کو غارت کرنا ہے جس کے لیے نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے تھے۔ (رسائل و مسائل دوم، خلافیات:اختلافی مسائل ۔۔۔)

۴۔تشہد

عبداللہ بن مسعود سے مروی تشہد:
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنِ الْاَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: کُنَّا اِذَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی الصَّلوٰۃِ،قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ عِبَادِہِ السَّلَامُ عَلیٰ فُلَانٍ وَفُلَانٍ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : لَا تَقُوْلُوْا السَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ، فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّلَامُ، وَلٰکِنْ قُوْلُوْا التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ ، فَاِنَّکُمْ اِذَا قُلْتُمْ ذٰلِکَ اَصَابَ کُلَّ عَبْدٍ فِی السَّمَآئِ اَوْبَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَآئِ اَعْجَبَہُ اِلَیْہِ فَیَدْعُوْ۔(۴۰)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں تھے تو ہم نے (تشہد میں) کہا: سلامتی ہو اللہ پر اس کے خاص بندوں کی طرف سے۔ اور سلامتی ہو فلاں فلاں پر۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا، یوں مت کہا کرو کہ سلامتی ہو اللہ پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس تو خود سراپا سلامتی ہے۔ بلکہ اس طرح کہا کرو ہماری سلامیاں ، ہماری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک و صالح بندوں پر۔ پس جب تم نے یہ کہہ لیا تو آسمان اور زمین کے ہر بندے کو پہنچ گیا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ دعاء مانگے۔
ـــــــابودائود میں کُنَّا اِذَاجَلَسْنَا مَعَ رَسُوَلِ اللّٰہِ ﷺ فِی الصَّلوٰۃِ قُلْنَا اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قَبْلَ عِبَادِہِ ’’ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے تھے: اللہ تعالیٰ پر سلام اس کے بندوں سے پہلے۔‘‘
سے روایت کا آغاز ہوا ہے۔ (۴۱)
(۲)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ اَلتَّحِیَّۃُ فِی الصَّلوٰۃِ وَنُسَمِّیْ وَیُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلیٰ بَعْضٍ فَسَمِعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ : قُوْلُوْا۔ التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، فَاِنَّکُمْ اِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلیٰ کُلِّ عَبْدٍ لِّلّٰہِ صَالِحٍ فِی السَّمآئِ وَالْاَرْض۔(۴۲)

نسائی ج۲، کِتَابُ الْاِفْتَاحِ بَابُ کَیْفَ التَّشَہُّدُ الْاَوَّلُ میں عبد اللہ بن مسعود سے مروی تشہد کو متعدد سندوں سے نقل کیا گیا ہے۔ (مرتب)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ ہم نماز میں نام بنام سلام بھیجتے تھے اور ایک دوسرے کو السلام علیکم بھی دوران نماز میں کہتے تھے۔ اسے رسول اللہ ﷺ نے بھی سن لیا تو فرمایا (اس کے بجائے) اس طرح کہا کرو:
ہماری سب سلامیاں، ہماری سب نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پس جب تم نے اس طرح کر لیا تو تم نے زمین و آسمان کے ہر صالح بندے پر سلام بھیج دیا۔
(۳)حَدَّثَنَا اَبُوْنُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : کُنَّا اِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ ﷺ قُلْنَا السَّلَامُ عَلیٰ جِبْرَئِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ، اَلسَّلَامُ عَلیٰ فُلَانٍ وَفُلَانٍ فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّلَامُ فَاِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، فَاِنَّکُمْ اِذا قُلْتُمُوْہَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ لِّلّٰہِ صَالِحٍ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔(۴۳)
ترجمہ: شقیق بن سلمہ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ عبداللہ ابن مسعود کا بیان ہے کہ جب ہم نبی ﷺ کے پیچھے نماز میں ہوتے تھے تو اس طرح کہتے: سلام ہوجبرئیل اور میکائیل پر، سلام ہوفلاں فلاں پر۔ رسول اللہ ﷺ نے رخ منور ہماری طرف پھیر کر فرمایا: اللہ، وہ تو خود سلام (سراپا سلامتی) ہے۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یوں کہا کرے : ہماری ساری سلامیاں ، ہماری ساری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ پس جب تم نے اسے کہہ لیا تو یہ زمین و آسمان میں اللہ کے ہر صالح بندے کو پہنچ گیا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
ـــــــنسائی کے بَابُ اِیْجَابِ التَّشَہُّدِ میںکُنَّا نَقُولُ فِی الصَّلوٰۃِ قَبْلَ اَنْ یُّفْرَضَ التَّشَہُدُ سے روایت شروع ہوئی ہے:
(۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: کُنَّا اِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قُلْنَا اَلسَّلَامُ عَلیٰ اللّٰہِ قَبْلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلیٰ جِبْرَئِیْلَ اَلسَّلَامُ عَلیٰ مِیْکَائِیْلَ، اَلسَّلَامُ عَلیٰ اِسْرَافِیْلَ، اَلسَّلَامُ عَلیٰ فُلَان وَفُلَان، قَالَ: فَاَقْبَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ ہُوَالسَّلَامُ، فَاِذَا جَلَسْتُمْ فِی الصَّلوٰۃِ، فَقُوْلُوْا: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، فَاِنَّکُمْ اِذَا قُلْتُمُوْہَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مَاشَآئَ۔(۴۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے، انہو ںنے بیان کیا کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو یوں کہا کرتے کہ سلام ہو اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں سے پہلے ۔ سلام ہو جبرائیل و میکائیل پر، سلام ہو اسرافیل پر، سلام ہو فلاں فلاں پر۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روئے مبارک ہماری طرف موڑ کر فرمایا :اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ خود سراپا سلامتی ہے۔ اس لیے جب تم نماز کی حالت میں بیٹھے ہوتے ہو تو اس طرح کہا کرو: ہماری ساری سلامیاں، ہماری ساری نمازیں اور ہماری ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ پس جب تم نے اسے کہہ لیا تو زمین و آسمان کے ہرصالح بندے کو پہنچ گیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے جو چاہو، دعا مانگو۔
(۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ فِی الصَّلوٰۃِ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ، اَلسَّلَامُ عَلیٰ فُلَان، فَقَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ: اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ اَلسَّلَامُ، فَاِذَا قَعَدَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلوٰۃِ، فَلْیَقُلْ : اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اِذَا قَالَہَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ لِّلّٰہِ صَالِحٍ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ یَتخَیَّرْ مِنَ الْمَسْئَلَۃِ مَاشَآئَ۔(۴۵)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں ہوتے تو کہتے تھے: سلام ہو اللہ پر، سلام ہو فلاں فلاں پر۔ ایک روز یہ سن کر آپؐ نے ہمیں فرمایا: جب تم میں سے کوئی قعدہ کی حالت میں ہو تو اسے اس طرح کہنا چاہیے: ہماری ساری سلامیاں، ہماری ساری نمازیں ، ہماری ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ پس جب اس نے ان کلمات کو کہہ لیا تو زمین و آسمان کے ہر صالح بندے کو سلام پہنچ گیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد جو مانگنا چاہے، مانگے۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۶) ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ بَعْدُ مِنَ الْمَسْئَلَۃِ مَاشَآئَ اَوْاَحَبَّ۔
ایک روایت میں ہے :
(۷) ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ بَعْدُ مِنَ الدُّعَآئِ۔(۴۵)
(۸) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَعَدْنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ اَنْ نَقُوْلَ: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔(۴۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ جب ہم قعدہ میں دو رکعت کے بعد بیٹھے ہوں تو یوں کہیں: ہماری ساری سلامیاں، ہماری ساری نمازیں اور ہماری ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
ـــــــ قَالَ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَاَبِیْ مُوْسیٰ، وَعَائِشَۃَ، قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ مِنْ غَیْرِ وَجْہٍ، وَہُوَ اَصَحُّ حَدِیْثٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی التَّشَہُّدِ، وَالْعَمَلُ عَلَیْہِ عِنْدَ اَکْثَرِ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَ ہُمْ مِنَ التَّابِعِیْنَ، وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانِ الثَّوْرِیِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ۔
ـــــــامام ترمذی کہتے ہیں کہ اس باب میں حضرت ابن عمر ؓ ،جابر ؓ، ابوموسیٰ ؓ اور عائشہؓ سے روایات منقول ہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کئی طرح سے مروی ہے۔ تشہد کے بارے میں آپ سے جو روایات مروی ہیں ان میں سے یہ صحیح ترین روایت ہے۔ اہل علم صحابہ کرامؓ کی اکثریت کا اسی پر عمل تھا۔ بعد میں تابعین نے بھی اسے معمول بہ بنایا۔ سفیان ثوری ؒ، ابن مبارکؒ ، احمدؒ ، اسحاق ؒکا یہی مسلک ہے۔
(۹)حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَیْفُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاہِدًا، یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَخْبَرَۃَ اَبُوْمَعْمَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، یَقُوْلُ: عَلَّمَنِی النَّبِیُّ ﷺ وَکَفِّیْ بَیْنَ کَفَّیْہِ التَّشَہُّدَکَمَا یُعَلِّمُنِی السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ، اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ وَہُوَ بَیْنَ ظَہْرَا نَیْنَا، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا اَلسَّلَامُ عَلیٰ یَعْنِیْ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ۔(۴۷)
ترجمہ: ابو معمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود کو یہ بیان کرتے سنا ہے کہ نبی ﷺ کے ہاتھ میں میرا ہاتھ تھا۔ آپؐ نے مجھے تشہد کی تعلیم اس طرح دی جس طرح قرآن مجید کی سورہ کی تعلیم دیتے تھے کہ یوں کہوں:ساری سلامیاں، ساری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپؐ کی زندگی میں تو ہم اس طرح کہتے رہے۔ مگر جب آپؐ کی روح قبض کرلی گئی تو پھر ہم اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ کہنے لگے۔

حضرت عائشہؓ سے مروی تشہد:

(۱۰) مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَنَّہَا کَانَتْ تَقُوْلُ اِذَا تَشَہَّدَتْ، اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔
ترجمہ:حضرت عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا کہ حضرت عائشہؓ تشہد میں یوں کہا کرتی تھیں: ساری سلامیاں، ساری پاکیزہ باتیں، ساری نمازیں اور ساری عمدہ ارتقاء پذیر باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسولؐ ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ السلام علیکم۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت میںہے:
(۱۱)اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ الخ۔(۴۸)
ترجمہ: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔( اس روایت میں عبدہ کے بجائے عبداللہ ہے)۔
مسند احمد: ج ۶، ص ۱۲۶ پر مندرجہ ذیل تشہد منقول ہے:
(۱۲)قُلْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَلسَّلَامُ عَلیٰ اُمَّہَاتِ الْمُوْمِنِیْنَ، وَاَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔

عمرؓ بن الخطاب سے مروی تشہد:

(۱۳) مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ عَبْدِ الْقَارِیِٔ ، اَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ وَہُوَ عَلیٰ الْمِنْبَرِ یُعَلِّمُ النّاسَ التَّشَہُّدَ، یَقُوْلُ، قُوْلُوْا: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔(۴۹)
ترجمہ: عبدالرحمن بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کو اس حال میں سنا جب کہ وہ منبر پر جلوہ افروز تھے لوگوں کو تشہد سکھارہے تھے، فرماتے تھے لوگو! اس طرح کہا کرو: ساری سلامیاں اللہ کے لیے ہیں، ساری عمدہ باتیں اللہ کے لیے ہیں۔ ساری پاکیزہ باتیں، ساری نمازیں اللہ کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

عبداللہ بن عمرؓ سے مروی تشہد:

(۱۴) عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی التَّشَہُّدِ، اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُّ فِیْہَا وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ زِدْتُّ فِیْہَا وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔(۵۰)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، انہوں نے تشہد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ ساری سلامیاں، ساری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ راوی کا بیان ہے کہ ابن عمر نے بتایا کہ میں نے اس میں وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ کا اضافہ خود کیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اِلَّا اللّٰہُ کے بعد وَحْدُہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ کا اضافہ بھی میں نے خود کیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ؐ ہیں۔
(۱۵) مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ، اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ،کَانَ یَتَشَہَّدُ،فَیَقُوْلُ: بِسْمِ اللّٰہِ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَاوَعَلیٰ عِبَادِاللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ شَہِدْتُّ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ شَہِدْتُّ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ یَقُوْلُ ہٰذَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْاُوْلَیَیْنِ وَیَدْعُوْا اِذَا قَضٰی تَشَہُّدَہُ بِمَا بَدَالَہُ الخ۔(۵۱)
ترجمہ:حضرت نافع کے حوالہ سے ابن عمر کا یہ فعل بھی منقول ہے کہ وہ تشہد اس طرح پڑھا کرتے تھے: آغاز اللہ کے بابرکت نام سے۔ ساری سلامیاں ، ساری نمازیں اللہ کے لیے ہیں۔ ساری عمدہ باتیں اللہ کے لیے ہیں۔ سلام ہو نبیؐ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ میں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں نے گواہی دی کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ پہلے تشہد میں کہتے تھے۔ دوسرے تشہد کو پورا کرنے کے بعد جو چاہتے، دعا کرتے تھے۔

عبداللہ بن عباسؓ سے مروی تشہد:

(۱۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّہُ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَکَانَ یَقُوْلُ: اَلتَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَفِیْ رِوَایَۃِ ابْنِ رُمْحٍ کَمَا یُعَلِّمُنَا الْقُرآنَ۔(۵۲)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن پاک کی سورہ پڑھاتے تھے۔ چنانچہ آپؐ فرماتے:ساری سلامیاں، بابرکت کلمات، ساری نمازیں ، ساری پاکیزہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔
قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی : حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ صَحِیْحٌ، وَقَدْ رَوٰی عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ حُمَیْدٍ الرَّوَاسِیُّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ نَحْوَ حَدِیْثِ اللَّیْثِ ابْنِ سَعْدٍ، وَرَوٰی اَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ الْمَکِّیُّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ وَہُوَ غَیْرُ مَحْفُوْظٍ۔ وَذَہَبَ الشَّافِعِیُّ اِلیٰ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی التَّشَہُّدِ۔(۵۳)

جابرؓ بن عبداللہ سے مروی تشہد:

(۱۷) عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُعَلِّمُنَا التَّشہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ، بِسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، اَسْأَلُ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ۔(۵۴)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اسی طرح دیتے تھے جس طرح قرآنی سورہ کی تعلیم دیا کرتے تھے (تشہد یہ تھا)۔آغاز اللہ کے بابرکت نام سے اسی کے ساتھ ہر قسم کی وابستگی ہے۔ ساری سلامیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ،ساری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں بھی اللہ کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
ـــــــنسائی نے اس حدیث کو ایک دوسرے بَابُ نَوْعٍ آخَرٍ مِنَ التَّشَہُّدِ میں بیان کرکے اس کی سند پر جرح کی ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: لَا نَعْلَمُ اَحَدًا تَابَعَ اَیْمَنَ بْنَ نَابِلٍ عَلیٰ ہذہ الْروایۃ وَاَیْمَنُ عِنْدَنَا لَابَاْسَ بِہ، وَالْحَدِیْثُ خَطَائٌ وَبِا للّٰہِ التَّوْفِیْقُ۔

ابو موسیٰ اشعری سے مروی تشہد:

طویل حدیث ہے اس کے آخر میں نبی ﷺ فرماتے ہیں:
(۱۸) وَاِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ اَوَّلِ قَوْلِ اَحَدِکُمْ۔ اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْہَدُ، اَنْ لّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔(۵۵)
ترجمہ:حضرت ابوموسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جب کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کا پہلا قول یہ ہونا چاہیے:ساری سلامیاں (قولی عبادتیں) ، ساری پاکیزہ باتیں اور ساری نمازیں (بدنی اور مالی عبادتیں) اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلام ہو آپؐ پر اے نبیؐ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک و صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںاورمیںگواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

ماخز

(۱) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الاولیٰ مع الافتتاح سواء۔ ٭نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب مایقول الامام اذا رفع راسہ من الرکوع۔٭ موطا امام مالک،ج۱، باب ماجاء فی افتتاح الصلوٰۃ۔٭ سنن دارمی، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب۴۱ فی رفع الیدین فی الرکوع والسجود۔٭ السنن الکبری للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع وعند رفع الراس منہ، عن ابن عمر۔
(۲) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع واذا رفع۔٭ مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، ابواب تفریع استفتاح الصلوٰۃ، باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ۔ ٭ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع۔٭نسائی،ج۲ کتاب الافتتاح، باب رفع الیدین حیال الاذنین۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب رفع الیدین اذا رکع۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عندالرکوع وعند رفع الراس منہ۔
(۳) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب الی این یرفع یدیہ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع وعند رفع الراس منہ۔
(۴) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع۔ ٭ نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب رفع الیدین حذوالمنکبین عند الرفع من الرکوع۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع وعند رفع الراس منہ۔
(۵) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب رفع الیدین للقیام الی الرکعتین الآخرین حذو المنکبین۔
(۶) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذا کبر واذا رکع واذا رفع۔٭مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین الخ۔٭ السنن الکبری،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من قال یرفع یدیہ حذومنکبیہ۔ ٭ دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی رفع الیدین فی الرکوع والسجود۔٭مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۹۴۔
(۷) نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب رفع الیدین حیال الاذنین٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب رفع الیدین اذا ارکع واذا رفع راسہ من الرکوع۔٭دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر التکبیر ورفع الیدین۔
(۸) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب افتتاح الصلاۃ٭نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب رفع الیدین للرکوع حذاء فروع الاذنین اور نسائی نے باب رفع الیدین للسجود کے تحت بھی بیان کی ہے اور باب رفع الیدین حذو فروع الاذنین عند الرفع من الرکوع پر بھی منقول ہے۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع وعند رفع الراس منہ۔
(۹) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، ابواب تفریع استفتاح الصلوٰۃ، باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ۔ ٭دارمی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی رفع الیدین فی الرکوع والسجود انہ صلی مع رسول اللّٰہ ﷺ فکان یکبر اذا خفض واذا رفع الخ۔
(۱۰) ابن ماجہ :کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا باب رفع الیدین إذا رکع، واذا رفع رأسہ من الرکوع۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، ابواب تفریع استفتاح الصلوٰۃ، باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ۔ ابوداؤد نے قدرے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔٭دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر التکبیر ورفع الیدین عند الافتتاح الخ (اختلاف الفاظ کے ساتھ) ٭موارد الظمآن: باب صفۃ الصلوٰۃ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب این یضع یدیہ فی السجود۔
(۱۱) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب افتتاح الصلوٰۃ۔ ٭السنن الکبریٰ، ج۲،کتاب رفع الیدین عند القیام من الرکعتین۔
(۱۲) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من ذکر انہ یرفع یدیہ اذا قام من ثنتین۔٭مسند ابی عوانہ،ج۲،ص۹۲، ذکر الاخبار المتضادۃ الخ۔
(۱۳) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، ابواب تفریع استفتاح الصلوۃ، باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ، ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند القیام من الرکعتین۔
(۱۴) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب افتتاح الصلوٰۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔ ٭موارد الظمآن: باب صفۃ الصلوٰۃ۔ ٭السنن الکبریٰ، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع وعند رفع الراس منہ اور باب رفع الیدین عند القیام من الرکعتین۔
(۱۵) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذ کر الرفع عند الرکوع۔ ٭ السنن الکبریٰ:ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذکرالرفع الاعند الافتتاح۔
(۱۶) نسائی،ج۳، کتاب الافتتاح، باب ترک ذلک۔٭ السنن الکبریٰ نے ’’الامرۃ واحدۃ‘‘ نقل کیا ہے۔٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱، کتاب الصلوات، باب من کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود۔
(۱۷) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ: باب ماجاء أن النبی ﷺ لم یرفع إلا فی أول مرۃ۔
(۱۸) ترمذی، ج۱، ابواب الصلوٰۃ: باب ماجاء أن النبیؐ لم یرفع إلا فی أول مرۃ۔
(۱۹) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع۔
(۲۰) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲ کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذکر الرفع الاعند الافتتاح۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۱، کتاب الصلوات، باب من کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود۔
(۲۱) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب رفع الیدین إذا رکع، وإذا رفع رأسہ من الرکوع۔
(۲۲) مسلم، ج ۱، کتاب الصلوٰۃ: باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین۔ ٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ: باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ عن وائل بن حجر۔
(۲۳) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیہا، باب رفع الیدین إذا رکع، وإذا رفع رأسہ من الرکوع۔
(۲۴) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیہا، باب رفع الیدین إذا رکع، وإذا رفع رأسہ من الرکوع۔
(۲۵) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیہا، باب رفع الیدین إذا رکع، وإذا رفع رأسہ من الرکوع۔
(۲۶) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب جہر الامام بالتامین٭مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التسمیع والتحمید والتامین۔ ٭ابوداؤد،ج۲، کتاب الافتتاح، باب جہر الامام بآمین۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی فضل التامین۔ ٭موطا امام مالک،ج۱، باب ماجاء فی التامین خلف الامام۔٭ نسائی، ج۲،کتاب الافتتاح، باب جہر الامام بآمین۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الجہر بآمین۔
(۲۷) السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التامین۔ السنن نے حتیٰ ان للمسجد للجۃً نقل کئے ہیں۔
(۲۸) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب فضل التامین۔٭مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التسمیع والتحمید والتامین۔ ٭موطا امام مالک،ج۱، باب ماجاء فی التامین خلف الامام۔٭ نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب فضل التامین۔ عن ابی ہریرۃ۔ ٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی فضل التامین۔
(۲۹) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب جہر الماموم بالتامین٭مسلم، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التسمیع والتحمید والتامین۔ ٭نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب الامر بالتامین الامام۔ ٭السنن الکبریٰ، ج ۲۔٭موطا امام مالک، ج۱، باب ماجاء فی التامین خلف الامام۔
(۳۰) ابوداؤد، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التامین وراء الامام۔
(۳۱) نسائی، ج۲،کتاب الافتتاح، باب قول الماموم اذا عطس خلف الامام۔
(۳۲) موارد الظمآن کتاب الجماعۃ، باب القراء ۃ فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب جہر الامام بالتامین۔
(۳۳) نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب جہر الامام بآمین۔٭ دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی فضل التامین۔
(۳۴) نسائی،ج۲، کتاب الافتتاح، باب فضل التامین۔
(۳۵) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الجہر باٰمین۔
(۳۶) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الجہر باٰمِیْن۔
(۳۷) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التامین۔٭دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التامین فی الصلوٰۃ الخ۔ ٭دارمی، ج۱،کتاب الصلوٰۃ الجہر بالتامین۔ دارمی میں ’’مدبہا صوتہ‘‘ کے بجائے ’’یرفع بہا صوتہ‘‘ ہے۔٭ السنن الکبریٰ ،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب جہر الامام بالتامین۔
(۳۸) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التامین۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب جہر الامام بالتامین۔
(۳۹) دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التامین فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ ، ج ۲، پر اس روایت پر بحث کی گئی ہے۔
(۴۰) بخاری،ج۱، کتاب الاذان، باب مایتخیر من الدعآ ء بعد التشہد ولیس بواجب۔٭ابوداؤد، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔
(۴۱) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب تخییر الدعآء بعد الصلوۃ علی النبی ﷺ اورج۲،کتاب الافتتاح، باب کیف التشہد الاول۔٭ المصنف لعبد الرزاق،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد ابوداؤد اور نسائی دونوں نے ’’یدعوبہ‘‘ نقل کیا ہے۔ ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۲۳۰۔ ٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی التشہد۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الدعآء فی الصلوٰۃ۔٭ مسند احمد، ج۱، ص ۴۳۱۔
(۴۲) بخاری،ج۱،کتاب العمل فی الصلاۃ، باب من سمی قوماً او سلم فی الصلوٰۃ الخ۔
(۴۳) بخاری،ج۱،کتاب الاذان، باب التشہد فی الآخرۃ٭ نسائی، ج۳، کتاب السہو، باب کیف التشہد الاول، باب ایجاب التشہد۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی التشہد۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی التشہد۔ ٭ دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی التشہد۔٭مسند احمد، ج۱، ص ۴۱۳۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مبتدء فرض التشہد۔٭مسند ابی عوانہ،ج۲، باب ایجاب اختیار الدعاء۔٭ المصنف لعبد الرزاق،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔
(۴۴) دارمی، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب فی التشہد۔٭ مسند احمد، ج ۱، ص ۳۸۲، ۴۱۳، ۴۲۳، ۴۲۸، ۴۳۱۔
(۴۵) مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔٭نسائی، ج۳، کتاب السہو، باب کیف التشہد۔٭دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ الخ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب مبتدء فرض التشہد۔
(۴۶) ترمذی: ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التشہد۔ ٭ نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب کیف التشہد الاول۔ ٭مسند احمد، ج ۱، ص ۳۷۶، ۴۰۸ عبداللہ بن مسعود۔
(۴۷) بخاری،ج۲،کتاب الاستیذان، باب الاخذ بالیدین وصافح حماد بن زید ابن المبارک بیدیہ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب مبتدء فرض التشہد۔ ٭ مسند ابی عوانہ ، ج۲، ص ۲۲۹۔
(۴۸) موطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔
(۴۹) موطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب من استحب او اباح التسمیۃ قبل التحیۃ۔ ٭ المستدرک للحاکم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔
(۵۰) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔٭دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب مبتد ء فرض التشہد۔
(۵۱) موطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۲، ص ۱۴۲۔ ٭المستدرک للحاکم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔ ٭ المصنف لعبد الرزاق،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔
(۵۲) مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔ ٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔ترمذی:ج۲، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التشہد۔
(۵۳) نسائی،ج۲،کتاب السہو، باب نوع آخر من التشہد۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔ ابن ماجہ نے ’’واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ‘‘ نقل کیا ہے۔٭دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ الخ۔ ٭مسند ابی عوانہ ، ج ۲، ص ۲۲۸۔ ٭ المصنف لعبد الرزاق ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔٭مسند احمد، ج۱، ص ۲۹۲، عن ابن عباس۔
(۵۴) نسائی،ج۲،کتاب الافتتاح، باب نوع آخر من التشہد۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔ ٭المستدرک للحاکم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیقہی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من استحب او اباح التسمیۃ قبل التحیۃ۔
(۵۵) مسلم ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ ۔٭ ابوداؤد ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔٭ نسائی ج۲، کتاب الافتتاح، باب کیف التشہد الاول۔٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔٭ دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الدلیل علی انہ لایبدأ بشیٔ قبل کلمۃ التحیۃ۔ ٭بیہقی نے’’التحیات الطیبات الزاکیات للّٰہ‘‘سے آغاز کیا ہے۔٭مسند ابی عوانہ ج ۲، ص ۲۲۷، فضیلۃ التشہد۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۴۰۹، عن ابی موسیٰ اشعری۔

فصل :۳ درود

کعبؓ بن عجرہ سے مروی درود
۵۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰیٰٓ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

(یہ درود تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ حضرت کعب بن عجرہؓ سے بخاری ، مسلم، ابودائود، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ، امام احمد ، ابن ابی شیبہ ، عبدالرزاق، ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے روایت کیا ہے)۔
تخریج : حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ حَفْصٍ وَمُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِبْنُ زِیَادٍ ثَنَا اَبُوْفَرْوَۃَ مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ الْہَمْدَانِیُّ، قَالَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عِیْسٰی، اَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ اَبِیْ لَیْلیٰ ، قَالَ: لَقِیَنِیْ کَعْبُ بْنُ عُجْرَۃَ، فَقَالَ: اَلَآ اُہْدِیْ لَکَ ہَدِیَّۃً سَمِعْتُہَا مِنَ النَّبِیِّ ﷺ؟ فَقُلْتُ: بَلیٰ، فَاَہْدِہَالِیْ، فَقَالَ: سَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ الصّلَاۃُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ؟ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ عَلَّمَنَا کَیْفَ نُسَلِّمُ عَلَیْکَ، قَالَ: قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰٓ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَابَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰٓ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔(۱)
ترجمہ: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ سے میری ایک ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں ایک ہدیہ پیش نہ کروں جو میں نے نبی ﷺ سے خود سن کر حاصل کیا ہے۔ میں نے عرض کیا ہاں ضرور عنایت فرمائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ! آپؐ اہل بیت پر صلوٰۃ (درود) کس طرح بھیجا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں سکھادیاہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یوں کہا کرو: خدایا رحمت فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت فرمائی ابراہیم ؑ اور آلِ ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔ اور خدایا !برکت نازل فرما محمدؐ پر اور آل محمدؐ پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔
ـــــــمسلم نے اپنی روایت میں قَدْ عَلَّمَنَا کی جگہ قَدْ عَرَّفَنَا نقل کیا ہے۔

جبرالأمۃ عبداللہ بن عباسؓ سے مروی درود

۶۔ ابن عباس سے بھی بہت خفیف فرق سے وہی درود مروی ہے جو اوپر نقل ہوا ہے۔ (ابن جریر)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ : ثَنَا مَالِکُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْ اِسْرَآئِیْلَ عَنْ یُوْنُسَ ابْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: خَطَبَنَا بِفَارِسَ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَآئِکَتَہُ الاٰیَۃ، فَقَالَ: أنْبَاَنِیْ مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، یَقُوْلُ: ہٰکَذَا اُنْزِلَ، فَقُلْنَا اَوْقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامُ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٓیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَ الِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وَبَارِکْ عَلٓیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ الِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۲)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے جس کسی نے سنا اس نے بیان کیا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم، یا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ !ہمیں آپؐ پر سلام کا طریقہ تو معلوم ہوچکا ہے۔ صلوٰۃ کس طرح پڑھا جائے؟ فرمایا: کہو: خدایا ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر، یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔خدایا! برکت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔

ابو حمید ساعدیؓ سے مروی درود

۷۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ (مؤطاامام مالک، احمد ، بخاری، مسلم، نسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ: اَنَا مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِبْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ حَزْمٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ حُمَیْدنِ السَّاعِدِیُّ، اَنَّہُمْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قُوْلُوْا: اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٓیٰ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۳)
ترجمہ: حضرت ابوحمید ساعدی نے خبردی کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم آپؐ پر صلوٰۃ کس طرح پڑھیں؟ اس پر آپؐ نے فرمایا: یوں کہا کرو: خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ، ازواج محمدؐ اور ذریت محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمدؐ، ازواج محمد اور ذریت محمد پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔
(۲) قَالَ : قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ہٰذَا السَّلَامُ عَلَیْکَ فَکَیْفَ نُصَلِّیْ قَالَ: قُوْلُوْا اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ۔ (۴)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپؐ پر یہ سلا م تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے۔ آپؐ پر صلوٰۃ کیسے پڑھیں؟ فرمایا: اس طرح کہا کرو: خدایا! رحمت نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔

ابو مسعود انصاری بدریؓ سے مروی درود

۸۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٓیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٓیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٓیٰ الِ اِبْرَاہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلٓیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
(مؤطاامام مالک، مسلم، ابودائود، ترمذی، نسائی، احمد ،ابن جریر، ابن حبان، حاکم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحیَ بْنُ یَحیٰ التَّمِیْمِیُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلیٰ مَالِکٍ عَنْ نَعِیْمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُجْمِرِ، اَنَّ مُحَمَّدَبْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ الْاَنْصَارِیَّ ـــــ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ زَیْدٍ ہُوَالَّذِیْ کَانَ اُرَی النِّدَآئَ بِالصَّلوٰۃِ ـــــ اَخْبَرَہُ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ نِالْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: اَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَنَحْنُ فِیْ مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ لَہُ بَشِیْرُبْنُ سَعْدٍ: اَمَرَنَا اللّٰہُ اَنْ نُصَلِّی عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ؟قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ حَتّٰی تَمَنَّیْنَا اَنَّہُ لَمْ یَسْئَلْہُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٓیٰ الِ اِبْرَاہِیْمَ۔ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلٓیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ۔ کَمَابَارکْتَ عَلٓیٰ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَالسَّلَامُ کَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ۔(۵)
ترجمہ:حضرت ابو مسعود انصاری سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس جلوہ افروز ہوئے۔ بشیربن سعد نے عرض کیا: اے رسول خدا! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر صلوٰۃ کا حکم دیا ہے تو اس کی صورت کیا ہے۔ ہم کس طرح آپ پر صلوٰۃ پڑھیں؟ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذرا سی دیر خاموش رہے۔ تو ہم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ آپ سے نہ ہی پوچھتے ( تو اچھا ہوتا) تھوڑے سے توقف کے بعد آپ نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: خدایا! رحمت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جس طرح تونے عالمین میں برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اوربزرگ ہے۔
(۲)عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ نِالْاَنْصَارِیِّ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: اَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَہُ، فَقَاَلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمَّا السَّلَامُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ اِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِیْ صَلَاتِنَا؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی اَحْبَبْنَا اَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْأَلْہُ، ثُمَّ قَال: اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ، فَقُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍّ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ، وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ، وَعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍّکَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۶)
ترجمہ:حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ ہم بھی آپؐ کی خدمت اقدس میں حاضر تھے۔ اس نے عرض کیا یارسول اللہ! آپؐ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ کس طرح بھیجا جائے مگر صلوٰۃ، جب کہ ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اس کے دوران میں کس طرح پڑھا جائے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپؐ نے قدرے توقف فرمایا، تو ہمیں یہ اچھا معلوم ہوا کہ وہ آدمی آپؐسے سوال ہی نہ کرتا قدرے سکوت کے بعد فرمایا: جب تم مجھ پر صلوٰۃ بھیجو تو یوں کہا کرو:خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ نبی امی اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر اور خدایا! برکت نازل فرما محمدؐ نبی امی اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔

عبدالرحمن بن بشر ؓ سے مروی درود:

(۳)عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ بِشْرِبْنِ مَسْعُوْدِنِ اَلْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ اِنَّ اللّٰہ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(الاحزاب:۵۶) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا السَّلَامُ قَدْ عَرَفْنَاہُ فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: قُوْلُوْا اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ۔ (۷)
ترجمہ: عبدالرحمنؓ بن بشر بن مسعود انصاری سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ جب آیت اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ الآیۃ نازل ہوئی تو صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ !یہ سلام تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے مگر صلوٰۃ کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا :یوں کہا کرو خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔ خدایا !برکت نازل فرما محمدؐ پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔

ابو سعید خدریؓ سے مروی درود

۹۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ۔ (احمد، بخاری، نسائی، ابن ماجہ)
تخریج: عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا التَّسْلِیْمُ فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ؟ قَالَ: قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَابَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ۔(۸)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہؐ !آپؐ پر یہ سلام تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے مگر صلوٰۃ آپؐ پر کس طرح ہے؟ فرمایا: یوں کہا کرو: خدایا !رحمت نازل فرما اپنے بندے اور اپنے رسول محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم ؑ پر اور (خدایا!) برکت نازل فرما محمد اور آل محمدؐ پر جس طرح برکت نازل فرمائی ابراہیم ؑپر۔

بریدہؓ خزاعی سے مروی درود

۱۰۔اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلوٰتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ ( احمد، عبد بن حمید، ابن مردویہ)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَزِیْدُبْنُ ہَارُوْنَ، اَنَا اِسْمَاعِیْلُ، عَنْ اَبِیْ دَاؤدَ الرَّاعِیِّ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْخُزَاعِیِّ، قَالَ: قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْنَا کَیْفَ نُسَلِّمُ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ قَالَ: قُوْلُوْا، اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ آل مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۹)
ترجمہ: حضرت بریدہؓ خزاعی سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے عرض کیا اے رسول خدا آپؐ پر سلام کا علم تو ہمیں ہوگیا ہے۔ صلوٰۃ کا کیا طریقہ ہے۔ فرمایا: یوں کہا کرو:خدایا ! اپنی عنایات، اپنی رحمتیں ، اور اپنی برکات محمدؐ اور آل محمدؐ پر نازل فرما جس طرح تونے یہ سب ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائیں۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔

ابوہریرہؓ سے مروی درود

۱۱۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰٓ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ عَلٰیٓ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ وَبَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَ ٰالِ اِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ (نسائی)
تخریج: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَکْتَالَ بِالْمِکْیَالِ الْاَوْفیٰ اِذَا صَلّٰی عَلَیْنَا اَہْلَ الْبَیْتِ فَلْیَقُلْ: اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمّدٍ النَّبِیِّ وَاَزْوَاجِہِ اُمَّہَاتِ الْمُوْمِنِیْنَ وَذُرِّیَّتِہِ وَاَہْلِ بَیْتِہِ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا ہے: جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے پورا پورا وزن ملے جب کہ وہ ہم پراور اہل بیت پر صلوٰۃ پڑھے ، تو اسے اس طرح کہنا چاہیے : خدایا! رحمت نازل فرما، محمدؐ نبی اور آپؐ کی ازواجِ مطہرات امہات المومنین پر اور آپؐ کی ذریت پر اور آپؐ کے اہل بیت پر، جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔

طلحہ ؓ سے مروی درود

۱۲۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰٓ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَبَارِکْ عَلیٰٓ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ ٰالِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
(تفہیم القرآن، ج ۴،الاحزاب ، حاشیہ:۱۰۷)
تخریج:(۱) عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ! کَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ ؟ قَالَ: قُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَآلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپؐ پر صلوٰۃ کی کیفیت کیا ہے؟ فرمایا، یوں کہا کرو: خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔ خدایا! برکت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیمؑ پر اور آل ابراہیم ؑپر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔
ابن طلحہؓ سے مروی ایک اور درود:
(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثَنَا ہَارُوْنُ عَنْ عَنْبَسَۃَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْہِبٍ، عَنْ مُوْسٰی ابْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اَتٰی رَجُلُ نِ النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ: سَمِعْتُ، اللّٰہُ یَقُوْلُ’’اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط الایۃ‘‘ فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ: قُلْ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ عَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَاصَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں ۔۔۔الخ۔ آپؐ پر درود کس طرح بھیجا جائے؟ فرمایا، یوں کہو: خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم ؑپر ۔یقینا تو بہترین صفات کا مالک ہے اور بزرگ ہے۔ خدایا! برکت نازل فرما محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم ؑپر ۔بے شک تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔
عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی درود:
(۳) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بَیَانٍ۔ ثَنَا زِیَادُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ،عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْ فَاخِتَۃَ، عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَاحْسِنُوْا الصَّلَاۃ عَلَیْہِ، فَاِنَّکُمْ لا تَدْرُوْنَ لَعَلَّ ذٰلِکَ یُعْرَضُ عَلَیْہِ۔ قَالَ: فَقَالُوْا لَہُ فَعَلِّمْنَا، قَال: قُوْلُوا۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ اِمَامِ الْخَیْرِ وَقَائِدِ الْخَیْرِ وَرَسُوْلِ الرَّحْمَۃِ۔ اَللّٰہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا یَّغْبِطُہُ بِہِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود کا ارشاد ہے کہ جب تم رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ و درود پڑھو۔ تو نہایت احسن طریقہ سے پڑھو۔ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ ممکن ہے یہ آپؐ کے سامنے پیش کیا جاتا ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ سامعین نے عرض کیا پھر آپ ہی وہ سکھائیں۔ ابن مسعود نے کہا، اچھا اس طرح کہا کرو: خدایا! اپنی صلوٰۃ، اپنی رحمت اور اپنی برکات سید المرسلین ، امام المتقین، خاتم النبیین ، امام الخیر، قائد الخیر اور رسول رحمتؐ، اپنے بندے اور رسول محمد ؐ پر نازل فرما۔ خدایا!انہیں مقام محمود پر کھڑا فرما، جس پر اگلے پچھلے سبھی رشک کرتے ہیں۔ خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔ خدایا! برکت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا اور بزرگ ہے۔
ـــــــ فی الزوائد: رِجَالُہُ ثِقَاتٌ۔ اِلَّا اَنَّ الْمَسْعُوْدِیَّ اخْتَلَطَ بِآخِرِ عُمْرِہِ، وَلَمْ یتمیز حدیثہ الاول من الآخر، فاستحق الترک، کما قال ابن حبان۔
ابن مسعود ؓ سے مروی ایک اور درود:
(۴)عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، اِنَّہُ قَالَ: اِذَا تَشَہَّدَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلوٰۃِ فَلْیَقُلْ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ وَبَارَکْتَ، وَتَرَحَّمْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ، وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۱۴)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی تشہد کی حالت میں ہو تو اسے اس طرح کہنا چاہیے: خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؐ پر اور برکت نازل فرما محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت اور برکت اور اپنی خاص رحمت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔
ایک اور درود:
(۵) اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ آلِ بَیْتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلَیْنَا مَعَہُمْ صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَصَلَوَاتُ الْمُوْمِنِیْنَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ۔(۱۵)
ترجمہ: خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور محمدؐ کے اہل بیت پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔ خدایا! ان کے ساتھ ہم پر بھی اپنی برکت کا نزول فرما۔ اللہ کی رحمتیں اور مومنین کی دعائیں محمدؐ نبی امی پر۔
ـــــــ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن مجاہد (عبدالوہاب) ہے جسے دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
ایک نامعلوم صحابیؓ سے مروی درود:
(۶) عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِبْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِوبْنِ حَزْمٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَّعَلیٰ اَہْلِ بَیْتِہِ وَعَلیٰ اَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اَہْلِ بَیْتِہِ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔(۱۶)
ترجمہ: ایک گمنام صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ خود مندرجہ ذیل صلوٰۃ پڑھاکرتے تھے: خدایا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور محمدؐ کے اہل بیت پر اور ازواج محمدؐ اور ذریت محمدؐ پر جس طرح تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے او ر بزرگ ہے۔ اور برکت نازل فرما محمدؐ اور محمدؐ کے اہل بیت پر، ازواج محمدؐ اور ذریت محمدؐ پر جس طرح تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ یقینا تو بہترین صفات والا ہے اور بزرگ ہے۔
تشریح: صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے، تو اس کے تین معنی ہوتے ہیں۔ ایک کسی پر مائل ہونا، اس کی طرف محبت کے ساتھ متوجہ ہونا اور اس پر جھکنا۔ دوسرے کسی کی تعریف کرنا۔ تیسرے کسی کے حق میں دعا کرنا۔ یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جائے گا تو ظاہر ہے کہ تیسرے معنی میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ کا کسی اور سے دعا کرنا قطعاً ناقابل تصور ہے۔ اس لیے لامحالہ صرف پہلے دو معنوں میں ہوگا۔ لیکن جب یہ لفظ بندوں کے لیے بولا جائے گا، خواہ وہ فرشتے ہوں، یا انسان ، تو وہ تینوں معنوں میں ہوگا۔ اس میں محبت کا مفہوم بھی ہوگا، مدح و ثنا کا مفہوم بھی اور دعائے رحمت کا مفہوم بھی۔ لہٰذا اہل ایمان کو نبی ﷺ کے حق میں صَلُّوْاعَلَیْہِ کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کے گرویدہ ہوجائو، ان کی مدح و ثنا کرو اور ان کے لیے دعا کرو۔
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اے لوگو، جن کو محمدؐ رسول اللہ کی بدولت راہ راست نصیب ہوئی ہے، تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے احسان عظیم کا حق ادا کرو۔ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے، اس شخص نے تمہیں علم کی روشنی دی۔ تم اخلاق کی پستیوں میں گرے ہوئے تھے۔ اس شخص نے تمہیں اٹھایا اور اس قابل بنایا کہ آج محسود خلائق بنے ہوئے ہو۔ تم وحشت اور حیوانیت میں مبتلا تھے۔ اس شخص نے تم کو بہترین انسانی تہذیب سے آراستہ کیا۔ کفر کی دنیا اسی لیے اس شخص پر خارکھا رہی ہے کہ اس نے یہ احسانات تم پر کیے ، ورنہ اس نے کسی کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی برائی نہ کی تھی۔ اس لیے اب تمہاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جتنا بغض وہ اس خیر مجسم کے خلاف رکھتے ہیں اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ محبت تم اس سے رکھو، جتنی وہ اس سے نفرت کرتے ہیں، اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے گرویدہ ہوجائو، جتنی وہ اس کی مذمت کرتے ہیں ، اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کی تعریف کرو۔ جتنے وہ اس کے بدخواہ ہیں، اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے خیر خواہ بنو اور اس کے حق میں وہی دعا کرو، جو اللہ کے فرشتے شب و روز اس کے لیے کررہے ہیں کہ اے رب دوجہاں! جس طرح تیرے نبیؐ نے ہم پر بے پایاں احسانات فرمائے ہیں، تو بھی ان پر بے حدوبے حساب رحمت فرما، ان کا مرتبہ دنیا میں سب سے زیادہ بلند کر اور آخرت میں بھی انہیں تمام مقربین سے بڑھ کر تقرب عطا فرما۔ (تفہیم القرآن : ج ۴، الاحزاب ،حاشیہ :۱۰۷)

چند اہم نکات

یہ تمام درود (جو حدیث میں وارد ہوئے ہیں) الفاظ کے اختلاف کے باوجود معنی میں متفق ہیں۔ ان کے اندر چند اہم نکات ہیں، جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
اولاً: ان سب میں حضورؐ نے مسلمانوں سے فرمایا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے خدا، تو محمدؐ پر درود بھیج ۔ نادان لوگ جنہیں معنی کا شعور نہیں ہے۔ اس پر فوراً اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ تو ہم سے فرمارہا ہے کہ تم میرے نبی پر درود بھیجو، مگر ہم الٹا اللہ سے کہتے ہیں کہ تو درود بھیج۔ حالانکہ دراصل اس طرح نبی ﷺ نے لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ تم مجھ پر ’’صلوٰۃ‘‘ کا حق ادا کرنا چاہوبھی تو نہیں کرسکتے۔ اس لیے اللہ ہی سے دعا کرو کہ وہ مجھ پر ’’صلوٰۃ‘‘ فرمائے۔ ظاہر بات ہے کہ ہم حضورؐ کے مراتب بلند نہیں کرسکتے، اللہ ہی بلند کرسکتا ہے۔ ہم حضوؐر کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتے، اللہ ہی ان کا اجر دے سکتا ہے۔ ہم حضورؐ کے رفع ذکر کے لیے اور آپؐ کے دین کو فروغ دینے کے لیے خواہ کتنی ہی کوشش کریں، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق و تائید کے بغیر اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی، حتیٰ کہ حضوؐر کی محبت و عقیدت بھی ہمارے دل میں اللہ ہی کی مدد سے جاگزیں ہوسکتی ہے۔ ورنہ شیطان نہ معلوم کتنے وساوس دل میں ڈال کر ہمیں آپؐ سے منحرف کرسکتا ہے۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ۔ لہٰذاحضوؐر پر صلوٰۃ کا حق ادا کرنے کی کوئی صورت اس کے سوانہیں ہے کہ اللہ سے آپؐ پر صلوٰۃ کی دعا کی جائے۔ جو شخص اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کہتا ہے وہ گویا اللہ کے حضوؐر اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ خدایا، تیرے نبیؐ پر صلوٰۃ کا جو حق ہے، اسے ادا کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔ تو ہی میرے طرف سے اس کو ادا کرے اور مجھ سے اس کے ادا کرنے میں جو خدمت چاہے، لے لے۔
ثانیاً: حضورؐ کی شان کرم نے یہ گوارانہ فرمایا کہ تنہا اپنی ذات کو اس دعا کے لیے مخصوص فرمالیں، بلکہ اپنے ساتھ اپنی آل اور ازواج اور ذریت کو بھی آپؐ نے شامل کرلیا۔ ازواج اور ذریت کے معنی تو ظاہر ہیں۔ رہا آل کا لفظ، تو وہ محض حضورؐ کے خاندان والوں کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس میں وہ سب لوگ آجاتے ہیں جو آپؐ کے پیروہوں اور آپؐ کے طریقے پر چلیں۔ عربی لغت کی رو سے آل اور اہل میں فرق یہ ہے کہ کسی شخص کی آل وہ سب لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس کے ساتھی ، مددگار اور متبع ہوں، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں، یا نہ ہوں۔ اور کسی شخص کے اہل وہ سب لوگ کہے جاتے ہیں جو اس کے رشتہ دار ہوں، خواہ وہ اس کے ساتھی اور متبع ہوں یا نہ ہوں۔ قرآن مجید میں ۱۴ مقامات پر آل فرعون کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ان میں سے کسی جگہ بھی آل فرعون سے مراد محض فرعون کے خاندان والے نہیں ہیں، بلکہ وہ سب لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں اس کے ساتھی تھے۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورہ بقرۃ: ۴۹-۵۰، آل عمران : ۱۱، الاعراف: ۱۳۰، المومن:۴۶) پس آل محمدؐ سے ہر وہ شخص خارج ہے جو محمد ﷺ کے طریقے پر نہ ہو، خواہ وہ خاندان رسالت ہی کافرد ہو اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو حضوؐر کے نقش قدم پر چلتا ہو، خواہ وہ حضوؐر سے کوئی دور کا بھی نسبی تعلق نہ رکھتا ہو۔ البتہ خاندان رسالت کے وہ افراد بدرجہ اولیٰ آل محمدؐ ہیں جو آپؐ سے نسبی تعلق بھی رکھتے ہیں اور آپؐ کے پیرو بھی ہیں۔
ثالثاً: ہر درود جو حضورؐ نے سکھائی ہے، اس میں یہ بات ضرور شامل ہے کہ آپؐپر ویسی ہی مہربانی فرمائی جائے جیسی ابراہیمؑ اور آل ابراہیم ؑپر فرمائی گئی ہے۔ اس مضمون کو سمجھنے میں لوگوں کو بڑی مشکل پیش آئی ہے۔ اس کی مختلف تاویلیں علماء نے کی ہیں۔ مگر کوئی تاویل دل کو نہیں لگتی۔ میرے نزدیک صحیح تاویل یہ ہے، ( وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ) کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایک خاص کرم فرمایا ہے جو آج تک کسی پر نہیں فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ تمام وہ انسان جو نبوت اور وحی اور کتاب کو ماخذ ہدایت مانتے ہیں، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشوائی پر متفق ہیں، خواہ وہ مسلمان ہو ں یا عیسائی یا یہودی۔ لہٰذا نبی ﷺ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کے پیرووں کا مرجع بنایا ہے، اسی طرح مجھے بھی بنادے۔ اور کوئی ایسا شخص جو نبوت کا ماننے والا ہو، میری نبوت پر ایمان لانے سے محروم نہ رہ جائے۔

درود کے مسنون و مستحب ہونے میں علماء امت کا اختلاف

یہ امر کہ حضورؐ پر درود بھیجنا سنت اسلام ہے، جب آپؐ کا نام آئے ،اس کا پڑھنا مستحب ہے، اور خصوصاً نماز میں اس کا پڑھنا مسنون ہے۔ اور اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔ اس امر پر بھی اجماع ہے کہ عمر میں ایک مرتبہ ، حضورؐ پر درود بھیجنا فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں اس کا حکم دیا ہے، لیکن اس کے بعد درود کے مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
امام شافعیؒاس بات کے قائل ہیں کہ نماز میں آخری مرتبہ جب آدمی تشہد پڑھتا ہے تو اس میں صَلوٰۃٌ عَلَی النَّبِیِّؐ پڑھنا فرض ہے۔ اگر کوئی شخص نہ پڑھے گا تو نماز نہ ہوگی۔ صحابہؓ میں سے ابن مسعودؓ ، ابو مسعود انصاریؓ ،ابن عمرؓ اور جابرؓ بن عبداللہ، تابعین میں سے شعبی، امام محمد باقر، محمد بن کعب قرظی اور مقاتل بن حیان اور فقہاء میں سے اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی مسلک تھا اور آخر میں امام احمد بن حنبل نے بھی اسی کو اختیار کرلیا تھا۔
امام ابوحنیفہؓ ،امام مالکؒ اور جمہورعلماء کا مسلک یہ ہے کہ درود عمر میں صرف ایک مرتبہ پڑھنا فرض ہے۔ یہ کلمہ شہادت کی طرح ہے کہ جس نے ایک مرتبہ اللہ کی الٰہیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرلیا، اس نے فرض ادا کردیا۔ اسی طرح جس نے ایک مرتبہ درود پڑھ لیا وہ فریضہ صَلوٰۃٌ عَلَی النَّبِیِّؐسے سبکدوش ہوگیا۔ اس کے بعد نہ کلمہ پڑھنا فرض ہے، نہ درود۔
ایک اور گروہ نماز میں اس کا پڑھنا مطلقاً واجب قرار دیتا ہے، مگر تشہد کے ساتھ اس کو مقید نہیں کرتا۔
ایک دوسرے گروہ کے نزدیک ہر دعا میں اس کا پڑھنا واجب ہے۔ کچھ اور لوگ اس کے قائل ہیں کہ جب بھی حضورؐ کا نام آئے، درود پڑھنا واجب ہے ۔اور ایک گروہ کے نزدیک ایک مجلس میں حضورؐ کا ذکر خواہ کتنی ہی مرتبہ آئے، درود پڑھنا بس ایک دفعہ واجب ہے۔

درود کی فضیلت

۱۳۔ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلٰوۃً لَمْ تَزْلِ الْمَلٰٓئِکَۃَ تُصَلِّی عَلَیْہِ مَاصَلّٰی عَلَیَّ۔(احمد وابن ماجہ)
’’جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے ملائکہ اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں، جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: اَنَا شُعْبَۃُ وَحَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَامِرِبْنِ رَبِیْعَۃَ، یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ، یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلَاۃً لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تُصَلِّیْ عَلَیْہِ مَا صَلّٰی عَلَیَّ، فَلْیُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذٰلِکَ اَوْ لِیُکْثِرْ۔(۱۷)
ترجمہ:حضرت عامر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ کو خطبہ میں یہ ارشاد فرماتے سناہے :جس نے مجھ پر درود بھیجا، فرشتے اس پر اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درودبھیجتا رہتا ہے۔ اب بندے پر منحصر ہے کہ زیادہ درود پڑھے یا کم۔
ابن ماجہ نے اس روایت کے الفاظ اس طرح نقل کیے ہیں:
(۲)عَنِ النَّبِیِّﷺ ، قَالَ: مَامِنْ مُسْلِمٍ یُصَلِّیْ عَلَیَّ اِلَّا صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلٰئِکَۃُ مَا صَلّٰی عَلَیَّ۔ فَلْیُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذٰلِکَ اَوْ لِیُکْثِرْ۔(۱۸)
ترجمہ:نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: نہیں ہے کوئی مسلمان جو مجھ پر درود بھیجتا ہے، مگر فرشتے اس پر اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے۔ اب بندے پر منحصر ہے کہ وہ کم درود پڑھے یا زیادہ۔
ـــــــ فِی الزَّوَائِدِ: اِسْنَادُہٗ ضَعِیْفٌ، لِاَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُبَیْدِ اللّٰہِ قَالَ فِیْہِ الْبُخَارِیُّ وغیرہ مُنْکَرُ الْحَدِیْثِ۔
۱۴۔ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشَرًا۔(مسلم)
’’ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ اَیُّوْبَ، وَقُتَیْبَۃُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا: نَا اِسْمَاعِیْلُ، ـــــ وَہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ـــــ عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْرًا۔(۱۹)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں دس مرتبہ اس پر درود بھیجتا ہے (اپنی رحمت اس پر نازل فرماتا ہے)۔
مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی روایت:
(۲) فَاِنَّہٗ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْراً۔ الخ
ـــــــترمذی نے واحدۃ کی جگہ صَلٰوۃً بیان کیا ہے ا ور ایک روایت میں اَوْکُتِبَ لَہٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ بھی نقل کیا ہے۔ترمذی میں دس مرتبہ بھیجنے کے بجائے دس نیکیاں اس کے کھاتے میں درج کردی جاتی ہیں، منقول ہے۔
(۳) اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ الْکَوْسَجُ، قَالَ: اَنْبَاَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا سُلَیْمَانُ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَحَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ جَائَ ذَاتَ یَوْمٍ وَالْبُشْرٰی فِیْ وَجْہِہِ، فَقُلْنَا: اِنَّا لَنَرَی الْبُشْرٰی فِیْ وَجْہِکَ، فَقَالَ: اِنَّہُ اَتَانِی الْمَلَکُ، فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ، اِنَّ رَبَّکَ، یَقُوْلُ: اَمَایُرْضِیکَ اَنَّہُ لَایُصَلِّیْ عَلَیْکَ اَحَدٌ اِلَّا صَلَّیْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا وَلَا یُسَلِّمُ عَلَیْکَ اَحَدٌ اِلَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا۔(۲۰)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن ابو طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپؐ کا چہرہ مبارک ہشاش بشاش تھا (یہ دیکھ کر) ہم نے عرض کیا: آج تو ہم آپ کے رخ انور پر بشارت ملاحظہ کررہے ہیں (یہ سن کر ) آپؐ نے فرمایا: ’’ابھی فرشتہ آیا تھا۔‘‘ اس نے کہا : ’’اے محمدؐ! آپ کا پروردگار فرماتا ہے ’’کیا تجھے یہ پسند ہے کہ جو کوئی تجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ درود بھیجوں گا اور جو کوئی تجھ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں گا۔‘‘
۱۵۔ اَوْلَی النَّاسِ لِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَکْثَرُ ہُمْ عَلَیَّ صَلوٰۃً۔ (ترمذی)
’’ قیامت کے روز میرے ساتھ رہنے کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہوگا جومجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَامُحَمَّدُبْنُ خَالِدِبْنِ عَثْمَۃَ، قَالَ: ثَنَا مُوْسٰی بْنُ یَعْقُوْبَ الزَّمْعِیُّ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ کَیْسَانَ، اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ شَدَّادٍ اَخْبَرَہُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اَوْلَی النَّاسِ لِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَکْثَرُ ہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً۔(۲۱)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز میرے ساتھ رہنے کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا۔
ـــــــ قَالَ أبوعیسٰی: ہذا حدیث حسن غریب۔
۱۶۔اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ (ترمذی) ۔
’’بخیل ہے وہ شخص، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب، حاشیہ: ۱۰۷)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ مُوْسٰی وَزِیَادُ بْنُ اَیُّوبَ قَالاَ: نَا اَبُوْعَامِرٍ الْعَقَدِیُّ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبِ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ۔(۲۲)
ترجمہ: حضرت علیؓ بن ابو طالب سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میراذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
حـضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ۔(۲۳)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدنصیب ہے وہ شخص جس کے سامنے میراذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔
تشریح: یہ اختلافات صرف وجوب کے معاملہ میں ہیں، باقی رہی درود کی فضیلت اور اس کا موجب اجر و ثواب ہونا اور اس کا ایک بہت بڑی نیکی ہونا تو اس پر ساری امت متفق ہے۔ اس میں کسی ایسے شخص کو کلام نہیں ہوسکتا جو ایمان سے کچھ بھی بہرہ رکھتا ہو۔ درود تو فطری طور پر ہر اس مسلمان کے دل سے نکلے گا، جسے یہ احساس ہو کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بعد ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں۔ اسلام اور ایمان کی جتنی قدر انسان کے دل میں ہوگی، اتنی ہی زیادہ قدر اس کے دل میں نبی ﷺ کے احسانات کی بھی ہوگی اور جتنا زیادہ آدمی ان احسانات کا قدر شناس ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ حضوؐر پر درود بھیجے گا۔ پس در حقیقت کثرت درود ایک پیمانہ ہے، جو ناپ کر بتادیتا ہے کہ دین محمدؐ سے ایک آدمی کتنا گہرا تعلق رکھتا ہے اور نعمت ایمان کی کتنی قدر اس کے دل میں ہے۔

غیر انبیاء پر درود

۱۷۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ اٰلِ اَبِیْ اَوْفیٰ۔
ایک صحابیؓ کے لیے حضورؐ نے دعا فرمائی : ’’ اے اللہ ، آل ابی اوفیٰ پر درود بھیج۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَمْرِ وعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفیٰ، قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَتَاہُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِہِمْ، قَالَ: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ آلِ فُلَانٍ۔ فَاَتَاہُ اَبِیْ بِصَدَقَتِہِ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ اٰلِ اَبِیْ اَوْفیٰ۔(۲۴)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن ابو اوفیٰ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا معمول تھا کہ جب لوگ آپ کی خدمت میں اپنے صدقات لے کر آتے تو آپؐ ان کے لیے یوں دعا فرماتے: خدایا! آل فلاں پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چنانچہ میرے والد صاحب بھی اپنا صدقہ لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان کے لیے بھی دعا فرمائی: خدایا! آل ابو اوفیٰ پر اپنی خاص رحمت نازل فرما۔
۱۸۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔
’’جو لوگ زکوٰۃ لے کر حاضر ہوتے ان کے حق میں آپؐ فرماتے: ’’اے اللہ ان پر درود بھیج۔‘‘
۱۹۔صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکِ وَعَلیٰ زَوْجِکِ۔
’’حضرت جابر بن عبداللہ کی بیوی کی درخواست پر فرمایا: اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر درود بھیجے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ الْاَسْوَدِبْنِ قَیْسٍ، عَنْ نُبَیْحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ اَسْتَعِیْنُہُ فِیْ دَیْنٍ کَانَ عَلیٰ اَبِیْ، قَالَ : فَقَالَ اٰتِیْکُمْ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْاَۃِ: لَاتُکلِّمِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَلَا تَسْاَلِیْہِ، قَالَ: فَاَتَانَا فَذَبَحْنَا لَہُ دَاجِنًا کَانَ لَنَا، فَقَالَ : یَا جَابِرُ کَانَّکُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ، قَالَ: فَلَمَّا خرَجَ، قَالَتْ لَہُ الْمَرْاَۃُ: صَلِّ عَلَیَّ وَعَلیٰ زَوْجِیْ اَوْصَلِّ عَلَیْنَا، قَالَ: فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہَا: اَلَیْسَ قَدْ نَہَیْتُکِ؟ قَالَتْ: تَرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَدْ خُلُ عَلَیْنَا وَلَا یَدْعُوْلَنَا۔(۲۵)
ترجمہ:’’حضرت جابرؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت اقدس میںحاضر ہوا کہ ان سے اپنے والد کے قرض کی ادائی میں مدد و تعاون کی درخواست کروں۔ راوی کا بیان ہے کہ آپؐ نے فرمایا :میں تمہارے ہاں آئوں گا۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ میں واپس گھر پہنچا اور اپنی اہلیہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی مطالبہ نہ کرنا اور نہ کچھ دریافت کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپؐ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے اپنی پالتو بکری آپ کی ضیافت کے لیے ذبح کرلی۔ آپؐ نے فرمایا: ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہوگیا کہ گوشت ہمیں محبوب و پسند ہے۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے جب آپؐ فارغ ہوکر نکلے تو جابرؓ کی اہلیہ نے عرض کیاکہ حضوؐر میرے اور میرے شوہر کے لیے دعائے رحمت فرمائیں ۔ جابرؓ کا بیان ہے آپؐ نے دعا فرمائی: خدایا !ان پر رحمت کا فیضان فرما۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: میں نے تمہیں منع نہیں کردیا تھا؟ وہ بولی تو کیا آپؐ ہمارے یہاں تشریف لائیں اوردعا نہ کریں؟
مسند کے ص ۳۹۸ پر جابر سے مروی روایت کے الفاظ:
(۲)قَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلِّ عَلَیَّ وَعَلیٰ زَوْجِیْ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْکَ۔ فَقَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکِ وَعَلیٰ زَوْجِکِ۔۔۔ الخ۔ (۲۶)
۲۰۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلوٰتَکَ وَرَحْمَتَکَ عَلیٰ اٰلِ سَعْدِبْنِ عُبَادَۃَ ۔
’’حضرت سعد بن عبادہؓ کے حق میں آپؐ نے فرمایا: اے اللہ تو سعد بن عبادہ کی آل پر درود بھیج اور رحمت کر۔‘‘
تخریج: وَقَوْلُہٗ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ وَقَدْ رَفَعَ یَدَیْہِ: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتَکَ وَرَحْمَتَکَ عَلیٰ آلِ سَعْدِبْنِ عُبَادَۃَ۔(۲۷)
ترجمہ: نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا فرمائی ، خدیا ! اپنی عنایات اور اپنی رحمت کا آل سعد ابن عبادہ پر نزول فرما۔
۲۱۔صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ جَسَدِکَ۔
’’مومن کی روح کے متعلق حضورؐ نے خبردی کہ ملائکہ اس کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ: تجھ پر اور تیرے جسم پر اللہ کا درود ہو۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج ۴، الاحزاب : حاشیہ :۱۰۷)
تخریج: اَنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَقُوْلُ لِرُوْحِ الْمُوْمِنِ: صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ جَسَدِکَ۔(۲۸)
ترجمہ: ملائکہ مومن کے حق میں دعا کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ تجھ پر اور تیرے جسم پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
سوال: آں حضور ﷺ کے نام کے ساتھ ازراہ اختصار بعض لوگ ’’صلعم‘‘ لکھ دیتے ہیں اور بعض جگہ صرف ’’ ؐ ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: ’’صلعم‘‘ لکھنا تو صحیح نہیں اور آں حضورؐ کے نام کے ساتھ لکھنا نامناسب ہے۔ البتہ ’’ ؐ ‘‘ لکھا جاسکتا ہے لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ ﷺ مکمل لکھا جائے۔‘‘ (۵۔ اے ذیلدار پارک دوم ،ص: ۱۹۲)
سوال:نبی ﷺ کے سوا دوسروں کے لیے ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ فُلاَنٍ‘‘ یَا’’صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ـــــ یا اسی طرح کے دوسرے الفاظ کے ساتھ صلوٰۃ جائز ہے یا نہیں؟
جواب : اس میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ جس میں قاضی عیاض سب سے زیادہ نمایاں ہیں، اسے مطلقاً جائز رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خود غیر انبیاء پر صلوٰۃ کی متعدد مقامات پر تصریح کی ہے۔مثلاً اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ۔(البقرۃ: ۱۵۷) خُذْوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ (التوبہ: ۱۰۳) ہُوَالَّذِیْ یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہُ (الاحزاب: ۴۳) اسی طرح نبی ﷺ نے متعدد مواقع پر لفظ صلوٰۃ کے ساتھ غیر انبیاء کو دعا دی ہے۔
لیکن جمہور امت کے نزدیک ایسا کرنا اللہ اور اس کے رسول کے لیے تو درست تھا، مگر ہمارے لیے درست نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب یہ اہل اسلام کا شعار بن چکا ہے کہ وہ صلوٰۃ و سلام کو انبیاء علیہم السلام کے لیے خاص کرتے ہیں۔ اس لیے غیر انبیاء کے لیے اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اسی بنا پر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ایک مرتبہ اپنے ایک عامل کو لکھا تھا کہ ’’میں نے سنا ہے کہ واعظین نے یہ نیا طریقہ شروع کیا ہے کہ وہ صَلوٰۃٌ عَلَی النَّبِیِّؐ کی طرح اپنے سرپرستوں اور حامیوں کے لیے بھی صلوٰۃ کا لفظ استعمال کرنے لگے ہیں۔ میرا یہ خط پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اس فعل سے روک دو اور انہیں حکم دو کہ وہ صلوٰۃ کو انبیاء کے لیے مخصوص رکھیں اور دوسرے مسلمانوں کے حق میں دعا پر اکتفا کریں۔‘‘(روح المعانی) اکثریت کا یہ مسلک بھی ہے کہ حضورؐ کے سوا کسی نبی کے لیے بھی ﷺ کے الفاظ کا استعمال درست نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب، حاشیہ: ۱۰۷)

ماخز

(۱) بخاری،ج۱، کتاب الانبیاء، باب یزفون النسلان فی المشی۔ج۲،کتاب التفسیر، سورۃ الاحزاب۔کتاب الدعوات، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الوتر، باب ماجاء فی صفۃ الصلوٰۃ علی النبیﷺ ۔ ٭ نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب کیف الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔٭ ابن جریر، ج ۱۰، سورۃ الاحزاب، ص ۳۱۔ ٭مسند احمد، ج۴، ص ۲۴۱، کعب بن عجرۃ۔ ٭مسند ابی عوانہ، ج۲،٭ سنن دارمی، ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ۔٭ المصنف لعبدالرزاق، ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبیﷺ۔ ٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲،کتاب الصلوات، باب الصلوٰۃ علی النبی کیف ہی۔
(۲) تفسیر ابن جریر طبری،ج۱۰، سورہ احزاب، زیر آیت ان اللّٰہ وملائکتہ یصلون علی النبی الخ۔
(۳) بخاری،ج۱،کتاب الانبیاء، باب یزفون النسلان فی المشی۔ج۲،کتاب الدعوات، باب ہل یصلی علی غیر النبی ﷺ۔ ٭ مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب نوع آخر۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا۔ ابن ماجہ نے کما صلیت علیٰ آل ابراہیم کے بجائے کما صلیت علیٰ ابراہیم اور آخر میں فی العالمین انک حمید مجید نقل کیاہے۔٭موطا امام مالک ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ مسند احمد بن حنبل ، ج۵، ص۴۲۴۔ روایت ابوحمید الساعدی، ص ۲۷۴، ۳۷۴، ۴۲۴۔ ٭مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۲۳۴۔
(۴) بخاری،ج۲،کتاب الدعوات، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔
(۵) مسلم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ بعد التشہد۔٭ ترمذی: ابواب التفسیر ، سورۂ احزاب۔٭نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب الامر بالصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ موطا امام مالک،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔٭دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ ۔٭ابن جریر،ج۱۰، سورہ احزاب، زیر آیت ان اللّٰہِ وملائکتہ یصلون علی النبی الخ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ فی التشہد۔٭ المصنف لعبد الرزاق،ج۲،کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۰٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۱۱۸۔ ٭ ابن خزیمہ، ابن حبان، بحوالہ دارقطنی،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر و جوب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ فی التشہد بالفاظ مختلفۃ۔ ٭ موارد الظمآن: کتاب الصلوٰۃ (الجماعۃ)۔ باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔
(۶) دارقطنی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر وجوب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ فی التشہد۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص۱۱۹، ابو مسعود انصاری۔ ٭ مسند ابی عوانہ ، ج۲، ص ۲۱۱، باب ایجاب الصلوٰۃ۔ ٭ المستدرک للحاکم،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد فی الصلوٰۃ۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ کیف ہی؟
(۷) ابن جریر،ج۱۰، سورۃ الاحزاب، زیر آیت ان اللّٰہ وملائکتہ ۔۔۔الخ۔
(۸) بخاری،ج۲،کتاب التفسیر، سورۃ الاحزاب۔کتاب الدعوات، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب نوع آخر۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ فی التشہد۔٭ مسند احمد، ج ۳، ابوسعید خدری۔٭ مصنف ابن ابی شیبہ، ج۲،کتاب الصلوات، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ کیف ہی؟
(۹) مسند احمد، ج ۵، ص ۳۵۳، مرویات بریدہ الاسلمی (الخزاعی)۔ ٭ابن جریر،ج۱۰، سورۃ الاحزاب زیر آیت ان اللّٰہ وملائکتہ۔۔۔ الخ۔ یہ تمام درود تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۵۰۷ تا ۵۰۹ پر بھی منقول ہیں۔
(۱۰) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ بعد التشہد۔
(۱۱) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب نوع آخر۔٭ ابن جریر، ج۱۰، سورہ احزاب، زیر آیت ان اللّٰہ وملائکتہ یصلون علی النبی۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲،کتاب الصلوات، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ کیف ہی؟ نسائی کی ایک دوسری روایت میں ہے: ان رجلااتی نبی اللّٰہ ﷺ فقال کیف نصلی علیک یانبی اللّٰہ ۔۔۔الخ۔ ٭ مسند احمد، ج۱، ص ۱۶۲، طلحہ بن عبید اللّٰہ۔
(۱۲) ابن جریر، ج ۱۰، سورۂ احزاب۔
(۱۳) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الصلوٰۃ علی النبیﷺ۔٭ المصنف لعبد الرزاق، ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی۔
(۱۴) المستدرک للحاکم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التامین۔
(۱۵) دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر وجوب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ فی التشہد۔۔۔ الخ۔
(۱۶) المصنف لعبد الرزاق،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔
(۱۷) مسند احمد، ج ۳، ص ۴۴۵۔
(۱۸) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب الصلوۃ علی النبی ﷺ۔
(۱۹) مسلم، ج۱،کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی النبی ﷺ بعد التشہد۔ باب استحباب القول مثل قول الموذن لمن سمعہ الخ۔ ٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا سمع الموذن۔٭ترمذی، ج۱، ابواب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ۔ ٭ مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص۲۳۴۔
(۲۰) نسائی،ج۳، کتاب السہو، باب فضل التسلیم علی النبی ﷺ۔
(۲۱) ترمذی،ج۱، ابواب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلوٰۃ علی النبی ﷺ۔
(۲۲) ترمذی،ج۲، ابواب الدعوات، باب قول رسول اللہ ﷺ ’’رغم أنف رجل‘‘
(۲۳) ترمذی، ج۲، ابواب الدعوات، باب قول رسول اللہ ﷺ ’’رغم أنف رجل‘‘
(۲۴) بخاری،ج۱، کتاب الزکوٰۃ، باب صلوٰۃ الامام ودعائہ لصاحب الصدقۃ وقولہ تعالیٰ خذمن اموالہم صدقۃ تطہر ہم وتزکیہم بہا وصل علیہم الایۃ۔ بخاری نے کتاب الدعوات میں’’اذا اتی رجل بصدقۃ قَالَ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ آلِ فُلَانٍ فاتاہ ابی فقال اللہم صل علیٰ آل ابی اوفیٰ ۔۔۔ باب قول اللّٰہ تعالیٰ وصل علیہم٭مسلم،ج۱،کتاب الزکوٰۃ، باب الدعاء لمن اتی بصدقۃ۔٭ ابوداؤد، ج۲، کتاب الزکوٰۃ، باب دعاء المصدق لا ہل الصدقۃ۔٭ نسائی،ج۵، کتاب الزکوٰۃ، باب صلوٰۃ الامام علی صاحب الصدقۃ۔٭ابن ماجہ: کتاب الزکوٰۃ، باب مایقال عند اخراج الزکوٰۃ۔٭مسند احمد،ج۴، ص۳۵۳۔۳۵۴۔ ۳۵۵۔ ۳۸۱۔ ۳۸۳۔ عبداللّٰہ بن ابی اوفیٰ٭ المصنف لعبد الرزاق، ج۴،کتاب الزکوٰۃ، باب وصل علیہم٭ ابن کثیر، ج ۳، ص ۵۰۷، سورہ احزاب۔٭ ابن ماجہ میں’’کان رسول اللّٰہ ﷺ اذا اتاہ الرجل بصدقۃ مالہ صلی علیہ۔۔۔ الخ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۲، کتاب الصلوٰۃ، باب من زعم ان آل النبی ﷺ ہم اہل دینہ عامۃ۔
(۲۵) مسند احمد، ج ۳، ص ۳۰۳، جابربن عبداللّٰہ۔
(۲۶) مسند احمد ج۳؍۳۹۸ عن جابر۔
(۲۷) روح المعانی ج۲۲، سورۃ الاحزاب۔ زیر آیت ’’ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی الخ۔
(۲۸) روح المعانی ، ج ۲۲، ۲۴، ص ۷۹، سورۃ الاحزاب۔زیر آیت ’’ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی الخ۔

فصل :۴ نماز کے درود میں سیدنا و مولانا کے اضافے پر اہم اصولی مباحث

سوال: آپ نے ’’خطبات‘‘ میں نماز کی تشریح کرتے ہوئے جو درود،درج کیا ہے، اس میں سیدنا و مولانا کے الفاظ مسنون و ماثور درود سے زائد ہیں۔ احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے جو درود منقول ہوا ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں پائے جاتے۔ ایک عالم دین نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ مسنون درود سے زائد ان الفاظ کو نماز میں پڑھنا مکروہ ہے۔ آپ کے پاس اس کے لیے کیا سند جواز ہے؟
جواب: اس اضافے کو جو بزرگ مکروہ قرار دیتے ہیں، وہ غالباً مسئلے کی نوعیت سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تشہد کے پورے مسئلے کی تحقیق کی جائے۔
۲۲۔تشہد کے متعلق صحیح ترین روایت وہ ہے، جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہوئی ہے۔ اس کو بیس سے زیادہ سندوں کے ساتھ محدثین نے نقل کیا ہے اور تمام راویوں نے اَلتَّحِیَّاتُسے لے کر عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ تک پوری عبارت یکساں نقل کی ہے۔ کسی روایت کے الفاظ دوسری روایت کے الفاظ سے مختلف نہیں ہیں۔ اس کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کردیا گیا کہ نماز میں صرف یہی تشہد پڑھا جائے۔ امام شافعیؒ ابن عباسؓ کے تشہد کو ، اور امام مالک ؒ حضرت عمرؓ کے تشہد کو افضل قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان کے الفاظ باہم بھی مختلف ہیں اور ابن مسعودؓ کی روایت سے بھی ۔ ان کے علاوہ تشہد کی بہت سی مختلف عبارتیں حضرت جابرؓ بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ ،حضرت علیؓ، حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت عائشہؓ ،حضرت سمرہؓ بن جندب، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت ابوحمیدؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت حسین بن علیؓ، حضرت طلحہ ؓ بن عبید اللہ ، حضرت انسؓ بن مالک، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابوسعیدؓ خدری اور دوسرے صحابہ کرامؓ سے احادیث میں روایت ہوئی ہیں۔ ان میں سے جس تشہد کو بھی آدمی پڑھے ، اس کی نماز صحیح ہوجاتی ہے۔ ابن عبدالبر اور ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ یہ مباح میں اختلاف ہے۔ یعنی ان مختلف تشہدات میں سے کوئی بھی غیر مباح نہیں ہے۔ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ علماء کی ایک بڑی جماعت ہر اس تشہد کے پڑھنے کو جائز قرار دیتی ہے، جو احادیث سے ثابت ہو۔
لیکن بات صرف یہیں تک نہیں رہتی کہ جو تشہدات حدیث سے ثابت ہیں، ان میں سے کسی ایک کو پڑھ لینا جائز ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایک جلیل القدر صحابی حضورؐ سے تشہد کی ایک عبارت خود نقل کرتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں دو جگہ اضافہ کیا ہے۔یہ حضرت عبداللہ بن عمر ہیں۔ابودائود اور دارقطنی میں ان کا یہ ارشاد موجود ہے کہ السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کے بعد میں نے وَبَرَکَاتُہُ کا، اور اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بعد وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ کااضافہ کردیا ۔مگر یہ بات میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے اس فعل کو قابل اعتراض ٹھہرایا ہو۔
تحریج:(۱)حَدَّثَنَا نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی التَّشَہُّدِ: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ، الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُّ فِیْہَا’وَبَرَکَاتُہُ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْہَدُ اَنَّ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُّ فِیْہَا وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔(۱)
اب رہا تشہد کے بعد کا مضمون ، تو اس کے متعلق سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ اس کا پڑھنا سرے سے لازم ہی نہیں ہے۔ ابودائود ، مسند احمد، ترمذی ترمذی میں یہ عبارت نہیںہے۔ (مرتب)

 اور دارقطنی میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضوؐر نے عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗتک تشہد کی تعلیم دینے کے بعد فرمایا: اِذَا قُلْتَ ہٰذَا (اَوْقَضَیْتَ ہٰذَا) فَقَدْ قَضَیْتَ صَلوٰتَکَ، اِنْ شِئْتَ اَنْ تَقُوْمَ فَقُمْ وَاِنْ شِئْتَ اَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔ ’’جب تم نے یہ پڑھ لیا (یا اس کو پورا کرلیا) تو تم اپنی نماز سے فارغ ہوگئے۔ اس کے بعد اٹھ جانا ہو تو اٹھ جائو اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔‘‘ یہ ارشاد اس باب میں بالکل صریح ہے کہعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پر نماز مکمل ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد آدمی کچھ نہ پڑھے تب بھی اس کی نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا، اور درود و دعا تشہد میں داخل نہیںہے بلکہ اس سے زائد ایک چیز ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْنُفَیْلِیُّ، ثَنَا زُہَیْرٌ، ثَنَا الْحَسَنُ ابْنُ الْحُرِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمَرَۃَ۔ قَالَ: اَخَذَ عَلْقَمَۃُ بَیَدِیْ فَحَدَّثَنِیْ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ اَخَذَ بِیَدِہِ وَاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَخَذَ بِیَدِ عَبْدِ اللّٰہِ فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَفِی الصَّلوٰۃِ، فَذَکَرَ مِثْلَ دُعَآئِ حَدِیْثِ الْاَعْمَشِ: اِذَا قُلْتَ ہٰذَا اَوْقَضَیْتَ ہٰذَا فَقَدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ، اِنْ شِئْتَ اَنْ تَقُوْمَ فَقُمْ وَاِنْ شئْتَ اَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔(۲)
دارقطنی نے یہ بھی نقل کیا ہے:
(۳) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : فَاِذَا قُلْتَ ذٰلِکَ فَقَدْ قَضَیْتَ مَا عَلَیْکَ مِنَ الصَّلوٰۃِ، فَاِذَا شِئْتَ اَنْ تَقُوْمَ فَقُمْ، وَاِنْ شِئْتَ اَنْ تَقْعُدْفَاقْعُدْ۔ وَقَدْفَصَلَ آخِرُ الْحَدِیْثِ جَعَلَہٗ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ،وَہُوَاَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃٍ مَنْ أَدْرَجَ آخِرُہٗ فِیْ کَلَاِم النَّبِیِّ ﷺ۔(۳)
(۴) عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمَرَۃَ، قَالَ: اَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ، وَزَعَمَ اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ اَخَذَ یَدَہٗ وَزَعَمَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَخَذَ بِیَدِہِ، فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَ: التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: اِذَا قَضَیْتَ ہٰذَا، اَوْفَعَلْتَ ہٰذَا، فَقَدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ، فَاِنْ شِئْتَ اَنْ تَقُوْمَ فَقُمْ وَاِنْ شِئْتَ اَنْ تَجْلِسَ فَاجْلِسْ۔(۴)
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۵) ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: اِذَا فَرَغْتَ مِنْ ہٰذَا فَقَدْ فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِکَ، فَاِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ وَاِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ۔(۵)
اس زائد چیز کا پڑھنا یقینا مستحب ہے، لیکن اس کے لیے شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی عبارت مخصوص نہیں کی ہے جس کے الفاظ مقرر ہوں اور ان میںکمی بیشی جائز نہ ہو۔ بخاری ، مسلم اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی جو روایت منقول ہوئی ہے اس میں تشہد کی عبارت بیان کرنے کے بعد وہ حضوؐر کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیںکہ ثُمَّ لِیَتَخَیَّرَمِنَ الْمَسْأَلَۃِ مَاشَائَ۔’’پھر آدمی جو دعا چاہے، مانگے‘‘۔ مسند احمد اور نسائی کی ایک روایت میں حضورؐ کے الفاظ یہ ہیںشُمَّ لِیَتَخَیَّرَ اَحَدُکُمْ مِنَ الدُّعَائِ اَعْجَبَہٗ اِلَیْہِ فَلْیَدْعُ بِہٖ رَبَّہٗ عَزَّوَجَلَّ۔ ’’پھر تم میں سے ایک شخص کوئی دعا انتخاب کرلے جو اسے سب سے زیادہ پسند ہو، اور وہی اپنے رب عزیز وجلیل سے مانگ لے۔‘‘ اسی سے ملتے جلتے الفاظ بخاری اور ابودائود کی روایات میں آئے ہیں۔ ان ارشادات سے یہ بات صاف ظاہر ہورہی ہے کہ حضورؐ یہ تو پسند فرماتے ہیں کہ تشہد کے بعد آدمی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے (جس میں درود شامل ہے کیونکہ وہ بھی ایک دعا ہی ہے) لیکن اس کے الفاظ کا انتخاب خود دعا مانگنے والے پر چھوڑ دیتے ہیں۔
اب درود شریف کے مسئلے کو لیجیے ۔ معترض کا کہنا ہے کہ حضوؐر سے اس کے جو الفاظ ماثور ہیں ان میں کوئی کمی بیشی کرنا مکروہ ہے۔ لیکن کیا واقعی فقہاء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ ہے؟
امام ابوبکر بن مسعود کا شانی، جن کی کتاب بدائع الصنائع، فقہ حنفی کی معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وَلاَیُکْرَہُ اَنْ یَقُوْلَ فِیْہَا وَارْحَمْ مُحَمَّداً عِنْدَ عَامَّۃِ الْمَشَائِخِ وَبَعْضُہُمْ کَرِہُوْا ذٰلِکَ۔۔۔ وَالصَّحِیْحُ اَنَّہٗ لاَیُکْرَہُ’’اور درود میں وَارْحَمْ مُحَمَّداً کہنا اکثر اکابر علماء کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور بعض اسے مکروہ کہتے ہیں۔۔۔ مگر صحیح یہ ہے کہ وہ مکروہ نہیں۔‘‘
درود میں سید نا کا لفظ بڑھانے کے متعلق مشہور شافعی فقیہ شمس الدین الرملی، جو چھوٹے شافعی کہلاتے تھے، اپنی کِتَابُ نِہَایَۃِ الْمُحْتَاجِ اِلیٰ شَرْحِ الْمِنْہَاجِ میں لکھتے ہیں وَالْاَفْضَلُ الْاِتْیَانَ بِلَفْظِ السِّیَادَۃِ۔۔۔ لِاَنَّ فِیْہِ الْاِتْیَانُ بِمَا اُمِرْنَا بِہٖ وَزِیَادَۃُ الْاِخْبَارِ بِالْوَاقِعِ الَّذِیْ ہُوَاَدَبٌ، فَہُوَ اَفْضَلٌ مِنْ تَرْکِہٖ ’’اور افضل یہ ہے کہ (درود میں) لفظ سیادت لایا جائے۔۔۔ کیونکہ یہ ایسی چیز کا لانا ہے جس کے لیے ہم مامور ہیں اور اس میں اس امر واقعی کا مزید بیان ہے، جو ادب ہے۔ لہٰذا اس کو چھوڑنے سے اس کا ادا کرنا افضل ہے۔‘‘ صرف درود ہی نہیں ، تشہد تک میں شوافع نے لفظ سیدنا کے اضافے کو نہ صرف جائز رکھا ہے بلکہ اسی پر ان کا عمل بھی ہے۔ چنانچہ اَلْفِقْہُ عَلَی الْمَذَاہِبِ الْاَرْبَعَۃِ میں شافعی مذہب کا جو تشہد درج کیا گیا ہے، وہ ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے۔ وَاَشْہَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ حالانکہ ابن عباس کے جس تشہد کو امام شافعی نے اختیار کیا ہے، اس میں لفظ سیدنا نہیں پایا جاتا۔
علامہ ابن عابدین شامی کی کِتَابُ رَدِّ الْمُحْتَارِ فقہ حنفی کی مستند کتابوں میں سے ہے۔ اس میں وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے رحمت کی دعا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے اَللّٰہُمَّ ارْحَمْ مُحَمَّدًاکہنے کو ناجائز کہا ہے اور بعض نے اسے جائز قرار دیا ہے، اور اسی دوسرے قول کو امام سرخسی نے ترجیح دی ہے۔ پھر درود میں لفظ سیدنا کے استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ ہمارے (یعنی حنفیہ کے) مسلک کے خلاف ہے اور اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے تشہد میں کمی بیشی کو مکروہ قرار دیا ہے۔ لیکن یہ اعتراض کمزور ہے، کیونکہ درود تشہد پر زائد ایک چیز ہے، اس میں شامل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص تشہد میں اَشْہَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کہے تو یہ ضرور مکروہ ہے، لیکن تشہد کے بعد جو درود پڑھا جاتا ہے اس میں یہ لفظ بڑھایا جاسکتا ہے۔
اس بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نماز میں جو درود پڑھا جاتا ہے اس کا درود کے ماثور الفاظ ہی میں پڑھاجانا لازم نہیں ہے، اور ان ماثور الفاظ میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر درود میں اَللّٰہُمَّ ارْحَمْ مُحَمَّداً اور اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍکہنا مکروہ نہیں ہے تو سیدنا کے ساتھ مولانا کہہ دینے میں کراہت کی کیا معقول وجہ ہوسکتی ہے؟
سوال: ’’آپ نے ماہ مارچ (۱۹۷۵ء) کے ’’ترجمان القران‘‘ میں کسی سائل کو جواب دیتے ہوئے نماز میں درود کے متعلق جو کچھ لکھا ہے، اس پر حسب ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں:
(۱) آپ نے ابودائود اور دارقطنی کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے سکھائے ہوئے تشہد میں ’’رَحْمَۃُ اللّٰہِ ‘‘ کے بعد’’وَبَرْکَاتُہٗ‘‘ کا ، اور اَشْہَدُ اَنْ لَّا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بعد وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ کا اضافہ کردیا۔ اس سے آپ ماثور الفاظ پر اضافے کا جواز ثابت کرتے ہیں ، لیکن یہ آپ کے لیے مفید مطلب نہیں ہے، کیونکہ یہ الفاظ مرفوع حدیث میں بھی وارد ہوئے ہیں۔
(۲) تشہد کے متعلق آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے ان کوعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ تک تعلیم دینے کے بعد فرمایا کہ ’’جب تم نے یہ پڑھ لیا (یا اس کو پورا کرلیا) تو تم اپنی نماز سے فارغ ہوگئے ، اس کے بعد اٹھ جانا چاہو تو اٹھ جائو اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔‘‘ اس سے آپ نے یہ استدلال کیا ہے کہ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پر نماز مکمل ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد آدمی کچھ نہ پڑھے تب بھی اس کی نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا، اور درود و دعا تشہد میں داخل نہیں ہے بلکہ اس سے زائد ایک چیز ہے۔ مگر آپ کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ حفاظ حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ عبدہ ورسولہ کے بعد کا مضمون دراصل حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے، جسے ایک راوی نے بے احتیاطی سے اس طرح حدیث میں درج کردیا ہے کہ وہ حضورؐ کا ارشاد معلوم ہوتا ہے۔
(۳) بالفرض اگر وہی روایت صحیح تسلیم کرلی جائے جس سے آپ استدلال کرتے ہیں، تو یہ امر واقعہ ہے کہ تشہد کی تعلیم حضورؐ نے ابتدائی دور ہی میں دے دی تھی، جب نماز فرض ہوئی تھی۔ لیکن قرآن مجید میں حضورؐ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے زمانے یعنی ۵ ہجری میں نازل ہواتھا، کیونکہ وہ سورۂ احزاب میں درج ہے، اور وہ انہی غزوات کے زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس لیے لامحالہ بعد کی چیز نے پہلے کی چیز کو منسوخ کردیا۔
(۴) نماز تعبدی اعمال میں سے ہے، اور ان اعمال کے بارے میں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ شارع نے ان کی تعلیم جس طرح دے دی ہے اسی طرح ان کی تعمیل کی جانی چاہیے، ان کے اندر اپنی طرف سے کوئی تصرف نہیں کیا جاسکتا۔ علماء اصول اس بات پر متفق ہیں کہ عبادات میں اصل ، حکم کی پیروی اور شارع کے بتائے ہوئے طریقے کا اتباع ہے، اور اس سے تجاوز بدعت ہے۔ لیکن آپ درود کے ماثور الفاظ پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ ان میں اضافے ہی نہیں ردوبدلمیں نے ردّ و بدل کے الفاظ کہیں استعمال نہیں کیے ہیں۔صرف کمی بیشی کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اگر معترضین کو اصرار ہو کہ رد و بدل کا بھی قائل ہوں تو میں اپنے جواب میں اس کی نظیر بھی پیش کردوں گا۔ (مودودیؒ)

 اور کمی بیشی تک کے قائل ہیں۔ حالانکہ نماز کے تمام اوراد توقیفی ہیں، ان میں نہ کچھ گھٹانا جائز ہے نہ بڑھانا۔
(۵) درود کے الفاظ میں سیدنا ومولانا کا اضافہ متعدد وجوہ سے ناجائز ہے:
ا۔ احادیث سے جتنے درود ثابت ہیں ان میں کہیں یہ الفاظ مستعمل نہیں ہوئے ہیں، بلکہ بقول حافظ ابن حجرؒ کسی صحابی و تابعی نے بھی یہ الفاظ درود میں استعمال نہیں کیے ہیں۔
ب۔ احادیث سے ثابت ہے کہ لفظ سید کا استعمال رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے لیے اس دنیا میں بالکل غیر مشروع ہے اور حضورؐ نے اپنے لیے اس کے استعمال کو منع فرمایا ہے۔ رہا آپ کا ارشاد کہ ’’اَنَاسَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ‘‘ تو یہ قیامت کی حکایت ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو یہ اعزاز دنیا میں عبدیت کا شیوہ اختیار کرنے کے صلے میں عطا کیا جائے گا۔ چنانچہ قاضی عیاض نے ’شفا ‘میں روایت نقل کی ہے کہ اسرافیل نے حضورؐ سے کہا ’’اللہ تعالیٰ نے اس تواضع (انکسار) کے صلے میں جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اختیا ر کی ہے آپ کو یہ مرتبہ عطا کیا ہے کہ آپؐ قیامت کے روز اولاد آدم کے (سید) سردار ہوں گے۔‘‘ نیز حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جبریل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے حضورؐ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوچھا ’’آپ کو بادشاہ رسول بنائوں یا عبدرسول؟‘‘ جبریل علیہ السلام نے حضورؐ کو اشارہ کیا کہ ’’آپ اپنے رب سے تواضع سے پیش آئیے۔‘‘ تب آپؐ نے اس فرشتے کو جواب دیا ’’بلکہ عبدرسول۔‘‘ اسی لیے حضورؐ نے اپنے لیے لفظ سید کا استعمال پسند نہیں فرمایا اور اپنی دعائوں میں انتہائی عاجزی اختیار کی۔
ج۔ حضورؐ نے غزوۂ بنی قریظہ کے موقعے پر جب حضرت سعدؓ بن معاذ کے لیے لوگوں سے کہا قُوْمُواِلیٰ سَیِّدُ کُمْ (اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجائو) تو حضرت عمرؓ کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ اَلسَّیِّدُ ہُوَاللّٰہُ (سید تو اللہ ہی ہے)۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حضرت سعد بن معاذؓ والا واقعہ ۵ ہجری کا ہے، اور حضورؐ نے اپنے لیے لفظ سید کے استعمال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ ۹ ہجری میں فرمایا تھا، جب بنی عامر کا وفد آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔
د۔ درود اصل میں ایک دعا ہے اور دعا میں مَدْعُوَلَہٗ، کے لیے سید کا لفظ استعمال کرنا روح دعا کے خلاف ہے۔ درخواست اور دعا میں تو عاجزی و انکسار اور عبدیت کا اظہار ہونا چاہیے جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے اس کے لیے تو یوں کہا جاتا ہے کہ ایک عبد مسکین حاضر خدمت ہے، نہ یہ کہ ہمارا آقا اور سردار حاضر ہورہا ہے۔‘‘
جواب : آپ نے جو اعتراضات پیش فرمائے ہیں، وہ بلاشبہ قابل توجہ ہیں اور میں ایسے اعتراضات پر بحث کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہوں۔ ذیل میں ان کا سلسلہ وار جواب حاضر ہے:

(۱)تشہد میں ابن عمرؓ کا تصرف

میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے جس بات پر استدلال کیا ہے اس پر اعتراض کرنے سے پہلے اگر آپ نے دو منٹ بھی غور کرلیا ہوتا تو یہ نہ فرماتے کہ ’’یہ حدیث آپ کے لیے مفید مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ الفاظ مرفوع حدیث میں بھی وارد ہوئے ہیں۔‘‘ براہ کرم ایک مرتبہ پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے الفاظ کو پڑھیے۔ وہ فرمایہ رہے ہیں کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کے بعد وَبَرَکَاتُہُ اور اَشْہَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکے بعد وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ کا اضافہ میں نے خود کردیا۔ اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ جس وقت انہوں نے یہ اضافہ کیا تھا اس وقت ان کے علم میں وہ حدیث مرفوع نہیں تھی جس کے متعلق آپ کہہ رہے ہیں کہ ا س میں بھی یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے علم میں کبھی نہ آئی ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے علم میں اس وقت آئی ہو جب کہ وہ پہلے ہی بطور خود ان الفاظ کا اضافہ کرچکے ہوں۔ یہ بھی تحقیق فرما لیجیے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ دارقطنی نے اسے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ہٰذَا اِسْنَادٌ صَحِیْحٌ (یہ سند صحیح ہے) اور حافظ ابن حجرؒ نے ابودائود کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔ یہ صریح طور پر آپ کے مدعا کے خلاف پڑتی ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک جلیل القدر صحابی نے نماز کے ماثور الفاظ پر اپنی طرف سے کچھ الفاظ کا اضافہ کیا اور اس کا لوگوں کے سامنے اظہار بھی کردیا، مگر(کم از کم میرے علم کی حد تک) نہ دور صحابہ و تابعین میں اس پر کوئی گرفت کی گئی اور نہ بعد کے کسی دور میں کسی فقیہ یا محدث نے اسے صحابی رسولؐ کی بدعت ضلالت قرار دیا۔

(۲)تشہد کے متعلق ابن مسعودؓ کی روایات

میں نے تشہد کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی جو روایت نقل کی ہے، اس کے متعلق آپ کہتے ہیں کہ عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ کے بعد والے الفاظ کو حفاظ حدیث نے بالاتفاق الحاقی قرار دیا ہے اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ دراصل یہ حضرت ابن مسعودؓ کا اپنا قول ہے جو راوی کی غلطی سے حضورؐ کی طرف منسوب ہوگیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ رائے کن حفاظ حدیث نے ظاہر کی ہے۔ مگر ان کے فضل و کمال کا انتہائی معترف و معتقد ہونے کے باوجودمیں ان کا اندھا مقلد نہیں ہو ں کہ بس یہ سن کر کہ وہ ان الفاظ کے الحاقی ہونے پر متفق ہیں، خود بھی انہیں الحاقی مان لوں اور یہ نہ دیکھوں کہ جس بنیاد پر انہوں نے یہ فیصلہ کرڈالا ہے وہ بجائے خود معقول بھی ہے، یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ حدیث چار مختلف صورتوں میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہوئی ہے:
ایک صورت میں عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُکے بعد اِذَا قُلْتَ ہٰذاکے الفاظ بالکل متصل ہیں اور کوئی علامت ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ شبہ کیا جاسکے کہ یہ بعد کے الفاظ حضوؐر کے نہیں بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہیں۔ اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضوؐر کا کلام فلاں جگہ ختم ہوا اور فلاں جگہ سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا کلام شروع ہوگیا۔
دوسری صورت اس حدیث کی یہ ہے کہ وہ عَبْدُہ وَرَسُوْلُہُ پر ختم ہوگئی ہے۔ اور بعد کی عبارت اس میں سرے سے مذکور ہی نہیں ہوئی ہے۔ یہ ترک ذکر قطعاً اس بات کی دلیل نہیں قرار پاسکتا کہ اوپر والی روایات میں جو زائد عبارت مذکور ہوئی ہے، وہ الحاقی ہے۔
تیسری صورت اس حدیث کی یہ ہے کہ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کے بعد قَالَ یَا ثُمَّ قَالَ فَاِذَا فَعَلْتَ ہٰذَا۔۔۔کے الفاظ ہیں۔ اس لفظ قال یا ثم قال سے قطعاً یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ قائل کون ہے۔ اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا، اور یہ بھی کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا۔ دونوں احتمالوں میں سے ایک کو ترجیح دینے کے لیے خود اس روایت میں کوئی گنجائش نہیں۔
چوتھی قسم کی روایات وہ ہیں جن میں عبدہ ورسولہ کے بعد قال عبداللہ یا قال ابن مسعود کے الفاظ ہیں اور پھر فاذا فعلت ہذا سے آخر تک کی عبارت نقل کی گئی ہے۔ جن حفاظ حدیث نے صرف ان آخری قسم کی روایات کو اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ پہلی قسم کی روایات میں جو عبارت حضورؐ کے ارشاد سے متصل پائی جاتی ہے وہ دراصل الحاقی ہے، ان کی جلالت شان کا پورا اعتراف کرتے ہوئے میں عرض کرتا ہوں کہ حدیث کی روایات میں اس طرح کے فیصلے صادر کردینا فن حدیث کی قدرو منزلت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ آخر یہ رائے قائم کرنے میں کیا مشکل حائل تھی کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ خود بھی اسی بات کا فتویٰ دیتے تھے جو انہوں نے حضور ﷺ سے سنی تھی؟ پہلی قسم کی احادیث میں انہوں نے قول رسولؐ نقل کیاہے، اور آخری قسم کی احادیث میں خود اپنا فتویٰ بیان کیا ہے، جو عین قول رسولؐ کے مطابق ہے۔ اگر ان کا فتویٰ ان کی روایت کردہ حدیث کے خلاف ہوتا تو ضرور حدیث مشکوک ہوجاتی۔ لیکن وہ تو حدیث کے ٹھیک مطابق، فتویٰ دے رہے ہیں۔

(۳)کیا ابن مسعوؓد سورۂ احزاب سے ناواقف تھے؟

تیسرے اعتراض میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، اس میں ذرا اس بات کی وضاحت اور فرمادیجیے کہ جس وقت کوفے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ حضرت علقمہ اور اپنے دوسرے شاگردوں سے تشہد کے متعلق یہ حدیث بیان کررہے تھے، اس وقت سورۂ احزاب نازل ہوچکی تھی یا نہیں؟ اور اگر نازل ہوچکی تھی (جس کا شاید آپ انکار نہیں کرسکتے تھے) تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس سے واقف تھے، یا ناواقف؟ اس کی آپ وضاحت کردیں گے تو اعتراض کا جواب آپ کو خود ہی مل جائے گا۔

(۴)درود و دعا کے ماثور الفاظ کی پابندی کیوں لازم نہیں ہے؟

تعبدی اعمال (عبادت کی نوعیت رکھنے والے اعمال ) کے بارے میں جس متفق علیہ شرعی قاعدے کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کا میں بھی شدت سے قائل ہوں اور بیس سال پہلے خود اس کو بیان کرچکاہوں۔ ملاحظہ فرمائیں تفہیمات ، مضمون ’’قانون سازی، شوریٰ اور اجماع۔‘‘ اسی مضمون کے آخر میں اس کی تاریخ اشاعت مئی ۱۹۵۵ء درج ہے۔

لیکن آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ تشہد کے بعد پڑھنے کے لیے درود و دعا کے جو الفاظ ماثور ہیں، ان کی نوعیت بھی ایسی ہے کہ ان کو جوں کا توں پڑھنا ہی ضروری ہو، کیونکہ بخاری ، مسلم، نسائی ، ابودائود اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایات یہ بتاتی ہیں کہعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ تک تشہد پڑھنے کے بعد آدمی کو اختیار ہے کہ اللہ سے مانگنے کے لیے جو دعا چاہے ، منتخب کرلے۔

(۵) ا۔حضورؐ کی موجودگی میں ماثور الفاظ پر اضافہ

بخاری، مسلم، ابودائود ، مسند احمد، نسائی اور طبرانی میں حضرت رفاعہؓ بن رافع کی روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ رکوع سے سراٹھا کر جب حضوؐر نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ فرمایا تو پیچھے سے ایک شخص نے کہا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْراً طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ ۔ نماز سے فارغ ہو کر حضورؐ نے پوچھا ابھی ابھی یہ بات کس نے کہی تھی؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ؐ میں نے۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس کو لکھ لینے کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں بھی آپ دیکھ لیں کہ اس شخص نے حضورؐ کے سکھائے ہوئے الفاظ پر مزید چند الفاظ کا اضافہ خود کیا تھا۔ یہ زائد الفاظ حضورؐ کے بتائے ہوئے نہ تھے۔ اور اس نے ماثور الفاظ پر یہ اضافہ حضورؐ کی موجودگی میں حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کیا تھا۔ آپ کے نقطہ نظر سے تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ حضورؐ اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرماتے اور اسے ڈانٹتے کہ ماثور الفاظ پر اپنی طرف سے چند الفاظ بڑھا کر تونے خلاف شرع حرکت کی ہے، تو میرے سامنے دین کے اندر ایک نیا طریقہ اختراع کرنے کی جسارت کربیٹھا ہے، تیرے بڑھائے ہوئے الفاظ اگر شریعت میں مطلوب ہوتے تو میں ان کی تعلیم دیتا، تو ان کو اوراد نماز میں داخل کرنے والا کون ہوتا تھا۔ لیکن حضورؐ انے اس کو پوری جماعت کے سامنے یہ بشارت دی کہ تیرے کلمات اتنے قابل قدر تھے کہ فرشتے ان کو لکھنے کے لیے دوڑ پڑے۔ اور ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ ان الفاظ کو ثبت کرنے کی سعادت اسے نصیب ہوجائے۔
تشہد کے ماثور الفاظ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے داخل کردہ الفاظ کا ذکر میں پہلے کرچکا ہوں اور یہ بھی بتاچکا ہوں کہ اس سے جان چھڑانے کے لیے جو تاویل آپ نے کی ہے وہ بالکل بے معنی ہے۔

ایک نئی اذان کا اضافہ

۲۳۔مسند احمد اور نسائی کی روایت ہے کہ جمعہ کے روز رسول اللہ ﷺ جب منبر پر تشریف فرما ہوجاتے تھے تب بلال اذان دیتے تھے، اور جب آپ منبرسے اترتے تھے تو وہ تکبیر اقامت کہتے تھے۔ یہ گویا دواذانیں تھیں جو حضورؐ کے زمانے میں مقرر ہوئیں۔ بخاری ، نسائی ، ابودائود ، ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سائب بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کے عہد میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا اور آبادی بڑھ گئی تو انہوں نے تیسری اذان ( وہ اذان جو امام کے منبر پر آنے سے پہلے دی جاتی ہے) کا حکم دیا جو زوراء یہ مدینے کے بازاروں میں ایک اونچا گھر تھا جس کی چھت پر موذن اذان دیتا تھا کہ دور دور تک آواز پہنچ جائے۔

 کے مقام پر دی جاتی تھی۔ بخاری کی ایک اور روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ جمعہ کے روز تیسری اذان کا اضافہ کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے، جب کہ اہل مدینہ کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے حکم دیا کہ پہلی اذان اس مکان پر دی جائے جس کا نام زوراء ہے۔ پھر جب وہ منبر پر بیٹھ جاتے تھے تو ان کا موذن اذان دیتا تھا اور جب وہ منبر سے اترتے تھے تو موذن تکبیر اقامت کہتا تھا۔ یہ تعبدی امور کے دائرے میں ماثور و مسنون عمل پر ایک صریح اضافہ تھا جو خلیفہ برحق نے ایسے زمانے میں کیا تھا جب صحابہ و تابعین سے دنیائے اسلام بھری پڑی تھی۔ مگر اس کی مخالفت تو کیا ہوتی، اسلامی دنیا کے بلادوامصار میں وہ مقبول ہوگئی۔ صرف ایک ابن عمر رضی اللہ عنہ ہیں جن کے متعلق ابن ابی شیبہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اسے بدعت کہا تھا۔
تخریج: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، قالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ، قَالَ: سَاَلْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ الْاَذَانَ الْاَوَّلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِدْعَۃً؟ فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: بِدْ عَۃٌ۔(۶)
مگر حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیںکہ’’ان کے اس قول میں یہ احتمال بھی ہے کہ انہوں نے اسے منکر سمجھتے ہوئے بدعت کہا ہو، اور یہ احتمال بھی کہ انھوں نے اسے صرف اس بنا پر بدعت قرار دیا ہو کہ یہ طریقہ نبی ﷺ کے زمانے میں رائج نہ تھا، اور ہر وہ کام جو آپ کے زمانے میں نہ ہوا ہو، بدعت کہلاتا ہے۔ لیکن ایسے کاموں میں بعض اچھے ہوتے ہیں اور بعض اس کے خلاف۔‘‘ حافظ کے اس خیال کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ خود حضرت عبداللہ بن عمرؓ اس سے پہلے ایک ’’اچھی بدعت ‘‘ کا ارتکاب کرچکے تھے۔ مزید برآں ایک اور فعل کو بھی انہوں نے بدعت قرار دینے کے بعد اس کی تحسین فرمائی تھی( جس کا ذکر آگے آرہا ہے)۔

ابن عمرؓ کا چاشت کی نماز کو ’’اچھی بدعت‘‘ کہنا

۸۴۔صلوٰۃ ضحی (چاشت کی نماز) کا پڑھنا بجائے خود تو رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے، اس لیے اس کے سنت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس کا التزام ، یا مسجدوں میں اس کا پڑھا جانا حضورؐ کے عہد مبارک میں رائج نہ تھا۔ بعد کے لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کرلیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی رائے اس کے بارے میں دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا ’’بدعت ہے اور اچھی بدعت‘‘۔ (ابن ابی شیبہ) ۔ ایک اور روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’یہ نیا نکالا ہوا طریقہ ہے اور ان اچھے طریقوں میں سے ہے جو لوگوں نے نکال لیے ہیں۔‘‘ (سعید بن منصور) اور ایک تیسری روایت میں ان کا ارشاد ہے ’’لوگوں نے کوئی نئی چیز ایسی نہیں نکالی ہے جو مجھ کو اس سے زیادہ محبوب ہو‘‘ (عبدالرزاق) یہ تینوں روایتیں بالکل صحیح سندوں سے منقول ہوئی ہیں۔ ملاحظہ ہو فتح الباری ، باب صلوٰۃ الضحیٰ ۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: ثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الْاَعْرَجِ، قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاۃِ الضُّحیٰ فَقَالَ: بِدْعَۃٌ۔(۷)
(۲)حَدَّثَنَاابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الْاَعْرَجِ، قَالَ: سَاَلْتُ مُحَمَّدًا عَن صَلَاۃِ الضُّحیٰ وَہُوَ مُسْنِدٌ ظَہَرَہُ اِلیٰ حُجْرَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: بِدْعَۃٌ وَنِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ۔(۸)
(۳)عَبْدُ الرَّزَّاقِ (عَنْ مَعْمَرٍ) عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدْ قُتِلَ عُثْمَانُ وَمَا اَحَدٌیُسَبِّحُہَا، وَمَا اَحْدَثَ النَّاسُ شَیْئاً اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْہَا۔
ایک دوسری روایت:
(۴)عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ اَوْ مَعْمَرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: حَدَّثَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّہ قَالَ: قَدْ اُصِیْبَ عُثْمَانُ وَمَا اَحَدٌ یُسَبِّحُہَا وَاِنَّہَا لَمِنْ اَحَبِّ مَا اَحْدَثَ النَّاسُ اِلَیَّ۔(۹)
(۵)اَخْبَرَنَا اَبُوْ بَکْرٍ مُحَمَّدُبْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُوْ رِکٍ، اَنْبَاَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ حَبِیْبٍ، ثَنَا اَبُوْدَاودَ، اَنْبَاَ ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ (ح و اَخْبَرَنَا) اَبُوْ مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَحْیٰ ابْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادٍ، اَنْبَاَ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ الرَّمَادِیُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، انبامَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ سَبَّحَ سُبْحَۃَ الضُّحٰی وَاِنِّیْ لَاُسَبِّحُہَا زَاد مَعْمَرٌ فِیْ رِوَایَتِہٖ : وَمَا اَحْدَثَ النَّاسُ شَیْئًا اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْہَا۔(۱۰)

حضرت عمرؓ کا تراویح کو ’’اچھی بدعت‘‘ کہنا

نماز تراویح بھی حضورؐ کے عمل سے ثابت ہے۔اس لیے اس کے سنت ہونے میں اختلاف نہیں ہے۔ مگر مسجد میں اس کا ایک ہی امام کے پیچھے پڑھا جانا، اور اسے باجماعت ادا کرنے کاعام رواج ایک نیا طریقہ تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں جاری کیا۔ اور اس کے بارے میں فرمایا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہِ(یہ ایک اچھی بدعت ہے)۔ یہ بھی تعبدی امور کے بارے میں شارع کے طریقے پر ایک اضافہ ہی تھا، لیکن حضرت عمرؓ جیسے سخت متبع سنت صحابی وخلیفہ نے اسے نیا طریقہ جانتے ہوئے اچھا طریقہ سمجھ کر جاری کیا اور صحابہ و تابعین ، ائمہ مجتہد ین اور فقہاء و محدثین ، سب نے بلا تامل اس کی پیروی کی۔

درود میں سیدنا و مولانا کے الفاظ کا استعمال

اس بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تعبدی اعمال میں ردوبدل اور کمی و بیشی کا قطعاً ممنوع ہونا اور اس قاعدہ کلیہ میں کسی استثناء کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہ ہونا ایک ایسا تشدد ہے جس کی تائید احادیث صحیحہ سے نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ درودمیں ماثور الفاظ پر ’’سیدنا ومولانا‘‘ کا اضافہ کیا واقعی ناجائز اور ممنوع ہے؟ لیکن میں اس بحث کے آغاز ہی میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں درود میں صرف وہ الفاظ بڑھانا جائز سمجھتا ہوں جو بجائے خود حضورؐ کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے مشروع ہوں، خواہ درود کے ماثور الفاظ میں وہ شامل نہ ہوں۔

لیکن یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ (غلام علی)

درود کے ماثور الفاظ پر ابن مسعودؓ کا اضافہ

آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ احادیث سے جتنے درود ( نبی ﷺ کے درود) ثابت ہیں،ان میں سیدنا کا لفظ شامل نہیں ہے، اگرچہ وہ حافظ ابن حجرؒ ہی نے کیا ہو ، کہ کسی صحابی سے ایسا کوئی درود ثابت نہیں ہے۔ ابن ماجہ، بَابُ الصَّلوٰۃِ عَلَی النَّبِیِّؐ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَحْسِنُوا الصَّلوٰۃَ عَلَیْہِ فَاِنَّکُمْ لاَتَدْرُوْنَ لَعَلَّ اللّٰہُ ذٰلِکَ یُعْرِضُ عَلَیْہِ۔ ’’تم لوگ جب رسو ل اللہ ﷺ پر درود بھیجو تو حسن و خوبی کے ساتھ بھیجو، تمہیں کیا خبر، ہوسکتا ہے کہ تمہارا درود حضورؐ کے سامنے پیش ہو۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا ’’تو پھر وہ آپ ہمیں سکھادیں۔‘‘ اس پر انہوں نے فرمایا: یوں کہا کرو:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلٰوتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ، وَاِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ، وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ عَبْدِ کَ وَرَسُوْلِکَ، اِمَامِ الْخَیْرِ، وَقَائِدِ الْخَیْرِ، وَرَسُوْلِ الرَّحْمَۃِ، اللّٰہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا یَغْبِطُہُ بِہِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ۔
’’خدایا ! اپنی عنایت و رحمت اور اپنی برکتیں نازل فرما رسولوں کے سردار، متقیوں کے پیشوا اور نبیوں کے خاتم محمدﷺ پر، جو تیرے بندے اور رسول ہیں، جو نیکی اور بھلائی کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں۔ خدا یا! ان کو اس مقام محمود پر پہنچا جس پر اولین و آخرین رشک کریں۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابن مسعودؓ نے درود کے وہ ماثور الفاظ پڑھے جو رسول اللہ ﷺ کے تعلیم کردہ ہیں۔‘‘
حضرت عبداللہ کے اس ارشاد کا صحیح مطلب اس مثال سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اگر کوئی شریف آدمی کسی کے ہاں جاتا ہے اور اس کے ملازم سے اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے کہتا ہے تو اپنی زبان سے وہ خود یہ نہیں کہتا کہ صاحب خانہ سے کہو ’’مولانا عبدالرحمن صاحب تشریف لائے ہیں۔‘‘ بلکہ وہ کہتا ہے ’’ عبدالرحمن حاضر ہوا ہے۔‘‘ اب یہ ملازم کی تمیز پر موقوف ہے کہ وہ صاحب خانہ کو اطلاع دینے کے لیے آنے والے کے مرتبے کے مطابق الفاظ استعمال کرتا ہے، یا ٹھیک وہی الفاظ دہرادیتا ہے جو آنے والے نے اپنے لیے استعمال کیے تھے۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کو حضرت اسود بن یزید نے روایت کیا ہے، جو جلیل القدر تابعین میں سے تھے۔ ان کا مرتبہ اس سے بلند تر ہے کہ ان کی ثقاہت کے لیے کسی کی سند لائی جائے۔ ان سے اس کو روایت کرنے والے ابوفاختہ سعید بن علاقہ ہیں، جنہیں حافظ ابن حجر نے تقریب میں ثقہ قرار دیا ہے۔ ان سے عون بن عبداللہ اس کے راوی ہیں، جن کی ثقاہت پر امام احمد، یحییٰ بن معین، عجلی اور نسائی نے شہادت دی ہے۔ ان سے روایت کرنے والے المسعودی عبدالرحمن بن عبداللہ ہیں، اور یہی وہ راوی ہیں جن کو مخبوط الحواس قرار دے کر یہ روایت ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے قابل ٹھیرائی جاتی ہے۔ حالانکہ علمائے رجال نے تصریح کی ہے کہ وہ ثقہ تھے اور صرف آخر عمر میں ان کا ذہن الجھ گیا تھا۔ امام احمد اور ابن عمار کہتے ہیں کہ کوفے اور بصرے میں جو روایات لوگوں نے ان سے سنی ہیں وہ سب صحیح ہیں، البتہ بغداد جاکر ان کا ذہن پراگندہ ہوگیا تھا ۔ ابن ابی حاتم اپنے والد ابوحاتم کا قول نقل کرتے تھے کہ اپنی موت سے سال، یا دو سال پہلے ان کے ذہن کی یہ حالت ہوئی تھی۔ ابن معین کہتے ہیں کہ قاسم اور عون بن عبداللہ سے جو احادیث انہوں نے روایت کی ہیں وہ صحیح ہیں۔ ابن عیینہ کہتے ہیں کہ میرے علم میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے علم کو مسعودی سے زیادہ جاننے والا نہ تھا۔ علمائے رجال کی اس شہادت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح بے دردی کے ساتھ ان احادیث کو اٹھاکر پھینک دیا جاتا ہے جو مفید مطلب نہیں ہوتیں۔

(۵) ب۔ کیا واقعی حضوؐر نے اپنے لیے لفظ ’’سید ‘‘ کے استعمال کو ممنوع قرار دیا تھا؟

۲۵۔آپ کا یہ قول قطعاً صحیح نہیں ہے کہ اپنے لیے سید کا لفظ استعمال کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرما دیا تھا۔ یہ احادیث کو نہ سمجھنے اور ان کے موقع و محل کو جانے بغیر ان سے غلط نتائج نکالنے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس معاملہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ خوشامد ، اور کسی کے منہ پر اس کی تعریف کرنے کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ بخاری اور ابودائود میں حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورؐ کے سامنے ایک اور شخص کی تعریف کی۔ آپ نے تین مرتبہ (اور دوسری روایت میں ہے بار بار) فرمایا ’’ تونے تو اپنے دوست کا گلا کاٹ دیا۔‘‘ پھر سمجھایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنے کسی بھائی کی مدح ضرور ہی کرنی ہو اور وہ واقعی اس کے متعلق وہی کچھ جانتا ہو، جو وہ کہنا چاہتا ہے۔ تو یوں کہے کہ ’’میں اسے ایسا سمجھتا ہوں‘‘ اور ساتھ ہی یہ بھی کہے کہ اس کو جاننے والا تو اصل میں اللہ ہے اور میں اللہ پر اس کا تزکیہ لازم کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ، اَنَّ رَجُلًا ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَاَثْنٰی عَلَیْہِ رَجُلٌ خَیْرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمُ: وَیْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ یَقُوْلُہُ مِرَاراً اِنْ کَانَ اَحَدُ کُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُلْ اَحْسِبُ کَذَا وَکَذَا انْ کَانَ یُرٰی اَنَّہُ کَذٰلِکَ وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ وَلَایُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ اَحَدًا وَقَالَ وُہَیْبٌ عَنْ خَالِدٍ: وَیْلَکَ۔(۱۱)
(۲) عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ﷺ رَجُلًا یُثْنِیْ عَلیٰ رَجُلٍ وَیُطْرِیْہِ فِی الْمِدْ حَۃِ فَقَالَ: اَہْلَکْتُمْ اَوْ قَطَعْتُمْ ظَہْرَ الرَّجُلِ۔(۱۲)
ـــــــ ابودائود نے مرارًا کی جگہ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اور آگے اِذَامَدَحَ اَحَدُکُمْ صَاحِبَہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُلْ اِنِیْ اَحْسِبُہُ کَمَا یُرِیْدُ اَنْ یَّقُوْلَ وَلَا اُزَکِّیْہِ عَلَی اللّٰہِ۔
یہ بات نگاہ میں رکھیے اور پھر اس روایت کو دیکھیے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ حضورؐ نے اپنے لیے لفظ ’’سید‘‘ کے استعمال سے منع فرمادیا تھا۔ مسند احمد میں حضرت انسؓ بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا یَامُحَمْدُ ﷺ یَا سَیِّدَنَا وَ ابْنَ سَیِّدِنَا، وَخَیْرَنَا وَابْنَ خَیْرِنَا۔ ’’اے محمد ﷺ ، اے ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہمارے بہترین شخص اور ہمارے بہترین شخص کے بیٹے۔‘‘ اس پر حضورؐ نے فرمایا ’’لوگو! اپنے تقویٰ پر قائم رہو، شیطان تمہیں غلط راستے پر نہ ڈالنے پائے، میں محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اس منزلت سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرو جو اللہ عزوجل نے مجھے عطا کی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ روایت بھی ملاحظہ فرما لیجیے جس کی بنا پر آپ لفظ سید کے استعمال سے منع کردینے کی تاریخ ۹ ہجری متعین فرمارہے ہیں:
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُؤَمَّلٌ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَجُلًا قَالَ: لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا سَیِّدَنَا وابْنَ سَیِّدِنَا وَیَا خَیْرَ نَا وَابْنَ خَیْرِ نَا فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : یٰاَیُّہَا النَّاسُ! قُوْلُوْا بِقَوْلِکُمْ وَلَا یَسْتَہْوِ یَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ، اَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ وَاللّٰہِ مَا اُحِبُّ اَنْ تَرْفَعُوْ نِیْ فَوْقَ مَا رَفَعَنِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔(۱۳)
ـــــــ مسند احمد کی ایک روایت میں اَنْتَ سَیِّدُقُرَیْشٍ اور ایک دوسری میں اَنْتَ وَلِیُّنَا وَاَنْتَ سَیِّدُنَا وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا وغیرہ کے الفاظ بھی مروی ہیں۔ (۱۴)
مسند احمد میں تین جگہ اور ابودائود کتاب الادب میں ایک جگہ یہ ذکر ہے کہ بنی عامر کا وفد حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں مطرف بن عبداللہ بن الشخیر کے والد بھی شریک تھے۔ مطرف اپنے والد ہی کے حوالہ سے ان کا یہ بیان روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حاضر ہو کر آپؐ کو سلام کیا اور پھر کہا کہ آپ ہمارے ولی ہیں، آپ ہمارے سید (سردار) ہیں، آپ ہم پر سب سے زیادہ عطاء و بخشش کرنے والے اور فضل فرمانے والے اور بڑے عمدہ کھانے کھلانے والے ہیں۔ ان کے اس خوشامدانہ انداز کو دیکھ کر حضورؐ نے ان کے الفاظ اَنْتَ سَیِّدُنَا کے جواب میں فرمایا اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰاور جب وہ خوشامد کیے ہی چلے گئے تو فرمایا ’’ اپنی بات کہو اور شیطان تمہیں اپنے مطلب کے لیے استعمال نہ کرے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا بِشْرٌ یَعْنِیْ ابْنُ الْمُفَضَّلِ۔ ثَنَا اَبُوْ سَلَمَۃَ سَعِیْدُ بْنُ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ اَبِیْ: اِنْطَلَقْتُ فِیْ وَفْدِ بَنِیْ عَامِرٍ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقُلْنَا: اَنْتَ سَیِّدُنَا فَقَالَ السَّیِّدُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ قُلْنَا: وَافْضَلُنَا فَضْلاً وَاَعْظَمُنَا طَوْلًا فَقَالَ: قُوْلُوْا بِقَوْلِکُمْ اَوْبَعْضَ قَوْلِکُمْ۔ وَلَا یَسْتَجْرِ یَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ۔(۱۵)
اس کلام کو دلیل قرار دے کر یہ کہنا کہ حضورؐ نے اپنے لیے لفظ ’’سید‘‘ کے استعمال کو منع فرمادیا تھا، حدیث دانی اور حدیث فہمی کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے۔ حضورؐ کے الفاظ اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ اللہ کے سوا کسی کے لیے لفظ سید استعمال نہیں کیا جاسکتا، تو پھر ان تمام احادیث کو غلط ٹھیرانا پڑے گا جن میں غیر اللہ کے لیے لفظ سید استعمال کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ اللہ جل شانہ کے اسمائے خاص میں لفظ ’السید‘ کا اضافہ کرنا پڑے گا، حالانکہ اسمائے الٰہی میں کسی نے بھی اس کو شمار نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر اس کا مطلب صرف یہ لیا جائے کہ اور سب کے لیے تو یہ لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے، البتہ حضورؐ کے لیے اس کا استعمال ممنوع ہے تو یہ سراسر بے بنیاد معنی آفرینی ہوگی، کیونکہ جس فقرے کو آپ دلیل بنارہے ہیں اس سے یہ مفہوم کسی طرح بھی نہیں نکلتا۔ علاوہ بریں یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کہ جب خوشامد کے سوا کسی اور انداز میں حضورؐ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا تو آپ نے اس سے منع نہ فرمایا۔ چنانچہ مسند احمد میں نضلہ بن طریف کی روایت ہے کہ ان کے قبیلے کے ایک شخص عبداللہ کی بیوی ناشزہ ہوکر بھاگ گئی اور اسی قبیلے کے ایک دوسرے شخص مُطْرِفُ بْنُ بَہْصَلٍ کے ہاں جابیٹھی ۔ عبداللہ نے جاکر اس شخص سے اپنی بیوی کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کردیا۔ آخر کار وہ فریادی بن کر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چند اشعار کی صورت میں اپنی شکایت پیش کی۔ ان میں سے پہلا شعر یہ تھا:

یَا سَیِّدَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرَبِ
اِلَیْکَ اَشْکُو ذَرْبَۃً مِّنَ الذَّرَبِ
’’اے لوگوں کے سردار اور عرب کے فرمانروا، آپ کے پاس میں بڑی زبان دراز عورتوں میں سے ایک کی شکایت پیش کرتا ہوں۔‘‘
یہ چونکہ فریادی کی فریاد تھی، نہ کہ کسی خوشامدی کی خوشامد ، اس لیے ان الفاظ پر حضورؐ نے کوئی اعتراض نہ فرمایا، بلکہ فوراً مطرف کے نام فرمان لکھا کہ اس شخص کی بیوی اس کے حوالے کردو۔ یہ صاحب بنی حرماز میں سے تھے جو بنی مازن کے گھرانوں میں سے ایک گھرانا تھا۔ ان کا حضورؐ کو ’’دیان العرب‘‘ کہہ کر خطاب کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس قبیلے کا قبول اسلام بھی فتح مکہ اور جنگ حنین کے بعد ہی کا واقعہ ہوسکتا تھا جب کہ آپؐ واقعی عرب کے فرماں روا ہوگئے تھے۔

 

بے سند اور غیر متعلق روایات سے استدلال

قاضی عیاض کی ’شفا‘ سے آپ نے جو روایت نقل کی ہے، اس کا کوئی حوالہ انہوں نے نہیں دیا ہے اور نہ اس روایت کی سند بیان کی ہے۔ عجیب بات ہے کہ مفید مطلب روایت تو بلا سند و حوالہ قبول، اور خلاف مطلب روایت اگر صحاح ستہ میں سے ایک کے اندر پوری متصل سند کے ساتھ درج ہو تو اس کے ایک راوی پر بلا تحقیق تہمتیں جوڑ کر پوری حدیث رد۔ رہی آپ کی نقل کردہ وہ روایت جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتے کا سوال ، اور حضرت جبریل کے مشورے پر حضوؐر کا جواب نقل کیا گیا ہے تو وہ اس بحث میں سرے سے غیر متعلق ہے۔

(۵) ج۔حضوؐر کے ارشادپر حضرت عمرؓ کا اعتراض

۲۶۔ آپ نے اس مشہور واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ جب بنی قریظہ کے معاملہ میں حکم کی حیثیت سے فیصلہ دینے کے لیے حضرت سعدؓ بن معاذ بلائے گئے تھے تو حضورؐ نے حاضرین کو ، یا انصار کو حکم دیا تھا کہقُوْمُوْا اِلیٰ سَیِّدِ کُمْ۔ لیکن بخاری ، مسلم ، ابودائود ، مسند احمد اور مغازی و سیرت کی کتابوں میں اس واقعے کی تمام دوسری روایات چھوڑ کر آپ کی نگاہ صرف مسند احمد کی اس ایک روایت پر جاکر ٹھیری جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضوؐر یہ ارشاد فرماتے ہی کہ قُوْمُوْا اِلیٰ سَیِّدِ کُمْ ’’اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجائو‘‘ حضرت عمرؓ بھری مجلس میں بول اٹھے کہسَیِّدُنَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ’’ ہمارا سردار تو اللہ عزوجل ہے‘‘ تھوڑی دیر کے لیے اس بات سے قطع نظر کرلیجیے کہ دوسری روایتیں اس ذکر سے خالی ہیں، آپ کی سمجھ میں یہ بات آخرکیسے گئی کہ حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہ گستاخی کرسکتے تھے؟ اور وہ حضرت عمرؓ یہ بات کیسے کہہ سکتے تھے جن کا اپنا قول ترمذی میں حضرت عائشہؓ سے ان الفاظ میں نقل ہوا ہے اَبُوْبَکَرٍ سَیِّدُنَا وَخَیْرُنَا وَاَحَبُّنَا اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ’’ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں، ہمارے بہترین آدمی ہیں، ہم سب سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کو محبوب ہیں‘‘۔ اور جن کا ایک دوسرا قول بخاری میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے یوں منقول ہوا ہے: اَبُوْبَکْرٍ سَیِّدُنَا وَاَعْتَقَ سَیِّدَنَا، یَعْنِیْ بِلاَلاً ’’ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار ، یعنی بلالؓ کو آزاد کیا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ الْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِبْنِ ابْرَاہِیْمَ ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّ اَہْلَ قُرَیْظَۃَ نَزَلُوْاعَلیٰ حُکْمِ سَعْدٍ فَاَرْسَلَ النَّبِیُّ ﷺ اِلَیْہِ فَجَآئَ فَقَالَ: قُوْمُوْا اِلیٰ سَیِّدِ کُمْ اَوْقَالَ خَیْرِ کُمْ فَقَعَدَ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: ہٰوُلٰآئِ نَزَلُوْا عَلیٰ حُکْمِکَ قَالَ: فَاِنِّیْ اَحْکُمُ اَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ فَقَالَ: لَقَدْ حَکَمْتَ بِمَا حَکَمَ بِہِ الْمَلِکُ۔۔۔الخ۔(۱۶)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ اَبِیْ سَلَمَۃ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، اَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: کَانَ عُمَرُ یَقُوْلُ: اَبُوْ بَکْرٍ سَیِّدُنَا وَاَعْتَقَ سَیِّدَنَا یعنی بِلَالاً۔(۱۷)
(۳) حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ سَعِیْدٍ نِالْجَوْہَرِیُّ ، نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اَوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : اَبُوْ بَکْرٍ سَیِّدُنَا وَخَیْرُنَا وَاَحَبُّنَا اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۱۸) (ہذا حدیث صحیح غریب)

(۵) د۔کیا حضورؐ کے لیے دعا میں سیدنا کہنا روح دعا کے خلاف ہے؟

۲۷۔ آپ فرماتے ہیں کہ درود میںحضورؐ کے لیے سید کا لفظ استعمال کرنا روح دعا کے خلاف ہے، درخواست اور دعا میں تو عبدیت اور عاجزی و انکساری کا اظہار ہونا چاہیے اور جس کے حق میں دعا کرنی ہو، اس کے لیے تو یوں کہنا چاہیے کہ ایک بندۂ مسکین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے، نہ یہ کہ ہمارا آقا اور سردار حاضر ہورہا ہے۔ آپ کی یہ بات اس صورت میں تو بلا شبہ درست ہے جب کہ آدمی خود اپنے لیے دعا مانگ رہا ہو۔ مگر کیا یہ اس صورت میں بھی صحیح ہے جب کہ آدمی کی دعا رسول اکرم ﷺ کے حق میں ہو؟ کیا آپ حضورؐ کے حق میں دعا مانگتے ہوئے (معاذ اللہ ) یوں کہیں گے کہ ’’یا اللہ بے چارے مسکین محمد رسول اللہؐ پر اپنی رحمتیں نازل فرما؟ ‘‘ پھر آپ کی یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے جب کہ مسند احمد ، مسند ابو عوانہ ، صحیح ابن حبان اور حافظ مروزی کی مسند ابوبکر صدیق ؓ میں صحیح سند کے ساتھ روز قیامت کی شفاعت کے متعلق یہ روایت آئی ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اور ان سے خود رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا کہ اس روز اللہ تعالیٰ آں حضورؐ پر دعا کا ایک ایسا طریقہ کھولے گا جو اس سے پہلے کسی بشر پر کبھی نہیں کھولا گیا ، اور حضورؐ عرض کریں گے اَیْ رَبِّ جَعَلْتَنِیْ سَیِّدَ وُلْدِ اٰدَمَ وَلاَفَخْرَ وَاَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہٗ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلاَفَخْرَ’’اے میرے رب ، تونے مجھے سید اولاد آدم بنایا اور اس پر کوئی فخر نہیں، اور قیامت کے روز پہلا وہ شخص بنایا جس کے نکلنے کے لیے زمین شق ہوئی اور اس پر کوئی فخر نہیں۔‘‘ دیکھیے یہاں خود اللہ تعالیٰ حضوؐر کو دعا کا طریقہ سکھا رہا ہے، اور اس میں سیدولد آدم کے الفاظ استعمال ہورہے ہیں۔ کیا یہ روح دعا کے خلاف ہے؟
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ الطَّالَقَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِی النَّضْرُبْنُ شُمَیْلِ نِ الْمَازِنِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ نُعَامَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ ہُنَیْدَۃَ الْبَرَآئُ بْنُ نَوْفَلٍ عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔۔۔ فَیَفْتَحُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ مِنَ الدُّعَآئِ شَیْئًا لَمْ یَفْتَحْہُ عَلیٰ بَشَرٍ قَطُّ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ خَلَقْتَنِیْ سَیِّدَ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ وَاَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَافَخْرَ ۔۔۔ الخ۔(۱۹)

لفظ سید کی مشروعیت

۲۸۔آپ کے تمام اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اب میں عرض کرتا ہوں کہ سید کا لفظ ایک مشروع لفظ ہے جو بہ کثرت احادیث میں حضورؐ کے لیے بھی اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ بخاری، مسلم، مسند احمد، مسند ابودائود طیالسی، ترمذی، ابودائود ، دارمی اور دوسری کتب حدیث میں بہ کثرت سندوں کے ساتھ حضرات ابن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کی روایات آئی ہیں جن میں وہ حضورؐ کے یہ ارشادات نقل کرتے ہیں کہ اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ ٰادَمَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلاَفَخْرَ، یا اَنَا سَیِّدُ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلاَفَخْرَ۔ ان میں سے بعض روایات میں یَوْمَ الْقِیٰمَۃِکے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ صرف سَیِّدُ وُلْدِ ٰادَمَکے الفاظ ہیں۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، نَا سُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیٰمَہِ، وَ بِیَدِیْ لِوَآئُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِیٍّ یَوْمَئِذٍ آدَمَ فَمَنْ سِوَاہُ اِلَّا تَحْتَ لِوَائِیْ، وَاَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ وَلَا فَخْرَ۔(ہذا حدیث حسن صحیح)۔(۲۰)
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا حَجَّاجٌ، ثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ غَالِبٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مُحَمَّدٌ ﷺ۔(۲۱)
اَلْمُسْتَدْرَکُ لِلْحَاکِمِ میں ہے:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: اَنَا سَیِّدُوُلْدِ آدَمَ وَعَلِیٌّ سَیِّدُ الْعَرَبِ۔
ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاِسْنَادِ وَ لَمْ یُخْرِجَاہُ۔
مسند ابو عوانہ میں شفاعت کی طویل حدیث میں مندرجہ ذیل الفاظ منقول ہیں:
(۴)فَیَقُوْلُ عِیْسٰی: لَیْسَ ذَا کُمْ عِنْدِی وَلٰکِنِ انْطَلِقُوْا اِلیٰ سَیِّدِ وُلْدِ اٰدَمَ، فَاِنَّہٗ اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ الخ۔ (۲۲)
اَلْمُسْتَدْرَکُ لِلْحَاکِمِ میں ہے:
(۵)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: سَیِّدُ الْاَنْبَیَائِ خَمْسَۃٌ وَمُحَمَّدٌ ﷺ سَیِّدُ الْخَمْسَۃِ نُوْحٍ وَاِبْرَاہِیْمَ وَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ وَمُحَمَّدٍ صَلواتُ اللّٰہِ وَسَلاَمُہٗ عَلَیْہِمْ۔(۲۳)
ـــــــ ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الاْسْنَادِ وَ اِنْ کَانَ مَوْقُوْفاً عَلَی اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔
۲۹۔مسلم، ابودائود ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں یہ روایات آئی ہیں کہ لعان کے بارے میں جب حکم الٰہی کے نزول سے پہلے یہ مسئلہ پیش ہوا کہ شوہر اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ ملوث دیکھ لے تو کیا کرے، اور اس موقع پر حضرت سعد بن عبادہ نے غیر معمولی غیرت کا اظہار کیا، تو حضورؐ نے انصار کو خطاب کرکے فرمایا اِسْمَعُوْا اِلیٰ مَایَقُوْلُ سَیِّدُکُمْ ؟بخاری ج ۲، ص ۵۹۵، مطبوعہ اصح المطابع کراچی۔ مسلم ج۲، ص۳۶۶، کتاب التوبہ ، حدیث توبہ کعب بن مالک۔

 ’’سنو تمہارے یہ سردار کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ اسی طرح بخاری ، مسلم ، نسائی وغیرہ میں حضرت عائشہؓ سے افک کا جو قصہ منقول ہوا ہے اس میں وہ حضرت سعد بن عبادہ کے لیے سید الخزرج کے الفاظ استعمال فرماتی ہیں اور حضرت سعدؓ بن معاذ کے لیے لفظ سید کے استعمال کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: نَا خَالِدُبْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِیْ سُہَیْلٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ وَجَدْتُّ مَعَ اَہْلِیْ رَجُلًا، لَمْ اَمَسَّہُ حَتّٰی اٰتِیَ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآئَ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ ، قَالَ: کَلَّا وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِنْ کُنْتُ لَاُعَاجِلُہُ بِالسَّیْفِ قَبْلَ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِسْمَعُوْا اِلیٰ مَا یَقُوْلُ سَیِّدُکُمْ اِنَّہُ لَغَیُوْرٌ، وَاَنَا اَغیرُ مِنْہُ، وَاللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ۔(۲۴)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَرْعَرَۃَ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، اَنَّ اُنَاسًا نَزَلُوْا عَلیٰ حُکْمِ سَعْدِبْنِ مُعَاذٍ فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ فَجَآئَ عَلیٰ حِمَارٍ فَلَمَّا بَلَغَ قَرِیْبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : قُوْمُوْا إِلٰی خَیْرِکُمْ، اَوْسَیِّدِ کُمْ، فَقَالَ: یَا سَعْدُ! اِنَّ ہٰوُلٰآئِ نَزَلُوْا عَلیٰ حُکْمِکَ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَحْکُمُ فِیْہِمْ اَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ، قَالَ: حَکَمْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ اَوْبِحُکْمِ الْمَلِکِ۔(۲۵)
۳۰۔مسند احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ،حضرت ابی بن کعب کے لیے سید القراء کے الفاظ استعمال فرماتے ہیں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ہُشَیْمٌ، اَنْبَاَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ اَبِیْ مُحَمَّدٍ مَوْلیٰ لِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَامِنْ مُسْلِمِیْنَ یَمُوْتُ لَہُمَا ثَلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا کَانُوْا لَہُ حِصْنًا حَصِیْنًا مِّنَ النَّارِ فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ، قَالَ: وَاِنْ کَانَ اثْنَیْنِ، فَقَالَ اَبُوْذَرٍّ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اُقَدِّمْ اِلَّا اثْنَیْنِ، قَالَ: وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ اَبُوْ الْمُنْذِرِ سَیِّدُ الْقُرَّآئِ : لَمْ اُقَدِّمْ اِلَّا وَاحِدًا، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا، فَقَالَ: اِنَّمَا ذَاکَ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلیٰ۔ (۲۶)
المستدرک نے ایک روایت انھیں کے بارے میں یوں بھی نقل کی ہے:
(۲) یَقُوْلُ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ سَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَیِّدَ الْاَنْصَارِ فَلَمْ یَمُتْ حَتّٰی قَالُوْا سَیِّدُ الْمُسْلِمِیْنَ۔(۲۷)
۳۱۔مسلم، ابودائود اور مسند احمد وغیرہ میں حضورؐ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ غلام اور لونڈیاں اپنے مالک اور مالکہ کو ربی اور ربتی نہ کہیں بلکہ سیدی اور سیدتی کہا کریں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ اَیُّوْبَ، وَقُتَیْبَۃُ وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوْا: نَا اِسْمَاعِیْلُ ـــــ وَہُوَابْنُ جَعْفَرٍ ـــــ عَنِ الْعَلَائِ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ ﷺ، قَالَ : لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُ کُمْ عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ۔ کُلُّکُمْ عَبِیْدُ اللّٰہِ۔ وَکُلُّ نِسَآئِ کُمْ اِمَآئُ اللّٰہِ۔ وَلٰکِنْ لِیَقُلْ غُلَامِیْ وَجَارِیَتِیْ وَفَتَایَ وَفَتَاتِیْ۔
دوسری روایت میں ہے:
(۲) لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ۔ فَکُلُّکُمْ عَبِیْدُ اللّٰہِ، وَلٰکِنْ لِیَقُلْ فَتَایَ وَلَا یَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّیْ وَلٰکِنْ لِیَقُلْ سَیِّدِیْ۔
تیسری روایت میں ہے:
(۳) لَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ: اسْقِ رَبَّکَ، اَطْعِمْ رَبَّکَ، وَضِّیْٔ رَبَّکَ، وَلَا یَقُلْ اَحَدُکُمْ رَبِّیْ۔ وَلْیَقُلْ سَیِّدِیْ، وَمَولَایَ۔ وَلَایَقُلْ اَحَدُکُمْ عَبْدِیْ، اَمَتَیِ، وَلَیَقُلْ فَتَایَ فَتَاتِیْ غُلَامِیْ۔(۲۸)
۳۲۔بخاری، مسلم، ترمذی، مسند احمد وغیرہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے سَیِّدَۃُ نِسَائِ ہٰذِہٖ الْاُمَّۃِ، سَیِّدَۃُ نِسَائِ الْمُوْمِنِیْنَ یَا نِسَائَ الْمُوْمِنَاتِ اور سَیِّدَۃُ نِسَائِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔
تخریج:(۱) وَقَالَ النَّبِیؐ: فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ النِّسَآئِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ۔(۲۹)
(۲) فَقَالَ: یَا فَاطِمَۃُ اَمَاتَرْضٰی اَنْ تَکُوْنِیْ سَیِّدَۃَ نِسَآئِ الْمُوْمِنِیْنَ، اَوْ سَیِّدَۃَ نِّسَآئِ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔(۳۰)
۳۳۔بخاری ، ترمذی اور ابودائود وغیرہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق حضوؐر کا یہ ارشاد منقول ہے کہ اِبْنِی ہٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ’’میرا یہ بیٹا سید ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرادے گا۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ دوسری روایتوں میں الفاظ کچھ مختلف ہیں، مگر حضرت حسنؓ کے لیے سید کا لفظ سب میں موجود ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، ثَنَا اَبُوْمُوْسیٰ عَنِ الْحَسَنِ، اَنَّہُ سَمِعَ اَبَابَکْرَۃَ، سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِوَالْحَسَنُ اِلیٰ جَنْبِہِ یَنْظُرُ اِلَی النَّاسِ مَرَّۃً، وَاِلَیْہِ مَرَّۃً، وَیَقُوْلُ: ابْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہَ اَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (۳۱)
مستدرک میں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی منقول ہے:
(۲) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ اِنَّہُ سَیِّدٌ۔(۳۲)
ـــــــ ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الْاِسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاہُ۔
۳۴۔حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے سَیِّدَا شَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃِکے الفاظ ترمذی ، ابن ماجہ، نسائی اور مسند احمد بن حنبل میں وارد ہوئے ہیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلَانَ، نَا اَبُوْدَاوُدَ الْحَفْرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یَزِیْدَبْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ نُعْمٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَاشَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ۔(۳۲)
۳۵۔ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے سَیِّدَاکُہُولِ اَہْلِ الْجَنَّۃِکے الفاظ مختلف سندوں سے مسند احمد ، ترمذی اور ابن ماجہ میں منقول ہیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الدَوْرَقِیُّ، نَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، قَالَ: ذَکَرَہُ دَاؤدَعَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْحَارِثِ ،عَنْ عَلِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ سَیِّدَا کُہُوْلِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ مَا خَلَا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ، لا تُخْبِرْ ہُمَا یَا عَلِیُّ۔ (۳۴)
تشریح: یہ تمام احادیث اس بات پر شاہد ہیں کہ سید کا لفظ نہ رسول اللہ ﷺ کے لیے غیر مشروع ہے اور نہ دوسرے انسانوں کے لیے، اوروہ نہ اس دنیا میں غیر مشروع ہے نہ آخرت میں۔ پھر نماز کے اندر یا خارج از نماز حضوؐر پر درود بھیجتے ہوئے اس کے استعمال کو کیسے ناجائز قرار دیا جاسکتا ہے۔
لفظ مولیٰ کی مشروعیت
۳۶۔ ایسا ہی معاملہ لفظ مولیٰ کا ہے۔ ابن ماجہ میں یہ روایت آئی ہے کہ کسی حج کے موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت معاویہ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت علیؓ کا ذکر برائی کے ساتھ ہورہا تھا۔ اس پر حضرت سعدؓ غضبناک ہوگئے اور انہوں نے فرمایا تَقُولُ ہٰذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیْ مَوْلاَہُ۔’’آپ یہ باتیں اس شخص کے بارے میں کہہ رہے ہیں جس کے متعلق میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ’’میں جس کا مولیٰ ہوں علی ؓ بھی اس کا مولیٰ ہے۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، ثَنَا مُوْسٰی بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطِ، وَہُوَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، عَنْ سَعْدِبْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِیَۃُ فِیْ بَعْضِ حَجَّاتِہِ، فَدَخَلَ عَلیْہ سعْدٌ فَذَکَرُوْا عَلِیًّا۔ فَنَالَ مِنْہُ۔ فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُوْلُ ہٰذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، وَسَمِعْتُہُ، یَقُوْلُ: اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا اَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ وَسَمِعْتُہُ، یَقُوْلُ: لَاُعْطِیَنَّ الرَّاْیَۃَ الْیَوْمَ رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔(۳۵)
۳۷۔مسند احمد نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس حضرت بریدہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت علیؓ کے ساتھ یمن کی مہم پر گیا اور وہاں مجھے ان سے سخت برتائو کا تجربہ ہوا۔ میں نے واپس آکر رسول اللہ ﷺ سے ان کی شکایت کی۔ حضوؐر کا چہرہ مبارک میری بات سن کر متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا ’’اے بریدہ ، کیا میں مومنوں کے لیے ان کی جان سے بڑھ کر عزیز نہیں ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’کیوں نہیں ،یارسول اللہ‘‘ ۔ حضورؐ نے اس پر فرمایا مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاَہُ۔حافظ ابن کثیر ؒ کہتے ہیں کہ اس ر وایت کی سند عمدہ اور قوی ہے اور اس کے راوی سب کے سب ثقہ ہیں۔
۳۸۔نسائی میں حضرت زید بن ارقم کی روایت نقل کی گئی ہے جس میں وہ حجتہ الوداع سے واپسی پر غدیر خم میں رسول اللہ ﷺ کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’پھر آپؐ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَہٰذَا وَلِیُّہٗ ’’جس کا میں مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا ولی ہے۔‘‘ حافظ ابن کثیر ؒ کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ امام ذہبیؒ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام احمدؒ نے مسند میں حضرت زیدؓ بن ارقم کی روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے کہ حضورؐ نے وادی خم میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا ’’کیا تم نہیں جانتے، یا فرمایا کہ کیا تم اس کی شہادت نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے بڑھ کر عزیز ہوں؟ لوگوں نے عرض کیا ضرور۔ آپ نے فرمایا: فَمَنْ کُنْتُ مَوْلاَہٗ فَاِنَّ عَلِیًّا مَوْلاَہُ۔ اور دوسری روایت میں ہے فَعَلِیٌّ مَوْلاَہُ۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ اسناد عمدہ ہے اور اس کے راوی سنن کی شرط کے مطابق ثقہ ہیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا سُفْیَانُ ، ثَنَا اَبُوْ عُوَانَۃَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدٍ، عَنْ مَیْمُوْنٍ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ : قَالَ زَیْدُبْنُ اَرْقَمَ: وَاَنَا اَسْمَعُ نَزَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِوَادٍ یُقَالُ لَہُ وَادِیُّ خُمٍّ، فَاَمَرَ بِالصَّلوٰۃِ فَصَلَّاہَا بِہَجِیْرٍ، قَالَ: فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِثَوْبٍ عَلیٰ شَجَرَۃٍ سَمِرَۃٍ مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ:أَ لَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَوْلَسْتُمْ تَشْہَدُوْنَ اَنِّیْ اَوْلیٰ بِکُلِّ مُوْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ؟ قَالُوْا: بَلیٰ ، قَالَ: فَمَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَاِنَّ عَلِیًّا مَوْلَاہُ۔ اَللّٰہُمَّ عَادِمَنْ عَادَہُ وَوَالِ مَنْ وَالَاہُ۔(۳۵)
تشریح:اس سے ثابت ہوا کہ مولا کا لفظ بھی نبی اور غیر نبی ، دونوں کے لیے غیر مشروع نہیں ہے۔ پھر اگر نماز کے اندر اور خارج از نماز، حضورؐ پر درود بھیجتے ہوئے سیدنا و مولانا کے الفاظ استعمال کیے جائیں تو اس میں آخر گناہ کیا ہے؟ اور کس دلیل سے اس کو ممنوع یا ناجائز یا مکروہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ (رسائل و مسائل پنجم :درود میں ۔۔۔: لفظ مولیٰ

ماخز

(۱) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔٭دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ واختلاف الروایات فیہ۔ ہذا اسناد صحیح۔
(۲) ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التشہد۔
(۳) دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ واختلاف الروایات فیہ۔
(۴) دارقطنی: کتاب الصلوٰۃ، باب صفۃ التشہد ووجوبہ واختلاف الروایات فیہ۔ ٭ مسند احمد، ج۱، ابن مسعود۔
(۵) دارقطنی حوالہ مذکورہ بالا ۔
(۶) مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب الاذان یوم الجمعۃ۔
(۷) مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲،کتاب الصلوات، باب من کان لایصلی الضحیٰ۔
(۸) مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوٰات، باب من کان لا یصلی الضحیٰ۔
(۹) المصنف لعبدالرزاق،ج۳، کتاب الصلوات، باب صلوٰۃ الضحیٰ۔
(۱۰) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب ذکر الحدیث الذی روی فی ترک الرسول ﷺ صلوٰۃ الضحیٰ، وان المراد بہ انہ کان لاید اوم علیہا۔
(۱۱) بخاری، کتاب الادب، باب مایکرہ من التمادح ۔ ٭ ابوداؤد: کتاب الادب، باب فی کراہیۃ التمادح۔
(۱۲) حوالہ مذکورہ بالا۔
(۱۳) مسند احمد، ج۳، انس بن مالک۔
(۱۴) مسند احمد، ج ۴، مطرف بن عبداللّٰہ۔
(۱۵) ابوداؤد ، کتاب الادب، باب فی کراہیۃ التمادح۔ ٭ مسند احمد ، ج ۴، مطرف بن عبداللّٰہ۔
(۱۶) بخاری: کتاب الاستیذان، باب قول النبیﷺ قوموا الی سید کم۔٭ ابوداؤد: کتاب الادب، باب ماجاء فی القیام۔ ٭ مسند احمد، ج ۳، ص ۷۱، ابوسعید خدری۔
(۱۷) بخاری: کتاب المناقب، فضائل الأصحاب مناقب بلال بن رباح مولی ابی بکر وقال النبی ﷺ سمعت دف نعلیک بین یدی فی الجنۃ۔
(۱۸) ترمذی: ابواب المناقب، مناقب ابی بکر الصدیق۔ ٭ المستدرک للحاکم،ج۳،کتاب معرفۃ الصحابۃ۔
(۱۹) مسند احمد،۱، ص ۵۔ ابوبکر صدیق۔
(۲۰) ترمذی،ج۲، ابواب المناقب، باب فی فضل النبی ﷺ۔۔۔۔ ٭ ابوداؤد: کتاب السنہ، باب فی التخییر بین الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام۔ عن ابی ہریرہ۔
(۲۱) مسند احمد، ج ۵، حذیفہ بن الیمان۔
(۲۲) مسند ابی عوانہ ، ج ۱،ص۱۷۶۔
(۲۳) مستدرک حاکم ،ج۲،کتاب التاریخ سید الانبیاء خمسۃ ومحمد سید الخسمۃ۔
(۲۴) مسلم،ج۱،کتاب اللعان۔٭ مسند احمد، ج ۱، ص ۲۳۸، ابن عباس۔
(۲۵) بخاری،ج۱،کتاب المناقب، مناقب سعد بن معاذ۔٭مسلم،ج۲، کتاب الجہاد والسیر، باب اجلاء الیہود من الحجاز۔ مطبوعہ اصح المطابع کراچی۔
(۲۶) مسند احمد، ج ۱، ص ۳۷۵، ۴۲۹، عبداللّٰہ بن مسعود۔
(۲۷) مستدرک للحاکم،ج۳، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب ابی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ۔
(۲۸) مسلم: کتاب الالفاظ من الأدب وغیرہا، باب حکم اطلاق لفظۃ العبد والأمۃ والمولیٰ والسّیّد۔٭ ابوداؤد: کتاب الأدب، باب لایقول المملوک رَبّی ورَبّتی، لا یقولنّ أحد کم عبدی وأمتی، لا یقولنّ المملوک رَبیّ وربّتی و لیقل المالک فتای وفتاتی و لیقل المملوک سیّدی و سیّدتی فإنکم المملوکون والربّ اللّٰہ عزّ وجلّ٭مسند احمد، ج۲، ابوہریرۃ۔
(۲۹) بخاری، ج ۱، کتاب المناقب: مناقب فاطمہ۔
(۳۰) مسلم، ج۲،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا۔٭ ترمذی:ج ۲، ابواب المناقب، ۔
(۳۱) بخاری، ج۱،کتاب المناقب، مناقب الحسن والحسین۔٭ المستدرک ، ج۳، ص ۱۷۵۔
(۳۲) مستدرک للحاکم، ج ۳، ص۱۶۹۔ومن فضائل الحسن بن علی بن أبی طالبؓ۔
(۳۳) ترمذی: ابواب المناقب، مناقب ابی محمد الحسن بن علی بن ابی طالب والحسین بن علی بن ابی طالب۔ ٭ابن ماجہ: المقدمہ فضل علی بن ابی طالب۔ ٭ المستدرک للحاکم، ج ۳، ص ۱۶۷۔ ابن ماجہ اور مستدرک دونوں میں’’وابوہما خیر منہما‘‘ کا اضافہ بھی منقول ہے۔ مستدرک نے ’’ہذا حدیث صحیح بہدہ الزیادۃ ولم یخرجاہ‘‘ کہا ہے۔ ٭ مسند احمد، ج ۳، ص ۶۲، ابو سعید خدری۔
(۳۴) ترمذی، ج۲، ابواب المناقب، باب مناقب ابی بکر الصدیق، باب ــــــــــــ ٭ ابن ماجہ: المقدمۃ فضل ابی بکر الصدیق۔
(۳۵) ابن ماجہ: المقدمہ فضل علی بن ابی طالب۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۳۶۸، زید بن ارقم۔
(۳۶) مسند احمد، ج ۴، ص ۳۷۲، زید بن ارقم۔

فصل:۵ جمعہ اور اس کے احکام فرضیت جمعہ

۳۹۔حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا’’آج سے لے کر قیامت تک جمعہ تم لوگوں پر فرض ہے۔ جو شخص اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر، یا اس کا حق نہ مان کر اسے چھوڑ ے، خدا اس کا حال درست نہ کرے، نہ اسے برکت دے، خوب سن رکھو ! اس کی نماز نماز نہیں ہے، اس کی زکوٰۃ زکوٰۃ نہیں ، اس کا حج حج نہیں، اس کا روزہ روزہ نہیں، اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں، جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے، پھر جو توبہ کرلے اللہ اسے معاف فرمانے والا ہے۔ (ابن ماجہ، بزار)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُبْنُ بُکَیْرٍ اَبُوْ جَنَّابٍ (خَبَّابٍ)، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِیُّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِبْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یٰاَیُّہَا النَّاسُ! تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا، وَبَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ الصَّالِحَۃِ قَبْلَ اَنْ تُشْغَلُوْا۔ وَصِلُوا الَّذِیْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ بِکَثْرَۃِ ذِکْرِکُمْ لَہُ وَکَثْرَۃِ الصَّدَقَۃِ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ۔ تُرْزَقُوْا وَتُنْصَرُوْا وَتُجْبَرُوْا۔ وَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ قَدِافْتَرَضَ عَلَیْکُمُ الْجُمُعَۃَ فِیْ مَقَامِیْ ہٰذَا، فِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا فِیْ شَہْرِیْ ہٰذَا مِنْ عَامِیْ ہٰذَا اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ فَمَنْ تَرَکَہَا فِیْ حَیَاتِیْ اَوْ بَعْدِیْ وَلَہُ اِمَامٌ عَادِلٌ اَوْ جَائِرٌ اِسْتِخْفَافًا بِہَا، اَوْ جُحُوْدًا لَہَا، فَلَا جَمَعَ اللّٰہُ لَہُ شَمْلَہُ، وَلَا بَارَکَ لَہُ فِیْ اَمْرِہِ۔ اَلَا، وَلَا صَلَاۃَ لَہُ، وَلَا زَکَاۃَ لَہُ، وَلَا حَجَّ لَہُ، وَلَا صَوْمَ لَہُ ، وَلَا بِرَّلَہُ حَتّٰی یَتُوْبَ فَمَنْ تَابَ ، تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔ اَلَا لَا تَوُمَّنَّ اِمْرَأَۃٌ رَجُلًا وَلَا یَوُمَّ اَعْرَابِیٌّ مُہَاجِرًا ۔ وَلَا یَوُمُّ فَاجِرٌ مُوْمِنًا اِلَّا اَنْ یَقْہَرَہُ بِسُلْطَانٍ یَخَافُ سَیْفَہُ وَسَوْطَہُ۔(۱)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! موت سے پہلے اللہ کی جانب رجوع کرلو (توبہ کرلو) اس سے قبل کہ تم مشغول ہو۔ اعمال صالحہ میں جلدی کرو۔ اللہ اور تمہارے درمیان جو تعلق و عمل ہے اسے بکثرت ذکر الٰہی اور خفیہ اور علانیہ کثرت سے صدقہ کے ذریعہ سے جوڑو۔ تمہیں رزق دیا جائے گا۔ تمہاری مدد و نصرت کی جائے گی۔ تمہارے نقصان کی تلافی کی جائے گی۔خوب جان لو! اللہ تعالیٰ نے آج سے لے کر قیامت تک میرے اس مقام میں، اس دن میں ، اس مہینے میں اور اس سال میں، تم لوگوں پر جمعہ فرض کردیا ہے۔ جس شخص نے میری زندگی میں یا میرے بعد جب کہ اس کا امام عادل یا ظالم موجود ہو ، اس نے اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر، یا اس کا حق ہلکا سمجھ کر اسے چھوڑا تو خدا اس کی پراگندگی کو دور نہ کرے، نہ اسے کسی کام میں برکت دے۔ خوب سن لو! اس کی نماز ، نماز نہیں، اس کی زکوٰۃ، زکوٰۃ نہیں۔ اس کا حج ،حج نہیں، اس کا روزہ ،روزہ نہیں ، اس کی کوئی نیکی ،نیکی نہیں۔ جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ پھر جو توبہ کرلے اللہ اسے معاف فرمانے والا ہے۔یہ بھی خوب سن لو کہ عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی اعرابی مہاجر کی اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کی امامت کرائے الاّ یہ کہ وہ فاجر، مومن پر بزور غالب آجائے اور اس مومن کو اس کی تلوار اور کوڑے کا اندیشہ ہو۔

جمعہ کن لوگوںپر فرض ہے؟

۴۰۔حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی اذان سنے۔‘‘
(ابودائود، دارقطنی)
۴۱۔جابر بن عبداللہ اور ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے خطبہ میں فرمایا ’’جان لو کہ اللہ نے تم پر نماز جمعہ فرض کی ہے۔‘‘
(بیہقی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰی بْنِ فَارِسٍ، ثَنَا قَبِیْصَۃُ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سَعِیْدٍ، ـــــ یَعْنِی الطَّائِفِی۔ ـــــ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْہٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ہَارُوْن عبداللہ بن ہارون کے متعلق علامہ ذہبی کہتے ہیں: تَفَرَّدَ عَنْہٗ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنِ نَبِیْہٍ فَہُوَ عَلَی قَاعِدَتِہٖ مَجْہُوْلٌ۔

 عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اَلْجُمُعَۃُ عَلیٰ کُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَآئَ۔(۲)
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاودَ: رَوٰی ہٰذَا الْحَدِیْثَ جَمَاعَۃٌ مِنْ سُفْیَانَ مَقْصُوْرًا عَلیٰ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و، وَلَمْ یَرْ فَعُوْ ہُ وَاِنَّمَا اَسْنَدَ قَبِیْصَۃٌ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو نے نبی ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ آپؐ نے فرمایا :جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی اذان سنے۔
دارقطنی میں انہی سے ایک اور روایت منقول ہے:
(۲) عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: الْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ بِمَدَی الصَّوْتِ۔ قَالَ اَبُوْدَاوُدَ: یَعْنِیْ حَیْثُ یَسْمَعُ الصَّوْتَ۔
ترجمہ: جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اتنے فاصلہ پر ہو، جہاں اذان کی آواز سنائی دے۔
السنن الکبریٰ میں یہ روایت بیان کرنے کے بعد ابودائود کی رائے نقل کی ہے۔ پھر لکھا ہے:
قَالَ الشَّیْخُ : وَقُبَیْصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ مِنَ الثِّقَاتِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ ہٰذَا ہُوَ الطَّائِفِیُّ ثِقَۃٌ، وَلَہٗ شَاہِدٌ مِّنْ حَدِیْثِ عَمْرِ و بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ۔
اور دارقطنی والی سند سے مروی روایت نقل کرکے امام بیہقی نے لکھا ہے:
ـــــــ ہٰکَذَا ذَکَرَہُ الدَّارُ قُطْنِیْ رَحَمَہٗ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ بِہٰذَا الْاِسْنَادِ مَرْفُوْعًا۔ وَرُوِیَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ اَرْطَاۃٍ عَنْ عَمْرٍ و کَذَالِکَ مَرْفُوْعًا۔(۳)
۴۲۔حضرت حفصہ کی روایت ہے کہ ’’حضور ؐ نے فرمایا جمعہ کے لیے نکلنا ہر بالغ پر واجب ہے۔‘‘ (نسائی)
(تفہیم القرآن، ج ۵، الجمعہ، حاشیہ: ۱۵)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنِیْ مَحْمُوْدُبْنُ غَیْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُبْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ، عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُکَیْرِبْنِ الْاَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: رَوَاحُ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلیٰ کُلِّ مُحْتَلِمٍ۔(۴)
ترجمہ: حضرت حفصہؓ ،نبی ﷺ کی زوجہ کا بیان ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جمعہ کے لیے نکلنا ہر بالغ پر واجب ہے۔
(۲) عَلیٰ کُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَۃِ وَعَلیٰ مَنْ رَاحَ اِلَی الْجُمُعَۃِ، الْغُسْلُ۔(۵)
ترجمہ: ہر بالغ کے لیے جمعہ کے لیے نکلنا لازم ہے اور جو جمعہ کے لیے نکلے اس پر غسل بھی لازم ہے۔
۴۳۔فَمَنْ تَرَکَہَا تَہَا وُنًا وَاِسْتِخْفَافًا بِحَقِّہَا وَلَہُ اِمَامٌ جَائِرٌ اَوْعَادِلٌ فَلَا جَمَعَ اللّٰہُ شَمْلَہُ۔ اَلَا فَلَا صَلَاۃَ لَہُ۔ اَلَا فَلَا صَوْمَ لَہُ اِلَّا اَنْ یَتُوْبَ فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔ (ان الفاظ میں یہ حدیث نہیں مل سکی۔ مرتب)
’’پس جس نے جمعہ کو ایک معمولی چیز سجھ کر اور اس کے حق کو ہلکا جان کر چھوڑ دیا در آں حالیکہ اس کا کوئی ظالم یا عادل امام موجود ہو توخدا اس کی پراگندگی کو دور نہ کرے۔ جان رکھو کہ نہ اس کی نماز درست، نہ اس کا روزہ درست، جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ اگر توبہ کرے گا تو اس کی توبہ اللہ قبول کرے گا۔ ‘‘
تشریح: حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں اسلامی نظام جماعت قائم ہو وہاں جمعہ کو ترک کرنا اور بھی زیادہ شدید گناہ ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کہے کہ جس نے مسجد میں چوری کی اس پر خدا کی لعنت ۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس شخص کے نزدیک چوری کاحرام ہونا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس کا ارتکاب مسجد میں ہو، بلکہ دراصل وہ ارتکاب فی المسجد کو ایک مزید وجہ شناعت کی حیثیت سے بیان کررہا ہے۔ بالکل اسی طرح حضورؐ نے بھی امام المسلمین کی موجودگی ، یا بالفاظ دیگر اسلامی نظام حیات کی موجودگی کو ترک جمعہ کے لیے ایک اور سبب مردودیت کی حیثیت سے بیان فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری احادیث جن میں فرضیت جمعہ کی تاکید آئی ہے، امام کے ذکر سے خالی ہیں، اور دوسری احادیث میں تارک جمعہ کو جتنی تو بیخ کی گئی ہے، اس حدیث میں اس سے زیادہ تو بیخ پائی جاتی ہے۔ (تفہیمات دوم،دیہات میں۔۔۔: شرائط جمعہ)

نمازجمعہ میں شرط مصر

نماز جمعہ میں شرط مصر کے متعلق مجھے علمائے حنفیہ سے اختلاف ہے کہ میری تحقیق یہ ہے کہ بعد کے لوگوں نے خود امام ابوحنیفہ ہی کے استدلال و استنباط کو اس معاملہ میں نہیں سمجھا۔ امام صاحب کا مدعا صرف یہ تھا کہ اقامت جمعہ ایسی آبادیوں میں ہو، جو اپنے علاقہ کے اندر مرکزی حیثیت رکھتی ہوں اور یہ حدیث کے عین مطابق ہے۔ لیکن بعد کے لوگوں نے مصر کا مدلول متعین کرنے میں کھینچ تان کی اور متعدد ایسی شرطیں بڑھادیں جن کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (رسائل و مسائل دوم:مذہب حنفی ۔۔۔)
تخریج:(۱) قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّہُ قَالَ: لَا جُمُعَۃَ وَلَاتَشْرِیْقَ اِلَّا فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ مِثْلَہُ۔(۴۹)
(۲) عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: لاَ جُمُعَۃَ وَلاَ تَشْرِیْقَ اِلاَّ فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍ۔(۵۰)
ـــــــبیہقی نے عَنْ اَبِی عَبْدِالرَّحْمٰنِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: لَا جُمُعَۃَ وَلَا تَشْرِیْقَ اِلَّا فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍنقل کیا ہے اور کنزالعمال نے اَبُوْ عُبَیْدٍ فِی الْغَرِیْبِ وَالْمَرَوْزِیُّ فِی کِتَابِ الْجُمُعَۃِکے حوالہ سے حضرت علیؓ سے مروی الفاظ لاَجُمُعَۃَ وَلاَ تَشْرِیْقَ اِلاَّ فِی مِصْرٍ جَامِعٍ نقل کیا ہے۔ (۵۱)

جن افراد پر جمعہ فرض نہیں

۵۵۔حضرت طارق بن شہاب کی روایت میں آپؐ کا ارشاد یہ ہے کہ ’’جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے، سوائے غلام، عورت ، بچے اور مریض کے ۔‘‘ (ابودائود ، حاکم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ، حَدَّثَنِیِ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثَنَا ہُرَیْمٌ ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدِبْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: الْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ اِلَّا اَرْبَعَۃٌ: عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ، اَوِامْرَاۃٌ، اَوْصَبِیٌّ، اَوْمَرِیْضٌ۔(۵۲)
ترجمہ: طارق بن شہاب نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے سوائے چار کے ( غلام، عورت، بچہ اور مریض اس حکم سے مستثنیٰ ہیں)۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاوُدَ: طَارِقُ بْنُ شِہَابٍ قَدْ رَاَی النَّبِیَّ ﷺ وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ شَیْئًا۔
ـــــــبیہقی نے ایک روایت عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ اَنَّہٗ سَمِعَ رَجُلاً مِنْ بَنِی وَائِلٍ نقل کی ہے۔
(۲) قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : تَجِبُ الْجُمُعَۃُ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ اِلَّا امْرَاْۃٌ اَوْصَبِیٌّ اَوْ مَمْلُوْکٌ۔(۵۳)
ترجمہ: نبی ﷺ کا فرمان ہے: عورت، بچہ اور غلام کو چھوڑ کر ہر مسلمان پر جمعہ واجب ہے۔
۵۶۔حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی روایت میں آپؐ کے الفاظ یہ ہیں: ’’جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ فرض ہے۔ الاّیہ کہ عورت ہو یا مسافر ہو، یا غلام ہو، یا مریض ہو۔‘‘ (دارقطنی ، بیہقی)
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُہْتَدِیْ بِاللّٰہِ ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ بِمِصْرَ، ثَنَا سَعِیْدُبْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، ثَنَا ابْنُ لَہْیعَۃَ، حَدَّثَنِیْ مُعَاذُبْنُ مُحَمَّدنِ الْاَنْصَارِیُّ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: مَنْ کَانَ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلَّا مَرِیْضٌ اَوْ مُسَافِرٌ اَوِ امْرَاۃٌ اَوْ صَبِیٌّ اَوْ مَمْلُوْکٌ، فَمَنِ اسْتَغْنٰی بِلَہْوٍ اَوْ تِجَارَۃٍ اسْتَغْنَی اللّٰہُ عَنْہُ وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
ترجمہ:حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ، جمعہ کے روز اس پر نماز جمعہ فرض ہے ۔ مریض ، مسافر، عورت، بچہ اور غلام اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ جس کسی نے کھیل کود اور کاروبار و تجارت کی وجہ سے بے اعتنائی اور بے پروائی برتی تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے نیاز ہوجاتا ہے، وہ تو غنی اور حمید ہے۔
تشریح: قرآن و حدیث کی (ان ) تصریحات کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت پرپوری امت کا اجماع ہے۔
(تفہیم القرآن، ج ۵،الجمعہ، حاشیہ: ۱۵)

ہجرت کے بعد آپؐ کا پہلا جمعہ

۵۰۔رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد جو اولین کام کئے ان میں سے ایک جمعہ کی اقامت بھی تھی۔ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے آپؐ پیر کے روز قبا پہنچے، چار دن وہاں قیام فرمایا، پانچویں روز جمعہ کے دن وہاں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں بنی سالم بن عوف کے مقام پر تھے کہ نماز جمعہ کا وقت آگیا۔ اسی جگہ آپؐ نے پہلا جمعہ ادا فرمایا۔ (ابن ہشام)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَاَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بِقُبَائَ فِیْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الثُّلَاثَائِ وَیَوْمَ الْاَرْبَعَائِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ وَاَسَّسَ مَسْجِدَہُ۔ثُمَّ اَخْرَجَہُ اللّٰہُ مِنْ بَیْنِ اَظْہُرِ ہِمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ وَبَنُوْعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُ مَکَثَ فِیْہِمْ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَاللّٰہُ اَعْلَمُ اَیَّ ذٰلِکَ کَانَ، فَاَدْرَکَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ الْجُمُعَۃُ فِیْ بَنِیْ سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ، فَصَلَّا ہَا فِیْ الْمَسْجِدِ الَّذِیْ فِیْ بَطْنِ الْوَادِیْ وَادِیْ رَانُوْنَائَ فَکَانَتْ اَوَّلَ جُمُعَۃٍ صَلَّاہَا بِالْمَدِیْنَۃِ۔(۲۴)
ترجمہ: ابن اسحاق کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے قبا میں عمروبن عوف کے ہاں سوموار، منگل ، بدھ اور جمعرات چار روز قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی۔ پھر بروز جمعہ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سے رسول اللہ ﷺ کو نکالا۔ بنو عمرو ابن عوف کا بیان ہے کہ آپ نے ان کے ہاں اس سے زیادہ قیام فرمایا ہے۔ صحیح مدت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بنی سالم بن عوف کے ہاں جمعہ کا دن آگیا ۔ نبی ﷺ نے وادی رانوناء کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھی ۔ مدینہ میں آپ کا یہ پہلا جمعہ تھا جو آپؐ نے پڑھایا۔
(۲) اَخْرَجَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ حُمَیْدٍ، وَابْنُ الْمُنْذِرِ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، قَالَ: جَمَعَ اَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ قَبْلَ اَنْ یَقْدَمَ النَّبِیُّ ﷺ وَقَبْلَ اَنْ تَنْزِلَ الْجُمُعَۃُ، قَالَتِ الْاَنْصَارُ: لِلْیَہُوْدِ یَوْمٌ یَجْتَمِعُوْنَ فِیْہِ بِکُلِّ سَبْعَۃِ اَیَّامٍ، وَلِلنَّصَارٰی مِثْلُ ذٰلِکَ، فَھَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ لَّنَا یَوْمًا نَجْتَمِعُ فِیْہِ، فَنَذْ کُرُ اللّٰہَ تَعَالیٰ وَنَشْکُرُہُ۔فَقَالُوْا: یَوْمُ السَّبْتِ لِلْیَہُوْدِ، وَیَوْمُ الْاَحَدِ للنَّصَارٰی، فَاجْعَلُوْہُ یَوْمَ الْعَرُوْبَۃِ، وَکَانُوْا یُسَمُّوْنَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِذٰلِکَ۔ فَاجْتَمَعُوْا اِلیٰ اَسْعَدِبْنِ زُرَارَۃَ فَصَلَّی بِہِمْ یَوْمَئِذٍ رَکْعَتَیْنِ وَذَکَّرَہُمْ فَسَمَّوْہُ الْجُمُعَۃَ حِیْنَ اجْتَمَعُوْا اِلَیْہِ فَذَبَحَ لَہُمْ شَاۃً فَتَغْدَوْا وَتَعَشَّوْا مِنْہَا، وَذٰلِکَ لَعَامَتِہِمْ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِیْ ذٰلِکَ بَعْدُ: یٰآاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ الآیۃ (الجمعۃ:۹)۔(۲۵)
ترجمہ: ابن منذر نے ابن سیرین کے حوالہ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ کے مدینہ تشریف لانے اور فرضیت نماز جمعہ سے پہلے مدینہ کے مسلمان لوگ جمع ہوئے۔ انصار بولے کہ سات دنوں میں ایک دن یہودیوں نے مقرر کرلیا ہے۔ جس میں وہ اجتماعی عبادت کرتے ہیں۔ اسی طرح نصاریٰ نے بھی یوم عبادت مقرر کیا۔ ہمیں بھی ایک دن مقرر کرلینا چاہیے جس میں ہم اللہ کا ذکر کریں اور اس کا شکر بجالائیں۔ اس کے بعد کہنے لگے کہ ہفتہ کا دن تو یہود کا ہے اور اتوارنصاریٰ کا ہے۔ لہٰذا تم یوم العروبہ کو وہ دن بنالو، یہ نام وہ جمعہ کے دن کو دیتے تھے۔ مسلمان اسی بنا پر اسعد بن زرارہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے اس روز ان کو دو رکعتیں پڑھائیں اور وعظ و نصیحت کی۔ جس روز یہ جمع ہوئے ، انہوںنے اس کا نام جمعہ رکھ لیا۔ اس روز بکری ذبح کی، صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا اسی سے کھایا۔ بعد میں اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمادی۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ۔ الآیۃ
۵۱۔نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ہر مسلمان پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ سات دنوں میں ایک روز ضرور غسل کرے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاؤسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (بَیْدَ اَنَّہُمْ) اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِیْنَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ فَہٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَہَدَانَا اللّٰہُ، فَغَدًا لِلْیَہُوْدِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی، فَسَکَتَ، ثُمَّ قَالَ: حَقٌّ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ اَنْ یَغْتَسِلَ فِیْ کُلِّ سَبْعَۃِ اَیَّامٍ یَوْمًا یَغْسِلُ فِیْہِ رَاْسَہُ وَجَسَدَہٗ۔ رواہ اَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ طَاؤسٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِلّٰہِ تَعَالٰی عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ حَقٌّ اَنْ یَغْتَسِلَ فِیْ کُلِّ سَبْعَۃِ اَیَّامٍ یَوْمًا۔(۲۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے ۔ انہوں نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم دنیا میں تو آخر میں ہیں، قیامت کے روز سب سے پہلے ہوں گے۔ اگرچہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے۔ پس یہ وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف پیدا کرلیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی راہ نمائی فرمائی ۔ چنانچہ ہفتہ یہود کا ہے اور اتوار نصاریٰ کا۔ پھر تھوڑی دیر سکوت اختیار فرما کر فرمایا: سات روز میں ایک دن غسل کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے (یعنی غسل کرنا حق ہے اس کا ) اس طرح کہ وہ اس روز اپنا سر دھوئے اور اپنا سارا بدن دھوئے۔
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْرَمِیُّ لَفْظُہُ، قَالَا: ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ طَہْمَانَ، عَنْ اَبِیْ جَمْرَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنَّ اَوَّلَ جُمُعَۃٍ جُمِّعَتْ فِی الْاِسْلَامِ بَعْدَ جُمُعَۃٍ جُمِّعَتْ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِالْمَدِیْنَۃِ لَجُمُعَۃٌ جُمِّعَتْ بِجُوَاثَائَ۔ قَرْیَۃٍ مِنْ قُرَی الْبَحْرَیْنِ۔ قَالَ عُثْمَانُ: قَرْیَۃٌ مِنْ قُرَی عَبْدِ الْقَیْسِ۔(۲۷)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں پڑھے جانے والے جمعہ کے بعد، اسلام میں پہلا جمعہ جو پڑھا گیا، وہ وہ جمعہ ہے جو بحرین کی جواثاء نامی بستی یا گائوں میں پڑھاگیا۔ عثمان کے قول کے مطابق جواثاء عبدالقیس کی بستیوں میں سے کوئی بستی ہے۔
بخاری میں ابن عباسؓ سے مروی ہے:
(۳) اِنَّ اَوَّلَ جُمُعَۃٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَۃٍ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَیْسِ بِجُوَاثَائَ مِنَ الْبَحْرَیْنِ۔(۲۸)
ترجمہ: بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد (مسجد نبوی) میں پڑھے گئے جمعہ کے بعد پہلا جمعہ جو پڑھا گیا وہ بحرین میں عبدالقیس کی مسجد میں پڑھا گیا اس گائوں کا نام جواثاء تھا۔
(۴) قَالَ العَلَّامَۃُ ابْنُ حَجَرٍ فِیْ تُحْفَۃِ الْمُحْتَاجِ: فُرِضَتْ ـــــ یَعْنِیْ صَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ ـــــ بِمَکَّۃَ وَلَمْ تَقُمْ بِہَا لِفَقْدِ الْعَدَدِ اَوْ لانَّ شِعَارَہَا الْاِظْہَارُ وَکَانَ ﷺ بِہَا مُسْتَخْفِیًا وَاَوَّلُ مَنْ اَقَامَہَا بِا لْمَدِیْنَۃِ قَبْلَ الْہِجْرَۃِ اَسْعَدُبْنُ زُرَارَۃَ بِقَرْیَۃٍ، عَلیٰ مِیْلٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ۔(۲۹)
ترجمہ: علامہ ابن حجر نے تُحْفَۃُ الْمُحْتَاجِ میں بیان کیا ہے۔ جمعہ کی فرضیت مکہ ہی میں نازل ہوچکی تھی۔ تعداد کے فقدان کی وجہ سے آپ جمعہ قائم نہ کرسکے یا یہ کہ جمعہ کا مقصد و شعار چونکہ اظہار ہے، وہ پورا نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ آپؐ خود چھپ کر عبادت بجالارہے تھے۔ ہجرت سے پہلے پہلا شخص جس نے جمعہ قائم کیا ، وہ اسعد بن زرارہ ہیں۔ مدینہ سے ایک میل کے فاصلے پر ایک بستی یا گائوں میں انہوں نے جمعہ قائم کیا۔
(۵) اَخْرَجَ الطَّبَرَانِیُّ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِنِ الْاَنْصَارِیِّ ، قَالَ: اَوَّلُ مَنْ قَدِمَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ الْمَدِیْنَۃَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ، وَہُوَ اَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ جَمَّعَ بِہِمْ قَبْلَ اَنْ یَقْدَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَہُمْ اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا۔(۳۰)
ترجمہ:حضرت ابو مسعود انصاری سے طبرانی نے یہ نقل کیا ہے کہ مہاجرین میں سے مدینہ منورہ میں سب سے پہلے آنے والا شخص مصعب بن عمیر ہے۔ انہوں نے ہی جمعہ کے روز پہلا جمعہ پڑھایا۔ یہ جمعہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے سے پہلے پڑھایا تھا۔ نمازیوں کی تعداد ۱۲ تھی۔
(۶) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَااِبْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ اَبِیْ اُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ـــــ وَکَانَ قَائِدَ اَبِیْہِ بَعْدَ مَا ذَہَبَ بَصَرُہُ ـــــ عَنْ اَبِیْہِ کَعْبِ ابْنِ مَالِکٍ اَنَّہُ کَانَ اِذَا سَمِعَ النِّدَآئَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ تَرَحَّمَ لِاَسْعَدِبْنِ زُرَارَۃَ ، فَقُلْتُ لَہُ: اِذَا سَمِعْتَ النِّدَآئَ تَرَحَّمْتَ لِاَسْعَدِبْنِ زُرَارَۃَ، قَال: لِاَنَّہُ اَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَافِیْ ہَزْمِ النَّبِیْتِ مِنْ حَرَّۃِ بَنِیْ بَیَاضَۃَ فِیْ نَقِیْعٍ یُّقَالُ لَہُ نَقِیْعُ الْخَضَمَاتِ، قُلْتُ: کَمْ اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: اَرْبَعُوْنَ۔(۳۱)
ترجمہ: عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کعب بن مالک جب جمعہ کے دن اذان کی آواز سنتے تو اسعد بن زرارہ کے حق میں رحمت کی دعا کرتے۔ ایک روز میں نے ان سے پوچھ لیا کہ جب آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت خداوندی کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بنی بیاض کے نشیبی علاقہ میں نقیع الخضمات کے مقام پر جمعہ پڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا: اچھا، اس روز آپؐ کتنے حضرات تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چالیس تھے۔
(۷)حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَیْجُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عُثْمَانِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّی الْجُمُعَۃَ حِیْنَ تَمِیْلُ الشَّمْسُ۔(۳۲)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈھلتے ہی نماز جمعہ پڑھ لیا کرتے تھے۔
ـــــــ ابودائود میں مَالَتِ الشَّمْس ہے۔ (۳۳)
ـــــــ مسلم نے کُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نقل کیا ہے۔ (۳۴)
ـــــــ حَدِیْثُ اَنَسٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَہُوَ الَّذِیْ اَجْمَعَ عَلَیْہِ اَکْثَرُ اَہْلِ الْعِلْمِ اِنَّ وَقْتَ الْجُمُعَۃِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ کَوَقْتِ الظُّہْرِ وَہُوَ قُوْلُ الشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ وَرَاٰی بَعْضُہُمْ اَنَّ صَلَاۃَ الْجُمُعَۃِ اِذَا صَلَّیْتَ قَبْلَ الزَّوَالِ اِنَّہَا تَجُوْزُ اَیْضًا وَقَالَ اَحْمَدُ وَمَنْ صَلَاہَا قَبْلَ الزَّوَالِ فَاِنَّہُ لَمْ یَرَعَلَیْہِ اِعَادَۃً۔
ـــــــ امام ترمذی نے حدیث انس کو حسن صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جمعہ کا وقت نماز ظہر کی طرح سورج ڈھلتے ہی ہے۔
امام شافعی ، امام احمد و اسحاق کی یہی رائے ہے۔ البتہ بعض کا یہ قول بھی ہے کہ قبل از زوال اگر جمعہ پڑھ لیاتو جائز ہے۔ امام احمد قبل از زوال جمعہ پڑھنے والے کے لیے اعادہ (یعنی دوبارہ پڑھنا) ضروری نہیں سمجھتے۔
(۸) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَا فِظُ، اَنْبَااَبُوْ بَکْرِبْنُ اِسْحَاقَ الْفَقِیْہِ، اَنْبَانا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَامُحَمَّدُبْنُ رَافِعٍ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بِشْرٍ، ثَنَا یَزِیْدُبْنُ زِیَادِبْنِ اَبِی الْجَعْدِ، عَنْ زُبَیْدِ نِالْاَیَامِیِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلیٰ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: صَلَاۃُ الْاَضْحٰی رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْفِطْرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْمُسَافِرِ رَکْعَتَانِ تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ۔(۳۵)
ترجمہ:کعب بن عجرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ حضرت عمرؓ کا قول ہے : عید قرباں اور عید فطر کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ نماز جمعہ کی دو رکعتیں ہیں۔ مسافر کی نماز دو رکعتیں ہیں۔ یہ پوری مکمل نماز ہے، قصر نہیں ہے۔
ـــــــنسائی نے غیر قصرکے بعد عَلیٰ لِسَانِ مُحَمَّدٍ ﷺ بھی روایت کیا ہے۔
ـــــــ قال ابوعبدالرحمٰن: عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ لم یسمع من عمر۔(۳۶)
ابن عباس کا قول ہے:
(۹) وَالْجُمُعَۃُ رَکْعَتَانِ نَقَلَتْہَا الْاُمَّۃُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَوْلًا وَ عَمَلاً۔
ترجمہ: جمعہ کی دو ہی رکعات ہیں۔ نبی ﷺ سے یہ بات امت قولاً اور عملاً نقل کرتی چلی آرہی ہے۔
(۱۰) وَقَالَ عُمَرُ: صَلَاۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْفَجْرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتَانِ، تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ عَلیٰ لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ﷺ وَاِنَّمَا قُصِرَتِ الْجُمُعَۃُ لِاَجْلِ الْخُطْبَۃِ۔(۳۷)
ترجمہ: حضرت عمرؓ کا قول ہے تمہارے نبیؐ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے حکم کی رو سے نماز سفر دو رکعت ، صلوٰۃ فجردو رکعت، نماز جمعہ دو رکعت، یہ پوری نماز ہے، قصر نہیں ہے۔ جمعہ کو خطبہ کی خاطر ہی مختصر کیا گیا ہے۔
(۱۱) حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنِ السَّائِبِ ابْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: کَانَ النِّدَآئُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَوَّلُہُ اِذَا جَلَسَ الْاِمَامُ عَلیَ الْمِنْبَرِ عَلیٰ عَہْدِ النَّبِیِّ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ، فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ وَکَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَآئَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَآئِ۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ : اَلزَّوْرَائُ مَوْضِعٌ بِالسُّوْقِ بِالْمَدِیْنَۃِ۔
ترجمہ:حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے عہد میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ یہی عمل حضرت ابوبکرو عمرؓ کے عہدخلافت میں رہا۔ حضرت عثمانؓ کے عہد میں جب لوگوں کی کثرت ہوگئی تو حضرت عثمانؓ نے زوراء کے مقام پر تیسری اذان دلوانی شروع کردی۔
سائب بن یزید سے مروی ہے:
(۱۲) اَنَّ الَّذِیْ زَادَ التَّاذِیْنَ الثَّالِثَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ (حِیْنَ یَجْلِسُ الْاِمَامُ یَعْنِیْ عَلَی المِنْبَرِ) عُثْمَانُ ابْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔(۳۸)
ابن شہاب سائب بن یزید سے نقل کرتے ہیں:
(۱۳) اَنَّ التَّاذِیْنَ الثَّانِیَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَمَرَ بِہ عُثْمَانُ حِیْنَ کَثُرَ اَہْلُ الْمَسْجِدِ وَکَانَ التَّاْذِیْنُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ حِیْنَ یَجْلِسُ الْاِمَامُ۔(۳۹)
ترجمہ: سائب بن یزید کہتے ہیں ، جہاں تک دوسری اذان کا تعلق ہے جب نمازیوں کی کثرت ہوگئی تو حضرت عثمانؓ نے اس کا حکم دیا۔ جمعہ کے روز اذان اس وقت دی جاتی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔
امام زہری کا بیان ہے:
(۱۴) سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ یَزِیْدَ، یَقُوْلُ: اِنَّ الْاَذَانَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ کَانَ اَوَّلُہُ حِیْنَ یَجْلِسُ الْاِمَامُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلَی الْمِنْبَرِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ، فَلَمَّا کَانَ فِیْ خِلَافَۃِ عُثْمَانَ وَکَثُرُوْا اَمَرَ عُثْمَانُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِالْاَذَانِ الثَّالِثِ فَاُذِّنَ بِہِ عَلَی الزَّوْرَآئِ۔ فَثَبَتَ الْاَمْرُ عَلیٰ ذٰلِکَ۔(۴۰)
ترجمہ: سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے عہد میں نماز جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کے دور خلافت میں بھی ایسا تھا۔ خلافت عثمان کے دور میں جب لوگوں کی کثرت ہوگئی تو حضرت عثمانؓ نے تیسری اذان کہنے کا حکم دیا۔ وہ اذان مقام زوراء پر دی جاتی تھی۔ اب تک یہ امر اسی طرح ہے۔
نَسَائِیٌّ: کِتَابُ الْجُمْعَۃِ، بَابُ الْاَذَانِ لِلْجُمُعَۃِ۔
(۱۵) عَنِ السَّآئِبِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: کَانَ یُوَذَّنُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِذَا جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلیٰ بَابِ الْمَسْجِدِ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔(۴۱)
ترجمہ: سائب بن یزید سے مروی ہے کہ عہد رسالت میں جمعہ کے روز موذن مسجد کے دروازے پر نبی ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر اذان دیتا تھا جب آپؐ منبر پر بیٹھ جاتے تھے۔عہد صدیقی وفاروقی میں اسی پر عمل تھا۔
ـــــــ ابو دائود اور نسائی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت مآب ﷺ کے زمانے میں حضرت بلال ہی موذن تھے۔
(۱۶) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُوَذِّنُ اِذَا جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلیٰ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِذَا نَزَلَ اَقَامَ ثُمَّ کَانَ کَذٰلِکَ فِیْ زَمَنِ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُمَا۔(۴۲)
ترجمہ: سائب بن یزید سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرماہوجاتے تو پھر بلال اذان دیتے تھے اور جب منبر سے نیچے اتر آتے تو پھر اقامت کہتے۔ اسی طرح عمل رہا خلافت صدیقی اور عہد فاروقی میں۔

نماز جمعہ کا وقت

۵۲۔فَاِذَا مَالَ النَّہَارُ عَنْ شَطْرِہِ عِنْدَ الزَّوَالِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃ فَتَقَرَّبُوْا الیٰ اللّٰہِ تَعالیٰ بِرَکْعَتَیْنِ۔(دارقطنی)
’’اس نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد کا وقت مقرر فرمایا تھا، یعنی وہی وقت جو ظہرکی نماز کا وقت ہے۔ ہجرت سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر کو جو تحریری حکم آپؐ نے بھیجا تھا اس میں آپؐ کا ارشاد یہ تھا کہ ’’جب جمعہ کے روز دن نصف النہار سے ڈھل جائے تو دو رکعت نماز کے ذریعے سے اللہ کے حضور تقرب حاصل کرو۔‘‘
تشریح: جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اسے یوم عربہ کہا کرتے تھے۔ اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کا نام جمعہ رکھا گیا۔ اگرچہ مورخین کہتے ہیں کہ کعب بن لوی یا قصی بن کلاب نے بھی اس دن کے لیے یہ نام استعمال کیا تھا، کیونکہ اس روز وہ قریش کے لوگوں کا اجتماع کیا کرتا تھا (فتح الباری) ۔ لیکن اس کے اس فعل سے قدیم نام تبدیل نہیں ہوا، بلکہ عام اہل عرب اسے عروبہ ہی کہتے تھے، نام کی حقیقی تبدیلی اس وقت ہوئی جب اسلام میں اس دن کا یہ نیا نام رکھا گیا۔
اسلام سے پہلے ہفتے کا ایک دن عبادت کے لیے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتاب میں موجود تھا۔ یہودیوں کے ہاں اس غرض کے لیے سبت (ہفتہ) کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کی غلامی سے نجات دی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممیز کرنے کے لیے اپنا شعار ملت اتوار کا دن قرار دیا۔ اگرچہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا ، نہ انجیل میں کہیں اس کا ذکر آیا ہے، لیکن عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف گئے تھے۔ اسی بنا پر بعد کے عیسائیوں نے اسے اپنی عبادت کا دن قرار دے لیا اور پھر ۳۲۱ء میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعہ سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کردیا۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممیز کرنے کے لیے یہ دونوں دن چھوڑ کر جمعہ کو اجتماعی عبادت کے لیے اختیار کیا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو مسعود انصاریؓ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کا حکم نبی ﷺ پر ہجرت سے کچھ مدت پہلے مکہ معظمہ ہی میں نازل ہوچکا تھا۔ لیکن اس وقت آپؐ اس پر عمل نہیں کرسکتے تھے ،کیونکہ مکہ میں کوئی اجتماعی عبادت ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے آپؐ نے ان لوگوں کو جو آپؐ سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے، یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہاں جمعہ قائم کریں۔ چنانچہ ابتدائی مہاجرین کے سردار حضرت مصعب بن عمیر نے ۱۲ آدمیوں کے ساتھ مدینے میں پہلا جمعہ پڑھا (طبرانی، دارقطنی) ۔ حضرت کعب بن مالک اور ابن سیرین کی روایت یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی مدینہ کے انصار نے بطور خود قبل اس کے کہ حضوؐر کا حکم ان کو پہنچا ہوتا آپس میں یہ طے کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن مل کر اجتماعی عبادت کریں گے۔
اس غرض کے لیے انہوں نے یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کو چھوڑ کر جمعہ کا دن انتخاب کیا اور پہلا جمعہ حضرت اسعد بن زرارہ نے بنی بیاضہ کے علاقے میں پڑھا جس میں چالیس آدمی شریک ہوئے۔ (مسند احمد، ابودائود، ابن ماجہ، ابن حبان، عبد بن حمید، عبدالرزاق، بیہقی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ذوق خود اس وقت یہ مطالبہ کررہا تھا کہ ایسا ایک دن ہونا چاہیے جس میں زیادہ سے زیادہ مسلمان جمع ہو کر اجتماعی عبادت کریں اور یہ بھی اسلامی ذوق ہی کا تقاضا تھا کہ وہ دن ہفتے اور اتوار سے الگ ہو، تاکہ مسلمانوں کا شعار ملت یہودونصاریٰ کے شعار ملت سے الگ رہے۔ یہ صحابہ کرامؓ کی اسلامی ذہنیت کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ بسا اوقات ایک حکم آنے سے پہلے ہی ان کا ذوق کہہ دیتا تھا کہ اسلام کی روح فلاں چیز کا تقاضا کررہی ہے۔
اس نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد کا وقت مقرر فرمایا تھا۔ یعنی وہی وقت جو ظہر کی نماز کا وقت ہے۔ یہی حکم آپؐ نے ہجرت کے بعد قولاً بھی دیا اور عملاً بھی اسی وقت پر آپ جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ حضرت انسؓ، حضرت سلمہؓ بن اکوع، حضرت جابرؓ بن عبداللہ ، حضرت زبیر ؓبن العوام ، حضرت سہل ؓ بن سعد، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت عمارؓ بن یاسر اور حضرت بلالؓ سے اس مضمون کی روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں کہ حضور جمعہ کی نماز زوال کے بعد ادا فرمایا کرتے تھے ۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابودائود ، نسائی ، ترمذی)
یہ امر بھی آپ کے عمل سے ثابت ہے کہ اس روز آپؐ ظہر کی نماز کے بجائے جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے، اس نماز کی صرف دو رکعتیں ہوتی تھیں اور اس سے پہلے آپؐ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ یہی فرق جمعہ کی نماز اور عام دنوں کی نماز ظہر میں تھا۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:
صَلٰوۃ الْمَسَافِرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلٰوۃَ الْفَجْرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلٰوۃُ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتَانِ، تَمَامُ غَیْرُقَصْرٍ عَلیٰ لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ﷺ وَاِنَّمَا قُصِرَتِ الْجُمُعَۃُ لِاَجْلِ الْخُطْبَۃِ۔
(احکام القرآن للجصاصج ۵، ص ۲۳۸، ومن سورۃ الجمعۃ)
’’تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے حکم کی رو سے مسافر کی نماز دو رکعت ہے، فجر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، یہ پوری نماز ہے، قصر نہیں ہے اور جمعہ کو خطبہ کی خاطر ہی مختصر کیاگیا ہے۔‘‘
حدیث میں حضرت سائبؓ بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صرف ایک ہی اذان ہوتی تھی، اور وہ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی یہی عمل ہوتا رہا۔ پھر حضرت عثمانؓ کے دور میں جب آبادی بڑھ گئی تو انہوں نے پہلے ایک اور اذان دلوانی شروع کردی، جو مدینے کے بازار میں ان کے مکان زوراء پر دی جاتی تھی ۔ (بخاری، ابودائود ، نسائی، طبرانی) (تفہیم القرآن، ج ۵،الجمعۃ، حاشیہ:۱۴)

مذاہب اربعہ میں مرتب احکام جمعہ

مذاہب اربعہ میں قرآن، حدیث، آثار صحابہ اور اسلام کے اصول عامہ سے جو احکام جمع و مرتب کیے گئے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے:
حنفیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔ نہ اس سے پہلے جمعہ ہوسکتا ہے، نہ اس کے بعد۔ بیع کی حرمت پہلی اذان ہی سے شروع ہوجاتی ہے، نہ کہ اس دوسری اذان سے جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے، کیونکہ قرآن میں اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ (الجمعۃ:۹)کے الفاظ مطلقاً ارشاد ہوئے ہیں۔ اس لیے زوال کے بعد جب جمعہ کا وقت شروع ہوجائے اس وقت جو اذان بھی نماز جمعہ کے لیے دی جائے، لوگوں کو اسے سن کر خرید و فروحت چھوڑ دینی چاہیے۔ لیکن اگر کسی شخص نے اس وقت خرید و فروخت کرلی تو وہ بیع فاسد یا فسخ نہ ہوجائے گی، بلکہ یہ صرف ایک گناہ ہوگا۔ جمعہ ہر بستی میں نہیں، بلکہ صرف مصر جامع میں ہوسکتا ہے اور مصر جامع کی معتبر تعریف یہ ہے کہ وہ شہر جس میں بازار ہوں، قیام امن کا انتظام موجود ہو، اور آبادی اتنی ہو کہ اگر اس کی بڑی سے بڑی مسجد میں بھی نماز جمعہ کے مکلف سب لوگ جمع ہوجائیں تو اس میں سمانہ سکیں۔ جو لوگ شہر سے باہر رہتے ہوں ان پر جمعہ اس صورت میں شہر آکر پڑھنا فرض ہے جب کہ ان تک اذان کی آواز پہنچتی ہو، یا وہ زیادہ سے زیادہ شہر سے ۶ میل کے فاصلے پر ہوں۔ نماز کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مسجد ہی میں ہو۔ وہ کھلے میدان میں بھی ہوسکتی ہے اور ایسے میدان میں بھی ہوسکتی ہے جو شہر کے باہر ہو، مگر اس کا ایک حصہ شمار ہوتا ہو۔ نماز جمعہ صرف اس جگہ پر ہوسکتی ہے جہاں ہر شخص کے لیے شریک ہونے کا اذن عام ہو۔ کسی بند جگہ، جہاں ہر ایک کو آنے کی اجازت نہ ہو، خواہ کتنے ہی آدمی جمع ہوجائیں جمعہ صحیح نہیں ہوسکتا۔ صحت جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت میں کم از کم (بقول ابوحنیفہؒ) امام کے سوا تین آدمی، یا (بقول ابویوسفؒ و محمدؒ) امام سمیت دو آدمی ایسے موجود ہوں جن پر جمعہ فرض ہے۔ جن عذرات کی بنا پر ایک شخص سے جمعہ ساقط ہوجاتا ہے۔ وہ یہ ہیں: آدمی حالت سفر میں ہو، یا ایسا بیمار ہو کہ چل کر نہ آسکتا ہو، یا دونوں ٹانگوں سے معذور ہو،یا اندھا ہو (مگر امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک اندھے پر سے صرف اس وقت جمعہ کی فرضیت ساقط ہوتی ہے جب کہ وہ کوئی ایسا آدمی نہ پاتا ہو جو اسے چلا کر لے جائے، یا کسی ظالم سے اس کو جان اور آبرو کا، یا ناقابل برداشت مالی نقصان کا خطرہ ہو، یا سخت بارش اور کیچڑ پانی ہو، یا آدمی قید کی حالت میں ہو۔ قیدیوں اور معذوروں کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ جمعہ کے روز ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ جن لوگوں کا جمعہ چھوٹ گیا ہو ان کے لیے بھی ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ خطبہ صحت جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے کبھی جمعہ کی نماز خطبہ کے بغیر نہیں پڑھی ہے اور وہ لازماً نماز سے پہلے ہونا چاہیے اور دو خطبے ہونے چاہئیں۔ خطبہ کے لیے جب امام منبر کی طرف جائے اس وقت سے اختتام خطبہ تک، ہر قسم کی بات چیت ممنوع ہے اور نماز بھی اس وقت نہیں پڑھنی چاہیے، خواہ امام کی آواز اس مقام تک پہنچتی ہو، یا نہ پہنچتی ہو، جہاں کوئی شخص بیٹھا ہو ۔ (ہدایۃ ، فتح القدیر، احکام القرآن للجصاص، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، عمدۃ القاری)
شافعیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے۔ بیع کی حرمت اور سعی کا وجوب اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب دوسری اذان ہو (یعنی وہ اذان جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے)۔ تاہم اگر کوئی شخص اس وقت بیع کرلے تو وہ فسخ نہیں ہوتی۔ جمعہ ہر اس بستی میں ہوسکتا ہے جس کے مستقل باشندوں میں ۴۰ ایسے آدمی موجود ہوں جن پر نماز جمعہ فرض ہے۔ بستی سے باہر کے ان لوگوں پر جمعہ کے لیے حاضر ہونا لازم ہے جن تک اذان کی آواز پہنچ سکتی ہو۔ جمعہ لازماً بستی کے حدود میں ہونا چاہیے، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ مسجد ہی میں پڑھا جائے۔ جو لوگ صحرا میں خیموں کے اندر رہتے ہوں، ان پر جمعہ واجب نہیں۔ صحت جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت میں امام سمیت کم از کم ۴۰ ایسے آدمی شریک ہوں ، جن پر جمعہ فرض ہے۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص سے جمعہ کا فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ وہ یہ ہیں: سفر کی حالت میں ہو، یا کسی مقام پر چار دن یا اس سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو، بشرطیکہ سفر جائز نوعیت کا ہو۔ ایسا بوڑھا یا مریض ہو کہ سواری پر بھی جمعہ کے لیے نہ جاسکتا ہو۔ اندھا ہو اور کوئی ایسا آدمی نہ پاتا ہو، جو اسے نماز کے لیے لے جائے۔ جان یا مال یا آبرو کا خوف لاحق ہو۔ قید کی حالت میں ہو، بشرطیکہ اس کی قید اس کے اپنے کسی قصور کی وجہ سے نہ ہو۔ نماز سے پہلے دو خطبے ہونے چاہئیں۔ خطبے کے دوران میں خاموش رہنا مسنون ہے، مگر بات کرنا حرام نہیں ہے۔ جو شخص امام سے اتنا قریب بیٹھا ہو کہ خطبہ سن سکتا ہو، اس کے لیے بولنا مکروہ ہے، لیکن وہ سلام کا جواب دے سکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر سن کر بآواز درود پڑھ سکتا ہے ۔
(مغنی المحتاج، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ)
مالکیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت زوال سے شروع ہوکر مغرب سے اتنے پہلے تک ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے خطبہ اور نماز ختم ہوجائے۔ بیع کی حرمت اور سعی کا وجوب دوسری اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد اگر بیع واقع ہوتو وہ فاسد ہے اور فسخ ہوگی۔ جمعہ صرف ان بستیوں میں ہوسکتا ہے جن کے باشندے وہاں مستقل طور پر گھر بنا کر رہتے ہوں، اور جاڑے گرمی میں منتقل نہ ہوتے ہوں، اور ان کی ضروریات اسی بستی میں فراہم ہوتی ہوں اور اپنی تعداد کی بنا پر وہ اپنی حفاظت کرسکتے ہوں۔ عارضی قیام گاہوں میں خواہ کتنے ہی لوگ ہوں اور خواہ وہ کتنی ہی مدت ٹھہریں ، جمعہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔ جس بستی میں جمعہ قائم کیا جاتا ہو،اس سے تین میل کے فاصلے تک رہنے والے لوگوں پر جمعہ میں حاضر ہونا فرض ہے۔ نماز جمعہ صرف ایسی مسجد میں ہوسکتی ہے جو بستی کے اندر، یا اس سے متصل ہو اور جس کی عمارت بستی کے عام باشندو ںکے گھروں سے کم تر درجے کی نہ ہو۔ بعض مالکیوں نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ مسجد مسقف ہونی چاہیے اور اس میں پنج وقتہ نماز کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ لیکن مالکیہ کا راجح مسلک یہ ہے کہ کسی مسجد میں صحت جمعہ کے لیے اس کا مسقف ہونا شرط نہیں ہے، اور ایسی مسجد میں بھی جمعہ ہوسکتا ہے جو صرف نماز جمعہ کے لیے بنائی گئی ہو، اور پنج وقتہ نماز کا اس میں اہتمام نہ ہو۔ جمعہ کی نماز صحیح ہونے کے لیے جماعت میں امام کے سوا کم از کم ۱۲ ایسے آدمیوں کا موجود ہونا ضروری ہے جس پر جمعہ فرض ہو۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہوجاتا ہے وہ یہ ہیں: سفرکی حالت میں ہو یا بحالت سفر کسی جگہ چاردن سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو۔ ایسا مریض ہو کہ مسجد آنا اس کے لیے دشوارہو۔ اس کی ماں یا باپ یا بیوی یا بچہ بیمار ہو، یا وہ کسی ایسے اجنبی مریض کی تیمارداری کررہا ہو، جس کا اور کوئی تیماردار نہ ہو، یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار سخت بیماری میںمبتلا ہو یا مرنے کے قریب ہو۔ اس کے ایسے مال کو جس کا نقصان قابل برداشت نہ ہو، خطرہ لاحق ہو، یا اسے اپنی جان یا آبرو کا خطرہ ہو، یا وہ ماریا قید کے خوف سے چھپا ہو اہو، بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں مظلوم ہو۔ سخت بارش او ر کیچڑ پانی یا سخت گرمی یا سردی مسجد تک پہنچنے میں مانع ہو۔ دو خطبے نماز سے پہلے لازم ہیں، حتیٰ کہ اگر نماز کے بعد خطبہ ہو تو نماز کا اعادہ ضروری ہے اور یہ خطبے لازماً مسجد کے اندر ہونے چاہئیں۔ خطبے کے لیے جب امام منبر کی طرف بڑھے اس وقت سے نفل پڑھنا حرام ہے اور جب خطبہ شروع ہو تو بات کرنا بھی حرام ہے، خواہ آدمی خطبہ کی آواز نہ سن رہا ہو۔ لیکن اگر خطیب اپنے خطبے میں ایسی لغو باتیں کرے جو نظام خطبہ سے خارج ہوں ، یا کسی ایسے شخص کو گالیاں دے جو گالی کا مستحق نہ ہو ، یا کسی ایسے شخص کی تعریفیں شروع کردے جس کی تعریف جائز نہ ہو، یا خطبہ سے غیر متعلق کوئی چیز پڑھنے لگے تو لوگوں کو اس پر احتجاج کرنے کا حق ہے۔ نیز خطبہ میں بادشاہ وقت کے لیے دعا مکروہ ہے، الا یہ کہ خطیب کو اپنی جان کا خطرہ ہو۔ خطیب لازماً وہی شخص ہونا چاہیے جو نماز پڑھائے۔ اگر خطیب کے سوا کسی اور نے نماز پڑھائی ہو تو وہ باطل ہوگی۔
(حاشیۃ الدسوقی علی الشرح الکبیر، احکام القرآن ابن عربی، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ)
حنابلہ کے نزدیک جمعہ کی نماز کا وقت صبح کو سورج کے بقدر یک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے عصر کا وقت شروع ہونے تک ہے۔ لیکن زوال سے پہلے جمعہ صرف جائز ہے ، اور زوال کے بعد واجب اور افضل ۔ بیع کی حرمت اور سعی کے وجوب کا وقت دوسری اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو بیع ہو، وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتی۔ جمعہ صرف اس جگہ ہوسکتا ہے جہاں ۴۰ ایسے آدمی جن پر جمعہ فرض ہو، مستقل طور پر گھروں میں (نہ کہ خیموں میں) آباد ہوں، یعنی جاڑے اور گرمی میں منتقل نہ ہوتے ہوں۔ اس غرض کے لیے بستی کے گھروں اور محلوں کے باہم متصل یا متفرق ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان سب کے مجموعہ کا نام ایک ہو تو وہ ایک ہی بستی ہے، خواہ اس کے ٹکڑے ایک دوسرے سے میلوں کے فاصلے پر واقع ہوں۔ ایسی بستی سے جو لوگ تین میل کے اندر رہتے ہوں ، ان پر جمعہ کے لیے حاضر ہونا فرض ہے۔ جماعت میں امام سمیت ۴۰ آدمیوں کی شرکت ضروری ہے۔ نماز کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ مسجد ہی میں ہو۔ کھلے میدان میں بھی ہوسکتی ہے۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص سے جمعہ کا فرض ساقط ہو جاتا ہے وہ یہ ہیں: مسافر ہو اور جمعہ کی بستی میں چار دن یا اس سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو۔ ایسا مریض ہو کہ سواری پر آنا بھی اس کے لیے مشکل ہو۔ اندھا ہو، الا یہ کہ خود راستہ ٹٹول کر آسکتا ہو۔ کسی دوسرے شخص کے سہارے آنا اندھے کے لیے واجب نہیں ہے۔ سخت سردی یا سخت گرمی یا سخت بارش اور کیچڑ نماز کی جگہ پہنچنے میں مانع ہو۔ کسی ظالم کے ظلم سے بچنے کے لیے چھپا ہوا ہو۔ جان یا آبرو کا خطرہ، یا ایسے مالی نقصان کا خوف ہو جو قابل برداشت نہ ہو۔ نماز سے پہلے دو خطبے ہونے چاہئیں۔ خطبے کے دوران میں اس شخص کے لیے بولناحرام ہے، جو خطیب سے اتنا قریب ہو کہ اس کی آواز سن سکتا ہو۔ البتہ دور کا آدمی جس تک خطیب کی آوازنہ پہنچتی ہو، بات کرسکتا ہے۔ خطیب خواہ عادل ہو یا غیر عادل، لوگوں کو خطبہ کے دوران میں چپ رہنا چاہیے۔ اگر جمعہ کے روز عید ہو جائے تو جو لوگ عید پڑھ چکے ہوں ان پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہے۔ اس مسئلے میں حنابلہ کا مسلک ائمہ ثلاثہ کے مسلک سے مختلف ہے۔
(غایۃ المنتہی ، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ)
اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ جس شخص پر جمعہ فرض نہیں ہے وہ اگر نماز جمعہ میں شریک ہوجائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اس کے لیے پھر ظہرپڑھنا فرض نہیں رہتا۔

’’الذکر ‘‘سے کیا مراد ہے؟

۵۳۔اِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلٰئِکَۃُ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔
’’حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے روز ملائکہ ہر آنے والے کا نام اس کی آمد کی ترتیب کے ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ پھر جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو وہ نام لکھنا بند کردیتے ہیں اور ذکر ( خطبہ) سننے میں لگ جاتے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذکر سے مراد خطبہ ہے۔ خود قرآن کا بیان بھی اسی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ پہلے فرمایا فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ’’خدا کے ذکر کی طرف دوڑو۔‘‘ پھر آگے چل کر فرمایا: فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ’’جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے روز عمل کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذکر اللہ اور پھر نماز۔ مفسرین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ ذکر سے مراد یا تو خطبہ ہے یا پھر خطبہ اور نماز دونوں۔ہیں ۔‘‘

 ( مسند احمد ، بخاری، مسلم، ابودائود، ترمذی، نسائی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَغَرِّ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَقَفَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلیٰ بَابِ الْمَسْجِدِ یَکْتُبُوْنَ الْاَوَّلَ فَالْاَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُہَجِّرِ کَمَثَلِ الَّذِیْ یُہْدِیْ بَدَنَۃً، ثُمَّ کَالَّذِیْ یُہْدِیْ بَقَرَۃً، ثُمَّ کَبْشًا، ثُمَّ دَجَاجَۃً، ثُمَّ بَیْضَۃً، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَوْا صُحُفَہُمْ وَیَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔(۴۳)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا :جمعہ کے روز مسجد کے دروازے پر فرشتے کھڑے ہوجاتے ہیں اور لکھنا شروع کردیتے ہیں کہ پہلے کون آیا، پھر کون آیا؟ سبقت کرکے سویرے مسجد کی طرف آنے والا اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے۔ پھر جو آتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو گائے قربان کرتا ہے ۔ پھر مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح، پھر مرغی، پھر انڈے کی مانند۔جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو وہ رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور الذکر (خطبہ) غور سے سننے لگتے ہیں۔
(۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ، ثُمَّ رَاحَ فَکَانَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ، فَکَانَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَانَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا اَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَاَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً، وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَاَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ ۔(۴۴)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جس آدمی نے جمعہ کے روز غسل جنابت کی طرح اچھی طرح غسل کیا، پھر مسجد کی جانب چل پڑا تو گویا اس نے اونٹ قربان کیا اور جو شخص دوسری ساعت میں مسجد کی طرف چلا تو اس نے گویا گائے کی قربانی کی اور جو تیسری ساعت میں چلا تو وہ ایسا ہے جیسا کہ سینگوں والا مینڈھا ذبح کیا اور جو چوتھی ساعت میں مسجد کی طرف چلا تو اس نے گویا مرغ ذبح کرکے تقرب الٰہی حاصل کیا اور جو پانچویں ساعت میں چلا تو گویا اس نے انڈا راہ خدا میں خیرات کیا، جب امام حجرہ سے نکل کھڑا ہوا، تو فرشتے خطبے سننے کے لیے جا حاضر ہوتے ہیں۔
نسائی نے کِتَابُ الْجُمُعَۃِ ، بَابُ التَّبْکِیْرِ اِلَی الْجُمُعَۃِ میں چند احادیث جمع کی ہیں، جنہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے:
(۳)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ قَعَدَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلیٰ اَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَکَتَبُوْا مَنْ جَآئَ اِلَی الْجُمُعَۃِ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِکَۃُ الصُّحُفَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلمُہَجِّرُ اِلَی الْجُمُعَۃِ کَالمُہْدِیْ بَدَنَۃً، ثُمَّ کَالْمُہْدِیْ بَقَرَۃً، ثُمَّ کَالْمُہْدِیْ شَاۃً، ثُمَّ کَالْمُہْدِیْ بَطَّۃً، ثُمَّ کَالْمُہْدِیْ دَجَاجَۃً، ثُمَّ کَالْمُہْدِیْ بَیْضَۃً۔(۴۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں جو شخص جمعہ کی طرف آتا ہے اس کا نام لکھ لیتے ہیں ۔ مگر جب امام نکل کر خطبہ کے لیے جاتا ہے تو ملائکہ اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، سبقت کرکے علی الصبح مسجد میں آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ قربان کرنے والا ہے۔ پھر آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے ، پھر بکری، پھر بطخ، پھر مرغی اور پھر انڈے کی خیرات کرنے والی کی طرح ہیں۔
(۴)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلیٰ کُلِّ بَابٍ مِنْ اَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِکَۃٌ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلیٰ مَنَازِلِہِمْ اَلْاَوَّلُ فَالْاَوَّلُ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَام طُوِیَتِ الصُّحُفُ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَۃَ فَالْمُہَجِّرُ اِلَی الصَّلوٰۃِ کَالْمُہْدِیْ بَدَنَۃً۔ ثُمَّ الَّذِیْ یَلِیْہِ کَالْمُہْدِیْ بَقَرَۃً، ثُمَّ الَّذِیْ یَلِیْہِ کَالْمُہْدِیْ کَبْشًا، حَتّٰی ذَکَرَ الدَّجَاجَۃَ وَالْبَیْضَۃَ۔(۴۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ اس کی سند نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا، جب جمعہ کا روز ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آموجود ہوتے ہیں ۔ آنے والے لوگوں کو حسب منازل و مراتب لکھتے جاتے ہیں۔ جب امام خطبہ کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور بغور خطبہ سننے لگتے ہیں۔ چنانچہ نماز جمعہ کی طرف سبقت کرکے صبح سویرے آنے والا شخص ایسا ہے جیسا کہ اونٹ قربان کرنے والا، پھر جو آتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے۔ پھر جو اس کے معاً بعد آتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مینڈھا قربان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے درجہ بدرجہ آنے والوں کو مرغی اور انڈے کی مثال سے بیان فرمایا۔
(۵) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: تَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلیٰ اَبْوَابِ الْمَسْجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلیٰ مَنَازِلِہِمْ فَالنَّاسُ فِیْہِ کَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَۃً وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَۃً وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاۃً وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ دَجَاجَۃً وَکَرَ جُلٍ قَدَّمَ عُصْفُوْرًا وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَیْضَۃً۔(۴۷)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جمعہ کے روز ملائکہ مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ آنے والوں کو حسب منازل لکھتے جاتے ہیں۔ لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جلدی آتے ہیں اور وہ اس شخص کی طرح ہوتے ہیں جو اونٹ قربانی کے لیے پیش کرتا ہے اور بعض اس شخص کی طرح جس نے گائے پیش کی اور بعض اس کی مانند جس نے بکری قربانی کے لیے پیش کی۔ پھر مرغی پیش کرنے والے کی طرح، پھر چڑیا پیش کرنے والے کی طرح اور پھر انڈا، راہ خدا میں دینے والے کی طرح۔
تشریح: (اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر سے مراد خطبہ ہے قرآن کریم میں بھی خطبے کو ذکر کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہ اذان کے بعد پہلا عمل جو نبی ﷺ کرتے تھے وہ نماز نہیں، بلکہ خطبہ تھا، اور نماز آپؐ ہمیشہ خطبہ کے بعد ادا فرماتے تھے)۔
خطبہ کے لیے ’’ذکر اللہ‘‘ کا لفظ استعمال کرنا خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس میں وہ مضامین ہونے چاہئیں جو اللہ کی یاد سے مناسبت رکھتے ہوں۔ مثلاً اللہ کی حمد و ثنا، اس کے رسولؐ پر درود و صلوٰۃ، اس کے احکام اور اس کی شریعت کے مطابق عمل کی تعلیم و تلقین۔ اس سے ڈرنے والے نیک بندوں کی تعریف وغیرہ۔ اسی بنا پر زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ خطبہ میں ظالم حکمرانوں کی مدح و ثنا، یا ان کا نام لینا اور ان کے لیے دعا کرنا، ذکر اللہ سے کوئی دور کی مناسبت بھی نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ تو ذکر الشیطان ہے۔
’’اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھاگتے ہوئے آئو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلد سے جلد وہاں پہنچنے کی کوشش کرو، اردو زبان میں بھی ہم دوڑدھوپ کرنا، بھاگ دوڑکرنا، سرگرم کوشش کے معنی میں بولتے ہیں۔ نہ کہ بھاگنے کے معنی میں، اسی طرح عربی میں بھی سعی کے معنی بھاگنے ہی کے نہیں ہیں۔ قرآن میں اکثر مقامات پر سعی کا لفظ کوشش اور جدوجہد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔مثلاً وَأَنْ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَاسَعٰی(النجم:۳۹) وَمَنْ اَرَادَالْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا۔(الاسراء:۱۹) فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ۔(الصافات:۱۰۲)وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَفِیْہَا (البقرہ:۲۰۵)۔
مفسرین نے بھی بالاتفاق اس کو اہتمام کے معنی میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک سعی یہ ہے کہ آدمی اذان کی آواز سن کر فوراً مسجد پہنچنے کی فکر میں لگ جائے اور معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے حدیث میں بھاگ کر نماز کے لیے آنے کی صاف ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب نماز کھڑی ہو تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آئو۔ بھاگتے ہوئے نہ آئو، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اس میں شامل ہوجائو، اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔‘‘ (صحاح ستہ) ۔ حضرت ابوقتادہ انصاری ؓ فرماتے ہیں،ایک مرتبہ ہم حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ یکایک لوگوں کے بھاگ بھاگ کر چلنے کی آواز آئی۔ نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے ان لوگوں سے پوچھا، یہ کیسی آواز تھی؟ ان لوگوں نے عرض کیا۔ ہم نماز میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر آرہے تھے۔ فرمایا ’’ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب بھی آئو پورے سکون کے ساتھ آئو۔ جتنی مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو ، جتنی چھوٹ جائے وہ بعد میں پوری کرلو۔‘‘ (بخاری، مسلم)
’’خرید و فروخت چھوڑ دو‘‘ کا مطلب صرف خرید و فروخت ہی چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ نماز کے لیے جانے کی فکر اور اہتمام کے سوا ہر دوسری مصروفیت چھوڑ دیناہے۔ بیع کا ذکر خاص طور پر صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ جمعہ کے روز تجارت خوب چمکتی تھی۔ آس پاس کی بستیوں کے لوگ سمٹ کر ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے۔ تاجر بھی اپنا مال لے لے کر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ لوگ بھی اپنی ضرورت کی چیزیں خرید نے میں لگ جاتے تھے، لیکن ممانعت کا حکم صرف بیع تک محدود نہیں ہے، بلکہ دوسرے تمام مشاغل بھی اس کے تحت آجاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ان سے منع فرمادیا ہے، اس لیے فقہاء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد بیع اور ہر قسم کا کاروبار حرام ہے۔
یہ حکم قطعی طور پر نماز جمعہ کے فرض ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اوّل تو اذان سنتے ہی اس کے لیے دوڑنے کی تاکید بجائے خود اس کی دلیل ہے۔ پھر بیع جیسی حلال چیز کا اس کی خاطر حرام ہوجانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فرض ہے۔ مزید برآں ظہر کی فرض نماز کا جمعہ کے ساتھ ساقط ہوجانا اور نماز جمعہ کا اس کی جگہ لے لینا بھی اس کی فرضیت کا صریح ثبوت ہے۔ کیونکہ ایک فرض اسی وقت ساقط ہوتا ہے جب کہ اس کی جگہ لینے والا فرض اس سے زیادہ اہم ہو۔ اسی کی تائید بکثرت احادیث کرتی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی سخت تاکید کی ہے اور اسے صاف الفاظ میں فرض قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’ میرا جی چاہتا ہے کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کردوں اور جاکر ان لوگوں کے گھر جلادوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے۔‘‘ (مسند احمد، بخاری) ۔ حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے جمعہ کے خطبہ میں حضورؐ کو یہ فرماتے سناہے: ’’لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ،ورنہ اللہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگادے گا اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘(مسند احمد، مسلم، نسائی)۔ حضرت ابوالجعد ضمری، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ کی روایات میں حضورؐ کے جو ارشادات منقول ہوئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’جو شخص کسی حقیقی ضرورت اور جائز عذر کے بغیر ، محض بے پروائی کی بنا پر مسلسل تین جمعے چھوڑ دے، اللہ اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے۔‘‘ بلکہ ایک روایت میں تو الفاظ یہ ہیں کہ ’’اللہ اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیتا ہے۔‘‘ (مسنداحمد، ابودائود، نسائی، ترمذی ، ابن ماجہ، دارمی، حاکم ، ابن حبان، بزار ، طبرانی فی الکبیر)۔ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ آج سے لے کر قیامت تک جمعہ تم لوگوں پر فرض ہے جو شخص اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر یا اس کا حق نہ مان کر اسے چھوڑ دے، خدا اس کا حال درست نہ کرے، نہ اسے برکت دے۔ خوب سن رکھو ! اس کی نماز نماز نہیں، اس کی زکوٰۃزکوٰۃ نہیں، اس کا حج حج نہیں، اس کا روزہ روزہ نہیں، اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں، جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ پھر جو توبہ کرلے اللہ اسے معاف فرمانے والا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ ، بزار) اسی سے قریب المعنی ایک روایت طبرانی نے اوسط میں ابن عمرؓ سے نقل کی ہے۔ علاوہ بریں بکثرت روایات ہیں جن میں حضوؐر نے جمعہ کو بالفاظ صریح فرض اور حق واجب قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا ’’جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی اذان سنے۔‘‘ (ابودائود، دارقطنی) جابرؓ بن عبداللہ اور ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے خطبہ میں فرمایا ’’ جان لو کہ اللہ نے تم پر نماز جمعہ فرض کی ہے۔‘‘ (بیہقی) البتہ آپ نے عورت ، بچے ،غلام، مریض اور مسافر کو اس فرضیت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ حضرت حفصہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’ جمعہ کے لیے نکلنا ہر بالغ پر واجب ہے۔‘‘ (نسائی)۔ حضرت طارق بن شہاب کی روایت میں آپؐ کا ارشاد یہ ہے کہ ’’جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ سوائے غلام، عورت، بچے اور مریض کے۔‘‘ (ابودائود، حاکم) حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ فرض ہے۔ الا یہ کہ عورت ہو، یا مسافر ہو، یا غلام ہو، یا مریض ہو۔‘‘ (دارقطنی، بیہقی) قرآن و حدیث کی انہی تصریحات کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت پر پوری امت کا اجماع ہے۔
جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور تلاش رزق کی دوڑ دھوپ میں لگ جانا ضروری نہیں ہے، بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے۔ چونکہ جمعہ کی اذان سن کر سب کاروبار چھوڑ دینے کاحکم دیا گیا تھا، اس لیے فرمایا گیا کہ نماز ختم ہوجانے کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ منتشر ہو جائو، اور اپنے جو کاروبار بھی کرنا چاہو کرو، یہ ایسا ہی ہے جیسے حالت احرام میں شکار کی ممانعت کرنے کے بعد فرمایا فَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا (المائدہ:۲)’’جب احرام کھول چکو تو شکار کرو۔‘‘اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد شکار پر کوئی پابندی باقی نہیں رہتی۔ چاہو تو شکار کرسکتے ہو۔ یا مثلاً سورۂ نساء میں ایک سے زائد نکاح کی اجازت فَانْکِحُوْ ا مَاطَابَ لَکُمْ (النساء:۳)کے الفاظ میں دی گئی ہے۔یہاں اگرچہ فَانْکِحُوْا بصیغہ امر ہے، مگر کسی نے بھی اس کو حکم کے معنی میں نہیں لیا ہے۔ اس سے یہ اصولی مسئلہ نکلتا ہے کہ صیغہ امر ہمیشہ وجوب ہی کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ کبھی یہ اجازت اور کبھی استحباب کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہ بات قرائن سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں یہ حکم کے معنی میں ہے اور کہاں اجازت کے معنی میں۔ اور کہاں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ کو ایسا کرنا پسند ہے۔ لیکن یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ فعل فرض و واجب ہے۔ خود اسی فقرے کے بعد متصلاً دوسرے ہی فقرے میں ارشاد ہوا ہے وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْراً۔ ’’اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘ یہاں بھی صیغہ امر موجود ہے مگر ظاہر ہے کہ یہ استحباب کے معنی میں ہے نہ کہ وجوب کے معنی میں۔
اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ قرآن میں یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کی طرح جمعہ کو عام تعطیل کا دن قرار نہیں دیا گیا ہے، لیکن اس امر سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا شعار ملت ہے جس طرح ہفتہ اور اتوار یہودیوں اور عیسائیوں کے شعار ملت ہیں۔ اور اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لیے مقرر کرنا ایک تمدنی ضرورت ہو تو جس طرح یہودی اس کے لیے فطری طور پر ہفتے کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں اسی طرح مسلمان (اگر اس کی فطرت میں کچھ اسلامی حس موجود ہو) لازماً اس غرض کے لیے جمعہ ہی کو منتخب کرے گا۔ بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کرنے میں تامل نہ کیا، جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔ یہودیوں نے جب فلسطین میں اپنی اسرائیلی ریاست قائم کی تو اولین کام جو انہوں نے کیا، وہ یہ تھا کہ اتوار کے بجائے ہفتہ کو چھٹی کا دن مقرر کیا۔ قبل تقسیم کے ہندوستان میں برطانوی ہند اور مسلمان ریاستوں کے درمیان نمایاں فرق یہ نظر آتا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں جمعہ کی۔ البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی حس موجود نہیں ہوتی، وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار ہی کو سینے سے لگائے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں، بلکہ اس سے زیادہ جب بے حسی طاری ہوتی ہے تو جمعہ کی چھٹی منسوخ کرکے اتوار کی چھٹی راسخ کی جاتی ہے، جیسا کہ مصطفی کمال نے ٹرکی میں کیا۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الجمعہ ،حاشیہ :۱۵،۱۶)
۵۴۔عَنْ مُعَاذِبْنِ اَنَسٍ الْجُہَنِیِّ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، اَنَّ رَجُلًا سَالَہُ اَیُّ الْمُجَاہِدِیْنَ اَعْظَمُ اَجْرًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اَکْثَرُ ہُمْ لِلّٰہِ تَعَالیٰ ذِکْرًا۔ قَالَ: اَیُّ الصَّآئِمِینَ اَکْثَرُ اَجْرًا؟ قَالَ: اَکْثَرُ ہُمْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ذِکْرًا۔ ثُمَّ ذَکَر الصَّلوٰۃَ وَالزَّکَاۃَ وَالْحَجَّ، وَالصَّدَقَۃَ کُلُّ ذٰلِکَ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَکْثَرُ ہُمْ لِلّٰہِ ذِکْرًا۔ (مسند احمد)
’’معاذ بن انس جہنی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ؐ! جہاد کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر اجر پانے والا کون ہے؟ فرمایا :جو ان میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہے۔ اس نے عرض کیا۔ روزہ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ اجر کون پائے گا؟ فرمایا: جو ان میں سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا ہو۔ پھر اس شخص نے اسی طرح نماز، زکوٰۃ ، حج اور صدقہ ادا کرنے والوں کے متعلق پوچھا اور حضورؐ نے ہر ایک کا یہی جواب دیا کہ ’’جو اللہ کو سب سے زیادہ یا دکرنے والا ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ، ثَنَا حَسنٌ، ثَنَا ابْنُ لَہْیِعَۃَ، ثَنَا زَبَانٌ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، اِنَّ رَجُلًا سَالَہُ، فَقَالَ: اَیُّ الْجِہَادِ اَعْظَمُ اَجْرًا؟ قَالَ: اَکْثَرُ ہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعْالیٰ ذِکْرًا، قَالَ: فَاَیُّ الصَّآئِمِیْنَ اَعْظَمُ اَجْرًا؟ قَالَ: اَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ ذِکْراً، ثُمَّ ذَکَرَ لَنَا الصَّلوٰۃَ وَالزَّکَاۃَ وَالْحَجَّ وَالَصَّدَ قَۃَ کُلُّ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: اَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعْالیٰ ذِکْرًا، فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا اَبَا حَفْصٍ، ذَہَبَ الذَّاکِرُوْنَ بِکُلِّ خَیْرٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَجَلْ۔اس روایت میں ای الجہاد نقل کیا گیا ہے جب کہ متن میں ای المجاہد ین ہے۔ (مرتب)(۴۸)
تشریح: اللہ کو کثرت سے یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی زبان پر ہر وقت زندگی کے ہر معاملے میں کسی نہ کسی طرح خدا کا نام آتا رہے۔ یہ کیفیت آدمی پر اس وقت تک طاری نہیں ہوتی جب تک اس کے دل میں خدا کا خیال بس کر نہ رہ گیا ہو۔ انسان کے شعور سے گزرکر اس کے تحت الشعور اور لاشعور تک میں جب یہ خیال گہرااترجاتا ہے تب ہی اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ جو کام اور جو بات بھی وہ کرے گا اس میں خدا کا نام ضرور آئے گا۔ کھائے گا تو بسم اللہ کہہ کر کھائے گا۔ فارغ ہوگا تو الحمد للہ کہے گا۔ سوئے گا تو اللہ کو یا دکرکے اور اٹھے گا تو اللہ ہی کا نام لیتے ہوئے بات چیت میں بار بار اس کی زبان سے بسم اللہ ، الحمد للہ ، ان شاء اللہ، ماشاء اللہ اور اسی طرح کے دوسرے کلمات نکلتے رہیں گے۔ اپنے ہر معاملے میں اللہ سے مدد مانگے گا۔ ہر نعمت ملنے پر اس کا شکرادا کرے گا۔ ہر آفت آنے پر اس کی رحمت کا طلبگار ہوگا۔ ہر مشکل میں اس سے رجوع کرے گا۔ ہر برائی کا موقع سامنے آنے پر اس سے ڈرے گا۔ ہر قصور سرزد ہوجانے پر اس سے معافی چاہے گا۔ ہر حاجت پیش آنے پر اس سے دعا مانگے گا۔ غرص اٹھتے بیٹھتے اور دنیا کے سارے کام کاج کرتے ہوئے اس کا وظیفہ خدا ہی کا ذکر ہوگا۔ یہ چیز درحقیقت اسلامی زندگی کی جان ہے۔ دوسری جتنی بھی عبادات ہیں ان کے لیے بہر حال کوئی وقت ہوتا ہے جب وہ ادا کی جاتی ہیں اور انہیں ادا کرچکنے کے بعد آدمی فارغ ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ وہ عبادت ہے جو ہر وقت جاری رہتی ہے اور یہی انسان کی زندگی کا مستقل رشتہ اللہ اور اس کی بندگی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ خود عبادات اور تمام دینی کاموں میں بھی جان اسی چیز سے پڑتی ہے کہ آدمی کا دل محض ان خاص اعمال کے وقت ہی نہیں بلکہ ہمہ وقت خدا کی طرف راغب اور اس کی زبان دائماً اس کے ذکر سے تر رہے۔ یہ حالت انسان کی ہو تو اس کی زندگی میں عبادت اور دینی کام ٹھیک اسی طرح پروان چڑھتے اور نشوونما پاتے ہیں، جس طرح ایک پودا ٹھیک اپنے مزاج کے مطابق آب و ہوا میں لگا ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو زندگی اس دائمی ذکر خدا سے خالی ہو، اس میں محض مخصوص اوقات میں یا مخصوص مواقع پر ادا کی جانے والی عبادات اور دینی خدمات کی مثال اس پودے کی سی ہے جو اپنے مزاج سے مختلف آب و ہوا میں لگایا گیا ہو اور محض باغبان کی خاص خبرگیری کی وجہ سے پل رہا ہو۔ (تفہیم القرآن ،ج ۴، الاحزاب حاشیہ:۶۳)

ماخز

(۱) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب فی فرض الجمعۃ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعہ۔ ٭ تاریخ بغداد، ج ۱۳، ص ۲۶۷۔ فی الزوائد۔ اسنادہ ضعیف۔ لضعف علی بن زید بن جد عان و عبد اللّٰہ بن محمد العدوی۔
(۲) ابوداؤد، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب وجوب الجمعۃ علی من کان خارج المصر فی موضع یبلغہ النداء۔ ٭ دارقطنی،ج۲، باب الجمعۃ علی من سمع النداء۔
(۳) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب وجوب الجمعۃ علی من کان خارج المصر فی موضع یبلغہ النداء۔
(۴) نسائی،ج۳،کتاب الجمعہ، باب التشدید فی التخلف عن الجمعۃ۔
(۵) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الجمعہ، باب من تجب علیہ الجمعۃ عن حفصۃ۔

فصل:۶ آداب جمعہ اور ضروری ہدایات غسل کرنے کاحکم

۴۴۔حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: ’’ہر مسلمان کو جمعہ کے روز غسل کرنا چاہیے، دانت صاف کرنے چاہئیں، جو اچھے کپڑے اس کو میسر ہوں ، پہننے چاہئیں، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگانی چاہیے۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابودائود، نسائی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ بَکْرِبْنِ الْمُنْکَدِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ، عَمْرُوبْنُ سُلَیْمِ نِ الْاَنْصَارِیُّ، قَالَ: اَشْہَدُ عَلیٰ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ: اَشَہَدُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اَلْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلیٰ کُلِّ مُحْتَلِمٍ وَاَنْ یَّسْتَنَّ وَاَنْ یَّمَسَّ طِیْبًا اِنْ وَجَدَ، قَالَ عَمْرٌو: اَمَّاالْغُسْلُ فَاَشْہَدُ اَنَّہُ وَاجِبٌ، وَاَمَّا الْاِسْتِنَانُ وَالطِّیْبُ فَاللّٰہُ ـــــ تَعَالیٰ ـــــ اَعْلَمُ وَاجِبٌ ہُوَ اَمْ لَا۔ وَلٰکِنْ ہٰکَذَا فِی الْحَدِیْثِ، قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ: ہُوَ اَخُوْمُحَمَّدِبْنِ الْمُنْکَدِرِ وَلَمْ یُسَمَّ اَبُوْبَکْرٍ ہٰکَذَا رَوٰی عَنْہُ بُکْیْرُبْنُ الْاَشَجِّ وَسَعِیْدُبْنُ اَبِیْ ہِلَالٍ وَعِدَّۃٌ۔ وَکَانَ مُحَمَّدُبْنُ الْمُنْکَدِرِ یَکْنٰی بِاَبِیْ بَکْرٍ وَاَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ۔(۱)
ترجمہ: عمرو بن سلیم انصاری کہتے ہیں میں ابو سعید خدری پر گواہی دیتا ہوں ۔ ابوسعید نے کہا میں رسول اللہ ﷺ پر گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ نے فرمایا: جمعہ کے روز غسل ہر بالغ مسلمان پر واجب (لازم) ہے۔ مسواک سے دانت صاف کرنے چاہئیں۔ اگر خوشبو میسر ہو تو لگانی چاہیے۔ عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں اس پر تو گواہی دیتا ہو ں کہ غسل (واجب) ہے۔ البتہ مسواک اور خوشبو لگانا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ واجب ہیں ،یا نہیں۔ لیکن حدیث میں اسی طرح بیان ہوا ہے۔
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: عَلیٰ کُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِیَابِہِ وَاِنْ کَانَ لَہُ طِیْبٌ مَسَّ مِنْہُ۔(۲)
ترجمہ:حضرت ابوسعید خدری نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے آپؐ نے فرمایا جمعہ کا غسل ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے اور عمدہ کپڑا پہننا اور حتی المقدور خوشبو لگانا۔

نسائی میں ہے:
(۳) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اِنَّ الْغُسْلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلیٰ کُلِّ محُتَلِمٍ وَالسِّوَاکَ وَاَنْ یَمَسَّ مِنَ الْطِّیْبِ مَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ۔(۳)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے روز غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ اور مسواک کرنا اور حتی المقدور خوشبو لگانا۔
موطا امام مالک میں ابوسعید خدری سے مروی روایت:
(۴)عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: غُسْلُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلیٰ کُلِّ مُحْتَلِمٍ۔(۴)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جمعہ کے روز غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔
(۵) عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ جُمُعَۃٍ مِنَ الْجُمَعِ: یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! اِنَّ ہٰذَا یَوْمٌ جَعَلَہُ اللّٰہُ عِیْدًا ، فَاغْتَسِلُوْا، وَمَنْ کَانَ عِنْدَہُ طِیْبٌ فَلَا یَضُرُّہُ اَنْ یَّمَسَّ مِنْہُ، وَعَلَیْکُمْ بالسِّوَاکِ۔(۵)
ترجمہ: عبید اللہ بن سباق سے مرسلاً روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جمعہ کے خطبہ میں فرمایا، اے جماعت مسلمین! یقینا یہ دن وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عید بنایا ہے۔ لہٰذا اس روز غسل کیا کرو اور جس کے پاس کوئی خوشبو ہو تو اس کے لگانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور مسواک کو تولازماً استعمال کرو۔
(۶)حَدَّثَنَا عَمَّارُبْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِیُّ ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِرَابٍ، عَنْ صَالِحِ ابْنِ اَبِی الْاَخْضَرِ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِبْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ ہٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ جَعَلَہُ اللّٰہُ لِلْمُسْلِمیْنَ، فَمَنَ جَآئَ اِلَی الْجُمُعَۃِ فَلْیَغْتَسِلْ، وَاِنْ کَانَ طِیْبٌ فَلْیَمَسَّ مِنْہُ، وَعَلَیْکُمْ بِالسِّوَاکِ۔(۶)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ یہ عید کا دن ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ پس جو کوئی جمعہ کی نماز کے لیے آئے تو چاہیے کہ وہ غسل کرے اور اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو اسے لگائے اور مسواک تو لازماً کرے۔
(۷)عَنِ الْبَرَآئِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : حَقًّا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ اَنْ یَغْتَسِلُوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَلْیَمَسَّ اَحَدُ ہُمْ مِنْ طِیْبِ اَہْلِہِ، فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ، فَالْمَآئُ لَہُ طِیْبٌ ـــــ وَفِی الْبَابِ: عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ وَشَیْخٍ مِنَ الْاَنْصَارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَا ہُشَیْمٌ عَنْ یَزِیْدَبْنِ اَبِیْ زِیَادٍ نَحْوَہُ بِمَعْنَاہُ۔(۷)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ جمعہ کے روز غسل ضرور کریں۔ اور اپنے اہل خانہ کی خوشبو بھی ان میں سے ہر ایک کو لگانی چاہیے۔ اگر خوشبو میسر نہ ہو تو پھر اس کے لیے پانی ہی خوشبو ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی: حَدِیْثُ الْبَرَآء حَدِیْثٌ حَسَنٌ وَرِوَایَۃُ ہُشَیْمٍ اَحْسَنُ مِنْ روَایَۃِ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیمِیِّ۔ وَاسْمَاعِیْلَ بْنُ ابْرَاہِیْمُ التَّیْمِیُّ یُضَعَّفُ فِی الْحَدِیْثِ۔
(۸) مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاسْتَاکَ وَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ وَلَبِسَ مِنْ اَحْسَنِ ثِیَابِہِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی اَتَی الْمَسْجِدَ، وَلَمْ یَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ ، ثُمَّ رَکَعَ مَاشَآئَ اللّٰہُ اَنْ یَرْکَعَ، ثُمَّ اَنْصَتَ اِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہ کَانَتْ کَفَّارَۃً لِّمَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْریٰ۔(۸)
ترجمہ:جس آدمی نے جمعہ کے روزغسل کیا۔ مسواک سے دانت صاف کیے۔ اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو وہ لگائی اور اپنے اچھے اور عمدہ کپڑے پہنے۔ پھر گھر سے نکل کر مسجد میں آئے اور لوگوں کی گردنوں پر پھاند کر آگے نہ گھسے۔ پھر نماز پڑھے جتنی اللہ کو منظور ہو۔ پھر خاموش ہورہے۔ جب امام خطبہ کے لیے نکلے اس وقت سے نماز سے فراغت تک کسی قسم کی کوئی بات نہ کرے تو اس کا یہ عمل اس جمعہ سے لے کر آئندہ جمعہ تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(۹)حَدَّثَنَا عَمْرُ وْبْنُ سَوَادٍ الْعَامِرِیُّ، قَالَ: نَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ، قَالَ: نَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ اَنَّ سَعِیْدَبْنَ اَبِیْ ہِلَالٍ، وَبُکَیْرَبْنَ الْاَشَجِّ، حَدَّثَاہُ عَنْ اَبِیْ بَکْرِبْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ عَمْرِوْ بْنِ سُلَیْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: غُسْلُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ عَلیٰ کُلِّ مُحْتَلِمٍ۔ وَسِوَاک۔ٌ وَیَمَسُّ مِنَ الطِّیْبِ مَاقَدَرَ عَلَیْہِ، اِلَّا اَنَّ بُکَیْرًا لَمْ یَذْکُرْ عَبْدَالرَّحْمٰنِ وَقَالَ فِی الطِّیْبِ وَلَوْ مِنْ طِیْبِ الْمَرْاَۃِ۔(۹)
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بالغ کے لیے جمعہ کا غسل ، مسواک اور مقدور بھر خوشبو لگانا ضروری ہے۔
(۱۰)حَدَّثَنَا اَبُوْمَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَنَسٌ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَکْثَرْتُ عَلَیْکُمْ فِی السِّوَاکِ۔
ترجمہ: حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں بکثرت مسواک کرنے کی تلقین کرتا رہا ہوں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک دوسری روایت ہے:
(۱۱)عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمَّتِیْ اَوْ عَلَی النَّاسِ لَاَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ مَعَ کُلِّ صَلوٰۃِ(۱۰)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،مجھے اگر یہ اندیشہ لاحق نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو، یا فرمایا لوگوں کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کاحکم ضرور دیتا۔
۴۵۔ حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا :جو مسلمان جمعہ کے روز غسل کرے اور حتی الامکان زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو پاک صاف کرلے، سر میں تیل لگائے یا جو خوشبو گھر میں موجو دہو، وہ لگائے ، پھر مسجد جائے اور دو آدمیوں کو ہٹا کر ان کے بیچ میں نہ گھسے۔ پھر جتنی کچھ اللہ توفیق دے، اتنی نماز (نفل) پڑھے۔ پھر جب امام بولے تو خاموش رہے، اس کے قصور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ، مسند احمد)
بخاری میں سلمان فارسی کی روایت ہے:
تخریج:(۱) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَتَطَہَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ، ثُمَّ ادَّہَنَ اَوْ مَسَّ مِنْ طِیْبٍ، ثُمَّ رَاحَ ، فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ ، فَصَلَّی مَا کُتِبَ لَہُ، ثُمَّ اِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ اَنْصَتَ، غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَہُ، وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی۔ (۱۱)
ترجمہ:حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،جس کسی نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی حد استطاعت تک اچھی طرح جسم صاف کیا۔ پھر تیل لگایا، یا کوئی خوشبو لگائی۔ پھر مسجد کی طرف چلا اور دو آدمیوں کے بیچ میں نہ گھسا۔ جتنی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو اتنی نماز پڑھے، پھر جب امام خطبہ کے لیے نکلے تو خاموشی اختیار کرلے، تو اس جمعہ سے لے کر آئندہ کے جمعہ کے مابین اس کے سارے گناہ معاف کردیے گئے۔
(۲)حَدَّثَنَا آدَمُ،قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ سَعِیْدِنِالْمَقْبُرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ، عَنِ بْنِ وَدِیْعَۃَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : لَا یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ وَیَدَّہِنُ مِنْ دَہْنِہِ، اَوْیَمَسُّ مِنْ طِیْبِ بَیْتِہِ، ثُمَّ یَخْرُجُ فَلَا یُفَرِّقُ بَیْنِ اِثْنَیْنِ، ثُمَّ یُصَلِّیْ مَاکُتِبَ لَہُ، ثُمَّ یُنْصِتُ اِذَا تَکَلَّمَ الْاِمَامُ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَابَیْنَہُ، وَ بَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی۔(۱۲)
ترجمہ:حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو مسلمان جمعہ کے روز غسل کرے اور حتیٰ الامکان زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو پاک صاف کرے، سر میں تیل لگائے، یا جو خوشبو گھر میں موجود ہو وہ لگائے ، پھر مسجد جائے اور دو آدمیوں کو ہٹا کر ان کے بیچ میں نہ گھسے ،پھر جتنی کچھ اللہ توفیق دے اتنی نماز (نفل) پڑھے ۔ پھر جب امام بولے تو خاموش رہے، تو اس کے قصور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک معاف ہوجاتے ہیں۔
نسائی نے سلمان فارسی سے اس روایت کو مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے:
(۳)عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ : قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَامِنْ رَجُلٍ یَتَطَہَّرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃَ کَمَا اُمِرَ، ثُمَّ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ حَتّٰی یَاْتِیَ الْجُمُعَۃَ وَیُنْصِتُ حَتّٰی یَقْضِیَ صَلَاتَہُ اِلَّا کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا قَبْلَہُ مِنَ الْجُمُعَۃِ۔(۱۳)
ترجمہ: حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کوئی آدمی جمعہ کے روز جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے اسی طرح حتیٰ الامکان پاک صاف ہوتاہے، پھر اپنے گھر سے نکل کر جمعہ کو آتا ہے اور نماز پوری کرنے تک خاموش رہتا ہے تو اس کا یہ عمل گزشتہ (جمعہ تک کے) گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

دوران خطبہ جمعہ خاموش رہنا

۴۶۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا جب امام خطبہ دے رہا ہو، اس وقت جو شخص بات کرے وہ اس گدھے کی مانند ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور جو شخص اس سے کہے کہ چپ رہ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہوا۔ (مسند احمد)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَااِبْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَہُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ أَسْفَارًا، وَالَّذِیْ یَقُوْلُ لَہُ اَنْصِتْ لَیْسَ لَہُ جُمعَۃٌ۔(۱۴)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ، جب امام خطبہ دے رہا ہو ، اس وقت جو شخص بات کرے وہ اس گدھے کی مانند ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور جو شخص اس سے کہے کہ چپ رہ اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہوا۔
۴۷۔ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضورؐ نے فرمایا اگر تم نے جمعہ کے روز خطبہ کے دوران میں بات کرنے والے شخص سے کہا ’’چپ رہ‘‘ تو تم نے بھی لغو حرکت کی۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابودائود)
ـــــــ اسی سے ملتی جلتی روایات امام احمد، ابودائود اور طبرانی نے حضرت علیؓ اور حضرت ابوالدرداءؓ سے نقل کی ہیں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عَقِیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُبْنُ الْمُسَیِّبِ۔ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ، اَخْبَرَہُ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَنْصِتْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْت۔(۱۵)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’ اگر تم نے جمعہ کے روز خطبہ کے دوران میں بات کرنے والے شخص سے کہا کہ ’’چپ رہ‘‘ تو تم نے بھی لغو حرکت کی۔
ترمذی نے ابوہریرہؓ کی روایت کو حسن صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے:
ـــــــ وَالْعَمَلُ عَلَیْہِ عِنْدَ اَہْلِ الْعِلْمِ کَرِہُوْا لِلرَّجُلِ اَنْ یَّتَکَلَّمَ وَالْاِمَامُ یَخْطبُ، فَقَالُوْا اِنْ تَکَلَّمَ غَیْرُہُ فَلَا یُنْکِرُ عَلَیْہِ اِلَّا بِالْاِشَارَۃِ۔ وَاخْتَلَفُوْا فِیْ رَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ، فَرَخَّصَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ فِیْ رَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ وَہُوَ قَوْلُ اَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ۔ وَکَرِہَ بَعْضُ اَہْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِیْنَ وَغَیْرِ ہِمْ ذٰلِکَ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ ۔
ـــــــ اہل علم کا اِسی پر عمل ہے۔ امام کے خطبہ کے دوران اگر دوسرا کوئی بات کرے، تو اسے محض اشارے سے ٹوکنا چاہیے۔ کسی آدمی کے بات کرنے کو انہوں نے ناپسندیدہ کہا ہے۔ سلام کے جواب اور چھینک کا جواب دینے کے بارے میں ان کے درمیان رائے کا اختلاف ہے۔ امام احمد و اسحاق وغیرہ نے کہا ہے کہ سلام کا جواب اور چھینک مارنے والے کو جواب دینے کی رخصت ہے۔ بعض تابعین و دیگر علماء اسے مکروہ سمجھتے ہیں، امام شافعی کا یہی قول ہے۔
(۲)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِ وبْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، اَنَّہُ قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَمَسَّ مِنْ طِیْبِ امْرَاتِہِ اِنْ کَانَ لَہَا، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِیَابِہِ، ثُمَّ لَمْ یَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، وَلَمْ یَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَۃِ، کَانَتْ کَفَّارَۃً لِّمَا بَیْنَہُمَا، وَمَنْ لَغَاوَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ کَانَتْ لَہُ ظُہْرًا۔(۱۶)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپؐ نے فرمایا جس شخص نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی اہلیہ کی اگر اس کے پاس موجود تھی، خوشبو لگائی اور اچھے کپڑے پہنے، پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نہ گھسا ، اور وعظ و نصیحت کے وقت لغو بات نہ کی تو یہ عمل دونوں جمعوں کے درمیان کے لیے کفارہ بن جائے گا۔ اور جس نے لغو حرکت کی اور وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے گھسا تو یہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہوگی (جمعہ نہیں ہوگا)۔
(۳) اَوْسُ بْنُ اَوْسٍ الثَّقَفِیُّ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ : مَنْ غَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَکَّرَ وَابْتَکَرَ، وَمَشیٰ وَلَمْ یَرْکَبْ ، وَدَنَا مِنَ الْاِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ یَلُغْ، کَانَ لَہُ بِکُلٍّ خُطْوَۃٍ عَمَلُ سَنَۃِ اَجْرِ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا۔
ترجمہ: اوس بن اوس ثقفی نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے خود سنا ہے ’’جس نے اپنا لباس صاف کیا اور وضو اور غسل کرکے جسم پاک صاف کیا۔ پھر صبح سویرے مسجد کی طرف پیدل چل کر گیا ، سوار نہیں ہوا اور امام کے قریب بیٹھ کر غور سے خطبہ سنا اور بے جاحرکت نہ کی تو اس کا ہر قدم سال بھر کے روزوں اور قیام کے برابر متصور ہوگا۔
(۴) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیْ وَاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَلَبِسَ مِنْ اَحْسَنِ ثِیَابِہِ، وَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃِ فَلَمْ یَتَخَطَّ اَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّی مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَہُ، ثُمَّ اَنْصَتَ اِذَا خَرَجَ اِمَامُہُ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہِ کَانَتْ کَفَّارَۃً لِّمَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ جُمُعَتِہٖ الَّتِیْ قَبْلَہَا۔ قَالَ: وَیَقُوْلُ اَبُوْہُرَیْرَۃَ ’’وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ‘‘ وَیَقُوْلُ۔ اِنَّ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا۔(۱۷)

ترجمہ:حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہؓ دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور عمدہ اور بہترین لباس زیب تن کیا اگر اس کے پاس خوشبو موجو د تھی تو وہ لگائی، پھر جمعہ کے لیے آیا۔ پھر اس نے لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں۔ پھر جتنا مقدر تھا، اتنی نماز پڑھی۔ پھر خاموش بیٹھا رہا۔ یہاں تک امام باہر نکل آیا۔ نماز پوری کرنے تک اسی طرح رہا تو یہ عمل اس کے اس جمعہ سے لے کر گزشتہ جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ بن گیا۔ ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ تین دن مزید ۔اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ایک نیکی دس کے برابر شمار ہوتی ہے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَحَدِیْثُ مُحَمِّدِ بْنِ مُسْلَمَۃَ أَتَمُّ، وَلَمْ یَذْکُرْ حَمَّادُ کَلَامَ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔
(۵) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ اَبِیْ سَہْلٍ، وَحَوْثَرَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا : ثَنَا یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدِ نِالْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِیْدٍ نِالْمَقْبُرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ وَدِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاَحْسَنَ غُسْلَہُ، وَتَطَہَّرَ فَاَحْسَنَ طُہُوْرَہُ وَلَبِسَ مِنْ اَحْسَنِ ثِیَابِہِ، وَمَسَّ مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ طِیْبِ اَہْلِہِ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ وَلَمْ یَلْغُ، وَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ، غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی۔ (۱۸)
ترجمہ: حضرت ابوذر غفاری سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے روز اچھی طرح غسل کیا اور اچھی طرح پاک و صاف ہوا اور اپنا عمدہ لباس پہنا اور جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کی وہ اپنے گھر سے خوشبو لگائی۔ پھر جمعہ کو آیا، نہ اس نے لغو حرکت کی اور نہ دو آدمیوں کو جدا کرکے بیچ میں گھسا تو اس کے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے مابین جتنے گناہ تھے، سب معاف کردیے گئے۔‘‘
ـــــــ فِی الزَّوَائِدِ: اِسْنَادُہٗ صَحِیْحٌ وَرِجَالُہٌ ثِقَاتٌ۔
ابودائود میں عبداللہ بن عمرو کی روایت:
(۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ۔ رَجُلٌ حَضَرَہَا یَلْغُوْ وَہُوَ حَظُّہُ مِنْہَا، وَرَجُلٌ حَضَرَہَا یَدْعُوْفَہُوَ رَجُلٌ دَعَااللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، اِنْ شَآئَ اَعْطَاہُ وَاِنْ شَآئَ مَنَعَہُ وَرَجُلٌ حَضَرَہَا بِاِنْصَاتٍ وَسُکُوْتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُوْذِ اَحَدًا فَہِیَ کَفَّارَۃٌ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِیْ تَلِیْہَا، وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ، وَذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ، مَنْ جَآ ئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِہَاج(الانعام:۱۶۰)۔ (۱۹)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو نے نبی ﷺ سے یہ روایت کیا کہ آپؐ نے فرمایا: جمعہ کو تین طرح کے آدمی حاضر ہوتے ہیں۔ ایک آدمی تو وہ ہے جو نماز جمعہ کو آتا ہے اور لغو حرکت کرتا ہے۔ اس کا حصہ یہی کچھ ہے اور ایک آدمی وہ ہے جو جمعہ کو حاضر ہوتا ہے، دعا کرتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔ اللہ چاہے تو اس کی مطلوب شے عطا فرمادے، نہ چاہے تو نہ دے اور ایک وہ شخص ہے جو خاموشی اور سکوت کے ساتھ جمعہ کو حاضر ہوتا ہے۔ کسی مسلمان کی گردن نہیں پھلانگتا اور نہ کسی کو اذیت پہنچاتا ہے۔ اس کا یہ عمل آئندہ جمعہ تک اور مزید تین روز ،یعنی دس دن تک کے گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ’’جو ایک نیکی لے کر آئے اسے اس جیسی دس کا اجر دیا جائے گا۔‘‘

خطبہ جمعہ مختصر اور نماز لمبی پڑھنے کا حکم

۴۸۔ آپؐ نے خطیبوں کو ہدایت فرمائی کہ لمبے لمبے خطبے دے کر لوگوں کو تنگ نہ کریں۔ آپؐ خود جمعہ کے روز مختصر خطبہ ارشاد فرماتے اور نماز بھی زیادہ لمبی نہ پڑھتے تھے۔ حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ حضوؐر طویل خطبہ نہیں دیتے تھے۔ وہ بس چند مختصر کلمات ہوتے تھے۔ (ابودائود)
تخریج: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ وَاَبُوْ بَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَا:نَا اَبُوْالْاَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: کُنْتُ اُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَتْ صَلَاتُہُ قَصْدًا وَخُطْبَتُہُ قَصْدًا۔(۲۰)
ترجمہ:جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ کی نماز اور خطبے میں اعتدال تھا۔
۴۹۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں کہ آپؐ کا خطبہ نماز کی بہ نسبت کم ہوتا تھا اور نماز اس سے زیادہ طویل ہوتی تھی۔ (نسائی)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِبْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ: انبانا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی، عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ عُقَیْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ اَوْفیٰ، یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ الذِّکْرَ وَیُقِلُّ اللَّغْوَ وَیُطِیْلُ الصَّلوٰۃَ وَیُقْصِرُ الْخُطْبَۃَ، وَلَا یَاْنَفُ اَنْ یَمْشِیْ مَعَ الْاَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ فَیَقْضِیْ لَہُ الْحَاجَۃَ۔(۲۱)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذکر بہت زیادہ کرتے اور بے جابات بہت ہی کم۔ نماز لمبی ہوتی اور خطبہ مختصر فرماتے۔ آپؐ محتاجوں اور مسکینوں کے ساتھ چل کر ان کی ضرورت و حاجت پوری فرمانے میں ناگواری نہیں محسوس فرماتے تھے۔
(۲)حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمٰن بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ اَبْحَرَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَیَّانَ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارٌ، فَاَوْجَزَ وَاَبْلَغَ ، فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا : یَااَبَاالْیَقْظَانِ! لَقَدْ اَبْلَغْتَ وَاَوْجَزْتَ فَلَوْکُنْتَ تَنَفَّسْتَ، فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: اِنَّ طُوْلَ صَلَاۃِ الرَّجُلِ وَقَصْرَ خُطْبَتِہِ مَئِنَّۃٌ مِّنْ فِقْہِہِ۔ فَاَطِیْلُوا الصَّلوٰۃَ وَاَقْصِرُوْا الْخُطْبَۃَ۔وَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔(۲۲)
ترجمہ: ابووائل کا بیان ہے کہ عمار بن یاسر نے ہمیں خطبہ دیا۔ بڑا بلیغ یعنی جامع اور مختصر تھا۔ جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا اے ابو الیقظان! آپ نے خطبہ بڑا بلیغ اور مختصر و جامع دیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ ذرا دراز نفسی سے کام لے کر خطاب فرماتے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ آدمی کی نماز کا طویل ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ دین کی سمجھ رکھتا ہے۔ پس نماز کو طویل اور خطبے کو مختصر کرو۔ بعض خطبات جادو کا اثر رکھتے ہیں۔
حضرت عمارؓ بن یاسر کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایاآدمی کی نماز کا طویل ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ دین کی سمجھ رکھتا ہے۔ (مسند احمد، مسلم)
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، ثَنَا اَبِیْ، ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ اَبِیْ رَاشِدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِاِقْصَارِ الْخُطُبِ۔
ترجمہ: حضرت عمار بن یاسر کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبات جمعہ مختصر دینے کا حکم فرمایا۔
(۴) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُبْنُ خَالِدٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُ، اَخْبَرَنِیْ شَیْبَانٌ اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ السُوَائِیُّ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یُطِیْلُ الْمَوْعِظَۃَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِنَّمَاہُنَّ کَلِمَاتٌ یَسِیْرَاتٌ۔(۲۳)
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن وعظ و نصیحت طویل نہیں کرتے تھے۔ بلکہ وہ بس چند مختصر کلمات ہوتے تھے۔
تشریح: تقریباً یہی مضمون بزار نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے نقل کیا ہے۔ ان (احادیث) سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضورؐ نے کس طرح لوگوں کو جمعہ کے آداب سکھائے ، یہاں تک کہ اس نماز کی وہ شان قائم ہوئی جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم کی اجتماعی عبادت میں نہیں پائی جاتی۔ (تفہیم القرآن، ج ۵، الجمعہ، حاشیہ:۱۹)

خطبہ جمعہ کے دوران کا ایک تاریخی واقعہ

۵۷۔ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَوْ تَتَابَعْتُمْ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ مِنْکُمْ اَحَدٌ لَسَالَ بِکُمُ الْوَادِیْ نَارًا۔
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم سب چلے جاتے اور ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی آگ سے بہہ نکلتی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحیٰ، حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ          وَاَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَدِمَتْ عِیْرٌ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَابْتَدَرَہَا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِلَّا اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوْ تَتَابَعْتُمْ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ مِنْکُمْ اَحَدٌ لَسَالَ بِکُمُ الْوَادِیْ نَارًا، وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الآ یَۃُ وَاِذَا رَاَوْاتِجَارَۃً اَوْ لَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا(الجمعۃ:۱۱) وَقَالَ: کَانَ فِی الْاِثْنٰی عَشَرَ الَّذِیْنَ ثَبَتُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا۔(۵۴)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اسی دوران میں مدینہ کی جانب  ایک تجارتی قافلہ آنکلا۔ اصحاب رسول اللہ ﷺ جلدی سے اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپؐ کے ساتھ صرف ۱۲ آدمیوں کے سوا کوئی بھی نہ رہا تو اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخدا! اگر تم سب چلے جاتے اور ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی آگ سے بہہ نکلتی ۔ اس موقع پر  وَاِذَا رَاَوْاتِجَارَۃً اَوْلَہْوَاً الایۃ نازل ہوئی۔ راوی کا بیان ہے ان ثابت قدم رہنے والے بارہ آدمیوں میں حضرت ابوبکرؓ و عمر ؓ بھی تھے۔
(۲) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَوْخَرَجُوْا کُلُّہُمْ لَا ضْطَرَمَ الْمَسْجِدُ عَلَیْہِمْ نَارًا۔(۵۵)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اگر وہ سب نکل جاتے تو یہ مسجد آگ بن کر ان پر بھڑک اٹھتی۔ ‘‘
(۳) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ اَبِی الْجَعْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ اِذْاَقْبَلَتْ عِیْرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا فَالْتَفَتُوْا اِلَیْہَا حَتّٰی مَا بَقِیَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ اِلَّا اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَنَزَلَتْ ہٰذِہ الآیۃ ’’وَاِذَا رَاَوْاتِجَارَۃً اَوْلَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا۔‘‘(۵۶)
ترجمہ:حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران میں خوردونوش کا سامان تجارت لے کر ایک قافلہ آگیا۔ سب صحابہ اس کی طرف متوجہ ہوگئے، صرف ۱۲ آدمی آپؐ کے ساتھ باقی رہ گئے۔ اس موقع پرآیت  وَاِذَا رَاَوْتِجَارَۃً الآیۃ نازل ہوئی۔
کتاب التفسیر میں امام بخاری نے جابرؓ بن عبداللہ کی جو روایت نقل کی ہے وہ یہ ہے:
(۴) عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَقْبَلَتْ عِیْرٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَنَحْنُ معَ النَّبِیِّ ﷺ فَثَارَالنَّاسُ اِلَّا اثْنَاعَشَرَ رَجُلًا۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ’’ وَاِذَا رَاَوْ تِجَارَۃً اَوْلَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا‘‘(الجمعۃ:۱۱)۔(۵۷)
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے، جمعہ کے روز ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک تجارتی قافلہ آگیا۔ صحابہ کود کر اس قافلہ کی طرف لپکے۔ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ اسی موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے  وَاِذَا رَاَوْتِجَارَۃً اَوْلَہْوَنِانْفَضُّوْا اِلَیْہَا الآیۃ نازل فرمائی۔
(۵) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ کِلَاہُمَا عَنْ جَرِیْرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: نَاجَرِیْرٌ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ ، کَانَ یَخْطُبُ قآئِمًا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَجَائَتْ عِیْرٌ مِنَ الشَّامِ ، فَانْفَتَلَ النَّاسُ اِلَیْہَا حَتّٰی لَمْ یَبْقَ اِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا۔ فَاَنْزَلَتْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃُ الَّتِیْ فِی الْجُمُعَۃِ وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْلَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا۔ (الجمعۃ:۱۱) (۵۸)
ترجمہ:حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اچانک شام کی طرف سے ایک تجارتی قافلہ آگیا، لوگ اس کی طرف نکل گئے۔ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ اس موقعہ پرآیت وَاِذَا رَاَوْتِجَارَۃً اَوْلَہْوَنِاانْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا نازل ہوئی۔
مسند احمد نے اسی صفحہ پر مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ روایت نقل کی ہے:
(۶)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمَتْ عِیْرٌ مَرَّۃً الْمَدِیْنَۃَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِیَ اثْنَاعَشَرَ، فَنَزَلَتْ: وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْلَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا۔
ترجمہ:حضرت جابرؓ سے روایت ہے مدینہ میں ایک مرتبہ ایک تجارتی قافلہ آیا۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اسی دوران میں لوگ باہر نکل گئے اور صرف ۱۲ آدمی وہاں باقی رہ گئے۔ اس موقع پر وَاِذَا رَاَوْتِجَارَۃً الآیۃ نازل ہوئی۔
ترمذی نے جابر بن عبداللہ سے مروی روایت کا متن اس طرح نقل کیا ہے:
(۷)عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَیْنَمَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَآئِمًا اِذْ قَدِمَتْ عِیْرُ الْمَدِیْنَۃَ، فَابْتَدَرَہَا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ مِنْہُمْ اِلَّا اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فِیْہِمْ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَنَزَلَتْ الآیۃ وَاِذَا رَاوْاتِجَارَۃً اَوْلَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا۔ (۵۹)
ـــــــ ہذا حدیث حسن صحیح۔
ترجمہ: حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کھڑے جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اسی اثناء میں مدینہ میں ایک تجارتی قافلہ آگیا۔ اصحاب رسول اللہ ﷺ جلدی سے اس کی طرف دوڑ گئے۔ یہاں تک ان میں سے صرف ۱۲ آدمی باقی رہ گئے۔ ان باقی رہنے والوں میں حضرت ابوبکر و عمر بھی تھے۔ اس موقع پر آیت  وَاِذَا رَأَوْ تِجَارَۃً ۔۔۔الآیۃ کا نزول ہوا۔
(۸) اَخْرَجَ عَبْدُبْنُ حُمَیْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الآیۃ، قَالَ: جَآئَ تْ عِیْرُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ تَحْمِلُ الطَّعَامَ فَخَرَجُوْا مِنَ الْجُمُعَۃِ۔ بَعْضُہُمْ یُرِیْدُ اَنْ یَشْرِیْ وَبَعْضُہُمْ یُرِیْدُ اَنْ یَنْظُرَ اِلیٰ دِحْیَۃٍ وَتَرَکُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَآئِمًا عَلَی الْمِنْبَرِ۔ وَبَقِیَ فِی الْمَسْجِدِ اثْنَا عَشَر رَجُلًا وَسَبْعَ نِسْوَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَوْخَرَجُوْا کُلُّہُمْ لَا ضْطَرَمَ الْمَسْجِدُ عَلَیْہِمْ نَارًا۔(۶۰)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ عبدالرحمن بن عوف کے مال تجارت کا قافلہ آیا۔جس میں خورونوش کا سامان تھا۔ صحابہ میں سے بعض لوگ تو اس ارادہ سے اس کی طرف نکل کھڑے ہوئے کہ کچھ سامان خریدیں گے اور بعض اس ارادہ سے نکلے کہ سردار قافلہ کو دیکھیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کو منبر پر کھڑے کا کھڑا چھوڑگئے۔ مسجد میں صرف ۱۲ مرد اور ۷ عورتیں رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اگر یہ سب نکل جاتے تو مسجد آگ بن کر ان پر بھڑک اٹھتی۔
(۹) حَدَّثَنَا اَحْمَدُبْنُ مُحَمَّدِبْنِ اِسْمَاعِیْلَ الْآدَمِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْحَسَّانِیُّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ ،عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُنَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِذْاَقْبَلَتْ عِیْرٌ تَحْمِلُ الطَّعَامَ حَتّٰی نَزَلُوْابِالْبَقِیْعِ فَالْتَفَتُوْا اِلَیْہَا وَانْفَضُّوْا اِلَیْہا وَتَرَکُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ مَعَہُ اِلَّا اَرْبَعُوْنَ رَجُلًا اَنَا مِنْہُمْ فَاَنْزلَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ ’’وَاِذَا رَاَوْاتِجَارَۃً اَوْلَہْوَنِاانْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا‘‘ لَمْ یَقُلْ فِیْ ہٰذَا الْاِسْنَادِ اِلَّا اَرْبَعِیْنَ رَجُلًا غَیْرَعَلِیِّ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ حُصَیْنٍ، وَخَالَفَہُ اَصْحَابُ حُصَیْنٍ، فَقَالُوْا : لَمْ یَبْقَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ ، اِلَّا اثْنٰی عَشَرَ رَجُلًا۔(۶۱)
ترجمہ:حضرت جابرؓ بن عبداللہ کا بیان ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے جمعہ کا خطبہ ہمیں ارشاد فرمارہے تھے کہ اچانک خورونوش سے لدا ہوا ایک قافلہ جنت البقیع کے پاس آٹھہرا۔ سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور آپؐ کو ایسی حالت میں چھوڑ گئے کہ صرف چالیس آدمی جن میں ایک خود میں تھا، باقی رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر وَاِذَا رَاوْاتِجَارَۃً اَوْ لَہْوَانِ انْفَضُّوا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا(الجمعۃ:۱۱)نازل فرمائی۔
ـــــــ یہ چالیس کی تعداد علی بن عاصم کے سوا حصین سے اور کسی نے روایت نہیں کی۔ اصحاب حصین نے اس کی مخالفت کی ہے اور ان کی رائے یہی ہے کہ نبیﷺ کے ساتھ صرف ۱۲ آدمی باقی رہ گئے تھے۔
(۱۰) حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ: ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ، بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَجَعَلُوْا یَتَسَلَّلُوْنَ وَیَقُوْمُوْنَ حَتّٰی بَقِیَتْ مِنْہُمْ عِصَابۃٌ، فَقَالَ: کَمْ اَنْتُمْ؟ فَعَدُّوْا اَنْفُسَہُمْ، فَاِذَا اثْنَآعَشَرَ رَجُلًا وَامْرَأَ ۃٌ ، ثُمَّ قَامَ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَجَعَلَ یَخْطُبُہُمْ، قَالَ سُفْیَانُ: وَلَا اَعْلَمُ اِلَّا اَنَّ فِیْ حَدِیْثِہِ وَیَعِظُہُمْ وَیُذَکِّرُہُمْ فَجَعَلُوْا یَتَسَلَّلُوْنَ وَیَقُوْمُوْنَ حَتّٰی بَقِیَتْ عِصَابَۃٌ، فَقَالَ: کَمْ اَنْتُمْ؟ فَعَدُّوْا اَنْفُسَہُمْ ، فَاِذَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا وَامْرَاَۃٌ ثُمَّ قَامَ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَجَعَلُوْا یَتَسَلَّلُوْنَ وَیَقُوْمُوْنَ حَتّٰی بَقِیَتْ مِنْہُمْ عِصَابَۃٌ،فَقَالَ:کَمْ اَنْتُمْ؟ فَعَدُّوْا اَنْفُسَہُمْ، فَاِذَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا وَامْرَاۃٌ، فَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَوِاتَّبَعَ آخِرُکُمْ اَوَّلَکُمْ لَالْتَہَبَ عَلَیْکُمْ الْوَادِیْ نَارًا وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْلَہْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَیْہَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا۔(۶۲)
ترجمہ: قتادہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ لوگوں نے چپکے چپکے کھسکنا شروع کردیا اور اٹھ کر چلے گئے۔یہاں تک کہ ان میں سے صرف ایک جماعت باقی رہ گئی۔ راوی نے پوچھا کتنی تعداد تھی تمہاری جو رہ گئی؟ انہوں نے شمار کیا تو وہ ۱۲ مرد اور ایک عورت تھے۔ پھر دوسرے جمعہ کھڑے ہوئے کہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں۔ آپؐ نے ان کو وعظ و نصیحت کی۔ انہوں نے پھر کھسکنا شروع کردیا کہ سب اٹھ کر چل دیے۔ صرف ۱۲ مرد اور ایک عورت پر مشتمل ایک چھوٹی جماعت باقی رہ گئی۔ پھر تیسرے جمعہ کھڑے ہوئے کہ خطبہ ارشاد فرمائیں تو لوگوں نے کھسکنا شروع کیا کہ سب اٹھ کر چلے گئے۔  صرف ایک جماعت باقی رہ گئی۔ راوی نے پوچھا کتنی تعداد؟ انہوں نے شمار کیا تو معلوم ہوا کہ صرف ۱۲ مرد اور ایک عورت۔  نبی ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر آخری آدمی بھی تمہارا پہلے کی پیروی کرتا اور چلاجاتا تو یہ وادی آگ بن کر تم پر بھڑک اٹھتی۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وَاِذارَأَوْا۔۔۔نازل فرمائی۔
تشریح:حضرت جابرؓ بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ ؓ بن عباس، حضرت ابوہریرہؓ ، حضرات ابومالکؓ اور حضرت حسن بصریؒ، ابن زیدؒ، قتادہؒ اور مقاتل بن حیان سے منقول ہوا ہے کہ مدینہ طیّبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اس نے ڈھول تاشے بجانے شروع کئے، تاکہ بستی کے لوگوں کو اس کی آمد کی اطلاع ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں سن کر لوگ بے چین ہوگئے اور ۱۲ آدمیوں کے سوا باقی سب بقیع کی طرف    دوڑ گئے جہاں قافلہ اتراہوا تھا۔
اس قصے کی روایات میں سب سے زیادہ معتبر روایت حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی ہے جسے امام احمد ، بخاری، مسلم، ترمذی، ابوعوانہ، عبدبن حمید، ابویعلیٰ وغیرہم نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے۔ اس میں اضطراب صرف یہ ہے کہ کسی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ نماز کی حالت میں پیش آیا تھا، اور کسی میں یہ ہے کہ یہ اس وقت پیش آیا جب حضورؐخطبہ دے رہے تھے۔ لیکن حضرت جابرؓ اور دوسرے صحابہؓ و تابعین کی تمام روایات کو جمع کرنے سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ دوران خطبہ کا واقعہ ہے اور حضرت جابرؓ نے جہاں یہ کہا ہے کہ یہ نماز جمعہ کے دوران میں پیش آیا، وہاں دراصل انہوں نے خطبے اور نماز کے مجموعہ پر نماز جمعہ کا اطلاق کیا ہے۔ (حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت ۱۲ مردوں کے ساتھ سات عورتیں باقی رہ گئی تھیں۔ابن مردویہ) ۔ قتادہ کا بیان ہے کہ ۱۲ مردوں کے ساتھ ایک عورت تھی (ابن جریر، ابن ابی حاتم) دارقطنی کی ایک روایت میں ۴۰ افراد اور عبدبن حمید کی روایت میں ۷ نفربیان کئے گئے ہیں اور فراء نے ۸ نفر لکھے ہیں۔ لیکن یہ سب ضعیف روایات ہیں اور قتادہ کی یہ روایت بھی ضعیف ہے کہ اس طرح کا واقعہ تین مرتبہ پیش آیا تھا (ابن جریر) ۔ معتبر روایت حضرت جابر بن عبداللہ کی ہے، جس میں باقی رہ جانے والوں کی تعداد ۱۲ بتائی گئی ہے۔ اور قتادہ کی ایک روایت کے سوا باقی تمام صحابہؓ و تابعین ؒ کی روایات اس پر متفق ہیں کہ یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا۔ باقی رہ جانے والوں کے متعلق مختلف روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں حضرت ابوبکرؓ ،حضرت عمرؓ ،حضرت عثمانؓ ،حضرت علیؓ ،حضرت عبداللہ      بن مسعودؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت سالمؓ مولی حذیفہ اور حضرت جابرؓ بن عبداللہ شامل تھے۔ حافظ ابویعلیٰ نے حضرت جابر بن عبداللہ کی جو روایت نقل کی ہے، اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگ اس طرح نکل کر چلے گئے اور صرف ۱۲ اصحاب باقی رہ گئے تو ان کو خطاب کرکے حضورؐ نے فرمایا ’’اگر تم سب چلے جاتے اور ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی آگ سے بہہ نکلتی۔‘‘ اسی سے ملتا جلتا مضمون ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے اور ابن جریر نے قتادہ سے نقل کیا ہے۔
اس حدیث میں صحابہ کرام کی ایک غلطی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خطبہ جمعہ کو چھوڑ کر تجارت وغیرہ کی طرف چلے گئے۔
شیعہ حضرات نے اس واقعہ کو بھی صحابہؓ پر طعن کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صحابہ کی اتنی بڑی تعداد کا خطبے اور نماز کو چھوڑ کر تجارت اور کھیل تماشے کی طرف دوڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے تھے لیکن یہ ایک سخت بے جا اعتراض ہے جو صرف حقائق سے آنکھیں بند کرکے ہی کیا جاسکتاہے۔ دراصل یہ واقعہ ہجرت کے بعد قریبی زمانے ہی میں پیش آیاتھا۔ اس وقت ایک طرف تو صحابہ کی اجتماعی تربیت ابتدائی مراحل میں تھی اور دوسری طرف کفار مکہ نے اپنے اثر سے مدینہ طیبہ کے باشندوں کی سخت معاشی ناکہ بندی کررکھی تھی، جس کی وجہ سے مدینے میں اشیائے ضرورت کمیاب ہوگئی تھیں۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ اس وقت مدینے میں لوگ بھوکوں مررہے تھے اور قیمتیں بہت چڑھی ہوئی تھیں (ابن جریر)۔ اس حالت میں جب ایک تجارتی قافلہ آیا تو لوگ اس اندیشے سے کہ کہیں ہمارے نماز سے فارغ ہوتے ہوتے سامان فروخت نہ ہوجائے ، گھبراکر اس کی طرف دوڑ گئے۔ یہ ایک ایسی کمزوری اور غلطی تھی جو اس وقت اچانک تربیت کی کمی اور حالت کی سختی کے باعث رونما ہوگئی تھی۔ لیکن جو شخص بھی ان صحابہ کی وہ قربانیاں دیکھے گا جو اس کے بعد انہوں نے اسلام کے لیے کیں، اور یہ دیکھے گا کہ عبادات اور معاملات میں ان کی زندگیاں کیسے زبردست تقویٰ کی شہادت دیتی ہیں، وہ ہرگز یہ الزام رکھنے کی جرأت نہ کرسکے گا کہ ان کے اندر دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کا کوئی مرض پایا جاتا تھا، الاّ یہ کہ اس کے اپنے دل میں صحابہ سے بغض کا مرض پایا جاتا ہو۔
تاہم یہ واقعہ صحابہؓ کے معترضین کی تائید نہیں کرتا۔ اسی طرح ان لوگوں کے خیالات کی تائید بھی نہیں کرتا جو صحابہ کی عقیدت میں غلو کرکے اس طرح کے دعوے کرتے ہیں کہ ان سے کبھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی یا ہوئی بھی تو اس کا ذکر نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ ان کی غلطی کا ذکر کرنا اور اسے غلطی کہنا ان کی توہین ہے۔ اور اس سے ان کی عزت و وقعت دلوں میں باقی نہیں رہتی اور اس کا ذکر ان آیات و احادیث کے خلاف ہے جن میں صحابہ کے مغفور اور مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کی تصریح کی گئی ہے۔ یہ ساری باتیں سراسر مبالغہ ہیں، جن کے لیے قرآن و حدیث میں کوئی سند موجود نہیں ہے۔ (حالانکہ قرآن میں بھی اس غلطی کا ذکر ہے) اور حدیث و تفسیر کی تمام کتابوں میں صحابہؓ سے لے کر بعد کے اکابر اہل سنت تک نے اس غلطی کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے (اس کا) ذکر انہی صحابہ کی وقعت دلوں سے نکالنے کے لیے کیا ہے جن کی وقعت وہ خود دلوں میں قائم فرمانا چاہتا ہے؟ اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہؓ اور تابعینؒ اور محدثین و مفسرین نے اس قصے کی ساری تفصیلات اس کی شرعی مسئلے سے ناواقفیت کی بنا پر بیان کردی ہیں جو یہ غالی حضرات بیان کیاکرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کوئی آسمانی مخلوق نہ تھے، بلکہ اسی زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں میں سے تھے۔ وہ جو کچھ بھی بنے رسول اللہ ﷺ کی تربیت سے بنے۔ یہ تربیت بتدریج سالہا سال تک ان کو دی گئی۔ اس کا جو طریقہ ہمیں قرآن و حدیث  میں نظر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ جب کبھی ان کے اندر کسی کمزوری کا ظہور ہوا، اللہ اور اس کے رسولؐ نے بروقت اس کی طرف توجہ فرمائی اور فوراً اس خاص پہلو میں تعلیم و تربیت کا ایک پروگرام شروع ہوگیا جس میں وہ کمزوری پائی گئی تھی۔ اسی نماز جمعہ کے معاملہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب قافلہ تجارت والا واقعہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ جمعہ کا (ایک پورا) رکوع نازل فرما کر اس پر تنبیہہ کی اور جمعہ کے آداب بتائے۔ پھر اس کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ نے مسلسل اپنے خطبات مبارکہ میں فرضیت جمعہ کی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین فرمائی اور تفصیل کے ساتھ ان کو آداب جمعہ کی تعلیم دی۔ چنانچہ احادیث میں یہ ساری ہدایات ہم کو بڑی واضح صورت میں ملتی ہیں۔ (تفہیم القرآن،ج ۵، الجمعۃ ،حاشیہ: ۱۹)

خطبہ کے دوران صدقہ کے لیے اعلان

۵۸۔ایک شخص نماز جمعہ میں حاضر ہوا۔آں حضرت ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ آپؐ نے پکار کر اس سے پوچھا ’’اے شخص کیاتو نماز پڑھ چکا ہے؟ ‘‘اس نے عرض کیا ’’نہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’تو اٹھ اور نماز پڑھ‘‘۔ دراصل یہ شخص پھٹے حالوں تھا۔ آپؐ کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کی بدحالی کو دیکھ لیں۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو آپؐ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ، فَقَالَ: اَصَلَّیْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ۔(۶۳)
ترجمہ:حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ جمعہ کے دن جب نبی ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا ۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کیا تونے نماز پڑھ لی ہے۔ اس نے عرض کیا ’’نہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’تو دو رکعت نماز پڑھ۔‘‘
ـــــــمسند کی ایک دوسری روایت میں ہے: فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ خفیْفَتَیْنِ۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت ہے:
(۲)قَالَ جَابِرٌ: جَآئَ رَجُلٌ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَقَالَ: اَصَلَّیْتَ، یَافُلَانُ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ : قُمْ فَارْکَعْ۔(۶۴)
ترجمہ:حضرت جابرؓ کا بیان ہے نبی ﷺ جب جمعہ کے روز لوگوں کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے، ایک آدمی آیا۔ آپؐ نے اس سے پوچھا’’اے شخص !کیاتو نے نماز پڑھ لی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا ’’نہیں‘‘ ۔ آپؐ نے فرمایا ’’ تواٹھ اور نماز پڑھ‘‘۔
ترمذی میں ابوسعید خدریؓ کی روایت:
(۳) اِنَّ اَبَاسَعِیْدِنِ الْخُدْرِیَّ دَخَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَمَرْوَانُ یَخْطُبُ فَقَامَ یُصَلِّیْ فَجَائَ الْحَرَسُ لِیُجْلِسُوْہُ فَاَبٰی حَتّٰی صَلّٰی، فَلَمَّا انْصَرَفَ اَتَیْنَاہُ، فَقُلْنَا رَحمکَ اللّٰہُ اَنْ کَادُوْا لَیَقعُوْا بِکَ، فَقَالَ : مَا کُنْتُ لِاَتْرُ کَہُمَا بَعْدَشَییٍٔ رَاَیْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ ذَکَرَاَنَّ رَجُلًا جَائَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِیْ ہَیْاَۃٍ بَذَّہٍ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَاَمَرَہُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ، قَالَ ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ: کَانَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ اِذَا جَآئَ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ وَیَاْمُرُبِہِ، وَکَانَ اَبُوْعَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِیُ یَرَاہُ، قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی: وَسَمِعْتُ ابْنَ اَبِیْ عُمَرَ، یَقُوْلُ: قَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ، کَانَ مُحَمَّدُبْنُ عَجْلَانَ ثِقَۃً مَأْ مُوْنًا فِی الْحَدِیْثِ۔(۶۵)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوئے۔ مروان اس وقت خطبہ دے رہا تھا۔ حضرت ابوسعید خدری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ مروان کے باڈی گارڈ نے آگے بڑھ کر انھیں بٹھانا چاہا، مگر انھوں نے بیٹھنے سے انکار کردیا اور نماز پوری کرلی۔ جب نماز سے پھرے تو ہم ان کے پاس آئے اور کہا اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت فرمائے۔ قریب تھا کہ مروان کے محافظ آپ پر پل پڑتے۔ انھوںنے کہا ’’میں اس عمل کو کبھی ترک نہیں کرسکتا ،جسے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے میری آنکھوں نے دیکھا ہے۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اسی دوران میں ایک شخص پھٹے حالوں آیا۔ آپؐ نے اسے حکم دیا تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں اس دوران میں آپؐ خطبہ ارشاد فرماتے رہے۔ ابن ابو عمر کا بیان ہے کہ ابن عیینہ جب امام آکر خطبہ دینا شروع کرتے، دو رکعتیں ضرور پڑھتے تھے اور اس کا دوسروں کو بھی حکم دیتے تھے۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی: حَدِیْثُ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَالْعَمَلُ عَلیٰ ہٰذَا عِنْدَ بَعْضِ اَہْلِ الْعِلْمِ، وَبِہِ یَقُوْلُ الشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: اِذَا دَخَلَ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَاِنَّہُ یَجْلِسُ وَلَا یُصَلِّیْ، وَہُوَ قُوْلُ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَاَہْلِ الْکُوْفَۃِ وَالْقَوْلُ الْاَوَّلُ اَصَحُّ۔
نسائی میں یہ روایت ابو سعید خدری سے قدرے وضاحت اور مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے :
(۴) جَآئَ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ بِہَیْاَۃٍ بذَّۃٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَصَلَّیْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: صَلِّ رَکْعَتَیْنِ وَحَثَّ النَّاسَ عَلَی الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَأَلْقُوْا ثِیَابًا فَأَعْطَاہُ مِنْہَا ثَوْبَیْنِ فَلَمَّا کَانَتِ الْجُمُعَۃُ الثَّانِیَۃُ جَآئَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَی الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَالْقٰی اِحْدَیٰ ثَوْبَیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: جَآئَ ہٰذَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بہیْاَۃٍ بَذَّۃٍ فَاَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَۃِ فَالْقَوْاثِیَابًا فَاَمَرْتُ لَہُ مِنْہَا بِثَوْبَیْنِ ثُمَّ جَآئَ الْاٰنَ فَاَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَۃِ فَاَلْقٰی اِحْدٰہُمَا فَانْتَھَرَہٗ، وَقَالَ: خُذْثَوْبَکَ۔(۶۶)
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ایک شخص پھٹے حالوں آیا۔ آپؐ نے اس سے پوچھا ’’کیا تونے نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا ’’نہیں‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’تو دو رکعتیں پڑھ لو۔‘‘ اس دوران میں حضور ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی۔ راوی کا بیان ہے کہ اس پر لوگوں نے بہت سارے کپڑے آپ کے سامنے ڈال دیئے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے (صدقات کے) اُن کپڑوں میں سے دو کپڑے اسے دے دیئے ۔ آئندہ جمعہ وہ پھر ایسے وقت آیا جب آپؐ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے آپ نے لوگوں کو صدقے کی ترغیب دلائی۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص نے بھی اپنے (اُن) دوکپڑوں میں سے ایک کپڑا (جوکہ رسول اللہ نے اس کو عطا کیا تھا) آپ کی خدمت میں پیش کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یہ شخص پھٹے حالوں گزشتہ جمعہ بھی آیا تھا۔ میں نے لوگوں کو ترغیب دلائی تو انہوں نے کپڑے دیے جن میں سے دو میں نے اسے دینے کا حکم دیا۔ آج پھر آیا ہے میں نے لوگوں کو حکم دیا کہ صدقہ و خیرات کریں، چنانچہ اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا میرے سامنے ڈال دیا۔ پھر آپ نے اس کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا ’’اپنا کپڑا لے لو۔‘‘
تشریح:اس حدیث کے اطراف قریب قریب تمام صحاح اور سنن اور مسانید میں آئے ہیں۔ امام احمد نے جو حدیث نقل کی ہے۔ اس میں خود حضور کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ ’’ یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ بہت شکستہ حال ہے۔ اس لیے میں نے اسے حکم دیا کہ دو رکعت نماز پڑھ لے۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی شخص اس کی حالت دیکھ لے اور اس کو کچھ صدقہ دے دے۔
(تفہیمات دوم، نماز اور ۔۔۔: چند خطب ماثورہ)

خطبہ جمعہ کے دوران بارش کے لیے دعا

۵۹۔حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک روز حضوؐر خطبہ دے رہے تھے اور قحط سالی کا زمانہ تھا۔ ایک شخص نے فریاد کی کہ یا رسول اللہؐ جانور مرگئے اور بال بچے فاقے کررہے ہیں، اللہ سے دعا فرمائیے کہ بارش ہوجائے۔ آپؐ نے اسی وقت دعا فرمائی۔ خدا کے فضل سے بارش شروع ہوگئی اور دوسرے جمعہ تک لگاتار جاری رہی۔ پھر دوسرے جمعہ کو آپؐ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو وہی شخص پھر اٹھا اور بولا کہ ’’یا رسول اللہ ، مکان گرگئے اور مال و اسباب تباہ ہورہے ہیں۔ خدا سے دعا فرمائیے آپؐ نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔ (تفہیمات دوم،نماز اور۔۔۔: چند خطب ماثورہ)
امام بخاری نے ایک او ر روایت حضرت انس بن مالک ؓسے بخاری میں نقل کی ہے:
تخریج:(۱) اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ یَذْکُرُ اَنَّ رَجُلًا دَخَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِنْ بَابٍ کَانَ وِجَاہَ الْمِنْبَرِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَآئِمٌ یَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَآئِمًا، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلَکَتِ الْاَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللّٰہَ یُغِیْثُنَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدَیْہِ، فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا، اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا، اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا، قَالَ اَنَسٌ: وَلاَ وَاللّٰہِ مَانَرٰی فِی السَّمآئِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَۃٍ وَلَا شَیْئًا وَمَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ سَلْعٍ مِنْ بَیْتٍ وَلَادَارٍ، قَالَ: فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَآئِ ہِ سَحَابَۃٌ مِثْلَ التُّرْسِ فَلَمَّاتَوَسَّطَتِ السَّمَآئَ اِنْتَشَرَتْ ثُمَّ اَمْطَرَتْ، قَالَ: وَاللّٰہِ مَارَاَیْنَا الشَّمْسَ سِتًّا ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذٰلِکَ الْبَابِ فِی الْجُمُعَۃِ الْمُقْبِلَۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَائِمٌ یَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَہُ قَائِمًا، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلَکَتِ الْاَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ یُّمْسِکَہَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدَیْہ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔ اَللّٰہُمَّ عَلَی الْاِکَامِ وَالْجِبَالِ وَالظِّرَابِ وَالْاَوْدِیَۃِ وَمَنَا بِتِ الشَّجَرِ، قَالَ: فَانْقَطَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِیْ فِی الشَّمْسِ، قَالَ شَرِیْکٌ : فَسَالْتُ اَنَسًا اَہُوَالرَّجُلُ الْاَوَّلُ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ۔(۶۷)
ترجمہ:حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے روز مسجد کے ایک دروازے سے ایک شخص داخل ہوا یہ دروازہ منبر کے بالکل سامنے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے۔ اتنے میں آپؐ کے سامنے کھڑا ہوکر عرض کرنے لگا، یا رسول اللہ ! جانور مرگئے اور راستے منقطع ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا فرمائیں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔ خدایا! باران رحمت فرما۔ خدایا !باران رحمت فرما، خدایا! باران رحمت فرما۔ حضرت انس کا بیان ہے خدا کی قسم، آسمان پر ہمیں نہ کوئی بادل دکھائی دیتا تھا اور نہ کوئی چھوٹی موٹی بدلی، بلکہ کوئی چیز بھی نظر نہ آتی تھی۔ ہمارے سامنے کسی پختہ مکان، یا کچے گھر کی رکاوٹ بھی نہیں تھی۔ راوی کہتا ہے اتنے میں ڈھال کی مانند بادل اٹھااور آسمان کے درمیان آکر پھیل کر خوب برسا۔ خدا کی قسم ہم نے سات دن تک سورج کو نہ دیکھا۔ آئندہ جمعہ پھر ایک آدمی اسی دروازے سے داخل ہوا۔ اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے۔ آپؐ کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر عرض کرنے لگا۔ یا رسول اللہ! مال مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔ راستے منقطع ہوگئے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ بارش بند فرمادے۔ اسی وقت رسول اللہ ﷺ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔ پروردگار! ہم پر اب بارش نہ برسا۔ ہمارے جنگلات ،پہاڑوں ، ٹیلوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں میں برسا۔ راوی کہتا ہے بارش رک گئی اور ہم سورج کی روشنی میں چل کر گئے۔ شریک کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس سے دریافت کیا، کیا وہ پہلا ہی شخص تھا؟ انس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔
بخاری اور نسائی کی حضرت انس بن مالک سے مروی روایت کا متن مندرجہ ذیل ہے:
(۲) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: ہَلَکَتِ الْمَوَاشِیُّ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَدَعَا، فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَۃِ اِلَی الْجُمُعَۃِ، ثُمَّ جَآئَ، فَقَالَ: تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَہَلَکَتِ الْمَوَاشِیُّ فَادْعُ اللّٰہ یُمْسِکْھَا فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ عَلَی الْاِکَامِ وَالظِّرَابِ وَالْاَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِیْنَۃِ اِنْجِیَابَ الثَّوْبِ۔(۶۸)
ترجمہ:حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا:مال مویشی ہلاک و برباد ہوگئے ہیں۔ راستے منقطع ہو چکے ہیں۔ آپؐ نے بارش کی دعا فرمائی تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک بارش ہی بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ گھر بار تباہ ہوگئے ہیں، راستے ٹوٹ چکے ہیں، مویشی ہلاک ہوچکے ہیںلہٰذا اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ بارش بند فرمادے۔ آپؐ نے کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔ خدایا !اب ٹیلوں ، ندی نالوں، وادیوں اور جنگلات پر بارش برسا۔ چنانچہ مدینہ سے بادل اس طرح پھٹ گیا جس طرح کپڑا پھٹ جاتا ہے۔
(۳) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ: اَصَابَتِ النَّاسَ سَنَۃٌ عَلیٰ عَہْدِ النَّبِیِّ ﷺ، فَبَیْنَمَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ فِیْ یَوْمِ جُمُعَۃٍ، قَامَ اَعْرَابِیٌّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلَکَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِیَالُ فَادْعُ اللّٰہَ لَنَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَمَا نَرٰی فِی السَّمَآئِ قَزَعَۃً، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا وَضَعَہَا حَتّٰی ثَارَ السَّحَابُ اَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ یَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِہِ حَتّٰی رَاَیْتُ الْمَطَرَ یَتَحَادَرُ عَلیٰ لَحیتہِ، فَمُطِرْنَا یَوْمَنَا ذٰلِکَ وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِیْ یَلِیْہِ حَتَّی الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی، وَقَامَ ذٰلِکَ الْاَعْرَابِیُّ اَوْقَالَ غَیْرُہُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَہَدَّمَ الْبِنَائُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللّٰہَ لَنَا، فَرَفَعَ یَدَیْہِ، فَقَالَ : اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا، وَلَا عَلَیْنَا فَمَا یُشِیْرُ بِیَدِہِ اِلیٰ نَا حِیَۃٍ مِنَ السَّحَابِ اِلَّا اِنْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدِیْنَۃُ مِثْلَ الْجَوْبَۃِ وَسَالَ الْوَادِی قَنَاۃَ شَہْرًا وَلَمْ یَجِئی اَحَدٌ مِنْ نَّاحِیَۃٍ اِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ۔(۶۹)
ترجمہ:حضرت انس بن مالک کا بیان ہے کہ عہد رسالت مآب میں لوگ قحط سالی کا شکار ہوگئے ۔ ایک دن جمعہ کے خطبہ کے دوران میں ایک بدو اٹھ کر کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! مال مویشی ہلاک ہوگئے ہیں، بال بچے فاقے کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ آپ نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر باران رحمت کی دعا فرمائی۔ آسمان پر ہمیں ایک بدلی بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، آپ نے اپنے ہاتھ نیچے نہیں رکھے کہ آسمان پر پہاڑوں کی مانند بادل امنڈ آئے۔ ابھی آپ منبر سے نیچے اترنے بھی نہ پائے تھے کہ میں نے خود دیکھا کہ بارش کے قطرے آپ کی ریش مبارک پر گررہے تھے۔ پھر مسلسل سات روز یعنی آئندہ جمعہ تک خوب بارش ہوئی۔ پھر وہی بدوی شخص، یا دوسرا اٹھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! گھر بار ڈھے گئے ہیں، مال غرق ہوگئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ نے اسی وقت دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے اور عرض کیا، خدایا !ہمارے گردو نواح پر بارش برسا، ہم پر نہ برسا۔ آپ اپنے دست مبارک سے جس طرف اشارہ فرماتے اس جانب سے بادل چھٹ جاتے اور مدینہ کی فضا بالکل صاف ہو کر حوض کی مانند ہوگئی۔ اور وادی قناۃ پورا مہینہ بہتی رہی۔ جس طرف سے بھی کوئی آتا تھا یہی اطلاع دیتا تھا کہ خوب بارش ہوئی ہے۔
ابودائود نے حضرت انس بن مالک سے جو روایت نقل کی ہے، اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
(۴) عَنْ اَنَسٍ قَالَ: اَصَابَ اَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ قَحْطٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَخْطُبُنَا یَوْمَ جُمُعَۃٍ اِذْقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ہَلَکَ الْکُرَاعُ، ہَلَکَ الشَّائُ فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَسْقِیَنَا، فَمَدَّ یَدَیْہِ وَدَعَا،قَالَ اَنَسٌ: وَاِنَّ السَّمَآئَ لَمَثَلُ الزُّجَّاجَۃِ فَہَا جَتْ رِیْحٌ،ثُمَّ انْشَاَتْ سَحَابَۃٌ، ثُمَّ اجْتَمَعَتْ، ثُمَّ اَرْسَلَتِ السَّمَآئُ عَزَاِلِیَہَا، فَخَرَجْنَا نَخُوْضُ الْمَائَ حَتّٰی اَتَیْنَا مَنَازِلَنَا، فَلَمْ یَزَلِ الْمَطَرُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی، فَقَامَ اِلَیْہِ ذٰلِکَ الرَّجُلُ، اَوْ غَیْرُہُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَحْبِسَہُ فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، ثُمَّ قَالَ: حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا، فَنَظَرْتُ اِلَی السَّحَابِ یَتَصَدَّعُ حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ کَاَنَّہُ اِکْلِیْلٌ۔(۷۰)
ترجمہ:حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اہل مدینہ قحط سالی کا شکار ہوگئے۔ ایک روز آپ خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا۔ یا رسول اللہ! مال مویشی ، بھیڑ بکریاں ہلاک ہوگئیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعا فرمائیں کہ وہ باران رحمت سے نوازے۔ اسی وقت آپ نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھاکر دعا فرمائی۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ آسمان شیشے کی طرح شفاف تھا۔ ٹھنڈی ہوا چلی، پھر بادل اٹھے اور مجتمع ہوئے۔ پھر آسمان نے اپنے مشکیزوں کے منہ کھول دیے، یعنی لگاتار بارش شروع ہوگئی۔ ہم مسجد سے نکلے اور پانی کو عبور کرتے ہوئے اپنے گھروں میں پہنچے۔ برسات کی ایسی جھڑی لگی کہ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک مسلسل برستی رہی۔ آئندہ جمعہ وہی شخص، یا دوسرا کوئی اٹھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! گھر بار ڈھے گئے ہیں، اللہ عزوجل سے دعا فرمائیں کہ وہ اسے بند فرمادے۔ رسول اللہ ﷺ زیر لب ذرا مسکرائے۔ پھر فرمایا: ہمارے ارد گرد، ہمارے اوپر نہیں۔راوی کا بیان ہے کہ میں نے بادلوں کی طرف دیکھا تو مدینہ کے ارد گرد اس طرح چھٹ رہے تھے کہ گویا مدینہ مزین تاج کی طرح چمک رہا تھا۔
(۵) عَنْ شُرَحْبِیْلَ بْنِ السِّمْطِ ، اَنَّہُ قَالَ لِکَعْبٍ: یَا کَعْبَ بْنَ مُرَّۃَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاحْذَرْ،قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اسْتَسْقِ اللّٰہَ، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدَیْہِ، فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مَرِیْئًا مُرِیْعًا طَبَقًا عَا جِلًا غَیْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَیْرَ ضَآرٍّ، قَالَ: فَمَا جَمَّعُوْا حَتّٰی اُحْیُوْا، قَالَ: فَاَلَوْہُ فَشَکَوْا اِلَیْہِ الْمَطَرَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ، فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ یَنْقَطِعُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا۔(۷۱)
ترجمہ: شرحبیل کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مرہ سے کہا کہ آپؐ احتیاط سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بیان کریں۔ انہوں نے بتایا: نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک شخص نے آکر عرض کیا ،یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے باران رحمت کی دعا فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور عرض کیا خدایا! ہمیں بارشوں سے سیراب کر جس کا انجام اچھا اور مفید ہو، جو بکثرت ہو، موسلا دھار ہو، جلدی آنے والی ہو، دیر سے آنے والی نہ ہو، نافع ہو،غیر مفید او ر نقصان دہ نہ ہو۔راوی کا بیان ہے کہ لوگ نماز جمعہ سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ بارش نے انہیں سیراب کرکے زندگی بخش دی۔ راوی کا بیان ہے کہ لوگ پھر بارش کی کثرت کی شکایت لے کر آپؐ کی خدمت میں آئے اورعرض کیا۔ یا رسول اللہ !گھر بار تباہ ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر آپؐ نے دعافرمائی، خدایا !اب ہم پر نہ برسا، بلکہ ہمارے ارد گرد برسا ۔ راوی کہتا ہے کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے۔

گم شدہ چیز کا مسجد میں اعلان

سوال: حدیث میں آیا ہے کہ مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان نہ کیا جائے، لیکن ہمارے ہاں تو مساجد میں گم شدہ بچوں کا اعلان اکثر و بیشتر کیا جاتا ہے۔ کیا یہ اس حدیث کی خلاف ورزی نہیں ہے؟
جواب: کیا آپ ’’گم شدہ چیز‘‘ اور ’’گم شدہ بچے‘‘ میں فرق محسوس نہیں کرسکتے؟ ــــاور پھر حدیث میں اعلان کی ممانعت نہیں ہے، بلکہ اس بات کی ممانعت ہے کہ کوئی چیز کسی کے گھر میں گم ہوجائے اور تلاش اس کی مسجد میں شروع کردی جائے ــــــ یہ بات یو ںبھی بدتمیزی ہے اور نمازیوں کے لیے بھی تکلیف دہ ہے۔
سوال: ’’اگر کوئی چیز مسجد ہی میں گم ہوئی ہو تو کیا اس کی تلاش بھی ناجائز ہوگی؟
جواب: ’’نہیں وہ تو ناگزیر صورت ہے۔‘‘ (۵۔اے ذیلدار پارک دوم، ص: ۱۹۳)

ماخز

(۱) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب الطیب للجمعۃ ٭مسلم،ج۱،کتاب الجمعۃ، فصل فی استحباب الغسل والسواک الخ۔ ٭ السنن الکبریٰ: ج۳، کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ الخ۔
(۲) مسند احمد، ج۳، ابوسعید الخدری مسند کی ایک روایت’’ولومن طیب اہلہ‘‘ بھی ہے۔
(۳) نسائی،ج۱، کتاب الجمعۃ: باب الہیأۃ للجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ بغسل واخذ شعر الخ۔
(۴) موطا امام مالک باب العمل فی غسل یوم الجمعۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الغسل یوم الجمعۃ۔٭دارمی، باب ۱۹۰، باب الغسل یوم الجمعۃ۔
(۵) موطا امام مالک، باب ماجاء فی السواک۔٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف الخ۔
(۶) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الزینۃ یوم الجمعۃ۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ بغسل الخ۔
(۷) ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب فی السواک والطیب یوم الجمعۃ۔٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب فی غسل الجمعۃ۔
(۸) کنزالعمال، ج ۷، ص ۷۵۱، عن ابی سعید و ابی ہریرہ۔
(۹) مسلم: کتاب الجمعۃ، بَابُ الطِّیْبِ وَالسِّوَاکِ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ ٭ابوداؤد،ج۱، کتاب الطہارۃ، باب فی الغسل یوم الجمعۃ۔٭ نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب الہیأۃ للجمعۃ۔ نسائی نے ’’ماقدر‘‘ کی جگہ ’’مایقدر‘‘ نقل کیا ہے۔ ٭السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ بغسل الخ۔
(۱۰) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ۔
(۱۱) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب لایفرق بین اثنین یوم الجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ بغسل الخ۔
(۱۲) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الدہن للجمعۃ۔٭دارمی:باب۱۹۱، باب فی فضل الجمعۃ والغسل والطیب فیہ۔٭مسند احمد،ج۵، ص ۴۳۸، عن سلمان الفارسی۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب لایفرق بین اثنین اذا لم یکن بینہما فرجۃ الاباذنہما، عن سلمان الفارسی اور’’باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ بغسل واخذ شعر الخ‘‘ کے تحت بھی منقول ہے۔
(۱۳) نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب فضل الانصات وترک اللغویوم الجمعۃ۔٭المستدرک للحاکم،ج۱، کتاب الجمعۃ۔
(۱۴) مسند احمد، ج ۱، ص۲۳۰، ابن عباس۔
(۱۵) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الانصات یوم الجمعۃ والامام یخطب الخ۔٭مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب فی عدم من تکلم والامام یخطب الخ۔٭ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الکلام والامام یخطب۔ ٭ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی کراہیۃ الکلام والامام یخطب۔٭ نسائی،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب الانصات للخطبۃ یوم الجمعۃ۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الاستماع للخطبۃ والانصات لہا۔ ٭ موطا امام مالک: باب ماجاء فی الانصات یوم الجمعۃ والامام یخطب۔٭ دارمی،باب۱۹۵، باب الاستماع یوم الجمعۃ عند الخطبۃ والانصات۔٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب الانصات للخطبۃ۔
(۱۶) ابوداؤد،ج۱،کتاب الطہارۃ، باب فی الغسل یوم الجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب لایتخطی رقاب الناس، عن عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص وابی ہریرہ۔
(۱۷) ابوداؤد،ج۱،کتاب الطہارۃ، باب فی الغسل یوم الجمعۃ۔٭ المستدرک،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب من غسل یوم الجمعۃ الخ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب السنۃ فی التنظیف یوم الجمعۃ بغسل الخ۔
(۱۸) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الزینۃِ یوم الجمعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، ٭کتاب الجمعۃ، باب لا یفرق بین اثنین اذا لم یکن بینہما فرجۃ الاباذنہما، عن سلمان الفارسی۔ الفاظ حدیث میں قدرے اختلاف۔
(۱۹) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الکلام والامام یخطب۔
(۲۰) مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ۔٭ نسائی،ج۳، کتاب صلوٰۃ العیدین، باب القصد فی الخطبۃ اور کتاب الجمعۃ، باب القراء ۃ فی الخطبۃ والذکر فیہا۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی قصرالخطبۃ۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الخطبۃ یوم الجمعۃ۔ ٭سنن دارمی،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فی قصر الخطب۔ عن جابر بن سمرۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب مایستحب من القصد فی الکلام وترک التطویل۔ عن جابر بن سمرۃ۔ ٭ مسند احمد، ج ۵، ص ۹۱، ۹۳، ۹۵، ۹۸، ۱۰۰، ۱۰۲، ۱۰۶، ۱۰۷۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲،کتاب الصلوات : باب الخطبہ تطول او تقصر۔
(۲۱) نسائی، ج۳،کتاب الجمعۃ، باب مایستحب من تقصیر الخطبۃ۔
(۲۲) مسلم،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلوۃ والخطبۃ۔٭مسند احمد،ج۴، ص۲۶۳، عن عمار بن یاسر۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب مایستحب من القصد فی الکلام وترک التطویل۔٭سنن دارمی، ج۱،کتاب الصلوٰۃ: باب فی قصر الخطب۔
(۲۳) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب اقصار الخطب۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب مایستحب من القصد فی الکلام و ترک التطویل۔ عن جابر بن سمرۃ السوائی۔
(۲۴) سیرت ابن ہشام، ج ۱، ص ۴۹۴، بناء مسجد قبا، وخروجہ ﷺ من قباء وسفرہ الی المدینۃ۔
(۲۵) روح المعانی، ج ۱۲، پ ۲۸، ص ۸۸، سورۃ الجمعۃ۔
(۲۶) بخاری، ج۱،کتاب الجمعۃ، باب ہل علی من لایشہد الجمعۃ غسل من النساء والصبیان وغیر ہم الخ۔ وقال ابن عمر’’انما الغسل علی من یجب علیہ الجمعۃ الخ۔‘‘٭ مسلم:ج۱، کتاب الجمعۃ، باب فی فضیلۃ یوم الجمعۃ علی باقی الأیام الخ۔٭نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب ایجاب الجمعۃ۔ ٭ دارقطنی،ج۲، کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ ٭ مسند احمد، ج ۲، ص ۲۳۶، ابوہریرہ۔
(۲۷) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القرٰی۔٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب العدد الذین اذا کانو ا فی قریۃ وجبت علیہم الجمعۃ۔
(۲۸) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری والمدن۔٭ المستدرک ، ج۱،کتاب الجمعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۳، کتاب الجمعۃ، باب العدد الذین اذا کانوا فی قریۃ وجبت علیہم الجمعۃ۔ عن ابن عباس۔
(۲۹) روح المعانی، ج ۱۲، پ ۲۸، سورۃ الجمعۃ ، بحوالہ تحفۃ المحتاج لا بن حجر۔
(۳۰) روح المعانی ج ۱۲، پ ۲۸، سورۃ الجمعۃ بحوالہ طبرانی۔
(۳۱) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری۔٭ دارقطنی،ج۲، کتاب الجمعۃ، باب ذکر العدد فی الجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب العدد الذین اذا کانوا فی قریۃ وجبت علیہ الجمعۃ۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب فی فرض الجمعۃ۔٭ المستدرک، ج۱، کتاب الجمعۃ۔
(۳۲) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، اذا زالت الشمس وکذالک یذکر عن عُمَرَ وَعَلِّیٍ وَالنُّعْمَانِ ابْنِ بَشیْرٍ وَعَمْرِ وبْنِ حُرَیْثٍ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب وقت الجمعۃ۔
(۳۳) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب فی وقت الجمعۃ۔
(۳۴) مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ: باب صلوٰۃ الجمعۃ حین تزول الشمس۔٭ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی وقت الجمعۃ۔
(۳۵) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب صلوٰۃ الجمعۃ رکعتان۔٭نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب عدد صلوٰۃ الجمعۃ۔
(۳۶) مسند ابی عوانہ، ج ۲، ص ۳۳۵۔
(۳۷) احکام القرآن، ج ۵، ص ۲۳۸۔ ومن سورۃ الجمعۃ۔
(۳۸) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الاذان یوم الجمعۃ۔٭ نسائی، ج۳، ص ۱۰۰، ۱۰۱۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی اذان الجمعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب وقت الاذان للجمعۃ۔
(۳۹) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الجلوس علی المنبر عند التاذین۔
(۴۰) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب التاذین عند الخطبۃ۔٭ ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب النداء یوم الجمعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب الامام یجلس علی المنبر حتیٰ یفرغ الموذن عن الاذان ثم یقوم یخطب۔٭نسائی ، کتاب الجمعۃ ، باب الاذان للجمعۃ۔
(۴۱) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الندا ء یوم الجمعۃ۔
(۴۲) نسائی،ج۳،کتاب الجمعۃ، باب الاذان للجمعۃ۔٭ ابن ماجہ:کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الاذان یوم الجمعۃ۔
(۴۳) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب الاستماع الی الخطبۃ۔کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ۔٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی التہجیر الی الجمعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۳،کتاب الجمعۃ، باب فضل التبکیر الی الجمعۃ۔
(۴۴) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب فضل الجمعۃ۔٭مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب تکتب الملائکۃ علی ابواب المساجد الخ۔٭ابوداؤد، ج۱،کتاب الطہارۃ، باب فی الغسل یوم الجمعۃ۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی التبکیر الی الجمعۃ۔٭ نسائی،ج۳،کتاب الجمعۃ، العمل فی غسل یوم الجمعۃ۔ ٭السنن الکبریٰ:ج۳، کتاب الجمعۃ، باب فضل التبکیر الی الجمعۃ۔
(۴۵) نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب التبکیر الی الجمعۃ۔٭ دارمی: کتاب الصلوٰۃ، باب۱۹۳، باب فضل التہجیر الی الجمعۃ۔
(۴۶) نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب التبکیر الی الجمعۃ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب فضل التبکیر الی الجمعۃ۔
(۴۷) نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب التبکیر الی الجمعۃ۔
(۴۸) مسند احمد، ج ۳، ص ۴۳۸۔
(۴۹) احکام القرآن لابی بکر الجصاص، ج ۳، ص ۴۴۵، طبع دارالکتب العربیۃ۔
(۵۰) المصنف لعبد الرزاق،ج۳، کتاب الجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب العدد الذین اذا کانوا فی قریۃ وجبت علیہم الجمعۃ۔ عن علی۔
(۵۱) کنزالعمال ، ج ۸، ص ۳۷۰، حدیث نمبر ۲۳۳۱۰۔
(۵۲) ابوداؤد،ج۱،کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الجمعۃ للملوک، والمرأۃ ٭المستدرک،ج۱،کتاب الجمعۃ، من یجب علیہ الجمعۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۳، کتاب الجمعۃ، باب من یجب علیہ الجمعۃ۔
(۵۳) السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔
(۵۴) تفسیر ابن کثیر، ج ۴، ص ۳۶۷، سورۃ الجمعۃ بحوالہ مسند ابی یعلیٰ۔
(۵۵) فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، ص ۲۲۹، سورہ جمعۃ بحوالہ عبدبن حمید۔
(۵۶) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب اذا نفر الناس عن الامام فی صلوٰۃ الجمعۃ فصلوٰۃ الامام ومن بقی جائزۃ۔
(۵۷) بخاری،ج۲، کتاب التفسیر: باب قولہ و اذار اواتجارۃ سورۃ الجمعۃ۔
(۵۸) مسلم، ج ۱، ص ۲۸۴، کتاب الجمعۃ: باب فی قولہ تعالٰی: واذا رأو تجارۃ أو لھوا انفضوا الیھا الخ۔٭ مسند احمد، ج ۳، ص ۳۱۳ عن جابر۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب الخطبۃ قآئمًا۔
(۵۹) ترمذی: ابواب التفسیر، سورۃ الجمعۃ۔ ٭ دارقطنی، ج۱، اول کتاب الجمعۃ، باب ذکر العدد فی الجمعۃ۔ ٭تفسیر فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، ص ۲۲۸، سورہ جمعۃ۔
(۶۰) تفسیر فتح القدیر للشوکانی، ج ۵، ص ۲۲۹، سورہ جمعۃ۔
(۶۱) دارقطنی،ج۲، اول کتاب الجمعۃ: باب ذکر العدد فی الجمعۃ۔
(۶۲) تفسیر ابن جریر، ج ۲۸، ص، ۶۷،۶۸سورۃ الجمعۃ۔
(۶۳) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب من جاء والإمام یخطب صلی رکعتین خفیفتین۔
(۶۴) بخاری،ج۱،کتاب الجمعۃ، باب اذا رای الامام رجلا جاء وہو یخطب امرہ ان یصلی رکعتین۔ ٭ مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ، فصل من دخل المسجد والامام یخطب او خرج للخطبۃ فلیصل رکعتین الخ۔٭ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب اذا دخل الرجل والامام یخطب۔٭ ترمذی: ابواب الجمعۃ، باب فی الرکعتین اذا جاء الرجل والامام یخطب۔٭ نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب الصلوٰۃ یوم الجمعۃ لمن جاء والامام یخطب۔ ٭ ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فیمن دخل المسجد والامام یخطب۔ مسلم،ج۱، اور ابن ماجہ وغیرہ نے سلیک غطفانی کانام بھی بیان کیا ہے۔ ٭ دارمی،ج۱، باب الکلام فی الخطبۃ۔ ٭ مسند احمد، ج۳، ص۳۰۸، جابر بن عبداللّٰہ ۔ ٭ السنن الکبریٰ ،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب من دخل المسجد الخ۔
(۶۵) ترمذی : ابواب الجمعۃ، باب فی الرکعتین اذا جاء الرجل والامام یخطب۔
(۶۶) نسائی، ج۳،کتاب الجمعۃ، باب حث الامام علی الصدقۃ یوم الجمعۃ فی خطبتہ ٭ دارقطنی ، مسند احمد وغیرہ نے سلیک غطفانی کا نام بھی بیان کیا۔ ٭ دارقطنی: کتاب الجمعۃ، باب فی الرکعتین والامام یخطب۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فیمن دخل المسجد والامام یخطب۔ ٭السنن الکبریٰ،ج۳،کتاب الجمعۃ ٭ دارمی،ج۱، باب فیمن دخل المسجد یوم الجمعۃ۔
(۶۷) بخاری،ج۱، ابواب الاستسقاء ، باب الاستسقاء فی المسجد الجامع۔٭ نسائی،ج۳، کتاب الاستسقاء، باب ذکر الدعاء۔ امام بخاری نے اس روایت کو ابواب الاستسقاء میں مختلف طرف اور عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ اور باب الاستسقاء فی خطبۃ الجمعۃ غیر مستقبل القبلۃ کے تحت منقول روایت میں اَللّٰہُمَّ اَغِثْنَا اَللّٰہُمَّ اَغِثْنَا اَللّٰہُمَّ اَغِثْنَاہے۔
(۶۸) بخاری،ج۱، ابواب الاستسقاء، باب من اکتفیٰ بصلوۃ الجمعۃ فی الاستسقاء۔٭مسلم،ج۱، فصل فی الکفایۃ بالدعاء من الصلوٰۃ فی خطبۃ الجمعۃ واجابۃ السائل والدعاء لقحوط المطر اذا کثر۔٭نسائی،ج۳، کتاب الاستسقاء، متی یستسقی الامام۔٭ نسائی، میں اَللّٰہُمَّ عَلیٰ رُء وسِ الْجِبَالِ وَالْآکَامِ وَبُطُوْنِ الْاَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ۔۔۔ الخ ہے۔
(۶۹) بخاری ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الاستسقاء فی الخطبۃ یوم الجمعۃ۔ ٭مسلم،ج۱، کتاب الاستسقاء۔
(۷۰) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوۃ ، باب رفع الیدین فی الاستسقاء ۔ ٭ نسائی،ج۳، کتاب الاستسقاء، باب کیف یرفع۔
(۷۱) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوۃ، باب ماجاء فی الدعاء فی الاستسقاء۔ ٭ مسند احمد، ج ۴، ص ۲۳۵،۲۳۶، روایات کعب بن مرۃ السلمی۔

فصل :۷ دیہات میں نماز جمعہ اور اس کی اہمیت

پنجاب کے ایک دین دار بزرگ اپنے ایک عنایت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں:
سوال:’’علماء احناف جمعہ کے لیے شہر کی شرط ابھی تک لگائے جاتے ہیں، حالانکہ شہروں کی حالت اب ایسی ہوگئی ہے کہ وہاں دیہاتی مسلمانوں کو (جو تمدن جدید کے مکروہات سے ابھی کچھ محفوظ ہیں) جانے سے جس قدر روکا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ میں ایک موضع کا مالک ہوں جس میں مسجد تعمیر کی ہے، اور ایک مکتب دینیا ت جاری کیا ہے۔ ارد گرد کے دیہات میں تھوڑی تھوڑی اسلامی آبادی ہے۔ وہ جمعہ کے جمعہ یہاں نماز کو آجاتے ہیں۔ اور قرآن شریف کا درس ، جمعہ کا خطبہ اور کچھ وعظ سن جاتے ہیں۔ مدرس مکتب نماز یا دکراتا ہے اور جن کو صحیح یاد نہیں، ان کی نماز صحیح کراتا ہے۔ رمضان شریف میں مجمع بہت زیادہ ہوجاتا ہے، مگر علماء اس جگہ کے جمعہ کو جائز نہیں بتاتے۔ میں جمعہ کی نماز بند کردوں تو یہ لوگ ہرگز شہر کو نہ جائیں گے۔ اگر ان کو کہا جائے کہ یہاں جمعہ نہیں ہوسکتا، جمعہ کے روز یہاں آکر ظہر کی نماز پڑھ جایا کرو تو اسے کوئی نہیں مانتا۔ جمعہ کی عظمت اور ثواب ہی کا اثر ہے جس کے باعث یہ لوگ آٹھویں روز نماز پڑھنے آجاتے ہیں۔ مجھے فکر ہے کہ اگر یہاں جمعہ کی نماز نہ ہوئی تو دیہات کے لو گ اس تعلیم اور وعظ سے بھی محروم ہوجائیں گے۔ یہاں سے قریب چند میل کے فاصلے پر ایک شہرہے، جہاں کئی مسجدوں میں جمعہ ہوتا ہے، مگر وہاں کوئی عالم صحیح خیالات کا نہیں، جس سے کسی مفید تحریک کی امید ہو۔ اور شہر کے بازاروں میں سب کچھ وہی ہے جو آج سب جگہ ہے۔ اور کچھ نہیں تو جو دیہاتی وہاں جائے گا وہ کچھ نہ کچھ فضول خرچی تو کر ہی آئے گا۔میری خواہش ہے کہ جناب اس کے متعلق ضرور کچھ نہ کچھ تحریر فرمائیں۔ ’محاذ جنگ پر لڑنے والوں کے لیے نماز جمعہ فرض نہیں۔ لیکن اگر وہ جمعہ کی نماز ادا کرلیں تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘ (۵۔اے ذیلدار پارک دوم، ص :۱ ،۳)

جواب: دیہات میں نماز جمعہ قائم کرنے کا مسئلہ ایک سخت اختلافی مسئلہ ہے اور اس پر قدیم زمانے سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ ایسے مسائل میں کوئی ایسی بحث تو نہیں کی جاسکتی جو اختلافات کو بالکل رفع کردے۔ البتہ میں کوشش کروں گا کہ اس مسئلے میں میرے نزدیک جو مسلک درست ہے اسے واضح طور پر بیان کردوں۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ جمعہ کی شرعی حیثیت اور اقامت جمعہ سے شارع کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میںاقامت جمعہ کے متعلق کیاہدایات دی گئی ہیں اور ان ہدایات میں کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔ نیز اس امر کی تحقیق بھی کی جائے کہ ان ہدایات کی بنا پر اِقَامَۃُ جُمُعَۃٍ فِی الْقُریٰ کے جواز اور عدم جواز میں ائمہ مجتہدین کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ایک گروہ نے شارع کے پیش نظر مقاصد و مصالح کو کس حد تک ملحوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکے گی کہ اب انہی مقاصد و مصالح کا لحاظ کرتے ہوئے جواز و عدم جواز میںسے کون سا پہلو اختیار کرنا زیادہ صحیح اور مناسب ہوگا۔

اسلام کی اجتماعیت

شریعت اسلامی کے احکام میں تدبر کرنے سے یہ بات ہم کو واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شریعت صرف انفرادی اصلاح و تزکیہ ہی کو اپنا آخری اور انتہائی مقصود نہیں بناتی ہے بلکہ اصلاح یافتہ اور تزکیہ شدہ افراد کو باہم جوڑ کر متفقین و صالحین کی ایک ایسی جماعت بھی بنانا چاہتی ہے، جو زمین میں خلافت الٰہی کے فرائض کو ادا کرے اور ایک ایسا تمدن وجود میں لائے جس میں انسانی فطرت کی بھلائیوں کو نشوو نما دینے اور برائیوں کو دبادینے کی قوت ہو۔ یہ چیز شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام احکام کا رجحان خالص انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کی طرف ہے۔ وہ اگرچہ اپنی پوری قوت افراد کے تزکیہ و تصفیہ پر صرف کرتی ہے، مگر اس کام میں اس کے پیش نظر محض فردکو بحیثیت فردہی کے پاک کردینا نہیں ہوتا، بلکہ اسے پاک کرکے ایک بہترین سوسائٹی کی رکنیت اور کارکنی کے لیے تیار کرنا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے افراد کے لیے جتنی تدبیریں اختیار کی ہیں وہ کم و بیش سب کی سب ایسی ہیں جو فرداً فرداً ان کا تزکیہ بھی کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ان کو باہم جوڑ کر ایک اعلیٰ درجہ کی جماعت بھی بناتی ہیں۔
مثال کے طور پر روزے کو لیجیے۔ یہ بجائے خود صرف فرد کے تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے، لیکن شارع نے ایک ہی زمانے میں تیس دن کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کیے، تاکہ وہ اسی مزکی و مطہرحالت میں اس اجتماعی عبادت کے ذریعہ سے صالحین و متفقین کی ایک جماعت بن جائیں۔ زکوٰۃ کو دیکھیے۔ اس کی تو بنیاد ہی اجتماعیت پر ہے۔ یہ ایک نفس کا تزکیہ ہی اس طرح کرتی ہے کہ وہ دوسرے نفس یا نفوس کی امداد و اعانت کرے۔حج کو دیکھیے، اس میں اجتماع کا پہلو اس قدر نمایاں ہے کہ اس کو نمایاں کرنے کی حاجت ہی نہیں۔ ان سب کے بعد نماز کو لیجیے جو ان سب سے زیادہ اہم ہے اور افراد کو صلاح و تقویٰ کی تربیت دینے کے لیے سب سے زیادہ کارگر تدبیر ہے۔ وہ ہر روز پانچ مرتبہ وہی کام کرتی ہے جو سال میں تیس مرتبہ روزہ، اور سال میں ایک مرتبہ صدقہ اور عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرتا ہے۔ اس عبادت میں بھی شارع نے تربیت افراد کے ساتھ مدنیت صالحہ کی تاسیس اور جماعت متفقین کی تنظیم کا مقصد پیش نظر رکھا ہے۔ وہ روزانہ پانچ مرتبہ نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ،تاکہ کم، یا زیادہ جتنے بھی مسلمان کہیں جمع ہوں، یا جمع ہوسکتے ہوں، وہ سب مل کر فریضہ ادا کریں۔ پھر وہ ہفتہ میں ایک مرتبہ ، ایک خاص وقت اس غرض کے لیے مقرر کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان یک جامجتمع ہوں اور مل کر باقاعدگی کے ساتھ خدا کا ذکر سنیں اور اس کی عبادت بجالائیں۔ اس ہفتہ وار اجتماع کے بعد وہ ہر سال اختتام ماہ صیام اور یادگار اسوۂ ابراہیمی جیسے اہم نفسیاتی مواقع پر ان کو اجتماع عام کی دعوت دیتا ہے تاکہ اسی عمارت کی تکمیل ہو جس کی نماز پنج گانہ تاسیس کرتی ہے اور نماز جمعہ تو سیع و ترصیص۔

فرضیت جمعہ کی حکمت

اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تمام فرض عبادات میں شارع کا رجحان اجتماعیت کی جانب ہے، اور وہ ان میں سے ہر ایک میں موقع و محل کی مناسبت کے لحاظ سے انفرادیت اور انتشار کو زیادہ سے زیادہ گھٹانے اور اجتماعیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز پنج گانہ میں اس کا موقع نہ تھا کہ جماعت کو فرض کردیا جاتا، کیونکہ ہر روز ہر شخص کے لیے پانچ مرتبہ جماعت کے التزام کو فرض کردینے میں بہت زیادہ حرج تھا۔ اس لیے صرف جماعت کی تاکید کرکے چھوڑ دیا گیا اور اجازت دے دی گئی کہ اگر کوئی شخص کسی وقت کی نماز باجماعت ادا نہ کرسکے وہ تنہا پڑھ لے۔ یہ ڈھیل جو شخصی حالات و ضروریات کے لحاظ سے دی گئی تھی، اس کی تلافی کے لیے ہفتہ میں ایک مرتبہ ایک ایسی نماز فرض کردی گئی جو بغیر فرض کے ادا ہی نہیں ہوتی۔ یہی نماز جمعہ ہے اور یہ فرض چونکہ اس رعایت کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے عائد کیا گیا ہے جو نماز پنج گانہ میں انفرادیت اور انتشار کو ایک حد تک راہ دیتی ہے، اس لیے شارع کا منشا یہ ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے میں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو اور جہاں تک ہوسکے تفریق و انتشار کو دور کیا جائے۔

فرضیت جمعہ کی اہمیت

اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جمعہ کی فرضیت پر کتاب و سنت میں اس قدر زور کیوں دیا گیا ہے اور اس کی اقامت کو اتنی اہمیت کس لیے دی گئی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَانُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ ذَالِکُمْ خَیْرُلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔               (الجمعہ:۹)
’’اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کے روز نماز کے لیے پکارا جائے تو دوڑو خدا کی یا دکی طرف اور خرید و فروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘
نبی ﷺ فرماتے ہیں:
۶۰۔لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ رَجُلًا یُّصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ اُحَرِّقُ عَلیٰ رِجَالٍ یَّتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُیُوْتَہُمْ۔         (مسلم ، احمد)
’’میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر جائوں اور ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ کی نماز کے لیے نہیں آتے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یُوْنُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ، قَالَ: نَااَبُوْاِسْحَاقَ عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ ، سَمِعَہُ مِنْہُ۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ ، قَالَ: لِقَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ رَجُلًا یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ اُحَرِّقُ عَلیٰ رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُیُوْتَہُمْ۔(۱)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ جو لوگ نمازجمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر جو لوگ نماز جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے گھروں کو آگ  لگا کر جلادوں۔
(۲) لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ ٰامُرَ فِتْیَانِیْ اَنْ یَجْمَعُوْا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ انْطَلِقُ فَاُحَرِّقُ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَہُمْ لَایَشْہَدُوْنَ الْجُمُعَۃَ۔(۲)
ترجمہ: میرا جی چاہتاہے کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ لکڑیوں کے گٹھے جمع کریں۔ پھر میں جائوںاور ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا ڈالوں جو نماز جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے۔
۶۱۔مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ ضرُوْرَۃٍ کُتِبَ مُنَافِقًا فِیْ کِتَابٍ لَا یُمْحیٰ وَلَا یُبَدَّلُ۔      (رواہ الشافعی)
’’جو شخص بلا ضرورت جمعہ چھوڑ دے اس کا نام منافق کی حیثیت سے اس کتاب میں لکھا جائے، جس کا لکھا نہ مٹایا جاسکتا ہے، نہ بدلا جاسکتا ہے۔‘‘
تخریج: مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ ضُرُوْرَۃٍ کُتِبَ مُنَافِقًا فِیْ کِتَابٍ لَا یُمْحیٰ وَلَا یُبَدَّلُ وَفِیْ بَعْضِ الرَّوَایَاتِ ثَلَاثًا۔(۳)
۶۲۔مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَعَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ۔۔۔فَمَنِ اسْتَغْنٰی بِلَہْوٍ اَوْ تِجَارَۃٍ اسْتَغْنَی اللّٰہُ عَنْہُ، وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔                (دارقطنی)
’’جو کوئی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ کے دن نماز جمعہ لازم ہے ۔۔۔ پھر جو کسی کھیل تماشے یا کاروبار کی خاطر اس سے لاپروائی برتے، اللہ اس سے بے نیازی برتے گا اور وہ پاک بے نیاز ہے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ابْنِ الْمُہْتَدِیْ بِاللّٰہِ ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ بِمصْرَ، ثَنَا سَعِیْدُبْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، ثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنِیْ مُعَاذُبْنُ مُحَمَّدِنِ الْاَنْصَارِیُّ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: مَنْ کَانَ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلَّا مَرِیْضٌ، اَوْمُسَافِرٌ، اَوِامْرَاَۃٌ، اَوْصَبِیٌّ، اَوْمَمْلُوْکٌ، فَمَنِ اسْتَغْنیٰ بِلَہْوٍ، اَوْتِجَارَۃٍ اسْتَغْنَی اللّٰہُ عَنْہُ وَاللّٰہُ غَنِیٌّحَمِیْدٌ۔(۴)
ترجمہ:حضرت جابرؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اس پر جمعہ کے روز نماز جمعہ فرض ہے۔ مگر مریض ، مسافر، عورت اور بچہ اور غلام اس سے مستثنیٰ ہیں۔جو کوئی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ کے دن نماز جمعہ لازم ہے۔ پھر جو کسی کھیل تماشے یا کاروبار کی خاطر اس سے لاپروائی برتے، اللہ اس سے بے نیازی برتے گا اور وہ پاک ہے، بے نیاز ہے۔
ابودائود نے طارق بن شہاب کی روایت نقل کرکے لکھا ہے:
(۲) عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ اِلَّا اَرْبَعَۃٌ ۔ عَبْدٌ مَّمْلُوْکٌ، اَوِامْرَاَۃٌ، اَوْصَبِیٌّ، اَوْ مَرِیْضٌ۔(۵)
ترجمہ: طارق بن شہاب کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نماز جمعہ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، مگر چار افراد اس سے مستثنیٰ ہیں۔ غلام، عورت، بچہ، یابیمار۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: طَارِقُ بْنُ شِہَابٍ قَدْ رَاَی النَّبِیَّ ﷺ  وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ شَیْئًا۔
ـــــــ ابوداؤد کہتے ہیں طارق بن شہاب نے نبی ﷺ کو دیکھا تو ہے مگر آپؐ سے کچھ سنا نہیں۔
۶۳۔ لَیَنْتَہُنَّ اَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجُمُعَاتِ اَوْ لَیُخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ ثُمَّ لَیَکُوْنَنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔(مسلم)
’’لوگ جمعہ کی نمازیں ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا۔ پھر وہ غفلت میں مبتلا ہوکر رہیں گے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ الْحُلْوَانِیُّ، قَالَ: نَا اَبُوْتَوْبَۃَ، قَالَ: نَا مُعَاوِیَۃُ ـــــ وَہُوَ ابْنُ سَلَامٍ ـــــ عَنْ زَیْدٍ یَعْنِیْ اَخَاہُ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَاسَلَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی الْحَکَمُ بْنُ مِیْنَائَ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، وَاَبَاہُرَیْرَۃَ، حَدَّثَاہُ اَنَّہُمَا سَمِعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، یَقُوْلُ عَلیٰ اَعْوَادِ مِنْبَرِہِ: لَیَنْتَہِیَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمِ الْجُمُعَاتِ اَوْلَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ، ثُمَّ لَیَکُوْنَنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔(۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہؓ دونوں نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا ہے کہ لوگ جمعہ کی نمازیں ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر وہ غفلت میں مبتلا ہوکر رہیں گے۔
ایک اور روایت:
(۲) لَیَنْتَہِیَنَّ اَقْوَامٌ یَسْمَعُوْنَ النِّدَآئَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، ثُمَّ لَا یَاْتُوْنَہَا اَوْلَیَطْبَعَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ۔(۷)
ترجمہ: لوگ اس سے باز آجائیں کہ جمعہ کے دن اذان سنیں پھر نماز جمعہ کے لیے نہ آئیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ٹھپے لگادے گا۔
ایک اور روایت:
(۳)لَیَنْتَہِیَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ تَرْکِہِم الْجُمُعَاتِ، اَوْلَیَختِمَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ، ثُمَّ لَیُکْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔(۸)
ترجمہ: لوگ جمعہ کی نمازیں ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر انھیں غفلت کرنے والوں کے ساتھ لکھ دیا جائے گا۔
(۴)حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحیٰ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُبَیْدَۃُ ابْنُ سُفْیَانَ الْحَضْرَمِیُّ عَنْ اَبِی الْجَعْدِ الضَّمْرِیِّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَہَاوُنًا بِہَا طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔(۹)
ترجمہ: ابوجعد ضمری جو ایک صحابی ہیں، کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تین جمعہ انہیں حقیر و ہلکا سمجھتے ہوئے ترک کئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے۔
(۵) عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہ۔(۱۰)
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ نبی ﷺ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: بغیر کسی عذر شرعی کے جس نے تین مرتبہ جمعہ ترک کردیا اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے۔
(۶)مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَہَا وُنًا مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔(۱۱)
ترجمہ:جس نے بغیر کسی عذر شرعی کے تین جمعہ انہیں حقیر و ہلکا تصور کرتے ہوئے ترک کیے اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر لگادی۔
(۷)مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مُتَوَالِیَاتٍ مِنْ غَیْرِ ضُرُوَرَۃٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔(۱۲)
ترجمہ: جس نے شرعی ضرورت کے بغیر پے درپے تین جمعہ ترک کردیے، اس کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگادی۔
ترمذی نے ابو الجعد الضمری کی روایت نقل کرکے کہا ہے:
(۸)وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ فِیْمَا زَعَمَ مُحَمَّدُبْنُ عَمْرٍ و،قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَہَا وُنًا بِہَا طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔ (۱۳)
ترجمہ:جس نے تین مرتبہ جمعہ ترک کیا ، اسے ہلکا و حقیر سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے۔
مجاہد نے اس حدیث کا مفہوم درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:
ـــــــ وَفِیْ الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَمُرَۃَ۔ قَالَ اَبُوْعِیْسیٰ: حَدِیْثُ اَبِی الْجَعْدِ حَدِیْثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَسَاَلْتُ مُحَمَّدًاعَنِ اسْمِ اَبِی الْجَعْدِ الضَّمْرِیِّ فَلَمْ یَعْرِفْ اسْمَہُ۔ وَقَالَ: لَا اعْرِفُ لَہُ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اِلَّا مِنْ حَدِیْثِ مُحَمَّدِبْنِ عَمْرٍ و۔
۔ وَمَعْنَی الْحَدِیْثِ: اَنْ لَّا یَشْہَدَ الْجَمَاعَۃَ وَالْجُمُعَۃَ رَغْبَۃً عَنْہَا، وَاسْتِخْفَا فًا لِحَقِّہَا وَتَہَاوُنًا بِہَا۔(۱۴)
مجاہد نے اس حدیث کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ کو بے رغبتی سے اسے ہلکا اور حقیر سمجھتے ہوئے حاضر نہ ہو۔
۔ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثًا مِنْ غَیْرِ عِلَّۃٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔ (۱۵)
جس کسی نے تین جمعہ بغیر کسی وجہ کے ترک کیے اس کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگادی۔
۔ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَیْرِ عِلَّۃٍ وَلَا مَرَضٍ وَلَا عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ ۔(۱۶)
جس کسی نے بغیر کسی وجہ، کسی مرض اور کسی عذر کے تین مرتبہ جمعہ ترک کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر لگادی۔
۔ مَنْ تَرَکَ اَرْبَعَ جُمَعٍ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَقَدْ نَبَذَ الْاِسْلَامَ وَرَائَ ظَہْرِہِ۔(۱۷)
جس نے بغیر کسی عذر شرعی کے چار جمعہ ترک کردیے اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا (نظر انداز کردیا)۔
۔ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلَاثًا مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَہُوَ مُنَافِقٌ۔(۱۸)
جس نے بغیر کسی عذر شرعی کے تین مرتبہ جمعہ کو ترک کیا، وہ منافق ہے۔
۔ مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمُعَاتٍ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ کُتِبَ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ۔(۱۹)
بغیر عذر کے جس نے تین جمعہ ترک کیے اسے منافقین میں لکھ دیا گیا۔
۶۴۔مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلَمْ یَاْتِہَا ثُمَّ سَمِعَ النِّدَائَ وَلَمْ یَاْتِہَا ثَلَاثًا طُبِعَ عَلیٰ قَلْبِہِ فَجُعِلَ قَلْبُ مُنَافِقٍ ۔                  (طبرانی)
’’جس نے جمعہ کی اذان سنی اور نماز کے لیے نہ آیا، پھر دوسرے جمعہ اذان کی آواز سنی اور پھر نہ آیا۔ اسی طرح مسلسل تین جمعہ تک کرتا رہا، اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے اور اس کا دل ایک منافق کا دل بنادیا جاتا ہے۔‘‘
تخریج: مَنْ سَمِعَ النِّدَآئَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلَمْ یَأْتِہَا، ثُمَّ سَمِعَ النِّدَآئَ، ثُمَّ لَمْ یَأْتِہَا طُبِعَ عَلیٰ قَلْبِہِ، فَجُعِلَ قَلْبَ مُنَافِقٍ۔(۲۰)
تشریح: غور کیجیے، یہ جمعہ کے لیے دوڑنے اور کاروبار چھوڑنے کی تاکید کیوں ہے؟ یہ نبی کریم ﷺ جیسے رئوف و رحیم انسان کے دل میں تارکین جمعہ کے گھروں کو آگ لگادینے کا جذبہ کس لیے پیدا ہوتا ہے؟ آخر جمعہ میں کیا ہے جس کی وجہ سے ترک جمعہ اور نفاق کو ہم معنی قرار دیا گیا اور اس پر اتنی سخت وعیدیں بیان فرمائی گئیں؟ اس کی علت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جمعہ کی اقامت سے دراصل امت مسلمہ کا قوام ہے۔ اس سے نماز پنج گانہ کے مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ اسلام کے اس مقصد عظیم کی تحصیل کا ایک اہم ذریعہ ہے جو حیات دنیا کی حد تک اس کا منتہائے مطلوب ہے، یعنی مدنیت فاضلہ کی تاسیس اور جمعیت صالحہ کی تشکیل ۔ اس کا ضائع ہونا گویا اسلام کے مقصد کا ضائع ہونا ہے اور اس کی بنا کو صدمہ پہنچنا گویا اسلام کی عمارت کو صدمہ پہنچنا ہے۔

دو اصولی باتیں

یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا اس سے دو باتیں معلوم ہوگئیں: ایک یہ کہ جمعہ کی فرضیت عام نمازوں کی فرضیت سے زیادہ مؤکد ہے اور اس کی اقامت، اسلام کے مقاصد اصلیہ کی تکمیل کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتی ہے، لہٰذا فروعی و اجتہادی مسائل میں ان پہلوئوں سے بچنا اولیٰ ہے جن سے جمعہ ضائع ہوتا ہے اور ان پہلوئوں کو اختیار کرناانسب ہے جن سے جمعہ قائم ہوتا ہو۔ دوسرے یہ کہ اقامت جمعہ میں شارع کے پیش نظر مدنیت و اجتماعیت ہے اور وہ اس ذریعہ سے انتشار دور کرکے اہل ایمان کو اجتماع کی طرف لانا چاہتا ہے۔ لہٰذا جمعہ کو قائم کرنے میں اس امر کو خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جماعتیں منتشر نہ ہوں بلکہ زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو۔

عملی تفصیلات جو متفق علیہ ہیں

اب آگے بڑھیے ۔ کتاب اللہ میں جمعہ کی فرضیت اور اس کی تاکید تو اس قوت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ اس کی طرف دوڑنے اور اس کے لیے سب کاروبار چھوڑ دینے کا حکم ہے۔ مگر ان سوالات پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی کہ نماز کب پڑھی جائے؟ کہاں پڑھی جائے؟ کو ن پڑھے اور کون نہ پڑھے؟ کن حالات میں پڑھی جائے اور کن میں نہ پڑھی جائے؟ ان سب سوالات کو رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر چھوڑ دیا گیا اور اہل ایمان سے صرف اس قدر کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَط (الجمعۃ:۹)’’جب پکارا جائے جمعہ کی نماز کے لیے تو خدا کی یاد کی طرف دوڑو اور کاروبار چھوڑ دو۔‘‘
مذکورہ بالا سوالات کے متعلق تفصیلی ہدایات ہم کو رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور آپ کے متواتر عمل سے ملتی ہیں اور مزید روشنی ان بزرگوں کے اقوال و اعمال سے حاصل ہوتی ہے، جنہوں نے براہ راست حضور سے تعلیم پائی تھی۔ ان ذرائع سے ہم کو قطعی طور پر جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں:
(۱) آں حضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے جمعہ کی نماز ہمیشہ ظہر کے وقت پڑھی ہے ۔ لہٰذا جمعہ کا وقت ظہر کا وقت ہے۔
(۲) آپؐ نے اور آپؐ کے صحابہ نے کبھی خطبہ کے بغیر جمعہ نہیں پڑھا۔ لہٰذا جمعہ کی نماز کے ساتھ خطبہ ضروری ہے۔
(۳) جمعہ کی فرضیت سے غلام، عورتیں ، بچے ، مسافر اور مریض مستثنیٰ ہیں۔ فرض جن پر عائد ہوتا ہے وہ صرف ایسے عاقل و بالغ مرد ہیں جو آزاد ہوں اور صحیح و تندرست ہوں۔
(۴) عہد نبوی اور عہد صحابہ میں جمعہ کبھی ویرانوں اور جنگلوں اور عارضی فرود گاہوں اور کیمپوں میں نہیں پڑھا گیا۔ لہٰذا اقامت جمعہ کے لیے ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں مستقل آبادی ہو۔
(۵) جمعہ کبھی پرائیویٹ مکانوں میں نہیں پڑھا گیا، بلکہ ہمیشہ ایسی جگہ پڑھا گیا ہے جہاں ہر مسلمان کو حاضر ہونے کی آزادی ہو، لہٰذا جمعہ کے لیے اذن عام ضروری ہے۔

اختلافات اور ان کے وجوہ

یہ وہ امور ہیں جن پر تمام امت کا اتفاق ہے، کیونکہ یہ قطعی طور پر ثابت ہیں۔ ان کے علاوہ جتنے جزئی امور ہیں ان میں سے کوئی بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ اسی لیے ان میں فقہاء کے درمیان بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ نصاب جماعت کیا ہو؟ جمعہ کون قائم کرے؟ خطبے دو ہونے چاہئیں یا ایک ہی کافی ہے؟ وغیرہ۔
اسی قبیل سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لیے کس قسم کی بستی ہونی چاہیے اور اس بستی سے کتنے فاصلے تک کے لوگوں کو نماز کے لیے آنا چاہیے۔
امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ ایسی قریوں میں جمعہ ناجائز ہے جن کے باشندے گرمی یا جاڑے میں کہیں اور منتقل ہوجاتے ہوں۔ ان کے سوا ایسے تمام قریوں میں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے جن میں چالیس یا اس سے زیادہ عاقل و بالغ آزاد مرد موجود ہوں۔ ا س کی تائید میں وہ اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جو ابن عباس سے مروی ہے کہ مدینہ کے بعد پہلا جمعہ جو پڑھا گیا وہ بحرین کے ایک قریہ جواثیٰ میں تھا۔ نیز یہ روایت بھی ان کے دلائل میں سے ہے کہ حضرت عمرؓ نے اہل بحرین کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ جمعہ ادا کرو جہاں کہیں بھی ہو۔ مگر ان میں سے پہلی روایت میں محض قریہ کا لفظ ہے جس کا کوئی مفہوم متعین نہیں۔ کم از کم اس سے چالیس مردوں کی قید تو کسی طرح نہیں نکلتی۔ اور ہم کچھ نہیں جانتے کہ امام صاحب کے نزدیک اس قید کا ماخذ کیا ہے۔ رہی دوسری روایت تو وہ جس قدر امام صاحب کی تائید میں ہے اسی قدر ان کے خلاف بھی ہے۔ اس سے تو جنگل اور ویرانے میں بھی اقامت جمعہ کا جواز نکالا جاسکتا ہے، حالانکہ امام صاحب اس کے ناجائز ہونے کو تسلیم کرتے ہیں۔
امام احمد کا مسلک امام شافعی سے ملتا جلتا ہے اور ان کے دلائل بھی وہی ہیں۔ امام مالک کے نزدیک جمعہ کی نماز ہر ایسے قریہ میں ہوسکتی ہے جس کی آبادی مستقل ہو، خواہ اس کی آبادی چالیس مردوں سے بھی کم ہو۔
امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جمعہ صرف مصر یعنی شہر میں قائم کیا جاسکتا ہے۔ دیہات میں قائم کرنا جائز نہیں۔

مصر جامع کی شرط اور اس کی تشریح

حنفیہ نے جمعہ کے لیے یہ جو مصر جامع کی شرط لگائی ہے اس کے حق میں ان کا استدلال اس روایت سے ہے جو حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ:
اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور عبدالرزاق نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔ لیکن دونوں کے ہاں یہ حضرت علیؓ کے اپنے قول ہی کی حیثیت سے ہے۔ نبی ﷺ کی طرف اس کو منسوب نہیں کیا گیا۔
۶۵۔ لَا جُمُعَۃَ وَلَا تَشْرِیْقَ، وَلَا فِطْرَ وَلَا اَضْحیٰ اِلَّا فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍ۔

تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ طَلْحَۃَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: لَا جُمُعَۃَ وَلَا تَشْرِیْقَ، وَلَا صَلَاۃَ فِطْرٍ وَلَا اَضْحٰی اِلَّا فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍ اَوْ مَدِیْنَۃٍ عَظِیْمَۃٍ۔(۲)
تشریح: نیز وہ اس بات سے بھی دلیل لاتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب ممالک فتح کیے تو دیہات میں کہیں بھی منبر نصب نہیں کیے۔ یہ گویا جمعہ کے لیے مصر کے شرط ہونے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
لیکن مصر کی تعریف میں خود حنفیہ کے درمیان بہت اختلافات ہیں، حتیٰ کہ خود امام ابوحنیفہ ؒکے بھی دو مختلف قول ہیں۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں:
۱- مصر جامع وہ ہے جہاں امیر اور قاضی ہو، جو احکام نافذ کرنے اور حدود جاری کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔
۲- مصر وہ ہے جہاں کی سب سے بڑی مسجد میں اگر سب باشندے جمع ہوں تو نہ سماسکیں۔
۳- مصر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں بازار اور سڑکیں اور محلے ہوں اور کوئی ایسا حاکم ہو جو ظالم سے مظلوم کا انصاف لے، اور کوئی عالم ایسا ہو جس کی طرف مسائل میں رجوع کیا جاسکے۔
۴- امام جس مقام کو مصر قرار دے اور اقامت جمعہ کا حکم کرے، وہی مصر ہے۔
۵- مصر وہ ہے جہاں ہر پیشہ کا آدمی اپنے پیشہ سے بسر اوقات کرسکتا ہو۔
۶- جس کی آبادی دس ہزار ہو، صرف اسی جگہ کو مصر کہا جاسکتا ہے۔
۷- جس کی آبادی تین ہزار سے کم نہ ہو، وہ مصر ہے۔
اس قسم کی بیسیوں تعریفیں اور بھی ہیں جو فقہاء نے بیان کی ہیں۔
اب یہ امر غور طلب ہے کہ اول تو ’’مصر‘‘ کے شرط ہونے پر امت کا اجماع نہیں ہے، بلکہ محدثین اور فقہاء کی ایک کثیر جماعت اس سے اختلاف رکھتی ہے۔ دوسرے یہ شرط اگر ثابت بھی ہو تو واضح طور پر معلوم نہیں کہ مصر کہتے کس کو ہیں۔ ایسی حالت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی مختلف فیہ اور مبہم شرط کے فقدان پر کیا نماز جمعہ جیسے موکد اور اہم فریضہ کو مسلمانوں کی آبادی کے ایک کثیر حصے پر سے ساقط قرار دینا مناسب ہے؟ میں سمجھتا ہوں ایک طرف تقویٰ اور دوسری طرف تفقہ اس کا مقتضی ہے کہ اسقاط فرض کا فتویٰ دینے سے پہلے ہم یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے اختلافات کا منشا کیا ہے، وہ جمعہ کے معاملہ میں شارع کا مقصد کیا سمجھے ہیں اور اسے پورا کرنے کے لیے جو عملی شکلیں انہوں نے اختیار کی ہیں ان کی اندرونی حکمت کیا ہے۔ شاید کہ اس طرح ہمیں ایک ایسا معتدل مسلک ہاتھ آجائے جس سے ہماری آبادیوں کا ایک بڑا حصہ جمعہ کی برکات سے متمتع ہوسکے۔

اختلافات کا اصل منشا

جیسا کہ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں، اقامت جمعہ میں دو امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں: ایک جمعہ کی فرضیت ، جو عام نمازوں سے بھی زیادہ مؤکد ہے اور ہر عاقل و بالغ آزاد اور تندرست مرد پر عائد ہوتی ہے۔ دوسرے اجتماعیت، جس کا مقصد انتشار کو دور کرنا اور مسلمانو ںکے درمیان زیادہ سے زیادہ اجتماع اور تالف پیدا کرنا ہے۔
ائمہ مجتہدین میں سے ہر ایک نے ان دونوں پہلوئوں پر نظر رکھی ہے اور دونوں کو مرعی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں اشکال یہ واقع ہوتا ہے کہ بعض حالات میں یہ دونوں پہلو جمع نہیں ہوسکتے۔ اگر فرضیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو اجتماعیت کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ فرضیت کا تقاضا یہ ہے کہ دو چار آدمی بھی جہاں موجود ہوں ، وہیں فرض ادا کردیا جائے۔ اگر اجتماعیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو فرضیت کا پہلو کمزور ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں کافی اجتماع نہ ہو، وہاں افراد پر سے فرض ساقط کردیا جائے۔ ائمہ مجتہدین نے اس اشکال کو دور کرنے کے لیے دونوں پہلوئوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
امام شافعیؒ اور امام احمد ؒ نے چالیس آدمیوں کے اجتماع کو جمعہ کے لیے کافی سمجھا اور ہر ایسے قریہ میں اقامت جمعہ کا حکم دے دیا جہاں اجتماع کا یہ نصاب پورا ہوتا ہو۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی فتویٰ دیا کہ اس قریہ سے جہاں جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو، وہاںکے ہر بالغ اور آزاد مرد پر نماز کے لیے آنا فرض ہے۔
امام مالکؒ نے اجتماع کے لیے کم سے کم ۱۲ آدمیوں کی موجودگی کو کافی قرار دیا۔ لہٰذا ان کے مسلک کی بنیاد پر نسبتاً زیادہ چھوٹے قریوں میں بھی اقامت جمعہ کا حکم دیا گیا اور ان سب لوگوں پر جمعہ کی حاضری لازمی قرار دے دی گئی جو مقام جمعہ سے چھ میل کی حد میں ہوں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے محسوس کیا کہ اس طرح قریہ قریہ میں اقامت جمعہ کی اجازت دینے سے انتشار پیدا ہوتا ہے اور اجتماع سے شارع کا جو مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ عراق و شام وغیرہ ممالک میں جہاں عہد صحابہ کے آثار اس وقت بالکل تازہ تھے، کہیںدیہات میں نہ منبر پائے جاتے ہیں اور نہ جامع مسجدوں کا پتہ چلتا ہے، ان تک حضرت علیؓ کا وہ اثر بھی پہنچا جس میں تصریح ہے کہ جمعہ صرف امصار (شہروں) میں قائم کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی سنا کہ جب حجاج بن یوسف نے اہواز میں جمعہ قائم کیا تو امام حسن بصری نے فرمایا :
لَعَنَ اللّٰہُ الْحَجَّاجَ یَتْرُکُ الْجُمُعَۃَ فِی الْاَمْصَارِ وَیُقِیْمُہَا فِیْ حَلَاقِیْمِ الْبِلَادِ۔
’’خدا کی لعنت ہو حجاج پر، یہ کم بخت شہروں کو چھوڑ کر ملک کے گوشوں میں جمعہ قائم کرتا ہے۔‘‘
ان سب باتوں پر نظر کرکے انہوں نے فتویٰ دیا کہ ہر علاقہ کے صدر مقام میں جمعہ قائم کیا جائے اور جن جن لوگوں پر جمعہ کا فرض عائد ہوتا ہو، وہ تین تین میل کے مضافات سے صدر مقام پر اکٹھے ہوجایا کریں۔

مسلک حنفی کے اصل منشا کی تحقیق

اب ہمیں ایک نظر اس زمانے کے حالات پر بھی ڈالنی چاہیے۔ وہ اسلامی حکومت کا زمانہ تھا۔ جگہ جگہ پر گنوں اور قصبوں میں قاضی اور اصحاب شرطۃ (تھانہ دار) مقرر تھے، جو خصومات کے فیصلے کرتے اور مظالم کی داد رسی کرتے تھے۔ ایک کثیر جماعت کے مجتمع ہونے میں چونکہ فتنہ و فساد پیدا ہونے کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماع کی غرض سے ایسی ہی جگہ مناسب تھی جہاں امن قائم کرنے والے موجود ہوں۔ پھر اکابر احناف کا زمانہ وہ تھا جب عراق اور الجزیرہ اور فارس وغیرہ ممالک کی آبادی بہت زیادہ اورگھنی تھی۔ قصبات اور دیہات کثرت آبادی کے سبب سے باہم پیوستہ ہوگئے تھے۔ تمدن بھی انتہائی عروج پر تھا۔ صنعت و حرفت اور تجارت کے فروغ نے قصبوں کو بھی شہر بنادیا تھا۔ انہی وجوہ سے ’’شہر‘‘ کی وہ تعریفیں کی گئیں جو آپ نے اوپر دیکھی ہیں۔ ورنہ فی نفسہٖ قاضی اور کوتوال کو، یا بازار اور سڑکوں کو، یا دس ہزار اور تین ہزار کی آبادی کو فرضیت جمعہ کے اشتراط میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔ اصل شرط ’’مصر‘‘ ہے اور اس کے مدلول کو متعین کرنے کے لیے ہر فقیہ مجتہد نے وہ خصوصیات بیان کی ہیں جو اس کے پیش نظر امصار میں پائی جاتی تھیں۔
ان خصوصیات سے قطع نظر کرکے اگر دیکھا جائے کہ وہ چیز کیا ہے جس کی بناپر ’’مصر‘‘ کو شرط جمعہ قرار دیا گیا ہے تو معلوم ہوگا کہ وہ ’’مرکزیت‘‘ کے سوا اور کچھ نہیںہے۔ جو مقام کسی علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہو، یا جمعہ کی غرض کے لیے مرکزی مقام ٹھہرالیا جائے ، وہ ’’مصر‘‘ ہے اور اس کے سوا گردو پیش کے مقامات پر اقامت جمعہ کا ناجائز ہونا اس معنی میں نہیں ہے کہ ان مقامات کے لوگوں سے جمعہ کا فرض ساقط ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو جمعہ کے لیے اس مرکزی مقام پر آنا چاہیے۔ اگر بغیر عذر شرعی کے وہ نہ آئیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
اس باب میں فقہاء حنفیہ کے اقوال کی چھان بین کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی شرط عائد کرنے اور دیہات میں اقامت جمعہ کو ناجائز قرار دینے سے ان کا منشا بھی وہی تھا جو ہم نے سمجھا ہے۔
علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
وَلَوْ مَصَّرَ الْاِمَامُ مَوْضِعًا وَاَمَرَ ہُمُ بِالْاِقَامَۃِ فِیْہِ جَازَ۔(فتح القدیر، جلد۱، ص:۴۰۵)
’’اگر امام کسی مقام کو مصر قرار دے اور لوگوں کو وہاں جمعہ پڑھنے کا حکم دے تو جائز ہوگا ۔‘‘
یہاں ’’مصر قرار دینے‘‘ کا مجاز امام کو ٹھیرایا گیا ہے۔اس لیے کہ صحیح معنو ںمیں اسلامی زندگی بغیر امام ا ور امیر کے نہیں ہوسکتی۔ لیکن جہاں بدقسمتی سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں امامت و امارت کا منصب باقی نہ رہا ہو، کیاناجائز ہوگا، اگر وہاں امام مالک رحمہ اللہ کے اصول پر مسلمانوں کی جماعت باہمی اتفاق سے اپنے علاقے کے کسی بڑے گائوں یا قصبہ کو ، جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً زیادہ ہو، اور جہاں کوئی بڑی مسجد بھی موجود ہو، جمعہ کی اغراض کے لیے ’’مصر‘‘ قرار دے لے؟
آگے چل کر علامہ موصوف لکھتے ہیں:
وَمَنْ کَانَ فِیْ تَوَابِعِ الْمِصْرِ فَحُکْمُہُ حُکْمُ اَہْلِ الْمِصْرِ فِیْ وُجُوْبِ الْجُمُعَۃِ عَلَیْہِ بِاَنْ یَّأْتِیَ الْمِصْرَ فَلْیُصَلِّیْہَا فِیْہِ۔ وَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَعَنْ اَبِیْ یُوْسُفَ اَنَّہَا تَجِبُ فِیْ ثَلٰثَۃِ فَرَاسِخَ وَقَالَ بَعْضُہُمْ قَدْرَ مِیْلٍ، وَقِیْلَ قَدْرَ مِیْلَیْنِ، وَقِیْلَ سِتَّۃَ اَمْیَالٍ، وَعَنْ مَالِکٍ سِتَّۃً، وَقِیْلَ اِنْ اَمْکَنَہُ اَنْ یَّحْضُرَ الْجُمُعَۃَ وَیَبِیْتَ بِاَہْلِہِ مِنْ غَیْرِ تَکَلُّفٍ تَجِبُ عَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ وَاِلَّا فَلَا قَالَ فِی الْبَدَائِعِ وَہٰذَا اَحْسَنُ۔ (فتح القدیر، ج ۱، ص:۴۱۱)
’’اور جو شخص مصر کے مضافات کا رہنے والا ہو، اس پر بھی اہل مصر کی طرح جمعہ فرض ہے اور لازم ہے کہ وہ وہاں جاکر نماز پڑھے۔ مضافات شہر کی حد میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ ابویوسف کہتے ہیں کہ وہ تین کوس کی حد میں واجب ہے۔ بعض نے ایک میل،بعض نے دو میل، بعض نے چھ میل کی حد قرار دی ہے۔ امام مالک نے بھی چھ میل کہا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جمعہ میں شریک ہونے کے بعد رات آنے سے پہلے بلا کسی زحمت و تکلیف کے اپنے گھر پہنچ سکتا ہو، اس پر جمعہ کی حاضری واجب ہے ورنہ نہیں۔ صاحب بدائع نے اسی قول کو پسند کیا ہے۔‘‘
بعض احادیث سے بھی اس موخر الذکر قول کی تائید نکلتی ہے۔ چنانچہ ترمذی نے ابوہریرہ سے روایت کیاہے:
۶۶۔عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: الْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْٰاوَاہُ الْلَّیْلُ اِلیٰ اَہْلِہِ۔
’’نبی ﷺ نے فرمایا جمعہ اس پر فرض ہے جو رات تک اپنے بال بچوں میں پہنچ سکتا ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُبْنُ حُمَیْدٍ وَمُحَمَّدُبْنُ مَدُّوْیَہ، قَالَا: ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، نَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ ثُوَیْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَہْلِ قُبَائَ عَنْ اَبِیْہِ، وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:أَمَرْنَا النَّبِیُّﷺ اَنْ نَشْہَدَ الْجُمُعَۃ مِنْ قُبَائَ۔(۲۲)
ترجمہ: اہل قبا کے ایک شخص نے اپنے والد کے حوالہ سے جو اصحاب النبی ﷺ میں سے تھے، بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ہم قبا سے چل کر جمعہ میں حاضر ہوا کریں۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْ عِیْسٰی : ہٰذَا حَدِیْثٌ لَا نَعْرِفُہُ اِلَّا مِنْ ہٰذَا الْوَجْہِ۔ وَلَایَصِحُّ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ شَیْٔ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اَلْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ اٰوَاہُ اللَّیْلُ اِلیٰ اَہْلِہِ۔
ـــــــ وَہٰذَا حَدِیْثٌ اِسْنَادُہُ ضَعِیْفٌ اِنَّمَا یُرْوٰی مِنْ حَدِیْثِ مُعَارِکِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، وَضَعَّفَ یَحیٰ ابْنُ سَعِیْدٍ الْقَطَّانُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنَ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیَّ فِی الْحَدِیْثِ۔ وَاخْتَلَفَ اَہْلُ الْعِلْمِ عَلیٰ مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَۃُ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: تَجِبُ الْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ ٰاوَاہُ اللَّیْلُ اِلیٰ مَنْزِلِہِ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ :لَاتَجِبُ الْجُمُعَۃُ اِلَّا عَلیٰ مَنْ سَمِعَ النِّدَآئَ، وَہُوقَوْلُ الشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ، سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ یَقُوْلُ کُنَّا عِنْدَ اَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَذَکَرُوْاعَلَی مَنْ تُجِبِ الْجُمُعَۃَ، فَلَمْ یَذْکُرْ اَحْمَدُ فِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ شَیْئًا، قَالَ اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ: فَقُلْتُ لِاَ حْمَدَبْنِ حَنْبَلٍ فِیْہِ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ۔
ـــــــ ابوعیسیٰ کہتے ہیں: اس طریق کے علاوہ ہمیں اس حدیث کے بارے میں کوئی علم نہیں اور نہ ہی کوئی صحیح چیز اس باب میں نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوہریرہ کے حوالہ سے نبیﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو رات تک اپنے اہل و عیال میں پہنچ سکتا ہو۔ سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے کہ معارک نے عبداللہ بن سعید مقبری کے واسطہ سے اسے روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید المقبری کو حدیث کے بارے میں ضعیف قرار دیا ہے۔ جمعہ کس پر واجب ہے؟ اس بارے میں اہل علم حضرات کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جمعہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو رات تک اپنے اہل و عیال میں پہنچ سکتا ہو۔ بعض کا قول ہے کہ جمعہ اس پر واجب ہے جو اذان سنے۔ یہ قول شافعی، احمد اور اسحاق کا ہے۔
ایک دوسری سند سے مروی روایت:
(۲) حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ نَضیْرٍ نَامُعَارِکُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ سَعِیْدِنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَ: اَلْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ اوَاہُ اللَّیْلُ اِلیٰ اَہْلِہِ: فَغَضِبَ عَلَیَّ اَحْمَدُ وَقَالَ لِیْ اسْتَغْفِرْ رَبَّکَ، اسْتَغْفِرْ رَبَّک۔(۲۳)
ـــــــ وَاِنَّمَا فَعَلَ بِہٖ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ہٰذَا لِاَنَّہٗ لَمْ یَعُدُّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ شَیْئًا وَضَعَّفَہٗ لِحَالِ اِسْنَادِہٖ۔
(۳) اَلْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ آواَہُ اللَّیْلُ۔(۲۴)
(۴) عَمْرُوبْنُ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: اِنَّمَا الْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ سَمِعَ النِّدَآئَ۔
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جمعہ اس پر فرض ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی۔
ایک روایت میں:
(۵) اَلْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ بِمَدَی الصَّوتِ، قَالَ دَاوٗدَ: یَعْنِیْ حَیْثُ یُسْمَعُ الصَّوْتُ۔(۲۵)
ابودائود میں ہے:
(۶)اَلْجُمُعَۃُ عَلیٰ کُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَآئَ۔(۲۶)
بخاری میں ہے:
۶۷۔عَنْ عَائِشَۃَ زوْجِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ یَنْتَابُوْنَ الْجُمُعَۃَ مِنْ مَّنَازِلِہِمْ وَالْعَوِالِیَ فَیَاْتُوْنَ فِی الْغُبَارِ فَیُصِیْبُہُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُمُ الْعَرَقُ فَاَتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِنْسَانٌ مِّنْہُمْ وَہُوَ عِنْدِیْ، فَقَالَ: لَوْ اَنَّکُمْ تَطَہَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ ہٰذَا۔
’’حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ لوگ اپنی فرود گاہوں اور عوالی سے نماز جمعہ کے لیے آیا کرتے تھے اور ان پر گرداور پسینہ کی تہیں چڑھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف رکھتے تھے کہ ان لوگوں میں سے ایک شخص آپ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: بہتر ہوتا اگر تم لوگ آج کے دن غسل کرلیا کرتے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا، اَحْمَدُبْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ،قَالَ:اَخْبَرَنِیْ عَمْرُوبْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ جَعْفَرِ، اَنَّ مُحَمَّدَبْنَ جَعْفَرِبْنِ الزُّبَیْرِ، حَدَّثَہُ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ،قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ یَنْتَابُوْنَ الْجُمُعَۃَ مِنْ مَنَازِلِہِمْ وَالْعَوَالِیْ فَیَاْتُوْنَ فِی الْغُبَارِ یُصِیْبُہُمْ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُمُ الْعَرَقُ فَاتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِنْسَانٌ مِنْہُمْ وَہُوَ عِنْدِیْ فَقَالَ النَّبیُّ ﷺ : لَوْاَنَّکُمْ تَطَہَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ ہٰذَا۔(۲۷)
مسلم میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایت کے الفاظ تھوڑے سے مختلف ہیں:
(۲)عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ یَنْتَابُوْنَ الْجُمُعَۃَ مِنْ مَنَا زِلِہِمْ مِنَ الْعَوَالِیْ، فَیَاْتُوْنَ فِیْ الْعَبَائِ، وَیُصِیْبُہُمُ الْغُبَارُ، فَتَخْرُجُ مِنْہُمُ الرِّیْحُ، فَاتیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِنْسَانٌ مِنْہُمْ وَہُوَ عِنْدِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَوْ اَنَّکُمْ تَطَہَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ ہٰذَا۔(۲۸)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ لوگ اپنی فرود گاہوں اور عوالی سے نماز کے لیے آیا کرتے تھے۔ اپنی محنت مزدوری کے کپڑوں میں آتے تھے، گردوغبارسے اٹے ہوئے، ان سے بدبو پھیل رہی ہوتی تھی۔ ان میں سے ایک آدمی آپؐ کے پاس اس وقت آیا جب آپؐ میرے ہاں تشریف فرماتھے۔ اسے دیکھ کر آپؐ نے فرمایا بہتر ہوتا اگر تم لوگ آج کے دن غسل کرلیا کرتے۔
حضرت عائشہؓ کی دوسری روایت:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ اَہْلَ عَمَلٍ وَلَمْ تَکُنْ لَہُمْ کُفَاۃٌ، فَکَانُوا یَکُوْنُ لَہُمْ تَفَلٌ فَقِیْلَ لَہُمْ، لَوْ اغْتَسَلْتُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔(۲۹)
ترجمہ:حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے۔ مزدور لوگ ہوتے تھے۔ ان کے پاس زیب تن کپڑوں سے زائد کپڑا پہننے کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے ان کپڑوں میں جوئیں پڑجاتی تھیں، اس لیے آپؐ نے فرمایا تھا اگر جمعہ کے دن تم لوگ غسل کرلیا کرو، تو بہتر ہے۔
بخاری میں ہے:
(۴) قَالَتْ عَائِشَۃُ:کَانَ النَّاسُ مَہَنَۃَ اَنْفُسِہِمْ وَکَانُوْا اِذَارَاحُوْا اِلیَ الْجُمُعَۃِ رَا حُوْا فِیْ ہَیْاَتِہِمْ فَقِیْلَ لَہُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔(۳۰)
ترجمہ:حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ تھے۔ یہ جب جمعہ کے لیے آتے تو محنت مزدوری والے کپڑوں میں ہی آتے تھے، اس لیے آپؐ نے فرمایا کاش کہ تم لوگ غسل کرلیا کرو۔
تشریح: پہلی حدیث تو صاف ہے ۔ رہی دوسری حدیث تو اس میں یہ ذکر ہے کہ لوگ شرکت جمعہ کے لیے عوالی سے آیا کرتے تھے۔ عوالی ان دیہات کا نام ہے جو مدینہ طیبہ کے مضافات میں واقع تھے اور علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ دیہات مدینہ سے چار میل اور اس سے زیادہ مختلف فاصلوں پر تھے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ عوالی سے اونٹ پر یا پیدل جمعہ کے لیے آتے ہوں گے۔ وہ اس ریگ زار میں شام کے لگ بھگ ہی اپنے گھروں کو واپس پہنچتے ہوں گے۔ یہ اس زمانے کی کیفیت ہے جب بسیں اور لاریاں نہ چلتی تھیں۔ اس زمانے میں جب لوگوں کو چھ چھ میل کے فاصلوں سے آنے کے لیے کہا گیا تو آج جب کہ حمل و نقل کی آسانیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ لوگوں کے لیے بیس بیس میل سے بھی جمعہ کے لیے آنا کچھ مشکل نہیں۔ تاہم اختلاف احوال کو پیش نظر رکھ کر یہ مناسب نہیں کہ فاصلہ کی مقدار میلوں کے حساب سے متعین کی جائے، بلکہ وہی قید بہتر ہے جو شارع نے بیان فرمائی ہے، یعنی جو شخص نماز کے بعد مغرب تک اپنے گھر بآسانی پہنچ سکتا ہو، وہ اپنے علاقے کے صدر مقام میں جاکر جمعہ پڑھے اور جو نہ پہنچ سکتا ہو، وہ اپنے ہی گائوں ظہر کی نماز پڑھ لیا کرے۔
اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہائے کرام نے مصر کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ بالکل ناقابل لحاظ نہیں ہیں۔ کسی دیہاتی علاقہ کے مسلمان جب اپنے علاقے کے کسی قصبہ کو جمعہ کی اغراض کے لیے ’’مصر‘‘ قرار دینا چاہیں تو انہیں انتخاب میں حسب ذیل خصوصیات کو ترجیح دینی چاہیے:
۱- وہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ہو۔
۲- کوئی بڑی مسجد موجود ہو، جس میں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہوسکتا ہو۔
۳- کوئی ایسا عالم موجود ہو جو مسائل شرعیہ کی تعلیم دے سکے اور وعظ و تذکیر کی اچھی قابلیت رکھتا ہو۔
۴- جہاں سرکاری حکام میں سے کوئی ایسا حاکم موجود ہو، جو امن قائم رکھنے کا ذمہ دار ہو۔
۵- جہاں اس کا بھی امکان ہو کہ آس پاس کے دیہات والے اپنی ضروریات وہاں سے خریدلے جائیں۔
یہ امور اقامت جمعہ کے شرائط میں سے نہیں ہیں بلکہ مقام جمعہ کے انتخاب میں ان کو ملحوظ رکھنا ، انسب اور اولیٰ ہے۔
ہٰذَا مَا عِنْدِیْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ۔ (تفہیمات، جلد دوم، دیہات میں نماز جمعہ)

ماخز

(۱) مسلم،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا وانہا فرض کفایۃ۔ ٭مسند احمد، ج۱ص ۴۲۲، عبداللہ بن مسعود۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الصلوٰۃ اورکتاب الجمعۃ، باب ماجاء فی التشدید فی ترک الجمعۃ من غیر عذر۔٭ کنزالعمال ،ج ۷، ص ۷۲۸۔٭ مسند احمد، ج ۱، ص۴۰۲، ۴۲۲، ۴۵۰، ۴۶۱۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ ج۲،کتاب الصلوات، باب فی تفریط الجمعۃ وترکہا۔
(۲) کنزالعمال، ج ۷، ص ۷۲۹۔ ٭ السنن الکبریٰ،ج۳، کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التشدید فی ترک الجمعۃ من غیر عذر۔
(۳) الشافعی فی المعرفۃ عن ابن عباس٭مشکوٰۃ: کتاب الجمعۃ، باب وجوبہا۔
(۴) دارقطنی،ج۲، کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔٭ابن عدی، عن جابر بحوالہ کنزالعمال،ج ۷، ص۷۲۶۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب من لاتلزمہ الجماعۃ۔٭طبرانی فی الأوسط، عن ابی ہریرہ بحوالہ کنزالعمال، ج۷، ص ۷۲۶۔٭ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب من لا تجب علیہ جمعۃ۔ عن محمد بن کعب القرظی مرسلا۔ ٭ دارقطنی فی الافراد عن ابن عباس بحوالہ کنزالعمال، ج ۷، ص۷۲۶۔
(۵) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب الجمعۃ للملوک والمراۃ۔٭ دارقطنی،ج۲،کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب من لاتلزمہ الجماعۃ اور باب من تجب علیہ الجمعۃ۔
(۶) مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ: باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ٭ نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب التشدید فی التخلف عن الجمعۃ ٭ ابن ماجہ: کتاب المساجد و الجماعات، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ عن ابن عباس ، عن ابن عمر٭ دارمی: باب فیمن یترک الجمعۃ من غیر عذر٭ مسند احمد، ج۱، ص۳۳۵۔ عن ابن عباس ٭السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ ، باب التشدید علی من تخلف عن الجمعۃ ممن وجبت علیہ ٭مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب فی تفریط الجمعۃ وترکہا۔ ابن ابی شیبۃ میں لیطبعن اللّٰہ علی قلوبہم ہے۔٭ موارد الظمآن الی زیادۃ لا بن حبان: کتاب الجمعۃ، باب فیمن ترک الجمعۃ ٭ ابن خزیمۃ، ابن عساکر عن ابی ہریرۃ ’ابوسعید، ابن عساکر نے ابن عمر اور ابوہریرہ سے ٭ طبرانی اوسط، ابن حبان عن ابن عباس، ابن عمر بحوالہ کنزالعمال ، ج ۷، ص ۷۳۱ ۔
(۷) طبرانی ، حلیہ لابی نعیم عن کعب بن مالک۔
(۸) کنزالعمال ج ۷، ص ۷۳۱ بحوالہ ابن نجار عن ابن عمر۔
(۹) ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، تفریع ابواب الجمعۃ، باب التشدید فی ترک الجمعۃ۔٭ ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی ترک الجمعۃ من غیر عذر۔٭نسائی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب التشدید فی التخلف عن الجمعۃ۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب فیمن ترک الجمعۃ من غیر عذر۔٭ موطا امام مالک، ج۱، باب القراء ۃ فی صلوٰۃ الجمعۃ والاحتباء ومن ترکہا من غیر عذر۔ موطا میں من ترک الجمعۃ ثلاث مرات من غیر عذر ولاعلۃ طبع اللّٰہ علی قلبہ ہے۔ ٭ دارمی: باب فیمن یترک الجمعۃ من غیر عذر۔٭ مسند احمد، ج ۳، ص۳۳۲۔ جابر بن عبداللّٰہ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔ ٭المستدرک للحاکم،ج۱، کتاب الجمعۃ، التشدید فی ترک الجمعۃ۔٭ مصنف ابن ابی شیبہ ج۲، کتاب الصلوات، باب فی تفریط الجمعۃ وترکہا۔
(۱۰) مسند احمد، ج ۳، ص ۳۳۲، جابر بن عبداللّٰہ ۔
(۱۱) کنزالعمال ، ج ۷، ص ۷۳۰، بحوالہ ابن ابی شیبہ ، مسند احمد۔ ٭ طبرانی ، بغوی، باوردی، حاکم فی الکنی، ابو نعیم فی المعرفۃ۔
(۱۲) مسند احمد، مستدرک حاکم عن ابی قتادہ۔ ٭ مسند احمد، نسائی اور ابن ماجہ عن جابر۔ ٭ مصنف ابن ابی شیبہ، ج۳، کتاب الصلوات، باب فی تفریط الجمعۃ وترکہا۔ اس میں من غیر ضرورۃ کے الفاظ نہیں ہیں۔
(۱۳) ترمذی،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء فی ترک الجمعۃ من غیر عذر۔
(۱۴) ترمذی،ج۱، ابواب الصلوٰۃ، باب ماجاء فیمن سمع النداء فلا یجیب۔
(۱۵) ابن عساکر ، عن ابی ہریرۃ۔
(۱۶) المحاملی فی امالیہ، الخطیب البغدادی، ابن عساکر عن عائشۃ۔
(۱۷) الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس۔
(۱۸) موارد الظمآن، کتاب الصلوٰۃ، باب فیمن ترک الجمعۃ۔
(۱۹) کنزالعمال، ج ۷، ص ۷۲۹، بحوالہ طبرانی، عن اسامہ بن زید۔
(۲۰) کنزالعمال ج ۷، ص۷۳۱، بحوالہ طبرانی، بیہقی فی شعب الایمان عن ابن ابی اوفیٰ۔
(۲۱) مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، کتاب الجمعۃ، باب من قال لاجمعۃ ولا تشریق الا فی مصر جامع۔ ٭المصنف لعبد الرزاق، ج ۳، کتاب الجمعۃ اور ص ۱۶۸ پر’’لاجمعۃ ولا تشریق الا فی مصر جامعٍ۔ وکان یعد الامصار: البصرۃ والکوفۃ والمدینۃ والبحرین ومصر و الشام، والجزیرۃ وربما قال الیمن والیمامۃ‘‘ بھی منقول ہے۔ ٭ المصنف لعبدالرزاق، ج ۳، ص ۱۶۷ پر حضرت علی سے لا جمعۃ ولا تشریق الا فی مصر جامع بھی منقول ہے۔
(۲۲) ترمذی ،ج۱، ابواب الجمعۃ، باب ماجاء من کم یوتیٰ الی الجمعۃ۔
(۲۳) ترمذی ،ج۱، ابواب الجمعۃ: باب ماجاء من کم یوتی الی الجمعۃ۔
(۲۴) دیلمی ، عن عائشۃ بحوالہ کنزالعمال ، ج ۷، ص ۷۲۶۔
(۲۵) دارقطنی،ج۲، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ علی من سمع النداء۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی،ج۳، کتاب الجمعۃ، باب وجوب الجمعۃ علی من کان خارج المصر فی موضع یبلغہ الندآء۔
(۲۶) ابوداؤد،ج۱، تفریع ابواب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔ عن عبداللّٰہ ابن عمرو۔
(۲۷) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب من این توتی الجمعۃ وعلی من تجب۔٭ ابوداؤد،ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ ٭ ابوداؤد میں ’’ومن العوالی‘‘ تک روایت ہے۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج۳،کتاب الجمعۃ، باب مایستدل بہ علی ان غسل یوم الجمعۃ علی الاختیار۔
(۲۸) مسلم،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب وجوب غسل الجمعۃ علی کل بالغ من الرجال الخ۔
(۲۹) مسلم، ج۱،کتاب الجمعۃ، باب وجوب غسل الجمعۃ علی کل بالغ من الرجال الخ۔
(۳۰) بخاری،ج۱، کتاب الجمعۃ، باب وقت الجمعۃ اذا زالت الشمس۔

فصل :۸ دیہات میں نماز جمعہ اور مسلک حنفی

اس باب میں کچھ عرض کرنے سے پہلے ایک بات صاف کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ میری حیثیت ایک معاند کی نہیں ہے جو دلائل شرعیہ سے بے پرواہو کر محض اپنی رائے سے امور دینی میں ایک مسلک اختیار کرلیتا ہو، اور اہل علم کی حجتوں کا جواب مکابرہ سے دیتا ہو، بلکہ میں ایک طالب علم ہوں۔ اپنی حد استطاعت تک مسائل کی تحقیق کرنے کے بعد جس نتیجہ پر پہنچتا ہوں اس کا اظہار بے کم و کاست کردیتا ہوں۔ اور اگر میری رائے کے خلاف حجت قائم ہو جائے تو اس سے رجوع کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتا ہوں۔ جمعہ فی القریٰ کا مسئلہ چھیڑنے سے میرا مقصد کسی نئے فتنے کا دروازہ کھولنا نہیں ہے۔ دراصل حالات زمانہ کو دیکھتے ہوئے میں محسوس کررہا ہوں کہ اس وقت اس مسئلے کی چھان بین کرکے صحیح شرعی حکم معلوم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس لیے میں نے علمائے کرام کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جن بزرگوں کو اللہ نے علم شریعت دیا ہے وہ بھی مسئلے کی اہمیت کو محسوس فرمائیں اور اپنی تحقیق سے مجھے اور عام مسلمانوں کو استفادہ کا موقع دیں۔ البتہ چونکہ مسئلے کو چھیڑنے کا باعث میں خود ہوں ، اس لیے اپنی تحقیق کو واضح طور پر بیان کرنا مجھ پر لازم ہے۔
جمعہ فی القریٰ کے مسئلے پر اس سے پہلے جو بحث کی گئی تھی اس کی بنا چونکہ زیادہ تر آثار و سنن اور قیاس شرعی پر رکھی گئی تھی، اس وجہ سے غالباً بعض حضرات کو یہ شبہ ہوا کہ میں مسلک حنفی کا مخالف ہو کر خود ایک مجتہدانہ (جسے عرف عام میں غیرمقلدانہ کہا جاتا ہے) رائے ظاہر کررہا ہوں ۔ لہٰذا اب میں چاہتا ہوں کہ صرف مسلک حنفی کے مطابق اپنے دلائل بیان کروں۔
ہمارے سامنے چار امور تنقیح طلب ہیں، جن کے تصفیہ پر اس مسئلے کے تصفیہ کا مدار ہے:
۱- جمعہ کی فرضیت کیسی ہے؟
۲- جمعہ کی شرائط کیا ہیں اور کس نوعیت کی ہیں؟
۳- کیا ان شرائط میں کبھی ترمیم ہوئی ہے، اور کسی مزید ترمیم کی گنجائش بھی ہے؟
۴- اور کیا یہ جائز ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے ایک ایسا نظام اختیار کیا جاسکے جو فقہائے حنفیہ کے فتاویٰ سے چاہے مختلف ہو، مگر ان کے اصول کے خلاف نہ ہو؟
میں ان چاروں تنقیحات پر ترتیب وار بحث کروں گا۔

فرضیت جمعہ

تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ جمعہ فرض عین ہے۔ فقہائے حنفیہ بھی اس اجماع میں شریک ہیں۔ چنانچہ علامہ سرخسی اپنی کتاب ’’المبسوط‘‘ میں لکھتے ہیں ’’جمعہ ازروئے کتاب و سنت فرض ہے۔۔۔ اس کی فرضیت پر امت کا اجماع ہے۔‘‘
علامہ ابن ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں:
’’جمعہ ایک ایسا فرض ہے، جس کو محکم کرنے والی چیز کتاب و سنت ہے اور اس کے منکر کے کفر پر امت کا اجماع ہے۔‘‘
(ج۱، ص: ۴۰۷)
پھر نہایت تفصیل کے ساتھ دلائل فرضیت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ہم نے فرضیت کے باب میں ایک طرح کے طول کلام سے اس لیے کام لیا ہے کہ بعض جاہلوں کے متعلق سننے میں آیا ہے کہ وہ جمعہ کی عدم فرضیت کا خیال مذہب حنفی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان کی یہ غلط فہمی دراصل قدوری کے اس قول سے ہوئی جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے کہ ’’جس نے جمعہ کے روز بغیر کسی عذر کے گھر ہی پر ظہر کی نماز پڑھ لی اس کی نماز تو ہوگئی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔‘‘ اس قول میں مکروہ سے مراد دراصل حرام ہے، اور نماز ظہر کے صحیح ہوجانے کا جو مطلب ہے وہ ہم آگے بیان کریں گے۔ بہر حال ہمارے اصحاب (حنفیہ) نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جمعہ کی فرضیت ظہرکی فرضیت سے بھی زیادہ سخت ہے، اور یہ کہ جمعہ کا منکر کافر ہے۔‘‘
(ص :۴۰۸)
علامہ بابرتی شرح العنایہ علیٰ الہدایہ میں لکھتے ہیں:
’’ہم کو اقامت جمعہ کی خاطر نماز ظہر چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے اور ظہر لامحالہ فرض ہے، اور فرض صرف اسی چیز کے لیے چھوڑا جاسکتا ہے جو اس سے زیادہ فرض ہو۔‘‘ (ج ۱ ، ص :۴۰۸)
ان اقوال سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ استنباطی اور اجتہادی واجبات میں سے نہیں ہے، بلکہ نصوص صریحہ نے اس کو مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اس کی فرضیت اس نوع کی ہے کہ اس سے (یعنی اس کی فرضیت سے) انکار انسان کو کفر تک پہنچادیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فرض کو مسلمانوں کے کسی گروہ پر سے ساقط کرنے میں سخت احتیاط اور خشیت کی ضرورت ہے۔
اول تو فرص منصوص کو صرف نص ہی ساقط کرسکتی ہے۔ کسی انسان کا قول اس درجہ کی حجت نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر اسے ساقط کیا جاسکے۔
دوسرے اگر کسی امام یا فقیہ کے کسی قول سے اس کے اسقاط کا پہلو نکلتاہو، تو نہایت احتیاط کے ساتھ یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ قائل کا مدعا حقیقت میں ہے کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن حالات اور جن وجوہ سے اس نے یہ پہلو اختیار کیا تھا، وہ اپنی جگہ درست ہوں اور ہم وجوہ و احوال سے صرف نظر کرکے، مجرد اس کے الفاظ کی پیروی کرنے میںغلطی کررہے ہوں؟
پھر کسی فرض کو کسی حال یامقام پر غیر فرض قرار دینے میں جتنی احتیاط کی ضرورت ہے، اس سے بدرجہا زیادہ احتیاط کی ضرورت اسے ممنوع اور حرام اور گناہ قرار دینے میں برتنی چاہیے۔ فرض منصوص او ر حرمت و معصیت کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے، اس مسافت کو قطع کرنے کے لیے بڑی محکم سواری کی ضرورت ہے۔ کمزور سواریوں کے بل پر اس راہ میں آگے بڑھنا خطرناک ہے۔

شرائط جمعہ

اب دیکھنا چاہیے کہ جمعے کی وہ شرائط جن کے فقدان سے فرض کے سقوط کا حکم لگایا جاسکتا ہے، کون کون سی ہیں، اور ان کی کیا نوعیت ہے۔
حنفیہ کے نزدیک جمعہ کی شرائط دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو مصلی کی ذات میں پائی جانی چاہئیں۔ دوسری وہ جو خارج میں متحقق ہونی چاہئیں۔ پہلی قسم کی شرائط یہ ہیں کہ مصلی مقیم ہو، مسافر نہ ہو۔ آزاد ہو، مملوک نہ ہو۔ مرد بالغ ہو، بچہ یا عورت نہ ہو ، صحیح و تندرست ہو، بیمار یا معذور نہ ہو۔     (المبسوط ، ج۲، ص: ۲۲)
ان شرائط کا ماخذ علمائے حنفیہ نے ذیل کی حدیث کو قرار دیا ہے:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَعَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ اِلَّا مُسَافِرٌ وَ مَمْلُوْکٌ وَصَبِیٌّ وَاِمْرَاۃٌ وَمَرِیْضٌ۔
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ فرض ہے، مگر مسافر ، غلام ، بچہ ، عورت اور مریض اس سے مستثنیٰ ہیں۔‘‘
یہ رعایت جو مسافروں ، غلاموں، عورتوں اور مریضوں کے ساتھ کی گئی ہے۔ اس کے معنی صرف یہی ہیں کہ اگر یہ جمعہ میں شریک نہ ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کسی شخص نے بھی اس کا یہ مطلب نہیں سمجھا کہ ان کے لیے نماز جمعہ ممنوع ہے۔ نہ کسی نے یہ کہا کہ اگر وہ شریک جمعہ ہوں تو ترک ظہر کی وجہ سے گنہگارہوں گے۔ خود نبی ﷺ کے عہد میں عورتیں جمعہ کے لیے حاضر ہوتی تھیں۔ غلام بھی شریک ہوتے تھے ۔اندھوں کو بھی اگر کوئی ہاتھ پکڑ کر پہنچادینے والا مل جاتا تو وہ گھر نہ بیٹھے رہتے تھے۔ ان میں سے کسی شخص سے نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہوگیا، تم کو جمعہ کے بجائے ظہر پڑھنی چاہیے، ورنہ ترک ظہر کی وجہ سے گنہگار ہوگے۔ علامہ شرخسی لکھتے ہیں:
’’ یہ وجوب کی شرائط ہیں نہ کہ ادا کی شرائط۔ اگر مسافر اور غلام اور عورت اور مریض نماز جمعہ میں شریک ہوجائیں تو جائز ہو گا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتی تھیں۔ اور ان سے کہا جاتا تھا کہ خوشبو لگا کر نہ آیا کرو۔ ان لوگوں سے فرض کے سقوط کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس نماز میں کوئی ایسی بات ہے جو ان کی شرکت سے مانع ہو، بلکہ صرف ان کو تکلیف سے بچانے کے لیے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ اگر یہ اس تکلیف کو برداشت کرلیں تو پھر اداء نماز میں یہ بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ مساوی ہوں گے۔‘‘         (ج ۲، ص :۲۳)
دوسری قسم کی شرائط کو ادا، یا شرائط صحت قرار دیاگیا ہے یعنی اگر یہ نہ ہوں تو جمعہ ادا ہی نہ ہوگا۔ یہ چھ شرطیں ہیں۔ مصر، وقت، خطبہ، جماعت، سلطان، اذن عام۔ ان میں سے پہلی شرط یعنی مصر کی شرط ہی یہاں زیر بحث ہے، لیکن اس پر کلام کرنے سے پہلے یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ بجائے خود ان شرائط کی نوعیت کیا ہے؟
ان میں سے بعض شرائط ایسی ہیں جو نصوص قولی و عملی سے صریحا ًثابت ہیں، مثلاً وقت ،کہ اس کا وقت ظہر ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح خطبہ بھی صریحا ًشرط جمعہ ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے کبھی خطبہ کے بغیر جمعہ نہیں پڑھا اور قرآن میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اسی طرح جماعت کا بھی شرائط جمعہ میں سے ہونا ثابت ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اختلاف جو کچھ بھی ہوا ہے۔ مقدار جماعت میں ہوا ہے۔ اذن عام بھی رسول اکرمؐ اور صحابہ اور ائمہ کے متواتر عمل سے ثابت ہے اور اہم مصالح شرعیہ اس کی مقتضی ہیں۔
بخلاف اس کے مصر اور سلطان کی شرائط ایسی ہیں جن کا ماٰخذ کوئی نص صریح نہیں ہے، بلکہ زیادہ تر ان کا مدار  استنباط و اجتہاد پر ہے، اور اسی لیے ان کا شرط ادا ہونا بھی مختلف فیہ ہے۔
سلطان کی شرط کا ماٰخذ یہ حدیث ہے:
۶۸۔۔۔۔ فَمَنْ تَرَکَہَا تَہَا وُنًا وَاِسْتِخفَافًا بِحَقّہَا وَلَہُ اِمَام جَائِرٌ اَوْعَادِلٌ فَلَا جَمَعَ اللّٰہُ شَمْلَہُ اَلاَ فَلاصَلَاۃَ لَہُ، اَلَا فَلَا صَوْمَ لَہُ، اِلَّا اَنْ یَّتُوْبَ، فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔۔۔۔
’’۔۔۔  پس جس نے جمعہ کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اور اس کے حق کو ہلکا جان کر چھوڑ دیا۔ درآںحالیکہ اس کا کوئی ظالم یا عادل امام موجود ہو، تو خدا اس کی پراگندگی کو دور نہ کرے۔ جان رکھو کہ نہ اس کی نماز درست ، نہ اس کا روزہ درست، جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ اگر توبہ کرے گا تو اس کی توبہ اللہ قبول کرے گا۔۔۔۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ بُکَیْرٍ، اَبُوْ جَنَّابٍ (خَبَّابٍ) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِیُّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّہِ ﷺ، فَقَالَ : یٰاَیُّہَاالنَّاسُ! تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ قَبْلَ اَنْ تَمُوْ تُوْا وَبَادِرُوْا بِالْاَعْمَال الصَّالِحَۃِ قَبْلَ اَنْ تُشْغَلُوْا وَصِلُوا الَّذِیْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ بِکَثْرَۃِ ذِکْرِ کُمْ لَہُ وَکَثْرَۃِ الصَّدَقَۃِ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ تُرْزَقُوْا وَتُنْصَرُوْا وَتُجْبَرُوْا۔ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْکُمُ الْجُمُعَۃَ فِیْ مَقَامِیْ ہٰذَا، فِی یَوْمِیْ ہٰذَا، فِی شَہْرِیْ ہٰذَا، مِنْ عَامِیْ ہٰذَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ فَمَنْ تَرَکَہَا فِیْ حَیَاتِیْ ، اَوْبَعْدِیْ، وَلَہُ اِمَامٌ عَادِلٌ اَوْ جَائِرٌ اِسْتِخْفَافًا بِہَا، اَوْ جُحُوْدًا لَہَا ، فَلَا جَمَعَ اللّٰہُ لَہُ شَمْلَہُ، وَلَا بَارَکَ لَہُ فِیْ اَمْرہِ، اَلَا، وَلَا صَلوٰۃَ لَہُ ، وَلا زَکوٰۃَ لَہُ وَلَا حَجَّ لہُ، وَلا صَوْمَ لَہُ ، وَلا بِرَّ لَہُ حَتّٰی یَتُوْبَ، فَمَنْ تَابَ، تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ اَلا لَاتَؤُمَّنَّ اِمْرَاَۃٌ رَجُلًا، وَلَا یَؤُمُّ اَعْرَابِیٌّ مُہَاجِرًا، وَلَایَؤُمُّ فَاجِرٌ مُوْمِنًا اِلَّا اَنْ یَقْہَرَہُ بِسُلْطَانٍ یَخَافُ سَیْفَہُ وَسَوْطَہُ۔(۱)
ـــــــ فِی الزَّوَائِدِ: اِسْنَادُہٗ ضَعِیْفٌ لِضُعْفِ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جَدَعَانَ وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ الْعَدَوِیِّ۔
نیز حضرت حسن بصری کا یہ قول جس کو ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے:
۶۹۔اَرْبَعٌ اِلَی السُّلْطَانِ مِنْہَا اِقَامَۃُ الْجُمُعَۃِ وَالْعِیْدَیْنِ۔
ترجمہ:چار چیزیں سلطان سے متعلق ہیں، جن میں سے اقامت جمعہ و عید ین بھی ہے۔
تشریح:لیکن اوپر کی حدیث اور یہ اثر دونوں اس باب میں ناطق نہیں ہیں کہ امام یا سلطان کے بغیر اقامت جمعہ جائز ہی نہیں ہے۔ حدیث سے تو صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں اسلامی نظام جماعت قائم ہو، وہاں جمعہ کو ترک کرنا اور بھی زیادہ شدید گناہ ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کہے کہ جس نے مسجد میں چوری کی اس پر خدا کی لعنت ۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس شخص کے نزدیک چوری کا حرام ہونا، اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس کا ارتکاب مسجد میں ہو، بلکہ دراصل وہ ارتکاب فی المسجد کو ایک مزید وجہ شناعت کی حیثیت سے بیان کررہا ہے۔ بالکل اسی طرح حضورؐ نے بھی امام المسلمین کی موجودگی ، یا بالفاظ دیگر اسلامی نظام جماعت کی موجودگی کو ترک جمعہ کے لیے ایک اور سبب مردودیت کی حیثیت سے بیان فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری احادیث جن میں فرضیت جمعہ کی تاکید آئی ہے، امام کے ذکر سے خالی ہیں اور دوسری احایث میں تارک جمعہ کو جتنی توبیخ کی گئی ہے، اس حدیث میں اس سے زیادہ توبیخ پائی جاتی ہے۔
اسی طرح وہ اثر بھی جو ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے جمعہ کے لیے سلطان کے اشتراط پر دال نہیں ہے، اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار چیزوں کا اہتمام سلطان کو کرنا چاہیے، جن میں سے ایک اقامت جمعہ و عیدین ہے۔ اس سے یہ مطلب کیونکر نکالا جاسکتا ہے کہ اگر سلطان نہ ہو تو یہ کام بندرہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ لڑکی کی شادی کرنا باپ کا کام ہے تو اس کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ باپ نہ ہو تو لڑکی بیٹھی رہے۔
رہی مصر کی شرط، تو اس کا ماٰخذ یہ حدیث ہے:
لَا جُمُعَۃَ وَلَا تَشْرِیْقَ اِلَّا فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍ ۱؎
’’جمعہ اور عیدین مصر جامع کے سوا کہیں نہ پڑھی جائیں۔‘‘
نیز حضرت علیؓ کا یہ اثر کہ:
لَا جُمُعَۃَ وَلَا تَشْرِیْقَ وَلَا فِطْرَ وَلَا اَضْحٰی اِلَّا فِیْ مِصْرٍ جَامِعٍ ۔
’’جمعہ اور تشریق اور عید فطر اور عید الاضحیٰ مصر جامع کے سوا کہیں نہ پڑھیں جائیں۔‘‘
لیکن ’’مصر جامع‘‘ کی کوئی تعریف کسی نص سے ماخوذنہیں ہے۔ میں نے حتیٰ الامکان پوری جستجو کی، مگر مجھے ابھی تک کسی حدیث یا کسی اثر سے یہ نہ معلوم ہوسکا کہ مصر کی حد کیا ہے۔ فقہائے حنفیہ کی کتابوں میں مصر کی جو تعریفات بیان ہوئی ہیں، ان میں سے کسی میں بھی کسی حدیث یا اثر کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
یہ ہے ان دونوں شرطوں کاحال، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شرائط صحت و ادا ہونے میں کلام کیا جاسکتا ہے، اور کیا گیاہے۔ خود علمائے احناف نے وقتاً فوقتاً ان شرائط میں ترمیمیں کی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلک حنفی میں اتنی گنجائش ہے کہ حسب موقع و ضرورت ان میں قواعد شرعیہ کو ملحوظ رکھ کر مزید ترمیم کی جاسکے۔

قابل ترمیم شرائط

سب سے پہلے سلطان کی شرط کو لیجیے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو اس کے شرط جمعہ ہونے سے ابتدا ہی میں انکار کردیا تھا مگر خود فقہائے حنفیہ بھی بعد میں اس شرط کے اسقاط پر مجبور ہوگئے۔ جب تک ایسے سلاطین و امراء برسراقتدار رہے جو کسی حد تک اپنے فرائض دینی کا احساس رکھتے تھے، اس وقت تک تو حنفیہ کو اپنے اس فتوے میں بظاہر کوئی قباحت نظر نہ آئی کہ ’’جمعہ کی اقامت اذن سلطان کے ساتھ مشروط ہے اور سلطان کے بغیر اقامت جمعہ جائز نہیں۔‘‘ مگر جب دین سے غافل حکام و سلاطین کا دور آیا تو فقہاء نے محسوس کیا کہ شرط سلطان نے ایک دینی فرض کو دنیوی سلاطین کی مرضی پر موقوف کردیا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ نہ چاہیں تو فرض ہی ساقط ہواجاتا ہے۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر حکام غفلت برتیں تو جمعہ مسلمانوں کی باہمی رضامندی پر قائم کیا جائے۔ پھر وہ دور آیا جب اسلامی ممالک پر کفار مسلط ہونے لگے اور بڑی بڑی اسلامی آبادیاں سلطان اسلام سے کلیۃً محروم ہوگئیں۔ اس وقت فقہاء کو یہ فتویٰ دینا پڑا:
وَاَمَّافِی الْبَلَادِ عَلَیْہَا وُلَاۃٌ کُفَّارٌ فَیَجُوْزُ لِلْمُسْلِمِیْنَ اِقَامۃُ الْجُمُعِ وَالْاَعْیَادِ وَیَصِیْرُ الْقَاضِیُ قَاضِیًا بِتَرَاضِی الْمُسْلِمِیْنَ وَیَجِبُ عَلَیْہِمْ طَلَبُ وَالٍ مُسْلِمٍ۔ (شامی)
’’رہے وہ ممالک جن پر کافر حکام مسلط ہیں، تو ان میں مسلمانوں کے لیے اقامت جمعہ و عیدین کا خود انتظام کرلینا جائز ہے۔ اور وہاں مسلمانوں کی باہمی رضامندی سے جو قاضی مقررہو، وہ قاضی ہوسکتا ہے اور ان پر مسلمان حاکم کی طلب واجب ہے۔‘‘
اس طرح وہی شرط، جو پہلے شرط ادا سمجھی گئی تھی، شرط وجوب بھی نہ رہی، اور تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ سلطان اسلام کی موجودگی سرے سے شرط جمعہ ہی نہیں ہے۔
یہیں سے نبی اور مجتہد کا فرق واضح ہوتا ہے۔ نبی کی بصیرت براہ راست علم الٰہی سے مستفاد ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے احکام تمام ازمنہ و احوال کے لیے مناسب ہوتے ہیں، مگر مجتہد خواہ کتنا ہی باکمال ہو، زمان و مکان کے تعینات سے بالکل آزاد نہیں ہوسکتا، نہ اس کی نظر تمام ازمنہ و احوال پر وسیع ہوسکتی ہے، لہٰذا اس کے تمام اجتہادات کا تمام زمانوں اور تمام حالات کے مطابق ہونا غیر ممکن ہے۔
جن لوگوں کو اللہ نے تفقہ فی الدین کی نعمت سے نوازا تھا، وہ چوتھی صدی ہجری کے بعد بھی اس راز کو سمجھتے تھے اور تغیر احوال کے ساتھ اپنے مذہب فقہی کے جزوی احکام میں مناسب ترمیم کردیتے تھے اور ان کی ترمیمات ، اجتہادی ترمیمات ہونے کے باوجود اسی مذہب کا ایک جزوبن جاتی تھیں جس کے وہ متبع ہوتے تھے۔ مگر افسوس کہ دور انحطاط کے لوگ امام کی نص کو خدا اور رسولؐ کی نص کی طرح محکم اور اٹل سمجھنے لگے اور انہوں نے اس بات کو گناہ سمجھ لیا کہ مجتہد کے کسی قول پر جو فتویٰ مبنی ہو، اس میں تغیر احوال کے ساتھ کوئی ترمیم کی جائے، خواہ اس سے خدا اور رسولؐ ہی کا کوئی حکم منصوص کیوں نہ ساقط ہوجائے۔ چنانچہ اسی قسم کے بعض فقہاء جامد نے انگریزی تسلط کے بعد ہندوستان میں فتوے دینے شروع کردیے تھے کہ اب یہاں اقامت جمعہ جائز نہیں، کیونکہ سلطان اسلام کے اٹھ جانے سے اقامت جمعہ کی ایک شرط مفقود ہوگئی ہے، مگر خوش قسمتی سے اس وقت ہندوستان میں ایسے علماء بھی موجود تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے علم حق سے سرفراز فرمایا تھا۔ انہوں نے اٹھ کر سختی کے ساتھ اس تحریک کی مخالفت کی، حتیٰ کہ مولانا عبدالحی فرنگی محلی نے زیادہ درشت الفاظ میں یہاں تک لکھ دیا:
اِنَّہُ،لَا شَکَّ فِیْ وُجُوْبِ الْجُمُعَۃِ وَصِحَّۃِ اَدَائِہَا فِیْ بِلَادِ الْہِنْدِ الَّتِیْ غَلَبَتْ عَلَیْہِ النَّصَاریٰ وَجَعَلُوْا عَلَیْہَا وُلَاۃً کُفَّارًا وَذَالِکَ بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِیْنَ وَتَرَاضِیْہِمْ وَمَنْ اَفْتٰی بِسُقُوْطِ الْجُمُعَۃِ لِفَقْدِ شَرْطِ السُّلْطَانِ فَقَدْ ضَلَّ وَاَضَلَّ۔
’’اس میں شک نہیں کہ بلا دہند میں جہاں نصاریٰ کا غلبہ ہوگیا ہے اور انہوں نے کافر حکام مقرر کردیے ہیں، جمعہ واجب ہے، اور مسلمانوں کے باہمی اتفاق اور رضا مندی سے اس کو ادا کرنا درست ہے۔ جس کسی نے سقوط جمعہ کا فتویٰ دیا وہ خود بھی گمراہ ہوا اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔‘‘
اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام ہندوستان کے حنفی، عالم اور عامی سب اس ملک میں جمعہ پڑھ رہے ہیں۔۱؎ حالانکہ ہدایہ کی یہ عبارت اب بھی پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے کہ :
لَا یَجُوْزُ اِقَامَتُہَا اِلَّا لِسُلْطَانٍ اَوْ لِمَنْ اَمَرَہُ السُّلْطَانُ۔
’’اور جائز نہیں ہے جمعہ کا قائم کرنا سوائے سلطان کے یا ایسے شخص کے جس کو سلطان نے حکم دیا ہو۔ ‘‘
اگر احوال کے لحاظ سے مجتہدین کے احکام میں جزوی ترمیم کرنا بھی غیر مقلدیت ہے تو ایسی غیر مقلدیت میں تمام احناف ہند پہلے مبتلا ہوچکے ہیں۔

شرط مصر

شرط سلطان کی طرح شرط مصر کو بھی امام شافعیؒ اور امام مالکؒ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ جنگلوں اور خیموں اور عارضی فرود گاہوں میں جمعہ قائم کرنا درست نہیں۔ یہ امر بھی متفق علیہ ہے کہ جمعہ کے لیے ایک نوع کا تمدن ضروری ہے مگر اس امر میں اختلاف ہے کہ جمعہ کتنی بڑی بستی میں قائم کیا جاسکتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ جس جگہ کم از کم چالیس آدمیوں کی مستقل بستی ہو (یعنی وہ گرمی جاڑے میں مہاجرت نہ کرتے رہتے ہوں) وہ مقام اقامتِ جمعہ کا ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک چالیس آدمیوں سے کم کی بستی میں بھی اقامت جمعہ ہوسکتی ہے، مگر حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اقامت جمعہ کے لیے ’’مصر جامع‘‘ ہونا چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ ’’ مصر جامع‘‘ کا لفظ حدیث میں آیا ہے۔ مگر جیسا کہ میں اوپر عرض کرچکا ہوں ، اس کی کوئی حد نہ اس حدیث میں مذکور ہے نہ کسی دوسری مرفوع یا موقوف روایت میں۔ اسی لیے اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، اور اجتہاد ہی سے مختلف زمانوں میں مختلف حدیں مقرر کی گئی ہیں، حتیٰ کہ ایک ہی امام نے مختلف اوقات میں اس کی مختلف حدیں بیان کی ہیں۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے تین مختلف تعریفیں منقول ہیں:
۱۔ مصر جامع وہ ہے جہاں امیر اور قاضی احکام اسلامی کی تنفیذ اور حدود شرعی کی اقامت کرتا ہو۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے بھی ایک قول اسی مضمون کا منقول ہے، اور کرخی وغیرہ فقہاء نے اس کو اختیار کیا ہے۔
۲۔ مصر وہ مقام ہے جس کے باشندے (یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے) اگر سب کے سب وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوجائیں تو وہ ان کے لیے کافی نہ ہو اور ایک دوسری مسجد بنانے کی ضرورت پڑجائے۔ اس رائے کو   ابن شجاع نے پسند کیا ہے اور ابو عبداللّٰہ الثلجی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
۳۔ مصر وہ جگہ ہے جہاں کم از کم دس ہزار کی آبادی ہو۔
ظاہر ہے کہ یہ تینوں تعریفیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک ہی امام نے ان کو مختلف اوقات میں اختیار کیا ہے۔ پھر بعد کے مختلف فقہاء نے اپنی پسند کے مطابق ان میں سے بعض کو رد اور بعض کو قبول کیا حالانکہ وہ مجتہد مطلق نہ تھے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے ایک قول تووہ منقول ہے جو اوپر بیان ہوا۔ اور انہی سے دوسرا قول یہ روایت کیا گیا ہے کہ:
’’مصر وہ ہے جہاں سڑکیں اور بازار ہوں، محلے ہوں، کوئی والی ظالم سے مظلوم کا انصاف لینے والا ہو اور کوئی عالم موجود ہو جس سے مسائل شرعیہ میں رجوع کیاجاسکے۔‘‘              (ہدایہ، فتح القدیر و شرح العنایہ علی الہدایہ، ج۱، ص :۴۰۹، ۴۱۱)
اس طرح امام اعظمؒ نے دو مرتبہ اور امام ابو یوسف نے تین مرتبہ مصر کی تعریف میں ترمیم فرمائی۔ اس کے بعد مختلف لوگوں نے مختلف تعریفیں کیں اور ترمیمات کا سلسلہ جاری رہا۔ مثلاً علامہ سرخسی لکھتے ہیں:
’’ہمارے بعض مشائخ کا قول ہے (بلا اس تصریح کے کہ وہ مشائخ ہیں کون؟) کہ مصر وہ ہے جہاں ہر پیشے کا آدمی اسی مقام پر کام کرکے گزر بسر کرسکتا ہو۔ اور اسے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔‘‘        (کتاب المبسوط ، ج ۲، ص: ۲۴)
ایک اور تعریف ’برجندی‘ نے ’کنزالعباد‘ سے نقل کی ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک:
’’مصر وہ ہے جہاں ہر روز ایک بچہ پیدا اور ایک آدمی مرے‘‘۔
ایک اور تعریف ’کنز العباد‘ میں کسی نامعلوم الاسم فقیہ سے نقل کی گئی ہے کہ:
’’مصر وہ ہے جس کی مردم شماری بغیر انتہائی تکلیف اور سخت مشقت کے معلوم نہ کی جاسکے۔‘‘
اسی قسم کی اور تعریفات کا سلسلہ قریب قریب ہر زمانے میں برابر جاری رہا ہے حتیٰ کہ ہم سے بہت قریبی دور میں بھی مختلف علماء نے مختلف تعریفیں کی ہیں، جن کی تعداد درجنوں سے متجاوز ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کی تعریف خود حنفیہ میں مختلف فیہ ہے۔ مصر کوئی متعین چیز نہیں ہے۔ اگر اب اس کی کوئی نئی تعریف کی جائے تو حنفیت سے خارج ہو کر غیرمقلدیت کے دائرے میں چلے جانے کا خطرہ نہیں ہے، اور سب سے زیادہ یہ کہ اگر حنفیہ ہی کے اصول پر مصر کے مفہوم کا تعین اس طرح کیا جائے کہ اس سے اسقاط فرض کے بجائے اقامت فرض میں مدد ملتی ہو، تو وہ اہل تقویٰ کے لیے زیادہ قابل قبول ہونا چاہیے۔

آخری تنقیح

اب میں آخری تنقیح کی طرف توجہ کرتا ہوں جس پر مسئلے کے تصفیہ کا مدار ہے۔ اس تنقیح کے الفاظ پھر ایک مرتبہ ملاحظہ فرما لیجیے:
’’کیا یہ جائز ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے ایک ایسا نظام اختیار کیا جاسکے جو فقہائے حنفیہ کے فتاویٰ سے چاہے مختلف ہو۔ مگر ان کے اصول کے خلاف نہ ہو۔‘‘
اوپر میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ اگر شرط سلطان کو بالکل ساقط کردینے اور مصر کی تعریفات میں پے درپے ترمیمات کرنے کے باوجود حنفیت کے دائرے سے کوئی شخص خارج نہیں ہوتا، تو کوئی وجہ نہیںکہ اس مذہب کے دائرے میں ادائے فرض کے کسی ایسے نظام کی گنجائش نہ ہو، جو اصول مذہب حنفی پر پورا اترتا ہو۔ لہٰذا اب مجھ پر صرف اس امر کا بار ثبوت رہ جاتا ہے کہ جو نظام میں تجویز کررہا ہوں وہ اصول مذہب حنفی کے مطابق ہے۔
میں نے جہاںتک احکام پر غور کیا ہے، اس سے مجھے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز جمعہ کو منتشر طور پر چھوٹے چھوٹے قریوں میں الگ الگ ادا کرنا مقاصد جمعہ کے لیے مفید نہیں ہے۔ اس لیے شارع نے حکم دیا کہ جمعہ ’’مصر جامع‘‘ میں ادا کیا جائے۔ ’’مصر جامع‘‘ کا لفظ خود اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ اس سے مراد کوئی ایسی بستی ہے جو چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو یکجا کرنے والی، یا جامع الجماعات ہو۔ یعنی جہاں بہت سی چھوٹی بستیوں کے لوگ اکٹھے ہو کر جمعہ ادا کریں ۔ اس غرض کے لیے دوکانوں اور بازاروں، اور آبادی کی تعداد، اور ایسی ہی دوسری چیزوں کو مصر کی جامعیت میں کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ اقامت جمعہ سے ان اجزائے مصر کا براہ راست کوئی تعلق ہے کہ جمعہ کی نماز اپنی صحت کے لیے بازار اور بہت سی دوکانیں مانگتی ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ایسی بستی کی ضرورت ہے جو مرکزی حیثیت رکھتی ہو، تا کہ اطراف کے منتشر مسلمان وہاں مجتمع ہوجائیں۔ اگر کوئی بڑا شہر موجود ہو، جسے تمدن نے خود ہی ایک مرکزی حیثیت دے رکھی ہو تو بہت اچھا، ورنہ امام وقت  جس بستی کو مناسب سمجھے ’’مصر جامع قرار دے کر اطراف کے لوگوں کو وہا ں جمع ہونے کا حکم دے سکتا ہے ۔ چنانچہ علاّمہ ابن ہمام  فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ :
وَلَوْ مَصَّرَ الْاِمَامُ مَوْضِعًا وَاَمَرَ ہُمْ بِالْاِقَامَۃِ فِیْہِ جَازَ، وَلَوْ مَنَعَ اَہْلُ مِصْرٍ اَنْ یَجْمَعُوْا لَمْ یَجْمَعُوْا۔
’’اگر امام کسی جگہ کو مصر ٹھہرادے اور لوگوں کو وہاں جمعہ قائم کرنے کا حکم دے تو وہاں نماز جائز ہے، اور اگر کسی مقام کے باشندوں کو جمعہ قائم کرنے سے منع کردے تو ان کو قائم نہ کرنا چاہیے۔‘‘                     (ج۱ ، ص ۴۰۹)
لیکن اگر امام موجود نہ ہو تو جس طرح مسلمانوں کی تراضی سے جمعہ قائم ہوسکتا ہے اور جس طرح ان کی تراضی سے قاضی مقرر ہوسکتا ہے، اسی طرح ان کی تراضی ، امام کی قائم مقام بن کر ، کسی بستی کو ’’مصر جامع‘‘ بھی ٹھیراسکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کون سی نص مانع ہے، یا یہ بات اصول میں سے کس اصل کے خلاف پڑتی ہے۔
مصر جامع کی شرط لگانے سے شارع کا منشا تو یہ تھا کہ دیہات کے لوگ فریضہ جمعہ کو منتشر طور پر ادا کرنے کے بجائے ایک مرکزی مقام پر مجتمع ہوکر ادا کریں ۔ مگر نہ معلوم کن وجوہ سے اس شرط کے معنی بالکل الٹ دیئے گئے اور دیہات کے لوگوں کو اجتماع کا حکم دینے کے بجائے الٹا فریضہ جمعہ ہی سے سبکدوش کردیا گیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوئی کہ لفظ ’’مصر‘‘ سے علماء کاذہن ’’شہر‘‘ کے عرفی مفہوم کی طرف منتقل ہوگیا اور انہوں نے حدیث کا مطلب یہ سمجھا کہ جمعہ صرف شہروں میں قائم کیا جاسکتا ہے۔ پھر چونکہ شہر بہت دور دور ہوتے ہیں، اور مسافت بعیدہ طے کرکے ان کی طرف جانے سے آدمی مسافر کی تعریف میں آجاتا ہے، جس پر جمعہ ازروئے نص فرض ہی نہیں ہے۔ اس لیے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مضافات شہر کے سوا باقی تمام دیہات کے باشندوں پر سے فریضہ جمعہ ساقط ہے۔ حالانکہ جس چیز کو قرآن اور احادیث مشہورہ اور سنت و اجماع نے مسلمانوں پر فرض عین ٹھیرایا ہو، اسے دیہات کے رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کے لیے غیر فرض بنادینا، اور وہ بھی ایک ضعیف الاسناد، مختلف فیہ اور مبہم المعنی حدیث کی بناء پر کسی طرح مقتضائے احتیاط نہیں ہے۔ حدیث نے تو اقامت جمعہ کے لیے محض ’’مصر جامع‘‘ کی شرط لگائی ہے۔ مردم شماری کی ایک خاص مقدار اور دوکانوں کی ایک خاص تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی تصریح اس میں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ چیزیں بجائے خود اقامت جمعہ کے لیے شرط منصوص نہیں ہیں، بلکہ ان کو اس مفہوم نے شرط بنایا ہے جو لفظ مصر سے علما نے سمجھا۔ بالفاظ دیگر فریضہ منصوصہ کو دیہات کے مسلمانوں پر سے ساقط کرنے والی چیز خود نص نہیں ہے، بلکہ وہ مفہوم ہے جو نص سے اخذ کیا گیا ہے۔ اگر اس مفہوم کے سوا نص کا کوئی اور مفہوم نہ ہوتا، یا نص اپنے الفاظ میں صریح ہوتی، تو بلا شبہ اس کی بناء پر اسقاط فرض درست ہوتا۔ مگر جب کہ اس کا کوئی دوسرا مفہوم بھی ہوسکتا ہے، تو میرے نزدیک تقویٰ اور خشیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسقاط فرض کا راستہ کھولنے والے مفہوم کی بہ نسبت اقامت فرض کا راستہ کھولنے والا مفہوم زیادہ لائق ترجیح ہو۔
میں نے مصر کی جو تعریف کی ہے اس کو اختیار کرنے سے اکثر و بیشتر دیہاتی مسلمانوں کے لیے، بلکہ خانہ بدوش مسلمانوں کے لیے صحیح شرعی طریق پر جمعہ ادا کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دیہی علاقوں کو چھوٹے چھوٹے حلقوں میں تقسیم کیا جائے، جن کا دور مقامی حالات کا لحاظ کرتے ہوئے، ۴-۵ میل سے لے کر ۸-۹ میل تک ہو۔ ان حلقوں میں ایک مرکزی مقام کو مسلمان باشندوں کی باہمی رضامندی سے مصر جامع قرار ددے دیا جائے اور گردوپیش کے دیہات کو توابع مصر قرار دے کر اعلان کردیا جائے کہ ان کے مسلمان باشندے وہا ںآکر جمعہ کی نماز ادا کریں۔ یہ نظام نہ صرف احادیث صحیحہ کی رو سے درست ہوگا۔ بلکہ فقہائے حنفیہ کی تصریحات کے بھی خلاف نہ ہوگا۔ فقہانے توابع مصر کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ بعض لوگوں نے توابع مصر کی حد ۹ میل مقرر کی ہے، بعض نے دو میل ، بعض نے چھ میل اور بعض کہتے ہیں کہ ’’جس مقام سے مصر میں آکر نماز ادا کرنے کے بعد آدمی رات ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ سکے۔ وہ توابع مصر میں شمار ہوگا۔‘‘ صاحب بدائع نے اسی آخری تعریف کو پسند کیا ہے، اور حدیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے:
عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: الْجُمُعَۃُ عَلیٰ مَنْ اٰوَاہُ الْلَّیْلُ اِلیٰ اَہْلِہِ۔
 اس حدیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے، لیکن یہ مضمون متعدد طریقوں سے حضرت ابوہریرہؓ، حضرت انسؓ ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت معاویہ سے منقول ہوا ہے اور اسے نافع، حسن اور عکرمہ اور ابراہیم نخعی اور عطا اور اوزاعی اور ابوثور نے قبول کیا ہے۔
’’نبی ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ اس پر فرض ہے جو رات سے پہلے اپنے گھر پہنچ جائے۔‘‘
اور بخاری میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:
کَانَ النَّاسُ یَنْتَابُوْنَ الْجُمُعَۃَ مِنْ مَّنَازِلِہِمْ وَالْعَوَالِیْ ۔
’’لوگ جمعہ کے روز اپنی فرود گاہوں اور عوالی سے آیا کرتے تھے۔‘‘
ابوہریرہؓ ہی سے مروی ایک اور روایت ہے:
۷۰۔قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلَا ہَلْ عَسٰی اَحَدُکُمْ اَنْ یَّتَّخِذَ الصُّبَّۃَ مِنَ الْغَنَمِ عَلیٰ رَاْسِ مِیْلٍ اَوْ مِیْلَیْنِ فَتَعَذَّرَ عَلَیْہِ الْکَلَائُ فَیَرْ تَفِعُ ثُمَّ تَجِیُٔ الْجُمُعَۃَ فَلَا یَجِیئُ وَلَا یَشْہَدُہَا (ثَلَاثًا) حَتّٰی یُطْبَعَ عَلیٰ قَلْبِہ۔
’’حضور ﷺ نے فرمایا کہ سنو! تم میں سے ایک شخص بکریوں کا ریوڑ لیے ہوئے چارے کی تلاش میں تو میل دو میل چلا جائے، مگر جب جمعہ آئے تو اس میں شریک ہونے کے لیے یہاں نہ آئے۔ (یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ دہرایا، پھر فرمایا) ایسے شخص کے دل پر مہر لگائی جائے گی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مَعْدِی بْنُ سُلَیْمَانَ، ثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ  اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلَا ھَلْ عَسٰی اَحَدُکُمْ اَنْ یَّتَّخِذَ الصُّبَّۃَ مِنَ الْغَنَمِ عَلیٰ رَاْسِ میْلٍ اَوْ مِیْلَیْنِ فَیَتَعَذَّ رُ عَلَیْہِ الْکَلَائُ فَیَرْتَفِعُ ثُمَّ تَجِـْیُٔ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَجِـْیُٔ وَلَا یَشْہَدُ ہَا وَتَجِـْیُٔ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُہَا وَتَجِـْیُٔ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُ ہَا حَتّٰی یُطْبَعَ عَلیٰ قَلْبِہِ  ۔ (۲)
ترجمہ ص ۳۷۴ پر آچکا ہے۔
(۲) اَلَاہَلْ عَسٰی رَجُلٌ یَتَّخِذُ الصُّبَّۃَ مِنْ غَنَمٍ عَلیٰ رَاْسِ مِیْلَیْنِ اَوْثَلَاثَۃٍ فَتَاْتِیْ عَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُ ہَا، ثُمَّ تَاْتِیْ عَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُ ہَا، فَیَطْبَعُ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہ۔(۳)
ترجمہ:’’حضور ﷺ نے فرمایا کہ سنو! ایک آدمی بکریوں کا ریوڑ لیے ہوئے چارے کی تلاش میں تو دو تین میل چلاجائے مگر جب جمعہ آئے تو اس میں شریک ہونے کے لیے نہ آئے ۔ پھر جمعہ آئے مگر وہ پھر بھی شرکت کے لیے نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍٍ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : عَسٰی اَحَدُکُمْ اَنْ یَّتَّخِذَ الصُّبَّۃَ مِنَ الْغَنَمِ عَلیٰ رَاْسِ الْمِیْلَیْنِ اَوِالثَّلَا ثَۃِ فَتَکُوْنُ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُہَا، ثُمَّ تَکُوْنُ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُہَا، ثُمَّ تَکُوْنُ الْجُمُعَۃُ فَلَا یَشْہَدُہَا، فَیَطْبَعُ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔(۴)
ترجمہ: ’’ایسا تو ممکن ہے کہ تم میں سے ایک آدمی بکریوں کا ریوڑلیے ہوئے چارے کی تلاش میں دو تین میل چلاجائے ، مگر جمعہ آجائے تو اس میں شریک ہونے کے لیے نہ آئے۔ پھر جمعہ آئے تو وہ پھر بھی شریک جمعہ نہ ہو۔ پھر تیسری مرتبہ جمعہ آئے مگر وہ پھر بھی جمعہ کی نماز میں شریک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل پر مہر لگادیتا ہے۔ ‘‘
بیہقی فی شعب الایمان میں حضرت جابرؓ سے مروی روایت منقول ہے:
(۴) عَسٰی رَجُلٌ تَحْضُرُ الْجُمُعَۃُ وَہُوَ عَلیٰ قَدْرِ میْلٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ لَا یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ عَسٰی رَجُلٌ تَحْضُرُ الْجُمُعَۃُ وَہُوَ  عَلیٰ قَدْرِ مِیْلَیْنِ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ لَا یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ عَسیٰ رَجُلٌ یَکُوْنُ عَلیٰ قَدْرِ ثَلاَ ثَۃِ اَمْیَالٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ لَا یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ فَیَطْبَعُ اللّٰہُ عَلیٰ قَلْبِہِ۔(۵)
ترجمہ:ایسا بھی ہے کہ ایک آدمی مدینہ سے میل کے فاصلہ پر ہو اور جمعہ کا وقت آجائے مگر وہ شریک جمعہ نہ ہو اور یہ بھی کہ جمعہ کا وقت آجائے اور ایک آدمی دو میل کے فاصلہ پر ہوتے ہوئے بھی جمعہ میں شرکت نہ کرے اور یہ بھی کہ ایک آدمی     تین میل کے فاصلہ پر ہوتے ہوئے بھی جمعہ کے آنے پر اس میں شریک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
تشریح: ان احادیث سے اور فقہاء کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ توابع مصر کی حد چھ سات میل یا اس کے قریب قریب ہے، جہاں کے باشندے نماز پڑھ کر شام تک اپنے گھر پہنچ سکیں۔ اس حد کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں پر، خواہ وہ مستقل دیہات میں رہتے ہوں، یا خانہ بدوش ہوں، مصر جامع میں حاضر ہوکر نماز جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔
جیسا کہ ابن ہمام نے فتح میں لکھا ہے:
وَمَنْ کَانَ مِنْ مَّکَانٍ مِّنْ تَوَابِعِ الْمِصْرِ فَحُکْمُہُ حُکْمُ اَہْلِ الْمِصْرِ فِیْ وُجُوْبِ الْجُمُعَۃِ عَلَیْہِ بِاَنْ یَّاْتِیَ الْمِصْرَ فَلْیُصَلِّیْہَا فِیْہِ۔                      (ج۱، ص ۴۱۱)
’’اور جو شخص توابع مصر میں سے کسی جگہ ہو، اس کے لیے خود اہل مصر کی طرح جمعہ واجب ہے۔ اسے مصر میں حاضر ہو کر نماز ادا کرنی چاہیے۔‘‘

تغیر فتویٰ کی دینی ضرورت

بحث کے اس خلاصہ کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اقامت جمعہ کا جو نظام میں تجویز کررہا ہوں ، اس کے لیے مذہب حنفی میں پوری گنجائش موجود ہے، اور اسے ناجائز ٹھیرانے کے لیے حقیقتاً کوئی بنیاد موجود نہیںہے۔ اب میں مختصراً یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کا ایک نظام تجویز کرنے کی ضرورت کیا پیش آئی ہے اور شرعی نقطہ نظر سے اس ضرورت کی اہمیت کیا ہے۔
ہندوستان میں جب تک مسلمانوں کی حکومت تھی، خواہ وہ شرعی حیثیت سے کتنی ہی ناقص ہو، بہر حال اس کی وجہ سے اسلام کا اجتماعی نظام کسی نہ کسی حد تک ضرور قائم تھا۔ کم از کم اتنا تو تھا کہ اسلامی قوانین مسلمان حاکموں کے ذریعہ سے نافذ ہوتے تھے اور ہماری قوم کے عوام و خواص ، شہری اور دیہاتی اپنی زندگی کے معاملات میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔ افراد امت کو ایک دینی سر رشتہ سے وابستہ رکھنے کا یہ ایک قوی ذریعہ تھا۔ مگر جب وہ نیم اسلامی حکومت بھی ختم ہوگئی تو امت کو باہم مربوط رکھنے کے لیے کوئی نظام باقی نہ رہا۔ اب لے دے کر ہماری جمعیت ، بلکہ حیات ملی کا تمام تر انحصار ان روابط پر رہ گیا ہے جو عقائد ، عبادات اور تمدن و معاشرت کے شرعی قوانین سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہی کی طاقت سے ہمارے طاقت ہے۔ ان کی کمزوری سے ہماری کمزوری ہے اور ان کی موت سے ہماری موت ہے۔ ابھی تک بے شمار مخالف اسباب کی کارفرمائی کے باوجود شہروں میں یہ روابط نسبتاً کافی طاقتور ہیں، مگر دیہات میں مسلمانوںکی چھوٹی چھوٹی منتشر آبادیاں جو لاکھوں میل کے رقبہ پر پھیلی ہوئی ہیں، ان کو دینی رابطہ میں جوڑنے والا سررشتہ اَب اس درجہ کمزور ہوچکا ہے کہ ایک اشارہ میں ٹوٹ سکتا ہے۔ وہ منتشر بھیڑوںکی طرح ہر گمراہ کن بھیڑیے کے لیے آسان شکار بن گئے ہیں، اور جہاں وہ قلیل التعداد ہیں، وہاں تو ان کی جان ومال اور عزت و آبرو تک محفوظ نہیں۔ اس صورت حال کی اصلاح اگر جلدی نہ کی گئی تو آپ دیکھیں گے کہ دیہات کی مسلمان آبادیاں فوج در فوج امت سے کٹتی چلی جائیں گی اور ان کا کٹ جانا گویا امت کا ختم ہوجاناہے، کیونکہ ہماری آٹھ کروڑ آبادی میں سے کم از کم ساڑھے چھ کروڑ افراد دیہات میں آباد ہیں۔
اب اگر محض غیر قوموں کی تقلید کرنی ہو، تو دیہات سدھار کے بہت سے پروگرام بن سکتے ہیں، اور بن رہے ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ایسے پروگرام سے اسلامی جمعیت اور دینی شیرازہ بندی ممکن نہیں۔ اسلامی جمعیت تو صرف رابطہ دینی کو مضبوط کرنے سے پیدا ہوسکتی ہے، اور اس کو مضبوط کرنے کے جتنے طریقے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ دیہات میں اقامت جمعہ کا نظام قائم نہ کردیا جائے۔ دینی اصلاح و تنظیم کی راہ میں پہلا قدم ، منتشر افراد اور پراگندہ ٹکڑیوں میں دین کے واسطے سے ربط و مرکزیت سے پیدا کرنا ہے اور اس ربط و مرکزیت کو پیدا کرنے کی بہترین صورت جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پسند فرمائی ہے، وہ اقامت جمعہ ہے۔ ( تفہیمات دوم:دیہات میں۔۔۔)

ماخز

(۱) ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب فی فرض الجمعۃ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۳، کتاب الجمعۃ۔ ٭ شعب الایمان، ج ۳، ص ۱۰۵-۱۰۶، حدیث نمبر ۳۰۱۴۔
(۲) ابن ماجہ: باب فرض الجمعۃ، باب فیمن ترک الجمعۃ من غیر عذر۔ ٭ شعب الایمان ج ۳، ص ۱۰۴، ۱۰۵ حدیث نمبر ۳۰۱۱۔
(۳) کنزالعمال، ج ۷، ص۷۳۱ ٭ بیہقی فی شعب الایمان ج ۳، حدیث نمبر ۳۰۱۰٭ ابن عدی فی الکامل عن ابن عمر۔
(۴) مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲، کتاب الصلوات، باب فی تفریط الجمعۃ وترکہا۔٭ کنزالعمال ،ج۷، ص ۷۳۲۔
(۵) کنزالعمال، ج ۷، ص ۷۳۱۔ ٭ شعب الایمان ج ۳، حدیث نمبر ۳۰۱۲۔

فصل :۹ نماز اور خطبہ جمعہ کی زبان چند ضروری مقدمات

قبل اس کے کہ اصل مبحث پر کچھ عرض کیا جائے ، چند مقدمات ذہن نشین کرلیجیے کہ ان سے ہمارے آئندہ بیانات کو سمجھنے میں سہولت ہوگی:
(۱) یہ امر مسلم ہے کہ شریعت حقہ کی بنیاد حکمت اور مصلحت پر قائم ہے۔ شارع حکیم نے کوئی حکم بھی بے معنی اور بے مقصد نہیں دیا ہے۔ نہ کسی حکم کو بجالانے کا طریقہ مقرر کرنے میں کہیں حکمت و مصلحت کو نظر انداز کیا ہے۔ جب یہ مسلم ہے تو لامحالہ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ شریعت کا صحیح اتباع تفقہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جو شخص یہ نہیں جانتا کہ کسی کام کا حکم دینے، یا کسی فعل سے منع کرنے میں شارع کے پیش نظر کون سا مقصد یا کون سی مصلحت ہے، اور جو شخص یہ نہیں سمجھتا کہ کسی حکم کی بجاآوری کے لیے شارع نے جو عملی صورت مقرر کی ہے۔ اس خاص صورت میں کیا حکمت مد نظر ہے، اور اصل مقصد کی تحصیل میں کون کون سا جزئیہ کس کس طرح مدد گار ہوتا ہے، اس کے لیے زندگی کے مختلف احوال میں شریعت کا صحیح اتباع کرنا بہت مشکل بلکہ تقریباً محال ہوگا۔ اس کے پاس شریعت کا صرف جسم ہوگا۔ اس کی روح نہ ہوگی۔ وہ محض استخواں کا مالک ہوگا، مغز کو نہ پاسکے گا۔ بعض حالات میں نہیں، بلکہ اکثر حالات میں اس طرح عمل کرے گا کہ بظاہر تو وہ شارع کے احکام کی پیروی ہوگی، مگر درحقیقت شارع کے اصلی مقاصد فوت ہوجائیں گے۔ کیونکہ اس کی نگاہ احکام کی مجرد عملی صورتوں اور ان کے جزئیا ت پر ہوگی۔ ان احکام میں جو مصالح اور مقاصد پوشیدہ ہیں،وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہیں گے۔ پھر کس طرح وہ مقاصد و مصالح کے لحاظ سے جزئیات میں تغیر و تبدل کرسکے گا۔
(۲) یہ حقیقت یقینا ناقابل انکار ہے کہ شارع نے غایت درجہ کی حکمت اور کمال درجہ کے علم سے کام لے کر اپنے احکام کی بجاآوری کے لیے زیادہ تر ایسی ہی صورتیں تجویز کی ہیں، جو تمام زمانوں اور تمام مقامات اور تمام حالات میں اس کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بکثرت جزئیات ایسے بھی ہیں، جن میں تغیرحالات کے لحاظ سے احکام میں تغیر ہونا ضروری ہے۔ جو حالات عہد رسالت اور عہد صحابہ میں عرب اور دنیائے اسلام کے تھے، لازم نہیں کہ بعینہ وہی حالات ہر زمانے اور ہر ملک کے ہوں۔ لہٰذا احکام اسلامی پر عمل کرنے کی جو صورتیں ان حالات میں اختیار کی گئی تھیں، ان کو ہو بہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کے لحاظ سے ان کے جزئیات میں کسی قسم کا ردوبدل نہ کرنا ایک طرح کی رسم پرستی ہے، جس کو روح اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں ۔ ایک موٹی سی مثال لے لیجیے۔ نبی ﷺ نے نماز کے لیے سورج کی حرکت کے لحاظ سے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے کہ عرب اور ربع مسکوں کے بیشتر حصوں کے لیے تعین اوقات کی یہی صورت مناسب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص قطب شمالی کے قریب رہنے والوں کے لیے بھی نمازوں کے اوقات معین کرنے میں وہی سورج کے طلوع و غروب اور سایہ کے اتار چڑھائو کا لحاظ کرے، تو بظاہر یہ شارع کے منصوص احکام کی حرف بحرف پیروی ہوگی، مگر درحقیقت اس سے شارع کا اصل مقصد فوت ہو جائے گااور اس کا شمارخلاف ورزی احکام میں ہوگا۔ کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ترک صلوٰۃ اور اسقاط فرض ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جزئیات میں دلالۃ النص اور اشارۃ النص تو درکنار، صراحۃ النص کی پیروی بھی تفقہ کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ اور تفقہ کا اقتضا یہ ہے کہ انسان ہر مسئلہ میں شارع کے مقاصد و مصالح پر نظر رکھے اور انہی کے لحاظ سے جزئیات میں تغیر احوال کے ساتھ ایسا تغیر کرتا رہے جو شارع کے اصول تشریع پر مبنی اور اس کے طرز عمل سے اقرب ہو۔
(۳) مگر تفقہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان محض اپنی عقل و فہم کی پیروی کرنے لگے اور اس کے پیچھے پیچھے جدھر چاہے نکل جائے، خواہ وہ حدود شریعت سے متجاوز ہی کیوں نہ ہو۔ اس قسم کی عقل وہ چیز نہیں ہے جس کو اسلام کی اصطلاح میں ’’تفقہ‘‘ کہتے ہیں، بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباع ہویٰ کہا گیا ہے۔ ہویٰ پرستی کی لازم خصوصیت افراط پسند ی ہے، اور اسلامی تفقہ کی سب سے بڑی خصوصیت اعتدال اور توازن ہے۔ ہویٰ پرست ہر معاملہ میں کسی ایک مصلحت یا ایک فائدے کا ایسا شیدائی بن جاتا ہے کہ اس کی خاطر دوسرے مصالح اور فوائد سے آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی تفقہ، تمام مصالح اور فوائد کا مناسب لحاظ کرتا ہے اور کسی مصلحت کو اگر نظرانداز کرتا بھی ہے تو صرف اس صورت میں جب کہ کوئی عظیم تر مصلحت اس چھوٹی مصلحت کی قربانی چاہتی ہو۔ پھر مصلحت اور مضرت کے معیار میں بھی اسلامی تفقہ اور ہوا پرستی کے درمیان اختلاف ہے۔ ہواپرست اسلام کے معیار پر نہیں بلکہ اپنے رجحان طبع کے معیار پر مصلحت و مضرت کا تعین کرتا اور مصالح میں سے بعض کو اہم اور بعض کو غیر اہم قرار دیتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی تفقہ کا مقتضا یہ ہے کہ آپ کی نظر اسلام کی نظر ہو، آپ اس چیز کو مصلحت سمجھیں جسے اسلام مصلحت سمجھتا ہے اور اس چیز کو مضرت سمجھیں جسے اسلام مضرت سمجھتا ہے اور مختلف مصالح اور مضرات کے درجے مقرر کرنے میں وہی معیار مد نظر رکھیںجو اسلام کے پیش نظر ہے۔ پس کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ مجرد عقل پرستی کا نام تفقہ ہے اور ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی عقل کی پیروی میں شریعت کے جس حکم کو چاہے، بدل دے۔ ہرگز نہیں اور یقینا نہیں۔ اسلامی تفقہ یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی نگاہ میں جس چیز کو مصلحت سمجھتے ہیں اس کی خاطر ان بہت سی مصلحتوں کو قربان کردیں جنہیں شارع نے اپنے احکام میں ملحوظ رکھا ہے۔ یا آپ بزعم خود جس مضرت کو اہم سمجھتے ہیں اس سے بچنے کے لیے ایسی بہت سی مضرتوں کو قبول کرلیں جن سے شارع آپ کو بچانا چاہتے ہیں۔ بلکہ اسلامی تفقہ یہ ہے کہ آپ شارع کی تمام مصلحتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان میں سے ایک ایک کو وہی اہمیت دیں جو خود شارع نے دی ہے اور جزئیات میں تغیر و تبدل اس طور پر کریں کہ شارع کے قائم کیے ہوئے توازن میں فرق نہ آنے پائے۔ یاد رکھیے کہ شارع کے تجویز کردہ طرز عمل میں تغیر صرف اسی صورت میں جائز ہوسکتا ہے، جب کہ تغیر احوال کی بنا پر اس کی پیروی سے کوئی ایسی مصلحت فوت ہوتی ہو جو آپ کے شخصی رجحان کے لحاظ سے نہیں، بلکہ خود شارع کے نقطہ نظر سے اہم ہو۔ پھر ایسی صورت میں بھی صرف اس حد تک جزئی تغیر کیا جاسکتا ہے کہ اس اہم تر شرعی مصلحت کی حفاظت کے ساتھ دوسری شرعی مصلحتوں کو نقصان نہ پہنچے، یا اگر پہنچے بھی تو وہ ایسی مصلحتیں ہوں جو شارع کی نگاہ میں نسبتاً زیادہ اہمیت نہ رکھتی ہوں۔
(۴) نبی ﷺ اور آپ کے تربیت یافتہ بزرگوں کے عمل سے احکام کے استنباط میں ایک قاعدہ کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’شرعی عمل‘‘ اور ’’طبیعی‘‘ یا ’’عادی عمل‘‘ میں فرق کیا جائے۔ شرعی عمل سے مراد ایسا عمل ہے جو اس بنا پر اختیار کیا گیا ہو کہ شریعت کا منشا وہی خاص طرز عمل اختیار کرنے سے پورا ہوتا ہے اور طبیعی یا عادی عمل سے وہ طرز عمل مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے اپنے شخصی و طبیعی رجحان یا اپنے خاص زمانے اور ملک کے اجتماعی حالات کے اقتضاء سے اختیار کیا تھا۔ یہ دوسری قسم کا طرز عمل متعدد حیثیات سے ہمارے لیے سبق آموز اور موجب رشد و ہدایت ہوسکتا ہے۔ مگر اس سے شرعی احکام کا استنباط درست نہیں۔ دلیل شرعی صرف پہلی قسم ہی کا طرز عمل ہے۔ بعض معاملات میں ان دونوں کا فرق بالکل نمایاں ہوتا ہے، حتیٰ کہ ہر شخص سرسری نظر میں اس کو سمجھ سکتا ہے۔ مگر بعض امور میں یہ دونوں طرز عمل اس درجہ مخلوط ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان فرق کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قسم کے طرز عمل کو دوسری قسم کے طرز عمل کی حیثیت سے لینے اور اس سے غیر مناسب نتائج اخذ کرنے کی غلطی اکثر پیش آئی ہے اور بڑے بڑوں کو پیش آئی ہے۔نبی ﷺ ایک ہی وقت میں رسول بھی تھے، ایک انسان بھی تھے، ایک عرب بھی تھے، ایک خاص زمانے اور خاص اجتماعی ماحول کے رہنے والے بھی تھے۔ آپ کے ہر فعل میں، خواہ دینی ہو یا دنیوی، یہ سب حیثیتیں ایک ساتھ موجو دتھیں۔ ان مختلف حیثیات کے مخلوط ہونے کی وجہ سے بسا اوقات یہ تمیز کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ کسی فعل میں کون سا حصہ آپ کی حیثیت رسالت سے تعلق رکھتا ہے ،تاکہ اسے حجت شرعی بنایا جائے اور کون سا حصہ آپ کی دوسری حیثیات سے متعلق ہے جو حجت شرعی نہیںہے۔ اس سے زیادہ اختلاط حیثیات صحابہ کرام کے افعال میں ہے۔ ہمارے لیے ان کے عمل میں شرعی رہنمائی صرف اس حیثیت سے ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے بلاواسطہ تربیت پائی ہے اور آپ سے احکام شریعت کا براہ راست استفادہ کیا ہے۔ اس حیثیت کے علاوہ ان کی دوسری حیثیات جس قدر بھی ہیں، وہ خواہ کتنی ہی اہمیت رکھتی ہوں ، بہر حال کسی شرعی ہدایت کی حامل نہیں۔ اب ان کے افعال میں، خصوصاً دینی افعال میں، یہ تمیز کرنا بسا اوقات بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سی چیز رسول اللہ ﷺ کی شرعی ہدایت سے ماخوذ ہے، کون سی ان کی اپنی رائے اور اجتہاد پر مبنی ہے اور کون سی ان کے خاص شخصی اور زمانی و مکانی حالات سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں امتیاز کا ذریعہ ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت کے وسیع اور غائر مطالعہ سے آدمی کے اندر جو اسلامی بصیرت پیدا ہوتی ہے، اس سے وہ شرعی عمل اور طبیعی و عادی عمل کے باریک فرق کو محسوس کرسکتا ہے اور اس کا ذوق اس کو بتادیتا ہے کہ کون سی چیز طبیعت اسلام سے تعلق رکھتی ہے اور کون سی اس سے غیر متعلق ہے۔ کون سی چیز مصالح شرعیہ کی حامل ہے اور کون سی نہیں۔ کون سی چیز اسلامی سسٹم کا ایک جز ہے اور کون سی نہیں۔ اس باب میں اختلاف کی بھی کافی گنجائش ہے۔ کیونکہ ایک شخص کا ذوق اور اس کی بصیرت لازماً دوسرے شخص کے ذوق اور بصیرت کے بالکل مطابق نہیں ہوسکتی، اگرچہ ماٰخذ دونوں کا ایک ہی ہو۔ لہٰذا کسی شخص کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ صرف وہی چیز ’’شرعی‘‘ ہے جس کو میری بصیرت شرعی کہہ رہی ہے اور دوسرے شخص کی بصیرت جس کو ’’شرعی‘‘ کہتی ہے ، وہ قطعاً و یقینا غلط ہے۔
ان مقدمات کو ذہن نشین کرلینے کے بعد نماز اور خطبہ جمعہ کی زبان کے مسائل پر الگ الگ غور کیجیے۔ اس لیے کہ ان دونوں مسئلوں کی نوعیتیں باہم مختلف ہیں، اگرچہ بظاہر ایک نظر آتی ہیں۔

نماز کی زبان

نماز کی زبان کے متعلق آج کل عام طور پر لَاتَقْرَبُواالصَّلوٰۃَ وَاَنْتُمْ سُکَاریٰ حَتّٰی تَعْلَمُوْامَاتَقُوْلُوْنَ(النساء:۴۳) ’’نشہ کی حالت میں نماز کی قریب نہ جائو تاوقتیکہ تم یہ نہ جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔‘‘ سے استدلال کیا جاتا ہے۔لیکن درحقیقت اس آیت سے استدلال درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حَتّٰی تَعْلَمُوْا فرمایا ہے، حَتّٰی تَفْقَہُوْا یا حَتّٰی تَفْہَمُوْا نہیں فرمایا۔ علم اور فقہ وفہم میں جو باریک فرق ہے، اس کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دوران نماز میں ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرے کے معنی و مفہوم کو سمجھنا اور ہر لفظ کے معنی کی طرف ملتفت رہنا ضروری ہے، اور جب تک یہ فہم اور التفات حاصل نہ ہو، نماز صحیح نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہ بداہتاً غلط ہے۔ اگر ایک عربی نہ جاننے والے کی نماز محض اس وجہ سے صحیح نہیں ہوسکتی کہ وہ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اسے نہیں سمجھتا، تو ایک عربی دان کی نماز بھی ایسی حالت میں درست نہ ہونی چاہیے جب کہ وہ سمجھ سمجھ کر نہ پڑھ رہا ہو، اول سے لے کر آخر تک پوری نماز میں ایک ایک لفظ کے معنی کی طرف ملتفت نہ ہو۔ ایسی کڑی شرط کے ساتھ تو شاید مشکل ہی سے کوئی شخص روزانہ پانچوں وقت کی نمازیں صحیح ادا کر سکتا ہے۔ زندگی میں انسان پر ہر طرح کے حالات گزرتے ہیں، کبھی رنجیدہ ہوتا ہے، کبھی متفکر ہوتا ہے، کبھی کسی کام میں اس کا ذہن مشغول ہوتا ہے، کبھی غیر محسوس طور پر خیالات اور وسوسے اس کے ذہن میں داخل ہوجاتے ہیں اور کافی دیر تک اس کو یہ شعور بھی نہیں ہوتا کہ میرا ذہن کہیں بھٹک گیا ہے۔ اگر نماز کے لیے یہ شرط ہو کہ ان سب دماغی و قلبی کیفیات سے بالکل خالی ہو کر انسان پورے شعور اور التفات کے ساتھ کھڑا ہو تو نماز ادا کرنا ہی مشکل ہوجائے گا۔
یہ وہ سختیاں ہیں جو انسان خود اپنی عقل سے اپنے لیے پیدا کرلیتا ہے۔ شارع نے اس پر ایسی سختی نہیں کی، کیونکہ وہ اس کی فطری کمزوریوں کو خوب جانتا ہے۔ اس نے سمجھ اور التفات اور استغراق اور خشوع و خضوع کو نماز کا کمال اور اس کا حسن تو ضرور قرار دیا ہے اور اس کی خواہش یہی ہے کہ انسان کی نماز ایسی ہی کامل اور حسین ہو ، لیکن اس نے ان چیزوں کو شرط نماز قرار نہیں دیا کہ بغیر ان کے نماز درست ہی نہ ہو۔

آیت کا صحیح مفہوم

اب ذرا آیت کے الفاظ پر پھر غور کیجیے۔ اگر سمجھنا اور معانی کی طرف ملتفت ہونا ہی صحت نماز کے لیے ضروری تھا اور اسی بنا پر حالت سکر میں نماز سے دور رہنے کا حکم دیا گیا تھا تو پھر سکر ہی میں کون سی خصوصیت تھی؟ یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ جب تم متفکر ہو، تو نماز سے دور رہو۔ جب تمہیں رنج یا پریشانی یا کسی اورقسم کی ذہنی مشغولیت لاحق ہو تب بھی نماز کے پاس نہ آئو۔ جب تمہیں محسوس ہو کہ دوران نماز میں تمہارے خیالات کسی اور طرف بھٹک گئے ہیں، تب بھی نماز تو ڑ دو اور پھر سے شروع کرو۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کوئی قید بھی نہیں لگائی بلکہ صرف حالت سکر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس حالت میں تم کو علم نہیں ہوتا کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ سکر میں کسی اور قسم کی بے خبری ہوتی ہے جو عدم فہم اور عدم التفات سے مختلف ہے۔ اس حالت میں انسان کو یہ بھی شعور نہیں ہوتا کہ وہ عبادت کے لیے کھڑا ہورہا ہے یا کسی اور کام کے لیے، قرآن پڑ ھ رہا ہے یا کچھ اور، قبلہ رخ بھی ہے یا نہیں۔ اس پر کچھ ایسی مدہوشی طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنی آپے میں نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے کوئی شعر گانے لگے ۔ یا خدا کاذکر کرتے کرتے کچھ او ل فول بک جائے، یا قبلہ رخ کھڑے کھڑے کسی دوسری طرف ڈھلک پڑے۔ یا نماز پڑھتے پڑھتے بھول جائے کہ نماز پڑھ رہا ہوں اور ادھوری نماز چھوڑ کر کسی سے باتیں کرنے لگے، یا مصلے پر سے کہیں چل کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ سے دراصل ایسی ہی بے شعوری کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تم اپنی حماقت سے اپنے اوپر ایسی حالت طاری کرلو جس میں تم کو اپنی زبان اور اپنے دل و دماغ پر قابو نہ رہتا ہو، تو ہمارے دربار میں حاضر ہونے کی جرأت نہ کرو۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آیت مذکور الصدر کا کوئی تعلق نماز کی زبان کے مسئلے سے نہیں ہے اور اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ نماز اس زبان میں پڑھنا ضروری ہے جسے مصلی اچھی طرح سمجھتا ہو۔

ائمہ مجتہدین کے اختلافات

اب یہ سوال باقی رہ گیا کہ آیا نماز کا عربی زبان میں ہونا ضروری ہے؟ اور کیا غیر عربی میں نماز جائز ہے؟ اس سوال کا حل اپنے طریق پر عرض کرنے سے پہلے ہم ان اختلافات کو بیان کیے دیتے ہیں جو اس باب میں ائمہ مجتہدین کے درمیان ہوئے ہیں ، تاکہ مسئلہ کی صحیح شرعی حیثیت کے سمجھنے میں آسانی ہو۔

امام اعظمؒ کا مذہب

 ۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ فارسی میں (اور فارسی کی کچھ خصوصیت نہیں ہے، ہر زبان میں) ابوسعید البروعی نے امام صاحب کا یہ مسلک نقل کیاہے کہ فارسی کے سوا کسی دوسری زبان میں پڑھنا درست نہیں۔ لیکن کرخی نے لکھاہے کہ امام اعظم کا صحیح مسلک یہ ہے کہ ہرزبان میں پڑھنا جائز ہے۔ صاحب ہدایہ نے بھی اس کو صحیح قرار دیاہے، چنانچہ لکھتے ہیں وَیَجُوْزُ بِاَیِّ لِسَانٍ کَانَ سِوَی الْفَارِسِیَّۃِ ھُوَ الصَّحِیْحُ۔

 نماز پڑھنا یا خدا کا نام لے کر ذبح کرنا، یا اذان دینا (بشرطیکہ وہ غیر عربی اذان معروف ہو اور اس کو سن کر لوگ جان لیں کہ یہ اذان ہے) جائز ہے خواہ ایسا کرنے والا عربی پڑھنے پر قادر ہو یا نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاِنَّہُ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ (الشعراء :۱۹۶) یعنی ’’ وہ پچھلی کتابوں میں بھی ہے‘‘ اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن اپنے موجودہ نظم کے ساتھ پچھلی کتابوں میں نہ تھا۔ پس لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ وہ ان کتابوں میں اپنے معنی کے اعتبار سے تھا اور جب وہ معنوی ہونے کے باوجود ’’قرآن‘‘ ہی تھا تو یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کہ قرآن کا فارسی ترجمہ بھی معنی ً قرآن ہے اور نماز میں اس کا پڑھنا جائز ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَلَوْجَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا (حم سجدہ: ۴۴) ’’اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اگر عجمی زبان میں بھی یہ معنی ادا کیے جاتے تب بھی وہ قرآن ہی ہوتا۔ مزید برآں روایات میں آیا ہے کہ ایران کے نو مسلموں نے حضرت سلمان فارسیؓ سے درخواست کی تھی کہ سورۂ فاتحہ ہم کو فارسی میں لکھ دیجیے۔ چنانچہ انہوں نے لکھ دی اور وہ اس کو نمازوں میں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ جب ان کی زبانیں نرم ہوگئیں اور وہ عربی پڑھنے پر قادر ہوگئے تو انہوں نے عربی میں پڑھنی شروع کردی۔ ان دلائل کی بناء پر امام صاحب کی رائے یہ ہے کہ اگر غیر عربی میں نماز پڑھی جائے تو ادا ہو جائے گی۔ مگر وہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ سنت متوارثہ کے خلاف ہے ۔ بلکہ ابوبکر رازی نے تو لکھا ہے کہ امام صاحب نے آخر میں اپنی اس رائے سے بھی رجوع کرلیا تھا اور امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کرلی تھی۔

صاحبین کا مذہب

امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عربی پڑھنے پر قدرت رکھتا ہو تو غیر عربی میں نماز پڑھنا درست نہیں۔ ہاں اگر وہ عربی کا تلفظ کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو غیر عربی میں پڑھ سکتا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فَاقْرَئُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ(المزمل: ۲۰) اور ظاہر ہے کہ قرآن کے ترجمہ پر ’’قرآن‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا۔لہٰذا جس نماز میں قرآن کے بجائے اس کا ترجمہ پڑھا جائے وہ نماز ہی نہ ہوگی۔ مگر جو شخص عربی کے ’’تلفظ‘‘ پر قادرنہ ہو، اس کے لیے مجبوری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کواس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی ہے۔ ایسے شخص کی نماز بالکل اسی طرح ہوجائے گی، جس طرح اس شخص کی نماز جو رکوع و سجود سے عاجزہو اور اشارہ سے ادا کرے۔

امام شافعیؒ کا مذہب

امام شافعیؒ کا ایک قول وہی ہے جو صاحبین کا اوپر مذکور ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جو شخص عربی تلفظ پر قادر نہ ہو، وہ بغیر قراء ۃ کے نماز ادا کرے۔ اگر اس نے دوسری زبان میں ترجمہ پڑھا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ کیونکہ کلام اللہ کا ترجمہ کلام اللہ نہیں، کلام الناس ہے۔ اللہ کا کلام صرف عربی قرآن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا۔ (یوسف:۲)

اس بحث کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب المبسوط للسرخسی، ج۱، ص ۳۷، اور فتح القدیر وشرح العنایہ علی الہدایہ اول، ص ۱۹۹ تا ۲۰۱۔

مسئلہ کی پوری تحقیق

ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ سلف صالح کے پیش نظر سوال کی نوعیت صرف یہ تھی کہ اگرنماز غیر عربی میں پڑھی جائے تو آیا ہو بھی جائے گی یا نہیں؟ کسی نے کہا کہ ہوگی مگر مکروہ ہوگی۔ کسی نے کہا سرے سے ہوگی ہی نہیں۔ کسی نے کہا کہ عاجز کی نماز ہو جائے گی بالکل اسی طرح جیسے معذور کی نماز اشارہ سے ہوجاتی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کے ’’مجتہدین‘‘ کے سامنے سوال کی نوعیت اس سے بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ وہ اس سوال پر اس حیثیت سے نگاہ ڈالتے ہیں کہ غیر عربی دان کی نماز عربی میں ادا ہوتی بھی ہے، یا نہیں؟ اور غیر عرب کے لیے عربی میں نماز اولیٰ ہے یا اپنی مادری زبان میں؟ اب چونکہ صورت مسئلہ بدل گئی ہے، لہٰذا جواب مسئلہ کی صورت بھی بدل جانی چاہیے۔

مصالح شرعیہ

نماز کے لیے کون سی زبان انسب اور اولیٰ ہے؟ اس سوال کے صحیح حل کا انحصار ایک دوسرے سوال کے صحیح حل پر ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام میں نماز کی حیثیت کیا ہے؟ اور اس سے کون کون سے شرعی مصالح وابستہ ہیں؟
اسلام کا اصل مقصد محض فرد کی تہذیب نفس اور اس کا تزکیہ ہی نہیں ہے، بلکہ وہ افراد کو فرداً فرداً پا ک اور متقی بنانے کے بعد انہیں باہم جوڑ کر ایک ایسی اعلیٰ درجے کی صالح جماعت بنانا چاہتا ہے جو زمین پر اللہ تعالیٰ کی خلافت کے فرائض ادا کرے۔ اس غرض کے لیے اس نے تمام عبادات اس طریقہ پر فرض کی ہیں کہ افراد میں رجوع الی اللہ کے ذریعہ سے تقویٰ کی روح پھونکنے کے ساتھ ساتھ ان کو صالحین کی ایک جماعت بھی بناتی چلی جائیں۔ ان عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے جو تہذیب نفس بھی کرتی ہے۔ قرآنی ہدایات کی اشاعت بھی کرتی ہے، قرآن کی حفاظت بھی کرتی ہے اور مسلمانوں کو ایک جماعت بھی بناتی ہے۔ نماز کی ان مختلف حیثیات اور اسلام کے ان متعدد مقاصد پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز محض ایک بندے کی اپنے خدا سے مناجات ہی نہیں ہے، اور محض ایک ایک فرد میں الگ الگ روح تقویٰ پھونکنے کا ذریعہ ہی نہیں ہے، بلکہ وہ اسلام کا قوام بھی ہے۔ اور انفرادی مصلحت سے عظیم تر مصالح بھی اس سے وابستہ ہیں۔
اب دیکھیے کہ جہاں تک انفرادی مصالح کا تعلق ہے، ان کے لحاظ سے ضروری ہے کہ انسان نماز میں جو کچھ پڑھے ، اس کو سمجھے بھی تاکہ تہذیب نفس اور تزکیہ روح کا مقصد پوری طرح حاصل ہوسکے۔ اس غرض کے لیے نماز کا اس زبان میں ہونا مفید ہوگا جسے مصلی جانتا ہو اور سمجھتا ہو۔ لیکن انفرادی مصالح سے اہم ترجو مصالح شارع کے پیش نظر ہیں، ان کو یہ چیز نقصان پہنچادے گی۔
اولاً قرآن کی حفاظت کا عظیم الشان مقصد اس سے بڑی حد تک فوت ہوجائے گا۔ جب قرآن کے ترجمے کو بھی لوگ قرآن سمجھنے لگیں گے اور یہ خیال عام ہوجائے گا کہ عبادت اور تلاوت کے مقاصد کے لیے ترجمہ اصل کتاب کا قائم مقام ہے تو اصل کتاب سے اعتنا کم ہوجائے گا، اس کو یاد کرنے کا ذوق بھی باقی نہ رہے گا اور ترجمہ ہی کو عملاً بطور اصل لے لیا جائے گا۔
ثانیاً اصل کتاب اللہ سے بے اعتنائی اور تراجم کی طرف روز افزوں التفات کا نتیجہ دین کی خرابی کے سوا کچھ نہ ہوگا، کیونکہ ناقص اور باہم مختلف متعارض ترجموں کے الگ الگ جماعتوں اور الگ الگ قوموں میں معتبر بن جانے سے اسلام کا انجام بھی وہی ہوگا جو مسیحیت اور یہودیت کا ہوا۔
ثالثاً اس سے امت کی وحدت کا خاتمہ ہوجائے گا، اور اسلام میں لسانی قومیتوں کی بنا پڑجائے گی۔ ہر زبان کے بولنے والوں کی نمازیں اور جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔ ایرانی عرب کے پیچھے نماز پڑھے گا اور نہ ترک ہندیوں کی جماعت میں شریک ہوگا۔ ایک ہی جگہ بنگالیوں اور مدراسیوں اور پنجابیوں کی جماعتیں لسانی قومیت کی بنیاد پر الگ الگ قائم ہوں گی، اور نماز کے ٹکڑے ہوتے ہی امت کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔
ان عظیم تر اجتماعی نقصانات سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے کہ نماز کے لیے ایک ہی بین الملی زبان ہو اور وہ وہی زبان ہو جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔ رہا انفرادی نقصان، تو اس کو دورکرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ نماز کا بیشتر حصہ وہ ہے جس کے لیے ایک ہی عبارت مقرر ہے۔ تکبیر ، تسبیح، تسمیہ، تعوذ، سورۂ فاتحہ، تشہد، ان سب کا ترجمہ زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹہ میں بآسانی ذہن نشین ہوسکتا ہے۔ عام طور پر جو سورتیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں، وہ بھی دس بارہ سے زیادہ نہیں ہیں اور بہت چھوٹی چھوٹی ہیں۔ ان کے ترجمے یاد کرلینا بھی مشکل نہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم کی لمبی لمبی سورتیں باقی رہ جاتی ہیں جو کبھی کبھار سورۂ فاتحہ کے ساتھ ملا لی جاتی ہیں۔ سواگر بعض یا بیشتر مصلی ان کو نہ سمجھیں تو یہ ایسی کون سی قباحت ہے جس سے بچنے کے لیے تمام اجتماعی مصالح کی قربانی گوارا کرلی جائے۔

دلائل شرعیہ

مصالح اور حکمتوں سے قطع نظر کرکے جب ہم منصوص احکام پر غور کرتے ہیں تو ہمیں امام ابو یوسف اور امام محمد کا مسلک سب سے زیادہ صحیح نظر آتا ہے اور قرین قیاس یہی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آخر کار اسی کی طرف رجوع فرمایا ہوگا۔
۱- قرآن مجید میں صاف طور پر فرمایا گیا ہے کہ نماز میں قرآن کی تلاوت کرو۔
یٰا اَیُّہَآ الْمُزَّمِّلُoلا قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلاًoلا  نِّصْفَہُ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاًoلا  اَوْ زِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًاoط                 (المزمل: ا-۴)
اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَی اللَّیْلِ وَنِصْفَہُ وَثُلُثَہُ وَطَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ ط۔۔۔ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَئُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ط۔                  (المزمل:۲۰)
اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلیٰ غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوْدًا۔        (بنی اسرائیل :۷۸)
یہ تمام آیات نماز میں تلاوت قرآن کا حکم دیتی ہیں اور ان میں ’’القرآن‘‘ (الف لام تعریفی کے ساتھ) پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا اطلاق ترجمہ قرآن پر نہ لغوی حیثیت سے ہوسکتا ہے نہ معنوی حیثیت سے۔
۲- قرآن میں متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ ’’قرآن‘‘ صرف عربی قرآن کا نام ہے اور کلام اللہ وہی ہے جو عربی الفاظ کے ساتھ خدا نے نازل فرمایا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے جو معنی بیان کیے جائیں گے ، خواہ وہ عربی زبان ہی میں کیوں نہ بیان ہوں،وہ نہ صرف یہ کہ قرآن نہ ہوں گے بلکہ اس کے مثل بھی نہ ہوں گے، لہٰذا وہ کبھی قرآن کے قائم مقام ہوہی نہیں سکتے۔
وَکَذَالِکَ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا۔(طہٰ: ۱۱۳)
اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًاعَرَبِیًّا۔(یوسف:۲)
قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَذِیْ عِوَجٍ۔(الزمر: ۲۸)
تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ oج   کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیَاتُہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا۔(حم سجدہ: ۲، ۳)
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ۔(مریم: ۹۷)
قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٓیٰ اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْآنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہِ۔(بنی اسرائیل: ۸۸)
۳- یہ تصریح بھی قرآن ہی میں ہے کہ تحریف سے حفاظت کا وعدہ صرف اس کتاب سے متعلق ہے جو خدا کے پاس سے نازل ہوئی ہے۔ انسانوں کے کیے ہوئے تراجم سے متعلق نہیں ہے۔ ان میں ہر طرح سے تحریف کا دروازہ کھلا ہوا ہے، خواہ وہ ارادی تحریف ہو یا مترجمین کے عجز اور ان کے عدم فہم اور ان کی قلت علم کی بنا پر ہو۔
وَاِنَّہُ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌoلا  لَّایَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہِ ط تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍo
(حم سجدہ: ۴۱،۴۲)
لہٰذا نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھنے والایہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ معنیً قرآن کی صحیح تلاوت کررہا ہے۔
۴- رجوع الیٰ اللہ اور انابت اور خشیت جو نماز کی اصل جان ہے، اس کو پیدا کرنے کی خاصیت جیسی قرآن منزل من اللّٰہ میں ہے، ویسی کسی اور کلام میں نہ ہوسکتی ہے، نہ پائی جاسکتی ہے۔ اس پر بھی خود قرآن شاہد ہے۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَابًا مُّتَشَابِہًا مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُ ہُمْ وُقُلُوْبُہُمْ اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ ۔ط                (زمر: ۲۳)
ایسے صریح اور محکم شرعی دلائل کو دیکھنے کے بعد یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے کہ جو نماز ترجمہ قرآن پڑھ کر ادا کی جائے وہ درست ہوجاتی ہے مکروہ ہونا کیسا، ہم تو کہتے ہیں کہ وہ کسی درجے میں بھی ادائے فرض کے لیے کافی نہیں۔ البتہ جیسا کہ صاحبین نے فرمایا ہے، اس شخص کا معاملہ بالکل جدا گانہ ہے، جو عربی تلفظ پر قادرہی نہ ہو۔ اس کے حق میں یہی فتویٰ مناسب ہے کہ جب تک وہ عربی میں نماز پڑھنے کے قابل نہ ہوجائے، اس کا فریضہ غیر عربی کے ساتھ ادا ہوجائے گا۔ اس لیے کہ وہ رخصت اضطرار کے تحت آجاتا ہے۔

خطبہ جمعہ کی زبان

اس مسئلے میں یہ ایک عام غلطی ہے کہ خطبے کی زبان کے سوال کو نماز کی زبان کے سوال سے مربوط کردیا جاتا ہے۔ اس سے بڑا خلط مبحث واقع ہوتا ہے۔ لہٰذا پہلے ہم اسی امر کی توضیح کریں گے کہ نماز اور خطبہ کی حیثیتوں میں کیا فرق ہے؟

خطبہ نماز جمعہ کا جزو نہیں ہے

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خطبہ نماز جمعہ کا جزو ہے۔ اس کی دلیل وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ظہر کی چار رکعتوں میں سے دو رکعتیں خطبہ ہی کے لیے کم کی گئی ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ اِنَّمَا قُصِرَتِ الْجُمُعَۃُ لاَجْلِ الْخُطْبَۃِاس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خطبہ چونکہ نماز کی دو رکعتوں کا قائم مقام ہے، لہٰذا اس کی حیثیت بھی وہی ہے، جو نماز کی ہے اور جب نماز غیر عربی میں پڑھنا درست نہیں تو خطبہ بھی غیر عربی میں پڑھنا درست نہیں۔
لیکن یہ محض ایک سطحی رائے ہے۔ دونوں کے احکام کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جو امور نماز کے لیے شرط ہیں وہ خطبے کے لیے شرط نہیں ہیں۔
نماز کے لیے طہارت شرط ہے، مگر خطبہ کے لیے شرط نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اگر سہواً حالت جنابت میں بھی خطبہ پڑھ دیا ہو تو اعادہ کی ضرورت نہیں۔
نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا ضروری ہے، مگر خطبہ جمعہ کے لیے نہ صرف یہ کہ استقبال قبلہ ضروری نہیں ہے، بلکہ قبلہ کی طرف پشت کرکے مقتدیوں کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے۔
نماز میں گفتگو کرنے سے فساد واقع ہوجاتا ہے۔ مگر خطبہ میں کلام کیا جاسکتا ہے اور خود نبی اکرم اور صحابہ کرامؓ سے یہ فعل ثابت ہے، جیسا کہ آگے چل کر ہم بیان کریں گے۔ نماز کے لیے وقت بھی مشروط ہے، لیکن خطبہ اگر وقت سے پہلے شروع کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
نماز جمعہ میں حنفیہ کے نزدیک کم از کم تین آدمیوں کا ہونا ضروری ہے، لیکن خطبہ میں اگر امام کے سوا صرف ایک آدمی ہو، تب بھی کافی ہے۔
نماز جمعہ اگر فاسد ہوجائے تو اس کا اعادہ کیا جائے گا۔ لیکن خطبہ کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ سب امور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خطبہ نماز جمعہ کا جزو نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ سرخسی لکھتے ہیں:
قَالَ بَعْضُ مَشَائِخِنَا الْخُطْبَۃُ تَقُوْمُ مَقَامَ رَکْعَتَیْنِ وَلِہٰذَا لَا تَجُوْزُ اِلَّا بَعْدَ دُخُوْلِ الْوَقْتِ وَالْاَصَحُّ اِنَّہَا لَا تَقُوْمُ مَقَامَ شَطْرِ الْصَّلوٰۃِ۔ (المبسوط ج ۱:کتاب الجمعۃ)
’’ہمارے بعض مشائخ کہتے ہیں کہ خطبہ چونکہ دو رکعت کا قائم مقام ہے اس لیے ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے خطبہ پڑھنا جائز نہیں۔ مگر صحیح یہ ہے کہ خطبہ کی حیثیت نماز کے ایک حصے کی نہیں ہے۔‘‘
اور شرح العنایہ علی الہدایہ میں ہے:
اِنَّہَا لَیْسَتْ بِرُکْنٍ لِاَنَّ رُکْنَ الشَّیِٔ مَا یَقُوْمُ بِہِ ذَالِکَ الشَّیُٔ، وَصَلوٰۃُ الْجُمُعَۃِ لَا تَقُوْمُ بِالْخُطْبَۃِ وَاِنَّمَا تَقُوْمُ بِارْکَاَنِہَا فَکَانَتْ شَرْطًا۔
’’خطبہ رکن نماز نہیں ہے، کیونکہ کسی چیز کا رکن تو وہ ہوتا ہے جس سے وہ چیز قائم ہوتی ہے، اور نماز جمعہ خطبہ سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ اپنے ارکان سے قائم ہوتی ہے۔ لہٰذا خطبہ جمعہ کے لیے رکن نہیں، بلکہ شرط ہے۔‘‘

نماز اور خطبہ کے مقاصد کا فرق

اس میں شک نہیں کہ خطبہ بھی نماز کی طرح ایک عبادت ہے، لیکن دونوں کے مقاصد مختلف ہیں۔ نماز سے جو کچھ مقصود ہے وہ بغیر اس کے بھی حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان ان عبارات کو سمجھے جن کو وہ نماز میں پڑھتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا خدا کی فرض کی ہوئی عبارت کو فرض سمجھنا، اور نماز کا وقت آنے پر ادائے فرض کے لیے اٹھنا، اور اس کا اہتمام کرنا، پھر پوری شرائط اور تمام ارکان کے ساتھ نماز کو اس طرح ادا کرنا کہ گویا اسے اس امر کا شعور ہے کہ خدا اس کی خفی سے خفی باتوں کو بھی سن رہا ہے اور یہ کہ اگر وہ نماز میں کوئی چیز بھی کم کردے گا تو خدا کو اس کا علم ہوجائے گا، پھر اس کا یہ سمجھنا کہ یہ رکوع و سجود اور قیام و قعود جو کچھ بھی میں کررہا ہوں، صرف خدا کے لیے ہے، اور خدا کے سوا میں کسی کا عبادت گزار نہیں ہوں۔ یہ سب امور اس مقصد کی تحصیل کے لیے بالکل کافی ہیں جس کے لیے نماز فرض کی گئی ہے۔ لیکن خطبہ جس غرض کے لیے مقرر کیا گیا ہے، وہ بغیر اس کے حاصل نہیں ہوسکتی کہ سامعین اس کو سمجھیں ۔ اس لیے کہ خطبہ کا مقصد محض خدا کی یاد اور ذات حق کی طرف رجوع اور خشیت اور انابت ہی نہیں ہے، بلکہ احکام دین کی تبلیغ و تعلیم اور وعظ و تذکیر بھی ہے۔ اور یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ لوگ ان احکام اور مواعظ کو نہ سمجھیں جو خطبہ میں بیان کیے جاتے ہیں۔

خطبے کا مقصد

بعض لوگ اس امر سے انکار کرتے ہیں کہ خطبے کا مقصد تبلیغ احکام اور وعظ و تذکیر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خطبے کو ذکر اللہ سے تعبیر کیا ہے۔ ’’فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ‘‘ (الْجُمُعَۃِ:۹) لہٰذا خطبہ بھی ویسی ہی عبادت ہے جیسی کہ نماز ہے اور اس کے لیے بھی یہ ضروری نہیں کہ لوگ اس کو سمجھیں۔ اس کی تائید میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ خطبہ کی شرط پوری کرنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کافی ہے، اور عرف عام میں جس چیز کو خطبے سے تعبیر کیاجاتا ہے، وہ نماز جمعہ کے لیے شرط نہیں ہے۔ نیز وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب آپ خلیفہ ہوئے اور خطبہ دینے کے لیے اٹھے تو آپ پر مجمع کا رعب طاری ہوگیا اور صرف الحمد للہ کہہ کر بیٹھ گئے اور صحابہ کرام ؓ کی جماعت نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ لیکن یہ استدلال متعدد وجودہ سے غلط ہے۔
اولاً: یہ یقینی نہیں کہ آیت فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِمیں ذِکْرِ اللّٰہِسے مراد خطبہ جمعہ ہے۔ذکر سے مراد نماز بھی ہوسکتی ہے، بلکہ قرآن میں اکثر اس لفظ سے نماز ہی مراد لی گئی ہے۔ مفسرین اور اہل فقہ میں یہ امر مختلف فیہ ہے کہ آیا ذکر سے مراد صرف خطبہ ہے، یا صرف نماز یا نماز اور خطبہ دونوں

۔ مگر آیت کے سیاق پر غور کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذکر کو نماز کے معنی میں لینا زیادہ درست ہے، کیونکہ پہلے اِذَا ابن ہمام کہتے ہیں: فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ، فَالظَّاھِرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِالذِّکْرِ الصَّلٰوۃُ، وَیَجُوْزُ کَوْنُ الْمُرَادُ بِہٖ الْخُطْبَۃُ (فتح القدیر) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِذِکْرِ اللّٰہِ الْخُطْبَۃُ وَالصَّلٰوۃُ، وَسَتَظْھرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِہٖ الصَّلٰوۃُ، وَیَجُوْزُ کَوْنُ الْمُرَادُ بِہ الخُطْبَۃُ۔ سعید ابن المسیب کے نزدیک ذکر سے مراد موعظۃ الامام ہے۔ (احکام القرآن للجصاص) علامہ ابوبکر جصاص کی رائے یہ ہے کہ ذکر سے مراد صرف خطبہ ہے۔ وَیَدُلُّ اَنَّ الْمُرَادَ بِالذِّکْرِ ھٰھُنَا ھُوَ الْخُطْبَۃُ۔ لِاَنَّ الْخُطْبَۃَ ھِیَ الَّتِیْ تَلِی النِّدَائَ وَقَدْ اُمِرَ بِالسَّعْیِ اِلَیْہِ فَدَلَّ عَلٰی اَنَّ الْمُرَادَ الْخُطْبَۃ۔ نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ (الجمعۃ:۹) فرمایا، پھر اس کی جزا یہ بیان کی کہ فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِاللّٰہِ۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں ذکر سے مراد نماز ہی ہے، اور خطبہ محض ضمناًذکر میں شامل ہوجاتا ہے۔ ورنہ اگر ذکر سے مراد صرف خطبہ ہوتا تو اِلیٰ ذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلوٰۃِ فرمایا جاتا۔
ثانیاً: ذِکْرِ اللّٰہِکو اگر نماز کے معنی میں نہ لیا جائے، بلکہ یاد خدا کے معنی میں لیا جائے، تو یہ کس دلیل سے ثابت ہوا کہ خدا کی یاد صرف عربی زبان ہی میں ہونی چاہیے؟ اللہ کے ذکر کو عربی زبان تک محدود کرنا تو عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ خدا کو یاد کرنا ہو تو صرف عربی میں کرو۔ چنانچہ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اَلذِّکْرُ الْمُفِیْدُ لِلتَّعْظِیْمِ یَحْصُلُ بخدائے بزرگ ہست کَمَا یَحْصُلُ بِقَوْلِہِ اللّٰہُ اَکْبَرُ۔یعنی ’’اللہ کی بڑائی بیان کرنے کے لیے جس طرح اللہ اکبر کہنا مفید ہے، اسی طرح فارسی میں ’’خدا بزرگ است‘‘ کہنا بھی مفید ہے۔‘‘ اور امام محمد ان کی تائید میں کہتے ہیں ’’اَلذِّکْرُ یَحْصُلُ بِکُلِّ لّسَانٍ‘‘ ’’خدا کی یاد ہر زبان میں ہوسکتی ہے۔‘‘
ثالثاً: خطبے کی شرط پوری کرنے کے لیے اگر حنفیہ نے محض حمد و ثنا کو کافی سمجھا ہے تو اس کے معنی یہ کب ہیں کہ خطبے کا جو مقصد ہے وہ بس حمد و ثنا ہی سے حاصل ہوجاتا ہے اور اس کے سوا دوسری چیزیں محض زوائد ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں؟  حضرت عثمانؓ کے واقعہ سے اس معاملہ میں جو استدلال کیا جاتاہے وہ درست نہیں ہے۔ اول تو اس واقعہ میں خود اس امر کی تصریح ہے کہ حضرت عثمان نے قصداً ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ مجمع سے مرعوب ہوجانے کی وجہ سے ان کی قوت گویائی جواب دے گئی تھی، اس لیے انہوں نے خطبے کو مختصر کردیا۔ دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ انہوں نے صرف حمد وثنا پر اکتفا کی تھی۔ دراصل واقعہ یہ ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ قوت گویائی جواب دے رہی ہے تو صرف اتنا کہہ کر بیٹھ گئے کہ اِنَّ اَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانَ لِیُعِدَّانِ لِھٰذَا الْمَقَامِ مَقَالاَ وَاَنْتُمْ اِلٰی اِمَامٍ فَعَّالٍ احْوَجُ مِنْکُمْ اِلٰی اِمَامِ قَوَّالٍ وَسَتَأْتِیْکُمُ الْخُطَبُ بَعْدُ وَاسْتَغْفِرُاللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ’’ یعنی اس موقع کے لیے ابوبکرؓ اور عمرؓ تقریر تیار کرکے آتے تھے۔ اور تم کو اصل حاجت توکام کرنے والے امام کی ہے نہ کہ بولنے والے امام کی۔ رہیں تقریریں تو وہ بھی آگے چل کر پیش کی جائیں گی اور میں اللہ سے اپنے لیے اور تم سب کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔
حنفیہ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ نماز جمعہ کے لیے جماعت کی شرط صرف تین آدمیوں سے پوری ہوجاتی ہے۔ پھر کیا اس کا مطلب یہ لینا درست ہوگا کہ جمعہ کی اقامت سے جو مقصد ہے، وہ بس اسی مختصر سی جماعت سے حاصل ہوجاتا ہے اور جماعت کثیرہ کا فراہم ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
رابعاً: خود اکابر حنفیہ ہی نے یہ تصریح کی ہے کہ خطبہ سے مقصود ذکر اور موعظت ہے۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے:
وَلَوْخَطَبَ قَاعِدًا اَوْ عَلیٰ غَیْرِ طَہَا رَۃٍ جَازَلِحُصُوْلِ الْمَقْصُوْدِ۔
’’اگر امام بیٹھ کر خطبہ دے، یا غیرطاہر ہونے کی حالت میں دے، تب بھی جائز ہے۔ کیونکہ مقصد اس طرح بھی حاصل ہوجاتا ہے۔‘‘
اور علامہ ابن ہمام اس مقصود کی شرح یہ کرتے ہیں کہ وَہُوَ الذِّکْرُ وَالْمَوْعِظَۃُ۔ یعنی ’’اس سے مراد ذکر خدا اور نصیحت ہے۔‘‘ ایک حنفیہ پر ہی کیا موقوف ہے ، متقدمین سب کے سب خطبے کا مقصد یہی سمجھتے تھے اور اسی بناء پر ان کی زبان میں اکثر خطبے کے لیے ’’مَوْعِظَۃُ الْاِمَامِ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجر فتح الباری میں ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَمِنْ حِکْمَۃِ اسْتِقْبَالِہِمُ الْاِمَامَ التَّہَیُّؤُ لِسِمَاعِ کَلَامِہِ وَسَلُوْکُ الْاَدَبِ مَعَہُ فِیْ اسْتِمَاعِ کَلَامِہِ فَاِذَا اسْتَقْبَلَہُ بِوَجْہِہِ وَاَقْبَلَ عَلَیْہِ بِجَسَدِہِ وَبِقَلْبِہِ وَحُضُوْرِ ذِہْنِہِ کَانَ اَوْعیٰ لِتَفَہُّمِ مَوْعِظَتِہِ وَمُوْافَقَتِہِ فِیْمَا شَرَعَ لَہُ الْقِیَامُ لِاَجْلِہِ۔(کتاب الجمعۃ باب یستقبل الامام القوم)
’’حاضرین کو جو امام کی طرف رخ کرکے بیٹھنے کی ہدایت کی گئی ۔اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ اس کے کلام کو سننے کے لیے تیار ہوں اور کلام کی سماعت میں اس کے ساتھ ادب کو ملحوظ رکھیں۔ جب سننے والا اپنا چہرہ اس کی طرف رکھے گا اور اپنے جسم و قلب کے ساتھ اس کی جانب متوجہ ہوگا اور حضور ذہن کے ساتھ سنے گا تو امام کی موعظت اچھی طرح اس کی سمجھ میں آئے گی اور یہ اس مقصد کے لیے مددگار ہوگا جس کے لیے امام کو کھڑے ہوکر خطبہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ ‘‘
خامساً: یہ امر غور طلب ہے کہ اگر خطبے کا طریقہ جاری کرنے سے شارع کا مقصد محض اللہ کا ذکر ہی کرنا ہوتا تو کیا اس کے لیے نماز کافی نہ تھی، حالانکہ وہ اس مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ نماز جیسی کامل و اکمل عبادت کو مختصر کرکے اس کے وقت کا ایک حصہ خطبہ کو دیا گیا اور اس کو جمعہ کی شرائط میں داخل کیا گیا؟
سادساً: نماز جمعہ کے لیے خطبے کا شرط ہونا جس چیز سے فقہا نے نکالا ہے، وہ نبی ﷺ کا متواتر عمل ہے۔ چونکہ آں حضرتؐ اور آپ کے خلفاء اور صحابہ کرام نے کبھی جمعہ، بغیر خطبے کے نہیں پڑھا۔ اس لیے یہ حکم مستنبط کیا گیا کہ جمعہ کے لیے خطبہ شرط ہے۔ بالکل اسی طرح آپ ؐکے اور صحابہ کرام کے متواتر عمل سے ہم کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ محض حمد و ثنا ہی پر مشتمل نہ ہوتا تھا، بلکہ اس میں خوف خدا کی تلقین بھی ہوتی تھی، شریعت کے احکام بیان ہوتے تھے، اخلاق و اعمال کی اصلاح کے لیے نصیحتیں ہوتی تھیں، قومی اور شخصی معاملات پر توجہ کی جاتی تھی، حتیٰ کہ عین خطبے کی ہی حالت میں امام کسی خاص شخص کی کوئی غلطی دیکھتا تو اس کی اصلاح کرتا، کسی مصیبت زدہ کو دیکھتا تو اس کی مدد کے لیے لوگوں کو توجہ دلاتا، عوام میں سے کسی کی کوئی شکایت ہوتی تو وہ امام کے سامنے اس کو پیش کرتا اور امام اس کی طرف متوجہ ہوتا۔ جس طرح نبی ﷺ اور خلفائے راشدین نے کوئی جمعہ بغیر خطبے کے نہیں پڑھا۔ اسی طرح آپ نے اور آپ کے صحابہ نے کوئی خطبہ ایسا بھی نہیں پڑھا جو مذکورۂ بالا خصوصیات سے عاری ہو۔

چندخطب ماثورہ

اس مطلب کی توضیح کے لیے ہم نبی ﷺ کے چند خطبات یہاں نقل کرتے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ شارع کی نگاہ میں خطبہ جمعہ کی دراصل کیا حیثیت تھی۔
۷۱۔عَنْ عُبَیْدِبْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلاً، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ جُمُعَۃٍ مِّنْ الْجُمُعِ، یَامَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! اِنَّ ہٰذَا یَوْمٌ جَعَلَہُ اللّٰہُ عِیْدًا فَاغْتَسِلُوْا، وَمَنْ کَانَ عِنْدَہُ طِیْبٌ فَلَا یَضُرُّہُ اَنْ یَّمَسَّ مِنْہُ وَعَلَیْکُمْ بِالسِّوَاکِ۔ (موطا، ابن ماجہ)
’’عبید بن السباق سے مرسلاً مروی ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں فرمایا ’’اے مسلمانو! اس دن کو اللہ نے عید مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم آج کے دن غسل کیا کرو۔ اور جس کے پاس خوشبو موجود ہو وہ اگر استعمال کرلے تو کیا نقصان ہے اور دیکھو مسواک ضرور کرو۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ یَحْییٰ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ فِیْ جُمُعَۃٍ مِنَ الجُمَعِ، یَامَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! اِنَّ ہٰذَا یَوْمٌ جَعَلَہُ اللّٰہُ عِیْدًا فَاغْتَسِلُوْا، وَمَنْ کَانَ عِنْدَ ہُ طِیْبٌ فَلَا یَضُرُّہُ اَنْ یَمَسَّ مِنْہُ وَعَلَیْکُمْ بِالسِّوَاکِ۔(۱)
۷۲۔ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’مجھے تمہارے حق میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے، وہ زمین کی برکات ہیں۔‘‘ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ زمین کی برکات سے کیا مراد ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا ’’دنیا کی زینت و شوکت۔‘‘ اس پر ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ’’کیا بھلائی سے بھی برائی آتی ہے؟‘‘ حضورؐ سن کر کچھ دیر خاموش رہے یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کیا کہ کوئی چیز آپ پر اتررہی ہے۔ پھر آپ نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا اور فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا ’’بھلائی صرف بھلائی سے آتی ہے۔ اس دنیا کا مال بہت خوشنمااور شیریں ہے۔ فصل بہار میں جب یہ خوب پھلتی ہے تو اسے پیٹ بھر کر کھانے والا جانور بدہضمی سے مرجاتا ہے یا مرنے کے قریب جالگتا ہے۔ البتہ وہ جانور بچ جاتا ہے جس نے دیکھا کہ کھاتے کھاتے کو کھیں پھول گئی ہیں تو کھانا چھوڑدیا، دھوپ میں چلا پھرا، کچھ جگالی کی، کچھ بول و براز کی راہ سے نکالا اور جب پیٹ خالی ہو گیا تب دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس مال کو جو شخص حق کی راہ سے لے گا اور حق کی راہ میں نکال دے گا۔ اس کے لیے تو یہ بہترین مددگار ہے اور جو حق کے بغیر لے گا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھاتا چلا جائے اور شکم سیر نہ ہو۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ زَیْدِبْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اَکْثَرَ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ مَا یُخْرِجُ اللّٰہُ لَکُمْ مِنْ بَرَکَاتِ الْاَرْضِ، قِیْلَ مَا بَرَکَاتُ الْاَرْضِ؟ قَالَ: زَھْرَۃُ الدُّنْیَا، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: ھَلْ یَاْتِی الْخَیْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَصَمَتَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہُ یُنزَلُ عَلَیْہِ، ثُمَّ جَعَلَ یَمْسَحُ عَنْ جَبِینِہِ، قَالَ اَیْنَ السَّائِلُ؟ قَالَ : اَنَا ، قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ: لَقَدْ حَمِدْنَاہُ حِیْنَ طَلَعَ ذٰلِکَ، قَالَ لاَیَاْتِی الْخَیْرُ اِلاَّ بِالْخَیْرِ اِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِــرَۃٌ حُلْــوَۃٌ وَاِنَّ کُلَّ مَا اَنْبَتَ الرَّبِیْعُ یَقْتُلُ حَبَطًا اَوْیُلِمُّ اِلاَّ ٰاَکِلَۃُ الْخُضْرَۃِ، اَکَلَتْ حَتّٰی اِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاھَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَاجْتَرَّتْ، وَثَلِطَتْ، وَبَالَتْ ثُمَّ عَاَدَتْ، فَاَکَلَتْ، وَاِنَّ ھٰذَا الْمَالَ حُلْوَۃٌ مَنْ اَخَذَہُ بِحَقِّہِ وَوَضَعَہُ فِیْ حَقِّہِ فَنِعْمَ الْمَعُوْنَۃُ ھُوَ، وَمَنْ اَخَذَہُ بِغَیْرِ حَقِّہِ کَانَ کَالَّذِیْ یَاْکُلُ وَلاَ یَشْبَعُ۔(۲)
۷۳۔عمرو بن تغلب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ کے پاس کچھ مال آیا تھا جس کو آپ نے بعض لوگوں میں بانٹ دیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔ بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے، انہیں رنج ہے۔ اس کے متعلق آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ ’’میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا۔ جس کو میں نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتاہے جس کو میں دیتا ہوں۔ ایک جماعت کو دیتا ہوں۔ جب کہ ان کے دلوں میں بے تابی اور بے چینی دیکھتا ہوں۔ اور ایک جماعت کو اس کی بے نیازی اور نیکی کے حوالے کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہے۔‘‘ (بخاری)
تخریج: حَدَّثَنَامُحَمَّدُبْنُ مَعْمَرٍ،قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ، عَنْ جَرِیْرِابْنِ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، یَقُوْلُ:حَدَّثَنَا عَمْرُو ابْنُ تَغْلِبَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اُتِیَ بِمَالٍ اَوْسَبِیٍّ فَقَسَمَہُ، فَاَعْطیٰ رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالًا، فَبَلَغَہُ اَنَّ الَّذِیْنَ تَرَکَ عَتَبُوْا فَحَمِدَ اللّٰہِ ثُمَّ اثْنیٰ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ! فَوَ اللّٰہِ اِنِّیْ اُعْطِی الرَّجُلَ، وَاَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِیْ اَدَعُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنَ الَّذِیْ اُعْطِیْ وَلٰکِنْ اُعْطِی اَقْوَامًا لِمَا اَرٰی فِیْ قُلُوْبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَاَکِلُ اَقْوَامًا اِلیٰ مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مِنَ الْغِنیٰ وَالْخَیْرِ فِیْہِمْ۔ عَمْرُ و بْنُ تَغْلِبَ فَوَاللّٰہِ ، مَا اُحِبُّ اَنَّ لِیْ بِکَلِمَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حُمْرُ النَّعَمِ ۔(۳)
۷۴۔مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص نماز جمعہ میں حاضر ہوا۔ آں حضرت ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ آپؐ نے پکار کر اس سے پوچھا اے شخص ! کیا تو نماز پڑھ چکا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو اٹھ اور نماز پڑھ۔ دراصل یہ شخص پھٹے حالوں تھا۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کی بدحالی کو دیکھ لیں۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو آپ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی۔ اس حدیث کے اطراف قریب قریب تمام صحاح اور سنن اور مسانید میں آئے ہیں۔ امام احمد نے جو حدیث نقل کی ہے اس میں خود حضورؐ کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ ’’یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ بہت شکستہ حال ہے؟ اس لیے میں نے اسے حکم دیا کہ دو رکعت نماز پڑھ لے۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی شخص اس کی حالت دیکھ لے اور اس کو کچھ صدقہ دے دے۔‘‘
۷۵۔ایک اور حدیث میں ہے کہ حضورؐ خطبہ دے رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کے اوپر سے پھاندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ آپ نے پکار کرفرمایا ’’بیٹھ جائو، تم نے لوگوں کو تکلیف دی۔‘‘ (ابودائود ،نسائی)
۷۶۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک روز حضورؐ خطبہ دے رہے تھے اور قحط سالی کا زمانہ تھا۔ ایک شخص نے فریاد کی کہ یا رسول اللہ جانور مرگئے اور بال بچے فاقے کررہے ہیں، اللہ سے دعا فرمائیے کہ بارش ہوجائے۔ آپ نے اسی وقت دعا فرمائی۔ خدا کے فضل سے بارش شروع ہوگئی اور دوسرے جمعہ تک لگاتار جاری رہی۔ پھر دوسرے جمعہ کو آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو وہی شخص پھر اٹھا، یا راوی نے کہا دوسرا شخص اٹھا اور بولا کہ یا رسول اللہ مکان گرگئے اور مال و اسباب تباہ ہورہے ہیں ۔ خدا سے دعا فرمائیے۔ آپ نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔
تخریج: حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوالْوَلِیْد بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ، قَالَ: اَصَابَتِ النَّاسَ سَنَۃٌ عَلیٰ عَہْدِ النَّبِیِّ ﷺ فَبَیْنَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ فِیْ یَوْمِ جُمُعَۃٍ ، قَامَ اَعْرَابِیٌ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ، ہَلَکَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِیَالُ، فَادْعُ اللّٰہَ لَنَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ، وَمَا نَریٰ فِی السَّمَآئِ قَزَعَۃً، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا وَضَعَہَا حَتّٰی ثَارَ السَّحَابُ اَمْثَالَ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ یَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِہِ حَتّٰی رَاَیْتُ الْمَطَرَ یَتَحَادَرُ عَلیٰ لِحْیَتِہِ فَمُطِرْنَا یَوْمَنَا ذٰلِکَ ، وَمنَ الْغَدِوَمِنْ بَعْدِ الْغَدِوَالَّذِیْ یَلِیْہِ حَتّٰی الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی، فَقَامَ ذٰلِکَ الْاَعْرَابِیُّ اَوْ قَالَ: غَیْرُہُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَہَدَّمَ الْبنَآئُ وَغَرِقَ الْمَالُ ، فَادْعُ اللّٰہَ لَنَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ الخ۔(۴)
۷۷۔مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ خطبہ دے رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عثمان تشریف لائے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا، لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد نماز کے لیے آنے میں دیر کرتے ہیں۔ پھر حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہوکر پوچھا یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں کام میں لگا ہوا تھا۔ اذان کی آواز سنی تو گھر جانے کے بجائے وضو کرکے سیدھا یہاں چلا آرہا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا خوب! آنے میں دیر تو لگائی ہی تھی اب معلوم ہوا کہ آپ صرف وضو ہی پر اکتفا کر آئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے روز غسل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (بخاری، موطا، مسلم)
تشریح: یہ ان کثیر التعداد خطبوں میں سے چند ہیں جو معتبر روایات میں آں حضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے منقول ہیں۔ ان کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا خطبہ جن کے متواتر عمل کی بدولت مشروع سمجھا گیا ہے ان کے ہاں خطبے کے معنی محض ذکر اللہ کے نہ تھے، بلکہ وہ اس سے تبلیغ ،تعلیم، اصلاح ، ہدایت اور بہت سے قومی و شخصی معاملات کی انجام دہی کا کام لیتے تھے۔ دراصل یہ چیز اس لیے مشروع نہیں کی گئی تھی کہ لوگ ہفتہ میں ایک بار نماز سے پہلے رسمی طور پر اسی قسم کی ایک چیز سن لیں جیسی مسیحی گرجائوں میں درس (Sermon)کے نام سے سنائی جاتی ہے۔ بلکہ اس کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ایک متحرک اور کارفرما پر زہ بنایا گیا تھا۔ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ لازمی طو رپر تمام مسلمانوںکو جمع کرکے اللہ کے احکام سنائے جائیں، دین کی تعلیمات ان کے ذہن نشین کی جائیں، ان کی جماعت میں یا ان کے افراد میں جو کچھ خرابیاں رونما ہوں، ان کی اصلاح کی جائے، اور قومی فلاح و بہبود کے کاموں کی طرف انہیں توجہ دلائی جائے۔ نیز مرکز حکومت میںامام (Head of the State)براہ راست خود اپنی حکومت کی پالیسی پبلک کے سامنے پیش کرتا رہے اور وہیں عوام الناس میں سے ہر ایک کو اس سے سوال کرنے اور اس کے سامنے اپنی بات کہنے کا موقع حاصل ہو۔

نماز اور خطبے کا ایک اور فرق

نماز اور خطبہ جمعہ کے درمیان ایک فرق اور بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ نماز میں جتنی چیزیں پڑھی جاتی ہیں وہ سب لفظاً لفظاً معین کردی گئی ہیں۔ جو شخص عربی نہ جانتا ہو، وہ تھوڑا سا وقت صرف کرکے بآسانی ان کا ترجمہ یاد کرسکتا ہے، یا ان کے مفہومات ذہن نشین کرسکتا ہے۔ اس وجہ سے نماز کے عربی میں ہونے سے اس امر کا کوئی خوف نہیں ہے کہ عربی نہ جاننے والے ان عبارات کے معنوی فوائد سے بالکل ہی محروم رہ جائیں گے، جنہیں نماز میں وہ پڑھتے ہیں۔ بخلاف اس کے خطبہ جمعہ کے لیے کوئی عبارت مقرر نہیں ہے۔ ہر جمعہ کو ایک نیاخطبہ ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ پہلے سے یاد کرلینا ، یا اس کا مفہوم ذہن نشین کرکے آنا لوگوں کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا خطبے کے لیے عربی کو لازم کردینے کا نتیجہ قطعاً یہی ہے کہ غیر عربی دان لوگوں کے حق میں وہ محض ایک بے معنی چیز اور ایک بے جان مذہبی رسم بن کر رہ جائے اور شارع کے وہ تمام مقاصد فوت ہوجائیں جن کے لیے اس نے جمعے کا خطبہ مشروع کیا ہے۔ ایک معمولی عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ترکی بولنے والوں کے سامنے سنسکرت میں تقریر کرنا اور فارسی زبان والوں کو جرمن زبان میں مخاطب کرنا محض ایک مہمل حرکت ہے۔ پھر شارع حکیم کے متعلق یہ کیوںکر گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ احکام دین کی تفہیم اور مکارم اخلاق کی تعلیم کے لیے کسی ایسی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دے گا جس کو سامعین سمجھتے ہی نہ ہوں۔

خلاصہ مباحث گزشتہ

یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس سے تین باتیں واضح ہوجاتی ہیں:
ایک یہ کہ خطبہ نماز کا جز نہیں ہے، لہٰذا نماز کے لیے عربی زبان کے لازم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خطبے کے لیے بھی عربیت واجب ہو۔
دوسرے یہ کہ خطبہ کا طریقہ مقرر کرنے سے شارع کے پیش نظر جس قدر مقاصد ہیں، وہ سب کے سب ایسی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں جب کہ خطبے کسی ایسی زبان میں پڑھا جائے، جس کو سامعین نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے نماز جن مقاصد کے لیے شارع نے فرض کی ہے، ان میں سے کوئی اہم مقصد مصلیوں کے عدم فہم سے فوت نہیںہوتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ عدم فہم سے نماز میں تو محض ایک جزئی سا نقصان آتا ہے مگر خطبے میں اس سے کلی نقصان واقع ہوجاتاہے۔
تیسرے یہ کہ نماز میں عدم فہم سے جو ایک جزئی سا نقصان واقع ہوتا ہے، وہ بھی نماز کا ترجمہ یاد کرکے بآسانی رفع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن خطبے میں اس سے جو کلی نقصان واقع ہوتا ہے اسے رفع کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔

مانعین خطبۂ غیرعربیہ کے دلائل

اب ہم کو یہ دیکھنا چاہیے کہ غیر عربی خطبے کے جواز میں کوئی امر شرعی تو مانع نہیں ہے؟ اس سلسلے میں جب ہم قرآن اور سنت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم کو کہیں صراحتاً کیا معنی کنایتاً بھی کوئی حکم ایسا نہیں ملتا، جس سے خطبے کے لیے عربی زبان ضروری سمجھی جاسکے۔ جو لوگ عربیت کے لزوم پر زور دیتے ہیں ، انہوں نے بھی کوئی آیت یا حدیث پیش نہیں کی ہے۔ ان کا استدلال صرف یہ ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ اور سلف صالح نے ہمیشہ عربی زبان ہی میں خطبہ پڑھا ہے اور کبھی خطبے کے لیے عربی کے سوا دوسری زبان استعمال نہیں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی مجالس میں کبھی کبھی غیر عرب بھی موجود ہوتے تھے، مگر کسی روایت میں نہیں آیا کہ آپ نے ان کی تفہیم کے لیے غیر عربی میںخطبہ دیا ہو، یا عجمی زبانیں جاننے والے صحابہ میں سے کسی کو ان کی تفہیم پر مامور کیا ہو۔ حضورؐ کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سب سے بڑھ کر تبلیغ دین اور تذکیر و ارشاد کاجذبہ رکھتے تھے، اور ان کے عہد میں بکثرت عجمی ممالک بھی فتح ہوچکے تھے جن کے باشندے عربی نہ سمجھتے تھے، مگر ان بزرگوں نے بھی عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ جاری نہیں کیا۔ اسی بنا پر متقدمین اور متاخرین میںسے ایک گروہ کثیر نے یہ رائے قائم کی ہے کہ صحت خطبہ اور ادائے سنت کے لیے خطبے کا عربی میں ہونا شرط ہے۔ صرف ایک امام ابوحنیفہ ہیں جو غیر عربی خطبے کو مطلقاً جائز رکھتے ہیں ۔ ان کے سوا سلف میں اور کوئی نہیں جو اس کے جواز کا قائل ہو۔ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے متعلق بعض روایات میں آیاہے کہ وہ خطبہ کے مسئلہ میں امام اعظم سے متفق ہیں اور بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ صرف اس شخص کے لیے غیر عربی خطبے کو جائز رکھتے ہیں جو عربی زبان میں خطبہ دینے پر قادر نہ ہو۔

استدلال مذکور پر تنقیدی نظر

ہمارے نزدیک اس استدلال میں متعدد اصولی غلطیاں ہیں۔ اولین غلطی یہ ہیگ کہ یہ حضرات شرعی عمل اور عادی و طبیعی عمل میں فرق نہیں کرتے، جس کی طرف ہم ابتداء ً اپنے چوتھے مقدمے میں اشارہ کرآئے ہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی زبان عربی تھی۔ آپ کے مخاطب بھی عرب تھے، یا ایسے عجمی تھے جو عرب میں رہتے تھے اور عربی جان گئے تھے ، مثلا سلمان فارسی۔ اگر آپ ان کے سامنے عربی میں خطبہ نہ دیتے تو اور کس زبان میں دیتے؟ نبی عربی کا اہل عرب کے سامنے عربی میں تقریر کرناایک طبعی فعل ہے۔ اس کو حجت شرعی بنانا کس طرح درست ہوسکتا ہے؟ اگر آپ نے یہ فرمایا ہوتا کہ خطبہ عربی ہی میں دیا کرو اور کوئی دوسری زبان اس غرض کے لیے نہ استعمال کرو تو بلاشبہ یہ ارشاد حجت شرعی ہوتا۔ لیکن جب کہ آپ نے ایسا نہیں فرمایا تو خطبہ عربیہ کو محض اس بنا پر ’’سنت‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ حضورؐ نے ہمیشہ عربی میں خطبہ دیا ہے۔ اس طرح کے طبیعی اور عادی افعال کو شرعی اصطلاح میں سنت قرار دینے کے تو یہ معنی ہوں گے کہ عربی زبان میں گفتگوکرنے کو بھی مسنون ٹھہرایا جائے۔ کیونکہ حضورؐ نے تمام عمر اسی زبان میں کلام فرمایا ہے اور غیر عربی میں گفتگو کرناآپ سے ثابت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ آپ کا عربی میں نماز پڑھنا بھی تو ایک طبیعی فعل تھا۔ پھر تم اس کو کس بنا پر شرعی فعل قرار دیتے ہو؟ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ نماز کے لیے عربیت کا وجوب محض اس بنا پر نہیں ہے کہ حضورؐ نے ہمیشہ عربی میں نماز پڑھی ہے، بلکہ اس طبیعی عمل کے ساتھ شرعی حکم بھی موجود ہے اور متعدد مصالح شرعیہ بھی اس کے ساتھ وابستہ ہیں جن کو پہلے ہم بیان کرچکے ہیں۔ اس لیے عربی زبان میں نماز ادا کرنا واجب قرار پایا ہے۔ بخلاف اس کے عربی نہ جاننے والے لوگوں کے سامنے عربی میں خطبہ دیناکسی مصلحت شرعی کا حامل نہیں۔ بلکہ اس سے شریعت کے مقاصد الٹے فوت ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس کو محض اس دلیل سے لازم قرار نہیں دیا جاسکتا کہ رسول عربی ﷺ نے عربی جاننے والے لوگوں کے سامنے ہمیشہ عربی میں خطبہ دیا ہے۔
استدلال مذکور کی دوسری غلطی یہ ہے کہ اس میں زمانے اور حالات کے اختلاف سے قطع نظر کرلیا گیاہے۔ نبی ﷺ کے عہد میں جو عجمی الاصل لوگ مجالس نبویہ میںحاضر ہوتے تھے وہ زیادہ تر وہی تھے جو عربی زبان سے واقف تھے اور اگر بفرض محال ان میں کوئی اکاّدکاّ ایسا ہو بھی جو عربی سے ناواقف ہوتو ظاہر ہے کہ عربی بولنے والوں کے کثیر التعداد گروہ کو چھوڑ کر اس ایک شخص یا دو چار شخصوں کی خاطر خطبے کی زبان نہیں بدلی جاسکتی تھی۔   اس مقام پر یہ جاننا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرعرب لوگوں سے خط وکتابت کرنے کے لیے اپنے سکریٹری حضرت زید بن ثابت کو سریانی زبان کی تعلیم دلوائی تھی۔ (ملاحظہ ہو الاستیعاب لابن عبدالبر، ج ۱، ص ۱۸۹) اسی طرح بعض دوسرے صحابہؓ کے متعلق یہ ذکر ملتاہے کہ انہوں نے غیر زبانیں سیکھی تھیں۔
پھر عہد نبویؐ کے بعد جب صحابہ کرام فتح و ظفر کے جھنڈے لے کر عجمی ممالک میں پہنچے تو ان کی حیثیت ایک حاکم قوم کی تھی۔ ان کے پاس سیاسی طاقت تھی۔ وہ غالب تھے، مغلوب نہ تھے ۔ وہ دوسروں کے سمجھانے کے حاجت مند نہ تھے بلکہ دوسرے خود ان سے سمجھنے کے حاجت مند تھے۔ ان کے اندر اتنا بل بوتا تھا کہ اپنی زبان کو دوسرے ملکو ںمیں پھیلادیں ، اور درحقیقت انہوں نے بخارا سے لے کر اسپین تک اسے پھیلا کر ہی چھوڑا ۔ حتیٰ کہ ان کے فتح کردہ اکثر و بیشتر ممالک کی اصلی زبانیں عربی زبان کے مقابلے میں قریب قریب فنا ہوگئیں ۔ پھر ان کو کیا ضرورت تھی کہ اپنی زبان کو چھوڑ کر مفتوح قوموں کی زبانوں میں خطبے دیتے؟ لیکن آج وہ حالت نہیں ہے۔ مدتیں ہوئیں کہ عربیت کا غلبہ ختم ہوچکا ہے۔ دنیائے اسلام کے بیشتر ممالک میں اب صدیوں سے عربی زبان کا چرچا نہیں ہے اور سیاسی و علمی ضعف کی بنا پر روز بروز کم ہوتا جارہا ہے۔ عربیت کے پاس اب وہ طاقت ہی نہیں ہے جس سے وہ پھیلے اور زبانوں پر چھائے ۔ اس کمزوری کی حالت میں اس طرز عمل پر اصرار کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے، جو صحابہ کرام اور ان کے قریب العہدلوگوں نے غلبہ وطاقت کے عہد میں اختیار کیا تھا؟
تیسری غلطی یہ ہے کہ سلف صالح نے جو رائے مخصوص حالات میں قائم کی تھی، اس کو شرعی معنوں میں اجماع کی حیثیت دی جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں ، صدراول کے تمام اکابر غالب اور فاتح قوم کے لوگ تھے۔ اگرچہ اسلام نے ان کو وطنی اور نسلی اور لسانی عصبیتوں سے پاک ضرور کردیا تھا، مگر یہ کیوں کر ممکن تھا کہ ان کے اندر وہ کیفیات پیدا نہ ہوتیں جو طبعاً ہر قوم میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا مفتوح قوموں کی زبانوں سے پرہیز کرنا او ر اپنے آپ کو ان کی بولیوں سے بچانا اور ان کے اندر اپنی زبان پھیلانے کی کوشش کرنا ایک طبعی امر تھا اور غلبہ و طاقت کی فطرت ہی اس کی مقتضی تھی کہ یہ بات ان میں پیدا ہو۔ اس پر مزید یہ کہ ان کی زبان قرآن اور سنت کی زبان تھی۔ اسلام کا سارا سرمایہ اسی زبان میں تھا۔ اسلام کی اصلی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ ہی پر موقوف تھا۔ اس چیز نے ان کے اندر زبان کی حد تک عربیت کا تعصب اور بھی زیادہ پیدا کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر سلف کسی حال میں بھی عجمی زبان بولنے کو پسند نہ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ عجمی الفاظ کا استعمال بھی ان کو گوارا نہ تھا۔ سید نا عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ لاَتَـتَعَلَّمُوْا رَطَانَۃَ الْاَعَاجِمِ۔’’عجمیوں کی بولی نہ سیکھو۔‘‘سیدنا علیؓ کے سامنے ایک مرتبہ نوروز کا ہدیہ پیش کیا گیا۔ آپؓ نے دریافت فرمایا، کیا ہے؟ عرض کیا گیا، آج نوروز ہے۔ آپؓ نوروز کا سن کر چیں بجبیں ہوگئے۔ محمد بن سعید بن ابی وقاص نے ایک جماعت کو فارسی بولتے سنا تو کہنے لگے مَابَالُ الْمَجُوْسِیَّۃِ بَعْدُ۔’’یہ مجوسیت لوگوں میں کہاں سے گھس آئی؟‘‘امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ عجمی زبان میں دعا کرنا کیسا ہے؟ فرمانے لگے لسان سوء ’’بری زبان ہے۔‘‘ امام مالک فرمایا کرتے تھے کہ ’’عجمی زبان میں نہ دعا مانگو اور نہ قسم کھائو۔‘‘ امام شافعی عربی زبان کے سوا ہر دوسری زبان میں بات چیت کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ یہی حال اس زمانے کے اکثرفقہاء کا تھا۔ وہ عجمی زبان کے استعمال کو عموماً اور دعا و ذکر میں اس کے استعمال کو خصوصاً براسمجھتے تھے۔ ان بزرگوں کے اس طرز عمل پر اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ دراصل کسی شرعی بنیاد پر نہ تھا، بلکہ ایک بڑی حد تک اس طرز عمل کی بنا فطری اسباب پر تھی، اور حالات کی طاقت نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ یہ بالکل ظاہر ہے کہ اسلام کو وطنی اور لسانی عصبیت سے کوئی علاقہ نہیں۔ وہ کسی خاص قوم کا مذہب نہیں ہے۔ نہ وہ اس لیے آیا ہے کہ کسی خاص زبان کی حمایت کرے اور بس ایک ہی زبان بولنے والوں کا دین بن کر رہ جائے۔
بزرگان سلف نے عجمی زبانوں کی کراہت اور ان سے اجتناب اور دینی و دنیوی اغراض کے لیے ان کے استعمال کی ممانعت پر جو زور دیا تھا، اس کا ایک سبب اور بھی تھا ۔ صدر اول کی تاریخ پر آپ نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس زمانے میں عرب کے سوا دوسری قومیں عموماً غیر مسلم تھیں اور اسلام زیادہ تر عربی قوم میں ہی تھا ۔ اس صورت حال نے اس وقت عربیت کو اسلام کا اور عجمیت کو کفر کا ہم معنی بنارکھا تھا۔ عجمی قوموں کے جو افراد اسلام لاتے تھے ، ان کا رشتہ ملت کفر سے توڑنے کے لیے اور ملت اسلام میں ان کو جذب کرنے کے لیے ناگزیر تھا کہ ان کو عربیت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جاتی ، اور ان کی معاشرت ، لباس، آداب و اطوار، بول چال، ہر چیز کو بدل ڈالا جاتا۔ کیونکہ باطنی تغیر کی تکمیل خارجی تغیر کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اگر ان کو محض مسلمان بناکر چھوڑ دیا جاتا اور تمدنی و لسانی اور ادبی حیثیت سے وہ بدستور کافر اقوام کا جز بنے رہتے تو کفر کے سمندر میں اسلام کے یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے پیدا ہونے کے ساتھ ہی فنا بھی ہوتے چلے جاتے۔ یہ حالت ایک طویل مدت تک رہی۔ اس کے بعد جب دوسرے ممالک کی بڑی بڑی قومیں مسلمان ہوگئیں تو عربیت اور اسلام کے ہم معنی ہونے کی وہ کیفیت جو ابتدائی صدیوں میں تھی، باقی نہ رہی۔ اب ترکی، فارسی، اردو اور دوسری مسلمان قوموں کی زبانیں کفار کی زبانیں نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کی زبانیں ہیں۔ اب عربی لباس اور عربی طرز معاشرت میں بھی لازمی طور پر شعار اسلام نہیں ہے۔ ہندستان میں مسلمانوں کا جو عام لباس ہے وہ بھی اسی طرح شعار اسلام ہے جس طرح عربی لباس۔ علیٰ ہذا القیاس دوسرے اسلامی ممالک میں بھی ہر وہ لباس اور ہر وہ طرز معاشرت ، جس سے مسلمان غیر مسلموں کے مقابلے میں ممیز ہوتے ہیں، یقینا اسلامی شعار ہی ہے۔ پس اب حالات کے بدل جانے کے باوجود فقہائے اسلام کا عربیت پر اس طرح زور دینا درست نہیں جس طرح صدر اول کے فقہا بالکل مختلف حالات میں زور دیتے تھے۔ ہمارے نزدیک متاخرین کی یہ ایک اصولی غلطی ہے کہ وہ متقدمین کے زمانے اور ان کے حالات کو نہیں دیکھتے اور آنکھیں بندکرکے ان کے اقوال سے استناد کرنے لگتے ہیں۔

ایک اور دلیل

خطبہ عربیہ کے لزوم پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ خدا کا کلام اور اسلام کے تمام احکام زبان عربی میں ہیں اور ہر مسلمان پر عربی سے واقف ہونا لازم ہے۔ اگر لوگ عربی کی تحصیل میں غفلت کرتے ہیں اور عربی نہیں سمجھتے تو یہ ان کا قصور ہے۔ ان کی خاطر خطبے کی زبان بدلنا کیا ضرور؟
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے عربی سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر انہیں اپنے دین کی سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں گمراہیوں کے پھیلنے کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ علم دین کے اصل ماٰخذ تک ان کی رسائی نہیں۔اسی لیے ہم نے خود بارہا اس ضرورت کا اظہار کیا ہے اور ہماری قطعی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی زبان کو لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔ لیکن ’’ہے‘‘ اور ’’ہونا چاہیے‘‘ میں بہت فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے کوشش کیجیے، مگر جو کچھ فی الواقع ہے اس سے آنکھیں بند نہ کرلیجیے۔ شریعت نے آپ کو یہ تعلیم نہیں دی ہے کہ بس ’’چاہیے‘‘ کے پیچھے پڑے رہیے اور واقعات کی پروانہ کیجیے۔ آپ کے حالات تو یہ ہیں کہ آپ کے ہاں مسلمانوں کے لیے عربی تو درکنار، دین کی ابتدائی تعلیم تک لازم نہیں ہے، اور اس پر آپ کے تحکم کی کیفیت یہ ہے کہ مسلمان اگر عربی نہیں سمجھتے تو آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی پروا نہیں، ہم تو عربی ہی میں خطبہ سنائیں گے۔ کیا عربی خطبہ پر آپ کے اصرار کا یہ نتیجہ نکلنے کی کوئی امید ہے کہ مسلمان محض اس کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھنے پر مجبور ہوجائیں؟

تیسری دلیل

تیسری دلیل جو پیش کی جاتی ہے، وہ نسبتاً زیادہ وزنی ہے۔ یعنی یہ کہ عربی زبان کے سوا دوسری زبانوں میں خطبے کے جاری ہونے سے اسلام میں لسانی قومیتوں کی بنا پڑجانے کا خوف ہے۔ جمعہ تو تمام مسلمانوں کو بلالحاظ نسل اور زبان و وطن ایک جگہ جمع کرنا چاہتا ہے، مگر غیر عربی خطبہ ان کو چھانٹ دے گا اور مختلف زبانیں بولنے والوں کو جمعے الگ الگ کراکے چھوڑے گا۔
یہ خطرہ یقینا اہمیت رکھتا ہے مگر اس کا علاج کچھ زیادہ دشوار نہیں ۔ ہونا یہ چاہیے کہ خطبے کا ایک حصہ تو لازماً عربی زبان میں ہو، اور اسے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا ، اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے آل و اصحاب پر صلوٰۃ وسلام اور آیات قرآنی کی تلاوت کے لیے مخصوص کردیا جائے۔ اس کے بعد دوسرا حصہ، جس میں احکام اور مواعظ اور ضروریات زمانہ کے لحاظ سے اسلامی تعلیمات ہوں۔ وہ ایسی زبان میں ہونا چاہیے، جس کو حاضرین یا ان کی اکثریت سمجھتی ہو، اور اس غرص کے لیے بھی زیادہ تر ان زبانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، جو مسلمانوں میں بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہوں۔ مثلاً ہندوستان میں صوبہ وار زبانوں اور مقامی بولیوں کے بجائے زیادہ تر اردو زبان کا خطبہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اسے قریب قریب ہرصوبے کے مسلمان سمجھتے ہیں۔ البتہ دور دراز کے گوشوں میں جہاں اردو سمجھنے والے کم ہیں، مقامی زبانوں کو خطبے کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ لیکن جہاں مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع ہو، وہاںعربی کے سواکسی دوسری زبان میں خطبہ نہ ہونا چاہیے۔

عملی مشکلات

یہاں تک جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے، وہ صرف شرعی مسئلہ سے متعلق تھا۔ یعنی قانون کی حد تک ہمارے نزدیک غیر عربی خطبے میں کوئی حکم شرعی مانع نہیں ہے، اور جو لوگ اس کو ناجائز یا مکروہ تحریمی یا خلاف سنت قرار دیتے ہیں وہ ہماری رائے میں غلطی کرتے ہیں لیکن اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ احکام سے نہیں بلکہ عملی مشکلات اور قباحتوں سے تعلق رکھتا ہے۔
عام فہم زبان میں خطبہ ہونے کی ضرورت جس بنا پر ظاہر کی جاتی ہے وہ تو یہی ہے کہ لوگ جب اس کو سمجھیں گے تو فائدہ اٹھائیں گے۔ گویا اصل مقصود سمجھنا نہیں بلکہ فائدہ اٹھانا ہے۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ بجائے فائدے کے الٹا نقصان ہونے لگے تو ایسی صورت میں غالباً ہر صاحب عقل یہی کہے گا کہ ایسا سمجھنے سے نہ سمجھنا بہتر ہے۔ اب ذرا اپنی قوم کی حالت کا جائزہ لیجیے۔
آپ کے ہاں امامت کا معیار حد سے زیادہ پست ہوچکا ہے۔ جو منصب مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں سب سے زیادہ اہم تھا، وہ اب سب سے زیادہ غیر اہم ہے۔جس منصب کے لیے بہتر سے بہترآدمی منتخب کرنے کا حکم تھا، اب اس کے لیے بدتر سے بدتر آدمی چھانٹا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ذہن میں اب امام کا تصور یہ ہے کہ جو شخص دنیا کے کسی اور کام کا نہ ہو اس کو مسجد کا امام ہونا چاہیے۔دس پانچ روپیہ تنخواہ اور دونوں وقت کی روٹی مقرر کردی اور کسی نیم خواندہ ملا کو رکھ لیا۔ یہ گویا مسجد کی امامت کا انتظام ہوگیا۔امامت کو اس درجہ پست کردینے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری مسجدیں ، وہی مسجدیں جنہوں نے کبھی ہماری قوم کے قصر فلک بوس کی تعمیر کی تھی، آج ایسے لوگوں کے ہاتھ میںہیں جو بے علم ، تنگ نظر، پست حوصلہ اور دنیئی الاخلاق ہیں۔ کیا آپ ان لوگوں سے امید رکھتے ہیں کہ یہ اردو میں خطبے دے کر آپ کی دینی و دنیوی رہنمائی کرسکیں گے؟
اس گروہ کو چھوڑ کر اگر آپ نے جمعہ کی امامت کے لیے کسی دوسرے گروہ کا انتخاب کرنا چاہا تو لامحالہ اس کے لیے آپ کو علماء ہی کے طبقے کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور باستثناء چند اس طبقے کے سواد آعظم کا جو حال ہے، اسے بیان کرنا گویا اپنی ٹانگ کھولنا اور آپ ہی لاجوں مرنا ہے۔ ان حضرات کو اگر آپ نے عام فہم زبان میں من مانے خطبے دینے کا موقع دیا تو یقین جانیے کہ آئے دن مسجدوں میں سرپھٹول ہوگی۔ اس لیے کہ ان میں کا ہر شخص اپنا ایک الگ مشرب رکھتا ہے اور اپنے مشرب میں وہ اتنا سخت ہے کہ دوسرے مشرب والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کرنا اس کے نزدیک گناہ سے کم نہیں۔ پھر اللہ نے اس کی زبان میں ایک ڈنک رکھ دیا ہے جس سے دلوں کو زخمی کیے بغیر وہ کوئی بات نہیں کرسکتا۔ وہ جس ماحول سے تعلیم و تربیت پاکر آتا ہے، اور جس ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے، وہاں دین کے مہمات اور قوم کے مصالح کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تمام دلچسپیاں سمٹ کر چند چھوٹی چھوٹی نزاعی باتوں میں جمع ہوگئی ہیں، اس لیے لامحالہ جب وہ زبان کھولے گا انہی مسائل پر کھولے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کے گھر میں گالم گلوچ اور جوتی پیزار ہوگی اور آخر کار ہر مشرب کے مسلمان اپنے جمعے الگ الگ قائم کرنے لگیں گے۔ یہ تو مذہبی ذہنیت رکھنے والوں کا حال ہوا۔ رہے نئے تعلیم یافتہ حضرات ، جو ان مسائل سے دلچسپی نہیں رکھتے تو ان پر ایک دوسری مصیبت نازل ہوگی۔ وہ ہر جمعہ کو رسول اللہ ؐ کے منبر سے وہ وہ موضوع اور ضعیف روایتیں اورلاطائل کہانیاں اور احکام اسلامی کی غلط تعبیریں سنیں گے، جن کو سن کر غیر مسلموں کا مسلمان ہونا تو درکنا ر، ذی ہوش مسلمانوں کا مسلمان رہنا بھی مشکل ہے۔
مذہبی دھڑے بندیوں کے علاوہ اب مسلمانوں میں سیاسی دھڑے بندی کا بھی زور ہو رہا ہے۔ جہاں کہیں مولوی قسم کے مسٹروں ، یا مسٹرقسم کے مولویوں کو امامت و خطابت کا موقع مل گیا ہے، وہاں وہ نہایت منہ پھٹ اور بے لگام طریقے سے اپنے سیاسی مسلک کی تائید اور مسلک مخالف کے لوگوں کی تذلیل و تضحیک و تفسیق کرنے لگے ہیں۔ یہ ایک اور فتنہ ہے جو اگر کچھ زیادہ بڑھ گیاتو مسلمانوں کے لیے مل کر نماز پڑھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ مسجدوں میں وہ کچھ ہونے لگا ہے جو پولنگ اسٹیشنوں پر ہوا کرتا ہے اور بالآخر ہر سیاسی مسلک کے لوگوں کی مسجد یںالگ ہو کر رہیں گی۔
خطبہ غیر عربیہ کے اجر اء سے پہلے آپ کو ان خرابیوں کا کوئی علاج سوچنا چاہیے۔ میری رائے میں ان کا علاج صرف یہی ہوسکتا ہے کہ اہل علم کی کوئی معتدل جماعت خطبات جمعہ کی تیاری کا کام اپنے ہاتھ میں لے اور ایسے خطبے لکھے جو نزاعی مسائل سے پاک ہوں اور مسلمانوں میں صحیح و دینی روح پھونکنے والے ہوں۔ پھر ہندستان میں ہر جگہ صحیح الخیال اور بااثر لوگ کوشش کریں کہ اسی مرکزی جماعت کے تیار کیے ہوئے خطبے نماز جمعہ میں پڑھے جائیں۔ اگر ایسی کوئی تنظیم ہوجائے ( جس کی امید کم ہی نظر آتی ہے) تو خطبہ غیر عربیہ کے اجراء میں میری تحقیق کی حد تک کوئی امر شرعی مانع نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ تنظیم نہ ہوسکے تو مصلحت کا اقتضاء یہی ہے کہ عربی کے انہی پرانے خطبوں کو چلنے دیا جائے جن سے کوئی مفید نہیں تو مضر نتیجہ بھی برآمد نہیں ہوتا۔ البتہ اگر خوش قسمتی سے کوئی موزوں خطیب میسر آجائے اور وہ اس خدمت کو باحسن و جوہ انجام دے سکے تو اس سے فائدہ اٹھانے میں دریغ بھی نہ کرنا چاہیے۔ (تفہیمات ج۲: نماز خطبہ۔۔۔)

خطبہ جمعہ کی زبان پر مزید بحث

مسئلہ کا ایک پہلو فقہی ہے اور اس نقطہ نظر سے صرف یہ امر بحث طلب ہے کہ آیا خطبہ کو عربی زبان میں پڑھنا شرعاً ضروری ہے یا نہیں؟ اس سوال کے متعلق کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لیے حسب ذیل امور کی تحقیق ہونی چاہیے۔ کیا خطبہ عربیہ کے وجوب پر کوئی نص ہے؟ اگر نص نہیں ہے اور یہ حکم صرف شارع کے عمل سے ماخوذ ہے تو کیا شارع کا یہ عمل سنت کی تعریف میں آتا ہے؟ آیا اصطلاح شرح میں سنت ہر اس عمل کو کہتے ہیں جو شارع نے کیا ہو، اس باب میں شرعی عمل اور عادی و طبعی عمل میں کوئی فرق کیا گیا ہے ؟ اگر فرق ہے تو شارع کا عربی میں خطبہ دینا کس قسم کا فعل ہے، شرعی یا طبعی؟
مسئلہ کا دوسرا پہلو مصالح سے تعلق رکھتا ہے اور اس بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے حسب ذیل امور کا تصفیہ ضروری ہے۔ خطبہ کا مقصد کیا ہے؟ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شارع نے اور صدر اول کے ائمہ نے جو طریقہ اختیار کیا تھا اس کی پابندی سے آج بھی وہ مقصد حاصل ہوتا ہے یا نہیں؟ شریعت میں مقصد زیادہ اہمیت رکھتا ہے، یا وہ وسیلہ جو اس کو حاصل کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو؟ اگر مقصد زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور کسی خاص صورت حال میں طریقہ متوارثہ کی پابندی سے وہ فوت ہورہا ہو اور اس صورت حال کو بدلنے پر ہم قادر نہ ہوں تو کیا ہم اصول شرع کے تحت طریقہ متوارثہ میں کوئی تغیر کرسکتے ہیں؟ اگر تغیر کرنے کا حق ہم کو حاصل ہے تو حالات کے لحاظ سے ہمیں کتنا اور کس طرح کا تغیر کرنا چاہیے؟
یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر ان دلائل کو تسلیم کرلیا جائے تو قرآن مجید کا ترجمہ کرنا بھی اسی طرح ناجائز قرار پائے گا جس طرح غیر عربی میں خطبہ دینا ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ عربی زبان اسلام کی سرکاری زبان ہے، جو لوگ اسلام کے محکوم ہیں، ان پر اس زبان سے واقف ہونا لازم ہے اور اگر وہ عربی سے واقفیت پیدا نہیں کرتے تو یہ ان کا قصور ہے، لہٰذا ان کو سمجھانے کے لیے قرآن کے مطالب کو ان کی مادری زبان، یا بالفاظ دیگر کسی ’’غیر سرکاری زبان‘‘ میں بیان نہیں کیا جائے گا۔ اسی طریقے سے آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ ان کے سامنے اسلامی احکام ، اسلامی عقائد، اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور دوسری ’’سرکاری‘‘ چیزوں کو بھی صرف ’’سرکاری زبان ہی میںبیان کیا جائے گا۔ کوئی چیز غیر سرکاری زبان میں نہ بیان ہوگی خواہ وعظ کی صورت میں ہو یا تحریر کی صورت میں۔
فرمائیے! اگر کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے توکیا آپ اس کو قبول کریں گے؟ غالباً نہیں اس لیے کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا کرنے سے مسلمانوں کی تقریباً ۸۰ فی صد آبادی اسلام کے علم سے بالکل بے بہرہ ہوجائیگی۔ اسی بنا پر آپ قرآن حکیم کے ترجمے دوسری زبانوں میں کرنے کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں، اور اسی بنا پر آپ ’’غیر سرکاری زبان‘‘ میں ’’سرکاری‘‘ مضامین کی اشاعت کو مواعظ اور تحریروں کی شکل میں صرف گوارا ہی نہیں بلکہ پسند کرتے ہیں۔ جب حال یہ ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ تمام بحثیں صرف خطبہ جمعہ کے مسئلہ میں پیدا ہوتی ہیں؟ مسجد میں اگر کوئی شخص نماز کے بعد یاخطبہ سے پہلے عجمی زبان میں وعظ کہے تو جائز بلکہ مفید ۔ اور انہی مضامین کو اگر وہی شخص منبر کی دو سیڑھیوں پر چڑھ کر خطبہ جمعہ کی حیثیت سے بیان کرنے لگے تو ناجائز، بلکہ بدعت!
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عادت قدیمہ کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں، اور جب کوئی مجتہد ، حالات کے تغیر اور زمانے کی بدلی ہوئی ضروریات کو محسوس کرکے، طریقہ متوارثہ میں ترمیم کی جرات کرتا ہے تو وہ محض اس بنا پر اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں کہ اس نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس سے ان کے طبائع مانوس نہیں ہیں، مگر جب یہ نیا طریقہ چل پڑتا ہے اور اجنبیت دور ہوجاتی ہے تولوگ اس کو نہ صرف جائز بلکہ مفید سمجھنے لگتے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے جب قرآن مجید کا ترجمہ فارسی میں کیا تو اسی بنا پر ان کی مخالفت کی گئی تھی۔ ان سے پہلے ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جس میں عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں دعا کرنا، وعظ کہنا اور دینی مسائل پر اظہار خیال کرنا ایک نئی چیز تھی۔ اور لوگ اس پر معترض ہوتے تھے۔ ٹرکی میں جب پہلی مرتبہ جدید طرز پر فوجوں کو مرتب کرنے اور نئے آلات جنگ کا استعمال رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو ایک جماعت نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔ ان میں سے ہر موقع پر یہی کہا گیا کہ یہ بدعت اور احداث فی الدین ہے، مگر آج کوئی نہیں جس کو ان چیزوں پر اعتراض ہو۔ اعتراض تو درکنار آج عامی اور عالم سب ان کو جائز بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ پر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کے اعتراضات دراصل غیر شرعی محرکات سے پیدا ہوتے ہیں، پھر ان کی تائید میں شریعت سے استدلال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلام سے عربی زبان کا خاص تعلق ہے۔ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے۔ نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ اور صحابہ کرام کی سیرت کے متعلق تمام معلومات عربی میںہیں۔ اسلام کا صحیح علم حاصل ہونا، جس پر انسان کے مسلمان ہونے کا مدار ہے۔ عربی زبان کی واقفیت کے بغیر ممکن نہیں۔ امت مسلمہ کی وحدت برقرار رکھنے کے لیے بھی عربی زبان ایک ضروری اور ناگزیر ذریعہ ہے۔ انہی وجوہ سے ہر زمانہ کے علماء نے عربی کی تعلیم پر زور دیا ہے، اور انہی وجوہ سے آج بھی ہر صاحب عقل و فہم مسلمان یہ ضروری سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی کو بحیثیت ایک ثانوی زبان کے لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔ یہ تمام باتیں بالکل برحق ہیں اور ان میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے میں عرض کرچکاہوں ’’ہے‘‘ اور ’’ہونا چاہیے‘‘ میں بڑا فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے ضرور کوشش کیجیے۔ لیکن اگر عالم واقعہ میں موجود نہیں ہے تو اپنے طرز عمل کو واقعات کے مطابق بنانے سے انکار نہ کردیجیے ۔ عقل اور دین دونوں کا اقتضا یہ ہے کہ مقصد کو وسیلہ پر مقدم رکھا جائے۔ ایک وسیلہ اگر زیادہ بہتر ہے، لیکن اب کاگر نہیںرہا ہو، تو دوسرا وسیلہ اختیار کیجیے جو کار گرہو، اگرچہ بہتر نہ ہو۔ لیکن اگر آپ وسیلہ پر اصرار کرکے اصل مقصد کو کھودیں گے تو یہ نہ عقلمندی ہے نہ دینداری۔
اب آپ خود غور کیجیے کہ دین کا اصل مقصد کیا ہے؟ آیایہ ہے کہ عربی زبان کو ’’سرکاری‘‘ اور قومی زبان کی حیثیت سے پھیلا یا جائے؟ یا یہ کہ خدا کے بندوں کو اس کی تعلیم اور اس کے احکام سے واقف کرایا جائے؟ ظاہر ہے کہ اصل مقصد دوسری چیز ہے ۔ پس جب حال یہ ہے اور ہر شخص اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ غیر عربی ممالک میں دو فی صدی آدمی بھی عربی زبان سمجھنے والے باقی نہ رہے، اور ہم اس طاقت سے محروم ہوچکے ہیں جس سے صدر اول کے مسلمانوں نے عربی کے علم کو پھیلایا تھا، تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے لیے صحیح طریق کار کیا ہے؟ یہ کہ مقصد اصلی کو کسی دوسرے ممکن ذریعہ سے حاصل کریں؟ یا یہ کہ قدیم ذریعہ پر اصرار کرکے مقصد کو فوت ہوجانے دیں؟
دین ایک عالمگیر حقیقت ہے۔ انسانی زبانوں میں سے کسی کے ساتھ اس کا مختص بالذات رشتہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اصل مقصد دین کو اپنے بندوں تک پہنچانا ہے ، اور اس مقصد کے لیے جس طرح وہ ایک انسان کو وسیلہ بناتا ہے اسی طرح ایک زبان کو بھی وسیلہ بناتا ہے۔ نبی ﷺ سے پہلے اسی دین کو پہنچانے کے لیے وہ دوسری قوموں کے انسانوں اور دوسری قوموں کی زبانوں کو بھی وسیلہ بناچکا ہے۔ پس اگر آخری تبلیغ کے موقع پر اس نے عربی قوم اور عربی زبان کو وسیلہ بنایا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اب صرف عربی زبان ہی سے اسلام کا رشتہ ہوگیا ہے اور دوسری زبانوں کو تبلیغ دین کے لیے استعمال کرنا ناجائز یا مکروہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نبی ﷺ صریح ہدایت فرمادیتے کہ عربی زبان کے سوا کسی زبان کو تبلیغ دین کے لیے قیامت تک استعمال نہ کرنا۔ حالانکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے بعض صحابہ کو غیر زبانیں سیکھنے کا حکم دیا تھا اور عہد صحابہ میں حضرت سلمان فارسیؓ جیسے غیر عربی الاصل حضرات عجمیوں کو ان کی اپنی زبانوں میں دین کی تعلیمات سمجھاتے تھے۔
رہی یہ بات کہ قیصر روم اور شاہ ایران کو جو دعوت نامے بھیجے گئے تھے وہ عربی میں کیوں بھیجے گئے، تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جو خطوط ان لوگوں کو بھیجے تھے، وہ ایک ملک کے فرمانروا کی طرف سے دوسرے ملک کے فرمانروائوں کی جانب تھے، اور ایسی مراسلت میں اپنے ملک کی زبان کے بجائے مخاطب کے ملک کی زبان استعمال کرنا اس مملکت کی توہین ہے جس کا فرمانروا کمتر موقف اختیار کرے۔ اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر حضوؐر تبلیغ کی خاطر ہر مخاطب فرمانروا کو اسی کی زبان میں خطاب فرمانا چاہتے بھی تو اس وقت عملاً اس کا انتظام مشکل تھا، کیونکہ صحابہ میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو غیر عربی زبانیں جانتے ہوں، اور جو لوگ جانتے تھے وہ بھی ان زبانوں کے ایسے ادیب نہ تھے کہ ایک نبی کے شایان شان فصیح و بلیغ خط لکھ سکتے۔ نیز یہ بات بھی حضور اکرؐم کو معلوم تھی کہ جن بادشاہوں کے نام آپ دعوت نامے بھیج رہے ہیں ان کو ایسے لوگ ۔۔ میسر آسکتے ہیں جو ان خطوط کا صحیح مفہوم انہیں سمجھاسکتے ہیں

۔ واضح رہے کہ ایرانی اور رومی، دونوں سلطنتوں کے حدود میں، اور ان کے زیر اثر علاقوں میں عربی ریاستیں موجودتھیں، بڑے بڑے عرب قبائل آبادتھے، اور عرب سرداروں کی رسائی قیصرو کسریٰ کے درباروں میں تھی۔ اسی طرح مصر اور حبش کے ساتھ بھی عرب کے وسیع تجارتی تعلقات تھے اور دونوں ملکوں کے اپنے حدود میں عربی بولنے والی آبادیاں پائی جاتی تھیں۔ پس حضوؐر کا عربی میں اسلام کے دعوت نامے بھیجنا عملی زندگی کے موانع کا نتیجہ تھا، اور اس کی حیثیت بالکل ایسی ہی تھی جیسے پانی نہ ملنے کی صورت میں آپ نے تیمم بھی کیا ہے اورقیام کی طاقت نہ ہونے کی حالت میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھی ہے۔ حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو ہر جگہ آپ کے لیے ایک چشمہ پیدا کرسکتا تھا، اور آپ کو ہمیشہ بیماری اور ضعف سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔ ایسی مثالوں سے یہ نتیجہ نکالنا ہرگز درست نہیں کہ شریعت دین کی تبلیغ کو صرف عربی زبان تک محدود رکھنا چاہتی ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ جو لوگ اس زبان سے واقف نہ ہوں، ان کو ضلالت اور جہالت میں مبتلا رہنے دیاجائے۔
صحابہ کرام اور ائمہ متقدمین کی غیر زبانوں سے نفرت اور عربیت پر ان کے اصرار کے متعلق میں نے ’’تعصب‘‘ کا لفظ جو استعمال کیا تھا۔ تعصب محض جاہلیت ہی کا نہیں ہوتا۔ ایک قسم کا تعصب وہ ہے جو ہر انسان کی فطرت میں ہوتا ہے اور جس کوعیب میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر ایک ہندوستانی جب چین جائے گا تو وہاں کی زبان، عادات ، خصائل، طرز بود وماند ہر چیز سے اجنبیت محسوس کرے گا۔ ان پر ناک بھوں چڑھائے گا۔ اور اس کو پسند نہ کرے گا کہ اس کے اہل و عیال ’’چینیت‘‘ اختیار کریں۔ یہ ایک فطری منافرت ہے جو ہر انسان کی طبیعت میں اجنبی چیزوں سے ہوتی ہے۔ صحابہ کرام بھی بہر حال انسان تھے اور عجمیت سے ان کی نفرت ایک حد تک اس بنا پر بھی تھی۔ اس میں مزید اضافہ اس وجہ سے ہوگیا کہ عجمی اقوام اس وقت سب کی سب کافر تھیں اور ان کے جو افراد مسلمان ہوجاتے تھے، ان کو صحابہ کرام عربیت کے رنگ میں رنگ لینا ضروری سمجھتے تھے، تاکہ وہ کفار کی جمعیت سے الگ ہو کر اہل اسلام کی جمعیت میں جذب ہوجائیں۔ نیز صحابہ کرام یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ مسلمان (جو اس وقت تمام تر عرب ہی تھے) عجمی ممالک میں اہل عجم کی سی بولیاں بولنا اور ان کے سے لباس پہننا شروع کردیں۔ کیونکہ اس طرح کفار کی اکثریت میں ان کے جذب ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ پس صحابہ کرام نے جو طرز عمل اختیار کیا، اس کی بنیاد دو وجوہ پر تھی۔ ایک وجہ فطری تھی اور دوسری وجہ حالات کے اقتضاء سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں سے پہلی وجہ کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لیے اس کو حجت بنانا درست نہیں۔ رہی دوسری وجہ تو اب وہ حالات باقی نہیں ہیں۔ اردو، فارسی ، ترکی، جاوی، اور ایسی ہی دوسری زبانیں بھی عربی کی طرح اب مسلمانوں کی زبانیں ہیں، اور ان سے کسی اسلامی مصلحت کے تحت نفرت و اجتناب کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی ہے۔ (تفہیمات ج۲: خطبۂ جمعہ ۔۔۔)

کیا خطبہ غیر عربیہ واجب ہے؟

یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے۔ ایک جماعت عجمی زبان کے خطبہ کو مکروہ تحریمی ثابت کررہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کا فاعل گناہ گار ہو۔ دوسری جماعت اسی چیز کو واجب ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے ، جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا تارک گناہ گار ہو۔ حالانکہ نہ ایک فریق کے پاس اس کی حرمت کا کوئی شرعی ثبوت ہے اور نہ دوسرے کے پاس اس کے وجوب کا۔ اس معاملہ میں یہ بات ہر شخص کو بطور ایک اصول کے سمجھ لینی چاہیے کہ شریعت میں فرض و واجب، یا حرام و ناجائز صرف وہی امور ہیں، جن کو شارع نے خود یہ حیثیت دی ہو اور جن کے بارے میں کتاب و سنت سے اس طرح کا کوئی حکم ثابت ہو۔ ایسے ہی امور کے فعل یا ترک پر گناہ کا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ باقی رہے وہ امور جو ہم قیاس و استدلال کے ذریعہ سے شارع کے قول یا عمل سے مستنبط کرتے ہیں، تو ان کو فرض یا واجب قرار دینا، یا حرام یا ناجائز ٹھیرانا اور ان کی بنا پر ثواب یا عقاب کا حکم لگانا اصلاً غلط ہے۔ اس لیے کہ انسان کو انسان پر کوئی چیز فرض و واجب کرنے یا حرام یا ناجائز ٹھیرانے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے، اور عذاب و ثواب خدا کے اختیار میں ہیں نہ کہ انسان کے اختیار میں۔ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمْ الْکَذِبَ ہُذَا حَلَالٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذب اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلیٰ اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ۔(النحل :۱۱۶) ایک بڑے سے بڑا عالم اور امام جلیل القدر بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہنے کا حق رکھتا ہے ، وہ صرف اس قدر ہے کہ میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہ سے ایسا سمجھتا ہوں، میرے نزدیک فلاں بات کی جاسکتی ہے یا اس کا کرنا اولیٰ ہے، یا فلاں بات نہیں کی جاسکتی، یا اس کا کرنا درست نہیں۔ اگرچہ رائے کا اختلاف اس صورت میں بھی باقی رہتا ہے۔ اس لیے کہ ایک شخص کا فہم دوسرے شخص کے فہم سے بالکل مطابق نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ اختلاف احکام شریعت میں نہیں بلکہ انسانی اجتہاد میں ہوگا اور اس کی وجہ سے وہ فتنے نہ پیدا ہوسکیں گے جواجتہادی اختلافات کی بنیاد پر فرض اور حرام کا فرق پیدا کرنے اور پھر ایک دوسرے کو گناہ گار اور گمراہ ٹھہرانے سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس اصل کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ اس کے بعد زبان خطبہ کے مسئلہ پر غور کیجیے ۔ شارع نے ایسی کوئی تصریح نہیں فرمائی ہے کہ خطبہ فلاں زبان میں دینا واجب ہے۔ یا فلاں زبان میں دینا مکروہ تحریمی ہے۔ اسی طرح شارع نے ان مقاصد کی تفصیل بھی بیان نہیں کی ہے جن کے لیے خطبہ کو نماز جمعہ کے ساتھ لازم کیا گیا ہے۔ اس باب میں جتنی مختلف باتیں مختلف خیالات کے اہل علم بیان کرتے ہیں ، وہ شارع کے کسی صریح حکم پر مبنی نہیں ہیں۔بلکہ انہوں نے صاحب شریعت کے عمل کو دیکھ کر اپنی فہم کے مطابق مختلف امور اخذ کیے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک گروہ کا فہم صحیح ہو۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرے گروہ کا فہم صحیح ہو۔ دونوں کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا حق ہے۔ لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے فہم سے جو حکم وہ نکال رہا ہے اسے واجب ٹھیرائے اور اس کے تارک کو گناہ گار قرار دے، یا اسے حرام ٹھیرائے اور اس کے فاعل کو مجرم ٹھیرائے۔ لوگوں کو پوری آزادی حاصل ہے کہ جس کے دلائل کو وہ زیادہ وزنی سمجھیں اور جس کی رائے پر ان کو اطمینان ہو جائے، اس کا اتباع کرلیں۔ شارع کا تصریح نہ کرنا خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اس باب میں آزادی بخشی ہے۔ اگر اس میں لوگوں کے طریقے مختلف ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں۔ جس کا مسلک زیادہ قوی دلائل پر مبنی ہوگا، اور جس کی رائے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کو زیادہ مطمئن کرنے والی ہوگی ، اسی کے اتباع پر بالآخر سواد آعظم مجتمع ہوجائے گا اور اختلاف عمل کا دائرہ خود بخود گھٹتا چلاجائے گا۔
خطبہ غیر عربیہ کو واجب قرار دینے کے لیے جو طریق استدلال اختیار کیا گیا ہے، وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ نماز کے مقاصد میں سے اہم ترین مقصد رجوع الی اللہ ہے، اور رجوع الیٰ اللہ بغیر خشوع و خضوع کے ممکن نہیں۔ اور جس چیز پر فرض کے مقصد کا حصول موقوف ہو، وہ بھی فرض ہونی چاہیے، لہٰذا خشوع و خضوع نماز ہی کی طرح فرض ہے۔یہ طرز استدلال ممکن ہے کہ منطق کی رو سے درست ہو،مگر شرع کی رو سے درست نہیں۔ اس لیے کہ یہ شخص امت پر ایسی چیز فرض کرتا ہے جسے خدا نے فرض نہیں کیا۔ شریعت میں صرف وہی چیز فرض یا حرام ہے جس کو خدا نے فرض یا حرام قرار دیا ہے۔ ہم کو منطقی استدلال سے فرائض اور حرمات کی فہرست میں اضافہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پچھلی امتوں نے یہی غلط طریقہ اختیار کرکے اپنے اوپر بہت سی چیزیں لازم کرلی تھیں، جو خدا نے ان کے اوپر لازم نہیں کی تھیں، اور یہی وہ بوجھ اور پھندے تھے جن سے انسانیت کو آزاد کرنے کے لیے نبی ﷺ بھیجے گئے۔ وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ (الاعراف: ۱۵۷)
اصل حقیقت یہ ہے کہ شرعی نظام کے درہم برہم ہوجانے کی وجہ سے اسلام کا کوئی حکم اپنی اصل پر باقی نہیں رہا ہے۔ جمعہ اور خطبہ ہمارے شرعی نظام کے اہم ترین اجزاء میں سے تھے۔ ایک عظیم الشان اجتماعی مقصد تھا جس کی تحصیل کے لیے دوسرے اجزاء کے ساتھ ان دونوں چیزوں کو بھی خاص حکیمانہ تناسب سے ایک نظام میں نصب کیا گیا تھا۔ اب وہ نظام ٹوٹ گیا، اجزاء پراگندہ ہو گئے، ان کا باہمی ربط اور اجتماعی زندگی کے ساتھ ان سب کا مجموعی ربط ٹوٹ گیا، اور سرے سے وہ عظیم الشان مقصد ہی اب دلو ں سے محو ہوتا جارہا ہے جس کے لیے یہ تمام اجزاء فراہم کیے گئے تھے۔ اس حالت کی صحیح اصلاح تو اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ وہ شرعی نظام پھر سے قائم کیا جائے اور اس کے بکھرے ہوئے اجزاء کو پھر اسی طرح جمع کرکے ایک مشین کے پرزوں کی طرح نصب کردیا جائے، تاکہ اس کی حرکت کے ساتھ ساتھ وہ نتائج برآمد ہوتے چلے جائیں جو اس سے مطلوب ہیں۔ تاہم اگر یہ نہیں ہوسکتا تو کم از کم اتنا ہی ہو کہ مسلمانوں میں ایک رائے عام پیدا کردی جائے ، بڑے پیمانے پر نہیں تو چھوٹے پیمانے پر ہی ان کو اپنے اجتماعی کام ایک نظم کے ساتھ انجام دینے کی عادت ڈالی جاے ، اور رائے عامہ کی طاقت سے ان مضرتوں کا سدباب کیا جائے جو غیر ذمہ دارلوگوں کی منتشر حرکات سے پیدا ہوتی ہیں لیکن اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو پھر اصلاح کا نام نہ لیجیے، اور جو کچھ ہورہا ہے اس کو اسی طرح ہونے دیجیے کیونکہ ہر شخص اپنے ذہن میں اصلاح کا جو مفہوم سمجھے بیٹھا ہے، اگر وہ اسی کے مطابق انفرادی طور پر عمل شروع کردے تو بے شمار مصلحین، ایک دوسرے کے خلاف عمل کرنے والے پیدا ہوجائیں گے اور ان کی کارگزاریوں کا نتیجہ اصلاح کے بجائے مزید فساد ہوگا۔
نظام شرعی میں خطیب جمعہ کی حیثیت محض ایک واعظ کی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت رکھتا ہے جس پر اپنے حلقہ کی جماعت مسلمین کی نگرانی کرنے اور ان کی اجتماعی زندگی کو مفاسد سے بچانے اور ان سب کو عام قومی پالیسی کے مطابق چلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ذمہ داری بجائے خود ایک معلم ہے۔ جس شخص پر اس کا بارپڑتا ہے، وہ خود ذمہ داری سے ہی سیکھ لیتا ہے کہ اس سے کیونکر عہدہ برآہو، بخلاف اس کے ایک غیر ذمہ دار شخص، جو نہ کسی نظام جماعت سے تعلق رکھتا ہو، نہ کسی کے سامنے جواب دہ ہو، نہ اس امر کا کوئی تصور رکھتا ہو کہ اس کا خطبہ جماعت کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، بلکہ اثر انداز ہوتا بھی ہے، یا نہیں۔ ایسا شخص خطبہ جمعہ کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ جماعت کی فلاح و بہبود کن چیزوں کی مقتضی ہے؟ کون سے مفاسد ہیں جن کی اصلاح اس کو پہلے کرنی چاہیے؟ کن تعلیمات کی تلقین اور کن احکام کی تبلیغ مقدم ہے اور اس کام کو کس طرح انجام دیا جائے کہ فائدہ مطلوب حاصل ہو؟ ہمارے جمعوں کے امام چونکہ کوئی ذمہ دارانہ حیثیت ہی نہیں رکھتے، اس لیے درحقیقت وہ خطیب کے ان فرائض کو ادا کرنے کے ناقابل ہیں۔ وہ اگر عالم بھی ہوں تو ان کی حیثیت ایک واعظ اور مبلغ کی رہے گی۔ وہ محض اپنے شخصی اختیار تمیزی کی بنا پر تعلیم و تبلیغ کریں گے اور اس سے کوئی خاص اجتماعی فائدہ حاصل نہ ہوگا، بلکہ اس کے برعکس ان کے غیر ذمہ دارانہ مواعظ سے یہ تھوڑی بہت اجتماعیت بھی، جواب حاصل ہوتی ہے، پراگندہ ہوجائے گی۔
اگر نظام شرعی کا احیاء اس وقت ممکن نہیں ہے، جیسا کہ بظاہر نظر آرہا ہے، تو آخری صورت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت، جو کسی حد تک ذمہ دار انہ حیثیت رکھتی ہو، خطبات جمعہ مرتب کرنے کے لیے مقرر ہونی چاہیے، اور اس کو ایسے خطبات مرتب کرنے چاہئیں جن میں اصول اسلام کو غیر اختلافی طریقوں سے بیان کیا جائے، مسلمانوں میں وحدت ملی کا احساس پیدا کیا جائے، ان کو عام اخلاقی مفاسد اور خلاف شریعت اعمال پر (جو متفق علیہ ہیں) متنبہ کیا جائے ، اور ایسے احکام بیان کیے جائیں جن سے مسلمانوں کے کسی فرقہ کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ اجتماع جمعہ کے مقاصد کی تحصیل کا کم سے کم ذریعہ یہی ہے ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ مختلف فرقوں کے جمعے جو الگ الگ ہونے لگے ہیں، ان کو بند کیا جائے اور ایسی صورتیں پیدا کی جائیں کہ کم از کم جمعہ میں تمام یا اکثر فرقوں کے مسلمان ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں۔ جمعوں کا الگ ہونا غایت درجہ نقصان دہ چیز ہے۔ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے۔ نہ یہ کہ ایسے اسباب پیدا کیے جائیں جن سے یہ بیماری اور زیادہ ترقی کرے۔ واعظوں کو اگر اپنے نقطہ نظر کے مطابق وعظ کہنا ہے اور وہ اپنے مسلک کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو وہ مسجدوں سے باہر جہاں چاہیں، لب کشائی کریں۔ مسجدیں جمع کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، نہ کہ تفریق کرنے کے لیے۔ ان کو مساجد ضرار بنانا ایک بد ترین فعل ہے، جسے کسی حال میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔ (تفہیمات، ج۲: کیا خطبہ ۔۔۔)

ماخز

(۱) موطا امام مالک ج۱، باب ماجاء فی السواک۔ ٭ابن ماجہ: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیہا، باب ماجاء فی الزینۃ یوم الجمعۃ۔ فی الزوائد: فی اسنادہ صالح بن أبی الاخضر، لینہ الجمہور، و باقی رجالہ ثقات۔
(۲) بخاری ج۲، کتاب الرقاق، باب مایخذر من زہرۃ الدنیا و التنافس فیہا۔ج۱، کتاب الزکوٰۃ، باب الصدقۃ علی الیتامی۔ اس مقام پر آغاز روایت’’ اِنَّ مِمَّا اَخَافُ عَلَیْکُمْ، مِنْ بَعْدِیْ مَا یُفْتَحُ عَلَیْکُمْ مِنْ زَہْرَۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتِہَا‘‘ سے ہوا ہے اور بھی قدرے لفظی اختلاف ہے۔
(۳) بخاری ج۱، کتاب الجمعۃ، باب من قال فی الخطبۃ بعد الثناء اما بعد۔
(۴) بخاری ج۱، کتاب الجمعۃ، باب الاستسقاء فی الخطبۃ یوم الجمعۃ۔

فصل :۱۰ نماز تہجد

یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُoلا قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاoلا نِصْفَہُٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًاoلا اَوْزِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْٰانَ تَرْتِیْلًاoط اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلاًo اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلاًoط
(المزمل : ۱ -۶)
’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو، مگر کم ، آدھی رات، یا اس سے کچھ کم کرلو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘
سورۂ بنی اسرائیل آیت ۷۹ میں ارشاد باری تعالیٰ: وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْبِہ نَافِلَۃً لَّکَ۔’’ا ور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے۔‘‘

تہجد کے معنی

تہجد کے معنی ہیں ’’نیند توڑ کر اٹھنے کے ۔‘‘ پس رات کے وقت تہجد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا ایک حصہ سونے کے بعد پھر اٹھ کر نماز پڑھی جائے۔ (تفہیم القرآن، ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ: ۹۶)

فرض نہیں، نفل ہے

نفل کے معنی ہیں ’’فرض سے زائد‘‘۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکل آیا کہ وہ پانچ نمازیں، جن کے اوقات کا نظام پہلی آیت اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِط اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْھُوْدًا۔ (بنی اسرائیل :۷۸) میں بیان کیا گیا تھا، فرض ہیں اور یہ چھٹی نماز فرض سے زائد ہے۔ (تفہیم القرآن،ج ۲، بنی اسرائیل حاشیہ :۹۷)
یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ کے الفاظ کے ساتھ حضوؐر کو مخاطب کرنے اور پھر یہ حکم دینے سے کہ’’ آپ اٹھیں اور راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے رہا کریں‘‘ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت یا تو آپ سوچکے تھے، یا سونے کے لیے چادر اوڑھ کر لیٹ گئے تھے۔

اے نبی یا اے رسول کے بجائے ’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے‘‘ کے خطاب کی لطافت
اس موقع پر آپ کو اے نبیؐ یا اے رسول کہہ کر خطاب کرنے کے بجائے ’’اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے‘‘ کہہ کر پکارنا ایک لطیف انداز خطاب ہے، جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دورگزر گیا، جب آپ آرام سے پائوں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا کا مطلب

اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رات نماز میں کھڑے رہ کر گزارو۔ اور اس کا کم حصہ سونے میں صرف کرو۔ دوسرا یہ کہ پوری رات نماز میں گزار دینے کا مطالبہ تم سے نہیں ہے، بلکہ آرام بھی کرو اور رات کا ایک قلیل حصہ عبادت میںبھی صرف کرو۔ لیکن آگے کے مضمون سے پہلا مطلب ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اسی کی تائید سورۂ دہر کی آیت ۲۶ سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے وَمِنَ اللَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہُ وَسَبِّحْہُ لَیْلًا طَوِیْلًا ’’اوررات کو بھی اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو اور رات کا طویل حصہ اس کی تسبیح کرتے ہوئے گزارو۔‘‘

مقدار وقت کی تشریح

نِصْفَہُ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا۔ اَوْ زِدْعَلَیْہِ ۔ (المزمل: ۳-۴)
’’آدھی رات، یا اُس سے کچھ کم کرلو،یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو۔‘‘
یہ اس مقدار وقت کی تشریح ہے، جسے عبادت میں گزار نے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس میں آپؐ کو اختیار دیا گیا کہ خواہ آدھی رات نماز میں صرف کریں، یا اس سے کچھ کم کردیں، یا اس سے کچھ زیادہ ۔ لیکن انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ترجیح آدھی رات ہے ، کیونکہ اسی کو معیار قرار دے کر کمی و بیشی کا اختیار دیا گیا ہے

نماز تہجد میں قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھنے کا حکم

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا۔ (المزمل: ۴) اورقرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ یعنی تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھیرو تاکہ ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات و صفات کا ذکر ہے تو اس کے عظمت و ہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے تو دل جذبات تشکر سے لبریز ہوجائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے، یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیزکا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قراء ت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لیے نہیں، بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی قراء ت کا طریقہ حضرت انس سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپ اللہ ، رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے (بخاری)۔ حضرت ام سلمہؓ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضوؐر ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھیرتے جاتے تھے، مثلاً اَلْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھ کر رک جاتے ،پھر اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پر ٹھیرتے اور اس کے بعد رک کر مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی)۔ دوسری ایک روایت میں حضرت ام سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضورؐ ایک ایک لفظ واضح طور پر پڑھا کرتے تھے (ترمذی، نسائی)۔ حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضور کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ کی قرا ء ت کا یہ انداز دیکھاکہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعامانگتے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا وہاں پناہ مانگتے۔ (مسلم، نسائی)
حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضورؐ اس مقام پر پہنچے اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (المائدۃ:۱۱۸)۔ (اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو تو غالب اور داناہے) تو اسی کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ (مسند احمد، بخاری)

رات کی نماز کا حکم کیوں دیاگیا

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً (المزمل : ۵) ’’ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ ‘‘یعنی تم کو رات کی نماز کا یہ حکم اس لیے دیا جارہاہے کہ ایک بھاری کلام ہم تم پر نازل کررہے ہیں، جس کا بار اٹھانے کے لیے تم میں اس کے تحمل کی طاقت پیدا ہونی ضروری ہے۔ اور یہ طاقت تمہیں اسی طرح حاصل ہوسکتی ہے کہ راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھو اور آدھی آدھی رات، یا کچھ کم وبیش عبادت میں گزارا کرو۔

قرآن کو بھاری کلام کیوں کہاگیا؟

قرآن کو بھاری کلام اس بنا پر بھی کہاگیاہے کہ اس کے احکام پرعمل کرنا،اس کی تعلیم کا نمونہ بن کر دکھانا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلے میں اٹھنا اور اس کے مطابق عقائد وافکار، اخلاق و آداب اور تہذیب وتمدن کے پورے نظام میں انقلاب برپا کردینا، ایک ایسا کام ہے، جس سے بڑھ کر کسی بھاری کام کا تصور نہیںکیاجاسکتا۔ اور اس بنا پر بھی اس کو بھاری کلام کہا گیاہے کہ اس کے نزول کا تحمل بڑا دشوار کام تھا۔ حضرت زید ؓ بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اس حالت میں نازل ہوئی کہ آپ اپنا زانو میرے زانو پر رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ میرے زانو پر اس وقت ایسا بوجھ پڑا کہ معلوم ہوتا تھا، اب ٹوٹ جائے گا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضورؐ پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے، آپ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتا تھا۔ (بخاری، مسلم، مالک، ترمذی، نسائی)۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ جب کبھی آپ پر اس حالت میں وحی نازل ہوتی کہ آپؐ اونٹنی پر بیٹھے ہوں تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پر ٹکادیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کرسکتی تھی جب تک نزول وحی کا سلسلہ ختم نہ ہوجاتا۔ (مسند احمد، حاکم، ابن جریر)

اَشَدُّ وَطْأً کے معنی

اس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں اسے ادا نہیں کیاجاسکتا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ رات کو عبادت کے لیے اٹھنا اور دیر تک کھڑے رہنا چونکہ طبیعت کے خلاف ہے اور نفس اس وقت آرام کا مطالبہ کرتاہے اس لیے یہ فعل ایک ایسا مجاہدہ ہے، جو نفس کو دبانے اور اس پر قابو پانے کی بڑی زبردست تاثیر رکھتاہے۔ اس طریقے سے جو شخص اپنے آپ پر قابو پالے اور اپنے جسم وذہن پر تسلط حاصل کرکے اپنی اس طاقت کو خدا کی راہ میں استعمال کرنے پر قادر ہوجائے وہ زیادہ مضبوطی کے ساتھ دین حق کی دعوت کو دنیا میں غالب کرنے کے لیے کام کرسکتاہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ دل اور زبان کے درمیان موافقت پیدا کرنے کا بڑا موثر ذریعہ ہے، کیونکہ رات کے ان اوقات میں بندے اور خدا کے درمیان کوئی دوسرا حائل نہیں ہوتا اور اس حالت میں آدمی جو کچھ زبان سے کہتاہے وہ اس کے دل کی آواز ہوتی ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ آدمی کے ظاہر وباطن میں مطابقت پیدا کرنے کا بڑا کارگر ذریعہ ہے ۔ کیونکہ رات کی تنہائی میں جو شخص اپنا آرام چھوڑ کر عبادت کے لیے اٹھے گا وہ لامحالہ اخلاص ہی کی بنا پر ایسا کرے گا، اس میں ریا کاری کا سرے سے کوئی موقع ہی نہیں ہے۔ چوتھا مطلب یہ ہے کہ یہ عبادت چونکہ دن کی عبادت کی بہ نسبت آدمی پر زیادہ گراں ہوتی ہے، اس لیے اس کا التزام کرنے سے آدمی میں بڑی ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے، وہ خدا کی راہ میں زیادہ مضبوطی کے ساتھ چل سکتاہے اور اس راہ کی مشکلات کو زیادہ استقامت کے ساتھ برداشت کرسکتاہے۔ (تفہیم القرآن، ج ۶،مزمل، حاشیہ: ۱-۷)

نماز تہجد میں تخفیف کا حکم

اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَنِصْفَہُ وَثُلُثَہُ وَطَآئِفَۃٌ مِنَ الَّذِیْنَ مَعَکَط وَاللّٰہُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَط عَلِمَ اَنْ لَنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَ ئُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنط عَلِمَ اَنْ سَیَکُوْنُ مِنْکُمْ مَّرْضٰیلا وَاٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ لا وَاٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِصلے ز فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ ۔لا (المزمل :۲۰)
’’ اے نبیؐ! تمہارا رب جانتاہے کہ تم کبھی دوتہائی کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتاہے۔ اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتاہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کرسکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو، پڑھ لیا کرو۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ مریض ہوں گے، کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں او رکچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے، پڑھ لیا کرو۔‘‘
یہ آیت جس کے اندر نماز تہجد کے حکم میں تخفیف کی گئی ہے، اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے مسند احمد، مسلم اور ابوداؤد میں یہ روایت منقول ہے کہ پہلے حکم کے بعد یہ دوسرا حکم ایک سال کے بعد نازل ہوا اور رات کا قیام فرض سے نفل کردیا گیا۔ دوسری روایت حضرت عائشہؓ ہی سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے یہ نقل کی ہے کہ یہ حکم پہلے حکم کے ۸ مہینہ بعد آیاتھا، اور ایک تیسری روایت جو ابن ابی حاتم نے انہی سے نقل کی ہے اس میں ۱۶ مہینے بیان کیے گئے ہیں۔ ابودائود، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک سال کی مدت نقل کی ہے۔ لیکن حضرت سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ اس کا نزول دس سال بعد ہواہے (ابن جریر وابن ابی حاتم)۔ ہمارے نزدیک یہی قول زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ پہلے رکوع کا مضمون صاف بتارہاہے کہ وہ مکہ معظمہ میں نازل ہواہے اور وہاں بھی اس کا نزول ابتدائی دور میں ہواہے، جب کہ حضوؐر کی نبوت کا آغاز ہونے پر زیادہ سے زیادہ چار سال گزرے ہوں گے۔ بخلاف اس کے یہ دوسرا رکوع اپنے مضامین کی صریح شہادت کے مطابق مدینہ کا نازل شدہ معلوم ہوتاہے، جب کفار سے جنگ کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا اور زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم بھی آچکاتھا۔ اس بنا پر لامحالہ ان دونوں رکوعوں کے زمانہ نزول میںکم از کم دس سال کا فاصلہ ہی ہونا چاہیے۔
اگر چہ ابتدائی حکم آدھی رات یا اس سے کچھ کم وبیش کھڑے رہنے کا تھا، لیکن چونکہ نماز کی محویت میں وقت کا اندازہ نہ رہتاتھا اور گھڑیاں بھی موجود نہ تھیں کہ اوقات ٹھیک ٹھیک معلوم ہوسکیں، اس لیے کبھی دوتہائی رات تک عبادت میں گزرجاتی تھی اور کبھی یہ مدت گھٹ کر ایک تہائی رہ جاتی تھی۔
ابتدائی حکم میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو خطاب کیا گیا تھا۔ اور آپ ہی کو قیام لیل کی ہدایت فرمائی گئی تھی، لیکن مسلمانوں میں اس وقت حضورؐ کے اتباع اور نیکیاں کمانے کا جو غیر معمولی جذبہ پایا جاتاتھا، اس کی بنا پر اکثر صحابہ کرام بھی اس نماز کا اہتمام کرتے تھے۔
چونکہ نماز میں طول زیادہ تر قرآن کی طویل قراء ت ہی سے ہوتاہے، اس لیے فرمایا کہ تہجد کی نماز میں جتنا قرآن بہ سہولت پڑھ سکو، پڑھ لیا کرو، اس سے نماز کی طوالت میں آپ سے آپ تخفیف ہوجائے گی۔ اس ارشاد کے الفاظ اگر چہ بظاہر حکم کے ہیں، لیکن یہ امر متفق علیہ ہے کہ تہجد فرض نہیں بلکہ نفل ہے۔ حدیث میں بھی صراحت ہے کہ ایک شخص کے پوچھنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس کے سوا بھی کوئی چیز مجھ پر لازم اس آیت سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نماز میں جس طرح رکوع وسجود فرض ہے اسی طرح قرآن مجید کی قراء ت بھی فرض ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح دوسرے مقامات پر رکوع یا سجود کے الفاظ استعمال کرکے نماز مراد لی ہے، اسی طرح یہاں قرآن کی قراء ت کا ذکر کیاہے اور مراد اس سے نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ اس استنباط پر اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جب نماز تہجد خود نفل ہے تو اس میں قرآن کو پڑھنا کیسے فرض ہوسکتاہے؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ نفل نماز بھی جب آدمی پڑھے تو اس میں نماز کی تمام شرائط پوری کرنا اور اس کے تمام ارکان وفرائض ادا کرنا لازم ہوتاہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ نفل نماز کے لیے کپڑوں کی طہارت، جسم کا پاک ہونا ، وضو کرنا اور ستر چھپانا واجب نہیں ہے۔ اور اس میں قیام وقعود اور رکوع وسجود بھی نفل ہی ہیں۔
(تفہیم القرآن، ج ۶،حاشیہ: ۲۱)ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا’’نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے کچھ پڑھو۔‘‘ ۱؎ (بخاری ومسلم)
(تفہیم القرآن، ج۶، المزمل، حاشیہ: ۱۸-۲۱)