ریڈ مودودی ؒ کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔
چند باتیں
قارئین محترم کی خدمت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و قلم کے شاہ کار تفہیم الاحادیث کا زیر نظر حصہ پیش کرتے ہوے ہمیں یک گونہ خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کے لیے اس کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات و فرمودات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پیش کرنے کی توفیق بخشی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور حدیث کے اس مبارک سلسلے کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور انھیں پیغام رسولؐ سے روشناس کرانے میں مکتبے کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ ہوگا۔
تفہیم الاحادیث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ، بلکہ یہ ان احادیث کا مجموعہ ہے، جو مولانا محترم نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور بعض دوسری تصانیف میں حسب موقع نقل کی ہیں ۔
صورت واقعہ یہ ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس نہج پر اپنی مقبول عام تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ کی چھے۶ جلدیں تحریر کی تھیں، بالکل اسی نہج پر وہ احادیث پر بھی کام کرنے کا عزم مصمّم کرچکے تھے۔ نہ صرف عزم مصمم کرچکے تھے، بلکہ انھوں نے اس کام کے لیے ایک ابتدائی خاکہ بھی تیار کرلیا تھا ــــــــــلیکن اچانک وہ بیمار ہوگئے، پھر بیماریوں کا سلسلہ اتنا طویل ہوتا گیا کہ انھیں اس سے نجات ہی نہ مل سکی۔ اسی بیماری میں ان کی مہلتِ عمر بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد یہ کام التوا میں پڑگیا۔ وفات کے کافی دنوں بعد مولانا محترم کے رفیق خاص مولانا خلیل احمد حامدیؒڈائریکٹر ادارۂ معارف اسلامی منصورہ کو اس کام کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انھوں نے ذمے داروں اور دوسرے ارباب علم و دانش کے مشوروں سے علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے فاضل مشہور عالم و محقق مولانا عبدالوکیل علوی کو یہ ذمّے داری تفویض کی کہ وہ تفہیم القرآن اور دوسری تصانیف کی مدد سے مولانا محترم کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے پورے کام کااز سر نو خاکہ تیارکیا اور ضروری کتب فراہم کرکے کام کا آغاز کردیا۔
مولانا عبدالوکیل علوی کا نام تحریکی حلقے کے لیے غیر معروف و اجنبی نہیں ہے۔ وہ عربی ادب کے مایۂ ناز فاضل، اسلامی علوم کے ذہین عالم اور صاحب طرز اہل قلم کی حیثیت سے تعارف رکھتے ہیں۔اس سے پہلے مولانا مودودیؒ کی تصانیف کی مدد سے وہ متعدد ترتیبی و تخریجی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔سیرت سرور عالم کی دو جلدیں ان کی ترتیبی و تخریجی صلاحیت کی بہترین نمایندگی کرتی ہیں۔
مولانا عبدالوکیل علوی نے اس کام میں کتنا وقت صرف کیا ہے ،انھوں نے احادیث کی چھان بین اور ترتیب و تخریج میں کتنی عرق ریزی اور دقّتِ نظر سے کام لیا ہے، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پڑھنے والے خود ہی اس کا ادراک کرلیں گے۔ ’’مشک آنست کہ خود بہ بوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ اصلی مشک خود اپنی مہک سے پہچان لیا جاتا ہے، اس کے لیے کسی عطار کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس کوشش کو شرفِ قبول سے نوازے، تمام انسانوں کے لیے اِسے نفع بخش بنائے اور اس کی تیاری میں جن رفقاء اور کارکنوں نے حصہ لیا ہے، انھیں حدیثِ رسول ؐ کی خدمت کی برکات سے سرفراز کرے۔
ناشر
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی
عرض مرتب
الحمد للہ تفہیم الاحادیث کے جس کار عظیم کو آج سے چند سال قبل شروع کیا گیاتھا، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔ یہ سعادت محض خالق ارض وسما کے فضل وکرم اور اس کی توفیق خاص کی مرہون منت ہے۔ ورنہ ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کٹھن مراحل سے گزر کر ساحل تکمیل تک پہنچنے کی اپنی حد تک ایک کاوش کی گئی ہے۔ جب یہ کام شروع کیا گیا تب اندازہ ہوا کہ ایک ٹھوس علمی وتحقیقی کتاب اپنی طرف سے مدون ومرتب کرنے کے مقابلے میں مولانا محترم رحمتہ اللہ علیہ کے پورے ذخیرۂ کتب میں سے عبارتیں نکال کر کوئی کتاب ترتیب دینے کا کام کتنا محنت طلب ہے۔ تفہیم القرآن کی چھے جلدوں کے ساتھ ساتھ مولاناؒ کے وسیع لٹریچر کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پڑھنا، تمام احادیث کے متون، تراجم، تشریحات اور فقہی مسائل کی الگ الگ نشان زدگی، پھر اس کی تشریح کے لیے مفید مطلب مناسب و موزوں عبارات پر نشان لگانا، ان کی نقول تیار کرنا اور سب سے آخر میں ان کی بہ اعتبارِ ابواب و فصول ترتیب اور ان کی عنوان بندی، یہ سارا کام اتنا صبر آزماتھا کہ بار بار دامن ہمت تار تار ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتارہا۔ مگر ایسے مواقع پر فضل ایزدی نے ڈھارس بندھائی اور کام جاری رہا۔ الحمد للہ آج اس کاوش اور سعی وجہد کا ثمرہ آپ کے سامنے ہے۔
تالیف وتدوین کا یہ کام اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جتنا اہم اور عظیم ہے، اپنے حجم کے لحاظ سے اُسی قد ر ضخیم بھی۔ اس کام کی تکمیل پر کس قدر محنت کی گئی یا کتنی عرق ریزی سے یہ کام انجام پایا؟ اس کا صحیح اندازہ صرف انہیں کو ہوسکتاہے، جنہوں نے کبھی اس وادیٔ پر خار میں قدم رکھاہو۔مولانا کی تصانیف میں سے انتخاب کرکے جو مواد نقل کیا گیا، وہ سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جمع کی گئی ہیں، جنہیں مولانا محترم نے اپنے پورے لٹریچر میں استعمال کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اسے نقل کرنے سے پہلے پورے کا پورا لٹریچر ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھاگیا، عبارات پر نشان لگایا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ حدیث کا متن ہے اور یہ اس کا ترجمہ وتشریح۔ جن احادیث سے فقہی مسائل مستنبط کیے گئے، ان پر الگ نشان لگایاگیااور متنِ حدیث کی بجائے کہیں محض ترجمہ ملا تو اسے بھی نکال لیا گیا۔
مولانا محترم نے زیادہ تر مقامات پر احادیث نقل کرتے وقت صرف اتنا کہہ دیاہے کہ فلاں حدیث بخاری ومسلم میں ہے یا متفق علیہ یا ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ اسی طرح احادیث کی دوسری کتب کے حوالے بھی دیے ہیں، مگر بخاری ومسلم نے اس حدیث کو کس کتاب میں، کس فصل یا باب میں اور کس عنوان کے تحت یا کتاب کے کس صفحے پر روایت کیاہے؟ اس کا التزام کم ہی کیا جاسکاہے۔ پھر مولانا محترم نے اکثر مقامات پر حدیث کا صرف اتنا ہی جز نقل کیاہے، جتنا انہیں اس مقام کے لحاظ سے استشہاد کے لیے مطلوب تھا۔ پوری حدیث نقل نہیں کی اور پوری سند تو بہت ہی کم نقل ہوسکی ہے۔
اس نقل شدہ مواد کو ایک مفید کتاب کی صورت میں مرتب ومدون کرنے کے لیے ان تمام نقل شدہ احادیث کی سندیں شامل کی گئیں۔ جہاں حدیث کا ایک جزو استعمال کیا گیا، وہ پوری حدیث مع سند نقل کی گئی تاکہ قاری یہ جان سکے کہ یہ کس حدیث کا جزو ہے یا کس محدث نے اپنی کس کتاب اوراس کتاب کے کس باب یا فصل میں اور کس عنوان کے تحت روایت کیا ہے وغیرہ۔ اورحدیث کے بارے میں محدث کی محدثانہ رائے کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف وغیرہ بھی درج کی گئی ہے۔ مزید برآں ایسی احادیث بھی شامل کی گئی ہیں، جو ان کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جنہیں مویدات کہہ سکتے ہیں۔ اس مفید اضافے سے اصل مواد کی ضخامت تو واقعۃً بڑھ گئی مگر فوائد میں بے حساب اضافہ بھی ہوا ہے۔
حدیث کی تخریج کے لیے جو اصول پیش نظر رکھاگیاہے وہ یہ ہے:
سب سے پہلے حدیث کو( بخاری ومسلم) میں تلاش کیاگیا۔ اگروہ ان میں مل گئی اور دونوں کے الفاظ بھی یکساں ملے تو اس صورت میں سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیا اور حوالے میں متفق علیہ درج کیا گیاہے۔ اگر صحیحین کی روایت میں معنوی یکسانی تو موجود ہے مگر لفظی اختلاف ہے تو اس صورت میں بھی سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیاہے اور صحیح مسلم کا اختلاف اور فرق الگ سے واضح کردیاگیاہے۔ اگر مولانا محترم نے خود ہی صحیح مسلم کی روایت لی ہے تو پھر اصل متن اسی روایت کو قراردیا گیاہے اور صحیح بخاری کی روایت میں جو اختلاف ہے، اسے واضح کرکے اس کا حوالہ دیاگیاہے اور اگر مولانا نے صحیحین کے علاوہ باقی کتب اربعہ یعنی سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کا حوالہ دیا ہے اور وہ حدیث صحیحین میں سے کسی ایک میں بھی قدرے لفظی اختلاف یا فرق کے ساتھ موجود ہے تو اس صورت میں اصل ماخذ بیان کرنے کے بعد صحیحین کا حوالہ اور فرق واختلاف بھی درج کرنے کی محتاط کوشش کی گئی ہے۔اگرکوئی حدیث صحیحین میں نہ ملی تو پھر ابوداؤد کی روایت کو ترجیحاً نقل کیاگیاہے۔ اگر ابوداؤد اور دیگر کتب میں بھی کوئی حدیث موجود ہے تو اصل متن کے طورپر ابوداؤد کی روایت درج کی گئی ہے اور باقی ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ اور دیگر کتب کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ ممکن الحصول ماخذ ومصادر درج کیے جائیں۔ اصل کتب ماخذ جتنی مجھے دستیاب ہوسکیں، ان سب کے حوالے دینے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ تخریج مواد، اس کو نقل کرنے، عبارات پر اعراب لگانے اور اضافہ شدہ عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کے بعد نقل شدہ مواد کی روشنی میں اسے ایک کتابی صورت میں لانے کے لیے اس کی پہلے ابواب بندی کی گئی اور پھر انہیں فصول اور مختلف عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا۔ پھرذیلی عنوانات قائم کیے گئے۔ بعد ازاں حوالہ جات اور احادیث کے نمبر لگائے گئے اور ان حوالوں کو اپنے اپنے مقام پر درج کیا گیا تاکہ قاری کو اگر کسی عبارت کے اصل ماخذ کی ضرورت محسوس ہوتو وہ بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے اصل ماخذ سے رجوع کرسکے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعاہو ںکہ اس کام کو اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبول حاصل ہو اور یہ مولانا محترم کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے۔
وماتوفیقی الا باللہ
خاکسار
عبدالوکیل علوی
مقدمہ
اسلام کی نعمت ہر زمانے میں انسان کو دو ہی ذرائع سے پہنچی ہے۔ ایک اللہ کا کلام ، دوسرے انبیاء علیہم السلام کی شخصیتیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنے کلام کی تبلیغ و تعلیم اور تفہیم کا واسطہ بنایا، بلکہ اس کے ساتھ عملی قیادت و رہنمائی کے منصب پر بھی مامو ر کیا تاکہ وہ کلام اللہ کا ٹھیک ٹھیک منشا پورا کرنے کے لیے انسانی افراد اور معاشرے کا تزکیہ کریں اور انسانی زندگی کے بگڑے ہوئے نظام کو سنوارکر اس کی تعمیر صالح کردکھائیں۔
یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سے ایسی لازم و ملزوم رہی ہیں کہ ان میں سے کسی کو کسی سے الگ کرکے نہ انسان کو کبھی دین کا صحیح فہم نصیب ہوسکا ، اور نہ وہ ہدایت سے بہرہ یاب ہوسکا۔ کتاب کو نبی سے الگ کردیجیے تو وہ ایک کشتی ہے، نا خدا کے بغیر، جسے لے کر اناڑی مسافر زندگی کے سمندر میں خواہ کتنے ہی بھٹکتے پھریں، منزل مقصود پر کبھی نہیں پہنچ سکتے، اور نبی کو کتاب سے الگ کردیجیے، تو خدا کا راستہ پانے کے بجائے آدمی ناخدا ہی کو خدا بنابیٹھنے سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ یہ دونوں ہی نتیجے پچھلی قومیں دیکھ چکی ہیں۔ ہندوئوں نے اپنے انبیاء کی سیرتوں کو گم کیا اور صرف کتابیں لے کر بیٹھ گئے۔ انجام یہ ہوا کہ کتابیں ان کے لیے گورکھ دھندوں سے بڑھ کر کچھ نہ رہیں۔ حتیّٰ کہ آخرکار خود انھیں بھی وہ گم کر بیٹھے ۔ عیسائیوں نے کتاب کو نظر انداز کر کے نبی کا دامن پکڑا اور اس کی شخصیت کے گرد گھومنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی چیز انھیں نبی اللہ کو ابن اللہ بلکہ عین اللہ بنانے سے باز نہ رکھ سکی۔
پرانے ادوار کی طرح اب اس نئے دور میں بھی انسان کو نعمت اسلام میسر آنے کے دو ہی ذرائع ہیں جو ازل سے چلے آرہے ہیں، ایک خدا کا کلام جو اب صرف قرآن پا ک کی صورت ہی میں مل سکتا ہے۔ دوسرے اسوۂ نبوت جو اب صرف محمد عربی ﷺ کی سیرتِ پاک ہی میں محفوظ ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلام کا صحیح فہم انسان کو اگر حاصل ہوسکتا ہے تو اس کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کو محمد ﷺ سے اور محمد ﷺ کو قرآن سے سمجھے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے جس نے سمجھ لیا، اس نے اسلام کو سمجھا۔ ورنہ فہم دین سے بھی محروم رہا اور نتیجتاً ہدایت سے بھی۔
پھر قرآن اور محمد ﷺ دونوں چوں کہ ایک مشن رکھتے ہیں، ایک مقصد و مدّعا کو لیے ہوئے آئے ہیں، اس لیے ان کو سمجھنے کا انحصار اس پر ہے کہ ہم ان کے مشن اور مقصد و مدّعا کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔ اس چیز کو نظر انداز کرکے دیکھیے تو قرآن عبارتوں کا ایک ذخیرہ اور سیرت پاک، واقعات و حوادث کا ایک مجموعہ ہے۔ آپ لغت اور روایات اور علمی تحقیق و کاوش کی مدد سے تفسیروں کے انبار لگاسکتے ہیں اور تاریخی تحقیق کا کمال دکھا کر رسول اللہ ﷺ کی ذات اور آپ کے عہد کے متعلق صحیح ترین اور وسیع ترین معلومات کے ڈھیر لگا سکتے ہیں، مگر روح دین تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ وہ عبارات اور واقعات سے نہیں بلکہ اس مقصد سے وابستہ ہے جس کے لیے قرآن اتارا گیا اور محمد عربی ﷺ کو اس کی علم برداری کے لیے کھڑا کیا گیا۔ اصل مقصد کا تصور جتنا صحیح ہوگا، اتنا ہی قرآن اور سیرت کا فہم صحیح، اور جتنا وہ ناقص ہوگا، اتنا ہی ان دونوں کا فہم ناقص رہے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سیرتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام دونوں ہی بحرِ ناپیداکنار ہیں۔ کوئی انسان یہ چاہے کہ ان کے تمام معانی اور فوائد و برکات کا احاطہ کرے تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ البتہ جس چیز کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہ بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدمی ان کا زیادہ سے زیادہ صحیح فہم حاصل کرے اور ان کی مدد سے روحِ دین تک رسائی پائے۔
دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ آپؐ کی تعلیم اور آپ ؐ کی شخصیت ۱۴صدیوں سے بالکل اپنے حقیقی رنگ میں محفوظ ہے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسا انتظام ہوگیا ہے کہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہوگیا ہے۔ انسان کی اوہام پرستی اور اعجوبہ پسندی سے بعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی ، جو کما ل کے سب سے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی تھی، افسانہ بنا کر الوہیت سے کسی نہ کسی طرح متّصف کر ڈالتی اور پیروی کے بجائے محض ایک تحیّرواستعجاب اور عبادت وپرستش کا موضوع بنالیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثتِ انبیاء کے آخری مرحلے میں ایک ایسا ہادی اور رہنما بھیجنا منظور تھا، جس کی ذات انسان کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور عالمگیر چشمۂ ہدایت ہو۔ اس لیے اس نے محمد بن عبداللہ ﷺ کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دوسرے انبیاء اور ہادیانِ اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہے ــــــــــ آپ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نے پچھلی امتوں کے برعکس ، اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہے، جس کی وجہ سے ــــــــــ ہم آ پ کی شخصیت کو چودہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں جتنے قریب سے خود آپ کے عہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے۔
کتاب الصوم۔رمضان المبارک ۔تقویٰ، عبودیت اور شکرگزاری کاالٰہی نصاب
فصل اوّل: ماہ صیام اور اس کی فضیلت رمضان ـــ ــ ــــنیکیوں کا موسم بہار
۱۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ جَھَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الرَّحْمَۃِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ جب رمضان آتاہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، (ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں) اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔‘‘ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔معلوم ہوتاہے کہ ان خطبات میں کبھی حضور ﷺنے ابواب السماء کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں، کبھی ابواب الجنۃ کے اور کبھی ابواب الرحمۃ کے،
اور مدّعاان سب کا ایک ہے ‘‘ (متفق علیہُتَّفَقٌ عَلَیْہ سے مراد وہ حدیث ہوتی ہے جسے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے روایت کیاہو
تشریح :نبی ﷺکا یہ معمول تھا کہ رمضان کے آغاز میں لوگوں کو نصیحت کرنے کے لیے خطبات دیاکرتے تھے۔ ایسے ہی خطبات میں سے ایک یہ خطبہ ہے۔
اس ارشادِ نبوی کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہاں مخاطب وہ مسلمان ہیں جن سے زیادہ سچّے اور پکّے مومن انسانی تاریخ میں نہیں دیکھے گئے۔ نبی ﷺنے جو ہدایات فرمائی ہیں عام طورپر اپنے خطباتِ جمعہ میں ارشاد فرمائی ہیں، اور جمعہ کی نماز کے وقت جو لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوتے تھے ان کے بارے میں یہ فرض نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کمزور ایمان کے یا اتباعِ اوامر میں کوتاہیاں کرنے والے مسلمان ہوں گے۔ اس لیے یہ بات واضح ہے کہ ان ہدایات کے مخاطب وہ سچّے اہلِ ایمان ہیں جو نہایت صالح اور متقی تھے، اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے والے اور اس کی ہدایات کی پیروی کرنے والے تھے۔ اُن سے یہ فرمایا گیاہے کہ:
ََl’’ جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو آسمان (یا جنت یا رحمت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔‘‘
اس کا مدعا مخاطبین کو یہ سمجھانا ہے کہ رمضان کی آمد کے بعد جتنی نیکیاں کرسکتے ہو کرتے چلے جاؤ، جنت کے سب دروازے تمہارے لیے کھلے ہیں۔ اگر صدقہ وخیرات کے دروازے سے جنت میں پہنچ سکتے ہو تو صدقہ وخیرات کے دروازے سے پہنچو۔ اگر روزے کے دروازے سے پہنچ سکتے ہو تو روزے کے دروازے سے پہنچو۔ اگر تلاوتِ قرآن کے راستے پہنچ سکتے ہو تو اس راستے سے پہنچو۔ اگر برائیوں سے اجتناب کے ذریعے سے پہنچ سکتے ہو تو اس ذریعے سے پہنچو۔ الغرض جنت میں پہنچنے کے لیے تمام دروازے پوری طرح تمہارے لیے کھلے ہیں۔ اور اب یہ تمہارا کام ہے کہ خود کو جنت کے قابل بنالو۔
l پھر فرمایا کہ ’’جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے زمانے میں ان برائیوں کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں جن میں ایک آدمی دوسرے معنیٰ میں عام طور پر مبتلا ہوسکتاہے۔ چنانچہ ایک نیکو کار مسلمان رمضان کی ایمان پر ور فضا کی بدولت برائی کے بہت سے امکانات سے بچ جاتاہے اور اس طرح جہنم کے دروازے اس کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔
lتیسری بات یہ فرمائی کہ ’’شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں ۔‘‘
ان الفاظ کا مدعا یہ ہے کہ رمضان المبارک وہ زمانہ ہے جس میں نیکیاں فروغ پاتی ہیں اور شیاطین کی کارفرمائی رُک جاتی ہے۔ چونکہ تمام مسلمان بیک وقت روزہ رکھتے ہیں اور ایک ایک آدمی الگ الگ روزہ نہیں رکھتا اس لیے بیک وقت روزہ رکھنے سے پوری قوم کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوجاتاہے جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتا۔ اس لیے رمضان وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اندر رُجُوْعٌ اِلَی اللّٰہ کی ایک مسلسل کیفیت جاری وساری رہتی ہے کیونکہ جو آدمی بارہ چودہ گھنٹے روزے سے ہوتاہے اسے گویا ہروقت یہ یاد ہوتاہے کہ میں روزے سے ہوں اور میں نے اپنے رب کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے۔ جب اسے پیاس لگے گی تو وہ پانی نہیں پیے گا کیونکہ اسے یاد ہوگا کہ وہ روزے سے ہے۔ جب اسے بھوک لگے گی اور کھانے کی خواہش ہوگی تو اسے یاد ہوگا کہ وہ روزے سے ہے اس لیے کھانے سے مجتنب رہے گا۔ اس طرح رمضان کے پورے مہینے میں آدمی کا رجوع مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف رہتاہے ــــوہ افطار کرتاہے تو گویا خود محسوس کرتاہے کہ یہاں تک تو میرے رب نے مجھے باندھ رکھاتھا، اب اس نے مجھے اجازت دے دی ہے تو روزہ افطار کررہاہوں۔ اس کے بعد کھانا کھایا تو پھر تراویح کے لیے چلاگیا، جس سے پھر رجوع اِلی اللّٰہ کی نوبت آئی۔ اس طرح مسلسل چوبیس گھنٹے اللہ کی طرف اس کا رجوع رہاـــــ ــــاورپھر یہ رُجوع ایک آدمی کا نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم کا ہوتاہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ رمضان نیکی کا موسم ہے۔ جس طرح بارش کا ایک موسم ہوتاہے اور اس میں ہرچیز نشو ونما پاتی ہے اسی طرح یہ نیکیوں کا موسم ہے اوراس میں نیکیوں کی ترقی کے بے شمار مواقع پیدا ہوجاتے ہیں۔ آدمی جس قدر روحانی ترقی کرنا چاہے کرسکتاہے کیونکہ اس میں ہر آدمی کی نیکی دوسرے کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ہر آدمی دوسرے کے روزے میں مددگار ہوتاہے۔ عام دنوں میں روزہ رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس میں کتنی شدت پائی جاتی ہے کیونکہ کوئی آدمی بھی روزے میں دوسرے کا مددگار نہیں ہوتا۔ لیکن رمضان میں یہ کیفیت نہیں ہوتی کیونکہ پورا معاشرہ ایک حالت میں ہوتاہے۔ اس طرح ایک آدمی کو لاکھوں آدمیوں کے روزے سے مدد پہنچتی ہے اور ان کے تقوی اور نیکو کاری سے تقویت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں انسان کی روحانی ترقی اور سیرت وکردار کی اصلاح وتعمیر کے لیے بے شمار مواقع پیدا ہوجاتے ہیں ــــ آپ دیکھتے ہیں کہ اب بھی اس بگڑے ہوئے ماحول میں اگر کوئی شخص رمضان کے زمانے میں گالم گلوچ کررہاہوتو لوگ کہتے ہیں ’’میاں رمضان میں یہ حرکت کررہے ہو؟‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ معاشرے کو اب تک اس بات کا احساس ہے کہ رمضان کا احترام کیا معنی رکھتاہے اور اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ صدرِ اوّل میں کیا کچھ کیفیت ہوگی۔
اسی بنا پر فرمایا کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں،دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں ــــ لیکن یہ امر بہر حال ملحوظ رہنا چاہیے کہ بات ایک مسلم معاشرے کے صالح ماحول کے بارے میں بیان کی گئی ہے۔ ورنہ اسی زمانے میں اگر کوئی شخص شرک اور دوسرے گناہوں کا مرتکب ہوتو اس کے لیے دوزخ کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں اور جنت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ اَبِیْ سُھَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِذَا جَآئَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ۔
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
دوسری روایت:
(۲)حَدَّثَنِیْ یَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ ثَنِی اللَّیْثُ، عَنْ عَقِیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ :ثَنِی ابْنُ اَبِیْ اَنَسٍ مَوْلَی التَّیْمِیِّیْنَ اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : اِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ جَھَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ۔ (۱)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :’’ جب رمضان داخل ہوتاہے (آتاہے) تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنّم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔‘‘
مسلم میں مروی روایت:
(۳) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا کَانَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الرَّحْمَۃِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ جَھَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ۔ (۲)
ترجمہ:رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان شروع ہوتاہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیںاور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ اور شیاطین کو جکڑ دیاجاتاہے۔
’’سنن الکبریٰ‘‘ میں حضرت ابوہریرہؓ سے یہ روایت ان الفاظ میں منقول ہے:
(۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : اِذَا جَآئَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جب رمضان آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور نارِ جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو ہتھکڑیاں ڈال کر بند کردیاجاتاہے۔‘‘
جنت کا ایک دروازہ روزے داروں کے لیے مخصوص ہوگا
۲۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فِی الْجَنَّۃِ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابٍ مِّنْھَا بَابٌ یُّسَمَّی الرَّیَّانُ لاَیَدْخُلُہٗ اِلاَّ الصَّآئِمُوْنَ۔ (متفق علیہ)
’’ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازے کو ریّان کہتے ہیں۔ اس دروازے سے (جنت میں) صرف روزہ رکھنے والے ہی داخل ہوں گے۔‘‘
تشریح : رَیَّانکا لفظ رَیَّ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں سیراب کرنا، آبپاشی کرنا۔ رَیَّان سے مراد وہ دروازہ ہے جو سیراب کرنے والا ہے۔
جنت کے دروازوں سے مراد وہ بڑی نمایاں نیکیاں ہیں جن کے ذریعے سے آدمی جنت میں جاسکتاہے۔ مثلاً ایک آدمی فیاضی، سخاوت اور انفاق فی سبیل اللہ میں بڑھا ہوا ہے۔ وہ نیکی کے دوسرے کام بھی کررہاہے، روزے بھی رکھتاہے اور نمازیں بھی پڑھتاہے لیکن اس کی نمایاں نیکی جس کی وجہ سے وہ ممتاز ہے، انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ چنانچہ یہ انفاق فی سبیل اللہ دراصل جنت کا ایک دروازہ ہے، جس کے ذریعے سے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پھر مثلاً ایک اور شخص ایسا ہے کہ اس کے اعمال میں نمایاں نیکی جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو وہ مجاہدین فی سبیل اللہ کے دروازے سے جنت میں داخل ہوگا ۔ اس طرح مختلف آدمیوں کے جو نمایاں اوصاف ہیں ان کے لحاظ سے ان کی حیثیت مشخص ہوتی ہے اور انہی کے لحاظ سے جنت کے وہ دروازے ہیں، جن سے وہ اس میں داخل ہوںگے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیکیاں تو دنیا میں بے شمار ہیں، لیکن اگر ان نیکیوں کو تقسیم کریں تو وہ آٹھ بابوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں۔ ان آٹھ بابوں میں سے جس باب سے کوئی شخص زیادہ مناسبت رکھتاہوگا، اسی کے راستے سے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
یہ جو فرمایاکہ ان میں سے ایک دروازہ ریان (سیراب کرنے والا) ہے اور اس سے جنت میں صرف روزہ دار ہی داخل ہوںگے۔ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ویسے تو روزہ سارے مسلمان رکھیں گے لیکن جن لوگوں نے کثرت سے روزے رکھے،ان کا پورا پورا حق ادا کیا اور یہی بات پیش نظر رکھی کہ وہ روزے رکھ کر اپنے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تو یہ دروازہ ان کے لیے مخصوص ہوگا۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ثَنِی اَبـُوْ حَازِمٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: فِی الْجَنَّۃِ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابٍ فِیْھَا بَابٌ یُسَمَّی الرَّیَّانُ لاَیَدْخُلُہٗ اِلاَّالصَّآئِمُوْنَ۔(۴)
ترجمہ :حضرت سہلؓ بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے ایک دروازے کو ریان کہتے ہیں۔ اس دروازے سے (جنت میں) صرف روزہ رکھنے والے ہی داخل ہوں گے۔
(۲)حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ثَنِی ابوحازِمٍ، عَنْ سَھْلٍ عَنِ النَّبِیِّﷺَ قَالَ:اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَابًا یُّقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّآئِمُوْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لاَیَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَیْرُھُمْ، یُقَالُ اَیْنَ الصَّآئِمُوْنَ فَیُقُوْمُوْنَ لاَیَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ۔ غَیْرُھُمْ فَاِذَا دَخَلُوْا اُغْلِقَ فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ اَحَدٌ۔(۵)
ترجمہ : حضرت سہلؓ بن سعد نے نبی ﷺسے روایت بیان کی ہے کہ جنت میں ایک دروازہ ایسا ہے، جس کا نام ریّان ہے۔ قیامت کے دن اس دروازے میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اور کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکے گا۔ پکارا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ (یہ سن کر) روزے دار کھڑے ہوجائیں گے۔ اس دروازہ سے ان کے سوا دوسرا کوئی بھی داخل نہیں ہوگا۔ جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو پھر یہ دروازہ بند کردیا جائے گا ۔ پس پھر کوئی بھی اس دروازے سے جنت میں داخل نہ ہوگا۔
من دخل فیہ شَرِب ومن شَرِبَ لَمْ یَظمَأْ اَبَدًا بیان کیاہے۔’’ جس نے داخل ہوکر جنت کا مشروب نوشِ جان کیا وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔‘‘
تمام گزشتہ گناہوں کی بخشش کا زمانہ
۳۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ، تو اس کے وہ سب گناہ معاف کردیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہوں گے۔ اور جس شخص نے رمضان میں قیام کیا( راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت کی) ایمان اور احتساب کے ساتھ، تو معاف کردیے جائیں گے اس کے وہ قصور جو اس نے پہلے کیے ہوں گے۔ اور جس شخص نے لیلۃ القدر میں قیام کیا، ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کردیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہوں گے۔‘‘
اِحْتِسَاب اس چیز کانام ہے کہ آدمی اپنے تمام نیک اعمال پر صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اجر کا اُمّیدوار ہو اور خالصتہً اسی کی رضا جوئی کے لیے کام کرے۔
تشریح :اس حدیث میں گناہوں سے معافی کی جو خوشخبری سنائی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والے اور آخرت کی باز پرس سے بے خوف ہیں ان کو اس بات کا لائسنس دیاجارہاہے کہ میاں رمضان کے روزے رکھ لو، تراویح پڑھ لو اور لیلۃ القدر میں کھڑے ہوکر تراویح پڑھ لو، تو پچھلا حساب صاف اور پھر گیارہ مہینے تمہیں جو کچھ کرناہے کرتے رہو، رشوتیں کھاؤ، لوگوں کے حق مارو،جو ظلم وستم چاہو کرو، رمضان میں آکے پھر عبادت کے لیے کھڑے ہوجانا، روزے رکھ لینا اور نمازیں پڑھ لینا اور پھر پہلے کا کیا ہوا سب معاف ہوجائے گا۔
اس طرح کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ا ن کے مخاطب کون لوگ ہیں۔ جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے، ان کے مخاطب وہ صلحاء وابرار ہیں جو اپنی زندگیاں ہروقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق بسرکرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان سے اگر کوئی لغزش یا گناہ سرزد ہوجاتاتھاتو اس کی نوعیّت ایسی ہرگز نہیں ہوتی تھی کہ جیسے ایک آدمی پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر اس پر ڈٹارہے، بلکہ وہاں صورت اس سے یکسر مختلف تھی۔ ان راستباز لوگوں سے اگر کوئی قصور سرزد ہوبھی جاتاتھا تو وہ بشری کمزوری کی وجہ سے ہوتاتھا اور وہ ہروقت اس پر توبہ کے لیے مستعد رہتے تھے۔ بشری کمزوری سے اگر کسی سے کوئی قصور سرزد ہوجائے اور وہ اس کے بعد نیکی اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کو اپنا شعار بنائے رکھے تو وہ بجائے خود ایک توبہ ہے ــــتوبہ کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ایک آدمی سے کوئی گناہ سرزد ہوا اور اس نے اس سے توبہ کرلی تو یہ بات بھی گناہ کی معافی کا ایک ذریعہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک آدمی سے قصور سرزد ہوا اور پھر دوسرے کاموں میں ایسا مشغول ہوا کہ توبہ کرنا بھول گیا تو اس کے بعد اس نے جو نماز پڑھی وہ نماز اس کے لیے پہلے کی لغزش کو اس کے حساب سے صاف کردے گی۔ اسی طرح اگر اس نے روزہ رکھا تو وہ بھی اس کے گناہ کو صاف کردے گا ــــدراصل توبہ اسی چیز کا نام تو ہے کہ ایک شخص ایک وقت میں ایک قصور کا مرتکب ہوا تھا لیکن اس کے بعد وہ پھر اپنے رب کی طرف پلٹ آیا۔ جیسے ایک نوکر اگر اپنی کسی غلطی کی وجہ سے اپنے مالک کی اطاعت سے نکل جائے لیکن پھر معافی مانگ لے اور خدمت میں حاضر ہوجائے تو اس سے ایک دفعہ قصور سرزد ہوجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مالک اسے ہمیشہ کے لیے اپنی نوکری سے نکال دے گا بلکہ جس وقت وہ آکر معافی مانگتاہے اور پہلے کی طرح خدمت کرنے لگتاہے تو مالک اس سے درگزر کرے گا اور اس کی گزشتہ وفاداری کی وجہ سے اس پر پہلے کی طرح مہربان ہوجائے گا۔
ایسا ہی معاملہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ بندہ اگر بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کا وفادار ہے اور جان بوجھ کر اس کے مقابلے میں استکبار اور سرکشی کرنے والا نہیں ہے تو اگر اس سے کسی وقت کوئی قصور سرزد ہوجاتا ہے اور اس قصور کے بعد وہ پھر خدا کے دربار میں نماز کے لیے حاضر ہوجاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی مغفرت سے محروم نہیں رکھے گا کیونکہ اس کا طرزِ عمل یہ بتاتاہے کہ وہ ٹھوکر تو کھاگیاتھا لیکن اپنے رب سے بھاگا نہیں تھا، اس کا باغی نہیں ہوگیا تھا ــــاسی بنا پر فرمایا گیا کہ اگر ایک شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے تو اس کے پچھلے قصور معاف ہوگئے۔ رمضان میں راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت کی تو وہ بھی پچھلے قصوروں کی معافی کا ذریعہ بن گئی۔ اسی طرح اگر وہ لیلۃ القدر میں عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو اس کا یہ عمل بھی اس کے پچھلے قصوروں کی معافی کا سبب بن گیا۔ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے متعلق ایک مسلمان کا جو عقیدہ ہونا چاہیے وہ عقیدہ ذہن میں پوری طرح تازہ رہے۔ اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی
اللہ ہی کی رضا کا طالب ہو اور ہروقت اپنے خیالات اور اپنے اعمال پر نظر رکھے کہ کہیں وہ اللہ کی رضا کے خلاف تو نہیں چل رہاہے۔ ان دونوں چیزوں کے ساتھ جو شخص رمضان کے پورے روزے رکھ لے گا وہ اپنے پچھلے گناہ بخشوالے جائے گا، اس لیے کہ اگر وہ کبھی سرکش ونافرمان بندہ تھا بھی تو اب اس نے اپنے مالک کی طرف پوری طرح رجوع کرلیا، اورالتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَذَنْبَ لَہٗ۔ ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔‘‘
(خطبات ص ۱۹۶)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ : حَفِظْنَاہُ وَاَ یَّمَا حَفِظَ مِنَ الزُّھْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ تَابَعَہٗ سلیمان بن کثیر عن الزھری۔(۶)
(۲)حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْيَ بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔(۷)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ، تو اس کے وہ سب گناہ معاف کردیے گئے جو اس سے پہلے سرزد ہوئے تھے۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت:
(۳) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔(۸)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کردیے گئے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے تھے۔
امام بخاریؒ نے ایک روایت ابوہریرہؓ سے کتاب الصوم میں بھی نقل کیاہے:
(۴) عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَصَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔(۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ’’جس شخص نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کردیے گئے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے تھے اور جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گناہ معاف کردیے گئے جو اس سے پہلے سرزد ہوگئے تھے۔ ‘‘
ترمذی نے اس روایت کو درج ذیل الفاظ میں نقل کیاہے:
(۵) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَہٗ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔(۱۰)
(ھٰذا حدیث صحیح)
قال ابو عیسیٰ وحدیث ابی ھریرۃ الذی رواہ ابوبکر بن عیاش حدیث غریب لانعرفہ من روایۃ ابی بکر بن عیاش، عن الاعمش، عن ابی صالح، عن ابی ھریرۃ الا من حدیث ابی بکرو سألت محمد بن اسماعیل عن ھذا الحدیث فقال نا الحسن بن الربیع نا ابو الاحوص عن الاعمش عن مجاھد قولہٗ اِذَا کَانَ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِّنْ شَھْرِ رَمَضَانَ فذکر الحدیث۔
قال محمد و ھذا اصح عندی من حدیث ابی بکر بن عیّاش۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور اس میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ، تو اس کے وہ سب گناہ معاف کردیے گئے جو اس نے اس سے پہلے کیے تھے۔
روزے کے اجر کی کوئی حد نہیں
۴۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ، اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلاَّ الصَّوْمُ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ، یَدَعُ شَھْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ مِنْ اَجْلِیْ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہٖ وَلَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ وَالصِّیَامُ جُنَّۃٌ وَاِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ اَحَدِکُمْ فَلاَ یَرْفُثْ وَلاَیَصْخَبْ فَاِنْ سَآبَّہٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّی امْرُئٌ صَائِمٌ ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایاجاتاہے یہاں تک کہ ایک نیکی دس گُنی تک اور دس گُنی سے سات سوگنی تک بڑھائی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جُدا ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ــــروزہ دار اپنی شہوات نفس اور اپنے کھانے پینے کو میرے لیے چھوڑتاہے ــــ روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں۔ ایک فرحت اِفطار کے وقت کی اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی ــــاور روزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے ــــاور روزے ڈھال ہیں، پس جب کوئی شخص تم میں سے روزے سے ہوتو اسے چاہیے کہ نہ اس میں بدکلامی کرے اور نہ دنگا فساد کرے ــــ اگرکوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ اس سے کہہ دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں۔ ‘‘
تشریح :یہ جو فرمایا کہ دوسری نیکیاں تو دس گُنی سے لے کر سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہیں لیکن روزے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری نیکیاں اللہ کے لیے نہیں ہیں اور اللہ ان کی جزا نہیں دے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق روزہ اس کے لیے خاص ہے اور وہ اس کی جتنی چاہے گا جزا دے گا۔ جب یہ فرمایاکہ دوسری نیکیاں سات سو گُنی تک بڑھائی جاتی ہیں اور اس کے مقابلے میں استثناء کے ساتھ روزے کے متعلق فرمایا کہ میں ہی اس کی جزا دوں گا تو اس سے یہ مراد ہے کہ روزے کے اجر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے گا روزہ دار کو اس کا اجر دے گا۔
تخریج(۱) :حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ وَوَکِیْعٌ عَنِ الْاَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِح وَحَدَّثَنَا اَبُوسَعِیْدِ نِ اَلْاَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَہٗ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: کُلُّ عَمَلِ بْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ، الْحَسَنَۃُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلاَّ الصَّوْمُ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ یَدَعُ شَھْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ مِنْ اَجْلِیْ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَآئِ رَبِّہٖ وَلَخُلُوْفُ فِیْہِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ابنِ آدم کا ہر عمل کئی گنا بڑھایا جاتاہے یہاں تک کہ ایک نیکی دس گنی تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جُدا ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ دار اپنی شہواتِ نفس اور اپنے کھانے پینے کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دوفرحتیں ہیں۔ ایک فرحت افطار کے وقت کی اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی ــــاورروزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔
ابوہریرہؓ سے مروی ایک دوسری روایت:
(۲) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَالَ اللّٰہُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَہٗ اِلاَّ الصِّیَامَ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ وَالصِّیَامُ جُنَّۃٌ وَاِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ اَحْدِکُمْ فَلاَ یَرْفُثْ وَلاَیَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّہٗ اَحَدٌ اَوْقَاتَلَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدہٖ لَخُلُوفُ فِی الصَّآئِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِّیْحِالْمِسْکِ ۔ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُھُمَا اِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ وَاِذَا لَقِیَ رَبَّہٗ فَرِحَ بِصَومِہٖ۔(۱۲)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے مگر روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہی ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزے ڈھال ہیں پس جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ اس میں نہ بدکلامی کرے اور نہ دنگا فساد کرے ــــ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ اس سے کہہ دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں ــــقسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اطیب ہے۔ روزہ دار کے لیے دوفرحتیں ہیں جن سے وہ فرحت ولذّت پاتاہے ایک جب وہ افطار کرتاہے اس وقت فرحت محسوس کرتاہے اور دوسرے جب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرے گا اس وقت اپنے روزے کی وجہ سے فرحت پائے گا۔
مسلم کی روایت میں عِنْدَ اللّٰہ کے بعد یوم الْقِیٰمۃ کا اضافہ ہے۔
ابوداوٗد نے اس طرح روایت کی ہے:
(۳) اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ اِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ صَائِمًا فَلاَ یَرْفُثْ وَلاَ یَجْھَلْ فَاِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَہٗ اَوْ شَاتَمَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ صَائِمٌ اِنِّیْ صَائِمٌ۔ (۱۳)
’’روزے ڈھال ہیں۔ جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو بدکلامی نہ کرے اور جہالت کی بات نہ کرے۔ پس پھر بھی اگر کوئی اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرے تو اسے کہہ دے کہ برادرم میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔‘‘
بخاری نے ایک اور روایت نقل کی ہے:
(۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: الصِّیَامُ جُنَّۃٌ فَلاَیَرْفُثْ وَلاَیَجْھَلْ فَاِنِ امْرُئٌ قَاتَلَہٗ اَوْشَاتَمَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ صَائِمٌ مَرَّتَیْنِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ یَتْرُکُ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ وَشَھْوَتَہٗ مِنْ اَجْلِیْ اَلصِّیَامُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ وَالْحَسَنَاتُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، روزے ڈھال ہیں، پس روزے دار نہ بدکلامی کرے اور نہ طیش میں آئے۔ پھر بھی اگر کوئی اس سے لڑے یا گالم گلوچ ہو تو اسے کہہ دینا چاہیے کہ صاحب میں تو روزے سے ہوں۔ دومرتبہ، فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے روزے دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ طیب اورعمدہ ہے، روزے دار اپنا کھانا پینا اور اپنی شہواتِ نفس محض میرے لیے ترک کرتاہے۔ روزے میرے لیے ہیں اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور جہاں تک نیکیوں کی افزایش کا تعلّق ہے تو دس گنی تک بڑھتی ہیں۔
روزے کی غیر معمولی فضیلت کیوں؟
بات دراصل یہ ہے کہ دوسری تمام نیکیاں آدمی کسی نہ کسی ظاہری فعل سے انجام دیتاہے۔ مثلاً نماز ایک ظاہری فعل ہے۔ نماز پڑھنے والا نماز میں اٹھتا اور بیٹھتاہے، رکوع اور سجدہ کرتاہے، اس طرح یہ ایک نظر آنے والی عبادت ہے ــــاسی طرح حج اورزکوٰۃ کا معاملہ ہے۔ لیکن اس کے برعکس روزہ کسی ظاہری فعل سے ادا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا مخفی فعل ہے جو فقط آدمی اور اس کے خدا کے درمیان ہوتاہے ــــ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ روزہ دراصل اللہ کے حکم کی تعمیل کی ایک منفی شکل ہے۔ مثلاً نہ کھانا اور نہ پینا اور اسی طرح جن دوسری چیزوں سے منع کیا گیاہے ان سے باز رہنا۔ اس منفی فعل کو یا تو آدمی خود جان سکتاہے یا اس کا رب، کسی تیسرے کو معلوم نہیں ہوسکتاہے کہ یہ منفی فعل اس نے کیاہے یا نہیں۔ مثلاً اگر ایک آدمی چھپ کر کھاپی لے تو کسی کو اس کا علم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ روزہ نہ رکھتے ہوئے بھی کہہ سکتاہے کہ میں روزے سے ہوں اور کوئی شخص یقین کے ساتھ یہ نہیں جان سکتاکہ آیا وہ روزے سے ہے یا نہیں۔ اگر وہ روزے سے ہے تو اس بات کو صرف وہ جانتاہے اور اگر روزے سے نہیں تو اس کو بھی اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اسی وجہ سے روزے کا معاملہ صرف خدا اور اس کے بندے کے درمیان ہوتاہے اور اسی بنا پر اس میں ریا کا امکان نہیں ہوتا ــــ ایک آدمی دنیا کو دکھانے کے لیے بیشک یہ کہتا پھرے کہ میں روزے سے ہوں لیکن حقیقتِ صوم کے اندر اس ریاکاری کی کوئی گنجایش نہیں کیونکہ وہ خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ اسی لیے فرمایا کہ روزہ خاص میرے ہی لیے ہے، وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ ‘‘میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ س: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں ہی دوں گا۔ عبادات تو ساری اللہ کے لیے ہی ہوتی ہیں اور اجر بھی
وہی دیتاہے۔ پھر اس ارشاد کا کیا مطلب ہے؟
ج : کوئی بادشاہ اگر کسی کو انعام دینا چاہے تو اس کی دوصورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انعام اسے بھجوادے اور دوسری صورت یہ ہے کہ انعام اسے خود دے۔ ان
دوصورتوں میں جو فرق ہے اسی سے سمجھ لیجیے کہ روزہ اور دوسری عبادات کے اجر میں کیا فرق ہے ۔ (۵ اے ذیلدار پارک حصہ دوم ص ۸۷۔۸۸)
مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روزے کی جزا بے حدو حساب دے گ۔ یعنی روزے کے معاملے میں بالیدگی وافزونی کا امکان بے حدو حساب ہے۔ آدمی اس سے تقویٰ حاصل کرنے کی جتنی کوشش کرے اتنا ہی وہ بڑھ سکتاہے۔ صفر کے درجہ سے لے کر اوپر لاکھوں، کروڑوں، اربوں گنا تک وہ جاسکتاہے، بلکہ بلا نہایت ترقی کرسکتاہے۔ پس یہ معاملہ چونکہ آدمی کی اپنی استعدادِ اخذ وقبول پر منحصر ہے، کہ روزہ سے تقویٰ حاصل کرے یا نہ کرے، اور کرے تو کس حد تک کرے۔ (اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کرنے والے کی نیت اور نیکی کے نتائج کے لحاظ سے تمام اعمال پھلتے پھولتے ہیں اور ان کی ترقی کے لیے ایک حد ہے مگر روزے کی ترقی کے لیے کوئی حد نہیں۔ رمضان چونکہ خیر اور صلاح کے پھلنے اور پھولنے کا موسم ہے اور اس موسم میں ایک شخص نہیں، بلکہ لاکھوں کروڑوں مسلمان مل کر اس نیکی کے باغ کو پانی دیتے ہیں۔ اس لیے یہ بے حدو حساب بڑھ سکتاہے۔ جتنی زیادہ نیک نیتی کے ساتھ اس مہینہ میں عمل کروگے، جس قدر زیادہ برکتوں سے خود فائدہ اٹھاؤگے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو فائدہ پہنچاؤ گے اور پھر جس قدر زیادہ اس مہینہ کے اثرات بعد کے گیارہ مہینوں میں باقی رکھوگے، اُتنا ہی یہ پھلے پھولے گا، اور اس کے پھلنے اور پھولنے کی کوئی انتہا نہیں ہے، تم خود اپنے عمل سے محدود کرلو تو یہ تمہارا اپنا قصورہے۔ (خطبات ،روزہ:تربیت کے لیے۔۔۔) جتنے گہرے جذبے اور اخلاص کے ساتھ آپ روزہ رکھیں گے، اللہ تعالیٰ کا جتنا تقویٰ اختیار کریں گے، روزے سے جتنے کچھ روحانی ودینی فوائد حاصل کریں گے اور پھر بعد کے دنوں میں بھی ان فوائد کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی جزا بڑھتی چلی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کی اس غیرمعمولی فضیلت ومقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ روزہ دار اپنی شہواتِ نفس اور کھانے پینے کو صرف اللہ ہی کی خاطر چھوڑتاہے، اس لیے وہ بھی اسے آخرت میں بے حدو حساب اَجر سے نوازے گا۔
روزہ دار کے لیے دوفرحتیں
فرمایا کہ روزہ رکھنے والے کے لیے دوفرحتیں ہیں۔ ایک فرحت افطار کے وقت کی، اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔
مراد یہ ہے کہ جو فرحت ایک روزہ دار کو افطار کے وقت ملتی ہے وہ افطار پر ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس سے زیادہ فرحت اسے اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملے گا اور وہاں اس کو معلوم ہوگا کہ جو عمل وہ دنیا میں کرکے آیاہے اس کی یہاں کتنی بڑی جزا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے کس قدر قرب سے نوازا ہے اور اس کی کتنی خوشنودی اسے حاصل ہوئی ہے۔
فرمایا:’’روزہ دار کے مُنہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ کوئی شخص اپنے مُنہ کو چاہے کتنا ہی صاف رکھنے والا اور دانتوں کی صفائی کرنے والا ہو لیکن کئی کئی گھنٹوں تک کھانے پینے سے رُکے رہنے کی وجہ سے اِس کے مُنہ میں ایک خاص قسم کی بساند پیدا ہوجاتی ہے۔ اِس لیے کسی روزہ دار کے منہ میں اس طرح کی بساند محسوس ہوتو اُس سے نفرت نہ کرنی چاہیے کیونکہ یہ بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے۔
روزہ ــــــبرائیوں کے مقابلے میں آدمی کی ڈھال
فرمایا کہ روزے ڈھال ہیں، پس جب کوئی شخص تم میں سے روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں نہ بدکلامی کرے، نہ دنگا فساد۔
روزہ کے ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کا ر زارِ حیات میں انسان کو برائیوں سے بچانے والی ڈھال ہے۔ جس طرح دشمن کا وار ڈھال پر روکا جاتاہے اسی طرح برائی کا کوئی موقع پیدا ہونے پر اگر ایک شخص یہ خیال کرکے کہ وہ روزے سے ہے اس برائی سے بچ جاتاہے تو اس کا روزہ اس کے لیے برائی کے مقابلے میں ڈھال کے بہ منز لہ ہے۔
اِس ڈھال کی مدد کرنے اور اس کو مضبوط بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود بدکلامی نہ کرے، خود کسی کو بُرا نہ کہے اور خود کسی سے نہ لڑے۔ یہ ڈھال کی پہلی مدد ہے۔ اس کی دوسری مدد یہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص لڑنے کو آئے تو اُس سے کہے کہ بابا میں تو روزے سے ہوں۔ اگر تم گالی دوگے تو میں نہیں دوں گا۔ اس کے بعد یہ ڈھال اس قدر مضبوط ہوجاتی ہے کہ آدمی کو ہر برائی سے بچاسکتی ہے۔
اگر ایک آدمی نے لوگوں سے خود جھگڑا کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اپنی اِس ڈھال میں خود شگاف پیدا کرلیا جو اس کو بُرائی سے بچانے والی تھی۔ اگر کوئی دوسرا شخص اس سے لڑنے کو آیا اور یہ بھی آستینیں چڑھاکر کھڑا ہوگیاتو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ڈھال خود توڑتاڑ کر پھینک دی۔ اب ایک وار وہ کرے گا اور دوسرا یہ کرے گا۔ لیکن اگر ایک آدمی اپنے روزے کی اِس ڈھال سے کام لے تو یہ ڈھال یقینااسے برائیوں سے بچائے گی۔
جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ
۵۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا کَانَ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ وَّفُتِحَتْ اَبْوَابُ الجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ وَّیُنَادِیْ مُنَادِیًا یَّا بَاغِیَ الْخَیْرِ اَقْبِلْ وَ یَا بَاغِیَ الشَّرِّ اَقْصِرْ، وَلِلّٰہِ عُتَقَائُ مِنَ النَّارِ وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور وہ جِنّ جو برائی پھیلانے پر کمر بستہ رہتے ہیں باندھ دیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور پھر ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پھر ا ن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور پکارنے والا پکارتاہے کہ اے بھلائی کے طالب آگے بڑھ اور اے بُرائی کے طالب رُک جا۔ اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگ ہیں جو آگ سے بچنے والے ہیں ــــاور یہ ہررات کو ہوتاہے۔ ‘‘
تشریح :چونکہ اسلامی تقویم کا انحصار قمری مہینوں پر ہے اور قمری مہینے ہلال سے شروع ہوتے ہیں اس لیے اسلام میں ہر مہینے کا آغاز رات سے ہوتاہے۔ چنانچہ ماہِ رمضان ہلال دیکھنے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتاہے۔ اسی بنا پر یہاں رمضان کی پہلی رات کے متعلق فرمایا گیاکہ ا ن میں شیاطین اور برائی و فساد پھیلانے والے جِنّ باندھ دیے جاتے ہیں۔
رمضان کی اس خصوصیت کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس کا ظہور ساری دنیا میں نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف مومنینِ صالحین کی بستیوں کے اندر ہوتاہے۔
شیطان کیوںکر جکڑا جاتاہے؟
رمضان کی آمد پر شیاطین کا باندھا جانا دراصل اس بات کا نتیجہ ہوتاہے کہ مومن صالح رمضان کا آغاز ہوتے ہی اپنی خواہشاتِ نفس پر وہ پابندیاں قبول کرتاہے جو عام زمانے میں اس پر نہیں ہوتیں۔ مثلاً عام زمانے میں تو پانی اس کے لیے حلال ہے لیکن رمضان کے زمانے میں بارہ سے چودہ پندرہ گھنٹے تک وہ اس پر حرام ہوجاتاہے۔عام دنوں میں اس کے لیے کھانا کھانا اور خواہشِ نفس کو پورا کرنا، بشرطیکہ جائز طریقے سے ہو، حلال ہے لیکن رمضان کے زمانے میں یہ چیزیں کئی کئی گھنٹے کے لیے اس پر حرام ہوجاتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ایک مومن پر رمضان کے مہینے میں اُس کے نفس، اُس کی خواہشات اور آزادیٔ عمل پر ایسی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتیں۔ جب مومن ان پابندیوں کو قبول کرلیتاہے اور اپنے آپ کو ان میں جکڑلیتاہے تو اِس کا شیطان بھی جکڑا جاتاہے۔ اگر مومن بھی اپنے آپ کو خواہشِ نفس کا غلام بنائے رکھے اور شریعت کی پابندیاں قبول نہ کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا شیطان جکڑا نہیں گیا بلکہ بدستور کھلا پھررہاہے اور اپنا کام کیے جارہاہے۔ پس خوب سمجھ لیجیے کہ جس شخص نے اپنے نفس پر شریعت کی پابندیاں عائد کرلیں تو جس لمحے اس نے ایسا کیا اُسی لمحے اس کا شیطان بھی زنجیروں میں جکڑا گیا۔ اِسی طرح اِدھر اس نے اپنے اوپر شریعت کی پابندیاں عائد کیں اور اُدھر جنت کے سارے دروازے اس کے لیے کھل گئے اور دوزخ کے دروازے بند کردیے گئے۔ یہ ہے مفہوم شیطانوں کے جکڑے جانے کا، دوزخ کے دروازے بند ہونے کا اور جنت کے دروازے کھلنے کا۔ اور یہ چیزیں وہیں ظہور پذیر ہوں گی جہاں مومنین صالحین بستے ہوں۔ اس سے یہ مراد نہیں لی جاسکتی کہ ساری دنیا کے شیطان باندھ دیے جاتے ہیں۔ اور آج کل تو شیاطین خود مسلمانوں کی بستیوں میں رمضان کے مہینے میں کھلے پھرتے ہیں۔ جو لوگ مسلمان ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں ظاہر بات ہے کہ ان کا شیطان تو نہ صرف یہ کہ کُھلا پھِررہاہے بلکہ ان پر پوری طرح سے تسلّط جمائے ہوئے ہے ــــمقیّد تو صرف اس شخص کا شیطان ہوگا جس نے اپنی خواہشات نفس پر پابندیاں اور اللہ کے احکام کو خود پر نافذ کیا۔
رمضان کی پکار
ھر فرمایاکہ پکارنے والا پکارتاہے، اے بھلائی کے طالب آگے بڑھ اور اے برائی کے طالب رُک جا!
پکارنے والے سے مراد یہ نہیں کہ کوئی شخص کھڑا ہوکر یہ صدا لگاتاہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابندی کرنے والوں کو رمضان کی آمد ہی سے اس بات کی اطلاع مِل جاتی ہے کہ نیکیاں کرنے اور برائیوں سے بچنے کا زمانہ آگیا ہے۔ جس وقت اس بات کا اعلان ہوتاہے کہ رمضان کا چاند دیکھ لیا گیاہے تو یہ اعلان اپنے اندر اس بات کو متضمن رکھتاہے کہ اے بھلائی کے طالب! آگے بڑھ، یہ وقت ہے بھلائیاں لوٹ لے جانے کا۔ وہ زمانہ شروع ہوگیاہے جس میں تو بھلائیوں سے اپنی جھولی بھرسکتاہے ــــاور اے برائی کے طالب! رُک جا، یہ وقت ہے تیرے رُک جانے کا، کیونکہ وہ زمانہ شروع ہوگیاہے جس میں تیری ایک معمولی سی برائی بھی بہت بڑی قرار پائے گی۔ اور اس کے برعکس تیری ایک معمولی سی بھلائی بھی بے انتہا نشو ونما پائے گی۔ اس لیے اب تو تجھے برائیوں سے رک ہی جانا چاہیے!
آگ سے چھٹکارا پانے والے
ھر فرمایا کہ’’ رمضان میں اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں جو آگ سے آزادی حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘
عَتِیْق کے معنی ہیں آزاد آدمی ــــاس ارشاد سے مرادیہ ہے کہ بہت سے بندے ایسے ہیں جو اس زمانے میںاپنے نیک اعمال کی بدولت جہنم کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ہر انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنا شمار ان بندوں میں کرانے کا سامان کہاں تک کررہاہے۔
=’’اور یہ ہررات کو ہوتاہے۔‘‘
اس سے مراد یہ ہے کہ رمضان المبارک کی جو برکتیں اور خصوصیّات اس کی پہلی رات کو ظہور میں آتی ہیں ان سب کا ظہور رمضان کی ہر رات میں بدستور جاری رہتاہے۔
اجتماعی روزے کا مہینہ قرار دے کر رمضان سے شارع نے یہی کام لیاہے۔ جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ ہر غلّہ اپنا موسم آنے پر خوب پھلتا پھُولتاہے اور ہرطرف کھیتوں پر چھایا ہوا نظر آتاہے۔ اسی طرح رمضان کا مہینہ گویا خیرو صلاح اور تقویٰ وطہارت کا موسم ہے۔ جس میں برائیاں دبتی ہیں، نیکیاں پھیلتی ہیں، پوری پوری آبادیوں پر خوف خدا اور حبِّ خیر کی رُوح چھاجاتی ہے اور ہر طرف پرہیزگاری کی کھیتی سرسبز نظر آنے لگتی ہے۔ اس زمانہ میں گناہ کرتے ہوئے آدمی کو شرم آتی ہے۔ ہرشخص خود گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتاہے اور اپنے کسی دوسرے بھائی کو گناہ کرتے دیکھ کر اسے شرم دلاتاہے۔ ہرایک کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کچھ بھلائی کا کام کرے، کسی غریب کو کھانا کھلائے کسی ننگے کو کپڑا پہنائے، کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ کہیں کوئی نیک کام ہورہاہو تو اس میں حصہ لے۔ کہیں کوئی بدی ہورہی ہو تو اسے روکے۔ اس وقت لوگوں کے دل نرم ہوجاتے ہیں، ظلم سے ہاتھ رُک جاتے ہیں، برائی سے نفرت اور بھلائی سے رغبت پیدا ہوجاتی ہے۔ توبہ اور خشیت وانابت کی طرف طبیعتیں مائل ہوتی ہیں۔ نیک بہت نیک ہوجاتے ہیں اور بد کی بدی اگر نیکی میں تبدیل نہیں ہوتی تب بھی اس جلاب سے اس کا اچھا خاصا تنقیہ ضرور ہوجاتاہے۔ غرض اس زبردست حکیمانہ تدبیر سے شارع نے ایسا انتظام کردیاہے کہ ہرسال ایک مہینہ کے لیے پوری اسلامی آبادی کی صفائی ہوتی رہے، اس کو اوور ہال کیا جاتارہے، اس کی کایا پلٹی جائے اور اس میں مجموعی حیثیت سے روحِ اسلامی کو از سرِ نو زندہ کردیا جائے۔
سکتہ کے مریض کا آخری امتحان اس طرح کیا جاتاہے کہ اِس کی ناک کے پاس آئینہ رکھتے ہیں۔ اگر آئینہ پر کچھ دُھندلاہٹ پیدا ہوتو سمجھتے ہیں کہ ابھی جان باقی ہے، ورنہ اس کی زندگی کی آخری امید بھی منقطع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی کسی بستی کا تمہیں امتحان لینا ہوتو اسے رمضان کے زمانہ میں دیکھو۔ اگر اس مہینہ میں اس کے اندر کچھ تقویٰ، کچھ خوفِ خدا، کچھ نیکی کے جذبہ کا ابھار نظر آئے تو سمجھو ابھی زندہ ہے۔ اور اگر اس مہینہ میں بھی نیکی کا بازار سرد ہو، فسق وفجور کے آثار نمایاں ہوں اور حِس مردہ نظر آئے تو اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھ لو۔ اس کے بعد زندگی کا کوئی سانس’’مسلمان‘‘ کے لیے مقدر نہیں ہے۔ (اسلامی عبادات پرایک تحقیقی نظر ص ۱۱۲تا۱۱۵)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ بْنِ کُرَیْبٍ، نا اَبُوْبَکْرِبْنُ عَیَّاشٍ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا کَانَ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النِّیْرَانِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ وَّیُنَادِیْ مُنَادٍ یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ اَقْبِلْ وَیَابَاغِیَ الشَّرِّ اَقْصِرْ وَلِلّٰہِ عُتَقَآئُ مِن النَّارِ وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ۔(۱۵)
وفی الباب عن عبد الرحمن بن عوف وابن مسعود وسلمان۔
نسائی نے اس روایت کو دوطرح سے نقل کیاہے:
(۲) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ،عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ عَرْفَجَۃَ، قَالَ: عُدْنَا عُتْبَۃَ بْنَ فَرْقَدٍ فَتَذَاکَرْنَا شَھْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ : مَا تَذْکُرُوْنَ؟ قُلْنَا: شَھْرُ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ النَّارِ وَتُغَلُّ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ وَیُنَادِیْ مُنَادٍ کُلَّ لَیْلَۃٍ یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ ھَلُمَّ وَیَابَاغِیَ الشَّرِّ اَقْصِرْ۔
ترجمہ : عَرفجۃ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عُتبہ بن فرقد کی بیمار پرسی کی۔ اسی اثناء میں ہم نے باہم رمضان کے بارے میں مذاکرہ شروع کردیا۔ عتبہ نے پوچھا کیا مذاکرہ کررہے ہو؟ ہم نے کہا رمضان کے بارے میں بات کررہے تھے۔ اس نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سناہے کہ اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آگ یعنی جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ شیاطین کو جکڑ کر بند کردیاجاتاہے۔ ہر رات پکارنے والا پکارتاہے۔ ’’اے طالب خیر آگے بڑھ ۔ اور اے برائی کے متلاشی رک جا۔‘‘
قال ابوعبدالرحمن ھذا خطائٌ۔
(۳)اخبرنا محمد بن بشّار، قال:حدثنا محمد، قال : حدثنا شعبۃ، عن عطاء بن السائب عن عرفجۃ، قال: کنت فی بیت فیہ عتبۃ بن فرقد فَاَرَدْتُّ ان اُحَدِّثَ بحدیثٍ وکان رجلٌ من اصحاب النبی ﷺ کانَّہٗ اَوْلٰی بالحدیثِ منی فحدّث الرجل، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: فِیْ رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ النَّارِ وَیُصَفَّدُ فِیْہِ کُلُّ شَیْطَانٍ مَّرِیْدٍ وَّیُنَادِیْ مُنَادٍ کُلَّ لَیْلَۃٍ یَا طَالِبَ الْخَیْرِ ھَلُمَّ وَیَاطَالِبَ الشَّرِّ اَمْسِکْ۔(۱۶)
ترجمہ :نبی ﷺکا فرمان ہے کہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور نارِ جہنّم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ہرسرکش شیطان کو ہتھکڑی ڈال ڈال کر جکڑ دیا جاتاہے۔ اور ہر رات منادی کرنے والا منادی کرتاہے اے خیر طلب کرنے والے آگے بڑھ، اور اے شر کے طلب کرنے والے رُک جا۔
ہزار مہینوں سے بہتر رات
۶۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَتَاکُمْ رَمَضَانُ، شَھْرٌ مُبَارَکٌ، فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہٗ، تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ وَتُغَلُّ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ، لِلّٰہِ فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَھَا فَقَدْ حُرِمَ۔ (احمد، نسائی)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، تم پر رمضان کا مبارک مہینہ آیاہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تم پر روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمان ( جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنّم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔‘‘
تشریح :یہ حدیث بھی نبی ﷺکے ان خطبات میں سے ہے جو آپؐ رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر صحابہ کرامؓ کو اِس مبارک مہینے کی اہمیت اور برکات سے آگاہ فرمانے کے لیے دیا کرتے تھے۔ اس میں آپؐنے پہلی بات یہ بتائی کہ رمضان بڑی ہی برکت والا مہینہ ہے اور اس کے روزے امّت پر فرض کیے گئے ہیں۔
اَلْبَرَکَۃُ کے اصل معنی ہیں افزایش کے۔ رمضان کے مہینے کو مبارک مہینہ اس لیے کہاگیاہے کہ اس کے اندر بھلائیاں نشو ونما پاتی ہیں اور نیکیوں کو افزونی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس برائیاں بڑھنے کے بجائے سُکڑتی چلی جاتی ہیں اور ان کی ترقی رک جاتی ہے۔
=دوسری بات یہ فرمائی: ’’اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘
اس سے مراد لَیْلَۃُ الْقَدْر ہے۔ یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا، جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہواہے:
اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِo لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍo
’’ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیاہے۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے ۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کا نزول انسانیت کے لیے عظیم الشان خیر کی حیثیت رکھتاہے اور انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی خیر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ رات جس میں یہ قرآن مجید نازل ہوا ہے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری انسانی تاریخ میں کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانیت کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا ہے جو اس ایک رات میں ہوا ہے۔ ہزار مہینوں کے لفظ کو گنے ہوئے ہزار نہ سمجھنا چاہیے بلکہ اس سے بہت بڑی کثرت مراد ہے ــــچنانچہ اس رات میں، جو اپنی بھلائی کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس سے لَو لگائی اُس نے بہت بڑی بھلائی حاصل کرلی ــــکیونکہ اس رات میں بندے کا اللہ کی طرف رجوع کرنا یہی معنی تو رکھتاہے کہ اسے اس رات کا پورا پورا احساس ہے اور وہ یہ جانتاہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان پر یہ کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اپنا کلام نازل فرمایا۔ اس لیے جس آدمی نے اس رات میں عبادت کا اہتمام کیا گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیااور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اس کے دل میں قرآن مجید کی صحیح قدرو قیمت کا احساس موجود ہے۔
=’’جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ محروم ہی رہ گیا۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص اس رات میں اللہ کی عبادت کے لیے کھڑا نہیں ہوتا تو گویا اُسے قرآن مجید کی اس نعمتِ عظمیٰ کا احساس ہی نہیں ہے جو اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اتاری تھی۔ اگر اُسے اِس بات کا احساس ہوتا تو وہ ضرور رات کے وقت عبادت کے لیے کھڑا ہوتا اور شکر ادا کرتا کہ اے اللہ! یہ تیرا احسانِ عظیم ہے کہ تونے مجھے قرآن جیسی نعمت عطا فرمائی ہے۔ بے شک یہ بھی تیرا احسان ہے کہ تونے مجھے کھانے کے لیے روٹی اور پہننے کے لیے لباس عطا فرمایا۔ لیکن تیرا اصل احسانِ عظیم مجھ پر یہ ہے کہ تونے مجھے ہدایت دی اور دینِ حق کی روشنی دکھائی۔ مجھے تاریکیوں میں بھٹکنے سے بچایا اور علمِ حقیقت کی وہ روشن شمع عطاکی جس کی وجہ سے میں دنیا میںسیدھے راستے پر چل کر اس قابل ہوا کہ تیری خوشنودی حاصل کرسکوں ــــ پس جس شخص کو اس نعمت کی قدروقیمت کا احساس ہوگا وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوگا اور اس کی بھلائی لوٹ لے جائے گا۔ لیکن جو شخص اس رات میں ادائے شکر کے لیے خدا کے حضور کھڑا نہیں ہوا وہ اس کی بھلائی سے محروم رہ گیا اور درحقیقت ایک بہت بڑی بھلائی سے محروم رہ گیا۔
تخریج(۱): اَخْبَرَنَا بِشْرُبْنُ ھِلاَلٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَتَاکُمْ رَمَضَانُ شَھْرٌ مُبَارَکٌ فَرَضَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکُمْ صِیَامَہٗ تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ وَتُغَلُّ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ لِلّٰہِ فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ مَنْ حُرِمَ خَیْرَھَا فَقَدْ حُرِمَ ۔(۱۷)
(۲) عَنْ قِلاَبَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: شَھْرُ رَمَضَانَ اِنَّ ھٰذَا الشَّھْرَ قَدْحَضَرَ، وَاِنَّہٗ شَھْرٌ مُبَارَکٌ، اِفْتَرَضَ اللّٰہُ صِیَامَہٗ تُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ وَتُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجِنَانِ، وَتُغَلُّ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ، فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ، مَنْ حُرِمَھَا فَقَدْ حُرِمَ۔(۱۸)
ترجمہ : حضرت قلابہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: شہر رمضان ــــ یقینا یہ مہینہ آچُکا ہے۔ اور یہ بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں جہنّم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور جنان یعنی جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور اس میں شیاطین باندھ دیے جاتے ہیں۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ جو اس کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔
(۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا دَخَلَتْ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِّنْ شَھْرِ رَمَضَانَ، فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجِنَانِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ الشَّھْرَکُلَّہٗ، وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِفَلَمْ یُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ الشَّھْرَ کُلَّہٗ، وَغُلِّقَتْ مَرَدَۃُ الْجِنِّ ثُمَّ یَکُوْنُ لِلّٰہِ عُتَقَائُ، یُعْتِقُھُمْ مِنَ النَّارِ عِنْدَ وَقْتِ کُلِّ فِطْرٍ عَبِیْدٌ واِمَآئٌ ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرروایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پھر پورا مہینہ اس کا کوئی ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا، اور نارِ جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں پھر پورا مہینہ ان میں سے کوئی ایک بھی کھولانہیں جاتا۔ اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیاجاتا ہے پھر اللہ کی طرف سے بہت سے اس کے بندے اور بندیاں ہیں جنہیں وہ دوزخ کی آگ سے آزاد کرتاہے۔ یہ عمل ہرافطار کے وقت ہوتاہے۔
روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کریں گے
۷۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلصِّیَامُ وَالْقُرْاٰنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ، یَقُوْلُ الصِّیَامُ اَیْ رَبِّ اِنِّیْ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھَوَاتِ بِالنَّھَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ، وَیَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّومَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ فَیُشَفَّعَانِ۔ (بیھقی)
’’حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ کہتاہے کہ اے رب، میں نے اس کو دن بھرکھانے (پینے) اور شہوات سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ــــاور قرآن کہتاہے کہ (اے رب) میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما ــــپس دونوں کی شفاعت قبول فرمالی جائے گی۔‘‘
تشریح :اس کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ اور قرآن کوئی جاندار ہیں جو کھڑے ہوکر یہ بات کہتے ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ روزہ دار کا روزہ رکھنا اور قرآن پڑھنے والے کا قرآن پڑھنا دراصل خود اپنے اندر ایک شفاعت رکھتاہے۔ جب روزہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاتاہے کہ اس بندے نے روزہ رکھاہے تو اس پیشی کے ساتھ ساتھ روزے کی یہ شفاعت بھی موجود ہوتی ہے کہ یہ بندہ آپ کی خاطر دن بھر بھوکا پیاسا رہا۔ یہ چھپ کر کھاپی سکتاتھا اور دوسری خواہشات بھی پوری کرسکتاتھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس بندے نے چونکہ آپ کی خاطر دن بھربھوک پیاس برداشت کی ہے اور اپنی دوسری خواہشات پر بھی پابندیاں عائد کیے رکھی ہیں اس لیے اس کے قصور معاف فرمادیجیے۔
اسی طرح ایک شخص رات کو جو قرآن مجید پڑھتاہے جب وہ قرآن اللہ کے حضور پیش کیا جاتاہے کہ آج اس بندے نے اتنا قرآن مجید پڑھاہے تو قرآن کا وہ پیش کیاجاناہی خود اپنے اندر ایک شفاعت رکھتاہے اور وہ شفاعت یہ ہے کہ اس بندے نے دن بھر کے تھکا ماندہ ہونے کے باوجود آپ کی رضاجوئی کی خاطر رات کو (نماز میں) کھڑے ہوکر قرآن پڑھا اس لیے اس کے گناہ معاف کردیے جائیں ـــــــ۔
ظاہر بات ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺقیامت کے روز مومنینِ صالحین کی شفاعت فرمائیں گے اسی طرح خود آدمی کے اعمال بھی اس کے حق میں شفیع ہوتے ہیں۔ آدمی کے اعمال خدا کے حضور یہ شفاعت کرتے ہیں کہ یہ آدمی یہ یہ نیکیاں کرکے آیاہے اس لیے اسے بخش دیجیے اور اس سے درگزر فرمایئے۔
ـــــنبی ﷺکے اس ارشاد کے مطابق ــــاللہـــــــــــــ تعالیٰ اپنے بندے کے حق میں روزے اور قرآن مجید کی یہ شفاعتیں قبول فرمالیتاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُوْسَی بْنُ دَاوٗدَ، ثَنَا بْنُ لَھِیَعَۃَ عَنْ حُیَیِّ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحُبْلٰی، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اَلصِّیَامُ وَالْقُرْاٰنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَقُوْلُ الصِّیَامُ اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھَوَاتِ بِالنَّھَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ وَیَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ قَالَ فَیُشَفَّعَان۔(۲۰)
لیلۃ القدر سے محرومی بہت بڑی محرومی ہے
۸۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ ھٰذَا الشَّھْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ۔ مَنْ حُرِمَھَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَلاَیُحْرَمُ خَیْرَھَا اِلاَّ کُلُّ مَحْرُوْمٍ۔ (ابن ماجہ)
’’حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا تو نبی ﷺنے فرمایا: یہ مہینہ تمہارے اوپر آیاہے اور اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے، جو اس سے محروم رہ گیا وہ تمام کی تمام بھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہتاہے جو ہے ہی بے نصیب۔
تشریح :اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ لیلۃ القدر کے متعلق یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ کون سی رات ہے۔ نبی ﷺ نے جو کچھ بتایاہے وہ بس یہ ہے کہ وہ رات رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے۔ یعنی وہ رات اکیسویںہوسکتی ہے بائیسویں نہیں، تیئسویں ہوسکتی ہے چوبیسویں نہیں، وعلیٰ ہٰذا القیاس وہ آخری عشرہ کی طاق رات ہے۔ یہ فرمانے کے بعد اس بات کو بغیر تعیّن کے چھوڑدیاگیا کہ وہ کون سی رات ہے۔ عام طور پر لوگ ستائیسویں رمضان کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ لیلۃ القدر ہے۔ لیکن یہ بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ رمضان کی ستائیسویں شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ البتّہ جو بات تعیّن کے ساتھ کہی جاسکتی ہے وہ فقط یہ ہے کہ وہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے۔
لیلۃ القدر کا قطعی طور پر تعیّن نہ کرنے میں یہ حکمت کارفرما نظرآتی ہے کہ آدمی ہرطاق رات میں اس امید پر اللہ کے حضور کھڑا ہوکر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلۃ القدر ہو ــــ لیلۃ القدر اگر اس نے پالی تواس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ جس چیز کا طالب تھا وہ اسے مل گئی، اس کے بعد اس نے جو چند مزید راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں تو اس کی نیکی میں مزید اضافے کا موجب بنیں گی۔
اس مقام پر ایک اور بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ چونکہ ساری دنیا میں رمضان کی ایک ہی تاریخیں نہیں ہوتیں اور ان میں ردّو بدل ہوتارہتاہے۔ اس لیے یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کس آدمی کو واقعی وہ اصل رات میسّر آگئی۔ اس لیے ایک طالب صادق کو ہر رمضان میں اسے تلاش کرنا چاہیے۔ رمضان کا جو آخری عشرہ اعتکاف کے لیے مقرر کیاگیاہے اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اعتکاف کا ثواب آدمی کو الگ ملے اور چونکہ اعتکاف کی حالت میں اس کی تمام طاق راتیں عبادت میں گزریں گی اس لیے اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اسے ان میں کبھی نہ کبھی وہ رات بھی لازماً مِل جائے گی۔
بعض لوگ اپنی جگہ لیلۃ القدر کی تلاش کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ رات کو باہر نکل کر یہ دیکھاجائے کہ فضا میں کوئی ایسی علامت پائی جاتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوکہ یہ قدر کی رات ہے۔ فضا میں کوئی ایسا نور برس رہاہے جس سے اس کا لیلۃ القدر ہونا ثابت ہوجائے۔ لیکن دراصل یہ طرزِ فکر مطابقِ حقیقت نہیں ہے۔ بیشک یہ نور برستاہے، لیکن یہ نور تو پورے رمضان میں اور رمضان کی ہر رات میں برستاہے، البتہ اس کے لیے وہ آنکھیں چاہئیں جو اس کو دیکھ سکیں۔ یہ نور درحقیقت آپ کی عبادات کے اندر برستاہے۔ یہ نور تقویٰ اور خدا کی رضا طلبی کے اندر آپ کے انہماک میں، بھلائیوں کے لیے آپ کے ذوق وشوق میں، اور عبادات کے لیے آپ کے خلوص واہتمام میں اور فی الجملہ آپ کے ایک ایک فعل میں برستاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْ بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِیْدِ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلاَلٍ ثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَس بْنِ مَالِکٍ قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ ھٰذَا الشَّھْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ مَنْ حُرِمَھَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَلاَیُحْرَمُ خَیْرَھَا اِلاَّ مَحْرُوْمٌ۔(۲۱)
رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ
۹۔ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ اَظَلَّکُمْ شَھْرٌ عَظِیْمٌ، شَھْرٌ مُبَارَکٌ، شَھْرٌفِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَھْرٍ۔ جَعَلَ اللّٰہُ صِیَامَہٗ فَرِیْضَۃً وَقِیَامَ لَیْلِہٖ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِیْہِ بِخَصْلَۃٍ مِّنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ اَدّٰی فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہُ وَمَنْ اَدّٰی فَرِیْضَۃً فِیْہِ کَانَ کَمَنْ اَدّٰی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہُ وَھُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃُ وَشَھْرُ الْمُوَاسَاۃِ وَشَھْرٌ یُّزَادُ فِیْہِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِیْہِ صَائِمًا کَانَ لَہٗ مَغْفِرَۃً لِّذُنُوْبِہٖ وَعِتْقَ رَقَبَتِہٖ مِنَ النَّارِ وَکَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ مِنْ غَیِر اَنْ یَّنْتَقِصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَیٌٔ۔ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَیْسَ کُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطِّرُ بِہِ الصَّائِمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :
یُعْطِی اللّٰہُ ھٰذا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی مَذْقَۃِ لَبَنٍ اَوْتَمْرَۃٍ اَوْ شَرْبَۃٍ مِنْ مَائٍ وَمَنْ اَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ حَوْضِیْ شَرْبَۃً لاَیَظْمَأُ حَتّٰی یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، وَھُوَ شَھْرٌ اَوَّلُہٗ رَحْمَۃٌ وَاَوْسَطُہٗ مَغْفِرَۃٌ وَاٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ۔ وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوْکِہٖ فِیْہِ غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ وَاَعْتَقَہٗ مِنَ النَّارِ۔ (البیھقی)
’’حضرت سلمان فارسی ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے شعبان کی آخری تاریخ کو خُطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑا بزرگ مہینہ سایہ فگن ہواہے۔ یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات (ایسی ہے کہ) ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے (اس کے) روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوّع (نفل) قراردیاہے۔ جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے دوسرے دنوں میں کوئی فرض ادا کیا۔ اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستّر فرض ادا کیے ــــ اور رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے، اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتاہے۔ اگر کوئی شخص اس میں کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا اس روزہ دار کے لیے روزہ رکھنے کا ہے، بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اَجر میں کوئی کمی واقع ہو ــــ حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ ہم ( صحابہ کرامؓ )نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم میں سے ہرایک کو یہ توفیق میسّر نہیں ہے کہ کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ اَجر اس شخص کو بھی دے گا جو کسی روزہ دار کو دودھ کی لسّی سے روزہ کھلوادے یا ایک کھجور کھلادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے ــــاور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلادے تو اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ (اس حوض سے پانی پی کر) پھر اسے پیاس محسوس نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ــــ اوریہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے ــــ اور جس نے رمضان کے زمانے میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔‘‘
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوتاہے (اور یہ بات پہلے بھی بیان کی جاچکی ہے) کہ رسول اللہ ﷺنے فضائل رمضان اور روزوں سے متعلق ہدایات بالعموم رمضان کے آنے سے پہلے شعبان کے جمعوں یا دوسرے اجتماعات میں دی ہیں۔ رمضان کے زمانے میں جو خطبے حضورؐ دیتے تھے اگر چہ ان میں بھی احکام کا بیان ہوتاتھا لیکن خاص طور پر آپ ؐ کا طریقہ یہ تھاکہ رمضان کے آنے سے پہلے شعبان کے مہینے میں ایسے خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے جن میں رمضان کی فضیلت اور روزوںکے احکام کا بیان ہوتاتھا۔
نبی اکرم ﷺنے اپنے اس خطبے میں فرمایا:
=’’لوگو! تمہارے اوپر ایک مہینہ ایسا آرہاہے جو عظیم ہے، یعنی بزرگی والا اور بڑی برکت والا ہے۔‘‘
ماہ رمضان کے بزرگ یا بابرکت ہونے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کے دنوں،گھنٹوں یا منٹوں میں فی نفسہٖ کوئی ایسی برکت شامل ہے جو لوگوں کو خود بخود حاصل ہوجاتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ایسے مواقع پیدا کردیتاہے جن کی بدولت تم اس کی بے حدوحساب برکات سے فائدہ اٹھاسکتے ہو۔ اس مہینے میں ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی جتنی زیادہ عبادت کرے گا اور نیکیوں کے جتنے زیادہ کام کرے گا وہ سب اس کے لیے زیادہ سے زیادہ روحانی ترقی کا وسیلہ بنیں گے۔ اس لیے اس مہینے کے بزرگ اور بابرکت ہونے کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر تمہارے لیے برکتیں سمیٹنے کے بے شمار مواقع فراہم کردیے گئے ہیں۔
=’’یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ایسی ہے کہ ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔‘‘
اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا۔ اس کے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر
ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ کبھی ہزار مہینے میں بھی نوعِ انسانی کی فلاح کا وہ کام نہ ہوا ہوگا جتنا اس ایک رات میں ہوا۔
ــــ’’اللہ تعالیٰ نے رمضا ن کے (دنوں کے) روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوّع
(نفل)قرار دیاہے۔‘‘
ــــتطوّع سے مراد وہ کام ہے جو آدمی اپنے دل کی خوشی سے (VOLUNTARILY) انجام دے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر فرض کیا گیاہو۔
رمضان میں دن کے روزے کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قراردے کر فرض اور نفل عبادات دونوں کے فائدوں کو جمع کردیاگیاہے۔ ادائے فرض کے فائدے کچھ اور ہیں اور ازخود اپنی رضا ورغبت سے ، بغیر اس کے کہ کوئی چیز لازم قرار دی گئی ہو، اللہ کی عبادت کرنے کے فائدے کچھ اور ہیں۔ اگر ایک آدمی اپنی ڈیوٹی بجالاتاہے تو وہ اس پر ایک اور قسم کے انعام کا مستحق ہوتاہے اور اگر وہ اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر اپنے دل کی رضا سے کوئی خدمت بجالاتا ہے تو اس پر وہ کسی اور قسم کے انعام کا مستحق ہوتاہے۔ ایک چیز وہ ہے جس پر وہ مزدوری کا مستحق ہے اور دوسری چیز وہ ہے جس پر اسے بونس(BONUS) کا مستحق قرار دیا جائے گا ــــ معلوم ہواکہ اس ماہ میں دوقسم کے مواقع پیدا کردیے گئے ہیں۔ ایک تو ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے جس کے اجر کے آپ الگ مستحق ہوں گے اور ایک چیز آپ کے تطوّع پر چھوڑدی گئی ہے کہ آپ اپنی رضا ورغبت سے راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے ہوں تو اس پر آپ کو مزید انعامات ملیں گے ــــ یہ گویااس چیز کی تشریح ہے کہ اس بزرگ مہینے میں کیا کیا برکتیں رکھ دی گئی ہیں۔
اس کے بعد فرمایا :’’جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی اس کو ایسا اجر ملے گا جیسا کہ دوسرے دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتاہے، اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستّر فرض ادا کیے۔‘‘
چونکہ یہاں فَرِیْضَۃ کے مقابلے میں خَصْلَۃٌ مِنَ الْخَیْرِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس لیے ان سے خود بخود یہ معنی نکلتے ہیں کہ ان سے مراد نفل نیکی ہے۔ یعنی جو آدمی اس مہینے نفل کے طور پر کوئی نیکی کرتاہے اسے اس پر ایسا اَجر ملے گا جیسا دوسرے زمانے میں فرض ادا کرنے پر ملتاہے۔
تخریج : اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُوْبَکْرٍ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّرِیْرُباکاری بِالرَّیْ، ثَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرِج الْاَزْرَقُ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ السَّھْمِیُّ، ثنا اِیَاسُ بْنُ عَبْدِالْغَفَّارِ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَاَخْبَرَنَا اَبُوْنَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ، ثَنَا اَبُوْ عَمْرٍو اِسْمَاعِیْلُ بْنُ نُجَیْدٍ، ثَنَا جَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدِ بْنِ (سوار)، اَخْبَرَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ،وَاَخْبَرَنَا اَبُوسَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ اَبِیْ عُثْمَانَ الزَّاھِدُ، ثنا اَبُوْعَمَرٍومُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَطَرٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ (نَصْرٍ) الْحَافِظُ، ثنا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ۔
وَاَخْبَرَنَا اَبُوْ زَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ اسْحَاقَ الْمُزَکِّی، ثَنَا وَالِدِی، قَالَ: قَرَأَ عَلَیَّ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ حُجْرٍ السَّعْدِیَّ حَدَّثَھُمْ ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ ھَمَّامِ بْنِ یَحْیٰی، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ آخِرِ یَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ : اَیُّھَا النَّاسُ قَدْ اَظَلَّکُمْ شَھْرٌ عَظِیْمٌ۔ الحدیث۔(۲۲)
رمضان کے زمانے میں یہ فرق کیوں ہوتاہے؟
رمضان کے زمانے میں عام دنوں کی بہ نسبت اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عام دنوں میں تو آدمی بڑی حد تک یا ایک حد تک انفرادی حیثیت سے عبادات وفرائض کی بجا آوری کرتاہے لیکن رمضان کا زمانہ وہ ہے جسے بحیثیتِ مجموعی پوری قوم کے لیے نیکی کا موسم قراردیاگیاہے۔ساری قوم بیک وقت روزہ رکھتی اور افطار کرتی ہے۔ سب ایک ہی وقت میں جاکر تراویح پڑھتے اور دوسری عبادات انجام دیتے ہیں۔ اس طرح پوری قوم کے اندر نیکی کا ایک عام ماحول پیدا ہوجاتاہے۔ اس لیے اس زمانے میں نیکی خوب پھلتی پھولتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بارش کے زمانے میں فصل عام زمانے کی بہ نسبت خوب بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے۔ چنانچہ رمضان کے دنوں میں آدمی جو نیکی بھی کرتاہے وہ اکیلے اسی کی نیکی نہیں ہوتی بلکہ بے شمار نیکیاں مل کر اس کو بڑھارہی ہوتی ہیں۔ پھر چونکہ رمضان نیکیوں کا عام موسم ہے اس لیے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا فیضان بھی عام ہوتاہے۔ ایک آدمی جو نفل نماز بھی پڑھے، کسی کے ساتھ بھلائی کا جو کام بھی کرے، جو خیرات بھی کرے اسے اس پر اتنا اجر ملے گا جتنا عام دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتاہے۔ اسی طرح رمضان کے زمانے میں اگر کوئی شخص فرض ادا کرتاہے، خواہ وہ زکوٰۃ یا نماز یا روزہ ہو، تو اسے اس کا اتنا اجر ملے گا جتنا اس کو عام دنوں میں ستّر گُنا زکوٰۃ نکالنے، ستّر نمازیں پڑھنے یا ستر روزے رکھنے کا ملتاہے۔
ــــ’’صبر‘‘ کے معنی عربی لغت میں باندھنے اور روکنے کے ہیں۔ اس مقام پر صبر سے مراد ہے اپنے آپ کو اتنا باندھنا اور ایسا ضبطِ نفس کرنا کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرے اور اس کی اطاعت کے دائرے سے باہر نہ نکلے۔
ارشاد فرمایا کہ صبر ہی کا ثواب جنت ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی اگر جنت حاصل کرتاہے تو اسی وجہ سے حاصل کرتاہے کہ وہ اپنے نفس پر اتنا قابو پانے میں کامیاب ہوجاتاہے کہ اس کی خواہشات نفس بے لگام نہیں ہونے پاتیں اور وہ ان کو رضائے الہٰی کا پابند بنادیتاہے۔
اس صبر کی جتنی مشق رمضان میں ہوتی ہے اتنی اور کسی زمانے میں نہیں ہوتی۔ رمضان میں آدمی مسلسل چوبیس گھنٹے صبر کی مشق کرتاہے۔ سحری کا وقت اس کے اٹھنے کا نہیں ہوتا لیکن وہ اٹھتاہے۔ وہ وقت کھانے کا نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے نفس سے کہتاہے کہ تیرے رب نے یہی وقت تیرے کھانے کے لیے مقرر کیا ہے، اس وقت کھانا ہے تو کھالے ورنہ دن بھرتجھے بھوکا رہنا پڑے گا۔ گویا اس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے آپ کے نفس کی لگام آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور آپ اس پر سوار ہوتے ہیں (بجائے اس کے کہ یہ آپ پر سوار ہو) جس وقت اللہ کا حکم ہوا بس اسی وقت کھانا پینا بند ہوگیا۔ پھر آپ کا ہاتھ نہ کھانے کی طرف بڑھتاہے نہ پینے کی طرف ــــ دن بھرآپ پر خواہ کچھ ہی گزرجائے آپ اپنے نفس کو بے قابو نہیں ہونے دیتے۔ پھر جس وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے آپ فوراً افطار کرتے ہیں ــــ آگے وہ احادیث آرہی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات نہایت پسند ہے کہ بندہ افطار میں جلدی کرے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ روزہ دار محض اللہ کے حکم کی وجہ سے رکا ہوا تھا ورنہ اس کو ایسی بھوک اور پیاس لگی تھی کہ وہ کھانے اور پینے میں ایک لمحہ کی دیر کرنے والا نہیں تھا۔
یہ ہے وہ طریقہ جس سے آپ کو اپنے نفس پر قابو پانے اور صبر کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے اور یہی وہ صبر ہے جس کا نتیجہ جنت ہے کیونکہ اسی صبر کی بدولت تو آپ اس پر قادر ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام وہدایات کی خلاف ورزی سے بچیں اور ہر حال میں اس کی اطاعت وفرمانبرداری کو اپنا شعار بنائے رکھیں۔
lپھر فرمایا کہ ’’یہ مہینہ مواساۃ کا مہینہ ہے۔‘‘
مُوَاسَاۃ کے معنی ہیں باہم ہمدردی کرنا اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنا ــــرمضان کے شَھْرُالْمُوَاسَاۃ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اس مہینہ میں لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد اور ہمدردی کرنے کی تربیت دی جاتی ہے کیونکہ ایک آدمی کو جب خود بھوک کا تجربہ ہوتا ہے تبھی اسے اس بات کا احساس ہوتاہے کہ دوسرے پر بھوک میں کیا گزرتی ہے اور وہ کس قسم کی ہمدردی کا مستحق ہوتاہے۔
l’’اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتاہے۔‘‘
ــــــــــکوئی شخص ناپ تول کر یا حساب لگا کر تو یہ نہیں بتاسکتاکہ رمضان میں اس کی آمدنی کتنی بڑھی یا اس کی تنخواہ میں کیا اضافہ ہوا لیکن لاکھوں، کروڑوں مسلمانوں کا یہ تجربہ ہے کہ رمضان میں جیسا کچھ وہ کھاپی لیتے ہیں۔ عام حالات میں وہ ان کو میسّر نہیں آتا۔ اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ لازماً کوئی ایسی برکت ہے جو اس مہینے میں اللہ تعالیٰ مومن کے رزق میں ڈال دیتاہے۔
پھر فرمایا کہ ’’جو شخص کسی کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ملے گا بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔‘‘
ــــــــــ یعنی اللہ تعالیٰ کا فضل اتنا محدود نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کے اجر میں سے کاٹ کر افطار کرانے والے کو کچھ دے دے کہ یہ تیرے افطار کرانے کا اجر ہے۔ نہیں بلکہ جتنا اجر روزہ رکھنے والے کو ملتاہے اتنا ہی اجر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے اس شخص کو دیتاہے جو روزہ افطار کراتاہے۔
یاد رہے کہ یہ اَجراُن افطار یوں کے لیے نہیں ہے جو بطور ریاکاری کے اپنی شان وشوکت کے مظاہرے کے لیے کرائی جاتی ہیں اور جن سے مقصود لوگوں کو یہ دکھا ناہوتاہے کہ حضرت کتنے دولت مند ہیں اور راہِ خدا میں کس قدر خرچ کرنے والے ہیں۔
ــــــــــ یہاں جس اجر کاذکر کیا جارہاہے وہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی خاطر لوگوں کو افطار کرائیں اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان لوگوں کو افطار کرائیں جو بہتر افطار کرنے کے قابل نہیں ہیں، بہ نسبت اس کے کہ کھاتے پیتے لوگوں کو افطار کرایاجائے۔
اوپر کی سطور میں نبی ﷺکے جن ارشادات کا ذکر کیا گیاہے اس کے بعدحضرت سلمان فارسیؓ بتاتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے ہرایک کو اتنی توفیق نہیں ہے کہ روزہ دار کا روزہ کھلوائے ــــاس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہ اجر تو ہر اس شخص کا ہے جو کسی روزہ دار کو دودھ یا لسّی پلادے یا ایک کھجور کھلادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے ــــ یعنی یہ اَجر بڑی بھاری افطار یوں کا نہیں ہے بلکہ یہ تو محض روزہ کھلوادینے کا اجر ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کیسے ہی سادہ طریقے سے کھلوایا گیا ہو۔
l پھر فرمایا: ’’ اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھاناکھلادے اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ پھر اسے اس وقت تک پیاس محسوس نہ ہوگی جب تک وہ جنت میں داخل نہ ہوجائے۔‘‘
احادیث میں آتاہے کہ میدانِ حشر میں پانی کا ایک حوض ہوگا جسے حوض کوثر کہاجاتاہے۔ اس حوض کے محافظ اور نگراں خود نبی ﷺہوں گے۔ اس سے پانی وہی پیے گا جس کو نبی ﷺپلائیں گے۔ کسی دوسرے شخص کو اس سے پانی پینے کا موقع نہیں ملے گا۔ پھر اس حوض کے سوا میدانِ حشر میں کوئی دوسرا حوض بھی نہیں ہوگا جہاں سے کوئی شخص پانی پی سکے۔ حضور نبی کریم ﷺاس حوض پر صرف انہی لوگوں کو آنے دیں گے جو اس قابل ہوں گے کہ آگے جاکر جنت میں داخل ہوسکیں۔ چنانچہ جو شخص ایک روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتاہے اسے میدانِ حشر میں حوضِ کوثر سے پانی ملے گا تا آنکہ وہ جنت میں داخل ہوجائے۔
میدانِ حشر کے متعلق یہ بات بھی احادیث سے معلوم ہوتی ہے کہ وہاں کوئی سایہ اللہ کے سائے کے سوا نہیں ہوگا اور وہ سایہ صرف نیک آدمیوں کو میسّر آئے گا۔ بدآدمیوں کے لیے وہ سایہ نہیں ہوگا ــــتصور کیجیے کہ اس میدانِ حشر میں جہاں اللہ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اس شخص کو برابر پانی ملتارہے گا جو یہاں کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھانا کھلاتاہے۔
پھر فرمایا ’’اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے
:’’مولانا! حدیث میں رمضان المبارک کے متعلق آتاہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا عتق من من النار، مغفرت کا نتیجہ ہے اور یہ چیز مغفرت میں آجاتی ہے۔ پھر مغفرت کے بعد عتق من النار کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
ج :’’رحمت ، مغفرت اور عتق من النار یہ کوئی تین مختلف چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک بات بیان کرنی ہو تو اسے کئی پہلوؤں سے بیان کیا جاتاہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو کھلایا پلایا گیا۔ اب یہاں کھلایا کہہ دینا کافی تھا۔ اس کے ساتھ پلانا کہنا زائد معلوم ہوتاہے۔ لیکن بہر حال کہنے کا یہ ایک خاص انداز ہے۔ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ حدیث میںجن تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے۔ وہ بھی دراصل سمجھانے کا ایک انداز ہے اور تین چیزیں ایک ہی بات کے تین پہلو ہیں۔‘‘ (۵ اے ذیلدار پارک حصہ دوم ص ۸۷)
ــــــــــ یعنی ادھر اس مبارک مہینے کی آمد پر آپ روزہ رکھنا شروع کرتے ہیں اُدھر اللہ کی رحمت آپ پر سایہ فگن ہوجاتی ہے۔ پھر رمضان کے وسط تک پہنچتے پہنچتے اللہ تعالیٰ آپ کے قصوروںسے درگزر فرمالیتاہے اور آپ کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ اس طرح جب آپ رمضان کے آخر تک پہنچتے ہیں تو ادھر آپ آخری روزہ رکھتے ہیں ادھر آپ کو دوزخ کے خطرے سے آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔
اس آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب آخری روزے کی وجہ سے آپ کو دوزخ سے آزادی حاصل ہوگئی تو آپ آزاد ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں، اب آپ پر کوئی گرفت نہیں ہوگی ــــ ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ بعض لوگ رمضان کے ختم ہوتے ہی وہ سب پابندیاں توڑ ڈالتے ہیں جو اس مبارک مہینے میں انہوں نے اپنے اوپر عائد کررکھی ہوتی ہیں ــــ بس رمضان ختم ہوا اور وہ عین عید کے دن (شوال کی پہلی ہی تاریخ کو) سنیما دیکھنے چلے گئے اور پھر اس سے آگے بڑھ کر ناچ گانے کا شوق بھی کرلیا ــــ پھر کہیں بیٹھ کر کچھ تھوڑا بہت جوا وغیرہ بھی کھیل لیا۔ یہ سب کچھ اگر ایک شخص نے کرڈالا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ادھر وہ دوزخ کے خطرے سے آزاد ہوا اور ادھر اس نے پھر اس میں کودنے کی تیاریاں شروع کردیں ــــ ظاہر بات ہے کہ کوئی بھلا آدمی جس کے دل میں ایمان کی کچھ روشنی اور خوفِ خدا کی کوئی رمق موجود ہو یہ کھیل نہیں کھیل سکتا۔
l’’اور جس نے رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (یا نوکر) سے ہلکی خدمت لی اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔‘‘
ــــــــــ رمضان کے زمانے میں آدمی کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ جیسے وہ خود روزے سے ہے ویسے ہی اس کا نوکر بھی روزے سے ہے۔ نوکر اور خادم سے اس طرح کَس کر خدمت لینا کہ جیسے وہ تو روزے سے نہیں ہے اور آپ ہیں کہ روزہ رکھ کر نڈھال ہوئے جاتے ہیں، یہ کسی بھلے آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔ جو شخص رمضان کے زمانے میں اپنے نوکر کے کام میں تخفیف کرتاہے اور اس سے نرمی برتتاہے اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔
موجودہ زمانے میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ اپنے ماتحتوں سے ــــ نوکروں یا غلاموں سے نہیں ــــ رمضان کے زمانے میں معمول سے زیادہ کس کر کام لیتے ہیں۔ گویا وہ اپنے عمل سے یہ بات کہتے ہیں کہ اچھا تم نے روزہ رکھنے کی گستاخی کی ہے۔ اب تمہاری سزایہ ہے کہ تمہاری ڈیوٹی عام دنوں سے دُگنی ہوگئی ہے تاکہ تمہیں ذرا معلوم تو ہو کہ اس زمانے میں اور ہمارے زیرِ سایہ تم روزہ رکھنے کی جسارت کرتے ہو۔ لیکن خوب سمجھ لیجیے کہ رسول اللہ ﷺکی واضح ہدایت یہ ہے کہ اگر تمہارا کوئی غلام بھی ہے(یہاں مملوک کا لفظ ہے، خادم کا لفظ نہیں ہے) تو تمہارا یہ کا م ہے کہ رمضان کے زمانے میں اس سے سخت قسم کا کام نہ لو۔ بلکہ اس کے ساتھ نرمی برتو اور اسے ہر ممکن سہولت دو۔ اس بات کا صلہ، اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے یہ ہوگا کہ وہ تمہیں دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔
رمضان المبارک میں حضورؐ کی شفقت اور فیاضی کی دومثالیں
۱۰۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا دَخَلَ شَھْرُ رَمَضَانَ اَطْلَقَ کُلَّ اَسِیْرٍ وَاَعْطٰی کُلَّ سَائِلٍ۔ (بیھقی)
’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکا طریقہ یہ تھا کہ جب رمضان آتا تھا تو آپ ہر اسیر کو رہاکردیتے تھے او رہرسائل کو کچھ نہ کچھ دیتے تھے۔ ‘‘
تشریح: رسول اللہ ﷺکی شفقت، رحم دلی، نرمی، عطاو بخشش اور فیاضی کا جو حال عام دنوں میں تھا وہ تو تھا ہی، کہ یہ چیزیں آپ کے اخلاقِ کریمانہ کا حصّہ تھیں، لیکن رمضان المبارک میں خاص طور پر ان میں اضافہ ہوجاتاتھا۔ اس زمانے میں چونکہ آپؐ معمول سے کہیں زیادہ گہرائی سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے اور اللہ کے ساتھ آپ کی محبت میں شدت آجاتی تھی اس لیے آپ کی نیکیاں بھی عام دنوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ بڑھ جاتی تھیں۔ جیسا کہ خود حضور ؐ کا ارشاد ہے کہ عام دنوں میں فرض ادا کرنے کا جو ثواب ملتاہے وہ رمضان میں نفل ادا کرنے پر ملتاہے۔ اس لیے آپؐ رمضان کے زمانے میں بہت کثرت سے نیکیاں کرتے تھے۔ یہاں حضور ؐ کے عمل میں سے دوچیزیں مثال کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔ اسیروں کو رہا کرنا اور مانگنے والوں کو دینا۔
رسول اللہ ﷺکے اس عمل کے بارے میں کہ ’’آپ رمضان میں ہر قید ی کو رہا کردیتے تھے۔‘‘ محدثین کے درمیان بحثیں پیدا ہوئی ہیں۔ مثلاً ایک سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جرم کی پاداش میں قید ہے تو اس کو محض رمضان کے مہینے کی وجہ سے رہا کردینا یا سزا نہ دینا کس طرح انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوسکتاہے؟ ــــاس بناء پر اس قول کی مختلف توجیہات کی گئی ہیں۔ بعض محدثین کے نزدیک اس سے مراد جنگی قیدی ہیں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنے ذمے کا قرض ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے ماخوذ ہوں۔ نبی ﷺان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرکے ان کو آزاد کردیتے تھے۔ اس طرح کی بعض دوسری توجیہات بھی اس قول کی کی گئی ہیں ــــاگر غور کیا جائے تو اس کی ایک اور شکل بھی ہوسکتی ہے۔ مثلاً آج کل کے زمانے میں ایک طریقہ پیرول (PAROLE) پر رہا کرنے کا ہے، یعنی قید ی کو قول لے کر رہا کردینا۔ قیدی کو اس اُمید پر رہا کردیاجاتاہے کہ وہ رہائی کی مدت ختم ہونے کے بعد خود واپس آجائے گا ــــ وہ معاشرہ ایسا تھا کہ اس میں اس بات کا اندیشہ نہیں تھا کہ جس قیدی کو رہا کیا جارہاہے وہ یہ خیال کرکے کہ اب مجھے کون پکڑتاہے کسی ایسی جگہ فرار ہوجائے گا جہاں سے اس کو پکڑنا ممکن نہ رہے گا وہ تو ایسے لوگ تھے کہ اگر ان سے کوئی قصور سرزد ہوجاتاتھا تو خود آکر اس کا اعتراف کرتے تھے تاکہ ان کو سزا دے کر پاک کردیاجائے ــــاس لیے ہوسکتاہے کہ نبی ﷺکے مذکورہ عمل کی شکل یہ رہی ہوکہ حضورؐ ایسے لوگوں کو، جن کی سزا معاف نہ ہوسکتی تھی، رمضان کے زمانے میں مشروط طور پر رہا کردیتے ہوں تاکہ وہ رمضان کا مبارک زمانہ اپنے گھروں پر گزاریں۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
نیکی کی حرص
دوسری احادیث میں حضورؐ نے بتایاہے کہ روزے کی حالت میں آدمی کو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے چاہئیں اور ہربھلائی کا شوقین بن جانا چاہیے۔ خصُوصاً اس حالت میں اس کے اندر اپنے دوسرے بھائیوں کی ہمدردی کا جذبہ تو پوری شدت کے ساتھ پیدا ہوجانا چاہیے ، کیونکہ وہ خود بھوک پیاس کی تکلیف میں مبتلا ہوکر زیادہ اچھی طرح محسوس کرسکتاہے کہ دوسرے بندگانِ خدا پر غریبی اور مصیبت میں کیا گزرتی ہوگی۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ خود سرکار رسالت مآب ﷺرمضان میں عام دنوں سے زیادہ رحیم اور شفیق ہوجاتے تھے کوئی سائل اس زمانے میں حضور ؐ کے دروازے سے خالی نہ جاتا تھا اور کوئی قیدی اس زمانے میں قید نہ رہتاتھا۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعْدٍ اَلزَّاھِدُ، ثنا اَبُوْبَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُبَیْرٍ النَّسَوِیُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ یَاسِیْنِ بْنِ النَّضْرِ، ثنا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی، ثنا عَبْدُ الْحَمِیْدِ الْحَمَانِیُّ، ثنا اَبُوْبَکْرٍ الْھُذَلِیُّ عَنِ الزُّھْرِی، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا دَخَلَ شَھْرُ رَمَضَانَ، اَطْلَقَ کُلَّ اَسِیْرِہٖ وَاَعْطٰی کُلَّ سَائِلٍ۔(۲۳)
جنت ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کی آمد تک مسلسل سجائی جاتی ہے
۱۱۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ اِنَّ الْجَنَّۃَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَاْسِ الْحَوْلِ اِلٰی حَوْلٍ قَابِلٍ، قَالَ فَاِذَا کَانَ اَوَّلُ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ھَبَّتْ رِیْحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ عَلَی الْحُوْرِ الْعِیْنِ فَیَقُلْنَ یَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِکَ اَزْوَاجًا تَقَرُّبِھِمْ اَعْیُنُنَا وَتَقَرَّ اَعْیُنُھُمْ بِنَا۔ (بیھقی)
’’حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جنت رمضان کے لیے سال کے آغاز سے آنے والے سال تک ( ایک رمضان کے خاتمے سے اگلے رمضان کی آمد تک) سجائی جاتی ہے ۔ جب رمضان کا پہلا دن آتاہے تو عرش کے نیچے ایک ہوا چلتی ہے جو جنت کے پتوں میں گزرتی ہوئی آہو چشم حوروں کے اوپر پہنچتی ہے۔ اس ہوا کو پاکر حوریں کہتی ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اپنے (نیکوکار) بندوں میں سے ایسے شوہر عطا کر جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور جن کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔‘‘
تشریح: اس ارشاد کے ذریعے سے نبی ﷺنے اہلِ ایمان کو یہ بتایاہے کہ اگرتم رمضان کا زمانہ اللہ تعالیٰ کی پوری پوری فرمانبرداری میں اور گہرے احساسِ عبودیت کے ساتھ روزے رکھنے اور دوسری نیکیاں کرنے میں گزاروگے تو یہ کچھ نعمتیں جنت میں تمہارا انتظار کررہی ہیں۔
تخریج : اَخْبَرَنَا اَبُو الْعَبَّاسِ اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ اَحْمَدَ بْنِ جَانجان الْھَمْذَانِیُّ بِھَا، ثنا اَبُوالْقَاسِمِ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ حَسَنِ الْاَسْدِیُّ، ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی الْمَرْوَذِیُّ، ثنا اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدِ نِ الْوَزَّانُ، ثنا الْوَلِیْدُ بْنُ الْوَلِیْدِ الدِّمَشْقِیُّ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : انَّ الْجَنَّۃَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَّاْسِ الْحَوْلِ اِلَی الْحَوْلِ الْقَابِلِ، قَالَ: فَاِذَا کَانَ اَوَّلُ یَوْمٍ مِّنْ رَمَضَانَ ھَبَّتْ رِیْحٌ تَحْتَ الْعَرِش نَشَرَتْ مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ عَلَی الْحُوْرِ الْعَیْنِ، فَیَقُلْنَ: یَارَبِّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ عِبَادِکَ اَزْوَاجًا تَقَرُّبِھِمْ اَعْیُنَنَا وَتَقَرُّ اَعْیُنُھُمْ بِنَا۔(۲۴)
رمضان کی آخری رات کو اُمّت مُسلمہ کی مغفرت ہوجاتی ہے
۱۲۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: یُغْفَرُ لِاُمّتِہٖ فِیْ اٰخِرِ لَیْلَۃٍ فِی رَمَضَانَ، قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَھِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: لا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ اِنَّمَا یُوَفَّ اَجْرُہٗ اِذَا قَضٰی عَمَلَہٗ۔ (احمد)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: رمضان کی آخری رات کو میری امّت کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہی وہ لیلۃ القدر ہے؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے جب وہ اپنا کام مکمّل کرلیتاہے۔‘‘
تشریح: حضورؐ کا یہ ارشاد سُن کر کہ’’رمضان کی آخری رات میری اُمّت کی مغفرت ہوجاتی ہے‘‘ صحابہ کرامؓ کو یہ خیال ہوا کہ شاید وہی رات لیلۃ القدر ہو اور اسی کی فضیلت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہو۔ لیکن آپؐ نے فرمایا کہ ایسا لیلۃ القدر ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ اس وجہ سے ہوتاہے کہ مزدور کو اُجرت کام مکمل ہونے پر دی جاتی ہے۔ میری امت کی اُجرت یہ ہے کہ اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
امت کی مغفرت ہوجانے کا یہ مطلب نہیں کہ ان لوگوں کی بھی مغفرت ہوجاتی ہے جو روزے نہیں رکھتے اور نہ دوسرے احکام کی پیرو ی کرتے ہیں بلکہ یہ مغفرت اُمّت کے اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو روزے رکھتے ہیں اور احکامِ خداوندی کی پیروی کرتے ہیں ــــاس زمانے میں یہ بات قابلِ تصوّر ہی نہ تھی کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺکی امت میں ہوکر روزہ نہ رکھے۔ اس وقت پوری کی پوری اُمّت روزہ رکھتی تھی۔ رمضان کا سارا زمانہ خدا کی عبادت میں گزارتی تھی، ہر طرح کی برائیوں سے بچتی تھی اور عام دنوں سے بڑھ کر نیکیاں کرتی تھی۔ اس لیے یہاں اس اُمّت کی مغفرت کا ذکر کیا گیاہے ــــ ورنہ اس سے مراد وہ لوگ کیسے ہوسکتے ہیں جن کی بے راہ روی اور سرکشی میں رمضان کی آمد پر کچھ اور بھی اضافہ ہوجاتاہے۔ روزہ رکھنا تو ایک طرف رہا اُلٹا برسر عام بے تکلّفی سے کھاتے پیتے ہیں۔ رمضان کی آخری رات کو ایسے لوگوں کی مغفرت ہونے کا کیا سوال پیدا ہوتاہے بلکہ اس رات تو شاید ان کے خلاف مقدمہ فوجداری (PROSECUTION CASE) مکمل ہوجاتا ہوگا۔
تخریج :حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ اَنَا ھِشَامُ بْنُ اَبِیْ ھِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ اَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:
اُعْطِیَتْ اُمَّتِیْ خَمْسُ خِصَالٍ فِیْ رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَھَا اُمَّۃٌ قَبْلَھُمْ خُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ وَتَسْتَغْفِرُلَھُمُ الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی یُفْطِرُوْا وَیُزَیِّنُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ جَنَّتَہٗ ثُمَّ یَقُوْلُ یُوْشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ اَنْ یُلْقُوْا عَنْھُمُ الْمَؤُنَۃُ وَالْاَذٰی وَیَصِیْرُوْا اِلَیْکَ وَیُصَفَّدُ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ فَلاَیَخْلُصُوْا اِلٰی مَاکَانُوْا یَخْلُصُوْنَ اِلَیْہِ فِیْ غَیْرِہٖ وَیَغْفِرُلَھُمْ فِی اٰخِرِ لَیْلَۃٍ قِیْلَ:’’ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَھِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: لاَ وَلٰکِنِ الْعَامِلُ اِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرُہٗ اِذَا قَضٰی عَمَلَہٗ۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’رمضان المبارک میں میری امت کو پانچ ایسی چیزیں عطا کی جاتی ہیں جو ان سے پہلے گزری ہوئی کسی امّت کو نہیں دی گئیں۔ روزے دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ اور پسندیدہ ہے۔ افطاری تک فرشتے ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت کو ہرروز آراستہ پیراستہ فرماتے رہتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں ممکن ہے میرے صالح بندوں کو تکلیف اور اذیت پہنچی ہو اور وہ تیری طرف آئیں اور سرکش شیاطین کو ہتھکڑیاں ڈال کر بند کردیاجاتاہے اور کہیں بھی نہیں جاسکتے۔ اور آخر رات میں ا ن کی بخشش فرماتاہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، یا رسولؐ اللہ! کیا یہی وہ لیلۃ القدر ہے؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے جب وہ اپنا کام مکمل کرلیتاہے۔
ماخذ
(۱) بخاری ج۱ کتاب الصوم باب ھل یقال رمضان او شھر رمضان الخ۔٭ مسند احمد ج۲،ص۲۸۱۔ مرویات ابی ھریرۃ ٭المصنف لعبدالرزاق، ج۴،ص۱۷۶۔ کتاب الصیام باب سلسلۃ الشیاطین وفضل رمضان۔
(۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان۔٭ نسائی ج۱کتاب الصیام باب ذکرالاختلاف علی الزھری فیہ۔ ٭ المصنف لعبد الرزّاق ج۴ کتاب الصیام باب سلسلۃ الشیاطین وفضل رمضان۔
(۳) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب ماروی فی کراھیۃ قول القائل جاء رمضان وذھب رمضان۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل شھر رمصان۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الصیام، جامع الصیام۔مؤطا نے اِذَا جَآء کی جگہ اذا دخل بیان کیاہے۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان نسائی نے بھی اذا دخل شھر رمضان سے روایت کا آغاز کیاہے۔٭ مسند احمد ج۲مرویات ابی ھریرۃ۔دارمی کتاب الصوم باب فی فضل شھررمضان اذا جاء رمضان فتحت ابواب السماء، وغلقت ابواب النار وصفدت الشیاطین۔
(۴) بخاری ج۱کتاب بدأِ الخلق باب صفۃ ابواب الجنۃ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب فی فضل شھر رمضان۔ وفضل الصیام علی سبیل الاختصار۔
(۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الریّان للصّائمین۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل الصیام فی سبیل اللہ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام٭ ترمذی ج ۱ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل الصوم۔ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح غریب قراردیاہے۔٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل الصیام۔ ابنِ ماجہ اور ترمذی دونوں کی روایت کے الفاظ یکساں ہیں۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب فضل الصیام۔ ترمذی، ابن ماجہ، نسائی تینوں نے آخر میں من دخل فیہ شرب ومن شَرِب لم یظمأ ابدا بیان کیا ہے۔
(۶) بخاری ج۱کتاب الصوم باب فضل لیلۃالقدرالخ ٭مسلم ج۱کتاب صلاۃ المسافر وقصرھا باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التراویح۔٭ ابوداوٗدج۲ص۴۹کتاب الصلاۃ۔ باب تفریع ابواب شھر رمضان۔ باب فی قیام شھر رمضان٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب ثواب من قام رمضان وصامہ ایمانًا واحتساباً۔٭ مؤطا امام مالک کتاب الصلاۃ فی رمضان۔ باب ماجاء فی قیام رمضان۔٭دارمی کتاب الصوم باب فی فضل قیام شھر رمضان۔٭ مسند احمد ج۲ ص ۲۴۱، روایت ابی ھریرۃ۔
(۷) بخاری ج۱،کتاب الایمان باب صوم رمضان احتساباً من الایمان٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل شھر رمضان٭ نسائی۔ کتاب الصیام باب ثواب من قام رمضان وصامہ ایماناً واحتساباً۔
(۸) بخاری ج۱ص۱۰کتاب الایمان باب تطوع قیام رمضان من الایمان۔٭ مسلم ج۱کتاب صلاۃ المسافر وقصرھا باب الترغیب فی قیام رمضان۔٭ابوداوٗد ج۲کتاب الصلوٰۃ باب فی قیام شھر رمضان۔
(۹) بخاری ج۱کتاب الصوم باب من صام رمضان ایماناً واحتسابا۔٭ مسلم ج۱کتاب صلاۃ المسافر وقصرھا باب الترغیب فی قیام رمضان۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر۔
(۱۰) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل شھر رمضان۔
(۱۱) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل الصیام۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب فی فضل شھر رمضان۔ ٭مسند احمد ج۲،ص۲۶۶ مرویات ابی ھریرۃ۔ ترمذی نے اس روایت کو قدرے کم وبیش الفاظ کے ساتھ ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل الصوم کے ضمن میں نقل کرکے لکھاہے۔حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ۔٭دارمی کتاب الصوم باب فی فضل الصیام۔الفاظ آگے پیچھے ہیں۔ مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب جامع الصیام۔مؤطا میں یہ متن دوروایتوں میں روایت ہواہے۔ ٭نسائی کتاب الصیام باب ذکر الاختلاف علی ابی صالح فی ھذا الحدیث۔٭ نسائی نے اس قسم کی کافی روایات مختلف رواۃ سے بیان کی ہیں۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل الصیام۔ ٭ ابن ماجہ نے بھی ابوہریرہؓ سے ’’مسلم‘‘ والی روایت بیان کی ہے مگر اس میں الی سبع مائۃ ضعفکے بعد إلٰی ماشاء اللّٰہ کا اضافہ ہے۔
(۱۲) بخاری ج۱کتاب الصوم باب ھل یقول انی صائم اذا شُتم۔ ٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل الصیام۔
(۱۳) ابوداؤد ج۳کتاب الصوم باب الغیبۃ للصائم ۔
(۱۴) بخاری ج۱کتاب الصوم باب فضل الصوم٭ مسند احمد ج۲ص ۲۷۵مرویات ابی ھریرۃ۔
(۱۵) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل شھر رمضان۔٭المستدرک للحاکم ج۴کتاب الصوم باب اذا کان اول لیلۃ من رمضان الخ ٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل شھر رمضان٭ابنِ ماجہ نے ابواب النیرانکی جگہ ابواب الناراور یُنَادِیْ مُنَادٍ کی جگہ نَادٰی مُنَادٍ بیان کیا ہے۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۴کتاب الصیام باب سلسلۃ الشیاطین وفضل رمضان۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب فی فضل شھر رمضان۔٭بیہقی نے ابن ماجہ والی روایت کا متن ہی نقل کیاہے مگر اس میں وذلک کل لیلۃ نہیں ہے۔٭ نسائی نے اس روایت کو دوطرح نقل کیاہے۔
(۱۶) نسائی ج۴کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان۔ ذکر الاختلاف علی معمر فیہ۔
(۱۷) نسائی ج۴کتاب الصیام۔ باب فضل شہر رمضان ذکر الاختلاف علی معمرفیہ۔ مسند احمد ج۲، ص ۲۳مرویات ابی ھریرۃ۔
(۱۸) المصنف لعبد الرزاق ج۴کتاب الصیام باب سلسلۃ الشیاطین وفضل رمضان۔
(۱۹) المصنف لعبدالرزاق ج۴کتاب الصیام باب سلسلۃ الشیاطین وفضل رمضان۔
(۲۰) مسند احمدج۲ ص ۱۷۴مرویات عبد اللہ بن عمرو۔٭مجمع الزوائد ج۱۰عن عبداللہ بن عمرو اسنادہ حسن علی ضعف فی ابن لھیعۃ وقد وثق۔
(۲۱) ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل شھر رمضان۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۴کتاب الصیام باب سلسلۃ الشیاطین وفضل رمضان۔٭ مسند احمد ج۲ص۳۸۵ ابوھریرۃ۔ اس میں فیہ لیلۃ خیر من الف شھر من حرم خیرھا فقد حرم کے الفاظ منقول ہیں۔
(۲۲) شعب الایمان للبیھقی ج۳عزاہ السیوطی الی ابن خزیمۃ وقال ان صح الخبر والمصنف والاصبھانی فی الترغیب عن سلمان۔ وقال الحافظ ابن حجر فی اطرافہ مدارہ عَلٰی عَلِیِّ بنِ زید بن جدعان وھو ضعیفٌ ویوسف بن زیاد الراوی عنہ ضعیف جدّا، وتابعہ ایاس بن عبد الغفار عن علی بن زید عندالبیھقی فی الشعب، قال ابن حجر: وایاس ماعرفتہ۔ (حاشیہ ص۳۰۵) ۔
(۲۳) شعب الایمان للبیھقی ج۳ حدیث نمبر ۳۶۲۹۔٭ مشکوٰۃ ج۱کتاب الصوم۔ الفصل الثالث۔
(۲۴) شعب الایمان للبیھقی ج۳فضائل شھر رمضان حدیث نمبر ۳۶۳۳۔ مشکوٰۃ ج۱کتاب الصوم۔ الفصل الثالث۔
(۲۵) مُسند احمد ج۲ص ۲۹۲۔مرویات اَبِیْ ھُرَیْرَۃ۔
فصل دوم : رؤیت ہلال .رمضان کے آغاز اور اختتام کا فیصلہ رؤیتِ ہلال پر ہے
۱۳۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُا الْھِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہٗ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ الشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ لَیْلَۃً فَلاَ تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِیْنَ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تک (رمضان کا) ہلال نہ دیکھ لو روزہ رکھنا شروع نہ کرو، اور جب تک (شوال کا) ہلال نہ دیکھ لو افطار نہ کرو (روزہ رکھنا ختم نہ کرو) پھر اگر مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند تم کو نظر نہ آئے تو اس کا اندازہ کرلو ــــ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں ــــ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مہینہ ۲۹ دن کا ہوتاہے۔ پس روزہ رکھنا شروع نہ کرو جب تک کہ (رمضان کا ) ہلال نہ دیکھ لو۔ پھر اگر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ تم کو نظر نہ آئے تو (شعبان کے) تیس دن پورے کرو۔ ‘‘
تشریح: اس حدیث میں پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ جب تک رمضان کا ہلال دیکھ نہ لو روزے رکھنے شروع نہ کرو۔ لاَ تَصُوْمُوْا کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ نہ رکھو بلکہ مراد یہ ہے کہ روزہ رکھنا شروع نہ کرو، یعنی رمضان کا ہلال دیکھے بغیر رمضان کا آغاز قرار نہ دو۔ پھر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تم میں ہرشخص چاند دیکھے بلکہ الفاظ یہ ہیں کہحَتّٰی تَرَوْا یعنی تم چانددیکھ لو۔ دوسرے الفاظ میں اگرکسی بستی یا علاقے کے لوگوں نے عام طور پر چاند دیکھ لیا ہو تو پھر یہ ضروری نہیں کہ ہرشخص انفرادی طور پر چاند دیکھے بلکہ عام لوگوں کا اس کو دیکھ لینا ہر آدمی کے لیے حُجّت ہے۔
رؤیت ِ ہلال کی یہ تاکید اس لیے فرمائی گئی کہ رمضان کے آغاز کی علامت صرف رؤیت ہلال ہے۔
یہ بات نہیں ہے کہ چونکہ جنتری کے حساب سے آج شعبان ختم ہورہاہے اور آج رمضان کا ہلال ہونا چاہیے اس لیے اعلان کردیا جائے کہ کل سے رمضان شروع ہورہاہے۔ نہیں بلکہ رمضان کے آغاز کے لیے رویتِ ہلال ضروری ہے۔
یہ جو فرمایا کہ جب تک (شوال کا) ہلال دیکھ نہ لو، افطار نہ کرو، اس سے مراد روزہ افطار کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب رمضان ختم ہوگیا اور شوال کا چاند نظر آگیا تو اب روزے ختم ہوئے اور کل عید الفطر ہے۔ یعنی رمضان کا آغاز بھی ہلال دیکھ کر ہوتاہے اور اس کا اختتام بھی ہلال دیکھ کر ہوتاہے، فیصلہ رُؤیتِ ہلال پر ہے، کسی حساب پر نہیں۔
آگے چل کر فرمایا کہ مطلع صاف نہ ہونے کی بنا پر اگر چاند تم سے مخفی رہ جائے تو پھر اندازہ کرلو۔ ’’اندازہ کرلو‘‘ کا مفہوم دوسری روایت سے واضح ہوگیاہے، اور وہ اس طرح کہ فرمایا گیا، ’’مہینہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے، پس روزہ رکھنا شروع نہ کرو جب تک ہلال نہ دیکھ لو، پھر اگر وہ تم سے چھپا رہ جائے تو ۳۰ دن پورے کرو۔‘‘ مطلب یہ ہوا کہ اگر ۲۹؍شعبان کو چاند نظرنہ آئے تو پھر شعبان کا مہینہ ۳۰ دن کا قرار دیاجائے گااور رمضان کا اعلان کسی حساب کی بناپر نہیں کیا جائے گا(جیسا کہ بعض لوگوں نے ’’اندازہ کرلو‘‘ کے الفاظ سے یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے)۔ اس صورت میں رمضان کا آغاز شعبان کے ۳۰ دن پورے کرنے کے بعد ہوگا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ذَکَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ: لاَتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُا الْھِلاَلَ وَلاَتُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہٗ۔(۱)
دوسری روایت:
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثَنَا مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلشَّھْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ لَیْلَۃً فَلاَتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِیْنَ۔(۲)
ترمذی نے ابنِ عباسؓ سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَتَصُوْمُوْا قَبْلَ رَمَضَانَ صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ فَاِنْ حَالَتْ دُوْنَہٗ غِیَابَۃً فَاَکْمِلُوْا ثَلاَثِیْنَ یَوْمًا۔(۳)
وفی الباب عن ابی ھریرۃ و ابی بکرۃ وابن عمر قال ابوعیسیٰ حدیث ابن عباس حدیث حسن صحیح قد رُوی عنہ من غیروجہ۔
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رمضان (شروع ہونے) سے پہلے روزہ نہ رکھو۔ اس کاچاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو ،ہاں اگر ابر آلود گی چاند کے نظر آنے میں رکاوٹ بن جائے تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرو۔
المستدرک للحاکم نے ابن عمرؓ سے ایک روایت بیان کی ہے:
(۴) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ قَدْجَعَلَ الْاَھِلَّۃَ مَوَاقِیْتَ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَصُوْمُوْا وَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاَفْطِرُوْا فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہٗ وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْاَشْھُرَ لاَتَزِیْدُ عَلٰی ثَلاَثِیْنَ۔(۴)
ھذا حدیث صحیح الاسناد علی شرطھما ولم یخرجاہ۔
ترجمہ : رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہلال کو اوقات کی جنتری بنایاہے لہٰذا جب تم اسے دیکھ لو تو روزے رکھنا شروع کرو اور پھر جب اختتامِ رمضان پر اسے دیکھ لو تو افطار کرو۔ پس اگر مطلع ابر آلود رہے تو اس کا اندازہ کرو اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ مہینہ تیس سے زائد دن کا نہیں ہوتا۔
اگر ۲۹ شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیے جائیں
۱۴۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَاَفَطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوْا عِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلاَثِیْنَ۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہدایت فرمائی: چاند دیکھ کر روزوں کا آغاز کرو اور چاند دیکھ کر روزے ختم کرو۔ پھر اگر چاند مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے تم سے چھپارہ جائے تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔ ‘‘
تشریح: اس جگہ ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام میں عبادات کے لیے شمسی مہینوں کو نہیں بلکہ قمری مہینوں کو اختیار کیا گیاہے۔ یہ کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اہلِ عرب شمسی مہینوں سے واقف نہیں تھے۔ اور اُن کی سہولت کے لیے قمری مہینوں کو اختیار کرلیا گیا۔ قرآن ہی سے معلوم ہوتاہے کہ اہلِ عرب شمسی مہینوں کا استعمال بھی کرتے تھے۔ مشرکین عرب میں نَسی کا طریقہ رائج تھا جس کی مذمّت قرآن مجید میں کی گئی ہے اِنَّمَا النَّسِیٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ ۔۔۔۔( التوبہ: ۳۷) عرب میں نَسی کی دوصورتیں رائج تھیں۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ اہلِ عرب جنگ وجدل اور غارت گری اور خون کے انتقام لینے کی خاطر کسی حرام مہینے کو حلال قراردے لیتے تھے اور اس کے بدلے میں کسی حلال مہینے کو حرام کرکے حرام مہینوں کی تعداد پوری کردیتے تھے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ قمری سال کو شمسی سال کے مطابق کرنے کے لیے اس میں کبیسہ کا ایک مہینہ بڑھادیتے تھے، تاکہ حج ہمیشہ ایک ہی موسم میں آتارہے اور وہ ان زحمتوں سے بچ جائیں جو قمری حساب کے مطابق مختلف موسموں میں حج کے گردش کرتے رہنے سے پیش آتی ہیں۔ اس طرح ۳۶سال تک حج اپنے اصلی وقت کے خلاف دوسری تاریخوں میں ہوتا رہتاتھا اور سینتیسویں سال ایک مرتبہ اصل ذی الحجہ کی ۹۔۱۰ تاریخ کو ادا ہوتاتھا۔ یہی وہ بات ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺنے اپنے خطبہ میں فرمائی تھی کہ اس سال حج کا وقت گردش کرتا ہوا ٹھیک اپنی اس تاریخ پر آگیاہے جو قدرتی حساب سے اس کی اصل تاریخ ہے۔ (تفہیم القرآن ج۲،التوبہ، حاشیہ:۳۷)
اس سے یہ چیز واضح ہوجاتی ہے کہ اہلِ عرب شمسی مہینوں سے ناواقف نہیں تھے ــــ بات دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عائد کردہ فرائض کے لیے شمسی حساب کے بجائے قمری حساب جن اہم مصالح کی بنا پر اختیار کیاہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے بندے زمانے کی تمام گردشوں میں ہرقسم کے حالات اور کیفیات میں اس کے احکام کی اطاعت کے خوگرہوں۔ مثلاً رمضان کبھی گرمی میں اور کبھی برسات میں اور کبھی سردیوں میں آتاہے، اور اہلِ ایمان ان سب بدلتے ہوئے حالات میں روزے رکھ کر فرمانبرداری کا ثبوت بھی دیتے ہیں اور بہترین اخلاقی تربیت بھی پاتے ہیں۔ اسی طرح حج بھی قمری حساب سے مختلف موسموں میں آتاہے اور ان سب طرح کے اچّھے اور بُرے حالات میں خدا کی رضا کے لیے سفر کرکے بندے اپنے خدا کی آزمایش میں پورے بھی اُترتے ہیں اور بندگی میں پختگی بھی حاصل کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج۲،التوبہ، حاشیہ: ۳۷)
علاوہ بریں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ’’ ایک عالمگیر دین جو سب انسانوں کے لیے ہے، آخر کس شمسی مہینے کو روزے اور حج کے لیے مقرر کرے؟ جو مہینہ بھی مقرر کیا جائے گا وہ زمین کے تمام باشندوں کے لیے یکساں سہولت کا موسم نہیں ہوسکتا۔ کہیں وہ گرمی کا زمانہ ہوگا اور کہیں سردی کا۔ کہیں وہ بارشوں کا موسم ہوگا اور کہیں خشکی کا۔ کہیں فصل کاٹنے کا موسم ہوگا اور کہیں بونے کا۔‘‘ اس لیے یہ لازم ہے کہ ان عبادات کے زمانوں کا تعیّن کرنے کے لیے شمسی حساب کے بجائے قمری حساب کو اختیار کیا جاتا تاکہ ہر خطّۂ زمین پر بسنے والے لوگ ہرموسم میں ان عبادات کی بجا آوری سے ان کے اخلاقی اور روحانی فوائد حاصل کرسکیں۔
شمسی حساب کو عبادات کی بنیاد قرار دینے کی یہ قباحت بھی بالکل واضح ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ ہرمسلمان کے لیے یا تو فلکیات اور نجوم کا علم حاصل کرنا فرض ہوجاتا، یا جنتری اس کے دین کا جز بن جاتی، جسے پاس رکھے بغیر وہ فرائضِ دینی ادا نہ کرسکتا۔ اس لیے اس کے بجائے آسمان کے اُوپر ہرماہ جنتری کا جو بہت بڑا ورق الٹتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو تاریخیں جاننے کا ذریعہ بنایا تاکہ اگر کوئی آدمی صحرا میں زندگی گزاررہا ہو یا کسی پہاڑ کی چوٹی پر اس کی کٹیا بنی ہوئی ہو تو وہ بھی اسے دیکھ کر یہ معلوم کرلے کہ اب رمضان کا چاند ہوگیاہے اور روزے شروع ہوگئے ہیں، یا شوال کا چاند نکل آیاہے اور کل عیدالفطر ہے۔
رؤیتِ ہلال کے سلسلے میں مطلع غبار آلود یا ابر آلود ہونے کی صورت میں جو دِقّت پیش آسکتی ہے اس کے متعلق یہ ہدایت کردی گئی کہ ۲۹ کو چاند نظر نہ آنے کی صورت میں مہینے کے ۳۰دن پورے کیے جائیں۔ اس طرح اس تذبذب کو ختم کردیا گیا جو ۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہ آسکنے کی وجہ سے دلوں میں پیدا ہوسکتاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَوْ قَالَ اَبُوالْقَاسِمِ ﷺ : صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَافْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ فَاِنْ اُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاکْمِلُوْا عِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلاَثِیْنَ۔(۵)
اسلامی عبادات کے لیے قمری حساب کو اختیار کرنے کی حکمت
۱۵۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ:اِنَّا اُمَّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لاَنَکْتُبُ وَلاَنَحْسِبُ، اَلشَّھْرُ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَعَقَدَ الْاِبْھَامَ فِی الثَّالِثَۃِ، ثُمَّ قَالَ اَلشَّھْرُ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا یَعْنِیْ تَمَامَ الثَّلاَثِیْنَ، یَعْنِیْ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ وَمَرَّۃً ثَلَاثِیْنَ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ہم ایک اُمّی قوم ہیں، نہ لکھتے ہیں نہ (نجوم کا) حساب جانتے ہیں ــــ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے اور یوں ہے (آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے اشارے سے یہ بات سمجھائی اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھلی رکھیں) اور تیسری مرتبہ اپنے انگوٹھے کو بند کرلیا (مراد یہ تھی کہ مہینہ ۲۹ دن کا ہوتاہے ــــ پھر آپؐ نے فرمایاکہ مہینہ یوں ہے اور یوںہے اوریوں ہے، یعنی پورے ۳۰ دن کا ــــ اس طرح ایک مرتبہ حضورؐ نے یہ سمجھایا کہ مہینہ ۲۹ دن کا ہوتاہے اور دوسری دفعہ یہ سمجھایا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتاہے۔‘‘
تشریح: اہلِ عرب کا یہ عام قاعدہ تھا کہ وہ انگلیوں سے گن کر حساب لگاتے تھے۔ یعنی اگر دس کہنا ہوتا تھا تو دونوں ہاتھ کھلی انگلیوں کے ساتھ اٹھاکر اشارے سے بیان کرتے تھے یا دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو گِن کر بتاتے تھے، جیسا کہ خود ہمارے ہاں دیہات میں اَن پڑھ لوگوں کا اب بھی قاعدہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عربی زبان میں ان اعداد کے لیے الفاظ نہیں تھے بلکہ عربوں میں یہ عام طریقہ رائج چلاآرہاتھا۔ اسی بنا پر رسول اللہ ﷺنے ہاتھوں کی انگلیوں سے یہ بات سمجھائی کہ مہینہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتاہے اور کبھی ۳۰ دن کا۔ یہ گو یاآپؐ نے اُمّیت کی تشریح فرمائی کہ ہم پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں اور نہ ہم نجوم کا حساب جانتے ہیں کہ اس ذریعے سے مہینوں کے آغاز اور اختتام کا حساب لگاتے رہیں۔ ہمارے اندر پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد تو نہ ہونے کے برابر ہے اس وجہ سے ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم حساب کتاب کے ذریعے سے یہ طے کریں کہ کون سا مہینہ شروع ہوا ہے اور کون سا ختم ہوا ہے ــــ اس طریقے سے حضورؐ نے اس چیز کی حکمت سمجھادی کہ قمری مہینوں کے آغاز واختتام کی علامت رؤیت ہلال کو کیوں قراردیاگیاہے۔
بعض لوگوں کو اس زمانے میں سائنس کا ہیضہ ہوگیاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صاحب یہ سائنس کا زمانہ ہے۔ اس کے اندر تو بڑی آسانی کے ساتھ اس بات کی تحقیق کی جاسکتی ہے کہ چاند ہوا یا نہیں۔ مطلع پر چاند اگر موجود ہو اور فضا صاف نہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آرہاہوتو ایسے آلات موجود ہیں جن کی مدد سے اس کو دیکھاجاسکتاہے۔ خود علمِ فلکیات اور علمِ نجوم(ASTRONOMY) کے ذریعے سے بھی اس بات کا تعیّن کیا جاسکتاہے کہ آج چاند ہوگا یا نہیں ــــ لیکن یہ لوگ دراصل اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ایک عالم گیر دین کبھی مصنوعی ذرائع پر انحصار نہیں کرسکتا۔ وہ ہمیشہ انہی ذرائع پر انحصار کرے گا جو زیادہ سے زیادہ فطری ہوں اور جن پر اعتماد کرکے جدید ترین سائنسی ترقیوں سے بہرہ ور لوگ بھی اس دین پر عمل پیرا ہوسکیں، اور وہ لوگ بھی ایک سچّے مسلمان کی سی زندگی بسر کرسکیں جو ان ترقیوں کے ثمرات سے محروم یا ناآشنا ہوں۔
رویتِ ہلال کے لیے سائنسی ذرائع کو اختیار کرنے کا مشورہ دینے والے حضرات کی طرف سے ایک یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ اس طریقے سے سب مسلمانوں کی عید (کم از کم پاکستان میں) ایک ہی دن ہوسکے گی کیونکہ عید اسلامی اتحاد کا ایک اہم نشان ہے اور رؤیتِ ہلال میں اختلاف واقع ہوجانے سے مسلمانوں کے اس اتحاد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی عید ایک ہی دن ہونی چاہیے۔ لیکن درحقیقت یہ فکرو نظر کی غلطی ہے۔ ایسی باتیں دین سے ناواقفیت کی بنا پر کی جاتی ہیں اور یہ باتیں زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو رمضان کے روزے تو نہیں رکھتے مگر عید کے معاملے میں اسلامی اتّحاد کی اُنہیں بڑی فِکر ہے۔
’’جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی عید ایک دن ہونی چاہیے وہ تو بالکل ہی لغو بات کہتے ہیں ، کیونکہ تمام دنیا میں رؤیتِ ہلال کا لازماً اور ہمیشہ ایک ہی دن ہونا ممکن نہیں ہے۔ رہا کسی ملک یا کسی ملک کے ایک بڑے علاقے میں سب مسلمانوں کی ایک عید ہونے کا مسئلہ تو شریعت نے اس کو بھی لازم نہیں کیا ہے۔ یہ اگر ہوسکے اور کسی ملک میں شرعی قواعد کے مطابق رویت کی شہادت اور اس کے اعلان کا انتظام کردیاجائے تو اس کو اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، مگر شریعت کا یہ مطالبہ ہرگز نہیں ہے کہ ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے، اور نہ شریعت کی نگاہ میں یہ کوئی برائی ہے کہ مختلف علاقوں کی عید مختلف دنوں میں ہو۔ خدا کا دین تمام انسانوں کے لیے ہے اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ آج لوگ ریڈیو کی موجودگی کی بنا پر یہ باتیں کررہے ہیں کہ سب کی عید ایک دن ہونی چاہیے، مگر آج سے ساٹھ ستّر برس پہلے تک پورے برّ صغیرِ ہند تو درکنار، اس کے کسی ایک صوبے میں بھی یہ ممکن نہ تھاکہ ۲۹؍رمضان کو عید کا چاند دیکھ لیے جانے کی اطلاع سب مسلمانوں تک پہنچ جاتی۔ اگر شریعت نے عید کی وحدت کو لازم کردیا ہوتا تو پچھلی صدیوں میں مسلمان اس حکم پر آخر کیسے عمل کرسکتے تھے؟ پھر آج بھی اس کو لازم کرکے عید کی یہ وحدت قائم کرنا عملاً ممکن نہیں ہے۔ مسلمان صرف بڑے شہروں اور قصبوں ہی میں نہیں رہتے، دور دراز دیہات میں بھی رہتے ہیں اور بہت سے مسلمان جنگلوں اور پہاڑوں میں بھی مقیم ہیں۔ وحدتِ عید کو ایک لازمی شرعی حکم بنانے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان ہونے کے لیے ملک میں صرف ایک ریڈیوا سٹیشن کا ہونا ہی ضروری نہ ہو، بلکہ ہرشخص کے پاس، یا ہر گھر کے لوگوں کے پاس، یا مسلمانوں کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بستی میں ایک ریڈیو سیٹ یا ایک ٹرانزسٹر بھی ضرور ہو، ورنہ وہ اپنے شرعی فرائض ادا نہ کرسکیں گے۔ کیا یہ آلات بھی اب دین کا ایک لازمی جز قرار پائیں گے، خدا کی شریعت نے تو ایسے قواعد مقرر کیے ہیں، جن سے ہرمسلمان کے لیے ہرحالت میں دینی فرائض ادا کرنا ممکن ہوتاہے۔ اس نے نماز کے اوقات گھڑیوں کے حساب سے مقرر نہیں کیے کہ گھڑی ہر مسلمان کے لیے اس کے دین کا ایک جُز بن جائے، بلکہ اُس نے سُورج کے طلوع وغروب اور زوال جیسے عالمگیر مناظر کو اوقاتِ نماز کی علامت قراردیا، جنہیں ہرشخص ہرجگہ دیکھ سکتاہے۔ اسی طرح اُس نے روزے شروع اور ختم کرنے کے لیے بھی رمضان اور شوال کے چاند کی رؤیت کو علامت قراردیاہے جو عالمگیر مشاہدے کی چیزہے اور ہرمسلمان ہر جگہ چاند دیکھ کر معلوم کرسکتاہے کہ اب رمضان شروع ہوا اور اب ختم ہوگیا۔ اگر وہ اس کی بنیادجنتری کے حساب کو قراردیتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ ہر مسلمان کے لیے یا تو فلکیات اور نجوم کا علم حاصل کرنا فرض ہوجاتا، یا جنتری اس کے دین کا ایک جُز بن جاتی، جسے پاس رکھے بغیر وہ فرائض دینی ادا نہ کرسکتا۔ اور اگر وہ یہ حکم دیتا کہ ایک جگہ کی رؤیت سے ساری دنیا میں یا رُوئے زمین کی ایک ایک اقلیم میں روزے شروع اور ختم کرنا فرض ہے تو خبر رسانی کے موجودہ ذرائع کی ایجاد سے پہلے تو مسلمان اس دین پر عمل کرہی نہیں سکتے تھے، رہا ان کی ایجاد کے بعد کا دَور تو اس میں بھی مسلمانوں پر یہ مصیبت نازل ہوجاتی کہ چاہے انہیں روٹی اور کپڑا میسّر ہو یا نہ ہو، مگر وہ مسلمان رہنا چاہیں تو ان کے پاس ایک ٹرانزسٹر ضرور ہو۔
( عیدالفطر کس کے لیے؟ عید الفطر کی۔۔۔ )
تخریج(۱): حَدَّثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَۃُ، ثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ قَیْسٍ ثنا سَعِیْدُ بْنُ عَمْرٍو اَنَّہٗ سَمِعَ بْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ:اِنَّا اُمَّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لاَنَکْتُبُ وَلاَنَحْسُبُ، الشَّھْرُ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا یَعْنِیْ مَرَّۃً تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ وَمَرَّۃً ثَلاَثِیْنَ۔(۶)
(۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَلشَّھْرُ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا یَعْنِیْ ثَلاَثِیْنَ ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا یَعْنِیْ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ یَقُوْلُ مَرَّۃً ثَلٰثِیْنَ وَمَرَّۃً تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ۔(۷)
ترجمہ : حضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے ارشاد فرمایا: مہینہ یوں ہے، یوں ہے اور یوں ہے یعنی پورے تیس دن پھر فرمایا مہینہ یوں ہے، یوں ہے، یوں ہے یعنی انتیس دن۔ ایک مرتبہ فرمایا تیس دن کا اور ایک مرتبہ فرمایا انتیس دن کا
رمضان اور ذوالحجہ-اجرو فضیلت کے لحاظ سے- کبھی ناقص نہیں ہوتے
۱۶۔عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: شَھْرَا عِیْدٍ لاَیَنْقُصَانِ، رَمَضَانُ وَذُوالْحِجَّۃِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: عید کے دومہینے کبھی ناقص نہیں ہوتے، رمضان اور ذوالحجّہ۔‘‘
تشریح: رمضان کو عید کا مہینہ اس لیے کہا گیاکہ اس کے فوراً بعد عید آتی ہے، گویا عیدالفطر کا حقیقی تعلّق رمضان کے ساتھ ہے۔
بعض لوگوں نے حضورؐکے اس ارشاد کا یہ مطلب لیاہے کہ یہ دونوں مہینے کبھی بیک وقت ۲۹ دن کے نہیں ہوتے لیکن یہ ایک غیر علمی تَوجِیہ ہے۔ رمضان اور ذوالحجّہ کے مہینے ایک سال میں ۲۹دن کے ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ یہ مہینے خواہ ۲۹ دن کے ہوں خواہ ۳۰ دن کے، ان کے اجروثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ایسا نہیںہے کہ اگر رمضان ۳۰کے بجائے ۲۹ دن کا ہوتو اس کے روزوں کے اجرو ثواب میں کوئی کمی واقع ہوجائے گی ( ۲۹ روزوں کا ثواب ۳۰ روزوں سے کم ہوگا) اسی طرح ذوالحجّہ کے عشرۂ اول کی جو فضیلت اور اجرو ثواب ہے اس میں کوئی کمی اس وجہ سے نہیں ہوگی کہ یہ مہینہ ۳۰ کے بجائے ۲۹ دن کا ہوا۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ : سَمِعْتُ اِسْحَاقَ ھُوَ ابْنُ سُوَیْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: شَھْرَانِ لاَیَنْقُصَانِ شَھْرَا عِیْدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّۃِ۔(۸)
قَالَ اَبُوْعَبْداللّٰہِ وَقَالَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ اِنْ نَقَصَ رَمَضَانُ تَمَّ ذُوْالْحِجَّۃِ وَاِنْ نَقَصَ ذُوْالْحِجَّۃِ تَمَّ رَمَضَانُ۔ وَقَالَ اَبُوالْحَسَن کَانَ اِسْحَاقُ بْنُ رَاھَوَیْہِ یَقُوْلُ لاَیَنْقُصَانِ فِی الْفَضِیْلَۃِ اِنْ کَانَ تِسْعَۃً وَّعِشْرِیْنَ اَوْثَلاَثِیْنَ۔
ترجمہ : امام احمد بن حنبل نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر رمضان میں کمی واقع ہوجائے تو ذُوالحجّہ پورا ہوتاہے اور اگرذوالحجّہ میں کمی واقع ہوجائے تو رمضان پورا ہوتاہے۔اسحاق بن رَاہَوَیہ کہتے ہیں فضیلت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی خواہ مہینہ اُنتیس دن کا ہویا تیس دن کا۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو بیان کرکے لکھاہے:
قال ابوعیسیٰ حدیث ابی بکرَۃَ حدیث حسن وقد روی ھذا الحدیث، عن عبدالرحمن بن ابی بکرۃ عن النبی ﷺ مرسلا قال احمد معنی حدیث، الحدیث:’’ شَھْرَا عِیْدٍ لاَیَنْقُصَانِ۔ یَقُوْلُ لاَیَنْقُصَانِ مَعًا فِیْ سَنَۃٍ وَاحِدَۃٍ شَھْرُ رَمَضَانَ وَذُوْالْحِجَّۃِ اِنْ نَقَصَ اَحَدُھُمَا تَمَّ الْاٰخَرُ۔(۹)
قال اسحاق معناہ لاینقصان یقول وان کان تسعا وعشرین فھو تمام غیرنقصان۔ وعلی مذھب اسحاق یکون ینقص شھران معا فی سنۃ واحدۃ۔
رمضان سے ایک دن یا دودن پہلے روزہ رکھنا ممنوع ہے
۱۷۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَیَتَقَدَّ مَنَّ اَحَدُکُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ اَوْ یَوْمَیْنِ اِلاَّیَکُوْنَ رَجُلٌ کَانَ یَصُوْمُ صَوْمًا فَلْیَصُمْ ذٰلِکَ الْیَوْمَ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دودن پہلے روزہ نہ رکھے۔ اِلاَّ یہ کہ کوئی شخص معمولاً اس دن روزہ رکھا کرتاہو ۔ ایسا آدمی اس دن کا روزہ رکھ سکتاہے۔‘‘
تشریح: آگے ایک اور حدیث آرہی ہے جس میں رسول اللہ ﷺکی یہ ہدایت بیان ہوئی ہے کہ نصف شعبان کے بعد کوئی روزہ نہ رکھاجائے۔ اس کی دو مصلحتیں ہیں:
ایک یہ ہے کہ رمضان سے پہلے متّصل زمانے میں روزے رکھنے سے آدمی کو ایسی کمزوری لاحق ہوسکتی ہے کہ اس کے لیے رمضان کے روزے پورا کرنا مشکل ہوجائے۔جن لوگوں کو کبھی رمضان کے علاوہ نفل یا قضا روزے رکھنے کا تجربہ ہوا ہے انہیں یہ علم ہے کہ بعض اوقات رمضان کے زمانے کے دس روزوں کی بہ نسبت دوسرے زمانے کا ایک دن کاروزہ آدمی کی طاقت توڑدیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے زمانے میں چونکہ پوری قوم مِل کر روزہ رکھ رہی ہوتی ہے اس لیے ایک ایک فرد کا روزہ دوسرے کے لیے مددگار ہوتاہے۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے کا ایک عام ماحول اور فضا پیدا ہوجاتی ہے جس کی بدولت آدمی پورے مہینے کے روزے آسانی سے رکھ لیتاہے۔ لیکن رمضان کے ماسوا دوسرے دنوں میں ایک آدمی اکیلا ہی روزہ رکھنے والا ہوتاہے اور اس کے گردو پیش کا سارا ماحول اس سے غیرموافق ہوتاہے اس لیے اس کو روزہ رکھنے میں زیادہ مشقت اٹھانی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں وہ معمول سے کہیں زیادہ کمزوری اور ضعف محسوس کرتاہے۔ اس لیے تاکید فرمادی گئی کہ رمضان سے متصل پہلے زمانے میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے۔
دوسری مصلحت یہ ہے کہ شریعتِ اسلامی کا مزاج فرض میں نہ کسی کمی کو برداشت کرتاہے نہ اضافے کو۔ چونکہ رمضان کے روزے فرض ہیں اس لیے اس سے بالکل متّصل پہلے روزہ رکھنے سے اس بات کا احتمال ہوسکتاہے کہ فرض عبادت میں اضافہ ہوجائے۔ ایک شخص اپنی جگہ یہ خیال کرکے کہ مجھے رمضان کے ۳۰ دنوں کاثواب تو ملے گا ہی، کیوں نہ ایک آدھ دن کے ثواب کا مزید اضافہ ہوجائے، اور وہ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنا شروع کردے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے فرض عبادت میں ایک اضافہ اپنی طرف سے تجویز کرلیا۔ یہی فعل وہ بدعت ہے جس کو گمراہی قراردیاگیا اور اس کا انجام نارِ جہنّم بتایاگیا۔ آخر اہلِ کتاب نے اور پھر خود مسلمانوں نے خدا کی شریعت میں جو اضافے کیے ہیں وہ اسی طرح تو ہوئے ہیںکہ مختلف چیزوں کو نیکیاں قراردے دے کر فرائض کے ساتھ ملا لیا گیا۔ پھر ان کی اتنی فضیلتیں اپنے ذہن سے تصنیف کی گئیں اور ان کی اس قدر اشاعت اور تاکید کی گئی کہ وہ فرائض سے بھی بڑھ کر اہم قرار پائیں۔ اس طرح وہ آخر کار خدا کی شریعت کا جُز بن گئیں، اور جُز بھی ایسا کہ جو اصل سے زیادہ اہم ہوگیا۔ اس لیے اسلامی شریعت کا مزاج یہ ہے کہ جس چیز کی جو حد مقرر کردی گئی ہے اس میں نہ کسی کو کمی کرنے کا اختیار ہے نہ اضافہ کرنے کا ۔ اگر ظہر کے چار فرض مقرر کیے گئے ہیں تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کو کم کرکے تین قرار دے دے یا اضافہ کرکے پانچ رکعت ٹھہرالے۔ بندے کا کام اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے فرض میں اضافہ کرتاہے تو حقیقت میں وہ عبادت نہ ہوئی بلکہ اپنی جگہ ایک قانون سازی ہوئی۔ اب جو حقیقی قانون ساز ہے اس کا مطالبہ تو یہ ہے کہ اس کے بنائے ہوئے قانون کی بے کم وکاست تعمیل کی جائے۔ اس میں کمی بیشی کرنا ایک صریح نافرمانی ہے بلکہ بعض حالات میں کفر ہے۔
نماز میں یہ چیز مسنون ہے کہ امام جب فرض نماز پڑھا کر فارغ ہوجائے تو فوراً پلٹ جائے تاکہ مزید قبلہ رُخ بیٹھے رہنا بھی نماز کا ایک حصّہ نہ بن جائے۔ یہ ہدایت بھی کی گئی کہ نماز باجماعت سے فارغ ہوکر سُنّتیں منتشر ہوکر الگ الگ پڑھی جائیں اور جماعت کی ہیئت کو برقرار نہ رہنے دیا جائے تاکہ سنتیں بھی نماز باجماعت کا حصہ نہ بن جائیں۔ اسی طرح جب روزوں کے لیے رمضان کا مہینہ مقرر کردیا گیاتو اب کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس کے ساتھ ملاکر کچھ اور دنوں کا روزہ بھی رکھے کیونکہ یہ چیز فرض میں اضافے کی موجب بن سکتی ہے۔
یہ جو فرمایا کہ اِلاَّ یَکُوْنَ رَجُلٌکَانَ یَصُوْمُ صَوْمًا۔۔۔۔ یعنی جو شخص معمولاً اس دن کا روزہ رکھتاہو اس کو ایسا کرنے کی اجازت ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مہینے کی آخری تاریخوں کو نفلی روزہ رکھنے کا اہتمام کرتاہو، یا ہفتے کا کوئی ایک دن اس نے نفلی روزے کے لیے خاص کر رکھاہو اور وہ دن اتفاق سے رمضان سے پہلے آپڑے تو اس کے لیے اس دن کا روزہ رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ وہ اپنے معمول کے مطابق عمل کرسکتاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثنا ھِشَامٌ، عَنْ یَحْيَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لاَیَتَقَدَّ مَنَّ اَحَدُکُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ یَوْمٍ اَوْ یَوْمَیْنِ اِلاَّ اَنْ یَکُوْنَ رَجُلٌ کَانَ یَصُوْمُ صَوْمَہٗ فَلْیَصُمْ ذٰلِکَ الْیَوْمَ۔(۱۰)
نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا ممنوع ہے
۱۸۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَ تَصُوْمُوْا۔
(ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کا مہینہ آدھا گزرچکے تو ا س کے بعد روزہ نہ رکھو۔ ‘‘
ا س حکم کی تشریح پہلے گزرچکی ہے اور اس کی ایک استثنائی شکل بھی بیان ہوچکی ہے۔ دوسری استثنائی شکل نذر یا قضا کے روزوں کے متعلق ہے۔ اس کی توضیح اپنے مقام پر آئے گی۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ :قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ کَثِیْرٍ الْمَدِیْنَۃَ فَمَالَ اِلٰی مَجْلِسِ الْعُلاَئِ فَاَخَذَ بِیَدِہٖ فَاَقَامَہٗ ثُمَّ قَالَ : اَللّٰھُمَّ اِنْ ھٰذَا یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : اِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلاَتَصُوْمُوْا ۔
فَقَالَ العلاء: اللھم ان ابی حدثنی، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ بِذٰلِکَ۔
’’علاء کا بیان ہے کہ خدا کی قسم حضرت ابوہریرہؓ کے واسطہ سے نبی ﷺکی یہ حدیث میرے باپ نے مجھے بیان کی ہے۔ ‘‘
قَالَ اَبُودَاؤد: رواہ الثوری وشبل بن العلاء وابوعمیس وزھیربن محمد عن العلائِ۔
قَالَ اَبُوْدَاؤد: وکان عبدالرحمٰن لاَیُحَدِّثُ بِہٖ۔ قُلْتُ لِاَحْمَدَ: لِمَ؟ قَالَ: لِاَنَّہٗ کَانَ عِنْدَہٗ اَنَّ النَبِیَّ ﷺ کَانَ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔
ابوداوٗدنے کہا کہ عبدالرحمن یہ حدیث بیان نہیں کرتے۔ میں نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا ایسا کیوں ہے؟ انہوں نے کہاکہ عبدالرحمن کے پاس آپؐ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ آپؐ شعبان کے پورے روزے رکھتے جاتے تھے کہ رمضان کے ساتھ ملادیتے۔
وقال: عَنِ النَّبِیِّ ﷺ خِلاَفَہٗ۔ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَلَیْسَ ھٰذَا عِنْدِیْ خلافہ ولم یجئْی بہ غیرالعلاء عَنْ ابیہ۔(۱۱)
امام ترمذی نے اس روایت کے الفاظ درج ذیل نقل کیے ہیں:
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا بَقِیَ نَصْفٌ مِّنْ شَعْبَانَ فَلاَتَصُوْمُوْا۔ (۱۲)
قال ابوعیسی: حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح لانعرفہ الا من ھذا الوجہ علی ھذا اللفظ۔ ومعنی الحدیث عند بعض اھل العلم ان یکون الرجل مفطرًا فاذا بقی شیٔ من شعبان اخذ فی الصوم لحال شھر رمضان۔
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جب شعبان کا نصف باقی رہ جائے تو پھر تم روزہ نہ رکھا کرو۔ ‘‘
ابن ماجہ میں ہے:
(۳) اِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلاَصَوْمَ حَتّٰی یَجِیَٔ رَمَضَانُ۔(۱۳)
ترجمہ: جب شعبان کا نصف ہوجائے تو پھررمضان کے آغاز تک اور کوئی روزہ نہیں ہے۔
دارمی میں ہے:
(۴) اِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَامْسِکُوْا عَنِ الصَّوْمِ۔(۱۴)
ترجمہ :جب شعبان کا نصف ہوجائے تو تم روزہ رکھنا بند کردو۔
دارقطنی میں ہے:
(۵) عن ابی ھریرۃ قالَ ، قالَ رسول اللّٰہ ﷺ لاَصَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتّٰی رَمَضَانَ۔(۱۵)
ترجمہ :نصف شعبان کے بعد رمضان کے آغاز تک کوئی روزہ نہیں ہے۔
رمضان کے لیے شعبان کا ہلال دیکھنے کا اہتمام کرنے کا حکم
۱۹۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اُحْصُوْا ھِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ۔ (ترمذی)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہدایت فرمائی: رمضان کے لیے شعبان کا ہلال دیکھنے کا اہتمام کرو۔ ‘‘
تشریح: یہ ہدایت ا س لیے فرمائی کہ اگر شعبان کا ہلال دیکھنے کا اہتمام نہ کیاجائے تو یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ شعبان کی کون سی تاریخ ہے۔ چنانچہ رمضان کے آغاز کا فیصلہ کرنے میں بھی مشکل پیش آسکتی ہے کیونکہ اگر رمضان کی آمد پر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آیا تو اس بات کا تعین کرنا ناممکن ہوجائے گا کہ آج شعبان کی ۲۹ تاریخ ہے یا تیس۔ اگر شعبان کا ہلال دیکھنے کا اہتمام کیا گیا ہو تو ۲۹؍تاریخ کو رمضان کا ہلال نظر نہ آنے کی صورت میں شعبان کے ۳۰ دن پورے کیے جائیں گے۔ اور اگر یہ معلوم ہوکہ آج شعبان کی ۳۰ تاریخ ہے تو چاند خواہ نظر آئے یا نہ آئے اگلے روز سے رمضان کا آغاز قراردیا جائے گا۔ اس لیے رمضان کے آغاز کا صحیح فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شعبان کا ہلال دیکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ، نَایَحْيَ بْنُ یَحْيٰ، نا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اُحْصُوْا ھِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ۔
قال ابوعیسی: حدیث ابی ھریرۃ لانعرفہ مثل ھذا الا من حدیث ابی معاویۃ، والصحیح ماروی عن محمد بن عمرو عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ، عن النبیﷺ قال: لاَتَقَدَّمُوْا شَھْرَ رَمَضَانَ بِیَوْمٍ وَلاَیَوْمَیْنِ۔ (۱۶)
وھکذا روی عن یحيٰ بن ابی کثیر، عن ابی سلمۃ، عن ابی ھریرۃ نحو حدیث محمد بن عمرواللیثی۔
رسول اللہ ﷺشعبان اور رمضان کے مسلسل روزے رکھا کرتے تھے
۲۰۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ مَارَأیْتُ النَّبِیَّ ﷺ:یَصُومُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ اِلاَّشَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
’’حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو کبھی مسلسل دومہینے کے روزے رکھنے کا اہتمام کرتے نہیں دیکھا مگر شعبان اور رمضان کے۔ ‘‘
تشریح: اس سے پہلے حضورؐ کا یہ ارشاد گزرچکا ہے کہ نصف شعبان کے بعد روز ہ نہ رکھاجائے لیکن اس حدیث سے آپؐ کا عمل یہ معلوم ہوتاہے کہ آپ اکثر (ہمیشہ نہیں بلکہ اکثر) شعبان اور رمضان کے مسلسل روزے رکھا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ رسول اللہ ﷺکی خصوصیات میں سے ہے۔ دوسروں کو اس کی اجازت نہیں تھی۔ حضورؐ کے بعض معمولات ایسے تھے جو آپ ہی کے لیے خاص تھے اور دوسروں کے لیے اس کا اتباع درست نہیں، یا کم ازکم ان پر وہ لازم نہیں ہیں۔ مثلاً تہجُّد کی نماز حضورؐ کے لیے لازم تھی جب کہ دوسروں کے لیے نہیں ہے۔دوسرے لوگ یہ نماز پڑھیں تو ان کے لیے باعثِ اجرو ثواب ہے، نہ پڑھیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی طرح کچھ اور چیزیں بھی ایسی ہیں جو صرف حضورؐ ہی کی خصوصیّت ہیں۔ مثلاً عام مسلمانوں پر یہ پابندی ہے کہ وہ ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتے لیکن رسول اللہ ﷺپر یہ پابندی نہیں تھی۔ خود قرآنِ مجید ہی میں آپؐ کو اس سے مستثنیٰ فرمایا گیاہے۔ اس طرح کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا حق حضورؐ کو نہیں دیا گیاجب کہ عام مسلمانوں کو وہ حاصل ہے۔ مثلاً عام مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی کتابیہ سے نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺکو اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں تھی اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضورؐکی کچھ خصوصیات ہیں جن میں کوئی دوسرا شخص حضورؐ کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ انہی میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ حضورؐ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے جب کہ عام مسلمانوں کے لیے نصف شعبان کے بعد ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ نَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیِ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: مَارَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَصُوْمُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ اِلاَّ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔ (۱۷)
وفی الباب عن عائشۃ :
قال ابوعیسی حدیث ام سلمۃ حدیث حسن وقد روی ھذا الحدیث ایضاً عن ابی سلمۃ عن عائشۃ انھا قالت ما رأیت النّبیﷺفی شھر اکثر صیاماً منہ فی شعبان کان یصومہ الا قلیلا بل کان یصومہ کلہ ۔۔۔وروی عن ابن المبارک انہ قال فی ھذا الحدیث وھو جائز فی کلام العرب اذا صام اکثر الشھران یقال صام الشھر کلہ ــــ ویقال قام فلان لیلۃ اجمع ولعلہ تعشی واشتغل ببعض امرہ کان ابن المبارک قد راٰی۔کلا الحدیثین متفقین۔ یقول انما معنی ھذا الحدیث انہ کان یصوم اکثر الشھر۔
ابوداؤد میں ام سلمہؓ سے مروی روایت:
(۲) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: اَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ یَصُوْمُ مِنَ السَّنَۃِ شَھْرًا تَامًّا اِلاَّشَعْبَانَ یَصِلُہٗ بِرَمَضَانَ۔(۱۸)
ترجمہ :حضرت اُمّ سلمہؓ آپؐ کا عمل بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺنے سال میں سے کوئی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے مگر شعبان کا جسے آپؐ رمضان کے ساتھ جا ملاتے تھے۔
نسائی میں ہے:
(۳) عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: مَارَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ اِلاَّ اَنَّہٗ کَانَ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت اُمّ سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو مسلسل دومہینے کے روزے رکھتے نہیںدیکھا اِلاّ یہ کہ آپ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان کے ساتھ جا ملاتے تھے۔
ابنِ ماجہ میں ہے:
(۴)عَنْ اُمِّ سَلَمَۃؓ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔
ترجمہ :حضرت اُمِّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺشعبان کو رمضان سے جا ملاتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے مروی روایت:
(۵)کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّہٗ حَتّٰی یَصِلَہٗ بِرَمَضَانَ۔(۲۰)
دارمی میں منقول روایت:
(۶)عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَامَ شَھْرًا تَامًّا اِلاَّشَعْبَانَ، فَاِنَّہٗ کَانَ یَصِلُہٗ بِرَمَضَانَ لِیَکُوْنَا شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ۔ وَکَانَ یَصُوْمُ مِنَ الشَّھْرِ حَتّٰی نَقُوْلَ لَایُفْطِرُ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ:لاَیَصُوْمُ۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت اُمّ سلمہؓ بیان کرتی ہیںکہ میںنے رسول اللہﷺکو پورے مہینے کے (نفلی) روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے ۔ آپؐ کسی ماہ روزے رکھتے جاتے تھے کہ ہم خیال کرتے تھے کہ آپؐ ختم نہیں کریں گے اور جب روزے چھوڑتے تو پھر رکھتے ہی نہ تھے کہ ہم خیال کرنے لگتے کہ آپؐ اب روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
شک کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
۲۱۔ عَنْ عَمَّارِبْنِ یَاسِرٍ، قَالَ: مَنْ صَامَ الْیَوْمَ الَّذِیْ یُشَکُّ فِیْہِ فَقَدْ عَصٰی اَبَا الْقَاسِمِ ﷺَ۔
(ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
’’حضرت عمّار بن یاسِرؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اس دن کا روزہ رکھا جس کے بارے میں شک ہوتو اس نے ابوالقاسم ﷺکی نافرمانی کی۔‘‘
تشریح: یہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ ہیں۔ گویا وہ اپنے الفاظ میں رسول اللہ ﷺکی یہ ہدایت نقل فرمارہے ہیں کہ شک کے دن کا روزہ نہ رکھاجائے۔ شک کے دن سے مراد وہ دن ہے جس میں یہ بات مشکوک ہوکہ آیا آج رمضان شروع ہوگیاہے یا نہیں۔ مثلاً اگر آج شعبان کی ۲۹ تاریخ ہے اور مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہیں آیا تو یہ بات مشکوک ہوگئی کہ آیا واقعی چاند ہوا ہے یا نہیں ــــ اب اگرکوئی شخص یہ خیال کرکے کہ ممکن ہے چاند ہوگیا ہو اگلے دن کا روزہ رکھ لے تو یہ غلط ہے کیونکہ اسی کو شک کا دن کہاگیاہے اور اس میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادات کی بنیاد شک پر نہیں بلکہ یقین پر ہونی چاہیے۔ مثلاً بعض لوگوں کو اس امر میں شک ہوتاہے کہ جس بستی یا علاقے میں وہ مقیم ہیں وہاں جمعہ پڑھنا درست ہے یا نہیں۔ چنانچہ وہ جمعہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور ظہر کے چار فرض بھی پڑھتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کا جمعہ بھی مشکوک اور ظہر کے چار فرض بھی مشکوک، یہ طریقہ صحیح نہیں۔ اگر انہیں یقین ہے کہ جمعہ ہوجاتاہے تو پھر صرف جمعہ پڑھیں، ظہر نہ پڑھیں۔ اگر یقین ہے کہ جمعہ نہیں ہوتاتو پھر ظہر پڑھیں، جمعہ نہ پڑھیں۔ لیکن شک کے ساتھ عبادت کرنا غلط ہے ــــ ایسا ہی معاملہ رمضان کا ہے کہ اگر یقین ہے کہ آج رمضان شروع ہوگیا ہے تو روزہ رکھیے، اگر یقین نہیں تو پھر شک کے ساتھ روزہ رکھنا صحیح نہیں۔ اس صورت کے بارے میں پہلے یہ ہدایت گزرچکی ہے کہ ۲۹تاریخ کو ہلال نظر نہ آنے کی صورت میں شعبان کے ۳۰ دن پورے کیے جائیں ۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، ثَنَا اَبُوْخَالِدٍ الْاَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِوبْنِ قَیْسٍ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ صِلَۃَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِی الْیَوْمِ الَّذِیْ یُشَکُّ فِیْہِ فَأُتِیَ بِشَاۃٍ فَتَنَحّٰی بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ ھٰذَا الْیَوْمَ فَقَدْ عَصٰی اَبَا الْقَاسِمِ۔(۲۲)
ترجمہ :صِلَۃ بیان کرتے ہیں کہ ہم عمّارؓ بن یاسر کے پاس اس روز بیٹھے ہوئے تھے جس میں ہلال کے نظر آنے میں شک تھا۔ اتنے میں عمّار کے پاس بکری لائی گئی۔ تو کچھ ایک طرف ہٹ گئے۔ عمار نے کہاجس شخص نے اس دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم یعنی محمد ﷺکی نافرمانی کی ۔
رؤیت ہلال کی شہادت صرف مومن کی معتبر ہے
۲۲۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنِّیْ رَأَیْتُ الْھِلاَلَ یَعْنِیْ ھِلاَلَ رَمَضَانَ فَقَالَ: اَتَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ قَالَ، نَعَمْ! قَالَ: اَتَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: نَعْمَ! قَالَ: یَابِلاَلُ اَذِّنْ فِی النَّاسِ اَنْ یَّصُوْمُوْا غَدًا۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
’’حضرت عبد اللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک بدُّو نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے چاند دیکھ لیاہے، یعنی رمضان کا چاند ۔ آپؐ نے اُس سے پوچھا: کیا تو گواہی دیتاہے کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں؟ اس نے کہا، ہاں۔ آپؐ نے پھر پوچھا: کیاتو گواہی دیتاہے کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا، ہاں۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے حضرت بلالؓ کو آواز دے کرکہاکہ’’ اے بلالؓ، لوگوں میں اعلان کردو کہ کل سے روزہ رکھیں۔ ‘‘
تشریح: یہ ایک بڑی اہم حدیث ہے جس سے بہت سے مسائل معلوم ہوتے ہیں:
پہلی بات یہ ہے کہ رؤیت ہلال کے سلسلے میں شہادت کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب مطلع صاف نہ ہو اور عام لوگ چاند نہ دیکھ سکے ہوں۔ اگر مطلع صاف ہوتو ہزاروں لاکھوں آدمی چاند کا مشاہدہ کرلیتے ہیں اس لیے کسی شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے برعکس اگر مطلع صاف ہو لیکن ہزاروں آدمی کوشش کے باوجود اس کو نہ دیکھ سکے ہوں تو اس صورت میں اگر کوئی ایک آدمی یا چند آدمی آکر شہادت دیں کہ انہوں نے چاند دیکھ لیاہے تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ کیسے ہی متّقی اور پرہیزگارہوں۔ ’’آخر یہ کیسے باور کیا جاسکتاہے کہ آسمان پر جو چیز نمایاں ہو اسے لاکھوں آدمی تو نہ دیکھ سکیں اور بس دوچار یا دس پانچ آدمی دیکھ لیں۔ البتہ اگر مطلع صاف نہ ہو اور بادل فضا پر چھائے ہوئے ہوں، اس صورت میں دوچار آدمی اگر یہ بیان کریں کہ ہم نے چاند دیکھ لیاہے تو ان کی یہ شہادت قابلِ غور ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے بدلی کہیں سے ہٹی ہو اور کسی کو چاند نظر آگیاہو۔ اس صورت میں صرف یہی دیکھنا ہوگا کہ یہ لوگ سچّے ہیں یا نہیں اور خود نماز روزے کے پابند ہیں یا نہیں ۔‘‘ (خطبہ عیدالفطر ص۵،۶)
دوسری بات یہ ہے کہ رُؤیت ہلال کے معاملے میں پہلے مرحلے پر شہادت درکار ہوتی ہے اور دوسرے مرحلے پرصرف خبر کافی ہوجاتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے اس امر کی شہادت قائم ہونی چاہیے کہ چاند ایسے چند آدمیوں نے دیکھا ہے جو بھروسے کے قابل تھے۔ کسی معتبر مجلس یا کسی مفتی یا قاضی نے یہ شہادتیں لی ہوں۔ ان شہادتوں کی بنا پر جب وہ مطمئن ہوکر رؤیت ہلال کا اعلان کردے تو اس کے بعد یہ ضروری نہیں رہتاکہ ہرآدمی یا تو خُود چاند دیکھے یا اس کے سامنے شہادتیں پیش ہوں بلکہ مجلسِ مجاز یا مفتی یا قاضی کے اعلان کی بنا پر اگر سائرن بجیں یا نقّارے بجیں یا شہر میں عام چرچا ہوکہ چانددیکھاگیا تو عام لوگوں کے لیے خبر کافی ہے۔ (خطبہ عیدالفطر ص۶،۷)
تیسری بات یہ ہے کہ ایک آدمی کی شہادت رمضان کے چاند کے لیے ہے عید کے چاند کے لیے نہیں۔ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کی شہادت کو رمضان کے چاند کے بارے میں قبول فرمایاہے۔ البتہ عید کے چاند کے بارے میں فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کم ازکم دوآدمیوں کی شہادت ضروری ہے۔ اس معاملے میں صرف ایک آدمی کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے چاند کے لیے لوگوں میں وہ بیتابی نہیں ہوتی جو عید کے چاند کے لیے ہوتی ہے اس لیے اس کے معاملے میں احتیاط کا پہلو غالب رہنا چاہیے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ شہادت دینے والے کا مومن ہو نا ضروری ہے ، جیسا کہ خود نبی ﷺ نے رویت ہلال کی شہادت دینے والے اعرابی کا مومن ہو نا تحقیق فرمایا۔اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ دینی معاملات میں کسی غیر مومن کی شہادت قابلِ قبول نہیں ہے۔یہ اس لیے کہ ایک غیر مومن کو اس بات کی کیا فکر ہو سکتی ہے کہ اس کی غلط گواہی سے آپ کے کسی دینی فریضے میں کوئی خرابی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس ایک مومن کے لیے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ آیا کل رمضان شروع ہورہاہے یا نہیں۔ یا کل عید ہے یا نہیں، کیونکہ اگر کل عید ہے تو روزہ رکھنا حرام ہے اور اگر عید نہیں ہے تو روزہ چھوڑنا حرام ہے۔ اور پھر اس صورت میں جب کہ معاملہ پوری جماعتِ مسلمین کے ایک دینی فریضے کا ہو وہ کیسے اتنی بڑی غیر ذمہ داری کا مرتکب ہوسکتا ہے کہ غلط معلومات بہم پہنچائے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺکے سامنے اس اعرابی نے اپنے مومن ہونے کا اقرار کیا تو پھر حضورؐ نے اس کے بارے میں کوئی مزید تحقیقات نہ کی کہ آیا وہ شخص فاسق وفاجر تو نہیں ہے۔جب اس بات کا اطمینان فرما لیاکہ وہ شخص مسلمان ہے تو پھر اس کی شہادت قبول فرمالی۔ اس سے یہ مسئلہ نکلتاہے کہ جب تک آدمی کا فاسق ہونا معلوم نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی شہادت رد نہیں کی جائے گی۔ دوسرے الفاظ میں کسی مسلمان کی شہادت اس بنا پر رد نہیں کی جائے گی کہ اس کا غیرفاسق ہونا معلوم نہیں ــــایک مسلمان کے بارے میں ابتدائی مفروضہ یہی ہوگا کہ وہ فاسق نہیں ہے۔ اس کے غیر فاسق ہونے کی تحقیقات نہیں کرائی جائے گی۔ ہاں اگر کسی کا فاسق ہونا معلوم ہوتو پھر اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِبْنِ الدَّیَّانِ، ثَنَا الْوَلِیْدُ یعنی ابْنَ اَبِیْ ثَوْرٍ ح وَثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِ، ثَنَا الْحُسَیْنُ یعنی الْجُعْفِیْ عَنْ زَائِدَۃَ اَلْمَعْنَی عَنْ سَمَّاکٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَآئَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنِّیْ رَاَیْتُ الْھِلاَلَ قَالَ الْحَسَنُ (فِیْ حدیثہ) : یعنی رَمَضَانَ، فَقَالَ: اَتَشْھَدُ اَنْ لاَّ ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اَتَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: یَا بِلاَلُ اَذِّنْ فِی النَّاسِ فَلْیَصُوْمُوْا غَدًا۔(۲۳)
والعمل علیٰ ھٰذا الحدیث عند اکثر اھل العلم قالوا تقبل شھادۃ رجل واحد فی الصیام وبہ یقول ابن المبارک والشافعی واحمد وقال اسحاق لاَیُصَامُ اِلاَّبِشَھَادَۃِ رَجُلَیْنِ وَلَمْ یَخْتَلِفْ اَھْلُ الْعِلْمِ فِی الْاِفْطَارِ اِنَّہٗ لاَیُقْبَلُ فِیْہِ اِلاَّ شَھَادَۃُ رَجُلَیْنِ۔(۲۴)
ترجمہ : امام ترمذی کہتے ہیں۔ اہلِ علم کی اکثریث اس پر عمل پیرا ہے ابن المبارک، شافعی اور امام احمد بن حنبل کا یہی مسلک ہے البتہ اسحاق نے اس رائے سے اختلاف کیاہے۔ ان کے نزدیک رمضان کے چاند نظر آنے کی شہادتیں بھی دوہی ضروری ہیں۔ البتہ عید کے چاند کے لیے دوشہادتوں پرسب کا اتفاق ہے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
رؤیت ہلال ِرمضان کے لیے ایک مسلمان کی شہادت کافی ہے
۲۳۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَا أٰی النَّاسُ الْھِلاَلَ فَاَخْبَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنِّیْ رَأَیْتُہٗ فَصَامَ وَاَمَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہٖ۔ (ابوداؤد، دارمی)
’’حضرت عبداللہ بن عمرؓکا بیان ہے کہ لوگ (اکٹھے ہوکر رمضان کا) چاند دیکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ پس میں نے آکر رسول اللہ ﷺکو خبردی کہ میں نے چاند دیکھ لیاہے۔ اس پر حضورؐ نے روزہ رکھنے کا فیصلہ فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ رمضان کے روزے رکھنا شروع کردیں۔‘‘
تشریح:حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے بارے میں چونکہ یہ معلوم تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور صحابی ہیں اس لیے ان سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں۔ بس ان کی شہادت پر رمضان کے روزوں کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حدیث سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مطلع صاف نہ ہونے کی صورت میں رؤیت ہلالِ رمضان کے لیے ایک آدمی کی شہادت کافی ہے۔ تَرَائٰ ی النَّاسُ الْھِلاَلَ کے الفاظ سے خود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ چاند دیکھنے کی کوشش کررہے تھے لیکن مطلع صاف نہ ہونے کی بنا پر چاند نظر نہیں آرہاتھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو وہ نظر آگیا اس لیے انہوں نے آکر حضورؐ کے سامنے شہادت دی کہ میں نے چانددیکھ لیاہے، چنانچہ آپؐ نے ان کی خبر پر آغازِ صومِ رمضان کافیصلہ فرمایا۔
اس امر میں تو عام طور پر اتفاق ہے کہ ہلال رمضان کے لیے ایک آدمی کی شہادت بھی قابلِ قبول ہے لیکن اس میں اختلاف ہے کہ صرف ایک آدمی کی شہادت کِن حالات میں قبول کی جائے گی۔ بعض فقہاء کے نزدیک رمضان کے چاند کے معاملے میں ایک ہی آدمی کی شہادت ہرحالت میں معتبرہے۔ امام ابوحنیفہؒ بھی ایک آدمی کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس صورت میں جب کہ مطلع صاف نہ ہو۔ اگر مطلع صاف ہوتو پھر ان کے نزدیک ایک آدمی کی شہادت کافی نہیں بلکہ اس صورت میں بہت سے لوگوں کا رویتِ ہلال کی گواہی دینا ضروری ہے ــــاورامام مالکؒ اور بعض دوسرے فقہاء کا یہ مسلک ہے کہ رمضان کے چاند کے لیے کم از کم دوقابلِ اعتبار آدمیوں کی شہادت ضروری ہے، لیکن پیش نظر حدیث ان کے مسلک کے خلاف جاتی ہے۔ البتہ بعض دوسری احادیث سے ان کے مسلک کو تقویت پہنچتی ہے، اگر چہ ان سے بھی یہ قطعی حکم نہیں نکلتا کہ ایک آدمی کی شہادت معتبر نہیں ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّمَرْقَنْدِیُّ وَاَنَا لِحَدِیْثِہِ اَتْقَنُ قَالاَ: ثَنَا مَرْوَانُ۔ ھُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ وَھْبٍ، عَنْ یَحْيَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَائٰ ی النَّاسُ الْھِلاَلَ فَاَخْبَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنِّی رَأَیْتُہٗ فَصَامَہٗ وَأمَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہٖ۔(۲۵)
حضور ؐ شعبان کی تاریخیں معلوم کرنے کا اہتمام فرماتے تھے
۲۴۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَالاَ یَتَحَفَّظُ مِنْ غَیْرِہٖ ثُمَّ یَصُوْمُ لِرُؤْیَۃِ رَمَضَانَ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْہِ عَدَّ ثَلاَثِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ صَامَ۔ (ابوداؤد)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺدوسرے مہینوں کی بہ نسبت شعبان کی زیادہ حفاظت کرتے تھے (اس کی تاریخوں کو معلوم کرنے کا اہتمام فرماتے تھے) پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے۔ اگر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہیں آتاتھا تو شعبان کے۳۰دن شمار کرکے روزہ رکھنا شروع کرتے تھے۔‘‘
تشریح: پہلے ایک حدیث میں حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا تھا کہ شعبان کا ہلال دیکھنے کا اہتمام کرو، اب یہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کا یہ عمل بیان فرمایاہے کہ حضورؐ دوسرے مہینوں کے چاند دیکھنے اور ان کی تاریخوں کو یاد رکھنے کا اتنا اہتمام نہیں فرماتے تھے جتنا شعبان کے معاملے میں فرماتے تھے، تاکہ اس کی تاریخوں کا ٹھیک ٹھیک حساب معلوم رہے۔ فرض کیجیے کہ مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے شعبان کا چاند رجب کی ۲۹ تاریخ کو نظر نہ آیا ہو تو مہینہ بھر کے دوران میں تحقیق کرکے اس بات کا تعین کیا جاسکتاہے کہ اس روز چاند نکلاتھا یا نہیں۔ چنانچہ حضورؐ کے زمانے میں شعبان کی تاریخیں محفوظ کرنے کا اہتمام کیا جاتاتھا تاکہ ہلالِ رمضان کی تلاش کرتے وقت یہ یقینی طور پر معلوم رہے کہ آج شعبان کی ۲۹تاریخ ہے یا تیس۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، حَدَّثَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ قَیْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا تَقُوْلُ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَالاَیَتَحَفَّظُ مِنْ غَیْرِہٖ ثُمَّ یَصُوْمُ لِرُؤیَۃِ رَمَضَانَ، فَاِنْ غُمَّ عَلَیْہِ عَدَّ ثَلاَثِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ صَامَ۔(۲۶)
ایک مہینے کی مُدّت دوسرے مہینے کا ہلال نظر آنے تک ہے
۲۵۔ عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَۃِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَۃَ تَرَائَیْنَا الْھِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ھُوَابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ھُوَابْنُ لَیْلَتَیْنِ فَلَقِیْنَا بْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا اِنَّا رَأَیْنَا الھِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ھُوَابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ھُوَ ابْنُ لَیْلَتَیْنِ، فَقَالَ اَیَّ لَیْلَۃٍ رَأَیْتُمُوْہُ قُلْنَا لَیْلَۃَ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَدَّہٗ لِلرُّؤْیَۃِ فَھُوَ لِلَیْلَۃٍ رَأَیْتُمُوْہُ ــــ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہُ ــــ قَالَ اَھْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَاَرْسَلْنَا رَجُلاً اِلَی بْنِ عَبَّاسٍ یَسْئَلُہٗ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ اَمَدَّہٗ لِرُؤْیَتِہٖ فَاِنْ اُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ۔ ( مسلم)
’’حضرت ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرے کے لیے (اپنے شہر سے) نکلے (راستے میں) جب ہم بطنِ نخلہ۱؎ کے مقام پر ٹھہرے تو ہم نے جمع ہوکر چاند دیکھنے کی کوشش کی۔ کچھ لوگوں نے کہاکہ یہ تیسری رات کا چاند ہے اور بعض لوگوںکا خیال تھا کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے۔ پھر ہم(مکہ پہنچ کر) حضرت عبداللہ بنؓ عباس سے ملے اور ہم نے ان سے بیان کیا کہ ہم نے ہلال دیکھاہے اور ہم میں سے بعض لوگوں کا کہناہے کہ وہ تیسری رات کا چاند تھا اور کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسری رات کا چاندتھا۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے دریافت کیا کہ تم نے کس رات کو چاند دیکھاتھا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ فلاں فلاں رات کو دیکھا تھا۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے مہینے کی مدت (اگلے مہینے کے) چاند کی رؤیت تک قراردی ہے۔ پس وہ چاند اسی رات کا تھا جس رات تم نے اسے دیکھاتھا ــــ حضرت ابوالبختری سے ایک اور روایت مروی ہے جس میں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رمضان کا ہلال دیکھا جب کہ ہم ذاتِ ۲؎۲ عرق کے مقام پر تھے۔ ہم نے ایک شخص کو حضرت عبداللہؓبن عباس کے پاس بھیجاتاکہ وہ (اختلافِ مذکور کے بارے میں) ان سے سوال کرے۔ اس پر حضرت ابنِ عباسؓ نے رسول اللہ ﷺکا یہ ارشاد نقل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مہینے کے امتداد کو ہلال کی رؤیت تک رکھاہے۔ پس اگر مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند تمہیں نظرنہ آئے تو پھر (مہینے کے دنوں کی) تعداد (۳۰تک) پوری کرو۔‘‘
تشریح: حضرت ابوالبختریؒ ایک تابعی ہیں اور یہ واقعہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکے بعد کے دَور کا بیان کیاہے۔
اگر مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے رؤیت ہلال کے بارے میں فیصلہ نہ ہوسکا ہو اور پھر اگلے روز یا اس سے اگلے روز چاند دیکھنے کے بعد لوگوں میں یہ بحث چھڑجائے کہ آج چاند دوسری شب کا ہے یا تیسری شب کا تو ظاہر بات ہے اس سے دلوں میں طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا ہوں گے۔ اس لیے حضرت عبدؓ اللہ بن عباس نے اس کا تدارک کرنے کے لیے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ رسول اللہ ﷺنے مہینے کی مدّت کا مدار رویتِ ہلال پر رکھاہے اور دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہینے کے امتداد کو رویتِ ہلال تک رکھاہے۔ یعنی ایک مہینہ دوسرے مہینے کا چاند دیکھ کر ختم ہوتاہے اور اگر ۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو پھر مہینے کے دنوں کی تعداد ۳۰ تک پوری کی جائے۔ محض چاند کی جسامت وغیرہ کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا کہ یہ کون سی تاریخ کا چاند ہے سراسر خود کو شک میں مبتلا کرنے والی بات ہے، بس رویت پر اپنے فیصلے کا مدار رکھو، خواہ مخواہ کے قیاسات پر فیصلہ نہ کرو اور بلاوجہ اپنے لیے مشکلات پیدا کرنے سے احتراز کرو۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَۃِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَۃَ تَرَائَیْنَا الْھِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ھُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ھُوَابْنُ لَیْلَتَیْنِ فَلَقِیْنَا بْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا اِنَّا رَأَیْنَا الْھِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ھُوَا بْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ھُوَا بْنُ لَیْلَتَیْنِ فَقَالَ اَیَّ لَیْلَۃٍ رَأَیْتُمُوْہُ قُلْنَا لَیْلَۃَ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَدَّہٗ لِلرُّؤْیَۃِ فَھُوَ لِلَیْلَۃٍ رَأَیْتُمُوْہُ ــــ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہُ ــــ قَالَ اَھْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَاَرْسَلْنَا رَجُلاً اِلَی بْنِ عَبَّاسٍ یَسْئَلُہٗ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ اَمَدَّہٗ لِرُؤیَتِہٖ فَاِنْ اُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ۔(۲۷)
ما خذ
فصل سوم: سحری کا اہتمام ۔سحری کرنے میں برکت ہے
۲۶۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃٌ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سحری کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ ‘‘
تشریح:اسلام کی مقرر کردہ عبادات اور دوسرے مذاہب کی عبادات میں ایک اصولی فرق ہے اور اس فرق کی وجہ سے ان کے فوائد میں فرق واقع ہوا ہے۔
وہ اصولی فرق یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں عبادات کے پیچھے یہ تصوّر کارفرماہے کہ آدمی کا اپنے بدن کو تکلیف میں مبتلا کرنا اس کی روحانی ترقی اور اللہ سے قرب کا ذریعہ بنتاہے۔ مثلاً ان کے نزدیک بھوکا مرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور یہ آدمی کو اس کے قریب کرتاہے۔ اسی طرح وہ اپنے اس تصوّر کے مطابق متعدد ایسے ہی دوسرے کام کرتے ہیں مثلاً کوئی کسی کنوئیں کے اندر اُلٹا لٹک رہاہے۔ کوئی کہیں بھٹ کے اندر زندگی گزاررہاہے اور طرح طرح کے جانور اس کو کاٹ رہے ہیں۔ یہ اور ایسی ہی دوسری بہت سی اذیتیں تقربِ خداوندی کے خواہش مند خود اپنے آپ کو پہنچاتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک آدمی کا اپنے جسم کو طرح طرح کی تکلیفیں دینا اللہ تعالیٰ کو اس بات کا یقین دلانے کا ذریعہ ہے کہ یہ بندہ تیری محبت اور عشق میں ایسا مبتلا ہے کہ اپنے آپ کو مارے دے رہاہے ـــــ لیکن اسلامی تصوّرِ عبادت کی رُو سے یہ تصوّرات سراسر جہالت پر مبنی ہیں۔
اسلامی عبادات کا مقصد ــــ تربیت وتزکیۂ نفس
اس کے برعکس اسلام کی عبادات حقیقت میں آدمی کی تربیت کے لیے مقرر کی گئی ہیں اور اس تربیت کے ذریعے یہ آدمی کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہیں۔ مثال کے طورپر یہی روزہ ہے ۔ روزے میں اصل چیز یہ نہیں ہے کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے آپ کو بھوک پیاس میں مبتلا کیا، اور آپ کی اس تکلیف سے، معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو کوئی خوشی ہوئی بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ آپ نے روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کے ایک حکم کی اطاعت کی اور اس کی فرمانبرداری کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس نے حکم دیاکہ ایک خاص وقت تک تم کھاپی سکتے ہو اس کے بعد کچھ نہیں کھاسکتے تو جس وقت تک اس نے اجازت دی آپ نے ا س اس وقت تک کھایا پیا، اس کے بعد رک گئے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں اور اس کے نافرمان نہیں ہیں۔ پھر جس وقت تک وہ کہتاہے کہ آپ نہ کھائیں، آپ نہیں کھاتے پیتے۔ چاہے بھوک اور پیاس نے آپ کو کیسا ہی نڈھال کررکھاہو۔ اس طرح آپ کا ایک خاص وقت تک اپنے آپ کو کھانے پینے سے روکے رکھنا یہی معنی تو رکھتاہے کہ آپ اس کے فرمانبردار بندے ہیں۔ آپ کی یہی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور یہی فرمانبرداری درحقیقت عبادات کا حاصل ہے ورنہ محض آپ کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کا مقصود نہیں ــــ پھرجس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو اجازت دے دیتاہے کہ اب تم کھاؤ پیو اس وقت اگر آپ بے نیازی برتتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں کھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم تو اللہ تعالیٰ کا تقرب چاہتے ہیں،اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں یہ دعویٰ لے کر آتے ہیں کہ ہمیں تو اپنے اوپر اتنا قابو ہے کہ (معاذ اللہ) آپ کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ دیکھیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ ہم اپنے اوپر کتنا قابو رکھتے ہیں ــــ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ وہ سزاد یتاہے جو اس نے عیسائی راہبوں کو دی۔
اسلام میں عبادات کا تصوّر یکسر مختلف ہے
یہاں تو یہ صورت ہے کہ جس وقت آپ کو اجازت دی گئی ہے اس وقت آپ کا یہ فرض ہے کہ اس اجازت سے فائدہ اٹھائیں۔ آپ کا رب اُس بات سے خوش ہوتاہے کہ آپ اس کی دی ہوئی اجازتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ آپ سے ناراض صرف اس وقت ہوتاہے جب آپ اس کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں۔ جس جگہ اس کی طرف سے ممانعت ہے وہاں اگر آپ اس کے احکام کی خلاف ورزی کریں تو یہ بات اس کی ناراضی کی موجب بنتی ہے۔ لیکن یہ بات اس کی ناراضی کا سبب نہیں بنتی کہ آپ نے اس کی اجازت کے وقت اچھا کھانا کیوں کھایا ــــاچھے کھانے بھی تو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیے ہیں اور آپ ہی کے لیے پیدا کیے ہیں۔ آپ اس کی نعمتوں سے متمتع ہوںتو وہ آخر آپ سے کیوں ناراض ہوگا ــــچنانچہ جس وقت وہ کہتاہے کہ بھوکے رہو تو اس وقت بھوکے رہیے اور جس وقت وہ کہتاہے کہ کھاؤ تو اس وقت کھایئے ــــ اسی تصوّر سے ہمارے روزوں میں اور دوسرے مذاہب والوں کے روزوں میں فرق واقع ہوجاتاہے اور یہ فرق آغاز اور انجام دونوں جگہوں پر پایا جاتاہے۔
اہل کتاب کے روزوں میں سحری کرنا نہیں تھا۔ ان کا روزہ سورج غروب ہونے کے بعد شروع ہوتاتھا اور وہ رات ہی کو کھاپی کر فارغ ہوجاتے تھے۔ پھر وہ روزہ دوسرے دن کے سورج کے غروب ہونے تک چلتاتھا۔ لیکن ان کے اندر جولوگ زیادہ’’زہدوتقویٰ‘‘ برتنے والے تھے وہ دوسرے دن کا روزہ کھولتے ہی اگلا روزہ شروع کردیتے تھے، اور کوئی اللہ کا بندہ ایسا بھی ہوتاتھا جو مثلاً مٹر کے ایک دانے سے روزہ کھول لیتا اور دوسرا روزہ شروع کرلیتا۔پھر ان میں بعض ایسے باکمال تھے جو دوسرے دن کا روزہ بھی نہیں کھولتے تھے اور اگلا روزہ شروع کرلیتے تھے۔ اسی طرح تین تین چار چار دن کا روزہ رکھتے تھے۔ گویا جو جتنا بڑا راہب ہوتاتھا یا جس کو اپنے ذوقِ تقویٰ کا کوئی خاص بڑا کمال دکھانا ہوتاتھا وہ اتنا ہی لمبا چوڑا روزہ رکھتا تھا۔
سحری کھانے میں کیا برکت ہے؟
اس حدیث میں نبی ﷺنے فرمایاہے کہ’’سحری کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے‘‘ ــــسحری کھانے میں برکت یہ ہے کہ اس سے آپ کو اللہ کے حکم کی بجا آوری میں سہولت ہوتی ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ فجر کے وقت سے روزہ شروع کرو اور غروبِ آفتاب کے وقت ختم کرو۔ اب جس وقت سے روزہ شروع ہوتاہے اس سے پہلے اگر آپ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اجازت سے فائدہ اٹھاکر کھاپی لیتے ہیں تو وہ کھایا پیا دن بھر آپ کے کام آئے گا۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اس سے لازماً آپ کو کمزوری لاحق ہوگی۔ اب چونکہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ یہ روزے مہینہ بھر رکھے جائیں، اور ہوسکتاہے کہ اس طرح کسی آدمی کی طاقت اور ہمت یہ مدت پوری کرنے سے پہلے ہی جواب دے جائے اس لیے نتیجہ یہ ہوگاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حکم بجالانے کے قابل نہیں رہے گا۔ اسی بنا پر نبی کریم ﷺنے سحری کھانے کی تاکید فرمائی کہ جس وقت کھانے پینے کی تمہیں اجازت ہے اس وقت تم کھاؤ تاکہ جس وقت تمہیں کھانے پینے کی اجازت نہ ہوگی اس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا حکم بجالانے کی طاقت حاصل رہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِیْ اِیَاسٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُھَیْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃٌ۔(۱)
اہلِ کتاب اور مسلمانوں کے روزوں میں فرق
۲۷۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : فَصْلُ مَابَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ اَھْلِ الْکِتٰبِ اَکْلَۃُ السَّحْرِ۔ (مسلم)
’’حضرت عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق ہے سحری کا لقمہ، (یا سحری کا کھانا) ۔‘‘
تشریح: چونکہ اہلِ کتاب کا روزہ سحری کے بغیر ہوتاہے اور ہمارا روزہ سحری کے ساتھ ہوتاہے اس لیے یہی بات ہمارے اور ان کے روزے میں فرق کرتی ہے۔ ان کا تصوّر یہ ہے کہ روزہ خود کو تکلیف دینے کے لیے ہے جب کہ ہمارا تصوّر یہ ہے کہ روزہ حکم بجالانے کی عادت ڈالنے کے لیے ہے۔ ہم فرمانبرداری کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب چاہتے ہیں اور وہ خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایسی ایسی تکلیفیں اٹھاتے ہیں جن کے اٹھانے کاحکم خدا نے نہیں دیاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا لَیْثٌ، عَنْ مُوسَی بْنِ عَلِیٍّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ قَیْسٍ مَوْلٰی عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ اَھْلِ الْکِتٰبِ اَکْلَۃُ السَّحَرِ۔
جلدی افطارکرنے میں بھلائی ہے
۲۸۔ عَنْ سَھْلٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : لاَیَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَاعَجَّلُوا الْفِطْرَ ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔ ‘‘
تشریح: یہود کا یہ دستور تھا کہ روزہ اس وقت کھولتے تھے جب آسمان پرستارے چھٹک آتے تھے اور اس میں بھی جو آدمی جتنی زیادہ دیرکرتاتھا وہ اتنا ہی زیادہ متقی اور زاہد وپرہیزگار ماناجاتاتھا۔ یہ گویا ان کے نزدیک اس بات کی علامت تھی کہ یہ شخص کھانے کے لیے مطلق بے تاب نہیں تھا اور دیکھو کیسا ضبطِ نفس ہے کہ روزہ کھولنے کا وقت ہوبھی گیا ہے لیکن پھر بھی نہیں کھول رہاہے۔ اسلام میں اس طرح کے نمائشی تقویٰ کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تصوّر یہ ہے کہ جو وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیاہے اس وقت تک تو آپ اس طرح رُکے رہیں کہ جیسے کسی نے آپ کو باندھ رکھا تھا۔ لیکن جونہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت مل جائے آپ اسی وقت اس چیز کی طرف دوڑیں جس سے اب تک رُکے ہوئے تھے، اور اس سے فائدہ اٹھانے میں جلدی کریں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بندہ اس کے حکم کی وجہ سے رُکا ہواتھا۔ اگر اس کا حکم رکنے کا نہ ہوتاتو یہ نہ رُکتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پابند کررکھاتھا اس لیے اس نے اپنی خواہشات اور اپنی بھوک پیاس ہرچیز پر پابندی لگارکھی تھی لیکن جونہی اس پر سے پابندی ہٹالی گئی وہ پوری آزادی سے کھانے پینے لگا اور اپنی دوسری ضروریات پوری کرنے لگا۔ چونکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اسی لیے نبی ﷺنے فرمایا کہ لوگ خیر پر رہیں گے جب تک کہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ــــ اس سے یہ تنبیہ بھی مقصود تھی کہ اگر لوگوں نے افطار میں دیرلگانی شروع کردی تو ان کو وہ بیماری لگنی شروع ہوجائے گی جس میں اہل کتاب مبتلاتھے۔
اسلام برائی کو مقامِ آغاز سے روکتاہے
قرآن مجید اور احادیث کا گہرا مطالعہ کرنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں اسلام کا مزاج یہ ہے کہ اگر کوئی خطرناک چیز کافی فاصلے پر ہوتو مومن کو چاہیے کہ اس کی جانب محض اس خیال سے نہ بڑھتا چلاجائے کہ اس کے قریب پہنچ کر تو میںرُک ہی جاؤں گا ــــاس کے برعکس اسلام تو خطرے کی سڑک جہاں سے شروع ہوتی ہے وہیں سے آپ کو روکتاہے اور ایک قدم بھی اس کی طرف بڑھانے کو پسند نہیںکرتا۔ اَب چونکہ اسلام رہبانیت کو سخت ناپسند کرتاہے اور روزے کے معاملے میں یہ بیماری اس مقام سے لگتی ہے کہ روزہ کھولنے کا وقت ہوگیاہولیکن آپ محض اس لیے تاخیر کریں کہ اس تاخیرکے ذریعے سے جتنی زیادہ دیر آپ اپنے جسم کو تکلیف دیں گے خدا اتناہی زیادہ آپ سے خوش ہوگا۔ اس لیے اس معاملے میں تنبیہ کردی گئی کہ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ چیز تمہیں خیرسے محروم کردے گی اور اللہ کی خوشنودی کے بجائے الٹی اس کی ناراضی کی موجب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی حقیقی خوشنودی تو اس بات میں ہے کہ آپ اس کے احکام کی پیروی کریں، اس کی عاید کردہ پابندیوں کو قبول کریںاور اس کی دی ہوئی اجازتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ جو چیز اس نے آپ کے لیے حلال کی ہے اس سے آپ پوری طرح متمتع ہوں اور جس چیز کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے اس سے آپ رُک جائیں اور اپنی طرف سے اس کے احکام میں کوئی کمی بیشی نہ کریں۔یہی فرمانبرداری وہ چیزہے جس سے اللہ تعالیٰ آپ پر خوش ہوتاہے۔ اسی لیے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا کہ لوگ بھلائی پررہیں گے جب تک کہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے افطار کا جو وقت مقرر کردیاہے اسی پر افطار کرنا اس کو محبوب ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہ بْنُ یُوْسُفَ انا مَالِکٌ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قال:لاَیَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَاعَجَّلُوا الْفِطْرَ۔(۳)
روزہ کھولنے کا صحیح وقت
۲۹۔ عَنْ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :اِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ مِنْ ھٰھُنَا وَاَدْبَرَ النَّھَارُ مِنْ ھٰھُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائمُ ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رات اس طرف سے آنی شروع ہو اور دن اس طرف سے پلٹنا شروع ہواور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا۔ ‘‘
تشریح: یعنی مشرق کی طرف سے اگر رات کی تاریکی بلند ہونی شروع ہوجائے اور معلوم ہوکہ تاریکی اُبھرتی چلی آرہی ہے اور دوسری طرف مغرب کی جانب سورج غروب ہوچکاہو اور دن پلٹ رہاہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ روزہ کھولنے کا وقت ہوگیاہے اور آپ کو فوراً روزہ کھول لینا چاہیے۔
اگر روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا ہو اور اس کے بعد آپ سوچ رہے ہوں کہ روزہ کھولیں یا نہ کھولیں تو یہ بات غلط اور شریعت کی روح کے منافی ہے۔ افطار کا وقت ہوتے ہی بلاتاخیر روزہ کھولنا چاہیے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَاالْحُمَیْدِیُّ، ثَنَا سُفْیَانُ،ثَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ عَاصِمَ ابْنَ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ مِنْ ھٰھُنَا واَدْبَرَ النَّھَارُ مِنْ ھٰھُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ۔(۴)
مسلم میں ہے:
(۲) اِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ وَاَدْبَرَ النَّھَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ۔(۵)
ترجمہ:جب رات آجائے اور دن پلٹ جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا۔
مسلم کے راوی ابن نمیر نے فَقَدْ کا ذکر بھی نہیں کیا۔
ترمذی میں منقول الفاظ:
(۳) اِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ وَاَدْبَرَ النَّھَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرْتَ۔
ترجمہ :جب رات آجائے اور دن پلٹ جائے اور سورج غروب ہوجائے تو تیرے روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا۔
قال ابوعیسی حدیث عمر حدیث حسن صحیح۔
(۴) عَنْ اَبِیْ عَطِیَّۃَ، قَالَ: دَخَلْتُ اَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلٰی عَائِشَۃَ، فَقَالَ لَھَا: مَسْرُوْقٌ : رَجُلاَنِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ کِلاَھُمَا لاَیَأْلُوْا عَنِ الْخَیْرِ اَحَدُھُمَا یُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ وَالْآخَرُ یُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْاَفْطَارَ، فَقَالَتْ: مَنْ یُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ فَقَالَتْ ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصْنَعُ۔(۶)
ترجمہ: ابوعطیّہ سے روایت ہے کہ میں او ر مسروق دونوں حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضرہوئے۔ مسروق نے ان سے دوصحابہؓ رسولؐ کا ذکرکیا کہ دونوں ہی بھلائی کی طلب میں کمی کرنے والے نہیں ہیں۔ تاہم ان میں سے ایک صاحب ہیں جو مغرب کی نماز اور روزہ کے افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور دوسرے صاحب ہیں جونمازِ مغرب اور افطار ی میں تاخیر کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے مسروق سے پوچھا کہ مغرب کی نماز اور افطار میں جلدی کرنے والے کون ہیں؟ مسروق نے کہا عبداللہؓ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺکا یہی معمول تھا۔
عبداللہ بن ابی اوفیٰ کی روایت سے عملی شہادت:
(۵)حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا اَبُوْبَکْرٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ اَوْفٰی، قَالَ :کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّﷺ فِیْ سَفْرٍ فَصَامَ حَتّٰی اَمْسٰی قَالَ لِرَجُلٍ: اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لِیْ قَالَ: لَوِانْتَظَرْتَ حَتّٰی تُمْسِیَ قَالَ: اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لِیْ اِذَا رَأَیْتَ اللَّیْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ ھٰھُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ۔(۷)
ترجمہ:حضرت ابن ابی اوفیٰ کا بیان ہے کہ میں کسی سفر میں نبی ﷺکے ساتھ تھا۔ آپؐ روزہ سے تھے۔ شام ہونے کو آئی تو آپؐ نے ایک آدمی سے فرمایا نیچے اتر کر دودھ میں ستو گھول کر افطاری کا انتطام کرو اس نے عرض کیا حضورؐ آپؐ شام ہونے کا انتظار توفرمالیں آپؐ نے فرمایا نیچے اترو اور دودھ میں ستو گھول کر افطاری کا بندوبست کرو۔ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف سے آگئی ہے تو روزہ دار کے روزہ افطار کرنے کا وقت ہوگیا۔
زوائد ابن حبان نے سہل بن سعد سے روایت نقل کی ہے:
(۶) عن سھلِ بن سعدٍ، قالَ قالَ رسول اللّٰہﷺ لاَتزال اُمّتی علی سنّتی مَالَم تَنْتَظر بِفِطْرھَا النجومَ۔(۸)
صومِ وصال رکھنا جائز نہیں
۳۰۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ فِی الصَّوْمِ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ اِنَّکَ تُوَاصِلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ وَاَیُّکُمْ مِثْلِیْ اِنِّیْ اَبِیْتُ وَیُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہؓ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے وصالِ صوم سے منع فرمایا ہے۔ اس پر ایک شخص نے حضورؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ! آپؐ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا: تم میں سے کون میرے مانند ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتاہے اورپلاتاہے۔ ‘‘
تشریح: اس حدیث میں ایک بڑا اہم مسئلہ بیان ہوا ہے۔ اہلِ کتاب میں روزہ رکھنے کے جو مختلف طریقے رائج تھے ان میں سے ایک صومِ وصال کا طریقہ تھا۔ اس کی بھی مختلف شکلیں تھیں۔ ایک شکل یہ تھی کہ ایک شخص فرض روزوں کے ماسوا نفلی روزے اس طریقے سے رکھے کہ بغیر وقفہ کیے مسلسل مہینے مہینے، دو دو مہینے کے روزے رکھتا چلاجائے۔ اہلِ کتاب میں سے بعض لوگ ایسا کرتے تھے اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہوتے تھے جو اَبَدًا صومِ وصال رکھتے تھے ــــیعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کردہ روزوں کے علاوہ باقی دنوں میں بھی وہ روزہ دار ہی رہتے تھے۔ صومِ وصال کی دوسری شکل یہ تھی کہ ایک شخص ایک سحری کھاکر دوسری سحری تک مسلسل روزہ رکھے اور درمیان میں افطار نہ کرے۔ بلکہ بعض اوقات مسلسل دو دو، تین تین دن کا روزہ رکھے۔ اہلِ کتاب میں صومِ وصال کی یہ دونوں شکلیں رائج تھیں ــــ رسول اللہ ﷺنے اہلِ اسلام کو روزے کے اس طریقے یعنی وصال فی الصوم سے منع فرمایا کیونکہ یہ اہلِ کتاب کا طریقہ تھا ــــالبتہ اس جگہ یہ معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جب یہ عرض کیا گیا کہ آپؐ بھی تو صومِ وصال رکھتے ہیں تو وہاں حضورؐ کے صومِ وصال سے کیا مراد تھی ــــآیا آپؐ ایک سحری سے دوسری سحری تک کا روزہ رکھتے تھے یا طویل عرصے تک مسلسل روزے رکھتے تھے۔ اغلب یہ ہے کہ حضورؐ ایک سحری سے دوسری سحری تک کا روزہ نہیں رکھتے تھے بلکہ مسلسل نفل روزے رکھتے تھے۔ تاہم کبھی ایسا ہوتاتھا کہ آپؐ ایک مدت تک روزہ نہیں بھی رکھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کا خود صومِ وصال رکھنا آپؐ کی ان خصوصیات میں سے ہے جن کی تقلید دوسرے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں، کیونکہ حضورؐ نے خود اس بات کی وضاحت فرمادی کہ تم میں سے کوئی میرے جیسا نہیں ہے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، انا شُعَیْبٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ فِی الصَّوْمِ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَاَیُّکُمْ مِثْلِیْ اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِ فَلَمَّا اَبَوْا اَنْ یَّنْتَھُوْا عَنِ الْوِصَالِ۔ وَاصَلَ بِھِمْ یَوْمًا ثُمَّ یَوْمًا ثُمَّ رَاَوُا الْھِلاَلَ فَقَالَ: لَوْتَأَخَّرَ لَزِدْتُکُمْ کَالْتَنْکِیْلِ لَھُمْ حِیْنَ اَبَوْا اَنْ یَّنْتَھُوْا۔(۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے وصال فی الصوم سے منع فرمایاہے۔ اس پر مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپؐ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں۔ حضور ؐنے فرمایا: تم میں سے کون میرے مانند ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتاہے۔ پھر بھی لوگ وصال فی الصوم سے باز نہ آئے تو آپؐ نے انہیں ایک دن پھر دوسرے دن صومِ وصال رکھوایا۔ پھر لوگوں نے چاند دیکھ لیا تو آپؐ نے فرمایا: اگر ہلال تاخیر سے نظر آتا تو میں ان کے انکار کی وجہ سے وصال فی الصوم میں انہیں بہ سبیلِ عبرت آموزی مزید اضافہ کرتا۔
امام بخاریؒ نے اورصحابہؓ سے چند روایات مختلف الفاظ میں روایت کی ہیں:
حضرت انسؓ کی روایت :
(۲) عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: لاَتُوَاصِلُوْا، قَالُوْا: اِنَّکَ تُوَاصِلُ، قَالَ: لَسْتُ کَاَحَدٍ مِّنْکُمْ، اِنِّیْ اُطْعَمُ وَاُسْقٰی اَوْ اِنِّیْ اَبِیْتُ اُطْعَمُ وَاُسْقٰی۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت انسؓ نے نبی ﷺسے روایت بیان کی ہے، حضورؐ نے فرمایا: ’’وصال فی الصوم نہ کرو‘‘ صحابہؓ نے عرض کی آپؐ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو میرے مانند ہے؟ مجھے تو کھلایا پلایا جاتاہے یا میں تو رات ایسے حال میں گزارتاہوں کہ کھلایاپلایا جاتاہوں۔
حضرت عبد اللہؓ بن عمر کی روایت:
(۳) قَالَ نھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوْا: اِنَّکَ تُوَاصِلُ، قَالَ: اِنِّیْ لَسْتُ مِثْلَکُمْ اِنِّی اُطْعَمُ وَاُسْقٰی۔(۱۱)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے وصال فی الصوم سے منع فرمایا ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا آپؐ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں، حضورؐ نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے کھلایا پلایا جاتاہے۔
حضرت ابو سعیدؓ خدری کی روایت:
(۴) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: لاَتُوَاصِلُوْا فَاَیُّکُمْ اِذَا اَرَادَ اَنْ یُوَاصِلَ فَلْیُوَاصِلْ حَتَّی السَّحَرِ قَالُوْا: فَاِنَّکَ تُوَاصِلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: اِنِّیْ لَسْتُ کَھَیْئَتِکُمْ اِنِّیْ اَبِیْتُ لِیْ مُطْعِمٌ یُطْعِمُنِیْ وَسَاقٍ یَسْقِیْنِ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت ابوسعیدؓخدری سے روایت ہے انہوںنے نبی ﷺکو یہ فرماتے سنا کہ تم وصال فی الصوم نہ کرو، اگر تم میں سے کوئی وصال کرنا چاہتاہے تو پھر اسے سحر تک کرنا چاہیے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! آپؐ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں۔ میں تو رات ایسے حال میں گزارتاہوں کہ مجھے کھلانے والا کھلاتاہے اور پلانے والا پلاتاہے۔
حضرت عائشہؓ کی روایت :
(۵) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَۃً لَّھُمْ فَقَالُوْا اِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ: اِنِّیْ لَسْتُ کَھَیْئَتِکُمْ اِنِّیْ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے لوگوں پر شفقت کے نقطۂ نظر سے وصال فی الصوم سے منع فرمادیا تو صحابہؓ عرض کرنے لگے آپؐ بھی تو وصال فی الصوم فرماتے ہیں ۔ فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتاپلاتاہے۔
مسلم نے حضرت انسؓ سے ایک روایت بیان کی ہے :
(۶) عَنْ اَنَسٍ قَالَ وَاصَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ اَوَّلِ شَھْرِ رَمَضَانَ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَبَلَغَہٗ ذٰلِکَ فَقَالَ: لَوْمَدَّ لَنَا الشَّھْرُلَوَاصَلْنَاوِصَالاً یَدَعُ الْمُتَعَمِّقُوْنَ تَعَمُّقِھِمْ اِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِیْ اَوْ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ مِثْلَکُمْ اِنِّیْ اَظَلُّ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِینِیْ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے رمضان کے مہینے کے آغاز میں وصال فی الصوم فرمایا تو صحابہؓ میں سے بھی کچھ حضرات نے وصال شروع کردیا۔اس کا آپؐ کو بھی علم ہوگیا تو ارشاد فرمایا کہ کاش ماہ کی مدت درازہوتی تو ہم ایسا وصال فی الصوم کرتے کہ اس میں بہ تکلّف دلچسپی لینے والے اسے چھوڑ بیٹھتے۔ تم میری مانند نہیں ہوسکتے یا فرمایا کہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے تو میرا رب کھلاتا اور پلاتاہے۔
روزے کی نیت کرنا ضروری ہے
۳۱۔ عَنْ حَفْصَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ لَّمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِیَامَ لَہٗ۔
(ترمذی، ابوداؤد، نسائی، دارمی)
’’ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص نے فجر سے پہلے روزہ رکھنے کا فیصلہ نہ کرلیا اس کا کوئی روزہ نہیں۔ ‘‘
تشریح: اس ارشاد سے مقصود یہ ہے کہ جب آپ کسی عبادت کا آغاز کرنے لگیں تو اس وقت یہ نیت کریں کہ میں یہ عبادت اللہ کے لیے کررہاہوں۔ یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی کہ آدمی کھاتا پیتا تو فاقے میں بھی نہیں لیکن جو چیز روزے اور فاقے میں فرق کرتی ہے وہ یہ ہے کہ روزہ رکھتے وقت آپ اس بات کی نیت کرتے ہیں کہ میں اس وقت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طور پر کھانا پینا ترک کررہاہوں۔ اگر آپ نے یہ نیت نہ کی تو بظاہر روزے اور فاقے میں کوئی فرق نہ رہا۔
روزے کا آغاز چونکہ فجر سے ہوتاہے اس لیے نبی ﷺنے فرمایا کہ فجر کے وقت سے پہلے یہ عزم کرلو کہ تم اللہ کے لیے روزہ رکھ رہے ہو۔ اگر ایسا نہ کروگے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے روزے اور فاقے میں کوئی امتیاز قائم نہیں کیا ۔
تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اگر ایک آدمی فجر سے پہلے روزے کی نیت کرنا بھول گیا تو اس کا روزہ ہی ساقط ہوگیا اور اسے بعد میں اس کی قضا ادا کرناہوگی۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ اگر آپ روزہ رکھتے وقت یہ نیت کرنی بھول گئے ہوں تو جس وقت آپ کو یاد آئے اسی وقت روزے کی نیت کرلیں، ورنہ یہ بات اپنی جگہ پر تو واضح ہے کہ آپ کی نیت روزے کی موجود ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب آپ سحری کے لیے اٹھے تھے تو یہ سمجھتے ہوئے ہی تو اٹھے تھے کہ آپ کو روزہ رکھناہے۔ اس لیے اگر روزہ رکھتے وقت آپ یہ الفاظ زبان سے ادا نہیں کرسکے کہ میں آج اللہ کے لیے روزہ رکھ رہاہوں یا دل میں اس کا خیال عین آغازِ صوم کے وقت نہیں آیا تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوجاتا ــــالبتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شریعت میں چونکہ اصل اہمیت نیت کو حاصل ہے اور اعمال کی قدرو قیمت بھی نیت ہی کی بنا پر متعین ہوتی ہے اس لیے شریعت کی نظر میں ایک فعل کو دوسرے فعل سے ممتاز کرنے والی چیز آدمی کی نیت ہے۔ اسی وجہ سے ارشاد فرمایا کہ فجر سے پہلے آدمی کو چاہیے کہ وہ بالارادہ اس بات کی نیت کرے کہ میں آج روزہ رکھ رہاہوں۔ ورنہ اس کے بغیر محض ظاہری فعل کی حد تک روزے اور فاقے میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِی ابْن لَھْیَعَۃَ وَیَحْيَ بْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:مَنْ لَّمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَصِیَام لَہٗ۔
قال ابوداؤد: رواہ اللیث واسحق بن حازم ایضاً جمیعاً عن عبد اللّٰہ بن ابی بکر مثلہ ووقفہ علی حفصۃ معمر والزبیدی وابن عیینۃ ویونس الأیلی (کلھم عن الزھری)(۱۵)
الفاظ یہ ہیں:
(۲) مَنْ لَّمْ یُبَیِّتِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَصِیَامَ لَہٗ۔
ترجمہ :جس شخص نے فجر سے پہلے راتوں رات روزہ رکھنے کا فیصلہ نہ کیا اس کا کوئی روزہ نہیں۔
قال عبد اللّٰہ: فی فرض الواجب اقول بہ۔(۱۶)
امام ترمذی نے اس روایت کو ان الفاظ میں روایت کیاہے:
(۳) عَنْ حَفْصَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ لَّمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَصِیَامَ لَہٗ۔
قال ابوعیسیٰ: حدیث حفصۃ حدیث لانعرفہ مرفوعاً الا من ھٰذا الوجہ۔
وقد روی عن نافع عن بن عمر قولہ وھو اصح وانما معنی ھذا عند بعض اھل العلم لاَصِیَامَ لِمَنْ لَّمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ فِیْ رَمَضَانَ اَوْ فِیْ قَضَائِ رَمَضَانَ اَوْفِیْ صِیَامِ نَذْرٍ اِذَا لَمْ یَنْوِہٖ مِنَ اللَّیْلِ لَمْ یَجُزْہُ وَاَمَّا صِیَامُ التَّطَوُّعِ فَمُبَاحٌ لَہٗ اَنْ یَّنْوِیَہٗ بَعْدَ مَا اَصْبَحَ۔ وھوقول الشافعی واحمد واسحاق۔(۱۷)
ترجمہ : امام ترمذی فرماتے ہیں کہ بعض اہلِ علم حضرات کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے ماہِ صیام میں، قضاء رمضان میں، یا نذر کے روزوں کے بارے میں طلوعِ فجر سے پہلے فیصلہ نہ کیا اس کا کوئی روزہ نہیں یعنی جب اس نے رات کو اس کی نیت نہ کی تو پھر اس کا روزہ جائز نہ ہوگا۔ رہا نفلی روزے کی نیت کا معاملہ تو وہ صبح کے نمودار ہونے کے بعد بھی جائز ہے۔ یہی قول امام شافعی ،احمد اور اسحاق کا بھی ہے۔
ابن ماجہ نے لاَ صِیَامَ لِمَنْ لَّمْ یَفْرِضْہُ مِنَ اللَّیْلِ(کوئی روزہ نہیں اس شخص کا جس نے رات میں اس کی فرضیت کا فیصلہ نہ کیا۔ یعنی اس کی نیت نہ کی) روایت کیاہے۔
سحری کے وقت میں گنجایش ہوتی ہے
۳۲۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا سَمِعَ النِّدَائَ اَحَدُکُمْ وَالْاِنَائُ فِیْ یَدِہٖ فَلاَیَضَعْہٗ حَتّٰی یَقْضِیَ حَاجَتَہٗ مِنْہُ۔ (ابوداؤد)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اذان کی آواز سُنے اور اس وقت برتن ابھی اس کے ہاتھ میں ہوتو وہ اس برتن کو اپنے ہاتھ سے نہ رکھے جب تک کہ اپنی حاجت اس سے پوری نہ کرلے۔‘‘
تشریح: یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں سحری کے وقت نقّارے اور سائرن نہیں بجتے تھے بلکہ لوگوں کو اذان کے ذریعے سے یہ معلوم ہوتاتھا کہ سحری کا وقت ختم ہوگیاہے۔ کبھی ایسا ہوتاتھا کہ گرمی کا زمانہ ہے اور لوگ باہر کھلی جگہ میں سورہے ہیں تو اس حالت میں ہرشخص خودیہ دیکھ سکتاتھاکہ روزہ شروع ہونے کا وقت ہوگیاہے یا نہیں ــــاور کبھی ایسا ہوتاتھا کہ بارش اور جاڑے کا زمانہ ہے اور لوگ گھروں کے اندر سحری کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں عملاً یہ ممکن نہ تھا کہ سب لوگ باہر نکل نکل کر دیکھیں کہ سحری کاوقت ختم ہوگیاہے یا نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ جب سحری کے وقت اذان کی آواز تمہارے کان میں پڑے اور صورت یہ ہوکہ ایک آدمی پانی پی رہاہے اور اس کے ہاتھ میں برتن ہے تو ضروری نہیں کہ اللہ اکبر کی آواز سنتے ہی وہ اسے رکھ دے بلکہ اسے اجازت ہے کہ وہ اس میں سے اپنی ضرورت پوری کرلے۔
قرآن مجید اور احادیث میں سحری کے خاتمے کے وقت کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس سے یہ معلوم ہوتاہے، اور عام مشاہدہ بھی اس پر دلالت کرتاہے کہ وہ سیکنڈوں کے حساب سے نہیں ہے کہ ایک سیکنڈ ادھر تو سحری کا وقت ہو اور ایک سیکنڈ اُدھر جاتے ہی سحری کا وقت ختم ہوجائے ۔ ختم سحراور طلوعِ فجر دراصل ایک بڑا مظہرِ فطرت ہے جسے آدمی مشرق کی طرف دیکھتاہے۔ مشرق سے سپیدی ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ آغاز میں ایک ہلکی سی دھاری نمودار ہوتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اب گویا فجر کا آغاز ہورہاہے اور رات ختم ہورہی ہے۔ اس سے ظاہرہے کہ طلوعِ فجر (DAWN)کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو سیکنڈوں کے حساب سے ہو بلکہ وداعِ شب اور طلوعِ فجر میں چند منٹ کا فرق ضرور ہوتاہے۔ چنانچہ جب آدمی اذان کی آواز سنتاہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ اس سے ایک سیکنڈ پہلے تک تو سحری کا وقت تھا لیکن مؤذّن کی زبان سے اللہ کا لفظ نکلتے ہی یہ وقت ختم ہوگیا۔ اس طرح کی موشگافیاں کرنادرست نہیں۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اگر اتفاق سے کبھی ایسا ہوکہ آپ سوتے رہ گئے اور آنکھ کھلنے پر آپ نے ابھی چند لقمے ہی لیے تھے کہ سائرن بج گیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ فوراً ہاتھ روک لیں یا برتن اپنے منہ سے ہٹالیں بلکہ جلدی جلدی تھوڑا بہت جو کچھ بھی آپ کھاپی سکتے ہیں آپ کو کھالینا چاہیے۔
اس حدیث میں یہی بات فرمائی گئی ہے کہ جب تم اذان کی آواز سنو یا سحری کے خاتمے کا کوئی دوسرا اعلان ہورہاہو اور اس وقت تمہارے ہاتھ میں کوئی برتن ہوتو اسے رکھ مت دو بلکہ اس سے اپنی حاجت پوری کرلو۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی اس اجازت سے فائدہ اٹھاکر اطمینان سے بیٹھا کھاتا پیتا رہے بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ جلدی سے اپنی ضرورت پوری کرلینی چاہیے۔
آج کل لوگ سحری اور افطار دونوں کے معاملے میں شدتِ احتیاط کی بنا پرکچھ بے جا تشدد برتنے لگے ہیں مگر شریعت نے ان دونوں اوقات کی کوئی ایسی حد بندی نہیں کی ہے جس سے چند سیکنڈ یا چند منٹ ادھر ادھر ہوجانے سے آدمی کا روزہ خراب ہوجاتا ہو۔ سحرمیں سیاہیٔ شب سے سپیدۂ سحر کا نمودار ہونا اچھی خاصی گنجایش اپنے اندر رکھتاہے اور ایک شخص کے لیے یہ بالکل صحیح ہے کہ اگرعین طلوعِ فجر کے وقت اس کی آنکھ کھلی ہوتو وہ جلدی سے اُٹھ کر کھاپی لے۔
سحر اور افطارکی صحیح علامت یہ ہے کہ جب رات کے آخری حصّہ میں افق کے مشرقی کنارے پر سفیدۂ صبح کی باریک سی دھاری نمودار ہوکر اوپر بڑھنے لگے تو سحری کا وقت ختم ہوجاتاہے اور جب دن کے آخری حصے میں مشرق کی جانب سے رات کی سیاہی بلند ہوتی نظر آئے تو افطار کا وقت آجاتاہے۔ (تفہیم القرآن ج۱، البقرہ، حاشیہ :۱۹۴)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَبْدُ الْاَعْلٰی بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا سَمِعَ اَحَدُکُمُ النِّدَآئَ وَالْاِنَائُ عَلٰی یَدِہٖ فَلاَیَضَعْہُ حَتّٰی یَقْضِیَ حَاجَتَہٗ مِنْہُ۔ (۱۸)
(۲)حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا ھِشَامٌ، ثَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ اَنَسٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِیِﷺ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ، قُلْتُ: کَمْ کَانَ بَیْنَ الْاَذَانِ وَالسُّحُوْرِ، قَالَ: قَدْرُ خَمْسِیْنَ اٰیَۃً۔ (۱۹)
ترجمہ : حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ سحری کا کھانا کھایا۔ پھر آپ نمازکی طرف تشریف لے گئے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے زید سے پوچھا کہ اذان اور سحری کے مابین کتنا وقفہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پچاس آیات جتنی دیر میں پڑھی جاسکتی ہیں۔
وبہ یقول الشافعی واحمد واسحاق استحبوا تاخیر السحور۔(۲۰)
ترجمہ : امام شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق سحری کو تاخیر سے کھانے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔
اتیس بن طلق عن ابیہ:
(۳) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَیَھِیْدَنَّکُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ۔ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَعْتَرِضَ لَکُمُ الْاَحْمَرُ۔(۲۱)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے کھاؤ پیو، بلند ہونے اور اوپر اٹھنے والی دھاری تمہیں پریشان ومضطرب نہ کرے جب تک سرخ پھیلی ہوئی دھاری نمودارنہ ہو اس وقت تک کھاؤ پیو۔
قال ابوعیسیٰ حدیث طلق بن علی حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ العمل علیٰ ھذا عند اھل العلم انہ لاَ یحرم علی الصائم الاکل والشرب حتی یکون الفجر الاحمر المعترض وبہ یقول عامۃ اھل العلم۔
ترجمہ : اہلِ علم حضرات کا تعامل یہی ہے کہ روزہ دار پر اس وقت تک کھانا پینا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ سرخ دھاری افق پر پھیل نہ جائے۔
افطار میں جلدی کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں
۳۳۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَحَبُّ عِبَادِیْ اِلَیَّ اَعْجَلُھُمْ فِطْرًا۔ (ترمذی)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ فرماتاہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سے سب سے زیادہ پسندوہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مُوْسٰی الْاَنْصَارِیُّ، نَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ، عَنْ قُرَّۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَحَبُّ عِبَادِیْ اِلَیَّ اَعْجَلُھُمْ فِطْرًا۔ (۲۲)
قال ابوعیسیٰ ھذا حدیث حسن غریب
افطار کے لیے افضل چیزیں
۳۴۔ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُکُمْ فَلْیُفْطِرْ عَلٰی تَمْرٍ فَاِنَّہٗ بَرَکَۃٌ، فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَلْیُفْطِرْ عَلٰی مَائٍ فَاِنَّہٗ طَھُوْرٌ۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)
’’حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص افطار کرے تو اُسے چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور اگر کھجور نہ پائے تو اسے چاہیے کہ وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے۔ ‘‘
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَا وَکِیْعٌ، نَاسُفْیَانُ عَنْ عَاصِمِ نِ الْاَحْوَلَ ح وثَنَا ھَنَّادٌ، نَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ، عَنْ عَاصِمِ نِ الْاَحْوَلَ، عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ سِیْرِیْنَ، عَنِ الْرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرِ نِالضَّبِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُکُمْ فَلْیُفْطِرْ عَلٰی تَمْرٍ فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَلْیُفْطِرْ عَلٰی مَآئٍ فَاِنَّہٗ طَھُوْرٌ۔(۲۳)
قَالَ اَبُوْعِیْسٰی ھٰذا حدیث حسن صحیح۔
(۲) اِذَاکَانَ اَحَدُکُمْ صَائِمًا فَلْیُفْطِرْ عَلَی التَّمْرِ فَاِنْ لَّمْ یَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَی الْمَآئِ فَاِنَّ الْمَآئَ طَھُوْرٌ۔
ترجمہ : جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے۔
فَاِنَّہ بَرَکَۃٌ کے الفاظ صاحبِ مشکوٰۃ نے کتاب الصوم فصل ثانی کے تحت بیان کردہ روایت میں ولم یذکر ’’فانہ برکۃ‘‘ غیرالترمذی نقل کیا ہے۔ مجھے ترمذی میں یہ الفاظ نہیں ملے۔ (مرتب)
۳۵۔ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُفْطِرُ قَبْلَ اَنْ یُّصَلِّیَ عَلٰی رُطَبَاتٍ، فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَیْرَاتٌ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تُمَیْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَّآئٍ۔ (ترمذی، ابوداؤد)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺکا قاعدہ یہ تھا کہ آپؐ (مغرب کی) نماز پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ کھولتے۔ اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو چھوہاروں سے افطار کرتے اور اگرچھوہارے بھی نہ ملتے تو چند گھونٹ پانی کے نوش فرماتے۔ ‘‘
تشریح: رسول اللہ ﷺکا قاعدہ یہ تھا کہ آپؐپہلے روزہ افطار کرتے تھے اور پھر نماز پڑھتے تھے۔ افطار میں آپ کا دستور یہ تھا کہ آپ تازہ کھجور سے افطار کرتے(تازہ کھجور سے یہ مراد نہیں کہ ابھی درخت سے اُتری ہو بلکہ وہ کھجور مراد ہے جو خشک نہ ہو یعنی ترکھجور، جیسے ہم یہاں کھجور کا استعمال کرتے ہیں) ــــاگر کھجور نہ ملتی تو پھر آپ چھوہاروں سے روزہ کھولتے تھے اور اگر کبھی اتفاق سے وہ بھی نہ ہوتے تو پانی کے ایک دوگھونٹ پی کر روزہ افطار فرماتے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُفْطِرُ قَبْلَ اَنْ یُّصَلِّیْ عَلٰی رُطَبَاتٍ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَیْرَاتٌ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تُمَیْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَّآئٍ۔(۲۴)
قال ابوعیسیٰ ھذا حدیث حسن غریب۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، ثَنَا ثَابِتُ البَنَانِیُّ اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ :کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُفْطِرُ عَلٰی رُطَبَاتٍ قَبْلَ اَنْ یُّصَلِّیَ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ (رُطَبَاتٌ) فَعَلٰی تَمْرَاتٍ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ حَسَاحَسَوَاتٍ مِنْ مَّآئٍ۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکا معمول تھا کہ آپؐ نمازِ مغرب سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو پھر خشک کھجوریں یعنی چھوہاروں سے افطار فرماتے۔ پھر اگر چھوہارے بھی نہ ملتے تو پانی کے چند گھونٹ پی کر افطار فرماتے۔
مسند احمد ج۴ص ۱۹اور ۲۱۵ پر ہے:
(۳) مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْیُفْطِرْ عَلَیْہِ فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَلْیُفْطِرْ عَلَی الْمَآئِ۔
ترجمہ : جسے چھوہارہ میسر ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے افطار کرے ۔ اگر چھوہارہ نہ پائے تو پھر اسے چاہیے کہ پانی سے افطار کرے۔
روزہ افطار کرانے والے کا اجر
۳۶۔ عَنْ زَیْدِبْنِ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا اَوْجَھَّزَ غَازِیًا فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ۔ (بیہقی،محی السنّہ)
’’حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے یا کسی غازی کے لیے سامان (جہاد) فراہم کرکے دے تو اس کو ویسا ہی اجر ملے گا جیسا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا اور غازی کو جہاد کرنے کا ملے گا۔‘‘
تشریح: شریعت کی رُوسے نیکی کرنے والے کے لیے تو اس کی نیکی کا اَجر ہے ہی لیکن جو اس کو نیکی کے ذرائع فراہم کرکے دے اس کے لیے بھی اجر ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کسی کو نیکی کرنے کے لیے کہے تو اس کے لیے بھی اجر ہے۔ حدیث میں آیاہے کہ اَلدَّالُ عَلَی الْخَیْرِکَفَاعِلِہٖ (نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کے مانند ہے) ۔
پھرایسا بھی نہیں ہے کہ نیکی کرنے والے کے اَجر میں سے کوئی حصّہ لے کر اس شخص کو دے دیا جائے گا جس نے نیکی کے ذرائع اور وسائل بہم پہنچائے تھے بلکہ نیکی کرنے والے کو اس کا پورا اجر ملے گا اور اس نیکی کے لیے سفارش کرنے والے اور اس میں مددگار بننے والے کو اپنا اپنا اَجر ملے گا۔
کسی روزہ دار کا روزہ کھلوادینا بظاہر معمولی سی بات ہے لیکن اس کا جو اجر ارشاد فرمایا گیا وہ کہیں بڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محض نیکی کی طرف رغبت دلانا بھی اللہ تعالیٰ کی نظر میں بڑا محبوب فعل ہے کیونکہ اس سے نیکیوں کے پھیلنے میں مدد ملتی ہے اور انسانی خیروفلاح کا وہ کام انجام پاتاہے جو دین کا مقصودہے۔
تخریج(۱): اَخْبَرَنَا اَبُوعَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ وَاَبُوْبَکْرٍ اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِیُّ وَاَبُوزَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ اِسْحَاقَ قَالُوْا ثَنَا اَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَیَّاشِ الرَّمَلِیُّ، ثَنَا مَؤَمَّلُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِ نِ الْجُھَنِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: قَالَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا اَوْجَھَّزَ غَازِیًا فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ۔(۲۶)
دارمی کتاب الصوم اور ترمذی ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل من فَطَّرَ صَائمًا نے بیہقی والی روایت کا پہلا حصہ لیاہے۔
بیہقی نے اور مسند احمد نے اسی راوی سے ایک اور حدیث نقل کی ہے:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرٍ مَنْ عَمِلَہٗ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا وَمَنْ جَھَّزَ غَاِزیًا اَوْ خَلَفَہٗ فِیْ اَھْلِہٖ کَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَیْئًا۔(۲۷)
ترجمہ :رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے جس کسی نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اُسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی کی جائے اور جس نے کسی غازی کے لیے سامانِ جہاد فراہم کرکے دیا یا اس کے اہل وعیال کی دیکھ بھال کا اہتمام کیا تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا غازی کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس غازی کے اجر میں کسی قسم کی کمی کی جائے۔
افطار کرانے کا ثواب
۳۶۔ مَنْ فَطَّرَ فِیْہِ صَائِمًا کَانَ لَہٗ مَغْفِرَۃٌ لِذُنُوبِہٖ وَعِتْقُ رَقَبَتِہٖ مِنَ النَّارِ وَکَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْتَقِصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَییئٌ ۔ بیھقی فی شعب الایمان بحوالہ مشکوۃ کتاب الصوم فصل ثالث عن سلمان فارسی۔
’’جس نے رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے گناہوں کی بخشش کا اور اس کی گردن کو آگ سے چھڑانے کا ذریعہ ہوگا۔ اور اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔‘‘
(خطبات ،روزہ: افطار کرانے کا۔۔۔)
افطار کے وقت کی مسنون دعائیں
۳۷۔عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ۔ (ابوداؤد)
’’ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺکا یہ قاعدہ تھا کہ جب آپؐ روزہ افطار کرتے تو فرماتے کہ تشنگی دُور ہوگئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا اگر اللہ چاہے۔ ‘‘
تشریح: روزہ کھولتے وقت جو مختلف دعائیں رسول اللہ ﷺسے منقول ہیں ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے ۔ یعنی حضورؐ روزہ کھولتے وقت یہ الفاظ ادا فرمایا کرتے تھے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْيٰ (اَبُوْمُحَمَّد) ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ، اَخْبَرَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثَنَا مَرْوَانُ یَعْنِی بْنَ سَالِمٍ الْمُقَنَّعُ، قَالَ: رَأَیْتُ بْنَ عُمَرَ یَقْبِضُ عَلٰی لِحْیَتِہٖ فَیَقْطَعُ مَازَادَ عَلَی الْکَفِّ وَقَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: ذَھَبَ الظَّمْأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ۔(۲۸)
۳۸۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُھْرَۃَ، قَالَ:اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔ (رواہ ابوداؤد مرسلا)
’’حضرت معاذ بن زہرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺجب روزہ افطار کرتے تھے تو فرماتے تھے: اے اللہ! تیرے ہی لیے میں نے روزہ رکھا، اور تیرے ہی رزق پر میں نے افطار کیا۔‘‘
تشریح: اگر ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ کوئی فریضہ انجام دیتاہے تو اس کا یہ فعل بذات خود اپنی ایک قدر و قیمت رکھتاہے اور اس پر وہ اجر کا مستحق ہے لیکن اس فریضے کی انجام دہی کے دوران میں اس کی دو حالتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ غفلت کے ساتھ اسے انجام دے اور دوسری یہ کہ وہ اس کے دوران میں مسلسل اپنے رب کی طرف راغب رہے اور اس کا ذکر کرتارہے۔ ا ن دونوں حالتوں میں اجر اور مقبولیت کے لحاظ سے بڑا فرق ہے۔ ایک شخص کا کسی فریضے کی انجام دہی کے دوران میں اللہ تعالیٰ کی طرف اہتمام کے ساتھ متوجہ رہنا اس کے اجر کو کہیں زیادہ بڑھادیتاہے۔ مثال کے طورپر دیکھیے کہ آپ نماز کے لیے وضو کررہے ہیں اور آپ نے وہ سارے اعضاء ٹھیک ٹھیک دھوئے ہیں جو وضو میں دھونے چاہئیں۔ اس طرح بے شک آپ نماز میں کھڑے ہونے کے قابل ہوگئے۔ لیکن اگر اس وضو کے دوران میں آپ مختلف اعضاء دھونے کے ساتھ اللہ کا ذکر بھی کرتے رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے یہ وضو اللہ سے غفلت کی حالت میں نہیں کیااس لیے آپ کے اس وضو کی قدرو قیمت کچھ اور ہی ہوگئی۔
یہی مثال روزے کی ہے۔ اگر آپ سحری کا وقت ختم ہونے سے لے کر افطار کے وقت تک کچھ کھائیں پئیں نہیں تو آپ کا روزہ مکمل ہوجائے گا۔ لیکن اس روزے کے دوران میں اگر آپ خدا کو یاد بھی کرتے رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اس روزے کے اجر اور قدرو قیمت کو بہت زیادہ بڑھا لیا۔ دوسرے الفاظ میں روزے کے دوران میں غفلت کے ساتھ وقت گزارنے اور اس کے برعکس اللہ کو یاد کرتے ہوئے وقت گزارنے میں اجرو مقبولیت کے لحاظ سے زمین وآسمان کا فرق ہے ــــ پھردیکھیے کہ جب روزہ ختم ہوجاتاہے تو آپ کو حق پہنچتاہے کہ آپ فوراً ایک کھجور یا افطاری کی کوئی چیز اٹھائیں اور کھالیں۔ لیکن افطار کرتے وقت بھی اگر آپ اللہ تعالیٰ کو یاد کررہے ہیں اور اس سے پہلے کہ آپ اپنے منہ میں کوئی چیز رکھیں آپ کہتے ہیں کہ خدایا تیرے ہی لیے میں نے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق پر اسے افطار کررہاہوں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے غفلت کی حالت میں بھوکے پیاسے نہیں رہے اور نہ روزہ افطار کرتے وقت ہی اس کی یاد سے غافل ہوگئے۔ بلکہ ہر لحظہ آپ نے اس کی یاد کو تازہ رکھا۔ اس طرح گویا آپ نے اپنے اس روزے کے اجر کو کئی گُنا بڑھالیا۔
رسول اللہ ﷺکا اپنا طریقہ بھی یہی تھا اور اسی کی آپ نے لوگوں کو تعلیم دی کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت کرتے ہوئے دوسری عبادتیں بھی ساتھ ساتھ شامل ہوجائیں تو خود اس عبادت کی قدرو قیمت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا ھُشَیْمٌ عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُھْرَۃَ اَنَّہٗ بَلَغَہٗ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ: کَانَ اِذَا اَفْطَرَ قَالَ:اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ، وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔(۲۹)
دارقطنی کتاب الصیام ج۲ص۱۸۵پر ہے:
(۲) عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْنَا وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْنَا فَتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
ترجمہ : حضرت ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺافطاری کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: اے اللہ! تیرے ہی لیے ہم نے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق پر ہم نے افطار کیا۔ پس تو ہم سے قبول فرمالے۔ یقینا تو سننے والا جاننے والا ہے۔
افطار میں تاخیر کرنا یہود ونصاریٰ کی روش ہے
۳۹۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:لاَیَزَالُ الدِّیْنُ ظَاھِرًا مَاعَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِاَنَّ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی یُؤَخِّرُوْنَ۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔ ‘‘
تشریح: رسول اللہ ﷺنے اس حدیث میں بظاہر ایک چھوٹی سی بات کے کتنے بڑے نتائج بیان فرمائے ہیں۔ روزہ کھولنے میں تاخیر کرنا اور سحری نہ کھانا اور صومِ وصال رکھنا، یہ سب افعال یہود ونصاریٰ نے اپنا رکھے تھے ــــ یہی چیز تھی جس نے رفتہ رفتہ ان کے اندر رہبانیت پیدا کی اور انہیں زندگی سے فرار کے گوشوں میں پناہ لینے کی طرف راغب کیا۔ لیکن دینِ خداوندی کا منشا اس سے بالکل مختلف ہے۔ اللہ کے دین کا منشا یہ ہے کہ یہ دنیا انسانوں ہی کے لیے پیدا کی گئی ہے اور اس کی لذّتیں اور آسائشیں اور دوسرے سروسامان انسانوں ہی کے لیے ہیں۔ البتہ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان ساری چیزوں کو اللہ کے مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرے اور ان حدود سے سرِ مُو انحراف اور تجاوز نہ کرے ــــ پس ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ شریعت نے اس کو جو سہولت اور گنجایش دی ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے۔ البتہ اس سہولت کی جو حد مقرر کردی گئی ہے اس پر جاکر رک جائے۔ سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد تو یہ پابندی ہے کہ جب تک سورج غروب نہ ہوجائے تم کچھ کھانے پینے کا حق نہیں رکھتے لیکن سورج ڈوبتے ہی تمہیں حق پہنچتاہے کہ کھاؤ پیو۔ اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ روزہ افطار کرنے میں یہود اور نصاریٰ کا تاخیر کرنا دراصل رہبانیت کا ایک شاخسانہ تھا اور اپنے رب سے بدگمانی اس کی جڑتھی۔ ان کا تصوّر یہ تھاکہ ان کا رب اس بات سے خوش ہوتاہے کہ اپنے جسم کو اذیّتوں میں مبتلا کیا جائے لیکن یہاں تصوّر یہ ہے کہ آپ کے رب کو آپ کی اطاعت وفرمانبرداری مطلوب ہے اور اس کو وہ پسند کرتاہے۔ چنانچہ اگر وہ ایک وقت میں پانی جیسی حلال چیز آپ کے لیے حرام کردیتاہے تو آپ کا کام یہ ہے کہ اس کے استعمال سے رک جائیں۔ لیکن جس وقت وہ اسے آپ کے لیے حلال کردیتاہے تو آپ فوراًاس سے فائدہ اٹھائیں۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تک تم یہود اور نصاریٰ کے اس طریقے کے خلاف افطار میں جلدی کرتے رہوگے تمہارا دین غالب اور نمایاں رہے گا، لیکن جس وقت تم نے اس میں تاخیر کرنی شروع کردی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب تم نے دین کی اصل اسپرٹ کو ضائع کردیا، اور اب چلے تم سیدھے رہبانیت کی طرف۔ اس طرح جب تم نے اپنا طریقہ چھوڑکر یہود ونصاریٰ کے طرزِ عمل کو اختیار کرلیا تو اس کے بعد تمہارا دین غالب کیسے رہ سکتاہے۔ ایک مسلمان کا کام تو یہ ہے کہ جس چیز میں یہودونصاریٰ کے اخلاق وعادات اور تہذیب وتمدّن کی تقلید کاشائبہ بھی موجود ہو اس سے کھٹک جائے اور اس سے بچے کیونکہ ان کی تقلید اختیار کرنا خود اپنے دین کو نقصان پہنچاناہے۔ اس کے بعد تمہارا دین اپنی اصل شان کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلے ایک چیز کی تقلید کروگے اور پھر دوسری کی۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ حالت یہ ہوجائے گی کہ تمہارے اندر ایک سچے مسلمان کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا۔ اسی لیے حکم دیا گیا کہ جس مقام سے بگاڑ کا آغاز ہوتاہے وہیں پر رک جاؤ، کیونکہ اگر اس مقام پر نہ رکے تو پھر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤگے ــــ اور اسی بنا پر اتنی بڑی بات فرمائی کہ تمہارا دین غالب اور نمایاں رہے گا اگر تم یہود اور نصاریٰ کی روش کے برعکس افطار کرنے میں جلدی کرتے رہے۔
(۳) حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ یعنی بْنَ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لاَیَزَالُ الدِّیْنُ ظَاھِرًا مَاعَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ ِلأَنَّ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی یُؤَخِّرُوْنَ۔ (۳۰)
ابنِ ماجہ میں اس روایت کے الفاظ:
تخریج(۱): عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَیَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَاعَجَّلُوْا الْفِطْرَ، عَجِّلُوا الْفِطْرَ فَاِنَّ الْیَھُوْدَ یُؤَخِّرُوْنَ۔ (۳۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہ ﷺکا یہ ارشاد بیان کرتے ہیں۔ لوگ اس وقت تک بھلائی اور خیر پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے افطار میں جلدی کیا کرو کیونکہ یہود افطار تاخیرسے کرتے ہیں۔
المستدرک نے ایک روایت سہل بن سعدؓ سے بایں الفاظ نقل کی ہے:
(۲) قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ تَزَالُ اُمَّتِیْ عَلٰی سُنَّتِیْ مَالَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِھَا النُّجُوْمَ۔ وَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَاکَانَ صَائِمًا اَمرَ رَجُلاً فَاَوْفٰی عَلٰی نَشَرٍ فَاِذَا قَالَ قَدْ غَابَتِ الشَّمْسُ اَفْطَرَ۔
ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ الخ۔
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میری امت اس وقت تک میری سنت پر عمل پیرا رہے گی جب تک وہ افطار کے لیے تاروں کے روشن ہونے کا انتظار نہ کرے گی۔ نبی ﷺروزے سے ہوتے تھے تو کسی آدمی کو حکم دیتے کہ وہ اونچی جگہ پر چڑھ کر بیٹھ جائے جب وہ کہتا کہ سورج غروب ہوگیاہے آپؐ روزہ افطار فرمالیتے۔
روزہ کھولنے اور نماز پڑھنے میں جلدی کرنا مسنون ہے
۴۰۔ عَنْ اَبِیْ عَطِیَّۃَ، قَالَ:دَخَلْتُ اَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْنَا: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَجُلاَنِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ اَحَدُھُمَا یُعَجِّلُ الْاِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلوٰۃَ وَالْاٰخَرُ یُؤخِّرُ الْاِفْطَارَوَیُؤَخِّرُ الصَّلوٰۃَ، قَالَتْ اَیُّھُمَا یُعَجِّلُ الْاِفْطَارَوَیُعَجِّلُ الصَّلوٰۃَ، قُلْنَا: عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ مَسْعُوْدٍ، قَالَتْ ھٰکَذَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالْاٰخَرُ اَبُوْمُوْسٰی۔ (مسلم)
’’حضرت ابوعطیہؒ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروقؒ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور ہم نے عرض کیا: اے اُمُّ المومنینؓ! رسول اللہ ﷺکے صحابیوں میں سے دوصاحب ایسے ہیں کہ ان میں سے ایک تو افطار کرنے اور نماز پڑھنے میں جلدی کرتے ہیں اور دوسرے افطار اور نماز دونوں میں تاخیر کرتے ہیں۔ اُمُّ المؤمنین نے دریافت فرمایا کون صاحب ہیں جو افطار اور نماز میں جلدی کرتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا، عبداللہ بن مسعودؓ۔ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺبھی ایسا ہی کرتے تھے ــــ دوسرے صاحب حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ ہیں۔‘‘
تشریح: یہاں پہلے تاخیر اور تعجیل (جلدی کرنے) کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے تعجیل کرنے سے مراد ان کا یہ عمل تھا کہ ِادھر روزہ افطارکرنے کا وقت ہوا اور اُدھر آپ نے روزہ افطار کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، لیکن حضرت ابوموسیٰ اشعری کا طریقہ یہ تھا کہ افطار کا وقت ہوجانے کے بعد قدرے تامّل کرتے تھے کیونکہ افطار کے وقت کا ٹھیک ٹھیک تعیّن ہونے اور اس کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے کچھ توقف کرنے کی گنجایش ہوتی ہے۔ جب آفتاب غروب ہوتاہے تو اس وقت اگر ذراسی کرن بھی نظر آرہی ہو تو آپ اس میں شبہ کرتے ہیں کہ کیا واقعی سورج غروب ہوچکاہے۔ چنانچہ اس بات کا یقین حاصل کرنے کے لیے چند لمحے کا انتظار کیا جاسکتاہے۔
پہلے صاحب یعنی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ توغروبِ آفتاب کے فوراً بعد روزہ کھولتے تھے اور نماز میں بھی جلدی کرتے تھے۔ لیکن حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ روزہ کھولنے میں بھی قدرے تاخیر کرتے تھے اور نماز سے پہلے بھی کچھ دیر ٹھہرتے تھے (اور کچھ نہ کچھ کھاپی لیتے تھے) اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کے روزہ کھولنے کا انتظار کرتے تھے تاکہ وہ بھی اطمینان سے روزہ افطار کرکے نماز میں شریک ہوجائیں۔
اس تعجیل اور تاخیر کے معاملے میں ایک یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں عام لوگوں کے لیے کچھ سہولت اور کچھ دقّت کے پہلو ہیں۔ مثلاً افطار کے بعد مسجد میں نمازجلدی ہونے کی صورت میں دیر سے آنے والوں کو دقت ہوتی ہے، لیکن جو لوگ افطار کے وقت موجود ہوتے ہیں انہیں انتظار کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے۔ تاہم اس معاملے میں حضرت عائشہؓ کے ارشاد کے مطابق نبی ﷺکا عمل یہ تھا کہ آپ افطار میں بھی جلدی کرتے تھے اور نمازمیں بھی ــــ حضرت عائشہؓ کے اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہوں نے ان دونوں صاحبوں میں سے ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط قراردیاہے بلکہ صرف یہ بتایاہے کہ خود نبی ﷺکا اپنا عمل کیا تھا اور اس میں مسنون طریقہ کیاہے ــــاس لیے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے طریقے کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے عمل کی گنجایش بھی شریعت میں موجود ہے کیونکہ وہ جس تاخیر سے کام لیتے تھے وہ یہود والی تاخیر نہیں تھی۔ روزہ افطار کرنے سے پہلے غروبِ آفتاب کا اطمینان کرنے کے لیے کچھ توقف کرنے کی گنجایش بالکل قابلِ فہم ہے۔ ہاں شرط یہ ہے کہ اس کا محرِّک جان بوجھ کر تاخیر کرنے یا راہبانہ احتیاط پسندی کا جذبہ نہ ہو۔
تخریج:حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ یَحْيٰ وَاَبُوْکُرَیْبٍ:مُحَمَّدُبْنُ الْعَلاَئِ، قَالاَ:اَخْبَرَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ اَبِیْ عَطِیَّۃَ قَالَ دَخَلْتُ اَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلٰی عَائِشَۃَ، فَقُلْنَا: یَااُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ رَجُلاَنِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺَ اَحَدُھُمَا یُعَجِّلُ الْاِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلاَۃَ وَالْاٰخَرُ یُؤَخِّرُ الْاِفْطَارَ وَیُؤَخِّرُ الصَّلاَۃَ، قَالَتْ: اَیُّھُمَا الَّذِیْ یُعَجِّلُ الْاِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلاَۃَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللّٰہِ یعنی ابْنُ مَسْعُوْدٍ، قَالَتْ: کَذٰلِکَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ ۔(۳۳)
زاد ابوکریب والاٰخر ابو موسیٰ۔قال ابوعیسیٰ ھذا حدیث حسن صحیح۔
وابوعطیۃ اسمہ مالک بن ابی عامر الھمدانی ویقال مالک بن عامر الھمدانی وھواصح۔
سحری کا کھانا ایک مبارک ناشتہ ہے
۴۱۔عَنِ العِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَی السَّحُوْرِ فِیْ رَمَضَانَ فَقَالَ: ھَلُمَّ اِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ۔ (ابوداؤد، نسائی)
’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رمضان میں رسول اللہ ﷺنے مجھے اپنے ساتھ سحری کھانے کے لیے بلایا اور فرمایا کہ آؤ مبارک ناشتے کے لیے۔ ‘‘
تشریح: رسول اللہ ﷺکے اس ارشادِ گرامی کے مطابق سحری فقط سحری نہیں ہے بلکہ ایک مبارک ناشتہ ہے۔ یہود یہ سمجھتے تھے کہ اگر سحری کھاکر روزہ رکھا تو کیا رکھا، لیکن اسلامی شریعت میں اس تصوّر کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیاہے کہ روزہ صرف دن کا ہے اور رات اس میں شامل نہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رات کو کھانے پینے کی مکمل آزادی ہے اور اس آزادی سے خود کو محروم کرنا درست نہیں۔ رات کو اُٹھ کر سحری کھانا تو ایک مبارک ناشتہ ہے جس کے ساتھ ہم روزے کا آغاز کرتے ہیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ روزہ شروع ہونے سے پہلے کچھ غذا کھالی جائے تاکہ دن بھر کام کاج کرنے اور دوسرے ضروری اُمور سرانجام دینے کی طاقت ہمیں حاصل رہے۔ ایسا نہ ہوکہ ہم بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوکر بیکار پڑجائیں۔ یہ دین کا مقصود نہیں ہے۔
ــــــــــ دین کا مقصود تو یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی بھی کریں اور ہمارے اندر کام کرنے کی طاقت بھی رہے تاکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے جو فرائض اور ذمّہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ہم انہیں بہ تمام وکمال ادا کرسکیں۔ عبادت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ آپ کاروبارِ دنیا سے کٹ کر اور ناکارہ ہوکر الگ گوشوں میں جا بیٹھیں، بلکہ عبادت تو درحقیقت اس بات کا ایک تربیتی کورس ہے کہ آپ ہنگامہ زارِ حیات میں اللہ تعالیٰ کے احکام وہدایات کی پابندی کرتے ہوئے کس طرح زندگی گزاریں تاکہ آخرت میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ مُحَمَّدِ نِ النَّاقِدُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدِ نِ الْخَیَّاطُ، ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ یُوْنُسَ بْنِ سَیْفٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ، عَنْ اَبِیْ رُھْمٍ، عَنِ الْعِرْباضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَی السُّحُوْرِ فِیْ رَمَضَانَ، فَقَالَ: ھَلُمَّ اِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ۔ (۳۴)
نسائی نے اس کے علاوہ دو روایتیں نقل کی ہیں:
(۲) خالد بن معدان قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ لِرَجُلٍ ھَلُمَّ اِلَی الْغَدَآئِ الْمُبَارَکِ یعنی السحور۔
ترجمہ : خالد بن معدان کی روایت میں آپ کا ارشاد بایں الفاظ بیان ہوا ہے کہ ایک شخص سے آپؐ نے فرمایا:آؤ مبارک ناشتہ کے لیے۔ یعنی سحری کے لیے۔
(۳)مقدام بن مَعْدِیْکَرِب، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : عَلَیْکُمْ بِالْغَدَآئِ السُّحُوْرِ فَاِنَّہٗ ھُوَ الْغَدَآئُ الْمُبَارَکُ۔(۳۵)
ترجمہ: مقدام بن معدیکرب نے نبی ﷺسے روایت بیان کی ہے۔ سحری کا ناشتہ ضرور کھایا کرو کیونکہ وہ مبارک ناشتہ ہے۔
بہترین سحری کھجور ہے
۴۲۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : نِعْمَ سُحُوْرُ المُؤْمِنِ التَّمْرُ ۔ (ابوداؤد)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مومن کے لیے بہترین سحری کھجور ہے۔ ‘‘
تشریح: کھجور میں انسان کی تمام غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے۔ اگر انسان کو کوئی غذا نہ مل سکے لیکن کھجور حاصل ہو تو یہ اس کے لیے کافی غذا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق انسان کو اپنی توانائی برقرار رکھنے کے لیے غذا کی جتنی کلوریاں درکار ہوتی ہیں وہ کھجور میں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں بھی جب فوجوں کو کسی صحرائی علاقے میں لمبے عرصے کے لیے قیام کرنا پڑتاہے اور وہاں غذا مہیا کرنے کے عام مواقع موجود نہیں ہوتے تو کھجوروں کا کافی اسٹاک فوج کے لیے فراہم کردیاجاتاہے۔ اس طرح اگر کئی کئی ماہ تک کوئی اور غذا میسّر نہ آئے تو محض کھجور پر انحصار کیا جاسکتاہے۔
کھجور کی اسی افادیت اور اعلیٰ غذائیت کی بنا پر رسول اللہﷺنے اسے بہترین سحری قرار دیاہے۔ سحری کے طور پر اس کے استعمال کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ یہ دن کے وقت آدمی کو اپنی طاقت وتوانائی برقرار رکھنے اور کام کاج کے قابل رکھنے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِی الْوَزِیْرِ اَبُوالْمُطَرِّفِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسٰی عَنْ سَعِیْدِ نِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ :قَالَ: نِعْمَ سُحُوْرُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ۔ (۳۶)
ماخذ
۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب برکۃ السحور من غیر ایجاب لان النّبِی صَلّی اللّٰہ علیہ وسلم واصحابہ واصلوا ولم یُذْکَرِ السحور۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل السحور وتاکید استحبابہ۔٭ ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل السحور۔ ٭وفی الباب عن ابی ھریرۃ، وعبداللّٰہ بن مسعود، وجابر بن عبد اللّٰہ، وابن عباس وعَمروبن العاص،والعِرباض بن ساریۃ وعتبۃ بن عبد، وابی الدرداء۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب الحث علی السحور۔٭ ابنِ ماجۃ کتاب الصیام باب ماجاء فی السحور۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فی فضل السحور۔٭ مُسندِ احمدج۲ص ۳۷۷عن ابی ھریرۃ۔ج۳،ص ۳۲-۹۹-۲۱۵-۲۲۹-۲۴۳-۲۵۸-۲۸۱٭ السنن الکبریٰ للبیھقی۴کتاب الصیام باب استحباب السحور۔٭ المصنّف لعبدالرزاق ج۴ باب مایقال فی السحور۔
(۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل السحور الخ۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی توکید السحور۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب فصل مابین صیامنا وصیام اھل الکتاب۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل السحور۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فی فضل السحور۔٭ مُسندِ احمد ج۴ص۱۹۷۔۲۰۲٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب استحباب السحور۔٭ المصنف لعبد الرزاق کتاب الصیام ج۴باب مایقال فی السحور۔
(۳) بخاری ج۱کتاب الصوم باب تعجیل الافطار۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل السحور وتاکید استحبابہ واستحباب تاخیرہ و تعجیل الفطر۔٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭ قال ابوعیسیٰ: حدیث سھل بن سعد حدیث حسن صحیح وھوالذی اختارہ اھل العلم من اصحاب النبی ﷺوغیرھم استحبوا تعجیل الفطر وبہ یقول الشافعی واحمد واسحاق۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭ موطا امام مالک کتاب الصیام باب ماجاء فی تعجیل الفطر۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فی تعجیل الافطار۔٭ مُسندِ احمد ج۵ص ۳۳۴ سھل بن سعد الساعدی۔
(۴) بخاری ج۱کتاب الصوم باب متی یحل فطر الصائم وافطر ابو سعید الخدری حین غاب قرص الشمس۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب بیان وقت انقضاء الصوم وخروج النھار۔٭ مُسندِ احمدج۱ ص ۲۸-۵۴٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الوقت الذی یحل فیہ فطر الصائم۔٭ المصنف ج۴کتاب الصیام باب تعجیل الفطر۔
(۵) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب وقت فطر الصائم٭ مسند احمد ج۴٭ ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء اذا اقبل اللیل وادبر النھار فقد افطر الصائم۔
(۶) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل السحور الخ۔٭ابوداوٗد ج۲ کتاب الصیام باب ما یستحب من تعجیل الفطر۔ ٭ ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب ذکراختلاف ھشام وسعید علی قتادۃ۔ ٭مُسند احمد ج۴،ص۴۸-۱۷۳۔
(۷) بخاری ج۱کتاب الصوم، باب تعجیل الافطار۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب بیان وقت انقضاء الصوم وخروج النھار۔
(۸) موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان۔ کتاب الصیام باب تاخیر السحور وتعجیل الفطر۔
(۹) بخاری ج۱کتاب الصوم باب التنکیل لِمَن اکثر الوِصال رواہ انس عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ ٭مسلم ج۱ کتاب الصیام باب النھی عن الوصالمسلم نے کالتنکیل کے بجائے کالمنکر روایت کیاہے۔٭ دارمی کتاب الصوم باب النھی عن الوصالِ فی الصوم۔٭ السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب النھی عن الوصال فی الصوم٭مُسندِ احمدج۲ص ۲۸۱مرویات ابی ھریرۃ٭ المصنف لعبد الرزاق ج۴ کتاب الصیام باب الوصال۔
(۱۰) بخاری، مسلم۔ ترمذی ابواب الصوم باب الوصال ومن قال۔۔۔۔
(۱۱) بخاری۔ ابوداوٗد کتاب الصوم باب الوصال ومن قال۔۔۔۔
(۱۲) بخاری، مسلم، ابوداوٗد کتاب الصوم باب الوصال ومن قال۔۔۔۔
(۱۳) بخاری کتاب الصوم باب الوصال الخ۔٭مسلم کتاب الصیام باب النھی عن الوصال۔
(۱۴) مسلم کتاب الصیام باب النھی عن الوصال۔٭ السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب النھی عن الوصال فی الصوم۔
(۱۵) ابوداؤد۔ج۲کتاب الصوم باب النیۃ فی الصیام۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب ذکر اختلاف الناقلین لخبر حفصۃ فی ذلک۔٭دارمی کتاب الصوم باب من لم یجمع الصیام من اللیل۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الدخول فی الصوم۔
(۱۶) نسائی ج۴ کتاب الصیام باب ذکر اختلاف الناقلین لخبرحفصۃ فی ذٰلک۔ ٭مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب من اجمع الصیام قبل الفجر۔٭مُسندِ احمد ج۶ص ۲۸۷عن حفصۃ۔٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب ماعلیہ فی کل لیلۃ من نیۃ الصیام للغد۔
(۱۷) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء لاصیام لمن لم یعزم من اللیل۔٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی فرض الصوم من اللیل الخ۔
(۱۸) ابوداوٗدج۲کتاب الصوم باب فی الرجل یسمع النداء والاناء علی یدہ۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب الاستعانۃ بطعام السحر علی الصیام وبالقیلولۃ علی القیام۔٭دارقطنی ج۲کتاب الصیام، باب فی وقت السحور۔٭مُسندِ احمد ج۲ ص ۵۱۰ ابوھریرۃ۔
(۱۹) بخاری ج۱کتاب الصوم باب قدرکم بین السحور وصلاۃ الفجر۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام، باب فضل السحور وتاکید استحبابہ الخ۔٭ترمذی ج۱ابواب الصوم، باب ماجاء فی تاخیر السحور۔ قال ابوعیسی حدیث زید بن ثابت حدیث حسن صحیح۔
(۲۰) نسائی ج۴کتاب الصیام، باب قدر ما بین السحور وبین صلاۃ الصبح۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی تاخیرالسحور۔
(۲۱) ابوداؤد ج۲کتاب الصیام باب فی وقت السحور۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی بیان الفجر۔
(۲۲) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایستحب من تعجیل الفطر وتاخیر السحور۔٭مُسندِ احمدج۲ص ۲۳۸مرویاتِ ابی ھریرۃ۔
(۲۳) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء مایستحب عَلَیْہِ الافطار۔٭ابن ماجہ ج۱کتاب الصیام باب ماجاء علی مایستحب الفطر۔٭دارمی کتاب الصوم باب مایستحب الافطار علیہ فان الماء طھور۔٭مُسندِ احمدج۴ ص۱۷-۱۸-۲۱۳-۲۱۴مرویات سلمان بن عامر۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایفطر علیہ۔٭ابوداؤد کتاب الصوم باب مایفطر علیہ۔ ٭المستدرک ج اول کتاب الصوم۔
(۲۴) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء مایستحب علیہ الافطار۔
(۲۵) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب مایفطر علیہ۔٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء مایستحب علیہ الافطار۔ ٭دارقطنی ج۲کتاب الصیام۔٭المستدرک للحاکم ج اول کتاب الصوم باب الافطار قبل الصلاۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایفطر علیہ۔بیہقی میں فإن لم تکن حسا حسوات من مائٍ نقل کیاہے٭مُسندِ احمدج۳ ص ۱۶۴ انس بن مالک۔
(۲۶) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب من فطر صائماً۔٭محی السنۃ فی شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ کتاب الصوم فصل ثانی۔
(۲۷) السنن الکبری للبیھقی ج۴ کتاب الصیام باب من فطر صائماً٭ مُسْنَدِ احمد ج۴ ص ۱۱۶زید بن خالد۔
(۲۸) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب القول عند الافطار٭ دارقطنی ج۲کتاب الصیام٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم الدعوۃ عند الافطار۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایقول اذا افطر۔
(۲۹) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب القول عند الافطار٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایقول اذا افطر۔
(۳۰) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب مایستحب من تعجیل الفطر۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب تعجیل الافطار۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایستحب من تعجیل الفطر وتاخیر السحور۔
(۳۱) ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایستحب من تعجیل الفطر وتاخیر السحور۔ ٭موطاامام مالک نے کتاب الصیام باب ماجائَ فی تعجیل الفطر میں عَجَّلُوْ الفطر تک نقل کیاہے۔
(۳۲) المستدرک للحاکم ج ۱٭ المصنف لعبد الرزاق کتاب الصیام ج۴ باب تعجیل الفطر۔المصنف لعبد الرزاق کتاب الصیام ج۴ باب تعجیل الفطر۔
(۳۳) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل السحور وتاکید استحبابہ وتاخیروتعجیل الفطر٭ نسائی ج۴ کتاب الصیام باب ذکر الاختلاف علی سلیمان بن مھران فی حدیث عائشۃ فی تاخیر السحور واختلاف الفاظھم۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام۔مسلم کی ایک روایت میں روایت کا آغاز کلاھما لایألوعن الخیرسے بھی ہوا ہے۔ ٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی تعجیل الافطار۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب مایستحب من تعجیل الفطر۔٭ مُسندِ احمد ج۴ص ۴۸-۱۷۳۔
(۳۴) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب من سمی السحور الغداء۔٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب دعوۃ السحور کے ضمن میں قال سمعت رسول اللہ ﷺوھو یدعوا الی السحور فی شھر رمضان فقال ھلموا الی الغداء المبارک۔
(۳۵) نسائی ج۴کتاب الصیام باب تَسْمِیَۃ السحور غدائً۔
(۳۶) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب من سمی السحور الغداء۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب مایستحب من السحور۔
فصل چہارم: تَنزیہُ الصَّوم
اس فصل میں یہ بتایا گیاہے کہ روزے کوپاک اور درست رکھنے کے لیے کیا کیا احتیاطیں ضروری ہیں۔ اور اسے کن کن چیزوں سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ مزید برآں کون سی چیزیں ایسی ہیں جن کا کرنا روزے کی حالت میں جائز ہے اور ان سے روزے میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔
ان احادیث کی تشریح وتوضیح سے پہلے ایک بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے تاکہ ان کے مطالعہ کے دوران میں کسی طرح کی خلش یا شبہات پیدا نہ ہوں۔
یہ بات کہ کن چیزوں سے روزے میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور کن چیزوں سے نہیں ہوتی اور کیا کام ایسے ہیں جن کے کرنے کی اجازت ہے اور کیا کام ایسے ہیں جن کے کرنے کی اجاز ت نہیں ہے اس کے بیان میں بعض بڑے نازک مسائل بھی آتے ہیں۔خصوصاً وہ مسائل جو آدمی کی خلوت کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ آدمی کی زندگی کا ایک ایسا لازمی حصّہ ہیں جس سے کوئی انسان بھی بری نہیں ہے اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ روزے کی حالت میں انسان اپنی اس زندگی میں کہاں تک جاسکتاہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اگر وضاحت کے ساتھ اس کا جواب نہ دیا جاتا تو آدمی ہر وقت ایک خلجان اور پریشانی میں مبتلا رہتا۔ علاوہ بریں اس غرض کے لیے یہ بھی ناگزیر تھا کہ اس سلسلہ کی ضروری معلومات اور رہنمائی وہ ہستیاں فراہم کریں جن کو رسول اللہ ﷺکی خلوت کی زندگی سے واقفیت حاصل تھی، یعنی ازواج مطہراتؓ۔ طالبانِ رشدو ہدایت کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ وہ حضورؐ کی اندرونِ خانہ کی زندگی کے متعلق ضروری معلومات اور رہنمائی ازواجِ مطہراتؓ سے حاصل کریں اور ازواجِ مطہراتؓ کے لیے بھی اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ وہ ضروری معلومات اور ہدایات ان کو بہم پہنچائیں کیونکہ وہ اس ہستی کی بیویاں تھیں جس کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے پیدا کیا تھا اورجس کی زندگی کو انسانیت کے لیے کامل نمونہ قراردیا گیاہے۔ یہ ایک اہم سبب تھا جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہراتؓ کو اُمّت کی مائیں (امہات المومنین) قرار دیا تاکہ ان کی اس نازک حیثیت کے مطابق ان کا ضروری ادب واحترام ملحوظ وبرقرار رہے اور اُمّت کو یہ بتادیا گیا کہ اگر ان کے متعلق تم دل میں بھی کوئی بُرا خیال لاؤگے تو تمہارا ایمان ختم ہوجائے گا۔
روزے سے مقصود تقویٰ ہے نہ کہ فاقہ کشی
۴۳۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ،وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ۔ (بخاری)
’’حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اگر کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑدے۔‘‘
تشریح: مراد یہ ہے کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا وہ محض فاقہ کرتاہے اور اس کا روزہ بے معنی ہے کیونکہ روزے سے جو تقویٰ، پرہیزگاری اور خدا خوفی پیدا کرنا مقصود تھا وہ تو اس نے اپنے اندر پیدا ہی نہیں ہونے دی۔
جھوٹ پر عمل کرنے سے کیا مراد ہے؟
جھوٹ بولنے کا مطلب تو واضح ہے البتہ جھوٹ پر عمل کرنے کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔
جھوٹ بولنا تو ایک حدتک محدود چیز ہے لیکن جھوٹ پر عمل کرنا قریب قریب سارے گناہوں پر حاوی ہوجاتاہے۔ اس بات پر غور کیجیے کہ اگر ایک آدمی نے دوسرے کا مال ناحق ہتھیا لیا ہوتو اس نے درحقیقت ایک جھوٹ پر عمل کیاہے۔ مال اس کا نہیں تھا لیکن اس نے اسے اپنا سمجھ کر یا اپنا قرار دے کر یا یہ فیصلہ کرکے کہ اب یہ میرا ہونا چاہیے، اس پر قبضہ کرلیا تو اس کی یہ چوری دراصل ایک جھوٹ ہے جس پر اس نے عمل کیا۔
اسی طرح جو آدمی کسی کو قتل کرتاہے وہ اصل میں جھوٹ پر عمل کرتاہے۔ وہ اپنے آپ کو اس بات کا حق دار فرض کرلیتاہے کہ چونکہ فلاں شخص نے میرا قصور کیاہے اس لیے میں اسے قتل کرسکتاہوں درآنحالیکہ اُسے اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس طرح درحقیقت وہ جھوٹ پر عمل کرتاہے۔ آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک آدمی جتنے گناہ بھی کرتاہے خواہ وہ براہِ راست خدا کی نافرمانی کے گناہ ہوں یا بندوں پر ظلم وزیادتی کے گناہ ہوں، دونوں شکلوں میں درحقیقت ہرگناہ ایک جھوٹ ہے۔ اسی بنا پر نبی ﷺنے فرمایا کہ اگرکسی آدمی نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ اس کا کھانا پینا چھڑوا دے کیونکہ اس نے روزے کے اصل مقصد کو فوت کردیا۔
البتہ یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ جھوٹ نواقضِ صوم ( روزہ توڑنے والی چیزوں) میں سے نہیں ہے۔ ایک چیز تو وہ ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اور دوسری چیز وہ ہے جس سے روزے کے حسن وخوبی(QUALITY)میں خرابی واقع ہوتی ہے، مثلاً وہ اخلاقی برائیاںہیں جن کے ارتکاب سے روزے کی قدروقیمت باقی نہیں رہتی۔ لیکن ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ یہاں یہ فرمایا کہ اللہ کو اس کے روزے کی کوئی حاجت نہیں ، یہ نہیں فرمایا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ مدّعا یہ ہے کہ اس نے روزے کے مقصد کو فوت کردیا اور اس کے روزے کی روح ختم ہوگئی کیونکہ اس نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِی اِیَاسٍ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئبٍ، ثَنَا سَعِیْدُ نِ الْمَقْبُرِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ﷺَ : مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فی اَنْ یَّدَع طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ۔(۱)
مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ، وَالْجَھْلَ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلاَحَاجَۃَ لِلّٰہِ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ۔(۲)
ترجمہ : جس نے جھوٹ بولنا اور اجڈپن اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا پینا چھڑانے کی کوئی ضرورت وحاجت نہیں ہے۔
المستدرک نے ابوہریرہؓ سے ایک اور روایت نقل کی ہے :
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہﷺَ لَیْسَ الصِّیَامُ مِنَ الْاَکْلِ وَالشُّرْبِ اِنَّمَا الصِّیَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ فَاِنْ سَابَّکَ اَحَدٌ اَوْجَھَلَ عَلَیْکَ فَقُلْ اِنِّیْ صَائِمٌ۔(۳)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا روزہ کھانے پینے کے چھوڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ تو بے ہودہ گوئی اور بدکلامی سے اجتناب اور ترک کا نام ہے، اگر تجھے کوئی گالی گلوچ دے یا تجھے اشتعال دلائے تو اسے تم کہہ دو کہ بھائی میں روزے سے ہوں۔
۴۴۔کَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلاَّ الظَّمَأُ وَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ مِنْ قِیَامِہٖ اِلاَّ السَّھْرُ۔ (دارمی)
’’کتنے ہی روزہ دارایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کے پلّے کچھ نہیں پڑتا اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے رہنے والے ایسے ہیں جنہیں اس قیام سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ‘‘
یہی بات ہے کہ جس کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح تر الفاظ میں ظاہر فرمادیا کہ :
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (البقرہ:۱۸۳)
’’تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔ توقع ہے کہ اس ذریعہ سے تم تقویٰ کرنے
لگوگے۔‘‘ (اسلامی عبادات پرایک تحقیقی نظر:اطاعت امر)
تشریح : ان دونوں حدیثوں کا مطلب بالکل صاف ہے۔ ان سے صاف طورپر معلوم ہوتاہے کہ محض بھوکا اور پیاسا رہنا عبادت نہیں ہے بلکہ اصل عبادت کا ذریعہ ہے، اور اصل عبادت ہے خوفِ خدا کی وجہ سے خدا کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا اور محبت الٰہی کی بنا پر ہر اس کام کے لیے شوق سے لپکنا، جس میں محبوب کی خوشنودی ہو، اور نفسانیت سے بچنا، جہاں تک بھی ممکن ہو۔ اس عبادت سے جو شخص غافل رہا۔ اس نے خواہ مخواہ اپنے پیٹ کو بھوک پیاس کی تکلیف دی۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی حاجت کب تھی کہ بارہ چودہ گھنٹے کے لیے اس سے کھانا پینا چھڑا دیتا۔ (خطبات سوم: جھوٹ سے بچنا)
روزے کی حالت میں بیوی سے میل جول کے حدود
۴۵۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُقَبِّلُ وَیُباشِرُوَھُوَ صَائِمٌ وَکَانَ اَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہٖ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺروزے کی حالت میں بیوی سے اختلاط (میل جول) کرلیا کرتے تھے، اور حضورؐ تم سب سے بڑھ کر اپنی خواہشات پر قابو پانے والے تھے۔ ‘‘
تشریح: مراد یہ ہے کہ روزے میں جنسی عمل کے ماسوا باقی ہرطرح کا میل جول اور اختلاط جائز ہے۔ یہ تو ہے اصل قانون، البتہ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ اس اجازت سے کس قسم کے آدمی کے لیے فائدہ اٹھانا درست ہے۔ یعنی اگرچہ اصل جنسی عمل کے سوا اختلاط کی تمام شکلیں جائز ہیں لیکن اس میں یہ خطرہ موجود ہوتاہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے اور ایسا فعل کر بیٹھے جس سے روزہ ٹوٹ جائے۔ اس لیے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضورؐ تم سب سے بڑھ کر اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ مراد یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنی ذات پر پورا قابو ہو تو وہ اس اجازت سے فائدہ اٹھا سکتاہے۔ لیکن جس شخص کو اتنا قابو نہ ہواس کو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
آگے ایک حدیث میں ا س کی وضاحت خود رسول اللہ ﷺکے ایک اور قول سے بھی ملتی ہے اس کی وضاحت اپنے موقع پر آئے گی۔
تخریج : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُقَبِّلُ وَیُبَاشِرُوَھُوَ صَائِمٌ وَکَانَ اَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہٖ۔(۴)
مسلم اورابوداؤدنے کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یُقَبِّلُ وَھُوَ صَائِمٌ وَیُبَاشِرُوَ ھُوَصَائِمٌ۔ اس کے بعد مسلم نے بخاری والے وکان املککم لاربہ اور ابوداؤد نے ولٰکنہ کان املک لاربہ الفاظ بیان کیے ہیں۔
حالتِ جنابت میں روزہ شروع کیا جاسکتاہے
۴۶۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُدْرِکُہُ الْفَجْرُ فِیْ رَمَضَانَ وَھُوَ جُنُبٌ مِنْ غَیْرِ حُلُمٍ فَیَغْتَسِلُ وَیَصُوْمُ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ ﷺپر بعض اوقات فجر ایسی حالت میںآجاتی تھی کہ آپ حالتِ جنابت میں ہوتے تھے اور وہ جنابت ایسی نہیں ہوتی تھی جو خواب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پھر آپ غسل فرمالیتے تھے اور اس وقت آپؐ روزے سے ہوتے تھے۔‘‘
تشریح: رمضان کے زمانے میں بعض اوقات یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر آدمی کو رات کے وقت جنابت لاحق ہوتو کیا اس کے لیے یہ لازم ہے کہ سحری بند ہونے اور روزہ شروع ہونے سے پہلے پہلے نہالے یا اس بات کی اجازت ہے کہ وہ سحری کا وقت ختم ہونے اور روزہ شروع ہوجانے کے بعد نہالے۔ اس سوال کاجواب اس حدیث سے ملتاہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺپر فجر کا وقت آگیا اور روزہ شروع ہونے کے بعد آپ نے غسل فرمایا۔ پھر اس کی وضاحت بھی فرمادی کہ یہ غسل وہ نہیں تھا جو خواب میں لاحق ہونے والی جنابت سے لازم آتاہے۔
معلوم ہوا کہ اس طرح کی حالت میں روزہ شروع کیا جاسکتاہے اور اس سے روزے میں کوئی خرابی یا قباحت واقع نہیں ہوتی۔
اب ذرا غور کیجیے کہ اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان نہ فرماتیں تو مسلمانوں کو کیسے معلوم ہوتی اور اگر معلوم نہ ہوتی تو انہیں اپنی پرائیویٹ زندگی میں کیسی دقتیں اور الجھنیں پیش آتیں۔دوسرے الفاظ میں یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور رسول اللہ ﷺکی اور آپؐ کے گھروالوں کی ایک بہت بڑی قربانی تھی کہ انہوں نے زندگی کے اس پہلو تک کو لوگوں سے چھپا کر نہیں رکھا بلکہ اس کے متعلق ضروری معلومات دیں تاکہ لوگوں کو اپنی زندگی کے اس پہلو کے متعلق رہنمائی مل سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بڑا عظیم الشان ایثار تھا جو رسول اللہ ﷺنے اور آپؐ کے گھر والوں نے کیا۔ آج کچھ بے وقوف ایسے بھی ہیں جو اس چیز کے متعلق اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث میںیہ کیسی باتیں آگئی ہیں جو ازواج مطہّراتؓ نے بیان فرمائی ہیں۔ وہ نہیں سوچتے کہ اگر مومنین کی مائیں اُمّت کو یہ باتیں نہ بتاتیں تو اُمت کو ان چیزوں کے متعلق ہدایات کہاں سے ملتیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا بْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ وَ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ عَائِشَۃُ :کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُدْرِکُہُ الْفَجْرُجُنُبًا فِیْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ حُلُمٍ فَیَغْتَسِلُ وَیَصُوْمُ(۵)
احرام اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کا جواز
۴۷۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ احْتَجَمَ وَھُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَھُوَ صَائِمٌ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے پچھنے لگوائے ہیں اس حالت میں کہ آپؐ احرام میں تھے اور اس حالت میں کہ آپؐ روزے سے تھے۔‘‘ س۱؎ : روزے میں انجکشن لگوانا کیسا ہے؟
ج : میری رائے میں روزہ ٹوٹ جاتاہے۔
س : بعض علماء تو روزے کی حالت میں انجکشن کی اجازت دیتے ہیں۔؟
ج : ہاں، مگر میں اسے صحیح نہیں سمجھتا کیونکہ انجکشن کے ذریعے تو انسانی جسم میں بہت سی ایسی چیزیں داخل کی جاسکتی ہیں جو اس کے لیے غذاکی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً گلوکوز،
پانی یا دیگر قوت بخش اجزاء۔ اگر یہ جائز رکھاجائے تو پھر انجکشن کے ذریعے روزہ دار کو باقاعدہ غذا پہنچائی جاسکتی ہے۔ اس طرح روزے کا مقصد ختم ہوجاتاہے۔
س : مولانا ! وہ کہتے ہیں کہ ایسے انجکشن جن میں غذائی اجزاء شامل ہوں ان کی اجازت نہیں ، باقی لگوائے جاسکتے ہیں۔ ‘‘
ج : ہاں مگر ان کے درمیان لکیر کہاں سے کھینچیں گے اور کس طرح ایسی فہرستیں بنائیں گے کہ فلاں فلاں اور فلاں قسم کے انجکشن جائز ہیں اور فلاں فلاں ناجائز ہیں، جب کہ نت نئے انجکشن منظر عام پر آتے رہیں گے۔ اسی لیے میری رائے میں صحیح طریقہ یہی ہے کہ جو لوگ انجکشن لگوانا چاہیں وہ روزہ رکھنے تک درمیانی وقفے میں بآسانی لگواسکتے ہیں اور اگر ایسی ہی مجبوری ہوکہ انجکشن روزے کے اوقات میں لگوانا ضروری ہوتو ان کے لیے گنجایش ہے کہ وہ انجکشن لگوالیں اور روزہ بعد میں قضا کرلیں۔‘‘
(۵اے ذیلدار پارک حصہ دوم ص ۱۳۳۔۱۳۴)
تشریح : قدیم زمانے میں یہ طریقہ تھا اور آج کل بھی ایسا کیاجاتاہے کہ بعض طبّی ضروریات کی بنا پر جسم کے کسی حصے پر کسی تیز دھار آلے یا نشتر سے ہلکے ہلکے شگاف دیے جاتے ہیں جن سے خون رسنے لگتاہے اور پھر سینگی سے اس کو چوساجاتاہے، اسے پچھنے لگانا کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیا احرام اور روزے کی حالت میں ایسا کرنا درست ہے یا نہیں۔ اس حدیث سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے جاسکتے ہیں۔ البتہ شرط یہ ہے کہ پچھنے لگاتے وقت کوئی بال نہ کٹے، اگر بال کٹے گا تو احرام میں خرابی واقع ہوجائے گی۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ روزے کی حالت میں بھی پچھنے لگوائے جاسکتے ہیں۔ البتہ اس میں اس احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی جو حالتِ احرام میں ملحوظ رکھنی چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ پچھنے لگانے کی اجازت کے بارے میں احادیث میں کچھ اختلاف پایا جاتاہے۔ اس اختلاف کی بنا پر امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ اس بات کے قائل ہیں کہ پچھنے لگانے سے روزہ نہیںٹوٹتا، لیکن امام احمدؒ اس بات کے قائل ہیں کہ پچھنے لگانے سے، پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتاہے۔ ان کا استدلال ایک دوسری حدیث کی بنیاد پر ہے جو آگے آرہی ہے۔ البتہ پیشِ نظر حدیث میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے یہ الفاظ بالکل واضح ہیں کہ نبیﷺ نے خود روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر پچھنے لگوانے سے روزہ میں کوئی قباحت واقع ہوتی تو نبی ﷺ ایسا نہ کرتے ۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ اَسَدٍ، ثَنَا وُھَیْبٌ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ احْتَجَمَ وَھُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَھُوَ صَآئِمٌ۔(۶)
مسلم میں طاؤس اور عطاء دونوں ابن عباس سے روایت کرتے ہیں:
(۲) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ احْتَجَمَ وَھُوَ مُحْرِمٌ۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۳) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ احْتَجَمَ بِطَرِیْقِ مَکَّۃَ وَھُوَ مُحْرِمٌ وَسْطَ رَأْسِہٖ۔(۷)
ترجمہ : نبی ﷺنے مکّہ کے راستہ میں حالتِ احرام میں اپنے سرکے وسط میں پچھنے لگوائے۔
ابوداؤد نے ابنِ عباس کے دوشاگردوں سے روایت کو بیان کیاہے:
(۴) عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ احْتَجَمَ وَھُوَ صَآئِمٌ۔
اور دوسرے شاگرد مقسم سے :
(۵) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ احْتَجَمَ وَھُوَ صَآئِمٌ مُحْرِمٌ۔(۸)
ترمذی نے عکرمہ کے واسطہ سے ابن عباس کی روایت کے الفاظ یوں نقل کیے ہیں:
(۶) قَالَ احْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ۔(۹)
قال ابو عیسیٰ ھذا حدیث صحیح ۔۔۔آگے لکھتے ہیں وقد ذھب بعض اھل العلم من اصحاب النبی ﷺوغیرھم الی ھذا الحدیث ولم یروا بالحجامۃ للصائم بأسا۔ وھو قول سفیان الثوری ومالک بن انس والشافعی۔
بھولے سے کھاپی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
۴۸۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ نَسِیَ وَھُوَ صَائِمٌ فَاَکَلَ اَوْ شَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہٗ فَاِنَّمَا اَطْعَمَہُ اللّٰہُ وَسَقَاہُ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ دراصل اللہ تعالیٰ نے اس کو کھلا پلادیا۔ ‘‘
تشریح: اگر آدمی بھولے سے پیٹ بھر کر کھالے یا گلاس بھرپانی یاکوئی اور چیز پی لے تب بھی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔لیکن جس وقت اسے یاد آجائے اسی وقت اپنا ہاتھ روک لے۔ کیونکہ اگر اس کے بعد اگر ایک بھورا یا ایک قطرہ بھی اس کے حلق سے گزرگیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
معلوم ہواکہ بھولے سے اگر آدمی کوئی کام ایسا کرجائے جو روزہ توڑنے والا ہوتو اس سے روزے میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی اور ایسی غلطی کی صورت میں اسے اپنا روزہ ختم نہیں کرنا چاہیے۔
اس سے یہ اصول بھی نکلا کہ بھولے کی غلطی معاف ہے، اور شریعت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنِیْ عَمْرُوبْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرٰھِیْمَ، عَنْ ھِشَامِ الْفِرْدَوْسِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ نَسِیَ وَھُوَ صَآئِمٌ فَاَکَلَ اَوْ شَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہٗ فَاِنَّمَا اَطْعَمَہُ اللّٰہُ وَسَقَاہٗ۔(۱۰)
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَا نَسِیَ فَاَکَلَ وَ شَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہٗ فَاِنَّمَا اَطْعَمَہُ اللّٰہُ وَسَقَاہٗ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب روزہ دار بھولے سے کھالے اورپی لے تو اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے۔ کیونکہ دراصل اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا پلایاہے۔
ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ اَکَلْتُ وَشَرِبْتُ نَاسِیًا وَاَنَا صَائِمٌ فَقَالَ اَطْعَمَکَ اللّٰہُ وَسَقَاکَ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ! میں نے بھولے سے کھاپی لیاہے جب کہ میں روزے سے تھا۔ حضورؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھے کھلایا پلایاہے۔
ترمذی میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کا متن:
(۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَکَلَ اَوْ شَرِبَ نَاسِیًا فَلاَیُفْطِرْ فَاِنَّمَا ھُوَ رِزْقٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس کسی نے بھولے سے کچھ کھاپی لیا ہو تو وہ افطار نہ کرے۔ وہ تو رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایاہے۔
المستدرک للحاکم نے حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت مختلف الفاظ میں بیان کی ہے:
(۵) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: مَنْ اَفْطَرَ فِیْ رَمَضَانَ نَاسِیًا فَلاَ قَضَائَ عَلَیْہِ وَلاَکَفَّارَۃَ۔ (۱۴)
ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ولم یخرجاہ بھذہ السیاقۃ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا جس کسی نے رمضان میں بھولے سے افطار کرلیا ہو تو اس پر نہ قضا ہے اور نہ کسی قسم کا کفارہ۔
مسندِ احمد میں ہے:
(۶) اِذَا صَامَ اَحَدُکُمْ یَوْمًا فَنَسِیَ فَاَکَلَ وَشَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہٗ فَاِنَّمَا اَطْعَمَہُ اللّٰہُ وَسَقَاہُ۔(۱۵)
ترجمہ :کسی روز جب تم میں سے کسی روزہ دار نے بھولے سے کچھ کھاپی لیا ہو تو وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ دراصل اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایاہے۔
قصداً روزہ توڑنے کا کفّارہ
۴۹۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ اِذَاجَآئَ ہٗ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکْتُ، قَالَ: مَالَکَ؟ قَالَ وَقَعْتُ عَلَی امْرَاَتِیْ وَاَنَا صَآئِمٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ھَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً تُعْتِقُھَا، قَالَ : لاَ، قَالَ فَھَلْ تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَصُوْمَ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: ھَلْ تَجِدُ اِطْعَامَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: اِجْلِسْ وَمَکَثَ النَّبِیُّ ﷺ فَبَیْنَا نَحْنُ عَلٰی ذٰلِکَ اُتِیَ النَّبِیُّﷺ بِعَرَقٍ فِیْہِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ الضَّخْمُ، قَالَ: اَیْنَ السَّائِلُ؟ قَالَ : اَنَا، قَالَ: خُذْ ھٰذَا فَتَصَدَّقْ بِہٖ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اَعَلٰی اَفْقَرَ مِنِّیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَوَاللّٰہِ مَا بَیْنَ لَاَبَتَیْھَا ــــ یُرِیْدُ الْحَرَّتَیْنِ ــــ اَھْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْ، فَضَحِکَ النَّبِیُّ ﷺَ حَتّٰی بَدَتْ اَنْیَابُہٗ، ثُمَّ قَالَ اَطْعِمْہُ اَھْلَکَ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺکی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور اُس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں تو ہلاک ہوگیا۔ حضورؐ نے فرمایا: تجھے کیاہوا؟ اس نے کہاکہ میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلی۔ حضورؐ نے دریافت فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی غلام ہے جسے تو آزاد کردے؟ اس نے کہا نہیں۔ حضورؐنے اس سے پوچھا: کیاتم دومہینے کے مسلسل روزے رکھنے پر قادر ہو؟ اس نے کہا یہ بھی نہیں کرسکتا۔ حضورؐنے پھر اس سے پوچھا: کیا تمہارے پاس اتنا مال ہے کہ ساٹھ مسکین آدمیوں کو کھانا کھلاسکو؟ اس نے کہا یہ بھی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا بیٹھ جاؤ۔ تھوڑی دیر حضور ؐنے انتظار کیا۔ ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ شخص جس نے مسئلہ پوچھا تھا کہاں ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں۔ آپؐ نے فرمایاکہ یہ لے جا اور صدقہ کردے۔ (کفّارے کے طورپر اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادے) اس شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں یہ کسی ایسے شخص کو لے جاکر کھلاؤں جو مجھ سے زیادہ فقیر ہو، اور خدا کی قسم مدینے کی ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان مجھ سے بڑھ کر تو کوئی فقیر ہے نہیں۔ حضورؐ اس پر ہنس دیے۔ یہاں تک ہنسے کہ آپؐ کی کچلیاں نمودار ہوگئیں۔ پھر آپؐ نے فرمایاکہ اچھا جاؤ یہ اپنے ہی بال بچّوں کو کھلادو۔ ‘‘
تشریح :اس حدیث سے کئی مسائل معلوم ہوئے:
ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اگر ایک آدمی اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے اور قصداً روزہ توڑدے تو اس کا کفارہ کیا ہے ــــپہلاکفارہ غلام آزاد کرناہے۔ اگر آدمی یہ کفارہ ادا کرسکتاہو تو اسے یہی کفارہ ادا کرنا چاہیے اگر وہ یہ کفارہ ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو اس صورت میں دوسرا کفارہ یہ ہے کہ وہ دومہینے کے مسلسل روزے رکھے، اس طرح کہ بیچ میں چھوڑے نہیں۔ اگر وہ اس پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے مراد دونوں وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ہے اور اس طرح کا کھانا کھلانا جیسا کہ آدمی خود کھاتاہے۔
یہاں تک تو مسئلہ کی عمومی نوعیت تھی۔ اس کے بعد ایک خاص شکل سامنے آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان چیزوں میں سے کسی پر قادر نہ ہوتو اس کے لیے کیا حکم ہے۔ اس چیز کا تعیّن بھی پیشِ نظر حدیث سے ہوتاہے۔
جب سائل نے کہا کہ میں تو تینوں صورتوں میں کفارہ ادا کرنے پر قادر نہیں ہوں تو رسول اللہ ﷺنے اس مالِ زکوٰۃ میں سے جو آپؐ کے پاس آیا تھا اس شخص کی مدد فرمائی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بیت المال سے اس طرح کے لوگوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی کسی غلطی کا مرتکب ہوجائے جس سے اس نوعیّت کا شدید کفارہ لازم آجاتاہے اور وہ یہ کفارہ ادا کرنے پر قادر بھی نہ ہو تو اس کے لیے دوہی راستے ہیں۔ یا تو یہ کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک کہ اس کو ان تینوں چیزوں میں سے کسی ایک کی قدرت حاصل ہوجائے (اور ہوسکتاہے کہ اسی انتظار میں اس کی عمر گزرجائے) یا یہ کہ بیت المال سے اس کی مدد کی جائے ، یا کچھ دوسرے نیک لوگ اس کی مدد کریں۔ معلوم ہوا کہ مالِ زکوٰۃ اس چیز پر بھی صرف کیا جاسکتاہے۔ جس طرح کسی ایسے مقروض کا قرضہ بیت المال سے ادا کیا جاسکتاہے جو خود قرضہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو، اسی طرح اگر کسی شخص پر اس طرح کے کفّارے لازم آگئے ہوں تو ان کفاروں کے ادا کرنے میں مالِ زکوٰۃ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اگر بیت المال موجود نہ ہو تو جو لوگ زکوٰۃ نکالتے ہیں وہ مالِ زکوٰۃ سے اس کی مدد کریں تاکہ ان کا ایک مسلمان بھائی جس پیچیدگی میں پھنس گیاہے اس سے نکل جائے۔
فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ کفّارہ (جس کی تفصیل اوپر مذکور ہوئی ہے) آیا اس صورت میں واجب آتاہے جب کہ مباشرت روزہ توڑنے کی وجہ بنی ہو یا اس صورت میں بھی واجب آتاہے جب کہ آدمی قصداً کھا پی لے۔ فقہاء کا ایک گروہ یہ رائے رکھتاہے کہ کفارہ صرف اس صورت میں لازم آتاہے جب کہ مباشرت روزہ توڑنے کا سبب بنی ہو۔ دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اگر آدمی نے کسی طرح بھی قصداً روزہ توڑ دیاہے تو اس سے یہی کفارہ لازم آتاہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک تمام شکلوں میں جب کہ روزہ توڑا جائے کفارے کی یہی شکل ہے۔
اب آگے اس حدیث میں ایک بہت ہی خاص بات آئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺسے سائل نے یہ کہاکہ مدینے میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مفلس نہیں ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ اچھا یہ کھجوریں لے جا اور اپنے ہی اہل وعیال پر صدقہ کردے۔ اس سلسلے میں بعض فقہاء کا قول یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف اسی شخص کے لیے خاص تھا، دوسرے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ لیکن میرا خیال یہ ہے (واللہ اعلم بالصواب) کہ جس معاملے میں اللہ اور اس کے رسولؐ نے سہولت اور فراخی رکھی ہے اس میں کسی اور کو تنگی کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ اگر کوئی آدمی ایسی حالت میں ہے کہ اسے خود کھانے کو نصیب نہیں ہے اور آپ اس کے ہاتھ میں مال دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اسے غریبوں پر صدقہ کردے تو سوال یہ ہے کہ آخر خود اسے یہ مال لینے کا حق کیوں نہیں پہنچتا۔ یہ صدقہ تو وہ شخص دے جس کے پاس کم از کم کھانے کو توموجود ہو۔ لیکن جو اس فکر میں ہے کہ رات کو میرے بچے کھائیں گے کیا اور آپ اس کے ہاتھ سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاتے ہیں تو یہ بات یقینا محلِّ نظر ہے۔ جہاں تک میں سمجھتاہوں شریعت کا منشا یہ نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکے اس عمل سے ایک مسئلہ شرعی معلوم ہوتاہے۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی فعل جذباتی نہیں تھا اور آپ کے ہرفعل سے دراصل یہ معلوم ہوتاہے کہ شریعت کے حدود کیا ہیں اور اس کی حقیقی روح کیاہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسا قصور ہوجائے جس سے کفارہ لازم آتاہو اور وہ شخص فی الواقع خود صدقے کا مستحق ہو تو بیت المال سے اس کی مدد کرنا جائز ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو ایک مرتبہ اس مال کا مالک بنادیاجائے اور پھر اس سے کہاجائے کہ تجھے صدقہ کرنے کا پورا حق ہے لیکن اگر تو یہ سمجھتاہے کہ تو خود ہی صدقے کا مستحق ہے تو خود بھی اسے استعمال کرسکتاہے۔ رسول اللہ ﷺکا اپنا عمل یہ بتارہاہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ اَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ اَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ اِذْ جَآئَ ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکْتُ قَالَ : مَالَکَ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِیْ وَاَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :ھَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً تُعْتِقُھَا، قَالَ:لاَ، قَالَ فَھَلْ تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَصُوْمَ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟ قَالَ:لاَ، قَالَ:فَھَلْ تَجِدُ اِطْعَامَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا؟ قَالَ :لاَ، قَالَ: اِجْلِسْ وَمَکَثَ النَّبِیُّ ﷺ فَبَیْنَا نَحْنُ عَلٰی ذٰلِکَ اُتِیَ النَّبِیُّ ﷺ بِعَرَقٍ فِیْہِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ الضَّخْمُ، قَالَ: اَیْنَ السَّائِلُ؟ قَالَ:اَنَا، قَالَ: خُذْ ھٰذَا فَتَصَدَّقْ بِہٖ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اَعَلٰی اَفْقَرَ مِنِّیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَوَاللّٰہِ مَابَیْنَ لاَبَتَیْھَایُرِیْدُ الْحَرَّتَیْنِ اَھْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْ، فَضَحِکَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی بَدَتْ اَنْیَابُہٗ، ثُمَّ قَالَ: اَطْعِمْہُ اَھْلَکَ۔(۱۶)
ترمذی نے اس روایت کو بیان کرکے لکھاہے:
قال ابوعیسیٰ:حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح۔ والعمل علی ھذا الحدیث عند اھل العلم فی من افطر فی رمضان متعمدًا من جماع ـــــ وامامن افطر متعمداً من اکل اوشرب۔ فان اھل العلم قد اختلفوا فی ذٰلک۔ فقال بعضھم علیہ القضاء والکفارۃ۔ وشبَّھُوا الاکل والشرب بالجماع۔ وھو قول سفیان الثوری وابن المبارک واسحٰق وقال بعضھم عَلیہ القضاء ولاکفارۃ علیہ لانہ انما ذکر عن النبی ﷺالکفارۃ فی الجماع۔ ولم یذکر عنہ فی الاکل والشرب۔ وقالوا لایشبہ الاکلُ والشرب الجماع وھو قول الشافعی واحمد۔ وقال الشافعی وقول النَّبِی ﷺللرجل الذَی افطر فتصدق علیہ خذہ فاطعمہ اھلک یحتمل ھٰذا معانی۔ یحتمل ان یکون الکفارۃ علیٰ من قدر علیھا۔ وھذا رجل لم یقدر علی الکفارۃ فلما اعطاہ النبی ﷺشیئًا وملکہ۔ قَال الرجل: ما احد افقر منا۔ فقال النبی ﷺخذہ فَاطْعِمْہ اھلک لان الکفارۃ انما یکون بعض الفضل عن قوتِہٖ واختار الشافعی لمن کان علی مثل ھذا الحال ان یاکلہ وتکون الکفارۃ علیہ دَینا فمتی ما ملک یوما کفر۔(۱۷)
ترجمہ : امام ترمذیؒ کے نزدیک حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت حسن صحیح کے درجہ میں ہے۔ اہل علم کے نزدیک اس حدیث پر عمل درآمد اس صورت میں ہوگا جب کہ روزہ توڑنے والے نے رمضان میں بالارادہ مجامعت کی ہو۔ رہی وہ صورت کہ کسی نے عمدا کھانے پینے کی وجہ سے روزہ توڑا ہوتو اس صورت میں علماء کی آراء مختلف ہیں۔ بعض کے نزدیک اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔ ان حضرات نے کھانے پینے کو جماع سے تشبیہ دی ہے۔ یہ رائے سفیان ثوری، ابن المبارک اور اسحاق کی ہے اور بعض کے نزدیک صرف قضا ہے کفارہ نہیں ہے کیونکہ کفارہ کا ذکر نبی ﷺسے صرف مجامعت کی صورت میں ہوا ہے۔ کھانے پینے کی صورت میں آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ کھانے پینے کو مجامعت کے مشابہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ رائے امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کی ہے۔ امام شافعی کا استدلال یہ ہے کہ جس آدمی نے روزہ توڑا تھا اور اسے صدقہ دیا گیا تھا اسے نبی ﷺنے فرمایا تھا کہ صدقہ کی یہ کھجوریں لے لو اور اپنے اہل وعیال کو کھلاؤ۔ یہ اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ کفارہ اس پر لازم ہو جو اس کی مقدرت رکھتاہو۔ رہا یہ شخص تو اسے اس کی مقدرت ہی نہیں تھی جب تک کہ نبیﷺنے اسے صدقہ کا مال دے کر اسے اس کا مالک نہ بنادیا۔ اس شخص نے کہاتھا کہ ہم سے زیادہ ضرورت مند تو اور کوئی بھی نہیں ہے تو پھر آپ نے فرمایا تھا اچھا یہ لے لو اور جاکر اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو، کیونکہ کفارہ تو اپنی خوراک سے بچت پر لازم ہے۔ امام شافعی نے یہی مسلک اختیار کیاہے۔ جو شخص ایسی حالت میں ہوتو وہ اسے کھالے مگر کفارہ کی ادائیگی اس پر قرض رہے گی پس جس روزوہ خود اتنی چیز کا مالک ہوگا کفارہ دے گا۔
قال فی الحدیث بمکتل فیہ خمسۃ عشر صاعاً من تمر۔
حدیث میں لفظِ مِکتل بیان ہوا ہے۔ ایک مکتل(یعنی ٹوکرا) میں پندرہ صاع چھوہارے آتے تھے۔
رواہ الاوزاعی ومحمد بن ابی حفصۃ عن الزھری ھکذا وذکرہ ھشام بن سعد عن الزھری، عن ابی سلمۃ، عن اَبی ھُریرۃ مثلہٗ ورواہ عبد اللہ بن المبارک عن الاوزاعی، عن الزھری۔ وجعل ھذا التقدیر عن عمروبن شعیب فالذی یشبہ ان یکون تقدیر المکتل بخمسۃ عشر صاعاً من روایۃ الزھری عن عمرو بن شعیب واللّٰہ اعلم۔(۱۸)
روزے کی حالت میں بیوی سے میل جول کا مسئلہ
۵۰۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَجُلاً سَئَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْمُبَاشَرَۃِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَہٗ وَاَتَاہُ اٰخَرُ فَسَئَلَہٗ فَنَھَاہُ فَاِذَا الَّذِیْ رَخَّصَ لَہٗ شَیْخٌ وَاِذَا الَّذِیْ نَھَاہُ شَابٌّ۔ ( ابوداؤد)
’’حضرت ابوہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺسے دریافت کیا کہ کیا ایک روزہ دار کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ اختلاط ( میل جول) کی اجازت ہے؟ رسول اللہ ﷺنے اس کو اس کی اجازت دے دی۔ پھر ایک دوسرا شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بھی یہی بات دریافت کی توآپؐ نے اسے اس چیز سے منع کردیا ــــ جس شخص کو آپؐ نے اجازت دی وہ سن رسیدہ آدمی تھا اور جس کو منع کیا وہ جوان آدمی تھا۔‘‘
تشریح: اس حدیث کے متن میں بیوی کے ساتھ میل جول اور اختلاط کے لیے مباشرۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ احادیث میں یہ لفظ اس سلسلے میں متعدد مقامات پر آیاہے۔ جو لوگ عربی زبان نہیں جانتے اور اردو سے عربی سمجھتے ہیں وہ اس لفظ کو بہانہ بناکر احادیث کے خلاف ایک طوفان کھڑا کردیتے ہیں کہ یہ دیکھو ان احادیث میں کیا غلط سلط چیزیں جمع کردی گئی ہیں۔ یہ لوگ بلاتحقیق اس طرح کے طوفان کھڑے کرتے رہتے ہیں اور درحقیقت اپنی جہالت کو حدیثِ رسول کے خلاف ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ ان کی غلط فہمی کی بنیاد دراصل یہ ہے کہ اُردو میں لفظِ مباشرت صرف جنسی عمل کے معنوں میں استعمال ہوتاہے حالانکہ عربی میں ایسا نہیں ہے۔
مباشرۃ کا لفظ باشرسے ہے جس کے معنی ہیں کسی کام کو خود کرنا۔ایک عرب جب یہ کہے گا کہ دیکھو فلاں کام دوسرے پر نہ چھوڑو بلکہ خود اس کام کو کرو تو وہ یہ کہے گاکہ اِفْعَلْہُ مُبَاشَرَۃً (اس کام کو خود کر) یا جب وہ یہ کہنا چاہے گا کہ میں خود وہاں گیا تھا، کسی کو بھیجا نہیں تھا تو وہ یہ کہے گا کہذَھَبْتُ مُبَاشَرَۃً (میں خود گیاتھا) اسی طرح اس لفظ کے ایک معنی عورت اور مرد کی باہمی جسمانی قربت کے بھی ہیں جس میں جنسی عمل شامل نہیں ــــ یہاں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے ــــ چنانچہ جس آدمی نے آکر مسئلہ پوچھا تھا اس نے دراصل یہ پوچھا تھا کہ میں روزے کی حالت میں اختلاط کرسکتاہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اجازت دے دی کیونکہ وہ سن رسیدہ آدمی تھا۔ دوسرے نے آکر پوچھا تو حضورؐ نے اُسے منع کردیا کیونکہ وہ جوان آدمی تھا ــــ ظاہر بات ہے کہ سن رسیدہ آدمی پر جذبات کا اتنا غلبہ نہیں ہوتاکہ وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے۔ لیکن جو ان آدمی بسا اوقات ضبط نہیں کرسکتا۔ اس لیے اس بات کا امکان ہوتاہے کہ وہ روزہ تو ڑ بیٹھے اور ایک مشکل میں مبتلا ہوجائے۔ چنانچہ اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ احتیاط برتے اور اختلاط سے پرہیز کرے۔
اس حدیث میں واضح طور پر یہ بات بتائی گئی کہ اگرچہ یہ کام جائز ہے اور یہ آخری حد ہے جس تک آدمی روزے کی حالت میں جاسکتاہے لیکن جو آدمی ضبط نہ کرسکتاہو اسے چاہیے کہ وہ اس سے پرہیز کرے۔ البتہ جو شخص اپنے اوپر پورا قابو رکھتا ہو وہ اس رُخصت سے فائدہ اٹھاسکتاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ، ثَنَا اَبُوْاَحْمَدُ یعنی الزُّبَیْرِیُّ، اَخْبَرَنَا اِسْرَائِیْلُ،عَنْ اَبِیْ عَنْبَسٍ، عَنِ الْاَغَرِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْمُبَاشَرَۃِ لِلصَّآئِمِ فَرَخَّصَ لَہٗ وَاَتَاہُ آخَرُ (فَسَالَہٗ) فَنَھَاہُ۔ فَاِذَا الَّذِیْ رَخَّصَ لَہٗ شَیْخٌ وَالَّذِیْ نَھَاہُ شَابٌّ۔(۱۹)
خود بہ خود قے آجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
۵۱۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیُٔ وَھُوَ صَائِمٌ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَآئٌ وَمَنِ اسْتَقَائَ عَمَدًا فَلْیَقْضِ۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کو قے خود بخود آجائے اس حالت میں کہ وہ روزے سے ہوتو اس پر کوئی قضا نہیں، اور جو شخص عمداً قے کر ے اُسے چاہیے کہ قضاادا کرے۔ اگر کسی شخص کو خود بخود قے آجائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے عمداً روزہ نہیں توڑا ہے اس لیے اس کا حکم وہی ہے جو بھولے سے کھالینے والے کاہے۔ بھولے سے اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر بھی کھالے تب بھی اس پر کوئی قضا نہیں۔ قضا صرف اس صورت میں ہوگی جب کہ اس نے عمداً ایسا کیا ہو۔ اسی طرح کوئی شخص اگر قصداً قے کرے تو اس صورت میں اس پر قضا لازم آئے گی۔ لیکن اگر اس کے پیٹ میں کوئی ایسی تکلیف ہو جس کی وجہ سے اُسے خود بخود قے آجائے تو چاہے قے پوری طرح سے منہ بھر کرآئے یا کئی مرتبہ آئے، اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور نہ قضا لازم آئے گی۔‘‘
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثنا عِیْسَی بْنُ یُونُسَ، ثنا ھِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ ذَرَعَہٗ قَــْیٌٔ وَھُوَ صَائِمٌ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَاء ٌوَاِنِ اسْتَقَائَ فَلْیَقْضِ۔(۲۰)
قال ابوداوٗد: رواہ ایضًا حفص بن غیاث عن ھشام مثلہ۔
ابنِ ماجہ کے الفاظ:
(۲) من ذرعہ القیٔ فلا قضاء علیہ ومن استقاء فعلیہ القضاء۔
ترجمہ : جس شخص کو خود قے آجائے اس پر کوئی قضا نہیں، اور جو شخص عمداً قے کرے تو اس پر قضا لازم ہے۔
دارمی میں ہے:
(۳) اذا ذرع الصائم القیٔ وھو لایریدہ فلاقضاء علیہ واذا استقاء فعلیہ القضاء۔
ترجمہ : جب روزے دار کو خود قے آجائے اور ارادۃً قے نہ کرے تو اس پر قضا لازم نہیں۔ البتہ جب عمداً قے کرے تو اس پر قضا لازم ہے۔
قال عیسیٰ: زعم اھل البصرۃ ان ھشاما اوھم فیہ فموضع الخلاف ھھنا۔(۲۱)
(۴)حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نا عِیْسٰی بْنُ یُونُسَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺَ قَالَ: مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیُٔ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَائٌ وَمَنِ اسْتَقَائَ عَمَدًا فَلْیَقْضِ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس شخص کو خود قے آجائے تو اس پر کوئی قضا لازم نہیں ہاں جو عمداً قے کرے تو اسے قضا کرنا چاہیے۔
وفی الباب عن ابی الدرداء وثوبان وفضالۃ بن عبید۔
قال ابوعیسیٰ حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن غریب لانعرفہ من حدیث ھشام عن ابی سیرین، عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺالاّ من حدیث عیسی بن یونس وقال محمد لا اراہ محفوظاً۔
قال ابوعیسی وقد روی ھذا الحدیث من غیر وجھہ عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ ولایصح اسنادہ،وروی عن ابی الدرداء وثوبان وفُضَالۃ بن عُبید ان النبی ﷺ قاء فافطروا انما معنی ھذا الحدیث ان النبی ﷺ کان صائما متطوعا فقاء فضعف فافطر لذلک ھکذا روی فی بعض الحدیث مفسرًا۔
والعمل عند اھل العلم علی حدیث ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ ان الصائم اذا ذرعہ القیٔ فلا قضاء علیہ واذا استقاء عمدًا فلیقض۔ وبہ یقول الشافعی وسفیان الثوری واحمد واسحاق۔(۲۲)
ترجمہ : ابوالدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قے کے بعد افطار کرلیا۔ اس کا معنی دراصل یہ ہے کہ آپ ؐ نفلی روزہ سے تھے۔ اس حالت میں آپ ؐ کو قے آگئی جس سے بدن میں نقاہت وکمزوری پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ نے روزہ توڑدیا۔
ورنہ اصل عمل اہلِ علم حضرات کا اس حدیث پر ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نبیﷺنے فرمایاہے روزہ دار کو جب خود قے آجائے تو اس پر کوئی قضا لازم نہیں ہے اور جب عمداً قے کرے تو قضا کرنی چاہیے۔ امام شافعی، سفیان ثوری، احمد، اسحاق کا یہی مسلک ہے۔
قے آجانے پر نفلی روزہ کھول لینا جائز ہے
۵۲۔ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَۃَ اَنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ حَدَّثَنِی اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَائَ فَاَفْطَرَ قَالَ فَلَقِیْتُ ثَوْبَانَ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ اِنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَائَ فَاَفْطَرَ قَالَ صَدَقَ وَاَنَا صَبَبْتُ لَہٗ وَضُوْئَ ہٗ۔ (ابوداؤد، ترمذی، دارمی)
’’جناب معدان بن طلحہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابُوا لدَّرداءؓ نے مجھ سے یہ بات فرمائی کہ رسول اللہ ﷺنے قے کی اور روزہ افطار کرلیا۔ مَعدان اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھر دمشق کی مسجد میں میری ملاقات حضرت ثوبانؓ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ حضرت ابوالدرداءؓ نے مجھ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے قے کرکے روزہ افطار کرلیاتھا۔ حضرت ثوبانؓ نے جواب دیا کہ حضرت ابوالدرداءؓ نے سچ کہاہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺکے ہاتھ پر خود پانی ڈالا تھا اور کُلّی کرنے کے لیے آپؐ کو پانی دیا تھا۔ ‘‘
تشریح: واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺکا یہ روزہ نفلی تھا۔ حضورؐ کو کوئی ایسی تکلیف لاحق ہوئی ہوگی جس کی وجہ سے آپ ؐ کو روزہ افطار کرنا پڑا۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، ثَنَا الْحُسَیْنُ، عَنْ یَحْيٰ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الْاَوْزَاعِیُّ عَنْ یَعِیْشَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ ھِشَامٍ اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ حَدَّثَنِیْ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَۃَ اَنَّ اَبَا الدَّرْدَآئِ حَدَّثَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَائَ فَافْطَرَ فَلَقِیْتُ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فِیْ مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَقُلْتُ : اِنَّ اَبَا الدَّرْدَآئِ، حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺَ قَائَ فَافْطَرَ، قَالَ: صَدَقَ، وَاَنَا صَبَبْتُ لَہٗ وَضُوْئَ ہٗ ﷺ۔(۲۳)
روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے
۵۳۔ عَنْ عَامِرِبْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ مَالاَ اُحْصِیْ یَتَسَوَّکُ وَھُوَ صَائِمٌ ۔ (ترمذی، ابوداؤد)
’’حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اتنی بار رسول اللہ ﷺکو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھاہے کہ میں اس کا شمار نہیں کرسکتا۔ ‘‘
تشریح: معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں مسواک کی جاسکتی ہے اور اس میں روزہ نہیں ٹوٹتا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، نَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَن اَبِیْہِ قَالَ:رَأَیْتُ النَّبِیَّﷺ مَالاَ اُحْصِیْ یَتَسَوَّکُ وَھُوَ صَائِمٌ۔
وفی الباب عن عائشۃ:
قال ابو عیسیٰ: حدیث عامر بن ربیعۃ حدیث حسن۔
والعمل علی ھذا عند اھل العلم لایرون بالسواک للصائم باسا الا ان بعض اھل العلم کرھوا السواک للصائم بالعود الرطب وکرھوا لہ السواک و ٰاخر النھار ولم یرالشافعی بالسواک باسا اول النھار ٰاخرہ وکرہ احمد واسحاق السواک ٰاخر النھار۔(۲۴)
ترجمہ : اہل علم کی اکثریت اس پر عمل پیرا ہے اور ان کے نزدیک روزہ دار کے لیے مسواک کرنا کسی حرج کا موجب نہیں ہے۔ تاہم بعض اہل علم گیلی مسواک کو مکروہ سمجھتے ہیں اور دن کے آخری حصّہ میں بھی مسواک کرنا ناپسند کرتے ہیں۔ امام شافعیؒ دن کے کسی بھی حصہ میں مسواک کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ البتہ امام احمد اور اسحاق دن کے آخری حصہ میں مسواک کرنا مکروہ تصوّر کرتے ہیں ۔
ابن ماجہ نے حضرت عائشہؓ کی روایت بیان کی ہے:
(۲) قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مِنْ خَیْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّواکُ۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ روزہ دار کی عمدہ عادتوں میں سے مسواک کرنا بہترین عادت ہے۔
بخاری میں ہے:
(۳) ویذکر عن عامر بن ربیعۃ قال: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَسْتَاکُ وَھُوَ صَائِمٌ مَالاَ اُحْصِیْ اَوْ اَعُدُّ۔
ترجمہ : عامر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو روزے کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا ہے جسے میں نہ شمار کرسکتاہوں،نہ گِن کر بتاسکتاہوں۔
(۴) وَقَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ لَوْلاَ اَنْ اَشُقُّ عَلٰی اُمَّتِیْ لَاَمَرْتُھُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ وُضُوْئٍ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمّت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔
ویُروی نحوہ عن جابر وزید بن خالد عن النبی ﷺ ولم یخص الصائم من غیرہ۔
(۵) وقالت عائشۃؓ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم السِّواکُ مَِطْھَرَۃٌ لِلْفَمِ مَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ الخ۔(۲۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ نبی ﷺکا ارشاد بیان کرتی ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا کہ مسواک منہ کی طہارت اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے۔
روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کا مسئلہ
روزے کی شدّت کم کرنے کے لیے نہانا اورسرپر پانی ڈالنا جائز ہے
۵۵۔ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ بِالْعَرْجِ یَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہِ الْمَائَ وَھُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ اَوْمِنَ الْحَرِّ ۔ (مالک، ابوداؤد)
’’رسول اللہ ﷺکے ایک صحابیؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو عَرْج۱؎ کے مقام پر دیکھا کہ آپ ؐ سرپر پانی ڈال رہے ہیں اور اس وقت آپ روزے سے تھے، پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی شدت کی وجہ سے۔‘‘
تشریح: رسول اللہ ﷺکے یہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺکو روزے کی حالت میں پیاس یا گرمی کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے اپنے سرمبارک پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھاہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس چیز سے روزے میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر آپ پانی کے ٹب میں اس طرح بیٹھے رہیں کہ آپ کا سارا جسم اس میں بھیگتارہے اور آپ سر پر بھی بار بار پانی ڈالتے رہیں تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ چاہے یہ عمل کتنی دیر تک ہوتارہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ پانی میں بیٹھے رہنے یا نہانے سے گرمی کی تکلیف اور پیاس کی شدّت میں کمی واقع ہوگی لیکن یہ روزہ توڑنے والی چیز نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ حلق سے پانی کا ایک قطرہ بھی گزاردیں گے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
تخریج :حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ، عَنْ مَالِکٍ عَنْ سِمّیٍ مَوْلٰی اَبِیْ بَکْرٍ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ) عَنْ اَبِیْ بَکْرٍبْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺَ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَمَرَ النَّاسَ فِیْ سَفَرہٖ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ، وَقَالَ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّکُمْ وَصَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ وَاَبُوْبَکْرٍ۔ قَالَ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بِالْعَرْجِ یَصُبُّ عَلٰی رَاْسِہِ الْمَآئَ وَھُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ، اَوْ مِنَ الْحَرِّ۔(۲۸)
ترجمہ : کسی ایک صحابی ٔرسول کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے سال میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا تھا کہ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو روزہ توڑدینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اپنے دشمن کے لیے قوت حاصل کرو، حالانکہ خود آپؐ اورابوبکرؓ روزہ سے تھے۔ مجھے جس نے روایت بیان کی اس نے بتایاکہ میں نے بہ چشمِ خود رسول اللہ ﷺکو دیکھا ہے کہ عرج مکے اور مدینے کے درمیان ایک مقام ہے۔ کے مقام پر اپنے سرپر پانی ڈال رہے ہیں۔ اس وقت آپؐ روزے سے تھے، پیاس کی وجہ سے یا شدّتِ گرمی کی وجہ سے۔
روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کا مسئلہ
۵۶۔عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ اَتٰی رَجُلاً بِالْبَقِیْعِ وَھُوَ یَحْتَجِمُ وَھُوَاٰخِذٌ بِیَدِیْ، لِثَمَانِیْ عَشْرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)
’’حضرت شدّاد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺبقیع کے مقام پر تشریف لے گئے تو وہاں دیکھاکہ ایک شخص پچھنے لگوارہاہے۔آپؐ اس وقت میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور اس دن رمضان کی اٹھارہویں تاریخ تھی۔ آپؐنے فرمایاکہ پچھنے لگانے والے اور پچھنے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ ‘‘
تشریح: اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے کہ حضرت عبداللہؓ بن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے، لیکن یہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پچھنے لگانے والے اور پچھنے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ دونوں میں سے کس حدیث کو قبول کیا جائے۔
امام احمد بن حنبلؒ نے اسی حدیث کو قبول کیا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ اس بات کے قائل ہیں کہ روزے کی حالت میں پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتاہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک امام احمد بن حنبل ؒنے اس حدیث کو اس بنا پرقبول کیاہے کہ پچھنے لگوانے میں اس بات کا امکان ہوتاہے کہ جس شخص کے پچھنے لگائے جائیں اس کو خون نکلنے سے اتنی کمزوری لاحق ہوجائے کہ وہ آخر کار روزہ کھولنے پر مجبور ہوجائے۔ اسی طرح جو شخص سینگی سے خون چوستاہے اس کے لیے بھی اس بات کا خدشہ ہوتاہے کہ خون چوستے چوستے کہیں کوئی قطرہ اس کے حلق میں نہ چلاجائے اور وہ روزہ توڑ بیٹھے۔
لیکن اس حدیث کے بارے میں دوسری روایات سے جو تفصیلات معلوم ہوتی ہیں ان کے مطابق جس واقعہ کا ذکر اس حدیث میں کیا گیاہے وہ فتح مکّہ کے زمانے کی بات ہے اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے جب رسول اللہ ﷺکو پچھنے لگواتے ہوئے دیکھا تھا وہ حجۃ الوداع کے موقع کی بات ہے، جو یقینا بعد کے زمانے سے تعلّق رکھتی ہے۔ اسی لیے فقہاء کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ چونکہ اس معاملے میں حضرت عبداللہؓ بن عباس کا مشاہدہ ترتیبِ زمانی کے لحاظ سے نبیﷺکے ایک بعد کے عمل کو ظاہر کرتاہے اس لیے اس معاملے میں آخری حکم یہ ہے کہ پچھنے لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کا یہی مسلک ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا وُھَیْبٌ، ثَنَا اَیُّوْبُ عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ اَبِی الْاَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتٰی رَجُلاً بِالْبَقِیْعِ وَھُوَ یَحْتَجِمُ وَھُوَاٰخِذٌ بِیَدِیْ، لِثَمَانِیْ عَشْرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ۔(۲۹)
قال ابوداؤد: وروی خالد الحذاء عن ابی قلابۃ باسناد ایوب مثلہٗ۔(۳۰)
امام ترمذی نے رافع بن خدیج سے مروی روایت بیان کرکے لکھاہے:
وفی الباب عن سعد وعلی وشداد بن اوس وثوبان واسامۃ بن زید وعائشۃ ومعقل بن یسار ویقال معقل بن سنان وابی ھریرۃ وابن عباس وابی موسیٰ وبلال۔
قال ابوعیسیٰ: حدیث رافع بن خدیج حدیث حسن صحیح۔
وذکر عَنْ احمد بن حنبل انہ قال اصح شئی فی ھذا الباب حدیث رافع بن خدیج وذکر عن علی بن عبداللّٰہ انہ قال اصح شیٍٔ فی ھذا الباب۔
ـــــــــامام احمد کا قول یہ منقول ہے فرماتے ہیں کہ اس باب میں رافع بن خدیج کی روایت سب روایات سے صحیح ہے۔ علی بن عبداللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
حدیث ثوبان وشداد بن اوس لان یحيٰ بن ابی کثیر روی عن ابن قلابۃ الی الحدیثین جمیعًا حدیث ثوبان وحدیث شداد بن اوس، وقدکرہ قوم من اھل العلم من اصحاب النبی ﷺوغیرھم الحجامۃ للصائم حتیٰ ان بعض اصحاب النبی ﷺ احتجم باللیل منھم ابوموسی الاشعری وابن عمر وبھٰذا یقول ابن المبارک۔
ترجمہ : اہل علم صحابہ کرام میں سے کُچھ اور کچھ دوسرے حضرات روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانا مکروہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ابوموسیٰ اشعری اور عبداللہ بن عمر اسی وجہ سے رات کو پچھنے لگوایا کرتے تھے۔
قال ابوعیسی: وسمعت اسحاق بن منصور یقول: قال عبدالرحمٰن بن مھدی من احتجم وھو صائمٌ فعلیہ القضاء
ترجمہ : عبدالرحمن بن مہدی کا خیال ہے کہ جس نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے اس پر قضا لازم ہے۔
قال اسحاق بن منصور وھکذا قال احمد بن حنبل واسحاق بن ابراھیم۔ قال ابوعیسٰی واخبرنی الحسن بن محمد الزعفرانی قال: قال الشافعی قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہُ احْتَجَمَ وَھُوَ صَائِمٌ وَرُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ۔
وَلاَ اَعْلَمُ اَحَدًا مِنْ ھٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ ثَابِتًا وَلَوْ تَوَقّٰی رَجُلٌ الْحَجَامَۃَ وَھُوَ صَائِمٌ کَانَ اَحَبَّ اِلَیَّ وَاِنِ احْتجم وھو صائمٌ لم ار ذٰلکَ اَن یفطَّرَہ۔
قال ابوعیسٰی: ھکذا کان قول الشافعی ببغداد واما بمصر فمال الی الرخصۃ ولم یرہ بالحجامۃ باسًا واحتج ان النبی ﷺاحتجم فی حجۃ الوداع وھو محرم صائم۔(۳۰)
ترجمہ : امام شافعی کاقول ہے کہ نبی ﷺکا اپنا فعل ثابت ہے کہ آپؐ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے اور دوسری جانب آپؐ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔
میرے علم کی حدتک تو یہ دونوں حدیثیں ثابت نہیں ہیں، اگر ایک روزہ دار روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے سے پرہیز کرے تو یہ میرے نزدیک پسندیدہ فعل ہے اور اگر پچھنے لگوالے تو میرے خیال میں اسے روزہ توڑنے کی ضرورت نہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام شافعی جب بغداد میں تھے تو ان کی رائے مذکورہ بالا تھی اور جب آپ مصر میں آگئے تو ان کا میلان رخصت کی جانب ہوگیا۔ کہ نبی ﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر حالتِ احرام اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے۔
ساری عمر کے روزے بھی رمضان کے ایک روزے کا بدل نہیں ہوسکتے
۵۷۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ رُخْصَۃٍ وَلاَمَرَضٍ لَّمْ یَقْضِ عَنْہُ صَوْمُ الدَّھْرِ کُلِّہٖ وَاِنْ صَامَہٗ۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی، بخاری)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : اگر کسی شخص نے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑا بغیر کسی رخصت (معقول عذر) کے اور بغیر کسی مرض کے تو اگر وہ ساری عمر کے روزے بھی رکھے تب بھی وہ اس کی قضا نہیں ہوسکتے۔ ‘‘
تشریح: یہ رمضان کے روزے کی قضا کا شرعی حکم نہیں ہے کیونکہ قضا روزہ اگر کوئی شخص رکھے گا تو وہ اس کا ادا ہوجائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک اس کے عمر بھر کے روزے بھی اجر اور مرتبے کے لحاظ سے اس ایک روزے کا بدل نہیں ہوسکتے جو اس نے رمضان میں جان بوجھ کر چھوڑدیا ہو۔ کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑنا اور بات ہے کیونکہ اس صورت میں تو آدمی قضا روزہ رکھ سکتاہے اور یہ چیز قابلِ مؤاخذہ نہیں ہے لیکن کسی شرعی عذر کے بغیر جان بوجھ کر روزہ چھوڑنا ایسا ہے کہ پھر ساری عمر کے روزے بھی اس کا بدل نہیں ہوسکتے۔
یہاں یہ بات سمجھ لیجیے کہ شریعت میں بعض چیزیں تو قانونی حیثیت رکھتی ہیں اور بعض اخلاقی ــــقانونی حیثیت تو یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے جان بوجھ کرکوئی روزہ چھوڑا ہو تو اس پر قضا لازم آئے گی اور قانون کا تقاضافقط اتناہے کہ وہ قضا روزہ رکھے۔ لیکن اس کے روزہ قضا کرنے کی اخلاقی حیثیت اس حدیث کے مطابق یہ ہے کہ ایک روزہ نہیں بلکہ عمر بھر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدل نہیں ہوسکتے جو اس نے رمضان کے زمانے میں جان بوجھ کر چھوڑدیا ہو۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نا یَحْيَ بْنُ سَعِیْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، قَالاَ:نَاسُفْیانُ عَنْ حَبِیْبِ ابْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ نَا اَبُوالْمُطَوِّسِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ :مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا مِّنْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْررُخْصَۃٍ وَلاَمَرَضٍ لَمْ یَقْضِ عَنْہُ صَوْمُ الدَّھْرِکُلِّہٖ وَاِنْ صَامَہٗ۔(۳۱)
قال ابوعیسٰی:حدیث ابی ھریرۃ حدیث لانعرفہ الا من ھذا الوجہ وسمعت محمدًا یقول ابوالمطوس اسمہ یزید بن المطوس ولا اعرف لہ غیرھذا الحدیث۔
’’امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد محمد بن اسماعیل بخاری سے یہ سنا فرمارہے تھے کہ ابوالمطوس جس کا نام یزید بن مطوس ہے اس حدیث کے علاوہ مجھے تو اس کی کوئی اور حدیث معلوم نہیں ہے۔ ‘‘
ابوداؤد نے اس روایت کو ان الفاظ میں بیان کیاہے:
(۲) مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِیْ غَیْررُخْصَۃٍ رَخَّصَھَا اللّٰہُ لَہٗ لَمْ یَقْضِ عَنْہُ صِیَامُ الدَّھْرِ۔(۳۲)
ترجمہ : جس شخص نے رمضان کا ایک روزہ بھی اس رخصت کے بغیر چھوڑا جو رخصت اللہ تعالیٰ نے اسے خوددی ہے تو ساری عمر کے روزے بھی اس کی قضا نہیں ہوسکتے۔
ابن ماجہ میں ابن المطوس کی سند سے مروی روایت کے الفاظ:
(۳) مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ رُخْصَۃٍ لَمْ یُجْزِہٖ صِیَامُ الدَّھْرِ۔
ترجمہ : جس شخص نے رمضان کا ایک روزہ بغیرشرعی رخصت کے چھوڑا تو ساری عمر کے روزے اس کمی کو پورا نہیں کرسکتے۔
نقل السندی عن البخاری، قَالَ: لااعرف لابن المطوس حدیثًا غیر حدیث الصیام، ولاادری أسمع من ابیہ عن ابی ھریرۃ ام لا۔(۳۳)
امام بخاریؒ نے تو یہاں تک فرمایا ہے ابن المطوس سے حدیثِ صیام کے علاوہ کوئی دوسری حدیث میرے علم میں نہیں ہے اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے اپنے باپ سے حضرت ابوہریرہؓ کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے وہ باپ سے سنی بھی ہے یا نہیں۔
امام بخاری نے کتاب الصوم میں باب اذا جامَعَ فی رمضان ویُذکر عن ابی ھریرۃ رفعہ۔
(۴) مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا فِیْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ وَلاَ مَرَضٍ لَمْ یَقْضِہٖ صِیَامُ الدّھّرِ وَاِنْ صَامَہٗ۔
ترجمہ : جس شخص نے رمضان میں ایک روزہ بھی بغیر عذر (شرعی) اورمرض کے چھوڑا تو وہ اگر ساری عمر کے روزے بھی رکھے تب بھی وہ اس کی قضا نہیں ہوسکتے۔
وبہ قال ابن مسعود وقال سعید بن المسیب والشعبی وابن جبیر وابراھیم وقتادۃ وحماد یقضی یومًا مکانَہ۔(۳۴)
اصل مطلوب روزے کی ظاہری شکل نہیں بلکہ اس کی حقیقی روح ہے
۵۸۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :کَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلاَّ الظَّمَأ وَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلاَّ السَّھَرُ۔ (دارمی)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں کہ جنہیں اپنے روزوں سے سوائے پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت کرنے والے ایسے ہیں کہ جنہیں اپنی اس عبادت سے رات کی نیند سے محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعمال کی دوحیثیتیں ہیں۔ ایک تو ان کی ظاہری حیثیت ہے، یعنی وہ ظاہری شکل جس کے مطابق وہ انجام دیے جاتے ہیں اور دوسری ان کی باطنی حیثیت ہے، یعنی ان کی اصل حقیقت اور روح جو اُن سے مطلوب ہوتی ہے۔ اگر آپ شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کوئی عمل انجام دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ذمے جو فرض تھا وہ آپ نے ادا کردیا۔ اس کے بعد دوسری چیز ہے اس عمل کی حقیقت، تو اس کی حیثیت بالکل ایسی ہے جیسے جسم کے اندر روح ہوتی ہے۔ روح اگر آدمی کے جسم سے نکل جائے تو دیکھنے کو تو اس کا پورا جسم جوں کا توں موجود ہوتاہے (اور بظاہر کوئی چیز اس میں سے کم نہیں ہوتی)لیکن فرق یہ واقع ہوجاتاہے کہ پہلے وہ زندہ تھا اور اب زندہ نہیں ہے۔ جب تک وہ زندہ تھا توآپ اُسے دفن کرنے کا خیال تک نہیں کرسکتے تھے لیکن اب وہ مُردہ ہے تو آپ اسے اپنے پاس رکھنے کے متعلق نہیں سوچ سکتے۔ یہی تعلّق ہے اعمال کی اصل حقیقت اور ان کی ظاہری شکل کے درمیان ـــــ پس اگر ایک آدمی عمل کی وہ شکل پوری نہیں کرتا جو شریعت نے بتائی ہے تو شریعت کی نگاہ میں اس کا وہ عمل بیکار ہے، اور اگر وہ اس عمل کے اندر اس کی حقیقی روح پیدا نہیں کرتا تو اس صورت میں اس کا وہ عمل خدا کے ہاں بے وزن اور بے حقیقت ہے۔
مثلاً اگر ایک آدمی نے روزہ رکھا اور اس نے دن بھر کچھ کھایا پیا نہیں تو اُس نے روزے کی ظاہری شکل کو تو پورا کردیا لیکن اگر وہ دن بھر خدا کو بھولارہا اور روزے کی حالت میں ہرطرح کے ناجائز افعال کرتارہا تو اگر چہ اس کے متعلق یہ تو نہیں کہاجائے گا کہ اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، یا اس کا روزہ ٹوٹ گیا کیونکہ اس نے جھوٹ بولاتھا یا کسی پر بہتان لگایا تھا یا کسی کا حق مارا تھا لیکن ظاہر بات ہے کہ اس نے روزے کے اصلی مقصد کو فوت کردیا۔ اس کا روزہ ویسے ہی بے جان ہے جیسے کوئی مردہ اور بے جان وجود ـــاس طرح درحقیقت اس شخص نے اپنے روزے سے سوائے بھوک پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں کیا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص رمضان کی راتوں میں قیام کرتاہے اور خدا کی عبادت میں وقت گزارتاہے تو اس کے متعلق یہ تو نہیں کہاجاسکتاکہ اس نے قیام نہیں کیا، یا عبادت نہیں کی لیکن اگر اس نے اپنے اس قیا م میں صحیح معنوں میں رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا نہیں کی اور اپنی عبادت کی بنا اخلاص پر نہیں رکھی تو اس کا یہ عبادت کرنا اور راتوں کو کھڑا ہونا محض ایک مشینی عمل ہے جس میں کوئی جان اور روح نہیں ہے۔ اس سے اسے سوائے رَت جگے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔
پس شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ آپ کے اعمال ظاہری شکل کے اعتبار سے بھی قانون کے مطابق ہوں اور ان کے اندر حقیقی روح بھی موجود ہو ــــ اعمال کی یہ حقیقی روح ہے اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کی محبت، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا جذبہ، اس کے حضور جواب دہی کا احساس، اس کا خوف اور اس کے احکام وقوانین کی ہمہ وقت پیروی اور ان کی بجاآوری کا خیال۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے اعمال کے اندر حقیقی روح پیدا ہوتی ہے۔ یہ نہ ہوںتو ظاہری عمل کی حد تک تو قانون کی پابندی ہوجائے گی اور بظاہر آدمی اس کی خلاف ورزی سے بھی بچ جائے گا لیکن اعمال کی حقیقی روح سے محروم رہے گا۔ نتیجتاً اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کے اعمال کی کچھ قدرو قیمت نہ ہوگی۔
تخریج(۱) : اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ عِیْسٰی،عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی الزِّنَادِ، عَنْ َعْمرِوبْنِ اَبِیْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِیْدِنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:کَمْ مِنْ صَآئِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلاَّ الظَّمَأُ وَکَمْ مِنْ قَآئِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلاَّ السَّھَرُ۔(۳۵)
ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت :
(۲) قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ﷺ : رُبَّ صَآئِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلاَّالْجُوْعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلاَّ السَّھَرُ۔(۳۶)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اور بہت سے رات کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے اس قیام کی عبادت سے سوائے بیداری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
المستدرک للحاکم نے اس روایت کو درج ذیل الفاظ میں بیان کیاہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رُبَّ صَآئِمٍ حَظُّہٗ مِنْ صِیَامِہِ الْجُوْعُ وَرُبَّ قَآئِمٍ حَظُّہٗ مِنْ قِیَامِہِ السَّھَرُ۔ھٰذا حدیث صحیح علی شرط البخاری وَلم یخرجاہ۔(۳۷)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے کا حصّہ بھوک کے سوا اور کچھ نہیں اور بہت سے رات کو کھڑے ہوکر عبادت کرنے والے ایسے ہیں کہ قیام کرنے کا حصّہ، سوائے بیداری کے اور کچھ بھی نہیں۔
السنن الکبریٰ للبیہقی کی روایت:
(۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: رُبَّ قَآئِمٍ حَظُّہٗ مِنْ قِیَامِہِ السَّھَرُ وَرُبَّ صَآئِمٍ حَظُّہٗ مِنْ صِیَامِہِ الْجُوْعُ وَالْعَطَشُ۔(۳۸)
ترجمہ : ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے سناہے بہت سے راتوں کو قیام کرنے والوں کا حصہ سوائے بیداری کے کچھ بھی نہیں اور بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کے روزے کا حصّہ سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ بھی نہیں۔
تین چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا
۵۹۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثَلاَثٌ لاَیُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ الْحِجَامَۃُ وَالْقَیٔ وَالْاِحْتَلاَمُ۔ (ترمذی)
’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں توڑتیں : ۱۔ پچھنے لگانا یا لگوانا ۔ ۲۔ قے کا آنا ۳۔خواب میں جنابت کا لاحق ہوجانا۔‘‘
تشریح: اس حدیث میں قے سے مراد وہ قے ہے جو خود بخود آجائے۔ وہ قے مراد نہیں جو آدمی کسی ضرورت یا تکلیف کی بنا پر خود منہ میں انگلی ڈال کر یا کسی دوسرے طریقے سے کرے۔ ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتاہے اور قضا لازم آتی ہے۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ نِ الْمُحَارِبِیُّ، نَا عَبْدُالرّحْمٰنِ بْنُ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثٌ لاَیُفَطِّرْنَ الصَّآئِمَ الْحِجَامَۃُ وَالْقَیُٔ وَالْاِحْتَلاَمُ۔
قَالَ ابو عیسٰی : حدیث ابی سعید الخدری غیر محفوظ۔
وَقد روی عبداللّٰہ بن زید بن اسلم وعبد العزیز بن محمد وغیر واحد ھذا الحدیث عن زید بن اسلم مرسلاً ولم یذکروا فیہ عن ابی سعید وعبدالرحمن بن زید بن اسلم یضعف فی الحدیث۔
سمعت ابا داؤد السجزی یقول سألت احمد بن حنبل عن عبدالرحمن بن زید بن اسلم فقال اخوہ عبد اللہ بن زید لا بأس بہ وسمعت محمداً یذکر عن علی بن عبداللہ قال عبداللہ ابن زید بن اسلم ثقۃ وعبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف قال محمد ولا ا روی عنہ شیئًا۔(۳۹)
السنن الکبریٰ للبیہقی کی روایت :
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُفْطِرُ مَنْ قَائَ وَلاَ مَنِ احْتَجَمَ وَلاَ مَنِ احْتَلَمَ۔(۴۰)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کو خود قے آجائے اور جو پچھنے لگوائے اور جسے شب خوابی میں احتلام ہوجائے وہ روزہ نہ چھوڑے۔
روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کی صحیح شرعی حیثیت
۶۰۔ عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِیِّ، قَالَ : سُئِلَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کُنْتُمْ تَکْرَھُوْنَ الْحِجَامَۃَ لِلصَّائِمِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ: لاَ اِلاَّ مِنْ اَجْلِ الضُّعْفِ۔ (بخاری)
’’جناب ثابت بُنانی ؒ(جو تابعی ہیں) بیان کرتے ہیں کہ حضرت انسؓ بن مالک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ (صحابہ کرامؓ) رسول اللہ ﷺکے عہد میں روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کو مکروہ سمجھتے تھے؟ حضرت انسؓ نے فرمایا کہ نہیں، البتہ اس وجہ سے پرہیزکرتے تھے کہ اس سے ضعف لاحق ہوجاتاہے۔‘‘
تشریح: معلوم ہوا کہ چونکہ پچھنے لگوانے سے کمزوری لاحق ہوجاتی ہے اور اس بات کا امکان ہوتاہے کہ اس سے کوئی ایسی ناقابلِ برداشت تکلیف ہوجائے جس سے روزہ توڑنا پڑجائے تو اس بنا پر صحابہ کرامؓ پچھنے لگوانے سے پرہیز کرتے تھے، لیکن وہ اس بات کے قائل نہیں تھے کہ بجائے خود پچھنے لگوانے سے روزے میں کوئی خرابی واقع ہو جاتی ہے۔
بعض احادیث میں چونکہ یہ ذکر آیاہے کہ پچھنے لگوانے سے پچھنے لگوانے والے اور لگانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتاہے۔ اس لیے تابعین نے صحابہ کرامؓ سے ملاقاتیں کرکے یہ معلومات حاصل کیں کہ اس معاملے میں فی الواقع شرعی پوزیشن کیاہے۔ یہ حدیث اسی چیز پر روشنی ڈالتی ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا آدَمُ بنُ اَبِیْ اِیَاسٍ، ثَنَا شُعْبَۃٌ قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِیَّ: سُئِلَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَکُنْتُمْ تَکْرَھُوْنَ الْحِجَامَۃَ لِلصَّآئِمِ قَالَ: لاَ اِلاَّ مِنْ اَجْلِ الضُعْفِ۔ (۴۱)
وزاد شَبابۃُ ثنا شُعْبَۃُ علٰی عھد النبی ﷺ۔
ترجمہ : جناب ثابت بنانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ ( صحابہ کرامؓ) رسول اللہ ﷺ کے عہد میں روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کو مکروہ سمجھتے تھے؟ حضرت انسؓ نے فرمایا کہ نہیں،البتہ اس وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ اس سے ضعف لاحق ہوجاتاہے۔
روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کے متعلق عبداللہ بن عمرؓ کا عمل
۶۱۔عَنِ الْبُخَارِیِّ تَعْلِیْقًا قَالَ:کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَحْتَجِمُ وَھُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَکَہٗ فَکَانَ یَحْتَجِمُ بِاللَّیْلِ۔
’’امام بخاریؒ تعلیقًا (سند کے حوالے کے بغیر) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایسا کرنا چھوڑدیا اور رات کے وقت پچھنے لگوانے لگے۔ ‘‘
تشریح: امام بخاریؒ کا طریقہ یہ ہے کہ بعض اوقات وہ کسی مسئلے کی وضاحت میں کسی صحابی یا تابعی کا کوئی قول یا فعل بغیر سند کے نقل کردیتے ہیں۔ ایسے اقوال وافعال کو باقاعدہ احادیث میں شمار نہیں کیا جاتالیکن ان کا ایک وزن ضرور ہے کیونکہ امام بخاری محقق آدمی تھے اور انہوں نے تعلیقاً بھی جو کچھ کہا ہے وہ بے حقیقت نہیں ہے۔
امام بخاریؒ کی اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ اگر روزے میں پچھنے لگوانا مکروہ ہوتا یا اس سے روزے میںکوئی خرابی واقع ہوتی تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایسا نہ کرتے۔ بعد میں انہوں نے دن کو پچھنے لگوانے کا طریقہ چھوڑ کررات کو پچھنے لگوانے کا طریقہ اس لیے اختیار کیا کہ عمر میں اضافے سے وہ روزے میں دن کے وقت پچھنے لگوانے سے کمزوری محسوس کرنے لگے تھے۔
تخریج : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَحْتَجِمُ وَھُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَکَہٗ فَکَانَ یَحْتَجِمُ بِاللَّیْلِ۔ وَاحْتَجَمَ اَبُوْمُوْسٰی لَیْلاً۔ وَیُذْکَرُ عَنْ سَعْدٍ وَزَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ وَاُمِّ سَلَمَۃَ احْتَجَمُوْا صِیَامًا وَقَالَ بُکَیْرٌ عَنْ اُمِّ عَلْقَمَۃَ کُنَّا نَحْتَجِمُ عِنْدَ عَائِشَۃَ فَلاَ نُنْھٰی۔(۴۲)
ترجمہ : حضرت سعد، زید بن ارقم اور اُمّ سلمہؓ سے منقول ہے کہ یہ سب روزے کی حالت میں پچھنے لگواتے تھے۔ ام علقمہ کے حوالہ سے بُکیرنے یہ بھی بیان کیاہے کہ ہم حضرت عائشہؓ کی موجودگی میں پچھنے لگواتے ہمیں اس سے منع نہیں کیا جاتاتھا۔
کُلّی کرنے کے بعد تھُوک نگلنے اور مصطگی وغیرہ چبانے کا مسئلہ
ماخذ
(۱) بخاری ج ۱کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزّور والعمل بہ فی الصوم۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی التشدید فی الغیبۃ للصائم۔٭ ابوداوٗد ج۲ کتاب الصوم باب الغیبۃ للصائم۔٭مُسندِ احمد مرویات ابی ھریرۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الغیبۃ والرفث للصائم۔
(۲) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴ کتاب الصیام باب الصائم ینزہ صیامہ عن اللفظ وَالمشاتمۃ۔
(۳) المستدرک للحاکم ج ۱،ص ۴۳۱۔
(۴) بخاری ج۱کتاب الصوم باب القُبلۃ للصائم وقال جابربن زید ان نظر فامنیٰ یتم صومہ۔ ٭مسلم ج۱ کتاب الصیام باب ان القبلۃ فی الصیام الخ۔ ٭ ابوداوٗد ج۱ کتاب الصوم باب القُبلۃ للصائم۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔ کتاب الصیام باب اباحۃ القُبلۃ لمن لم تحرک شھوتہ اوکان یملک اربہ۔ قال ابن عباس: مآرْبٌ حاجۃٌ وقال طاؤس اولِی الْاِرْبَۃِ۔ الاحمق لاحاجۃ لہ فی النسائِ۔ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی مباشرۃ الصّائم۔ ترمذی نے لاربہکا معنی لنفسہٖ بیان کیا ہے۔ ٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی القُبلۃ للصائم۔ ٭دارمی کتاب الصوم باب الرخصۃ فی القبلۃ للصائم۔مختصر روایت بیان ہوئی ہے۔ ٭مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب ماجاء فی الرخصۃ فی القبلۃ للصائم۔٭ مسندِ احمد ج۱٭ دارقطنی ج۲میں حضرت عائشہؓ سے منقول روایت میں ہے۔ کان رسول اللّٰہﷺ یقبل فی شھر رمضان ھذا اسناد صحیح۔
(۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب اغتسال الصائم۔٭ مسلم ج ۱کتاب الصیام باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر وھو جنب۔٭ ابوداوٗدج۲کتاب الصوم باب فیمن اصبح جنبا فی شھر رمضان۔ ٭دارمی کتاب الصوم باب فیمن اصبح جنبا وھو یرید الصیام۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب ماجاء فی صیام الذی یصبح جنبا فی رمضان۔ ٭ السنن الکبری للبیھقی ج۴ کتاب الصیام باب من اصبح جنبا فی شھر رمضان۔ ابوداؤد نے حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ دونوں کی روایت بیان کی ہے۔٭ترمذی،ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی الجنب یدرکہ الفجر وھو یرید الصیام۔٭مُسندِ احمد ج۱ص۴۴۵۔ج۶ ص۴۰-۴۲-۵۹-۱۲۶-۱۲۸-۱۵۴-۱۷۴- ۲۰۱- ۲۰۴- ۲۰۶-۲۱۶-۲۳۰-۲۶۶۔ مرویات ام سلمۃ ام المؤمنین۔ ٭ قال ابو عیسٰی حدیث عائشۃ وام سلمۃ حدیث حسن صحیح۔ ٭ والعمل علی ھذا عند اکثر اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرھم وھو قول سفیان والشافعی واحمد واسحاق۔ ٭ وقد قال قوم من التابعین اذا اصبح جنبًا یقضی ذٰلِک الیوم والقول الاول اصح۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الرجل یصبح جنبا وھو یرید الصیام۔٭ ابن ماجہ نے حضرت اُمّ سلمہؓ کی روایت لی ہے۔
(۶) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الحجامۃ والقیٔ للصائم۔٭ بخاری کتاب الصید باب ۲۲اورکتاب الطب۔
(۷) مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز الحجامۃ للمحرم۔
(۸) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب فی الصائم یحتجم۔۔۔۔الرخصۃ فی ذٰلک اور کتاب المناسک باب ۳۵۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الحجامۃ للصائم۔(مقسم والی روایت بیان کی ہے) کتاب المناسک باب ۸۷۔ اورکتاب الطب۔٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب الصائم یحتجم لایبطل صومہ۔
(۹) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء من الرخصۃ فی ذٰلک۔٭ نسائی ج۵کتاب الحج۔٭ دارمی کتاب المناسک باب۲۰۔ ٭المستدرک ج۱کتاب الصوم باب افطر الْحَاجِم والمحجوم۔مستدرک نے تمام روایات پر نظر نقد ڈالی ہے۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الحج باب ۷۴۔٭مُسندِ احمد ج۱ص۲۱۵، ۲۲۱، ۲۲۲، ۲۳۶، ۲۴۴، ۲۴۸۔۲۵۰،۲۵۸،۲۶۰،۲۸۳،۲۸۶،۲۹۲،۲۹۹، ۳۰۵، ۳۰۶، ۳۱۵، ۳۳۳، ۳۴۴،۳۴۶،۳۵۱، ۳۷۲، ۳۷۴، ج۳ص۱۶۴،۲۶۷،۳۰۵،۳۵۷،۳۶۳ وغیرہ۔
(۱۰) مسلم ج۱کتاب الصیام باب اکل الناسی وشربہ الخ۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فیمن اکل ناسیا۔ ٭مُسندِ احمد ج۲مرویات ابی ھریرۃ۔
(۱۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الصَّائم اذا اکل اوشرب ناسیا۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فیمن افطر ناسیا۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فیمن اکل ناسیا۔٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب من اکل او شرب ناسیا فلیتم صومہ ولا قضاء۔
(۱۲) ابوداؤد ج۱کتاب الصوم باب مَنْ اکل نَاسیا۔
(۱۳) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الصائم یاکل ویشرب ناسیا۔٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔
(۱۴) المستدرک للحاکم ج۱۔ کتاب الصوم باب من افطر فی رمضان ناسیًا فلا قضاء علیہ ولاکفارۃ۔
(۱۵) مُسنداحمد ج۲ص۳۹۵۔ مرویات ابی ھریرۃ۔٭دارقطنی ج۲۔
(۱۶) بخاری ج۱کتاب الصوم باب اذا جَامَع فی رمضان ولم یکن لہ شیٌٔ فتُصُدِّق علیہ فلیکَفِّر۔ ٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب تغلیظ تحریم الجماع فی رمضان علی الصائم ووجوب الکفارۃ الکبریٰ فیہ الخ۔مسلم نے افقرکی جگہ احوج الیہنقل کیا ہے٭ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب کفارۃ من اتی اھلہٗ فی رمضان۔مسلم اور ابوداؤد نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت بھی بیان کی ہے جس میں ایک آدمی کا ذکر ہے جو اپنے گدھے پر سامانِ خوردونوش لاد کر خدمتِ رسالت مآب میں حاضر ہوا۔دارمی کتاب الصوم باب فی الذی یقع علی امرأتہ فی شھر رمضان نھاراً۔٭ ابن ماجہ میں حدیث کے آخری الفاظ فَاَطْعِمْہُ عیالک ہیں۔ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی کفارۃ من افطر یومًا من رمضان۔٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲ص۱۹۔٭ السنن الکبری ج۱کتاب الصیام باب کفارۃ من اتی اھلہ فی نھار رمضان وھو صائمٌ۔
(۱۷) ترمذی ج۱ص ابواب الصوم باب ماجاء فی کفارۃ الفطر فی رمضان۔
(۱۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب کفارۃ من اتی اھلہ فی نھار رمضان وھو صائم۔
(۱۹) ابوداؤد کتاب الصوم باب کراھیتہ للشَّابِ۔
(۲۰) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب الصائم یستقیٔ عامداً۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب ذرعہ القیٔ وَلم یفطر ومن استقاء افطر۔٭ السمتدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب من ذرعہ القیٔ فلیس علیہ قضاء ومن استقاء فلیقض۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الصائم یقیٔ۔
(۲۱) دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔
(۲۲) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی من استقاء عمداً۔
(۲۳) ابوداؤدج۱کتاب الصوم باب الصائم یستقیٔ عمداً۔٭ ترمذی نے ابواب الصوم باب ماجاء فی من استقاء عمداً کے ضمن میں صرف وفی الباب عن ابی الدرداء وثوبان وفضالۃ بن عبید بیان کیاہے۔ثوبان والی روایت نقل نہیں کی۔ ٭دارمی کتاب الصوم باب القیٔ للصائم۔ ٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب من ذرعہ القیٔ لم یفطر ومن استقاء افطر۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب الافطار من القیٔ۔
(۲۴) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی السواک للصائم۔٭ ابوداوٗد کتاب الصوم باب السواک للصائم۔٭ابوداود نے قال رأیت النبی ﷺ یستاک وھو صائم زاد مسدد مالا أعد ولا أحصی۔٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔
(۲۵) ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی السواک والکحل للصائم۔٭مسندِ احمد ج۳ص ۴۴۵۔ عامر بن ربیعہ۔
(۲۶) بخاری ج ۱کتاب الصوم باب السواک الرطب والیابس للصائم۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔کتاب الصیام باب السواک للصائم۔السنن الکبریٰ للبیھقی میں حضرت عائشہؓ کی ابن ماجہ والی روایت بھی منقول ہے اس کے بارے میں کہتے ہیں: مجالد غیرہ اثبت منہ وعاصم بن عبیداللہ لیس بقوی واللّٰہ اعلم۔
(۲۷) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الکحل للصائم۔السنن الکبریٰ ج۴میں حضرت عائشہؓ، ابنِ عباسؓ اوردیگر روایات بیان کرکے جرح کی ہے۔ امام بخاری نے کتاب الصوم باب اغتسال الصائم کے ضمن میں بیان کیا۔
(۲۸) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب الصائم یصب علیہ الماء من العطش ویبالغ فی الاستنشاق۔ ٭مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب ماجاء فی الصیام فی السفر۔
(۲۹) ابوداوٗدج۲کتاب الصوم باب فی الصائم یحتجم۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الحجامۃ للصائم۔ ٭دارمی کتاب الصوم باب الحجامۃ تفطر الصائم۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔کتاب الصیام باب الحدیث الذی روی فی الافطار بالحجامۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کے ذیل پر صاحبِ الجواہر النقی نے ابنِ عباس کی روایت ناسخ اور حدیث افطر الحاجم والمحجومکو بدلائل منسوخ ثابت کیاہے۔٭امام بخاری نے کتاب الصوم باب الحجامۃ القیٔ للصائمکے ضمن میں ویروی عن الحسن عن غیرواحدٍ مرفوعًا افطر الحاجم والمحجوم روایت کیاہے۔٭ دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔دارقطنی نے لثمان عشرۃ کے بجائے لسبع عشرۃ بیان کیاہے ٭مُسندِ احمد ج۴ص۱۲۳ شداد بن اوس۔ج۲ص۳۶۴۔ج۳ص۴۶۵۔۴۷۴۔۴۸۰ج۴ص۱۲۴۔۱۲۵۔ ج۵ص۲۱۰۔۲۷۶۔ ۲۷۷۔ ۲۸۰۔ ۸۲ ۲۔ ج۶ص۱۲۔۱۵۷۔۲۵۸۔
(۳۰) ترمذی ابواب الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ الحجامۃ للصائم۔
(۳۱) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الافطار متعمداً۔٭ دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔ ٭المصنف ج۴کتاب الصیام۔
(۳۲) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب التغلیظ فی من افطر عمدًا۔ ابوداؤد نے سند میں ابوالمطوس کے بجائے ابن المطوس بیان کیاہے۔ دارمی کتاب الصوم باب من افطر یومًا من رمضان متعمداً ابوداؤد اور دارمی کا متن ایک سا ہے۔ ٭مسنداحمد ج۲ص۳۸۶۔
(۳۳) ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی کفارۃ من افطر یوما من رمضان۔٭مُسندِ احمد۔ج۲ص ۳۸۶-۲۴۲ ابوھریرۃ۔٭ السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام۔
(۳۴) بخاری ج۱کتاب الصوم باب اذا جامع فی رمضان الخ۔
(۳۵) دارمی کتاب الرقاق باب فی محافظۃ علی الصوم۔٭ مُسند احمدج۲ص ۴۴۱مرویات ابی ھریرۃ۔
(۳۶) ابوداؤد اور دارمی کا متن ایک ساہے۔ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الغیبۃ والرفث للصائم۔ ٭فی الزوائد اسنادہٗ ضَعِیْفٌ۔
(۳۷) المستدرک ج۱کتاب الصوم باب من افطر فی رمضان ناسیًا فلا قضاء علیہ ولاکفارۃ۔
(۳۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الصّائم ینزہ صیامہ عن اللغط والمشاتمۃ۔
(۳۹) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الصائم یذرعہ القیٔ۔٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔
(۴۰) السنن الکبری ج۴ کتاب الصیام۔
(۴۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الحجامۃ والقَیٔ للصائم۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصوم باب الصائم یحتجم لایبطل صومہ۔
(۴۲) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الحجامۃ والقیٔ للصائم۔
(۴۳) بخاری ج۱کتاب الصوم باب قول النبی ﷺاذا توضأ فَلْیستنشق بمنخرہٖ الماء ولم یمیّزبین الصائم۔
(۴۴) السنن الکبریٰ للبیھقی کتاب الصوم ج۴باب من کرہ مضغ العلک للصائم۔
(۴۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب اغتسال الصائم الخ۔
فصل پنجم : مسافرکے لیے روزے کے احکام ۔ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا بھی جائز ہے اور نہ رکھنا بھی
۶۳۔عَنْ عَائّشَۃَ قَالَتْ اِنَّ حَمْزَۃَ بْنَ عَمْرِونِ الْاَسْلَمِیِّ قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺَ اَصُوْمُ فِی السَّفَرِ، وَکَانَ کَثِیْرَ الصِّیَامِ، فَقَالَ: اِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَاِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہؓ بن عَمرو اسلمی نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ میں سفر کی حالت میں روزہ رکھ لوں؟ــــ ــــــاور حضرت حمزہؓ کثرت سے روزے رکھا کرتے تھیـــــ ـــــ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہارا جی چاہے تو روزہ رکھ لو، نہ جی چاہے تو نہ رکھو۔‘‘
تشریح: حضرت عائشہؓ نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت بھی فرمادی ہے کہ سائل کیسا آدمی تھاکیونکہ وہ بہت بڑے درجے کی فقیہ تھیں اس لیے قانونی باریکیاں ان کی نگاہ میں ہوتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے واضح فرمادیا کہ حضرت حمزہؓ جنہوں نے سوال کیا تھا، کثرت سے روزے رکھنے کے عادی تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نفلی روزے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ فرض روزے کے بارے میں تھا کہ اگر رمضان میں مجھے سفر پیش آجائے تو کیا حالتِ سفر میں مجھے روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں؟ رسول اللہ ﷺنے ان کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ تمہیں اس بات کا اختیار ہے کہ چاہے سفر میں روزہ رکھو، چاہے نہ رکھو۔
حضرت عائشہ ؓنے اس وضاحت سے کہ حضرت حمزہؓ بن عمرو کثرت سے روزہ رکھنے کے عادی تھے دراصل یہ بات بتائی ہے کہ اگر ایک آدمی سال کے دوران میںبہ کثرت روزے رکھنے کا عادی ہوتو اُسے عام آدمیوں کی بہ نسبت روزے کی سختی کو برداشت کرنے کی زیادہ عادت اور مشق ہوتی ہے۔ چنانچہ ایسا آدمی حالتِ سفر میں بھی روزہ رکھے تو وہ دورانِ سفر میں روزے سے پیش آنے والی سختی کو اس آدمی کی بہ نسبت زیادہ آسانی سے برداشت کرلیتاہے جو صرف رمضان ہی میں روزے رکھنے کا عادی ہو۔
حضرت عائشہؓ کی اس وضاحت کی روشنی میں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اس اختیار میں ایسی مساوات نہیں ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا یا چھوڑنا دونوں بالکل مساوی درجے کے کام ہوں، بلکہ اس میںیہ دیکھنا ہوگا کہ کس آدمی میں تحمّل کی زیادہ طاقت ہے اور کس آدمی میں کم ہے۔ اگر کسی آدمی میں تحمّل کی طاقت زیادہ ہوتو بہتر یہ ہے کہ وہ سفر میں روزہ رکھے لیکن اگر کسی آدمی میں یہ طاقت کم ہوتو بہتر یہ ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔
اسی طرح یہ بات سفر کے حالات پر بھی موقوف ہے کہ کیسے حالات میں آدمی کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے اور کیسے حالات میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔ فقہاء کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہے ــــ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام ابوحنیفہؒ سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کو افضل قراردیتے ہیں اور نہ رکھنے کو اس سے کم درجے کا فعل قراردیتے ہیں۔ بعض دوسرے فقہاء روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دیتے ہیں اور بعض نے وہی تصریح کی ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے کہ یہ چیز آدمی اور اس کے حالات اور سفر کی نوعیت پر منحصر ہے کہ اس کے لیے روزہ رکھنے یا چھوڑنے میں سے کون سی صورت افضل ہے۔ اگر ایک آدمی کی قوتِ برداشت زیادہ ہو اور وہ ایسے حالات میں سفر کررہاہو جن میں بہت زیادہ مشقّت بھی پیش آنے کا خدشہ نہ ہو تو اس صورت میں اس کے لیے روزہ رکھنا افضل ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ایک آدمی کی قوتِ برداشت کم ہو اور اسے سفر میں بھی ایسے حالات پیش آنے کا خطرہ ہو جن میں روزے کی سختی برداشت کرنا مشکل ہوجائے تو اس صورت میں اس کے لیے روزہ نہ رکھنا ہی صحیح ہے۔
تخریج(۱) :حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْيٰ عَنْ ھِشَامٍ، ثَنِی اَبِیْ، عَنْ عَائِشَۃَ اِنَّ حَمْزَۃَ بْنَ عَمْرِونِ الْاَسْلَمِیِّ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَسْرُدُ الصَّوْمَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ اَنَا مَالِکٌ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّ حَمْزَۃَ بْنَ عَمْرِونِ الْاَسْلَمِیِّ قَالَ لِلنَّبِیِّﷺ اَصُوْمُ فِی السَّفَرِ وَکَانَ کَثِیْرَ الصِّیَامِ فَقَالَ اِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَاِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔(۱)
مسلم میں یہ روایت مختلف الفاظ میں منقول ہے:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَۃُ بْنُ عَمْرِونِالْاَسْلَمِیُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الصِّیَامِ فِی السَّفَرِ فَقَالَ : اِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَاِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ حَمْزَۃَ بْنَ عَمْرِونِالْاَسْلَمِیَّ سَاَلَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ قَالَ: صُمْ اِنْ شِئْتَ وَاَفْطِرْ اِنْ شِئْتَ۔
ترجمہ :حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ حمزہ بن عمرو نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں کثرت سے روزے رکھنے کا عادی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھ لوں آپؐ نے فرمایا تمہارا جی چاہے تو رکھ لو، نہ جی چاہے تو نہ رکھو۔
(۴) عَنْ اَبِیْ مِرْوَاحَ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرِونِالْاَسْلَمِیِّ اَنَّہٗ قَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَجِدُ بِیْ قُوَّۃً عَلَی الصِّیَامِ فِی السَّفَرِ فَھَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ھِیَ رُخْصَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَمَنْ اَخَذَ بِھَا فَحَسَنَ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّصُوْمَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ۔(۲)
ترجمہ : حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں سفر کے دوران میں روزہ رکھنے کی اپنے اندر قوت پاتاہوں( اگر میں رکھ لوں) تو کیا مجھ پر گناہ لازم آئے گا؟ رسولؐ اللہ نے فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک رخصت ہے پس جو شخص اسے اخذ کرے اس نے بھی اچھا کیا اور جسے روزہ رکھنا پسند ہو تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔
ابوداؤد میں منقول روایت ذرا واضح عکاسی کرتی ہے:
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ نِ النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ الْمَجِیْدِ (الْمَدَنِیُّ) قَالَ:سَمِعْتُ حَمْزَۃَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ الْاَسْلَمِیَّ یَذْکُر اَنَّ اَبَاہُ اَخْبَرَہٗ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ:قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ صَاحِبُ ظَھْرٍأُ عَالِجُہٗ اُسَافِرُ عَلَیْہِ وَاَکْرِیْہِ وَاِنَّمَا رُبَمَا صَادََفَنِیْ ھٰذَا الشَّھْرُ۔ یعنی رَمَضَانُ۔ وَاَنَا اَجِدُ الْقُوَّۃَ وَاَنَا شَابٌّ وَاَجِدُ بِاَنْ اَصُوْمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَھْوَنُ عَلَیَّ مِنْ اَنْ أُؤَخِّرَہٗ فَیَکُوْنُ دَیْنًا، اَفَاَصُوْمُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَعْظَمُ لِاَجْرِیْ اَوْ اُفْطِرُ؟ قَالَ اَیَّ ذٰلِکَ شِئْتَ یَا حَمْزَۃُ۔(۳)
ترجمہ : حضرت حمزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں تو سواری کی پیٹھ پر رہنے والا، عام طورپر سفر کرنے والا ہوں اور اسے کرایہ پربھی دے دیتاہوں۔ بسا اوقات رمضان کا مبارک مہینہ دورانِ سفر آجاتاہے۔ میرے لیے یہ امر آسان ہے کہ اسے موخر کیے بغیر ہی سفر میں روزے رکھ لوں۔ مؤخر کرنے کی صورت میں تو یہ مجھ پر قرض رہے گا تو کیا ارشاد ہے آپؐ کا ؟ میں زیادہ اجر کے حصول کی نیت سے روزے رکھ لوں یا چھوڑدوں ۔ آپؐ نے فرمایا اے حمزہ! جس طرح تمہارا جی چاہے (اس طرح کرلو)۔
علاوہ ازیں مسلم نے کتاب الصیام، ابو داؤد نے کتاب الصوم، ترمذی نے ابواب الصوم اور نسائی نے کتاب الصیام میں صُمْ اِنْ شِئْتَ وَاَفْطِرْ اِنْ شِئْتَ بھی بیان کیاہے
سفرمیں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے والے ایک دوسرے پر اعتراض نہ کریں
۶۴۔عَنْ اَبِیْ سَعِیِدِ نِ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لِسِتِّ عَشْرَۃَ مَضَتْ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ اَفْطَرَ فَلَمْ یَعِبِ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلاَالْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوسعید خدریؓ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رمضان کی سولہ تاریخ کو رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے سفر پر نکلے تو ہم میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو روزے سے تھے اور کچھ ایسے تھے جو روزے سے نہیں تھے ــــلیکن نہ تو روزہ داروں نے روزہ نہ رکھنے والوں کو ملامت کی اورنہ روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ داروں پر اعتراض کیا۔‘‘
تشریح: اس حدیث میں یہ بتایا گیاہے کہ اگرکوئی شخص سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا یا روزہ رکھتاہے تو اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی ایسے شخص کو ملامت کرے جس نے اس کے برعکس عمل کیا ہے، کیونکہ جب شریعت میں دونوں کاموں کا اختیار دیا گیاہے تو کسی کو کسی پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔
اس معاملے میں شریعت کی اس باریکی کو سمجھ لینا چاہیے جس کی بناء پر حضرت ابوسعید خدری ؓ نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے ـــ شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شریعت کی رُو سے دو متبادل کام کرنے کا اختیار رکھتاہو اور وہ دونوں برابر کے کام ہوں تو اس صورت میں وہ جو کام بھی کرے اس پر کسی شخص کو اس کے اوپر اعتراض کرنے یا اسے ملامت کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کرتاہے تو اس طرح درحقیقت وہ شریعت کے مزاج میں بے اعتدالی کو داخل کرنے بلکہ شریعت سازی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتاہے۔ شریعت نے تو لوگوں کو برابر کا اختیار دیا تھا لیکن وہ ایک چیز کو دوسری پر ترجیح دے کر دوسروں کو ملامت کرنے پر اترآتاہے۔ اس طرح لوگوں پر بے جاسختی کرکے جو رعایت اللہ تعالیٰ نے انہیں دی تھی اسے چھیننے کی کوشش کرتاہے ــــیہ بات اگرچہ دیکھنے میں بڑی چھوٹی سی معلوم ہوتی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی بنا پر ملامت کررہاہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔ لوگوں کے اندر اعتدال پیدا کرنے اور ان میں شریعت کے احکام کی پابندی اور اطاعت پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ اگر کوئی شخص خدا کی دی ہوئی رعایت سے جائز طورپر فائدہ اٹھارہاہے تو کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
سفر کی حالت میں روزہ رکھنا یا نہ رکھنا انسان کے اختیارِ تمیزی پر چھوڑدیا گیاہے۔ نبی ﷺکے ساتھ جو صحابہ کرامؓ سفر میں جایا کرتے تھے، ان میں سے کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہ رکھتا تھا اور دونوں گروہوں میں سے کوئی دوسرے پر اعتراض نہ کرتاتھا۔ خود آنحضرت ﷺنے بھی کبھی سفر میں روزہ رکھا ہے اور کبھی نہیں رکھا۔
جنگ کے موقع پر تو آپؐ حکماً روزے سے روک دیا کرتے تھے تاکہ دشمن سے لڑنے میں کمزوری لاحق نہ ہو۔
عام سفر کے معاملے میں یہ بات کہ کتنی مسافت کے سفر پر روزہ چھوڑا جاسکتاہے، حضورؐ کے کسی ارشاد سے واضح نہیں ہوتی اور صحابۂ کرامؓ کا عمل اس باب میں مختلف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جس مسافت پر عرفِ عام میں سفر کا اطلاق ہوتاہے اور جس میں مسافرانہ حالت انسان پر طاری ہوتی ہے، وہ افطار کے لیے کافی ہے۔
یہ امر متفق علیہ ہے کہ جس روز آدمی سفر کی ابتداء کررہاہو اس دن کا روزہ افطار کرلینے کا اسے اختیار ہے چاہے تو گھر سے کھانا کھاکر چلے اور چاہے تو گھر سے نکلتے ہی کھالے۔ دونوں عمل صحابہؓسے ثابت ہیں۔
یہ امر کہ اگر کسی شہرپر دشمن کا حملہ ہو، تو کیا لوگ مقیم ہونے کے باوجود جہاد کی خاطر روزہ چھوڑسکتے ہیں۔ علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے۔ بعض علماء اس کی اجازت نہیں دیتے، مگر علاّمہ ابن تیمیہ ؒ نے نہایت قوی دلائل کے ساتھ فتوی دیاتھا کہ ایسا کرنا بالکل جائز ہے۔ (تفہیم القرآن ج۱، البقرۃ،حاشیہ: ۱۸۶)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا ھَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ھَمَّامُ بْنُ یَحْيٰ، حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِی سَعِیْد نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ لِسِتِّ عَشَرَۃَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ اَفْطَرَ فَلَمْ یَعِبِ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلاَالْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ۔(۴)
بخاری نے حضرت انس بن مالک کی روایت بیان کی ہے :
(۲)عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:کُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فَلَمْ یَعِبِ الصَّآئِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلاَالْمُفْطِرُ عَلَی الصَّآئِمِ۔(۵)
ترجمہ : حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکی رفاقت میں سفر پرتھے۔ اس اثناء میں کسی روزہ دار نے روزہ چھوڑنے والے پر ملامت نہیں کی اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والے نے روزہ دار پر اعتراض کیا۔
ابوداؤد نے حضرت انسؓ کی روایت قدرے وضاحت سے بیان کی ہے:
(۳) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ رَمَضَانَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَاَفْطَرَ بَعْضُنَا فَلَمْ یَعِبِ الصَّآئِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّآئِمِ۔(۶)
ترجمہ : حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ ہم میں سے بعض روزہ دار تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا مگر نہ تو کسی روزہ دار نے کسی مفطِر پر اعتراض کیا اور نہ ہی کسی روزہ چھوڑنے والے نے روزہ دار پر ملامت کی۔
مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ایک اور روایت کے الفاظ :
(۴) قَالَ:کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّآئِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُفَلاَیَجِدِ الصَّآئِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلاَالْمُفْطِرُ عَلَی الصَّآئِمِ یَرَوْنَ اَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّۃً فَصَامَ فَاِنَّ ذٰلِکَ حَسَنٌ وَیَرَوْنَ اَنَّ مَنْ وَجَدَ ضُعْفًا فَاَفْطَرَ فَاِنَّ ذٰلِکَ حَسَنٌ۔(۷)
ترجمہ : حضرت ابوسعیدؓ خدری کا بیان ہے کہ رمضان کے مہینہ میں ہم رسول اللہ ﷺکی رفاقت میں لڑرہے تھے۔ ہم میں روزہ دار بھی تھے اور غیرروزہ دار بھی۔ کوئی مُفطِر کسی صائم پر اور کوئی صائم کسی مفطر پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جسے روزہ رکھنے کی دورانِ سفر طاقت ہو وہ رکھ لے تو یہ بھی اچھا ہے اور جسے دورانِ سفر روزہ رکھنے کی ہمت نہ پڑے وہ نہ رکھے تو یہ بھی اچھاہے۔
اگر برداشت سے باہر ہو تو سفر میں روزہ نہ رکھاجائے
۶۵۔ عَنْ جَابِرٍقَالَ :کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَرَاٰی زِحَامًا وَرَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَیْہِ فَقَالَ مَا ھٰذَا قَالُوْا صَائِمٌ، فَقَالَ لَیْسَ مِنَ الْبِرِّالصَّوْمُ فِی السَّفَرِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت جابر بن عبداللہؓ سے ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺسفر میں تھے۔ آپؐ نے دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہوگیاہے اور ایک آدمی پر سایہ کیا گیاہے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ایک روزہ دار ہے (جس کی حالت روزے کی وجہ سے غیر ہورہی ہے) اس پر آپؐ نے فرمایا: سفر میں (ایسا) روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ ‘‘
تشریح: جن فقہاء کے نزدیک سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے ان کا استدلال اس حدیث سے ہے۔ لیکن اس حدیث سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوتی کہ آیا رسول اللہ ﷺنے اپنے اس ارشاد میں ہرحالت میں سفر میں روزہ رکھنے کو نیکی کے خلاف کام قراردیاہے یا آپ کا ارشاد خاص حالات کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہاں خاص حالت خود سامنے موجود نظر آتی ہے کہ ایک آدمی روزے کی تکلیف سے نڈھال ہوگیا تھا۔ معلوم ہوتاہے کہ سخت گرمی کا زمانہ تھا اور سفر بھی دن کے وقت کیا گیا تھا اس لیے اس حالت میں اس سے برداشت نہ ہوسکا اور وہ گرگیا۔ چنانچہ لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور اس پر سایہ کرنے لگے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ سفر میں اس حال کا روزہ رکھا جائے ــــیعنی اگر کوئی شخص سفر میں روزہ رکھے تو وہ حالات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے اور یہ دیکھے کہ آیا میری طاقت ایسی ہے کہ سفر کی تکلیف برداشت کرسکوں گا، اوریہ بھی کہ سفر میں کوئی ایسی غیرمعمولی سختی پیش آنے کا خدشہ تو نہیں جو برداشت سے باہر ہوجائے۔ چنانچہ جن حالات میں کوئی شخص اپنے اندر ایسی قوتِ برداشت بھی محسوس نہ کرتاہو اور سفر بھی زیادہ سخت نظر آرہاہو تو اس کا روزہ رکھنا اور پھر تکلیف اُٹھانا کوئی نیکی نہیں ہے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَۃُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْاَنْصَارِیُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَرَأیٰ زِحَامًا وَرَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَیْہِ فَقَالَ : مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: صَآئِمٌ، فَقَالَ : لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِی السَّفَرِ۔(۸)
ابوداؤد نے اس طرح روایت کیاہے:
(۲) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ رَاٰی رَجُلاً یُظَلَّلُ عَلَیْہِ وَالزِّحَامُ عَلَیْہِ فَقَالَ : لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّیَامُ فِی السَّفَر(۹)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺنے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس پر سایہ کیا جارہاہے اور لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: سفر میں ایسا روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
ابنِ ماجہ نے ابنِ عمر اور کعب بن عاصم سے روایت کیا ہے کہ:
(۳) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّیَامُ فِی السَّفَرِ۔(۱۰)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
ترمذی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت نقل کرکے اس پر ناقدانہ تبصرہ کیا ہے:
(۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ اِلٰی مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ۔ فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِیْمِ وَصَامَ النَّاسُ مَعَہٗ فَقِیْلَ لَہٗ اِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَیْھِمُ الصِّیَامُ وَاِنَّ النَّاسَ یَنْظُرُوْنَ فِیْمَا فَعَلْتَ۔ فَدَعَابِقَدْحٍ مِّنْ مَّآئٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ فَاَفْطَرَ بَعْضُھُمْ وَصَامَ بَعْضُھُمْ فَبَلَغَہٗ اِنَّ نَاسًا صَامُوْا فَقَالَ : اُولٰٓئِکَ الْعُصَاۃُ۔ ‘‘
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ مکّہ کی طرف نکلے۔ اس سفر میں آپ روزے سے تھے اور لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا جب آپؐ کراع الغمیم کے مقام پر پہنچے تو آپؐ سے ذکر کیا گیا کہ روزہ لوگوں پر شاق گزررہاہے۔ اب لوگوں کی نظریں آپؐ کے عمل پر ہیں۔ اسی وقت آپؐ نے نمازِ عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگوایا اور سب کے روبرو پیا۔ توآپؐ کا یہ عمل دیکھ کرکچھ لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔ لیکن بعض لوگوں نے بدستور روزہ رکھا۔ یہ بات آپؐ تک بھی پہنچ گئی۔آپؐ نے فرمایا: بلاشبہ جن لوگوں نے ہنو زروزہ رکھا ہوا ہے انہوں نے میرا کہا نہیں مانا۔
وفی الباب عن کعب بن عاصم وابن عباس وابی ھریرۃ، قال ابوعیسٰی حدیث جابر حدیث حسن صحیح ۔
وقد روی عن النبیّ ﷺ انہ قال لیس من البر الصیام فی السفرواختلف اھل العلم فی الصوم فی السفر۔ فرای بعض اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرھم۔ ان الفطر فی السفر افضل حتّٰی رأی بعضھم علیہ الاعادۃ اذا صام فی السفر۔ واختار احمد واسحاق الفطر فی السفر۔ وقال بعض اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرھم۔ ان وجد قوۃ فصام فحسن وھو افضل وان افطر فحسن۔ وھو قول سفیان الثوری ومالک بن انس وعبداللّٰہ بن المبارک۔وقال الشافعی: انما معنی قول النبی ﷺ لیس من البر الصیام فی السفر وقولہ حین بلغہ ان ناسًا صاموا فقال اولئک العصاۃ۔ فوجہ ھذا اذا لم یحتمل قلبہ قبول رخصۃ اللہ تعالٰی فاما من رای الفطر مباحا وصام وقویٰ علی ذٰلک فھو اعجب اِلَیَّ۔
ترجمہ : امام ترمذی فرماتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں۔ بعض صحابہؓ کرام اور دیگر اہل علم اس جانب رجحان رکھتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔ بعض کی تو یہاں تک رائے ہے کہ اگر کسی نے سفر میں روزہ رکھا تو اس پر اس کا اعادہ لازم ہے۔ امام احمد اور اسحاق کا مسلک یہ ہے کہ سفر میں افطار کرنا چاہیے، مگر بعض اہل علم صحابہ کرام کے علاوہ دیگر حضرات کی یہ رائے ہے کہ کسی میں روزہ رکھنے کی قوت ہو تو یہ اچھا اور افضل کام ہے اور اگر چھوڑدے تو یہ بھی اچھا ہے۔ یہ رائے سفیان ثوری، مالک بن انس اور عبداللہ بن مبارک کی ہے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک رسول اللہ ﷺکے ارشاد ولیس من البر الصیام فی السفر الخ اورآپؐ کے ارشاد ’’کہ جب آپؐکو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھاہوا ہے تو آپؐنے فرمایا یہ گناہ گار لوگ ہیں‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دل نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو قبول نہیں کیا پس جس نے مباح سمجھتے ہوئے روزہ سفر میں رکھا اور اس کی اپنے اندر قوت بھی پائی تویہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
مشکل سفر درپیش ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے
۶۶۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فِیْ یَوْمٍ حَارٍّ فَسَقَطَ الصَّوَّامُوْنَ وَقَامَ الْمُفْطِرُوْنَ فَضَرَبُوا الْاَبْنِیَۃَ وَسَقَوْا الرِّکَابَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ : ذَھَبَ الْمُفْطِرُوْنَ الْیَوْمَ بِالْاَجْرِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے اور کوئی ہم میں سے روزے سے تھا اور کوئی روزے سے نہیں تھا۔ ایک سخت گرمی کے دن ہم نے ایک مقام پر جا کر پڑاؤ ڈالا تو روزہ دار تو وہاں جاکر لیٹ گئے اور جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے خیمے ایستادہ کیے اور سواری کے اونٹوں کو پانی پلایا ــــرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج روزہ نہ رکھنے والے اَجر لُوٹ لے گئے۔ ‘‘
تشریح :اس حدیث کی روسے پلڑا اس قول کے حق میں جھک رہاہے جس کے مطابق حالتِ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔ یہاں بیان کیا گیاہے کہ مذکورہ سفر میں چونکہ سخت گرمی کا زمانہ تھا اس لیے جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ روزے کی شدت برداشت نہ کرسکے اور جاتے ہی پڑگئے۔ ان کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ اٹھ کر خیمے لگاتے اور سواریوں کو پانی پلاتے ــــ چنانچہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا انہوں نے دوسروں کے آرام کا سامان کیا ــــاگروہ بھی روزے سے ہوتے تو وہ بھی سب کے سب پڑجاتے اور نہ کوئی خیمہ لگاتا اور نہ جانوروں کو پانی پلاتا اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ آج وہ لوگ اَجر لُوٹ لے گئے جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا اور انہوں نے لوگوں کے لیے آرام وآسایش کا سامان کیا۔
اب غور کیجیے کہ دورانِ سفر میں روزے کے جواز یا رخصت کے متعلق جو احادیث اب تک گزری ہیں ان میں دونوں طرف کے دلائل میں ایسا وزن ہے کہ کوئی شخص نہ توپورے زور کے ساتھ یہ کہہ سکتاہے کہ حالتِ سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اور نہ پورے زور کے ساتھ یہ کہہ سکتاہے کہ نہ رکھنا افضل ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ بات دراصل آدمی کی اپنی صوابدید پر چھوڑدی گئی ہے کہ وہ اپنے حالات کا خود اندازہ کرکے یہ رائے قائم کرے کہ آیا وہ روزہ رکھے یا نہ رکھے ــــ کام دونوں یکساں حیثیت کے ہیں ــــیہ خیال دل میں ہرگز نہ رہنا چاہیے کہ اگر سفر میں روزہ نہ رکھا تو اجر کم ہوجائے گا اور بعد میں قضا کرنے کی صورت میں اتنا ثواب نہیں ملے گا جو رمضان کے دنوں میں ملتاہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کا اختیار دیاہے اور اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ بعد میں ان روزوں کی قضا کرلی جائے تو اس امر کے شُبہ کی کوئی گنجایش نہیں رہنی چاہیے کہ بعد میں قضا کا روزہ رکھنے کی صورت میں اس کا وہ اجر نہیں ہوگا جو رمضان کے زمانے میں رکھنے کا ہوسکتاہے ــــ رمضان کے اندر جو روزہ بلا وجہ چھوڑدیا گیا ہو اس کا معاملہ تو یکسر مختلف ہے کیونکہ اس کی ایک قضا تو کیا آدمی ساری عمر بھی قضا ادا کرتارہے تو اس روزے کا بدل نہیں ہوسکتی، لیکن یہاں معاملہ بالکل دوسرا ہے اور اس صورت میں روزہ قضا کرکے رکھنے سے ثواب میں کسی کمی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرکے یہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ سفر میں روزہ رکھے یا نہ رکھے۔ دونوں صورتوں میں جس جانب وہ زیادہ جھکاؤ محسوس کرتاہواسے اختیار کرلے، اجر کے لحاظ سے دونوں صورتیں یکساں ہیں۔
تخریج(۱): عَنْ اَنَسٍ قَالَ:کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ اَکْثَرُنَا ظِلاًّ الَّذِیْ یَسْتَظِلُّ بِکِسَآئِہٖ وَاَمَّا الَّذِیْنَ صَامُوْا فَلَمْ یَعْمَلُوْا شَیْئًا وَاَمَّا الَّذِیْنَ اَفْطَرُوْا فَبَعَثُوالرِّکَابَ وَامْتَھَنُوْا وَعَالَجُوْا فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: ذَھَبَ الْمُفْطِرُوْنَ الْیَوْمَ بِالْاَجْرِ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ہم میں زیادہ سے زیادہ سایہ جو کسی کے پاس تھا وہ یہ کہ اس نے چادر سے سرپر سایہ کیا ہواتھا۔ روزہ داروں نے اس روز کچھ بھی کام نہ کیا اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے سواریوں کو بٹھایا اٹھایا اور محنت ومشقت کے کام کیے اور سخت جان ماری دکھائی۔ آپؐ نے ان کی کارکردگی دیکھ کر فرمایا: آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لوٹ کر لے گئے۔
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا اَبُومُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فِی یَوْمٍ حَارٍّ اَکْثَرُنَا ظِلاًّ صَاحِبَ الْکِسَآئِ وَمِنَّا مَنْ یَتَّقِی الشَّمْسَ بِیَدِہٖ قَالَ : فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُوْنَ فَضَرَبُوا الْاَبْنِیَۃَ وَسَقَوُا الرِّکَابَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَھَبَ الْمُفْطِرُوْنَ الْیَوْمَ بِالْاَجْرِ۔(۱۳)
(۳) عَنْ اَبِی الدَّرْدَآئِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہٖ فِی یَوْمٍ حَآرٍّ حَتّٰی یَضَعَ الرَّجُلُ یَدَہٗ عَلٰی رَاْسِہٖ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ وَمَا فِیْنَا صَآئِمٌ اِلاَّ مَاکَانَ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ وَابْنُ رَوَاحَۃَ۔(۱۴)
ترجمہ: حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکی رفاقت میں کسی سفر پر نکلے۔ وہ دن سخت گرم تھا اتنا شدید گرم کہ آدمی نے اپنے سرپر اپنا ہاتھ شدتِ گرمی سے تحفظ کے لیے رکھ لیا تھا۔ ہم میں نبی ﷺاور ابنِ رواحہ کے ماسوا کوئی بھی روزے سے نہیں تھا۔
سخت مجبوری میں روزہ قبل از وقت کھول لینا درست ہے
۶۷۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ، فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَرَفَعَہٗ اِلٰی یَدِہٖ لِیَرَاہُ النَّاسُ فَافْطَرَ حَتّٰی قَدِمَ مَکَّۃَ وَذٰلِکَ فِیْ رَمَضَانَ، فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ : قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَفْطَرَ، فَمَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَآئَ اَفْطَرَ۔ (متفق علیہ)
وَفِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ اَنَّہٗ شَرِبَ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
’’حضرت عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ’’ فتح مکہ والے سفر کے موقع پر رسول اللہ ﷺمدینے سے مکے کی طرف نکلے تو راستہ بھر آپؐ روزہ رکھتے گئے یہاں تک کہ آپ عُسفان کے مقام ــــ مدینے اور مکّے کے درمیان ایک ساحلی مقام ــــپر پہنچے۔ وہاں آپؐنے پانی منگوایا اور اسے ہاتھ میں لے کر اوپر اٹھایا تاکہ لوگ بھی اسے دیکھ لیں۔ پھر آپؐ نے روزہ افطار کیا۔ پھر مکے پہنچنے تک آپؐنے روزے نہیں رکھے اور یہ واقعہ رمضان کے زمانے کا ہے ــــاسی بنا پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرمایا کرتے تھے (ان کا یہ فتویٰ تھا) کہ چونکہ رسول اللہ ﷺنے رمضان کے زمانے میں حالتِ سفر میں روزے رکھے بھی ہیں اور چھوڑے بھی ہیں اس لیے(تمہارے لیے بھی حکم یہ ہے کہ) جو چاہے سفر میں روزہ رکھے اورجو نہ چاہے نہ رکھے۔‘‘ (متفق علیہ)
اور امام مسلم کی روایت میں حضرت جابرؓبن عبداللہ کے یہ الفاظ زائد ہیں کہ رسول اللہﷺ نے (مقامِ عسفان پر) پانی عصر کے بعد پیاتھا۔
تشریح : حضرت عبداللہ ؓبن عباس کی اس روایت میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے دن کے کس وقت روزہ کھولا تھا لیکن صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ وہ عصر کا وقت تھا۔ ویسے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے بیان کا حاصل بھی یہی ہے کہ وہ دن کا وقت تھا، خواہ صبح کا ہو یا شام سے پہلے کا۔ کیونکہ اگر رسول اللہﷺنے سحری سے پہلے پانی پیا تھا تو اسے بیان کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہوسکتاتھا، اور اگر مغرب کے بعد پیا تھا تو پھر بھی اس کے بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں تھی ــــبہر حال حضرت جابرؓ کی روایت میں اس بات کی صراحت آگئی ہے کہ وہ عصر کا وقت تھا۔
اس حدیث میں حضرت ابن عباسؓ نے اس بات کی اچھی طرح وضاحت فرمادی کہ رسول اللہ ﷺنے ہاتھ اٹھاکر پانی پیا تھا تاکہ لشکر کے سارے لوگ یہ دیکھ لیں کہ آپ روزہ کھول رہے ہیں۔
اس حدیث سے ایک مزید بات یہ معلو م ہوئی کہ اگر کسی شخص پر روزے کی حالت میں کوئی ایسی سختی آجائے جسے وہ برداشت نہ کرسکتا ہو تو وہ وقت سے پہلے روزہ کھول سکتاہے
ــــایک شکل تو یہ ہے کہ آدمی نے کسی مجبوری کی بنا پر روزہ ہی نہ رکھا ہو اور دوسری شکل یہ ہے کہ اس نے روزہ تو رکھ لیا لیکن بعد میں کوئی ایسی سختی پیش آگئی کہ وہ اس کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ روزہ کھول لے۔ اس طرح روزہ کھولنا روزہ توڑنے کی تعریف میں نہیں آتاکہ اس پر کفارہ لازم آئے۔ اس کی صرف قضا لازم آتی ہے۔
تخریج(۱):حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ طَاؤسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَآئٍ فَرَفَعَہٗ اِلٰی یَدِہٖ لِیَرَاہُ النَّاسُ فَاَفْطَرَ حَتّٰی قَدِمَ مَکَّۃَ وَذٰلِکَ فِی رَمَضَانَ۔ فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَفْطَرَ فَمَنْ شَآئَ صَامَ وَمَنْ شَآئَ اَفْطَرَ۔(۱۵)
مسلم میں اس روایت کے الفاظ :
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِاِنَآئٍ فِیْہِ شَرَابٌ فَشَرِبَہٗ نَھَارًا لِیَرَاہُ النَّاسُ ثُمَّ اَفْطَرَ حَتّٰی دَخَلَ مَکَّۃَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَفْطَرَ فَمَنْ شَآئَ صَامَ وَمَنْ شَآئَ اَفْطَرَ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک مرتبہ ماہِ رمضان میں سفر کیا۔ آپؐ روزے سے تھے۔ جب عُسفان کے مقام پر پہنچے تو ایک برتن طلب فرمایا جس میں کوئی مشروب تھا۔ دن دہاڑے آپؐ نے اسے نوش فرمایا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں۔ پھر مکّہ میں داخل ہونے تک روزہ نہیں رکھا۔ ابنِ عباسؓ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺروزہ رکھتے تھے اور چھوڑ بھی دیتے تھے اب جس کا جی چاہے روزہ رکھ لے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
مسافر، دودھ پلانے والی اور حاملہ کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے
۶۸۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ نِالْکَعْبِیِّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلوٰۃِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلٰی۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
’’حضرت انس بن مالک کعبیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز ساقط کردی ہے اور اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اسی طرح دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ ‘‘
تشریح : آدھی نماز ساقط کرنے سے مراد چار رکعتوں والی نماز میں دورکعتوںکی معافی ہے۔ یہاں چونکہ ایک اور بات بیان کرنی مقصود تھی اس لیے رسول اللہ ﷺنے قصر نماز کا تفصیلی حکم ارشاد نہیں فرمایا۔ صرف یہ فرمایا کہ مسافر سے نماز کا ایک حصہ ساقط کردیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ تین اور دو رکعتوں والی نماز میں کوئی قصر اور معافی نہیں ہے۔ نماز میں رُخصت کے علاوہ مسافر سے روزہ رکھنے کی پابندی بھی اٹھالی گئی ہے، البتہ ان دونوں رُخصتوں میں فرق یہ ہے کہ مسافر پر روزے کی قضاتو لازم آتی ہے لیکن قصر نمازوں کی کوئی قضا نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ حالتِ سفر میں وہ چار کے بجائے دورکعتیں پڑھے اور پھر گھر پہنچ کر جو دورکعتیں اس نے سفر میں چھوڑدی تھیں وہ بھی ادا کرے۔
مسافر اور دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگروہ روزہ نہ رکھیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ ایک مسافر اگر دورانِ سفر میں پوری نماز پڑھے تو یہ اس کے لیے درست نہیں جب کہ اگر وہ روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتاہو تو اسے روزہ رکھنے کی اجازت ہے بلکہ یہ افضل ہے، جیسا کہ دوسری احادیث میں یہ بات گزرچکی ہے۔
اِس سلسلے میں دوسری بات یہ بھی سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی شخص سفر کی حالت میں روزے چھوڑتاہے تو اُسے اُن کی قضا ادا کرنی ہوگی۔ اس طرح اگر دودھ پلانے والی عورت دودھ پلانے کے زمانے میں اور حاملہ عورت دوران حمل میں غیر معمولی تکلیف محسوس کرے تو اُنہیں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ روزہ چھوڑدیں۔ یہ دَور گزرجانے پر بعد میں انہیں ان روزوں کی قضا ادا کرنی ہوگی۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخَ، ثَنَا اَبُوْھِلاَلٍ الرَّاسِبِیُّ، ثَنَا ابْنُ سَوَارَۃَ الْقُشَیْرِیُّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ کَعْبٍ اِخْوَۃِ بَنِیْ قُشَیْرٍ، قَالَ: اَغَارَتْ عَلَیْنَا خَیْلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَانْتَھَیْتُ اَوْقَالَ فَانْطَلَقْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ یَأْکُلُ فَقَالَ: اِجْلِسْ فَاَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا ھٰذَا فَقُلْتُ: اِنِّیْ صَآئِمٌ قَالَ: اِجْلِسْ اُحَدِّثُکَ عَنِ الصَّلاَۃِ وَعَنِ الصَّوْمِ، اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی وَضَعَ شَطْرَ الصَّلاَۃِ اَوْنِصْفَ الصَّلاَۃِ، وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ اَوِالْحُبْلٰی، وَاللّٰہِ لَقَدْ قَالَھُمَا جَمِیْعًا اَوْ اَحَدَھُمَا قَالَ:فَتَلَھَّفْتُ نَفْسِیْ اَنْ لاَّ اَکُوْنَ اَکَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۱۷)
ترجمہ : بنو عبداللہ کے انس بن مالک نامی شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺکے گھوڑ سوار دستہ نے ہم پر غارت گری کی تو میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضرہوا۔ آپؐ اس وقت کھانا تناول فرمارہے تھے۔ فرمایا تشریف رکھیے اور ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہوں، میں نے عرض کیا حضورؐ! میں تو روزے سے ہوں۔ پھر فرمایا، اچھّا بیٹھ جاؤ ابھی میں تمہیں نماز اور روزے سے متعلق کچھ بتاتاہوں۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز ساقط کردی ہے اور اسے روزہ چھوڑنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ اسی طرح دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے راوی کا بیان ہے کہ افسوس ہے مجھ پر میں نے رسول اللہ ﷺکا پیش کردہ کھانا کیوں نہ کھایا۔
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ وَیُوْسُفُ بْنُ عِیْسٰی، قَالاَ: نَا وَکِیْعٌ نَا اَبُوْھِلاَلٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَوَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: اَغَارَتْ عَلَیْنَا خَیْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَوَجَدتُّہٗ یَتَغَدّٰی فَقَالَ: اُدْنُ فَکُلْ فَقُلْتُ:اِنِّیْ صَائِمٌ، فَقَالَ : اُدْنُ اُحَدِّثْکَ عَنِ الصَّوْمِ اَوِ الصِّیَامِ اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَۃِ وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحَامِلِ اَوِالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ اَوِ الصِّیَامَ وَاللّٰہِ لَقَدْ قَالَھُمَا النَّبِیُّ ﷺکِلَیْھِمَا اَوْ اَحَدَھُمَا فَیَالَھْفَ نَفْسِیْ اَنْ لاَّ اَکُوْنَ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ النَّبِیِّ ﷺ۔
ترجمہ :بنی عبداللہ بن کعب کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺکے گھوڑسواروں نے ہم پر حملہ کیا۔میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ اس وقت صبح کا ناشتہ فرمارہے تھے۔ فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا میں تو روزے سے ہوں۔ فرمایا : آؤ قریب ہو، میں تمہیں روزے کے متعلق یا روزوں کے متعلق مسئلہ بتاتاہوں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز ساقط کردی ہے اور اسے روزہ چھوڑنے کی بھی اجازت دے دی ہے اور اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ بخدا نبی ﷺنے دونوں باتیں فرمائیں یا ایک۔ ہائے افسوس کہ میں نبیﷺکی کھانے کی پیشکش قبول کرلیتا۔
وفی الباب عن ابی امیۃ۔ قال ابو عیسیٰ: حدیث انس بن مالک الکعبی حدیث حسن ولانعرف لانس بن مالک ھذا عن النبی ﷺ غیرھٰذا الحدیث الواحد۔ والعمل علیٰ ھٰذا بعض اھل العلم وقال بعض اھل العلم الحامل والمرضع یفطران ویقضیان ویُطعمان وبہ یقول سفیان ومالک والشافعی واحمد وقال بعضھم یفطران ویطعمان ولا قضاء علیھما وان شاء تا قضتا ولا اطعام علیھما وبہ یقول اسحاق۔(۱۸)
ــــ اما م ترمذیؒ کہتے ہیں بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ حاملہ اور مرضعہ دونوں روزہ چھوڑدیں گی پھر دونوں پر قضا بھی ہوگی اور کھانا بھی کھلائیں گی سفیانؒ ثوری، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ سب کی یہی رائے ہے اور بعض کے نزدیک صرف کھانا کھلائیں گی قضا ان پر ضروری نہیں ہے۔ اگر چاہیں تو قضا کرلیں کھانا اس صورت میں ان پر لازم نہیں آتا، اسحاق بن راہویہ کا یہی مسلک ہے۔
نسائی نے اس روایت کو ان الفاظ میں نقل کیاہے:
(۳) فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَۃِ وَعَنِ الْحُبْلٰی وَالْمُرْضِعِ۔(۱۹)
السنن الکبریٰ للبیہقیمیں روایت کا متن:
(۴) قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلٰوۃِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ والْمُرْضِعِ الصَّوْمَ اَوِالصِّیَامَ ۔(۲۰)
ابوداؤد میں اس طرح ہے:
(۵) اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی وَضَعَ شَطْرَ الصَّلٰوۃِ اَوْنَصْفَ الصَّلاَۃِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ اَوِ الْحُبْلٰی (۲۱)
سفر میں مشکلات درپیش نہ ہوں تو روزہ رکھنا چاہیے
۶۹۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَنْ کَانَ لَہٗ حَمُوْلَۃٌ تَأْوِیْ اِلٰی شِبْعٍ فَلْیَصُمْ رَمَضَانَ حَیْثُ اَدْرَکَہٗ۔ (ابوداؤد)
’’جناب سلمہ بن محبّق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے (رات تک) کسی ایسی جگہ پہنچا سکتی ہو جہاں وہ (اطمینان سے) پیٹ بھر کر کھانا کھاسکے تو اُسے چاہیے کہ جہاں بھی رمضان اس پر آجائے وہ روزہ رکھے۔ ‘‘
تشریح: حضورؐ نے یہاں مسافر کا حکم یہ بیان فرمایا کہ اگر کوئی شخص سفر کی حالت میں ہو اور اس کے پاس سواری نہ ہو یا سواری ہو تو خستہ حال ہو اور اس بات کا اندیشہ ہوکہ اگر اس نے سفر میں روزہ رکھ لیا تو ہوسکتاہے کہ وہ مغرب کے بعد تک کسی ایسے مقام تک نہ پہنچ سکے گا جہاں وہ اطمینان سے کھاپی سکے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ روزہ نہ رکھے ــــ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس کے پاس اچھی سواری موجود ہو اور اسے اس بات کا یقین ہوکہ وہ رات تک کسی ایسے مقام تک پہنچ جائے گا جہاں وہ اطمینان سے کھاپی سکے گا تو اسے چاہیے کہ جہاں بھی رمضان اس پر آجائے وہ وہاں سے روزے رکھنا شروع کردے۔
یہاں یہ بات سمجھ لیجیے کہ فَلْیَصُمْ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ لازماً روزہ رکھے کیونکہ اس سلسلے کی دوسری احادیث کو جمع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ مسافر کے لیے یہ لازم نہیں ہے بلکہ اسے محض اس کی اجازت ہے۔ اس لیے اگر چہفَلْیَصُمْ امر غائب کا صیغہ ہے (چاہیے کہ وہ روزہ رکھے) لیکن اس کے معنی وُجوب کے نہیں ہیں کیونکہ دوسری احادیث کو جمع کرنے سے یہی بات معلوم ہوتی ہے ــــ اگر صرف اسی حدیث کو لے لیا جائے تو ایک آدمی یہ نتیجہ نکال سکتاہے کہ ایسے مسافر پر روزہ رکھنا واجب ہے لیکن یہ بات درست نہ ہوگی۔
احادیث سے، اور اسی طرح قرآن مجید سے حکم معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس مضمون سے متعلق جتنی احادیث اور آیات موجود ہیں آدمی انہیں جمع کرکے کسی حکم کا استنباط کرے۔ وہ آدمی سخت غلطی کرے گا جو قرآن مجید کی کسی ایک آیت کو لے کر اس سے حکم نکالنے کی کوشش کرے اور اس بات سے صرف نظر کرلے کہ قرآن میں اسی موضوع سے متعلق دوسرے مقامات پر کیا کہا گیاہے۔ یہی صورت حدیث کے معاملے میں ہے کہ کسی ایک حدیث کو لے کر اس سے حکم نکالنے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس موضوع سے متعلق رسول اللہ ﷺکے دوسرے ارشادات کیا ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص صرف اسی حدیث کو سامنے رکھ کر حکم نکالے گا تو وہ یہ کہے گا کہ جس مسافر کو اچھی سواری میسّر ہو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے کیونکہ حضورؐ نیفَلْیَصُمْ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں، لیکن یہ درست نہ ہوگا ، کیونکہ دوسری احادیث میں نہایت واضح الفاظ میں مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی رعایت موجود ہے۔ اس لیے یہاںفَلْیَصُمْ کے معنی یہ ہوں گے کہ ’’بہتر یہ ہے کہ وہ روزہ رکھے۔‘‘
قرآن اور حدیث میں اس امر کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ ایک بات کو حکم کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے، یعنی اس کے لیے صیغہ امر استعمال کیا گیاہے مگر اس کے معنی وجوب کے نہیں ہیں۔ مثلاً سورۂ مائدہ:۲ میں ارشاد ہوا ہے۔ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ’’جب تم احرام کھول دو تو شکار کرو‘‘ ــــ یہاں اگر محض فَاصْطَادُوْا (پس شکار کرو) کے لفظ کو لے لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آدمی احرام کھولتے ہی پہلا کام یہ کرے کہ جاکر شکار کرے ــــ درآنحالیکہ یہ مراد نہیں ہے ــــ اصل مراد یہ ہے کہ احرام کی حالت میں تمہیں شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن احرام کھولنے کے بعد تم شکار کرسکتے ہو۔ چنانچہ یہاں اگر چہ صیغۂ امر ہے مگر وجوب کے معنی میں نہیں ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ محض صیغۂ امر سے وجوب ثابت نہیں ہوتا۔
تخریج: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ یَحْيٰ، ثَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ،ح وثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مُکَرَّمٍ، ثَنَا اَبُوْقُتَیْبَۃَ المعنی، قَالاَ: ثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ حَبِیْبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَزْدِیُّ، حَدَّثَنِیْ حَبِیْبُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبَّقِ الْھُذَلِیَّ یُحَدِّثُ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : مَنْ کَانَتْ لَہٗ حَمُوْلَۃٌ تَأْوِیْ اِلٰی شِبْعٍ فَلْیَصُمْ رَمَضَانَ حَیْثُ اَدْرَکَہٗ۔ (۲۲)
فتح مکّہ کے سفر میں حضورؐ کے روزہ افطار کرنے کا واقعہ
۷۰۔ عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ اِلٰی مَکَّۃَ فِیْ َرَمَضَانَ فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِیْمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَّائٍ فَرَفَعَہٗ حَتّٰی نَظَرَ النَّاسُ اِلَیْہِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِیْلَ لَہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ اِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ فَقَالَ اُولٰٓئِکَ الْعُصَاۃُ، اُولٰٓئِکَ الْعُصَاۃُ۔ (مسلم)
’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکّہ کے سال رمضان کے مہینے میں مدینے سے مکے کی جانب نکلے تو راستہ بھر آپؐ روزے رکھتے گئے یہاں تک کہ آپؐ کراع الغمیمکراع الغمیم: مدینے اور مکّے کے درمیان ایک مقام جو عُسفان کے قریب ہے۔ کے مقام پر پہنچے۔ لوگوں نے اس روز بھی معمول کے مطابق روزہ رکھا ــــ پھرحضورؐ نے ایک برتن میں پانی طلب فرمایا اور اسے ہاتھ میں لے کر اتنا اوپر اٹھایا کہ لوگ اسے بخوبی دیکھ لیں، پھر آپؐ نے اسے نوش فرمایا (روزہ کھول لیا) ــــ اس کے بعدحضورؐسے جاکر عرض کیا گیا کہ بعض لوگ ابھی تک روزے سے ہیں۔ آپؐ نے فرمایاکہ وہ نافرمان لوگ ہیں، وہ نافرمان لوگ ہیں۔ ‘‘
رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کی مہم پر روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا زمانہ تھا اورگرمی کا موسم تھا۔ آپؐ ایک لمبا سفر کرتے ہوئے جارہے تھے اور بہت بڑی مہم درپیش تھی۔ اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر لوگ کمزور ہوگئے تو جنگ نہیں کرسکیں گے، اس لیے ان مصالح کی بنا پر آپؐ نے علانیہ روزہ کھولا تاکہ لوگ آپؐ کے اس فعل کی تقلید کرتے ہوئے روزہ کھول لیں۔ آپؐنے لوگوں کو یہ کہلا کر نہیں بھیجا کہ روزہ کھول لیا جائے بلکہ خود ایک فعل سب کے سامنے کیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اب روزہ نہیں رکھنا ہے اور اب اس رمضان میں معافی ہے لیکن اس کے بعد بھی جب کچھ لوگوں نے روزہ نہ کھولا اور آپؐ کواس کی اطلاع دی گئی تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ نافرمان ہیں، وہ نافرمان ہیں۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ کے رسولؐ نے اللہ کی عطا کردہ ایک رعایت سے فائدہ اٹھایاہے تو یہ لوگ کون ہیں جو اس رعایت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم تو عزیمت کے مقام پر ہیں، اور ہمیں اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ــــ اسی لیے آپؐ نے فرمایا کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ اس سے یہ مراد نہیں لینی چاہیے کہ اگر رمضان کی حالت میں کسی آدمی کو سختی پیش آئے اور وہ روزہ نہ کھولے تو گنہگار ہوگا، بلکہ نبی ﷺکے ارشادِ گرامی کا منشا یہ تھا کہ جب میں نے روزہ کھول لیا ہے تو اس کے بعد دوسرے لوگوں کا روزہ نہ کھولنا ایک نافرمانی کا فعل ہے ــــ ظاہر بات ہے کہ خود رسول اللہ ﷺنے جن مصالح کے پیشِ نظر علانیہ روزہ افطار فرمایا تھا ان کا تقاضا یہی تھا کہ دوسرے لوگ بھی اس معاملے میں آپؐکی اتباع کریں ۔
تخریج : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَھَّابِ یعنی ابنُ عَبْدِ الْمَجِیْدِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ اِلٰی مَکَّۃَ فِیْ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتّٰی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِیْمِ، فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَّآئٍ فَرَفَعَہٗ حَتّٰی نَظَرَ النَّاسُ اِلَیْہِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِیْلَ لَہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ اِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ فَقَالَ: اُولٰٓئِکَ الْعُصَاۃُ، اُولٰٓئِکَ الْعُصَاۃُ۔(۲۳)
سفر میں ــــ جب کہ سختی پیش آنے کا خدشہ ہو ــــ روزہ رکھنا مناسب نہیں
۷۱۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ: صَآئِمُ رَمَضَانَ فِی السَّفَرِ کَالْمُفْطِرِ فِی الْحَضَرِ۔ (ابن ماجہ)
’’حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سفر کی حالت میں رمضان کا روزہ رکھنے والا شخص ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ شخص جو گھر پر رہتے ہوئے روزہ نہ رکھے۔ ‘‘
تشریح: جس طرح یہ غلط ہے کہ کوئی شخص گھر پرمقیم ہوتے ہوئے کسی عذرکے بغیررمضان کا روزہ ترک کردے اسی طرح یہ بھی صحیح نہیں کہ آدمی حالتِ سفر میں اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر روزہ رکھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دونوں فعلوں کا درجہ بھی ایک ساہے۔ مراد یہ ہے کہ آدمی گھر پر ہوتو روزہ نہ رکھنا بُرا، اور سفر میں ہوتو روزہ رکھنا برُا! لیکن یہ اُس وقت ہے جب کہ سفر کی حالت میں آدمی کو سختی پیش آئے یا سختی پیش آنے کا خطرہ ہو۔ ورنہ اس سے پہلے احادیث گزرچکی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺنے خود بھی سفر کی حالت میں روزہ رکھا ہے اور صحابہ کرامؓ نے بھی روزہ رکھاہے۔ مزید برآں ایسی حالت بھی گزری ہے کہ ایک سفر میں صحابہ کرامؓ میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نہیں تھے۔ اس لیے لامحالہ ان سب احادیث کی روشنی میں اس حدیث کی یہ تاویل کی جائے گی کہ سفر کی حالت میں اگرآدمی کو سختی پیش آئے یا اس کا شدید اندیشہ ہو تو اس حالت میں روزہ رکھنا بُرا ہے ــــ اسی طرح بُرا ہے جس طرح کہ آدمی گھر پر آرام سے ہو اور روزہ نہ رکھے، اگرچہ دونوں کا درجہ یکساں نہیں ہے کیونکہ یہ بات پہلے گزرچکی ہے کہ اگر آدمی گھر پر مقیم ہوتے ہوئے رمضان کا کوئی روزہ بغیر کسی عذر کے چھوڑدیتاہے تو بعد میں عمر بھر کی قضا بھی اس کی تلافی نہیں کرسکتی ــــ لیکن ظاہر بات ہے کہ حالتِ سفر میں روزہ رکھنے کو ــــ خواہ اس میں سختی ہی کیوں نہ پیش آئے ــــ کسی طرح بھی اس درجے کا بُرا فعل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
تخریج : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی التَّیْمِیُّ، عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْہِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : صَآئِمُ رَمَضَانَ فِی السَّفَرِ کَالْمُفْطِرِ فِی الْحَضَرِ۔(۲۴)
قال ابو اسحٰق ھذ الحدیث لیس بشیء۔
فی الزوائد: فی اسنادہ انقطاع۔ اسامۃ بن زید متفق علیہ علی تضعیفہ۔ وابوسلمۃ بن عبدالرحمٰن لم یسمع من ابیہ شیئًا قالہ ابن معین والبخاری ورواہ النسائی عن انس بن مالک وھو عبد غیر انس بن مالک خادم النبی ﷺ۔(۲۵)
سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت اللہ کی بخشی ہوئی ایک رُخصت ہے
۷۲۔ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرِونِالْاَسْلَمِیِّ اَنَّہٗ قَالَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَجِدُ بِیْ قُوَّۃً عَلَی الصِّیَامِ فِی السَّفَرِ۔ فَھَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ، قَالَ: ھِیَ رُخْصَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَمَنْ اَخَذَ بِھَا فَحَسَنٌ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّصُوْمَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ۔ (مسلم)
’’حضرت حمزہ بن عَمرو اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺسے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے اندر اتنی قوّت پاتاہوں کہ سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھوں۔ اگر میں ایسا کروں تو کیا میں گنہگار ہوں گا؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہ تو اللہ بزرگ وبرتر کی طرف سے ایک رعایت ہے۔ اگر کوئی شخص اس رعایت سے فائدہ اٹھائے تو یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اس کے لیے کوئی گناہ بھی نہیں۔‘‘
تشریح: یہ اصل پوزیشن ہے جو اس فصل کی آخری حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ صحیح ترین صورت یہی ہے کہ اگر ایک آدمی اپنے اندر اتنی قوت پاتاہو اور اس کے حالاتِ سفر بھی سازگار ہوں تو اس کے لیے روزہ رکھنا بالکل درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس کے اندر سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کی طاقت نہیں ہے یا اس کو سختی پیش آنے کا خطرہ ہے تو اس حالت میں روزہ چھوڑ کر اللہ کی دی ہوئی رخصت سے فائدہ اٹھا سکتاہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالٰی کسی معاملے میں رعایت دے تو آدمی کے لیے مستحسن یہ ہے کہ وہ اس رعایت سے فائدہ اٹھائے۔
تخریج : حَدَّثَنِیْ اَبُوالطَّاھِرِ وَھَارُوْنُ بْنُ سَعِیْدِ نِ الْاَیْلِیُّ، قَالَ ھَارَوْنُ: حَدَّثَنَا وَقَالَ اَبُوالطَّاھِرِ اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرُوبنُ الحَارِثِ، عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْ مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرِونِالْاَسْلَمِیِّ، اَنَّہٗ قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَجِدُ بِیْ قُوَّۃً عَلَی الصِّیَامِ فِی السَّفَرِ فَھَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ھِیَ رُخْصَۃٌ مِنَ اللّٰہِ فَمَنْ اَخَذَ بِھَا فَحَسَنٌ وَمَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّصُوْمَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِ۔ قَالَ ھَارُوْنُ فِیْ حَدِیْثِہٖ ھِیَ رُخْصَۃٌ وَلَمْ یَذْکُرْ مِنَ اللّٰہِ۔(۲۶)
ماخذ
۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الصوم فی السفر والافطار۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔ ٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الرخصۃ فی الصوم فی السفر۔٭ دارمی کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الصوم فی السفر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الرخصۃ فی الصوم فی السفر۔
(۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان للمسافر الخ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔ ٭مؤطا امام مالک کتاب الصیام۔
(۳) ابوداؤدج۱کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب الصیام فی السفر۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴کتاب الصیام باب جوازالفطر فی السفر القاصد دون القصیر۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔
(۴) مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان الخ۔٭ ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الرخصۃ فی الصوم فی السفر۔ ٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب الصیام فی السفر۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴ کتاب الصیام باب من اختار الصوم فی السفر۔
(۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب لم یعب اصحاب النبی ﷺ بعضھم بعضَا فی الصوم والافطار۔ مسلم کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان۔
(۶) ابوداؤد ج۱کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔ مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب جاء فی الصیام فی السفر٭ مسند احمد ج۳ص۱۲،۴۵،۵۰،۷۴۔
(۷) مسلم کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب من اختار الصوم فی السفر الخ۔
(۸) بخاری ج۱کتاب الصوم باب قول النبی ﷺ لمن ظُلِّل علیہ واشتد الْحَرُّ لیس من البِرّ الصیام فی السفر۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب جوازالصوم والفطر فی شھر رمضان الخ۔
(۹) ابوداؤد ج۱کتاب الصوم باب اختیار الفطر۔
(۱۰) ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الافطار فی السفر۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب مایکرہ من الصیام فی السفر۔٭دارمی کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب لیس من البر الصیام فی السفر۔٭ مسنداحمد ج۳ص ۲۹۹۔۳۱۷۔۳۹۹٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳کتاب الصیام باب تاکید الفطر فی السفر اذا کان یجھدہ الصوم۔
(۱۱) ترمذی ج۱ابواب الصیام باب ماجاء فی کراھیۃ الصوم فی السفر۔
(۱۲) بخاری ج۱کتاب الجھاد والسیر باب فضل الخدمۃ فی الغزو۔
(۱۳) مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان الخ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب تاکید الفطر فی السفر اذا کان یجھدہ الصوم۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب فضل الافطارفی السفر علی الصیام۔
(۱۴) بخاری ج۱کتاب الصیام۔
(۱۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب من افطر فی السفر لیراہ الناس۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان الخ۔٭ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب الصوم فی السفر۔٭ نسائی ج۱کتاب الصیام باب الصیام فی السفر۔ الرخصۃ فی الافطار۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔کتاب الصیام باب الرخصۃ فی الصوم فی السفر۔
(۱۶) مؤطا امام مالک نے کتاب الصیام باب ۲۱، اور دارمی نے کتاب الصوم باب ۱۵میںاسی مفہوم کی حدیث بیان کی ہے۔ مسند احمد ج۱،ص۲۱۹۔۲۴۴۔۲۵۹۔۲۶۱۔۲۶۶۔۲۹۱۔۳۲۵۔۳۴۰۔۳۴۲۔۳۴۴۔ مؤطا امام مالک نے کتاب الصیام باب۲۱ اور دارمی کتاب الصوم باب ۱۵ میں اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ہے۔
(۱۷) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب اختیار الفطر۔
(۱۸) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الرخصۃ فی الافطار للحُبْلی والمرضع۔٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الافطار للحامل والمرضع۔
(۱۹) نسائی ج۴کتاب الصیام باب وضع الصیام عن الحبلٰی والمرضع۔
(۲۰) السنن الکبریٰ ج۴۔کتاب الصیام باب الحامل والمرضع لاتقدران علی الصوم الخ۔
(۲۱) ابوداؤد ج۱کتاب الصوم باب اختیار الفطر۔دارمی کتاب الصوم باب۱۶باب الرخصۃ للمسافر فی الافطار۔اس نے حاملہ اور مرضعہ کا ذکر نہیں کیا۔
(۲۲) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فیمن اختار الصیام۔
(۲۳) مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان۔٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب ذکر اسم الرجل۔٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب تاکید الفطر فی السفر اذا کان یرید لقاء العدو۔ اس کی بیان کردہ روایت میں فدعا بقدح من ماء بعدالعصرکا اضافہ ہے۔
(۲۴) ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الافطار فی السفر۔
(۲۵) نسائی ج۴کتاب الصیام باب ذکر قولہ الصائم فی السفرکالمفطر فی الحضر۔نسائی میں مروی رواۃ میں اسامہ بن زید نہیں ہیں٭ نسائی کے الفاظ ’’الصائم فی السفر کالمفطر فی الحضر‘‘ہیں۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الرخصۃ فی الصوم فی السفر۔وھو موقوف وفی اسنادہ انقطاع وروی مرفوعا واسنادہ ضعیف۔
(۲۶) مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان الخ۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب الصیام فی السفر ذکر الاختلاف علٰی عروۃ فی حدیث حمزۃ فیہ۔٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔ کتاب الصیام باب الرخصۃ فی الصوم فی السفر۔ترمذی نے ابواب الصوم باب ماجاء فی الرخصۃ فی الصوم فی السفر میں حمزہ سے روایت نقل کی ہے مگر اس کا متن متذکرہ بالا روایت کا نہیں۔ اسی طرح دارمی نے کتاب الصوم باب الصوم فی السفر میں بھی ان سے روایت نقل کی ہے۔ اس کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
فصل ششم: قضائیصوم ۔ رمضان کے قضا روزے شعبان کے نصف آخر میں بھی رکھے جاسکتے ہیں
۷۳۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ یَکُوْنُ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا اسْتَطِیْعُ اَنْ اَقْضِیَ اِلاَّ فِیْ شَعْبَانَ۔ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ تَعْنِی الشُّغْلُ مِنَ النَّبِیِّ اَوْ بِالنَّبِیِّ ﷺَ ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ میرے ذمّے رمضان کے کچھ روزے ہوتے تھے مگر میں شعبان کے سوا اور کسی مہینے میں قضا کے یہ روزے نہ رکھ پاتی تھی ـــــــــــ اس حدیث کے ایک راوی یحيٰ بن سعیدؓ حضرت عائشہؓ کے اس قول کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے شعبان سے پہلے یہ روزے نہ رکھ سکتی تھیں۔‘‘
تشریح: پہلے ایک حدیث گزری تھی جس میں یہ بات بتائی گئی تھی کہ شعبان کی پندرہ تاریخ کے بعد حضورؐ نے نفلی روزے رکھنے سے منع فرمایاہے ــــشعبان کے ابتدائی زمانے میں اس کی اجازت ہے ــــ کیونکہ اگر آدمی شعبان کے آخری زمانے میں بھی روزے رکھے تو اُسے ایسی کمزوری لاحق ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ رمضان کے روزے پورے نہ کرسکے، درآنحالیکہ شعبان میں تو وہ نفلی روزے رکھتاہے اور رمضان میں معاملہ فرض روزوں کا ہوتاہے ــــ یہاں حضرت عائشہ ؓ یہ فرماتی ہیں کہ میں قضا کے روزے شعبان کے مہینے میں رکھتی تھی کیونکہ باقی دس مہینوں کے اندر مجھے ایسی مصروفیات رہتی تھیں جن کی وجہ سے قضا کے روزے ٹلتے رہتے تھے یہاں تک کہ شعبان آجاتا۔ انہوں نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ آیا وہ یہ روزے شعبان کی پندرہ تاریخ سے پہلے رکھتی تھیں یا اس کے بعد۔ لیکن حدیث کے انداز سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ قضا کے روزے پندرہ تاریخ کے بعد رکھنے کا ذکر فرمارہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قضا کے روزے حقیقت میں فرض ہیں اور نفل کی حیثیت نہیں رکھتے اس لیے وہ اس زمانے میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا زُھَیْرٌ، ثَنَا یَحْيٰ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ : کَانَ یَکُوْنُ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا اسْتَطِیْعُ اَنْ اَقْضِیَ اِلاَّ فِیْ شَعْبَانَ قَالَ یَحْيٰ: الشُّغْلُ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ اَو بِالنَّبِیِّ ﷺ۔(۱)
ابوداؤد نے حضرت عائشہؓ سے یہ الفاظ روایت کیے ہیں:
(۲) اِنْ کَانَ لَیَکُوْنَ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا اسْتَطِیْعُ اَنْ اَقْضِیَہٗ حَتّٰی یَأْتِیَ شَعْبَانُ۔(۲)
ترمذی میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایت کے الفاظ:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا کُنْتُ اَقْضِیْ مَایَکُوْنُ عَلَیَّ مِنْ رَمَضَانَ اِلاَّ فِیْ شَعْبَانَ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ۔(۳)
ترجمہ : حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺکی وفات تک رمضان کے واجب القضا روزے میں صرف شعبان ہی میں رکھتی تھی۔
قال ابوعیسیٰ ھٰذا حدیث حسن صحیح وقد رواہ یحيٰ بن سعید الانصاری عن ابی سلمۃ عن عائشۃ نحو ھٰذَا۔
نفلی اور قضا روزے رکھنے سے پہلے بیوی کو شوہر سے اجازت لینی چاہیے
۷۴۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَیَحِلُّ لِلْمَرأَۃِ اَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ، وَلاَ تَأْذَنَ فِیْ بَیْتِہٖ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ایک عورت کے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ اس کا شوہر گھرپر موجود ہو اور وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت دے اِلاّ یہ کہ اس کے شوہر نے اسے اجازت دے رکھی ہو۔ ‘‘
تشریح : اس حدیث میں رسول اللہ ﷺکا یہ ارشادِ گرامی نقل کیا گیاہے کہ عورت کے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ اس کا شوہر گھر پر موجود ہو لیکن وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے۔ اس سے نفلی روزے بھی مراد ہوسکتے ہیں اور قضا کے روزے بھی ــــ یہاں یہ حدیث بیان بھی بابُ الْقَضَائِمیں ہورہی ہے ــــچونکہ قضا کے روزوں میں اس بات کی گنجایش ہوتی ہے کہ وہ گیارہ مہینوں کے اندر کسی وقت بھی رکھے جاسکتے ہیں اس لیے عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے شوہر سے اس بات کی اجازت لے لے۔ اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر روزے رکھنے شروع کردے، خواہ نفلی ہوں یا قضا کے۔ کیونکہ بعض حالات میں یہ چیز شوہر کے لیے باعثِ تکلیف ہوسکتی ہے۔ ایسی کسی چیز سے میاں بیوی کے درمیان چپقلش واقع ہونا یا کم از کم شوہر کے دل میں بیوی کے لیے ناراضی کا جذبہ پیدا ہونا شریعت کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہے۔ شریعت اس بات کو بڑی اہمیت دیتی ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات زیادہ سے زیادہ خوشگوار ہوں کیونکہ ان تعلقات میں ناخوشگواری کے نتائج بہت بُرے اور دُور رَس ہوتے ہیں۔ اس لیے شریعت اس بات کو ملحوظ رکھتی ہے کہ کسی معاملہ میں زوجین کے درمیان کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہونے پائے ــــ بعض حالات میں ایسا ہوتاہے کہ شوہر کو بیوی کا روزہ رکھنا (خواہ وہ نفلی ہو یا قضا کا) اتنا ناگوار محسوس ہوتاہے کہ وہ روزے ہی کے متعلق نامناسب الفاظ اپنی زبان سے نکال بیٹھتاہے جس کی وجہ سے نہ صرف میاں بیوی کے تعلقات میں بدمزگی پیدا ہوتی ہے بلکہ وہ آدمی بھی گنہگار ہوتاہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ روزہ رکھنے سے پہلے بیوی اپنے شوہر سے اس بات کی اجازت لے لے ــــالبتہ رمضان کے روزوں کا معاملہ مختلف ہے۔ رمضان کے زمانے میں شوہر کی اجازت اور رضا مندی حاصل کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ رمضان کے روزے چھوڑنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُو الْیَمَانِ، قَالَ : اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوالزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لاَیَحِلُّ لِلْمَرْأَۃِ اَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ، وَلاَتَأْذَنْ فِیْ بَیْتِہٖ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ، وَمَا اَنْفَقَتْ مِنْ نَّفَقَۃٍ مِنْ غَیْرِ اَمْرِہٖ فَاِنَّہٗ یُؤَدّٰی اِلَیْہِ شَطْرُہٗ۔(۴)
ورواہ ابوالزناد ایضًا عن مُوْسی عن ابیہ عن ابی ھریرۃ فی الصوم۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایک عورت کے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ اس کا شوہر گھر پر موجود ہو اور وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت دے الاّ یہ کہ اس کے شوہر نے اسے اجازت دے رکھی ہو اور وہ جو کچھ بھی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر انفاق کرے گی اس کا نصف خاوند کی جانب لوٹا دیا جائے گا۔
(۲)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: نَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، قَالَ: نَا مَعْمَرٌ عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ، قَالَ: ھٰذَا مَاحَدَّثَنَا اَبُوْھُرَیْرَۃُ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرَ اَحَادِیْثَ مِنْھَا وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَتَصُمِ الَمْرأَۃُ وَبَعْلُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ وَلاَ تَأْذَنْ فِیْ بَیْتِہٖ وَھُوَ شَاھِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ وَمَا اَنْفَقَتْ مِنْ کَسَبِہٖ مِنْ غَیْرِ اَمْرِہٖ فَاِنَّ نِصْفَ اَجْرِہٖ لَہٗ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا عورت روزہ نہ رکھے جب کہ اس کا شوہر گھر پر موجود ہو اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔ خاوند کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر جتنا کچھ انفاق وہ کرے گی اس کا آدھا ثواب شوہر کے کھاتے میں جائے گا۔
ابوداؤد نے لاَتَصُمْ کی جگہ لاَتصوم اور الا باذنہ کے بعد غیر رمضان کے الفاظ بھی روایت کیے ہیں:
(۳) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَتَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ یَوْمًامِنْ غَیْرِ شَھْرِ رَمَضَانَ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ۔(۶)
قَالَ ابوعیسٰی: حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح۔
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت رمضان کے علاوہ ایک دن کا روزہ بھی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حائضہ عورت پر روزوں کی قضا لازم آتی ہے مگر نمازوں کی نہیں
۷۵۔ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ اَنَّھَا قَالَتْ لِعَائِشَۃَ:مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِی الصَّوْمَ وَلاَتَقْضِی الصَّلٰوۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: کَانَ یُصِیْبُنَا ذٰلِکَ فَنُؤْمَرُ بَقَضَائِ الصَّوْمِ وَلاَنُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلٰوۃِ ۔ (مسلم)
’’ایک تابعی خاتون مُعاذۂ عدویہؒ بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ یہ کیا بات ہے کہ ایک حائضہ عورت ایامِ ماہواری میں جو روزے چھوڑتی ہے ان کی قضا تو وہ ادا کرتی ہے لیکن جو نمازیں چھوڑتی ہے ان کی قضا ادا نہیںکرتی حیض کی حالت میں روزہ ونماز دونوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نماز کی کوئی قضا نہیں البتہ روزے بعد میں ادا کردینے چاہئیں۔
(مکاتیب سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اول:۹۵)
ــــحضرت عائشہؓ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ (رسول اللہ ﷺکے زمانے میں) ہم پر یہ حالت گزرتی تھی تو ہمیں یہ حکم دیا جاتاتھا کہ ہم روزوں کی قضا کریں لیکن یہ حکم نہیں دیا جاتاتھا کہ ہم نمازوں کی قضا بھی کریں۔ ‘‘
تشریح: یہاں دیکھیے، سوال کرنے والی خاتون اس بات کی علّت دریافت کرتی ہیں کہ حائضہ عورت ایام ماہواری کے روزوں کی قضا کیوں ادا کرتی ہے جب کہ نمازوں کی قضا ادا نہیں کرتی، لیکن حضرت عائشہؓ اس کے جواب میں فرماتی ہیں کہ حکم یہی ہے۔ اگر چہ اس حکم کے اندر مصلحت موجود ہے اور غور کرنے سے وہ سمجھ میں بھی آسکتی ہے لیکن حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ قانون اور حکم یہ ہے ۔ قطع نظر اس سے کہ علّت تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے تمہارا کام اس قانون کی پابندی کرناہے۔ یہ گویا ایک مسلمان کی اولین صفت ہے ــــ اگر وہ یہ شرط لگاتاہے کہ میںحکم اس وقت مانوں گا جب مجھ پر اس کی مصلحت واضح ہوجائے گی تو وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہے۔ ایک شخص جب اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے، رسول اللہ ﷺکی رسالت کو مان لے اور خدا کی کتاب کے متعلق یہ جان لے کہ یہ کتابِ برحق ہے تو اس کاکام حکم کی اطاعت کرناہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہرحکم کی علّت اور مصلحت بھی اس کی سمجھ میں آئے اور کسی پر یہ لازم بھی نہیں ہے کہ وہ اسے اس کی حکمت ومصلحت بتائے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے اس کا کام یہ ہے کہ جہاں اللہ کا حکم اس کے سامنے آئے وہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردے۔
جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے اس میں بیان کردہ حکم کی حکمت اور مصلحت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ نماز دن میں پانچ وقت فرض ہے۔ اب فرض کیجیے کہ ایک عورت کو ایّامِ ماہواری میں آٹھ یا دس روز تک نماز چھوڑنی پڑتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے ذمّے قضا کی چالیس یا پچاس نمازیں ہوگئیں جو اسے بعد میں ادا کرنی پڑیں گی۔ ظاہر بات ہے کہ اس طرح اسے سخت مشکل پیش آئے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں رعایت فرمائی اور نماز کی قضا لازم نہیں کی ــــ اس کے برعکس روزوں کا معاملہ یہ ہے کہ سال کے ایک مہینے میں فرض ہوتے ہیں اور قضا ہونے کی صورت میں سال کے باقی مہینوں میں کسی وقت بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ اس لیے یہاں وہ رعایت نہیں دی گئی جو نماز کے بارے میں دی گئی ہے ــــ یہ ایک بالکل واضح بات تھی اور حضرت عائشہؓ چاہتیں تو وہ سوال کرنے والی خاتون کو اس حکم کی حکمت اور علت بتاسکتی تھیں، لیکن انہوں نے حکمت بتانے کے بجائے صرف حکم بتادینے پر اکتفا فرمایا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: اَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، قَالَ: اَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَۃَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِی الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِی الصَّلٰوۃَ؟ فَقَالَتْ: اَحَرُوْرِیَّۃٌ اَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُوْرِیَّۃٍ، وَلٰکِنِّیْ اَسْأَلُ قَالَتْ: کَانَ یُصِیْبُنَا ذٰلِکَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَآئِ الصَّوْمِ وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَآئِ الصَّلاَۃِ۔ (۷)
ترجمہ : حضرت معاذۃ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا کہ یہ کیا بات ہے کہ ایک حائضہ عورت ایّامِ ماہواری میں جو روزے وہ چھوڑتی ہے ان کی قضا تو وہ ادا کرتی ہے لیکن جو نمازیں چھوڑتی ہے ان کی قضا ادا نہیں کرتی۔ تو حضرت عائشہؓ نے اس سے پوچھا تو حروریہ حروراء دراصل کوفے کے قریب ایک مقام تھا، جہاں خوارج کا ایک گروہ رہتاتھا جو تشددِ عقیدہ کے باعث حائضہ عورتوں کو ایام کے بعد نماز کی قضا کا حکم دیتے تھے جو انکارِ سنت کے مترادف ہے۔ یہ لوگ حروریّہ کہلاتے تھے۔ تو نہیں ہے؟ اس نے عرض کیا حروریہ تو میں نہیں ہوں لیکن مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ہم پر یہ حالت گزرتی تھی تو ہمیں یہ حکم تو دیا جاتاتھا کہ ہم روزوں کی قضا کریں لیکن یہ حکم نہیں دیا جاتاتھا کہ ہم نمازوں کی قضا بھی کریں۔
امام بخاری نے کتاب الصوم میں باب الحائض تترک الصوم والصلاۃ وقال ابوالزناد ان السنن ووجوہَ الحق لتاتی کثیرا علٰی خِلاف الرأی فیما یجدالمسلمون بُدًّا من اتباعھا من ذٰلکَ اِنَّ الْحَائِضَ تَقْضِی الصِّیَامَ وَلاَ تَقْضِی الصَّلاَۃَ۔ اس طرح نقل کی ہے۔ (۸)
ترمذی نے حضرت عائشہؓ سے روایت بیان کی ہے:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ :کُنَّا نَحِیْضُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ نُطَھِّرُ فَیَأْمُرُنَا بِقَضَآئِ الصِّیَامِ وَلاَیَاْمُرُنَا بِقَضَآئِ الصَّلاَۃِ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ہم پر ایام ماہواری آتے تھے پھر ایامِ طہر میں جب ہم ہوتی تھیں تو رسول اللہ ﷺہمیں روزوں کی قضا کا حکم فرمایا کرتے تھے مگر نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔
قَال ابو عیسیٰ ھٰذا حدیث حسن وقد روی عن معاذۃ، عن عائشۃ ایضًا والعمل علی ھذا عند اھل العلم لانعلم بینھم اختلافًا فی ان الحائض تقضی الصیام ولاتقضی الصلاۃ۔(۹)
دارمی نے اس روایت کو قدرے مختلف اسلوب میں بیان کیاہے:
(۳) قَالَ:اَتَتْ إِمْرَأَۃٌ اِلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ:اَقْضِیْ مَاتَرَکْتُ مِنْ صَلاَتِی فِی الْحَیْضِ عِنْدَ الطُّھْرِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : اَحَرُوْرِیَّۃٌ اَنْتِ؟ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَانَتْ اِحْدَانَا تَحِیْضُ وَتَطْھُرُ فَلاَ یَاْمُرُنَا بِالْقَضَآئِ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ایک عورت آئی اور عرض کیا :ایامِ ماہواری میں جو نمازیںمیں چھوڑتی ہوں ایّامِ طُہر میں انہیں پڑھتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: توحروریّہ تو نہیں ہے؟ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ رہتی تھیں۔ ہم میں سے ہرایک کو ایّام ماہواری سے واسطہ پڑتاتھا۔ حالتِ طُہر بھی آتی تھی مگر آپؐ نے کبھی ہمیں تو نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا۔
کیا فوت شدہ آدمی کے روزوں کی قضا اس کے ولی کے ذمّے ہوگی
۷۶۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : مَنْ مَّاتَ وَعَلَیْہِ صَوْمٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص اس حالت میں فوت ہوجائے کہ اس کے ذمّے کچھ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کے بدلے میں روزے رکھے۔ ‘‘
تشریح :یہ ایک پیچیدہ فقہی بحث ہے کہ اگر کوئی شخص اس حالت میں فوت ہوجائے کہ اس کے ذمّے کچھ روزے رہ گئے ہوں تو آیا اس کے ولی پر ان کی قضا لازم آتی ہے یا نہیں۔
اس سلسلے میں چونکہ متعدد ا حادیث آئی ہیں اور ان میں اختلاف ہے اس لیے اس حدیث کے بارے میں بھی بحث پیدا ہوئی ہے اور فقہاء کے مسلک بھی مختلف ہوگئے ہیں ــــ امام احمد بن حنبلؒ اس حدیث کی بناء پر یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمّے رمضان کے روزے رہ جائیں تو اس کے ولی کو اس کی طرف سے روزے رکھنے ہوں گے۔ لیکن امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ اس بات کے قائل نہیں ہیں۔یہ ائمّہ اس حدیث کو رد تو نہیں کرتے البتہ وہ اس کی تاویل کرتے ہیں ــــ اول تو ان کے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ یہاں رمضان کے روزے ہی مراد ہوں بلکہ نذر کے روزے بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ ( اگر کسی شخص نے نذر مانی تھی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں اتنے روزے رکھوں گا لیکن یہ نذر پوری کرنے سے قبل وہ فوت ہوگیا تو اس کا ولی اس کی طرف سے یہ روزے رکھ سکتاہے) دوسرے یہ ضروری نہیں ہے کہ صیغۂ امر کے معنی لازمًا وجوب کے ہوں، (جیساکہ پہلے بھی ایک حدیث کی وضاحت کے سلسلے میں یہ بات گزرچکی ہے) اس لیے ہوسکتاہے کہ یہاں اس سے مراد یہ ہوکہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ سکتاہے ــــ تیسرے یہ کہ اس سلسلے کی بعض دوسری احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حدیث ان احادیث سے پہلے کی ہے۔ اس لیے ان فقہاء کے نزدیک اب یہ حکم منسوخ سمجھاجائے گا۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسٰی بْنِ اَعْیَنَ، ثَنَا اَبِیْ، عَنْ عَمْرِوبْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ جَعْفَرٍ، اَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَہٗ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ مَّاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔ (۱۱)
تابعہ ابن وھب عن عمرو ورواہ یحيٰ بن ایوب عن ابن ابی جعفر
فوت شدہ آدمی کے قضا روزوں کے بدلے میں مساکین کو کھانا کھلانے کا مسئلہ
۷۷۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺَ قَالَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامُ شَھْرِ رَمَضَانَ فَلْیُطْعَمْ عَنْہُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِّسْکِیْنٌ۔ ۱؎
جناب نافع ؒ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: جو شخص اس حالت میں فوت ہوجائے کہ اُس کے ذمے رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہرروزے کے بدلے میں ایک مسکین آدمی کوکھانا کھلایا جائے (یعنی اس کا فدیہ دیا جائے)۔‘‘
تشریح: امام ترمذیؒ کے نزدیک یہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد نہیں بلکہ عبداللہ بن عمرؓ کا اپنا فتویٰ ہے یعنی یہ ثابت نہیں ہے کہ یہ بات حضورؐ نے فرمائی ہے، بلکہ مضبوط سندوں سے جوروایات آئی ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی اپنی رائے ہے ــــ ان کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمّے رمضان کے روزے رہ گئے ہوں اور وہ فوت ہوجائے تو اس کی طرف سے فدیہ کے طورپر مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔ یہ وہی فدیہ ہے جو اس کی زندگی میں بھی ادا کیا جاسکتاہے ــــ قرآن مجید میں یہ حکم بیان کیا گیاہے کہ جو شخص بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے وہ فدیہ ادا کرے۔ یعنی ہرروزے کے بدلے میں کسی مسکین کو کھانا کھلائے۔ اب فرض کیجیے کہ وہ بیماری کے زمانے میں کھانا نہیں کھلاسکا اور فوت ہوگیا تو اس کے بعد اس کے ولی کوچاہیے کہ وہ اس کے فدیہ کے طور پر ہرروزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔
اگر اسے رسول اللہ ﷺکا قول مانا جائے تو اس صورت میں یہ اوپر والی حدیث کے خلاف پڑتاہے جس کی رُوسے یہ حکم نکلتاہے کہ ایسے شخص کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ لیکن اگر اسے حضرت ابنِ عمرؓ کا قول مانا جائیــــتو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ِ عمرؓ کا فتویٰ حضورؐ کے ارشاد کے خلاف ہے حالانکہ یہ ایک یقینی امر ہے کہ اگر ان کے علم میں یہ بات ہوتی کہ اس سلسلے میں حضورؐکا ارشاد یہ ہے کہ ولی کو روزہ رکھنا چاہیے تو وہ ہرگز اس کے خلاف فتویٰ نہ دیتے ۔ اس لیے فقہاء اس بات سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر پہلے وہ حکم تھا بھی کہ ولی کو روزہ رکھنا چاہیے تو بعد کے حکم سے منسوخ ہوگیا۔ یا پھر اس کی یہ تاویل کرنی ہوگی کہ اُس میں امر کا صیغہ وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے صرف اس بات کی اجازت نکلتی ہے کہ ولی روزہ رکھ سکتاہے۔
اب اس سلسلے کی تیسری حدیث آگے آرہی ہے:
تخریج(۱): حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نا عَبْثَرُ عَنْ اَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺَ، قَالَ: مَنْ مَّاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامُ شَھْرٍ، فَلْیُطْعَمْ عَنَہُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِّسْکِینٌ۔ (۱۲)
قَال ابوعیسٰی: حدیث ابن عمر لانعرف مرفوعًا اِلاّمن ھذا الوجہ والصحیح عن ابن عمر موقوفًا قولُہٗ،واختلف اھل العلم فی ھٰذا فقال بعضھم یصام عن المیت وبہ یقول احمد واسحاق قالا اذا کان علی المیت نذر صیام یُصَام عنہ واذا کان علیہ قضاء رمضان اطعم عنہ وقال مالک وسفیان والشافعی لایصوم احد عن احد۔
واشعث ھو ابن سوّار ومحمد ھو محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی۔
ترجمہ : اہلِ علم کی آراء اس مسئلہ میں مختلف ہیں۔ بعض کہتے ہیںکہ میّت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے یہ رائے امام احمد اور اسحاق کی ہے۔ دونوں کی رائے ہے کہ جب روزے نذر کے ہوں تو پھر روزے ہی میّت کی جانب سے رکھے جائیں گے اور جب رمضان کے روزوں کی قضا ہو تو مساکین کو کھانا کھلایا جائے گا۔ امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا۔
سنن کے الفاظ یہ ہیں:
(۲) سُئِلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنْ رَجُلٍ مَّاتَ وَعَلَیْہِ صَوْمُ شَھْرِ رَمَضَانَ قَالَ یُطْعَمُ عَنْہُ کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِیْنٌ۔
ترجمہ : بیہقی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺسے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو مرگیا تھا مگر رمضان کے مہینے کے روزے اس پر واجب الادا تھے۔ حضورؐ نے فرمایا: ہرروز ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے
کوئی شخص کسی دوسرے کے بدلے میں نہ روزہ رکھ سکتاہے نہ نماز پڑھ سکتاہے
۷۸۔ عَنْ مَالِکٍ، بَلَغَہٗ اَنَّ ابْنَ عُمَرَکَانَ یُسْئَلُ ھَلْ یَصُوْمُ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ اَوْیُصَلِّیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ فَیَقُوْلُ لاَیَصُوْمُ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ وَلاَیُصَلِّیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ۔ (مؤطا امام مالک)
’’امام مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ ان تک یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جب یہ مسئلہ پوچھا جاتاتھا کہ کیا کوئی شخص دوسرے کے بدلے میں روزے رکھ سکتاہے یا کوئی شخص دوسرے کی جگہ نماز پڑھ سکتاہے تو آپ یہ فرمایا کرتے تھے کہ نہ کوئی شخص کسی کی طرف سے روزہ رکھ سکتاہے اور نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھ سکتاہے۔‘‘
تشریح: اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ فتویٰ نبی ﷺکے کسی ارشاد کے خلاف نہیں پڑتا کیونکہ اگر مفروضے کے طورپر یہ مان لیا جائے کہ حضورؐ کا وہ حکم ــــ کہ آدمی کے ولی کو اس کے بدلے میں روزہ رکھنا چاہیے ــــ انہیں نہیں پہنچا تھا تو وہ صحابہ کرامؓ کا زمانہ تھا، بہت سے صحابیؓ ایسے ہوسکتے تھے جو ان سے کہتے کہ جب حضورؐ کا حکم یہ ہے تو آپ یہ فتویٰ کیسے دے رہے ہیں۔ لیکن چونکہ ان سے کسی نے یہ بات نہیں کہی اس لیے اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ میں یہ بات عام طورپر معلوم تھی کہ کسی شخص کے روزوں کی قضا کسی دوسرے شخص کے ذمّے لازم نہیں آتی، خواہ وہ اس کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
تخریج(۱): حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ، اَنَّہٗ بَلَغَہٗ اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، کَانَ یُسْأَلُ ھَلْ یَصُوْمُ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ اَوْ یُصَلِّیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ؟ فَیَقُوْلُ : لاَیَصُوْمُ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ، وَلاَ یُصَلِّیْ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ۔ (۱۳)
السنن الکبریٰ میں ابنِ عمرؓ کا ایک اور فتویٰ بھی منقول ہے:
(۲)اَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ اِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَمُوْتُ عَلَیْہِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ اَوْ نَذْرٍ یَقُوْلُ: لاَیَصُوْمُ اَحَدٌ عَنْ اَحَدٍ وَلٰکِن تَصَدَّقُوْا عَنْہُ مِنْ مَالِہٖ لِلصَّوْمِ لِکُلِّ یَوْمٍ مِسْکِیْنًا۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ابن عمر ؓسے منقول ہے کہ جب ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جاتا جو فوت ہوچکاہو اور اس کے ذمّہ رمضان کے روزے ہوں یا نذر کے، تو وہ جواب میں فرماتے۔ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہ رکھے بلکہ اس کی جانب سے صدقہ دے اس کے اپنے مال میں سے۔ باقی رہا روزہ تو ایک روزے کے بدلے ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔
ماخذ
(۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب متٰی یقضی قَضاء رمضان۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز قضاء رمضان مالم یجئی رمضان اٰخر لِمَنْ اَفْطَرَبعذرکمرض والسفروالحیض ونحو ذٰلک۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب المفطر من شھر رمضان یؤخر القضاء ما بینہ وبین رمضان آخر۔
(۲) ابوداؤدج۲کتاب الصوم باب تاخیر قضاء رمضان۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب وضع الصیام عن الحائض۔ ٭مؤطا کتاب الصیام باب جامع قضاء الصیام۔
(۳) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی تاخیر قضاء رمضان۔ ٭ ابن ماجۃ کتاب الصیام باب ماجاء فی قضاء رمضان۔
(۴) بخاری ج۲کتاب النکاح باب لاَ تاْذن المرأۃ فی بیت زوجھا اِلاَّ باذنہ۔
(۵) مسلم ج۱کتاب الزکوٰۃ باب اجرالخازن الامین والمرأۃ اذا تصدقت من بیت زوجھا غیر مفسدۃ باذنہ الصریح اوالعرفی۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب المرأۃ تصوم بغیر اذن زوجھا۔٭ السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب المرأۃ لاتصوم تطوعًا وبعلھا شاھد الا باذنہ۔٭ مسند احمد ج۲ مرویات ابی ھریرۃ۔
(۶) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ صوم المرأۃ الا باذن زوجھا۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم۔ ٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی المرأۃ تصوم بغیر اذن زوجھا۔٭ دارمی کتاب الصوم باب النھی عن صوم المرأۃ تطوعًا اِلاَّ باذنِ زوجھا۔
(۷) مسلم ج۱کتاب الحیض باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلوٰۃ۔٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب سقوط الصلاۃ عن الحائض۔٭ابن ماجہ کتاب الطھارۃ وسننھا باب الحائض لاتقضی الصلاۃ۔٭ السنن الکبری للبیہقی ج۴کتاب الصیام باب الحائض تقضی الصوم اذا طھرت ولاتقضی الصلوٰۃ۔
(۸) بخاری ج۱کتاب الصوم، باب الحائض تترک الصوم والصلوۃ٭ابوداؤدج۱کتاب الطھارۃ باب فی الحائض لاتقضی الصلوٰۃ۔
(۹) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی قضاء الحائض الصیام دون الصلاۃ۔
(۱۰) دارمی کتاب الصوم باب فی الحائض تقضی الصَّوم ولا تقضی الصلاۃ۔ ٭ مسند احمد ج۶ص۳۲۔۹۴۔۹۷۔ ۱۲۰۔۱۴۳۔۱۸۵۔۲۳۱۔
(۱۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب من مات وعلیہ صوم وقال الحسن ان صام عنہ ثلاثون رجلا یومًا واحدًا جاز۔ مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل الصوم عن المیت۔٭ابوداؤدج۲کتاب الصوم ب
فصل ہفتم : نفلی روزے
تَطَوُّعْ کے معنی ہیں اپنی رضا ورغبت سے کوئی کام کرنا ــــیہ فرض کے مقابلے میں ہوتاہے۔ فرض تو وہ چیز ہے جس کی پابندی کرنا ضروری ہوتاہے لیکن تطوّع وہ چیز ہے جو آدمی خود اپنی مرضی سے کرے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر فرض اور لازم کی گئی ہو چنانچہ صِیَامُ التَّطَوُّع سے مراد نفلی روزے ہیں اور اس فصل میں انہیں کا ذکر ہے۔
حضورؐ سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں رکھتے تھے
۷۹۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لاَیُفْطِرُ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لاَیَصُوْمُ، وَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَھْرٍ قَطُّ اِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَیْتُہٗ فِیْ شَھْرٍ اَکْثَرَ مِنْہُ صِیَامًا فِیْ شَعْبَانَ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّہٗ کَأَنَّ یَصُوْمُ شَعْبَانَ اِلاَّ قَلِیْلاً۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کبھی تو مسلسل روزے رکھتے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے۔ اور کبھی روزے نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ حضورؐ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں سوائے رمضان کے۔ اور میں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ آپؐ نے شعبان سے زیادہ کسی مہینے کے روزے رکھے ہوں ــــدوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ شعبان کے کم ہی دن ایسے ہوتے تھے جن میں حضورؐ روزہ نہیں رکھتے تھے، گویا کہ آپؐ پورے شعبان کے روزے رکھ لیتے تھے۔‘‘
تشریح: ’’اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ نے حضورؐ کے نفلی روزوں کا طریقہ بیان فرمایاہے۔ آئندہ احادیث میں آپ کو حضورؐ کے نفلی روزوں کے متعلق مختلف اقوال ملیں گے جن سے معلوم ہوگا کہ نفلی روزوں کے بارے میں آپؐ کا کیا طرزِ عمل تھا۔ یہاں حضرت عائشہؓ یہ بتارہی ہیں کہ کبھی تو ایسا ہوتاتھا کہ آپؐ مسلسل روزے رکھتے چلے جاتے تھے اور کبھی ایسا ہوتاتھا کہ آپؐ مسلسل روزے رکھنا چھوڑدیتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں حضورؐ نے نوافل کے بارے میں کوئی ایک مقرر طریقہ اختیار نہیں کیا ہوا تھا۔
حضرت عائشہؓ نے دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ رمضان کے سوا آپؐنے کبھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے۔ البتہ صرف شعبان ایسا مہینہ تھا جس میں آپؐباقی مہینوں سے زیادہ روزے رکھا کرتے تھے اور بسا اوقات شعبان میں اتنے روزے رکھتے تھے کہ گویا آپؐ نے پورے مہینے ہی کے روزے رکھ لیے۔ اس چیز کا خاص طورپر ذکر اس لیے کیا گیاہے کہ حضورؐ نے دوسرے لوگوں کو یہ ہدایت فرمادی تھی کہ نصف شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں کیونکہ اس سے انسان کو ایسی کمزوری لاحق ہوسکتی ہے جو رمضان کے روزوں پر اثر انداز ہونے والی ہو۔ البتہ وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جن کے ذِمّے مثلاً قضا یانذر کے روزے رہ گئے ہوں یا کچھ لوگ ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو ان خاص دنوں ہی میں نفلی روزے رکھنے کے عادی ہوں۔ چنانچہ اس طرح کی مستثنیٰ صورتوں کو چھوڑکر حضورؐ کی عام ہدایت یہی تھی ــــ معلوم ہوا کہ حضورؐ کی یہ ہدایت صرف دوسرے لوگوں کے لیے تھی اور آپؐ کااپنا طریقہ یہ تھا کہ آپؐ شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، اَنَا مَالِکٌ، عَنْ اَبِی النَّضْرِ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لاَیُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لاَیَصُوْمُ، وَمَارَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ اسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَھْرٍ اِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَیْتُہٗ اَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِیْ شَعْبَانَ۔(۱)
دوسری روایت مسلم نے مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صِیَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ:کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ صَامَ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ اَفْطَرَ وَلَمْ اَرَہٗ صَائِمًا مِنْ شَھْرٍ قَطُّ اَکْثَرَ مِنْ صِیَامِہٖ مِنْ شَعْبَانَ کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّہٗ کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ اِلاَّ قَلِیْلاً۔(۲)
بخاری سے حضرت عائشہؓ کی روایت :
(۳) اِنَّ عَائِشَۃَ حَدَّثَتْہُ، قَالَتْ: لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ ﷺ یَصُوْمُ شَھْرًا اَکْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَاِنَّہٗ کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّہٗ ۔(۳)
بخاری ومسلم نے حضرت ابن عباسؓ سے بھی ایک روایت بیان کی ہے:
(۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاصَامَ النَّبِیُّ ﷺ شَھْرًا کَامِلاً قَطُّ غَیْرَرَمَضَانَ، وَیَصُوْمُ حَتّٰی یَقُوْلَ الْقَائِلُ لاَ وَاللّٰہِ لاَیُفْطِرُ وَیُفْطِرُ حَتّٰی یَقُوْلَ الْقَائِلُ لاَ وَاللّٰہِ لاَیَصُوْمُ۔(۴)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے کبھی رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔ آپؐروزے مسلسل رکھتے جاتے کہنے والا کہتا کہ بخدا آپؐ اب روزہ نہیں چھوڑیں گے اور آپؐ روزہ چھوڑے رکھتے یہاں تک کہ کہنے والا کہتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
حضورؐ رمضان کے سوا کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے
۸۰۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ اَکَانَ النَّبِیُّ ﷺَ یَصُوْمُ شَھْرًا کُلَّہٗ، قَالَتْ: مَا عَلِمْتُہٗ صَامَ شَھْرًا کُلَّہٗ اِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ اَفْطَرَہٗ کُلَّہٗ حَتّٰی یَصُوْمَ مِنْہُ، حَتّٰی مَضٰی لِسَبِیْلِہٖ۔ (مسلم)
ترجمہ : جناب عبداللہ بن شقیق ؒبیان کرتے ہیںکہ میں نے حضرت عائِشہ ؓ سے دریافت کیاکہ کیا رسول اللہ ﷺکسی پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے؟حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میرے علم میں نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کبھی رمضان کے سوا کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں اور اسی طرح یہ بات بھی میرے علم میں نہیں ہے کہ حضورؐ نے کبھی کوئی مہینہ ایساچھوڑا ہو جس میں کوئی ایک روزہ بھی نہ رکھا ہو۔ اور یہ طریقہ آپؐ کا اس وقت تک رہا جب تک کہ آپؐ اپنے راستے پر نہ چلے گئے۔
مرادیہ ہے کہ اپنی دنیوی زندگی کے خاتمے تک حضورؐ کا طریقہ یہی تھاکہ کبھی رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے آپؐ نے نہیں رکھے، اور کبھی کوئی ایسا مہینہ بھی نہیں گزرا جس میں آپؐ نے کوئی روزہ نہ رکھا ہو۔
تخریج : حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنَا کَھْمَسٌ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَائِشَۃَ اَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَصُوْمُ شَھْرًا کُلَّہٗ؟ قَالَتْ مَا عَلِمْتُہٗ صَامَ شَھْرًا کُلَّہٗ اِلاَّ رَمَضَانَ، وَلاَاَفْطَرَہٗ کُلَّہٗ حَتّٰی یَصُوْمَ مِنْہُ حَتّٰی مَضٰی لِسَبِیْلِہٖ ﷺ۔(۵)
شعبان کے آخری دودنوں کے روزوں کا مسئلہ
۸۱۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ سَاَلَہٗ اَوْ سَاَلَ رَجُلاً وَعِمْرَانُ یَسْمَعُ فَقَالَ : یَا اَبَا فُلاَنٍ اَمَا صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ، قَالَ: لاَ، قَالَ: فَاِذَا اَفْطَرْتَ فَصُمْ یَومَیْنِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عمران بن حُصَین ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے ان سے دریافت فرمایا (یایہ ہے کہ حضورؐ نے کسی دوسرے شخص سے دریافت فرمایا اور میں سُن رہاتھا ــــ بعدکے راویوں کو یہ شک ہوگیاہے کہ حضورؐ کا سوال کس سے تھا) کہ اے فلاں، کیا تم نے شعبان کے آخری دو دن کے روزے نہیں رکھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: (کہ اگر تم نے ان دودنوں کے روزے نہیں رکھے تو) جب تم موجودہ (رمضان کے) روزوں سے فارغ ہوجاؤ تو کچھ دوسرے دودنوں کے روزے (ان کے بدلے میں) رکھ لینا۔‘‘
تشریح :اس روایت میں یہ اختلاف واقع ہواہے کہ نبی ﷺکا سوال کس سے تھا۔بعد کے راویوں کو یہ یاد نہیں رہاکہ حضرت عمران بن حُصَینؓ نے یہ کہا تھا کہ مجھ سے حضورؐ نے یہ سوال کیا تھا، یا یہ کہا تھا کہ کسی شخص سے آپؐ نے پوچھا تھا اور میں سُن رہاتھا۔ تا ہم یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عمران بن حُصَینؓ نے نبی ﷺسے یہ روایت کی ہے۔ اس روایت سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ جو راوی حضرت عمران بن حُصینؓ سے یہ حدیث روایت کررہے ہیں غالبًا وہ فقیہ نہیں تھے اس لیے انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ سوال حضورؐ نے اُن سے کیوں کیا تھا اور انہیں وہ روزے رکھنے کی تاکید کیوں فرمائی تھی ــــاس بات کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے کہ کیا شعبان کے آخری دودنوں کا روزہ رکھنا ضروری ہے۔ اور اگر ایک آدمی یہ روزے نہ رکھ سکا ہو تو کیا بعد کے دنوں میں ان کی قضا لازم آجاتی ہے؟
دوسری روایات سے یہ پتہ چلتاہے کہ غالبًا صورت یہ پیش آئی تھی کہ وہ صاحب جن سے حضورؐ نے یہ سوال کیا تھا یا تو ان کے ذمّے قضا یا نذر کے روزے تھے یا وہ ان دنوں میں نفلی روزوں کا التزام کیا کرتے تھے، جیسا کہ نفلی روزوں کے متعلق مختلف لوگ مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ کچھ حضرات ہر مہینے کے درمیانی تین دن کے نفلی روزے رکھتے ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ کوئی اور دن مقرر کرلیتے ہیں۔ اسی طرح ہوسکتاہے کہ ان صاحب نے مہینے کے آخری دودنوں کا التزام کررکھا ہو ــــ اب ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ کا ان سے یہ بات دریافت فرمانے کا سبب یہی ہوسکتاہے کہ حضورؐ کے علم میں یہ بات ہوکہ نذر یا قضا کے کچھ روزے ان کے ذمے تھے، یا ان دنوں کے روزوں کا وہ التزام کیا کرتے تھے، اس لیے آپؐ نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا تم نے یہ روزے رکھ لیے؟ــــاب خود ان صاحب کے یہ روزے نہ رکھنے کا سبب بھی بآسانی سمجھ میں آسکتاہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ چونکہ نبی ﷺنے پندرہویں شعبان کے بعدروزے نہ رکھنے کی ہدایت فرمادی تھی اس لیے انہوں نے ان دنوں میں روزے رکھنے بند کردیے ــــ اس پر حضورؐ نے انہیں مسئلہ بتانے کے لیے یہ سوال دریافت فرمایا کہ کیا تم نے ان دنوں کے روزے رکھ لیے؟ جب انہوں نے کہاکہ نہیں رکھے تو آپ ؐنے فرمایا کہ اب ان کے بدلے میں دوسرے دنوں کے روزے رکھ لینا تاکہ جو التزام تم کیا کرتے ہو وہ پورا ہوجائے (یا تمہارے ذمّے نذر یا قضا کے جو روزے ہیں وہ ادا ہوجائیں)۔
یہی اس حدیث کی تاویل ہوسکتی ہے وگرنہ اگر اس کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ شعبان کے آخری دودنوں کے روزے رکھنا ضروری ہے اور اگر نہ رکھے جائیں تو ان کی قضا لازم آتی ہے تو یہ ایک ایسی بات ہوگی جو نہ کسی دوسری حدیث سے ثابت ہوتی ہے اور نہ کوئی فقیہ اس بات کا قائل ہے۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَامَھْدِیٌّ عَنْ غَیْلاَنَ، ح وَحَدَّثَنَا اَبُوالنُّعْمَانِ، ثَنَا مَھْدِیُّ بْنُ مَیْمُوْنٍ، ثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیْرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺَ، اَنَّہٗ سَأَلَہٗ اَوَسَأَلَ رَجُلاً وَعِمْرَانُ یَسْمَعُ فَقَالَ: یَا اَبَا فُلاَنٍ اَمَا صُمْتَ سَرَرَ ھٰذَا الشَّھْرِ؟ قَالَ: اَظُنُّہٗ قَالَ : یَعْنِی رَمَضَانَ قَالَ الرَّجُلُ : لاَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ : فَاِذَا اَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمَیْنِ۔ لَمْ یَقُلِ الصَّلْتُ اَظُنَّہٗ یعنی رَمَضَانَ۔ وَقَالَ ثَابِتٌ: عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺَ، مِنْ سَرَرَ شَعْبَانَ قَالَ: اَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ وَشَعْبَانَ اَصَحُّ۔(۶)
مسلم میں اس روایت کا متن:
(۲) اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَہٗ اَوَ قَالَ لِرَجُلٍ وَھُوَ یَسْمَعُ یَا فُلاَنُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّۃِ ھٰذَا الشَّھْرِ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: فَاِذَا اَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمَیْنِ۔(۷)
ترجمہ : نبی ﷺنے ایک شخص سے فرمایا اے فلاں شخص کیا تونے اس ماہ کے آخری دو روزے رکھ لیے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ حضور ﷺنے فرمایا: جب رمضان کے روزے پورے کرلو تب یہ دو روزے رکھ لینا۔
ماہ محرّم کے روزوں اور نماز تہجُّد کی فضیلت
۸۲۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَھْرُ اللّٰہِ الْمُحَرَّمُ وَاَفْضَلُ الصَّلوٰۃِ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃ۔۔۔صَلوٰۃُ اللَّیْلِ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے مہینے کے ہیں، اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز صلوٰۃُ اللَّیل (تہجّد کی نماز) ہے۔
تشریح : محرّم کے روزوں کے متعلق آگے متعدد احادیث آرہی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺعاشوراء کے روزے کا التزام فرماتے تھے اور محرم کے مہینے میں زیادہ روزے رکھتے تھے۔ یہاں یہ معلوم ہوا کہ رمضان کے سوا دوسرے دنوں میں سب سے زیادہ بہتر دن جن میں روزہ رکھا جائے محرم کا مہینہ ہے ــــ اس کی مختلف علّتیں ہوسکتی ہیں لیکن چونکہ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی اس لیے یقینی طورپر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ محرم کے مہینے کے نفلی روزے دوسرے مہینوں کی بہ نسبت کیوں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔
اس حدیث میں دوسری بات رات کی نماز کے متعلق فرمائی گئی ہے۔ رات کی نماز سے مراد تہجُّد کی نماز ہے۔ وہ نماز جو آدمی خاموشی کے ساتھ رات کی تنہائی میں پڑھتاہے۔ اور وہ نوافل جن کا علم خود آدمی کے اور اس کے خُدا کے سوا کسی کو نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرائض کے بعد سب سے زیادہ افضل اور پسندیدہ ہیں۔
جہاں تک فضیلت کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب ایک موقع پر ایک چیز کو افضل کہا جاتاہے اور دوسرے موقع پر دوسرے کو تو اس میں درحقیقت کوئی تضادیا تناقض نہیں ہوتا۔ بعض کاموں کی فضیلت کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں وہ دراصل لوگوں کو یہ توجہ دلانے کے لیے آئی ہیں کہ فلاں کام بڑی اہمیت رکھتاہے اور اس کے کرنے کا بڑا اجر ہے۔ ایسے مواقع پر اس کام کی تعریف ایسے انداز سے کی گئی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے شوق اور لگن پیدا ہو۔ پھر بعض اوقات ایک ہی وقت میں متعدد کاموں کے لیے افضل کا لفظ آیاہے۔ اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ بس ان سے زیادہ فضیلت رکھنے والا دوسرا کوئی کام نہیں ہے۔ حقیقت میں بہت سے کام ایسے ہوسکتے ہیں جو افضل ہوں ــــ اب مثلاً یہاں یہ فرمایا گیاہے کہ محرم میں نفلی روزے رکھنا بہت افضل ہے ــــ دوسری جگہ عرفہ( نویں ذی الحجہ) کے روزے کو بہت بڑی فضیلت والا قراردیا گیاہے۔ یہ دونوں باتیں حقیقت میں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں، بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ بھی بڑی فضیلت رکھتاہے اور محرم ( عاشوراء) کا روزہ بھی بڑی فضیلت کا حامل ہے ــــاسی طرح فرمایا کہ فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ افضل صلوٰۃ اللّیل یعنی تہجّد کی نماز ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسری کوئی نماز کسی طرح کی فضیلت نہیں رکھتی ہے یا کم تردرجے کی فضیلت رکھتی ہے۔ ایسا سمجھنا درست نہیں ہے۔ احادیث میں مؤکّدہ سنتوں کی بھی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ مؤکّدہ سنّتیں بھی بڑی فضیلت رکھتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تہجد کی نماز بھی اپنی جگہ پر بڑی فضیلت کی حامل ہے۔ دونوں حدیثوں میں کسی طرح کا تضاد نہیں ہے۔
فرض نمازوں کے بعد تہجُّد کی فضیلت جس بنا پر ہے وہ یہ ہے کہ فرض نماز تو رکنِ اسلام ہے اور اسلام کے اس رُکن کو قائم کرنے کے لیے فرض نمازوں کا علانیہ اور منظم طریقے سے انجام دینا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ نظامِ دین میں نماز کو بڑی اہمیّت اور فضیلت حاصل ہے لیکن اس کے برعکس تہجّد کی نماز بڑے اخفا کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اور جب تک آدمی کے اندر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلّق، بہت زیادہ محبت اور مخلصانہ ایمان موجود نہ ہو اس وقت تک یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی راتوں کو اٹھ کر خاموشی کے ساتھ اس طریقے سے یہ نماز ادا کرے کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ یہ چیز غیر معمولی اخلاص وللّٰہیت کے بغیر ممکن نہیں ہے ــــ فرض نماز میں تو ریاکاری کا امکان ہوتاہے کیونکہ جو شخص باقاعدگی کے ساتھ مسجد میں نماز کے لیے آتاہے اس کی غرض دنیا کو یہ دکھانا ہوسکتی ہے کہ یہ صاحب بڑے نماز ی ہیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ تہجّد میں اس کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔تہجُّد تو وہی شخص ادا کرے گا جس کا اللہ کے ساتھ نہایت گہرا اور مخلصانہ تعلّق ہو اور وہ لوگوں میں نام پیدا کرنے کا نہیں بلکہ اللہ کو خوش کرنے کا آرزو مند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تہجّد کو اس قدر فضیلت حاصل ہے۔
یہاں عاشوراء، یعنی دسویں محرم کے روزے کے بارے میں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ اس کی فضیلت اس وجہ سے نہیں
عاشوراء کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ ملانا ضروری ہے
۸۴۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حِیْنَ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ وَاَمَرَ بِصِیَامِہٖ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّہٗ یُعَظِّمُہُ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لَئِنْ بَقِیْتُ اِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ التَّاسِعَ۔(مسلم)
’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ جب (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺنے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ، یہ تو ایک ایسا دن ہے کہ جس کی تعظیم یہودو نصاریٰ بھی کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو محرم کی نویںتاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔‘‘
تشریح: اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات لوگوں نے حضورؐ کی حیاتِ طیّبہ کے آخری سال میں عرض کی تھی۔ اس سے پہلے جب آپؐ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے تو اس وقت کسی نے آپؐکی توجہ اس طرف مبذول نہیں کرائی۔ لیکن جب آپؐنے آخری سال یہ روزہ رکھا تو صحابہؓ نے آپؐسے یہ بات عرض کی۔ اس سے غالبًا اُن کا منشا یہ نہیں تھا کہ آپؐ یہ عمل نہ فرمائیں۔ بلکہ اپنے نزدیک وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ یہود اور نصاریٰ کے ہاں بھی اس دن کی فضیلت ہے اورآپؐ نے بھی اسے افضل قرار دیاہے، ہوسکتاہے کہ یہود ونصاریٰ اس سے ہمارے تقلید کرنے کا پہلو نکال لیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اگر میں آیندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی ضرور رکھوں گا تاکہ میرا عمل یہودو نصاریٰ کے عمل سے مختلف ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص عاشوراء کا روزہ رکھنے کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ وہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی اس کے ساتھ ملائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺکا کسی کام کے کرنے کی خواہش یا ارادے کا اظہار کرنابھی اس کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ آگے ایک اور حدیث آتی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ عاشوراء کے ساتھ ملاکر نویں تاریخ ہی کا روزہ رکھنا ضروری نہیں بلکہ گیارہویں تاریخ کا روزہ بھی رکھا جاسکتاہے۔
اس بات سے آپ اسلام کے مزاج کی نزاکت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ کس طرح اسلام ہرمقام پر مسلمانوں کی امتیازی شان برقرار رکھنا چاہتاہے اور اس بات کی گنجایش نہیں چھوڑتا کہ مسلمان کسی صورت میں بھی یہود ونصاریٰ یا دوسرے کافروں کی تقلید کرنے لگیں۔
یہ اسی ہدایت کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے چُن چُن کر یہود ونصاریٰ کی برائیوں کی تقلید کرنا شروع کردی اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مسلم اور غیرمسلم کی کوئی ظاہری تمیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتاہے کہ ہم ایک آدمی سے یہ سمجھ کر بات کرر ہے ہوتے ہیں کہ یہ مسلمان ہے لیکن کچھ دیر کے بعد یہ بات کھلتی ہے کہ یہ حضرت کسی اور مذہب سے تعلّق رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا تھا کہ ایک وقت وہ آئے گا جب تم یہودونصاریٰ کے قدم بقدم چلوگے یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسیں گے تو تم بھی اس کے اندر گھسوگے ــــ تو آج وہ نقشہ پوری طرح سامنے موجود ہے اور یہ فقط اس بات کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے زندگی کے تقریباً سبھی معاملات میں اسلامی شریعت کے مزاج اور اسلامی شان کو نظر انداز کردیاہے۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّنِ الْحُلْوَانِیُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، حَدَّثَنَا یَحْيَ بْنُ اَیُّوْبَ، حَدَّثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اُمَیَّۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا غَطْفَانَ بْنِ طَرِیْفِ نِ الْمُرِّیِّ، یَقُوْل: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، یَقُوْلُ: حِیْنَ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ وَاَمَرَ بِصِیَامِہٖ، قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّہٗ یَوْمٌ تُعَظِّمُہُ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَاِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ صُمْنَا الْیَوْمَ التَّاسِعَ قَالَ: فَلَمْ یَاْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺنے عاشوراء کا خود روزہ رکھا تو ساتھ ہی صحابہ کرامؓ کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو ایسا دن ہے کہ جس کی یہودی بھی تعظیم کرتے ہیں اور نصاریٰ بھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا آیندہ سال ان شاء اللہ ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ آیندہ سال کی آمد سے پہلے ہی آپ کی وفات ہوگئی۔
(۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَئِنْ لَقِیْتُ اِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ التَّاسِعَ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ اگر میں آیندہ سال تک زندہ رہاتو نویں محرم کا ضرور روزہ رکھوں گا۔
(۳) عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ :کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ تَعُدُّہُ الْیَھُوْدُ عِیْدًا قَالَ النَّبِیُّ ﷺَ: فَصُوْمُو اَنْتُمْ۔ (۱۴)
ترجمہ :حضرت ابوموسیٰ ؑاشعریؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ یہودی عاشوراء کے دن کو عید تصوّر کرتے تھے۔ نبیﷺ نے فرمایا تو پھر تم اس دن کا روزہ رکھا کرو۔
(۴) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ، قَالَ: اَمَرَ النَّبِیُّ ﷺَ رَجُلاً مِنْ اَسْلَمَ اَنْ اَذِّنْ فِی النَّاسِ اَنْ مَنْ کَانَ اَکَلَ فَلْیَصُمْ بَقِیَّۃَ یَوْمِہٖ، وَمَنْ لَمْ یَکُنْ اَکَلَ فَلْیَصُمْ فَاِنَّ الْیَوْمَ یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت سلمہ بن اَکْوَع نے بیان کیا کہ نبیﷺنے اسلم قبیلہ کے کسی ایک شخص کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کردے کہ جس کسی نے کھانا کھالیا ہے اسے چاہیے کہ بقیہ دن کا روزہ رکھے۔ اور جس نے ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں ہے اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ یادرہے یہ عاشوراء کا دن تھا۔
(۵) اَنَّ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ تَصُوْمُہٗ قُرَیْشٌ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺیَصُوْمُہٗ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ صَامَہٗ، وَ اَمَرَ بِصِیَامِہٖ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، تُرِکَ یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ فَمَنْ شَآئَ صَامَہٗ، وَمَنْ شَآئَ تَرَکَہٗ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ یومِ عاشوراء کو دورِ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی اس دور میں اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپؐ نے مدینہ میں قدم رنجہ فرمایا تو خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا لیکن جب فرضیتِ رمضان کا حکم نازل ہوا تو عاشوراء کا روزہ متروک ہوگیا۔ اب جس کا جی چاہے روزہ رکھے جس کا جی نہ چاہے نہ رکھے اور اسے چھوڑدے۔
(۶) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّہٗ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ عَامَ حَجٍّ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ: یَا اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ اَیْنَ عُلَمَآئُ کُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ یَقُوْلُ: ھٰذَا یَوْمُ عَاشُوْرَآئَ، وَلَمْ یَکْتُبِ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہٗ وَاَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَآئَ، فَلْیَصُمْ وَمَنْ شَآئَ فَلْیُفْطِرْ۔(۱۷)
ترجمہ: حمید بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان کو حج کے سال منبر پر خطبہ کے دوران یوم عاشوراء کے بارے میں یہ بیان کرتے سنا کہ اے اہلِ مدینہ تمہارے اہلِ علم حضرات کہاں ہیں؟(کہ تمہیں بتاتے نہیں) حالانکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺسے سنا ہے آپ ؐ فرماتے تھے کہ یہ یوم عاشورہ اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض تو نہیں کیا کہ تم اس دن کا روزہ رکھو حالانکہ میں خود اس دن کا روزہ رکھتاہوں۔ اب جس کا جی چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جس کا جی نہ چاہے نہ رکھے۔
(۷)حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ وَاَبُوْ کُرَیْبٍ، قَالَ : نا وَکِیْعٌ عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الْاَعْرَجِ، قَالَ: انْتَھَیْتُ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَھُوَ مُتَوسِّدٌ رِدَآئَ ہٗ فِیْ زَمْزَمٍ فَقُلْتُ: اَخْبِرْنِیْ عَنْ یَوْمِ عَاشُوْرَآئَ اَیُّ یَوْمٍ اَصُوْمُہٗ؟ فَقَالَ: اِذَا رَأَیْتَ ھِلاَلَ الْمُحَرَّمِ، فَاعْدُدْ ثُمَّ اَصْبِحْ مِنْ یَوْمِ التَّاسِعِ صَائِمًا، قَالَ: قُلْتُ: اَھٰکَذَا کَانَ یَصُوْمُہٗ مُحَمَّدٌ ﷺ ؟ قَالَ: نَعَمْ۔(۱۸)
ترجمہ :حکم بن اعرج کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت زمزم کے پاس چادر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا مجھے آپ یومِ عاشوراء کے متعلق بتائیں کہ وہ کون سی تاریخ کا دن ہے کہ میں اس کا روزہ رکھوں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ماہِ محرم کا جب تجھے ہلال نظر آجائے تو دنوں کا شمار کرتے رہو تا آنکہ نویں تاریخ کی صبح ہوتو تمہیں روزہ سے ہونا چاہیے میں نے عرض کیا ،کیا محمد ﷺبھی اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ’’ہاں۔‘‘
ابن ِ عباسؓ سے مروی دوسری ایک روایت میں یوم العاشرہے:
(۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِصَوْمِ عَاشُوْرَآئَ یَوْمَ الْعَاشِرِ۔
قال ابوعیسیٰ: حدیث ابن عبَّاس حدیث حسن صحیح وقد اختلف اھل العلم فی یَوْمِ عاشورآء فقال بعضھم یوم التاسع وقال بعضھم یوم العاشر۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے دسویں محرم کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
ــــــامام ترمذی کہتے ہیںکہ ابنِ عباس کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اس کے باوجود اہلِ علم حضرات کے مابین یہ بات مختلف فیہ ہے کہ اس سے مراد دسویں محرم ہے یا نویں۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ اس سے نویں محرم مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ دسویں محرم کا دن ہے۔
عرفہ ۔۹ذِی الحجہ۔ کے روزے کا مسئلہ
۸۵۔ عَنْ اُمِّ الْفَضْلِ بِنْتُ الحارثِ اَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَھَا یَوْمَ عَرَفَۃَ فِیْ صِیَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَقَالَ بَعْضُھُمْ ھُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُھُمْ لَیْسَ بِصَائِمٍ، فَاَرْسَلَتْ اِلَیْہِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَھُوَ وَاقِفٌ عَلٰی بَعِیْرِہٖ بِعَرَفَۃَ فَشَرِبَہٗ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت اُمُّ الفضلؓ بنتِ حارث بیان کرتی ہیں کہ میرے ہاں عَرَفَہ کے روز لوگوں میں اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ آیا آج رسول اللہ ﷺروزے سے ہیں یا نہیں۔ ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ حضورؐ روزے سے ہیں اور بعض یہ کہتے تھے کہ آپ روزے سے نہیں ہیں۔ اس پر انہوں نے (حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لیے) حضورؐ کی خدمت میںدودھ کاایک پیالہ بھیجا۔ آپؐ اس وقت میدانِ عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ آپؐ نے(دودھ کا پیالہ لیا اور) دودھ نوش فرمالیا۔‘‘
تشریح: حضورؐ کے آخری حج (حجۃ الوداع) کے موقع پر عرفات کے میدان میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا آج رسول اللہﷺ روزے سے ہیں یا نہیں کیونکہ جب آپؐ مدینہ طیّبہ میں تھے تو عرفہ کے دن ( نویں ذی الحجہ) کا روزہ لازماً رکھا کرتے تھے۔ جب حضورؐ نے اونٹ کے اوپر ہی دودھ نوش فرمالیا تو سب کو معلوم ہوگیا کہ آج آپؐ روزے سے نہیں ہیں ــــ اسی سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ عَرفَہ کا روزہ باقی سب مقامات پر تو رکھاجائے گا لیکن جو لوگ حج انجام دے رہے ہوں ان کے لیے اس کا نہ رکھنا ہی درست ہے، کیونکہ عرفات کے میدان میں جو دوڑدھوپ کرنا پڑتی ہے اور بعض اوقات سخت گرمی کے عالم میں کھلے میدان میں رہنا پڑتاہے اس کے ساتھ اگر آدمی نے روزہ بھی رکھ لیا ہوتو اس سے سخت مشکل پیش آسکتی ہے۔ یہاں تک ہوسکتاہے کہ روزہ توڑنا پڑجائے۔ اسی بنا پر نبی ﷺنے عرفہ کا روزہ نہیں رکھا اور پھر اپنے عمل سے بھی سب پر یہ بات واضح فرمادی کہ آپؐ روزے سے نہیں ہیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنِیْ یَحْيٰ عَنْ مَالِکٍ، ثَنِیْ سَالِمٌ، ثَنِیْ عُمَیْرٌ مَوْلٰی اُمَّ الْفَضْلِ اَنَّ اُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْہُح وَحَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، ثَنَا مَالِکٌ عَنْ اَبِی النَّضْرِ مَوْلٰی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ، عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ اُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، اَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَھَا یَوْمَ عَرَفَۃَ فِیْ صَوْمِ النَّبِیِّ فَقَالَ بَعْضُھُمْ: ھُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: لَیْسَ بِصَائِمٍ فَاَرْسَلَتْ اُمُّ الْفَضْلِ اِلَیْہِ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَھُوَ وَاقِفٌ عَلٰی بَعِیْرِہٖ، فَشَرِبَہٗ۔(۲۰)
حضورؐ نے ذی الحجّہ کے عشرۂ اوّل کے پورے روزے کبھی نہیں رکھے
۸۶۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ صَائِمًا فِی الْعَشْرِ قَطُّ۔ (مسلم)
’’حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺنے ذی الحجّہ کے ابتدائی دس دنوں کے (پورے) روزے رکھے ہوں۔ ‘‘
تشریح: حضرت عائشہ ؓ نے یہ بات اس لیے بیان فرمائی کہ بعض دوسری احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہﷺ ذی الحجہ کے پہلے دنوں کے روزے رکھنے کا التزام فرمایا کرتے تھے اور آپؐنے اس کی ہدایت بھی فرمائی ہے۔ اس سے کوئی شخص یہ قیاس کرسکتاہے کہ حضورؐ کبھی کبھی یا ہمیشہ پہلے پورے ۹دن کے روزے ضرور رکھتے ہوں گے۔
حضرت عائشہؓ کے اس قول کے بارے میں بعض حضرات نے یہ خیال ظاہر کیاہے کہ ہوسکتاہے کہ حضرت عائشہؓ کے علم میں یہ بات نہ آئی ہوکہ آپ مسلسل نو دن روزے رکھتے رہے ہیں جب کہ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ہوسکتاہے کہ حضورؐ کا اپنا عمل چاہے یہ نہ ہوکہ آپ ان پورے دنوں کے روزے رکھنے کا التزام فرماتے ہوں لیکن جب آپؐنے ان دنوں میں روزہ رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے تو کسی کے لیے اس بات میں مضائقہ نہیں ہے کہ وہ مسلسل ان دنوں کے روزے رکھے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَاَبُوْ کُرَیْبٍ، وَاِسْحَاقُ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: مَارَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَائِمًا فِی الْعَشْرِ قَطُّ۔
ایک دوسری روایت جو انہی سے مروی ہے میں ارشاد ہے:
(۲) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَمْ یَصُمِ الْعَشْرَ۔(۲۱)
ترجمہ: نبی ﷺنے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے روزے نہیں رکھے۔
نفلی روزوں کا مسنون طریقہ
۸۷۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ : کَیْفَ تَصُوْمُ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ مِنْ قَوْلِہٖ، فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ غَضَبَہٗ قَالَ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلاَمِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللّٰہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِہٖ، فَجَعَلَ عُمَرُ یُرَدِّدُ ھٰذَا الْکَلاَمَ حَتّٰی سَکَنَ غَضَبُہٗ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ مَنْ یَصُوْمُ الدَّھْرَ کُلَّہٗ، قَالَ لاَصَامَ وَلاَ اَفْطَرَ اَوْ قَالَ لَمْ یَصُمْ وَلَمْ یُفْطِرْ، قَالَ: کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ یَوْمَیْنِ وَیُفْطِرُ یَوْمًا، قَالَ: وَیُطِیْقُ ذٰلِکَ اَحَدٌ؟ قَالَ:کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا، قَالَ: ذٰلِکَ صَوْمُ دَاوٗدَ، قَالَ کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمَیْنِ، قَالَ: ذٰلِکَ وَدِدْتُّ اَنِّیْ طُوِّقْتُ ذٰلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثَلاَثٌ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَمَضَانُ اِلٰی رَمَضَانَ فَھٰذَا صِیَامُ الدَّھْرِکُلِّہٖ، صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ اَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ وَالسَّنَۃَ الَّتِیْ بَعْدَہٗ، وَصِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَآئَ اَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوقتادہ انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضورؐ سے پوچھا کہ آپؐ کس طرح روزہ رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺکو اس کی بات پر غُصّہ آیا۔ جب حضرت عمرؓ نے حضورؐکی اس ناراضی اور غُصّے کو دیکھا تو یہ کہنا شروع کیا۔ ’’ہم اس بات پر راضی ہوگئے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہو، اسلام ہی ہمارا دین ہو اور محمد ﷺہی ہمارے نبی ہوں۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے، اور اس کے رسولؐ کے غضب سے‘‘ــــحضرت عمرؓ یہ بات بار بار کہتے چلے گئے یہاں تک کہ نبی ﷺسے غصّے کی کیفیت دور ہوگئی ــــ پھر حضرت عمرؓ نے (خود حضورؐسے) پوچھنا شروع کیا: ’’یا رسول اللہ وہ شخص کیسا ہے جو ہمیشہ روزہ رکھے؟‘‘ آپؐنے فرمایا: ’’نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے روزہ چھوڑا‘‘ــــ حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا۔’’وہ شخص کیسا ہے جو دودن مسلسل روزہ رکھے اور ایک دن چھوڑے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتاہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا۔’’وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا:’’ یہ حضرت داوٗدؑ کا روزہ (رکھنے کا طریقہ) ہے۔‘‘ ــــحضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا۔ وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دودن روزہ چھوڑدے؟‘‘ آپ ؐنے فرمایا: ’’میں چاہتاہوں کہ کاش مجھے اس کی طاقت حاصل ہو‘‘ ــــاس کے بعد رسول اللہ ﷺنے خود ارشاد فرمایا۔ ’’ہرمہینے میں تین دن کے روزے رکھنا اور پھر رمضان کے پورے مہینے کے روزے رکھنا صَوْمِ دَھْر(ہمیشہ روزے رکھنے) کے مترادف ہے‘‘ــــ پھرآپؐنے فرمایا: عَرفہ کے دن کا روزہ رکھنا ایسا (اجر رکھتا) ہے کہ میں اللہ سے توقع رکھتاہوں کہ وہ (اس کی برکت سے) ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو بخش دے گا، اور عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنا ایسا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے توقع رکھتاہوں کہ وہ اس سے ایک سال پہلے کے گناہوں کی بخشش فرمادے گا۔ ‘‘
تشریح :حضور ؐ کو اس شخص کی بات پر غصّہ اس لیے آیا کہ اُسے آپؐ سے پوچھنا یہ چاہیے تھا کہ حضورؐ میں روزہ کس طرح رکھوں، نہ یہ کہ آپؐ روزہ کیسے رکھتے ہیں۔ ہدایت اسے یہ لینی چاہیے تھی کہ اسے روزہ کس طرح رکھنا چاہیے نہ کہ وہ یہ معلوم کرے کہ حضورؐ کا طرزِ عمل کیا ہے۔ حضورؐ کے معمولات میں تو بہت سی عبادات ایسی تھیں جو صرف آپؐکی ذات کے لیے خاص تھیں۔ مزید برآں نفلی اعمال کی اصل روح تو یہ ہے کہ انہیں چھپاکر کیا جائے نہ یہ کہ اعلان کرکے کیا جائے۔ اس لیے ان کا ظاہر کرنا بھی ناپسندیدہ ہے اور ان کے متعلق دریافت کرنا بھی غلط ہے۔ اگر آپ کسی شخص سے یہ پوچھیں کہ آپ تہجُّد میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو وہ آپ کے سامنے یہ اقرار کرے کہ میں تہجُّدپڑھتاہوں اور پھر اس کی رکعتیں اور دوسری تفصیلات بھی بتائے۔ تہجُّد تو ہے ہی ایک ایسی نماز کہ آپ اسے لوگوں سے چھپا کر پڑھیں تاکہ آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان وہ ایک راز رہے اور دوسرا کوئی شخص اسے نہ جان سکے۔ جس طرح فرائض کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ علانیہ ادا کیے جاتے ہیں اسی طرح نوافل کی روح یہ ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ چھپاکر انجام دیا جائے۔
اب اس شخص کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺعام لوگوں میں اس بات کا اعلان کریں کہ آپ نفلی روزے کتنے اور کب کب رکھتے ہیں اور اس باب میں آپؐ کا اپنا خاص معمول کیا ہے۔ یہ چیز حضورؐ کو ناگوار گزری اور آپؐ نے اس پر غصے کا اظہار فرمایا تاکہ لوگ اس طرح سوالات کرکے لوگوں کے ان اعمال کی کرید نہ کریں جو وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان خلوص کی بنا پر چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔
جب حضرت عمرؓ نے وہ بات بار بار کہی جس کا ذکر حدیث میں آیاہے اور حضورؐ کا غصّہ جاتارہا تو اس کے بعد انہوں نے اب خود سوال کرنا شروع کیا۔ اس طرح گویا انہوں نے یہ بتایا کہ یہی بات پوچھنے کا صحیح انداز کیا ہونا چاہیے تھا۔
حضورؐ نے یہ جو فرمایا کہ ’’نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے روزہ چھوڑا‘‘ تواس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل روزہ رکھتا چلاجائے اور کوئی وقفہ نہ کرے تو یہ گویا اس کی عادت ہی بن گئی۔ اس کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جس نے دن میں صرف ایک وقت کھانا کھانے کی عادت ڈال لی ہو ــــ ظاہر بات ہے کہ اس طرح نفلی روزے رکھنے کے کوئی معنی باقی نہیں رہتے۔ اب تو اسے بھوک ہی اس وقت لگے گی جو اس نے اپنے کھانے کے لیے مقرر کرلیاہے۔ باقی اوقات میں تو وہ گویا روزے سے ہے ہی نہیں۔ اس لیے آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص ہمیشہ روزہ رکھتاہے تو گویانہ اس نے روزہ رکھا اور نہ کبھی افطار کیا۔
پھر فرمایا کہ ’’:کیا کوئی شخص یہ طاقت رکھتاہے کہ دودن روزہ رکھے اور ایک دن چھوڑے؟ مراد یہ ہے کہ آدمی کا مسلسل یہ طریقہ اختیار کرنا ایک بہت بڑی مشقت ہے جس سے عہدہ برآہونے پر شاید ہی کوئی قادر ہوسکتاہو۔
حضرت عمرؓ کے دریافت کرنے پر کہ وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن چھوڑے، آپؐ نے فرمایاکہ حضرت داؤد ؑ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ آپؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کرو یا نہ کرو۔ بس یہی فرمانے پر اکتفا کیا کہ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو وہ حضرت داؤد ؑ کے طریقے پر عمل کرے گا۔
جب حضرت عمرؓ نے یہ سوال کیا کہ وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن چھوڑدے، تو آپؐ نے اس طریقہ کو پسندیدہ تو قراردیا لیکن فرمایا کہ مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ میں اس پر ہمیشہ عمل کرسکوں ــــ مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اتنی طاقت رکھتا ہو تو وہ ایسا کرسکتاہے لیکن اگر اتنی طاقت نہ رکھتا ہو تو ایسا نہ کرے۔
ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضورؐ سے یہ سوال مدینہ طیّبہ ہی میں دریافت کیا تھا کیونکہ روزے ہجرت کے بعد فرض کیے گئے تھے۔ جب حضورؐ مدینہ طیّبہ پہنچے تھے تو آپؐ کی عمر مبارک تقریباً۵۳،۵۴ سال کی ہوچکی تھی اور رسالت کے فرائض انجام دینے میں آپؐ کو بہت زبردست محنت کرنی پڑتی تھی۔ اس کے ساتھ آپؐ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ آپؐ ہر تیسرے دن روزہ رکھنے کی مستقل عادت اختیار فرمالیں۔ اسی لیے آپؐ نے فرمایا کہ مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ میں ایسا کرسکوں۔ کاش مجھ میں یہ طاقت ہوتی۔
جب حضرت عمرؓ کے سوالات ختم ہوگئے تو اب خود حضورؐ نے نفلی روزوں کے متعلق ہدایات ارشاد فرمائیں: فرمایا کہ ہر مہینے کے تین روزے رکھنا اور پھر رمضان کے پورے مہینے کے روزے رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص ہمیشہ ہی روزہ رکھے۔
مراد یہ ہے کہ نفلی عبادات کے سلسلے میں لوگوں کو اتنی لمبی چوڑی مشقتیں اٹھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ انہیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں وہ فرائض بھی انجام دینے ہیں جو خلافتِ الٰہیہ کے سلسلہ میں ان پر عائد ہوتے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ انہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے اور دنیا کے دوسرے کام بھی انجام دینے ہیں۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے فرائض اور نوافل کے درمیان توازن اور اعتدال قائم رکھیں اور نوافل کے لیے اپنے آپ کو ایسی مشقّت میں نہ ڈالیں کہ اس کا اثر فرائض پر پڑے۔
ہر مہینے کے تین نفلی روزوں اور رمضان کے پورے مہینے کے روزوں کی فضیلت بیان کرنے کے بعد آپؐ نے فرمایاکہ مزید برآں اگر آدمی عَرَفہ کے دن کا روزہ بھی رکھے تو اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس سے ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور اگر عاشوراء کے دن کا روزہ رکھے تو وہ ایک سال قبل کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہعَرَفہ کا روزہ عاشوراء کے روزے سے زیادہ فضیلت رکھتاہے۔
یہاں کَفّارے کے متعلق کسی کو غلط فہمی نہ ہو کہ جب عرفہ کے دن کا روزہ آدمی کے ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا تو اب کھُلی چھوٹ ہے کہ وہ عرفہ کا روزہ رکھے اور ایک سال تک جو جی چاہے کرتارہے ــــ پچھلے سال کا حساب بھی صاف اور اگلے سال کے لیے بھی چھٹی مل گئی ـاس حدیث کا یہ مطلب لینا کس طرح درست ہوسکتاہے۔ ایسی حدیث کے مخاطب دراصل وہ لوگ نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کے بہانے تلاش کررہے ہوں بلکہ اُن کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کو رات دن یہ فکر رہتی تھی کہ ہم کون سا کام ایسا کریں جس سے ہمیں اپنے رب کی خوشنودی اور تقرب نصیب ہوجائے۔ چنانچہ اس طرح کی باتیں دراصل ان لوگوں کو شوق دلانے کے لیے فرمائی گئی ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ــــیہ روزے ان گناہوں کا کفارہ نہیں بنتے جو آدمی جان بوجھ کر بے خوفی اور ڈھٹائی کے ساتھ کرے، بلکہ یہ کفارہ ہیں ان خطاؤں اور اعمال کا جو آدمی سے بشری کمزوریوں کی بنا پر سرزد ہوجاتے ہیں درآنحالیکہ اس کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری پوری فرمانبرداری کرے ــــ پھر یہ کفارہ ہیں آدمی کی ایسی لغزشوں کا، جن سے توبہ کرنے کا اسے موقع نہیں ملا، اور پھر وہ انہیں بھول گیا یا کسی وجہ سے اس سے غفلت ہوگئی۔ اب چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنیادی طورپر ایک فرمانبردار بندہ ہے اس لیے اس کے نیک اعمال اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ یہ سراسر اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کیونکہ وہ مغفرت کرنا چاہتاہے غلطیوں اور خطاؤں پر پکڑنا نہیں چاہتا۔ وہ رحیم ہے اس لیے چاہتاہے کہ کوئی کام بندے سے ایسا ہوجائے جس کی وجہ سے وہ اسے بخش دے۔ چنانچہ ایک بندۂ مومن کی نفل عبادات (خواہ وہ نفلی نمازیں ہوں یا نفلی روزے یا نفلی صدقات) سب کی سب اس کی لغزشوں اور خطاؤں کا کفارہ اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا یَحْيَ بنُ یَحْيٰ التَّمِیْمِیُّ وَقُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ جَمِیْعًا، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ یَحْيٰ: اَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ غَیْلاَنَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِالزَّمَانِیِّ، عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ رَجُلٌ اَتَی النَّبِیَّ ﷺَ، فَقَالَ : کَیْفَ تَصُوْمُ؟ فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ مِنْ قَوْلِہٖ، فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ غَضَبَہٗ، قَالَ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلاَمِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللّٰہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِہٖ، فَجَعَلَ عُمَرُ یُرَدِّدُ ھٰذَا الْکَلاَمَ حَتّٰی سَکَنَ غَضَبُہٗ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ بِمَنْ یَصُوْمُ الدَّھْرَ کُلَّہٗ؟ قَالَ لاَصَامَ وَلاَ اَفْطَرَ اَوْ قَالَ: لَمْ یَصُمْ وَلَمْ یُفْطِرْ، قَالَ: کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ یَوْمَیْنِ وَیُفْطِرُ یَوْمًا؟ قَالَ: وَیُطِیْقُ ذٰلِکَ اَحَدٌ، قَالَ:کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا؟ قَالَ: ذٰلِکَ : ذَاکَ صَوْمُ دَاوٗدَ، قَالَ: کَیْفَ مَنْ یَّصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمَیْنِ؟ قَالَ: وَدِدْتُّ اَنِّیْ طُوِّقْتُ ذٰلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ثَلاَثٌ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَمَضَانَ اِلٰی رَمَضَانَ فَھٰذَا صِیَامُ الدَّھْرِکُلِّہٖ صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ اَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ وَالسَّنَۃَ الَّتِیْ بَعْدَہٗ وَصِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَآئَ اَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ۔(۲۲)
ترجمہ : حضرت ابوقتادہ انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضورؐ سے پوچھا کہ آپؐ کس طرح روزہ رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺکو اس کی بات پر غصّہ آیا۔ جب حضرت عمرؓ نے حضورؐ کی اس ناراضی اور غصے کو دیکھا تو یہ کہنا شروع کیا۔ ہم اس بات پر راضی ہوگئے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہو، اسلام ہی ہمارا دین ہو اور محمد ﷺہی ہمارے نبی ہوں۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے، اور اس کے رسول کے غضب سے‘‘ــــ حضرت عمرؓ یہ بات بار بار کہتے چلے گئے یہاں تک کہ نبی ﷺسے غُصّے کی کیفیت دور ہوگئیــــ پھر حضرت عمرؓ نے (خود حضورؐ سے ) پوچھنا شروع کیا: یا رسول اللہ وہ شخص کیسا ہے جو ہمیشہ روزہ رکھے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے روزہ چھوڑا‘‘ــــ حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا’’وہ شخص کیسا ہے جو دودن مسلسل روزہ رکھے اور ایک دن چھوڑے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتاہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا۔’’وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے؟‘‘ حضورؐنے ارشاد فرمایا : یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ (رکھنے کا طریقہ) ہے‘‘ــــ حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا ’’وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دودن روزہ چھوڑدے؟ آپؐ نے فرمایا:’’میں چاہتاہوں کہ کاش مجھے اس کی طاقت حاصل ہو‘‘ــــ اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے خود ارشاد فرمایا: ہرمہینے میں تین دن کے روزے رکھنا اور پھر رمضان کے پورے مہینے کے روزے رکھناصَوْمِ دَھْر(یعنی ہمیشہ روزے رکھنے) کے مترادف ہے‘‘ــ پھرآپؐنے فرمایا:عَرَفہ کے دن کا روزہ رکھنا ایسا (اجر رکھتا)ہے کہ میں اللہ سے توقع رکھتاہوں کہ وہ (اس کی برکت سے) اس سے ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو بخش دے گا، اور عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنا ایسا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے توقع رکھتاہوں کہ وہ اس سے ایک سال پہلے کے گناہوں کی بخشش فرمادے گا۔
پیر کے روزے کی فضیلت
۸۸۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ عَنْ صَوْمِ الْاِثْنَیْنِ، فَقَالَ فِیْہِ وُلِدْتُّ وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوقتادہ انصاری ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے پیر کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا ۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہوا۔ ‘‘
تشریح :آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اس دن کا روزہ رکھو یا نہ رکھو بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اس دن کی فضیلت یہ ہے کہ یہ میرا یوم پیدایش بھی ہے اور نزولِ قرآن کے آغاز کا دن بھی ہے ــــ چنانچہ اگر کوئی شخص اس دن کا روزہ رکھے تو اس کے لیے اچھا ہے کیونکہ اس میں یہ فضیلت پائی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص ایسا نہ کرے تو اس پر کوئی گرفت بھی نہیں ہے۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، حَدَّثَنَا مَھْدِیُّ بْنُ مَیْمُوْنِ، عَنْ غَیْلاَنَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِ نِالزِّمَّانِیِّ، عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الْاِثْنَیْنِ، فَقَالَ: فِیْہِ وُلِدْتُّ، وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ۔(۲۳)
ہرمہینے میں تین نفلی روزے رکھنا حضورؐ کی سنّت ہے
۸۹۔ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ اَنَّھَا سَاَلَتْ عَائِشَۃَ، اَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ، قَالَتْ نَعَمْ، فَقُلْتُ لَھَا مِنْ اَیِّ اَیَّامِ الشَّھْرِکَانَ یَصُوْمُ، قَالَتْ لَمْ یَکُنْ یُبَالِیْ مِنْ اَیِّ اَیَّامِ الشَّھْرِ یَصُوْمُ۔ (مسلم)
’’حضرت معاذۂ عدویہؒ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا رسول اللہﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے پھر عرض کیا، حضور ﷺمہینے کے کون سے تین دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: حضورؐ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ مہینے میں کون سے تین دنوں میں روزہ رکھیں۔ ‘‘
تشریح : مراد یہ ہے کہ حضورؐ نے نفلی روزوں کے لیے کوئی خاص تاریخیں اور دن مقرر نہیں کررکھے تھے۔ آپ جس چیز کا التزام فرماتے تھے وہ یہ تھی کہ کوئی مہینہ ایسا نہ جائے جس میں آپؐ نے تین دن کے نفلی روزے نہ رکھے ہوں۔
تخریج : حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ عَنْ یَزِیْدَ الرِّشْکِ، قَالَ:حَدَّثَتْنِیْ مُعَاذَۃُ الْعَدَوِیَّۃُ، اَنَّھَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ : اَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ؟ قَالَتْ : نَعَمْ، فَقُلْتُ لَھَا مِنْ اَیِّ اَیَّامِ الشَّھْرِکَانَ یَصُوْمُ؟ قَالَتْ : لَمْ یَکُنْ یُبَالِیْ مِنْ اَیِّ اَیَّامِ الشَّھْرِ یَصُوْمُ۔(۲۴)
ترجمہ : حضرت مُعاذۂ عدویہّ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے پھر عرض کیا، حضور ﷺمہینے کے کون سے تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: حضورؐ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ مہینے میں کون سے تین دنوں میں روزہ رکھیں۔
رمضان کے ساتھ شوال کے چھ نفلی روزے رکھنے والا صائم الدہرہے
۹۰۔عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّہٗ حَدَّثَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَہٗ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے پورے روزے رکھے اور پھر ان کے بعد شوال کے چھ دن کے روزے رکھے تو وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے ہمیشہ کے روزے رکھے۔‘‘
تشریح: اس سے پہلے ایک حدیث گزرچکی ہے جس میں فرمایا گیاہے کہ اگر آدمی ہرمہینے میں تین دن کے روزے رکھے اور پھر رمضان کے پورے روزے بھی رکھے تو وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ یہاں فرمایا گیاہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ دن کے مزید روزے رکھ لے تو یہ بھی ایسا ہے کہ جیسے اس نے ہمیشہ روزہ رکھا ــــان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہ سمجھنا چاہیے۔ درحقیقت اپنی اپنی جگہ دونوں کی یہی حیثیت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اگر کوئی شخص پہلی چیز پر عمل کرے گا تو اسے بھی ہمیشہ روزہ رکھنے کا اجر ملے گا اور اگر دوسری چیز پر عمل کرے گا تو اس کا بھی یہی اجر ہوگا۔
تخریج : حَدَّثَنَا یحَيَ بْنُ اَیُّوْبَ، وَقُتَیْبَۃُ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِیْعًا، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ ابْنُ اَیُّوْبَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، اَخْبَرَنِیْ، سَعْدُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِیِّ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، اَنَّہٗ حَدَّثَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَہٗ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ۔(۲۵)
عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن کوئی روزہ نہیں
۹۱۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالخُدْرِیِّ، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمادیاتھا۔‘‘
ــــ وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَصَوْمَ فِیْ یَوْمَیْنِ، الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن کوئی روزہ نہیں ہے۔ ‘‘
تشریح :یہاں پھر اسلام کی شانِ اعتدال دیکھیے۔ اگرچہ روزہ بھی اسی طرح ایک عبادت ہے جس طرح کہ نماز ایک عبادت ہے لیکن اسلام کا مزاج یہ ہے کہ نامناسب اوقات و مواقع پر عبادت انجام دینا نیکی شمار ہونے کے بجائے گناہ بن جاتاہے۔ عیدالفطر وہ دن ہے کہ جس میں تیس دن کے روزوں کے بعد اللہ تعالیٰ آپؐ سے یہ چاہتاہے کہ آپ ایک زائد عبادت کے ذریعے سے اس کا شکر بھی ادا کریں اور اس کے شکرانے کے طورپر آزادی کے ساتھ کھائیں پئیں بھی۔ اب جس دن اللہ تعالیٰ اس بات سے خوش ہوتاہے کہ آپ آزادی کے ساتھ کھائیں پئیں اور دنیوی آسایشوں اور لذتوں سے شاد کام ہوں۔ اس روز بھی اگر آپ بزعمِ خود زُہدو پارسائی اختیار کرکے روزہ رکھ لیتے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ یہ چیز سراسر اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہوگی۔ جس وقت اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ آپ آرام وآسایش حاصل کریں اس وقت آپ کا فرض ہے کہ آپ آرام وآسایش حاصل کریں اور جس وقت وہ چاہتاہے کہ آپ مشقت اٹھائیںتو اس وقت آپ کا یہ کام ہے کہ مشقت اٹھائیں۔ اگر آپ مشقت کے وقت بھی مشقت اٹھائیں اور آرام وآسایش کے وقت بھی مشقت اٹھائیں تو اس طرح گویا آپ اپنے رب سے یہ کہتے ہیں کہ نہیں جناب ہمیں آپ کی کسی رعایت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تو اس سے بے نیاز ہیں ــــاسی چیز کا سدِّ باب کرنے کے لیے نبی کریم ﷺنے عیدین کے دن روزہ رکھنے سے سختی سے منع فرمادیا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا وُھَیْبٌ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْيٰ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَعَنِ الصَّمَّآئِ ۱؎ وَاَنْ یَحْتَبِیَ الرَّجُلُ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَعَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالَعَصْرِ۔(۲۶)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمادیاتھا۔ نیز آپؐ نے ایک ہی کپڑے میں پورا جسم لپیٹنے اور صلاۃِ فجر اور صلاۃِ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے بھی منع فرمادیا تھا۔
(۲) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْھَالٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، ثَنَا عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَزَعَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ وَکَانَ غَزَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً قَالَ: سَمِعْتُ اَرْبَعًا مِنَ النَّبِیِّ ﷺ فَاَعْجَبَتْنِیْ قَالَ: لاَتُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ مَسِیْرَۃَ یَوْمَیْنِ اِلاَّ وَمَعَھَا زَوْجُھَا اَوْ ذُوْمَحْرَمٍ وَلاَ صَوْمَ فِیْ یَوْمَیْنِ الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی وَلاَ صَلٰوۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلاَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ، وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلاَّ اِلٰی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ، اَلْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی وَمَسْجِدِیْ ھٰذَا۔(۲۷)
ترجمہ :قَزَعَہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خُدریؓ کو جو نبی ﷺکے ساتھ بارہ غزوات میں شریک رہے یہ بیان کرتے سناہے کہ میں نے نبی ﷺکو چار ارشادات فرماتے سناہے جو میرے لیے پسندیدہ ہیں کہ کوئی عورت (مسلمان عورت) دوروز کی مسافت کا سفر بغیر اپنے کسی محرم رشتہ دار یا اپنے خاوند کی معیّت کے تنہا نہ کرے اور عیدالفطر اور عید الاضحی دونوں میں کوئی روزہ نہیں ہے۔ صبح صادق کے بعد فرض نماز کے علاوہ طلوعِ آفتاب تک اور کوئی نماز نہیں اور نہ نمازِ عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔ تین مساجد کے علاوہ دوسرے کسی مقام کے لیے ثواب کی نیت سے سفر کرنا درست نہیں۔ وہ تین مساجد مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصٰی ہیں۔
اس حدیث کا آخری حصہ یعنی وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلاَّ اِلٰی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ: اَلْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی وَمَسْجِدِیْ ھٰذَا۔ مختلف دوسرے مقامات پر بھی منقول ہے۔ (۲۸)
ایّام تشریق میں روزہ رکھنا درست نہیں
۹۲۔ عَنْ نُبَیْشَۃَ الْھُذَلِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِاللّٰہِ۔
(مسلم)
’’حضرت نُبَیْشہ ہُذلیؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایامِ تشریق کھانے پینے اور ذکر کرنے کے دن ہیں۔‘‘
تشریح : اَیَّام تَشْرِیْق سے مراد بقرعید کے بعد کے تین دِن ہیں، یعنی ذی الحجہ کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ ــــاس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ان دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں۔
تخریج(۱) :حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ھُشَیْمٌ، اَنَا خَالِدٌ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، عَنْ نُبَیْشَۃَ الْھُذَلِیِّ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺَ : اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔(۲۹)
(۲)حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ، حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، اَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ اَبِیْ مَلِیْحٍ، عَنْ نُبَیْشَۃَ الْھُذَلِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔(۳۰)
ترجمہ : نُبَیْشَہ ہُذلی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اَیّامِ تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔
ابوداؤد نے عقبہ بن عامر سے روایت بیان کی ہے:
(۳) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَوْمُ عَرَفَۃ وَیَوْمُ النَّحْرِ وَاَیَّامُ التَّشْرِیِق عِیْدُنَا اَھْلَ الْاِسْلاَمِ وَھِیَ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔(۳۱)
ترجمہ : حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یوم عَرفَہ اور یوم النحراور ایّامِ تشریق ہم اہلِ اسلام کے لیے عید ہے اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
قال ابوعیسٰی: حدیث عقبۃ بن عامر حدیث حسن صحیح۔ والعمل علی ھذا عند اھل العلم یکرھون صیام ایام التشریق الا ان قومًا مِن اصحاب النبی ﷺ وغیرھم رَخَّصُوا للمتمتع اذا لم یجد ھَدیًا ولم یَصُم فی العشر ان یّصُوم ایام التشریق۔
ــــامام ترمذی کہتے ہیں کہ اہلِ علم کے نزدیک ایامِ تشریق میں روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ مگر کچھ اصحابِ نبی ﷺاور دیگر اہلِ علم حضرات نے حج تمتّع کرنے والے کے لیے رخصت دی ہے جب کہ اسے ہدی نہ ملے۔ ایّام تشریق کے روزے اس عشرہ میں نہ رکھے۔
وبہ یقول مالک بن انس والشافعی واحمد واسحاق۔
ــــیہی قول امام مالکؒ بن انس اور امام شافعیؒ اور امام احمدؒ اور اسحق راہویہ کا ہے۔
ابن ماجہ نے ’’کتاب الصیام باب ماجاء فی النھی عن صیام ایام التشریق‘‘ کے ضمن میں حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَیَّامُ مِنًی، اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔ (۳۲)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ایامِ منٰی کھانے پینے کے دن ہیں۔
جمعہ کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرلینا جائز نہیں
۹۳۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَیَصُوْمُ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلاَّ اَنْ یَّصُوْمَ قَبْلَہٗ اَوْ یَصُوْمَ بَعْدَہٗ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے الا یہ کہ وہ اس سے ایک دن پہلے کا یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھے۔ ‘‘
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرلینا صحیح نہیں ہے ــــحضورؐکے اس ارشاد سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام کا مزاج کیاہے۔ اسلام یہ چاہتاہے کہ آدمی خود اپنا شارع نہ بنے ۔ شارع صرف اللہ اور اس کا رسول ہے۔ کسی کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی مقرر کردہ شریعت میں اپنی طرف سے قیاسات کرکے اضافہ کرنا شروع کردے۔ اس کا نتیجہ وہی کچھ ہوگا جو یہود ونصاریٰ کے ہاں ہوا کہ انہوں نے خدا کے دین میں تحریف کرکے اس کی شکل ہی بدل ڈالی ــــاللہ اور اس کے رسولؐ نے ایک خاص نماز کے لیے جمعہ کے دن کو ایک خاص فضیلت عطا کی ہے۔ اب اگر ایک آدمی یہ خیال کرکے کہ یہ دن فضیلت والا ہے اس لیے اس کو روزے کے لیے مخصوص کرلیتاہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے خدا کی شریعت میں اپنے طورپر ایک اضافہ کرلیا۔ ایک فضیلت تو اس دن کو ایک خاص غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور ایک فضیلت اب اس شخص نے اسے اپنے طورپر دے دی ــــ اگر یہ طریقہ رائج ہوجائے تو رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جس طرح رمضان کے روزوں کا التزام کیا جاتاہے اسی طرح جمعہ کے روزے کا التزام بھی شروع ہوجائے گا اور یہ چیز نئی شریعت بنانے کے مترادف ہوگی۔ اسی لیے حضورؐ نے جمعہ کے نفلی روزے کا التزام کرنے سے منع فرمادیا ــــ ہاں اس کی اجازت اس صورت میں دے دی جب کہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھاجائے۔
تخریج (۱): حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ، ثَنَا اَبِیْ، ثَنَا الْاَعْمَشُ، ثَنِی اَبُوْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: لاَیَصُوْمُ (یَصُوْمَنَّ)اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلاَّ یَوْمًا قَبْلَہٗ اَوْ بَعْدَہٗ۔(۳۳)
ابنِ ماجہ میں ہے:
(۲) نھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ اِلاَّ بِیَوْمٍ قَبْلَہٗ اَوْ یَوْمِ بَعْدَہٗ۔(۳۴)
دارمی میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے:
(۳) أَ نَھَی النَّبِیُّ ﷺ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَرَبِّ ھٰذَا الْبَیْتِ۔(۳۵)
ترجمہ : حضرت جابرؓ سے پوچھا گیا کہ آیا نبی ﷺنے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے؟ انہوں نے کہا اس گھر یعنی بیت اللہ کے رب کی قسم آپؐ نے خاص طورپر اس روز روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے۔
(۴)حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ، نَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَیَصُوْمُ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلاَّ اَنْ یَّصُوْمَ قَبْلَہٗ اَوْیَصُوْمَ بَعْدَہٗ۔
وفی الباب عن علی وجابر وجنادۃ الازدی وجویرۃ وانس وعبداللّٰہ بن عمرو۔
قال ابوعیسٰی: حدیث ابی ھریرۃؓ حدیث حسن صحیح۔ والعمل علی ھذا عند اھل العلم یکرھون ان یختص یوم الجمعۃ بصیام لایصوم قبلہ ولابعدہ وبہ یقول احمد واسحاق۔(۳۶)
جمعہ کی رات کو قیام کے لیے اور دن کو روزے کے لیے مخصوص کرلینا درست نہیں
۹۴۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : لاَتَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلاَتَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلاَّ اَنْ یَّکُوْنَ فِیْ یَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔ (مسلم)
’’حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جمعہ کی رات کو قیام (نفل عبادات اور تہجُّد وغیرہ) کے لیے مخصوص نہ کرلو بجز اس صورت کے کہ جمعہ کسی ایسی تاریخ کو پڑجائے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھا کرتا تھا۔ ‘‘
تشریح: اوپر اس سے متّصل ہی حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت گزری ہے کہ نبیﷺنے التزام کے ساتھ جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے۔ اب اس حدیث میں وہی بات زیادہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
اس سے شریعت کے مزاج کی نزاکت کا اندازہ ہوتاہے۔ شریعت میں اس معاملہ میں بہت زیادہ نزاکت پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پابندیاں انسان پر عائد کی ہیں ان میں کوئی شخص اپنی طرف سے اضافہ کرلے۔ اس سے پہلے دوسری قوموں کا جو حشر ہوا وہ اسی وجہ سے ہوا کہ لوگوں نے قیاس کرکرکے یا اپنے نفس کے ذاتی میلانات کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود وفرائض پر اپنی طرف سے مزید حدود وفرائض کا اضافہ کرلیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی شریعت کے ساتھ ایک نئی شریعت اور بن گئی اور اس شریعت نے لوگوں کو باندھنا اور جکڑنا شروع کیا۔ قرآن مجید نے سورہ اعراف میں اس چیز کو اِصْر اور اَغْلاَل سے تعبیر کیاہے۔ یعنی لوگوں نے اپنے ہاتھ سے طوق اور سلاسل بنائے اور اپنے گلے میں پہن کر انہیں اپنے اوپر کسنا شروع کردیا۔ آگے چل کر وہ شریعت اتنی بوجھل بن گئی کہ آخرِ کار لوگ اس کے بندھنوں سے نکل بھاگے اور انہوں نے خدا کی پوری شریعت ہی کو اتار کر پھینک دیا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ جب پابندیاں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو انسان آخر کارتنگ آجاتاہے۔ ظلم یہ ہے کہ بعض مذہبی پیشواؤں کی طرف سے بڑھائی ہوئی پابندیاں عام لوگوں کے سامنے اسی حیثیت سے پیش ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی شریعت کا حصّہ ہیں۔ چنانچہ جب لوگ ان سے تنگ آکر انہیں توڑتے ہیں تو وہ یہ تمیز کیے بغیر کہ انسانوں کی طرف سے بڑھائی ہوئی پابندیاں کون سی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ حدود کون سے ہیں، وہ سب کچھ توڑتاڑ کر پھینک دیتے ہیں اور بالکل آزاد ہوجاتے ہیں ــــ اسی بدبختی میں یہود ونصاریٰ مبتلاہوئے اور اسی خطرے میں دوسرے انبیاء ؑ کی اُمّتیں مبتلاہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامی میں یہ اصول مقرر کردیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے جو چیز فرض کی گئی ہے بس وہی فرض ہے اور کسی کو اس میں اضافہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جو کچھ واجب کیا گیاہے بس وہی واجب ہے، کوئی شخص اس پر اپنی طرف سے کسی قسم کا اضافہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ حرام وہی ہے جو خدا کی شریعت میں حرام کیا گیاہے، کسی شخص کویہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ اپنی طرف سے کچھ مزید چیزوں کو حرام کردے۔ اسی طرح مکروہ وہ چیز ہے جس کے متعلق اللہ اور اس کے رسولؐ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیاہے، کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنی طرف سے کچھ مزید مکروہات مقرر کردے۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کے حرام یا حلال ہونے کا دعویٰ کرتاہے تو اسے لازماً یہ بتانا پڑے گا کہ قرآن کی کس آیت اور کس حدیث کی رُو سے وہ یہ بات کہہ رہاہے۔ اگر وہ حدیث اور قرآن کا حوالہ نہیں دیتا اور کہتاہے کہ فلاں بزرگ نے اسے حلال یا حرام کہاتھا یا فلاں کتاب میں ایسا لکھا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اسے مانیں، جب تک کہ وہ دلیل لے کر نہ آئے اور یہ نہ بتائے کہ قرآن کی کس آیت یا کس حدیث سے یہ حلّت یا حرمت ثابت ہوتی ہے ــــ یہ ہے اس معاملے میں شریعت کا مزاج۔ اور یہ اس عظیم الشّان حکمت کی وجہ سے ہے کہ خدا کے بندوں کو کسی ایسی پابندی میںنہیں جکڑنا چاہیے جو خدا نے ان پر عائد نہیں کی ہے۔ اگرلوگوں کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ اپنی طرف سے بھی اس میں اضافہ کرسکتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا اور اس کا رسول ہی شارع نہیں کچھ دوسرے حضرات بھی شارع ہیں۔ لوگ محض خدا ہی کے بندے نہیں ہیں بلکہ کچھ دوسرے حضرات بھی ایسے ہیں جن کے وہ بندے ہیں اور انہیں بھی یہ حق ہے کہ وہ خدا کے بندوں پر اپنی طرف سے پابندیاںعائد کریں۔
یہاں یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل کا استنباط کرنے کی گنجایش بھی نہیں ہے جیسا کہ فقہاء کاطریقہ ہے، بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ ہروہ چیز جس کی دلیل قرآن اور حدیث سے پیش نہ کی جاسکتی ہو دین میں اضافے کے مترادف ہے اور اس لیے ایک ایسی گمراہی ہے جس سے ایک بندۂ خدا کو خود بھی بچنا چاہیے اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی اس میں مبتلا کرنے کی ذمہ داری اٹھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اب دیکھیے، رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے متعلق یہ کیوں فرمایا کہ جمعہ کی راتوں کو عبادت اور دن کو روزوں کے لیے مخصوص نہ کرلو اِلاَّ یہ کہ جمعہ کسی ایسی تاریخ کو آپڑے جس میں تم پہلے ہی روزہ رکھا کرتے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کا دن اس غرض کے لیے مقرر کیا ہے کہ لوگ اس میں ایک خاص نماز اجتماعی طورپر ادا کریں۔ دوسری نمازوں کے متعلق تو اس بات کی اجازت ہے کہ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں قریب کوئی مسجد نہیں ہے اور وہاں اذان کی آواز نہیں پہنچتی، یا آپ کسی جنگل میں ہیں تو آپ اپنی جگہ پر نماز ادا کرسکتے ہیں اور اگر دوچار آدمی آپ کے ساتھ ہیں تو آپ وہیں جماعت کرسکتے ہیں اور یہ لازم نہیں ہے کہ آپ مسجد ہی میں جائیں، لیکن جمعہ کی نماز ایسی ہے کہ یہ مسجد میں جماعت کے ساتھ ہی ادا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دن اسی لیے مقرر کیاہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان مسجد میں جمع ہوکر ایک خاص نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں اور امام کا خطبہ سنیں تاکہ ہفتے میں کم از کم ایک دن اللہ تعالیٰ کے احکام باقاعدگی کے ساتھ انہیں یاد دلائے جائیں۔ ا ب اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ چونکہ جمعہ کا دن فضیلت رکھتاہے اس لیے کیوں نہ وہ اس دن روزہ بھی رکھے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ شریعت نے جمعہ کو جو فضیلت ایک خاص وجہ سے دی تھی اور اس دن کے لیے جو عبادت لازم قراردی تھی اس نے اس میں ایک اور چیز کا اضافہ کرلیا۔ پھر صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ رات کے لیے بھی ایک عبادت کو لازم ٹھہرالیا۔ اب اگر اس کی گنجایش دے دی جاتی تو پہلے ایک آدمی یہ کام کرتا، پھر دوچار اور کرتے۔ یہاں تک کہ گروہِ کثیر اس کام کو کرنا شروع کردیتا۔ رفتہ رفتہ ایک دوصدی گزرنے کے بعد لوگوں کے لیے یہ لازم ہوجاتاکہ نہ صرف یہ کہ جمعہ کے دن جمعہ کی نماز ادا کریں بلکہ روزہ بھی رکھیں۔ اس طرح یہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا کہ کیا چیز اللہ نے فرض کی تھی اور کیا چیز لوگوں نے اپنی طرف سے اپنے اُوپر عائد کرلی۔ گویا ایک ایسی چیز شریعت کا جُز قرار پاجاتی جو درحقیقت اس کا جُز نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے رسولؐ نے واضح طورپر فرمادیا کہ جمعہ کے دن کو ان نفلی عبادات کے لیے مخصوص نہ کرلو۔ اگرچہ بجائے خود نہ روزہ رکھنا کوئی برائی ہے اور نہ راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت کرنا کوئی معیوب چیز ہے، بلکہ دونوں چیزیں عین پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ جمعہ کے ساتھ مخصوص کرکے ان کا التزام کرنے سے شریعت میں اضافے کا خطرہ تھا اس لیے حضورؐ نے وضاحت کے ساتھ اس سے منع فرمادیا۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ یعنی الْجُعْفِیُّ، عَنْ زَائدَۃَ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِیْریْنَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لاَتَخْتَصُّوا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِّنْ بَیْنِ اللَّیَالِیِّ، وَلاَتَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِّنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلاَّ اَنْ یَّکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔(۳۷)
خدا کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھنے کا غیر معمولی اجر
۹۵۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَامَ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بَعَّدَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابوسعید خُدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتاہے اللہ تعالیٰ اس کو ستّر سال کے فاصلے تک جہنّم کی آگ سے دور کردیتاہے۔‘‘
تشریح :اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک آدمی جہاد کے لیے نکلتاہے اور وہ اس جہاد کے لیے سفر کرتے ہوئے، یا کسی کیمپ میں قیام کی حالت میں روزہ بھی رکھتاہے تو اس کا یہ روزہ رکھنا خدا کی راہ میں روزہ رکھناہے۔ یا مثلاً ایک شخص حج یا عمرے کے لیے سفر کررہاہے اور اس سفر کے دوران میں روزے بھی رکھتاہے، تو اس کا یہ روزہ رکھنا خدا کی راہ میں روزہ رکھناہے اور اس کے لیے ایک عظیم اجر اور فائدے کا موجب ہے۔
فی سبیل اللّٰہ کا مطلب لِوَجْہِ اللّٰہ ِبھی ہوسکتاہے، یعنی خالصتًا اللہ کی رضا کی خاطر روزہ رکھنا۔ ان دونوں صورتوں میں رسول اللہ ﷺنے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنّم کی آگ سے ستّر سال کے فاصلے تک دور کردے گا۔ یہاں اس بات کا تعیّن نہیں کیا گیا کہ یہ ستّر سال کی مسافت کس رفتار سے ہے۔ آیا وہ اونٹ کی رفتار سے ہے یا انسان کے پیدل چلنے کی رفتار سے۔ کسی پرندے کے اُڑنے کی رفتار سے ہے یا کسی جیٹ ہوائی جہاز یا روشنی کی رفتار سے ــــاصل مدّعا درحقیقت یہ ہے کہ اس عمل سے انسان جہنّم کی آگ سے بہت دُور ہوجاتاہے، اتنی دُور کہ گویا ستّر سال کی مسافت درمیان میں حائل ہوجاتی ہے ، اور یہ صرف اتنے عمل کی بنا پر فرمایا گیا کہ اس نے اللہ کی راہ میں روزہ رکھا۔
جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا یعنی جہاد کے لیے جارہاہے اس کے متعلق یہ فرض کیا جائے گا کہ وہ ایسا آدمی نہیں ہے جو جان بوجھ کر گناہ کرنے والا ہو۔ اس سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے بجا طورپر وہ بہت بڑے اجر کا مستحق قرار پائے گا۔ قرآن وحدیث میں نیکو کار لوگوں کے لیے نفلی عبادات پر جن انعامات اوربھاری اجرو ثواب کی بشارت دی گئی ہے وہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو جان بوجھ کر گناہ کرنے والے ہوں۔ بلکہ ایسے لوگوں کے لیے ہے جن کی عام زندگیاں نیکوکاری اور صلاح وتقویٰ کا نمونہ ہوں ــــ یہاں فی سبیل اللہ کی قید خود بتارہی ہے کہ یہ اجر اس شخص کے لیے ہے جو نہ صرف یہ کہ فرائض ادا کرنے والا اور حرام سے بچنے والا ہے بلکہ وہ اپنی جان خدا کے راستے میں لڑانے کے لیے نکلاہے۔ اس کے ساتھ اگر وہ نفلی روزہ بھی رکھتاہے تو وہ یقینا اس بات کا مستحق ہے کہ جہنم کی آگ سے زیادہ سے زیادہ دور ہوجائے۔
اسی طرح اس اجر کا مستحق وہ شخص بھی ہوسکتاہے جو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے حج یا عمرے کا سفر اختیار کرتاہے اور اس دوران میں روزہ بھی رکھتاہے۔ جو لوگ حرام کھاتے ہوئے حج کے لیے نکلتے ہیں اور آکر بھی حرام کھاتے ہیں۔ یہ اَجر ان کے لیے نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ انہوں نے فی سبیل اللہ یہ سفر اختیار کیا اور نہ انہوں نے خود کو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق ٹھہرایا۔
تخریج(۱):حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ یَحْيَ بْنُ سَعِیْدٍ وَسُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحٍ، اَنَّھُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ ابْنَ اَبِیْ عَیَّاشٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺَ یَقُولُ: مَنْ صَامَ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بَعَّدَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔(۳۸)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ستّر سال کے فاصلے تک جہنّم کی آگ سے دور کردیتاہے۔
ابوسعید خدریؓ سے مروی ایک اور روایت:
(۲)عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَا مِنْ عَبْدٍ یَّصُوْمُ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلاَّ بَاعَدَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ الْیَوْمَ وَجْھَہٗ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔(۳۹)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خُدریؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کوئی بندہ ایسا نہیں کہ جو اللہ کی راہ میں روزہ رکھتاہے مگر اللہ تعالیٰ اس دن کے روزے کے بدلے اس کے چہرے کو ستر سال کے فاصلہ تک جہنم کی آگ سے دور کردیتاہے۔
ابنِ ماجہ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بیان کی ہے۔ترمذی نے ابوسعید خدریؓ کے علاوہ ابوہریرہؓ سے مروی ایک اور روایت بھی نقل کی ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : مَنْ صَامَ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زَحْزَحَہُ اللّٰہُ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا اَحَدُھُمَا یَقُوْلُ وَالْاٰخَرُ یَقُوْلُ اَرْبَعِیْنَ۔ (۴۰)
ھٰذا حدیث غریب من ھذا الوجہ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میںایک دن کا روزہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستّر سال کے فاصلہ تک جہنّم کی آگ سے دُور کردیتاہے۔ ان میں سے ایک نے سبعین خریفا اور دوسرے نے اربعین بیان کیاہے۔
نفلی عبادات میں اعتدال کی ضرورت
۹۶۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ: قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَا عَبْدَاللّٰہِ اَلَمْ اُخْبَرْاَنَّکَ تَصُوْمُ النَّھَارَ وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟ فَقُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ : فَلاَتَفْعَلْ، صُمْ وَاَفْطِرْ وقُمْ وَنَمْ، فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًا وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَاِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، لاَصَامَ مَنْ صَامَ الدَّھْرَ، صَوْمُ ثَلاَثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ صَوْمُ الدَّھْرِ کُلِّہٖ، صُمْ کُلَّ شَھْرٍ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ وَاقْرَئِ الْقُرْاٰنَ فِیْ کُلِّ شَھْرٍ۔ قُلْتُ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔ قَالَ صُمْ اَفْضَلَ الصَّوْمِ، صَوْمَ دَاوٗدَ، صِیَامُ یَوْمٍ وَاِفْطَارُ یَوْمٍ، وَاقْرَأْ فِیْ کُلِّ سَبْعِ لَیَالٍ مَرَّۃً وَلاَتَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (متفق علیہ)
ترجمہ : ’’حضرت عمروبن العاص ؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا میں نے یہ ٹھیک سناہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں یا رسول ؐاللہ! آپؐ نے فرمایا: اچّھا اب ایسا مت کیا کرو، روزہ رکھو بھی اور نہ بھی رکھو، اور راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہارے ہاں ملاقات کے لیے آنے والے کا بھی تم پر ایک حق ہے۔ جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے گویا کوئی روزہ نہیں رکھا ــــہرمہینے میں تین دن کے روزے رکھنا گویا صَوْمِ دَھْر(ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف) ہے۔ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھو اور قرآن مہینے میں ایک مرتبہ پورا پڑھ لیا کرو ــــ میںنے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اچھا پھر تم افضل ترین روزہ رکھو اور وہ حضرت داؤد ؑ کا روزہ ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا (یعنی روزہ نہ رکھنا) اور ہر سات راتوں میں ایک مرتبہ قرآن ختم کرلیا کرو اور اس پر اضافہ ہرگز نہ کرو۔‘‘
تشریح:’’آنکھوں کے حق‘‘ سے مرادیہ ہے کہ کبھی تم انہیں جاگتے ہوئے کھُلا رکھو اور کبھی انہیں سونے کے لیے بند رکھو۔ ایسا نہ ہوکہ تم دن بھر بھی جاگتے رہو اور پھر رات کو بھی آرام نہ کرو۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی جو عظیم الشان نعمت تمہیں عطا کی ہے تم اس کے ساتھ زیادتی اور ناقدری کا معاملہ کرنا چاہتے ہو۔ ‘‘
’’ملاقات کے لیے آنے والے کے حق‘‘ سے مرادیہ ہے کہ اگر تم رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے رہے اور پھر دن کو تم نے روزہ بھی رکھا تو ظاہر ہے کہ تمہارے اندر طبیعت کی وہ تازگی اور شیفتگی باقی نہیں رہ سکتی۔ جس سے کسی ملنے والے کا استقبال کیا جائے۔ ایسا ہوسکتاہے کہ مثلاً گرمی کا زمانہ ہے اور آپ روزے سے ہیں۔ اس حالت میں جو شخص بھی آپ سے ملنے کے لیے آتاہے آپ اس سے اس شیفتگی اور دل کی کشادگی سے پیش نہیں آسکتے جس سے دوسری حالت میں پیش آسکتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ آنے والے کو تو یہ معلوم ہونا ضروری نہیں کہ آپ روزے سے ہیں۔ اگر آپ نے بے دلی کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور روکھے پن سے اس سے گفتگو کی تو ہوسکتاہے کہ وہ اس کا بُرا مانے اور یہ محسوس کرے کہ یہ عجیب انسان ہے جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ چل کر ملنے کے لیے آنے والے سے کس اخلاق سے پیش آناچاہیے۔
نفلی روزہ رکھنے والوں کو خاص طورپر اس کا عملی تجربہ ہوا ہوگا کہ خصوصًا گرمی کے زمانے میں جب آدمی ایک لمبے روزے سے ہو اور کوئی شخص افطار کے قریب ملنے کے لیے آجائے تو بعض اوقات آدمی اس سے بڑے روکھے پن سے ملتاہے۔ اب چونکہ نفلی روزے میں آدمی خود تو یہ ظاہر نہیں کرتاکہ وہ روزے سے ہے اور آنے والے کو یہ اندازہ نہیں ہوتاکہ یہ شخص روزے سے ہے اس لیے اس سے بعض اوقات بڑی شکایت پیدا ہوتی ہے اور تعلقات میں کشیدگی تک واقع ہوجانے کا اندیشہ ہوتاہے ــــیہ رسول اللہ ﷺکی حکیمانہ نگاہ ہے کہ آپؐ نے یہ ساری چیزیں گناکربتادیں کہ اگر ہمیشہ روزہ رکھوگے اور راتوںکوکھڑے ہوکر نمازیں پڑھتے رہوگے اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑدوگے تو اس طرح اپنے جسم، اپنی آنکھوں، اپنی بیوی اوراپنے ملنے والوں سب کے ساتھ زیادتی کروگے اور ان میں سے کسی کا حق ٹھیک طرح سے ادا نہیں کرسکوگے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر آدمی پر ہروقت خشکی طاری رہے تو نہ عام لوگوں کے ساتھ ہی اس کے تعلّقات خوشگوار رہ سکتے ہیں اور نہ اپنے گھروالوں کے ساتھ ہی وہ صحیح سلوک کرسکتاہے۔ ہرشخص بجا طور پر دوسرے سے اچھے برتاؤ کی توقع رکھتاہے لیکن جب یہ توقع پوری نہیں ہوتی تو فطری طورپر اس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
پھر فرمایا’’ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے گویا کوئی روزہ نہیں رکھا۔‘‘ اس کی وجہ اس سے پہلے بھی بیان کی جاچکی ہے کہ اگر آدمی نے عادت ہی ایک وقت کھانا کھانے کی بنا لی ہوتو گویا یہ بات اس کے معمول میں داخل ہوگئی۔ اب اگر وہ روزہ رکھتابھی ہے تو اس کا روزہ کہاں ہوا۔ روزہ تو اس چیز کا نام ہے کہ آپ کسی وقت اپنے معمول کے خلاف اپنے نفس پر یہ بار ڈالیں کہ وہ کھانا پینا ترک کرے اور کچھ دوسری پابندیاں قبول کرے۔ لیکن اگر آپ کو عادت ایک ہی وقت کھانا کھانے کی پڑگئی ہے تو آپ کے لیے روزے کی اہمیت عملاً ختم ہوگئی۔ اب اس میں کوئی غیرمعمولی چیز کیا رہی۔ اسی لیے فرمایاکہ اس شخص کاکوئی روزہ نہیں جو ہمیشہ روزہ رکھے۔ پھر یہ ارشاد ان معنوں میں بھی ہے کہ اس طریقے سے روزہ رکھنے والے کے لیے روزے کا کوئی اجر نہیں ہے کیونکہ نیکی وہی شمار ہوگی جو شریعت کے مطابق ہو اور شریعت کی رُو سے یہ بات درست نہیں ہے کہ آدمی ہمیشہ روزہ رکھے۔
پھر فرمایا:’’ ہرمہینے کے تین دنوں کا روزہ رکھنا گویا صومِ دہر ہے‘‘ یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔ مراد یہ ہے کہ ہمیشہ روزہ رکھنے سے تم جس بڑے سے بڑے ثواب کی اُمیّد کرسکتے ہو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب تمہیں ہر مہینے کے تین دن کے روزے رکھنے پر بھی دے گا۔
یہ جو فرمایا کہ’’ ہرمہینے میں ایک مرتبہ قرآن پڑھ لیا کرو‘‘ تو اس سے مراد تہجُّد کی نماز میں قرآن پڑھناہے۔ اس غرض کے لیے روزانہ تہجُّد میں ایک پارہ پڑھ لینا کافی ہے۔
جب نبی ﷺکے ان ارشادات کے جواب میں حضرت عبداللہ ؓ نے یہ عرض کیا کہ میںاس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں تو حضورؐ نے فرمایا کہ’’ اچھا پھر اَفْضَلُ الصَّوْم رکھ لیا کرو اور وہ صومِ داؤد ہے۔ ‘‘اس کی تشریح یہ فرمائی کہ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔ یعنی اگر تم ہرماہ تین دن سے زیادہ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہو تو پھر داؤد ؑ کے طریقے پر عمل کرسکتے ہو ــــ پھر فرمایا:ہرسات راتوں میں ایک مرتبہ قرآن ختم کرلیا کرو اور اس پر اضافہ ہرگز نہ کرو۔ یعنی زیادہ سے زیادہ تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ سات راتوں میں ایک دفعہ قرآن ختم کرلیا کرو لیکن اس پر اضافہ کرنے کی اجازت نہیں۔
اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ خدا کی شریعت اعتدال کو پسند کرتی ہے انتہا پسندی کو نہیں۔ شریعت یہ چاہتی ہے کہ آدمی تمام حقوق وفرائض میں توازن برقرار رکھے۔ سب کے حقوق ادا کرے جسم کا حق بھی ادا کرے اور انسانوں کے حقوق بھی ادا کرے۔ ایسا نہ ہوکہ آدمی کسی ایک حق کو ادا کرنے میں ایسا غیرمتوازن ہوجائے کہ باقی حقوق کو نقصان پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مختلف فرائض عائد کیے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس نے بس نماز اور روزہ ہی فرض کیاہو اور اس کا اجر بس انہی چیزوں کے ساتھ مخصوص ہو۔ آدمی کو اپنی روزی کمانے کے لیے بھی جِدّو جہد کرنی ہوتی ہے اور یہ بھی اس کا فرض ہے۔ اگر وہ ہمیشہ روزہ رکھے گا اور راتوں کو کھڑے ہوکر لمبی لمبی نمازیں پڑھے گا تو اس میں اتنی طاقت کہاں باقی رہے گی کہ وہ اپنی روزی بھی کمائے اور شریعت کے عائد کیے ہوئے دوسرے فرائض بھی ادا کرسکے۔ اس لیے عبادت میں بھی اعتدال ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی چیزہمیں سکھائی گئی ہے۔ حضورؐ نے ہمیں وظیفے بھی بتائے ہیں مگر کوئی وظیفہ ایسا نہیں ہے جو ہزار دانہ تسبیح سے رات بھرپڑھاجائے۔ آپؐ نے اگر زیادہ سے زیادہ تعداد میں کوئی وظیفہ بتایاہے تو ۳۳،۳۳ اور ۳۴ مرتبہ پڑھنا بتایاہے۔ خود وظائف بھی چھوٹے چھوٹے بتائے ہیں اور جو ذرا زیادہ لمبے ہیں ان کی تعداد اس سے بھی کم کردی ہے۔ اس طرح حضورؐ نے نفلی عبادات میں ایک خوشگوار اعتدال اور توازن کو ملحوظ رکھاہے۔ جن لوگوں نے بعد میں ان چیزوں میں اضافہ کیاہے درحقیقت انہوں نے خدا کی شریعت کے مزاج کو نظر انداز کرکے اعتدال کو چھوڑ کر راہبانہ انتہا پسندی اختیار کرلی ہے۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، اَنَا عَبْدُاللّٰہِ، اَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، ثَنَا یَحْيَ بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ، ثَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، ثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَا عَبْدَاللّٰہِ اَلَمْ اُخْبَرْاَنَّکَ تَصُوْمُ النَّھَارَ وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟ فَقُلْتُ بَلٰی، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَلاَتَفْعَلْ، صُمْ وَاَفْطِرْ وقُمْ وَنَمْ فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ بِحَسْبِکَ اَنْ تَصُوْمَ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ فَاِنَّ لَکَ بِکُلِّ حَسَنَۃٍ عَشْرَ اَمْثَالِھَا فَاِذَا ذٰلِکَ صِیَامُ الدَّھْرِکُلِّہٖ فَشَدَدْتُّ عَلَیْہِ فَشُدِّدَ عَلَیَّ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَجِدُ قُوَّۃً قَالَ فَصُمْ صِیَامَ نَبِیِّ اللّٰہِ دَاوٗدَوَلاَتَزِدْ عَلَیْہِ قُلْتُ وَمَا کَانَ صِیَامُ نَبِیِّ اللّٰہِ دَاؤدَ؟ قَالَ نِصْفَ الدَّھْرِ۔(۴۱)
قَالَ: فَکَان عَبْدُاللّٰہِ یَقُوْلُ بَعْدَ مَاکَبِرَ یٰلَیْتَنِیْ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ النَّبِیِّ ﷺ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا میں نے یہ ٹھیک سناہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ ۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا اب ایسا مت کیا کرو، روزہ رکھو بھی اور نہ بھی رکھو، اور راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو۔کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمہارے ہاں ملاقات کے لیے آنے والے کا بھی تم پر ایک حق ہے بس تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم مہینے میں تین روزے رکھو، تمہاری ایک نیکی کے بدلے تمہیں دس گنا اجرو ثواب دیا جائے گا۔ یہ مہینے میں تین دن کے روزے رکھنا گویا صیام الدہر ہے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے) پس میں نے اس پر مزید سختی کی تو مجھ پر سختی ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ !میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اچھا پھر تم اللہ کے نبی حضرت داؤد ؑ کا روزہ رکھو اور اس پر اضافہ مت کرو۔ میں نے پھر عرض کیا۔ اللہ کے نبی حضرت داؤدؑ کا روزہ کیاہے؟ فرمایا نصف الدھر۔
راوی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ بڑھاپے میں کہتے تھے کہ کاش میں نے نبی ﷺکی دی ہوئی رخصت کو قبول کرلیاہوتا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کی دوسری روایت:
(۲) قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ﷺ اِنَّکَ لَتَصُوْمُ الدَّھْرَ وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ، فَقَالَ : اِنَّکَ اِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ ھَجَمَتْ لَہُ الْعَیْنُ وَنَفَھَتْ لَہُ النَّفْسُ لاَصَامَ مَنْ صَامَ الدَّھْرَ صَوْمُ ثَلاَثَۃِ اَیَّامٍ صَوْمُ الدَّھْرِ کُلِّہٖ، قُلْتُ: فَاِنِّیْ اُطِیْقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ : فَصُمْ صَوْمَ دَاوٗدَ وَکَانَ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا وَلاَ یَفِرُّ اِذَا لاَقٰی۔(۴۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے مجھ سے پوچھا : تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول ؐاللہ! آپؐ نے فرمایا: جب تم اس پر کاربند رہوگے تو آنکھیں تمہاری اندر دھنس جائیں گی۔ جسم اس سے تھک جائے گا اور فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے گویاکوئی روزہ نہیں رکھا۔ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنا گویا صومِ دہر یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔ میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں۔ حضورؐ نے فرمایا: اچھا تو پھر تم داؤد ؑ کا روزہ رکھو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے(یعنی ایک دن روزہ چھوڑدیتے تھے) اور میدانِ جہاد میں دشمن سے سامنا ہوجا تا تو پھر راہِ فرار اختیار نہ کرتے تھے۔
مسلم میں مروی روایت :
(۳) قَالَ: کُنْتُ اَصُوْمُ الدَّھْرَ وَ أقْرَأُ الْقُرْاٰنَ کُلَّ لَیْلَۃٍ قَالَ فَاَمَّا ذُکِرْتُ لِلنَّبِیِّ ﷺ وَاَمَّا اُرْسِلَ اِلَیَّ فَاَتَیْتُہٗ فَقَالَ لِیْ اَلَمْ اُخْبَرْ اَنَّکَ تَصُوْمُ الدَّھْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ کُلَّ لَیْلَۃٍ؟ فَقُلْتُ بَلٰی یَانَبِیَّ اللّٰہِ وَلَمْ اُرِدْ بِذٰلِکَ اِلاَّ الْخَیْرَ قَالَ: فَاِنَّ بِحَسْبِکَ اَنْ تَصُوْمَ کُلَّ شَھْرٍ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ : فَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَلِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَلِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوٗدَ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ فَاِنَّہٗ کَانَ اَعْبَدَالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ یَانَبِیَّ اللّٰہِ وَمَاصَوْمُ دَاوٗدَ؟ قَالَ :کَانَ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یومًا، قَالَ: وَاقْرَإِ الْقُرْاٰنَ فِی کُلِّ شَھْرٍ قَالَ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ فَاقْرَأْہُ فِیْ کُلِّ عِشْرِیْنَ قَالَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ: فَاقْرَأْہُ فِیْ کُلِّ عَشْرٍ قَالَ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ : فَاقْرَأْ ہُ فِیْ سَبْعٍ وَلاَتَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ۔ فَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا وَلِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ولِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا قَالَ: فَشَدَدْتُّ فَشُدِّدَ عَلَیَّ۔ قَالَ: وَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِنَّکَ لاَتَدْرِیْ لَعَلَّکَ یَطُوْلُ بِکَ عُمَرُ قَالَ : فَصِرْتُ اِلَی الَّذِیْ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَمَا کَبِرْتُ وَدِدْتُ اَنِّیْ کُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ۔(۴۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پختہ عزم کرلیا اس بات کا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور ہررات کو پورا قرآن پاک تہجد میں پڑھا کروں گا۔ کہتے ہیں کہ میرے اس عندیے کا نبی ﷺکی خدمت میں تذکرہ کیا گیا یا آپؐ نے خود مجھے کسی کے ذریعہ طلب فرمایا۔ بہر حال میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے یہ ٹھیک سناہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھا کروگے اور ہررات ایک قرآن ختم کیا کروگے؟ میں نے عرض کیا اے خدا کے نبیﷺ! ہاں میں نے یہ کہاہے مگر اس سے میری مراد تو بھلائی اور خیر کی طلب ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: تیرے لیے بس یہ کافی ہے کہ تو ہر مہینے تین روزے رکھ لیا کرے۔ میں نے عرض کیا یا نبی اللہ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں۔ آپؐ نے فرمایا تجھ پر تیری بیوی کا ایک حق ہے اور تجھ پر تیرے پاس ملاقات کے لیے آنے والے کا بھی ایک حق ہے اور تجھ پر تیرے جسم کا بھی ایک حق ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے نبی داوٗدؑ کا روزہ رکھ لیا کرو۔ وہ سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار بندے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ اے خدا کے نبیؐ! حضرت داؤد ؑ کس طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: وہ ایک روز روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے تھے۔ ساتھ ہی آپؐ نے فرمایا: مہینے میں ایک دفعہ قرآن ختم کیاکرو۔ میں نے عرض کیا یا نبی اللہ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں، تو فرمایا: اچھا بیس روز میں ایک مرتبہ قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے پھر عرض کیا یا نبی اللہ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں۔ فرمایا تو پھر دس دن میں۔ میں نے پھر عرض کیا اس سے بھی زیاد ہ کی طاقت کی رکھتا ہوں ۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر سات دن میں ایک قرآن۔ اس میں اضافہ مت کرو۔ کیونکہ تجھ پر تیری بیوی کا ایک حق ہے اور تجھ پر تیرے ملاقاتیوں کا بھی ایک حق ہے اور تجھ پر تیرے جسم کا بھی ایک حق ہے مگر میں نے اپنے آپ پر سختی کی تو مجھ پر سختی مسلّط ہوگئی۔ خود بیان کیا کہ نبیﷺنے فرمایا تھا کہ تجھے معلوم نہیں کہ شاید تجھے لمبی عمر ملے اور تو اسے نباہ نہ سکے۔ عبداللہ بن عمرو خود کہتے ہیں کہ میں نبیﷺکے ارشاد کی جانب جارہاہوں اور عمر رسیدہ ہوگیا ہوں۔ اب میری خواہش ہے کہ کاش میں نے آپؐ کی عطا کردہ رخصت کو مان لیاہوتا۔
(۴) اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ:اُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ اَنِّیْ اَقُوْلُ وَاللّٰہِ لَاَصُوْمَنَّ النَّھَارَ وَلَاَقُوْمَنَّ اللَّیْلَ مَاعِشْتُ فَقُلْتُ لَہٗ قَدْ قُلْتُہٗ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ، قَالَ: فَاِنَّکَ لاَتَسْتَطِیْعُ ذٰلِکَ فَصُمْ وَاَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ مِنَ الشَّھْرِ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ فَاِنَّ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا وَذٰلِکَ مِثْلُ صِیَامِ الدَّھْرِ، قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ فَصُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمَیْنِ، قُلْتُ: اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ : فَصُمْ یَومًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا وَذٰلِکَ صِیَامُ دَاوٗدَ وھُوَ اَفْضَلُ الصِّیَامِ، فَقُلْتُ:اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ۔(۴۴)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکو کسی طرح میری یہ بات پہنچ گئی کہ میں کہتا ہوں، خدا کی قسم ! میں دن میں ضرور روزہ رکھوں گا اور رات کو قیام بھی لازمًا کروں گا۔ یہ عمل میں زندگی بھر کرتارہوں گا۔ آپؐ کے دریافت فرمانے پر میں نے عرض کیا۔ میں نے یہ یقینا کہاہے۔ اے رسولِ پاک میرے ماں باپ آپؐ پر نثار ہوں۔ آپؐ نے فرمایا :تم اس پر عمل پیرا نہیں رہ سکوگے لہٰذا رکھو بھی اور چھوڑ بھی دیا کرو۔ قیام لیل بھی کرو اور سویا بھی کرو۔ بس مہینے میں تین روز کے روزے رکھ لیا کرو۔ نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔ مہینے میں یہ تین دن کے روزے صیام الدہر یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے کی طرح ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں توآپؐ نے فرمایا: اچھا تو پھر ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور دودن افطار کرلیا کرو۔ میں نے پھر عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کام کی طاقت رکھتاہوں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا تو پھر تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن چھوڑدو۔ یہ طریق حضرت داؤدؑ کا ہے اور روزے کے بارے میں افضل طریقہ ہے۔ میں نے پھر عرض کیا: میں تو اس سے زیادہ عمل کی طاقت رکھتاہوں۔ نبی ﷺنے فرمایا اس سے افضل اور بہتر طریقِ عمل اور کوئی نہیں ہے۔
شبِ براء ت سے متعلق ایک روایت کی علمی تحقیق
۹۷۔ ’’ایک دفعہ شعبان کی پندرہویں شب کو حضرت عائشہؓ نے آنحضرت ﷺکو بستر پر نہ پایا۔ اور وہ آپؐ کو تلاش کرنے کے لیے نکلیں۔ ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے بقیع کے قبرستان پہنچیں۔ وہاں آپ کو موجود پایا۔ وجہ دریافت کرنے پر آنحضرتؐ نے فرمایا کہ اس رات کو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف توجہ فرماتاہے اور قبیلۂ کلب کی بھیڑوں کے جس قدر بال ہیں اس قدر انسانوں کے گناہ معاف کرتاہے۔ ‘‘
تشریح : حدیث کے مشہور امام، ترمذی ؒ نے اس روایت کو ضعیف قراردیا ہے اور اپنی تحقیق یہ بیان کی ہے کہ اس کی سند صحیح طورپر حضرت عائشہؓ تک نہیں پہنچتی۔ بعض دوسری روایات ہیں، جو کم درجہ کی کتبِ حدیث میں ملتی ہیں، اس رات کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس میں قسمتوں کے فیصلے کیے جاتے ہیں اور پیدایش اور موت کے معاملات طے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب روایات ضعیف ہیں۔ ہرایک کی سند میں کوئی نہ کوئی کمزوری موجود ہے۔ اس لیے حدیث کی قدیم تر اور زیادہ معتبر کتابوں میں کہیں ان کا ذکر نہیں ملتا۔ تاہم اگر ا ن کی کوئی اصلیّت تسلیم بھی کرلی جائے تو حد سے حد بس اتنا ہی نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ اس رات میں عبادت کرنا اور خدا سے مغفرت کی دُعا کرنا ایک اچھا فعل ہے۔ جسے انفرادی طو رپر لوگ کریں تو ثواب پائیں گے۔ اس سے بڑھ کر کوئی ایسی چیز ان روایتوں سے ثابت نہیں ہوتی جس سے یہ سمجھا جائے کہ چودہویں کو یا پندرہویں شب کو اسلام میں عید قرار دیا گیاہے یا کوئی اجتماعی عبادت مقررکی گئی ہے۔
حدیث کی زیادہ معتبر کتابوں سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺپر رمضان کی آمد سے پہلے ہی شعبان کے مہینہ میں ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبری جیسے عظیم الشان منصب پر مامور کیا گیا اور قرآن جیسی لازوال کتاب کے نزول کا آغاز ہوا اس وجہ سے نہ صرف رمضان میںآپؐ غیرمعمولی طورپر عبادت فرمایا کرتے تھے بلکہ اس سے پہلے ہی آپؐ کی لو خدا سے لگ جاتی تھی۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت اُمِّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رمضان کے سوا سال کے باقی گیارہ مہینوں میں صرف شعبان ہی ایسا مہینہ تھا جس میںآپؐ سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے، بلکہ تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے گزرجاتاتھا۔۱؎ لیکن آپؐ کا یہ طرزِ عمل اپنی ذات کے لیے خاص تھا۔ اور اس گہرے روحانی تعلّق کی بنا پر تھا جو نزولِ قرآن کے مہینے سے آپؐ کوتھا۔ رہے عام مسلمان، تو اُن کوآپؐ نے ہدایت فرمادی تھی کہ ماہِ شعبان کے آخری پندرہ دنوں میں روزے نہ رکھا کریں، کیونکہ اس میں یہ اندیشہ تھا کہ اگر عادۃً لوگ اس مہینہ کے آخری دنوں میں روزہ رکھنے لگے، تو رفتہ رفتہ یہ ایک لازمی رسم بن جائے گی اور رمضان کے فرض روزوں پر خواہ مخواہ دس پندرہ مزید روزوں کا اضافہ ہوجائے گا، اور اس طرح لوگوں پر وہ بار پڑجائے گا جو خدا نے ان پر نہیں رکھاہے۔
اسلام میں خاص طورپر یہ بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ جو کچھ خدا نے اپنے بندوں کے لیے لازم کیاہے، اس کے سوا کوئی دوسری چیز بندے خود اپنے اوپر لازم نہ کرلیں۔ کوئی خود ساختہ رسم، کوئی مصنوعی قاعدہ ، کوئی اجتماعی عمل ایسا نہ ہو جس کی پابندی لوگوں کے لیے فرض کی طرح بن جائے۔ خدا زیادہ بہتر جانتاہے کہ اس کے بندوں کی بھلائی کن چیزوں کی پابندی میں ہے اور کس چیز کی کتنی پابندی میں ہے۔ اس کی قائم کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرکے اگر بندے بطورِ خود کچھ رسمیں مقرر کرلیں گے اور فرض کی طرح ان کی پابندی کریں گے تو اپنی زندگی کو آپ تنگ کرلیں گے۔ پچھلی قوموں نے یہی غلطی کی تھی کہ نئی نئی رسمیں ایجاد کرکے اپنے اوپر فرائض اور واجبات کے ردّے چڑھاتی چلی گئیں اور رفتہ رفتہ رسمیات کا ایک ایسا تانا بانا اپنے گرد بُن ڈالا جس کے جال نے آخر کار ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ کر رکھ دیے۔ قرآن ان رسموں کو زنجیروں سے تشبیہ دیتاہے اور حضرت محمد ﷺکے مشن کا ایک بڑا کام یہ بتاتاہے کہ ان زنجیروں کو کاٹ پھینکیں جن میں انسان نے اپنے آپ کو خود کس رکھاہے یہی وجہ ہے کہ شریعتِ محمدی میں فرائض کا ایک نہایت ہلکا اور سادہ ضابطہ تجویز کرکے باقی تمام رسموں کا خاتمہ کردیا گیا۔ عید اور بقرعید کے سوا کوئی تہوار نہ رکھا گیا۔ حج کے سوا کوئی جاترانہ رکھی گئی، زکوٰۃ کے سِوا کوئی نذرو نیاز یا دان پُن کو فرض نہ کیا گیا۔ اور ہمیشہ کے لیے یہ اصول طے کردیا گیا کہ انسان کو جس طرح خدائی فرض میں کوئی چیز کم کرنے کا حق نہیں ہے، اسی طرح کوئی چیز بڑھانے کا بھی حق نہیں ہے۔ (شب براء ت)
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، نَا الْحَجَّاجُ ابْنُ اَرْطَاۃَ، عَنْ یَحْيَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: فَقَدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃً، فَخَرَجْتُ، فَاِذَا ھُوَ بِالْبَقِیْعِ۔ فَقَالَ اَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ وَرَسُوْلُہٗ؟ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَآئِکَ، فَقَالَ : اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَآئِ الدُّنْیَا، فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ۔(۴۵)
وفی الباب عن ابی بکر الصدیق۔
قال ابوعیسٰی: حدیث عائشۃ لانعرفہ الا من ھذا الوجہ من حدیث الحجاج وسمعت محمدا یقول یضعف ھذا الحدیث۔ وقال یحي بن ابی کثیر لم یسمع من عروۃ وقال محمد والحجاج لم یسمع من یحي بن ابی کثیر۔
پیر اور جمعرات کے نفلی روزوں کی فضیلت
۹۸۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَصُوْمُ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (ترمذی، نسائی)
’’حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺپیر اور جمعرات کے دن نفلی روزہ رکھا کرتے تھے۔‘‘
تشریح: آگے ایسی حدیثیں آرہی ہیں جن میں نفلی روزوں کے متعلق رسول اللہ ﷺکے مختلف طرزِ عمل منقول ہوئے ہیں، اس لیے اس سلسلہ میں ایک بات ابتد ا میں سمجھ لینی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ کا دَور گزرجانے کے بعد جب لوگوں نے مختلف صحابہؓ سے حضورؐ کے معمولات کے بارے میں پوچھا تو جس صحابی کے علم میں جو چیز تھی اس نے وہ بیان کردی۔ اس لیے اگر آپ کو ان احادیث میں کہیں اختلاف نظر آئے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ ان میں کوئی تضاد پایا جاتاہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نفلی روزوں کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی ایک ہی لگا بندھا معمول نہیں تھا ۔کبھی آپؐ کسی طرح عمل کرتے تھے اور کبھی کسی طرح۔ کیونکہ نوافل کے معاملے میں آزادی ہے۔ فرض میں تو یہ ہوتاہے کہ جو چیزمقرر کردی گئی وہی مقرر ہے لیکن نوافل میں یہ پابندی نہیں ہوتی۔ نوافل کے معاملے میں مختلف زمانوں میں اور مختلف اوقات میں رسول اللہ ﷺ کا عمل مختلف رہا، چنانچہ جن لوگوں کے علم میں حضورؐ کا جو معمول تھا انہوں نے وہی بیان کیا۔
یہاں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نفلی روزہ پیر اور جمعرات کے دن رکھا کرتے تھے ــــ پیر کے دن کے متعلق پہلے ایک حدیث میں حضورؐ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ میں پیر کے روز پیدا ہواہوں اور پیر ہی کے روز مجھ پر سب سے پہلے وحی نازل ہوئی۔ اس لیے پیر کے دن کی یہ فضیلت ہے ــــ جمعرات کی فضیلت آگے آرہی ہے۔
تخریج(۱) : اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ حَبِیْبِ بْنِ الشَّھِیْدِ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْيَ بْنُ یَمَانٍ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَائٍ الخُزَاعِیِّ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَصُوْمُ الْاِثْنَیْنِ وَالَخَمِیْسَ۔(۴۶)
ترمذی اور نسائی دونوں نے حضرت عائشہؓ سے یہ روایت بھی بیان کی ہے:
(۲) قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَتَحَرّٰی صَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالَخَمِیْسَ۔(۴۷)
قال اَبُوعیسٰی حدیث عائشۃ حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ۔
ابوداؤد کتاب الصوم میں ہے:
(۳) فَکَانَ یَصُوْمُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الَخَمِیْسِ۔
پیر اور جمعرات کے دنوں کی فضیلت
۹۹۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ فَاُحِبُّ اَنْ یُّعْرَضَ عَمَلِیْ وَاَنَا صَآئِمٌ۔ (ترمذی)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے روز اعمال کی پیشی ہوتی ہے اس لیے میں چاہتاہوں کہ میرا عمل اس حالت میں پیش ہوکہ میں روزے سے ہوں۔ ‘‘
تشریح: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضور ﷺپیر اور جمعرات کے دن کو نفلی روزے کے لیے کیوں ترجیح دیتے تھے ــــ رہا یہ سوال کہ پیر اور جمعرات کے روز اعمال کی کیسی پیشی ہوتی ہے تو اس کا علم صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کو حاصل ہے، کوئی دوسرا شخص وضاحت کے ساتھ اس کو نہیں جان سکتا، کیونکہ اعمال کی پیشی کا ذکر مختلف صورتوں میں آیاہے۔ اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں کِس کِس نوعیت کی پیشیاں ہوتی ہیں۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْيٰ، نَا اَبُوْعَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَۃَ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ فَاُحِبُّ اَنْ یُّعْرَضَ عَمَلِیْ وَاَنَا صَآئِمٌ۔(۴۸)
قال ابوعیسٰی: حدیث ابی ھریرۃ فی ھذا الباب، حدیث حسن غریب۔
دارمی کے الفاظ:
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَصُوْمُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَسَأَلْتُہٗ فَقَالَ : اِنَّ الْاَعْمَالَ تُعْرَضُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ۔ (۴۹)
ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺپیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ میں نے آپؐ سے عرض کیا(کہ آپؐ ان ایام کا روزہ کیوں رکھتے ہیں) تو فرمایا: پیر اور جمعرات کے روز اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
ہرمہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں روزہ رکھنے کی ہدایت
۱۰۰۔عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَا اَبَا ذَرٍّ، اِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّھْرِ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، فَصُمْ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ وَاَرْبَعَ عَشَرَۃَ وَخَمْسَ عَشَرَۃَ۔ (ترمذی، نسائی)
’’حضرت ابوذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے ابوذر! اگر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنا چاہو تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کے روزے رکھا کرو۔ ‘‘
تشریح: حضورؐ نے متعدد لوگوں کو یہ بات سکھائی ہے کہ اگر مہینے میں تین روزے رکھنے ہوں تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں کو رکھے جائیں۔ اگرچہ ایسا کرنا لازم نہیںہے لیکن آپؐ نے اس طریقے کو پسند فرمایا ہے۔اور خود آپؐ کا عمل بھی یہ تھا۔
تخریج : حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَا اَبُوْدَاوٗدَ، اَنْبانَا شُعْبَۃُ عَنِ الْاَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ یَحْيَ بْنَ بَسَّامٍ یُحَدِّثُ عَنْ مُوْسٰی بْنِ طَلْحَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ذَرٍّ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَا اَبَا ذَرٍّ، اِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّھْرِ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، فَصُمْ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ وَاَرْبَعَ عَشَرَۃَ وَخَمْسَ عَشَرَۃَ۔ (۵۰)
وَفی الباب عَنْ اَبِیْ قتادۃ وعبداللہ بن عمرو وقُرّۃ بن ایاس الْمزنی وعبداللہ بن مسعود وابی عَقْرَبَ وابن عباس وعائشۃ وقتادۃ بن ملحان وعثمان بن ابی العاص وجریر۔
قال ابوعیسٰی: حدیث ابی ذَرٍّ حدیث حسن
حضورؐ ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں کے روزے رکھتے تھے
۱۰۱۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ وقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ (ترمذی، نسائی ، ابوداؤد)
’’حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھاکرتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ نہ رکھیں۔‘‘
تشریح :اس حدیث میں دوباتیں وضاحت طلب ہیں:
پہلی بات تو یہ ہے کہ ابھی گزشتہ حدیث میںیہ آیاہے، اور دوسری حدیث سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضورؐ ہر مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے اور اسی چیز کی آپؐ نے ہدایت بھی فرمائی ہے لیکن اس حدیث میں یہ بات آئی ہے کہ آپؐ مہینے کے آغاز میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
اس اختلاف کی وجہ کیاہے ــــ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفلی روزہ کسی اعلان کے ساتھ نہیں رکھا جاتا۔ نہ آدمی خود اعلان کرتاہے اور نہ کوئی لازمی موقع ایسا پیدا ہوتا ہے جس سے دوسروں کو یہ پتہ چل جائے کہ فلاں شخص روزے سے ہے۔ حتّٰی کہ بعض اوقات خود بیوی تک کو یہ معلوم ہونا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اگر شوہر نے کہیں باہر دن گزاراہے اور گھر آکر کھانا نہیں کھایا تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ لازمًا اس نے کہیں باہر سے کھاناکھالیا ہے ــــ چنانچہ لازمی طورپر کسی شخص کے روزے کا پتہ نہیں چل سکتا ــــاب جن لوگوں کو بعض آثار سے یہ معلوم ہوجاتاتھا کہ آج حضورؐ روزے سے ہیں تو وہ اپنی جگہ یہ رائے قائم کرتے تھے کہ نفلی روزوں کے بارے میں حضورؐ کا معمول یہ ہے۔ اس طرح ہرایک کا اپنا اپنا قیاس اور اندازہ ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے جو بات جس طرح کسی کے علم میں آئی اس نے اسی طرح بیان کردی۔ چنانچہ اگر کسی کے علم میں یہ بات آئی کہ آپؐ تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کا روزہ رکھتے ہیں تو اس نے اسی کو بیان کیا۔ اگر کسی کے علم میں یہ آیا کہ آپؐ مہینے کے آغاز میں روزہ رکھتے ہیں تو اس نے اسی کو بیان کردیا ــــ لیکن یہ عین ممکن ہے کہ نبی ﷺمہینے میں پندرہ دن کے روزے رکھ لیتے ہوں، کبھی مہینے کے آغاز میں، کبھی درمیان میں اور کبھی جمعہ کو بھی۔ اس طرح یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ حضورؐ مہینے میں صرف تین ہی دن کے روزے رکھتے تھے اور وہ فلاں فلاں تاریخ کے ہوتے تھے۔ اس لیے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ بیان ان احادیث کے خلاف نہیں پڑتا جن میں یہ بتایا گیاہے کہ حضورؐ تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کا روزہ رکھتے تھے اور نہ یہ بیان اِن احادیث کے خلاف پڑتاہے جن میں یہ کہا گیاہے کہ حضورؐ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔
دوسری بات حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ فرمائی ہے کہ کم ہی ایسا ہوتاتھا کہ حضورؐ جمعہ کا روزہ نہ رکھتے ہوں۔ لیکن اس سے پہلے یہ بات گزرچکی ہے کہ نبی ﷺنے لوگوں کو جمعہ کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرلینے سے منع فرمادیا تھا۔ غور کرنے پر یہ اشکال بآسانی رفع ہوسکتاہے۔ چونکہ حضورؐ کا روزہ رکھنا اعلان کے ساتھ نہیں ہوتاتھا اور عام پتہ بھی نہیں چل سکتاتھا کہ آپؐنے کس کس دن کا روزہ رکھا ہے اس لیے جب حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو یہ چیز بہ کثرت دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ آپؐ نے جمعہ کو روزہ رکھاہے تو انہوں نے اپنے قیاس سے یہ رائے قائم کی کہ آپؐ جمعہ کو اکثر وبیشتر روزہ رکھتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی قطعی رائے نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ حضورؐ پہلے سے روزے رکھتے چلے آرہے ہوں اور جمعہ کا روزہ بھی ان میں آگیاہو اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے علم میں صرف جمعہ کا روزہ آیاہو۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ حضورؐ بہ کثرت جمعہ کا روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے ہیں۔اس امکانی صورت کی موجودگی میں ان کا یہ بیان ان احادیث کے خلاف نہیں پڑتا جن میں التزام کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیاہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِیْنَارٍ، نَا عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی وَطَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَیْبَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ وقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ (۵۱)
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺہر مہینے کے ابتدائی تین روزے رکھا کرتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتاتھا کہ آپ جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھیں۔
وفی الباب عن ابن عمر و ابی ھریرۃ۔ قال ابوعیسیٰ حدیث عبداللّٰہ حدیث حسن غریب۔
نفلی روزوں کے بارے میں حضور ؐ کا ایک اور طریقہ
۱۰۲۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ مِنَ الشَّھْرِ السَّبْتَ وَالْاَحَدَ وَالْاِثْنَیْنِ، وَمِنَ الشَّھْرِ الْآخَرِ الثَّلاَثَائَ وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ۔ (ترمذی)
’’حضرت عائشہ ؓبیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺایک مہینے ہفتہ، اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے تھے اور دوسرے مہینے منگل، بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔‘‘
تشریح: یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ حضرت عائشہؓ کی جو روایت اس سے پہلے گزری ہے وہ اس سے بالکل مختلف کیوں ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓرسول اللہ ﷺکی وفات کے بعد ایک مدّتِ دراز یعنی ۴۷،۴۸ سال تک بقیدِ حیات رہیں۔ چونکہ لوگوں کو حضورؐ کے معمولات، آپ ؐکی ہدایات واحکام اور آپ کی زندگی کے حالات کی مستقل جستجو اور کھوج رہتی تھی اس لیے وہ سینکڑوں ہزاروں میلوں سے سفر کرکرکے مدینہ آتے تھے اور خاص طورپر حضرت عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے،کیونکہ ان کے متعلق لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺکے حالات زیادہ تفصیل سے جانتی اور بیان فرماتی ہیں۔ چنانچہ اس طویل مدت کے دوران میں مختلف اوقات میں بے شمار لوگوں نے آکر ان سے حضورؐ کے حالات دریافت کیے ہیں۔ اب چونکہ ہرحدیث میں ہربات کا پس منظر تو بیان نہیں کیا جاتا بلکہ صرف اتنی بات مذکور ہوتی ہے جو اس حدیث کے باب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہو۔ اس لیے اس چیز کا تعیّن کرنا بہت مشکل ہوتاہے کہ اصل مفصّل گفتگو کیا ہوئی تھی جس کا ایک حصّہ راوی نے بیان کیا ہے۔ اِس بناء پر مختلف روایات کے اختلاف کو مختلف احوال وشئون کے لحاظ سے مختلف نوعیّت کے جوابات اور بیانات پر محمول کیا جائے گا اور اسے تضاد قرار نہیں دیا جائے گا ــــحضرت عائشہ ؓنے کسی شخص کے پوچھنے پر یہ بتایا کہ حضورؐ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے تو وہ شخص وہی بات پلّے باندھ کر لے گیا اور اس نے اُسی کو جاکر روایت کیا۔ اسی طرح کسی دوسرے شخص سے کسی اور موقع پر حضرت عائشہؓ نے یہ ذکر کیا کہ حضورؐ کسی مہینے فلاں دنوںکے روزے رکھتے تھے اور کسی مہینے فلاں دنوںکے، اور اگر ایک مہینے میں ایک دفعہ تین دن کے روزے رکھ لیتے تھے تو پھر دوسرے مہینے میں دوسرے تین دنوں کے روزے رکھ لیتے تھے تاکہ ہردومہینوں میں ہفتے کاکوئی دن ایسا نہ ہو جس میں آپ ؐنے روزہ نہ رکھا ہو، تو اس شخص نے اُسی چیز کو روایت کیا ــــ چنانچہ دراصل اس طرح کی مختلف روایات مختلف مواقع سے تعلّق رکھتی ہیں اور ان کے متعلق یہ سوال اٹھانا کوئی معقول بات نہیں کہ نفلی روزوں کے بارے میں حضرت عائشہؓ کے علم میں حضور ؐکے جو مختلف معمولات آئے تھے انہوں نے وہ ہرگفتگو میں ہر ایک کے سامنے سب کے سب کیوں نہ بیان فرمادیے ــــ ایساہی معاملہ دوسرے صحابہؓ کا ہے۔ ان سے بھی مختلف روایات مروی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ ان سے بہ کثرت مسائل پوچھتے رہے، کسی سے دس سال تک پوچھتے رہے، کسی سے تیس سال تک اور کسی سے چالیس سال تک۔ اس طرح ان ہزاروں لوگوں نے مختلف صحابہؓ سے مختلف مواقع پر جو بات سُنی اسے انہوں نے اس طرح سے روایت کیا۔ یہ چیز کسی تضاد کا نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت ہے کہ سننے والوں نے جو بات معلوم کی تھی انہوں نے اسی کو آگے پہنچایا۔
تخریج : حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَا اَبُوْاَحْمَدَ وَمُعَاوِیَۃُ بْنُ ھِشَامٍ، قَالَ : نَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ خَیْثَمَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺَ یَصُوْمُ مِنَ الشَّھْرِ السَّبْتَ وَالْاَحَدَ وَالْاِثْنَیْنِ، وَمِنَ الشَّھْرِ الْآخَرِ الثَّلاَثَائَ وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ۔(۵۲)
قال ابوعیسٰی: ھذا حدیث حسن وروی عبدالرحمن بن مھدی ھذا الحدیث عن سفیان ولم یرفعہ۔
نفلی روزوں کے متعلق حضرت اُمِّ سَلَمہؓ کو حضورؐ کی ہدایت
۱۰۳۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأْمُرُنِیْ اَنْ اَصُوْمَ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ اَوَّلُھَا الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسُ۔ (ابوداؤد، نسائی)
’’حضرت اُمِّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھے ہدایت فرمایاکرتے تھے کہ میں ہرمہینے تین دن کے روزے رکھا کروں اور ان کی ابتدا پیر یا جمعرات سے کیا کروں۔ ‘‘
تشریح : اس روایت کو گزشتہ روایات کے ساتھ ملاکر دیکھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی ﷺنے نفلی روزوں کے بارے میں مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہدایات ارشاد فرمائیں۔ اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ نفلی روزوں میں کوئی لگا بندھا طریقہ نہیں ہے۔ اگر حضورؐ نے ہر شخص کو چند مخصوص دنوں ہی میں روزہ رکھنے کے لیے کہاہوتاتو یہی قانون بن جاتا اور پھر جو شخص بھی نفلی روزہ رکھتا انہی دنوں میں رکھتا۔ اس لیے نبی ﷺنے مختلف لوگوں کو مختلف طریقے بتائے تاکہ جب وہ جمع کیے جائیں تو معلوم ہوکہ اس معاملے میں کوئی ایک ہی مقرر طریقہ نہیںہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَیْدِاللّٰہِ، عَنْ ھُنَیْدَۃَ الْخُزَاعِیِّ، عَنْ اُمِّہٖ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ، فَسَاَلْتُھَا عَنِ الصِّیَامِ، فَقَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأْمُرُنِیْ اَنْ اَصُوْمَ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ۔ اَوَّلُھَا الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسُ۔(۵۳)
کون سا شخص صائم الدہرہے؟
۱۰۴۔ عَنْ مُسْلِمِ نِ الْقَرَشِیِّ قَالَ سَئَلْتُ اَوْسُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ صِیَامِ الدَّھْرِ، فَقَالَ اِنَّ لِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِیْ یَلِیْہِ وُکُلَّ اَرْبِعَائَ وَخَمِیْسٍ فَاِذًا اَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّھْرَ کُلَّہٗ۔ (ابوداؤد، ترمذی)
’’حضرت مسلم قُرشی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے یا کسی اور شخص نے رسول اللہ ﷺسے صَوْمِ دَھْر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کے متعلق سوال کیا (کہ اس کا کیا حکم ہے؟) اس کے جواب میں آپؐ نے فرمایا: تمہارے بال بچوں کا بھی تم پر حق ہے۔ رمضان کے روزے رکھو اور اس سے ملحقہ مہینے یعنی شوال کے (چھ دنوں کے) روزے رکھو اور پھر ہر بدھ اور جمعرات کو بھی روزہ رکھ لیا کرو۔ اس طرح گویاتم ہمیشہ روزہ رکھنے والے شمار ہوگے۔ ‘‘
تشریح : معلوم ایسا ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں چونکہ رہبانیت کا بہت زور تھا اس لیے اہلِ مذاہب میں راہب، سنیاسی اور جوگی وغیرہ قسم کے لوگ صَوْمِ دَھْر کو بڑی فضیلت اور اہمیت دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ نیک آدمی وہ ہے جو صَائِمُ الدَّھْر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضورؐ سے صَوْمِ دَھْر کے متعلق بہ کثرت پوچھا گیا ہے اور آپؐ نے لوگوں کو بہ کثرت اس کے متعلق احکام بتائے ہیں ــــ پیشِ نظر حدیث کے مطابق جب آپؐ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے پوچھنے والے سے فرمایا کہ تمہارے بال بچوں کا بھی تم پر حق ہے۔ یعنی جو شخص صَوْمِ دَھْر رکھتاہے وہ بال بچوں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔ اس سے پہلے ایک حدیث میں تفصیل سے یہ بتایا جاچکاہے کہ تمہارے نفس کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا، اور تمہارے پاس ملاقات کے لیے آنے والوں کا تم پر حق ہے اور صومِ دہری کے ساتھ یہ حقوق تم خوش اسلوبی سے ادا نہیں کرسکتے۔ اس طرح گویا حضورؐ نے عبادات کے سلسلے میں انتہا پسندی کا راستہ بند فرمادیا اور ہرایسے شخص کے لیے جو فرائض سے زائد عبادت کرنا چاہتاہے ایک اعتدال کا طریقہ مقرر فرمادیا۔
صَائِمُ الدَّھْر بن کر بیٹھ رہنا ان لوگوں کا کام ہے جنہیں دنیا اور اس کے معاملات سے کوئی سروکارنہ ہو، اور ایسا وہی لوگ کرسکتے ہیں جو گوشوں میں جاکر بیٹھ رہیں۔ لیکن جن لوگوں کو دنیا میں خدا کی خلافت کا حق ادا کرنا ہے وہ یہاں شادی بیاہ بھی کریں گے، بال بچوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے، کاروبار اور تجارتیں اور ملازمتیں بھی کریں گے، عدالت کی کرسیوں پر بھی بیٹھیں گے اور حکومت کا کاروبار بھی چلائیں گے۔ غرض دنیا میں خلافتِ خداوندی کے جو کام ہیں وہ سب انہیں انجام دینے ہوں گے۔ ایسے لوگ صائم الدہر کیسے بن سکتے ہیں۔ پھر صائم الدہر بننے والے شخص کے بارے میں انسان جس بڑی سے بڑی نیکی اور اجر کی توقع کرتاہے اس کے متعلق فرمایا گیاکہ وہ ساری نیکی اور سارا اَجر ایک بندۂ مومن کو اس صورت میں بھی حاصل ہوجائے گا جب کہ وہ اپنے باقی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ رمضان کے فرض روزوں کے بعدشوال کے چھے روزے اور ہرمہینے بدھ اور جمعرات کے روزے بھی رکھ لے۔
اس حدیث میں سائل کو بدھ اور جمعرات کا روزہ بتایا گیاہے۔ اس سے پہلے کسی کوپیر اور جمعرات کا روزہ بتایا گیا اور کسی کو بعض دوسرے دنوں کا۔ اس طرح مختلف لوگوں کو مختلف دنوں کے روزے بتائے گئے۔ گویا مختلف اشخاص کے لیے مختلف نسخے ہیں۔ وہ حکیم کہ جس کے پاس ہر مریض کے لیے ایک ہی لگا بندھا نسخہ ہوتاہے کوئی دانا حکیم نہیں ہوتا۔دانا حکیم تو وہ ہوتاہے جو مریض کے مزاج، اس کے حالات، اس کے ماحول کی طبعی خصوصیات، ملکی آب وہوا کے خصائص وغیرہ غرض ہرچیز کو سامنے رکھ کر نسخہ تجویز کرتاہے اور دوا اور خوراک مقرر کرتاہے ــــ بالکل اسی طرح مختلف پوچھنے والوں میں سے ہرایک کے حسبِ حال حضورؐ نے نفلی روزوں کے متعلق مختلف طریقے ارشاد فرمائے اور ان میں سے ہرطریقہ اپنی اپنی جگہ پر یکساں اَجروثواب کا مُوجب ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ نِ الْحَرِیْرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوْیَۃَ، قَالاَ : نَا عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، نَاھَارُوْنُ بْنُ سَلْمَانَ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ الْمُسْلِمِ الْقُرَشِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ : سَاَلْتُ اَوْ سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنْ صِیَامِ الدَّھْرِ، فَقَالَ اِنَّ لِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، ثُمَّ قَالَ :صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِیْ یَلِیْہِ وُکُلَّ اَرْبِعَآئَ وَخَمِیْسٍ فَاِذًا اَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّھْرَ وَاَفْطَرْتَ۔(۵۴)
وفی الباب عن عائشۃ قال ابوعیسٰی حدیث المسلم القرشی حدیث غریب وروی بعض عن ھارون بن سلمان عن مسلم بن عبید اللہ عن ابیہ۔
میدانِ عرفات میں یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا درست نہیں
۱۰۵۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ نَھٰی عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَۃَ۔ ( ابوداود)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے عرفات میں عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمادیا تھا۔ ‘‘
تشریح: اس سے پہلے بعض احادیث میں یہ بات گزرچکی ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ بڑی فضیلت رکھتاہے اور اس روزے کی فضیلت یہاں تک بیان ہوئی ہے کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتاہے۔ اس بنا پر لوگ اس کی بہت پابندی کرتے تھے لیکن حضورؐ نے حاجیوں کو یہ روزہ رکھنے سے منع فرمادیا۔
پہلے بھی یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ حج ایک بڑی مشقت کا کام ہے اس لیے حضورؐ نے حالتِ حج میں روزہ رکھنے سے منع فرمادیا تھا۔ اصل میں آدمی کو ایک عبادت کا حق ہے ــــ جسے وہ انجام دے رہاہو، پوری طرح ادا کرنا چاہیے۔ اگر وہ حج کررہاہے تو وہ حج ہی کا حق پوری طرح ادا کرے۔ حج کے اندر کٹوتی کرکے کچھ نفلی روزے کا بھی حق ادا کرنے کی کوشش کرنا، جس سے آدمی نہ پوری طرح حج کا حق ادا کرسکے اور نہ نفلی روزے کا، درست نہیں ہے۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ حج تو خود ایک بہت بڑی نیکی اور بڑا اہم فریضہ ہے۔ اس کے ساتھ ایک نفلی عبادت بڑھا کر اپنے لیے ایسی مشقت پیدا کرلینا جس کی وجہ سے ایک شخص اس فریضے کے مَناسِک میں سے کوئی چیز چھوڑنے پر مجبور ہوجائے، کوئی معقول بات نہیں۔ یہاں تو دراصل نیکیوں میں بھی ایک توازُن مطلوب ہے اور اسے ملحوظ رکھ کر ہی آدمی کو نیکی انجام دینی چاہیے۔
تخریج : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِیْلٍ، عَنْ مَھْدِیِّ الھَجَرِیِّ، ثَنَا عِکْرِمَۃُ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فِیْ بَیْتِہٖ فَحَدَّثَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَۃَ۔(۵۵)
ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں
۱۰۶۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ اُخْتِہٖ الصَّمَّائِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لاَتَصُوْمُوْا یَوْمَ السَّبْتِ اِلاَّ فِیْمَا افْتُرِضَ عَلَیْکُمْ، فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ اَحَدُکُمْ اِلاَّ لِحَائَ عِنَبَۃٍ اَوْعُوْدَ شَجَرَۃٍ فَلْیَمْضَغْہُ۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی،ابن ماجہ، دارمی)
’’حضرت عبداللہ بن بسر اپنی بہن صَمَّائَ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو الاّ یہ کہ ہفتہ اس دن آجائے جس میں روزہ رکھنا تم پر فرض ہو۔ اگر کسی شخص نے غلطی سے ہفتے کے دن کا روزہ رکھ لیا اور روزہ توڑنے کے لیے اسے انگور کا چھلکا یا کسی درخت کی چھال ہی مل جائے تو وہ اسی کو چبا کر روزہ توڑدے۔‘‘
تشریح: ’’جس دن میں روزہ رکھنا فرض ہو‘‘ کے الفاظ سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ ہفتہ اگررمضان کے اندر آجائے،جیسا کہ آتاہے، تو کوئی حرج نہیں ہے اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اگر تمہیں رمضان کے روزوں کی قضا ادا کرنی ہے یا کفارے کے روزے رکھنے ہیں اور بیچ میں ہفتہ آرہاہے تو اس کا روزہ رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن خاص طور پر سَبْت یعنی ہفتے کے دن کا قصد کرکے روزہ رکھنا درست نہیں۔ یہ ممانعت یہاں تک ہے کہ اگر کسی شخص نے غلطی سے ہفتے کا روزہ رکھ لیا تو اسے توڑدینا چاہیے ـــــ ــــ یہ اس لیے کہ ہفتہ یہودیوں کے نزدیک مقدّس دن ہے اور ان کے ہاں اس کا روزہ رکھنے کا التزام کیا جاتاہے۔ اس لیے فرمایا کہ ہفتے کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے مخصوص کرلینا یا اس دن اکثر روزہ رکھنا، یاکبھی کبھار بھی اس کا انتخاب کرکے روزہ رکھنا ممنوع ہے، اور اگر کسی شخص نے یہ روزہ رکھ ہی لیا ہوتو اسے چاہیے کہ توڑدے۔ معلوم ہوا کہ اس معاملے میں شدت ہے اور اس چیز کی اجازت نہیں ہے کہ اگر کسی نے غلطی سے روزہ رکھ لیا ہو تو وہ اسے پورا کرے۔ یہ شدت اس لیے اختیار کی گئی کہ اہلِ اسلام اور یہود ونصاریٰ کے درمیان مشابہت پیدا نہ ہو۔ کیونکہ مسلمانوں کو ایک امت کی حیثیت سے اپنا متیاز قائم کرنا چاہیے اور اسے سختی سے قائم رکھنا بھی چاہیے۔ مسلمان ان امتیازی سرحدوں کو جتنا زیادہ دھندلاکرتے چلے جائیں گے اتنا ہی وہ یہود ونصاریٰ میں گم ہوتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان کے درمیان یہ تمیز کرنا بھی مشکل ہوجائے گا کہ کون کیا ہے۔
تخریج :حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مُسْعِدَۃَ، ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ حَبِیْبٍ،ح وثَنَا یَزِیْدُ بْنُ قُبَیْسٍ مِنْ اَھْلِ جَبَلَۃَ، ثَنَا الْوَلِیْدُ، جَمِیْعًا عَنْ ثَوْرِبْنِ یَزِیْدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرِ السُّلْمِیِّ، عَنْ اُخْتِہٖ، وَقَالَ یَزِیْدُ الصَّمَآئُ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لاَتَصُوْمُوْا یَوْمَ السَّبْتِ اِلاَّ فِیْمَاافْتُرِضَ عَلَیْکُمْ، وَاِنْ لَّمْ یَجِدْ اَحَدُکُمْ اِلاَّ لِحَائَ عِنَبَۃٍ اَوْعُوْدَ شَجَرَۃٍ فَلْیَمْضَغْہُ۔(۵۶)
قال ابوداوٗد، وھٰذا حدیث منسوخ۔
قال ابوعیسٰی ھذا حدیث حسن، ومعنی الکراھیۃ فی ھذا ان یختص الرجل یوم السبت بصیام لان الیھود یعظّمون یوم السبت۔
خدا کی راہ میں ایک دن کے روزے کا غیر معمولی اجر
۱۰۷۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :مَنْ صَامَ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ جَعَلَ اللّٰہُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّارِ خَنْدَقًا کَمَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ۔ (ترمذی)
’’حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان اتنی وسیع خندق حائل کردیتاہے جتنی آسمان اور زمین کی دوری ہے۔ ‘‘
تشریح : ایسا معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس مضمون کو متعدد مرتبہ مختلف الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس سے پہلے حضرت ابوسعید خدریؓ کی روایت میں حضور کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے ستّر سال کے فاصلے تک دور کردیتاہے۔ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کا مطلب یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس سے جہاد فی سبیل اللہ بھی مراد ہے اور حج اور عمرے کا سفر بھی۔ اسی طرح علمِ دین کی تحصیل کے لیے سفر کرنا اور لوگوں کو اللہ کی راہ کی طرف دعوت دینے کے لیے نکلنا بھی ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی تعریف میں آتاہے۔ بہر حال جس آدمی کا سفر اللہ کی راہ میں ہو اور وہ اس حالت میں نفلی روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے اتنے بڑے اجر سے نوازے گا۔
یہ بات بھی پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ یہ احادیث اس غرض کے لیے نہیں بیان کی گئی ہیں کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ بس کسی ایک وقت میں تبلیغی سفر پر نکل گئے اور اس سفر میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا تو اب ہمیشہ کے لیے جہنم سے خلاصی ہوگئی۔ ان احادیث کا یہ مفہوم لینا درست نہیں ہے۔ اصل مدعا یہ ہے کہ جو لوگ فی الواقع خدا کی طرف سے عائد کردہ فرائض بھی انجام دے رہے ہوں اور اللہ کی راہ میں اپنے اوقات اور محنتیں اور قابلیتیں بھی صرف کررہے ہوں ان کے لیے ایک ایک نفلی عبادت کا اتناکچھ اجر ہے۔
آسمان اور زمین کی دوری کے برابر خندق بنادینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی خندق کھودی جاتی ہے بلکہ اس کا مدعا یہ ہے کہ اس شخص کے اور دوزخ کے درمیان ایک بہت بڑا فاصلہ حائل کردیا جاتاہے اور وہ اسی قدر دوزخ سے محفوظ ہوجاتا ہے ــــ آگے بھی اسی مضمون کی ایک حدیث آرہی ہے جس میں دوسرے طریقے سے اس کو بیان کیا گیاہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ اَیُّوْبَ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ جَمِیْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:مَنْ صَامَ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ جَعَلَ اللّٰہُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّارِ خَنْدَقًا کَمَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ۔(۵۷) (ھذا حدیث غریب من حدیث ابی امامۃ)
سرما کا روزہ غنیمت بارِدَہ
۱۰۸۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ الصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ ۔ (مسند احمد، ترمذی)
’’حضرت عامر بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جاڑے کے زمانے کا روزہ غنیمت باردہ ہے۔‘‘
تشریح: غنیمت باردہ اس مال کو کہتے ہیں جو مفت میں ہاتھ آجائے اور اس کے لیے کوئی محنت ومشقت نہ کرنی پڑے۔ نہ تو اس پر کچھ خرچ اٹھے اور نہ اس کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑے۔
جاڑے کے زمانے میں روزے کی نوعیت بھی مفت ہاتھ آئے ہوئے مال کی سی ہے کیونکہ اس میں کوئی زیادہ تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی۔
یہاں اس روزے سے مراد رمضان کا روزہ بھی ہے اور نفلی روزہ بھی۔ رمضان کے روزے بھی آدمی کو مفت کا ثواب دلوادیتے ہیں اور نفلی روزوں کا بھی یہی معاملہ ہے، کیونکہ ان میں گرما کی سی سختی اور تکلیف سے سابقہ پیش نہیں آتا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا یَحْيَ بْنُ سَعِیْدٍ، نَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ اسْحَاقَ، عَنْ نُمَیْرِ بْنِ عُرَیْبٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺَ قَالَ: اَلْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ الصَّوْمُ فِی الشِّتَاء۔(۵۸)
قال ابوعیسٰی ھٰذا حدیث مرسل۔ عامر بن مسعود لم یدرک النبیﷺ والد ابراھیم بن عامر القرشی الذی روی عنہ شعبۃ والثوری۔
’’السنن الکبریٰ‘‘ میں دوروایتیں اور بھی منقول ہیں:
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ فَضْلِنِالْقَطَّانُ اَنْبَأَ اَبُوْسَھْلِ بْنُ زِیَادِنِالْقَطَّانُ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ الْقَاضِیْ ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْھَالٍ ثَنَا ھَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍح وَاَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرِ الْقَاضِیْ وَاَبُوْسَعِیْدِ ابْنُ اَبِیْ عَمْرٍو قَالاَ، ثَنَا اَبُوالْعَبَّاسِ اَلْاَصَمُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الصَّفَانِیُّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا ھَمَّامٌ، ثَنَا قَتَادَۃُ، حَدَّثَنَا اَنَسٌ قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ اَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلَی الْغَنِیْمَۃِ الْبَارِدَۃِ قَالَ: قُلْنَا: وَمَاذٰلِکَ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ؟ قَالَ : اَلصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ ۔ (ھٰذا موقوف)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں، کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ غنیمتِ باردہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا اے ابوہریرہؓ وہ کیا ہے (ضرور بتائیں) حضرت ابوہریرہ ؓنے بتایاکہ وہ ہے موسم سرما میں روزہ۔
(۳) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا اَبُوالْاَسْوَدِ، ثَنَا بْنُ لِھَیَعَۃَ، عَنْ دَرَّاجٍ اَبِی السَّمْحِ، عَنْ اَبِی الْھَیْثَمِ۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلشِّتَآئُ رَبِیْعُ الْمُؤْمِنِ قَصَرَ نَھَارُہٗ، فَصَامَ وَطَالَ لَیْلُہٗ فَقَامَ۔(۵۹)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جاڑے کا موسم مومن کے لیے موسم بہار ہے۔ اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں تو روزہ رکھنا آسان ہوتاہے اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں تو اس کا قیام سہل رہتاہے۔
عاشوراء کا روزہ حضرت موسیٰ ؑ کی سنت ہے
۱۰۹۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَوَجَدَ الْیَھُوْدَ صِیَامًا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: مَاھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ تَصُوْمُوْنَہٗ: فَقَالُوْا : ھٰذَا یَوْمٌ عَظِیْمٌ اَنْجَی اللّٰہُ فِیْہِ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَہٗ فَصَامَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَنَحْنُ اَحَقُّ وَاَوْلٰی بِمُوْسٰی مِنْکُمْ فَصَامَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ وَاَمَرَ بِصِیَامِہٖ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ(ہجرت کے بعد) مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ حضورؐ نے ان سے پوچھا: یہ کیسا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا یہ وہ عظیم الشان دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اور آپ کی قوم کو نجات دلائی اور فرعون کو اور اس کی قوم کو غرق کردیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑاس روز اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا کرتے تھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تب ہم تم سے بڑھ کر موسیٰ ؑکے طریقے پر چلنے کے حق دار اوراہل ہیں۔ پھر حضورؐنے اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور لوگوں کو بھی اس کاحکم دیا۔ ‘‘
تشریح: اس بیان سے خود بخود یہ معلوم ہوا کہ یہ مدنی زندگی کے آغاز کی بات ہے اور اس وقت ابھی رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے۔ نیز اس وقت تک رسول اللہ ﷺکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت نہیں آئی تھی کہ آپ یہودونصاریٰ سے اپنا طریقہ الگ کرلیں۔ اس ہدایت کے آنے سے پہلے آپؐ کا طریقہ یہ رہاکہ جب تک کسی معاملے میں اللہ کا حکم نہ آئے اہل کتاب کے طریقے پر عمل کیا جائے۔ یہ آپؐ کا معمول تھا اور اسی کی بنا پر آپ بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے رہے تا آنکہ آپؐ کے پاس تحویل قبلہ کے احکام آگئے۔
اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ شریعت میں بھی بعض دنوں کو یادگار کی حیثیت دی گئی ہے اور یادگار بنانے کے لیے ان دنوں کا انتخاب کیا گیاہے جن میں اللہ تعالیٰ کا کوئی غیرمعمولی نشان ظاہر ہواہو۔ جیسے یہی عاشوراء کا دن ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑکو اور ان کی قوم کو مصر سے نکالا اور ان کی آنکھوں کے سامنے فرعون کو غرق کیا۔ چنانچہ یہ دن شریعتِ موسویؑ میں یادگار قرارپایا۔ اس یادگار کی یہ شکل مقرر نہیں کی گئی کہ اس میں مصر سے نکلنے کی کہانیاں اور قصے بیان کیے جائیں اور اس کو میلے ٹھیلے کا دن بنایا جائے بلکہ اس دن کا روزہ رکھنا طے کیا گیا ــــاسی طرح دیکھیے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس روز اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں دُنبہ دے کر قربانی کرائی، اس عظیم الشان تاریخی دن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یادگار بنادیاگیا اور تمام دنیا کے اہلِ ایمان کے لیے یہ طریقہ مقرر کردیا گیا کہ وہ اس روز قربانی کرکے اس دن کی یاد تازہ کریں ــــ اسی طرح جس مہینے میں قرآن نازل ہوا تھا اس پورے مہینے کو نزولِ قرآن کی یادگار بنادیا اور اسی غرض کے لیے رمضان کے روزے مقرر کیے گئے ــــ معلوم ہوا کہ شریعت یادگاروں کو عملاً تسلیم کرتی ہے لیکن اس کے لیے وہ معیار اور آداب بھی خود مقرر کرتی ہے اور اس کے یہ معیار اور آداب اس کی حقیقی روح کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تخریج(۱): حَدَّثَنِیْ ابنُ اَبِیْ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃ،َ فَوَجَدَ الْیَھُوْدَ صِیَامًا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَاھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ تَصُوْمُوْنَہ؟ فَقَالُوْا : ھٰذَا یَوْمٌ عَظِیْمٌ اَنْجَی اللّٰہُ فِیْہِ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَہٗ فَصَامَہٗ مُوْسٰی شُکْرًا، فَنَحْنُ نَصْوْمُہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : فَنَحْنُ اَحَقُّ وَاَوْلٰی بِمُوْسٰی مِنْکُمْ فَصَامَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَمَرَ بِصِیَامِہٖ۔(۶۰)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ(ہجرت کے بعد) مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ حضورؐ نے ان سے پوچھا: یہ کیسا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا یہ وہ عظیم الشان دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اور آپ کی قوم کو نجات دلائی اور فرعون کو اور اس کی قوم کو غرق کردیا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ اس روز اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا کرتے تھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تب ہم تم سے بڑھ کر موسیٰ ؑ کے طریقے پر چلنے کے حق دار اوراہل ہیں۔ پھر حضورؐنے اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور لوگوں کو بھی اس کاحکم دیا۔
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ، ثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، ثَنَا اَیُّوْبُ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ فَرَاٰی الْیَھُوْدَ تَصُوْمُ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ فَقَالَ : مَا ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا یَوْمٌ صَالِحٌ ھٰذَا یَوْمٌ نَجَّی اللّٰہُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ مِنْ عَدُوِّھِمْ فَصَامَہٗ مُوْسٰی، قَالَ : فَاَنَا اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ فَصَامَہٗ وَاَمَرَ بِصِیَامِہٖ۔(۶۱)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے ان سے پوچھا :یہ کیسا دن ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بہت صالح دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی۔ چنانچہ موسیٰ ؑ نے اس دن کا روزہ رکھا تھا(ان کی اتباع میں ہم بھی رکھتے ہیں) توآپؐ نے فرمایا: تب تو میں تم سے موسیٰ ؑکے طریقہ پر چلنے کا زیادہ حق دار ہوں۔ اس کے بعد آپؐ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیا۔
(۳)حَدَّثَنِیْ زِیَادُ بْنُ اَیُّوْبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُوْبِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَجَدَ الْیَھُوْدَ یَصُوْمُوْنَ عَاشُوْرَآئَ، فَسُئِلُوْا عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالُوْا: ھٰذَا ھُوَ الْیَوْمُ الَّذِیْ اَظْھَرَ اللّٰہُ فِیْہِ مُوْسٰی وَبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ عَلٰی فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُوْمُہٗ تَعْظِیْمًا لَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : نَحْنُ اَوْلٰی بِمُوْسٰی مِنْکُمْ ثُمَّ اَمَرَ بِصَوْمِہٖ۔(۶۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہود کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے پایا۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑاور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھااور ہم اس دن کا روزہ تعظیم کے طورپر رکھتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہاری نسبت ہم موسیٰ ؑ کے زیادہ حقدار ہیں پھر آپؐ نے اس روز روزہ رکھنے کا فرمان جاری فرمادیا۔
(۴)حَدَّثَنَااَحْمَدُ اَوْ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِاللّٰہِ الْغَدَانِیُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ اُسَامَۃَ، اَخْبَرَنَا اَبُوْعُمَیْسٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺَ الْمَدِیْنَۃَ وَاِذْ اُنَاسٌ مِنَ الْیَھُوْدِ یُعَظِّمُوْنَ عَاشُوْرَآئَ وَیَصُوْمُوْنَہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺَ: نَحْنُ اَحَقُّ بِصَوْمِہٖ فَاَمَرَ بِصَوْمِہٖ۔(۶۳)
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺمدینہ میں تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی یومِ عاشوراء کی بڑی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے ہیں۔ اس پرآپؐ نے فرمایا: ہم اس دن کے روزہ رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں پھرآپؐ نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
حضورؐکے ہفتہ اور اتوار کا روزہ اکثر رکھنے کی حکمت
۱۱۰۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ یَوْمَ السَّبْتِ وَیَوْمَ الْاَحَدِ اَکْثَرَ مَایَصُوْمُ مِنَ الْاَیَّامِ وَیَقُوْلُ : اِنَّھُمَا یَوْمَا عِیْدٍ لِلْمُشْرِکِیْنَ فَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اُخَالِفَھُمْ۔ (مسند احمد)
’’حضرت امِّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺاپنے نفلی روزوں میں اکثر ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ مشرکین کی عید کے دن ہیں ( ان کے نزدیک مقدس دن ہیں) اس لیے میں چاہتاہوں کہ ان کے خلاف عمل کروں۔‘‘
تشریح: یہاں مشرکین سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں۔ ہفتے کا دن یہودیوں کے ہاں اور اتوار کا دن عیسائیوں کے ہاں مذہبی تقدّس کا حامل سمجھاجاتاہے۔ اس بنا پر یہودیوں کے نزدیک ہفتے کا اور عیسائیوں (PRACTISING CHRISTIANS) کے نزدیک اتوار کا روزہ رکھنا نیکی ہے۔ لیکن حضورؐ نے فرمایاکہ میںان دونوں دنوں کا روزہ رکھ کر دونوں کے خلاف کرتاہوں کیونکہ یہودی صرف ہفتے کے دن کا روزہ رکھتے ہیں اور اتوار کا نہیں رکھتے اور عیسائی صرف اتوار کا روزہ رکھتے ہیں ہفتے کا نہیں رکھتے۔ اس طرح اہل کتاب کے ہاں ان دونوں دنوں کی جس وجہ سے اہمیت تھی حضورؐ نے اسے برقرار بھی رکھا۔ لیکن دونوں کے طریقوں کو اپنایا بھی نہیں۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِی اَبِیْ، ثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِیَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ یَعْنِی ابْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ: اَخَبَرَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ : ثَنَا اَبِیْ عَنْ کُرَیْبٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ اُمِّ سَلَمَۃَ تَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَصُوْمُ یَوْمَ السَّبْتِ وَیَوْمَ الْاَحَدِ اَکْثَرَ مِمَّا یَصُوْمُ مِنَ الصِّیَامِ وَیَقُوْلُ : اِنَّھُمَا عِیْدَ الْمُشْرِکِیْنَ فَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اُخَالِفَھُمْ۔(۶۴)
ترجمہ : حضرت اُمِّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺاپنے نفلی روزوں میں اکثر ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھا کرتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ یہ مشرکین کی عید کے دن ہیں ( ان کے نزدیک مقدس دن ہیں) اس لیے میں چاہتاہوں کہ ان کے خلاف عمل کروں۔
(۲) اَنَّ کُرَیْبًا مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَعَثُوْنِیْ اِلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ ؓ اَسْأَلُھَا عَنْ اَیِّ الْاَیَّامِ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اَکْثَرَ لَھَا صِیَامًا؟ فَقَالَتْ یَوْمَ السَّبْتِ وَالْاَحْدِ فَرَجَعْتُ اِلَیْھِمْ، فَاَخْبَرْتُھُمْ، فَکَاَنَّھُمْ اَنْکَرُوْا ذٰلِکَ، فَقَامُوْا بِاَجْمَعِھِمْ اِلَیْھَا فَقَالُوْا : اِنَّا بَعَثْنَا اِلَیْکَ ھٰذَا فِی کَذَا وَکَذَا فَذَکَرَ اَنَّکِ قُلْتِ کَذَا وَکَذَا فَقَالَتْ: صَدَقَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَکْثَرَ مَاکَانَ یَصُوْمُ مِنَ الْاَیَّامِ یَوْمَ السَّبْتِ وَالْاَحَدِ وَکَانَ یَقُوْلُ اِنَّھُمَا یَوْمَا عِیْدٍ لِلْمُشْرِکِیْنَ وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَھُمْ۔(۶۵)
ترجمہ : کریب کو جو حضرت ابنِ عباسؓ کے آزاد کردہ غلام تھے چند اصحابِ رسول اللہ ﷺنے حضرت اُمِّ سلمہؓ کی خدمت میں بھیجا کہ جاکر ان سے دریافت کرے کہ نبی ﷺکن ایام میں باہتمام اکثر روزہ رکھا کرتے تھے (انہوں نے جاکر پوچھا ) تو حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا آپ ہفتہ او ر اتوار کو اکثر روزہ رکھا کرتے تھے۔ میں نے واپس آکر ان لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے) انہوں نے اس کو غیر مانوس سمجھا اور سب اکٹھے ہوکر خود حضرت اُمّ سلمہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کہنے لگے ہم نے فلاں صاحب کو فلاں کام کے لیے آپ کی خدمت میں بھیجا تھا اس نے ہمیں جاکر بتایاہے کہ آپ نے اس طرح اوراس طرح اس کا جواب دیا ہے۔ حضرت اُمّ سلمہؓ نے فرمایا یہ سچ کہتاہے۔ رسول اللہ ﷺجن ایام کا اکثر روزہ رکھا کرتے تھے وہ ہفتہ اور اتوار کا دن ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں دن مشرکین کے لیے عید کے دن ہیں اور میں چاہتاہوں کہ ان کے خلاف عمل کروں۔
حضوؐرکا فرضیّت صیام رمضان سے پہلے عاشوراء کے روزے کی تاکید فرمانا
۱۱۱۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأْمُرُ بِصِیَامِ یَوْمِ عَاشُوْرآئَ وَیَحُثُّنَا عَلَیْہِ وَیَتَعَاھَدُنَا عِنْدَہٗ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْ یَنْھَنَا عَنْہُ وَلَمْ یَتَعَاھَدْنَا عِنْدَہٗ۔ (مسلم)
’’حضرت جابر بن سَمُرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺہمیں یومِ عاشوراء کے روزے کا حکم دیا کرتے تھے اور ہمیں اس پر اُبھارا کرتے تھے اور ہم سے دریافت کیا کرتے تھے کہ کس کس نے روزہ رکھاہے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تو اس کے بعد نہ تو آپؐ نے ہمیں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، نہ اس سے منع فرمایا اور نہ یہ پوچھا کہ کس کس نے یہ روزہ رکھاہے۔ ‘‘
تشریح: یَحُثُّنَا ( ہمیں اُبھارتے تھے) کے الفاظ واضح کردیتے ہیں کہ آپؐ نے عاشوراء کے روزے کو فرض یا واجب قرار نہیں دیا تھا بلکہ بس وہ ایک نیکی کا کام ہے جس پر حضورؐلوگوں کو ابھارتے تھے۔
یَتَعَاھَدُنَا عِنْدہٗ کا مطلب یہ ہے کہ حضورؐ ہم سے پوچھا کرتے تھے کہ بھئی آج کس کس نے روزہ رکھاہے۔ یہ بھی گویا ابھارنے اور ترغیب دلانے کا ایک طریقہ تھا جس سے لوگوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا مقصود ہوتاتھا۔
پھر حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تو اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے نہ تو ہمیں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا اور نہ پھر کبھی کسی سے پوچھا کہ آج کس نے روزہ رکھاہے۔ اس طرح حضورؐ نے رمضان کی فرضیت کے بعد اس کی وہ پہلی اہمیت ختم کردی۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، اَخْبَرَنَا شَیْبَانُ، عَنْ اَشْعَثَ بْنِ اَبِی الشَّعْشَآئِ، عَنْ جَعْفَرِبْنِ اَبِیْ ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَأْمُرُ بِصِیَامِ یَوْمِ عَاشُوْرآئَ وَیَحُثُّنَا عَلَیْہِ وَیَتَعَاھَدُنَا عِنْدَہٗ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْ یَنْھَنَا عَنْہُ وَلَمْ یَتَعَاھَدْنَا عِنْدَہٗ۔(۶۶)
ترجمہ :حضرت جابر بن سَمُرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺہمیں یوم ِ عاشوراء کے روزے کا حکم دیا کرتے تھے اور ہمیں اس پر اُبھارا کرتے تھے اور ہم سے دریافت کیا کرتے تھے کہ کس کس نے روزہ رکھاہے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تو اس کے بعد نہ تو آپؐ نے ہمیں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، نہ اس سے منع فرمایا اور نہ یہ پوچھا کہ کس کس نے یہ روزہ رکھاہے۔
چار کام جنہیں حضورؐ کبھی ترک نہیں فرماتے تھے
۱۱۲۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ اَرْبَعٌ لَمْ یَکُنْ یَدَعُھُنَّ النَّبیُّ ﷺ صِیَامُ عَاشُوْرَآئَ وَالْعَشْرِ وَثَلاَثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَکْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (نسائی)
’’حضرت حفصہؓ فرماتی ہیں کہ چار کام ایسے ہیں جنہیں نبی ﷺ کبھی ترک نہیں فرماتے تھے:( ۱) عاشوراء کا روزہ۔(۲) ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے روزے۔ (۳) ہر مہینے کے تین روزے ۔(۴) فجرکے فرضوں سے پہلے دورکعت سنت۔‘‘
تشریح :اگرچہ حدیث کے متن میں عَشْرَ (دس) کا لفظ استعمال کیا گیاہے لیکن اس سے ذی الحجہ کے ابتدائی نودن مراد ہیں کیونکہ دسواں دن تو عیدالاضحی کا ہے۔
حضرت حفصہ ؓ کے بیان سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺنے کبھی فجر کی سنتیں تر ک نہیں کیں۔حضورؐ ان کاہمیشہ التزام فرماتے تھے اور آپؐ نے ان کی بہت زیادہ تاکید بھی فرمائی ہے۔ اسی لیے جو سنتیں فرض نمازوں کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیت اور فضیلت انہی دوسنتوں کی آئی ہے۔
حضورؐ ایّامِ بیض کے روزے التزام سے رکھتے تھے
۱۱۳۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُفْطِرُ اَیَّامَ الْبِیْضِ فِی حَضَرٍ وَلاَسَفَرٍ۔ (نسائی)
’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺایام بیض کے ( تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کے) روزے کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ خواہ آپؐ گھر پر مقیم ہوں، خواہ سفر میں ہوں۔‘‘
تشریح: اس سے پہلے بھی اس بات کی وضاحت کی جاچکی ہے کہ حضورؐ کی نفلی عبادات کے متعلق جس صحابی کے علم میں جو بات آئی تھی وہ اس نے بیان کردی۔ چونکہ حضرت ابنِ عباسؓ نے حضورؐ کو ایّامِ بیضمیں اکثر روزہ رکھتے ہوئے دیکھا اس لیے انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ آپؐ یہ روزے کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ دوسرے صحابہؓ نے حضورؐ کو کسی اور چیز کا التزام کرتے دیکھا تو انہوں نے اسے اسی طرح سے بیان کیا۔ جس شخص نے دیکھا کہ حضورؐ کثرت سے کوئی کام کرتے ہیں تو اس نے اسے اس طرح بیان کیا کہ گویا آپؐ ہمیشہ یہ کام کرتے تھے۔ اسی وجہ سے حضورؐ کے نفلی روزوں کے متعلق مختلف روایات آئی ہیں۔ لیکن ان میں کوئی تضاد درحقیقت نہیں ہے۔
تخریج: اَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللّٰہِ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَیُفْطِرُ اَیَّامَ الْبِیْضِ فِی حَضَرٍ وَلاَسَفَرٍ۔ (۶۸)
ترجمہ : حضرت عبداللہ ؓبن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺایامِ بیض( تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ )کے روزے کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ خواہ آپؐ گھر پر مقیم ہوں، خواہ سفر میں ہوں۔
روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے
۱۱۴۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لِکُلِّ شَیْئٍ زَکوٰۃ ٌوَزَکوٰۃُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ (ابن ماجہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہرچیز کی زکوٰۃ ہے اور آدمی کے جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔‘‘
تشریح: حقیقت میں تو تمام عبادتیں ایک لحاظ سے زکوٰۃ ہی کی تعریف میں آتی ہیں لیکن بطورِ اصطلاح صرف مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ سے تعبیر کیا گیاہے ــــ زکوٰۃ اصل میں یہ ہے کہ اللہ کا دیا ہوا جو کچھ آپ کے پاس ہے اس پر اللہ کا حق تسلیم کریں اور اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کریں۔ چنانچہ روزہ آدمی کے جسم کی زکوٰۃ ہے اور اس زکوٰۃ کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ آپ روزہ اس احساس کے ساتھ رکھیں کہ میرے رب نے مجھ پر جو بے شمار احسانات کیے ہیں اور مجھے جسم جیسا عظیم الشان خادم عطا فرمایاہے یہ روزہ میں اس کے شکرانے کے طورپر رکھ رہاہوں۔ اگر کسی شخص نے محض اپنی صحت درست کرنے کے لیے روزہ رکھ لیا وہ جسم کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ وہ جسم کی زکوٰۃ اس وقت شمار ہوگا جب کہ وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے جسم میں اس کا حق مان کر رکھاجائے ــــ اسی طرح آپ کے اوقات کی زکوٰۃ ہے۔ جو وقت بھی آپ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے صرف کریں گے وہ لامحالہ آپ کے وقت کی زکوٰۃ ہوگی۔ اسی طرح آپ کی قابلیتوں کی زکوٰۃ ہے۔ جوکچھ قابلیتیں اللہ نے آپ کو عطا کی ہیں اگر آپ ان کو خدا کا دین پھیلانے میں، لوگوں کو اس کے دین کا قائل کرنے میں، اور کفرو الحاد کا مقابلہ کرنے میں صرف کرتے ہیں تو یہ چیز آپ کی دماغی اور علمی قابلیتوں کی زکوٰۃ ہوگی ــــ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی آپ کو دی ہے اس پر اس کا حق ہے اور جب آپ یہ حق ادا کرتے ہیں تو گویا اس چیز کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ،ح وَحَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَۃَ الْعَدَنِیُّ، ثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِیْعًا عَنْ مُوْسٰی بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ جُمْھَانَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لِکُلِّ شَیْئٍ زَکوٰۃ ٌوَزَکوٰۃُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ۔(۶۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہرچیز کی زکوٰۃ ہے اور آدمی کے جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔
فی الزوائد: اسناد الحدیث من الطریقین معا ضعیف فیہ موسیٰ بن عبیدۃ الزیدِیُّ ومدار الطریقین علیہ وھو متفق علٰی تضعیفہ۔
پیر اور جمعرات کے نفلی روزوں کی فضیلت
۱۱۵۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَصُوْمُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ تَصُوْمُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَقَالَ اِنَّ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ یَغْفِرُ اللّٰہُ فِیْھِمَا لِکُلِّ مُسْلِمٍ اِلاَّ ذَا ھَاجِرَیْنِ، یَقُوْلُ دَعْھُمَا حَتّٰی یَصْطَلِحَا۔ ( مسنداحمد، ابن ماجہ)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺپیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ اکثر رکھتے ہیں؟ اس کے جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن وہ ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ ہر مسلم کی مغفرت فرماتاہے۔ بہ جز ان دومسلمانوں کے جو ایک دوسرے کا مقاطعہ کیے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑدو یہاں تک کہ وہ آپس میں صلح کرلیں۔ ‘‘
تشریح: یہ رسول اللہ ﷺکے حکیمانہ طریقِ تعلیم کی ایک شاندار مثال ہے۔ ایک طرف تو حضورؐ نے اپنے اس فعل کی مصلحت بیان فرمائی اوردوسری طرف ایک عظیم الشان اخلاقی تعلیم دی۔
پہلی چیزجوفرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر پیر اور جمعرات کو ہرمسلم کی مغفرت فرماتاہے تو اس میں لفظ مُسْلِم کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک شکل تو یہ ہے کہ لفظ مُسْلِم کو اس کے حقیقی معنی میں لیا جائے۔ یعنی وہ آدمی جو واقعی اللہ تعالیٰ کا مطیع وفرمانبردار ہو اور اس نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے رکھی ہو اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے اسلام کا انکار کرنے کے بجائے اسے قبول کرلیا ہے۔ اس پر لفظِ مسلم کا اطلاق ہوگا، قطعِ نظر اس سے کہ اس کی عملی زندگی میں کیا کچھ خامیاں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اگر یہاں مسلم پہلے معنوں میں لیا جائے تو اس کی مغفرت کے معنی یہ ہوںگے کہ مسلم ہونے کے باوجود انسانی کمزوریوں کی بنا پر اس سے جو لغزشیں اور خطائیں ہوتی ہیں وہ اس کی نفلی عبادات کے صلے میں آپ سے آپ معاف کردی جاتی ہیں۔
اگریہاں مُسْلِمدوسرے معنوں میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ محض اسلام قبول کرنے اور اسلام کو قطعی طورپر رد کرکے کفر پر قائم رہنے میں بہر حال فرق ہے اور دونوں چیزوں کے الگ الگ نتائج ہیں۔ اگر ایک آدمی اسلام کو قطعی طور پر رد کردیتاہے اور کہتاہے کہ میں قرآن کو کتابِ ہدایت اور محمد رسول اللہ ﷺکو خدا کا رسول تسلیم نہیں کرتا اور اپنے کفر پر (خواہ وہ عیسائیت ہو یا یہودیت یا کوئی اور مذہب) قائم رہتاہے تو وہ لازمًا باغی ہے۔ اس صورت میں اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں ہے اور اس کے بارے میں کسی عملِ صالح کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی حکومت کے خلاف بغاوت کردے تو وہ حکومت اس کے کسی فعل کو بھی مطابقِ قانون نہیں مانے گی۔ چاہے وہ خود دوسروں کو تعزیراتِ پاکستان کے مطابق سزائیں دیتارہاہو اور اس نے دوسروں پر’’ کرمنل پروسیجر کوڈ‘‘ (CRIMINAL PROCEDURE CODE) کے مطابق مقدمات چلائے ہوں، یا اسے ’’سِوِل سروس کنڈکٹ رولز‘‘ کے تحت عدالت کا جج مقرر کیا گیا ہو اور وہ پورے ملکی قانون پر عمل پیرا رہاہو۔ جب وہ بغاوت کے جرم میں پکڑا جائے گا تو حکومت اسے پوری سزادے گی اور کوئی گنجایش یا اجر اس بات کا نہیں دے گی کہ وہ کبھی کرمنل پروسیجر کوڈ کے مطابق یا تعزیراتِ پاکستان کے مطابق کام کرتا رہاہے اور تمام قوانین کا پابند تھا ــــایساہی معاملہ خدا کے اس باغی کا ہے جس نے اسلام کو ردکرد یا اور کفر اور شرک پر قائم رہا۔ اس کے کسی عمل کے عمل صالح ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا سب کچھ کیا ہوا ضائع ہوجائے گا اور اسے اس کی بغاوت کی پوری پوری سزا بھی دی جائے گی ــــ لیکن اگر کوئی آدمی اسلام کو برحق مان لیتاہے اور اس کی پیروی کا اقرار کرلیتا ہے تو اس طرح وہ گویا خدا کی وفادار رعایا میں شامل ہوجاتاہے۔ اب اگروہ کوئی گناہ یا قصور کرتاہے تو وہ مجرم شمار ہوگا، باغی نہیں۔ وہ اگر کوئی نیکی کرتاہے تو اس کے اجر کا مستحق ہوگا اور اگر کوئی قصور کرتاہے تو اس کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ وہ اس دائرے سے نکل آیاہے جس میں وہ خدا کا باغی تھا۔ اب اس صورت میں اس کے لیے اس کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر بھی اجر ہے اور ایسا بھی ہوسکتاہے کہ وہ زندگی بھر برائیوں میں مبتلارہنے کے باوجود نیکی کا کوئی ایسا کام کرجائے جس سے اس کو بالکل معافی مل جائے۔ مثال کے طورپر ایک آدمی سخت گنہگار ہے لیکن ہے مومن اور مسلم۔ ایک وقت ایسا آتاہے کہ اسلام اور کفر کی جنگ پیش آجاتی ہے۔ اس حالت میں اس پر غیرتِ ایمانی غلبہ پاتی ہے اور وہ اللہ کے راستے میں جاکر لڑتا ہوا شہید ہوجاتاہے۔ اس طرح اس کا وہ ایک ہی فعل اس کے تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔ چنانچہ ایک مسلم کے لیے مغفرت کی بیسیوں شکلیں ہیں اور یہاں یہی فرمایا گیاہے کہ ہر مسلم کی مغفرت ہوتی ہے۔
مغفرت کے بھی دومعنی ہیں۔ ایک معنی ہیں کلّی مغفرت کے اور دوسرے معنی ہیں جُزوی مغفرت کے۔ کُلّی مغفرت یہ ہے کہ سارے قصور معاف کردیے جائیں اور جُزوی مغفرت یہ ہے کہ اس کی ایک ایک نیکی ایک ایک گناہ کا بدلہ ہوتی چلی جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ برائیوں پر پکڑہی لیا جائے ــــآخرت میں حساب لگایا جائے گا کہ اس آدمی نے کتنی نیکیاں کی ہیں اور کتنی بدیاں اس سے سرزد ہوئی ہیں۔ اس کی نیکیوں کے حساب سے اس کی بدیاں چھانٹ دی جائیں گی۔ اگر اس کے بعد بھی بدیاں باقی رہ جائیںگی تو اس صورت میں اسے سزا ملنے کا سوال پیدا ہوگا۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل واحسان سے اس کو سزا دیے بغیر بخش دے۔
تخریج: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِیْمِ الْعَنْبَرِیُّ، ثَنَا الضَّحَاکُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَۃَ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْہِ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَصُوْمُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ تَصُوْمُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَقَالَ اِنَّ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ یَغْفِرُ اللّٰہُ فِیْھِمَا لِکُلِّ مُسْلِمٍ اِلاَّ مُتَھَاجِرَیْنِ، یَقُوْلُ دَعْھُمَا حَتّٰی یَصْطَلِحَا۔(۷۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺپیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ اکثر رکھتے ہیں؟ اس کے جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن وہ ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ ہر مسلم کی مغفرت فرماتاہے۔ بجز ان دومسلمانوں کے جو ایک دوسرے کا مقاطعہ کیے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑدو یہاں تک کہ وہ آپس میں صلح کرلیں۔
خدا کی خوشنودی کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت
۱۱۶۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَامَ یَوْمًا اِبْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ بَعَّدَہُ اللّٰہُ مِنْ جَھَنَّمَ کَبُعْدِ غُرَابٍ طَائِرٍ وَھُوَ فَرْخٌ حَتّٰی مَاتَ ھَرِمًا۔ (مسند احمد ، بیھقی)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھا اللہ اسے جہنّم سے اتنے فاصلے تک دُور کردیتاہے جتنا فاصلہ کہ ایک کوّا اپنے پیدا ہونے کے بعد سے بوڑھا ہوکر مرنے کی عمر تک اڑ کر طے کرتاہے۔‘‘
تشریح: اس سے پہلے اس نوعیت کی مختلف احادیث گزرچکی ہیں جن میں سے ایک میں یہ کہاگیا تھا کہ یہ اجر اس شخص کے لیے ہے جس نے فی سبیل اللہ روزہ رکھا۔ اس حدیث میں یہ کہا گیاہے کہ یہ اجر اس شخص کے لیے ہے جس نے اللہ کی خوشنودی کی خاطر روزہ رکھا۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک شخص ایک نفلی روزہ رکھ لے اور اس کے نتیجے میں جب وہ جہنم سے اتنے بڑے فاصلے پر پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ یہ سوچنا شروع کردے کہ اب مجھے مزید عبادت کرنے اور مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ــــدرحقیقت یہ بات ان لوگوں کے لیے فرمائی ہی نہیں گئی جو اللہ تعالی کی بندگی سے فرار کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ یہ بات ان لوگوں سے کہی گئی ہے جو ایک طرف تو پوری دل جمعی اور انہماک کے ساتھ فرائض کی ادائیگی کرنے والے تھے اور دوسری طرف انہیں مزید ایسے کاموں کی طلب رہتی تھی جن سے وہ اللہ تعالیٰ کی اور زیادہ خوشنودی حاصل کرسکیں۔
اس طرح کی احادیث کو دیکھ کر بعض لوگ ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہ حدیثیں ہیں جنہوں نے لوگوںکو بگاڑا ہے۔ حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ انہیں حدیثوں نے درحقیقت اس معاشرے کو بنایاتھا ــــاُن لوگوں کی تربیت اس انداز سے کی گئی تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہروقت بے تاب رہتے تھے۔ ان لوگوں کو ایک ایک چیز بتائی گئی کہ یہ یہ کام کروگے تواس پر اس اجر کے مستحق ہوگے۔ چنانچہ وہ ایک ایک کام کی طرف لپکتے جاتے تھے اور ہروقت اس بات کے حریص رہتے تھے کہ نیکی کا کوئی کام ایسا نہ رہ جائے جسے وہ انجام نہ دے سکے ہوں۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ، ثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ، عَنْ خَالِدِ ابْنِ یَزِیْدَ، عَنْ لَھِیَعَۃَ اَبِی عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاہُ حَدَّثَنِیْ سَلَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ صَامَ یَوْمًا اِبْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ بَعَّدَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ جَھَنَّمَ کَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَھُوَ فَرْخٌ حَتّٰی مَاتَ ھَرِمًا۔(۷۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھا اللہ اُسے جہنّم سے اتنے فاصلے تک دُور کردیتاہے جتنا فاصلہ کہ ایک کوّا اپنے پیدا ہونے کے بعد سے بوڑھا ہوکر مرنے کی عمر تک اُڑ کر طے کرتاہے۔
نفلی روزہ قبل از وقت افطار کرنے کے متعلق حضورؐ کے دو عمل
۱۱۷۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ ھَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ فَقُلْنَا لاَ، قَالَ فَاِنِّیْ اِذًا صَائِمٌ، اَتَانَا یَوْمًا اٰخَرَ فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُھْدِیَ لَنَا حَیْسٌ فَقَالَ اَرِیْنِیْہِ فَلَقَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا فَاَکَلَ۔ ( مسلم)
’’حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺمیرے ہاں تشریف لائے اور آپؐ نے دریافت فرمایا:’’کیا تمہارے پاس (کھانے کو) کچھ ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں ۔ فرمایا: اچھّا تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ــــ پھر کسی دوسرے روز حضورؐ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں کچھ حَیس ہدیۃً بھیجاگیا ہے۔آپؐ نے فرمایا: اچھا لاؤ مجھے دکھاؤ، میں نے تو صبح روزہ رکھ لیا تھا۔ پھرآپؐ نے اسے تناول فرمایا۔‘‘
تشریح: اس حدیث میں یہ بتایا گیاہے کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺنے گھر میں کھانا نہ ہونے کی وجہ سے روزہ رکھ لیا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ آپؐنے یہ خیال کرکے کہ شاید گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوگا آپ نے روزہ رکھ لیا۔ بعد میں گھر میں کسی کے ہاں سے ہدیہ کے طورپر حَیس آیا تو آپؐنے اپنا روزہ کھول لیا اور اسے تناول فرمایا۔ یہ دونوں واقعات نفلی روزے سے متعلق ہیں۔ آگے اس سلسلے کی کچھ مزید احادیث آتی ہیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْيٰ، عَنْ عَمَّتِہٖ، عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ المُوْمِنِیْنَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ ھَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟ فَقُلْنَا لاَ، قَالَ فَاِنِّیْ اِذًا صَائِمٌ، ثُمَّ اَتَانَا یَوْمًا اٰخَرَ فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُھْدِیَ لَنَا حَیْسٌ فَقَالَ اَرِیْنِیْہِ فَلَقَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا فَاَکَلَ۔(۷۲)
ترجمہ : حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺمیرے ہاں تشریف لائے اور آپؐ نے دریافت فرمایا:’’کیا تمہارے پاس (کھانے کو) کچھ ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں ۔ فرمایا: اچھّا تو میں روزہ رکھ لیتا ہوںـــــ ــــ پھر کسی دوسرے روز حضورؐ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں کچھ حَیسکھجور، گھی اور جمے ہوئے دودھ کو ملاکر ایک ملیدہ سا بنا لیا جاتاہے اُسے حَیس کہتے ہیں۔ ہدیۃً بھیجاگیا ہے۔آپؐ نے فرمایااچھا لاؤ مجھے دکھاؤ، میں نے تو صبح روزہ رکھ لیا تھا۔ پھرآپؐ نے اسے تناول فرمایا۔
نفلی روزے کی قضا کا مسئلہ
۱۱۸۔ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ عَلٰی اُمِّ سُلَیْمٍ فَاَتَتْہُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ اَعِیْدُوا سَمْنَکُمْ فِی سِقَائِہٖ وَتَمْرَکُمْ فِی وِعَائِہٖ فَاِنِّی صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ اِلٰی ناحِیَۃٍ مِّنَ الْبَیْتِ فَصَلّٰی غَیْرَ الْمَکْتُوْبَۃِ فَدَعَا لِاُمِّ سُلَیْمٍ وَاَھْلِ بَیْتِھَا۔ ( بخاری)
’’حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺایک روز( میری والدہ) اُمّ سُلیمؓ کے ہاں تشریف لائے تو وہ آپؐ کی خدمت میں کھجور اور گھی لے کر آئیں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ اپنا گھی برتن میں اور اپنی کھجوریں تھیلے میں واپس کردو کیونکہ میں آج روزے سے ہوں ــــ پھر حضورؐ گھر کے ایک کونے میں جاکر کھڑے ہوگئے اور آپؐنے نفل نماز پڑھی۔ پھر آپؐنے حضرت اُمّ سُلَیمؓ اور ان کے گھروالوں کے لیے دعا کی ۔‘‘
تشریح: حضرت اُمّ سُلَیمؓ حضرت انسؓ کی والدہ تھیں۔ یہ خاندان رسول اللہ ﷺ سے بے انتہامحبت کرنے والا اور آپؐ کا بہت بڑا خدمت گزار تھا۔حضورؐ بھی اس خاندان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کو ان کے گھر والوں نے دس سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دے دیا تھا اور انہوں نے دس سال حضورؐ کی خدمت کی۔ ان دیرینہ مراسم اور تعلّقاتِ محبت کی بنا پر حضورؐ اکثر اُن کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ــــ حضرت انسؓ ایسے ہی ایک موقع کا ذکر یہاں فرماتے ہیں۔
اس طرح اب دومختلف حدیثیں آپ کے سامنے ہیں۔ ایک حدیث میں یہ آیاہے کہ حضورؐ نے نفلی روزہ رکھا ہوا تھا، کھانا آیا توآپؐ نے کھالیا۔ اس حدیث میں یہ ہے کہ روزے کی حالت میں آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا لیکن آپؐ نے کھانے سے انکار کردیااور فرمایا کہ میں روزے سے ہوں ــــ ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ایک حالت تو وہ تھی کہ حضورؐ نے گھر میں کھانانہ ہونے کی وجہ سے روزے کی نیت کرلی لیکن جب دیکھا کہ گھر میں کھانا آگیاہے تو روزہ کھول لیا۔ روزے کی نیّت اس لیے کی کہ جب گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ہے تو بجائے اس کے کہ ویسے ہی فاقہ کیاجائے روزہ رکھ لینا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر ملے ـ ــــ دوسری حالت میں یہ ہوا کہ اس روز پہلے سے نفلی روزہ رکھنے کا ارادہ تھا اس لیے کھانا سامنے آنے کے باوجود روزہ افطار نہیں کیا ــــان دونوں حالتوں میں واضح فرق ہے۔ وہاں چونکہ روزہ اس وجہ سے رکھ لیا تھا کہ کھانا نہیں ہے اس لیے جب کھانا آگیا تو کھالیا، لیکن یہاں چونکہ پہلے سے روزہ رکھنے کا ارادہ تھا اس لیے کھانا آبھی گیا لیکن نفلی روزہ ہونے کے باوجود افطار نہیں کیا۔
فقہاء کے درمیان نفلی روزے کی قضا کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام احمدؒ اور امام شافعیؒ کا قول مختلف احادیث کے پیش نظر یہ ہے کہ اگر ایک شخص نفلی روزہ توڑدے اور کھانا کھالے تو اس کی کوئی قضا نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کی قضا ہے اور امام مالکؒ کا قول یہ ہے کہ اگر آدمی بلاعذر روزہ توڑدے تو اس کی قضا ہے لیکن اگر کسی معقول وجہ سے روزہ کھول لے تو اس کی قضا نہیں ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، ثَنِیْ خَالِدٌ ھُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، ثَنَا حُمَیْدٌ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ عَلٰی اُمِّ سُلَیْمٍ، فَاَتَتْہُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ: اَعِیْدُوْا سَمْنَکُمْ فِی سِقَائِہٖ وَتَمْرَکُمْ فِی وِعَائِہٖ فَاِنِّی صَآئِمٌ، ثُمَّ قَامَ اِلٰی ناحِیَۃٍ مِّنَ الْبَیْتِ فَصَلّٰی غَیْرَ الْمَکْتُوْبَۃِ فَدَعَا لِاُمِّ سُلَیْمٍ وَاَھْلِ بَیْتِھَا۔
فَقَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ لِیْ خَوَیْصَۃً قَالَ : مَا ھِیَ؟ قَالَتْ: خَادِمُکَ اَنَسٌ، فَمَا تَرَکَ خَیْرَ اٰخِرَۃٍ وَلاَ دُنْیَا اِلاَّ دَعَا لِیْ بِہٖ، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْہُ مَالاً وَوَلَدًا وَبَارِکْ لَہٗ فَاِنِّیْ لَمِنْ اَکْثَرِ الْاَنْصَارِ مَالاً۔(۷۳)
وَحَدَّثَتْنِی ابْنَتِیْ اُمَیْنَۃُ، اَنَّہٗ دُفِنَ لِصُلْبِیْ مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ الْبَصْرَۃَ بِضْعٌ وَّعِشْرُوْنَ وَمِائَۃٌ۔
وَقال ابن ابی مریم انا یحيٰ بن ایوب ثنی حمید سمع انسًا عن النَّبی ﷺ۔
ترجمہ : حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺایک روز( میری والدہ) اُمّ سُلَیْمؓ کے ہاں تشریف لائے تو وہ آپؐ کی خدمت میں کھجور اور گھی لے کر آئیں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ اپنا گھی برتن میں اور اپنی کھجوریں تھیلے میں واپس کردو کیونکہ میں آج روزے سے ہوںــــــ پھر حضورؐ گھر کے ایک کونے میں جاکر کھڑے ہوگئے اور آپؐنے نفل نماز پڑھی۔ پھر آپؐ نے حضرت اُمّ سُلَیمؓ اور ان کے گھروالوں کے لیے دعا کی ۔
اُمّ سُلَیمؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے پاس حقیر سا ہدیہ وتحفہ ہے۔ آپؐ نے پوچھا: وہ کیاہے؟عرض کیا: آپؐ کا خادم انس ہے ۔ آپؐ نے دین ودنیا اور آخرت کی ہربھلائی کی میرے حق میں دعا فرمائی۔ خدایا اسے وافر مال واولاد سے نواز اور پھر اس میں برکت عطا فرما۔ اس دعا کا نتیجہ ہے کہ آج میں انصار میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔
میری بیٹی اُمَینَہ نے مجھے بتایاہے کہ حجاج کے بصرہ میں آنے سے پہلے میری پشت سے ایک سوبیس سے زائد افراد وفات پاچکے ہیں۔
کھانے کی دعوت قبول کرنا مسنون ہے
۱۱۹۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ اِلٰی طَعَامٍ وَھُوَ صَائِمٌ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ صَائِمٌ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ۔ قَالَ اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ فَلْیُجِبْ فَاِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُصَلِّ وَاِنْ کَانَ مُفْطِرًا فَلْیَطْعَمْ ۔ ( مسلم)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہوتو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں ــــایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے وہ دعوت قبول کرلینی چاہیے۔ پھر اگر وہ روزے سے ہو تو وہ نماز پڑھ لے اور اگر روزے سے نہ ہوتو کھانا کھالے۔ ‘‘
تشریح: یہ جو فرمایا کہفَلْیُصَلِّ یعنی اگر وہ روزے سے ہو تو وہ نماز پڑھ لے، تو اس مقام پر اس کے دومعنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ دعوت کرنے والے کے حق میں دعا کرے۔ دوسرے یہ کہ جب لوگ کھانا کھانے لگیں تو یہ اس دوران میں نفل پڑھے۔ یہ دونوں معنی عملاً اس طرح جمع ہوسکتے ہیں کہ آدمی نفل نماز بھی پڑھے اور دعوت دینے والے کے لیے دعا بھی کرے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَعَمْرُو النَّاقِدُ وَزُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوْا : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ : رِوَایَۃً وَقَالَ عَمْرٌ ویَبْلُغُ بِہٖ النَّبیَّ ﷺ وَقَالَ زُھَیْرُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ اِلٰی طَعَامٍ وَھُوَ صَآئِمٌ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ صَآئِمٌ۔(۷۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہوتو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔
دوسری روایت:
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ فَلْیُجِبْ، فَاِنْ کَانَ مُفْطِرًا، فَلْیَطْعَمْ وَاِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُصَلِّ۔(۷۵)
قال ھشام: والصلوۃالدعاء۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے وہ دعوت قبول کرلینی چاہیے۔ پھر اگر وہ روزے سے نہ ہو تو کھانا کھالے اور اگر وہ روزے سے ہو تو وہ نماز پڑھ لے۔
نفلی روزہ قبل از وقت افطار کیا جاسکتاہے
۱۲۰۔ عَنْ اُمِّ ھَانِیئٍ قَالَتْ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ جَآئَ تْ فَاطِمَۃُ فَجَلَسَتْ عَلٰی یَسَارِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاُمِّ ھَانِیئٍ عَنْ یَمِیْنِہٖ، فَجَآئَ تِ الْوَلِیْدَۃُ بِاِنَائٍ فِیْہِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْہُ فَشَرِبَ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوَلَہٗ اُمَّ ھَانِیئٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ اَفْطَرْتُ وَکُنْتُ صَائِمَۃً، فَقَالَ لَھَا اَکُنْتِ تَقْضِیْنَ شَیْئًا؟ قَالَتْ : لاَ قَالَ فَلاَیَضُرُّکِ اِنْ کَانَ تَطَوُّعًا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَتْ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَمَّا اِنِّیْ کُنْتُ صَائِمَۃً، فَقَالَ : اَلصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ اَمِیْرُ نَفْسِہٖ، اِنْ شَآئَ صَامَ وَاِنْ شَآئَ اَفْطَرَ۔ (ابوداؤد، ترمذی، دارمی، مسنداحمد)
’’حضرت اُمِّ ہانی یہ حضورؐ کی چچا زاد اور حضرت علیؓ کی سگی بہن تھیں کا بیان ہے کہ فتح مکّہ کے روز (رسول اللہﷺمیرے ہاں تشریف لائے تو ) حضرت فاطمہؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپؐ کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں (یعنی امِّ ہانیؓ) آپؐ کے دائیں ہاتھ بیٹھی تھی۔ اتنے میں گھر کی ملازم لڑکی ایک برتن میں کچھ پینے کے لیے لائی اور اسے حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپؐ نے اس میں سے نوش فرمالیا اور پھر آپؐ نے وہی برتن اُمِّ ہانیؓ کو دے دیا۔ انہوں نے اس میں سے پی لیا اور پھر عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں نے روزہ کھول لیاہے درآنحالیکہ میں روزے سے تھی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: کیا تم اپنے کسی پچھلے روزے کی قضا کررہی تھیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ نفلی روزہ تھا تو اس (کے افطار کرلینے) میں تمہارے لیے کچھ مضائقہ نہیں ــــ ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ حضرت اُمِّ ہانیؓ نے عرض کیا : یا رسولؐ اللہ! میں تو روزے سے تھی۔ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امیر (بادشاہ) ہوتاہے۔ اگر وہ چاہے تو روزہ رکھ لے (یعنی اس کی تکمیل کرے) اور اگر چاہے تو افطار کرلے۔ ‘‘
تشریح : ایک مومن مرد یا عورت کے لیے اس سے بڑھ کر عزت اور برکت کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ نبی ﷺنے کسی برتن میں پانی پی کر اسے دے دیا ہو۔ چنانچہ حضرت اُمِّ ہانی نے اسی شوق میں حضورؐ کا چھوڑا ہوا پانی پی لیا۔ لیکن اس کے بعد یہ فکر ہوئی کہ آیا اس طرح روزہ افطار کرنا چاہیے تھا یا نہیں۔ اس لیے حضورؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں تو روزے سے تھی۔ اس پر حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ نفلی روزہ تھا تو کوئی مضائقہ نہیں۔
معلوم ہوا کہ نفلی روزے میں وہ پابندی نہیں ہے جو فرض روزے میں ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص فرض روزہ جان بوجھ کر توڑدے تو اس کے کفارے کے طورپر اسے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔ لیکن اگر نفلی روزہ کھول لے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
’’کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ کے الفاظ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتاہے کہ نفلی روزہ کھول لینے پر کوئی کفارہ واجب نہیں آتا اور نہ اس کی کوئی سزا ہے نہ اس پر کوئی گرفت ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ اس کی قضا تو کرنا ہوگی روزہ کھول لینے کا کوئی گناہ نہیں۔ اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان جو اختلاف ہوا ہے وہ ان احادیث کے معنی کو دیکھ کر ہوا ہے اور اس اختلاف کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہے۔ ہرایک نے کسی نہ کسی چیز سے دلیل لی ہے اور کوئی فتویٰ بے دلیل نہیں دیاہے۔
تخریج(۱) : حَدّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَرْثِ، عَنْ اُمِّ ھَانِیئٍ قَالَتْ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ جَآئَ تْ فَاطِمَۃُ فَجَلَسَتْ عَلٰی یَسَارِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاُمُّ ھَانِیئٍ عَنْ یَمِیْنِہٖ، قَالَتْ : فَجَآئَ تِ الْوَلِیْدَۃُ بِاِنَائٍ فِیْہِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْہٗ، فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ نَاوَلَہٗ اُمَّ ھَانِیئٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ، فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ اَفْطَرْتُ وَکُنْتُ صَائِمَۃً فَقَالَ: لَھَا اَکُنْتِ تَقْضِیْنَ شَیْئًا؟ قَالَتْ: لاَ، قَالَ فَلاَیَضُرُّکِ اِنْ کَانَ تَطَوُّعًا۔(۷۶)
’’حضرت اُمِّ ہانی کا بیان ہے کہ فتح مکّہ کے روز (رسول اللہ ﷺمیرے ہاں تشریف لائے تو ) حضرت فاطمہؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپؐ کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں (یعنی اُمِّ ہانیؓ)آپؐ کے دائیں ہاتھ بیٹھی تھی۔ اتنے میں گھر کی ملازم لڑکی ایک برتن میں کچھ پینے کے لیے لائی اور اسے حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپؐ نے اس میں سے نوش فرمالیا اور پھرآپؐ نے وہی برتن اُمِّ ہانیؓ کو دے دیا۔ انہوں نے اس میں سے پی لیا اور پھر عرض کیا: یا رسولؐاللہ ! میں نے روزہ کھول لیاہے درآنحالیکہ میں روزے سے تھی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: کیا تم اپنے کسی پچھلے روزے کی قضا کررہی تھیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ نفلی روزہ تھا تو اس (کے افطار کرلینے) میں تمہارے لیے کچھ مضائقہ نہیں۔‘‘
ترمذی میں منقول روایت:
(۲) عَنِ ابْنِ اُمِّ ھَانِیئٍ، عَنْ اَمِّ ھَانِیئٍ۔ قَالَتْ: کُنْتُ قَاعِدَۃً عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاُتِیَ بِشَرابٍ، فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ نَاوَلَنِیْ فَشَرِبْتُ مِنْہُ، فَقُلْتُ: اِنِّیْ اَذْنَبْتُ فَاسْتَغْفِرْلِیْ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَتْ: کُنْتُ صَائِمَۃً فَاَفْطَرْتُ، فَقَالَ: أَمِنْ قَضَائٍ کُنْتِ تَقْضِیْہِ؟ قَالَتْ: لاَ، قَالَ: فَلاَ یَضُرِّکِ۔(۷۷)
وفی الباب عن ابی سعید وعائشۃ۔ حدیث ام ھانیئٍ۔ فی اسنادہ مقال۔
ترجمہ : حضرت اُمِّ ہانیؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی ﷺکے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ کوئی مشروب آپ ؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ ؐ نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا پھر مجھے عنایت فرمادیا۔ میں نے بھی اس میں سے کچھ پی لیا اور عرض کیا میں گناہ کر بیٹھی میرے لیے معافی کی درخواست کریں۔ آپ ؐ نے فرمایا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ میں تو روزے سے تھی اب افطار کر بیٹھی ہوں۔ آپ ؐ نے دریافت فرمایا کیا قضا کے روزے رکھ رہی تھیں۔ کہا کہ نہیں ایسا نہیں تھا تو پھر آپ نے فرمایا کوئی مضائقہ نہیں۔
وَالْعَمَلُ عَلَیْہِ عِنْدَ بَعْضِ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَغَیْرِھِمْ اِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ اِذَا اَفْطَرَ فَلاَ قَضَآئَ عَلَیْہِ اِلاَّ اَنْ یُحِبَّ اَنْ یَّقْضِیَہٗ وَھُوَ قول سفیان الثوری واحمد واسحاق والشافعی۔
ــــامام ترمذی کہتے ہیں بعض اہلِ علم صحابہ کرام اور دیگر صاحبِ علم حضرات کی رائے یہ ہے کہ نفلی روزہ رکھنے والے پر اس کے توڑنے کی صورت میں کوئی قضا لازم نہیں ہے۔ ہاں اگر اپنی خوشی سے قضادینی چاہے تو دے لے۔ سفیان ثوریؒ، امام احمدؒ، امام شافعی اور اسحاق کی یہی رائے ہے۔
(۳)حَدَّثَنَا اَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِیْ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیْسٰی الْقَاضِیْ، ثَنَا اَبُوْیُوْنُسَ حَاتِمُ بْنُ اَبِیْ صَفِیْرَۃَ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ اَبِیْ صَالحٍ، عَنْ اُمِّ ھَانِیئٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ : الصَّآئِمُ الْمُتَطَوِّعُ اَمِیْرُ نَفْسِہٖ اِنْ شَآئَ صَامَ وَاِنْ شَائَ اَفْطَرَ۔ (۷۸)
ترجمہ : حضرت ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکا ارشادِ گرامی ہے کہ نفلی روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امیر ہے۔ چاہے تو روزہ رکھ لے یعنی اس کو مکمل کرلے اور چاہے تو افطار کرلے۔
نفلی روزے کی قضا
۱۲۱۔ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کُنْتُ اَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اِشْتَھَیْنَاہُ فَاَکَلْنَا مِنْہُ، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا کُنَّا صَائِمَتَیْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اِشْتَھَیْنَاہُ فَاَکَلْنَا مِنْہُ، قَالَ اِقْضِیَا یَوْمًا اٰخَرَ مَکَانَہٗ۔ (ترمذی، ابوداؤد)
’’امام زہریؒ، عروہؒ بن زبیر سے اور وہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میںاور حفصہؓ ایک مرتبہ روزے سے تھیں۔ اس حالت میں ہمارے سامنے ایک ایسا کھانا پیش کیا گیا جو ہمیں بہت مرغوب تھا چنانچہ ہم دونوں نے اس میں سے کھالیا۔ اس کے بعد حضرت حفصہؓ نے حضورؐ سے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم دونوں روزے سے تھیں لیکن ہمارے سامنے ایک ایسا کھانا پیش کیا گیا جو ہمیں بہت مرغوب تھا اس لیے ہم نے اس میں سے کھالیا۔ اس پر حضورؐ نے ارشاد فرمایا: اس کی قضا کرنے کے لیے اس کے بدلے میں کسی دوسرے دن کا روزہ رکھ لو۔ ‘‘
تشریح: پچھلی حدیث میں فرمایا گیا تھا کہ تم اپنے نفس کے مالک ہو، چاہے نفلی روزہ رکھو چاہے نہ رکھو۔ اگر روزہ ہونے کے باوجود کھول لو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یہاں یہ فرمایا گیا کہ اس کی قضا کرو۔ اس سلسلے کی احادیث کو جمع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ’’قضا کرو‘‘ کے الفاظ کا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ تمہیں قضا کرنی چاہیے اور یہ مطلب بھی ہوسکتاہے کہ اگر تم نے روزہ کھول لیا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں اگرتمہارے دل میں ملال ہے تو کسی دوسرے دن اس کی قضا کرلو، البتہ روزہ کھول لینے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ خود یہ حدیث اس بارے میں واضح اور قطعی نہیں ہے کہ آیا قضا کرنے کے الفاظ حکم کی حیثیت رکھتے ہیں یا ان کا مطلب محض یہ ہے کہ اگر آدمی چاہے تو وہ دوسرے دن کا روزہ رکھ کر اس کی تلافی کرلے۔
فقہاء کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں وہ عمومًا ایسی احادیث اور آیات کے معانی متعین کرنے میں ہوئے ہیں اور یہ اختلافات بالکل فطری ہیں۔ بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں کسی شخص کے پاس بھی ایسی کوئی قطعی دلیل نہیں ہوتی جس کی بناء پر وہ دوسرے کے قول کو غلط قرار دے سکے۔ ہرایک شخص کی دلیل خود اس کے اپنے نزدیک تو زیادہ مرجّح ہوتی ہے لیکن دوسروں کے نزدیک اس کا وہ وزن نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسے مواقع پر یہ کہنا درست نہیں ہوتا کہ فلاں کا قول یکسر غلط ہے۔ اسی طرح کسی شخص کے لیے اس دعوے کے ساتھ اسے رد کرنا بھی صحیح نہیں ہوتاکہ وہ حدیث یا قرآن کے بالکل خلاف ہے۔
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَاکَثِیْرُ بْنُ ھِشَامٍ، نَا جَعْفَرُ بْنُ یُرْقَانَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کُنْتُ اَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اِشْتَھَیْنَاہُ فَاَکَلْنَا مِنْہُ، قَالَ اِقْضِیَا یَوْمًا اٰخَرَ مَکَانَہٗ۔ (۷۹)
قال ابوعیسٰی وروی صالح بن ابی الاخضر ومحمد بن ابی حفصۃ ھذا الحدیث عن الزھری عن عروۃ عن عائشۃ مثل ھذا۔
وروی مالک بن انس ومعمرو عبیداللہ بن عمروزیاد بن سعد وغیر واحدٍ من الحفاظ عن الزھری عن عائشۃ مرسلاً ولم یذکروا فیہ عن عروۃ وھذا اصح لانہ روی عن ابن جریج قالت سألت الزھری فقلت احدثک عن عروۃ عن عائشۃ قال لم اسمع من عروۃ فی ھٰذا شیئًا ولٰکن سمعت فی خلافۃ سلیمان بن عبدالملک من ناس عن بعض ما سأل عائشۃ عن ھذا الحدیث۔
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ: قَالَتْ: اُھْدِیَ لِیْ وَلِحَفْصَۃَ طَعَامٌ وَکُنَّا صَائِمَتَیْنِ فَافْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْنَا لَہٗ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا اُھْدِیَتْ لَنَا ھَدْیَۃٌ فَاشْتَھَیْنَاھَا فَافْطَرْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَعَلَیْکُمَا صَوْمًا مَکَانَہٗ یَوْمًا اٰخَرَ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ مجھے اور حفصہؓ کو ایسا کھانا تحفہ کے طورپر بھیجا گیا جو ہمیں بہت پسندتھا۔ ہم روزے سے تھیں، تاہم ہم نے روزہ افطار کرلیا۔ اتنے میں رسول اللہﷺتشریف لے آئے۔ ہم نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمیں آج ایسا کھانا ہدیۃً بھیجا گیا جو ہمیں بہت مرغوب اور پسند تھا۔ ہم نے روزہ افطار کرلیا۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ تم پر کوئی گناہ نہیں بلکہ تم اس کی جگہ دوسرے دن کا روزہ رکھ لینا۔
نفلی روزہ رکھنے والے کی فضیلت
۱۲۲۔ عَنْ اُمِّ عُمَّارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ : دَخَلَ عَلَیْھَا، فَدَعَتْ لَہٗ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَھَا : کُلِیْ، فَقَالَتْ : اِنِّیْ صَائِمَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اِنَّ الصَّآئِمَ اِذَا اُکِلَ عِنْدَہٗ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی یَفْرُغُوْا۔ (مسنداحمد، ترمذی، ابن ماجہ، الدارمی)
’’حضرت اُمِّ عمارہ بنت کعب ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز نبی ﷺان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپؐ کے سامنے کھانا پیش کیا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں روزے سے ہوں۔ چنانچہ نبی ﷺنے فرمایا: اگر روزہ دار آدمی کے پاس کھانا کھایا جائے (اور وہ اس میں شریک نہ ہو) تو فرشتے اس کے لیے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک کہ لوگ کھانا کھانے سے فارغ نہ ہوجائیں۔‘‘
تشریح : یہ ایک بہت بڑی بات ہے کہ آدمی نفلی روزہ رکھے ہوئے ہو اور یہ حق رکھتے ہوئے بھی کہ وہ روزہ کھول کر کھاپی سکتاہے اپنا روزہ پورا کرے۔ دوسرے لوگ اس کے سامنے کھاپی رہے ہوں لیکن وہ روزے سے رہے، اس کے اندر صبر اور ضبطِ نفس کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، اور اس کے دل میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا جو جذبہ کار فرماہے اس کی وجہ سے ملائکہ برابر اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔
تخریج : اَخْبَرَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ حَبِیْبِنِالْاَنْصَارِیِّ، قَالَ : سَمِعْتُ مَوْلاَۃً لَنَا یُقَالُ لَھَا لَیْلٰی تُحَدِّثُ، عَنْ جَدَّتِھَا اُمِّ عمَارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ: عَنْ اُمِّ عُمَّارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ: اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ دَخَلَ عَلَیْھَا، فَدَعَتْ لَہٗ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَھَا : کُلِیْ، فَقَالَتْ : اِنِّیْ صَائِمَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : وَاِنَّ الصَّآئِمَ اِذَا اُکِلَ عِنْدَہٗ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی یَفْرُغُوْا وَرُبَمَا قَالَ حَتّٰی یَقْضُوْا اَکَلَھُمْ۔(۸۰)
ترجمہ : حضرت اُمِّ عمارہ بنت کعب ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز نبی ﷺان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپؐ کے سامنے کھانا پیش کیا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں روزے سے ہوں۔ چنانچہ نبی ﷺنے فرمایا: اگر روزہ دار آدمی کے پاس کھانا کھایا جائے (اور وہ اس میں شریک نہ ہو) تو فرشتے اس کے لیے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک کہ لوگ کھانا کھانے سے فارغ نہ ہوجائیں۔
نفلی روزہ رکھنے کا اجر
۱۲۳۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ : دَخَلَ بِلاَلٌ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ یَتَغَدّٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَلْغَدَائَ یَا بِلاَلُ، قَالَ: اِنِّیْ صَائِمٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : نَاْکُلُ رِزْقنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلاَلٍ فِی الْجَنَّۃِ، اَشَعَرْتَ یَابِلاَلُ اَنَّ الصَّائِمَ یُسَبِّحُ عِظَامُہٗ وَیَسْتَغْفِرُلَہُ الْمَلاَئِکَۃُ ما اُکِلَ عِنْدَہٗ۔ (بیھقی)
’’حضرت بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بلالؓ رسُولُ اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورؐ اس وقت دن کا کھانا کھارہے تھے۔ آپؐنے فرمایا: بلالؓ ! آؤ کھانے میں شریک ہوجاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں روزے سے ہوں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا: ہم اپنا رزق کھارہے ہیں اور بلال کا بہترین رزق جنت میں ہے۔ اے بلالؓ! تمہیں معلوم ہے کہ جب تک لوگ روزہ دار کے پاس کھانا کھاتے رہتے ہیں اس کی ہڈیاں تسبیح میں لگی ہوتی ہیں اور ملائکہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔‘‘
تشریح: یہ چیزکہ ایک آدمی کو کھانے کے لیے بلایا جائے اور کھانا سامنے موجود ہونے کے باوجود وہ اپنا نفلی روزہ پورا کرے، اتنا بڑا اجر رکھتی ہے کہ اس شخص کے لیے کھانا جنت میں محفوظ کردیا جاتاہے اور جتنی دیر تک لوگ اس کے پاس بیٹھے کھاتے رہیں اتنی دیر تک اس کی ہڈیاں تسبیح میں لگی ہوتی ہیں اور ملائکہ اس کے لیے استغفار کررہے ہوتے ہیں۔
تخریج :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی، ثَنَا بَقِیَّۃُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِبِلاَلٍ: اَلْغَدَآئَ یَا بِلاَلُ! فَقَالَ: اِنِّیْ صَآئِمٌ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : نَاْکُلُ اَرْزَاقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلاَلٍ فِی الْجَنَّۃِ، اَشَعَرْتَ یَابِلاَلُ اِنَّ الصَّآئِمَ یُسَبِّحُ عِظَامُہٗ وَیَسْتَغْفِرُلَہُ الْمَلاَئِکَۃُ ما اُکِلَ عِنْدَہٗ۔(۸۱)
وفی الزوائد: فی اسنادہٖ محمد بن عبدالرحمن متفق علٰی تضعیفہٖ وکذبہ ابن حاتم والازدیّ۔
ماخذ
(۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم شعبان۔٭ مسلم ج۱،کتاب الصیام باب صیام النبیﷺ فی غیر رمضان الخ۔٭ ابوداوٗد کتاب الصوم باب کیف کان یصوم النّبی ﷺ۔٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب صوم النبیﷺ۔ ٭ السنن الکبریٰ ج۴،کتاب الصیام باب فی فضل صوم شعبان۔
(۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب صیام النبی ﷺ فی غیر رمضان الخ۔٭ نسائی کتاب الصیام ج۲۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی صیام النبی ﷺ٭ السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب فی فضل صوم شعبان۔
(۳) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم شعبان۔ ٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی وصال شعبان برمضان۔٭ مؤطا امام مالک کتاب الصیام۔٭مسند احمد ج۶۔
(۴) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم شعبان۔ ٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب صیام النبیﷺ فی غیر رمضان۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم المحرم۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴۔ کتاب الصیام باب فضل الصوم فی اشھر الحرم۔٭دارمی کتاب الصوم باب فی صیام النبی ﷺ۔ ٭ مسندِ احمدج۱۔وغیرہ
(۵) مسلم ج۱ کتاب الصیام باب صیام النبی ﷺفی غیررمضان۔
(۶) بخاری ج۱ کتاب الصوم باب الصوم من اٰخر الشھر۔ ٭ مسلم ج۳کتاب الصیام باب صوم سرر شعبان۔
(۷) مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم سرر شعبان۔٭ دارمی کتاب الصوم باب الصوم من سرر الشھر۔٭ قال ابومحمد سررہ اخرہٗ۔٭مسند احمد ج۴۔
(۸) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل صوم المحرم۔٭ ابوداوٗد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم المحرم۔٭دارمی کتاب الصوم باب فی صیام المحرم۔٭مُسندِ احمدج۲مرویات ابی ھریرۃ۔٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب فضل الصوم فی اشھر الحرم۔
(۹) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل صوم المحرم۔٭السنن الکبری للبیہقی ج۴کتاب الصیام باب فضل الصوم فی اشھر الحرم۔٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم المحرم۔ترمذی نے صرف افضل الصیام بعد صیام شہر رمضان شہر اللّٰہ المحرم بیان کیاہے۔ابن ماجہ کتاب الصیام باب صیام اشھر الحرم۔ ٭نسائی قیام اللیلمیں اور مُسندِ احمد میںج۲۔ پر بھی ہے۔
(۱۰) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشوراء اور کتاب الانبیاء اور مناقب الانصار۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء۔٭مُسندِ احمدج۱۔
(۱۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشورآء ۔٭ مسلم ج۲کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء فَاَنَا احقکی بجائے نحن اولٰی بموسٰی منکم ہے۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشورآء۔٭ ترمذی نے ابواب الصوم اور مواقیت میں عاشورہ کے بارے میں نقل کیاہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب صیام یوم عاشورآء۔دارمی کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشوراء٭مسلم اور ابنِ ماجہ میں فَصَامَہٗ مُوْسٰی شُکْرًاہے ۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب فضل یوم عاشورآء۔
(۱۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب ماروی ان عاشوراء الیوم التاسع۔٭ السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام صوم یوم التاسع۔
(۱۳) مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء۔ ٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب صیام یوم عاشوراء۔ ٭مُسندِ احمدج۱۔وفی روایۃ ابی بکر قال یعنی یوم عاشورآء۔مسند میں لَئِن عِشْتُ ہے۔ اگر میں بقیدِ حیات رہا ۔السنن الکبریٰ میں اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَئِنْ بَقِیْتُہے ’’اگر میں باقی رہا یعنی زندہ رہا ۔‘‘
(۱۴) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشورآء۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء۔
(۱۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشورآء۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشورآء۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فی صوم یوم عَاشورآء۔٭مُسندِ احمد ج۲ مرویات ابی ھریرۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴کتاب الصیام۔
(۱۶) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشوراء۔ کتاب المناقب باب ایام الجاھلیۃ۔ کتاب التفسیر۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشوراء ۔٭ ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الرخصۃ فی ترک صوم یوم عاشورآء۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشوراء۔ ٭مؤطا امام مالک کتاب الصیام۔٭مُسندِ احمد ج۳۔ ٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب من زعم ان صوم عاشوراء کان واجباً ثم نسخ وجوبہ۔
(۱۷) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشوراء۔ ٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء۔٭ السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب مایستدل بہ علی انہ لم یکن واجبًا قط۔
(۱۸) ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشوراء۔ ٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یَوم عاشوراء۔ ٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام۔
(۱۹) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی عاشورآء ای یوم ھذا۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب ماروی ان عاشورآء الیوم التاسع۔
(۲۰) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم یوم عرفۃ۔ کتاب الحج اور کتاب الاشربۃ۔٭ مسلم ج۱ کتاب الصیام باب استحباب الفطر للحاج بعرفات یوم عرفۃ۔ ٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب الاختیار للحاج فی ترک صوم یوم عرفۃ۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل صوم یوم عرفۃ۔ترمذی نے مختصراً روایت کیاہے۔٭ مُسندِ احمد ج۶ عن ام الفضل بن عباس۔ قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ روایت مندرجہ ذیل مقامات پر بھی منقول ہے٭ بخاری کتاب الحج، کتاب الصوم، کتاب الاشربہ۔٭ مسلم کتاب الصیام مختلف اسباب کے تحت٭ ابوداوٗد کتاب الصوم۔٭موطا امام مالک۔ کتاب الحج۔ صیام یوم عرفۃ۔٭مُسندِ احمد ج۱ص۳۴۴۔ ج۶۔
(۲۱) مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم عشر ذی الحجۃ۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی فطر العشر۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صیام العشر۔٭ترمذی نے سند پر بحث بھی کی ہے۔ ٭ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب صیام العشر۔٭مُسندِ احمدج۶۔
(۲۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب استحباب صیام ثلاثہ ایام من کل شھر وصوم یوم عرفۃ وعَاشُوراء الخ۔ ٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی الحث علی صوم یوم عاشوراء۔روایت کا آخری حصّہ بیان کیاہے۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب صیام یوم عرفۃ۔٭ علاوہ ازیں ابوداوٗد کتاب الصوم اور مسندِ احمد ج۵ پر بھی اس روایت کا آخری حصّہ یعنی صیام یوم عاشوراء انی احتسب علی اللّٰہ ان یکفر السنۃ الخ ہے۔
(۲۳) مسلم ج۱کتاب الصیام باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر وصوم یوم عرفۃ وعاشوراء والاثنین والخمیس۔٭ ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب فی صوم الدھر (تطوعًا۔)٭مُسندِ احمد ج۵۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب صوم یوم الاثنین والخمیس ۔
(۲۴) مسلم ج۱کتاب الصیام باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر الخ۔٭ ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب من قال لایبالی من ای الشھر٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم ثلاثۃ من کل شھر٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی صیام النبیﷺ ٭ دارمی کتاب الصوم باب۶۷٭ مسند احمد ج۳ص۴۲۵۔۴۳۶ ج۴ص۱۹۔۲۵ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴کتاب الصیام باب من قال لایبالی ای ایام الشھر یصوم۔
(۲۵) مسلم ج۱کتاب الصیام باب استحباب صوم ستۃ من شوال اتباعا لرمضان۔٭ ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم، باب فی صوم ستۃ ایام من شوال۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صیام ستۃ ایام من شوال۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب۳۳ صیام ستۃ ایام من شوال۔٭دارمی کتاب الصوم باب۴۴ صیام ستۃ من شوال۔٭ مُسندِ احمد ج۵۔ ابوایوب انصاری۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴۔ کتاب الصیام باب فی فضل صوم ستۃ من شوال۔٭ السنن نے فذاک صیام الدھراور ترمذی نے بھی یہی الفاظ نقل کیے ہیں۔٭ ابوداؤد نے فکأنما صام الدھر اور ابن ماجہ نے کان کصوم الدھرنقل کیاہے۔
(۲۶) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم یوم الفطراور بخاری کتاب الاضاحی۔ ٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب تحریم صوم یوم العیدین۔ (نھٰی عن صیام یومین یوم الفطر ویوم النحر) ٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم العیدین۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب۳۶۔٭مؤطا امام مالک کتاب الحج اور کتاب الصیام ٭ مُسندِ احمدج۳۔ ج۱۔ ج۲۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴ص۲۹۷۔ کتاب الصیام باب الایام الّتی نھی عن صومھا۔
(۲۷) بخاری کتاب الصوم باب صوم یوم النحراورکتاب الصید۔٭مسلم کتاب الصیام باب تحریم صوم یومی العیدین (یقول لایصلح الصیام فی یومین یومِ الاضحٰی وَیَوْمِ الفطر من رمضان) ٭ ترمذی ابواب الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ الصوم یوم الفطر ویوم النحر۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب فی النھی عن صیام یوم الفطروالاضحٰی۔ (نھی عن صوم یوم الفطر ویوم الاضحٰی) ٭ دارمی کتاب الصوم باب النھی عن الصیامِ یوم الفطر ویوم الاضحٰی۔ ٭مُسندِ احمد ج۳۔
(۲۸) بخاری کتاب الصوماورکتاب الصیدکے علاوہ الصلوٰۃ فی مسجد مکۃ٭مسلم کتاب الحج٭ ترمذی ابواب الصلاۃ۔ ٭نسائی کتاب المساجد٭ ابنِ ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ وسننھا٭دارمی کتاب الصلاۃ۔٭مسنداحمد ج۲، ج۳ ج۶۔
(۲۹) مسند احمد ج۵ص۷۵۔نبیشۃ الھذلی۔مسلم نے بھی ایک روایت اور بیان کی ہے جس میں انہوں نے بھی ذِکْرِ اللّٰہِکے الفاظ نقل کیے ہیں۔ مسلم کتاب الصیام باب تحریم صوم ایام التشریق۔
(۳۰) مسلم ج۱ کتاب الصیام باب تحریم صوم ایام التشریق وبیان انھا ایام اکل وشرب وذکر اللہ عزّوجلّ۔
(۳۱) ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب صیام ایام التشریق۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ صوم ایام التشریق۔٭ مسنداحمدج۱ ، ج۲٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴کتاب الصیام باب الایام الّتی نھی عن صومھا۔
(۳۲) مسلم کتاب الصیام باب تحریم ایام التشریق الخ میں بھی یہ حدیث کعب بن مالک عن ابیہ سے منقول ہے۔ ٭دارمی کتاب الصوم باب النھی عن صیام ایام التشریق۔ ٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴۔ کتاب الصیام باب الایام التی نھی عن صومھا۔
(۳۳) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم یوم الجمعۃ واذا اصبح صائمًا یوم الجمعۃ۔ الخ ٭مسلم اور ابوداؤد نے لاَیَصُمْ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلاَّ اَنْ یَّصُوْمَ قَبْلَہٗ اَوْ یَصُوْمَ بَعْدَہٗ نقل کیا ہے٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب کراھیۃ افراد الجمعۃ بصوم لایوافق عادتہ۔ ٭ مُسندِ احمد ج۲ ٭ السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب النھی عن تخصیص یوم الجمعۃ بالصوم۔
(۳۴) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی صیام یوم الجمعۃ۔
(۳۵) دارمی کتاب الصوم باب فی النھی عن الصیام یوم الجمعۃ۔
(۳۶) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ صوم یوم الجمعۃوحدہ۔٭ المصنف لإبنِ ابی شیبۃ ج۳۔ کتاب الصیام باب ما ذکر فی صوم الجمعۃ وما جاء فیہ عَنْ ابی ھریرۃ۔
(۳۷) مسلم ج۱کتاب الصیام باب کراھیۃ افراد یوم الجمعۃ بصومٍ لایوافق عادتہ ولاتخص یوم الجمعۃ بصیام من بین الایام۔٭ مسلم کتاب الصیام۔ ٭ابوداؤد کتاب الصوم۔٭ ترمذی ابواب الصوم٭مسند احمد ج۱، ج۲، ج۳، ج۵، ج۶ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴ ۔کتاب الصیام باب النھی عن تخصیص یوم الجمعۃ بالصوم۔
(۳۸) بخاری ج۱کتاب الجھاد باب فضل الصوم فی سبیل اللہ۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام، باب فضل الصیام فی سبیل اللّٰہِ۔٭نسائی کتاب الصیام ج۴باب ثواب من صام یومًا فی سبیل اللہ عزوجل ٭مسندِاحمد ج۲ روایت ابی ھریرۃ ج۴۔
(۳۹) مسلم ج۱، کتاب الصیام ، باب فضل الصیام فی سبیل اللّٰہ۔٭ ترمذی ج۱ابواب فضائل الجھاد باب ماجاء فی فضل الصوم فی سبیل اللہ۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب فی صیام یوم فی سبیل اللہ۔٭السنن الکبریٰ جلد ۴ کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل الصوم فی سبیل اللّٰہ۔
(۴۰) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل الصوم فی سبیل اللہ٭ نسائی کتاب الصیام ج۴باب ثواب من صام یومًا فی سبیل اللّٰہ عزوجل الخ٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب فی صیام یوم فی سبیل اللّٰہ٭مُسندِ احمد ج۲، ج۳، ج۶ قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ۔
(۴۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب حق الجسم فی الصوم۔کتاب النکاح باب لزوجک علیک حق الخ۔ کتاب التھجد بابٌ۔۔۔ج۱۔کتاب الادب باب حق الضیف۔٭ مسلم ج۱کتاب الصیام باب النھی عن الصوم۔ ٭ نسائی ج۴کتاب الصیام باب صوم یوم وافطار یوم۔٭مسندِ احمد ج۲۔ عبداللہ بن عمرو۔
(۴۲) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صوم داؤدؑ۔٭ مسند ج۱کتاب الصیام باب النھی عن صوم الدھر۔ تفضیل صوم یوم وافطار یوم٭نسائی کتاب الصیام ج۴۔٭ مسند احمد ج۲ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴ کتاب الصیام باب فی فضل صوم داؤدؑ۔
(۴۳) مسلم کتاب الصیام باب النھی عن صوم الدھر۔
(۴۴) بخاری کتاب الصوم باب صوم الدھر اورکتاب الانبیاء۔٭ بخاری کتاب الصوم باب صوم یوم وافطار یوم میں مختصر روایت ہے۔٭ مسلم کتاب الصیام باب النھی عن صوم الدھر الخ وھو افضل الصیامکی جگہ وَھو اعدل الصیام ہے٭ ابوداؤد کتاب الصوم باب فی صوم الدھر (تطوعا) ٭نسائی کتاب الصیام باب۷۶۔٭ مُسندِ احمد ج۲۔
(۴۵) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی لیلۃ النصف٭ ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان۔
(۴۶) نسائی ج۴کتاب الصیام باب صوم النبی ﷺ۔٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب۴۲۔صیام یوم الاثنین والخمیس٭ دارمی کتاب الصوم۔ باب ۴۱مافی صیام الاثنین والخمیس۔٭ مُسندِ احمد، ج۵، ج۶٭مصنف لإبن ابی شیبۃ ج۳۔
(۴۷) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم یوم الاثنین والخمیس۔٭ نسائی کتاب الصیام باب صوم النبی ﷺ۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب صیام یوم الاثنین والخمیس۔
(۴۸) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم یوم الاثنین والخمیس۔٭ ابوداؤد ج۱کتاب الصوم باب فی صوم الاثنین والخمیس عن اسامۃ بن زید۔ ان اعمال العباد تعرض یوم الاثنین والخمیس۔
(۴۹) دارمی کتاب الصوم باب فی صیام یوم الاثنین والخمیس۔٭السنن الکبریٰ ج۴ کتاب الصیام باب صوم یوم الاثنین والخمیس عن اسامۃ بن زید۔٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب صوم النبی ﷺ۔
(۵۰) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم ثلاثۃ من کل شھر۔٭ نسائی ج۱کتاب الصیام باب کیف یصوم ثلاثۃ ایام من کل شھر۔نسائی میں اذا صمتکے بعد شیئاًکا اضافہ ہے۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴۔کتاب الصیام باب من اَیّ الشھر یصوم ھذہ الایام الثَلاثۃ٭ مسندِ احمد ج۵ص۱۶۲ابوذرغفاری۔
(۵۱) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم یوم الجمعۃ۔٭نسائی ج۴کتاب الصیام باب صوم النبی ﷺ۔ ٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم الثلاث من کل شھر۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔ کتاب الصیام باب من ای الشھر یصوم ھٰذہ الایام الثلاثۃ۔
(۵۲) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم یوم الاثنین والخمیس۔
(۵۳) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب من قال الاثنین والخمیس۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب من قال الاثنین والخمیس۔ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴۔ کتاب الصیام باب من ای الشھر یصوم ھذہ الایام الثَّلاثۃ۔٭مُسندِ احمد ج۶ص۳۱ مرویات ام سلمۃ ام المومنین ۔
(۵۴) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم الاربعاء والخمیس۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم شوال۔ ترمذی اور ابوداؤد دونوں میں’’کلّہ‘‘ نہیں ملا۔
(۵۵) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم عرفۃ بعرفۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴، کتاب الصیام باب الاختیار للحاج فی ترک الصوم یوم عرفۃ۔ایک روایت میں جسے السنن الکبریٰ نے اِسی صفحہ پر نقل کیاہے بعرفات بھی ہے۔٭ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب صیام یوم عرفۃ۔ابن ماجہ نے بھی بعرفات والی روایت نقل کی ہے۔٭ مسند احمد ج۲۔
(۵۶) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب النّھی ان یخصَّ یوم السبت بصومٍ۔ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی صوم یوم السبت۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی صیام یوم السبت۔ابن ماجہ میں فَلْیَمْضَغْہُکے بجائے فَلْیَمَصَّہٗہے۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فی صیام یوم السبت۔اس میں وان لم یجد احدکم الا کذا اولِحَائَ شجرۃہے۔ ٭ مسند احمدج۴،ج۶ ٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب ماورد من النھی عن تخصیص یوم السبت بالصوم۔ ٭المستدرک للحاکم ج۱۔ کتاب الصوم باب النھی عن صوم یوم السبت۔
(۵۷) ترمذی ج۱ ابواب فضائل الجھاد باب ماجاء فی فضل الصوم فی سبیل اللہ۔
(۵۸) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی الصوم فی الشتاء۔٭مسند احمد ج۴،مرویات عامربن مسعود الجمحی٭ السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب ماورد فی صوم الشتائِ۔ ٭ الصوم فی الشتاء الغنیمۃ الباردۃ۔ ھذا مرسل۔ ذکر فیہ حدیث عامر بن مسعود (الصوم فی الشتاء الغنیمۃ الباردۃ) ثم قال مرسل۔ قلت عامر ھذا قال ابن حنبل ارٰی لہ صحبۃ وعدہ ابن حبان وابن مندۃ وابن عبدالبر من الصحابۃ وذکر ابن حنبل حدیثہٗ ھٰذا فی مسندہ ذیلی حاشیہ ص ۲۹۷۔
(۵۹) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔کتاب الصیام باب ماورد فی صوم الشتاء۔
(۶۰) مسلم ج۱ کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء۔٭السنن الکبریٰ للبیہقی ج۴۔ کتاب الصیام باب فضل یوم عاشورآء۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب۴۱ صیام یوم عاشورآء۔
(۶۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب صیام یوم عاشورآء۔٭مسلم ج۱کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء۔
(۶۲) بخاری ج۱کتاب المناقب باب بنیان الکعبۃ باب اتیان الیھود النبیﷺحین قدم المدینۃ ٭ مسلم ج۱ کتاب الصیام باب صوم یوم عاشورآء۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی صوم یوم عاشورآء۔ ٭مسند احمد ج۲ ابوھریرۃؓ۔ ٭دارمی کتاب الصوم باب ۴۶ فی صوم یوم عاشورآء۔الفاظ مختلف ہیں۔
(۶۳) بخاری ج۱ کتاب المناقب باب بنیان الکعبۃ باب اتیان الیھود النبی ﷺحین قدم المدینۃ۔٭ مسنداحمد ج۲۔
(۶۴) مسند احمد ج۶ مرویات اُمّ سلمۃ اُمّ المؤمنین۔
(۶۵) السنن الکبریٰ ج۴۔
(۶۶) مسلم ج۱ کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء۔٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب صوم عاشوراء کان واجبًا ثم نسخ وجوبہٖ۔٭مسند احمد ج۵،جابر بن سمرۃ۔
(۶۷) نسائی ج۴ کتاب الصیام باب کیف یصوم ثلاثۃ ایام من کل شھرٍالخ۔٭مسندِ احمد ج۶ مرویات حفصۃ ام المومنین۔ اس میں قبل الغداۃ ہے الفجرنہیں ہے۔
(۶۸) نسائی ج۴کتاب الصیام باب صوم النبی ﷺبابی ھو وامی الخ۔
(۶۹) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی الصوم زکاۃ الجسد۔ ایک روایت میں طَارَ کی جگہ طَائِرٌ بھی منقول ہے۔
(۷۰) ابن ماجہ کتاب الصیام باب صیام یوم الاثنین والخمیس۔٭مسند احمد ج۲ مرویات ابی ھریرۃ۔
(۷۱) مسنداحمدج۲ص ۵۲۶۔ مرویاتِ ابی ھریرۃ۔ایک روایت میں طَارَکی جگہ طَائِرٌ بھی منقول ہے۔٭المعجم الکبیر للطبرانی ج۷۔عمروبن ربیعہ الحضرمی۔
(۷۲) مسلم ج۱کتاب الصیام باب جواز فطر الصائم نفلاً من غیرعذر۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب فی الرخصۃ فی ذٰلک۔٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی افطارالصائم المتطوع۔ قال ابوعیسٰی ھذا حدیث حسن۔ ٭نسائی ج۴ کتاب الصیام باب النیَّۃ فی الصیام۔٭ السنن الکبریٰ ج۴۔کتاب الصیام باب صیام التطوع والخروج منہ قبل تمامہ۔٭مسند احمد ج۶عائشۃ۔
(۷۳) بخاری ج۱کتاب الصوم باب من زار قومًا فلم یفطر عندھم۔
(۷۴) مسلم ج۱کتاب الصیام باب فضل الصیام۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب مایقول الصائم اذا دعی الی الطعام۔٭ ترمذی ج۱کتاب الصوم ٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب من دعی الی طعام وھو صائمٌ۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الحج۔٭ دارمی کتاب الصوم باب من دعی الی الطعام وھو صائمٌ فلیقل انّی صائم۔
(۷۵) ابوداؤد کتاب الصوم باب فی الصائم یدعی الی ولیمۃ۔ قَالَ ابوداؤد : رواہ حفص بن غیاث ایضًا عن ھشام ٭مسند احمد ج۲، ج۵۔
(۷۶) ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب فی الرخصۃ فی ذٰلک۔٭ دارمی کتاب الصوم باب فیمن یصبح صائمًا تطوعًا ثم یفطر۔ ٭ مسند احمد ج۶۔ روایت ام ھانیئٍ۔ مسند احمد میں فَلاَ یَضُرُّکِ اِذًا ہے۔
(۷۷) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی افطار الصائم المتطوع۔
(۷۸) المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب صوم التطوع۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی افطار الصائم المتطوع٭مسنداحمدج۶ روایات ام ھانیئٍ۔٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب صیام التطوع والخروج منہ قبل تمامہٖ۔
(۷۹) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی ایجاب القضاء علیہ۔٭ ابوداؤد کتاب الصوم باب من رأی علیہ القضاء۔٭ مؤطا امام مالک کتاب الصیام قضاء التطوع۔٭السنن الکبریٰ ج۴ کتاب الصیام۔
(۸۰) دارمی کتاب الصوم باب فی الصائم اذا اکل عندہ۔٭ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی الصائم اذا اکل عندہ۔ ٭مسند احمد ج۶ ام عمارہ بنت کعب۔ابن ماجہ اورمسند احمد نے صَلَّتْ علیہِ الملائکۃُتک روایت کیاہے۔ ٭ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی فضل الصائم اذا اکل عندہ۔ترمذی اور ابن ماجہ میں روایت کے آخر میںحَتّٰی یَشْبَعُوْابھی منقول ہے۔٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب فی فضل شھر رمضان۔
(۸۱) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی الصائم اذا اکل عندہ۔
فصل ہشتم: رمضان میں قیام لیل ۔ تراویح کے بارے میں معلومات کا خلاصہ
۱۲۵۔ تراویح کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:
(۱) نبی ﷺدوسرے زمانوں کی بہ نسبت رمضان کے زمانے میںقیامِ لیل کے لیے زیادہ ترغیب دیا کرتے تھے۔ جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ چیزآپ کوبہت محبوب تھی۔
(۲) صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ رمضان المبارک میں تین رات نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور پھر یہ فرماکر اسے چھوڑدیا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے اس سے ثابت ہوتاہے کہ تراویح میں جماعت مسنون ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ تراویح فرض کے درجہ میں نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ حضورؐ چاہتے تھے کہ لوگ ایک پسندیدہ سنت کے طور پر تراویح پڑھتے رہیں مگر بالکل فرض کی طرح لازم نہ سمجھ لیں۔
(۳) تمام روایات کو جمع کرنے سے جو چیز حقیقت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضورؐ نے خود جماعت کے ساتھ رمضان میں جو نماز پڑھائی وہ اوّل وقت تھی نہ کہ آخر وقت میں۔ اور وہ آٹھ رکعتیں تھیں نہ کہ بیس ۔ (اگرچہ ایک روایت بیس کی بھی ہے مگر وہ آٹھ والی روایت کی بہ نسبت ضعیف ہے) اور یہ کہ لوگ حضورؐ کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد واپس جاکر اپنے طور پر مزید کچھ رکعتیں بھی پڑھتے تھے۔ وہ مزید رکعتیں کتنی ہوتی تھیں؟ اس کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں ملتی۔ لیکن بعد میں جو حضرت عمرؓ نے ۲۰ رکعتیں پڑھنے کا طریقہ رائج کیا اور تمام صحابہؓ نے اس سے اتفاق کیا اس سے یہی سمجھ میں آتاہے کہ وہ زائد رکعتیں ۱۲ ہوتی تھیں۔
(۴) حضورؐ کے زمانہ سے لے کر حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانہ تک باقاعدہ ایک جماعت میں سب لوگوں کے تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج نہ تھا، بلکہ لوگ یا تو اپنے اپنے گھروں میں پڑھتے تھے یا مسجد میں متفرق طور پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ اسی تفرّق کو دُور کرکے سب لوگوں کو ایک جماعت کی شکل میں نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔ اس کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس یہ حجت موجود تھی کہ حضورؐ نے خود تین بار جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائی تھی۔ اس لیے اس فعل کو بدعت نہیں کہاجاسکتا۔ اور چونکہ حضورؐ نے اس سلسلہ کو یہ فرماکر بند کیا تاکہ کہیں یہ فرض نہ ہوجائے۔اور حضورؐ کے گزرجانے کے بعد اس امر کا اندیشہ باقی نہ رہاتھا کہ کسی کے فعل سے یہ چیز فرض قرار پاسکے گی، اس لیے حضرت عمرؓ نے ایک سنت اور مندوب چیزکی حیثیت سے اس کو جاری کردیا۔ یہ حضرت عمرؓ کے تفقّہ کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے کہ انہوں نے شارع کے منشا کو ٹھیک ٹھیک سمجھا اور امت میں ایک صحیح طریقے کو رائج فرمادیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا اس پر اعتراض نہ کرنا، بلکہ بسرو چشم اسے قبول کرلینا یہ ثابت کرتاہے کہ شارع کے اس منشأ کو بھی ٹھیک ٹھیک پورا کیا گیا کہ ’’اسے فرض کے درجہ میں نہ کردیا جائے۔‘‘ چنانچہ کم از کم ایک بار تو ان کا خود تراویح میں شریک نہ ہونا ثابت ہے جب کہ وہ عبدالرحمن ؓ بن عبد کے ساتھ نکلے اور مسجد میں لوگوں کو تراویح پڑھتے دیکھ کر اظہارِ تحسین فرمایا۔
(۵) حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب باقاعدہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو باتفاقِ صحابہ بیس رکعتیں پڑھی جاتی تھیں اور اسی کی پیروی حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی ہوئی۔ تینوں خلفاء کا اس پر اتفاق اور پھر صحابہؓ کا اس پراختلاف نہ کرنا یہ ثابت کرتاہے کہ نبی ﷺکے عہد سے لوگ تراویح کی بیس ہی رکعتوںکے عادی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد تینوں بیس ہی رکعت کے قائل ہیں، اور ایک قول امام مالکؒ کا بھی اسی کے حق میں ہے۔ داؤد ظاہریؒ نے بھی اسی کو سنتِ ثابتہ تسلیم کیاہے۔
(۶) حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت ابان بن عثمان نے ۲۰کے بجائے ۳۶ رکعتیں پڑھنے کا جو طریقہ شروع کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ ان کی تحقیق خلفائِ راشدین کی تحقیق کے خلاف تھی، بلکہ ان کے پیشِ نظر یہ تھا کہ مکّہ سے باہر کے لوگ ثواب میں اہلِ مکہ کے برابر ہوجائیں۔ اہل مکّہ کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ تراویح کی ہرچار رکعتوں کے بعد کعبے کا طواف کرتے تھے۔ ان دونوں بزرگوں نے ہر طواف کے بدلے چار رکعتیں پڑھنی شروع کردیں۔ یہ طریقہ چونکہ اہلِ مدینہ میں رائج تھا اور امام مالک اہل مدینہ کے عمل کو سند سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے بعد میں بیس کے بجائے ۳۶ کے حق میں فتویٰ دے دیا۔
(۷) علماء جس بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جس بستی یا محلے میں سرے سے نمازِ تراویح باجماعت اداہی نہ کی جائے اس کے سب لوگ گنہ گار ہیں، وہ یہ ہے کہ تراویح ایک سنّتُ الاسلام ہے جو عہدِ خلافتِ راشدہ سے تمام امت میں جاری ہے۔ ایک ایسے اسلامی طریقہ کو چھوڑدینا اوربستی کے سارے ہی مسلمانوں کامل کر چھوڑدینا، دین سے ایک عام بے پروائی کی علامت ہے جس کو گوارا کرلیا جائے تو رفتہ رفتہ وہاں سے تمام اسلامی طریقوں کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے۔
(۸) اس امر میں اختلاف ہے کہ تراویح کے لیے افضل وقت کون سا ہے؟ عشاء کا وقت یا تہجد کا؟ دلائل دونوں کے حق میں ہیں، مگر زیادہ تر رجحان آخر وقت ہی کی طرف ہے۔ البتہ اوّل وقت کی ترجیح کے لیے یہ بات بہت وزنی ہے کہ مسلمان بحیثیتِ مجموعی اوّل وقت ہی کی تراویح پڑھ سکتے ہیں، آخر وقت اختیار کرنے کی صورت میں اُمّت کے سوادِ اعظم کا اس ثواب سے محروم رہ جانا ایک بڑا نقصان ہے اور اگر چند صلحاء وقت کی فضیلت سے مستفید ہونے کی خاطر اوّل وقت کی جماعت میں شریک نہ ہوں تو اس سے یہ اندیشہ ہے کہ عوام الناس یا تو ان صلحاء سے بدگمان ہوں، یا اُن کی عدم شرکت کی وجہ سے خود ہی تراویح چھوڑ بیٹھیں، یا پھر ان صلحاء کو اپنی تہجّد خوانی کا ڈھنڈورہ پیٹنے پر مجبور ہونا پڑے۔ ھٰذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ وھو اعلم بالصواب۔ (رسائل ومسائل۲:رمضان میں قیام۔۔۔)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثنی مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَلّٰی وَذٰلِکَ فِیْ رَمَضَانَح وَحَدَّثَنِیْ یَحْيَ بْنُ بُکَیْرٍ، ثنی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ بْنِ شِھَابٍ اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ، اَنَّ عَائِشَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ لَیْلَۃً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ وَصَلّٰی رِجَالٌ بِصَلاَتِہٖ فَاَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوْا فَاجْتَمَعَ اَکْثَرُ مِنْھُمْ فَصَلّٰی فَصَلُّوْا مَعَہٗ فَاَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوْا فَکَثُرَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَصَلّٰی فَصَلُّوْا بِصَلاَتِہٖ فَلَمَّا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الرَّابِعَۃُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ اَھْلِہٖ حَتّٰی خَرَجَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَی الْفَجْرَ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَشَھَّدَ ثُمَّ قَالَ : اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّہٗ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ مَکَانُکُمْ وَلٰکِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تُفْتَرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوْا عَنْھَا فَتُوَفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالْاَمْرُ عَلٰی ذٰلِکَ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺایک رات اپنے حجرے سے مسجد کی طرف نکلے جب کہ رات کا کچھ حصہ گزرچکاتھا۔ آپؐ نے مسجد نبوی میں خود نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسرے روز لوگ باتوں میں مصروف رہے اس طرح کافی لوگ مسجد میں جمع ہوگئے۔ آپؐ نے ان سب کو نماز پڑھائی تیسرے روز بھی لوگوں کی تعداد پہلے سے بڑھ گئی اور مسجد میں نمازیوں کی گنجایش بہت کم رہ گئی۔
رسول اللہ ﷺنے اپنے حجرے سے باہر تشریف لاکر سب کو نماز پڑھائی، چوتھے روز تو مسجدمیں اتنی بھیڑ ہوگئی کہ نمازیوں کے لیے جگہ نہ رہی۔ آپؐ نمازفجر کے لیے تشریف لائے نماز سے فارغ ہوکر آپؐ نے مقتدیوں کی جانب روئے سخن فرمایا۔ خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا: تمہارا مرتبہ مجھ پر مخفی نہیں ہے مگر مجھے اندیشہ یہ ہے کہ یہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے پھر تم اسے نبھا نہ سکو۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺکی وفات ہوگئی مگر معاملہ اسی طرح رہا۔
ترمذی نے حضرت ابوذرؓسے ایک روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے بیان کیاہے کہ آپؐ نے ہمیں ۲۳، ۲۵ اور ۲۷ کو باجماعت نماز تراویح پڑھائی۔(۲)
(۲) عَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالْقَارِیِّ اَنَّہٗ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَیْلَۃً فِیْ رَمَضَانَ اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَا النَّاسُ اَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُوْنَ۔ یُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہٖ وَیُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلاَتِہِ الرَّھْطُ فَقَالَ عُمَرُ: اِنِّیْ اَرٰی لَوْجَمَعْتُ ھٰٓؤُلَآئِ عَلٰی قَارِیٍٔ وَاحِدٍ لَکَانَ اَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَھُمْ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہٗ لَیْلَۃً اُخْرٰی وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ بِصَلاَۃِ قَارِئِھِمْ، قَالَ عُمَرُ: نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ۔ وَالَّتِیْ تَنَامُوْنَ عَنْھَا اَفْضَلَ مِنَ الَّتِیْ تَقُوْمُونَ یُرِیْدُ اٰخِرَ اللَّیْلِ وَکَانَ النَّاسُ یَقُوْمُوْنَ اَوَّلَہٗ۔(۳)
ترجمہ : حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری کا بیان ہے کہ رمضان کی ایک رات میں، میں عمرؓبن خطاب کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا۔ دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی تن تنہا نماز پڑھ رہاہے۔ کچھ کسی ایک کی امامت واقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے یہ صورتِ حال دیکھ کر فرمایا: میرا خیال ہے کہ میں ان سب کو ایک قاری کے ماتحت جمع کردوں کہ وہ انہیں نماز پڑھائے تو یہ مثالی اور عمدہ بات ہوگی۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے عزم صمیم کے ساتھ لوگوں کو ابی بن کعب کی اقتداء پر اکٹھا کردیا۔ عبدالرحمن کا بیان ہے کہ پھر میں ایک رات حضرت عمرؓ کے ساتھ نکل کھڑا ہوا تو دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی قاری کے پیچھے اکٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر فرمایا: ’’یہ بدعت تو بہت اچھی ہے۔‘‘ ان کا منشایہ تھا کہ رات کے آخری حصہ میں (نمازِ تراویح) پڑھنا اول حصے میں پڑھنے سے بہتر اور افضل ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُبَارَکِ قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْھِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ فَضْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَیْبَانَ قَالَ: قُلْتُ لِاَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ حَدَّثَنِیْ بِشَیٍٔ سَمِعْتَہٗ مِنْ اَبِیْکَ سَمِعَہٗ اَبُوْکَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ بَیْنَ اَبِیْکَ وَبَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ اَحَدٌ فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ قَالَ: نَعَمْ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَرَضَ صِیَامَ رَمَضَانَ عَلَیْکُمْ وَسَنَنْتُ قِیَامَہٗ فَمَنْ صَامَہٗ وقَامَہٗ اِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہٖ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ۔(۴)
ترجمہ : نضر بن شَیبان کا بیان ہے کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن عبدالرحمن سے کہا کہ کوئی ارشادایسا سنائیں جو آپ نے اپنے والد سے اور انہوں نے براہ راست رسول اللہ ﷺسے سنا ہو کیونکہ آپ کے والد اور رسول اللہ ﷺکے درمیان رمضان میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا ہاں۔ میرے ابّا جان نے مجھے ایک ارشاد سنایا تھا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض فرمائے ہیں اور میں نے رمضان کا قیام جاری کیاہے (سنت قراردیاہے) پس جس نے رمضان کے روزے بھی رکھے اور اس کا قیام بھی کیا ایمان اور احتساب کے پیشِ نظر تو وہ گناہوںسے اس طرح پاک ہوگیا گویا کہ اس کی ماں نے اسے ابھی جناہے۔
تعداد رکعاتِ تراویح
ایک سوال کا جواب:
۱۲۶۔تراویح کی رکعات کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن پر مدّتِ دراز کے جھگڑوں اور مناظروں نے فریقین کو بے انتہا ذکیّ الحسّ بنادیاہے۔ اسی وجہ سے آٹھ رکعت یا بیس رکعت کا لفظ کسی کی زبان سے نکلتے ہی کوئی ایک گروہ اس پر آستینیں چڑھا لیتاہے اور چیلنج بازی شروع کردیتاہے۔ مذکورہ بالا سوال اسی کیفیت کا نتیجہ ہے۔حالانکہ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس پر اتنے جھگڑوں کی کوئی حاجت ہو۔ اگر کسی کے نزدیک آٹھ رکعت ہی ثابت ہو تو وہ آٹھ پڑھے اور خواہ مخواہ بیس رکعت کو بدعت قراردینے پر اپنا زور صرف نہ کرے۔ اور اگر کسی کے نزدیک بیس رکعت ہی ثابت ہوں تو وہ بیس پڑھے اور آٹھ رکعت پڑھنے والوں کی مخالفت میں وقت ضائع نہ کرتارہے۔ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو اس سے بدرجہا زیادہ اہم مسائل درپیش ہیں جو ہماری توجہ اور محنت اور اوقات اور اموال کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر ان مسائل پر جھگڑے اور بحثیں کرنے میں سارا زور لگادینا خدا کے دین کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔
محترم سائل نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ رکعت سے زائد پڑھنا خلافِ سنت ہے۔ اور اس دعوے کی بنا انہوں نے اس بات پر رکھی ہے کہ نبی ﷺنے تراویح میں آٹھ ہی رکعت پڑھی ہیں۔ حالانکہ اگر اس بنیاد پر آٹھ رکعت سے زائد پڑھنے کو خلافِ سنت کہنا درست ہو تو پھر تمام عمر میں تراویح صرف تین مرتبہ ہی جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہیے اور اس سے زائد پڑھنے کو بھی خلافِ سنت قراردے دیا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ حضورؐ سے باجماعت تراویح صرف اسی حد تک ثابت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس معاملہ میں حضرت عمرؓ کا یہ اجتہاد کہ ہر رمضان میں تمام مساجد میں ہرروز باجماعت تراویح کا اہتمام کیا جائے، آپ نے قبول فرمالیا اور اسے خلافِ سنت قرار نہیں دیا تو آخر تراویح کے لیے ۲۰رکعت مقرر کرنے کے بارے میں ان کا اجتہاد کس دلیل سے خلافِ سنت ہوگیا۔
سائل فاضل کی یہ کوشش کہ حضرت عمرؓ سے ۲۰ رکعت کے ثبوت ہی میں سرے سے شک پیدا کردیاجائے، درحقیقت مکابرہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات قریب قریب یقینی طورپر ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے تراویح کے لیے ۲۰رکعت مقرر کی تھیں۔ صحابہ نے اسے قبول کیا اور ان کے بعد بھی خلفاء اور صحابہ کا عمل اس پر رہا۔ ترمذی کا بیان ہے:
واکثر اھل العلم عَلی ماروی عن عمرو علی وغیرھما من اصحاب النبی ﷺ عشرین رکعۃ۔
ــــ’’اور اکثراہل علم اُسی مسلک پر ہیں جو حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی ہیں، یعنی ۲۰ رکعت۔ ‘‘
محمد بن نصر المروزی نے حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہی عمل نقل کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اسے حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابی ابن کعبؓ اور متعدد دوسرے صحابہ کا اثر بتایاہے۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ جمہور علماء ۲۰ رکعت ہی کے قائل ہیں اور صحابہ سے اس بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہواہے۔ المغنی ج۱ص۷۹۸، ۷۹۹میں ابنِ قُدامہ لکھتے ہیں:
’’امام احمد بن حنبل کے نزدیک تراویح کے معاملہ میں ۲۰ رکعت ہی کا مسلک مرجح ہے۔ اور اسی کے قائل سفیان ثوری اور ابوحنیفہ اور شافعی ہیں، مگر امام مالک ۳۶ کے قائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ قدیم سے اسی پر عمل چلا آرہاہے۔۔۔۔اس کے مقابلے میں ہمارا استدلال یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب متفرق طور پر تراویح پڑھنے والے تمام لوگوں کو ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا تو حضرت ابی ۲۰ رکعتیں پڑھاتے تھے بیہقی ج۲ص۴۹۶ پر جو روایت ہے جسے مؤطا امام مالک نے بھی روایت کیاہے اس میں یہ نہیں ہے کہ حضرت ابی کو جب امام مقرر کیا گیا تو انہوں نے ۲۰
رکعتیں پڑھائیں۔ اس کے برخلاف ابی بن کعب اور تمیم داری دونوں نے ۸رکعات پڑھائیں۔ ( مرتب)
۔۔ اور حضرت علیؓ سے بھی یہی ثابت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو رمضان میں ۲۰ رکعت تراویح پڑھانے پر مامور کیاتھا۔ یہ عمل قریب قریب اجماع کا ہم معنی ہے۔۔۔اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ بعد میں تمام اہل مدینہ ۳۶ رکعت تراویح پڑھنے لگے تھے تب بھی جو کچھ حضرت عمرؓ نے کیا تھا اور جس پر صحابہ ان کے زمانے میں متفق ہوگئے تھے۔ اسی کی پیروی کرنا زیادہ بہتر ہے۔‘‘
اس کے مقابلہ میں محترم سائل کا تمام تر اعتماد صرف اس روایت پر ہے جو امام مالکؒ نے مؤطا میں سائب بن یزید سے نقل کی ہے اور جس میں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے وتر سمیت ۱۱رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تھا لیکن اس سلسلے میں تین باتیں قابلِ غور ہیں۔ اول یہ کہ اسی مؤطا میں امام مالک یزید بن رومان کی یہ روایت نقل کرتے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے وتر سمیت ۲۳ رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔مؤطا امام مالک میں یزید بن رومان والی روایت میں حکم دینے کے الفاظ تو نہیں ملے البتہ یہ مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کے عہد میں لوگ تئیس
رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ (مرتب) مگر محترم سائل نے اس روایت کو نظر انداز کردیا۔ دوم یہ کہ وہی سائب بن یزید جن سے امام مالک ۱۱رکعت کی روایت نقل کرتے ہیں ان سے ایک دوسری روایت بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ ۲۳ رکعت کے حق میں نقل کی ہے اور اس سے گمان ہوتاہے کہ حضرت عمرؓ نے اگر پہلے گیارہ رکعتیں مقرر کی بھی تھیں، تو بعد میں ان کو ۲۳ رکعت میں بدل دیا ہوگا۔ سوم یہ کہ امام مالک خود ان دونوں روایتوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ۳۶ رکعتوں کے حق میں اس بنا پر فیصلہ دیتے ہیں کہ مدینے میں ایک صدی سے زیادہ مدت سے تین رکعت وتر اور چھتیس (۳۶) رکعت تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج تھا۔ سیوطی المصابیح میں جو کچھ چاہیں کہیں، مگر فقہائے مالکیہ اپنے امام کا یہی قول صحیح مانتے ہیں۔
ان امور پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ اگر چہ نبی ﷺنے آٹھ رکعتیں ہی پڑھی ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین نے بالعموم حضورؐ کے اس فعل کا مطلب یہ نہیں لیاہے کہ آٹھ رکعت پڑھنا ہی سنت ہے اور اس سے زائد پڑھنا خلاف سنت یا بدعت ہے۔ آخر یہ کیسے تصور کیا جاسکتاہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اور ائمہ مجتہدین سنت اور بدعت کے درمیان تمیز کرنے کی اہلیت سے اس درجہ محروم تھے کہ جان بوجھ کر وہ سنت کو چھوڑ کر ایک بدعت کو اختیار کرسکتے تھے۔
بہر حال اگر کوئی شخص حضورؐ کے اس فعل کو اس معنی میں لیتاہوکہ آپ کا منشا ۸رکعت ہی کو سنت کی حیثیت سے جاری کرنے کا تھا تو وہ شوق سے اس پر عمل کرے، اور جو اس معاملہ میں اس کے ہم خیال ہوں وہ اس کی پیروی کریں۔ لیکن ۲۰ رکعت کے دلائل اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اسے خلافِ سنت قراردینا اتنا آسان ہو جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔
(رسائل ومسائل ۳: تعداد رکعات تراویح)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، ثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ سَعِیْدِ نِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّہٗ سَأَلَ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فِیْ رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَاکَانَ یَزِیْدُ فِیْ رَمَضَانَ وَلاَفِیْ غَیْرِہٖ عَلٰی اِحْدٰی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّیْ اَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ اَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثَلٰثًا فَقُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَنَامُ قَبْلَ اَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ : یَاعَائِشَۃُ اِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَیَنَامُ قَلْبِیْ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺکی رمضان میں نماز کی کیفیت کیا تھی؟ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ آپؐ رمضان اور غیررمضان میں گیارہ رکعات سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔ چار رکعت پڑھتے مگر اتنے عمدہ طریقے سے پڑھتے کہ اِن کے حسن وطوالت کے کیا کہنے۔ پھر چار رکعت پڑھتے کہ ان کی عمدہ ادائیگی اور طولِ قیام کے متعلق کیا پوچھنا۔ پھر اس کے بعد تین رکعت وتر ادا فرماتے۔ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا آپؐ وتر پڑھے بغیر سوسکتے ہیں؟ فرمایا عائشہ میری آنکھیں تو ضرور سوجاتی ہیں مگر دل بیدار رہتاہے۔
(۲) مَالِکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوْسُفَ، عَنِ السَّآئِبِ بْنِ یَزِیْدَ، اَنَّہٗ قَالَ:اَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَتَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَنْ یَّقُوْمَا لِلنَّاسِ بِاِحْدٰی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً۔(۶)
ترجمہ : حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرات ابی بن کعب اور تمیم داری دونوں کو اس پر مقرر کیا تھا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں۔
(۳)مَالِکٌ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ رُوْمَانَ، اَنَّہٗ قَالَ:کَانَ النَّاسُ یَقُوْمُوْنَ فِیْ زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ رَمَضَانَ بِثَلٰثٍ وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔(۷)
ترجمہ:یزید بن رومان کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ قیام رمضان میں تیئیس رکعات پڑھا کرتے تھے۔
(۴) اَخْبَرَنَااَبُوْ یَعْلٰی، حَدَّثَنَا عَبْدُالْاَعْلٰی بْنُ حَمَّادِ النَّرْسِیُّ، حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ الْقُمِیُّ، حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ جَارِیَۃَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ : جَآئَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ اِلَی النَّبِیِّ ﷺَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ مِنِّی اللَّیْلَۃَ شَیْیٌٔ فِیْ رَمَضَانَ قَالَ : وَمَا ذَاکَ یَا اُبَیُّ؟ قَالَ : نِسْوَۃٌ فِیْ دَارِیْ قُلْنَ اِنَّا لاَنَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ فَنُصَلِّیْ بِصَلاَتِکَ قَالَ : فَصَلَّیْتُ بِھِنَّ ثَمَانِیْ رَکْعَاتٍ ثُمَّ اَوْتَرْتُ۔ قَالَ : قَالَ فَکَانَ شِبْہَ الرَّضَا وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔(۸)
ترجمہ :حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! رمضان کی ایک شب میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔حضور ﷺنے دریافت فرمایاکیا تھا اے اُبیّ؟ عرض کیا میرے گھر پر کچھ عورتیں جمع تھیں کہنے لگیں ہمیں قرآن حفظ نہیں ہے لہٰذا ہم تمہارے ساتھ نماز پڑھناچاہتی ہیں۔ میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھا کر بعد میں تین وتر پڑھائے راوی کا بیان ہے آپؐ نے کچھ نہیں کہا۔ گویا یہ خاموشی آپؐ کی رضامندی کے مشابہ تھی۔
(۵)حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَیْلِ عَنْ دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْجُرْشِیِّ، عَنْ جُبَیْرِبْنِ نُضَیْرٍ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یُصَلِّ بِنَا حَتّٰی بَقِیَ سَبْعٌ مِنَ الشَّھْرِ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا فِی السَّادِسَۃِ وَقَامَ بِنَا فِی الْخَامِسَۃِ حَتّٰی ذَھَبَ شَطْرُ اللَّیْلِ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْنَفَّلْتَنَا بَقِیَّۃَ لَیْلَتِنَا ھٰذِہٖ فَقَالَ: اِنَّہٗ مَنْ قَامَ مَعَ الْاِمَامِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ کُتِبَ لَہٗ قِیَامُ لَیْلَۃٍ ثُمَّ لَمْ یُصَلِّ بِنَا حَتّٰی بَقِیَ ثُلُثٌ مِنَ الشَّھْرِ وَصَلّٰی بِنَا فِی الثَّالِثَۃِ وَدَعٰی اَھْلَہٗ وَنِسَآئُ ہٗ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی تَخَوَّفْنَا الْفَلاَحَ قُلْتُ لَہٗ وَمَا الْفَلاَحُ قَالَ السَّحُوْرُ۔ (۹)
ترجمہ : حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ روزے رکھے آپؐ نے ہمیں کوئی (رات کی) نماز نہیں پڑھائی۔ سارا رمضان گزرگیا۔ صرف سات روزے باقی تھے کہ دوتہائی رات گزرنے پر آپؐنے ہمارے ساتھ قیام فرمایا۔ چھ دن باقی تھے تو پھر آپؐ نے قیام نہیں فرمایا البتہ جب پانچ دن باقی رہ گئے تو پھر نصف شب گزرجانے کے بعد ہمارے ساتھ قیام فرمایا۔ ہم نے عرض کیا، کیاہی اچھاہوتااگر آپؐرات کا باقی حصہ بھی نفل نمازکی ادائیگی میںگزارتے۔ آپؐنے فرمایا جس شخص نے امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک قیام کیا تو اس کے کھاتہ میں رات بھر کاقیام لکھ دیاگیا۔ پھر قیام نہ فرمایا یہاں تک کہ تین دن باقی رہ گئے۔ اس روز آپؐنے اپنے اہل وعیال کو بھی بلوایا۔ نماز پڑھائی کہ فلاح کے فوت ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ فلاح سے مراد کیاہے؟ انہوں نے بتایا کہ اس سے مراد سحری ہے۔
قَالَ ابوعیسی ھذا حدیث حسن صحیح۔
واختلف اھل العلم فی قیام رمضان :
فرای بعضھم ان یصلی احدی واربعین رکعۃ مع الوتر،ھو قول اھل المدینۃ والعمل علی ھٰذا عندھم بالمدینۃ۔ واکثر اھل العلم علی ما روی عن علی وعمرو غیرھما من اصحاب النبی ﷺ عشرین رکعۃً وھو قول سفیان الثوری وابن المبارک والشافعی وقال الشافعی وھکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃً۔
وقال احمد روی فی ھٰذا الوان لم یقض فیہ بشیئٍ۔
وقال اسحاق بل نختار احدی واربعین رکعۃ علی ماروی عن ابی بن کعب۔
واختار ابن المبارک واحمد واسحاق الصلاۃ مع الامام فی شھر رمضان واختار الشافعی ان یصل الرجل وحدہ اذا کان قارئاً۔
اہل ِعلم کے مابین اس مسئلہ میں اختلاف آراء ہے:
lاہل مدینہ وتر کے ساتھ اکتالیس رکعات کے قائل ہیں۔ اسی کے مطابق ا ن کا عمل ہے۔ اہل علم کی اکثریت کی رائے حضرات علی اور عمر رضی اللہ عنہما سے منقول عمل یعنی تیئیس رکعات کے حق میں ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ میں نے اہلِ مکہ کو بیس رکعات پڑھتے پایاہے۔
lامام احمد سے اس بارے میں کئی اقوال منقول ہیں انہوں نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
lامام اسحاق کے نزدیک ابی بن کعب سے مروی روایت کے مطابق اکتالیس رکعات۔
l ابن مبارک، احمد، اسحاق رمضان میں امام کے ساتھ پڑھنے کے حق میں ہیں۔ جب کہ امام شافعی کے نزدیک آدمی اکیلا پڑھے جب کہ اسے قرآن یاد ہو۔
(۶) اَخْبَرَنَا اَبُوالْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، انبأ مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عِیْسَی ابْنِ عَبْدِکَ الرَّازِیُّ، ثَنَا اَبُوْعَامِرٍ عَمْرُو بْنُ تَمِیْمٍ، ثنا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یُوْنُسَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَیْبٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، عَنْ عَلِیُ، قَالَ: دَعَا الْقُرَّائَ فِی رَمَضَانَ فَاَمَرَ مِنْھُمْ رَجُلاً یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً قَالَ: وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُوْتِرُ بِھِمْ۔(۱۰)
ترجمہ :حضرت ابوعبدالرحمن سلمی حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رمضان المبارک میں قرّاء حضرات کو بلایا۔ ان میں سے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھائیں اور وتران کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ پڑھاتے تھے۔
(۷) انبأ اَبُوْسَعْدِنِ الْمَالِیْنِیُّ، ثنا اَبُواَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ، ثنا مَنْصُوْرُ بْنُ اَبِی مُزَاحِمٍ، ثنا اَبُوْشَیْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ ﷺ َ یُصَلِّیْ فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ فِی غَیْرِجَمَاعَۃٍ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔
تفرد بہ ابوشیبۃ ابراھیم بن عثمان العبسی الکوفی وھو ضعیفٌ۔ (۱۱)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺرمضان مبارک میں خود جماعت سے الگ بیس رکعات اور وتر پڑھا کرتے تھے۔
فطرہ کے مسائل
۱۲۷۔ فطرے کی مقدار میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں جواوزان اور پیمانے اس وقت رائج تھے ان کو موجودہ زمانے کے اوزان اور پیمانوں کے مطابق بنانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مختلف اہلِ علم نے اپنی تحقیق سے جو کچھ اوزان بیان کیے ہیں۔ عام لوگ ان میں سے جس کے مطابق بھی فطرہ دیں گے، سبکدوش ہوجائیں گے۔ اس معاملہ میں زیادہ تشدّد کی ضرورت نہیں ہے۔ فطرہ ہر اس شخص کو دینا چاہیے جو عید کے روز اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد فطرہ نکالنے کی استطاعت رکھتاہو۔ اور بیوی مستطیع ہو تو وہ بیوی ہی پر واجب ہوگا۔ کیونکہ اس کے شوہر کا نفقہ اس کے ذمہ نہیں ہے۔ لیکن میرے خیال میں اسے اولاد کا فطرہ نکالنا چاہیے۔ (رسائل ومسائل چہارم: ص۳۵۰)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ السَّکَنِ، قَالَ :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ھُوَ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَکَاۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِوَالْاُنْثٰی وَالصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاَمَرَ بِھَا اَنْ تُودّٰی قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ اِلَی الصَّلاَۃِ۔ (۱۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فطرہ فرض کیا ہے۔ کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع۔ آزاد ہو، غلام ہو، مرد ہو، عورت ہو، بچہ چھوٹاہو، بڑا ہو اور اسے نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیاہے۔
ابن عمرؓ سے مروی ایک اور روایت:
(۲)عَنْ نَافِعٍ اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:اَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِزَکَاۃِ الْفِطْرِ صَاعًا من تَمْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ۔ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ فَجَعَلَ النَّاسُ عَدْلَہٗ مُدَّیْنِ مِنْ حِنْطَۃٍ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺنے فطرہ ادا کرنے کا حکم دیا کہ کھجور میں سے ایک صاع اور جو میں سے ایک صاع۔ عبداللہ کا بیان ہے کہ لوگوں نے از خود ایک صاع کھجور اور ایک ایک صاع جو کو دو مُدّ گندم کے برابر قرار دے لیا۔
امام ابوعیسٰی ترمذی نے ابن عمر کی روایت بیان کرکے لکھاہے:
قال ابوعیسٰی حدیث ابن عمر، حدیث حسن صحیح رواہ مالک عن نافِع عن ابنِ عمر عن النبی ﷺنحو حدیث ایوب وزاد فیہ من المسلمین۔ ورواہ غیر واحد عن نافع ولم یذکروا فیہ من المسلمین۔ واختلف اھل العلم فی ھذا فقال بعضھم اذا کان للرجل عَبِیدٌ غیر مسلمین لم یؤدّ عنھم صدقۃ الفطر وھو قول مالک والشافعی واحمد وقال بعضھم یؤدی عنھم وان کانوا غیرمسلمین وھو قول الثوری وابن المبارک واسحاق۔(۱۴)
ــــ من المسلمینکی شرط کی وجہ سے اہل علم میں اختلاف رائے پیدا ہوا ہے ۔ بعض کے نزدیک جب کسی شخص کے غیر مسلم غلام ہوں تو وہ مالک ان کی جانب سے فطرہ نہیں ادا کرے گا۔ یہ رائے امام مالکؒ اور امام شافعی ؒکی ہے اور امام احمدؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ بعض، غیر مسلم غلاموں کی جانب سے بھی فطرہ کی ادائیگی کے قائل ہیں۔ امام ثوری، ابنِ مبارک، امام اسحاق کا یہی مسلک ہے۔
(۳) عَنْ عِیَاضِ بنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحِ الْعَامِرِیِّ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا سَعِیْدِنِالْخُدْرِیَّ یَقُوْلُ: کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ اَوْصَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ اَقِطٍ اَوْصَاعًا مِنْ زَبِیْبٍ۔(۱۵)
ترجمہ :حضرت سعد بن ابی سرح نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری کو یہ بیان کرتے سنا ہے کہ ہم فطرہ نکا لا کرتے تھے طعام سے ایک صاع، جو سے ایک صاع، کھجور سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع اور کشمش سے ایک صاع۔
ابن ماجہ نے عمّار بن سعد موذن رسولِ خدا ﷺ عن ابیہ کی روایت بھی نقل کی ہے:
(۴) عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤذِّنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَمَرَ بِصَدَقَۃِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ۔ (۱۶)
ترجمہ : حضرت عمّار بن سعد رسول اللہ ﷺکے مؤذن نے اپنے والد سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے کھجور میں سے ایک صاع، جو میں سے ایک صاع اور بغیر چھلکے والے جو سے ایک صاع فطرہ دینے کا حکم دیاہے۔
(۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَ مُنَادِیًا فِیْ فِجَاجِ مَکَّۃَ۔ اَلآ اِنَّ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ وَاجِبَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی، حُرٍّ اَوْعَبْدٍ، صَغِیْرٍ اَوْکَبِیْرٍ مُدَّانِ مِنْ قُمْحٍ اَوْسَوَاہُ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ۔(۱۷)
قال ابوعیسٰی ھذا حدیث غریب حسن۔
ترجمہ : حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺنے مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے والا بھیج کر یہ اعلان کرایا کہ فطرہ ہر مسلمان مرد، مسلمان عورت، آزاد، غلام، چھوٹے بڑے سب پر گندم کے دو مُدّیا دوسری اشیاء خوردنی سے ایک صاع ادا کرناواجب ہے۔
(۶)حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ خَالِدٍ الدِمَشْقِیُّ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السَّمَرْقَنْدِیُّ، قَالاَ ثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ:ثَنَا اَبُوْیَزِیْدَ الْخَوْلاَنِیُّ وَکَانَ شَیْخٌ صِدْقٌ وَکَانَ ابْنُ وَھْبٍ یروی عَنْہُ، ثَنَا سَیَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ مَحْمُوْدُ الصَّدَفِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُھْرَۃً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفْثِ وَطُعْمَۃً لِلْمَسَاکِیْنَ۔ مَنْ اَدَّاھَا قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَھِیَ زَکَاۃٌ مَقْبُوْلَۃٌ۔ وَمَنْ اَدَّاھَا بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَھِیَ صَدَقَۃٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ۔(۱۸)
ترجمہ: حضرت عبداللہؓ بن عبّاس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فطرہ روزہ دار کو لغو اور فحش کلامی کے اثرات سے پاکیزہ کرنے اور مساکین کے لیے لقمۂ حیات بنانے کی غرض سے فرض قراردیا ہے۔ جس شخص نے اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کردیا تو وہ بطور فطرہ مقبول ہے اور جس شخص نے بعد نمازِ عید ادا کیا تو وہ ایک عام صدقہ وخیرات متصور ہوگا۔
(۷) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ قَالَ :کُنَّا نُعْطِیْھَا فِی زَمَانِ النَّبِیِّ ﷺ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ اَوْصَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ اَوْصَاعًا مِنْ زَبِیْبٍ۔ فَلَمَّا جَآئَ مُعَاوِیَۃُ وَجَآئَ تِ السَّمْرَآئُ قَالَ: اَرٰی مُدًّا مِنْ ھٰذَا یَعْدِلُ مُدَّیْنِ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکے زمانہ میں ہم طعام، کھجور، جو، کشمش میں سے ایک صاع کے حساب سے فطرہ نکالا کرتے تھے۔ لیکن جب معاویہ کے دورِ خلافت میں گندم آگئی تو اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ گندم کا ایک مُدّ دوسری اشیاء کے دومُدّ کے برابر ہے۔
(۸) قَالَ اَبُوْسَعِیْد۔ فَاَمَّا اَنَا فَلاَ اَزَالُ اُخْرِجُہٗ کَمَا کُنْتُ اُخْرِجُہٗ اَبَدًا مَّاعِشْتُ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں نے تو پختہ عہد کرلیا تھا کہ میں تو اپنی ذات کی حد تک پہلے کی طرح تادمِ زیست ہرچیز سے ایک صاع ہی نکالتارہوں گا۔
امام ترمذی اس روایت کو نقل کرکے فرماتے ہیں:
قَالَ اَبُوْعیسٰی : ھذا حدیث حسن صحیح والعمل علی ھذا عند بعض اھل العلم یرون من کل شییٍٔ صاعًا وَھو قول الشافعی واحمد واسحاق۔ وقال بعض اھل العلم من اصحاب النبی ﷺوغیرھم من کل شیء صاع الا من البُرِّ فانہ یجزی نصف صاع۔ وھو قول سفیان الثوری وابن المبارک واھل الکوفۃ یرون نصف صاع من بُرٍّ۔(۲۱)
ــــ امام ترمذی کہتے ہیں بعض اہل علم جن میں امام شافعی، امام احمد اور اسحاق شامل ہیں، کی رائے یہ ہے کہ ہرچیز میں سے ایک صاع ہی فطرہ نکالا جائے۔ مگر بعض اہلِ علم صحابہ کرام اور دوسرے اصحابِ علم کی رائے یہ ہے کہ گندم کو چھوڑ کر باقی سب میں سے ایک صاع ہی نکالا جائے گندم چونکہ نصف صاع بھی کافی ہے اس لیے اسے مستثنٰی قراردیا ۔ یہ رائے سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کی ہے۔
(۹) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤُدَ العَتْکِیُّ، قَالاَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ یَزِیْدَ عَنِ النُّعْمَانِ ابْنِ رَاشِدٍ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ : مُسَدَّدٌ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ صُعَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ، وَقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤُدَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ: اَوْثَعْلَبَۃَ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ اَبِیْ صُعَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ صَاعٌ مِنْ بُرٍّ اَوْ قُمْحٍ عَلٰی کُلِّ اثْنَیْنِ صَغِیْرٍ اَوْکَبِیْرٍ حُرٍّ اَوْعَبْدٍ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی۔ اَمَّا غَنِیُّکُم فَیُزَکِّیْہِ اللّٰہُ تَعَالٰی وَاَمَّا فَقِیْرُکُمْ فَیَرُدُّ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاہُ زَادَ سُلَیْمَانُ فِیْ حَدِیْثِہٖ غَنِیٌّ اَوْفَقِیْرٌ۔ (۲۲)
ترجمہ: حضرت ابو صعیرکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہر دو پر یعنی چھوٹے بڑے، آزاد، غلام پر، مرد، عورت پر گندم میں سے ایک صاع فطرہ ہے، جہاں تک تمہارے اغنیاء کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ اس فطرہ کے ذریعے سے ان کا تزکیہ فرماتاہے اوررہے تمہارے فقراء تو جو کچھ انہوں نے دیا ہوتاہے اس سے زیادہ ان کی طرف پلٹا دیتاہے۔
(۱۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ کَانَ النَّاسُ یُخْرِجُوْنَ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ اَوْتَمْرٍ اَوْ سُلْتٍ اَوْ زَبِیْبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُاللّٰہِ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَکَثُرتِ الْحِنْطَۃُ جَعَلَ عُمَرُ نِصْفَ صَاعٍ حِنْطَۃٍ مِنْ تِلْکَ الْاَشْیَائِ۔(۲۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ عہد رسالت مآب ﷺمیں لوگ جو، کھجور اور بغیر چھلکے کے جو یا کشمش میں سے ایک صاع فطرہ نکالتے تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں گندم کی بہتات ہوگئی تو انہوں نے ان اشیاء کے بدلہ نصف صاع گندم مقرر کردی۔
(۱۱) اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ، قَالَ :اَنْبَأَ نَا الْقَاسِمُ وَھُوَ ابْنُ مَالِکٍ عَنِ الْجُعَیْدِ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ یَزیْدَ، قَالَ :کَانَ الصَّاعُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّکُمْ وَالْیَوْمَ وَقَدْ زِیْدَ فِیْہِ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺَ، قَالَ: الْمِکْیَالُ مِکْیَالُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَالْوَزْنُ وَزْنُ اَھْلِ مَکَّۃَ۔(۲۴)
ترجمہ: سائب بن یزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے عہد مبارک میں صاع تمہارے زمانے کے دومُدّ اور ثُلث مُدّ کے برابر تھا بعد میں اس میں مزید اضافہ کردیا گیا۔
ــــحضرت عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ پیمانہ اہلِ مدینہ کا معتبر ہے اوروزن اہلِ مکّہ کا۔
ماخذ
(۱) بخاری ج۱ کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان٭ مسلم ج۱ کتاب الصلاۃ باب التَّرغیب فی قیام رمضان وھو التراویح عن عائشۃ٭ ابوداؤد ج۲ کتاب الصلاۃ باب فی قیام شھر رمضان۔
(۲) ترمذی ج۱ابواب الصیام۔ باب ماجاء فی قیام شھر رمضان۔
(۳) بخاری ج۱کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان٭ موطا امام مالک ج۱کتاب الصلاۃ باب ماجاء فی قیام رمضان٭ السنن الکبری للبیھقی ج۲کتاب الصلاۃ باب قیام شھر رمضان۔
(۴) نسائی ج۴کتاب الصیام باب ثواب من قام رمضان وصامہ الخ۔
(۵) بخاری ج۱کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان٭ابوداؤدج۲ کتاب الصلاۃ باب فی صلاۃ اللیل٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۲کتاب الصلاۃ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان۔
(۶) موطا امام مالک ج۱کتاب الصلاۃ۔ باب صلاۃ النبی ﷺفی الوتر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۲ص۴۹۶۔
(۷) مؤطا امام مالک ج۱کتاب الصلاۃ فی رمضان باب ماجاء فی قیام رمضان۔ ٭السنن الکبریٰ ج۲کتاب الصلاۃ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان۔
(۸) موارد الظمآن الٰی زوائد ابن حبان کتاب الصیام باب فی قیام رمضان۔
(۹) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی قیام شھر رمضان۔
(۱۰) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۲ کتاب الصلاۃ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان۔
(۱۱) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۲ کتاب الصلاۃ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان۔
(۱۲) بخاری ج۱کتاب الزکاۃ، باب فرض صدقۃ الفطر۔٭مسلم ج۱کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الزکاۃ باب کم یؤدی فی صدقہ الفطر ٭ نسائی ج ۵کتاب الزکوٰۃ باب فرض زکاۃ رمضان علی المسلمین دون المعاھدین۔ نسائی نے ’’اَمَرَبِھَا‘‘کے بعد کی عبارت کتاب الزکاۃ باب الوقت الذی یستحب أن تؤدی صدقۃ الفطرفیہمیں بیان کی ہے۔ ٭مؤطاامام مالک ج۱کتاب الزکاۃ باب مکیلۃ زکاۃ الفطرمیں ابنِ عمر کی روایت، فرض زکاۃ الفطر من رمضان علی المسلمین الخ۔
(۱۳) بخاری ج۱کتاب الزکاۃ باب صدقۃ الفطر صاعٌ من تمر۔٭مسلم ج۱کتاب الزکاۃ باب زکاۃ الفطر۔٭ ابن ماجہ کتاب الزکاۃ باب صدقۃ الفطر۔
(۱۴) ترمذی ج۱ ابواب الزکاۃ باب ماجاء فی صدقۃ الفطر۔
(۱۵) بخاری ج۱کتاب الزکاۃ، باب فرض صدقۃ الفطر۔٭ مسلم ج۱کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر۔٭ نسائی ج۵کتاب الزکاۃ باب التمرفی زکاۃ الفطر۔
(۱۶) ابن ماجہ کتاب الزکاۃ باب صدقۃ الفطر۔
(۱۷) ترمذی ج۱ ابواب الزکاۃ، باب ماجاء فی صدقۃ الفطر۔
(۱۸) ابوداؤد ج۲ کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر۔٭ ابن ماجہ ، کتاب الزکاۃ باب صدقۃ الفطر ۔
(۱۹) بخاری ج۱کتاب الزکاۃ، باب صاع من زبیب۔٭مسلم ج۱کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر۔ ٭نسائی ج۵ کتاب الزکاۃ، باب الشعیر۔
(۲۰) مسلم ج۱کتاب الزکاۃ باب زکاۃ الفطر۔٭ابوداؤد ج۲ کتاب الزکاۃ، باب کم یودّی فی صدقۃ الفطر۔٭نسائی ج۵کتاب الزکاۃ، باب الزبیب۔ الاقط۔٭ابن ماجہ کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر۔٭موطا امام مالک ج۱کتاب الزکاۃ باب مکیلۃ زکاۃ الفطر۔
(۲۱) ترمذی ج۱ابواب الزکاۃ عن رسول اللّٰہ ﷺ باب ماجاء فی صدقہ الفطر۔
(۲۲) ابوداؤد ج۲کتاب الزکاۃ، باب من روی نصف صاع من قمحٍ۔
(۲۳) ابوداؤدج۲کتاب الزکاۃ باب کم یودّی فی صدقۃ الفطر٭نسائی ج۵کتاب الزکاۃ باب السلت۔
(۲۴) نسائی ج۵کتاب الزکاۃ باب کم الصاع۔
فصل نہم : شب قدر ۔لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے
۱۲۸۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ (بخاری)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق ( اکیس ، تیئس، پچیس، ستائیس اور انتیس تاریخوں)تاریخوں میں تلاش کرو۔‘‘
تشریح: لیلۃ القدر اُس خاص رات کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی صفت ہے چونکہ قرآن مجید اس خاص رات میں نازل کیا گیا تھا اس لیے اس کو قدر کی رات کہاگیا۔
قدر سے کیا مراد ہے؟
قدر کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہیں کہ وہ رات بہت ہی احترام کے قابل اور بڑی عظمت والی ہے۔ کیونکہ اس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔ اس کے علاوہ قدر کا لفظ قضا وقدر کے معنوں میں بھی ہوسکتاہے کیونکہ قرآن مجید میں یہ بیان کیا گیاہے کہ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ ’’ملائکہ اور جبریلؑ اس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہرطرح کے احکام وفرامین لے کر نازل ہوتے ہیں‘‘ چنانچہ اس کے معنی تقدیر بنانے کی رات کے بھی ہوسکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے قدر کو ضیق اور تنگی کے معنوں میں لیاہے اور وہ لیلۃ القدر کا مفہوم یہ قراردیتے ہیں کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے تنگی کی ہے کہ اس کی صحیح تاریخ لوگوں کو بتائی جائے۔ لیکن یہ ایک دُور کا مفہوم ہے۔
لیلۃ القدر کے متعلق یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ رمضان کی کون سی رات ہے۔ نبی ﷺنے جو کچھ بتایاہے وہ بس یہ ہے کہ وہ رات رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے۔ اس لیے اسے انہی راتوں میں تلاش کرو۔
لیلۃ القدر کا قطعی طورپر تعیّن نہ کرنے میں یہ حکمت کارفر ما نظر آتی ہے کہ آدمی ہرطاق رات میں اس امید پر اللہ کے حضور میں کھڑا ہوکر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلۃ القدر ہو ــــ لیلۃ القدر اگر اس نے پالی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس چیز کا وہ طالب تھا وہ اسے مل گئی۔ اب اس کے بعد اس نے جو چند مزید راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں تو وہ اس کی نیکی میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا اَبُوْسُھَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ: تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔(۱)
وفی الباب عن عمر و ابی بن کعب وجابر بن سمرۃ وجابر بن عبداللہ وابن عمرو الفلتان بن عاصم وانس وابی سعید وعبداللہ بن انیس وابی بکرۃ وابن عباس وبلال وعبادۃ بن الصامت۔
قال ابوعیسٰی: حدیث عائشۃ حدیث حسن صحیح۔
واکثر الروایات عن النبی ﷺ انہ قال التمسوھا فی العشر الاواخر فی کل وتر۔
(۲) وَرُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اَنَّھَا لَیْلَۃُ اِحْدیٰ وَّعِشْرِیْنَ وَلَیْلَۃُ ثَلٰثٍ وَّعِشْرِیْنَ وَخَمْسٍ وَّعِشْرِیْنَ وَسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ وَتِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ وَاٰخِرُ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ۔
فقال الشافعی واقوی الروایات عندی فیھا لیلۃ احدی وعشرین۔ قال ابوعیسٰی وقد روی عن ابی بن کعب انہ کان یحلف انھا لیلۃ سبع وعشرین ویقول اَخبرنا رسول اللہ ﷺبعلامتھا فعددنا وحفظنا وروی عن ابی قلابۃ انہ قال لیلۃ القدر تنتقل فی العشر الاواخر اخبرنا بذالک عبدبن حمید، نا عبدالرزاق عن معمر، عن ایوب، عن ابی قلابۃ۔
ترجمہ : امام ترمذی کہتے ہیں کہ نبی ﷺکی اکثر روایات میں ہے کہ اس رات کو تم آخری دس راتوں کی طاق تاریخوں میں تلاش کرو۔
اور نبی ﷺسے یہ بھی مروی ہے کہ لیلۃ القدر اکیس، تئییس، پچیس، ستائیس، انتیس اور رمضان کی آخری رات میں ہوتی ہے۔
امام شافعیؒ کی رائے ہے کہ میرے نزدیک اقویٰ روایات کی بنیاد پر اکیس تاریخ کی رات ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں ابی بن کعب سے مروی ہے کہ وہ قسم کھا کرکہا کرتے تھے کہ وہ ستائیسویں تاریخ کی رات ہے اور وہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں اس کی علامت بھی بتائی تھی ہم نے اسے یاد رکھاہے۔ ابوقلابۃ سے مروی ہے ان کا خیال ہے کہ لیلۃ القدر آخری دس دنوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
لیلۃ القدر کے بارے میں صحابہ کرام کا خواب
لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت
۱۳۰۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِلْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِیْ تَاسِعَہٍ تَبْقیٰ، فِیْ سَابِعَۃٍ تَبقٰی، فِیْ خَامِسَۃٍ تَبقٰی۔ (بخاری)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: لیلۃ القدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس تاریخوں میں، یعنی اکیس یا انتیس کو،تئیس یا ستائیس کو یا پچیس کو۔ ‘‘
تشریح: حدیث کے متن میں فِیْ تَاسِعَۃ تَبْقٰی کے اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آئے ہیں، یہ دراصل عربی زبان میں اعداد بیان کرنے کا ایک خاص طریقہ ہے۔ اگر ان کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو مفہوم خبط ہوجائے گا۔ عربوں میں چونکہ لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا اس لیے وہ اپنا حساب کتاب عام طورپر انگلیوں سے کیا کرتے تھے اور ان کے ہاں اعداد بیان کرنے کے بعض دوسرے طریقے بھی رائج تھے۔ انہی میں سے ایک خاص طریقہ یہ بھی تھا جس کے مطابق یہاں گنتی کرکے تاریخوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
حدیث کے متن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کا زمانہ بھی وہی ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کی روایت میں آخری عشرے کی طاق راتوں کا ذکر کرکے چھوڑدیا گیاہے لیکن حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت میں تاریخوں کی صراحت بھی موجود ہے کہ لیلۃ القدر کو آخری عشرے کی ان راتوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ اس طرح یہ حدیثیں باہم مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ دراصل ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا وُھَیْبٌ، ثَنَا اَیُّوْبُ، عَنْ عِکْرِمَۃَ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ اِلْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِیْ تَاسِعَہٍ تَبْقیٰ، فِیْ سَابِعَۃٍ تَبقٰی، فِیْ خَامِسَۃٍ تَبقٰی۔(۳)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: لیلۃ القدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس تاریخوں میں، یعنی اکیس یا انتیس کو،تئیس یا ستائیس کو یا پچیس کو
لیلۃ القدر کی تلاش میں حضورؐ کا پورا رمضان اعتکاف میں گزارنے کا واقعہ
۱۳۱۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوْسَطَ فِیْ قُبَّۃٍ تُرْکِیَّۃٍ ثُمَّ اَطْلَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ اِنِّی اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْاَوَّلَ اَلْتَمِسُ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ ثُمَّ اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْاَوْسَطَ ثُمَّ اُتِیْتُ فَقِیْلَ لِیْ اِنَّھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فَمَنْ کَانَ اعْتَکَفَ مَعِیَ فَلْیَعْتَکِفِ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ فَقَدْ اُرِیْتُ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ ثُمَّ اُنْسِیتُھَا وَقَدْ رَأَیْتُنِیْ اَسْجُدُ فِیْ مَائٍ وَّطِیْنٍ مِنْ صَبِیْحَتِھَا فَالْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ والْتَمِسُوْھَا فِیْ کُلِّ وِتْرٍ قَالَ فَمَطَرَتِ السَّمَآئُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ وَکَانَ الْمَسْجِدُ عَلٰی عَرِیْشٍ فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ فَبَصُرَتْ عَیْنَایَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَعَلٰی جَبْھَتِہٖ اَثَرُ الْمَائِ وَالطِّیْنِ مِنْ صَبِیْحَتِہٖ اِحْدَیٰ وَعِشْرِیْنَ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ فِی الْمَعْنٰی) ــــ وَفِیْ رِوَایَۃِ عَبِداللّٰہِ بْنِ اُنَیْسٍ قَالَ لَیْلَۃُ ثَلاَثٍ وَّعِشْرِیْنَ۔ ( مسلم)
’’حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺنے رمضان کے پہلے دس دن اعتکاف کیا۔ پھر (ایک مرتبہ) آپ نے ایک ترکی طرز کے خیمے کے اندر رمضان کے درمیانی دس دن اعتکاف کیا۔ اعتکاف ختم ہونے پر آپؐ نے اپنا سر مبارک خیمے سے باہر نکالا اور فرمایا: میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے دس دن کا اعتکاف کیا۔ پھر میں نے بیچ کے دس دن کا اعتکاف کیا۔ تب میرے پاس آنے والا آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ لیلۃ القدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے۔ پس جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے انہیں چاہیے کہ وہ اب آخری دس دن بھی اعتکاف کریں ــــ مجھے یہ رات (لیلۃ القدر)دکھائی گئی تھی مگر پھر بھُلادی گئی اور میں نے یہ دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو پانی اور مٹی میں (برسات کی وجہ سے) نماز پڑھ رہاہوں۔ پس تم لوگ اسے رمضان کے آخری دس دنوں کی طاق تاریخوں میں تلاش کرو ــــ اس کے بعد حضرت ابوسعید خدریؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات کو (جس کا وہ ذکرکرر ہے ہیں) بارش ہوئی اور مسجد نبوی ایک ایسے چبوترے پر تھی جس پر کھجور کے پتوں کا چھپّر تھا (اور نیچے مسجد میں کوئی فرش نہیں تھا) بارش کی وجہ سے مسجد رات کو ٹپکی اور میری آنکھوں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ اکیسویں تاریخ کی صبح کو آپ کی پیشانی ٔمبارک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا ــــامام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ مفہوم کے لحاظ سے اس حدیث پر متفق ہیں اور حضرت عبداللہ بن اُنَیس نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے ہیں کہ یہ رات تیئیسویں تھی اسے امام مسلم نے روایت کیاہے۔‘‘
تشریح: رمضان کے مختلف حصّوں میں رسول اللہ ﷺکے اعتکاف میںبیٹھنے کے واقعے سے یہ معلوم ہوتاہے کہ آپ لیلۃ القدر کو تلاش کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے آپؐ نے رمضان کے پہلے دس دن اعتکاف کیا۔ پھر بیچ کے دنوں میں کیا۔ پھر آپؐ کو اشارہ کیا گیا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری دس دنوں میں ہے چنانچہ آپؐ نے ان صحابہؓ سے جو آپؐ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے یہ فرمایا کہ اب تم بھی آخری دس دنوں میں اعتکاف کرو۔
حدیث کے متن میں اِنِّیْ اُنْسِیْتُھَا کے الفاظ آئے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’وہ رات مجھے بھلادی گئی۔‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ میںبھول گیا۔ اس جگہ ایک نازک نکتہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی چیز بطور ہدایت نازل ہو یا کسی چیز کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولؐ کو دیاگیاہو اور وہ اسے بھول جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ نعوذ باللہ رسالت محفوظ نہیں ہے، ظاہر ہے کہ ایسا ہونا بعید از عقل وامکان ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلادیاجائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنے نبیؐ کے ذہن سے جس بات کو چاہے محوکردے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر کام کے کرنے کا اختیار رکھتاہے اسی طرح وہ اپنے کیے ہوئے کسی کام کو محو کردینے اور منسوخ کردینے کا اختیار بھی رکھتاہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ علم اپنے نبیؐ سے چھپایا بھی نہیں لیکن اس کو ظاہرکرنے کے بعد اس کے ذہن سے اس کو محو بھی کردیا تاکہ جس چیز کی خبر اللہ تعالیٰ لوگوں کو نہیں دینا چاہتاتھا وہ لوگوں تک نہ پہنچے۔ اسی لیے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ اِنِّیْ اُنْسِیْتُھَا ، وہ رات مجھے بھلادی گئی۔ ایک اور حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مولانائے محترم نے اس بات کی وضاحت یوں فرمائی ہے: یہ ممکن نہیں کہ رسول اللہ ﷺکو دین کے معاملے میں نسیان ہوجائے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰی اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ(الاعلیٰ:۶،۷) رسول اللہ ﷺکو یہ اطمینان دلایا گیا کہ ہم تم کو بذریعہ وحی جو کچھ پڑھوارہے ہیں تم اسے بھولوگے نہیں بجز اس کے کہ جو اللہ خود چاہے ــــــ مزید ارشاد ہوا کہ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْمِثْلِھَاط اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (البقرہ :۱۰۶)یعنی ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھُلادیتے ہیں اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یاکم ازکم ویسی ہی۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہرچیز پر قدرت رکھتاہے ــــــ تو اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکو پہلے لیلۃ القدر کا علم دیا لیکن پھر بھلادیا، اور وہ اس بات کا پورا اختیار رکھتاہے۔
اب یہ سوال کہ راوی ٔ حدیث حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ کے اخذ کردہ اس نتیجے کی حقیقت کیاہے کہ لیلۃ القدر رمضان کی اکیسویں رات ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ نبی ﷺنے یہ بتایا تھا کہ مجھے خواب میں جو چیز دکھائی گئی ہے وہ یہ تھی کہ وہ کوئی بارش والی رات ہے اور صبح کو میں نے کیچڑمیں سجدہ کیاہے۔اس زمانے میں مسجد نبوی کا فرش پختہ نہیں تھا بلکہ خالی زمین پر کنکریاں ڈال دی گئی تھیں اور بارش سے کیچڑ ہوجاتی تھی۔
اس لیے جب لوگوں نے دیکھا کہ اکیس تاریخ کو بارش ہوئی ہے اور صبح کی نماز کے بعد نبی ﷺکی پیشانی پر پانی اور مٹی کا نشان تھا تو لوگوں نے خیال کیا کہ حضورؐ کی بتائی ہوئی بات کے مطابق یہی رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ رسول اللہﷺ نے خود یہ نہیں فرمایا کہ یہی اکیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ نے خود یہ قیاس کیا کہ یہی رات لیلۃ القدر ہوگی۔ ہوسکتاہے کہ حضورؐ کو کوئی اور رات دکھائی گئی ہو کیونکہ عبداللہ بن اُنَیسؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ تئیسویں رات تھی۔ چنانچہ اس طرح بھی ۲۱ تاریخ کا قطعی تعیّن نہیں ہوا ــــ اس طرح دراصل حکمتِ الٰہی کا یہ مقصود کہ لوگوں کو ٹھیک ٹھیک اس رات کی تاریخ کا علم نہ ہو روایات کے اختلاف نے پورا کردیا۔ نہ روایات متفق ہوسکیں اور نہ خود رسول اللہ ہی نے یہ وضاحت فرمائی کہ یہی وہ رات ہے جو میں نے خواب میں دیکھی تھی۔
تخریج(۱): حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْاَعْلٰی، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمَرُ:حَدَّثَنِیْ عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ الْاَنْصَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِبْرَاھِیْمَ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوْسَطَ فِیْ قُبَّۃٍ تُرْکِیَّۃٍ، عَلٰی سُدَّتِھَا حَصِیْرٌ۔ قَالَ فَاَخَذَ الْحَصِیْرَ بِیَدِہٖ فَنَحَّاھَا فِیْ نَاحِیَۃِ الْقُبَّۃِ، ثُمَّ اَطْلَعَ رَأْسَہٗ فَکَلَّمَ النَّاسَ فَدَنُوْا مِنْہُ فَقَالَ : اِنِّی اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْاَوَّلَ اَلْتَمِسُ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ۔ ثُمَّ اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْاَوْسَطَ، ثُمَّ اُتِیْتُ فَقِیْلَ لِیْ اِنَّھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فَمَنْ اَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یَعْتَکِفَ، فَلْیَعْتَکِفْ۔فَاعْتَکَفَ النَّاسُ مَعَہٗ قَالَ: وَاِنِیّ اُرِیْتُھَا لَیْلَۃَ وِتْرٍ۔ وَاِنِّیْ اَسْجُدُ صَبِیْحَتَھَا فِیْ طِیْنٍ وَّمَائٍ فَاَصْبَحَ مِنْ لَیْلَۃٍ اِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ۔ وَقَدْ قَامَ اِلَی الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَآئُ۔ فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ فَاَبْصَرْتُ الطِّیْنَ وَالْمَائَ۔ فَخَرَجَ حِیْنَ فَرَغَ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔ وَجَبِیْنُہٗ وَرَوْثَۃُ اَنْفِہٖ فِیْھِمَا الطِّیْنُ وَالْمَائُ وَاِذَا ھِیَ لَیْلَۃُ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ۔(۴)
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِالْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَکَفَ عَامًا حَتّٰی اِذَا کَانَ لَیْلَۃَ اِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ وَھِیَ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ یَخْرُجُ مِنْ صَبِیْحَتِھَا مِنْ اِعْتِکَافِہٖ قَالَ: مَنْ کَانَ اعْتَکَفَ مَعِیْ، فَلْیَعْتَکِفِ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرِ فَقَدْ اُرِیْتُ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ ثُمَّ اُنْسِیْتُھَا وَقَدْ رَأَیْتُنِیْ اَسْجُدُ فِیْ مَآئٍ وَطِیْنٍ مِنْ صَبِیْحَتِھَا، فَالْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشَرِ الْاَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوْھَا فِیْ کُلِّ وِتْرٍ فَمَطَرَتِ السَّمَآئُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ وَکَانَ الْمَسْجِدُ عَلٰی عَرِیْشٍ فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ فَبَصُرَتْ عَیْنَایَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ عَلٰی جَبْھَتِہٖ اَثَرُ الْمَائِ وَالطِّیْنِ مِنْ صُبْحِ اِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خُدریؓ کابیان ہے کہ رسول اللہ ﷺرمضان کے درمیانی دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپؐ نے اعتکاف کیا کہ رمضان کی اکیسویں رات ہوگئی جس میںآپؐاپنے اعتکاف سے باہر تشریف لے آتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیاہے اسے چاہیے کہ وہ رمضان کے آخری دس دن بھی اعتکاف کرے۔ مجھے یہ رات خواب میں دکھائی گئی مگر پھر اسے بھُلادیا گیا۔ خواب دیکھا کہ میں اس صبح کو مٹی اور پانی میں سجدہ کررہاہوں لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو بلکہ طاق راتوں میں تلاش کرو۔اس رات کو بارش ہوئی اور مسجد نبوی ایسے چبوترے پر تھی جس پر کھجوروں کے پتوں کا چھپر تھا۔ بارش کی وجہ سے مسجد رات کو ٹپک پڑی اور میری آنکھوں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپؐ کی پیشانی پر اکیسویں تاریخ کی صبح کو پانی اور مٹی کا نشان تھا۔
(۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اُنَیْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ: اُرِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ثُمَّ اُنْسِیْتُھَا وَاَرَانِیْ صَبِیْحَتَھَا اَسْجُدُ فِیْ مَآئٍ وَطِیْنٍ فَمُطِرْنَا لَیْلَۃَ ثَلاَثٍ وَّعِشْرِیْنَ: فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ، فَانْصَرَفَ وَاِنَّ اَثَرَ الْمَآئِ وَالطِّیْنِ عَلٰی جَبْھَتِہٖ وَاَنْفِہٖ۔ قَالَ : وَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ اُنَیْسٍ یَقُوْلُ : ثَلٰثٌ وَّعِشْرِیْنَ۔(۶)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن اُنَیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔’’مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر بھُلادی گئی۔ پھر میں نے دیکھاکہ اس رات کی صبح کو پانی اور مٹی میں (برسات کی وجہ سے) سجدہ کررہاہوں ( نماز پڑھ رہاہوں) پس تئیس رمضان کو بارش ہوئی۔ رسول اللہ ﷺنے ہمیں نماز پڑھائی جب آپؐ نماز سے فارغ ہوکر پلٹے توآپؐ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا۔ اس وجہ سے عبداللہ بن اُنَیس کہا کرتے تھے کہ اس سے مراد رمضان کی تئیسویں رات ہے۔
رمضان کی ستائیسویں شب کے لیلۃ القدر ہونے کے متعلق ایک روایت
۱۳۲۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: سَاَلْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ اِنَّ اَخَاکَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ مَنْ یَّقُمِ الْحَوْلَ یُصِبْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ، فَقَالَ رَحِمَہُ اللّٰہُ اَرَادَ اَنْ لاَّیَتَّکِلَ النَّاسُ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ عَلِمَ اَنَّھَا فِیْ رَمَضَانَ وَاَنَّھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وَاَنَّھَا لَیْلَۃ ُسَبْعٍ وعِشْرِیْنَ ثُمَّ حَلَفَ لاَیَسْتَثْنِیْ اَنَّھَا لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقُلْتُ: بِاَیِّ شَیْئٍ تَقُوْلُ ذٰلِکَ یَا اَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ: بِالْعَلاَمَۃِ اَوْبالْاٰیَۃِ الَّتِیْ اَخْبَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَّھَا تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ لاَشُعَاعَ لَھَا۔ ( مسلم)
’’حضرت زِرِّبن حُبَیْش (جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے خاص شاگرد تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی حضرت ابن مسعودؓ توکہتے ہیں کہ جو شخص سال بھر (راتوں کو) قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پالے گا (آپ کا کیا خیال ہے؟ یعنی انہوں نے تو رمضان تک کا ذکر چھوڑدیاہے کجا کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کا ذکرکرتے) حضرت اُبیّ بن کعبؓ نے جواب دیا۔ عبداللہ بن مسعودؓ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ان کی مراد دراصل یہ تھی کہ لوگ ایک خاص تاریخ یا خاص زمانے پر بھروسہ نہ کرلیں(اور سال بھر کی راتوں کی عبادت سے غافل نہ ہوجائیں) ورنہ انہیں معلوم تو تھاکہ لیلۃ القدر رمضان میںہے، اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ رمضان کی آخری دس تاریخوں میں ہے، اور یہ بھی کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ پھر حضرت اُبیّ بن کعبؓ نے بغیر استثناء کیے ہوئے حلفًا یہ کہاکہ وہ رمضان کی ستائیسویں تاریخ ہے۔ پس میں نے پوچھا کہ اے ابو منذر (حضرت اُبیّؓ بن کعب کی کنیت) آپ یہ بات کس بناء پر کہہ رہے ہیں؟ ا نہوں نے جواب دیا: ایک علامت یا نشانی کی بناپر کہہ رہاہوں جو رسول اللہ ﷺنے ہمیں بتائی تھی اور وہ نشانی یہ ہے کہ اس روز جو سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہوگی۔‘‘
تشریح: ’’شعاع نہیں ہوگی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ شعاع میں تیزی نہیں ہوگی۔ ایسا اس بنا پر بھی ہوسکتاہے کہ بادل ہونے کی وجہ سے سورج کی شعاعیں بہت ہلکی اور دھیمی ہوں اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس روز ویسے ہی شعاعوں میں تیزی اور چمک کم ہو ــــ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس علامت سے قطعی طور پر لیلۃ القدر کا تعیّن کیا جاسکتاہے؟
حضرت اُبیّ بن کعب ؓ نے اوّل تو اپنے اجتہاد سے یہ رائے قائم کی کہ چونکہ نبی ﷺنے یہ علامت بتائی ہے اور فلاں تاریخ کو (جوستائیسویں تھی) میں نے یہ علامت دیکھی ہے اس لیے ضرور یہ ستائیسویں تاریخ ہی لیلۃ القدر کی تاریخ ہوگی، حالانکہ کسی اور تاریخ کو بھی سورج نکلنے کی یہ کیفیت ہوسکتی تھی۔ دوسرے یہ کہ خود لاَشُعَاعَ لَھَاکے الفاظ بھی اس بات کا قطعی طورپر تعیّن نہیں کرتے کہ سورج کے طلوع ہونے کی کس کیفیت کا نام لاَشُعَاعَ لَھَاہے۔ اس بنا پر بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمیشہ کے لیے ستائیسویں تاریخ کا تعیّن کردیاجائے۔ یا کسی اور تاریخ کو کھڑے ہوکر ایک آدمی یہ دیکھے کہ آج سورج کی شعاع کیسی پڑرہی ہے اور وہ اپنی جگہ یہ خیال کرکے کہ یہلاَشُعَاعَ لَھَا کی کیفیت ہے یہ طے کردے کہ آج کی تاریخ وہ خاص تاریخ ہے ــــ یہاں بھی دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت کس طرح پوری ہورہی ہے کہ لوگوں کو یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہوکہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے۔
تخریج :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَکِلاَھُمَا، عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ، قَالَ بْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدَۃَ، وَعَاصِمِ بْنِ ابی النَّجُوْدِ، سَمِعَا زِرِّ بْنَ حُبَیْشٍ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ اِنَّ اَخَاکَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ: مَنْ یَّقُمِ الْحَوْلَ یُصِبْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: رَحِمَہُ اللّٰہُ اَرَادَ اَنْ لاَّیَتَّکِلَ النَّاسُ اَمَا اَنَّہٗ قَدْ عَلِمَ اَنَّھَا فِیْ رَمَضَانَ وَاِنَّھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وَاَنَّھَا لَیْلَۃ ُسَبْعٍ وعِشْرِیْنَ ثُمَّ حَلَفَ لاَیَسْتَثْنِیْ اَنَّھَا لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقُلْتُ: بِاَیِّ شَیْئٍ تَقُوْلُ ذٰلِکَ یَا اَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ: بِالْعَلاَمَۃِ اَوْبالْاٰیَۃِ اَخْبَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ اَنَّھَا تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ لاَشُعَاعَ لَھَا۔(۷)
عشرۂ آخر میں نبی ﷺکا اہتمامِ عبادات
۱۳۳۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ یَجْتَھِدُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مَالاَ یَجْتَھِدُ فِیْ غَیْرِہٖ۔ (مسلم)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺرمضان کے آخری دس دنوں میں (اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں) جس قدر سخت محنت کرتے تھے اتنی اور کسی زمانے میں نہیں کرتے تھے۔‘‘
تخریج(۱): حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَاَبُوْکَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ کِلاَھُمَا، عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ، قَالَ قُتَیْبَۃُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ سَمِعْتُ اِبْرَاھِیْمَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ الْاَسْوَدَ بْنَ یَزِیْدَ یَقُوْلُ: قَالَتْ عَائِشَۃُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَجْتَھِدُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مَالاَ یَجْتَھِدُ فِیْ غَیْرِہٖ۔(۸)
(۲) وَکَانَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ اِذَا دَخَلَ اَیَّامُ الْعَشْرِ اجْتَھَدَ اِجْتِھَادًا شَدِیْدًا حَتّٰی مَایَکَادُ یَقْدِرُ عَلَیْہِ۔(۹)
عبادات
۱۳۴۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزرَہٗ وَاَحْیٰی لَیْلَہٗ وَاَیْقَظَ اَھْلَہٗ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب رمضان کی آخری دس تاریخیں آتی تھیں تو رسول اللہ ﷺکمربستہ ہوجاتے تھے۔ رات رات بھر جاگتے تھے اور اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے تھے۔‘‘
تشریح: ویسے تو رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کی بندگی بجالانے میں ہمیشہ انتہائی محنت کرتے تھے لیکن حضرت عائشہؓ کے بیان کے مطابق رمضان کے آخری دس دنوں میں آپ کی محنت بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِیْ یَعْفُوْرَ، عَنْ اَبِی الضُّحیٰ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِیْئزَرَہٗ وَاَحَیٰی لَیْلَہٗ وَاَیْقَظَ اَھْلَہٗ۔ (۱۰)
(۲)عَنْ عَلِیٍّ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُوْقِظُ اَھْلَہٗ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ (۱۱)
قال ابوعیسٰی ھذا حدیث حسن صحیح۔
لیلۃ القدر کی دُعا
۱۳۵۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَاَیْتَ اِنْ عَلِمْتُ اَیَّ لَیْلَۃٍ لَیْلَۃُ الْقَدْرِمَا اَقُوْلُ فِیْھَا، قَالَ:قُوْلِیْ: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، ترمذی)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپؐ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے، تو مجھے اس میں کیا کہنا چاہیے؟ آپؐ نے فرمایا: یوں کہو کہ اے میرے خدا، تو بڑا معاف کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند کرتاہے، لہٰذا مجھے معاف فرمادے۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، نَاجَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضُّبَعِیُّ، عَنْ کَھْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَاَیْتَ اِنْ عَلِمْتُ اَیَّ لَیْلَۃٍ لَیْلَۃُ الْقَدْرِمَا اَقُوْلُ فِیْھَا، قَالَ:قُوْلِیْ: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔(۱۲) (ھذا حدیث حسن صحیح)
لیلۃ القدرکورمضان کے عشرۂ آخر کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت
۱۳۶۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ : اِلْتَمِسُوْھَا یَعْنِی لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی تِسْعٍ یَّبْقَیْنَ اَوْ فِیْ سَبْعٍ یَّبْقَیْنَ اَوْ فِیْ خَمْسٍ یَّبْقَیْنَ اَوْثَلاَثٍ اَوْاٰخِرِ لَیْلَۃٍ۔ (ترمذی)
’’حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے سنا ہے: لیلۃ القدر کو تلاش کرو (رمضان کی) ۲۱یا ۲۳ یا۲۵ یا ۲۷ یا ۲۹ تاریخ کی رات کو۔‘‘
تشریح: اس سے پہلے بھی یہ بات بہ تکرار گزرچکی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے، طاق راتوں میں ہے اور آخری عشرے کی طاق راتیں یہی ہیں، یعنی اکیسویں، تیئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں۔
تخریج : حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ، نَایَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ، نَاعُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ قَالَ ذُکِرَتْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ عِنْدَ اَبِیْ بَکْرَۃَ فَقَالَ مَا اَنَا بِمُلْتَمِسِھَا لِشَیْئٍ سَمِعْتُہٗ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِلاَّ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ اِلْتَمِسُوْھَا فِیْ تِسْعٍ یَّبْقِیْن اَوْ سَبْعٍ یَّبْقَیْنَ اَوْخَمْسٍ یَّبْقَیْنَ اَوْثَلٰثٍ اَوْ اٰخِرِ لَیْلَۃٍ قَالَ وَکَانَ اَبُوْ بَکْرَۃَ یُصَلِّیْ فِی الْعِشْرِیْنَ مِنْ رَمَضَانَ کَصَلوٰتِہٖ فِیْ سَائِرِ السَّنَۃِ فَاِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَھَدَ۔
قال ابوعیسٰی ھذا حدیث غریب حسن صحیح۔(۱۳)
لیلۃ القدر ہررمضان میں ہوتی ہے
۱۳۷۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَقَالَ ھِیَ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ۔ ( ابوداؤد)
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐنے فرمایاکہ وہ ہررمضان میں ہوتی ہے۔‘‘
تشریح: جس رات میں قرآن نازل کیا گیاتھا اور جس کو قرآن مجید میں لیلۃ القدر کہاگیاہے چونکہ وہ رمضان کی ایک رات تھی اس لیے لازمًا ہررمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کون سی رات ہے اس کا تعیّن نہیں ہوسکا۔ بجز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ زَنْجَوَیْہ النَّسَائِیُّ، اَخْبَرَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَا مُوْسٰی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَقَالَ : ھِیَ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ۔(۱۴)
قال ابوداؤد رواہ سفیان وشعبہ عن ابی اسحٰق مرفوعاً علی بن عمر لم یرفعہ الی النبی ﷺ۔
حضرت عبداللہ بن اُنَیس کو ہرماہ کی تئیسویں شب مسجد نبوی میں گزارنے کی نصیحت
۱۳۸۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اُنَیْسٍ قَالَ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ لِیْ بَادِیَۃً اَکُوْنُ فِیْھَا وَاَنَا اُصَلِّیْ فِیْھَا بِحَمْدِ اللّٰہِ فَمُرْنِیْ بِلَیْلَۃٍ اَنْزِلُھَا اِلٰی ھٰذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ اِنْزِلْ لَیْلَۃَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِیْنَ قِیْلَ لِابْنِہٖ کَیْفَ کَانَ اَبُوْکَ یَصْنَعُ، قَالَ کَانَ یَدْخُلُ الْمَسْجِدَ اِذَا صَلَّی الْعَصْرَ فَلاَیَخْرُجُ مِنْہُ لِحَاجَۃٍ حَتّٰی یُصَلِّیَ الصُّبْحَ فَاِذَا صَلَّی الصُّبْحَ وَجَدَدَآبَّتَہٗ عَلٰی بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَیْھَا وَلَحِقَ بِبَادِیَتِہٖ۔ (ابوداؤد)
’’حضرت عبداللہ بن اُنَیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میرا گھر جنگل میں ہے، وہیں میں رہتاہوں اوروہیں اللہ کے فضل سے نماز پڑھتاہوں۔ آپؐ مجھے ایک رات بتادیجیے جِس میں مَیں اس مبارک مسجد (مسجد نبوی) میں حاضر ہوا کروں (اور رات یہیں عبادت میں بسر کیا کروں) حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ تیئیسویں رات کو آجایا کرو ــــ بعدکے راوی کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن اُنَیسؓ کے صاحبزادے حمزہ بن عبداللہ سے پوچھا گیاکہ آپؐ کے والد (اس رات میں جب مسجد نبوی میں جایا کرتے تھے تو) کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ (بائیسویں تاریخ کو) نمازِ عصر کے وقت مسجد نبوی میں جاتے تھے تو صبح کی نماز پڑھنے تک مسجد مبارک سے کہیںنہیں نکلتے تھے، پھر جب صبح کی نماز پڑھتے تو مسجد کے باہر ان کی سواری موجود ہوتی اور وہ اس پر بیٹھ کر جنگل واپس آجاتے۔ ‘‘
تشریح: اس حدیث میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ حضرت عبداللہ بن اُنَیس کا تئیسویں رات کو مسجدِ نبوی میں جانا رمضان ہی میں ہوتاتھا یا غیر رمضان میں بھی، کیونکہ رمضان کا لفظ اس حدیث میں نہیں آیاہے۔ اس میں یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ کیا حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺسے لیلۃ القدر ہی کے بارے میں یہ عرض کیا تھا کہ میں لیلۃ القدر آپؐ کے پاس مسجد میں گزارنا چاہتاہوں؟ اس لیے اس حدیث سے یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ تئیس تاریخ لیلۃ القدر کی تاریخ ہے۔ معلوم ایسا ہوتاہے کہ جس راوی سے یہ حدیث مروی ہے ا نہوں نے حضرت عبداللہ بن اُنَیسؓ سے اتنی تفصیلات معلوم نہیں کیں اور نہ ان کے صاحبزادے سے پوچھا کہ آیا انہوں نے لیلۃ القدر کی خاطر یہ بات پوچھی تھی، اور یہ کہ انہوں نے رمضان کے مہینے کی کوئی تاریخ پوچھی تھی، یا یہ کہ حضورؐ نے یہ فرمایا تھا کہ ہر مہینے تئیس تاریخ کو آکے مسجد نبوی میں رہاکرو۔ اس لیے یہ حدیث اس بارے میں صریح نہیں ہے کہ آپؐ نے یہ لیلۃ القدر کی تاریخ بتائی تھی۔ اگر اس کی وضاحت ہوتی تو اس بات کاتعیُّن ہوجاتاکہ تئیس تاریخ کی رات لیلۃ القدر ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا زُھَیْرٌ، اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ،عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اُنَیْسِ نِالْجُھَنِیِّ،عَنْ اَبِیْہِ قَالَ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ بَادِیَۃً اَکُوْنُ فِیْھَا وَاَنَا اُصَلِّیْ فِیْھَا بِحَمْدِ اللّٰہِ فَمُرْنِیْ بِلَیْلَۃٍ اَنْزِلُھَا اِلٰی ھٰذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ : اِنْزِلْ لَیْلَۃَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِیْنَ فَقُلْتُ لِابْنِہٖ کَیْفَ کَانَ اَبُوْکَ یَصْنَعُ، قَالَ کَانَ یَدْخُلُ الْمَسْجِدَ اِذَا صَلَّی الْعَصْرَ فَلاَیَخْرُجُ مِنْہُ لِحَاجَۃٍ حَتّٰی یُصَلِّیَ الصُّبْحَ فَاِذَا صَلَّی الصُّبْحَ وَجَدَ دَآبَّتَہٗ عَلٰی بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَیْھَا وَلَحِقَ بِبَادِیَتِہٖ۔(۱۵)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن اُنَیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! میرا گھر جنگل میں ہے، وہیں میں رہتاہوں اوروہیں اللہ کے فضل سے نماز پڑھتاہوں۔ آپؐ مجھے ایک رات بتادیجیے جِس میں مَیں اس مبارک مسجد (مسجد نبوی) میں حاضر ہوا کروں (اور رات یہیں عبادت میں بسر کیا کروں) حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ تیئیسویں رات کو آجایا کروـــــــ ــــ بعدکے راوی کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن اُنَیسؓ کے صاحبزادے حمزہ بن عبداللہ سے پوچھا گیاکہ آپؐ کے والد (اس رات میں جب مسجد نبوی میں جایا کرتے تھے تو) کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ (بائیسویں تاریخ کو) نمازِ عصر کے وقت مسجد نبوی میں جاتے تھے تو صبح کی نماز پڑھنے تک مسجد مبارک سے کہیں نہیں نکلتے تھے،پھر جب صبح کی نماز پڑھتے تو مسجد کے باہر ان کی سواری موجود ہوتی اور وہ اس پر بیٹھ کر جنگل واپس آجاتے۔
حضور ؐ کو پہلے لیلۃ القدر کا علم دیاگیا تھا
۱۳۹۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ ﷺَ لِیُخْبِرَنَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلاَحٰی رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ خَرَجْتُ لِاُخْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلاَحٰی فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ فَرُفِعَتْ وَعَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ خَیرًا لَّکُمْ، فَالْتَمِسُوْھَا فِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ۔ (بخاری)
’’حضرت عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺمسجدِ نبوی سے (یا اپنے خانۂ مبارک) سے نکلے تاکہ ہمیں لیلۃ القدر کی خبردیں۔ اتنے میں دو مسلمان آپس میں جھگڑنے لگے۔ اس پر آپؐ نے ہم سے فرمایا کہ میںتو تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے نکلا تھا مگر فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑ پڑے اور اس دوران میں وہ اٹھالی گئی ( اس کا عِلم مجھ سے رفع کرلیا گیا) شاید تمہاری بھلائی اسی میں تھی۔ لہٰذا اب تم اسے اکیسویں یا تیئیسویں یا پچیسویں رات کو تلاش کرو۔‘‘
تشریح: اب تک جتنی احادیث گزری ہیں ان سب پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ کوئی خاص حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے لیلۃ القدر حتمی طور پر حضورؐ کو نہیں بتائی اور آپؐ کواس بات پر مامور نہیں کیا کہ آپ لوگوں کو یہ بتائیں کہ فلاں رات لیلۃ القدر ہے۔
نبی ﷺکو زیادہ سے زیادہ جو بات بتانے کی اجازت دی گئی وہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہے اور تم طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔اس حدیث میں طاق راتوں میں سے بھی تین راتوں کا ذکر کیاگیاہے۔ یعنی ۲۱،۲۳ اور ۲۵۔ بعض روایات میں اکیس سے انتیس تک کی طاق راتیں ہیں اور بعض روایات میں آخری سات دنوں کی راتیں ہیں۔
احادیث کی روایت کرتے وقت چونکہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی حدیث کس تاریخ کی ہے اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سی حدیث ابتدائی دور کی ہے اور کون سی بعد کے دور کی۔ علمائے امت میں جو بات معروف ہے وہ یہی ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، ثَنِیْ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثَنَا حُمَیْدٌ، ثَنَا اَنَسٌ،عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُخْبِرَنَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلاَحٰی رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ خَرَجْتُ لِاُخْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلاَحٰی فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ فَرُفِعَتْ وَعَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ خَیرًا لَّکُمْ، فَالْتَمِسُوْھَا فِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺمسجدِ نبوی سے (یا اپنے خانۂ مبارک) سے نکلے تاکہ ہمیں لیلۃ القدر کی خبردیں۔ اتنے میں دو مسلمان آپس میں جھگڑنے لگے۔ اس پر آپؐ نے ہم سے فرمایا کہ میںتو تمہیں لیلۃ القدر کی خبر دینے نکلا تھا مگر فلاں اور فلاں آپس میں جھگڑ پڑے اور اس دوران میں وہ اٹھالی گئی (اس کا عِلم مجھ سے رفع کرلیا گیا) شاید تمہاری بھلائی اسی میں تھی۔ لہٰذا اب تم اسے اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں رات کو تلاش کرو۔
اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبرداربندوں پر فخر کرتاہے
۱۴۰۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذَا کَانَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِیْلُ فِیْ کَبْکَبَۃٍ مِّنَ المَلاَئِکَۃِ یُصَلُّوْنَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ اَوْقَاعِدٍ یَّذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَاِذَا کَانَ یَوْمُ عِیْدِھِمْ یَعْنِیْ یَوْمُ فِطْرِھِمْ بَاھٰی بِھِمْ مَلاَئِکَتَہٗ، فَقَالَ یَا مَلاَئِکَتِیْ مَاجَزَائُ اَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَہٗ، قَالُوْا رَبَّنَا جَزَائُ ہٗ اَنْ یُّوَفّٰی اَجْرُہٗ، قَالَ مَلاَئِکَتِی عَبِیْدِیْ وَاِمَائِی قَضَوْا فَرِیْضَتِیْ عَلَیْھِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ اِلَی الدُّعَآئِ وَعِزَّتِیْ وَجَلاَلِیْ وَکَرَمِیْ وَعُلُوِّیْ وارْتِفَاعِ مَکَانِیْ لَاُجیْبَنَّھُمْ فَیَقُوْلُ ارْجِعُوْا قَدْغَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّئٰاتِکُمْ حَسَنَاتٍ، قَالَ فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّھُمْ ۔ (البیھقی)
’’حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام ملائکہ کے ایک جھُرمٹ میں اترتے ہیں اور ہر اس بندے کے لیے دُعا کرتے ہیں جو اس وقت کھڑا ہو ا یا بیٹھا ہوا اللہ عزّوجلّ کا ذکر کررہاہو (جاگ رہا ہو اور عبادت کررہاہو) پھر جب عید الفطر کا دن ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر کرتاہے اور انہیں مخاطب کرکے فرماتاہے کہ اے میرے فرشتو! اس اجیر(مزدور) کی جزاکیا ہے جس نے اپنے ذمے کا کام پورا کردیا۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتاہے کہ اے میرے ملائکہ! میرے ان بندوں اور بندیوں نے اپنا وہ فرض ادا کردیا جو میں نے ان پر عائد کیا تھا۔ پھر اب یہ گھروں سے (عید کی نماز ادا کرنے اور) مجھ سے گڑ گڑا کر مانگنے کے لیے نکلے ہیں۔ اور قسم ہے میری عزت اور میرے جلال کی، اور میرے کرم اور میری بلند مرتبگی کی، اور میری بلند مقامی کی کہ میں ان کی دعائیں ضرور قبول کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتاہے: جاؤ میں نے تمہیں معاف کردیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا ــــحضورؐ فرماتے ہیں کہ پھر وہ اس حالت میں پلٹتے ہیں کہ انہیں معاف کردیا جاتاہے۔‘‘
تشریح :اللہ تعالیٰ سال کے سال اپنے مومن بندوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتاہے کیونکہ انہوں نے رمضان میں روزے رکھے اورلیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو عبادت کرتے رہے۔ پھر عید کے روز نماز کے لیے نکلے اور انہوںنے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس کے ہاں سے مغفرت اور مہربانیاں حاصل کرکے پلٹتے ہیں۔
تخریج :اَخْبَرَنَا اَبُوْ سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ اَبِیْ عُثْمَانَ الزَّاھِدُ، نَا اَبُوْاِسْحَاقَ اَبْرَاھِیْمُ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائٍ اَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سُلَیْمَانَ (بن) الْاَشْعَثَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ الْاَزْدِیُّ، نَا اَحْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، نَامُحَمَّدُ بْنُ یُوْنُسَ الْحَارِثِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺَ : اِذَا کَانَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِیْلُ فِیْ کَبْکَبَۃٍ مِّنَ المَلاَئِکَۃِ یُصَلُّوْنَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ اَوْقَاعِدٍ یَّذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَاِذَا کَانَ یَوْمُ عِیْدِھِمْ یَعْنِیْ یَوْمُ فِطْرِھِمْ بَاھٰی بِھِمْ مَلاَئِکَتَہٗ، فَقَالَ یَا مَلاَئِکَتِیْ مَاجَزَائُ اَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَہٗ، قَالُوْا رَبَّنَا جَزَائُ ہٗ اَنْ یُّوْقٰی اَجْرُہٗ، قَالَ: مَلاَئِکَتِی عَبِیْدِیْ وَاِمَائِی قَضَوْا فَرِیْضَتِیْ عَلَیْھِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ اِلَی الدُّعَآئِ وَعِزَّتِیْ وَجَلاَلِیْ وَکَرَمِیْ وَعُلُوِّیْ وارْتِفَاعِ مَکَانِیْ لَاُجیْبَنَّھُمْ فَیَقُوْلُ ارْجِعُوْا فَقَدْغَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّئٰاتِکُمْ حَسَنَاتٍ، قَالَ: فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّھُمْ۔(۱۷)
قال احمد: تفرد بہ مُحَمَّدُ بن عبدالعزیز ھذا عن اصرم بن حوشب۔
ماخذ
فصل دہم : اعتکاف اعتکاف میں رسول اللہ ﷺکی سنت
۱۴۱۔ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ، ثُمَّ اعْتَکَفَ اَزْوَاجُہٗ مِنْ بَعْدِہٖ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺرمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وفات بخشی۔ پھر آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواج مطہراتؓ اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ ‘‘
تشریح : اِعْتِکَافکہتے ہیں اپنے آپ کو روکے رکھنے، کسی چیز پر قائم رہنے اور اس سے وابستہ رہنے کو۔ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف اس چیز کا نام ہے کہ آدمی ایک خاص صورت سے مسجد میں ٹھہرارہے۔ گویا مسجد میں قیام کرنے اور وہاں اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام اعتکاف ہے۔
نبی ﷺرمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں قیام فرماتے تھے۔ اور آپؐ کا یہ معمول عمر بھر رہا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد آپؐ کا وہ معمول مراد ہے جو مدینہ طیّبہ میں رہا کیونکہ رمضان کے روزوں کاحکم مدینہ طیبہ میںآیا تھا۔ دوسرے یہ کہ مکہ میں اس وقت تک سرے سے کوئی مسجد ہی نہ تھی اور مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) میں اعتکاف کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ اس لیے اس سے مراد یہی ہے کہ قیامِ مدینہ طیّبہ میں آخر وقت تک حضورؐ کا یہ معمول رہاکہ آپؐرمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
ازواجِ مطہراتؓ کا اعتکاف مسجد نبوی میں نہیں بلکہ اپنے حجروں ہی میں ہوتاتھا۔ تمام ازواجِ مطہرات کے حجرے مسجدِ نبوی کے ساتھ ساتھ تھے اور ہرایک کا دروازہ مسجد کے اندر کھلتاتھا۔ نبی ﷺازواجِ مطہراتؓ میں سے جس کے ہاں بھی قیام رکھتے تھے وہاں سے آپؐ مسجد کے اندر تشریف لاتے تھے۔ چونکہ یہ حجرے مسجد سے متّصل تھے اس لیے ازواجِ مطہرات کو مسجد کے اندر آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ویسے بھی عورتوں کا اعتکاف مسجد میں نہیں ہوتا، بلکہ گھروں ہی میں ہوتاہے۔ اس لیے ازواجِ مطہراتؓ بھی رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اپنے حجروں میں اعتکاف کرتی رہیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ،عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺکَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ، ثُمَّ اعْتَکَفَ اَزْوَاجُہٗ مِنْ بَعْدِہٖ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺرمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وفات بخشی۔ پھر آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواج مطہراتؓ اعتکاف کیا کرتی تھیں۔
رمضان میں حضورؐ کی بے انتہا فیاضی اور جبریلؑ کے ساتھ دورۂ قرآن
۱۴۲۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ اَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ وَکَانَ اَجْوَدَ مَایَکُوْنُ فِی رَمَضَانَ، کَانَ جِبْرِیْلُ یَلْقَاہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺَ الْقُرْاٰنَ فَاِذَا لَقِیَہٗ جِبْرِیْلُ کَانَ اَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺبھلائی کے معاملے میں(معمولاً) تمام انسانوں سے زیادہ فیاض تھے اور خاص طور پر آپؐ رمضان میں بے انتہا فیاض ہوتے تھے جبریل علیہ السلام رمضان کے زمانے میں ہر رات کو رسول اللہ ﷺکے پاس آتے تھے اور حضورؐ انہیں قرآن مجید سناتے تھے۔ جب جبریل علیہ السلام آپؐ سے ملتے تھے تو حضورؐ بھلائی کے معاملے میں چلتی ہواسے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے ( وہ ہواجو چلنے کے بعد کہیں رکتی نہیں اور ہرچیز پر سے گزرتی ہے اور ہرجگہ پہنچتی ہے)۔‘‘
تشریح: یوں تو قرآن مجید جس وقت نبی ﷺپر نازل ہوتاتھا اُسی وقت آپؐ کے دِل پر نقش ہوجاتاتھا اور پھر آپؐ کبھی بھولتے نہیں تھے لیکن رمضان کے مہینے میں (کہ جس میں قرآن مجید کے نزول کا آغاز ہوا تھا) جبریل ؑ نبی ﷺکے پاس آتے تھے اور جتنا قرآن اس وقت تک نازل ہوچکا ہوتاتھا وہ سارا رسول اللہ ﷺانہیں سناتے تھے ــــ پھرجس طرح ہوا ایک دفعہ چل پڑنے کے بعد ہرچیز پر سے گزرتی اور ہرجگہ پہنچتی ہے اسی طرح ان دنوں میں رسول اللہ ﷺ کی خیر اور فیاضی معمول سے بہت زیادہ عام اور وافر ہوجاتی تھی۔ گویا یہ اس مسرت کی وجہ سے ہوتاتھا جو ہررات جبریلؑ سے ملنے اور انہیں قرآن سنانے سے آپ کو حاصل ہوتی تھی۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، اَنَا ابْنُ شِھَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺَ اَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ وَکَانَ اَجْوَدَ مَایَکُوْنُ فِی رَمَضَانَ، حِیْنَ یَلْقَاہُ جِبْرِیْلُ وَکَانَ جِبْرَئِیْلُ یَلْقَاہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ حَتّٰی یَنْسَلِخَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺ الْقُرْاٰنَ فَاِذَا لَقِیَہٗ جِبْرِیْلُ کَانَ اَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔(۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺبھلائی کے معاملے میں(معمولاً) تمام انسانوں سے زیادہ فیاض تھے اور خاص طور پر آپؐ رمضان میں بے انتہا فیاض ہوتے تھے۔ جبریل علیہ السلام رمضان کے زمانے میں ہر رات کو رسول اللہ ﷺکے پاس آتے تھے اور حضور ؐ انہیں قرآن مجید سناتے تھے۔ جب جبریل علیہ السلام آپؐ سے ملتے تھے تو حضورؐ بھلائی کے معاملے میں چلتی ہواسے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے ( وہ ہواجو چلنے کے بعد کہیں رکتی نہیں۔ اور ہرچیز پر سے گزرتی ہے اور ہرجگہ پہنچتی ہے)۔
جبریل ؑ ہرسال رمضان میں حضور ؐ کو قرآن سنایا کرتے تھے
۱۴۳۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ یُعْرَضُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ الْقُرْآنَ کُلَّ عَامٍ مَرَّۃً فَعُرِضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ فِی الْعَامِ الَّذِیْ قُبِضَ وَکَانَ یَعْتَکِفُ کُلَّ عَامٍ عَشْرًا فَاعْتَکَفَ عِشْرِیْنَ فِی الْعَامِ الَّذِیْ قُبِضَ۔ (بخاری)
’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺکے سامنے ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید پیش کیا جاتاتھا مگر جس سال آپؐ نے انتقال فرمایا اس میں آپ کو دومرتبہ قرآن مجید سنایا گیا۔ اور آپؐ ہرسال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے مگر جس سال آپؐ کی وفات ہوئی اس میں آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔‘‘
تشریح: گزشتہ حدیث میں آیاہے کہ رسول اللہ ﷺجبریل ؑ کو قرآن مجید سناتے تھے۔ اس حدیث میں ہے کہ جبریلؑ رسول اللہ ﷺکو قرآن مجید سناتے تھے۔ معلوم ہوتاہے کہ یہ عمل دونوں طرح ہوتاتھا۔ یعنی ایک مرتبہ جبریل ؑ قرآن مجید رسول اللہ ﷺکو سناتے تھے اور ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺقرآن مجید جبریلؑ کو سناتے تھے۔ البتہ جس سال حضورؐ کا انتقال ہوا اس سال آپ کو دو مرتبہ قرآن مجید سنایا گیا۔ یعنی دومرتبہ قرآن مجید آپؐ نے سنایا اور دومرتبہ جبریل ؑ نے سنایا۔
حضورؐ کا اعتکاف کرنے کاعام معمول دس دن کا تھا لیکن حیاتِ مبارکہ کے آخری سال آپؐ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ یَزِیْدَ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍعَنْ اَبِیْ حُسَیْنٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ کَانَ یُعْرَضُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ الْقُرْآنَ کُلَّ عَامٍ مَرَّۃً فَعُرِضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ فِی الْْعَامِ الَّذِیْ قُبِضَ وَکَانَ یَعْتَکِفُ کُلَّ عَامٍ عَشْرًا فَاعْتَکَفَ عِشْرِیْنَ فِی الْعَامِ الَّذِیْ قُبِضَ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺکے سامنے ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید پیش کیا جاتاتھا مگر جس سال آپؐ نے انتقال فرمایا اس میں آپ کو دومرتبہ قرآن مجید سنایا گیا۔ اور آپؐ ہرسال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے مگر جس سال آپؐ کی وفات ہوئی اس میں آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
ابوداوٗد نے یہ روایت بیان کیاہے :
(۲)کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَعْتَکِفُ کُلَّ رَمَضَانَ عَشْرَۃَ اَیَّامٍ فَلَمَّا کَانَ العام الذی قبض فیہ اعتکف عشرین یوما۔(۴)
حضورؐ دورانِ اعتکاف میں ناگزیر ضرورت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے
۱۴۴۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اعْتَکَفَ اَدْنٰی اِلَیَّ رَأسَہٗ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَاُرَجِّلُہٗ وَکَانَ لاَیَدْخُلُ الْبَیْتَ اِلاَّ لِحَاجَۃِ الْاِنْسَانِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو مسجد میں بیٹھے بیٹھے آپؐ اپنا سر مبارک میری طرف(میرے حجرے میں) بڑھا دیا کرتے تھے اور میںآپؐ کے بال درست کردیا کرتی تھی ــــاور آپؐ (اعتکاف کی حالت میں) گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے مگر کسی خاص انسانی حاجت کے لیے۔‘‘
تشریح: حَاجَۃُ الاِنْسَانِ سے مراد وہ ناگزیر حاجت ہے جس کے لیے مسجد سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ مثلاً پیشاب پاخانہ وغیرہ کیونکہ مسجد میں رفع حاجت نہیںکی جاسکتی۔
باقی رہی یہ بات کہ آپؐ اعتکاف کی حالت میں اپنا سرمبارک حضرت عائشہؓکی طرف بڑھادیتے تھے اور وہ آپؐ کے بال درست کردیتی تھیں تو اس کی صورت یہ تھی (جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیاہے) کہ ازواجِ مطہرات کے حجروں کا ایک ایک دروازہ مسجد نبوی میں کھُلتا تھا اس لیے مسجد میں بیٹھے بیٹھے آپ اپنا سرمبارک حضرت عائشہؓ کے حجرے کی طرف بڑھادیتے تھے اور وہ تیل وغیرہ ڈال کر آپؐ کے بال درست کردیتی تھیں۔ معلوم ہوا کہ اگر آدمی صرف مسجد کے دروازے سے اپنا سر باہر نکال لے تو وہ اس طرح مسجد سے باہر نہیں نکلتا۔ مسجد سے باہر وہ اس وقت نکلے گا جب کہ وہ قدم باہر نکالے گا لیکن قدم باہر نہ نکالنے کی صورت میں اس کے جسم کا بڑا حصّہ مسجد کے اندررہے گا اس لیے محض سر باہر نکال لینے سے وہ مسجد سے باہر نہیں نکلے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مسجد سے صرف سر باہر نکالنے سے اعتکاف نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اگر آپ مسجد سے قدم باہر نکالیں گے تو آپ کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ــــ مسجد سے باہر نکلنے کے لیے اجازت صرف اسی صورت میں ہے جب کہ کوئی ناگزیر حاجت درپیش ہو۔ مثلاً ایک آدمی کا کھانا لاکے دینے والا کوئی نہیں ہے، چنانچہ وہ محض اپنا کھانا لینے کے لیے مسجد سے باہر جاسکتا ہے، خواہ گھر جائے یا کسی دوکان پر ، اسی طرح وہ پیشاب پاخانے کے لیے مسجد سے باہر جاسکتاہے۔ البتہ ناگزیر حاجات کے سوا کسی حالت میں اعتکاف کرنے والے کو مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُوْ مُصْعَبٍ الْمَدِیْنِیُّ قِرَاَۃً عَنْ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ وَعَمْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ: اِذَا اعْتَکَفَ اَدْنٰی اِلَیَّ رَأسَہٗ فَاُرَجِّلُہٗ وَکَانَ لاَیَدْخُلُ الْبَیْتَ اِلاَّ لِحَاجَۃِ الْاِنْسَانِ۔
قال ابوعیسٰی ھذا حدیث حسن صحیح۔
ھکذا رواہ غیر واحد عن مالک بن انس، عن ابن شھاب عن عروۃ عن عَمْرۃَ عن عَائشۃ والصحیح عن عروۃ وعمرۃ عن عائشۃ۔
ھکذا روی اللیث بن سعد عن ابن شھاب عن عروۃ عن عائشۃ۔
حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ قُتَیْبَۃُ عَنِ اللَّیْثِ۔
والعمل علیٰ ھذا عند اھل العلم اذا اعتکف الرجل ان لا یخرج من اعتکافہ الاّ لحاجۃ الانسان۔ واجمعوا علی ھذا انہ یخرج لقضاء حاجتہ للغائط والبول۔ ثم اختلف اھل العلم فی عیادۃ المریض وشھود الجمعۃ والجنازۃ للمعتکف۔
فراٰی بعض اھل العلم من اصحاب النبی ﷺوغیرھم ان یعود المریض ویُشَیِّع الجنازۃ ویُشھد الجمعۃ اذا اشترط ذٰلک۔ وھوقول سفیان الثوری وابن المبارک۔ وقال بعضھم لیس لہ ان یفعل شیئا من ھذا وراوا لِلْمُعْتَکِفِ اذا کان فی مصر یُجَمَّعُ فیہ ان لا یعتکف اِلاّ فی المسجد الجامع لانھم کرھوا لہ الخروج من مُعتکفِہٖ الی الجمعۃ ولم یروا لہ ان یترک الجمعۃ فقالوا لایعتکف الا فی المسجد الجامع حتّٰی لایحتاج من معتکفہٖ لغیر قضاء حاجۃ الانسان، لان خروجہ لغیر قَضَاء حاجۃ الانسان قطع عندھم للاعتکاف وھو قول مالک والشافعی۔ وقال احمد لایعود المریض ولایتبع الجنازۃ علی حدیث عائشۃ۔ وقال اسحاق ان اشترط ذلک فَلَہٗ ان یتبع الجنازۃ ویعود المریض۔(۵)
ــــامام ترمذی کہتے ہیں کہ اہلِ علم کا عمل اس پر ہے کہ اعتکاف میںبیٹھنے والا کسی خاص انسانی ضرورت کے علاوہ اعتکاف سے باہر نہ نکلے۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ پیشاب، پاخانے کی ناگزیر انسانی ضرورت کے لیے باہر نکل سکتاہے۔ البتہ اس بارے میں اہلِ علم کے ہاں اختلاف ہے کہ معتکف مریض کی عیادت کے لیے اور نمازِ جمعہ کے لیے اور جنازے میں شرکت کے لیے باہر جاسکتاہے یا نہیں۔
ــــبعض اہلِ علم اصحاب نبی ﷺکی رائے ہے کہ مریض کی عیادت، جنازے میں شرکت اور نمازِ جمعہ میں شریک ہوسکتاہے بشرطیکہ اس نے اعتکاف کو مشروط کیاہو۔ یہ رائے سفیان ثوری اور ابنِ مبارک کی ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ امور انجام دینے کی اجازت نہیں۔ اور ان کی یہ بھی رائے ہے کہ معتکف کو اعتکاف کے لیے ایسی مسجد میں بیٹھنا چاہیے جہاں جمعہ ہوتا ہو کیونکہ ان کے نزدیک جمعہ کی نماز کے لیے نکلنا مکروہ ہے اور یہ حضرات ترکِ جمعہ اس کے لیے مناسب نہیں سمجھتے۔ اس لیے انہوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ جامع مسجد میں جمعہ کی ادائیگی کے لیے اسے اعتکاف سے بجز ناگزیر انسانی ضرورت کے نکلنا نہ پڑے۔ انسانی ضرورت کے علاوہ اس کا باہر نکلنا ان کے نزدیک اعتکاف کو توڑنے کا موجب ہے۔ یہ رائے امام مالک اور امام شافعی کی ہے۔ امام احمد مریض کی عیادت اور جنازے میں شرکت حضرت عائشہؓ سے مروی روایت کی بنا پر درست نہیں سمجھتے۔ امام اسحاق کے نزدیک مشروط صورت میں جائز ہے۔
(۲)حَدَّثَنَا یَحْيٰ بْنُ یَحْيٰ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَمْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اعْتَکَفَ یُدْنِیْ اِلَیَّ رَأْسَہٗ فَاُرَجِّلُہٗ، وَکَانَ لاَیَدْخُلُ الْبَیْتَ اِلاَّ لِحاجَۃِ الْاِنْسَانِ۔(۶)
ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو مسجد میں بیٹھے بیٹھے آپ اپنا سر مبارک میری طرف (میرے حجرے میں) بڑھا دیا کرتے تھے اور میں آپؐ کے بال درست کردیا کرتی تھی ــــاور آپؐ (اعتکاف کی حالت میں) گھر میں داخل نہیںہوتے تھے مگر کسی خاص انسانی حاجت کے لیے۔
بخاری میں اس روایت کا متن قدرے مختلف الفاظ میں منقول ہے:
(۳) عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺَ قَالَتْ: وَاِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَأْسَہٗ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ، فَاُرَجِّلُہٗ وَکَانَ لاَیَدْخُلُ الْبَیْتَ اِلاَّ لِحَاجَۃٍ اِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا۔(۷)
ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺمسجد میں بیٹھے بیٹھے اپنا سرمبارک میرے حجرے میں میرے سامنے داخل فرمادیتے میں آپؐ کے بال کنگھی سے درست کردیتی۔ جب آپؐ اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو اپنے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے مگر کسی خاص انسانی حاجت کے لیے۔
ایک دوسری روایت :
(۴) قَالَتْ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺَ یُصْغِیْ اِلَیَّ رَأْسَہٗ وَھُوَ مُجَاوِرٌ فِی الْمَسْجِدِ، فَاُرَجِّلُہٗ، وَاَنَاحَائِضٌ۔(۸)
ترجمہ : ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺمسجد میں اعتکاف میں بیٹھے بیٹھے اپنا سرمبارک میری طرف جھکادیتے تھے میں کنگھی کرکے آپؐ کے بال درست کردیا کرتی تھی حالانکہ میں ایامِ ماہواری میں ہوتی تھی۔
ایک اور روایت:
(۵) وَکَانَ یُخْرِجُ رَأْسَہٗ مِنَ الْمَسْجِدِ وَھُوَ مُعْتَکِفٌ فَاَغْسِلُہٗ وَاَنَا حَائِضٌ۔(۹)
ترجمہ : ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ اعتکاف میں بیٹھے بیٹھے اپناسرمبارک مسجد نبوی سے (میرے حجرے) کی طرف نکال لیتے تھے اور میں باوجود ایامِ ماہواری کے آپؐ کاسرمبارک دھودیا کرتی تھی۔
بخاری اور ابنِ ماجہ دونوں نے یُدْنِیْ اِلَیَّ رَأْسَہٗ اور یُدْنِیْ لَھَا رَأْسَہٗ بھی بیان کیا ہے۔ (۱۰)
جاہلیّت میں مانی ہوئی کسی نیک کام کی نذر پوری کرنی چاہیے
۱۴۵۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ عُمَرَ سَاَلَ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ کُنْتُ نَذَرْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ اَنْ اَعْتَکِفَ لَیْلَۃً فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ فَاَوْفِ بِنَذْرِکَ۔ (متفق علیہ)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ میں نے زمانۂ جاہلیّت میں یہ نذرمانی تھی کہ میں ایک رات مسجدِ حرام (بیت اللہ) میں اعتکاف کروں گا۔ (کیا مجھے اپنی یہ نذر پوری کرنی چاہیے؟) حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں تم اپنی نذر پوری کرو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی انسان نے جاہلیت میں بھی کسی نیک کا م کی نذر مانی ہوتواُسے اپنی نذر پوری کرنی چاہیے ہاں اگر کسی غلط اور بے جا کام کی یا کسی گناہ کی نذر مانی ہو تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔ کسی نیک کام کے لیے جاہلیت کے زمانے میں مانی ہوئی نذر کے متعلق اس امر میںاختلاف ہے کہ اس کا پورا کرنا لازم ہے یا نہیں۔ بعض فقہاء کے نزدیک اسے پورا کرنا لازم ہے اور بعض کے نزدیک لازم نہیں ہے۔ البتہ اس کی اجازت ضرورہے۔ خود فَاَوْفِ بِنَذْرِکَ کے بھی دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ تم لازمًا یہ نذر پوری کرو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ہاں تم نذر پوری کرسکتے ہو مگر ایسا کرنا ضروری نہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جاہلیت کے زمانے میں بھی اعتکاف کا طریقہ معروف تھا اور قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ مشرکین اپنے بتوں کے لیے اعتکاف کیا کرتے تھے اور اہل اللہ اللہ کے لیے عبادت گاہوں میں اعتکاف کرتے تھے۔ بعض اوقات مشرکین بھی مسجد حرام میں اللہ کے لیے اعتکاف کرنے کی نذر مانتے تھے جیسا کہ حضرت عمرؓ کے اس قول سے معلوم ہوتاہے۔ ظاہر ہے کہ وہ نذر اللہ کی خاطر تھی ورنہ نبی ﷺانہیں اس کے پورا کرنے کا حکم (یا اجازت) نہ دیتے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْيٰ بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ، اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺَ قَالَ: کُنْتُ نَذَرْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ اَنْ اَعْتَکِفَ لَیْلَۃً فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ: فَاَوْفِ بِنَذْرِکَ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ میں نے زمانۂ جاہلیّت میں یہ نذرمانی تھی کہ میں ایک رات مسجدِ حرام (بیت اللہ) میں اعتکاف کروں گا (کیا مجھے اپنی یہ نذر پوری کرنی چاہیے؟) حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں تم اپنی نذر پوری کرو۔
ابوداوٗد میں مروی ایک اور روایت:
(۲) اَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جَعَلَ عَلَیْہِ اَنْ یَعْتَکِفَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ لَیْلَۃً اَوْیَوْمًا عِنْدَ الْکَعْبَۃِ فَسَأَلَ النَّبِیَّ ﷺَ فَقَالَ اِعْتَکِفْ وَصُمْ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت عمرؓ نے زمانۂ جاہلیت میں اپنے اوپر لازم کرلیا تھا کہ وہ ایک رات یا دن کعبہ کے پاس اعتکاف کریں گے۔ اس بارے میں انہوں نے نبی ﷺسے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا۔ اعتکاف کرو اور روزہ بھی رکھو۔
ابن ماجہ میں مروی ایک اور روایت:
(۳) عَنْ عُمَرَ، اَنَّہٗ کَانَ عَلَیْہِ نَذْرُ لَیْلَۃٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ یَعْتَکِفُھَا فَسَأَلَ النَّبِیَّ ﷺَ فَاَمَرَہٗ اَنْ یَّعْتَکِفَ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ مجھ پر زمانۂ جاہلیت کی ایک رات کے اعتکاف کی نذر پوری کرنا لازم تھی۔ اس سلسلے میں انہوں نے نبی ﷺسے دریافت کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اعتکاف کرو۔
حضور ﷺرمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے
۱۴۶۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ یَعْتَکِفْ عَامًا، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَکَفَ عِشْرِیْنَ۔ (ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)
’’حضرت اَنَس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺرمضان کے آخری دس دنوں میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے مگر ایک سال آپؐ نے اعتکاف نہیں فرمایا۔ جب دوسرا سال آیا تو آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ ‘‘
تشریح:اس سے یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺنے ایک سال اپنے زمانۂ قیامِ مدینہ میں اعتکاف نہیں کیا جس سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ اعتکاف کرنا فرض اور واجب نہیں ہے۔ اگر فرض اور واجب ہوتا تو نبی ﷺایک سال بھی اعتکاف نہ چھوڑتیــــــ اگرچہ اعتکاف ایک بہت بڑی نیکی ہے اور ایک ایسی سنت ہے جس پر عمل کیا جانا چاہیے (اور آپؐ برابر سالہا سال اس پر عمل پیرا رہے) لیکن ایک سال آپؐ نے اعتکاف نہیں فرمایا تاکہ فرض وواجب یا سنت میں فرق واضح ہوجائے۔ حضورؐ کے اس عمل کی بناء پر فقہاء کے درمیان اعتکاف کی نوعیّت میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اس کو واجب قراردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضورؐ نے ہمیشہ اعتکاف کیاہے۔ اگر ایک سال نہیں کیا تو دوسرے سال آپؐ نے دس دن مزید اعتکاف میں بیٹھ کر اس کی قضا ادا کی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنّت ہے اور سنّتِ مؤکّدہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مُسْتَحَب ہے اور ایسا مُسْتَحَب کہ اس پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں نبی ﷺکے جو مختلف عمل ہیں فقہاء نے یہ رائیں ان کو دیکھ کر اختیار کی ہیں اور سب اپنی اپنی جگہ وزن رکھتی ہیں۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا بْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، اَنْبَانَا حُمَیْدُنِالطَّوِیْلُ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ یَعْتَکِفْ عَامًا، فَلَمَّا کَانَ فِی الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَکَفَ عِشْرِیْنَ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت اَنَس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺرمضان کے آخری دس دنوں میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے مگر ایک سال آپؐ نے اعتکاف نہیں فرمایا جب دوسرا سال آیا تو آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
(۲) قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَعْتَکِفُ کُلَّ رَمَضَانَ عَشْرَۃَ اَیَّامٍ فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ اعْتَکَفَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا۔(۱۵)
ترجمہ : نبی ﷺکا معمول تھا کہ آپؐ ہر رمضان میں دس روز اعتکاف فرماتے لیکن جس سال آپ کی روح مبارک قبض کی گئی اس سال بیس روز اعتکاف فرمایا۔
(۳) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ عَامًا، فَلَمْ یَعْتَکِفْ، فَلَمَّا کَانَ مِنْ قَابِلٍ اعْتَکَفَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا۔(۱۶)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺکا معمول تھا کہ آپؐ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال حالتِ سفر پیش آگئی اور آپ اعتکاف میں نہ بیٹھ سکے تو آئندہ سال بیس روز اعتکاف فرمایا۔
حضورؐ فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکف میں داخل ہوجاتے تھے
۱۴۷۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّعْتَکِفَ صَلَّی الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِیْ مُعْتَکَفِہٖ۔ (ابوداود، ابن ماجۃ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تھے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکف (اعتکاف کی جگہ) میں داخل ہوجاتے تھے۔‘‘
تشریح: مُعْتَکَفْسے مراد وہ جگہ ہے جو آدمی مسجد میں اپنے اعتکاف کے لیے بنالے۔ مسجد میں ایک پردہ سا لٹکاکر اپنے لیے خلوت پیدا کرلی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورؐ فجر کی نماز پڑھ کر اپنے مُعْتکَف میں داخل ہوجاتے تھے۔
امام اوزاعیؒ اور امام ثوریؒ وغیرہ نے اس حدیث سے استدلال کیاہے کہ اعتکاف کی ابتداء فجر کے وقت سے ہوتی ہے۔ بعض دوسری احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اعتکاف کی ابتداء مغرب کے وقت سے ہوتی ہے۔ یعنی اگر آدمی ۲۱ تاریخ سے اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو وہ ۲۰ تاریخ کو مغرب کی نماز کے بعد اعتکاف میں بیٹھ جائے گا۔ ائمۂ اربعہ اسی بات کے قائل ہیں اور وہ اپنی دلیل دوسری احادیث سے لاتے ہیں۔ لیکن جو فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ اعتکاف کا وقت ۲۰ تاریخ کی فجر سے شروع ہوتاہے وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔
تخریج : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیٰی، اَخْبَرَنَا اَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ عُمْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ :کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّعْتَکِفَ صَلَّی الْفَجْرَ، ثُمَّ دَخَلَ فِیْ مُعْتَکَفِہٗ(۱۶)
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تھے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکَف(اعتکاف کی جگہ) میں داخل ہوجاتے تھے۔
امام ترمذی نے روایت بیان کرکے لکھاہے :
قال ابوعیسٰی وقد روی ھذا الحدیث عن یحیی بن سعید عن عمرۃ عن النبیﷺ مرسل ورواہ مالک وغیر واحد عن یحیی بن سعید مرسلاً ورواہ الاوزاعی وسفیان الثوری عن یحیی ابن سعید عن عمرۃ عن عائشۃ۔
والعمل علٰی ھذا الحدیث عند بعض اھل العلم یقولون اذا اراد الرجل ان یعتکف صلی الفجر ثم دخل فی معتکفہ وھو قول احمد بن حنبل واسحاق وابراھیم۔
وقال بعضھم، اذا اراد ان یعتکف فلتغب لہ الشمس من اللیلۃ التی یرید ان یعتکف فیھا الغدو وقد قعد فی معتکفہ وھو قول سفیان الثوری ومالک بن انس۔(۱۸)
ــــامام ترمذی کہتے ہیں اس حدیث پر بعض اہلِ علم نے عمل کی صورت یہ بتائی ہے کہ جب کوئی شخص اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو فجر کی نماز پڑھ کر اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو۔ یہ رائے امام احمد بن حنبلؒ، اسحاق ؒاور ابراہیمؒ کی ہے۔
ــــاور بعض کہتے ہیں جس رات اعتکاف میں بیٹھنا چاہے اسی رات سورج غروب ہونے کے بعد صبح سے پہلے اپنے معتکف میں بیٹھ جائے۔ یہ رائے امام سفیان ثوری اور مالک بن انس کی ہے۔
حالت اعتکاف میں مریض کی عیادت کا مسنون طریقہ
حالتِ اعتکاف میں ممنوع کام، اور اعتکاف کی دوشرطیں
۱۴۹۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتِ السُّنَّۃُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ اَنْ لاَّیَعُوْدَ مَرِیْضًا وَلاَیَشْھَدَ وَلاَیَمَسَّ الْمَرْأَۃَ وَلاَیُبَاشِرَھَا وَلاَیَخْرُجَ لِحَاجَۃٍ اِلاَّ لِمَا لاَبُدَّ مِنْہُ وَلاَ اِعْتِکَافَ اِلاَّ بِصَوْمٍ وَلاَاِعْتِکَافَ اِلاَّ فِیْ مَسْجِدٍ جَامِعٍ۔ ( ابوداوٗد)
’’حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لیے اعتکاف کے معاملے میں سنت یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں جائے، نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس کے ساتھ جسم مَس کرے۔ نہ کسی حاجت کے لیے مسجد سے نکلے۔ بجز اس حاجت کے کہ جس کے لیے مسجد سے نکلنے کے سوا چارہ نہ ہو۔ اور کوئی اعتکاف نہیں ہے بغیر روزے کے، اور کوئی اعتکاف نہیں ہے مگر مسجدِ جامع میں۔‘‘
تشریح: اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اعتکاف کے جو احکام بیان کیے ہیں ان میں سے پہلا حکم یہ ہے کہ معتکف مریض کی عیادت نہ کرے۔ گزشتہ حدیث اور اس حدیث کو جمع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ عام حالت میں مریض کی عیادت نہ کرنی چاہیے لیکن اس صورت میں جب کہ مریض کی حالت تشویش کے قابل ہو عیادت کی جاسکتی ہے۔ معتکف کے لیے دوسرا حکم یہ ہے کہ وہ جنازے کے ساتھ نہ جائے۔ تیسرا حکم یہ ہے کہ وہ بیوی کے قریب نہ جائے۔ اس سے پہلے حضرت عائشہؓ ہی کی حدیث گزرچکی ہے کہ وہ حضورؐ کے بال ٹھیک کردیتی تھیں درآنحالیکہ آپؐ اعتکاف میں ہوتے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت عائشہؓ کو تو ہاتھ لگانے کی اجازت دی مگر خود ان کو ہاتھ نہیں لگایا۔ البتہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوسکتا کیونکہ کسی دوسرے کا گھر اس طرح مسجد کے ساتھ نہیں ہوتا جس طرح نبی ﷺکا تھا۔ اس لیے اس معاملے میں حکم وہی رہے گا جو معروف ہے۔
اس حدیث سے یہ حکم بھی معلوم ہوا کہ روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہے۔ یعنی یہ نہیںہوسکتاکہ آدمی روزے سے نہ ہو مگر مسجد میں اعتکاف میں بیٹھاہوا ہو۔
آخری حکم حضرت عائشہؓ نے یہ بیان فرمایاہے کہ اعتکاف نہیں ہے مگر مسجد جامع میں ۔ فقہاء کے درمیان اس کے مفہوم میں اختلاف پیدا ہواہے۔ بعض فقہاء نے اس کامطلب یہ لیاہے کہ اعتکاف اس مسجد میں ہوسکتاہے جس میں جمعہ قائم کیا جارہاہو، یعنی اس میں جمعہ کی نماز ہوتی ہو۔ اس سے اختلاف کرتے ہوئے فقہا کا ایک گروہ یہ کہتاہے کہ ہر مسجد میں اعتکاف ہوسکتاہے۔ تاہم مسجد جامع کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ وہ مسجد ہے جس میں جماعت ہوتی ہو۔ یعنی کوئی شخص ایسی ویران مسجد تلاش کرکے وہاں جاکر اعتکاف میں نہ بیٹھ جائے جہاں نمازیوں کی آمد ورفت نہ ہوکیونکہ اس صورت میں وہ اکیلا ہی نماز پڑھتارہے گا اور جماعت کی نماز سے محروم رہے گا۔ اعتکاف کی نیکی تو اس نے کی لیکن جماعت کی نماز چھوٹ گئی۔ اس لیے اگر مسجدِ جامع سے ایسی مسجد مراد لی جائے تو پھر اختلاف کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کیونکہ ویران مسجد میں اعتکاف کرنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔
تخریج :حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، اَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، یَعْنِی ابْنَ اِسْحَاقَ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: السُّنَّۃُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ اَنْ لاَّیَعُوْدَ مَرِیْضًا وَلاَیَشْھَدَ جَنَازَۃً وَلاَیَمَسَّ امَرْأَۃً، وَلاَیُبَاشِرَھَا وَلاَیَخْرُجَ لِحَاجَۃٍ اِلاَّ لِمَا لاَبُدَّ مِنْہُ وَلاَ اِعْتِکَافَ اِلاَّ بِصَوْمٍ وَلاَاِعْتِکَافَ اِلاَّ فِیْ مَسْجِدٍ جَامِعٍ۔(۲۰)
قال ابوداؤد: غیر عبدالرحمن لایقول فیہ قالت السنۃ قال ابوداؤد جعلہ قول عائشۃ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لیے اعتکاف کے معاملے میں سنت یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں جائے۔ نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس کے ساتھ جسم مَس کرے، نہ کسی حاجت کے لیے مسجد سے نکلے۔ بجز اس حاجت کے کہ جس کے لیے مسجد سے نکلنے کے سوا چارہ نہ ہو۔ اور کوئی اعتکاف نہیں ہے بغیر روزے کے۔ اور کوئی اعتکاف نہیں ہے مگر مسجدِ جامع میں۔
(قال الشیخ) قد ذھب کثیر من الحفاظ الی ان ھذا الکلام من قول من دون عائشۃ وان من ادرجہ فی الحدیث وھم فیہ ــــ فقد رواہ سفیان الثوری، عن ھشام بن عروۃ، عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ الْمُعْتَکِفُ لاَیَشْھَدُ جَنَازَۃً وَلاَیَعُوْدُ مَرِیْضًا وَلاَیُجِیْبُ دَعْوَۃًوَلاَاعْتِکَافَ اِلاَّ بِصِیَامٍ وَلاَ اعْتِکَافَ اِلاَّ فِیْ مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ۔
ــــ حضرت عروہ کا بیان ہے کہ اعتکاف کرنے والا نہ تو جنازے میں جائے اور نہ مریض کی عیادت کرے اور نہ دعوتِ طعام قبول کرے۔ اعتکاف روزے کے بغیر نہیں ہے اور نہ اعتکاف ایسی مسجدمیں ہے جس میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ ہو۔
وعن ابن جریج عن الزھری عن سعید بن المسیب انہ قال المعتکف لایعود مریضًا ولایشھد جنازۃ۔
امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کے باب الاعتکاف فی العشر الاواخر فی المساجد کلھا لقولہ۔
وَلاَتباشِرُوھنّ وانتم عاکفون فی المساجد تلک حدود اللّٰہ فلاتقربوھا الی آخر الآیۃسے یہ نتیجہ مستنبط کیا ہے کہ ہرمسجد میں اعتکاف جائز ہے۔
حضورؐ کے معتکف کی کیفیت
۱۵۰۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ کَانَ اِذَا اعْتَکَفَ طُرِحَ لَہٗ فِرَاشُہٗ اَوْ یُوضَعُ لَہٗ سَرِیْرُہٗ وَرَائَ اُسْطُوَانَۃِ التَّوْبَۃِ۔ (ابن ماجہ)
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺاعتکاف کا ارادہ فرماتے تھے تو (مسجد نبوی میں) توبہ والے ستون کے ساتھ یا تو آپؐ کے لیے بستر بچھا دیا جاتا یا آپ کی چار پائی بچھادی جاتی۔‘‘
تشریح :توبہ والا ستون جس کا ذکر اس حدیث میں کیا گیاہے اب تک مسجد نبوی میں موجود ہے اس پر اُسْطُوَانَۃُ التَّوْبَۃ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ اس کا قصّہ یہ ہے کہ ایک صحابی حضرت ابولُبابہ رضی اللہ عنہ سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو بنی قُرَیْظَہ کے پاس بطور سفیر کے بھیجا تو انہوں نے گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارۃً انہیں یہ بتادیا کہ اب تمہیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ چیز گویا ایک فوجی اور جنگی راز دشمنوں پر ظاہر کرنے کے ہم معنی تھی۔ اس پر سخت گرفت کی گئی۔ چنانچہ جب حضرت ابولبابہؓ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ لیا اور کہا کہ جب تک میری معافی نہیں ہوگی اس وقت تک نہ تو میں اپنے آپ کو کھولوں گانہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا۔ وہ اس حالت میں بندھے رہے یہاں تک کہ بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی معافی آئی تو ان کو کھولا گیا ــــاس ستون کو آج تک مسجد نبوی میں محفوظ رکھا گیا ہے اور اسی کے قریب نبیﷺاعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
تخریج : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰی، ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا بْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ عِیْسَی بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوْسٰی، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّہٗ کَانَ اِذَا اعْتَکَفَ طُرِحَ لَہٗ فِرَاشُہٗ اَوْ یُوضَعُ لَہٗ سَرِیْرُہٗ وَرَائَ اُسْطُوَانَۃِ التَّوْبَۃِ۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺاعتکاف کا ارادہ فرماتے تھے تو (مسجدِ نبوی میں) توبہ والے ستون کے ساتھ یا تو آپؐ کے لیے بستر بچھا دیا جاتا یا آپؐ کی چار پائی بچھادی جاتی تھی۔
اسنادہ صحیح ورجالہ موثقون۔
معتکِف کے حق میں لکھی جانے والی نیکیاں
۱۵۱۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فِی الْمُعْتَکِفِ : ھُوَ یَعْتَکِفُ الذُّنُوْبَ وَیُجْرٰی لَہٗ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ کُلِّھَا۔ (ابن ماجہ)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے معتکِف (اعتکاف کرنے والے) کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا چونکہ (اعتکاف کے زمانے میں) گناہوں سے رُکا رہتاہے اس لیے اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو اس شخص کے حق میں لکھی جاتی ہیں جو تمام نیکیوں پر عمل پیرا ہو۔‘‘
تشریح :اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے رُکا ہوا تو گناہوں سے ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان کا معاملہ اس کے ساتھ یہ ہے کہ اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جو اس دوران میں وہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کرتا ــــیعنی یہ بات تو نہیں لکھی جاتی کہ اگر وہ مسجد سے باہر رہتا تو یہ بدی کرتا، لیکن یہ لکھا جاتاہے کہ اگر وہ باہر رہتا تو یہ نیکی کرتا ــــ یہ خلق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا انتہائی فیّاضانہ اور مربّیانہ معاملہ ہے کہ گناہ تو اس وقت تک نہیں لکھا جاتا جب تک کہ آدمی سے اس کا صدور نہ ہوجائے اور پھر جتنا گناہ صادر ہوتاہے صرف اسی قدر لکھاجاتاہے۔ لیکن نیکی کا معاملہ جُدا ہے ــــ صرف یہی نہیں کہ بندۂ مومن کے حق میں وہ نیکی لکھی جاتی ہے جو اس سے صادر ہوتی ہے بلکہ وہ نیکی بھی لکھ دی جاتی ہے جس کے متعلق یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کا موقع ملنے کی صورت میں وہ اسے انجام دیتا۔ اسی طرح اگر اس کے دل میں نیکی کا ارادہ ہی آیا ہو اور وہ اسے کسی وجہ سے پورا نہ کرسکا ہو تب بھی وہ نیکی اس کے حق میں لکھ دی جاتی ہے (جب کہ محض گناہ کا ارادہ کرنے پر اس وقت تک کوئی مواخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے) یہ خاص معاملہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے ساتھ کرتاہے، کیونکہ وہ فیّاض ہے جتنا چاہے اپنی طرف سے دے سکتاہے۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ نیکی کے بغیر اجر کا مستحق ٹھہرایا جانا عجیب بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بادشاہ اپنی خوشی سے دیتاہے تو اس پر کسی کے اعتراض کرنے کی کیا معقول وجہ ہوسکتی ہے۔
تخریج : حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِالْکَرِیْمِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اُمَیَّۃَ، ثَنَا عِیْسَی بْنُ مُوْسٰی الْبُخَارِیُّ، عَنْ عُبَیْدَۃَ الْعَمِّیِّ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِیِّ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فِی الْمُعْتَکِفِ ھُوَ یَعْتَکِفُ الذُّنُوْبَ وَیُجْرٰی لَہٗ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ کُلِّھَا۔(۲۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے معتکِف (اعتکاف کرنے والا) کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا چونکہ (اعتکاف کے زمانے میں) گناہوں سے رُکا رہتاہے اس لیے اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو اس شخص کے حق میں لکھی جاتی ہیں جو تمام نیکیوں پر عمل پیرا ہو۔
فی الزوائد: اسنادہ ضعیف لضعف فرقد بن یعقوب السبخیّ البصری الحائک۔
قال السندی: قلت فی آخر کتاب الحج من جامع الترمذی : قد تکلم یحییٰ بن سعید فی فرقد السبخیّ وروی عنہ الناس۔
ماخذ
(۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الاعتکاف فی العشر الاواخر فی المساجد کلھا لقولہٖ ولاتباشروھن وانتم عاکفون فی المساجد تلک حدود اللّٰہ الایۃ۔٭ مسلم ج۱کتاب الاعتکاف۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب الاعتکاف۔ ٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی الاعتکاف۔ قال ابوعیسٰی حدیث ابی ھریرۃ وعائشۃ حدیث حسن صحیح۔ ٭ نسائی کتاب المساجد۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی المعتکف یلزم مکانا من المسجدابن ماجہ اور دارمی نے مِن رمضانتک روایت بیان کی ہے۔٭دارمی کتاب الصوم باب ۵۵ باب اعتکاف النبی ﷺ۔ ٭دارقطنی کتاب الصیام ج۲۔٭مؤطا امام مالک کتاب الاعتکاف۔٭ مسند احمد ج۲ مرویات ابی ھریرۃ۔ کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی قبضہ اللہ عزوجلاور ج۶ص۹۲پر من بعدہ بھی ہے۔ ٭ السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب تاکید الاعتکاف فی العشر الاواخر من شھرِ رمضان۔ ٭المستدرک ج۱ کتاب الصوم (من رمضانتک) ۔
(۲) بخاری ج۱کتاب الصوم باب اجود ماکان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یکون فی رمضان۔ کتاب ابواب فضائل القرآن اور بدأ الوحی، کتاب المناقب، بدأ الخلق، کتاب الادب۔ ٭مسلم ج۲کتاب الفضائل باب جودہ ﷺ۔ ٭ ترمذی ابواب الجھاد اور شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔٭ نسائی ج۴ کتاب الصیام باب الفضل والجود فی شھر رمضان۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد باب الخروج فی النفیر (مختصر ہے) ٭ مسنداحمد ج۱ص۲۳۱۔۲۸۸۔۳۲۶۔۳۶۳۔ ۳۶۷۔ ۳۷۳۔ ج۶ص۱۳۰۔٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب الجود والافضال فی شھر رمضان۔
(۳) بخاری ج۲کتاب ابواب فضائل القراٰن باب کان جبریل یعرض القرآن علی النبی ﷺبخاری کتاب الاعتکاف اور کتاب الصوم۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب الاعتکاف۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الاعتکاف۔٭ دارمی کتاب الصوم باب ۵۵ اعتکاف النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ ٭مسند احمد ج۲ص۳۳۶۔۳۵۵۔۳۹۹ ابوہریرۃ۔٭
(۴) السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب الاعتکاف۔
(۵) ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب المعتکف یخرج لحاجتہٖ ام لا۔
(۶) مسلم ج۱کتاب الحیض باب جواز الغسل الحائض رأس زوجھا وترجیلہ الخ۔٭ ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب المعتکف یدخل البیت لحاجتہ۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب المعتکف یخرج لحاجتہ ام لا۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الاعتکاف باب ذکر الاعتکاف۔٭ مُسندِ احمد ج۶ص۱۸۱۔ عن عائشۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الاعتکاف فی المسجد۔اس روایت میں ادنیٰ کے بجائے یُدنِی کا لفظ ہے۔
(۷) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الحائض ترجل المعتکف۔
(۸) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الحائض ترجل المعتکف۔
(۹) بخاری ج۱کتاب الصوم باب غسل المعتکف۔
(۱۰) بخاری ج۱کتاب الحیض باب غسل الحائض رأْس زوجھاالخ۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی المعتکف یغسل رَأسَہٗ ویرجلہ۔
(۱۱) بخاری ج۱کتاب الصوم باب الاعتکاف لَیلاً۔ کتاب الایمان۔٭ مسلم ج۲کتاب النذر والایمان باب نذر الکافر ومایفعل فیہ اذا اسلم۔مسلم میںکُنْتُ نَذَرْتُکی جگہ قال یا رَسول اللّٰہ انی نذرتُ ہے۔٭ابوداؤدج۳کتاب الایمان والنذور باب من نذر فی الجاھلیۃ ثم ادرک الاسلام۔٭مسند احمد ج۲۔٭السنن الکبریٰ ج۴کتاب الصیام باب من رأی الاعتکاف بغیر صوم۔
(۱۲) ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب المعتکف یعود المریض۔ ٭ ترمذی ج۱ابواب النذر والایمان باب فی وفاء۔ ٭نسائی ج۷ کتاب الایمان باب اذا نذرثم اسلم قبل ان یفی۔٭مسند احمد ج۱ص۲۷۔ج۲ص۲۰۔۱۵۳۔
(۱۳) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی اعتکاف یوم او لیلۃ۔
(۱۴) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی الاعتکاف اذا خرج منہ۔ قال ابو عیسی ھذا حدیث حسن غریب۔ ٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب الاعتکاف۔ابوداؤد میں عشرین لیلۃًہے۔امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کے کتاب الصوم باب الاعتکاف فی العشر الاوسط من رمضانمیں، اور ابوداؤد نے اپنی سنن ابی داؤد کے کتاب الصوم باب این یکون الاعتکافمیں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت نقل کی ہے۔
(۱۵) دارمی کتاب الصوم باب اعتکاف النبی صلی اللّٰہُ علیہ وسلم۔٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فی الاعتکاف۔ ٭ مسند احمد ج۵ص۱۴۱۔
(۱۶) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴کتاب الصیام باب الاعتکاف۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصوم باب الاعتکاف۔٭ مسند احمد ج۳ص۱۰۴۔
(۱۷) مسلم ج۱کتاب الاعتکاف۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الصوم باب الاعتکاف۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصوم باب ماجاء فی الاعتکاف۔٭نسائی ج۲کتاب المساجد باب ۱۸۔ صوب الخباء فی المساجد٭ ابن ماجہ کتاب الصیام باب ماجاء فیمن یبتدیٔ الاعتکاف وقضاء الاعتکاف۔ابن ماجہ نے صلی الفجرکے بجائے صلّی الصبحنقل کیاہے۔ ٭ مسند احمد ج۶ عن عائشۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبَیْھَقی ج۴۔ کتاب الصیام باب تاکیدالاعتکاف فی العشر الاواخر من شھر رمضان۔
(۱۸) ترمذی ابواب الصوم باب ماجاء فی الاعتکاف۔
(۱۹) ابوداؤد ج۳کتاب الصوم باب المعتکف یعود المریض۔٭السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الصیام باب المعتکف یخرج من المسجد لبول او غائط۔
(۲۰) ابوداؤد ج۲ کتاب الصوم باب المعتکف یعود المریض۔٭ السنن الکبری ج۴ص۳۲۱ کتاب الصیام باب المعتکف یخرج من المسجد لبول اوغائط۔
(۲۱) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی المعتکف یلزم مکانا من المسجد۔
(۲۲) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی ثواب الاعتکاف۔
کتاب الحج۔فصل اوّل: اسلام میں فریضۂ حج کی اہمیت
۱۔ مَنْ مَّلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاَ عَلَیْہِ اَنْ یَّمُوْتَ یَھُوْدِیًّا اَوْ نَصْرَانِیًّا۔
’’جو شخص زادِ راہ اور سواری رکھتاہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو، اور پھر حج نہ کرے، تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہوکر مرنا یکساں ہے۔‘‘
تخریج :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰی الْقَطَعِیُّ الْبَصَرِیُّ، نَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، نَا ھِلاَلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ مَوْلٰی رَبِیْعَۃَ بْنِ عَمْرِو ابْنِ مُسْلِمٍ الْبَاھِلِیِّ، نَا اَبُوْاِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیُّ عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : مَنْ مَّلَکَ زَادًا اَوْ رَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاَعَلَیْہِ اَنْ یَّمُوْتَ یَھُوْدِیًّا اَوْنَصْرَانِیًّا۔ وَذٰلِکَ اَنَّ اللّٰہَ یَقُولُ فِیْ کِتَابِہٖ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً۔(۱)
قَالَ اَبُوعِیْسٰی : ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لاَنَعْرِفُہٗ اِلاَّ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ۔
وَفِیْ اِسْنَادِہٖ مَقَالٌ۔ وَھِلاَلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ مَجْھُوْلٌ والحارث یُضَعَّفُ فِی الْحَدِیْثِ۔
ترجمہ: حضرت علیؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص زادِ راہ اور سواری رکھتاہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتاہو، اور پھر حج نہ کرے، تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہوکر مرنایکساں ہے، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے: لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتاہو وہ اس کا حج کرے۔
۲۔ مَنْ لَّمْ یَمْنَعُہٗ مِنَ الْحَجِ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْسُلْطَانٌ جَائِرٌ اَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ اِنْ شَآئَ یَھُوْدِیًّا وَاِنْ شَآئَ نَصْرَانِیًّا۔
’’جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اس نے حج نہ کیا ہو، اور اسی حالت میں اسے موت آجائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر۔ ‘‘
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے : وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ۔ ’’اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جس نے کفر کیا تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘
اور اسی کی تفسیر حضرت عمرؓ نے کی جب کہا کہ ’’جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے۔ میرا جی چاہتاہے کہ اُن پر جزیہ لگادوں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول وخلیفۂ رسول کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجیے اور نہ چاہے تو ٹال دیجیے۔ بلکہ یہ ایسا فرض ہے، کہ ہر اس مسلمان کو جو کعبے تک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو، اور ہاتھ پاؤں سے معذور نہ ہو، عمر میں ایک مرتبہ اسے لازمًا ادا کرنا چاہیے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنے کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی کیسی ہی ذمہ داریاں ہوں۔ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کرکرکے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں، ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتاکہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمہ ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں۔ کعبۂ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزرجاتے ہیں جہاں سے مکّہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دل میں نہیں گزرتا، وہ قطعًا مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں۔ اور قرآن سے جاہل ہے جو انہیں مسلمان سمجھتاہے۔ ان کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اٹھتاہے تو اٹھاکرے، اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہر حال ان کے دل میں نہیں ہے۔ (خطبات : فریضۂ حج)
تخریج(۱) : اَخْبَرَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، عَنْ شَرِیْکٍ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ لَّمْ یَمْنَعْہُ عَنِ الْحَجِّ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ اَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ، فَلْیَمُتْ اِنْ شَآئَ یَھُوْدِیًّا اَوْاِنْ شَآئَ نَصْرَانِیًّا۔(۲)
ترجمہ : حضرت ابوامامہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اس نے حج نہ کیا ہو اور اسی حالت میں اسے موت آجائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر۔
(۲) عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَنْ لَّمْ یَحْبِسْہٗ مَرَضٌ اَوْ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌوَلَمْ یَحُجَّ، فَلْیَمُتْ اِنْ شَآئَ یَھُوْدِیًّا اَوْ نَصْرَانِیًّا۔(۳)
(۳) مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ حَجَّۃَ الْاِسْلاَمِ لَمْ یَمْنَعْہُ مَرَضٌ حَابِسٌ اَوْحَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْسُلْطَانٌ جَائِرٌ فَلْیَمُتْ عَلٰی اَیِّ حَالٍ شَآئَ یَھُوْدِیًّا اَوْنَصْرَانِیًّا۔
حج سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے
۳۔ مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ۔
’’جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے پرہیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہواہے۔‘‘
تشریح :احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہانا تو درکنار، جانور تک کا شکار کرنا حرام کردیا گیا تاکہ امن پسندی پیدا ہو، بہیمیت دور ہوجائے اور طبیعتوںپر رُوحانیت کا غلبہ ہو۔ حج کے چار مہینے اس لیے حرام کیے گئے کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو، کعبہ کو جانے والے تمام راستوں میں امن رہے اور زائرین حَرم کو کوئی نہ چھیڑے۔ اس شان کے ساتھ جب حاجی حرم میں پہنچیں تو اُن کے لیے کوئی میلہ ٹھیلہ، کھیل تماشا، ناچ رنگ وغیرہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر خدا کا ذکر ہے، نمازیں ہیں، عبادتیں ہیں، قربانیاں ہیں کعبہ کا طواف ہے اور کوئی پکار ہے تو بس یہ ہے کہ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَشَرِیْکَ لَکَ۔
ایسے ہی پاک صاف، بے لوث اور مخلصانہ حج کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے پرہیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔‘‘ (خطبات، ص حج:۲)
تخریج (۱) : حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ:حَدَّثَنَا سَیَّارٌ، اَبُوالْحَکَمِ قَالَ : سَمِعْتُ اَبَا حَازِمٍ، قَالَ : سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ، یَقُوْلُ: مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ۔(۴)
ترجمہ :حضرت ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سناہے انہوں نے بیان کیاکہ نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے میں نے خود سناہے، جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے پرہیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : مَنْ حَجَّ ھٰذَا الْبَیْتَ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اَمُّہٗ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کاارشاد گرامی ہے جس نے اس گھر کا حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے اجتناب کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ اَتٰی ھٰذَا الْبَیْتَ، فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص اس گھر میں آیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے بچا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اسے اس کی ماں نے جنا ہے۔
دوسری ایک روایت میں مَنْ حَجَّ، فَلَمْ یَرْفُثْ، وَلَمْ یَفْسُقْ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ (۶)
زندگی بھر میں حج ایک ہی مرتبہ فرض ہے
۴۔’’ قرآن میں حج کا مجملاً حکم ہے۔ ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبی ﷺ سے دریافت کیا۔ کیا ہرسال فرض کیا گیاہے؟‘‘ آپؐ نے کچھ جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا۔ آپ پھر خاموش ہوگئے تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپؐ نے فرمایا ۔’’ تم پر افسوس ہے اگر میری زبان سے ہاں نکل جائے تو حج ہرسال فرض قرار پاجائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کرسکوگے اور نافرمانی کرنے لگوگے۔‘‘
تخریج(۱) :حَدَّثَنَا اَبُوْسَعِیْدِنِالْاَشَجُّ نَا مَنْصُوْرُ بْنُ وَرْدَانَ کُوْفِی، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِالْاَعْلٰی، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً، قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفِیْ کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفِیْ کُلِّ عَامٍ؟ قَالَ:لاَ، وَلَوْقُلْتُ نَعَمْ، لَوَجَبَتْ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَسْئَالُوْا عَنْ اَشْیَآئٍ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ۔
وفی البابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابی ھریرۃ۔ قال ابوعیسٰی۔ حدیث علیّ حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ۔ واسلم ابی البختری سعید بن ابی عمران وھو سعید بن فیروز۔(۷)
ترجمہ : حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ جب وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً۔ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ کیا حج ہرسال فرض ہے۔ آپ ؐخاموش رہے۔ پھر لوگوں نے عرض کیا یا رسول ؐ اللہ کیا ہرسال میںحج ہے؟ جواب میں ارشاد فرمایا: اگر میں’’ہاں‘‘ کہہ دیتا تو یہ ہرسال واجب ہوجاتا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
’’اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو کہ اگر تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔‘‘
ابوداؤد نے ابنِ عباس کی روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ اَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْحَجُّ فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ اَوْ مَرَّۃً وَاحِدَۃً؟ قَالَ: بَلْ مَرَّۃً وَاحِدَۃً، فَمَنْ زَادَ فَھُوَ تَطَوُّعٌ۔(۸)
ترجمہ : حضرت اَقْرَع بن جابس نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ یا رسول اللہ حج ہر سال ہے یا زندگی بھر میں ایک مرتبہ؟ جواب میں حضورؐ نے ارشاد فرمایا۔ ہر سال نہیں بلکہ زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ جو شخص اس سے زیادہ کرے تو وہ نفل ہے (جو اپنی خوشی سے ادا کرے گا)۔
ابن ماجہ نے انس بن مالک سے روایت لی ہے:
(۳) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَلْحَجُّ فِیْ کُلِّ عَامٍ؟ قَالَ : وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ، لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَقُوْمُوْا بِھَا وَلَوْلَمْ تَقُوْمُوْا بِھَا عُذِّبْتُمْ۔(۹)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے رسالت مآبؐ سے عرض کیا: یا رسول اللہ حج ہرسال ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا:اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دیتا تو یہ ہرسال واجب ہوجاتا۔ اگر یہ ہرسال واجب قرار پاتا تو تم اس پر قائم نہ رہ سکتے۔ اگر تم اس پر قائم نہ رہ سکتے تو سزا سے تمہیں دوچار ہونا پڑتا۔
۵۔ اِنَّ اَعْظَمَ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ لَمْ یُحَرَّمْ عَلَی النَّاسِ فَحُرِّمَ مِنْ اَجْلِ مَسْأَلَتِہٖ۔
’’مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھہرائی گئی۔‘‘
تخریج (۱) : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِیُٔ، قَالَ:حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ قَالَ:حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَامِرِ ْبنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِنَّ اَعْظَمَ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ لَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ مِنْ اَجْلِ مَسْأَلَتِہٖ۔(۱۰)
ترجمہ: حضرت سعدبن ابی وقّاصؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھہرائی گئی ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ یَحْیٰ، قَال:اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اَعْظَمَ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَاَلَ عَنْ شَیْئٍ لَّمْ یُحَرَّمْ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ فَحُرِّمَ عَلَیْھِمْ مِنْ اَجْلِ مَسْئَلَتِہٖ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت سعد بن وقّاص سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسے معاملہ کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ تھا پھر محض اس کے سوال کرنے پر وہ حرام ٹھہرا دیا گیا۔
مسلم کی دوسری روایت:
(۳) عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، اَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَاَلَ عَنْ اَمْرٍلَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ اَجْلِ مَسْئَلَتِہٖ۔(۱۲)
۶۔ اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا وَحَرَّمَ حُرَمَاتٍ لاَتَنْتَھِکُوْھَا وَحَدَّ حُدُودًا فَلاَ تَعْتَدُّوْھَا وَسَکَتَ عَنْ اَشْیَائٍ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوْا عَنْھَا۔
’’اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیاہے ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو لہذا ان کی کھوج نہ لگاؤ۔‘‘
تشریح :نبی ﷺ سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے غیر مناسب سوالات کیا کرتے تھے۔ جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپؐ سے پوچھ بیٹھے کہ ’’میرا اصلی باپ کون ہے؟‘‘ اسی طرح بعض لوگ احکامِ شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے، اور خواہ مخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعیّن کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتًا غیر معیّن رکھاہے۔
نبی ﷺ خود بھی لوگوں کو کثرتِ سوال سے اور خواہ مخواہ ہربات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہتے تھے۔
متذکرہ حدیثوںمیں ایک اہم حقیقت پر متنبہ کیا گیاہے۔ جن امور کو شارع نے مجملاًبیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی یاجو احکام برسبیل اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دوسرے تعینات کا ذکر نہیں کیاہے ، ان میں اجمال اور عدم تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھول ہوگئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتاہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتاہے، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے، استنباط سے، کسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصل، مطلق کو مقید، غیر معین کو معین بنا کر ہی چھوڑتاہے۔ وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتاہے۔ اس لیے کہ مابعد الطبیعی اُمور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ اُلجھن کے مواقع بڑھیں گے، اور احکام میں جتنی قیود زیادہ ہوں گی پیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزی حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے۔ (تفہیم القرآن ج۱،المائدہ، حاشیہ: ۱۱۶)
تخریج(۱):حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْمُحَامِلِیُّ، نَایَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانٍ الْاَزْرَقُ قَالاَ: ثنا اِسْحَاقُ الْاَزْرَقُ، نَادَاوٗدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنْ مَکْحُوْلٍ، عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِّیِ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا وَحَرَّمَ حُرَمَاتٍ فَلاَتَنْتَھِکُوْھَا وَحَدَّ حُدُودًافَلاَ تَعْتَدُّوْھَا۔ وَسَکَتَ عَنْ اَشْیَائٍ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوْا عَنْھَا۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت ابوثَعْلبہ خُشَنِی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یقینااللہ تعالیٰ نے تم پرکچھ فرائض عائد کیے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیاہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ۔
(۲) اَبُوالدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْکُمْ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا وَحَدَّ لَکُمْ حُدُوْدًا فَلاَ تَعْتَدُوْھَا وَنَھَاکُمْ عَنْ اَشْیَائٍ فَلاَتَنْتَھِکُوھَاوَسَکَتَ عَنْ اَشْیَائٍ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَتُکَلِّمُوْھَا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاقْبَلُوْھَا۔ (۱۴)
ترجمہ : حضرت ابوالدَّرْدَاء ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تم پر کچھ فرائض عائد کیے ہیں انہیں ضائع نہ کرو اور کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں سے روکا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اُسے بھول لاحق ہوئی ہو۔ لہٰذا ان کے بارے میں بات نہ کرو۔ یہ تمہارے پروردگار کی جانب سے رحمت کے طورپر ہے اسے قبول کرو۔
مکّہ حقیقی مساوات کا مرکز
۷۔ مَکَّۃُ مُنَاخٌ لِمَنْ سَبَقَ۔
’’جو شخص اس شہر میں کسی جگہ آکر پہلے اتر جائے وہ جگہ اسی کی ہے۔ ‘‘
تشریح:اسلام نے دنیا کو ایک ایسا مرکز دیاہے جس کی تعریف یہ ہے کہ سَوَآئَ نِالْعَاکِفِ فِیْہِ وَالْبَادِ ۔(الحج :۲۵)یعنی وہاں ان تمام انسانوں کے حقوق بالکل برابر ہیں جو خدا کی بادشاہی اور محمد ﷺ کی رہنمائی تسلیم کرکے اسلام کی برادری میں داخل ہوجائیں۔ خواہ کوئی شخص امریکہ کا رہنے والا ہو یا افریقہ کا، چین کا ہو یا ہندوستان کا، اگر وہ مسلمان ہوجائے تو مکّہ کی زمین پر اس کے وہی حقوق ہیں جو خود مکّہ والوں کے ہیں۔ پورے حرم کے علاقے کی حیثیت گویا مسجد کی سی حیثیت ہے کہ جو شخص مسجد میں جاکر اپنا ڈیرہ جمادے وہ جگہ اسی کی ہے، کوئی اس کو وہاں سے اٹھا نہیں سکتا، نہ اس سے کرایہ مانگ سکتاہے۔ اگر وہ اس جگہ خواہ تمام عمر بیٹھا رہاہو، اسے یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ یہ جگہ میری ملک ہے۔ نہ وہ اس کو بیچ سکتاہے، نہ اس کا کرایہ وصول کرسکتاہے، حتّٰی کہ جب وہ شخص اس جگہ سے اٹھ جائے تو دوسرے کو بھی وہاں ڈیرہ جمانے کا ویسا ہی حق ہے جیسا اس کو تھا۔ بالکل یہی حال پورے مکہ کے حرم کا ہے۔
نبی ﷺ کا ارشاد ہے:
’’جوشخص اس شہر میں کسی جگہ آکر پہلے اترجائے وہ جگہ اسی کی ہے۔‘‘
’’وہاں کے مکانوں کا کرایہ لینا جائز نہیں ہے۔‘‘ (خطبات، حج: حقیقی مساوات کا۔۔۔)
تخریج(۱) :حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ ابْنُ مُھْدِیٍّ، ثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُھَاجِرٍ، عَنْ یُوْسُفَ ابْنِ مَاھَکَ، عَنْ اُمِّہٖ۔عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ : قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اَلاَنَبْنِیْ لَکَ بِمِنًی بَیْتًا، اَوْبِنَائً، یُظِلُّکَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ:لاَ، اِنَّمَا ھُوَمُنَاخُ مَنْ سَبَقَ اِلَیْہِ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ اجازت مرحمت فرمائیں تو میں منٰی میں آپؐکے لیے کسی رہائش گاہ یا خیمے کا بندو بست کرلوں تاکہ آپ دھوپ کی تپش سے محفوظ رہ سکیں، حضورؐ نے جواب میں فرمایا: نہیں وہ تو ہر اس شخص کے لیے ہے جو پہلے آکر وہاں اتر جائے۔
خانہ کعبہ کا طواف اور اس میں نماز کے اوقات
۔ یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ مِنْ اُمُوْرِ النَّاسِ شَیْئًا فَلاَیَمْنَعَنَّ اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ اَوْصَلّٰی اَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَآئَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھارٍ۔
’’اے اولادِ عبدمناف،تم میں سے جو کوئی لوگوں کے معاملات پر کسی اقتدار کا مالک ہواسے چاہیے کہ کسی شخص کورات اور دن کے کسی وقت میں بھی خانۂ کعبہ کا طواف کرنے یا نماز پڑھنے سے منع نہ کرے۔‘‘
تشریح :جو کسی شخص یا خاندان یا قبیلے کی جائداد نہیں ہے، بلکہ وقف عام ہے اور جس کی زیارت سے روکنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔
یہاں فقہی نقطۂ نظر سے دوسوال پید ا ہوتے ہیں جن کے بارے میں فقہائے اسلام کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں:
اول یہ کہ ’’مسجد حرام‘‘ سے مراد کیا ہے؟ آیا صرف مسجد یا پورا حرم مکّہ؟
دوم یہ کہ اس میں عاکف (رہنے والے)اور باد (باہر سے آنے والے) کے حقوق برابر ہونے کا کیا مطلب ہے؟
ایک گروہ کہتاہے کہ اس سے مراد صرف مسجد ہے نہ کہ پورا حرم، جیسا کہ قرآن کے ظاہر الفاظ سے مترشح ہوتاہے۔ اور اس میں حقوق کے مساوی ہونے سے مراد عبادت کے حق میں مساوات ہے، جیسا کہ نبی ﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتاہے کہ :
یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ مِنْ اُمُوْرِ النَّاسِ شَیْئًا فَلاَ یَمْنَعَنَّ اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ اَوْصَلّٰی اَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَآئَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ۔
’’اے اولادِ عبد مناف، تم میں سے جو کوئی لوگوں کے معاملات پر کسی اقتدار کا مالک ہو اسے چاہیے کہ کسی شخص کو رات اور دن کے کسی وقت میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کرنے یا نماز پڑھنے سے منع نہ کرے۔‘‘
اس رائے کے حامی کہتے ہیں کہ مسجدِ حرام سے پورا حرم مراد لینا اور پھر وہاں جملہ حیثیات سے مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر قرار دینا غلط ہے۔ کیونکہ مکّہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے حقوقِ ملکیت ووراثت اور حقوقِ بیع واجارہ اسلام سے پہلے قائم تھے اور اسلام کے بعد بھی قائم رہے۔ حتّٰی کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں صفوان بن امیہ کا مکان مکہ میں جیل کی تعمیر کے لیے چار ہزار درہم میں خریدا گیا۔ لہٰذا یہ مساوات صرف عبادت ہی کے معاملہ میں ہے نہ کہ کسی اور چیز میں یہ امام شافعی اور ان کے ہم خیال اصحاب کا قول ہے۔
دوسرا گروہ کہتاہے کہ مسجد حرام سے مراد پورا حرم مکّہ ہے۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ خود اس آیت میں جس چیز پر مشرکین مکہ کو ملامت کی گئی ہے وہ مسلمانوں کے حج میں مانع ہونا ہے، اور ان کے اس فعل کو یہ کہہ کر رد کیاگیاہے کہ وہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔اب یہ ظاہر ہے کہ حج صرف مسجد ہی میں نہیں ہوتا بلکہ صفا اور مروہ سے لے کر مِنٰی، مُزدَلْفہ، عرفات سب مناسک حج کے مقامات ہیں۔ پھر قرآن میں ایک جگہ نہیں متعدد مقامات پر مسجد حرام بول کر پورا حرم مراد لیا گیاہے۔ مثلا فرمایا:
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ۔
’’مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک ماہِ حرام میں جنگ کرنے سے بڑا گناہ ہے۔‘‘ (بقرہ: ۲۱۷)
ظاہر ہے کہ یہاں مسجد سے نماز پڑھنے والوں کو نکالنا نہیں بلکہ مکّہ سے مسلمان باشندوں کو نکالنا مراد ہے۔ دوسری جگہ فرمایا:
ذٰلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔
’’ یہ رعایت اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجدحرام کے رہنے والے نہ ہوں۔‘‘ (البقرہ :ا۱۹۶)
یہاں بھی مسجد حرام سے مراد پورا حرمِ مکہ ہے نہ کہ محض مسجد۔ لہٰذا ’’مسجد حرام‘‘ میں مساوات کو صرف مسجد میں مساوات تک محدود نہیں قراردیا جاسکتا،بلکہ یہ حرمِ مکّہ میں مساوات ہے۔
پھر یہ گروہ کہتاہے کہ یہ مساوات صرف عبادت ا ور تعظیم وحرمت ہی میں نہیںہے، بلکہ حرمِ مکہ میں تمام حقوق کے اعتبار سے ہے۔ یہ سرزمین خدا کی طرف سے وقف عام ہے لہٰذا اس پر اور اس کی عمارات پر کسی کے حقوق ملکیت نہیں ہیں۔ ہرشخص ہرجگہ ٹھہر سکتاہے، کوئی کسی کو نہیں روک سکتا اور نہ کسی بیٹھے ہوئے کو اٹھا سکتاہے۔ (تفہیم القرآن ج۳،الحج : حاشیہ ۴۳)
تخریج(۱): اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ، وَاَبُوْزَکَرِیَّا بْنُ اَبِی اِسْحَاقَ، وَغَیْرُھُمَا قَالُوْا: اَنْبَأ اَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ، ثَنَااَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بَابَاہ۔عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ مِنْ اَمْرِ النَّاسِ شَیْئًا فَلاَتَمْنَعُوْا اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَصَلّٰی اَیَّ سَاعَۃٍ شَآئَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھارٍ۔
ترجمہ : حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے اولادِ عبدمناف،تم میں سے جو کوئی لوگوں کے معاملات پر کسی اقتدار کا مالک ہو،اسے چاہیے کہ کسی شخص کورات اور دن کے کسی وقت میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کرنے یا نماز پڑھنے سے منع نہ کرے۔
(۲) عَنْ جُبَیْرِبْنِ مُطْعِمٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اَوْیَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اِنْ وُلِّیْتُمْ مِنْ ھٰذَا الْاَمْرِ شَیْئًا فَلاَتَمْنَعُوْا اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَصَلَّی اَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَآئَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اے عبد المطلب کی اولاد یا فرمایا اے اولادِ عبد مناف اگر تمہیں اس معاملہ پر اقتدار دے دیا گیا تو پھر تم کسی شخص کو رات دن کے کسی وقت اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے منع نہ کرنا۔
(۳) عَنْ اَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، اَنَّہٗ قَامَ، فَاَخَذَ بِحَلَقَۃِ بَابِ الْکَعْبَۃِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ عَرَفَنِیْ فَقَدْ عَرَفَنِیْ وَمَنْ لَّمْ یَعْرِفْنِیْ، فَاَنَا جُنْدُبٌ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لاَصَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَصَلاَۃَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ اِلاَّبِمَکَّۃَ اِلاَّ بِمَکَّہَ اِلاَّبِمَکَّۃَ۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کھڑے ہوئے اور خانہ کعبہ کے دروازہ کا حلقہ پکڑ کر اعلان کیا کہ جو شخص مجھے جانتاپہچانتاہے وہ تو جانتا پہچانتاہے اور جس نے مجھے نہیں پہچانا تو اسے یاد رہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کا صحابی جُندُب یہ حضرت ابوذرؓ کا اصل نام تھا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خودسناہے۔ آپ فرمارہے تھے۔ نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک اور کوئی نماز نہیں ہے۔ اسی طرح نماز فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک دوسری کوئی نماز نہیں ہے۔ مگر مکہ اس سے مستثنٰی ہے۔ مکہ اس سے مستثنٰی ہے، مکہ اس سے مستثنٰی ہے ۔
(۴) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ لاَ تَمْنَعُوْا اَحَدًا طَافَ ھٰذَا الْبَیْتَ وَصَلّٰی اَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَآئَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ۔
ترجمہ :حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔ فرمایا:اے اولادِ عبدِ مناف ۔ اس گھر کا رات دن کے کسی وقت طواف کرنے یا نماز پڑھنے والے کو منع نہ کرنا۔
وفی الباب عن ابن عباس وابی ذرٍّ۔ قال ابوعیسٰی حدیث جبیر بن مطعم حدیث حسن صحیح۔ وقد رواہ عَبْد اللہ بن ابی نجیح عن عبدِ اللہ بن باباہ ایضًا۔
وقد اختلف اھل العلم فی الصلاۃ بعد العصر وبعد الصبح بمکۃ فقال بعضھم لا بَأس بالصلاۃ والطواف بعد العصر وبعد الصبح وھو قول الشافعی واحمد واسحاق واحتجوا بحدیث النبی ﷺ۔
وقال بعضھم اذا طاف بعد العصر لم یصل حتی تغرب الشمس وکذلک اِن طاف بعد صلاۃ الصبح ایضًا۔ لم یصل حتّٰی تطلع الشمس واحتجوا بحدیث عمر انہ طاف بعد صلاۃ الصبح فلم یصل وخرج مِنْ مکۃ حتی نَزَل بذی طوٰی فصلی بَعد ما طلعت الشمس وھو قول سفیان الثوری ومالک بن انس۔(۱۸)
دارقطنی نے نافع بن جبیر بن مطعم عن ابیہسے روایت کیا ہے :
(۵) عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! لاَتَمْنَعَنَّ اَحَدًا یُصَلِّیْ عِنْدَ ھٰذَا الْبَیْتِ اَیَّ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ۔(۱۹)
ترجمہ : نبیﷺ نے فرمایا:اے اولادِ عبد مناف جو شخص اس گھر کے پاس رات دن کے کسی وقت میں نماز پڑھے اُسے منع نہ کرنا۔
(۶) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺَ۔ قَالَ: یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! لاَتَمْنَعُوْا اَحَدًا طَافَ بِھٰذا الْبَیْتِ وَصَلّٰی اَیَّ سَاعَۃٍ اَحَبَّ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ۔(۲۰)
ھٰذا حدیث صحیح علی شرط مسلم وَلَمْ یُخَرِجَاہُ۔
ترجمہ :حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اے عبدِ مناف کی اولاد! اس گھر کا اپنی پسند کے مطابق دن رات میں کسی طواف کرنے والے اور نماز پڑھنے والے کو منع نہ کرنا۔
(۷) حَدَّثَنَا ابنُ السَّرْحِ (وَالْفَضْلُ بْنُ یَعْقُوْبَ، وَھٰذا لفظہٗ، قالا:) ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بَابَاہ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:لاَتَمْنَعُوْا اَحَدًا یَطُوْفُ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَیُصَلِّی اَیَّ سَاعَۃٍ شَآئَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ، قَالَ الْفَضْلُ :اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! لاَ تَمْنَعُوْا اَحَدًا۔(۲۱)
دنیا میں واحد مرکزِ امن
۹۔ اسلام نے دنیا کو ایک ایسا حرم دیاہے جو قیامت تک کے لیے امن کا شہر ہے۔ جس میں آدمی تو کیا جانور تک کا شکار نہیں کیا جاسکتا، جس میں گھاس تک کاٹنے کی اجازت نہیں، جس کی زمین کا کانٹا تک نہیں توڑا جاسکتا، جس میں حکم ہے کہ کسی کی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اسے ہاتھ تک نہ لگاؤ۔
اس نے دنیا کو ایک ایسا شہر دیا ہے جس میں ہتھیار لانے کی ممانعت ہے۔ جس میں غلّے کو اور دوسری عام ضرورت کی چیزوں کو روک کر مہنگا کرنا ’’الحاد‘‘ کی حد تک پہنچ جاتاہے، جس میں ظلم کرنے والے کو اللہ نے دھمکی دی ہے کہ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔(الحج:۲۵) ’’ہم اسے دردناک سزا دیں گے۔‘‘
نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے روز ارشاد فرمایا تھا کہ ’’لوگو، اللہ نے مکّے کو ابتدائے آفرینش سے حرام کیاہے اور یہ قیامت تک کے لیے اللہ کی حرمت سے حرام ہے۔ کسی شخص کے لیے، جو اللہ اوریوم آخرپر ایمان رکھتاہو، حلال نہیں ہے کہ یہاں کوئی خون بہائے۔‘‘ پھر آپؐ نے فرمایا کہ’’اگر میری اس جنگ کو دلیل بناکر کوئی شخص اپنے لیے یہاں خونریزی کو جائز ٹھہرائے تو اس سے کہو کہ اللہ نے اپنے رسول کے لیے اس کو جائز کیا تھا نہ کہ تمہارے لیے۔ اور میرے لیے بھی یہ صرف ایک دن کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا، پھر آج اس کی حرمت اسی طرح قائم ہوگئی جیسے کل تھی۔‘‘
حرم کے باہر جس شخص نے کسی کو قتل کیا ہو، یا کوئی اور ایسا جرم کیاہو جس پر حد لازم آتی ہو، اور پھر وہ حرم میں پناہ لے لے، تو جب تک وہ وہاں رہے اس پر ہاتھ نہ ڈالاجائے گا۔ حرم کی یہ حیثیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آتی ہے، اور فتح مکہ کے روز صرف ایک ساعت کے لیے اٹھائی گئی، پھر ہمیشہ کے لیے قائم ہوگئی۔ قرآن کا ارشاد ہے وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا، ’’جو اس میں داخل ہوگیا وہ امن میں آگیا۔‘‘ حضرت عمرؓ، عبداللہ ؓ بن عمر اور عبدؓاللہ بن عباس کے یہ اقوال معتبر روایات میں آئے ہیں کہ اگر ہم اپنے باپ کے قاتل کو بھی وہاں پائیں تو اسے ہاتھ نہ لگائیں۔ اسی لیے جمہور تابعین اور حنفیہ اور حنابلہ اور اہل حدیث اس کے قائل ہیں کہ حرم سے باہر کیے ہوئے جرم کا قصاص حرم میں نہیں لیا جاسکتا۔
وہاں جنگ اور خونریزی حرام ہے، وہاں کے قدرتی درختوں کو نہیں کاٹا جاسکتا۔نہ خود رَو گھاس اکھاڑی جاسکتی ہے، نہ پرندوں اور دوسرے جانوروں کا شکار کیا جاسکتاہے، اور نہ شکار کی غرض سے وہاں کے جانور کو بھگایا جاسکتاہے تاکہ حرم کے باہر اس کا شکار کیا جائے۔ اس سے صرف سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانور مستثنٰی ہیں اور خود رَو گھاس سے اِذخر اور خشک گھاس مستثنٰی کی گئی ہیں۔ ان امور کے متعلق صحیح احادیث میں صاف صاف احکام وارد ہوئے ہیں۔
وہاں جو شخص بھی حج یا عمرے کی نیت سے آئے وہ احرام کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ دوسری کسی غرض سے داخل ہونے والے کے لیے بھی احرام باندھ کر جانا ضروری ہے یا نہیں۔ ابن عباس کا مذہب یہ ہے کہ کسی حال میں بلا احرام داخل نہیں ہوسکتے۔ امام احمد اور امام شافعی کا بھی ایک قول اسی کا مؤید ہے۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ صرف وہ لوگ احرام کی قید سے مستثنٰی ہیں جن کو بار بار اپنے کام کے لیے وہاں جانا آنا پڑتا ہو باقی سب کو احرام باندھ کر جانا چاہیے۔ یہ امام احمد اور شافعی کا دوسرا قول ہے۔ تیسرا مذہب یہ ہے کہ جو شخص میقاتوں کے حدودمیں رہتا ہو وہ مکہ میں بلا احرام داخل ہوسکتاہے، مگر جو حدودِ میقات سے باہر کا رہنے والا ہو وہ بلا احرام نہیں جاسکتا یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ ( تفہیم القرآن ج۳، الحج، حاشیہ:۴۴)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعِیْدٌ ھُوَ بْنُ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ، اَنَّہٗ قَالَ: لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ : وَھُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوْثَ اِلٰی مَکَّۃَ اِئْذَنْ لِیْ اَیُّھَا الْاَمِیْرُ اُحَدِّثْکَ قَوْلاً قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ (ﷺ) الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہٗ اُذُنَایَ وَوَعَاہٗ قَلْبِیْ وَاَبْصَرَتْہٗ عَیْنَایَ حِیْنَ تَکَلَّمَ بِہٖ حَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ:
اِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَھَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْھَا النَّاسُ فَلاَیَحِلُّ لِامْرِیٍٔ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اَنْ یَّسْفِکَ بِھَا دَمًا وَلاَیَعْضِدُ بِھَا شَجَرَۃً فَاِنْ اَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْھَا، فَقُوْلُوْا اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذِنَ لِرَسُوْلِہٖ وَلَمْ یَاْذَنْ لَکُمْ، وَاِنَّمَا اَذِنَ لِی سَاعَۃً مِنْ نَّھَارٍ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُھَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِھَا بِالْاَمْسِ وَلِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ اِلٰی آخِرِہٖ۔(۲۲)
ترجمہ : حضرت ابوشریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمروبن سعید (جو کہ مکہ کی جانب لشکر روانہ کررہاتھا) سے کہا اے امیر مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کا وہ ارشاد سناؤں جو آپؐ نے فتح مکہ کے دوسرے روز سے ارشاد فرمایا تھا۔ جب آپؐارشادفرمارہے تھے تو میری آنکھیں آپؐکے رُخِ انور کو دیکھ رہی تھیں۔ کان ارشادات سن رہے تھے اور دل اسے یاد کررہاتھا، حضورؐ نے حمد وثنا کے بعد فرمایا:
مکہ بلاشبہ وہ مقام ہے جسے لوگوں نے نہیں اللہ تعالیٰ نے حرم قراردیاہے۔ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لیے بھی یہ حلال نہیں ہے کہ اس میں کسی قسم کا خون بہائے اور کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے قتال فی الحرم سے استدلال کرکے قتال کی رخصت تلاش کرے تو انہیں بتادو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی خود اجازت دی ہے تمہیں نہیں دی، وہ بھی صرف دن کی چند گھڑیوں کے لیے، آج پھر اس کے بعد اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی۔ حاضر غائب کو یہ پیغام پہنچادے۔
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ :لاَھِجْرَۃَ وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَنِیَّۃٌ وَاِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا۔ وَقَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ۔اِنَّ ھٰذَا الْبَلَدَ حَرَّمَہُ اللّٰہُ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ فَھُوَحَرَامٌ بِحُرْمَۃِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاِنَّہٗ لَمْ یَحِلَّ الْقِتَالُ فِیْہِ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ وَلَمْ یَحِلَّ لِیْ اِلاَّسَاعَۃً مِنْ نَّھَارٍ فَھُوَحَرَامٌ بِحُرْمَۃِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَیُعْضَدُ شَوْکُہٗ وَلاَیُنَفَّرُ صَیْدُہٗ وَلاَیَلْتَقِطُ لُقْطَتَہٗ اِلاَّ مَنْ عَرَّفَھَا وَلاَیُخْتَلٰی خَلاَہٗ فَقَالَ الْعَبَّاسُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ (ﷺ) اِلاَّ الْاِذْخِرَ فَاِنَّہٗ لِقَیْنِھِمْ وَلِبُیُوتِھِمْ قَالَ اِلاَّ الْاِذْخِرَ۔(۲۳)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز فرمایا:اب ہجرت باقی نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کے لیے کہاجائے تو سب نکلو اور اسی روز یہ بھی فرمایا: بلاشبہ یہ ایسا شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کائنات کی پیدایش ہی کے دن سے اسے حرم قراردیاہے پس وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرام ہے اور یہ کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی اس میں قتال حلال نہیں کیا گیا اور میرے لیے بھی محض دن کی چند گھڑیوں کے لیے حلال کیاہے۔ پس وہ اللہ کی حرمت کی بدولت قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ اس کا درخت کاٹا نہیں جائے گا۔ اس کا شکار بھگایا نہیں جائے گا۔ اس کی گری پڑی کوئی چیز کوئی نہ اٹھائے۔ صرف وہ شخص اسے اٹھاسکتاہے جو اسے متعارف کرانے اور اعلان کرانے کا ذمہ دار ہو، نہ گھاس کاٹی جائے گی۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول! اِذخر گھاس کو (اس اصول سے )مستثنٰی فرمادیں کیونکہ یہ ہمارے لوہاروں کے لیے اور ان کے گھروں کے کام آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا اذخر اس سے مستثنٰی ہے۔
حرمتِ مکّہ اور اس کے احکام
۱۰۔ مکۃ حرام لایَحِلُّ بیع رباعھا ولا اجور بیوتھا۔
’’مکہ حرم ہے نہ اس کی زمینوں کو فروخت کیاجاسکتاہے اور نہ اس کے مکانات کا کرایہ لیا جاسکتاہے۔‘‘ (مرتب)
تشریح :فقہائے بعض فقہاء نے تو یہاں تک کہاہے کہ شہر مکہ کے مکانات پر نہ کسی کی ملکیت ہے اور نہ وہ وراثت میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ کیا اسلام کے سوا یہ نعمتیں انسان کو کہیں
اور بھی مل سکتی ہیں؟ (خطبات ،حج: حقیقی مساوات کا۔۔۔) اسلام کے ایک گروہ نے مکہ کی سرزمین پر کسی کے حق ملکیت کو تسلیم نہیں کیا۔ حضرت عمرؓ اہل مکّہ کے گھروں کے دروازے تک بندکرنے سے روکتے تھے۔ تاکہ حجاج وزائرین جہاں چاہیںاتریں۔ حضرت عمرؓبن عبدالعزیز مکہ میں مکانات کرایہ پر لینے سے منع کرتے تھے اورانہوں نے امیر مکّہ کو فرمان لکھا تھا کہ لوگوں کو اس سے روکیں۔ بعض فقہاء نے کہاہے کہ جس نے اپنے خرچ سے وہاں مکان بنایا وہ کرایہ لے سکتاہے مگر میدان اور خرابات اور مکانوں کے صحنوں پر سب کا حق ہے۔ (اسلامی ریاست: حاشیہ ص۲۱۸)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:مَکَّۃَ مَنَاخٌ لاَتُبَاعُ رباعھا وَلاَتُؤاجر بیوتھا۔’’مکّہ مسافروں کے اُترنے کی جگہ ہے، نہ اس کی زمینیں بیچی جائیں اور نہ اس کے مکان کرائے پر چڑھائے جائیں۔
عَلقَمہ بن نضلہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓوعمرؓ اور عثمانؓ کے زمانے میں مکّے کی زمینیں سوائب (افتادہ زمینیں یا شاملات) سمجھی جاتی تھیں۔ جس کو ضرورت ہوتی وہ رہتاتھا اور جب ضرورت نہ رہتی دوسرے کو ٹھہرادیتا تھا۔‘‘
عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حکم دے دیا تھا کہ حج کے زمانے میں مکّے کا کوئی شخص اپنا دروازہ بند نہ کرے۔ بلکہ مجاہد کی روایت تو یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے اہل مکّہ کو اپنے مکانات کے صحن کھلے چھوڑدینے کا حکم دے رکھا تھا اور وہ ان پر دروازے لگانے سے منع کرتے تھے تاکہ آنے والا جہاں چاہے ٹھہرے۔ یہی روایت عطا ء کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ صرف سُہیل بن عَمرو کو فاروقؓ اعظم نے صحن پر دروازے لگانے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کو تجارتی کاروبار کے سلسلے میں اپنے اونٹ وہاں بند کرنے ہوتے تھے۔
عبداللہ بن عمرؓ کا قول ہے کہ جو شخص مکہ کے مکانات کا کرایہ وصول کرتاہے وہ اپنا پیٹ آگ سے بھرتاہے۔ عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے کہ اللہ نے پورے حرمِ مکّہ کو مسجد بنادیاہے جہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔ مکہ والوں کو باہر والوں سے کرایہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔
عمربن عبدالعزیز کا فرمان امیر مکّہ کے نام کہ مکّے کے مکانات پر کرایہ نہ لیا جائے کیونکہ یہ حرام ہے۔
ان روایات کی بنا پر بکثرت تابعین اس طرف گئے ہیں۔ اور فقہاء میں سے امام مالکؒ، امام ابوحنیفہؒ ،سفیان ثوریؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور اسحاق بن رَاہَوَیہ کی بھی یہی رائے ہے کہ اراضی مکہ کی بیع اور کم از کم موسمِ حج میں مکّے کے مکانوں کا کرایہ جائز نہیں۔ البتہ بیشتر فقہاء نے مکہ کے مکانات پر لوگوں کی ملکیت تسلیم کی ہے اور ان کی بحیثیت عمارت، نہ کہ بحیثیت زمین بیع کو بھی جائز قراردیاہے۔
یہی مسلک کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اور سنتِ خلفاء راشدین سے قریب تر معلوم ہوتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے مسلمانوں پر حج اس لیے فرض نہیں کیاہے کہ یہ اہل مکّہ کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے اور جو مسلمان احساسِ فرض سے مجبور ہوکر وہاں جائیں انہیں وہاں کے مالکانِ زمین اور مالکان مکانات خوب کرائے وصول کرکرکے لوٹیں۔ وہ ایک وقف عام ہے تمام اہل ایمان کے لیے۔ اس کی زمین کسی کی مِلک نہیں ہے۔ ہرزائر کو حق ہے کہ جہاں جگہ پائے ٹھہرجائے۔
(تفہیم القرآن ج۳، الحج، حاشیہ: ۴۳)
طحاوی نے کتاب البیوع باب بیع ارض مکۃ واجارتھاکے ضمن میں مجاہد سے درج ذیل الفاظ میں روایت نقل کی ہے :
تخریج (۱) : حَدَّثَنَا فَھْدٌ قَالَ: ثَنَا ابْنُ الْاَصْبَھَانِیِّ قَالَ:اَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُھَاجِرٍ، عَنْ مُجَاھِدٍ اَنَّہٗ قَالَ:مَکَّۃُ مُبَاحٌ لاَیَحِلُّ بَیْعُ رِبَاعِھَا وَلاَاِجَارَۃُ بُیُوْتِھَا۔(۲۴)
ترجمہ : حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ مکہ پورے کا پورا مباح ہے نہ اس کی زمینیں فروخت کرنا حلال ہے اور نہ اس کے مکانات کا کرایہ وصول کرنا جائز ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی مروی روایت:
(۲) عَنْ مُجَاھِدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَکَّۃُ حَرْمٌ حَرَّمَھَا اللّٰہُ، لاَیَحِلُّ بَیْعُ رِبَاعِھَا وَلاَاِجَارَۃُ بُیُوْتِھَا۔(۲۵)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا عِیْسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ حُسَیْنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ، قَالَ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ وَمَاتُدْعٰی رِبَاعُ مَکَّۃَ اِلاَّالسَّوَائِبَ مَنِ احْتَاجَ سَکَنَ۔ وَمَنِ اسْتَغْنٰی اَسْکَنَ۔(۲۶)
ترجمہ : علقمہ بن نضلہ کا بیان ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکروعمر وفات پاگئے۔ سرزمینِ مکہ کے قطعات کو سب مسلمانوں کے لیے افتادہ شاملات شمار کیا جاتاتھا جس کو ضرورت ہوتی وہ سکونت اختیار کرلیتا اور جسے ضرورت نہ ہوتی وہ دوسرے کو سکونت کے لیے دے دیتا۔
فی الزوائد : اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ ولیس لعلقمۃ بن نضلۃ عند ابن ماجہ سوی ھذا الحدیث ولیس لہ شئی فی بقیۃ الکتب۔
قال السندیّ: قلت: الحدیث حجۃ اذ یروی ذٰلک، لکن قال الدّمیریّ، علقمۃ بن نضلۃ لایصح لہ صحبۃ ولیس لہ فی الکتب شیء سواہ۔
ذکرہ ابن حیان فی اتباع التابعین من الثقات وھذا الحدیث ضعیف، وان کان الحاکم رواہ فی مستدرکہ۔(۲۷)
(۴) حَدَّثَنَارَبِیْعٌ المُؤَذِّنُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَسَدٌ، قَالَ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عُمَرَ ابْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ، قَالَ:کَانَتِ الدُّوْرُعَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ مَاتُبَاعُ، وَلاَتُکْریٰ وَلاَتُدْعٰی اِلاَّالسَّوَائِبَ مَنِ احْتَاجَ سَکَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنٰی اَسْکَنَ۔(۲۸)
ترجمہ : علقمہ بن نضلہ کا بیان ہے انہوں نے بتایا کہ عہدِ رسالت مآب اور خلافت ابی بکر، دورِ فاروقیؓ اور عثمانؓ کے دورِ خلافت میں نہ مکانات کی خریدوفروخت ہوتی تھی نہ کرایہ پر چڑھائے جاتے تھے وہ شاملات شمار ہوتے تھے۔ کوئی جگہ چھوڑی نہیں جاتی تھی۔ جو ضرورت مند ہوتا سکونت اختیار کرلیتا۔ جو خود ضرورت مند نہ ہوتا وہ دوسرے کو سکونت کی جگہ دے دیتا۔
اس مسئلہ پر فقہی بحث زادالمعادج۲مجلد۱/۲باب ماورد من الخلاف فی کراء بیوت مکۃ وبیعھا کے تحت ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ (مرتب)
(۵) ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، نَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، نَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ، نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاھِیمَ بْنِ مُھَاجِرٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بَابَاہُ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَکَّۃُ مُنَاخٌ لاَتُبَاعُ رِبَاعُھَا وَلاَتُؤَاجَرُ بُیُوْتُھَا۔(۲۹)
اسماعیل بن ابراھیم بن مھاجر ضعیف ولم یروہ غیرہ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکّہ مناخ ہے یعنی ایسی جگہ ہے جہاں جو شخص اتر جائے وہ اسی کی ہے۔ اس کی زمینیں فروخت نہیں کی جاسکتیں اور نہ اس کے مکانات کو کرایہ پر دیا جاسکتاہے۔
عبداللہ بن عمرو سے ایک اور روایت:
(۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّہٗ قَالَ: اِنَّ الَّذِیْ یَاْکُلُ کَرَائَ بُیُوْتِ مَکَّۃَ اِنَّمَا یَاْکُلُ فِیْ بَطْنِہٖ نَارًا۔(۳۰)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرو کا قول ہے کہ جو شخص مکہ کے مکانات کا کرایہ وصول کرکے کھاتاہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتاہے۔
دارقطنیمیںیہ الفاظ ہیں:
(۷) مَنْ اَکَلَ کَرَائَ بُیُوْتِ مَکَّۃَ اَکَلَ نَارًا۔(۳۱)
ترجمہ :جس کسی نے مکہ کے مکانات کا کرایہ وصول کرکے کھایا اس نے آگ کھائی۔
(۸) قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو، اَنَّہٗ قَالَ: لاَیَحِلُّ بَیْعُ دُوْرِ مَکَّۃَ وَلاَ کَرَاؤُھَا۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو کا قول ہے مکہ کے گھروں کا فروخت کرنا حلال نہیں اور نہ ان کا کرایہ وصول کرنا درست ہے۔
وَقَالَ اَیْضًا عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ :کَانَ عَطَائٌ یَنْھٰی عَنِ الْکَرائِ فِی الْحَرَمِ۔
ــــــــــعطاء حرم میں کرایہ لینے سے روکتے تھے۔
(۹) وَقَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ منصورٍ عَنْ مُجَاھِدٍ،۔اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ:یَا اَھْلَ مَکَّۃَ لاَیَتَّخِذُوْا لِدُوْرِکُمْ اَبْوَابًا لِیَنْزِلَ الْبَادِی حَیْثُ یَشَآئُ۔(۳۲)
ترجمہ : حضرت عمرؓ بن خطاب نے فرمایا:’’اے اہل مکہ! اپنے گھروں کے لیے دروازے نہ بناؤ تاکہ باہر سے آنے والا جہاں چاہے اترجائے۔
(۱۰) عبدالرّزّاق عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ:کَانَ عَطَائٌ یَنْھٰی عَنِ الْکَرَائِ فِی الْحَرَمِ وَاخْبَرَنِیْ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَنْھٰی اَنْ تُبَوَّبَ دُوْرُ مَکَّۃَ لِاَنْ یَنْزِلَ الْحَاجُّ فِیْ عَرْصَاتِھَا فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ بَوَّبَ دَارَہٗ سُھَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ:اَنْظِرْنِیْ یَااَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنِّیْ کُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا فَاَرَدْتُّ اَنْ اَتَّخِذَ بَابَیْنِ یَحْبِسَانِ ظَھْرِیْ۔ قَالَ : فَذٰلِکَ اِذًا۔(۳۳)
ترجمہ : ابن جریج سے روایت ہے کہتے ہیں کہ عطاء حرم میں کرایہ لینے سے منع کرتے تھے۔ اور اسی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت عمرؓ مکہ کے گھروں کے لیے دروازے بنانے سے بھی روکا کرتے تھے۔ تاکہ حجاج حضرات ان کے صحنوں میں اترسکیں، سہیل بن عمرو پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے گھر کے دروازے لگائے۔ حضرت عمرؓ نے اس سلسلے میں انہیں بلوابھیجا۔ انہوں نے عرض کیا: امیر المومنین! مجھے اس کی اجازت دیجیے، کیونکہ میں تاجر آدمی ہوں، میں چاہتاہوں کہ میں دودروازے بنا لوں تاکہ میرے جانوروں کو روکا جاسکے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: تو پھر اجازت ہے۔
(۱۱) وَاَخْبَرَنِیْ مَنْصُوْرٌ عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ : نَھٰی عَنْ اِجَارَۃِ بُیُوْتِ مَکَّۃَ وَبَیْعِ رِبَاعِھَا۔ قَالَ لَقَدْ اسْتَخْلَفَ مُعَاوِیَۃُ۔ وَمَالِدَارٍ بِمَکَّۃَ بَابٌ قَالَ مَعْمَرٌ: وَاَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ عَطَائً یَقُوْلُ سَوَائَ نِالْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادُ قَالَ: یَنْزِلُوْنَ حَیْثُ شَآئُ وْا۔(۳۴)
ترجمہ : مجاہد مکہ کے مکانات کا کرایہ اور ان کی فروخت سے منع کیا کرتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس بارے میں معاویہ نے خلاف ورزی کی۔ مکہ کے کسی مکان کا دروازہ نہیں تھا۔ مجھے عطاء سے سننے والے شخص نے بتایا کہ عطاء مکہ میں رہنے والے اور باہر سے آنے والے دونوں کو برابر سمجھتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ جہاں چاہیں فروکش ہوں۔
(۱۲) عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: قَرَأْتُ کِتَابًا مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ اِلٰی عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ یَاْمُرُہٗ اَنْ لاَّیُکْریٰ بِمَکَّۃَ شَیْئٌ۔(۳۵)
ترجمہ : ابن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز کا عبدالعزیز بن عبداللہ کے نام ایک مکتوب پڑھا، اس میں عمر بن عبدالعزیز، عبدالعزیز بن عبداللہ کو حکم دے رہے ہیں کہ مکہ کی کسی چیز کا کرایہ نہ لیاجائے۔
(۱۳) عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لاَیَحِلُّ بَیْعُ بُیُوْتِ مَکَّۃَ وَلاَاِجَارَتُھَا۔(۳۶)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر سے منقول ہے کہ وہ مکہ کے مکانات کی فروخت اور ان کا کرایہ لینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۴) عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حُجَیْرٌ عَنْ طَاؤوْسٍ قَالَ: اَللّٰہُ یَعْلَمُہٗ اَنِّیْ سَأَلْتُہٗ عَنْ مَسْکَنٍ لِیْ فَقَالَ:کُلْ کَرَائَ ہٗ۔
ترجمہ : حجیر نے طاؤس کے حوالے سے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اسے جانتاہے کہ میں نے ان سے اپنے ایک گھر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا کرایہ لے کر کھاؤ۔
(۱۵) قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : وَلاَیَرٰی بِہٖ عَمْرُو ابْنُ دِیْنَارٍ بَأْسًا۔ قَالَ: وَکَیْفَ یَکُوْنُ بِہٖ بَاْسٌ وَالرَّبْعُ یُبَاعُ فَیُؤْکَلُ ثَمَنُہٗ وَقَدِ ابْتَاعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ دَارَ السِّجْنِ بِاَرْبَعَۃِ آلاَفِ دِیْنَارٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ فَرُّوْخٍ۔
ترجمہ : ابنِ جریج کہتے ہیں عمرو بن دینار بھی اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ اس میں مضائقہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ زمین فروخت کی جاسکتی ہے تو پھر اس کی قیمت کھائی جاسکتی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے چار ہزار دینار سے عبدالرحمن بن فروخ سے قید خانہ خریدا تھا۔
(۱۶)وَقَالَ الثَّورِیُّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ نَافِعِ بِنْ عَبْدِالْحَارِثِ اشْتَرٰی مِنْ صَفْوَانَ ابْنِ اُمَیَّۃَ دَارَالسِّجْنِ بِثَلاَثَۃِ آلاَفٍ فَاِنْ عُمَرُ رَضِیَ فَالْبَیْعُ بَیْعُہٗ وَاِنْ عُمَرُ لَمْ یَرْضَ بِالْبَیْعِ فَلِصَفْوَانَ اَرْبَعُ آلافِ دِرْھَمٍ فَاَخَذَھَا عُمَرُ۔(۳۷)
ترجمہ : نافع بن عبدالحارث نے صفوان بن اُمیہ سے قید خانہ تین ہزار سے اس شرط پر خریدا کہ اگر حضرت عمر راضی ہوگئے تو بیع ہوگئی اور اگر وہ ناراض ہوئے تو صفوان کو چار ہزار درہم دیے جائیں گے عمرؓ نے اسے لے لیا۔
حاجیوں کی گری پڑی چیز کا حکم
۱۱۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ نَھٰی عَنْ لُقْطَۃِ الْحَاجِّ۔
’’نبی ﷺ نے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع فرمادیا تھا۔‘‘ (تفہیم القرآن ج۳، الحج، حاشیہ:۴۴)
تخریج :حَدَّثَنِیْ اَبُوالطَّاھِرِ وَیُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، قَالاَ: نَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْاَشَجِّ، عَنْ یَحْیَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنُ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْ لُقْطَۃِ الْحَآجِّ۔(۳۸)
ترجمہ : حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع فرمایاہے۔
دنیا کے بت کدے میں پہلا وہ گھر خدا کا
آج سے چار ہزار برس پہلے (خانہ کعبہ کی) یہ جگہ ایک بالکل سنسان وادی تھی۔ دنیا سے الگ تھلگ، اس ریگستان میں، ان پہاڑوں کے درمیان، اس وادی میں اللہ کا ایک بندہ آتاہے اور اس کی چار دیواری کھینچ کر اعلان کرتاہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، اور دنیا بھر کو پکاردیتاہے کہ آؤ اس کا حج کرو۔ اب دیکھیے آخر کیا بات ہے کہ چار ہزار برس سے دنیا بھر کے انسان اس پکار پر لبیّک لبیّک کہتے ہوئے اس گھر کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں اور آج تک تاریخ میں ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا ہے کہ اس کا حج اور اس کے گرد طواف نہ ہوا ہو۔ کوئی دوسرا انسان ذرا ہمت کرکے کوئی جگہ بناکر تو دیکھے اور اس کو قبلۂ عالَم بنانے کے لیے اپنی سی پوری کوشش کرکے دیکھ لے۔ اسے خود معلوم ہوجائے گا کہ کتنے انسان اس کی طرف کھنچ کر آتے ہیں۔ یہ صریح علامت ہے اس بات کی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ انہوں نے فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی کی مرضی اور اس کے حکم سے یہ گھر بنایا تھا، ان کے بنائے ہوئے اس گھر کو واقعی اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت عطا فرمایا تھا اور یہ بھی اللہ ہی کا حکم تھا جس کے تحت انہوں نے دنیا کو حج کی دعوتِ عام دی تھی۔ اسی وجہ سے اس گھر کو اور اس دعوتِ عام کو یہ کشش نصیب ہوئی کہ صدہا برس سے دنیا بھر کے انسان اس کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔قر آن مجید اس امر کی شہادت دیتاہے کہ وہ اللہ ہی تھا جس نے اس گھر کی تعمیر کے لیے اس جگہ کو منتخب فرمایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیاکہ اس کا حج کرنے کے لیے دنیا بھر کو پکاردیں۔
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرَاھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لاَّتُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا وَّطَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْقَآئِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوکَ رِجَالاً وَعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ (الحج:۲۶۔۲۷)
’’اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اس گھر کی جگہ تجویزکی تھی اس ہدایت کے ساتھ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام ورکوع وسجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ اور لوگوں کو حج کے لیے پکاردے کہ وہ آئیں تیرے پاس ہردور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار۔‘‘
یہ اسی فرمانِ خداوندی کی برکت ہے کہ آج لاکھوں آدمی لبیّک لبیّک اللّٰھم لبیّک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے فوج درفوج یہاں آرہے ہیں اور پروانوں کی طرح اس خانۂ کعبہ کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہ ان آیات بیّنات میں سے اوّلین اور نمایاں ترین نشانی ہے جو اس گھر میں آپ دیکھ رہے ہیں۔
اب ذرا ایک اور نشانی ملاحظہ فرمایئے۔ اس گھر کی تعمیر جب ہوئی تھی اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا تھا کہ ہم اسے لوگوں کا مرکز ومرجع ہی نہیں بلکہ امن کا گھر بھی بنادیں گے۔ وَاِذْجَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا(البقرۃ:۱۲۵) اس اعلان پر چار ہزار برس بیت چکے ہیں اور اس وقت سے آج تک یہ امن ہی کا گھر بنا ہوا ہے۔ نہ صرف یہ خود امن کا گھر ہے بلکہ جس شہر میں واقع ہے وہ بھی امن کا شہر ہے اور اس کے گردو پیش کئی کئی میل تک کا پورا رقبہ ایک ایسا حرم ہے جس کے اندر کسی نوعیت کی بدامنی نہیں ہوسکتی۔ آج روئے زمین پر اس حرم پاک کے سوا کوئی دوسرا گز بھر کا خطّہ بھی ایسا نہیں پایا جاتاجسے اس معنی میں حرم ہونے کا شرف حاصل ہو، اور آج ہی نہیں کبھی دنیا میں کوئی دوسرا ایسا حرم نہیں پایا گیاہے جس کا وہ احترام کیا گیاہو جو اس حرم کا ہوا ہے ۔ اس کی حرمت کا اندازہ آپ اس بات سے کیجیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے سیدنا محمد ﷺ کے وقت تک ڈھائی ہزار برس کا زمانہ عرب کی سرزمین میں ایسا گزرا ہے جس میں یہ ملک نظم وآئین سے محروم تھا۔ یہاں کوئی حکومت نہ تھی،کوئی قانون نہ تھا۔ ہرطرف بدامنی پھیلی ہوئی تھی۔ قتل وخون اور غارتگری کا زور تھا۔ کسی کے لیے جان، مال اور عزت وآبرو کی امان نہ تھی۔ لیکن اس پورے ملک میں صرف یہ حرمِ پاک ہی ایک ایسا خطّہ تھا جہاں ان ۲۵ صدیوں کے دوران میں کامل امن قائم رہا۔ عرب کے وہ لوگ جوشوقیہ خونریزی اور لوٹ مار کرتے تھے، جن کے قبائل میں سوسوبرس تک مسلسل لڑائیاں ٹھنی رہتی تھیں اور پشت درپشت انتقام کا چکر چلتارہتاتھا، ان کا بھی یہ حال تھا کہ اس حرم کے حدود میں پہنچتے ہی ان کے ہاتھ رک جاتے تھے، حتّٰی کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو بھی یہاں پالیتاتھا تو اس سے انتقام نہ لے سکتا تھا۔ یہ اس کے سوا اور کس چیز کا نتیجہ مانا جاسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس خطۂ پاک کو حرم اور امن کا گھر بنا دیاتھا۔ یہ اللہ جل شانہٗ کے فرمان ہی کی برکت تھی کہ مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًاجو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آگیا (آلِ عمران :۹۷) اللہ کی قدرت کے سوا دنیا میں کوئی طاقت اس انتہائی بدنظمی اور طوائف الملوکی کے زمانے میں ڈھائی ہزار برس تک یہاں امن قائم نہیں رکھ سکتی تھی۔ اسی نشانی کی طرف اللہ تعالیٰ قریش کو توجہ دلاتاہے کہ : اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ۔ (عنکبوت :۶۷)
’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُرامن حرم بنارکھاہے حالانکہ ان کے گردو پیش لوگ اُچکے جارہے ہیں۔‘‘
اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر ایک اور نشانی ہے جو اس سرزمین میں پائی جاتی ہے۔ آپ ذرا وسیع نگاہ سے عرب کی تاریخ اور عرب کے ملک پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ عربی قوم کا ایک قوم کی حیثیت سے باقی رہنا اور عربی زبان کا اس قوم کی زبان کی حیثیت سے زندہ رہ جانا بھی اسی بیت اللہ کی برکت کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں آج کوئی ملک ایسا نہیں پایا، نہ کبھی پایا گیا ہے جس کا رقبہ تو اتنا وسیع ہو جتنا عرب کا ہے اور پھر اس پورے ملک میں ایک ہی زبان بولی جاتی ہو۔ اور دنیا میں کوئی ایساملک بھی نہ آج موجود ہے نہ کبھی موجود رہاہے، جس میں چار ہزار برس سے ایک ہی زبان بولی جارہی ہو۔ اتنی لمبی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہوجاتی ہیں، اور اتنے وسیع وعریض ملکوں میں ایک نہیں، بیسیوں بلکہ سینکڑوں زبانیں بن جاتی ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ جس ملک میں ہزاروں برس تک بدامنی اور بدنظمی رہی ہو، اور جو ملک صدیوں قبائلی لڑائیوں کی آماجگاہ بنارہاہو، اس کے اندر تو یہ وحدت باقی رہ جانا بالکل ہی ایک عجوبہ ہے۔ لیکن یہ معجزہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اس سرزمین میں کرکے دکھادیا، اور اس کا ذریعہ یہی خانہ کعبہ اور یہی حج تھا۔
یہ خانہ کعبہ اور یہ حج اس کا ذریعہ کیسے بنا؟ اس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو مرکز ومرجع (مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ) بنایا اور حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیاکہ لوگوں کو اس کا حج کرنے کی دعوت عام دے دیں، تو اس کے ساتھ یہ فیصلہ فرمادیا کہ سال میں چار مہینے (ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم حج کے لیے اورر جب عمرے کے لیے، حرام قراردیے جائیں۔ حکم دے دیا گیاکہ ان چار مہینوں میں لڑائی بند رہے، حج اور عمرے کے لیے آنے جانے والوں کو کوئی نہ چھیڑے، اور ان جانوروں پر بھی کوئی ہاتھ نہ ڈالے جو قربانی کے لیے بیت اللہ کی طرف لائے جارہے ہوں۔ یہ حکم صرف ایک بندۂ خدا کی زبان سے ادا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی حکومت نہ تھی۔ اس کے پاس کوئی فوج، پولیس یا عدالت نہ تھی کہ اس کے زور سے وہ اس قانون کو جاری کرتا۔ مگر اس کی پشت پر اللہ رب العالمین کی طاقت تھی جس کے زور سے یہ حکم نافذ ہوا اور عرب کے باشندے نسلاً بعد نسلٍ اس کی پیروی کرتے چلے گئے۔
اس حکم کی برکت یہ تھی کہ عرب کی سرزمین کو ہرسال چار مہینے امن وامان کے میسر آجاتے تھے جن سے فائدہ اٹھا کر ملک کے ہرگوشے سے قافلے بیت اللہ کی طرف آتے تھے۔ قبائل کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے، آزادانہ تجارت ہوتی تھی، میلے لگتے تھے، شاعری اور خطابت کے مقابلے ہوتے تھے۔ اور عرب کے دوسرے حصوںمیں بھی قافلوںکی آمد ورفت جاری رہتی تھی۔ اس طرح عربوں میں ایک قوم ہونے کا احساس زندہ رہا۔ ان کی زبان محفوظ رہی اور وہ تمام عربوں کی ایک ہی زبان بنی رہی۔ ان کی ثقافت اور ان کی روایات باقی رہیں اور یہ قوم کٹ کٹ کر مرجانے سے بچ گئی۔ یہ سب کچھ اسی گھر کا صدقہ اور اسی گھر والے خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ اسی کی بدولت ایک قوم مرنے سے بچی، ایک زبان مٹنے سے بچی اور ایک ملک کے اندر ایک ہی زبان اور ایک ہی تہذیب برقرار رہی۔ یہ گھر نہ ہوتا اور یہ حج نہ ہوتا تو ہزاروں برس کی بدامنی وبدنظمی اور طوائف الملوکی سے عرب قوم اور عربی ثقافت کبھی کی مٹ چکی ہوتی۔
ایک اور نشانی ملاحظہ ہو جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں اپنی ایک بیوی اور بچے کو لاکر چھوڑا تھا اس وقت یہاں کوئی شہر تو درکنار برائے نام کوئی چھوٹا سا گاؤں تک نہ تھا۔ اس حالت میں ان کی زبانِ پاک سے یہ دعا نکلتی ہے کہ:
رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ ٓاِلَیْھِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ۔ (ابراھیم :۳۷)
’’اے ہمارے پروردگار، میں نے اپنی نسل کا ایک حصہ لاکر بے آب وگیاہ وادی میں بسادیاہے۔ تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے پروردگار، اس لیے کہ وہ نماز قائم کریں۔ پس لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں سے رزق دے تاکہ یہ شکر گزار ہوں۔‘‘
اب دیکھیے کہ اس دعا کا ایک ایک لفظ کس طرح پورا کیا گیا۔ اس بیت اللہ کے گرد یہ شہر مکّہ آباد ہوا۔ حج نے اس کو تمام عرب کا مرکز بنادیا۔ تجارتی قافلے عرب کے ہرحصے سے یہاں آنے لگے اور یہاں سے گزرنے لگے۔ اسلام سے صدیوں پہلے یہ شہر ایک تجارتی منڈی بن چکا تھا اور دنیا بھر کا مال کھنچ کھنچ کر یہاں آتاتھا ۔ آج بھی آپ دیکھیں گے کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو مکہ کے بازاروں میں آپ کو نہ مل جاتی ہو۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بیان فرماتاہے کہ :
اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرَاتُ کُلِّ شَیْئٍ رِّزْقًا مِنْ لَّدُنَّا (القصص :۵۷)
’’کیا ہم نے اہل مکہ کے لیے ایک پُرامن حرم نہیں بنادیاہے جس کی طرف ہرطرح کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں۔ہماری طرف سے رزق کے طورپر؟‘‘
عرب اور عربی قوم اور عربی زبان پر یہ ساری عنایات جس مقصد کے لیے فرمائی گئی تھیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک دعا کو پورا کرنا تھا جسے قرآن مجید ان الفاظ میں نقل کرتاہے:
وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ رَبَّنَا وَاجَعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ (البقرۃ :۱۲۷۔۱۲۹)
’’اور جب ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ اس گھر کی بنیادیں اٹھارہے تھے تو وہ یہ دعا کررہے تھے کہ ’’اے ہمارے رب، ہماری اس سعی کو قبول فرمالے،یقینا تو ہی سبکچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب! اور ہم دونوں کو اپنا مسلم (فرمانبردار) بنالے اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت پیدا کر جو تیری مسلم ہو اور ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہمارے قصور معاف کر بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے۔ اے ہمارے رب، اور ان لوگوں کے اندر خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کاتزکیہ کرے، یقینا تو ہی زبردست حکیم ہے۔‘‘
یہ تھا وہ اصل مقصد جس کے لیے عرب قوم اور عربی زبان کو زندہ رکھنے کا وہ اہتمام فرمایا گیاتھا جس کی تفصیل ابھی آپ نے سنی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ واسماعیلؑ کی یہ دعا، اور اس کے نتیجے میں آخر کار اسی شہر مکّہ سے محمد عربی ﷺ کا مبعوث ہونا اور پھر یہیں سے ایک عظیم الشان امت مسلمہ کا اٹھنا جو دنیا میں قیامت تک کے لیے توحید کی علمبردار بنی، یہ اللہ جلّ شانہٗ کی نشانیوں میں سے سب سے بڑی نشانی ہے جس کا مشاہدہ آپ اس حرم پاک میں کررہے ہیں۔
یہی شہر مکہ ہے جس سے محمد ﷺ نے دعوت الی اللہ کا آغاز فرمایا تھا اور یہی صفا کی پہاڑی ہے جس پر کھڑے ہوکر حضور نے سب سے پہلے قریش کے خاندانوں کو نام بنام پکار کر اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی تلقین فرمائی تھی۔ اس شہر کے سرداروں نے حضورؐ کی اس دعوت کو دبادینے کے لیے اپنا سارا زور صرف کردیا۔ یہ حرم کی زمین ، یہ ابو قُبیس کا پہاڑ، اور یہ مکّہ کی گھاٹیاں، سب اس ظلم وستم کے گواہ ہیں جو ۱۳ سال تک حضورؐ اور آپؐ کے اصحاب پر توڑا گیا۔ مگر آخر کار ان سب لوگوں نے نیچا دیکھا جنہوں نے دعوتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا۔ دیکھ لیجیے، آج یہاں ابوجہل اور ابولہب کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے اور اس کے میناروں سے پانچوں وقت اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِکی آواز بلند ہورہی ہے۔
یہی خانہ کعبہ ہے جس کی دیوار کے نیچے ایک روز رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے اور حال یہ تھا کہ مکہ میں ہرطرف مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم ہورہاتھا۔ اس حالت میں خبّاب بن ا لاَرَتّ نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے، کیا آپؐ ہمارے لیے دعا نہ فرمائیں گے؟ اس پر حضورؐ نے فرمایا: ’’یہ کام تو پورا ہوکر رہے گا، یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا جب ایک مسافر صنعاء سے حضر موت تک بے خوف وخطر سفر کرے گا۔ مگر تم لوگ بے صبری کررہے ہو۔‘‘ اللہ کے رسول کی یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی اور چند سال کے اندر ہی وہ وقت آگیا جب اسلام کی حکومت نے پورے جزیرۃ العرب میں مکمل امن قائم کردیا۔
یہی خانہ کعبہ ہے جس کے کلید بردارعثمان بن طلحہ سے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے کنجی مانگی تاکہ بیت اللہ میں داخل ہوکر عبادت کریں۔ اس نے نہ صرف یہ کہ انکار کیا بلکہ حضور کے ساتھ سخت بدکلامی کی۔ آپ خاموشی کے ساتھ اس کی ساری سخت سست باتیں سنتے رہے اور پھر بڑی سنجیدگی کے ساتھ فرمایا: ’’اے عثمان تم دیکھ لوگے کہ ایک روز یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی اور مجھے اختیار ہوگا کہ جسے چاہوں اسے دوں۔‘‘ عثمان نے کہا۔’’اگر ایسا ہوا تو وہ دن قریش کے لیے ہلاکت اور ذلّت کا دن ہوگا ۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا: نہیں، وہ دن قریش کے لیے عزّت اور سرفرازی کا دن ہوگا۔ یہ قول بھی پتھر کی لکیر ثابت ہوا۔ اس بات کو دس سال سے زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ مکّہ معظمہ فتح ہوا۔ اسی عثمان بن طلحہ کو حضور نے حکم دیا کہ کلیدِ خانہ کعبہ پیش کرے۔ اس نے بے چون وچرا حاضر کردی۔ حضرت عباسؓ نے باصرار درخواست کی کہ اب کلید برادریٔ کعبہ کی خدمت بنی ہاشم کے سپرد کردی جائے۔ لیکن حضورؐ نے وہ کنجی اسی عثمان بن طلحہ کو عطا کی اور فرمایا: خذوھا خالدۃ خالدۃ لاینزعھا منکم الاّ ظالم۔’’لے لو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تم سے اس کو کوئی نہ چھینے گا مگر ظالم۔‘‘ یہ ارشاد بھی پورا ہوکر رہا۔ آج تک اس گھر کا کلید بردار وہی خاندان چلاآرہاہے، جسے فتح مکہ کے روز حضورؐ نے اس کی کنجی سپرد فرمائی تھی۔
یہی شہرمکہ ہے جس کے لوگوں سے حضورؐ نے اپنی دعوت کے ابتدائی زمانہ میں فرمایا تھاکہ میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کررہاہوں جسے اگر تم مان لوگے تو عرب اور عجم سب اس کی بدولت تمہارے تابع فرمان ہوجائیں گے۔ کلمۃ واحدۃ تعطو نیھا تملکون بھا العرب وتدین لکم بھا العجم۔ قریش کے لوگوں نے اس وقت اس کو جھوٹ سمجھا تھا۔ وہ اس کے برعکس اپنی جگہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کلمے کو ہم نے قبول کرلیا تو تمام عرب ہم پر ٹوٹ پڑے گا اور ہماری ریاست تو کیا، ہمارا وجود بھی یہاں باقی نہ رہ سکے گا۔ وہ کہتے تھے کہ اِنْ نَتَّبِعِ الْھُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ۔ ’’اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی جگہ سے اُچک لیے جائیں گے۔‘‘ لیکن اللہ کے رسول کی زبانِ مبارک سے جو کچھ نکلا تھا وہ لفظ بہ لفظ پورا ہو کررہا۔ قریش کے جن لوگوں نے حضورؐ کی بات اپنے کانوں سے سُنی تھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ چند سال کے اندر عرب اور عجم سب خلافت اسلامیہ کے تابع فرمان ہوگئے اور قریش ہی کے خلفاء اس عظیم الشّان سلطنت کے فرمانروا ہوئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے تک یہ گھرصرف عرب کا مرکز تھا اور عرب ہی اس کے حج کے لیے آتے تھے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے آنحضورؐ کی زبانِ مبارک سے یہ اعلان کرایا کہ حَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ’’جہاں بھی تم ہو،نماز میں تم اپنارُخ اسی کی طرف پھیرو۔‘‘ اور جب مالکِ زمین وآسمان نے اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے یہ فرمان صادرکیا کہ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیلاً۔ ’’اللہ کا حق ہے لوگوںپر اس گھر کا حج، جو شخص بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتاہو۔‘‘ تو یہ گھر تمام دنیا کے لیے مرکز وقبلہ بن گیا۔ آج دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں اس گھر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والے موجود نہ ہوں، اور کوئی خطّۂ زمین ایسا نہیں ہے جہاں سے اللہ وحدہٗ لاشریک کے ماننے والے اس کا حج کرنے کے لیے نہ آرہے ہوں۔ جس وقت آنحضور ﷺ کی زبان سے ان احکام کا اعلان ہوا تھا اس وقت اسلام کا نفوذ واثر صرف مدینۂ طیبہ اور اس کے گردو پیش ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود تھا۔ کوئی شخص بھی اس وقت یہ اندازہ نہ کرسکتاتھا کہ یہ احکام تمام روئے زمین پر اور اتنے بڑے پیمانے پر نافذ ہوں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب دس دس لاکھ آدمی دنیا کے ہرحصے سے کھنچ کر یہاں جمع ہوں گے۔ خداوندِ عالم کی طاقت کے سوا اور کون سی طاقت ایسی ہوسکتی تھی جو اس خانہ کعبہ کو یہ مقبولیت، یہ مرکزیت اور یہ کشش عطا کردیتی۔ (خطبات حرم :پہلا خطبہ)
حج کے روحانی، اخلاقی، اجتماعی، تمدّنی اور مادی فوائد
اللہ تعالیٰ نے ہم پر کوئی عبادت ایسی فرض نہیں فرمائی ہے جس میں بے شمار روحانی، اخلاقی، اجتماعی، تمدنی اور مادی فوائد نہ ہوں۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے لیے تو کسی کی عبادت کی کوئی حاجت نہیں ہے اس نے جو عبادت بھی بندوں پر فرض کی ہے وہ خود بندوں ہی کی بھلائی کے لیے ہے۔ اللہ کی ذات ہر احتیاج سے بالاتر اور ہرنفع اور فائدے کی ضرورت سے بلند تر ہے۔ لیکن جتنی عبادتیں بھی اس نے فرض کی ہیں ان کا ایک تو مقصدِ اصلی ہے جس کے لیے وہ فرض کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ وہ بے شمار ضمنی فائدے ہیں جو ان عبادات کے انجام دینے سے آپ سے آپ حاصل ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص نادانی سے ان ضمنی فائدوں ہی کو اصل مقصد قراردے بیٹھے اور اس غایت اصلی کو فوت کردے جس کے لیے وہ عبادات مقرر کی گئی ہیں تو حقیقت میں وہ اپنی عبادات کو ضائع کرتاہے اس کی عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیے کہ روزے کے بے شمار اخلاقی، روحانی اور جسمانی فوائد ہیں لیکن اگر کوئی شخص روزہ اس لیے رکھے کہ اس کی صحت اچھی ہوجائے گی تو حقیقت میں وہ کوئی عبادت نہیں کرتا۔ وہ تو بس ایک فاقہ کرتاہے جو صحت درست کرنے کے لیے کسی ڈاکٹر کی تجویز سے یا خود اپنی رائے سے اس نے کرنا شروع کردیاہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص نماز پڑھتاہے اور اس میں اس کے پیش نظریہ بات ہوتی ہے کہ اس کی عادات میں باقاعدگی پیدا ہوجائے گی، اس کے اوقات میں نظم وضبط پیدا ہوجائے گا یا اسی طرح کا کوئی اور فائدہ اس کی نگاہ میں ہے، تو حقیقت میں وہ کوئی عبادت نہیں کرتا، جس فائدے کو اس نے نگاہ میں رکھاہے وہ چاہے اس کو حاصل ہو بھی جائے لیکن عبادت کا کوئی اجراس کو نہیں پہنچتا۔
ایسا ہی معاملہ حج کا بھی ہے۔ اس کے جو اخلاقی، روحانی، اجتماعی، تمدنی اور مادی فوائد ہیں، اگر کوئی شخص ان میں سے کسی فائدے ہی کو اپنا مقصود قراردیتاہے تو حقیقت میں وہ کوئی حج کرتاہی نہیں ہے۔ اس کی یہ عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ تمام عبادتوں کا مقصود ِاصلی تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی بندگی پیش کرناہے۔ اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرناہے۔ اگر بندے کو اللہ کی رضا حاصل ہوجائے تو اس کی عبادت کا اصل مقصد پورا ہوگیا۔ لیکن اگر وہ عبادات میں اپنی ساری دوڑ دھوپ کے باوجود اللہ کی رضا پانے سے محروم رہ گیاتو حقیقت میں اس کی ساری محنت ہی اکارت گئی۔ اس نے عبادت کے حقیقی مقصد اور اصلی فائدے کو ضائع کردیا۔ اس لیے یاد رکھیے کہ عبادات سے ضمنی فوائد کا حاصل ہونا یا نہ ہونا بجائے خود مقصود نہیں ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہرشخص حج اپنی نیت کو خالص اور پاک کرکے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود سمجھتے ہوئے انجام دے۔ اگر کسی شخص نے نیت کے اخلاص اور ارادے کی درستی کے ساتھ حج کیا اور کوئی بڑا اجر نہیں، صرف اپنی مغفرت ہی حاصل کرلے گیا تو حقیقت میں وہ کامیاب ہے۔ اس کے آگے یہ سراسر اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ وہ کسی آدمی کو اس پر مزید اجر اور بلند مراتب سے بھی نوازدے۔ بہر حال ایک آدمی کا حج کے ذریعے سے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرلینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
آج کل حج کے بارے میں بعض نئے نئے فلسفے پیش کیے جارہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں حج اس لیے فرض کیا گیاہے کہ اس سے دراصل مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی سالانہ کانفرنس کرانا مقصود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ایک سالانہ کانفرنس کے جو کچھ فوائد بھی کوئی شخص اپنے ذہن میں سوچ سکتاہے اس سے ہزار گنے زیادہ فوائد حج سے عملاً حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن ایسی کوئی کانفرنس دراصل حج کاحقیقی مقصود نہیں ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص یہ سمجھتاہے کہ حج کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو عرب کی سیاحت کرنے کا، اس کے تاریخی مقامات دیکھنے کااور اس کی تہذیبی اور تمدنی زندگی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملتاہے تو حقیقت میں وہ اپنے حج کو ضائع کرتاہے۔ اگر اس کے دل میں حج کے مقصد کی حیثیت سے ایسی کوئی غرض اور نیت شامل ہوجائے تو فی الحقیقت اس کی یہ عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں رہے گی۔ اس لیے اپنی نیت کو خالصتًا اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص کیجیے اور اپنے ذہن میں اس خیال کو بٹھایئے کہ ہمارا اصل مقصود اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اس کے حضور اپنے جذبۂ عبودیت کو پیش کرناہے۔
اس کے ساتھ جو دوسری بات میں آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ اللہ کے حضور بندگی کے پیش کرنے کی دنیا میں جتنی شکلیں بھی ممکن ہیں وہ ساری کی ساری اللہ تعالیٰ نے حج میں جمع کردی ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ ایک آدمی جس وقت حج کا ارادہ کرتاہے اگر وہ خالصتہً اللہ کی رضا چاہنے کے لیے یہ ارادہ کررہاہے تو اس کا یہ عزمِ سفر بجائے خود یہ معنی رکھتاہے کہ وہ کوئی دنیوی مقصد لے کر گھر سے نہیں نکل رہاہے۔ اس کے پیش نظر کوئی تجارتی غرض نہیں ہے اور نہ اسے سیروسیاحت ہی کا شوق چرآیاہے۔ اس نے ہزاروں میل کا سفر کرنے کا ارادہ صرف اس لیے کیاہے کہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کی رضا جوئی کے لیے تگ ودَوکرے۔
پھر آپ دیکھیے کہ ایک آدمی جب حج کے لیے نکلتاہے تو اپنے بال بچوں کو چھوڑتاہے۔ اپنا گھر بار اپنا کاروبار، اپنے اعزہ واقربا اوراپنے دوست و احباب، غرض بے شمار علائق وروابط کو توڑ کر نکلتاہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اللہ کی عبادت انجام دے اور اس کی خوشنودی تلاش کرے۔ اس طرح ہجرت کا اجر اس کو آپ سے آپ مل جاتاہے، ہجرت کے جواخلاقی و روحانی فوائد اور منافع ہیں وہ سارے کے سارے اس کو حاصل ہوجاتے ہیں، کیونکہ اس کی حیثیت اس شخص کی سی ہے جو محض اللہ کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑدیتاہے۔
اس کے بعد دیکھیے کہ ایک شخص جب مکّہ معظمہ پہنچتاہے تو اس جگہ وہ بے شمار مختلف عبادات انجام دیتاہے۔ پانچوں اوقات کی نمازیں تو بہر حال وہ آپ سے آپ پڑھتاہی ہے ، لیکن اس کے علاوہ وہ بیت اللہ کا طواف بھی کرتاہے جس سے اس کو اللہ تعالیٰ پر قربان ہونے اور اپنے آپ کوصدقہ کرنے کا اجر نصیب ہوتاہے۔ وہ حجر اسود کو بھی چومتاہے اور اس طرح اسے اللہ تعالیٰ کی آستانہ بوسی کا شرف حاصل ہوتاہے وہ مُلْتَزَم سے بھی چمٹتاہے، گویا اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ سے چمٹ رہاہے اور اس سے دعائیں مانگ رہاہے اس کے علاوہ وہ صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتاہے۔ اس سے اس کو اللہ کی راہ میں دوڑ دھوپ کرنے کا اجر ملتاہے۔ اس طریقے سے اس کو اللہ سے دعا کرنے، اس کے گھر کے گرد طواف کرنے اور اس کی راہ میں سعی وجہد کرنے کااجر حاصل ہوتاہے۔ پھر ان عبادات کے علاوہ حج کے دوران میں وہ منٰی سے عرفات اور عرفات سے مُزدلفہ آتاہے۔ مُزدلفہ سے پھر منٰی جاتاہے۔ یہ ساری دوڑ دھوپ جہاد سے مشابہت رکھتی ہے۔ جس طرح ایک آدمی جہاد کے لیے گھر سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکلتاہے، راستے کی تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرتاہے۔ میدانِ جنگ کی سختیاں جھیلتاہے، قریب قریب اسی طرح کی صعوبتیں اور محنتیں اور مشقتیں آدمی کو اس تمام دوران میں انگیز کرنی ہوتی ہیں۔ اس طریقے سے وہ گویا جہاد فی سبیل اللہ کے اجر کا مستحق بنتاہے پھر وہ یَوْمُ النّحر کو (قربانی کے روز) قربانی کرتاہے۔ اس طرح اس کو قربانی کا اجر بھی حاصل ہوتاہے۔ اسی وجہ سے کہا گیاہے کہ حج جامع عبادات ہے۔ دنیا میں آج تک جتنی ممکن قسم کی عبادتیں انسانوںنے کسی معبود کو پیش کی ہیں وہ ساری کی ساری یہاں ایک بندۂ مومن صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتے ہوئے انجام دیتاہے۔ اسی بنا پر حج کو سب سے بڑی عبادت بھی قرار دیا گیاہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اگر یہ عبادات انجام دے کر کوئی شخص اپنے گناہوں کی مغفرت ہی حاصل کرلے تو درحقیقت یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
مغفرت کی حدتک حج کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ آپ بے عیب حج کریں۔ بے عیب حج سے مراد یہ ہے کہ آدمی حج کے دوران میں ہرقسم کی برائیوں سے بچنے کی پوری پوری کوشش کرے۔ غیبت سے پرہیز کرے، گالی دینے سے اور باہم جھگڑا کرنے سے بچے۔ حج میں انسان کو جو سب سے بڑی مشقت پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے مناسکِ حج کی ادائیگی میں قدم قدم پر رُکاوٹوں اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتاہے کیونکہ ایک ہی وقت میں لاکھوں آدمیوں کو یہ مناسک ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اب چونکہ اس موقع پر لوگوں کا غیرمعمولی ہجوم ہوتاہے اور ہرکوئی ایک تگ ودَو میں لگا ہوتاہے۔ اس لیے اس عالم میں ہروقت اس بات کا امکان ہوتاہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے دانستہ یا نادانستہ کوئی تکلیف پہنچ جائے، یا کسی کو اپنا کوئی کام انجام دینے میں زحمت پیش آئے۔ ایسے تمام مواقع پر ہرشخص کو نہایت ضبط وتحمل سے کام لینا چاہیے اور کسی صورت میں بھی تنگ دلی اور تُنُک مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس عالم میں اس بات کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے نفس پر ضبط کرے۔ باہم گالم گلوچ اور دنگے فساد سے پوری طرح بچے اور اس امر کی کوشش کرے کہ اس کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اور اگر کسی کی ذات سے اس کوکوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔ یہ کم سے کم وہ چیز ہے جو آدمی کے حج کو بے عیب بناتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ :
فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَفُسُوْقَ وَلاَجِدَالَ فِی الْحَجِّ۔(البقرۃ :۱۹۷)
’’یعنی جو شخص حج کے مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدکاری، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔‘‘
حج کے دوران میں آدمی کا سب سے بڑا امتحان اسی معاملے میں ہوتاہے اور جو آدمی حج میں لڑائی جھگڑا کرتاہے، دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتاہے اور دوسروں سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا وہ اپنے حج کے اجر کوبہت بڑی حد تک ضائع کردیتاہے۔
اس کے آگے اگر کوئی شخص خوبیوں والا حج کرنا چاہتاہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کا ذکر کرنے میں صرف کرے۔ بیٹھا ہوا فضول گپیں نہ ہانکے ۔بیکار قصہ گوئی نہ کرے۔کسی کی برائی کرنا تو بڑی چیز ہے، محض دنیاوی معاملات پر ہروقت باتیں کرتے رہنا بھی حج کے اجروثواب کو کم کردیتاہے۔ اونچے درجے کا خوبیوں والا حج اگر آپ کو مطلوب ہوتو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے اوقات کا زیادہ سے زیادہ حصّہ اللہ کا ذکر کرنے میں، نمازیں پڑھنے میں، قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں، نیکی اور بھلائی کی باتیں کرنے میں، لوگوں کو اللہ کا دین سمجھانے میں اور ان کو منکرات اور فواحش سے روکنے میں صرف کریں۔ اگر آپ ان کاموں میں اپنے اوقات صرف کرتے ہوئے حج کریں گے تو ان شاء اللہ وہ حج خوبیوں والا حج ہوگا اور اس پر آپ بہت بڑے اجر کے مستحق ہوسکیں گے۔
اب میں مختصر طور پر آپ کو یہ بھی بتاتا ہوں کہ حج کے وہ ضمنی فوائد کیا ہیں جو اس کے بنیادی مقصدپورا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے آپ حاصل ہوتے ہیں۔ میں یہ بات پہلے بھی آپ کو بتاچکاہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی عبادت فرض نہیں کی ہے جو اپنے اندر ہمارے لیے بے شمار فوائد نہ رکھتی ہو۔
اجتماعی طور پر حج سے جوبہت بڑا فائدہ حاصل ہوتاہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر عالمگیر برادری اور عالمگیر مساوات پیدا ہوتی ہے۔ اسی خانہ کعبہ کے دروازے پر رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اسی جگہ کھڑے ہوکر یہ اعلان فرمایا تھا کہ:
’’اے قریش کے لوگو! اللہ نے تمہاری جاہلیت کی نحوست دور کردی ہے۔ اب نسبوں اور خاندانی اعزازات کے لیے کوئی مقام باقی نہیں رہا۔ اب یہاں حسب ونسب کے لیے فخر نہیںہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے، سوائے تقویٰ کے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔‘‘
یہ اعلان رسول اللہ ﷺ نے اسی جگہ سے فرمایا تھا اور اسی مقام پر سب سے بڑھ کر اس بات کا مظاہرہ ہوتاہے کہ تمام انسان یکساں ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے، نہ یہاں کوئی امیر ہے نہ غریب۔ نہ کوئی حاکم ہے نہ محکوم۔ سب برابر ہیں۔ یہاں آتے ہی، بلکہ اس خانہ کعبہ سے میلوں دُور میقات پر پہنچتے ہی ایک آدمی کو اپنے پہنے ہوئے کپڑے اتار کر احرام کالباس پہن لینا پڑتاہے۔ خواہ کوئی افریقہ سے آرہاہو یا امریکہ سے، ایشیا کے کسی دور دراز گوشے سے آرہاہو یا یورپ کے کسی دور افتادہ مقام سے، جہاں سے بھی وہ آرہاہو، ہرشخص کو اپنا قومی لباس اتار کر صرف ایک احرام پہن لینا ہوتاہے۔ اس طرح لباسوں کے اختلاف سے جو قومی امتیازات پیدا ہوتے ہیں وہ یکلخت ختم ہوجاتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک ہی لباس میں حج کرتے ہیں۔ اس طرح یہاں ایک ایسی وحدت جنم لیتی ہے جو کسی دوسری تدبیر سے پیدا نہیں کی جاسکتی۔ یہ وحدت نہ تقریروں سے پیدا ہوسکتی ہے اور نہ کانفرنسیں منعقد کرنے سے۔ یہ صرف اسی عمل سے پیدا ہوسکتی ہے جو دنیاکے ہرحصے سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان بیک وقت انجام دیتے ہیں کہ میقاتوں پر پہنچتے ہی وہ یکلخت اپنے قومی لباس کوچھوڑ کر ایک ہی لباس زیب تن کرلیتے ہیں۔
پھر یہ عمل محض عالمگیر اخوت ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ عالمگیر مساوات بھی پیدا کرتاہے۔ کوئی بڑے سے بڑا رئیس ہو یا کہیں کا بادشاہ،کوئی فیلڈ مارشل ہو یا صدر مملکت،کوئی آقا ہو یا غلام، ہرایک کووہی ایک لباس پہننا پڑتاہے جو اس کے لیے مقرر کردیا گیاہے۔ ہرشخص وہی ایک چادر باندھے گا اور ویسی ہی دوسری چادراوپر سے اوڑھ لے گا۔ یہاں آکر کسی کی کوئی امتیازی شان باقی نہیں رہتی۔امیر اور غریب، حاکم اور محکوم، خادم اور مخدوم، ادنیٰ اور اعلیٰ سب برابر ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے دربار میں پہنچ کر کسی کی کوئی حیثیت بندۂ خدا ہونے کے سوا باقی نہیں رہتی۔اس طرح سے جو مساوات یہاں قائم ہوتی ہے اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ دنیا کے کسی دین میںاور کسی اجتماعی مسلک میں کہیں کوئی ایسی تدبیر موجودنہیں ہے جو تمام انسانوں کو بیک وقت ایک سطح پر لاکرکھڑا کردیتی ہو۔ یہ بھی حج کی ایک بے نظیر خصوصیت ہے جس کے متعلق اگر ایک آدمی غور کرے تو اس کو محسوس ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے سوا اور کسی چیز کا نتیجہ نہیں ہوسکتی۔ کوئی انسان ایسا نسخہ تجویزنہیں کرسکتاتھا جس سے تمام انسانوں کوایک ہی سطح پر لانا اور ان کے درمیان ایسی کامل مساوات قائم کرناممکن ہوسکے۔
اس ضمن میں اسلامی تاریخ سے بھی ایک مثال آپ کے سامنے پیش کرتاہوں۔ یہی مطاف جہاں آپ حج کرتے ہیں اس جگہ قبیلۂ غَسّان کا ایک بادشاہ (جَبَلَہ بن اَیْہَم) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں آیا اور یہاں طواف کرتے ہوئے ایک بدّو کاپاؤںاس کی چادر پرپڑگیا۔ اس نے غضبناک ہوکراس بدّو کے ایک تھپڑ مارا۔ وہ بدّو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس اپنی فریاد لے کر گیا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے دونوں کے بیانات سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ اب وہ بدّو اس بادشاہ کے اسی طرح تھپڑ لگاکر اپنابدلہ لے۔ گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بادشاہ کو یہ سبق سکھانا چاہا کہ کیا یہاں آکر بھی تیرے دماغ میں بادشاہی کا فخر اور غرور باقی رہ گیا؟ تونے خدا کے دربار میں آکر بھی اپنے آپ کو بدّو سے بالاتر سمجھا؟ یہ ہے وہ مساوات جو حج قائم کرتاہے۔ یہاں اب بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بڑے سے بڑارئیس اور غریب سے غریب آدمی ایک ہی طرح کے دھکے کھاتاہو احرم میں آتاہے اور دھکے کھاتا ہوا خدا کے گھر کا طواف کرتاہے۔ یہاں جس مقام پر بھی کسی شخص کو نماز کے لیے جگہ مل جائے وہ وہیں پڑھتاہے۔ کوئی رئیس کوئی فرمانروا اور کوئی صدرِ مملکت ایسا نہیں ہے جس کے لیے زبردستی آگے جانے کا راستہ بنایا جاسکتاہو۔ اگر کوئی ایسا راستہ بناتاہے تو غلطی کرتاہے، جرم کرتاہے۔
پھر دنیا میں کہیں اس بات کی نظیربھی موجود نہیں ہے کہ اس نوعیت کا بین الاقوامی اجتماع کسی قوم اور ملّت میں پایا جاتاہو۔ ہزارہا برس کے بعد اب انسان نے اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اور یونائیٹڈ نیشنز کا تصور سوچاہے اور اس کی بنیاد پر بعض بین الاقوامی ادارے قائم کیے ہیں۔ لیکن خواہ آنجہانی لیگ آف نیشنز ہو یا موجودہ زمانے کی یونائیٹڈ نیشنز، ان میں ہونے والے بین الاقوامی اجتماعات میں اور حج کے بین الاقوامی اجتماع میں ایک بہت بڑا بنیادی فرق ہے۔ یونائیٹڈ نیشنزمیں جو عالمگیر اجتماع ہوتاہے وہ قوموں کے نمائندوں، ان کے سیاسی لیڈروں اور حکمرانوں کا اجتماع ہوتاہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے میں مفاد اور اغراض کی کشمکش کرتے ہیں۔اس کا نام بین الاقوامی اجتماع نہیں ہوسکتا۔ حقیقی معنوں میں بین الاقوامی اجتماع تویہ ہے جو ہرسال حج پر یہاںہوتاہے کہ اس کے اندر دنیا کی تمام قوموں کے عام آدمی کھنچ کر آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں اور سب اجتماعی طور پر مختلف عبادات سرانجام دیتے ہیں۔ یہاں قوموں کے نمائندے، حکمراں، سیاستداں اور پارلیمنٹوں کے ارکان نہیں آتے بلکہ عام انسان آتے ہیں اور دنیا کی ہرقوم کے عام انسانوں سے ملتے ہیں۔ بین الاقوامی اجتماع کا ایسا عظیم نقشہ اور کہاں دیکھاجاسکتاہے۔
آخری بات جو میں آپ سے عرض کروں گا وہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے اندر خانہ کعبہ کی مثال وہی ہے جو انسان کے جسم میں دل کی ہوتی ہے۔ انسان کے جسم میں دل کا مقام یہ ہے کہ وہ رگ رگ سے خون کھینچ کر اپنی طرف لاتا اور پھر اس کو پمپ کرکے ایک صالح شکل میںانسان کے جسم کی رگ رگ میں واپس پہنچاتاہے۔ جسدِ ملت کے لیے ایسا ہی عمل خانہ کعبہ کرتاہے۔ یہ ہرسال دنیا کے ہرگوشے سے مسلمانوں کو کھینچ کر لاتاہے اور پھر ان کو گناہوںکی آلائشوں اور سیرت وکردار کی خامیوں سے پاک کرکے ان کے اندر ایک نئی اور صالح زندگی کی افزائش کرکے دنیا کے گوشے گوشے میں واپس بھیج دیتاہے۔ اس دل کی یہ دھڑکن جب تک جاری ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو نہیں مٹاسکتی۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو ہرسال مسلمانوں کو کھینچ بلاکر ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ ان کو ایک وقت تک ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر رکھتی ہے۔ ان سے مختلف عبادات انجام دلاتی ہے اور ان عبادات کے دوران میں تمام اسلامی جذبات کو تازہ کرکے ایک متحرک اور فعّال اسلامی روح ان کے اندر پھونک کر انہیں واپس بھیجتی ہے۔ جس طرح انسان کے جسم میں دل جب تک دھڑکتارہتاہے اس کا جسم زندہ رہتاہے، اسی طرح یہ حج حقیقت میں دنیائے اسلام کے د ل کی دھڑکن ہے جو خون کو کھینچ کر لارہی ہے اور پھر اس کو صالح اور پاکیزہ بنا کر واپس پہنچارہی ہے۔ یہ عمل جب تک جاری رہے گا ان شاء اللہ قیامت تک اسلام قائم رہے گا۔ دنیاکی کوئی طاقت خواہ وہ اپنا کتنا ہی زور صرف کرلے اس کو دنیا سے نہیں مٹاسکتی! (خطبات حرم :تیسراخطبہ)
ماخذ
فصل دوم : مناسک حج ۔تلبیہ
۱۲۔ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ۔ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَشَرِیْکَ لَکَ۔
’’حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ یقیناتعریف سب تیرے ہی لیے ہے۔ نعمت سب تیری ہے۔ اور ساری بادشاہی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘
تشریح :احرام ۱؎ باندھنے کے ساتھ جو کلمات حاجی کی زبان سے نکلتے ہیں، جن کو وہ ہر نماز کے بعد، اور ہربلندی پر چڑھتے وقت اور ہرپستی کی طرف اُترتے وقت اور ہرقافلے سے ملتے وقت، اور ہرروز صبح نیند سے بیدار ہوکر بلند آواز سے پکارتاہے وہ یہی( کلمات) ہیں۔
یہ دراصل حج کی اس ندائے عام کا جواب ہے جو ساڑھے چار ہزار برس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑنے اللہ کے حکم سے کی تھی۔ پینتالیس صدیاں گزرچکی ہیں۔ جب پہلے پہل اللہ کے اس مُنادی نے پکار اتھا کہ ’’اللہ کے بندو! اللہ کے گھر کی طرف آؤ، زمین کے ہرگوشے سے آؤ، خواہ پیدل آؤ، خواہ سواریوں پر آؤ‘‘ جواب میں آج تک حرم پاک کا ہرمسافر بلند آواز سے کہہ رہاہے۔’’ میں حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں صرف تیری طلبی پر حاضر ہوں۔ تعریف تیرے لیے ہے۔ نعمت تیری ہے، ملک تیرا ہے، کسی چیز میں تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ اس طرح لبیک کی ہرصدا کے ساتھ حاجی کا تعلق سچی اور خالص خدا پرستی کی اس تحریک سے جُڑجاتاہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے وقت سے چلی آرہی ہے۔ ساڑھے چار ہزار بر س کا فاصلہ بیچ میں سے ہٹ جاتاہے۔یوں معلوم ہونے لگتاہے کہ گویا ادھر اللہ کی طرف سے حضرت ابراہیمؑ پکاررہے ہیں اور ادھر سے یہ جواب دے رہاہے۔ جواب دیتا جاتاہے اور بڑھتاجاتاہے۔ جوں جوں آگے بڑھتاجاتاہے شوق کی کیفیت اور زیادہ تیز ہوتی جاتی ہے۔ ہرچڑھاؤ اور ہراتار پر اس کے کانوں میں اللہ کے منادی کی آواز گونجتی ہے اور یہ اس پر لبیّک کہتا ہوا آگے چلتاہے۔ ہرقافلہ اُسے وہیں کا پیامی معلوم ہوتاہے اور ایک عاشق کی طرح یہ اس کا پیام سن کر پکارتاہے۔ ’’میں حاضر، میں حاضر‘‘ ہر نئی صبح اس کے لیے گویا پیغام دوست لاتی ہے اورنُور کے تڑکے میں آنکھ کھولتے ہی یہ لبیّک، اللّھم لبیّک کی صدا لگانے لگتاہے۔ غرض یہ بار بار کی صدا احرام کے اُس فقیرانہ لباس، سفر کی اُس حالت، اور منزل بہ منزل کعبہ کے قریب تر ہوتے جانے کی اس کیفیت کے ساتھ مل کر کچھ ایسا سماں باندھ دیتی ہے کہ حاجی عشق الٰہی میں از خود رفتہ ہوجاتاہے اور اس کے دل کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بس ایک یاد ِدوست کے سوا’’ آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔ ‘‘ (خطبات، حج: احرام اور اس۔۔۔)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ تَلْبِیَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: لَبَّیْکَ، اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ۔ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ۔(۱)
ابوداؤدمیں اتنا اضافہ ہے :
(۲) وَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَزِیْدُ فِیْھَا لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ بِیَدَیْکَ لَبَّیْکَ وَالرَّغْبَائُ اِلَیْکَ وَالْعَمَلُ۔(۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا اضافہ بھی کرتے تھے، حاضر ہوں، حاضر ہوں، اور ہر بھلائی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے، حاضر ہوں، عمل اور رغبت ودلچسپی تیری جانب سے ہے۔
نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ سے نقل کی ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فِی التَّلبِیَۃِ: لَبَّیْکَ اِلٰہَ الْحَقِّ لَبَّیْکَ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تلبیہ میں یہ الفاظ بھی پڑھتے تھے۔ حاضر ہوں اے الٰہ الحق حاضر ہوں۔
حضرت عائشہؓ سے مروی تلبیہ:
(۴) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : اِنِّیْ لَاَعْلَمُ کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُلَبِّیْ: لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ۔(۴)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ نبی ﷺ کا تلبیہ کیسا تھا۔ آپؐ تلبیہ میں یوں فرمایا کرتے تھے۔ ’’حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، یقینا تعریف سب تیرے لیے ہے اور نعمت سب تیری ہے۔‘‘
سعی بین الصفا والمروہ
۱۳۔حضرت عائشہؓ کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ اہل مدینہ کے دلوں میں پہلے ہی سے سعی بین الصفا والمروہ کے بارے میں کراہت موجود تھی کیونکہ وہ منات کے معتقد تھے اور اساف ونائلہ کو نہیں مانتے تھے۔
تشریح : صَفَا اور مَرْوَہ مسجد حرام کے قریب دوپہاڑیاں ہیں جن کے درمیان دوڑنامنجملہ ان مناسک کے تھا جو اللہ تعالیٰ نے حج کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کو سکھائے تھے۔ بعد میں جب مکّے اور آس پاس کے تمام علاقوں میں مشرکانہ جاہلیت پھیل گئی تو صفا پر ’’اساف‘‘ اور مروہ پر’’ نائلہ‘‘ کے استھان بنالیے گئے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ پھر جب نبی ﷺ کے ذریعے سے اسلام کی روشنی اہلِ عرب تک پہنچی تو مسلمانوں کے دلوں میں یہ سوال کھٹکنے لگا کہ آیا صفا اور مروہ کی سعی حج کے اصلی مناسک میں سے ہے یا محض زمانۂ شرک کی ایجاد ہے اور یہ کہ اس سعی سے کہیں ہم ایک مشرکانہ فعل کے مرتکب تو نہیں ہوجائیں گے۔
انہیں وجوہ سے ضروری ہوا کہ مسجد حرام کو قبلہ مقررکرنے کے موقع پر ان غلط فہمیوں کو دور کردیا جائے جو صفا اور مروہ کے بارے میں پائی جاتی تھیں اور لوگوں کو بتادیاجائے کہ ان دونوںمقامات کے درمیان سعی کرناحج کے اصلی مَنَاسک میں سے ہے اور ان مقامات کا تقدس خدا کی جانب سے ہے نہ کہ اہلِ جاہلیت کی مَن گھڑت۔ (تفہیم القرآن ج۱، البقرۃ،حاشیہ:۱۵۸)
تخریج :حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ عُرْوَۃُ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ لَھَا اَرَاَیْتِ قَوْلَ اللّٰہِ تَعَالٰی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا۔ فَوَاللّٰہِ مَاعَلٰی اَحَدٍ جُنَاحٌ اَنْ لاَّیَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ اَخِیْ اِنَّ ھٰذِہٖ لَوْکَانَتْ کَمَا اَوَّلْتَھَا عَلَیْہِ کَانَتْ لاَجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لاَّیَطَّوَّفَ بِھِمَا وَلٰکِنَّھَا اُنْزِلَتْ فِی الْاَنْصَارِکَانُوْا قَبْلَ اَنْ یُّسْلِمُوا یُھِلُّوْنَ لِمَنَاۃِ الطَّاغِیَۃِ الَّتِیْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَھَا عِنْدَ الْمُشَلَّلِ فَکَانَ مَنْ اَھَلَّ یَتَحَرَّجُ اَنْ یَّطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَلَمَّا اَسْلَمُوْا سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذٰلِکَ قَالُوْا:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا کُنَّانَتَحَرَّجُ اَنْ نَّطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ِفَأَنْزَلَ اللّٰہُ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ الآیۃ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَقَدْ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الطَّوَافَ بَیْنَھُمَا فَلَیْسَ لِاَحَدٍ اَنْ یَّتْرُکَ الطَّوَافَ بَیْنَھُمَا ثُمَّ اَخْبَرْتُ اَبَابَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا الْعِلْمَ مَا کُنْتُ سَمِعْتُہٗ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مِنْ اَھْلِ الْعِلْمِ یَذْکُرُوْنَ اَنَّ النَّاسَ اِلاَّ مَنْ ذَکَرَتْ عَائِشَۃُ مِمَّنْ کَانَ یُھِلُّ لِمَنَاۃٍ کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ کُلُّھُمْ بِالصَّفَا وَالَمَرْوَۃِ۔ فَلَمَّا ذَکَرَ اللّٰہُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَذْکُرِ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ فِی الْقُرْآنِ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کُنَّا نَطُوْفُ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی اَنْزَلَ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ فَلَمْ یَذْکُرِ الصَّفَا، فَھَلْ عَلَیْنَا مِنْ حَرَجٍ اَنْ نَّطُوْفَ بِالصَّفَا وَالَمَرْوَۃِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ الآیۃ۔
قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: فَاسْمَعُ ھٰذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِی الْفَرِیْقَیْنِ کِلَیْھِمَا فِی الَّذِیْنَ کَانُوْا یَتَحَرَّجُوْنَ اَنْ یَّطُوْفُوْا فِی الْجَاھِلِیّۃِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَالَّذِیْنَ یَطُوْفُوْنَ ثُمَّ تَحَرَّجُوْا اَنْ یَّطُوْفُوْا بِھِمَا فِی الْاِسْلاَمِ مِنْ اَجْلِ اَنَّ اللّٰہَ اَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَذْکُرِالصَّفَا حَتّٰی ذَکَرَ ذٰلِکَ بَعْدَ مَاذَکَرَ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ۔(۵)
ترجمہ :حضرت عروہؓ نے بتایا کہ میں نے حضرت عائشہؓسے پوچھا( اے اُمّ المومنین) اللہ تعالیٰ کے ارشاد اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ کے بارے میں آپ کی معلومات کیاہیں؟ خدا کی قسم، کسی فرد پر بھی کوئی گناہ نہیں اس بات پر کہ وہ صفا اور مروہ کا اگر طواف نہ کرے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ بھتیجے تونے کیسی نامناسب بات کہی ہے۔ تمہاری تاویل کے مطابق تو اس آیت کو یوں ہونا چاہیے۔ لاَجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لاَّ یَطَّوَّفَ بِھِمَا حالانکہ یہ آیت انصار کے بارے میں ناز ل ہوئی ہے جو اسلام میںداخل ہونے سے پہلے منات کے طاغوت کا تلبیہ پڑھتے تھے۔ مشَلَّل کے مقام پر جس کی یہ پوجا کیا کرتے تھے۔ پس اب جس نے تلبیہ کہا تو اس نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو گناہ تصور کیا۔ جب یہ مسلمان ہوگئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا کہ یا رسول اللہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو ہم گناہ سمجھتے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔ نازل فرمائی۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان طواف کو مسنون قراردیا لہٰذااب کسی کو بھی یہ طواف چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے اسی دوران میں ابوبکربن عبدالرحمن کو میں نے بتادیا تووہ کہنے لگے یہ توایسی معلومات ہیں جو میںنے پہلے نہیں سنی ہیں۔ میں نے تواہلِ علم حضرات سے سناہے وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عائشہؓ کے بیان کردہ حضرات کے علاوہ ایسے لوگ بھی تھے جو منات کا تلبیہ پڑھتے تھے مگر سبھی صفااور مروہ کا طواف بھی کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیت اللہ کے طواف کا ذکرفرمایا او ر صفا اور مروہ کا ذکر نہ کیا تولوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم تو صفا او ر مروہ کا طواف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے صرف بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا ہے۔ صفا اور مروہ کاذکر نہیں کیا۔ تو کیا صفا اور مروہ کے طواف میں کوئی مضائقہ یاگناہ تو ہم پر نہیں ہے۔ اس موقع پر اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ آیت نازل فرمائی۔
اور ابوبکر نے بیان کیا، میں سنتاہوں کہ یہ آیت ان دوفریقوں کے متعلق نازل ہوئی جو جاہلیت کے دور میں صفا اور مروہ کے طواف کو گناہ سمجھتے تھے اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اسلام میں آنے کے بعدصفااور مروہ دونوں کے طواف کو گناہ تصور کیا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا کا ذکر نہیںکیا۔ حتّٰی کہ خانہ کعبہ کے طواف کے بعد اس کے طواف کا بھی ذکر کیا۔
منٰی، مُزدلفہ اور وادی محسر
۱۴۔ (صحیح مسلم اور ابوداؤد کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے حجّۃ الوداع کا جو قصہ امام جعفر صادق نے اپنے والد ماجد امام محمد باقر سے اور انہوں نے حضرت جابربن عبداللہ سے نقل کیاہے اس میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ جب مزدلفہ سے منی کی طرف چلے تو محسِّر کی وادی میں آپؐ نے رفتار تیزکردی۔
ــــــــــمؤطّا میں امام مالکؒ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺنے فرمایا کہ’’ مزدلفہ پورے کا پورا ٹھہرنے کا مقام ہے، مگر محسِّر کی وادی میں نہ ٹھہرا جائے۔ ‘‘
ــــــــــ حضرت اُمِّ ہانیؓ اور حضرت زُبَیر بن الْعَوام کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (واقعہ فیل کے بعد) فرمایا کہ قریش نے ۱۰ سال (اور بروایت بعض سات سال) تک اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔
یہ سب احادیث اس واقعہ سے متعلق ہیں جو سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیاہے۔
مندرجہ بالا پہلی حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ اصحاب الفیل کا واقعہ محسِّر کی وادی میں پیش آیا تھا اس لیے سنت یہی ہے کہ آدمی یہاں سے جلدی گزرجائے۔
اُمّ ہانی کی روایت امام بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی ، حاکم، ابن مَردُوَیْہ اور بیہقی نے اپنی کتب حدیث میں نقل کی ہے۔ حضرت زبیرؓ کا بیان طبرانی اور ابن مردویہ اور ابن عسا کر نے روایت کیاہے اور اس کی تائید مزید حضرت سعید بن المُسَیَّب کی اس مُرسل روایت سے ہوتی ہے جو خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔
تخریج(۱): حَدَّثَنَا ھِشَامُ ابْنُ عَمَّارٍ۔ ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ الْعُمَرِیُّ۔ ثَنَامُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ کُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوْا عَنْ بَطْنِ عَرْفَۃَ، وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوْا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَکُلُّ مِنیً مَنْحَرٌ اِلاَّمَاوَرَائَ الْعَقَبَۃَ۔(۶)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عرفہ پورے کا پورا ٹھہرنے کا مقام ہے مگر بطن عَرْفَہ میں نہ ٹھہرو۔ پورے کا پورا مزدلفہ ٹھہرنے کا مقام ہے مگر مُحسّر کی وادی میں نہ ٹھہرو ۔پورے کا پورا منـٰی قربان گاہ ہے ماسوا عقبہ کے اوپر کے علاقہ کے۔
(۲) عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ ھٰذَا الْمَوْقِفُ وَعَرَفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ۔(۷)
ترجمہ : حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ میں قیام فرمایا اور فرمایا کہ یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور عرفہ پورے کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
مؤطا امام مالک میں ہے:
(۳) عَنْ مَالِکٍ اَنَّہٗ بَلَغَہٗ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: عَرَفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوْا عَنْ بَطْنِ عُرْفَۃَ وَالْمُزْدَلِفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوْا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ۔(۸)
ترجمہ : امام مالکؒ سے مروی ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: عرفہ پورے کا پورا ٹھہرنے کا مقام ہے۔ البتہ عرفہ کی وادی میں نہ ٹھہرو۔ اور مزدلفہ بھی سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ البتہ مُحَسِّرکی وادی میں نہ ٹھہرو۔
(۴) عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:کُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ وَکُلُّ مُزْدَلِفَۃَ مَوْقِفٌ، وَمِنٰی کُلُّھَا مَنْحَرٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیْقٌ وَمَنْحَرٌ۔(۹)
ترجمہ :حضرت جا برؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ پورے کا پورا عرفہ ٹھہرنے کامقام ہے اور سارے کا سارا مزدلفہ جائے قیام ہے اور منــی پورے کا پورا قربان گاہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں حجاج کی آمد ورفت کا راستہ ہیں اور قربان گاہ ہیں۔
(۵) اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: عَرَفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ۔(۱۰)
(۶) عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ: ھٰذِہٖ عَرَفَۃُ وَھُوَ الْمَوْقُوْفُ وَعَرَفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام عرفۃ میں قیام فرمایا، اور ارشاد فرمایا۔ یہ عرفہ ہے اور سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْن غِیَاثٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِی عَنْ جَابِرٍ فِی حَدِیْثِہٖ ذٰلِکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: نَحَرْتُ ھٰھُنَا وَمِنٰی کُلُّھَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوْا فِی رِحَالِکُمْ۔ وَوَقَفْتُ ھٰھُنَا وَعَرَفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ وَوَقَفْتُ ھٰھُنَا وَجَمْعٌ کُلُّھَا مَوْقِفٌ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت جابرؓ اپنی روایت کردہ حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے یہاں قربانی کی ہے اور سارا منـٰی قربان گاہ ہے۔ اپنی اپنی قیام گاہوں میں قربانی کرلو اور میں نے یہاں قیام کیاہے اور عرفہ سارے کا سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے اور میں یہاں ٹھہرا ہوں مزدلفہ سارے کا سارا موقف ہے۔
مااخرج البخاری فی تاریخہ والطبرانی والحاکم وصحہ وابن مردویہ والبیھقی فی الخلافیات :
(۸) عَنْ اُمِّ ھَانِیئٍ بِنْتِ اَبِیْ طَالِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ قَالَ: فَضَّلَ اللّٰہُ تَعَالٰی قُرَیْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ لَمْ یُعْطَھَا اَحَدٌ قَبْلَھُمْ وَلاَیُعْطَاھَا اَحَدٌ بَعْدَھُمْ اِنِّی فِیْھِمْ وَفِیْ لَفْظٍ اَلنُّبُوَّۃُ فِیْھِمْ وَالْخِلاَفَۃُ فِیْھِمْ وَالَحَجَابَۃُ فِیْھِمْ وَالسِّقَایَۃُ فِیْھِمْ وَنُصِرُوْا عَلَی الْفِیْلِ وَعَبَدُوا اللّٰہَ تَعَالٰی سَبْعَ سِنِیْنَ وَفِی لَفْظٍ عَشْرَ سِنِیْنَ لَمْ یَعْبُدْہُ سُبْحَانَہٗ اَحَدٌ غَیْرَھُمْ وَنَزَلَتْ فِیْھِمْ سُوْرَۃٌ مِنَ الْقُرْاٰنِ لَمْ یُذْکَرْ فِیْھَا اَحَدٌ غَیْرَھُمْ ِلاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ۔
وَجَآئَ نَحْوَھٰذَا الْاَخِیْرِ فِیْ خَبْرَیْنِ آخَرَیْنِ اَحَدُھُمَا عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَامِ یَرْفَعُہٗ وَالثَّانِیْ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْہُ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ الخ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت اُمّ ہانی بنتِ ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات اوصاف سے فضیلت دی ہے نہ ان سے پہلے کسی کو یہ فضیلت دی گئی ہے اور نہ ان کے بعد۔ ایک تو یہ کہ: میں قریش میں سے ہوں ، روایت کے الفاظ نبوت ان میں سے ہے اور خلافت بھی انہیں میں، دربانی اور سقّائی کا منصب بھی انہی کے پاس ہے۔ ہاتھی والوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی گئی اور انہوں نے سات یا دس سال تک خالص اللہ سبحانہ کی عبادت کی کسی دوسرے نے (الٰہ واحد کی خالص عبادت اتنی مدّت تک) نہ کی۔ قرآن پاک میں ایک ایسی سورت نازل ہوئی جس میں صرف انہی کا نام ہے کسی دوسرے کا نہیں۔
اور اس روایت کا آخری حصہ دوسری دو روایات میں بھی آیاہے۔ ان میں سے ایک زبیر بن عوام کے واسطہ سے جسے وہ مرفوع بیان کرتے ہیں اور دوسری سعید ابن المسیّب کے حوالہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے۔
ــــــــــام ہانیؓ کی روایت امام بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی خلافیات میں صحیح قراردیاہے۔
قَالَ الْبَیْھَقِیُّ فِی کِتَابِ الْخِلاَفِیَاتِ:
(۹) حَدَّثَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ۔ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَ فِیُّ بِمَرْوٍ، حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ الْمَدِیْنِیُّ، حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّھْرِیُّ، حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِیْلَ، حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ عُبَیْدٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَۃَ بْنِ ھُبَیْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدَّتِہٖ اُمِّ ھَانِیئٍ بِنْتِ اَبِیْ طَالِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فَضَّلَ اللّٰہُ قُرَیْشًا بِسَبْعِ خِلاَلٍ اِنِّی مِنْھُمْ وَاِنَّ النُّبُوَّۃَ فِیْھِمْ وَالْحِجَابَۃَ وَالسِّقَایَۃَ فِیْھِمْ وَاِنَّ اللّٰہَ نَصَرَھُمْ عَلَی الْفِیْلِ۔ وَاِنَّھُمْ عَبَدُوا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَشَرَ سِنِیْنَ لاَیَعْبُدْہُ غَیْرُھُمْ وَاِنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ فِیْھِمْ سُوْرَۃَ الْقُرآنِ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ تَلاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ، اِیْلاَفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ الَّذِیْ اَطْعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔(۱۴)
ھذا حدیث صحیح الاسنادِ وَلَمْ یخرجاہ۔
ترجمہ : حضرت ام ہانی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریش کو اللہ تعالیٰ نے سات امتیازات سے فضیلت دی ہے، ایک تو یہ کہ میں ان میں سے ہوں اور دوسرا یہ کہ نبوت ان میں ہے۔ حجابہ اور سقایہ کے مناصب ان کے پاس ہیں۔ اللہ عزّوجل نے اصحاب فیل کے مقابلہ میں ان کی مدد فرمائی تھی اور انہوں نے دس سال صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی جب کہ ان کے علاوہ کسی اور نے ایسا نہیں کیا۔ اوراللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کے نام کی ایک سورہ نازل فرمائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سورۂ قریش یعنی لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ، اِیْلاَفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ آخر تک تلاوت فرمائی۔
رمیٔ جمار
جمرات دراصل اس ہاتھی والی فوج کی پسپائی اور تباہی کی یادگارہے جورسول اللہ ﷺ کی پیدایش کے سال عین حج کے موقع پر اللہ کے گھر کوڈ ھانے آئی تھی اورجسے اللہ کے حکم سے آسمانی چڑیوں نے کنکریاں مار مار کر تباہ کردیاتھا۔عام طور پر مشہور یہ ہے کہ کنکریاں مارنے کا یہ فعل اس واقعہ کی یادگار میں کیا جاتاہے جو حضرت ابراہیمؑ کو پیش آیا تھا۔ یعنی حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دیتے وقت
شیطان نے آکر آپ کو بہکایا تھا اور آپ نے اسے کنکریاں ماری تھیں، یا جب حضرت اسماعیلؑ کے فدیہ میں مینڈھا آپ کو قربانی کے لیے دیا گیا تو وہ نکل کر بھاگا تھا اور اس کو آپ نے کنکریاں ماری تھیں۔ لیکن کسی صحیح حدیث میں نبی ﷺ سے یہ روایت نہیں ہے کہ رمیٔ جمار کی علت یہ ہے۔ (خطبات :ص۲۸۹)
قبل از وقت بربنائے عذر احرام کھولنے کا فدیہ
۱۵۔ حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نبی ﷺ نے اس صورت میں (جب سر میں تکلیف ہو اور حج کے موقع پر سرمنڈوانا ضروری ہوجائے، تو فدیہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھنے، یا چھ مسکینوں کوکھانا کھلانے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ (تفہیم القرآن ج۱، البقرۃ، حاشیہ:۲۱۱)
تخریج(۱) : عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ رَاٰہُ وقَمْلُہٗ یَسْقُطُ عَلٰی وَجْھِہٖ فَقَالَ: اَیُؤْذِیْکَ ھَوَآمُّکَ؟ قَالَ: نَعَمْ فَاَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَّحْلِقَ وَھُوَ بِالْحُدَیْبیِّۃِ لَمْ یُبَیِّنْ لَھُمْ اَنَّھُمْ یَحِلُّوْنَ بِھَا وَھُمْ عَلٰی طَمَعٍ اَنْ یَّدْخُلُوْا مَکَّۃَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ الْفِدْیَۃَ فَاَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُّطعِمَ فَرْقًا بَیْنَ سِتَّۃَ مَسَاکِیْن اَوْیُھْدِیَ شَاۃً اَوْیَصُوْمَ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت کعبؓ بن عجرہ سے روایت ہے کہ ان پر رسول اللہ ﷺ کی نظر ایسی حالت میں پڑی کہ ان کے چہرے پر جوئیں گِررہی تھیں ۔حضورؐ نے دریافت فرمایا تیری جوؤں نے تجھے مبتلائے اذیت کررکھاہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں (یا رسولؐ اللہ) آپؐ نے انہیں سرمنڈانے کی اجازت دے دی۔ اس وقت آپؐ مقام حدیبیہ پر تھے۔ آپؐ نے صحابہ کے روبرو یہ ارادہ واضح نہیں فرمایا تھا کہ وہ حدیبیہ کے مقام پر فروکش ہونے والے ہیں وہ تو اس امیدپر تھے کہ مکہ میں داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت کے لیے فدیہ کا حکم نازل فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک فرق طعام چھ مساکین کو کھلادے یا ایک بکری قربان کرے یاپھر تین دن کے روزے رکھے۔
(۲) حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَصْبَھَانِیِّ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَعْقِلٍ قَالَ: قَعَدْتُّ اِلٰی کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ یَعْنِیْ مَسْجِدَ الْکُوْفَۃِ فَسَاَلْتُہٗ عَنْ فِدْیَۃٍ مِنْ صِیَامٍ، فَقَالَ: حُمِلْتُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَالْقَمْلُ یَتَنَاثَرُ عَلٰی وَجْھِیْ، فَقَالَ: مَاکُنْتُ اُرٰی اَنَّ الْجَھْدَ بَلَغَ بِکَ ھٰذَا، مَاتَجِدُ شَاۃً؟ قُلْتُ :لاَ، قَالَ: صُمْ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ اَوْاَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَاحْلِقْ رَأْسَکَ فَنَزَلَتْ فِیَّ خَاصَّۃً وَھِیَ لَکُمْ عَامَّۃً۔(۱۶)
ترجمہ : عبدالرحمن بن اصبہانی کا بیان ہے کہ میں نے عبد اللہ بن مَعقِل سے سناوہ بتارہے تھے کہ کوفہ کی مسجد میں، میں کعب بن عجرہ کے پاس بیٹھا اور روزوں سے فدیہ کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے اٹھاکر نبی ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لے جایا گیا اس حال میں کہ میرے چہرے پر میرے سر کی جوئیں گررہی تھیں۔ یہ حالت دیکھ کر حضورؐ نے فرمایا: جو صورتِ حال میں دیکھ رہاہوںاس سے تو معلوم ہوتاہے تمہیں اس نے بہت تکلیف میں مبتلا کررکھاہے کیا تمہارے پاس ایک بکری نہیں؟میں نے عرض کیا نہیں۔ حضورؐ نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مساکین کو کھاناکھلادو۔ہرمسکین کو نصف صاع کھانا دینا ہوگا اور اپناسرمنڈوالو۔ یہ آیت میرے بارے میں تو خاص طور پر نازل ہوئی اور عمومی طور پر تم سب لوگ اس میں شامل ہو۔
(۳) کَعْبُ ابْنُ عُجْرَۃَ،اَنَّہٗ خَرَجَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَاْسُہٗ وَلِحْیَتُہٗ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ﷺ فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَ رَاْسَہٗ۔ ثُمَّ قَالَ ھَلْ عِنْدَکَ نُسُکٌ قَالَ:مَااَقْدِرُ عَلَیْہِ فَاَمَرَہٗ اَنْ یَّصُوْمَ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ اَوْیُطْعِمَ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ صَاعٌ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ خَاصَّۃً فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖ اَذًی مِنْ رَاْسِہٖ ثُمَّ کَانَتْ لِلْمُسْلِمِیْنَ عَامَّۃً۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت کعب بن عُجرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مُحرِم کی حالت میں نبی ﷺ کی رفاقت میں نکلے سر اور ڈاڑھی میں جوئیں پڑگئیں ۔نبی ﷺ کے علم میں یہ صورتِ حال آئی تو آپؐ نے انہیں بلوا بھیجا اور نائی بلوا کر ان کا سرمنڈوادیا۔ پھر دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا مجھ میں تو اتنی بساط نہیں۔ تو پھرآپؐ نے تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیایا چھ مسکینوں کوکھانا کھلائے۔ ہرمسکین کو آدھا صاع دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے متعلق خاص طور پر اور پھر عام مسلمانوں کے لیے عمومی طو رپر یہ حکم نازل فرمایا کہ جو تم میں سے مریض ہو یا اس کے سرمیں کوئی تکلیف ہو (تواس کے لیے یہ رعایت ہے) ۔
(۴) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِی عُمَرَ، نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ اَیُّوْبَ وَابْنُ اَبِیْ نَجِیْحٍ وَحُمَیْدُ الْاَعْرَجُ وَعَبْدُالْکَرِیْمِ عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ اَبِیْ لَیْلٰی۔عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ مَرَّ بِہٖ وَھُوَ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ مَکَّۃَ وَھُوَ مُحْرِمٌ وَھُوَ یُوْقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ یَتَھَافَتُ عَلٰی وَجْھِہٖ فَقَالَ:أتُؤْذِیْکَ ھَوَآمُّکَ ھٰذِہٖ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ اِحْلِقْ وَاطْعِمْ فَرْقًابَیْنَ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ وَالْفَرْقُ ثَلاَثَۃُ اٰصُعٍ اَوْصُمْ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ اَوْاُنْسُکْ نَسِیْکَۃً قَالَ ابْنُ اَبِیْ نَجِیْحٍ: اَوِاذْبَحْ شَاۃً۔(۱۸)
ترجمہ : حضرت کعب بن عُجرہ کا بیان ہے ابھی ہم مکّہ میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ حالت احرام میں، حدیبیہ کے مقام پر ہنڈیا کے نیچے آگ جلارہاتھا کہ ادھر سے نبی ﷺ کا گزرہوا۔ آپؐ دیکھتے ہیں کہ جو ئیں میرے چہرے پر بے تحاشا گررہی ہیں۔ فرمایا ان جوؤں نے تمہیں اذیت ناک صور ت سے دوچار کررکھاہے؟ عرض کیا ہاں (یارسولؐ اللہ) ارشاد فرمایا سرمنڈوالو اور ایک فرق طعام چھ مساکین کو کھلادو (فرق تین صاع کا ہوتاتھا) یا پھر تین دن کے روزے رکھو یا ایک قربانی کا جانور ذبح کرو۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے یا ایک بکری ذبح کرو۔
قال ابوعیسیٰ، ھذا حدیث حسن صحیح۔ والعمل علی ھذا عنداھل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرھم۔ ان المحرم اذا حلق اولبس من اللباس مالا ینبغی لہ ان یلبس فی احرامہ اوتطیب فعلیہ الکفارۃ بمثل ماروی عن النبی ﷺ۔
مناسکِ حج پر تفصیلی تبصرہ
ہرعبادت کا ایک ظاہر ہوتاہے اور ایک باطن۔ ظاہرسے مراد وہ عملی شکل ہے جو کسی عبادت کو ادا کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے اور باطن سے مراد وہ معنی ہیں جو اس عملی شکل میں مُضْمَر ہوتے ہیں اور جن کے اظہار کی خاطر عمل کی وہ شکل مقرر کی جاتی ہے۔ مثال کے طورپر نماز کا ظاہر یہ ہے کہ آدمی قبلہ رُخ کھڑا ہو، رکوع کرے، سجدہ کرے، بیٹھے اور وہ اذکار زبان سے ادا کرے جو اس عبادت کے لیے مقرر ہیں۔ ان ظاہری افعال سے نماز کی جوشکل قائم کی جاتی ہے اس سے مقصود دراصل اِس معنی کا اظہار ہے کہ بندہ اپنے رب کے حضور بندگی کا اعتراف کرنے کے لیے حاضر ہوا ہے، اس کے مقابلے میں اپنی انانیت سے دستبردار ہورہاہے۔ اس کی بڑائی اوراپنی عاجزی تسلیم کررہاہے اور اس کے آگے اپنے وہ معروضات پیش کررہاہے جو اس کی زبان سے ادا ہورہے ہیں۔ اب دیکھیے جو شخص نماز کی ظاہری شکل کو ٹھیک ٹھیک احکام وہدایات کے مطابق قائم کردے وہ بلاشبہ ادائے نماز کی قانونی شرائط پوری کردیتاہے۔ اس کے متعلق آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے نماز نہیں پڑھی، یا اس کے ذمّے فرض باقی رہ گیا۔ لیکن آپ غو رکریں گے تو خود محسوس کریں گے کہ نماز کا پورا پورا فائدہ وہی شخص اٹھا سکتاہے جو نماز کے اعمال میں سے ہرعمل کرتے وقت اس کی روح کو بھی نگاہ میں رکھے، اور نماز کے اذکار میں سے ہرذکر کو زبان سے ادا کرتے ہوئے اس کے معنی کی طرف بھی متوجہ رہے۔
ایسا ہی معاملہ حج کا ہے۔ اس کو ادا کرنے کا جو طریقہ مقرر کیا گیاہے اس پر آپ خواہ سمجھ کر عمل کریں یا بے سمجھے بوجھے، بہرحال جب آپ شارع کے مقرر کردہ مناسک ادا کردیں گے تو حج ادا ہوجائے گا، اور فرض سے یقینا آپ سبکدوش ہوجائیں گے۔ لیکن حج کی اس ظاہری شکل کے ہر ہر جز میں جو معنی پوشیدہ ہیں ان کو بھی اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور حج کے اعمال انجام دیتے وقت ہرعمل کی غرض وغایت کی طرف بھی متوجہ ہوں تو اس سے مقصدِ حج کی تکمیل ہوجائے گی اور آپ حج کے فوائد سے پوری طرح متمتع ہوں گے۔ اسی غرض کے لیے میں آپ کے سامنے حج کے اعمال میں سے ایک ایک عمل کے معنی سیدھے سادے اور مختصر طریقے سے بیان کرنا چاہتاہوں۔
احرام
اعمالِ حج میں سب سے پہلاعمل احرام ہے۔ باہر سے آنے والا کوئی حاجی میقات سے اُس وقت تک نہیں گزرسکتا جب تک وہ اپنا لباس اتار کر احرام نہ باندھ لے اور اسی طرح مکہ معظمہ سے حج کی نیت کرنے والے کو بھی سب سے پہلے لباس تبدیل کرکے احرام باندھنا ہوتاہے۔ یہ ایک انتہائی فقیرانہ لباس ہے جس میں آدمی بس ایک تہمد باندھ لیتاہے، ایک چادر کندھوں پر ڈال لیتاہے، اور سرننگا رکھتاہے۔ یہ اس عمل کی ظاہری صورت ہے، مگر غور سے دیکھیے کہ اس ذرا سے فعل میں کتنے گہرے معنی پوشیدہ ہیں۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حج شروع کرنے سے پہلے ہمارے وہ سارے لفافے اتروا دینا چاہتاہے جو ہم نے اپنے اوپر ڈال رکھے ہیں، جن کے اندر ہم میں سے ہرایک نے اپنے آپ کو اپنی اصل حقیقت سے کچھ نہ کچھ زائد بنا رکھاہے۔ وہ کہتاہے کہ تم بندے ہو اور بندے سے بڑھ کرکچھ نہیں ہو۔ لہذا میرے دربار میں حاضر ہونا چاہتے ہو تو صرف بندے بن کر آؤ۔ تم کہیں کے بادشاہ یا صدرمملکت ہو تو ہوا کرو۔ کوئی جنرل ہو، وزیر ہو، رئیس ہو، یا جو کچھ بھی ہو، ہوتے رہو۔ میرے حضور میں تمہیں یہ ساری حیثیتیں ختم کرکے صرف ایک بندے کی حیثیت سے آنا ہوگا۔ اس طرح احرام کا یہ لباس ہر انسان کو بندگی کے مقام پر لاکر کھڑا کردیتاہے، اُس کی ہر شانِ امتیاز مٹادیتاہے، اورایک بڑے سے بڑے شخص کو بھی ایک ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی سطح پر لے آتاہے۔ آپ حالتِ احرام میں حاجیوں کے کسی مجمع پر نگاہ ڈال کر دیکھیں تو آپ کو کسی طرح یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ ان میں کون اونچا اور کون نیچا ہے، کون امیر اور کون غریب ہے، کون حاکم اور کون محکوم ہے اللہ کے دربار میں سب ایک ہی طرح کے فقیر نظر آئیں گے۔
اونچ نیچ برابر کرنے کے ساتھ یہ احرام مسلمانوں کے درمیان تمام قومی، نسلی اور وطنی امتیازات بھی ختم کردیتاہے۔ اسلام کے ماننے والے دنیا کے ہرحصے سے چل کر آتے ہیں۔ مشرق، مغرب، شمال، جنوب، ہرطرف سے ملک ملک کے لوگ طرح طرح کے لباس پہنے ہوئے اپنے گھروں سے چلتے ہیں۔ مگر جونہی کہ وہ مرکزِ اسلام سے ایک خاص فاصلے پر پہنچتے ہیں، ان کو یکا یک میقات کی سرحد پر روک کر ان کے تمام قومی لباس اُتروا دیے جاتے ہیں اور سب کو ایک ہی طرح کالباس پہنادیا جاتاہے تاکہ خداوند عالم کے دربار میں جب وہ حاضرہوں تو انسان اور مسلمان کے سوا اور کچھ نہ ہوں۔ مسلمانوں کے اندر ملّتِ واحدہ ہونے کا احساس پیدا کرنے کی اس سے زیادہ کارگر تدبیر شاید ہی کوئی دوسری ہوسکے۔ آپ کے سامنے لاکھوں حاجیوں کا ایک سیلِ رواں ہوتاہے جس میں سینکڑوں قومیتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گزررہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ اِحرام کی برکت ہے کہ ہردیکھنے والی نگاہ ان کو ایک ملت اور ایک ہی قوم کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور ان کے سارے وطنی ونسلی امتیازات دب کررہ جاتے ہیں۔
پھر یہ احرام آدمی کو حیوانیت سے دُور اور ملائکہ کے مقام سے قریب کردیتاہے۔ اس حالت میں وہ کوئی جوں تک نہیں مارسکتا، کوئی بال تک نہیں اکھاڑسکتا۔ کسی جانور کا شکار خود کرنا تو درکنار دوسرے کو کسی قسم کی مدد بھی شکار میں نہیں دے سکتا۔ اپنے جسم کی زینت وآرایش بھی اس کے لیے جائز نہیں رہتی۔ اس کی اپنی بیوی بھی اس کے لیے حرام ہوجاتی ہے جو عام حالات میں اس کے لیے حلال ہے۔ حتّٰی کہ وہ اس کی طرف کسی شہوانی میلان تک کا اظہار نہیں کرسکتا۔اس کے لیے فحش گوئی، بدکلامی، لڑائی جھگڑا، سب کچھ ممنوع ہوجاتاہے،یہاںتک کہ وہ اپنے خادم کو بھی ڈانٹنے کا مجاز نہیں رہتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ احرام باندھتے ہی وہ اللہ کا فقیر بن گیا اور اس نے تمام خواہشاتِ نفس کو تیاگ دیا۔ اب دنیا کی ہرچیز کو اس کی طرف سے امن وسلامتی کا پیغام ہے۔ اب کسی کو اس سے ضرر کا اندیشہ نہیں۔ اب وہ کسی کے لیے بھی جبّار وقہّار اور ظالم نہیں رہا۔ اب وہ دنیا کی لذّتوں سے کنارہ کش ہونے اور کبریائی کا ہرشائبہ اپنے نفس سے نکال دینے کے بعد بس ایک بندۂ عاجز ہے جو اپنے خدا کے حضور اپنی نیاز مندی پیش کرنے کے لیے جارہاہے۔
حضرات! یہ ہے احرام کی اصل روح۔ آپ جب غسل یا وضو کرکے احرام باندھتے ہیں اور ان قواعد کی پابندی کرتے ہیں جو حالتِ احرام کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، تو اس سے عمل کی صرف ظاہری شکل قائم ہوتی ہے۔ یہ شکل بناتے ہوئے اگر آپ کا ذہن اس تصوّر سے خالی ہو کہ یہ شکل آپ نے کیوں بنائی ہے تو یہ گویاایک جسم ہوگا جس میں جان نہ ہو۔جان اس میں اسی وقت پڑے گی جب آپ پورے شعور اور ارادے کے ساتھ اپنے اندر وہ باطنی کیفیات بھی پیدا کرلیں جو درحقیقت احرام سے مقصود ہیں۔ قانون کی نگاہ میں توہرشخص مُحرِم ہے جس نے احرام کی پابندیوں میں سے کسی کو نہ توڑا ہو۔ مگر خدا کی نگاہ میں اصل مُحرم وہی ہے جو احرام باندھتے ہی فی الواقع ایک فقیر اور ایک بندۂ عاجز بن کر رہ گیا ہو، جس نے اپنے دماغ سے کبریائی کی ہوا نکال دی ہو، جس نے قومی ونسلی تعصُّبات کو بھی اپنے ذہن سے نکال باہر کیاہو، جو خلقِ خدا کے لیے سراپا رحم اور خیرِ مجسم بن گیاہو، اور جس نے حیاتِ دنیا کی زینتوں سے منہ موڑ کر کم از کم یہ چند دن تو صرف اپنے رَب سے لو لگانے کے لیے خاص کرلیے ہوں۔
تلبیہ کے الفاظ
احرام باندھنے کے بعد آپ تَلْبیَہ شروع کردیتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ،اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ۔
’’میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضرہوں یقینا ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے، سارے احسانات تیرے ہی ہیں، بادشاہی سراسر تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘
ان الفاظ پر غور کیجیے۔ان کے اندر خود یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ غلام کو اس کے آقا نے طلب کیاہے اور غلام اس کے جواب میں لبیّک لبیّک کہتاہوا اور اپنے مالک کی تعریف کے گُن گاتاہوا دوڑا چلا جارہاہے بیت اللہ کی طرف طلبی ہوئی، اس نے عرض کیا میں حاضر، عرفات بلایا گیا، اس نے کہا میں حاضر،مزدلفہ طلب کیا گیا، اس نے کہا میں حاضر، منیٰ طلب کیا گیا اس نے کہا میں حاضر، اس ساری دَوڑ دھوپ کے دَوران میں یہ الفاظ آپ زبان سے کہتے رہیں تو قانون کا تقاضا پورا ہوجائے گا۔ مگر اس تلبیہ کی اصل روح یہ ہے کہ ان الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہوئے اپنے دل کی گہرائیوں میں فی الواقع آپ یہ محسوس کریں کہ آپ اللہ کے بندے اور غلام ہیں، اس کی طرف سے آپ کی طلبی ہوئی ہے۔ اور جہاں جہاں حاضر ہونے کی طلبی ہوتی جارہی ہے وہاں آپ لبیّک لبیّک کہتے ہوئے دوڑے چلے جارہے ہیں۔ اس لبیک میں ایک نشہ ہے جو لازمًا ہر بندۂ حق پر طاری ہوجائے گا جسے یہ احساس ہوکہ خداوندِ عالم کی طرف سے اُس جیسی ناچیز ہستی کی طلبی ہورہی ہے۔ یہ نصیب ؟ اللہ اکبر، لوٹنے کی جائے ہے۔
حرم کی حاضری
باہرسے آنے والے ہر حاجی کی فطری خواہش یہ ہوتی ہے، اور یہی اس کو کرنا بھی چاہیے کہ مکّہ معظّمہ پہنچنے کے بعد جلدی سے جلدی حرم میں حاضر ہو۔ پھر جب وہ حرم میں داخل ہوتاہے اور بیت اللہ پر اس کی نظر پڑتی ہے تو اس کے دل پر ایک ہیبت طاری ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے جلال کا کرشمہ ہے، اور اس کا دل بے اختیار خانۂ کعبہ کی طرف کھنچتاہے جو اللہ جل شانہٗ کی محبت کا فطری تقاضاہے۔ اس موقع پر اسے دل اور زبان سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ ُوَاللّٰہ ُاَکْبَر کہنا چاہیے اور پورے شعور کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے:
اَللّٰھُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَعْظِیْمًا وَتَشْرِیْفًا وَتَکْرِیْمًا وَمَھَابَۃً وَبِرًّا۔
’’خدایا! اس گھر کو زیادہ سے زیادہ عظمت وشرف اور بزرگی اور دبدبہ عطا فرما اور اسے زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا مرکز بنادے۔‘‘
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلاَمُ، وَمِنْکَ السَّلاَمُ، فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ۔
’’خدایا تو خود ہرعیب ونقص سے پاک ہے، اور عیوب وآفات سے سلامتی جس کو بھی نصیب ہوتی ہے تیری ہی طرف سے نصیب ہوتی ہے، لہٰذا اے پروردگار، ہمیں جسم وروح کی سلامتی کے ساتھ جینے کی توفیق عطا فرما۔‘‘
ضروری نہیں ہے کہ یہ دعائیں آپ عربی زبان ہی میں مانگیں۔ اصل چیز ان الفاظ کو زبان سے ادا کرنا نہیں ہے بلکہ اس مضمون کی دُعا اللہ سے مانگنا ہے جو ان فقروں میں بیان کیا گیاہے ۔ آپ کو عربی الفاظ یاد کرنے اور پڑھنے میں دِقّت ہوتو آپ اسی مضمون کی دعا اپنی زبان میں بھی مانگ سکتے ہیں۔
طواف
حَرم میں پہنچنے کے بعد ہرحاجی کو طواف کرنا ہوتاہے۔ اگر احرام باندھتے وقت اس نے تمتُّع یا قِران کی نیّت کی ہو تو وہ عمرے کا طواف کرتاہے۔تمتع یہ ہے کہ آدمی عمرہ کرکے احرام کھول لے اور پھر حج کا وقت آنے پر نئے سرے سے احرام باندھے اور قِران یہ ہے کہ آدمی ایک ہی احرام میں عُمرہ اور حج دونوں کرے۔ اور اگر اِفراد ( صرف حج) کی نیت کی ہو تو طوافِ قدوم کرتاہے۔ پھر یوم النحر کو اسے طوافِ افاضہ اور مکہ چھوڑتے وقت طواف وداع بھی کرنا ہوتاہے اور ان ضروری طوافوں کے علاوہ بھی یہ ایک ایسی نفلی عبادت ہے جس کا موقع باہر سے آنے والوں کو صرف زمانۂ قیامِ مکّہ ہی میں نصیب ہوسکتاہے، اس لیے اس موقع سے جتنا بھی فائدہ اٹھایا جاسکے اٹھانا چاہیے۔
یہ طواف کیا ہے؟ یہ انسان کے اس فطری جذبے کا اظہار ہے کہ جس ہستی کو وہ اپنا مُنعِم ومحسن سمجھتاہے اور اپنا معبود مانتاہے اس پر اپنے آپ کو فدا کرے، اس کے گرد گھومے اور صدقے اور قربان ہو۔ اللہ تعالیٰ بذاتِ خود اس سے بالاتر ہے کہ ہم اسے پاسکیں اور اس کے گرد گھوم سکیں۔ اس نے ہمارے اس جذبے کی تسکین کے لیے اس خانۂ خدا کو اپنا گھر قراردیاہے اور ہمیں ہدایت کی ہے کہ مجھ پر فدا ہونے کی جو خواہش تمہارے دل میں ہے اسے میرے اس گھر کا طواف کرکے پورا کرلو۔ پس جب آپ اس گھر کا طواف کریں تو عشق کے جذبے سے سرشار ہوکر اس طرح طواف کیجیے جیسے ایک عاشق اپنے محبوب حقیقی کے صدقے ہورہاہے۔
ہرطواف کی ابتدا حجرِاسود کے بوسے یا استلام سے ہوتی ہے۔ یہ درحقیقت ایک پتھر کا بوسہ نہیں ہے بلکہ محبوب کے سنگِ آستاں کا بوسہ ہے۔
اسی طرح طواف اور مقامِ ابراہیم کی دورکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد مُلْتَزَم سے چمٹ کر جو دعائیں مانگی جاتی ہیں وہ بھی یہی سمجھتے ہوئے مانگنی چاہئیں کہ یہ ہمارے مالک کے گھر کی چوکھٹ ہے۔ مالک خود تو اس سے بالاتر ہے کہ ہم اس کا دامن تھام سکیں۔ ہماری نارسائی پر ترس کھاکر اس نے یہ گھر ہمارے لیے بنادیاہے تاکہ اس کے دامن سے لپٹ کر اپنی آرزوئیں پیش کرنے کی جو تمنّا ہمارے دل میں ہے اُسے ہم اُس کے گھر کی چوکھٹ سے لپٹ کر پورا کرلیں۔
طواف کے دَوران میں پڑھنے کے لیے جو لمبی چوڑی دعائیں بعض لوگوں نے لکھی ہیں، ان کایاد کرنا اور پڑھناکچھ ضروری نہیں ہے۔ اور یہ طریقہ تو بالکل ہی فضول ہے کہ ایک معلّم آگے آگے دعا پڑھتا جارہاہے اور حاجیوں کی ایک ٹولی کی ٹولی اس کی غَلط سَلط نقل اتارتی جارہی ہے۔ طواف کے لیے ان دعاؤں کو شریعت نے ہرگز لازم نہیں کیاہے، اور نہ اس بے معنی طریقے سے ان کوادا کرنے کا کوئی فائدہ ہے۔ بس یہ کافی ہے کہ آپ طواف شروع کرتے وقت حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہوکر نماز کی طرح ہاتھ اٹھائیں اور بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ کہہ کر طواف شروع کردیں، پھردَورانِ طواف میں اللہ کا ذکر کرتے چلے جائیں اور اس سے دعا مانگتے جائیں۔ ذکر کے لیے سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے الفاظ کافی ہیں۔ کسی اور چیز کی حاجت نہیں۔ دعا جو کچھ بھی آپ کے دل سے نکلے اور جس زبان میں بھی آپ مانگ سکیں، مانگتے رہیں۔
حجرِ اسود کا بوسہ دینے کے لیے جو ہجوم اور دھکّا پیل لوگ کرتے ہیںیہ ایک ناروا فعل ہے، بلکہ اس میں ایک دوسرے کی جو سخت مزاحمت کی جاتی ہے وہ تو حج کو ضائع کرنے والی حرکت ہے خصوصًا عورتوں کا اس دھکّا پیل میں گھُسناتو بالکل ہی ناجائز ہے۔ شریعت نے آپ پر لازم نہیںکیاہے کہ آپ ضرور حجرِ اَسْوَد کو بوسہ ہی دیں۔ یہ کام اگر مزاحمت کے بغیر نہ ہوسکتاہو تو ہرچکر کے خاتمہ پر حجر اسود کے سامنے پہنچ کر اس کی طرف ہاتھ سے اشار ہ کرنا اور اپنے ہاتھ ہی کو چوم لینا شرعًا بالکل کافی ہے۔
جس طواف کے بعد سعی کرنی ہو اس میں اِضْطِبَاع اوررَ مل بھی کیا جاتاہے۔ اِضْطِباع یہ ہے کہ احرام کی چادر کو سیدھے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیاجائے اور دایاں شانہ کھلارکھا جائے اور رمل یہ ہے کہ پہلے تین طواف شانے ہلا ہلاکر چھوٹے چھوٹے قدم ڈالتے ہوئے ذرا تیزی کے ساتھ کیے جائیں۔ یہ دراصل اس واقعے کی یادگار ہے جو صلح حُدَیبیہ کی قرارداد کے مطابق جب نبیﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکّہ معظّمہ تشریف لائے تھے تو کفّارمکّہنے یہ کہنا شروع کردیا تھاکہ مدینے کی آب وہوا نے مسلمانوں کو کمزور کردیاہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ پہلے تین طوافوں میں اضطباع اور رمل کریں تاکہ کُفّار کے سامنے اہلِ اسلام کی طاقت کا مظاہرہ ہو۔ اسی یادگار کو آج تک باقی رکھاگیاہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ بندے کا اکڑ کر چلنا ویسے تو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، مگر جب اس کے دشمنوں کے سامنے اسلام کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے یہ چال اختیار کی جائے تو پھر یہی چال اللہ کو محبوب ہوجاتی ہے۔
مقامِ ابراہیمؑ
طواف سے فارغ ہونے کے بعد آپؐ مقامِ ابراہیمؑ پر پہنچتے ہیں اور وہاں دورکعت نماز ادا کرتے ہیں۔ اس مقام پر جو پتھر رکھاہے یہ وہی پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم ؑ نے خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھائی تھیں، پھر اسی پر کھڑے ہوکر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس ویران وسنسان مقام پر تمام خلق کو حج کے لیے پکارا تھا۔ پہلے یہ پتھر خانۂ کعبہ کی دیوار سے متصل رکھا ہوا تھا۔ بعد میں اسے موجودہ مقام پر رکھ دیاگیا۔ اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ کاحکم ہے کہ اسے نماز کی جگہ بنالو۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی۔ طوافِ کعبہ کے بعد یہ دورکعتیں اسی فرمانِ خداوندی کی تعمیل میں پڑھی جاتی ہیں۔
اس سلسلہ میں یہ بات بھی آپ کے علم میں رہنی چاہیے کہ تمام دنیا کے لیے قبلہ مسجدِ حرام ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنے والوں کے لیے قبلہ خانۂ کعبہ ہے،اور مسجدِ حرام کی نماز باجماعت کے لیے امام کا قبلہ وہ مقام ہے جہاں سے حضرت ابرہیم ؑ نے دنیا کو حج کے لیے پکارا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ خود بھی اسی مقام پر کھڑے ہوکر کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ اور آج بھی حرم کی نمازِ باجماعت کا امام اسی جگہ کھڑا ہوتاہے۔
صفا ومروہ کے درمیان سعی
مقامِ ابراہیم پر دورکعت نماز ادا کرنے اور مُلتَزم پر دعا کرنے کے بعد آپ زمزم پر آتے ہیں اور اس کا پانی پیتے ہیں۔ پھر عمرے کی تکمیل کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی کرتے ہیں۔ یہ سب کام آپ غفلت وبے خبری کے ساتھ نہ کریں بلکہ اپنے دل میں سوچیں کہ یہ زمزم کیاہے جہاں آپ کھڑے ہیں، یہ پانی کیسا ہے جسے آپ پی رہے ہیں، یہ صفا کیسی پہاڑی ہے جس سے آپ سعی کی ابتدا کرتے ہیں، اور یہ سات چکر کیسے ہیں جو آپ صفا اور مروہ کے درمیان لگاتے ہیں۔
ان میں سے ہرمقام اپنی ایک تاریخ رکھتاہے اور اس تاریخ کے اندر ایک درسِ عبرت ہے۔ آج بیت اللہ اور زمزم اور مقامِ ابراہیم ؑ جس جگہ واقع ہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور اپنے شیرخوار بچے حضرت اسماعیل کو صرف ایک مشکیزہ پانی اور تھیلا کھجوروں کا دے کر بالکل یکہ وتنہا چھوڑگئے تھے۔ یہاں کوئی پانی نہ تھا، کوئی غذا کا سامان نہ تھا۔ دور دور کوئی بستی نہ تھی۔ اور بظاہر یہ دونوں ماں اور بچہ اس سنسان وادی میں قطعی بے سہاراتھے۔ حضرت ابراہیمؑ جب انہیں چھوڑ کر واپس جانے لگے تو حضرت ہاجرہؓ ان کے پیچھے چلیں۔ بار بار پوچھتی تھیں کہ آپ ہمیں کہاں چھوڑے جارہے ہیں، مگر وہ خاموش چلے جارہے تھے۔ آخر حضرت ہاجرہؓ نے پوچھا۔ ’’کیا یہ کام آپ اللہ کے حکم سے کررہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ اس پر حضرت ہاجرہؓ نے کہا، اگر یہ بات ہے تو اللہ یقینا ہمیں ضائع نہ ہونے دے گا۔پھر وہ پورے اطمینان کے ساتھ اللہ کے بھروسے پر اپنے بچے کے پاس آکر بیٹھ گئیں۔ حضرت ابراہیمؑ جب اس وادی سے نکلنے لگے تو پلٹ کر انہوں نے وادی کی طرف رُخ کیا اور اللہ سے دعا مانگی کہ :
رَبَّنَآ اِنِّیْ اسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِذِیْ زَرْعٍ عِنْدَبَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ، رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ ٓاِلَیْھِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ۔ (ابراھیم:۳۷)
’’اے پروردگار!میںنے اپنی نسل کا ایک حصّہ ایک بے آب وگیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے قریب لابسایا ہے۔ اے پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیاہے کہ یہ یہاں نماز قائم کریں۔ پس تو ایسا کرکہ لوگوں کے دل ان کی طرف کھچیں اوران کو پھلوں سے رزق دے تاکہ یہ شکر گزارہوں۔‘‘
دیکھیے کیا شانِ تسلیم ورضا اور کیا شانِ توکّل علی اللہ تھی اس شوہر اور باپ کی جس نے اللہ رب العالمین کا اشارہ پاتے ہی اپنی بیوی اور بچے کو ٹھنڈے دل سے اس بے آب وگیاہ وادی میں لاکرچھوڑدیااور کس درجے کایقین واعتماد اپنے خدا پرتھا اس خاتون کو جو یہ معلوم ہونے کے بعد بالکل مطمئن ہوگئی کہ اسے اور اس کے ننھے بچّے کو اللہ کے حکم سے یہاںیکّہ وتنہا چھوڑا جارہاہے۔
جب پانی اور کھجوروںکا ذخیرہ ختم ہوگیا اور دونوں ماں اور بچہ بھوک پیاس سے تڑپنے لگے تو حضرت ہاجرہؓ اسی زمزم کے مقام پر بچے کو لٹاکر صفا کی پہاڑی پر پہنچیں تاکہ چاروں طرف نگاہ ڈال کر دیکھیں کہ کہیں کوئی مدد کرنے والا ہے؟ پھر صفا سے اتر کر مروہ کی طرف دوڑیں اور اس پر چڑھ کر پھر انہوں نے چاروں طرف دیکھا کہ شاید کوئی مدد کرنے والا نظر آجائے۔ اس طرح ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان وہ مسلسل سات دفعہ دوڑیں۔ آخری مرتبہ جب وہ مروہ پر تھیں تو انہوں نے ایک آواز سنی۔ یقین نہ آیا کہ یہ واقعی کس کی آواز ہے۔ پھرکان لگا کرسُنااور وہی آوازآئی۔ زمزم کی طرف دیکھا جہاں بچے کو لٹا کر گئی تھیں توایک شخص نظر آیا جو دراصل اللہ کا فرشتہ تھا۔ اس نے زمین پر پاؤں مارا اوریکایک ایک چشمہ نکل آیا۔ پھر اس نے حضرت ہاجرہؓ سے کہا، اطمینان رکھو، اللہ ضائع کرنے والا نہیں ہے، یہاں اللہ کا گھر بننے والا ہے جسے تمہارا یہ لڑکااور اس کا باپ تعمیر کرے گا۔
اسی واقعہ کی یادگار یہ سعی بین الصفا والمروَہ ہے جو آج عمرے اور حج میں کی جاتی ہے۔ حضرت ہاجرہؓ نے صفا سے سعی کی ابتدا کی تھی، اس لیے ہماری سعی بھی اسی سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے سات چکر لگائے تھے، اس لیے ہم بھی سات چکر لگاتے ہیں۔ انہوں نے سعی کے بعد آکر پانی پیا تھا، کیونکہ اس سے پہلے یہاں پانی موجود نہ تھا۔ ہم سعی سے پہلے اللہ تعالیٰ کے معجزے سے پیدا ہونے والایہ پانی پیتے ہیں، کیونکہ اب وہ موجود ہے۔ یہ سارے کام جو حضرت ہاجرہؓ کے اس فعل کی نقل کے طور پر کیے جاتے ہیں، ان کی اصل روح یہ ہے کہ ہم اپنے اندر وہی تسلیم ورضا ، وہی توکّل علی اللہ اور وہی یقین واعتماد پیدا کرنے کی کوشش کریں جس کا حیرت انگیز مظاہرہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت ہاجرہؓ نے کیا تھا۔ ہمیں جب یہ معلوم ہوجائے کہ کسی کام کا حکم اللہ جل شانہٗ کی طرف سے ہے توپھر کوئی خطرہ اور کوئی اندیشہ ہمیں اس کی تعمیل سے باز نہ رکھ سکے۔ ہم پورے یقین کے ساتھ اس بھروسے پر چھلانگ لگادیں کہ جس خدانے اس ظاہری خطرے میں کود جانے کا ہمیں حکم دیاہے وہ ہمیں ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ ہماری بھلائی اسی کام میں ہے جس کا اس نے حکم دیاہے۔ یہ درس جس نے بھی یہاں سے حاصل کرلیا وہ آبِ زمزم پینے اور صفاومروہ کے درمیان دوڑنے کے سارے روحانی فوائد لوٹ لے گیا۔
یہ بات بھی جان لیجیے کہ ان مناسک کو ادا کرتے ہوئے بھی اللہ کا ذکر اور اس سے دعا کا سلسلہ برابر جاری رہنا چاہیے۔ آپ چاہِ زمزم پر پانی پئیں تو اللہ سے دعا کریں کہ:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ رِزْقًا وَاسِعًا، وَعِلْمًا نَافِعًا وَشِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ۔
’’خدایا، میں تجھ سے فراخ روزی، نفع بخش علم، اور ہر بیماری سے شفا مانگتاہوں۔‘‘
صفا پر چڑھیں تو کعبے کی طرف رخ کرکے کہیں:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ عَلٰی مَاھَدَانَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا اَوْلاَنَا، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ، اَنْجَزَوَعْدَہٗ وَنَصَرَعَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَلاَنَعْبُدُ اِلاَّ اِیَّاہُ، مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔
’’اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے اوراسی کے لیے ساری تعریف ہے۔ ہم اللہ کی بڑائی کرتے ہیں اس شکر میں کہ اس نے ہمیں ہدایت بخشی اور اس کی تعریف کرتے ہیں ان احسانات پرجو اس نے ہم پر کیے ہیں۔ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے، وہی جِلاتااور مارتاہے۔ اسی کے اختیار میں بھلائی ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتاہے۔ کوئی معبود اکیلے اللہ کے سوا نہیں ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اپنے بندے (محمد ﷺ) کی مدد کی اور سارے جتھوں کو اسی اکیلے نے شکست دے دی ۔ کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں، ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘
یہی کچھ آپ مروہ پر بھی کہیں ، اور صفاومروہ کے درمیان چلتے ہوئے یہ دعا کرتے جائیں:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ۔
’’اے رب! بخش دے اور رحم کر، ہمارے ان سارے قصوروں سے درگزر فرما جو تیرے علم میں ہیں، تو سب پر غالب اور بڑا کریم ہے۔‘‘
حج
آٹھویں ذی الحجہ کی صبح کو تمام حاجی مکّہ معظمہ سے حج کے لیے نکلتے ہیں اور جن لوگوں نے تمتُّع کرتے ہوئے عمرے کے بعد احرام کھو ل لیا تھا وہ بھی نئے سرے سے احرام باندھ لیتے ہیں۔ اب اصل حج شروع ہوتاہے۔یہ لاکھوں احرام بند حاجی بیک وقت مکّے سے چل کر لبیّک لبیّک کہتے ہوئے ۸؍ذی الحجہ کو منٰی جااترتے ہیں۔ پھر یہی مجمع عظیم ۹؍ذی الحجہ کی صبح کو بیک وقت لبیّک لبیّک کہتاہوا چلتاہے اور حدودِ حرم سے باہر جاکر عَرَفات کے میدان میں پڑاؤ ڈال دیتاہے۔ پھر اسی روز شام کو یہ پورا مجمع اٹھتاہے اور لبیّک لبیّک پکارتاہوا مزدلفہ جا اترتاہے۔ پھر ۱۰؍ذی الحجہ کو طلوعِ آفتاب سے پہلے پہلے حاجیوں کا یہ سیلاب لبیّک کہتاہوا اٹھتاہے اور منٰی واپس پہنچ جاتاہے۔ پھر یہ سب لوگ لبیک کہتے ہوئے جمرۂ عقبہ کی طرف چلتے ہیں اور اس پر سات کنکریاں مارتے ہیں۔ پھر یہ لوگ منـی ہی میں قربانی کرتے ہیں۔ پھر سب سر کے بال منڈواتے یاترشواتے ہیں۔پھر جوق درجوق مکہ معظمہ پہنچ کر طواف اور سعی کرتے ہیں۔ پھر منـٰی واپس ہوکر دودن یا تین دن قیام کرتے ہیں اور ان ایام میں ہرروز تینوں جمروں پر رمی کرتے ہیں۔یہی اعمال ہیں جن کا نام حج ہے۔
جو لوگ عبادت کے معنی اور حج کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ حیران ہوکر سوچنے لگتے ہیں کہ آخر یہ کیسی دوڑ دھوپ ہے جس کے لیے دنیا بھر سے کھینچ کر لاکھوں آدمیوں کو بلایا جاتاہے؟اور یہ کیا عبادت ہوئی کہ مکّہ سے اٹھے اور منٰی پہنچ گئے، وہاں سے اُٹھے اور عرفات جا ٹھہرے، پھر چلے اور مُزدَلِفَہ میں رات گزاردی، پھر منٰی پہنچے اور وہاں ایک پتھر کوکنکریاںماردیں؟ لیکن آپ ذرا سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ اس ساری دَوڑ دھوپ میں جو زحمت آدمی کو پیش آتی ہے، جو تکلیفیں اس کو اٹھانا پڑتی ہیں، جس مشقت اور بے آرامی سے اس کو سابقہ درپیش ہوتاہے، جس طرح وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بے ٹھکانے ہوتاچلاجاتاہے، اللہ کی راہ میں یہی سب کچھ برداشت کرنا تو اصل عبادت ہے۔ عُمرے میں طواف وسعی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ وہ فرداً فرداً کیا جاتاہے۔ ایک فرد کے لیے ایک دن عرفات جا ٹھیرنا، ایک رات مُزدَلِفَہ میں گزاردینا اور دوچار روز منٰی میں ٹھہرجانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی لیے عمرہ کرنے والے کو ان کاموںمیں سے کوئی کام بھی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن حج میں لاکھوں آدمیوں کو بیک وقت یہ دوڑ دھوپ کرنا ہوتی ہے جس میں کوئی بڑے سے بڑا صاحبِ ثروت آدمی بھی زحمتیں اٹھائے اور آسایشوں سے محروم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حج کی اجتماعی عبادت میں طواف وسعی سے زاید یہ مناسک رکھے گئے ہیں۔ اس سے مقصود ہر بندۂ مومن میں یہ کیفیت پیدا کرناہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے ہر آسایش سے دَست کَشْ ہونے اور اس کی راہ میں ہرزحمت اٹھانے کے لیے تیار ہوجائے۔ یہی اللہ پر ایمان لانے کا تقاضا ہے۔ یہی بندگی کے معنی ہیں۔ اور یہی اس عبادت کی روح ہے۔اس عبادت کے دوران میں جو شخص ان ساری تکلیفوں کو پورے اطمینان اور قلب وروح کی پوری مسرّت کے ساتھ قبول کرتاہے اور اپنے ساتھ کے حاجیوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کرتا بلکہ سخت کشمکش کے مواقع پر بھی صبروضبط سے کام لیتاہے اور خود تکلیف اٹھاکر دوسروں کو آرام پہنچاتا ہے وہ حج کا ثواب لوٹ لیتاہے۔ اور اس کے برعکس جو شخص اپنی ہر بے آرامی پر چیںبہ جبیں ہوتاہے، ہرزحمت پر کبیدہ خاطر ہوتاہے، اور ساتھ کے حاجیوں سے اپنے آرام کی خاطر مزاحمت کرتا اور لڑتا جھگڑتا ہے وہ حج کے ثواب کو ضائع کردیتاہے۔ اس بے چارے کے حصّے میں خالص مشقّت ہی رہ جاتی ہے۔ اجرہوا میں اُڑجاتاہے۔
یہ بات بھی ملحوظ رکھیے کہ حج کے ان اعمال کو ادا کرتے وقت آپ خواہ کچھ بھی نہ پڑھیں اور وقت پر نماز ادا کرنے کے سوا کوئی دوسرا عمل نہ کریں، تب بھی حج پورا ہوجائے گا اور بجائے خود حج کاجو ثواب ہے وہ آپ کومِل جائے گا۔مگربدقسمت ہے و ہ شخص جسے اللہ سے تقرب حاصل کرنے کا یہ نادر موقع نصیب ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ مکّہ معظّمہ سے نکلنے کے بعد یوم النحر کی پہلی رمی تک بہترین ذکر یہ ہے کہ آدمی زیادہ سے زیادہ تلبیہ ۱؎ کرے اور اس شعور کے ساتھ کرے کہ میرا مولیٰ اب منـٰی بلارہاہے تو میں حاضر ہوں، اب عرفات بلارہاہے تواس کے لیے بھی حاضر ہوں، اب مزدلفہ بُلارہاہے تو اس کے لیے بھی حاضر ہوں اور اب رمی کے لیے منٰی طلب کررہاہے تو اس کے لیے بھی حاضر۔ ہرمرتبہ لبیّک کہتے ہوئے آپ محسوس کریں کہ رب العالمین کی طرف سے آپ کی طلبی ہورہی ہے اور آپ اس کے جواب میں کہہ رہے ہیں کہ میں حاضرہوں۔ اس احساس کے ساتھ جب آپ بار بار لبیّک کہیں گے تو ان شاء اللہ آپ کے دل میں ذوق وشوق کی وہ کیفیت پیدا ہوگی اور رُوح اس کے اندر وہ لذّت پائے گی جس کے مقابلے میں ہرلذّت ہیچ ہوجائے گی۔
تَلْبِیَہتلبیہ کے معنی ہیں لبیک لبیک کہنا۔ کے علاوہ بیچ بیچ میں کثرت سے اللہ کی حمد اور تکبیر وتہلیل کرتے جایئے، کثرت سے نبی ﷺ پر درود بھیجئے۔ کثرت سے اپنے حق میں، اپنے والدین کے حق میں، اور سب مومنین ومومنات کے حق میں دعائے مغفرت کیجیے۔ اور خاص طورپر وقوفِ عرفہ کے آخری وقت میں اور قیام مزدلفہ کی رات میں تو اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کے ذکر اور دُعا واستغفار میں صرف کردیجیے۔ پھر ایّام تشریق میں منٰی کے قیام کا زمانہ فضول مشاغل میں نہ ضائع کیجیے، بلکہ اسے خَیر اور صلاح کی تبلیغ میں، دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ روابط پیدا کرنے میں، اور اعلائے کلمۃ الحق کی فکر وسعی میں صرف کیجیے تاکہ حج کے روحانی واخلاقی فوائد کا کوئی پہلو بھی چھوٹنے نہ پائے۔ (خطبات حرم: دوسرا خطبہ)
ماخذ
(۱) بخاری ج۱کتاب المناسک، باب التلبیۃ۔٭ مسلم ج۱کتاب الحج باب التلبیۃ وصفتھا ووقتھا۔٭ ابوداؤد کتاب المناسک کیف التلبیۃ۔٭نسائی کتاب مناسک الحج باب کیف التلبیۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب المناسک باب التلبیۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵کتاب الحج باب کیف التلبیۃ۔
(۲) ابوداؤدج۲کتاب المناسک باب کیف التلبیۃ۔ ٭ ترمذی ج۱ابواب الحج، باب ماجاء فی التلبیۃ۔ ٭موطا امام مالک ج۱کتاب الحج، العمل فی الاھلال عن ابن عمر۔٭ نسائی ج۵کتاب مناسک الحج باب کیف التلبیۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب المناسک باب التلبیۃ۔٭دارمی کتاب المناسک باب فی التلبیۃ۔٭مسندِ احمد ج۱ص۲۔۳۔ ج۲ص۳۔۷۹۔ ٭مصنف لابن ابی شیبۃ ج۱/۴۔ عن ابن عمر۔ کتاب الحج باب فی التلبیۃ کیف ھی؟
(۳) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵کتاب الحج باب کیف التلبیۃ۔٭المستدرک للحاکم ج۱۔کتاب المناسک من تلبیۃ رسول اللہ ﷺ۔٭مصنف لابن ابی شیبۃ ج۱/۴۔
(۴) بخاری ج۱کتاب المناسک باب التلبیۃ۔٭مصنف لابن ابی شیبۃ ج۱/۴کتاب الحج۔ باب فی التلبیۃ کیف ھی۔ ٭مجمع الزوائد ج۳۔ کتاب الحج، باب الاھلال والتلبیۃ عن ابن عباس۔ ٭کنزالعمال ج۵۔ حدیث ۱۲۵۸۵۔
(۵) بخاری ج۱کتاب المناسک باب وجوب الصفا والمروۃ وجُعل من شعائر اللہ۔٭ مسلم ج۱کتاب الحج باب ان السعی بین الصفا والمروۃ رکن لایصح الحج الابہ۔٭ ابوداؤدج۲کتاب المناسک باب امر الصفا والمروۃ (مختصر) ٭ترمذی ج۲ ابواب تفسیر القرآن من سورۃ البقرۃ۔٭نسائی ج۵کتاب الحج باب ذکر الصفا والمروۃ۔ ٭ابن ماجہ کتاب المناسک باب السعی بین الصفا والمروۃ (مختصر)٭ مؤطا کتاب الحج باب جامع السعی۔٭مسندِ احمد ج۶ص۱۴۴۔۲۲۷۔ عن عائشۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵کتاب الحج باب وجوب الطواف بین الصفا والمروۃ۔
(۶) ابن ماجہ ج۲کتاب المناسک باب الموقف بعرفات۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب المناسک باب الوقوف بعرفات۔ ٭کنزالعمال ج۵۔ح۱۲۰۵۰۔
(۷) ابن ماجہ ج۲ کتاب المناسک باب الموقف بعرفات٭ابوداؤد ج۲ کتاب المناسک باب الصلاۃ بِالْجُمْعِ۔
(۸) مؤطا امام مالک کتاب الحج باب الوقوف بعرفۃ والمزدلفۃ۔٭ابوداؤد ج۲کتاب المناسک باب صفۃ حجۃ النبی ﷺ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵کتاب الحج باب حیث ماوقف من عرفۃ اجزاہ۔٭کنزالعمال ج۵۔ ح۱۲۰۵۱۔
(۹) دارمی کتاب المناسک باب عرفۃ کلّھا موقفٌ۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۵کتاب الحج باب الحرم کلہ منحر۔ ٭کنزالعمال ج۵ص۱۸۷۔
(۱۰) نسائی ج۵ کتاب المناسک باب رفع الیدین فی الدعاء بعرفۃ۔
(۱۱) ترمذی ج۱ابواب الحج باب ماجاء ان عرفۃ کلھا موقف۔ ٭مسند احمد ج۱ص۷۲،۷۵،۷۹،۸۱، ۱۵۷۔ج۳ ص۳۲۱،۳۲۶۔ج۴ص۸۲۔٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب المناسک۔٭مصنف لابن ابی شیبۃ ج۱/۴ ص۲۶۶ عن ابن الزبیر(مختصر)۔
(۱۲) مسلم ج۱کتاب الحج باب حجۃ النبی ﷺ۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵۔کتاب الحج باب حیث ماوقف من عرفۃ اجزاہ۔٭ المستدرک للحاکم ج۱۔کتاب المناسک، باب خطبۃ النبی ﷺ فی حجۃ الوداع۔ باختلاف الفاظ۔ ٭ مصنف لابن ابی شَیْبَۃَج۱/۴ کتاب الحج، من قال: عرفۃ کلھا موقف الابطن محسرۃ۔
(۱۳) روح المعانی ج۳۰/۲۸ جلد۱۰سورہ قریش۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵ خطیب فی تاریخہ عن سعید بن المسیب مرفوعًا بحوالہ فتح القدیر۔٭بخاری فی تاریخہ ابن مردویہ، بیھقی بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج۵ سورہ قریش ذکر حدیث غریب فی فضلھا۔
(۱۴) ابن کثیر ج۴ سورہ قریش۔٭المستدرک للحاکم ج۲ص۵۳۶۔
(۱۵) بخاری ج۲کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیـبـیـۃ۔٭مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز حلق الرأس للمحرم اذا کان بہ اذی الخ۔٭دارقطنی کتاب الحج ج ۲ح۲۷۹۔
(۱۶) بخاری ج۲کتاب التفسیر سورۃ بقرہ۔ باب قولہ فمن کانَ منکم مریضا اَوْ بہ اذیً من رَّأسِہٖ۔٭ بخاری ج۲ کتاب الطب باب الحلق من الاذی اور ابواب العمرۃ۔ج۱باب قول اللہ اوصدقۃ وھی اطعام ستۃ مساکین۔ اور باب النسک شاۃ۔٭مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز حلق الراس للمحرم اذا کان بہ اذی الخ۔٭ ترمذی ج۲ ابواب التفسیر سورہ بقرۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب المناسک باب ۸۶فدیۃ المحصر۔ ٭مسند احمدج۴ص۲۴۲۔
(۱۷) مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز حلق الرأس للمحرم اذا کان بہ اذی الخ۔ ٭مؤطا امام مالک کتاب الحج۔
(۱۸) ترمذی ج۱ ابواب المناسک باب ماجاء فی المحرم یحلق رأسہ فی احرامہ ما علیہ۔٭مسلم ج۱ کتاب الحج باب جواز حلق الرأس للمحرم اذا کان بہ اذی الخ۔
فصل سوم : ہَدی اور قربانی کے احکام ہَدی کے جانور اور اُن پر سواری کا مسئلہ
۱۶۔ نبی ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلا جارہاہے اور سخت تکلیف میں ہے۔ آپؐ نے فرمایا : ’’اس پر سوار ہوجا۔‘‘ اس نے عرض کیا یہ ہدی کا اونٹ ہے؟ آپؐ نے فرمایا:’’ ارے سوار ہوجا۔‘‘
تشریح:شعائر اللہ میں ہدی کے جانور بھی داخل ہیں۔ جیسا کہ اہل عرب مانتے تھے اور قرآن بھی کہتاہے کہ وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ۔ (الحج:۳۶)’’ اور ان ہدی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیاہے۔‘‘ اب سوال پیدا ہوتاہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کا جو حکم اوپر دیا گیاہے کیا اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہدی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف جب لے جانے لگیں تو ان کو کسی طرح بھی استعمال نہ کیا جائے؟ ان پر سواری کرنا، یا سامان لادنا، یا ان کے دودھ پینا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف تو نہیں ہے؟ عرب کے لوگوں کا یہی خیال تھا۔ چنانچہ وہ ان جانوروں کو بالکل کوتَل لے جاتے تھے راستے میں ان سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا ان کے نزدیک گناہ تھا۔ اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے (قرآن میں) فرمایا (گیا) کہ قربانی کی جگہ پہنچنے تک تم ان جانوروں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، ایسا کرنا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف نہیں ہے۔ یہی بات (مندرجہ بالا اور) ان احادیث سے معلوم ہوتی ہے جو اس مسئلے میں حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت انسؓ سے مروی ہیں۔
مفسرین میں سے ابنِ عباسؓ، قتادہ، مجاہد، ضَحَّاک اور عطاء خُراسانی اس طرف گئے ہیں کہ آدمی ان جانوروں سے اس وقت تک فائدہ اٹھاسکتاہے جب تک کہ وہ اسے ہدی کے نام سے موسوم نہ کردے اور جونہی کہ وہ اسے ہدی بنا کر بیت اللہ کی طرف جانے کی نیت کرلے، پھر اسے کوئی فائدہ اٹھانے کا حق نہیں رہتا۔ لیکن یہ تفسیر کسی طرح صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اوّل تو اس صورت میں استعمال اور استفادے کی اجازت دیناہی بے معنی ہے۔ کیونکہ ’’ہدی‘‘ کے سوا دوسرے جانوروں سے استفادہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی شک پیدا ہی کب ہوا تھاکہ اسے اجازت کی تصریح سے رفع کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ پھر آیت (لَکُمْ فِیْھَا منَافِعُ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّھَا اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۔الحج: ۳۳) صریح طورپر کہہ رہی ہے کہ اجازت ان جانوروں کے استعمال کی دی جارہی ہے جن پر ’’شعائر اللہ‘‘ کا اطلاق ہو اور ظاہر ہے کہ یہ صرف اسی صورت میں ہوسکتاہے جب کہ انہیں ہدی قراردے دیا جائے۔
دوسرے مفسرین، مثلاً عُروَہ بن زبیر اور عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں قربانی سے پہلے ہدی کے جانوروں کو سواری کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں، ان کے دودھ بھی پی سکتے ہیں، ان کے بچے بھی لے سکتے ہیں اور ان کا اُون، صُوف، بال وغیرہ بھی اتارسکتے ہیں۔ امام شافعیؒ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔حنفیہ اگرچہ پہلی تفسیر کے قائل ہیں، لیکن وہ اس میں اتنی گنجایش نکال دیتے ہیںکہ بشرطِ ضرورت استفادہ جائز ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳، الحج، حاشیہ: ۶۲)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، اَخْبَرَنَا مَالِکٌ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ رَاٰی رَجُلاً یَسُوْقُ بَدَنَۃً فَقَالَ : ارْکَبْھَا، فَقَالَ : اِنَّھَا بَدَنَۃٌ، قَالَ : اِرْکَبْھَا، فَقَالَ : اِنَّھَا بَدَنَۃٌ، قَالَ : اِرْکَبْھَا، وَیْلَکَ، فِی الثَّانِیَۃِ اَوْ فِی الثَّالِثَۃِ۔(۱)
بخاری نے حضرت انس بن مالک سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔
قال ابوعیسٰی۔ حدیث انس حدیث صحیح حسن وقد رخص قوم من اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرھم فی رکوب البدنۃ۔ اذا احتاج الی ظھرھا وھو قول الشافعی واحمد واسحاق وقال بعضھم لایرکب مالم یضطر الیہ۔(۲)
قربانی کس پر فرض ہے
سورۂ بقرہ : ۱۹۶ میں تین حکم الگ الگ بیان فرمائے گئے ہیں:
(۱) جب آدمی نے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھ لیا ہو اور پھر کوئی مانع ایسا پیش آگیا ہوکہ حرم تک پہنچنا ممکن نہ رہاہو تو اسے ہدی بھیجنی چاہیے اور اس وقت تک احرام سے باہر نہ آنا چاہیے جب تک ہَدی کی قربانی نہ ہوچکی ہو۔
(۲) اگر آدمی کسی بیماری کی وجہ سے حجامت کرانے پر مجبور ہوجائے تو حجامت کرالے اور فدیہ ادا کردے۔
(۳) اگر کوئی امرِ مانع پیش نہ آیاہو اور آدمی حرم پہنچ گیا تو تمتُّع یا قران کی صورت میں اسے قربانی دینی ہوگی۔ البتہ افراد کرنے کی صورت میں اس پر کوئی دم واجب نہ ہوگا۔ (ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۷۷ء بحوالہ رسائل ومسائل حصہ پنجم ص۱۳۵۔۱۳۶)
جانور ذبح کرنے کا حکم اور فلسفہ
۱۷۔اِنَّ اللّٰہَ لاَیَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَلاَ اِلٰی اَلْوَانِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔
’’اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے رنگ نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دل اور تمہارے اعمال دیکھتاہے۔‘‘
تشریح : جاہلیت کے زمانے میں اہل عرب جس طرح بتوں کی قربانی کا گوشت بتوں پر لے جاکر چڑھاتے تھے، اسی طرح اللہ کے نام کی قربانی کا گوشت کعبہ کے سامنے لاکر رکھتے اور خون اس کی دیواروں پر لتھیڑتے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ قربانی گویا اس لیے کی جاتی تھی کہ اللہ کے حضور اس کا خون اور گوشت پیش کیا جائے۔ اس جہالت کا پردہ چاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اصل چیز جو اللہ کے حضور پیش ہوتی ہے وہ جانور کا گوشت اور خون نہیں، بلکہ تمہارا تقویٰ ہے۔ اگر تم شکرِ نعمت کے جذبے کی بنا پر خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ کے لیے قربانی کروگے تو اس جذبے اور نیت اور خلوص کا نذرانہ اس کے حضور پہنچ جائے گا، ورنہ خون اور گوشت یہیں دھرا رہ جائے گا۔ (تفہیم القرآن ج۳، الحج، حاشیہ: ۷۳)
تخریج (۱): حَدَّثَنَا عَمْرُو النَّاقِدُ، نَا کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامٍ، نَاجَعْفَرُبْنُ بُرْقَانَ، عَنْ یَزِیْدَ ابْنِ الْاَصَمِّ۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِنَّ اللّٰہَ لاَیَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت:
(۲) اِنَّ اللّٰہَ لاَیَنْظُرُ اِلٰی اَجْسَادِکُمْ وَلَا اِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ فَاَشَارَ بِاَصَابِعِہٖ اِلٰی صَدْرِہٖ۔(۳)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہارے جسد اور تمہاری صورتیں نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دل دیکھتاہے ۔ اپنی انگشت مبارک سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔
اونٹ اور گائے کی قربانی
۱۸۔ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ نَشْتَرِکَ فِی الْاَضَاحِیْ البُدْنَۃُ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَۃُ عَنْ سَبْعَۃٍ۔
’’مسلم میں جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺنے ہم کو حکم دیاکہ ہم قربانیوں میں شریک ہوجایا کریں، اونٹ سات آدمیوں کے لیے اور گائے سات آدمیوں کے لیے۔ ‘‘
تشریح :(قرآن میں) لفظ بُدن استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں اونٹوں کے لیے مخصوص ہے۔ مگر نبی ﷺ نے قربانی کے حکم میں گائے کو بھی اونٹوں کے ساتھ شامل فرمادیاہے۔ جس طرح ایک اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کے لیے کافی ہوتی ہے اسی طرح ایک گائے کی قربانی بھی سات آدمی مل کر کرسکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج۳، الحج ،حاشیہ :۶۷)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ یَحْیٰ، اَخْبَرَنَا اَبُوْخَیْثَمَۃَ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ،ح وَحَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ، حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ، حَدَّثَنَا اَبُوالزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُھِلِّیْنَ بِالْحَجِّ، فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ نَّشْتَرِکَ فِی الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلَّ سَبْعَۃٍ مِّنَّا فِی بَدَنَۃٍ۔(۴)
ترجمہ :حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں حج کا احرام باندھ کرسفرِ حج پر نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ ہم اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات افراد شریک ہوجائیں۔
(۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَنَحَرْنَا الْبَعِیْرَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔
ترجمہ:حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں حج کیا۔ ہم نے اونٹ سات افراد اور گائے بھی سات افراد کی طرف سے قربان کی۔
(۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ اشْتَرَکْنَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ کُلَّ سَبْعَۃٍ فِیْ بَدَنَۃٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ اَیَشْتَرِکُ فِی الْبَدَنَۃِ مَایَشْتَرِکُ فِی الْجُزُوْرِ؟ قَالَ: مَاھِیَ اِلاَّ مِنَ الْبُدْنِ وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَیْبِیَّۃَ قَالَ: نَحَرْنَا یَوْمَئِذٍ سَبْعِیْنَ بَدَنَۃً اشْتَرَکْنَا کُلَّ سَبْعَۃٍ فِی بَدَنَۃٍ۔
ترجمہ :حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ ہم نے حج اور عمرہ دونوں میں نبی ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ سات آدمی ایک اونٹ میں شریک ہوتے تھے۔ ایک آدمی نے حضرت جابر ؓ سے پوچھاکیا بَدَنَہ اور جزور کی شراکت برابر برابر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں جزور بھی بدن کی جنس ہی ہے اور حضرت جابر حدیبیہ میں موجود تھے کہتے ہیںکہ ہم نے اس روز ستّر اونٹ ذبح کیے۔ ہرایک اونٹ میں ہم میں سے سات آدمی شریک ہوئے۔
(۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:کُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِالْعُمْرَۃِ فَنَذْبَحُ الْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ نَشْتَرِکُ فِیْھَا۔
ترجمہ :حضرت جابر ؓسے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں عمرۂ تمتُّع کرتے اور سات آدمی ایک گائے میں شریک ہوکر اسے ذبح کرتے۔
(۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: نَحَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔(۵)
ترجمہ :حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ حُدَیبیہ کے روز ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا۔
اونٹ نحر کرنے کا مسنون طریقہ
۱۹۔ واضح رہے کہ اونٹ کی قربانی اس کو کھڑا کرکے کی جاتی ہے۔ اس کا ایک پاؤں باندھ دیا جاتاہے پھر اس کے حلقوم میں زور سے نیزہ مارا جاتاہے، جس سے خون کا ایک فوارہ نکل پڑتاہے، پھر جب کافی خون نکل جاتاہے تب اونٹ زمین پر گرپڑتاہے۔ ابنِ عباس، مجاہد،ضحاک وغیرہ نے یہی تشریح کی ہے (بلکہ نبی ﷺ سے بھی یہی منقول ہے)۔ چنانچہ مسلم اور بخاری میں روایت ہے کہ ابنِ عمرؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر قربانی کررہاتھا۔ اس پر انہوں نے فرمایا اَبْعَثْھَا قِیَامًا مُقَیَّدَۃً سُنَّۃُ اَبِی الْقَاسِمِ ﷺ ۔ ’’اس کو پاؤں باندھ کر کھڑا کر،یہ ہے ابوالقاسم ﷺ کی سنت۔‘‘ابوداؤد میں جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہ اونٹ کابایاں پاؤں باندھ کر باقی تین پاؤں پر اُسے کھڑا کرتے تھے، پھر اس کو نحر کرتے۔ اسی مفہوم کی طرف خود قرآن بھی اشارہ (کرتا) ہے: فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا’آیت فاذکروا اسم اللہ علیھا صوآفّ ، فاذا وجبت جنوبھا۔ (الحج: ۳۶)’جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں‘‘ یہ اُسی صورت میں بولیں گے جب کہ جانور کھڑا ہو اور پھر زمین پر گرے۔ ورنہ لٹاکر قربانی کرنے کی صورت میں تو پیٹھ ویسے ہی ٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳، الحج حاشیہ: ۶۹)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمۃَ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ یُوْنُسَ: عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ، اَتٰی عَلٰی رَجُلٍ قَدْ اَنَاخَ بَدَنَتَہٗ یَنْحَرُھَا قَالَ:اَبْعَثْھَا قِیَامًا مُقَیَّدَۃً سُنَّۃُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَقَالَ شعبۃ عن یونس، قال : اخبرنی زیادٌ۔(۶)
ترجمہ : زیاد بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے ابنِ عمرؓ کو دیکھا کہ وہ ایک ایسے آدمی کے پاس پہنچے جو اپنے قربانی کے اونٹ کو زمین پر بٹھا کر نحر کررہاہے۔ یہ دیکھ کر ابنِ عمرؓ نے اسے کہا اس کو باندھ کر کھڑا کر۔ یہ ہے ابوالقاسم ﷺ کی سنت۔
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَاَخْبَرَنِی عَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ سَابِطٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ وَاَصْحَابَہٗ کَانُوْا یَنْحَرُوْنَ الْبَدَنَۃَ مَعْقُوْلَۃَ الْیُسْریٰ قَائِمَۃً عَلٰی مَابَقِیَ مِنْ قَوَائِمِھَا۔(۷)
ترجمہ : حضرت جابر کہتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن سابط نے بتایا کہ نبی ﷺ اورآپؐ کے صحابہ اپنے قربانی کے اونٹ کو اس کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی تین پاؤں پر کھڑا کرکے نحر کرتے تھے۔
حدیث ابن جریج عن ابی الزبیر عن جابر موصول وحدیثہ عن عبدالرحمن بن سابط مرسل۔
(۳) حَدَّثَنَا مُوْسٰی ابْنُ اِسْمَاعِیْلَ،ثَنَا وَھْبٌ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺَ نَحَرَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِیَدِہٖ قِیَامًا۔ وَضَحّٰی بِالْمَدِیْنَۃِ بِکَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ۔(۸)
ترجمہ :حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے قربانی کے سات اونٹوں کو کھڑا کرکے اپنے دستِ مبارک سے نحر فرمایا اور مدینہ میں آپؐ نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح فرمائے۔
(۴) حَدَّثَنَا سَھْلُ بْنُ بَکَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وَھَیْبٌ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ ﷺ الظُّھْرَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَالْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ فَبَاتَ بِھَا فَلَمَّا اَصْبَحَ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ فَجَعَلَ یُھَلِّلُ وَیُسَبِّحُ فَلَمَّا عَلاَ عَلَی الْبَیْدَآئَ لَبّٰی بِھِمَا جَمِیْعًا فَلَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ اَمَرَھُمْ اَنْ یَّحِلُّوْا وَنَحَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِیَدِہٖ سَبْعَۃَ بُدْنٍ قِیَامًا وَضَحّٰی بِالْمَدِیْنَۃِ کَبْشَیْنِ اَمْلَحَیْنِ اَقْرَنَیْنِ۔(۹)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیںاور ذوالحلیفہ کے مقام پر عصر کی دورکعتیں ۔ رات بھی وہیں گزاری، جب صبح ہوئی تو اپنی سواری پر سوار ہوئے تکبیر اور تسبیح شروع کردی۔ جونہی میدانِ بیداء پر چڑھے تو دونوں (حج اور عمرہ) کا تلبیہ پڑھنا شروع کردیا۔ پھر جب مکہ میں داخل ہوئے تو احرام کھول دینے کا فرمان جاری فرمادیا۔ نبی ﷺ نے قربانی کے سات اونٹ کھڑے کرکے اپنے ہاتھ سے نحر فرمائے۔ اور مدینہ میں دوچتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح فرمائے۔
جانور ذبح کرنے کی دعا
۲۰۔بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔
’’اللہ کے نام کے ساتھ ، اور اللہ سب سے بڑا ہے، خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔‘‘
اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔ ان الفاظ میں یہ دُعا مجھے کہیں نہیں ملی۔ (مرتب)
’’اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔ ‘‘
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔
’’میں نے یکسو ہوکر اپنا رُخ اس ذات کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیںہوں۔ بے شک میری نماز اور قربانی اور میرا مرنا اور جینا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا مجھے حکم دیا گیاہے اور میں سراطاعت جھکادینے والوں میں سے ہوں۔ خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن ج۳، الحج ،حاشیہ: ۷۰)
قربانی کرتے وقت اللہ کانام لینے کی یہ مختلف صورتیں احادیث میں منقول ہیں:
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُوْسٰی الرَّازِیُّ، ثَنَا عِیْسٰی، ثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ اِسْحَاقَ عَنْ یَزِیْدَ ابْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ اَبِیْ عَیَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: ذَبَحَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ الذَّبْحِ کَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مُوْجَئَیْنِ فَلَمَّا وَجَّھَھُمَا قَالَ: اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، لاَشَرِیْکَ لَہٗ، وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَاُمَّتِہٖ بِاسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن دوچتکبرے سینگوں والے خصی مینڈھے ذبح کیے، جب آپؐ نے ان کو رو بہ قبلہ لٹالیا تو کہا میں نے اپنا رخ اس ذات گرامی کی طرف کیا ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ میں ملتِ ابراہیم پر قائم ہوں جو یکسُو تھا میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ بلاشبہ میری نماز، میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک وساجھی نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیاہے اور میں سرِ اطاعت جھکادینے والوں میں سے ہوں۔ یا اللہ یہ قربانی تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔ اے اللہ محمد ﷺ اور ان کی امت سے اسے قبول فرما۔ اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے (یہ تکبیر پڑھ کر) اس کو ذبح کیا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، قَالَ :حَدَّثَنَا اَبُوْدَاؤدَ، قَالَ: حَدَّثَنِی اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُوْسٰی الرَّازِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا عِیْسٰی، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ اَبِیْ عَیَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: ذَبَحَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ کَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجَئَیْنِ فَلَمَسَا وَجَّھَھمُاَ قَالَ :اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَاُمَّتِہٖ بِاسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ۔(۱۱)
قربانی واجب ہے یا سنت؟
قربانی صرف اس لیے واجب نہیں کی گئی ہے کہ یہ تسخیر حیوانا ت کی نعمت پر اللہ کا شکریہ ہے، بلکہ اس لیے بھی واجب کی گئی ہے کہ جس کے یہ جانور ہیں، اور جس نے انہیں ہمارے لیے مسخرکیاہے، اس کے حقوقِ مالکانہ کا ہم دل سے بھی اور عملاً بھی اعتراف کریں، تاکہ ہمیں کبھی یہ بھول لاحق نہ ہوجائے کہ یہ سب کچھ ہمارا اپنامال ہے۔ اسی مضمون کو وہ فقرہ ادا کرتاہے جو قربانی کرتے وقت کہاجاتاہے کہ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ۔ ’’خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔‘‘
اس مقام پر یہ جان لیناچاہیے کہ قربانی کا جو حکم دیا گیا وہ صرف حاجیوں کے لیے ہی نہیں ہے، اورصر ف مکّے میں حج ہی کے موقع پر ادا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام ذی استطاعت مسلمانوں کے لیے عام ہے، جہاں بھی وہ ہوں، تاکہ وہ تسخیر حیوانات کی نعمت پر شکریہ اور تکبیر کا فرض بھی ادا کریں اور ساتھ ساتھ اپنے اپنے مقامات پر حاجیوں کے شریکِ حال بھی ہوجائیں۔ حج کی سعادت میسر نہ آئی نہ سہی، کم از کم حج کے دنوں میں ساری دنیا کے مسلمان وہ کام تو کررہے ہوں جو حاجی جوارِ بیت اللہ میں کریں۔ اس مضمون کی تصریح متعدد صحیح احادیث میں وارد ہوئی ہے اور بکثرت معتبر روایات سے بھی ثابت ہوا ہے کہ نبی ﷺ خود مدینۂ طیّبہ کے پورے زمانۂ قیام میں ہرسال بقرعید کے موقع پر قربانی کرتے رہے اور مسلمانوں میں آپ ہی کی سنت سے یہ طریقہ جاری ہوا۔
مسلم میں جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مدینے میں بقرعید کی نماز پڑھائی اور بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ آپؐقربانی کرچکے ہیں اپنی اپنی قربانیاں کرلیں، اس پر آپؐ نے حکم دیا کہ مجھ سے پہلے جن لوگوں نے قربانی کرلی ہے وہ پھر اعادہ کریں۔
پس یہ بات شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ بقرعید کے روز جو قربانی عام مسلمان دنیا بھر میں کرتے ہیں، یہ نبی ﷺ ہی کی جاری کی ہوئی سنت ہے۔ البتہ اگر اختلاف ہے تو اس امر میں کہ آیا یہ واجب ہے یا صرف سنت۔ ابراہیم نخعی، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام محمد اور ایک روایت کے مطابق امام ابویوسف بھی، اس کو واجب مانتے ہیں۔ مگر امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک یہ صرف سنت مسلمین ہے، اور سفیان ثوری بھی اس بات کے قائل ہیںکہ اگر کوئی نہ کرے تو مضائقہ نہیں۔ تاہم علماء امت میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اگر تمام مسلمان متفق ہوکر اسے چھوڑدیں تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ نئی اُپج صرف ہمارے زمانے کے بعض لوگوں کو سوجھی ہے جن کے لیے ان کا نفس ہی قرآن بھی ہے اور سنت بھی۔ (تفہیم القرآن ج۳ ، الحج، حاشیہ :۷۴)
دارالحرب میں گائے کی قربانی کا مسئلہ۱(ایک استفسار کا جواب)۔
میرے نزدیک مسلمانوں نے ہندوستان میں ہندوؤں کو راضی کرنے کے لیے اگر گائے کی قربانی ترک کی تو چاہے وہ کائناتی قیامت نہ آجائے جس کا ذکر قرآن میں آیاہے لیکن ہندوستان کی حد تک اسلام پر واقعی قیامت تو ضرور آجائے گی۔ افسوس یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا نقطۂ نظر اس مسئلہ میں اسلام کے نقطۂ نظر کی عین ضد ہے۔ ان کے نزدیک اہمیت صرف اس امر کی ہے کہ کس طرح دوقوموں کے درمیان اختلاف ونزاع کے اسباب دور ہوجائیں۔ لیکن اِسلام کے نزدیک اصل اہمیت یہ امر رکھتاہے کہ توحید کا عقیدہ اختیار کرنے والوں کو شرک کے ہرممکن خطرہ سے بچایاجائے۔
جس ملک میں گائے کی پوجا نہ ہوتی ہو اور گائے کو معبودوںمیں شامل نہ کیا گیا ہو اور اس کے تقدّس کا بھی عقیدہ نہ پایا جاتاہو۔ وہاں تو گائے کی قربانی محض ایک جائز فعل ہے جس کو اگر نہ کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن جہاں گائے معبود ہو اور تقدّس کا مقام رکھتی ہو، وہاں تو گائے کی قربانی کا حکم ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کو حکم دیاگیا تھا۔ اگرایسے ملک میں کچھ مدت تک مسلمان مصلحتًا گائے کی قربانی ترک کردیں اور گائے کا گوشت بھی نہ کھائیں تو یہ یقینی خطرہ ہے کہ آگے چل کر اپنی ہمسایہ قوموں کے گاؤ پرستانہ عقائدسے وہ متاثر ہوجائیں گے اور گائے کے تقدس کا اثر ان کے قلوب میں اسی طرح بیٹھ جائے گا جس طرح مصر کی گاؤ پرست آبادی میں رہتے رہتے بنی اسرائیل کا حال ہواتھا کہ اُشْرِبُوْا فِی قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ ‘‘ پھر اس ماحول میں جوہندو اسلام قبول کریں گے وہ چاہے اسلام کے اور دوسرے عقائد قبول کرلیں، لیکن گائے کی تقدیس ان کے اندر بدستور موجود رہے گی۔ اسی لیے ہندوستان میں گائے کی قربانی کو میں واجب سمجھتاہوں اور اس کے ساتھ میرے نزدیک کسی نومسلم ہندو کا اسلام اس وقت تک معتبر نہیں ہے جب تک وہ کم از کم ایک مرتبہ گائے کا گوشت نہ کھالے ۔ اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس میںحضورؐ نے فرمایاکہ ’’جس نے نماز پڑھی جیسی ہم پڑھتے ہیں اور جس نے اسی قبلہ کو اختیار کیا جو ہمارا ہے اور جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا وہ ہم میں سے ہے۔‘‘ ’’یہ ہمارا ذبیحہ کھایا‘‘ دوسرے الفاظ میں یہ معنی رکھتاہے کہ مسلمانوں میں شامل ہونے کے لیے ان اوہام وقیود اور بندشوں کا توڑنا بھی ضروری ہے جن کا جاہلیت کی حالت میں کوئی شخص پابند رہاہو۔ (رسائل ومسائل اول: ص۱۷۴۔۱۷۶)
جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب
یہ بات تو بہت صحیح ہے کہ جب کسی مباح چیز کو کوئی حکومت یا کوئی طاقت زبردستی حرام قراردے دے تو اس کی قائم کی ہوئی حرمت کو تسلیم کرنا گناہ ہے اور اس کو توڑدینا واجب ہے۔
شریعت اسلامی کا یہ فطری تقاضا ہے کہ وہ زندگی میں اپنا پورا غلبہ بلاشرکتِ غیرچاہتی ہے اور اگر غیراللہ کا کوئی اقتدار انسانوں پر اپنا دامن پھیلانا چاہتاہو تو اسلامی شریعت اپنے متّبعین کو اس کا باغی دیکھنا چاہتی ہے۔ نہ کہ مطیع ووفا شعار۔ جس نظامِ حق کو گائے کی قربانی جیسے معمولی معمولی مسئلہ میں غیراللہ کی مداخلت گوارا نہیں ہے، وہ آخر اسے کیسے برداشت کرسکتاہے کہ سیاست اور معیشت اور معاشرت کے اہم مسائل میں خدا سے سرکشی کرنے والی کوئی قوت اپنی مرضی کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرے۔
شریعت اسلامی کی یہی اسپرٹ ہمیشہ نظامِ کفر وجاہلیت کے خلاف ارباب حق کو صف آرا کرتی رہی ہے اور آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہوتی رہی ہے کہ میری امت میں جہاد قیامت تک جاری رہے گا، نہ کسی عادل کا عدل اسے ختم کرسکے گا نہ کسی ظالم کا ظلم۔ یہی اسپرٹ ہمیشہ تجدیدِ اسلام کی تحریکوں کی محرّک رہی ہے اور اسی نے صالحین کو ماحول کی خوفناکیوں کے آگے جھک جانے سے روکا ہے۔
مگر جہاںیہ اسپرٹ مسلمانوں میں کمزور ہوگئی ہے وہاں انہوں نے اپنی اسلامیت میں کتر بیونت کرکے ہرقسم کے نظامہائے طاغوت کو نہ صرف یہ کہ گوارا کرلیاہے، بلکہ حد یہ ہے کہ اسے چلانے اور مستحکم رکھنے اور اس کا تحفّظ کرنے کی خدمات تک سرانجام دینے کے لیے تاویلیں کرلی ہیں۔
یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ گاؤ کُشی اگر طاغوت کی روک سے مباح کے بجائے واجب ہوجاتی ہے تو پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نظام کا قائم کرنا جو پہلے ہی فرض اور بہت بڑا فرض ہے باطل کی طرف سے کسی مزاحمت کے پیدا ہوجانے پر دین کے ہرفرض سے بڑا فرض ہوجاتاہے اور اس سے چشم پوشی کرکے اگر مسلمان ہزار نفلی عبادتیں بھی کرے تو وہ بے معنی ہیں۔
درحقیقت کسی غیرالہٰی طاقت کی مداخلت فی الدین چاہے کتنے ہی چھوٹے معاملے میں ہو، مسلمان کے عقیدۂ توحید پر براہ راست ضرب لگا تی ہے۔ اور ہر ایسی مداخلت کے معنی یہ ہیں کہ مداخلت کرنے والے نے ایک خاص معاملہ میں اپنی خدائی کا عملی اعلان کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس اعلان پر مسلمان کا امن وسکون سے بیٹھے رہنا تک اس کے ایمان کو مشتبہ کردیتا ہے، کجا یہ حال کہ اس اعلان کے اعلانچی خود مسلمان ہوں اور وہ دوسروں سے بالجبر اسے منوانے کے لیے اپنی قوتیں باطل کے ہاتھ فروخت کردیں۔
پس اصلی مسئلہ قربانی گاؤ کا نہیں ہے، بلکہ عقیدۂ توحید کی حفاظت کا ہے اور اس کی حفاظت میں کوتاہی کرکے ہم کسی اخروی بہبود کی امیدیں قائم کرسکتے ہیں؟ (رسائل ومسائل اول: ص۱۷۶ تا ۱۷۸)
قربانی سنتِ ابراہیمی ہے
۲۱۔ مَاھٰذِہِ الْاَضَاحِیُّ؟ قَالَ : سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ۔
’’آپؐ سے پوچھا گیا یہ قربانیاں کیسی ہیں؟ فرمایا تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے ۔‘‘
تشریح:اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ہرسال اسی تاریخ کو جانور قربان فرمایا کرتے تھے۔ حضورؐ نے اس سنت کو زندہ کیا اور اپنی امت کو ہدایت فرمائی کہ قرآن میں قربانی کا جو عام حکم دیا گیا ہے، اس کی تعمیل خصوصیت کے ساتھ اس روز کریں جس روز حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کیا کرتے تھے۔ اپنی تاریخ کے یادگار واقعات کا ’’یوم‘‘ دنیا کی ہرقوم منایا کرتی ہے۔ اسلا م کا مزاج یادگار منانے کے لیے بھی اس دن کا انتخاب کرتاہے جس میں دوبندوں کی طرف سے خدا پرستی کے انتہائی کمال کا مظاہرہ ہوا۔ (مسئلہ قربانی: ص ۱۹)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِیُّ، ثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِیْ اِیَاسٍ،ثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْکِیْنٍ، ثَنَا عَائِذُ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْ دَاؤدَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِیُّ؟ قَالَ : سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمُ قَالُوْا: فَمَالَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا : فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ اصحاب رسول ﷺ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیسی ہیں؟ فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انہوں نے پھر عرض کیا ہمارے لیے اے اللہ کے رسولؐ ان میں کیا ہے؟ فرمایا ہر بال کے عوض نیکی ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول اون بھی اس میں شامل ہے؟ فرمایا اُون کے ہربال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔
فی الزوائد : فی اسنادہ ابوداؤد، واسمہ نفیع ابن الحارث۔ وھو متروک واتھم بوضع الحدیث۔
ترمذی میں اس روایت کے بجائے صرف یہ الفاظ ہیں:
(۲) لِصَاحِبِھَا بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ۔
احادیث سے قربانی کا ثبوت
۲۲:۱۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور ہرسال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ وَھَنَّادٌ، قَالاَ : ثَنَا بْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ اَرْطَاۃَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّیْ۔(۱۳) (ھذا حدیث حسن)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور ہرسال قربانی کرتے رہے۔
۲۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کوو صیت فرمائی کہ میں آپؐ کی طرف سے قربانی کرتارہوں، چنانچہ میںآپؐ کی طرف سے قربانی کیا کرتاہوں۔ (ابوداؤد، ترمذی)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَاشَرِیْکٌ، عَنْ اَبِی الْحَسْنَائِ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ حَنَشٍ، قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا یُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ، فَقُلْتُ:مَاھٰذَا؟ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَوصَانِیْ اَنْ اُضَحِّیْ عَنْہُ، فَاَنَا اُضَحِّیْ عَنْہُ۔(۱۴)
ترجمہ : حنش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو دیکھاکہ آپ دومینڈھے قربانی دیتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو وصیت فرمائی کہ میںآپؐ کی طرف سے قربانی کرتارہوں چنانچہ میںآپؐ کی طرف سے قربانی کیا کرتاہوں۔
(۲) عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ کَانَ یُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ اَحَدُھُمَا عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَالْاٰخَرُ عَنْ نَفْسِہٖ، فَقِیْلَ لَہٗ : قَالَ اَمَرَنِیْ بِہٖ یعنی النَّبِیُّ ﷺ فَلاَ اَدَعُہٗ اَبَدًا۔
ھذا حدیث غریبٌ لاَنعرفہ الاَّ من حدیث شریک۔
ترجمہ :حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ وہ دومینڈھے قربانی کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک نبی ﷺ کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا کہ اس کا مجھے نبی ﷺ نے حکم دیاہے لہٰذا میں اسے تادمِ زیست کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
وقد رخّص بعض اھل العلم ان یَضحی عن المیت وَلَمْ یَرَبَعْضُھُمْ اَنْ یضحی عنہ۔
وقال عبداللہ بن المبارک اَحَبُّ اِلَیَّ اَنْ یَتَصَدَّقَ عَنْہُ وَلاَیُضَحِّیْ وَاِنْ ضَحّٰی فَلاَیَاْکُلْ مِنْھَا شَیْئًا وَیُتَصَدَّقُ بِھَا کُلُّھَا۔
ــــــــــبعض اہل علم نے میت کی طرف سے قربانی کی رخصت دی ہے اور اس میں انہوں نے کوئی قباحت اور مضائقہ محسوس نہیں کیا۔
ــــــــــعبداللہ بن مبارک کا قول ہے کہ مجھے قربانی دینے سے صدقہ دینا زیادہ پسند ہے۔ اگر میت کی جانب سے قربانی دی جائے تو پھر اس کا سارا گوشت مستحقین میں تقسیم کردیاجائے خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھائے۔
۳۔ حضرت براء بن عازِب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا اَوَّلُ مَانَبْدَأُ بِہٖ فِیْ یَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُفَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتنَا۔ ’’آ ج کے دن ہم پہلے نماز پڑھتے ہیں، پھر پلٹ کر قربانی کرتے ہیں، پس جس نے اس طریقے کے مطابق عمل کیا، اس نے ہماری سنت پالی۔‘‘ (بخاری، مسلم)
تخریج (۱): حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:حَدَّثَنَاعُنْدُرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدِ الْیَامِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اِنَّ اَوَّلَ مَانَبْدَأُ بِہٖ فِیْ یَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ۔مَنْ فَعَلَہٗ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَاِنَّمَا ھُوَلَحْمٌ، قَدَّمَہٗ لِاَھْلِہٖ لَیْسَ مِنَ النُّسُکِ فِیْ شَیْئٍ۔ فَقَامَ اَبُوْبُرْدَۃَ بْنُ نِیَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ۔ فَقَالَ : اِنَّ عِنْدِیْ جَذَعَۃً! قَالَ :اذْبَحْھَا وَلَنْ تُجْزِیَٔ عَنْ اَحَدٍ بَعْدَکَ۔
ترجمہ : حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ آج کے دن ہم پہلے نماز پڑھتے ہیں پھر پلٹ کر قربانی کرتے ہیں ۔ پس جس نے اس طریقے کے مطابق عمل کیا اس نے ہماری سنت پالی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ تو محض گوشت تصور ہوگا جو اس نے اپنے اہل وعیال کے لیے پہلے پیش کردیاہے۔ قربانی میں اس کا کوئی شمار نہیں۔ ابوبردہ اٹھے یہ نماز سے پہلے قربانی ذبح کرچکے تھے، عرض کیا میرے پاس جذعہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اسے بھی ذبح کردو۔ مگر یادر ہے تمہارے بعد کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے۔
(۲) وَقَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَآئِ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ تَـمَّ نُسُکُہٗ وَاَصَابَ سُنَّۃَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(۱۵)
ترجمہ : براء بن عازب سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقہ کو پالیا۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْنُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ، عَنْ زُبَیْدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْبَرَآئِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ اَضْحیٰ اِلَی الْبَقِیْعِ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ فَقَالَ: اِنَّ اَوَّلَ نُسُکِنَا فِیْ یَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نَبْدَأَبِالصَّلاَۃِ، ثُمَّ نَرْجِعُ، فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذٰلِکَ فَاِنَّمَا ھُوَ شَیْئٌ عَجَّلَہٗ لِاَھْلِہٖ لَیْسَ مِنَ النُّسُکِ فِیْ شَیْئٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی ذَبَحْتُ وَعِنْدِی جَذَعَۃٌ خَیْرٌ مِنْ مُّسِنَّۃٍ قَالَ: اذْبَحْھَا وَلاَتَفِیْ عَنْ اَحَدٍ بَعْدَکَ۔(۱۶)
(۴) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی یَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ: لاَیَذْبَحَنَّ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُصَلِّیَ قَالَ: فَقَامَ خَالِیْ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَا یَوْمُ اللَّحْمِ فِیْہِ مَکْرُوْہٌ وَاِنِّیْ عَجِلْتُ نَسِیْکَتِیْ لِاُطْعِمَ اَھْلِیْ وَاَھْلَ دَارِیْ اَوْجِیْرَانِیْ قَالَ:فَاَعِدْ ذَبْحَکَ بِاٰخَرَ فَقَالَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ عِنْدِیْ عَنَاقُ لَبَنٍ ھِیَ خَیْرٌ مِنْ شَاتَیْ لَحْمٍ اَفَاَذْبَحُھَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَھُوَ خَیْرُ نُسِیْکَتِکَ وَلاَتَجْزِیُٔ جَذَعَۃً بَعْدَکَ۔
وَفی الباب عن جابر وجندب وانس وعمیربن اشقر و ابن عمر، وابی زید الانصاری وھذا حدیث حسن صحیح۔
ترجمہ : حضرت براء بن عازب کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید قرباںکے دن خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی بھی جب تک نماز نہ پڑھ لے، جانور ذبح نہ کرے۔ راوی کا بیان ہے کہ میرے چچا نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ گوشت خوری آج ناپسندیدہ ہے اور میں نے قربانی کرنے میں تو جلد بازی سے کا م لیا ہے تاکہ اپنے اہل وعیال اور اپنے گھروالوں اور اپنے ہمسایوں کو جلدی سے گوشت کھلاؤں۔ حضورؐ نے فرمایا، اس کی جگہ ایک اور قربانی دوبارہ کرو۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ دوبکریوں سے بہترایک سالہ بکری کا دودھ سے پلا ہوا بچہ ہے۔ کیا میں اس کی جگہ اسے ذبح کرسکتاہوں۔ فرمایا :’’ہاں‘‘ وہ تیری قربانی کے لیے بہتر ہے لیکن یہ تیرے بعد کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
والعمل علٰی ھٰذا عند اھل العلم ان لایُضَحِّیْ بِالْمِصْرِ حَتّٰی یصلی الامام۔
وقد رخَّص قوم من اھل العلم لاھل القریٰ فی الذبح اذا طلع الفجر وھو قول ابن المبارک۔
وقد اجمع اھل العلم اَنْ لاَیجزیُٔ الجَذَع من المعزو قالوا انما یجزیٔ الجذع من الضان۔ (۱۷)
l اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ شہرمیں جب تک امام نماز عید نہ پڑھالے، اس وقت تک قربانی نہ کی جائے۔
l البتہ بعض اہلِ علم حضرات نے اس کی اجازت دی ہے کہ دیہاتوں اور گاؤں میں طلوعِ فجر کے وقت ذبح کرسکتاہے۔ یہ عبداللہ بن مبارک کی رائے ہے۔
l اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ بکری کا جذعہ جائز نہیں صرف بھیڑ یا دُنبہ کا جذعہ جائز ہے۔
(۵) حَدَّثَنَاحَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃٌ اَخْبَرَنِی زُبَیْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَخْطُبُ فَقَالَ:اِنَّ اَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ یَّوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا۔(۱۸)
ترجمہ : براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سناہے آپ خطبہ میں ارشاد فرمارہے تھے۔آج کے دن ہم پہلے نماز پڑھتے ہیں۔ پھر پلٹ کر قربانی کرتے ہیں۔ پس جس نے اس طریقے کے مطابق عمل کیا اس نے ہماری سنت پالی۔
۴۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضورؐ نے فرمایا الاضحی یوم یُضحی النّاس’’الاضحی وہ دن ہے جس میں لوگ قربانی کرتے ہیں۔‘‘ (ترمذی)
تخریج(۱):حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ، نَااَبُوْھِشَامٍ الرِّفَاعِیُّ، نَایَحْیَ بْنُ الْیَمَانِ، عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَ اَبُوھِشَامٍ : اَظُنُّہٗ رَفَعَہٗ قَالَ:اَلْفِطْرُ یَوْمَ یُفْطِرُ النَّاسُ وَالْاَضْحیٰ یَوْمَ یُضَحِّی النَّاسُ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ کا بیان ہے یوم الفطر وہ دن ہے جس میں لوگ روزہ نہیں رکھتے، اور یوم الاضحی وہ دن ہے جس میں لوگ قربانی کرتے ہیں۔
حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ دونوں سے مروی روایت کا متن:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:فِطْرُکُمْ یَوْمَ تُفْطِرُوْنَ وَاَضْحَاکُمْ یَوْمَ تُضَحُّوْنَ۔ لفظ ابن صائد۔ (۲۰)
ترمذی نے تضحی النّاس کے بجائے یضحی الناس روایت کیاہے:
قال ابوعیسٰی: سالت محمد ا قلت لہ محمد بن المنکدر سمع عن عائشۃ قال : نعم یقول فی حدیثہ سمعت عائشۃ، قال ابوعیسٰی وھذا حدیث حسن غریب صحیح من ھذا الوجہ۔
۵۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا من وجد سعۃ فلم یُضَحِّ فَلاَیقربنَّ مصلاَّنَا۔ ’’جو شخص طاقت رکھتا ہو اور پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میںنہ آئے۔ (مسند احمد ،ابن ماجہ)
(تفہیمات ج۲: قربانی۔۔۔حدیث میں)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ کَانَ لَہٗ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلاَیَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص طاقت رکھتاہو اور پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔
فی الزوائد: فی اسناد عبداللہ بن عیاش وھو، وان روی لہ مسلم، فانما اخرج لہ فی المتابعات والشواھد وقد ضعّفہ ابوداؤد والنسائی وقال ابوحاتم: صدوق۔ وقال ابن یونس۔ منکر الحدیث وذکرہ ابن حبان فی الثقات۔(۲۲) اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں محدثین میں صرف اس امر پر اختلاف ہے کہ مرفوع روایت ہے یا موقوف۔ (مؤلف)
(۲) مَنْ وَجَدَ سَعَۃً لِاَنْ یُّضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَیَحْضُرْ مُصَلاَّنَا۔(۲۳)
بیہقی کی ایک روایت میں فلایقربن فی مسجدنابھی ہے۔ (موقوف)
(۳) رواہ زَیْدُ بنُ الْحُبَابِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَیَّاشٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ الْاَعْرَجُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :مَنْ کَانَ لَہٗ یَسَارٌ فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَیَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔(۲۴)
(۴) وقد رواہ غیر زید بن الحباب مرفوعاً جماعۃ، منھم یحیی بن سعید حدثنا عَبْدُ الْبَاقِی ابْنُ قَانِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ الْمُبَارَکِ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْھَیْثَمُ بْنُ خَارِجَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَیَّاشٍ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :مَنْ قَدَرَ عَلٰی سَعَۃٍ فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَیَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔
ایک روایت میں من وجد سعۃ فلم یضِحّ ہے۔ (۲۵)
رواہ یحیی بن یعلی ایضًا مرفوعاً:
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُالْبَاقِیِّ، قَالَ:حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَحْمَدُ ابْنُ النُّعْمَانِ الفرَاء، قَالَ:حَدَّثَنَا یَحْیَی بنُ یَعْلٰی، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَیَّاشٍ اَوْعَبَّاسٍ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ مَنْ وَجَدَ سَعَۃً، فَلَمْ یُضَحِ فَلَایَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔
(۶) وَرَوَاہُ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ جَعْفَرٍ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : مَنْ وَجَدَ سَعَۃً فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَیَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔
وَیُقَالُ: اِنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ جَعْفَرٍ فَوْقٌ بْنُ عَیَّاشٍ فِی الضَّبْطِ وَالْجَلاَلَۃِ۔ فَوَقَفَہٗ عَلٰی اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ وَیُقَالُ: اِنَّ الصَّحِیْحَ اِنَّہٗ مَوْقُوْفٌ عَلَیْہِ غَیْرُ مَرْفُوْع۔(احکام القرآن ج۳:ص۲۴۸۔۲۴۹)
۶۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا مَا عَمِلَ ابْن آدم یوم النَّحرعَملاً اَحَبّ اِلَی اللّٰہِ عَنْ ھَرَاقۃدم۔ ’’قربانی کے دن آدم کی اولاد کا کوئی فعل اللہ کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ وہ خون بہائے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْعَمْرٍومُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذّائُ الْمَدِیْنِیُّ، ثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ نَافِعِ الصَّائِغُ عَنْ اَبِی الْمُثَنّٰی عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:مَاعَمَلُ آدَمِیٍّ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ اِنَّہٗ لَیَاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلاَفِھَا، وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ مِنَ الْاَرْضِ فَطِیْبُوا بھَا نَفْسًا۔(۲۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قربانی کے دن ابن آدم کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ وہ خون بہائے کیونکہ یہ قیامت کے روز اپنی سینگوں اپنے بالوں اور اپنے کھروںسمیت خدا کے حضور حاضر ہوگی۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور عمدہ مقام ومرتبہ پر پہنچ جاتاہے لہذا تمہیں اس سے خوشی اور مسّرت حاصل ہونی چاہیے۔
وفی الباب عن عمران بن حصین وزیدبن ارقم۔ وھذا حدیث حسن غریب لانعرفہ من حدیث ھشام ابن عروۃ الا من ھذا الوجہ۔
ابوالمثنیٰ۔ اسمہ سلیمان بن یزید روی عنہ ابن ابی فُدَیک ویروی عن النبی ﷺ انہ قال فی الاضحیۃ لِصَاحِبھا بکلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ ویروی بقرونھا۔
۷۔حضرت بُرَیدہ کہتے ہیں کہ عید اضحی کے دن حضورؐ عیدگاہ واپسی تک کچھ نہ کھاتے پیتے تھے اور واپس آکر اپنی قربانی کا گوشت تناول فرماتے تھے۔ (مسند احمد)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ الرِّفَاعِیُّ حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ۔ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ لاَیَغْدُوْا یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَاْکُلَ وَلاَیَاْکُلُ یَوْمَ الْاَضْحیٰ حَتّٰی یَرْجِعَ فَیَاْکُلُ مِنْ اُضْحِیَتِہٖ۔(۲۷)
ترجمہ : حضرت بریدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ عید الفطر کے روز کچھ تناول فرمائے بغیر نہ نکلتے اور عیدالاضحی کے دن عیدگاہ سے واپسی تک کچھ نہ کھاتے تھے واپس آکر اپنی قربانی کا گوشت کھاتے تھے۔
ترمذی نے بریدۃ عن ابیہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس کا متن درج ذیل ہے:
(۲) قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ:لاَیَخْرُجُ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَمَ وَلاَیَطْعَمُ یَوْمَ الْاَضْحٰی حَتّٰی یُصَلِّیَ۔ (۲۸)
ترجمہ : نبیﷺ عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر نہ نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز پڑھنے سے پہلے کچھ نہ کھاتے تھے۔
قال ابوعیسٰی حدیث بریدۃ بن حصیب الاسلمی حدیث غریب، قال محمد، لااعرف لثواب بن عتبۃ غیر ھذا الحدیث۔
۸۔حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عیداضحی کی نماز پڑھی پھر جب آپ پلٹے تو آپؐ کے حضور ایک مینڈھا لایا گیا اور آپؐ نے اسے ذبح فرمایا۔ (مسنداحمد، ترمذی، ابوداؤد)
تخریج : حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ، قَالَ:ثَنَایَعْقُوبُ یعنی الِاسْکَنْدَرَانِیُّ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: شَھِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْاَضْحٰی فِی الْمُصَلّٰی فَلَمَّا قَضٰی خُطْبَتَہٗ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِہٖ وَاُتِیَ بِکَبْشٍ فَذَبَحَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ قَالَ : بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ھٰذَا عَنِّیْ وَعَمَّنْ لَّمْ یُضَحِّ مِنْ اُمَّتِیْ۔(۲۹)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے عیدگاہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی۔ جب آپؐ نے خطبہ عیدختم کیا تو منبر سے اترے۔ آپ کی خدمت میں ایک مینڈھا لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے دستِ مبارک سے ذبح کیااور بسم اللہ اللہ اکبر تکبیر پڑھی اور فرمایا یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی جانب سے قبول فرما جو قربانی نہ کرسکے۔
۹۔عَنْ عَلِیِّ ابْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا ضَحّٰی اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ سَمِیْنَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ فَاِذَا صَلّٰی وَخَطَبَ النَّاسَ اُتِیَ بِاَحَدِھِمَا وَھُوَ قَائِمٌ فِی مُصَلاَّہُ فَذَبَحَہٗ بِنَفْسِہٖ بِالْمُدْیَۃِ۔ (مسند احمد)
’’علی بن حسین رضی اللہ عنہ ابورافع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقرعید کے موقع پر دومینڈھے خریدتے تھے۔ خوب موٹے تازے، بڑے سینگوں والے اور چتکبرے۔ پھر جب آپ نماز پڑھ چکتے اور خطبے سے فارغ ہولیتے تو ان میں سے ایک مینڈھا پیش کیا جاتا اور آپ اپنے مصلّے ہی پر کھڑے کھڑے چھری سے اس کو ذبح فرمادیتے۔‘‘
اور فرماتے خدایا! یہ میری ساری امت کی جانب سے ان لوگوں کی جانب سے جو تیری توحید اور میری رسالت کے پہنچانے کی شہادت دیں۔ پھر دوسرا مینڈھا پیش کیا جاتا۔ اسے بھی خود ہی ذبح کرتے اور فرماتے یہ محمد اور آلِ محمدؐ کی جانب سے ہے پھر ان دونوں کا گوشت مساکین بھی کھاتے اور آپؐاورآپ کے اہل وعیال بھی۔ (تفہیمات حصہ دوم: قربانی ۔۔۔ حدیث میں)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ، قَالَ: ثَنَا زُھَیْرٌ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّہِ ﷺ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا ضَحّٰی اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ سَمِیْنَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ فَاِذَا صَلّٰی وَخَطَبَ النَّاسَ اُتِیَ بِاَحَدِھِمَا وَھُوَ قَائِمٌ فِی مُصَلاَّہُ فَذَبَحَہٗ بِنَفْسِہٖ بِالْمُدْیَۃِ ثُمَّ یَقُوْلُ : اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھٰذَا عَنْ اُمَّتِی جَمِیْعًا مِمَّنْ شَھِدَ لَکَ بِالتَّوْحِیْدِ وَشَھِدَ لِیْ بِالْبَلاَغِ ثُمَّ یُؤْتٰی بِالْاٰخَرِ فَیَذْبَحُہٗ بِنَفْسِہٖ وَیَقُوْلُ ھٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ فَیَطْعَمُھُمَا جَمِیْعًا الْمَسَاکِیْنُ وَیَاْکُلُ ھُوَ وَاَھْلُہٗ مِنْھُمَا۔(۳۰)
(۲) حَدَّثَنَا ھَارُوْنُ ابْنُ مَعْرُوْفٍ، قَالَ: نَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ، قَالَ:قَالَ حَیٰوۃ :اَخْبَرَنِیْ اَبُوْصَخْرٍ، عَنْ یَزیْدَ بْنِ قُسَیْطٍ، عَنْ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَمَرَ بِکَبْشٍ اَقْرَنَ یَطَأُ فِیْ سَوَادٍ وَیَبْرُکُ فِیْ سَوَادٍ وَیَنْظُرُ فِیْ سَوَادٍ فَاُتِیَ بِہٖ لِیُضَحِّیَ بِہٖ قَالَ لِعَائِشَۃَ ھَلُمِّی الْمُدْیَۃَ ثُمَّ قَالَ : اشْحَذِیْھَا بِحَجَرٍ فَفَعَلَتْ ثُمَّ اَخَذَھَا وَاَخَذَ الْکَبْشَ فَاَضْجَعَہٗ ثُمَّ ذَبَحَہٗ ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحّٰی بِہٖ۔(۳۱)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے مینڈھے کا حکم فرمایا جو سینگوں والا ہوجس کے کھُر سیاہ ہوں جس کی چھاتی سیاہ ہو۔ آنکھیں بھی سیاہ ہوں، ان اوصاف کا مینڈھا آپؐ کی خدمت میں لاکر پیش کیا گیا۔ حضرت عائشہؓ سے آپؐ نے فرمایا۔ چھری لاؤ، ساتھ ہی فرمایا اسے پتھر پر ذرا تیز بھی کرلو انہوں نے چھری لی اور اسے پتھر پر تیز کرلیا۔ آپؐ نے چھری اپنے ہاتھ میں لی اور مینڈھے کو پکڑ کر زمین پر لٹالیا اور ذبح کردیا اور یہ دعا پڑھی۔ خدایا تیرے نام مبارک کے ساتھ (قربان کرتاہوں) اسے محمدؐ اور آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرمالے۔ یہ پڑھ کر قربان کردیا۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰی، ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، اَنْبَأَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدٍ ابْنِ عَقِیْلٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یُّضَحِّیَ، اشْتَرَیَ کَبْشَیْنِ عَظِیْمَیْنِ سَمِیْنَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجُوْئَ یْنِ، فَذَبَحَ اَحَدَھُمَا عَنْ اُمَّتِہٖ لِمَنْ شَھِدَ لِلّٰہِ بِالتَّوْحِیْدِ وَشَھِدَ لَہٗ بِالْبَلاَغِ وَذَبَحَ الْاٰخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ ﷺ۔(۳۲)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی قربانی کا عزم فرماتے تو دوموٹے تازے فربہ، سینگوں والے سیاہ وسفید رنگ والے خصّی مینڈھے خریدتے۔ ایک مینڈھا اپنی امت کے ان لوگوں کی جانب سے قربانی دیتے جو توحید باری تعالیٰ کی شہادت دیتے اور آپ کی تبلیغ رسالت کی گواہی دیتے اور دوسرا اپنے اور اپنی آل کی جانب سے قربانی کرتے۔
فی الزوائد۔ فی اسنادہ عبداللہ بن محمد، مختلف فیہ۔
ضحی رسول اللّٰہ ﷺ بِکَبْشَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجَئَیْنِ خصیین فقال احدھما عمن شھد بالتوحید ولہ بالبلاغ والاخر عنہ وعن اھل بیتہ۔(۳۳)
۱۰۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدگاہ ہی میں ذبح اور نحر فرمایا کرتے تھے۔
(بخاری، نسائی، ابن ماجہ، ابوداؤد)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، اَنَّ ابْنَ عُمَرَ اَخْبَرَہٗ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَذْبَحُ وَیَنْحَرُ بِالْمُصَلّٰی۔(۳۴)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ ر سول اللہ ﷺ گائے بکرے اور اونٹ کی قربانی عیدگاہ ہی میں فرمایا کرتے تھے۔
۱۱۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدالاضحی میں دوچتکبرے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ (بخاری ، مسلم)
اور یہی مضمون حضرت جابر بن عبداللہ سے بھی مروی ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، بیہقی)
براء بن عازب، جند ب بن سفیان البجلی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم کی متفقہ روایات یہ ہیں، حضورؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے عید کی نمازسے پہلے ذبح کرلیا، اس کی قربانی نہیں ہوئی۔ اور جو نماز کے بعد ذبح کرے اس کی قربانی ہوگئی اور اس نے سنت مسلمین پر عمل کیا۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد)
تخریج(۱) : حَدَّثَنَاَ آدَمُ بْنُ اَبِیْ اِیَاسٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃٌ قَالَ:حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ اَنَسٍ قَالَ : ضَحَّی النَّبِیُّ ﷺ بِکَبْشَیْنِ اَمْلَحَیْنِ فَرَاَیْتُہٗ وَاضِعًا قَدَمَہٗ عَلٰی صِفَاحِھِمَا یُسَمِّیْ وَیُکَبِّرُ فَذَبَحَھُمَا بِیَدِہٖ۔(۳۵)
ترجمہ: حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے دوچتکبرے مینڈھے قربان کیے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ؐنے اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا ہوا تھا۔ بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھ کر قربان کیا۔ دونوں کو حضورؐ نے اپنے دستِ مبارک سے ذبح کیا۔
انہی سے دوسری روایت:
(۲) اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ اَمْلَحَیْنِ اَقْرَنَیْنِ وَیَضَعُ رِجْلَہٗ عَلٰی صَفْحَتَیْھِمَا وَیَذْبَحُھُمَا بِیَدِہٖ۔(۳۶)
ترجمہ :نبی ﷺ نے دوچتکبرے سینگوں والے مینڈھے قربان کیے۔ اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا اور اپنے ہاتھ سے دونوں کو ذبح فرمایا۔
(۳) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، عَنْ اَیُّوْبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَاِنَّمَا یَذْبَحُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکُہٗ وَاَصَابَ سُنَّۃَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (۳۷)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک کی روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کسی نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کی اس نے تو محض اپنے لیے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے اپنی قربانی پوری کرلی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا۔
(۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اَیُّوْبَ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : مَن ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَلْیُعِدْ الخ۔(۳۸)
ترجمہ :حضرت انس بن مالک نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے فرمایا:جس کسی نے نماز سے پہلے قربانی کی اسے دوبارہ کرنی چاہیے۔
(۵) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ۔ مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَلْیُعِدْ۔(۳۹)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن ارشادفرمایا:جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرچکاہے اسے دوبارہ کرنی چاہیے۔
۱۲۔ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ہم کو قربانی کے دن نماز پڑھائی، اس کے بعد کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر حضورؐ سے پہلے قربانی کرلی۔اس پر آپ نے حکم دیا کہ جس کسی نے ایسا کیاہے اسے پھر قربانی کرنی چاہیے اور کسی کو اس وقت تک قربانی نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ نبی اپنی قربانی نہ کرلے۔ (مسلم ، مسند احمد)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ:نَامُحَمَّدُ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : قَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوالزُّبَیْرِ اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ:صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِیْنَۃِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوْا وَظَنُّوْا اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَدْنَحَرَ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ کَانَ نَحَرَ قَبْلَہٗ اَنْ یُّعِیْدَ بِنَحْرٍ اٰخَرَ وَلاَیَنْحَرُوْا حَتّٰی یَنْحَرَ النَّبِیُّ ﷺ۔(۴۰)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ہم کو قربانی کے دن نماز عید پڑھائی۔ اس کے بعد کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر حضورؐ سے پہلے قربانی کرلی۔ یہ گمان کرتے ہوئے کہ نبی ﷺ نے قربانی کردی ہے اس پر آپؐ نے حکم دیا کہ جس کسی نے آپؐ سے پہلے قربانی کرلی ہے اسے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنی چاہیے اور آیندہ کسی کو اس وقت تک قربانی نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ نبی اپنی قربانی نہ کرلے۔
(۲) حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ : صَلَّی النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ:مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ یُّصَلِّیَ فَلْیَذْبَحْ اُخْرٰی مَکَانَھَا وَمَنْ لَّمْ یَذْبَحْ فَلْیَذْبَحْ بِاِسْمِ اللّٰہِ۔(۴۱)
ترجمہ :حضرت جُندُب بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کی نماز پڑھا کر خطبۂ عید ارشاد فرمایا پھر قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا:جس کسی نے نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی کرلی اسے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنی چاہیے اور جس نے ابھی تک قربانی نہیں کی وہ بِاسْمِ اللّٰہ پڑھ کر ذبح کرلے۔
ابنِ ماجہ نے جُندب بجلی سے مندرجہ ذیل الفاظ سے روایت نقل کی ہے:
(۳) یَقُوْلُ شَھِدْتُّ الْاَضْحیٰ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَبَحَ النَّاسُ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ کَانَ ذَبَحَ مِنْکُمْ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَلْیُعِدْ اُضْحِیَتَہٗ وَمَنْ لاَفَلْیَذْبَحْ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ۔(۴۲)
ترجمہ : جُندُبؓ بیان کرتے ہیں کہ عیدالاضحی کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا لوگوں نے نماز سے پہلے ہی قربانی کرلی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس کسی نے نماز سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے اسے اپنی قربانی دوبارہ کرنی چاہیے اور جس نے ہنوز قربانی نہیں کی اسے بسم اللہ پڑھ کر قربانی کرنی چاہیے۔
۱۳۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُضَحِّی بِکَبْشَیْنِ وَاَنَا اُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ کے خادمِ خاص انس بن مالک کہتے ہیں کہ حضورؐ دومینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دوہی مینڈھوں کی قربانی کرتاہوں۔ ‘‘ (تفہیمات حصہ دوم : قربانی۔۔۔حدیث میں)
تشریح:یہ روایات اوربہ کثرت دوسری روایات جو احادیث میں آئی ہیں، سب اپنے مضمون میں متفق ہیں اور کوئی ایک ضعیف سے ضعیف روایت بھی کہیں موجود نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ عیدالاضحی کی یہ قربانی سنتِ رسول نہیں ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حج کے موقعہ پر مکّہ معظّمہ میں نہ کوئی عیدالاضحی منائی جاتی ہے اور نہ کوئی نماز قربانی سے پہلے پڑھی جاتی ہے، اس لیے ان تمام احادیث میں لازماً صرف اسی عید اور قربانی کا ذکر ہے جو مکہ سے باہر ساری دنیا میں ہوتی ہے۔
(مسئلہ قربانی: ص۲۳۔۲۶)
(ان احادیث سے ثابت ہوتاہے) کہ نبی ﷺ نے قرآن کے مذکورہ احکام (فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ) کا منشایہ سمجھا تھا کہ قربانی صرف حاجیوں کے لیے مخصوص نہ ہو بلکہ ذی استطاعت مسلمان بھی اپنی اپنی جگہ بقرعید کے موقع پر قربانی کرتے رہیں۔ اس طریقہ پر حضورؐ خود عامل رہے ۔دوسرے مسلمانوں کو حکم دیا اور اسے سنّت اسلام کے طورپر مسلمانوں میں جاری کیا۔ (تفہیمات حصہ دوم : قربانی۔۔۔حدیث میں)
ماخذ
(۱) بخاری ج۱کتاب المناسک باب رکوب البُدْن لقولہ والبُدن جعلناھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیرٌ الخ۔کتاب الوصایا اور کتاب الادب۔ ٭مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز رکوب البدنۃ المھداۃ لمن احتاج الیھا۔ ٭ابوداؤدج۲کتاب المناسک باب فی رکوب البُدن۔٭ ترمذی ج۱ابواب الحج باب ماجاء فی رکوب البدنۃ۔ ٭نسائی ج۵کتاب المناسک باب رکوب البدنۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب المناسک باب رکوب البدن عن ابی ھریرۃ۔ ٭دارمی کتاب المناسک باب ۶۹فی رکوب البدنۃ۔ ٭مؤطا امام مالک ج۱کتاب الحج باب مایجوز من الھدی عن ابی ھریرۃ۔٭مسندِ احمد ج۲ص۲۵۴۔ ۲۷۸۔ ۳۱۲۔۴۶۴۔۴۷۳۔۴۷۴۔۴۷۸۔۴۸۱۔۴۸۷۔۵۰۵۔ ج۳ص۹۹۔۱۰۶۔۱۰۷۔۱۶۷۔۱۷۰۔ ۱۷۳۔ ۱۸۳۔ ۲۰۲۔ ۲۳۱۔ ۲۳۴۔ ۲۵۱۔۲۶۱۔۲۷۵۔ ۲۷۶ ۔۱۹۱ وغیرہ۔
(۲) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵۔کتاب الحج باب رکوب البدنۃ اذا اضطر الیہ رکوبا غیر فادح۔٭ مجمع الزوائد ج۳کتاب الحج باب رکوب الھدی عن انس۔اس روایتمیں حافیاکا اضافہ ہے اور آخر میں فی الثانیۃ اوفی الثالثہنہیں ہے۔٭ مصنف ابنِ ابی شَیبۃ ج۱/۴۔کتاب الحج باب فی رکوب البدنۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۳) مسلم ج۲کتاب البر والصلۃ باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ ودمہ ومالہ الخ۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الزھد باب القناعۃ۔٭ مُسندِ احمد ج۲ص۲۸۵۔۵۳۹۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۴) مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز الاشتراک فی الھدی الخ۔٭ زاد المعاد ج۱۔ فصل فی تضحیتہ ﷺ بالبقر۔
(۵) مسلم ج۱کتاب الحج باب جواز الاشتراک فی الھدی الخ۔٭ابوداؤد ج۳کتاب الضحایا باب فی البقر والجزور عن کم تجزی؟ ٭ ترمذی ابواب الحج باب ماجاء فی الاشتراک فی البدنۃ والبقرۃ۔ ٭نسائی ج۷کتاب الضحایا باب ماتجزی عنہ البقرۃ فی الضحایا عن جابر۔ ٭ ابن ماجہ کتاب المناسک باب عن کم تجزی البدنۃ والبقرۃ۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الضحایا باب الشرکۃ فی الضحایا۔٭دارمی کتاب الاضاحی باب ۵۔٭دارقطنی ج۲ص۲۴۴ حدیث ۳۶۔ ٭مسند احمد ج۳ص۲۹۳۔۲۹۴۔۳۱۶۔۳۲۱۔۳۳۱۔۳۵۳۔۳۶۳۔۳۶۴۔ ۳۷۸۔۳۹۶ عن جابر۔٭ السنن الکبریٰ ج۵کتاب الحج باب الاشتراک فی الھدی۔ ٭المستدرک ج۴ کتاب الاضاحی البقرۃ عن سبعۃ والبدنۃ عن عشرۃ۔
(۶) بخاری ج۱کتاب المناسک باب نحر الابل المقیّدۃ۔ ٭مسلم ج۱۔ کتاب الحج باب استحباب نحرالابل قیامًا مقیدۃ۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب المناسک باب کیف تنحرالْبُدْنُ۔٭دارمی کتاب المناسک باب فی نحر البدن قیاماً۔٭مسنداحمد ج۳ص۳۔۱۳۹۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵۔ کتاب الحج باب نحرالابل قیامًا غیرمعقولۃ اومعقولۃ الیسریٰ۔ زیاد بن جبیر۔
(۷) ابوداؤد ج۲کتاب المناسک باب کیف تنحرالبدن۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵۔کتاب الحج باب نحرالابل قیامًا غیرمعقولۃ او معقولۃ الیسریٰ۔
(۸) ابوداؤد ج۳کتاب الضحایا باب مایستحب من الضحایا۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹۔کتاب الضحایا باب الذبح فی الغنم والبقر والفرس والطائر والنحر فی الابل۔
(۹) بخاری ج۱۔کتاب المناسک باب نحر البُدن قائمَۃ ۔٭ ابوداؤدج۳۔ کتاب الضحایا، باب مایستحب عن الضحایا۔ عَن انسٍ۔ ٭ زادالمعادج۱۔ فصل فی نحر البدن۔٭ السنن الکبریٰ ج۹۔کتاب الضحایا باب الذبح فی الغنم والبقر والفرس الخ۔
(۱۰) ابوداؤد ج۳۔کتاب الضحایاباب مایستحب من الضحایا۔٭ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب اضاحی رسول اللہ ﷺ۔ ابن ماجہ میں ذبح کے بجائے ضَحَّیہے۔٭ دارمی ج۲من کتاب الاضاحی باب السنۃ فی الاضحیۃ۔ ٭مسند احمد ج۳ص۳۷۵ جابربن عبداللہ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا باب قول المضحی اللّٰھم منک۔ المستدرک للحاکم ج۱کتاب المناسک باب ضحی النبی ﷺ عن امتہ۔ ٭مسلم نے یہ دعا حضرت علی بن طالب سے ج۱ص ۶۳ پر نقل کی ہے مگر وہاں ذبح کا قصہ نہیں۔٭ کنزالعمال ج۵ ح۱۲۲۶۸۔٭زادالمعاد ج۱ فصل فی ھدیہ فی الاضاحی۔
(۱۱) احکام القرآن للحصّاص ج۳باب محل الھدی۔
(۱۲) ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب ثواب الاضحیۃ۔ مسنداحمد ج۴ص۳۶۸ زید بن ارقم۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا باب فصل لربّک وانحر۔٭کنزالعمال ج۵۔٭ابن زنجویہ بحوالہ کنزالعمال ج۵۔
(۱۳) ترمذی ج۱ ابواب الاضاحی۔
(۱۴) ابوداؤدج۳۔کتاب الضحایا، باب الاضحیۃ عن المیت۔ ٭ ترمذی ابواب الاضاحی۔ باب فی الاضحیۃ بکبشین۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹۔ عن حنش بن الحارث۔
(۱۵) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب سنۃ الاضحیۃ اور باب الذبح بعد الصلوۃ۔٭بخاری ج۱کتاب العیدین باب سنۃ العیدین لاھل الاسلام۔ ٭بخاری ج۱کتاب العیدین باب الخطبۃ بعد العید۔ ٭مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب فی وقتھا۔٭ نسائی ج۳کتاب العیدین باب الخطبۃ بعد العید۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹ص۲۷۶ کتاب الضحایا باب وقت الاضحیۃ عن براء بن عازب۔
(۱۶) بخاری ج۱کتاب العیدین باب استقبال الامام الناس فی خطبۃ العید۔٭مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب وقتھا۔ ٭مسنداحمد ج۴ براء بن عازب۔(۷۱) مسند احمد نے ان اول نسککم ھذہ الصلاۃ اوران اول نسک یومکم ھذا الصلوٰۃکے آغاز سے دوروایتیں اور بھی نقل کی ہیں۔ ٭ السنن الکبریٰ کتاب الضحایا باب وقت الاضحیۃ۔
(۱۷) ترمذی ابواب الاضاحی باب فی الذبح بعد الصلوٰۃ۔٭ ابوداؤد ج۳کتاب الضحایا باب مایجوز فی الضحایا من السن۔٭نسائی ج۷کتاب الضحایا باب ذبح الضحیۃ قبل الامام۔ ٭دارمی کتاب الاضاحی باب ۷۔ فی الذبح قبل الامام۔ ٭ مؤطا امام مالک کتاب الضحایا النھی عن ذبح الضَّحِیَّۃ قبل انصراف الامام۔ ٭مسند احمد ج۴ص۲۸۲۔ براء بن عازب۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا باب الاضحیۃ سنۃ نحب لزومھا ونکرہ ترکھا عن براء بن عازب۔
(۱۸) بخاری ج۱کتاب العیدین باب سنۃ العیدین لاھل الاسلام۔ ٭بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب الذبح بعد الصلاۃ۔٭مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب وقتھا۔٭نسائی ج۳کتاب العیدین باب الخطبۃ یوم العید۔٭مسند احمد ج۴ص۲۸۲۔ بَراء بن عازب۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹۔٭مسنداحمدج۴ص۲۸۲،۳۰۳۔ براء بن عازب۔ ٭ کنز العمال ج۵۔حدیث ۱۲۱۸۵۔
(۱۹) دارقطنی کتاب الحج ج۲٭ ترمذی ابواب الصوم باب ماجاء فی الفطر والاضحی متی یکون۔
(۲۰) دارقطنی کتاب الحج ج۲۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵ کتاب الحج باب خطأ النّاس یوم عرفۃ۔
(۲۱) ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا۔
(۲۲) مسند احمد ج۲ص۳۲۱ ابوھریرۃ۔٭دارقطنی ج۲کتاب العید والذبائح الخ۔دارقطنی نے من وجد منکم سعۃنقل کیاہے۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۹ کتاب الضحایا، باب قال اللّٰہ جل ثناوہ، فصل لربک وانحر۔
(۲۳) مسند احمد۔ مستدرک للحاکم ج۱کتاب الاضاحی عن ابی ھریرۃ بحوالہ کنز العمال ج۵۔ ٭السنن الکبری للبیھقی ج۹ کتاب الضحایا۔
(۲۴) احکام القرآن للجصّاص ج۳باب محل الھدی۔
(۲۵) احکام القرآن للجصاص ج۳ باب محل الھدی۔
(۲۶) ترمذی ابواب الاضاحی باب ماجاء فی فضل الاضحیۃ۔ ٭ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب ثواب الاضحیۃ۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا۔٭المستدرک للحاکم ج۴کتاب الاضاحی۔٭کنزالعمال ج۵ص۸۴۔
(۲۷) مسنداحمد ج۵ص۳۵۳۔ بریدہ عن ابیہ۔
(۲۸) ترمذی ج۱ ابواب العیدین باب فی الاکل یوم الفطر قبل الخروج۔
(۲۹) ابوداؤد ج۳کتاب الضحایا باب فی الشاۃ یضحی بھا عن جماعۃ۔ ٭دارقطنی ج۲باب الصید والذبائح الخ۔ ٭ترمذی ج۱ابواب الاضاحی باب ماجاء ان الشاۃ الواحدۃ تجزی عن اھل البیت کے ضمن میں۔٭ المستدرک للحاکم ج۴کتاب الاضاحی باب الدعاء عند الذبح٭ مسند احمد ج۳۔جابر بن عبداللہ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا باب الاضحیہ سنۃ نحب لزومھا ونکرہ ترکھا عن جابرؓ۔
(۳۰) مسند احمد ج۶ص۳۹۱ ابورافع۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا باب الرجل یضحی عن نفسہ وعن اھل بیتہ۔ عن ابی رافع۔
(۳۱) مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب استحباب استحسان الضحیۃ وذبحھا مباشرۃ الخ۔٭ابوداؤد ج۳کتاب الضحایا باب مایستحب من الضحایا۔ ٭ترمذی ج۱ ابواب الاضاحی باب مایستحب من الاضاحی۔ ٭ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب مایستحب من الاضاحی۔ ٭نسائی کتاب الضحایا۔ ٭السنن الکبریٰ ج۹کتاب الضحایا باب الرجل یضحی عن نفسہ الخ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۴کتاب الاضاحی باب ضحی النبی بکبش۔
(۳۲) ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب اضاحیِّ رسول اللہ ﷺ ۔٭ المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الاضاحی۔٭ مسند احمد ج۶ص۸۔ابورافع۔
(۳۳) السنن الکبری ج۹کتاب الضحایا باب الرجل یضحی عن نفسہ وعن اھل بیتہ۔
(۳۴) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب الاضحی والمنحر بالمصلی اور کتاب العیدین۔٭ابوداؤد ج۳ کتاب الضحایا۔ باب الامام یذبح بالمصلی۔ ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب الذبح بالمصلّی٭ نسائی ج۷کتاب الضحایا باب ذبح الامام الاضحیۃ بالمصلی، کتاب العیدین باب ذبح الامام یوم العید وعدد ما یذبح۔٭مسنداحمد ج۲۔٭السنن الکبریٰ ج۹کتاب الضحایا باب من شاء من الائمۃ ضحیٰ فی مصلاہ ومن شاء فی منزلہ۔ عن عبداللہ بن عمر۔ ٭نسائی ج۳کتاب العیدین باب ذبح الامام یوم العید وعدد ما یذبح کے تحت کان یذبح اوینحر بالمصلی مروی ہے۔
(۳۵) بخاری ج۲ کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ٭ مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب استحباب استحسان الضحیۃ الخ٭ ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب من ذبح اضحیۃ بیدہ۔
(۳۶) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب وضع القدم علی صفح الذبیحۃ۔٭مسلم ج۵کتاب الاضاحی باب سن الاضحیۃ۔ ٭ابوداؤد ج۳کتاب الضحایا باب مایستحب من الضحایا۔ ٭ترمذی ج۱ابواب الاضاحی باب فی الاضحیۃ بکبشین۔٭نسائی ج۷کتاب الضحایا باب الکبش اور باب تسمیۃ اللہ عزوجل علی الضحیۃ ۔٭ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب اضاحی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔٭ مسند احمد ج۳ص۹۹انس بن مالک۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۴ باب الضحایا عن انس۔ اس میں بالمدینۃ کا اضافہ ہے۔
(۳۷) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب سنۃ الاضحیۃ وقال ابن عمر ھی سنۃ ومعروف۔٭ مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب وقتھا۔مسلم میں مَنْ ضَحّٰی قَبْلَ الصلاۃ فانما ذبح لنفسہ ومن ذبح بعد الصلوۃ فقد تَمَّ نُسُکُہٗ واصاب سنۃ المسلمینہے۔ ٭السنن الکبریٰ ج۹کتاب الضحایا۔ باب وقت الاضحیۃ۔
(۳۸) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب من ذبح قبل الصلاۃ۔ اعادہ مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب وقتھا۔
(۳۹) السنن الکبریٰ ج۹کتاب الضحایا باب الاضحیۃ سنۃ نحب لزومھا ونکرہ ترکھا عن انس۔
(۴۰) مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب سن الاضحیہ۔٭ مسند احمد ج۴ ص۲۹۴۔۳۲۴۔۳۴۹۔
(۴۱) بخاری ج۱کتاب العیدین باب کلام الامام الناس فی خطبتہ العید۔٭مسلم ج۲کتاب الاضاحی باب وقتھا۔
(۴۲) ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب النّھی عن الذبح الاضحیۃ قبل الصّلاۃ۔ نسائی ج۷، کتاب الضحایا باب ذبح الناس بالمصلّی٭ السنن الکبریٰ ج۹کتاب الضحایا باب الاضحیہ سنۃ نحب لزومھا ونکرہ ترکہا۔
فصل چہارم: قربانی کی شرعی حیثیت
کچھ مدت سے (ایک خاص طبقہ کی جانب سے) یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ بقرعیدکے موقع پر جانوروں کی قربانی کرنے کا کوئی حکم اسلام میں نہیں ہے، یہ محض ایک رسم ہے جو مُلاّؤں نے ایجاد کرلی ہے، اور اس ’’فضول‘‘ رسم پر روپیہ ضائع کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اس روپے کو کسی اجتماعی مفاد کے کام پر خرچ کیا جائے۔ ان خیالات کی تبلیغ اب سے کئی سال پہلے بعض منکرینِ حدیث نے شروع کی تھی۔ اور اسی زمانے میں میں نے رسالہ ترجمان القرآن میں قرآن وحدیث کی سند اور عقلی دلائل سے ان کی مفصل تردید کردی تھی۔ لیکن اب دیکھ رہاہوں کہ پاکستان میں پھر یہ فتنہ اٹھا یا جارہاہے۔ اس لیے میں ضروری سمجھتاہوں کہ مختصراً اس مسئلے کے متعلق اسلامی احکام واضح طور پر بیان کردوں تاکہ محض ناواقفیت کی وجہ سے کوئی شخص اس فتنے سے متأثر نہ ہوجائے۔
قربانی کا حکم قرآن میں
قربانی کا حکم حدیث میں(اس عنوان کے تحت جو احادیث بیان کی گئی ہیں ان میں سے نمبر ۱ ، ۲اور۷- ۱۱ کی تخریج فصل نمبر ۳ میں کی جاچکی ہے۔ (مرتب)
اب ہمیں دیکھناچاہیے کہ نبی ﷺ نے قرآن مجید کے اس حکم کا منشا کیا سمجھا اور اس پر کیا عمل فرمایا۔ کیا آپ نے صرف حج ہی میں قربانی کی ہے، یا مدینہ طیّبہ میں بھی آپ عیدالاضحٰی کے موقع پر قربانی کرتے رہے؟ اور کیا آپ نے بقرعید پر قربانی کبھی کبھار کی ہے یا بالالتزام کرتے رہے؟ اور کیا آپؐ نے محض بذاتِ خود اس پر عمل کیا ہے یا مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیاہے؟ اس باب میں جو مستند روایات ہم تک پہنچی ہیں، میں انہیں بے کم وکاست یہاں نقل کیے دیتاہوں:
(۱) عَنِ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اَوَّلَ مَانَبْدَأُ بِہٖ فِیْ یَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ۔مَنْ فَعَلَہٗ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَاِنَّمَا ھُوَ لَحْمٌ قَدَّمَہٗ لاِھْلِہٖ لَیْسَ مِنَ النُّسُکِ فِیْ شَیْئٍ۔
’’براء بن عازب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے روز ابتداء کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جاکر قربانی کرتے ہیں ۔ صریح طورپر دیکھا جاسکتاہے کہ یہفَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَراور اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ کی تفسیر ہے۔ نبیؐ نے ٹھیک ٹھیک قرآن کی ہدایت کے مطابق یہ طریقہ
مقرر فرمایاہے کہ پہلے نماز پڑھی جائے پھر قربانی کی جائےجس نے اس پر عمل کیا اس نے ہمارے طریقے کے مطابق کیا، اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا تو اس کا شمار قربانی میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے مہیا کیا۔‘‘
(۲) وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ تَمَّ نُسُکُہٗ وَاَصَابَ سُنَّۃَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (بخاری )
’’جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی پوری ہوئی ور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا۔‘‘
ظاہر ہے کہ یہ روایت بقرعید ہی سے متعلق ہے اور اس کا کوئی تعلق حج سے نہیں ہے،کیونکہ حج میں کوئی خاص نماز ایسی نہیں ہے جس سے پہلے قربانی کرنا اس سنتِ مسلمین کے خلاف اور بعد قربانی کرنا اس سنت کے مطابق ہے۔
(۳) قَالَ یَحْیَی ابْنُ سَعِیْدٍ سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ بْنَ سَھْلٍ قَالَ کُنَّا نُسَمِّنُ الْاُضْحِیَۃَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ یُسَمِّنُوْنَ۔ (بخاری)
’’یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ ابن سہل انصاری سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلاکر موٹا کرتے تھے اور عام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔‘‘
تخریج : قَالَ یَحْیَی ابْنُ سَعِیْدٍ:سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ بْنَ سَھْلٍ، قَالَ کُنَّا نُسَمِّنُ الْاُضْحِیَۃَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ یُسَمِّنُوْنَ۔(۱)
ترجمہ :یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ ابن سہل انصاری سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلاکر موٹا کرتے تھے اور عام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔
(۴) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ وَاَنَا اُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ۔ (بخاری)
’’نبی ﷺ کے خادمِ خاص انس بن مالک کہتے ہیں کہ ’’حضورؐ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دومینڈھوں کی قربانی کرتاہوں۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُھَیْبٍ، سَمِعْتُ اَنَسَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُضَحِّی بِکَبْشَیْنِ وَاَنَا اُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ۔(۲)
ترجمہ :نبی ﷺ کے خادمِ خاص انس بن مالک کہتے ہیں کہ حضورؐ دومینڈھوں کی قربانی کیاکرتے تھے اور میں بھی دوہی مینڈھوں کی قربانی کرتاہوں۔
(۵) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتِ الْاُضْحِیَۃُ کُنَّانَمْلِحُ مِنْھَا فَنُقَدِّمُ بِہٖ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (بخاری)
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیاکرتے تھے اور پھر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ اَخِیْ، عَنْ سُلَیْمَانَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتِ الضَّحِیَّۃُ کُنَّانَمْلَحُ مِنْھَا فَنُقَدِّمُ بِہٖ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَقَالَ: لاَتَاْکُلُوا اِلاَّثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیْسَتْ بِعَزِیْمَۃٍ وَلٰکِنْ اَرَادَ اَنْ یُطْعَمَ مِنْہُ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔(۳)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیاکرتے تھے اور پھر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے تھے آپؐ نے فرمایا یہ گوشت بس تین دن سے زیادہ نہ کھایا جائے۔ اس فرمان نبوی کی پابندی واجب نہیں، بلکہ مقصود آپ کا یہ تھا کہ اس میں سے دوسروں کو بھی کھلایاجائے۔
(۶) عَنْ اَبِیْ عُبَیْدٍ مَوْلَی بْنِ اَزْھَرَ اَنَّہٗ شَھِدَ الْعِیْدَ یَوْمَ الْاَضْحیٰ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَصَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ اَیَّھُا النَّاسُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْ نَھَاکُمْ عَنْ صِیَامِ ھٰذَیْنِ الْعِیْدَیْنِ اَمَّا اَحَدُھُمَا فَیَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِیَامِکُمْ وَاَمَّاالْاٰخَرُ فَیَوْمٌ تَاْکُلُوْنَ مِنْ نُسُکِکُمْ۔ (بخاری)
’’ابوعبید مولیٰ بن ازہر کہتے ہیں کہ انہوں نے بقرعید کے روز حضرت عمرؓ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ’’لوگو! رسول اللہ ﷺ نے تم کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے: ان میں سے ایک عید تو تمہارے لیے افطار کا دن ہے، رہی یہ دوسری عید تو اس میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔‘‘
تشریح :یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ حج میں بقرعید کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے، لہذا حضرت عمرؓ کا یہ خطبہ یقینی طور پر مدینہ طیبہ میں ہوا ہے اور جو حکم انہوں نے بقرعید کی قربانی کے متعلق بیان کیا ہے اس کا تعلق بھی لازمًا مکّہ سے باہر دوسرے مقامات سے ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ، عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ عُبَیْدٍ مَوْلَی بْنِ اَزْھَرَ اَنَّہٗ شَھِدَ الْعِیْدَ یَوْمَ الْاَضْحیٰ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَصَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: یٰاَیَّھُا النَّاسُ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْ نَھَاکُمْ عَنْ صِیَامِ ھٰذَیْنِ الْعِیْدَیْنِ اَمَّا اَحَدُھُمَا فَیَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِیَامِکُمْ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَیَوْمٌ تَاْکُلُوْنَ مِنْ نُسُکِکُمْ ۔(۴)
ترجمہ : ابوعبید مولیٰ ابن ازہر کہتے ہیں کہ انہوں نے بقرعید کے روز حضرت عمرؓ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا :لوگو! رسول اللہ ﷺ نے تم کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے،ان میں سے ایک عید تو تمہارے لیے افطار کا دن ہے، رہی یہ دوسری عید تو اس میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔
(۷) قَالَ اَبُوالزُّبَیْرِ اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَقُوْلُ صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِیْنَۃِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوْا وَظَنُّوْا اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَدْ نَحَرَ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ کَانَ نَحَرَ قَبْلَہٗ اَنْ یُّعِیْدَ بِنَحَرٍ اٰخَرَ وَلاَیَنْحَرُوْا حَتّٰی یَنْحَرَ النَّبِیُّ ﷺَ۔ (مسلم )
’’ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے سُنا وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے ہمیں یوم النحرکو مدینہ میں نماز پڑھائی پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضورؐ قربانی کرچکے ہیں آگے بڑھ کر اپنے جانور قربان کرلیے ۔ اس پر حضورؐ نے حکم دیا کہ جس نے مجھ سے پہلے قربانی کرلی ہے اسے پھر دوسری قربانی کرنی چاہیے اور آیندہ کوئی شخص اس وقت تک قربانی نہ کرے جب تک کہ میں نہ کرلوں۔ ‘‘
(۸) عَنْ جَابِرٍؓ قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عِیْدَالْاَضْحیٰ فَلَمَّا انْصَرَفَ اُتِیَ بِکَبْشٍ فَذَبَحَہٗ فَقَالَ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا عَنِّیْ وَعَمَّنْ لَّمْ یُضَحِّ مِنْ اُمَّتِیْ۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی)
’’جابر بن عبداللہ کہتے ہیں ’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقرعید کی نماز پڑھی۔ پھر جب آپ پلٹے تو آپ کی خدمت میں ایک مینڈھا پیش کیا گیا۔ اور آپ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ خدایا یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان سب لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔ ‘‘
(۹) عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا ضَحّٰی اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ سَمِیْنَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ فَاِذَا صَلّٰی وَخَطَبَ النَّاسَ اُتِیَ بِاَحَدِھِمَا وَھُوَ قَائِمٌ فِیْ مُصَلاَّہُ فَذَبَحَہٗ بِنَفْسِہٖ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد)
’’علی بن حسین ؓ ابورافع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقرعید کے موقع پر دومینڈھے خریدتے تھے خوب موٹے تازے بڑے سینگوں والے اور چتکبرے۔ پھر جب آپ نماز پڑھ چکتے اور خطبے سے فارغ ہولیتے تو ان میں سے ایک مینڈھا پیش کیا جاتا اور اپنے مصلے ہی پر کھڑے کھڑے اسے ذبح فرمادیتے۔‘‘
(۱۰) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَنْ وَّجَدَ سَعَۃً فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَیَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔ (مسند احمد، ابن ماجہ)
’’ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص استطاعت رکھتاہو پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ ‘‘
(۱۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّیْ۔ (ترمذی)
’’ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دس سال مدینہ میں رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔ ‘‘
تشریح :یہ گیارہ روایتیں مختلف صحابیوں سے حدیث کی ۶معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں اور ان سے ثابت ہوتاہے کہ نبی ﷺ نے قرآن کے مذکورہ بالا احکام کا منشا یہ سمجھاتھا کہ قربانی صرف حاجیوں کے لیے مخصوص نہ ہو بلکہ ذی استطاعت مسلمان بھی اپنی اپنی جگہ بقرعید کے موقع پر قربانی کرتے رہیں۔ اس طریقہ پر حضورؐ خود عامل رہے۔ دوسرے مسلمانوں کو حکم دیا اور اسے سنتِ اسلام کے طورپر مسلمانوں میں جاری کیا۔
فقہائے امت کی آراء
قرآن اورحدیث کے ان دلائل کی بنا ء پر فقہائے امت نے بقرعید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سننِ اسلام میںسے ہے۔ اگر اختلاف ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بقرعید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیوں اور جمہور کے نزدیک یہ سنت مؤکّدہ ہے بطریق کفایت۔ اور شافعیہ میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ فرض کفایہ ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کی رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوشحال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالک کی رائے بھی ایک روایت کی رُو سے یہی ہے۔ مگر انہوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی ہے۔ اوزاعی، ربیعہ اور لَیث کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابویوسف اور مالکیوں میں اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیاہے۔ امام احمد بن حنبل کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔ ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے۔ امام محمد کہتے ہیں کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑدینے کی اجازت نہیں ہے۔ (فتح الباری:ج۱۰)
اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک قربانی کے سنت اور مشروع ہونے کا تعلّق ہے یہ مسئلہ ابتداء سے امت میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیںرہاہے۔
اُمّت کا متواتر عمل
سب سے بڑاثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کایہ ہے کہ نبی ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک مسلمانوں کی ہرنسل کے بعد دوسری نسل اس پر عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ دوچار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہرپشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے اپنے سے پہلی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں سے اس طریقے کو اخذ کیا ہے اور اپنے سے بعد والی پشت کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں تک اسے پہنچایاہے۔ اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلے پر کسی نے ا س کو ایجاد کرکے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ تمام مسلمان بالاتفاق اس کو قبول کرلیتے اور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا؟ اور کس طرح یہ بات تاریخ میں چھپی رہ سکتی تھی کہ اس طریقہ کو کب کس نے کہاں ایجاد کیا؟ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کرکے رسولِ خدا کی طرف منسوب کردیاجائے اور پوری امت آنکھیں بند کرکے اسے قبول کربیٹھے۔ اگر یہ مان لیاجائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معاملہ قربانی تک کب محدود رہتاہے۔ پھر تو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ بلکہ خود رسالتِ محمدیہ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک ومشتبہ ہوکر رہ جاتاہے۔ کیونکہ جس تواتر کے ساتھ پچھلی نسلوں سے ہم کو قربانی پہنچی ہے اسی تواتر کے ساتھ انہی نسلوں سے یہ سب چیزیں بھی پہنچی ہیں۔ اگر ان کا متواتر عمل اس معاملے میں مشکوک ہے تو آخر دوسرا کون سا ایسا معاملہ رہ جاتاہے جس میں اسے شک سے بالاتر ٹھیرا یاجاسکے ۔
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں نہ خلق کی شرم۔ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلے پر چاہتاہے بے تکلف تیشہ چلادیتاہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اس مسئلے کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے۔
معاشی اعتراض
دراصل اس وقت قربانی کی جو مخالفت کی جارہی ہے اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ کسی نے علمی طریقے پر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا ہو اور اس میں قربانی کا حکم نہ پایا جاتاہو۔ بلکہ اس مخالفت کی حقیقی بنیاد صرف یہ ہے کہ اس مادہ پرستی کے دور میں لوگوں کے دل ودماغ پر معاشی مفاد کی اہمیت بری طرح مسلط ہوگئی ہے اور معاشی قدر کے سوا کسی چیز کی کوئی دوسری قدر ان کی نگاہ میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ حساب لگاکر دیکھتے ہیں کہ ہرسال کتنے لاکھ یا کتنے کروڑ مسلمان قربانی کرتے ہیں اور اس پر اوسطًا فی کس کتنا روپیہ خرچ ہوتاہے۔ اس حساب سے ان کے سامنے قربانی کے مجموعی خرچ کی ایک بہت بڑی رقم آتی ہے اور وہ چیخ اٹھتے ہیں کہ اتنا روپیہ محض جانوروں کی قربانی پر ضائع کیا جارہاہے، حالانکہ اگر یہی رقم قومی اداروں یا معاشی منصوبوں پر صرف کیا جاتا تو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہوسکتے تھے۔ مگر میں کہتاہوں کہ یہ ایک سراسر غلط ذہنیت ہے جو غیراسلامی اندازِ فکر سے ہمارے اندر پرورش پارہی ہے۔ اگر اس کو اسی طرح نشوونما پانے دیا گیا تو کل ٹھیک اسی طریقے سے استدلال کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ ہرسال اتنے لاکھ مسلمان اوسطًا اتنا روپیہ سفرِ حج پر صرف کردیتے ہیں جو مجموعی طورپر اتنے کروڑ روپیہ بنتاہے، محض چند مقامات کی زیارت پر اتنی خطیر رقم سالانہ صرف کردینے کے بجائے کیوں نہ اسے بھی قومی اداروں اور معاشی منصوبوں اور ملکی دفاع پر خرچ کیاجائے۔ یہ محض ایک فرضی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ فی الواقع اسی ذہنیت کے زیراثر ترکیہ کی لادینی حکومت نے ۲۵ سال تک حج بند کیے رکھاہے۔
پھر کوئی دوسرا شخص حساب لگائے گا کہ ہرروز اتنے کروڑ مسلمان پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں اور اس میں اوسطًا فی کس اتنا وقت صرف ہوتاہے جس کا مجموعہ اتنے لاکھ گھنٹوں تک جا پہنچتاہے۔ اس وقت کو اگر کسی مفید معاشی کام میں استعمال کیا جاتا تو اس سے اتنی معاشی دولت پیدا ہوسکتی تھی۔ لیکن بُرا ہو اُن ملاؤں کا کہ انہوں نے مسلمانوں کو نماز میں لگا کر صدیوں سے انہیں اس قدر خسارے میں مبتلا کررکھاہے یہ بھی کوئی فرضی قیاس نہیں ہے بلکہ فی الواقع سوویٹ رُوس میں بہت سے ناصحین مشفقین نے وہاں کے مسلمانوں کو نماز کے معاشی نقصانات اسی منطق سے سمجھائے ہیں ـــــ پھریہی منطق روزے کے خلاف بھی بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان نری معیشت کی میزان پر تول تول کر اسلام کی ایک ایک چیز کو دیکھتاجائے گا اور ہر اس چیز کو ’’ملاؤں کی ایجاد‘‘ قراردے کر ساقط کرتا چلاجائے گا جو اس میزان میں اس کو بے وزن نظر آئے گی۔ کیا فی الواقع اب مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے احکام کو جا نچنے کے لیے صرف ایک یہی معیار رہ گیا ہے۔
(تفہیمات دوم: قربانی کی شرعی۔۔۔)
ماخذ
۱) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب ضَحِیَّۃِ النَّبِیِّ ﷺ بِکَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ الخ۔
(۲) بخاری ج۳کتاب الاضاحی باب الاضحی والمنحر بالمصلی۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹کتاب الضحایا باب قال اللّٰہ جل ثناء ہٗ، فصل لربک وانحر عن انس بن مالک۔
(۳) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب مایُؤکل من لحوم الاضاحی وما یتزود منھا۔
(۴) بخاری ج۲کتاب الاضاحی باب مایُؤکل من لحوم الاضاحی وما یتزود منھا۔
فصل پنجم: تحقیق قربانی کا ایک دوسرا رخ ۔مضمون نگار کا طرزِ تحقیق
جناب عرشی امرتسری نے’’تحقیق قربانی‘‘ کے عنوان سے قربانی پر اپنی تحقیق پیش فرمائی ہے
۔فاضل مضمون نگار رسالہ بلاغ امرتسر کے پرچہ بابت ذی القعدہ ۵۵ھ میں عرشی صاحب نے تحقیقِ قربانی کے عنوان سے قربانی پر اپنی انوکھی تحقیق پیش فرمائی تھی اس کے جواب میں مولانا محترمؒ نے یہ مضمون تحریر فرمایا تھا۔ (مرتب)
نے اپنی تحقیق کی ابتداء انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک اقتباس سے کی ہے جس میں بتایا گیاہے کہ قربانی کے متعلق ’’قدیم انسان‘‘ کا نظریہ کیا تھا،روم اور یونان میں قربانی کی رسم کن عقائد پر مبنی تھی۔ سامی مذاہب میں یہود کا کیاعقیدہ تھا۔ ’’دورِ ثانی‘‘ میں جب انسان دیوتاؤں کی حقیقت سے واقف ہوگیا تو اس نے قربانی کی رسم کن تاویلوںکے ساتھ باقی رکھی، یہود کے رِبیّ اور یونان کے فلسفی خدا اور ارواح کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے تھے اور قربانی کے ساتھ اس عقیدہ کا رابطہ کس قسم کا تھا، قدیم آریوں اور اہل روم اور اہل عرب میں قربانی کی کیا رسمیں تھیں، پھر مسیحیت نے کس طرح قربانی کا ابطال کیا اور جاہلیت کے ان خیالات کو جو انسانی اقوام میں پھیلے ہوئے تھے کِس طرح مٹایا اور یہ عاقلانہ تخیّل انسانوں میں پیدا کیا کہ ’’غربا کو کچھ دینا قربانی کے برابر ہے۔‘‘ اور ’’جوخیرات دیتاہے وہ گویا ستایش کی قربانی خدا کو پیش کرتاہے۔‘‘ یہ تمام بیانات جو تمہید کے طورپر بیسویں صدی کی’’کتابِ مقدس‘‘ سے نقل کیے گئے، بلاشبہ ہماری معلومات میں بیش قیمت اضافہ کرتے ہیں، مگرہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ان کواس مضمون میں کیوں نقل کیا گیاہے
طرزِ تحقیق پر گرفت
اوّل تو یہ تمام بحث غیرمتعلق ہے اس لیے نفس مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا خدا اور رسول نے قربانی کا حکم دیاہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہوجائے کہ نہیںدیا ہے تو انسائیکلوپیڈیا کی شہادت قطعاً غیرضروری ہے اور اگر تحقیق سے یہ ثابت ہوکہ قربانی ایک سنتِ اسلام ہے اور خدا و رسول کے حکم سے جاری ہوئی ہے، تو مسلمانوں کو بہر حال اس کا اتباع کرنا چاہیے، خواہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی نگاہ میں وہ کیسی ہی جہالت اور تاریک خیالی ہو۔ اس لیے کہ ہمارا اتّباعِ اسلام کسی انسائیکلوپیڈیا کی تائید وتصدیق پر موقوف نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے۔
پھر یہ بات سخت حیرت انگیز ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو قرآن کا مبلغ کہتے ہیں اور جن کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم قرآن کے سوا کسی چیز کے متبع نہیں ہیں، وہ ایک مذہبی مسئلہ کی تحقیق میں یورپ کی تحقیق کو سب پر مقدم رکھتے ہیں۔ اگر قربانی کی تاریخ اور جاہلیتِ اولیٰ کے اعتقادات ہی پر کچھ روشنی ڈالنی تھی تو اس کے متعلق خود قرآن میں کافی مواد موجود تھا، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوسکتاتھا کہ جاہلیت کی قربانی اور اسلام کی قربانی میں فرق کیا ہے۔ لیکن جب عرشی نے قرآن کو چھوڑ کر محققینِ یورپ کی طرف توجہ فرمائی اور سب سے پہلے انہی سے دریافت کیا کہ یہ قربانی جو تیرہ سو برس سے اسلام میں رائج ہے اس کی اصلیت تمہاری تحقیق میں کیاہے؟ یہ شرف تقدم جو ایک اسلامی مسئلہ کی تحقیق میں اہلِ فرنگ کے علم ورائے کو عطا کیا گیاہے، اس کی وجہ اگر ہم بیان کریں گے تو ہم پر بدگمانی کا الزام عائد ہوگا۔ اس لیے جناب عرشی خودہی اس پر ر وشنی ڈالیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ جن ’’محققین‘‘ کے خیالات کو آپ نے مسئلہ قربانی میں اپنی تحقیق کا نقطۂ آغاز قراردیاہے اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسلام کے اصول وارکان بلکہ خود اسلام اور نبوت اور وحی اور قرآن کے متعلق بھی ان کی تحقیقات پیش کریں اور آپ سے دریافت کریں کہ ان کی نظر سے آپ اسلام کی کس کس چیز کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟
مزید برآں یہ بات بھی کچھ کم قابلِ تعجب نہیں کہ جولوگ رسول اللہ ﷺ کے قول وفعل اور آپ کے اسوۂ حسنہ کے متعلق بخاری اور مسلم اور مؤطا اور تمام دوسری کتبِ حدیث کی شہادتیں بے تکلّف رد فرمادیتے ہیں ان کے معیارِ تنقید پر ’’قدیم انسان‘‘ اور روم ویونان، اور امم سامیہ اور اقوام آریہ کے متعلق محققین فرنگ کے بیانات کس طرح پورے اترجاتے ہیں؟ حالانکہ ان کا زمانہ عصرِ نبوت سے سینکڑوں ہزاروںسال قبل کا ہے۔ اور ان کے متعلق جو تاریخی شہادتیں آج دنیا میں موجود ہیں وہ اُن تاریخی شہادتوں کے مقابلے میں کوئی وزن نہیں رکھتیں جو نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے متعلق حدیث میں پائی جاتی ہیں۔ جن ذرائع پر اعتماد کرکے آپ پرانی قوموں کے احوال پر عالمانہ کلام فرمارہے ہیں، ان میں سے قوی سے قوی ذریعہ بھی ابنِ ماجہ اور حاکم اور بیہقی کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلے میں نہیں لایا جاسکتا۔ پس جب آپ ان ذرائع سے استناد فرماتے اور ان کی سند پر ہم کو خبردیتے ہیں کہ’’ قدیم انسان‘‘ یہ کرتاتھا، اور سامی مذاہب میں یہ عقیدہ تھا اور روم ویونان والے یہ خیالات رکھتے تھے، تو ہم کو بھی اجازت ہوکہ بخاری اور مسلم کی سند پر یہ عرض کریں کہ رسول اللہﷺ کا یہ عمل تھا اور حضورؐنے فلاںمسئلے میں فلاں حکم دیاتھا۔ اگر اس کو ماننے سے آپ انکار فرمائیں گے تو ہم آپ سے صرف اتنا عرض کریں گے کہ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیدٌ؟
قربانی کے متعلق انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی تحقیقات سے فاضل مضمون نگار جس نتیجے پر پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ:
’’ترقیٔ تہذیب نے قربانی کی کراہت واضح کردی۔‘‘
اس فقرے کا مفہوم غالباًاس کے سوا اور کچھ نہیں کہ قربانی اصل میں تو تھی ہی ایک مکروہ چیز۔ مگر قدیم زمانے میں جہالت کی وجہ سے اس کی کراہت لوگوں سے مخفی تھی، اب چونکہ تہذیب ترقی کرچکی ہے اس لیے اس کا مکروہ ہونا واضح ہوگیا ہے۔ یہ الفاظ پیش نظر رکھیے اور پھر ذرا سورۂ حج کی وہ آیت ملاحظہ فرمایئے جس میں ارشاد ہواہے:
اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں سے قراردیاہے۔ تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے لہٰذا تم ان کو صف بستہ کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو (یعنی ذبح کرو) اور جب وہ کسی پہلو پر گرجائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور قانع اور سائل کو بھی کھلاؤ۔ (حج، رکوع:۵)
ہرشخص جس کو خدا نے تھوڑی سی عقل بھی عطافرمائی ہے بیک نظر محسوس کرے گا کہ یہ دونوں عبارتیںصریحًا ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ سورۂ حج میں جس چیز کو شعائر اللہ قراردیا گیاہے اور جسے ایک کارِ خیر کی حیثیت سے کرنے کا حکم دیا گیاہے، اسی کو عرشی صاحب کی مقدم الذکر عبارت مکروہ ٹھہراتی ہے۔ اور ہم کو یہ خبرسناتی ہے کہ اسے کارخیر سمجھنے کا خیال اس زمانے کے جاہل انسانوں میں پایا جاتاتھا جب تہذیب نے ترقی نہ کی تھی۔ چھوڑدیجیے اس خیال کوکہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟ ہرشہر اور قریہ میں کرنی چاہیے یا صرف مقام منیٰ میں؟ قربانی کرنا افضل ہے یا اس کے بدلے میں کچھ خیرات کردینا؟ سوال یہ ہے کہ اگر کسی درجے میں بھی قرآن سے قربانی کا حکم کیا معنی، جواز بھی نکلتاہے، اگر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کی فضیلت اور بھلائی بھی اس فعل کی طرف قرآن میں منسوب کی گئی ہے، تب بھی کیا قرآن اس الزام سے بچ سکتاہے کہ وہ اس زمانے کی ایک کتاب ہے جب تہذیب نے کافی ترقی نہ کی تھی؟ اور پھر اس کے بعد کیا اسے خدا کی کتاب مانا جائے گا یا کسی ایسے شخص کی تصنیف جو بیسویں صدی کے مقابلے میں چھٹی صدی کا ایک نیم مہذب انسا ن تھا؟
یہ نتیجہ ہے قرآن سے پہلے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی طرف رجوع کرنے کا۔ جس مقام سے آپ نے اپنی تحقیق کی ابتدا کی اور جن مسلّمات کو لے کر آپ مسئلہ قربانی کی بحث وتنقیح کے لیے چلے وہ پہلے ہی قدم پر آپ کا قدم پھسلاکر کہیں سے کہیں لے گئے۔ ان کامنطقی نتیجہ تو یہ نکلتاہے کہ آپ کو قرآن کے کتاب اللہ ہونے سے انکار کردینا چاہیے۔ لیکن چونکہ آپ کی عقل کے خلاف آپ کا وجدان اس کتاب پر ایمان رکھنے کے لیے اصرار کررہاہے اس وجہ سے آپ اس منطقی نتیجہ سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں اور قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں حدِّ تحریف تک پہنچی ہوئی تاویلیں کرکے صرف یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن نے قربانی کا حکم نہیں دیاہے۔ حالانکہ اس سے وہ الزام جو خود آپ کے تسلیم کردہ اصول کی بنا پر قرآن کے خلاف عائد ہوتاتھا، صرف ہلکا ہوجاتاہے، دور کسی طرح نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس الزام سے تو قرآن صرف اسی صورت میں بچ سکتا تھا جب کہ وہ قطعًا وایجابًا قربانی بند کرنے کا حکم دیتا۔
انسان کی حیثیت اس وقت بڑی ہی عجیب ہوجاتی ہے جب وہ کسی نظام میں داخل بھی رہنا چاہتاہو اور نظری وفکری حیثیت سے اس سے منحرف بھی ہوچکاہو۔ ایسی حالت میں وہ اس نظام کی ہرچیز کو اپنے مزاج کے خلاف پاتاہے اور اس کے ایک ایک تار کو ادھیڑ کر از سرِ نوبُننے کی کوشش کرتاہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اُس اُدھیڑ بُن کا راز فاش ہو۔ اس لیے قدم قدم پر اس کو تاویل، تحریف، سخن سازی کھینچ تان اور خدع وفریب کے اوزار استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ ’’عرشی صاحب‘‘ ہم کو معاف فرمائیں اگر ہم عرض کریں کہ اس وقت وہ ایسے ہی مشکل موقف میں پڑے نظر آتے ہیں۔ قربانی کے متعلق ان کا نقطۂ نظر وہ نہیں ہے جو اسلام کا نقطۂ نظر ہے۔ قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ اور ’’سنت متواترہ‘‘ میں قربانی ایک عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ایک نیکی اور بھلائی ہے جسے ادا کرنے کے لیے احکام دیے گئے ہیں اور ان احکام کو بجالانے کے لیے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس آپ کے نزدیک وہ ایک مکروہ چیز ہے، جہالت ہے اور ترقیٔ تہذیب کی وجہ سے مبغوض ہوچکی ہے۔ اب آپ چاہتے ہیںکہ آپ کا یہ نقطۂ نظر اسلام کا نقطۂ نظر بن جائے اور سارے احکام اس کے مطابق ڈھل جائیں۔ لیکن ساڑھے تیرہ سوبرس میں اسلام نے جس قدر لٹریچر پیدا کیاہے وہ کُل کا کُل ایسے مواد سے بھرا ہوا ہے جو آپ کی اس غرض کے خلاف ہے حتّٰی کہ قرآن کے صریح الفاظ بھی آپ کی اس غرض کے مخالف ہیں۔ آپ ’’سنت متواترہ‘‘ کو’’ جہالتِ متواترہ‘‘ کہہ کر ٹال دیں گے۔ حدیث، فقہ اور تفسیر کے سارے لٹریچر کو جعلی ٹھہرادیں گے، مگر قرآن کی صریح آیات کا آپ کے پاس کیا علاج ہے؟ کن کن الفاظ کا مفہوم بدلیں گے؟ کن کن عبارتوں کو ادھیڑ یںگے؟ کہاںتک خدا کے کلام میں اپنے معنی بھریں گے؟
قرآن کی معنوی تحریف کی دومثالیں
عرشی صاحب نے اس سلسلے میں قرآن کی معنوی تحریف کرنے کی جو حیرتناک کوششیں کی ہیں ان کی صرف دومثالیں ہم محض اس لیے پیش کرتے ہیں کہ شاید ہمارے اس بھٹکے ہوئے بھائی اور اس کے ہم خیال حضرات کو تنبُّہ کی توفیق میسر ہوجائے۔
قرآن میں یہ واقعہ مذکورہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کا اشارہ پایا تھا۔ اس کے امتثال میں وہ واقعی اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ جب انہوں نے اپنے لختِ جگر کو ماتھے کے بل پچھاڑدیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یَا اِبْرَاھِیْمُ قَدْصَدَّقْتَ الرُّؤْیَا اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْبَلاَئُ الْمُبِیْن(صافات: ۱۰۴،۱۰۶) ’’اے ابراہیمؑ! تونے خواب سچا کردکھایا، ہم اسی طرح نیک بندوں کو جزا دیتے ہیں، بیشک یہ کھلی ہوئی آزمایش تھی۔‘‘ اس قصے کا صاف مفہوم جس کو ہر صاحبِ فہم آدمی پہلی نظر میں محسوس کرسکتاہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی آزمایش کرنی چاہی تھی، اس لیے بیٹے کو ذبح کرنے کا صریح حکم نہ دیا بلکہ کنایۃً خواب میں ایسا دکھایا کہ اپنے لختِ جگر کو ذبح کررہے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑچونکہ خدا کی محبت پر ہرمحبت کو قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اس لیے وہ محبوب حقیقی کے محض اس ذراسے ڈھکے چھپے اشارے ہی پر بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے آمادہ ہوگئے۔ یہی اصل قربانی تھی، اور جب یہ پوری ہوگئی، تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کا خون بہانے سے ان کو روک دیا اور ایک ’’ذبح عظیم‘‘ کو اس کا فدیہ بنادیا۔
غور کیجیے، یہ کتنا عظیم الشان واقعہ ہے اور لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ( آل عمران :۹۲) کی روح کو کس شاندار طریقے سے پیش کررہاہے۔ لیکن اب دیکھیے کہ ’’عرشی صاحب ‘‘اور ان کے ہم خیال حضرات محض ’’قربانی‘‘ کی مخالفت کی وجہ سے قرآن کے اس نہایت سبق آموز قصّے کو کس طرح مسخ کرتے ہیں۔ ان کی تاویل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے دراصل خواب کا مطلب ہی غلط سمجھا۔ جوش ایمانی تو ان میں ضرور تھا اور’’شرابِ عشق کی سرمستی‘‘ تک پہنچا ہوا تھا، مگر فہم اتنی بھی نہ تھی جتنی عرشی صاحب اور مولوی احمد الدین صاحب مرحوم کو ارزانی ہوئی ہے۔ وہ خواب کا مطلب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بیٹے کو ذبح کردو۔ حالانکہ دراصل ذبح کرتے ہوئے دکھانے سے خدا کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس بچے سے دنیوی امیدیں ’’منقطع‘‘ کرکے اسے خدا کے دین کی عظیم خدمت کے لیے وقف کردو۔ پس جب وہ اپنے لختِ جگر کو پچھاڑ کر ایک ضرر رساں غلطی کا ارتکاب کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبّہ فرمایا اور ذبح عظیم (بیٹے کو دین کے لیے وقف کرنے) کی طرف ان کی رہنمائی کی۔
اس تاویل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا فرماکرخود یہ تصدیق فرمادی کہ حضرت ابراہیم ؑ نے خواب کی تعبیر صحیح سمجھی تھی۔ فاضل مفسر نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے آیت کے ترجمے میں ایک ذراسی تحریف کردی۔ لفظی ترجمہ یہ تھا کہ ’’تونے خواب کو سچ کردکھایا۔‘‘ انہوں نے اس کا ترجمہ یہ کیا ’’تونے تو خواب سچ کردکھایا۔‘‘دیکھیے ایک چھوٹے سے لفظ ’’تو‘‘ نے مفہوم کو کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ جو تصدیق تھی وہ تعریض بن گئی۔ اس کے بعد اگر کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ کا فقرہ بے معنی ہوگیا تو کچھ پروا نہیں ۔ رہا اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْبَلاَئُ الْمُبِیْنُ، تو اس نئی تاویل سے اس کے معنی یہ قرار پائے کہ یہ محض حضرت ابراہیم ؑ کی عقل کی آزمایش تھی کہ آیا وہ خواب کا مطلب صحیح سمجھتے بھی ہیں یا نہیں، اور افسوس کہ بیچارے اس امتحان میں بُری طرح فیل ہوئے۔
دیکھا آپ نے ! محض ایک جزئی مسئلہ میں نقطۂ نظر کے پھر جانے سے انسان پر کس طرح بڑے بڑے مسائل میں فہمِ قرآن کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ جو واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کا عظیم الشان کارنامہ تھا وہ ان کی ایک غلطی بن گیا۔ جس واقعہ کو مسلمانوں کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ وہ اسلام کی روح کو سمجھیں، اور اپنے اندر ایثارو قربانی اور محبتِ خداوندی کا یہ جذبہ پیدا کریں، اس کے مقصد کو قطعی باطل کردیا گیا، اس کی جان نکال لی گئی، اور وہ محض اس امر کی ایک شہادت بن گیا کہ جلیل القدر انبیاء تک خدا کے اشارات کو نہیں سمجھ سکے، بلکہ اس نعمت سے صرف بیسویں صدی کے ایک ’’مفسرِ اسرار‘‘ کو سرفراز فرمایا گیاہے!
اب دوسری مثال ملاحظہ ہو۔ سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوْا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَارَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔(الحج :۳۴)
آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے:
’’اور ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کیا عبادت کا ایک طریقہ تاکہ وہ نام لیں اللہ کا اوپر اس کے جو بخشا ہے اس نے ان کوچار پایوں میں سے۔‘‘
یہ الفاظ صریح طور پر یہ بتارہے ہیں کہ قربانی ایک عبادت ہے اور یہ طریقہ خدا کا اپنا مقرر کیا ہوا ہے۔ مگر عرشی صاحب اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:
’’اور دیکھو ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا طور طریقہ ٹھہرادیا کہ ہمارے دیے ہوئے پالتوچار پائے ذبح کرے تو اللہ کا نام یاد کرے۔‘‘
دیکھیے اس ’’ذبح کرے تو‘‘نے مفہوم کو کدھر پھیردیاہے۔ اب آیت کے معنی یہ قرار پائے جو مذبحوں میں روزانہ ہزاروں بکرے قصّابوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہیں اور ان پر بِسم اللہ، اللہ اکبر پڑھا جاتاہے یہی وہ منسک (عبادت کا طور طریقہ) ہے جو اللہ نے ہر امت کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس قسم کی تحریفات کو دیکھ کر معلوم ہوتاہے کہ قرآن کو اصل الفاظ میں محفوظ کرکے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا بڑا فضل فرمایا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بعید نہ تھا کہ اس زمانے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کو سامنے رکھ کر ایک نیا ہی قرآن تیار کرلیا جاتا۔
’’عرشی صاحب‘‘ نے تقریبًا تمام ان آیات کی ایسی ہی تاویلیں فرمائی ہیں جن میں قربانی کے احکام آئے ہیں۔ اور پھر فقہی مسائل کی ایسی توجیہات کی ہیں جن سے صاف معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اصل مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی، بلکہ حدیث وتفسیر اور فقہ کی تمام کتابوں کے ورق الٹنے میں صرف ایک مقصد ان کے پیش نظر رہاہے اور وہ یہ ہے کہ قربانی کی تائید میں اگر پہاڑ نظر آئے تو اس سے آنکھیں بند کرلیں۔ اور اس کے خلاف ایک بال کی ذرا سی نوک بھی نظر آئے تو اس کو پہاڑ بنا کر صرف ان مسلمانوں کے سامنے پیش کردیں جو بیچارے اصل ماخذ تک نہیں پہنچ سکتے اور جن کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ان نمائشی پہاڑوں کی حقیقت کیاہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں بحث کا یہ طریقہ اور تحقیق کا یہ معیار ہو وہاں کسی سنجیدہ بحث کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوسکتی۔ اگر وہ چاہیں تو ان کی ایک ایک غلطی کا راز فاش کیا جاسکتاہے لیکن اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا تاوقتیکہ وہ اپنی ذہنیت اور اپنے طریقِ فکر کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔ (ترجمان القرآن۔ ۱۹۳۷ء)
قربانی پر منکرینِ حدیث کا حملہ
نے مقرر کی ہیں۔ پھر جب حج کی تاریخیں آئیں تو دوبارہ احرام باندھ لے۔ اس صورت میں جو فائدہ عمرہ کے ذریعے سے اٹھایا جاتاہے اس کے شکرانے کے طورپر قربانی کرنے کا حکم دیا گیاہے۔
اٹھائے تو جو کچھ قربانی میسر آئے کردے اور جسے قربانی میسّر نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین دن کے اور واپس گھر پہنچ کر سات دن کے روزے رکھے۔‘‘
انسان سے تقرّب پیدا کرنے کے لیے اس کے پاس ہدیہ لے جاتاہےسے تعبیر کیا گیاہے۔ امام رازی نے اس لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرتے ہوئے کہیں یہ لکھ دیا تھا کہمَعْنَی الْھَدْیِ مَایُھْدیٰ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تَقْرِیْبًا اِلَیْہِ بِمَنْزَلَۃِ الْھَدْیَۃِ یُھْدِیْھَا الْاِنْسَانُ اِلٰی غَیْرِہٖ تَقَرُّبًا اِلَیْہِ۔ اتنی گنجایش سے فائدہ اٹھاکر مانعینِ قربانی نے بے تکلف فیصلہ کردیا کہ ہدی سے مراد قربانی نہیں بلکہ کوئی سا ہدیہ اللہ کے حضور پیش کردیناہے۔ لیکن امام رازی نے اسی عبارت سے چند سطر آگے یہ بھی لکھا تھا کہ :
فصل ششم: اعلان براء ت اور خطبۂ حجۃالوداع ۔اعلانِ براء ت
ذی القعدہ ۹ھ میں جب نبی ﷺ حضرت ابوبکرؓکو حج کے لیے روانہ کرچکے تھے تو ان کے پیچھے (سورہ توبہ کی ابتدا سے رکوع پانچ تک آیات نازل ہوئیں) توصحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اسے ابوبکرؓکو بھیج دیجیے تاکہ وہ حج میں اس کو سنادیں۔ لیکن آپؐ نے فرمایا کہ اس اہم معاملہ کا اعلان میری طرف سے میرے ہی گھر کے کسی آدمی کو کرنا چاہیے۔ چنانچہ آپ نے حضرت علیؓ کو اس خدمت پر مامور کیا اور ساتھ ہی ہدایت فرمادی کہ حاجیوں کے مجمعِ عام میں اسے سنانے کے بعد حسب ذیل چار باتوں کا اعلان بھی کردیں ۔
(۱) جنت میں کوئی ایسا شخص داخل نہ ہوگا جو دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کرے۔
(۲) اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے ۔
(۳) بیت اللہ کے گرد برہنہ طواف کرنا ممنوع ہے۔
(۴) جن لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا معاہدہ باقی ہے، یعنی جو نقضِ عہد کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں، ان کے ساتھ مدتِ معاہدہ تک وفا کی جائے گی۔
فتح مکّہ کے بعد دورِاسلامی کا پہلا حج ۸ھ میں قدیم طریقے پر ہوا۔ پھر ۹ھ میں یہ دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقے پر کیا اور مشرکین نے اپنے طریقے پر۔ اس کے بعد تیسرا حج ۱۰ھ میں خالص اسلامی طریقے پر ہوا اور یہی وہ مشہور حج ہے جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ نبی ﷺ پہلے دوسال حج کے لیے تشریف نہ لے گئے۔ تیسرے سال جب بالکل شرک کا استیصال ہوگیا تب آپ نے حج ادا فرمایا۔ (تفہیم القرآن ج۲، التوبۃ ،حاشیہ:۱)
تخریج (۱): عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:بَعَثَ النَّبِیُّ ﷺ اَبَابَکْرٍ وَاَمَرَہٗ اَنْ یُنَادِی بِھٰؤُلَآئِ الْکَلِمَاتِ ثُمَّ اتْبَعَہٗ عَلِیًّا، فَبَیْنَا اَبُوْبَکْرٍ فِیْ بَعْضِ الطَّرِیْقِ اِذْ سَمِعَ رُغَائَ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْقَصْوَآئَ فَخَرَجَ اَبُوْبَکْرٍ فَزِعًا فَظَنَّ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاِذَا عَلِیٌّ، فَدَفَعَ اِلَیْہِ کِتَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَاَمَرَ عَلِیًّا اَنْ یُّنَادِیْ بِھٰؤُلَآئِ الْکَلِمَاتِ فَانْطَلَقَا، فَحَجَّا، فَقَامَ عَلِیٌّ اَیَّامَ التَّشْرِیْقِ، فَنَادیٰ، ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ بَرِیْئَۃٌ مِنْ کُلِّ مُشْرِکٍ فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَلاَیَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ، وَلاَیَطُوْفَنَّ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ وَلاَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلاَّمُؤْمِنٌ، وَکَانَ عَلِیٌّ یُنَادِیْ فَاِذَا عَیِیَ قَامَ اَبُوْبَکْرٍ فَنَادیٰ بِھَا۔(۱)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابوبکرؓ کو اپنا نمائندہ بناکر حج پر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ ان باتوں کا اعلان کردیں۔ پھر ان کے پیچھے حضرت علیؓ کو بھیج دیا۔ ابھی ابوبکرؓ کسی راستے ہی میں تھے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے بلبلانے کی آواز سنی۔ ابوبکرؓ گھبرا کر باہر آئے گمان یہ تھاکہ شایدرسول اللہ ﷺ بنفس نفیس تشریف لے آئے ہیں۔ اتنے میں حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے سپرد رسول اللہ ﷺ کا ایک مکتوب پیش کیا۔ اس میں یہ تھا کہ ان کلمات کا اعلان علیؓ کرے۔ چنانچہ دونوں چلے، حج ادا کیا، ایامِ تشریق میں حضرت علیؓ نے اعلان کیا کہ ہرمشرک سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی ذمہ داری سے برأت کا اعلان ہے لہٰذا چار ماہ زمین پر چل پھرلو۔ اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی ننگا بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کرے گا اور جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوگا۔ حضرت علیؓ یہ اعلان کرتے تھے جب تھک جاتے تو حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہوکر اس کا اعلان کرتے۔
(۲) عَنْ زَیْدِ بْنِ اُثَیْعٍ، قَالَ: سَاَلْتُ عَلِیًّا بِاَیِّ شَیْیئٍ بُعِثْتَ؟ قَالَ: بِاَرْبَعٍ لاَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَلاَیَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ، وَلاَیَجْتَمِعُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُوْنَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَمَنْ کَانَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّبِیِّ ﷺ عَھْدٌ فَعَھْدُہٗ اِلٰی مُدَّتِہٖ وَمَنْ لاَمُدَّۃَ لَہٗ فَاَرْبَعَۃُ اَشْھُرٍ۔(۲)
ھٰذا حدیث حسن غریب من ھٰذا الوجہ من حدیث ابن عباس۔
وفی الباب عن ابی ھریرۃ۔ قال ابوعیسیٰ حدیث علی حدیث حسن۔
ترجمہ : زید بن اُثیع کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ آپ کیا دے کر بھیجے گئے تھے انہوں نے فرمایا چار احکام۔
جنت میں مسلم نفس ہی داخل ہوگا۔ کوئی برہنہ جسم والا بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اس سال کے بعد یعنی آیندہ مسلمان اور مشرکین جمع نہیں ہوںگے۔ جس کسی کا نبی ﷺ کے ساتھ عہدوپیمان ہے مدت مقررہ تک اس کا لحاظ رکھاجائے گااور جن کی کوئی مدت معین نہیں ہے وہ چار ماہ تک آزاد ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، اَنَّ حُمَیْدَ ابْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ اَخْبَرَہٗ۔ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ بَعَثَہٗ فِی الْحَجَّۃِ الَّتِیْ اَمَّرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَیْھَا قَبْلَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فِیْ رَھْطٍ یُؤْذِنُ فِی النَّاسِ: اَلاَّیَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلاَیَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ، فَکَانَ حُمَیْدٌ، یَقُوْلُ یَوْمَ النَّحْرِ یَوْمُ الْحَجِّ الْاَکْبَر مِنْ اَجْلِ حَدِیْثِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کو ایک گروہ کے ساتھ امیر حج بناکر بھیجا کہ وہ لوگوں میں اس بات کا اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشر ک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی ننگا بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا۔
خطبۂ حجۃ الوداع
۲۳۔اِنَّ الزمان قد استدارکَھَیْئَتِہٖ یوم خلق اللّٰہ السموات والارض۔
’’(حجۃ الوداع کے موقع پر حضورؐ نے فرمایا) اس سال حج کا وقت گردش کرتا ہوا ٹھیک اپنی اس تاریخ پر آگیاہے جو قدرتی حساب سے اس کی اصل تاریخ ہے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَھَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:الزَّمَانُ قَدْ اسْتَدَارَکَھَیْئَاتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلاَثٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذُوالْقَعْدَۃِ وَذُوالْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِیْ بَیْنَ جُمَادٰی وَشَعْبَانَ۔اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، فَسَکَتَ، حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اِسْمِہٖ۔ قَالَ: اَلَیْسَ الْبَلَدَۃُ؟ قُلْنَا:بَلٰی، قَالَ: فَاَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، فَسَکَتَ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِاسْمِہٖ، قَالَ: اَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلٰی قَالَ: فَاِنَّ دِمَائَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ وَاَحْسَبُہٗ قَالَ وَاَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَ لُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ اَلاَ فَلاَتَرْجِعُوْا بَعْدِیْ ضُلاَّلاً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اَلاَ لِیُبَلِّغَ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلّغُہٗ اَنْ یَکُوْنَ اَوْعیٰ لَہٗ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَہٗ فَکَانَ مُحَمَّدٌ اِذَا ذَکَرَہٗ یَقُوْلُ: صَدَقَ مُحَمَّدٌ ﷺ ثُمَّ قَالَ: اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَیْنِ۔(۴)
ترجمہ : حضرت ابوبکرہ نبی ﷺ کا یہ ارشاد روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا:اس سال حج کا وقت گردش کرتا ہوا ٹھیک اپنی اس تاریخ پر آگیا جو قدرتی حساب سے اس کی اصل تاریخ ہے۔ سال کے بارہ مہینے ہیں ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین تو پے درپے آتے ہیں اور چوتھا رجب ہے جو جمادی اور شعبان کے بیچ میں آتاہے۔ آپؐ نے پوچھا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتاہے۔ آپؐ نے خاموشی اختیار فرمالی۔ ہم نے سمجھا کہ آپؐ اس کا ایسا نام ارشاد فرمائیں گے جو اس کا اصل نام نہیں ہوگا۔ فرمایا کیا یہ البلدہ یعنی مکہ شہر ہے۔ ہم نے عرض کیا ہاں ایسا ہی ہے پھر آپؐ نے دریافت فرمایا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے پھر عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتاہے۔ آپ قدرے خاموش رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ آپؐ اس کے اصل نام کے بجائے کوئی دوسرا نام ارشاد فرمائیں گے۔ فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا ہاں ایسا ہی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا تو پھر تمہارے خون اور مال اور عزت وآبرو تم پر تمہارے اس دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت کی طرح حرام ہیں۔ عنقریب تمہاری ملاقات تمہارے پروردگار سے ضرور ہوگی تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ ذراہوش گوش سے سن لو، میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ یادرکھو جو یہاں حاضر ہے وہ اس پیغام کو غیرحاضر تک پہنچادے شاید پہنچانے والے سے جسے پہنچائی جائے یعنی سننے والا اسے زیادہ یاد رکھ سکے۔ پھر آپ نے دومرتبہ فرمایا۔ کیا میں احکامِ خداوندی پہنچا چکاہوں۔
عرب میں نَسی کا رواج
عر ب میں نَسِی دوطرح کی تھی۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ جنگ وجدل اور غارت گری اور خون کے انتقام لینے کی خاطر کسی حرام مہینے کو حلال قرار دے لیتے تھے اور اس کے بدلے میں کسی حلال مہینے کو حرام کرکے حرام مہینوں کی تعداد پوری کردیتے تھے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ قمری سال کو شمسی سال کے مطابق کرنے کے لیے اس میں کبِیسہ کا ایک مہینہ بڑھادیتے تھے تاکہ حج ہمیشہ ایک ہی موسم میں آتارہے اور وہ ان زحمتوں سے بچ جائیں جو قمری حساب کے مطابق مختلف موسموں میں حج کے گردش کرتے رہنے سے پیش آتی ہیں۔ اس طرح ۳۳سال تک حج اپنے اصلی وقت کے خلاف دوسری تاریخوں میں ہوتارہتاتھا اور صرف چونتیسویں سال ایک مرتبہ اصل ذی الحجہ کی ۹،۱۰ تاریخ کو ادا ہوتاتھا۔
قرآن مجید آیت انما النّسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلّونہ عامًا یحرمونہ عامًا لیواطئوا عدۃ ما حرم اللّٰہ۔ (التوبۃ:۳۷)
میں نَسی کو حرام اور ممنوع قرار دے کر جہلائے عرب کی ان دونوں اغراض کو باطل کردیاگیاہے۔ پہلی غرض تو ظاہر ہے کہ صریح طورپر ایک گناہ تھی۔ اس کے تو معنی ہی یہ تھے کہ خدا کے حرام کیے ہوئے کو حلال بھی کرلیا جائے اور پھر حیلہ بازی کرکے پابندیٔ قانون کی ظاہری شکل بھی بناکر رکھ دی جائے۔ رہی دوسری غرض تو سرسری نگاہ میں وہ معصوم اور مبنی برمصلحت نظر آتی ہے لیکن درحقیقت وہ بھی خدا کے قانون سے بدترین بغاوت تھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے عائد کردہ فرائض کے لیے شمسی حساب کے بجائے قمری حساب جن اہم مصالح کی بنا پر اختیار کیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے بندے زمانے کی تمام گردشوں میں، ہرقسم کے حالات اور کیفیات میں اس کے احکام کی اطاعت کے خوگرہوں۔ مثلا رمضان ہے، تو وہ کبھی گرمی میں اور کبھی برسات میں اور کبھی سردیوں میں آتاہے۔ اور اہلِ ایمان ان سب بدلتے ہوئے حالات میں روزے رکھ کر فرمانبرداری کا ثبوت بھی دیتے ہیں اور بہترین اخلاقی تربیت بھی پاتے ہیں۔ اسی طرح حج بھی قمری حساب سے مختلف موسموں میں آتاہے اور ان سب طرح کے اچھے اور برے حالات میں خدا کی رضا کے لیے سفر کرکے بندے اپنے خدا کی آزمایش میں پورے بھی اترتے ہیں اور بندگی میں پختگی بھی حاصل کرتے ہیں۔ اب اگر کوئی گروہ اپنے سفر اور اپنی تجارت اور اپنے میلوں ٹھیلوں کی سہولت کی خاطر حج کو خوشگوار موسم میں ہمیشہ کے لیے قائم کردے، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے مسلمان کوئی کانفرنس کرکے یہ طے کرلیں کہ آیندہ سے رمضان کا مہینہ دسمبر یا جنوری کے مطابق کردیاجائے گا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بندوں نے اپنے خدا سے بغاوت کی اور خود مختار بن بیٹھے (اور اس کی بالاتر مصلحتوں کو اپنی پست اغراض اور خواہشات پر قربان کردیا)۔
یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ نسی کی منسوخی کا یہ اعلان ۹ھ میں حج کے موقع پر کیا گیا۔ اور اگلے سال ۱۰ھ کا حج ٹھیک اُن تاریخوں میں ہوا جو قمری حساب کے مطابق تھیں۔ اس کے بعد سے آج تک حج اپنی صحیح تاریخوں میں ہورہاہے۔
(تفہیم القرآن ج۲،التوبہ، حاشیہ :۳۷)
حج اکبر سے کیا مراد ہے؟
۲۴۔حدیث میں آیاہے کہ حجۃ الوداع میں نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے حاضرین سے پوچھا یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یوم النحر ہے۔ فرمایا ھٰذَا یَوم الحج الاکبر ’’یہ حج اکبر کا دن ہے۔‘‘ یعنی ۱۰ ذی الحجہ جسے یوم النحرکہتے ہیں۔ حج اکبر کا لفظ حج اصغر کے مقابلے میں ہے۔ اہلِ عرب عمرے کو چھوٹا حج کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ حج جو ذی الحجہ کی مقررہ تاریخوں میں کیا جاتاہے حجِ اکبر کہلاتاہے۔ (تفہیم القرآن ج۲، التوبہ، حاشیہ:۴)
تخریج(۱): حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، اَنَا شُعَیْبٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ قَالَ:بَعَثَنِیْ اَبُوْبَکْرٍ فِیْمَنْ یُؤْذِنُ یَوْمَ النَّحْرِ بِمِنٰی لاَیَحُجُّ بَعْدَالْعَامِ مُشْرِکٌ وَلاَیَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ، وَیَوْمُ الْحَجِّ الْاَکْبَرُ یَوْمُ النَّحْرِ وَاِنَّمَا قِیْلَ الْاَکْبَرُ مِنْ اَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجُّ الْاَصْغَرُ فَنَبَذَ اَبُوْبَکْرٍ اِلَی النَّاسِ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ فَلَمْ یَحُجَّ عَامَ حَجَّتِہٖ الْوَدَاعِ الَّذِیْ حَجَّ فِیْہِ النَّبِیُّ ﷺ مُشْرِکٌ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر نے مجھے ان لوگوں میں بھیجا جو قربانی کے دن منیٰ میں اس بات کا اعلان کرتے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کاحج نہیں کرے گا، اور نہ ہی کوئی برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ حجِ اکبر کا دن قربانی کا دن ہے۔ لوگوں کے قول حجِ اصغر کے مقابلہ میں یہ لفظ یوم الحج الاکبر بولا گیاہے۔ پس حضرت ابوبکرؓ نے اس روز لوگوں کے معاہدوں کو( ان کے منہ) پر پھینک مارا۔ حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کے حج کے سال کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آیا۔
(۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَقَفَ یَوْمَ النَّحْرِ بَیْنَ الْجَمْرَاتِ فِی الْحَجَّۃِ الَّتِیْ حَجَّ فَقَالَ: اَیَّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا:یَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:ھٰذَا یَوْمُ الْحَجِّ الْاَکْبَرُ۔(۶)
ترجمہ :حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر قربانی کے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوکر فرمایا۔ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا قربانی کا دن ہے۔ فرمایا یہ یوم الحج الاکبر یعنی حج اکبر کا دن ہے۔
(۳) عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ یَوْمِ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ فَقَالَ: یَوْمُ النَّحْرِ۔(۷)
ترجمہ : حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یوم الحج الاکبر کون سا دن ہے؟ حضورؐ نے فرمایا یوم النحریعنی قربانی کادن۔
حج اور عمرہ کی دعائیں
حج یا عمرے کا احرام باندھنے کے بعد یہ تلبیہ بآوازِ بلند پڑھاجائے:
l لَبَّیْکَ۔ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ ۔
’’میں حاضر ہوں۔ اے اللہ میں تیری جناب میں حاضرہوں ۔ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریف اور تمام نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘
یہ تلبیہ کثرت سے پڑھاجائے۔ ہر مرتبہ کم از کم تین بار دہرایا جائے۔ اور پھر آنحضور ﷺ پر درود بھیجا جائے گا۔ جب حاجی کو مکہ معظمہ کے مکانات نظر آئیں تو یہ دعا پڑھے:
l اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ بِھَا قَرَارًا وَارْزُقْنِیْ فِیْھَا رِزْقًا حَلاَلاً۔
’’اے اللہ اس شہر کے اندر مجھے قرار بخش اور یہاں مجھے رزق حلال نصیب فرما۔‘‘
حرم شریف میں داخل ہوتے وقت جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو تین مرتبہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہے اور تین مرتبہ
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور پھر یہ دعا پڑھے :
l رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَّصِیْرًا۔
’’اے میرے رب مجھے سچائی کے راستے داخل کراور سچائی کے راستے سے نکال۔ اور اپنی جناب سے میرے لیے مدد کرنے والی طاقت فراہم کر۔‘‘
طواف شروع کرتے وقت جب حجرِ اسود کو چومے یا دور سے اسے اشارہ کرے تو یہ کہے:
l بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکبْرَ ُوَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
’’اللہ کے نام سے طواف کا آغاز کرتاہوں اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ ہی کے لیے تمام تعریف ہے۔‘‘
طواف کے سات چکّر ہوتے ہیں۔ ان ساتوں چکروں میں جو دعا چاہے پڑھے۔ دل میں اللہ کی عظمت اور بزرگی کا خیال سمایا ہوا ہو، اللہ کی بارگاہ میں چند گنی چنی دعاؤں پر کفایت کرنا صحیح نہیں ہے۔ آزادی کے ساتھ ہراچھی دعا اللہ سے کرنی چاہیے۔ بالعموم لوگ اس موقع پر یہ دعائیں پڑھتے ہیں
:یہ دعائیں ہم نے ایک عربی کتاب ’’مناسک الحج علی المذاھب الاربعۃ‘‘ سے نقل کی ہیں۔ یہ کتاب سعودی عرب کے فرمانروا سلطان عبدالعزیزابن سعود نے ۱۳۶۶ھ میں حاجیوں کے لیے چھپوائی تھی۔ اسے سعودی عرب کے ڈائرکٹر تعلیمات شیخ محمد نافع اور قاضی القضاۃ شیخ عبداللہ بن حسن نے مرتب کیا تھا۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ کوئی دعا کسی خاص مقام کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہرجگہ وہ دعا پڑھی اور مانگی جاسکتی ہے جو انسان کی طبیعت سے مناسبت رکھتی ہو۔
پہلے چکّر کی دعا
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّۃَ اِلاَّبِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔ وَالصَّلٰوُۃ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ،اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَتَصْدِیْقًا بِکِتَابِکَ وَوَفَائً بِعَھْدِکَ وَاتِّبَاعًا لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ ﷺ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْمُعَافَاۃَ الدَّائِمَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّجَاۃَ مِنَ النَّارِ۔
’’بے عیب ہے اللہ کی ذات۔ تمام تعریفیں ہیں اللہ کے لیے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ کوئی چارہ اور کوئی طاقت اللہ کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں، جو بڑا بزرگ وبرتر ہے۔درود اور سلام اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ! تجھ پر ایمان رکھتاہوں، تیری کتاب کی تصدیق کرتاہوں۔ تیرے عہد کی وفاداری کا اعلان کرتاہوں، تیرے نبی اور تیرے حبیب محمد ﷺ کی سنت کا پیرو ہوں۔ اے اللہ، میرا تجھ سے سوا ل ہے کہ مجھے معاف فرما، آسایش بخش اور دین اور دنیا دونوں میں ہمیشہ عافیت سے رکھ۔ اور جنت عطا فرما اور دوزخ سے نجات دے۔‘‘
رکن یمانی اور مقامِ حجر ِاسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے۔ یعنی ہرطواف کے وقت جب حاجی اس جگہ آئے تو یہ دعا پڑھے:
l رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
’’اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما۔ اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا
دوسرے چکّر کی دعا
اَللّٰھُمَّ اِنِّ ھٰذَا الْبَیْتَ بَیْتُکَ، وَالْحَرَمَ حَرَمُکَ، وَالْاَمْنَ اَمْنُکَ وَالْعَبْدَ عَبْدُکَ وَاَنَا عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَھٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ فَحَرِّمْ لُحُوْمَنَا وَبَشَرَتَنَا عَلَی النَّارِ۔
l اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْاِیْمَانَ وَزَیِّنْہُ فِیْ قُلُوْبِنَا وَکَرِّہْ اِلَیْنَا الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِیْنَ۔
l اَللّٰھُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔
l اَللّٰھُمَّ اَدْخِلْنِی الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔
’’اے اللہ بے شک یہ گھر، تیرا گھرہے، اور یہ حرم تیرا حرم ہے۔ اور امن تیرا ہی فراہم کردہ امن ہے اور بندہ وہ ہے جو تیرا غلام ہے۔ میں تیرا غلام ہوں، تیرے غلام کا بیٹا ہوں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں تجھ سے دوزخ کی پناہ لینے والا پناہ لیتاہے۔ ہمارے گوشت اور ہماری کھالیں دوزخ کی آگ پر حرام کردے۔ ‘‘
’’اے اللہ ہمارے اندر ایمان کی محبت پیدا کر۔ اور اسے ہمارے دلوں کی زینت بنا۔ کفر اور فسق اور نافرمانی کی نفرت ہمارے اندر پیدا کر اور ہمیں سیدھے راستے پر چلنے والوں میں سے بنا۔ ‘‘
’’اے اللہ! مجھے اس روز اپنے عذاب سے بچا کر رکھ جس روز تو اپنے بندوں کو دوبارہ اٹھائے گا۔ ‘‘
’’اے اللہ! مجھے جنت میں حساب کے بغیر ہی داخل فرما۔ ‘‘
تیسرے چکّر کی دعا
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّکِّ وَالشِّرْکِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْئِ الْاَخْلاَقِ وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ وَالْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ وَالْوَلَدِ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ۔ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ سَخَطِکَ وَالنَّارِ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔
’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتاہوں (دین وایمان میں) شک کرنے سے ، شرک سے، مخالفت سے، منافقت سے، بداخلاقی سے، اور واپس لوٹ کر مال ومتاع اور اہل وعیال کو بُری حالت میں جاکر دیکھنے سے۔ ‘‘
’’اے اللہ! میں تجھ سے مانگتاہوں تیری رضا مندی اور جنت اور تیری پناہ چاہتاہوں تیری ناراضی اور دوزخ سے۔‘‘
’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتاہوں قبر کی آزمایش سے، اور تیری پناہ چاہتاہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے۔‘‘
چوتھے چکّر کی دُعا
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَسَعْیًا مَشْکُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا وَعَمَلاً صَالِحًا مَقْبُوْلاً وَتِجَارَۃً لَنْ تَبُوْرَ۔
l یَاعَالِمَ مَا فِی الصُّدُوْرِ اَخْرِجْنِی یَااللّٰہُ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالسَّلاَمَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّجَاۃَ مِنَ النَّارِ۔
l رَبِّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَنِیْ وَاخْلُفْ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍ لِیْ مِنْکَ بِخَیْرٍ۔
’’اے اللہ ! میری یہ حاضریٔ حج مقبول ہو۔میری سعی بار یاب ہو۔ گناہوں کی معافی ہو اور مقبول اور صالح کام ہو، اور ایسی تجارت ہو جس میں کوئی گھاٹا نہ ہو۔ ‘‘
’’اے سینوں کے راز جاننے والے مجھے نکال اے اللہ۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف۔‘‘
’’اے اللہ! میں تجھ سے مانگتاہوں تیری رحمت کے اسباب، تیری مغفرت کے اٹل فیصلے، ہرگناہ سے سلامتی، ہرنیکی میں کامیابی، جنت کا حصول اور دوزخ سے نجات۔ ‘‘
’’اے میرے رب!جو رزق تونے مجھے عطافرمایا ہے اس پر مجھے قناعت بخش اور جو نعمت تونے ارزاں فرمائی ہے اس میں برکت ڈا ل اور جوچیز مجھ سے دور ہوگئی ہے اس کا بہتر بدل عطا فرما۔‘‘
پانچویں چکّر کی دعا
اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِکَ یَوْمَ لاَظِلَّ اِلاَّظِلُّکَ وَلاَبَاقِیَ اِلاَّ وَجْھُکَ۔
l وَاسْقِنِیْ مِنْ حَوْضِ نَبِیِّکَ سَیِّدنَا مُحَمَّدٍ ﷺ شَرْبَۃً ھَنِیْئَۃً مَّرِیْئَۃً لاَنَظْمَأُ بَعْدَھَا اَبَدًا۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَاسَأَلَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ سَیِّدُنَا مُحَمَّدٌ ﷺ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ سَیِّدُنَا مُحَمَّدٌ ﷺ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَنَعِیْمَھَا وَمَایُقَرِّبُنِیْ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ اَوْفِعْلٍ اَوْعَمَلٍ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ وَمَایُقَرِّبُنِیْ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ فِعْلٍ اَوْعَمَلٍ۔
’’اے اللہ! مجھے سایہ عطا فرما، اپنے عرش کے نیچے اس روز جب کہ تیرے سائے کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا۔ تیری ذات کے سوا کوئی باقی رہنے والا نہیں ہے۔ ‘‘
’’ اپنے نبی سیّدنا محمد ﷺ کے حوض سے مجھے ایک ایسا خوشگوار اور لُطف اندوز جام پلا جس کے بعد ہمیں کبھی تشنگی محسوس نہ ہو۔‘‘
’’اے اللہ! میں تجھ سے اسی بھلائی کا سوال کرتاہوں جس کا سوال تیرے نبی محمد ﷺ نے تجھ سے کیا اور میں تجھ سے اس شر کی پناہ چاہتاہوں جس کی پناہ تجھ سے تیرے نبی سیدنا محمد ﷺ نے مانگی۔ ‘‘
’’اے اللہ! میں مانگتاہوں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور ہر اُس کلام، کام اور عمل کی توفیق جو مجھے جنت سے قریب تر کردے۔ اور تیری پناہ مانگتاہوں دوزخ سے اور ہراس کلام، کام اور عمل سے جو مجھے دوزخ کے قریب لے جائے۔‘‘
چھٹے چکّر کی دُعا
اَللّٰھُمَّ اِنَّ لَکَ عَلَیَّ حُقُوْقًا کَثِیْرَۃً فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ وَحُقُوْقًا کَثِیْرَۃً فِیْہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَلْقِکَ۔
l اَللّٰھُمَّ مَاکَانَ لَکَ مِنْھَا فَاغْفِرْہُ لِیْ وَمَاکَانَ لِخَلْقِکَ فَتَحَمَّلْہُ عَنِّیْ وَاَغْنِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَبِطَاعَتِکَ عَنْ مَعْصِیَتِکَ وَبِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاک وَ یَاوَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنَّ بَیْتَکَ عَظِیْمٌ وَوَجْھَکَ کَرِیْمٌ وَاَنْتَ یَا اَللّٰہُ حَلِیْمٌ کَرِیْمٌ عَظِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔
’’اے اللہ! تیرے مجھ پر ایسے بہت سے حقوق ہیں جو میرے اور تیرے درمیان ہیں اور بہت سے ایسے حقوق ہیں جو میرے اور تیری مخلوق کے درمیان ہیں۔ ‘‘
’’اے اللہ! وہ حقوق جو تجھ سے تعلق رکھتے ہیں مجھے معاف فرمادے اور جو تیری مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں وہ میری جانب سے تو خود ہی اپنے ذمہ لے لے اور اپنے عطا کردہ حلال کی بدولت، اپنی حرام کردہ چیزوں سے بے نیاز کردے اور اپنا فضل خاص فرماکر اپنے سواہر ذات سے بے نیاز کراے وسیع مغفرت والے۔ ‘‘
’’اے اللہ! تیرا گھر بڑی عظمت والا ہے تیری ذات بڑی کریم ہے۔ یا اللہ تو بُرد بار ہے، مہربان ہے، بزرگ وبرتر ہے تو معافی کو پسند فرماتاہے۔ مجھے معاف فرمادے
ساتویں چکرّ کی دعا
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ اِیْمَانًا کَامِلاً وَیَقِیْنًا صَادِقًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَقَلْبًا خَاشِعًا وَلِسَانًا ذَاکِرًا وَحَلاَلاً طَیِّبًا وَتَوْبَۃً نَصُوْحًا وَتَوْبَۃً قَبْلَ الْمَوْتِ وَرَاحَۃً عِنْدَالْمَوْتِ وَرَحْمَۃً وَمَغْفِرَۃً بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَفْوَ عِنْدَالْحِسَابِ وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ وَالنَّجَاۃَ مِنَ النَّارِ۔ بَرَحْمَتِکَ یَا عَزِیْزُ یَا غَفَّارُ۔
l رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا وَاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ۔
’’اے اللہ! میں مانگتاہوں تجھ سے کامل ایمان، سچا یقین، کشادہ رزق، نرم وگداز دل،ذکر کرنے والی زبان، پاکیزہ حلال رزق، سچی توبہ، توبہ موت سے پہلے، آسایش موت کے وقت، رحمت اور مغفرت موت کے بعد، حساب کے وقت بخشش، جنت کا حصول اور دوزخ سے نجات تیری رحمت درکار ہے اے ہرچیز کی قدرت رکھنے والے اور گناہوں کو بخشنے والے۔‘‘
’’اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما اور نیک بندوں میں مجھے شامل فرما۔‘‘
مُلتزَم کی دُعا
اَللّٰھُمَّ یَارَبَّ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ اَعْتِقْ رِقَابَنَا، وَرِقَابَ اٰبَائِنَا وَاُمَّھَاتِنَا وَاِخْوَانِنَا وَاَوْلاَدِنَا مِنَ النَّارِ
l یَاذَالْجُوْدِ وَالَکَرَمِ وَالْفَضْلِ وَالْمَنِّ وَالْاِحْسَانِ۔
l اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابَ الْاٰخِرَۃِ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَاقِفٌ تَحْتَ بَابِکَ مُلْتَزِمٌ لِاَعْتَابِکَ مُتَذَلِّلٌ بَیْنَ یَدَیْکَ اَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَاَخْشٰی عَذَابَکَ یَا قَدِیْمَ الْاِحْسَانِ! اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ اَنْ تَرْفَعَ ذِکْرِیْ وَتَضَعَ وِزْرِیْ وَتُصْلِحَ اَمْرِیْ۔
l وَتُطَھِّرَ قَلْبِیْ وَتُنَوِّرَ لِیْ فِیْ قَبْرِیْ وَتَغْفِرْلِی ذَنْبِیْ۔
l وَاَسْأَلُکَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ۔ آمین۔
’’اے اللہ!اے اس قدیم گھر کے مالک! ہماری گردنیں، ہمارے باپ اور ماں کی گردنیں، ہمارے بھائیوں اور ہماری اولاد کی گردنیں دوزخ سے آزاد کردے۔‘‘
’’اے خداوند! سخاوت والے، کرم والے، مہربانی کرنے والے۔ احسان وعنایت فرمانے والے۔‘‘
’’اے اللہ تمام معالات میں ہمارا انجام بہتر کر۔ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ دے۔‘‘
’’اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں۔ تیرے دروازے پر کھڑا ہوں، تیرے آستانے سے چمٹ چکاہوں۔ تیرے حضور سرنگوں ہوں۔ اے محسنِ قدیم! تیری رحمت کا طالب ہوں، تیرے عذاب سے خائف ہوں۔ اے اللہ! تجھ سے میرا سوال ہے کہ تو میرا چرچا بلند فرما، میرا بوجھ دور کر، میرا کام درست فرما۔‘‘
’’میرا دل پاک کر، میری قبر میں میرے لیے روشنی فراہم کر۔ میرے گناہ بخش دے۔ ‘‘
’’میں تجھ سے سوال کرتاہوں جنت کے اندر اونچے اونچے مرتبوں کا۔
مقامِ ابراہیم کی دعا
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلاَنِیَتِیْ فَاقْبِلْ عُذْرِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَعْطِنِیْ سُؤْلِیْ وَتَعْلَمُ مَافِی نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ۔
l اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ اِیْمَانًا یُبَاشِرُ قَلْبِیْ وَیَقِیْنًا صَادِقًا یُخَالِطُ رُوْحِی حَتّٰی اَعْلَمَ اَنَّہٗ لاَیُصِیْبُنِیْ اِلاَّ مَاکَتَبْتَ لِیْ رِضًا مِنْکَ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ۔
l اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ۔
l اَللّٰھُمَّ لاَتَدَعْ لَنَا فِی مَقَامِنَا ھٰذَا ذَنْبًا اِلاَّغَفَرْتَہٗ وَلاَھَمًّا اِلاَّ فَرَّجْتَہٗ وَلاَحَاجَۃً اِلاَّقَضَیْتَھَا فَیَسَّرْتَھَا فَیَسِّرْ اُمُوْرَنَا وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا وَنَوِّرْ قُلُوْبَنَاوَاخْتِمْ بِالصَّالِحَاتِ اَعْمَالَنَا۔
l اَللّٰھُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ وَاَحْیِنَا مُسْلِمِیْنَ وَاَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِیْنَ غَیْرَخَزَایَا وَلاَمَفْتُوْنِیْنَ۔
’’اے اللہ تو جانتاہے میری چھپی اور کھلی باتوں کو۔ پس میری معذرت قبول فرما۔ تو جانتاہے میری ضرورت کو، پس میری ضرورت مجھے عطا فرما۔ تو جانتاہے جو کچھ میرے دل میں ہے، پس تو میرے گناہ معاف فرما۔‘‘
’’اے اللہ! میں تجھ سے مانگتاہوں ایسا ایمان جو میرے دل پر چھاجائے ایسا سچا یقین جو میری روح میںسرایت کرجائے۔‘‘
یہاں تک کہ میں سمجھ لوں کہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا سوائے اس کے جوتو میرے لیے لکھ دے اور میں اس پر راضی ہوجاؤں جو تو میرے لیے مقسوم فرمائے۔
’’تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیک لوگوں میں مجھے شامل کر۔ ‘‘
’’اے اللہ! میری اس حاضری کے موقع پر میرا کوئی گناہ ایسا نہ چھوڑ جو تو معاف نہ کردے، میرا کوئی غم ایسا نہ رہے جسے تو دور نہ فرمادے میری کوئی ایسی ضرورت نہ رہے جسے تونے پورا نہ کردیا ہو اور میرے لیے اسے آسان نہ کردیاہو۔ ہمارے تمام معاملات آسان فرما، ہمارے سینے کھول دے۔ ہمارے دل نور سے بھردے۔ ہمارے اعمال کا خاتمہ نیکیوں پر کر۔ ‘‘
’’اے اللہ تو ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں دنیا سے اٹھا اور مسلمان بناکر ہی زندہ رکھ ۔ اور نیک انسانوں میں شامل کر۔ نہ رُسوا ہوں اور نہ نشانۂ ابتلاء۔‘‘
آب زمزم پی کر یہ دعا مانگی جائے
َللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
’’اے اللہ! میں تجھ سے مانگتاہوں مفید علم کشادہ روزی اور ہر بیماری سے شفا۔ تیری رحمت درکار ہے اے ارحم الراحمین
سعی کا آغاز کرتے وقت یہ آیت پڑھیئے
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔
’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں میں گردش کرے اور جو کوئی خوش دلی سے کوئی نیک کام کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے۔‘‘
اس کے بعد ہاتھ اوپر اٹھاکر یہ کہے
اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
’’اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ ہی کے لیے تمام حمدو ستایش
پھر یہ دعا پڑھتے ہوئے سعی کو روانہ ہوجائے
اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً۔ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ لاَشَیْئَ قَبْلَہٗ وَلاَشَیْئَ بَعْدَہٗ، یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لاَیَمُوْتُ۔ بِیَدِہِ الْخَیْرُ۔ وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَاعْفُ وَتَکَرَّمْ، وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ۔اِنَّکَ تَعْلَمُ مَالاَنَعْلَمُ۔ اِنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ۔
’’اللہ بہت بزرگ وبرترہے۔ زیادہ سے زیادہ اللہ کی حمد وستایش ہے۔ اللہ بے عیب ہے صبح وشام اسی کی تعریف ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ ذاتِ واحد۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کردکھایا اپنے بندے کی نصرت فرمائی۔اور تمام گروہوں کو اس ذاتِ واحد نے شکست دی۔ نہ ا س سے پہلے کوئی چیز تھی اور نہ اس کے بعد کوئی چیز ہے وہی زندہ کرتاہے اور موت دیتاہے۔ وہ زندۂ جاوید ہے اسے موت نہیں ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہیں تمام بھلائیاں۔ اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ اے میرے رب! مغفرت فرما۔ رحم سے نواز ، معاف کر، مہربان ہوجا۔ میری جو غلطی بھی تیرے علم میں ہے اس سے درگزر فرما۔ ہم جو باتیں نہیں جانتے تو انہیں جانتاہے۔ بے شک تو ہی خدا ہے۔ سب سے غالب اور سب سے کریم۔‘‘
عید قرباں منانے کا مسنون طریقہ
۔عید کے روز صبح کو تمام مسلمان عورت، مرد ، بچے سب غسل کرتے تھے۔ اور اچھے سے اچھے کپڑے جو خدا نے ان کو دیے ہوں پہن کر نکلتے تھے۔ رمضان کی عید میں نماز کے لیے جانے سے پہلے تمام خوشحال لوگ ایک مقرر مقدار میں کھانے کا سامان یا اس کی قیمت غریبوں کو دیتے تھے تاکہ کوئی شخص عید کے روز بھوکا نہ رہ جائے۔ بقرعید میں اس کے برعکس نماز کے بعد گھر واپس آکرقر بانی کی جاتی تھی اور اس کا گوشت تقسیم کیا جاتاتھا۔ ذرا دن چڑھنے پر سب لوگ گھروں سے نکل کھڑے ہوتے تھے۔ حکم تھا کہ عورت، مرد، بچے سب نکلیں تاکہ مسلمانوں کی کثرت اور ان کی شان کا اظہار ہو، خدا سے دعا مانگنے میں بھی سب شریک ہوں، اور اس اجتماعی مسرت میں بھی سب کو شرکت کا موقع مل جائے۔ عید کی نماز مسجد کے بجائے بستی کے باہر میدان میں ہوتی تھی تاکہ بڑا مجمع ہوسکے۔ نماز کے لیے جاتے وقت سارے مسلمان یہ تکبیر پڑھتے ہوئے چلتے تھے :
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔‘‘
ہرگلی، ہرکوچے، ہرمحلے، ہربازار اور ہر سڑک پر یہی نعرے لگتے تھے۔ جن سے ساری بستی گونج اٹھتی تھی۔
عید گاہ کے میدان میں جب سب لوگ جمع ہوجاتے تو صفیں باندھ کر سارا مجمع رسولِ خدا کی امامت میں پوری باقاعدگی کے ساتھ دورکعت نماز ادا کرتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دیتے۔ جمعہ کی نماز کے برعکس یہ خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ آدمی اپنے لیڈر کی اس اہم تقریر کے وقت موجود رہیں جس کا موقع سال میں صرف دوہی مرتبہ آتاہے۔ پہلے ایک تقریر مردوں کے سامنے ہوتی۔ پھر آپؐ میدان کے اس حصہ کی طرف تشریف لے جاتے جہاں عورتیں جمع ہوتی تھیں۔ اور وہاں بھی تقریر فرماتے تھے۔ ان تقریروں میں تعلیم وتلقین اور وعظ ونصیحت کے علاوہ اسلامی جماعت کے متعلق ان تمام اہم مسائل پر بھی روشنی ڈالی جاتی تھی جو اس وقت درپیش ہوتے تھے۔ کوئی فوجی یا سیاسی مہم اگر پیش نظر ہوئی تو اس کا انتظام بھی وہیں اسی مجمع میں کردیاجاتا۔ جماعتی ضروریات کی طرف بھی لوگوں کو توجہ دلائی جاتی اور ہرشخص اپنی حیثیت کے مطابق ان کے پورا کرنے میں حصہ لیتا۔ حتّٰی کہ روایات میں آیاہے کہ عورتیں اپنے زیور تک اتار اتار کر خدا کے دین اور جماعت مسلمین کی خدمت کے لیے پیش کردیتی تھیں۔
پھر یہ مجمع عیدگاہ سے پلٹتا تھا اور حکم یہ تھا کہ جس راستہ سے آئے ہو، اس کے خلاف دوسرے راستے سے گھروں کی طرف واپس جاؤ تاکہ بستی کا کوئی حصہ تمہاری چہل پہل سے اور تمہاری تکبیروں کی گونج سے خالی نہ رہ جائے۔
نماز سے فارغ ہوکر بقرعید کے روز تمام ذی استطاعت مسلمان قربانی کرتے تھے۔ اس قربانی کا مقصد اس واقعہ کی یاد ہی کو نہیں بلکہ ان جذبات کو بھی تازہ کرنا تھا، جن کے ساتھ عراق کا رہنے والا ایک غریب الوطن بوڑھا انسان مکّہ میں خدا کا اشارہ پاتے ہی خود اپنے بیٹے کو خدا کی محبت پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ اور عین وقت پر خدا نے اپنے رحم وکرم سے اس کو بیٹے کے بدلے مینڈھے کی قربانی پیش کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ ٹھیک اسی تاریخ کو اسی وقت تمام مسلمان وہی فعل عملاً کرکے اس جذبے کو تازہ کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح وہ بھی خدا کے مسلم اور مطیع وفرمانبردار بندے ہیں، انہی کی طرح اپنی جان، مال، اولاد ہرچیز کو خدا کے حکم اور اس کی محبت پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کا جینا اور مرنا سب کچھ خدا کے لیے ہے۔ اس نیت کا اظہار جانور کو ذبح کرنے کے فعل سے اور ان الفاظ سے ہوتاہے جو ذبح کے وقت زبان سے ادا کیے جاتے ہیں:
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیفًا وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔اِنَّ صَلوٰتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ لاَشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ
اس کی تخریج ’’ذبح کی دعا ‘‘کے تحت کی جاچکی ہے۔ (مرتب)
’’میں نے اپنا رُخ پھیردیا اس ذات کی طرف جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاہے۔ میں ٹھیک اسی طریقہ کا پیرو ہوں جو حضرت ابراہیمؑ کا طریقہ تھا۔ میں خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، سب کچھ اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیاہے اور میں خدا کے فرمانبردار بندوں میں سے ہوں خدایا یہ تیرا ہی دیا ہوا مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔ بسم اللہ۔ اللہ اکبر ۔ ‘‘
تشریح :یہ الفاظ زبان سے ادا کرتے ہوئے جانور ذبح کیا جاتاتھا اور اس منظر کو گھر کی عورتیں اور بچے سب دیکھتے تھے تاکہ سب کے دلوں میں وہی قربانی اور خدا کی محبت وفرمانبرداری کے جذبات تازہ ہوجائیں۔ پھر یہ گوشت غریبوں اور رشتہ داروں میں اور دوستوں میں تقسیم کردیا جاتاتھا اور اس کا ایک حصہ گھر میں اپنے کھانے کے لیے بھی رکھ لیا جاتا تھا۔ جانور کی کھال یا اس کی قیمت غریب لوگوں کو دے دی جاتی تھی اور اس کے علاوہ بھی دل کھول کر خیرات کی جاتی تھی تاکہ عید صرف خوش حال لوگوں ہی کا تہوار بن کر نہ رہ جائے۔
بس یہ عید تھی جو نبی ﷺ کے زمانہ میں منائی جاتی تھی۔ ان ’’سرکا ری‘‘ مراسم کے علاوہ ’’غیرسرکاری‘‘ طورپر جو ان لوگ کچھ کھیل کود بھی لیتے تھے اور گھروں کی لڑکیاں بالیاں مل بیٹھ کر کچھ گیت بھی گالیا کرتی تھیں۔ مگر یہ چیز بس ایک حد کے اندر ہی تھی، اس سے آگے قد م بڑھانے کی اجازت نہ تھی۔ بلکہ سوسائٹی کے لیڈر تو جوانوں کی ان جائز اور معصوم خوش فعلیوں میں بھی حصہ لینے سے اجتناب کرتے تھے تاکہ ان کی اتنی ہمت افزائی نہ ہو جس سے وہ ناروا مظاہرے کرنے کی جرأ ت کرنے لگیں۔
اس معاملہ میں لیڈروں کا جو طرز ِعمل تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوسکتاہے جو مستند روایات میں بیان ہوا ہے۔ ایک دفعہ عید کے روز نبیﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضرت عائشہؓ کے پاس پڑوس کی دولڑکیاں بیٹھی گیت گارہی ہیں۔ لڑکیاں بھی کوئی پیشہ ور فنکار وموسیقار نہ تھیں، بلکہ گھروں کی بہو بیٹیاں تھیں۔ گیت کچھ عشق وعاشقی اور شراب وکباب کے مضمون کے نہ تھے بلکہ جنگِ بعاث کے زمانہ کے گیت تھے جو کبھی دل بہلانے کو آپس میں بیٹھ کر معصومانہ گیت گالیا کرتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس تفریح میں دخل نہ دیا اور خاموشی کے ساتھ ایک گوشہ میں جاکر چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے اپنی صاحبزادی کو ڈانٹ بتائی کہ رسولؐ کے گھر میں یہ کیا شیطانی حرکت ہے۔ ان کی آواز سن کر نبی ﷺ نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا ’’رہنے دو، ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، آج ہماری عید ہے۔‘‘ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر حضرت ابوبکرؓ خاموش ہوگئے،مگر وہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ ان کے پیٹھ موڑتے ہی حضرت عائشہؓ نے لڑکیوں کو آنکھ کا اشارہ کیا اور وہ اپنے گھروں کو بھاگ گئیں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ جو ان لوگوں کے معصومانہ کھیل کود اور کچھ گابجالینے کو جائز تو رکھا جاتاتھا مگر بڑے لوگ خود ان دلچسپیوں میں حصہ لے کر ان کی ہمت نہیں بڑھاتے تھے۔ بعد میں جب بڑوں نے حدود کی نگہداشت چھوڑدی تو رسّی ڈھیلی ہی ہوتی چلی گئی حتّٰی کہ ناچ رنگ سے گزر کر معاملہ یہاں تک پہنچا کہ :
روزِ عید است لبِ خشک مے آلود کنید چارۂ کارِ خود اے تشنہ لباں زود کنید
(نشری تقریریں:عید قرباں)
تخریج (۱): ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَحْمَدَ السَّمَاکُ، ثَنَا اَبُوْقِلاَبَۃَ۔ ثَنَا نَائِلُ بْنُ نَجِیْحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرٍ عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ :اِذَا صَلَّی الصُّبْحَ مِنْ غَدَاۃِ عَرَفَۃَ یَقْبَلُ عَلٰی اَصْحَابِہٖ فَیَقُوْلُ : عَلٰی مَکَانِکُمْ وَیَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ فَیُکَبّرُ من غَدَاۃِ عَرَفۃ الٰی صلاۃ العصر من اٰخر ایام التشریق۔(۸)
(۲) حَدَّثَنِیْ ھَارُوْنُ بْنُ سَعِیْدٍ الْاَیْلِیُّ، قَالَ: نَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْروٌ اَنَّ ابْنَ شِھَابٍ حَدَّثَہٗ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ اَبَابَکْرِنِالصِّدِّیْقَ دَخَلَ عَلَیْھَا وَعِنْدَھَا جَارِیَتَانِ فِیْ اَیَّامِ مِنٰی تُغَنِّیَانِ وَتَضْرِبَانِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَسَجِّیً بِثَوْبِہٖ فَانْتَھَرَھُمَا اَبُوْبَکْرٍ فَکَشَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْہُ فَقَالَ:دَعْھُمَا یٰاَبَا بَکْرٍ فَاِنَّھَا اَیَّامُ عِیْدٍ وَقَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَسْتُرُنِیْ بِرِدَآئِہٖ وَاَنَا اَنْظُرُ اِلَی الْحَبَشَۃِ وَھُمْ یَلْعَبُوْنَ وَاَنَا جَارِیَۃٌ فَاَقْدِرُوْا قَدْرَالْجَارِیَۃِ الْعَرَبَۃِ الْحَدِیْثَۃِ السِّنِّ۔(۹)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ ابوبکر صدیقؓ ان کے پاس تشریف لائے۔ ان کے پاس دولڑکیاں بالیاں کچھ گا بجارہی تھیں۔ یہ ایامِ منیٰ کا واقعہ ہے۔ رسول اللہﷺ اپنے چہرے پر چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکرؓ نے انہیں ڈانٹ بتائی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک سے چادر ہٹائی اور فرمایا: اے ابوبکر چھوڑو انہیں۔ یہ تو عید کا دن ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب میں حبشیوں کا کھیل دیکھ رہی تھی تو آپؐ نے اپنی چادر سے مجھے چھپا رکھا تھا۔ میں ابھی نوعمر ہی تھی۔ ایک نوخیز لڑکی کا کھیل کی طرف شغف اور اشتیاق کاذرا اندازہ لگالو۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ ابْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا اَبُوْاُسَامَۃَ عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ اَبُوْبَکْرٍ وَعِنْدِی جَارِیَتَانِ مِنْ جَوَارِی الْاَنْصَارِتُغَنِّیَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِہِ الْاَنْصَارُ یَوْمَ بُعَاثٍ قَالَتْ: وَلَیْسَتَا بِمُغَنِّیَتَیْنِ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: أَبِمزْمُوْرِ الشَّیْطَانِ فِیْ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَذٰلِکَ فِیْ یَوْمِ عِیْدٍ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:یَا اَبَابَکْرٍاِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَھٰذَا عِیْدُنَا۔(۱۰)
ترجمہ :حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر میرے پاس تشریف لائے۔ میرے پاس انصار کی دولڑکیاں بالیاں (جوپیشہ ور گانے والی نہ تھیں) جنگِ بعاث کے وہ اشعار گارہی تھیں، جو انصار نے جاحثہ میں کہے تھے، ابوبکرؓ نے کہا رسولؐ اللہ کے گھر میں یہ کیا شیطانی راگ ہے۔ یہ عید کا دن تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اے ابوبکرؓ ہرقوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔‘‘
۔ نماز عید کے بعد مصافحہ اور مُعَانَقہ کی شرعی حیثیت
سوال: بعض حضرات بعد نماز عید جب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاں ملنے جاتے ہیں تو یا تو وہ مصافحہ کرتے ہیں یا بغلگیر ہوتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ عید کے روز بغلگیر ہونا درست ہے؟ کیا حدیث میں یا کسی صحابی کے فعل سے ا س کا جواز ثابت ہے؟
جواب: جہاں تک مُصَافحہ کا تعلق ہے، محض خوشی کے مواقع پر ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہر ملاقات کے موقع پر وہ نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور مسنون ہے۔ ابوداؤد میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب دومسلمان آپس میں مل کر مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کرتے ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمادیتاہے۔‘‘ ترمذی میں ارشادِ مبارک کے الفاظ یہ ہیں: ’’جب دومسلمان آپس میں ملاقات کے وقت مُصَافحہ کرتے ہیں اللہ ان کے جُدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرمادیتاہے۔‘‘ یعنی ان کا ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا چونکہ مسلمان سے مسلمان کی محبت اور باہمی اکرام کا اظہار ہے، اس لیے یہ ان کی مغفرت کا موجب ہوتاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضرت ابوذرؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں حضورؐ سے ملاہوں اور آپؐ نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو۔ اسی بنا پر مصافحہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
مگرمُعَانقہ کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض فقہاء (جن میں امام ابویوسفؒ بھی شامل ہیں) اسے بلا کراہت جائز سمجھتے ہیں، بعض صرف سفر سے واپسی پریا ایسے ہی کسی غیرمعمولی موقع پر اس کو جائز اور عام حالات میں مکروہ قراردیتے ہیں، اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ مطلقاً مکروہ ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ معانقہ کے بارے میں احادیث مختلف ہیں۔ ترمذی میں حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، یا رسولؐ اللہ! ہم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے ملے تو کیا اس کے آگے جھُکے؟آپؐ نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس سے مُعَانَقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟ آپؐ نے فرمایا۔ ہاں۔
ترمذی ہی میں ایک اور روایت ہے جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب زید بن خالد بن حارثہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے آکر ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ رسول اللہ ﷺ جلدی سے اُٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور انہیں گلے سے لگا کر ان کا منہ چوما۔
ابوداؤد میں حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے مجھے طلب فرمایا تو میں گھر میں موجود نہ تھا۔ بعد میں جب مجھے معلوم ہوا کہ حضورؐ نے مجھے یاد فرمایا ہے تو مَیںخدمت مبارک میں پہنچا۔ آپؐ نے مجھے گلے لگالیا۔
ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺ عا م طورپر مُصَافَحہ پر اکتفا فرمایا کرتے تھے۔ مُعَانقہ آپؐ کاعام معمول نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی خاص موقع پر آپؐ نے معانقہ بھی فرمالیاہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل ناجائز بھی نہیں ہے۔ ( رسائل ومسائل پنجم: ص۱۹۸ تا ۲۰۰ )
تخریج(۱): حَدَّثَنَا سُوَیْدٌ عَبْدُاللّٰہِ نَاحَنْظَلَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ الرَّجُلُ مِنَّا یَلْقِیْ اَخَاہُ وَصَدِیْقَہٗ اَیَنْحَنِیْ لَہٗ، قَالَ:لاَقَالَ اَفَیَلْتَزِمُہٗ وَیُقَبِّلُہٗ قَالَ: لاَ قَالَ: فَیَاْخُذُ بِیَدِہٖ وَیُصَافِحُہٗ قَالَ : نَعَمْ۔ ھذا حدیث حسن۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی یا دوست سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے؟آپؐ نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس سے معانقہ کرے اور ا س کا بوسہ لے؟ فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟آپؐ نے فرمایا ۔ ’’ہاں‘‘۔
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السَّدُوْسِیُّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَنْحَنِیْ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ؟ قَالَ: لاَ، قُلْنَا: أیُعَانِقُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:لاَ، وَلٰکِنْ تَصَافَحُوْا۔(۱۲)
(۳) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، اَخْبَرَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ اَبِیْ بَلْجٍ، عَنْ زَیْدٍ اَبِی الْحَکَمِ الْعَنْزِیِّ، عَنِ الْبَرَآئِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاہُ غُفِرَلَھُمَا۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب کا بیان ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دومسلمان آپس میں مل کر مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کرتے ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمادیتاہے۔
(۴) عَنِ الْبَرَآئِ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا مِنْ مُسْلِمَیْنَ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ اِلاَّ غُفِرَلَھُمَا قَبْلَ اَنْ یَفْتَرِقَا۔(۱۴)
ترجمہ :جب دومسلمان آپس میں ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرمادیتاہے ۔
(۵)حَدّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ اِسْمَاعِیْلَ، نَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ یَحْیَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ الْمَدِیْنِیُّ، ثَنِیْ اَبِیْ یَحْیَ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّھْرِیُّ، عَنْ عُرْوَۃَ ابْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَدِمَ زَیْدُ ابْنُ حَارِثَۃَ الْمَدِیْنَۃَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی بَیْتِیْ فَاَتَاہُ فَقَرَعَ الْبَابَ فَقَامَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عُرْیَانًا یَجُرُّثَوْبَہٗ وَاللّٰہِ مَارَأَیْتُہٗ عُرْیَانًا قَبْلَہٗ وَلاَبَعْدَہٗ فَاَعْتَنَقَہٗ وَقَبَّلَہٗ۔(۱۵)
ھذا حدیث حسنٌ غریبٌ لانعرفہ من حدیث الزھری الا من ھذا الوجہ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب زید بن خالد بن حارثہ مدینہ پہنچے اس وقت آپ میرے حجرے میں تشریف فرماتھے انہوں نے آکر ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ رسول اللہ ﷺ جلدی سے ننگے بدن اپنی چادر کھینچتے ہوئے کھڑے ہوگئے بخدا میں نے انہیں اس حالت میں نہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی بعد میں ــــ آپؐباہر تشریف لے گئے اور انہیں گلے سے لگا کر ان کا منہ چوم لیا۔
(۶) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ، اَخْبَرَنَا اَبُوالْحَسْنَیْنِ یَعْنِیْ خَالِدُ بْنُ ذَکَوَانَ، عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ بَشِیْرِ بْنِ کَعْبِ الْعَدَوِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنْزَۃَ اَنَّہٗ قَالَ لِاَبِیْ ذَرٍّحَیْثُ سُیِّرَ مِنَ الشَّامِ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اَسْأَلَکَ عَنْ حَدِیْثٍ مِنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِذًا اُخْبِرُکَ بِہٖ اِلاَّ اَنْ یَکُوْنَ سِرًّا، قُلْتُ: اِنَّہٗ لَیْسَ بِسِرٍّ، ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَافِحُکُمْ اِذَا لَقِیْتُمُوْہُ؟ قَالَ مَالَقِیْتُہٗ قَطُّ اِلاَّصَافَحَنِیْ، وَبَعَثَ اِلَیَّ ذَاتَ یَوْمٍ وَلَمْ اَکُنْ فِیْ اَھْلِیْ فَلَمَّا جِئْتُ اُخْبِرْتُ اَنَّہٗ اَرْسَلَ اِلَیَّ، فَاَتَیْتُہٗ وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرِہٖ، فَالْتَزَمَنِیْ فَکَانَتْ تِلْکَ اَجْوَدَ وَاَجْوَدَ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت ابوذرؓسے ایک آدمی نے کہا میں آپ سے نبی ﷺ کی حدیث کے متعلق کچھ دریافت کرنا چاہتاہوں۔ انہوں نے فرمایا تو پھر آپ پوچھیے میں اس کا جواب دوں گا بشرطیکہ کوئی راز نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ کیا رسول اللہ ﷺ آپ لوگوں سے ملاقات کے وقت مصافحہ فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں حضور سے ملاہوں اور آپؐ نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو۔ حضرت ابوذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے مجھے طلب فرمایا تو میں گھر میں موجود نہ تھا۔ بعدمیں جب مجھے معلوم ہوا کہ حضورؐنے مجھے یا د فرمایا ہے تو میں خدمت مبارک میں پہنچا۔ آپؐچار پائی پر تشریف فرماتھے۔ آپ نے مجھے گلے لگالیا ۔ یہ بہت عمدہ تھا، بہت عمدہ تھا۔
حج کی فلم بنانا شرعًا کیسا ہے؟
سوال : ’’جس قسم کی فلمیں ہمارے ہاں دکھائی جارہی ہیں، وہ معاشرے کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہیں مگر فلمی دنیا نے گزشتہ دنوں ایک فلم ’’خانۂ خدا‘‘ کے نام سے بنا کر عوام کو دکھانے کا اہتمام کیاہے۔ آپ کے خیال میں اور شریعت کی رُو سے یہ کہاں تک درست اور مناسب بات ہے؟ اور اگر مناسب نہیں تو اس کی روک تھام کے لیے کیاتدابیر اور اقدام کرنے چاہئیں؟
جواب: پہلے تو اس بات کو آپ سمجھ لیں کہ خانۂ خدا میں جو عبادت ہوتی ہے وہ لوگوں کے لیے تماشے کی حیثیت نہیں رکھتی۔ سب سے پہلے بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس کو بھی ایک تماشا بنادیا گیا اور پھر اسے دکھایا بھی وہاںجارہاہے جہاں لوگ تماشا ہی دیکھنے جاتے ہیں ــــ یہ ایک غلط کام ہے اور پھر اسے تماشے کی جگہ لے جاکر دکھانا اور بھی غلط ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک حج فلم بنائی جاسکتی ہے جس میں لوگوں کو عبادت کا طریقہ جو حج میں اختیارکیا جاتاہے اور جو شریعت نے مقرر کیاہے وہ سکھایا جائے۔ یا پھر یہ ہے کہ اس میں ایسی تبلیغ موجود ہو جو لوگوں میں حج کا شوق پیدا کرے۔ لیکن ’’خانۂ خدا‘‘ کے نام سے بننے والی اس فلم میں یہ دونوں پہلو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، بلکہ اس کے برعکس تأثر ملتا ہے۔ جن لوگوں نے اسے دیکھاہے وہ بتاتے ہیں کہ بعض جگہ صاف معلوم ہوتاہے کہ مذاق کے لیے کسی خاص منظر کو لیا گیاہے اور اس پر کافی دیر تک فوکس کیا گیاہے تاکہ لوگوں کے لیے وہ مضحکہ بنے۔ مثلاً منیٰ میں قربانی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں دس بارہ لاکھ آدمی جمع ہوں اور حج کے سلسلے کا آخری کام انجام دیا جارہاہو، وہاں ہرآدمی کو جلدی ہوتی ہے کہ وہ قربانی سے فارغ ہوکر جاکر کپڑے بدلے۔ اس موقع پر بھاگ دوڑاور قربانی کے جانوروں کو جلدی جلدی لانے کے مناظر کو خاص طورپر لیا گیاہے۔ اسی طرح دیکھنے والوں نے بتایاہے کہ ایک جگہ جہاں حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں تو اس جگہ نظم وضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا سپاہی کھڑا ہوا تھا جس کا رنگ کا لاتھا اور چہرے پر کچھ دھبے سے پڑے ہوئے تھے۔ فلم بنانے والوں نے ایک دفعہ اس سپاہی کو دکھایا، پھر حجرِ اسود کو دکھایا، پھر اس سپاہی کو۔ یہ عمل تین مرتبہ کیا گیا۔ صرف یہ دکھانے کے لیے کہ اس کا رنگ بھی ــــ حجرِاسود جیسا ہے۔ حجرِ اسود بھی ٹوٹا ہوا ہے اور وہاں بھی گو مڑے سے پڑے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی باتوں کا مقصد حج کی تبلیغ نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کے ساتھ کوئی کمنٹری ایسی نہیں ہے جو حج کا شوق پیدا کرنے والی ہو اور مناسک بھی ترتیب کے ساتھ نہیں دکھائے گئے جس سے مناسک کی تعلیم حاصل ہو۔ صرف حج کو تماشہ بنانے کا کام سرانجام دیا گیا ہے۔ اب کیا مسلمان اس حد تک گرچکے ہیں کہ وہ اپنی عبادتوں کو تماشابنائیں گے؟ علاوہ ازیں اس کے اندر ایک چیز اور بھی ہے جو قابلِ افسوس ہے۔ وہ یہ کہ احرام کی حالت میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ چہرہ کھلارکھیں۔ نماز کی حالت میں بھی عورتوں کو لامحالہ چہرہ کھلا رکھنا پڑتاہے کیونکہ نماز منہ ڈھک کر نہیں ہوتی۔ اب اس فلم میں جہاں عورتیں نماز پڑھتی ہیں۔ اس کے بار بار فوٹو لیے ہیں۔ کیا یہ دینداری کے جذبات کا مظاہرہ تھا؟ حج میں عورت کو جوچہرہ کھولنے کا حکم ہے اسی طرح مرد کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھے اور عورت کی طرف نہ دیکھے۔ لیکن یہاں کیمرے کے ذریعے ان خواتین کو دنیا بھر کے مردوں کو دکھانے کا اہتمام کیا گیاہے۔ (۵۔اے ذیلدار پارک دوم: ص۲۶۴تا۲۶۶)
ماخذ
۱) ترمذی ج۲ ابواب تفسیر القرآن۔
(۲) ترمذی ج۱ابواب الحج باب ماجاء فی کراھیۃ الطواف عریانا۔٭ ترمذی ج۱ابواب تفسیر القرآن۔٭ دارمی ج۱کتاب المناسک باب۷۴، لایطوف بالبیتِ عریان
(۳) بخاری ج۲کتاب التفسیر باب قولہ اِلا الّذین عاھدتم من المشرکین۔٭ بخاری ج۲کتاب التفسیر باب قولہ فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر الخ بخاری ج۱کتاب الصلاۃ باب مایستر من العورۃ۔ نیز بخاری میں کتاب الحج کتاب الجزیۃاورکتاب المغازیمیں بھی یہ روایت موجود ہے۔٭مسلم ج۱کتاب الحج باب لایحج البیت مشرک ولایطوف بالبیت عریان وبیان یوم الحج الاکبر۔ ٭ابوداؤدج۲کتاب المناسک باب یوم الحج الاکبر۔٭ ترمذی ج۲ابواب تفسیرالقرآن سورہ توبۃ۔٭ نسائی ج۵کتاب مناسک الحج، باب قولہ عزوجل خذوا زینتکم عند کل مسجدٍ۔٭دارمی ج۱ص۲۷۳کتاب الصلاۃ باب۱۴۰ النھی عن دخول المشرک المسجد الحرام۔اورکتاب السیر باب فی الوفاء للمشرکین بالعھد٭مسند احمد ج۱ص۳۔ج۲ص۲۹۹۔
(۴) بخاری ج۲کتاب المغازی باب حجۃ الوداع۔کتاب الاضاحی باب من قال الاضحی یوم النحر٭ کتاب العلم، کتاب الحدود، کتاب الادب، کتاب التوحید، کتاب المناسک وغیرہ۔٭مسلم ج۲کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض والاموال الخ۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب المناسک باب الاشھر الحرم۔٭ترمذی ج۲ابواب الفتن باب ماجاء فی تحریم الدماء والاموال۔ ٭ابواب التفسیر ج۲ سورہ توبۃ قدرے لفظی اختلاف۔ ٭ابن ماجہ کتاب المناسک باب ۷۶ الخطبۃ یَوْم النحر اور باب ۸۴ حجۃ رسول اللہ ﷺ۔٭ دارمی ج۱کتاب المناسک باب ۷۲ فی الخطبۃ یوم النحر۔٭ مسند احمد ج۱ص۲۳۰۔ ج۴ ص۳۳۷۔ج۵ص۳۷۔۳۹۔۴۰۔۷۲۔٭ السنن الکبریٰ ج۵۔ کتاب الحج باب من کرہ ان یقال للمحرم صفر وان النسیء من امر الجاھلیۃ عن ابی بکرۃ۔
(۵) بخاری ج۲کتاب الجھاد باب کیف ینبذ الی اھل العھد وقولہ واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذالیھم علی سواء۔٭بخاری کتاب الجزیہ وکتاب التفسیر۔٭مسلم ج۱کتاب الحج باب لایحج البیت مشرک الخ۔
(۶) ابوداؤد ج۲کتاب المناسک باب یوم الحج الاکبر۔
(۷) ترمذی ج۲ابواب تفسیر القرآن۔ ابواب الفتن باب ماجاء فی تحریم الدماء والاموال۔ ٭ابن ماجہ کتاب المناسک باب الخطبۃ یَوم النحر۔٭ مسند احمد ج۳ ص۴۷۳۔رجل من اصحاب النبی ﷺ۔ج۵ص۴۱۲۔٭ دارقطنی کتاب الحج ج۲ص۲۸۵ عن ابن عباس۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵ کتاب الحج باب الخطبۃ یوم النحر وان یوم النحر یوم الحج الاکبر۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۱/۴کتاب الحج، باب فی یوم الحج الاکبر۔ عَن علی۔
(۸) دارقطنی ج۲/۱کتاب العیدین
(۹) مسلم ج۱ص۲۹۱۔۲۹۲ کتاب صلاۃ العیدین اورکتاب المساجد۔٭ بخاری ج۱کتاب الصلاۃ، کتاب العیدین۔ کتاب الجھاد، کتاب المناقب، کتاب النکاح وغیرہ۔٭ نسائی ج۳ کتاب العیدین باب اللعب فی المسجد یوم العید۔٭مسند احمد ج۲ص۳۶۸۔ج۶ص۵۶۔۸۵۔۸۳وغیرہ۔
(۱۰) مسلم ج۱کتاب صلاۃ الْعِیْدَین۔٭بخاری ج۱کتاب المناقب باب مقدم النبی ﷺ واصحابہ الی المدینۃ۔اس مقام پر مزمارالشیطانہے اور آخر میں وان عیدنا ھذا الیوماور تقاولت کی جگہتعازفتاور ایک نسخہ کے مطابق تعارفتہے۔٭ نسائی ج۳کتاب العیدین باب الرخصۃ فی الاستماع الی الغنا وضرب الدُّفِّ یوم العید۔نسائی کی ایک روایت میں یوم بُعاثکا ذکر نہیں ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب ۲۱ الغنا والدف۔ ٭ مسنداحمد ج۶ص۳۳۔ ۹۹۔۱۳۴۔۱۸۷ عن عائشۃ۔
(۱۱) ترمذی ج۲ ابواب الادب والاستیذان باب ماجاء فی المصافحۃ۔
(۱۲) ابن ماجہ کتاب الادب باب فی المصافحۃ۔
(۱۳) ابوداؤد ج۴ کتاب الادب باب فی المصافحۃ۔
(۱۴) ابوداؤد ج۴ کتاب الادب باب فی المصافحۃ۔ترمذی ج۲ ابواب الادب والاستیذان باب ماجاء فی المصافحۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب الادب باب۱۵ فی المصافحۃ۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۸ص۴۳۱۔٭ مسند احمد ج۴ص۲۸۹۔۳۰۳۔
(۱۵) ترمذی ج۲ ابواب الادب والاستیذان باب ماجاء فی المعانقۃ والقُلبۃ۔
(۱۶) ابوداؤد ج۴ کتاب الادب باب فی المعانقۃ۔
زبان: اُردو
صفحات: 392
ادارہ معارف اسلامی، لاہور