ریڈ مودودی ؒ کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔
چند باتیں
قارئین محترم کی خدمت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و قلم کے شاہ کار تفہیم الاحادیث کا زیر نظر حصہ پیش کرتے ہوے ہمیں یک گونہ خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کے لیے اس کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات و فرمودات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پیش کرنے کی توفیق بخشی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور حدیث کے اس مبارک سلسلے کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور انھیں پیغام رسولؐ سے روشناس کرانے میں مکتبے کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ ہوگا۔
تفہیم الاحادیث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ، بلکہ یہ ان احادیث کا مجموعہ ہے، جو مولانا محترم نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور بعض دوسری تصانیف میں حسب موقع نقل کی ہیں ۔
صورت واقعہ یہ ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس نہج پر اپنی مقبول عام تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ کی چھے۶ جلدیں تحریر کی تھیں، بالکل اسی نہج پر وہ احادیث پر بھی کام کرنے کا عزم مصمّم کرچکے تھے۔ نہ صرف عزم مصمم کرچکے تھے، بلکہ انھوں نے اس کام کے لیے ایک ابتدائی خاکہ بھی تیار کرلیا تھا ـــــــلیکن اچانک وہ بیمار ہوگئے، پھر بیماری کا یہ سلسلہ اتنا طویل ہوتا گیا کہ انھیں اس سے نجات ہی نہ مل سکی۔ اسی بیماری میں ان کی مہلتِ عمر بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد یہ کام التوا میں پڑگیا۔ وفات کے کافی دنوں کے بعد مولانا محترم کے رفیق خاص مولانا خلیل احمد حامدیؒڈائریکٹر ادارۂ معارف اسلامی منصورہ کو اس کام کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انھوں نے ذمے داروں اور دوسرے ارباب علم و دانش کے مشوروں سے علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے فاضل مشہور عالم و محقق مولانا عبدالوکیل علوی کو یہ ذمّے داری تفویض کی کہ وہ تفہیم القرآن اور دوسری تصانیف کی مدد سے مولانا محترم کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے پورے کام کااز سر نو خاکہ تیارکیا اور ضروری کتب فراہم کرکے کام کا آغاز کردیا۔
مولانا عبدالوکیل علوی کا نام تحریکی حلقے کے لیے غیر معروف و اجنبی نہیں ہے۔ وہ عربی ادب کے مایۂ ناز فاضل، اسلامی علوم کے ذہین عالم اور صاحب طرز اہل قلم کی حیثیت سے تعارف رکھتے ہیں۔اس سے پہلے مولانا مودودیؒ کی تصانیف کی مدد سے وہ متعدد ترتیبی و تخریجی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔سیرت سرور عالم کی دو جلدیں ان کی ترتیبی و تخریجی صلاحیتوں کی بہترین نمایندگی کرتی ہیں۔
مولانا عبدالوکیل علوی نے اس کام میں کتنا وقت صرف کیا ہے ،اورانھوں نے احادیث کی چھان بین یا ترتیب و تخریج میں کتنی عرق ریزی اور دقّتِ نظر سے کام لیا ہے، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پڑھنے والے خود ہی اس کا ادراک کرلیں گے۔ ’’مشک آنست کہ خود بہ بوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ اصلی مشک خود اپنی مہک سے پہچان لیا جاتا ہے، اس کے لیے کسی عطار کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس کوشش کو شرفِ قبول سے نوازے، تمام انسانوں کے لیے اِسے نفع بخش بنائے اور اس کی تیاری میں جن رفقاء اور کارکنوں نے حصہ لیا ہے، انھیں حدیثِ رسول ؐ کی خدمت کی برکات سے سرفراز کرے۔
ناشر
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی
عرض مرتب
الحمد للہ تفہیم الاحادیث کے جس کار عظیم کو آج سے چند سال قبل شروع کیا تھا، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔ یہ سعادت محض خالق ارض وسما کے فضل وکرم اور اس کی توفیق خاص کی مرہون منت ہے، ورنہ ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کٹھن مراحل سے گزر کر ساحل تکمیل تک پہنچنے کی اپنی حد تک ایک کاوش کی ہے۔
جب یہ کام شروع کیا گیا تب اندازہ ہوا کہ ایک ٹھوس علمی وتحقیقی کتاب اپنی طرف سے مدون ومرتب کرنے کے مقابلے میں مولانا محترم رحمتہ اللہ علیہ کے پورے ذخیرۂ کتب میں سے عبارتیں نکال کر کوئی کتاب ترتیب دینے کا کام کتنا محنت طلب ہے۔ تفہیم القرآن کی چھے جلدوں کے ساتھ ساتھ مولانا کے وسیع لٹریچر کو ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھنا، تمام احادیث کے متون، تراجم، تشریحات اور فقہی مسائل کی الگ الگ نشان زدگی، پھر اس کی تشریح کے لیے مفید مطلب مناسب و موزوں عبارات پر نشان لگانا، ان کی نقول تیار کرنا اور سب سے آخر میں ان کی بہ اعتبارِ ابواب و فصول ترتیب اور ان کی عنوان بندی، یہ سارا کام اتنا صبر آزماتھا کہ بار بار دامن ہمت تار تار ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتارہا۔ مگر ایسے مواقع پر فضل ایزدی نے ڈھارس بندھائی اور کام جاری رہا۔ الحمد للہ آج اس کاوش اور سعی وجہد کا ثمرہ آپ کے سامنے ہے۔
تالیف وتدوین کا یہ کام اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جتنا اہم اور عظیم ہے، اپنے حجم کے لحاظ سے اُسی قد ر ضخیم بھی۔ مولانا کی تصانیف میں سے انتخاب کرکے جو مواد نقل کیا گیا، وہ سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جمع کی گئی ہیں، جنہیں مولانا محترم نے اپنے پورے لٹریچر میں استعمال کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اسے نقل کرنے سے پہلے پورے کا پورا لٹریچر ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھاگیا، مفید مطلب عبارات پر نشان لگایا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ حدیث کا متن ہے اور یہ اس کا ترجمہ وتشریح۔ جن احادیث سے فقہی مسائل استنباط کیے گئے، ان پر الگ نشان لگایاگیا، متنِ حدیث کی بجائے کہیں محض ترجمہ ملا تو اسے بھی نکال لیا گیا۔
اس کام کی تکمیل پر کس قدر محنت کی گئی یا کتنی عرق ریزی سے یہ کام انجام پایا؟ اس کا صحیح اندازہ صرف انہیں کو ہوسکتاہے، جنہوں نے کبھی اس وادیٔ پر خار میں قدم رکھاہو۔ مولانا محترم نے زیادہ تر مقامات پر احادیث نقل کرتے وقت صرف اتنا کہہ دیاہے کہ فلاں حدیث بخاری ومسلم میں ہے یا متفق علیہ یا ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ اسی طرح احادیث کی دوسری کتب کے حوالے بھی دیے ہیں، مگر بخاری ومسلم نے اس حدیث کو کس کتاب میں، کس فصل یا باب میں اور کس عنوان کے تحت یا کتاب کے کس صفحے پر روایت کیاہے؟ اس کا التزام کم ہی کیا جاسکاہے۔ پھر مولانا محترم نے اکثر مقامات پر حدیث کا صرف اتنا ہی جز نقل کیاہے جتنا انہیں اس مقام کے لحاظ سے استشہاد کے لیے مطلوب تھا۔ پوری حدیث نقل نہیں کی اور پوری سند تو بہت ہی کم نقل ہوسکی ہے۔
اس نقل شدہ مواد کو ایک مفید کتاب کی صورت میں مرتب ومدون کرنے کے لیے ان تمام نقل شدہ احادیث کی سندیں شامل کی گئیں۔ جہاں حدیث کا ایک جزو استعمال کیا گیا، وہ پوری حدیث مع سند نقل کی گئی تاکہ قاری یہ جان سکے کہ یہ کس حدیث کا جزو ہے یا کس محدث نے اپنی کس کتاب اوراس کتاب کے کس باب یا فصل میں اور کس عنوان کے تحت روایت کیا ہے وغیرہ اورحدیث کے بارے میں محدث کی محدثانہ رائے کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف وغیرہ بھی درج کی گئی ہے۔ مزید برآں ایسی احادیث بھی شامل کی گئی ہیں، جو ان کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جنہیں مویدات کہہ سکتے ہیں۔ اس مفید اضافے سے اصل مواد کی ضخامت تو واقعۃً بڑھ گئی مگر فوائد میں بے حساب اضافہ بھی ہوا ہے۔
حدیث کی تخریج کے لیے جو اصول پیش نظر رکھاگیاہے وہ یہ ہے:
سب سے پہلے حدیث کو( بخاری ومسلم) میں تلاش کیاگیا۔ اگروہ ان میں مل گئی اور دونوں کے الفاظ بھی یکساں ملے تو اس صورت میں سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیا اور حوالے میں متفق علیہ درج کیا گیاہے۔ اگر صحیحین کی روایت میں معنوی یکسانی تو موجود ہے مگر لفظی اختلاف ہے تو اس صورت میں بھی سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیاہے اور صحیح مسلم کا اختلاف اور فرق الگ سے واضح کردیاگیاہے۔ اگر مولانا محترم نے خود ہی صحیح مسلم کی روایت لی ہے تو پھر اصل متن اسی روایت کو قراردیا گیاہے اور صحیح بخاری کی روایت میں جو اختلاف ہے، اسے واضح کرکے اس کا حوالہ دیاہے اور اگر مولانا نے صحیحین کے علاوہ باقی کتب اربعہ یعنی سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کا حوالہ دیا ہے اور وہ حدیث صحیحین میں سے کسی ایک میں بھی قدرے لفظی اختلاف یا فرق کے ساتھ موجود ہے تو اس صورت میں اصل ماخذ بیان کرنے کے بعد صحیحین کا حوالہ اور فرق واختلاف بھی درج کرنے کی محتاط کوشش کی گئی ہے۔اگرکوئی حدیث صحیحین میں نہ ملی تو پھر ابوداؤد کی روایت کو ترجیحاً نقل کیاگیاہے۔ اگر ابوداؤد اور دیگر کتب میں بھی کوئی حدیث موجود ہے تو اصل متن کے طورپر ابوداؤد کی روایت درج کی گئی ہے اور باقی ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ اور دیگر کتب کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ ممکن الحصول ماخذ ومصادر درج کیے جائیں۔ اصل کتب ماخذ جتنی مجھے دستیاب ہوسکیں، ان سب کے حوالے دینے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ تخریج مواد، اس کو نقل کرنے، عبارات پر اعراب لگانے اور اضافہ شدہ عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کے بعد نقل شدہ مواد کی روشنی میں اسے ایک کتابی صورت میں لانے کے لیے اس کی پہلے ابواب بندی کی گئی اور پھر انہیں فصول اور مختلف عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا، پھرذیلی عنوانات قائم کیے گئے۔ بعد ازاں حوالے جات اور احادیث کے نمبر لگائے گئے اور ان حوالوں کو اپنے اپنے مقام پر درج کیا گیا تاکہ قاری کو اگر کسی عبارت کے اصل ماخذ کی ضرورت محسوس ہوتو وہ بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے اصل ماخذ سے رجوع کرسکے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعاہو ںکہ اس کام کو اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبول حاصل ہو اور یہ مولانا محترم کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے۔
وماتوفیقی الا باللہ
خاکسار
عبدالوکیل علوی
فصل : ۱ نکاح کی ترغیب وتاکید
۱۔ اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ۔
’’نکاح میری سنت ہے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْاَزْھَرِ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا عِیْسٰی بْنُ مَیْمُوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ : اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ، فَمَنْ لَّمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی، وَتَزَوَّجُوْا، فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ، وَمَنْ کَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْیَنْکِحْ وَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَعَلَیْہِ بِالصِّیَامِ، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہٗ وِجَآئٌ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا،نکاح میری سنت ہے، پس جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ شادیاں کرو، میں (قیامت کے روز) تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروںگا۔ اور جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتاہو اسے نکاح کرنا چاہیے اور جسے اس کی استطاعت نہ ہو اسے اپنے اوپر روزہ لازم کرلینا چاہیے (روزہ رکھنا چاہیے) اس لیے کہ روزہ ڈھال ہے (گناہوں سے بچنے کا) ۔
ــــــــ فِی الزَّوَائِدِ : اِسْنَادُہٗ ضَعِیْفٌ لِاِتِّفَاقِھِمْ عَلٰی ضُعْفِ عِیْسٰی بْنِ مَیْمُوْنِ ناِلْمَدِیْنِیِّ، لٰکِنَّ لَہٗ شَاھِدٌ صَحِیْحٌ۔
(۲) عَنْ عُبَیْدِ بْنِ سَعْدٍ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ: مَنْ اَحَبَّ فِطْرَتِیْ فَلْیَسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ، وَمِنْ سُنَّتِی النِّکَاحُ۔(۲)
ترجمہ :حضرت عبید بن سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے میری فطرت (عادت) کو پسند کیا تو اسے چاہیے میری سنت کو اپنی زندگی کا طریق بنالے، اور میری سنت نکاح ہے۔
حضرت ایوبؓ سے مروی ہے:
(۳) عَنْ اَیُّوْبَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: مَنِ اسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ فَھُوَ مِنِّیْ، وَمِنْ سُنَّتِی النِّکَاحُ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ایوبؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشادفرمایا، جس شخص نے میری سنت کو راہِ زندگی بنالیا پس وہ مجھ سے ہے، اورمیری سنت نکاح ہے۔
لفظ نکاح کے لُغوی اور اصطلاحی معنی
علمائے لغت میں اس امر پر بہت کچھ اختلاف ہوا ہے کہ عربی زبان میں نکاح کے اصل معنی کیاہیں۔ایک گروہ کہتاہے کہ یہ لفظ وطی اور عقد کے درمیان لفظ مشترک ہے۔ دوسرا گروہ کہتاہے کہ یہ ان دونوں میں معنیً مشترک ہے۔ تیسرا گروہ کہتاہے کہ اس کے اصل معنی عقد تزویج کے ہیں اور وطی کے لیے اس کو مجاز اً استعمال کیا جاتاہے۔ چوتھا گروہ کہتاہے کہ اس کے اصل معنی وطی کے ہیں اور عقد کے لیے مجازًا استعمال کیا جاتاہے۔ لیکن راغب اصفہانی نے پورے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ’’ لفظ نکاح کے اصل معنی عقدہی کے ہیں۔ پھر یہ لفظ استعارۃً جماع کے لیے استعمال کیا گیاہے، اور یہ بات محال ہے کہ اس کے اصل معنی جماع کے ہوں اور استعارے کے طورپر اسے عقد کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔‘‘ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ جتنے الفاظ بھی جماع کے لیے عربی زبان میں ، یا دنیا کی کسی زبان میں حقیقتًا وضع کیے گئے ہیں، وہ سب فحش ہیں۔ کوئی شریف آدمی کسی مہذب مجلس میں ان کو زبان پر لانا بھی پسند نہیں کرتا۔ اب آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لفظ حقیقتًا اس فعل کے لیے وضع کیا گیاہو اسے کوئی معاشرہ شادی بیاہ کے لیے مجازواستعارہ کے طور پر استعمال کرے۔ اس معنی کو ادا کرنے کے لیے تو دنیا کی ہرزبان میں مہذب الفاظ ہی استعمال کیے گئے ہیں نہ کہ فحش الفاظ۔
علمائے احناف بالعموم یہ رائے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لفظ حقیقتاً وطی کے لیے اور مجازاً عقد کے لیے استعمال ہوتاہے۔ لیکن یہ احناف کی متفق علیہ رائے نہیں ہے۔ بعض مشائخ حنفیہ اس لفظ کو وطی اور عقد کے درمیان مشترک معنوی بھی قرار دیتے ہیں۔ پھر نکاح کی شرعی تعریف تو ان کے ہاں یہی ہے کہ ھُوَ عَقْدٌ یُفِیْدُ مِلْکَ الْمُتْعَۃِ قَصْدًا یا عَقْدٌ وُضِعَ لِتَمْلِیْکِ مَنَافِعِ الْبِضْعِ۔
میرے نزدیک قرآن وسنت میں نکاح ایک اصطلاحی لفظ ہے، جس سے مراد لازماًعقد تزویج ہی ہے۔ اور جب یہ لفظ مطلقًا استعمال ہوگا تو اس سے مراد عقد ہی لیا جائے گا الاّ یہ کہ کوئی قرینہ اس بات پر دلالت کرتاہو کہ یہاں مراد محض وطی یا عقد مع الوطی ہے۔ رہی وطی بلا عقد تو ا س کے لیے لفظ نکاح کے استعمال کا جواز لغت میں تو ہوسکتاہے لیکن قرآن وسنت میں اس کی کوئی مثال میرے علم میں نہیں ہے۔ (رسائل ومسائل چہارم،عام مسائل:لفظ نکاح۔۔۔)
نکاح کی تاکید
۲۔ عَلَیْکُمْ بِالْبَائَ ۃِ فَاِنَّہٗ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَاَحْصَنُ لِلْفَرْجِ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ وَاَنَّ الصَّوْمَ لَہٗ وِجَآئٌ۔ (بخاری)
’’تم کو نکاح کرنا چاہیے، کیونکہ وہ آنکھوں کو بدنظری سے روکنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی بہترین تدبیر ہے ۔ اور جو شخص تم میں سے نکاح کی قدرت نہ رکھتاہو وہ روزہ رکھے، کیونکہ روزہ شہوت کو دبانے والا ہے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَااَبُوْ اَحْمَدَ، نَاسُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَنَحْنُ شَبَابٌ لَانَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ وَقَالَ: یَامَعْشَرَ الشَّبَابِ عَلَیْکُمْ بِالْبَائَ ۃِ، فَاِنَّہٗ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَاَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ، فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہٗ وِجَآئٌ۔(۴) (ھذا حدیث حسن صحیح)
(۲) اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ عَنْ اَبِیْ مَعْشَرٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ:کُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَھُوَ عِنْدَ عُثْمَانَؓ فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی فِتْیَۃٍ قَالَ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ: فَلَمْ اَفْھَمْ فِتْیَۃًکَمَا اَرَدْتَّ، فَقَالَ: مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَاِنَّہٗ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَاَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لاَ، فَالصَّوْمُ لَہٗ وِجَآئٌ۔(۵)
(۳) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُمَارَۃُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسْوَدِ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ:کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺَ شَبَابًا لاَ نَجِدُ شَیْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَامَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَاِنَّہٗ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَاَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ، فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ، فَاِنَّہٗ لَہٗ وِجَآئٌ۔(۶)
۳۔ وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہٗ لٰـکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَآئَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ (بخاری)
’’بخدا میں خدا سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے میں تم سب سے بڑھ کر ہوں۔ مگر مجھے دیکھو کہ میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں، نماز بھی پڑھتاہوں اور راتوں کو سوتابھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتاہوں، یہ میرا طریقہ ہے، اور جو میرے طریقے سے اجتناب کرے، اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ (پردہ، باب۱۰: نکاح)
تخریج : حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَرْیَمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُ بْنُ اَبِیْ حُمَیْدِنِ الطَّوِیْلُ اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ ابْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: جَآئَ ثَلاَثَۃُ رَھْطٍ اِلٰی بُیُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ، یَسْئَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِیِّ ﷺَ، فَلَمَّا اُخْبِرُوْاکَأَنَّھُمْ تَقَالُّوْھَا، فَقَالُوْا: وَاَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ قَدْغُفِرَ لَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ اَحَدُھُمْ:اَمَّا اَنَا، فَاِنِّیْ اُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَدًا، وَقَالَ اٰخَرُ: اَنَا اَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلاَ اُفْطِرُ وَقَالَ اٰخَرُ: وَاَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَآئَ فَلاَ اَتَزَوَّجُ اَبَدًا فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَیْھِمْ فَقَالَ: اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا؟ اَمَا وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہٗ، لٰـکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَآئَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِی، فَلَیْسَ مِنِّیْ۔(۷)
تشریح :ان تمام احکامات وہدایات شریعت کا منشا یہ ہے کہ صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کیے جائیں، زوجی تعلقات کو دائرہ ازدواج کے اندر محدود کیا جائے۔ اس دائرہ کے باہر جس حد تک ممکن ہو کسی قسم کی صنفی تحریکات نہ ہوں، اورجو تحریکات خود طبیعت کے اقتضایا اتفاقی حوادث سے پیدا ہوں ان کی تسکین کے لیے ایک مرکز بنادیاجائے۔ عورت کے لیے اس کا شوہراور مرد کے لیے اس کی بیوی۔ تاکہ انسان تمام غیرطبعی اور خود ساختہ ہیجانات اور انتشارِ عمل سے بچ کر اپنی مجتمع قوت (Conservated Energy)کے ساتھ نظامِ تمدن کی خدمت کرے اور وہ صنفی محبت اور کشش کا مادہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کارخانہ کو چلانے کے لیے ہر مردو عورت میں پیدا کیا ہے، تمام تر ایک خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام میں صرف ہو۔ ازدواج ہرحیثیت سے پسندیدہ ہے، کیونکہ وہ فطرت انسانی اور فطرتِ حیوانی دونوں کے منشا اور قانونِ الٰہی کے مقصد کو پورا کرتاہے۔ اور ترکِ ازدواج ہرحیثیت سے ناپسندیدہ، کیونکہ وہ دوبرائیوں میں سے ایک برائی کا حامل ضرور ہوگا، یا تو انسان قانون فطرت کے منشا کو پورا ہی نہ کرے گااور اپنی قوتوں کو فطرت سے لڑنے میں ضائع کردے گا یا پھر وہ اقتضائے طبیعت سے مجبور ہوکر غلط اور ناجائز طریقوں سے اپنی خواہشات کو پورا کرے گا۔ (پردہ ،باب ۱۰:نکاح)
رہبانیت اور قطع لذات کی ممانعت
۴۔ایک مرتبہ نبی ﷺ کو معلوم ہوا کہ بعض صحابیوں نے عہد کیا ہے کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے، راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے، بلکہ جاگ جاگ کر عبادت کرتے رہیںگے، گوشت اور چکنائی استعمال نہ کریں گے، عورتوں سے واسطہ نہ رکھیں گے۔ اس پر آپ نے ایک خطبہ دیا جس میں فرمایا مجھے ایسی باتوں کا حکم نہیں دیا گیاہے۔ تمہارے نفس کے بھی تم پر حقوق ہیں، روزہ بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی، راتوں کو قیام بھی کرو اور سوؤ بھی۔ مجھے دیکھو! میں سوتابھی ہوں اور قیام بھی کرتاہوں، روزے رکھتابھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا،گوشت بھی کھاتاہوں اور گھی بھی پس جو میرے طریقے کو پسند نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ فرمایا یہ لوگوںکو کیا ہوگیاہے کہ انہوں نے عورتوں کو اور اچھے کھانوں کو اور خوشبو اور نیند اور دنیا کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیاہے۔ میں نے تمہیں یہ تعلیم نہیں دی ہے کہ تم راہب اور پادری بن جاؤ۔ میرے دین میں نہ عورتوں اور گوشت سے اجتناب اور نہ گوشہ گیری وعزلت نشینی ہے۔ ضبط نفس کے لیے میرے ہاں روزہ ہے۔ رہبانیت کے سارے فائدے یہاں جہاد سے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، حج اور عمرہ کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو۔ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اس لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اپنے اوپر سختی کی، اور جب انہوں نے خود اپنے اوپر سختی کی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ یہ انہی کے بقایا ہیں جو تم کو صومعوں اور خانقاہوں میں نظر آتے ہیں۔
تخریج:(۱) فَقَدْ رُوِیَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلَسَ یَوْمًا، فَذَکَّرَ النَّاسَ وَوَصَفَ الْقِیَامَۃَ فَرَقَّ النَّاسُ وَبَکُوْا، وَاجْتَمَعَ عَشْرَۃٌ مِنَ الصَّحَابَۃِؓ فِیْ بَیْتِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ الجُمَحِیِّ وَھُمْ: عَلِیٌّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ وَاَبُوْبَکْرؓ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَاَبُوْذَرٍّ الْغِفَارِیُّ، وَسَالِمٌ مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْاَسْوَدِ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ، وَمَعْقِلُ بْنُ مُقَرِّنٍ وَصَاحِبُ الْبَیْتِ، وَاتَّفَقُوْا عَلٰی اَنْ یَّصُوْمُوا النَّھَارَ وَیَقُوْمُوا اللَّیْلَ وَلاَیَنَامُوْا عَلَی الْفُرُشِ، وَلاَیَاْکُلُوا اللَّحْمَ، وَلاَ الْوَدَکَ، وَلاَیَقْرُبُوا النِّسَآئَ، وَالطِّیْبَ، وَیَلْبَسُوا الْمَسُوْحَ، وَیَرْفُضُوا الدُّنْیَا، وَیَسِیْحُوا فِی الْاَرْضِ وَھَمَّ بَعْضُھُمْ اَنْ یَّجُبَّ مَذَاکِیْرَہٗ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَتٰی دَارَعُثْمَانَ فَلَمْ یُصَادِفْہٗ، فَقَالَ لِاِمْرَأَتِہٖ اُمِّ حَکِیْمٍ:
اَحَقٌّ مَا بَلَغَنِیْ عَنْ زَوْجِکِ وَاَصْحَابِہِ؟ فَکَرِھَتْ اَنْ تُنْکِرَ اِذْ سَأَلَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَکَرِھَتْ اَنْ تُبْدِیَ عَلٰی زَوْجِھَا، فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ کَانَ اَخْبَرَکَ عُثْمَانُ فَقَدْ صَدَقَکَ، وَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺَ فَلَمَّادَخَلَ عُثْمَانُ، فَاَخْبَرَتْہُ بِذٰلِکَ اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ ھُوَ وَ اَصْحَابُہٗ، فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ لَھُمْ: اُنْبِئْتُ اَنَّکُمُ اتَّفَقْتُمْ عَلٰی کَذَا وَکَذَا، قَالَ: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَااَرَدْنَا اِلاَّ الْخَیْرَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّیْ لَمْ اُوْمَرْ بِذٰلِکَ ثُمَّ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ: اِنَّ لِاَنْفُسِکُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا فَصُوْمُوْا، وَاَفْطِرُوْا، وَقُوْمُوْا، وَنَامُوْا، فَاِنِّیْ اَقُوْمُ وَاَنَامُ وَاَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاٰکُلُ اللَّحْمَ وَالدَّسْمَ، وَاٰتِی النِّسَآئَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ، ثُمَّ جَمَعَ النَّاسَ وَخَطَبَھُمْ، فَقَالَ: مَابَالُ اَقْوَامٍ حَرَّمُوْا النِّسَآئَ، وَالطَّعَامَ، وَالطِّیْبَ، وَالنَّوْمَ، وَشَھْوَاتِ الدُّنْیَا، اَمَّا اِنِّیْ لَسْتُ آمُرُکُمْ اَنْ تَکُوْنُوْا قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَانًا، فَاِنَّہٗ لَیْسَ فِیْ دِیْنِیْ تَرْکُ اللّحْمِ وَالنِّسَآئِ، وَلاَ اِتِّخَاذُ الصَّوَامِعِ، وَاِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الصَّوْمُ، وَرَھْبَانِیَّتَھُمُ الْجِھَادُ، اُعْبُدُوا اللّٰہَ تَعَالٰی وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا، وَحَجُّوْا، وَاعْتَمِرُوْا، وَاَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ، وَصُوْمُوْا رَمَضَانَ، وَاسْتَقِیْمُوْا یَسْتَقِمْ لَکُمْ، فَاِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ قَبْلَکُمْ بِالتَّشْدِیْدِ شَدَّدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ فَشَدَّدَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ فَاُولٰٓئِکَ بَقَایَاھُمْ فِی الدِّیَارِ وَالصَّوَامِعِ۔(۸)
(۲)حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُ بْنُ اَبِیْ حُمَیْدِ نِالطَّوِیْلُ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ: جَآئَ ثَلاَثَۃُ رَھْطٍ اِلٰی بُیُوْتِ النَّبِیِّ ﷺ فَلَمَّا اُخْبِرُوْا، کَاَنَّھُمْ تَقَالُّوْھَا، فَقَالُوْا: وَاَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ قَدْ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ اَحَدُھُمْ: اَمَّا اَنَا فَاِنِّی اُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَدًا، وَقَالَ اٰخَرُ: اَنَااَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلاَاُفْطِرُ، وَقَالَ اٰخَرُ: وَاَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَآئَ فَلاَ اَتَزَوَّجُ اَبَدًا۔ فَجَآئَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ : اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا؟اَمَا وَاللّٰہِ! اِنِّی لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہُ، لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ، وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ، وَاَرْقُدُ، وَاَتَزَوَّجُ النِّسَآئَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔(۹)
مسلم نے حضرت اَنس سے مروی روایت کے الفاظ مندرجہ ذیل نقل کیے ہیں:
(۳) عَنْ اَنَسٍ اَنَّ نَفَرًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺَ سَاَلُوْا اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ﷺَ عَنْ عَمْلِہِ فِی السِّرِّ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ:لَااَتَزَوَّجُ النِّسَآئَ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: لاَاٰکُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: لَااَنَامُ عَلٰی فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ فَقَالَ : مَابَالُ اَقْوَامٍ قَالُوْا کَذَا وَکَذَا؟ لٰکِنِّیْ اُصَلِّیْ، وَاَنَامُ، وَاَصُوْمُ، وَاُفْطِرُ، وَاَتَزَوَّجُ النِّسَآئَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ، فَلَیْسَ مِنِیّ۔(۱۰)
تشریح : یہاں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ خود حلال وحرام کے مختار نہ بن جاؤ۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کروگے توقانون الٰہی کے بجائے قانون نفس کے پیرو قرار پاؤگے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں، ہندو جوگیوں، بدھ مذہب کے بھکشوؤں اور اشراقی متصوفین کی طرح رہبانیت اور قطع لذات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتارہاہے کہ نفس وجسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ روحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں، اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میںڈالنا، اپنے نفس کو دنیوی لذتوں سے محروم کرنا اور دنیا کے سامان زیست سے تعلق توڑنا بجائے خود ایک نیکی ہے اور خدا کا تقرب اس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کے اندر یہ ذہنیت پائی جاتی تھی۔
اسی سلسلے میں بعض روایات سے یہاں تک معلوم ہوتاہے کہ ایک صحابی کے متعلق نبی ﷺ نے سنا کہ وہ ایک مدت سے اپنی بیوی کے پاس نہیں گئے ہیںاور شب وروز عبادت میں مشغول رہتے ہیںتو آپ نے بلاکر ان کو حکم دیا کہ ابھی اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں،آپؐ نے فرمایا روزہ توڑدو اور جاؤ۔حضرت عمر ؓکے زمانہ میں ایک خاتون نے شکایت پیش کی کہ میرے شوہر دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں اور مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ حضرت عمرؓ نے مشہور تابعی بزرگ، کعب بن سور الازدی کو ان کے مقدمہ کی سماعت کے لیے مقرر کیا اور انہوں نے فیصلہ دیا کہ اس خاتون کے شوہر کو تین راتوں کے لیے اختیار ہے کہ جتنی چاہیں عبادت کریں مگر چوتھی رات لازمًا ان کی بیوی کا حق ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۱، المائدہ، حاشیہ:۱۰۴)
ہرانسان پر اس کے نفس کا حق
۵۔ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقٌّ۔
’’تیرے اوپر خود تیرے اپنے بھی حقوق ہیں۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوالْعُمَیْسِ عَنْ عَوْنِ بْنِ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اٰخَی النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَ سَلْمَانَ وَاَبِی الدَّرْدَائِ، فَزَارَ سَلْمَانُ اَبَا الدَّرْدَائِ، فَرَاٰی اُمَّ الدَّرْدَآئِ مُتَبَذِّلَۃً، فَقَالَ لَھَا: مَاشَانُکِ؟ قَالَتْ: اَخُوْکَ اَبُوالدَّرْدَآئِ لَیْسَ لَہٗ حَاجَۃٌ فِی الدُّنْیَا فَجَآئَ اَبُوالدَّرْدَائِ، فَصَنَعَ لَہٗ طَعَامًا، فَقَالَ: کُلْ، فَاِنِّیْ صَائِمٌ، قَالَ: مَا اَنَا بِاٰکِلٍ حَتّٰی تَاْکُلَ، فَاَکَلَ، فَلَمَّا کَانَ اللَّیْلُ ذَھَبَ اَبُوالدَّرْدَآئِ یَقُوْمُ، فَقَالَ: نَمْ، فَنَامَ، ثُمَّ ذَھَبَ یَقُوْمُ، فَقَالَ: نَمْ، فَلَمَّا کَانَ مِنْ اٰخِرِ اللَّیْلِ، قَالَ سَلْمَانُ قُمِ الاٰنَ، فَصَلَّیَا، فَقَالَ لَہٗ سَلْمَانُ، اِنَّ لِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَلِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَلِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، فَاَعْطِ کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہٗ، فَاَتَی النَّبِیَّ ﷺَ فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہٗ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺَ صَدَقَ سَلْمَانُ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت ابوجحیفہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء کے مابین مواخاۃ کرائی(ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا) ایک روز سلمان ابوالدرداء سے ملاقات کے لیے گئے تو ام الدرداء کو دیکھا کہ وہ پرانے بوسیدہ لباس پہنے ہوئے خستہ حال بیٹھی ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا حال ہے تمہارا؟ (ایسی حالت کیوں ہے) انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء کو تو دنیا سے کوئی دلچسپی ولگاؤ ہی نہیں۔ اتنے میں ابوالدرداء بھی آگئے۔ انہوں نے مہمان بھائی کے لیے کھانا تیار کیا اور ان سے کہا کہ آپ کھائیں، میں تو روزے سے ہوں۔ سلمان نے کہا کہ جب تک تم نہیں کھاؤگے میں بھی نہیں کھاؤں گا،چنانچہ انہوں نے کھانا کھالیا۔ جب رات ہوئی تو ابوالدرداء نفل ادا کرنے کھڑے ہوگئے، سلمان نے انہیں کہاکہ ابھی سوجاؤ، تو وہ سوگئے۔ کچھ دیر بعد پھر نوافل پڑھنے کھڑے ہوئے تو پھرسلمان نے کہا کہ ابھی سوجاؤ۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو سلمان نے ابوالدرداء سے کہا کہ اب اٹھ کھڑے ہو، چنانچہ دونوں نے نوافل ادا کیے۔ پھر سلمان نے ابوالدرداء سے مخاطب ہوکر کہا کہ تم پرتمہارے رب کا حق ہے اور تمہاری جان کابھی تم پر حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ ابوالدرداء نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیش آمدہ واقعہ سنایا، آپ نے فرمایا سلمان نے سچ کہاہے۔
تشریح : اسلامی شریعت چونکہ انسان کی فلاح وبہبود چاہتی ہے، اس لیے وہ اس کو خبردار کرتی ہے کہ تیرے اوپر خود تیرے اپنے بھی حقوق ہیں۔ وہ ان تمام چیزوں سے اس کو روکتی ہے جو اس کو نقصان پہنچانے والی ہیں مثلاً شراب، تاڑی، افیون اور دوسری نشہ آور چیزیں، سؤر کا گوشت، درندے اور زہریلے جانور، ناپاک حیوانات، خون اور مردار جانور وغیرہ، کیونکہ انسان کی صحت اور اخلاق اور عقلی وروحانی قوتوں پر ان چیزوں کا بہت برا اثرہوتاہے۔ ان کے مقابلہ میں وہ پاک اور مفید چیزوں کو اس کے لیے حلال کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تو اپنے جسم کو پاک غذاؤں سے محروم نہ کر کیوں کہ تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے۔ وہ اس کو ننگارہنے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ خدا نے تیرے جسم کے لیے جو زینت لباس اتاری ہے اس سے فائدہ اٹھا،اور اپنے جسم کے ان حصوں کو ڈھانک رکھ جنہیں کھولنا بے شرمی ہے۔
وہ اس کو روزی کمانے کا حکم دیتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ بیکار نہ بیٹھ، بھیک نہ مانگ، بھوکا نہ مر۔ خدا نے جو قوتیں تجھے دی ہیں ان سے کام لے اور جس قدر ذرائع زمین وآسمان میں تیری پرورش اور آسایش کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، ان کو جائز طریقوں سے حاصل کر۔
وہ اس کو نفسانی خواہشات کے دبانے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نکاح کر۔ وہ اس کو نفس کشی سے منع کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تو آرام وآسایش اور زندگی کے لطف کو اپنے اوپر حرام نہ کرلے۔ اگر تو روحانی ترقی اور خدا سے قربت اور آخرت کی نجات چاہتاہے تو اس کے لیے دنیا چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسی دنیا میں پوری اور پکی دینداری کرتے ہوئے خدا کو یاد کرنا اور اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور اس کے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرنا دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔
وہ خود کشی کو حرام کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تیری جان دراصل خدا کی ملکیت ہے اور یہ امانت تجھے اس لیے دی گئی ہے کہ تو خدا کی مقرر کی ہوئی مدت تک اس سے کام لے، نہ اس لیے کہ اس کو ضائع کردے۔ (دینیات،باب ہفتم: نفس۔۔۔)
وہ تین آدمی جن کی مدد اللہ کے ذمہ ہے
۶۔ ثَلٰثَۃٌ حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ عَوْنُھُمْ، اَلنَّاکِحُ یُرِیْدُ الْعَفَافَ، وَالْمُکَاتِبُ یُرِیْدُ الْاَدَائَ، وَالْغَازِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ،
’’حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا، تین آدمی ہیں جن کی مدد اللہ کے ذمے ہے۔ ایک وہ شخص جو پاکدامن رہنے کے لیے نکاح کرے، دوسرے وہ مکاتب جو مال کتابت ادا کرنے کی نیت رکھے، تیسرے وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے۔ ‘‘ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، احمد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، ثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِیْدِ نِالْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ ﷺَ: ثَلاَثَۃٌ، حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ عَوْنُھُمْ، الْمُجَاھِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُکَاتِبُ الَّذِی یُرِیْدُ الْاَدَائَ، وَالنَّاکِحُ الَّذِیْ یُرِیْدُ الْعَفَافَ۔(۱۲) (ھذا حدیث حسن)
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوْطَاھِرِ نِالْفَقِیْہُ، اَنْبَأَ عَلِیُّ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُوْرِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارِہٍ، حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ الوَازِعِ، حَدَّثَنِیْ جَدِّی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ الْوَازِعِ عَنْ اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَال، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:ثَلاَثٌ مَنْ فَعَلَھُنَّ ثِقَۃً بِاللّٰہِ وَاحْتِسَابًا کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعِیْنَہٗ، وَاَنْ یُّبَارَکَ لَہٗ، مَنْ سَعٰی فِیْ فِکَاکِ رَقَبَتِہِ ثِقَۃً بِاللّٰہِ وَاحْتِسَابًا،کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعِیْنَہٗ، وَاَنْ یُّبَارَکَ لَہٗ، وَمَنْ تَزَوَّجَ ثِقَۃً بِاللّٰہِ وَاحْتِسَابًا، کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعِیْنَہٗ، وَاَنْ یُّبَارَکَ لَہٗ، وَمَنْ اَحْیَا اَرْضًا مَیْتَۃً ثِقَۃً بِاللّٰہِ وَاحْتِسَابًا، کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعِیْنَہٗ وَاَنْ یُّبَارَکَ لَہٗ۔(۱۳)
دنیا وآخرت کی ساری بھلائی ــــــنیک وفرمانبردار بیوی
۷۔ اَرْبَعٌ مَنْ اُعْطِیَھُنَّ فَقَدْ اُعْطِیَ خَیْرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ قَلْبًا شَاکِرًا وَّلِسَانًا ذَاکِراً وَّبَدْنًا عَلَی الْبِلاَئِ صَابِرًا وَزَوْجَۃً لاَ تَبْغِیْہِ خَوْنًا فِیْ نَفْسِھَا وَمَالِہٖ۔ ( الطبرانی فی الکبیر والاوسط)
’’چارچیزیں ہیں کہ جس کو وہ دی گئیں اسے دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی دے دی گئی۔ ایک وہ دل کہ خدا جوکچھ دے اس پر وہ شکر ادا کرے۔ دوسرے وہ زبان جو خدا کا ذکر کرنے والی ہو۔ تیسرے وہ بدن جو مصیبتوں کے مقابلے میں ٹھہرنے کی قوت رکھتاہو۔ چوتھے وہ بیوی جو شوہر کے مال اور اپنی عصمت میں کسی خیانت کی طرف مائل نہ ہو۔ ‘‘ (الطبرانی)
تخریج : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺَ قَالَ: اَرْبَعٌ مَنْ اُعْطِیَھُنَّ فَقَدْ اُعْطِیَ خَیْرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، قَلْبًا شَاکِرًا وَلِسَانًا ذَاکِرًا، وَبَدَنًا عَلَی البَلاَئِ صَابِرًا، وَزَوْجَۃً لاَتَبْغِیْہِ خَوْنًا فِیْ نَفْسِھَا وَلاَمَالِہِ۔(۱۴)
۸۔ مَنْ اَرَادَ اَنْ یَّلْقَی اللّٰہَ طَاھِراً مُطَھَّرًا فَلْیَتَزَوَّجِ الْحَرَائِرَ۔
’’جو کوئی اللہ سے پاک صاف ملنا چاہتاہو اسے شریف عورتوں سے شادی کرنی چاہیے۔‘‘ (ابن ماجہ)
تخریج : حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سَوَّارٍ، ثَنَا کَثِیْرُ بْنُ سَلِیْمٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ اَرَادَ اَنْ یَلْقَی اللّٰہَ طَاھِرًا مُطَھِّراً فَلْیَتَزَوَّجِ الْحَرَائِرَ۔(۱۵)
۹۔ لاَ تَزوَّجُوْا النِّسَائَ لِحُسْنِھِنَّ فَعَسٰی حُسْنُھُنَّ اَنْ یُّرْدِیَھُنَّ وَلاَ تَزَوَّجُوْھُنَّ لِاَمْوَالِھِنَّ فَعَسیٰ اَمْوَالُھُنَّ اَنْ تُطْغِیَھُنَّ وَٰلکِنْ تَزَوَّجُوْھُنَّ عَلَی الدِّیْنِ۔ فَلاَمَۃٌ خَرْقَائُ سَوْدَائُ ذَاتُ دِیْنٍ اَفْضَلُ۔ (ابن ماجہ)
’’عورتوں سے ان کے حسن کی خاطر شادیاں نہ کرو۔ اور تم ان کے مال ودولت کی خاطر بھی شادیاں نہ کرو، ہوسکتاہے کہ ان کے اموال ان کو سرکش بنادیں، تم کو ان میں جو چیز دیکھنی چاہیے وہ دین ہے۔ ایک کالی کلوٹی کم عقل لونڈی بھی اگردیندار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ الْمُحَارِبِیُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْاِفْرِیْقِیِّ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:لاَتَزَوَّجُوا النِّسَآئَ لِحُسْنِھِنَّ، فَعَسٰی حُسْنُھُنَّ اَنْ یُرْدِیَھُنَّ، وَلاَتَزَوَّجُوْھُنَّ لِاَمْوَالِھِنَّ فَعَسٰی اَمْوَالُھُنَّ اَنْ تُطْغِیَھُنَّ، وَلٰکِنْ تَزَوَّجُوْھُنَّ عَلَی الدِّیْنِ۔فَلاَمَۃٌ خَرْقَائُ سَوْدَائُ، ذَاتُ دِیْنٍ اَفْضَلُ۔(۱۶)
تشریح : اسی قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام میں نکاح کی اہمیت صرف ایک تمدنی ضرورت کو پورا کرنے ہی کے لیے نہیں ہے، بلکہ سب سے بڑا مقصد تحصین نفس اور طہارتِ اخلاق اور تہذیبِ اسلامی کا فروغ اور خالص مسلمان نسلیں پیدا کرنا ہے۔ اور ان اغراض کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ مسلمان نکاح کریں۔ بلکہ یہ بھی ضرور ی ہے کہ ان کے نکاح ایسی عورتوں سے ہوں جو مسلمان ہوں، دین دار ہوں، شریف اور باعِصمت ہوں، کیوں کہ ایک صالح اسلامی سوسائٹی ایسے ہی مردوں اور عورتوں کے ازدواج سے وجودمیں آسکتی ہے، اور ایک صالح مسلمان نسل ایسی ہی ماؤں کے پیٹ سے پید ا ہوسکتی ہے۔ (تفہیمات دوم،نکاح کتابیہ: نکاح کے۔۔۔)
تجرّد کی حوصلہ شکنی اورکثرتِ تعداد کی ترغیب
۱۰۔ابویعلٰی نے اپنی مسند میںنقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ عکاّف بِن وداعۃ الہلالی سے پوچھا، کیا تمہاری شادی ہوچکی ہے؟ انہوں نے کہانہیں۔ آپ نے پوچھا، لونڈی بھی نہیں؟ انہوں نے کہا، نہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا تم تندرست اور خوشحال ہو؟ انہوں نے عرض کیا،ہاں!آپ نے فرمایا ’’تب تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو یا عیسائیوں میں سے۔ اگر تم ہماری جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہو، تو وہی کرو جو ہم کرتے ہیں اور ہمارے طریقوں میں سے ایک نکاح بھی ہے۔ تم میں بدترین لوگ وہ ہیں جو مجرّد رہتے ہیں اور تمہارے مرنے والوں میں بدترین وہ ہیں جو مجرّد مرتے ہیں۔ ‘‘
تخریج : عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ بِشْرِ الْمَازِنِیِّ، قَالَ جَآئَ عَکَّافُ بْنُ وَدَاعَۃَ الْھِلاَلِیُّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺَ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَا عَکَّافُ! أَلَکَ زَوْجَۃٌ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ:وَلاَجَارِیَۃٌ؟ قَالَ لاَ، قَالَ : وَاَنْتَ صَحِیْحٌ مُوْسِرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ قَالَ: فَاَنْتَ اِذَنْ مِنْ اِخْوَانِ الشَّیَاطِیْنِ، اِمَّا اَنْ تَکُوْنَ مِنْ رَھْبَانِ النَّصَارٰی، فَاَنْتَ مِنْھُمْ وَاِمَّا اَنْ تَکُوْنَ مِنَّا، فَاصْنَعْ کَمَا نَصْنَعُ، فَاِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّکَاحَ، شِرَارُکُمْ عُزَّابُکُمْ وَاَرَاذِلُ اَمْوَاتِکُمْ عُزَّابُکُمْ الخ۔ (۱۷)
۱۱۔ تَنَاکَحُوْا تَنَاسَلُوْا اُباھِی بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
’’نکاح کرو، نسلیں بڑھاؤ، اپنی تعداد میں اضافہ کرو، کیونکہ میں قیامت کے روز تمام امتوں کے مقابلے میں تمہاری تعداد زیادہ دیکھنا چاہتاہوں۔‘‘
تخریج :(۱) تَنَاکَحُوْا تَنَاسَلُوْا اُباھِی بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(۱۸)
فی قولہ علیہ السّلام:
(۲) تَنَاکَحُوْا تَنَاسَلُوْا فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ۔(۱۹)
(۳) عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: اُخْبِرْتُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ہِلَالٍ، اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ: تَنَاکَحُوْا،تَکْثُرُوْا، فَاِنِّیْ اُبَاھِیْ بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الخ۔ (۲۰)
ترجمہ :حضرت سعید بن ابی ہلال سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: نکاح کرو، اپنی تعداد میں اضافہ کرو، اس لیے کہ میں قیامت کے روز دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری تعداد کی کثرت پر فخر کروں گا۔
(۴) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: تَزَوَّجُوْا، تَنَاسَلُوْا، فَاِنِّیْ مُبَاہٌ بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(۲۱)
ترجمہ : رسول اللہﷺ نے فرمایا: شادیاں کرو، نسلیں بڑھاؤ کیوں کہ میں قیامت کے روز دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرتِ تعداد پر فخر کروں گا (کہ میری امت کی تعداد زیادہ ہے)۔
(۵) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا یَزِیْدُ ابْنُ قَارُوْنَ، اَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اُخْتِ مَنْصُوْرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، یَعْنِی ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنِّیْ اَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَاِنَّھَا لاَتَلِدُ، أَفَأَ تَزَوَّجُھَا؟ قَالَ:لاَ۔ثُمَّ اَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَھَاہُ، ثُمَّ اَتَاۃُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ، فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ۔(۲۲)
ترجمہ : حضرت معقل بن یسار سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری ایک خوبصورت اچھے خاندان کی عورت تک رسائی ہوئی ہے، مگر وہ بانجھ ہے کیا میں اس سے شادی کرلوں؟آپ نے فرمایا نہیں، وہ شخص دوبارہ پھر حاضر ہوا اور وہی مدعا پیش کیاآپ نے اسے منع کردیا۔ پھر تیسری مرتبہ وہی شخص حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا بہت محبت کرنے، زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے شادیاں کرو، کیونکہ میں دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرتِ تعداد دیکھنا چاہتاہوں۔
نکاح سے پہلے عورت کودیکھنے کا مسئلہ
۱۲۔ اِذَا خَطَبَ اَحَدُکُمُ الْمَرْأۃَ فَاِ نِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی مَا یَدْعُوْہُ اِلٰی نِکَاحِھَا فَلْیَفْعَلْ۔
’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو اس کو اس عورت سے نکاح کی رغبت دلانے والی ہو۔‘‘ (مسند احمد)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُسْدَّدٌ، ثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ دَاؤدَ بْنِ حُصَیْنٍ، عَنْ وَاقِدِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ۔ یعنی ابْنَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَاخَطَبَ اَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ فَاِنْ اسْتَطَاعَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی مَایَدْعُوْہُ اِلٰی نِکَاحِھَا فَلْیَفْعَلْ (قَالَ) فَخَطَبْتُ جَارِیَۃً فَکُنْتُ اَتَخَبَّأُ لَھَا، حَتّٰی رَأَیْتُ مِنْھَا مَا دَعَانِیْ اِلٰی نِکَاحِھَا (وَتَزَوُّجِھَا) فَتَزَوَّجْتُھَا۔(۲۳)
ترجمہ : حضرت جابربن عبد اللہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو اس کو اس عورت سے نکاح کی رغبت دلانے والی ہو۔ (حضرت جابر بن عبد اللہ کا کہنا ہے کہ) میںنے ایک عورت کونکاح کا پیغام دیا تو میں چھپ چھپ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتارہا تا آنکہ میں نے اس کی وہ چیز دیکھ ہی لی جو مجھے اس سے نکاح کی رغبت دلانے والی تھی، چناں چہ پھر میں نے اس سے نکاح کرلیا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوْکَامِلٍ، ثَنَا زُھَیْرٌ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عِیْسٰی، حَدَّثَنِیْ مُوسٰی ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْ حُمَیْدٍ اَوْ اَبِیْ حُمَیْدَۃَ، قَالَ: وَقَدْ رَأی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِذَا خَطَبَ اَحَدُکُمْ امْرَأَۃً فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَنْظُرَ اِلَیْھَا اِذَا کَانَ اِنَّمَا یَنْظُرُ اِلَیْھَا لِخِطْبَتِہِ وَاِنْ کَانَتْ لاَتَعْلَمُ۔(۲۴)
ـــــــ ان زھیرا شک۔ فقال عن ابی حمید او ابی حمیدۃ والبزار من غیرشک۔ والطبرانی فی الاوسط والکبیر، رجال احمد رجال الصحیح۔
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو پیغام نکاح دے تو اسے ایک نظر دیکھنے میں کوئی حرج کی بات نہیں، بشرطیکہ صرف پیغام نکاح دینے کی صورت میں ایسا کیا جائے، خواہ اس عورت کو اس کا علم نہ ہو۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا زَیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَنَا الْحَجَّاجُ ابْنُ اَرْطَاۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سُلَیْمَانَ ابْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، عَنْ سَھْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، قَالَ: رَأیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ یُطَارِدُ امْرَأَۃً بِبَصَرِہِ فَقُلْتُ : تَنْظُرُ اِلَیْھَا وَاَنْتَ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ فَقَالَ:اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِذَا اَلْقَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ قَلْبِ امْرِیٍٔ خِطْبَۃً لاِمْرَأَۃٍ فَلاَ بَأسَ اَنْ یَنْظُرَ اِلَیْھَا۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن مسلمہؓ کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کا اپنی نظروں سے پیچھا کررہے ہیں(بغور دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں) میں نے کہا (اجنبی) عورت کی طرف تاک رہے ہو حالانکہ تم تو صحابی رسول ﷺ ہو۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے فرمارہے تھے، جب اللہ تعالی کسی مرد کے دل میں کسی عورت کے لیے پیغام نکاح کا خیال ڈال دے تو اسے دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
تشریح : مسلمانوں کے درمیان شریعت یہ چاہتی ہے کہ ازدواجی تعلق ایسے مردو عورت کے درمیان قائم ہو جن کے درمیان غالب حال کے لحاظ سے مودّت ورحمت کی توقع ہو اور جہاں یہ توقع نہ ہو وہاں رشتہ کرنا مکروہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے نکاح سے پہلے عورت کو دیکھ لینے کا حکم(یا کم از کم مشورہ) دیاہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ شریعت نکاح کے معاملہ میں کفاء ت (ہمسری) کو ملحوظ رکھنا پسند کرتی ہے اور غیر کفو میں نکاح کو مناسب نہیں سمجھتی۔ (حقوق الزوجین، قانون۔۔۔مقاصد:مسئلہ کفاء ت)
بدخلق بیوی
۱۳۔حدیث میں آتاہے کہ تین قسم کے آدمی ایسے ہیںجو اللہ سے فریاد کرتے ہیں مگر ا ن کی فریاد سنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخُلق ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کردے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا مال قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذِ نِالْعَدْلُ، ثَنَا اَبـُوا الْمُثَنّٰی مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ نِالْعَنْبَرِیُّ، ثَنَا اَبِیْ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِؓ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ قَالَ:ثَلاَثَۃٌ یَدْعُوْنَ اللّٰہَ فَلاَیُسْتَجَابُ لَھُمْ، رَجُلٌ کَانَتْ تَحْتَہُ امْرَأَۃٌ سَیِّئَۃَ الْخُلُقِ، فَلَمْ یُطَلِّقْھَا وَرَجُلٌ کَانَ لَہٗ عَلٰی رَجُلٍ مَالٌ فَلَمْ یَشْھَدْ عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ آتٰی سَفِیْھًا مَالَہٗ وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمْ۔(۲۶)
ـــــــ ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ لتوقیف اصحاب شعبۃ ھذا الحدیث علی ابی موسیٰ انما اجمعوا علی سند حدیث شعبۃ بھذا الاسناد، ثلاثۃ یوتون اجرھم مرتین وقد اتفقا جمیعا علی اخراجہ۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: ثَلاَثَۃٌ یَدْعُوْنَ اللّٰہَ، فَلاَیَسْتَجِیْبُ لَھُمْ، رَجُلٌ کَانَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ سَیّئَۃَ الخُلُقِ، فَلَمْ یُطَلِّقْھَا، وَرَجُلٌ اَعْطٰی مَالَہٗ سَفِیْھًا وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ ’’وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمْ‘‘ وَرَجُلٌ کَانَ لَہٗ عَلٰی رَجُلٍ دَیْنٌ۔ فَلَمْ یَشْھَدْ عَلَیْہِ۔(۲۷)
تشریح : عموماً دوستوں اور عزیزوں کے درمیان قرض کے معاملات میں دستاویز لکھنے اور گواہیاں لینے کو معیوب اور بے اعتمادی کی دلیل خیال کیا جاتاہے۔ لیکن اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قراردادوں کو تحریر میں لانا چاہیے اور اس پر شہادت ثبت کرالینی چاہیے تاکہ لوگوں کے درمیان معاملات صاف رہیں۔ (تفہیم القرآن ،اول، البقرہ، حاشیہ: ۳۲۶)
ازدواجی تعلقات کے بگاڑ پر ابلیس کا اظہارِ مسرت
۱۴۔حضورﷺ نے فرمایا کہ ابلیس اپنے مرکز سے زمین کے ہرگوشے میں اپنے ایجنٹ روانہ کرتاہے۔ پھر وہ ایجنٹ واپس آکر اپنی اپنی کارروائیاں سناتے ہیں۔ کوئی کہتاہے میں نے فلاں فتنہ برپا کیا، کوئی کہتاہے میں نے فلاں شر کھڑا کیا۔ مگر ابلیس ہر ایک سے کہتاجاتاہے کہ تو نے کچھ نہ کیا۔ پھر ایک آتاہے اور اطلاع دیتاہے کہ میں ایک عورت اور ا س کے شوہر میں جدائی ڈال آیا ہوں۔ یہ سن کر ابلیس اس کو گلے لگالیتاہے اور کہتاہے کہ تو کام کرکے آیاہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ (قَالَ اِسْحَاقُ: اَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا) جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّ عَرْشَ اِبْلِیْسَ عَلَی الْبَحْرِ، فَیَبْعَثُ سَرَایَاہُ فَیَفْتِنُوْنَ النَّاسَ، فَاَعْظَمُھُمْ عِنْدَہٗ اَعْظَمُھُمْ فِتْنَۃً۔
ترجمہ: حضرت جابر سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ابلیس اپنا تخت سمندر کے پانی پر بچھاتاہے اور اپنے لشکر روانہ کرتاہے وہ لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہیں۔ اس کے نزدیک سب سے بڑا صاحب عظمت وہ ہوتاہے جس نے سب سے بڑا فتنہ برپا کیا ہوتا ہے۔
انہی سے مروی دوسری روایت میں منقول ہے:
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلآئِ وَاِسْحٰقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ (وَاللَّفْظُ لِاِبْنِ کُرَیْبٍ) قَالاَ: اَخْبَرَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اِبْلِیْسَ یَضَعُ عَرْشَہٗ عَلَی الْمَآئِ، ثُمَّ یَبْعَثُ سَرَایَاہُ فَاَدْنَاھُمْ مِنْہُ مَنْزِلَۃً اَعْظَمُھُمْ فِتْنَۃً، یَجِیئُ اَحَدُھُمْ، فَیَقُوْلُ : فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا، فَیَقُوْلُ: مَا صَنَعْتَ شَیْئًا قَالَ: ثُمَّ یَجِیئُ اَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ: مَاتَرَکْتُہٗ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ، قَالَ: فَیُدْنِیْہِ مِنْہُ، وَیَقُوْلُ: نِعْمَ اَنْتَ! قَالَ الْاَعْمَشُ: اُرَاہُ قَالَ : فَیَلْتَزِمُہٗ:(۲۸)
ترجمہ : حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتاہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتاہے۔ ان میں سے ابلیس کے نزدیک سب سے زیادہ منزلت ومرتبہ کے اعتبار سے وہ قریب ہوتا جس نے سب سے بڑا فتنہ برپا کیا ہوتا ہے۔ ان میں سے ہرایک آکر اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتاہے اور بیان کرتاہے کہ میں نے فلاں کام کیا، فلاں کام انجام دیا، ابلیس رپورٹ سن کر تبصرہ کرتاہے تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ایک اور آتاہے اور اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہتاہے کہ میں نے جب تک میاں بیوی میں جدائی نہیں ڈال دی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا، اسے ابلیس اپنے قریب کرتاہے اور کہتاہے تو کام کرکے آیاہے۔ اعمش نے کہا، میرا خیال ہے کہ ابلیس اسے اپنے گلے لگاتاہے۔
(۳) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَرْشُ ابْلِیْسَ عَلَی الْبَحْرِ ثُمَّ یَبْعَثُ سَرَایَاہُ فَیَفْتِنُوْنَ فَاَعْظَمُھُمْ عِنْدَہٗ فِتْنَۃً۔(۲۹)
تشریح : ازدواجی تعلق درحقیقت انسانی تمدن کی جڑ ہے۔ عورت اور مرد کے تعلق کی درستی پرپورے انسانی تمدن کی درستی کا اور ا س کی خرابی پرپورے انسانی تمدن کی خرابی کا مدار ہے، لہٰذا وہ شخص بدترین مفسد ہے، جو اس درخت کی جڑپر تیشہ چلاتاہو جس کے قیام پر خود اس کا اور پوری سوسائٹی کا قیام منحصر ہے۔
اس حدیث پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی آزمایش کو جوفرشتے بھیجے گئے تھے انہیں کیوں حکم دیا گیا کہ عورت اور مرد کے درمیان جدائی ڈالنے کا ’’عمل‘‘ ان کے سامنے پیش کریں۔ دراصل یہی ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے ان کے اخلاقی زوال کو ٹھیک ٹھیک ناپا جاسکتاتھا۔ (تفہیم القرآن، ج۱، البقرہ، حاشیہ: ۱۰۶)
ماخذ
(۱) ابن ماجہ ج۱کتاب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح٭بخاریج۲کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح ٭مسلم کتاب النکاح باب استحباب النکاح٭نسائی کتاب النکاح، باب النھی عن التبتل٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷میںکتاب النکاح کے تحت لمبی حدیث کے آخر میںفمن رغب عن سنتی فلیس منینقل کیاہے٭ بخاری مسلم اور نسائی میںالنکاح من سنتی نہیں ہے۔ مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۵۲۔
(۲) المُصنَّف لعبدالرزاق ج۶ص۱۶۹۔
(۳) المصنف لعبدالرزاق ج۶ کتاب النکاح باب وجوب النکاح وفضلہ۔
(۴) ترمذی ج۱ ابواب النکاح۔٭ نَسائی ج۴۔کتاب الصیام باب ذکر الاختلاف علی محمد بن ابی یعقوب فی حدیث ابی امامۃ فی فضل الصائم۔
(۵) سنن نَسائی ج۶کتاب النکاح باب الحث علی النکاح٭ابن ماجہ کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح ٭ابن ماجہ نے فلینکحروایت کیاہے٭ مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۵۲عن انس٭المصنف لعبدالرزاق ج۶کتاب النکاح باب وجوب النکاح وفضلہ٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۵۵۹۳ عن علقمۃ٭مسند احمد ج۱ ص۵۸ عن عثمان بن عفان۔
(۶) بخاری کتاب النکاح ج۲باب من لم یستطع الباء ۃ فلیصماورج۱کتاب الصوم باب الصوم لمن خاف علی نفسہ العزوبۃ٭ مسلم کتاب النکاح ج۱باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ الخ٭ ابوداؤدج۲کتاب النکاح باب التحریض علی النکاح٭ ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح٭نَسائی ج۴کتاب الصیام ٭ترمذی ج۱ ابواب النکاح عبداللّٰہ بن مسعود٭ ابنِ کثیر ج۳ عن ابی ھریرۃ٭دارمی کتاب النکاح باب ۲من کان عندہ طول فلیتزوج٭مسند احمد ج۱۔ص۳۷۸۔ ۴۲۴۔ ۴۲۵۔ ۴۳۲۔۴۴۷٭کنزالعمال ج۱۶ ص۲۷۲ عن ابن مسعود٭ بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی اور دارمی وغیرہ کی روایت میں کوئی لفظی اختلاف بھی نہیں البتہ ترمذی وغیرہ نے ونحن شَبَابٌ لانقدر علی شیء اورآخر میں فانہ کے بجائے فان الصوم لہ وجاء نقل کیا ہے۔ نَسائی اور دارمی نے دونوں قسم کی روایات نقل کی ہیں٭ ابوداؤد الطِیَالسی ج۱ص۳۶٭ الطیالسی نے صرف مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ وَاِلاَّ فَلْیَصُمْ فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہٗ وِجَآئٌنقل کیا ہے٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷باب الرغبۃ فی النکاح عن عبداللّٰہ بن مسعود٭ بیھقینے اپنی سننِ کبریٰمیں بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی وغیرہ والی روایات نقل کی ہیں٭ المُصَنَّفُ لعبدالرزاق ج۶ص۱۶۹ پرابن مسعود سے بخاری، مسلم والی روایت ہے٭نسائی نے کتاب الصیاممیں، دارمی نے کتاب النکاحمیں اور مسند احمد نے ج۱ص۵۸پر مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْبھی نقل کیاہے٭ ابنِ ابی شَیْبَہ ج۲۔۴ کتاب النکاح باب فی التزویج من کان یأمر بہ ویحث علیہ٭ کنزالعمال ج۱۶۔ص۴۸۸ پر عثمان کے حوالہ سے یَامَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَنْکِحْ، وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطعْ فَلْیَصُمْ، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَآئٌ (البغوی فی مسند عثمان) انہی سے مروی ایک دوسری روایت میںمَنْ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍہے۔٭ابن النجار نے حضرت ابوہریرہ سے مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ اَوْلِیَنْکِحْروایت کیاہے٭کنزالعمال ج۱۶ص۴۹۰٭مجمع الزوائدج۴ ص۲۵۲عن انس،الفاظ قدرے مختلف ہیں٭ طبرانی اوسط بزار بحوالہ الزوائد ج۴ص۲۵۲۔
(۷) بخاری ج۲کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح٭مسلم ج۱کتاب النکاح باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ الخ٭ نسائی ج۶ کتاب النکاح باب النھی عن التبتل٭سنن دارمی، کتاب النکاح، باب ۳ النھی عن التبتل مسند احمد ج۲۔ص۱۵۸۔ج۳۔ ص۲۴۱۔۲۵۹۔۲۸۵۔ج۵۔ص۴۰۹٭ السنن الکبریٰ للبَیْھَقی ج۷ کتاب النکاح جماع ابواب الترغیب فی النکاح وغیر ذلک باب الرغبۃ فی النکاح۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب النکاح، باب وجوب النکاح وفضلہ۔ عن سعید بن المسیب۔مصنف عبدالرزاق میں حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓوکا نام بھی بیان کیاہے کہ یہ دونوں اس گروہ میں شریک تھے۔
(۸) تفسیر روح المعانی ج۳پ۷سورۃ المائدہ۔
(۹) بخاری ج۲،کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح۔
(۱۰) مسلم ج۱کتاب النکاح عن انس٭ نسائی ج۶کتاب النکاح باب النھی عن التبتل عن انس٭ السنن الکبریٰ للبَیْھَقی ج۷ کتاب النکاح باب جماع ابواب الترغیب فی النکاح وغیر ذالک کے تحت باب الرغبۃ فی النکاح۔
(۱۱) بخاری ج۲،کتاب الادب، باب صنع الطعام والتکلف للضیف٭بخاری ج۱کتاب الصوم باب من اقسم علی اخیہ لیفطر فی التطوع ولم یَرَ علیہ قضائً اذا کان اوفق لہ٭بخاری ج۱میںعبداللہ بن عمرو کی روایت میں واِنَّ لِنَفْسکَ حَقًّااورکتاب التہجد میں وان لنفسک حقاًج۲کتاب النکاح کے ضمن میں فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حقًّا مروی ہے۔ ٭مسلم ج۱کتاب الصیام میں وَلِنَفْسِکَ حَقٌّ اوروَلِجَسَدِکَ عَلَیْک حَظًّا اور ص۳۶۶پر وَلِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا مذکور ہے٭ ابوداؤد ج۲کتاب الصلاۃ باب ما یؤمر بہ من القصد فی الصلاۃ میں عثمان بن مظعون سے آپؐ نے فرمایا وَاِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا٭ ترمذی ج۲ ابواب الزھدمیں بخاری کے کتاب الادب والی روایت منقول ہے۔ ھذا حدیث صحیح۔ نسائی ج۴ کتاب الصیام باب صوم یوم وافطار یوم کے تحت وَاِنَّ لِجَسَدٍ عَلَیْکَ حَقًّااور ص۲۱۵پر وَلِنَفْسِکَ حَظًّاکے الفاظ منقول ہیں٭سنن دارمی ج۲کتاب النکاح باب النھی عن التبتل کے تحت عثمان بن مظعونسے فرمایا۔ ولِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حقًّامنقول ہے٭مسند احمد ج۶۔ص۲۶۸پر عثمان بن مظعون والی روایت مذکور ہے٭سنن دارقطنی ج۲کتاب الصیام میں ابودرداء سے فرمایا یَا اَبَا الدَّرْدَآئِ اِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّامنقول ہے٭السنن الکبریٰ للبَیْھَقی ج۴کتاب الصیام باب من کرہ صوم الدھر واستحب القصد فی العبادۃ لمن یخاف الضعف علی نفسہ۔ عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص سے فرمایا فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّااورص۲۷۶پر بھی ابوالدرداء کو اِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا مروی ہے٭المصنف لعبدالرزاق ج۴۔کتاب الصیام باب صیام الدھرکے تحت عبداللہ بن عمرو سے فرمایا وَلِنَفْسِکَ حَظًّا۔
(۱۲) ترمذی ج۱۔ابواب فضائل الجھاد عن رسول اللّٰہ ﷺ باب ماجاء فی المجاھد والمکاتب والناکح وعون اللہ ایاھم٭ نسائی ج۶ کتاب النکاح باب معونۃ اللّٰہ الناکح الذی یرید العفاف۔ عن ابی ھریرۃ٭ ابنِ ماجہ کتاب العتق باب۳ المکاتب۔ ابن ماجہ نے الغازی فی سبیل اللہ اور العفاف کی جگہ التعفف نقل کیا ہے٭ مسند احمد ج۲۔ص۲۵۱۔۴۳۷۔عن ابی ھریرۃ٭ السنن الکبری ج۷۔ص۷۸ عن ابی ھریرۃ٭السنن الکبریٰ للبَیْھَقی ج۱۰کتاب المکاتب باب ماجاء فی تفسیر قولہ عزوجل، ان علمتم فیھم خیرا٭ احکام القرآن للجصّاص ج۳ص۳۲۰٭ ابنِ کثیر ج۳۔ص۲۸۷عن ابی ھریرۃ٭ فتح القدیر للشوکانی ج۴سورۂ نور عن ابی ھریرۃ ٭المستدرک ج۲۔ص۔۱۶۰ھذا حدیث صحیح علی شرط المسلم ولم یخرجہ۔٭ المستدرک ج۲کتاب المکاتب باب ثلاثۃ علی اللہ ان یعینھم٭روح المعانی جز ۱۸۔ص۔۱۳۴۔ عن ابی ھریرۃ٭المصنف لعبد الرزاق ابن حبان بحوالہ فتح القدیر ج۴۔ص۳۱۔
(۱۳) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۱۰کتاب المکاتب باب ماجاء فی تفسیر قولہ عزوجل، ان علمتم فیھم خیرا٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۵۸۔ بحوالہ الطبرانی الکبیر والاوسط۔
(۱۴) الطبرانی الکبیر والاوسط ورجال الاوسط رجال الصحیح٭مجمع الزوائد للھیثمی ج۴۔ص۲۷۳۔
(۱۵) ابن ماجہ کتاب النکاح باب تزویج الحرائر والولود٭ کنزالعمال ج۱۶۔ص۲۹۵۔
(۱۶) ابن ماجہ کتاب النکاح باب تزویج ذات الدین٭ کنزالعمال ج۱۶، حدیث نمبر ۴۴۶۰۷٭ اس حدیث کا آغاز لاتنکحوا النساء سے ہوا ہے اور کنز العمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۵۳۷میں متذکرہ بالاحدیث کا متن ہے۔
(۱۷) ابویعلٰی، الطبرانی بحوالہ مجمع الزوائد ج۴ص۲۵۰۔ وفیہ ابومعاویۃ بن یحیٰ الصَّدَفِی وھو ضعیف۔ یہ روایت الزوائد میں ابو ذر سے ج۴۔ص۲۵ پر بھی منقول ہے اس میں وانت موسر بخیر ہے٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔ ص۱۷۱۔ عن عکاف بن بشر تمیمی٭کنز العمال ج۱۶حدیث نمبر۴۵۶۰۹۔
(۱۸) رواہ عبدالرزاق والبیھقی عن سعید بن ابی ھلال مرسلا بلفظ۔ تَنَاکَحُوْا تَکْثُرُوْا فَاِنِّیْ اُباھِی بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ کشف الخفا للعجلونی ج۱ص۳۱۸۔
(۱۹) قُرطبی ج۵۔ص۳۹۱۔ تفسیر سورہ النساء فلیغیرن خلق اللّٰہ کے تحت فقولہ:ﷺ تَنَاکَحُوْا تَنَاسَلُوْ فَاِنِّیْ اُبَاھِیْ بُکْمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی بِالسَّقْطِ۔
لایعرف بھذا اللفظ۔ وفی المقاصد الحسنۃ للسخاوی: جاء معناہ عن جماعۃ من الصحابۃِ۔ فاخرج ابوداؤد والنسائی والبیھقی وغیرھم عن معقل بن یسار مرفوعا تزوجوا الولود الودود، فانی مکاثر بکم یوم القیامۃ۔
جواھر العقود۔ ومعین القضاۃ والموقعین والشھود ج۲کتاب النکاح ومایتعلق بہ من الاحکام۔ تالیف الشیخ العلامۃ العمدۃ شمس الدین محمد بن احمد المنَھاجی السیوطی۔
(۲۰) المصنف لعبدالرزاق ج۶کتاب النکاح، باب وجوب النکاح وفضلہ٭کنز العُمَّال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۴۴۲۔
(۲۱) تفسیر ابن کثیر ج۳سورۂ ص۔
(۲۲) ابوداؤدج۲ کتاب النکاح باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء٭نسائی کتاب النکاح باب کراھیۃ تزویج العقیم نسائی میں الامم نہیں ہے٭ مُسْتَدْرک کتاب النکاح۔ السنن الکبریٰ ج۷ کتاب النکاح باب استحباب تزویج بالودود الولود٭ طبرانی بحوالہ کنزالعمال ج۱۶ص۳۰۲ عن معقل بن یسار عن ابن عمر اورص۴۸۷ عن ابن عمر٭خطیب بغدادی اور ابن نجّار نے حضرت عمر سے بحوالہ کنزالعمال ج۱۶۔ص۳۰۲٭ ابن حبان اور مسند احمدج۳۔ص۱۵۸۔السنن الکبریٰ ج۷۔ص۸۲مجمع الزوائد ج۴ص۲۵۲ اورکنز العُمَّال ج۱۶۔ص۴۸۹پر عن انس کے حوالہ سے اِنِّی مُکَاثِرُ الْاَنْبِیَائِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بھی نقل کیاہے٭مجمع الزوائدج۴۔ص۲۵۲۔۲۵۳ ٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۵۳پر عن سھل بن حنیف اور السنن الکبریٰ ج۷۔ص۷۸ پرعن ابی امامۃ تزوجوا فانی مکاثربکم الامم (یوم القیامۃ) وَلاتکونوا کرھبانیۃ النصاریٰ۔
(۲۳) ابوداؤد ج۲کتاب النکاح باب فی الرجل ینظر الی المرأۃ وھو یرید تزویجھا۔
(۲۴) مسند احمد ج۵۔ص۴۲۴۔ ابوحُمَیْد ساعدی٭طبرانی عن ابی حمید ساعدی، بحوالہ کنزالعُمّال ج۶حدیث نمبر ۴۴۵۲۵٭مجمع الزوائدج۴۔ص۲۷۶۔ابوحمید۔
(۲۵) مسند احمد ج۳۔ص۴۹۳۔ محمد بن مسلمۃ اور ج۴۔ص۲۲۵٭مسند احمد ج۴ کے ص۲۲۶پر القی اللہ کے بجائے اذا قذف اللّٰہ عزوجل منقول ہے٭السنن الکبریٰ ج۷کتاب النکاح باب نظر الرجل الی المرأۃ یرید ان یتزوجھا٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۵۲۴٭ ابن ماجہ کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ اذا اراد ان یتزوجھا٭ فی اسنادِہ حجاج وھو ابن ارطاۃ کوفی ضعیف مدلس رواہ بالعنعنۃ۔ لکن لم یفرد بہ حجاج، فقد رواہ ابن حبان فی صحیحہ باسنادٍ آخر ۔ حجاج بن ارطاۃ کے بارے میں صاحب السنن الکبریٰ نے روایت بیان کرکے لکھاہے، ھذا الحدیث اسنادہ مختلف فیہ ومدارہ علی الحجاج بن ارطاۃ۔ج۷۔ص۸۵۔
(۲۶) المستدرک للحاکم ج۲کتاب التفسیر سورۃ النساء٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۱۰کتاب الشھادات باب الاختیار فی الاشھاد۔
(۲۷) تفسیر ابن جریر مجلد۳۔ جز۴سورہ النساء آیت۵ (ولاتوتوا السفھاء الخ)٭ تفسیر ابنِ کثیر ج۱۔ص۴۵۲ ٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۳۸۲۵ عن ابی موسیٰ الاشعری۔
(۲۸) مسلم ج۲کتاب صفات المنافقین واحکامھم باب تحریش الشیطان وبعثہ سرایاہ لفتنۃ الناس وأنہ مع کل انسان قرینا٭مسنداحمد ج۳۔ص۳۱۴، عن جابر٭مسند احمد میں نعم انت کے بعد قال ابومعاویۃ مرۃ فَیُدْنِیْہِ مِنْہٗ منقول ہے۔ مزید براں یہ روایت مسند احمد ج۳کے صفحات۳۳۲۔۳۵۴۔۳۶۶ اور۳۸۴ پربھی منقول ہے۔ ٭ابن کثیر ج۱۔ ص۱۴۳قدرے لفظی اختلاف اورکم وبیش الفاظ کے ساتھ٭مجمع الزوائد ج۷۔ ص۲۸۹۔عن جابر بن عبداللّٰہ۔
(۲۹) الطبرانی فی الاوسط ورجالہ وثقوا وفیھم ضعف۔
فصل :۲ کفاء ت کا مسئلہ شادی بیاہ میں کفاء ت کا لحاظ
لڑکی والوں کی جانب سے پیغام نکاح
یہ صور ت کچھ فطری سی ہے، لیکن اس کو ’’حد ‘‘سے زیادہ بڑھانا مناسب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کی لڑکی جوان اور شادی کے قابل ہوچکی ہو اور اسے کوئی مناسب لڑکا نظر آئے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ خود اپنی طرف سے پیغام دینے میں ابتدا کرے، اس کی مثالیں خود صحابہ کرام میں ملتی ہیں۔ اگر یہ بات حقیقت میں کوئی ذلت کی بات ہوتی تو نبی ﷺ اس کو منع فرمادیتے۔ (رسائل ومسائل اوّل ،فقہی مسائل: رسموں۔۔۔)
تقریبات شادی بیاہ کی رسوم
شادی بیاہ وغیرہ تقریبات کی رسوم کی پوری پوری اصلاح اس وقت تک ہوہی نہیں سکتی جب تک کہ دینی زندگی اپنی صحیح بنیادوں پر تعمیر ہوتی ہوئی اس مرحلہ پر نہ پہنچ جائے، جہاں ان چیزوں کی اصلاح ممکن ہو۔ اس وقت ہمارے ارکان کو زیادہ تر صرف ان چیزوں سے اجتناب پر اصرار کرناچاہیے جن کو صریحاً خلاف شریعت کہاجاسکتاہو۔ رہیں وہ چیزیں جو معاشرتِ اسلامی کی روح کے تو خلاف ہیں مگر مسلمانوں کی موجودہ معاشرت میں قانون وشریعت بنی ہوئی ہیں تو وہ ہمارے ذوقِ اسلامی پر خواہ کتنی ہی گراں ہوں، لیکن سردست ہمیں ان کو اس امید پر گوارا کرلینا چاہیے کہ بتدریج ان کی اصلاح ہوسکے گی۔ مگر یہ گوارا کرنا رضامندی کے ساتھ نہ ہو، بلکہ احتجاج اور فہمائش کے ساتھ ہو۔ یعنی ہر ایسے موقع پر واضح کردیا جائے کہ شریعت تو اس طرح کے نکاح چاہتی ہے، جیسے ازواج مطہرات اور دوسرے صحابہ کرام کے ہوئے تھے۔ لیکن اگر تم لوگ یہ تکلّفات کیے بغیر نہیں مانتے تو مجبوراً ہم اس کو گوارا کرتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ وقت آئے کہ جب تم نبی ﷺ اور اصحابِ نبی ﷺ کی طرح کے سادہ نکاح کرنے کو اپنی شان سے فرو ترنہ سمجھو۔
ہمارا یہ رویہ تو عام لوگوں کے لیے ہے جن سے ہم مختلف قسم کے روابط پیدا کرنے اور جن کے ساتھ کئی طرح کے دنیوی امور میں معاملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن خودار کانِ جماعت کے درمیان ایسے جتنے روابط اور معاملات بھی ہوں، انہیں رسوم کی آلودگیوں سے پاک کرکے سادگی کی اسی سطح پر لے آنا چاہیے جس تک نبی ﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے انہیں پہنچایا تھا، ہمارے معاملات میں مباحات کو مباحات ہی کی حد تک رہنا چاہیے۔ رواج کی رو میں بہنے والے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بغاوت کرنا بھی چاہتے ہیں مگر پہل کی جسارت نہیں کرسکتے۔ رسموں کی بیڑیوں سے نجات حاصل کرنا بھی چاہتے ہیں مگر دوسروں سے پہلے انہیں کاٹنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ اپنی پیٹھوں پر لدے ہوئے رواجوں کے بوجھوں سے ان کی کمریں ٹوٹ رہی ہوتی ہیں مگر ان کو پٹخ دینے میں پیش قدمی نہیں کرسکتے۔ یہ پہل اور پیش قدمی اب ہم لوگوں کو کرنی ہے۔ ہمارے ہر ساتھی کا یہ فرض ہے کہ زندگی کے روز مرہ کے معاملات اور تقریبات کو گوناگوں پابندیوں سے آزاد کرنے میں پوری بے باکی سے پہل کرے۔ اور لوگوں کی ’’ناک‘‘ بچانے کے لیے خود نکّوبن کرمعاشرتی زندگی میں انقلاب برپاکرے۔ خالص اسلامی انداز میں تقریبات اور معاملات کو سرانجام دینے کی مثالیں اگر جگہ جگہ ایک دفعہ قائم کردی جائیں گی تو سوسائٹی کا کچھ نہ کچھ عُنصر ان کی پیروی کرنے کے لیے آمادہ ہوجائے گا اور اس طرح رفتہ رفتہ احوال بدل سکیں گے۔ (رسائل ومسائل اوّل، فقہی مسائل: رسموں۔۔۔)
منگنی کی شرعی حیثیت
منگنی محض ایک قول وقرار ہے اس بات کا کہ آیندہ اس لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے کیا جائے گا، یہ بجائے خودنکاح نہیں ہے، البتہ فریقین کے درمیان ایک طرح کا عہدوپیمان ضرور ہے جس سے پھر جانا درست نہیں الاّ یہ کہ اس کے لیے کوئی معقول وجہ موجود ہو اگر منگنی کے بعد فریقین میں سے کسی ایک پر دوسرے کا کوئی ایسا عیب ظاہر ہو جو پہلے معلوم نہ تھایا چھپایا گیا تھا، تو بلاشبہ اس قول وقرار کو ختم کیا جاسکتاہے۔ لیکن اس طرح کی کسی معقول وجہ کے بغیر یونہی اسے ختم کردینا، یا کسی غیرمعقول وجہ کی بنا پر اس سے پھر جانا، ہرگز جائز نہیں۔ دوسری بدعہدیوں کی طرح یہ بھی ایک بدعہدی ہے جس پر انسان خدا کے ہاں جواب دہ ہوگا۔
(رسائل ومسائل دوم ،فقہی مسائل: منگنی۔۔۔)
ماخذ
(۱) دارقطنی ج۳کتاب النکاح باب المھر حدیث نمبر۱۱٭ السنن الکبریٰ للبَیْھَقِیْ ج۷باب اعتبار الکفاء ۃ ٭مجمع الزوائد ج۴کتاب النکاح باب الکفاء ۃ مبشر بن عبید وھو متروک اور باب ماجاء فی الولی والشھود مبشربن عبید متروک۔ واسند البیھقی فی المعرفۃ عن احمد بن حنبل انہ قال: احادیث مبشربن عبید موضوعۃ کذب۔ قال ابن القطان فی کتابہ: وہو کما قال، ورواہ ابویعلٰی عن مبشر بن عبید عن ابی الزبیر عن جابر فذکر نحوہٗ۔وعن ابی یعلٰی۔ رواہ ابن حبان فی الضعفاء۔ وقال: مبشر یروی عن الثقات الموضوعات لایحل کتب حدیثہ الاعلی جھۃ التعجب۔ ورواہ ابن عدی والعقیلی واعلاہ بمبشربن عبید واسند العقیلی عن احمد انہ وصفہ بالوضع والکذب۔ وقال بیھقی: ھذا حدیث ضعیف قالہ الزیعلی۔ (حاشیہ از علامہ شمس الحق علی دارقطنی ج۳۔ ص۲۴۵٭ کنزالعمال ج۱۶۔ص۳۱۶۔بیہقی نے ج۷۔ص۲۴۰پر۔ لامھر دون عشرۃ دراھم پر نقد وجرح کی ہے۔
(۲) ترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی تعجیل الجنازۃ٭ السنن الکبریٰ ج۷کتاب النکاح باب الکفاء ۃ٭المستدرک للحاکم ج۲ کتاب النکاح باب تزوجوا الودود الولود۔ ھذا حدیث غریب صحیح ولم یخرجاہ۔
(۳) دارقُطْنِی ج۳کتاب النکاح۔ المھر٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷کتاب النکاح باب اعتبار الکفاء ۃ٭ المستدرک للحاکم ج۲ کتاب النکاح باب تخیروا لنطفکم فانکحوا الاکفاء۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔ کنز العُمَّال ج۱۶ عن عائشۃ حدیث نمبر ۴۴۵۵۶٭ ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب الاکفاء ، فی اسنادہ الحارث بن عمران المدینی۔ قال فیہ ابوحاتم، لیس بالقویّ۔ والحدیث الذی رواہ لا اصل لہٗ یعنی ھذا الحدیث، عن الثقات۔ وقال الدار قطنی متروکٌ۔ (ابن ماجہ حدیث مذکور پر علامہ فوأد باقی کا حاشیہ)۔
(۴) دار قطنی ج۳۔ص۲۹۹۔ذیلی حاشیہ۔
(۵) ابن ماجہ ج ۱کتاب النکاح باب تزویج ذات الدین٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷کتاب النکاح باب استحباب التزویج بذات الدین۔ اس جگہ خرقاء منقول ہے اور ابو زکریا سے مروی روایت میں حرباء ہے۔ واللہ اعلم٭ کنزالعمال ج۱۶عن ابن عمرو۔ حدیث نمبر ۴۴۵۳۷۔
(۶) المُصَنّف لعبدالرزاق ج۶کتاب النکاح باب الاکفاء٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷کتاب النکاح باب اعتبار الکفاء ۃ ٭کنز العمال ج۱۶الاکفاء حدیث نمبر ۴۵۷۸۵۔
(۷) دارقُطنی ج۳کتاب النکاح ۔
فصل :۳ ولایت کا مسئلہ (۱) ولی ــسرپرست کی ولایت
۲۰۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی عَنْ اَبِیْہِ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ نِکَاحَ اِلاَّ بِوَلِیٍّ۔
’’ابوموسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر کوئی نکاح جائز نہیں ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَۃَ بْنِ اَعْیُنَ، ثَنَا اَبُوْعُبَیْدَۃَ الْحَدَّادُ، عَنْ یُونُسَ وَاِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوسٰی، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لاَنِکَاحَ اِلاَّبِوَلِیٍّ۔(۱)
ـــــــ قال ابوداؤد: ھویونس عن ابی بردۃ، واسرائیل عن ابی اسحاق، عن ابی بردۃ۔
(۲) سربراہِ مملکت کی ولایت
۲۱۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَکَحَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ وَلِیِّھَا فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَھَا۔ (بلوغ المرام)
’’ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے۔ پس اگر جھگڑا ہو تو جس عورت کا ولی نہ ہوتو سلطان اس کا ولی ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، حَدَّثَنَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اَیُّمَا امْرَاَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ وَلِیِّھَا، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَاِنْ دَخَلَ بِھَا فَلَھَا الْمَھْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِھَا، فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَّوَلِیَّ لَہٗ۔(۲) (ھذا حدیث حسن)
ابن ماجہ نے حضرت عائشہؓ سے اس روایت کو مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کیاہے:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَیُّمَا امْرَأَۃٍ لَمْ یُنْکِحْھَا الْوَلِیُّ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ، فَاِنْ اَصَابَھَا فَلَھَا مَھْرُھَا بِمَا اَصَابَ مِنْھَا، فَاِنِ اشْتَجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَّوَلِیَّ لَہٗ۔(۳)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس عورت کا نکاح اس کا ولی نہ کرے اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے پھر اگر وہ مرداس عورت سے لطف اندوز ہوچکا ہو تو جس قدر وہ اس عورت سے لطف اندوز ہوا ہے اس کے بدلہ میں مہر کی وہ عورت حقدار ہے۔ پھر اگر ان کے درمیان جھگڑا ہوجائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔
(۳) عورت کی ولایت
۲۲۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَ تُزَوِّجُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃُ وَلاَ تُزَوِّجُ الْمَرْأَۃُ نَفْسَھَا۔
(السنن الکبری للبیھقی)
’’ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت دوسری عورت کی (ولی بن کر) نکاح نہ کرے، اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَاجَمِیْلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَکِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَیْلِیُّ، ثَنَا ھِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِ یْنَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَتُزَوِّجُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ، وَلاَتُزَوِّجُ الْمَرْأَۃُ نَفْسَھَا، فَاِنَّ الزَّانِیَۃَ ھِیَ الَّتِیْ تُزَوِّجُ نَفْسَھَا۔(۴)
۲۳۔قَالَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ اَیُّمَا امْرَأَۃٍ لَمْ یُنْکِحْھَا الْوَلِیُّ اَوِالْوُلاَ ۃُ فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی)
’’حضرت عمرؓ نے فرمایا جس عورت کا نکاح ولی یا حکام نہ کریں، اس کا نکاح باطل ہے۔ ‘‘
تخریج : عَنْ عُمَرَ، قَالَ: اَیُّمَا امْرَأَۃٍ لَمْ یُنْکِحْھَا الْوَلِیُّ اَوِ الْوُلاَۃِ فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ۔(۵)
تشریح :ان دلائل پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی یہ محسوس ہوجاتاہے کہ دونوں طرف کافی وزن ہے اور یہ کہنے کی گنجایش نہیں ہے کہ فریقین میں سے کسی کا مسلک بالکل غلط ہے۔ اب سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا شارع نے فی الواقع دومتضاد حکم دیئے ہیں؟ یا ایک حکم کو دوسرا حکم منسوخ کرتاہے؟ یا دونوں حکموں کو ملاکر دونوں حکموں کا منشا ٹھیک طورپر متحقق ہوسکتاہے؟ پہلی شِق تو صریحاً باطل ہے،کیونکہ شریعت کا پورا نظام شارع کی حکمت کاملہ پر دلالت کررہاہے اور حکیم سے متضاد احکام کا صدور ممکن نہیں ہے۔ دوسری شق بھی باطل ہے کیونکہ نسخ کا کوئی ثبوت یا قرینہ موجود نہیں ہے۔ اب صرف تیسری ہی صورت باقی رہ جاتی ہے اور ہمیں اسی کی تحقیق کرنی چاہیے۔ میں دونوں طرف کے دلائل جمع کرکے شارع کا جو منشا سمجھ سکاہوں وہ یہ ہے :
۱۔ نکاح کے معاملے میں فریقین مرد اور عورت ہیں نہ کہ مرد اور اولیائے عورت۔ اسی بنا پر ایجاب وقبول ناکح اور منکوحہ کے درمیان ہوتاہے۔
۲۔ بالغہ عورت (باکرہ ہو یا ثیبہ) کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر یا اس کی مرضی کے خلاف منعقد نہیں ہوسکتا، خواہ وہ نکاح کرنے والا باپ ہی کیوں نہ ہو؟ جس نکاح میں عورت کی طرف سے رضانہ ہو، اس میں سرے سے ایجاب ہی موجود نہیں ہوتاکہ ایسا نکاح منعقد ہوسکے۔
۳۔ مگر شارع اس کو بھی جائز نہیں رکھتاکہ عورتیں اپنے نکاح کے معاملے میں بالکل ہی خود مختار ہوجائیں، اور جس قسم کے مرد کو چاہیں اپنے اولیاکی مرضی کے خلاف اپنے خاندان میں داماد کی حیثیت سے گھسا لائیں۔ اس لیے جہاں تک عورت کا تعلق ہے شارع نے اس کے نکاح کے لیے اس کی اپنی مرضی کے ساتھ اس کے ولی کی مرضی کو بھی ضروری قراردیا ہے۔ نہ عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ولی کی اجازت کے بغیر جہاں چاہے اپنا نکاح خود کرلے، اور نہ ولی کے لیے جائز ہے کہ عورت کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح جہاں چاہے کردے۔
۴۔ اگر کوئی ولی کسی عورت کا نکاح بطور خود کردے تو وہ عورت کی مرضی پر معلق ہوگا، وہ منظور کرے تو نکاح قائم رہے گا، نامنظور کرے تو معاملہ عدالت میں جانا چاہیے، عدالت تحقیق کرے گی کہ یہ نکاح عورت کو منظور ہے یا نہیں۔اگر یہ ثابت ہوجائے کہ عورت کو نکاح نامنظور ہے تو عدالت اسے باطل قراردے گی۔
۵۔ اگر کوئی عورت اپنے ولی کے بغیر اپنا نکاح خود کرلے تو اس کا نکاح ولی کی اجازت پر معلق ہوگا۔ ولی منظور کرے تو نکاح برقرار رہے گا، نامنظور کرے تو یہ معاملہ بھی عدالت میں جانا چاہیے۔ عدالت تحقیق کرے گی کہ ولی کے اعتراض وانکار کی بنیاد کیاہے۔ اگروہ فی الواقع معقول وجوہ کی بنا پر اس مرد کے ساتھ اپنے گھر کی لڑکی کا جوڑ پسند نہیں کرتا تو یہ نکاح فسخ کیا جائے گا اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس عورت کا نکاح کرنے میں اس کا ولی دانستہ تساہل کرتارہا، یا کسی ناجائز غرض سے اس کو ٹالتارہا اور عورت نے تنگ آکراپنا نکاح خود کرلیا تو پھر ایسے ولی کو سئی الاختیار ٹھہرایا جائے گا اور نکاح کو عدالت کی طرف سے سند جواز دے دی جائے گی ۔۱؎ ھٰذَا مَا عِنْدِیْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
جس نکاح میں ایجاب وقبول ہوگیا ہو وہ نکاح ہوجاتاہے، خطبہ پڑھنے پر نکاح کی صحت موقوف نہیں ہے۔ خطبہ تو ایک سنت ہے جس سے مقصود برکت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرناہے۔ اس کو جان بوجھ کر ترک کرنا بہت براہے، اور اس کے ترک کو رواج بنالینا اور بھی زیادہ سخت قابل ملامت فعل ہے۔ لیکن نکاح شرعًا جس چیز سے منعقد ہوتاہے وہ دوگواہوں کے سامنے محض ایجاب وقبول ہے۔ (مکتوبات سید ابوالاعلیٰ مودودی ص۱۰۶)
(رسائل ومسائل دوم،فقہی مسائل: کیا بالغ۔۔۔)
کیا بالغ عورت خود اپنا نکاح کرلینے کی مجاز ہے؟
۲۴۔ عَنْ نَّافِعِ ابْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلْاَیِّمُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَّلِیِّھَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ وَاِذْنُھَا سُکُوْتُھَا وَفِیْ رِوَایَۃٍ اَلثَّیِّبُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَلِیِّھَا۔ (نصب الرایۃ ج۳، ص:۱۸۲)
’’نافع ابن جبیرؓ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ عورت اپنے ولی سے زیادہ خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہے اور کنواری کا مشورہ لیا جانا چاہیے اور اس کی اجاز ت اس کی خاموشی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ شوہر دیدہ عورت اپنے ولی سے زیادہ اپنے نکاح کے معاملے میں حقدار ہے۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْاَیِّمُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَّلِیِّھَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَاْذَنُ فِیْ نَفْسِھَا وَاِذْنُھَا صُمَاتُھَا، وَفِیْ لَفْظٍ لِّمُسْلِمٍ: اَلثَّیِّبُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَّلِیِّھَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَاْمَرُ، وَاِذْنُھَا سُکُوْتُھَا۔ (۶)
(۲) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامٌ عَنْ یَحْیٰ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، حَدَّثَھُمْ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:لاَتُنْکَحُ الْاَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَاْمَرَ وَلاَتُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَاْذَنَ، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، وَکَیْفَ اِذْنُھَا؟ قَالَ : اَنْ تَسْکُتَ۔(۷)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت کا نکاح اس سے مشورہ لیے بغیر نہ کیا جائے اور نہ کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کیا جائے۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اس سے اجازت کا کیا معنی؟ فرمایا، اس کا خاموش ہوجانا۔
(۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: الثَّیِّبُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَّلِیِّھَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَاْمَرُ وَاِذْنُھَا سُکُوْتُھَا۔(۸)
مسلم کی ایک روایت بایں الفاظ بھی منقول ہے:
(۴) قَالَ:الثَّیِّبُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَّلِیِّھَا وَالْبِکْرُ یَسْتَاْذِنُھَا اَبُوھَا وَاِذْنُھَا صُمَاتُھَا وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَمْتُھَا اِقْرَارُھَا۔(۹)
ترجمہ : شوہردیدہ عورت اپنے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے کہ خود فیصلہ کرے اور کنواری سے اس کا والد اجازت لے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہناہے۔ بسا اوقات فرمایا: اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔
لڑکی کے لیے تنسیخ واستقرارِ نکاح کا استحقاق
۲۵۔اَخْرَجَہُ النَّسَائِیُّ وَاَحْمَدُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ جَائَ تْ فَتَاۃٌ إلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَتْ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اَبِیْ زَوَّجَنِیْ ابْنَ اَخِیْہِ لِیَرْفَعَ بِیْ مِنْ خَسِیْسَتِہٖ۔ قَالَ، فَجَعَلَ الْاَمْرَ اِلَیْھَا۔ فَقَالَتْ، اِنِّیْ قَدْ اَجَزْتُ مَاصَنَعَ اَبِیْ، وَلٰکِنْ اَرَدْتُّ اَنْ تَعْلَمَ النِّسَائُ اَنَّ لَیْسَ اِلَی الْآبَائِ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ۔
’’ نسائی اور احمد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ ایک لڑکی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے اپنے بھتیجے کے ساتھ میرا بیاہ صرف اس لیے کردیاہے کہ میرے ذریعے سے اسے ذلت سے نکالے۔ آپؐ نے نکاح (کی تنسیخ واستقرار) کا حق لڑکی کو دے دیا۔ لڑکی نے کہا، میرے والد نے جو کچھ کیاہے میں اسے جائز قراردیتی ہوں، میری خواہش صرف یہ تھی کہ عورتیں جان لیں کہ باپوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔‘‘
تخریج :حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ، ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ کَھْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: جَآئَ تْ فَتَاۃٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَتْ: اِنَّ اَبِیْ زَوَّجَنِیْ ابْنَ اَخِیْہِ لیَرْفَعَ بِیْ خَسِیْسَتَہٗ، قَالَ، فَجَعَلَ الْاَمْرَ اِلَیْھَا فَقَالَتْ: قَدْ اَجَزْتُ مَاصَنَعَ اَبِیْ، وَلٰکِنْ اَرَدْتُّ اَنْ تَعْلَمَ النِّسَآئُ اَنْ لَّیْسَ اِلَی الْاَبَآئِ مِنَ الْاَمْرِ شَـْیئٌ۔(۱۰)
۲۶۔ رُوِیَ مِنْ طَرِیْقِ مَالِکٍ۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا زَوَّجَتْ حَفْصَۃَ بِنْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ، وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ وَمِثْلِیْ یُفْتَاتُ عَلَیْہِ؟ فَکَلَّمَتْ عَائِشَۃُ الْمُنْذِرَ ابْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: اِنَّ ذٰلِکَ بِیَدِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰن: مَاکُنْتُ لِاَرُدَّ اَمْرًا قَضَیْتِہِ، فَاسْتَقَرَّتْ حَفْصَۃُ عِنْدَالْمُنْذِرِ وَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ طَلاَقاًانتہی۔
’’ مالک نے عبدالرحمن سے، انہوں نے اپنے باپ سے، اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حفصہ بنت عبدالرحمن کا منذر ابن الزبیر سے نکاح کردیا۔ اس وقت عبدالرحمن شام میں تھے۔ جب وہ واپس آئے تو کہنے لگے کہ کیا میری رائے کو نظر انداز کیا جاسکتاہے؟ تب حضرت عائشہؓ نے منذر ابن الزبیر سے بات کی۔ انہوں نے کہاکہ فیصلہ عبدالرحمن کے ہاتھ میں ہے اس پر عبدالرحمن نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ جس معاملے کو آپ نے طے کردیاہے میں اس کی تردید نہیں کرنا چاہتا، چنانچہ حفصہ منذرکے پاس ہی رہیں اور یہ طلاق نہ تھی۔ ‘‘
تخریج: رُوِیَ مِنْ طَرِیْقِ مَالِکٍ۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا زَوَّجَتْ حَفْصَۃَ بِنْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ، وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ وَمِثْلِیْ یُفْتَاتُ عَلَیْہِ؟ فَکَلَّمَتْ عَائِشَۃُ الْمُنْذِرَ ابْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: اِنَّ ذٰلِکَ بِیَدِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰن: مَاکُنْتُ لِاَرُدَّ اَمْرًا قَضَیْتِہِ، فَاسْتَقَرَّتْ حَفْصَۃُ عِنْدَالْمُنْذِرِ وَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ طَلاَقاًانتہی۔(۱۱)
۲۷۔اَخْرَجَہٗ اَبُوْدَاؤُدَ وَالنَّسَائِیُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ اَمْرٌ۔(ایضاً)
’’ابوداؤد اور نسائی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شوہر دیدہ عورت پرولی کو کچھ اختیار حاصل نہیں ہے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ ابْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ اَمْرٌ۔(۱۲)
۲۸۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، قَالَ: جَآئَ تِ امْرَأَۃٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَتْ: اِنَّ اَبِیْ اَنْکَحَنِیْ رَجُلاً، وَاَنَا کَارِھَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَبِیْھَا: لاَنِکَاحَ لَکِ، اِذْھَبِیْ، فَانْکِحِیْ مَنْ شِئْتِ۔
’’ابی سلمہ ابن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اورکہامیرے باپ نے میرا نکاح ایک مرد سے کردیاہے اور میں اسے ناپسند کرتی ہوں۔ آپؐ نے باپ سے فرمایا کہ نکاح کا اختیار تمہیں نہیں ہے۔ اور لڑکی سے فرمایا جاؤ جس سے تمہارا جی چاہے نکاح کرلو۔‘‘ (رسائل ومسائل دوم، فقہی مسائل: کیا بالغ۔۔۔)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ الْجَوْزِیِّ: قَالَ سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ: ثَنَا اَبُوالْاَحْوَصِ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رَفِیْعٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، قَالَ: جَآئَ تِ امْرَأَۃٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَتْ: اِنَّ اَبِیْ اَنْکَحَنِیْ رَجُلاً، وَاَنَا کَارِھَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَبِیْھَا: لاَنِکَاحَ لَکِ، اِذْھَبِیْ، فَانْکِحِیْ مَنْ شِئْتِ۔(۱۳)
(۲) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَمُجَمِّعِ ابْنَیْ یَزِیْدَ بْنِ جَارِیَۃَ عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِذَامِ نِالْاَنْصَارِیَّۃِ اِنَّ اَبَاھَا زَوَّجَھَا وَھِیَ ثَیِّبٌ، فَکَرِھَتْ ذٰلِکَ فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَرَدَّ نِکَاحَھَا۔(۱۴)
ترجمہ : خنساء بنت خذام انصاریہ بیان کرتی ہیںکہ ان کے والد نے ان کا نکاح جب کہ وہ شوہر دیدہ تھیں کردیا۔ اس نے اس نکاح کو ناپسند کیا، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی (اور روداد سنائی) توآپ نے اس کا نکاح رد کردیا۔
ماخذ
(۱) ابوداؤد کتاب النکاح باب فی الولی٭ ترمذی ابواب النکاح، باب ماجاء لانکاح الا بولیٍّ٭ ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب لانکاح الابولی٭ دارمی کتاب النکاح، باب النھی عن النکاح بغیر ولی٭دارقطنی ج۲۔ ص۳۸۱ ٭ المستدرک ج۲کتاب النکاح باب لانکاح الا بولی٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ص۱۰۷۔ ۱۰۸٭نصب الرایۃج۳۔ص۱۸۳٭مسنَدِاحمدج۱۔ص۲۵۰۔ج۴۔۳۹۴۔۴۱۳۔۴۱۸۔ج۶۔ص۲۶۰ ٭کنزالعمال ج۱۶۔ ص۳۱۳ ٭ احکام القرآن للجصاص ج۲ص۴۰۱۔ ذکر الاختلاف فی ذلک٭ تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۲۸۲۔
(۲) ترمذی ج۳، ابواب النکاح باب ماجاء لانکاح الا بولی،ح۱۱۰۲٭ ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح۔ باب فی الولی ٭ابوداؤد میں ولی کی جگہ موالیھا اور اشتجروا کی جگہ تشاجروا ہے٭ بلوغ المرام کتاب النکاح حدیث نمبر ۸۳۶٭ نصب الرایۃ ج۳۔ ص۱۸۴٭ دارمی کتاب النکاح ج۲۔باب النھی عن النکاح بغیر ولی٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح باب لاولایۃ لوصی فی نکاح۔ اس میں روایت کا آغاز لاتنکح المرأۃ الا باذن ولیھا، فان نکحت فھو باطل، فھو باطل، فھو باطل الخ٭مسنداحمد ج۶۔ص۱۶۶٭کنزالعمال ج۱۶ص۳۰۹۔
(۳) ابن ماجہ کتاب النکاح باب لانکاح الا بولی۔٭ دارقطنی ج۲کتاب النکاح ص۳۸۱۔٭المستدرک للحاکم ج۲ کتاب النکاح۔ باب ایما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل۔
(۴) ابن ماجہ کتاب النکاح، باب لانکاح الا بولی٭ دارقطنی کتاب النکاح،ص۳۸۴٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷ ص۳۱۰۔ کتاب النکاح باب لانکاح الابولی٭ کنزالعمال ج۱۶۔ص۔۳۱۰۔ عن ابی ھریرۃ٭نصب الرایۃ ج۳۔ ص۱۸۸، کتاب النکاح باب فی الاولیاء والاکفاء۔
(۵) کنزالعمال ج ۱۶۔ ص۵۲۹ عن عمر۔
(۶) نصب الرایۃ لاحادیث الھدایۃ ج۳کتاب النکاح، باب فی الاولیاء والاکفاء۔
(۷) بخاری ج۲ کتاب النکاح باب لاینکح الاب وغیرہ البکر والثیب الابرضاھا٭ نسائی کتاب النکاح باب اذن البکر٭ کنزالعمال ج۱۶۔ص۳۱۱٭نسائی نے کتاب النکاح باب استئمار الثیب فی نفسھا کے ضمن میں جو روایت بیان کی ہے اس کا آغاز لاتُنکَحُ الثیبُ سے کیاہے، باقی الفاظ مندرجہ بالا روایت کے ہیں۔
(۸) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب استیذان الثیب فی النکاح بالنطق، والبکر بالسکوت۔ مسلم میں اسی باب کے تحت ایک روایت میں عن ابن عباس ان النبی ﷺ قال: اَلْاَیِّمُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ترمذی ج۱۔ ابواب النکاح باب ماجاء فی استئمار البکر والثیب٭ ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب استئمار البکر والثیب٭مؤطا امام مالک کتاب النکاح باب استیذان البکر والایم فی انفسھما۔
(۹) مسلم ج۱کتاب النکاح باب استیذان الثیب فی النکاح الخ٭ ابوداؤد ج۲۔ کتاب النکاح باب الثیب۔ ابوداؤد کی رائے کے مطابق ابوھا محفوظ نہیں اور انہوں نے لیس بمحفوظٍ کہاہے٭ نسائی کتاب النکاح، باب استیذان البکر فی نفسھا٭ ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب استئمار البکر والثیب٭دارمی ج۲۔کتاب النکاح، باب استئمار البکر والثیب۔اس کی روایت میں وصمتھا اقرارھا ہے۔ عن ابنِ عباس٭ دارقطنی ج۱۔کتاب النکاح۔ عن ابنِ عباس۔اس روایت میں بھی وصمتھا اقرارھا ھی ہے اور ص۲۴۰ پر عن ابنِ عباس ان النبی ﷺ قال: الایم احق بنفسھا من ولیھا، والیتیمۃ تستامر، واذنھا صماتھا بھی منقول ہے ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح باب اذن البکر الصمت واذن الثیب الکلام، عن ابن عباس٭ المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح باب تستامر الیتیمۃ فی نفسھا٭ مصنف ابنِ ابی شَیبَہ نے ج۲-۴،ص۱۳۸،۱۳۹پر اس بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ ص۳۱۰۔عن ابن عباس٭دارقطنی ج۳۔کتاب النکاح ص۲۳۹٭احکام القرآن للجصاص ج۱ص۴۰۱۔ ذکرالاختلاف فی ذلک۔
(۱۰) ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب من زوج ابنتہٗ وھی کارھۃ۔فی الزوائد: اسنادہ صحیح وقد رواہ غیر المصنف من حدیث عائشۃ وغیرھا٭نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔کتاب النکاح٭نَسائی ج۶۔کتاب النکاح باب البکر یزوجھا ابوھا وھی کارھۃ٭مسنداحمد ج۶۔ص۱۳۶۔عن عائشۃ٭سنن دارقطنی ج۲۔کتاب النکاح ۔ دارقطنی نے کہا ہے ھذا کلھا مراسیل ابن بریدہ لم یسمع من عائشۃ شیئاً٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب ماجاء فی انکاح الآباء الابکار۔ آخر میں فرماتے ہیں :ھذا مرسل ابن بریدۃ لم یسمع من عائشہؓ ۔ ابن ترکمانی نے الجوھر النقی میں لکھاہے ان صاحب الکمال صرح بسماعہِ منھا۔
(۱۱) نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔کتاب النکاح باب الاولیاء والاکفاء ح۱۸۶۔٭ احکام القرآن للجصاص ج۱ ص۴۰۱۔ ذکر الاختلاف فی ذلک۔ احکام القرآن میں مختصر ہے۔
(۱۲) ابوداؤد کتاب النکاح، باب فی الثیب٭ نسائی کتاب النکاح، باب استیذان البکر فی نفسھا٭دارقطنی ج۲ کتاب النکاح٭ کنز العُمال ج۱۶۔ص۳۱۱ عن ابن عباسؓ٭ احکام القرآن للجصّاص ج۱ذکر الاختلاف فی ذٰلِک۔
(۱۳) نصب الرایۃ ج۳۔کتاب النکاح باب فی الاولیاء والاکفاء۔
(۱۴) بخاری ج۲۔ کتاب النکاح، باب اذا زوج ابنتَہ وھی کارھۃ، فنکاحہ مردود٭ ابوداؤد ج۲ کتاب النکاح باب فی الثیب٭ نسائی ج۶ کتاب النکاح، الثیب یزوجھا ابوھا وھی کارھۃ٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب من زوج ابنتہ وھی کارھۃ٭سنن دارقطنی ج۲۔کتاب النکاح٭مؤطا امام مالک ج۲،کتاب النکاح۔ جامع مالا یجوز من النکاح۔ موطا نے خنساء بنت خذام الانصاریۃ نقل کیاہے٭ سنن دارمی ج۲کتاب النکاح باب الثیب یزوجھا ابوھا وھی کارھۃ۔
فصل :۴ رضاعت کا مسئلہ نسبی اور رضاعی رشتوں کی حرمت
اس امرپر امت میں اتفاق ہے کہ ایک لڑکے یا لڑکی نے جس عورت کا دودھ پیا ہو اس کے لیے وہ عورت ماں کے حکم میں اور اس کا شوہر باپ کے حکم میں ہے اور تمام وہ رشتے جو حقیقی ماں اور باپ کے تعلق سے حرام ہوتے ہیں رضاعی ماں اور باپ کے تعلق سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ حرمت رضاعت کس قدر دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک جتنی مقدار سے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ سکتاہے اتنی ہی مقدار میں اگربچہ کسی کا دودھ پی لے تو حرمت ثابت ہوجاتی ہے، مگر امام احمدؒکے نزدیک تین مرتبہ پینے سے اور امام شافعیؒ کے نزدیک پانچ دفعہ پینے سے یہ حرمت ثابت ہوتی ہے، نیز اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ کس عمر میں پینے سے یہ رشتے حرام ہوتے ہیں۔
بعض کے نزدیک رضاعت کی مدت کے دوران دودھ پینے سے۔بعض کے نزدیک جب تک دودھ چھڑایانہ گیاہو۔ اور بعض کے نزدیک جب بھی پیے حرمت ثابت ہوگی۔ (تفہیم القرآن،ج۱، النساء، حاشیہ: ۳۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَالَیْثٌ ح قَالَ وَثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ رُمْحٍ، قَالَ: اَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ عَرَاکٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا اخْبَرَتْہُ اَنَّ عَمَّھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ یُسَمّٰی اَفْلَحُ اِسْتَاْذَنَ عَلَیْھَا، فَحَجَبَتْہٗ، فَاَخْبَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَھَا: لاَتَحْتَجِبِیْ مِنْہُ، فَاِنَّہٗ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایاکہ ان کا رضاعی چچا، جن کا نام افلح تھا،نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو حضرت عائشہؓ نے ان سے پردہ کیا اور اس واقعہ کی خبر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دی تو آپ نے فرمایا، ان سے پر دہ نہ کر اس لیے کہ رضاعت سے بھی وہ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب سے حرام ہوتی ہیں۔
مسلم میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایت میں سے ایک روایت میں ہے :
(۲) قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْکَانَ فُلاَنٌ حَیًّا لِعَمِّھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ، دَخَلَ عَلَیَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: نَعَمْ، اِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیاکہ یا رسول اللہ! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا وہ میرے ہاں داخل ہوسکتاتھا؟ آپ نے فرمایا،ہاں رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کردیتی ہے جس کو نسب حرام کرتاہے۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت میں ہے:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَایَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔(۲)
ایک اور روایت میں ہے:
(۴) کَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: حَرِّمُوْا مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَاتُحَرِّمُوْنَ مِنَ النَّسَبِ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں کہ رضاعت کی وجہ سے بھی تم ان رشتوں کو حرام سمجھو جن کو تم نسب کی وجہ سے حرام سمجھتے ہو۔
حضرت ابنِ عباس سے مروی روایت میں ہے:
(۵)وَیَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَایَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ۔ (۳)
(۶)عن علی عن عائشۃ، قالت: قال رسول اللّٰہ ﷺ ان اللّٰہ حرم من الرضاعۃ ما حرم من الولادۃ۔(۴)
ـــــــ ھذا حدیث حسن صحیح، وحدیث علی، حدیث صحیح، والعمل علی ھذا عند عامۃ اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ وغیرھم لانعلم بینھم فی ذلک اختلافا۔
حضرت علیؓ سے مروی روایت میں ہے:
(۷)اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ۔(۵)
نسائی میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایات:
(۸)عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَاحَرَّمَتْہُ الْوِلاَدَۃُ حَرَّمَہُ الرَّضَاعُ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ولادت جن رشتوں کو حرام کرتی ہے رضاعت بھی ان کو حرام کردیتی ہے۔
(۹)عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَایَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہی رضاعت کی وجہ سے حرام ہیں۔
ایک روایت میں ہے:
(۱۰) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔(۶)
(۱۱) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْل اللّٰہِ ﷺ: یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَایَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔ (۷)
(۱۲) وَکَانَتْ عَائِشَۃُؓ تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔(۸)
محرّمات کی حرمت کے وجوہ
محرمات کی فہرست میں جن عورتوں کو شامل کیا گیاہے، ان کے حرام ہونے کی اصل وجہ حیاتیاتی حقائق نہیں ہیں، بلکہ اخلاقی اور معاشرتی حقائق ہیں۔ آپ خود غور کریں کہ جس ماں کے شہوانی جذبات بھی اپنے بیٹے سے متعلق ہوسکتے ہوں کیا وہ ان پاکیزہ ومطہر جذبات کے ساتھ بیٹے کو پال سکتی ہے جو ماں اور بیٹے کے تعلقات میں ہونے چاہئیں؟ اور کیا بیٹا ہوش سنبھالنے کے بعد ماں کے ساتھ وہ معصومانہ بے تکلفی برت سکتاہے جو ماں اور بیٹے کے درمیان اب ہوتی ہے؟
اور کیا ایک گھر میں باپ اور بیٹے کے درمیان رقابت اور حسد کے جذبات پیدا نہ ہوجائیں گے اگر ماں اور بیٹے کے درمیان ابدی حرمت کی دیوار حائل نہ ہو؟
ایسا ہی معاملہ بہن اور بھائی کا بھی ہے۔ اگر ابدی حرمت ان کے درمیان قائم نہ ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ بھائی بہن ایک دوسرے کے ساتھ معصوم روابط اور شبہات سے بالاتر بے تکلفی برت سکتے؟ کیا اس صورت میں بھی یہ ممکن ہوتا کہ والدین اپنے بیٹوں کو سن بلوغ کے قریب پہنچنے پر ایک دوسرے سے دور رکھنے کی کوشش نہ کرتے؟ اور کیا کوئی شخص بھی کسی لڑکی سے شادی کرتے وقت یہ اطمینان کرسکتاتھا کہ وہ اپنے بھائیوں سے بچی ہوئی ہوگی؟
پھر اگر سسر اور بہو کے درمیان اور ساس اور داماد کے درمیان ابدی حرمت کی دیواریں حائل نہ کردی جاتیں تو کس طرح ممکن تھا کہ باپ اور بیٹے اور ماں اور بیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ رقیبانہ کشمکش میں مبتلا ہونے اور ایک دوسرے کو شبہ کی نظر سے دیکھنے سے بچ جاتیں۔
اس پہلو پر اگر آپ غور کریں تو آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ شریعت نے کن اہم اخلاقی ومعاشرتی مصلحتوں کی بنا پر ان تمام مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام کردیاہے، جن کے درمیان ایک گھر، ایک خاندان، اور ایک دائرۂ معاشرت کے اندر قریب ترین روابط اور بے تکلف روابط فطرتًا ہوتے ہیں، اور معاشرتی ضروریات کے لحاظ سے ہونے چاہئیں۔ بیٹے اور بیٹیاں پل ہی نہیں سکتیں اگر ماں اور باپ دونوں اس طرف سے بالکل مطمئن نہ ہوں کہ ان میں سے کسی کا بھی کوئی شہوانی علاقہ اپنی اولاد کے ساتھ نہیں ہے۔ ایک ہی گھر میں لڑکوں اور لڑکیوں کا پلنا غیرممکن ہوجائے اگر بہن کے معاملہ میں بھائیوں کے درمیان اور بھائی کے معاملہ میں بہنوں کے درمیان شہوانی رقابتیں پیدا ہونے کا دروازہ قطعی طورپر بند نہ ہو۔ خالائیں اور پھوپھیاں اور چچا اور ماموں اگر شبہ سے بالاتر نہ کردیئے جائیں تو بہن اپنی اولاد کو اپنے بھائی بہنوں سے، اور بھائی اپنی اولاد کو اپنے بھائی بہنوں سے بچانے کی فکر میں لگ جائیں۔ (رسائل ومسائل دوم، عام مسائل: محرمات۔۔۔)
ماخذ
(۱) مسلم ج۱کتاب الرضاع۔ فصل یحرم من الرضاعہ ما یحرم من الرحم٭ نسائی کتاب النکاح باب مایحرم من الرضاع۔
(۲) مسلم کتاب الرضاع الخ٭ مؤطا امام مالک ج۲کتاب الرضاع٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب الرضاع:۔ یحرم من الرضاع مایحرم من الولادۃ٭کنز العمال ج۶حدیث نمبر۱۵۶۵۴٭بخاری ج۱کتاب الشھادات باب الشھادۃ علی الانساب میں یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ اوراِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَایَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ اور یہ روایت کتاب الجھاد باب ماجاء فی بیوت النبی ﷺ میں بھی ہے۔
(۳) بخاری نے ج۲کتاب النکاح باب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا میں حضرت عائشہ سے مروی روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کی ہے مزید برآں یہ روایت کتاب التفسیر سورہ احزاب اور کتاب الادب باب ۹۳ میں ہے: عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: حَرِّمُوْا مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَایَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ اورکتاب النکاح باب مایحل من الدخول والنظر الی النساء فی الرضاع۔ ج۲پر یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَایَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ نقل کیاہے۔ابوداؤد کتاب النکاح ج۲۔باب یحرم من الرضاعۃ مایحرم من النسب٭دارمی کتاب النکاح باب۴۸۔ مایحرم من الرضاع عن عائشۃ۔
(۴) ترمذی ج۱ابواب الرضاع باب ماجاء یحرم من الرضاع مایحرم من النسب٭مسند احمد ج۶ ٭کنزالعمال ج۶ حدیث نمبر۱۵۶۶۶۔
(۵) ترمذی ج۱ابواب الرضاع۔٭مسندِ احمد ج۲۔ص۱۸۲۔٭ کنزالعمال ج۶حدیث نمبر۱۵۶۵۵۔
(۶) نسائی ج۶ کتاب النکاح باب مایحرم من الرضاع۔
(۷) ابن ماجہ کتاب النکاح باب یحرم من الرضاع مایحرم من النسب اور مجمع الزوائدج ۴۔ کتاب النکاح باب فی الرضاع عن عائشۃ۔ مسند احمد ج۱ص۲۷۵، ۲۹۰،۳۲۹ج۴ص۴،۵ ج۶، ص۴۴،۵۱، ۶۶، ۷۲، ۱۰۲، ۱۷۸ ٭کنزالعمال ج۶۔ حدیث ۱۵۶۶۰۔
(۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷ کتاب الرضاع باب یحرم من الرضاع مَا یحرم من الولادۃ الخ٭الطبرانی فی الاوسط بحوالہ مجمع الزوائد ج۴ص۔۲۶۱ عن انس۔
فصل :۵ محرم سے نکاح کامسئلہ ماں سے نکاح اسلامی قانون میں فوجداری جرم
۲۹۔ مَنْ وَّقَعَ عَلٰی ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوْہُ۔
’’جو شخص محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کردو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الدِّمَشْقِیُّ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ فُدَیْکٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ، عَنْ دَاؤُدَ ابْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ: مَنْ وَقَعَ عَلٰی ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوْہُ وَمَنْ وَقَعَ عَلٰی بَھِیْمَۃٍ فَاقْتُلُوْہُ، وَاقْتُلُوا الْبَھِیْمَۃَ۔(۱)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کردو، اور جو کسی چوپایہ سے بدفعلی کرے اسے بھی قتل کردو اور ساتھ اس جانور کو بھی ماردو۔
(۲) اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیْمٍ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْنُعَیْمٍ، قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ السُّدِّیِّ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَآئِ، قَالَ:لَقِیْتُ خَالِیْ وَمَعَہُ الرَّأیَۃُ، فَقُلْتُ: اَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ : اَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ اَبِیْہِ مِنْ بَعْدِہِ، اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہٗ اَوْ اَقْتُلَہٗ۔
ترجمہ :حضرت براء بن عازب سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں اپنے ماموں سے ملا، ان کے ہاتھ میں جھنڈا تھا۔ میں نے پوچھا کدھر کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایسے آدمی کو قتل کرنے کے لیے بھیجاہے جس نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیاہے۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت میں ہے:
(۳) اَصَبْتُ عَمِّیْ وَمَعَہٗ رَأیَۃٌ فَقُلْتُ اَیْنَ تُرِیْدُ؟ فَقَالَ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی رَجُلٍ، نَکَحَ امْرَأَۃَ اَبِیْہِ، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہٗ وَاٰخُذَ مَالَہٗ۔(۲)
ترجمہ : حضرت براء بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا۔ ان کے ہاتھ میں جھنڈا تھا میں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجاہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ (سوتیلی ماں) سے نکاح کرلیا، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن ماردوں اور اس کا مال ضبط کرلوں۔
مستدرک میں ایک روایت جمع کے صیغہ سے بھی منقول ہے:
(۴) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍؓ، قَالَ: مَرَّبِنَا نَاسٌ یَنْطَلِقُوْنَ فَقُلْنَا لَھُمْ اَیْنَ تَذْھَبُوْنَ؟ قَالُوْا: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی رَجُلٍ یَاْتِیْ امْرَأَۃَ اَبِیْہِ اَنْ نَقْتُلَہٗ۔(۳)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاہے کہ ہمارے پاس سے کچھ لوگ باتیں کرتے ہو ئے گزرے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے آدمی کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے جو اپنے باپ کی منکوحہ(سوتیلی ماں)کے پاس جاتاہے(اس سے نکاح کرکے زنا کرتاہے)۔
مُستدرک نے ایک اور روایت نقل کی ہے:
(۵) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍؓ قَالَ: اِنِّی لَاَطُوْفُ عَلٰی اِبِلٍ لِیْ ضَلَّتْ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَبَیْنَا اَنَا اَجُوْلُ فِیْ اَبْیَاتٍ، فَاِذَا اَنَا بِرَکْبٍ وَفَوَارِسَ، جَائُ وْا فَاَطَافُوْا، فَاسْتَخْرَجُوْا رَجُلاً، فَمَا سَأَلُوْہٗ وَلاَ کَلَّمُوْہٗ حَتّٰی ضَرَبُوْا عُنُقُہٗ، فَلَمَّا ذَھَبُوْا، سَأَلْتُ عَنْہٗ، قَالُوْا: عَرَسَ بِاِمْرَأَۃِ اَبِیْہِ۔(۴)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ عہد رسالت میں میرے اونٹ گم ہوگئے میں ان کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم پھررہاتھا کہ اچانک کیا دیکھتاہوں کہ کچھ لوگ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر آئے۔ ادھراُدھر گھومے پھرے پھر انہوں نے ایک آدمی کو باہر نکالا، نہ اس سے انہوں نے کوئی استفسار کیا اور نہ کسی قسم کی گفتگو کی بس پکڑتے ہی اسے قتل کردیا۔ اس واردات کے بعد جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے مقتول کے بارے میں لوگوں سے پوچھا انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے نکاح کیا تھا۔
ابوداؤد میں مروی روایت:
(۶) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، بَیْنَا اَنَا اَطُوْفُ عَلٰی اِبِلٍ لِّیْ ضَلَّتْ، اِذْ اَقْبَلَ رَکْبٌ اَوْفَوَارِسُ مَعَھُمْ لِوَائٌ، فَجَعَلَ الْاَعْرَابُ یُطِیْفُوْنَ بِیْ لِمَنْزِلَتِیْ مِنَ النَّبِیِّ ﷺ اِذْ اَتَوْا قُبَّۃً، فَاسْتَخْرَجُوْا مِنْھَا رَجُلاً فَضَرَبُوْا عُنُقَہٗ، فَسَأَلْتُ عَنْہُ فَذَکَرُوْا اَنَّہٗ اَعْرَسَ بِامْرَأَۃِ اَبِیْہِ۔(۵)
ترجمہ : حضرت براء کا بیان ہے کہ میں اپنے گم شدہ اونٹوںکی تلاش میں اِدھر ُادھر گھومتا پھررہاتھا کہ اچانک اونٹوں یا گھوڑوں پر سوار لوگ جن کے ہاتھوںمیں جھنڈا تھا میرے سامنے آئے، رسول اللہ ﷺ سے مجھے جو مرتبہ ومقام نصیب تھا اس کی وجہ سے یہ لوگ اپنے ساتھ مجھے بھی ادھر ادھر گردش کراتے رہے کہ وہ گنبد نما خیمہ کے پاس آئے، اس میں سے انہوں نے ایک آدمی کو باہر نکالا اور اس کی گردن ماردی۔ میں نے انہی سے اس مرد کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔
ترمذی اور المصنف دونوںکی براء بن عازب سے روایت :
(۷) بَعَثَنِی النَّبِیُّ ﷺ اِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ اَبِیْہِ، تَاْمُرَنِیْ أَنْ أقْتُلَہٗ۔(۶)
تشریح : اسلامی قانون میں یہ فعل فوجداری جرم ہے اور قابل دست اندازی پولیس ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور مسندِ احمد میں یہ روایت ملتی ہے کہ نبی ﷺ نے اس جرم کاارتکاب کرنے والوں کو موت اور ضبطی جائداد کی سزادی ہے۔
فقہاء کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہے امام احمدؒتو اسی بات کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے اور اس کا مال ضبط کرلیا جائے۔ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر اس نے محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کیا ہوتو اس پر حد زنا جاری ہوگی اور اگر نکاح کیا ہو تو اسے سخت عبرتناک سزادی جائے گی۔ (تفہیم القرآن،ج۱، النساء ،حاشیہ:۳۳)
خالہ بھانجی اور پھوپھی بھتیجی کا ایک مرد کے نکاح میں ہونا
کتابیہ سے نکاح
۳۱۔ اِنَّھَا لاَ تُحْصِنْکَ۔
’’وہ تجھے محصن نہیں بناسکتی۔‘‘
تخریج: نَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ اَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ ابْنِ الْجُنَیْدِ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْھَیْثَمِ ابْنِ خَالِدِ الطِّیْبِیُّ، قَالاَ:نَاالْحُسَیْنُ بْنُ عَرَفَۃَ، نَاعِیْسٰی بْنُ یُونُسَ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّہٗ اَرَادَ اَنْ یَتَزَوَّجَ یَھُوْدِیَّۃً اَوْنَصْرَانِیَّۃً، فَسَاَلَ النَّبِیَّﷺ عَنْ ذٰلِکَ، فَنَھَاہُ عَنْھَا، وَقَالَ: اِنَّھَا لاَتُحْصِنْکَ۔(۱۵)
ترجمہ :حضرت کعب بن مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کرنا چاہا تو اس بارے میں نبی ﷺ سے دریافت کیا ۔آپ نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمادیا اور کہا کہ یہ تجھے محصن نہیں بناسکتی۔
ـــــــابوبکر بن مریم ضعیف۔ وعلی بن ابی طلحۃ لم یدرک کعباً۔
ـــــــ رواہ ابن ابی شَیبَۃ فی مصنفہ، ومن طریقہ الطبرانی فی معجمہ، وابن عدی فی الکامل من طریق ابی بکر بن ابی مریم الی آخر ھذا السند۔ قال ابن عدی: ابوبکر بن ابی مریم بکیر الغسانی، الغالب علی حدیثہ الغرائب، قَلّ مایوافقہ علیھا الثقات، وھو ممن لایحتج بحدیثہ۔ وتکتب احادیثہ فانھا صالحۃ انتھی۔ واخرجہ ابوداؤد فی المراسیل عن بقیۃ بن الولید عن عتبۃ بن الولید، عن علی بن ابی طلحۃ، عن کعب بن مالک بہ فذکرہ۔
ـــــــ قال ابن القطان فی کتابہ: ھذا حدیث ضعیف، ومنقطع، فانقطاعہ فیما بین علی بن ابی طلحۃ وکعب بن مالک، وضعفہ من جھۃ عتبۃ بن تمیم، فانہ ممن لایعرف حالہ۔ وقد رواہ عنہ بقیۃ وھو ممن عرف ضعفہ، ولایعرف روی عن عتبۃ بن تمیم الا بقیۃ واسماعیل۔ قال فی التنقیح وعتبۃ وثقہ ابن حبان، انتھی۔ وقال عبد الحق فی احکامہ: لااعلم احدا رواہ عن علی بن ابی طلحۃ غیر عتبۃ بن تمیم وابی بکر بن ابی مریم، وھو ضعیف الاسناد ومنقطع انتھی۔وقال البیھقی فی المعرفۃ: ھذا حدیث یرویہ ابوبکر بن ابی مریم وھو ضعیف عن علی بن ابی طلحۃ عن کعب بن مالک وھو منقطع فان علیا لم یدرک کعبا۔(۱۶)
پس منظر: کعب بن مالکؓ نے ایک کتابیہ سے نکاح کرنا چاہا تو آپ نے ان الفاظ میں ان کو منع فرمایا۔
تشریح : مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں دونوں کے درمیان وہ مودت ورحمت نہ ہوگی جو احصان کی اصل روح ہے۔
(حقوق الزوجین، قانون ازدواج: غیر۔۔۔)
منکوحہ کتابیہ کے لیے آزادیٔ عمل کے حدود
اہل کتاب کی جن عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دی گئی ہے، ان کے بارے میں قرآن مجید دوشرطیں لگاتاہے۔ ایک یہ کہ وہ محصنات (پاک دامن) ہوں، دوسرے یہ کہ ان سے نکاح کرکے ایک مسلمان خود اپنے ایمان کو خطرے میں نہ ڈال بیٹھے (ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ :۵) ۔ان شرائط کی رو سے فاسق وفاجر کتابیات کے ساتھ شادی جائز نہیں ہے۔ اور یہ دیکھنا ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جس عورت سے وہ شادی کررہاہے وہ اس کے گھر میں، اس کے خاندان میں، اور اس کے بچوں میں ایسے افعال رائج کرنے کی موجب نہ بنے جو اسلام میں حرام ہیں۔ بلاشبہ وہ اسے مذہب ترک کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا، اس کو چرچ جانے سے نہیں روک سکتا، مگر اسے شادی سے پہلے ہی یہ شرط کرلینی چاہیے کہ وہ اس کی زوجیت میں آنے کے بعد شراب، سور کے گوشت اور دوسری حرام چیزوں سے اجتناب کرے گی۔ ایسی شرط پہلے ہی طے کرلینے کا اسے حق بھی ہے اور ایسا کرنا اس کا فرض بھی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سخت تساہل کرنے والا آدمی ہے۔ اس کے بعد اگر اس کی اپنی اولاد ان حرام افعال میں مبتلا ہو (اور ظاہر ہے کہ اولاد کا ماں سے متاثر نہ ہونا متوقع نہیں ہوسکتا) تو اس کی ذمہ داری میں وہ بھی شریک ہوگا۔ (رسائل ومسائل سوم،فقہی مسائل: منکوحہ۔۔۔)
شہد اورحضرت ماریہؓ کا واقعہ
۳۲۔ایک روز رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہؓ کے مکان میں تشریف لے گئے اور وہ گھر پر موجود نہ تھیں۔ اس وقت حضرت ماریہ آپؐ کے پاس وہاں آگئیں اور تخلیہ میں آپ کے ساتھ رہیں۔ حضرت حفصہؓ کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے حضورؐ سے اس کی سخت شکایت کی۔ اس پر آپ نے ان کو راضی کرنے کے لیے ان سے عہد کرلیا کہ آئندہ ماریہ سے کوئی ازدواجی تعلق نہ رکھیں گے۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا (اور بعض میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے اس پر قسم بھی کھائی تھی)۔
تخریج:(۱) نَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، نَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ شَبِیْبٍ، حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِیْ اَبُوالنَّصْرِ مَوْلٰی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِاُمِّ وَلَدِہٖ مَارِیَۃَ فِیْ بَیْتِ حَفْصَۃَ، فَوَجَدَتْہُ حَفْصَۃُ مَعَھَا۔ فَقَالَتْ لَہٗ: تَدْخُلُھَا بَیْتِیْ، مَاصَنَعْتَ بِیْ ھٰذَا مِنْ بَیْنِ نِسَآئِکَ اِلاَّ مِنْ ھَوَانِیْ عَلَیْکَ، فَقَالَ: لاَتَذْکُرِیْ ھٰذَا لِعَائِشَۃَ، فَھِیَ عَلَیَّ حَرَامٌ اِنْ قَرَبْتُھَا، قَالَتْ حَفْصَۃُ: وَکَیْفَ تُحَرِّمُ عَلَیْکَ وَھِیَ جَارِیَتُکَ فَحَلَفَ لَھَا لاَیَقْرَبُھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لاَتَذْکُرِیْہِ لِاَحَدٍ، فَذَکَرَتْہُ لِعَائِشَۃَ، فَآلٰی لاَیَدْخُلُ عَلٰی نِسَائِہِ شَھْرًا، فَاعْتَزَلَھُنَّ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: لِمَ تُحَرِّمُ مَآاَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ الْاٰیَۃَ۔ قَالَ وَالْحَدِیْثُ بِطُوْلِہٖ طَوِیْلٌ۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ماریہ کے ساتھ حضرت حفصہؓ کے حجرے میں تخلیہ فرمایا۔ حضرت حفصہؓ نے آپ کو ماریہ کے ساتھ پایا تو عرض کیا، میرے گھر میں اس سے دخول کیاہے،آپ نے اپنی بیویوں کے درمیان میرے ساتھ ایسا کیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ میری آپ کے نزدیک کوئی قدرو اہمیت نہیں (یہ تو میری توہین ہے) آپ نے فرمایا، عائشہ سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ پس اگر اب اس کے قریب جاؤں تو یہ مجھ پر حرام۔ حفصہؓ نے کہا آپ اسے اپنے اوپر حرام کیسے قرار دیتے ہیں جب کہ وہ تو لونڈی ہے۔ پس آپ نے حفصہؓ کے لیے قسم کھائی کہ وہ ماریہ کے قریب نہیں جائیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایاکہ کسی سے بھی اس کا ذکر نہ کرنا، مگر حفصہ ؓنے حضرت عائشہؓ کو بتادیا، توآپ نے ایک ماہ تک بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی اور ایک کم تیس دن بیویوں سے الگ رہے اللہ تعالیٰ نے لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ آیت نازل فرمادی۔
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَجَدَتْ حَفْصَۃُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَعَ اُمِّ اِبْرَاھِیْمَ فِیْ یَوْمِ عَائِشَۃَ، فَقَالَتْ: لَاَخْبَرْتُھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ھِیَ عَلَیَّ حَرَامٌ، اِنْ قَرَبْتُھَا، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَۃَ بِذَالِکَ، فَاَعْلَمَ اللّٰہُ عَزَّوْجَلَّ رَسُوْلَہٗ بِذٰلِکَ فَعَرَّفَ حَفْصَۃَ بَعْضَ مَا قَالَتْ، قَالَتْ لَہٗ: مَنْ اَخْبَرَکَ؟ قَالَ: نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ، فَآلٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ نِّسَآئِہِ شَھْرًا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا الْآیَۃَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ: مَنِ اللَّتَانِ تَظَاھَرَتَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقَالَ: حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ۔(۱۸)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ حضرت حفصہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت عائشہؓ کی باری کے دن ام ابراہیم کے ساتھ پایا، تو وہ بولیں کہ میں اس کی اطلاع عائشہ کو دوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایااگرمیں اس کے قریب جاؤں تو وہ مجھ پر حرام ۔ اس کی اطلاع انہوں نے حضرت عائشہؓ کو کردی، اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو مطلع فرمادیا۔ حفصہؓ نے جو کچھ کہا اس کے کچھ حصہ سے نبی ﷺ نے حفصہؓ کو باخبر کیا تو حفصہؓ نے آپ سے پوچھاآپ کو کس نے خبردی؟ فرمایا مجھے علیم وخبیر (اللہ تعالیٰ) نے خبردی ہے۔ اس کے بعد آپ نے اپنی بیویوں کے پاس ایک ماہ نہ جانے کی قسم کھالی تو اللہ تعالیٰ نے اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَاالآیۃنازل فرمائی۔ ابن عباس نے کہا میں نے حضرت عمرؓسے سوال کیا، جن دوعورتوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جتھہ بندی کی تھی وہ کون تھیں؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ وہ حفصہؓ اور عائشہؓ تھیں۔
(۳) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیْمِ الْبَرَقِیُّ، قَالَ: ثَنِیْ ابْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْغَسَّان، قَالَ: ثَنِیْ زَیْدُ ابْنُ اَسْلَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَصَابَ اُمَّ اِبْرَاھِیْمَ فِیْ بَیْتِ بَعْضِ نِسَآئِہِ، قَالَ: فَقَالَتْ: اَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ بَیْتِیْ وَعَلٰی فِرَاشِیْ؟ فَجَعَلَھَا عَلَیْہِ حَرَامًا، فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ تُحَرِّمُ عَلَیْکَ الْحَلاَلَ؟ فَحَلَفَ لَھَا بِاللّٰہِ لاَیُصِیْبُھَا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآاَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاۃَ اَزْوَاجِکَ۔(۱۹)
ترجمہ : زید بن اسلم نے بیان کیا کہ رسول ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے ہاں ام ابراہیم سے ازدواجی تعلق قائم کیا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس بیوی نے شکایت کی، اے اللہ کے رسول! میرے گھر میں میرے ہی بستر پر آپ نے یہ کیا۔ تو حضور ﷺ نے ام ابراہیم کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا۔ توانہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ اپنے اوپر حلال کو حرام کیسے کرسکتے ہیں؟تو اپنی بیوی کی خوشنودی کی خاطر اللہ کے نام کی قسم کھائی کہ اس سے ازدواجی تعلق نہیں رکھیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمادی۔’’اے نبی آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کیاہے،اپنی ازواج کی رضامندی کے لیے؟‘‘
(۴) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: ثَنَا اَبِیْ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ مَنِ الْمَرْأَتَانِ؟ قَالَ:عَائِشَۃُ وَحَفْصَۃُ۔ وَکَانَ بَدَأَ الْحَدِیْثَ فِیْ شَانِ اُمِّ اِبْرَاھِیْمَ الْقِبْطِیَّۃِ اَصَابَھَا النَّبِیُّ ﷺ فِیْ بَیْتِ حَفْصَۃَ فِیْ یَوْمِھَا، فَوَجَدَتْہُ حَفْصَۃُ، فَقَالَتْ:یَانَبِیَّ اللّٰہِ لَقَدْ جِئْتَ اِلَیَّ شَیْئًا مَاجِئْتَ اِلٰی اَحَدٍ مِنْ اَزْوَاجِکَ بِمِثْلِہِ فِیْ یَوْمِیْ وَفِیْ دَوْرِیْ وَعَلٰی فِرَاشِیْ، قَالَ: اَلاَ تَرضِیْنَ اَنْ اُحَرِّمَھَا فَلاَ اَقْرُبَھَا؟ قَالَتْ: بَلٰی، فَحَرَّمَھَا، وَقَالَ: لاَتَذْکُرِیْ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ، فَذَکَرَتْہُ لِعَائِشَۃَ، فَاَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاۃَ اَزْوَاجِکَ الْآیَاتِ کُلِّھَا۔ فَبَلَغْنَا اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ کَفَّرَ یَمِیْنَہٗ وَاَصَابَ جَارِیَتَہٗ۔ (۲۰)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے عمر بن خطاب سے دریافت کیا کہ وہ دو عورتیں کون تھیں؟ (جنہوں نے حضورﷺ کے خلاف جتھہ بندی کی تھی) انہوں نے بتایا کہ وہ عائشہؓ اور حفصہؓ تھیں اور ساتھ ہی انہوںنے ام ابراہیم قبطیہ کا معاملہ بیان کرنا شروع کیا، جن سے رسول اللہﷺ نے حفصہؓ کے گھر ان کی باری کے دن ازدواجی تعلق قائم کیا تھا۔ حفصہؓ کو یہ ناگوار گزرا ،چنانچہ وہ بولیں اے اللہ کے نبیؐ آپ نے میری باری کے دن، میرے گھر پر اور میرے ہی بستر پر ایسا فعل کیاہے جو کسی دوسری بیوی کے ہاں نہیں کیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا توراضی ہوگی کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرلوں اور اس کے قریب بھی نہ جاؤں؟ وہ بولیں ہاں!آپ نے ام ابراہیم کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا اور اس بیوی سے کہا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا، مگر اس نے عائشہؓ سے اس کا ذکر کردیا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اس کو ظاہر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمادی کہ’’ اے نبی! جو چیز تمہارے لیے حلال ہے اس کو تم اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہو، اپنی بیویوں کی رضامندی وخوشنودی کی خاطر؟‘‘ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا فرمایا اور اپنی لونڈی سے تخلیہ فرمایا۔
۳۳۔رسول اللہ ﷺ بالعموم ہرروز عصر کے بعدتمام ازواج مطہرات کے ہاں چکر لگاتے تھے، ایک موقع پر ایسا ہوا کہ آپ حضرت زینبؓ بنت جحش کے ہاں جاکر زیادہ دیر تک بیٹھنے لگے، کیونکہ ان کے ہاں کہیں سے شہد آیا ہواتھا، اور حضورؐ کو شیرینی بہت پسند تھی، اس لیے آپ ان کے ہاں شہد کا شربت نوش فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ مجھے اس پر رشک لاحق ہوا اور میں نے حضرت حفصہؓ، حضرت سودہؓ اور حضرت صفیہ ؓ سے مل کر یہ طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ آئیں وہ آپ سے یہ کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بوآتی ہے۔ مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتاہے جس میں کچھ بساند ہوتی ہے اور اگر شہد کی مکھی اس سے شہد حاصل کرلے تو اس بساند کا اثر آجاتاہے۔ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ حضورؐ نہایت نفاست پسند ہیں اور آپ کو اس سے سخت نفرت ہے کہ آپ کے اندر کسی قسم کی بدبوپائی جائے اس لیے آپ کو حضرت زینبؓ کے ہاں ٹھیرنے سے روکنے کی خاطر یہ تدبیر کی گئی اور یہ کارگر ہوئی۔ جب متعدد بیویوں نے آپؐ سے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بوآتی ہے توآپؐ نے عہدکرلیا کہ اب یہ شہد استعمال نہیں فرمائیں گے (ایک روایت میں آپؐ کے الفاظ یہ ہیں کہفَلَنْ اَعُوْدَ لَہٗ وَقَدْ حَلَفْت’’اب میں ہرگز اسے نہ پیونگا، میں نے قسم کھالی ہے۔‘‘ دوسری روایت میں صرف فَلَنْ اَعُوْدَ لَہٗ کے الفاظ ہیں، وَقَدْ حَلَفْتُ کا ذکر نہیں ہے۔ اور ابن عباسؓ سے جوروایت ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیںوَاللّٰہِ لاَ اَشرَبُہ ’’خدا کی قسم میں اسے نہ پیوں گا‘‘)۔
تشریح : (گویا کہ حضورؐ نے اللہ کی حلال کردہ ایک شے کو خود اپنی کسی خواہش کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی بیویوں کے کہنے پر اپنے لیے حرام کرلیاتھا اس سلسلے میں محدثین ومفسرین نے یہ دومختلف واقعات بیان کیے ہیں۔ پہلا واقعہ حضرت ماریہ قبطیہ کا ہے اور دوسرا واقعہ یہ کہ آپ نے شہد استعمال نہ کرنے کا عہد کرلیا تھا)۔ حضرت ماریہؓ کا قصہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جو خطوط اطراف ونواح کے بادشاہوں کو بھیجے تھے ان میں سے ایک اسکندریہ کے رومی بطریق (Patriarch)کے نام بھی تھا جسے عرب مَقُوقِسْ کہتے تھے۔ حضرت حاطبِ بن ابی بَلتَعَہ یہ نامۂ گرامی لے کر جب اس کے پاس پہنچے تو اس نے اسلام توقبول نہ کیا مگر ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا اور جواب میں لکھا کہ ’’مجھے یہ معلوم ہے کہ ایک نبی آنا ابھی باقی ہے لیکن میرا خیال یہ ہے کہ وہ شام میں نکلے گا۔ تاہم میں آپ کے ایلچی کے ساتھ احترام سے پیش آیاہوں اور آپ کی خدمت میں دولڑکیاں بھیج رہاہوں جو قبطیوں میں بڑا مرتبہ رکھتی ہیں (ابن سعد)۔ ان لڑکیوں میں سے ایک سیرین تھیں اور دوسری ماریہ (عیسائی حضرت مریم کو ماریہ Maryکہتے ہیں)۔ مصر سے واپسی پر راستہ میں حضرت حاطب نے دونوں کے سامنے اسلام پیش کیا اور وہ ایمان لے آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے سیرین کو حضرت حسان بن ثابت کی مِلک یمین میں دے دیا اور حضرت ماریہ کو اپنے حرم میں داخل کرلیا۔ ذی الحجہ ۸ھ میں انہی کے بطن سے حضورؐ کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے (الاَستِیعاب، اِلاصابہ) یہ خاتون نہایت خوبصورت تھیں۔حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کے متعلق حضرت عائشہؓ کا یہ قول نقل کیاہے کہ’’مجھے کسی عورت کا آنا اس قدر ناگوار نہ ہو اجتنا ماریہ کا آنا ہوا تھاکیو نکہ وہ حسین وجمیل تھیں اور حضورؐ کو بہت پسند آئی تھیں۔‘‘
اکابر اہل علم نے ان دونوں قصّوں میں سے دوسرے قصے کو صحیح قرار دیا اور پہلے قصے کو ناقابل اعتبار ٹھیرایا ہے، امام نسائی کہتے ہیں کہ ’’شہد کے معاملہ میں حضرت عائشہؓ کی حدیث نہایت صحیح ہے اور حضرت ماریہؓکو حرام کرلینے کا قصہ کسی عمدہ طریقہ سے نقل نہیں ہوا ہے۔‘‘ قاضی عیاض قاضی ابوبکر ابن العربی بھی شہدہی کے قصے کو صحیح قراردیتے ہیں اور یہی رائے امام نووی اور حافظ بدر الدین عینی کی ہے۔ ابن ہُمام فتح القدیر میں کہتے ہیں کہ ’’شہد کی تحریم کا قصہ صحیحین میں خود حضرت عائشہؓ سے مروی ہے جن کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا، اس لیے یہی زیادہ قابل اعتبار ہے۔‘‘ حافظ ابن کثیر بھی اسی کے حامی ہیں۔
(تفہیم القرآن،ج۶، التحریم، حاشیہ: ۲)
لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنا
۳۴۔ اَیُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ عِنْدَہٗ وَلِیْدَۃٌ، فَعَلَّمَھَا، فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا، وَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبَھَا ثُمَّ اعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔
’’جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس کو خوب اچھی تعلیم دے، اور اس کو اچھا ادب سکھائے پھر اس کو آزاد کردے اور اس کے بعد خود اس سے نکاح کرلے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا ۔‘‘ (بخاری)
ابوبردہ کے والدکی دوسری حدیث میں ہے کہ اَعْتَقَھَا ثُمَّ اَصْدَقَھَا ’’یعنی اس کو آزاد کرکے مہر دے کر اس کے ساتھ نکاح کرے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَامُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ:حَدَّثَنَاعَبْدُالْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحِ نِالْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْبُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ عِنْدَہٗ وَلِیْدَۃٌ، فَعَلَّمَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا، وَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبَھَا ثُمَّ اعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۱)
مسلم نے ابوموسیٰ سے مختصر روایت بیان کی ہے:
(۲) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:فِی الَّذِیْ یُعْتِقُ جَارِیَتَہٗ ثُمَّ یَتَزَوَّجُھَا لَہٗ اَجْرَانِ۔ (۲۲)
ابوموسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:
(۳)قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:ثَلاَثَۃٌ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَرَّتَیْنِ، عَبْدٌ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ،فذَالِکَ یُؤْتٰی اَجْرَہٗ مَرَّتَیْنِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہٗ جَارِیَۃٌ وَضِیْئَۃٌ فَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ اَدَبَھَا، ثُمَّ اَعْتَقَھَا، ثُمَّ تَزَوَّجَھَا یَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ، فَذٰلِکَ یُؤتٰی اَجْرَہٗ مَرَّتَیْنِ، وَرَجُلٌ اٰمَنَ بِالْکِتَابِ الْاَوَّلِ ثُمَّ جَآئَ ہٗ الْکِتَابُ الْاٰخَرُ فَاٰمَنَ بِہِ، فَذٰلِکَ یُوْتٰی اَجْرَہٗ مَرَّتَیْنِ۔(۲۳)
ترجمہ :حضرت ابوموسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تین آدمی ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک وہ غلام جس نے اپنے خالق، اللہ کا حق بھی ادا کیا اور اپنے مالکوں کا حق بھی، پس یہ وہ شخص ہے جسے دگنا اجر دیاجائے گا۔ اور وہ آدمی جس کے پاس خوبصورت لونڈی ہے اس نے اسے اچھا ادب سکھایا پھر آزاد کرکے اس سے صرف اپنے اللہ کی خوشنودی کی خاطر نکاح کرلیا پس اسے بھی دوہرا اجر دیاجائے گا۔ اور ایک وہ آدمی جو پہلی کتاب پر بھی ایمان لایا اورجب اس کے پاس آخری کتاب آئی تو اس پر بھی ایمان لے آیا، تو ایسے شخص کو بھی دوہرا اجر دیا جائے گا۔
ابن ماجہ نے ابوموسیٰ سے مندرجہ ذیل الفاظ سے اس روایت کو ذکر کیاہے:
(۴) عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَنْ کَانَتْ لَہٗ جَارِیَۃٌ، فَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ اَدَبَھَا، وَعَلَّمَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا، ثُمَّ اعْتَقَھَا، وَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ الحدیث۔(۲۴)
ترجمہ :حضرت ابوموسیؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس لونڈی ہو، وہ اسے بہترین ادب سکھائے اور عمدہ تعلیم دے پھر اسے آزادی کی نعمت سے سرفراز کرکے اس سے نکاح کرلے اس کے لیے دواجر ہیں۔
حضرت ابوامامہ کی روایت:
(۵) عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَرْبَعَۃٌ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَرَّتَیْنِ اَزْوَاجُ النَّبِیِّ ﷺ، وَمَنْ اَسْلَمَ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہٗ اَمَۃٌ، فَاَعْجَبَتْہٗ فَاَعْتَقَھَا، ثُمَّ تَزَوَّجَھَا، وَعَبْدٌ مَمْلُوْکٌ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ سَادَتِہِ۔(۲۵)
ـــــــ رواہ الطبرانی وفیہ علی بن یزید الالھانی وھو ضعیف وقد وثق۔
ترجمہ :حضرت ابوامامہؓ باہلی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا چار آدمی ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر دیا جائے گا، نبی ﷺ کی ازواج مطہرات، اور وہ شخص جوا ہل کتاب سے تھا اور اب مسلمان ہوگیا، اور وہ شخص جس کے پاس لونڈی ہو، وہ اسے بہت ہی پسند اور محبوب بھی ہو، اسے آزاد کرکے نکاح کرلے۔ اور وہ غلام جس نے اپنے خالق، اللہ کا حق بھی ادا کیا ہو اور اپنے سادات (مالکوں) کا حق بھی پورا کیا ہو۔
۳۵۔اِذَا اَعْتَقَ الرَّجُلُ اَمَتَہٗ ثُمَّ اَمْھَرَھَا مَھْراً جَدِیْداً کَانَ لَہٗ اَجْرَانِ۔
’’جب کسی شخص نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا پھر اس کو جدید مہردے کر اس سے نکاح کیا تو اس کے لیے دواجر ہوں گے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُودَاؤُدَ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ نِالْخَیَّاطُ، عَنْ اَبِیْ حُصَیْنٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِذَا اَعْتَقَ الرَّجُلُ اَمَتَہٗ ثُمَّ اَمْھَرَھَا مَھْرًا جَدِیْدًا کَانَ لَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۶)
ابوداؤد سجستانی میں صرف اتنی روایت ہے:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَنْ اَعْتَقَ جَارِیَتَہٗ وَتَزَوَّجَھَا کَانَ لَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۷)
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرٍ وَحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ اَبِیْ حُصَیْنٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَعْتَقَ الرَّجُلُ اَمَتَہٗ ثُمَّ تَزَوَّجَھَا بِمَھْرٍ جَدِیْدٍ کَانَ لَہٗ اَجْرَانِ۔(۲۸)
(۴) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِالْوَارِثِ، عَنْ شُعَیْبٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَعْتَقَ صَفِیَّۃً وَتَزَوَّجَھَا، وَجَعَلَ عِتْقَھَا صَدَاقَھَا وَاَوْلَمَ عَلَیْھَا بِحَیْسٍ۔(۲۹)
ترجمہ :حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے پہلے حضرت صفیہ کو آزادی بخشی اور پھر ان سے نکاح کیا، اور ان کی اس آزادی کو ہی ان کا مہر قراردیا، اور حَیْس سے دعوتِ ولیمہ کی۔
تشریح :ملک یمین سے مالک کے تمتع کرنے کی تین شکلیں ہیں۔ ایک یہ کہ محض مِلک یمین ہی کو قیدِ نکاح سمجھ کر تمتع کیاجائے۔ دوسری یہ کہ لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کیا جائے اور اس آزادی ہی کو اس کا مہر قرار دیاجائے۔ تیسرے یہ کہ اس کو آزاد کرکے جدید مہر کے ساتھ نکاح ہو۔ نبی ﷺ نے دوسری اور تیسری شکل کو ترجیح دی ہے۔۔۔
خودآنحضرتؐ نے حضرت صفیہؓ اور جویریہؓ کے ساتھ اسی طرح نکاح کیا ہے کہ پہلے ان کو آزاد کیا پھر قید نکاح میں لائے۔ اس باب میں روایا ت مختلف ہیں کہ آپؐ نے جدید مہر ادا کیا تھا یا آزادی ہی کو مہر قراردیا؟ لیکن اغلب یہ ہے کہ آپؐ نے جواز کی دونوں صورتیں ظاہر کرنے کے لیے دونوں طریقوں پر عمل فرمایاہے۔ کسی کو جدید مہر دیاہے اور کسی کی آزادی ہی کو مہر قراردیاہے۔ (تفہیمات دوم،۲۵ :غلاموں۔۔۔)
نکاح شغار ـــــــ ادلے بدلے کا نکاح
عام طورپر ادلے بدلے کے نکاح کا جو طریقہ ہمارے ملک میں رائج ہے وہ دراصل اسی شغار کی تعریف میں آتاہے، جس سے نبی ﷺنے منع فرمایاہے۔ شغار کی تین صورتیں ہیں اور وہ سب ناجائز ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کے بدلے میں اپنی لڑکی دے گا اور ان میں سے ہرایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرارپائے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ شرط تو وہی ادلے بدلے کی ہو مگر دونوں سے برابر برابر مہر (مثلاً ۵،۵ ہزار روپیہ) مقرر کیے جائیں اور محض فرضی طورپر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کرلیاجائے۔ دونوں لڑکیوں کو عملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے۔
۳۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طورپر ہی طے نہ ہو بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طورپر شامل ہو۔
ان تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے گی، شریعت کے خلاف ہوگی۔ پہلی صورت کے ناجائز ہونے پر تو تمام فقہاء کا اتفاق ہے، البتہ باقی دوصورتوں کے معاملہ میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ لیکن مجھے دلائل شرعیہ کی بنا پر یہ اطمینان حاصل ہے کہ یہ تینوں صورتیں شغارِ ممنوع کی تعریف میں آتی ہیں اور تینوں صورتوں میں اس معاشرتی فساد کے اسباب یکساں طورپر موجود ہیں جن کی وجہ سے شغار کو ممنوع قراردیا گیاہے۔ (رسائل ومسائل دوم،فقہی مسائل: نکاح شغار)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ نَاعَبْدُالرَّزَّاقِ، قَالَ: اَنَا مَعْمَرٌعَنْ اَیُّوْبَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لاَشِغَارَ فِی الْاِسْلاَمِ۔(۳۰)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ اَنْ یُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَہٗ عَلٰی اَنْ یُزَوِّجَہُ الاٰخَرُابْنَتَہٗ لَیْسَ بَیْنَھُمَا صَدَاقٌ۔(۳۱)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے نکاح شغار سے منع فرمایاہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی لڑکی کا دوسرے سے اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ بھی اپنی لڑکی کا اس سے نکاح کرے اور دونوں کے مابین مہر نام کی کوئی چیز نہ ہو۔
ابوداؤد نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کیاہے:
(۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنِ الشِّغَارِ۔ زَادَ مُسَدَّدٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ۔ قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا الشِّغَارُ؟ قَالَ:یَنْکِحُ ابْنَۃَ الرَّجُلِ وَیُنْکِحُہُ ابْنَتَہٗ بِغَیْرِ صَدَاقٍ وَیَنْکِحُ اُخْتَ الرَّجُلِ فَیُنْکِحُہٗ اُخْتَہٗ بِغَیْرِ صَدَاقٍ۔(۳۲)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے یقینا شغار سے منع فرمایاہے۔مسدد سے مروی روایت میں ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ شغار کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی دوسرے کی بیٹی سے نکاح کرے اور اپنی بیٹی کا نکاح اس مرد سے کردے بایں طورکہ مہر دونوں کا مقرر نہ کیا گیا۔ اور ایک آدمی دوسرے کی بہن سے نکاح کرے اور اپنی بہن کا نکاح اس مرد سے کردے اوردرمیان میں مہر نام کی کوئی چیز نہ ہو۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ بْنِ فَارِسٍ، ثَنَایَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ ھُرْمُزٍ الْاَعْرَجُ، اَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْعَبَّاسِ اَنْکَحَ عَبْدَالرَّحْمٰنِ ابْنِ الْحَکَمِ ابْنَتَہٗ وَاَنْکَحَہٗ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بِنْتَہٗ، وَکَانَا جَعَلاَ صَدَاقًا۔فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ اِلٰی مَرْوَانَ یَاْمُرُہٗ بِالتَّفْرِیْقِ بَیْنَھُمَا۔ وَقَالَ فِیْ کِتَابِہِ: ھٰذَا الشِّغَارُ الَّذِیْ نَھٰی عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۳۳)
ترجمہ : عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبد الرحمن بن حکم کے ساتھ کردیا، اور عبدالرحمن نے اپنی بیٹی کا اس سے نکاح کردیا دونوں نے مہر بھی مقرر کیا۔ (امیر معاویہ کو جب اس کاعلم ہوا) تو انہوں نے مروان کو حکم دیا کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے اور انہوں نے اپنے مکتوب میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ وہی شغار ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایاہے۔
کیا کافر سے مسلمان ہونے پر سابقہ نکاح برقرار رہ سکتاہے؟
ماخذ
(۱) ابنِ ماجہ کتاب الحدود باب من اتی ذات محرم ومن اتی بھیمۃ٭ترمذی ج۱ ابواب الحدود باب ماجاء فیمن یقول للآخر یا مخنثُ ھذا حدیث لانعرف الا من ھذا الوجہ۔ وابراھیم بن اسماعیل یضعف فی الحدیث ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الحدود باب من اتی بھیمۃ٭المستدرک للحاکم ج۴۔ کتاب الحدود باب من وقع علی ذات محرم فاقتلوہ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ٭کنزالعمال ج۵۔حدیث نمبر ۱۳۱۲۲عن ابن عباس۔
(۲) نسائی ج۶کتاب النکاح۔ نکاح مانکح الاباء٭ابوداؤد ج۴ کتاب الحدود باب فی الرجل یزنی بحریمہ ٭مُسْنَدِ احمد ج۴۔براء بن عازب۔ان دونوں روایتوں میں خالی اور عمی دونوں بیان ہوئے ہیں علامہ ملا علی قاری نے مرقاۃ میں بیان کیاہے کہ ایک کی حیثیت نسبی اور دوسرے کی رضاعی ہوگی۔ السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب النکاح باب ماجاء فی قولِہ تعالٰی (ولاتنکحوا مانکح آبائکم من النساء براء بن عازب انہوں نے اَصَبْتُ عَمِّیْ کے بجائے لَقِیْتُ عَمِّیْ نقل کیاہے۔
(۳) المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح باب ضرب عتق من تزوج امرأۃ ابیہ عن براء بن عازب۔ ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ولم یخرجاہ۔
(۴) حوالہ مذکورہ بالا۔
(۵) ابوداؤد ج۴کتاب الحدود باب فی الرجل یزنی بحریمہ۔
(۶) ترمذی ج۱۔ابواب الحدود باب ماجاء فیمن یقول للآخر یامخنث٭ المصنف لعبد الرزاق ج۶ص۲۷۱،۲۷۲، عن براء بن عازب۔
(۷) بخاری ج۲کتاب النکاح باب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا۔
(۸) مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتھا وخالتھا فی النکاح٭ابوداؤدج۲کتاب النکاح باب مایکرہ ان یجمع بینھن من النساء٭ترمذی ج۱۔ابواب النکاح۔ عن ابن عباس۔ ان النبی نھی ان تزوج المرأۃ علی عمتھا او علی خالتھا٭ابوداؤد نے نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَخَالَتِھَا، وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّتِھَا۔نقل کیاہے٭ نسائی ج۶۔کتاب النکاح۔ باب الجمع بین المرأۃ وعمتھا۔نسائی نے حضرت جابر سے جو روایت نقل کی ہے وہ یہ ہے: عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لاَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِھَا وَلاَعَلٰی خَالَتِھَا۔
(۹) نسائی ج۶۔کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وخالتھا٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی خالتھا۔ عن ابی ھریرۃ٭دارمی کتاب النکاح باب الحال التی یجوز للرجل ان یخطب فیھا ٭مسنداحمد ج۲۔ص۔ ۲۵۵عن ابی ھریرۃ۔
(۱۰) بخاری ج۲کتاب النکاح باب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا٭مسلم ج۱کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتھا اوخالتھا فی النکاح۔ عن ابی ھریرۃ٭نسائی ج۶۔ کتاب النکاح باب الجمع بین المرأۃ وعمتھا۔ عن ابی ھریرۃ٭ مؤطا امام مالک ج۲۔ کتاب النکاح باب مالا یُجمع بینہ من النساء۔
(۱۱) مسلم ج۱۔ کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتھا وخالتھا فی النکاح٭نسائی ج۶۔کتاب النکاح باب الجمع بین المرأۃ وعمتھا۔
(۱۲) مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتھا اوخالتھا فی النکاح۔
(۱۳) ابوداؤد ج۲۔باب مایکرہ ان یجمع بینھن من النساء٭ترمذی ج۱ ابواب النکاح باب ماجاء لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی خالتھا۔ حدیث حسن صحیح٭دارمی کتاب النکاح باب ۸ الحال التی یجوز للرجل ان یخطب فیھا۔
(۱۴) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح باب مایکرہ ان یجمع بینھن من النساء۔
(۱۵) سنن دارقطنی ج۳۔ کتاب الحدود والدیات وغیرھا الحدیث۔
(۱۶) دارقطنی ج۳۔ص۱۴۸، ۱۴۹کاحاشیہ نمبر ۱۲۸ التعلیق المغنی علامہ محمد شمس الحق عظیم آبادی۔
(۱۷) سنن دارقطنی ج۴کتاب الطلاق والخلع والإیلاء وغیرہ، حدیث ۱۲۲۔
(۱۸) سنن دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔
(۱۹) ابن جریر ج۱۲۔ سورۃ التحریم٭ ابن کثیر ج۴۔ سورۃ التحریم۔
(۲۰) ابنِ جریر ج۱۲۔پ:۲۸ التحریم۔ البزار طبرانی بحوالہ فتح القدیر للشَّوکانی ج۵ص۲۵۱،۲۵۲ ابن سعد اور ابنِ مردویہ نے اسے طویل بیان کیاہے اور ابنِ مردویہ نے مختصر روایت بھی ایک دوسری سند سے نقل کی ہے علاوہ ازیں ابن المنذر، الطبرانی اور ابنِ مردویہ نے مختصر الفاظ میں بھی بیان کیاہے٭فتح القدیر للشوکانی ج۵۔ ص۲۵۲٭ ابن کثیر ج۴۔سورۃ التحریم۔
(۲۱) بخاری کتاب النکاح، باب اتخاذ السراری، ومن اعتق جاریۃ ثم تزوجھا٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوج بھا۔
(۲۲) مسلم کتاب النکاح، باب فضیلۃ اعتاقہ امتہٗ ثم یتزوجھا٭ابوداؤد نے بھی اتنی روایت ہی نقل کی ہے البتہ ثم یتزوجھا کے بجائے ویتزوجھا ہے٭ ابوداؤد کتاب النکاح، باب فی الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا۔ ترمذی نے ذرا لمبی روایت ذکر کی ہے۔
(۲۳) ترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی الفضل فی ذلک۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب النکاح باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوج بھا٭نسائی کتاب النکاح، باب عتق الرجل جاریتہ٭مسنداحمد ج۴۔ص۔۴۵عن ابی موسیٰ٭ابوداؤد الطیالسی ج۲ص۶۸۔ قدرے لفظی اختلاف٭نسائی میں ثم یتزوجھا یبتغی بذٰلک کے بعد والی عبارت نہیں ہے۔
(۲۴) ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا٭سنن دارمی ج۲۔ کتاب النکاح باب فضل من اعتق امۃ ثم تزوجھا۔ عن ابی موسیٰ عن ابیہ٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوج بھا۔
(۲۵) مجمع الزوائد بحوالہ طَبَرانی۔ مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح باب فی الذی یعتق امتہ۔
(۲۶) ابوداؤد الطیالسی۔ جز۲۔ص۔۶۸ عن ابی موسیٰ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوج بھا۔
(۲۷) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح باب فی الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا۔
(۲۸) مسند احمد ج۴۔ص۔۲۰۸ عن ابی موسیٰ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوج بھا۔
(۲۹) بخاری کتاب النکاح باب اتخاذ السراری ومن اعتق جاریۃ ثم تزوجھا کے تحت ابوبُردہ عن ابیہ سے اَعْتَقَھَا ثم اصدقھا بہی نقل کیاہے٭ بخاری کتاب النکاح، باب الولیمۃ ولوبشأْۃ٭مسلم کتاب النکاح، باب فضیلۃ اعتاقہ امتہ ثم یتزوجھا٭ابوداؤد کتاب النکاح باب فی الرجل یعتق اَمَتَہٗ ثم یتزوجھا٭تِرْمذی ابواب النکاح، باب فی الرجل یعتق الامۃ ثم یتزوجھا٭حدیث انس بن مالک حدیث حسن صحیح٭نَسائی کتاب النکاح، باب التزویج علی العتق۔ عن محمد بن رافع اس میں جَعَلَ عِتْقَھَا مَھْرَھَا ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا، عن عائشۃ اس نے اَعْتَقَ صَفِیَّۃَ وَجَعَلَ عِتْقَھَا صَدَاقَھَا وَتَزَوَّجَھَا بیان کیاہے۔٭دارمی کتاب النکاح، باب۴۵۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷کتاب النکاح باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا۔٭ابوداؤد الطیالسی جز۹۔ص۔۲۸۳۔عن انس بن مالک ابوداؤد الطیالسی والی روایت بخاری کتاب النکاح باب من جعل عتق الامۃ صداقھا میں موجود ہے۔٭مسند احمد ج۳۔ص۔۹۹،۱۶۵،۱۷۰،۱۸۱،۲۰۳،۲۳۹،۲۴۲، ۲۸۰، ۲۹۱ ٭دارقطنی ج۳۔کتاب النکاح ص۔۲۸۵۔
(۳۰) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب تحریم النکاح الشغار وبطلانہ۔٭ترمذی ج۱۔ابواب النکاح، باب ماجاء من النھی عن نکاح الشغار اس باب میں اَنَس، ابوریحانہ، ابنِ عمر، جابر، معاویہ، ابوھریرہ اور وائل بن حجر سے روایات مروی ہیں۔٭نسائی ج۶۔کتاب النکاح، باب الشغار عن عمران بن حصین اور انس بن مالک۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب النھی عن الشغار۔اس نے ابنِ عمر، ابوھریرہ، اور انس تینوں سے مروی روایت نقل کی ہے۔ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ص۔۲۰۰٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب الشغار۔٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح باب نکاح الشغار۔٭مصنف ابنِ ابی شیبہ ج۲۔۴۔ص۳۸۱ ، عن عمران بن حصین۔
(۳۱) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب الشغار۔٭مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب تحریم النکاح الشغار وبطلانہ ٭ابوداؤدج۲۔کتاب النکاح، باب فی الشغار۔
(۳۲) ابوداؤد نے شغار کی تعریف کونافع کا کلام قراردیاہے۔ نسائی ج۶۔کتاب النکاح، تفسیر الشغار۔٭مؤطا امام مالک ج۲۔کتاب النکاح باب جامع مالایجوز من النکاح (ابن عمر) ٭دارمی کتاب النکاح باب فی النھی عن الشغار(ابن عمرؓ)٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب النکاح باب الشغار۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب الشغار۔٭مصنف ابن ابی شیبہ ج۲۔۴۔کتاب النکاح باب ماقالوا فی نکاح الشغار۔ عن جابر اور ابی ھریرۃ۔
(۳۳) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح باب فی الشغار۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ص۔۲۰۰۔
(۳۴) السنن الکبریٰ ج۷، کتاب النکاح باب من قال لاینفسخ النکاح بینھما باسلامِ احدھما الخ۔
(۳۵) سیرت ابن ھشام ج۳۔۴۔ص۔۴۱۸٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح باب من قال لاینفسخ النکاح بینھما باسلام احدھما الخ۔
(۳۶) ابن ماجہ کتاب النکاح، باب الزوجین یسلم احدھما قبل الآخر۔٭ السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح باب من قال لاینفسخ النکاح بینھما باسلام احدھما الخ۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح۔
(۳۷) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب الی متی ترد علیہ امرأتہ اذا اسلم بعدھا۔٭مسند احمد ج۱۔ص۔۲۱۷عن ابن عباس٭ترمذی ج۱ابواب النکاح، باب ماجاء فی الزوجین المشرکین یُسلم احدھما اس نے وَلَمْ یُحْدِثْ نِکَاحًا نقل کیاہے ھذا حدیث لیس باسنادہ بأس، ولکن لانعرف وجہ الحدیث ولعلہ قد جاء ھذا من قبل داؤد بن الحصین من قبل حفظہ۔٭ترمذی ج۱۔ابواب النکاح، باب ماجاء فی الزوجین المشرکین یُسْلم احدھما۔٭مسنداحمد نے ج۱ص۔۲۶۱پر عن ابن عباس ست سنین نقل کیاہے۔٭ابنِ ماجہ نے کتاب النکاح، باب الزوجین یُسْلِمُ احدھما قبل الآخر بعد سنتین بنکاح الاول بھی نقل کیاہے۔٭ابن ماجہ کی روایت میںبمھر جدید کے الفاظ نہیں۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی۔ج۷۔ص۔۱۸۷پر ست سنین اور بعد سنتین دونوں روایتیں موجود ہیں۔
(۳۸) مسند احمد ج۲۔ص۔۲۰۸عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ۔ ترمذی نے اس روایت کے متعلق لکھاہے: ـــــــ وحدیث الحجاج عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان النبی ﷺ رد ابنتہٗ علی ابی العاص بن الرَّبِیْع بمھر جدید ونکاح جدید، فقال یزید بن ھارون: حدیث ابن عباس اَجْوَدُ اسناداً والعمل علی حدیث عمرو بن شعیب۔ترمذی ج۱۔ابواب النکاح، باب ماجاء فی الزوجین المشرکین یسلم احدھما۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح، باب الزوجین یسلم احدھما قبل الاخر۔٭ابن ماجہ کی روایت میں بمھر جدید کے الفاظ نہیں۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب من قال لاینفسخ النکاح بینھما باسلام احدھما الخ۔
فصل :۶ ممنوعات (وہ امور جن کی ممانعت ہے) اپنی بیوی سے عمل قومِ لوط
عمل قوم لوط کی سزا
’’ایام‘‘ اور عورت
۴۵۔نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ایام ماہواری میں صرف مباشرت ناجائز ہے، باقی تمام تعلقات عورتوں کے ساتھ اسی طرح رکھے جائیں جس طرح دوسرے دنوں میں ہوتے ہیں۔ اس پر یہودیوں میں شور مچ گیا کہ یہ شخص تو قسم کھا کر بیٹھاہے کہ جو جو کچھ ہمارے ہاں حرام ہے اسے حلال کرکے رہے گا اور جس جس چیز کو ہم ناپاک کہتے ہیں اسے پاک قرار دے گا۔
(تفہیم القرآن ،ج۱، نساء، حاشیہ:۴۹)
تخریج:حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ:نَاعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، قَالَ: نَاحَمَّادُ ابْنُ سَلَمَۃَ قَالَ:نَا ثَابِتٌ عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ الْیَھُوْدَ کَانُوْا اِذاَ حَاضَتِ الْمَرْأَۃُ فِیْھِمْ لَمْ یُؤَاکِلُوْھَا وَلَمْ یُجَامِعُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ، فَسَأَلَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ ﷺ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذیً فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ اِلٰی آخِرِ الْاٰیَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :اِصْنَعُوْاکُلَّ شَیْئٍ اِلاَّ النِّکَاحَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ الْیَھُوْدَ فَقَالُوْا: مَایُرِیْدُ ھٰذَا الرَّجُلُ اَنْ یَدَعَ مِنْ اَمْرِنَا شَیْئًا اِلاَّخَالَفَنَا فِیْہِ الخ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ یہودی اپنے ہاں کی حائضہ عورت کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ گھروں میں ان کے ساتھ اکھٹے رہتے تھے (بلکہ انہیں اچھوت بنادیتے تھے) صحابہ نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت’’پو چھتے ہیں حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو! وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو‘‘ نازل فرمائی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے ساتھ ہر معاملہ کرو مگر مباشرت سے بچو۔ یہ بات یہودتک بھی پہنچ گئی، وہ بولے کہ یہ شخص تو ہمارے کسی معاملہ کو نہیں چھوڑتاسب کی مخالفت کرتاہے۔
تشریح : یہودیوں کے ہاں دستور تھا کہ ایام ماہواری میں عورت کو بالکل پلید سمجھا جاتاتھا۔ نہ اس کا پکایا ہوا کھانا کھاتے، نہ اس کے ہاتھ کا پانی پیتے، نہ اس کے ساتھ ایک فرش پر بیٹھتے بلکہ اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھوجانے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔ ان چند دنوں میں عورت خود اپنے گھر میں اچھوت بن کررہ جاتی تھی۔ یہی رواج یہودیوں کے اثر سے مدینہ کے انصار میں بھی چل پڑا تھا۔ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس کے متعلق سوال کیا گیا۔ جواب میں وہ آیت آئی جو سورہ بقرہ رکوع ۲۸کے آغاز میں درج ہے کہ ’’حائضہ عورت سے الگ رہو اور قریب نہ جاؤ‘‘ مگر اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک فرش پر بیٹھنے یا ایک جگہ کھانا کھانے سے بھی احتراز کیا جائے اور اسے بالکل اچھوت بناکر رکھ دیاجائے جیسا کہ یہود اور ہنود اور بعض دوسری قوموں کا دستور ہے نبیؐ نے اس حکم کی جو توضیح فرمادی ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس حالت میں صرف فعل مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے باقی تمام تعلقات بدستور برقرار رکھے جائیں۔ (تفہیم القرآن، ج۱، البقرہ، حاشیہ: ۲۳۹)
بیویوں کو مارنے کی ممانعت
عورت کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالنا ممنوع
۴۷۔ مَنْ نَظَرَ الٰی فَرْجِ امْرَأَۃٍ حُرِّمَتْ عَلَیْہِ اُمُّھَا وَابْنَتُھَا۔
’’جس شخص نے کسی عورت کے اعضائے صنفی پر نظر ڈالی ہو اس کی ماں اور بیٹی دونوں اس پر حرام ہیں۔‘‘
تخریج:(۱) (وَاَمَّا الَّذِی) یُرْوَی فِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اِذَا نَظَرَ الرَّجُلُ اِلٰی فَرْجِ الْمَرْأَۃِ، حُرِّمَتْ عَلَیْہِ اُمُّھَا وَابْنَتُھَا۔(۱۶)
ـــــــ فَاِنَّہٗ اِنَّمَا رَوَاہُ الْحَجَّاجُ بْنُ اَرْطَاۃٍ عَنْ اَبِیْ ھَانِیٍٔ اَوْاُمِّ ھَانِئیٍ عَنِ النَّبِیِّﷺ۔وَھٰذَا مُنْقَطَعٌ وَمَجْھُوْلٌ وَضَعِیْفٌ، اَلْحَجَّاجُ بْنُ اَرْطَاۃٍ لاَ یَحْتَجُّ بِہٖ فِیْمَا یُسْنِدُہٗ، فَکَیْفَ بِمَا یُرْسِلُہٗ عَمَّنْ لاَّیَعْرِفُ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔
(۲) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیْدِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ اَبِیْ ھَانِیئٍ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ نَظَرَ اِلٰی فَرْجِ امْرَأَۃٍ لَمْ تَحِلَّ لَہُ اُمُّھَا وَلاَ ابْنَتُھَا۔(۱۷)
۴۸۔ لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ اِلٰی رَجُلٍ نَظَرَ اِلٰی فَرْجِ امْرَأَۃٍ وَابْنَتِھَا۔
’’خدا اس شخص کی صورت دیکھنا پسند نہیں کرتا جو بیک وقت ماں اور بیٹی دونوں کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالے۔ ‘‘
تخریج :(۱) نَا اَبُوْبَکْرٍ نِالشَّافِعِیُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نَا مُعَلّٰی، نَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ، لاَیَنْظُرُاللّٰہُ اِلٰی رَجُلٍ، نَظَرَ اِلٰی فَرْجِ امْرَأَۃٍ وَابْنَتِھَا۔(۱۸)
ـــــــ وَھٰذَا اَیْضًا ضَعِیْفٌ اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیْہُ قَالَ: قَالاَ اَبُوالْحَسَنِ اَلدَّارُ قُطْنِیْ اَلْحَافِظُ رَحِمَہٗ اللّٰہُ۔ ھٰذَا مَوْقُوْفٌ وَلَیْثٌ وَحَمَّادٌ ضَعِیْفَانِ۔
(۲) رَوٰی حَمَّادٌ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: لاَیَنْظُرُ اللّہُ اِلٰی رَجُلٍ نَظَرَ اِلٰی فَرْجِ امْرَأَۃٍ وَابْنَتِھَا۔(۱۹)
تشریح : ماں کا اطلاق سگی اور سوتیلی، دونوں قسم کی ماؤں پر ہوتاہے اس لیے دونوں حرام ہیں۔ یعنی اسی حکم میں باپ کی ماں اور ماں کی ماں بھی شامل ہے۔اس امرمیں اختلاف ہے کہ جس عورت سے باپ کا ناجائز تعلق ہوچکاہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے یا نہیں۔ سلف میں سے بعض اس کی حرمت کے قائل نہیں ہیں اور بعض اسے بھی حرام قراردیتے ہیں۔ بلکہ ان کے نزدیک جس عورت کو باپ نے شہوت سے ہاتھ لگایا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے۔ اسی طرح سلف میں اس امر پر بھی اختلاف رہاہے کہ جس عورت سے بیٹے کا ناجائز تعلق ہوچکاہو وہ باپ پر حرام ہے یا نہیں اور جس مرد سے ماں یا بیٹی کا ناجائز تعلق رہاہو یا بعد میں ہوجائے اس سے نکاح ماں اور بیٹی دونوں کے لیے حرام ہے یا نہیں۔ اس باب میں فقیہانہ بحثیں بہت طویل ہیں، مگر یہ بات بادنیٰ تامل سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی شخص کے نکاح میں ایسی عورت کا ہونا جس پر اس کا باپ یا اس کا بیٹا بھی نظر رکھتاہو یا جس کی ماں یا بیٹی پر بھی اس کی نگاہ ہو ایک صالح معاشرت کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہوسکتا شریعت الہٰی کا مزاج اس معاملہ میں ان قانونی موشگافیوں کو قبول نہیں کرتا جن کی بنا پر نکاح اور غیر نکاح اور قبل نکاح اور بعد نکاح اور لَمس اور نظر وغیرہ میں فرق کیا جاتاہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ خاندانی زندگی میں ایک ہی عورت کے ساتھ باپ اور بیٹے کے یا ایک ہی مرد کے ساتھ ماں اور بیٹی کے شہوانی جذبات کاوابستہ ہونا سخت مفاسد کا موجب ہے اور شریعت اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتی۔
(تفہیم القرآن، ج۱،النساء، حاشیہ: ۳۴)
استمنا بالیدکا شرعی حکم
حضرت حوّاؑ کی پیدائش
۵۲۔اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَا وَاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِھَا اِسْتَمْتَعْتَ بِھَا وَفِیْھَا عِوَجٌ۔ (بخاری ومسلم)
’’عورت پسلی کے مانند ہے اگر تو اسے سیدھا کرے گا تو توڑدے گا اور اگر اس سے فائدہ اٹھائے گا تو اس کے اندر کجی باقی رہتے ہوئے ہی اس سے فائدہ اٹھا سکے گا۔‘‘
یہ الفاظ بخاری، کتاب النکاح والی روایت کے ہیں، دوسری روایت میں جو امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں نقل کی ہے اس کے الفاظ ہیں فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ۔ ’’کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔‘‘ اس صورت میں المرأۃ سے ہرعورت اور عورتوں کی پوری صنف ہوگئی نہ کہ وہ ایک خاص عورت جو سب سے پہلے پیدا کی گئی۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَا وَاِنْ اِسْتَمْتَعْتَ بِھَا اِسْتَمْتَعْتَ بِھَا وَفِیْھَا عِوَجٌ۔(۲۲)
مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :اِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِیْمَ لَکَ عَلٰی طَرِیْقَۃٍ، فَاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِھَا وَبِھَا عِوَجٌ، وَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُھَا کَسَرْتَھَا وَکَسْرُھَا طَلاَقُھَا۔(۲۳)
۵۳۔اسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا فَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ شَـْیئٍ فِی الضِّلَعِ اَعْلاَہُ، فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ تَکْسِرْہُ وَاِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا۔
’’عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو کیونکہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہوتاہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو توڑدے گا اور اگر چھوڑدے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہٰذا عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْجُعْفِیُّ، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنْ مَیْسَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِفَلاَیُوْذِیْ جَارَہٗ، وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا فَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ شَـْیئٍ فِی الضِّلَعِ اَعْلاَہُ، فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَاِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا۔(۲۴)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ وَمُوْسٰی بْنُ حِزَامٍ، ثَنَاحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنْ مَیْسَرَۃَ الْاَشْجَعِیِّ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا، فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ شَـْیئٍ فِی الضِّلْعِ اَعْلاَہُ، فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَاِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ۔(۲۵)
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، فَاِذَا شَھِدَ اَمْرًا فَلْیَتَکَلَّمْ بِخَیْرٍ اَوْلِیَسْکُتْ وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا، فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضلَعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ شَـْیئٍ فِی الضِّلَعِ اَعْلاَہُ اِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَاِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ۔(۲۶)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا ،جو شخص اللہ پر ایما ن اور یوم آخر پر یقین رکھتاہو اسے جب کسی معاملہ میں شہادت دینی پڑے تو پھر اسے ٹھیک بات کرنی چاہیے ورنہ خاموش رہے۔ اور عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہوتاہے۔اگر تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو توڑدے گا اور اگر چھوڑدے تو وہ ٹیڑھی رہے گی۔ لہذا عورتوں کے معاملہ میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو۔
تشریح : قرآن مجید میں کسی جگہ بھی یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت حوا کو آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیاتھا۔ زیادہ سے زیادہ اس خیال کی تائید میں جو چیز پیش کی جاسکتی ہے وہ قرآن کا یہ ارشاد ہے کہخَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا۔ (النساء:۱) اورجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا (الاعراف :۱۸۹) لیکن ان دونوں آیتوں میں مِنْھَا کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ’’اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ اور یہ بھی کہ ’’اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا۔‘‘ ان دونوں میں سے کسی معنی کو بھی ترجیح دینے کے لیے کوئی دلیل قرآن کی ان آیتوں میں نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کی بعض دوسری آیتیں تو دوسرے معنی کی تائید کرتی ہیں مثلاً سورہ روم میں فرمایا وَمِنْ آیَاتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (آیت :۲۱) اور سورہ شوریٰ میں فرمایا جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (آیت:۱۱) یہ مضمون سورہ نحل آیت ۷۲ میں بھی آیاہے۔ ظاہر ہے کہ ان تینوں آیتوں میںمِنْ اَنْفُسِکُمْ کے معنیمِنْ جِنْسِکُمْ ہی لیے جائیں نہ یہ کہ تمام انسانوں کی بیویاں ان کی پسلیوں سے پیدا ہوئی ہیں۔ اب اگر پہلے معنیٰ کو ترجیح دینے کے لیے کوئی بنیاد مِل سکتی ہے تو وہ حضرت ابوہریرہؓ کی وہ روایات ہیں جو بخاری ومسلم نے نقل کی ہیں ۔ مگر ان کے الفاظ میں اختلاف ہے۔
ایک روایت میں وہ نبی ﷺ کا یہ ارشاد ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَا وَاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِھَا اِسْتَمْتَعْتَ بِھَا وَفِیْھَا عِوَجٌ۔
’’عورت پسلی کے مانند ہے اگر تو اسے سیدھا کرے گا تو توڑدے گا اور اگر اس سے فائدہ اٹھائے گا تو اس کے اندر کجی باقی رہتے ہوئے ہی فائدہ اٹھاسکے گا۔‘‘
اور دوسری روایت میں انہوں نے حضورﷺ کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:
اسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا فَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ شَـْیئٍ فِی الضِّلَعِ اَعْلاَہُ، فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ تَکْسِرْہُ وَاِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا۔
’’عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو کیونکہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہوتاہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو توڑدے گا اور اگر چھوڑدے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہٰذا عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو۔‘‘
ان دونوں حدیثوںمیں سے پہلی حدیث تو عورت کو پسلی سے محض تشبیہ دے رہی ہے اس میں سرے سے یہ ذکرہی نہیں ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ البتہ دوسری حدیث میںپسلی سے پیدائش کی تصریح ہے لیکن یہ امر قابل غور ہے کہ اس میں حضرت حوّا یا پہلی عورت یا ایک عورت نہیں بلکہ تمام عورتوں کی پیدائش پسلی ہی سے بیان کی گئی ہے، کیا فی الواقع دنیا کی تمام عورتیں پسلیوں ہی سے پیدا ہوا کرتی ہیں، اگر یہ بات نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو ماننا پڑے گا کہ یہاںخُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ کے الفاظ اس معنی میں نہیں ہیں کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی یا بنائی گئی ہیں، بلکہ اس معنی میں ہیں کہ ان کی ساخت میں پسلی کی سی کجی ہے۔ اس کی مثال قرآن مجیدکی یہ آیت ہے کہ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ۔ اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیاہے،بلکہ یہ ہیں کہ انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پسلی سے حضرت حوا کی پیدائش کا خیال قرآن ہی میں نہیں، حدیث میں بھی کسی مضبوط دلیل پر مبنی نہیں ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ روایت نقل ہوکر مسلمانوں میں شائع ہوئی اور بڑے بڑے لوگوں نے اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنی کتابوں میں بھی ثبت کردیا۔ مگر کیا یہ صحیح ہے کہ اللہ اور رسول کی سند کے بغیر محض بڑے لوگوں کے اقوال کی بنا پر اسے ایک اسلامی عقیدہ ٹھہرادیاجائے اور جو کوئی اس پر ایمان نہ لائے اسے گمراہ قراردیاجائے؟
(رسائل ومسائل سوم،چند۔۔۔ : حضرت حوّ ا ؑ۔۔۔)
آلات کے ذریعہ سے توالد وتناسل
آلات کے ذریعہ سے استقرارِ حمل کا جواز تو دور رہا، میرے لیے اس عمل کاتصور ہی ناقابل برداشت ہے کہ عورت گھوڑی کے مرتبے تک گرادی جائے۔ آخر انسان کی صنف اناث اور حیوانات کی مادہ میں کچھ تو فرق رہنے دیجیے۔ حیوانات میںبھی اللہ تعالیٰ نے توالد وتناسل کا جو طریقہ مقرر کیاہے وہ نر اور مادہ کے اجتماع کا طریقہ ہی ہے یہ انسان کی خود غرضی ہے کہ وہ گھوڑیوں کو اپنے نروں سے ملنے کا لطف حاصل نہیں کرنے دیتا اور ان سے صرف نسل کشی کا کام لیتاہے۔ اب اگر انسان کی اپنی ’’مادہ‘‘ کے ساتھ بھی یہی برتاؤ شروع ہوجائے تو اس کے معنی انسانیت کی انتہائی تذلیل کے ہیں۔
آج کی’’ فیشن دار‘‘ عورت جو مرد سے بے نیاز ہونا چاہتی ہے، دراصل اس کی فطرت کو مصنوعی، فکری وصنفی ماحول نے مسخ کردیاہے۔ ورنہ اگر وہ صحیح انسانی فطرت پر ہوتی تو اس قسم کی گری ہوئی خواہش کو دل میں جگہ دینا تو درکنار، ایسی تجویز سننا بھی گوارا نہ کرتی۔ عورت محض نسل کشی کے لیے نہیں ہے، بلکہ عورت اور مرد کا تعلق انسانی تمدن کی قدرتی بنیاد ہے۔ فطرتِ الٰہی نے عورت اور مرد کو اس لیے پیدا کیاہے کہ ان میں مودّت اور رحمت ہو، حسنِ معاشرت ہو، مل کر گھر بنائیں،گھر سے خاندان اور خاندان سے سوسائٹی نشو ونما حاصل کرے۔ اس مقصود کو ضائع کرکے عورت کو محض نسل کشی کا آلہ بنادینا فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلَقَ اللّٰہِ’’اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو بدل دینے ‘‘کا مصداق ہے جسے قرآن ایک شیطانی فعل قراردیتاہے۔
خداوند تعالیٰ نے عورت اور مرد کے درمیان نکاح کا طریقہ مقرر فرمایاہے لہذا وہی اولاد جائز ہے جو قیدِ نکاح میں پیدا ہو۔ اسی سے وراثت اور نسب کی تحقیق ہوتی ہے، اگر آلہ کے ذریعہ سے بچہ پیدا کیا جائے تو اسے حلالی نہیں کہاجاسکتا، شرعی نقطۂ نظر سے وہ حرامی ہی کہاجائے گا۔ نیز اس کا سلسلہ آبائی منقطع ہوگا اور وہ باپ کے ورثہ سے محروم رہے گا جو قطعی طورپر اس کی حق تلفی ہے۔
پھر غور تو کیجیے کہ جس بچے کا کوئی باپ نہ ہو اس کی تربیت کا ذمہ دار کون ہوگا؟ صرف ماں؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ خدا نے انسان کے بچہ کے لیے ماں اور باپ، چچا اور ماموں، دادا اور نانا وغیرہ لوگوں کی صورت میں جو مربی پیدا کیے ہیں ان میں سے آدھے ساقط کردیئے جائیں اور وہ صرف سلسلہ مادری پر منحصر رہ جائے؟ کیا دنیا سے پدری محبت، پدرانہ ذمہ داریوں اور پدرانہ اخلاق کو فنا کردینا انسانیت کی کوئی خدمت ہے؟ کیا یہ انصاف ہے کہ عورت پر ماں ہونے کی ذمہ داری قائم رہے مگر مرد ہمیشہ کے لیے باپ ہونے کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے؟
پھر اگر یہی سلسلہ چل پڑا تو ایک روز عورت مطالبہ کرے گی کہ کوئی ترکیب ایسی ہونی چاہیے کہ انسان کا بچہ میرے رحم میں پرورش پانے کے بجائے ’’امتحانی نلیوں‘‘ میں پالاجائے۔ یعنی انسان کیمیاوی معمل میں پیدا ہونے لگے۔ اور جب تک یہ حالت پیدا نہیں ہوتی، عورت چاہے گی کہ اسے صرف بچہ جننے کی تکلیف دی جائے، اس کے بعد ماں کے فرائض انجام دینے کے لیے وہ تیار نہ ہوگی۔
یہ صورت جب رونما ہوگی تو انسانی بچے اسی طرح کثیر پیدا آوری (Mass Production)کے اصول پر فیکٹریوںمیں ڈھل ڈھل کر نکلیں گے۔ جس طرح اب جوتے اور موزے نکلتے ہیں۔ یہ انسانیت کے تنزل کا آخری مقام،اس کا اسفل السافلین ہوگا،ان ’’کارخانہ ہائے نسل کشی‘‘ سے انسان نہیں بلکہ دوٹنگے جانور پیدا ہوں گے، جن میں انسانی شرف اور پاکیزہ انسانی جذبات واحساسات کی خوبو برائے نام بھی نہ ہوگی اور سیرت کا وہ تنوع نا پید ہوگا جو تمدن کی رنگا رنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کارخانوں سے کسی ارسطو اور ابن سینا، کسی غزالی اور رازی، کسی ہیگل اور کانٹ کے پیدا ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ میرے خیال میں تو وہ مادہ پرستانہ تہذیب لعنت بھیجنے کے قابل ہے جس کے زیرسایہ ایسی تجویزیں انسانی دماغوں میں آتی ہیں۔ اس قسم کی تجویزوں کا انسانی دماغوں میں آناہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس تہذیب نے انسان کے ذہن میں خود انسانیت کے تصورکو نہایت پست اور ذلیل کردیاہے۔ (رسائل ومسائل اول فقہی مسائل: آلات۔۔۔)
شادی بیاہ، اسلام اور آلات موسیقی
۵۴۔حدیث میں آتاہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا’’ میں آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیے بھیجا گیاہوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَزِیْدُ، اَنْبَاَنَا فَرْجُ بْنُ فَضَالَۃَ الْحِمْصِیُّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَزِیْدَ، عَنِ الْقَاسِمِ،عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَنِیْ رَحْمَۃً وَھُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَمْحَقَ الْمَزَامِیْرَ وَالْکَفَّارَاتِ یعنی الْبَرَابِطَ، وَالْمَعَازِفَ، وَالْاَوْثَانِ الَّتِیْ کَانَتْ تُعْبَدُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ۔(۲۷)
ترجمہ :ابوامامہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت اور ہدایت بنا کر مبعوث فرمایاہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ بانسری اور دیگر آلات موسیقی اور ان بتوں کو توڑدوں جن کی دور جاہلیت میں پوجا وعبادت کی جاتی تھی۔
(۲) اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِیْ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ وَھُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ، وَاَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ، وَالْمَزَامِیْرِ، وَالْاَوْثَانِ، وَالصُّلُبِ، وَاَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ الخ۔(۲۸)
ترجمہ :بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت اور ہدایت بناکر مبعوث فرمایاہے، نیز مجھے حکم دیاہے کہ آلات موسیقی اور بانسری اور بتوں اور صلیبوں کو توڑدوں اور جاہلیت کے کام کو ختم کردوں۔
تشریح: اب یہ کس طرح صحیح ہوسکتاہے کہ جو نبی اس کام کے لیے بھیجا گیا ہو اس کے پیرو انہی آلات کو بنانے اور بیچنے اوربجانے کے لیے اپنی قوتیں استعمال کریں۔
شادی بیاہ ہو یا کچھ اور، باجے بجانا کسی حال میں درست نہیں۔ حدیث میں جس حد تک اجازت پائی جاتی ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ شادی اور عید کے موقع پر دف کے ساتھ کچھ گابجالیا جائے۔
یہ محض ایمان کی کمزوری ہے کہ آدمی اپنے دوستوں اور عزیزوں کی ناراضی سے ڈر کر ایک ناجائز کا م میں حصہ لے۔ رسولؐ اور اصحابِ رسول کے ساتھ جو لوگ اپنا حشر چاہتے ہوں ان کے لیے تو یہی مناسب ہے کہ ایسے لوگوں سے ربط ضبط نہ رکھیں جنہیں احکام شریعت کی پروا نہیں۔ ورنہ جن کو ان لوگوں کے تعلقات زیادہ عزیز ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ فاجرین اور صالحین کے ساتھ بیک وقت تعلق نہیں رکھاجاسکتا۔ جب تمہاری دنیا فاجروں کے ساتھ ہے تو آخرت میں بھی انہیں کا ساتھ نصیب ہوگا۔
مجلس نکاح میں جب کہ ایجاب وقبول ہورہاہو اور منکرات وفواحش کی نمائش نہ ہورہی ہو شرکت کرنے میں مضائقہ نہیں، بلکہ اولیٰ یہ ہے کہ شرکت کی جائے اور جب موسیقی شروع ہوتو نہایت نرمی اور شرافت کے ساتھ یہ کہہ کر اپنے دوستوں اور عزیزوں سے رخصت چاہی جائے کہ جہاں تک تمہارے جائز کاموں کا تعلق ہے ہم تمہاری مسرت میں دل سے شریک ہیں۔ اور جہاں تک ناجائزکاموں کا تعلق ہے ہم ان میں نہ خود شریک ہونا پسند کرتے ہیں نہ یہ گوارا کرتے ہیں کہ تم ان خرابیوں میں مبتلاہو۔ یہ محض غلط ہے کہ دف کے سوا اس زمانہ میںاور کوئی دوسرا آلہ موسیقی نہ تھا۔ ایران اور روم اور مصر کی تمدنی تاریخ اور خود عرب جاہلیت کی تمدنی تاریخ سے جو شخص جاہل محض ہو وہی یہ بات کہہ سکتاہے، متعددباجوں کے نام تو خود اشعارِ جاہلیت میں ملتے ہیں۔ دف کا نام اگر آلاتِ موسیقی میں شامل ہو بھی تو اس سے کیا ہوتاہے۔ شادی بیاہ اور عید کے موقع پر نبی ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے،اور یہ زیادہ سے زیادہ حد ہے جہاں تک آدمی جاسکتاہے۔ اس آخری حصہ کو جو شخص نقطۂ آغاز بنانا چاہتاہو اس کو آخر کس نے مجبور کیا ہے کہ خواہ مخواہ اس نبی کے پیروؤں میں اپنانام لکھوائے جو آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیے بھیجا گیاہے؟ (رسائل ومسائل اول،فقہی مسائل: اسلام۔۔۔)
ٹیلی فون پر شادی بیاہ
سوال : کیا ٹیلی فون پر نکاح جائزہے؟
جواب :کسی عدالت میں ٹیلی فون پر گواہی دے کر دیکھیے کہ قبول ہوتی ہے یا نہیں؟
سوال : مولانا ! اس سے تو یہ معلوم ہوتاہے کہ ٹیلی فون پر نکاح جائز نہیں۔ لیکن جن لوگوں نے اس طرح نکاح کرلیے ہیں کیا انہیں تجدیدِ نکاح کرانی چاہیے یا اور کیا صورت ہو؟
جواب : میں اس بارے میں کیا کہوں۔ ٹیلی فون پر نکاح کی قانونی اور شرعی حیثیت تو کچھ نہیں۔ یہ ایک باقاعدہ حرکت ہے اور عام لوگوں کی جہالت اور دینی معاملات میں بے حسی کا مظہر ہے۔ بلکہ اس سے غیرت وحمیت کی کمی کا احساس بھی ہوتاہے۔ ایک شخص جو نکاح کے وقت حاضر ہونے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کرتا، کیا اس قابل ہے کہ بیٹی اس کے نکاح میں دے دی جائے؟
سوال :رشتوں کی کمیابی بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے؟
جواب : ایسی بھی کمیابی نہیں ہے۔ جو لوگ اپنی بیٹیوں کو اس طرح نکاح میں دے دیتے ہیں، وہ دراصل رشتوں کی کمیابی کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنی حماقت اور جاہ پرستی کے سبب ایسا کرتے ہیں۔
مغربی ملکوں میں جو لوگ سِول میرج کرتے ہیں وہ بھی عدالت میں جاکر حاضر ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ ٹیلی فون پر ہی نکاح کرلیتے ہیں، جب کہ اسلام کے قوانین نکاح کے مطابق ایجاب وقبول انتہائی ضروری ہے اور ایجاب وقبول کے لیے گواہوں کی موجودگی لازمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ گواہی کس طرح ہوگی؟ (۵،اے ذیلدارپارک دوم، ص: ۱۹۰-۱۹۱)
ماخذ
(۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح۔٭ مسند احمد ج۲۔ص۔۴۴۴عن ابی ھریرۃ اور ص ۴۷۹ پر ملعون من اتی امراۃ فی دبرھا ہے۔٭ کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر ۴۴۸۸۳ عن ابی ھریرۃ۔٭ تفسیر ابن کثیر ج۱ص۲۶۳ سورہ بقرہ زیر آیت نساؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم ایک روایت میں امرأتہٗ کی جگہ امرأۃ ہے۔
(۲) ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب ۲۹ النھی عن اتیان النساء فی ادبارھن۔٭ابن کثیر ج۱۔احکام القرآن للجصاص ج۱۔ص۔۳۵۳پر ابن عباس سے مروی روایت میں قال رسول اللہ ﷺ لاینظر اللہ الی رجل اتی امرأتہ فی دبرھا منقول ہے۔٭ سنن دارمی ج۱، کتاب الوضوء، باب ۱۱۳من اتی امرأتہ فی دبرھا کے تحت حضرت ابوھریرہؓ کی روایت میں ہے: مَنْ اَتٰی امْرَأَتَہٗ فِیْ دُبُرِھَا لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ٭ السنن الکبری ج۷۔کتاب النکاح، باب اتیان النساء فی ادبارھن (دارمی والی روایت) ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ص۔۲۵۳عن ابی ھریرۃ۔ ٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۸۷۵۔
(۳) ترمذی ج۱۔ابواب الرضاع، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان النساء فی ادبارھن۔٭مصنف ابنِ ابی شَیْبَہ ج۲۔۴۔ کتاب النکاح، باب ماجاء فی اتیان النساء فی ادبارھن وماجاء فیہ من الکراھۃ عن ابن عباس۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ عن ابن عباس۔ حدیث نمبر ۴۴۸۷۷۔ ٭تفسیر ابن کثیر ج۱۔ص۔۲۶۲، البقرہ۔
(۴) ابنِ ماجہ کتاب الصلاۃ، باب النھی عن اتیان الحائض۔٭سنن دارمی ج۱۔ کتاب الوضوء، باب ۱۱۳من اتی امراتہ فی دبرھا۔٭ السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح، باب اتیان النساء فی ادبارھن۔ عن ابی ھریرۃ۔٭احکام القرآن للجصّاص ج۱۔ سورۃ النساء۔
(۵) ترمذی ج۱۔ابواب الطھارۃ، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان الحائض۔٭ تفسیر ابن کثیر ج۱ص۔۲۶۳البقرہ۔
(۶) ابوداؤد ج۴۔کتاب الطب، باب فی الکھان،ح۳۹۰۴۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب اتیان النساء فی ادبارھن۔٭تفسیر ابن کثیر ج۱البقرہ۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴۔کتاب النکاح باب ماجاء فی اتیان النساء فی ادبارھن الخ۔
(۷) ابوداوٗد ج۴۔کتاب الحدود، باب فیمن عمل عمل قوم لوط۔٭ترمذی ج۱ ابواب الحدود، باب ماجاء فی حد اللوطی۔ ٭ ابنِ ماجہ کتاب الحدود ج۲۔باب۱۲۔من عمل عمل قوم لوط۔٭سنن دارقطنی ج۲۔کتاب الحدود۔ ٭احکام القرآن للجصّاص ج۳۔ص۔۲۶۳فی الذی یعمل عمل قوم لوط۔
(۸) ترمذی حوالہ مذکورہ بالا۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔کتاب النکاح باب من عمل عمل قوم لوط۔
(۹) ابن ماجہ کتاب الحدود، باب۱۲من عمل عمل قوم لوط۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳باب فی الذی یعمل عمل قوم لوط۔
(۱۰) مسلم ج۱۔کتاب الحیض، باب غسل الحائض رأس زوجھا الخ۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فی اتیان الحائض ومباشرتھا ۔ ابوداؤد نے غیرالنکاح نقل کیاہے۔٭ترمذی ابواب التفسیر ج۲۔ص۱۲۷ عن انس حدیث حسن صحیح۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الطھارۃ، باب ماجاء فی مؤاکلۃ الحائض وسؤرھا۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ عن انس، ابنِ ماجہ نے اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ اِلاَّ الْجِمَاعَ ذکرکیاہے،ترمذی میں ہے وان یفعلوا کل شیء ماخلا النکاح، ٭نسائی ج۱کتاب الطھارۃ باب تاویل قول اللہ عزوجل۔ویسئلونک عن المحیض، عن انس نسائی میں وَاَنْ یَّصْنَعُوْا بِھِنَّ کُلَّ شَیْئٍ مَاخَلاَ الْجِمَاعَ ہے۔٭ سنن دارمی ج۱۔ کتاب الصلاۃ والطھارۃ، باب ۱۰۶مباشرۃ الحائض عن انس۔ اس میں وَاَنْ یَّفْعَلُوْا کُلَّ شَیْئٍ مَاخَلاَ النِّکَاحَ ہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۱۔کتاب الحیض باب الرجل یصیب من الحائض مادون الجماع۔ عن انس۔ بیھقی نے وَاصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ غَیْرَالنِّکَاحِ بیان کیاہے۔٭ابوداؤد الطیالسی جز۸۔عن انس۔ حدیث۲۰۵۲ اس میں وَیَفْعَلُوْا مَاشَاؤا اِلاَّالْجِمَاعَ ہے۔٭مسند احمد ج۳۔ص۔۱۳۲،۲۴۶،عن انس۔
(۱۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح باب فی حق المرأۃ عَلٰی زَوجھا۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب القسم والنشوز باب لایضرب الوجہ ولایقبح ولاتھجرالافی الییت۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح باب التشدید فی العدل بین النساء۔ حکیم بن معاویۃ عن ابیہ ۔
(۱۲) حوالہ مذکورہ بالا۔
(۱۳) ترمذی ج۳ ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا،ح۱۱۶۳۔
(۱۴) مسلم ج۱کتاب الحج باب حجۃ النبی ﷺ مسلم نے حضرت جابر سے طویل حدیث بیان کی ہے۔ السنن الکبری ج۷۔کتاب القسم والنشوز باب ماجاء فی ضربھا۔٭تفسیر ابنِ جریر ج۳۔پ۴ص۲۱۲عن جابر۔
(۱۵) بخاری ج۲کتاب النکاح باب مایکرہ من ضرب النساء وقولہ واضربوھن ضربًا غیرمبرح۔٭مسلم ج۲کتاب الجنۃ ونعیمھا۔عبداللہ بن زمعۃ۔٭ترمذی ج۲ابواب التفسیرسورہ الشمس۔ عبد اللّٰہ بن زمعۃ۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب ضرب النساء۔٭مسنداحمدج۴۔ص۱۷عبداللہ بن زمعۃ۔٭دارمی کتاب النکاح باب۳۴۔ فی النھی عن ضرب النساء۔٭السنن الکبریٰ ج۷کتاب القسم والنشوز باب الاختیارفی ترک الضرب۔
(۱۶) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب الزنا لایحرم الحلال۔
(۱۷) مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۲۔۴کتاب النکاح۔ باب الرجل یقع علی ام امرأتہ او ابنۃِ امراتہ الخ٭احکام القرآن للجصاص ج۳۔ص۔۱۲۱۔
(۱۸) دارقطنی ج۴کتاب النکاح۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب الزنا لایحرم الحلال۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۲۔۴۔کتاب النکاح۔ باب الرجل یقع علی ام امرأتہ او ابنۃِ امراتہ الخ۔
(۱۹) احکام القرآن للجصاص ج۳۔سورۃ النساء۔
(۲۰) روح المعانی ج۱۶۔۱۸سورۃ المومنون) ناکح الید ملعون، لااصل لہ کما صرح بہ الرھاوی فی حاشیتہ علی المنار۔ الموضوعات لملا علی القاری حدیث نمبر۵۶۹۔
ھو شرف الدین یحی بن قراجا الرھاوی۔
(۲۱) تفسیر ابن کثیرج۳۔سورہ مومنون زیر آیت فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العادون۔٭کنزالعمال ج۱۶ ص۔۲۵۹عن علی۔بحوالہ ابن جریر حضرت علی سے مروی روایت میں ومدمن الخمر کے بجائے والکذاب الاشر، ومعسر المعسر ہے۔
(۲۲) بخاری ج۲کتاب النکاح باب المداراۃ مع النساء وقول النبی ﷺ انما المرأۃ کالضِلَع۔٭مسلم ج۱کتاب الرّضاع باب الوصیۃ للنساء مسلم میں ان المرأۃ سے روایت کا آغاز ہے۔٭ترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی مداراۃ النساء۔ وفی الباب عن ابی ذر، سمرۃ، عائشۃ۔ حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح غریب من ھذا الوجہ۔ ترمذی میں اِنْ ذَھَبْتَ کا اضافہ ہے اور حدیث کے آخر میں استمتعت بھا علی عوج ہے۔٭دارمی کتاب النکاح باب ۳۵ فی مداراۃ الرجل اھلہ۔ عن ابی ھریرۃؓ۔٭دارمی نے ابوذر سے بھی روایت نقل کی ہے جو مختصر ہے۔ ٭مجمع الزوائد ج۴۔عن عائشۃ وعن ابی ذر۔
(۲۳) مسلم ج۱۔کتاب الرضاع باب الوصیۃ للنساء۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب القسم والنشوز باب حق المرأۃ علی الرجل۔ ٭مجمع الزوائد ج۵۔عن ابی ھریرۃ۔٭کنز العمال ج۱۶۔حدیث ۴۴۹۵۶۔
(۲۴) بخاری ج۲کتاب النکاح باب الوصاۃ بالنساء۔ ٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۴۹۵۵۔
(۲۵) بخاری ج۱کتاب الانبیاء باب خلق آدم وذریتہ۔٭مسلم ج۱کتاب الرّضَاع باب الوصیۃ للنساء۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۴۹۵۵اور ۴۴۹۵۸۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۵۔کتاب الطلاق، باب فی مداراۃ النساء۔ اس روایت میں خیر کا لفظ مروی ہے۔
(۲۶) مسلم ج۱کتاب الرضاع باب الوصیۃ للنساء٭مسنداحمد ج۲۔ص۔۴۲۸،۴۴۹،۵۳۰ عن ابی ھریرۃ ج۵۔ ص۔۱۶۴ج۶ص۲۷۹عن عائشۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب القسم والنشوز باب حق المرأۃ علی الرجل۔٭کنز العمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۴۹۵۸۔
(۲۷) مسند احمد ج۵۔ص۔۲۵۷ابوامامۃ۔
(۲۸) مسند احمدج۵ص۲۶۸ ابوامامۃ۔٭یہ روایت مشکوٰۃ کے باب الخمروشاربھا میں بھی ہے۔
فصل :۷ تحدید ازواج رئیس طائف غیلان ثقفی ونوفل بن معاویہ کا واقعہ
ماخذ
(۱) ترمذی ج۱ ابواب النکاح باب ماجاء فی الرجل یسلم وعندہ عشر نسوۃ۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب الرجل یُسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ۔٭ابن ماجہ نے خُذْ مِنْھُنَّ اَرْبَعاً نقل کیاہے۔٭سنن دارقطنی ج۴۔ ص۔۲۷۰ کتاب النکاح۔ ٭دارقطنی نے خُذْ مِنْھُنَّ اَرْبَعاً، وَفَارِقْ سَائِرَھُنَّ بیان کیاہے۔٭مؤطا امام مالک ج۲۔کتاب الطلاق۔ جامع الطلاق مؤطا نے اَمْسِکْ مِنْھُنَّ اَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَھُنَّ نقل کیاہے۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح، باب من یسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ۔
(۲) السنن الکبری، ص۱۸۴۔المستدرک للحاکم ج۲۔باب قصۃ اسلام غیلان الثقفی الخ۔٭مستدرک میں ہے اَنْ یَتَخَیَّرَ مِنْھُنَّ اَرْبَعًا وَیَتْرُکَ سَائِرَھُنَّ۔
(۳) ابوداؤدج۲۔کتاب الطلاق باب فی من اسلم وعندہ نساء اکثر اربع اواختان۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب الرجل یسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث ۴۴۷۵۹۔٭سنن دارقطنی ج۴۔ص۔۲۷۱ کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب من یسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ۔
(۴) السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب من یسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ۔
(۵) السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب من یسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ،ح۱۴۰۵۷۔
فصل :۸ مَہر شروطِ نکاح میں اہم ترین شرط
۵۷۔ اَحَقُّ الشُّرُوْطِ اَنْ تُوْفُوْا بِہٖ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہٖ الْفُرُوْجَ۔
’’تمام شرطوں سے بڑھ کرجو شرط اس کی مستحق ہے کہ تم اسے پورا کرو، وہ شرط وہ ہے جس پر تم عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اَبُوالْوَلِیْدِ ھِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ،قَالَ:حَدَّثَنَا لَیْثٌ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ اَبِی الْخَیْرِ، عَنْ عُقْبَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: اَحَقُّ مَا اَوْفَیْتُمْ مِنَ الشُّرُوْطِ اَنْ تُوْفُوْا بِہِ مَااسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجَ۔(۱)
تشریح :قرآن وحدیث کی رو سے مہر دراصل اس حق زوجیت کا معاوضہ ہے جو ایک مرد کو اپنی بیوی پر حاصل ہوتاہے۔ قرآن میں فرمایا گیاہے:
وَاُحِلَّ لَکُمْ مَاوَرَآئَ ذَالِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ۔ (النساء:۲۴)
’’ان کے ماسوا جو عورتیں ہیں، تمہارے لیے حلال کیا گیا کہ اپنے مالوں کے عوض ان سے طلب نکاح کرو۔‘‘
فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَآتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً۔(النساء :۲۴)
’’پس جولطف تم نے ان سے اٹھایاہے اس کے بدلے ان کے مہر بطور ایک فرض کے ادا کرو۔‘‘
وَکَیْفَ تَأْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ۔(النساء:۲۱)
’’اور تم وہ مال کیسے لے سکتے ہوجب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو۔ ‘‘
ان آیات سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ مہر ہی وہ چیز ہے جس کے عوض مرد کو عورت پر شوہرانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تصریح وہ احادیث کرتی ہیں جو اس معنی میں نبی ﷺ سے مروی ہیں۔ صحاح ستہ اور دارمی اور مسنداحمد میں حضورؐکا ارشاد منقول ہے۔ (رسائل ومسائل اول ،فقہی مسائل: مہر۔۔۔)
مقدار مہر
۵۸۔کَاَنَّمَا تَنْحِتُوْنَ الْفِضَّۃَ مِنْ عُرْضِ ھٰذَا الْجَبَلِ۔
’’گویا کہ تم اس پہاڑ سے چاندی کھود کھود کر نکال رہے ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ مَعِیْنٍ، قَالَ:نَامَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ،قَالَ:نَایَزِیْدُ بْنُ کَیْسَانَ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: اِنِّیْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَ ۃً مِنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّﷺ: ھَلْ نَظَرْتَ اِلَیْھَا، فَاِنَّ فِیْ عُیُوْنِ الْاَنْصَارِ شَیْئًا؟ قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ اِلَیْھَا، قَالَ: عَلٰی کَمْ تَزَوَّجْتَھَا؟ قَالَ:عَلٰی اَرْبَعِ اَوَاقٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ: عَلٰی اَرْبَعِ اَوَاقٍ کَاَنَّمَا تَنْحِتُوْنَ الْفِضَّۃَ مِنْ عُرْضِ ھٰذَا الْجَبَلِ۔ مَاعِنْدَنَا مَانُعْطِیْکَ وَلٰکِنْ عَسٰی اَنْ نَبْعَثَکَ فِیْ بَعْثٍ تُصِیْبُ مِنْہُ، قَالَ: فَبَعَثَ بَعْثًا اِلٰی بَنِیْ عَبْسٍ، بَعَثَ ذٰلِکَ الرَّجُلَ فِیْھِمْ۔(۲)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی ﷺنے اس سے پوچھا تم نے اسے دیکھ بھی لیا تھا،انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتاہے؟ وہ بولا جی ہاں، میں نے اسے دیکھ لیا تھا۔ پھر آپ نے اس سے پوچھا (اچھا) کتنے مہر پر نکاح کیا؟ اس نے کہا چار اوقیہ کے عوض۔ نبی ﷺنے (تعجب کے طورپر) پوچھا چار اوقیہ پر! اور فرمایا گویا تم لوگ اس پہاڑ کو کھود کھود کر چاندی نکال رہے ہو۔ ہمارے پاس اس کی ادائیگی کے لیے تو کچھ نہیں ہے بہر حال ہم تمہیں کسی دستہ میں بھیج دیں گے وہاں سے حاصل کرلینا۔ راوی کا بیان ہے پھر آپ نے بنی عَبس کی طرف ایک دستہ روانہ فرمایا تو آپؐ نے اس شخص کو اس دستہ میں بھیج دیا۔
پس منظر: حضرت انسؓ نے ایک عورت سے چار اوقیہ (۱۶۰؍درہم) پر نکاح کیا تو حضورؐ نے ان کو فرمایا۔
تشریح : چنانچہ مہر کی زیادتی میں مبالغہ کرنا اور مرد کی قوت برداشت سے زیادہ مہر باندھنا ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔
(حقوق الزوجین،اصولی ہدایات:مہر)
حق مہر اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھا ہے کہ جو عورت کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو حلال کرے اور اس کی زوجیت کی پابندی قبول کرے اسے اپنے شوہر سے ایک مالی معاوضہ ملنا چاہیے۔ اس معاوضے کی کوئی حد شریعت میںمقرر نہیں کی گئی ہے۔ جس معاوضے پر بھی فریقین کے درمیان اتفاق ہوجائے وہی مہر ہوگا ۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ یا تو مہر بروقت ادا کیا جائے، یا اگر عورت مہلت دینے پر راضی ہوتو مہلت کی مدت کا تعین ہو، بلاتعین مدت دی گئی تب بھی کم از کم اسے ادا کرنے کی نیت ہو۔ محض رسماً کوئی مہر مقرر کردینا اور یہ خیال کرنا کہ اسے ادا کرنا نہیں ہے شرعاً نادرست ہے۔ (مکتوبات سید ابوالاعلیٰ مودودی)
۵۹۔ لَوْکُنْتُمْ تَغْرِفُوْنَ الدَّرَاھِمَ مِنْ اَوْدِیَتِکُمْ مَّازِدْتُّمْ۔
’’اگر تم کو ندی نالوںمیں درہم بہتے ہوئے ملتے تب بھی تم شاید اس سے زیادہ مہر نہ باندھتے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَاوَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیِّ عَنْ اَبِیْ حَدْرَدِ نِالْاَسْلَمِیِّ اَنَّہٗ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ، یَسْتَفْتِیْہِ فِی مَھْرِ امْرَأَۃٍ، فَقَالَ: کَمْ اَمْھَرْتَھَا؟ قَالَ: مِائَتَیْ دِرْھَمٍ، فَقَالَ: لَوْکُنْتُمْ تَغْرِفُوْنَ مِنْ بَطْحَانَ مَازِدْتُّمْ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابوحدرد اسلمی نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عورت کے مہر کے بارے میں پوچھا( کہ کتنا ہونا چاہیے) آپ نے ان سے دریافت فرمایا، تم نے کتنا با ندھاہے؟ انہوں نے کہا، دو سودرہم۔ فرمایا، اگر تم لوگوں کو بطحان وادی میں بھی درہم بہتے ملتے تب بھی تم اس سے زیادہ نہ باندھتے۔
پس منظر: ابوعمروالاسلمی نے ایک عورت سے دوسو درہم مہر پر نکاح کیا تو آپؐ نے ان کو ان الفاظ میں تنبیہ فرمائی۔
حد سے زیادہ مہر باندھنے کی ممانعت
۶۰۔ اَلْزِمُوْا النِّسَآئَ الرِّجَالَ وَلاَ تُغَالُوْا فِیْ الْمُھُوْرِ۔
’’عورتوں کو مردوں کے پلے با ندھنے کی کوشش کرو اور مہروں میں حد سے نہ بڑھو۔ ‘‘ (حقوق الزوجین ، اصولی ہدایات: مہر)
ابھی تک اس کا اصل ماخذ معلوم نہیں ہوسکا۔ (مرتب)
المصنف میں ایک روایت حضرت عمرؓ سے بایں الفاظ بھی منقول ہے:
تخریج:(۱) عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ اَبِیْ رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لاَتُغَالُوْا فِی مُھُوْرِ النِّسَآئِ، فَلَوْکَانَ تَقْوًی لِلّٰہِ کَانَ اَوْلاَکُمْ بِہِ بَنَاتُ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ، مَانَکَحَ وَلاَاَنْکَحَ اِلاَّعَلَی اثْنَتَی عَشْرَۃَ اُوْقِیَۃٍ۔(۴)
ترجمہ : حضرت نافع کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اپنی عورتوں کے مہر باندھنے میں غلو نہ کرو (حد سے نہ بڑھو) اگر یہ (زیادہ مقدار میں مہر مقرر کرنا) اللہ کے ہاں تقویٰ شمار ہوتا تو پھر رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیاں اس کی زیادہ مستحق اور لائق تھیں (کہ ان کے مہر زیادہ مقرر کیے جاتے) مگر نبی ﷺ نے نہ خو د اپنے نکاح میں اور نہ کسی دوسرے کے نکاح میں بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر کیا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ، ثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرؓ، فَقَالَ: اَلاَ، لاَتُغَالُوْا بِصُدُقِ النِّسَآئِ، فَاِنَّھَا لَوْکَانَتْ مَکْرُمَۃً فِی الدُّنْیَا اَوْتَقْویً عِنْدَ اللّٰہِ، کَانَ اَوْلٰکُمْ بِھَا النَّبِیُّ ﷺ۔ مَااَصْدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ امْرَأۃً مِنْ نِّسَآئِہِ وَلاَاُصْدِقَتْ امْرَأَ ۃٌ مِنْ بَنَاتِہِ اَکْثَرَ مِنْ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ اُوْقِیَۃٍ۔(۵)
ترجمہ : ابوالعجفاء سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ نے ہمیں خطاب فرمایا کہ عورتوں کے مہر باندھتے وقت غلو سے کام نہ لو اگر یہ کام دنیا میں عزت وتکریم کا باعث اور عنداللہ تقوی کا کام شمار ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس کام کے تم سے زیادہ مستحق تھے۔ نبی ﷺنے نہ تو اپنی کسی بیوی کا اور نہ ہی اپنی بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر فرمایا۔
تشریح : شریعت نے مہر کو عورت کا ایک حق مقرر کیا تھا اور اس کے لیے یہ طریقہ طے کیا تھا کہ عورت اور مردکے درمیان جتنی رقم طے ہو اس کا ادا کرنا مرد پر واجب ہے۔ لیکن مسلمانوں نے شریعت کے اس طریقہ کو بدل کر ایک رسمی اور دکھاوے کی چیز بنالیا، اور بڑے بڑے مہر دکھاوے کے لیے باندھنے شروع کیے، جن کے ادا کرنے کی ابتدا ہی سے نیت نہیں ہوتی اور جو خاندانی نزاع کی صورت میں عورت اور مرد دونوں کے لیے بلائے جان بن جاتے ہیں۔ اب ان غلطیوں سے بچنے کی سیدھی اور صاف صورت یہ ہے کہ مہر اتنے ہی باندھے جائیں جن کے ادا کرنے کی نیت ہو، جن کے ادا کرنے پر شوہر قادر ہو۔ پورا مہر بروقت ادا کردیاجائے تو بہتر ہے، ورنہ اس کے لیے ایک مدت کی قرار داد ہونی چاہیے،اور آسان قسطوں میں اس کو ادا کردیناچاہیے۔ اس راستی کے طریقہ کو چھوڑ کر اگر کسی قسم کے حیلے نکالے جائیں گے تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ ایک غلطی سے بچنے کے لیے دس قسم کی اور غلطیاں کی جائیں گی جو شرع کی نگاہ میں بہت بری اور اخلاق کے اعتبار سے نہایت بدنماہیں۔
(رسائل ومسائل اول فقہی مسائل: رسموں۔۔۔)
مہر ادا نہ کرنے کی نیت سے نکاح فاسد ہوجاتاہے
مہر کی ادائیگی میں اصل تعجیل ہے یا تاجیل؟
ماخذ
۱) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب الشروط فی النکاح۔٭مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب الوفاء بالشروط فی النکاح۔ عن عقبۃ بن عامر۔٭ ترمذی ج۱۔ابواب النکاح۔ باب ماجاء فی الشروط عند عقد النکاح۔ عن عقبۃ بن عامر الجُھَنی۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔ نسائی جز۶۔کتاب النکاح، باب الشروط فی النکاح۔ عن عقبۃ بن عامر۔٭ابن ماجہ اور نسائی نے اِنَّ اَحَقَّ الشُّرُوْطِ اَنْ یُّوَفّٰی بِہِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجَ نقل کیاہے۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب الشروط فی النکاح۔ ٭دارمی ج۲ کتاب النکاح باب۲۱۔ الشرط فی النکاح۔ اِنَّ اَحَقَّ الشُّرُوْطِ اَنْ تُوْفُوْا بِہِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجَ۔ ٭السنن الکبری ج۷۔کتاب النکاح باب الشروط فی النکاح۔ عن عقبۃ بن عامر۔ بیھقی نے بھی اِنَّ اَحَقَّ الشُّرُوْطِ اَنْ یُّوَفّٰی بِھَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجَ ہی نقل کیاہے۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۶۔ص۲۲۸المصنف میںاَحَقُّ مَااَوْفَیْتُمْ مِنَ الشُّرُوْطِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوْجَ ہے۔٭مُسندِ احمد ج۴۔ ص۔۱۴۴، ۱۵۰،۱۵۲عقبہ بن عامرجُھَنی۔ ٭مُصنّف ابنِ ابی شَیْـبَۃَج۲۔۴۔کتاب النکاح باب فی الرجل یتزوج المرأۃ ویشترط لھا دارھا۔٭کنزالعُمّال ج۱۶۔ص۔۳۲۱٭ابونُعیم فی الحلیۃ۔ بحوالہ کنزالعمال ج۱۶۔ص ۵۳۹ عن ابی حدردالاسلمی۔
(۲) مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب الصداق وجواز کونہ تعلیم القرآن وخاتم حدید وغیرہ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب الصداق۔ باب مایستحب من القصد فی الصداق۔ المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح باب یا ایھا الناس لاتغالوا مھرالنساء۔٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۸۱عن ابی ھریرۃ۔
(۳) مُسْنَد احمد ج۳۔ص۴۴۸ عن ابی حدرد الاسلمی۔٭الطَّبَرانی الکبیر والاوسط۔ بحوالہ مجمع الزوائد ج۴۔ ص۲۸۲ عن ابی حدرد الاسلمی۔ کنزالعُمَّال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۴۷۱۹،۴۵۸۰۲عن ابی حدرد الاسلمی۔ ٭السنن الکبریٰ ج۷۔عن ابی حدرد الاسلمی۔ المُستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح۔ یا ایھا الناس لاتغالوا مھر النساء۔ صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔٭ مُسَتَدْرک نے یستعینہ نقل کیا ہے اور مسند احمد نے یستفتِیہِ بیان کیاہے۔ ٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب غلاء الصداق ابوحدرد الاسلمی۔ ٭مصنف ابن ابی شَیبہ ج۲۔۴ کتاب النکاح باب ماقالوا فی مھر النساء۔
(۴) المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب غلاء الصداق۔٭مصنف ابن ابی شیبہ ۲۔۴۔کتاب النکاح باب ماقالوا فی مھر النساء واختلافھم۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب الصداق باب مایستحب من القصد فی الصداق اس میں آغاز ایاکم والمغالاۃ فی مھور النساء الخ سے کیا گیاہے۔٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۵۷۹۹۔٭ تاریخ بغداد خطیب بغدادی ج۳۔ص۲۵۸۔
(۵) ابوداؤد کتاب النکاح، باب الصداق۔٭ترمذی ابواب النکاح، باب ماجاء فی مھور النساء۔٭نسائی کتاب النکاح، باب القسط فی الاصدقۃ۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب صداق النساء۔٭ انہوں نے اولٰکُم کے بعد واحقکم کا اضافہ نقل کیاہے۔٭دارمی ج۲۔کتاب النکاح باب کم کان مھر ازواج النبی ﷺ؟ ٭ کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۵۷۸۹۔٭مُسندِ احمد ج۱ص۴۰تا۴۱۔ روایت عمر بن الخطاب۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الصداق۔٭المستدرک ج۲۔کتاب النکاح۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب غلاء الصداق۔ ٭مصنف ابنِ ابی شیبہ ج۲۔۴ کتاب النکاح باب ماقالوا فی مھر النساء الخ۔
(۶) مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ ج۳۲۔ص۱۰۳ کتاب النکاح باب الصداق۔
(۷) مجمع الزوائد ج۴۔کتاب البیوع باب فیمن نوی ان لایقضی دینہ۔اور دوسری روایت۔ کتاب النکاح ج۴۔باب فیمن نوی ان لایؤدی صداق امرأتہ میں: من تزوج امرأۃ علی صداق وھو لایرید ان یفی لھا بہ فھو زان۔ محمد بن الحصین الحرری ولم اعرفہ۔ لیکن اسی ج۴۔ص۱۳۱ پر محمد بن الحصین الجزری لکھا ہوا ہے اوریہاں ولم اجد عن ذکرہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ ایک جگہ کمپوزر کی غلطی ہے الجزری ہی صحیح معلوم ہوتاہے۔(مرتب)
(۸) مسند احمد ج۴۔ص۳۳۲٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الصداق، باب ماجاء فی حبس الصداق عن المرأۃ۔ ٭مجمع الزوائد للھیثمی ج۴۔ص ۲۸۴،۲۸۵عن صھیب بن سنان (قدرے لفظی اختلاف)۔
(۹) السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب الصداق باب ماجاء فی حبس الصداق عن المرأۃ۔
(۱۰) طب عن بحوالہ صھیب کنزالعمال ج۱۶۔ص۳۲۲۔
(۱۱) مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴۔کتاب النکاح باب فی الرجل یتزوج المرأۃ فیظلمھا مھرھا۔
(۱۲) ابن مندہ عن میمون بن جابان الصردی عن ابیہ۔
(۱۳) الرافعی، وابن النجار عن صھیب اورتاریخ بغدادج۶۔ص۳۱۳۔
(۱۴) ابن عساکر عن صیفی بن صھیب۔
(۱۵) ھب عن صھیب کنز العمال ج۱۶۔ص۳۲۳۔
(۱۶) الزواجہ عن اقتراف الکبائر لابن حجر بحوالہ الطبرانی بسند رجالہ ثقات۔ فتاویٰ دارالعلوم دیوبندج۸۔ص۲۵۷۔ افادات حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن۔ مرتبہ مولانا محمد ظفیرالدین۔ شائع کردہ مکتبہ امدادیہ ملتان۔ ٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۸۴مجمع الزوائد نے فمات سے پہلے خَدَعَھَا بھی نقل کیاہے۔
(۱۷) مسلم ج۱۔کتاب اللعان۔٭بخاری ج۲۔کتاب الطلاق باب قول الامام للمتلاعنین ان احد کما کاذب فھل منکما تائب۔
فصل :۹ طلاق طلاق حلال چیزوںمیں سب سے زیادہ ناپسندیدہ فعل
۶۳۔ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ شَیْئًا اَبْغَضَ اِلَیْہِ مِنَ الطَّلاَقِ۔
’’نبی ﷺکا ارشاد ہے کہ اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیاہے جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو۔‘‘ (ابوداؤد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا مُعَرِّفٌ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اَحَلَّ اللّٰہُ شَیْئًا اَبْغَضَ اِلَیْہِ مِنَ الطَّلاَقِ۔(۱)
مصنف لعبدالرزاق نے مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے :
(۲) عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَیَّاشٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ حُمَیْدُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّہٗ سَمِعَ مَکْحُوْلاً یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ ابْنِ جَبَلٍ، قَالَ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: یَامُعَاذُ! مَا خَلَقَ اللّٰہُ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ عَتَاقٍ، وَمَاخَلَقَ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ اَبْغَضَ اِلَیْہِ مِنَ الطَّلاَقِ۔(۲)
ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے معاذ سے فرمایا، اے معاذ !اللہ تعالیٰ نے زمین کی پشت پر کوئی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اسے آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ومحبوب ہو، اور زمین پر ایسی کوئی چیز پیدا نہیں فرمائی ہے جواسے طلاق سے زیادہ مبغوض وناپسند ہو۔
(۳) عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَیْسَ شَیْئٌ مِمَّا اَحَلَّ اللّٰہُ اَبْغَضَ اِلَیْہِ مِنَ الطَّلاَقِ۔(۳)
ترجمہ :محارب بن دثار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان میں طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
۶۴۔ اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الطَّلاَقُ۔
’’نبی ﷺ نے فرمایا تمام حلال چیزوں میں اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔‘‘(ابوداؤد)
تخریج: حَدَّثَنَا کَثِیْرُ بْنُ عُبَیْدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی الطَّلاَقُ۔(۴)
تشریح : اس ارشاد کی روسے مرد وعورت کی علیحدگی بدرجہ آخرایسی حالت میں ہو جب کہ باہمی موافقت کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہوں۔ کیونکہ خدا کی شریعت میں طلاق کی گنجایش صرف ایک ناگزیر ضرورت کے طورپررکھی گئی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس بات کو سخت ناپسند فرماتاہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان جوازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہو وہ پھر کبھی ٹوٹ جائے۔ (تفہیم القرآن ج۵، الطلاق: موضوع اور مضمون)
طلاق کا اختیار صرف شوہر کو ہے
۶۵۔ یَااَیُّھَا النَّاسُ مَا بَالُ اَحَدِکُمْ یُزَوِّجُ عَبْدَہٗ اَمَتَہٗ ثُمَّ یُرِیْدُ اَنْ یُّفَرِّقَ بَیْنَھُمَا۔ اِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ اَخَذَ بِالسَّاقِ۔
’’لوگو! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام سے اپنی لونڈی بیاہ دیتاہے پھر دونوں کو جدا کرنا چاہتاہے، طلاق کا اختیار تو شوہر کو ہے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ، ثَنَا یَحْیَ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ، ثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ عَنْ مُوسٰی ابْنِ اَیُّوْبَ الْغَافِقِیِّ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ، اَتَی النَّبِیَّ ﷺ رَجُلٌ، فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! سَیِّدِیْ زَوَّجَنِیْ اَمَتَہٗ وَھُوَ یُرِیْدُ اَنْ یُّفَرِّقَ بَیْنِیْ وَبَیْنَھَا، قَالَ: فَصَعِدَ رَسُوْلُﷺ الْمِنْبَرَ فَقَالَ:یَا اَیُّھَا النَّاسُ مَابَالُ اَحَدِکُمْ یُزَوِّجُ عَبْدَہٗ اَمَتَہٗ، ثُمَّ یُرِیْدُ اَنْ یُّفَرِّقَ بَیْنَھُمَا، اِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ اَخَذَ بِالسَّاقِ۔(۵)
ـــــــ وَفِیْ اَسْنَادِہِ اِبْنُ لَھِیَعَۃَ، وَفِیْہِ کَلاَ مٌ مَشْھُوْرٌ۔ قَالَ ابْنُ الْقَیِّمِ: اِنَّ حَدِیْثَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَاِنْ کَانَ فِیْ اَسْنَادِہٖ مَافِیْہِ، فَالْقُرْآنُ یَعْضُدُہٗ، وَعَلَیْہِ عَمِلُ النَّاسِ، وَاَرَادَ بِقَوْلِہٖ اَلْقُرْآنُ یَعْضُدُہٗ نَحْوَقَوْلِہٖ تَعَالٰی۔ اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ، وَقَوْلِہٖ تَعَالٰی اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ الآیۃ۔(۶)
مجمع الزوائدکے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
(۲) یٰا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا الطَّلاَقُ بِیَدِ مَنْ اَخَذَ بِالسَّاقِ۔(۷)
ترجمہ : لوگو! سن لوکہ طلاق کا اختیار توشوہر کو ہے۔
اس روایت کی سند میں فضل بن مختار ضعیف ہے۔
پس منظر: ابن ماجہ میں عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک شخص نے آکر نبی ﷺ سے شکایت کی کہ میرے آقا نے اپنی لونڈی کا نکاح مجھ سے کیا تھا اب وہ اسے مجھ سے جدا کرناچاہتاہے اس پر آپؐ نے اپنے خطبہ میں یوں فرمایا۔
تشریح :بعض لوگ اہل مغرب کی تقلید میں یہ چاہتے ہیں کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر سے چھین کر عدالت کو دے دیا جائے، چنانچہ ٹرکی میں ایسا بھی کردیا گیاہے۔ لیکن یہ چیز قطعی طورپر قرآن وسنت کے خلاف ہے قرآن نے طلاق کے احکام بیان کرتے ہوئے ہرجگہ فعلِ طلاق کو شوہر کی طرف منسوب کیاہے۔ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ، فَاِنْ طَلَّقَھَا، وَاِنْ عَزَمُوْا الطَّلاَقَ وغیرہ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر کو دیا گیاہے۔ پھر قرآن صاف الفاظ میں شوہر کے متعلق کہتاہے کہ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ (البقرہ :۲۳۷)’’ نکاح کی گرہ اس کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ اب کو ن یہ حق رکھتاہے کہ اس گرہ کو اس کے ہاتھ سے چھین کر قاضی کے ہاتھ میں دے دے۔۔۔اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتاہے کہ یورپ کی طرح ہمارے ہاں بھی خانگی زندگیوں کے شرمناک جھگڑوں اور بدنما واقعات کی برسرعدالت تشہیر ہونے لگے۔
(حقوق الزوجین ،اصول قانون:۔۔۔اختیارات)
۶۶۔ لاَ طَلاَقَ لِاِبْنِ آدَمَ فِیْ مَالاَ یَمْلِکُ۔
’’حضورؐ نے فرمایا، ابن آدم جس کا مالک نہیں ہے اس کے بارے میں طلاق کا اختیار استعمال کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا۔ ‘‘
(احمد، ابوداؤد، ترمذی،ابن ماجہ)
تخریج:(۱) اَخْرَجَہُ اَبُوْدَاؤُدَ، وَالتِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَۃَ عَنْ عَامِرِ نِالْاَحْوَلِ عَنِ ابْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:لاَنَذْرَ لِاِبْنِ آدَمَ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ، وَلاَعِتْقَ لَہٗ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ، وَلاَطَلاَقَ لَہٗ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ انتھی۔(۸)
ترجمہ : ابن شعیب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،آدم زادہ جس چیز کا مالک ہی نہیں اس میں نذر ماننے کا اختیار بھی نہیں رکھتا اور جس چیز کا مالک نہ ہو اسے آزاد کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتا اور جس کا وہ مالک نہیںاسے طلاق دینے کا بھی حق نہیں رکھتا ۔
ـــــــ قَالَ التِّرْمِذِیُّ:حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، وَھُوَاَحْسَنُ شَـْیئٍ رُوِیَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ۔وَسَألْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِسْمَاعِیْلَ اَیُّ شَـْیئٍ اَصَحُّ فِی الطَّلاَقِ قَبْلَ النِّکَاحِ؟ فَقَالَ: حَدِیْثُ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ انتھی۔
(۲) حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ اَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ القوشجی، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ اَبُوْبَکْرٍ الدِّمَشْقِیُّ، ثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الدِّمَشْقِیُّ اَبُوْمُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ، حَدَّثَنِیْ جَابِرُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لاَطَلاَقَ لِمَا لاَیَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ، وَلاَعِتْقَ لِمَا لاَیَمْلِکُ۔(۹)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا کہ ابن آدم جس کا مالک نہیں اسے وہ طلاق دینے کا حق نہیں رکھتا اور جس کا وہ مالک نہیں اسے آزاد کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔
ـــــــ اَخْرَجَہُ اَبُوْیَعْلٰی فِیْ مُسْنَدِہٖ عَنِ ابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ عَطَائَ عَنْ جَابِرٍ۔
(۳) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا ھِشَامٌ، ح وَثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ، ثَنَاعَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ، قَالَا: ثَنَا مَطَرُ نِالْوَرَّاقُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:لاَطَلاَقَ اِلاَّ فِیْمَا تَمْلِکُ، وَلاَعِتْقَ اِلاَّ فِیْمَا تَمْلِکُ الخ۔(۱۰)
ترجمہ : نبی ﷺ نے فرمایا، طلاق اس میں ہے جو تمہارے دائرہ ملکیت میں ہے اور آزادی بھی اس چیز میں ہے جوتمہارے اختیار میں ہے۔
مسند احمد کی ایک روایت :
(۴) لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ طَلاَقٌ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ وَلاَعَتَاقَ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ وَلاَبَیْعَ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ۔(۱۱)
ترجمہ : آدمی جس کا مالک نہیںاسے طلاق دینے کا مجازنہیں ہے اور نہ ہی اسے آزاد کرسکتا ہے جس کا وہ مالک نہیں اور جو چیز اس کی ملکیت میں نہیں اسے وہ بیع بھی نہیں کرسکتا۔
طلاق قبل از نکاح
۶۷۔ لاَ طَلاَقَ قَبْلَ النِّکَاحِ۔
’’نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ، ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، اَنْبَأْنَا مَعْمَرٌ عَنْ جُوَیْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لاَطَلاَقَ قَبْلَ النِّکَاحِ۔(۱۲)
ـــــــ وَفِی الزَّوَائِدِ: اَسْنَادُہُ ضَعِیْفٌ لِاِتِّفَاقِھِمْ عَلٰی ضُعْفِ جُوَیْبرِبْنِ سَعِیْدٍ۔
ـــــــمسوربن مخرمہ کی روایت میں لاَطَلاَقَ قَبْلَ نِکَاحٍ الخ ہے۔
تشریح : ابن عباسؓ، سعید بن المُسَیِّبِ، حسن بصریؒ، علی بن الحسین (زین العابدین) امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ طلاق اسی صورت میں واقع ہوتی ہے جب کہ اس سے پہلے نکاح ہوچکاہو۔ نکاح سے پہلے طلاق بے اثر ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص یوں کہے کہ ’’اگر میں فلاں عورت سے، یا فلاں قبیلے یا قوم کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو یہ قول لغوو بے معنی ہے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوسکتی۔
مگرفقہاء کی ایک بڑی جماعت یہ کہتی ہے کہ اس آیت اور ان احادیث کا اطلاق صرف اس بات پر ہوتاہے کہ کوئی شخص ایک غیرعورت کو جو اس کے نکاح میں نہ ہویوں کہے کہ ’’تجھ پر طلاق ہے‘‘ یا ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ یہ قول بلاشبہ لغو ہے جس پر کوئی قانونی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ یوں کہے کہ ’’اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق ہے‘‘ تو یہ نکاح سے پہلے طلاق دینا نہیں ہے۔ بلکہ دراصل وہ شخص اس امر کا فیصلہ اور اعلان کرتاہے کہ جب وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی تو اس پر طلاق وارد ہوگی۔ یہ قول لغو وبے اثر نہیں ہوسکتا بلکہ جب بھی وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی اسی وقت اس پر طلاق پڑجائے گی۔ یہ مسلک جن فقہاء کا ہے ان کے درمیان پھر اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ اس نوعیت کے ایقاع طلاق کی وسعت کس حد تک ہے۔
امام ابوحنیفہؒ، امام محمدؒ اور امام زُفرؒ کہتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص عورت یا قوم یا قبیلے کی تخصیص کرلے یا مثال کے طور پر عام بات اس طرح کہے کہ’’جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے۔‘‘دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی۔
ابوبکر جصّاص نے یہی رائے حضرت عمرؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ، ابراہیم النخعی، مجاہد اور عمر بن عبدالعزیز رحمہم اللہ سے بھی نقل کی ہے۔
سفیان ثوری اورعثمان البتّی کہتے ہیں کہ طلاق صرف اسی صورت میں پڑے گی جب کہنے والا یوں کہے کہ ’’اگرمیں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔‘‘
حسن بن صالح، لیث بن سعد اور عامر الشَّعْبِی کہتے ہیں کہ اس طرح کی طلاق عمومیت کے ساتھ بھی پڑسکتی ہے بشرطیکہ اس میں کسی نوع کی تخصیص ہو، مثلاً آدمی نے یوں کہا ہوکہ ’’اگر میں فلاں خاندان، یا فلاں قبیلے یا فلاں شہر یا ملک یا قوم کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔‘‘
ابن ابی لیلیٰ اور امام مالک اوپر کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شرط یہ لگاتے ہیں کہ اس میں مدت کا بھی تعین ہونا چاہیے مثلاً اگر آدمی نے یوں کہاہوکہ ’’اگر میں اس سال یا آیندہ دس سال کے اندر فلاں عورت یا فلاں گروہ کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔‘‘ تب یہ طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں۔ بلکہ امام مالک اس پر اتنا اور اضافہ کرتے ہیں کہ اگر یہ مدت اتنی طویل ہو جس میں اس شخص کا زندہ رہنا متوقع نہ ہو تو اس کا قول بے اثر رہے گا۔ (تفہیم القرآن ج۴، الاحزاب، حاشیہ: ۸۶)
۶۸۔لاَطَلاَقَ اِلاَّ مِنْم بَعْدِ نِکَاحٍ۔
’’طلاق نہیں ہے مگر نکاح کے بعد۔‘‘
تخریج: نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْحَرَّانِیُّ، نَا اَحْمَدُ بْنُ یَحْیٰ بْنُ زُھَیْرٍ، نَاعَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ سَعْدٍ اَبُوْاُمَیَّۃَ، نَا اِبْرَاھِیْمُ اَبُوْاِسْحَاقَ الضَّرِیْرُ، نَایَزِیْدُ ابْنُ عَیَّاضٍ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَطَلاَقَ اِلاَّبَعْدَ نِکَاحٍ، وَاِنْ سُمِّیَتِ الْمَرأَۃُ بِعَیْنِھَا۔ (۱۳)
ـــــــ یَزِیْدُ بْنُ عَیَاضٍ ضَعِیْفٌ۔
ترجمہ : حضرت معاذؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں، اگرچہ عورت کا نام ہی کیوں نہ لیا گیا ہو۔
تشریح : امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ طلاق کا حق نکاح کے بعد پیدا ہوتاہے ، نہ کہ نکاح سے پہلے۔ اگر کسی شخص نے یہ کہا ہوکہ وہ آیندہ جس عورت سے بھی نکاح کرے اس کو طلاق ہے تو یہ ایک لغو اور غیرمؤثربات ہے۔اس سے کوئی قانونی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ یہی رائے حضرت علیؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ، حضرت ابنِ عباسؓ اور حضرت عائشہؓ سے بھی منقول ہے۔ امام مالکؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی خاص عورت یا خاص قبیلے یا خاص خاندان کی عورتوں کے بارے میں کوئی شخص ایسی بات کہے تب تو طلاق لازم آجائے گی،لیکن مطلقاً تمام عورتوں کے بارے میں یہ بات کہی جائے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ کیونکہ پہلی صورت میں تو یہ امکان باقی رہتاہے کہ مرد اس عورت یا اس قبیلے کی عورت کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرسکے۔ لیکن دوسری صورت میں ترکِ سنت کی قباحت لازم آتی ہے اور یہ ایک حلال چیز کو اپنے اوپر مطلقاً حرام کرلینے کا ہم معنی ہے۔ (رسائل ومسائل سوم،فقہی مسائل: طلاق۔۔۔)
طلاق کا صحیح طریقہ
عرب میں یہ قاعدہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو بے حدو حساب طلاق دینے کا مجاز تھا۔ جس عورت سے اس کا شوہربگڑجاتا اس کو وہ بار بار طلاق دے کر رجوع کرتارہتاتھا، تاکہ نہ تو وہ غریب اس کے ساتھ ہی بس سکے اور نہ اس سے آزاد ہوکر کسی اور سے نکاح کرسکے۔ یہاں اسی ظلم کا دروازہ بند کیا گیاہے۔
طلاق کا صحیح طریقہ جو قرآن وحدیث سے معلو م ہوتاہے یہ ہے کہ عورت کو حالت طُہر میں ایک مرتبہ طلاق دی جائے، اگر جھگڑا ایسے زمانے میں ہوا ہو، جب کہ عورت ایام ماہواری میں ہو، تو اسی وقت طلاق دے بیٹھنا درست نہیںہے، بلکہ ایام سے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ پھر ایک طلاق دینے کے بعد اگر چاہے تو دوسرے طہر میں دوبارہ ایک طلاق دے دے ورنہ بہتر یہی ہے کہ پہلی ہی طلاق پر اکتفا کرے۔ اس صورت میں شوہر کو یہ حق حاصل رہتاہے کہ عدت گزرنے سے پہلے پہلے جب چاہے رجوع کرلے، اور اگر عدت گزربھی جائے تب بھی دونوں کے لیے موقع باقی رہتاہے کہ پھر باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرلیں، لیکن تیسرے طہر میں تیسری بار طلاق دینے کے بعد نہ تو شوہر کو رجوع کا حق باقی رہتاہے اور نہ اس کا ہی کوئی موقع رہتاہے کہ دونوں کا پھر نکاح ہوسکے۔ رہی یہ صورت کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے ڈالی جائیں جیسا کہ آج کل جہلاء کا عام طریقہ ہے تو یہ شریعت کی رو سے سخت گناہ ہے۔ نبیؐ نے اس کی بڑی مذمت فرمائی ہے۔ اور حضرت عمرؓ سے یہاں تک ثابت ہے کہ جو شخص بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتاتھا آپ اس کو دُرّے لگاتے تھے۔ (تفہیم القرآن ج۱ ، البقرہ، حاشیہ: ۲۵۰)
۶۹۔ایک روایت میں حضورؐ نے فرمایا کہ ’’یا تو طُہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دینا چاہیے، یا پھر ایسی حالت میں دے جب کہ اس کا حمل ظاہر ہوچکاہو۔‘‘
تخریج:(۱) نَااَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ، نَاعَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْھَاشِمِیُّ نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ، نَامَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: الطَّلاَقُ لِلسُّنَّۃِ اَنْ یُّطَلِّقَھَا طَاھِراً مِنْ غَیْرِجِمَاعٍ، اَوْعِنْدَ حَبْلٍ قَدْ تَبَیَّنَ۔(۱۴)
(۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ عُمَرَ قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہٗ، فَقَالَ: مُرْہُ، فَلْیُرَاجِعْھَا، ثُمَّ لِیُطَلِّقْھَا وَھِیَ طَاھِرَۃٌ قَالَ اَبُوْمُحَمَّدٍ: رَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَوَکِیْعٌ : اَوْحَامِلٌ۔(۱۵)
(۳) عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاؤسٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ: وَجْہُ الطَّلاَقِ اَنْ یُّطَلِّقَھَا طَاھِرًا مِنْ غَیْرِ جِمَاعٍ، وَاِذَا اسْتَبَانَ حَمْلُھَا۔(۱۶)
(۴) عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ، قَالَ: مَنْ اَرَادَ۔۔۔اَنْ یُّطَلِّقَ لِلسُّنَّۃِ کَمَا اَمَرَ اللّٰہُ، فَلْیُطَلِّقْھَا طَاھِرًا مِنْ غَیْرِ جِمَاعٍ۔(۱۷)
(۵) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَعَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ:ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، مَوْلٰی آلِ طَلْحَۃَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ وَھِیَ حَائِضٌ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ عُمَرُ لِلنَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْھَا ثُمَّ یُطَلِّقْھَا وَھِیَ طَاھِرٌ اَوْحَامِلٌ۔(۱۸)
ماخذ
۱) ابوداؤد ج۲کتاب الطلاق۔ باب فی کراھیۃ الطلاق۔٭دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب ماجاء فی کراھیۃ الطلاق۔ ھذا حدیث ابی داؤد مرسل۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔ کتاب الطلاق باب ما احل اللہ شیئًا ابغض الیہ من الطلاق عن ابن عمر۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔ ٭کنز العمال ج۹۔ص۶۶۱۔
(۲) المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب طلاق ان شاء اللہ تعالٰی۔٭دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭ السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب الخلع والطلاق۔٭کنزالعمال ج۹۔٭نصب الرایۃ ج۳۔ص۲۳۵۔
(۳) مُصَنَّف لاِبن ابی شیبۃ۔ج۵ کتاب الطلاق باب من کرہ الطلاق من غیرریبۃ۔
(۴) ابوداؤد ج۲ کتاب الطلاق، باب فی کراھیۃ الطلاق۔٭ابنِ ماجہ کتاب الطلاق۔ باب۱۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب الطلاق باب ماجاء فی کراھیۃ الطلاق۔٭احکام القرآن للجصّاص ج۲۔ص۱۰۹٭کنز العمال ج۹۔ ص۶۶۱ الفصل الثانی فی الترھیب عن الطلاق۔
(۵) ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق العبد۔٭دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب طلاق العبد بغیر اذن سیدہ وفیہ ضعف۔٭کنز العمال ج۹۔ص۶۴۱۔۶۴۲عن ابن عباس۔
(۶) دارقطنی ج۴۔ حدیث ۱۰۲، حاشیہ ۵۷ مطبوعہ نشر السنۃ پاکستان۔
(۷) مجمع الزوائدج۴۔کتاب الطلاق باب لاطلاق قبل نکاح۔
(۸) نصب الرایۃ لاحادیث الھدایہ للزیلعی ج۳۔ کتاب الطلاق باب الأیمان فی الطلاق۔
(۹) نصب الرایۃ لاحادیث الھدایہ للزیلعی ج۳۔ کتاب العتق۔
(۱۰) ابوداؤد ج۲۔ کتاب الطلاق، باب فی الطلاق قبل النکاح۔٭ابنِ ماجہ کتاب الطلاق، باب لاطلاق قبل النکاح۔ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ۔٭ ابنِ ماجہ نے لاَطَلاَقَ فِیْمَا لاَیَمْلِکُ نقل کیاہے۔٭دارمی ج۲کتاب الطلاق باب۳لاطلاق قبل نکاح۔٭دارمی نے وَلاَطَلاَقَ قَبْلَ اِمْلاَکٍ وَلاَعِتَاقَ حَتّٰی یَبْتَاعَ۔٭دارقطنی ج۴۔ کتاب الطلاق۔ مسند احمد ج۲۔ص۱۱۰،۱۸۹،۱۹۰،۲۰۷،۲۱۲ ۔
(۱۱) مُسندِ احمد ج۲میں ایک روایت میں لاَطَلاَقَ فیِمْاَ لاَتَمْلِکُوْنَ الخ یعنی تَمْلِکُوْنَ جمع کا صیغہ ہے ۔ ج۳ ص۱۸۹ ٭دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الطلاق واللعان باب ماجاء لاطلاق قبل النکاح۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب الطلاق قبل النکاح۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب الطلاق قبل النکاح ۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔ کتاب الطلاق باب لانذر لابن آدم فیما لایملک عن عمرو۔ ٭ مجمع الزوائد للھیثمی ج۴۔ص۳۳۴عن جابر بن عبداللہ بحوالہ طبرانی اوسط اس نے لاطلاق الابعد نکاح ولاعتاق الا من بعد ذلک ذکر کیاہے۔٭ کنزالعمال ج۹۔ص۶۴۱عن عمرو۔
(۱۲) ابن ماجہ کتاب الطلاق باب لاطلاق قبل النکاح۔٭دارمی کتاب الطلاق باب۳۔لاطلاق قبل نکاح۔٭دارقطنی ج۴۔ کتاب الطلاق والخلع عن معاذ بن جبل۔٭احکام القرآن للجصّاص ج۳۔ص۳۶۳٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الطلاق قبل النکاح۔ عن جابر۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب۔ لاطلاق لمن لاملک۔ ابن عباس سے مروی روایت۔ لاطلاق الا بعد نکاح الخ۔ معاذ بن جبل۔ ٭مستدرک ج۲۔ص۴۲۰٭کنزالعمال ج۹۔ص۶۴۱٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۵۔ص۱۷٭المصنف ج۶۔ کتاب الطلاق باب الطلاق قبل النکاح۔ ٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب الطلاق باب لاطلاق قبل نکاح۔ عن جابراس میں بھی لاطلاق الابعد نکاح ہے ۔نصب الرایۃ لاحادیث الھدایۃ للزیلعی ج۳۔ص۲۳۱امام بخاری نے ج۲کتاب الطلاق باب لاطلاق قبل النکاح باندھا ہے اور اس کے تحت قرآن مجید کی آیت لاکر استدلال کیا ہے کہ نکاح کرنے سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ عبداللہ بن عباس نے اس آیت سے استنباط کیاہے یعنی جَعَلَ اللّٰہُ الطَّلاَقَ بَعْدَ النِّکَاحِ۔
(۱۳) دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ص۳۱۸ عن عبداللہ بن عمر۔٭اس روایت میں وان سمیت المرأۃ بعینھا کاٹکڑا نہیں ہے۔٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح باب الرضاع۔٭کنزالعمال ج۹۔ ص۶۴۳ عن ابن عمرو۔
(۱۴) سنن دارقُطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق السنۃ۔٭ نسائی نے اوعندحبل قدتبین بیان نہیں کیا۔ ٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۵۔ کتاب الطلاق ماقالوا فی طلاق السنۃ ما ومتٰی یطلق؟
(۱۵) دارمی ج۲۔ کتاب الطلاق باب السنۃ فی الطلاق۔٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۳۳۶ قال عبداللہ الطلاق فی طھر غیرجماع۔
(۱۶) المصنف ج۶۔کتاب الطلاق باب المبارأۃ۔
(۱۷) المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب المبارأۃ۔ فتح القدیر للشوکانی ج۵۔ص۳۴۳ عن ابن مسعود وابن عباس۔
(۱۸) ابنِ ماجہ کتاب الطلاق، باب کیف تطلق۔
فصل :۱۰ خلع
فَلاَجُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ (البقرہ:۲۲۹)
’’ ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔‘‘
تشریح :شریعت کی اصطلاح میں اسے ’’خُلع‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ایک عورت کااپنے شوہر کو کچھ دے دلاکر اس سے طلاق حاصل کرنا۔اس معاملے میں اگر عورت اور مرد کے درمیان گھر کے گھر ہی میں کوئی معاملہ طے ہوجائے، تو جوکچھ طے ہوا ہو، وہی نافذ ہوگا۔ لیکن اگر عدالت میں معاملہ جائے، تو عدالت صرف اس امر کی تحقیق کرے گی کہ آیا فی الواقع یہ عورت اس مرد سے اس حد تک متنفر ہوچکی ہے کہ اس کے ساتھ اس کا نباہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی تحقیق ہوجانے پر عدالت کو اختیار ہے کہ حالات کے لحاظ سے جو فدیہ چاہے، تجویز کرے، اور اس فدیے کو قبول کرکے شوہر کو اسے طلاق دینا ہوگا۔ بالعموم فقہاء نے اس بات کو پسند نہیں کیا ہے کہ جو مال شوہر نے اس عورت کو دیاہو، اس کی واپسی سے بڑھ کر کوئی فدیہ اسے دلوایا جائے۔
خُلع کی صورت میں جو طلاق دی جاتی ہے، وہ رجعی نہیں ہے، بلکہ بائنہ ہے۔ چونکہ عورت نے معاوضہ دے کر اس طلاق کو گویا خریدا ہے، اس لیے شوہر کو یہ حق باقی نہیں رہتا کہ اس طلاق سے رجوع کرسکے۔ البتہ اگر یہی مردو عورت پھر ایک دوسرے سے راضی ہوجائیں اور دوبارہ نکاح کرنا چاہیں، تو ایسا کرنا ان کے لیے بالکل جائز ہے۔
جمہور کے نزدیک خُلع کی عدّت وہی ہے جو طلاق کی ہے مگر ابوداؤد، ترمذی اور ابنِ ماجہ وغیرہ میں متعدد روایات ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ نبی ﷺ نے اس کی عدّت ایک ہی حیض قراردی تھی اور اسی کے مطابق حضرت عثمانؓ نے ایک مقدمہ کا فیصلہ کیا۔(ابنِ کثیر ج اول ص۲۷۶) (تفہیم القرآن ج۱، البقرہ، حاشیہ: ۲۵۲)
جمیلہ بنت اُبَیّ کا واقعہ ٔ خلع
۷۰۔أَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ الَّتِیْ اَعْطَاکِ؟
’’جوباغ تجھ کو اس نے دیا تھا وہ تو واپس کردے گی؟‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ النِّیْسَابُوْرِیُّ، نَا یُوْسُفُ بْنُ سَعِیْدٍ، نَاحَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبُوالزُّبَیْرِ اَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ،کَانَتْ عِنْدَہٗ زَیْنَبُ بِنْتُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ سَلُوْلٍ، وَکَانَ اَصْدَقَھَا حَدِیْقَۃً فَکَرِھَتْہٗ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ :أَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہُ الَّتِیْ اَعْطَاکِ؟قَالَتْ: نَعَمْ وَزِیَادَۃً، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اَمَّا الزِّیَادَۃُ فَلاَ، وَلٰکِنْ حَدِیْقَتَہٗ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَاَخَذَھَا لَہٗ، وَخَلاَ سَبِیْلَھَا، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِکَ ثَابِتَ بْنَ قَیْسٍ، قَالَ قَدْ قَبِلْتُ قَضَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔سَمِعَہٗ اَبُوالزُّبَیْرِ مِنْ غَیْرِ وَاحِدٍ۔(۱)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، قَالَ: ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی فُضَیْلٍ، عَنْ اَبِیْ جَرِیْرٍ اَنَّہٗ سَأَلَ عِکْرِمَۃَ ھَلْ کَانَ لِلْخُلْعِ اَصْلٌ؟ قَالَ:کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: اِنَّ اَوَّلَ خُلْعٍ کَانَ فِی الْاِسْلاَمِ اُخْتُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اُبَیٍّ اَنَّھَا اَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لاَیَجْمَعُ رَاْسِیْ وَرَاْسَہٗ شَیْئٌ اَبَدًا، اِنِّیْ رَفَعْتُ جَانِبَ الْخِبَائِ، فَرَأَیْتُہٗ اَقْبَلَ فِیْ عِدَّۃٍ، فَاِذَا ھُوْ اَشَدُّھُمْ سَوَادًا، وَاَقْصَرُھُمْ قَامَۃً، وَاَقْبَحُھُمْ وَجْھًا، قَالَ زَوْجُھَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اَعْطَیْتُھَا اَفْضَلَ مَالِیْ حَدِیْقَۃً فَتَرُدُّ عَلَیَّ حَدِیْقَتِیْ، قَالَ: مَاتَقُوْلِیْنَ؟ قَالَتْ،نَعَمْ! وَاِنْ شَآئَ زِدْتُّہٗ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا۔(۲)
ترجمہ : ابو جریر نے حضرت عکرمہ سے پوچھا کہ کیا خلع کی بھی کوئی اصلیت ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت ابنِ عباس فرمایا کرتے تھے کہ اسلام میں خلع کا پہلا واقعہ عبداللہ بن ابی کی بہن (جمیلہ) کا ہے۔ (صورت واقعہ یوں ہے) وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا، اے رسول خدا ﷺ !میرے اوراس کے سر کو کوئی چیز بھی اکٹھے نہیں رکھ سکتی ہے۔ میں نے اپنا گھونگھٹ جو اٹھایا تو وہ سامنے سے چند آدمیوں کے ساتھ آرہاتھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ سب سے زیادہ کالا اورسب سے زیادہ پستہ قد اور سب سے زیادہ بدشکل تھا۔ اس کے خاوند نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں نے تو اسے اپنے مال کا سب سے عمدہ مال باغ کی شکل میں دیاہے، وہ اسے مجھ کو واپس کرے گی؟ آنحضورؐ نے اس عورت سے پوچھا، بولو کیاکہتی ہو؟ اس نے جواب دیا ہاں (میں واپس دے دوں گی)، اگر مزید بھی کچھ چاہے تو وہ بھی دینے کو تیار ہوں۔ راوی کا بیان ہے کہ آپؐ نے دونوںکو جدا جدا کردیا۔
(۳) حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثَنَا یَحْیٰ بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ جَمِیْلَۃَ بِنْتِ اُبیِّ ابْنِ سَلُوْلٍ انَّھَاکَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ، فَنَشَزَتْ عَلَیْہِ، فَاَرْسَلَ اِلَیْھَا النَّبِیُّ ﷺ فَقَالَ: یَاجَمِیْلَۃُ مَاکَرِھْتِ مِنْ ثَابِتٍ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَاکَرِھْتُ مِنْہُ دِیْنًا وَلاَخُلُقًا اِلاَّ اَنِّیْ کَرِھْتُ دَمَامَتَہٗ، فَقَالَ لَھَا:أتَرُدِّیْنَ الْحَدِیْقَۃَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ۔ فَرَدَّتِ الْحَدِیْقَۃَ، وَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا۔(۳)
ترجمہ :جمیلہ بنت ابی بن سلول کا بیان ہے کہ وہ ثابت بن قیس کے نکاح میں تھی۔ جمیلہ ثابت سے ناراض ہوگئی اور نفرت کا اظہار کیا تو نبی ﷺ نے کسی کو بھیج کر جمیلہ کو بلوایا اور دریافت فرمایا، اے جمیلہ! ثابت کی کون سی چیز تجھے ناپسند ہے؟ وہ بولی بخدا میں ثابت کے دین اور اخلاق کو ناپسند نہیں کرتی، مجھے تو اس کی بدصورتی ناپسند ہے۔ آپ نے پوچھا، کیا اس کا باغ واپس کردوگی؟ اس نے کہا ہاں۔ جمیلہ نے ثابت کا باغ واپس کردیا اور آپؐ نے دونوں کے درمیان تفریق کرادی۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، ثَنَا اَبُوْخَالِدِ نِ الْاَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ،کَانَتْ حَبِیْبَۃُ بِنْتُ سَھْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَکَانَ رَجُلاً دَمِیْمًا۔ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ! لَوْلاَمَخَافَۃَ اللّٰہِ، اِذَا دَخَلَ عَلَیَّ، لَبَصَقْتُ فِیْ وَجْھِہِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: أَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ؟ قَالَتْ:نَعَمْ، قَالَ: فَرَدَّتْ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ قَالَ: فَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۴)
(۵) عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ: جَائَ تِ امْرَأَۃُ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ اِلَی النَّبِیِّﷺ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَاوَاللّٰہِ مَااَعْتِبُ عَلٰی ثَابِتٍ دِیْنًا، وَلاَخُلُقًا، وَلٰکِنْ اَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الْاِسْلاَمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: أَتَرُدِّیْنَ اِلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَدَعَا النَّبِیُّ ﷺ ثَابِتًا، فَاَخَذَ حَدِیْقَتَہٗ وَفَارَقَھَا۔ وَھِیَ جَمِیْلَۃُ بِنْتُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ سَلُوْلٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَبَلَغَنِیْ اَنَّھَا قَالَتْ: یَوْمَئِذٍ اَکْرَہُ اَنْ اَعْصِی رَبِّیْ، قَالَ: وَبَلَغَنِیْ اَنَّھَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ﷺ: بِیْ مِنَ الْجَمَالِ مَاتَرٰی، وَثَابِتٌ رَجُلٌ دَمِیْمٌ۔(۵)
(۶) حَدَّثَنَا اَزْھَرُ بْنُ جَمِیْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ الثَّقَفِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ امْرَأَۃَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ اَتَتِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا اَعْتِبُ عَلَیْہِ فِیْ خُلُقٍ، وَلاَدِیْنٍ، وَلٰکِنِّیْ اکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الْاِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَقْبِلِ الْحَدِیْقَۃَ وَطَلِّقْھَا تَطْلِیْقَۃً۔(۶)
(۷)ابنِ ماجہ میں وَلٰکِنِّیْ اَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الْاِسْلاَمِکے بعد اتنا اضافہ بھی ہے لاَ اُطِیْقُہٗ بُغْضاً۔ فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ﷺ:أَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَاَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَاْخُذَ مِنْھَا حَدِیْقَتَہٗ وَلاَیَزْدَادُ۔(۷)
بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے :
(۸)فَقَالَتْ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَنْقِمُ عَلٰی ثَابِتٍ فِیْ دِیْنٍ، وَلاَخُلُقٍ اِلاَّ اَنِّیْ اَخَافُ الْکُفْرَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ۔ فَرَدَّتْ عَلَیْہِ، وَاَمَرَہٗ فَفَارَقَھَا۔(۸)
پس منظر : جمیلہ بنت ابی بن سلول (عبداللہ بن ابی کی بہن) کا قصہ یہ ہے کہ انہیں ثابت کی صورت ناپسند تھی۔ انہوں نے نبی ﷺ کے پاس خلع کے لیے مرافعہ کیا اور ان الفاظ میں اپنی شکایت پیش کی:
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لاَ یَجْمَعُ رَاْسِیْ وَرَأْسَہٗ شَـْیئٌ اَبَداً اِنِّیْ رَفَعْتُ جَانِبَ الْخِبَائِ فَرَأَیْتُہٗ اَقْبَلَ فِیْ عِدَّۃٍ فَاِذَا ھُوَ اَشَدُّھُمْ سَوَاداً وَاَقْصَرُھُمْ قَامَۃً وَاَقْبَحُھُمْ وَجْھاً۔ (ابن جریر)
’’یارسول اللہ میرے اور اس کے سرکو کوئی چیز جمع نہیں کرسکتی۔ میں نے اپنا گھونگھٹ جو اٹھایا تو وہ سامنے سے چند آدمیوں کے ساتھ آرہاتھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ان سب سے زیادہ کالا اور سب سے زیادہ پست قد اور سب سے زیادہ بدشکل تھا۔‘‘
وَاللّٰہِ مَاکَرِھْتُ مِنْہُ دِیْناً وَلاَ خُلُقاً اِلاَّ اَنِّیْ کَرِھْتُ دَمَا مَتَہٗ۔(ابن جریر)
’’خدا کی قسم میں دین یا اخلاق کی کسی خرابی کے سبب سے اس کو ناپسند نہیں کرتی، بلکہ مجھے اس کی بدصورتی ناپسند ہے۔‘‘
وَاللّٰہِ لَوْلاَ مَخَافَۃَ اللّٰہِ اِذَا دَخَلَ عَلَیَّ لَبَصَقْتُ فِیْ وَجْھِہٖ۔(ابن جریر)
’’خدا کی قسم! اگر خدا کا خوف نہ ہوتا تو جب وہ میرے پاس آیاتھا اس وقت میں اس کے منہ پر تھوک دیتی۔‘‘
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ بِیْ مِنَ الْجَمَالِ مَا تَریٰ وَثَابِتٌ رَجُلٌ دَمِیْمٌ۔(عبدالرزاق بحوالہ فتح الباری)
’’یا رسول اللہ میں جیسی خوبصورت ہوں آپ دیکھتے ہیں اور ثابت ایک بدصورت شخص ہے۔‘‘
وَمَا اَعْتَبُ عَلَیْہِ فِیْ خُلُقٍ وَلاَدِیْنٍ وَ ٰ لکِنِّیْ اَکْرَہُ الْکُفْرَ فِیْ الْاِسْلاَمِ۔
’’میں اس کے دین اور اخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی، مگر مجھے اسلام میں کفر کا خوف ہے۔‘‘
نبی ﷺ نے یہ شکایت سنی اور فرمایا أَ تَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ الَّتِیْ اَعْطَاکَ؟’’جو باغ اس نے تجھ کو دیا تھا وہ تو واپس کردے گی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ، بلکہ وہ زیادہ چاہے تو زیادہ بھی دوں گی۔ حضور نے فرمایا اَمَّا الزِّیَادَۃُ فَلاَوَ ٰلکِنْ حَدِیْقَتَہٗ’’زیادہ تو نہیں مگر تو ا س کا باغ واپس کردے۔‘‘ پھر ثابت کو حکم دیا کہ اَقْبِلِ الْحَدِیْقَۃَ وَطَلِّقْھَا تَطْلِیْقَۃ ’’باغ قبول کر لے اور اس کو ایک طلاق دے دے۔‘‘
کسی زیادتی کے بغیر خلع
۷۱۔اَیُّمَا امْرَأَۃِ نِاخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِھَا بِغَیْرِ نُشُوْزٍ فَعَلَیْھَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ اَلْمُخْتَلِعَاتُ ھُنَّ الْمُنَافِقَاتُ۔
ان الفاظ میں یہ روایت نہیں ملی ۔(مرتب)
’’جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے اس کی کسی زیادتی کے بغیر خلع لیا اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ خلع کو کھیل بنانے والی عورتیں منافق ہیں۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، ثَنَامُزَاحِمُ بْنُ ذَوَّادِ بْنِ عُلْبَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ اَبِی الْخَطَّابِ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: اَلْمُخْتَلِعَاتُ ھُنَّ الْمُنَافِقَاتُ۔
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَلَیْسَ اِسْنَادُہُ بِالْقَوِیِّ۔
(۲)وَرُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: اَیُّمَا امْرَأَۃِ نِاخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِھَا مِنْ غَیْرِبَاْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ۔(۹)
نسائی نے حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ سے نقل کی ہے:
(۳)اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَنَا الْمَخْزُوْمِیُّ وَھُوَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ: ثَنَا وُھَیْبٌ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ:المُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ ھُنَّ الْمُنَافِقَاتُ۔(۱۰)
ـــــــ قَالَ الْحَسَنُ لَمْ اَسْمَعْہُ مِنْ غَیْرِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ اَلْحَسَنُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ شَیْئاً۔
(۴)حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَاحَمَّادٌ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیُّمَا امْرَأَۃٍ سَأَلَتْ زَوْجَھَا طَلاَقًا فِیْ غَیْرِمَابَأْسَ فَحَرَامٌ عَلَیْھَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت ثوبان سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عورت بغیر کسی زیادتی کے اپنے خاوند سے طلاق (خلع) کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
تشریح : مرد ہو یا عورت، ہر ایک کو طلاق یا خلع کا اختیار صرف ایک آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ نہ کہ محض خواہشات کی تسکین کے لیے طلاق اور خلع کو کھیل بنا لیا جائے۔ (حقوق الزوجین، اصل دوم:خلع)
عدت خلع
۷۲۔ اَنْ تَتَرَبَّصَ حَیْضَۃً وَاحِدَۃً فَتَلْحَقَ بِاَھْلِھَا ۔
’’ایک حیض تک انتظار کر اور اپنے لوگوں (میکے والوں) کے ساتھ جاکر رہو۔‘‘
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَلِیٍّ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْيٰ الْمَرْوَزِیُّ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ شَاذَانُ ابْنُ عُثْمَانَ اَخُوْعَبْدَانَ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْيٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اخُوْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ ابْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَہٗ فَکَسَرَ یَدَھَا وَھِیَ جَمِیْلَۃُ بِنْتُ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ اُبَیٍّ فَاَتٰی اَخُوْھَا یَشْتَکِیْہِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی ثَابِتٍ فَقَالَ لَہٗ: خُذِ الَّذِیْ لَھَا عَلَیْکَ وَخَلِّ سَبِیْلَھَا، قَالَ: نَعَمْ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ تَتَرَبَّصَ حَیْضَۃً وَاحِدَۃً فَتَلْحَقَ بِاَھْلِھَا۔(۱۲)
ترجمہ : ربیع بنت معوذ نے بتایا کہ ثابت ابن قیس نے اپنی بیوی کو اتنا مارا کہ اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ یہ خاتون جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی تھیں ان کا بھائی رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں شکایت لے کر حاضر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت کو بلوا لیا اور اس سے فرمایا جو حق (مال مہر) تمہارا اس عورت کے ذمہ بنتاہے وہ لے لو اور اسے فارغ کردو۔ اس نے عرض کیا، ٹھیک ہے میں ایسا کرتاہوں (مال باغ کی شکل میں واپس لے کر اسے فارغ کردیا)۔ تو رسول اللہ ﷺنے اس عورت کو حکم دیا کہ ایک حیض تک انتظار کر اور اپنے لوگوں(میکے والوں) کے ساتھ جاکر رہو۔
(۲)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِیْمِ الْبَزَّازُ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ بَحْرِ نِ الْقَطَّانُ، ثَنَا ھِشَامُ بْنُ یُوْسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،اَنَّ امْرَأَۃَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْہُ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ عِدَّتَھَا حَیْضَۃً۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نے ان سے خلع لیا تو آپ نے اس عورت کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔
ترمذی کی ایک روایت :
(۳)عَنِ الرُّبِّیعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرآئَ اَنَّھَا اخْتَلَعَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَمَرَھَاالنَّبِیُّ ﷺ وَاُمِرَتْ اَنْ تَعْتَدَّ بِحَیْضَۃٍ۔(۱۴)
ـــــــ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی: حَدِیْثُ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ صَحِیْحٌ۔
ترجمہ : ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں خلع لیا۔ نبی ﷺ نے اسے اس کی اجازت دے دی اور خلع کے بعد اسے حکم دیا گیا کہ وہ ایک حیض مدت عدت شمار کرے۔
رُبَیّع بنت مُعَوِّذ بن عفراء خود اپنا واقعۂ خلع بیان کرتی ہیں:
(۴)قَالَتْ اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِیْ، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ فَسَاَلْتُ: مَاذَا عَلَیَّ مِنَ الْعِدَّۃِ؟ فَقَالَ لاَعِدَّۃَ عَلَیْکِ اِلاَّ اَنْ یَکُوْنَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِکِ، فَتَمْکُثِیْنَ عِنْدَہٗ حَتّٰی تَحِیْضِیْنَ حَیْضَۃً قَالَتْ: وَاِنَّمَا تَبِعَ فِیْ ذٰلِکَ قَضَائَ رَسُولِ اللّٰہِﷺ فِیْ مَرْیَمَ الْمَغَالِیَّۃِ وَکَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْہُ۔(۱۵)
(۵)عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِوبْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلٰی عَبَّاسٍ، قَالَ: اخْتَلَعَتْ امْرَأَۃُ ثَابِتِ ابْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ مِنْ زَوْجِھَا، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عِدَّتَھَا حَیْضَۃً۔(۱۶)
(۶)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ، قَالَ: نَا ھُشَیْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُثْمَانَ اَنَّہٗ قَالَ:عِدَّۃُ المُخْتَلَعَۃِ حَیْضَۃٌ۔
(۷)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ، قَالَ: نَا عَبْدَۃُ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:عِدَّۃُ الْمُخْتَلَعَۃِ حَیْضَۃٌ۔(۱۷)
(۸)حَدَّثَنَا القَعْنَبِیُّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عِدَّۃُ الْمُخْتَلَعَۃِ حَیْضَۃٌ۔(۱۸)
تشریح : مختلعہ کی عدّت کے مسئلے میں اختلاف ہے۔ فقہاء کی ایک کثیر جماعت اسے مطلقہ کی عدت کے مانند قراردیتی ہے۔ اور ایک معتدبہ جماعت اسے ایک حیض تک محدود رکھتی ہے۔ اس دوسرے مسلک کی تائید میں متعدد احادیث ہیں۔ نسائی اور طبرانی نے ربیع بنتِ مُعوّذ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی کے مقدمہ خلع میں حضور ﷺ نے حکم دیا کہ اَنْ تَتَرَبَّصَ حَیْضَۃً وَّاحِدَۃً وَتَلْحَقَ بِاَھْلِھَا۔
ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ انہی زوجہ ثابت بن قیس کو حضور ﷺ نے حکم دیا کہ تَعْتَدِّ بِحَیْضَۃٍ۔
نیز ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ربیع بنتِ معوّذ کی ایک اور روایت بھی اسی مضمون کی نقل کی ہے۔ ابنِ ابی شیبہ نے ابن عمرؓ کے حوالہ سے حضرت عثمانؓ کا بھی ایک فیصلہ اسی مضمون پر مشتمل نقل کیاہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے ابن عمرؓ مختلعہ کی عدّت کے معاملے میں تین حیض کے قائل تھے۔ حضرت عثمان ؓ کے اس فیصلے کے بعد انہوں نے اپنی رائے بدل دی اور ایک حیض کا فتویٰ دینے لگے۔ اسی طرح ابن ابی شیبہ نے ابن عباسؓ کا یہ فتویٰ نقل کیاہے کہعِدَّتُھَا حَیْضَۃٌ۔ ابنِ ماجہ نے ربیع بنتِ معوّذ بن عفراء کے حوالے سے حضرت عثمانؓ کے مذکورہ بالافیصلہ کی جو روایت نقل کی ہے اس میں حضرت عثمانؓ کا یہ قول بھی موجود ہے کہ اِنَّمَا اَتْبَعُ فِیْ ذٰلِکَ قَضَائَ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ۔ (رسائل ومسائل سوم، فقہی مسائل: عدت خلع)
حبیبہ بنت سہل انصاریہ کا واقعۂ خلع
۷۳۔ ثابت کی ایک اور بیوی حبیبہ بنت سہل الانصاریہ تھیں جن کا واقعہ امام مالک اور ابوداؤد نے اس طرح نقل کیاہے کہ ایک روز صبح سویرے حضورؐ اپنے مکان سے باہر نکلے تو حبیبہ کو کھڑا پایا، دریافت فرمایا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا لاَ اَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ’’ میری اور ثابت کی نبھ نہیں سکتی‘‘ جب ثابت حاضر ہوئے تو حضورؐ نے فرمایا کہ یہ حبیبہ بنتِ سہل ہے۔ اس نے بیان کیا جو کچھ اللہ نے چاہا کہ بیان کرے۔ حبیبہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! جو کچھ ثابت نے مجھے دیاہے وہ سب میرے پاس ہے۔ حضورؐ نے ثابت کو حکم دیا کہ وہ لے لے اور اس کو چھوڑدے۔ بعض روایتوں میں خَلِّ سَبِیْلَھَا کے الفاظ ہیں اور بعض میں فَارِقْھَا۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ابوداؤد اور ابن جریر نے حضرت عائشہ سے اس واقعہ کو اس طرح روایت کیا ہے کہ ثابت نے حبیبہ کو اتنا ماراتھا کہ ان کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ حبیبہ نے آکر حضور سے شکایت کی، آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ خُذْ بَعْضَ مَالِھَا وَفَارِقْھَا ’’اس کے مال کا ایک حصہ لے لے اوراسے جدا کردے۔‘‘ مگر ابن ماجہ نے حبیبہ کے جو الفاظ نقل کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حبیبہ کو بھی ثابت کے خلاف جو شکایت تھی وہ مارپیٹ کی نہیں بلکہ بدصورتی کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے وہی الفاظ کہے جو دوسری احادیث میں جمیلہ سے منقول ہیں، ’’یعنی اگر مجھے خدا کا خوف نہ ہوتا تو ثابت کے منہ پر تھوک دیتی ۔ ‘‘ (حقوق الزوجین ، اصل دوم: صدرِ ۔۔۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَۃَ، اَنَّھَا اَخْبَرَتْۃُ عَنْ حَبِیْبَۃَ بِنْتِ سَھْلِ نِ الْاَنْصَارِیَّۃِ، اَنَّھَا کَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْن ِقَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ اِلَی الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِیْبَۃَ بِنْتَ سَھْلٍ عِنْدَ بَابِہِ فِی الْغَلْسِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ ھٰذِہِ؟ فَقَالَتْ: اَنَا حَبِیْبَۃُ بِنْتُ سَھْلٍ قَالَ:مَاشَانُکِ؟ قَالَتْ: لاَ اَنَا وَلَاثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ، لَزَوْجُھَا، فَلَمَّا جَائَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ قَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ھٰذِہِ حَبِیْبَۃُ بِنْتُ سَھْلٍ، وَذَکَرَتْ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَذْکُرَ، وَقَالَتْ حَبِیْبَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کُلُّ مَااَعْطَانِیْ عِنْدِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ: خُذْ مِنْھَا، فَاَخَذَ مِنْھَا، وَجَلَسَتْ (ھی) فِیْ اَھْلِھَا۔(۱۹)
(۲)حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا اَبُوْعَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا اَبُوعَمْرٍوالسَّدُوْسِیُّ الْمَدِیْنِیُّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ حَبِیْبَۃَ بِنْتَ سَھْلٍ، کَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ ابْنِ شَمَّاسٍ فَضَرَبَھَا، فَکَسَرَ بَعْضَھَا، فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعْدَ الصُّبْحِ (فَاشْتَکَتْہُ اِلَیْہِ) فَدَعَا النَّبِیُّ ﷺ ثَابِتًا فَقَالَ: خُذْ بَعْضَ مَالِھَا وَفَارِقْھَا، فَقَالَ: وَیُصْلِحُ ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ:نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَصْدَقْتُھَا حَدِیْقَتَیْنِ وَھُمَا بِیَدِھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ خُذْ ھُمَا فَفَارِقْھَا فَفَعَلَ۔(۲۰)
ترجمہ :حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حبیبہ بنت سہل، ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں۔ ثابت نے اسے اتنا مارا کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ ٹوٹ گیا، حبیبہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں صبح کے بعدحاضر ہوئی اور ثابت کی شکایت کی۔ نبی ﷺ نے ثابت کو بلوا بھیجا (وہ آگیا) تو آپ نے فرمایا، اس کا کچھ مال لے کر اسے فارغ کردو۔ اس نے عرض کیا ،کیا آپ کا یہ فیصلہ صلح کرادے گا؟ آپ نے فرمایا، ہاں ضرور کرے گا تو ثابت بولا میں نے تو اسے مہر میں دوباغ دیے ہیں اور وہ اس کے قبضہ میں ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا، اپنے دونوں باغ اس سے واپس لے لو اور اسے فارغ کردو! چنانچہ ثابت نے ایسا ہی کیا۔
خلع کا معاوضہ اپنے دیے ہوئے مال سے زیادہ لینا
۷۴۔ لاَ یَأْخُذُ الرَّجُلُ مِنْ الْمُحْتَلِعَۃِ اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا۔
تخریج:(۱)عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوالزُّبَیْرِ اَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، کَانَتْ عِنْدَہُ زَیْنَبُ بِنْتُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اُبیِّ بْنِ سَلُوْلٍ، وَکَانَ اَصْدَقَھَا حَدِیْقَۃً، فَکَرِھَتْہٗ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ:أتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہُ الَّتِیْ اَعْطَاکِ؟ قَالَتْ : نَعَمْ وَزِیَادۃ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَمَّاالزِّیَادَۃُ فَلاَ، وَٰلکِنْ حَدِیْقَتَہٗ، قَالَتْ:نَعَمْ، فَأخَذَھَا وَخَلّٰی سَبِیْلَھَا،انْتَھیٰ۔ قَالَ: سَمِعَہٗ اَبُوالزُّبَیْرِ مِنْ غَیْرِ وَاحِدٍ، ثُمَّ اَخْرَجَ عَنْ عَطَائٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ:لاَیَاْخُذُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُخْتَلِعَۃِ اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا، انْتَھٰی۔(۲۱)
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ نِالشَّافِعِیُّ، نَابِشْرُ بْنُ مُوْسٰی، نَا الْحُمَیْدِیُّ، نَا سُفْیَانُ، نَا ابْنُ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لاَتَاْخُذْ مِنَ الْمُخْتَلِعَۃِ اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا۔(۲۲)
ترجمہ : حضرت عطاء سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ مختلعہ سے خلع کے معاوضہ میں اپنے دیے ہوئے مہر سے زیادہ مال نہ لے۔
تشریح : نبی ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا کہ شوہر خلع کے معاوضہ میں اپنے دیئے ہوئے مہر سے زیادہ مال لے۔
(حقوق الزوجین، اصل دوم: احکام خلع)
طلاق اور خلع کو کھیل بنانے کی ممانعت
حالتِ حیض میں طلاق کی ممانعت
۷۹۔لاَ،کَانَتْ تَبِیْنُ وَتَکُوْنَ مَعْصِیَۃً
’’ نہیں، وہ جدا ہوجاتی اور یہ گناہ ہوتا۔ ‘
حضورؐ کے زمانے میں بھی تین طلاق تین ہی سمجھی جاتی تھی اور متعدد مقدمات میں حضورؐ نے ان کو تین ہی شمار کرکے فیصلہ دیاہے۔ لیکن جو شخص تین مرتبہ طلاق کا الگ الگ تلفظ کرتاتھا اور اس کی طرف سے اگر یہ عذر پیش کیا جاتاکہ اس کی نیت ایک ہی طلاق کی تھی اور باقی دومرتبہ اس نے یہ لفظ محض تاکید اً استعمال کیا تھا، اس کے عذر کو حضورؐ قبول فرمالیتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں جو کچھ کیا وہ صرف یہ ہے کہ جب لوگ کثرت سے تین طلاقیں دے کر ایک طلاق کی نیت کا عذر پیش کرنے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ اب یہ طلاق کا معاملہ کھیل بنتاجارہاہے اس لیے ہم اس عذر کو قبول نہیں کریں گے اور تین طلاقوں کو تین ہی کی حیثیت سے نافذ کردیں گے۔ اس کو تمام صحابہؓ نے بالاتفاق قبول کیا اور بعد میں تابعین وائمۂ مجتہدین بھی اس پر متفق رہے۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہاکہ حضرت عمرؓ نے عہدِ رسالت کے قانون میں یہ کوئی ترمیم کی ہے۔ اس لیے کہ نیت کے عذر کو قبول کرنا قانون نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار قاضی کی اس رائے پر ہے کہ جو شخص اپنی نیت بیان کررہاہے وہ صادق القول ہے۔ حضورؐ کے زمانے میں اس طرح کا عذر مدینہ طیبہ کے اِکّاد کاّ جانے پہچانے آدمیوں نے کیا تھا اس لیے حضورؐ نے ان کو راست باز آدمی سمجھ کر ان کی بات قبول کرلی۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایران سے مصر تک اور یمن سے شام تک پھیلی ہوئی سلطنت کے ہرشخص کا یہ عذر عدالتوں میں لازماً قابلِ تسلیم نہیں ہوسکتاتھا، خصوصاً جب کہ بہ کثرت لوگوں نے تین طلاق دے کر ایک طلاق کی نیت کا دعویٰ کرنا شروع کردیاہو۔
(سنّت کی آئینی حیثیت ، اعتراضات وجوابات، ۲۷: مسئلہ۔۔۔)
‘
تخریج:(۱) نَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ نِالْحَافِظُ، نَامُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ، نَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ، نَا شُعَیْبُ بْنُ رُزَیْقٍ اَنَّ عَطَائَ الْخُرَاسَانِیَّ حَدَّثَھُمْ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:نَا عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ اَنَّہٗ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ تَطْلِیْقَۃً وَھِیَ حَائِضٌ، ثُمَّ اَرَادَ اَنْ یَتْبَعَھَا بِتَطْلِیْقَتَیْنِ اُخْرَاوَیْنِ عِنْدَ الْقُرْئَیْنِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَا ابْنَ عُمَرَ مَا ھٰکَذَا اَمَرَکَ اللّٰہُ اِنَّکَ قَدْ اَخْطَاْتَ السُّنَّۃَ، وَالسُّنَّۃُ اَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّھْرَ فَیُطَلِّقُ لِکُلِّ قُرُوْئٍ، قَالَ: فَاَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَرَاجَعْتُھَا، ثُمَّ قَالَ:اِذَا ھِیَ طَھَرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَذٰلِکَ اَوْاَمْسِکْ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَاَیْتَ لَوْاَنِّیْ طَلَّقْتُھَا ثَلاَثًا أَکَانَ یَحِلُّ لِیْ اَنْ اُرَاجِعَھَا؟ قَالَ: لاَ،کَانَتْ تَبِیْنُ مِنْکَ وَتَکُوْنُ مَعْصِیَۃً۔(۳۰)
ترجمہ : عبداللہ بن عمر سے مروی ہے انہوں نے اپنی بیوی کو اس وقت ایک طلاق دے دی جب کہ وہ ایام ماہواری میں تھی۔ پھر انہوں نے مزید دونوں طلاقیں بھی ایام ماہواری کے وقت دینے کا ارادہ کیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک بھی پہنچ گئی، آپؐ نے فرمایا، اے ابن عمرؓ !اللہ تعالیٰ نے تو تجھے اس طرح طلاق دینے کا حکم نہیں دیا، تونے طلاق کے صحیح طریقہ کو استعمال نہ کرکے خطا کا ارتکاب کیا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایام طہر میں ہر ایام ماہواری کے موقع پر ایک طلاق دے۔ ابن عمر کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے رجوع کرنے کا حکم فرمایا،تو میںنے تعمیل امر میں رجوع کرلیا۔ پھر آپ نے فرمایا جب یہ ایام حیض سے پاک وصاف ہوجائے تو اس وقت اسے طلاق دو یا اسے روک رکھو۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ! اگر میں اسے تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے رجوع کرنا حلال ہوتا؟ فرمایا نہیں، وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور یہ گناہ ہوتا۔
ـــــــ ھٰذِہٖ الزِّیَادَاتُ الَّتِیْ یَاْتِیْ بِھَا عَنْ عَطَائِ الْخُرَاسَانِیِّ لَیْسَتْ فِیْ رِوَایَۃِ غَیْرِہٖ وَقَدْ تَکَلَّمُوْا فِیْہِ وَیُشْبَہُ اَنْ یَّکُوْنَ قَوْلُہُ وَتَکُوْنُ مَعْصِیَۃً رَاجِعًا اِلٰی اِیْقَاعِ مَاکَانَ یُوْقِعُہٗ مِنَ الطَّلاَقِ الثَّلاَثِ فِیْ حَالِ الْحَیْضِ۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔(۳۱)
ـــــــ فِیْ اِسْنَادِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ عَطَائُ الْخُرَاسَانِیُّ، وَھُوَ مُخْتَلَفٌ فِیْہِ۔ وَقَدْ وَثَّقَہُ التِّرْمِذِیُّ، وَقَالَ النَّسَائِیُّ وَاَبُوْمَاتِمٍ: لاَبَأْسَ بِہٖ، وَضَعَّفَہٗ غَیْرُوَاحِدٍ، وَقَالَ الْبُخَارِیُّ: لَیْسَ فِیْمَنْ رَویٰ عَنْہُ مَالِکٌ مَنْ یَسْتَحِقُّ التَّرْکَ غَیْرَہٗ، وَقَالَ شُعْبَۃُ:کَانَ نَسِیًّا، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ:مِنْ خِیَارِ عِبَادِ اللّٰہِ غَیْرَ اَنَّہٗ کَانَ کَثِیْرُ الْوَھْمِ سَیِّیُٔ الْحِفْظِ یُخْطِئُی وَلاَ یَدْرِیْ، فَلَمَّا کَثُرَ ذٰلِکَ فِیْ رِوَایَتِہٖ بَطُلَ الْاِحْتِیَاجُ بِہٖ وَاَیْضًا اَلزِّیَادَۃُ الَّتِیْ ھِیَ مَحَلُّ الْحُجَّۃِ اَعْنِیْ قَوْلَہٗ:لَوْطَلَّقْتَھَاالخ مِمَّا تَفَرَّدَ بِہٖ عَطَائُ، وَخَالَفَ فِیْہِ الْحِفَاظُ، فَاِنَّھُمْ شَارکُوْھُمْ فِیْ اَصْلِ الْحَدِیْثِ، وَلَمْ یَذْکُرُوْا الزِّیَادَۃَ۔وَاَیْضًا فِیْ اِسْنَادِہٖ شُعَیْبُ بْنُ رُزَیْقٍ الشَّامِیُّ، وَھُوَ ضَعِیْفٌ، کَذَا فِی النَّیْلِ، وَذَکَرَہُ عَبْدُ الْحَقِّ فِیْ اَحْکَامِہٖ بِھٰذَا السَّنَدِ، وَاَعَلَّہٗ بِمُعَلّٰی بْنِ مَنْصُوْرٍ، وَقَالَ:رَمَاہُ اَحْمَدُ بِالْکِذْبِ، وَلَمْ یَعْلِ الْبَیْھَقِیُّ ھٰذَا السَّنَدِ اِلاَّبِعَطَائِ الْخُرَاسَانِیِّ وَقَالَ:اَنَّہٗ اَتٰی فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ بِزِیَادَاتٍ لَمْ یُتَابَعْ عَلَیْھَا، وَھُوَضَعِیْفٌ فِی الْحَدِیْثِ لاَ یَقْبُلُ مَاتَفَرَّدَ بِہٖ کَذَا ذَکَرَہُ الزَّیْلَعِیُّ۔(۳۲) (فی نصب الرایۃ ج۳۔ص۲۲۰،۲۲۱)
(۲)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّہٗ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ وَھِیَ حَائِضٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَسَاَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْھَا ثُمَّ لْیُمْسِکْھَا حَتّٰی تَطْھُرَ ثُمَّ تَحِیْضَ ثُمَّ تَطْھُرَ ثُمَّ اِنْ شَائَ اَمْسَکَ بَعْدُ وَاِنْ شَائَ طَلَّقَ قَبْلَ اَنْ یَّمَسَّ۔ فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِیْ اَمَرَاللّٰہُ اَنْ تُطَلَّقَ لَھَا النِّسَائُ۔(۳۳)
ترجمہ : عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے عہد مبارک میںبیوی کو ایام ماہواری میں طلاق دے دی۔ حضرت عمرؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا، اسے رجوع کرلینا چاہیے پھر اسے روکے رکھے حتی کہ ایام طہر آجائیں پھر ایام ماہواری شروع ہوں پھر حالت طہر میں آجائے اب اگر وہ چاہے تو اسے روک لے ورنہ اس سے ہم بستری کیے بغیراسے طلاق دے دے۔ یہ ہے وہ عدت جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ عورتوں کو طلاق دو ان کی عدت کے شمار کے لیے۔
بخاری نے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی بیان کی ہے :
(۳)اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ اَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ وَھِیَ حَائِضٌ، فَذَکَرَ عُمَرُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَتَغَیَّظَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: لِیُرَاجِعْھَا ثُمَّ یُمْسِکْھَا حَتّٰی تَطْھُرَ، ثُمَّ تَحِیْضَ، فَتَطْھُرَ، فَاِنْ بَدَا لَہٗ اَنْ یُّطَلِّقَھَا فَلْیُطَلِّقْھَا طَاھِرًا قَبْلَ اَنْ یَّمَسَّھَا فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ کَمَا اَمَرَہُ اللّٰہُ۔(۳۴)
ترجمہ : عبداللہ بن عمر کا اپنا بیان ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام ماہواری کے دوران میں ایک طلاق دے دی، اس کا ذکر حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور پھر فرمایا کہ عبد اللہ کو اپنی بیوی سے رجوع کرلینا چاہیے، رجوع کرکے پھر اسے روکے رکھے کہ ایام طہر آجائیں پھرایام ماہواری آجائیں پھر ایام طہر، اب اگر اسے طلاق دینا ہی ہو تو عورت سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے، پس یہ وہی عدت ہے جس کا حکم اللہ نے دیاہے۔
پس منظر: عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بیوی کوحیض کے زمانہ میں طلاق دے دی۔ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ سُن کر برہم ہوئے اور فرمایا کہ اسے حکم دے دو کہ رجوع کرے اور جب وہ حیض سے پاک ہوجائے تب طلاق دے۔ ایک دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن عمرؓ کو اس فعل پر تو بیخ فرمائی اور طلاق کے طریقے کی تعلیم اس طرح دی :
’’ابن عمر تم نے غلط طریقہ اختیار کیا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ طُہر کا انتظار کرو۔ پھر ایک ایک طُہر پر ایک ایک طلاق دو ۔ پھر جب وہ تیسری مرتبہ طاہر ہو تو اس وقت یا طلاق دے دو یا اس کو روک لو۔‘‘
حضرت ابن عمرؓ نے عرض کیا:
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَأَیْتَ لَوْکُنْتُ طَلَّقْتُھَا ثَلاَثًا أَکَانَ لِیْ اَنْ اُرَاجِعَھَا۔
’’ اگر میں اس کو تین طلاق دے دیتا تو کیا مجھے رجوع کا حق باقی رہتا؟‘‘
تو حضورؐ نے مندرجہ بالا جواب ارشاد فرمایا کہ : نہیں، وہ تو جداہوجاتی اور یہ گناہ ہوتا۔
اس سے ایک بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ بیک وقت تین طلاق دینا گناہ ہے، دراصل یہ فعل شرع اسلامی کی اہم مصلحتوں کے خلاف اور اس سے اللہ کی وہ حدود ٹوٹتی ہیں جن کے احترام کا سورہ طلاق میں سخت تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔
حالت حیض میں بھی طلاق دینے سے منع کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ طلاق دینا ہو تو طہر کی حالت میں دو۔
(حقوق الزوجین ، اصل دوم: طلاق۔۔۔)
ماخذ
(۱) سنن دارقطنی ج۳۔کتاب النکاح۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب الوجہ الذی تحل بہ الفدیۃ۔ ھذا ایضا مرسلٌ۔ بیھقی نے خلا کی جگہ خلی نقل کیاہے۔٭احکام القرآن للجصاص ج۱۔ص۳۹۴ ٭نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔ص۲۴۵۔
(۲) ابن جریر ج۲۔البقرہ۔٭ابنِ کثیرج۱۔ البقرہ۔ ابن کثیر میں فی اخت عبداللہ بن ابی ہے۔٭تفسیرکبیر امام رازی ج۵، البقرہ۔
(۳) ابن جریر ج۲۔البقرہ۔٭ابن کثیر ج۱۔البقرہ۔
(۴) ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب۲۲۔ المختلعۃ تاخذ مَا اعطاھا۔٭ ابن کثیرج۱ص۲۷۴ عمروبن شعیب۔٭مجمع الزوائد ج۵۔ص۴ حجاج بن ارطاۃ مدلس۔٭ مسنداحمد ج۴۔ص۲ سھل بن ابی خثمہ اس میں لبصقت کی جگہ لبزقت ہے۔٭البزار اور طبرانی بحوالہ الزوائد ج۵۔ص۴۔
(۵) المصنف لعبدالرزاق ج۶۔ کتاب الطلاق باب الفداء۔
(۶) بخاری ج۲۔ کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ۔٭ السنن الکبریٰ ج۷۔ص۳۱۳عن ابن عباس۔ ٭نسائی ج۶۔ کتاب الطلاق باب ماجاء فی الخلع۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب المختلعۃ تأخذ ما اعطاھا۔ ٭دارقطنی ج۳۔ص۲۵۵ نسائی میں اِنِّیْ مَا اَعِیْبُ الخ ہے۔
(۷) ابنِ کثیر ج۱۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۱۔
(۸) بخاری ج۲۔ کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الوجہ الذی تحل بہ الفدیۃ۔
(۹) ترمذی ابواب الطلاق واللعان، باب ماجاء فی المختلعات۔٭ ابن جریر طبری ج۲۔
(۱۰) نَسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب ماجاء فی الخلع۔ ٭ ابنِ ماجہ کتاب الطلاق، باب کراھیۃ الخلع للمرأۃ۔ ٭مسنداحمد ج۲۔ص۴۱۴ عن ابی ھریرۃ۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۶۔ص۵۱۵ عن الاشعث یرفعہ الی النبی ﷺ۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۵۔ص۲۷۱کتاب الطلاق باب ماکرہ من کراھیۃ للنساء ان یطلبن الخلع۔ ٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ص۳۱۶ عن ابی ھریرۃؓ۔٭مجمع الزوائد للھیثمی ج۵۔ص۵ عن عقبہ بن عامر۔ ٭تفسیر ابن جریر طبری ج۲،ص۲۸۵۔
(۱۱) ابوداؤد کتاب الطلاق، باب فی الخلع۔٭ترمذی ابواب الطلاق واللعان باب فی المختلعات ھذا حدیث حسن۔ ٭ابنِ ماجہ، کتاب الطلاق، باب کراھیۃ الخُلْع لِلْمرأۃ۔عن ثوبان۔٭دارمی کتاب الطلاق باب النھی عن ان تسأل المرأۃ زوجھا طلاقھا۔٭مسنداحمد ج۵۔ص۲۷۷،۲۸۳عن ثوبان۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب مایقال فی المختلعۃ والتی تسأل الطلاق۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ص۳۱۶ عن ثوبان۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق۔ باب کراھیۃ سوال الطلاق عن الزوج من غیرباس عن ثوبان۔٭تفسیر طَبَری ابن جریر،ج۲۔ص۲۸۵عن ثوبان۔٭تفسیرفتح القدیر للشوکانی ج۱۔ص۲۴۰٭ ابنِ کثیر ج۱۔ص۲۷۳ البقرہ۔ ٭کنزالعمال ج۱۶ص۳۸۲ عن ثوبان۔
(۱۲) نسائی ج۶ کتاب الطلاق، عدۃ المختلعۃ،۔
(۱۳) ابوداؤد کتاب الطلاق۔ باب فی الخلع۔٭ترمذی ابواب الطلاق واللعان باب ماجاء فی الخلع۔٭السنن الکبریٰ ج۷ کتاب العدد باب ماجاء فی عدۃ المختلعۃ۔
(۱۴) السنن الکبریٰ ج۷ کتاب العدد باب ماجاء فی عدۃ المختلعۃ۔ ابنِ ماجہ کتاب الطلاق، باب عدۃ المختلعۃ۔
(۱۵) ٭ابن ماجہ کتاب الطلاق باب عدۃ المختلعۃ۔ نسائی ج۶۔کتاب الطلاق باب عدۃ المختلعۃ نسائی میں ہے واَنَا مُتَّبِعٌ فی ذٰلِکَ قَضَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الخ۔
(۱۶) المصنف لعبد الرزاق ج۶ کتاب الطلاق باب عدۃ المختلعۃ۔٭ مصنف ابنِ ابی شَیْبَۃ ج۵۔کتاب الطلاق من قال : عدتھا حیضۃ۔
(۱۷) مصنف ابنِ ابی شَیْبَۃ ج۵۔ کتاب الطلاق من قال: عدتھا حیضۃٌ۔
(۱۸) ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی الخلع۔
(۱۹) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی الخلع،حدیث۲۲۲۷۔ نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب ماجاء فی الخلع۔ ٭ابنِ جریر ج۲۔ص۲۸۰۔۲۸۱٭مؤطا امام مالک ج۲۔ کتاب الطلاق باب ماجاء فی الخُلع۔٭مسند احمد ج۶ص۴۳۴ حبیبۃ بنت سھل۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الوجہ الذی تحل بہ الفدیۃ۔ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔ حدیث۱۱۷۶۲۔٭ فتح القدیر للشوکانی ج۱۔ص۲۴۰٭احکام القرآن للجصاص ج۱۔ص۳۹۴۔
(۲۰) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی الخلع٭ نسائی ج۶کتاب الطلاق باب عدۃ المختلعۃ (مختصر روایت ہے)۔ ابن جریر ج۲۔ص۲۸۰۔
(۲۱) نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔ص۲۴۵حدیث ابی الزبیرحدیث۲۴۵۔
(۲۲) سنن دارقطنی ج۳۔کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الوجہ الذی تحل بہ الفدیۃ۔ ٭المصنف لعبدالرزاق کتاب الطلاق باب المفتدیۃ بزیادۃ علی صداقھا۔٭المصنف لابن ابی شَیبۃ ج۵۔ ص۱۲۲،۱۲۳ ٭بیھقی میں ہے عن عطاء یبلغ بہ النبی ﷺ قال: لاَیَاْخُذُ مِنَ الْمُخْتَلِعَۃِ اَکْثَرَ مِمَّااَعْطَاھَا۔٭ابنِ ابی شیبہ نے عطاء کے علاوہ حضرت علی سے لاَیَاْخُذُ مِنْھَا اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا اور ابن طاؤس عن ابیہ سے لاَیَحِلُّ لَہٗ اَنْ یَّاخُذَ مِنْھَا اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا۔اور حضرت عکرمہ سے لایاخذ منھا اکثر مما اعطاھاہے۔ حضرات زھری اور حسن بصری سے :لاَیَاْخُدُ مِنْھَا اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا۔اور عمرو بن شعیب سے لاَیَاْخُذُ مِنْھَا اِلاَّمَا اَعْطَاھَا اورحضرت شعبی اور سعید بن المسیب سے انہ کَرِہَ اَنْ یَأخُذَ مِنْھَا اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا بیان کیاہے۔حکم اورحماد دونوں سے فَکَرِھَ اَنْ یَأخُذَ مِنْھَا اَکْثَرَ مِمَّا اَعْطَاھَا نقل کیا ہے۔ مصنف لعبد الرزاق نے بھی کم وبیش انہی فقہاء کے اقوال ج۶۔ص۵۰۱ تا۵۰۴پربیانکیے ہیں۔
(۲۳) احکام القرآن للجصّاص ج۲۔ص۱۰۹۔
(۲۴) مجمع الزوائد ج۴۔ کتاب الطلاق باب فیمن یکثر الطلاق وسبب الطلاق۔ کنز العمال ج۹۔ص۶۶۲عن ابی موسیٰ۔
(۲۵) روح المعانی جز ۲۸۔ سورۃ الطلاق۔
(۲۶) احکام القرآن للجصّاص ج۲۔ص۱۱۰۔
(۲۷) طبرانی عن ابی موسیٰ، بحوالہ کنز العمال ج۹۔ص۶۶۱۔
(۲۸) تفسیر ابن جریر طبری ج۲ص۳۳۳ مطبوعہ بیروت لبنان میں ہے۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ج۵۔عن شھر بن حوشب کتاب الطلاق باب من کرہ الطلاق من غیر ریبۃ روی الدیلمی عن ابی ھریرۃَ بلفظ: تزوجوا ولا تطلقوا فان اللّٰہ لایحب الذواقین وَالذواقات۔
(۲۹) الموضوعات لملا علی القاری ص۱۲۹، حاشیہ نمبر۲۔
(۳۰) دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق والخلع والإیلاء وغیرہ، حدیث۸۴۔٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ وکیف الطلاق٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الاختیار للزوج ان لایطلق الاواحدۃ۔
(۳۱) نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔ص۲۲۰،۲۲۱ کتاب الطلاق۔
(۳۲) دارقطنی ج۴۔ کتاب الطلاق میں التعلیق المغنی محمد شمس الحق ۔
(۳۳) بخاری ج۲۔ کتاب الطلاق۔ وقول اللّٰہ تعالٰی یایھا النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن الخ٭مسلم ج۱۔ کتاب الطلاق۔ باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا الخ٭ ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق۔ باب فی طلاق السنۃ ٭ترمذی ج۱۔ابواب الطلاق، باب ماجاء فی طلاق السنۃ۔٭نسائی ج۲۔ کتاب الطلاق۔باب وقت الطلاق اور باب مایفعل اذا طلق تطلیقۃً وھی حائض۔ ٭ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب ۲طلاق السنۃ۔ ٭دارمی ج۲۔کتاب الطلاق باب السنۃ فی الطلاق۔٭دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق٭ مؤطا امام مالک ج۲۔ باب ماجاء فی الأقراء وعدّۃ الطلاق وطلاق الحائض۔٭مؤطا میں لیمسکھا کی جگہ فَلْیُمْسِکْھَا ہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ باب الاختیار للزوج ان لایطلق الا واحدۃ۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۲۔کتاب الطلاق باب طلاق الحائض والنفساء عن ابن عمرؓ۔عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن مردویہ بحوالہ کنزالعمال ج۹۔ حدیث نمبر ۷۹۴۱ ۲۔ ٭نصب الرایۃ ج۳۔کتاب الطلاق۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵۔ص۲۴۳عن ابن عمرؓ۔
(۳۴) بخاری ج۲۔کتاب التفسیر سورۃ الطلاق۔ کتاب الاحکام باب ھل یقضی الحاکم اویفتی وھو غضبان اس باب میں فلیطلقھا تک ہے۔٭مسلم ج۱۔کتاب الطلاق، باب تحریم طلاق الحائض۔٭ابوداؤد ج۲۔ کتاب الطلاق، باب فی طلاق السنۃ۔٭ ترمذی ج۱۔ابواب الطلاق واللعان باب ماجاء فی طلاق السنۃ۔ ٭نسائی ج۶۔ کتاب الطلاق باب ما یفعل اذا طلق تطلیقۃ وھی حائض اور نسائی ج۶۔کتاب الطلاق باب وقت الطلاق للعدۃ التی امر اللّٰہ عزوجل ان تطلق لھا النساء۔٭ابنِ ماجہ کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ۔٭دارقطنی ج۴کتاب الطلاق۔
فصل :۱۱ طلاقِ ثلاثہ در مجلس واحد عہدِ رسالت اور خلافتِ صاحبین کے عہد میں
۸۰۔ابوالصہِّباء نے ابنِ عباس سے پوچھا’’ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺاور حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دور میں تین طلاقوں کو ایک قراردیاجاتاتھا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ہاں ۱؎ ۔ (بخاری ومسلم)
(تفہیم القرآن، ج۵، الطلاق، حاشیہ: ۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: نَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، قَالَ:اَنَامَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ الطَّلاَقُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ، وَسَنَتَیْنِ مِنْ خِلاَفۃِ عُمَرَ طَلاَقُ الثَّلاَثِ وَاحِدَۃٌ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:اِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِیْ اَمْرٍکَانَتْ لَھُمْ فِیْہِ اَنَاۃٌ، فَلَوْ اَمْضَیْنَا عَلَیْھِمْ، فَاَمْضَاہُ عَلَیْھِمْ۔(۱)
(۲) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ، قَالَ: اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَہٗ۔ نَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، قَالَ: اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ اَخْبَرَنِی ابْنُ طَاؤسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ اَبَا الصَّھْبَآئِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَعْلَمُ اَنَّمَا کَانَتِ الثَّلاَثُ تُجْعَلُ وَاحِدَۃٌ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ، وَثَلاَثًا مِنْ اِمَارَۃِ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ۔(۲)
(۳) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ:اَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ ابْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنْ طَاؤسٍ، اَنَّ اَبَا الصَّھْبَآئِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ھَاتِ مِنْ ھَنَاتِکَ اَلَمْ یَکُنِ الطَّلاَقُ الثَّلاَثُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَاحِدَۃً، فَقَالَ: قَدْ کَانَ فِیْ ذٰلِکَ، فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَھْدِ عُمَرَ تَتَابَعَ النَّاسُ فِی الطَّلاَقِ، فَاَجَازَہٗ عَلَیْھِمْ۔(۳)
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ، ثَنَا اَبُوالنُّعْمَانِ، ثَنَاحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ، عَنْ طَاؤُسٍ،اَنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہٗ اَبُوالصَّھْبَآئِ،کَانَ کَثِیْرَ السُّوَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:اَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ اِذَا طَلَّقَ امرْأَتَہٗ ثَلاَثًا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ بِھَا، جَعَلُوْھَا وَاحِدَۃً عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَ صَدْرًا مِنْ اِمَارَۃِ عُمَرَ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلٰی، کَانَ الرَّجُلُ اِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ ثَلاَثًا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ بِھَا جَعَلُوْھَا وَاحِدَۃً عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ اِمَارَۃِ عُمَرَ، فَلَمَّا رَاٰی النَّاسَ (قَدْ) تَتَابَعُوْا فِیْھَا، قَالَ: اَجِیْزُھُنَّ عَلَیْھِمْ۔(۴)
رُکانہ بن عبد یزید کا واقعہ
۸۱۔رُکانہ بن عبد یَزِید کے متعلق ابوداؤد،ترمذی، ابن ماجہ، امام شافعیؒ ، دارمی اور حاکم نے یہ روایت نقل کی ہے کہ رُکانہ نے جب ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺنے ان کو حلف دے کر پوچھا کہ ان کی نیت ایک ہی طلاق دینے کی تھی؟ ( باقی دوطلاقیں پہلی پر زور دینے کے لیے ان کی زبان سے نکلی تھیں، تین طلاق دے کر ہمیشہ کے لیے جدا کردینا مقصود نہ تھا؟) اور جب انہوں نے یہ حلفیہ بیان دیا تو آپ نے ان کو رجوع کا حق دے دیا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرَحِ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ خَالِدٍ الکَلَبِیُّ(ابوثور) فِیْ اٰخِرِیْنَ قَالُوْا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ الشَّافِعِیُّ، حَدَّثَنِیْ عَمِّیْ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرِ بْنِ عَبْدِ یَزِیْدَ بْنِ رُکَانَۃَ، اَنَّ رُکَانَۃَ بْنِ عَبْدِ یَزِیْدَ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ سُھَیْمَۃَ الْبَتَّۃَ، فَاُخْبِرَ النَّبِیُّ ﷺ، بِذَالِکَ وَقَالَ وَاللّٰہِ مَا اَرَدْتُّ اِلاَّ وَاحِدَۃً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاللّٰہِ مَااَرَدْتَّ اِلاَّ وَاحِدَۃً؟ فَقَالَ رُکَانَۃُ: وَاللّٰہِ مَااَرَدْتُّ اِلاَّ وَاحِدَۃً، فَرَدَّھَا اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَطَلَّقَھَا الثَّانِیْۃَ فِیْ زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَۃَ فِیْ زَمَانِ عُثْمَانَ، قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ:اَوَّلُہٗ لَفْظُ اِبْرَاھِیْمَ، وَآخِرَہٗ لَفْظُ ابْنِ السَّرَحِ۔(۵)
(۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ، اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ طَلَّقْتُ امْرَأَتِیْ الْبَتَّۃَ۔ فَقَالَ: مَا اَرَدْتَّ بِھَا؟ قُلْتُ: وَاحِدَۃً، قَالَ: وَاللّٰہِ؟ قُلْتُ: وَاللّٰہِ! قَالَ: فَھُوَ مَا اَرَدْتَّ۔(۶)
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ لاَ نَعْرِفُہٗ اِلاَّ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ۔
ـــــــ وَقَدْ اِخْتَلَفَ اَھْلُ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَغَیْرُہُمْ فِیْ طَلاَقِ الْبَتَّۃِ۔ فَرَویٰ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہٗ جَعَلَ الْبَتَّۃَ وَاحِدَۃً، وَرویٰ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ جَعَلَھَا ثَلاَ ثًا۔وَقَالَ بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ فِیْہِ نِیَّۃُ الرَّجُلِ، اِنْ نَوٰی وَاحِدَۃً، فَوَاحِدَۃٌ، وَاِنْ نَویٰ ثَلاَثاً فَثَلاَثٌ، وَاِنْ نَویٰ ثَنَتَیْنِ لَمْ تَکُنْ اِلاَّ وَاحِدَۃً وَھُوَ قَوْلُ الثَّوْرِیِّ وَاَھْلِ الْکُوْفَۃَ۔ وَقَالَ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ فِی الْبَتَّۃِ:اِنْ کَانَ قَدْ دَخَلَ بِھَا فَھِیَ ثَلاَثُ تَطْلِیْقَاتٍ، وَقَالَ الشَّافِعِیُّ اِنْ نَویٰ وَاحِدَۃً، فَوَاحِدَۃٌ یَمْلِکُ الرَّجْعَۃَ، وَاِنْ نَویٰ ثَنَتَیْنِ فَثَنَتَیْنِ وَاِنْ نَویٰ ثَلاَثاً فَثَلاَثٌ۔
(۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤُدَ (الْعَتَکِیُّ) ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَلِیِّ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ رُکَانَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، اَنَّہٗ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ الْبَتَّۃَ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:مَا اَرَدْتَّ؟ قَالَ : وَاحِدَۃً، قَالَ، آللّٰہِ؟ قَالَ: اللّٰہ قَالَ: ھُوَ عَلٰی مَااَرَدْتَّ۔(۷)
ترجمہ : عبداللہ بن علی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میرے دادا (رُکانہ) نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور ساری صورت حال بیان کی) آپ نے اس سے دریافت فرمایا، کیا ارادہ تھا (یعنی کتنی طلاق دینے کی نیت تھی؟) انہوںنے کہا صرف ایک طلاق کی۔ آپؐ نے فرمایا، اللہ کی قسم کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا ارادہ صرف ایک طلاق ہی کا تھا، فرمایا تو وہ اتنی ہی ہے جتنی کہ تمہاری نیت تھی۔
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَھٰذَا اَصَحُّ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ جُرَیْجٍ اَنَّ رُکَانَۃَ طَلَّقَ امْرَأَتہٗ ثَلاَثًا،لِاَنَّھُمْ اَھْلُ بَیْتِہِ وَھُمْ اَعْلَمُ بِہِ وَحَدِیْثُ ابْنِ الْجُرَیْجِ رَوَاہُ عَنْ بَعْضِ بَنِیْ اَبِیْ رَافِعٍ عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
ـــــــ ابوداؤد نے کہاہے یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے کہ رُکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔ اس لیے کہ یہ اس کے گھر والے ہیں اور اہلِ خانہ کو زیادہ علم ہوتاہے۔
(۴)وَقَالَ الشَّافِعِیُّ ؒ: وَطَلَّقَ رُکَانَۃُ امْرَأَتَہٗ الْبَتَّۃَ وَھِیَ تَحْتَمِلُ وَاحِدَۃً وَتَحْتَمِلُ الثَّلاَثَ فَسَاَلَہُ النَّبِیُّﷺ عَنْ نِّیَّتِہِ وَاَحْلَفَہٗ عَلَیْھَا، وَلَمْ نَعْلَمْہُ نَھٰی اَنْ یُّطَلِّقَ الْبَتَّۃَ یُرِیْدُ بِھَا ثَلاَثًا۔(۸)
ترجمہ :امام شافعی ؒفرماتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتّہ دی۔ یہ اس کا احتمال بھی رکھتی ہے کہ ایک طلاق دی ہو اور تین طلاق کا بھی۔ اس لیے نبی ﷺ نے اس سے اس کی نیت کے متعلق دریافت فرمایا اور اس سے قسم لی۔ ہمیں اس کا علم نہیں کہ حضورؐ نے اسے طلاق بتہ سے منع فرمایا، اس سے مراد تین طلاقیں تھیں۔
تشریح : مندرجہ بالاحدیث کو پیش نظر رکھ کر طاؤس اور عِکرِمہ کہتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں تو صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور اسی رائے کو امام ابن تیمیہؒ نے اختیار کیاہے۔ مسلم، ابوداؤد اور مسند احمد میں ابن عباس کا یہ قول نقل کیا گیاہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتاتھا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہاکہ لوگ ایک ایسے معاملے میں جلد بازی کرنے لگے ہیں جس میں ان کے لیے سوچ سمجھ کر کام کرنے کی گنجایش رکھی گئی ہے۔ اب کیوں نہ ہم ان کے اس فعل کو نافذ کردیں؟ چنانچہ انہوں نے اسے نافذ کردیا۔‘‘
لیکن یہ رائے کئی وجوہ سے قابل قبول نہیں ہے، اوّل تو متعدد روایات کے مطابق ابن عباسؓ کا اپنا فتویٰ اس کے خلاف تھا جیسا کہ ہم اوپر نقل کرچکے ہیں۔ دوسرے یہ بات ان احادیث کے بھی خلاف پڑتی ہے جو نبی ﷺ اور اکابر صحابہؓ سے منقول ہوئی ہیں، جن میں بیک وقت تین طلاق دینے والے کے متعلق یہ فتویٰ دیا گیا ہے کہ اس کی تینوں طلاقیں نافذ ہوجاتی ہیں۔ تیسرے خود ابن عباسؓ کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عمرؓنے صحابہؓ کے مجمع میں تین طلاقوں کو نافذ کرنے کا اعلان فرمایا تھا، لیکن نہ اس وقت، نہ اس کے بعد کبھی صحابہ میں سے کسی نے اس سے اختلاف کا اظہار کیا۔ اب کیا یہ تصور کیا جاسکتاہے کہ حضرت عمرؓ سنّت کے خلاف کسی کام کا فیصلہ کرسکتے تھے اور سارے صحابہ اس پر سکوت بھی اختیار کرسکتے تھے؟
رُکانہ بن عبدِ یَزید کے قصے سے اس معاملہ کی اصل حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ ابتدائی دور میں کس قسم کی طلاقوں کو ایک کے حکم میں رکھاجاتاتھا۔ اسی بنا پر شارحین حدیث نے ا بن عباس کی روایت کا یہ مطلب لیاہے کہ ابتدائی دور میں چونکہ لوگوں کے اندر دینی معاملات میں خیانت قریب قریب مفقود تھی، اس لیے تین طلاق دینے والے کے اس بیان کو تسلیم کرلیا جاتاتھا کہ اس کی اصل نیت ایک طلاق دینے کی تھی اور باقی دوطلاقیں محض پہلی طلاق پر زور دینے کے لیے اس کی زبان سے نکلی تھیں۔ لیکن حضرت عمرؓ نے جب دیکھا کہ لوگ پہلے جلد بازی کرکے تین تین طلاقیں دے ڈالتے ہیں اور پھر تاکید کا بہانہ کرتے ہیں تو انہوں نے اس بہانے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ امام نووی اور امام سبکی نے اسے ابن عباسؓ والی روایت کی بہترین تاویل قراردیاہے۔ آخری بات یہ ہے کہ خود ابوالصہباء کی ان روایات میں اضطراب پایا جاتاہے جو ابن عباسؓ کے قول کے بارے میں ان سے مروی ہیں۔ مسلم اور ابوداؤد اور نسائی نے انہی ابوالصہباء سے ایک دوسری روایت یہ نقل کی ہے کہ ان کے دریافت کرنے پر ابن عباسؓ نے فرمایا ’’ایک شخص جب خلوت سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتاتھا تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے عہد اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دور میں اس کو ایک طلاق قراردیاجاتاتھا۔‘‘ اس طرح ایک ہی راوی نے ابن عباس سے دومختلف مضمونوں کی روایتیں نقل کی ہیں اور یہ اختلاف دونوں روایتوں کو کمزور کردیتاہے۔
(تفہیم القرآن ج۵ ، الطلاق، حاشیہ:۱)
چند مزید واقعات
۸۲۔نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی گئی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ حضورؐ یہ سن کر غصے میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ایُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ واَنَا بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ؟ ’’کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جارہاہے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟‘‘ اس حرکت پر حضورؐ کے غصّے کی کیفیت دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟
تخریج: اَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤُدَ عَنِ ابْنِ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَخْرَمَۃُ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَحْمُوْدَ بْنَ لَبِیْدٍ، قَالَ: اُخْبِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ ثَلاَثَ تَطْلِیْقَاتٍ جَمِیْعًا،فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: أَ یُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ، وَاَنَا اَظْھُرِکُمْ حَتّٰی قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلاَ اَقْتُلُہٗ؟(۹)
۸۳۔ بَانَتْ مِنْہُ بِثَلاَثٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَبَقٰی تِسْعُ مِأَۃٍ وَّسَبْعٌ وَّتِسْعُوْنَ ظُلمًا وَّعُدْوَانًا، اِنْ شَائَ اللّٰہُ عَذَّبَہٗ، وَاِنْ شَائَ غَفَرَلَہٗ۔
’’عبدالرزاق نے حضرت عُبادہ بن الصّامت کے متعلق روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالیں، انہوں نے جاکر رسول اللہ ﷺسے مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا، تین طلاقوںکے ذریعہ سے تو اللہ کی نافرمانی کے ساتھ وہ عورت اس سے جدا ہوگئی اور ۹۹۷؍ ظلم اور عدوان کے طورپر باقی رہ گئیں، جن پر اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔ ‘‘
تخریج : (۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ اَلْفًا، فَقَالَ: یَکْفِیْکَ مِنْ ذٰلِکَ ثَلاَثٌ، وَتَدَعْ تِسْعُ مِائَۃٍ وَتِسْعِیْنَ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالیں، ابن عباس نے جواب دیا کہ تجھے تین طلاقیں ہی کافی تھیں اور باقی ۹۹۷ رائیگاں گئیں۔
(۲) نَا ابْنُ صَاعِدٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْبُوْرٍ نَافُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ، قَالَ:جَآئَ رَجُلٌ اِلٰی عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، فَقَالَ: اِنِّیْ طَلَّقْتُ امْرَأتِیْ اَلْفًا، قَالَ عَلِیٌّ: یُحْرِمُھَا عَلَیْکَ ثَلاَثٌ، وَسَائِرُھُنَّ اَقْسِمْھُنَّ بَیْنَ نِسَائِکَ۔(۱۱)
ترجمہ :حبیب بن ابی ثابت سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علیؓ بن ابی طالب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا، تین طلاقوں نے اس عورت کو تم پر حرام کردیاہے اور باقی کو تو اپنی بیویوںمیں تقسیم کرتارہ۔
(۳)اَخْرَجَہٗ عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ اَبَاہُ طَلَّقَ امْرَأَۃً لَّہٗ اَلْفَ تَطْلِیْقَۃٍ، فَانْطَلَقَ عُبَادَۃُ، فَسَاَلَہٗ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ:بَانَتْ بِثَلاَثٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَبَقِیَ تِسْعُ مِائَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَّتِسْعُوْنَ عُدْوَانٌ وَظُلْمٌ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَذَّبَہٗ وَاِنْ شَآئَ غَفَرَلَہٗ۔(۱۲)
ترجمہ : عبادہ بن صامت کا بیان ہے کہ اس کے والد نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالیں۔ عبادہ چلے اور حضورؐ کی خدمت میں حاضرہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ تین طلاقوں سے تجھ سے جدا ہوگئی اور ۹۹۷ ظلم وزیادتی ہیں، اب اگر اللہ چاہے تو اس کی اسے سزادے اور چاہے تو معاف فرمادے۔
المصنف کے اصل نسخہ میں روایت کا متن:
(۴)عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ:اَخْبَرَنَا یَحْیٰ بْنُ الْعَلاَئِ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ الْوَلِیْدِ الْعَجَلِیِّ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ دَاؤُدَ بْنِ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:طَلَّقَ جَدِّیِ امْرَأَۃً لَّہٗ اَلْفَ تَطْلِیْقَۃٍ فَانْطَلَقَ اَبِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہٗ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَمَا اتَّقٰی اللّٰہَ جَدُّکَ، اَمَّا ثَلاَثٌ فَلَہٗ وَاَمَّا تِسْعُ مِائَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ، اِنْ شَآئَ اللّٰہُ عَذَّبَہٗ وَاِنْ شَآئَ غَفَرَلَہٗ۔(۱۳)
ترجمہ : عبادہ بن صامت نے بتایا کہ ان کے دادا نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالیں۔ میرے والد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آپ نے بیان کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تیرے دادا کو خدا کا خوف نہ ہوا؟ تین طلاقوں کی گنجایش تو اس کے لیے تھی باقی ۹۹۷ ظلم وزیادتی ہے، اگر اللہ چاہے تو اسے سزادے اور اگر چاہے تو معاف فرمادے۔
سنن دارقطنی نے اس کامتن مندرجہ ذیل نقل کیاہے :
(۵)عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عُبَادَۃَ الصَّامِتِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: طَلَّقَ بَعْضُ اٰبَائِیْ امْرَأَتَہٗ اَلْفًا، فَانْطَلَقَ بَنُوْہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اَبَانَا طَلَّقَ اُمَّنَا اَلْفًا، فَھَلْ لَہٗ مِنْ مَّخْرَجٍ؟ فَقَالَ:اِنَّ اَبَاکُمْ لَمْ یَتَّقِ اللّٰہَ فَیَجْعَلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِہِ مَخْرَجاً، بَانَتْ مِنْہُ بِثَلاَثٍ عَلٰی غَیْرِالسُّنَّۃِ، وَتِسْعُ مِائَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ اِثْمٌ فِیْ عُنُقِہِ۔(۱۴)
ـــــــ رُوَّاتُہٗ مَجْھُوْلُوْنَ وَضُعْفاً اِلاَّشَیْخُنَا وَابْنُ عَبْدِ الْبَاقِیْ۔
ترجمہ : عبادہ بن صامت سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میرے کسی بزرگ نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، ان کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا پہنچے اور عرض کیا،اے رسول خداؐ !ہمارے باپ نے ہماری ماں کو ہزار طلاقیں دے دی ہیں، کیا اب ان کے لیے اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارے باپ نے خدا کا خوف بھی نہ کیا کہ وہ اس کے معاملہ میں کوئی راستہ نکالتا۔تین طلاقوںسے تو وہ جدا ہوگئی مگر غیرمسنون طریقہ سے اور باقی ۹۹۷ بطور گناہ اس کی گردن پر ہے۔
(۶)عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ : جَاَئَ رَجُلٌ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ : اِنِّیْ طَلَّقْتُ امْرَأَتِیْ اَلْفًا، قَالَ:اَمَّا ثَلاَثٌ فَتَحْرَمُ عَلَیْکَ امْرَأَتُکَ، وَبَقِیَّتُھُنَّ وِزْرٌ اتَّخَذْتَ اٰیَاتِ اللّٰہِ ھُزُوًا۔(۱۵)
ترجمہ : سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ابن عباس کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا کہ میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالی ہیں، ابن عباس نے جواب دیا کہ تین طلاقوںکی وجہ سے تو تیری بیوی تجھ پر حرام ہوگئی ہے اور باقی گناہ کا بوجھ۔ تونے اللہ کے احکام (آیات)کا مذاق اڑایاہے۔
ایک روایت میں ہے :
(۷)فَقَالَ سَعِیْدٌ:سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ مِائَۃً فَقَالَ: ثَلاَثٌ تَحْرَمُ عَلَیْکَ امْرَأَتُکَ سَائِرُھُنَّ وِزْرٌ اِتَّخَذْتَ اٰیَاتِ اللّٰہِ ھُزُواً۔(۱۶)
ترجمہ : سعید کہتے ہیں کہ ابن عباس سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو سوطلاقیں دے دی تھیں، فرمایا تین طلاقوں نے تو تجھ پر اسے حرام کردیاہے اور باقی گناہ ہیں، اس لیے کہ تونے آیات الہٰی کو مذاق بنایا تھا۔
(۸)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ مِائَۃً، قَالَ: عَصَیْتَ رَبَّکَ وَفَارَقَتِ امْرَأَ تُکَ لَمْ تَتَّقِ اللّٰہَ فَیَجْعَلْ لَکَ مَخْرَجًا۔(۱۷)
ترجمہ : ابن عباس سے ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو سوطلاقیں دے ڈالی تھیں، ابن عباس نے جواب دیا کہ تونے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی ہے۔ تونے خدا خوفی سے کام نہیں لیا کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے کوئی راستہ پیدا فرماتا۔
(۹)عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ:جآئَ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ فَقَالَ:اِنِّیْ طَلَّقْتُ امْرَأَتِیْ مِائَۃً، قَالَ: بَانَتْ مِنْکَ بِثَلاَثٍ وَسَائِرُھُنَّ مَعْصِیَۃٌ۔
ترجمہ : علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ابن عباس کی خدمت میں آیا اور بولاکہ میں نے اپنی اہلیہ کو سوطلاقیں دے ڈالی ہیں۔ جواب میں ابن عباس نے فرمایا تین طلاقوں کی وجہ سے وہ تجھ سے جدا ہوگئی اور باقی معصیت ہیں۔
ایک دوسری روایت میں، جو انہی سے مروی ہے منقول ہے:
(۱۰)قَالَ: بَانَتْ بِثَلاَثٍ وَسَائِرُ ذٰلِکَ عُدْوَانٌ۔(۱۸)
۸۴۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے قصّے کی جو تفصیل دارقُطنی اور ابن ابی شیبہ میں روایت ہوئی ہے اس میں ایک بات یہ ہے کہ حضورؐ نے جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بیوی سے رجوع کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے پوچھا، اگر میں اس کو تین طلاق دے دیتا تو کیا پھر بھی میں رجوع کرسکتاتھا ؟حضورؐنے جواب دیا : لاَکَانَتْ تَبِیْنُ مِنْکَ وَکَانَتْ مَعْصِیَۃً۔ ’’نہیں ، وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور یہ فعل معصیت ہوتا۔‘‘(ایک روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ اِذاً قَدْ عَصَیْتَ رَبَّکَ وَبَانَتْ مِنْکَ امْرَأَ تُکَ۔ اگر تم ایسا کرتے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوجاتی)۔
تشریح : طلاق دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کہ جونہی میاں بیوی میں کوئی جھگڑا ہو فوراً ہی غصے میں آکر طلاق دے ڈالی، اور نکاح کا جھٹکا اس طرح کیا کہ رجوع کی گنجایش بھی نہ چھوڑی۔ بلکہ جب بیویوں کو طلاق دینا ہوتو ان کی عدّت کے لیے دیا کرو۔ جس مدخولہ عورت کو حیض آتاہو اس کی عدت طلاق کے بعد تین مرتبہ حیض آناہے۔ اس حکم کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو عدت کا آغاز کرنے کے لیے طلاق دینے کی صورت لازماً یہی ہوسکتی ہے کہ عورت کو حالت حیض میں طلاق نہ دی جائے کیونکہ اس کی عدت اس حیض سے شروع نہیں ہوسکتی جس میں اسے طلاق دی گئی ہو اور اس حالت میں طلاق کے معنی یہ ہوجاتے ہیں کہ اللہ کے حکم کے خلاف عورت کی عدت تین حیض کے بجائے چار حیض بن جائے۔ مزید برآں اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ عورت کو اس طُہر میں طلاق نہ دی جائے جس میں شوہر اس سے مباشرت کرچکاہو، کیونکہ اس صورت میں طلاق دیتے وقت شوہر اور بیوی دونوں میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ آیا مباشرت کے نتیجے میں کوئی حمل قرارپاگیاہے یا نہیں، اس وجہ سے عدت کا آغاز نہ اس مفروضے پر کیا جاسکتاہے کہ یہ عدت آیندہ حیضوں کے اعتبار سے ہوگی اور نہ اس مفروضے پر کیا جاسکتاہے کہ یہ حاملہ عورت کی عدت ہوگی۔ پس یہ حکم بیک وقت دوباتوں کا مقتضی ہے۔ ایک یہ کہ حیض کی حالت میں طلاق نہ دی جائے۔ دوسرے یہ کہ طلاق یا تو اس طہر میں دی جائے جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو، یا پھر اس حالت میں دی جائے جب کہ عورت کا حاملہ ہونا معلوم ہو۔ غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ طلاق پر یہ قیدیں لگانے میں بہت بڑی مصلحتیں ہیں۔ حیض کی حالت میں طلاق نہ دینے کی مصلحت یہ ہے کہ یہ وہ حالت ہوتی ہے جس میں عورت اور مرد کے درمیان مباشرت ممنوع ہونے کی وجہ سے ایک طرح کا بعد پیدا ہوجاتاہے اور طبّی حیثیت سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ اس حالت میں عورت کا مزاج معمول پر نہیں رہتا۔اس لیے اگر اس وقت دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا ہوجائے تو عورت اور مرد دونوں اسے رفع کرنے کے معاملہ میں ایک حد تک بے بس ہوتے ہیں اور جھگڑے سے طلاق تک نوبت پہنچانے کے بجائے اگر عورت کے حیض سے فارغ ہونے تک انتظار کرلیاجائے تو اس امر کا کافی امکان ہوتاہے کہ عورت کا مزاج بھی معمول پر آجائے اور دونوں کے درمیان فطرت نے جو طبعی کشش رکھی ہے وہ بھی اپنا کام کرکے دونوں کو پھر سے جوڑدے۔ اسی طرح جس طہر میں مباشرت کی جاچکی ہو اس میں طلاق کے ممنوع ہونے کی مصلحت یہ ہے کہ اس زمانے میں اگر حمل قرار پاجائے تو مرد اور عورت دونوں میں سے کسی کو بھی اس کا علم نہیں ہوسکتا، اس لیے وہ وقت طلاق دینے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ حمل کا علم ہوجانے کی صورت میں تو مرد بھی دس مرتبہ سوچے گا کہ جس عورت کے پیٹ میں اس کا بچہ پرورش پارہاہے اسے طلاق دے یا نہ دے، اور عورت بھی اپنے اور اپنے بچے کے مستقبل کا خیال کرکے شوہر کی ناراضی کے اسباب دور کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ لیکن اندھیرے میں بے سوچے سمجھے تیر چلا بیٹھنے کے بعد اگر معلوم ہوکہ حمل قرار پاچکاتھا، تو دونوں کو پچھتانا پڑے گا۔
یہ باتیں ان مدخولہ عورتوں کے بارے میں تھیں جن کو حیض آتاہو اور جن کے حاملہ ہونے کا امکان ہو۔ دوسری بات جو احادیث بالا سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاق دے کر ہمیشہ کی علیحدگی کے لیے طلاق نہ دے بیٹھو بلکہ ایک یا حد سے حددو طلاقیں دے کر عدت تک انتظار کرو تاکہ اس مدت میں ہروقت تمہارے لیے رجوع کی گنجایش باقی رہے۔ یہ حکم ان مدخولہ عورتوں کے معاملے میں بھی مفید ہے جن کو حیض آتاہو اور ان کے معاملہ میں بھی مفید ہے جن کو حیض آنا بند ہوگیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، یا جن کا طلاق کے وقت حاملہ ہونا معلوم ہو۔ اس حکم کی پیروی کی جائے تو کسی شخص کو بھی طلاق دے کر پچھتانا نہ پڑے، کیونکہ اس طرح طلاق دینے سے عدت کے اندر رجوع بھی ہوسکتاہے اور عدت گزرجانے کے بعد بھی یہ ممکن رہتاہے کہ سابق میاں بیوی پھر باہم رشتہ جوڑنا چاہیں تو از سر نو نکاح کرلیں۔
ابن عباسؓ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’طلاق حیض کی حالت میں نہ دے، اور نہ اس طہر میں دے جس کے اندر شوہر مباشرت کرچکاہو بلکہ اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ حیض سے فارغ ہوکر وہ طاہر ہوجائے۔ پھر اسے ایک طلاق دے دے۔ اس صورت میں اگر وہ رجوع نہ بھی کرے اور عدت گزر جائے تو وہ صرف ایک ہی طلاق سے جدا ہوگی۔‘‘(ابن جریر) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں ’’عدت والی طلاق یہ ہے کہ طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دی جائے۔ ‘‘ عِکرمہ اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ ’’طلاق اس حالت میں دے کہ عورت کا حاملہ ہونا معلوم ہو اور اس حالت میں نہ دے کہ وہ اس سے مباشرت کرچکاہو اور کچھ پتہ نہ ہو کہ وہ حاملہ ہوگئی ہے یا نہیں ‘‘ (ابن کثیر) ۔حضرت حسن بصری اور ابن سیرین دونوں کہتے ہیں کہ طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دی جائے یا پھر اس حالت میں دی جائے جب کہ حمل ظاہر ہو چکا ہو۔ (ابن جریر)
صحابہ کرام سے اس بارے میں جو فتاویٰ منقول ہیں وہ بھی حضورؐکے مندرجہ بالا ارشادات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مؤطا میں ہے کہ ایک شخص نے آکر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ ابن مسعودؓ نے پوچھا پھر اس پر تمہیں کیا فتویٰ دیا گیا؟اس نے عرض کیا’’مجھ سے کہا گیا ہے کہ عورت مجھ سے جدا ہوگئی۔‘‘ آپ نے فرمایا صَدَقُوْا، ھُوْ مِثْلُ مَایَقُوْلُوْنَ، ’’لوگوں نے سچ کہا،مسئلہ یہی ہے کہ جو وہ بیان کرتے ہیں۔‘‘ عبدالرزاق نے علقمہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعودؓ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو ۹۹؍ طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ انہوں نے فرمایا ثَلاَثٌ بَیْنَھَاوَسَائِرُھُنَّ عُدْوَانٌ ’’تین طلاقیںاسے جدا کرتی ہیں اور باقی سب زیادتیاں ہیں۔‘‘ وکیع بن الجراح نے اپنی سنن میں حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا یہ مسلک نقل کیاہے۔ حضرت عثمانؓ سے ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ میں اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے بیٹھاہوں انہوں نے فرمایا بَانَتْ مِنْکَ بِثَلاَثٍ’’وہ تین طلاقوں سے تجھ سے جدا ہوگئی۔‘‘ ایسا ہی واقعہ حضرت علیؓ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے جواب دیا بَانَتْ مِنْکَ بِثَلاَثٍ وَاقْسِمْ سَائِرَھُنَّ عَلٰی نِسَائِکَ۔’’تین طلاقوں سے تو وہ تجھ سے جدا ہوگئی، باقی طلاقوں کو اپنی دوسری عورتوں پر تقسیم کرتا پھر ۔‘‘ ابوداؤد اور ابن جریر نے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ مجاہد کی روایت نقل کی ہے کہ وہ ابن عباسؓ کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہاکہ میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے بیٹھا ہوں۔ ابن عباس سن کر خاموش رہے، حتیٰ کہ میں نے خیال کیا شاید یہ اس کی بیوی کو اس کی طرف پلٹا دینے والے ہیں، پھر انہوں نے فرمایا’’تم میں سے ایک شخص پہلے طلاق دینے میں حماقت کا ارتکاب کرگزرتاہے، اس کے بعد آکر کہتاہے یا ابن عباس یا ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کردے گا اور تونے اللہ سے تقویٰ نہیں کیا، اب میں تیرے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا، تونے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔‘‘ ایک اور روایت جسے مؤطا اور تفسیر ابن جریر میں کچھ لفظی فرق کے ساتھ مجاہد ہی سے نقل کیاگیاہے، اس میں یہ ذکر ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں۔ پھر ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، انہوں نے جواب دیا’’تین طلاقوں سے تو وہ تجھ سے جدا ہوگئی، باقی ۹۷ سے تونے اللہ کی آیات کو کھیل بنایا۔‘‘ یہ مؤطا کے الفاظ ہیں۔ ابن جریر میں ابن عباس کے جواب کے الفاظ یہ ہیں’’ تونے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی اور تونے اللہ کا خوف نہیں کیا کہ وہ تیرے لیے اس مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کرتا‘‘ امام طحاوی نے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص ابن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالی ہیں، انہوں نے جواب دیا اِنَّ عَمَّکَ عَصَی اللّٰہَ فَاَثِمَ وَاَطَاعَ الشَّیْطَانَ فَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔ ’’تیرے چچا نے اللہ کی نافرمانی اور گناہ کا ارتکاب کیا اور شیطان کی پیروی کی۔ اللہ نے اس کے لیے اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں رکھاہے۔‘‘ ابوداؤد اور مؤطا میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو خلوت سے پہلے تین طلاقیں دے دیں، پھر اس سے دوبارہ نکاح کرنا چاہا اور فتویٰ پوچھنے نکلا۔ حدیث کے راوی محمد بن ایاس بن بکیر کہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، دونوں کا جواب یہ تھا اِنَّکَ اَرْسَلْتَ مَاکَانَ مِنْ یَّدِکَ مَاکَانَ مِنْ فَضْلٍ۔ ’’تیرے لیے جو گنجایش تھی تونے اسے اپنے ہاتھ سے چھوڑدیا۔‘‘ زَمَخْشَرِی نے کشاف میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس جو شخص بھی ایسا آتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں اسے وہ مارتے تھے اور اس کی طلاقوں کو نافذ کردیتے تھے۔ سعید بن منصور نے یہی بات صحیح سند کے ساتھ حضرت انس کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس معاملہ میں صحابہ کرام کی عام رائے جسے ابن ابی شیبہ اورامام محمد نے ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے، یہ تھی کہ اِنَّ الصَّحَابَۃَ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَنْ یُّطَلِّقَھَا وَاحِدَۃً ثُمَّ یَتْرُکْھَا حَتّٰی تَحِیْضَ ثَلاَثَۃَ حَیْضٍ۔’’صحابہ رضی اللہ عنہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی بیوی کو صرف ایک طلاق دے دے اور اس کو چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اسے تین حیض آجائیں۔‘‘یہ ابن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں اور امام محمد کے الفاظ یہ ہیں:’’ کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَنْ لاَّ تَزِیْدُوْا فِی الطَّلاَقِ عَلَی وَاحِدَۃٍ حَتَّی تَنْقَضِیَ الْعِدَّۃُ’’ان کو پسند یہ طریقہ تھا کہ طلاق کے معاملہ میں ایک سے زیادہ نہ بڑھیں یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے۔‘‘
فقہائِ اسلام کے نزدیک طلاق کی قسمیں
ان احادیث وآثار کی مدد سے فقہاء اسلام نے جو مفصل قانون مرتب کیاہے اسے ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں:
حنفیہ طلاق کی تین قسمیں قراردیتے ہیں: احسن ، حسن اور بدعی۔ احسن طلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو ایسے طہر میں جس کے اندر اس نے مجامعت نہ کی ہو، صرف ایک طلاق دے کر عدت گزرجانے دے۔ حسن یہ ہے کہ ہرطہر میں ایک ایک طلاق دے۔اس صورت میں تین طہروں میں تین طلاق دینا بھی سنت کے خلاف نہیں ہے۔ اگرچہ بہتر یہی ہے کہ ایک ہی طلاق دے کر عدت گزرجانے دی جائے۔ اور طلاق بدعت یہ ہے کہ آدمی بیک وقت تین طلاق دے دے، یا ایک ہی طہر کے اندر الگ الگ اوقات میں تین طلاق دے، یا حیض کی حالت میں طلاق دے، یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں وہ مباشرت کرچکاہو، ان میں سے جو فعل بھی وہ کرے گا گناہ گار ہوگا۔ یہ تو ہے حکم ایسی مدخولہ عورت کا جسے حیض آتاہو۔ رہی غیرمدخولہ عورت تو اسے سنت کے مطابق طہر اور حیض دونوں حالتوں میں طلاق دی جاسکتی ہے اور اگر عورت ایسی مدخولہ ہو جسے حیض آنا بند ہوگیا ہو یا ابھی آنا شروع ہی نہ ہوا ہو تو اسے مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جاسکتی ہے، کیونکہ اس کے حاملہ ہونے کا امکان نہیں ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو اسے مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جاسکتی ہے، کیونکہ اس کا حاملہ ہونا پہلے ہی معلوم ہے۔ لیکن ان تینوں قسم کی عورتوں کو سنت کے مطابق طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک مہینہ بعد طلاق دی جائے اور احسن یہ ہے کہ صرف ایک طلاق دے کر عدت گزرجانے دی جائے۔ (ہدایہ، فتح القدیر ، احکام القرآن للجصاص، عمدۃ القاری)
امام مالکؒ کے نزدیک بھی طلاق کی تین قسمیں ہیں: سنی ، بدعی مکروہ، اور بدعی حرام۔ سنت کے مطابق طلاق یہ ہے کہ مدخولہ عورت کو جسے حیض آتاہو طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر صرف ایک طلاق دے کر عدت گزرجانے دی جائے۔ بِدعی مکروہ یہ ہے کہ ایسے طہر کی حالت میں طلاق دی جائے جس میں آدمی مباشرت کرچکاہو، یا مباشرت کیے بغیر ایک طہر میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے ڈالی جائیں یا عدت کے اندر الگ الگ طُہروں میں تین طلاقیں دی جائیں یا بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی جائیں۔ اور بدعی حرام یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دی جائے۔
(حاشیہ الدسوقی علیٰ الشرح الکبیر، احکام القرآن لابن العربی)
امام احمد بن حنبلؒ کا معتبر مذہب یہ ہے جس پر جمہور حنابلہ کا اتفاق ہے: مدخولہ عورت کو حیض آتاہو اسے سنت کے مطابق طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر اسے طلاق دی جائے پھر اسے چھوڑدیا جائے یہاں تک کہ عدت گزرجائے۔ لیکن اگر اسے تین طہروں میں تین الگ الگ طلاقیں دی جائیں یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے دی جائیں، یا بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی جائیں یا حیض کی حالت میں طلاق دی جائے، یا ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں مباشرت کی گئی ہو اور عورت کا حاملہ ہونا ظاہر نہ ہو، تو یہ سب طلاق بدعت اور حرام ہیں۔ لیکن اگر عورت غیرمدخولہ ہو یا ایسی مدخولہ ہو جسے حیض آنا بند ہوگیا ہو، یا ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، یا حاملہ ہو تو اس کے معاملے میں نہ وقت کے لحاظ سے سنت وبدعت کا کوئی فرق ہے نہ تعدادکے لحاظ سے۔ (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف علی مذہب احمد بن حنبل ؒ)
امام شافعیؒ کے نزدیک طلاق کے معاملہ میں سنت اور بدعت کا فرق صرف وقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ تعداد کے لحاظ سے۔ یعنی مدخولہ عورت جس کو حیض آتاہو، اسے حیض کی حالت میں طلاق دینا، یا جو حاملہ ہوسکتی ہو اسے ایسے طہر میں طلاق دینا جس میں مباشرت کی جاچکی ہو اور عورت کا حاملہ ہونا ظاہرنہ ہوا ہو، بدعت اور حرام ہے۔ رہی طلاقوں کی تعداد، تو خواہ بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں، یا ایک ہی طہر میں دی جائیں، یا الگ الگ طہروں میں دی جائیں، بہر حال یہ سنت کے خلاف نہیں ہے۔ اور غیر مدخولہ عورت، یا ایسی عورت جسے حیض آنا بند ہوگیا ہو، یا حیض آیاہی نہ ہو ، یا جس کا حاملہ ہونا ظاہر ہوچکاہو، اس کے معاملہ میں سنت اور بدعت کا کوئی فرق نہیں ہے۔ (مغنی المحتاج)
حلالہ ـــــــ سازشی نکاح
۸۵۔ لاَحَتّٰی یَذُوْقَ الْآخَرُ مِنْ عُسَیْلَتِھَا مَاذَاقَ الْاَوَّلُ۔
’’رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اوراس دوسرے شوہر کے ساتھ اس کی خلوت بھی ہوئی مگر مباشرت نہیں ہوئی، پھر اس نے اسے طلاق دے دی، اب کیا اس عورت کا اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے؟ حضورؐ نے جواب دیا: ’’نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے اسی طرف لطف اندوز نہ ہوچکاہو جس طرح پہلا شوہر ہوا تھا۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ (یَعْنِیْ ثَلاَثاً) فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَیْرَہٗ، فَدَخَلَ بِھَا، ثُمَّ طَلَّقَھَا قَبْلَ اَیْ یُوَاقِعَھَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِھَا الاَوَّلِ؟ قَالَتْ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَتَحِلُّ لِلْاَوَّلِ حَتّٰی تَذُوْقَ عُسَیْلَۃَ الْاٰخَرِ وَیَذُوْقَ عُسَیْلَتَھَا۔(۱۹)
(۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی الرَّجُلِ تَکُوْنُ لَہُ الْمَرأَۃُ یُطَلِّقُھَا، ثُمَّ یَتَزَوَّجُھَا رَجُلٌ اٰخَرُ فَیُطَلِّقُھَا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ بِھَا، فَتَرْجِعُ اِلٰی زَوْجِھَا الْاَوَّلِ؟ قَالَ: لاَ، حَتّٰی تَذُوْقَ الْعُسَیْلَۃَ۔(۲۰)
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ، زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّھَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ الْبَتَّۃَ، فَتَزَوَّجَھَا بَعْدَہٗ رَجُلٌ اٰخَرُ، فَطَلَّقَھَا قَبْلَ اَنْ یَّمَسَّھَا ھَلْ یَصْلُحُ لِزَوْجِھَا الاْوَّلِ اَنْ یَتَزَوَّجَھَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ:لاَ، حَتّٰی یَذُوْقَ عُسَیْلَتَھَا۔(۲۱)
(۴)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْـٰی عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہٗ ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَتْ، فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ أَتَحِلُّ لِلْاَوَّلِ؟ قَالَ:لا َحَتّٰی یَذُوْقَ عُسَیْلَتَھَا کَمَا ذَاقَ الْاَوَّلُ۔(۲۲)
مسلم میں روایت کے الفاظ :
(۵) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ یَتَزَوَّجُھَا الرَّجُلُ، فَیُطَلِّقُھَا، فَتَتَزَوَّجُ رَجُلاً آخَرَ، فَیُطَلِّقُھَا قَبْلَ اَنْ یَدْخُلَ بِھَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِھَا الْاَوَّلِ؟ قَالَ:لاَ، حَتّٰی یَذُوْقَ عُسَیْلَتَھَا۔
ایک روایت میں ہے :
(۶)لاَحَتّٰی یَذُوْقَ الْاٰخَرُ مِنْ عُسَیْلَتِھَا مَا ذَاقَ الْاَوَّلُ۔ (۲۳)
(۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہٗ ثَلاَثًا فَیَتَزَوَّجُھَا اٰخَرُ، فَیُغْلَقُ الْبَابُ وَیُرْخَی السِّتْرُ ثُمَّ یُطَلِّقُھَا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ بِھَا ھَلْ تَحِلُّ لِلْاَوَّلِ؟ قَالَ: لاَ، حَتّٰی یَذُوْقَ الْعُسَیْلَۃَ۔(۲۴)
مسند احمد میں حضرت انسؓ سے مروی روایت کے آخر میں ہے :
(۸)فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَ، حَتّٰی یَکُوْنَ الْاٰخَرُ قَدْ ذَاقَ مِنْ عُسَیْلَتِھَا وَذَاقَتْ مِنْ عُسَیْلَتِہِ۔(۲۵)
(۹)عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: الْمُطَلَّقَۃُ ثَلاَثًا لاَتَحِلُّ لِزَوْجِھَا الاَوَّلِ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ وَیُخَالِطَھَا وَیَذُوْقَ مِنْ عُسَیْلَتِھَا۔(۲۶)
(۱۰) عَنْ اَنَسٍؓ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَہٗ امْرَأَۃُ فَطَلَّقَھَا ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَھَا بَعْدَہٗ رَجُلٌ فَطَلَّقَھَا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَ بِھَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِھَا الْاَوَّلِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَ، حَتّٰی یَذُوْقَ الاٰخَرُ مَاذَاقَ الْاَوَّلُ مِنْ عُسَیْلَتِھَا وَذَاقَتْ مِنْ عُسَیْلَتِہٖ۔(۲۷)
تشریح : نبی ﷺ نے صاف تصریح فرمادی ہے کہ تحلیل کے لیے محض نکاحِ تزویج کافی نہیں ہے بلکہ عورت اس وقت تک پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے لطفِ صحبت حاصل نہ کرلے۔
(حقوق الزوجین ، اصل دوم: طلاق۔۔۔)
احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتاہے کہ اگر کوئی شخص محض اپنی مطلقہ بیوی کو اپنے لیے حلال کرنے کی خاطر کسی سے سازش کے طورپر اس کا نکاح کرائے اور پہلے سے یہ طے کرے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے دے گا تو یہ سراسر ایک ناجائز فعل ہے۔ ایسا نکاح، نکاح نہ ہوگا، بلکہ محض ایک بدکاری ہوگی اور ایسے سازشی نکاح وطلاق سے عورت ہرگز اپنے سابق شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (تفہیم القرآن ج۱، البقرہ، حاشیہ: ۲۵۳)
۸۶۔ لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ۔
’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ نے تحلیل کرنے والے اور تحلیل کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ (ترمذی ، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا زُھَیْرٌ، حَدَّثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ اِسْمَاعِیْلُ: وَاُرَاہُ قَدْ رَفَعَہٗ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ۔(۲۸)
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ۔(۲۹)
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔ وَقَدْ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مِنْ غَیْرِوَجْہٍ۔ وَالْعَمَلُ عَلٰی ھٰذَا عِنْدَ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ مِنْھُمْ عُمَرؓ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُؓ بْنُ عَفَّانَ وَعَبْدُؓ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَؓ وَغَیْرُھُمْ وَھُوَ قَوْلُ الْفُقَھَائِ مِنَ التَّابِعِیْنَ وَبِہٖ یَقُوْلُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَاِسْحَاقُ۔
کرائے کا سانڈ
۸۷۔ اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِالتَّیْسِ الْمُسْتَعَارِ؟ ھُوَالْمُحَلِّلُ لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ۔
’’حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ کرائے کا سانڈ کون ہوتاہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیں! فرمایا، وہ تحلیل کرنے والا ہے۔ خدا کی لعنت ہے تحلیل کرنے والے پر بھی اور اس شخص پر بھی جس کے لیے تحلیل کی جائے۔‘‘ (ابن ماجہ ،دارقطنی)
تخریج : حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِیُّ۔ ثَنَا اَبِی، قَالَ سَمِعْتُ اللَّیْثَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: قَالَ لِیْ اَبُوْ مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ ھَاعَانِ، قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ: أَلاَاُخْبِرُکُمْ بِالتَّیْسِ الْمُسْتَعَارِ؟ قَالُوْا: بَلٰی!یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ھُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔(۳۰)
تشریح : گویا کہ سازشی نکاح، جس میں پہلے سے یہ طے شدہ ہوکہ عورت کو سابق شوہر کے لیے حلال کرنے کی خاطر ایک آدمی اس سے نکاح کرے گا اور مباشرت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے گا۔ امام ابویوسفؒ کے نزدیک یہ نکاح فاسد ہے اور امام ابوحنیفہ ؒکے نزدیک اس سے تحلیل تو ہوجائے گی، مگر یہ فعل مکروہ تحریمی ہے۔ (تفہیم القرآن ج۵، الطلاق، حاشیہ : ۱)
جو شخص اپنی مطلقہ عورت کو اپنے لیے حلال کرنے کی خاطر کسی سے اس کا نکاح کرائے اور جو اس غرض سے نکاح کرے، دونوں پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، اور ایسے شخص کو آپ تیس مستعار (کرائے کے سانڈ) سے تشبیہ دیتے ہیں۔ فی الواقع اس طرح کے نکاح اور زنا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حیرت ان علماء پر ہوتی ہے جو اس صریح حرام اور نہایت شنیع اور شرمناک حیلے کا فتویٰ لوگوں کو دیتے ہیں۔ (حقوق الزوجین ، اصل دوم: طلاق۔۔۔)
ماخذ
(۱) مسلم ج۱ کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدۃ وما ورد فی خلاف ذلک۔٭ المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب المطلق ثلاثا۔ ٭دارقطنی ج۴۔ص۴۶٭المُسْتَدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق مستدرک میں اناء ۃ ہے۔
(۲) مسلم ج۱ کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث۔٭ نسائی ج۶۔ کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث المتفرقۃ قبل الدخول بالزوجۃ۔ نسائی نے الم تعلم ان الثلاث کانت علی عھد رسول اللہ ﷺ وابی بکر وصدرا من خلافۃ عمر رضی اللہ عنھما ترد الی الواحدۃ: قال: نعم، نقل کیاہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب من جعل الثلاث واحدۃ وماورد فی خلاف ذلک۔ ٭المصَنَّف لعبدالرزاق ج۶۔ کتاب الطلاق باب المطلق ثلاثا۔٭دارقطنی ج۴۔ص۴۷عن ابن عباس۔
(۳) مسلم ج۱۔ کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث۔ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷ کتاب الخلع والطلاق باب من جعل الثلاث واحدۃ وما ورد فی خلاف ذلک۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۵۔ کتاب الطلاق باب ماقالوا: اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا فھی واحدۃ۔ ٭دارقطنی ج۴۔ کتاب الطلاق۔ عن ابن عباس ھناتک کی جگہ ھنیئاتک نقل کیاہے۔
(۴) ابوداؤد ج۲۔ کتاب الطلاق۔ باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث۔ ٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب من جعل الثلاث واحدۃ وما ورد فی خلاف ذلک۔ بیھقی میں اجیزوھن علیھم ہے۔
(۵) ابوداؤد ج۲۔ کتاب الطلاق باب فی البتۃ۔٭ السنن الکبری ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب ماجاء فی کنایات الطلاق التی لایقع الطلاق بھا الخ ٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق باب الطلاق بما نوی بہ الطالق۔
(۶) ترمذی ج۱۔ابواب الطلاق واللعان باب فی الرجل طلق امرأتہ البتۃ۔
(۷) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی البتۃ۔٭ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق البتۃ۔٭دارمی کتاب الطلاق باب۸فی الطلاق البتۃ۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب ماجاء فی کنایات الطلاق التی لایقع الطلاق بھا الخ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق باب الطلاق بما نوی بہ الطالق۔٭دارقطنی ج۲۔ ص۳۴ ٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۵۔ کتاب الطلاق باب ماقالوا فی الرجل یطلق امرأتہ البتۃ۔
(۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الاختیار للزوج ان لایطلق الا واحدۃ۔
(۹) نسائی ج۶ کتاب الطلاق، الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ۔
(۱۰) دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب من جعل الثلاث واحدۃ وماورد فی ذلک۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب المطلق ثلاثا۔
(۱۱) دارقطنی ج۴۔ کتاب الطلاق والخلع والإیلاء وغیرہ، حدیث۵۶۔٭السنن الکبری ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب ماجاء فی امضاء الطلاق الثلاث وان کن مجموعات۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۵۔ کتاب الطلاق فی الرجل یطلق امرأتہ مائۃ او الفاً فی قول واحد۔
(۱۲) المصنف لعبدالرزاق بحوالہ روح المعانی جز ۲۸۔سورۃ الطلاق۔
(۱۳) المصنف لعبدالرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب المطلق ثلاثا۔ ابراھیم بن عبید اللّٰہ ضعیف ذکرہ ابن حجر فی اللسان۔٭مجمع الزوائد ج۴۔ کتاب الطلاق باب فیمن طلق اکثر من ثلاث۔
(۱۴) دارقطنی ج۴۔ص۲۰٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۳۳۸۔
(۱۵) دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب المطلق ثلاثا۔
(۱۶) دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭مؤطا امام مالک کتاب الطلاق باب ماجاء فی البتۃ۔
(۱۷) دارقطنی ج۴۔کتاب الطلاق۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق۔
(۱۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب الخلع والطلاق باب الاختیار الزوج ان لایطلق الا واحدۃ۔٭ مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۵۔ کتاب الطلاق باب فی الرجل یطلق امرأتہ مائۃ او الفاً فی قول واحد۔
(۱۹) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب المبتوتۃ لایرجع الیھا زوجھا حتی تنکح غیرہ۔٭ترمذی ابواب النکاح ج۱۔باب ماجاء فیمن یطلق امرأتہ ثلاثا فیتزوجھا آخر فیطلقھا قبل ان یدخل بھا۔ حدیث عائشۃ حدیث حسن صحیح۔ ٭مسند احمد ج۶۔عن عائشہؓ۔٭ ابنِ کثیر ج۱۔عن عائشہؓ۔
(۲۰) نسائی کتاب النکاح ج۶۔باب ۱حلال المطلقۃ ثلاثا والنکاح الذی یحلھا بہ۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب الرجل یطلق امرأتہ ثلاثا فتزوج فیطلقھا قبل ان یدخل بھا، اترجع الی الاول۔
(۲۱) مؤطا امام مالک ج۲۔ کتاب النکاح، نکاح المُحَلِّلِ وما اشبہ۔٭ابن کثیر ج۱۔ص۲۷۸۔
(۲۲) بخاری ج۲۔ کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث لقول اللہ تعالی الطلاق مرتان الخ۔٭مسلم ج۲کتاب النکاح باب لاتحل المطلقۃ ثلاثا لمطلقھا حتی تنکح زوجا غیرہ ویطأ ھا ثم یفارقھا وتنقضی عدتھا۔٭ السنن الکبری ج۷۔کتاب الخلع والطلاق باب الاختیارللزوج ان لایطلق الاواحدۃ۔٭ ابن کثیر ج۱ص۲۸۷٭کنز العمال ج۹۔ص۶۵۷۔
(۲۳) مسلم ج۲، کتاب النکاح، باب لاتحل المطلقۃ ثلاثاً لمطلقھا حتی تنکح زوجا غیرہ ویطأھا ثم یفارقھا وتنقضی عدتھا۔ مسند احمد ج۲۔ص۱۹۳عن عائشۃ۔
(۲۴) مسند احمد ج۲۔ص۲۵،۶۲،۸۵ عن ابن عمر۔
(۲۵) مسند احمدج۳۔ص۲۸۴ج۶۔ص۹۶عن عائشہؓ۔٭مصنف ابن ابی شیبہ ج۲۔۴۔ص۲۷۵عن ابن عمرؓ۔٭نسائی کتاب النکاح ج۶۔ باب احلال المطلقۃ ثلاثا والنکاح الذی یحلھا بہ۔
(۲۶) الطبرانی وابویعلٰی بحوالہ مجمع الزوائد ج۴۔کتاب الطلاق باب متی تحل المبتوتۃ۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۲۔۴ ٹ۲۷۵ عن ابن عمرؓ۔
(۲۷) مسند احمد ج۳۔ص۲۸۴ عن انس البزار ابویعلی بحوالہ مجمع الزوائد ج۴۔ص۳۵۰٭مصنف ابنِ ابی شَیبۃ ج۲۔۴۔ص۲۷۵ عن انس۔
(۲۸) ابوداؤد کتاب النکاح باب فی التحلیل۔٭ترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی المحلل والمحلل لہ۔
(۲۹) نسائی کتاب النکاح ج۶۔ باب احلال المطلقۃ ثلاثا ومافیہ من التغلیظ۔ عن عبدؓاللّٰہ بن مسعود۔٭ ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب المحلِّل والمحلل لہٗ۔ عن عقبۃ بن عامرؓ۔٭دارمی کتاب النکاح باب ۵۳ فی النھی عن التحلیل۔ عن عبداللّٰہؓ بن مسعود۔ ٭ السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب النکاح باب ماجاء فی نکاح المحلل۔ عن ابن مسعودؓوعلیؓ۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔عن عبداللّٰہ بنؓ مسعود وعلیؓ۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق باب لعن اللّٰہ المحلل والمحلل لہ۔ عن عقبۃؓ بن عامر۔٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۶۷عن ابی ھریرہؓ۔ ٭مسنداحمد ج۱۔ص۴۴۸،۴۵۰،۴۵۱،۴۶۲ عبداللّہ بن مسعودؓ۔ج۱۔ص۸۳،۸۷،۸۸،۹۳،۱۰۷،۱۲۱، ۱۳۳، ۱۴۸،۱۵۰عن علیؓ ج۲۔ص۳۲۲٭کنز العمال ج۹۔حدیث نمبر ۲۷۸۴۸باب التحلیل۔
(۳۰) ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب المحلل والمحلل لہ۔٭دارقطنی ج۴۔ کتاب النکاح حدیث نمبر۲۸۔٭فی الزوائد: فی اسنادہ مشرح بن ھاعان، ذکرہ ابن حبان فی الثقات، وقَالَ یخطئی ویخالف، وذکرہ فی الضعفاء وقال : یروی عن عقبۃ بن عامر منا کیر لایتابع علیہ والصواب ترک ما انفرد بہ۔ وقال ابن یونس کان فی جیش الحجاج الذین رموا الکعبۃ بالمنجنیق۔ وقال احمد: معروف، وقال ابن معین والذھبی: ثقۃ، ویحی بن عثمان بن صالح، قال عبدالرحمٰن بن ابی حاتم، تکلموا فیہ۔ وقال ابویونس: کان حافظا للحدیث، وحدث بما لم یکن یوجد عند غیرہٗ۔ ٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب المحلل والمحلل کے تحت٭دارقطنی ج۴۔کتاب النکاح عن عقبۃؓ بن عامر۔ دارقطنی میں لَعَنَ اللّٰہُ الْمحلّل وَالْمُحَلَّلَ لہٗ ہے۔ المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح باب لعن اللّٰہ المحلل والمحلل لہ۔ عقبۃؓ بن عامر جھنی ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔حاکم نے مشرح بن ھاعان یحدث عن عقبۃ بن عامر بیان کرکے کہاہے، ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔٭السنن الکبری ج۷۔ کتاب النکاح باب ماجاء فی نکاح المحلل۔ عن عقبۃؓ بن عامر۔٭کنزالعمال ج۹۔حدیث نمبر۲۷۸۴۹۔
فصل :۱۲ عدت اور نان نفقہ عدت کہاں گزاری جائے
۸۸۔ حضرت ابوسعید خُدریؓ کی بہن فریعہ بنت مالک کے شوہر جب قتل کردیئے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیاکہ شوہر کے گھر ہی میں عدت گزاریں۔ (ابوداؤد، نسائی، ترمذی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعْدِ ابْنِ اِسْحَاقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ عَمَّتِہٖ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، اَنَّ الْفُرَیْعَۃَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ ــــــــ وَھِیَ اُخْتُ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ ــــــــ اَخْبَرَتْھَا اَنَّھَا جَآئَ تْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ تَسْألُہٗ اَنْ تَرْجِعَ اِلٰی اَھْلِھَا فِیْ بَنِیْ خُدْرَۃَ فَاِنَّ زَوْجَھَا خَرَجَ فِیْ طَلَبِ اَعْبُدٍ لَہٗ اَبَقُوْا حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِطَرَفِ الْقَدُّوْمِ لَحِقَھُمْ فَقَتَلُوْہُ فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنْ اَرْجِعَ اِلٰی اَھْلِیْ فَاِنِّیْ لَمْ یَتْرُکْنِیْ فِیْ مَسْکَنٍ یَمْلِکُہٗ وَلاَنَفَقَۃٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :نَعَمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ حَتّٰی اِذَا کُنْتُ فِی الْحُجْرَۃِ، اَوْ فِی الْمَسْجِدِ، دَعَانِیْ، اَوْ اَمَرَ بِیْ فَدُعِیْتُ لَہٗ، فَقَالَ:کَیْفَ قُلْتِ؟ فَرَدَدْتُّ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ الَّتِیْ ذَکَرْتُ مِنْ شَاْنِ زَوْجِیْ، قَالَتْ: فَقَالَ:اُمْکُثِیْ فِیْ بَیْتِکِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ اَجَلَہٗ۔قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُّ فِیْہِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ اَرْسَلَ اِلَیَّ فَسَأَلَنِیْ عَنْ ذٰلِکَ، فَاَخْبَرْتُہٗ فَاَتْبَعَہٗ وَقَضٰی بِہِ۔(۱)
ترجمہ : زینب بنت کعب بن عجرہ سے مروی ہے کہ فریعہ جو ابوسعید خدری کی بہن ہیں، نے اپنا واقعہ خود بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں یہ دریافت کرنے کے لیے کہ میں اپنے خاندان بنی خدرہ میں (عدت) گزارنے کے لیے جاسکتی ہوںیا نہیں؟اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس کے خاوند اپنے گھر سے بھاگے ہوئے سرکش غلاموں کی تلاش کے لیے گھر سے نکلے، طرف القدوم کے مقام پر ان سے جاملے۔ انہوں نے اس کے شوہر کوقتل کردیا۔ اس صورت واقعہ کی روشنی میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ میں عدت گزارنے کے لیے اپنے خاندان میں واپس جاسکتی ہوں یا نہیں کیونکہ میرے خاوند کا نہ تو کوئی ذاتی ملکیت کا مکان ہے جس میں رہائش رکھ سکوں اور نہ نان ونفقہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ہاں! یہ جواب سن کر میں آپ کے پاس سے نکلی ابھی حجرے کی حدود میں ہی تھی یا مسجد میں کہ آپؐ نے مجھے واپس بلایا، یا مجھے واپس لانے کے لیے کسی کو حکم فرمایا، میں واپس خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی تو فرمایا، تونے کیسے واقعہ سنایا تھا؟ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ پیش آنے والا سارا واقعہ پھر نئے سرے سے سنایا۔ فریعہ کا بیان ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا، اپنے گھر میں ٹکی رہو تاوقتیکہ عدت کی مدت پوری ہوجائے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے پھر چار ماہ دس دن عدت اسی گھر میں پوری کی۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کا دور خلافت شروع ہوا تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا۔ انہوں نے اس فیصلہ کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے فیصلہ کی روداد سنادی۔ انہوں نے بھی اسی فیصلہ کی پیروی کرتے ہوئے فیصلہ دیا۔
ترمذی نے اسے حسن صحیح قراردیاہے پھر لکھاہے :
ـــــــ وَالْعَمَلُ عَلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ عِنْدَ اَکْثَرِ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَغَیْرِھِمْ۔ لَمْ یَرَوْا لِلْمُعْتَدَّۃِ اَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا حَتّٰی تَنْقَضِیَ عِدَّتُھَا وَھُوَ قَوْلُ سُفْیَانِ الثَّوْرِیِّ وَالشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ، وَقَالَ بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّﷺ وَغَیْرِھِمْ لِلْمَرْأَۃِ اَنْ تَعْتَدَّ حَیْثُ شَآئَ تْ وَاِنْ لَّمْ تَعْتَدِّ فِیْ بَیْتِ زَوْجِھَا۔ وَالْقَوْلُ الْاَوَّلُ اَصَحُّ۔
(۲)اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، قَالَ:حَدَّثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ شُعْبَۃَ، وَابْنُ جُرَیْجٍ وَیَحْیٰ بْنُ سَعِیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبٍ، عَنِ الْفَارِعَۃِ بِنْتِ مَالِکٍ، اَنَّ زَوْجَھَا خَرَجَ فِیْ طَلَبِ اَعْلاَجٍ فَقَتَلُوْہُ، قَالَ شُعْبَۃُ وَابْنُ جُرَیْجٍ : وَکَانَتْ فِیْ دَارٍ قَاصِیَۃٍ، فَجَآئَ تْ وَمَعَھَا اَخُوْھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرُوْا لَہٗ، فَرَخَّصَ لَھَا حَتّٰی اِذَا رَجَعَتْ دَعَاھَا، فَقَالَ: اِجْلِسِیْ فِیْ بَیْتِکِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ اَجَلَہٗ۔
ترجمہ :زینب بنت کعب، فارعہ بنت مالک کے حوالہ سے بیان کرتی ہیں کہ اس کے خاونداپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں گھر سے نکلے، غلاموں نے انہیں قتل کردیا۔ شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں کہ فارعہ ایک دور دراز الگ تھلگ مکان میں رہائش پذیر تھی۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے بھائی کے ساتھ مل کر سارا واقعہ آپؐ کو سنایا۔ روداد واقعہ سن کر آپؐ نے اسے اجازت دے دی۔ مگر ابھی واپس ہوئی تھی کہ اسے واپس بلایا اور فرمایا اپنے گھر ہی میں اس وقت تک بیٹھی رہو تاوقتیکہ عدت کی مدت پوری ہوجائے۔
اسی باب میں دوسری روایت:
(۳)عَنِ الْفُرَیْعَۃَ بِنْتِ مَالِکٍ، اَنَّ زَوْجَھَا تَکَارَی عُلُوْجًا لِیَعْمَلُوْا لَہٗ، فَقَتَلُوْہُ، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَتْ: اِنِّیْ لَسْتُ فِیْ مَسْکَنٍ لَہٗ وَلاَیَجْرِیْ عَلَیَّ مِنْہُ رِزْقٌ اَفَاَنْتَقِلُ اِلٰی اَھْلِیْ وَیَتَامَایَ وَاَقُوْمُ عَلَیْھِمْ، قَالَ: اِفْعَلِیْ ثُمَّ قَالَ:کَیْفَ قُلْتِ؟ فَأعَادَتْ عَلَیْہِ قَوْلَھَا، قَالَ: اعْتَدِّیْ حَیْثُ بَلَغَکِ الْخَبَرُ۔
اس روایت میں اتنا فرق ہے کہ عدت وہیں گزارو جہاں شوہر کے فوت ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
اسی باب میں ایک اور روایت:
(۴)عَنْ فُرَیْعَۃَ اَنَّ زَوْجَھَا خَرَجَ فِیْ طَلَبِ اَعْلاَجٍ لَہٗ فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُّوْمِ، قَالَتْ: فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَذَکَرْتُ لَہٗ النُّقْلَۃَ اِلٰی اَھْلِیْ وَذَکَرَتْ لَہٗ حَالاً مِنْ حَالِھَا، قَالَتْ فَرَخَّصَ لِیْ، فَلَمَّا اَقْبَلْتُ، نَادَانِیْ، فَقَالَ: اُمْکُثِیْ، فِیْ اَھْلِکِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ اَجَلَہٗ۔(۲)
ترجمہ : فریعہ کا بیان ہے کہ ان کے شوہر اپنے بھگوڑے غلاموں کو تلاش کرنے نکلے، طرف القدوم کے مقام پر ان کو قتل کردیا گیا۔ توفُریعہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی ساری صورت حال بیان کی اور کہتی ہیں کہ میں نے اپنے میکے منتقل ہونے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے (پہلے) مجھے رخصت عنایت فرمادی مگر جب میں واپس جانے کے لیے متوجہ ہوئی تو مجھے آواز دے کرواپس بلالیا اور فرمایا، اس وقت تک اپنے مرحوم شوہر کے گھر ہی ٹھہرو جب تک عدت کی مدت پوری نہیں ہوتی۔
(۵)حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ (مُحَمَّدِ) نِالْمَرْوَزِیُّ، ثَنَا مُوْسیٰ بْنُ مَسْعُوْدٍ، ثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ نَجِیْحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَائٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَسَخَتْ ھٰذِہِ الایَۃُ عِدَّتَھَا عِنْدَ اَھْلِھَا فَتَعْتَدُّ حَیْثُ شَآئَ تْ، وَھُوَ قَوْلُ اللّٰہِ تَعَالٰی ’’غَیْرَاِخْرَاجٍ‘‘ قَالَ عَطَائٌ:اِنْ شَآئَ تْ اعْتَدَّتْ عِنْدَ اَھْلِہٖ وَسَکَنَتْ فِیْ وَصِیَّتِھَا، وَاِنْ شَآئَ تْ خَرَجَتْ؛ لِقَوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی، فَاِنْ خَرَجْنَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ، قَالَ عَطَائٌ:ثُمَّ جَآئَ الْمِیْرَاثُ فَنَسَخَ السُّکْنٰی تَعْتَدُّ حَیْثُ شَآئَ تْ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباس فرماتے ہیں کہ عورت کے عدت اپنے شوہر کے ہاں گزارنے کے حکم کو قرآن کی اس آیت’’نہ نکالی جائیں۔‘‘ (بقرہ:۲۴۰) نے منسوخ کردیا، اب جہاں چاہے وہ عدت گزارسکتی ہے۔ عطاء کا قول ہے کہ اگر وہ چاہے تو عدت اپنے میکے میں پوری کرسکتی ہے اور رہایش وہ وہاں رکھے گی جس کی اسے وصیت کی گئی ہو اور اگر نکلنا چاہے تو اللہ کے فرمان ’’پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں اس کی کوئی ذمّہ داری تم پر نہیں ہے۔‘‘ کے بموجب نکل بھی سکتی ہیں۔ عطاء کہتے ہیں، جب میراث کا حکم آگیا تو پھر اپنے خاوند کے ہاں عدت گزارنا منسوخ ہوگیا، اب جہاں چاہے وہ عدت گزارسکتی ہے۔
نان نفقہ
۸۹۔ لَیْسَ لِلْحَامِلِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا نَفَقَۃٌ
’’دار قُطنی کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ، بیوہ حاملہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے۔‘‘
تخریج: نَاعَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَاھِرٍ، نَامُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْبُوْشَنْجِیُّ، نَا اِسْحَاقُ بْنُ زِیَادٍ اَ لْأَبَلِیُّ، نَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ الرَّقَاشِیُّ، نَا حَرْبُ بْنُ اَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ اَبِیْ الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَیْسَ لِلْحَامِلِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا نَفَقَۃٌ۔(۴)
تشریح : اس معاملے میں کہ اگر حاملہ کا شوہر مرجائے، قطع نظر اس سے کہ وہ طلاق دینے کے بعد مرا ہو یا اس نے کوئی طلاق نہ دی ہو اور عورت زمانہ حمل میں بیوہ ہوگئی ہو، اس سلسلے میں فقہاء کے مسالک یہ ہیں:
(۱) امام شافعیؒ ان احادیث سے استدلال کرکے کہتے ہیں کہ اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے البتہ اسے سکونت کا حق ہے۔
(مغنی المحتاج)
(۲) حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے کہ شوہر کے مجموعی ترکہ میں اس کا نفقہ واجب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، قاضی شُریح، ابوالعالیہ، شعبی اور ابراہیم نخعی سے بھی یہی قول منقول ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے۔ (آلوسی ، جصّاص)
(۳) ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا دوسرا قول یہ نقل کیاہے کہ اُس پر اُس کے پیٹ کے بچہ کے حصے میں سے خرچ کیا جائے اگر میت نے کوئی میراث چھوڑی ہو۔ اور اگر میراث نہ چھوڑی ہو تو میت کے وارثوں کو اس پر خرچ کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ۔(البقرہ :۲۳۳)
(۴) حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن الزبیر، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب اور حضرت عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ متوفی شوہر کے مال میں اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی ایک تیسرا قول یہی منقول ہوا ہے(جصّاص)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کے ترکہ میں سے اس کو جومیراث کا حصہ ملا ہو اس سے وہ اپنا خرچ پورا کرسکتی ہے، لیکن شوہرکے مجموعی ترکے پر اس کا نفقہ عائد نہیں ہوتا، جس کا بار تمام وارثوں پرپڑے۔
(۵) ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ اس کا نفقہ متوفیٰ شوہر کے مال میں اسی طرح واجب ہے جس طرح اس کے مال میں کسی کا قرض واجب ہوتاہے (جصّاص)۔ یعنی مجموعی ترکہ میں سے جس طرح قرض ادا کیا جاتاہے اسی طرح اس کا نفقہ بھی ادا کیا جائے۔
(۶) امام ابوحنیفہؒ، امام ابویوسفؒ، امام محمدؒ اور امام زُفر ؒکہتے ہیں کہ میّت کے مال میں اس کے لیے نہ سکونت کا حق ہے نہ نفقہ کا۔ کیونکہ موت کے بعد میت کی کوئی ملکیت ہی نہیں ہے، اس کے بعدتو وہ وارثوں کا مال ہے۔ ان کے مال میں حاملہ بیوہ کا نفقہ کیسے واجب ہوسکتاہے (ہدایہ: جصّاص)، یہی مسلک امام احمد بن حنبل کا ہے۔ (الانصاف)
(۷) امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے، البتہ اسے سکونت کا حق ہے(مغنی المحتاج)۔ ان کا استِدلال حضرت ابوسعید خُدری کی بہن فریعہ بنتِ مالک کے اس واقعہ سے ہے کہ ان کے شوہر جب قتل کردیئے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے گھر ہی میں عدت گزاریں (ابوداؤد، نسائی، تِرمذی)۔ مزید برآں ان کا استدلال دارقطنی کی اس روایت سے ہے کہ حضورؐ نے فرمایا لَیْسَ لِلْحَامِلِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا نَفَقَہٌ ’’بیوہ حاملہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے۔‘‘ یہی مسلک امام مالک ؒ کا بھی ہے(حاشیہ الدُّسوقی)۔
(تفہیم القرآن ج۵، الطلاق، حاشیہ: ۱۷)
عدم نفقہ کی صورت میں تفریق
۹۰۔ دارقطنی اور بیہقی میں نبی ﷺ کا یہ فیصلہ منقول ہے کہ عدم نفقہ کی صورت میں زوجین کے درمیان تفریق کرادی جائے۔ (حقوق الزوجین،اصولی ہدایات: نفقہ)
تخریج : قَالَ وَنَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ،اَنَّہٗ قَالَ فِی الرَّجُل یَعْجِزُ عَنْ نَفَقَۃِ امْرَأَتِہِ، قَالَ: اِنْ عَجَزَ فُرِّقَ بَیْنَھُمَا۔(۵)
ترجمہ : حضرت سعید بن مسیّب سے مروی ہے ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کا نان نفقہ دینے سے عاجز ہے انہوں نے جواب دیا اگر وہ عاجز وبے بس ہے تو دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی۔
ایک روایت میں یفرق بینھماہے
متوفی حاملہ کی عدت
وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ۔(الطلاق:۴)
’’اور حا ملہ عورتوں کی عدت کیحد یہ ہے کہ ان کا وضعِ حمل ہوجائے۔‘‘
۹۱۔ اَجَلُ کُلِّ حَامِلٍ اَنْ تَضَعَ مَا فِیْ بَطْنِھَا۔
’’ ہر حاملہ عورت کی عدت کی مدت اس کے وضع حمل تک ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ ثَنَا مَالِکُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدِالْکَرِیْمِ بْنِ اَبِی الْمُخَارِقِ یُحَدِّثُ عَنْ اُبیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اُوْلاَتِ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ، قَالَ: اَجَلُ کُلِّ حَامِلٍ اَنْ تَضَعَ مَافِیْ بَطْنِھَا۔(۶)
تشریح : ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حجر کہتے ہیں کہ اگر چہ اس کی سند میں کلام کی گنجایش ہے، لیکن چونکہ یہ متعدد سندوں سے نقل ہوئی ہے اس لیے ماننا پڑتاہے کہ اس کی کوئی اصل ضرور ہے۔
۹۲۔سُبَیْعہ اسلمیہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں بحالت حمل بیوہ ہوئی تھیں اور شوہر کی وفات کے چند روز بعد (بعض روایات میں ۲۰؍ دن، بعض میں ۲۵ دن، بعض میں ۴۰ دن اور بعض میں ۳۵ دن بیان ہوئے ہیں) ان کا وضع حمل ہوگیا تھا۔ حضورؐسے ان کے معاملہ میں فتویٰ پوچھا گیا تو آپ نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی اس واقعہ کو بخاری ومسلم نے کئی طریقوں سے حضرت اُمِ سلمہ سے روایت کیاہے۔ اسی واقعہ کو بخاری، مسلم، امام احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے مختلف سندوں کے ساتھ حضرت مِسوربن مخرمہ سے بھی روایت کیاہے۔ مسلم نے خود سبیعہ اسلمیہ کا یہ بیان نقل کیاہے کہ میں حضرت سعد بن خولہ کی بیوی تھی۔ حجۃ الوداع کے زمانے میں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا جب کہ میں حاملہ تھی۔ وفات کے چند روز بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہوگیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ تم چار مہینے دس دن سے پہلے نکاح نہیں کرسکتیں۔ میں نے جاکر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ تم وضع حمل ہوتے ہی حلال ہوچکی ہو، اب چاہو تو دوسرا نکاح کرسکتی ہو۔ اس روایت کو بخاری نے بھی مختصراً نقل کیاہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ اَلْاَعْرَجُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّ زَیْنَبَ ابْنَۃَ اَبِیْ سَلَمَۃَ، اَخْبَرَتْہُ عَنْ اُمِّھَا اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّ امْرَأَۃً مِنْ اَسْلَمَ یُقَالُ لَھَا سُبَیْعَۃُ،کَانَتْ تَحْتَ زَوْجِھَا تُوُفِّیَ عَنْھَا وَھِیَ حُبْلٰی، فَخَطَبَھَا اَبُوالسَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ، فَاَبَتْ اَنْ تَنْکِحَہٗ، فَقَالَ:وَاللّٰہِ مَایَصْلُحُ اَنْ تَنْکِحِیْہِ حَتّٰی تَعْتَدِّیَ اٰخِرَ الْاَجَلَیْنِ، فَمَکُثَتْ قَرِیْبًا مِنْ عَشْرِ لَیَالٍ، ثُمَّ جَآئَ تِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: اِنْکِحِیْ۔(۷)
ترجمہ : حضرت ام سلمہؓ زوجہ رسول ﷺ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسلم قبیلہ کی سبیعہنامی ایک خاتون اپنے خاوند کی زوجیت ہی میں تھی کہ شوہر فوت ہوگیا اور وہ اس وقت حاملہ تھیں۔ ابوالسنابل نے پیغام نکاح دیا۔ اس عورت نے ان سے نکاح کرنے سے انکار کردیا اس کا بیان ہے کہ ابوالسنابل نے کہا اللہ کی قسم تیرے لیے یہ مناسب ہی نہیں ہے کہ تو نکاح کرے جب تک دونوں مدتوں میں سے آخری تک عدت نہ گزارلے۔ اس کے بعد وہ تقریباً دس راتیں ہی گزار سکی کہ وضع حمل ہوگیا۔ پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی (اور مسئلہ دریافت کیا) تو آپ نے فرمایانکاح کرلو۔
(۲) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْبَانٌ عَنْ یَحْیٰ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبُوْسَلَمَۃَ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاَبُوْھُرَیْرَۃَ جَالِسٌ عِنْدَہٗ، فَقَالَ: اَفْتِنِیْ فِی امْرَأَۃٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِھَا بِاَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، اٰخِرُ الْاَجَلَیْنِ، قُلْتُ اَنَا: وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ، قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ اَنَا مَعَ ابْنِ اَخِیْ یَعْنِی اَبَا سَلَمَۃَ فَاَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلاَمَہٗ کُرَیْبًا اِلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ یَسْأَلُھَا، فَقَالَتْ: قُتِلَ زَوْجُ سُبَیْعَۃَ الْاَسْلَمِیَّۃِ وَھِیَ حُبْلٰی، فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِہٖ بِاَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فَخُطِبَتْ فَاَنْکَحَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَکَانَ اَبُوالسَّنَابِلِ فِیْمَنْ خَطَبَھَا۔(۸)
ترجمہ : حضرت ابوسلمہ کا بیان ہے کہ ایک شخص ابن عباس کے پاس آیا۔ اس وقت ان کے پاس حضرت ابوہریرہ بھی تشریف فرماتھے۔ اس شخص نے ابن عباس سے عرض کی کہ مجھے ایسی عورت کے متعلق فتویٰ ارشاد فرمائیں جس نے خاوند کی وفات کے چالیس روز بعد بچے کو جنم دیا ہو۔ ابن عباس نے فرمایا آخر الاجلین اس کی مدت عدت ہے۔ ابوہریرہؓ کہتے ہیں، میں نے قرآن کی آیت وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ پڑھی۔ مقصود یہ بتانا تھا کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی ابوسلمہ کے بیٹے کے ساتھ تھا کہ ابن عباس نے اپنے غلام کریب کو حضرت ام سلمہؓ کی خدمت میں درپیش مسئلہ دریافت کرنے کی غرض سے بھیجا۔ حضرت ام سلمہ نے سبیعہ اسلمیہ کا واقعہ سنایا۔ وہ حمل سے تھیں خاوند کی وفات کے چالیس شب بعد ان کو وضع حمل ہوگیا۔ ان کو پیغام نکاح دیا گیا رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح کردیا۔ پیغام نکاح دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھا۔
(۳) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْکِیْنٍ قِرَأَ ۃً عَلَیْہِ وَاَنَا اَسْمَعُ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَ: اَنْبَاَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہٖ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاَبُوْھُرَیْرَۃَ عَنِ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا وَھِیَ حَامِلٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اٰخِرُ الْاَجَلَیْنِ، وَقَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِذَا وَلَدَتْ، فَقَدْ حَلَّتْ، فَدَخَلَ اَبُوْسَلَمَۃَ اِلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ۔ فَسَأَلَھَا عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَیْعَۃُ الْاَسْلَمِیَّۃُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِھَا بِنِصْفِ شَھْرٍ، فَخَطَبَھَا رَجُلاَنِ اَحَدُھُمَا شَابٌّ وَالْاٰخَرُ کَھْلٌ، فَحَطَّتْ اِلَی الشَّابِّ، فَقَالَ الْکَھْلُ: لَمْ تَحْلِلْ وَکَانَ اَھْلُھَا غُیَّباً فَرَجَا اِذَا جَائَ اَھْلُھَا اَنْ یُّؤْثِرُوْہُ بِھَا، فَجَائَ تْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ : قَدْ حَلَلْتِ، فَانْکِحِیْ مَن شِئْتِ۔(۹)
ترجمہ : حضرت ابوسلمہؓ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ حضرات ابن عباسؓ اور ابوہریرہؓ دونوں سے ایسی عورت کی مدت عدت کے بارے میں استفسار کیا گیا جو خاوند کی وفات کے وقت حاملہ تھی۔ ابن عباسؓ نے کہا اس کی مدت عدت آخرالاجلین ہے اور ابوہریرہ ؓبولے کہ ولادت کے بعد وہ حلال ہوجاتی ہے۔ اتنے میں ابوسلمہ ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دیا تھا۔ پھردو آدمیوں نے اسے پیغام نکاح بھیجا۔ ایک ان میں سے نوجوان تھا اور دوسرا ادھیڑ عمر۔ سبیعہ کا اپنا رجحان نوجوان کی طرف ہوا تو ادھیڑ عمر شخص نے کہا کہ وہ حلال ہی نہیں ہوئی ـــــــ اس وقت سبیعہ کے گھر والے باہر گئے ہوئے تھے ـــــــ اسے (ادھیڑ عمر شخص کو) امید تھی کہ جب اس (سبیعہ) کے گھر والے آئیں گے تو اسے ترجیح دیں گے۔اس صورت حال میں وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور (مسئلہ دریافت کیا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تو حلال ہوچکی ہے اب جس سے چاہے نکاح کرلے۔
(۴)حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ قَزَعَۃَ، حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ الْمِسْوَرِبْنِ مَخْرَمَۃَ، اَنَّ سُبَیْعَۃَ الْاَسْلَمِیَّۃَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاتِ زَوْجِھَا بِلَیَالٍ فَجَائَ تِ النَّبِیَّ ﷺ، فَاسْتَاْذَنَتْ اَنْ تَنْکِحَ، فَاَذِنَ لَھَا فَنَکَحَتْ۔(۱۰)
ترجمہ : مسوَر بن مخرمہ سے مروی روایت میں ہے کہ سبیعہ، خاوند کی وفات کے چند روز بعد نفاس کی حالت میں مبتلا ہوئی (چند روز بعد وضع حمل ہوگیا) تو وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نکاح کرنے کی اجازت طلب کی توآپؐ نے اسے اجازت مرحمت فرمادی اور اس نے نکاح کرلیا۔
(۵) حَدَّثَنِیْ اَبُوالطَّاھِرِ وَحَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ تَقَارَبَا فِی اللَّفْظِ قَالَ حَرْمَلَۃُ:نَا، وَقَالَ اَبُوالطَّاھِرِ: اَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ ابْنُ یَزِیْدَ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، اَنَّ اَبَاہُ کَتَبَ اِلٰی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْاَرْقَمِ الزُّھْرِیِّ، یَاْمُرُہٗ اَنْ یَدْخُلَ عَلٰی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْاَسْلَمِیَّۃَ، فَیَسْألُھَا عَنْ حَدِیْثِھَا وَعَمَّا قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اسْتَفْتَتْہُ، فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُتْبَۃَ یُخْبِرُہٗ اَنَّ سُبَیْعَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّھَاکَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوَلَۃَ وَھُوَ فِیْ بَنِیْ عَامِرِ ابْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ مِمَّنْ شَھِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّیَ عَنْھَا فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، وَھِیَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ اَنْ وَضَعَتْ حَمْلَھَا بَعْدَ وَفَاتِہٖ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِھَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَیْھَا اَبُوالسَّنَابِلِ ابْنِ بَعْکَکٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَھَا: مَالِیْ اُرَاکَ مُتَجَمِّلَۃً لَعَلَّکِ تُرْجِیْنَ النِّکَاحَ، اِنَّکِ وَاللّٰہِ مَا اَنْتِ بِنَاکِحٍ حَتّٰی تَمُرَّ عَلَیْکِ اَرْبَعَۃُ اَشْھُرٍ وَعَشْرَ۔ قَالَتْ سُبَیْعَۃُ: فَلَمَّا قَالَ لِیْ ذٰلِکَ: جَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِیْ حِیْنَ اَمْسَیْتُ فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَسَأَلْتُہٗ عَنْ ذٰلِکَ فَاَفْتَانِیْ بِاَنِّیْ قَدْ حَلَلْتُ حِیْنَ وَضَعْتُ حَمْلِیْ وَاَمَرَنِیْ بِالتَّزْوِیْجِ اِنْ بَدَالِیْ۔ قَالَ ابْنُ شِھَابٍ، فَلاَ اَرٰی بَاْسًا اَنْ تَتَزَوَّجَ حِیْنَ وَضَعَتْ وَاِنْ کَانَتْ فِی دَمِھَا غَیْرَ اَنَّہٗ لاَیَقْرَبُھَا زَوْجُھَا حَتّٰی تَطْھُرَ۔(۱۱)
ترجمہ : عبید اللہ نے بتایا کہ میرے والد نے عمر بن عبداللہ کو لکھا جس میں انہوں نے عمر بن عبداللہ کو سبیعہ کے پاس جانے کا حکم دیا تھا کہ اس کے پاس جائے اور اس کے معاملۂ عدت کی مدت اور اس کو رسول اللہﷺ کے جواب کے بارے میں دریافت کرے۔ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عُتبہ کو لکھا جس میں انہوں نے اسے اطلاع دی کہ سبیعہ کا بیان یہ ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی زوجیت میں تھی، سعد کا تعلق بنو عامر بن لؤیّ سے تھا اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو معرکہ بدر میں شریک تھے۔ ان کا انتقال حجۃ الوداع کے موقع پر ہوگیا اور وہ (سبیعہ) اس وقت حمل سے تھی۔ خاوند کی وفات کے بعدجلد ہی اس نے بچے کو جنم دیا۔ جب ایام نفاس سے فارغ ہوئی تو اس نے پیغام رسانوں کے لیے کچھ بناؤ سنگار کرلیا۔ اس دوران میں ابوالسنابل ان کے پاس آئے، ان کا تعلق بنی عبدالدار سے تھا۔ سبیعہ سے مخاطب ہوکر پوچھا، کیا بات ہے میں تجھے بنی سنوری دیکھ رہاہوں، نکاح کا ارادہ ہے کیا؟ اللہ کی قسم تم نکاح نہیں کرسکتی تاوقتیکہ چار ماہ دس دن کی مدت عدت پوری نہ کرلو۔ سبیعہ کہتی ہے کہ جب ابوالسنابل نے مجھے یہ بات کہی تو شام کو میں نے اپنا لباس درست کیا اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپؐ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ آپؐ نے مجھے فرمایا کہ میںحلال ہوچکی ہوں وضع حمل کے بعد۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ اگر وہ چاہے تو نکاح کرلے۔ ابن شھاب کا قول ہے کہ میں تو اس بارے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرلے خواہ ایام نفاس ہی میں ہوبشرطیکہ خاوند اس دوران میں مباشرت نہ کرے۔
(۶) حَدَّثَنَا اَحَمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، ثَنَاحُسَیْنُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا شَیْبَانٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ اَبِی السَّنَابِلِ بْنِ بَعْکَکٍ، قَالَ:وَضَعَتْ سُبَیْعَۃُ بَعْدَ وَفَاتِ زَوْجِھَا بِثَلاَثَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ یَوْمًا اَوْخَمْسَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ یَوْمًا، فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّقَتْ لِلنِّکَاحِ فَاَنْکَرَ عَلَیْھَا ذٰلِکَ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ:اِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ حَلَّ اَجَلُھَا۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت ابوالسنابل سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ سبیعہ اپنے خاوند کی وفات کے بعد تئیس یا پچیس روز وضع حمل سے فارغ ہوگئی تو اس نے نکاح میں دلچسپی کا اظہار کیا، ابوالسنابل نے اسے منع کیا۔ اس کا ذکر نبی کریم ﷺکی خدمت میں کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا، اگر اس نے ایسا کیاہے (تو اس کے لیے جائز ہے) کہ اس کی مدت عدت پوری ہوگئی ہے۔
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ۔ حَدِیْثُ اَبِی السَّنَابِلِ حَدِیْثٌ مَشْھُوْرٌ غَرِیْبٌ مِّنْ ھٰذَا الْوَجْہِ۔ وَلاَ نَعْرِفُ لِلْاَسْوَدِ شَیْئًا عَنْ اَبِی السَّنَابِلِ وَسَمِعْتُ مُحَمَّداً یَّقُوْلُ۔ لاَ اَعْرِفُ اَنَّ اَبَا السَّنَابِلِ عَاشَ بَعْدَ النَّبِیِّ ﷺ۔
ـــــــ وَالْعَمَلُ عَلٰی ھٰذَا عِنْدَ اَکْثَرِ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَغَیْرِھِمْ:اَنَّ الْحَامِلَ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا اِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّ لَھَا التَّزْوِیْجُ وَاِنْ لَّمْ تَکُنْ اِنْقَضَتْ عِدَّتُھَا۔ وَھُوَ قَوْلُ سُفْیَانِ الثَّوْرِیِّ وَالشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ۔ وَقَالَ بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَغَیْرِھِمْ تَعْتَدَّ اٰخِرَالْاَجَلَیْنِ وَالْقَوْلُ الْاَوَّلُ اَصَحُّ۔
(۷) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَھْبٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ اَبُوعَبْدِالرَّحِیْمِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ مُسْلِمٍ الزُّھْرِیِّ، قَالَ:کَتَبَ اِلَیْہِ یَذْکُرُ اَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَہٗ اَنَّ زُفَرَ بْنَ اَوْسِ بْنِ الْحَدْثَانِ النَّصْرِیَّ، حَدَّثَہٗ اَنَّ اَبَا السَّنَابِلِ بْنَ بَعْکَکِ بْنِ السَّبَّاقِ قَالَ لِسُبَیْعَۃَ الْاَسْلَمِیَّۃِ : لاَتَحِلِّیْنَ حَتّٰی یَمُرَّ عَلَیْکِ اَرْبَعَۃُ اَشْھُرٍ وَّعَشْرَ اَقْصیَ الْاَجَلَیْنِ، فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ، فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ فَزَعَمَتْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَفْتَاھَا اَنْ تَنْکِحَ اِذَا وَضَعَتْ حَمْلَھَا، وَکَانَتْ حُبْلٰی مِنْ تِسْعَۃِ اَشْھُرٍ حِیْنَ تُوُفِّیَ زَوْجُھَا، وَکَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوَلَۃَ، فَتُوُفِّیَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَنَکَحَتْ فَتیً مِنْ قَوْمِھَا حِیْنَ وَضَعَتْ مَا فِیْ بَطْنِھَا۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت ابوالسنابل نے سبیعہ اسلمیہ سے کہا کہ تو اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ چار ماہ دس دن کی مدت عدت پوری نہ کرلے۔ یہ سن کر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، اور اس کا اپنا گمان بھی یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ وضع حمل کے بعد اسے نکاح ثانی کی اجازت دیں گے۔ جب اس کا خاوند فوت ہوا تو وہ اس وقت نو ماہ کی حاملہ تھیں ـــــــ خاوند ان کا سعد بن خولہ تھا، حجۃ الوداع کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ وفات ہوگئی ـــــــ اپنے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کی ولادت سے جب یہ فارغ ہوگئی تو اس نے اپنے قبیلہ کے ایک نوجوان سے شادی کرلی۔
(۸) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ، عَنْ دَاؤدَ بْنِ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ، اَنَّھُمَاکَتَبَا اِلٰی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ یَسْاَلاَنِھَا عَنْ اَمْرِھَا، فَکَتَبَتْ اِلَیْھِمَا اَنَّھَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِھَا بِخَمْسَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ فَتَھَیَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَیْرَ، فَمَرَّ بِھَا اَبُوالسَّنَابِلِ ابْنُ بَعْکَکٍ، فَقَالَ: قَدْ اسْرَعْتِ اعْتَدِّیْ اٰخِرَ الْاَجَلَیْنِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَعَشْرًا، فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اسْتَغْفِرْلِیْ، قَالَ: وَفِیْمَ ذَاکَ؟ فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ: اِنْ وَجَدْتِّ زَوْجًا صَالِحًا، فَتَزَوَّجِیْ۔(۱۴)
ترجمہ : مسروق اور عمرو بن عُتبہ دونوں نے سبیعہ سے اس کے معاملہ عدت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے خط لکھا۔ ان کے مکتوب کے جواب میں سبیعہ نے لکھا کہ خاوند کی وفات کے پچیس روز بعد اسے وضع حمل ہوگیا تو اس نے خیر کی طلب میں یعنی شادی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیا۔ اسی اثناء میں ابوالسنابل کا اس طرف سے گزرہوا، اس نے کہا تونے بڑی جلدی کی، تمہیں تو چار ماہ دس دن کی عدت پوری کرنی چاہیے۔ یہ سن کر میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے لیے بخشش اور معافی کی دعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا، کس بارے میں؟ میں نے سارا واقعہ سنایا جو مجھے پیش آیاتھا۔ آپ نے فرمایا، اگر تجھے صالح خاوند مل گیاہے تو نکاح کرلو۔
مسند احمد میں مروی روایت کا متن:
(۹) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ ابِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیَّۃِ، فَسَأَلْتُھَا عَنْ اَمْرِھَا، فَقَالَتْ:کُنْتُ عِنْدَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَۃَ فَتُوُفِّیَ عَنِّیْ، فَلَمْ اَمْکُثْ اِلاَّ شَھْرَیْنِ، حَتّٰی وَضَعْتُ، قَالَتْ: فَخَطَبَنِیْ اَبُوالسَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ، اَخُوْبَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ، فَتَھَیَّاْتُ لِلنِّکَاحِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیَّ حَمَوِیُّ وَقَدِ اخْتَضَبْتُ وَتَھَیَّاْتُ، فَقَالَ: مَا ذَا تُرِیْدِیْنَ یَا سُبَیْعَۃُ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: اُرِیْدُ اَنْ اَتَزَوَّجَ، قَالَ: وَاللّٰہِ مَالَکِ مِنْ زَوْجٍ حَتّٰی تَعْتَدِّیْنَ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّعَشْرًا، قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ ﷺ لِیْ: قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِیْ۔(۱۵)
ترجمہ : ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں سبیعہ بنت ابی برزہ الاسلمیہ کے پاس گیا اور اس سے اس کے واقعہ کے متعلق پوچھا ،تو اس نے بتایا کہ میں سعد بن خولہ کی زوجیت میں تھی، وہ فوت ہوگیا۔ ابھی دوماہ ہی گزرے تھے کہ میں وضع حمل سے فارغ ہوگئی۔ ابوالسنابل نے مجھے پیغام نکاح دیا، اس کا تعلق بنو عبدالدار سے تھا، میں نکاح کے لیے آمادہ ہوگئی اور کچھ تیاری کرلی تو میرے پاس میرا دیوریاجیٹھ آیا تو اس وقت خضاب وغیرہ لگا کر میں آراستہ ہوچکی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا ،کیا ارادہ ہے سبیعہ؟ میں نے جواب دیا کہ شادی کرنے کا ارادہ ہے۔ اس نے کہا واللہ جب تک تم عدت کی مدت چار ماہ دس دن پورے نہ کرلو دوسرے خاوند سے کیسے نکاح کرسکتی ہو! کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں سیدھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے میرے لیے فرمایا، تم حلال ہوچکی ہو اب شادی کرلو۔
(۱۰) عَنْ عَائِشَۃَؓ، اَنَّھَا قَالَتْ:طُلِّقَتْ امْرَأۃٌ فَمَکَثَتْ ثَلَاثًاوّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً فَوَضَعَتْ حَمْلَھَا ثُمَّ اَتَتِ النَّبِیَّ ﷺ، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہٗ، فَقَالَ لَھَا: تَزَوَّجِیْ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت کو طلاق دی گئی۔ تئیس ایام کے بعد اسے وضع حمل ہوگیا۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوگئی اور اس صورت حال کا ذکر آپ سے کیا، آپؐ نے اسے فرمایا کہ نکاح کرلے۔
بیوہ حاملہ کی عدت
۹۳۔ حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ جب سورہ طلاق کی آیت نمبر ۴ نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، کیا یہ مطلقہ اور بیوہ دونوں کے لیے ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا، ہاں!
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، ثَنَا اَبُوْبَکْرٍ اَلْمَقْدَمِیُّ، اَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ، عَنِ الْمُثَنّٰی، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّﷺ اُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ لِلْمُطَلَّقَۃِ ثَلاَثًا وَلِلْمُتَوَفّٰی عَنْھَا قَالَ ھِیَ لِلْمُطَلَّقَۃِ ثلَاَثاً وَلِلْمُتَوَفّٰی عَنْھَا۔(۱۷)
ترجمہ :ابی بن کعبؓ سے مروی ہے انہوں نے خود بیان کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا، حاملہ کی عدت کی مدت تو وضع حمل ہے، مطلقہ ثلاثہ اور متوفی عنھا کے لیے کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا :یہ مدت مطلقہ ثلاثہ اور متوفیٰ عنھا دونوں کے لیے ہے۔
ـــــــ علامہ ابن کثیر نے اس حد روایت کو بیان کرنے کے بعد لکھاہے: ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی سند میں مثنی بن صباح نہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے علاوہ مذکورہ بالا سند سے بھی روایت نقل کی ہے۔ نقل کرکے لکھتے ہیں:
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ جِدًّا بَلْ مُنْکَرٌ لِاَنَّ فِیْ اِسْنَادِہِ الْمُثَنّٰی بْنُ الصَّبَّاحِ وَھُوَ مَتْرُوْکُ الْحَدِیْثِ بِمَرَّۃٍ وَٰلکِنْ رَوَاہُ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ بِسَنَدٍ آخَرٍفَقَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاؤُدَ السَّمَانِیُّ ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍیَعْنِی الْحَرَّانِیُّ ثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّہٗ لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الآیَۃُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لاَ اَدْرِیْ اَمُشْرِکَۃٌ اَمْ مُبْھَمَۃٌ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَیَّۃُ آیَۃٍ؟ قَالَ’’اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ‘‘ اَلْمُتَوَفّٰی عَنْھَا وَالْمُطَلَّقَۃُ قَالَ نَعَمْ۔ (۱۸)
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرٍ اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی، نَا اَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، اَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ، اَنَا الشَّافِعِیُّ، اَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ یُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا وَھِیَ حَامِلٌ، فَقَالََ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اِذَا وَضَعَتْ حَمْلَھَا، فَقَدْ حَلَّتْ، فَاَخْبَرَہٗ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِاَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُھَا عَلَی السَّرِیْرِ لَمْ یُدْفَنْ، لَحَلَّتْ۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے اس عورت کے بارے میں استفسار کیا گیا جس کا شوہر اس کے حالتِ حمل میں وفات پاگیا ہو۔ ابن عمرؓ نے فتویٰ دیا کہ جب اس کا حمل وضع ہوجائے وہ حلال ہوگئی۔ اور ایک انصاری نے ا نہیںیہ خبردی کہ حضرت عمر بن الخطاب کا فتویٰ تو یہ ہے کہ اگر عورت نے عین اس موقع پر وضع حمل کرلیا کہ شوہر کی میت ابھی چار پائی پر رکھی گھر میںموجود ہے تووہ اسی لمحہ حلال ہوگئی۔
تشریح : اس امر پر تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ لیکن اس امر میں اختلاف واقع ہوگیاہے کہ آیا یہی حکم اس عورت کا بھی ہے جس کا شوہر زمانہ حمل میں وفات پاگیا ہو؟ یہ اختلاف اس وجہ سے ہوا ہے کہ سورہ بقرہ آیت ۲۳۴ میں اس عورت کی عدت ۴ مہینے دس دن بیان کی گئی ہے جس کا شوہر وفات پاجائے اور وہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ حکم آیا تمام بیوہ عورتوں کے لیے عام ہے یا ان عورتوں کے لیے خاص ہے جوحاملہ نہ ہوں۔
حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ ان دونوں آیتوں کو ملا کر اس سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ حاملہ مطلّقہ کی عدت تو وضع حمل تک ہی ہے، مگر بیوہ حاملہ کی عدت آخرالاجلین ہے، یعنی مطلقہ کی عدت اور حاملہ کی عدت میں سے جو زیادہ طویل ہو وہی اس کی عدت ہے۔ مثلاً اگر اس کا بچہ چار مہینے دس دن سے پہلے پیدا ہوجائے تو اسے چار مہینے دس دن پورے ہونے تک عدت گزارنی ہوگی۔ اور اگر اس کا وضع حمل اس وقت تک نہ ہوتو پھر اس کی عدت اس وقت پوری ہوگی جب وضع حمل ہوجائے۔ یہی مذہب امامیہ کا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ سورۂ طلاق کی یہ آیت سورۂ بقرہ کی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس لیے بعد کے حکم نے پہلی آیت کے حکم کو غیر حاملہ کے لیے خاص کردیا ہے اور ہر حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ۔ اس مسلک کی روسے عورت کا وضع حمل چاہے شوہر کی وفات کے فوراً بعد ہوجائے یا ۴ مہینے ۱۰ دن سے زیادہ طول کھینچے، بہر حال بچہ پیدا ہوتے ہی وہ عدت سے باہر ہوجائے گی۔
صحابہ کی کثیر تعداد سے یہی مسلک منقول ہے۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے حاملہ بیوہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اس کی عدت وضع حمل تک ہے۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب بولے کہ حضرت عمرؓ نے تو یہاں تک کہاتھا کہ اگر شوہر ابھی دفن بھی نہ ہواہو بلکہ اس کی لاش اس کے بسترپر ہی ہو اور اس کی بیوی کے ہاں بچہ ہوجائے تو وہ دوسرے نکاح کے لیے حلال ہوجائے گی۔ یہی رائے حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابومسعودؓ بدری اور حضرت عائشہؓ کی ہے، اور اسی کو ائمہ اربعہ اور دوسرے اکابر فقہاء نے اختیار کیاہے۔
شافعیہ کہتے ہیں کہ اگر حاملہ کے پیٹ میں ایک سے زیادہ بچے ہوں تو آخری بچے کی ولادت پر عدت ختم ہوگی۔ بچہ خواہ مردہ ہی پیدا ہو، اس کی ولادت سے عدت ختم ہوجائے گی۔ اسقاط حمل کی صورت میں اگر دائیاں اپنے فن کی رو سے یہ کہیں کہ یہ محض خون کا لوتھڑا نہ تھا بلکہ اس میں آدمی کی صورت پائی جاتی تھی، یا یہ رسولی نہ تھی بلکہ آدمی کی اصل تھی تو ان کا قول قبول کیا جائے گا اور عدت ختم ہوجائے گی (مغنی المحتاج)۔ حنابلہ اور حنفیہ کا مسلک بھی اس کے قریب قریب ہے۔ مگر اسقاط کے معاملہ میں ان کا مذہب یہ ہے کہ جب تک انسانی بناوٹ ظاہر نہ پائی جائے محض دائیوں کے اس بیان پر کہ یہ آدمی ہی کی اصل ہے اعتماد نہیں کیا جائے گا اور اس سے عدت ختم نہ ہوگی (بدائع الصنائع۔ الانصاف)۔ لیکن موجودہ زمانے میں طبی تحقیقات کے ذریعہ سے یہ معلوم کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ جو چیز ساقط ہوئی ہے وہ واقعی انسانی حمل کی نوعیت رکھتی تھی یا کسی رسولی یا جمے ہوئے خون کی قسم سے تھی، اس لیے اب جہاں ڈاکٹروں سے رائے حاصل کرنا ممکن ہو وہاں یہ فیصلہ بآسانی کیا جاسکتاہے کہ جس چیز کو اسقاط حمل کہاجاتاہے وہ واقعی اسقاط تھا یا نہیں اور اس سے عدت ختم ہوئی یا نہیں۔البتہ جہاں ایسی طبی تحقیق ممکن نہ ہو وہاں حنابلہ اور حنفیہ کا مسلک ہی زیادہ مبنی بر احتیاط ہے اور جاہل دائیوں پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۵، الطلاق، حاشیہ: ۱۴)
مفقود الخبرکی بیوی کے لیے انتظار کی مدت
۹۴۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِمْرَأَۃُ الْمَفْقُوْدِ اِمْرَأَتُہٗ حَتّٰی یَاْتِیْھَا الْبَیَانُ۔(سنن دارقطنی)
’’حضورؐ نے فرمایا کہ مفقود کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک کہ اس کا حال معلوم نہ ہوجائے۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِیُّ ابْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، اَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ نِ الصَّفَّارُ،نَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْفَضْلِ ابْنِ جَابِرِ نِالسقطیُّ، نَا صَالِحُ بْنُ مَالِکٍ، نَا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرَحْبِیْلَ الْھَمْدَانِیُّ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ امْرَأَۃُ الْمَفْقُوْدِ، امْرَأَتُہ،ُ حَتّٰی یَاْتِیَھَا الْبَیَانُ۔(۲۰)
تشریح : لیکن یہ حدیث سوار بن مصعب اور محمد بن شرحبیل ہمدانی کے واسطہ سے پہنچی ہے جو مجروح ہیں۔ ابنِ شرحبیل کے متعلق ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ اَنَّہٗ یَرْوِیْ عَنِ الْمُغِیْرَۃَ مَنَاکِیْرَوَاَبَاطِیْلَ
وہ مغیرہ سے ایسی باتیں روایت کرتا ہے، جو منکر اور جھوٹی ہوتی ہیں۔
اور سوار بن مصعب کے متعلق ابن قطان نے لکھا ہے کہ وہ متروکین میں ابنِ شرحبیل سے زیادہ مشہور ہے۔ پس یہ حدیث ضعیف اور ناقابل احتجاج ہے علاوہ بریں مفقود کے مسئلہ میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓاورحضرت عبداللہ بن عمرؓ جیسے اکابر صحابہ کی آراء میں جو اختلاف ہوا ہے، وہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان حضرات میں سے کسی کو اس حدیث کا علم نہ تھا اور نہ ان کے عہد میں کسی صحابی کو اس کی خبر تھی۔ کیونکہ اگر صحابہ میں سے کوئی بھی اس حدیث سے واقف ہوتا تو وہ ان حضرات کے سامنے اسے پیش کرکے اختلاف کو ختم کردیتا۔ محمد بن شرحبیل اس حدیث کو مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں جو حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے عہد کی نہایت نمایاں شخصیتوں میں سے ہیں اور گورنری کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ کیسے ممکن تھا کہ ان کو نبی ﷺ کی یہ حدیث معلوم ہوتی اور وہ حضرت عمر ؓ و حضرت عثمان غنیؓ کو اس کے خلاف فیصلے کرنے دیتے۔ ان وجوہ سے سمجھنا چاہیے کہ مفقود کے بارے میں کوئی حکم منصوص نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق کلیتاً اہل علم کے اجتہاد سے ہے۔
(حقوق الزوجین،اصولی ہدایات: مفقود الخبر)
مطلقہ مبتوتہ کا نان نفقہ
ماخذ
فصل :۱۳ ایلاء قرآن میں اس کا ذکر
لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ فَاِنْ فَآئُ وْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ، وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (البقرہ :۲۲۶،۲۲۷)
’’جولوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔ اگر انہوں نے رجوع کرلیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہوتو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتاہے۔ ‘‘
واقعہ ایلاء کی تفصیل
۹۶۔ بخاری میں حضرت انسؓ سے اور مسند احمد میں حضرت عبداللہؓ بن عباس، حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت مسند احمد میں نہیں ملی۔(مرتب)
سے یہ روایات منقول ہوئی ہیں کہ حضورؐنے ایک مہینہ تک کے لیے اپنی بیویوں سے علیحدہ رہنے کا عہد فرمالیاتھا اور اپنے بالا خانے میں بیٹھ گئے تھے۔ ۲۹ دن گزرجانے پر جبریل ؑ نے آکر کہا آپ کی قسم پوری ہوگئی، مہینہ مکمل ہوگیا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ابْنُ بِلاَلٍ، عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: اٰلٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ نِّسَآئِہِ، وَکَانَتْ انْفَکَّتْ رِجْلُہٗ، فَاَقَامَ فِیْ مَشْرُبَۃٍ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ نَزَلَ وَقَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ٰالَیْتَ شَھْرًا، قَالَ: اِنَّ الشَّھْرَ یَکُوْنُ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ۔(۱)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی (اس وقت)آپ کے پاؤں میں چوٹ آگئی تھی۔ آپ اپنے مکان کے بالاخانہ میں ایک کم تیس روز قیام پذیر رہے۔ پھر نیچے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک ماہ الگ رہنے کی قسم کھائی تھی۔ فرمایا، مہینہ انتیس روز کا بھی ہوتاہے۔
مسنداحمد کی ایک روایت :
(۲)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: تَمَّ الشَّھْرُ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ۔(۲)
نسائی میں ہے:
(۳)عَنْ اَنَسٍ، قَالَ اٰلٰی النَّبِیِّ ﷺ مِنْ نِّسَآئِہِ شَھْرًا فِیْ مَشْرَبَۃٍ لَہٗ فَمَکَثَ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ نَزَل فَقِیْلَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَیْسَ آلَیْتَ عَلٰی شَھْرٍ؟ قَالَ: الشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ۔(۳)
ترجمہ : حضرت انس سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنی بیویوں سے مہینہ بھر الگ رہنے کی قسم کھائی اور اپنے بالاخانہ میں قیام پذیر ہوگئے۔ ایک کم تیس روز گزرنے کے بعد نیچے تشریف لائے تو کہاگیا،یا رسول اللہ! کیا آپ نے پورا مہینہ الگ رہنے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتاہے۔
مسنداحمد میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایت :
(۴)عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ:اَقْسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اَنْ لاَیَدْخُلَ عَلٰی نِسَآئِہِ شَھْرًا، قَالَتْ: فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ، قَالَتْ: فَکُنْتُ اَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِہِ، فَقُلْتُ لِلنَّبِیِّ ﷺ:أَلَیْسَ کُنْتَ اَقْسَمْتَ شَھْرًا فَعُدْتُّ الْاَیَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: الشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ۔(۴)
ترجمہ :ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ وہ ایک مہینہ اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے۔ وہ فرماتی ہیں کہ حضورؐ انتیس روز ٹھہرے (پھر نیچے آگئے) تو میں پہلی عورت تھی جسے یہ بات سوجھی (کہ مہینہ تو تیس روز کا ہوتاہے) تو میں نے عرض کیا، کیا آپؐ نے ایک مہینہ الگ رہنے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں دن گنتی رہی ہوں ابھی انتیس روز ہوئے ہیں (ایک روزباقی ہے) نبی ﷺ نے فرمایا مہینہ انتیس روز کا بھی ہوتاہے۔
(۵)حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا یَحْیٰ ابْنُ زَکَرِیَّا بْنِ زَائِدَۃَ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِنَّمَا آلٰی لِاَنَّ زَیْنَبَ رَدَّتْ عَلَیْہِ ھَدِیَّتَہٗ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَقَدْ اَقْمَأَتْکَ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَآلٰی مِنْھُنَّ۔(۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول ﷺنے ایلاء کیا کیونکہ زینب نے آپ کا ہدیہ واپس کردیا تھا۔ اس موقع پر حضرت عائشہ نے حضورؐ سے کہا، یا رسول اللہ! زینب نے آپ کی تذلیل کی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺاس پر ناراض ہوگئے اور ازواج مطہرات کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی۔
حضرت ام سلمہؓ سے مروی روایت :
(۶)عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ آلٰی مِنْ بَعْضِ نِسَآئِہِ شَھْرًا، فَلَمَّا کَانَ تِسْعَۃٌ وَّعِشْرِیْنَ، رَاحَ اَوْ غَدَا، فَقِیْلَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّمَا مَضٰی تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ فَقَالَ: اَلشَّھْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ۔(۶)
ترجمہ : حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض بیویوں کے پاس ایک ماہ کے لیے نہ جانے کی قسم کھالی۔ مگر جب انتیس روز گزرے تو صبح یا شام نیچے تشریف لے آئے۔توجہ دلائی گئی کہ یا رسول اللہ ابھی ایک کم تیس روز گزرے ہیں۔ فرمایا مہینہ ۲۹ ؍دن کا بھی ہوتاہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی روایت :
(۷)اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرًایَقُوْلُ:ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نِسَآئَہٗ شَھْرًا، فَکَانَ یَکُوْنُ فِی الْعُلُوِّ وَیَکُنَّ فِی السِّفْلِ، فَنَزَلَ النَّبِیُّﷺ اِلَیْھِنَّ فِیْ تِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، فَقَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ مَکَثْتَ تِسْعًاوَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ الشَّھْرَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا۔ بِاَصَابِعِ یَدِہٖ مَرَّتَیْنِ وَقَبَضَ فِی الثَّالِثَۃِ اِبْھَامَہٗ۔(۷)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک ماہ کے لیے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا اور بالاخانہ میں چلے گئے، اور ازواج نیچے (اپنے حجروں) میں رہیں۔ ۲۹ روز گزرنے پر نبی ﷺنیچے اتر کر ان کے پاس آئے تو ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ آپ ۲۹ روز ٹھیرے ہیں ( مہینہ پورا ہونے میں ایک روز باقی ہے) رسول اللہﷺنے فرمایا مہینہ اس طرح کابھی ہوتاہے۔ دو مرتبہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کھولا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند رکھا(اس طرح ۲۹ کی تعداد ہوئی)۔
تشریح : (دراصل یہ نوبت اس لیے آئی کہ حضورؐ کی دوبیویوں نے آپؐ کے خلاف جتھہ بندی کی تھی اور دوبدو جواب دیے جس پر قرآن میں سورہ تحریم میں آیات نازل ہوئیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتاہے) کہ یہ دوبیویاں کون تھیں اور وہ معاملہ کیا تھا جس پر یہ عتاب ہوا ، اس کی تفصیل ہمیں حدیث میں ملتی ہے۔
۹۷۔مسند احمد، بخاری، مُسلم، ترمذی اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک مفصل روایت نقل ہوئی ہے جس میں کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ یہ قصہ بیان کیا گیاہے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
’’میں ایک مدت سے اس فکر میںتھا کہ حضرت عمرؓ سے پوچھوں کہ رسول اللہ ﷺکی بیویوں میں سے وہ کون سی دوبیویاں تھیں جنہوں نے حضورؐ کے مقابلے میں جتھہ بندی کرلی تھی۔ اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ اِنْ تَتُوْبَـآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا لیکن ان کی ہیبت کی وجہ سے میری ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر ایک مرتبہ وہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔ واپسی پرراستہ میں ایک جگہ ان کووضوکراتے ہوئے مجھے موقع مل گیا اور میں نے یہ سوال پوچھ لیا۔ انہوں نے جواب دیا وہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ تھیں۔ پھر انہوں نے بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں کو دباکر رکھنے کے عادی تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں حاوی تھیں، اور یہی سبق ہماری عورتیں بھی ان سے سیکھنے لگیں۔ ایک روز میںاپنی بیوی پر ناراض ہوا تو کیا دیکھتاہوں کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے رہی ہے (اصل الفاظ ہیں فَاِذَا ھِیَ تُرَاجِعُنِی) مجھے یہ بہت ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے۔ اس نے کہاآپ اس بات پر کیوں بگڑتے ہیں کہ میں آپ کو پلٹ کر جواب دوں؟ خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ کی بیویاں حضورؐ کو دو بدو جواب دیتی ہیں (اصل لفظ ہے لِیُرَاجِعْنَہٗ) اور ان میںسے کوئی حضورؐ سے دن دن بھر روٹھی رہتی ہے (بخاری کی روایت میں ہے کہ حضورؐ اس سے د ن بھر ناراض رہتے ہیں)۔ یہ سن کر میں گھر سے نکلا اور حفصہؓ کے ہاں گیا(جو حضرت عمرؓ کی بیٹی اور حضورؐ کی بیوی تھیں)۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تو حضورؐ کو دو بدو جواب دیتی ہے؟ اس نے کہاہاں! میں نے پوچھا اور کیا تم میں سے کوئی دن دن بھر حضورؐ سے روٹھی رہتی ہے؟ (بخاری کی روایت میں ہے کہ حضورؐ دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں؟) ۔اس نے کہاہاں! میں نے کہا نامراد ہوگئی اور گھاٹے میں پڑگئی وہ عورت جو تم میں سے ایسا کرے۔ کہا تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہوگئی ہے کہ اپنے رسول کے غضب کی وجہ سے اللہ اس پر غضبناک ہوجائے اور وہ ہلاکت میں پڑجائے۔ رسول اللہ ﷺکے ساتھ کبھی زبان درازی نہ کر (یہاں بھی وہی الفاظ ہیں لاَتُرَاجِعِی )
(حضرت عمرؓ دوسرے روز صبح حضورؐ کی خدمت میں گئے اور اُن کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی) اس قصے کو ہم نے مسند احمد اور بخاری کی روایات جمع کرکے مرتب کیاہے۔ اس میں حضرت عمرؓ نے مراجعت کا لفظ جو استعمال کیاہے اسے لغوی معنی میں نہیں لیا جاسکتا بلکہ سیاق وسباق خود بتارہاہے کہ یہ لفظ دو بدو جواب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور حضرت عمرؓ کا اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ لَاتُراجِعِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ، صاف طور پر اس معنی میں ہے کہ’’ حضور سے زبان درازی نہ کیا کر۔‘‘ اس ترجمے کو بعض لوگ غلط کہتے ہیںاور ان کا اعتراض یہ ہے کہ مراجعت کا ترجمہ پلٹ کر جواب دینایا دوبدو جواب دینا تو صحیح ہے، مگر اس کا ترجمہ’’زبان درازی‘‘ صحیح نہیں ہے۔ لیکن یہ معترض حضرات اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اگر کم مرتبے کا آدمی اپنے سے بڑے مرتبے کے آدمی کو پلٹ کر جواب دے، یا دو بدوجواب دے تو اسی کا نام زبان دارزی ہے۔ مثلاً باپ اگر بیٹے کو کسی بات پر ڈانٹے یا اس کے کسی فعل پر ناراضی کا اظہار کرے اور بیٹا اس پر ادب سے خاموش رہنے یا معذرت کرنے کے بجائے پلٹ کر جواب دینے پر اتر آئے تو اس کو زبان درازی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پھر جب یہ معاملہ باپ اور بیٹے کے درمیان نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور امت کے کسی فرد کے درمیان ہو تو صرف ایک غبی آدمی ہی یہ کہہ سکتاہے کہ اس کا نام زبان درازی نہیں ہے۔
بعض دوسرے لوگ ہمارے اس ترجمے کو سُوء ادب قراردیتے ہیں حالانکہ سوئِ ادب اگر ہوسکتاتھا تو اس صورت میں جب کہ ہم اپنی طرف سے اس طرح کے الفاظ حضرت حفصہؓ کے متعلق استعمال کرنے کی جسارت کرتے ۔ ہم نے تو حضرت عمرؓ کے الفاظ کا صحیح مفہوم ادا کیا ہے اور یہ الفاظ انہوں نے اپنی بیٹی کو اس کے قصور پر سرزنش کرتے ہوئے استعمال کیے ہیں۔ اسے سوء ادب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یا تو باپ اپنی بیٹی کو ڈانٹتے ہوئے بھی ادب سے بات کرے، یا پھر اس کی ڈانٹ کا ترجمہ کرنے والا اپنی طرف سے اس کو باادب کلام بنادے۔
اس مقام پر سوچنے کے قابل بات دراصل یہ ہے کہ اگر معاملہ صرف ایسا ہی ہلکا اور معمولی سا تھاکہ حضورؐ کبھی اپنی بیویوں کو کچھ کہتے تھے اور وہ پلٹ کر کچھ جواب دے دیا کرتی تھیں،تو آخر اس کو اتنی اہمیت کیوںدی گئی کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے براہ راست خود ان ازواج مطہرات کو شدت کے ساتھ تنبیہ فرمائی؟ اور حضرت عمرؓ نے اس معاملہ کو کیوں اتنا سخت سمجھا کہ پہلے بیٹی کو ڈانٹا اور پھر ازواج مطہرات میں سے ایک ایک کے گھر جاکر ان کو اللہ کے غضب سے ڈرایا؟ اور سب سے زیادہ یہ کہ رسول اللہ ﷺکیا آپ کے خیال میں ایسے ہی زود رنج تھے کہ ذرا ذراسی باتوں پر بیویوں سے ناراض ہوجاتے تھے اور کیا معاذ اللہ آپ کے نزدیک حضورؐ کی تنک مزاجی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایسی ہی باتوں پر ناراض ہوکر آپؐ ایک دفعہ سب بیویوں سے مقاطعہ کرکے اپنے حجرے میں عزلت گزیں ہوگئے تھے؟ ان سوالات پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے لامحالہ ان آیات کی تفسیر میں دوہی راستوں میں سے ایک کواختیار کرنا پڑے گا۔ یا تو اسے ازواج مطہرات کے احترام کی اتنی فکر لاحق ہوکہ وہ اللہ اور رسول پر حرف آجانے کی پروانہ کرے۔ یا پھر سیدھی طرح یہ مان لے کہ اس زمانے میں ان ازواج مطہرات کا رویہ فی الواقع ایسا ہی قابل اعتراض ہوگیاتھاکہ رسول اللہ ﷺ ان پر ناراض ہوجانے میں حق بجانب تھے اور حضورؐ سے بڑھ کر خود اللہ تعالیٰ اس بات میں حق بجانب تھا کہ ان ازواج کو اس رویہ پر شدت سے تنبیہ فرمائے۔
اورنہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کر، میرے مال سے تیرا جو جی چاہے مانگ لیا کر۔ تو اس بات سے کسی دھوکے میں نہ پڑکہ تیری پڑوسن (مراد ہیں حضرت عائشہؓ) تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ ﷺکو زیادہ محبوب ہے۔ اس کے بعد میں وہاں سے نکل کر امِّ سلمہؓ کے پاس پہنچا جو میری رشتہ دار تھیں اور میں نے اس معاملہ میں ان سے بات کی ۔ انہوں نے کہا ابن خطاب تم بھی عجیب آدمی ہو۔ ہرمعاملہ میں تم نے دخل دیا یہاں تک کہ اب رسول اللہ ﷺ اور ان کی بیویوں کے معاملے میں دخل دینے چلے ہو۔ ان کی اس بات نے میری ہمت توڑدی۔ پھر ایسا ہوا کہ میرا ایک انصاری پڑوسی رات کے وقت میرے گھر آیا اوراس نے مجھے پکارا ہم دونو ں باری باری رسول اللہ ﷺکی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اور جو بات کسی کی باری کے دن ہوتی تھی وہ دوسرے کوبتادیا کرتاتھا۔ زمانہ وہ تھا جب ہمیں غسّان کے حملے کا خطرہ لگا ہوا تھا۔ اس کے پکارنے پر جب میں نکلا تو اس نے کہا ایک بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں نے کہا کیا غسّانی چڑھ آئے ہیں؟ اس نے کہا نہیں، اس سے بھی بڑا معاملہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے کہا برباد ہوگئی اور نامراد ہوگئی حفصہؓ، (بخاری) کے الفاظ ہیں رَغِمَ اَنْفُ حَفْصَۃَ وَعَائِشَۃَ) مجھے پہلے ہی اندیشہ تھا کہ یہ ہونے والی بات ہے۔‘‘
تخریج:(۱) فَقَالَ اَبُوالضُّحٰی:حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ اَصْبَحْنَا یَوْمًا وَنِسَآئُ النَّبِیِّﷺ یَبْکِیْنَ عِنْدَ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْھُنَّ اَھْلُھَا، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَاِذَا ھُوَمَلْآنٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَجَآئَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَصَعِدَ اِلَی النَّبِیِّﷺ وَھُوَ فِیْ عُلِّیَّۃٍ لَہٗ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یُجِبْہُ اَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ یُجِبْہُ اَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ یُجِبْہُ اَحَدٌ فَرَجَعَ، فَنَادٰی بِلاَلاً، فَدَخَلَ عَلَی النَّبِیِّﷺ فَقَالَ: أَطَلَّقْتَ نِسَآئَ کَ؟ فَقَالَ:لاَ، وَلٰکِنِّیْ آلَیْتُ مِنْھُنَّ شَھْرًا، فَمَکَثَ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ ثُمَّ نَزَلَ، فَدَخَلَ عَلٰی نِسَآئِہِ۔(۸)
ترجمہ : ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ ایک روز علی الصبح ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ازواج مطہرات رورہی ہیں اور ہر ایک بیوی کے پاس اس کے اہل خانہ بیٹھے ہیں۔ میں مسجد میں داخل ہوا تو کیا دیکھتاہوں کہ مسجد لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں اتنے میں عمرؓ آئے اور سیدھے نبی کریم ﷺ کے پاس اوپر چڑھ گئے۔ حضورؐ اس وقت اپنے بالاخانہ میں تشریف فرماتھے۔ حضرت عمرؓ نے تین مرتبہ یکے بعد دیگرے آپ کو سلام عرض کیا مگر کسی نے پلٹ کر جواب نہیں دیا تو عمرؓ واپس لوٹ آئے اور بلالؓ کو بلایا۔ وہ نبی ﷺکے پاس بالاخانہ میں داخل ہوئے اور پوچھا کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں، بلکہ میں نے ایک ماہ ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ہے۔ انتیس روز کے بعد آپؐ تشریف لے آئے اور اپنی بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے۔
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ابْنُ بِلاَلٍ، عَنْ یَحْیٰ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ حُنَیْنٍ اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ اَنَّہٗ قَالَ: مَکَثْتُ سَنَۃً اُرِیْدُ اَنْ اَسْئَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اٰیَۃً فَمَااسْتَطِیْعُ اَنْ اَسْئَلَہٗ ھَیْبَۃً لَہٗ حَتّٰی خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَہٗ، فَلَمَّا رَجَعْتُ(رَجَعْنَا) وَکُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ، عَدَلَ اِلَی الْاَرَاکِ لِحَاجَۃِ لَّہٗ، قَالَ: فَوَقَفْتُ لَہٗ حَتّٰی فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَہٗ فَقُلْتُ: یَااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ مَنِ اللَّتَانِ تَظَاھَرَتَا عَلَی النَّبِیِّﷺ مِنْ اَزْوَاجِہِ؟ فَقَالَ: تَانِکَ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ کُنْتُ لَاُرِیْدُ اَنْ اَسْئَلَکَ عَنْ ھٰذَا مُنْذُ سَنَۃٍ فَمَا اسْتَطِیْعُ ھَیْبَۃً لَّکَ، قَالَ: فَلاَ تَفْعَلْ مَاظَنَنْتُ اَنَّ عِنْدِیْ مِنْ عِلْمٍ، فَسَلْنِیْ فَاِنْ کَانَ لِیْ عِلْمٌ خَبَّرْتُکَ بِہِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ۔وَاللّٰہِ اِنَّ کُنَّا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَآئِ اَمْرًا حَتّٰی اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْھِنَّ مَا اَنْزَلَ، وَقَسَمَ لَھُنَّ مَا قَسَمَ، قَالَ: فَبَیْنَا اَنَا فِی اَمْرٍ اَتَأَمَّرُہٗ اِذْ قَالَتِ امْرَأَتِیْ: لَوْصَنَعْتَ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَھَا: مَالَکِ وَلِمَا ھٰھُنَا تَکَلُّفُکِ فِیْ اَمْرٍ اُرِیْدُہٗ؟ فَقَالَتْ لِیْ: عَجَبًا لَّکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَاتُرِیْدُ اَنْ تُرَاجِعَ اَنْتَ، وَاِنَّ بْنَتَکَ لَتُرَاجِعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی یَظَلَّ یَوْمَہٗ غَضْبَانًا فَقَامَ عُمْرُ، فَاَخَذَ رِدَائَ ہٗ مَکَانَہٗ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی حَفْصَۃَ فَقَالَ لَھَا۔ یَابُنَیَّۃُ! اِنَّکِ لَتُرَاجِعِیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی یَظَلَّ یَوْمَہٗ غَضْبَانَ فَقَالَتْ حَفْصَۃُ: وَاللّٰہِ اِنَّا لَنُرَاجِعَہٗ، فَقُلْتُ: تَعْلَمِیْنَ عَنِّیْ اُحَذِّرُکِ عَقُوْبَۃَ اللّٰہِ وَغَضَبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ یَابُنَیَّۃُ لاَتَغُرَّنَّکِ ھٰذِہِ الَّتِیْ اَعْجَبَھَا حُسْنُھَا حُبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اِیَّاھَا یُرِیْدُ عَائِشَۃَ، قَالَ:ثُمَّ خَرَجْتُ حَتّٰی دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ لِقَرَابَتِیْ مِنْھَا، فَکَلَّمْتُھَا، فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ عَجَبًا لَّکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ دَخَلْتَ فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی تَبْتَغِیْ اَنْ تَدْخُلَ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ وَاَزْوَاجِہِ، فَاَخَذَتْنِیْ وَاللّٰہِ اَخْذًا کَسَرَتْنِیْ عَنْ بَعْضِ مَا کُنْتُ اَجِدُ، فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِھَا، وَکَانَ لِیْ صَاحِبٌ مِنَ الْاَنْصَارِ اِذَا غِبْتُ، اَتَانِیْ بِالْخَبَرِ، وَاِذَا غَابَ کُنْتُ اَنَا اٰتِیْہِ بِالْخَبَرِ، وَنَحْنُ نَتَخَوَّفُ مَلِکًا مِنْ مُّلُوْکِ غَسَّانَ ذُکِرَلَنَا اَنَّہٗ یُرِیْدُ اَنْ یَسِیْرَ اِلَیْنَا، فَقَدِ امْتَلأَتْ صُدُوْرُنَا مِنْہُ، فَاِذَا صَاحِبِیْ اَلاَنْصَارِی یَدُقُّ الْبَابَ فَقَالَ: افْتَحْ افْتَحْ، فَقُلْتُ:جَآئَ الْغَسَّانِیُّ؟ فَقَالَ: بَلْ اَشَدُّ مِنْ ذٰلِکَ، اعْتَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَزْوَاجَہٗ، فَقُلْتُ:رَغِمَ اَنْفُ حَفْصَۃَ وَعَائِشَۃَ، فَاَخَذْتُ ثَوْبِیْ، فَاَخْرُجُ حَتّٰی جِئْتُ، فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ مَشْرُبَۃٍ لَہٗ یَرْقٰی عَلَیْھَا بِعَجَلَۃٍ وَغُلاَمٌ لِّرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَسْوَدُ عَلٰی رَاْسِ الدَّرَجَۃِ، فَقُلْتُ: قُلْ ھٰذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاَذِنَ لِیْ قَالَ عُمَرُ: فَقَصَصْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِیْثَ اُمِّ سَلَمَۃَ تَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ وَاِنَّہٗ لعلٰی حَصِیْرٍمَابَیْنَہٗ وَبَیْنَہٗ شَیْئٌ وَتَحْتَ رَاْسِہِ وِسَادَۃٌ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ وَعِنْدَ رِجْلَیْہِ قَرَضًا مَصْبُوْبًا وَعِنْدَ رَاْسِہٖ اَھَبٌ مُعلَّقَۃٌ فَرَأَیْتُ اَثَرَ الْحَصِیْرِ فِیْ جَنْبِہِ، فَبَکَیْتُ، فَقَالَ:مَایُبْکِیْکَ؟ فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ کِسْرٰی وَقَیْصَرَ فِیْمَا ھُمَا فِیْہِ وَاَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَقَالَ:اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ لَھُمُ الدُّنْیَا وَلَنَا الْاٰخِرَۃُ۔(۹)
امام بخاری نے کتاب الطلاق میں جو روایت نقل کی ہے اس کا متن مندرجہ ذیل ہے:
(۳)حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍؓ،قَالَ:لَمْ اَزَلْ حَرِیْصًا عَلٰی اَنْ اَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَیْنِ مِنْ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ اللَّتَیْنِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی:اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا حَتّٰی حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَہٗ، وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَہٗ بِاِدَاوَۃٍ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَآئَ فَسَکَبْتُ عَلٰی یَدَیْہِ مِنْھَا فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَہٗ: یَا اَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ! مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ اللَّتَانِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اِنْ تَتُوْبَا اِلٰی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا؟ قَالَ:وَاعَجَبًا لَّکَ یَاابْنَ عَبَّاسٍ ھُمَا عَائِشَۃُ وَحَفْصَۃُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِیْثَ یَسُوْقُہٗ قَالَ:کُنْتُ اَنَا وَجَارٌ لِّیْ مِنَ الْاَنْصَارِ فِیْ بَنِیْ اُمَیَّۃَ بْنِ زَیْدٍ وَھُمْ مِنْ عَوَالِی الْمَدِیْنَۃِ، وَکُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُوْلَ عَلَی النَّبِیِّﷺ فَیَنْزِلُ یَوْمًا وَاَنْزِلُ یَوْمًا، فَاِذَا نَزَلَتْ جِئْتُہٗ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبْرِ ذٰلِکَ الْیَوْمِ مِنَ الْوَحْیِ اَوْغَیْرِہِ، وَاِذَا نَزَلَ، فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ، وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَآئَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی الْاَنْصَارِ اِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُھُمْ نِسَآئُ ھُمْ، فَطَفِقَ نِسَآئُ نَا یَاْخُذْنَ مِنْ اَدَبِ نِسَآئِ الْاَنْصَارِ، فَصَخِبْتُ عَلَی امْرَأَتِیْ فَرَاجَعَتْنِیْ، فَاَنْکَرْتُ اَنْ تُرَاجِعَنِیْ، قَالَتْ:وَلِمَ تُنْکِرُ اَنْ اُرَاجِعَکَ فَوَاللّٰہِ اِنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّﷺ لَیُرَاجِعْنَہٗ وَاِنَّ اِحْدَاھُنَّ لَتَھْجُرُہٗ الْیَوْمَ حَتَّی اللَّیْلَ، فَاَفْزَعَنِیْ ذٰلِکَ، وَقُلْتُ لَھَا: قَدْخَابَ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ مِنْھُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِیْ، فَنَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ، فَقُلْتُ لَھَا: اَیْ حَفْصَۃُ! أَتُغَاضِبُ اِحْدَاکُنَّ النَّبِیَّ ﷺ الْیَوْمَ حَتَّی اللَّیْلِ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ:قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أفَتَاْمَنِیْنَ اَنْ یَّغْضَبَ اللّٰہُ لِغَضَبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَتَھْلِکِیْ لاَتَسْتَکْثِرِی النَّبِیَّ ﷺ وَلاَ تُرَاجِعِیْہِ فِیْ شَئْیٍ وَلاَ تَھْجُرِیْہِ وَسَلِیْنِیْ مَابَدَالَکِ وَلاَیَغُرَّنَّکِ اَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ اَوْضَأَ مِنْکِ وَاَحَبَّ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ یُرِیْدُ عَائِشَۃَ۔ قَالَ عُمَرُ: وَکُنَّا قَدْتَحَدَّثْنَا اَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَیْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِی الْاَنْصَارِیُّ یَوْمَ نَوْبَتِہِ، فَرَجَعَ اِلَیْنَا عِشَآئً، فَضَرَبَ باَبِیْ ضَرْبًا شَدِیْدًا وَقَالَ:أَثَمَّ ھُوَ، فَفَزِعْتُ، فَخَرَجْتُ اِلَیْہِ، فَقَالَ: قَدْحَدَثَ الْیَوْمَ اَمْرٌعَظِیْمٌ، قُلْتُ:مَاھُوَ؟ أَجَآئَ غَسَّانُ؟ قَالَ: لاَ، بَلْ اَعْظَمُ مِنْ ذٰلِکَ وَاَھْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِیُّ ﷺ نِسَآئَ ہٗ، فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَۃُ وَخَسِرَتْ قَدْ کُنْتُ اَظُنُّ ھٰذَا یُوْشِکُ اَنْ یَکُوْنَ، فَجَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِیْ، فَصَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ مَشْرُبَۃٍ لَہٗ فَاعْتَزَلَ فِیْھَا۔ وَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ، فَاِذَا ھِیَ تَبْکِیْ، فَقُلْتُ: مَایُبْکِیْکِ؟ أَلَمْ اَکُنْ حَذَّرْتُکِ ھٰذَا؟اَطَلَّقَکُنَّ النَّبِیُّ ﷺ؟ قَالَتْ:لاَاَدْرِیْ، ھَاھُوَذَامُعْتَزِلٌ فِی الْمَشْرُبَۃِ، فَخَرَجْتُ، فَجِئْتُ اِلَی الْمِنْبَرِ، فَاِذَا حَوْلَہٗ رَھْطٌ یَبْکِیْ بَعْضُھُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَھُمْ قَلِیْلاً، ثُمَّ غَلَبَنِیْ مَااَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَۃَ الَّتِیْ فِیْھَا النَّبِیُّ ﷺ فَقُلْتُ لِغُلاَمٍ لَہُ اَسْوَدَ:اِسْتَاْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ الْغُلاَمُ، فَکَلَّمَ النَّبِیَّ ﷺ،، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ:کَلَّمْتُ النَّبِیَّﷺ وَذَکَرْتُکَ لَہٗ، فَصَمَتَ، فَانْصَرَفْتُ حَتّٰی جَلَسْتُ مَعَ الرَّھْطِ الَّذِیْنَ عِنْدَالْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِیْ مَااَجِدُ فَجِئْتُ،فَقُلْتُ لِلْغُلاَمِ:اِسْتَاْذِنْ لِعُمَرَ،
فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہٗ، فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّھْطِ الَّذِیْنَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِیْ مَااَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلاَمَ، فَقُلْتُ: اِسْتَأذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ،ثُمَّ رَجَعَ اِلَیَّ فَقَالَ: قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہٗ فَصَمَتَ، فَلَمَّاوَلَّیْتُ مُنْصَرِفًا قَالَ:اِذَا الْغُلاَمُ یَدْعُوْنِیْ، فَقَالَ:قَدْاَذِنَ لَکَ النَّبِیُّﷺ، فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺفَاِذَا ھُوَمُضْطَجِعٌ عَلٰی رُمَالِ حَصِیْرٍ لَیْسَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہٗ فِرَاشٌ، قَدْ اَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِہٖ مُتَّکِئًا عَلٰی وِسَادَۃٍ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ قُلْتُ وَاَنَا قَائِمٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ:أطَلَّقْتَ نِسَآئَ کَ؟ فَرَفَعَ اِلَیَّ بَصَرَہٗ، فَقَالَ:لاَ، فَقُلْتُ:اَللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ قُلْتُ وَاَنَا قَآئِمٌ: اَسْتَأنِسُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْرَأَیْتَنِیْ، وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَآئَ فَلَمَّا قَدِمْنَاالْمَدِیْنَۃَ اِذَاقَوْمٌ تَغْلِبُھُمْ نِسَآئُ ھُمْ، فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ ﷺ، ثُمَّ قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْرَأَیْتَنِیْ۔ وَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ، فَقُلْتُ لَھَا:لاَیَغُرَّنَّکِ اَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ اَوْضَأَ مِنْکِ وَاَحَبَّ اِلَی النَّبِیَّ ﷺ یُرِیْدُ عَائِشَۃَ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ ﷺ تَبَسُّمَۃً اُخْرٰی، فَجَلَسْتُ حِیْنَ رَأَیْتُہٗ تَبَسَّمَ، فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ فِیْ َبْیِتِہ فَوَاللّٰہِ مَارَأَیْتُ فِیْہِ شَیْئًا یَرُدُّ الْبَصَرَ غَیْرَاَھَبَۃٍ ثَلاَثَۃٍ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُدْعُ اللّٰہَ فَلْیُوَسِّعْ عَلٰی اُمَّتِکَ، فَاِنَّ فَارِسًا وَالرُّوْمَ قَدْ وُسِّعَ عَلَیْھِمْ وَاُعْطُوا الدُّنْیَا وَھُمْ لاَیَعْبُدُوْنَ اللّٰہَ، فَجَلَسَ النَّبِیَّ ﷺ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ:اَوَفِیْ ھٰذَا اَنْتَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ اِنَّ اُولٓئِکَ قَوْمٌ قَدْ عُجِّلُوْا طَیِّبَاتِھِمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا، فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِسْتَغْفِرْلِیْ، فَاعْتَزَلَ النَّبِیُّ ﷺ نِسَآئَ ہٗ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ حِیْنَ اَفْشَتْہُ حَفْصَۃُ اِلٰی عَائِشَۃَ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، وَکَانَ قَالَ: مَا اَنَا بِدَاخِلٍ عَلَیْھِنَّ شَھْرًا مِنْ شِدَّۃِ مَوْجِدَتِہٖ عَلَیْھِنَّ حِیْنَ عَاتَبَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ لَیْلَۃً، دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَبَدَأَ بِھَا، فَقَالَتْ لَہٗ عَائِشَۃُ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ کُنْتَ قَدْ اَقْسَمْتَ اَنْ لاَّتَدْخُلَ عَلَیْنَا شَھْرًا وَاِنَّمَا اَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً اَعُدُّھَا عَدًّا، فَقَالَ: اَلشَّھْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ فَکَانَ ذٰلِکَ الشَّھْرُ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً، قَالَتْ عَائِشَۃُ :ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی اٰیَۃَ التَّخْیِیْرِ۔ فَبَدَأَ بِیْ اَوَّلَ امْرَأَۃٍ مِنْ نِّسَآئِ ہٖ فَاخْتَرْتُہٗ ثُمَّ خَیَّرَ نِسَآئَ ہٗ کُلَّھُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَۃُ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن ؓ عباس سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میری ہمیشہ یہ تمنا وخواہش رہی کہ حضرت عمرؓ سے دریافت کروں کہ ازواج رسولؐ میں سے وہ دوخواتین کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ’’ اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تویہ تمہارے لیے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔‘‘ یہ خواہش میرے دل ہی میں تھی کہ حضرت عمرؓ حج پر تشریف لے گئے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا۔ (واپسی پر) حضرت عمرؓ قضائے حاجت کے لیے اصل راستہ سے کتراکر چلے تو میں بھی ان کے ساتھ ہی پانی کا لوٹا لے کر مڑگیا۔ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر لوٹے میں سے پانی ڈالا اور انہوں نے وضو کیا۔ (اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) میں نے عرض کیا، یا امیر المومنین !ازواج مطہرات میں سے حضورﷺکی وہ دو کون سی بیویاں تھیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ’’ اگر تم دونوں توبہ کرتی ہو (تویہ تمہارے لیے بہتر ہے) کیوں کہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا، اے ابن عباس! مجھے تم پر تعجب ہے۔ وہ دونوں تو عائشہؓ اور حفصہؓ تھیں۔ پھر حضرت عمرؓ بقیہ حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اور بیان فرمائی کہ میں اور میراانصاری ہمسایہ بنوامیہ بن زید میں رہایش پذیر تھے اور یہ لوگ مدینہ کے اطراف کے باشندے تھے، ہم دونوں باری باری سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ جس روز میں جاتااپنے ساتھی کو اس روز کی وحی وغیرہ کی تمام خبریں آکر بتادیتا، جب وہ جاتاتو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ ہم قریش قبیلہ کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے۔ جب ہم مدینہ میںانصار کے پاس آگئے تو معلوم ہوا کہ انصاری عورتیں اپنے خاوندوں پر غالب ہیں۔ پس ہماری بیویوں نے بھی انصاری خواتین کے آداب سیکھنے شروع کردیے۔ چنانچہ ایک روز میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے دوبدو مجھے جواب دیا۔ اس کا مجھے دوبدو جواب دینا اچھا نہ لگا، تو وہ بولی کہ میرا دو بدو جواب دینا آپ کو کیوں برا محسوس ہوا جب کہ خدا کی قسم! نبی ﷺ کی بیویاں آپ سے دوبدو باتیں کرتی ہیں، اور کوئی ایک تو شام تک روٹھی رہتی ہے۔ اس نے تو مجھے گھبراہٹ وپریشانی میں مبتلا کردیا، میں نے کہا جس نے ایسا کیا وہ تو نامراد ہوگئی، پھر میں نے جانے کے لیے تیاری کی اور نیچے اتر کر حفصہ کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی نبی ﷺکو ناراض بھی کردیتی ہے اور دن بھر شام تک ناراض ہی رہتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے کہا ،تونامراد ہے اور خسارہ میں ہے ،کیا تمہیں اس کا خوف نہیں کہ آپ کے غصہ اور ناراض رہنے کی وجہ سے اللہ کو غصہ آجائے اور وہ ناراض ہوجائے اور تو ماری جائے! تم نبی ﷺ سے زیادہ نہ مانگا کرو اور نہ آپ کو دو بدو جواب دیا کرو اور نہ آپ سے بولنا بند کیا کرو۔ تمہیں جس چیز کی ضرورت پیش آئے مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تو اس بات سے کسی دھوکہ میں نہ پڑکہ تیری پڑوسن (مراد ہیں عائشہ) تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ ﷺ کو زیادہ محبوب ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہم یہ بات سن چکے تھے کہ غسّان (شام کا بادشاہ) ہم سے لڑنے کے لیے اپنے گھوڑوں کو نعل لگوارہاہے۔ میرا انصاری دوست اپنی باری کے دن آنحضور ﷺکی خدمت میں حاضر رہا اور شام کو واپس آیا تو میرا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا اور دریافت کیا کہ عمر گھر پر ہیں۔ میں گھبرایا اور باہر آیا تو اس نے کہا کہ آج ایک بہت عظیم واقعہ پیش آیاہے۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ کیا غسان نے آکر حملہ کردیاہے؟ وہ بولا نہیں، اس سے بھی عظیم اور خوفناک واقعہ۔ نبی ﷺنے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ حفصہؓ تو نامراد ہوئی اور خسارے میں پڑگئی۔ مجھے گمان یہی تھا کہ ایسا پیش آنے والا ہے، میں نے اپنے کپڑے پہنے اور صبح کی نماز نبی ﷺکے ساتھ ادا کی۔ نبی ﷺتونماز سے فارغ ہوکر اپنے
بالاخانے میں تشریف لے جاکر گوشہ نشین ہوگئے اور میں حفصہؓ کے پاس چلاگیا، دیکھا تو وہ رورہی ہے۔ میں نے پوچھا کس بات نے تجھے رولادیاہے؟ کیا میں نے اس سے تمہیں خبردارنہیں کیا تھا؟ کیا نبی ﷺنے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ وہ بولی مجھے تو معلوم نہیں۔ وہ اس بالاخانے میں گوشہ نشین ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا تو دیکھتاہوں کہ منبر کے گرد لوگ بیٹھے ہیں، بعض رو بھی رہے ہیں۔ پھر میں تھوڑی سی دیر ان کے ساتھ بیٹھا۔ پھر دل میں جو کھٹک محسوس کررہاتھا وہ غالب آئی اور میں اٹھ کر اس بالاخانے کی طرف چلا جس میں آپ گوشہ نشین تھے۔ میں نے آپ کے حبشی غلام سے کہا کہ وہ عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت طلب کرے، غلام اندر گیا اور نبی ﷺسے بات کرکے واپس لوٹ آیا اور کہا کہ میں نے عرض مدعا میں آپ کا ذکر کیا آپ خاموش رہے میں وہاں سے اٹھ کر انہی لوگوں کے پاس پھر آکر بیٹھ گیاجو منبر کے پاس بیٹھے تھے۔ دل میں جوکھٹک سی تھی اس نے پھر غلبہ کیا اور میں نے پھر غلام سے کہا کہ وہ عمر کے لیے ملاقات کی اجازت طلب کرے۔ وہ اند رگیا اور پلٹ آیا اور بتایا کہ میں نے آپ کا ذکر کیا، آپ سن کر خاموش رہے، میںپھر انہیںلوگوں کے پاس آکر بیٹھ گیا جو منبر کے پاس بیٹھے تھے۔ میرے دلی خیال نے غلبہ کیا اور میں پھر غلام کے پاس گیا اور کہا کہ اجازت طلب کروعمر کے لیے، وہ اندر داخل ہوا اور واپس پلٹ آیا اور کہا کہ میں نے تو آپ کا تذکرہ کیا ہے مگر آپ سن کر خاموش رہے۔ پس جب میں وہاں سے واپس ہوا تو غلام نے مجھے بلاکر کہا کہ نبی ﷺنے اجازت دے دی ہے تو میں فوراً رسول اللہ ﷺ کے پاس گیاتو کیا دیکھتاہوں کہ آپ چھال بھرا تکیہ لگائے کھردری چٹائی پر استراحت فرماہیں جس سے آپ کے جسم اطہر پر نشان پڑگئے ہیں، میں نے سلام عرض کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا ،یارسول اللہ ﷺکیاآپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے نظر اوپر میری طرف اٹھائی اور فرمایا، نہیں۔ میں نے خوشی میں اللہ اکبر کہا پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے عرض کیا۔ کاش آپ میری جانب متوجہ ہوں۔ ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں پر غالب چلے آرہے تھے۔ مدینہ میں آکرایسی قوم کو دیکھا جس کے مردوں پر عورتوں کا غلبہ ہے۔ یہ سن کر آپ مسکرائے میں نے پھر عرض کیا، یا رسول اللہﷺ آپ توجہ فرمائیں توعرض حال کروں۔ یہ کہہ کر انہوں نے واقعہ سنانا شروع کیا کہ میں حفصہ کے پاس گیا اور اسے کہا کہ تمہیں یہ بات دھوکہ میں مبتلا نہ کرے کہ تیری پڑوسن بہت خوبصورت ہے اور رسول اللہ ﷺکو بہت محبوب ہے ان کی مراد حضرت عائشہ تھیں یہ سن کر آپ دوبارہ مسکرائے جب میں نے آپ کو مسکراتے دیکھا تو میں بیٹھ گیا اور آپ کے حجرے کو بغو ر دیکھنے لگا۔ خدا کی قسم! وہاں تین کھالوں کے سوا مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ ایسی کیفیت دیکھ کر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپؐ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت پر فراوانی وکشائش فرمائے۔ فارس وروم کے لوگ کشادگی اور کشائش میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ دنیا ان کو خوب دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت تک نہیں کرتے۔ آپ نے ٹیک لگا رکھی تھی، یہ سن کر سیدھے بیٹھے اور فرمایا ،ابن خطاب کیا تم بھی اس خیال میں مبتلا ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دنیا ہی میں دنیوی سازو سامان کی فراوانی جلدی سے دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے لیے معافی کی درخواست فرمائیں۔ نبی ﷺاس بات کی وجہ سے جسے حفصہ نے عائشہ کے سامنے ظاہر کردیا تھا ایک کم تیس روز اپنی بیویوں سے الگ ہوگئے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺسے اظہار ناراضگی فرمایا اس وقت آپ نے شدت ناراضگی کی وجہ سے بیویوں سے فرمایا تھا کہ ایک پورا مہینہ تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔ جب انتیس دن ہوئے تو بالاخانے سے نیچے آئے اور داخلہ کا آغاز حضرت عائشہؓ کے ہاں سے کیا تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا، آپ نے تو ایک مہینہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی۔ میں دن شمار کرتی رہی ہوں ابھی ایک کم تیس دن ہوئے ہیں، آپ نے فرمایا (قمری) مہینہ انتیس روز کا بھی ہوتاہے۔ حضرت عائشہؓکابیان ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔ سب ازواج مطہرات سے پہلے آپ نے مجھے ہی پوچھا، تو میں نے آپؐ کا انتخاب کیا۔اس کے بعد آپ نے باقی سب بیویوں کوبھی اختیار دیا، انہوں نے بھی عائشہؓ کی طرح جواب دیا۔
(احادیث بالا سے معلوم ہوتاہے) کہ قصور صرف حضرت عائشہؓ اور حفصہؓ ہی کا نہ تھا بلکہ دوسری ازواج مطہرات بھی کچھ نہ کچھ قصوروار تھیں۔ اسی لیے ان دونوں کے بعد (آیت ۱۰) میں باقی سب ازواج کو بھی تنبیہ فرمائی گئی۔ (قرآن مجید) میں قصور کی نوعیت پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی البتہ احادیث میں اس کے متعلق کچھ تفصیلات آئی ہیں ان کو ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں:
۹۸۔بخاری میں حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’نبی ﷺکی بیویوں نے آپس کے رشک اور رقابت میں مل جل کر حضورؐ کو تنگ کردیا تھا (اصل الفاظ میں اِجَتَمَعَ نِسآئُ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ الْغَیْرَۃِ عَلَیْہِ) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ’’بعید نہیں کہ اگر حضورؐ تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تم سے بہتر بیویاںآپؐ کو عطا فرمادے۔‘‘ ابن ابی حاتم نے حضرت انسؓ کے حوالہ سے حضرت عمرؓکا بیان ان الفاظ میں نقل کیاہے: ’’مجھے خبر پہنچی کہ امہات المومنین اور نبی ﷺ کے درمیان کچھ ناچاقی ہوگئی ہے اس پر میں ان میں سے ایک ایک کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تنگ کرنے سے باز آجاؤ ورنہ اللہ تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں حضورؐ کو عطا فرمادے گا۔ یہاں تک کہ جب میں امہات المومنین میں سے آخری کے پاس گیا (اور یہ بخاری کی ایک روایت کے بموجب امّ سلمہؓ تھیں) تو انہوں نے مجھے جواب دیا ،اے عمر! کیا رسول اللہ ﷺعورتوں کی نصیحت کے لیے کافی نہیں ہیں کہ تم انہیں نصیحت کرنے چلے ہو؟ اس پر میں خاموش ہوگیا‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: عَسٰی رَبُّہٓٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٓٗ، اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ الآیَۃ۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: اجْتَمَعَ نِسَآئُ النَّبِیِّ ﷺ فِی الْغَیْرَۃِ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ لَھُنَّ: عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُبْدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ فَنَزَلَتْ ھٰذَہٖ الاٰیَۃُ۔(۱۱)
ترجمہ :حضرت انس ؓروایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ کی بیویوں نے آپس کے رشک اور رقابت میں مل جل کر حضورؐ کو تنگ کردیا تو اس پر میں نے کہاکہ بعید نہیں کی حضورؐ تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کو عطا فرمادے، پھر یہ آیت نازل ہوئی۔
۹۹۔مسلم میں حضرت عبداللہؓ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے ان سے بیان کیا کہ جب نبی ﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار فرمالی تو میں مسجد نبوی میں پہنچا، دیکھا کہ لوگ متفکر بیٹھے ہوئے کنکریاں اٹھا اٹھا کر گرارہے ہیں اور آپس میں کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوںکو طلاق دے دی ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت عائشہؓ اور حفصہؓ کے ہاں اپنے جانے اور ان کو نصیحت کرنے کا ذکر کیا، پھر فرمایا کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا ’’بیویوں کے معاملہ میں آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں، اگر آپ ان کو طلاق دے دیں تو اللہ آپ کے ساتھ ہے، سارے ملائکہ اور جبریل ومیکائیل آپ کے ساتھ ہیں اور میں اور ابوبکر اور سب اہل ایمان آپ کے ساتھ ہیں‘‘ میں اللہ کا شکر بجالاتاہوں کہ کم ہی ایسا ہوا ہے کہ میں نے کوئی بات کہی ہو اور اللہ سے یہ امید نہ رکھی ہو کہ وہ میرے قول کی تصدیق فرمادے گا، چنانچہ اس کے بعد سورۂ تحریم کی یہ آیات نازل ہوگئیں۔ پھر میں نے حضورؐ سے پوچھا کیا آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضورؐ نے فرمایا نہیں! اس پر میں نے مسجد نبوی کے دروازے پر کھڑے ہوکر بآواز بلند اعلان کیا کہ حضورؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ہے۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ:نَاعُمَرُ ابْنُ یُوْنُسَ الْحَنَفِیُّ، قَالَ:نَاعِکْرِمَۃُ ابْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاکٍ اَبِیْ زُمَیْلٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ:لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ نِسَآئَ ہٗ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَاِذَا النَّاسُ یَنْکُتُوْنَ بِالْحَصَی وَیَقُوْلُوْنَ طَلَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نِسَآئَ ہٗ وَذٰلِکَ قَبْلَ اَنْ یُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ، قَالَ عُمَرُ:فَقُلْتُ: لَاُعْلِمَنَّ ذٰلِکَ الْیَوْمَ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ، فَقُلْتُ:یَابِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَانِکِ اَنْ تُوْذِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقَالَتْ: مَالِیْ وَمَالَکَ یَاابْنَ الْخَطَّابِ عَلَیْکَ بِعَیْبَتِکَ؟ قَالَ:فَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَھَا:یَاحَفْصَۃُ اَ قَدْ بَلَغَ مِنْ شَانِکِ اَنْ تُؤْذِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لاَیُحِبُّکِ وَلَوْلاَ اَنَا، لَطَلَّقَکِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَبَکَتْ اَشَدَّ الْبُکَائِ فَقُلْتُ لَھَا اَیْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَتْ: ھُوَ فِیْ خِزَانَتِہٖ فِی الْمَشْرُبَۃِ، فَدَخَلْتُ، فَاِذَا اَنَا بِرَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَاعِدًا عَلٰی اُسْکُفَّۃِ الْمَشْرُبَۃِ مُدَلٍّ رِجْلَیْہِ عَلٰی نَقِیْرٍ مِنْ خَشَبٍ وَھُوَجَذْعٌ یَرْقٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَیَنْحَدِرُ فَنَادَیْتُ:یَا رَبَاحُ اِسْتَاْذِنْ لِیْ عِنْدَکَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَنَظَرَ رَبَاحٌ اِلَی الْغُرْفَۃِ، ثُمَّ نَظَرَ اِلَیَّ، فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا، ثُمَّ قُلْتُ:یَا رَبَاحُ اسْتَاْذِنْ لِیْ عِنْدَکَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَنَظَرَ رَبَاحٌ اِلَی الْغُرْفَۃِ، ثُمَّ نَظَرَ اِلَیَّ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِیْ فَقُلْتُ:یَا رَبَاحُ اِسْتَاْذِنْ لِیْ عِنْدَکَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاِنِّیْ اَظُنُّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ظَنَّ اَنِّیْ جِئْتُ مِنْ اَجْلِ حَفْصَۃَ، وَاللّٰہِ لَئِنْ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِضَرْبِ عُنُقِھَا لَاَضْرِبَنَّ عُنُقَھَا وَرَفَعْتُ صَوْتِیْ فَاَوْمٰی اِلَیَّ اَنْ اَرْقَہٗ، فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَمُضْطَجِعٌ عَلٰی حَصِیْرٍ، فَجَلَسْتُ، فَاَدْنٰی عَلَیْہِ اِزَارَہٗ وَلَیْسَ عَلَیْہِ غَیْرُہٗ وَاِذَا الْحَصِیْرُ قَدْ اَثَّرَ فِیْ جَنْبِہِ، فَنَظَرْتُ بِبَصَرِیْ فِیْ خَزَانَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاِذَا اَنَا بِقَبْضَۃٍ مِنْ شَعِیْرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِھَا قَرَظًا فِیْ نَاحِیَۃِ الْغُرْفَۃِ وَاِذَا اَفِیْقٌ مُعَلَّقٌ، قَالَ: فَابْتَدَرَتْ عَیْنَایَ، قَالَ:مَا یُبْکِیْکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ وَمَالِیْ لاَاَبْکِیْ وَھٰذَا الْحَصِیْرُ قَدْ اَثَّرَ فِیْ جَنْبِکَ، وَھٰذِہٖ خِزَانَتُکَ لاَاَرٰی فِیْھَا اِلاَّ مَا اَرٰی، وَذَاکَ قَیْصَرُ وَکِسْرٰی فِی الثِّمَارِ وَالْاَنْھَارِ وَاَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَصَفْوَتُہٗ وَھٰذِہٖ خِزَانَتُکَ، فَقَالَ:یَاابْنُ الْخَطَّابِ اَلاَ تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ لَنَا الْاٰخِرَۃُ وَلَھُمُ الدُّنْیَا قُلُت: بَلٰی، قَالَ: وَدَخَلْتُ عَلَیْہِ حِیْنَ دَخَلْتُ وَاَنَا اَرٰی فِیْ وَجْھِہِ الْغَضَبَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ! مَایَشُقُّ عَلَیْکَ مِنْ شَاْنِ النِّسَآئِ، فَاِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَھُنَّ، فَاِنَّ اللّٰہَ مَعَکَ وَمَلاَئِکَتَہٗ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَاَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَالْمُوْمِنُوْنَ مَعَکَ وَقَلَّ مَاتَکَلَّمْتُ وَاَحْمَدُ اللّٰہَ بِکَلاَمٍ اِلاَّرَجَوْتُ اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ یُصَدِّقُ قَوْلِیْ الَّذِیْ اَقُوْلُ۔وَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ اٰیَۃُ التَّخْیِیْرِ عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٓٗ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ وَاِنْ تَظَاھَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَمَوْلاَہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلاَئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ، وَکَانَتْ عَائِشَۃُ بِنْتُ اَبِیْ بَکْرٍ وَحَفْصَۃُ تَظَاھَرَانِ عَلٰی سَائِرِ نِسَآئِ النَّبِیِّ ﷺ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَطَلَّقْتَھُنَّ؟ قَالَ:لاَ، قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُوْنَ یَنْکُتُوْنَ بِالْحَصَی یَقُوْلُوْنَ: طَلَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نِسَآئَ ہٗ أَفَاَنْزِلُ، فَاُخْبِرْھُمْ اَنَّکَ لَمْ تُطَلِّقْھُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، اِنْ شِئْتَ، فَلَمْ اَزَلْ اُحَدِّثُہٗ حَتّٰی تَحَسَّرَالْغَضَبُ عَنْ وَجْھِہِ حَتّٰی کَشَرَ فَضَحَکَ، وَکَانَ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا، ثُمَّ نَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فَنَزَلْتُ اتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَاَنَّمَا یَمْشِیْ عَلَی الْاَرْضِ مَایَمَسُّہٗ بِیَدِہٖ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا کُنْتَ فِی الْغُرْفَۃِ تِسْعَۃً وَّعِشْرِیْنَ قَالَ: اِنَّ الشَّھْرَ یَکُوْنُ تِسْعًا وَّعِشْرِیْنَ، فَقُمْتُ عَلٰی بَابِ الْمَسْجِدِ، فَنَادَیْتُ بِاَعْلٰی صَوْتِیْ، لَمْ یُطَلِّقْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نِسَآئَ ہٗ وَنَزَلَتْ ھٰذِہٖ الْاٰیَۃُ، وَاِذَا جَآئَ ھُمْ اَمْرٌ مِنَ الْاَمْنِ اَوِالْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ وَلَوْرَدُّوْہُ اِلٰی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُولِی الْاَمْرِمِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ فَکُنْتُ اَنَا اسْتَنْبَطتُّ ذَاکَ الْاَمْرَ وَاَنْزَلَ اللّٰہُ اٰیَۃَ التَّخْیِیْرِ۔(۱۲)
ترجمہ :عبداللہؓ بن عباس نے بیان کیاکہ عمرؓ بن خطاب نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺنے جب اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار فرمائی،میں مسجد میںداخل ہوا تو کیا دیکھتاہوں کہ لوگ جمع ہیں کنکریاں الٹ پلٹ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو پردہ کرنے کا حکم نہیں دیاگیاتھا۔ حضرت عمرؓ نے دل میں کہا کہ میں آج کا حال ضرور معلوم کروں گا، حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ میں پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا اے ابوبکر کی لختِ جگر تمہارا اب یہ حال ہوگیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺکوایذاء دینے لگی ہو۔ حضرت عائشہؓ نے کہا اے ابن خطاب مجھے تجھ سے اور تجھے مجھ سے کیا سروکار اپنی زنبیل کی خبر لو (اپنی بیٹی حفصہ کو سمجھاؤ، مجھے کیا نصیحت کرتے ہو)۔ اس کے بعد میں حفصہؓ کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اب تم اس نہج تک پہنچ گئی ہو کہ رسول اللہ ﷺکو ایذاء دینے لگی ہو۔ اللہ کی قسم تجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺتجھ سے محبت نہیں رکھتے اگر میں نہ ہوتا تو آپ تجھے کبھی کے طلاق
دے چکے ہوتے اس پر حفصہ خوب پھوٹ پھوٹ کررونے لگیں۔ میںنے اس سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکہاں ہیں؟ اس نے کہا وہ اپنے کھانے پینے کے کمرے کے جھروکے میں ہیں۔میں وہاں جا داخل ہوا کہ رباح خادم رسول اللہ ﷺ جھروکے کی چوکھٹ پر دونوں پاؤں کھجور کی کھدی ہوئی لکڑی پر لٹکائے بیٹھا تھا، یہ وہ تنا تھاجس کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ اوپر نیچے آتے جاتے تھے۔ میں نے آواز دی اے رباح میرے لیے رسول اللہ سے اپنے پاس آنے کی اجازت طلب کرو، رباح نے بالاخانہ کے کمرہ کی جانب نظر اٹھائی پھرمیری طرف دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔ میںنے پھر کہا اے رَباح میرے لیے اپنے ہاں آنے کی رسول اللہ ﷺسے اجازت طلب کرو، رباح نے پھر کمرے کی طرف نظر اٹھائی اور پھر میری طرف دیکھا مگر کہا کچھ بھی نہیں۔ پھر میں نے زور دار آواز سے کہا اے رباح میرے لیے اپنے پاس آنے کی رسول اللہ ﷺسے اجازت طلب کرو۔ میرا خیال ہے شاید رسول اللہ ﷺکو گمان ہوا ہوکہ میں حفصہ کے لیے آیاہوں۔ اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ ﷺمجھے حفصہ کی گردن ماردینے کا ارشاد فرمائیں تو میں لازماً اس کی گردن ماردوں، یہ بات میںنے بلند آواز سے کہی۔ پس اس نے اشارہ سے اوپر چڑھ آنے کو کہا۔ تو میں رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچ گیا۔تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر استراحت فرمارہے ہیں، میں بیٹھ گیا۔ آپ نے اپنا تہبند اوپر کرلیا اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا آپ کے جسم اطہر پر نہ تھا۔ اور چٹائی نے آپ کے پہلو میں نشان ڈال دیا تھا اور میں نے اپنی نظر رسول اللہ ﷺکے خزانہ کی طرف دوڑائی تو اس میں چند مٹھی برابر جوتھے اور کمرے کی ایک طرف درخت سلم کے پتے پڑے تھے اور ایک کچاچمڑا جس کی دباغت ابھی اچھی نہیں ہوئی تھی لٹکاہوا تھا۔ حضرت عمرؓ کابیان ہے کہ میری آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ آپ نے پوچھا اے ابنِ خطاب تجھے کس چیز نے رلایاہے؟ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے نبیؐ! میں کیوں نہ روتا جب کہ اس چٹائی نے آپ کے جسم اطہر کے پہلو میں نشانات ڈال دیئے ہیں اور یہ آپ کی ذخیرہ رکھنے کی جگہ (الماری) میرے سامنے ہے اس میں جو کچھ ملاحظہ کررہاہوں سوکررہاہوں، ادھر یہ قیصرو کسریٰ ہیں کہ پھلوں اور نہروں میں دادِ عیش دے رہے ہیں حالانکہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے برگزیدہ ہیں اور آپؐکی ذخیرہ رکھنے کی جگہ کا یہ حال ہے (خالی پڑی ہے) ۔ آپ ؐ نے فرمایا، اے ابنِ خطاب! کیا تمہیں یہ پسند نہیںکہ یہ چیزیں ہمیں آخرت میں ملیں اور ان کے لیے اس دنیائے فانی میں مل جائیں، میں نے عرض کیا ہاں کیوں نہیں۔ حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ جب میںآپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ تو اس وقت آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار نمایاں تھے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺآپ کو اپنی بیویوں کے بارے میں کیا دشواری ہے؟ اگر آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے تو اللہ تعالیٰ (کی مدد ونصرت) آپ کے ساتھ ہے اور اس کے فرشتے، جبریل اور میکائیل، میں اور ابوبکر اور تمام مومنین آپ کے ساتھ ہیں۔ اکثر ایسا ہوا کہ میں جوبات کہتااور اس میں اللہ تعالیٰ کی جو تعریف کرتاتو امیدرکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے میرے قول میں سچا ثابت فرمائے گا۔ بس پھر آیت تخییر ـــــــــ عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجاً خَیْراً مِّنْکُنَّ سے وَالْمَلٰٓئِکَۃُ۔۔۔ ــــــــ نازل ہوئی یعنی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اگر تم ان کو طلاق دے دو تو آپ کو ایسی بیویاں ان کے بدلہ میںعنایت فرمادے جو ان سے بہتر ہوں اور اگران دونوں نے آپ کے خلاف جتھہ بندی کی تواللہ تعالیٰ اس کا مولیٰ ہے جبریل اور صالح اہل ایمان ان کے ساتھ ہیں اس کے بعد ملائکہ بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ ‘‘عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ بنت عمر بن خطاب دونوں نے نبی ﷺ کی بیویوںکے خلاف جتھہ بندی کی تھی۔ تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ ؐ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ مسلمان کنکریاں الٹ پلٹ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ کیا اجازت ہے کہ میں نیچے اتر کر ان کوبتاؤں کہ آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی؟ فرمایا ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ میں نے آپ ؐ کے ساتھ گفتگو جاری رکھی یہاں تک کہ آپؐ کے چہرہ مبارک سے غصہ وناراضگی کے آثار کافور ہوگئے اور آپ ؐ کا چہرہ کھل گیا دندان مبارک کھولے اور ہنسے۔ آپ کے سامنے کے دونوں دانت سب سے زیادہ حسین وخوبصورت تھے۔ اس کے بعد نبی ﷺ نیچے تشریف لائے اور میں بھی کھجور کے تنے کو پکڑتے ہوئے نیچے اتر آیا اور رسول اللہ ﷺ نیچے اترے گویا کہ آپ زمین پر چل رہے ہیں اور اپنا ہاتھ کہیں بھی نہیں لگایا۔ تو میں نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ بالاخانہ میںایک کم تیس روز قیام پذیر رہے ہیں۔ فرمایا کہ مہینہ انتیس روزکا بھی ہوتاہے۔ بس پھر میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے پکار کر کہا کہ آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اور اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ، وَاِذَا جَآئَ ھُمْ اَمْرٌ ۔۔۔ ’’یعنی جب ان لوگوں کے پاس اطمینان بخش یا خوفناک خبر پہنچ جاتی ہے تو اسے لے کر پھیلادیتے ہیں حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار آدمیوں تک پہنچادیتے تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں پس میں نے اس معاملہ کا نتیجہ نکال لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل فرمادی۔‘‘
۱۰۰۔حافظ بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری میں حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے کہ ازواج مطہرات کی دو پارٹیاں بن گئی تھیں۔ ایک میں خود حضرت عائشہؓ حضرت حفصہؓ، حضرت سودہؓ اور حضرت صفیہؓ تھیں، اور دوسری میں حضرت زینبؓ، حضرت ام سلمہ ؓ اور باقی ازواج شامل تھیں۔
تشریح :ان تمام روایات سے کچھ اندازہ ہوسکتاہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کی خانگی زندگی میں کیا حالات پیدا ہوگئے تھے جن کی بنا پر یہ ضروری ہوا کہ اللہ تعالیٰ مداخلت کرکے ازواج مطہرات کے طرزِ عمل کی اصلاح فرمائے۔ یہ ازواج اگرچہ معاشرے کی بہترین خواتین تھیں، مگر بہر حال تھیں انسان ہی اور بشریت کے تقاضوں سے مبرا نہ تھیں، کبھی ان کے لیے مسلسل عسرت کی زندگی بسر کرنا دشوار ہوجاتاتھا اور وہ بے صبر ہوکر حضورؐ سے نفقہ کا مطالبہ کرنے لگتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب کی آیات ۲۸،۲۹ نازل فرماکر ان کو تلقین کی کہ اگر تمہیں دنیا کی خوشحالی مطلوب ہے تو ہمارا رسول تم کو بخیر وخوبی رخصت کردے گا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو تو پھر صبرو شکر کے ساتھ ان تکلیفوں کو برداشت کرو جو رسول کی رفاقت میں پیش آئیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ج۴ الاحزاب حاشیہ ۴۱ اور دیباچہ سورہ احزاب ص:۶۵۔
پھر کبھی انسانی فطرت کی بنا پر ان سے ایسی باتوں کا ظہور ہو جاتاتھا جو عام انسانی زندگی میں معمول کے خلاف نہ تھیں۔ مگر جس گھر میں ہونے کا شرف اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا تھا اس کی شان اور اس کی عظیم ذمہ داریوں سے وہ مطابقت نہ رکھتی تھیں۔ ان باتوں سے جب یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی خانگی زندگی کہیں تلخ نہ ہوجائے اور اس کا اثر اس کار عظیم پر مترتب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ حضورؐ سے لے رہاتھا،تو قرآن مجید میں یہ آیات نازل کرکے ان کی اصلاح فرمائی گئی تاکہ ازواج مطہرات کے اندر اپنے اس مقام اور مرتبے کی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو جو اللہ کے آخری رسولؐ کی رفیق حیات ہونے کی حیثیت سے ان کو نصیب ہوا تھا، اور وہ اپنے آپ کو عام عورتوں کی طرح اور اپنے گھر کو عام گھروں کی طرح نہ سمجھ بیٹھیں۔ آیت کا پہلا ہی فقرہ ایسا تھا کہ ان کو سن کر ازواج مطہرات کے دل لرز اٹھے ہوں گے۔ اس ارشاد سے بڑھ کر ان کے لیے تنبیہ اور کیا ہوسکتی تھی کہ ’’اگر نبی تم کو طلاق دے دے تو بعیدنہیں کہ اللہ اس کو تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں عطا کردے‘۔‘ اول تو نبی ﷺ سے طلاق مل جانے کا تصور ہی ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اس پر یہ بات مزید کہ تم سے امہات المومنین ہونے کا شرف چھن جائے گااور دوسری عورتیں جو اللہ تعالیٰ نبیﷺ کی زوجیت میں لائے گا وہ تم سے بہتر ہوں گی اس کے بعد یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ازواج مطہرات سے پھر کبھی کسی ایسی بات کا صدورہوتاجس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت کی نوبت آتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بس دوہی مقامات ہم کو ایسے ملتے ہیں جہاں ان برگزیدہ خواتین کو تنبیہ فرمائی گئی ہے، ایک سورۂ احزاب اور دوسرے سورۂ تحریم ۔ (تفہیم القرآن ج۶، التحریم، حواشی: ۸۔۱۰)
ماخذ
(۱) بخاری ج۲۔کتاب الایمان والنذور، باب من حلف الا یدخل علی اھلہ شھرا وکان الشھر تسعا وعشرین۔ کتاب الطلاق، باب قولہ تعالیٰ للذین یؤلون الخ٭ مسند احمد ج۱۔ ص۲۱۸۔ عبداللہؓ بن عباس۔ج۶۔ص۳۳۔عائشۃؓ۔
(۲) مسند احمد، ج۱،ص۲۰۸۔
(۳) نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب الایلاء۔
(۴) مسند احمد ج۶۔ص۳۳۔عن عائشۃؓ۔٭ابن ماجہ کتاب الطلاق باب الایلاء۔
(۵) ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب الایلاء۔
(۶) ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب الایلاء۔
(۷) مسند احمد ج۳۔ص۳۲۹۔ جابربنؓ عبداللہ۔ جابر بن عبداللہ کی ایک روایت میں کان رسول اللہ ﷺ اعتزل نساء ہ کے الفاظ بھی مروی ہیں۔
(۸) نسائی ج۶۔کتاب الطلاق باب الایلاء۔
(۹) بخاری کتاب التفسیر ج۲۔باب تبتغی بذٰلک مرضات ازواجک۔٭بخاری کتاب النکاح، باب موعظۃ الرجل ابنتہ، لحال زوجھا۔٭مسلم ج۱۔کتاب الطلاق باب بیان ان تخییرہ امرأتہ لایکون طلاقا الا بالنیۃ۔
(۱۰) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب موعظۃ الرجل ابنتہٗ لحال زوجھا۔٭مسلم ج۱۔کتاب الطلاق باب بیان ان تخییرہ امرأتہ لایکون طلاقا الابالنیۃ۔٭مسنداحمد ج۱۔ص۳۴۔عمر بن الخطاب۔٭ترمذی ج۲۔ ابواب التفسیر سورۃ التحریم۔ ھذا حدیث حسن صحیح غریب۔ ٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح باب ماوجب علیہ من تخییر النساء۔
(۱۱) بخاری کتاب التفسیر ج۲ باب قولہ عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہٗ ازواجا خیرًا منکن۔ مسلمات مومنات، قانتات تائبات عابدات سائحات ثیّبات وابکارا۔٭بخاری ج۱۔کتاب الصلوٰۃ باب التوجہ نحوالقبلۃ حیث کان۔
(۱۲) مسلم ج۱۔کتاب الطلاق باب بیان ان تخییرہٗ امراتَہٗ لایکون طلاقا الابالنیۃ۔
فصل:۱۴ ظِہَار قرآن میں اس کا ذکر
قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَکِٓیْ اِلَی اللّٰہِ، وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِھِمْ مَّاھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ، اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلاَّ الّٰیئِ وَلَدْنَھُمْ۔ وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْل وَزُوْرًا۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا۔ ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا۔ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ۔وَتِلْکَ حُدُوْدُاللّٰہِ وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (المجادلۃ:۱-۴)
’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہاہے، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لو گ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جولوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے، اور جوکچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبرہے۔اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دومہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادرنہ ہو وہ ۶۰؍ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ حکم اس لیے دیاجارہاہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے۔
ظہار کا لغوی معنی اور اصل مفہوم
عرب میں بسا اوقات یہ صورت پیش آتی تھی کہ شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو شوہر غصے میں آکر کہتا اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ۔
اس کے لغوی معنی تو یہ ہیں کہ ’’تو میرے اوپر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ ‘‘ لیکن اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ’’تجھ سے مباشرت کرنا میرے لیے ایسا ہے جیسے میں اپنی ماں سے مباشرت کروں۔‘‘ اس زمانے میں بھی بہت سے نادان لوگ بیوی سے لڑکر اس کو ماں ، بہن، بیٹی سے تشبیہہ دے بیٹھتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتاہے کہ آدمی گویا اب اسے بیوی نہیں بلکہ ان عورتوں کی طرح سمجھتاہے، جو اس کے لیے حرام ہیں، اسی فعل کا نام ظہار ہے۔
ظہر عربی زبان میںاستعارے کے طورپر سواری کے لیے بولاجاتاہے۔ مثلاًسواری کے جانور کوظہر کہتے ہیں۔ کیوں کہ اس کی پیٹھ پر آدمی سوار ہوتاہے۔ چوں کہ وہ لوگ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لیے کہتے تھے کہ تجھے ظہر بنانا میرے اوپر ایسا حرام ہے جیسے اپنی ماں کو ظہر بنانا، اس لیے یہ کلمات زبان سے نکالنا ان کی اصطلاح میں ’’ظہار‘‘ کہلاتاتھا۔ جاہلیت کے زمانہ میںاہل عرب کے ہاں یہ طلاق، بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید قطع تعلق کا اعلان سمجھا جاتاتھا، کیوں کہ ان کے نزدیک اس کے معنی یہ تھے کہ شوہراپنی بیوی سے نہ صرف ازدواجی رشتہ توڑرہاہے بلکہ اسے ماں کی طرح اپنے اوپر حرام قراردے رہاہے۔ اسی بنا پر اہلِ عرب کے نزدیک طلاق کے بعد تو رجوع کی گنجائش ہوسکتی تھی مگر ظہار کے بعد رجوع کا کوئی امکان باقی نہ رہتاتھا۔
ایک شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے تشبیہ دے دیتاہے تو اس کے ایسا کہنے سے بیوی ماں نہیں ہوسکتی، نہ اس کو وہ حرمت حاصل ہوسکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے۔ ماں کا ماں ہونا تو ایک حقیقی امر واقعہ ہے، کیوں کہ اس نے آدمی کوجناہے۔ اسی بنا پر اسے ابدی حرمت حاصل ہے۔ اب آخر وہ عورت جس نے اس کو نہیں جنا ہے، محض منہ سے کہہ دینے پر اس کی ماں کیسے ہوجائے گی، اور اس کے بارے میں عقل، اخلاق، قانون کسی چیز کے اعتبار سے بھی وہ حرمت کیسے ثابت ہوگی جو اس امرواقعی کی بنا پر جننے والی ماں کے لیے ہے۔ اس طرح ’’اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلاَّ الّٰئِـٓیْ وَلَدْنَھُم‘ کا ارشاد فرماکر اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس قانون کو منسوخ کردیا جس کی رو سے ظہار کرنے والے شوہر سے اس کی بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتاتھا اور وہ اس کے لیے ماں کی طرح قطعی حرام سمجھ لی جاتی تھی۔
بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا اوّل تو ایک نہایت ہی بے ہودہ اور شرمناک با ت ہے جس کا تصور بھی کسی شریف آدمی کو نہ کرنا چاہیے، کجا کہ وہ اسے زبان سے نکالے۔ دوسرے یہ جھوٹ بھی ہے، کیوں کہ ایسی بات کہنے والا اگر یہ خبر دے رہاہے کہ اس کی بیوی اس کے لیے اب ماں ہوگئی ہے تو جھوٹی خبردے رہاہے۔ اور اگر وہ اپنا یہ فیصلہ سنارہاہے کہ آج سے اس نے اپنی بیوی کو ماں کی سی حُرمت بخش دی ہے تو بھی اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے، کیوں کہ خدا نے اسے یہ اختیارات نہیں دیے ہیں کہ جب تک چاہے ایک عورت کو بیوی کے حکم میں رکھے اور جب چاہے اسے ماں کے حکم میں کردے۔ شارع وہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جننے والی ماں کے ساتھ مادری کے حکم میں دادی، نانی، ساس، دودھ پلانے والی عورت اور ازواج نبیؐ کو شامل کیاہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس حکم میں اپنی طرف سے کسی اور عورت کو داخل کردے، کجا کہ اس عورت کو جو اس کی بیوی رہ چکی ہے۔ اس ارشاد سے یہ دوسرا قانونی حکم نکلا کہ ظِہار کرنا ایک بڑا گناہ اور حرام فعل ہے جس کا مرتکب سزاکا مستحق ہے۔
یہ حرکت توایسی ہے کہ اس پر آدمی کو بہت ہی سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے اول تو ظہار کے معاملہ میں جاہلیت کے قانون کو منسوخ کرکے تمہاری خانگی زندگی کو تباہی سے بچالیا، دوسرے اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے وہ سزا تجویز کی جو اس جرم کی ہلکی سے ہلکی سزا ہوسکتی ہے، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ سزا کسی ضرب یا قید کی شکل میں نہیں بلکہ چند ایسی عبادات اور نیکیوں کی شکل میں تجویز کی جو تمہارے نفس کی اصلاح کرنے والی اور تمہارے معاشرے میں بھلائی پھیلانے والی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام میں بعض جرائم اور گناہوں پر جو عبادات بطور کفارہ مقرر کی گئی ہیں وہ نہ محض سزا ہیں کہ عبادت کی روح سے خالی ہوں اور نہ محض عبادت ہیں کہ سزاکی اذیت کا کوئی پہلو ان میں نہ ہو۔ بلکہ ان میں یہ دونوں پہلو جمع کردیے گئے ہیں، تاکہ آدمی کو اذیت بھی ہو اور ساتھ ساتھ وہ ایک نیکی اور عبادت کرکے اپنے گناہ کی تلافی بھی کردے۔ (تفہیم القرآن ج۵، المجادلہ، حواشی :۳تا۶)
ظہار کے چند واقعات
حضرت اوس بنؓ صامت اور حضرت خولہؓ کا واقعہ
۱۰۱۔حضرت عبداللہ بن عباس کے بیان کے مطابق اسلام میں ظہار کا پہلا واقعہ اوس بن صامت انصاری کا ہے جن کی بیوی خولہ کی فریاد پر اللہ تعالیٰ نے (سورہ المجادلہ کی ابتدائی آیات) نازل فرمائیں۔ محدثین نے اس واقعہ کی جو تفصیلات متعدد راویوں سے نقل کی ہیں ان میں فروعی اختلافات تو بہت سے ہیں، مگر قانونی اہمیت رکھنے والے ضروری اجزاء قریب قریب متفق علیہ ہیں۔ خلاصہ ان روایت کا یہ ہے، حضرت اوس بن صامت بڑھاپے میں کچھ چڑچڑے بھی ہوگئے تھے اور بعض روایات کی رو سے ان کے اندر کچھ جنون کی سی لٹک بھی پیدا ہوگئی تھی جس کے لیے راویوں نے کَانَ بِہٖ لَمَمٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں لَمَمَ عربی زبان میں دیوانگی کو نہیں کہتے بلکہ اس طرح کی کیفیت کو کہتے ہیں جسے ہم اردو زبان میں ’’غصے سے پاگل ہوجانے‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس حالت میں وہ پہلے بھی متعدد مرتبہ اپنی بیوی سے ظہار کرچکے تھے، مگر اسلام میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ بیوی سے لڑکر ان سے اس حرکت کا صدور ہوگیا اس پر ان کی اہلیہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا قصہ آپ سے بیان کرکے عرض کیا کہ ’’یارسول اللہ، کیا میری اور میرے بچوں کی زندگی کو تباہی سے بچانے کے لیے رخصت کا کوئی پہلو نکل سکتاہے۔‘‘ حضورؐ نے جو جواب دیا وہ مختلف راویوں نے مختلف الفاظ میں نقل کیاہے۔ بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں کہ ’’ابھی تک اس مسئلے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیاہے۔‘‘اور بعض میں یہ الفاظ ہیں کہ ’’میرا خیال یہ ہے کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔‘‘ اور بعض میں یہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا’’تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔‘‘ اس جواب کو سن کر وہ نالہ وفریاد کرنے لگیں۔ بار بار انہوں نے حضورؐ سے عرض کیا کہ انہوں نے طلاق کے الفاظ تو نہیں کہے ہیں، آپ کوئی صورت ایسی بتائیں جس سے میں اور میرے بچے اور میرے بوڑھے شوہر کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے۔ مگر ہرمرتبہ حضورؐ ان کو وہی جواب دیتے رہے۔ اتنے میں آپ پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اس کے بعد آپ ؐنے ان سے کہا (اور بعض روایات کی رو سے ان کے شوہر کو بلاکر ان سے فرمایا) کہ ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس سے معذوری ظاہر کی تو فرمایا دومہینے کے لگاتار روزے رکھنے ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ اوس کا حال تو یہ ہے کہ دن میں تین مرتبہ کھائیں پئیں نہیں تو ان کی بینائی جواب دینے لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا پھر ۶۰ ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینا پڑے گا، انہوں نے عرض کیا وہ اتنی مقدرت نہیں رکھتے،الاّ یہ کہ آپ مدد فرمائیں تب آپ نے انہیں اتنی مقدار میں سامان خوراک عطا فرمایا جو ساٹھ آدمیوں کی دووقت کی غذا کے لیے کافی ہو، اس کی مقدار مختلف روایات میں مختلف بیان کی گئی ہے، اور بعض روایات میں یہ ہے کہ جتنی مقدار حضورؐنے عطا فرمائی اتنی ہی خود حضرت خولہ نے اپنے شوہر کو دی تاکہ وہ کفارہ ادا کرسکیں۔ (تفہیم القرآن ج۵، المجادلہ، حاشیہ:۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ابْنُ عَلِیٍّ، ثَنَا یَحْیٰ بْنُ آدَمَ، ثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ، عَنْ یُوْسُفَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ خُوَیْلَۃَ بِنْتِ مَالِکِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ، قَالَتْ : ظَاھَرَ مِنِّیْ زَوْجِیْ اَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ، فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَشْکُوْاِلَیْہِ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُجَادِلُنِیْ فِیْہِ، وَیَقُوْلُ: اِتَّقِی اللّٰہَ، فَاِنَّہٗ ابْنُ عَمِّکِ۔ فَمَا بَرِحْتُ حَتّٰی نَزَلَ الْقُرْاٰنُ: قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا اِلَی الْفَرَضِ
الی الفرض: أی الی مافرض اللہ فی ہذہ الآیات من کفارۃ الظہار۔
، فَقَالَ: ’’یُعْتِقُ رَقَبَۃً‘‘ قَالَتْ: لاَیَجِدُ، قَالَ: فَیَصُوْمُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ، قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہٗ شَیْخٌ کَبِیْرٌ مَا بِہٖ مِنْ صِیَامٍ، قَالَ : فَلْیُطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔ قَالَتْ مَا عِنْدَہٗ مِنْ شَـْیئٍ یَتَصَدَّقُ بِہٖ، قَالَتْ: فَاُتِیَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنِّیْ اُعِیْنُہٗ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: قَدْ اَحْسَنْتِ، اِذْھَبِیْ، فَاطْعِمِیْ بِھَا عَنْہُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا، وَارْجِعِیْ اِلَی ابْنِ عَمِّکِ، قَالَ:وَالْعَرَقُ سِتُّوْنَ صَاعًا، قَالَ اَبُوْدَاؤدَ فِیْ ھٰذَا: اِنَّھَا کَفَّرَتْ عَنْہٗ مِنْ غَیْرِ اَنْ تَسْتَأْمَرَہٗ۔(۱)
ـــــــ وَقَالَ اَبُوْدَاؤدَ: وَھٰذَا اَخُوْعُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ۔
ترجمہ : حضرت خویلہؓ بنت مالک بن ثعلبہ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ ان کے خاوند اوسؓ بن صامت نے مجھ سے ظہار کیا تو میںاس کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔رسول اللہ ﷺان کے بارے میں مجھ سے مجادلہ کرنے لگے اور فرماتے تھے کہ اللہ سے ڈر وہ تمہارا چچازاد بھائی ہے۔ میں اپنی بات پر مصررہی کہ قرآن مجید کا نزول شروع ہوگیا۔ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ ۔۔۔۔’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہرکے معاملے میں تم سے تکرار کررہی ہے۔۔۔‘‘ آپ نے فرمایا وہ غلام آزاد کرے۔ خویلہؓ نے عرض کیا، وہ اس کی استطاعت اپنے آپ میںنہیں پاتا۔ پھر آپ نے فرمایا تو پھر پے درپے دوماہ کے روزے رکھے وہ بولیں،وہ تو کمزور بوڑھا ہے، اسے روزوں کی طاقت کہاں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، خویلہ نے عرض کیا اس کے پاس تو خیرات وصدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اس کا بیان ہے کہ اسی وقت کھجوروں کا ایک ٹوکرا آپؐ کی خدمت میںلایا گیا۔ اسے دیکھ کر میں نے عرض کیا ،یا رسول اللہ ﷺ!ایک ٹوکرا میں بھی اپنی طرف سے پیش کردوں گی۔ آپؐ نے فرمایا، تونے بہت اچھا کیا، جاؤ ساٹھ مسکینوں کواس میں سے کھلادو اور اپنے چچازاد بھائی کی طرف لوٹ جاؤ۔راوی کا بیان ہے عَرَق ایسا ٹوکراتھا جس میں ساٹھ صاع کی گنجایش تھی۔ ابوداؤد نے اسی روایت کے ضمن میں کہاہے کہ اس عورت نے اپنے خاوند کی طرف سے کفارہ ادا کردیا خاوند سے مشورہ لیے بغیر۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا سَعْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَیَعْقُوْبُ قَالاَ:ثَنَا اَبِیْ، قَالَ:ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ عَنْ یُوسُفَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ سَلاَمٍ، عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَعْلَبَۃَ، قَالَتْ:وَاللّٰہِ فِیَّ وَفِیْ اَوْسِ بْنِ صَامِتٍ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ صَدْرَ سُوْرَۃِ الْمُجَادِلَۃِ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَہٗ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ سَائَ خُلْقُہٗ وَضَجِرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیَّ یَوْمًا، فَرَاجَعْتُہٗ بِشَـْیئٍ فَغَضِبَ، فَقَالَ:اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ، فَجَلَسَ فِیْ نَادِیْ قَوْمِہٖ سَاعَۃً، ثُمَّ دَخَلَ عَلَیَّ فَاِذَا ھُوَ یُرِیْدُنِیْ عَلٰی نَفْسِیْ، قَالَتْ، فَقُلْتُ:کَلاَّ وَالَّذِیْ نَفْسُ خُوَیْلَۃَ بِیَدِہٖ، لاَتَخْلُصْ اِلَیَّ وَقَدْ قُلْتَ مَاقُلْتَ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ فِیْنَا یَحْکُمُہٗ، قَالَتْ فَوَاثَبَنِیْ، وَامْتَنَعْتُ مِنْہُ فَغَلَبْتُہُ بِمَا تَغْلِبُ بِہٖ الْمَرْأَۃُ الشَّیْخَ الضَّعِیْفَ، فَاَلْقَیْتُہٗ عَنِّیْ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ اِلٰی بَعْضِ جَارَاتِیْ، فَاسْتَعَرْتُ مِنْھَا ثِیَابَھَا، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتّٰی جِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَجَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَذَکَرْتُ لَہٗ مَا لَقِیْتُ مِنْہُ، فَجَعَلْتُ اَشْکُوْ اِلَیْہِ ﷺ مَااَلْقٰی مِنْ سُوْئِ خُلْقِہِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:یَاخُوَیْلَۃُ! ابْنُ عَمِّکِ شَیْخٌ کَبِیْرٌ، فَاتَّقِی اللّٰہَ فِیْہِ قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ مَابَرِحْتُ حَتّٰی نَزَلَ فِیَّ الْقُرْاٰنُ، فَتَغَشّٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَاکَانَ یَتَغَشَّاہُ ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ، فَقَالَ لِیْ: یَاخُوَیْلَۃُ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْکِ وَفِیْ صَاحِبِکِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَیَّ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ اِلٰی قَوْلِہٖ وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُرِیْہِ فَلْیُعْتِقْ رَقَبَۃً، قَالَتْ: فَقُلْتُ:وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاعِنْدَہٗ مَایُعْتِقُ، قَالَ: فَلْیَصُمْ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ، وَاللّٰہِ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّہٗ شَیْخٌ کَبِیْرٌ مَابِہٖ مِنْ صِیَامٍ، قَالَ: فَلْیُطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ:قُلْتُ، وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَاذَاکَ عِنْدَہٗ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فَاِنَّا سَنُعِیْنُہٗ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ، وَاَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ سَاُعِیْنُہٗ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ : قَدْ اَصَبْتِ وَاحْسَنْتِ، فَاذْھَبِیْ، فَتَصَدَّقِیْ عَنْہُ، ثُمَّ اسْتَوْصِیْ بِابْنِ عَمِّکِ خَیْراً قَالَتْ: فَفَعَلْتُ۔(۲)
ترجمہ : حضرت خولہ بنت ثعلبہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا، اللہ کی قسم سورہ مجادلہ کا ابتدائی حصہ میرے اور اوس بن صامت کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ وہ بیان کرتی ہے کہ میں اس کے پاس تھی۔ اوس کافی بوڑھاہوچکاتھا۔ عادات واخلاق میں بگاڑ پیدا ہوگیاتھااور تنگ دلی بھی پیدا ہوگئی۔ اس نے بیان کیا کہ ایک روز وہ میرے پاس آئے۔ کسی معاملہ میں میں نے ان سے دوبدوباتیں کیں تو وہ ناراض ہوگئے اور زبان سے کہہ دیا کہ اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ۔ ’’ تو میرے اوپر ایسی جیسی میری ماں کی پیٹھ‘‘ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئے کچھ دیر اپنی قوم کے لوگوں کی مجلس میں گزار کر دوبارہ گھر آئے اور میرے پاس اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی غرض سے داخل ہوئے۔ میں نے کہا ہرگز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں خویلہ کی جان ہے تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے جب کہ تم یہ اور یہ کہہ چکے ہو، تاوقتیکہ اللہ اور اس کا رسول ہمارے بارے میں فیصلہ نہ کردیں۔ خویلہؓ کہتی ہے کہ وہ اچھل کودکر میرے پاس آیا تو میں نے اس سے اپنے آپ کو روکنے کی کوشش کی اور میں اس پر غالب آگئی جس طرح ایک عورت بوڑھے کمزور آدمی پر آجاتی ہے۔ میں نے اسے اپنے سے دور پھینک دیا۔ پھر میں اپنی ایک ہمسائی کے پاس گئی اور اس کے کپڑے عاریۃً مانگ کر پہنے اور باہر نکل کھڑی ہوئی اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں جاپہنچی اور آپ کے سامنے بیٹھ گئی۔ پھر میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا جس سے میں دوچار ہوئی تھی۔اوس کی بدخلقی سے جو مجھے تکلیف پہنچی اس کی شکایت آپؐ سے کرنے لگی۔ خولہ کا اپنا بیان ہے کہ آپؐ میری بپتا سنتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے اے خویلہ! تیرا چچا زاد بھائی عمر درازہے اللہ سے ڈر مگر میں نے بخدا اپنی بات جاری رکھی کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوگیا ۔آپ پر وہی کیفیت طاری ہوگئی جو عموماً نزول وحی کے موقع پر ہوا کرتی تھی جب یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ نے میرا نام لے کر فرمایا اے خویلہ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیرے شوہر کے بارے میں حکم نازل فرمادیاہے۔ آپؐ نے سورہ مجادلہ کا ابتدائی حصہ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ سے لے کر وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ تک پڑھا’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہاہے، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔۔۔اور کافروں کے لیے درد ناک سزا ہے۔‘‘آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اوس سے کہوں کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں کہ وہ آزاد کرسکے۔ آپ نے فرمایا اسے روزے رکھنے چاہئیں مسلسل دوماہ کے۔ میں نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ وہ تو بوڑھا ضعیف ہے وہ روزے نہیں رکھ سکتا (وہ تو دن بھر میں تین مرتبہ کچھ کھائے پیئے نہیں تو اس کی بینائی جواب دینے لگتی ہے) تو آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو اس طرح کھانا کھلائے کہ ایک مسکین کوایک صاع کھجور ملے۔ اس پر بھی میں نے عرض کیا، اس کے پاس تو یہ بھی نہیں ہے، تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اچھا ہم ایک ٹوکرا کھجور سے اس کی مدد کریں گے۔ تو میں نے عرض کیا حضور میں بھی ایک ٹوکرا کھجوروں کا مدد میں دوں گی۔ آپؐ نے فرمایا تونے پالیا اور بہت اچھا پایا۔ جااس کی طرف سے خیرات کردے پھر اپنے چچازاد بھائی کے بارے میں بھلائی اور خیرخواہی کی وصیت قبول کر۔ خولہ کا بیان ہے کہ پھر میں نے ایسا ہی کیا۔
(۳) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْھََرَوِیُّ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ ابْنُ عَاصِمٍ، عَنْ دَاؤدَ بْنِ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ، قَالَ:کَانَتْ خَوْلَۃُ بِنْتُ دُلَیْجٍ تَحْتَ رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ وَکَانَ ضَرِیْرُ الْبَصَرِ فَقِیْرًا سَیِّئَی الْخُلْقِ، وَکَانَ طَلاَقُ اَھْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ، اِذَا اَرَادَ الرَّجُلُ اَنْ یُّطَلِّقَ امْرَأَتَہٗ، قَالَ:اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ، وَکَانَ لَھَا مِنْہُ عَیْلٌ اَوْعَیْلاَنِ۔ فَنَازَعَتْہُ یَوْمًا فِیْ شَیْئٍ، فَقَالَ: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ۔ فَاحْتَمَلَتْ عَلَیْھَا ثِیَابَھَا حَتّٰی دَخَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ وَھُوَ فِیْ بَیْتِ عَائِشَۃَ، وَعَائِشَۃُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأسِہِ فَقَدَمَتْ عَلَیْہِ وَمَعَھَا عَیْلُھَا، فَقَالَتْ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ زَوْجِیْ ضَرِیْرُ الْبَصَرِ فَقِیْرٌ لاَشَـْیئَ لَہٗ سَیِّیئُ الْخُلْقِ، وَاِنِّیْ نَازَعْتُہٗ فِیْ شَیْئٍ، فَغَضِبَ، فَقَالَ:اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِاُمِّیْ، وَلَمْ یُرِدْبِہِ الطَّلاَقَ، وَلِیْ مِنْہُ عَیْلٌ اَوْعَیْلاَنِ، فَقَالَ: مَا اَعْلَمُکِ اِلاَّ قَدْ حَرُمْتِ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ:اَشْکُوْ اِلَی اللّٰہِ مَانَزَلَ بِیْ وَاَبَا صَبِیَّتِیْ، قَالَتْ: وَدَارَتْ عَائِشَۃُ فَغَسَلَتْ شِقَّ رَأسِہِ الاٰخَرَ، فَدَارَتْ مَعَھَا، فَقَالَتْ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، زَوْجِیْ ضَرِیْرُ الْبَصَرَ فَقِیْرٌ۔ سَیِّیئُ الْخُلْقِ، وَاِنَّ لِیْ مِنْہُ عَیْلاً اَوْ عَیْلَیْنِ، وَاِنِّیْ نَازَعْتُہٗ فِیْ شَیْئٍ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ، وَلَمْ یُرِدْ بِہِ الطَّلاَقَ، قَالَتْ فَرَفَعَ اِلَیَّ رَأسَہٗ وَقَالَ: مَا اَعْلَمُکَ اِلاَّ قَدْحَرُمْتِ عَلَیْہِ فَقَالَتْ: اَشْکُوْ اِلَی اللّٰہِ مَانَزَلَ بِیْ وَاَبَا صَبِیَّتِیْ، قَالَ:رَأَتْ عَائِشَۃُ وَجْہَ النَّبِیِّ ﷺ تَغَیَّرَ، فَقَالَتْ لَھَا : وَرَائَ کِ فَتَنَحَّتْ، فَمَکَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غِشْیَانِہٖ ذٰلِکَ مَاشَآئَ اللّٰہُ فَلَمَّا انْقَطَعَ الْوَحْیُ، قَالَ:یَا عَائِشَۃُ اَیْنَ الْمَرْأَۃُ، فَدَعَتْھَا، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اِذْھَبِیْ، فَأْتِیْنِیْ بِزَوْجِکِ، فَانْطَلَقَتْ تَسْعیٰ، فَجَائَ تْ بِہٖ، فَاِذَا ھُوَکَمَا قَالَتْ ضَرِیْرُ الْبَصَرِ فَقِیْرٌ سَیِّیئُ الْخُلْقِ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اسْتَعِیْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلَیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قَدْسَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا اِلٰی قَوْلِہٖ وَالَّذِیْنَ یُظَاھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ أتَجِدُ رَقَبَۃً تُعْتِقُھَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسَّھَا؟ قَالَ:لاَ، قَالَ:اَفَلاَ تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَصُوْمَ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟ قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِنِّیْ، اِذَا لَمْ اٰکُلِ الْمَرَّتَیْنِ وَالثَّلاَثِ یَکَادُ اَنْ یَّعْشُوْ بَصَرِیْ، قَالَ:اَفَتَسْتَطِیْعُ اَنْ تُطْعِمَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا؟ قَالَ:لاَاِلاَّ اَنْ تُعِیْنَنِیْ قَالَ: فَاَعَانَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اَطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا، قَالَ وَحَوَّلَ اللّٰہُ الطَّلاَقَ فَجَعَلَہٗ ظِھَارًا۔(۳)
ترجمہ : ابوالعالیہ روایت کرتے ہیں کہ خولہ بنت دلیج ایک انصاری کی زوجیت میں تھی وہ انصاری نابینا، ایک فقیر اور سیئی الخلق آدمی تھاـــــ ایام جاہلیت میں طلاق اسے تصور کیا جاتاکہ جب مرد اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تو اسے کہتا کہ اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ۔ ’’تو میرے اوپر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔‘‘ـــــان سے اس کے ایک یادو بچے بھی تھے کسی معاملہ میں ان سے اس کی تکرار ہوگئی تو اس نے کہا کہ اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ۔ یہ سنتے ہی اس عورت نے اپنے کپڑے پہنے اور نبی ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوئی آپؐ اس وقت حضرت عائشہ کے حجرے میں تشریف فرماتھے اور حضرت عائشہ آپؐ کے سرکے ایک طرف کے بال دھورہی تھیں کہ وہ عورت وہیں اپنے بچے کولیے ہوئے آپ کی خدمت میں پہنچ گئی اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ میرا خاوند نابینا ہے تہی دست ہے اخلاق میں کچھ بگاڑ ہے۔ میری ان کے ساتھ کسی معاملہ میں تکرار ہوگئی، جس سے وہ ناراض اور غصہ ہوگئے اوراسی حالت میں اس نے مجھیاَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ کہہ دیا مگر طلاق دینے کا اس کا ارادہ نہیں تھا۔ میرے ہاں اس سے بچہ یا بچے بھی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میرا خیال ہے تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔ اس پر وہ بولی، جو مصیبت مجھ پر اور میرے بچوں کے باپ پر آپڑی ہے اس کی فریاد میں اللہ سے کرتی ہوں۔ خولہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ نے گھوم کر حضورؐ کے سرکی دوسری جانب کودھونا شروع کیا تو عورت بھی ان کے ساتھ ہی گھوم گئی اور سامنے آکر عرض کیا ،یارسول اللہ میرا شوہر بینائی سے محروم ہے تہی دامن ہے اخلاق وعادات میں بھی کچھ بگاڑ پیدا ہوگیاہے، اور اس سے میرے ہاں بچہ یا بچے ہیں۔ میری ان سے کسی امر میں تکرار ہو گئی اور اس نے غصہ کی حالت میں مجھے کہہ دیا اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ۔ اس سے ان کا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔ یہ سن کر آپؐ نے میری طرف اپنا سراٹھایا اور فرمایا میں تیرے بارے میں کچھ نہیں جانتا بجز اس کے کہ تو اس پر حرام ہوگئی ہے۔ وہ عورت بولی جو مصیبت مجھ پر اور میرے بچوں کے باپ پر آن پڑی ہے اس کی فریاد اللہ تعالیٰ سے کرتی ہوں۔ اسی دوران میں حضرت عائشہؓ نے آپؐ کا روئے مبارک دیکھا کہ متغیرہورہاہے تو اس عورت سے کہا دور رہو دور، چنانچہ وہ ایک طرف ہوگئی۔ جب تک اللہ نے چاہا آپؐ پرغشیان کی حالت طاری رہی جب وحی کا سلسلہ منقطع ہوا توآپؐ نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا کہ عائشہ وہ عورت کدھر ہے؟ حضرت عائشہؓ نے اسے آواز دے کر بلایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ جاؤ اپنے شوہر کو لے آؤ۔ وہ بھاگی بھاگی گئی اور خاوند کو ساتھ لے کر حاضر ہوگئی تو اس مرد کی واقعتا وہی کیفیت تھی جو اس عورت نے بیان کی تھی یعنی بینائی سے محروم، تہی دست فقیر اور سیئی الخلق۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے تعوذ پڑھا پھر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِکے بعد قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ۔۔۔ ’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے ۔۔۔جولوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی۔۔۔۔‘‘پڑھااور اس مرد سے پوچھا کہ آیا عورت کوچھونے سے پہلے تم میںایک غلام آزاد کرنے کی طاقت ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کیا دوماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتاہے؟اس نے جواب دیا اس ذات برحق کی قسم جس نے آپ کو نبی بناکر مبعوث فرمایا ہے میری حالت تو ایسی ہے کہ دن میں دوتین مرتبہ کچھ کھاؤں اورپیوں نہ تو میری بینائی جواب دینے لگتی ہے۔ آپؐ نے دریافت کیا ،کیا تم ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاسکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں الایہ کہ آپ میری مدد فرمائیں تو رسول اللہ ﷺنے اس کی مدد فرمائی اور اسے کہاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادو۔ اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے طلاق کو بدل کر اس کو ظہار کردیاہے۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسیٰ، عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ الرَّجُلُ اِذَا قَالَ لاِمْرَأَتِہٖ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ:اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ حَرُمَتْ فِی الاِسْلاَمِ، فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ ظَاھَرَ فِی الْاِسْلاَمِ اَوْسُ ابْنُ الصَّامِتِ، وَکَانَتْ تَحْتَہٗ ابْنَۃُ عَمٍّ لَّہٗ، یُقَالُ لَھَا خَوْلَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَظَاھَرَ مِنْھَا فَاَسْقَطَ فِیْ یَدِہٖ وَقَالَ: مَااُرَاکِ اِلاَّ قَدْحَرُمْتِ عَلَیَّ، وَقَالَتْ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ، قَالَ: فَانْطَلِقِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَوَجَدَتْ عِنْدَہٗ مَاشِطَۃً تَمْشِطُ رَاْسَہٗ، فَاَخْبَرَتْہُ، فَقَالَ:یَاخُوَیْلَۃُ مَا اُمِرْنَا فِیْ اَمْرِکِ بِشَیْئٍ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ﷺ فَقَالَ: یَاخُوَیْلَۃُ اَبْشِرِیْ، قَالَتْ: خَیْرًا قَالَ:فَقَرَأَ عَلَیْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، قَدْسَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِھَا وَتَشْتَکِٓیْ اِلَی اللّٰہِ اِلٰی قَوْلِہٖ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا، قَالَتْ: وَاَیُّ رَقَبَۃٍ لَنَا وَاللّٰہِ مَایَجِدُ رَقَبَۃً غَیْرِیْ، قَالَ:فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ، قَالَتْ: وَاللّٰہِ لَوْلاَ اَنَّہٗ یَشْرَبُ فِی الْیَوْمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَذَھَبَ بَصَرُہٗ، قَالَ:فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا، قَالَ: مِنْ اَیْنَ مَاھِیَ اِلاَّ أُکْلَۃ اِلٰی مِثْلِھَا، قَالَ: فَرَعَاہُ بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلاَثِیْنَ صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّوْنَ صَاعًا، فَقَالَ : لِیُطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا وَلْیُرَاجِعْکِ۔(۴)
ترجمہ : حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں، دورجاہلیت میں جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ ’’تومیرے اوپر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔‘‘کہہ دیتا (تواسے طلاق سمجھاجاتا)اسلام میں وہ عورت حرام ہوجاتی۔ اسلامی دور میں سب سے پہلے جس نے ظہار کیا وہ اوس بن صامت تھے۔ ان کی زوجیت میں ان کی چچا زاد بہن تھی، ان کا نام خولہ بنت خویلد تھا۔ اوس نے اس سے ظہار تو کرلیا مگر پشیمان ہوگئے اور خود ہی کہنے لگے، میرا خیال ہے کہ تو مجھ پر حرام ہوگئی ہے۔ اسی طرح خولہ نے کہا (کہ میرا بھی خیال یہی ہے کہ میں تم پر حرام ہوگئی ہوں)۔ اوس نے خولہ سے کہا اچھا تم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤ (اور صورت واقعہ کے متعلق پوچھو!) وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس وقت آپ کے پاس بالوں کو کنگھی کرنے والی آپ کے بالوں میں کنگھی کررہی تھی، تو خولہ نے رسول اللہ ﷺکو سارا واقعہ سنایا۔ آپ نے سن کر فرمایا، اے خویلہ تیرے مسئلے کے بارے میں ابھی تک ہمیں کچھ حکم نہیں ملا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺپر وحی نازل فرمائی، وحی کے اختتام پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا، خولہ مبارک ہو! اس نے کہا خیر ہو، راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خولہ کے سامنے قَدْسَمِعَ۔۔۔ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ــــــاللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے۔۔۔ توقبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا ــــــ تک آیات تلاوت فرمائیں۔ خولہ بولیں، ہمارے پاس کون سا غلام ہے۔ اللہ کی قسم! اوس کے پاس تو کوئی غلام نہیں بس صرف میں ہی ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا،اگر وہ غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہوں گے۔ خولہ نے عرض کیا بخدا ان کی تو یہ حالت ہے کہ اگر دن میں دو تین مرتبہ کچھ کھائیں، پئیں نہیں تو ان کی بینائی جواب دینے لگتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگریہ بھی اس کے بس میں نہیں تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا یہ تووہی شخص کرسکتاہے جو اس طرح کا کھانا خود کھاتاہو (ہمارے ہاں تو ایسا کھانا دستیاب نہیں) ۔راوی کے بیان کے مطابق نبی کریم ﷺنے نصف وسق یعنی تیس صاع کھجوریں عنایت فرمائیں ــــــیاد رہے وسق ساٹھ صاع کا ہوتاہے ــــــ اور ارشاد فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادے اور تمہارے ساتھ رجوع کرلے۔
(۵) اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَنْبَأْنَا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ تَمِیْمِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَسِعَ سَمْعُہُ الْاَصْوَاتَ، لَقَدْ جَآئَ تْ خَوْلَۃُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ تَشْکُوْ زَوْجَھَا فَکَانَ یَخْفٰی عَلَیَّ کَلاَمُھَا، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْسَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا الایۃ۔(۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، حمدوستایش اسی ذات کے لیے ہے جس کی سماعت ہرقسم کی آوازوں پر وسیع ہے۔ خویلہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میںحاضر ہوئیں، اپنے خاوند کی شکایت کررہی تھی، اس کی گفتگو آہستہ اور دھیمی ہونے کی وجہ سے مجھے پوری طرح سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ نے قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ ۔۔۔ تَحَاوُرَکُمَا الآیۃ ـــــــــاللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگوسن رہاہے۔۔۔ـــــــــ نازل فرمائی۔
(۶) حَدَّثَنَا مُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، اَنَّ جَمِیْلَۃَ، کَانَتْ تَحْتَ اَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ رَجُلاً بِہِ لََمَمٌ، فَکَانَ اِذَا اشْتَدَّ لَمَمُہٗ ظَاھَرَ مِنِ امْرَأَتِہٖ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیْہِ کَفَّارَۃَالظِّھَارِ۔(۶)
ترجمہ : ہشام بن عروہ سے روایت ہے انہوںنے بتایا کہ جمیلہ اوس بن صامت کی زوجیت میں تھی اور اوس کی طبیعت میں غصے میں پاگل ہوجانے کی کیفیت پائی جاتی تھی اور جب کبھی یہ بیماری زور پکڑ جاتی تو وہ اپنی بیوی سے ظہار کربیٹھتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کے لیے ظہار کے کفارہ کی آیات نازل فرمائیں۔
(۷) قَالَتْ عَائِشَۃُ: تَبَارَکَ الَّذِیْ وَسِعَ سَمْعُہٗ کُلَّ شَیْئٍ اِنِّیْ لَاَسْمَعُ کَلاَمَ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَعْلَبَۃَ، وَیَخْفٰی عَلَیَّ بَعْضُہٗ، وَھِیَ تَشْتَکِیْ زَوْجَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھِیَ تَقُوْلُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَکَلَ شَبَابِیْ، وَنَثَرْتُ لَہٗ بَطْنِیْ حَتّٰی اِذَا کَبِرَتْ سِنِّیْ وَانْقَطَعَ وَلَدِیْ ظَاھَرَ مِنِّیْ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَشْکُوْ اِلَیْکَ فَمَا بَرِحَتْ حَتّٰی نَزَلَ جِبْرَئِیْلُ بِھٰؤُلَآئِ الْآیَاتِ۔ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ۔(۷)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں بابرکت اور بلند وبالا ہے وہ ذات جس کی سماعت ہرچیز پر وسیع ہے۔ میں خولہ بنت ثعلبہ کی گفتگو سن رہی تھی مگر کچھ گفتگو مجھ پر مخفی رہی واضح نہیں ہوئی۔ وہ اپنے شوہر کا شکوہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں کررہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اس نے میری جوانی کھا کر فناکردی اور میں نے اپنا پیٹ اس کے لیے پھیلادیا یہاں تک کہ جب میں عمر رسیدہ ہوگئی اور بچے جننا منقطع ہوگئے تو اس نے مجھ سے ظہار کرلیا۔ خدایا میں تیرے حضور فریاد کرتی ہوں(کہ اس کا حل پیدا فرما) وہ اپنی گفتگو کو جاری رکھے ہوئے تھی کہ جبرئیلؑ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ۔۔۔ ــــــاللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے ـــــــ لے کرنازل ہوئے۔
سلمہ بن صخر بیاضی کا واقعہ
مَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔(۹)
ترجمہ : سلمان بن صخر بیاضی انصاری کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے رمضان کے مہینہ کے اختتام تک ظہار کرلیا۔ ابھی آدھا رمضان ہی گزرا تھا کہ رات کو اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھا۔ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضرہوا اور اپنا واقعہ عرض کیا، آپؐ نے اسے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو وہ بولا میرے پاس تو غلام نہیں ہے (اور خریدنے کی بھی ہمت نہیں ہے) پھر آپؐ نے فرمایا اچھا تو پھر پے درپے دو ماہ کے روزے رکھو وہ بولا میں تو استطاعت نہیں رکھتا (روزے نہیں رکھ سکتا) پھرآپؐ نے فرمایا، تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ! وہ بولا، میں استطاعت نہیں رکھتا۔ پھر رسول ﷺنے اس کے لیے فروہ بن عمرو سے فرمایا اسے یہ ٹوکرا ـــــــ (کھجوروں سے بھرا ہوا)۔ اس میں پندرہ یاسولہ صاع کھجوروں کی گنجایش ہوتی ہے ـــــــ مسکینوں کو کھلانے کے طورپر اسے دے دو۔
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔ یُقَالُ سَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍوَ یُقَالُ سَلَمَۃُ بْنُ صَخْرِ نِالْبَیَاضِیُّ وَالْعَمَلُ عَلَی ھٰذَا الْحَدِیْثِ عِنْدَ اَھْلِ الْعِلْمِ فِیْ کَفَّارَۃِ الظِّھَارِ۔
ظہار کا ایک اور واقعہ
۱۰۳۔ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اس سے مباشرت کرلی بعد میں حضورؐ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے حکم دیا کہ اس سے الگ رہو جب تک کفارہ ادا نہ کرو۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الطَّالَقَانِیُّ، ثَنَا سُفْیَانُ، ثَنَا الْحَکَمُ ابْنُ اَبَانَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، اَنَّ رَجُلاً ظَاھَرَ مِنْ امْرَأَتِہٖ ثُمَّ وَاقَعَھَا قَبْلَ اَنْ یُّکَفِّرَ، فَاَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَاَخْبَرَہٗ، فَقَالَ:مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَاصَنَعْتَ؟ قَالَ: رَاَیْتُ بَیَاضَ سَاقِھَا فِی الْقَمَرِ قَالَ: فَاعْتَزِلْھَا حَتّٰی تُکَفِّرَ عَنْکَ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی بیوی سے مباشرت کربیٹھا۔ وہ نبی ﷺکی خدمت میں آیا اور آپؐ کو اپنا واقعہ سنایا ۔آپ نے پوچھاجو فعل تونے کیاہے اس پر کس چیز نے تجھے آمادہ کیا؟اس نے کہا چاندنی رات میں مجھے اپنی بیوی کی پنڈلی کی سفیدی نظر آئی تو میں نہ رہ سکا۔ آپ نے فرمایا کفارہ ظہار ادا کرنے تک بیوی سے الگ رہو۔
ترمذی نے ابنِ عباس سے مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے :
(۲)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ ﷺ قَدْ ظَاھَرَ مِنِ امْرَأَتِہٖ، فَوَقَعَ عَلَیْھَا، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ ظَاھَرْتُ مِنِ امْرَأَتِیْ، فَوَقَعْتُ عَلَیْھَا قَبْلَ اَنْ اُکَفِّرَ، فَقَالَ:وَمَاحَمَلَکَ عَلٰی ذٰلِکَ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ! رَأَیْتُ خَلْخَالَھَا فِیْ ضَوْئِ الْقَمَرِ، قَالَ: فَلاَتَقْرَبْھَا حَتّٰی تَفْعَلَ مَااَمَرَکَ اللّٰہُ۔ (۱۱)
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور پھر اس سے ہم بستر بھی ہوگیا۔ اور اب آیا حضورؐ کی خدمت میں اور عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ!میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا مگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی میں اس سے مباشرت کربیٹھاہوں (کیا کروں؟) آپ نے اس سے دریافت فرمایا ایسا کرنے پر تمہیں کس چیزنے آمادہ کیا، اللہ تیرے حال پر رحم فرمائے! اس نے عرض کیا چاند کی چاندنی میں میری نظر اس کی پازیب پر پڑگئی (اور میں اس فعل کا مرتکب ہوگیا) آپ نے فرمایا جو حکم اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے دیاہے جب تک اس پر عمل نہ کرو بیوی کے اس وقت تک قریب مت جاؤ۔
(۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ:اَتٰی رَجُلٌ النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ ظَاھَرْتُ مِنِ امْرَأَتِیْ، فَرَأَیْتُ بَیَاضَ خَلْخَالِھَا فِی الْقَمَرِ، فَاَعْجَبَنِیْ، فَوَقَعْتُ عَلَیْھَا، قَالَ:اَوَمَا قَالَ اللّٰہُ: مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: اَمْسِکْ عَنْھَا حَتّٰی تُکَفِّرَ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور اسی دوران میں چاندنی رات میں میری نظر اس کی پازیبوں پر جاپڑی جو مجھے بہت اچھی لگیں بس پھر میں نے اس سے جماع کرلیا (کفارہ ظہار ادا کرنے سے پہلے) آپ نے فرمایا کیا تیرے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں تھا کہ کفارہ پہلے ادا کیا جائے(ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے) وہ بولا یا رسول اللہ مجھ سے تویہ فعل سرزد ہوگیاہے، آپ نے فرمایا کفارہ ادا کرنے تک اب اس سے رک جا۔
اپنی بیوی کو بہن کہنا
۱۰۴۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو سناکہ اپنی بیوی کوبہن کہہ کر پکاررہاہے اس پر آپ نے غصے سے فرمایا ’’یہ تیری بہن ہے؟‘‘ مگر آپ نے اسے ظہار قرار نہیں دیا۔ (ابوداؤد) (تفہیم القرآن ج۵،المجادلہ حاشیہ:۷)
تخریج: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ۔ ح وَثَنَا اَبُوْکَامِلٍ، ثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ، الْمَعْنٰی کُلُّھُمْ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ اَبِیْ تَمِیمَۃَ الْھُجَیْمِیْ، اَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِمْرَأَتِہِ: یَا اُخَیَّۃُ۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، اُخْتُکَ ھِیَ؟ فَکَرِہَ ذٰلِکَ وَنَھٰی عَنْہُ۔(۱۳)
ماخذ
(۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق، باب فی الظھارحدیث ۲۲۱۴۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ص۳۹۱۔۳۹۲۔کتاب الظھار۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۵۔ المجادلۃ۔٭دارقطنی نے ج۴۔ص۳۱۷پر حضرت انس بن مالک سے مختصر روایت نقل کی ہے۔
(۲) مسند احمد ج۶۔ص۴۱۰۔۴۱۱۔خولہ بنت ثعلبہ۔ ابن المنذر، الطبرانی۔ ابن مردویہ وغیرہ بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج۵۔ص۱۸۴۔یوسف بن عبداللہ بن سلام عن خولہ بنت ثعلبہ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ ص۳۹۱۔۳۹۲۔کتاب الظھار باب لایجزی ان یطعم اقل من ستین مسکینا کل مسکین مدا من طعام بلدہ بیھقی میں مختصر ہے۔٭ تفسیر ابن کثیر ج۴۔ص۳۱۹۔خویلہ بنت ثعلبہ۔
(۳) ابن کثیر ج۴۔ المجادلہ:۴۔٭السنن الکبری ج۷۔کتاب الظھار۔ باب المظاھر الذی تلزمہ الکفارۃ۔ بیھقی نے اذا اراد الرجل ان یفارق امرأتہ کے علاوہ معمولی سالفظی اختلاف اور بھی نقل کیاہے۔ اس نے حول اللہ الطلاق فجعلہ ظھاراً بھی نقل نہیں کیا۔٭ابن جریر جز۲۸۔۳۰ ص۲۔۳ المجادلہ۔
(۴) ابن جریر جز۲۸۔۳۰ ص۳۔سورۃ المجادلہ۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب الظھار باب سبب نزول آیۃ الظھار۔ ابن مردویہ بحوالہ فتح القدیرج۵۔سورہ المجادلہ۔٭ابن کثیرج۴۔المجادلہ۔٭مجمع الزوائد ج۵۔کتاب الطلاق باب الظھار عن ابن عباس۔
(۵) نسائی کتاب الطلاق باب الظھار۔ابن کثیر ج۴۔ص۳۱۸ عن عائشہ۔
(۶) سنن ابی داؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی الظھار۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب التفسیر٭ ابنِ جریر جز۲۸۔۳۰جلد۱۲۔المجادلۃ۔
(۷) ابن ماجہ کتاب الطلاق ۔ باب الظھار۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الظھار باب سبب نزول آیۃ الظھار۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲۔ کتاب التفسیر المجادلہ۔٭ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج۵۔المجادلہ۔
(۸) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی الظھار۔٭ترمذی ابواب التفسیر سورۃ المجادلۃ۔٭ھذا حدیث حسن۔ قال محمد : سلیمان بن یَسَار لم یسمع عندی من سَلَمۃ بن صخر، قال: ویقال سلمۃ بن صخر ویقال سلمان بن صخر۔ ٭ابن ماجہ کتب الطلاق ، باب الظھار۔٭دارمی ج۲۔کتاب النکاح باب فی الظھار۔ ٭دارقطنی ج۴ پر سند بیان کرکے سلمہ بن صخر کے واقعہ کی طرف اشارہ کیاہے۔٭مسنداحمد ج۵ص۴۳۶۔ سلمۃ بن صخر البیاضی۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب الظھار باب لایقربھا حتی یکفر۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق باب مسئلۃ الظھار وحکایۃ سلمۃ بن صخر۔المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب الطلاق باب المواقعۃ للتکفیر۔٭عبد بن حمید، الطبرانی بحوالہ فتح القدیر ج۵۔ ص۱۸۴۔٭تفسیر ابنِ کثیر ج۴۔ ص۳۱۹۔ سلمۃ بن صخر۔
(۹) ترمذی ابواب الطلاق واللعان۔ باب ماجاء فی کفارۃ الظھار۔
(۱۰) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق، باب فی الظھار ابوداؤد نے ایک روایت میں فرأی بریق ساقھا فی القمر بھی بیان کیاہے۔ ٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ عن عکرمۃ کتاب الظھار، باب لایقربھا حتی یکفر۔
(۱۱) ترمذی ابواب الطلاق واللعان، باب ماجاء فی المظاھر یواقع قبل ان یکفر۔٭نسائی کتاب الطلاق، باب الظھار۔ ٭ابنِ ماجہ کتاب الطلاق، باب المظاھر یجامع قبل ان یکفر۔ ٭ابن ماجہ میں رأیت بیاض حجلیھا فی القمر۔ فضحک رسول اللہ ﷺ بھی ہے۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب الظھار باب لایقربھاحتی یکفر۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق۔ باب مسئلۃ الظھار وحکایۃ سلمۃ بن صخر۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۶۔ص۴۳۰۔ کتاب الطلاق۔ باب المواقعۃ للتکفیر۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۵۔ص۱۸۴۔
(۱۲) السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب الظھار باب لایقربھا حتی یکفر۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الطلاق باب مسئلۃ الظھار۔٭ البزّار والطبرانی، وابن مردویہ بحوالہ۔ فتح القدیر للشوکانی ج۵۔عن ابن عباس۔
(۱۳) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی الرجل یقول لامراتہ یا أختی۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب الخلع والطلاق، باب مایکرہ من ذلک۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۵۔ کتاب الطلاق باب ماقالوا فی الرجل یقول لامرأتہ یااخیۃ۔ عن الحسن۔
فصل:۱۵ لِعَان قرآن مجید میں اس کا ذکر
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآئُ اِلآَّ اَنْفُسُھُمْ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ لااِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَo وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکـٰذِبِیْنَo وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ لا اِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَoلا وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَo وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌo (النور:۶-۱۰)
’’اورجولوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگروہ (اپنے الزام میں) جھوٹا ہو۔ اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو۔ تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا ہے اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا)۔
لعان کا حکم
حد قذف کا حکم جب نازل ہوا تو لوگوں میں یہ سوال پیدا ہوگیا کہ غیرمرد اور عورت کی بدچلنی دیکھ کر تو آدمی صبر کرسکتاہے، گواہ موجود نہ ہوں تو زبان پر قفل چڑھالے اور معاملے کو نظر انداز کردے۔ لیکن اگر وہ خود اپنی بیوی کی بدچلنی دیکھ لے تو کیا کرے؟ قتل کردے تو الٹا سزا کا مستوجب ہو۔ گواہ ڈھونڈنے جائے تو ان کے آنے تک مجرم کب ٹھیرا رہے گا۔ صبر کرے تو آخر کیسے کرے۔ طلاق دے کر عورت کو رخصت کرسکتاہے، مگر نہ اس عورت کو کسی قسم کی مادّی یا اخلاقی سزا ملی نہ اس کے آشنا کو ۔ اور اگر اسے ناجائز حمل ہو تو غیر کا بچہ الگ گلے پڑا۔ یہ سوال ابتداء ًتو حضرت سعد بن عُبادہ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت میں پیش کیااور یہاں تک کہہ دیا کہ میں اگر خدا نخواستہ اپنے گھر میں یہ معاملہ دیکھوں تو گواہوں کی تلاش میں نہیں جاؤں گا بلکہ تلوار سے اسی وقت معاملہ طے کردوں گا (بخاری ومسلم)۔ لیکن تھوڑی ہی مدت گزری تھی کہ بعض ایسے مقدمات عملاً پیش آگئے جن میں شوہروں نے اپنی آنکھوں سے یہ معاملہ دیکھا اور نبی ﷺ کے پاس اس کی شکایت لے گئے۔ عبداللہ بن مسعود اور ابن عمرؓ کی روایات ہیں کہ انصار میںسے ایک شخص (غالباً عویمر عجلانی) نے حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اللہ، اگر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے اور منہ سے بات نکالے تو آپ حدِ قذف جاری کردیں گے، قتل کردے تو آپ اسے قتل کردیں گے ، چپ رہے تو غیظ میں مبتلا رہے، آخر وہ کیا کرے؟ اس پرحضورؐ نے دعا کی کہ خدایا، اس مسئلے کا فیصلہ فرما(مسلم، بخاری، ابوداؤد، احمد، نسائی) ابن عباس کی روایت ہے کہ ہلال بن امیّہ نے آکر اپنی بیوی کا معاملہ پیش کیا جسے انہوں نے بچشم خود ملوّث دیکھا تھا۔ نبی ﷺنے فرمایا’’ثبوت لاؤ، ورنہ تم پر حدِّ قذف جاری ہوگی۔‘‘ صحابہ میں اس پر عام پریشانی پھیل گئی، اور ہلال نے کہا اُس خدا کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجاہے، میں بالکل صحیح واقعہ عرض کررہاہوں جسے میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سناہے۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں ایسا حکم نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ بچادے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری، احمد، ابوداؤد)۔ اس میں جوطریق تصفیہ تجویز کیا گیا ہے اسے اسلامی قانون کی اصطلاح میں ’’لِعان‘‘ کہا جاتاہے۔
یہ حکم آجانے کے بعد نبی ﷺ نے جن مقدمات کا فیصلہ فرمایا ان کی مفصل رودادیں کتب حدیث میں منقول ہیں اور وہی لعان کے مفصل قانون اور ضابطۂ کارروائی کا ماخذ ہیں۔
ہلال بن امُیّہ کا مقدمہ
۱۰۵۔ ہلال بن امیّہ کے مقدمے کی جو تفصیلات صحاح ستہ اور مسند احمد اور تفسیر ابن جریر میں ابن عباس اور انس بن مالک ؓ سے منقو ل ہوئی ہیں ان میں بیان کیا گیاہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ہلال اور ان کی بیوی، دونوں عدالتِ نبوی میں حاضر کیے گئے۔ حضورؐ نے پہلے حکم خداوندی سنایا، پھر فرمایا ’’خوب سمجھ لو کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت چیز ہے۔‘‘ ہلال نے عرض کیا میں نے اس پر بالکل صحیح الزام لگایاہے۔ عورت نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’اچھا، تو ان دونوں میں ملاعنت کرائی جائے۔‘‘ چنانچہ پہلے ہلال اُٹھے اور انہوں نے حکم قرآنی کے مطابق قسمیں کھانی شروع کیں۔ نبی ﷺاس دوران میں بار بار فرماتے رہے ’’اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے، پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا؟‘‘ پانچویں قسم سے پہلے حاضرین نے ہلال سے کہا’’خدا سے ڈرو، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ یہ پانچویں قسم تم پر عذاب واجب کردے گی۔‘‘ مگر ہلال نے کہا جس خدا نے یہاں میری پیٹھ بچائی ہے وہ آخرت میں بھی مجھے عذاب نہیں دے گا، یہ کہہ کر انہوں نے پانچویں قسم بھی کھالی۔ پھر عورت اٹھی اور اس نے بھی قسمیں کھانی شروع کیں۔ پانچویں قسم سے پہلے اسے بھی روک کر کہاگیا کہ ’’خدا سے ڈر، آخرت کے عذاب کی بہ نسبت دنیا کا عذاب برداشت کرلینا آسان ہے۔ یہ آخری قسم تجھ پر عذابِ الٰہی کو واجب کردے گی۔‘‘ یہ سن کر وہ کچھ دیر رُکتی اور جھجکتی رہی۔ لوگوں نے سمجھااعتراف کرنا چاہتی ہے۔ مگر پھر کہنے لگی’’میں ہمیشہ کے لیے اپنے قبیلے کو رسوا نہیں کروں گی‘‘ اور پانچویں قسم بھی کھاگئی۔ اس کے بعد نبی ﷺنے دونوں کے درمیان تفریق کرادی اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا بچہ (جو اس وقت پیٹ میں تھا) ماں کی طرف منسوب ہوگا، باپ کا نہیں پکاراجائے گا، کسی کو اس پر یا اس کے بچے پر الزام لگانے کا حق نہ ہوگا، جو اس پر یا اس کے بچے پر الزام لگائے گا وہ حدِّ قذف کا مستحق ہوگا، اور اس کو زمانہ عدت کے نفقے اور سکونت کاکوئی حق ہلال پر حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ طلاق یا وفات کے بغیر شوہر سے جداکی جارہی ہے۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ اس کے ہاں جب بچہ ہوتو دیکھو، وہ کس پر گیاہے۔ اگر اس اِس شکل کا ہو تو ہلال کا ہے، اور اگر اس صورت کا ہوتو اس شخص کا ہے جس کے بارے میں اس پر الزام لگایا گیاہے۔ وضع حمل کے بعد دیکھا گیا کہ وہ مؤخر الذکر صورت کا تھا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا لَوْلاَ الْاَیْمَانُ (یا بروایتِ دیگر لَوْلاَمَضٰی مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ) لَکَانَ لِیْ وَلَھَا شَاْنٌ’’ یعنی اگر قسمیں نہ ہوتیں (یا خدا کی کتاب پہلے ہی فیصلہ نہ کرچکی ہوتی) تو میں اس عورت سے بری طرح پیش آتا۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، حَدَّثَنَا عِبَادُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ،
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:جَآئَ ھِلاَلُ ابْنُ اُمَیَّۃَ۔ وَھُوَاَحَدُ الثَّلاَثَۃِ الَّذِیْنَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔ فَجَآئَ مِنْ اَرْضِہِ عَشِیًّا فَوَجَدَ عِنْدَاَھْلِہِ رَجُلاً، فَرَاٰی بِعَیْنِہٖ وَسَمِعَ بِاُذُنِہٖ، فَلَمْ یَھِجْہُ حَتّٰی اَصْبَحَ، ثُمَّ غَدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ جِئْتُ اَھْلِیْ عِشَائً فَوَجَدْتُّ عِنْدَھُمْ رَجُلاً، فَرَأَیْتُ بِعَیْنِیْ وَسَمِعْتُ بِاُذُنِیْ فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَاجَائَ بِہٖ وَاشْتَدَّ عَلَیْہِ، فَنَزَلَتْ’’وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآئُ اِلاَّاَنْفُسُھُمْ، فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ‘‘ الاٰیَتَیْنِ کِلْتَیْھِمَا، فَسُرِّیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اَبْشِرْ یَاھِلاَلُ! قَدْجَعَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَکَ فَرْجًا وَمَخْرَجًا، قَالَ ھِلاَلٌ:قَدْکُنْتُ اَرْجُوْ ذٰلِکَ مِنْ رَّبِّیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : اَرْسِلُوْا اِلَیْھَا، فَجَائَ تْ، فَتَلاَ عَلَیْھِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَذَکَّرَھُمَا وَاَخْبَرَھُمَا اَنَّ عَذَابَ الآخِرَۃِ اَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْیَا، فَقَالَ ھِلاَلٌ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَیْھَا، فَقَالَتْ: قَدْکَذَبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَعِنُوا بَیْنَھُمَا، فَقِیْلَ لِھِلاَلٍ، اشْھَدْ، فَشَھِدَ اَرْبَعَ شَھَادَاتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ۔ فَلَمَّا کَانَتِ الْخَامِسَۃُ قِیْلَ (لَہٗ)یَاھِلاَلُ! اِتَّقِ اللّٰہَ فَاِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَۃِ، وَاِنَّ ھٰذِہٖ الْمُوْجِبَۃُ الَّتِیْ تُوْجِبُ عَلَیْکَ الْعَذَابَ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لاَیُعَذِّبُنِیَ اللّٰہُ عَلَیْھَا کَمَا لَمْ یَجْلِدْنِیْ عَلَیْھَا۔فَشَھِدَ الْخَامِسَۃَ ’’اَنَّ لَعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ، ثُمَّ قِیْلَ لَھَا اشْھَدِیْ فَشَھِدَتْ اَرْبَعَ شَھَادَاتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔ فَلَمَّا کَانَتِ الْخَامِسَۃُ قِیْلَ لَھَا: اتَّقِی اللّٰہَ فَاِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْاٰخِرَۃِ وَاِنَّ ھٰذِہٖ الْمُوْجِبَۃُ الَّتِیْ تُوْجِبُ عَلَیْکِ الْعَذَابَ، فَتَلَکَّأَتْ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَتْ:وَاللّٰہِ!لاَاَفْضَحُ قَوْمِیْ،فَشَھِدَتِ الْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَااِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ، فَفَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَھُمَا وَقَضٰی اَنْ لاَّیُدْعٰی وَلَدُھَا لِاَبٍ، وَلاَتُرْمٰی وَلاَیُرْمٰی وَلَدُھَا، وَمَنْ رَمَاھَا اَوْرَمٰی وَلَدَھَا فَعَلَیْہِ الْحَدُّ، وَقَضٰی اَنْ لاَّبَیْتَ لَھَا عَلَیْہِ وَلاَقُوْتَ مِنْ اَجْلِ اَنَّھُمَا یَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَیْرِطَلاَقٍ، وَلاَمُتَوَفّٰی عَنْھَا وَقَالَ: اِنْ جَآئَ تْ بِہٖ اُصَیْھِبَ اُرَیْصِحَ اُثَیْبِجَ حَمْشَ السَّاقَیْنِ فَھُوَلِھِلاَلٍ، وَاِنْ جَآئَ تْ بِہِ اَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِیًا خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ سَابِغَ الْاِلْیَتَیْنِ فَھُوَ لِلَّذِیْ رُمِیَتْ بِہٖ، فَجَآئَ تْ بِہِ اَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِیًا خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ سَابِغَ الْاِلْیَتَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللِّٰہ ﷺ، لَوْلاَ الْاَیْمَانُ لَکَانَ لِیْ وَلَھَا شَاْنٌ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ، فَکَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمِیْرًا عَلٰی مِصْرَ وَمَا یُدْعٰی لِاَبٍ۔(۱)
ترجمہ : حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ ہلال بن امیّہ ــــــان کا شمار ان تین آدمیوں میں تھا جن کا قصور اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیاتھا یہ حضرات غزوۂ تبوک کے موقع پر جہاد میں شمولیت سے رہ گئے تھے ــــــ اپنی زمین سے رات کو گھر واپس آئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ کے پاس کسی غیرمرد کو دیکھا۔ ان کی بُری کارکردگی کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا اور اپنے کانوں سے (اس موقع کی ان کی باہمی گفتگو سنی) اس کارروائی پر نہ ہلال نے اسے ڈانٹا اور نہ ہی دھمکایا (رات بھر وہ پیچ وخم کھاتارہا) ۔صبح جب ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺمیں شام کو جب واپس اپنے گھر پہنچا تومیں نے اس کے پاس ایک آدمی کو پایا۔ میں نے یہ ساری (نازیبا) کارروائی کو بچشمِ خود دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔ آپ کو ہلال کا بیان برا محسوس ہوا مگر ہلال پر یہ بار گراں گزری۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں ’’جولوگ اپنی بیویوں پر (زناکی) تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں تو ان میں سے ہرایک کے لیے شہادت یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ اپنے الزام میں سچا الخ۔ یہ آیتیں نازل ہوئیں اور وحی کی حالت کھل گئی، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا، اے ہلال خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے کشادگی پیدا فرمائی ہے اور اس سے نکلنے کا راستہ نکال دیاہے۔ یہ سن کر ہلال نے کہا مجھے بھی اپنے پروردگار وآقا سے یہی امید تھی (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اس عورت کو بلانے کے لیے کسی کو بھیجو (چنانچہ کوئی بلانے گیا) وہ حاضرِ خدمت ہوئی تو آپ نے دونوں میاں بیوی کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور نصیحت فرمائی اور ان کو مطلع فرمایا کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزائے الٰہی سے بہت ہی نرم اور کم ہے (آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے بہت سخت وشدید ہے) ہلال نے عرض کیا اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے۔ وہ عورت بولی، اس نے یقینا جھوٹ بولا ہے۔ دونوں کی گفتگو سن کر رسول اللہ ﷺنے فرمایا ان کے درمیان لعان کراؤ۔ پہلے ہلال سے کہا گیا کہ قسم کھا کر گواہی دو چنانچہ اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم کھا کر گواہی دی کہ وہ سچ بول رہاہے۔ پانچویں قسم کے وقت ہلال سے کہا گیا اے ہلال اللہ سے ڈر، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت آسان وہلکا ہے اور یہ آخری گواہی ہے جو تجھ پر عذابِ الٰہی کو واجب کردے گی (اگر تو جھوٹا ہے) ہلال بولا، بخدا! اللہ تعالیٰ مجھے اس عورت کے خلاف الزام لگانے کی وجہ سے عذاب نہیں دے گا۔ اسی طرح مجھے بچالے گا جس طرح اس نے میری پیٹھ کو کوڑوں کی سزا سے بچایا ہے۔ یہ عرض کرکے اس نے پانچویں قسم کھاکر گواہی دے دی کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت وپھٹکار ہو۔ اس کے بعد اس عورت سے کہاگیا کہ اب تو قسم کھاکر گواہیاں دے۔ چنانچہ اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم کھا کر گواہی دی کہ وہ جھوٹا ہے جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اس عورت سے بھی کہاگیا کہ اللہ سے ڈر، دنیا کی سزا عذابِ آخرت کے مقابلہ میں بہت ہلکی ہے اور یہ پانچویں شہادت ہی ہے جو تجھ پر عذابِ الٰہی کوواجب کردے گی۔ یہ سن کر وہ چند لمحے سوچ میں پڑگئی پھر بولی اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو آج کے بعد ہمیشہ کے لیے رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں شہادت بھی دے دی کہ اس پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (شوہر) سچ کہتاہو۔ پس اب رسول اللہ ﷺنے ان کے درمیان تفریق کرادی اور یہ فیصلہ بھی فرمادیا کہ اس کے پیٹ سے جو (یہ) بچہ پیدا ہوگا اس کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا اور نہ اس عورت پر تہمت لگائی جائے گی اور نہ اس بچے کو حرامی قراردیا جائے گا اور جو اس عورت کو زانیہ اور اس بچے کو ولد حرام قراردے گااس پر حدِ قذف ہوگی نیز یہ فیصلہ بھی فرمادیا کہ شوہر کے ذمہ نہ اس عورت کی رہائش ہوگی اور نہ ہی نان ونفقہ، اس لیے کہ ان میں جدائی وتفریق طلاق ووفات کے بغیر واقع ہوئی ہے۔ (اب اس کا خیال رکھا جائے کہ) اگر نومولود بچے کے بال بھورے رنگ کے ہوں، سرین دبلے پتلے ہوں، پیٹ چوڑا ہو، پنڈلیاں پتلی ہوں تو سمجھ لیجیے کہ یہ ہلال کا نطفہ ہے اور اگر وہ بچہ ، گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والا، موٹا، بھاری پنڈلیوں والا، بڑے سرین والا ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہ اس شخص کے نطفہ سے ہے جس کے ساتھ اسے متہم کیاگیاہے۔ چنانچہ اس عورت نے جب بچے کو جنم دیا تو وہ بچہ گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والا، موٹا تازہ موٹی وبھاری پنڈلیوں والا، بھاری بھرکم سرین والاتھا اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اگر پہلے گواہیاں نہ ہوچکی ہوتیں تو میں اس عورت کی خبرلیتا اس سے بری طرح پیش آتا (اسے سزادیتاتاکہ دوسروں کو عبرت ہوتی) عکرمہ نے بتایا کہ پھر وہی لڑکا مصر کا امیر مقرر ہوا مگر باپ کے نام سے اسے نہیں بلایا جاتاتھا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، اَخْبَرَنَا ھِشَامُ ابْنُ حَسَّانٍ، حَدَّثَنِیْ عِکْرِمَۃُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ ھِلاَلَ بْنَ اُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہٗ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِشَرِیْکِ بْنِ سَحْمَائِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ:اَلْبَیِّنَۃَ اَوْحَدٌّ فِیْ ظَھْرِکَ، قَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اِذَا رَاٰی اَحَدُنَا رَجُلاً عَلَی امْرَأَتِہِ یَلْتَمِسُ الْبَیِّنَۃَ؟ فَجَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ: اَلْبَیِّنَۃَ۔ وَاِلاَّ فَحَدٌّ فِیْ ظَھْرِکَ۔ فَقَالَ ھِلاَلٌ:وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ (نَبِیًّا) اِنِّیْ لَصَادِقٌ، وَلَیُنْزِلَنَّ اللّٰہُ فِیْ اَمْرِی مَاُیَبَرِّیئُ(بِہٖ)ظَھْرِیْ مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَتْ ’’وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآئُ اِلاَّ اَنْفُسُھُمْ۔ فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ‘‘ فَانْصَرَفَ النَّبِیُّ ﷺ فَاَرْسَلَ اِلَیْھِمَا۔ فَجَآئَ ا، فَقَامَ ھِلاَلُ بْنُ اُمَیَّۃَ فَشَھِدَ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ اَللّٰہُ یَعْلَمُ اَنَّ اَحَدَکُمَا کَاذِبٌ، فَھَلْ مِنْکُمَا مِنْ تَائِبٍ۔ ثُمَّ قَامَتْ فَشَھِدَتْ، فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَا اِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ، وَقَالُوْا لَھَا اِنَّھَا مُوْجِبَۃٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَکَّأَتْ وَنَکَصَتْ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّھَا سَتَرْجِعُ، فَقَالَتْ: لاَ اَفْضَحُ قَوْمِیْ سَائِرَ الْیَوْمِ۔ فَمَضَتْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ :اَبْصِرُوْھَا، فَاِنْ جَآئَ تْ بِہِ اَکْحَلَ الْعَیْنَیْنِ سَابِغَ الْاَلْیَتَیْنِ خَدَلَجَ السَّاقَیْنِ فَھُوَ لِشَرِیْکِ بْنِ سَحْمَائِ۔ فَجَآئَ تْ بِہِ کَذٰلِکَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : لَوْلاَ مَا مَضٰی مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ لَکَانَ لِیْ وَلَھَا شَأنٌ، قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: ھٰذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِہِ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ حَدِیْثَ ابْنِ بَشَّارٍ حَدِیْثِ ھِلاَلٍ۔(۲)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ہلال بن امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی کو شریک بن سحما سے ملوث قراردیا۔نبی ﷺنے فرمایا، گواہ پیش کرو ورنہ حد قذف جاری ہوگی تمہاری پیٹھ پر۔ ہلال نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جب ایک آدمی اپنی بیوی پر غیر مرد کو سوار دیکھے تو کیا وہ گواہ تلاش کرتا پھرے گا؟آپؐ فرماتے جاتے تھے کہ گواہ، بصورت دیگر حدِ قذف تمہاری پیٹھ پر جاری ہوگی۔ ہلال بولا اس ذاتِ پاک کی قسم جس نے آپ کو نبی بناکر مبعوث فرمایاہے میں بالکل سچ بول رہاہوں (مجھے امید ہے) کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں ایسا حکم نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ بچا دے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی آپؐ نے یہ آیت وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ۔۔۔لَمِنَ الصّٰدِ قِیْنَ ـــــــاور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں۔۔۔ اگر وہ سچا ہوـــــــ تک پڑھی۔ نبی ﷺ تشریف لے گئے اور ان دونوں کو بلابھیجا ،وہ دونوں حاضر ہوئے۔ پہلے ہلال اٹھے انہوں نے (حکم قرآنی کے مطابق) قسمیں کھانی شروع کیں۔ نبی ﷺ (اس دوران میں) بار بار فرماتے رہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا۔پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے بھی قسمیں کھانی شروع کیں۔ جب وہ پانچویں قسم پر پہنچی کہ اس پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ سچا ہو۔ اس دوران میں لوگ اسے کہتے رہے کہ یہ قسم عذاب الٰہی کوواجب کردے گی۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ یہ سن کر کچھ دیر رکتی اور جھجکتی رہی ہم نے سمجھا کہ اعتراف کرنا چاہتی ہے مگر وہ کہنے لگی میں ہمیشہ کے لیے اپنے قبیلے کو رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں قسم بھی کھاگئی۔ پھر آپ نے فرمایاکہ اس کے ہاں جب بچہ ہوتو دیکھو، وہ کس پر گیاہے۔ اگر وہ سیاہ آنکھوں والا اور بڑے بڑے چوتڑوں والا، پرگوشت پنڈلیوں والا،پیدا ہو تو وہ شریک کا ہے اس نے بچہ جنا تو اسی صورت کا تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اگر کتاب اللہ پہلے فیصلہ نہ کرچکی ہوتی تو میں اس عورت سے بری طرح پیش آتا۔ یہ اہل مدینہ کے ان تفردات میں سے ہے جو وہ ابن بشار کے حوالہ سے ہلال کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، ح حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ (وَاللَّفْظُ لَہٗ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: نَاعَبْدُالْمَلِکِ ابْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَیْنِ فِیْ اِمْرَۃِ مُصْعَبٍ أَ یُفَرَّقُ بَیْنَھُمَا؟ قَالَ: فَمَادَرَیْتُ مَا اَقُوْلُ فَمَضَیْتُ اِلٰی مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَکَّۃَ، فَقُلْتُ لِلْغُلاَمِ اسْتَاْذِنْ لِیْ، قَالَ:اِنَّہٗ قَائِلٌ، فَسَمِعَ صَوْتِیْ، قَالَ:ابْنُ جُبَیْرٍ؟قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ:اُدْخُلْ، فَوَاللّٰہِ مَاجَآئَ بِکَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ اِلاَّحَاجَۃٌ، فَدَخَلْتُ، فَاِذَا ھُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَۃً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَۃً حَشْوُھَا لِیْفٌ، قُلْتُ: اَبَاعَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُتَلاَعِنَانِ أیُفَرَّقُ بَیْنَھُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! نَعَمْ اِنَّ
اَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَالِکَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ قَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَاَیْتَ اَنْ لَّوْوَجَدَ اَحَدُنَا امْرَأَتَہٗ عَلٰی فَاحِشَۃٍ کَیْفَ یَصْنَعُ؟ اِنْ تَکَلَّمَ تَکَلَّمَ بِاَمْرٍ عَظِیْمٍ وَاِنْ سَکَتَ، سَکَتَ عَلٰی مِثْلِ ذٰلِکَ قَالَ: فَسَکَتَ النَّبِیُّ ﷺ فَلَمْ یُجِبْہُ۔ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ اَتَاہُ فَقَالَ: اِنَّ الَّذِیْ سَألْتُکَ عَنْہُ قَدِابْتُلِیْتُ بِہِ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ھٰؤُلَآئِ الْاٰیٰتِ فِیْ سُوْرَۃِ النُّوْرِ وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ (النور:۶۔۹) فَتَلاَھُنَّ عَلَیْہِ وَوَعَظَہٗ وَذَکَّرَہٗ وَاَخْبَرَہٗ اَنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْاٰخِرَۃِ، قَالَ:لاَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَاکَذَبْتُ عَلَیْھَا ثُمَّ دَعَاھَا فَوَعَظَھَا وَذَکَّرَھَا وَاَخْبَرَھَا اَنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْاٰخِرَۃِ قَالَتْ: لاَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِنَّہٗ لَکَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَھِدَ اَرْبَعَ شَھَدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ لَعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ ثُمَّ ثَنّٰی بِالْمَرْأَۃِ فَشَھِدَتْ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکَاذِبِیْنَ وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَا اِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَھُمَا۔(۳)
ترجمہ : حضرت سعیدبن جبیر سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں مصعب بن زبیر کے دورخلافت میں دریافت کیا گیاکہ کیا ان کے مابین تفریق کرائی گئی تھی؟ میری سمجھ میں اس وقت کچھ نہ آیا کہ کیا جواب دوں۔ میں مکہ میں عبداللہ بن عمر کی رہایش گاہ کی طرف گیا اور ان کے خادم (غلام) سے کہاکہ وہ ملاقات کی اجازت لے۔ اس نے جواب دیا کہ وہ تو اس وقت آرام فرمارہے ہیں۔ میری آواز عبداللہ بن عمر نے سن لی، فرمایا، ابنِ جبیر ہو؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں! ابن جبیر ہوں۔ فرمایا، اندر آجاؤ، بخدا!اس وقت تمہاری آمد ضرور کسی حاجت کی وجہ سے ہوگی۔ (اجازت ملنے پر) میں کمرے میں اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتاہوں کہ وہ کمبل بچھائے بیٹھے تھے ، کھجورکی چھال بھری ہوئی تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا ابو عبدالرحمن کیا لعان کرنے والے جوڑے کے مابین تفریق کرائی جا ئے گی؟ فرمایا،سبحان اللہ،ہاں! اس بارے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے پوچھا تھا کہ اے رسولِ خدا ﷺآپ کی کیا رائے اس بارے میں کہ ایک آدمی اپنی اہلیہ کو برا کام کراتے دیکھے تو وہ کیا کرے؟ اگر زبان سے کچھ بولے تو بری بات کرے گا اور اگر خاموش رہے تو ایسی بری اور ناگوار بات پر خاموش کیوںرہے، آپؐ یہ سن کر خاموش ہورہے،اور کوئی جواب نہیں دیا۔ دوبارہ پھر وہی شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جو بات میں نے آنجناب سے دریافت کی تھی اس میں تو میں خود مبتلا کیا گیا ہوں۔ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیات وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ۔۔۔ ــــــ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں۔۔۔ ۔ــــــ نازل فرمائیں۔ یہ آیات آپ نے اس مرد کو پڑھ کر سنائیں، اسے نصیحت کی، سمجھایااور باخبر کیا کہ دنیا کی سزا عذاب آخرت کے مقابلہ میں بہت ہلکی ہے۔ وہ بولا، نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق وصداقت کے ساتھ مبعوث فرمایاہے میں نے اپنی اہلیہ پر جھوٹ نہیں باندھا۔ پھر آپ نے اس عورت کوبلاکر سمجھایا، نصیحت فرمائی اور بتایا کہ دنیا کی سزا عذابِ آخرت کے مقابلہ میں بہت سہل اور ہلکی ہے، وہ بولی قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق وصداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا،وہ جھوٹ بولتاہے۔ تب آپ نے مرد سے آغاز کیا۔ اس نے چار مرتبہ اللہ کے نام کی شہادت دے کر کہاکہ وہ بالکل سچ بول رہاہے اور پانچویں مرتبہ کہاکہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹاہو۔ اس کے بعد عورت کی جانب آپ نے روئے سخن فرمایا۔ اس نے بھی چار مرتبہ اللہ کے نام کی شہادت دے کر کہاکہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہاکہ مجھ پر خدا کاغضب ٹوٹے اگر وہ سچ بولتاہو۔ اس پر آپ نے دونوںکے درمیان تفریق کرادی۔
(۴)حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُفَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیَ اللَّیْثُ عَنْ یَحْیٰ ابْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ ابْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّہٗ ذُکِرَالتَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ فِیْ ذٰلِکَ قَوْلاً ثُمَّ انْصَرَفَ فَاَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ یَشْکُوْ اِلَیْہِ اَنَّہٗ قَدْ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ: ابْتُلِیْتُ بِھٰذَا اِلاَّ لِقَوْلِیْ۔ فَذَھَبَ بِہٖ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَاَخْبَرَہٗ بِالَّذِیْ وَجَدَ عَلَیْہِ امْرَأَتَہٗ۔ وَکَانَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلَیْلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعْرِ۔وَکَانَ الَّذِیْ ادَّعٰی عَلَیْہِ اَنَّہٗ وَجَدَہٗ عِنْدَ اَھْلِہِ خَدِلاً اٰدَمَ کَثِیْرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَللّٰھُمَّ بَیِّنْ، فَجَائَ تْ شِبْھًا بِالرَّجُلِ الَّذِیْ ذَکَرَ زَوْجُھَا اَنَّہٗ وَجَدَہٗ فَلاَعَنَ النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَھُمَا قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَجْلِسِ ھِیَ الَّتِیْ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَوْ رَجَمْتُ اَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ رَجَمْتُ ھٰذِہِ، فَقَالَ:لاَتِلْکَ امْرَأَۃٌ کَانَتْ تُظْھِرُ فِی الْاِسْلاَمِ السُّوٓئَ۔(۴)
ـــــــ قَالَ اَبُوْصَالِحٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ خَدِلاً۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺکے پاس لعان کا ذکر کیا گیا۔ عاصم بن عدی نے اس کے متعلق کچھ بات کہی اور چلے گئے ۔ پھر ان کے پاس اس کے قبیلے کا ایک آدمی آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیرمرد کو پایاہے۔ عاصم نے کہا میں اپنے قول کی وجہ سے ہی اس میں مبتلا کیا گیاہوں چنانچہ عاصم اسے لے کر نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اس آدمی نے سارا واقعہ اپنی زبانی کہہ سنایا۔ اس آدمی نے حلیہ یہ بیان کیا کہ وہ شخص زرد رنگ کا دبلا پتلا، سیدھے بالوں والا تھا۔ اور مدعا علیہ پر گوشت پنڈلیوں والا، رنگ گندمی، موٹا تازہ تھا۔ یہ روداد سن کرنبی ﷺنے اللہ کے حضور استدعا کی، اے اللہ! اس واقعہ کی حقیقت واضح فرمادے۔ (دعا قبول ہوئی) اور اس عورت نے جو بچہ جنا وہ اس شخص کے مشابہ تھا جسے متہم کیا گیاتھا۔ تب نبی ﷺنے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ایک آدمی نے ابن عباس سے اسی مجلس میں سوال کیا کہ کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ اگر بغیر گواہوں کے میں کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو ضرور کرتا۔ ابنِ عباسؓ نے جواب دیا نہیں وہ عورت دوسری تھی جس نے اسلام میں برائی (زنا) کو رواجِ عام دیا۔
عویمر عجلانی کا مقدمہ
۱۰۶۔عویمر عجلانی کے مقدمے کی روداد سہل بن سعد ساعدی اور ابن عمرؓ سے بخاری ، مسلم، ابوداؤد، نسائی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ملتی ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ عویمر اور ان کی بیوی، دونوں مسجد نبوی میں بلائے گئے۔ ملاعنت سے پہلے حضورؐ نے ان کو بھی تنبیہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا ’’اللہ خوب جانتاہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا؟‘‘ جب کسی نے توبہ نہ کی تو دونوں میں ملاعنت کرائی گئی۔ اس کے بعد عویمر نے کہا ’’یارسول اللہ! اب اگر میں اس عورت کو رکھوں تو جھوٹا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے تین طلاقیں دے دیں بغیر اس کے کہ حضورؐنے ان کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہوتا۔ سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ان طلاقوں کو حضورؐ نے نافذ فرمادیا اور ان کے درمیان تفریق کرادی اور فرمایا کہ ’’یہ تفریق ہے ہرایسے جوڑے کے معاملے میں جو باہم لعان کرے۔‘‘ اور سنت یہ قائم ہوگئی کہ لعان کرنے والے زوجین کو جدا کردیا جائے، پھر وہ دونوں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ مگر ابن عمر صرف اتنا بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے ان کے درمیان تفریق کرادی۔ سہل بن سعدیہ بھی بیان کرتے ہیں کہ عورت حاملہ تھی اور عویمر نے کہاکہ یہ حمل میرانہیں ہے۔ اس بنا پر بچہ ماں کی طرف منسوب کیا گیا اور سنت یہ جاری ہوئی کہ اس طرح کا بچہ ماں سے میراث پائے گا اور ماں ہی اس سے میراث پائے گی۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ سَھْلَ ابْنَ سَعْدِ نالسَّاعِدِیَّ اَخْبَرَہٗ اَنَّ عُوَیْمِرًا الْعَجْلاَنِیَّ جَآئَ اِلٰی عَاصِمِ ابْنِ عَدِیِّ نِالْاَنْصَارِیِّ، فَقَالَ لَہٗ:یَاعَاصِمُ اَرَاَیْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً اَیَقْتُلُہٗ فَتَقْتُلُوْنَہٗ اَوْکَیْفَ یَفْعَلُ؟سَلْ لِیْ یَا عَاصِمُ عَنْ ذٰلِکَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذٰلِکَ، فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَسَائِلَ وَعَابَھَا حَتّٰی کَبُرَ عَلٰی عَاصِمٍ مَاسَمِعَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ اِلٰی اَھْلِہِ جَآئَ ہُ عُوَیْمِرٌ، فَقَالَ: یَاعَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَیْمِرٍ لَمْ تَاْتِنِیْ بِخَیْرٍ قَدْکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَسْئَلَۃَ الَّتِیْ سَاَلْتُہٗ عَنْھَا۔ فَقَالَ عُوَیْمِرٌ: وَاللّٰہِ لاَاَنْتَھِیْ حَتّٰی اَسْأَلَہٗ عَنْھَا۔ فَاَقْبَلَ عُوَیْمِرٌ حَتّٰی جَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَاَیْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً اَیَقْتُلُہٗ فَتَقْتُلُوْنَہٗ اَمْ کَیْفَ یَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ اُنْزِلَ فِیْکَ وَفِیْ صَاحِبَتِکَ فَاذْھَبْ فَاْتِ بِھَا۔ قَالَ سَھْلٌ: فَتَلاَعَنَا وَاَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِھِمَا، قَالَ عُوَیْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ اَمْسَکْتُھَا فَطَلَّقَھَا ثَلٰثًا قَبْلَ اَنْ یَاْمُرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: فَکَانَتْ سُنَّۃَ الْمُتَلاَعِنَیْنِ۔(۵)
ترجمہ : حضرت سھل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی عاصم ابن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا، اے عاصم !بتاؤ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیرمرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کرسکتاہے؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو تم اسے قاتل قرار دے کر قتل کردوگے، وہ بے چارہ کیا کرے؟ عاصم تم خود جاکر رسول اللہ ﷺسے میرے اس مسئلہ کا حل دریافت کرو۔ عاصم آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درپیش مسئلہ کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے بلاضرورت دریافت کیے جانے والے مسئلوں کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قراردیا۔ عاصم نے نبی ﷺکی جانب سے جو بات سنی اسے ناگوار محسوس کیا۔ پھر عاصم جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور عاصم سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺنے کیا جواب ارشاد فرمایا؟ عاصم نے جواباً کہا کہ تم کوئی اچھی چیز نہیں لائے۔ آنحضور ﷺنے اس استفسار پر ناگواری کا اظہار فرمایا، عویمر بولا اچھا قسم ہے خدائے پاک کی میں خود جب تک رسول اللہ ﷺسے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ نہ لوں باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ عویمر آگے بڑھے اور رسول ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگوں کے درمیان میں عرض کیا، اے رسول خدا! مجھے بتایئے کہ اگر کوئی شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ دوسرے غیرمرد کو پالے اور وہ اسے قتل کردے تو آپ اسے قتل کردیں گے وہ بے چارہ کرے تو کیا کرے؟ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا ،تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل ہوچکی ہے۔ جاؤ اپنی بیوی کو بھی لے آؤ۔ سہل کا بیان ہے کہ دونوں نے لعان کیا، میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺکے پاس موجود تھا۔ جب دونوں ملاعنت سے فارغ ہوگئے، تو عویمر نے کہا، اے رسول خدا ﷺ!اگر اب میں اسے پاس رکھتاہوں تو اس پر جھوٹ باندھنے والا قرارپاؤں گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺکے حکم جاری فرمانے سے پہلے ہی اس نے عورت کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ابن شہاب کا قول ہے کہ اب لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ ہے۔
(۲)حَدَّثَنَا یَحْیٰ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِی ابْنُ شِھَابٍ عَنِ الْمُلاَعَنَۃِ وَعَنِ السُّنَّۃِ فِیْھَا عَنْ حَدِیْثِ سَھْلِ ابْنِ سَعْدٍ اَخِیْ بَنِیْ سَاعِدَۃَ، اَنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ جَآئَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَأَیْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً اَیَقْتُلُہٗ اَوْکَیْفَ یَفْعَلُ؟ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْ شَاْنِہِ مَاذُکِرَ فِی الْقُرْاٰنِ مِنْ اَمْرِ التَّلاَعُنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ فَقَدْ قَضَی اللّٰہُ فِیْکَ وَفِی امْرَأَتِکَ، قَالَ:فَتَلاَعَنَا فِی الْمَسْجِدِ وَاَنَا شَاھِدٌ۔ فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ:کَذَبْتُ عَلَیْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ اَمْسَکْتُھَا فَطَلَّقَھَا ثَلاَثًا قَبْلَ اَنْ یَاْمُرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ فَفَارَقَھَا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: ذَاکَ تَفْرِیْقُ بَیْنَ کُلِّ مُتَلاَعِنَیْنِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ:قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: فَکَانَتِ السُّنَّۃُ بَعْدَھُمَا اَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ کُلِّ الْمُتَلاَعِنَیْنِ۔ وَکَانَتْ حَامِلاً وَکَانَ ابْنُھَا یُدْعیٰ لِاُمِّہِ، قَالَ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّۃُ فِیْ مِیْرَاثِھَا اَنَّھَا تَرِثُہٗ وَیَرِثُ مِنْھَا مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَھْلِ ابْنِ سَعْدِ نِالسَّاعِدِیِّ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:اِنْ جَآئَ تْ بِہِ اَحْمَرَ قَصِیْرًا کَاَنَّہٗ وَحَرَۃٌ فَلاَ اُرَاھَا اِلاَّ قَدْصَدَقَتْ وَکَذَبَ عَلَیْھَا وَاِنْ جَآئَ تْ بِہِ اَسْوَدَ اَعْیُنَ ذَا اَلْیَتَیْنِ فَلاَ اُرَاہُ اِلاَّ قَدْصَدَقَ عَلَیْھَا فَجَآئَ تْ بِہِ عَلَی الْمَکْرُوْہِ مِنْ ذٰلِکَ۔(۶)
ترجمہ : حضرت سہل بن سعد جوبنی سعد کے ایک فرد تھے، سے مروی ہے کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے رسول خدا ﷺ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو ملوث پالیتاہے توآیاوہ اسے قتل کرسکتاہے یا پھر وہ کیا کرے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں وہ حکم نازل فرمایا جو لعان کرنے والوں کے متعلق قرآن (کی سورہ نور) میں مذکور ہے۔ نبی ﷺنے فرمایا اللہ جل شانہ نے تیرے اور تیری اہلیہ کے متعلق حکم نازل فرمادیاہے۔ میرے سامنے انہوں نے مسجد میں لعان کیا۔ جب ملاعنت سے فارغ ہوئے تو مرد بولا کہ اگر میں اب اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تولوگوں کی نظروں میں جھوٹا قرار پاؤں گا۔ چنانچہ جیسے ہی دونوں لعان سے فارغ ہوئے اس نے نبیؐ کے حکم کا انتظار کیے بغیر پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں اور اس کو نبی ﷺکے روبرو جدا کردیا توآپؐ نے فرمایا ہرلعان کرنے والے کے درمیان علیحدگی وتفریق کی یہی صورت ہے۔ ابن جریج نے ابنِ شہاب کا قول نقل کیاہے کہ ان دونوں کے ملاعنت کرنے کی وجہ سے یہ طریقہ رائج ہوگیاکہ لعان کرنے والوں میں تفریق کرادی جائے۔ وہ عورت حمل سے تھی، پیدایش کے بعد بچہ ماں کے نام سے پکارا جاتاتھا۔ پھر ابنِ شہاب نے کہا کہ تقسیم وراثت میں بھی یہ طریقہ جاری ہوگیا کہ عورت بچے کی اور بچہ ماں کا وارث ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ضابطہ مقرر فرمایاہے۔ ابن جریج نے بواسطہ ابنِ شہاب بہ واسطہ سہل بن سعد ساعدی سے اس حدیث میں یہ بیان کیاہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ اگر عورت نے سرخ رنگ کا پست قامت (ٹھگنا) بچہ جنم دیا تو میںسمجھوں گا کہ وہ عورت سچی ہے اور وہ مرد جھوٹا ہے۔ اگر بڑی بڑی سیاہ آنکھوں، اور بڑے بڑے سرینوں والا بچہ جنم دیا تو پھر میں سمجھوں گا کہ مرد سچا ہے اس کے بعد اس نے مکروہ اور ناپسندیدہ صورت بچہ کو جنم دیا۔
ان دومقدموںکے علاوہ متعدد روایات ہم کو کتب حدیث میں ایسی بھی ملتی ہیں جن میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ کن اشخاص کے مقدموں کی ہیں۔ ہوسکتاہے کہ ان میں بعض انہی دونوں مقدموں سے تعلق رکھتی ہوں، مگر بعض میں کچھ دوسرے مقدمات کا بھی ذکر ہے اور ان سے قانونِ لعان کے بعض اہم نکات پر روشنی پڑتی ہے۔
۱۰۷۔ابن عمر ایک مقدمے کی روداد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زوجین جب لعان کرچکے تو نبی ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کردی۔ (بخاری، مسلم، نسائی، احمد، ابن جریر)
تخریج(۱)عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ اَبِی الْمَغْرَائِ، ثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ،قَالَ:الْمُتَلاَعِنَانِ اِذَا تَفَرَّقَا لاَیَجْتَمِعَانِ اَبَدًا۔ قَالَ ’’صاحب التنقیح‘‘ اِسْنَادُہٗ جَیِّدٌ۔(۷)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لعان کرنے والے زوجین جب جدا ہوجائیں تو پھر کبھی باہم جمع نہیں ہوسکتے (یعنی ان کا دوبارہ نکاح پھر کبھی نہیں ہوسکتا)۔
حضرت ابن عمر ؓسے منقول ہے:
(۲)اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ قَالَ فِی الْمُتَلاَعِنَیْنِ اِذَا تَلاَعَنَا، قَالَ: یُفَرَّقُ بَیْنَھُمَا وَلاَیَجْتَمِعَانِ اَبَدًا۔(۸)
ترجمہ : حضرت عمرؓ نے لعان کرنے والے زوجین کے متعلق فرمایا کہ جب میاں بیوی لعان کرلیں تو ان کو جدا کردیا جائے گا اور پھر وہ کبھی باہم جمع نہیں ہوسکتے۔
(۳)حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَنَسُ ابْنُ عِیَاضٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ ابْنَ عُمَرَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَرَّقَ بَیْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِہِ قَذَفَھَا وَاَحْلَفَھَا۔
ترجمہ : عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرد اور عورت کے درمیان تفریق کرادی۔ اس مرد نے عورت پر تہمت زنا لگائی تھی۔ اس عورت سے قسم اٹھوائی۔
(۴)حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، لاَعَنَ النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِہٖ مِنَ الْاَنْصَارِ وَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا۔(۹)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے ایک مرد اور عورت کے درمیان ملاعنت کرائی اور پھر دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔
۱۰۸۔ ابن عمر کی ایک اور روایت ہے کہ ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا گیا۔ پھراس نے حمل سے انکار کیا۔ نبی ﷺنے ان کے درمیان تفریق کردی اور فیصلہ فرمایا کہ بچہ صرف ماں کا ہوگا (صحاح ستہ اور احمد)۔ ابن عمر ہی کی ایک اور روایت ہے کہ ملاعنت کے بعد حضورؐ نے فرمایا ’’تمہارا حساب اب اللہ کے ذمہ ہے، تم میں سے ایک بہر حال جھوٹا ہے۔‘‘ پھر آپ نے مرد سے فرمایا لاَسَبِیْلَ لَکَ عَلَیْھَا۔ ’’اب یہ تیری نہیں رہی۔ نہ تو اس پر کوئی حق جتاسکتاہے، نہ کسی قسم کی دست درازی یا دوسری منتقمانہ حرکت اس کے خلاف کرنے کا مجاز ہے۔‘‘ مرد نے کہا یا رسول اللہ اور میرا مال ( وہ مہر تو مجھے دلوایئے جو میںنے اسے دیا تھا)، فرمایا لاَمَالَ لَکَ اِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ عَلَیْھَا فَھُوَ بِمَا اِسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِھَا وَاِنْ کُنْتَ کَذَبْتَ عَلَیْھَا فَذَاکَ اَبْعَدُ وَاَبْعَدُ لَکَ مِنْھَا’’یعنی مال واپس لینے کا تجھے کوئی حق نہیں ہے، اگر تو نے اس پر سچا الزام لگایاہے تو وہ مال اس لذت کا بدل ہے جو تونے حلا ل کرکے اس سے اٹھائی، اور اگر تو نے اس پر جھوٹا الزام لگایاہے تو مال تجھ سے اور بھی زیادہ دور چلاگیا، وہ اس کی بہ نسبت تجھ سے زیادہ دور ہے‘‘۔ ( بخاری، مسلم، ابوداؤد)
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَہٗ فَقَالَ:فَرَّقَ النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَ اَخَوَی بَنِی الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ:اَللّٰہُ یَعْلَمُ اَنَّ اَحَدَکُمَا کَاذِبٌ، فَھَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ فَاَبَیَا، وَقَالَ:اللّٰہُ یَعْلَمُ اَنَّ اَحَدَکُمَا کَاذِبٌ، فَھَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ فَاَبَیَا، فَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا۔ قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: مَالِیْ، قِیْلَ:لاَمَالَ لَکَ، اِنْ کُنْتَ صَادِقًا، فَقَدْ دَخَلْتَ بِھَا وَاِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَھُوَ اَبَعَدُ مِنْکَ۔(۱۰)
ترجمہ : سعید بن جبیر سے روایت ہے انہوں نے بتایاکہ میں نے ابن عمرؓ سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺنے بنی عجلان کے میاں بیوی کو جدا کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتاہے کہ تم دونوں میں سے ایک یقینا جھوٹاہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا؟ تو دونوں نے انکار کیا، آپ نے پھر فرمایا کہ اللہ کو خوب علم ہے کہ تم میں سے کوئی ایک یقینا جھوٹا ہے، تو پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتاہے؟ تو دونوں نے پھر انکار کردیا، تو آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔ راوی کا بیان ہے کہ اس آدمی نے کہا، میرا مال؟ آپ نے فرمایا کہ تجھے مال نہیں ملے گااس لیے کہ اگر تو سچا ہے تو اس سے صحبت کرچکا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو مال تجھ سے اور بھی دور چلاگیا۔
(۲)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لِلْمُتَلاَعِنَیْنِ حِسَابُکُمَا عَلَی اللّٰہِ، اَحَدُکُمَا کَاذِبٌ لاَسَبِیْلَ لَکَ عَلَیْھَا، قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالِیْ؟ قَالَ:لاَمَالَ لَکَ، اِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ عَلَیْھَا فَھُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِھَا، وَاِنْ کُنْتَ کَذَبْتَ عَلَیْھَا فَذَاکَ اَبْعَدُ وَاَبْعَدُ لَکَ مِنْھَا۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ دونوں میں سے ایک تو لازماً جھوٹا ہے اب یہ تیری نہیں رہی، نہ تو اس پر حق جتاسکتاہے۔ مرد نے کہا یا رسول اللہ مہر تو دلوادیجیے جو میں نے اسے دیا تھا۔ فرمایا مال واپس لینے کا تجھے کوئی حق نہیں اگر تونے اس پر سچا الزام لگایاہے تو وہ مال اس لذت کا بدلہ ہے جو تونے حلال کرکے اس سے اٹھائی ہے اور اگر تونے اس پر جھوٹا الزام لگایاہے تو مال تجھ سے اور بھی دور چلاگیا وہ اس کی بہ نسبت تجھ سے زیادہ دور ہے۔
(۳)حَدَّثَنَا یَحْیٰی بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مَالِکٌ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لاَعَنَ بَیْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِہِ فَانْتَفٰی مِنْ وَلَدِھَا فَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا وَاَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَۃِ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرد اور عورت کے درمیان ملاعنت کرائی۔ اس نے بچے کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کردیاتھا۔ آپ نے دونوں کے درمیان تفریق کرادی اور بچہ ماں کو دے دیا۔
۱۰۹۔ دارقطنی نے علی بن ابی طالب اور ابن مسعودؓکا قول نقل کیاہے:’’سنت یہ مقرر ہوچکی ہے کہ لعان کرنے والے زوجین پھر کبھی باہم جمع نہیں ہوسکتے‘‘ (یعنی ان کا دوبارہ نکاح پھر کبھی نہیں ہوسکتا) اور دارقطنی ہی حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خودفرمایاہے کہ یہ دونوں پھر کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ:۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْن السَّرْحِ ثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، عَنْ عَیَّاضِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْفِھْرِیِّ وَغَیْرِہِ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَطَلَّقَھَا ثَلاَثَ تَطْلِیْقَاتٍ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَنْفَذَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَکَانَ مَاصُنِعَ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ سُنَّۃً، قَالَ سَھْلٌ:حَضَرْتُ ھٰذَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَمَضَتِ السُّنَّۃُ بَعْدُ فِی الْمُتَلاَعِنَیْنِ اَنْ یُّفَرَّقَ بَیْنَھُمَا ثُمَّ لاَیَجْتَمِعَانِ اَبَدًا۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے نافذ فرمادیں۔ نبی ﷺ کے پاس جو کچھ کیا گیا ہو وہ سنت قرار پاتاہے۔ سھل کا قول ہے کہ میں نے یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوکر کیا اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان یہ سنت جاری ہوگئی کہ جو زوجین لعان کے ذریعہ جدا ہوں وہ پھر کبھی بھی باہم جمع نہیں ہوسکتے۔
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍ النِّیْسَابُوْرِیُّ، نَایُوْسُفُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ مُسْلِمٍ، نَاالْھَیْثَمُ ابْنُ جَمِیْلٍ، نَاقَیْسُ بْنُ الرَّبِیْعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ وَقَیْسٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زَرٍّ، عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللّٰہِ، قَالاَ: مَضَتِ السُّنَّۃُ فِی الْمُتَلاَعِنَیْنِ اَنْ لاَّیَجْتَمِعَانِ اَبَدًا۔(۱۴)
دیگر چند مقدمات
۱۱۰۔ قبیصہ بن ذویب کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے حمل کو ناجائز قراردیا، پھر اعتراف کرلیا کہ یہ حمل اس کا اپنا ہے، پھر وضع حمل کے بعد کہنے لگا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے۔ معاملہ حضرت عمر ؓکی عدالت میں پیش ہوا۔ آپ نے اس پر حدِّ قذف جاری کی اور فیصلہ کیا کہ بچہ اسی کی طرف منسوب ہوگا۔ (دارقطنی، بیہقی)
تخریج: نَااَبُوْمُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، نَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالْحَکَمِ، نَاقُدَامَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَامَخْرَمَۃُ ابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ سَمِعْتُ مَحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِھَابٍ یَزْعُمُ اَنَّ قَبِیْصَۃَ بْنَ ذُؤیبٍ کَانَ یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہٗ جَلَدَ رَجُلاً مِائَۃَ جَلْدَۃٍ وَقَعَ عَلٰی وَلِیْدَۃٍ لَہٗ وَلَمْ یُطَلِّقْھَا الْعَبْدُ کَانَتْ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَقَضٰی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ فِیْ رَجُلٍ اَنْکَرَ وَلَدًا مِنْ امْرَأَۃٍ وَھُوَفِیْ بَطْنِھَا، ثُمَّ اعْتَرَفَ بِہِ وَھُوَ فِی بَطْنِھَا حَتّٰی اِذَا وَلَدَ اَنْکَرَہٗ فَاَمَرَ بِہِ عُمَرُ فَجَلَدَ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً لِفِرْیَتِہٖ عَلَیْھَا ثُمَّ اَلْحَقَ بِہِ وَلَدَھَا۔(۱۵)
۱۱۱۔ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا، میری ایک بیوی ہے جو مجھے بہت محبوب ہے۔ مگر اس کا حال یہ ہے کہ کسی ہاتھ لگانے والے کاہاتھ نہیں جھٹکتی (واضح رہے کہ یہ کنایہ تھا جس کے معنی زناکے بھی ہوسکتے ہیں اور زنا سے کم تردرجے کی اخلاقی کمزوری کے بھی) نبی ﷺنے فرمایا طلاق دے دے۔ اس نے کہا مگر میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ فرمایا تو اسے رکھے رہ۔ یعنی آپ نے اس سے اس کنایے کی تشریح نہیں کرائی اور اس کے قول کو الزام زنا پر محمول کرکے لعان کا حکم نہیں دیا۔ (نسائی)
تخریج:(۱)اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَۃَ وَغَیْرُہٗ عَنْ ھَارُوْنَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ وَعَبْدِالْکَرِیْمِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَبْدُالْکَرِیْمِ یَرْفَعُہٗ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَھَارُوْنُ لَمْ یَرْفَعْہُ، قَالاَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:اِنَّ عِنْدِیْ امْرَأَۃً ھِیَ مِنْ اَحَبِّ النَّاسِ اِلَیَّ وَھِیَ لاَتَمْنَعُ یَدَ لاَمِسٍ، قَالَ: طَلِّقْھَا، قَالَ:لاَاَصْبِرُ عَنْھَا، قَالَ:اسْتَمْتِعْ بِھَا قَالَ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ: ھٰذَا الْحَدِیْثُ لَیْسَ بِثَابِتٍ، وَعَبْدُالْکَرِیْمِ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ، وَھَارُوْنُ بْنُ رِئَابٍ اَثْبَتُ مِنْہُ وَاَرْسَلَ الْحَدِیْثَ۔ وَھَارُوْنُ ثِقَۃٌ، وَحَدِیْثُہٗ اَوْلٰی بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِیْثِ عَبْدِالْکَرِیْمِ۔(۱۶)
ابوداؤد نے ابن عباس سے مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کیاہے:
(۲)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ :جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنَّ امْرَأَتِیْ لاَتَمْنَعُ یَدَلاَمِسٍ، قَالَ:غَرِّبْھَا، قَالَ: اَخَافُ اَنْ تَتْبَعَھَا نَفْسِیْ، قَالَ: فَاسْتَمْتِعْ بِھَا۔(۱۷)
(۳)حَدَّثَنَا مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْعَوَانَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِکِ عَنْ وَرَّادٍ کَاتِبِ الْمُغِیْرَۃَ، عَنِ الْمُغِیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ سَعْدُ ابْنُ عُبَادَۃَ: لَوْ رَأَیْتُ رَجُلاً مَعَ امْرَأَتِیْ لَضَرَبْتُہٗ بِالسَّیْفِ غَیْرَمُصْفِحٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:أَتَعْجَبُوْنَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ؟ لَاَنَا اَغْیَرُ مِنْہُ وَاللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ۔(۱۸)
مسلم میں مندرجہ ذیل الفاظ سے مروی ہے :
(۴)قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْوَجَدْتُّ مَعَ اَھْلِیْ رَجُلاً لَمْ اَمَسَّہٗ حَتّٰی اٰتِی بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَائَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: نَعَمْ، قَالَ:کَلاَّ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِنْ کُنْتُ لَاُعَاجِلُہٗ بِالسَّیْفِ قَبْلَ ذٰلِکَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِسْمَعُوْا اِلٰی مَایَقُوْلُ سَیِّدُکُمْ اَنَّہٗ لَغَیُوْرٌ وَاَنَا اَغْیَرُمِنْہُ وَاللّٰہُ اَغْیَرُمِنِّیْ۔(۱۹)
۱۱۲۔ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے حاضر ہوکر عرض کیامیری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ میرا ہے (یعنی محض لڑکے کے رنگ نے اسے شبہ میں ڈالا تھا ور نہ بیوی پر زنا کا الزام لگانے کے لیے اس کے پاس کوئی اور وجہ نہ تھی)۔ آپ نے پوچھا تیرے پاس کچھ اونٹ توہوں گے۔ اس نے عرض کیا ہاں! آپ نے پوچھا ان کے رنگ کیا ہیں؟ کہنے لگا سرخ۔ آپ نے پوچھا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ کہنے لگا جی ہاں، بعض ایسے بھی ہیں۔ آپ نے پوچھایہ رنگ کہاں سے آیا؟ کہنے لگا شاید کوئی رگ کھینچ لے گئی(یعنی ان کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہوگا اور اسی کا اثر ان میں آگیا)۔ فرمایا ’’شاید اس بچے کو بھی کوئی رگ کھینچ لے گئی‘‘ اور آپ نے اسے نفی ولد (بچے کے نسب سے انکار) کی اجازت نہ دی۔ (بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ قَزَعَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وُلِدَ لِیْ غُلاَمٌ اَسْوَدُ، فَقَالَ: ھَلْ لَّکَ مِنْ اِبِلٍ؟قَالَ:نَعَمْ، قَالَ:مَا اَلْوَانُھَا؟قَالَ:حُمُرٌ، قَالَ: ھَلْ فِیْھَا مِنْ اَوْرَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاَنّٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ: لَعَلَّ نَزَعَہٗ عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ ابْنَکَ ھٰذَا نَزَعَہٗ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول ؐ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے جس کا رنگ کالاہے۔ آپؐ نے اس شخص سے دریافت فرمایا کہ کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا ہاں، آپؐ نے پھر اس سے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں؟ وہ بولا سرخ رنگ، آپؐ نے اس سے پھر دریافت فرمایا، کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ والا بھی ہے؟ وہ بولا، جی ہاں، آپؐ نے پھر دریافت فرمایا تو وہ کہاں سے آگیا؟ اس نے عرض کیا شاید اسے کوئی رگ کھینچ لائی ہوگی۔ ( ان کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہوگا اور اسی کا اثر ان میں آگیا) فرمایا شاید تیرے اس بچہ کو بھی کوئی رگ کھینچ لے گئی۔
۱۱۳۔ابوہریرہؓ کی ایک اور روایت ہے کہ نبی ﷺ نے آیت لعان پر کلام کرتے ہوئے فرمایا’’جو عورت کسی خاندان میں ایسا بچہ گھسالائے جو اس خاندان کا نہیں ہے (یعنی حرام کا پیٹ رکھوا کرشوہر کے سرمنڈھ دے) اُس کا اللہ سے کچھ واسطہ نہیں، اللہ اس کو جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا۔ اور جو مرد اپنے بچے کے نسب سے انکار کرے حالانکہ بچہ اس کو دیکھ رہاہو، اللہ قیامت کے روز اس سے پردہ کرے گا اور اسے تمام اگلی پچھلی خلق کے سامنے رسوا کردے گا۔ (ابوداؤد، نسائی، دارمی)
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرٌو۔ یعنی ابْنُ الْحَرِثِ، عَنِ ابْنِ الْھَادِ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ یُوْنُسَ، عَنْ سَعِیْدِ نِالْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ حِیْنَ نَزَلَتْ آیَۃُ الْمُتَلاَعِنَیْنِ، اَیُّمَا امْرَأَۃٍ اَدْخَلَتْ عَلٰی قَوْمٍ مَنْ لَیْسَ مِنْھُمْ فَلَیْسَتْ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیئٍ، وَلَنْ یُدْخِلَھَا اللّٰہُ جَنَّتَہٗ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَہٗ وَھُوَ یَنْظُرُ اِلَیْہِ، احْتَجَبَ اللّٰہُ مِنْہُ، وَفَضَحَہٗ عَلٰی رُؤُسِ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ۔(۲۱)
ضابطۂ لعان کی اہم دفعات
آیت لعان اور یہ روایات ونظائر اور شریعت کے اصولِ عامہ اسلام میں قانون لعان کے وہ مآخذ ہیں جن کی روشنی میں فقہاء نے لعان کا مفصل ضابطہ بنایاہے۔ اس ضابطے کی اہم دفعات یہ ہیں:
۱۔ جو شخص بیوی کی بدکاری دیکھے اور لعان کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے قتل کا مرتکب ہوجائے اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ایک گروہ کہتاہے کہ اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ اس کو بطور خود حد جاری کرنے کا حق نہ تھا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے فعل پر کوئی مواخذہ ہوگا بشرطیکہ اس کی صداقت ثابت ہوجائے (یہ کہ فی الواقع اس نے زناہی کے ارتکاب پر یہ فعل کیا)۔ امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اُسے اس امر کے دوگواہ لانے ہوں گے کہ قتل کا سبب یہی تھا۔ مالکیہ میں سے ابن القاسم اور ابن حبیب اس پر مزید شرط یہ لگاتے ہیں کہ زانی جسے قتل کیا گیا وہ شادی شدہ ہو، ورنہ کنوارے زانی کو قتل کرنے پر اس سے قصاص لیا جائے گا۔ مگر جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ اس کو قصاص سے صرف اُس صورت میں معاف کیا جائے گا جب کہ وہ زنا کے چار گواہ پیش کرے، یا مقتول مرنے سے پہلے خود اس امر کا اعتراف کرچکاہو کہ وہ اس کی بیوی سے زنا کررہاتھا، اور مزید یہ کہ مقتول شادی شدہ ہو۔ (نیل الاوطار ، ج۶، ص ۲۲۸)
۲۔ لِعان گھر بیٹھے آپس ہی میں نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے عدالت میں جانا ضروری ہے۔
۳۔ لِعان کے مطالبے کا حق صرف مرد ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ عورت بھی عدالت میں اس کا مطالبہ کرسکتی ہے جب کہ شوہر اُس پر بدکاری کا الزام لگائے یا اس کے بچے کا نسب تسلیم کرنے سے انکار کرے۔
۴۔ کیا لِعان ہرزوج اور زوجہ کے درمیان ہوسکتاہے یا اس کے لیے دونوں میں کچھ شرائط ہیں؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتاہے۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ جس کی قسم قانونی حیثیت سے معتبر ہوا ور جس کو طلاق دینے کا اختیار ہو وہ لعان کرسکتاہے۔ گویا ان کے نزدیک صرف عاقِل اوربالغ ہونا اہلیتِ لعان کے لیے کافی ہے خواہ زوجین مسلم ہوں یاکافر، غلام ہوں یا آزاد، مقبول الشہادت ہوں یانہ ہوں، اور مسلم شوہر کی بیوی مسلمان ہو یا ذمی۔ قریب قریب یہی رائے امام مالک اور امام احمد کی بھی ہے۔ مگر حنفیہ کہتے ہیں کہ لعان صرف ایسے آزاد مسلمان زوجین ہی میں ہوسکتاہے جو قذف کے جرم میں سزا یافتہ نہ ہوں۔ اگر عورت اور مرد دونوں کافر ہوں، یا غلام ہوں، یا قذف کے جرم میں پہلے کے سزا یافتہ ہوں تو ان کے درمیان لعان نہیں ہوسکتا۔ مزید برآں اگر عورت کبھی اس سے پہلے حرام یا مشتبہ طریقے پر کسی مرد سے ملوث ہوچکی ہو تب بھی لعان درست نہ ہوگا۔ یہ شرطیں حنفیہ نے اس بنا پر لگائی ہیں کہ ان کے نزدیک لعان کے قانون اور قذف کے قانون میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ غیرآدمی اگر قذف کا مرتکب ہوتو اس کے لیے حد ہے اور شوہر اس کا ارتکاب کرے تو وہ لعان کرکے چھوٹ سکتاہے۔ باقی تمام حیثیتوں سے لعان اور قذف ایک ہی چیز ہے۔ علاوہ بریں حنفیہ کے نزدیک چونکہ لعان کی قسمیں شہادت کی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے وہ کسی ایسے شخص کو اس کی اجازت نہیں دیتے جو شہادت کا اہل نہ ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے میں حنفیہ کا مسلک کمزور ہے اور صحیح بات وہی ہے جوامام شافعی نے فرمائی ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ قرآن نے قذف زوجہ کے مسئلے کو آیت قذف کا ایک جز نہیں بنایاہے بلکہ اس کے لیے الگ قانون بیان کیاہے، اس لیے اس کو قانونِ قذف کے ضمن میں لاکر وہ تمام شرائط اس میں شامل نہیں کی جاسکتیں جو قذف کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ آیت لعان کے الفاظ آیت قذف کے الفاظ سے مختلف ہیں اور دونوں الگ الگ حکم ہیں، اس لیے لعان کا قانون آیت لعان ہی سے اخذ کرناچاہئے نہ کہ آیت قذف سے۔ مثلاً آیت قذف میں سزا کا مستحق وہ شخص ہے جو پاک دامن عورتوں (محصنات) پر الزام لگائے۔ لیکن آیت ِ لعان میں پاک دامن بیوی کی شرط کہیں نہیں ہے۔ ایک عورت چاہے کبھی گناہ گار بھی رہی ہو، اگر بعد میں وہ توبہ کرکے کسی شخص سے نکاح کرلے اور پھر اس کا شوہر اس پر ناحق الزام لگائے تو آیت لعان یہ نہیں کہتی کہ اس عورت پر تہمت رکھنے کی یا اس کی اولاد کے نسب سے انکار کردینے کی شوہر کو کھلی چھٹی دے دو کیونکہ اس کی زندگی کبھی داغ دار رہ چکی ہے۔ دوسری اور اتنی ہی اہم وجہ یہ ہے کہ قذف زوجہ اور قذفِ اجنبیہ میں زمین وآسمان کا فرق ہے، ان دونوں کے بارے میں قانون کا مزاج ایک نہیں ہوسکتا۔ غیر عورت سے آدمی کا کوئی واسطہ نہیں۔ نہ جذبات کا، نہ عزت کا، نہ معاشرت کا، نہ حقوق کا، اور نہ نسل ونسب کا۔ اُس کے چال چلن سے اگر ایک آدمی کو کوئی بڑی سے بڑی باوقعت دلچسپی ہوسکتی ہے تو بس یہ کہ معاشرے کو بداخلاقی سے پاک دیکھنے کا جوش اسے لاحق ہو۔ اس کے برعکس اپنی بیوی سے آدمی کا تعلق ایک طرح کا نہیں کئی طرح کا ہے اور بہت گہرا ہے۔ وہ اس کے نسب اور اس کے مال اور اس کے گھر کی امانت دار ہے۔ اس کی زندگی کی شریک ہے۔ اس کے رازوں کی امین ہے۔ اس کے نہایت گہرے اور نازک جذبات اس سے وابستہ ہیں۔ اُس کی بدچلنی سے آدمی کی غیرت اور عزت پر، اُس کے مفاد پر، اور اس کی آیندہ نسل پر سخت چوٹ لگتی ہے۔ یہ دونوں معاملے آخر ایک کس حیثیت سے ہیں کہ دونوں کے لیے قانون کا مزاج ایک ہی ہو۔ کیا ایک ذمی، یا ایک غلام، یا ایک سزا یافتہ آدمی کے لیے اُس کی بیوی کا معاملہ کسی آزاد اہل شہادت مسلمان کے معاملے سے کچھ بھی مختلف یا اہمیت اور نتائج میں کچھ بھی کم ہے؟ اگر وہ اپنی آنکھوں سے کسی کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث دیکھ لے، یا اس کو یقین ہو کہ اس کی بیوی غیر سے حاملہ ہے تو کون سی معقول وجہ ہے کہ اسے لعان کا حق نہ دیا جائے؟ اور یہ حق اس سے سلب کرنے کے بعد ہمارے قانون میں اس کے لیے اور کیا چارہ کار ہے؟ قرآن مجید کا منشا تو صاف یہ معلوم ہوتاہے کہ وہ شادی شدہ جوڑوں کو اس پیچیدگی سے نکالنے کی ایک صورت پیدا کرنا چاہتاہے جس میں بیوی کی حقیقی بدکاری یا ناجائز حمل سے ایک شوہر، اور شوہر کے جھوٹے الزام یا اولاد کے نسب سے بے جاانکار کی بدولت ایک بیوی مبتلا ہوجائے۔ یہ ضرورت صرف اہل شہادت آزاد مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں ہے، اور قرآن کے الفاظ میں بھی کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جو اس کو صرف انہی تک محدود کرنے والی ہو۔ رہا یہ استدلال کہ قرآن نے لعان کی قسموں کو شہادت قراردیا ہے اس لیے شہادت کی شرائط یہاں عائد ہوں گی، تو اس کا تقاضا پھر یہ ہے کہ اگر عادل مقبول الشہادت شوہر قسمیں کھالے اور عورت قسم کھانے سے پہلوتہی کرے تو عورت کو رجم کردیا جائے، کیونکہ اس کی بدکاری پر شہادت قائم ہوچکی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس صورت میں حنفیہ رجم کا حکم نہیں لگاتے۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ خود بھی ان قسموں کو بعینہ شہادت کی حیثیت نہیں دیتے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ خود قرآن بھی ان قسموں کو شہادت کے لفظ سے تعبیر کرنے کے باوجود شہادت نہیں قراردیتا ورنہ عورت کو چارکے بجائے آٹھ قسمیں کھانے کا حکم دیتا۔
۵۔ لِعان محض کنایے اور استعارے یا اظہار شک وشبہ پر لازم نہیں آتا، بلکہ صرف اس صورت میں لازم آتاہے جب کہ شوہر صریح طورپر زنا کا الزام عائد کرے یا صاف الفاظ میں بچے کو اپنا بچہ تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ امام مالک اور لیث بن سعد اس پر یہ مزید شرط بڑھاتے ہیں کہ قسم کھاتے وقت شوہر کو یہ کہنا چاہیے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے بیوی کو زنا میں مبتلا دیکھا ہے۔ لیکن یہ قید بے بنیاد ہے۔ اس کی کوئی اصل نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں۔
۶۔اگر الزام لگانے کے بعد شوہر قسم کھانے سے پہلو تہی کرے تو امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ اسے قید کردیا جائے گا اور جب تک وہ لعان نہ کرے یا اپنے الزام کا جھوٹا ہونا نہ مان لے، اسے نہ چھوڑا جائے گا، اور جھوٹ مان لینے کی صورت میں اس کو حدِّ قذف لگائی جائے گی۔ اس کے برعکس امام مالک، شافعی، حسن بن صالح اور لیث بن سعد کی رائے یہ ہے کہ لعان سے پہلوتہی کرنا خود ہی اقرار کذب ہے اس لیے حدِّ قذف واجب آجاتی ہے۔
۷۔ اگر شوہرکے قسم کھاچکنے کے بعد عورت لعان سے پہلوتہی کرے تو حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ اسے قید کردیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک وہ لعان نہ کرے، یا پھر زنا کا اقرار نہ کرلے۔ دوسری طرف مذکورہ بالاائمہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں اسے رجم کردیا جائے گا۔ ان کا استدلال قرآن کے اس ارشاد سے ہے کہ عورت سے عذاب صرف اس صورت میں دفع ہوگا جب کہ وہ بھی قسم کھالے۔ اب چونکہ وہ قسم نہیں کھاتی اس لیے لامحالہ وہ عذاب کی مستحق ہے۔ لیکن اس دلیل میں کمزوری یہ ہے کہ قرآن یہاں ’’عذاب‘‘ کی نوعیت تجویز نہیں کرتا بلکہ مطلقاً سزا کا ذکر کرتاہے۔ اگر کہا جائے کہ سزا سے مراد یہاں زنا ہی کی سزا ہوسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کی سزا کے لیے قرآن نے صاف الفاظ میں چار گواہوں کی شرط لگائی ہے۔ اس شرط کو محض ایک شخص کی چار قسمیں پورا نہیں کردیتیں۔ شوہر کی قسمیں اس بات کے لیے توکافی ہیں کہ وہ خود قذف کی سزا سے بچ جائے اور عورت پر لعان کے احکام مترتب ہوسکیں، مگر اس بات کے لیے کافی نہیں ہیں کہ ان سے عورت پر زنا کا الزام ثابت ہوجائے۔ عورت کا جوابی قسمیں کھانے سے انکار شبہ ضرور پیدا کرتاہے اور بڑا قوی شبہ پیدا کردیتاہے، لیکن شبہات پر حدود جاری نہیں کی جاسکتیں۔ اس معاملہ کو مرد کی حدِّ قذف پر قیاس نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا قذف توثابت ہے، جبھی تو اس کو لعان پر مجبور کیا جاتاہے۔ مگر اس کے برعکس عورت پر زنا کا الزام ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ اُس کے اپنے اقراریا چار عینی شہادتوں کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔
۸۔ اگر لعان کے وقت عورت حاملہ ہو تو امام احمد کے نزدیک لعان بجائے خود اس بات کے لیے کافی ہے کہ مرد اس حمل سے بری الذمہ ہوجائے اور بچہ اُس کا قرارنہ پائے قطع نظر اس سے کہ مرد نے حمل کو قبول کرنے سے انکار کیا ہویا نہ کیا ہو۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ مرد کا الزام زنا اور نفی حمل دونوں ایک چیز نہیں ہیں، اس لیے مرد جب تک حمل کی ذمہ داری قبول کرنے سے صریح طورپر انکار نہ کرے وہ الزام زنا کے باوجود اسی کاقرارپائے گا کیونکہ عورت کے زانیہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ اس کو حمل بھی زنا ہی کاہو۔
۹۔ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ دوران حمل میں مرد کو نفی حمل کی اجازت دیتے ہیں اور اس بنیاد پر لعان کو جائز رکھتے ہیں۔ مگر امام ابوحنیفہ ؒکہتے ہیں کہ اگر مرد کے الزام کی بنیاد زنا نہ ہو بلکہ صرف یہ ہو کہ اس نے عورت کوایسی حالت میں حاملہ پایاہے جب کہ اس کے خیال میں حمل اس کا نہیں ہوسکتا تو اس صورت میں لعان کے معاملے کو وضع حمل تک ملتوی کردینا چاہیے، کیونکہ بسا اوقات کوئی بیماری حمل کا شبہ پیدا کردیتی ہے اور درحقیقت حمل ہوتا نہیں ہے۔
۱۰۔ اگر باپ بچے کے نسب سے انکار کرے تو بالاتفاق لِعان لازم آتاہے۔ اور اس امر میں بھی اتفاق ہے کہ ایک دفعہ بچے کو قبول کرلینے کے بعد (خواہ یہ قبول کرلینا صریح الفاظ میں ہو یا قبولیت پر دلالت کرنے والے افعال، مثلاً پیدایش پر مبارک باد لینے یا بچے کے ساتھ پدرانہ شفقت برتنے اور اس کی پرورش سے دلچسپی لینے کی صورت میں) پھر باپ کو انکار نسب کا حق نہیں رہتا، اور اگر کرے تو حد قذف کا مستحق ہوجاتاہے۔ مگر اس امر میں اختلاف ہے کہ باپ کو کس وقت تک انکارِ نسب کا حق حاصل ہے۔ امام مالک کے نزدیک اگر شوہر اُس زمانے میں گھر پر موجود رہاہے، جب کہ بیوی حاملہ تھی تو زمانہ حمل سے لے کر وضع حمل تک اس کے لیے انکار کا موقع ہے، اس کے بعد وہ انکار کا حق نہیں رکھتا۔ البتہ اگر وہ غائب تھا اور اس کے پیچھے ولادت ہوئی تو جس وقت اسے علم ہو وہ انکار کرسکتاہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگر پیدایش کے بعد ایک دوروز کے اندر وہ انکار کرے تو لعان کرکے وہ بچے کی ذمہ داری سے بری ہوجائے گا، لیکن اگر سال دوسال بعد انکار کرے تو لعان ہوگا مگر وہ بچے کی ذمہ داری سے بری نہ ہوسکے گا۔ امام ابویوسف کے نزدیک ولادت کے بعد، یا ولادت کا علم ہونے کے بعد چایس دن کے اندر اندر باپ کو انکار نسب کا حق ہے، اس کے بعد یہ حق ساقط ہوجائے گا۔ مگر یہ چالیس دن کی قید بے معنی ہے۔ صحیح بات وہی ہے جو امام ابوحنیفہ نے فرمائی ہے کہ ولادت کے بعد یا اس کا علم ہونے کے بعد ایک دوروز کے اندر ہی انکار نسب کیا جاسکتا ہے، الا یہ کہ اس میں کوئی ایسی رکاوٹ ہو جسے معقول رکاوٹ تسلیم کیا جاسکے۔
۱۱۔ اگر شوہر طلاق دینے کے بعد مطلقہ بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک لعان نہیں ہوگا بلکہ اس پر قذف کا مقدمہ قائم کیا جائے گا، کیوں کہ لعان زوجین کے لیے ہے اور مطلقہ عورت اس کی بیوی نہیں ہے۔ الا یہ کہ طلاق رجعی ہو اور مدت رجوع کے اندر وہ الزام لگائے۔ مگر امام مالک کے نزدیک یہ قذف صرف اس صورت میں ہے جب کہ کسی حمل یا بچے کا نسب قبول کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ درمیان میں نہ ہو۔ ورنہ مرد کو طلاق بائن کے بعد بھی لعان کا حق حاصل ہے کیوں کہ وہ عورت کو بدنام کرنے کے لیے نہیں بلکہ خود ایک ایسے بچے کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے لعان کررہاہے جسے وہ اپنا نہیں سمجھتا۔ قریب قریب یہی رائے امام شافعی کی بھی ہے۔
۱۲۔ لِعان کے قانونی نتائج میں سے بعض متفق علیہ ہیں، اور بعض میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے:
متفق علیہ نتائج یہ ہیں: عورت اور مرد دونوں کسی سزا کے مستحق نہیں رہتے۔ مرد بچے کے نسب کا منکر ہو تو بچہ صرف ماں کا قرار پائے گا، نہ باپ کی طرف منسوب ہوگا نہ اس سے میراث پائے گا، ماں اس کی وارث ہوگی اور وہ ماں کا وارث ہوگا۔ عورت کو زانیہ اور اس کے بچے کو ولد الزنا کہنے کا کسی کو حق نہ ہوگا، خواہ لعان کے وقت اس کے حالات ایسے ہی کیوں نہ ہوں کہ لوگوں کو اس کے زانیہ ہونے میں شک نہ رہے۔ جو شخص لعان کے بعد اس پر یا اس کے بچے پر سابق الزام کا اعادہ کرے گا وہ حد کا مستحق ہوگا۔ عورت کا مہر ساقط نہ ہوگا۔ عورت دورانِ عدت میں مرد سے نفقہ اور مسکن پانے کی حق دار نہ ہوگی۔ عورت اس مرد کے لیے حرام ہوجائے گی۔
اختلاف دومسئلوں میں ہے۔ ایک یہ کہ لعان کے بعد عورت اور مرد کی علیحدگی کیسے ہوگی؟ دوسرے یہ کہ لعان کی بنا پر علیٰحدہ ہوجانے کے بعد کیا ان دونوں کا پھر مل جانا ممکن ہے؟ پہلے مسئلے میں امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ جس وقت مرد لعان سے فارغ ہوجائے اسی وقت فرقت آپ سے آپ واقع ہوجاتی ہے خواہ عورت جوابی لعان کرے یانہ کرے۔ امام مالک، لیث بن سعد اور زُفر کہتے ہیں کہ مرد اور عورت دونوں جب لعان سے فارغ ہوں تب فرقت واقع ہوتی ہے۔ اور امام ابوحنیفہ،ابویوسف اور محمد کہتے ہیں کہ لعان سے فرقت آپ ہی آپ واقع نہیں ہوجاتی بلکہ عدالت کے تفریق کرانے سے ہوتی ہے۔ اگر شوہر خود طلاق دے دے تو بہتر، ورنہ حاکم عدالت ان کے درمیان تفریق کا اعلان کرے گا۔ دوسرے مسئلے میں امام مالک، ابویوسف، زُفر، سفیان ثوری، اسحاق بن راہویہ، شافعی، احمد بن حنبل اور حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ لعان سے جو زوجین جدا ہوئے ہوں وہ پھر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں، دوبارہ وہ باہم نکاح کرنا بھی چاہیں تو کسی حال میں نہیں کرسکتے۔ یہی رائے حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی بھی ہے۔ بخلاف اس کے سعید بن مسیّب، ابراہیم نخعی، شعبی، سعید بن جبیر، ابوحنیفہ اور محمد رحمہم اللہ کی رائے یہ ہے کہ اگر شوہر اپنا جھوٹ مان لے اور اس پر حدِّ قذف جاری ہوجائے تو پھر ان دونوں کے درمیان دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کرنے والی چیز لعان ہے۔ جب تک وہ اس پر قائم رہیں، حرمت بھی قائم رہے گی۔ مگر جب شوہر اپنا جھوٹ مان کر سزا پاگیا تو لعان ختم ہوگیا اور حرمت بھی اٹھ گئی۔
ماخذ
(۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی اللعان حدیث ۲۲۵۶۔
(۲) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی اللعان حدیث۲۲۵۴۔٭ نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب کیف اللعان ابن ماجہ ج۱۔کتاب الطلاق، باب اللعان۔٭بخاری ج۲۔کتاب التفسیر۔ سورۃ النور، باب قولہ۔ ویدرأ عنھا العذاب ان تشھد شھادات باللّٰہ انہ لمن الصّٰدقین۔٭مسلم ج۱۔کتاب اللعان (بہت مختصر)۔٭ المستدرک ج۲۔ کتاب الطلاق۔ مسئلۃ اللعان۔
(۳) مسلم ج۱۔کتاب اللعان حدیث۱۴۹۳۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق باب فی اللعان۔٭ترمذی ج۱۔ ابواب الطلاق واللعان۔ باب ماجاء فی اللعان۔٭نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب عظۃ الامام الرجل والمرأۃ عند اللعان۔
(۴) بخاری ج۲کتاب الطلاق، باب قول النبی ﷺ لوکنت راجماً بغیر بیّنۃ۔٭مسلم ج۱کتاب اللعان۔٭نسائی ج۶۔ کتاب الطلاق۔ باب قول الامام اللّٰھُمَّ بین۔٭مسند احمد ج۱ص۳۳۵ ۔۳۳۶عن ابن عباس۔
(۵) بخاری ج۲۔کتاب الطلاق، باب اللعان من طلق بعد اللعان۔٭مسلم ج۱۔کتاب اللعان۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق، باب فی اللعان۔٭نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب الرخصۃ فی ذلک اور باب بدء اللعان۔٭ ابنِ ماجہ کتاب الطلاق باب ۲۷اللعان۔٭سنن دارمی ج۲۔کتاب النکاح باب فی اللعان۔
(۶) بخاری ج۲۔کتاب الطلاق، باب التلاعن فی المسجد۔٭مسلم ج۱۔کتاب اللعان۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق، باب فی اللعان۔٭ابنِ ماجہ ج۱۔کتاب الطلاق باب اللعان۔
(۷) نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔ بحوالہ سنن دارقطنی۔
(۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ص۴۱۰۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔ص۱۱۲۔ اور فتح القدیر للشوکانی ج۴ ص۱۱پر المتلاعنان لایجتمعانِ ابداً موقوفا علی عمرؓ وابن مسعود، وعلیؓ منقول ہے۔٭موقوفاً علی عمر، وابن عمرؓ وابن مسعود، ولم یرویاہ مرفوعاً اصلا۔ بحوالہ نصب الرأیۃ ج۳۔ص۲۵۱۔
(۹) بخاری ج۲کتاب الطلاق، باب التفریق بین المتلاعنین۔٭مسلم ج۱کتاب اللعان۔
(۱۰) بخاری ج۲کتاب الطلاق، باب صداق الملاعنۃ۔٭نسائی ج۶کتاب الطلاق باب استتابۃ المتلاعنین بعد اللعان۔
(۱۱) بخاری ج۲۔ کتاب الطلاق، باب المتعۃ التی لم یفرض لھا اور دوسری جگہ ابعد لک کے بعد منھا نہیں ہے۔ ٭مسلم ج۱کتاب اللعان۔٭ابوداؤد ج۲کتاب الطلاق باب فی اللعان۔ ٭نسائی ج۶کتاب الطلاق باب اجتماع المتلاعنین۔٭نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔ باب اللعان۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب اللعان باب لعان الزوجین بمحضر طائفۃ من المؤمنین۔ اس میں ابعد لک منھا او منہ ہے اس میں فذاک ابعد لک کے بعد فیہ اوفیھا ہے۔٭فتح القدیر للشوکانی ج۴۔ ص۱۱۔٭مسند احمد ج۲ص۱۱۔ ابن عمر۔ اس نے منھا روایت نہیں کیا۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۷۔ ص۱۱۹۔ عن ابن عمر۔
(۱۲) بخاری ج۲۔ کتاب الطلاق، باب یُلْحَقُ الولدُ بالمُلاَعِنَۃِ۔٭مسلم ج۱کتاب اللعان۔٭نسائی ج۶۔ کتاب الطلاق۔ باب نفی الولد باللعان والحاقہ بامہ۔٭ ابن ماجہ ج۱۔ کتاب الطلاق۔ باب اللعان۔٭سنن دارمی ج۲ کتاب النکاح باب فی اللعان عن ابن عمر۔
(۱۳) ابوداؤد ج۲کتاب الطلاق، باب فی اللعان۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ص۴۱۰عن سھل بن سعد ساعدی۔
(۱۴) دارقطنی ج۲کتاب النکاح۔
(۱۵) دارقطنی ج۲کتاب الحدود۔
(۱۶) نسائی ج۶۔کتاب النکاح، باب تزویج الزانیۃ۔٭ نسائی ج۶باب ماجاء فی الخلع کے تحت عن ابن عباس کے حوالہ سے روایت کو مرفوع بیان کرکے کھاہے قال ابوعبدالرحمن ھذا خطاء والصواب مرسل۔
(۱۷) ابوداؤد ج۲کتاب النکاح، باب النھی عن التزویج من لم یلد من النساء۔
(۱۸) بخاری ج۲۔کتاب المحاربین من اھل الکفرۃ والردۃ باب من راٰی مع امرأتہ رجلا فقتلہ۔٭بخاری ج۲کتاب النکاح باب الغیرۃ۔ ٭مسلم ج۲کتاب اللعان۔
(۱۹) مسلم ج۲کتاب اللعان۔٭ابوداؤد ج۴کتاب الدیات باب من وجدمع اھلہ رجلا أیقتلہٗ؟۔اس کو السنن الکبریٰ ج۸کتاب الحدود۔ باب الشھود فی الزنا میں بھی لیا گیاہے۔٭ مؤطا ج۲ کتاب الحدود باب ماجاء فی الرجم۔ ٭ابوداؤد ج۴کتاب الدیات باب من وجد مع اھلہ رجلا أیقتلہٗ؟
(۲۰) بخاری ج۲۔کتاب الطلاق باب اذا عرض بنفی الولد۔٭بخاری ج۲۔کتاب المحاربین باب ماجاء فی التعریض۔ ٭مسلم ج۱۔کتاب اللعان۔٭ابوداؤد ج۲۔ کتاب الطلاق۔ باب اذا شک فی الولد۔٭نسائی ج۶ کتاب الطلاق باب اذا عرض بامرأتہ وشکت فی ولدہ واراد الانتفاء منہ۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح ج۱۔باب الرجل یشک فی ولدہ۔
(۲۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق، باب اذا شک فی الولد۔٭نسائی ج۸کتاب النکاح باب التغلیظ فی الانتفاء من الولد۔٭سنن دارمی ج۲کتاب النکاح، باب من جحد ولدہٗ وھویعرفہٗ۔ عن ابی ھریرۃؓ۔ ٭نسائی نے یوم القیامۃ کا اضافہ بھی نقل کیاہے۔٭ابن ماجہ کتاب الفرائض باب من انکر ولدہ حدیث نمبر۳۷۴۳۔٭المستدرک للحاکم ج۲ کتاب الطلاق باب مسئلۃ اللعان۔٭کنز العمال ج۵ حدیث ۱۳۰۰۸۔
فصل :۱۶ اختیارات وحقوق مرد کے اختیارات
۱۱۴۔ اِضْرِبُوْھُنَّ اِذَا عَصَیْنَکُمْ فِی الْمَعْرُوْفِ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ وَلاَ یَضْرِبُ الْوَجْہَ وَلاَ یُقَبِّحُ۔
’’اگر وہ تمہارے کسی جائز حکم کی نافرمانی کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو۔ منہ پر نہ مارے اور گالم گلوچ نہ کرے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِی الْمُثَنّٰی، قَالَ: ثَنَا حِبَّانٌ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یَحْیٰ بْنُ بِشْرٍ اَنَّہٗ سَمِعَ عِکْرِمَۃَ یَقُوْلُ فِیْ قَوْلِہٖ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوْھُنَّ ضَرْبًا غَیْرَمُبَرِّحٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِضْرِبُوْھُنَّ اِذَا عَصَیْنَکُمْ فِی الْمَعْرُوْفِ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ۔(۱)
مرد کی قوامیت
۱۱۵۔ اَلرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی اَھْلِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ۔ (بخاری)
’’مرد اپنے بیوی بچوں پر حکمراں ہے۔ اور اپنی رعیت میں اپنے عمل پر وہ خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْالنُّعْمَانِ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ، فَالْاِمَامُ رَاعٍ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِہِ، وَھُوَمَسْئُوْلٌ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِھَا وَھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلٰی مَالِ سَیِّدِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ، اَلآوَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ۔(۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا تم سب حکمراں ہو اور سب اپنے اپنے عمل کے اللہ کے حضور جواب دہ ہو۔ امام حکمراں ہے وہ اپنے اعمال کا خدا کے حضور جواب دہ ہے اور مرد اپنے بیوی بچوں پر حکمراں ہے وہ ان کے بارے میںخدا کے ہاں جواب دہ ہے، اور عورت نگراں ہے اپنے شوہر کے گھر کی وہ جواب دہ ہے، اور غلام نگراں ہے اپنے مالک کے مال پر وہ اس بارے میں جوابدہ ہے۔ سنو تم سب حکمراں ہو اور تم سب سے خداکے ہاں بازپرس ہوگی۔
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مُوسٰی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالْاَمِیْرُ رَاعٍ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہِ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِھَا وَوَلَدِہٖ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔(۳)
ترجمہ : حضرت ابن عمر نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپؐ نے فرمایا تم سب نگراں ہو اور تم سب سے تمہاری رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی اور امیر بھی نگراں ونگہبان ہے اور مرد اپنے گھروالوں پر نگراں ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد پر نگراں ہے۔ پس تم سب نگراںہو اور سب سے اپنی اپنی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی۔
(۳)اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، اَلاْمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِیْ اَھْلِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلُ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِیْ بَیْتِ زَوْجِھَا وَمَسْئُوْلَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِھَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِیْ مَالِ سَیِّدِہٖ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ قَالَ:وَحَسِبْتُ اَنْ قَدْ قَالَ: وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِیْ مَالِ اَبِیْہِ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ وَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعَیِّتِہٖ۔(۴)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سناہے کہ تم سب نگہبان ہو اور تم سب سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی۔ اور امام نگہبان ہے اور وہ اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہوگا اور مرد اپنے اہل وعیال پر نگہبان ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھرکی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ خادم(گھریلو ملازم) اپنے مالک کے مال میں نگرانی کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال ہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ گمان ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا بھی نگراں ہے اور اس سے باز پرس اس کی رعیت کے متعلق ہوگی۔ اور تم سب نگراں ہوتم سب سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی۔
(۴)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اَلٓاَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، فَالْاِمَامُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہٖ وَھُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ وَالْمَرْئَ ۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِ زَوْجِھَا وَوَلَدِہٖ وَھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ، وَعَبْدُالرَّجُلِ رَاعٍ عَلٰی مَالِ سَیِّدِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْہُ، اَلاَفَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہ۔(۵)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، سن لو! تم سب نگراں ہو اور تم میں سے ہرایک سے اس کی رعیت کے متعلق پرسش ہوگی۔ اور لوگوں کا امام بھی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی اور آدمی اپنے گھروالوں پر نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق بازپر س ہوگی اور عورت اپنے خاوند اور اس کی اولاد پر نگراں ہے اس سے ان سب کے بارے میں پرسش ہوگی اور آدمی کا غلام اپنے مالک وآقا کے مال پر نگراں ہے اس سے اسی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ غور سے سن لو تم سب نگراں ونگہبان ہو اور سب سے اس کی رعیت کے متعلق پرسش ہوگی۔
(۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلٓاَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، فَالْاَمِیْرُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ عَلَیْھِمْ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْھُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْھُمْ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیْۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَوَلَدِہٖ وَھُوَمَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلٰی مَالِ سَیِّدِہٖ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْہُ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔(۶)
اس روایت میں عنھم ضمیر جمع مذکر بیان کی گئی ہے۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، سنو! کہ تم سب نگراں ومحافظ ہو اور تم میں سے ہرایک سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ لوگوں پر جو امیر مقرر ہوا ہے وہ ان سب پر نگراں ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد محافظ ونگراں ہے اپنے گھر والوں پر اور اس سے سب گھروالوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد پر نگراں ہے، ان کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا۔ اور غلام اپنے مالک وآقاکے مال پر نگراں ہے، اس سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ لہٰذا تم سب نگراں ہو اور تم میں سے ہرایک اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔
تشریح : خاندان میں مرد کی حیثیت قوّام کی سی ہے،یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے، محافظ ہے، اخلاق اور معاملات کا نگراں ہے، اس کی بیوی اور بچوں پر اس کی اطاعت فرض ہے (بشرطیکہ وہ اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم نہ دے) اور اس پر خاندان کے لیے روزی کمانے اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔
۱۱۶۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِھَا وَزَوْجُھَا کَارِہٌ لَعَنَھَا کُلُّ مَلَکٌ فِی السَّمَائِ وَکُلُّ شَـْیئٍ مَرَّتْ عَلَیْہِ غَیْرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ حَتّٰی تَرْجِعَ ۔ (کشف الغمۃ)
’’نبی ﷺنے فرمایاکہ جب عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف گھر سے نکلتی ہے تو آسمان کا ہرفرشتہ اس پر لعنت بھیجتاہے اور جن وانس کے سوا ہر وہ چیز جس پر سے وہ گزرتی ہے پھٹکار بھیجتی ہے تاوقتیکہ وہ واپس نہ ہو۔‘‘
تخریج:(۱) اَیُّمَا امْرَأَۃٍ خَرَجَتْ مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَابِغَیْرِاِذْنِہٖ لَعَنَھَا کُلُّ شَیْئٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ اِلاَّاَنْ یَرْضٰی عَنْھَا زَوْجُھَا۔(۷)
ترجمہ : جو عورت بھی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے شوہر کے گھر سے باہر نکلے اس پر ہر اس چیز نے لعنت کی ہے جس پر شمس وقمر طلوع کریں الا یہ کہ اس کا شوہر راضی ہوجائے۔
خطیب بغدادی نے حضرت انس کے حوالہ سے مندرجہ ذیل روایت بیان کی ہے :
(۲)اَیُّمَا امْرَأَۃٍ خَرَجَتْ مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا کَانَتْ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ تَعَالٰی حَتّٰی تَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِھَا اَوْ یَرْضٰی عَنْھَا زَوْجُھَا۔(۸)
ترجمہ : جو عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نکلی وہ اس وقت تک اللہ کی ناراضگی کی لپیٹ میں رہتی ہے جب تک کہ وہ واپس گھر لوٹ نہیں آتی یا اس کا شوہر اس سے راضی ہوجائے۔
۱۱۷۔ وَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لاَ طَاعَۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ اللّٰہَ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ مِنْ حَدِیْثٍ وَلاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ۔ (مسنداحمد)
’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص خداکی اطاعت نہ کرے، اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ اللہ کی نافرمانی میں کسی شخص کی فرمانبرداری نہیں کی جاسکتی ہے۔ فرمانبرداری صرف معروف میں ہے ( ایسے حکم میں جو جائز اور معقول ہو)۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُثَنّٰی، قَالاَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَاشُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَلِیٍّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ جَیْشًا وَاَمَّرَعَلَیْھِمْ رَجُلاً، فَاَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ:اُدْخُلُوْھَا، فَاَرَادَ نَاسٌ اَنْ یَّدْخُلُوْھَا وَقَالَ الْاٰخَرُوْنَ اِنَّا فَرَرْنَا مِنْھَا، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لِلَّذِیْنَ اَرَادُوْا اَنْ یَّدْخُلُوْھَا: لَوْدَخَلْتُمُوْھَا، لَمْ تَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَقَالَ لِلْاٰخَرِیْنَ قَوْلاًحُسْنًا قَالَ:لاَطَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔(۹)
ترجمہ : حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کسی طرف روانہ فرمایا، ایک آدمی کو ان پر امیر لشکر مقرر کیا۔ اس آدمی نے آگ جلاکر ان لوگوں کو حکم دیا کہ اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ کچھ لوگوں نے توسوچاکہ اس میں داخل ہوجائیں (امیر کے حکم کی تعمیل میں) مگر کچھ دوسروں نے کہا اسی سے توہم نے فرار کی راہ لی ہے۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔ جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا ان کے متعلق آپ نے فرمایا: اگر وہ آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے، اور داخل نہ ہونے والوں کے بارے میں عمدہ اور اچھی بات فرمائی، اور کہااللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔
اس طرح خاندان کی تنظیم اس طورپر کی گئی ہے کہ اس کا ایک سردھرا اور صاحب امر ہو جو شخص اس نظم میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے اس کے حق میں نبی ﷺکی یہ وعید ہے کہ:
۱۱۸۔ مَنْ اَفْسَدَ امْرَأَۃً عَلیَ زَوْجِھَا فَلَیْسَ مِنَّا۔ (کشف الغمہ)
’’جو کوئی عورت کے تعلقات اس کے شوہر سے خراب کرنے کی کوشش کرے اس کا کچھ تعلق ہم سے نہیں۔ ‘‘ (پردہ ،باب ۱۰:مرد۔۔۔)
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوا الْجَوَّابِ، ثَنَا عَمَّارُ ابْنُ رُزَیْقٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عِیْسٰی، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ یَعْمُرَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلٰی اَھْلِھَا فَلَیْسَ مِنَّا، وَمَنْ اَفْسَدَ اِمْرَاَۃً عَلٰی زَوْجِھَا فَلَیْسَ ھُوَمِنَّا۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی نے کسی کے غلام کو اس کے مالکوں کے خلاف خراب کیا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جس نے کسی عورت کے تعلقات اس کے شوہر سے خراب کرنے کی کوشش کی اس کا کچھ تعلق ہم سے نہیں۔
مرد کے حقوق
۱۱۹۔ اِنَّ لَکُمْ عَلَیْھِنَّ اَنْ لاَّیُوْطِئْنَّ فُرُشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَھُوْنَہٗ۔
’’تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے ہاں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ،وَاِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ جَمِیْعًا عَنْ حَاتِمٍ، قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ ابْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْمَدَنِیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:دَخَلْنَا عَلٰی جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتّٰی انْتَھٰی اِلَیَّ فَقُلْتُ اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ ابْنِ حُسَیْنٍ۔۔۔فَاَتَی بَطْنَ الْوَادِیِّ، فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ:اِنَّ دِمَائَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا ـــــ فَاتَّقُوا اللّٰہَ فِی النِّسَآئِ فَاِنَّکُمْ اَخَذْتُمُوْھُنَّ بِاَمَانِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَھُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ وَلَکُمْ عَلَیْھِنَّ اَنْ لاَّیُوْطِئْنَ فُرُشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَھُوْنَہٗ۔ فَاِنْ فَعَلْنَ ذٰلِکَ فَاضْرِبُوْھُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ ۔۔۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت محمد بن علی بن حسین کا بیان ہے کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے آنے والے لوگوں کے بارے میں پوچھا( کہ کون کون صاحب ہیں؟) تاآنکہ مجھ تک پہنچے میں نے عرض کیا میں محمد ہوں علی بن حسین کا بیٹا (حضرت جابر نے حج کے متعلق لمبی حدیث بیان کی جس میں یہ حصہ تھا) نبی ﷺ وادی کے درمیان میں پہنچے تو لوگوں سے خطاب فرمایا کہ یقینا تمہارے خون اور تمہارے اموال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کا دن اس ماہ مبارک میں، تمہارے اس شہر میں تم پر حرام ہیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــلہٰذا اللہ سے عورتوں کے معاملہ میں ڈرو تم لوگوں نے ان کو حاصل کیا ہے اللہ کی امان کے واسطہ وذریعہ سے اور ان کی شرم گاہوں کو اللہ کے حکم سے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارایہ حق ہے کہ وہ تمہارے ہاں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کوتم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو انہیں ایسی مار مارو جو جسم پر اپنا نشان نہ چھوڑے (معمولی مار)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔۔۔
۱۲۰۔ لاَ تُصَدِّقْ بِشَـْیئٍ مِّنْ بَیْتِہٖ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ فَاِنْ فَعَلَتْ کَانَ لَہٗ اَلاَجْرُ وَعَلَیْھَا الْوِزْرُ وَلاَ تَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ اِلاَّبِاِذْنِہٖ۔
’’وہ اس کے گھر میں سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے، اگر ایسا کرے گی تو اجر شوہر کو ملے گا اور گناہ عورت پر ہوگا، نیز وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے نہ نکلے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْدَاؤُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ :اِنَّ امْرَأَۃً اَتَتْہُ، فَقَالَتْ:مَاحَقُّ الزَّوْجِ عَلٰی امْرَأَتِہِ؟ فَقَالَ:لاَتَمْنَعْہُ نَفْسَھَا وَاِنْ کَانَتْ عَلٰی ظَھْرِ قَتَبٍ، وَلاَ تُعْطِیْ مِنْ بَیْتِہٖ شَیْئًا اِلاَّبِاِذْنِہٖ، فَاِنْ فَعَلَتْ ذَالِکَ کَانَ لَہُ الْاَجْرُ وَعَلَیْھَا الْوِزْرُ، وَلاَتَصُوْمُ تَطَوُّعًا اِلاَّ بِاِذْنِہٖ فَاِنْ فَعَلَتْ اَثِمَتْ وَلَمْ تُوْجَرْ وَاَنْ لاَّتَخْرُجَ مِنْ بَیْتِہٖ اِلاَّبِاِذْنِہٖ فَاِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ مَلاَئِکَۃُ الْغَضَبِ وَمَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ حَتّٰی تَتُوْبَ اَوْتَرْجِعَ، قِیْلَ: وَاِنْ کَانَ ظَالِمًا قَالَ: وَاِنْ کَانَ ظَالِمًا۔(۱۲)
ترجمہ :حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ ایک عورت آپ کی خدمت میںحاضر ہوکر پوچھنے لگی کہ خاوند کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایاکہ شوہر سے اپنے نفس کو نہ روکے خواہ اونٹ کے پلان پر کیوں نہ بیٹھی ہو، اور اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ دے اگر اس نے کچھ دے دیا تو شوہر کو اجر ملے گا اور اس کے کھاتے میں گناہ درج ہوگا۔ اور نفلی روزہ بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے، اگر ایسا کرے گی تو گناہ گار ہوگی اجرو ثواب نہیں ملے گا اور اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر بھی نہ نکلے۔ اگر نکلے گی تو ملائکہ غضب او رملائکہ رحمت دونوں اس پر لعنت کرتے رہیں گے تاآنکہ وہ توبہ کرلے یا واپس لوٹ آئے۔ کہا گیا خواہ شوہر کا رویہ ظالمانہ ہو، فرمایا خواہ خاوند ظالم ہو۔
۱۲۱۔ لاَ تَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ یَوْماً وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ مِّنْ غَیْرِرَمَضَانَ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ۔
’’عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں رمضان کے سوا نفل روزے اس کی اجازت کے بغیر ایک دن بھی نہ رکھے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ، قَالاَ: نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لاَتَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ یَوْمًامِنْ غَیْرِ شَھْرِ رَمَضَانَ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ۔(۱۳)
قَالَ اَبُوْعِیْسٰی:حَدِیْثُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ۔
ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خُدریؓ سے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں بھی نقل کی ہے:
(۲)عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ:نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ النِّسَآئَ اَنْ یَّصُمْنَ اِلاَّبِاِذْنِ اَزْوَاجِھِنَّ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ابوسعید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنا منع فرمایا۔
(۳) عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : لاَتَصُوْمُ امْرَأَۃٌ وَبَعْلُھَا شَاھِدٌ اِلاَّبِاِذْنِہٖ غَیْرَ رَمَضَانَ الحدیث۔(۱۵)
(۴)قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَتَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ یَوْمًا وَاحِدًا وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلاَّبِاِذْنِہِ اِلاَّرَمَضَانَ۔(۱۶)
(۵)وَاَنْ لاَّتَصُوْمَ یَوْمًا وَاحِدًا اِلاَّ بِاِذْنِہٖ اِلاَّالْفَرِیْضَۃَ فَاِنْ فَعَلَتْ اَثِمَتْ وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْھَا الخ ۔(۱۷)
سنن دارمی میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت:
(۶)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:لاَ تَصُوْمُ الْمَرْأَۃُ یَوْمًا تَطَوُّعًا فِیْ غَیْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلاَّبِاِذْنِہٖ۔(۱۸)
(۷)حَدَّثَنَا اَبُوالْیَمَانِ، قَالَ:اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوالزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لاَیَحِلُّ لِلْمَرْأَۃِ اَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلاَّبِاِذْنِہٖ الحدیث۔(۱۹)
۱۲۲۔ خَیْرُالنِّسَائِ امْرَأَۃٌ اِذَا نَظَرْتَ اِلَیْھَا سَرَّتْکَ وَاِذَا اَمَرْتَھَا اَطَاعَتْکَ وَاِذَا غِبْتَ عَنْھَا حَفِظَتْکَ فِیْ مَالِکَ وَنَفْسِھَا۔
’’بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو تیرا دل خوش ہوجائے اور جب تو اس کو حکم دے تو وہ تیری اطاعت کرے اور جب تو اس کے پاس موجود نہ ہو تو وہ تیرے مال اور اپنے نفس میں تیرے حق کی حفاظت کرے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنِی الْمُثَنّٰی، قَالَ : ثَنَا اَبُوْصَالِحٍ، قَالَ : ثَنَا اَبُوْ مَعْشَرٍ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : خَیْرُ النِّسَآئِ امْرَأَۃٌ اِذَا نَظَرْتَ اِلَیْھَا سَرَّتْکَ، وَاِذَا اَمَرْتَھَا اَطَاعَتْکَ، وَاِذَا غِبْتَ عَنْھَا حَفِظَتْکَ فِیْ نَفْسِھَا وَمَالِکَ۔(۲۰)
(۲) عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ:مَااسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ، بَعْدَ تَقْوَی اللّٰہِ، خَیْرًا لَّہٗ مِنْ زَوْجَۃٍ صَالِحَۃٍ، اِنْ اَمَرَھَا اَطَاعَتْہُ، وَاِنْ نَظَرَ اِلَیْھَا سَرَّتْہٗ، وَاِنْ اَقْسَمَ عَلَیْھَا اَبَرَّتْہُ، وَاِنْ غَابَ عَنْھَا نَصَحَتْہُ فِیْ نَفْسِھَا وَمَالِہٖ۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت ابوامامہ سے مروی ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے تقویٰ کے بعد ایک مومن کے لیے ایک صالح بیوی سے زیادہ اچھی اور مفید کوئی چیز نہیں۔ اگر اسے حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور اگر اس کی طرف دیکھے تو خاوند کو خوش کردے اور اگر اس کے اعتماد پر قسم کھا بیٹھے تووہ اسے سچا کردکھائے اور خاوند کی غیرحاضری وعدم موجودگی میں اپنی ذات اور شوہر کے مال میں خیرخواہی کرے۔
عبداللہ بن سلام سے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ سے مروی ہے:
(۳)عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلاَمٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:خَیْرُ النِّسَآئِ تَسُرُّکَ اِذَا اَبْصَرْتَ وَتُطِیْعُکَ اِذَا اَمَرْتَ وَتَحْفَظُ غَیْبَتَکَ فِیْ نَفْسِھَا وَمَالِکَ۔(۲۲)
ترجمہ : عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایابہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو تجھے خوش کردے اور جب تو اسے حکم دے تو تیری اطاعت کرے اور تیری عدم موجودگی میں اپنے نفس اور تیرے مال کی حفاظت کرے۔
(۴) اَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ:حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِیْدِ نِالْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، اَیُّ النِّسَآئِ خَیْرٌ؟ قَالَ: الَّتِیْ تَسُرُّہٗ اِذَا نَظَرَ وَتُطِیْعُہٗ اِذَا اَمَرَ وَلاَتُخَالِفُہٗ فِیْ نَفْسِھَا وَمَالِھَا بِمَایَکْرَہُ۔(۲۳)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی عورت سب سے بہتر اور اچھی ہے؟ فرمایا وہ عورت کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے خوش کردے اور جب تو اسے حکم دے تو تیری اطاعت کرے اور اپنے نفس ومال میں جو خاوند کو ناپسند ہو اس سے مخالفت نہ کرے۔
(۵)اَلآ اُخْبِرْکَ بِخَیْرِ مَایَکْنِزُ الْمَرْئُ؟ اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ : اِذَا نَظَرَ اِلَیْھَا سَرَّتْہُ، وَاِذَا اَمَرَھَا اَطَاعَتْہُ، وَاِذَا غَابَ عَنْھَا حَفِظَتْہُ۔(۲۴)
ترجمہ : کیامیں تجھے نہ بتاؤں کہ مرد کا بہترین خزانہ کیا ہے؟ صالحہ عورت، جب مرد اس کی طرف نظر اٹھائے تو اسے سرور ومسرت دے اور جب اسے حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور جب شوہر اس کے پاس نہ ہوا (غیرحاضر ہو) تو اس کی حفاظت کرے۔
(۶) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ سُئِلَ اَیُّ النِّسَآئِ خَیْرٌ؟ قَالَ:اَلَّتِیْ تَسُرُّہٗ اِذَا نَظَرَ اِلَیْھَا وَتُطِیْعُہٗ اِذَا اَمَرَھَا وَلاَتُخَالِفُہٗ فِیْ نَفْسِھَا وَلاَمَالِھَا۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ عورتوں میں بہتر عورت کون سی ہے؟ فرمایا، وہ عورت جب مرد اسے دیکھے تو اسے خوش کردے اور جب حکم دے تو اس کی اطاعت کرے نیز اپنے نفس ومال کے معاملہ میں خاوند کی مخالفت نہ کرے۔
(۷)عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیٰ بْنِ جَعْدَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:خَیْرُ فَائِدَۃٍ اسْتَفَادَھَا الْمُسْلِمُ بَعْدَ الْاِسْلاَمِ امْرَأَۃٌ جَمِیْلَۃٌ، تَسُرُّہٗ اِذَا نَظَرَ اِلَیْھَا، وَتُطِیْعُہٗ اِذَا اَمَرَھَا وَتَحْفَظُہٗ اِذَا غَابَ عَنْھَا فِیْ مَالِہِ وَنَفْسِھَا۔
ترجمہ : عمرو بن یحی بن جعدہ سے مروی ہے انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ اسلام لانے کے بعد بہتر فائدہ جو مسلمان نے حاصل کیا وہ بہتر عادات والی عورت ہے جب مرد اسے دیکھے تو اسے مسرت حاصل ہو اور جب اسے حکم دے تو اس کی اطاعت کرے۔ خاوند کی عدم موجودگی میں شوہر کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔
۱۲۳۔ لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔
’’ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘
تخریج: قَالَ اَبُوْبَکْرٍ فَطَاعَۃُ الْوَالِدَیْنِ وَاجِبَۃٌ فِی الْمَعْرُوْفِ لاَفِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَاِنَّہٗ لاَطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔(۲۶)
تشریح : اس عام حکم اطاعت (شوہر کی اطاعت) میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگر عورت سے اس کا شوہر اللہ کی معصیت کا مطالبہ کرے تو وہ اس کا حکم ماننے سے انکار کرسکتی ہے بلکہ اسے انکار کردینا چاہیے۔ مثلا وہ فرض نماز اور روزے سے منع کرے، یا شراب پینے کا حکم دے، یا پردۂ شرعی ترک کرائے، یافواحش کا ارتکاب اس سے کرانا چاہے، تو عورت نہ صرف اس کی مجاز ہے، بلکہ اس کا فرض ہے کہ شوہر کے ایسے حکم کو ٹھکرادے۔ اس لیے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ (حقوق الزوجین،اصول قانون:۔۔۔حقوق)
شوہر کی اطاعت کے حدود
۱۲۴۔ نبی ﷺ نے فرمایا’’بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہوجائے، جب تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔‘‘
تشریح : یہاں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت سے اہم اور اقدم اپنے خالق کی اطاعت ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شوہر خدا کی معصیت کا حکم دے یا خدا کے عائد کیے ہوئے کسی فرض سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو اس کی اطاعت سے انکار کردینا عورت کا فرض ہے اس صورت میں اگر وہ اس کی اطاعت کرے گی تو گناہ گار ہوگی۔
حدیث میں ہے کہ ’’اگر خداوند کریم اپنے بعد کسی اور کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو وہ بیوی کے لیے اس کا شوہر ہوتا۔‘‘اس کا مقصد عورت کے لیے اس کے شوہر کی اہمیت پر زور دیناہے۔ یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ عورت کے لیے معبود کی سی حیثیت رکھتاہے۔ بلکہ مقصدعورت کے ذہن نشین یہ بات کرنا ہے کہ شوہر کے بغیر اس کو معاشرے میں عزت اور حفاظت حاصل نہیں ہوسکتی، اس لیے اسے حتی الامکان اپنے شوہر سے موافقت کی پوری کوشش کرنی چاہیے اور اس کے مقابلے میں نشوز کی روش اختیار نہ کرنی چاہیے۔ اس کو اگر کوئی شخص ظلم سے تعبیر کرتاہے تو اسے چاہیے کہ بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے خود پوچھ لے کہ شوہر کے بغیر ان کی زندگی کیسی گزرتی ہے۔ (مکاتیب سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اول،۱۱۱:بیوی۔۔۔)
بخلاف اس کے اگر شوہر اپنی بیوی کو نفل نماز یا نفل روزہ ترک کرنے کے لیے کہے تو لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اس صورت میں اگر وہ نوافل ادا کرے گی تو مقبول نہ ہوں گے۔ (تفہیم القرآن ج۱، النساء، حاشیہ :۵۸)
۱۲۵۔ اِذَا بَاتَتِ الْمَرْئَ ۃُ مُھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِھَا لَعَنَتْھَا الْمَلآئِکَۃُ حَتَّی تَرْجِعَ۔ (بخاری)
’’ جو عورت اپنے شوہر سے اجتنا ب کرکے اس سے الگ رات گزارے، اس پر ملائکہ لعنت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ رجوع نہ کرے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَۃَ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ زُرَارَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَۃُ مُھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِھَا لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تَرْجِعَ۔(۲۷)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب عورت اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر رات بسر کرے تو اس کی واپسی تک ملائکہ اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنّٰی قَالاَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَاشُعْبَۃُ، قَالَ:سَمِعْتُ قَتَادَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَۃُ ھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِھَا لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔(۲۸)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو صبح کی آمد تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے:
(۳) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَامِنْ رَجُلٍ یَدْعُوْ امْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِھَا، فَتَاْبٰی عَلَیْہِ اِلاَّ کَانَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ سَاخِطًا عَلَیْھَا حَتّٰی یَرْضٰی عَنْھَا۔
ایک اور روایت میں ہے:
(۴) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِہٖ، فَلَمْ تَاْتِہٖ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْھَا لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔(۲۹)
(۵)حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِہٖ، فَاَبَتْ اَنْ تَجِیْئَ لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔(۳۰)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ جب خاوند اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ آنے سے انکار کردے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
(۶) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِہٖ، فَاَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ(۳۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ آنے سے انکار کرے شوہر غصے اور ناراضگی کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
ـــــــ تَابَعَہٗ شُعْبَۃُ، وَاَبُوْحَمْزَۃَ وَابْنُ دَاؤُدَ وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ۔
(۷) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ:اِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِہٖ، (فَاَبَتْ) فَلَمْ تَاْتِہٖ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْھَا لَعَنَتْھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ۔(۳۲)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کو صنفی خواہش کے لیے اپنے بستر پر آنے کے لیے بلاتاہے اور وہ نہیں آتی۔ شوہر ناراضگی کی حالت میں رات گزارتاہے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔
(۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَامِنِ امْرَأَۃٍ یَطْلُبُ زَوْجُھَا مِنْھَا حَاجَۃً فَتَاْبٰی فَیَبِیْتُ وَھُوَ عَلَیْھَا غَضْبَانُ اِلاَّ بَاتَتْ تَلْعَنُھَا الْمَلاَئِکَۃُ حَتّٰی یُصْبِحَ۔(۳۳)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کوئی عورت ایسی نہیں کہ اس کا شوہر اس سے اپنی صنفی خواہش پوری کرنے کا مطالبہ کرے، اور وہ عورت انکار کرے اور شوہر اس حال میں رات گزارے کہ وہ اس پر ناراض ہو مگر ایسی صورت میں رات گزارتی ہے تو صبح تک ملائکہ اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
(۹) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیِدِہٖ مَامِنْ رَجُلٍ یَدْعُوْ امْرَأَتَہٗ اِلٰی فِرَاشِھَا، فَتَاْبٰی عَلَیْہِ اِلاَّ کَانَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ سَاخِطًا عَلَیْھَا حَتّٰی یَرْضٰی عَنْھَا۔(۳۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے جب مرد اپنی بیوی کو اپنی جنسی خواہش کے لیے اپنے بستر پر آنے کے لیے بلاتاہے اور وہ آنے سے انکار کردیتی ہے توجو آسمان پر ہے وہ اس وقت تک ناراض رہتاہے جب تک کہ شوہر اس سے راضی نہیں ہوجاتا۔
۱۲۶۔ اِذَا رَاٰی اَحَدُکُمُ امْرَأَۃً فَاَعْجَبَتْہُ فَلْیَاْتِ اَھْلَہُ فَاِنَّ مَعَھَا مِثْلَ الَّذِیْ مَعَھَا۔(ترمذی)
’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھ لے۔ اور اس کے حسن سے متاثر ہوتو اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ اس کے پاس وہی ہے جو اس کے پاس تھا۔ ‘‘ (پردہ،باب۱۰:نکاح)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَاعَبْدُالْاَعْلٰی بْنِ عَبْدِالْاَعْلٰی، نَاھِشَامُ بْنُ اَبِیْ عَبْدِاللّٰہِ وَھُوَ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ رَاٰی امْرَأَۃً، فَدَخَلَ عَلٰی زَیْنَبَ، فَقَضٰی حَاجَتَہٗ، وَخَرَجَ، وَقَالَ: اِنَّ الْمَرْأَۃَ اِذَا اَقْبَلَتْ، اَقْبَلَتْ فِیْ صُوْرَۃِ شَیْطَانٍ، فَاِذَا رَاٰی اَحَدُکُمْ امْرَأَۃً فَاَعْجَبَتْہُ، فَلْیَاْتِ اَھْلَہٗ، فَاِنَّ مَعَھَا مِثْلَ الَّذِیْ مَعَھَا۔(۳۵)
ـــــــ وَفِی الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، حَدِیْثٌ جَابِرٍ۔ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ۔
(۲) اِذَا رَاٰی اَحَدُکُمُ امْرَأَۃً حَسْنَآئَ فَاَعْجَبَتْہُ، فَلْیَاْتِ اَھْلَہٗ، فَاِنَّ الْبُضْعَ وَاحِدٌ، وَمَعَھَا مِثْلُ الَّذِیْ مَعَھَا۔(۳۶)
بیوی کے حقوق
عورت کو جو عزّو شرف عطا کیا
۱۳۲۔ مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتّٰی تَبْلُغَا جَائَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَنَا وَھُوَ وَضَمَّ اَصَابِعَہَا۔ (مسلم)
’’جس نے دولڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے جیسے میرے ہاتھ کی انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ عَمْرو نِالنَّاقِدُ، نَا اَبُوْاَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَنَسٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتّٰی تَبْلُغَا، جَآئَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنَا وَھُوَ، وَضَمَّ اَصَابِعَہٗ۔ (۴۳)
تشریح : وہ محمد ﷺ ہی کی ذات ہے جس نے ذلت اورعار کے مقام سے اٹھا کر عورت کو عزت کے مقام پر پہنچایا۔ وہ حضورؐ ہی ہیں جنہوں نے باپ کو بتایا کہ بیٹی کا وجود تیرے لیے ننگ وعار نہیں ہے۔ بلکہ اس کی پرورش اور اس کی حق رسانی تجھے جنت کا مستحق بناتی ہے۔
۱۳۳۔ مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ فَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہٗ سَتْراً مِّنَ النَّارِ۔(مسلم)
’’جس کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوں، اور وہ اچھی طرح ان کی پرورش کرے تو یہی لڑکیاں اس کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُاللّٰہِ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:دَخَلَتْ امْرَأَۃٌ مَعَھَا ابْنَتَانِ لَھَا، تَسْأَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِیْ شَیْئًا غَیْرَتَمْرَۃٍ، فَاَعْطَیْتُھَا اِیَّاھَا، فَقَسَمَتْھَا بَیْنَ ابْنَتَیْھَا وَلَمْ تَاْکُلْ مِنْھَا، ثُمَّ قَامَتْ، فَخَرَجَتْ، وَدَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْنَا، فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ مَنِ ابْتُلِیَ مِنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ، کُنَّ لَہٗ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔(۴۴)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَھْزَادٍ، نَاسَلَمَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، اَنَا عَبْدُاللّٰہِ، اَنَامَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِبْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ ح وَحَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ بَھْرَامٍ، وَاَبُوْبَکْرِ بْنُ اِسْحَاقَ، وَاللَّفْظُ لَھُمَا قَالاَ: اَنَا اَبُوالْیَمَانِ، اَنَاشُعَیْبٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ اَخْبَرَہٗ اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ:جَآئَ تْنِیْ امْرَأَۃٌ وَمَعَھَا ابْنَتَانِ لَھَا فَسَأَلَتْنِیْ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِیْ شَیْئًا غَیْرَتَمْرَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَاَعْطَیْتُھَا اِیَّاھَا، فَاَخَذَتْھَا، فَقَسَمَتْھَا بَیْنَ ابْنَتَیْھَا، وَلَمْ تَاْکُلْ مِنْھَا شَیْئًا، ثُمَّ قَامَتْ، فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاھَا، فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ﷺ، فَحَدَّثْتُہٗ حَدِیْثَھُمَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ، فَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہٗ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔(۴۵)
۱۳۴۔ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔(نسائی)
’’دنیا کی نعمتوں میں بہترین نعمت نیک بیوی ہے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ نُمَیْر نِالھَمْدَانِیُّ، قَالَ:نَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ، قَالَ: نَاحَیْوَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ شُرَحْبِیْلُ بْنُ شَرِیْکٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ الحُبُلِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: الدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔(۴۶)
تشریح:حضورؐ ہی نے شوہر کو بتایا کہ نیک بیوی تیرے لیے دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہے۔
۱۳۵۔حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا اَلنِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃِ۔(نسائی)
’’دنیا کی چیزوں میں مجھ کو سب سے زیادہ محبوب عورت اور خوشبو ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنِیْ الشَّیْخُ الْاِمَامُ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ النَّسَائِیُّ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عِیْسٰی الْقَوْمَسِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ اَبُوالْمُنْذِرِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَآئُ وَالطِّیْبُ، وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلاَۃِ۔(۴۷)
ایک روایت میں ہے :
(۲) حُبِّبَ اِلَیَّ النِّسَآئُ وَالطِّیْبُ، وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلاَۃِ۔
۱۳۶۔ لَیْسَ مِنْ مَّتَاعِ الدُّنْیَا شَیْیئٌ اَفْضَلُ مِنَ الْمَرْأَۃِ الصَّالِحَۃِ۔(ابن ماجہ)
’’دنیا کی بہترین نعمتوں میں سے کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَاعِیْسٰی بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادِ بْنِ اَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِنَّمَا الدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَلَیْسَ مِنْ مَّتَاعِ الدُّنْیَا شَیْئٌ اَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَۃِ الصَّالِحَۃِ۔(۴۸)
عورت کے تمدنی حقوق
۱۳۷۔خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِنِسَائِ ہٖ وَاَلْطَفُھُمْ بِاَھْلِہٖ۔
’’تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ لطف ومہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں۔ ‘‘
تخریج :(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ، نَامُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ، نَاسُفْیَانُ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ،
عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ، وَاَنَاخَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ وَاِذَا مَاتَ صَاحِبُکُمْ، فَدَعُوْہُ۔(۴۹)
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَرُوِیَ ھٰذَا عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مُرْسَلاً۔
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : تم میں اچھا اور بہتر وہ آدمی ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھاہے اور میں خود اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہوں۔ اور جب تمہارا صاحب فوت ہوجائے تو اسے چھوڑدو۔
(۲)حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَآئِ، نَاعَبْدَۃُ ابْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، نَا اَبُوْسَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَآئِھِمْ۔ (۵۰) (وفی الباب عن عائشۃ، وابن عباس، حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں ایمان کے اعتبار سے کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھاہے اور تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں۔
تشریح : شوہر کو بیوی پرجو اختیارات اسلام نے عطاکیے ہیں ان کے استعمال میں حسنِ سلوک اور فیاضانہ برتاؤ کی ہدایت کی گئی ہے۔ قرآن مجید کاارشاد ہے وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ’’عورتوں کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو‘‘اور وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ۔ ’’آپس کے تعلقات میں فیاضی کو نہ بھول جاؤ‘‘ یہ محض اخلاقی ہدایات ہی نہیں ہیں، اگر شوہر اپنے اختیارات کے استعمال میں ظلم سے کام لے تو عورت کو قانون سے مدد لینے کا حق بھی حاصل ہے۔ (پردہ،باب۱۰: تمدنی حقوق)
عورتوں کی تعلیم
۱۳۸۔اَیُّمَارَجُلٍ کَانَتْ عِنْدَہٗ وَلِیْدَۃٌ فَعَلَّمَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا وَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبَھَا ثُمَّ اَعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ۔ (بخاری)
’’جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کو خوب تعلیم دے ، اور عمدہ تہذیب وشائستگی سکھائے، پھر اس کو آزاد کرکے اس سے شادی کرلے، اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ ‘‘
تخریج(۱) حَدَّثَنَا مُوسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِح نِالْھَمْدَانِیُّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِیُّ، حَدَّثَنِیْ اَبُوبُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :اَیُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ عِنْدَہٗ وَلِیْدَۃٌ، فَعَلَّمَھَا، فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا، وَاَدَّبَھَا، فَاَحْسَنَ تَادِیْبَھَا، ثُمَّ اَعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیِّہٖ وَآمَنَ بِیْ، فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَاَیُّمَا مَمْلُوْکٍ اَدّٰی حَقَّ مَوَالِیْہِ، وَحَقَّ رَبِّہٖ فَلَہٗ اَجْرَانِ الخ۔(۵۱)
ترجمہ : حضرت ابوبردہؓ اپنے والد کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، جس کسی شخص کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے تعلیم دی اور خوب اچھی تعلیم دی اور اسے ادب وشائستگی سکھائی اور خوب عمدہ شائستگی سکھائی پھر اسے آزاد کرکے اس سے شادی کرلے اسے دو اجر ملیں گے۔ اور اہل کتاب میں سے جو کوئی پہلے اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر مجھ پر ایمان لایا اسے دواجر ملیں گے۔ اور جس کسی غلام نے اپنے آقا کا حق ادا کیا اور اپنے خالق کا بھی حق اداکیااس کے لیے بھی دواجر ہیں۔
ابوبردہ سے ایک اور روایت :
(۲)قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلٰثَۃٌ لَھُمْ اَجْرَانِ، رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیِّہٖ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْکُ اِذَا اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہٗ اَمَۃٌ یَطَأُھَا، فَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ تَادِیْبَھَا، وَعَلَّمَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا ثُمَّ اَعْتَقَھَا، فَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ الخ۔(۵۲)
(۳)عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ الْاَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ:اَیُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ لَہٗ جَارِیَۃٌ اَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا وَاَعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَاَیُّمَا عَبْدٍ اَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَحَقَّ مَوَالِیْہِ فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۵۳)
ابوموسی اشعری سے مروی ایک روایت :
(۴)قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا اَدَّبَ الرَّجُلُ اَمَتَہٗ، فَاَحْسَنَ تَادِیْبَھَا، وَعَلَّمَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا ثُمَّ اَعْتَقَھَا فَتَزَوَّجَھَا کَانَ لَہٗ اَجْرَانِ، وَاِذَا اٰمَنَ بِعِیْسٰی ثُمَّ اٰمَنَ بِیْ فَلَہٗ اَجْرَانِ، وَالْعَبْدُ اِذَا اتَّقٰی رَبَّہٗ، وَاَطَاعَ مَوَالِیْہِ فَلَہٗ اَجْرَانِ۔(۵۴)
تشریح : عورتوں کو دینی اور دنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ ان کی تعلیم تربیت کو اسی قدر ضروری قراردیا گیاہے جس قدر مردوں کی تعلیم وتربیت ضروری ہے۔ نبی ﷺ سے دین واخلاق کی تعلیم جس طرح مرد حاصل کرتے تھے اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں۔ آپؐ نے ان کے لیے اوقات معین فرمادیئے تھے، جن میں وہ آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوتی تھیں۔ آپ کی ازواج مطہرات اور خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نہ صرف عورتوں کی، بلکہ مردوں کی بھی معلّمہ تھیں۔ اور بڑے بڑے صحابہ وتابعین ان سے حدیث، تفسیر، اور فقہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اشراف تو درکنار، نبی ﷺنے لونڈیوں تک کو علم سکھانے کا حکم دیا تھا (جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہوتاہے)۔
پس جہاں تک نفس تعلیم کا تعلق ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا ہے۔ البتہ نوعیت میں فرق ضروری ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے عورت کی صحیح تعلیم وتربیت وہ ہے جو اس کو ایک بہترین بیوی، بہترین ماں اور بہترین گھروالی بنائے۔ اس کا دائرہ عمل گھر ہے۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کو ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرہ میں اسے زیادہ مفید بناسکتے ہوں۔ مزید برآں وہ علوم بھی اس کے لیے ضروری ہیں جوانسان کو انسان بنانے والے ہیں۔ ایسے علوم اور ایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہرمسلمان عورت کے لیے لازم ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی عورت غیرمعمولی عقلی وذہنی استعداد رکھتی ہو۔ اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم وفنون کی اعلی تعلیم بھی حاصل کرنا چاہے تو اسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے، بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ (پردہ،باب۱۰:عورتوں۔۔۔)
سوال : اب تو تمام علماء نے یہ تسلیم کرلیاہے کہ موجودہ تمدنی ضروریات پوری کرنے کے لیے علم کا حاصل کرنا عورتوں کے لیے ضروری ہے۔ لیکن مجھے تو ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ ایک ہی کام کرسکتی ہیں۔ یا تو اسلامی احکام کی پابندی کریں یا علم حاصل کریں۔ پردے کی پابند ہوتے ہوئے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ طبقات الارض، آثار قدیمہ، انجینئرنگ اور تمام ایسے علوم جن میں سروے اور دور دراز سفر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان علوم کے لیے خواتین کس طرح کام کرسکتی ہیں۔ جب کہ محرم کے بغیر عورت کا تین دن سے زائد کی مسافت پر نکلنا بھی منع ہے اب کیا ہرجگہ وہ اپنے ساتھ محرم کولیے لیے پھرے گی؟
یہ علوم تو ایک طرف رہے، میں تو ڈاکٹری اور پردے کو بھی ایک دوسرے کی ضد سمجھتاہوں۔ اول تو ڈاکٹری کی تعلیم ہی جو جسمانیات کی نگاہیں پھیلادینے والے معلومات سے پر ہوتی ہے، حیا کے اس احساس کو ختم کردینے کے لیے کافی ہے جس کی مشرقی عورتوں سے توقع کی جاتی ہے، خواہ وہ ڈاکٹری پردے ہی میں سیکھی جائے، اور پڑھانے والی تمام خواتین ہی کیوں نہ ہوں؟ دوم ڈاکٹر بننے پر ایک خاتون کو مریضوں کے لواحقین سے روابط کی اس قدر ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے غیرمردوں سے بات چیت پر قدغن لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب اس کے پیش نظر اگر ہم خواتین کو ڈاکٹر بننے سے روکتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے گھروں کی مریض خواتین کے ہرمرض کے علاج کے لیے مرد ڈاکٹروں کی خدمات کی ضرورت پڑے گی اور رائج الوقت نظریہ حیا کے مطابق یہ تو اس سے بھی زیادہ معیوب سمجھا جائے گا۔
جواب : عورتوں کی تعلیم کے متعلق آپ نے جن مشکلات کا ذکر کیاہے، ان کے بارے میں بھی کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ہی آپ اس بات کوسمجھ لیں کہ فطرت نے عورت اور مرد کے دائرہ کار الگ رکھے ہیں۔ اپنے دائرہ کار کے فرائض انجام دینے کے لیے عورت کو جس سے بہتر تعلیم کی ضرورت ہے وہ اسے ضرور ملنی چاہیے۔ اور اسلامی حدوں میں وہ پوری طرح دی جاسکتی ہے۔ اس طرح عورت کے لیے ایسی علمی وذہنی ترقی بھی ان حدود کے اندر رہتے ہوئے ممکن ہے جو عورت کو اپنے دائرہ کار کے فرائض انجام دیتے ہوئے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس معاملہ میں کوئی انتظام نہ کرنا مسلمانوں کی کوتاہی ہے نہ کہ اسلام کی۔ لیکن وہ تعلیم جو مرد کے دائرہ کار کے لیے عورت کو تیار کرے عورت ہی کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہے۔ اور اس کی کوئی گنجایش اسلام میں نہیں ہے۔ (رسائل ومسائل چہارم، عام مسائل:کیا اسلام۔۔۔)
جہیز کی شرعی حیثیت
’جہیز کا دینا ناجائز نہیں۔ مگر آج کل اس کو جو شکل دے دی گئی ہے وہ بری ہے۔ خدا اور رسولؐ نے تو جہیز کے بارے میں مجبور نہیں کیا۔ اگر کوئی جہیز نہ بھی ہوتو بھی نکاح ہوجاتاہے۔ دراصل ایک مسلمان معاشرے میں عدم توازن اس لیے پید ہوتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺنے جس چیز کا حکم نہیں دیا لوگ وہ کرتے ہیں اورپھر کہتے ہیں کہ ’’کرنا پڑتا ہے‘‘ لیکن جن چیزوںکا حکم دیا گیاہے انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔ مثلاً میراث کے جو حصے اللہ نے مقرر کیے ہیں انہیں ادا نہیں کرتے، ایسا طرزِ عمل کبھی مفید ثابت نہیں ہوسکتا۔ (۵اے ذیلدار پارک دوم، ص:۲۲۹)
ماخذ
(۱) تفسیر ابن جریر ج۴۔ سورہ نساء آیت واھجروھن فی المضاجع۔٭ بخاری نے کتاب النکاح کے تحت باب مایکرہ من ضرب النساء وقولہ واضربوھن ضربا غیر مبرح باندھاہے۔٭ مسلم نے کتاب الحج باب حجۃ النبی ﷺ کے تحت فَاِنْ فَعَلْنَ ذٰلِکَ فَاضْرِبُوھُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ نقل کیاہے۔ ٭ابوداؤد کتاب النکاح باب فی حق المرأۃ علی زوجھا۔
(۲) بخاری ج۲۔ کتاب النکاح، باب قولہ قوا انفسکم واھلیکم نارا۔
(۳) بخاری ج۲۔ کتاب النکاح، باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا۔ ٭الادب المفرد للبخاری عن ابن عمر۔
(۴) بخاری ج۱کتاب الجمعۃ باب الجمعۃ فی القریٰ والمُدن۔کتاب الاستقراض باب العبد راع فی مال سیدہ الخ۔کتاب الوصایا باب تاویلہ قولہ من بعد وصیۃ یوصٰی بھا او دین الخ۔کتاب العتق باب العبد راع فی مال سیدہ الخ۔٭ مسند احمد ج۲ ص۱۲۱۔عبداللہ بن عمر۔ ٭کنزالعمال ج۶۔حدیث نمبر۱۴۶۷۰عن ابن عمر۔
(۵) بخاری ج۲۔کتاب الاحکام باب قول اللہ تعالٰی اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول الخ۔٭مسلم ج۲۔ کتاب الامارۃ باب قضیۃ الامیر العادل وعقوبۃ الجائر والحث علی الرفق بالرعیۃ والنھی عن ادخال المشقۃ علیھم۔٭مسند احمد ج۲۔ص۵عبداللہ بن عمر اس مقام پر والعبد راع ہے۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔ کتاب قتال اھل البغی باب ماعلی السلطان من القیام الخ۔
(۶) ابوداؤد ج۳۔کتاب الامارۃ باب مایلزم الامام من حق الرعیۃ۔٭ترمذی ابواب الجھاد ج۱باب ماجاء فی الامام، حدیث ابن عمر حدیث حسن صحیح۔ وحدیث ابی موسیٰ غیرمحفوظ وحدیث انس غیر محفوظ۔٭ مسند احمد ج۲۔ ص۵۴،۱۱۱۔ عبداللہ بن عمر۔
(۷) الدیلمی عن انس۔ بحوالہ کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر۴۵۰۹۶۔
(۸) کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر ۴۵۰۰۷۔
(۹) مسلم ج۲۔کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیرمعصیۃ وتحریمھا فی المعصیۃ۔٭ابوداؤد ج۳۔ کتاب الجھاد باب فی الطاعۃ۔ عن علی۔٭نسائی جز۷۔کتاب البیعۃ باب جزاء من امر بمعصیۃ فاطاع۔ عن علی۔ ٭مسند احمد ج۱۔ص۱۲۹عن علی۔ اور کنز العمال ج۶ص۷۷۔حدیث نمبر۱۴۹۱۱ لاطاعۃ بشر فی معصیۃ اللہ ہے۔٭مسند احمد ج۱ص۱۳۱پر عن علی لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ عزوجل۔٭مسندا حمد ج۴ص۴۲۶۔ ۴۲۷۔۴۳۲۔۴۳۶عن عمران بن حصین اس مقام پر لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ تبارک وتعالٰی ہے۔٭مسنداحمد ج۵۔ص۷۰عن حکم بن عمرو غِفاری۔ اس جگہ لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ تبارک وتعالٰی ہے۔ ص۶۶۔۶۷۔ عن رجل۔ یہاں پر لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ تعالٰی ہے۔ ٭المستدرک للحاکم ج۳۔ص۴۴۳۔ عن حکم بن عمرو غفاری۔ ٭کنزالعمال ج۵۔ حدیث نمبر۱۴۸۷۴۔
(۱۰) مسند احمد ج۲۔ص۳۹۸۔٭ابوداؤد کتاب الطلاق، باب فیمن خبَّت امرأۃ علی زوجھا۔٭ابوداؤد نے لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأۃ عَلٰی زَوْجِھَا روایت کیاہے اور ابوداؤد کتاب الادب باب فیمن خبّب مملوکا علی مولاہ کے تحت مَنْ خَبَّبَ زَوْجَۃَ امْرِئیٍ اَوْمَمْلُوْکَہٗ فَلَیْسَ مِنَّا نقل کیاہے۔٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح، باب فیمن افسد امرأۃ علی زوجھا۔ عن بریدۃ۔٭المستدرک ج۲۔کتاب الطلاق باب لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا اوعبد اعلی سیدہ۔
(۱۱) مسلم ج۱کتاب الحج حجۃ النبی ﷺ۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب المناسک(الحج) باب صفۃ حجۃ النبی ﷺ۔ ٭ترمذی ج۱۔ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب حق المرأۃ علی الزوج اور کتاب المناسک باب حجۃ رسول اللہ ﷺ۔٭دارمی ج۱۔کتاب المناسک باب ۳۴ فی سنۃ الحج۔ عن جابر۔٭مسند احمد ج۵۔ص۷۳۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ ص۲۹۵ کتاب القسم والنشوز باب حق المرأۃ علی الرجل۔ عن جابر۔٭کنزالعمال ج۱ص۳۷۸۔ ٭تفسیر ابن کثیر ج۱ الرجال قوامون علی النساء کے تحت (سورۃ النساء)۔
(۱۲) ابوداؤد الطیالسی ج۸۔ص۲۶۳۔عن ابن عمرؓ۔٭ کنزالعمال ج۱۶ص۳۳۹ عن ابن عمرؓ اورص۳۳۵پر فان فعلت لعنھا اللہ وملائکۃ الغضب حتی تتوب اوتراجع کے الفاظ ہیں اور السنن الکبریٰ للبیھقی نے بھی یہی الفاظ نقل کیے ہیں۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب القسم والنشوز باب ماجاء فی بیان حقہ عَلَیْھَا۔
(۱۳) ترمذی ج۱ابواب الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ صوم المرأۃ الاباذن زوجھا۔ ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی المرأۃ تصوم بغیر اذن زوجھا۔
(۱۴) ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی المرأۃ تصوم بغیر اذن زوجھا۔
(۱۵) ابوداؤد کتاب الصیام باب المرأۃ تصوم بغیر اذن زوجھا۔٭مسنداحمد ج۳۔ص۵۰۰۔ابوھریرہ٭ السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب القسم والنشوز باب ماجاء فی بیان حقہ علیھا۔٭مسند احمد ج۲ص۴۷۶ پر حضرت ابوھریرہؓ سے ایک روایت باین الفاظ بھی منقول ہے۔
(۱۶) المصنف لعبد الرزاق ج۴۔ص۳۰۶۔ اور یہ بھی منقول ہے:عن مجاھد ان النبی ﷺ نھی امرأۃ ان تصوم یوما من غیر رمضان الا باذن زوجھا۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر ۴۴۷۸۰۔ حدیث نمبر ۴۴۸۱۳ کے الفاظ لاتصوم امرأۃ یوما واحدًا وزوجھا شاھد الاباذنہ ہیں۔
(۱۷) کنزالعمال ج۱۶۔ص۳۳۴۔۳۳۵۔ عن ابن عمر۔۳۳۹پر عن ابن عمر کے واسطہ سے ابن عساکر کی روایت بھی موجود ہے۔
(۱۸) دارمی ج۱۔ کتاب الصوم باب ۲۰ النھی عن صوم المرأۃ تطوعا الاباذن زوجھا۔٭ ابوداؤد الطیالسی ج۸۔ ص۲۶۳پر ابن عمر سے منقول ہے لاتصوم تطوعا الاباذنہ۔
(۱۹) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب لاتاذن المرأۃ فی بیت زوجھا الاباذنہ۔٭مسلم ج۱کتاب الزکاۃ۔ باب اجرالخازن الامین والمرأۃ اذا تصدقت من بیت زوجھا الخ اس میں لاَتَصُمِ المَرأۃُ وَبَعْلُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاذْنِہٖ ہے۔ ٭السنن الکبریٰ ج۴۔کتاب الصیام باب المرأۃ لاتصوم تطوعا وبعلھا شاھد الا باذنہ اس کے الفاظ ہیں: قال رسول اللہ ﷺ لاَتَصُوْمُ المَرأۃُ وَبَعْلُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاذْنِہٖ۔٭المستدرک للحاکم ج۱۔کتاب الصوم باب لاتصوم امرأۃ الا باذنِ زوجھا۔میں صرف لاَتَصُوْمُ امْرَأۃٌ اِلاَّبِاذْنِ زَوْجِھَا ہے۔٭مجمع الزوائد ج۳۔کتاب الصیام باب صیام المرأۃ بغیر اذن زوجھا۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۲۰) تفسیر ابن جریر ج۴۔پ۴ص۳۹۔ ٭ تفسیر ابن کثیر ج۱سورۃ النساء۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر ۴۴۴۷۷، کنزالعمال میں فی مالھا ونفسھا ہے۔ اصل ابن جریر میں مالک ہے۔٭مسند ابی داؤد الطیالسی جز ۹ حدیث نمبر۲۳۲۵۔عن ابی ھریرۃ اس میں ہے خیر النساء الّتی الخ۔٭احکام القرآن للجصاص ج۱۔ البقرۃ اور ج۳ سورہ نساء۔ الرجال قوامون علی النساء کے تحت۔
(۲۱) ابنِ ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء۔ عن ابی ھریرۃ۔٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح باب فی المرأۃ الصالحۃ وغیرھا، فیہ جابر الجعفی وھو ضعیف۔ ابنِ ماجہ کی روایت کے راوی علی بن یزید کے بارے میں بخاری نے منکر الحدیث کھاہے اور ایک دوسرا راوی عثمان بن ابی العاتکۃ مختلف فیہ ہے۔
(۲۲) مجمع الزوائدج۴۔ کتاب النکاح باب فی المرأۃ الصالحۃ وغیرھا۔
(۲۳) نسائی ج۶۔کتاب النکاح باب ای النساء خیر۔٭مسند احمد ج۲۔ ص۲۵۱۔۴۳۲۔۴۳۸۔ عن ابی ھریرۃ۔ ٭ابوداؤد نے کتاب الزکاۃ باب فی حقوق المال میں نقل کیاہے۔
(۲۴) ابوداؤد ج۲۔کتاب الزکاۃ باب فی حقوق المال۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب التفسیر باب خیر مایکنز المرء المرأۃ الصالحۃ۔ ٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث ۴۴۴۵۰۔
(۲۵) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب استحباب التزوج بالودود الولود۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔ کتاب النکاح باب ای النساء خیر؟ عن ابی ھریرۃ۔
(۲۶) احکام القرآن للجصاص ج۳۔ باب بر الوالدین۔ مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۲۔۴ کتاب النکاح باب المرأۃ الصالحۃ والسیئۃ الخلق۔
(۲۷) بخاری ج۲۔ کتاب النکاح، باب اذا باتت المرأۃ مھاجرۃ فراش زوجھا۔
(۲۸) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب القسم والنشوز۔ باب ماجاء فی بیان حقہ علیھا۔
(۲۹) حوالہ مذکورہ بالا اور کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر ۴۵۰۰۰۔٭دارمی کتاب النکاح، باب ۳۸۔ فی حق الزوج علی المرأۃ۔
(۳۰) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب اذا باتت المرأۃ مھاجرۃً فِرَاش زوجھا۔٭تفسیر ابن کثیر ج۱سورۃ النساء۔ الرجال قوّامون علی النساء کے تحت۔
(۳۱) بخاری ج۱۔کتاب بدإ الخلق باب اذا قال احدکم اٰمین والملائکۃ فی السماء اٰمین الخ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴۔کتاب النکاح باب ماحق الزوج علی امرأتہ۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ میں فباتت غضبان علیھاہے۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب القسم والنشوز باب ماجاء فی بیان حقہ علیھا۔
(۳۲) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر۴۴۷۹۲۔
(۳۳) مجمع الزوائد ج۴۔ کتاب النکاح باب فیمن یدعوھا زوجھا فتعتل بحوالہ الطبرانی فی الاوسط ورجالہ ثقات۔
(۳۴) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا۔
(۳۵) ترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی الرجل یری المرأۃ فتعجبہ۔ ٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۲۔۴۔کتاب النکاح، باب ماقالوا فی الرجل یری المرأۃ فتعجبہ۔ من قال: یجامع اھلہ۔
(۳۶) کنز العمال ج۱۶۔ حدیث ۴۴۸۴۲۔
(۳۷) بخاری ج۲۔کتاب الادب، بابٌ من احق الناس بحُسن الصحبۃِ۔٭مسلم ج۲کتاب البر والصلۃ، باب بر الوالدین وایھما احق بہ۔٭الادب المفرد للبخاری باب بر الاب عن ابی ھریرۃ۔ اس میں مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِیْ کے بجائے مَنْ اَبَرُّ؟ سے روایت کا آغاز ہواہے۔ ٭ ابوداؤد ج۴کتاب الادب باب فی برالوالدین۔٭ترمذی ج۲۔ ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی برالوالدین۔٭ابوداؤد اور ترمذی کی روایت بھی من ابَرُّ؟ سے شروع ہوتی ہے۔ آخر میں الاقرب فالاقرب ہے۔٭ابن ماجہ کتاب الادب، باب۱ برالوالدین۔ عن ابی ھریرۃ۔ اس نے بھی من ابرّ؟ سے آغاز نقل کیاہے۔٭مجمع الزوائدج۸۔کتاب البر والصلۃ باب ماجاء فی البرّ وحق الوالدین، عن ابی ھریرۃ۔ الزوائد میں جاء ت امرأۃ الی رسول اللہ ﷺ فقالت : یارسول اللہ من ابرُّ؟ ٭المستدرک للحاکم ج۴ص۱۵۰۔ کتاب البروالصلۃ باب برامک ثم اباک ثم الاقرب فالاقرب۔
(۳۸) مسلم ج۲۔کتاب البروالصلۃ، باب برالوالدین وایھما احق بہ۔٭ ابن ماجہ کتاب الوصایا، باب النھی عن الامساک فی الحیاۃ والتبذیر عندالموت۔٭ابن ماجہ نے مَاحَقُّ النَّاسِ مِنِّیْ بِحُسْنِ الصُّحْبَۃِ سے روایت شروع کی ہے۔٭مسند احمد ج۲۔ص۳۲۷۔۳۹۱۔ عن ابی ھریرۃ ص۳۲۷ پر منقول روایت کا آغاز اَیُّ النَّاسِ اَحَقُّ مِنِّیْ بِحُسْنِ الصُّحْبَۃِ۔ اور ص۳۹۱ پر منقول روایت کا آغاز نَبِّئْنِیْ بِاَحَقِّ النَّاسِ مِنِّیْ صُحْبَۃً سے ہواہے۔
(۳۹) بخاری ج۲۔کتاب الادب، باب عقوق الوالدین من الکبائر۔٭بخاری ج۱۔کتاب الاستقراض، باب ما یُنھیٰ عن اضاعۃ المال الخ۔٭بخاری ج۲۔کتاب الرقاق، باب مایکرہ من قیل وقال۔ ٭بخاری ج۲۔کتاب الاعتصام، باب مایکرہ من کثرۃ السُوال۔٭مسلم ج۲۔کتاب الاقضیۃ، باب النھی عن کثرۃ المسائل من غیرحاجۃ الخ٭دارمی کتاب الرقاق، باب ۳۸ ان اللہ کرہ لکم قیل وقال۔٭مسنداحمد ج۴۔ص۲۴۶۔۲۵۱۔۲۵۴۔۲۵۵۔ ٭مجمع الزوائد ج۸۔کتاب البر والصلۃ باب ماجاء فی الحقوق کے تحت اِنَّ اللّٰہَ کَرِہَ لَکُمْ ثلاثا عقوق الامھات الخ عن معقل بن یسار۔
(۴۰) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب المُدَاراۃ مع النساء وقول النبی ﷺ انما المرأۃ کالضلع۔٭مجمع الزوائد ج۴۔عن عائشۃؓ۔ اس کا آخری فقرہ وھی یستمتع بھا علی عوج ہے۔٭المستدرک للحاکم ج۴۔کتاب البروالصلۃ باب المرأۃ خلقت من ضلع اعوج۔ مستدرک نے ان ترکتھا تعش بھا نقل کیاہے۔
(۴۱) بخاری ج۲۔ کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء۔
(۴۲) ابن ماجہ کتاب النکاح، باب ضرب النساء۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح، باب حق الزوجۃ علی الزوج۔٭ ابوداؤد ج۲۔ کتاب النکاح، باب فی ضرب النساء۔٭ابوداؤد اور مستدرک نے سبعون کے بجائے نساء کثیر نقل کیاہے اورص۱۹۱ پر سبعون بھی ہے اور اس مقام پر لیس اولئک خیارکم ہے۔٭کنز العمال ج۱۔ حدیث نمبر ۴۴۹۸۴۔٭ابنِ سعد بحوالہ کنزالعمال ج۱۔ص۳۷۸۔
(۴۳) مسلم ج۲۔کتاب البر والصلۃ باب فضل الاحسان الی البنات۔
(۴۴) بخاری ج۱کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولوبشق تمرۃ۔ ٭مسلم ج۲۔کتاب البر والصلۃ، باب فضل الاحسان الی البنات۔ مسلم نے ھٰذِہِ روایت نہیں کیا۔٭ترمذی ج۲۔ ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی النفقات علی البنات ھذا حدیث حسن صحیح۔٭مسند احمد ج۶۔ص۳۳۔۸۸۔۱۶۶۔۲۴۳۔
(۴۵) مسلم ج۲۔کتاب البر والصلۃ باب فضل الاحسان الی البنات۔٭ کنز العمال ج۱۶۔
(۴۶) مسلم ج۲۔کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء۔٭نسائی ج۶۔کتاب النکاح، باب المرأۃ الصالحۃ۔ نسائی نے اِنَّ الدُّنْیَا کُلَّھَا مَتَاعٌ، وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔ نقل کیاہے۔ ٭مسند احمد ج۲۔ ص۱۶۸عبداللہ بن عمرو۔
(۴۷) نسائی ج۷۔کتاب عشرۃ النساء باب حب النساء۔٭ مسند احمد ج۳۔ص۱۲۸۔۱۹۹۔۲۸۵۔ عن انس۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲۔ کتاب النکاح باب خیر ھذہ الامۃ اکثرھم نساء۔ عن انس۔
(۴۸) ابن ماجہ کتاب النکاح، باب۵۔۱فضل النساء۔
(۴۹) ترمذی ابواب المناقب، باب فی فضل ازواج النبی ﷺ۔٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء۔ عن ابن عباس۔٭ سنن دارمی کتاب النکاح، باب۵۵ فی حسن معاشرۃ النساء۔ عن عائشۃؓ۔٭مجمع الزوائدج۴۔ کتاب النکاح، باب حق المرأۃ علی الزوج۔ عن ابن عباس۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۴۹۴۱۔٭ ابن عساکر عن علی بحوالہ کنز العمال ج۱۶حدیث ۴۴۹۴۳۔٭ المستدرک للحاکم ج۴۔کتاب البر والصلۃ، باب خیرکم خیرکم للنساء۔ عن ابن عباس مستدرک نے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِلنِّسَآئِ نقل کیاہے۔ ٭تاریخ بغداد خطیب بغدادی ج۷۔٭زاد المعاد ج۱۔ص۵۵ فصل فی ھدیہ فی النکاح ومعاشرتہ ﷺ أھلہ۔
(۵۰) ترمذی ج۱ ابواب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا۔٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء۔٭ مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح، باب حق المرأۃ علی الزوج۔٭مجمع الزوائد میں خیرکم خیرکم لنسائھم۔ عن ابی ھریرۃ بھی روایت کیا گیاہے۔کنز العمال ج۱۶۔ حدیث ۴۴۹۷۱۔٭ خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد ج۷۔ص۲۱۲پر حضرت عائشہ کے واسطہ سے قالت: قال رسول اللہ ﷺ ان خیارکم احسنکم اخلاقا والطفکم باھلہ نقل کیاہے۔
(۵۱) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب اتخاذ السراری ومن اعتق جاریتہ ثم تزوجھا۔
(۵۲) بخاری ج۱۔کتاب العلم باب تعلیم الرجل امتہ واھلہ ۔
(۵۳) امام بخاری نے ج۱۔ص۳۴۶۔ کتاب العتق، باب العبد اذا احسن عبادۃ ربہ عزوجل ونصح سیدہ ۔
(۵۴) بخاری ج۱ کتاب الانبیاء، باب قول اللہ عزوجل واذکر فی الکتاب مریم اذا نتبذت من اھلھا الخ۔کتاب الجھاد، باب من فضل من اسلم من اھل الکتابَیْنِ کے تحت ثَلاَثَۃٌ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَرَّتین الخ روایت کی ہے۔٭مسلم ج۱کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمدﷺ۔ ٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح باب فی الرجل یعتق امتہ ثم یتزوجھا۔ اس میں صرف من اعتق جاریتہ وتَزَوَّجَھَا کَانَ لَہٗ اَجْرَانِ ہے۔ ٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب۴۲۔ الرجل یعتق اَمَتَہٗ ثم یتزوجھا۔ عن ابی موسیٰ۔ ٭سنن دارمی کتاب النکاح، باب۴۶۔ فضل من اعتق امۃ ثم تزوجھا عن ابی موسیٰ۔٭مسند احمد ج۴۔ ص۳۹۵۔۳۹۸۔۴۰۸۔۴۱۴۔۴۴۵۔٭الادب المفرد للبخاری ص۶۱ پر ابوبردہ عن ابیہ کے حوالہ سے ثلاثۃ لھم اجران والی روایت نقل کی ہے۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب الرجل یعتق امتہ ثم یتزوج بھا۔ عن ابی موسی اشعری بیھقی نے ثلاثۃ لھم اجران اورایما رجل کانت لہ جاریۃ والی دونوں روایتیں نقل کی ہیں۔
فصل :۱۷ عزل کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر
۱۳۹۔کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔
’’ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عزل کرتے تھے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ عَمْرٌو: اَخْبَرَنِیْ عَطَائٌ سَمِعَ جَابِرًا قَالَ:کُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْاٰنُ یَنْزِلُ۔ وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ﷺ وَالْقُرْاٰنُ یَنْزِلُ۔(۱)
تشریح : مسلمانوں میں جو حضرات ضبط ولادت کے مؤید ہیں ان کو اپنی تائید میں قرآن مجید سے ایک لفظ بھی نہیں مل سکتا۔ اس لیے وہ حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور بعض ایسی احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں عزل کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن حدیث سے استدلال کرنے میں چند امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، جن کو نظر انداز کرکے کسی فقہی مسئلہ کا استنباط نہیں کیا جاسکتا۔
اولاً: مسئلہ متعلقہ کے باب میں تمام احادیث کا استقصاء کیا جائے۔
ثانیاً: ارشاد نبوی کے موقع ومحل کو پیش نظر رکھا جائے۔
ثالثاً: اس وقت عرب کے جو حالات تھے ان کو ملحوظ رکھا جائے۔
لہٰذا ہم ان تینوں امور کو ملحوظ رکھ کر ان احادیث پرنظر ڈالیںگے جواس باب میں وارد ہوئی ہیں۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ عرب جاہلیت میں برتھ کنٹرول کے لیے قتل کا طریقہ رائج تھا، جس کے دووجوہ تھے۔ ایک معاشی حالات کی خرابی، جن کی وجہ سے ماں باپ اپنی اولاد کو مارڈالتے تھے، تاکہ ان کے رزق میں کوئی شریک پیدا نہ ہو۔ دوسرے غیرت کا حد سے بڑھا ہوا جذبہ، جو لڑکیوں کے قتل کا محرک ہوتاتھا۔ اسلام نے آکر اس کو سختی کے ساتھ منع کیا اور اس باب میں عربوں کی ذہنیت ہی بدل دی۔
اس کے بعد مسلمانوں کا رجحان عزل، یعنی مباشرت بلا انزال فی الفرج کی طرف راغب ہوا۔ لیکن یہ رجحان عام نہ تھا، نہ برتھ کنٹرول کی کوئی تحریک جاری ہوئی تھی، نہ اس کو قومی پالیسی بنانا مقصودتھا، نہ اس کے محرک وہ عہد جاہلیت کے جذبات وخیالات تھے، جن کی وجہ سے قتل اولاد کے ظالمانہ طریقہ پر عمل کیاجاتاتھا۔ بلکہ دراصل اس کے تین وجوہ تھے۔ جو احادیث کے تتبع سے ہم کو معلوم ہوتے ہیں:
lایک یہ خیال کہ لونڈی سے اولاد نہ ہو۔
lدوسرے یہ کہ لونڈی کے ام ولد
یعنی بچے کی ماں۔
بن جانے سے یہ خوف تھاکہ اس کو پھر ہمیشہ اپنے پاس رکھنا ہوگا۔
lتیسرے یہ کہ زمانۂ رضاعت میں حمل ٹھہرجانے سے شیرخواربچہ کو نقصان پہنچنے کا خوف تھا۔
ان وجوہ سے مخصوص حالات میں بعض صحابہ نے عزل کی ضرورت محسوس کی اور یہ دیکھ کر کہ اس فعل کے عدم جواز کا کوئی صریح حکم کتاب وسنت میں نہیں آیاہے اس پر عمل کیا، مثلاً ابن عباس سعد بن ابی وقاص اور ابوایوب انصاری ؓ،انہی بزرگوں میں سے ایک حضرت جابرؓ بھی ہیں، جنہوں نے شارع کے سکوت کو رضا پر محمول کیا ہے، چنانچہ ان سے جو احادیث مروی ہیں ان کے الفاظ یہ ہیں:
کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔
’’ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عزل کرتے تھے۔‘‘
کُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ یَنْزِلُ۔
’’ہم عزل کرتے تھے اس حال میں کہ قرآن نازل ہورہاتھا۔ ‘‘
کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَالْقُرْآنُ یَنْزِلُ۔
’’ہم عہد رسول اللہ ﷺ میں عزل کرتے تھے جب کہ قرآن نازل ہورہاتھا۔‘‘
ان احادیث سے ظاہر ہوتاہے کہ حضرت جابرؓ اور ان کے ہم خیال صحابہؓ نے عزل کے باب میں کوئی صریح حکم نہ ہونے کو اس کے جواز کی دلیل سمجھا۔ ایک اور حدیث جو انہی صحابی سے امام مسلم نے نقل کی یہ ہے کہ ’’ہم عہد رسالت میں عزل کرتے تھے، اس کی خبر حضورؐ کو پہنچی، اور آپؐ نے ہم کو منع نہ فرمایا۔‘‘ اس حدیث میں بھی ابہام ہے۔ صاف معلوم نہیں ہوتا کہ حضورؐ سے کچھ پوچھا گیا یا نہیں اور پوچھا گیا تو حضورؐ نے اس پرکیا فرمایا؟
دوسری احادیث یہ بتاتی ہیں کہ اس مسئلے میں حضورؐ سے سوال کیا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ ہمارے ہاتھ لونڈیاں آئیں اور ہم نے عزل کیا، پھر اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا:
’’کیا تم ایسا کرتے ہو؟’’کیا تم ایسا کرتے ہو؟ ’’کیا تم ایسا کرتے ہو؟قیامت تک جو بچے پیدا ہونے ہیں وہ تو ہوکرہی رہیں گے۔‘‘ (بخاری)
امام مالکؒ نے مؤطا میں انہی ابوسعید خدریؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ غزوۂ بنی المصطلق میں ہمارے ہاتھ لونڈیاں آئیں۔ اہل وعیال سے دوری ہم پر شاق گزررہی تھی۔ ہم نے چاہاکہ ان عورتوں سے استمتاع کریں۔ مگر اس کے ساتھ ہماری خواہش یہ بھی تھی کہ ان کو فروخت کردیں۔ اس لیے ہم نے خیال کیا کہ ان سے عزل کرنا چاہیے تاکہ اولاد پیدا نہ ہو۔ ہم نے حضورؐسے سوال کیا، آپؐ نے فرمایا:
۱۴۰۔ مَاعَلَیْکُمْ اَنْ لاَّ تَفْعَلُوْا، مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلاَّ وَھِیَ کَائِنَۃٌ۔
’’کیابگڑجائے گا اگر تم ایسا نہ کرو۔ قیامت تک جوبچے پیدا ہونے والے ہیں وہ تو ہوکر ہی رہیں گے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَسْمَائَ، قَالَ:حَدَّثَنَاجُوَیْرِیَۃُ عَنْ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ قَالَ: اَصَبْنَا سَبْیًا فَکُنَّا نَعْزِلُ، فَسَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: اَوَاَنَّکُمْ لَتَفْعَلُوْنَ؟ قَالَھَا ثَلاَثًا: مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، اِلاَّ ھِیَ کَائِنَۃٌ۔(۲)
ترجمہ : حضرت ابوسعیدخُدریؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے ہاتھ کچھ لونڈیاں آئیں، ہم ان سے عزل کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا، کیا تم ایسا کرتے ہو؟ آپ نے اس کو تین مرتبہ دہرایا اور فرمایا، قیامت تک جو بچے پیدا ہونے والے ہیں وہ تو ہوکر ہی رہیںگے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حَسَّانٍ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ، اَنَّہٗ قَالَ:دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ اَبَاسَعِیْد نِالْخُدْرِیَّ، فَجَلَسْتُ اِلَیْہِ فَسَأَلْتُہٗ عَنِ الْعَزْلِ، قَالَ اَبُوْسَعِیْدِ نِالْخُدْرِیُّ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ، فَاَصَبْنَا سَبْیًا مِنْ سَبْیِ الْعَرَبِ، فَاشْتَھَیْنَا النِّسَآئَ وَاشْتَدَّتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ وَاَحْبَبْنَا الْفِدَائَ فَاَرَدْنَا اَنْ نَعْزِلَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ اَظْھُرِنَا قَبْلَ اَنْ نَسْئَالَہٗ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: مَاعَلَیْکُمْ اَنْ لاَّتَفْعَلُوْا مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلاَّ وَھِیَ کَائِنَۃٌ۔(۳)
بخاری میں ابوسعید خدری سے مروی ایک روایت:
(۳)فَسَأَلُوا النَّبِیَّﷺ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:مَاعَلَیْکُمْ اَلاَّتَفْعَلُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْکَتَبَ مَنْ ھُوَخَالِقٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(۴)
ترجمہ : لوگوں نے نبی ﷺ سے عزل کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا تمہارا کیا بگڑجائے گا اگرایسا نہ کرو۔ قیامت تک جن کو اللہ پیدا فرمانے والا ہے ان کو لکھ چکاہے۔
(۴)وَقَالَ مُجَاھِدٌ عَنْ قَزَعَۃَ، سَأَلْتُ اَبَاسَعِیْدٍ فَقَالَ:قَالَ النَّبِیُّﷺ:لَیْسَ نَفْسٌ مَخْلُوْقَۃٌ اِلاَّاللّٰہُ خَالِقُھَا۔
ترجمہ :مجاہد قزعہ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوسعید سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا، ساری مخلوق کا خالق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
(۵)حَدَّثَنَایُوْنُسُ،قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْدَاؤدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، قَالَ:سَمِعْتُ اَبَا الْوَدَّاکِ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ:لَمَّااَصَبْنَا سَبْیَ خَیْبَرَ، سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: لَیْسَ مِنْ کُلِّ الْمَآئِ یَکُوْنُ الْوَلَدُ وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَخْلُقَ شَیْئًا لَمْ یَمْنَعْہُ شَیْئٌ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر کچھ لونڈیاں ہمارے ہاتھ آئیں۔ تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا ہرقطرہ منی میں یہ صلاحیت نہیں کہ اس سے بچہ ہو۔ مگر جب اللہ تعالیٰ کسی کو پیدا فرمانا چاہے تو پھر کوئی چیز مانع نہیں بن سکتی۔
مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب عزل کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا:
۱۴۱۔ لاَ عَلَیْکُمْ اَنْ لاَّ تَفْعَلُوْا ذَالِکَ۔
’’اگر تم ایسا نہ کروگے تو کچھ نقصان نہ ہوجائے گا۔‘‘
تخریج:(۱)عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ اَنَّہٗ قَالَ:دَخَلْتُ اَنَا وَاَبُوْالصِّرْمَۃِ عَلٰی اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ فَسَأَلَہٗ اَبُوالصِّرْمَۃِ فَقَالَ:یَا اَبَاسَعِیْدٍ! ھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَذْکُرُالْعَزْلَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ غَزْوَۃً بِالْمُصْطَلِقِ، فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَطَالَتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ، وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَائِ، فَاَرَدْنَا اَنْ نَسْتَمْتَعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بَیْنَ اَظْھُرِنَا لاَنَسْأَلُہٗ، فَسَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:لاَعَلَیْکُمْ، اَلاَّتَفْعَلُوْا مَاکَتَبَ اللّٰہُ خَلْقَ نَسَمَۃٍ ھِیَ کَائِنَۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلاَّسَتَکُوْنُ۔(۶)
مسلم کی ایک اور روایت میںہے:
(۲)ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ لَنَا:وَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُوْنَ وَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُوْنَ، مَامِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلاَّ ھِیَ کَائِنَۃٌ۔
ایک اور دوسری روایت میں ہے:
(۳) لاَعَلَیْکُمْ اَلاَّتَفْعَلُوْا فَاِنَّمَا ھُوَالْقَدَرُ۔(۷)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
۱۴۲۔ وَلِمَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ اَحَدُکُمْ۔
’’تم میں سے کوئی یہ فعل کیوں کرے؟‘‘
ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا میرے پاس ایک لونڈی ہے اور میں نہیں چاہتاکہ اس سے اولاد ہو، اس پر حضورؐ نے فرمایا:
۱۴۳۔ اِعْزِلْ عَنْھَا اِنْ شِئْتَ فَاِنَّہٗ سَیَأْتِیْھَا مَاقُدِّرَ لَھَا۔
’’تو چاہے توعزل کرلے، مگر جو اولاد اس کی تقدیر میں لکھی ہے، وہ تو ہوکر رہے گی‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یُوْنُسَ، قَالَ: نَازُھَیْرٌ، قَالَ: نَااَبُوالزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَجُلاً اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ:اِنَّ لِیْ جَارِیَۃً ھِیَ خَادِمُنَا وَسَانِیَتُنَا وَاَنَا اَطُوْفُ عَلَیْھَا، اَنَا اَکْرَہُ اَنْ تَحْمَلَ فَقَالَ:اِعْزِلْ عَنْھَا اِنْ شِئْتَ، فَاِنَّہٗ سَیَاْتِیْھَا مَاقُدِّرَ لَھَا، فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ اَتَاہُ فَقَالَ:اِنَّ الْجَارِیَۃَ قَدْحَبِلَتْ، فَقَالَ قَدْ اَخْبَرْتُکَ اَنَّہٗ سَیَاْتِیْھَا مَاقُدِّرَ لَھَا۔(۸)
ـــــــمسلم کی ایک دوسری میں وانا اعزل عنھاہے اور روایت کے آخرمیں فقال رسول اللّٰہ ﷺ انا عبداللّٰہ ورسولہٗ ہے۔
تشریح : ان کے علاوہ حضرت ابوسعید خدریؓ سے ترمذی نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ صحابہ میں سے جو اہل علم تھے وہ عموماً عزل کو مکروہ سمجھتے تھے۔ مؤطا میں امام مالک نے بیان کیاہے کہ حضرت ابن عمرؓ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو عزل کو ناپسند کرتے تھے۔
ان سب روایات کو پیش نظر رکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس فعل کی اجازت نہ دی تھی بلکہ آپ اس کو عبث اور ناپسندیدہ فعل سمجھتے تھے اور آپؐ کے جن اصحاب کو تفقہ فی الدین کا مرتبہ حاصل تھا، وہ بھی اس کو اچھی نظر سے نہ دیکھتے تھے۔ لیکن چونکہ عزل کی کوئی عام تحریک قوم میں جاری نہیں ہوئی تھی اور اس کو ایک عام قومی طرز عمل نہیں بنایا جارہاتھا، بلکہ محض چند افراد اپنی مجبوریوں اور ضرورتوں کی بنا پر اس فعل کا ارتکاب کرتے تھے، اس لیے آپؐ نے اس کی ممانعت کا کوئی قطعی اعلان بھی نہ فرمایا۔ اگر اس وقت برتھ کنٹرول کی کوئی عام تحریک شروع ہوتی تو یقینا حضورؐنہایت سختی کے ساتھ روکتے۔
(اسلام اور ضبط ولادت حامیان۔۔۔: احادیث۔۔۔)
عزل کے متعلق جوکچھ آنحضور ﷺ سے پوچھا گیا اور اس کے جواب میں جو کچھ حضورﷺ نے بیان فرمایا، اس کا تعلق صرف انفرادی ضروریات اور استثنائی حالات سے تھا۔ ضبطِ ولادت کی کوئی عام دعوت وتحریک ہرگز پیش نظر نہ تھی۔ نہ ایسی کسی تحریک کا مخصوص فلسفہ تھا جو عوام میں پھیلایا جارہاہو، نہ ایسی تدابیر وسیع پیمانے پر ہرمردوعورت کو بتائی جارہی تھیں کہ وہ باہم مباشرت کرنے کے باوجود استقرارِ حمل کو روک سکیں، اور نہ حمل کو روکنے والی دوائیں اور آلات ہرکس وناکس کی دست تک پہنچائے جارہے تھے۔ عزل کی اجازت میں جو چند روایات مروی ہیں، ان کی حقیقت بس یہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے اپنے ذاتی حالات یا مجبوریاں بیان کیں اور آنحضور ﷺنے انہیں سامنے رکھ کر کوئی مناسب جواب دے دیا۔ اس طرح کے جو جوابات نبی ﷺسے حدیث میں منقول ہیں ان سے اگر عزل کا جواز نکلتا بھی ہے تو وہ ہرگز ضبطِ ولادت کی اس عام تحریک کے حق میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، جس کی پشت پر ایک خالص مادہ پرستانہ نظریہ اور اباحیت پسندانہ فلسفہ کارفرما ہے۔ ایسی کوئی تحریک اگر آنحضرت ﷺکے سامنے اٹھتی تو مجھے یقین ہے کہ آپ اس پر لعنت بھیجتے اور اس کے خلاف ویسا ہی جہاد کرتے جیسا شرک وبت پرستی کے خلاف آپؐ نے کیا۔ میں ہراس شخص کو جو عزل سے متعلق آنحضور ﷺکے ارشادات کا غلط استعمال کرکے انہیں موجودہ تحریک کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتاہے خدا سے ڈراتاہوں، اور مشورہ دیتاہوں کہ وہ رسولِ خدا ﷺکے مقابلے میں اپنی اس جسارت سے باز رہے۔ مغرب کی بے خدا تہذیب وفکر کی پیروی اگر کسی کو کرنی ہو تو سیدھی طرح اسے دینِ مغرب سمجھ کر ہی اختیار کرے۔ آخر وہ اسے عین خدا اور رسول کی تعلیم قراردے کر،اللہ کا مزیدغضب مول لینے کی کوشش کیوں کرتاہے؟
اسلام جس طرح ضبط ولادت کی عمومی تحریک کو روا نہیں رکھتا، اسی طرح وہ قصداً بانجھ بننے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ یہ کہنا کہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بانجھ کرلینا کوئی ناجائز کام نہیں ہے، اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ کہنا غلط ہے کہ آدمی کا خود کشی کرلینا جائز ہے۔ دراصل اس طرح کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں، جن کے نزدیک آدمی اپنے جسم اور اس کی قوتوں کا خود مالک ہے اور اپنے جسم اور اس کی قوتوں کے ساتھ جو کچھ بھی کرنا چاہے کرلینے کا حق رکھتاہے۔ اسی غلط خیال کی وجہ سے جاپانی خود کشی کو جائز سمجھتے ہیں۔ اسی غلط خیال کی وجہ سے بعض جوگی اپنے ہاتھ یاپاؤں یا زبان بیکار کرلیتے ہیں۔ لیکن جو شخص اپنے آپ کو خدا کا مملوک سمجھتاہو اور یہ سمجھتاہو کہ یہ جسم اور اس کی قوتیں خدا کا عطیہ اور اس کی امانت ہیں اس کے نزدیک اپنے آپ کو بانجھ کر لینا ویساہی گناہ ہے جیسا کسی دوسرے انسان کو زبردستی بانجھ کردینا یا کسی کی بینائی ضائع کردینا گناہ ہے۔
(رسائل ومسائل سوم، فقہی مسائل: ضبط ولادت)
دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے اسلام صرف ایک ہی حل پیش کرتاہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے رزق کے جو ذرائع پیدا کیے ہیں ان کو زیادہ بڑھانے اور استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور جو ذرائع اب تک مخفی ہیں ان کو دریافت کرنے کی پیہم سعی کی جاتی رہے۔ آبادی روکنے کی ہرکوشش خواہ وہ قتل اولاد ہو، یا اسقاطِ حمل یا منع حمل، غلط اور بے حد تباہ کن ہے۔ ضبطِ ولادت کی تحریک کے چار نتائج ایسے ہیں جن کو رونما ہونے سے کسی طرح نہیں روکا جاسکتا:
۱۔ زنا کی کثرت
۲۔ انسان کے اندر خود غرضی اور معیارِ زندگی بڑھانے کی خواہش کا اس حد تک ترقی کرجانا کہ اسے اپنے بوڑھے ماں باپ اور اپنے یتیم بھائیوں اور اپنے دوسرے محتاجِ امداد رشتہ داروںکاوجود بھی ناگوار گزرنے لگے۔ کیونکہ جو آدمی اپنی روزی میں خود اپنی اولاد کو شریک کرنے کے لیے تیار نہ ہو وہ دوسروں کو بھلا کیسے شریک کرسکے گا؟
۳۔ آبادی کے اضافے کا کم سے کم مطلوبہ معیار بھی جو ایک قوم کو زندہ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، برقرار نہ رہنا، اس لیے کہ جب یہ فیصلہ کرنے والے افراد ہوں گے کہ وہ کتنے بچے پیدا کریں اور کتنے نہ کریں، اور اس فیصلہ کا مدار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے معیار زندگی کو نئے بچوں کی آمد کی وجہ سے گرنے نہ دیں۔ تو بالآخر وہ اتنے بچے بھی پیدا کرنے کے لیے تیارنہ ہوں گے، جتنے ایک قوم کو اپنی قومی آبادی برقرار رکھنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں کبھی کبھی نوبت یہ بھی آجاتی ہے کہ شرح پیدائش شرحِ اموات سے کم ترہوجاتی ہے۔ چنانچہ یہ نتیجہ فرانس دیکھ چکاہے، حتّٰی کہ اس کو ’’بچے زیادہ پیدا کرو‘‘ کی تحریک چلانی پڑی اور انعامات کے ذریعہ سے اس کی ہمت افزائی کرنے کی ضرورت پیش آگئی۔
۴۔ قومی دفاع کا کمزور ہوجانا۔ یہ نتیجہ خصوصی طورپر ایک ایسی قوم کے لیے بے حد خطرناک ہے جو اپنے سے کئی گنا زیادہ دشمن آبادی میں گھری ہوئی ہے۔ (رسائل ومسائل سوم، فقہی مسائل: ضبط۔۔۔ العینین)
ماخذ
۱) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب العزل۔٭مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب حکم العزل۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب العزل۔٭ترمذی ابواب النکاح،ج۱۔باب ماجاء فی العزل۔ عن جابر حدیث جابر حدیث حسن صحیح۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔عن جابر۔ اس کے الفاظ ہیں قد کنا نفعلہ علی عھد رسول اللہ ﷺ۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ص۲۱۷۔ عن جابر۔ ٭کنزالعمال ج۱۶۔ص۵۶۹۔عن جابر۔ الفاظ المصنف لعبدالرزاق کے ہیں۔
(۲) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب العزل۔٭مسلم ج۱۔کتاب النکاح۔ باب حکم العزل۔ ٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب ماجاء فی العزل۔ بیھقی اور ابوداؤد نے فَاَصَبْنَا سَبْیًا مِنْ سَبْیِ الْعَرَبِ فَاشْتَھَیْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ الخ بیان کیاہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب العزل۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔ عن ابی سعید خُدری۔٭مجمع الزوائد ج۴۔ص۲۹۷۔ عن صرمۃ۔ ٭الطبرانی۔بحوالہ مجمع الزوائدج۴۔ص۲۹۷۔ اس کی روایت میں عبدالحمید بن سلیمان ضعیف راوی ہے۔ ٭کنزالعمال ج۱۶۔ص۵۶۹۔ عن حذیفہ بن الیمان۔ حدیث نمبر۴۵۹۰۳۔
(۳) مؤطا امام مالک ج۲کتاب الطلاق باب ماجاء فی العزل۔
(۴) بخاری ج۲۔کتاب التوحید، باب قول اللہ ھو اللہ الخالق الباری المصور۔٭مسلم ج۱ کتاب النکاح، باب حکم العزل۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فی العزل۔٭ترمذی ابواب النکاح، باب ماجاء فی کراھیۃ العزل۔٭مؤطا امام مالک کتاب الطلاق، باب ماجاء فی العزل۔٭مسنداحمدج۳۔ ص۲۲،۴۷،۴۹،۵۷،۵۹، ۶۸،۷۸،۹۳،۱۴۰،۳۷۷،۴۵۰، (قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ) ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب العزل۔٭کنزالعمال ج۱۶۔عن ابی سعید۔
(۵) مسند ابی داؤد الطیالسی ج۹۔ص۲۸۹۔ عن ابی سعید خدری۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب العزل، عن ابی سعید خدری۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ص۳۵۸۔عن ابی سعید۔
(۶) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب حکم العزل۔
(۷) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب حکم العزل۔٭نسائی ج۶۔کتاب النکاح، باب فی العزل۔ ٭ابنِ ماجہ کتاب النکاح، باب العزل۔٭دارمی کتاب النکاح، باب فی العزل۔٭ نیل الاوطار ج۶۔باب ماجاء فی العزل۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب العزل۔
(۸) مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب حکم العزل۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب ماجاء فی العزل۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر۴۴۹۱۱۔
فصل :۱۸ متعہ کی تاریخی اور شرعی حیثیت
۱۴۴۔جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺاور حضرت ابوبکرؓکے عہد میں متعہ کرتے تھے، پھر حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں اس کی ممانعت کردی۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ:اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبُوالزُّبَیْرِ، قَالَ:سَمِعْتُ جَابِرَ ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ:کُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَۃِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِیْقِ الْاَیَّامَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍ حَتّٰی نَھٰی عَنْہُ عُمَرُ فِیْ شَاْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ۔(۱)
ترجمہ : ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ کو یہ بیان کرتے سناہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ کے عہد میں عورتوں سے کئی دنوں کے لیے ایک مٹھی بھر کھجوریں اور آٹادے کر متعہ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے متعہ کو عمرو بن حریث کے قصہ میں ممنوع قراردے دیا۔
(۲)حَدَّثَنَا حَسَنُ نِ الْحُلْوَانِیُّ، قَالَ:نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ:اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ:قَالَ عَطَائٌ : قَدِمَ جَابِرُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ مُعْتَمِرًا، فَجِئْنَاہُ فِیْ مَنْزِلِہٖ، فَسَاَلَہُ الْقَوْمُ عَنْ اَشْیَائٍ، ثُمَّ ذَکَرُوا الْمُتْعَۃَ فَقَالَ:نَعَمْ، اسْتَمْتَعْنَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَبِیْ بَکْرٍوَ عُمَرَ۔(۲)
ترجمہ : عطاء نے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عبداللہ ،عمرہ کرنے کے لیے آئے تو ہم ان کی قیام گاہ پر ملاقات کے لیے گئے۔ لوگوں نے ان سے بہت سے مسائل دریافت کیے، پھر متعہ کا بھی ذکر کیا۔ توانہوں نے کہاہاں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے عہد اور ابوبکرؓ وعمرؓ کے دور میں متعہ کیاہے۔
۱۴۵۔ سبرۃ الجہنی بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی ﷺنے اس (متعہ) کی اجازت دے دی تھی۔ چنانچہ میں نے خود ایک چادر کے عوض ایک عورت سے متعہ کیا، مگر بعد میں اسی غزوے کے زمانے میں آپؐ نے اعلان فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ نے متعہ کو قیامت تک کے لیے حرام کردیاہے۔
تخریج:(۱)عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ سَبْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، نَھٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ۔
ترجمہ :سبرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
ایک روایت میں ہے:
(۲) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی یَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَائِ۔
ترجمہ: فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرمایا۔
ایک اور روایت میں ہے :
(۳) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ، وَقَالَ:اَلاَ اِنَّھَا حَرَامٌ مِنْ یَومِکُمْ ھٰذَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ کَانَ اَعْطٰی شَیْئًا فَلاَیَاْخُذْہُ۔(۳)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے متعہ سے منع فرمایا اور کہا، سن لو کہ یہ متعہ تمہارے آج کے دن سے قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ جس کسی نے کوئی چیز دی ہو وہ اسے واپس نہ لے۔
(۴)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ نَا اَبِیْ، قَالَ:نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ:حَدَّثَنِی الرَّبِیْعُ بْنُ سَبْرَۃَ الْجُھَنِیُّ اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْکُنْتُ اَذِنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ وَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ مِنْھُنَّ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَھَا وَلاَتَاْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْئًا۔(۴)
ترجمہ : ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے آپ نے فرمایا لوگو! میںنے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی مگر اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک حرام کردیاہے لہٰذا جس کسی کے پاس ان میں سے کوئی ہو تو اسے چھوڑدے اور جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔
(۵)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَالَیْثٌ عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ سَبْرَۃَ الْجُھْنِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ سَبْرَۃَ اَنَّہٗ قَالَ:اَذِنَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالْمُتْعَۃِ فَانْطَلَقْتُ اَنَاوَرَجُلٌ اِلٰی امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ۔کَاَنَّھَا بَکْرَۃٌ عَیْطَائُ، فَعَرَضْنَا عَلَیْھَا اَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ:مَاتُعْطِیْ؟ فَقُلْتُ : رِدَائِیْ، وَقَالَ صَاحِبِی : رِدَائِیْ، وَکَانَ رِدَائُ صَاحِبِیْ اَجْوَدُ مِنْ رِدَائِیْ، وَکُنْتُ اَشَبَّ مِنْہُ، فَاِذَا نَظَرَتْ اِلٰی رِدَائِ صَاحِبِیْ اَعْجَبَھَا، وَاِذَا نَظَرَتْ اِلَیَّ اَعْجَبْتُھَا، ثُمَّ قَالَتْ: اَنْتَ وَرِدَائُکَ، یَکْفِیْنِیْ، فَمَکَثْتُ مَعَھَا ثَلاَثًا ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ کَانَ عِنْدَہٗ شَیْئٌ مِنْ ھٰذِہِ النِّسَائِ الَّتِیْ یَتَمَتَّعُ، فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَھَا۔(۵)
ترجمہ : سبرۃ الجہنی کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے متعہ کی اجازت دی تو میں اور ایک دوسرا آدمی دونوں بنو عامر کی ایک عورت کی طرف نکلے۔ وہ تو گویا ایک نوجوان اونٹنی تھی جو صراحی نما دراز گردن والی۔ ہم نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا، وہ بولی مجھے دوگے کیا؟ میں نے تو کہاکہ میری یہ چادر حاضر ہے اور میرے ساتھی نے بھی کہاکہ میری چادر بھی حاضر ہے۔ چادر تو میرے ساتھی کی عمدہ اور بہترین تھی مگر میں بہت اچھا جوان تھا۔ اس کی حالت یہ تھی کہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے پسند آتی اور جب میری طرف نظریں اٹھاتی تو میں اسے پسند آتا۔ پھر اس نے (جی میں فیصلہ کرکے) کہا کہ تو اور تیری چادر میرے لیے کافی ہے۔ میں اس کے پاس تین روز تک رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی کے پاس ایسی عورت ہو جس سے متعہ کررہاہو اسے چھوڑدے۔
(۶)حَدَّثَنِیْ حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ:اَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ ابْنُ شِھَابٍ:اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ ابْنُ الزُّبَیْرِ، اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ قَامَ بِمَکَّۃَ، فَقَالَ:اِنَّ نَاسًا اَعْمَی اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ کَمَا اَعْمٰی اَبْصَارَھُمْ یُفْتُوْنَ بِالْمُتْعَۃِ یُعَرِّضُ بِرَجُلٍ، فَنَادَاہُ، فَقَالَ: اِنَّکَ لَجِلْفٌ جَافٌ، فَلَعَمْرِیْ لَقَدْ کَانَتِ الْمُتْعَۃُ تُفْعَلُ فِیْ عَھْدِ اِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ یُرِیْدُ بِہٖ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَہُ ابْنُ الزُّبَیْرِ:فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ، فَوَاللّٰہِ لَئِنْ فَعَلْتَھَا، لَاَرْجُمَنَّکَ بِاَحْجَارِکَ۔ قَالَ ابْنُ شِھَابٍ:فَاَخْبَرَنِیْ خَالِدُ بْنُ الْمُھَاجِرِ بْنِ سَیْفِ اللّٰہِ اَنَّہٗ بَیْنَا ھُوَجَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ، جَائَ ہٗ رَجُلٌ، فَاسْتَفْتَاہُ فِی الْمُتْعَۃِ، فَاَمَرَہٗ بِھَا، فَقَالَ لَہُ ابْنُ اَبِیْ عَمْرَۃَ الْاَنْصَارِیُّ مَھْلاً! قَالَ:مَاھِیَ؟ وَاللّٰہِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِیْ عَھْدِ اِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ۔ قَالَ ابْنُ اَبِیْ عَمْرَۃَ: اِنَّھَاکَانَتْ رُخْصَۃً فِی اَوَّلِ الْاِسْلاَمِ لِمَنِ اضْطَرَّ اِلَیْھَا کَالْمَیْتَۃِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِیْرِ، ثُمَّ اَحْکَمَ اللّٰہُ الدِّیْنَ وَنَھٰی عَنْھَا۔قَالَ ابْنُ شِھَابٍ:وَاَخْبَرَنِیْ رَبِیْعُ بْنُ سَبْرَۃَ الْجُھْنِیُّ اَنَّ اَبَاہُ قَالَ: قَدْکُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِی عَھْدِ النَّبِیِّ ﷺ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ بِبُرْدَیْنِ اَحْمَرَیْنِ، ثُمَّ نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْمُتْعَۃِ، قَالَ ابْنُ شِھَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِیْعَ ابْنَ سَبْرَۃَ یُحَدِّثُ ذٰلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَاَنَا جَالِسٌ۔(۶)
ترجمہ : ابن شہاب زہری نے بتایاکہ عروہ بن زبیرنے مجھے خبردی کہ عبداللہ بن زبیر مکہ میں لوگوں کو خطاب (خطبہ) کرنے کھڑے ہوئے، کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ نے ان کے دل بھی اس طرح اندھے کردیے ہیں جس طرح ان کی آنکھیں اندھی کردی ہیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــان کا یہ اشارہ ابن عباس کی طرف تھا کہ وہ آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے اور انہیں یہ اطلاع نہیں ملی ہوگی کہ متعہ منسوخ ہوگیاہے اسی وجہ سے وہ اس کے جواز کا فتویٰ دیتے رہے جب انہیں معلوم ہوگیا تو رجوع کرلیاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ وہ ایک آدمی پر طعن کررہے تھے (ابن عباس ؓ پر) اسی اثناء میں اسے ایک شخص نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ تم کم فہم، بے ادب اور نادان ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ باسعادت میں متعہ کیا جاتارہاہے۔ ابن زبیر نے اسے کہا، اچھا پھر تم خود تجربہ کردیکھو میں تمہیں تمہارے پتھروں سے سنگسار کردوںگا اگرتم نے اس کا ارتکاب کیا۔ ابن شہاب کا قول ہے کہ خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے مجھے بتایا کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک دوسرا شخص آیا اور متعہ کے بارے میں فتویٰ دریافت کیا تو اس نے اسے اجازت دے دی۔ ابن ابی عمرہ انصاری نے اسے کہا ذرا ٹھہرو، وہ بولا کیا ہوا؟ اللہ کی قسم امام المتقین (رسول اللہؐ) کے عہد میں متعہ کیا گیاہے۔ ابن ابی عمرہ نے کہا ابتداء اسلام میں اس کی رخصت تھی ایسے آدمی کے لیے جو بہت ہی مجبور وبے قرار ہو جس طرح ایک مضطر کے لیے مردار، خون اور سور کا گوشت وغیرہ کی اجازت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مستحکم ومضبوط فرمادیا اور متعہ ممنوع کردیا ۔ابن شہاب نے مزید بتایاکہ مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے اطلاع دی کہ اس کے والد نے ان سے ذکرکیا تھا کہ میں نے عہد نبوی میں بنوعامر کی ایک عورت سے دوسرخ چادروں کے بدلہ متعہ کیا تھا۔ مگر پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمادیا۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے ربیع بن سبرہ کو سنا وہ عمر بن عبدالعزیز کو یہ واقعہ بیان کررہاتھا اور میں پاس بیٹھا ہوا تھا۔
(۷)قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ رَبِیْعَ بْنَ سَبْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ سَبْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ اَمَرَ اَصْحَابَہٗ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَآئِ، قَالَ فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبٌ لِّیْ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ حَتّٰی وَجَدْنَا جَارِیَۃً مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ کَاَنَّھَا بَکْرَۃٌ عَیْطَائُ، فَخَطَبْنَاھَا اِلٰی نَفْسِھَا وَعَرَضْنَا عَلَیْھَا بُرْدَیْنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ، فَتَرَانِیْ اَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِیْ وَتَرٰی بُرْدَ صَاحِبِیْ اَحْسَنَ مِنْ بُرْدِیْ، فَاٰمَرَتْ نَفْسَھَا سَاعَۃً، ثُمَّ اخْتَارَتْنِیْ عَلٰی صَاحِبِیْ، فَکُنَّ مَعَنَا ثَلاَثًا، ثُمَّ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِفِرَاقِھِنَّ۔(۷)
ترجمہ : ربیع بن سبرہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت ورخصت دے دی، تو میں اور میرا ایک دوست جس کا تعلق بنی سلیم سے تھا باہر نکلے، بنو عامر کی ایک خوب رو جوان لڑکی سے ہمارا سامنا ہوا۔ ہم دونوں نے اسے متعہ کا پیغام دیا اور دونوں نے اپنی اپنی چادر پیش کی۔ اس نے ہمیں بغور دیکھنا شروع کیا۔ مجھے میرے ساتھی سے زیادہ خوبصورت دیکھ رہی تھی اور میرے دوست کی چادر کو میری چادر سے عمدہ دیکھتی تھی۔ چند لمحے اپنے جی میں سوچ کر اس نے مجھے میرے ساتھی کے مقابلہ میں منتخب کرلیا۔ پس ایسی عورتیں ہمارے تصرف میں تین دن تک رہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ان سے جدا اور الگ ہونے کا حکم صادر فرمادیا۔
(۸)حَدَّثَنَا اَبُوْکَامِلٍ فُضَیْلُ بْنُ حُسَیْنٍ اَلْجَحْدَرِیُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ(یَعْنِی ابْنَ مُفَضَّلٍ) حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ سَبْرَۃَ اَنَّ اَبَاہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَتْحَ مَکَّۃَ، قَالَ: فَاَقَمْنَا بِھَا خَمْسَ عَشْرَۃَ (ثَلاَثِیْنَ بَیْنَ لَیْلَۃٍ وَیَوْمٍ) فَاَذِنَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ مُتْعَۃِ النِّسَآئِ،فَخَرَجْتُ اَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِیْ، وَلِیْ عَلَیْہِ فَضْلٌ فِی الْجَمَالِ وَھُوَ قَرِیْبٌ مِنَ الدَّمَامَۃِ۔ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ، فَبُرْدِیْ خَلَقٌ وَاَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّیْ فَبُرْدٌ جَدِیْدٌ غَضٌّ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِاَسْفَلِ مَکَّۃَ اَوْبِاَعْلاَھَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاۃٌ مِثْلَ الْبَکْرَۃِ الْعَنَطْنَطَۃِ، فَقُلْنَا:ھَلْ لَکِ اَنْ یَّسْتَمْتِعَ مِنْکِ اَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَمَاذَا تَبْذُلاَنِ؟ فَنَشَرَکُلُّ وَاحِدٍ مِّنَّا بُرْدَہٗ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ اِلٰی الرَّجُلَیْنِ وَیَرَاھَا صَاحِبِیْ اِلٰی عِطْفِھَا، فَقَالَ:اِنَّ بُرْدَ ھٰذَا خَلَقٌ وَبُرْدِیْ جَدِیْدٌ غَضٌّ، فَتَقُوْلُ:بُرْدُ ھٰذَا لاَبَاْسَ بِہِ، ثَلٰثَ مِرَارٍ اَوْمَرَّتَیْنِ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْھَا فَلَمْ اَخْرُجْ حَتّٰی حَرَّمَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۸)
ترجمہ : ربیع بن سبرہ سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد غزوہ فتح مکہ میں نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے۔ انہوں نے بتایاکہ ہم پندرہ دن مکہ میں ٹھہرے دن اور رات دونوں کوملا کر یہ تیس ہوتے ہیں۔ اس اثنا میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت واجازت دے دی تو میں اور ایک میرے قبیلہ کا آدمی دونوں نکلے۔ میں اس کے مقابلہ میں زیادہ خوبصورت تھااور وہ ذرابدصورتی کے قریب تھا۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی۔میری چادر ذرا پرانی تھی اور میرے چچازاد کی چادر بالکل نئی تھی تا آنکہ ہم مکہ کے زیریں یا بالائی حصہ میں پہنچ گئے تو ہمارا سامنا ایسی خوب رو دوشیزہ سے ہوا جو اونٹنی کی طرح جوان، صراحی دار گردن والی تھی (نہایت ہی خوبصورت اور نوجوان) ہم نے اسے کہا کہ کیا تجھے اس بات میں دلچسپی اور رغبت ہے کہ ہم میں سے کوئی تمہارے ساتھ متعہ کرے؟ وہ بولی تم لوگ دوگے کیا؟ (کیا خرچ کروگے؟) تو ہم میں سے ہرایک نے اپنی چادر کھول کر سامنے رکھ دی، وہ دونوں مردوں کو بغور دیکھنے لگی، میرا ساتھی تو اسے سرسے لے کر سرین تک ملاحظہ کررہاتھا۔ میرے ساتھی نے کہا کہ یہ چادر تو پرانی ہے اور میری چادر بالکل نئی اور خوبصورت ہے۔ یہ سن کر وہ بولی کہ اس کی چادر میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ بات اس نے دو یاتین مرتبہ کہی۔ غرض یہ کہ میں نے اس سے متعہ کیا ،میں اس وقت تک اس کے ہاں سے نہ نکلا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے متعہ کو حرام قراردے دیا۔
(۹)حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ ابْنِ اُمَیَّۃَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ:کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ ابْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فَتَذَاکَرْنَا مُتْعَۃَ النِّسَآئِ، فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ یُّقَالُ لَہٗ رَبِیْعُ ابْنُ سَبْرَۃَ:اَشْھَدُ عَلٰی اَبِیْ اَنَّہٗ حَدَّثَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْھَا فِیْ حَجَّۃِ الْوِدَاعِ۔(۹)
ترجمہ : امام زہری سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھے تھے کہ متعہ کے بارے میں مذاکرہ شروع ہوا، ایک شخص جسے ربیع بن سبرہ کہاجاتاتھا، نے کہا میں قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر متعہ کو ممنوع قراردیاہے۔
ایک اور روایت ابوداؤد میں ہے :
(۱۰)عَنْ رَبِیْعِ بْنِ سَبْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ حَرَّمَ مُتْعَۃَ النِّسَآئِ۔(۱۰)
(۱۱)حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ:حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ اَنَّہٗ سَمِعَ الزُّھْرِیَّ یَقُوْلُ:اَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَاَخُوْہُ عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْھِمَا۔ اَنَّ عَلِیًّا قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ:اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ نَھٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃِ زَمَنَ خَیْبَرَ۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت علیؓ نے ابن عباس سے کہا کہ نبی ﷺ نے متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے غزوہ خیبر کے زمانے میں منع فرمایا۔
(۱۲)حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ وَالْحَسَنِ ابْنَیْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْھِمَا عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ : نَھَی النَّبِیُّ ﷺ عَنِ الْمُتْعَۃِ عَامَ خَیْبَرَ وَلُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَنْسِیَّۃِ۔(۱۲)
ترجمہ : حضرت علیؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے غزوہ خیبر کے سال منع فرمایا۔
(۱۳)حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: قَرَاْتُ عَلٰی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ وَالْحَسَنِ ابْنَیْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَلِیٍّ،عَنْ اَبِیْھِمَا، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَآئِ یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَنْ اَکْلِ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَنْسِیَّۃِ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت علیؓ بن ابی طالب سے مروی ہے انہوں نے بتایاکہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے خیبر کے روز منع فرمایا۔
ایک روایت میں ہے :
(۱۴)عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یُلَیِّنُ فِی مُتْعَۃِ النِّسَآئِ فَقَالَ:مَھْلاًیَابْنَ عَبَّاسٍ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْھَا یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَنْسِیَّۃِ۔(۱۴)
ترجمہ :حضرت علیؓ سے مروی ہے، انہوں نے سنا کہ ابن عباسؓ عورتوں سے متعہ کے بارے میں نرمی سے کام لیتے ہیں۔ حضرت علیؓ نے کہا ابن عباسؓ ذرا ٹھہرو (اور سنو) کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن متعہ سے اور گھریلو پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا تھا۔
(۱۵)حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ:نَایُوْنُسُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نَاعَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زَیَّادٍ، قَالَ:نَا اَبُوْعُمَیْسٍ عَنْ اِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَامَ اَوْطَاسٍ فِی الْمُتْعَۃِ ثَلاَثًا ثُمَّ نَھٰی عَنْھَا۔(۱۵)
ترجمہ :ایاس بن سلمہ نے اپنے باپ کے حوالہ سے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے اوطاس کے سال تین مرتبہ متعہ کرنے کی رخصت دی مگر پھر اس سے منع فرمادیا۔
(۱۶)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَاجَرِیْرٌ عَنْ اِسْمَاعِیْل، عَنْ قَیْسٍ، قَالَ:قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ:کُنَّانَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَلَیْسَ لَنَاشَیْئٌ، فَقُلْنَا اَلاَنَسْتَخْصِیْ، فَنَھَانَا عَنْ ذٰلِکَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا اَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا۔ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلاَتَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ (۱۶)
ترجمہ : قیس سے مروی ہے کہ عبداللہ بن ؓ مسعود نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔ ہمارے لیے (بیویوں) کا کوئی بندو بست نہ تھا۔ اس لیے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم خصی ہوکر (نامرد) نہ ہوجائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ اور پھر ایک کپڑے کے عوض عورت سے نکاح کرنے کی اجازت ورخصت عنایت فرمادی اور ہمارے سامنے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی کہ’’ اے ایمان والو! وہ پاک وطیب چیزیں جنہیں اللہ نے تمہارے لیے حلال قراردیاہے انہیں حرام نہ کرو اور حد سے تجاوز بھی نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘
(۱۷)حَدَّثَنَا عَلِیٌّ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ وَسَلَمَۃ بْنِ الْاَکْوَعِ قَالَ:کُنَّا فِیْ جَیْشٍ، فَاَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ فَقَالَ اَنَّہٗ قَدْ اُذِنَ لَکُمْ اَنْ تَسْتَمْتِعُوْا، فَاسْتَمْتِعُوْا، وَقَالَ ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ حَدَّثَنِیٍ اِیَاسُ ابْنُ سَلَمَۃ ابْنِ الْاَکْوَعِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَیُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ تَوَافَقَا فَعِشْرَۃُ مَابَیْنَھُمَا ثَلاَثُ لَیَالٍ، فَاِنْ اَحَبَّا اَنْ یَتَزَایَدَ اَوْ یَتَتَارَکَا، تَتَارَکَا، فَمَا اَدْرِیْ اَشَـْیئٌ کَانَ لَنَا خَاصَّۃً اَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ، وَبَیَّنَہٗ عَلِیٌّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ مَنْسُوْخٌ۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع سے مروی ہے کہ ہم ایک (فوجی) لشکر میں تھے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ تمہیں متعہ کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لہٰذا اب متعہ کرسکتے ہو، ابن ابی ذئب نے بتایا کہ مجھے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے اپنے والد کے حوالہ سے نبی ﷺ کا ارشاد بیان کیا کہ جو مردو عورت باہم موافقت کریں تو تین روز تک وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں اب اگر وہ مزید اضافہ کرنا چاہیںیا چھوڑنا چاہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ومختار ہیں مجھے نہیںمعلوم کہ یہ ہمارے لیے خاص تھا یا سب کے لییعام۔ امام بخاری نے فرمایا کہ حضرت علیؓ نے یہ واضح کردیا تھا کہ نبی ﷺ نے اسے منسوخ فرمادیا تھا۔
(۱۸)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ جَمْرَۃَ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَآئِ، فَرَخَّصَ، فَقَالَ لَہٗ مَوْلًی لَہٗ:اِنَّمَا ذٰلِکَ فِی الْحَالِ الشَّدِیْدِ وَفِی النِّسَآئِ قِلَّۃٌ اَوْنَحْوَہٗ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ۔(۱۸)
ترجمہ : ابوجمرہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباسؓ سے سنا کہ ان سے متعہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس کی رخصت دی۔ ان کے آزاد کردہ غلام نے ان سے کہا کہ یہ تو اس وقت تھا جب شدید ضرورت تھی اور عورتوں کی تعداد کم تھی (گویا قلتِ نسواں اور شدید ناگزیر ضرورت کے وقت) اس پر ابن عباس بولے ہاں (یہ درست ہے) ۔
(۱۹)حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَاسُفْیَانُ بْنُ عُقْبَۃَ اَخُوْقَبِیْصَۃَ بْنِ عُقْبَۃَ، نَاسُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مُوْسٰی بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ کَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنَّمَا کَانَتِ الْمُتْعَۃُ فِیْ اَوَّلِ الْاِسْلاَمِ کَانَ الرَّجُلُ یَقْدَمُ الْبَلْدَۃَ لَیْسَ لَہٗ بِھَا مَعْرِفَۃٌ، فَیَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ بِقَدْرِمَا یَرٰی اَنَّہٗ یُقِیْمُ، فَتَحْفَظُ لَہٗ مَتَاعَہٗ وَتُصْلِحُ لَہٗ شَیْئَہٗ حَتّٰی اِذَا نَزَلَتِ الْاٰیَۃُ اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَکُلُّ فَرْجٍ سِوَاھٰذَیْنِ فَھُوَ حَرَامٌ۔ (۱۹)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ متعہ آغاز اسلام میں جائز تھا۔ ایک آدمی کسی گاؤں میں چلا جاتا جہاں اس کی کوئی جان پہچان نہ ہوتی تھی تو وہاں کسی عورت سے اس لیے نکاح کرلیتا کہ جتنے روز یہاں قیام کرنا ہے تو یہ خاتون اس کے مال ومتاع کی حفاظت بھی کرے گی اور اس کے معاملہ کو درست بھی رکھے گی۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی اِلاَّعَلٰی اَزْوَاجِھِمْ۔۔۔ ـــــسو ائے اپنی بیویوں کے اور اُن عورتوں کے جو اُن کی ملک یمین میں ہوں۔۔۔ ــــــ تو ابن عباسؓ نے فتویٰ دیا کہ ان دوشرم گاہوں کے علاوہ باقی سب حرام ہیں۔
(۲۰)وَاِنَّمَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَیْئٌ مِنَ الرُّخْصَۃِ فِی الْمُتْعَۃِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِہٖ حَیْثُ اُخْبِرَہٗ عَنِ النَّبِیِّﷺ:وَاَمَرَ اَکْثَرُ اَھْلِ الْعِلْمِ عَلٰی تَحْرِیْمِ الْمُتْعَۃِ وَھُوَ قَوْلُ الثَّوْرِیِّ، وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَاِسْحَاقَ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ سے متعہ میں رخصت دینے کے بارے میں منقول ہے مگر انہوں نے نبی ﷺ کی طرف سے (متعہ کی) خبردیے جانے کے بعد اپنے سابقہ قول سے رجوع کرلیا تھا۔ نیز اکثر اہل علم نے متعہ کی حرمت کا فتویٰ دیاہے ان میں سفیان ثوری، ابن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہوغیرہ۔
(۲۱)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِیُّ، ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ عَنْ اَبَانَ ابْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِبْنِ حَفْصٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا وَلِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَذِنَ لَنَا فِی الْمُتْعَۃِ ثَلاَثًا، ثُمَّ حَرَّمَھَا، وَاللّٰہِ لاَ اَعْلَمُ اَحَدًا یَتَمَتَّعُ وَھُوَ مُحْصَنٌ اِلاَّرَجَمْتُہٗ بِالْحِجَارَۃِ اِلاَّ اَنْ یَاْتِیَنِیْ بِاَرْبَعَۃٍ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ اَحَلَّھَا بَعْدَ اِذْحَرَّمَھَا۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ جب حضرت عمرؓ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین مواقع پر متعہ کرنے کی اجازت ورخصت عنایت فرمائی، پھر آخر کار اسے حرام ٹھیرادیا۔ اللہ کی قسم اب اگر ایسا آدمی جو شادی شدہ ہو میرے علم میں آئے کہ اس نے متعہ کیا ہے تو میں اسے رجم کردوں گا الا یہ کہ وہ میرے پاس ایسی چار شہادتیں پیش کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام قرار دینے کے بعد پھر حلال کردیا تھا۔
تشریح : حضرت سبرۃؓ الجہنی اور حضرت جابرؓ والی حدیثیں، مسلم باب نکاح المتعۃ میں موجود ہیں۔ لیکن معلوم ہوتاہے کہ معترضین نے صرف اعتراض کی خاطر حدیثیں تلاش کرنی شروع کیں اور اس سلسلہ میں ان دونوں حدیثوں کو بھی اپنی فہرست میں ٹانک لیا۔ورنہ اگر وہ جاننے کی کوشش کرتے کہ متعہ کی حقیقت کیاہے اور اس کے بارے میں فقہاء کے درمیان میں کیا بحثیں پیدا ہوئی تھیں اور ان بحثوں کا تصفیہ کرنے کے محدثین نے کس مقصد کے لیے وہ تمام روایات اپنی کتابوں میں جمع کیں جو متعہ کے جواز اور حرمت کے متعلق ان کو مختلف سندوں سے پہنچی تھیں، تو شاید وہ ان احادیث پر نظر عنایت نہ فرماتے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام سے قبل، زمانہ جاہلیت میںنکاح کے جو طریقے رائج تھے، ان میں سے ایک ’’نکاح متعہ‘‘ بھی تھا۔ یعنی یہ کہ کسی عورت کو کچھ معاوضہ دے کرایک خاص مدت کے لیے اس سے نکاح کرلیاجائے۔ نبی ﷺ کا قاعدہ یہ تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کسی چیز کی نہی کا حکم نہ مل جاتاتھا، آپ پہلے کے رائج شدہ طریقوں کومنسوخ نہ فرماتے تھے۔ بلکہ یا تو ان کے رواج پر سکوت فرماتے یا بوقت ضرورت ان کی اجازت بھی دے دیتے۔ چنانچہ یہی صورت، متعہ کے بارے میں بھی پیش آئی۔ ابتداء ًآپ نے اس کے رواج پر سکوت فرمایا اور بعد میں کسی جنگ یا سفرکے موقع پر اگر لوگوں نے اپنی شہوانی ضرورت کی شدت ظاہر کی تو آپؐ نے اس کی اجازت بھی دے دی، کیونکہ حکم نہی اس وقت تک نہ آیاتھا۔ پھر جب حکمِ نہی آگیا تو آپؐنے اس کی قطعی ممانعت فرمادی۔لیکن یہ حکم عام لوگوں تک نہ پہنچ سکا اور اس کے بعد بھی کچھ لوگ ناواقفیت کی بنا پر متعہ کرتے رہے۔ آخر کار حضرت عمرؓ نے اپنے دورمیں اس حکم کی عام اشاعت کی اور پوری قوت کے ساتھ اس رواج کو بند کیا۔
اس مسئلے میں فقہاء کے سامنے متعدد سوالات تحقیق طلب تھے۔ مثلاً یہ کہ آیا حضورؐ نے کبھی اس کی صریح اجازت بھی دی تھی؟ اور اگر دی تھی تو کس موقع پر؟ اور یہ کہ آپؐنے اسے منع فرمایاہے یا نہیں؟ اور منع فرمایاہے تو کب اور کن الفاظ میں؟ اور یہ کہ آیا اس کی تحریم حضورؐ کا اپنا فعل ہے یا حضرت عمرؓنے اپنی ذمہ داری پر اس رواج کو بند کیا؟ یہ اور اسی طرح کے متعدد دوسرے سوالات تھے جن کی تحقیق کے لیے فقہاء ومحدثین کو وہ تمام روایات جمع کرنے کی ضرورت پیش آئی جو اس مسئلے سے متعلق مختلف لوگوں کے پاس موجود تھیں۔ ا س سلسلے میں امام مسلمؒ نے وہ دونوں روایات بھی نقل کیں جن کو معترضین نے اعتراض کے لیے چھانٹاہے۔
ان کے علاوہ اور بہت سی احادیث مسلم اور دوسرے محدثین نے جمع کی ہیں جو اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر محدثین یہ مواد جمع نہ کرتے تو اسلامی قانون کی تدوین کرنے والے آخر کس بنیاد پر متعے کے جواز وعدمِ جواز کا فیصلہ کرتے؟ (رسائل ومسائل دوم، تفسیر۔۔۔ : چند احادیث۔۔۔)
سورہ مومنون کی آیت۵،۶ سے حرمتِ متعہ پر استدلال
بعض مفسرین نے سورۃ المؤمنون کی آیت نمبر ۵،۶ سے متعہ کی حرمت بھی ثابت کی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ممتوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔ لونڈی تو وہ ظاہر ہے کہ نہیں ہے اور بیوی اس لیے نہیں ہے کہ زوجیت کے لیے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہے نہ مرد اس کا وارث ہوتاہے۔ نہ اس کے لیے عدت ہے، نہ طلاق، نہ نفقہ،نہ ایلاء اور ظہار اور لعان وغیرہ۔ بلکہ چار بیویوں کی مقررہ حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے۔ پس جب وہ ’’بیوی‘‘ اور ’’لونڈی‘‘ دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تولامحالہ وہ ان کے علاوہ کچھ اور میں شمار ہوگی جس کے طالب کو قرآن ’’حد سے گزرنے والا‘‘ قراردیتاہے۔ یہ استدلال بہت قوی، مگر اس میں کمزوری کا ایک پہلو ایسا ہے جس کی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ متعہ کی حرمت کے بارے میں یہ آیت ناطق ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ نبی ﷺنے متعہ کی حرمت کا آخری اور قطعی حکم فتح مکہ کے سال دیاہے اور ا س سے پہلے اجازت کے ثبوت صحیح احادیث میں پائے جاتے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حرمت متعہ کا حکم قرآن کی اس آیت ہی میں آچکاتھا جو بالاتفاق مکی ہے اور ہجرت سے کئی سال پہلے نازل ہوئی تھی تو کیسے تصور کیا جاسکتاہے کہ نبیﷺ اسے فتح مکہ تک جائز رکھتے لہٰذا یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ متعہ کی حرمت قرآن مجید کے کسی صریح حکم پر نہیں بلکہ نبی ﷺ کی سنت پر مبنی ہے۔ سنت میں اس کی صراحت نہ ہوتی تو محض اس آیت کی بنا پر تحریم کا فیصلہ کردینا مشکل تھا۔ متعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ دو باتوں کی توضیح کردی جائے۔ اول یہ کہ اس کی حرمت خود نبی ﷺسے ثابت ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اسے حضرت عمرؓ نے حرام کیا، درست نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ اس حکم کے موجد نہیں تھے بلکہ صرف اسے شائع اور نافذ کرنے والے تھے۔ چونکہ یہ حکم حضورؐ نے آخری زمانے میں دیا تھا اور عام لوگوں تک نہ پہنچا تھا اس لیے حضرت عمرؓ نے اس کی عام اشاعت کی اور بذریعہ قانون اسے نافذکیا۔ دوم یہ کہ شیعہ حضرات نے متعہ کو مطلقاً مباح ٹھیرانے کا جو مسلک اختیار کیا ہے اس کے لیے تو بہر حال نصوص کتاب وسنت میں سرے سے کوئی گنجایش ہی نہیں ہے۔ صدرِ اول میں صحابہ اور تابعین اور فقہاء میں چند بزرگ جو اس کے جواز کے قائل تھے وہ اسے صرف اضطرار اور شدید ضرورت کی حالت میں جائز رکھتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اسے نکاح کی طرح مباح مطلق اور عام حالات میں معمول بہ بنالینے کاقائل نہ تھا۔ ابن عباسؓ، جن کانام قائلین جواز میں سب سے زیادہ نمایاں کرکے پیش کیا جاتاہے، اپنے مسلک کی توضیح خود ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ مَاھِیَ اِلاَّکَالْمَیْتَۃِ لاَ تَحِلُّ اِلاَّ لِلْمُضْطَرِّ ’’یہ تو مردار کی طرح ہے کہ مضطر کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں‘‘ اور اس فتوے سے بھی وہ اس وقت باز آگئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اباحت کی گنجایش سے ناجائز فائدہ اٹھاکر آزادانہ متعہ کرنے لگے ہیں اور ضرورت تک اسے موقوف نہیں رکھتے۔ اس سوال کو اگر نظر انداز بھی کردیاجائے کہ ابنِ عباسؓ اور ان کے ہم خیال چند گنے چنے اصحاب نے اس مسلک سے رجوع کرلیاتھا یا نہیں، تو ان کے مسلک کو اختیار کرنے والا زیادہ سے زیادہ جواز بحالتِ اضطرار کی حد تک جاسکتاہے۔ مطلق اباحت بلاضرورت تمتع، حتی کہ منکوحہ بیویوں تک کی موجودگی میںبھی ممتوعات سے استفادہ کرنا تو ایک ایسی آزادی ہے جسے ذوقِ سلیم بھی گوارا نہیں کرتا کجا کہ اسے شریعتِ محمدیہ کی طرف منسوب کیا جائے اور ائمہ اہلِ بیت کو اس سے متہم کیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ خود شیعہ حضرات میں سے بھی کوئی شریف آدمی یہ گوارا نہیں کرسکتاکہ کوئی شخص اس کی بیٹی یا بہن کے لیے نکاح کے بجائے متعہ کا پیغام دے۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ جواز متعہ کے لیے معاشرے میں زنانِ بازاری کی طرح عورتوں کا ایک ایسا ادنیٰ طبقہ موجود رہنا چاہیے جس سے تمتع کرنے کا دروازہ کھلارہے۔ یا پھریہ کہ متعہ صرف غریب لوگوں کی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانا خوشحال طبقہ کے مردوں کا حق ہو۔ کیا خدا اور رسول کی شریعت سے اس طرح کے غیرمنصفانہ قوانین کی توقع کی جاسکتی ہے؟ اور کیا خدا اور اس کے رسول سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی ایسے فعل کو مباح کردیں گے جسے ہرشریف عورت اپنے لیے بے عزتی بھی سمجھے اور بے حیائی بھی؟ (تفہیم القرآن ج۳، المؤمنون، حاشیہ: ۷)
ماخذ
(۱) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ الخ۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۷۔کتاب النکاح، باب المتعۃ حدیث نمبر ۱۴۰۲۸۔ ٭کنز العمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۵۷۳۲۔
(۲) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ الخ۔ ٭ المصنف لعبد الرزاق ج۷۔کتاب النکاح باب فی المتعۃ حدیث۔ نمبر ۱۴۰۲۱۔
(۳) مسلم ج۱کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔ ٭دارمی ج۲۔کتاب النکاح، باب۱۶ النھی عن متعۃ النساء دارمی نے نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ عَامَ الْفَتْحِ روایت کیاہے۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴کتاب النکاح باب فی نکاح المتعۃ وحرمتھا۔
(۴) مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ الخ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔ ٭ابن ماجہ کتاب النکاح، باب النھی عن نکاح المتعۃ۔ سبرۃ الجھنی۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴کتاب النکاح، باب فی نکاح المتعۃ وحرمتھا عن ربیع بن مرۃ عن ابیہ۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث ۴۴۷۵۳۔ اور ۴۵۷۳۹۔
(۵) مسلم ج۱کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ الخ۔٭نسائی جز۔۶کتاب النکاح، باب تحریم المتعۃ سبرۃ بن جھنی۔ ٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ۔
(۶) مسلم ج۱کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ الخ۔ ٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔ ٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔ کتاب النکاح باب المتعۃ۔
(۷) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔
(۸) مسلم ج۱۔کتاب النکاح۔ باب نکاح المتعۃ وبیان أنہ أبیح ثم نسخ، ثم أبیح ثم نسخ واستقر تحریمہ إلی یوم القیٰمۃ۔ ٭السنن الکبری بیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔ ٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح، باب نکاح، المتعۃ۔ سبرۃ جھنی۔ ٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔حدیث ۱۴۰۴۱۔ الفاظ مختلف ہیں۔
(۹) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فی نکاح المتعۃ۔
(۱۰) حوالہ مذکورہ بالا السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔٭ مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔ ٭کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر۴۵۷۵۱۔ عن محمد بن حنفیہ بحوالہ طبرانی اوسط۔
(۱۱) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب نھی رسول اللہ ﷺ عن نکاح المتعۃ اخیراً۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔ عن علی۔٭سنن دارمی ج۱۔کتاب النکاح، باب۱۶ النھی عن متعۃ النساء دارمی میں زمن خیبر کی جگہ عام خیبر ہے۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ کتاب النکاح، باب فی نکاح المتعۃ وحرمتھا۔٭دارقطنی ج۳۔کتاب النکاح عن علی۔
(۱۲) بخاری ج۲۔کتاب الذبائح والصید باب لحوم الحمر الانسیۃ۔
(۱۳) مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ الخ۔٭ترمذی ج۱۔ابواب النکاح باب ماجاء فی نکاح المتعۃ۔ ٭مؤطا امام مالک ج۲۔کتاب النکاح۔ نکاح المتعۃ عن علی۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب النھی عن نکاح المتعۃ عن علی۔
(۱۴) حوالہ مذکورہ بالا٭نسائی جز۶۔کتاب النکاح، باب تحریم المتعۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔٭کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۵۷۲۷۔
(۱۵) مسلم ج۱کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ الخ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب فی نکاح المتعۃ۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ کتاب النکاح باب فی نکاح المتعۃ وحرمتھا۔ سنن دارقطنی ج۳۔کتاب النکاح عن ایاس بن سلمۃ عن ابیہ۔٭ کنزالعمال ج۱۶۔حدیث نمبر۴۵۷۴۰۔
(۱۶) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب مایکرہ من التبتل والخصاء۔٭مسلم ج۱۔کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ وبیان انہ ابیح ثم نسخ ثم ابیح ثم نسخ واستقر تحریمہ الی یوم القیامۃ۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ ابن مسعود۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۷۔حدیث نمبر۱۴۰۴۸ الفاظ قدرے مختلف ہیں۔ ٭مصنف ابن ابی شیبہ ج۲۔۴کتاب النکاح باب فی نکاح المتعۃ وحرمتھا۔ عن عبداللہ بن مسعود۔
(۱۷) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب نھٰی رسول اللہ ﷺ عن نکاح المتعۃ اخیراً۔ ٭مسلم ج۱۔کتاب النکاح باب نکاح المتعۃ الخ۔٭مسلم میں صرف قد اذن لکم ان تستمتعوا یعنی متعۃ النساء ہے۔
(۱۸) بخاری ج۲۔کتاب النکاح باب نھٰی رسول اللہ ﷺ عن نکاح المتعۃ اخیراً۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔
(۱۹) ترمذی ج۳۔کتاب النکاح، باب ماجاء فی تحریم نکاح المتعۃ حدیث ۱۱۲۲۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ۔
(۲۰) حوالہ مذکورہ بالا۔
(۲۱) ابن ماجہ کتاب النکاح، باب النھی عن نکاح المتعۃ۔
فصل :۱۹ پردہ انسانی تمدن کے دواہم مسائل
انسانی تمدن کے سب سے مقدم اور سب سے زیادہ پیچیدہ مسئلے دوہیں، جس کے صحیح اورمتوازن حل پر انسان کی فلاح وترقی کا انحصار ہے۔ اور جن کے حل کرنے میں قدیم ترین زمانہ سے لے کر آج تک دنیا کے حکماء وعقلاء پریشان وسرگرداں رہے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں مرد اور عورت کا تعلق کس طرح قائم کیا جائے کیونکہ یہی تعلق دراصل تمدن کا سنگِ بنیاد ہے، اور اس کا حال یہ ہے کہ اگر اس میں ذرا سی بھی کجی آجائے تو ’’تاثریا می رود دیوار کج۔‘‘
اور دوسرا مسئلہ فرد اور جماعت کے تعلق کا ہے جس کا تناسب قائم کرنے میں اگر ذراسی بے اعتدالی بھی رہ جائے تو صدیوں تک عالمِ انسانی کو اس کے تلخ نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔
ایک طرف ان دونوں مسائل کی اہمیت کا یہ حال ہے؟ اور دوسری طرف ان کی پیچیدگی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ جب تک فطرت کے تمام حقائق پر کسی کی نظر پوری طرح حاوی نہ ہو، وہ ان کو حل نہیں کرسکتا۔ سچ کہا تھا جس نے کہا تھا کہ انسان عالمِ اصغر ہے۔ اس کے جسم کی ساخت، اس کے نفس کی ترکیب، اس کی قوتیں اور قابلیتیں، اس کی خواہشات وضروریات اور جذبات واحساسات، اور اپنے وجود سے باہر کی بے شمار اشیاء کے ساتھ اس کے فعلی وانفعالی تعلقات، یہ سب چیزیں ایک دنیا کی دنیا اپنے اندر رکھتی ہیں۔ انسان کو پوری طرح نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ اس دنیا کا ایک ایک گوشہ نگاہ کے سامنے روشن نہ ہوجائے۔ اور انسانی زندگی کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاسکتے جب تک کہ خود انسان کو پوری طرح نہ سمجھ لیا جائے۔ یہی وہ پیچیدگی ہے جو عقل وحکمت کی ساری کاوشوں کا مقابلہ ابتداء سے کررہی ہے اور آج تک کیے جارہی ہے۔ اول تو اس دنیا کے تمام حقائق ابھی تک انسان پر کھلے ہی نہیں۔ انسانی علوم میں سے کوئی علم بھی ایسا نہیں ہے جو کمال کے آخری مرتبہ پر پہنچ چکاہو۔ یعنی جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاسکتاہو کہ جتنی حقیقتیں اس شعبہ علم سے تعلق رکھتی ہیں، ان سب کا احاطہ اس نے کرلیا ہے۔مگر جو حقائق روشنی میں آچکے ہیں، ان کی وسعتوں اور باریکیوں کا بھی یہ عالم ہے کہ کسی انسان کی بلکہ انسانوں کے کسی گروہ کی نظر بھی ان سب پر بیک وقت حاوی نہیں ہوتی۔ ایک پہلو سامنے آتاہے اور دوسرا پہلو نظروں سے اوجھل رہ جاتاہے۔ کہیں نظر کوتاہی کرتی ہے اور کہیں شخصی رجحانات حاجبِ نظر بن جاتے ہیں۔ اس دوہری کمزوری کی وجہ سے انسان خود اپنی زندگی کے ان مسائل کو حل کرنے کی جتنی تدبیریں بھی کرتاہے وہ ناکام ہوتی ہیں اور تجربہ آخر کار ان کے نقص کو نمایاں کردیتا ہے۔ صحیح حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب کہ نقطہ عدل کو پالیا جائے اور نقطۂ عدل پایا نہیں جاسکتا جب تک کہ تمام حقائق نہ سہی، کم از کم معلوم حقائق ہی کے سارے پہلو یکساں طورپر نگاہ کے سامنے نہ ہوں۔ مگر جہاں منظر کی وسعت بجائے خود اتنی زیادہ ہوکہ بینائی اس پر چھانہ سکے اور اس کے ساتھ نفس کی خواہشات اور رغبت ونفرت کے میلانات کا یہ زور ہوکہ جو چیزیں صاف نظر آتی ہوں ان کی طرف سے بھی خود بخود نگاہ پھر جائے، وہاں نقطہ عدل کس طرح مل سکتاہے؟ وہاں تو جو حل بھی ہوگا اس میں لامحالہ یا افراط پائی جائے گی یا تفریط۔
اوپر جن دومسائل کا ذکر کیا گیاہے۔ ان میں سے صرف پہلا مسئلہ اس وقت ہمارے سامنے زیرِ بحث ہے۔ اس باب میں جب ہم تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم کو افراط وتفریط کی کھینچ تان کا ایک عجیب سلسلہ نظر آتاہے۔ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ وہی عورت جو ماں کی حیثیت سے آدمی کو جنم دیتی اور بیوی کی حیثیت سے زندگی کے ہرنشیب وفرازمیں مرد کی رفیق رہتی ہے، خادمہ بلکہ لونڈی کے مرتبے میں رکھ دی گئی ہے۔ اس کو بیچا اور خریدا جاتاہے۔ اس کو ملکیت اور وراثت کے تمام حقوق سے محروم رکھا جاتاہے، اس کو گناہ اور ذلت کا مجسمہ سمجھا جاتاہے، اور اس کی شخصیت کو ابھرنے اور نشو ونما پانے کا کوئی موقع نہیں دیا جاتا۔ دوسری طرف ہم کو یہ نظر آتاہے کہ وہی عورت اٹھائی اور ابھاری جارہی ہے، مگر اس شان سے کہ اس کے ساتھ بداخلاقی اور بدنظمی کا طوفان اٹھ رہاہے، وہ حیوانی خواہشات کا کھلونا بنائی جاتی ہے، اس کو واقعی شیطان کی ایجنٹ بنا کر رکھ دیاجاتاہے اور اس کے ابھرنے کے ساتھ انسانیت کے گرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔
ان دونوں انتہاؤں کو ہم محض نظری حیثیت سے افراط اور تفریط کے ناموں سے موسوم نہیں کرتے بلکہ تجربہ جب ان کے مضر نتائج کا پورا پورا ریکارڈ ہمارے سامنے لاکر رکھ دیتاہے۔ تب ہم اخلاق کی زبان میں ایک انتہا کو افراط اور دوسری کو تفریط کہتے ہیں۔ تاریخ کا پس منظر جس کی طرف ہم نے اشارہ کیاہے، ہم کو یہ بھی دکھاتاہے کہ جب ایک قوم وحشت کے دور سے نکل کر تہذیب وحضارت کی طرف بڑھتی ہے تو اس کی عورتیں لونڈیوں اور خدمت گاروں کی حیثیت سے اس کے مردوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ابتدا میں بدویانہ طاقتوں کا زور اسے آگے بڑھائے لیے جاتاہے مگر تمدنی ترقی کی ایک خاص منزل پر پہنچ کر اسے محسوس ہوتاہے کہ اپنے پورے نصف حصہ کو پستی کی حالت میں رکھ کر وہ آگے نہیں جاسکتی۔ اس کو اپنی ترقی کی رفتار رکتی نظر آتی ہے اور ضرورت کا احساس اسے مجبور کرتاہے کہ اس نصف ثانی کو بھی نصف اول کے ساتھ چلنے کے قابل بنائے۔ مگر جب وہ اس نقصان کی تلافی شروع کرتی ہے تو صرف تلافی پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ عورت کی آزادی سے خاندانی نظام (جو تمدن کی بنیاد ہے) منہدم ہوجاتاہے، عورتوں اور مردوں کے اختلاط سے فواحش کا سیلاب پھوٹ پڑتاہے، شہوانیت اور عیش پرستی پوری قوم کے اخلاق کو تباہ کردیتی ہے، اور اخلاقی تنزل کے ساتھ ساتھ ذہنی، جسمانی اور مادی قوتوں کا تنزل بھی لازمی طور پر رونما ہوتاہے جس کا آخری انجام ہلاکت وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔ (پردہ:باب ۱)
چہرے کا پردہ
۱۴۶۔ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھاکر رسول اللہ ﷺ کو درخواست دی۔ حضورؐ نے پوچھا یہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا ؟ اس نے عرض کیا عورت ہی کا ہے۔ فرمایا’’عورت کا ہاتھ ہے تو کم از کم ناخن ہی مہندی سے رنگ لیے ہوتے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّد نِالصُّوْرِیُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ثَنَا مُطِیْعُ بْنُ مَیْمُوْنٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ عِصْمَۃَ، عَنْ عَائِشَۃ قَالَتْ:اَوْمَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ وَّرَآئِ سِتْرٍ بِیَدِھَا کِتَابٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَبَضَ النَّبِیُّ ﷺ یَدَہَا فَقَالَ: مَااَدْرِیْ أَیَدُ رَجُلٍ اَمْ یَدُ امْرَأَۃٍ؟ قَالَتْ:بَلْ امْرَأَۃٌ، قَالَ:لَوْکُنْتِ امْرَأَۃً لَغَیَّرْتِ اَظْفَارَکِ یعنی بِالْحِنَّائِ۔(۱)
امِّ خلّاد کا واقعہ
۱۴۷۔ایک خاتون امّ خلاّد کا لڑکا ایک جنگ میں شہید ہوگیا تھا۔ وہ اس کے متعلق دریافت کرنے کے لیے نبی ﷺ کے پاس آئیں، مگر اس حال میں بھی چہرے پر نقاب پڑی ہوئی تھی۔ بعض صحابہ نے حیرت کے ساتھ کہا کہ اس وقت بھی تمہارے چہرے پر نقاب ہے؟ یعنی بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر تو ایک ماں کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا، اور تم اس اطمینان کے ساتھ باپردہ آئی ہو۔ جواب میں کہنے لگیں اِن اُرْزَأَ ابْنِیْ فَلَنْ اُرْزَأَ حَیَائِیْ ’’میں نے بیٹا تو ضرور کھویاہے مگر اپنی حیاتو نہیں کھودی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَلاَمٍ، ثَنَاحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِیْرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: جَآئَ تِ امْرَأَۃٌ اِلَی النَّبِیِّﷺ یُقَالُ لَھَا اُمُّ خَلاَّدٍ،وَھِیَ مُنْتَقِبَۃٌ، تَسْأَلُ عَنِ ابْنِھَاوَھُوَمَقْتُوْلٌ، فَقَالَ لَھَا بَعْضُ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ :جِئْتِ تَسْأَلِیْنَ عَنِ ابْنِکِ وَاَنْتِ مُنْتَقِبَۃٌ؟ فَقَالَتْ: اِنْ اُرْزَئَ ابْنِیْ فَلَنْ اُرْزَأَ حَیَائِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ابْنُکِ لَہٗ اَجْرُ شَھِیْدَیْنِ، قَالَتْ: وَلِمَ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ، لِأَنَّہٗ قَتَلَہٗ اَھْلُ الْکِتَابِ۔(۲)
۱۴۸۔ فَعَرَفَنِیْ حِیْنَ رَاٰنِیْ وَکَانَ قَدْ رَاٰنِیْ قَبْلَ الْحِجَابِ فَاسْتَیْقَظْتُ بِاِسْتِرْجَاعِہٖ حِیْنَ عَرَفَنِیْ فَخَمَرْتُ وَجْھِیْ بِجِلْبَابِیْ۔
’’ وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا کیونکہ حجاب کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکا تھا۔ مجھے پہچان کر جب اس نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا تو اس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے منہ ڈھانک لیا۔‘‘ (بخاری، مسلم، احمد، ابن جریر، سیرت ابن ہشام)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، وَسَعِیْدُابْنُ الْمُسَیَّبِ، وَعَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ۔ وَبَعْضُ حَدِیْثِھِمْ یُصَدِّقُ بَعْضًا وَاِنْ کَانَ بَعْضُھُمْ اَوْعٰی لَہٗ مِنْ بَعْضِ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَخْرُجَ اَقْرَعَ بَیْنَ اَزْوَاجِہِ۔۔۔فَوَجَدْتُّ عِقْدِیْ بَعْدَ مَااسْتَمَرَّ الْجَیْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَھُمْ، وَلَیْسَ بِھَا دَاعٍ وَلاَمُجِیْبٌ، فَاَقَمْتُ مَنْزِلِیْ الَّذِیْ کُنْتُ بِہٖ، وَظَنَنْتُ اَنَّھُمْ سَیَفْقِدُوْنِیْ فَیَرْجِعُوْنَ اِلَیَّ، فَبَیْنَا اَنَا جَالِسَۃٌ فِیْ مَنْزِلِیْ غَلَبَتْنِیْ عَیْنِیْ، فَنمْتُ وَکَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیُّ ثُمَّ الذَّکْوَانِیُّ مِنْ وَّرَائِ الْجَیْشِ، فَاَدَّلَجَ، فَاَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِیْ، فَرَاٰی سُوَادَ اِنْسَانٍ نَائِمٍ، فَاَتَانِیْ، فَعَرَفَنِیْ حِیْنَ رَاٰنِیْ، وَکَانَ یَرَانِیْ قَبْلَ الْحِجَابِ، فَاسْتَیْقَظْتُ بِاِسْتِرْجَاعِہٖ حِیْنَ عَرَفَنِیْ، فَخَمَّرْتُ وَجْھِیْ بِجِلْبَابِیْ الحدیث۔(۳)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ زوجۂ رسالت مآب ﷺ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے۔۔۔لشکر کے چلے جانے کے بعد مجھے میرا ہار مل گیا۔ تو قافلہ والوں کی جگہ واپس آئی تو دیکھا کہ نہ کوئی پکار نے والا ہے اور نہ کوئی جواب دینے والا۔ میں اپنی جگہ آکر ٹھہر گئی جہاں سے گئی تھی خیال کیا کہ جب وہ مجھے گم پائیں گے تو واپس میرے پاس آئیں گے بس اسی شش وپنج میں نیند آگئی ۔ رات بھر سفر کرتاہوا صفوان ـــــــ جن کی ذمّہ داری تھی فوج کے پیچھے سب سے اخیر میں ساری چیزوں کا معائنہ کرتے ہوئے چلنا ـــــــ صبح کو وہاں پہنچا جہاں میں سوئی ہوئی تھی۔ اس نے سوئے ہوئے انسان کا وجود دیکھا تو وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے دیکھتے ہی فوراً پہچان لیا کیونکہ وہ مجھے پردہ کے حکم آنے سے پہلے دیکھ چکا تھا۔ مجھے پہچان کر جب اس نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا تو اس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
تشریح : ان احادیث سے واضح ہوتاہے کہ حضورؐ کے مبارک دور میں چہرہ کے پردہ کا رواج ہوچکاتھا۔ جب مسلمانوں کو غض بصر کا حکم دیا گیاتو اس وقت عورتوں کو کھلے منہ پھرنے کی اجازت نہ تھی۔ کیونکہ سورۃ النور میں غض بصر کا حکم دیا گیا۔ اسی میں حضرت عائشہؓ کی براء ت بھی نازل کی گئی۔ اور واقعہ افک کے بارے میں حضرت عائشہؓ کا بیان جو نہایت معتبر سندوں سے مروی ہے اس میں وہ فرماتی ہیں کہ جنگل سے واپس آکر جب میں نے دیکھا کہ قافلہ چلاگیاہے تو میں بیٹھ گئی اور نیند کاغلبہ ایسا ہوا کہ وہیں پڑ کر سوگئی۔ صبح کو صفوان بن معطل وہاں سے گزرا تو دور سے کسی کو پڑے دیکھ کر ادھر آگیا۔ فَعَرَفَنِیْ حِیْنَ رَاٰنِیْ وَکَانَ قَدْ رَاٰنِیْ قَبْلَ الْحِجَابِ فَاسْتَیْقَظْتُ بِاِسْتِرْجَاعِہٖ حِیْنَ عَرَفَنِیْ فَخَمَرْتُ وَجْھِیْبِجِلْبَابِیْ۔’’ وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا کیونکہ حجاب کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکا تھا۔ مجھے پہچان کر جب اس نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا تو اس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے منہ ڈھانک لیا۔‘‘ (بخاری، مسلم، احمد، ابن جریر، سیرت ابن ہشام)
گویا کہ پردے کے باوجود غضِ بصر کی ضرورت تھی کیونکہ ایسے مواقع پیش آسکتے تھے جب کہ اچانک کسی عورت اور مرد کا آمنا سامنا ہوجائے اور ایک پردہ دار عورت کو بھی بسا اوقات ایسی ضرورت لاحق ہوسکتی ہے کہ وہ منہ کھولے۔ اور مسلمان عورتوں میں پردہ رائج ہونے کے باوجود بہرحال غیرمسلم عورتیں تو بے پردہ ہی رہیں گی۔ احرام کے لباس میں بھی نقاب کا استعمال ممنوع ہے۔ تاہم اس حالت میں بھی محتاط خواتین غیرمردوں کے سامنے چہرہ کھول دینا پسند نہیں کرتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ کی روا یت ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں ہم لوگ بحالتِ احرام مکہ کی طرف جارہے تھے۔ جب مسافر ہمارے پاس سے گزرنے لگتے تو ہم عورتیں اپنے سرسے چادریں کھینچ کر منہ پر ڈال لیتیں اور جب وہ گزرجاتے تو ہم منہ کھول لیتی تھیں۔
(تفہیم القرآن ج۳،النور، حاشیہ:۲۹)
ام ھانی کا واقعہ
۱۴۹۔حضر ت امّ ہانی جو ابوطالب کی صاحبزادی اور نبی ﷺ کی چچا زاد بہن تھیں،آخر وقت تک حضور ﷺ کے سامنے ہوتی رہیں اور کم از کم منہ اور چہرے کا پردہ انہوں نے آپ سے کبھی نہیں کیا۔ فتح مکہ کے موقع کا ایک واقعہ وہ خود بیان کرتی ہیں جس سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ (ابوداؤد)
تخریج:حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَاجَرِیْرُ بْنُ عَبْدِالْحَمِیْدِ، عَنْ یَزِیْدَ ابْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَرِثِ عَنْ اُمِّ ھَانِیئٍ، قَالَتْ:لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحُ مَکَّۃَ جَآئَ تْ فَاطِمَۃُ، فَجَلَسَتْ عَنْ یَسَارِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاُمُّ ھَانِیئٍ عَنْ یَمِیْنِہٖ، قَالَتْ:فَجَائَ تِ الْوَلِیْدَۃُ بِاِنَائٍ فِیْہِ شَرَابٌ فَنَاوَلْتُہٗ، فَشَرِبَ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوَلَہٗ اُمَّ ھَانِیئٍ، فَشَرِبَتْ مِنْہُ، فَقَالَتْ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!لَقَدْ اَفْطَرْتُ وَکُنْتُ صَائِمَۃً، فَقَالَ لَھَا: أَکُنْتِ تَقْضِیْنَ شَیْئًا؟ قَالَتْ: لاَ، قَالَ:فَلاَیَضُرُّکِ اِنْ کَانَ تَطَوُّعًا۔(۴)
ترجمہ : حضرت ام ہانی سے مروی ہے انہوںنے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن فاطمہ آئی اور رسول اللہ ﷺ کے بائیں طرف بیٹھ گئی اور ام ہانی رسول اللہ ﷺ کے دائیں طرف۔ اتنے میں ایک خادمہ (لونڈی) ایک برتن لے کر حاضر ہوئی جس میں کوئی مشروب تھا میں نے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا آپ نے اس میں سے کچھ نوش فرماکر ام ہانی کو عنایت فرمادیا۔ ام ہانی نے بھی اس میں سے (حسب ضرورت) پی لیا مگر ساتھ ہی عرض کیا یا رسول اللہ میں تو روزہ افطا رکر بیٹھی، میں تو روزے سے تھی۔ آپؐ نے اس سے دریافت فرمایا، کیا قضا روزے رکھ رہی تھی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں تو آپ نے فرمایا اگر نفلی تھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
ام المومنین حضرت سودہؓ کا واقعہ
۱۵۰۔حضرت سودہ ام المومنین کا ایک بھائی لونڈی زادہ تھا (ان کے باپ کی لونڈی کے بطن سے تھا) اس کے متعلق حضرت سعد بن ابی وقاص کو ان کے بھائی عتبہ نے وصیت کی کہ اس لڑکے کو اپنا بھتیجا سمجھ کر اس کی سرپرستی کرنا، کیونکہ وہ دراصل میرے نطفے سے ہے۔ یہ مقدمہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے حضرت سعد کا دعویٰ یہ کہہ کر خارج کردیا کہ ’’بیٹا اس کا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، رہازانی تو اس کے حصے میں کنکر پتھر۔‘‘ لیکن ساتھ ہی آپ نے حضرت سودہ سے فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کرنا اِحْتَجِبِیْ مِنْہُ کیونکہ یہ اطمینان نہ رہاتھا کہ وہ واقعی ان کا بھائی ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوالْوَلِیْدِ، قَالَ:حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدٌ وَابْنُ زَمْعَۃَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : ھُوَ لَکَ یَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ، اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِیْ مِنْہُ یَاسَوْدَۃُ۔ وَزَادَ لَنَا قُتَیْبَۃُ عَنِ اللَّیْثِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ۔(۵)
ترجمہ : حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ سعد اور ابن زمعہ کا جھگڑا ہوا نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ یہ بچہ عبد بن زمعہ تمہارا ہے، بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا۔ ساتھ ہی آپ نے فرمایا، اے سودہ اس لڑکے سے پردہ کرنا۔ قتیبہ نے لیث کے حوالہ سے یہ اضافہ بھی نقل کیاہے کہ زانی کے لیے کنکر پتھر۔
نسائی نے ذرا واضح روایت نقل کی ہے:
(۲)عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ ابْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ فِیْ غُلاَمٍ فَقَالَ سَعْدٌ : ھٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ابْنُ اَخِیْ عُتْبَۃُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ، عَھِدَ اِلَیَّ اَنَّہٗ ابْنُہٗ اُنْظُرْ اِلٰی شَبَھِہٍ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ: اَخِیْ، وَلَدَ عَلٰی فِرَاشِ اَبِیْ مِنْ وَلِیْدَتِہٖ، فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی شَبَھِہٖ، فَرَاٰی شَبَھًا بَیِّنًا بِعُتْبَۃَ، فَقَالَ:ھُوَلَکَ یَا عَبْدُ! اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِیْ مِنْہُ یَا سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ، فَلَمْ یَرَسَوْدَۃُ قَطُّ۔(۶)
ترجمہ : حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک بچے کے بارے میں سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ کے درمیان تنازع (جھگڑا) ہوگیا سعد کا موقف تھا کہ یارسول اللہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ بچہ اس کا ہے، اس بچہ کی اس سے مشابہت غور فرمائیں۔ اور عبد بن زمعہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بستر پر اس کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس بچہ کی مشابہت بغور ملاحظہ فرمائی تو آپ کو واضح مشابہت عتبہ کے ساتھ معلوم ہوئی۔ لہٰذا آپ نے فیصلہ فرمادیاکہ اے عبدیہ بچہ تمہارا ہے۔ کیونکہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے کنکر پتھر۔ اے سودہ اس سے پردہ کرنا چنانچہ حضرت سودہؓ نے اس دن کے بعد اس بچہ کو کبھی نہیں دیکھا۔
تشریح : بعض لوگ اظہار زینت کی آزادی کو صرف ان رشتہ داروں تک محدود سمجھتے ہیں جن کے نام (قرآن حکیم میں دیئے گئے ہیں) باقی سب لوگوں کو حتیّٰ کہ سگے چچا اور سگے ماموں تک کو ان رشتہ داروں میں شمار کرتے ہیں جن سے پردہ کیا جانا چاہیے، اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ان کا نام قرآن میں نہیں لیا گیاہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ سگے چچا اور ماموںتو درکنار، نبی ﷺ نے تو رضاعی چچا اور ماموں سے بھی پردہ کرنے کی حضرت عائشہ کو اجازت نہ دی۔ صحاح ستہ اور مسند احمد میں حضرت عائشہؓ کی اپنی روایت ہے کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح ان کے ہاں آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ چونکہ پردے کا حکم آچکا تھا اس لیے حضرت عائشہؓ نے اجازت نہ دی۔ انہوں نے کہلا کر بھیجا کہ تم تو میری بھتیجی ہو، کیونکہ میرے بھائی ابوالقعیس کی بیوی کا تم نے دودھ پیا ہے لیکن حضرت عائشہ کو اس میں تامل تھا کہ یہ رشتہ بھی ایسا ہے جس میں پردہ اٹھادینا جائز ہو۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے خود اس آیت کو اس معنی میں نہیں لیا کہ جن جن رشتہ داروں کا ذکر آیاہے ان سے پردہ نہ ہو اور باقی سب سے ہو۔ بلکہ آپ نے اس سے یہ اصول اخذ کیاہے کہ جن جن رشتہ داروں سے ایک عورت کا نکاح حرام ہے وہ سب آیت میں داخل ہیں مثلاً چچا، ماموں، داماد اور رضاعی رشتہ دار۔ تابعین میں سے حضرت حسن بصری نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے، اور اس کی تائید علامہ ابوبکر جصّاص نے احکام القرآن میں فرمائی ہے۔ (ج۳،ص:۳۹۰)
جن رشتہ داروں سے ابدی حرمت کا رشتہ نہ ہو ( جن سے ایک کنواری یا بیوہ عورت کا رشتہ جائز ہو) وہ نہ تو محرم رشتہ داروں کے حکم میں ہیں کہ عورتیں بے تکلف ان کے سامنے اپنی زینت کے ساتھ آئیں۔ اور نہ بالکل اجنبیوں کے حکم میں کہ عورتیں ان سے ویسا ہی مکمل پردہ کریں جیسا غیروں سے کیا جاتاہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ٹھیک ٹھیک کیا رویہ ہونا چاہیے، یہ شریعت میں متعین نہیں کیا گیاہے، کیونکہ اس کا تعین ہونہیں سکتا۔ اس کے حدود مختلف رشتہ داروں کے معاملے میں، ان کے رشتے، ان کی عمر، خاندانی تعلقات اور روابط اور فریقین کے حالات (مثلاً مکان کا مشترک ہونا یا الگ الگ مکانوں میں رہنا) کے لحاظ سے لامحالہ مختلف ہوں گے اور ہونے چاہئیں۔ اس معاملے میں نبی ﷺ کا اپنا طرز عمل بکثرت احادیث سے ثابت ہے۔
۱۵۱۔حضرت عباس اپنے بیٹے فضل کو اور ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب (نبی ﷺ کے حقیقی چچازاد بھائی) اپنے بیٹے عبدالمطلب کو نبی ﷺ کے پاس یہ کہہ کر بھیجتے ہیں کہ اب تم لوگ جوان ہوگئے ہو، تمہیں جب تک روزگار نہ ملے تمہاری شادیاں نہیں ہوسکتیں، لہٰذا تم رسول اللہ کے پاس جاکر نوکری کی درخواست کرو۔ یہ دونوں حضرت زینب کے مکان پر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ حضرت زینب فضل کی حقیقی پھوپھی زاد بہن ہیں اور عبدالمطلب بن ربیعہ کے والد سے بھی ان کا وہی رشتہ ہے جو فضل سے۔ لیکن وہ ان دونوں کے سامنے نہیں ہوتیں اور حضور کی موجودگی میں ان کے ساتھ پردے کے پیچھے سے بات کرتی ہیں ( ابوداؤد کتاب الخراج) ان دونوں قسم کے واقعات سے وہ بات ثابت ہوجاتی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ نیز احادیث بالاسے ظاہر ہے کہ جہاں رشتے میں شبہ پڑجائے وہاں محرم رشتہ دار سے بھی احتیاطاً پردہ کرنا چاہیے۔
(تفہیم القرآن ج۳،النور ،حاشیہ: ۴۲)
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا عَنْبَسَۃُ، ثَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، اَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَرِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْھَاشِمِیُّ، اَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبَ بْنَ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحِرَثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ اَخْبَرَہٗ اَنَّ اَبَاہُ رَبِیْعَۃَ بْنَ الْحَرِثِ وَعَبَّاسَ ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالاَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ:ائْتِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقُوْلاَ لَہٗ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ بَلَغْنَا مِنَ السِّنِّ مَاتَرٰی وَاَحْبَبْنَا اَنْ نَّتَزَوَّجَ، وَاَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَبَرُّ النَّاسِ وَاَوْصَلُھُمْ، وَلَیْسَ عِنْدَ اَبَوَیْنَا مَایُصْدِقَانِ عَنَّا، فَاسْتَعْمِلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ عَلَی الصَّدَقَاتِ، فَلْنُؤَدِّ اِلَیْکَ مَایَؤَدِّیْ الْعُمَّالُ، وَلِنَصْبِ مَاکَانَ فِیْھَا مِنْ مِرْفَقٍ، قَالَ: فَاَتٰی عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ فَقَالَ لَنَا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لاَوَاللّٰہِ لاَنَسْتَعْمِلُ مِنْکُمْ اَحَدًا عَلَی الصَّدَقَۃِ۔۔۔قَالَ عَبْدُالْمُطَّلِبِ: فَانْطَلَقْتُ اَنَاوَالْفَضْلُ(اِلٰی بَابِ حُجْرَۃِ النَّبِیِّ ﷺ) حَتّٰی نُوَافِقَ صَلاَۃَ الظُّھْرِ قَدْ قَامَتْ، فَصَلَّیْنَا مَعَ النَّاسِ، ثُمَّ اَسْرَعْتُ اَنَا وَالْفَضْلُ اِلٰی بَابِ حُجْرَۃِ النَّبِیِّ ﷺ وَھُوَیَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُمْنَا بِالْبَابِ حَتّٰی اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاَخَذَ بِاُذْنِیْ وَاُذْنَ الْفَضَلِ، ثُمَّ قَالَ:اَخْرِجَا مَاتُصَرِّرَانِ، ثُمَّ دَخَلَ، فَاَذِنَ لِیْ وَلِلْفَضْلِ فَدَخَلْنَا، فَتَوَاکَلْنَا الْکَلاَمَ قَلِیْلاً،ثُمَّ کَلَّمْتُہٗ اَوْکَلَّمَہُ الْفَضْلُ، قَدْشَکَّ فِیْ ذٰلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ:کَلَّمَہُ بِالْاَمْرِ الَّذِیْ اَمَرَنَا بِہِ اَبْوَانَا، فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَاعَۃً وَرَفَعَ بَصَرَہٗ قِبَلَ سَقْفِ الْبَیْتِ حَتّٰی طَالَ عَلَیْنَا اَنَّہٗ لاَیَرْجِعُ اِلَیْنَا شَیْئًا حَتّٰی رَأَیْنَا زَیْنَبَ تَلْمَعُ مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ بِیَدِھَا، تُرِیْدُ اَنْ لاَّتَعْجَلاَ۔ الخ (۷)
ترجمہ : عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب سے روایت ہے کہ ان کے باپ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب دونوں نے اپنے بیٹوں عبدالمطلب اور فضل دونوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے کہا کہ ان کی خدمت میں جاکر عرض کرو کہ ہم جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیںجوان ہوچکے ہیں (شادی کے قابل ہیں) لہٰذا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور آپ سب لوگوں سے بڑھ کر نیکی کرنے اور صلہ رحمی فرمانے والے ہیں۔ ہمارے والدین تہی دست ہیں مہر کی رقم ادا نہیں کرسکتے لہٰذا آپ ہمیں اموال صدقات کی فراہمی پر عامل مقرر فرمادیں۔ ہم آپ کی خدمت میں وہی کچھ پیش کریں گے جو دوسرے عامل کرتے ہیں اور منافع جو حاصل ہوگا وہ ہم لے لیا کریں گے۔عبدالمطلب کا بیان ہے کہ ہم یہی گفتگو کررہے تھے کہ علی بن ابی طالب بھی آگئے انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی کو صدقات کی وصولی پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ ۔۔۔عبدالمطلب نے بیان کیا کہ میں اور فضل دونوں حضورؐ کے کمرے کی طرف بڑھے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی پھر میں اور فضل جلدی سے رسول اللہﷺ کے حجرے کے دروازے کی جانب لپکے۔ اس روز آپ زینب بنت جحش کے ہاں تھے ہم دروازے پر کھڑے ہوگئے اتنے میں آپ بھی تشریف لے آئے اور پیار سے میرا اور فضل کا کان پکڑ کر فرمایا کہو جو تمہارے جی میںہے یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔ اور ہمیں بھی اندر آجانے کی اجازت دی ہم اندر داخل ہوگئے ہم نے ایک دوسرے کو بات کرنے کے لیے کہا پھر میں نے یافضل نے بات کا آغاز کیا۔ اس میں عبداللہ راوی کو شک ہے۔ پھر اس نے وہی مدعا بیان کیا جس کا ہمارے والدین نے ہمیں حکم دیا تھا۔ یہ سن کر آپ چند لمحے خاموش رہے اور نظریں چھت کی طرف اٹھاکر غور فرماتے رہے۔ کافی دیر تک یہی حالت رہی ہم سمجھے کہ ہمیں آپ کچھ جواب نہ دیں گے۔ اتنے میں ہماری نظر زینبؓ پر پڑی جو پس پردہ اشاروں سے کہہ رہی تھیں کہ جلدی نہ کرو۔
عورت کے لیے ستر کے حدود
عورتوں کے لیے ستر کے حدود اس (مرد) سے زیادہ وسیع رکھے گئے ہیں۔ ان کو حکم دیا گیا کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کے سوا تمام جسم کو تمام لوگوں سے چھپائیں۔ اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار شامل ہیں، اور شوہر کے سوا کوئی مرد اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
۱۵۲۔ لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ تُخْرِجَ یَدَیْھَا اِلاَّ اِلٰی اَھْلِھَا وَقَبَضَ نِصْفَ الذِّرَاعِ۔ (ابن جریر)
’’نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے ‘‘ یہ کہہ کر اپنی کلائی کے نصف حصہ پر ہاتھ رکھا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ،قَالَ:اَخْبَرَنَامَعْمَرٌ،عَنْ قَتَادَۃَ وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلاَّمَاظَھَرَمِنْھَا، قَالَ الْمِسْکَتَانِ، وَالْخَاتَمُ، وَالْکُحْلُ، قَالَ قَتَادَۃُ وَبَلَغَنِیْ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لاَیَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ تُخْرِجَ یَدَھَا اِلاَّ اِلٰی ھٰھُنَا وَقَبَضَ نِصْفَ الذِّرَاعِ۔(۸)
۱۵۳۔ اَلْجَارِیَۃُ اِذَا حَاضَتْ لَمْ یَصْلُحْ اَنْ یُریٰ مِنْھَا اِلاَّ وَجْھُھَا وَیَدُھَا اِلَی الْمَفْصَلِ۔(ابوداؤد)
’’جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آنا چاہیے سوائے چہرے اور کلائی کے جوڑتک کے ہاتھ کے۔‘‘
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن الطفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو نبی ﷺ نے اس کو ناپسند کیا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ یہ تو میرا بھتیجاہے۔ حضورؐ نے فرمایا:
۱۵۴۔ اِذَا عَرِقت الْمَرْأَۃُ لَمْ یَحِلَّ لَھَا اَنْ تُظْھِرَ اِلاَّ وَجْھَھَا وَاِلاَّ مَادُوْنَ ھٰذَا وَقَبَضَ عَلٰی ذِرَاعِ نَفْسِہٖ فَتَرَکَ بَیْنَ قَبْضَتِہٖ وَبَیْنَ الْکَفِّ مِثْلَ قَبْضَتِہٖ اُخْریٰ۔ (ابن جریر)
’’جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے، یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، قَالَ: ثَنَا الْحُسَیْنُ، قَالَ: ثَنِیْ حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَوْلَہٗ، وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلاَّمَاظَھَرَ مِنْھَا، قَالَ: الْخَاتَمُ وَالْمِسْکَۃُ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: وَقَالَتْ عَائِشَۃُ الْقَلْبُ وَالْفَتَخَۃُ قَالَتْ عَائِشَۃُ: دَخَلَتْ عَلَیَّ ابْنَۃُ اَخِیْ لِاُمِّیْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ الطُّفَیْلِ مُزَیْنَۃُ، فَدَخَلَ النَّبِیُّﷺ فَاَعْرَضَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّھَا ابْنَۃُ اَخِیْ وَجَارِیَۃٌ، فَقَالَ:اِذَا عَرَکَتِ الْمَرْأَۃُ لَمْ یَحِلَّ لَھَا اَنْ تُظْھِرَ اِلاَّوَجْھَھَا وَاِلاَّ مَادُوْنَ ھٰذَا وَقَبَضَ عَلٰی ذِرَاعِ نَفْسِہٖ۔ فَتَرَکَ بَیْنَ قَبْضَتِہٖ وَبَیْنَ الْکَفِّ مِثْلَ قَبْضَۃٍ اُخْرٰی۔(۹)
حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ جو آنحضرت ﷺ کی سالی تھیں، ایک مرتبہ آپ کے سامنے باریک لباس پہن کر حاضر ہوئیں، اس حال میں کہ جسم اندر سے جھلک رہاتھا، حضورؐ نے فوراً نظر پھیرلی اور فرمایا:
۱۵۵۔ یَا اَسْمَائُ اِنَّ الْمَرْأَۃَ اِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضِ لَمْ یَصْلُحْ اَنْ یُّریٰ مِنْھَا اِلاَّھٰذَا وَھٰذَا وَاَشَارَاِلٰی وَجْھِہٖ وَکَفِّہٖ۔ (تکملہ فتح القدیر)
’’اے اسماء عورت جب سن بلوغ کو پہنچ جائے تو درست نہیں کہ اس کے جسم میں سے کچھ دیکھا جائے بجز اس کے اور اس کے یہ کہہ کر آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ کَعْبِ نِ الْاَنَطاکِیُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِیُّ، قَالاَ: ثَنَا الْوَلِیْدُ، عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ بَشِیْرٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ یَعْقُوْبُ: ابْنُ دُرَیْکٍ، عَنْ عَائِشَۃَؓ، اَنَّ اَسْمَائَ بِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ دَخَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ وَعَلَیْھَا ثِیَابٌ رِقَاقٌ، فَاَعْرَضَ عَنْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ، وَقَالَ: یَا اَسْمَائُ اِنَّ الْمَرْأَۃَ اِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ تَصْلُحْ اَنْ یُرٰی مِنْھَا اِلاَّھٰذَا وَھٰذَا، وَاَشَارَ اِلٰی وَجْھِہٖ وَکَفَّیْہِ، قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ: ھٰذَا مُرْسَلٌ، خَالِدُ ابْنُ دُرَیْکٍ لَمْ یُدْرِکْ عَائِشَۃَؓ۔(۱۰)
۱۵۶۔حفصہ بنت عبدالرحمان حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ ایک بار یک دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے اس کو پھاڑ دیا اور ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈالی ۔ (مؤطا امام مالک)
تخریج:(۱) مَالِکٌ عَنْ عَلْقَمَۃَ ابْنِ اَبِیْ عَلْقَمَۃَ عَنْ اُمِّہٖ اَنَّھَا قَالَتْ:دَخَلَتْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَلٰی عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ وَعَلٰی حَفْصَۃَ خِمَارٌ رَقِیْقٌ، فَشَقَّتْہُ عَائِشَۃُ، وَکَسَتْھَا خِمَارًا کَثِیْفًا۔(۱۱)
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَاَحْمَدُ بْنُ سَعِیْدِ نِالْھَمْدَانِیُّ، قَالاَ:اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ، عَنْ مُوْسٰی بْنِ جُبَیْرٍ، اَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَہٗ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مُعَاوِیَۃََ، عَنْ دِحْیَۃَ بْنِ خَلِیْفَۃَ الْکَلْبِیِّ، اَنَّہٗ قَالَ: اُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِقَبَاطِیَّی، فَاعْطَانِیْ مِنْھَا قُبْطِیَّۃً فَقَالَ:اِصْدَعْھَا صَدْعَیْنِ فَاقْطَعْ اَحَدَھُمَا قَمِیْصًا وَاعْطِ الْاٰخَرَ امْرَأَتَکَ تَخْتَمِرُ بِہٖ۔ فَلَمَّا اَدْبَرَ قَالَ: وَأْمُرِ امْرَأَتَکَ اَنْ تَجْعَلَ تَحْتَہٗ ثَوْبًا لاَیَصِفُھَا۔(۱۲)
(۳)حَدَّثَنَا اَحْمَدُ ابْنُ صَالِحٍ، ح وَثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤدَ الْمَھْرِیُّ، وَابْنُ السَّرْحِ، وَاَحْمَدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالُوْا:اَخْبَرَنَاابْنُ وَھْبٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ قُرَّۃُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْمُعَافِرِیُّ،عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃؓ اَنَّھَا قَالَتْ:یَرْحَمُ اللّٰہُ نِسَآئَ الْمُھَاجِرَاتِ الْاَوَّلَ، لَمَّا اَنْزَلَ اللّٰہُ ’’وَلْیَضْرِ بْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ‘‘ شَقَقْنَ اَکْنَفَ، قَالَ ابْنُ صَالِحٍ:اَکْثَفَ مُرُوْطِھِنَّ، فَاخْتَمَرْنَ بِھَا۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ان خواتین پر جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلْیَضْرِبْنَ ۔۔۔’’ یعنی اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر لٹکالیں‘‘ تو انہوں نے دروازوں پر پڑے ہوئے پردوں کی اوڑھنیاں بنالیں۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْکَامِلٍ، ثَنَا اَبُوْعَوَانَۃَ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُھَاجِرٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ، عَنْ عَائِشَۃؓ، اَنَّھَا ذَکَرَتْ نِسَآئَ الْاَنْصَارِ، فَاَثْنَتْ عَلَیْھِنَّ، وَقَالَتْ لَھُنَّ مَعْرُوْفًا، وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُوْرَۃُ النُّوْرِ عَمِدْنَ اِلٰی حُجُوْرٍ اَوْحُجُوْزٍ، شَکَّ اَبُوْکَامِلٍ، فَشَقَقْنَھُنَّ فَاتَّخَذْنَہٗ خُمُرًا۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے انصاری عورتوں کا ذکر کیا اور ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ جب سورہ نور نازل ہوئی تو وہ فوراً پردوں کی جانب متوجہ ہوئیں، ان کو پھاڑ کر دوپٹے بنالیے۔
۱۵۷۔ لَعَنَ اللّٰہُ الْکَاسِیَاتِ الْعَارِیَاتِ۔
’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی رہیں۔‘‘
تخریج:مَالِکٌ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ قَالَ: نِسَآئٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ مَائِلاَتٌ مُمِیْلاَتٌ لاَیَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَیَجِدْنَ رِیْحَھَا۔ وَرِیْحُھَا یُوْجَدُ مَسِیْرَۃَ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔(۱۵)
۱۵۸۔حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم پر اس طرح چست ہوںکہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہوجائے۔ (المبسوط کتاب الاستحسان)
تشریح : ان تمام روایات سے معلوم ہوتاہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے سوا عورت کا پورا جسم ستر میں داخل ہے۔ جس کو اپنے گھر میں اپنے قریب ترین عزیزوں سے بھی چھپانا اس پر واجب ہے۔ وہ شوہر کے سوا کسی کے سامنے اپنے ستر کو نہیں کھول سکتی۔ خواہ وہ اس کا باپ، بھائی یا بھتیجا ہی کیوں نہ ہو۔ حتی کہ وہ ایسا باریک لباس بھی نہیں پہن سکتی جس میں ستر نمایاں ہوتاہو۔
(پردہ،باب۱۱،تعزیری قانون:عورتوں۔۔۔ )
جس کپڑے میں عورت کابدن جھلکے اس کی ممانعت
زمانۂ جاہلیت میں عورتیں سروں پر ایک طرح کے کساوے سے باندھے رکھتی تھیں۔ جن کی گرہ جوڑنے کی طرح پیچھے چوٹی پر لگائی جاتی تھیں۔ سامنے گریبان کا ایک حصہ کھلا رہتاتھا، جس سے گلا اور سینے کا بالائی حصہ صاف نمایاں ہوتاتھا۔ چھاتیوں پر قمیص کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوتی تھی اور پیچھے دودو تین تین چوٹیاں لہراتی رہتی تھیں (تفسیر کشاف، جلد ۲، صفحہ۹۰، ابن کثیر ،ج۳، ص۲۸۳۔۲۸۴) سورہ نور میں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ’’ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘ تو مسلمان عورتوں میں دوپٹہ رائج کیا گیا۔ جس کامقصد یہ نہیں تھا کہ آج کل کی صاحبزادیوں کی طرح بس اسے بل دے کر گلے کا ہار بنالیا جائے۔ بلکہ یہ تھا کہ اسے اوڑھ کر سر، کمر، سینہ، سب اچھی طرح ڈھانک لیے جائیں۔ اہل ایمان خواتین نے قرآن کا یہ حکم سنتے ہی فوراً جس طرح اس کی تعمیل کی اس کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب سورۂ نور نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ سے اس کو سن کر لوگ اپنے گھروں کی طرف پلٹے اور جاکر انہوں نے اپنی بیویوں، بیٹیوں، بہنوں کو اس کی آیات سنائیں، انصار کی عورتوں میں سے کوئی عورت ایسی نہ تھی جو آیت کے الفاظ سن کر اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی ہو۔ ہرایک اٹھی اور کسی نے اپنا کمر پٹہ کھول کر اور کسی نے چادر اٹھاکر فوراً اس کا دوپٹہ بنایا اور اوڑھ لیا۔ دوسرے روز صبح کی نماز کے وقت جتنی عورتیں مسجد نبوی میں حاضر ہوئیں سب دوپٹے اوڑھے ہوئے تھیں۔ اسی سلسلے میں ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ مزید تفصیل یہ بتاتی ہیں کہ عورتوں نے باریک کپڑے چھوڑ کر اپنے موٹے موٹے کپڑے چھانٹے اور ان کے دوپٹے بنائے۔
(ابن کثیر ج۳،ص:۲۸۴۔ ابوداؤد)
یہ بات کہ دوپٹہ باریک کپڑے کا نہ ہوناچاہیے، ان احکام کے مزاج اورمقصد پر غور کرنے سے خود ہی آدمی کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ چنانچہ انصار کی خواتین نے حکم سنتے ہی سمجھ لیا تھا کہ اس کا منشا کس طرح کے کپڑے کا دوپٹہ بنانے سے پورا ہوسکتاہے۔ لیکن صاحب شریعت ﷺ نے اس بات کو بھی صرف لوگوں کے فہم پر نہیں چھوڑدیا بلکہ خود اس کی تصریح فرمادی۔ دحیہ کلبی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس مصر کی بنی ہوئی باریک ململ (قباطی) آئی۔ آپؐ نے اس میں سے ایک ٹکڑا مجھے دیا اور فرمایا، ایک حصہ پھاڑ کر اپنا کرتہ بنالو اور ایک حصہ اپنی بیوی کو دوپٹہ بنانے کے لیے دے دو، مگر ان سے کہہ دینا کہتَجْعَلَ تَحْتَہٗ ثَوْباً لاَیَصِفُھَا ’’اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگالیں تاکہ جسم کی ساخت اندر سے نہ جھلکے۔‘‘ (ابوداؤد)
(تفہیم القرآن ج۳، نور، حاشیہ: ۳۶)
غیر محرم قریبی اعزہ سے پردہ کی صورت
شوہر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خدا اور رسول کے احکام کی خلاف ورزی کا بیوی کو حکم دے۔ اور اگر وہ ایسا حکم دے تو ایک مسلمان عورت کا فرض ہے کہ اس کی اطاعت سے انکار کردے۔ سورہ نور کے رکوع۴ میں اللہ تعالیٰ نے ان رشتہ داروں کی فہرست دے دی ہے جن کے سامنے ایک مسلمان عورت اپنی زینت کے ساتھ آسکتی ہے۔ ان کے سوا کسی کے سامنے اظہار زینت کا حکم دینا کسی مسلمان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
سسرال اور میکے میں عورتوں کا عموماً جن غیرمحرم قریبی رشتہ داروں کے ساتھ رہن سہن ہوتاہے ان سے پردے کی نوعیت وہ نہیں ہے جو بالکل غیرمردوں سے پردے کی نوعیت ہے۔ عورتیں اپنے غیرمحرم رشتہ داروں کے سامنے بغیر زینت کے سادہ لباس میں، پورے ستر کے ساتھ آسکتی ہیں، مگر صرف اس حد تک ان کے سامنے رہنا چاہیے جس حد تک کہ معاشرتی ضروریات کے لحاظ سے ناگزیر ہو۔
یہ خلا ملا اور بے تکلفی اور ایک مجلس میں بیٹھ کر ہنسی مذاق کرنا اور تنہائی میں بیٹھنا، جس کا رواج ہماری موجودہ سوسائٹی میں بڑی کثرت کے ساتھ پایا جاتاہے، شرعی احکام کے قطعی خلاف ہے، اور بعض رشتہ داروں، مثلاً دیوروں کے ساتھ ایسے تعلقات کی تو حدیث میں صریح ممانعت موجود ہے۔
اس معاملے میں فی الواقع ہماری معاشرت میں بڑی پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ شریعت کا جو حکم ہے وہ میں نے بتادیا ہے۔ مگر مسلمانوں میں رواج سے یہ غیرشرعی حالات پیدا ہوگئے ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے بڑی جرأت اور عزم کی ضرورت ہے۔ ایک طرف بکثرت مسلمان غیروں سے اتنے پردے کا اہتمام کرتے ہیں جو شریعت کے مطالبات سے بڑھ جاتاہے۔ دوسری طرف یہی لوگ رشتہ داروں کے معاملے میں تمام حدودِ شرعیہ کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کوئی شخص احکام شریعت پر ٹھیک ٹھیک عمل درآمد کرنا چاہے تو شاید بہت سے خاندانی تعلقات کو توڑے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔
(رسائل ومسائل اول، فقہی مسائل: غیر محرم۔۔۔)
پردہ کے متعلق چند عملی سوالات کا جواب
مردوں کی تین قسمیں ہیں اور ہرقسم کے الگ احکام ہیں۔ ایک وہ محرم رشتہ دار وغیرہ جن کا ذکر سورہ نور والی آیت میں آیاہے۔ دوسرے بالکل اجنبی لوگ، جن کا حکم سورہ احزاب والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ تیسرے، ان دونوں کے درمیان بالکل ایسے لوگ، جو محرم بھی نہیں ہیں اور اجنبی بھی نہیں ہیں۔ پہلی قسم کے مردوں کے سامنے عورت اپنے بناؤ سنگار کے ساتھ آسکتی ہے۔ دوسری قسم کے مردوں کو چہرہ تک نہیں دکھا سکتی، تیسری قسم کے لوگ، ان سے پردے کی نوعیت مذکورہ بالا دونوں حدودکے درمیان رہے گی۔ یعنی نہ تو ان سے بالکل اجنبیوں کا سا پردہ ہوگا اور نہ ان کے سامنے زینت کا اظہار ہی کیا جائے گا۔
سامنے ہونے کے دومطلب ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس طرح کی آزادی اور بناؤ سنگار کے ساتھ سامنے ہونا جیسے باپ بھائی وغیرہ کے سامنے ہوا جاتاہے، اور بے تکلف بیٹھ کر بات چیت کرنا، ہنسنا، بولنا، حتی کہ تنہائی تک میں ساتھ رہنا۔ یہ چیز کسی قسم کے غیر محرم مردوں کے ساتھ بھی جائز نہیں، خواہ وہ اجنبی ہوں یا رشتہ دار۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ عورت اپنی زینت کو چادر وغیرہ سے چھپا کر، نیز سر کو ڈھانک کر صرف چہرہ اور ہاتھ کھولے ہوئے سامنے آئے، اور وہ بھی اپنے آپ کو دکھانے کی غرض سے نہیں بلکہ ان ناگزیر ضرورتوں کو پورا کرنے کی غرض سے جو مشترک خاندانی معاشرت میں پیش آتی ہیں۔ مگر آزادی کے ساتھ بیٹھ کر خلا ملا نہ کرے خلوت میں بھی اس کے ساتھ نہ رہے اور صرف اس طرح سامنے ہو کہ مثلاً اس کے سامنے سے گزرجائے یا کوئی ضروری بات ہو تو پوچھ لے یا بتادے۔ اس حدتک غیرمحرم اعزہ کے سامنے ہونے کی شرعاً اجازت ہے یا کم از کم ممانعت نہیں ہے۔ بہر حال چچازاد بھائیوں اور خالہ زاد بھائیوں کے ساتھ جو ہنسی مذاق اور انتہائی بے تکلفی آج مسلمانوں کے گھروں میں رائج ہے اور جس طرح مسلمان لڑکیاں اس قسم کے عزیزوں کے سامنے بنی ٹھنی رہتی ہیں، شریعت اسلامیہ میں ان بے اعتدالیوں کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔
ایسے حالات میں اگر شریعت کی پابندی کا ارادہ دونوں طرف موجود ہو تو صحیح راہ عمل یہ ہے کہ جب کوئی غیرمحرم عزیز گھر میں آئے تو شرعی قاعدہ کے مطابق استیذان
افسوس ہے کہ قرآن وسنت کے حکم استیذان کو آج مسلمانوں نے اپنی معاشرت سے بالکل ہی خارج کردیاہے اور اجازت مانگے بغیر گھس آنے کو بے تکلفی کی علامت سمجھا جاتاہے حالانکہ شرعاً خود گھر کے مردوں، حتی کہ باپوں، بیٹوں اور بھائیوں کو بھی لازم ہے کہ جب وہ گھر میں داخل ہونے لگیں تو کم از کم کھنکاردیں یا کوئی ایسی آواز کردیں جس سے گھر کی عورتوں کو معلوم ہوجائے کہ کوئی مرد آرہاہے۔
(طلب اجازت) کرے۔ پھر جب ایسی آواز آئے تو عورت کو چاہیے کہ کوئی چیز اوڑھ کر اپنی زینت کو چھپالے اور ذرا اپنا رخ بدل لے اور پیٹھ موڑلے۔ اگر بالکل ناگزیر ہوتو چہرہ اور ہاتھ غیرمحرم کے سامنے ظاہر ہونے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح بہ ضرورت سادگی کے ساتھ بات کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ البتہ خلا ملا اور بے تکلفی اور ہنسی مذاق بالکل ناجائز ہے۔
بعض حالات میں یہ چیز جائز ہے کہ عورت پردے کی پوری پابندی کے ساتھ مردوں کو خطاب کرے، لیکن بالعموم یہ جائز نہیں ہے۔ اس امر کا فیصلہ کرنا کہ کن حالات میں یہ چیز جائز ہے اور کن میںجائز نہیں، صرف ایسے شخص یا اشخاص کا کام ہے جو مواقع اور حالات کو شرعی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں اور شریعت کے منشا کے مطابق زندگی بسر کرنے کی نیت بھی ان میں پائی جاتی ہو۔
اگر اسلامی تہذیب اسی چیز کانام ہے جس کی پیروی یہ حضرات خود اور ان کے اتباع میں مسلمان آج کررہے ہیں تو پھر اسلامی تہذیب اور یورپین تہذیب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر تو مسلمانوں کو وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو آج کل یورپ میں ہورہاہے۔ لیکن اگر اسلامی تہذیب اس تہذیب کا نام ہے جو محمد ﷺ نے سکھائی تھی تو آج کل کے میڈیکل کالجوں اور نرسنگ کی تربیت گاہوں اور ہسپتالوں میں مسلمان لڑکیوں کو بھیجنے سے لاکھ درجہ بہتر یہ ہے کہ ان کو مقبروں میں دفن کردیاجائے۔ رائج الوقت گرلزکالجوں میں جاکر تعلیم حاصل کرنے اور پھر معلمات بننے کا معاملہ بھی اس سے کچھ بہت مختلف نہیں ہے۔ البتہ اگر نظامِ تعلیم وتربیت ہمارے اپنے ہاتھ میں ہو اور ہم اپنے طریقہ پر لڑکیوں کو تیار کرکے ان سے تمدن کے ضروری کاموں کی خدمت لینے پر قادر ہوں تو یقینا ہم اس کا انتظام کریں گے کہ اسلامی حدود کی پابندی کرتے ہوئے لڑکیوں کوفن طب، سرجری، قابلہ گری، نرسنگ اور تربیت اطفال کی تعلیم دیں اور ان کودوسرے علوم وفنون کی اعلیٰ تعلیم وتربیت دے کر معلمات بھی بنائیں اور ان سے تمدن کی دوسری مختلف ضروری خدمات بھی ایسے طریقوں پر لیں جو اسلامی تہذیب کے مطابق ہوں۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ضمناً لائق تصریح ہے کہ ہم مسلمان اس مغربی نظریہ کے قائل نہیں ہیں کہ تیمارداری (نرسنگ) کا پیشہ عورت کے لیے مخصوص ہے اور یہ کہ زنانہ ومردانہ سب قسم کے ہسپتالوں میں نرس عورت ہی ہونی چاہیے، ہمارے نزدیک اس خیال کے لیے کوئی علمی اور عقلی بنیاد نہیں ہے اور اخلاقی حیثیت سے یہ نہایت شرمناک ہے کہ نرس خواتین سے مرد بیماروں کی تیمارداری کے کام لیے جائیں جنہیں مرد تیماردار بھی انجام دیتے ہوئے حجاب محسوس کریں۔ اس بنا پر ہم مسلمان لوگ اگر عورتوں کو طبی خدمات کے لیے تیار کریں گے تو عورتوں کے علاج اور تیمارداری کے لیے کریں گے نہ کہ عام طبی خدمات کے لیے۔ ہمارے نزدیک مردانہ ہسپتالوں کے لیے مرد ہی نرس ہونے چاہئیں۔
جنگ کے موقع پر تیمارداری، مرہم پٹی، مجاہدوں کا کھانا پکانا، اسلحہ اور رسد رسانی اور پیغام رسانی وغیرہ کی خدمات انجام دینا عورتوں کے لیے جائز ہے۔ پردے کے احکام سے قبل بھی یہ خدمات عورتیں انجام دیتی تھیں اور ان احکام کے آنے کے بعد بھی دیتی رہیں اور آج بھی دے سکتی ہیں۔ لیکن یہ جواز اس شرط کے ساتھ ہے کہ فوج اسلامی ہو،حدود اللہ کی پابند ہو، اور ان بدمعاشیوں سے پاک ہوجن میں آج کل کی فوجوں نے ناموری حاصل کررکھی ہے۔ جیسے معصوم ناموں سے عورتوں کوبھرتی کرنا اور پھر بدمعاش سپاہیوں اور افسروں کے لیے ان سے قحبہ گری کی خدمت لینا شیطانی کام ہے جس کے لیے کوئی گنجایش برائے نام بھی اسلامی تہذیب میں نہیں نکل سکتی۔ (رسائل ومسائل اول، فقہی مسائل: پردہ۔۔۔)
آج کل کی فوجوں کی اخلاقی حالت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ گزشتہ جنگِ عظیم کے سلسلہ میں امریکی فوج نے جاپان میں ایک لاکھ، انگلستان میں ستر ہزار اور جرمنی میں پچاس ہزار حرامی بچے چھوڑے ہیں۔ اور روسی فوج نے صرف مشرقی برلن میں ۲۹؍ہزار حرام اولاد پیدا کی ہے۔ یہ صرف ان بچوں کی تعداد ہے جو ۱۹۵۲ء کے آخر تک شمار میں آگئے ہیں۔ اس کا اندازہ کیا جاسکتاہے کہ برتھ کنٹرول کے دور میں کتنے بڑے پیمانے پر بدکاری کی گئی ہوگی تب جاکر یہ نتائج بدظہور میں آئے۔
پردہ کی وجہ سے شادی کے بارے میں ایک الجھن
پردے کی وجہ سے جوحالات پیدا ہیں ان میں حقیقتاً کردار دیکھ کربرتلاش کرنا ممکن نہیں۔ لڑکے کے باپ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ لڑکی کا پتہ چلاسکے، لڑکی کی والدہ کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ لڑکے کے متعلق براہِ راست کچھ اندازہ لگاسکے۔ کیونکہ پردے کی وجہ سے ان افراد میں بھی تعلق اور آزادانہ گفتگو ناممکن ہے (خود لڑکے اور لڑکی کا ملنا تو ایک طرف رہا) بڑی سے بڑی آزادی جو اسلام نے دی ہے وہ یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کی شکل دیکھ لے۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتاکہ کسی کی شکل چند سیکنڈ دیکھ لینے سے کیا ہوجاتاہے۔
شادی کے معاملے میں (مذکورہ بالا) جو الجھن بیان کی گئی ہے وہ اپنی جگہ درست ہی سہی۔ اس کا حل کورٹ شپ کے سوا اورکیاہے؟ ظاہر ہے کہ جس تفصیل کے ساتھ رفیق زندگی بنانے سے پہلے لڑکی اور لڑکے کو ایک دوسرے کے اوصاف، مزاج، عادات، خصائل اور ذوق وذہن سے واقف ہونے کی ضرورت آپ محسوس کرتے ہیں۔ایسی تفصیلی واقفیت دوچار ملاقاتوں میں اور وہ بھی رشتہ داروں کی موجودگی میں حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے مہینوں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا، تنہائی میں بات چیت کرنا، سیر تفریح، سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا اور بے تکلف دوستی کی حدتک تعلقات پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ کیاواقعی آپ یہی چاہتے ہیں کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان اس اختلاط کے مواقع بہم پہنچنے چاہئیں۔ آپ کے خیال میں ان جوان لڑکوں اورلڑکیوں کے اندر ان معصوم فلسفیوں کا فی صدی تناسب کیا ہوگا جو بڑی سنجیدگی کے ساتھ صرف رفیق زندگی کی تلاش میں یہ مخلصانہ تحقیقاتی روابط قائم کریں گے۔ اور اس دوران میں شادی ہونے تک طبعی جذب وانجذاب کو قابو میں رکھیں گے۔ جو خصوصیت کے ساتھ نوجوانی کی حالت میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے اپنے اندر رکھتے ہیں؟ بحث برائے بحث اگر آپ نہ کرناچاہتے ہوں توآپ کو ماننا پڑے گا کہ شایددوتین فیصدی سے زیادہ اوسط ہماری آبادی میں نہ نکلے گا۔ باقی اس امتحانی دور ہی میں فطرت کے تقاضے پورے کرچکے ہوں گے اور وہ دوتین فیصدی جو اس سے بچ نکلیں گے، وہ بھی اس شبہ سے نہ بچ سکیں گے کہ شاید وہ باہم ملوث ہوچکے ہوں؟
پھر کیا یہ ضروری ہے کہ ہرلڑکا اور لڑکی جو اس تلاش وتحقیق کے لیے باہم خلا ملا کریں گے وہ لازماً ایک دوسرے کو رفاقت کے لیے منتخب ہی کرلیں گے؟ ہوسکتاہے کہ ۲۰؍فیصدی دوستیوں کا نتیجہ نکاح کی صورت میں برآمد۔ ۸۰؍ فیصدی یا کم از کم ۵۰؍فیصدی کو دوسرے یا تیسرے تجربے کی ضرورت لاحق ہوگی۔ اس صورت میں ان ’’تعلقات‘‘ کی کیا پوزیشن ہوگی جو دوران تجربہ میں آیندہ نکاح کی امید پر پیدا ہوگئے تھے اور ان شبہات کے کیا اثرات ہوں گے جو تعلقات نہ ہونے کے باوجود ان کے متعلق معاشرے میں پیدا ہوجائیں گے؟
پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ لڑکے اورلڑکیوں کے لیے ان مواقع کے دروازے کھولنے کے بعد انتخاب کا میدان لامحالہ بہت وسیع ہوجائے گا۔ ایک ایک لڑکے کے لیے صرف ایک ہی لڑکی مطمح نظر نہ ہوگی جس پر وہ اپنی نگاہِ انتخاب مرکوز کرکے تحقیق وامتحان کے مراحل طے کرلے اور علیٰ ہذا القیاس لڑکیوں میں سے ہرایک کے لیے ایک ہی امکانی شوہر کی حیثیت سے زیر امتحان نہ ہوگا۔ بلکہ شادی کی منڈی میں ہرطرف ایک سے ایک جاذبِ نظر مال موجود ہوگا جو امتحانی مراحل سے گزرتے ہوئے ہرلڑکے اور ہر لڑکی کے سامنے بہتر انتخاب کے امکانات پیش کرتارہے گا۔ اس وجہ سے اس امر کے امکانات روز بروز کم ہوتے جائیں گے کہ ابتداء ً جو دوفرد ایک دوسرے سے آزمائشی ملاقاتیں شروع کریں وہ آخر وقت تک اپنی اس آزمائش کو نباہیں اور بالآخر ان کی آزمائش شادی پر منتج ہو۔
اس کے علاوہ یہ ایک فطری امرہے کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ جورومانی طرز کا کورٹ شپ کرتے ہیں، ان میں دونوں ایک دوسرے کو اپنی زندگی کے روشن پہلو ہی دکھاتے ہیں۔ مہینوں کی ملاقاتوں اور گہری دوستی کے باوجود ان کے کمزور پہلو ایک دوسرے کے سامنے پوری طرح نہیں آتے۔ اس دوران میں شہوانی کشش اتنی بڑھ چکی ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے شادی کرلینا چاہتے ہیں، اور اس غرض کے لیے دونوں ایک دوسرے سے ایسے ایسے پیمانِ وفا باندھتے ہیں، اتنی محبت اور گروید گی کا اظہار کرتے ہیں کہ شادی کے بعد معاملات کی زندگی میں عاشق ومعشوق کے اس پارٹ کو زیادہ دیرتک کسی طرح نہیں نباہ سکتے۔ یہاں تک کہ جلدی ہی ایک دوسرے سے مایوس ہوکر طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔ کیوں کہ دونوں ان توقعات کو پورا نہیں کرسکتے جو عشق ومحبت کے اس دور میں انہوں نے باہم قائم کی تھیں اور دونوں کے سامنے ایک دوسرے کے وہ کمزور پہلو آجاتے ہیں جو معاملات کی زندگی ہی میں ظاہر ہواکرتے ہیں، عشق ومحبت کے دور میں کبھی نہیں کھلتے۔
اب آپ ان پہلوؤں پر بھی غور کرکے دیکھ لیں۔ پھر آپ مسلمانوں کے موجودہ طریقے کی مزعومہ قباحتوں اور اس کورٹ شپ کے طریقے کی قباحتوں کے درمیان موازنہ کرکے خود فیصلہ کریں کہ آپ کو ان دونوں میں سے کون سی قباحتیں زیادہ قابلِ قبول نظر آتی ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی آپ کورٹ شپ ہی کو زیادہ قابل قبول سمجھتے ہیں تو مجھ سے بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس اسلام کے ساتھ آپ اپنا تعلق رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں جو اس راستے پر جانے کے لیے اجازت دینے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہے۔ یہ کام آپ کو کرنا ہوتو کوئی دوسرا معاشرہ تلاش کریں۔ اسلام میں سرسری واقفیت بھی آپ کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اس دین کی حدود میں ’’کامیاب شادی‘‘ کا وہ نسخہ استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جسے آپ مباح کرنا چاہتے ہیں۔ (رسائل ومسائل چہارم، عام مسائل: کیااسلام۔۔۔)
عورتوں کا عورتوں سے پردہ
(قرآن مجید) میں لفظ نِسَائِھِنَّ استعمال ہوا ہے جن کا لفظی ترجمہ ہے ’’ان کی عورتیں‘‘ اس سے کون عورتیں مراد ہیں؟ یہ بحث تو بعد کی ہے۔ سب سے پہلے جو بات قابل غور اور قابلِ توجہ ہے وہ یہ ہے کہ محض ’’عورتوں‘‘ (النساء) کا لفظ استعمال نہیںکیا جس سے مسلمان عورت کے لیے تمام عورتوں اور ہرقسم کی عورتوں کے سامنے بے پردہ ہونا اور اظہار زینت کرنا جائز ہوجاتا، بلکہ نِسَائِھِنَّکہہ کر عورتوں کے ساتھ اس کی آزادی کو بہر حال ایک خاص دائرے تک محدود کردیاہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ دائرہ کوئی سا ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ کون سا دائرہ ہے،اور وہ کون عورتیں ہیں جن پر لفظ نسائھن کا اطلاق ہوتاہے، اس میں فقہاء اور مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ اس سے مراد صرف مسلمان عورتیں ہیں، غیر مسلم عورتیں خواہ ذمی ہوں یا کسی اور قسم کی، ان سے مسلمان عورتوں کو اسی طرح پردہ کرناچاہیے جس طرح مردوں سے کیا جاتاہے، ابن عباس، مجاہد اور ابن جریج کی یہی رائے ہے اور یہ لوگ اس کی تائید میں یہ واقعہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدہؓ کو لکھا’’میں نے سناہے مسلمانوں کی بعض عورتیں غیرمسلم عورتوں کے ساتھ حماموں میں جانے لگی ہیں۔ حالانکہ جو عورت اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ اس کے جسم پر اس کے اہل ملت کے سوا کسی اور کی نظر پڑے۔‘‘ یہ خط جب ابوعبیدہؓ کو ملا تووہ ایک دم گھبرا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ’’خدایا جو مسلمان عورت محض گوری ہونے کے لیے ان حماموں میں جائے اس کا منہ آخرت میں کالا ہوجائے۔‘‘ (ابن جریر، بیہقی، ابن کثیر)
دوسرا گروہ کہتاہے کہ اس سے مراد تمام عورتیں ہیں،امام رازی کے نزدیک یہ مذہب صحیح ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر فی الواقع اللہ تعالیٰ کا منشا بھی یہی تھا تو پھر نِسَائِھِنَّ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس صورت میں تو محض النساء کہنا چاہیے تھا۔
تیسری رائے یہ ہے اور یہی معقول بھی ہے اور قرآن کے الفاظ سے قریب تر بھی کہ اس سے دراصل ان کے میل جول کی عورتیں، ان کی جانی بوجھی عورتیں، ان سے تعلقات رکھنے والی اور ان کے کام کاج میں حصہ لینے والی عورتیں مراد ہیں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔ اور مقصود ان عورتوں کو اس دائرے سے خارج کرناہے جویا تو اجنبی ہوں کہ ان کو اخلاق وتہذیب کا حال معلوم نہ ہو، یاجن کے ظاہری حالات مشتبہ ہوں اور ان پر اعتماد نہ کیا جاسکے۔ اس رائے کی تائید ان صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس ذمی عورتوں کی حاضری کاذکر آتا تھا۔
اس معاملے میں اصل چیز جس کا لحاظ کیا جائے گا وہ مذہبی اختلاف نہیں بلکہ اخلاقی حالت ہے۔ شریف، باحیا اور نیک اطوار عورتیں جو معروف اور قابل اعتماد خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہوں، ان سے مسلمان عورتیں پوری طرح بے تکلف ہوسکتی ہیں خواہ وہ غیرمسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن بے حیا، آبرو باختہ اور بداطوار عورتیں خواہ’’مسلمان‘‘ ہی کیوں نہ ہوں، ہر شریف عورت کو ان سے پردہ کرناچاہیے، کیوں کہ اخلاق کے لیے ان کی صحبت، غیرمردوں کی صحبت سے کچھ کم تباہ کن نہیں ہے۔ رہیں ان جانی عورتیں جن کی حالت معلوم نہیں تو ان سے ملاقات کی حد ہمارے نزدیک وہی ہے جو غیرمحرم رشتہ داروں کے سامنے آزادی کی زیادہ سے زیادہ حد ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ کہ عورت صرف منہ اور ہاتھ ان کے سامنے کھولے باقی اپنا سارا جسم اور آرائش چھپاکر رکھے۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ: ۴۳)
رضاعی چچا اور سالی بہنوئی کے مابین پردہ
۱۵۹۔صحاحِ ستہ اور مسند احمد میں حضرت عائشہؓ کی اپنی روایت ہے کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح ان کے ہاں آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی چوں کہ پردے کا حکم آچکا تھا اس لیے حضرت عائشہؓ نے اجازت نہ دی۔ انہوں نے کہلاکر بھیجا کہ تم تو میری بھتیجی ہو۔ کیوں کہ میرے بھائی ابوالقعیس کی بیوی کا تم نے دودھ پیاہے۔ لیکن حضرت عائشہؓ کو اس میں تامل تھاکہ یہ رشتہ بھی ایسا ہے جس میں پردہ اٹھادینا جائز ہو۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ:جَآئَ عَمِّیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ، فَاسْتَاْذَنَ عَلَیَّ فَاَبَیْتُ اَنْ اٰذَنَ لَہٗ حَتّٰی اَسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَجَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَسَأَلْتُہٗ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ:اِنَّہٗ عَمُّکِ فَاْذَنِیْ لَہٗ، قَالَتْ: فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا اَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِی الرَّجُلُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّہٗ عَمُّکِ فَلْیَلِجْ عَلَیْکِ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ:وَذٰلِکَ بَعْدَ اَنْ ضُرِبَ عَلَیْنَا الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَایَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میرے رضاعی چچا آئے اور انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیے بغیر انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺبھی تشریف لے آئے تو میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیاآپؐ نے فرمایا بے شک وہ تمہارا رضاعی چچا ہے اسے اندر آنے کی اجازت دے دو۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دودھ تو مجھے عورت نے پلایا مرد نے تو نہیں پلایا۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہر حال وہ تمہارا رضاعی چچا ہے وہ تمہارے پاس اندر آسکتاہے۔ حضرت عائشہ ؓکا بیان ہے، یہ واقعہ نزول پردہ کے احکام کے بعد کا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا، ولادت سے جو چیز حرام ہوتی ہے رضاعت سے بھی وہ حرام ہوجاتی ہے۔
بخاری کی ایک اور روایت کے الفاظ:
(۲)عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ اَفْلَحَ اَخَا اَبِی الْقُعَیْسِ جَآئَ یَسْتَاْذِنُ عَلَیْھَا وَھُوَ عَمُّھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ بَعْدَ اَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَاَبَیْتُ اَنْ اٰذَنَ لَہٗ، فَلَمَّا جَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اَخْبَرْتُہٗ بِالَّذِیْ صَنَعْتُ فَاَمَرَنِیْ اَنْ اٰذَنَ لَہٗ۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ میرے رضاعی چچا ابوقعیس کے بھائی افلح نے پر دہ کا حکم نازل ہونے کے بعد میرے پاس اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے جوسلوک ان کے ساتھ کیا تھااس کا آپ سے ذکرکیا۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ ان کواندر آنے کی اجازت دے دو۔
۱۶۰۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر، جو نبی ﷺکی سالی تھیں، آپ کے سامنے ہوتی تھیں اور آخر وقت تک ان کے اور آپ کے درمیان کم از کم چہرے اور ہاتھوں کی حد تک کوئی پردہ نہ تھا۔ حجۃ الوداع نبی ﷺکی وفات سے صرف چند مہینے پہلے کا واقعہ ہے اور اس وقت بھی یہی حالت قائم تھی۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ: ۴۲)
ماخذ
(۱) ابوداؤد ج۴۔کتاب الترجل باب فی خضاب النساء۔ ٭نسائی کتاب الزینۃ باب الخضاب للنساء۔ ٭مسنداحمد ج۶۔ص۲۶۲۔ عن عائشۃ نسائی میں اومت کی جگہ مدت یدھا ہے۔
(۲) ابوداؤد ج۳۔کتاب الجھاد باب فضل قتال الروم علی غیرھم من الامم۔
(۳) بخاری ج۲۔کتاب التفسیر، باب قولہ عزوجل ان الذین جاؤا بالافک عصبۃ منکم۔٭بخاری ج۲۔کتاب المغازی، باب حدیث الافک اس مقام پر وکان رَاٰنی ہے۔٭مسلم ج۲۔کتاب التوبۃ۔ باب فی حدیث الافک۔ وقبول توبۃ القاذف۔٭مسند احمد ج۶۔ص۱۹۵۔عن عائشۃؓ۔٭ابنِ جریر ج۹۔ پ۱۸۔سورہ نور۔٭سیرت ابن ھشام ج۳۔ص۲۹۸۔خبرالافک فی غزوۃ بنی المصطلق کے تحت مرور ابن المعطل، واحتمالہ ایاھا علی بعیرہ۔ ٭تفسیر ابنِ کثیر ج۳۔سورہ نور۔٭روح المعانی ج۱۸۔ سورہ نور۔
(۴) ابوداؤد ج۲۔کتاب الصوم، باب النیۃ فی الصوم کے تحت باب فی الرخصۃ فی ذلک۔
(۵) بخاری ج۲ کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب للعاھر الحجر اور باب فی العتق وفضلہ باب ام الولدالخ اور کتاب الوصایا، خصومات، کتاب الفرائض کتاب المغازی کتاب الاحکام وغیرہ۔ ٭مسلم ج۱کتاب الرضاع، باب الولد للفراش وتوقی الشبھات (مطبوعہ اصح المطابع کراچی)٭ابوداؤد ج۲کتاب الطلاق، باب الولد للفراش۔٭ترمذی ج۱ ابواب الطلاق باب ماجاء ان الولد للفراش ترمذی نے حضرت ابوھریرہ کی روایت میں اَلْوَلَدُ لِلْفِراشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ بیان کیاہے۔
(۶) نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب الحاق الولد بالفراش اذا لم ینفہ صاحب الفراش اور باب فراش الامۃ۔٭نسائی کی ایک روایت میں جسے عبداللہ بن الزبیر نے بیان کیاہے وَاحْتَجِبِیْ مِنْہُ یَاسَوْدَۃُ فَلَیْسَ لَکِ بِاَخٍ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح، باب الولد للفراش وللعاھر الحجر۔٭مؤطا امام مالک کتاب الاقضیۃ ج۲۔باب القضاء بالحاق الولد بابیہ۔٭دارقطنی ج۲۔ص۴۲۲۔٭سنن دارمی ج۲۔کتاب النکاح، باب الولد للفراش وللعاھر الحجر عن عائشۃ۔٭مسنداحمد ج۶۔ص۳۷۔۱۲۹۔۲۲۶۔ عن عائشۃ۔ ٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب اللعان، باب الولد للفراش بالوطأِ بملک الیمین والنکاح۔ عن عائشۃؓ۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ کتاب النکاح باب من قال: الولد للفراش۔ عن ابی ھریرۃ۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۷۔ باب الرجل ینتفی من ولدہ۔ اس مقام پر الولد للفراش وللعاھر الحجر ہے۔٭مجمع الزوائد ج۵۔کتاب الطلاق۔باب الولد للفراش۔
(۷) ابوداؤد ج۳۔کتاب الخراج باب فی بیان مواضع قسم الخمس وسھم ذی القربی۔
(۸) تفسیر ابن جریر جز ۱۸۔۱۹۔جلد۹سورہ نور۔
(۹) ابن جریر ج۹پ۱۸۔۱۹۔ سورہ نور۔
(۱۰) ابوداؤدج۴۔کتاب اللباس، باب فیھا تبدی المرأۃ من زینتھا۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۲کتاب الصلاۃ باب عورۃ المرأۃ الحرۃ۔٭کنزالعمال ج۷۔٭تفسیر ابنِ کثیر ج۳۔سورہ نور زیر آیت الا ماظھر منھا۔٭ تفسیر روح المعانی ج۱۸۔سورہ نور آیت الا ماظھر منھا۔٭تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج۴۔سورہ نور۔ خالد بن دریک لم یسمع منھا۔
(۱۱) مؤطا امام مالک کتاب الجامع، باب مایکرہ للنساء لباسہ من الثیاب۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۲۔کتب الصلاۃ باب الترغیب فی ان تکثف ثیابھا اوتجعل تحت درعھا ثوبا ان خشیت ان یصفھا درعھا۔
(۱۲) ابوداؤد ج۴کتاب اللباس، باب فی لبس القباطی للنساء۔
(۱۳) ابوداؤد ج۴کتاب اللباس، باب فی قولہ ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن۔٭تفسیر ابن کثیر ج۳۔سورہ نور۔
(۱۴) ابوداؤد ج۴کتاب اللباس، باب فی قولہ تعالٰی یدنین علیھن من جلابیبھن۔٭ابن کثیر ج۳۔سورہ نور۔
(۱۵) مؤطا امام مالک کتاب الجامع، باب مایکرہ للنساء لباسہ من الثیاب٭ السنن الکبریٰ ج۲کتاب الصلوٰۃ باب الترغیب فی ان تکثف ثیابھا اوتجعل تحت درعھا ثوبا ان خشیت ان یصفھا درعھا۔
(۱۶) بخاری ج۲کتاب النکاح باب مایحل من الدخول والنظر الی النساء فی الرضاع۔باب لبن الفحل۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الرضاع رضاعۃ الصغیر۔
(۱۷) بخاری حوالہ مذکورہ بالا۔ مسلم ج۱کتاب الرضاع، باب یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الرحم۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب النکاح، باب فی رضاعۃ الکبیر۔٭ترمذی ج۱ابواب الرضاع، باب ماجاء فی لبن الفحل۔ ٭نسائی ج۵۔کتاب النکاح، باب مایحرم من الرضاع۔٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب لبن الفحل۔٭مؤطا امام مالک کتاب الرضاع رضاعۃ الصغیر۔٭سنن دارمی ج۲کتاب النکاح، باب مایحرم من الرضاع عن عائشۃؓ۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷کتاب الرضاع۔ باب یحرم من الرضاع مایحرم الولادۃ وان لبن الفحل یحرم۔٭مسند احمد ج۶۔ص۱۹۴۔ عن عائشۃؓ،٭مجمع الزوائد ج۴کتاب النکاح، باب فی الرضاع۔٭سنن دارقطنی ج۲۔ص۱۷۸ عن عائشۃؓ۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴کتاب النکاح، باب ماقولوا فی لبن الفحل، من کرھہ۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۷۔ص۴۷۲،۴۷۳۔ عن عائشۃؓ۔٭ کنزالعمال ج۶۔حدیث نمبر ۱۵۷۱۹ عن عائشۃؓ۔
فصل :۲۰ لباس اور سترکے احکام کسی کے ستر پر نظر ڈالنا
۱۶۱۔ مَلْعُوْنٌ مَنْ نَظَرَ اِلٰی سَوْأَۃِ اَخِیْہِ۔ (احکام القرآن للجصاص)
’’ملعون ہے وہ جو اپنے بھائی کے ستر پر نظر ڈالے۔ ‘‘
تخریج : وَقَدْرُوِیَ عَنْہُ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ:مَلْعُوْنٌ مَنْ نَظَرَ اِلٰی سَوْأَۃِ اَخِیْہِ۔(۱)
تشریح :جسم ڈھانکنے کو ہرمرد وعورت کے لیے فرض کردیا گیا۔ نبی ﷺ نے سخت احکام دیئے کہ کوئی شخص کسی کے سامنے برہنہ نہ ہو۔
۱۶۲۔ لاَ یَنْظُرُ الرَّجُلُ اِلٰی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ وَلاَالْمَرْأَۃُ اِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْأَۃِ۔ (مسلم)
’’کوئی مرد کسی مرد کو اور کوئی عورت کسی عورت کو برہنہ نہ دیکھے۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَااَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَازَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ زَیْدُ بْنُ اَسْلَمَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لاَیَنْظُرِ الرَّجُلُ اِلٰی عَوْرَۃِ الرَّجُلِ، وَلاَالْمَرْأَۃُ اِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرْأَۃِ، وَلاَیُفْضِیْ الرَّجُلُ اِلَی الرَّجُلِ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلاَتُفْضِی الْمَرْأَۃُ اِلَی الْمَرَأَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ۔(۲)
۱۶۳۔ لَاَنْ اَخَرَّمِنَ السَّمَائِ فَانْقَطَعَ نِصْفَیْنِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَنْظُرَ اِلٰی عَوْرَۃِ اَحَدٍ اَوْیَنْظُرَاِلٰی عَوْرَتِیْ۔ (المبسوط)
’’خدا کی قسم! میں آسمان سے پھینکا جاؤں اور میرے دوٹکڑے ہوجائیں، یہ میرے لیے زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ میں کسی کے پوشیدہ مقام کو دیکھوں یا کوئی میرے پوشیدہ مقام کو دیکھے۔‘‘
تخریج : رُوِیَ عَنْ سَلْمَانؓ قَالَ: لَاَنْ اَخَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَانْقَطَعَ نِصْفَیْنِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَنْظُرَ اِلٰی عَوْرَۃِ اَحَدٍ اَوْیَنْظُرَ اَحَدٌ اِلٰی عَوْرَتِیْ۔(۳)
۱۶۴۔ لاَ یَعْمَلُ لَنَا مَنْ لاَّ حَیَائَ لَہٗ۔
’’ایک دن آنحضرت ﷺ زکوٰۃ کے اونٹوں کی چراگاہ میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ان کا چرواہا جنگل میں ننگا لیٹا ہے۔ آپؐ نے اسی وقت اسے معزول کردیا اور فرمایا ’’جوشخص بے شرم ہے وہ ہمارے کسی کام کا نہیں۔ ‘ ‘ (پردہ باب ۱۱، انسدادی تدابیر: لباس۔۔۔)
تخریج: وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی اِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَرَأٰی رَاعِیْھَا تَجَرَّدَ فِی الشَّمْسِ فَعَزَلَہٗ وَقَالَ: لاَیَعْمَلُ لَنَا مَنْ لاَحَیَائَ لَہٗ۔(۴)
مردوں کے لیے ستر کے حدود
۱۶۵۔ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: مَافَوْقَ الرُّکْبَتَیْنِ مِنَ الْعَوْرَۃِ وَاَسْفَلَ مِنَ السُّرَّۃِ مِنَ الْعَوْرَۃِ۔ (دارقطنی)
’’جوکچھ گھٹنے کے اوپر ہے وہ چھپانے کے لائق ہے اور جو کچھ ناف سے نیچے ہے وہ چھپانے کے لائق ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ بَھْلُولٍ، نَاجَدِّیْ، نَا اَبِیْ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عُبَادِ ابْنِ کَثِیْرٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: مَافَوْقَ الرُّکْبَتَیْنِ مِنَ الْعَوْرَۃِ، وَاَسْفَلَ مِنَ السُّرَّۃِ مِنَ الْعَوْرَۃِ۔(۵)
تشریح : عورتوں اور مردوں کے لیے جسم ڈھانکنے کے حدود بھی الگ الگ مقرر کیے گئے، اصطلاح شرعی میں جسم کے اس حصہ کو ستر کہتے ہیں جس کا ڈھانکنا فرض ہے۔ مردوں کے لیے ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ ستر قرار دیا گیا کہ اس کو نہ کسی کے سامنے کھولیں اور نہ کسی دوسرے شخص کے اس حصہ پر نظر ڈالیں۔
۱۶۶۔ عَوْرَۃُ الرَّجُلِ مَابَیْنَ سُرَّتِہٖ اِلٰی رُکْبَتِہٖ۔(مبسوط)
’’مرد کے لیے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ چھپانے کے لائق ہے۔‘‘
۱۶۷۔ عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: لاَ تُبْرِزْ فَخِذَکَ وَلاَ تَنْظُرْ اِلٰی فَخِذِ حَیٍّ وَلاَ مَیِّتٍ۔ (تفسیر کبیر)
’’اپنی ران کو کسی کے سامنے نہ کھول اور نہ کسی زندہ یا مردہ شخص کی ران پر نظر ڈال!‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ ضَمْرَۃَ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَتُبْرِزْ فَخِذَکَ، وَلاَتَنْظُرْ اِلٰی فَخِذِ حَـّیٍ وَلاَمَیِّتٍ۔(۶)
حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَھْلٍ الرَّمْلِیُّ، ثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ:اُخْبِرْتُ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ ضَمْرَۃَ، عَنْ عَلِیٍّؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَتَکْشِفْ فَخِذَکَ وَلاَتَنْظُرْ اِلٰی فَخِذِ حَیٍّ وَلاَمَیِّتٍ۔(۷)
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ: ھذا الحدیث فیہ نکارۃ۔
یہ حکم عام ہے جس سے بیویوں کے سوا اور کوئی مستثنیٰ نہیں چنانچہ حدیث میں ہے:
۱۶۸۔ اِحْفَظْ عَوْرَتَکَ اِلاَّ مِنْ زَوْجَتِکَ اَوْ مَامَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔(احکام القران للجصاص جلد۳)
’’اپنے ستر کی حفاظت کرو بجز اپنی بیویوں کے اور ان لونڈیوں کے جو تمہارے تصرف میں ہوں۔ ‘‘
(پردہ ، باب۱۱، انسدادی تدابیر:مردوں۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثَنَا اَبِیْ، ح وَثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا یَحْیٰ نَحْوَہٗ، عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!عَوْرَاتُنَا مَانَاتِیْ مِنْھَاوَمَانَذَرُ؟ قَالَ:احْفَظْ عَوْرَتَکَ اِلاَّمِنْ زَوْجَتِکَ اَوْمَامَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔
۱۶۹۔ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃ۔
’’حضرت جرہد اسلمی جو اصحاب صفہ میں سے ایک بزرگ تھے، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ایک دفعہ میری ران کھلی ہوئی تھی حضورؐ نے فرمایا ’’کیا تمہیںمعلوم نہیں ہے کہ ران چھپانے کے قابل چیز ہے؟‘‘ (ترمذی ، ابوداؤد، مؤطأ)
(تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ :۳۰)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ اَبِی النَّضْرِ، عَنْ زُرْعَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جَرْھَدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:کَانَ جَرْھَدٌ ھٰذَا مِنْ اَصْحَابِ الصُّفَّۃِ قَالَ: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عِنْدَنَا وَفَخِذِیْ مُنْکَشِفَۃٌ، فَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ۔(۸)
۱۷۰۔ (سائل نے پوچھا، اور جب ہم تنہائی میں ہوں؟) فرمایا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ)
تخریج: قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِذَا کَانَ الْقَوْمُ بَعْضُھُمْ فِیْ بَعْضٍ قَالَ: اِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ لاَّیَرَیَنَّھَا اَحَدٌ فَلاَیَرَیَنَّھَا، قَالَ: قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِذَاکَانَ اَحَدُنَا خَالِیًا، قَالَ:اللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ یُّسْتَحْیَا مِنْہُ مِنَ النَّاسِ۔(۹)
تشریح : احادیث بالا سے واضح ہے کہ مرد کے لیے ستر کے حدود ناف سے گھٹنے تک مقرر فرمائے ہیں۔ غض بصرکا ایک منشا یہ بھی ہے کہ آدمی کسی عورت یا مرد کے ستر پر نگاہ نہ ڈالے۔
شرمگاہوں کی حفاظت سے مراد محض ناجائز شہوت رانی سے پرہیز نہیں ہے بلکہ (احادیث بالا کے مطابق) اپنے ستر کو دوسروں کے سامنے کھولنے سے پرہیز بھی ہے۔
اس حصہ جسم کو بیوی کے سوا کسی اور کے سامنے قصداً کھولنا حرام ہے۔ پھر صرف دوسروں کے سامنے ہی نہیں بلکہ تنہائی میں بھی ننگا رہنا ممنوع ہے۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ: ۳۰)
فتنہء عریانی
۱۷۱۔ اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ اَھْلَہٗ فَلْیَسْتَتِرْ وَلاَ یَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَیْرَیْنِ۔ (ابن ماجہ)
’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس کو چاہیے کہ ستر کا لحاظ رکھے بالکل گدھوں کی طرح دونوں ننگے نہ ہوجائیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَااِسْحَاقُ بْنُ وَھْبِ نِ الْوَاسِطِیُّ،ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْھَمْدَانِیُّ،ثَنَا اَلْاَحْوَصُ بْنُ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، وَرَاشِدُ ابْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْاَعْلٰی بْنُ عَدِیٍّ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ اَھْلَہٗ فَلْیَسْتَتِرْ، وَلاَیَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَیْرَیْنِ۔(۱۰)
تشریح : ستر کے باب میں اسلام نے انسانی شرم وحیا کی جس قدر صحیح اور مکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے، اس کا جواب دنیا کی کسی تہذیب میںنہیں پایا جاتا۔ آج دنیاکی مہذب ترین قوموں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے مردوں اور ان کی عورتوں کو اپنے جسم کا کوئی حصہ کھول دینے میں باک نہیں۔ ان کے ہاں لباس محض زینت کے لیے ہے، سترکے لیے نہیں ہے۔ مگر اسلام کی نگاہ میں زینت سے زیادہ ستر کی اہمیت ہے۔ وہ عورت اور مرد دونوں کو جسم کے وہ تمام حصے چھپانے کا حکم دیتاہے جن میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ عریانی ایک ایسی ناشائستگی ہے جس کو اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرتی۔ غیرتو غیراسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوں۔
۱۷۲۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ مَا نَظَرْتُ اِلٰی فَرْجِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(شمائل ترمذی)
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، ثَنَا وَکِیْعٌ، اَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُوْسٰی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ الْخَطَمِیِّ، عَنْ مَوْلٰی لِعَائِشَۃَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ:مَانَظَرْتُ اِلٰی فَرْجِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَوْقَالَتْ: مَارَأَیْتُ فَرْجَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَطُّ۔(۱۱)
اس سے بڑھ کر شرم وحیا یہ ہے کہ تنہائی میں بھی عریاں رہنا اسلام کو گوارا نہیں۔ اس لیے کہ اَللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ یُّسْتَحْیٰ مِنْہُ۔ ’’اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔‘‘ (ترمذی)
حدیث میں آتاہے کہ:
۱۷۳۔اِیَّاکُمْ وَالتَّعَرِّیْ فَاِنَّ مَعَکُمْ مَنْ لاَّ یُفَارِقُکُمْ اِلاَّعِنْدَ الْغَائِطِ وَحِیْنَ یُفْضِی الرَّجُلُ اِلٰی اَھْلِہٖ فَاسْتَحْیُوْھُمْ وَاَکْرِمُوْھُمْ۔ (ترمذی)
’’خبردار کبھی برہنہ نہ رہو۔ کیوں کہ تمہارے ساتھ خدا کے فرشتے لگے ہوئے ہیں جو تم سے جدانہیں ہوتے۔ بجز ان اوقات کے جن میں تم رفع حاجت کرتے ہو، یا اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہو۔ لہٰذا تم ان سے شرم کرو اور ان کی عزت کا لحاظ رکھو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نِیْزَکِ نِ الْبَغْدَادِیُّ، نَاالْاَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نَااَبُوْمُحَیَّاۃٍ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِیَّاکُمْ وَالتَّعَرِّیِّ، فَاِنَّ مَعَکُمْ مَنْ لاَیُفَارِقُکُمْ اِلاَّ عِنْدَ الْغَائِطِ، وَحِیْنَ یُفْضِی الرَّجُلُ اِلٰی اَھْلِہِ، فَاسْتَحْیُوْھُمْ وَاَکْرِمُوْھُمْ۔(۱۲)
ـــــــ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لاَ نَعْرِفُہٗ اِلاَّ مِنْ ھٰذَا الْوَجْہِ وَاَبُوْ مُحَیَّاۃٍ اِسْمُہٗ یَحْیٰ بْنُ یَعْلٰی۔
لباس میں ننگی عورتیں
اسلام کی نگاہ میں وہ لباس درحقیقت لباس ہی نہیں ہے جس میں سے بدن جھلکے اور ستر نمایاں ہو:
۱۷۴۔قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نِسَائٌ کَاسِیَاتٌ، عَارِیَاتٌ، مُمِیْلاَتٌ، مَائِلاَتٌ، رُؤُسُھُنَّ کَالْبُخْتِ الْمَائِلَۃِ لاَ یَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یَجِدْنَ رِیْحَھَا۔ (مسلم)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں، اور دوسروں کو رجھائیں، اور خود دوسروں پر ریجھیں، اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کرکے چلیں، وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی بوپائیں گی۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، نَاجَرِیْرٌ، عَنْ سُھَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: صِنْفَانِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، لَمْ اَرَھُمَا قَوْمٌ مَعَھُمْ سِیَاطٌ کَاَذْنَابِ الْبَقَرِ یَضْرِبُوْنَ بِھَا النَّاسَ، وَنِسَآئٌ کَاسِیَاتٌ، عَارِیَاتٌ، مُمِیْلاَتٌ، مَائِلاَتٌ رُؤُسُھُنَّ کَاَسْنِمَۃِ الْبُخْتِ الْمَائِلَۃِ لاَیَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ، وَلاَیَجِدْنَ رِیْحَھَا وَاِنَّ رِیْحَھَا لَتُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ کَذَا وَکَذَا۔(۱۳)
تشریح : یہاں استیعاب مقصود نہیں۔ ہم نے صرف چند مثالیں اس غرض سے پیش کی ہیںکہ ان سے اسلام کے معیار اخلاق اور اس کی اخلاقی اسپرٹ کااندازہ ہوجائے۔ اسلام سوسائٹی کے ماحول اور اس کی فضا کو فحشاء ومنکر کی تمام تحریکات سے پاک کردینا چاہتاہے۔ ان تحریکات کا سرچشمہ انسان کے باطن میں ہے۔ فحشاء ومنکر کے جراثیم وہیں پرورش پاتے ہیں اور وہیں سے ان چھوٹی چھوٹی تحریکات کی ابتدا ہوتی ہے جو آگے چل کر فساد کی موجب بنتی ہیں۔ جاہل انسان ان کو خفیف سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ مگر حکیم کی نگاہ میں دراصل وہی اخلاق اور تمدن ومعاشرت کو تباہ کردینے والی خطرناک بیماریوں کی جڑہیں لہٰذا اسلام کی تعلیم اخلاق باطن ہی میں حیا کا اتنا زبردست احساس پیدا کردینا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے۔ اور برائی کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اگر پایا جائے تو اس کو محسوس کرکے وہ آپ ہی اپنی قوتِ ارادی سے اس کااستیصال کردے۔ (پردہ،باب۱۱، اصلاح باطن: فتنۂ عریانی)
دل کے چور
۱۷۵۔ اَلْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ۔وَزِنَاھُمَا النَّظْرُ وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا اَلْبَطْشُ وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا الْمَشْیُ وَزِنَا اللِّسَانِ اَلنُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَتَشْتَھِیْ وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ اَوْیُکَذِّبُہٗ۔
’’آنکھیں زنا کرتی ہیں اوران کی زنا نظر ہے اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کی زنا دست درازی ہے اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کی راہِ زنا میں چلناہے اور زبان کی زنا گفتگو ہے، اور دل کی زنا تمنا اور خواہش ہے۔ آخر میں صنفی اعضاء یا تو ان سب کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ طَاؤُسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ اَرَ شَیْئًا اَشْبَہَ بِاللَّمَمِ مِنْ قَوْلِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ح وَحَدَّثَنِیْ مَحْمُوْدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاؤُسٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَارَأَیْتُ شَیْئًا اَشْبَہَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلٰی ابْنِ آدَمَ حَظَّہٗ مِنَ الزِّنٰی، اَدْرَکَ ذٰلِکَ لاَمَحَالَۃَ، فَزِنَی الْعَیْنِ النَّظْرُ، وَزِنَی اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَتَشْتَھِیْ، وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ اَوْیُکَذِّبُہٗ۔(۱۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر لکھ دیا زنا کا حصہ جو اس کو بہر حال پاکر رہناہے۔ آنکھوں کا زنا نظر ہے زبان کا زنا گفتگو ہے دل کا زنا تمنا اورخواہش ہے اور اعضاء صنفی یا توان کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔
(۲)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ مِنِ ابْنِ آدَمَ کُتِبَ حَظٌّ مِنَ الزِّنَا اَدْرَکَ لاَمَحَالَۃَ، فَالْعَیْنُ زِنَاھَا النَّظْرُ، وَالرِّجْلُ زِنَاھَا الْمَشْیُ، وَالْاُذُنُ زِنَاھَا السِّمَاعُ، وَالْیَدُ زِنَاھَا الْبَطْشُ، وَاللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلاَمُ، وَالْقَلْبُ یَتَمَنّٰی وَیَشْتَھِیْ وَیُصَدِّقُ ذٰلِکَ اَوْیُکَذِّبُہُ الْفَرْجُ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ہرآدم زادے پر زنا کا جتنا حصہ ہے اس نے لامحالہ پاکر رہناہے اللہ تعالیٰ نے اسے لکھادیاہے۔ پس آنکھ کازنا نظر ہے، اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے، اور کان کازنا سنناہے، اور ہاتھ کازنا پکڑنا، اور زبان کا زنا گفتگو اور کلام کرناہے، اور دل کا زنا تمنا اور خواہش کرناہے، اور صنفی اعضاء یاتو ان کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔
(۳)حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، اَنَا اَبُوْھِشَامٍ اَلْمَخْزُوْمِیُّ، نَاوُھَیْبٌ، نَاسُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ نَصِیْبُہٗ مِنَ الزِّنَا مُدْرِکٌ ذٰلِکَ لاَمَحَالَۃَ، فَالْعَیْنَانِ، زِنَاھُمَا النَّظْرُ، وَالْاُذُنَانِ، زِنَاھُمَا الْاِسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ، زِنَاہُ الْکَلاَمُ، وَالْیَدُ زِنَاھَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ،زِنَاھَا الْخَطْیُ،وَالْقَلْبُ یَھْوِیْ، وَیَتَمَنّٰی وَیُصَدِّقُ ذٰلِکَ الْفَرْجُ وَیُکَذِّبُہٗ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ابن آدم نے جتنا کچھ حصہ زنا کا پاکر رہناہے اس پر لکھ دیاگیاہے۔ لہٰذا آنکھوں کا زنا نظر ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا گفتگو اور بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اورپاؤں کا زنا چل کرجاناہے۔ اور دل کا زنا خواہش اور تمنا کرناہے پھر اعضاء صنفی یا تو ان کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔
(۴)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَۃَ، اَنَا سُھَیْلُ بْنُ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لِکُلِّ بَنِیْ آدَمَ حَظٌّ مِّنَ الزِّنَا، فَالْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا النَّظْرُ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ، وَزِنَاھُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِیَانِ، وَزِنَاھُمَا الْمَشْیُ، وَالْفَمُ یَزْنِیْ، وَزِنَاہُ الْقُبْلُ، وَالْقَلْبُ یَھْوِیْ وَیَتَمَنَّی، وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ اَوْیُکَذِّبُہٗ۔(۱۷)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، آدم کے ہربچے کے لیے زنا کی کچھ نہ کچھ مقدار مقرر ہے آنکھیں زنا کرتی ہیں، ان کا زنا نظر ہے۔ ہاتھ زنا کرتے ہیں ان کا زنا پکڑناہے۔ پاؤں زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے۔ منہ بھی زنا میں ملوث ہوتاہے، اس کا زنا بوس وکنار ہے اور دل کا زنا خواہش اور تمنا کرنا ہے اعضاء صنفی یا تو اس کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔
عبد اللہ بن مسعود سے مروی ایک روایت:
(۵)اَلْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ، وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِیَانِ، وَالْفَرْجُ یَزْنِی۔(۱۸)
ترجمہ : آنکھیں زنا کرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کے مرتکب ہوتے ہیں، پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور عضوِ صنفی بھی زنا میں ملوث ہوتاہے۔
ابوہریرہؓ کے حوالہ سے ایک روایت:
(۶)کُلُّ ابْنِ آدَمَ لَہٗ حَظٌّ مِنَ الزِّنَا، فَزِنَا الْعَیْنَیْنِ النَّظْرُ، وَزِنَا الْیَدَیْنِ الْبَطْشُ، وَزِنَا الرِّجْلَیْنِ الْمَشْیُ، وَزِنَا الْفَمِ الْقُبْلُ، وَالْقَلْبُ یَھْوِیْ وَیَتَمَنّٰی، وَیُصَدِّقُ ذٰلِکَ اَوْیُکَذِّبُہٗ الْفَرْجُ الخ۔(۱۹)
ترجمہ : ہرایک آدم زادے کے لیے زنا کا کچھ حصہ مقدر ہے۔ پس آنکھوں کا زنا نظر ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑناہے۔ اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے اور منہ کا زنا بوس وکنار ہے اور دل کا زنا خواہش اور تمنا کرناہے پھر اعضاء جنسی یا تو اس کی تصدیق کرتے ہیں یا تکذیب۔
تشریح : قانون کی نظر میں زنا کااطلاق صرف جسمانی اتصال پر ہوتاہے۔ مگر اخلاق کی نظر میں دائرہ ازدواج کے باہر صنف مقابل کی جانب ہر میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زناہے۔ اجنبی کے حسن سے آنکھ کالطف لینا، اس کی آواز سے کانوں کا لذت یاب ہونا، اس سے گفتگو کرنے میں زبان کالوچ کھانا، اس کے کوچے کی خاک چھاننے کے لیے قدموں کا بار بار اٹھنا، یہ سب مقدمات اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ قانون اس زنا کو نہیں پکڑسکتا۔ یہ دل کا چور ہے اور صرف دل ہی کا کوتوال اس کو گرفتار کرسکتاہے۔ (پردہ، باب۱۱، اصلاح باطن:دل۔۔۔)
فتنۂ نظر
۱۷۶۔ اِبْنَ آدَمَ لَکَ اَوَّلُ نَظْرَۃٍ وَاِیَّاکَ وَالثَّانِیَۃَ۔(الجصاص)
’’آدمی زادے ! تیری پہلی نظر تو معاف ہے مگر خبردار دوسری نظر نہ ڈالنا۔‘‘
تخریج: رَوَی الرَّبِیْعُ بْنُ صُبَیْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:ابْنَ آدَمَ لَکَ اَوَّلُ نَظْرَۃٍ، وَاِیَّاکَ وَالثَّانِیَۃَ۔(۲۰)
تشریح : نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے اس لیے قرآن وحدیث دونوں سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ سے (حضور نے) فرمایا:
۱۷۷۔ یَا عَلِیُّ لاَ تُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَاِنَّ لَکَ الْاُوْلٰی وَلَیْسَتْ لَکَ الآخِرَۃُ۔(ابوداؤد)
’’اے علیؓ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی نظر تو معاف ہے مگر دوسری نہیں حضرت جابرؓ نے پوچھا کہ اچانک نظر پڑجائے تو کیا کروں؟ فرمایا نظر پھیر لو۔‘‘(ابوداؤد) (پردہ، باب ۱۱، اصلاح باطن: فتنۂ نظر)
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُوْسٰی الْفَزَارِیُّ، اَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ عَنْ رَبِیْعَۃَ الْاَیَادِیِّ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَاعَلِیُّ! لاَتُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ، فَاِنَّ لَکَ الْاُوْلٰی، وَلَیْسَتْ لَکَ الْآخِرَۃُ۔(۲۱)
فتنۂ زبان
۱۷۸۔ لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَۃُ بِالْمَرْأَۃِ حَتَّی تَصِفَھَا لِزَوْجِھَا کَاَنَّہٗ یَنْظُرُ اِلَیْھَا۔(ترمذی)
’’عورت عورت سے خلا ملانہ کرے۔ ایسا نہ ہوکہ وہ اس کی کیفیت اپنے شوہرسے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ خود اس کو دیکھ رہاہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَتُبَاشِرُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ، فَتَنْعَتُھَا لِزَوْجِھَا کَأَنَّہٗ یَنْظُرُ اِلَیْھَا۔(۲۲)
بیہقی میں مندرجہ ذیل عبارت ہے :
(۲)نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ تُبَاشِرَ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ اَجْلِ اَنْ تَصِفَھَا لِزَوْجِھَا حَتّٰی کَأَنَّہٗ یَنْظُرُ اِلَیْھَا۔ الخ (۲۳)
تشریح : عورت کو اجازت نہیں کہ اپنے شوہرسے دوسری عورتوں کی کیفیت بیان کرے۔ شیطان نفس کا ایک دوسرا ایجنٹ زبان ہے، کتنے ہی فتنے ہیںجو زبان کے ذریعہ سے پیدا ہوتے اور پھیلتے ہیں۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایاہے اور ان سے خبردار کیاہے۔ عورت اور مرد دونوں کو اس سے منع کیا گیاہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کا حال دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کریں ،کیوں کہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتاہے (ابوداؤد)۔
۱۷۹۔ نماز باجماعت میں اگر امام غلطی کرے، یا اس کو کسی حادثہ پر متنبہ کرناہوتو مردوں کو سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے، مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صرف دستک دیں، زبان سے کچھ نہ بولیں۔ (ابوداؤد) (پردہ، باب ۱۱، اصلاح باطن: فتنۂ زبان)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَعَمْرو نِالنَّاقِدُ وَزُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوْا : نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ح وَحَدَّثَنَا ھَارُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَحَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالاَ: اَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ، وَاَبُوْسَلَمَۃَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّھُمَا سَمِعَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِیْحُ لِلنِّسَآئِ۔(۲۴)
(۲)حَدَّثَنَااَبُوالنُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْحَازِمِ نِالْمَدَنِیُّ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِنِالسَّاعِدِیِّ قَالَ:کَانَ قِتَالٌ بَیْنَ بَنِیْ عَمْرٍو فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّﷺ، فَصَلَّی الظُّھْرَ، ثُمَّ اَتَاھُمْ یُصْلِحُ بَیْنَھُمْ، فَقَالَ:یَابِلاَلُ! اِنْ حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ وَلَمْ اٰتِکَ فَمُرْ اَبَابَکْرٍ، فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلاَۃُ الْعَصْر، فَاَذَّنَ بِلاَلٌ وَاَقَامَ، وَاَمَرَ اَبَابَکْرٍ فَتَقَدَّمَ وَجَائَ النَّبِیُّﷺ وَاَبُوْبَکْرٍ فِی الصَّلاَۃِ، فَشَقَّ النَّاسَ حَتّٰی قَامَ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ فَتَقَدَّمَ فِی الصَّفِّ الَّذِیْ یَلِیْہِ، قَالَ: وَصَفَّحَ الْقَوْمُ قَالَ: وَکَانَ اَبُوْبَکْرٍ اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ لَمْ یَلْتَفِتْ حَتّٰی یَفْرُغَ، فَلَمَّا رَاٰی التَّصْفِیْحَ لاَیُمْسَکُ عَلَیْہِ، الْتَفَتَ فَرَاٰی النَّبِیَّ ﷺ خَلْفَہٗ فَاَوْمَأَاِلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺ بِیَدِہٖ اَنِ امْضِہُ وَاَوْمَأَ بِیَدِہٖ ھٰکَذَا وَلَبِثَ اَبُوْبَکْرٍ ھُنَیَّۃً یَحْمَدُ اللّٰہَ عَلٰی قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ ثُمَّ مَشَی الْقَھْقَرٰی، فَلَمَّا رَاٰی النَّبِیُّ ﷺ ذٰلِکَ تَقَدَّمَ، فَصَلّٰی النَّبِیُّ ﷺ بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضٰی صَلاَتَہٗ قَالَ: یَااَبَابَکْرٍ مَا مَنَعَکَ اِذْ اَوْمَاْتُ اِلَیْکَ اَلاَّتَکُوْنَ مَضَیْتَ؟ قَالَ:لَمْ یَکُنْ لِابْنِ اَبِیْ قُحَافَۃَ اَنْ یَؤُمَّ النَّبِیَّ ﷺ، وَقَالَ لِلْقَوْمِ: اِذَا نَابَکُمْ اَمْرٌ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّحِ النِّسَائُ۔ قَالَ اَبُوعَبْدِ اللّٰہِ: لَمْ یَقُلْ ھٰذَا الْحَرْفَ غَیْرُحَمَّادٍ یَا بِلاَلُ مُرْ اَبَابَکْرٍ۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت سہل بن سعد ساعدی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ بنو عمرو کے درمیان کچھ لڑائی جھگڑا ہوگیا۔ اس کی اطلاع نبی ﷺ کو بھی پہنچ گئی۔ آپ نے ظہر کی نماز ادا کی اور ان کے ہاں صلح کرانے تشریف لے گئے اور جاتے ہوئے بلال سے فرمایا، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور میں پہنچ نہ سکا تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس جب نماز عصر کا وقت ہوگیا تو بلال نے اذان کہی اور کھڑے ہوکر اقامت کہی اور ابوبکر کو کہا کہ وہ آگے ہوکر نماز پڑھائیں، چنانچہ حضرت ابوبکر آگے بڑھے۔ نبی ﷺبھی اس دوران میں تشریف لے آئے اور ابوبکر حالتِ نماز میں تھے۔ آپ لوگوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے ابوبکر کے پاس جاکر ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ اس طرح آپ ساتھ والی صف میں شریک لوگوں سے آگے ہوگئے۔ راوی کا بیان ہے کہ نمازیوں نے تالی پیٹنا شروع کی۔ ادھر حضرت ابوبکرؓ کا یہ عالم تھا کہ جب نماز میں داخل ہوجاتے توکسی طرف بھی التفات نہ کرتے جب تک کہ نماز سے فارغ نہ ہوجائیں۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے دیکھاکہ تالیاں پیٹنا بند ہی نہیں ہورہیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ نبی ﷺنے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا کہ نماز جاری رکھیں۔ ابوبکرؓ تھوڑی دیر تو ٹھیرے نبی ﷺکے ارشاد پر اللہ کا شکر ادا کیا پھر پیچھے کی جانب چلے تو آپ نے یہ اقدام ملاحظہ فرمایا اور خود آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز پوری کرلی تو فرمایا ابوبکرؓ جب میں نے اشارہ سے وہیں قائم رہنے کو کہہ دیا تھا تو پھر تم نے وہاں ٹھیر کر نماز جاری کیوں نہ رکھی؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا ابن قحافہ کو زیب ہی نہیں دیا کہ وہ نبی کی امامت کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ جب تمہیں کوئی مشکل اور دشواری پیش آجائے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی پیٹ کر خبردار کریں۔
استیذان
۱۸۰۔ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں بلااجازت دیکھے تو گھر والوں کو حق ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑدیں۔‘‘(مسلم)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ نَاجَرِیْرٌ، عَنْ سُھَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنِ اطَّلَعَ فِیْ بَیْتِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِھِمْ، فَقَدْ حَلَّ لَھُمْ اَنْ یَفْقَئُوْا عَیْنَہٗ۔(۲۶)
تشریح : مقصد اندرون خانہ اور بیرون خانہ کے درمیان حد بندی کرناہے تاکہ اپنی خانگی زندگی میں عورتیں اور مرد اجنبیوں کی نظروں سے محفوظ رہیں۔ اہل عرب ابتدا میں ان احکام کی علت کو نہ سمجھ سکے، اس لیے بسا اوقات وہ گھروں میں جھانک لیتے تھے۔ ایک مرتبہ خود آنحضرت ﷺکے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا:
۱۸۱۔ آپؐ اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک شخص نے تابدان میں سے جھانکا۔ اس پرآپؐ نے فرمایا’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہاہے تو میں تیری آنکھ میں کوئی چیز چبھودیتا۔ استیذان کا حکم تونظروں سے بچانے ہی کے لیے دیا گیاہے۔ ‘‘ (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: حَفِظْتُہٗ کَمَا اَنَّکَ ھٰھُنَا، عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِیْ حُجْرِ النَّبِیِّ ﷺ وَمَعَ النَّبِیِّ ﷺ مِدْرًی یَحُکُّ بِہِ رَأسَہٗ فَقَالَ:لَوْاَعْلَمُ اَنَّکَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِہٖ فِیْ عَیْنِکَ۔ اِنَّمَا جُعِلَ الْاِسْتِیْذَانُ مِنْ اَجْلِ الْبَصَرِ۔(۲۷)
(۲)عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِیِّ ﷺ فَقَامَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺ بِمَشْقَصٍ اَوْ بِمَشَاقِصَ، فَکَأَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ یَخْتِلُ الرَّجُلَ لِیَطْعَنَہٗ۔(۲۸)
تشریح : اس کے بعد آپؐ نے اعلان فرمایا کہ ’’اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں بلااجازت دیکھے تو گھروالوں کو حق ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑدیں۔ پھر اجنبی مردوں کو حکم دیا گیاکہ کسی دوسرے کے گھر سے کوئی چیز مانگنی ہوتو گھروںمیں نہ چلے جائیں بلکہ باہر کے پردے کی اوٹ سے مانگیں۔
وَاِذَاسَأَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ۔ (الاحزاب: ۵۳)
’’اور جب تم عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو! اس میں تمہارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزگی ہے اور ان کے دلوں کے لیے بھی۔‘‘
یہاں بھی حدبندی کے مقصد پر ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنّسے پوری روشنی ڈال دی گئی ہے۔ عورتوں اور مردوں کو صنفی میلانات اور تحریکات سے بچانا ہی اصل مقصود ہے، اور یہ حدبندیاں اس لیے کی جارہی ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان خلا ملا اور بے تکلفی نہ ہونے پائے۔
یہ احکام صرف ۱ جانب ہی کے لیے نہیں بلکہ گھر کے خدام کے لیے بھی ہیں۔ چنانچہ روایت میں آیاہے کہ حضرت بلالؓ یا حضرت انسؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے آپ کے کسی بچے کو مانگا تو آپ نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کردیا۔ (فتح القدیر) حالانکہ یہ دونوں حضور نبی کریم ﷺ کے خدام خاص تھے اور آپ کے پاس گھر والوں کی طرح رہتے تھے۔
(پردہ ،باب۱۱، انسدادی تدابیر: استیذان)
مردوں کے لیے غَضّ بصر
۱۸۲۔ عَنْ جَرِیْرٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ نَظْرِ الْفُجَائَ ۃِ قَالَ اِصْرِفْ بَصَرَکَ۔(ابوداؤد)
ترمذی ابواب الاستیذان۔ باب ماجاء فی نظر الفجاء ۃ۔ ابن ماجہ ۔
’’حضرت جریرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اچانک نظر پڑجائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ نظر پھیرلو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَایَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ،ح قَالَ وَثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ:نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ کِلاَھُمَا عَنْ یُوْنُسَ،ح قَالَ وَحَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ:نَاھُشَیْمٌ، قَالَ:نَایُوْنُسُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ نَظْرِ الْفَجْائَ ۃِ فَاَمَرَنِیْ اَنْ اَصْرِفَ بَصَرِیْ۔(۲۹)
تشریح : سب سے پہلا حکم جو مردوں اور عورتوں کو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ غض بصر کرو۔ اس لفظ کاترجمہ ’’نظریں نیچی رکھو‘‘ یا نگاہیں پست رکھو کیا جاتاہے۔ مگر اس سے پورا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ حکم الٰہی کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہروقت نیچے ہی دیکھتے رہیں اور کبھی اوپر نظر ہی نہ اٹھائیں۔ مدعا دراصل یہ ہے کہ اس چیز سے پرہیز کرو جس کو حدیث میں آنکھوںکازنا کہا گیاہے۔ اجنبی عورتوں کے حسن اور ان کی زینت کی دید سے لطف اندوز ہونا مردوں کے لیے اورا جنبی مردوں کو مطمح نظر بنانا عورتوں کے لیے فتنے کا موجب ہے۔ فساد کی ابتدا طبعاً وعادتاً یہیں سے ہوتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اسی دروازے کوبندکیا گیاہے، اور یہی ’’غض بصر‘‘ کی مراد ہے۔ اردو زبان میں اس لفظ کا مفہوم ’’نظر بچانے‘‘ سے بخوبی ادا کرسکتے ہیں۔
یہ ظاہر ہے کہ جب انسان آنکھیں کھول کر دنیا میں رہے گا تو سب ہی چیزوں پر اس کی نظر پڑے گی۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کو اور کوئی عورت کسی مرد کو کبھی دیکھے ہی نہیں اس لیے شارع نے فرمایا کہ اچانک نظر پڑجائے تو معاف ہے، البتہ جو چیز ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ ایک نگاہ میں جہاں تم کو حسن محسوس ہو وہاں دوبارہ نظر دوڑاؤ اور اس کو گھورنے کی کوشش کرو۔
۱۸۳۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَلِیٍّ یَاعَلِیُّ لاَ تُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَاِنَّ لَکَ الْاُوْلٰی وَلَیْسَتْ لَکَ الآخِرَۃُ۔ (ابوداؤد)
ترمذی ابواب الاستیذان۔ باب ماجاء فی نظرۃ الفجاء ۃ۔
’’حضرت بریدہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا ’’اے علیؓ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو۔ پہلی نظر معاف ہے، مگر دوسری نظر کی اجازت نہیں۔‘‘
۱۸۴۔ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ نَظَرَ اِلٰی مَحَاسِنِ امْرَأَۃٍ اَجْنَبِیَّۃٍ عَنْ شَھْوَۃٍ صُبَّ فِیْ عَیْنَیْہِ الآنُکَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ (تکملہ فتح القدیر)
’’نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی اجنبی عورت کے محاسن پر شہوت کی نظر ڈالے گا۔ قیامت کے روز اس کی آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔‘‘ (پردہ ،باب۱۲: غض بصر)
تخریج: لِقَوْلِہٖ ﷺ مَنْ نَظَرَ اِلٰی مَحَاسِنِ اَجْنِبِیَّۃٍ عَنْ شَھْوَۃٍ صُبَّ فِیْ عَیْنَیْہِ الآنُکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(۳۰)
عورتوں کے لیے غض بصر
۔
تخلیہ اور لمس کی ممانعت
غیرمحرم عورتوں سے بیعت
۱۹۳۔حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ عورتوں سے صرف زبانی اقرار لے کر بیعت لیا کرتے تھے، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہ لیتے تھے آپ نے کبھی ایسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا جو آپ کے نکاح میں نہ ہو ۔ (بخاری،مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ:حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ النَّبِیُّﷺ یُبَایِعُ النِّسَآئَ بِالْکَلاَمِ بِھٰذَا الْاٰیَۃِ لاَتُشْرِکُوْابِاللّٰہِ شَیْئًا، قَالَتْ: وَمَا مَسَّتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَدَا مْرَأَۃٍ اِلاَّ امْرَأَۃٍ یَمْلِکُھَا۔(۳۹)
۱۹۴۔امیمہ بنتِ رقیقہ کا بیان ہے کہ میں چند عورتوں کے ساتھ حضورؐ سے بیعت کرنے حاضر ہوئی۔ آپؐ نے ہم سے اقرار لیا کہ شرک، چوری،زنا، بہتان تراشی وافترا پردازی اور نبی کی نافرمانی سے احتراز کرنا۔ جب اقرار ہوچکا تو ہم نے عرض کیا کہ تشریف لایئے تاکہ ہم آپؐ سے بیعت کریں۔ آپؐ نے فرمایا’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، صرف زبانی اقرار کافی ہے۔ (نسائی)
تخریج: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ اُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ:اَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فِیْ نِسْوَۃٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ نُبَایِعُہٗ، فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ نُبَایِعُکَ عَلٰی اَنْ لاَّنُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلاَنَسْرِقَ وَلاَنَزْنِیْ وَلاَنَاْتِیْ بِبُھْتَانٍ نَفْتَرِیْہِ بَیْنَ اَیْدِیْنَاوَاَرْجُلِنَا وَلاَنَعْصِیَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ، قَالَ: فِیْمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَاَطَقْتُنَّ، قَالَتْ: قُلْنَا، اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَرْحَمُ بِنَا، ھَلُمَّ نُبَایِعُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّیْ لاَاُصَافِحُ النِّسَآئَ اِنَّمَا قَوْلِیْ لِمِائَۃِ امْرَأَۃٍ کَقَوْلِیْ لاِمْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ اَوْمِثْلِ قَوْلِیْ لِامْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔(۴۰)
تشریح :یہ احکام بھی صرف جوان عورتوں کے لیے ہیں۔ سن رسیدہ عورتوں کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا جائز ہے۔ اور ان کوچھونا بھی ممنوع نہیں، چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کے متعلق منقول ہے کہ وہ ایک قبیلہ میں جاتے تھے جہاں انہوں نے دودھ پیا تھا اور آپ اس قبیلہ کی بوڑھی عورتوں سے مصافحہ کرتے تھے رُوِیَ اَنَّ اَبَابَکْرٍکَانَ یُصَافِحُ الْعَجَائِزَ۔ قُلْتُ غَرِیْبٌ أَیْضاً نصب الرایۃ ج۴ ص۲۴۰ (مرتب)۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے متعلق یہ روایت ہے کہ وہ ایک بوڑھی عورت سے پاؤں اور سردبوایا کرتے تھے۔ یہ امتیاز جو بوڑھی اور جوان عورتوں کے درمیان کیا گیاہے۔ خود اس بات پر دلالت کرتاہے کہ دراصل دونوں صنفوں کے درمیان ایسے اختلاط کو روکنا مقصود ہے جو فتنے کا سبب بن سکتاہے۔
محرموںاور غیرمحرموں کے درمیان فرق
یہ تو وہ احکام تھے جن میں شوہر کے سوا تمام مرد شامل ہیں خواہ وہ محرم ہوں یا غیر محرم۔عورت ان میں سے کسی کے سامنے اپنا ستر، یعنی چہرے اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ نہیں کھول سکتی، بالکل اسی طرح جس طرح مرد کسی کے سامنے اپنا ستر یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ نہیں کھول سکتا۔ سب مردوں کو گھر میں اجازت لے کر داخل ہونا چاہیے اور ان میں سے کسی کا عورت کے پاس خلوت میں بیٹھنا یا اس کے جسم کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ۔ جسم کو ہاتھ لگانے کے معاملہ میں محرموں اور غیر محرم مردوں کے درمیان کافی فرق ہے بھائی اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر اسے سواری پر چڑھایا اتارسکتاہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ بات کسی غیر مرد کے لیے نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ جب کبھی سفر سے واپس آتے، تو حضرت فاطمہؓ کو گلے لگا کر سر کا بوسہ لیتے۔ اسی طرح حضرت ابوبکرؓ حضرت عائشہ کے سرکا بوسہ لیتے تھے۔ (پردہ)۔ (باب۱۱، انسدادی تدابیر: محرموں۔۔۔)
کن مواقع پر اجنبیہ کو دیکھنا جائز ہے؟
۱۹۵۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃَ ابْنِ شُعْبَۃَ اَنَّہَ خَطَبَ امْرَأَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اُنْظُرْاِلَیْھَا فَاِنَّہٗ اَحْریٰ اَنْ یُّؤْدَمَ بَیْنَکُمَا۔ (ترمذی)
’’مغیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو نکاح کاپیغام دیا۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس کو دیکھ لو۔ کیونکہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت واتفاق پیدا کرنے کے لیے مناسب ہوگا۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَا ابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ، ثَنِیْ عَاصِمُ ابْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ بَکْرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ، عَنِ الْمُغِیْرَۃَ ابْنِ شُعْبَۃَ اَنَّہٗ خَطَبَ امْرَأَۃً، فَقَالَ النَّبِیُّﷺ:اُنْظُرْاِلَیْھَا، فَاِنَّہٗ اَحْرٰی اَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا۔(۴۱)
تشریح : بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں اجنبیہ کو دیکھنا ضروری ہوجاتاہے مثلاً کوئی مریضہ کسی طبیب کے زیرعلاج ہو، یا کوئی عورت کسی مقدمہ میں قاضی کے سامنے بحیثیت گواہ یا بحیثیت فریق پیش ہو، یا کسی آتش زدہ مقام میں کوئی عورت گھر گئی ہو، یا پانی میں ڈوب رہی ہو، یا اس کی جان یا آبرو کسی خطرے میں مبتلا ہو۔ ایسی صورتوں میں چہرہ تو درکنار، حسب ضرورت ستر کو بھی دیکھا جاسکتاہے، جسم کو ہاتھ بھی لگایا جاسکتاہے، بلکہ ڈوبتی ہوئی یا جلتی ہوئی عورت کو گود میں اٹھاکر لانا بھی صرف جائز ہی نہیں، بلکہ فرض ہے۔ شارع کا حکم یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں جہاں تک ممکن ہو، اپنی نیت کوپاک رکھو، لیکن اقتضائے بشریت سے اگر جذبات میں کوئی خفیف سی تحریک پیدا ہوجائے تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ کیونکہ ایسی نظر اور ایسے لمس کے لیے ضرورت داعی ہوئی ہے۔ اور فطرت کے مقتضیات کو بالکل روک دینے پر انسان قادر نہیں ہے۔
اس مضمون کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر امام رازی، آیت قل للمومنین یغضوا من ابصارھم۔ احکام القرآن للجصاص آیت مذکورہ۔ فصل الوطیٔ والنظر واللمس۔ المبسوط، کتاب الاستحسان۔
اسی طرح اجنبی عورت کو نکاح کے لیے دیکھنا اور تفصیلی نظر کے ساتھ دیکھنانہ صرف جائز ہے،بلکہ احادیث میں اس کا حکم وارد ہواہے (جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے ظاہر ہوتاہے) اور خود نبی ﷺ نے اس غرض کے لیے عورت کودیکھاہے۔
۱۹۶۔ عَنْ سَھْلِ ابْنِ سَعْدٍ اَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ جِئْتُ لِاَھَبَ لَکَ نَفْسِیْ فَنَظَرَ اِلَیْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَصَعَّدَ النَّظْرَ اِلَیْھَا۔ (بخاری)
’’سہل ابن سعد سے روایت ہے کہ ایک عورت آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور بولی کہ میں اپنے آپ کو حضورؐ کے نکاح میں دینے کے لیے آئی ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے نظر اٹھائی اور اس کو دیکھا۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، اَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ جِئْتُ لِاَھَبَ لَکَ نَفْسِیْ، فَنَظَرَ اِلَیْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَصَعَّدَ النَّظْرَ اِلَیْھَا وَصَوَّبَہٗ الخ۔(۴۲)
۱۹۷۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَاَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِّنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَظَرْتَ اِلَیْھَا؟ قَالَ لاَ، قَالَ فَاذْھَبْ فَانْظُرْ اِلَیْھَا فَاِنَّ فِیْ اَعْیُنِ الْاَنْصَارِ شَیْئًا۔ (مسلم)
’’ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ میں نے انصار میں سے ایک عورت کے ساتھ نکاح کا ارادہ کیاہے۔ حضورؐ نے پوچھا کیا تونے اسے دیکھاہے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا جا اور اس کو دیکھ لے، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں عموماً کچھ عیب ہوتاہے۔‘‘
تخریج :حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، قَالَ: نَاسُفْیَانُ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَاَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَنَظَرْتَ اِلَیْھَا؟ قَالَ:لاَ، قَالَ: فَاذْھَبْ فَانْظُرْ اِلَیْھَا، فَاِنَّ فِیْ اَعْیُنِ الْاَنْصَارِ شَیْئًا۔(۴۳)
۱۹۸۔عَنْ جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا خَطَبَ اَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ قَالَ فَاِنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی مَایَدْعُوْہُ اِلٰی نِکَاحِھَا فَلْیَفْعَلْ۔ (ابوداؤد)
’’جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس میں کوئی چیزہے جو اس کو اس عورت کے ساتھ نکاح کی رغبت دلانے والی ہو۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ دَاؤدَ بْنِ حُصَیْنٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ یعنی ابْنَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا خَطَبَ اَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ، قَالَ: فَاِنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی مَایَدْعُوْہُ اِلٰی نِکَاحِھَا فَلْیَفْعَلْ الخ۔(۴۴)
تشریح :ان مستثنیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ شارع کا مقصد دیکھنے کو کلیتاً روک دینا نہیںہے بلکہ دراصل فتنے کا سد باب مقصود ہے اور اس غرض کے لیے صرف اسے دیکھنے کو ممنوع قراردیاگیاہے جس کی کوئی حاجت بھی نہ ہو۔ جس کاکوئی تمدنی فائدہ بھی نہ ہو۔ اور جس میں جذباتِ شہوانی کو تحریک دینے کے اسباب بھی موجود ہوں۔ (پردہ،باب۱۲: غض بصر)
اگر کسی عورت کو دیکھنے کی حقیقی ضرورت ہو تو وہ غض بصر کے حکم سے مستثنیٰ ہے۔ مثلا احادیث بالا سے واضح ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتاہو تو اس غرض کے لیے عورت کو دیکھ لینے کی نہ صرف اجازت ہے، بلکہ ایسا کرنا کم از کم مستحب تو ضرور ہے۔
مسند احمد میں ابوحمید کی روایت ہے کہ حضورؐ نے اس غرض کے لیے دیکھنے کی اجازت کو فلاجناح علیہ کے الفاظ میں بیان کیا، یعنی ایسا کرلینے میں مضائقہ نہیں ہے۔ نیز اس کی بھی اجازت دی کہ لڑکی کی بے خبری میں بھی اسے دیکھا جاسکتاہے۔ اسی سے فقہاء نے یہ قاعدہ اخذ کیاہے کہ بضرورت دیکھنے کی دوسری صورتیں بھی جائز ہیں مثلاً تفتیش جرائم کے سلسلے میں کسی مشتبہ عورت کو دیکھنا، یا عدالت میں گواہی کے موقع پر قاضی کا کسی گواہ عورت کو دیکھنا، یاعلاج کے لیے طبیب کا مریضہ کو دیکھنا وغیرہ۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ: ۲۹)
غیراولی الاربۃ سے مراد کون ہیں؟
۱۹۹۔ لَقَدْ غَلَغْلَتَ النَّظْرَ اِلَیْھَا یَاعَدُوَّاللّٰہِ۔
’’اے دشمن خدا تونے تو اسے خوب نظریں گاڑ کر دیکھا ہے‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ وَھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ یَدْخُلُ عَلٰی اَزْوَاجِ النَّبِیِّﷺ مُخَنَّثٌ فَکَانُوْا یَعُدُّوْنَہٗ مِنْ غَیْرِ اُوْلِی الْإِرْبَۃِ، فَدَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِیُّﷺ یَوْمًا وَھُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَآئِہِ، وَھُوَ یَنْعِتُ امْرَأَۃً، وَقَالَ:(اِنْ فَتَحَ عَلَیْکَ الطَّائِفُ، فَعَلَیْکَ بِبَادِیَۃٍ بِنْتِ غَیْلاَنَ الثَّقَفِیِّ) اِنَّھَا اِذَا اَقْبَلَتْ، اَقْبَلَتْ بِاَرْبَعٍ، وَاِذَا اَدْبَرَتْ، اَدْبَرَتْ بِثِمِانٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ (لَقَدْ خَلَعْلَتَ النَّظْرَ اِلَیْھَا یَاعَدُوَّ اللّٰہِ) أَلاَ اَرٰی ھٰذَا یَعْلَمُ مَا ھٰھُنَالاَ یَدْخُلَنَّ عَلَیْکُنَّ ھٰذَا، فَحَجَبُوْہُ۔(۴۵)
(۲) حَدَّثَنَاعُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ زَیْنَبَ ابْنَۃِ اُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّﷺکَانَ عِنْدَھَا وَفِی الْبَیْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لِاَخِیْ اُمِّ سَلَمَۃَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ اِنْ فَتَحَ اللّٰہُ لَکُمُ الطَّائِفَ غَدًا اَدُلُّکَ عَلٰی ابْنَۃِ غَیْلاَنَ، فَاِنَّھَا تُقْبِلُ بِاَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثِمَانٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : لَایَدْخُلَنَّ ھٰذَا عَلَیْکُمْ۔(۴۶)
تشریح : یہ دیکھناہرخاندان کے قوَّام کاکام ہے کہ ایسے جن تابعین کو وہ گھر میں آنے کی اجازت دے رہاہے ان پر غیراولی الاربۃ ہونے کا جو گمان اس نے ابتداء ًکیا تھا وہ صحیح ثابت ہورہاہے یانہیں۔ اگر ابتدائی اجازت کے بعد آگے چل کر کسی وقت یہ شبہ کی گنجائش نکل آئے کہ وہ اولی الاربۃ میں سے نہیں تو اجازت منسوخ کردینی چاہیے۔ اس معاملہ میں بہترین نظیر اس مخنث کی ہے جسے نبی ﷺ نے گھروں میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ اور پھر ایک واقعہ کے بعد اس کو نہ صرف گھروں میں آنے سے روک دیا بلکہ مدینہ سے ہی نکال دیا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں ایک مخنث تھا جو ازواج مطہرات کے پاس آیا جایا کرتاتھا۔ ایک مرتبہ وہ حضرت ام سلمہؓ کے ہاں بیٹھا ہوا ان کے بھائی عبداللہ سے باتیں کررہاتھا۔ اتنے میں نبی ﷺ تشریف لے آئے اور مکان میں داخل ہوتے ہوئے آپؐ نے سنا کہ وہ عبداللہ سے کہہ رہاتھا:’’اگر کل طائف فتح ہوگیا تو میں بادیہ بنت غیلان ثقفی کو تمہیں دکھاؤں گا جس کا حال یہ ہے کہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار بل نظر آتے ہیں اور جب پیچھے پلٹتی ہے تو آٹھ بل‘‘ اس کے بعد ایک شرمناک فقرے میں اس نے اس عورت کے ستر کی تعریف کی۔ نبی ﷺنے اس کی یہ باتیں سن کر فرمایا، لَقَدْ غَلْغَلْتَ النَّظْرَ اِلَیْھَا یَاعَدُوَّاللّٰہِ ’’اے دشمن خدا تونے تو اسے خوب نظریں گاڑ کر دیکھا ہے‘‘پھر ازواج مطہرات سے فرمایا کہ یہ عورتوں کے احوال سے واقف ہے، لہٰذا اب یہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پھر آپؐ نے اس پر بھی بس نہ کیا بلکہ اسے مدینہ سے نکال کر بیداء میں رہنے کا حکم دیا۔کیونکہ اس نے بنت غیلان کے ستر کا جو نقشہ کھینچا تھا اس سے آپ نے اندازہ فرمایا کہ اس شخص کے زنانہ پن کی وجہ سے عورتیں اس کے ساتھ اتنی ہی بے تکلف ہوجاتی ہیں جتنی اپنی ہم جنس عورتوں سے ہوسکتی ہیں، اوراس طرح یہ ان کے اندرونی احوال سے واقف ہوکر ان کی تعریفیں مردوں کے سامنے بیان کرتاہے جس سے بڑے فتنے برپا ہوسکتے ہیں۔ (پردہ ،باب۱۲: اظہار ۔۔۔)
ماخذ
(۱) احکام القرآن للجصاص ج۳ الاعراف زیر آیت یابنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا یُواری سوآتکم وریشا ولباس التقوی۔
(۲) مسلم ج۱کتاب الحیض باب تحریم النظر الی العورات۔٭ ترمذی ج۲۔ابواب الاستیذان والادب، باب ماجاء فی کراھیۃ مباشرۃ الرجل الرجل والمرأۃ المرأۃ۔ ترمذی نے ولا المرأۃ کی جگہ ولا تنظر المرأۃ نقل کیاہے۔ ٭ابن ماجہ کتاب الطھارۃ باب النھی ان یری عورۃ اخیہ ابن ماجہ نے لاَتَنْظُرِ الْمَرْأَۃُ اِلٰی عَوْرَۃِ الْمَرأَۃِ الخ یعنی عورت کا ذکر پہلے اور مرد کا بعد میںکیاہے۔٭ ابوداؤد ج۴۔کتاب الحمام باب ماجاء فی التعری۔ ابوداؤد نے لاینظر الرجل الی عریۃ الرجل ولاالمرأۃ الی عریۃ المرأۃ الخ نقل کیاہے۔٭مسند احمد ج۳ص۶۳ ابوسعید خدری۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب ماجاء فی الرجل ینظر الی عورۃ الرجل والمرأۃ تنظر الی عورۃ المرأۃ الخ۔٭ احکام القرآن للجصاص ج۳ الاعراف مطبوعہ بیروت اس نے روی ابوسعید نِ الخدری عنہ علیہ السلام انہ قال: لاینظر الرجل الی عورۃ الرجل، ولاالمرأۃ الی عورۃ المرأۃ نقل کیاہے۔
(۳) المبسوط ج۵ ص۱۵۵۔
(۴) المبسوط ج۵ ص۱۵۶۔
(۵) سنن دارقطنی ج۱۔کتاب الصلاۃ باب الامر بتعلیم الصلوٰت والضرب علیھا وحد العورۃ الذی یجب سترھا۔ ٭مسند احمد ج۲۔ص۱۸۷ابوھریرہؓ کے حوالہ سے نبی ﷺ کا ارشاد منقول ہے۔ فَلاَیَنْظُرَنَّ اِلٰی شَـْیئٍ مِنْ عَوْرَتِہِ، فَاِنَّمَا اَسْفَلُ مِنْ سُرَّتِہٖ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ مِنْ عَوْرَتِہٖ۔ ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۲۔ ص۲۲۹۔ کتاب الصلاۃ باب عورۃ الرجل۔ سعید بن راشد البصری وھو ضعیف۔
(۶) ابن ماجہ کتاب الجنائز۔ باب ماجاء فی غسل المیت۔٭ابوداؤدج۴کتاب الحمام، باب النھی عن التعری۔ ٭سنن دارقطنی ج۱۔کتاب الحیض فی بیان العورۃ والفخذ منھا۔٭ابوداؤد اور دارقطنی نے لاتبرز کے بجائے لاتکشف بیان کیاہے۔ ٭ابوداؤد کتاب الجنائز باب فی ستر المیت عند غسلہ اور مسند احمد ج۱۔ص۱۴۶ پر عَنْ عَلِیٍّ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:لاَتُبْرِزْ فَخِذَکَ وَلاَتَنْظُرَنَّ اِلٰی فَخِذِ حَیٍّ، وَلاَمَیِّتٍ۔٭ ابوداؤد ج۳۔کتاب الجنائز، باب فی سترالمیت عند غسلہ۔٭مسند احمد ج۱۔ص۱۴۶۔ عن علی۔
(۷) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحمام باب النھی عن التعری۔٭السنن الکبری ج۲۔کتاب الصلاۃ باب عورۃ الرجل۔
(۸) ابوداؤدج۴۔کتاب الحمام باب النھی عن التعرّی۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۲۔کتاب الصلاۃ باب عورۃ الرجل۔٭ ترمذی ج۲۔ابواب الاستیذان والادب، باب ماجاء فی حفظ العورۃ۔ ٭مسنداحمدج۳۔ ص۴۷۸۔ ۴۷۹۔٭سنن دارمی ج۲ص۲۸۱۔٭نصب الرایۃج۴ص۲۴۲۔۲۴۳۔ ٭طبرانی ج۲ص۳۰۴۔٭ حلیۃ الاولیاء ج۱ص۲۵۳۔٭مشکوٰۃ حدیث نمبر۳۱۱۲۔
(۹) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحمام، باب ماجاء فی التعرّی۔٭ترمذی ج۲۔ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی حفظ العورۃ۔ ھذا حدیث حسن۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب التستر عندالجماع۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ج۴ ص۲۵۔٭ احکام القرآن للجصاص ج۳ص۳۰ مطبوعہ بیروت۔٭ بخاری میں صرف قال بھز عن ابیہ، عن جدہ، عن النبی ﷺ اللہ احق ان یستحی منہ من الناس ہے۔٭بخاری ج۱۔کتاب الغسل باب من اغتسل عریانا وحدہ فی الخلوۃ ومن تستّر، والتستر افضل الخ٭تفسیر ابن کثیر ج۳۔ ص۲۸۲۔٭مسند احمدج۵۔ص۳بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ۔ ٭ السنن الکبری ج۲کتاب الصلوٰۃ باب وجوب ستر العورۃ للصلوٰۃ وغیرھا۔
(۱۰) ابن ماجہ کتاب النکاح، باب ۲۸التستر عندالجماع۔فی الزوائد: اسنادہ ضعیف لجھالۃ تابعیۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب الاستتار فی حال الوطیء۔٭مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح، باب ماجاء فی الجماع والقول عندہ والتستر عن عبداللہ۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ۔ج۲۔۴۔کتاب النکاح، باب ماقالوا فی الاستتاراذا جامع الرجل اھلہ، عن ابی قلابۃ اس میں ہے اذا جامع احدکم الخ۔٭کنز العمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۸۳۴۔ اس میں ولایتجرد ان ہے۔
(۱۱) ترمذی شمائل ترمذی باب ماجاء فی حیاء رسول اللہ ﷺ۔٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع۔ ٭ ابن ماجہ کتاب الطھارۃ باب النھی ان یری عورۃ اخیہ۔ عن ابی سعید خدری۔ ابن ماجہ میں عن مولی لعائشۃ، عن عائشۃ ہے۔٭مسند احمد ج۶۔ص۶۲،۱۹۰۔ عن عائشۃؓ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب ماتبدی المرأۃ من زینتھا للمذکورین فی الایۃ من محارمھا۔ عن عائشۃؓ۔
(۱۲) ترمذی ج۲ ابواب الادب، باب ماجاء فی الاستتار عندالجماع۔
(۱۳) مسلم ج۲۔کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔٭کتاب اللباس والزینۃ۔ ٭مسند احمد ج۲۔ص۳۵۶۔عن ابی ھریرۃ۔ ٭ کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر۴۵۰۱۳ عن ابی ھریرۃ۔
(۱۴) بخاری ج۲۔کتاب الاستیذان۔ باب زنی الجوارح دون الفرج کتاب القدر، باب قول اللہ وحرام علی قریۃ اھلکناھا انھم لایرجعون الخ۔٭مسلم ج۲۔کتاب القدر، باب قدر علی ابن آدم حظہٗ من الزنا وغیرہ۔ مسلم نے زنا العینین بیان کیا ہے۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فیما یومر بہ من غض البصر۔٭مسند احمد ج۲۔ص۲۷۶۔ عن ابی ھریرۃ۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ص۸۹۔
(۱۵) المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب التفسیر۔
(۱۶) مسلم ج۲۔کتاب القدر باب قدر علی ابنِ آدم حظہ من الزنا وغیرہ۔٭مسند احمد ج۲۔ص۳۷۹۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب تحریم النظر الی الاجنبیات من غیر سبب مبیح عن ابی ھریرۃ۔
(۱۷) مسند احمد ج۲۔ص۳۴۳۔٭ السنن الکبریٰ ج۷۔ص۸۹۔
(۱۸) مسند احمد ج۱۔ص۴۱۲ عبد اللہؓ بن مسعود ۔٭مسند احمد ج۲۔ص۳۴۴پر ابوہریرہ کے حوالہ سے اَلْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ اَوْیُکَذِّبہ مروی ہے۔ اور ص۳۷۲ پر عن ابی ھریرۃ الْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ وَاللِّسَانُ یَزْنِیْ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِیَانِ یُحَقِّقُ ذٰلِکَ الْفَرْجُ اَوْیُکَذِّبُہٗ اورص۴۱۱۔ ۵۲۸۔ ۵۳۵پرابوھریرہ کے واسطہ سے اَلْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ، وَاللِّسَانُ یَزْنِیْ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ، وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِیَانِ وَیُحَقِّقُ ذٰلِکَ اَوْیُکَذِّبُہُ الْفَرْجُ۔
(۱۹) مسند احمد ج۲، ص۵۳۶مرویات ابی ھریرۃؓ ،احکام القرآن للجصاص ج۳ص۳۱۶پر قولہ ﷺ العینان تزنیان، والیدان تزنیان، والرجلان تزنیان ویصدق ذلک کلہ الفرج اویکذبہ منقول ہے۔
(۲۰) احکام القرآن للجصاص جلد۳ ص۳۱۵۔ سورہ نور باب مایجب من غض البصر عن المحرمات۔
(۲۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فیما یؤمر بہ من غض البصر۔٭ترمذی ج۲۔ ابواب الآداب، باب ماجاء فی نظر الفجاء ۃ ھذا حدیث حسن غریب لانعرفہ الا من حدیث شریک۔٭سنن دارمی کتاب الرقاق، باب۳۔ فی حفظ السمع۔ اس مقام پر والآخرۃ علیک ہے۔٭مسند احمد ج۵۔ص۳۵۱۔ ۳۵۳۔۳۵۷۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳۔سورہ نور باب مایجب من غض البصر عن المحرمات۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴۔کتاب النکاح باب ماقالوا فی الرجل تمر بہ المرأۃ فینظر الیھا، من کرہ ذلک۔ عن ابن بریدۃ عن ابیہ۔٭ مجمع الزوائد ج۴۔کتاب النکاح باب النظر الی من یرید تزویجھا۔٭السنن الکبری ج۷۔ص۹۰۔
(۲۲) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب لاتباشر المرأۃ المرأۃ فتنعتھا لزوجھا۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب مایؤمر بہ من غضِّ البصر۔٭ترمذی ج۲۔ ابواب الآداب، باب ماجاء فی کراھیۃ مباشرۃ الرجل الرجل والمرأۃ المرأۃ حتی تصفھا لزوجھا کانہ ینظر الیھا۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔ ترمذی نے لاتباشر المرأۃ المرأۃ حتی تصفھا لزوجھا کأنہ ینظر الیھا نقل کیاہے۔
(۲۳) السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب ماجاء فی الرجل ینظر الی عورۃ الرجل والمرأۃ تنظر الی عورۃ المرأۃ الخ عن عبداللہ بن مسعود۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ کتاب النکاح، باب فی مباشرۃ الرجل الرجل والمرأۃ المرأۃ۔ عن عبید اللہ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۴کتاب الادب، باب النھی عن مباشرۃ الرجل الرجل والمرأۃ المرأۃ فی ثوب واحد۔مستدرک نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے اور صرف فی ثوب واحد تک لی ہے۔
(۲۴) مسلم ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب تسبیح الرجل وتصفیق المرأۃ اذا نابھما فی الصلاۃ۔٭ابوداؤد ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب التصفیق فی الصلاۃ۔٭ترمذی ج۱ ابواب الصلاۃ باب ماجاء ان التسبیح للرجال والتصفیق للنساء۔ عن ابی ھریرۃ۔ حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح۔ ترمذی نے التصفیق للنساء نقل کیاہے۔٭ نسائی ج۳۔کتاب السھو، باب التصفیق فی الصلاۃ۔ نسائی نے ص۱۱اور ۱۲دونوں پر التصفیق للنساء ذکر کیاہے۔٭ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا باب التسبیح للرجال فی الصلاۃ والتصفیق للنساء۔ حدیث نمبر ۱۰۳۴،۱۰۳۵، ۱۰۳۶۔ عن ابی ھریرۃ۔٭سنن دارمی ج۱۔ص۲۵۷۔کتاب الصلاۃ، باب التسبیح للرجال والتصفیق للنساء۔ عن ابی ھریرۃ۔٭مسند احمد ج۱۔ص۲۹۰۔۵۴۱۔٭مسند احمد ج۲۔ ص۲۴۱،۲۶۱،۳۱۷،۳۷۶،۴۳۲،۴۴۰، ۴۷۳،۴۷۹،۴۹۳،۵۰۷،۵۲۹، ج۳۔ ص۳۴۰، ۳۴۸، ۳۵۷، ج۵ ص۳۳۰،۳۳۳،۳۳۶،۳۳۸۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۲۔کتاب الصلاۃ باب مایقول اذا نابہ شیء فی الصلاۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔ بیھقی نے بھی اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَآئِ فِی الصَّلاَۃِ نقل کیاہے۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج۲۔ص۴۵۶۔۴۵۷۔وغیرہ کتاب الصلاۃ باب التسبیح للرجال والتصفیق للنساء ۔
(۲۵) بخاری ج۲۔کتاب الاحکام باب الامام یاتی قوما فیصلح بینھم۔٭بخاری ج۱کتاب الاذان باب من دخل لیؤم الناس الخ۔٭مسلم ج۱کتاب الصلاۃ، باب تقدیم الجماعۃ من یصلی بھم اذا تأخر الامام الخ۔٭ ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب مایکرہ من ذکر الرجل مایکون من اصابتہ اھلہٗ اس مقام پر فلیسبح القوم ولیصفق النساء ہے۔٭ نسائی ج۴۔کتاب الامامۃ۔ باب اذا تقدم الرجل من الرعیۃ ثم جاء الوالی ھل یتأخر۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۲۔کتاب الصلاۃ باب مایقول اذا نابہ شیء فی الصلاۃ۔ عن سھل بن سعد۔ المصنف لعبد الرزاق ج۲۔ کتاب الصلاۃ باب التسبیح للرجال والتصفیق للنساء۔ ٭مؤطا امام مالک ج۱۔الالتفات والتصفیق عند الحاجۃ فی الصلاۃ۔٭سنن دارقطنی ج۲۔کتاب الجنائز، باب الاشارۃ فی الصلاۃ۔ عن ابی ھریرۃؓ۔
(۲۶) مسلم ج۲۔کتاب الاٰداب۔ باب الاستیذان باب تحریم النظر فی بیتِ غیرہ۔٭ابوداؤد ج۴۔کتاب الادب، باب فی الاستیذان ابوداؤد نے فقد ھَدَرَتْ عَیْنُہٗ نقل کیاہے۔٭نسائی ج ۸کتاب القسامۃ، باب من اقتص واخذ حقہ دون السلطان۔٭ مسند احمد ج۲۔ص۲۴۳،۲۶۶،۳۸۵،۴۱۴،۵۲۷۔ نسائی نے فَفَقَؤُا عَیْنَہٗ فَلاَدِیَۃَ لَہٗ ولاقِصَاصَ روایت کیاہے۔
(۲۷) بخاری ج۲۔کتاب الاستیذان، باب الاستیذان من اجل البصر۔٭مسلم ج۲۔کتاب الآداب، باب الاستیذان باب تحریم النظر فی بیت غیرہ۔ عن سھل بن سعد۔٭نسائی جز۸۔کتاب القسامۃ باب المواضح نسائی نے لوعلمت تک نقل کیاہے۔نسائی اور مسلم نے اِنَّمَا جَعَلَ اللّٰہُ الْاِذْنَ مِنْ اَجْلِ الْبَصَرِ۔روایت کیاہے۔٭ ترمذی ج۲۔ابواب الاستیذان باب من اطلع دار قوم بغیر اذنھم۔٭دارمی ج۲۔کتاب الدیات باب ۲۳۔٭مسند احمد ج۵۔ ص۳۳۰۔۳۳۵۔٭بخاری ج۲۔کتاب اللباس، باب الامتشاط اورکتاب الدیات ج۲باب من اطلع فی بیتِ قوم ففقؤا عینہ فلادیۃ لہ کے تحت منقول روایت میں انما جُعِلَ الْاِذْنُ من قبل البصر بیان کیاہے۔٭مجمع الزوائد ج۸۔ص۴۴۔کتاب الادب، باب فی الاستیذان وفیمن اطلع فی داربغیر اذن۔ سعد بن عبادۃ۔٭اس میں ھَلِ الْاِسْتِیْذَانُ اِلاَّ مِنْ اَجْلِ الْبَصَرِ ہے۔
(۲۸) بخاری ج۲۔کتاب الاستیذان، باب الاستیذان من اجل البصر۔٭مسلم ج۲۔کتاب الآداب، باب الاستیذان باب تحریم النظر فی بیت غیرہ۔٭ابوداؤدج۴۔کتاب الادب باب فی الاستیذان۔
(۲۹) مسلم ج۲۔کتاب الآداب، باب نظر الفجأۃ۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب مایؤمر بہ من غض البصر۔عن جریر ابوداؤد میں اِصرف بصرک ہے۔٭ترمذی ابواب الآداب ج۲۔ باب ماجاء فی نظرۃ الفجأۃ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭سنن دارمی کتاب الاستیذان ج۲۔باب ۱۵ فی نظرۃ الفجأۃ۔ ٭مسند احمد ج۴۔۲۵۸۔۲۶۱جریر بن عبد اللہ۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب ماجاء فی نظرۃ الفجأۃ۔٭ابوداؤد الطیالسی جز۳ حدیث نمبر۶۷۲جریر بن عبد اللہ بجلی۔٭اس میں ہے سَألْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ نَظَرِ الْفَجْأۃِ، فَقَالَ غَضِّ بَصَرَکَ۔٭ ابن کثیر ج۳۔ص۲۸۱۔
(۳۰) المبسوط ج۵ص۱۵۳۔٭نصب الرایۃ ج۴ص۲۴۰۔امام علامہ زیلعی نے کہا ہے کہ یہ غریب ہے۔
(۳۱) ابوداؤد ج۴۔کتاب اللباس باب فی قولہ غیر اولی الاربۃ۔٭ترمذی ج۲۔ابواب الآداب باب ماجاء فی احتجاب النساء من الرجال ھذا حدیث حسن صحیح۔٭مسنداحمد ج۶۔ص۲۹۶۔ عن ام سلمۃ۔٭ابن کثیر ج۳۔ ص۲۸۳۔
(۳۲) بخاری ج۱کتاب الصلاۃ باب اصحاب الحراب فی المسجد۔ اور بخاری نے کتاب العیدین، کتاب الجھاد، کتاب المناقب اور کتاب النکاح وغیرہ میںبھی اس روایت کو بیان کیاہے۔الفاظ قدرے مختلف ہیں۔ ٭مسلم ج۱کتاب العیدین، باب نظر النساء الی لعب الرجال وجوازہ فی المسجد۔٭نسائی کتاب صلاۃ العیدین ج۳۔ باب اللعب فی المسجد یوم العید ونظر النساء الی ذٰلک۔٭السنن الکبریٰ ج۷۔ کتاب النکاح، باب مساواۃ المرأۃالرجل فی حکم الحجاب والنظر الی الاجانب۔٭مسند احمد ج۲۔ ص۲۶۸۔ج۶۔ص۵۶۔۸۳۔۸۴۔ ۸۵۔۱۶۶۔۱۸۶۔۲۴۲۔۲۴۷۔۲۷۰۔٭ابن کثیر ج۔۳۔ص۲۸۳۔
(۳۳) مسلم ج۱کتاب الطلاق، باب المطلقۃ البائن لانفقۃ لھا۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب الطلاق، باب فی نفقۃ المبتوتۃ۔ ٭ابوداؤد نے فَتَسْخَطَّتْہٗ نقل کیاہے۔٭ترمذی ج۱۔ ابواب الطلاق، باب ماجاء فی المطلقۃ ثلاثا لاسکنٰی لھا ولانفقۃ۔٭نسائی ج۶۔کتاب الطلاق، باب الرخصۃ فی خروج المبتوتۃ من بیتھا فی عدتھا بسکناھا۔٭ابن ماجہ کتاب الطلاق، باب ھل تخرج المرأۃ فی عدتھا۔٭دارقطنی ج۲۔کتاب الطلاق وغیرہ۔٭مؤطا امام مالک کتاب الطلاق، باب عدۃ المرأۃ فی بیتھا اذا طلقت فیہ۔ اور باب ماجاء فی نفقۃ المطلقۃ۔
(۳۴) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب لایخلوَنَّ رجل بامرأۃٍ اِلا ذومحرم، والدخولِ علی المغیبۃ۔٭مسلم ج۲۔ کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ بالاجنبیۃ والدخول علیھا۔٭ترمذی ج۱ابواب الرضاع۔باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات۔٭دارمی کتاب الاستیذان، باب فی النھی عن الدخول علی النساء۔ عن عقبۃ بن عامر۔ ٭مسنداحمد ج۴۔ص۱۴۹۔۱۵۳۔عقبۃ بن عامر۔٭دارمی نے لاتدخلوا علی النساء ! قیل یارسول اللہ: الا الحمو، قال: الحمو الموت نقل کیاہے۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح، باب لایخلو رجل بامرأۃ اجنبیۃ۔ عقبۃ بن عامر۔٭ابنِ کثیر ج۳۔سورہ نور۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔۴ ص۴۰۹۔عقبۃ بن عامر۔ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۷ص۱۳۷۔ عمر بن خطاب۔ اس روایت کا آغاز لایدخل سے ہواہے۔
(۳۵) ترمذی ج۱ابواب الرضاع باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات۔٭مسند احمد ج۳۔ ص۳۰۹۔ جابربن عبد اللہ۔
(۳۶) ترمذی ج۲۔ ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی النھی عن الدخول علی النساء الاباذن ازواجھن۔ ٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح، باب لایخلو رجل بامرأۃ اجنبیۃ۔
(۳۷) مسلم ج۲۔کتاب السلام باب تحریم الخلوۃ بالاجنبیۃ والدخول علیھا۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح باب لایخلو رجل بامرأۃ اجنبیۃ۔ ابن عمرو۔
(۳۸) نصب الرایۃ ج۴۔ص۲۴۰۔
(۳۹) بخاری ج۲کتاب الاحکام۔ باب بیعۃ النساء۔٭مسلم ج۲کتاب الامارۃ، باب کیفیۃ بیعۃ النساء مسلم نے وَلاَوَاللّٰہِ مَامَسَّتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَدَ امْرَأَۃٍ قَطُّ غَیْرَ اَنَّہٗ یُبَایِعُھُنَّ بِالْکَلاَمِ الخ روایت کیا ہے۔ ٭ترمذی ج۲۔ابواب التفسیر سورۃ الممتحنۃ۔ بخاری والی روایت۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب۴۳ بیعۃ النساء۔ عن عائشۃ مسلم والی روایت۔٭مسند احمد ج۶۔ص۱۵۳۔ عن عائشۃؓ۔ مسلم اور ابن ماجہ نے حوالہ جات مذکورہ کے تحت قَالَتْ عَائِشَۃُ وَاللّٰہِ! مَا اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی النِّسَآئِ اِلاَّ مَا اَمَرَہُ اللّٰہُ وَلاَ مَسَّتْ کَفُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَفَّ امْرَأَۃٍ قَطُّ الخ بھی نقل کیاہے۔٭ السنن الکبریٰ ج۸۔ کتاب قتال اھل البغی باب کیف یبایع النساء۔
(۴۰) نسائی ج۷۔کتاب البیعۃ، باب بیعۃ النساء۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب بیعۃ النساء۔ مختصر روایت ہے۔ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب ماجاء فی البیعۃ۔٭دارقطنی ج۴۔ص۱۴۶۔۱۴۷۔ النوادر۔٭مسند احمد ج۶۔ص۳۵۷۔۴۵۴۔۴۵۹۔
(۴۱) ترمذی ج۱ ابواب النکاح، باب ماجاء فی النظر الی المخطوبۃِ۔٭نسائی ج۶۔کتاب النکاح، باب اباحۃ النظر قبل التزویج۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ اذا اراد ان یتزوجھا۔ عن مغیرۃ۔ ٭دارمی ج۲کتاب النکاح۔ باب الرخصۃ فی النظر للمرأۃ عند الخطبۃ۔٭ نسائی ابن ماجہ اور دارمی نے فانہ احری کی جگہ فانہ اجدر نقل کیاہے۔٭مسند احمد ج۴۔ص۲۴۶۔ مغیرۃ بن شعبۃ۔٭کنز العمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۵۲۶ ٭سنن دارقطنی ج۴۔کتاب النکاح۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷کتاب النکاح، باب نظر الرجل الی المرأۃ یرید ان یتزوجھا۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ المستدرک للحاکم ج۲کتاب النکاح، باب اذا خطب احدکم امرأۃ۔ ٭المصنف لعبد الرزاق ج۶۔کتاب النکاح باب ابرازی الجواری والنظر عند النکاح۔ مغیرۃ بن شعبۃ۔٭کنز العمال ج۱۶ حدیث نمبر ۴۴۵۷۲ عن مغیرۃ بن شعبۃ۔
(۴۲) بخاری:ج۲۔کتاب النکاح، باب النظر الی المرأۃ قبل التزویج۔٭مسلم ج۱کتاب النکاح، باب ندب من اراد نکاح امرأۃ الی ان ینظر الی وجھھا وکفیھا قبل خطبتھا۔
(۴۳) مسلم ج۱کتاب النکاح، باب ندب من اراد نکاح امرأۃ الی ان ینظر الی وجھھا وکفیھا قبل خطبتھا۔٭نسائی ج۶۔کتاب النکاح باب اذا استشار رجل رجلا فی المرأۃ ھل یخبرہ بما یعلم۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح، باب النظر الی المرأۃ اذا اراد ان یتزوجھا۔٭نسائی میں ص۶۹ پر فَاَمَرَہٗ اَنْ یَنْظُرَ اِلَیْھَا بھی منقول ہے۔ ٭سنن دارقطنی ج۴۔کتاب النکاح۔٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر ۴۴۵۷۳۔ عن ابی ھریرۃ۔٭مسند احمد ج۲۔ص۲۷۶۔ ۲۹۹۔ عن ابی ھریرۃ۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب نظر الرجل الی المرأۃ یرید ان یتزوجھا۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۴۴) ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب فی الرجل ینظر الی المرأۃ وھو یرید تزویجھا۔٭کنزالعمال ج ۱۶حدیث نمبر ۴۴۵۲۷۔٭مسند احمدج۳۔ص۳۳۴۔۳۶۰ جابر بن عبداللہ۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب نظر الرجل الی المرأۃ یرید ان یتزوجھا۔ بیھقی نے فان استطاع کی جگہ فقدر علی ان یری منھا ما یعجبہ ویدعوہ الیھا نقل کیاہے۔٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب النکاح۔ اذا خطب احدکم امرأۃ فان استطاع ان ینظر الی بعض مایدعوہ الی نکاحھا فلیفعل۔
(۴۵) بذل المجھود فی حل ابی داؤد ج۱۶۔کتاب اللباس، باب ماجاء فی قولہ تعالٰی غیر اولی الاربۃ۔
(۴۶) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب ما ینھیٰ من دخول المتشبھین بالنساء علی المرأۃ۔اورکتاب المغازی باب غزوۃ الطائف: لایدخلن ھولاء علیکم۔٭ابوداؤد ج۴۔کتاب اللباس، باب فی قولہ غیراولی الاربۃ لایدخلن علیکن۔ ٭ابوداؤد ج۴۔کتاب الادب باب فی الحکم فی المخنثین۔٭ابن ماجہ کتاب النکاح، باب فی المخنثین۔کتاب الحدود باب فی المخنثین۔٭مؤطا امام مالک ج۲۔باب فی الوصیۃ ماجاء فی المؤنث من الرجال ومن احق بالولد۔ مسند احمد ج۶۔ص۱۵۲۔۲۹۰۔۳۱۸۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۷۔کتاب النکاح باب ماجاء فی ابدائھا زینتھا لغیر اولی الاربۃ من الرجال۔٭تفسیر ابنِ کثیر ج۳۔سورہ نور۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳ النور زیر آیت اوالتابعین غیر اولی الاربۃ من الرجال۔ ایک روایت کے آخر میں لایدخل علیکم بھی بیان کیاہے۔
فصل :۲۱ عورت کا دائرۂ عمل گھر کی نگراںملکہ
دراصل غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ آیت کی ابتدا میں لوگوں کو یہ الفاظ نظر آئے کہ ’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوںکی طرح نہیں ہو‘‘ لیکن انداز بیان بالکل اس طرح کاہے جیسے کسی شریف بچہ سے کہا جائے کہ ’’تم کوئی عام بچوں کی طرح تو ہو نہیں کہ بازاروں میں پھرو اور بیہودہ حرکات کرو۔ تمہیں تمیز سے رہنا چاہیے‘‘ ایسا کہنے سے یہ مقصد نہیں ہوتاکہ دوسرے بچوںکے لیے بازاری پن اور بیہودہ حرکات پسندیدہ ہیں اور خوش تمیزی ان کے حق میں مطلوب نہیں ہے بلکہ اس سے حسن اخلاق کا ایک معیار قائم کرنا مقصود ہوتاہے تاکہ ہر وہ بچہ جو شریف بچوں کی طرح رہنا چاہتاہو، اس معیار پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ قرآن میں عورتوں کے لیے نصیحت کا یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا گیاہے کہ عرب جاہلیت کی عورتوں میں ویسی ہی آزادی تھی جیسی اس وقت یورپ میں ہے۔ نبی ﷺ کے ذریعہ سے بتدریج ان کو اسلامی تہذیب کا خوگر بنایا جارہاتھا۔ اور ان کے لیے اخلاقی حدود اور ضابطہ معاشرت کی قیود مقرر کی جارہی تھیں۔ اس حالت میں امہات المؤمنین کی زندگی کو خاص طورپر منضبط کیا گیا تاکہ وہ دوسری عورتوں کے لیے نمونہ بن جائیں اور عام مسلمانوں کے گھروں میں ان کے طریقوں کی تقلید کی جائے۔ ٹھیک یہی رائے علامہ ابوبکر جصاص نے اپنی کتاب ’’احکام القرآن‘‘ میں ظاہر کی ہے وہ لکھتے ہیں:
’’یہ حکم اگرچہ نبی ﷺ اور آپ کی بیویوں کے حق میں نازل ہوا ہے مگر اس کی مراد عام ہے، جس میں آپ اور دوسرے سب مسلمان شریک ہیں۔ کیونکہ ہم آپ کی پیروی پر مامور ہیں اور وہ سب احکام جو آپ کے لیے نازل ہوئے ہیں، ہمارے لیے بھی ہیں، بجز ان امور کے جن کے متعلق تصریح ہے کہ وہ آپ کے لیے خاص ہیں۔‘‘ (پردہ، باب۱۰: عورت۔۔۔عمل)
سفر کے معاملہ میں عورت پر پابندی
حاجات کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت
۲۰۴۔ قَدْ اَذِنَ اللّٰہُ لَکُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِکُنَّ۔ ؎۱(بخاری)
یہ متعدد احادیث کا لب لباب ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم، باب، اباحۃ الخروج للنساء، لقضاء حاجۃ الانسان، بخاری باب خروج النساء لحوائجھن وباب آیۃ الحجاب
’’اللہ نے تم کو اپنی ضروریات کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔‘‘
تخریج: (۱)حَدَّثَنَا فَرْوَۃُ بْنُ اَبِی الْمَغْرَائِ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: خَرَجَتْ سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمعَۃَ لَیْلاً فَرَآھَا عُمَرُ فَعَرَفَھَا، فَقَالَ: اِنَّکِ وَاللّٰہِ یَاسَوْدَۃُ مَاتَخْفِیْنَ عَلَیْنَا، فَرَجَعَتْ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہٗ وَھُوَ فِیْ حُجْرَتِیْ یَتَعَشّٰی وَاِنَّ فِیْ یَدِہِ لَعَرْقًا، فَاُنْزِلَ عَلَیْہِ، فَرُفِعَ عَنْہُ وَھُوَ یَقُوْلُ: قَدْ اَذِنَ اللّٰہُ لَکُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِکُنَّ۔(۱۴)
(۲)عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: قَدْ اُذِنَ لَکُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ فِیْ حَاجَتِکُنَّ۔(۱۵)
پس منظر: احکام حجاب نازل ہونے سے پہلے حضرت عمرؓکا تقاضاتھا کہ یا رسول اللہ اپنی خواتین کو پردہ کرایئے۔ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت سودہؓ بنت زمعہ رات کے وقت باہر نکلیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو دیکھ لیا اور پکار کر کہاکہ سودہ! ہم نے تم کو پہچان لیا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح خواتین کا گھر سے نکلنا ممنوع ہوجائے۔ اس کے بعد جب احکام حجاب نازل ہوئے تو حضرت عمرؓ کی بن آئی۔انہوں نے عورتوںکے باہر نکلنے پر زیادہ روک ٹوک شروع کردی۔ ایک مرتبہ پھر حضرت سودہؓ کے ساتھ وہی صورت پیش آئی۔ وہ گھر سے نکلیں اور عمرؓ نے ان کو ٹوکا۔ انہوں نے آنحضرتؐ سے شکایت کی حضورؐنے فرمایا: قَدْ اَذِنَ اللّٰہُ لَکُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِکُنَّ۔
تشریح : اس سے معلوم ہوا کہ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ کے حکم قرآنی کا منشا یہ نہیں ہے کہ عورتیں گھر کے حدود سے قدم کبھی باہر نکالیں ہی نہیں۔ حاجات وضروریات کے لیے ان کو نکلنے کی پوری اجازت ہے۔ مگر یہ اجازت نہ غیرمشروط ہے نہ غیر محدود۔ عورتیں اس کی مجاز نہیں ہیں کہ آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں پھریں اور مردانہ اجتماعات میں گھل مل جائیں۔ حاجات وضروریات سے شریعت کی مراد ایسی واقعی حاجات وضروریات ہیں جن میں درحقیقت نکلنا اور باہر کام کرنا عورتوں کے لیے ناگزیر ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ تمام عورتوں کے لیے تمام زمانوں میں نکلنے اور نہ نکلنے کی ایک صورت بیان کرنا اور ہر ہر موقع کے لیے رخصت کے علیحدہ علیحدہ حدود مقرر کردینا ممکن نہیں ہے۔ البتہ شارع نے زندگی کے عام حالات میں عورتوں کے لیے نکلنے کے جو قاعدے مقرر کیے تھے، اور حجاب کی حدود میں جس طرح کمی وبیشی کی تھی اس سے قانون اسلامی کی اسپرٹ اور اس کے رجحان کا اندازہ کیا جاسکتاہے، اور اس کو سمجھ کر انفرادی حالات اور جُزئی معاملات میں حجاب کے حدود اور موقع ومحل کے لحاظ سے ان کی کمی وبیشی کے اصول ہرشخص خود معلوم کرسکتاہے۔ (پردہ، باب۱۳: حاجات۔۔۔)
ناز وانداز سے باہر نکلنے کی ممانعت
مسجد میں آنے کی اجازت اور اس کے حدود
عورتوں کے مسجد میں آنے کی شرائط
فتنہ خوشبو
۲۱۹۔اِذَا شَھِدَتْ اِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلاَ تَمَسِّ طِیْباً۔ (موطا ومسلم)
’’جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں جائے تو خوشبو نہ لگائے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ:نَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدِ نِالْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ بُکَیْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْاَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا شَھِدَتْ اِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ، فَلاَتَمَسَّ طِیْبًا۔(۴۳)
(۲) عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ:اَیُّمَاامْرَأَۃٍ اَصَابَتْ بَخُوْرًا فَلاَتَشْھَدْ مَعَنَا الْعِشَائَ الْاٰخِرَۃَ۔(۴۴)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت بخور استعمال کرے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضرنہ ہو۔
تشریح : خوشبو بھی ان قاصدوں میں سے ایک ہے جوایک نفس شریر کا پیغام دوسرے نفس شریر تک پہنچاتے ہیں۔ یہ خبر رسانی کا سب سے زیادہ لطیف ذریعہ ہے۔ جس کو دوسرے تو خفیف ہی سمجھتے ہیں مگر اسلامی حیاء اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع نازک پر یہ لطیف تحریک بھی گراں ہے۔ وہ ایک مسلمان عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ خوشبو میں بسے ہوئے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے، کیوں کہ اس کا حسن اور اس کی زینت پوشیدہ بھی رہی، تو کیا فائدہ ہوا۔ اس کی عطریت تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کررہی ہے۔
۲۲۰۔ قَالَ اِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَھِیَ کَذَا وَکَذَا یَعْنِیْ زَانِیَۃٌ۔(ترمذی)
’’نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت عطر لگا کر لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نَا یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدِ نِالْقَطَّانُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَۃَ الْحَنَفِیِّ، عَنْ غُنَیْمِ ابْنِ قَیْسٍ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:کُلُّ عَیْنٍ زَانِیَۃٌ، وَالْمَرْأَۃُ اِذَا اسْتَعْطَرَتْ، فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَھِیَ کَذَا وَکَذَا یعنی زَانِیَۃٌ ۔(۴۵) (وَفِی الْبَابِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔ وَھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ)
۲۲۱۔طِیْبُ الرِّجَالِ مَاظَھَرَ رِیْحُہٗ وَخَفِیَ لَوْنُہٗ وَطِیْبُ النِّسَائِ مَاظَھَرَ لَوْنُہٗ وَخَفِیَ رِیْحُہٗ۔(ترمذی)
’’ مردوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے، جس کی خوشبو نمایاں اور رنگ مخفی ہو۔ اور عورتوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے۔ جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو۔‘‘ (پردہ ،باب۱۱،اصلاح باطن: فتنۂ خوشبو)
تخریج: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَا اَبُودَاؤدَ الْحِفْرِیُّ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ:طِیْبُ الرِّجَالِ مَا ظَھَرَ رِیْحُہٗ وَخَفِیَ لَوْنُہٗ، وَطِیْبُ النِّسَآئِ مَاظَھَرَ لَوْنُہٗ وَخَفِیَ رِیْحُہٗ۔(۴۶)
جمعہ وعیدین میں عورتوں کی شرکت
عورت اور سفرحج
عورت کے بلا محرم حج کرنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے اس معاملہ میں چار مسلک پائے جاتے ہیں۔ جنہیں مختصراً یہاں بیان کیے دیتاہوں:
(۱) عورت کو کسی حال میں شوہر یا محرم کے بغیر حج نہ کرنا چاہیے۔ یہ مسلک ابراہیم نخعی، طاؤس، شعبی اور حسن بصری رحمہم اللہ سے منقول ہے اور حنبلی مذہب کا یہی فتویٰ ہے۔
(۲) اگر حج کا سفر تین شبانہ روز سے کم کا ہوتو عورت بلا محرم جاسکتی ہے، لیکن اگر تین دن یا اس سے زائد کا سفر ہو تو شوہر یا محرم کے بغیر نہیں جاسکتی۔ امام ابوحنیفہؒاور سفیان ثوریؒ کا یہی مذہب ہے۔
(۳) جو عورت شوہر یا محرم نہ رکھتی ہو وہ ایسے لوگوں کے ساتھ جاسکتی ہے جن کی اخلاقی حالت قابل اطمینان ہو۔ یہ ابن سیرین، عطاء، زہری، قتادہ اور اوزاعی رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔ اور امام مالکؒ اور امام شافعی ؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام شافعیؒ نے ’’قابل اطمینان رفیقوں‘‘ کی مزید تشریح اس طرح کی ہے کہ اگر چند عورتیں بھروسے کے قابل ہوں اور وہ اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ایک بے شوہر اور بے محرم عورت ان کے ساتھ جاسکتی ہے۔ البتہ صرف ایک عورت کے ساتھ اسے نہ جانا چاہیے۔
(۴) ان سب کے خلاف ابن حزم ظاہری کا مسلک یہ ہے کہ بے محرم عورت کو تنہا ہی حج کے لیے جانا چاہیے۔ اگر وہ شوہر رکھتی ہو اور وہ اسے نہ لے جائے تو شوہر گناہ گار ہوگا مگر عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے بغیر حج کو چلی جائے۔ میں ان چاروں مسالک میں سے تیسرے مسلک کو ترجیح دیتاہوں کیوں کہ اس میں ایک دینی فریضہ ادا کرنے کی گنجایش بھی ہے۔ اور اس فتنے کا احتمال بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے عورت کو بلامحرم سفر کرنے سے منع کیا گیاہے۔
(رسائل ومسائل دوم ،فقہی مسائل: عورت۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوالنُّعْمَانِ،ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَتُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ اِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ۔(۵۰
دوران حج نقاب
۲۲۴۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ الرُّکْبَانُ یَمُرُّوْنَ بِنَاوَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُحْرِمَاتٌ فَاِذَا حَاذُوْا بِنَا سَدَلَتْ اِحْدَانَا جِلْبَابَھَا مِنْ رَأْسِھَا عَلیَ وَجْھِھَا فَاِذَا جَاوَزُوْنَا کَشَفْنَاہُ۔ (ابوداؤد)
’’ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ سوار ہمارے قریب سے گزرتے تھے، اور ہم عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں۔ پس جب وہ لوگ ہمارے سامنے آجاتے تو ہم اپنی چادریں اپنے سروں کی طرف سے اپنے چہروں پر ڈال لیتیں۔ اور جب وہ گزرجاتے تو منہ کھول لیتی تھیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا ھُشَیْمٌ، اَخْبَرَنَا یَزِیْدُ بْنُ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:کَانَ الرُّکْبَانُ یَمُرُّوْنَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُحْرِمَاتٌ۔ فَاِذَا حَاذُوْا بِنَا سَدَلَتْ اِحْدَانَا جِلْبَابَھَا مِنْ رَأسِھَا عَلٰی وَجْھِھَا فَاِذَا جَاوَزُوْنَا کَشَفْنَاہُ۔(۵۱)
ابن ماجہ کی روایت:
(۲)کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ۔ فَاِذَا لَقِیَنَا الرَّاکِبُ اَسْدَلْنَا ثِیَابَنَا مِنْ فَوْقِ رُؤسِنَا، فَاِذَا جَاوَزَنَا رَفَعْنَاھَا۔(۵۲)
تشریح : عہد نبوی میں عام طور پر مسلمان عورتیں اپنے چہروں پر نقاب ڈالنے لگی تھیں، اور کھلے چہروں کے ساتھ پھرنے کا رواج بند ہوگیاتھا۔
۲۲۵۔ اَلْمُحْرِمَۃُلَاتَنْتَقِبُ وَلاَتَلْبَسُ الْقُفَّازَیْنِ۔ وَنَھَی النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ۔
’’آنحضرت ﷺ نے عورتوں کو حالتِ احرام میں چہروں پر نقاب ڈالنے اور دستانے پہننے سے منع فرمادیا تھا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعِیْدِ نِالْمَدِیْنِیُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَلْمُحْرِمَۃُ لاَتَنْتَقِبُ، وَلاَتَلْبَسُ الْقُفَّازَیْنِ۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا یَعْقُوْبُ، ثَنَا اَبِیْ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: فَاِنَّ نَافِعًا مَوْلٰی عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِیْ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھَی النِّسَآئَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ الخ۔(۵۳)
تشریح : اس سے صاف طورپر ثابت ہوتاہے کہ اس عہد مبارک میں چہروں کو چھپانے کے لیے نقاب اور ہاتھوں کو چھپانے کے لیے دستانوں کا عام رواج ہوچکا تھا صرف احرام کی حالت میں اس سے منع کیا گیا۔ مگر اس سے بھی یہ مقصد نہ تھا کہ حج میں چہرے منظر عام پر پیش کیے جائیں، بلکہ دراصل مقصد یہ تھا کہ احرام کی فقیرانہ وضع میں نقاب عورت کے لباس کا جز نہ ہو، جس طرح عام طور پر ہوتاہے۔ چنانچہ دوسری احادیث میں تصریح کی گئی ہے کہ حالتِ احرام میں بھی ازواج مطہرات اور عام خواتین اسلام نقاب کے بغیر اپنے چہروں کو اجانب سے چھپاتی تھیں۔
مؤطا امام مالک میں ہے:
۲۲۶۔ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ اَنَّھَا قَالَتْ کُنَّا نُخَمِّرُوُجُوْھَنَا وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ وَنَحْنُ مَعَ اَسْمَائِ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرِ نِالصِّدِّیْقِ فَلاَ تَنْکِرہٗ عَلَیْنَا۔ (مؤطا امام مالک)
’’فاطمۃ بنت منذر کا بیان ہے کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہروں پر کپڑا ڈال لیا کرتی تھیں۔ ہمارے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت اسماءؓ تھیں۔ انہوں نے ہم کو اس سے منع نہیں کیا(انہوں نے یہ نہیں کیاکہ احرام کی حالت میں نقاب استعمال کرنے کی جو ممانعت ہے اس کا اطلاق ہمارے اس فعل پر بھی ہوتاہے)۔
تخریج: حَدَّثَنَیْ عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ اَنَّھَا قَالَتْ:کُنَّا نُخَمِّرُ وُجُوْھَنَا وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ، وَنَحْنُ مَعَ اَسْمَائِ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرِ نِالصِّدِّیْقِ۔(۵۴)
فتح الباری، کتاب الحج میں حضرت عائشہؓ کی ایک روایت ہے:
۲۲۷۔ تَسْدِلُ الْمَرْأَۃُ جِلْبَابَھَا مِنْ فَوْقِ رَاْسِھَا عَلٰی وَجْھِھَا۔
’’عورت حالت احرام میں اپنی چادر اپنے سرپر سے چہرے پر لٹکا لیا کرے۔‘‘ (پردہ، باب۱۲: چہرہ۔۔۔)
تخریج: قَالَ سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: تَسْدِلُ الْمَرْأَۃُ جِلْبَابَھَا مِنْ فَوْقِ رَأسِھَا عَلٰی وَجْھِھَا۔(۵۵)
حج میں عورتوں کا طریقہ
اسلام کا دوسرا اجتماعی فریضہ حج ہے۔ یہ مردوں کی طرح عورتوں پر بھی فرض ہے۔ مگر حتی الامکان عورتوں کو طواف کے موقع پر مردوں کے ساتھ خلط ملط ہونے سے روکا گیاہے۔
۲۲۸۔ بخاری میں عطاء سے روایت ہے کہ عہدِ نبوی میں عورتیں مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں مگر خلط ملط نہ ہوتی تھیں۔
تخریج: وَقَالَ لِیْ عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، حَدَّثَنَا اَبُوْعَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ عَطَائٌ اِذْ مَنَعَ ابْنُ ھِشَامٍ النِّسَائَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ۔ قَالَ:کَیْفَ تَمْنَعُھُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَآئُ النَّبِیِّ ﷺ مَعَ الرِّجَالِ، قُلْتُ:بَعْدَ الْحِجَابِ اَوْقَبْلُ؟ قَالَ:اَیْ لَعَمْرِیْ، لَقَدْ اَدْرَکْتُہٗ بَعْدَ الْحِجَابِ، قُلْتُ: کَیْفَ یُخَالِطُھُنَّ الرِّجَالُ؟ قَالَ: لَمْ یَکُنَّ یُخَالِطُھُنَّ الخ۔(۵۶)
۲۲۹۔فتح الباری میں ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے طواف میں عورتوں اور مردوں کو گڈ مڈ ہونے سے روک دیاتھا۔ ایک مرتبہ ایک مرد کو آپ نے عورتوں کے مجمع میں دیکھا تو پکڑ کر کوڑے لگائے۔
تخریج: رَوَی الْفَاکِھِیُّ مِنْ طَرِیْقِ زَائِدَۃَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ النَّخَعِیِّ قَالَ: نَھٰی عُمَرُ اَنْ یَّطُوْفَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَآئِ، قَالَ: فَرَاٰی رَجُلاً مَعَھُنَّ فَضَرَبَہٗ بِالدُّرَّۃِ۔(۵۷)
۲۳۰۔ مؤطا میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے بال بچوں کو مزدلفہ سے منیٰ آگے روانہ کردیا کرتے تھے۔ تاکہ لوگوں کے آنے سے پہلے صبح کی نماز اور رمی سے فارغ ہوجائیں۔ نیز حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت اسماء صبح اندھیرے منہ منیٰ تشریف لے جاتی تھیں کہ نبی ﷺ کے عہد میں عورتوں کے لیے یہی دستور تھا۔ (پردہ ،باب ۱۳:حج۔۔۔)
تخریج:(۱) مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ وَعُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنَیْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ اَبَاھُمَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ،کَانَ یُقَدِّمُ اَھْلَہٗ وَصِبْیَانَہٗ مِنَ الْمُزْدَلفَۃِ اِلٰی مِنٰی حَتّٰی یُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمِنًی، وَیَرْمُوْا قَبْلَ اَنْ یَّأتِیَ النَّاسُ۔
(۲) مَالِکٌ عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، اَنَّ مَوْلاَۃً لِاَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ، اَخْبَرَتْہُ، قَالَتْ:جِئْنَا مَعَ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ مِنًی بِغَلَسٍ۔ قَالَتْ: فَقُلْتُ لَھَا: لَقَدْ جِئْنَا مِنًی بِغَلَسٍ، فَقَالَتْ: قَدْ کُنَّا نَصْنَعُ ذٰلِکَ مَعَ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِنْکِ۔(۵۸)
زیارت قبور وشرکت جنازات
قریب ہوگی، شدتِ غم سے مجبور ہوکر ساتھ چلی آئی ہوگی۔ حضورؐ نے اس کے جذبات کی رعایت کرکے حضرت عمرؓ کو ڈانٹ ڈپٹ سے منع فرمادیا بخاری، باب زیارۃ القبور۔۔
جنگ میں عورتوں کی شرکت
مسلمان جنگ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام مصیبت کا وقت ہے۔ حالات مطالبہ کررہے ہیں کہ قوم کی پوری اجتماعی قوت دفاع میں صرف کردی جائے۔ ایسی حالت میں اسلام قوم کی خواتین کوعام اجازت دیتاہے کہ وہ جنگی خدمات میں حصہ لیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اس کے پیش نظر رہے کہ جو ماں بننے کے لیے بنائی گئی ہے وہ سرکاٹنے اور خون بہانے کے لیے نہیں بنائی گئی۔ اس کے ہاتھ میں تیرو خنجر دینا اس کی فطرت کو مسخ کرنا ہے۔ اس لیے وہ عورتوں کو اپنی جان اور آبرو کی حفاظت کے لیے تو ہتھیار اٹھانے کی اجازت دیتاہے۔ مگر بالعموم عورتوں سے مصافی خدمات لینا، اور انہیں فوجوں میں بھرتی کرنا اس کی پالیسی سے خارج ہے۔ وہ جنگ میں ان سے صرف یہ خدمت لیتاہے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں، پیاسوں کو پانی پلائیں، سپاہیوں کے لیے کھانا پکائیں اور مجاہدین کے پیچھے کیمپ کی حفاظت کریں۔ ان کاموں کے لیے پردے کی حدود انتہائی حد تک کم کردی گئیں، بلکہ ان خدمات کے لیے تھوڑی ترمیم کے ساتھ وہی لباس پہننا شرعاً جائز ہے جو آج کل عیسائی ننیں پہنتی ہیں۔
۲۳۶۔ تمام احادیث سے ثابت ہے کہ جنگ میں ازواج مطہرات اور خواتین اسلام آنحضرت ﷺ کے ساتھ جاتیں اور مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کی خدمات انجام دیتی تھیں۔ یہ طریقہ احکام حجاب نازل ہونے کے بعد بھی جاری رہا۔ (بخاری)
تخریج: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْھَالٍ، ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَالنُّمَیْرِیُّ، ثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّھْرِیَّ، قَالَ:سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ وَسَعِیْدَ ابْنَ الْمُسَیَّبِ وَعَلْقَمَۃَ بْنَ وَقَّاصٍ وَعُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ حَدِیْثِ عَائِشَۃَ کُلٌّ حَدَّثَنِیْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْحَدِیْثِ قَالَتْ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَخْرُجَ اَقْرَعَ بَیْنَ نِسَآئِہٖ، فَاَیَّتُھُنَّ یَخْرُجُ سَھْمُھَا خَرَجَ بِھَا النَّبِیُّ ﷺ فَاَقْرَعَ بَیْنَنَا فِیْ غَزْوَۃٍ غَزَاھَا فَخَرَجَ فِیْھَا سَھْمِیْ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ بَعْدَ مَا اُنْزِلَ الْحِجَابُ۔(۶۶)
ترجمہ : یونس نے بتایا کہ میں نے زہری سے سنا ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ ان چاروں حضرات نے حضرت عائشہ سے مروی حدیث تھوڑی تھوڑی بیان کی کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے مابین قرعہ ڈالتے، جس کے نام کا قرعہ نکل آتا اسی کو اپنے ساتھ لے جاتے (اسی دستور کے مطابق) ایک جہاد میں جانے کے بارے میں ہمارے درمیان قرعہ اندازی ہوئی تو اس میں میرا نام نکل آیا۔ لہٰذا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئی (اور یہ واقعہ) پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔
۲۳۷۔ ترمذی میں ہے ام سلیم اور انصار کی چند دوسری خواتین اکثر لڑائیوں میں حضورؐ کے ساتھ گئیں ہیں۔(ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ:اَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَغْزُوْ بِأمِّ سُلَیْمٍ وَنِسْوَۃٍ مِنَ الْاَنْصَارِ مَعَہٗ اِذَا غَزَا فَیَسْقِیْنَ الْمَآئَ وَیُدَاوِیْنَ الْجَرْحیٰ۔(۶۷)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ام سلیم اور انصار کی چند اور خواتین کو جہاد میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ جب جنگ جاری ہوتی تو وہ عورتیں مجاہدین کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوادارو دیتیں (فرسٹ ایڈ کا انتظام کرتیں)۔
۲۳۸۔ بخاری میں ہے کہ ایک عورت نے حضورؐ سے عرض کیا : میرے لیے دعا فرمایئے کہ میں بھی بحری جنگ میں جانے والوں کے ساتھ رہوں۔ آپ نے فرمایا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا مِنْھُمْ ۔ (بخاری)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا اَبُواِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَساً یَقُوْلُ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی بِنْتِ مِلْحَانَ فَاتَّکَأَ عِنْدَھَا ثُمَّ ضَحِکَ، فَقَالَتْ: لِمَ تَضْحَکُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ یَرْکَبُوْنَ الْبَحْرَ الْاَخْضَرَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، مَثَلُھُمْ مَثَلَ الْمُلُوْکِ عَلَی الْاَسِرَّۃِ، فَقَالَتْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْھُمْ، قَالَ:اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا مِنْھُمْ، قَالَ:اَنْتِ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَلَسْتِ مِنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ قَالَ:قَالَ اَنَسٌ:فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ، فَرَکِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَۃَ فَلَمَّا قَفَلَتْ رَکِبَتْ دَابَّتَھَا فَوَقَصَتْ بِھَا فَسَقَطَتْ عَنْھَا فَمَاتَتْ۔(۶۸)
ترجمہ : عبد اللہ بن عبد الرحمن انصاری سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیاکہ میں نے حضرت انس کو بیان کرتے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ بنت ملحان کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں تکیہ لگا کر سوگئے۔ پھر جب بیدار ہوئے تو مسکرائے۔ بنت ملحان نے پوچھااے رسول خدا آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ فرمایا میں نے خواب میںدیکھا کہ میری امت کے کچھ لوگ راہ خدا میں جہاد کرنے کے لیے دریا میں سوار ہوں گے ان کی حالت تخت نشین بادشاہوں کی ہوگی۔ بنت ملحان نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل فرمادے۔ آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! بنت ملحان کو ان لوگوں میں شامل فرمادے اور فرمایا کہ تم اے بنت ملحان پہلے لوگوں میں سے ہو، پچھلے لوگوں میں سے نہیں ہو ۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت انس نے بتایا کہ پھر بنت ملحان نے عبادہ بن صامت کے ساتھ نکاح کرلیا پھر وہ معاویہ کی اہلیہ بنت قرظہ کے ساتھ دریا میں سوار ہوئیں۔ جب واپسی پر اپنی سواری پر سوار ہونے لگیں تو وہ سواری بدکی اور یہ نیچے گرکر فوت ہوگئیں۔
۲۳۹۔جنگ احد کے موقع پر جب مجاہدین اسلام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے، حضرت عائشہ اور ام سلیم اپنی پیٹھ پرپانی کے مشکیزے لاد لاد کرلاتی تھیں اور لڑنے والوں کو پانی پلاتی تھیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس حال میں میں نے ان کو پائنچے اٹھائے دوڑ دوڑ کر آتے جاتے دیکھا ان کی پنڈلیوں کا نچلا حصہ کھلا ہوا تھا۔ (بخاری)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْمَعْمَرٍ، ثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ اُحُدٍ انْھَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَلَقَدْ رَأَیْتُ عَائِشَۃَ بِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ وَاُمَّ سُلَیْمٍ، وَاِنَّھُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ اَرٰی خَدَمَ سُوْقِھِمَا تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ، وَقَالَ غَیْرُہٗ: تَنْقُلاَنِ الْقِرَبَ عَلٰی مُتُوْنِھِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِہٖ فِیْ اَفْوَاہِ الْقَوْمِ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَاٰنِھَا ثُمَّ تَجِیاٰنِ، فَتُفْرِغَانِہٖ فِیْ اَفْوَاہِ الْقَوْمِ۔(۶۹)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ احد کے دن جب لوگ نبی ﷺ کو تنہا چھوڑ کر الگ ہوگئے تو میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا کہ یہ دونوں اپنے دامن سمیٹے ہوئے تھیں۔ ان کے پاؤں کی پازیبیں مجھے نظر آرہی تھیں پانی سے بھرے مشکیزے اپنے کمروں پر اٹھاکر لاتی تھیں اور پیاسے مجاہدوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں پھر واپس جاتیں اور مشکیزے بھر کر لاتیں اور لوگوں(زخمی پیاسے مجاہدوں) کے منہ میں پانی ڈالتیں (پانی پلاتی تھیں)۔
۲۴۰۔ ایک دوسری خاتون ام سلیط کے متعلق حضرت عمرؓ نے خود رسول اللہ ﷺ کا قول نقل کیاہے کہ ’’جنگ احد میں دائیں اور بائیں جدھر دیکھتا تھا، ام سلیط میری حفاظت کے لیے جان لڑاتی ہوئی نظر آتی تھیں۔‘‘
۲۴۱۔اسی جنگ میں ربیع بنت معوذ اور ان کے ساتھ خواتین کی ایک جماعت زخمیوں کی مرہم پٹی میں مشغول تھی۔ اور یہی عورتیں مجروحین کو اٹھااٹھا کر مدینہ لے جارہی تھیں۔ (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَکْوَانَ، عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَنَسْقِی الْقَوْمَ، وَنَخْدُمُھُمْ وَنَرُدُّ الْجَرْحٰی وَالْقَتْلٰی اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔(۷۰)
ترجمہ : حضرت ربیع بنت معوذ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جہاد میں شرکت کرتی تھیں اور لوگوں کو پانی پلاتی اور ان کی خدمت انجام دیتی تھیں زخمی مجاہدوں اور قتل ہوکر شہید ہونے والوں کو مدینہ واپس لوٹاتی تھیں۔
رُبَیّع بنت معوذ سے مروی روایت میں ہے:
(۲)کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ نَسْقِی الْمَآئَ وَنُدَاوِی الْجَرْحیٰ وَنَرُدُّ الْجَرْحیٰ۔(۷۱)
ترجمہ : ہم نبی ﷺ کی معیت میں جہاد میں شریک ہوتی تھیں، پانی پلاتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں، زخمیوں اور مقتولوں کو مدینہ پہنچاتی تھیں۔
۲۴۲۔جنگ حنین میںام سلیم ایک خنجر ہاتھ میں لیے پھررہی تھیں۔ حضورؐ نے پوچھا یہ کس کے لیے ہے؟ کہنے لگیں اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس کا پیٹ پھاڑدوں گی۔ (مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَایَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ اُمَّ سُلَیْمٍ اتَّخَذَتْ یَوْمَ حُنَیْنٍ خَنْجَراً فَکَانَ مَعَھَا، فَرَاٰھَا اَبُوْطَلْحَۃَ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذِہِ اُمُّ سُلَیْمٍ مَعَھَا خَنْجَرٌ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَاھٰذَا الْخَنْجَرُ؟ قَالَتْ:اتَّخَذْتُہٗ اِنْ دَنَا مِنِّیْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، بَقَرْتُ بِہٖ بَطْنَہٗ۔ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَضْحَکُ، قَالَتْ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اُقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَائِ اِنْھَزَمُوْا بِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا اُمُّ سُلَیْمٍ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ کَفٰی وَاَحْسَنَ۔(۷۲)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم (والدہ انس) نے حنین کے روز ایک خنجر لیا تھا وہ ان کے پاس موجود تھا۔ ابوطلحہ نے ام سلیم کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ یہ ام سلیم ہے، اس کے پاس ایک خنجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ام سلیم سے پوچھا، یہ خنجر کیسا ہے؟ ام سلیم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر کوئی مشرک میرے پاس آئے گا تو میں اس خنجر سے اس کا پیٹ چاک کردوں گی۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے۔ پھر ام سلیم نے کہا اے رسول خدا طلقاء میں سے جو ہمارے بعد ایمان لائے ہیں ان سب کو قتل کرادیں۔ وہ تو شکست خوردگی کی وجہ سے مسلمان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم ان کے لیے اللہ کافی ہوگیاہے اور اس نے اچھا کیاہے۔
۲۴۳۔ام عطیہ سات لڑائیوںمیں شریک ہوئیں۔کیمپ کی حفاظت، سپاہیوں کے لیے کھانا پکانا، زخمیوں اور بیماروں کی تیمار داری کرنا ان کے سپرد تھا۔ (ابن ماجہ)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَبْدُالرَّحِیْمِ ابْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیْرِیْنَ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ الْاَنْصَارِیَّۃِ، قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ سَبْعَ غَزَوَاتٍ اَخْلُفُھُمْ فِیْ رِجَالِھِمْ فَاَصْنَعُ لَھُمُ الطَّعَامَ وَاُدَاوِی الْجَرْحیٰ وَاَقُوْمُ عَلَی الْمَرْضیٰ۔(۷۳)
ترجمہ : حضرت ام عطیہ انصاریہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں سات غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہی ہوں۔ ان کی قیام گاہوں میں ان کے پیچھے رہتی تھی۔ ان کے لیے کھانا تیار کرتی اور زخمیوں کو دوا دارو دیتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
۲۴۴۔حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ جو خواتین اس قسم کی جنگی خدمات انجام دیتی تھیں ان کو اموال غنیمت میں سے انعام دیا جاتاتھا۔ (مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ بْنِ قَعْنَبٍ، قَالَ: نَا سُلَیْمَانُ یَعْنِیْ ابْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھُرْمُزَ اَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْئَالُہٗ عَنْ خَمْسِ خِلاَلٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلاَ اَنْ اَکْتُمَ عِلْمًا مَاکَتَبْتُ اِلَیْہِ، کَتَبَ اِلَیْہِ نَجْدَۃُ اَمَّا بَعْدُ! فَاَخْبِرْنِیْ ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَغْزُوْبِالنِّسَآئِ، وَھَلْ کَانَ یَضْرِبُ لَھُنَّ بِسَھْمٍ، وَھَلْ کَانَ یَقْتُلُ الصِّبْیَانَ، وَمَتٰی یَنْقَضِیْ یُتْمُ الْیَتِمِ؟ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ ھُوَ؟ فَکَتَبَ اِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ،کَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَغْزُوْ بِالنِّسَآئِ؟وَقَدْکَانَ یَغْزُوْبِھِنَّ فَیُدَاوِیْنَ الْجَرْحیٰ وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ وَاَمَّابِسَھْمٍ فَلَمْ یُضْرَبْ لَھُنَّ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمْ یَکُنْ یَقْتُلُ الصِّبْیَانَ فَلاَتَقْتُلِ الصِّبْیَانَ،وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ مَتٰی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیْمِ، فَلَعَمْرِیْ اِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہٗ وَاِنَّہٗ لَضَعِیْفُ الْاَخْذِ لِنَفْسِہٖ ضَعِیْفُ الْعَطَائِ مِنْھَا، فَاِذَا اَخَذَ لِنَفْسِہٖ مِنْ صَالِحِ مَایَاْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَھَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ، وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ ھُوَ وَاِنَّا نَقُوْلُ ھُوَ لَنَا فَاَبٰی عَلَیْنَا قَوْمَنَا ذَاکَ۔(۷۴)
ترجمہ : یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے ابن عباس کی جانب تحریر کیا( نجدہ حروری خارجیوں کا سردار) اس مکتوب میں اس نے پانچ باتیں دریافت کیں۔ عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اگر علم کو چھپانے کی سزا نہ ہوتی تو میں اسے جواب نہ دیتا۔ نجدہ نے اپنی تحریر میں یہ لکھا تھا کہ حمدو صلوٰۃ کے بعد آپ یہ بتائیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے اور ان کو کوئی حصہ بھی دیتے تھے (مال غنیمت میں سے) اور کیا آپؐ بچوں کو بھی قتل کرتے تھے اور یتیم کا دور یتیمی کس عمر میں ختم ہوتاہے اور خمس کس کا ہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا، تو مجھ سے پوچھتاہے کہ رسول اللہﷺ جہاد میں خواتین کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ عورتوں کو اپنے ساتھ رکھتے تھے، وہ زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھیں ان کو بطور انعام کچھ مال غنیمت میں سے دے دیا جاتاتھا، باقاعدہ حصہ نہیں دیا جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا تم بھی بچوں کو قتل مت کرو۔ اور تونے لکھتے ہوئے دریافت کیا ہے کہ یتیم کا دور یتیمی کب ختم ہوتاہے۔ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس نے مجھے عمر عطا فرمائی ہے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ باریش ہوجانے کے باوجود لین دین کا شعور نہیں رکھتے۔ پس جب وہ اپنے لیے اچھی چیز لینے لگے جیسا کہ لوگ لیتے ہیں تو اس کا دور یتیمی جاتا رہا۔ نیز تونے اپنی تحریر میں خمس کے بارے میں پوچھا ہے کہ یہ کس کا حق ہے۔ تو ہم تو یہ کہتے ہیں کہ خمس ہمارا حق ہے مگر ہماری قوم نے اس سے انکار کیا۔
تشریح :اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ اسلامی پردہ کی نوعیت کسی جاہلی رسم کی سی نہیں ہے، جس میں مصالح اور ضروریات کے لحاظ سے کمی بیشی نہ ہوسکتی ہو۔ جہاں حقیقی ضروریات پیش آجائیں وہاں اس کے حدود کم بھی ہوسکتے ہیں۔ نہ صرف چہرہ اور ہاتھ کھولے جاسکتے ہیں، بلکہ جن اعضاء کوسترِ عورت میں داخل کیا گیاہے ان کے بھی بعض حصے اگر حسبِ ضرورت کھل جائیں تو مضائقہ نہیں لیکن جب ضرورت رفع ہوجائے تو حجاب کو پھر انہی حدود پر قائم ہوجانا چاہیے، جو عام حالات کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ جس طرح پردہ جاہلی پردہ نہیں ہے، اسی طرح اس کی تخفیف بھی جاہلی آزادی کے مانند نہیں۔ مسلمان عورت کا حال یورپین عورت کی طرح نہیں ہے کہ جب وہ ضروریات جنگ کے لیے اپنی حدود سے باہر نکلی، تو اس نے جنگ ختم ہونے کے بعد اپنی حدود میں واپس جانے سے انکار کردیا۔ (پردہ ،باب ۱۳:جنگ۔۔۔)
ماخذ
(۱) ابوداؤد ج۱باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ۔٭سنن دارقطنی ج۲۔کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ۔ ٭دارقطنی نے الجمعۃ واجبۃ فی جماعۃ الاعلٰی اربع: عبد مملوک، اوصبی، اومریض، او امرأۃ نقل کیاہے۔ ٭المستدرک للحاکم ج۱کتاب الجمعۃ باب من تجب علیہ الجمعۃ۔ عن ابی موسی اشعری۔ ھٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین فقد اتفقا جمیعاً علی الاحتجاج ھریم بن سفیان ولم یخرجاہ۔
(۲) بخاری ج۱۔کتاب الجنائز، باب اتباع النسائِ الجنازۃ۔ ج۲۔کتاب الاعتصام،باب قول النبی ﷺ لاتسئلوا اھل الکتاب عن شیء۔٭ مسلم ج۱۔ کتاب الجنائز، باب فی نھی النساء عن اتباع الجنائز من غیر عزیمۃ۔ مسلم نے کنا ننھی بیان کیاہے۔٭ ابوداؤد ج۳۔کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنائز۔٭ابن ماجہ کتاب الجنائز، باب ماجاء فی اتباع النساء الجنائز۔٭مسند احمد ج۶۔ ص۴۰۸۔
(۳) مسلم ج۱کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج اوغیرہ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۷۔ کتاب النکاح باب لایخلو رجل بامرأۃ اجنبیۃ عن ابن عباس۔٭السنن ج۵ کتاب الحج، باب الاختیار لولیھا ان یخرج معھا۔
(۴) بخاری ج۱کتاب التقصیر باب فی کم یقصر۔
(۵) بخاری ج۱کتاب التقصیر، باب فی کم یقصر۔٭ مسلم ج۱کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب المناسک، باب فی المرأۃ تحج بغیر محرم۔٭السنن الکبریٰ ج۵۔ص۲۲۷۔
(۶) مسلم ج۱کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب المناسک، باب فی المرأۃ تحج بغیر محرم۔٭السنن الکبریٰ ج۷کتاب النکاح، باب الرجل یخلو بذات محرمہ یسافر بھا۔٭ ترمذی ابواب الرضاع، باب ماجاء فی کراھیۃ ان تسافر المرأۃ وحدھا۔ وفی الباب عن ابی ھریرۃ، وابن عباس، وابن عمر۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔
(۷) بخاری ج۱ابواب العمرۃ باب حج النساء کتاب الصوم باب صوم یوم النحر۔٭مسلم ج۱ کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ۔
(۸) بخاری ج۱۔کتاب التقصیر باب فی کم یقصر۔مسلم ج۱کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ۔ عن ابی ھریرۃ وعبد اللہ بن عمر۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب المناسک (الحج) باب فی المرأۃ تحج بغیر محرم۔ ٭ترمذی ج۱ابواب الرضاع باب ماجاء فی کراھیۃ ان تسافر المرأۃ وحدھا۔ ٭ابن ماجہ کتاب المناسک۔ باب المرأۃ تحج بغیر ولی۔ ٭مؤطا امام مالک باب الاستیذان کے تحت ماجاء فی الوِحدۃ فی السفر للرجال والنساء۔ ٭احکام القرآن للجصاص ج۳ص۳۱۸۔ اس نے لاتحل سے آغاز کیا، ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵۔کتاب الحج، باب المرأۃ تنھی عن کل سفر لایلزمھا بغیر محرم۔
(۹) ابن ماجہ کتاب المناسک باب المرأۃ تحج بغیر ولی۔٭سنن دارمی کتاب الاستیذان باب ۴۶۔ لاتسافر المرأۃ الا ومعھا ذومحرم۔ عن ابی سعید خدری اس نے فصاعدا والی روایت بیان کی ہے۔٭مجمع الزوائد ج۳۔ص۲۱۳ پر عبداللہ بن عمرو سے منقول روایت میں ہے وَلاَتُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ اِلاَّمَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ مَسِیْرَۃَ ثَلاَثٍ الخ۔
(۱۰) مجمع الزوائد ج۳ ص ۲۱۴ عن عدی بن حاتم مسند احمد ج۱۔ ص۲۲۲۔ ص۳۴۶۔ ج۲۔ ص۱۳۔ ۱۹، ۱۸۲، ۲۳۶، ۲۵۱،۳۰۴۔ ۳۴۷، ۴۲۳۔۴۳۷۔ ۴۴۵، ۴۹۳، ج۳ص۷،۳۴، ۴۵،۵۲،۵۳،۵۴،۶۲،۶۴،۶۶، ۷۱، ۷۷۔
(۱۱) دارقطنی ج۲حدیث ۳۲ جابر جعفی راوی ضعیف ہے۔
(۱۲) ذیلی حاشیہ حوالہ مذکورہ بالا۔
(۱۳) مسلم ج۱کتاب الحج، باب سفرۃ المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ۔ ٭ابوداؤد ج۲کتاب المناسک (الحج) باب فی المرأۃ تحج بغیر محرم۔٭ السنن الکبریٰ ج۵۔ کتاب الحج، باب المرأۃ تنھی عن کل سفر الایلزمھا بغیر محرم۔
(۱۴) بخاری ج۲۔کتاب النکاح، باب خروج النساء لحوائجھن۔
(۱۵) بخاری ج۱کتاب الوضوء، باب خروج النساء الی البراز۔کنزالعمال ج۱۶۔ حدیث نمبر ۴۵۱۴۹۔ عن عائشۃ۔
(۱۶) ترمذی ج۱ ابواب الرضاع باب ماجاء فی کراھیۃ خروج النساء فی الزینۃ۔٭ابنِ کثیر ج۳۔ تفسیر سورہ نور۔ ٭کنز العمال ج۱۶حدیث نمبر۴۵۰۴۱ عن میمونۃ بنت سعد۔٭البدایۃ والنھایۃ ج۵ ص۳۳۰ اور ابویعلی موصلی بحوالہ البدایۃ والنھایۃ ج۵ص۳۳۰۔٭البدایۃ والنھایۃ نے الرافلۃ فی الزینۃ فی غیر اھلھا کالظلمۃ یوم القیامۃ لانور لھا نقل کیاہے۔
(۱۷) مسند احمد ج۶۔ ص۳۷۱۔ عن ام حمید۔٭مجمع الزوائد ج۲کتاب الصلاۃ باب خروج النساء الی المساجد وغیر ذلک وصلاتھن۔ عن ام حمید۔
(۱۸) ابوداؤد ج۱کتاب الصلاۃ باب امامۃ النساء۔٭السنن الکبریٰ ج۳کتاب الصلاۃ، باب اثبات امامۃ المرأۃ۔ عن ام ورقہ۔
(۱۹) المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصلاۃ۔ باب امامۃ المرأۃ النساء فی الفرائض۔ ٭السنن الکبریٰ ج۱ص۴۰۶۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳۔کتاب الصلاۃ باب اثبات امامۃ المرأۃ۔ عن ام ورقۃ۔ ٭السنن ج۱کتاب الصلاۃ، باب اذان المرأۃ واقامتھا لنفسھا وصواحباتھا۔
(۲۰) سنن دارقطنی ج۱کتاب الصلاۃ باب صلاۃ النساء جماعۃ وموقف امامھن۔
(۲۱) سنن دارقطنی ج۱ص۴۰۳۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۳۔کتاب الصلاۃ باب المرأۃ تؤم النساء فتقوم وسطھن۔
(۲۲) مصنف ابن ابی شیبۃ۔ ج۲۔کتاب الصلوات باب المرأۃ تؤم النساء۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۳کتاب الصلاۃ باب المرأۃ تؤم النساء۔٭مصنف لعبد الرزاق نے ص۱۴۰ پر حجیرۃ بنت حصین سے قالت: اَمَّتْنَا اُمُّ سَلَمَۃَ فی صَلاَۃِ العصر قامت بیننا بھی روایت کیاہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳۔ص۱۳۱۔
(۲۳) ابوداؤد ج۱کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی خروج النساء الی المساجد۔٭السنن الکبریٰ ج۳کتاب الصلاۃ، باب خیر مساجد النساء قعر بیوتھن۔ عن عبد اللہ۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الصلاۃ، باب خیر مساجد النساء قعر بیوتھن۔ عن عبداللہ۔
(۲۴) مسلم ج۱کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء الی المساجد۔
(۲۵) بخاری ج۱کتاب الاذان، باب استیذان المرأۃ زوجھا بالخروج الی المساجد۔
(۲۶) ابوداؤد ج۱کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فی خروج النساء الی المساجد۔
(۲۷) ترمذی ابواب السفر باب فی خروج النساء الی المساجد۔٭ابوداؤد ج۱کتاب الصلاۃ باب ماجاء فی خروج النساء۔
(۲۸) بخاری ج۱کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد باللیل والغَلس۔٭مسلم ج۱ کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علیہ فتنۃ لاتخرج مطیبۃ۔
(۲۹) بخاری ج۱کتاب الاذان، باب خروج النساء الی المساجد باللیل والغلس۔٭مسلم ج۱کتاب الصلاۃ، باب استحباب التبکیر بالصبح فی اول وقتھا وھو التغلیس : عن عائشۃ۔٭ابوداؤد ج۱کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی وقت الصبح عن عائشۃؓ۔٭ترمذی ج۱ابواب الصلاۃ، باب ماجاء فی التغلیس بالفجر۔ حدیث عائشۃ حدیث حسن صحیح۔٭ نسائی ج۱کتاب المواقیت، باب التغلیس فی الحضر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۱کتاب الصلاۃ باب تعجیل صلاۃ الصبح۔٭مؤطا امام مالک ج۱وقوت الصلاۃ۔ عن عائشۃؓ۔
(۳۰) بخاری ج۱کتاب الاذان، باب سرعۃ انصراف النساء من الصبح وقلّۃ مقامھن فی المسجد۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۱کتاب الصلاۃ باب تعجیل صلاۃ الصبح۔
(۳۱) بخاری ج۱، کتاب المواقیت، باب وقت الفجر٭مسلم ج۱کتاب الصلاۃ، باب استحباب التبکیر بالصبح فی اول وقتھا وھو التغلیس۔٭نسائی ج۱کتاب المواقیت، باب التغلیس فی الحضر۔٭ابن ماجہ کتاب الصلاۃ باب وقت صلاۃ الفجر۔ ٭السنن الکبریٰ ج۱۔ کتاب الصلاۃ، باب تعجیل صلاۃ الصبح۔ عن عائشۃؓ۔
(۳۲) المصنف لعبد الرزاق ج۱۔کتاب الصلاۃ باب وقت الصبح۔
(۳۳) سنن دارمی ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب التغلیس فی الفجر۔
(۳۴) ابن ماجہ کتاب الفتن، باب فتنۃ النساء۔
(۳۵) نسائی ج۸ کتاب الزینۃ، النھی للمرأۃ ان تشھد الصلاۃ اذا اصابت من البخور۔٭مؤطا امام مالک ماجاء فی خروج النساء الی المساجد۔ عن بسر بن سعید۔
(۳۶) مسلم ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب امر النساء المصلیات وراء الرجال۔٭ابوداؤد ج۱۔ کتاب الصلاۃ، باب صف النساء کراھیۃ التاخر عن الصف الاول۔٭ترمذی ج۱۔ابواب الصلاۃ باب ماجاء فی فضل الصف الاول۔ عن ابی ھریرۃ۔ حدیث ابی ھریرۃ حسن صحیح۔وفی الباب عن جابر، وابن عباس، وابی سعید، واُبّی، وعائشۃ والعرباض بن ساریۃ وانس۔٭نسائی ج۲۔کتاب الامامۃ۔ باب ذکر خیرصفوف النساء وشر صفوف الرجال، عن ابی ھریرۃ۔ ٭ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیھا باب صفوف النساء حدیث نمبر ۱۰۰۰۔٭مسند احمد ج۳۔ ص۳۔عن ابی سعید خدری۔٭سنن دارمی ج۱۔٭کتاب الصلاۃ، باب ای صفوف النساء افضل۔٭ ابن ماجہ نے خیر صفوف النساء آخرھا سے روایت شروع کی ہے۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳۔کتاب الصلاۃ باب الرجل یاتمون بالرجل ومعھم صبیان ونساء عن ابی ھریرۃؓ۔٭ مجمع الزوائد ج۲۔کتاب الصلاۃ، باب منہ فی تعدیل الصفوف، وصفوف الرجال والنساء۔ ٭مجمع الزوائد نے اس روایت کو ابوسعید خدری، ابن عباس، انس عمر بن الخطاب اور ابوامامۃ سے نقل کیا ہے۔
(۳۷) بخاری ج۱کتاب الاذان، باب وضوء الصبیان ومتٰی یجب علیہ الغسل۔٭مسلم ج۱۔کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب جواز الجماعۃ فی النافلۃ والصلاۃ علی حصیر۔٭ ابوداؤد ج۱،کتاب الصلاۃ، باب اذا کانوا ثلاثۃ کیف یقومون، عن انس بن مالک۔٭ترمذی ج۱، ابواب الصلاۃ، باب ماجاء فی الرجل یصلی ومعہ رجال ونساء، عن انس۔٭ نسائی ج۲۔کتاب الامامۃ، باب اذا کانوا ثلاثۃ وامرأۃ۔ ٭ابوداود، ترمذی اور نسائی اور دارمی نے آخر میں ثم انصرف بھی نقل کیاہے۔ ٭مؤطا امام مالک ج۱۔ باب جامع سبحۃ الضحٰی، عن انس بن مالک۔ ٭سنن دارمی ج۱۔ کتاب الصلاۃ، باب فی صلاۃ الرجل خلف الصف وحدہ، عن انس بن مالک۔
(۳۸) بخاری ج۱کتاب الاذان، باب المرأۃ وحدھا تکون صفًا۔٭ مسلم ج۱۔کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب جواز الجماعۃ فی النافلۃ۔
(۳۹) نسائی ج۲۔کتاب الامامۃ، باب موقف الامام اذا کان معہ صبی وامرأۃ۔
(۴۰) نسائی ج۲۔کتاب الامامۃ، باب موقف الامام اذا کان معہ صبی وامرأۃ۔
(۴۱) ابوداوٗد ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب (فی) اعتزال النساء فی المساجد عن الرجال۔٭ابوداوٗد ج۱کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی خروج النسآء الی المسجد کے تحت باب التشدید فی ذلک۔
(۴۲) ابوداوٗد ج۱۔ص۱۲۶۔
(۴۳) مسلم ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علیہ فتنۃ وانھا لاتخرج مطیبۃ۔٭مؤطا امام مالک ج۱ باب خروج النساء الی المساجد۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳۔کتاب الصلاۃ باب المرأۃ تشھد المسجد للصلاۃ لاتمس طیبا۔
(۴۴) مسلم ج۱۔ کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء الی المساجد۔٭ نسائی ج۸۔کتاب الزینۃ۔ النھی للمرأۃ ان تشھد الصلاۃ اذا اصابت من البخور۔٭ ابوداؤد ج۴۔کتاب الترجل، باب ماجاء فی المرأۃ تتطیب للخروج۔ ابوداؤد میں فَلاَ تَشْھَدَنَّ ہے۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳۔کتاب الصلاۃ باب المرأۃ تشھد المسجد للصلاۃ لاتمس طیبا۔
(۴۵) ترمذی ج۲ابواب الاٰداب باب ماجاء فی کراھیۃ خروج المرأۃ متعطرۃ۔٭ابوداؤد ج۴۔کتاب الترجِل، باب ماجاء فی المرأۃ تتطیب للخروج۔ عن ابی موسیٰ۔٭کنزالعمال ج۱۶حدیث نمبر۴۵۰۱۷۔٭ ابوداؤد میں اِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَۃُ فَمَرَّتْ عَلٰی الْقَوْمِ لِیَجِدُوْا رِیْحَھَا فَھِیَ کَذَا وَکَذَا قَالَ قَوْلاً شَدِیْدًا ہے۔٭ نسائی ج۸۔کتاب الزینۃ، باب مایکرہ للنساء من الطیب۔٭ کنز العمال ج۱۶ح۴۵۰۱۰۔
(۴۶) ترمذی ابواب الاٰداب، باب ماجاء فی طیب الرجال والنساء۔٭ابوداؤد ج۲۔کتاب النکاح، باب مایکرہ من ذکر الرجل مایکون من اصابتہ اھلہ۔٭نسائی ج۔۸ کتاب الزینۃ، باب الفصل بین طیب الرجال وطیب النساء۔٭مسند احمد ج۲۔ص۵۴۱۔عن ابی ھریرۃ۔٭کنزالعمال ج۱۶۔ح۴۴۸۷۹ اور حدیث نمبر۱۷۳۳۷۔
(۴۷) ترمذی ج۱ ابواب العیدین، باب فی خروج النساء الی العیدین۔٭بخاری ج۱۔کتاب العیدین، باب خروج النساء والحیض الی المصلّٰی۔٭ بخاری ج۱۔کتاب المناسک، باب تقضی الحائض المناسک کلھا الاالطواف۔دونوں مقام پر امرنا رسول اللہ ﷺ ہے۔ ٭مسلم ج۱کتاب العیدین فصل فی اخراج العواتق وذوات الخدور۔٭ ابوداؤد ج۱۔کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء فی العید۔ اس میں بھی امرنا ہے۔٭نسائی ج۱۔کتاب الحیض والاستحاضۃ باب شھود الحیض العیدین ودعوۃ المسلمین۔ عن ام عطیۃ اور کتاب العیدین ج۳۔ خروج العواتق وذوات الخدور فی العیدین۔٭ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ماجاء فی خروج النساء فی العیدین۔ عن ام عطیۃ۔
(۴۸) السنن الکبری للبیھقی ج۳۔کتاب صلاۃ العیدین باب خروج النساء الی العید، عن ام عطیۃ۔٭مجمع الزوائد ج۲۔ ابواب العیدین کے تحت باب الخروج الی العید کے تحت اسی مفہوم کی روایت حضرت عائشہؓ سے نقل کی ہے۔٭مسند احمد ج۵۔ص۸۴۔ عن ام عطیۃ۔٭سنن دارمی ج۱۔کتاب الصلاۃ باب خروج النساء فی العیدین۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲۔کتاب الصلوات باب من رخص فی خروج النساء الی العیدین کے تحت اسی مفہوم کی حدیث عن ام عطیۃ نقل کی ہے۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۳۔کتاب العیدین، باب خروج النساء فی الصلاۃ۔ عن ام عطیۃ۔
(۴۹) ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا باب ماجاء فی خروج النساء فی العیدین۔٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۲۔کتاب الصلوات باب من رخص فی خروج النساء الی العیدین۔
(۵۰) بخاری ج۱ابواب العمرۃ، باب حج النساء۔
(۵۱) ابوداؤد ج۲۔کتاب المناسک، باب فی المحرمۃ تغطی وجھھا۔٭مسند احمدج۶۔ص۳۰ عن عائشۃؓ۔ مسند میں اسدلت ہے۔
(۵۲) ابن ماجہ کتاب المناسک، باب المحرمۃ تسدل الثوب علی وجھھا۔سنن دارقطنی ج۲۔کتاب الحج۔ حدیث نمبر۲۶۲۔عن عائشۃ ابن ماجہ والی روایت ہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۵۔کتاب الحج، باب المحرمۃ تلبس الثوب من علو فیستر وجھھا وتجافی عنہ عن عائشۃ۔
(۵۳) ابوداؤد ج۲۔کتاب المناسک باب مایلبس المحرم۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۵۔کتاب الحج، باب المرأۃ لاتنتقب فی احرامھا ولاتلبس القفازین۔
(۵۴) مؤطا امام مالک ج۱۔کتاب الحج، باب تخمیر المحرم وجھہ۔٭فتح الباری ج۳۔کتاب الحج باب مایلبس المحرم عن الثیاب والاردیۃ والازر۔
(۵۵) فتح الباری ج۳۔کتاب الحج باب مایلبس المحرم من الثیاب والاردیۃ والازُرِ۔
(۵۶) بخاری ج۱کتاب المناسک باب طواف النساء مع الرجال۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۵۔ باب طواف الرجال والنساء معاً۔ اس میں أبعد الحجاب ہے۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۵۔کتاب الحج، باب طواف النساء مع الرجال۔
(۵۷) فتح الباری ج۳ کتاب الحج باب طواف۔
(۵۸) مؤطا امام مالک کتاب الحج باب تقدیم النساء والصبیان۔
(۵۹) بخاری ج۱کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنازۃ اورکتاب الاعتصام ج۲باب نھی النبی ﷺ علی التحریم الا ماتعرف اباحتہ۔٭مسلم ج۱۔کتاب الجنائز، باب فی نھی النساء عن اتباع الجنائز من غیر عزیمۃ۔٭ ابوداؤد ج۳۔ کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنائز۔ عن ام عطیۃ۔٭ابن ماجہ کتاب الجنائز، باب ۵۰ باب ماجاء فی النھی عن زیارۃ القبور۔٭مسند احمد ج۶ص۴۰۸ عن ام عطیۃ۔ ٭بخاری ج۱کتاب الحیض باب الطیب للمرأۃ عند غسلھا من المحیض۔عن ام عطیۃ۔٭مسلم ج۱۔کتاب الجنائز، باب فی نھی النساء عن اتباع الجنائز من غیرعزیمۃ۔ نھینا کی جگہ ننھٰی عن اتباع بھی نقل کیاہے۔٭ السنن الکبریٰ ج۴۔ کتاب الجنائز، باب ماورد فی نھی النساء عن اتباع الجنائز۔ عن ام عطیۃ۔ ٭مصنف ابنِ ابی شیبۃ ج۳۔کتاب الجنائز، باب فی خروج النساء مع الجنازۃ من کرھہ۔ عن ام عطیۃ۔٭المصنف لعبدالرزاق ج۳۔کتاب الجنائز باب منع النساء اتباع الجنائز۔ عن ام عطیۃ۔
(۶۰) ابن ماجہ کتاب الجنائز، باب ۵۳، باب ماجاء فی البکاء علی المیت۔٭نسائی ج۴کتاب الجنائز، باب الرخصۃ فی البکاء علی المیت۔ عن ابی ھریرۃؓ۔
(۶۱) مؤطا امام مالک ج۱۔کتاب الجنائز النھی عن البکاء علی المیت۔٭نسائی ج۶۔کتاب الجھاد باب من خان غازیا فی اھلہ۔ عن جابر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔کتاب الجنائز، باب سیاق اخبار تدل علی جواز البکاء بعد الموت۔ عن ابی ھریرۃ۔ اس روایت میں فزبرھن عمر وانتھرھن ہے اور والعھد حدیث ہے۔٭ المستدرک للحاکم ج۱۔کتاب الجنائز رخصۃ البکاء قبل الموت۔٭المستدرک حاکم ج۱ص۳۸۱۔
(۶۲) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۴۔ص۷۰۔٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج۳۔کتاب الجنائز باب من رخص ان تکون المرأۃ مع الجنازۃ والصیاح لایری بہ بأسًا۔
(۶۳) ترمذی ج۱۔ ابواب الجنائز باب ماجاء فی کراھیۃ زیارۃ القبور للنساء۔٭ابن ماجہ کتاب الجنائز، باب ۵۰، ماجاء فی النھی عن زیارۃ النساء القبور۔ عن حسان بن ثابت، عن ابن عباس اور عن ابی ھریرۃ۔٭مسند احمد ج۲۔ص۳۳۷۔ ج۳۔ص۴۴۳۔٭ابوداؤد ج۳۔کتاب الجنائز، باب فی زیارۃ النساء القبور۔ عن ابن عباس۔ ابوداؤد میں لعن رسول اللہ ﷺ زائرات القبور ہے۔ الخ۔ ٭السنن الکبری للبیھقی ج۴۔کتاب الجنائز، باب ماورد فی نھیھن عن زیارۃ القبور اس میں حسان بن ثابت، ابوھریرۃ اور ابن عباس تینوں سے مروی روایات مذکور ہیں۔٭ المستدرک للحاکم ج۱۔کتاب الجنائز عن ابن عباس۔
(۶۴) ترمذی،ج۱۔ ابواب الجنائز باب ماجاء فی الرخصۃ فی زیارۃ القبور للنساء۔٭مجمع الزوائد ج۳۔کتاب الجنائز باب زیارۃ القبور عن ابن ابی ملیکۃ مجمع الزوائد میںبھی کنا کندمانی ہے۔
(۶۵) بخاری،ج۱۔کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور۔٭مسلم ج۱۔کتاب الجنائز، باب الصبر عند الصدمۃ الاولی۔
(۶۶) بخاری ج۱۔کتاب الجھاد، باب حمل الرجل امرأتہ فی الغزو دون بعض نسائہ۔٭سنن دارمی ج۲۔کتاب الجھاد، باب فی خروج النبی ﷺ مع بعض نسائہ فی الغزو۔ عن عائشۃؓ۔
(۶۷) مسلم ج۲۔کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ النساء مع الرجال۔٭ابوداؤد ج۳۔کتاب الجھاد، باب فی النساء یغزون۔ عن انس۔٭ترمذی ج۱۔ ابواب السیر باب ماجاء فی خروج النساء فی الحرب۔ عن انس۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ السنن الکبری ج۹۔کتاب السیر باب شھود من لافرض علیہ القتال۔ عن انس۔٭مجمع الزوائد ج۵۔ کتاب الجھاد، باب خروج النساء فی الغزو۔٭ المصنف لعبد الرزاق، ج۵۔کتاب الجھاد باب جھاد النساء والقتل والفتک۔ الفاظ مختصر۔
(۶۸) بخاری ج۱۔کتاب الجھاد، باب جھاد النساء اور باب رکوب البحر۔٭مسلم ج۲۔ کتاب الامارۃ باب فضل الغزو فی البحر۔٭ابوداؤد ج۳۔کتاب الجھاد باب فضل الغزو فی البحر۔٭ ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب فضل غزو البحر۔ ام حرام۔٭سنن دارمی ج۲۔کتاب الجھاد، باب فی فضل غزاۃ البحر۔ ام حرام بنت ملحان۔٭مؤطا امام مالک ج۲۔کتاب الجھاد الترغیب فی الجھاد۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹۔کتاب السیر باب فضل من مات فی سبیل اللہ۔ عن انس بن مالک۔
(۶۹) بخاری ج۱۔کتاب الجھاد، باب غزو النساء وقتالھن مع الرجال۔٭مسلم ج۲۔کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ النساء مع الرجال۔ عن انس بن مالک۔٭ السنن الکبری ج۹۔کتاب السیر باب شھود من لافرض علیہ القتال۔ عن انس۔
(۷۰) بخاری ج۱۔ کتاب الجھاد، باب رد النساء الجرحی والقتلی۔
(۷۱) بخاری ج۱، باب مداواۃ النساء الجرحی فی الغزو۔
(۷۲) مسلم ج۲۔کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ النساء مع الرجال۔
(۷۳) مسلم ج۲۔کتاب الجھاد والسیر باب عدد غزوات النبی ﷺ۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب العبید والنساء یشھدون مع المسلمین۔ عن ام عطیۃ۔٭سنن دارمی ج۲۔کتاب الجھاد، باب فی النساء یغزون مع الرجال۔
(۷۴) مسلم ج۲۔کتاب الجھاد والسیر باب النساء الغازیات یرضخ لھن الخ۔
.فصل :۲۲ عائلی قوانین نکاح
(ذیل میں حکومت کے مقرر کردہ کمیشن برائے قوانین عائلہ کی طرف سے ۱۹۵۵ کے اواخر میں جاری کیا گیا تھا)
سوال :کیا نکاح خوانی کا کام صرف حکومت کے مقرر کردہ نکاح خوانوں کے ذریعے ہونا چاہیے؟
جواب :جی نہیں، اسلامی معاشرے میں کسی قسم کی کہانت (Priesthood)کے لیے جگہ نہیں ہے۔ ہرمسلمان جس طرح نماز پڑھاسکتاہے اسی طرح نکاح بھی پڑھاسکتاہے۔ بلکہ زوجین خود بھی دوگواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرسکتے ہیں۔ نکاح خواں کا ایک نیا عہدہ ازروئے قانون اگر مقرر کردیاجائے تولامحالہ دوصورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرنی پڑے گی یا تو ہر اس نکاح کو باطل قراردیاجائے جو سرکاری ’’پادری‘‘ کے بغیر کرلیا گیا ہو۔ یا پھر اسے جائز تسلیم کیاجائے۔ پہلی صورت میں شریعت اور قانون کے درمیان تضاد واقع ہوجائے گا، کیوں کہ شرعاً وہ نکاح صحیح ہوگا۔ اور دوسری صورت میں یہ قاعدہ مقرر کرنا فضول ہوگا۔
سوال : کیا نکاح رجسٹری کرانا لازمی ہونا چاہیے؟ اگر ایسا ہوتو اس کے لیے کیا طریق کار ہونا چاہیے اور اس کی خلاف ورزی کے لیے کیا اور کسے سزا ہونی چاہیے؟
جواب : نکاحوں کو ایک پبلک رجسٹر میں درج کرانے کا انتظام مفید تو ضرور ہے، مگر اسے لازم نہ ہونا چاہیے۔ شریعت نے نکاح کے لیے جوقواعد مقرر کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نکاح کم از کم دوگواہوں کے سامنے ہو، اور اس کو علی الاعلان کیا جائے تاکہ زوجین کے رشتہ داروں اور قریب کے حلقہ تعارف میں ان کا رشتہ معلوم ومعروف ہوجائے۔ نزاعات کی صورت میں اس طریقے سے نکاح کی شہادتیں بہم پہنچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں رہتا۔ تاہم قیامِ شہادت میں مزید سہولتیں دوطریقوں سے پیدا ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک معیاری نکاح نامہ مرتب کرکے عام طورپر شائع کردیا جائے تاکہ لوگ نکاح سے متعلق تمام ضروری امور اس میں درج کرکے شہادتیں ثبت کرالیا کریں۔ دوسرے یہ کہ ہرمحلے اور بستی میں نکاحوں کا ایک رجسٹر رکھ دیاجائے تاکہ جو بھی اس میں نکاح کا اندراج کرانا چاہے کرادے۔ لوگ بالعموم خود ہی اپنے مفاد کی حفاظت کے لیے ان دونوں سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ لیکن اسے لازم کرنے میں دوقباحتیں ہیں۔ ایک یہ کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی نہ کوئی سزادینی ہوگی۔ اور اس طرح خواہ مخواہ ایک نئے جرم کا اضافہ ہوگا۔ دوسرے یہ کہ غیررجسٹری شدہ نکاحوں کو تسلیم کرنے سے عدالتوں کو انکار کرنا ہوگا۔ حالانکہ جو نکاح گواہوں کے سامنے کیاجائے وہ شرعاً منعقد ہوجاتاہے اور عدالت اس کے وجود سے انکار کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ پھر یہ بھی غور طلب ہے کہ آیا آپ غیر رجسٹری شدہ نکاحوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو ناجائز اولاد قراردیں گے اور انہیں پدری جائداد کی وراثت سے بھی محروم کریں گے، اگر یہاں تک آپ نہیں جانا چاہتے تو رجسٹری کو قانوناً لازم کرنا آخر کیا معنی رکھتاہے؟
سوال : یہ معلوم کرنے کے لیے کہ زوجین میں سے ہرایک نے کسی دباؤ کے بغیر اپنی رضامندی سے ایجاب وقبول کیا ہے کیاطریقہ اختیار کیا جائے؟
جواب : قانونی اغراض کے لیے ایجابی طورپر یہ معلوم ہونا ضروری نہیں ہے کہ نکاح کے فریقین نے اپنی رضامندی سے نکاح کیا ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کسی فریق نے دباؤ کے تحت بلا رضا ورغبت مجبوراً ایجاب وقبول کیاہے۔ اس وقت تک ہرنکاح کے متعلق یہی فرض کیا جائے گا کہ وہ برضا ورغبت ہواہے۔ اسلام میں ایجاب وقبول لازماً دوگواہوں کے سامنے ہوتاہے۔ بالغ لڑکے کا نکاح اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک وہ گواہوں کے سامنے بالفاظ صریح اسے قبول نہ کرے۔ لڑکی کے لیے (اگر وہ باکرہ ہو) زبانی اقرار ضروری نہیں ہے، لیکن اگر وہ بآواز بلند روئے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح منظور نہیں۔ اس طرح شریعت نے خود رضا مندی متحقق کرنے کا ایک قاعدہ مقررکردیاہے، اور یہ بالکل کافی ہے۔ پس پردہ اگر لڑکے یا لڑکی پر کوئی دباؤ ڈالا گیا ہوتو اس کا ثبوت مدعی کو لانا چاہیے قانون ایسے کسی دباؤ کے عدم کے لیے ثبوت کاطالب نہیں ہے، بلکہ اس کے وجود کا ثبوت مانگتاہے، اگر کوئی اس کا دعویٰ کرے۔ دباؤ کے عدم کا ثبوت لازم کردینے سے نہ صرف یہ کہ قانون کا منشا الٹ جائے گا بلکہ اس سے عملا سخت مشکلات رونما ہوں گی۔
سوال : کیا آپ کے نزدیک کمسنی کی شادیوں کو روکنے کے لیے یہ قانون بنانا ضروری ہے کہ شادی کے وقت مرد کی عمر۱۸؍ سال سے کم اور عورت کی ۱۵؍سال سے کم نہ ہو؟
جواب :کم سنی کی شادیاں روکنے کے لیے کسی قانون کی حاجت نہیں۔ اور اس کے لیے ۱۸؍ سال اور ۱۵؍ سال کی عمر مقرر کردینا بالکل غلط ہے۔ ہمارے ملک میں ۱۸؍ سال کی عمر سے بہت پہلے ایک لڑکا جسمانی طورپر بالغ ہوجاتاہے، اور لڑکیاں بھی ۱۵؍سال سے پہلے جسمانی بلوغ کو پہنچ جاتی ہیں۔ ان عمروں کو ازروئے قانون نکاح کی کم سے کم عمر قراردینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اس سے کم عمروالے لڑکوں اور لڑکیوں کی صرف شادی پر اعتراض ہے، کسی دوسرے طریقے سے جنسی تعلقات پیدا کرلینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ شریعتِ اسلام نے اس طرح کی مصنوعی حد بندیوں سے اسی لیے احتراز کیاہے کہ یہ درحقیقت بالکل غیرمعقول ہیں۔ اس کے بجائے یہ بات لوگوں کے اپنے ہی اختیار تمیزی پر چھوڑدینی چاہیے کہ وہ کب نکاح کریں اور کب نہ کریں۔ لوگوں میں تعلیم اور عقلی نشو ونما کے ذریعہ سے جتنا زیادہ شعور پیدا ہوگا اسی قدر زیادہ صحیح طریقہ سے وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو استعمال کریں گے، اور کم سنی کے نامناسب نکاحوں کا وقوع، جواب بھی ہمارے معاشرے میں کچھ بہت زیادہ نہیں ہے، روز بروز کم تر ہوتا چلاجائے گا۔ شرعاًایسے نکاحوں کو جائز صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ بسااوقات کسی خاندان کی حقیقی مصلحتیں اس کی متقاضی ہوتی ہیں۔ اس ضرورت کی خاطر قانوناً اسے جائز ہی رہنا چاہیے، اور اس کے نامناسب رواج کی روک تھام کے لیے قانون کے بجائے تعلیم اورعام بیداری کے وسائل پر اعتماد کرنا چاہیے، معاشرے کی ہر خرابی کا علاج قانون کا لٹھ ہی نہیں ہے۔
سوال : کیا آپ کے نزدیک نکاح کے لیے عمروں کا یہ تعین ازروئے قرآن کریم یا از روئے حدیثِ صحیح ممنوع ہے؟
جواب : نکاح کے لیے عمروں کے تعین کی کوئی صریح ممانعت تو قرآن وحدیث میں نہیں ہے، مگر کم سنی کے نکاح کا جواز سنت سے ثابت ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کے عملی نظائر موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو چیز شرعاً جائز ہے اس کو آپ قانوناً حرام کس دلیل سے کرتے ہیں؟ آپ کا ایک عمر از روئے قانون مقرر کردینا یہ معنی رکھتاہے کہ اس عمر سے کم میں اگر کوئی نکاح کیاجائے تو آپ اسے باطل قراردیں گے اور ملکی عدالتیں اس کو تسلیم نہ کریں گی۔ کیا اسے ناجائز اور باطل ٹھیرانے کے لیے کوئی اجازت قرآن یا حدیث صحیح میں موجود ہے؟ دراصل یہ طرزِ سوال بہت ہی مغالطہ آمیز ہے۔ تعیین عمر صرف ایک ایجابی پہلو ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ایک سلبی پہلو بھی رکھتی ہے، اس کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ آپ نکاح کے لیے محض ایک عمر مقرر کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیںکہ اس عمر سے پہلے نکاح کرنے کو آپ حرام بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس منفی پہلو کو نظر انداز کرکے صرف یہ پوچھنا کہ کیا اس کا مثبت پہلو ممنوع ہے، سوال کو ادھوری شکل میں پیش کرناہے۔ سوال کی تکمیل اس وقت ہوگی جب آپ ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھیں کہ کیا ایک عمر خاص سے پہلے نکاح کو ناجائز ٹھیرانے کے حق میں کوئی دلیل قرآن یا کسی حدیث صحیح میں ملتی ہے؟
سوال : کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ معاہدۂ ازدواج میں ہرایسی شرط درج ہوسکتی ہے جو اسلام اور اخلاق کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو اور عدالت اس کے ایفاء پر مجبور کرے؟
جواب : اس سوال کے دوحصے ہیں۔ پہلا حصہ یہ ہے کہ کیا ایسی شرطیں معاہدۂ ازدواج میں درج ہوسکتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتی ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسی کچھ شرائط از روئے قانون معاہدۂ نکاح کا لازمی جز بنادی جائیں اور حکومت کی طرف سے شائع کردہ معیاری نکاح نامے میں ان کو شامل کردیاجائے۔ شریعت نے اس معاملے کو ہر انفرادی نکاح کے فریقین پر چھوڑا ہے اور انہیں اختیار دیاہے کہ جو مباح شرطیں بھی وہ چاہیں آپس میں طے کرلیں۔ اس حد سے تجاوز کرکے بعض شرطوں کو قانون یارواج کی حیثیت دے دینا اصول کے بھی خلاف ہے اور عملاً بھی اس سے بہت سی خرابیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو بات تجربے سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ بالعموم کامیاب ازدواجی رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں فریقین نے باہمی اعتماد پر معاملہ کیا ہو اور طرح طرح کی شرطوں سے ایک دوسرے کو باندھنے کی کوشش نہ کی ہو۔ شرطوں کی بندشیں عام طورپر الٹی خرابی پیدا کرتی ہیں۔ کیوں کہ ان کی بدولت رشتے کا آغاز ہی بے اعتمادی سے ہوتاہے۔ مصنوعی شرطوں کو رائج کرنے کے لیے صرف یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ اسلام اور اصول اخلاق کے خلاف نہیں ہیں۔ کسی چیز کے خلافِ اسلام اور خلافِ اخلاق نہ ہونے سے یہ تو لازم نہیں آتاکہ اسے ضرور کرنا چاہیے۔
سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کیا عدالتیں ایسی شرطوں کے ایفاء پر حکماً مجبور کرسکتی ہیں جو معاہدہ ازدواج میں درج ہوں اور خلافِ اسلام واخلاق نہ ہوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کی مقرر کردہ شرطوں کے سوا جتنی شرطیں بھی معاہدہ ازدواج میں درج کی گئی ہوں انہیں نافذ کرتے وقت عدالت کو صرف یہی نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ خلاف اسلام واخلاق نہیں ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ طرفین کے انفرادی حالات میں وہ معقول اور منصفانہ بھی ہیں۔
سوال : کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ از روئے قانون یہ تسلیم کیا جائے کہ معاہدہ ازدواج میں یہ شرط ہوسکتی ہے کہ عورت کو بھی اعلانِ طلاق کا وہی حق حاصل ہوگا جو مرد کو حاصل ہے؟
جواب : اگر ایجاب وقبول کے وقت عورت یہ کہے کہ میں اپنے آپ کو تیرے نکاح میں اس شرط کے ساتھ دیتی ہوں کہ جب چاہوں اپنے اوپر طلاق واردکرنے کی مختار ہوں گی، اور مرد اسے قبول کرلے تو قانوناً اس شرط کو صحیح تسلیم کیا جاسکتاہے۔ یہ صورت تفویضِ طلاق کی ہے اور فقہا ء نے اسے جائز رکھاہے۔ لیکن یہ یادرکھنا چاہیے کہ تفویض طلاق کا قانوناً جائز ہونا اور چیز ہے اور اسلامی معاشرے میں اسے رواج دینے کی کوشش کرنا اور چیز۔ اس کا قانونی جواز تو صرف اس بنا پر ہے کہ مرد کو شریعت نے طلاق کا جو اختیار دیاہے اسے وہ اپنی طرف سے نیابتہً یاوکالۃً جسے چاہے سونپ سکتاہے اور عورت کو بھی وہ تفویض کرسکتاہے۔ لیکن اس کی ترویج اور ہرمعاہدۂ نکاح میں اس شرط کو شامل کرنے کی کوشش قطعاً اسلام کے منشا کے خلاف ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان حقوق واختیار کا جو تناسب قائم کیاہے اس کا یہ فطری اور منطقی تقاضا ہے کہ زوجین میں سے صرف مرد ہی طلاق کا مختار ہو۔ اس نے مہر اور زمانہ عدت کا نفقہ اور چھوٹے بچوں کے زمانہ رضاعت وحضانت کا خرچ کلیتہً مرد پر ڈالا ہے، اس لیے مرد مجبور ہے کہ طلاق کا اختیار استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے، کیونکہ اس کا پورا مالی نقصان اسی کو برداشت کرنا ہوگا۔ بخلاف اس کے عورت پر کوئی ذمہ داری اس نے عائد نہیں کی ہے بلکہ طلاق کے نتیجے میں اسے کچھ لینا ہی ہوتاہے، دینا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اختیارِ طلاق کے استعمال میں سخت بے احتیاطی کرسکتی ہے، بلکہ ذراسے اشتعال پر بھی بے تکلف طلاق دے سکتی ہے۔ ان وجوہ سے عورت کی طرف اس اختیار کو منتقل کردینا اس اسکیم کے بالکل خلاف ہے جو اسلام نے اپنے ازدواجی قانون میں پیشِ نظر رکھی ہے۔ اس غلط طریقے کو اگر رائج کیا گیا تو معاشرے میں اس کے بہت برے نتائج رونماہوں گے اور ہم کثرت طلاق کی ایک ایسی وباسے دوچار ہوجائیں گے جس سے اب تک ہمارا معاشرہ محفوظ رہاہے۔
سوال : ہمارے معاشرے کے بعض طبقوں میں دختر فروشی کا مکروہ رواج پایا جاتاہے۔ اس کے انسداد کے لیے آپ کے نزدیک کس قسم کا اقدام مناسب ہوگا تاکہ والدین یاولی لڑکی کو نکاح میں دیتے ہوئے رقمیں وصول نہ کرسکیں؟
جواب : یہ ایک نہایت مکروہ رسم ہے۔ اسے قانوناً جرم ٹھیرادینا چاہیے اور ان لوگوں کے لیے قید یا جرمانے کی سزا تجویز کرنی چاہیے جو لڑکیوں کو اس طرح فروخت کرتے ہیں۔
سوال : کیا آپ کے نزدیک مناسب ہوگا کہ ایک معیاری نکاح نامہ مرتب کیا جائے اور نکاح کے تمام اندراجات اس کے مطابق ہوں؟
جواب : یہ عین مناسب ہے۔ ماہرین فقہ کے مشورے سے اس طرح کا ایک نکاح نامہ ضرور مرتب ہونا چاہیے، بلکہ اس کے ساتھ ازدواجی قانون کے ضروری احکام بھی منسلک ہونے چاہئیں جن کے نہ جاننے کی وجہ سے لوگ بالعموم غلطیاں کرتے ہیں۔
طلاق
سوال : اگر کوئی شوہر بیک وقت تین طلاقیں دے تو کیا آپ کے نزدیک اسے قطعی مغلظہ شمار کیا جائے یا تین طہروں میں تین طلاقوں کے اعلان کے بغیر جیسا کہ قرآن میں ہدایت کی گئی ہے، یہ مغلظہ شمار نہ ہو؟
جواب : ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ تین طلاق اگر بیک وقت دیے جائیں تو وہ تین ہی طلاق شمار ہوںگے۔ اور میرے نزدیک یہی صحیح تربات ہے، اس لیے میں یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ اس قاعدے میں کوئی تغیر کیا جائے۔ لیکن یہ امر مسلم ہے کہ ایسا کرنا گناہ ہے کیوں کہ یہ اس صحیح طریقے کے خلاف ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے طلاق دینے کے لیے سکھایاہے۔ اس لیے اس غلط طریقے کی روک تھام ضرور ہونی چاہیے۔ میری رائے میں اس غرض کے لیے حسبِ ذیل تدابیر مناسب ہوں گی:
( ا ) مسلمانوں کو عام طورپر طلاق کے صحیح طریقے سے واقف کرایا جائے، اس کی حکمتیں اور اس کے فوائد سمجھائے جائیں، اور اس کے مقابلے میں طلاقِ بدعی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے، نیز یہ بھی بتایا جائے کہ اس غلط طریقے سے طلاق دینے والا گناہ گار ہوتاہے۔ یہ چیز تعلیم کے نصاب میں بھی شامل ہونی چاہیے، ریڈیو اور پریس کے ذریعہ سے بھی نشر ہونی چاہیے، اور نکاح ناموں کے ساتھ جو احکام منسلک ہوں ان میں بھی اسے درج ہونا چاہیے۔
(ب) دستاویز نویسوں کو حکماً تین طلاق کی دستاویز لکھنے سے منع کردیاجائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانہ کردیاجائے۔
(ج) بیک وقت تین طلاق دینے والوں کے لیے بھی سزائے جرمانہ مقرر کردی جائے۔ اس کے لیے ہمارے پاس حضرت عمرؓ کے عمل کی نظیر موجود ہے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب کبھی مجلس واحد میں تین طلاق دینے کا مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوتا وہ طلاق کو نافذ کرنے کے ساتھ طلاق دینے والے کو سزا بھی دیتے تھے۔
سوال : کیا طلاقوں کا رجسٹری کرانا لازمی قراردیا جائے؟
جواب : طلاق کی رجسٹری کا انتظام تو ضرور ہونا چاہیے مگر وہ صرف اختیاری ہونی چاہیے۔ لازم قراردینے میں متعدد قباحتیں ہیں۔ عدالتوں میں ہر اس طلاق کو تسلیم کیا جانا چاہیے جس کی شہادت بہم پہنچے، یا طلاق دینے والا جس کا اقرار کرے قطع نظر اس سے کہ وہ رجسٹری شدہ ہو یا نہیں۔
سوال : اگر طلاق کی رجسٹری نہ ہو تو آپ کے نزدیک اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟
جواب : رجسٹری نہ کرانے کے لیے کسی سزا کی حاجت نہیں۔
سوال : کیا مختلف علاقوں کے لیے مصالحتی مجالس مقرر کی جائیں اور کسی طلاق کو اس وقت تک صحیح تسلیم نہ کیا جائے جب تک کہ فریقین ان مجالس کی طرف رجوع نہ کرچکے ہوں جن میں زوجین کے خاندانوں کی طرف سے بھی ایک ایک حکم شامل ہو؟
جواب : اس طرح کی مصالحتی مجالس تو ضرور قائم ہونی چاہئیں، اور عدالتوں کے لیے بھی یہ قاعدہ مقرر کرنا چاہیے کہ وہ ازدواجی نزاعات کا فیصلہ کرنے سے پہلے قرآن مجید کے مقرر کردہ طریقہ تحکیم پر عمل کریں، لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کہ جس طلاق کا معاملہ مصالحتی مجالس یا خاندانی حکموں کے سامنے نہ گیا ہو اس کو سرے سے تسلیم ہی نہ کیاجائے۔ شریعت کی رو سے ہر وہ طلاق واقع ہوجاتی ہے جس میں طلاق کے ارکان وشروط پائے جائیں۔ اس کے وقوع کی شرائط میں شرعاً یہ چیز شامل نہیں ہے کہ آدمی کسی حکم یا مصالحتی مجلس سے رجوع کرے۔ اب اگر ایسی طلاق کو جو شرعاً واقع ہوچکی ہو، عدالتیں تسلیم نہ کریں تو لوگ سخت پیچیدگی میں پڑجائیں گے اور یہ قاعدہ اسلامی شریعت سے متناقض ہوجائے گا۔
سوال : کیا ’’ازدواجی وعائلی عدالت‘‘ کو مطلقہ کے مطالبے پر یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ مطلقہ کو تاحین حیات یا تاعقدِ ثانی نفقہ دلوائے؟
جواب : یہ بات شریعت کے خلاف بھی ہوگی اور انصاف کے خلاف بھی۔ قرآن اور حدیث میں وہ صورتیں معین کردی گئی ہیں جن میں ایک مطلقہ عورت طلاق دینے والے شوہر سے نفقہ پانے کی حق دار ہوتی ہے اور یہ بھی طے کردیا گیا ہے کہ ان مختلف صورتوں میں وہ کتنی مدت کے لیے حق دار رہتی ہے۔ تاحین حیات تاعقدِ ثانی نفقہ پانے کا استحقاق اس شرعی ضابطے کے خلاف ہوگا۔ اور عقل بھی یہ نہیں مانتی کہ ایک شخص جو ایک عورت کو طلاق دے چکا ہے اور جو اس سے اب کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کا حق دار نہیں ہے، مدت العمر یا تاعقدِ ثانی اس کے مصارف کا بار اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔ یہ چیز خود عورتوں کی اخلاقی پوزیشن کو بھی گرادینے والی ہے۔ میں نہیں سمجھتاکہ کوئی خود دار اور شریف عورت یہ بات کبھی گوارا کرسکتی ہے کہ وہ ایک غیرشخص سے، جس کی بیوی وہ نہیں رہی ہے اپنے مصارف کی کفالت کرائے۔ ایسا ضابطہ اپنے قوانین میں درج کرکے ہم اپنے معاشرے کے طبقہ اناث کی عزت پر بری طرح حرف لائیں گے، اور اس کا فائدہ صرف وہ چند عورتیں ہی اٹھائیں گی جو اپنے وقار کی بہ نسبت مال کو زیادہ اہمیت دینے والی ہوں۔
عورت کی طرف سے مطالبۂ طلاق
سوال : کیا آپ ڈیسو لیوشن آف میرج ایکٹ ۱۹۳۹ء (انفساخ نکاح مسلمین ۱۹۳۹ء) کی تمام دفعات کو جامع اور تشفی بخش سمجھتے ہیں یا آپ کے نزدیک اس میں اضافہ وترمیم ہونی چاہیے؟
جواب : مذکورہ ایکٹ میرے سامنے نہیں ہے اس لیے میں اس پر کوئی اظہار رائے نہیں کرسکتا۔ اچھا ہوتا کہ اس سوال نامے کے ساتھ اس ایکٹ کی نقل بھی شامل ہوتی۔
سوال : کیا آپ کے نزدیک یہ مناسب ہوگا کہ خلع کے متعلق مجلس آئین ساز واضح اور غیر مبہم قانون وضع کرے؟
جواب : مناسب یہ ہوگا کہ صرف خلع ہی کے متعلق نہیں بلکہ تمام ازدواجی معاملات کے متعلق اسلامی احکام ایک کتابچہ کی صورت میں مدون (Codify)کردیے جائیں اور اس غرض کے لیے علماء اور تجربہ کار قانون دانوں کی ایک کمیٹی بنادی جائے۔
تعدّد ازواج
سوال : قرآن کریم میں تعدد ازواج کی بابت ایک ہی آیت (۴:۴) ہے جو حقوق یتامیٰ کی حفاظت کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیا آپ کے نزدیک جہاں حقوق یتامیٰ کا سوال نہ ہو وہاں تعدد ازواج کو ممنوع کیا جاسکتاہے؟
جواب : یہ خیال غلط ہے کہ قرآن مجید کی مذکورہ آیت کا حکم حقوق یتامیٰ کی حفاظت کے ساتھ وابستہ ہے اور یہ رائے بھی غلط ہے کہ جہاں حقوق یتامیٰ کا سوال نہ ہو وہاں تعدد ازواج کو ممنوع کیاجاسکتاہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مثالیں ایسی موجود ہیں جن میں ایک حکم بیان کرنے کے ساتھ ان حالات کا بھی ذکر کیا گیاہے جن میں اس حکم کے بیان کی حاجت پیش آئی ہے، یا جن میں اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے، یا جن سے وہ حکم متعلق ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا اور کسی قانون داں آدمی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس سے یہ نتیجہ نکالے گا کہ ایسا ہر حکم صرف انہی حالات کے ساتھ ’’وابستہ‘‘ ہے جن کا ذکر کردیا گیاہے، اور دوسرے تمام حالات میں اس حکم پر عمل کرنا یا اس اجازت سے فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔ مثال کے طورپر سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۳ ؍میں فرمایا گیاہے کہ ’’اگر تم سفر پر ہو اور (قرض کی دستاویز لکھنے کے لیے) تم کو کاتب نہ ملے تو پھر رہن باقبضہ ہونا چاہیے۔‘‘ کیا قانون کی سمجھ رکھنے والا کوئی آدمی اس کا یہ مطلب لے سکتاہے کہ اسلامی شریعت میں رہن بالقبض کا جواز صرف سفر اور کاتب نہ ملنے کی حالت کے ساتھ وابستہ ہے؟ اسی طرح سورۂ نساء کی آیت ۲۳ میں جن عورتوں کے ساتھ نکاح حرام کیا گیاہے ان میں سوتیلی بیٹی کی حرمت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:’’اور تمہاری وہ پروردہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں ہیں تمہاری ان بیویوں سے جن کے ساتھ تم ہم بستر ہوچکے ہو۔‘‘ کیا اس کا یہ مطلب لیا جاسکتاہے کہ سوتیلی بیٹی کی حرمت صرف اس حالت کے ساتھ وابستہ ہے جب کہ اس نے سوتیلے باپ کے گھر میں پرورش پائی ہو؟ ان مثالوں سے یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ تعدد ازواج کی اجازت جس آیت میں بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ حقوقِ یتامیٰ کی حفاظت کا ذکر کرنے کا مقصد اس اجازت کو صرف اسی حالت کے ساتھ وابستہ کردینا نہیں ہے جب کہ یتامیٰ کا کوئی معاملہ درپیش ہو۔ بلکہ اگر اس موقع ومحل کو دیکھا جائے جس میں یہ آیت آئی ہے تو نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلتاہے۔ تعدد ازواج اس آیت کے نزول سے پہلے عرب میں رائج تھا، نبی ﷺ خود متعدد بیویاں رکھتے تھے، اور بکثرت صحابہ کرامؓ کے گھروں میںایک سے زائد بیویاں تھیں۔ قرآن میں اس کی کوئی ممانعت نہ آنا بجائے خود اس رواج کے جواز کے لیے کافی دلیل تھا۔ اس لیے یہ آیت دراصل تعدد ازواج کی اجازت دینے کے لیے نازل ہی نہیں ہوئی تھی، بلکہ جنگِ احد کے بعد اس کے نزول کا مقصد مسلمانوں کو یہ رہنمائی دینا تھا کہ جنگِ احد کے نتیجے میں بہت سے لوگوںکی شہادت سے یتامیٰ کی پرورش کا جو مسئلہ پیدا ہوگیاہے۔ اس پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، اس مسئلے کو تم لوگ تعدد ازواج کے طریقے سے حل کرسکتے ہو جو پہلے ہی سے تمہارے لیے جائز ہے۔ اس طرح اس آیت نے کوئی نئی اجازت نہیں دی ہے بلکہ پہلے سے جو اجازت عملاً چلی آرہی تھی اس سے ایک خاص اجتماعی مسئلے کو حل کرنے میں مدد لینے کی تلقین کی ہے۔ البتہ نئی بات اس میں صرف یہ تھی کہ پہلے تعدد ازواج غیر مقید تھا، اور اب اس کو زیادہ سے زیادہ چار کی حد کے ساتھ مقید کردیا گیا۔ اس پس منظر سے جو شخص واقف ہو وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہیں پڑسکتا کہ اس آیت میں تعدد ازواج کی پہلی مرتبہ اجازت دی گئی تھی اور اس اجازت کو صرف اس حالت کے ساتھ وابستہ کردیا گیا تھا جب کہ یتامیٰ کے حقوق کی حفاظت کے لیے اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پیش آئے۔
سوال : کیا آپ کے نزدیک یہ لازمی ہونا چاہیے کہ عقد ثانی کا ارادہ رکھنے والا شخص عدالت سے اجازت حاصل کرے؟
جواب : شریعت نے عقد اول اور عقدِ ثانی وثالث ورابع میں کوئی فرق نہیں کیاہے۔ ان سب کی کھلی اجازت ہے۔ اگر عقد اول کسی عدالت کے ساتھ مشروط نہیں ہوسکتا تو ثانی کیا، ثالث ورابع بھی نہیں ہوسکتا۔ اس طرح کی تجویز صرف اسی صورت میں قابلِ غور ہوسکتی ہے جب کہ پہلے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ایک سے زائد نکاح کرنا ایک برائی ہے جس کو اگر روکا نہ جاسکے تو کم از کم اس پر پابندیاں ہی عائد ہونی چاہیے۔ یہ نقطۂ نظر رومن لاء کے فلسفۂ قانون کا ہے نہ کہ اسلام کے فلسفۂ قانون کا۔ اس لیے اسلامی قانون کی بحث میں ایسی تجویزیں لانا جن کا بنیادی تصور ہی اسلام کے تصور سے مختلف ہو اصولاً بالکل غلط ہے۔
سوال : کیا آپ کے نزدیک یہ قانون ہونا چاہیے کہ عدالت یہ اجازت اس وقت تک نہیں دے سکتی جب تک اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ درخواست دہندہ دونوں بیویوں اور ان کی اولادکی اس معیارِ زندگی کے مطابق کفالت کرسکتاہے جس کے وہ عادی ہیں؟
جواب : اوپر کے جواب کے بعد یہ سوال آپ سے آپ خارج از بحث ہوجاتاہے۔ تاہم مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس تجویز کی بعض کمزوریوں کی طرف اشارہ کردیاجائے۔ اس میں یہ خیال پیش کیاگیاہے کہ عدالت عقدِ ثانی کی اجازت صرف اس صورت میں دے جب کہ ایک شخص دوبیویوں اور ان کی اولاد کی کفالت کرسکتاہو۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص ایک بیوی اور اس کی اولاد کی بھی کفالت نہ کرسکتاہو اسے نکاح کی کھلی چھٹی کیوں ملی رہے؟ کیوں نہ ہرشخص کے عقدِ اول کا معاملہ بھی عدالت کی اجازت سے مشروط ہو اور اس کے لیے بھی یہ قید نہ لگادی جائے کہ جب تک نکاح کا ہرخواہش مند عدالت کو اپنی مالی پوزیشن کے متعلق اطمینان نہ د لادے اس وقت تک کسی کو نکاح کی اجازت نہ دی جائے؟ پھر یہ عجیب بات ہے کہ محبت اور سنجوگ اور خاندانی زندگی کے لطف واطمینان کا ہرسوال نظر انداز کرکے صرف اس ایک سوال کو نکاح ثانی کے معاملے میں اہمیت دی گئی ہے کہ یہ کام کرنے والا دوبیویوں اور ان کی اولاد کے مالی بار کا متحمل ہوسکے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عقدِ ثانی غریب اور متوسط طبقے کے لیے تو ممنوع ہو، مگر اونچے طبقے کے لیے یہ حق پوری طرح محفوظ رہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ کمزوری اس میں یہ ہے کہ عدالت صرف یہ دیکھ کر ایک شخص کو نکاح ثانی کی اجازت دے دے گی کہ وہ دوبیویوں اور ان کی اولاد کا متکفل ہوسکتاہے، حالانکہ محض متکفل ہوسکنا عملاً متکفل ہونے کے لیے کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ہمارے سامنے بکثرت مثالیں ایسے لوگوں کی موجود ہیں جو بڑی بڑی آمدنیاں رکھتے ہیں اور ایک بیوی کو نذرِ تغافل کیے رکھتے ہیں۔ عدالتوں کی اجازت کی قید ان خرابیوں کا آخر کیاسدِ باب کرتی ہے؟ ایسی خام تجویزوں کے بجائے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم شریعت کے اس قاعدے ہی پر اکتفا کریں کہ ایک شخص ایک سے زائد نکاح کرنے کے معاملہ میں اپنی مرضی کا مختار ہو اور جس بیوی کو بھی اس سے کسی نوع کی بے انصافی کا شکوہ ہو اس کی دادرسی کے لیے عدالت کا دروازہ کھلا رہے۔
سوال : کیا یہ قانون ہونا چاہیے کہ دوسری شادی کرنے لے کی کم از کم نصف تنخواہ پہلی بیوی اور اس کی اولاد کو عدالت دلوائے؟
اور جب لوگ تنخواہ دار نہیں بلکہ دوسرے ذرائع آمدنی رکھتے ہیں ان سے عدالت ضمانت لے کہ وہ اپنی آمدنی کا کم از کم نصف پہلی بیوی اور اس کی اولاد کو دیتے رہیں گے؟
جواب : یہ تجویز بالکل غلط ہے۔ ایک آدمی لازماً صرف اپنے ہی بال بچوں کا کفیل نہیں ہوتا، بلکہ والدین ، چھوٹے بہن بھائی اور دوسرے مستحق اعزہ بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن کی انہیں خدمت اور کفالت کرنی ہوتی ہے۔ اس صورت میں یہ ضابطہ بنادینا کہ دوسری شادی کرنے والے کی کم از کم نصف آمدنی ضرور پہلی بیوی کو دلوائی جائے سراسر بے انصافی ہے۔ پھر اگر پہلی بیوی بے اولاد اور دوسری صاحبِ اولاد، تو یہ کس اصول انصاف کا تقاضا ہے کہ شوہر کی آدھی آمدنی بے اولاد بیوی کے لیے مخصوص کردی جائے اور دوسری بیوی اولاد سمیت بقیہ نصف میں گزرکرے؟ شریعت ایسے اندھے ضابطے بنانے کے بجائے یہ قاعدہ مقرر کرتی ہے کہ بیویوں کے درمیان شوہر خود عدل کرے، اور اگر کسی بیوی کی طرف سے بے انصافی کی شکایت عدالت میں آئے تو قاضی اس خاندان کے حالات کو دیکھ کر مناسب صورت تجویز کردے۔
مہر
سوال : کیا آپ کے نزدیک یہ قانون بن جانا چاہیے کہ معاہدۂ ازواج میں جو مہر مقرر کیاگیاہے خواہ اس کی مقدار کتنی ہی کثیر کیوں نہ ہو وہ شوہر کے لیے واجب الادا ہے؟
جواب : مہر تو شرعاً ہے ہی واجب الادا چیز۔ اس کے لیے الگ قانون بنانے کی کیا حاجت ہے؟ البتہ اگر اس کا مطلب ایسا قانون بناناہے کہ ہرمقدار مہر لازماً ہرحال میں واجب الادا ہو، تو یہ قرآن کے بھی خلاف ہے اور عقل وانصاف کے بھی خلاف۔ قرآن عورت کو مہر معاف کرنے کا حق بھی دیتاہے، اور مہر میں کمی قبول کرنے کا حق بھی۔ نیز اگر مہر شوہر کی حیثیت سے بہت زیادہ ہو، یا بعد میں کسی وقت شوہر کے مالی حالات ایسے ہوجائیں کہ وہ کسی طرح ایک گراں قدر مہر ادا کرنے کے قابل نہ رہے، یا کسی عقد نکاح میں ایسا مہر بندھوالیا گیاہو جسے کوئی شخص بھی معقول نہ تسلیم کرسکتاہو، تو ایسی صورتوں میں عدالت یا پنچوں کے لیے مناسب رقم پر راضی نامہ کرادینے کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔
سوال : کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ مطالبۂ مہر کے لیے ازروئے قانون کسی مدت کی تحدید نہ ہو؟
جواب : مہر کی وصولی کے لیے مدت کا تعین اور عدم تعین فریقین کی باہمی قرار داد پر منحصر ہے۔ اس معاملے میں قانون کو کسی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
سوال : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر نکاح نامے میں ادائے مہر کی صورت کاکوئی تعین نہ ہو تو نصف مہر معجل (عند الطلب) اور نصف غیرموجل (بعد انفساخ نکاح یا وفات شوہر یا بصورت طلاق) شمار ہو؟
جواب : ایسی صورت میں سارا مہر عندالمطالبہ واجب الادا ہونا چاہیے۔البتہ اگر عدالت یہ دیکھے کہ مقدار مہر فی الواقع شوہر کی حیثیت سے بہت زیادہ رکھی گئی ہے تو وہ انصاف کو ملحوظ رکھ کر ادائیگی مہر کے لیے کوئی مناسب صورت تجویز کرسکتی ہے۔ اس معاملہ میں قانون بناکر عدالتوں کے ہاتھ باندھ دینا ٹھیک نہیں ہے۔
حضانت ـــــپرورش
سوال : موجودہ قانون کی رو سے بچوں کی حضانت کا حق ماں کو خاص عمروں تک حاصل ہے۔ یعنی لڑکا ہو تو سات سال، اور لڑکی ہوتو بلوغ تک۔ حضانت کے لیے عمروں کا یہ تعین نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی حدیث میں، بلکہ یہ بعض فقہاء کا اجتہاد ہے۔ کیا آپ کے نزدیک اس میں کوئی ترمیم ہوسکتی ہے؟
جواب : اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ بچوں کا مفاد ہردوسری چیز پر مقدم ہے۔ ہرانفرادی مقدمے میں حالات کو دیکھتے ہوئے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ماں اور باپ میں سے جس کی حضانت بھی زیادہ موزوں نظر آئے اسے ترجیح دی جائے۔ کسی ایک کے حق میں قانون بنادینا مناسب نہیں ہے۔ البتہ قانوناً یہ لازم ہونا چاہیے کہ جس فریق کی حضانت میںبھی بچے دیے جائیں وہ دوسرے فریق سے ان کے ملنے میں مزاحم نہ ہو۔ مشہور فقہاء میں سے علامہ ابن تیمیہ اور ابن قیم کی رائے بھی وہی ہے جو میں نے اوپر عرض کی ہے۔
بیوی بچوں کا گزارہ
سوال : کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ کوئی شوہر کسی معقول وجہ کے بغیر بیوی کو گزارہ نہ دے تو بیوی کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ خاص ’’ازدواجی وعائلی عدالت‘‘ میں اس پر دعویٰ دائر کرسکے؟
جواب : جی ہاں!
سوال : موجودہ کریمنیل پروسیجر کوڈ (ضابطہ فوجداری) کی دفعہ ۴۸۸ کے مطابق بیوی عدالت فوجداری میں نفقے کا دعویٰ کرسکتی ہے لیکن عدالت فوجداری زیادہ سے زیادہ سوروپے ماہانہ دلواسکتی ہے۔ کیا آپ اس مقدار کے اضافے کے حق میں ہیں؟
جواب : جی ہاں! عدالت کو یہ حق ہونا چاہیے کہ زوجین کی حیثیت کے مطابق نفقہ دلوائے۔ کسی خاص مقدار کا تعین ازروئے قانون کردینا مناسب نہیں۔
سوال : کیا آپ اس تجویزکے حق میں ہیں کہ ایک بیوی گزشتہ تین سال تک کے نفقے کا مطالبہ کرسکے؟
جواب : تین سال کی قید صحیح نہیں ہے۔ جب سے شوہر نے بیوی کو نفقہ سے محروم کررکھا ہو اسی وقت سے اس کا نفقہ دلوانا چاہیے۔
سوال : کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ اگر بیوی نے نکاح نامے میں میعاد نفقہ کے متعلق خاص شرط لکھوالی ہوتو اسے محض مدت عدت تک ہی نہیں بلکہ مدت مشروطہ تک نفقہ ملے؟
جواب : نکاح کے وقت اکثر ایسا ہوتاہے کہ برادری اور خاندان کے دباؤ سے، یا لحاظ مروت کی بنا پر غیرمعقول شرائط تسلیم کرلی جاتی ہیں۔ اس طرح کی شرطوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔ نفقہ کا جائز حق ایک عورت کو جس حد تک حاصل ہے اس سے زیادہ کی کوئی شرط اگر معاہدہ نکاح میں لکھوالی گئی ہو تو اسے از روئے قانون نافذ نہیں ہونا چاہیے۔
تولیت املاک
وال : کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ باپ کی عدم موجودگی میں عدالت ماں کو بچوں کی املاک کی متولیہ قراردے بشرطیکہ عدالت کے نزدیک اس کا تقرر بچوں کی بہبود اور املاک کے تحفظ کے منافی نہ ہو؟
جواب : یہ اس صورت میں ہونا چاہیے جب کہ بچوں کے مفاد کی حفاظت کے لیے ماں کو متولی بنانا ضروری ہو، مثلاً خاندان میں کوئی ایسا مرد موجود نہ ہو جو متولی بن سکتاہو، یا موجود تو ہو مگر اس کے ہاتھ میں تولیت دینے سے بچوں کے مفاد کو خطرہ ہو۔
سوال : کیا آپ یہ قانون بنانے کے حق میں ہیں کہ نابالغوں کی املاک کے متولی کو یہ اختیار حاصل نہ ہو کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر املاک کو فروخت یارہن کرسکے؟
جواب : یہ تجویز بالکل مناسب ہے۔
وراثت اور وصیّت
سوال :(۱) کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ اگر پاکستان کے کسی حصے میں ابھی تک وراثت اور وصیت کے بارے میں شرعی قوانین پر عمل نہیں ہورہاتو بلا تاخیر قانون وضع کیا جائے کہ اس بارے میں شرعی قوانین ہرحصہ ملک پر عائد ہوں؟
(۲) موجودہ قانونی ضابطے کی پیچیدگی کے پیش نظر عورتوں کی مجبوریوں کو رفع کرنے کے لیے کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ جب کبھی وراثت کے معاملے میں عورت مدعیہ ہوتو معمولی سول کورٹ اس کا مقدمہ عجلت انفصال کے لیے ازدواجی وعائلی عدالت میں منتقل کردے؟
جواب : دونوں تجویزیں مناسب ہیں۔
سوال :کیا قرآن کریم میں کوئی نصِ صریح موجود ہے یا کسی صحیح حدیث میں یہ تعلیم ملتی ہے کہ یتیم پوتے، پوتی یا نواسے نواسی کو بہرحال محروم الارث کردیا جائے؟
جواب : یہ مسئلہ ان اصولی احکام سے خود بخود نکلتاہے جو قرآن وحدیث میں تقسیم میراث کے متعلق دیے گئے ہیں۔ اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ردو بدل کرکے یتیم پوتے پوتی یا نواسے نواسی کو وارث بنانے کی جو صورت بھی تجویز کی جائے اس سے قانون میراث کا وہ سارا نظام درہم برہم ہوجاتاہے جو قرآن وسنت کے اصولی احکام پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام شروع سے آج تک اس پر متفق رہے ہیں۔ یہاں چوں کہ اس مسئلے کی پوری توضیح ممکن نہیں ہے اس لیے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ جماعت اسلامی کے شائع کردہ پمفلٹ ’’پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘‘ صفحہ ۹تا ۴۰ ملاحظہ فرمائیں۔ اس کی ایک کاپی اس جواب کے ساتھ ارسال کی جارہی ہے۔
سوال : کیا ایساقانون بنانا جائز ہوگا کہ ایک مسلمان کسی جائیداد کو کسی کے نام اس شرط پر منتقل کردے کہ جسے منتقل کی گئی ہے اس کی وفات کے بعد وہ جائیداد منتقل کرنے والے یا اس کے ورثاء کی طرف عود کرآئے گی؟
جواب : اسلامی فقہ میں اس کے لیے ’’عمریٰ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اور اس کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا مذہب یہ ہے کہ جو جائداد اس طرح منتقل کی گئی ہو وہ پھر منتقل کرنے والے یا اس کے ورثاء کی طرف عود نہیں کرسکتی خواہ انتقال کی دستاویز میں صریح طورپر یہ شرط درج ہی کیوں نہ کردی گئی ہو کہ وہ معمر کی وفات کے بعد معمر یا اس کے ورثاء کو واپس مل جائے گی۔ بخلاف اس کے امام مالکؒ کہتے ہیں کہ جو جائداد معمر کو صرف حین حیات کے لیے دی گئی ہو وہ آپ سے آپ اس کی وفات کے بعد معمر یا اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہوجائے گی الاّ یہ کہ معمر نے تصریح کردی کہ وہ اسے اور اس کے وارثوں کو دی گئی ہے۔ اس بارے میں احادیث زیادہ تر پہلے ہی قول کے حق میں ہیں اور غائر نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہی قول صحیح ہے۔ جس جائداد کے ساتھ ایک شخص کا مفاد صرف حین حیات تک وابستہ ہو وہ آخر عمر میں آکر اس سے دلچسپی لینا چھوڑدیتاہے اور اس کی اولاد بھی جانے والی چیز سے غفلت برتنے لگتی ہے۔ اس طرح حین حیات کا ہبہ ضیاع مال کا موجب ہوتاہے، اور جب اصل مالک یا اس کی اولاد کو جائداد تباہ شدہ حالت میں ملتی ہے تو اسے بھی شکایت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے شریعت کا منشایہ ہے کہ ہبہ کیا جائے تو مستقل طورپر کیا جائے ورنہ حین حیات کے ہبہ سے نہ کرنا بہتر ہے۔ اس منشا کی توضیح اس حدیث سے ہوتی ہے کہ اَمْسِکُوْا عَلَیْکُمْ اَمْوَالَکُمْ وَلَاتُفْسِدُوْھَا، فَمَنْ اَعْمَرَ عُمْریٰ فَھِیَ لِلَّذِیْ اُعْمِرَ حَیًّا وَّمَیِّتًا وَلِعَقِبِہٖ (احمد، مسلم) ’’اپنے اموال اپنے ہی پاس رکھو اور ان کو برباد نہ کرو۔ جو شخص کسی کو حین حیات کے لیے کچھ دے تو وہ چیزاس کی ہے جس کو وہ دی گئی، اس کی زندگی میںبھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی، اور وہ اس کے بعد اس کے پس ماندوں کے پاس رہے گی۔‘‘
سوال : کیا آپ کی رائے میں وقف علی الاولاد ایکٹ ۱۹۱۳ء میں بغرض اصلاح اس ترمیم کی ضرورت ہے کہ وقف شدہ جائداد کے اضافۂ قیمت یادیگر مفاد کی خاطر بہ اجازتِ عدالت اسے فروخت یا تبدیل کیا جائے یا کسی اور مفید طریق پر عمل ہوسکے؟
جواب : یہ ایکٹ اگر بالکل ہی ختم کردیاجائے تو زیادہ بہتر ہے۔ مختلف اعتبارات سے یہ مضر اور پیچیدگیوں کا موجب ہے، اور اسلامی شریعت میں اس کے لیے کوئی مضبوط بنیاد بھی نہیں ہے۔
انفساخِ نکاح بذریعہ عدالت
سوال : قانون انفساخِ نکاح کے سیکشن (۲) میں جو وجوہِ انفساخ درج ہیں کیا آپ کے نزدیک ان میں اضافے یا کمی کی ضرورت ہے؟
جواب : یہ قانون میرے سامنے نہیں ہے اس لیے اس سوال کا جواب دینے سے معذور ہوں۔ بہتر ہوتا کہ سوال نامے کے ساتھ اس کی متعلقہ دفعہ بھی منسلک ہوتی۔
سوال : کیا ایسا قانون وضع ہونا چاہیے کہ اگر عورت انفساخ نکاح کا مطالبہ کرے اور عدالت کی رائے میں قصور وار شوہر ہو تو طلاق حاصل کرتے ہوئے عورت سے نہ مہر واپس دلوایاجائے اور نہ دوسری چیزیں جو خاوند اسے دے چکاہو؟
جواب : خلع کے شرعی قواعد میں اس کی گنجایش موجود ہے اس لیے میں اس تجویز کی تائید کرتاہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ شوہر کے قصور کا جدید تصور مغرب سے برآمد نہ کیا جائے بلکہ اسی تصور پر قناعت کی جائے جو اسلام میں پایا جاتاہے۔
سوال : کیا زوجین کا ایسا اختلافِ مزاج جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی ناخوش گوار ہوجائے جائز طورپر وجہ فسخ نکاح ہوسکتاہے؟
جواب : اختلاف مزاج کی صورت میں عدالت کو پہلے تحکیم کے قرآنی قاعدے پر عمل کرنا چاہیے تاکہ زوجین کے خاندان ہی کے دومعتبر آدمی اس اختلاف کو رفع کرنے کی کوشش کریں۔ پھر اگر وہ ناکام ہوجانے کی رپورٹ عدالت کو دیں تو عدالت کا کام وجوہ اختلاف کی تحقیق کرنا تو نہیں ہے، مگر یہ تحقیق اس کو ضرور کرنی چاہیے کہ آیا ان زوجین کے درمیان نباہ ممکن نہیں رہاہے۔ اس کے بعد عدالت دوشکلوں میں سے کوئی ایک شکل اختیار کرسکتی ہے۔ یاتو عورت کے حق میں خلع کا فیصلہ کرے اگر وہ اس کی طالب ہو یا شوہر کو مجبور کرے کہ وہ اسے معلق رکھنے کے بجائے طلاق دے دے۔
سوال : قانون انفساخ نکاح کے کلاز (۳)سیکشن (۳) میں سات سال کی قید کی بنا پر نکاح فسخ ہوسکتاہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس مدت میں کمی کرکے چار سال کردیا جائے؟
جواب : طویل قید کی صورت میں فسخ نکاح کا قانون کچھ صحیح نہیں ہے نیز عورت کو یہ حق دینے سے اصل مسئلہ حل بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں عورت کا مزاج یہ نہیں ہے کہ شوہر اگر لمبی مدت کے لیے قید ہوگیا تو بیوی فسخ نکاح کا مطالبہ لے کر عدالت میں پہنچ جائے۔ خصوصاً صاحب اولاد عورت تو مشکل ہی سے اس کا خیال کرسکتی ہے۔ اس لیے کثیرالتعداد عورتیں اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھائیں گی اور ان کے مصائب جوں کے توں رہیں گے۔ میرے نزدیک اس مسئلے کا صحیح حل یہ ہے کہ جیل کے قواعد میں حسب ذیل تین اصلاحات کی جائیں:
( ا ) چار سال یا اس سے کم مدت کے قیدیوں کو سال میں کم از کم دومرتبہ کم از کم پندرہ دن کے لیے پیرول پر گھر جانے کی اجازت دی جایا کرے۔
(ب) چار سال سے زیادہ مدت کے قیدیوں کو جیل میں رکھنے کے بجائے ان بستیوں میں رکھا جائے جو طویل المیعاد قیدیوں کے لیے مخصوص ہوں، اور وہاں انہیں اپنے بال بچوں کے ساتھ رہنے کا موقع دیا جائے۔
(ج) قیدیوں سے جیل میں جو کام لیاجائے اس کی اجرت بازار کی شرحوں کے مطابق ان کے حساب میں جمع کی جائے اور وہ یا اس کا ایک مناسب حصہ ان کی بیویوں اور بچوں کے نفقہ میں ادا کیا جاتارہے۔
ازدواجی اور عائلی عدالت
سوال :
(۱) کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ ہرکمشنری میں دسٹرکٹ اور سیشن جج کے مرتبے کا جج ایسی عدالتوں میں مقرر کیا جائے جہاں ازدواجی وعائلی مقدمات دائر ہوں؟
(۲) کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ ایسے مقدمات جو ازدواجی عائلی قوانین کے تحت آتے ہوں اور جہاں عورت مدعیہ ہو فقط ایسی مخصوص عدالتوں میں دائر ہوسکیں؟
(۳) کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ ایسی عدالتوں کے ضوابط موجودہ دیوانی اور فوجداری ضوابط سے الگ ہوں اور یہ قانون وضع کردیا جائے کہ ایسی عدالت ہر مقدمے کا فیصلہ تین ماہ کے اندر اندر کردے؟
(۴) کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ ایسی عدالتوں میں کورٹ فیس یا دوسرے عدالتی اخراجات نہ ہوں؟
(۵) کیا آپ اس کے حق میں ہیں کہ ایسی عدالتوں میں فریقین اپنے کسی نمایندے یا اقارب کے ذریعے پیروی کرسکیں اور کسی باقاعدہ وسندیافتہ وکیل کا ہونا لازمی نہ ہو؟
(۶) کیا آپ اس تجویز کے حق میں ہیں کہ کم از کم ایک مرد اور ایک عورت بطور مشیر جج کے ساتھ ہوں؟
(۷) کیا آپ اس کے حق میں ہیں کہ ایسی عدالت مختلف اضلاع میں باری باری سے اپنا اجلاس طلب کرے؟
(۸) کیاآپ اس کے حق میں ہیں کہ فریقین کو ایک سے زیادہ اپیل کی اجازت نہ ہو؟
(۹) کیا آپ اس حق میں ہیں کہ اپیل براہ راست ہائی کورٹ میں ہونی چاہیے اور اپیل کا فیصلہ بھی تین ماہ کے اندر ہونا چاہیے؟
جواب : نمبر ۱تا ۹ کا جواب یہ ہے کہ سب تجاویز بالکل درست ہیں۔
سوال : ایسی عدالت کے فیصلے سے واجب الادار قوم کی وصولی اور دیگر احکام کی بجا آوری کے لیے آپ کیا مناسب تجاویز پیش کرتے ہیں؟
جواب : اس کے لیے وہی طریقہ ہونا چاہیے جو عام عدالتی فیصلوں کے نفاذ اور سرکاری مطالبات کی وصولی میں استعمال ہوتاہے۔
سوال : ایسے مقدمات میں اخراجات متفرقہ کو پورا کرنے کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟
جواب : جو فریق زیادتی کرنے والا ثابت ہو، یا جس نے بیجا مقدمہ بازی کرکے عدالت اور فریق ثانی کا وقت ضائع کیا ہو اس پر مناسب خرچہ ڈالاجائے جس کا ایک حصہ فریق ثانی کو ملے اور ایک حصہ عدالت کے مصارف میں وضع کیا جائے۔ علاوہ بریں حد اعتدال سے زیادہ مقدار کے مہر کا دعویٰ اسٹامپ ڈیوٹی کے بغیر قبول نہ کیا جائے، اور مہر جتنا حد سے متجاوز ہو اسی تناسب سے اسٹامپ ڈیوٹی زیادہ بھاری لگائی جائے۔ یہ تدابیر معاشرے کی اصلاح میں بھی مددگار ہوں گی اور ان سے عدالت کا پورا خرچ نہیں تو اس کا ایک معتدبہ حصہ ضرور حاصل ہوجائے گا۔ کچھ کمی اگر رہ جائے تو اسے سرکاری خزانے سے ادا ہونا چاہیے۔ (ربیع الثانی ۱۳۷۵ھ مطابق دسمبر۱۹۵۵ء)
باب دوم ۔کتاب الحدودوالتعزیر۔فصل:۱ اسلام، جرم اور سزا جرم کے مراتب
اسلام میں سزا کی اصل روح
۱۔لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْقُسِمَتْ بَیْنَ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَوَسِعَتْھُمْ۔
’’مسلم میں عمران بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے غامدیہ کی نماز جنازہ کے موقع پر عرض کیا ،یا رسول اللہ !کیا اب اس زانیہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ آپ نے فرمایا،اس نے وہ توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو سب کے لیے کافی ہو۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا اَبُوْغَسَّانَ مَالِکُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ الْمِسْمَعِیُّ، قَالَ:نَامُعَاذٌ یعنی ابْنُ ھِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ یَحْیٰ ابْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ اَبُوْقِلاَبَۃَ اَنَّ اَبَاالْمُھَلَّبِ حَدَّثَہٗ عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ امْرأَۃً مِنْ جُھَیْنَۃَ اَتَتِ النَّبِیَّ ﷺ وَھِیَ حُبْلٰی مِنَ الزِّنَا، فَقَالَتْ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! اَصَبْتُ حَدًّا، فَاَقِمْہُ عَلَیَّ، فَدَعَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ وَلِیَّھَا، فَقَالَ:اَحْسِنْ اِلَیْھَا فَاِذَا وَضَعَتْ، فَاْتِنِیْ بِھَا، فَفَعَلَ، فَاَمَرَبِھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فَشُکَّتْ عَلَیْھَا ثِیَابُھَا ثُمَّ اَمَرَبِھَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلّٰی عَلَیْھَا۔ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ، تُصَلِّیْ عَلَیْھَا یَانَبِیَّ اللّٰہِ وَقَدْ زَنَتْ؟ قَالَ: لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْقُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِیْنَ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَوَسِعَتْھُمْ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ اس وقت زنا کی وجہ سے حاملہ تھی،اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی میں نے ایسا فعل کیاہے کہ میں حد کو پہنچ گئی ہوں لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ نبیﷺ نے اس کے سرپرست (ولی) کوبلایا اور فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ جب وضع حمل سے فارغ ہوتب میرے پاس لے آنا اس نے ایسا ہی کیا(وضع حمل اور بچے کی دودھ چھٹائی کے بعد وہ لے کر حاضر ہوا) تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے بدن کے کپڑے مضبوطی سے باندھ دیے جائیں۔ پھر حکم دیاگیا کہ اسے سنگسار کردیاجائے، تو رجم کردیا گیا۔ پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو حضرت عمرؓ بولے اے اللہ کے نبی آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے جو زنا کرچکی ہے؟ آپ نے فرمایا اس نے تو ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کو مدینہ کے ستر آدمیوں پر تقسیم کردیاجائے تو ان سب کے لیے کافی ہوجائے۔
۲۔’’بخاری میں ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص کو شراب نوشی کے جرم میں سزا دی جارہی تھی۔ کسی کی زبان سے نکلا ’’خدا تجھے رسواکرے۔‘‘ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا’’اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔‘‘ (ابوداؤد میں اس پر اتنا اوراضافہ ہے کہ) حضورؐ نے فرمایا ’’بلکہ یوں کہو’’ خدایا اسے معاف کردے، خدایا اس پر رحم کر۔ ‘‘
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، حَدَّثَنَا اَبُوْضَمْرَۃَ اَنَسٌ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اُتِیَ النَّبِیُّ ﷺ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ قَالَ:اِضْرِبُوْہُ۔۔۔ قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ : فَمِنَّا الضَّارِبُ بِیَدِہٖ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِہٖ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِہٖ۔ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:اَخْزَاکَ اللّٰہُ۔ قَالَ: لاَتَقُوْلُوْا ھٰکَذَا لاَتُعِیْنُوْا عَلَیْہِ الشَّیْطَانَ۔(۲)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایاکہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایسا ایک آدمی لایاگیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا مارو اسے۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ ہم میں سے بعض اپنے ہاتھ سے اوربعض اپنی جوتی سے اور بعض اپنے کپڑے سے مارنے لگا۔ جب وہ واپس جانے لگا توکسی نے کہا اللہ تجھے رسوا وذلیل کرے۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔بلکہ یوں کہو، الٰہی اسے معاف کردے الٰہی اس پر رحم کر۔
ابوداؤد میں اس پر اتنااور اضافہ ہے:
(۲) وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ ۔(۳)
تشریح : رجم کی سزا میں جب مجرم مرجائے تو پھر اس سے پوری طرح مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ اس کی تجہیز وتکفین کی جائے گی۔ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس کو عزت کے ساتھ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجائے گا۔ اس کے حق میں دعائے مغفرت کی جائے گی اور کسی کے لیے جائز نہ ہوگا کہ اس کا ذکر برائی کے ساتھ کرے۔
۳۔بخاری میں جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت ہے کہ جب رجم سے ماعز بن مالک کی موت واقع ہوگئی تو نبی ﷺ نے اس کو خیر سے یاد فرمایا اور اس کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔
(۳) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ جَابِرٍ، اَنَّ رَجُلاً مِنْ اَسْلَمَ جَآئَ النَّبِیَّ ﷺ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنٰی۔ وَاَعْرَضَ عَنْہُ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی شَھِدَ عَلٰی نَفْسِہِ اَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ : أبِکَ جُنُوْنٌ؟ قَالَ: لاَ، قَالَ: اُحْصِنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ فَاُمِرَ بِہِ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلّٰی فَلَمَّا اَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ، فَرَّ، فَاُدْرِکَ، فَرُجِمَ حَتّٰی مَاتَ۔ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ خَیْرًا وَصَلّٰی عَلَیْہِ الحدیث۔(۴)
ترجمہ : حضرت جابر سے روایت ہے اسلم قبیلہ کا ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور زنا کا اعتراف کیا، نبیﷺ نے اپنا منہ پھیرلیا، حتی کہ اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی۔ نبیﷺ نے اس سے دریافت فرمایا، تجھے جنون تو لاحق نہیں؟ وہ بولا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ پس پھر اسے سنگسار کرنے کا حکم صادر فرمادیا۔ اور اسے عیدگاہ میں رجم کردیا گیا۔ جب پتھر پڑنے لگے تو بھاگ کھڑا ہوا لیکن دھر لیا گیا اور رجم کردیا گیا اور وہ مرگیاتو نبی کریمﷺ نے اسے خیرسے یاد فرمایا اور اس کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔
تشریح: مندرجہ بالا احادیث سے اسلام میں سزا کی اصل روح واضح ہوجاتی ہے۔ اسلام کسی بڑے سے بڑے مجرم کو بھی دشمنی کے جذبے سے سزا نہیں دیتا بلکہ خیرخواہی کے جذبے سے دیتاہے، اور جب سزا دے چکتاہے تو پھر اسے رحمت وشفقت کی نگاہ سے دیکھتاہے۔ یہ کم ظرفی صرف موجودہ تہذیب نے پیدا کی ہے کہ حکومت کی فوج یا پولیس جسے ماردے، اور کوئی عدالتی تحقیقات جس کے مارنے کو جائز ٹھیرادے، اس کے متعلق یہ تک گوارا نہیں کیا جاتا کہ کوئی اس کا جنازہ اٹھائے یا کسی کی زبان سے اس کا ذکر خیر سناجائے۔ اس پر اخلاقی جرأت (یہ موجودہ تہذیب میں ڈھٹائی کا مہذب نام ہے) کا یہ عالم ہے کہ دنیا کو رواداری کے وعظ سنائے جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور ،حاشیہ: ۲)
اسلام کے نظام جزا و سزا کا حیرت انگیز کرشمہ
۴۔ ایک مرتبہ ایک چور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ جس نے ایک شملہ چرایا تھا۔ آپؐ نے اسے دیکھ کر فرمایا ’’میں نہیں سمجھتا کہ اس نے چوری کی ہوگی۔‘‘ ملزم نے آگے بڑھ کر عرض کیا ’’نہیں ، یا رسول اللہ میں نے چوری کی ہے‘‘ آپؐ نے اس کے اقرار کو قبول کرکے حکم دیا کہ ’’جائو، اس کا ہاتھ کاٹو، پھر میرے پاس حاضر کرو۔‘‘ چنانچہ ہاتھ کاٹنے کے بعد اسے دوبارہ حاضر خدمت کیا گیا۔ حضوؐر نے فرمایا ’’اب اللہ سے توبہ کر‘‘ اس نے کہا ’’میں نے توبہ کی‘‘ آپؐ نے فرمایا جا، اللہ نے تیری توبہ قبول کرلی۔‘‘
تخریج: نَا اَبُوعُبَیْدِ نِالْقَاسِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، نَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ، اَخْبَرَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ حُصَیْفَۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اُتِیَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَۃً، فَقَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ھٰذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذْھَبُوْا بِہِ فَاقْطَعُوْہُ، ثُمَّ احْسِمُوْہُ، ثُمَّ ائْتُوْنِیْ بِہِ، فَقُطِعَ فَاُتِیَ بِہِ فَقَالَ: تُبْ اِلَی اللّٰہِ، فَقَالَ: قَدْ تُبْتُ اِلَی اللّٰہِ قَالَ: تَابَ اللّٰہُ عَلَیْکَ۔(۵)
۵۔ ایک شخص (عمر بن سمرہ) نے حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’میں نے فلاں قبیلے کا اونٹ چرا لیا ہے۔ آپ مجھے پاک کردیں۔ حضوؐر نے اس قبیلے میں آدمی بھیج کر حقیقت حال دریافت کرائی۔ معلوم ہوا کہ فی الواقع اونٹ غائب ہے۔ اس پر آپؐ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ جب سزا اس پر نافذ کی گئی تو اس نے کہا ’شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے پاک کردیا۔‘‘ پھر اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو مخاطب کرکے کہتا ہے ’’تو مجھے دوزخ میں لے جانا چاہتا تھا، اللہ نے مجھے تجھ سے بچالیا۔ (تفہیمات دوم، ۲۳:قطع۔۔۔)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، انبأ ابْنُ لَھِیَعَۃَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَمُرَۃَ بْنِ حَبِیْبِ ابْنِ عَبْدِ شَمْسٍ جَآئَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہَ! اِنِّیْ سَرَقْتُ جَمَلاً لِبَنِیْ فُلاَنٍ۔ فَطَھِّرْنِیْ۔ فَاَرْسَلَ اِلَیْھِمُ النَّبِیُّ ﷺ، فَقَالُوْا: اِنَّا افْتَقَدْنَا جَمَلاً لَنَا، فَاَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ﷺ فَقُطِعَتْ یَدُہٗ۔ قَالَ ثَعْلَبَۃُ :اَنَا اَنْظُرُ اِلَیْہِ حِیْنَ وَقَعَتْ یَدُہٗ وَھُوَیَقُوْلُ : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ طَھَّرَنِیْ مِنْکِ اَرَدْتِّ اَنْ تُدْخِلِیْ جَسَدِی النَّارَ۔(۶)
وہ گناہ جو توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں
گناہ کی سزا پالینا ہی گناہ کا کفارہ بن جاتاہے
قانون کی زد میں آنے سے لوگوں کو بچاؤ
شریعت کی رو سے قانون کا نفاذ کس صورت میں ہوتاہے
کیا حاکمِ وقت حدودِ الٰہی میں کمی وبیشی کا مجاز ہے
ذمی اور مسلمان اسلامی عدالت کی نظر میں
۱۷۔ اَنَا اَحَقُّ مَنْ وَفیٰ بِذِمَّتِہٖ۔
’’نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کیا تو آپؐ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا اس کے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حقدار میں ہوں۔ ‘‘ (الجہاد فی الاسلام،باب پنجم،۴: ذمیوں۔۔۔)
تخریج:(۱) ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ الصَّفَّارُ، نَا الرَّمَادِیُّ ح وَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْفَارِسِیُّ، نَااِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ، قَالاَ: نَاعَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ، عَنْ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ یَرْفَعُہٗ:اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اَقَادَ مُسْلِمًا قَتَلَ یَھُوْدِیًّا وَقَالَ الرَّمَادِیُّ: اَقَادَ مُسْلِمًا بِذِمِّیٍّ، وَقَالَ:اَنَا اَحَقُّ مَنْ وَفٰی بِذِمَّتِہٖ۔(۲۵)
ترجمہ : عبدالرحمن بن بیلمان مرفوع روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہودی کے قتل کا قصاص مسلمان سے لیا۔ اور رمادی کا بیان ہے کہ آپ نے ذمی کے بدلہ میں مسلمان سے قصاص لیا، اور فرمایا کہ میں اس کے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حقدار ہوں۔
دارقطنی نے عبدالرحمن بن البیلمانی کے حوالہ سے یہ بھی بیان کیاہے:
(۲)قَالَ:قَتَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَجُلاً مِنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ بِرَجُلٍ مِنْ اَھْلِ الذِّمّۃِ، وَقَالَ:اَنَا اَحَقُّ مَنْ اَوْفٰی بِذِمَّتِہٖ۔(۲۶)
ترجمہ : عبد الرحمن بن بیلمانی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل قبلہ میں سے ایک آدمی کو اہل ذمہ کے ایک آدمی کے بدلہ میں قتل کیا اور فرمایا کہ اس کے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ میں حقدار ہوں۔
شرح معانی الآثار للطحاوی میںعبد الرحمن بن البیلمانی سے مروی روایت:
(۳)اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اُتِیَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ قَدْ قَتَلَ مُعَاھِدًا مِنْ اَھْلِ الذِّمَّۃِ، فَاَمَرَ بِہٖ فَضُرِبَ عُنُقُہٗ وَقَالَ: اَنَااَوْلٰی مَنْ وَفٰی بِذِمَّتِہٖ۔(۲۷)
ترجمہ : عبد الرحمن بن بیلمانی کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کے پاس مسلمانوں میں سے ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے اہل ذمہ میں سے ایک معاہد کو قتل کردیا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا اور اسے قتل کردیا گیا اور فرمایا کہ میں اس کے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ اولیٰ (حقدار) ہوں۔
ماخذ
(۱) مسلم ج۲کتاب الحدود، باب حد الزنا۔٭ ابوداؤد ج۲کتاب الحدود باب فی المرأۃ التی امر النبی برجمھا من جھینۃ۔٭ ترمذی ج۱ابواب الحدود باب منہ۔
(۲) بخاری ج۲کتاب الحدود باب الضرب بالجرید والنِّعَالِ۔
(۳) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود باب فی الحد فی الخمر۔
(۴) بخاری ج۲۔کتاب الحدود، باب الرجم بالمصلی۔
(۵) دارقطنی ج۳۔کتاب الحدود اور ابن کثیر ج۲ رواہ الثوری عن یزید بن خصیفۃ مرسلا۔ قال الزیلعی: کذلک رواہ ابوداؤد فی المراسیل عن الثوری بہ مرسلا ورواہ عبد الرزاق فی مصنفہ اخبرنا ابن جریج والثوری بہ مرسلا ورواہ ابوعبید القاسم بن سلام فی غریب الحدیث: حدثنا اسماعیل ابن جعفر عن یزید بن خصیفۃ بہ ایضاً مرسلا وقال : لم یسمع بالحسم فی قطع السارق عن النبی ﷺ الا فی ھذا الحدیث وقال ابن القطان فی کتابہ: ویزید بن خصیفۃ ھو منسوب الی جدہ فانہ یزید بن عبد اللہ بن خصیفۃ وھو ثقۃ بلا خلاف۔ ٭دارقطنی ج۳۔ص۱۰۲حاشیہ علی دارقطنی عن شمس الحق عظیم آبادی۔٭ یہ روایت السنن الکبریٰ للبیھقی نے ج۸۔ ص۲۷۱ پر نقل کی ہے اور ص ۲۷۶ پر بھی ہے وصلہ یعقوب عن عبد العزیز وتابعہ علیہ غیرہ وارسلہ عنہ علی بن المدینی۔
(۶) ابن ماجہ کتاب الحدود، باب ۲۴ السارق یعترف۔٭ احکام القرآن للجصاص ج۲۔ سورۃ المائدۃ۔
(۷) تفسیر ابن کثیر ج۳ سورۃ الفرقان بحوالہ طبرانی۔
(۸) تفسیر ابن جریر ج۹۔ پ۱۹ سورۃ الفرقان۔
(۹) تفسیر ابن کثیر ج۳۔سورۃ الفرقان مطبع التجاریۃ الکبریٰ مصر۔
(۱۰) بخاری ج۲کتاب الحدود، باب الحدود کفارۃ۔٭ مسلم ج۲کتاب الحدود، باب الحدود کفارات لاھلھا۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب الحدود کفارات۔٭ دارقطنی ج۳کتاب الحدود حدیث نمبر۴۰۰ عن عبادۃ۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الحدود، باب ماجاء ان الحدود کفارۃ لاھلھا۔
(۱۱) ابن ماجہ کتاب الحدود باب ۳۳ الحد کفارۃ۔ ٭ کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر ۱۲۹۶۵۔٭دارقطنی ج۳ کتاب الحدود۔٭مسند احمد ج۱ص۹۹ عن علی۔
(۱۲) شرح السنہ بحوالہ مشکوۃ باب مالا یدعیٰ علی الحدود۔ ٭دارقطنی ج۳کتاب الحدود۔٭کنز العمال ج۵۔ حدیث نمبر ۱۳۳۶۷ اور حدیث نمبر ۱۲۹۶۴۔٭مجمع الزوائد ج۶۔کتاب الحدود باب ھل تکفر الحدود الذنوب ام لا۔
(۱۳) ابن ماجہ کتاب الحدود باب ۵ الستر علی المؤمِنِ ودفع الحدود بالشبھات۔ ابراھیم بن فضل کے متعلق ابن ماجہ کے اسی باب کے تحت فی الزوائد: فی اسنادہ ابراھیم بن فضل مخزومی، ضَعَّفَہٗ احمد وابن معین والبخاری وغیرہ بھی منقول ہے۔٭ کنزالعمال ج۵۔ حدیث نمبر ۱۲۹۷۴۔
(۱۴) ترمذی ج۲۔ابواب الحدود باب فی درء الحدود۔٭سنن دارقطنی ج۳۔کتاب الحدود مطبوعہ نشر السنۃ ملتان دارقطنی میں فان وجدتم للمسلم مخرجاً کا اضافہ بھی منقول ہے۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی۔کتاب الحدود، باب ماجاء فی درء الحدود بالشبھات، عن عائشۃ۔ وقال البیھقی فی السنن روایۃ وکیع اقرب الی الصواب۔ ٭کنزالعمال ج۵۔حدیث نمبر ۲۹۷۱۔ ٭المستدرک للحاکم ج۲۔کتاب الحدود، باب ان وجدتم لمسلم مخرجا فخلوا سبیلہ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔٭فی اسنادہ یزید بن زیاد الدمشقی وھوضعیف۔ قد قال البخاری فیہ: منکر الحدیث، وقال النسائی: متروک۔
(۱۵) دارقطنی ج۳، ص۸۴ پر التعنیق المغنی لعلامہ شمس الحق عظیم آبادی٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔ کتاب الجنایات باب بیان ضعف الخبر الذی روی فی قتل المؤمن بالکافر۔ ٭کنزالعمال ج۵۔حدیث نمبر ۱۲۹۵۷، نمبر ۱۲۹۷۲۔ ابومسلم الکجی عن عمر بن عبدالعزیز مرسلا بحوالہ ابن السمعانی عن عمر بن عبدالعزیز قال الحافظ ابن حجر: وفی سندہ من لایعرف۔
(۱۶) احکام القرآن للجصاص ج۳۔سورہ نور۔
(۱۷) مؤطا امام مالک ج۲کتاب الحدود، باب ماجاء فیمن اعترف علی نفسہ بالزنا۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ والحد فیھا جماع ابواب صفۃ السوط، باب ماجاء فی صفۃ السوط والضرب۔
(۱۸) المستدرک للحاکم ج۴۔کتاب التوبۃ والانابۃ من الم فلیستتر بستر اللہ اور ج۴۔کتاب الحدود باب تعافوا الحدود بینکم۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔ کتاب الاشربۃ والحد فیھا۔٭کنز العمال ج۵۔حدیث نمبر۱۳۵۴۲ اور حدیث نمبر۱۳۵۵۷ اورحدیث نمبر ۱۴۰۰۶ اور قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ۔٭المصنف لعبد الرزاق ج۷ص۳۲۳ عن عبداللہ بن دینار۔
(۱۹) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب فی الستر علی اھل الحدود۔٭مؤطا امام مالک ج۲۔کتاب الحدود باب ماجاء فی الرجم۔٭مسند احمد ج۵۔ص۲۱۷ مؤطا نے بثوبک کی جگہ بردائک نقل کیاہے۔٭کنزالعمال ج۵۔ حدیث نمبر۱۳۵۵۷۔٭المستدرک ج۴۔ کتاب الحدود۔
(۲۰) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود باب العفو عن الحدود مالم تبلغ السلطان۔٭نسائی ج۸کتاب قطع السارق باب مایکون حرزا وما لایکون۔٭المستدرک ج۴۔کتاب الحدود۔٭کنز العمال ج۵۔ حدیث ۱۲۹۷۹۔٭دارقطنی ج۳۔کتاب الحدود۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳۔ سورۃ النور۔
(۲۱) بخاری ج۲کتاب الحدود باب کراھیۃ الشفاعۃ فی الحد اذارفع الی السلطان۔٭مسلم ج ۴۔کتاب الحدود باب قطع السارق الشریف والنھی عن الشفاعۃ فی الحدود۔٭دارمی ج۲۔کتاب الحدود باب الشفاعۃ فی الحدود دون السلطان۔ ٭ السنن الکبریٰ ج۸۔ کتاب السرقۃ۔ باب جماع ابواب القطع فی السرقۃ۔
(۲۲) نسائی ج۸کتاب قطع السرقۃ، باب الترغیب فی اقامۃ الحد۔
(۲۳) ابن ماجہ کتاب الحدود، باب ۳ اقامۃ الحدود۔
(۲۴) نسائی ج۸۔کتاب قطع السرقۃ، باب الترغیب فی اقامۃ الحد۔ ابن ماجہ کتاب الحدود، باب۳ اقامۃ الحدود۔ ٭مسند احمد ج۲۔ ص۳۶۲۔ ۴۰۲۔ عن ابی ھریرۃ ص۳۶۲ پر حَدٌّّ یُقَامُ فی الاَرْضِ خَیْرٌلِّلنَّاسِ مِنْ اَنْ یُمْطَرُوْا الخ ہے۔
(۲۵) دارقطنی ج۳کتاب الحدود۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸۔ کتاب الجنایات باب بیان ضعف الخبر الذی روی فی قتل المؤمن بالکفر۔
(۲۶) دارقطنی ج۳ ص۳۵ کتاب الحدود۔
(۲۷) شرح معانی الآثار للطحاوی ج۲، ص۱۲۵،۱۲۶۔امام بیھقی نے یہ روایت السنن الکبریٰ ج۸ص۳۰ پر بیان کرکے کہا ہے: ھذا ھوالاصل فی ھذا الباب وھو منقطع وقد روی عن ربیعۃ عن عبدالرحمن بن البیلمانی عن النبی ﷺ مرسلا۔ ٭بیھقی ج۸ص۳۱پر اخبرنا ابوبکر بن الحارث الفقیہ قال : قال ابوالحسن علی بن عمر الدار قطنی الحافظ ابن البیلمانی ضعیف لاتقوم بہ حجۃٌ اذا وصل الحدیث فکیف بما یرسلہ واللّٰہ اعلم۔
فصل:۲ قطع ید کے متعلق احکام خائن کے لیے قطع ید نہیں
۱۸۔ لاَقَطْعَ عَلیٰ خَائِنٍ۔
’’خائن کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ‘‘
تخریج :(۱) رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ لاَ قَطْعَ عَلٰی خَائِنٍ۔(۱)
(۲)حَدَّثَنَا نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ، اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوالزُّبَیْرِ:قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَیْسَ عَلَی الْخَائِنِ قَطْعٌ۔(۲)
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثَنَا عِیْسٰی ابْنُ یُوْنُسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَیْسَ عَلٰی خَائِنٍ، وَلاَ مُنْتَھِبٍ، وَلاَ مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ۔(۳) (ھذا حدیث حسن صحیح)
ترجمہ : حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا خیانت کرنے والے، لوٹنے والے اور اچک لینے والے پر قطع (ید) کی سزا نہیں ہے۔
ڈھال کی قیمت سے کم چوری پر قطع ید نہیں
۱۹۔آپ نے فرمایا کہ ایک ڈھال سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَااَبُوعَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ، اَنْبَأَ عَلِیُّ بْنُ عِیْسٰی بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، ثَنَا یُوْسُفُ ابْنُ مُوْسٰی، ثَنَا جَرِیْرٌ وَوَکِیْعٌ وَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ ھِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ یَدَالسَّارِقِ لَمْ تُقْطَعْ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ اَدْنٰی مِنْ ثَمَنِ حَجَفَۃَ اَوْتُرْسٍ، وَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا ذُوْثَمَنٍ، وَاِنَّ یَدَ السَّارِقِ لَمْ تُقْطَعْ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی الشَّیْئِ التَّافَہِ۔(۴)
ترجمہ :حضرت عروہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ڈھال کی قیمت سے کم قیمت کی چوری پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔ نیز چورکا ہاتھ آپ کے دور سعادت میں معمولی چیز کی چوری پر بھی نہیں کاٹاگیا۔
(۲)اَخْبَرَنَااَبُوْبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْاَصْبَھَانِیُّ اَنْبَأَ اَبُوْمُحَمَّدِ ابْنُ حَیَّانَ، ثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ رجَائِ ثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا مَسَرَّۃُ بْنُ مَعْبَدٍ،قَالَ:سَمِعْتُ اِسْمَاعِیْلَ بْنَ عُبَیْدِ اللّٰہِ ابْنِ اَبِی الْھَاجِرِ یُحَدِّثُ عَنْ رجَائِ ابْنِ حَیْوَۃَ عَنْ عَدِیٍّ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَطَعَ یَدَ سَارِقٍ مِنَ الْمَفْصِلِ۔(۵)
ـــــــ قَالَ وَحَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ مِثْلَہٗ۔
ترجمہ : حضرت عدی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے چور کا ہاتھ، ہاتھ اور بازو کے ملنے کی جگہ (گٹ) سے کاٹ دیا۔
(۳)حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ:اَخْبَرَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمْ تَکُنْ تُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ فِیْ اَدْنٰی مِنْ حَجَفَۃٍ اَوْتُرْسٍ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا ذُوْثَمَنٍ۔(۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ڈھال (چاہے چمڑے کی ہو یا لوہے کی دونوں قیمتی ہیں)کی قیمت سے کم کی چوری میں قطع ید کی سزا نہیں دی گئی۔
(۴) ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِیئُ، نَااَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، نَااِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَعِیْدٍ، اَنَاالْوَاقِدِیُّ، عَنْ ابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِذَا سَرَقَ السَّارِقُ فَاقْطَعُوْا یَدَہٗ، فَاِنْ عَادَ فَاقْطَعُوْا رِجْلَہٗ، فَاِنْ عَادَ فَاقْطَعُوْا یَدَہٗ، فَاِنْ عَادَ فَاقْطَعُوْا رِجْلَہٗ۔(۷)
ـــــــ کَذَا قَالَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَۃَ، وَقَالَ غَیْرُہٗ۔عَنْ خَالِدِ الْحَارِثِ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب چور چوری کرے تو اس کا پہلے ہاتھ کاٹ دو، پھر دوبارہ کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو۔ پھر سہ بار کرے تو اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دو اور اگرچوتھی مرتبہ بھی کرے تو اس کا دوسرا پاؤں بھی کاٹ دو۔
پھل اور ترکاری کی چوری میں سزا
۲۰۔ لَاقَطْعَ فِیْ ثَمَرَۃٍ وَلَاکَثَرٍ۔
’’پھل اور ترکاری کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹاجائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَاعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰ بْنِ حِبَّانَ، اَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِیًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَہٗ فِیْ حَائِطِ سَیِدِہٖ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِیِّ یَلْتَمِسُ وَدِیَّہٗ، فَوَجَدَہٗ فَاسْتَعْدیٰ عَلَی الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنُ الْحَکَمِ وَھُوَ اَمِیْرُالْمَدِیْنَۃِ یَوْمَئِذٍ،فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ، وَاَرَادَ قَطَعَ یَدِہٖ، فَانْطَلَقَ سَیِّدُ الْعَبْدِ اِلٰی رَافِعِ ابْنِ خَدِیْجٍ، فَسَأَلَہٗ عَنْ ذٰلِکَ، فَاَخْبَرَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لَاقَطَعَ فِیْ ثَمَرٍ وَلَاکَثَرٍ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ:اِنَّ مَرْوَانَ اَخَذَ غُلاَمِیْ وَھُوَ یُرِیْدُ قَطْعَ یَدِہٖ۔ وَاَنَا اُحِبُّ اَنْ تَمْشِیَ مَعِیْ اِلَیْہِ، فَتُخْبِرْہُ بِالَّذِیْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: فَمَشَی مَعَہٗ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ حَتّٰی اَتٰی مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، فَقَالَ لَہٗ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:لَاقَطْعَ فِیْ ثَمَرٍ وَلَاکَثَرٍ، فَاَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ قَالَ اَبُوْدَاؤدَ۔ اَلْکَثَرُ الْجُمَّارُ۔(۸)
ترجمہ : محمد بن یحیٰ بن حبّان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے کسی کے باغ میں سے کھجور کا پودا چوری کرکے اپنے مالک وآقا کے باغ میں لگایا۔ پودے کا مالک اس کی تلاش وکھوج میں نکلا تو اس پودے کو پالیا۔ اس شخص نے مروان بن حکم سے جو ان دنوں مدینہ کا حاکم تھا غلام کے خلاف مقدمہ درج کراکر مدد کی درخواست کی، مروان نے اس غلام کو قید کردیا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا قصد کیا۔ غلام کا مالک رافع بن خدیج کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا۔ رافع نے ان کو بتایا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سناہے کہ پھل اور ترکاری میں قطع ید کی سزا نہیں ہے۔ اس آدمی نے بتایا کہ مروان نے میرے غلام کو گرفتار کرلیاہے اب وہ اس کوقطع یدکی سزا دینا چاہتاہے۔ میری تمنا اور خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ مروان کے پاس تشریف لے چلیں اور جو کچھ آپ نے رسول اللہ ﷺسے سناہے ان کو سنادیں۔ رافع اس کے ساتھ مروان کے پاس پہنچے اور مروان سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے خود سناہے فرمارہے تھے کہ پھل اور ترکاری (کی چوری) میں قطع ید کی سزا نہیں ہے یہ سن کر مروان نے فرمان جاری کیا کہ اسے چھوڑدیاجائے۔ چناں چہ اسے چھوڑدیاگیا۔
کھانے کی چوری میں سزا
۲۱۔ لَا قَطْعَ فِیْ طَعَامِ۔
’’کھانے کی چوری میں قطع ید نہیں ہے۔‘‘
تخریج : وَرَوَی الْحَسَنُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ لَاقَطْعَ فِیْ طَعَامٍ۔(۹)
ترجمہ :کھانے کی چوری میں قطع ید کی سزا نہیں ہے۔
حقیر اشیاء کی چوری میں سزا
۲۲۔ لَمْ یَکُنْ قَطْعُ السَّارِقِ عَلیٰ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی الشَّیْئِ التَّافَہِ۔
’’عائشہؓ کی حدیث ہے،حقیر چیزوں کی چوری میں نبی ﷺ کے زمانے میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتاتھا۔ ‘‘
تخریج: رَوَتْ عَائِشَۃُ، قَالَتْ:لَمْ یَکُنْ قَطْعُ السَّارِقِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِی الشَّیْئِ التَّافَہِ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد باسعادت میں معمولی چیزوں کی چوری پر قطع ید کی سزا نہیں دی جاتی تھی۔
پہلی چوری پر کون سا ہاتھ کاٹا جائے گا
چور کا ایک ہاتھ کاٹا جائے گا اور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ پہلی چوری پر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
سرقہ کا اطلاق خیانت پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اس فعل پر ہوتاہے کہ کسی کے مال کو اس کی حفاظت سے نکال کر اپنے قبضہ میں کرلے۔
ڈھال کی قیمت عہدِ نبوی میں
بیت المال کی چوری اور جنگل میں چرتے ہوئے جانور کی چوری کی سزا
پھر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔ مثلاً نبی ﷺ کی ہدایت ہے کہ پھل اور ترکاری، کھانے اور حقیر چیزوں کی چوری میں قطع ید نہیں ہے۔ پرندے کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹنے پر حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کا فیصلہ ہے۔ نیز سیدنا عمروعلی رضی اللہ عنہما نے بیت المال سے چوری کرنے والے کاہاتھ نہیں کاٹا، اور اس معاملے میں صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہے۔ ان مآخذ کی بنیاد پر مختلف ائمہ فقہ نے مختلف چیزوں کو قطع ید کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیاہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ترکاریاں، پھل، گوشت، پکا ہوا کھانا، غلہ جس کا ابھی کھلیان نہ کیا گیا ہو، کھیل اور گانے بجانے کے آلات وہ چیزیں ہیں جن کی چوری میں قطع ید کی سزا نہیں ہے۔ نیز جنگل میں چرتے ہوئے جانوروں کی چوری اور بیت المال کی چوری میں بھی وہ قطع ید کے قائل نہیں ہیں، اسی طرح دوسرے ائمہ نے بھی بعض چیزوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیاہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ ان چوریوں پر سرے سے کوئی سزا ہی نہ دی جائے گی۔مطلب یہ ہے کہ ان جرائم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ (تفہیم القرآن ج۱، المائدہ ،حاشیہ:۶۰)
کیا حدسرقہ میں فدیہ لیا جاسکتاہے؟
۲۴۔ بنی مخزوم کی عورت کے مقدمے (چوری) کا جب حضورؐ نے فیصلہ سنایا تو اس کی قوم نے کہا ’’یارسول اللہ ہم فدیہ دینے کو حاضر ہیں۔ مگر آپؐ نے فرمایا’’ اس کا ہاتھ کاٹو‘‘ انہوں نے عرض کیا ہم پانچ سو دینار اس کے ہاتھ کے بدلے میں دیتے ہیں، آپ نے فرمایا ’’اس کاہاتھ کاٹو‘‘ جب ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو اس عورت نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ ’’یا رسول اللہ خدا کے ہاں بھی میرے بچنے کی کوئی صورت ہے؟ آپؐ نے جواب دیا ’’ہاں، اب تو اپنے گناہ سے اس طرح پاک ہوچکی ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہو۔‘‘ (تفہیمات دوم،۲۳:قطع۔۔۔)
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدِ الْمَعْنٰی، قَالاَ:ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ،اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ مَخْلَدٌ:عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَاَنَّ امْرَأَۃً مَخْزُوْمِیّۃً کَانَتْ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ فَتَجْحَدُہٗ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِھَا فَقُطِعَتْ یَدُھَا۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ مخزوم قبیلہ کی ایک عورت سامان ادھار لے کراس سے انکار کردیتی (کہ میں نے لیا ہی نہیں) نبی ﷺنے اس کے بارے میں قطع ید کا حکم صادر فرمایا چناں چہ اس کا ہاتھ کاٹ دیاگیا۔
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ،حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا حَسَنٌ، ثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ، حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ اَلْحَبَلِیِّ۔حَدَّثَہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ امْرَأَۃً سَرَقَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَجَآئَ بِھَا الَّذِیْنَ سَرَقَتْھُمْ فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ھٰذِہٖ الْمَرْأَۃَ سَرَقَتْنَا، قَالَ قَوْمُھَا: فَنَحْنُ نَفْدِیْھَا یَعْنِیْ اَھْلَھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اقْطَعُوْا یَدَھَا، فَقَالُوْا:نَحْنُ نَفْدِیْھَا بِخَمْسِ مِائَۃِ دِیْنَارٍ، قَالَ: اقْطَعُوْا یَدَھَا، قَالَ: فَقُطِعَتْ یَدُھَا الْیُمْنٰی، فَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ : ھَلْ لِّیْ مِنْ تَوْبَۃٍ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، اَنْتِ الْیَوْمَ مِنْ خَطِیْئَتِکِ کَیَوْمٍ وَلَدَتْکِ اُمُّکِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ سُوْرَۃِ الْمٓائِدَۃِ فَمَنْ تَابَ مِنْ م بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ۔(۲۱)
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عہد رسالت مآب میں چوری کی۔ جن لوگوں کی چوری کی تھی وہ اسے پکڑکر رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں لے آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اس عورت نے ہماری چوری کی ہے۔ اس کی قوم (قبیلہ کے لوگوں) نے کہا کہ ہم اس کا فدیہ دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹو۔ قبیلہ کے لوگوں نے پھر پیش کش کی کہ ہم اس کے ہاتھ کے عوض پانچ صد دینار دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹو۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر اس چور عورت کا سیدھا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ تو وہ بولی اے اللہ کے رسو ل کیا میرے لیے کسی توبہ کی صورت بھی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ آج تو اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگئی ہے جیسے تیری ماں نے تجھے ابھی جنم دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان سورہ مائدہ میں فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ اِلٰی اٰخِرِ الآیۃ ’’جس نے اپنے اوپر ظلم کے بعد توبہ کی اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی الآیہ۔‘‘
سزائے سرقہ کے بعد توبہ واستغفار
حدِ سرقہ میں سفارش
۲۶۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں قریش کی ایک عورت فاطمہ نامی کا ہاتھ کاٹنے کا آپ نے حکم دیا۔ حضرت اُسامہ بن زید نے اس کے حق میں سفارش کی۔ اس پر آپ نے فرمایا ’’خدا کی قسم اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، اَنَّ امْرَأَۃً سَرَقَتْ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غَزْوَۃِ الْفَتْحِ، فَفَزَعَ قَوْمُھَا اِلٰی اُسَامَۃَ ابْنِ زَیْدٍ یَسْتَشْفَعُوْنَہٗ، قَالَ عُرْوَۃُ، فَلَمَّا کَلَّمَہٗ اُسَامَۃُ فِیْھَا، تَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: أَتُکَلِّمُنِیْ فِیْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ؟ قَالَ اُسَامَۃُ:اسْتَغْفِرْلِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَطِیْبًا، فَاَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ھُوَ اَھْلُہٗ، ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بَعْدُ، فَاِنَّمَا اَھْلَکَ النَّاسَ قَبْلَکُمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَاِذَاسَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ، اَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْاَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ، لَقَطَعْتُ یَدَھَا،ثُمَّ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِتِلْکَ الْمَرْأَۃِ فَقُطِعَتْ یَدُھَا فَحَسُنَتْ تَوْبَتُھَا بَعْدَذٰلِکَ وَتَزَوَّجَتْ، قَالَتْ عَائِشَۃُ:فَکَانَتْ تَاْتِیْنِیْ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَاَرْفَعُ حَاجَتَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(۲۳)
ترجمہ :حضرت عروہ بن زبیر نے بتایا کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک عورت نے چوری کی اس کے قبیلہ کے لوگ فریادرسی کے لیے حضرت اسامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس عورت کے متعلق سفارش کی استدعا کرنے لگے، عروہ کا بیان ہے کہ جب اسامہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو (سفارش) کی تو رسول اللہﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بد ل گیا فرمایا، اسامہ تم مجھ سے حدود اللہ میں سے ایک حد کے بارے میں گفتگو (سفارش) کرتے ہو؟ اسامہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ میرے لیے اللہ سے معافی کی درخواست فرمائیں۔ اسی روز دوپہر کے بعد رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطاب فرمانے کھڑے ہوئے۔ اللہ کی حمدو ستایش جو اس کے لایق ہے فرمائی پھر فرمایا اما بعد۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ہلاک کردیا اس نے کہ جب ان میں کا معزز وشریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑدیتے اور جب ادنی اور کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کردیتے۔ اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیاگیا۔ اس کے بعد اس نے بہت اچھی اور عمدہ توبہ کی، اور شادی کرلی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وہ میرے پاس اپنی کسی ضرورت کے لیے آتی رہتی تھی۔ میں اس کی حاجت وضرورت کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچادیتی تھی۔
تشریح : اللہ کے اس بے لاگ دین میں جس طرح نبی کی ذات کے لیے کوئی رعایت نہیں، اسی طرح نبی کے خاندان اور اس کے قریب ترین عزیزوں کے لیے بھی کسی رعایت کی گنجایش نہیں ہے۔ یہاں جس کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہے اس کے اوصاف (Merits)کے لحاظ سے ہے۔ کسی کا نسب اور کسی کے ساتھ آدمی کا تعلق کوئی نفع نہیں پہنچاسکتا۔ گمراہی وبدعملی پر خدا کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اور سب تو ان چیزوں پر پکڑے جائیں مگر نبی کے رشتہ دار بچے رہ جائیں۔
ثبوت جرم کے بعد مجرم پر ترس کھانا
۲۷۔ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا۔(بخاری وابن ماجہ)
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَکَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:اسْتَعَارَتِ امْرَأَۃٌ عَلٰی اَلْسِنَۃِ اُنَاسٍ یُعْرَفُوْنَ وَھِیَ لاَتُعْرَفُ حُلِیًّا، فَبَاعَتْہُ وَاَخَذَتْ ثَمَنَہٗ، فَاُتِیَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَسَعٰی اَھْلُھَا اِلٰی اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْھَا، فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ یُکَلِّمُہٗ، ثُمَّ قَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:أَتَشْفَعُ اِلَیَّ فِیْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ؟ فَقَالَ اُسَامَۃُ:اِسْتَغْفِرْلِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَشِیَّتَئِذٍ فَاَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَا ھُوَاَھْلُہٗ، ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّمَاھَلَکَ النَّاسُ قَبْلَکُمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ الشَّرِیْفُ فِیْھِمْ تَرَکُوْہُ وَاِذَا سَرَقَ الضَّعِیْفُ فِیْھِمْ اَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ:لَوْاَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا، ثُمَّ قَطَعَ تِلْکَ الْمَرْأَۃَ۔(۲۴)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک غیرمعروف عورت نے جانے پہچانے معروف لوگوں کے سامنے زیور ادھار لیا اور اسے بیچ کر کھاگئی۔ اسے رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے خاندان والوں نے کوشش کی کہ اسامہ بن زید اس کی سفارش کریں۔ چناں چہ اسامہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی (سفارش کی) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا (سرخ ہوگیا) اسامہ گفتگو کرتے رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسامہ سے فرمایا کیا تو حدود اللہ میں سے ایک حد میں مجھ سے سفارش کرتاہے؟ یہ جواب سن کر اسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لیے معافی کی درخواست فرمائیں پھراسی روز بعد از دوپہر آپ کھڑے ہوئے۔ اللہ کی وہ حمد وثنا فرمائی جس کا وہ اہل ہے پھر فرمایا اَمَّا بَعْدُ۔ تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئے کہ ان میں اگر معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑدیتے اور جب ادنیٰ درجہ کا آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کردیتے۔ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے اگر فاطمہ، محمد کی بیٹی بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ اس کے بعد اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔
(۲) حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَااَبُوْصَالِحٍ، عَنِ اللَّیْثِ،قَالَ:حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ:کَانَ عُرْوَۃُ یُحَدِّثُ اَنَّ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ:اسْتَعَارَتِ امْرَأَۃٌ تَعْنِیْ حُلِیًّا عَلٰی اَلْسِنَۃِ اُنَاسٍ یُعْرَفُوْنَ وَلاَتُعْرَفُ ھِیَ، فَبَاعَتْہٗ، فَاَخَذَتْ، فَاُتِیَ بِھَا النَّبِیَّ ﷺ، فَاَمَرَ بِقَطْعِ یَدِھَا وَھِیَ الَّتِیْ شَفَعَ فِیْھَا اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، وَقَالَ فِیْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا قَالَ۔(۲۵)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ ایک غیرمعروف عورت نے جانے پہچانے معروف لوگوں کے ذریعہ زیور عاریتاً لیا اور اسے بیچ کر کھاگئی۔ پس اسی جرم میں پکڑی گئی اور اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ نے اس کے قطع ید کا حکم صادر فرمایا۔ یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں اسامہ بن زید نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق جو کچھ فرمایا، سو فرمایا۔
(۳) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، اَلْمَعْنٰی، قَالاَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ مَخْلَدٌ: عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ امْرَأَۃً مَخْزُوْمِیَّۃً کَانَتْ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ فَتَجْحَدُہٗ، فَاَمَرَالنَّبِیُّ ﷺ بِھَا فَقُطِعَتْ یَدُھَا۔(۲۶)
ـــــــ قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ: رَوَاہُ جُوَیْرِیَّۃُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَوْ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ اَبِیْ عُبَیْدٍ، زَادَ فِیْہِ: وَاَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَامَ خَطِیْبًا، فَقَالَ:ھَلْ مِنِ امْرَأَۃٍ تَائِبَۃٍ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلِہِ۔ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَتِلْکَ شَاھِدَۃٌ فَلَمْ تَقُمْ وَلَمْ تَتَکَلَّمْ، وَرَوَاہُ ابْنُ غَنْجٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ اَبِیْ عُبَیْدٍ، قَالَ فِیْہِ: فَشَھِدَ عَلَیْھَا۔
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سامان عاریتًا لے کر مکرجاتی تھی۔ نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا فرمان جاری کیا چنانچہ اس کاہاتھ کاٹ دیا گیا۔
تشریح: بنی مخزوم کے معزز گھرانے کی ایک عورت فاطمہ لوگوں کے زیور اور سامان عاریتاً منگواتی اور پھر مکر جایا کرتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا ،اور جرم ثابت ہوگیا۔ قریش میں کھلبلی مچ گئی کہ کہیں اس کا بھی ہاتھ نہ کاٹ ڈالا جائے۔ مگر حضورؐ کے سامنے سفارش کی جرأت کسے تھی۔ آخر کار یہ مشورہ ہوا کہ اسامہ سے جو حضورؐ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید کے بیٹے تھے، سفارش کرائی جائے، کیوں کہ حضورؐ کو ان سے محبت تھی۔ اسامہ نے حاضر ہوکر سفارش کی۔ سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا کیا تم حدود اللہ کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ اسامہ سہم گئے اور معافی مانگی۔ اس کے بعد آپؐ نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا ’’تم سے پہلے جو قومیں تباہ ہوئی ہیں ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑدیتے تھے۔ اور جب کوئی ادنیٰ درجے کا آدمی جرم کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔ میں تو اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی، تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹے بغیر نہ چھوڑتا۔
(تفہیمات دوم، ۲۳:قطع۔۔۔
غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدود شرعیہ
اسلامی قانون فوجداری کی دفعات اس مملکت کے لیے ہیں جس میں پورا اسلامی نظام زندگی قائم ہو نہ کہ اس مملکت کے لیے جس میں سارا نظام کفر کے طریقوں پر چل رہاہو اور صرف ایک چوری یا زنا کی سزا اسلام کے قانون سے لے لی جائے۔ چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا عین انصاف ہے اگر ملک کا معاشی نظام بھی اس کے ساتھ اسلامی احکام کے مطابق ہے، اور یہ قطعی ظلم ہے اگر ملک میں اسلام کے منشا کے خلاف سود حلال اور زکوٰۃ متروک ہو اور حاجت مند انسان کی دست گیری کا کوئی انتظام نہ ہو ۔
(رسائل ومسائل چہارم،عام مسائل: غیر۔۔۔)
دور جدید میں قطع ید کی سزا کے اثرات
جب چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ جاری ہوگا تو ان شاء اللہ چوری نہایت تھوڑے عرصے میں ختم ہوجائے گی، اور سینکڑوں ہاتھوں کے کٹنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ ایک چور یہ امید رکھتا ہے کہ میں دس ہزار روپیہ چرالوں گا، اگر پکڑا جاؤں گا تو کچھ مدت تک سرکار کی روٹیاں کھا کر واپس آجاؤں گا اور اس وقت بھی میرے پاس اچھا خاصا سرمایہ جمع ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص دوبارہ اولین موقع پاتے ہی پھر چوری کرے گا۔ اس طرح کے عادی مجرمین کی ہمارے ہاں کثرت ہے اور انہی کو جرائم سے بازرکھنا مشکل ترین مسئلہ ہے۔ لیکن اگر چور کویہ معلوم ہوگیا کہ ایک مرتبہ پکڑے جانے کے بعد ایک ہاتھ اور دوسری مرتبہ پکڑے جانے کے بعد دوسرا ہاتھ کٹ جائے گا تو وہ چوری کرنے پر بآسانی آمادہ نہ ہوگا۔ پھر جس چور کا ہاتھ ایک مرتبہ کٹ جائے گا وہ جہاں جائے گا اس کا کٹا ہوا ہاتھ پکار پکار داستان حال بیان کرے گا اور موجودہ صورت حال باقی نہیں رہے گی۔ جس میں پیشہ ور چور اور ڈاکو مہذب انسانوں کے بھیس میں چار سو اپنے شکار تلاش کرتے پھرتے ہیں اور کوئی انہیں پہچان بھی نہیں سکتا۔ میری قطعی رائے یہ ہے کہ چوری کے انسداد کے لیے اس قانون کے نفاذ کی شدید ضرورت ہے تہذیب جدید کے بہت سے نقائص میں سے ایک نقص یہ بھی ہے کہ اس کی ساری ہمدردیاں مجرم کے ساتھ ہیں۔اس سوسائٹی کے ساتھ نہیں ہیں، جس کے خلاف مجرم سرگرم کارہے۔ مجرد یہ سننے پر کہ چورکا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس تہذیب کے فرزندوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہولناک جرائم کو معاشرے میں پروان چڑھتے دیکھ کر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ آخر میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلام صرف چور کا ہاتھ ہی نہیں کاٹتا بلکہ وہ زکوٰۃ وصدقات کا نظام بھی قائم کرتاہے۔ ہرشخص کی بنیادی ضرورت بھی پوری کرتاہے، وہ شہریوں کی اخلاقی تعلیم وتربیت کا بھی انتظام کرتاہے۔ وہ لوگوں کو حلال اور جائز طریق پر کمانا اور خرچ کرنا بھی سکھاتاہے۔ اس کے بعد اگر ایک شخص کی حلال کمائی کوکوئی دوسرا حرام طریقے سے چراتاہے، تو اسے ہاتھ کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ (رسائل ومسائل چہارم سیاسی مسائل: اسلام میں۔۔۔)
ماخذ
فصل :۳ شراب نوشی شراب کے متعلق ارشادات نبوی
۲۸۔ شراب کے متعلق آخری حکم آنے سے پہلے نبی ﷺ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے، لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کردیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیْرِیُّ، قَالَ:نَاعَبْدُالْاَعْلٰی،ابْنُ عَبْدِالْاَعْلٰی اَبُوْھَمَّامٍ، قَالَ:نَاسَعِیْد نِالْجُرَیْرِیُّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْد نِالْخُدْرِیِّ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ:یَااَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللّٰہَ سَیُنْزِلُ فِیْھَا اَمْرًا، فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ مِنْھَا شَیْئٌ فَلْیَبِعْہُ،وَلْیَنْتَفِعْ بِہٖ، قَالَ:فَمَا لَبِثْنَا اِلاَّیَسِیْرًا حَتّٰی قَالَ النَّبِیُّ ﷺ :اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی حَرَّمَ الْخَمْرَ، فَمَنْ اَدْرَکَتْہُ ھٰذِہٖ الْاٰیَۃُ وَعِنْدَہٗ مِنْھَا شَیْئٌ فَلاَ یَشْرَبْ، وَلاَیَبِعْ (وَلاَیَبِیْعُ) قَالَ:فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَاکَانَ عِنْدَھُمْ مِنْھَا فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ فَسَفَکُوْھَا۔(۱)
ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو مدینہ میں خطاب فرماتے سنا، فرمایا لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ حرمتِ شراب کا اشارہ فرمارہاہے ممکن ہے اس کے متعلق کوئی حکم نازل فرمادے پس جس کسی کے پاس تھوڑی بہت شراب موجود ہو اسے فروخت کردے اور فائدہ اٹھالے۔ حضرت ابوسعیدخدری کا بیان ہے کہ بس چند روز گزرے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام کردیاہے اب جسے حرمتِ شراب کی یہ آیت پہنچے اور اس کے پاس کچھ شراب موجود ہوتو نہ اسے خود پیے اور نہ ہی آگے فروخت کرے۔ راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کے پاس جتنی شراب تھی اسے لے کر مدینہ کے راستہ پر آگئے اور اسے زمین پر بہادیا۔
۲۹۔آخری حکم کے بعد آپ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہے وہ نہ اسے پی سکتے ہیں نہ بیچ سکتے ہیں، بلکہ وہ اسے ضائع کردیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ:نَاحَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ وَغَیْرُہٗ عَنْ زَیْدِ ابْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ وَعْلَۃَ السَّبَأیِّ مِنْ اَھْلِ مِصْرَ اَنَّہٗ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ، عَمَّا یُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:اِنَّ رَجُلاً اَھْدٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَاوِیَۃَ خَمْرٍ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:ھَلْ عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْحَرَّمَھَا، قَالَ: لاَ،فَسَارَّ اِنْسَانًا، فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بِمَ سَارَرْتَہٗ؟ فَقَالَ:اَمَرْتُہٗ بِبَیْعِھَا، فَقَالَ:اِنَّ الَّذِیْ حَرَّمَ شُرْبَھَا حَرَّمَ بَیْعَھَا، قَالَ:فَفَتَحَ الْمَزَادَۃَ حَتّٰی ذَھَبَ مَافِیْھَا۔(۲)
ترجمہ : عبدالرحمن بن وعلہ سبائی جو مصر کا رہنے والا تھا سے روایت ہے کہ اس نے ابن عباس سے انگور سے نچوڑے ہوئے شیرے کے بارے میں پوچھا۔ ابن عباسؓ نے جواب دیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں شراب کا مشکیزہ ہدیۃ پیش کیا آپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیاہے وہ بولا نہیں مجھے تو معلوم نہیں۔ یہ سن کر اس نے ایک دوسرے انسان سے ذراسرگوشی کی۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا اس سے تم نے کیا سرگوشی کی ہے؟ وہ بولا میں نے اسے شراب فروخت کرنے کا اشارہ کیاہے۔ آپ نے فرمایا جس ذات نے اسے پینا حرام قرار دیاہے اسی نے اس کو فروخت کرنا بھی حرام کردیاہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس نے مشکیزے کا منہ کھول دیا کہ وہ ساری زمین پر بہہ گئی۔
۳۰۔ آپؐ نے فرمایا ’’جس نے یہ چیز حرام کی ہے اس نے اسے تحفۃً دینے سے بھی منع کردیاہے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَعْلٰی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ وَعْلَۃَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَیْعِ الْخَمْرِ، فَقَالَ:کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ صَدِیْقٌٔ مِنْ ثَقِیْفٍ اَوْدَوْسٍ، فَلَقِیَہٗ بِمَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِیَۃٍ مِنْ خَمْرٍ یُھْدِیْھَا لَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَافُلاَنُ! اَمَاعَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْحَرَّمَھَا؟ قَالَ: فَاَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلٰی غُلاَمِہٖ، فَقَالَ:اذْھَبْ، فَبِعْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بِمَا ذَااَمَرْتَہٗ یَافُلاَنُ؟ قَالَ:اَمَرْتُہٗ بِبَیْعِھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ الَّذِیْ حَرَّمَ شُرْبَھَا، حَرَّمَ بَیْعَھَا، فَاَمَرَ بِھَا فَأُکْفِئَتْ فِی الْبَطْحَائِ۔(۳)
ترجمہ : عبدالرحمن بن وعلہ سے روایت ہے اس نے خود بیان کیا کہ میں نے ابن عباسؓ سے شراب کی فروخت کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا قبیلہ ثقیف یاد وس کا ایک شخص دوست تھا فتح مکہ کے موقع پر وہ آپ سے ملا۔ وہ اپنے ساتھ شراب کا ایک مشکیزہ بھی لایا تھا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طورپر پیش کرنا چاہتاتھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا،اے فلاں! کیا تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیاہے۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ سن کر وہ اپنے غلام کی جانب متوجہ ہوا اور اسے کہا کہ چلے جاؤ اور اسے فروخت کردو۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تونے اپنے غلام کو کیا حکم دیاہے۔ وہ بولا میں نے اسے شراب فروخت کرنے کا حکم دیاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے۔ اسی نے اس کا فروخت کرنا بھی حرام کردیاہے اس نے اسے گرانے کا حکم دیا اور بطحاء میں انڈیل دی گئی۔
۳۱۔ شراب کو سرکے میں تبدیل کرنے سے بھی منع کیا، فرمایا ’’اسے بہادو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ:اَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ،ح قَالَ وَحَدَّثَنَا زُھَیْرُبْنُ حَرْبٍ، قَالَ:نَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ عَنْ سُفْیَانَ،عَنِ السُّدِّیِّ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلاًّ، فَقَالَ: لاَ۔(۴)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے شراب کو سرکہ میں تبدیل کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، فرمایا نہیں۔
ابوداؤد نے مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے:
(۲)عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ اَبَاطَلْحَۃَ سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنْ اَیْتَامٍ وَرِثُوْا خَمْرًا، قَالَ:اَھْرِقْھَا، قَالَ:اَفَلاَ اَجْعَلْھَا خَلاًّ؟قَالَ:لاَ۔(۵)
ترجمہ :حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے نبی ﷺ سے ان یتیموں کے بارے میں دریافت کیا جن کو وراثت میں شراب ملی ہے۔ آپ نے فرمایا، اسے بہادو۔دریافت کیا، میں اسے سرکہ میں تبدیل نہ کرلوں؟ فرمایا نہیں!
۳۲۔ فرمایا’’ وہ دوانہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُثَنّٰی قَالاَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَا شُعْبَۃُ، عَنْ سِمَاکِ ابْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ اَبِیْہِ وَائِل نِالْحَضْرَمِیِّ اَنَّ طَارِقَ ابْنَ سُوَیْد نِالْجُعْفِیَّ سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْخَمْرِ فَنَھَاہُ اَوْکَرِہَ اَنْ یَصْنَعَھَا، فَقَالَ:اِنَّمَا اَصْنَعُھَا لِلدَّوَائِ، فَقَالَ:اِنَّہٗ لَیْسَ بِدَوَائٍ وَلٰکِنَّہٗ دَائٌ۔(۶)
ترجمہ : طارق بن سوید جعفی نے نبی ﷺ سے شراب کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے شراب سے منع فرمایا یا اس کے تیار کرنے کو ناپسند فرمایا۔ طارق نے عرض کیا میں تو اسے دوا کے طورپر تیار کرتاہوں۔آپ نے فرمایا یہ دوا نہیں ہے یہ تو خود بیماری ہے۔
۳۳۔ سرد علاقے کے لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا کہ جوچیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا ’’ہاں! فرمایا ’’تو اس سے پرہیز کرو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے فرمایا ’’اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السِرِّیِّ، ثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ مَرْثَدِ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْیَزَنِیِّ، عَنْ دَیْلَمِ الْحِمْیَرِیِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا بِاَرْضٍ بَارِدَۃٍ نُعَالِجُ فِیْھَا عَمَلاً شَدِیْدًا، وَاِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ ھٰذَا الْقَمْحِ نَتَقَوّٰی بِہٖ عَلٰی اَعْمَالِنَا وَعَلٰی بَرَدِ بِلاَدِنَا، قَالَ: ھَلْ یُسْکِرُ؟ قُلْتُ:نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَنِبُوْہُ، قَالَ: قُلْتُ: فَاِنَّ النَّاسَ غَیْرُ تَارِکِیْہِ، قَالَ:فَاِنْ لَّمْ یَتْرُکُوْہُ، فَقَاتِلُوْھُمْ۔(۷)
ترجمہ : دیلم حمیری سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اے اللہ کے رسول ہم سردعلاقہ کے باشندے ہیں۔ سخت محنت ومشقت ہمیں کرنی پڑتی ہے۔ اس گندم سے ہم شراب تیار کرتے ہیں جس سے ہم جسمانی قوت بحال کرتے ہیں اور سخت سردی جو ہمارے علاقوں میں پڑتی ہے اس سے اس کا دفاع کرتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں (نشہ آور تو ہے) آپ نے فرمایا تو پھر اس سے اجتناب کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا لوگ تو اسے چھوڑنے والے نہیں۔ فرمایا اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو ان سے جنگ کرو۔
۳۴۔لَعَنَ اللّٰہُ الْخَمْرَ وَشَارِبَھَا وَسَاقِیْھَا وَبَائِعَھَا وَمُبْتَاعَھَا وَعَاصِرَھَا وَمُعْتَصِرَھَا وَحَامِلَھَا وَالْمَحْمُوْلَۃَ اِلَیْہِ۔
’’اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر، کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھوکر لے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھوکر لے جائی گئی ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا وَکِیْعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ اَبِیْ عَلْقَمَۃَ مَوْلاَھُمْ، وَعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْغَافِقِیِّ اَنَّھُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَعَنَ اللّٰہُ الْخَمْرَ وَشَارِبَھَا، وَسَاقِیَھَا، وَبَائِعَھَا وَمُبْتَاعَھَا، وَعَاصِرَھَا وَمُعْتَصِرَھَا وَحَامِلَھَا، وَالْمَحْمُوْلَۃَ اِلَیْہِ۔(۸)
ترمذی نے نقل کیاہے:
(۲)عَنْ اَنَسٍ، قَالَ:لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْخَمْرِ عَشَرَۃً، عَاصِرَھَا وَمُعْتَصِرَھَا وَشَارِبَھَا وَحَامِلَھَا وَالْمَحْمُوْلَۃَ اِلَیْہِ وَسَاقِیَھَا وَبَائِعَھَا وَاکِلَ ثَمَنِھَا، وَالْمُشْتَرِی لَھَا وَالْمُشْتَرَاۃَ لَہٗ۔(۹)
تشریح: خَمر کا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لیے استعمال ہوتاتھا، اور مجازاً گیہوں ، جو، کشمش، کھجور اور شہد کی شرابوں کے لیے بھی یہ لفظ بولتے تھے مگر نبی ﷺ نے حرمت کے اس حکم کو تمام ان چیزوں پر عام قراردیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔
۳۵۔نبی ﷺ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جارہی ہوابتداء ً آپ نے ان برتنوں تک کے استعمال کو منع فرمادیاتھا جن میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی۔
تخریج:(۱)اَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ اَبِیْ جَعْفَرٍ، ثَنَا اَبُوالزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، فَلاَ یَقْعُدْ عَلٰی مَائِدَۃٍ یُشْرَبُ عَلَیْھَا الْخَمْرُ۔(۱۰)
ترجمہ : حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتاہے وہ اس دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جارہی ہو۔
(۲) حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اَبُوْاَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ،قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الظُّرُوْفِ، فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ اِنَّہٗ لاَبُدَّ لَنَا مِنْھَا، قَالَ:فَلاَ اِذًا۔(۱۱)
ترجمہ : حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (بعض خاص) برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا۔ انصار بولے ،ان برتنوں کے استعمال کے بغیر تو ہمارے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے تو آپ نے فرمایا اچھا تو پھر کوئی ممانعت نہیں۔
(۳)حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ مُسْلِم نِالْاَحْوَلِ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ اَبِیْ عِیَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:لَمَّا نَھَی النَّبِیُّ ﷺ عَنِ الْاَسْقِیَۃِ، قِیْلَ لِلنَّبِیِّ ﷺ لَیْسَ کُلُّ النَّاسِ یَجِدُ سِقَائً، فَرَخَّصَ لَھُمْ فِی الْجَرِّ غَیْرَالْمُزَفَّتِ۔(۱۲)
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیاکہ جب نبی ﷺ نے بعض مخصو ص برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہم میں سے ہرایک کے پاس مشکیزہ تو نہیں ہے، تو آپ نے (ٹھلیا) ایسے گھڑی کی اجازت دے دی جس پر تار کول نہ ہو (جولاکھی نہ ہو)۔
۳۶۔کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ، وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ ۔
’’ ہرنشہ آور چیز خمر ہے اور ہرنشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوالرَّبِیْعِ الْعَتَکِیُّ وَاَبُوْکَامِلٍ، قَالاَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ: نَااَیُّوْبُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ، وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا، فَمَاتَ وَھُوَیُدْمِنُھَا لَمْ یَتُبْ، لَمْ یَشْرَبْھَا فِی الْاٰخِرَۃِ۔(۱۳)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرنشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب نوش کی اور شراب نوشی کرتے کرتے ہی مرگیا اور توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا (اسے پینے کے لیے جنت کی شراب نہیں ملے گی)۔
ـــــــ وفی الباب عن ابی ھریرۃ وابی سعید وعبد اللّٰہ بن عمر وعبادہ، وابی مالک الاشعری وابن عباس، حدیث ابن عمر حدیث حسن صحیح وقد روی من غیر وجہ عن نافع، عن ابن عمر، عن النبی ﷺ ورواہ مالک بن انس عن نافع، عن ابنِ عمر موقوفا ولم یرفعہ۔(۱۴)
(۲)حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ لَمْ یَتُبْ مِنْھَا حُرِمَھَا فِی الْاٰخِرَۃِ۔(۱۵)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے،کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جس نے دنیا میں شراب نوشی کی اور پھر (مرنے سے پہلے) توبہ بھی نہ کی، آخرت میں اسے اس سے محروم رکھا جائے گا۔
۳۷۔کُلُّ شَرَابٍ اَسْکَرَ فَھُوَ حَرَامٌ ۔
’’ ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے حرام ہے۔‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ:کُلُّ شَرَابٍ اَسْکَرَ فَھُوَحَرَامٌ۔(۱۶)
ترجمہ : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد سے تیار شدہ شراب کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہرمشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔
۳۸۔ وَاَنَا اَنْھَی عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ۔
’’اور میں ہرنشہ آور چیز سے منع کرتاہوں۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یُوْنُسُ، ثَنَا لَیْثٌ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ کَثِیْرِ الْھَمْدَانِیِّ اَنَّہٗ حَدَّثَہٗ اَنَّ السِّرِّیَّ ابْنَ اِسْمَاعِیْلَ الْکُوْفِیَّ حَدَّثَہٗ اَنَّ الشَّعْبِیَّ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ، یَقُوْلُ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ مِنَ الْحِنْطَۃِ خَمْراً، وَمِنَ الشَّعِیْرِ خَمْراً، وَمِنَ الزَّبِیْبِ خَمْراً، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَاَنَا اَنْھٰی عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ۔(۱۷)
ترجمہ : نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گندم سے بھی شراب تیار ہوتی ہے، جو سے بھی اور کشمش سے بھی شراب بنائی جاتی ہے، خشک کھجور اور شہد سے بھی اور میں ہرنشہ آور چیز سے منع کرتاہوں۔
(۲) حَدَّثَنَامَالِکُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ(اَبُوغَسَّانَ)، ثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ:قَرَأتُ عَلَی الْفُضَیْلِ (بْنِ مَیْسَرَۃَ)، عَنْ اَبِیْ حُرَیْزٍ، اَنَّ عَامِرًا حَدَّثَہٗ، اَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِیْرِ، وَالزَّبِیْبِ، وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَۃِ، وَالشَّعِیْرِ، وَالذُّرَّۃِ، وَاِنِّیْ اَنْھَاکُمْ عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ۔(۱۸)
ترجمہ : نعمان بن بشیر نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سناہے کہ شراب، انگور، کشمش ،خشک کھجور، گندم، جو، اور مکئی یا کنگنی سے تیار ہوتی ہے، اور میں تمہیں ہرقسم کی نشہ آور چیز سے منع کرتاہوں۔
۳۹۔ مَااَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ۔
’’جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقداربھی حرام ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ یَعْنِی ابْنُ جَعْفَرٍ۔ عَنْ دَاؤدَ بْنِ بَکْرِبْنِ اَبِی الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ:مَااَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ، فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ۔(۱۹)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
۴۰۔ مَااَسْکَرَ الْفَرْقُ مِنْہُ فَمِلْأُ الْکَفِّ مِنْہُ حَرَامٌ ۔
’’جس چیز کا ایک پورا قرابہ نشہ پیدا کرتاہو اس کا ایک چلو پینا بھی حرام ہے۔ ‘‘
تخریج:حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالاَ:ثَنَامَھْدِیٌّ یَعْنِی ابْنُ مَیْمُوْنٍ۔ثَنَااَبُوْعُثْمَانَ،قَالَ مُوْسٰی: (وَھُوَ) عَمْرُوبْنُ سَلْمِ نِالْاَنْصَارِیُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَۃَؓ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ، وَمَا اَسْکَرَ مِنْہُ الْفَرْقُ فَمِلْئُ الْکَفِّ مِنْہُ حَرَامٌ۔(۲۰)
ترجمہ : حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سناہے کہ ہرنشہ آور چیز حرام ہے جس چیز کا پورا قرابہ نشہ پیدا کرتاہو اس کا ایک چلو پینا بھی حرام ہے۔
تشریح: شراب کی حرمت کے سلسلہ میں اس سے پہلے دوحکم آچکے تھے، جو سورہ بقرہ آیت۲۱۹ اور سورۂ نساء آیت ۴۳ میں گزرچکے ہیں۔ اب اس آخری حکم آنے سے پہلے نبی ﷺنے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے، لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کردیں۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت: یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُالایۃ نازل ہوئی اور آپؐ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہے وہ نہ اسے پی سکتے ہیں، نہ بیچ سکتے ہیں، بلکہ وہ اسے ضائع کردیں۔ چناں چہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میںشراب بہادی گئی۔ بعض لوگوں نے پوچھا ہم یہودیوں کو تحفتہً کیوں نہ دے دیں؟ آپؐ نے فرمایا’’جس نے یہ چیز حرام کی ہے اس نے اسے تحفتہً دینے سے بھی منع کردیاہے۔‘‘ بعض لوگوں نے پوچھا ہم شراب کو سرکے میں کیوں نہ تبدیل کردیں؟ آپؐ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ ’’نہیں، اسے بہادو‘‘ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دوا کے طورپر استعمال کی تو اجازت ہے؟ فرمایا ’’نہیں ، وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے‘‘ ایک اور صاحب نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جونہایت سرد ہے اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے ۔ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپؐ نے پوچھا جوچیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں! فرمایا تو اس سے پرہیز کرو۔ انہوں نے عرض کیا مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے۔ فرمایا وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو۔!
شراب نوشی کی حد
ترک شراب
آپ نے سنا ہوگا کہ عرب میں شراب خوری کا کتنا زور تھا عورت اور مرد، جوان اور بوڑھے، شراب کے متوالے تھے۔ ان کو دراصل اس چیز سے عشق تھا۔ اس کی تعریفوں کے گیت گاتے تھے، اور اس پر جان دیتے تھے۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ شراب کی لت لگ جانے کے بعد اس کا چھوٹنا کتنا مشکل ہوتاہے۔ آدمی جان دینا قبول کرلیتاہے مگر شراب چھوڑنا قبول نہیں کرسکتا۔ اگر شرابی کو شراب نہ ملے، تو اس کی کیفیت بیمار سے بدتر ہوجاتی ہے۔ لیکن آپ نے کبھی سناہے کہ جب قرآن شریف میں ا س کی حرمت کا حکم آیا تو کیا ہوا؟ وہی عرب جو شراب پر جان دیتے تھے اس حکم کو سنتے ہی انہوں نے اپنے ہاتھ سے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے۔ مدینہ کی گلیوں میں شراب اس طرح بہہ رہی تھی جیسے بارش کا پانی بہتا ہے۔ ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ جس وقت انہوں نے رسول اللہ ﷺکے منادی کی آواز سنی کہ شراب حرام کردی گئی تو جس شخص کا ہاتھ جہاں تھا وہیں کا وہیںرہ گیا۔ جس کے منہ سے پیالا لگا ہوا تھا، اس نے فوراً اس کو ہٹالیا، اور پھر ایک قطرہ حلق میں نہ جانے دیا یہ ہے ایمان کی شان۔ اس کو کہتے ہیں خدا اور رسولؐ کی اطاعت۔ (خطبات ، باب دوم ، ایمان۔۔۔:ترک شراب)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَااَبُوالنُّعْمَانِ، قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ الْخَمْرَ الَّتِیْ اُھْرِیْقَتْ الْفَضِیْخُ، وَزَادَنِیْ مُحَمَّدٌ عَنْ اَبِی النُّعْمَانِ، قَالَ:کُنْتُ سَاقِی الْقَوْمِ فِیْ مَنْزِلِ اَبِیْ طَلْحَۃَ فَنَزَلَ تَحْرِیْمُ الْخَمْرِ۔ فَاَمَرَ مُنَادِیًا۔ فَنَادٰی۔ فَقَالَ:اَبُوْطَلْحَۃَ فَاخْرُجْ، فَانْظُرْ مَاھٰذَا الصَّوْتُ؟ قَالَ:فَخَرَجْتُ، فَقُلْتُ: ھٰذَا مُنَادٍ یُنَادِیْ اَلاَ اِنَّ الْخَمْرَ قَدْحُرِّمَتْ، فَقَالَ لِیْ:اِذْھَبْ، فَاَھْرِقْھَا، قَالَ: فَجَرَتْ فِیْ سِکَکِ الْمَدِیْنَۃِ، وَقَالَ:وَکَانَتْ خَمْرُھُمْ یَوْمَئِذٍ الفَضِیْخُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:قُتِلَ قَوْمٌ وَھِیَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا۔(۳۳)
ترجمہ :حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جو شراب بہادی گئی تھی ( اس کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا) کہ میں ابوطلحہؓ کے مکان پر لوگوں کو شراب پلانے کی ڈیوٹی ادا کررہاتھا کہ تحریم شراب کا حکم نازل ہوا آپ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا (کہ اس کی منادی کردے) اس نے بآواز بلند اعلان کیا۔ ابوطلحہ نے انسؓ سے کہا جاؤ باہر نکل کر سنو یہ کیسی منادی ہے؟ حضرت انس کا بیان ہے کہ میں باہر آیا (اور معلو م کرکے) میں نے کہا منادی کرنے والا یہ منادی کررہاہے کہ سن لو شراب نوشی حرام کردی گئی ہے۔ ابوطلحہ نے مجھے فرمایا جاؤ اسے بہادو، راوی کا بیان ہے کہ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہہ نکلی حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ان کی شراب کھجور سے تیار کردہ تھی۔ کچھ لوگ کہنے لگے جو لوگ اس حالت میں مرگئے ہیں کہ ان کے پیٹوں میں یہ شراب تھی (ان کا کیا ہوگا) تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمادی لیس ۔۔۔’’جولوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔۔۔۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُھَیْبٍ، قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ:مَاکَانَ لَنَا خَمْرٌ غَیْرَفَضِیْخِکُمْ ھٰذَا الَّذِیْ تَسُمُّوْنَہٗ الْفَضِیْخَ، فَاِنِّیْ لَقَائِمٌ اَسْقِیْ اَبَاطَلْحَۃَ وَفُلاَنـًا وَفُلاَنـًا اِذْجَآئَ رَجُلٌ، فَقَالَ:وَھَلْ بَلَغَکُمُ الْخَبَرُ؟ فَقَالُوْا:وَمَاذَاکَ؟ قَالَ:حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، قَالُوْا:اَھْرِقْ ھٰذِہِ الْقِلاَلَ یَااَنَسُ! قَالَ:فَمَا سَأَلُوْا عَنْھَا، وَلاَ رَاجَعُوْھَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ۔(۳۴)
ترجمہ : حضرت انسؓ بن مالک نے بتایا کہ کھجور کی شراب کے علاوہ ہمارے لیے اور کوئی شراب نہیں تھی، یہ وہی ہے جسے تم فضیخ کے نام سے موسوم کرتے ہو۔ میں کھڑا ابوطلحہ اور فلاں فلاں صاحب کو شراب پیش کررہاتھا کہ اچانک اس دوران میں ایک شخص آیا اور بولا، کیا تمہارے پاس خبر پہنچی؟ انہوں نے پوچھا کون سی خبر؟ اس نے کہا شراب تو حرام کردی گئی ہے۔ ان سب نے کہا، اے انس یہ سب مٹکے بہادو۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ انہوں نے شراب کے بارے میں پوچھا تک نہیں اور اس آدمی کی دی گئی خبر کے بعد اس کی طرف مراجعت نہیں کی۔
حضرت انس کا قول ہے:
(۳)کُنْتُ اَسْقِیْ اَبَا عُبَیْدَۃَ، وَاَبَاطَلْحَۃَ، وَاُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ مِنْ فَضِیْخٍ زَھْوٍ وَتَمْرٍ، فَجَآئَ ھُمْ اٰتٍ، فَقَالَ:اِنَّ الْخَمْرَ قَدْحُرِّمَتْ فَقَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: قُمْ یَااَنَسُ فَاھْرِقْھَا، فَاَھْرَقْتُھَا۔(۳۵)
ترجمہ : حضرت انس کا بیان ہے کہ میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب کو کچی اور پکی کھجوروں سے تیار شدہ شراب پیش کررہاتھا کہ اچانک ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور بولا کہ شراب بلاشبہ حرام کردی گئی ہے۔ ابوطلحہ نے انس سے کہا کہ اٹھو اور اسے بہادو۔ میں اٹھا اور اسے بہادیا۔
(۴)حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا ھِشَامٌ، قَالَ:حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ اَنَسٍ، قَالَ:اِنِّیْ لَاَسْقِیْ اَبَاطَلْحَۃَ وَاَبَا دُجَانَۃَ، وَسُھَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ خَلِیْطَ بُسْرٍ وَتَمْرٍاِذْحُرِّمَتِ الْخَمْرُ فَقَذَفْتُھَا، وَاَنَا سَاقِیْھِمْ وَاَصْغَرُھُمْ وَاِنَّا نَعُدُّھَا یَوْمَئِذ نِ الْخَمْرَ۔(۳۶)
ترجمہ : حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ، ابودُجانہ اور سہیل بن بیضاء کو کچی پکی کھجوروں سے تیار شدہ شراب پلارہاتھا کہ حرمت شراب کی اطلاع ملی۔ میں ساقی کے فرائض انجام دے رہاتھا۔ میں ان میں کم عمر تھا اس زمانے میں ہم اسی کو شراب شمار کرتے تھے۔
(۵) عَنْ اَنَسٍ کُنْتُ قَائِماً عَلَی الْحَیِّ اَسْقِیْہِمْ عُمُوْمَتِیْ وَاَنَا اَصْغَرُ ہُمْ الْفَضیْخَ، فَقِیْلَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالُوْا: اِکْفَأْہَا فَکَفَأَنَا، قُلْتُ لِاَنَسٍ: مَاشَرَابُہُمْ، قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ۔
ترجمہ: حضرت انسؓکا بیان ہے کہ میں ایک قبیلہ کے ہاں کھڑا اپنے چچائوں کو شراب پلارہا تھا۔ میں ان میں سب سے کم عمر تھا کہ آواز آئی کہ شراب حرام کردی گئی۔ انہوں نے کہا اسے پھینک دو چنانچہ ہم نے پھینک دیا۔ میں نے انس سے دریافت کیا ان کی شراب کس چیز کی تھی۔ اس نے جواب دیا کچی اور پکی کھجوروں کی۔
ضرب تازیانہ کے لیے کوڑا کیسا ہو
۴۱۔ مارکے لیے خواہ کوڑا استعمال کیا جائے یا بیدہ دونوں صورتوں میں وہ اوسط درجے کا ہونا چاہیے، نہ بہت موٹااورنہ سخت، اور نہ بہت پتلا اور نرم۔ مؤطا امام مالکؒ کی روایت ہے کہ نبی ﷺنے ضرب تازیانہ کے لیے کوڑا طلب کیا اور وہ کثرت استعمال سے بہت کمزور ہوچکا تھا۔ آپ نے فرمایا فوق ہذا (اس سے زیادہ سخت لاؤ) پھر ایک نیا کوڑا لایا گیا جو ابھی استعمال سے نرم نہیں پڑا تھا آپ نے فرمایا دونوں کے درمیان۔ پھر ایسا کوڑا لایا گیا جوسواری میں استعمال ہوچکا تھا۔ اس سے آپ نے ضرب لگوائی۔
تخریج : عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، اَنَّ رَجُلاً جَآئَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا، فَاَقِمْہُ عَلَیَّ، فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِسَوْطٍ جَدِیْدٍ عَلَیْہِ ثَمَرَتُہٗ فَقَالَ: لاَ،سَوْطٌ دُوْنَ ھٰذَا،فَاُتِیَ بِسَوْطٍ مَکْسُوْرِالْعِجْزِ،فَقَالَ:لاَ،سَوْطٌ فَوْقَ ھٰذَا،فَاُتِیَ بِسَوْطٍ بَیْنَ السَّوْطَیْنِ فَاَمَرَ بِہٖ، فَجُلِدَ، ثُمَّ صَعَدَ الْمِنْبَرَ وَالْغَضَبُ یُعْرَفُ فِیْ وَجْھِہٖ، فَقَالَ:اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ، فَمَنْ اَصَابَ مِنْھَا شَیْئًا فَلْیَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللّٰہِ فَاِنَّہٗ مَنْ یَرْفَعُ اِلَیْنَا مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا نُقِمْہُ۔(۳۷)
ترجمہ : یحی ٰبن ابی کثیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور کہاکہ میں حد کا مرتکب ہوگیا ہوں، لہٰذا مجھ پر حد جاری فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کوڑا طلب فرمایا۔ نیا کوڑا جس پر گرہیں تھیں آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ فرمایا یہ نہیں، اس سے ذراہلکا پھر ایک چابک پیش کیا گیا جو پیچھے سے ٹوٹا ہوا تھا آپ نے فرمایا یہ بھی نہیں اس سے ذرا سخت لاؤ۔ پھر ان دونوں کے درمیان کا چابک لایا گیا تو آپ نے ضرب تازیانہ کا حکم فرمایا اور ضرب تازیانہ ماری گئی۔ پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اس وقت آپ کے رخ انور سے ناراضگی کے آثار ظاہرو نمایاں ہورہے تھے۔ فرمایا اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر فواحش کو خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ حرام کردیاہے۔ پس اب جو کوئی ان میں سے کسی کا ارتکاب کرے گا تو اسے اللہ کے ڈالے ہوئے پردہ میں چھپے رہنا چاہیے ورنہ جو اس کا معاملہ ہمارے تک اٹھا لائے گا تو اس پر ہم حد الٰہی نافذ کرکے چھوڑیں گے۔
۴۲۔ اِذَاضَرَبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَتَّقِ الْوَجْہَ۔
’’جب تم میں سے کوئی مارے تو منہ پر نہ مارے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَااَبُوْکَامِلٍ، ثَنَا اَبُوْعَوَانَۃَ، عَنْ عُمَرَ۔ یَعْنِی ابْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ:اِذَا ضَرَبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَتَّقِ الْوَجْہَ۔(۳۸)
تشریح : ضرب تازیانہ کی کیفیت کے متعلق پہلا اشارہ خود قرآن کے لفظ فَاجْلِدُوْامیں ملتاہے۔ جلد کا لفظ جلد یعنی (کھال) سے ماخوذ ہے۔ اس سے تمام اہل لغت اور علمائے تفسیر نے یہی معنی لیے ہیں کہ مار ایسی ہونی چاہیے جس کا اثر جلد تک رہے، گوشت تک نہ پہنچے۔ ایسی ضرب تازیانہ جس سے گوشت کے ٹکڑے اڑجائیں، یاکھال پھٹ کر اندر تک زخم پڑجائے، قرآن کے خلاف ہے۔
اسی مضمون سے ملتی جلتی روایت ابوعثمان النہدی نے حضرت عمرؓ کے متعلق بھی بیان کی ہے کہ وہ اوسط درجے کا کوڑا استعمال کرتے تھے۔ (احکام القرآن للجصاص ج۳،ص:۳۲۲) گرہ لگا ہوا کوڑا یا دوشاخہ سہ شاخہ کوڑا بھی استعمال کرنا ممنوع ہے
مار کی کیفیت
ماربھی اوسط درجے کی ہونی چاہیے۔ حضرت عمرؓ مارنے والوں کو ہدایت کرتے تھے کہ لَاترفَعْ یا(لَاتُخْرِجْ) اِبْطَکَ ’’اس طرح مارکہ تیری بغل نہ کھلے‘‘ یعنی پوری طاقت سے ہاتھ کوتان کر نہ مار (احکام القرآن۔ ابن عربی ج۲۔ ص۸۴۔ احکام القرآن للجصاص، ج۳، ص۳۲۲ )تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ ضرب مبرح نہیں ہونی چاہیے یعنی زخم ڈال دینے والی، ایک ہی جگہ نہیں مارنا چاہیے بلکہ تمام جسم پر مار کو پھیلادینا چاہیے۔ صرف منہ اور شرمگاہ کو (اور حنفیہ کے نزدیک سرکو بھی) بچالینا چاہیے، باقی ہرعضو پر کچھ نہ کچھ مار پڑنی چاہیے۔ حضرت علیؓنے ایک شخص کوکوڑے لگواتے وقت فرمایا ’’ہرعضو کو اس کا حق دے اور صرف منہ اور شرمگاہ کو بچالے۔ ‘‘دوسری روایت میں ہے ’’صرف سر اور شرمگاہ بچالے۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص، ج۳، ص۳۲۱)
نبی ﷺ کا ارشاد ہے اِذَا ضَرَبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَتَّقِ الْوَجْہَ ’’جب تم میں سے کوئی مارے تو منہ پر نہ مارے۔‘‘ (ابوداؤد)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوبَکْر نِالاُرْدَسَتَانِیُّ، اَنْبَأَاَبُوْنَصْرنِالْعِرَاقِیُّ بِبُخَارٰی ثَنَا سُفْیَانُ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْھَرِیُّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْوَلِیْدِ، ثَنَا سُفْیَانُ، ثَنَا عَاصِمُ نِالْاَحْوَلُ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّھْدِیِّ قَالَ:اُتِیَ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِؓ بِرَجُلٍ فِیْ حَدٍّ، فَاُتِیَ بِسَوْطٍ فِیْہِ شِدَّۃٌ، فَقَالَ:اُرِیْدُ اَلْیَنَ مِنْ ھٰذَا، ثُمَّ اُتِیَ بِسَوْطٍ فِیْہِ لِیْنٌ فَقَالَ اُرِیْدُ اَشَدَّ مِنْ ھٰذَا، فَاُتِیَ بِسَوْطٍ بَیْنَ السَّوْطَیْنِ، فَقَالَ:اِضْرِبْ، وَلاَیُرٰی اِبْطُکَ وَاَعْطِ کُلَّ عُضْوٍحَقَّہٗ۔(۳۹)
ترجمہ : عثمان نہدی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ کے پاس حد کے نفاذ کے سلسلہ میں ایک آدمی لایا گیا۔ حد لگانے کے لیے آپ کے پاس ایسا کوڑا لایا گیا جو سخت تھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا میں تو اس پرزیادہ نرم چاہتاہوں۔ پھرایک نرم کوڑا پیش کیا گیا تو آپ نے کہا میں ا س سے سخت چاہتاہوں پھر ان دونوں کے درمیان کا لایا گیا تو آپ نے فرمایا اب اس سے ضرب تازیانہ لگاؤ مگر تمہاری بغل کھلنے نہ پائے۔ ہرعضو کو اس کا حصہ ضرور دو۔
(۲)اَخْبَرَنَااَبُوْحَازِمٍ، اَنْبَأَ اَبُوْالْفَضْلِ بْنُ خُمَیْروَیْہِ، اَنْبَأَ اَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ، ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثَنَا ھُشَیْمٌ، اَنْبَأَ ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ ھُنَیْدَۃُ بْنُ خَالِدٍ،اَنَّہٗ شَھِدَ عَلِیًّا ؓاَقَامَ عَلٰی رَجُلٍ حَدًّا فَقَالَ لِلْجَالِدِ:اِضْرِبْ وَاعْطِ کُلَّ عُضْوٍ حَقَّہٗ وَاتَّقِ وَجْھَہٗ وَمَذَاکِیْرَہٗ۔(۴۰)
ترجمہ : ہنیدہ بن خالد کا بیان ہے کہ وہ حضرت علیؓ کے پاس حاضر تھے جب انہوں نے ایک مجرم پر حد جاری کی، حد لگانے والے سے فرمایا ضرب تازیانہ لگاؤ، ہرعضو جسم کو اس کا حصہ دو، مگر چہرے اور شرم گاہ کو بچاؤ!
اسی طرح عبداللہ بن مسعود سے بھی احکام القرآن میں مذکور ہے:
(۳)اَنَّہٗ ضَرَبَ رَجُلاًحَدًّا فَدَعَا بِسَوْطٍ فَاَمَرَفَدُقَّ بَیْنَ حَجَرَیْنِ حَتّٰی لاَنَ ثُمَّ قَالَ:اِضْرِبْ وَلاَتُخْرِجْ اِبِطَکَ وَاَعْطِ کُلَّ عُضْوٍحَقَّہٗ۔(۴۱)
ترجمہ : عبد اللہ بن مسعود نے ایک آدمی کو حدلگائی۔ انہوں نے کوڑا طلب کیا تو کوڑا پیش کیا گیا آپ نے حکم دیا پس اسے دوپتھروں کے درمیان کچلا گیا یہاں تک کہ وہ نرم ہوگیا پھر فرمایا اب ضرب تازیانہ مارو بغل کھلنے نہ پائے اور ہرعضو جسم کو اس کا حصہ دو۔
سزا کی نوعیت
مرد کو کھڑا کرکے مارنا چاہیے اور عورت کو بٹھاکر۔امام ابوحنیفہؒ کے زمانے میں کوفے کے قاضی ابن ابی لیلیٰ نے ایک عورت کو کھڑا کرکے پٹوایا۔ اس پر امام ابوحنیفہ نے سخت گرفت کی اور علانیہ ان کے فیصلے کو غلط ٹھیرایا(اس سے قانون توہین عدالت کے معاملے میں بھی امام صاحب کے مسلک پر روشنی پڑتی ہے) ضرب تازیانہ کے وقت عورت اپنے پورے کپڑے پہنے رہے گی، بلکہ اس کے کپڑے اچھی طرح باندھ دیئے جائیں گے تاکہ اس کا جسم کھل نہ جائے صرف موٹے کپڑے اتروادیئے جائیں گے۔ مرد کے معاملے میں اختلاف ہے۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ وہ صرف پاجامہ پہنے رہے گا، اور بعض کہتے ہیں کہ قمیص بھی نہ اتروایا جائے گا۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے ایک زانی کو سزائے تازیانہ کا حکم دیا۔ اس نے کہا اس گناہ گار جسم کو اچھی طرح مارکھانی چاہیے، اور یہ کہہ کر وہ قمیص اتارنے لگا حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا ’’اسے قمیص نہ اتارنے دو۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص، ج۳ ص ۳۲۲) حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک شخص کو کوڑے لگوائے گئے اور وہ چادر اوڑھے ہوئے تھا۔
سخت سردی اور سخت گرمی کے وقت مارنا ممنوع ہے۔ جاڑے میں گرم وقت اور گرمی میں ٹھنڈے وقت مارنے کا حکم ہے۔
باندھ کر مارنے کی ممانعت
باندھ کرمارنے کی بھی اجازت نہیں ہے، الا یہ کہ مجرم بھاگنے کی کوشش کرے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں،لاَیَحِلُّ فِیْ ھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ تَجْرِیْدٌ وَلاَمَدٌّ ’’اس امت میں ننگا کرکے اور ٹکٹکی پر باندھ کر مارنا حلال نہیں ہے۔‘‘
فقہاء نے اس کو جائز رکھا ہے کہ روزانہ کم از کم بیس بیس کوڑے مارے جائیں۔ لیکن اولیٰ یہی ہے کہ بیک وقت پوری سزا دے دی جائے۔ مار کا کام اجڈ جلادوں سے نہیں لینا چاہیے بلکہ صاحب علم وبصیرت آدمیوں کو یہ خدمت انجام دینی چاہیے جو جانتے ہوں کہ شریعت کا تقاضا پورا کرنے کے لیے کس طرح مارنا مناسب ہے۔ ابن قیم نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں حضرت علی، حضرت زبیر، مقداد بن عمرو، محمد بن مسلمہ، عاصم بن ثابت اور ضحاک بن سفیان جیسے صلحاء ومعززین سے جلادی کی خدمت لی جاتی تھی۔ ۱؎ (ج۱،ص:۴۴،۴۵)
ضرب تازیانہ کے قانون کی ان تفصیلات کو دیکھیے۔ اور پھر ان لوگوں کی جرأت کی داد دیجیے جو اسے تووحشیانہ سزا کہتے ہیں، مگر وہ سزائے تازیانہ ان کے نزدیک بڑی مہذب سزا ہے جو آج جیلوں میں دی جارہی ہے۔ موجودہ قانون کی رو سے صرف عدالت ہی نہیں، جیل کا ایک معمولی سپرنٹنڈنٹ بھی ایک قیدی کو حکم عدولی یا گستاخی کے قصور میں ۳۰ ضرب بید تک کی سزا دینے کا مجاز ہے۔ یہ بید لگانے کے لیے ایک آدمی خاص طور پر تیار کیا جاتاہے اور وہ ہمیشہ اس کی مشق کرتارہتاہے۔ اس غرض کے لیے بید بھی خاص طورپر بھگو بھگو کر تیار کیے جاتے ہیں تاکہ جسم کو چھری کی طرح کاٹ دیں۔ مجرم کو ننگا کرکے ٹکٹکی سے باندھ دیا جاتاہے تاکہ وہ تڑپ بھی نہ سکے۔ صرف ایک پتلا سا کپڑا اس کی ستر کو چھپانے کے لیے رہنے دیا جاتاہے اور وہ ٹنکچر آیوڈین سے بھگودیاجاتاہے۔ جلاد دور سے بھاگتا ہوا آتاہے۔ اور پوری طاقت سے مارتاہے۔ ضرب ایک ہی مخصوص حصۂ جسم (یعنی سرین) پر مسلسل لگائی جاتی ہے یہاں تک کہ گوشت قیمہ ہوکر اڑتا چلاجاتاہے اور بسا اوقات ہڈی نظر آنے لگتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتاہے کہ طاقتور آدمی بھی پورے تیس بید کھانے سے پہلے ہی بے ہوش ہوجاتاہے اور اس کے زخم بھرنے میں ایک مدت لگ جاتی ہے۔ اس ’’مہذب‘‘ سزا کو جولوگ آج جیلوں میں خود نافذ کررہے ہیں۔ ان کا یہ منہ ہے کہ اسلام کی مقرر کی ہوئی سزائے تازیانہ کو ’’وحشیانہ‘‘ سزا کے نام سے یاد فرمائیں۔ پھر ان کی پولس ثابت شدہ مجرموں کو نہیں بلکہ محض مشتبہ لوگوں کو تفتیش کی خاطر (خصوصاً سیاسی جرائم کے شبہات میں) جیسے جیسے عذاب دیتی ہے وہ آج کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۳،النور حاشیہ:۲)
۴۳۔اگرمجرم مریض ہو، اور اس کی صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو، یا بہت بوڑھا ہو، تو سوشاخوں والی ایک ٹہنی، یا سوتیلیوں والی ایک جھاڑو لے کر صرف ایک دفعہ ماردینا چاہیے تاکہ قانون کا تقاضا پورا کردیا جائے۔ نبی ﷺکے زمانے میں ایک بوڑھا مریض زناکے جرم میں پکڑا گیا تھا اور آپ نے اس کے لیے یہی سزا تجویز فرمائی تھی۔ (احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)
۴۴۔حاملہ عورت کو سزائے تازیانہ دینی ہوتو وضع حمل کے بعد نفاس کا زمانہ گزرجانے تک انتظار کرنا ہوگا اور رجم کرنا ہوتو جب تک اس کے بچے کا دودھ نہ چھوٹ جائے، سزا نہیں دی جاسکتی
ضرب کی ابتدا کون کرے گا؟
اگر زنا شہادتوں سے ثابت ہو تو گواہ ضرب کی ابتدا کریں گے اور اگر اقرار کی بنا پر سزا دی جارہی ہو تو قاضی خود ابتدا کرے گا، تاکہ گواہ اپنی گواہی کو اور جج اپنے فیصلوں کو کھیل نہ سمجھ بیٹھیں۔ شراحہ کے مقدمے میں جب حضرت علیؓ نے رجم کافیصلہ کیا تو فرمایا ’’اگر اس کے جرم کا کوئی گواہ ہوتا تو اسی کو مار کی ابتدا کرنی چاہیے تھی، مگر اس کو اقرار کی بنا پر سزا دی جارہی ہے، اس لیے میں خود ابتدا کروںگا۔‘‘ حنفیہ کے نزدیک ایسا کرنا واجب ہے۔ شافعیہ اس کو واجب نہیں مانتے، مگر سب کے نزدیک اولیٰ یہی ہے۔
الکوہل آمیز ادویہ کا استعمال
خمر اگرچہ انگوری شراب کو کہتے ہیں لیکن اس سے مراد ہرنشہ آور چیز ہے۔ چناں چہ خمر کی تعریف بیان کی گئی ہے ۔
۴۵۔ اَلْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔
’’یعنی ہرچیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانک لے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ، حَدَّثَنَا عِیْسٰی وَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ اَبِیْ حَیَّانَ،عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:سَمِعْتُ عُمَرَ عَلٰی مِنْبَرِ النَّبِیِّ ﷺ، یَقُوْلُ:اَمَّا بَعْدُ، اَیُّھَا النَّاسُ! اَنَّہٗ نَزَلَ تَحْرِیْمُ الْخَمْرِ وَھِیَ مِنْ خَمْسَۃٍ:مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ وَالْخَمْرُمَاخَامَرَالْعَقْلَ۔ (۴۲)
ترجمہ : ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمرؓ کو منبر نبوی ﷺ پر کھڑے خطاب فرماتے سناہے انہوں نے کہا لوگو! اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمادی ہے اور وہ شراب پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی ہے انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو سے۔ اور خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے۔
تشریح: شریعت میں اصول بیان کیا گیاہے کہ مَااَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ، ’’یعنی جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔‘‘ یہ کم مقدار کی حرمت نشہ کی وجہ سے نہیںہے۔ بلکہ اس وجہ سے ہے کہ کم مقدار استعمال کرلینے سے نفس کے اندر کی وہ رکاوٹ دور ہوجاتی ہے، یا کم از کم کمزور پڑجاتی ہے، جو حرام چیز کے لیے نفس میں موجود ہوتی ہے۔
پھریہ بات علمی طریقہ سے معلوم ہے کہ تمام شرابوں میں وہ اصل چیز جونشہ پیدا کرنے والی ہے، الکوہل ہی ہے۔ اس لیے کسی صورت میں اس کا استعمال جائز نہیں ہوسکتا۔ البتہ ایسے حالات میں جبکہ فن طب کی ترقی مسلمانوں کے ہاں ایک مدت سے بند ہوچکی ہے اور جدید زمانے میں اس فن کے تمام ترقیات ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں جو حرام وحلال کی تمیز سے خالی ہیں اور انہوں نے نئے زمانے کی بیشتر مؤثر دواؤں میں الکوہل کو ایک اچھا محلل پاکر دواسازی میں بکثرت استعمال کیا ہے، افراد کے لیے اضطرار کی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ شریعت کسی انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی صحت اور زندگی کی حفاظت کے صرف ان ذرائع پر انحصار کرے جو کسی خاص زمانہ تک دریافت ہوئے ہوں اور اس زمانہ کے بعد دریافت ہونے والے ذرائع خواہ کتنے ہی کاریگر اور مفید ہوں، ان سے اجتناب کرکے اپنے آپ کو خطرے میں ڈالے۔ اس لیے افراد تو اضطرار کی بنا پر ان ذرائع میں حرمت کا سبب موجود ہوتے ہوئے بھی، ان کو اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن تمام مسلمان بحیثیت مجموعی اس وقت تک اس گناہ کے ذمہ دار بنتے رہیں گے جب تک وہ فن طب اور دواسازی کی جدید ترقی کو مسلمان بنالینے کی اجتماعی کوشش نہ کریں۔
جدید فن طب اور دواسازی کو مسلمان بنانے سے میری مراد یہ ہے کہ اس فن کی تمام موجودہ اور آیندہ ترقیات کو اسلام کے اصول کا پابند بنایا جائے اور دواسازی کے تمام موجودہ اور آیندہ ترقی پذیر ذرائع کو اسلامی حدود کے سانچے میں ڈھال لیا جائے۔ یہ کام جب تک اجتماعی سعی سے نہ ہوگا، افراد تو اضطرار کی وجہ سے معاف ہوتے رہیں گے، لیکن جماعت کے نامہ عمل میں مسلسل گناہ لکھا جاتا رہے گا۔ اجتماعی گناہوں کی یہی خاصیت ہے کہ ان کی وجہ سے افراد کے لیے انفرادی طورپر اضطرار کی حالت پیدا ہوجاتی ہے، مگر اجتماعی طورپر پوری جماعت گناہ گار قرار پاتی ہے۔ (رسائل ومسائل اوّل، فقہی مسائل : الکوہل۔۔۔)
ماخذ
(۱) مسلم ج۲کتاب المساقاۃ باب تحریم بیع الخمر۔
(۲) مسلم ج۲کتاب المساقاۃ باب تحریم بیع الخمر۔٭نسائی ج۷کتاب البیوع، باب بیع الخمر۔ عن ابن عباس۔ نسائی نے حتی ذھب مافیھما نقل کیاہے۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الاشربۃ، باب جامع تحریم الخمر۔ عن ابن عباس۔٭مسند احمد ج۱ص۲۴۴۔۳۵۸۔ عن ابن عباس۔
(۳) سنن دارمی ج۲کتاب الاشربۃ، باب النھی عن الخمر وشرائھا۔٭مسند احمد ج۱ص۲۳۰۔۳۲۴۔ عن ابن عباس۔
(۴) مسلم ج۲ کتاب الاشربۃ، باب تحریم تخلیل الخمر۔٭ابوداؤد ج۳کتاب الاشربۃ، باب ماجاء فی الخمر تخلل۔
(۵) ابوداؤد ج۳ کتاب الاشربۃ، باب النھی عن المسکر۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی تفسیر الخمر الذی نزل تحریمھا۔
(۶) مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب تحریم التداوی بالخمر وبیان انھا لیست بدواء۔٭ابوداؤد ج۴۔کتاب الطب، باب فی الادویۃ المکروھۃ۔٭ترمذی ج۲۔ابواب الطب، باب ماجاء فی کراھیۃ التداوی بالمسکر۔٭سنن دارمی ج۲ کتاب الاشربۃ، باب لیس فی الخمر شفاء۔٭ مسند احمد ج۴ طارق بن سوید۔ اور ج۵ص۲۹۲۔دونوں صفحات پر ان ذاک لیس شفاء ولکنہ داء ہے۔
(۷) ترمذی ج۱ ابواب البیوع، باب ماجاء فی بیع الخمر والنھی عن ذٰلک۔ عن انس ھذا حدیث حسن صحیح۔ ٭سنن دارمی ج۲کتاب الاشربۃ، باب فی النھی ان یجعل الخمرخلا۔ عن انس۔٭مسند احمد ج۳ص۱۱۹۔ ۱۸۰۔ ۲۶۰۔ عن انس۔ مسند احمد کے مذکورہ بالا تینوں حوالہ جات پر ابوداؤد والی روایت ہے۔
(۸) ابوداؤد ج۳کتاب الاشربۃ، باب العنب یعصر للخمر۔٭ابن ماجہ کتاب الاشربۃ باب ۶لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ۔٭مسند احمد ج۲ص ۷۱ اورص۹۷ پر مروی روایت میں وآکل ثمنھا بھی ہے۔ ج۱ص۳۱۶۔ عن ابن عباس کی روایت کا آغاز اتانی جبریل، فقال: یامحمد! ان اللہ عزوجل لعن الخمر وعاصرھا ومعتصرھا وشاربھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ، وبائعھا ومبتاعھا وساقیھا ومستقیھا۔
(۹) ترمذی ج۱ ص۲۴۲ کتاب البیوع باب ماجاء فی الخمر والنھی عن ذلک۔ عن انس ٭ابن ماجہ نے کتاب الاشربۃ باب ۶لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ میں بھی اس روایت کو نقل کیاہے الفاظ مختلف ہیں۔
(۱۰) سنن دارمی ج۲کتاب الاشربۃ باب النھی عن القعود علی مائدۃ یدار علیھا الخمر۔
(۱۱) بخاری ج۲کتاب الاشربۃ، باب ترخیص النبی ﷺ فی الاوعیۃ والظروف بعد النھی۔٭السنن الکبریٰ ج۸ کتاب الاشربۃ باب الرخصۃ فی الاوعیۃ بعد النھی۔٭ابوداؤد ج۳کتاب الاشربۃ باب فی الاوعیۃ۔
(۱۲) بخاری ج۲کتاب الاشربۃ، باب ترخیص النبی ﷺ فی الاوعیۃ والظروف بعد النھی۔٭السنن الکبری ج۸ کتاب الاشربۃ، والحد فیھا باب الرخصۃ فی الاوعیۃ بعد النھی۔
(۱۳) مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب ان کل مسکر خمر، وکل خمر حرام، مسلم نے ایک روایت میں الاان یتوب بھی نقل کیاہے۔٭ابوداؤد ج۳کتاب الاشربۃ، باب النھی عن المسکر۔ عن ابن عمر۔٭ترمذی ج۲ ابواب الاشربۃ، باب ماجاء فی شارب الخمر۔
(۱۴) نسائی ج۸۔کتاب الاشربۃ، باب الروایۃ فی المد منین فی الخمر۔ عن ابن عمر۔٭ابن ماجہ کتاب الاشربۃ، باب ۲من شرب الخمر فی الدنیا لم یشربھا فی الآخرۃ۔ ابن ماجہ میں ابن عمر کی روایت کے آخر میں الا ان یتوب کے الفاظ ہیں۔٭مسند احمدج۲ص۲۲۔ ۲۸صفحہ پر ابن ماجہ والی روایت ہے۔٭السنن الکبریٰ ج۸ کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب التشدید علی مدمن الخمر۔
(۱۵) بخاری ج۲کتاب الاشربۃ، باب وقول اللہ تعالٰی انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔٭مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب عقوبۃ من شرب الخمر اذا لم یتب منھا بمنعہ ایاھا فی الاٰخرۃ۔ عن ابن عمر۔٭ابنِ ماجہ کتاب الاشربۃ، باب۲ من شرب الخمر فی الدنیا لم یشربھا فی الآخرۃ۔ ٭سنن دارمی ج۲کتاب الاشربۃ باب ۳ فی التشدید علی شارب الخمر۔ دارمی نے لم یسقھا نقل کیاہے۔ مؤطا امام مالک ج۲کتاب الاشربۃ، باب تحریم الخمر۔٭مسنداحمد ج۲ص۱۹۔۲۲۔۲۸۔ ٭مسند احمد نے ص۱۹ پر لم یسقھا اور ص۲۲۔۲۸ پر الا ان یتوب نقل کیاہے۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر۔
(۱۶) بخاری ج۲کتاب الاشربۃ، باب الخمر من العسل وھو البتع۔٭مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب ان کل مسکر حرام۔ عن عائشۃؓ۔٭ابوداوٗد ج۳کتاب الاشربۃ، باب النھی عن المسکر۔ عن عائشۃؓ۔٭ترمذی ج۲ابواب الاشربۃ، باب ماجاء کل مسکر حرام۔ عن عائشۃؓ۔٭ نسائی ج۸ کتاب الاشربۃ، باب تحریم کل شراب اسکر عن عائشۃؓ۔٭ابن ماجہ کتاب الاشربۃ، باب کل مسکر حرام۔
(۱۷) مسند احمد ج۴ص۲۷۳ اورص۴۰۷ اَنْھَاکُمْ عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ ہے۔
(۱۸) ابوداؤد ج۳۔ کتاب الاشربۃ، باب الخمر مما ھو۔٭مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب بیان ان کل مسکر خمر وکل خمر حرام۔ مسلم نے ابوبردہ عن ابیہ کے واسطہ سے مروی ایک روایت میں انہی عن کل مسکر اسکر عن الصلاۃ نقل کیاہے۔
(۱۹) ابوداؤد ج۳۔ کتاب الاشربۃ، باب النھی عن المسکر۔٭ترمذی ج۲ابواب الاشربۃ، باب مااسکرکثیر، فقلیلہ حرام۔ عن جابر۔٭نسائی ج۸۔ کتاب الاشربۃ، باب تحریم کل شراب اسکر کثیرہ۔ عن عمرو بن شعیب۔٭ابن ماجہ کتاب الاشربۃ، باب ۱۰ مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام۔ عن جابر۔٭ سنن دارمی ج۲۔ کتاب الاشربۃ، باب ماقیل فی المسکر عن سعد۔٭ دارمی نے عن سعد، عن رسول اللہ ﷺ قال: انھاکم عن قلیل مااسکر کثیرہٗ نقل کیاہے۔٭مسند احمد ج۲ص۹۱۔۱۶۷۔۱۷۹۔ج۳ص۳۴۳۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا۔ باب مااسکر کثیرہ فقلیلہٗ حرام۔
(۲۰) ابوداؤدج۳۔ کتاب الاشربۃ باب النھی عن المسکر۔٭ترمذی ج۲ابواب الاشربۃ، باب مااسکر کثیرہ فقلیلہٗ حرام۔ ترمذی نے الحسوۃ منہ حرام کے الفاظ بھی ایک روایت میں نقل کیے ہیں۔٭مسند احمد ج۶ ص۷۲۔۱۳۱ عن عائشۃ ص۷۱پر مااسکر الفرق منہ اذا شربتہ فمل الکف منہ حرام منقول ہے۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۸۔ کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب مااسکر کثیرہ فقلیلہٗ حرام۔
(۲۱) بخاری ج۲کتاب الحدود باب ماجاء فی شارب الخمر۔٭مسلم ج۲کتاب الحدود، باب الخمر۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب حد السکران ٭ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب الحد فی الخمر، عن قتادۃ۔٭ترمذی ج۱۔ ابواب الحدود باب ماجاء فی حد السکران۔٭سنن دارمی ج۲۔ کتاب الحدود باب فی حد الخمر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا، باب ماجاء فی عدد حد الخمر۔٭کنزالعمال ج۵۔حدیث ۱۳۶۷۵۔
(۲۲) بخاری ج۲۔کتاب الحدود باب من امربضرب الحد فی البیت ایک دوسری روایت جو عقبہ بن الحارث کے حوالہ سے مذکور میں ہے۔ اُتِیَ النُّعَیْمَانَ شَارِبًا فَاَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ کَانَ فِی البَیْتِ اَنْ یَّضْرِبُوْہُ، قَالَ: فَضَرَبُوْہُ۔ وَکُنْتُ اَنَا فِیْمَنْ ضَرَبَہٗ بِالنِّعَالِ۔ص۱۰۰۲۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی وجوب الحد علی من شرب خمرا اونبیذا مسکرا۔ عن عقبۃ بن حارث اور ص۳۱۷ باب ماجاء فی اقامۃ الحد فی حال السکر اوحتی یذھب سکرہ۔
(۲۳) بخاری ج۲۔کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ایک اور روایت میں لاتکونوا عون الشیطان اور ایک روایت میں اعوان الشیطان علی اخیکم بھی ہے۔٭ابوداؤد ج۴۔ کتاب الحدود، باب الحد فی الخمر۔ عن ابی ھریرۃ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ والحد فیھا۔ باب ماجاء فی وجوب الحد علی من شرب خمرا او نبیذا مسکرا عن ابی ھریرۃ۔
(۲۴) بخاری ج۲۔کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ والحد فیھا، باب ماجاء فی عدد حد الخمر۔
(۲۵) بخاری ج۲۔ کتاب الحدود، باب مایکرہ من لعن شارب الخمر وانہ لیس بخارج من الملۃ۔
(۲۶) بخاری ج۲۔کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال۔٭مسلم ج۲۔ کتاب الحدود، باب حدالخمر۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب الشارب یضرب زیادۃ علی الاربعین فیموت فی الزیادۃ الخ۔
(۲۷) مسلم ج۲۔کتاب الحدود، باب حد الخمر۔٭ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب الحد فی الخمر،٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب حدالسکران۔٭ سنن دارمی ج۲۔کتاب الحدود، باب فی حد الخمر۔ (مختصر)٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔ کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی عدد حد الخمر۔ ٭کنزالعمال ج۵۔حدیث نمبر۱۳۶۸۶۔ ٭سنن دارقطنی ج۳ کتاب الحدود حدیث نمبر۳۶۷۔
(۲۸) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب اذا تتابع فی شرب الخمر۔٭کنزالعمال ج۵۔ حدیث نمبر۱۳۶۹۴۔
(۲۹) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب اذا تتابع فی شرب الخمر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی عدد حد الخمر۔٭کنزالعمال ج۵۔ حدیث ۱۳۶۸۰۔
(۳۰) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب اذا تتابع فی شرب الخمر۔٭ترمذی ج۱۔ ابواب الحدود، باب ماجاء من شرب الخمر فاجلدوہ فان عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ عن معاویۃ۔٭نسائی ج۸۔کتاب الاشربۃ، باب ذکر الروایات المغلظات فی شرب الخمر، عن ابی ھریرۃ اور ابن عمر اور نفر من اصحاب النبی ص۳۱۳۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب من شرب الخمر مرارا۔ عن ابی ھریرۃ۔٭سنن دارمی ج۲۔کتاب الحدود، باب فی شارب الخمر اذا اوتی بہ الرابعۃ عن عمرو بن الشرید عن ابیہ۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی وجوب الحد علی من شرب خمرا اونبیذا مسکرا۔
(۳۱) ترمذی ج۱۔ص۲۶۷۔
(۳۲) مؤطا امام مالک ج۲۔کتاب الاشربۃ باب الحد فی الخمر۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی تحریم الخمر۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الاشربۃ، باب ماقیل فی المسکر۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی تفسیر الخمر الذی نزل تحریمھا۔
(۳۳) بخاری ج۲۔ کتاب التفسیر سورۃ المائدۃ باب قولہ لیس علی الذین امنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا الخ۔٭مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب تحریم الخمر۔٭ابوداؤد ج۳کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی تحریم الخمر۔٭السنن الکبریٰ ج۸۔کتاب الاشربۃ والحد فیھا۔ باب ماجاء فی تحریم الخمر۔
(۳۴) بخاری ج۲ کتاب التفسیر، باب قولہ انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان۔٭بخاری ج۲۔کتاب الاشربۃ، باب نزل تحریم الخمر وھی من البُسر والتمر۔٭مسلم ج۲۔کتاب الاشربۃ باب تحریم الخمر۔
(۳۵) مسلم ج۲کتاب الاشربۃ، باب تحریم الخمر۔٭السنن الکبریٰ ج۸ کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی تحریم الخمر۔
(۳۶) بخاری ج۲۔کتاب الاشربۃ، باب من رای ان لایخلط البُسر والتمر اذا کان مسکراً۔٭نسائی ج۸۔ کتاب الاشربۃ باب ذکر الشراب الذی اھریق بتحریم الخمر۔٭بخاری ج۲میں حضرت انس سے مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی ایک روایت منقول ہے۔ یہی روایت مسلم نے ج۲میں کتاب الاشربۃ باب تحریم الخمر کے تحت ذکر کی ہے۔ اسے نسائی نے ج۸ میںکتاب الاشربۃ باب ذکر الشراب الذی اھریق بتحریم الخمر کے تحت بیان کیاہے۔
(۳۷) المصنف لعبد الرزاق، ج۷ حدیث نمبر۱۳۵۱۵۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔ کتاب الاشربۃ والحد فیھا، باب ماجاء فی صفۃ السوط والضرب۔٭کنزالعمال ج۵ص۵۷۲۔
(۳۸) ابوداؤد ج۴کتاب الحدود، باب فی ضرب الوجہ فی الحد۔٭مسند احمد ج۲ص۴۳۴۔عن ابی ھریرۃ۔ ٭السنن الکبریٰ ج۸۔کتاب الاشربۃ، باب ماجاء فی صفۃ السوط والضرب۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳۔ سورۃ النور باب مایضرب من اعضاء المحدود۔
(۳۹) السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ والحد فیھا، باب ماجاء فی صفۃ السوط والضرب۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳ص۲۶۲۔٭المصنف ج۷ص۳۶۹۔٭کنز العمال ج۵ حدیث نمبر۱۳۴۲۸۔
(۴۰) السنن الکبری ج۸ کتاب الاشربۃ والحد فیھا، باب ماجاء فی صفۃ السوط والضرب۔٭احکام القرآن للجصاص ج۳ص۲۶۱۔
(۴۱) کنز العمال ج۵ حدیث نمبر ۱۳۴۲۱ عن عکرمۃ بن خالد اس میں واتَّقِ کے بجائے وَاجْتَنِبْ ہے۔
(۴۲) بخاری ج۲ کتاب التفسیر۔ سورۃ المائدۃ، باب قولہ انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان۔٭بخاری ج۲کتاب الاشربۃ، باب ماجاء فی ان الخمر ماخامر العقل من الشراب۔٭ مسلم ج۲کتاب التفسیر۔٭ ابوداؤد ج۳کتاب الاشربۃ، باب فی تحریم الخمر۔٭نسائی ج۸کتاب الاشربۃ، باب ذکر انواع الاشیاء التی کانت منھا الخمر حین نزل تحریمھا۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الاشربۃ، والحد فیھا، باب الخلیطین۔
فصل:۴ زنا اوراس کی سزا شادی شدہ مرد وزن کی سزا
زنا بالجبر کی سزا
ضعیف اور مریض زانی کی سزا
۵۱۔ خُذُوْا عِثْکَالاً فِیْہِ مِأَۃُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوْہُ بِھَا ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً۔
’’قبیلہ بنی ساعدہ میں ایک شخص سے زنا کا ارتکاب ہوا اور وہ ایسا مریض تھا کہ بس ہڈی اور چمڑا رہ گیا تھا۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ کھجور کا ایک ٹہنا لو جس میں سوشاخیں ہوں اور اس سے بیک وقت اس شخص کو ماردو۔ ‘‘ (احکام القرآن)
تخریج:(۱) رَوَاہُ بُکَیْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْاَشَجِّ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ بْنِ سَھْلٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ سَعْدٍ
سَعِیْدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ وَقَدْ اَدْرَکَ النَّبِیَّ ﷺ وَاَبُوْاُمَامَۃَ بْنُ سَھْلِ بْنِ حَنِیْفٍ ۔ ھٰذَا وُلِدَ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔
(احکام القرآن للجصاص ج۳ ص۳۸۳)
وَقَالَ فِیْہِ:فَخُذُوْا عِثْکَالاً فِیْہِ مِائَۃُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوْہُ بِھَا ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً، فَفَعَلُوْا۔(۸)
ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں:
(۲)اَنَّہٗ اَخْبَرَہٗ بَعْضُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْاَنْصَارِ اَنَّہُ اشْتَکیٰ رَجُلٌ مِنْھُمْ حَتّٰی اُضْنِیَ، فَعَادَ جَلْدَۃً عَلٰی عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ جَارِیَۃٌ لِبَعْضِھِمْ، فَھَشَّ لَھَا فَوَقَعَ عَلَیْھَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِ رِجَالُ قَوْمِہٖ یَعُوْدُوْنَہٗ، اَخْبَرَھُمْ بِذٰلِکَ، وَقَالَ:اسْتَفْتُوْا لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاِنِّیْ قَدْ وَقَعْتُ عَلٰی جَارِیَۃٍ دَخَلَتْ عَلَیَّ، فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ،وَقَالُوْا: مَارَأَیْنَا بِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّمِثْلَ الَّذِیْ ھُوَبِہٖ، لَوْحَمَلْنَاہُ اِلَیْکَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُہٗ، مَاھُوَاِلاَّ جِلْدٌ عَلٰی عَظْمٍ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺاَنْ یَّاْخُذُوْا لَہٗ مِائَۃَ شِمْرَاخٍ فَیَضْرِبُوْہُ بِھَا ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً۔(۹)
ترجمہ : ابوامامہ بن سہل کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے انصاری صحابہ میں سے ایک صحابی نے آپ کو اطلاع دی کہ ان کا ایک آدمی بیمار پڑگیا اور ہڈی چمڑے کا بس پنجر بن کر رہ گیا۔ اس وقت اس کے پاس کسی کی لونڈی چلی گئی۔ اس پر اس کا دل بھُربھرایا اور مباشرت کربیٹھا۔ جب اس کی برادری وقبیلہ کے لوگ اس کی عیادت کے لیے آئے تو اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا اور درخواست کی کہ میرے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھو کہ میرے پاس آنے والی کسی کی لونڈی سے میں مباشرت کر بیٹھا ہوں۔ ان لوگوں نے اس صورت حال کا ذکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کیا اور ساتھ ہی عرض کیا کہ وہ ایسا مریض ہے ہم نے ایسا مریض وضعیف آدمی کسی کو نہیں دیکھا۔ اگر ہم اسے اٹھاکر آپ کی خدمت میں لائیں گے تو اس کی ہڈیاں پنجر سے الگ ہوجائیں گی بس وہ تو اب ہڈیوں پر چمڑا ہی رہ گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ایسا ایک ٹہنالو جس میں سوشاخیں ہوں۔ بس اس کو اس پر ایک مرتبہ مار دو۔
تشریح : مسند احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی ، عبدالرزاق اور دوسری کتب حدیث میں بھی اس کی تائید کرنے والی حدیثیں موجود ہیں جن سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ نبی ﷺ نے مریض اور ضعیف پر حد جاری کرنے کے لیے یہی طریقہ مقرر فرمایاتھا۔ البتہ فقہاء نے اس کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ ہرشاخ یا ہرتنکا کچھ نہ کچھ مجرم کو لگ جانا چاہیے اور ایک ہی ضرب سہی، مگر وہ کسی نہ کسی حد تک مجرم کو چوٹ لگانے والی بھی ہونی چاہیے، یعنی محض چھودینا کافی نہیں ہے، بلکہ مارنا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص اپنے ملازم کو دس کوڑے مارنے کی قسم کھا بیٹھا ہو اور بعد میں دسوں کوڑے ملا کر اسے صرف ایک ضرب اس طرح لگادے کہ ہر کوڑے کا کچھ نہ کچھ حصہ اس شخص کو ضرور لگ جائے، تو اس کی قسم پوری ہوجائے گی۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد، امام زفر اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔ (تفہیم القرآن ج۴، حاشیہ:۴۶)
حد زنا کس پر نافذ ہوگی
۵۲۔ ایک شخص نے آکر نبی ﷺ کے سامنے اقرار کیاکہ وہ فلاں عورت سے زنا کا مرتکب ہوا ہے۔ آپ نے عورت کو بلا کر پوچھا، اس نے انکار کیا۔ آپ نے اس پر حد جاری کی اور عورت کو چھوڑدیا۔
تخریج: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَفْصٍ، ثَنَا اَبُوْحَازِمٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّ رَجُلاً اَتَاہُ فَاَقَرَّ عِنْدَہٗ اَنَّہٗ زَنٰی بِامْرَأَۃٍ سَمَّاھَا لَہٗ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَی الْمَرْأَۃِ، فَسَأَلَھَا عَنْ ذٰلِکَ فَاَنْکَرَتْ اَنْ تَکُوْنَ زَنَتْ، فَجَلَدَہُ الْحَدَّ وَتَرَکَھَا۔(۱۰)
۵۳۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ پہلے اس کے اقرار پر آپ نے حد زنا جاری کی، پھر عورت سے پوچھا اور اس کے انکار پر اس شخص کو حد قذف کے کوڑے لگوائے۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ بْنِ فَارِسٍ، ثَنَا مُوْسٰی بْنُ ھَارُوْنَ الْبَرْدِیُّ، ثَنَاھِشَامُ بْنُ یُوْسُفَ،عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَیَّاضٍ الْاَبْنَاوِیِّ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَجُلاً مِنْ بَکْرِ بْنِ لَیْثٍ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَاَقَرَّ اَنَّہٗ زَنٰی بِامْرَأَۃٍ اَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَجَلَدَہٗ مِائَۃً، وَکَانَ بِکْرًا ثُمَّ سَأَلَہُ الْبَیِّنَۃَ عَلَی الْمَرْأَۃِ، فَقَالَتْ: کَذَبَ، وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَجَلَدَہٗ حَدَّ الْفِرْیَۃِ ثَمَانِیْنَ۔(۱۱)
تشریح : اقراری مجرم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے کس سے زنا کا ارتکاب کیاہے کیوں کہ اس طرح ایک کے بجائے دو کو سزا دینی پڑے گی، اور شریعت لوگوں کو سزا دینے کے لیے بے چین نہیں ہے۔ البتہ اگر مجرم خود یہ بتائے کہ اس فعل کا فریق ثانی فلاں ہے تو اس سے پوچھا جائے گا۔ اگر وہ بھی اعتراف کرے تو اسے سزا دی جائے گی۔ لیکن اگر وہ انکار کردے تو صرف اقراری مجرم ہی حد کا مستحق ہوگا۔ اس امر میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ اس صورت میں (جبکہ فریق ثانی اس کے ساتھ مرتکب زنا ہونے کو تسلیم نہ کرے) اس پر آیا حدِّ زنا جاری کی جائے گی یا حدِّ قذف۔ امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک وہ حدزنا کا مستوجب ہے، کیوں کہ اسی جرم کا اس نے اقرار کیا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام اوزاعیؒ کی رائے میں اس پر حدِّ قذف جاری کی جائے گی، کیوں کہ فریق ثانی کے انکار نے اس کے جرم زنا کو مشکوک کردیاہے، البتہ اس کا جرم قذف بہر حال ثابت ہے اور امام محمد کا فتویٰ یہ ہے (امام شافعی کا بھی ایک قول اس کی تائید میں ہے) کہ اسے زنا کی سزا بھی دی جائے گی اور قذف کی بھی، کیوں کہ اپنے جرم زنا کا وہ خود معترف ہے، اور فریق ثانی پر اپنا الزام وہ ثابت نہیں کرسکا ہے۔ نبی ﷺ کی عدالت میں اس قسم کا ایک مقدمہ آیا تھا۔اس کی ایک روایت جو مسند احمد اور ابوداؤد میں سہل بن سعد سے منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں ’’ایک شخص نے آکر نبی ﷺ کے سامنے اقرار کیا کہ وہ فلاں عورت سے زنا کا مرتکب ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے اس پر حد جاری کی اور عورت کو چھوڑدیا۔‘‘ اس روایت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ کون سی حد جاری کی۔ دوسری روایت ابوداؤد اور نسائی نے ابن عباسؓ سے نقل کی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پہلے اس کے اقرار پر آپؐ نے حد زنا جاری کی، پھر عورت سے پوچھا اور اس کے انکار پر اس شخص کو حد قذف کے کوڑے لگوائے۔ لیکن یہ روایت سند کے لحاظ سے بھی ضعیف ہے، کیوں کہ اس کے ایک راوی قاسم بن فیاض کو متعدد محدثین نے ساقط الاعتبار ٹھہرایا ہے، اور قیاس کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺسے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپؐ نے اسے کوڑے لگوانے کے بعد عورت سے پوچھا ہوگا۔ صریح عقل اور انصاف کا تقاضا، جسے حضورؐ نظر انداز نہیں فرماسکتے تھے، یہ تھا کہ جب اس نے عورت کا نام لے دیا تھا تو عورت سے پوچھے بغیر اس کے مقدمے کا فیصلہ نہ کیا جاتا۔ اسی کی تائید سہل بن سعد والی روایت بھی کررہی ہے۔ لہٰذا دوسری روایت لائق اعتماد نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ:۲)
ثبوت جرم کے بغیر سزائے رجم
۵۴۔ لَوْکُنْتُ رَاجِمًا اَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَرَجَمْتُھَا۔
’’اگر میں ثبوت کے بغیر رجم کرنے والا ہوتا تو اس عورت کو ضرور رجم کرادیتا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَمْروٌ النَّاقِدُ وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، وَقَالاَ:نَاسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ:قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ شَدَّادٍ وَذُکِرَالْمُتَلاَعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ أَھُمَا اللَّذَانِ؟ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ:لَوْکُنْتُ رَاجِمًا اَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَرَجَمْتُھَا۔(۱۲)
بخاری و مسلم نے اس طرح بھی نقل کیا ہے:
(۲)فَلاَعَنَ النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَھُمَا فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَجْلِسِ ھِیَ الَّتِیْ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَوْرَجَمْتُ اَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ رَجَمْتُ ھٰذِہٖ، فَقَالَ:لاَ، تِلْکَ اِمْرَأَۃٌ کَانَتْ تُظْھِرُ فِی الْاِسْلاَمِ السُّوْئَ۔(۱۳)
(۳)حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیْدِ الدِّمَشْقِیُّ، ثَنَا زَیْدُ بْنُ یَحْیٰ بْنِ عُبَیْدٍ، ثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ جَعْفَرٍ، عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَوْکُنْتُ رَاجِمًا اَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ، لَرَجَمْتُ فُلاَنَۃَ، فَقَدْ ظَھَرَ مِنْھَا الرِّیْبَۃُ فِیْ مَنْطِقِھَا وَھَیْئَتِھَا وَمَنْ یَّدْخُلُ عَلَیْھَا۔(۱۴)
تشریح : اسلامی حکومت کسی شخص کے خلاف زنا کے جرم میں کوئی کارروائی نہ کرے گی جب تک کہ اس کے جرم کا ثبوت نہ مل جائے۔ ثبوت جرم کے بغیر کسی کی بدکاری خواہ کتنے ہی ذرائع سے حکام کے علم میں ہو، وہ بہرحال اس پر حد جاری نہیں کرسکتے۔ مدینے میں ایک عورت تھی جس کے متعلق روایات ہیں کہ وہ کھلی کھلی فاحشہ تھی۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ کَانَتْ تُظْھِرُ فِی الْاِسْلَامِ السُّوْئَ۔ دوسری روایت میں ہے کَانَتْ قَدْ اَعْلَنَتْ فِی الْاِسْلَامِ۔ ابن ماجہ کی روایت ہے فَقَدَ ظَھَرَ مِنْھَا الرِّیْبَۃُ فِیْ مَنْطِقِھَا وَھَیْئَتِھَا وَمَنْ یَدْخُلُ عَلَیْھَا۔ لیکن چوں کہ اس کے خلاف بدکاری کا ثبوت نہ تھا اس لیے اسے کوئی سزا نہ دی گئی، حالاں کہ اس کے متعلق نبی ﷺ کی زبان مبارک سے ـــــ لَوْکُنْتُ رَاجِماً اَحَداً بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَرَجَمْتُھَا الخ ـــــ مندرجہ بالا الفاظ نکل گئے تھے۔ (تفہیم القرآن ج۳، النور، حاشیہ:۲)
ماخذ
(۱) مسلم ج۲کتاب الحدود، باب حد الزنا۔٭ ابوداوٗد ج۴ کتاب الحدود، باب فی الرجم۔٭ ترمذی ج۱ابواب الحدود، باب ماجاء فی الرجم علی الثیب۔٭ ابن ماجہ کتاب الحدود، باب فی حدالزنا۔٭ ابوداؤد میں خذوا دو مرتبہ، ترمذی اور ابن ماجہ میں ایک مرتبہ۔ ابوداؤد اور ترمذی نے نفی عام اور مسلم میں تغریب عام اور ابن ماجہ نے تغریب سنۃ نقل کیاہے۔٭السنن الکبریٰ ج ۸کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب۔ عن عبادۃ بن الصامت۔ ٭ کنزالعمال ج۵۔ باب حدالزنا۔ حدیث ۱۳۰۹۸ عن عبادۃ بن الصامت۔٭ سنن دارمی ج۲ کتاب الحدود، باب فی تفسیر قول اللہ تعالٰی اویجعل اللّٰہ لھن سبیلا۔ عن عبادۃ بن الصامت اس میں خذوا عنی دو مرتبہ نقل ہوا ہے۔
(۲) بخاری ج۲کتاب المحار بین من اھل الکفر والردۃ باب الاعتراف بالزنی۔٭ مسلم ج۲کتاب الحدود، باب فی حد الزنا۔٭ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب فی المرأۃ التی امر النبی ﷺ برجمھا من جھینۃ۔٭ترمذی ج۱ابواب الحدود، باب ماجاء فی الرجم علی الثیب۔٭نسائی ج۸ کتاب آداب القاضی باب صون النساء عن مجلس الحکم۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود، باب ۷حد الزنا۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الحدود، باب ماجاء فی الرجم۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج ۸کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان جلد المائۃ ثابت علی البکرین الخ۔ ٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود، باب الاعتراف بالزنا۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر ۱۳۱۰۲ باب حد الزنا۔
(۳) ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب رجم ما عز بن مالک۔
(۴) ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود باب فی صاحب الحد یجیء فیقر۔٭ترمذی ج۱ابواب الحدود باب ماجاء فی المرأۃ اذا استکرھت علی الزنا۔
(۵) بخاری ج۲ کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب الاعتراف بالزنٰی۔
(۶) بخاری ج۲کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ، باب الاعتراف بالزنا۔٭مسلم ج۲کتاب الحدود، باب حد الزنا۔٭ ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب فی الرجم۔٭ابوداؤد میں وایم اللّٰہِ لَوْلاَ اَنْ یَّقُوْلَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، لَکَتَبْتُھَا۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر ۱۳۵۱۲۔٭ترمذی ج۱ ابواب الحدود، باب ماجاء فی تحقیق الرجم۔ ھٰذا حدیث صحیح۔
(۷) ابن ماجہ کتاب الحدود باب ۶الرجم۔ ٭ابن ماجہ میں حضرت عمر کا وَقَدْ قَرَأْتُھَا(الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا الْبَتَّۃَ) کا جملہ بھی مذکور ہے۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب۔ عن عمر بن الخطاب۔٭السنن الکبری میں حضرت عمر کے علاوہ حضرت ابی بن کعب سے بھی الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ نکالاً من اللہ واللہ عزیز حکیم نقل کیاہے مزید برآں حضرت زید بن ثابت سے بھی اسے ذکر کیاہے فَقَالَ زَیْدٌ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا الْبَتَّۃَ نکالاً من اللّٰہ ورسولہ۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود باب فی حد المحصنین بالزنا۔ عن زید بن ثابت۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الحدود، باب ماجاء فی الرجم (مختصر)٭مسند احمد ج۱ص۲۳۔ عمر بن خطاب۔
(۸) احکام القرآن للجصاص ج۳ص۳۸۳ مطبوعہ بیروت لبنان۔
(۹) ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب فی اقامۃ الحد علی المریض۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود، باب الکبیر والمریض یجب علیہ الحد۔٭مسند احمد ج۵ص۲۲۲عن سعید بن سعد بن عبادۃ۔٭ روح المعانی ج۱۱ سورہ ص مختصر طورپر۔٭السنن الکبری ج۸کتاب الحدود، باب الضریر فی خلقتہ لامن مرضٍ یصیب الحد (الفاظ مختلف ہیں)۔٭ دارقطنی ج۳کتاب الحدود حدیث نمبر ۶۷ مطبوعہ ملتان نشر السنۃ۔
(۱۰) ابوداؤدج۴کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک۔٭ المستدرک للحاکم ج۴کتاب الحدود، عن سھل بن سعد(الفاظ مختلف ہیں)۔
(۱۱) ابوداؤد ج۴کتاب الحدود، باب اذا اقرالرجل بالزنا ولم تقرالمرأۃ۔٭المستدرک ج۴کتاب الحدود۔ عن ابن عباس۔
(۱۲) مسلم ج۱کتاب اللعان۔٭بخاری ج۲کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب من اظھر الفاحشۃ الخ ۔
(۱۳) کنز العمال ج۵حدیث ۱۳۰۹۹۔٭نسائی ج۶ کتاب الطلاق، کیف اللعان کے تحت، باب قول الامام اللّٰھم بین۔٭ ابن ماجہ کتاب الحدود، باب۱۱ من اظھر الفاحشۃ۔٭مسند احمد ج۱ص۳۳۶۔ ٭ نسائی نے تظھر فی الاسلام الشَّرَّ نقل کیاہے۔
(۱۴) ابن ماجہ کتاب الحدود، باب۱۱ من اظھر الفاحشۃ۔ فی الزوائد۔ اسنادہ صحیح ورجالہ ثقات۔
فصل:۵ قذف اور اس کی سزا
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآئَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَلاَتَقْبَلُوْا لَھُمْ شَھَادَۃً اَبَدًا ج وَاُولٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ لاo اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا ج فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo
(النور:۴،۵)
’’ جولوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسّی ۸۰ کوڑے مارو۔ اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور یہی فاسق ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہوجائیں اور اصلاح کرلیں کہ اللہ ضرور ان کے حق میں غفورو رحیم ہے۔‘‘
حدِ قذف کے حکم کا منشا
اس حکم کا منشا یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کی آشنائیوں اور ناجائز تعلقات کے چرچے قطعی طورپر بند کردیے جائیں، کیوں کہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں، اور ان میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس طرح غیرمحسوس طریقے پر ایک عام زنا کارانہ ماحول بنتاچلاجاتاہے۔ ایک شخص مزے لے لے کر کسی کے صحیح یا غلط گندے واقعات دوسروں کے سامنے بیان کرتاہے۔ دوسرے اس میں نمک مرچ لگا کر اور لوگوں تک انہیں پہنچاتے ہیں، اور ساتھ ساتھ کچھ مزید لوگوں کے متعلق بھی اپنی معلومات یا بدگمانیاں بیان کردیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ شہوانی جذبات کی ایک عام رو چل پڑتی ہے، بلکہ برے میلانات رکھنے والے مردوں اور عورتوں کو یہ بھی معلوم ہوجاتاہے کہ معاشرے میں کہاں کہاں ان کے لیے قسمت آزمائی کے مواقع موجود ہیں۔ شریعت اس چیز کا سدِّ باب پہلے ہی قدم پر کردینا چاہتی ہے۔ ایک طرف وہ حکم دیتی ہے کہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کو وہ انتہائی سزا دو جو کسی اور جرم پر نہیں دی جاتی۔ اور دوسری طرف وہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے وہ یا تو شہادتوں سے اپنا الزام ثابت کرے، ورنہ اس پر اسّی ۸۰؍ کوڑے برسادو تاکہ آیندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلاثبوت نکالنے کی جرأت نہ کرے۔ بالفرض اگر الزام لگانے والے نے کسی کو اپنی آنکھوں سے بھی بدکاری کرتے دیکھ لیا ہو تب بھی اسے خاموش رہنا چاہیے اور دوسروں تک اسے نہ پہنچانا چاہیے۔ تاکہ گندگی جہاں ہے وہیں پڑی رہے، آگے نہ پھیل سکے۔ البتہ اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں تو معاشرے میں بے ہودہ چرچے کرنے کے بجائے معاملہ حکام کے پاس لے جائے اور عدالت میں ملزم کا جرم ثابت کرکے اسے سزا دلوادے۔
احکامِ قذف
اس قانون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تفصیلات نگا ہ میں رہیں۔ اس لیے ہم ذیل میں ان کو نمبر وار بیان کرتے ہیں۔:
(۱) آیت میں الفاظ ’’وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْن‘ استعمال ہوئے ہیں جن کے معنی ہیں ’’وہ لوگ جو الزام لگائیں‘‘ لیکن سیاق وسباق یہ بتاتاہے کہ یہاں الزام سے مراد ہرقسم کا الزام نہیں، بلکہ مخصوص طورپر زنا کا الزام ہے۔ پہلے زنا کا حکم بیان ہوا ہے اور آگے لعان کا حکم آرہاہے ، ان دونوں کے درمیان اس حکم کا آنا صاف اشارہ کررہاہے کہ یہاں ’’الزام‘‘ سے مراد کس نوعیت کا الزام ہے پھر الفاظ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ’’الزام لگائیں پاک دامن عورتوں پر۔‘‘ سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے کہ مراد وہ الزام ہے، جو پاک دامنی کے خلاف ہو۔ اس پر مزید یہ کہ الزام لگانے والوں سے اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ لانے کا مطالبہ کیا گیاہے۔ جو پورے قانونِ اسلامی میں صرف زنا کا نصاب شہادت ہے۔ ان قرائن کی بنا پر تمام امت کے علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت میں صرف الزام زنا کا حکم بیان ہوا ہے، جس کے لیے علماء نے ’’قذف‘‘ کی مستقل اصطلاح مقرر کردی ہے تاکہ دوسری تہمت تراشیاں (مثلاً کسی کو چور، یا شرابی، یاسود خوار، یا کافر کہہ دینا) اس حکم کی زد میں نہ آئیں۔ ’’قذف‘‘ کے سوا دوسری تہمتوں کی سزا قاضی خود تجویز کرسکتاہے، یا مملکت کی مجلس شوریٰ حسب ضرورت ان کے لیے توہین اور ازالۂ حیثیت عرفی کا کوئی عام قانون بناسکتی ہے۔
(۲) آیت میں اگرچہ الفاظ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ’’پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں۔‘‘ استعمال ہوئے ہیں، لیکن فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ حکم صرف عورتوں ہی پر الزام لگانے تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ پاک دامن مردوں پر بھی الزام لگانے کا یہی حکم ہے۔ اسی طرح اگرچہ الزام لگانے والوں کے لیے وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنمذکرکا صیغہ استعمال کیا گیاہے لیکن یہ صرف مردوں ہی کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اگر جرم قذف کی مرتکب ہوں تو وہ اسی حکم کی سزاوار ہوں گی۔ کیوں کہ جرم کی شناعت میں قاذِف یا مقذوف کے مرد یا عورت ہونے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا قانون کی شکل یہ ہوگی کہ جو مرد یا عورت بھی کسی پاک دامن مردیا عورت پر زنا کا الزام لگائے اس کا یہ حکم ہے(واضح رہے کہ یہاں محصن اور محصنہ سے مراد شادی شدہ مرد وعورت نہیں بلکہ پاک دامن مردو عورت ہیں)۔
(۳) یہ حکم صرف اسی صورت میں نافذ ہوگا جب کہ الزام لگانے والے نے محصنین یا محصنات پر الزام لگایا ہو، کسی غیرمحصن پر الزام لگانے کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ غیرمحصن اگر بدکاری میں معروف ہوتب تو اس پر ’’الزام‘‘ لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ ایسا نہ ہو تو اس کے خلاف بلاثبوت الزام لگانے والے کے لیے قاضی خود سزا تجویز کرسکتاہے، یا ایسی صورتوں کے لیے مجلس شوریٰ حسبِ ضرورت قانون بناسکتی ہے۔
(۴) کسی فعلِ قذف کے مستلزم سزا ہونے کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ کسی نے کسی پر بدکاری کا بلا ثبوت الزام لگایا ہے، بلکہ اس کے لیے کچھ شرطیں قاذِف (الزام لگانے والے) میں، اور کچھ مقذوف (الزام کے ہدف بنائے جانے والے) میں، اور کچھ خود فعلِ قذف میں پائی جانی ضروری ہیں۔
وہ شرائط جو قاذف میں پائی جانی چاہئیں
قاذِف میں جو شرطیں پائی جانی چاہئیں وہ یہ ہیں: اوّل یہ کہ وہ بالغ ہو۔ بچہ اگر قذف کا مرتکب ہوتو اسے تعزیردی جاسکتی ہے مگر اس پر حد جاری نہیں کی جاسکتی۔ دوم یہ کہ وہ عاقل ہو۔ مجنون پر حد جاری نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح حرام نشے کے سوا کسی دوسری نوعیت کے نشے کی حالت میں، مثلا کلورو فارم کے زیر اثر الزام لگانے والے کو بھی مجرم نہیں ٹھیرا یاجاسکتا۔ سوم یہ کہ اس نے اپنے آزاد ارادے سے (فقہاء کی اصطلاح میں طائعاً) یہ حرکت کی ہو۔ کسی کے جبر سے قذف کا ارتکاب کرنے والا مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چہارم یہ کہ وہ مقذوف کا اپنا باپ یا دادا نہ ہو، کیوں کہ ان پر حد قذف جاری نہیں کی جاسکتی۔ ان کے علاوہ حنفیہ کے نزدیک ایک پانچویں شرط یہ بھی ہے کہ وہ ناطق ہو، گونگا اگر اشاروں میں الزام لگائے تو وہ حد قذف کا مستوجب نہ ہوگا۔ لیکن امام شافعیؒ کو اس سے اختلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر گونگے کا اشارہ بالکل صاف اور صریح ہو جسے دیکھ کر ہرشخص سمجھ لے کہ وہ کیا کہنا چاہتاہے تو وہ قاذِف ہے، کیوں کہ اس کا اشارہ ایک شخص کو بدنام ورسوا کردینے میں تصریح بالقول سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ اس کے برعکس حنفیہ کے نزدیک محض اشارے کی صراحت اتنی قوی نہیں ہے کہ اس کی بنا پر ایک آدمی کو ۸۰ کوڑوں کی سزا دے ڈالی جائے۔ وہ اس پر صرف تعزیر دیتے ہیں۔
وہ شرطیں جو مقذوف میں پائی جانی چاہئیں
مقذوف میں جو شرطیں پائی جانی چاہئیں وہ یہ ہیں: پہلی شرط یہ کہ وہ عاقل ہو یعنی اس پر بحالت عقل زنا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ مجنون پر (خواہ وہ بعد میں عاقل ہوگیا ہو یا نہ ہوا ہو) الزام لگانے والا حدِ قذف کا مستحق نہیں ہے ۔کیوں کہ مجنون اپنی عصمت کے تحفظ کا اہتمام نہیں کرسکتا، اور اس پر اگر زنا کی شہادت قائم بھی ہوجائے تو نہ وہ حدِ زنا کا مستحق ہوتاہے نہ اس کی عزت پر حرف آتاہے۔ لہٰذا اس پر الزام لگانے والا بھی حد قذف کا مستحق نہ ہونا چاہیے۔ لیکن امام مالک اور امام لیث بن سعد کہتے ہیں کہ مجنون کا قاذف، حد کا مستحق ہے کیوں کہ بہر حال وہ ایک بے ثبوت الزام لگارہاہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ بالغ ہو یعنی اس پر بحالت بلوغ زنا کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا ہو۔ بچے پر الزام لگانا، یا جوان پر اس امر کا الزام لگانا کہ وہ بچپن میں اس فعل کا مرتکب ہوا تھا، حد قذف کا موجب نہیں ہے، کیوں کہ مجنون کی طرح بچہ بھی اپنی عصمت کے تحفظ کا اہتمام نہیں کرسکتا، نہ وہ حد زنا کا مستوجب ہوتاہے، اور نہ اس کی عزت مجروح ہوتی ہے۔ لیکن امام مالک کہتے ہیں کہ سن بلوغ کے قریب عمر کے لڑکے پر اگر زنا کے ارتکاب کا الزام لگایا جائے تب تو قاذف، حدکا مستحق نہیں ہے، لیکن اگر ایسی عمر کی لڑکی پر زنا کرانے کا الزام لگایا جائے جس کے ساتھ مباشرت ممکن ہو، تو اس کا قاذف ،حد کا مستحق ہے، کیوں کہ اس سے نہ صرف لڑکی بلکہ اس کے خاندان تک کی عزت مجروح ہوجاتی ہے اور لڑکی کا مستقبل خراب ہوجاتاہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو، یعنی اس پر بحالت اسلام زنا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ کافر پر الزام یا مسلم پر یہ الزام کہ وہ بحالت کفر اس فعل کا مرتکب ہوا تھا موجب حد نہیں ہے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ آزاد ہو۔ لونڈی یا غلام پر الزام، یا آزاد پر یہ الزام کہ وہ بحالت غلامی اس کا مرتکب ہوا تھا، موجب حد نہیں ہے۔ کیوں کہ غلام کی بے بسی اور کمزوری یہ امکان پیدا کردیتی ہے کہ وہ اپنی عصمت کا اہتمام نہ کرسکے۔ خود قرآن میں بھی غلامی کی حالت کو احصان کی حالت قرار نہیں دیا گیاہے، چناں چہ سورہ نساء میں محصنات کا لفظ لونڈی کے بالمقابل استعمال ہوا ہے۔ لیکن داؤد ظاہری اس دلیل کو نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں کہ لونڈی اور غلام کا قاذف بھی حد کا مستحق ہے پانچویں شرط یہ ہے کہ وہ عفیف ہو یعنی اس کا دامن زنا اور شِبہ زنا سے پاک ہو۔ زنا سے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر پہلے کبھی جرم زنا ثابت نہ ہوچکا ہو۔ شبہ زناسے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نکاح فاسد، یا خفیہ نکاح، یا مشتبہ ملکیت، یا شبہ نکاح میں مباشرت نہ کرچکا ہو، نہ اس کے حالات زندگی ایسے ہوں جن میں اس پر بدچلنی اور آبرو باختگی کا الزام چسپاں ہوسکتاہو، اور نہ زنا سے کم تر درجہ کی بداخلاقیوں کا الزام اس پر پہلے کبھی ثابت ہوچکا ہو کیوں کہ ان سب صورتوں میں اس کی عفت مجروح ہوجاتی ہے، اور ایسی مجروح عفت پر الزام لگانے والا ۸۰ کوڑوں کی سزا کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ حتیٰ کہ اگر حدِ قذف جاری ہونے سے پہلے مقذوف کے خلاف کسی جرم زنا کی شہادت قائم ہوجائے، تب بھی قاذف چھوڑدیا جائے گا کیوں کہ وہ شخص پاک دامن نہ رہا جس پر اس نے الزام لگایا تھا۔
مگر ان پانچوں صورتوں میں حد نہ ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ مجنون، یا بچے، یا کافر، یا غلام، یاغیر عفیف آدمی پر بلا ثبوت الزام زنا لگادینے والا مستحق تعزیر بھی نہیں ہے۔
فعلِ قذف میں پائی جانے والی شرطیں
اب وہ شرطیں لیجیے جو خود فعل قذف میں پائی جانی چاہئیں۔ ایک الزام کو دوچیزوں میں سے کوئی ایک چیز قذف بناسکتی ہے۔ یا تو قاذف نے مقذوف پر ایسی وطی کا الزام لگایا ہو جو اگر شہادتوں سے ثابت ہوجائے تو مقذوف پر حد واجب ہوجائے۔ یا پھر اس نے مقذوف کو ولد الزنا قراردیا ہو۔ لیکن دونوں صورتوں میں الزام صاف اور صریح ہونا چاہیے۔ کنایات کا اعتبار نہیں ہے جن سے زنا یا طعن فی النسب مراد ہونے کا انحصار قاذف کی نیت پر ہے۔ مثلاً کسی کو فاسق، فاجر، بدکار، بدچلن وغیرہ الفاظ سے یاد کرنا، یاکسی عورت کو رنڈی، کسبن، یا چھنال کہنا، یا کسی سید کو پٹھان کہہ دینا کنایہ ہے جس سے صریح قذف لازم نہیں آتا۔ اسی طرح جو الفاظ محض گالی کے طورپر استعمال ہوتے ہیں، مثلاً حرامی یا حرام زادہ وغیرہ ان کو بھی صریح قذف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ تعریض کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا وہ بھی قذف ہے یا نہیں۔ مثلاً کہنے والا کسی کو مخاطب کرکے یوں کہے کہ ’’ہاں، مگر میں توزانی نہیں ہوں‘‘ یا ’’میری ماں نے تو زنا کراکے مجھے نہیں جناہے۔ ‘‘ امام مالکؒ کہتے ہیں کہ اس طرح کی تعریض جس سے صاف سمجھ میں آجائے کہ قائل کی مراد مخاطب کو زانی یاولد الزنا قراردیناہے، قذف ہے جس پر حد واجب ہوجاتی ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب اور امام شافعیؒ، سفیان ثوریؒ، ابن شبرمہ، اور حسن بن صالح اس بات کے قائل ہیں کہ تعریض میں بہرحال شک کی گنجایش ہے، اور شک کے ساتھ حد جاری نہیں کی جاسکتی۔ امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ تعریض اگر لڑائی جھگڑے میں ہوتو قذف ہے اور ہنسی مذاق میں ہو تو قذف نہیں ہے۔ خلفاء میں سے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے تعریض پر حد جاری کی ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں دوآدمیوں کے درمیان گالم گلوچ ہوگئی۔ ایک نے دوسرے سے کہا’’نہ میرا باپ زانی تھا نہ میری ماں زانیہ تھی۔‘‘ معاملہ حضرت عمرؓ کے پاس آیا۔ آپ نے حاضرین سے پوچھا آپ لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا اس نے اپنے باپ اور ماں کی تعریف کی ہے، اس کے ماں باپ پر توحملہ نہیں کیا۔ کچھ دوسرے لوگوں نے کہا اس کے لیے اپنے ماں باپ کی تعریف کرنے کے لیے کیا یہی الفاظ رہ گئے تھے؟ ان خاص الفاظ کو اس موقع پر استعمال کرنے سے صاف مراد یہی ہے کہ اس کے ماں باپ زانی تھے۔ حضرت عمرؓ نے دوسرے گروہ سے اتفاق کیا اور حد جاری کردی (جصاص ج۳،ص:۳۳۰) اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ کسی پر عمل قوم لوط کے ارتکاب کا الزام لگانا قذف ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ اس کو قذف نہیں مانتے۔ امام ابویوسف امام محمد، امام مالک اور امام شافعی اسے قذف قراردیتے ہیں اور حد کا حکم لگاتے ہیں
کیا یہ جرم قابل دست اندازیٔ سرکار ہے؟
جرمِ قذف قابل دست اندازی سرکار (Cognizable Offence)ہے یانہیں، اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ یہ حق اللہ ہے اس لیے قاذف پر بہرحال حد جاری کی جائے گی خواہ مقذوف مطالبہ کرے یا نہ کرے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک یہ اس معنی میں تو حق اللہ ضرور ہے کہ جب جرم ثابت ہوجائے تو حد جاری کرنا واجب ہے، لیکن اس پر مقدمہ چلانا مقذوف کے مطالبے پر موقوف ہے، اور اس لحاظ سے یہ حق آدمی ہے۔ یہی رائے امام شافعی اور امام اوزاعی کی بھی ہے۔ امام مالک کے نزدیک اس میں تفصیل ہے۔ اگر حاکم کے سامنے قذف کا ارتکاب کیا جائے تو یہ جرم قابل دست اندازی سرکار ہے، ورنہ اس پر کارروائی کرنا مقذوف کے مطالبے پر منحصر ہے۔
کیا یہ جرم قابل راضی نامہ ہے؟
جرم قذف قابل راضی نامہ (Compoundable offence)نہیں ہے۔ مقذوف عدالت میں دعویٰ لے کرنہ آئے تو یہ دوسری بات ہے، لیکن عدالت میں معاملہ آجانے کے بعد قاذف کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنا الزام ثابت کرے، اور ثابت نہ ہونے کی صورت میں اس پر حد جاری کی جائے گی۔ نہ عدالت اس کو معاف کرسکتی ہے اور نہ خود مقذوف۔ نہ کسی مالی تاوان پر معاملہ ختم ہوسکتاہے۔ نہ توبہ کرکے یا معافی مانگ کر وہ سزا سے بچ سکتاہے۔ نبی ﷺ کا یہ ارشاد پہلے گزرچکا ہے کہتَعَافُوْا الْحُدُوْدَ فِیْمَا بَیْنَکُمْ فَمَا بَلَغَنِیْ مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ ’’حدود کو آپس ہی میں معاف کردو، مگر جس حد کا معاملہ میرے پاس پہنچ گیا وہ پھر واجب ہوگئی۔‘‘
حد قذف کا مطالبہ کون کرے؟
حنفیہ کے نزدیک حد قذف کا مطالبہ یا تو خود مقذوف کرسکتاہے، یا پھر وہ جس کے نسب پر اس سے حرف آتا ہو اور مطالبہ کرنے کے لیے خود مقذوف موجود نہ ہو، مثلاً باپ، ماں، اولاد، اور اولاد کی اولاد۔ مگر امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک یہ حق قابل توریث ہے۔ مقذوف مرجائے تو اس کا ہرشرعی وارث حد کا مطالبہ کرسکتاہے۔ البتہ یہ عجیب بات ہے کہ امام شافعی بیوی اور شوہر کو اس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں اور دلیل یہ ہے کہ موت کے ساتھ رشتہ زو جیت ختم ہوجاتاہے اور بیوی یا شوہر میں سے کسی ایک پر الزام آنے سے دوسرے کے نسب پر کوئی حرف نہیں آتا۔ حالاں کہ یہ دونوں ہی دلیلیں کم زور ہیں۔ مطالبۂ حد کو قابلِ توریث ماننے کے بعد یہ کہنا کہ یہ حق بیوی اور شوہر کو اس لیے نہیں پہنچتا کہ موت کے ساتھ رشتہ زوجیت ختم ہوجاتاہے۔ خود قرآن کے خلاف ہے، کیوں کہ قرآن نے ایک کے مرنے کے بعد دوسرے کو اس کا وارث قرار دیاہے۔ رہی یہ بات کہ زوجین میں سے کسی ایک پر الزام آنے سے دوسرے کے نسب پر کوئی حرف نہیںآتا، تو یہ شوہر کے معاملہ میں چاہے صحیح ہو مگر بیوی کے معاملے میں تو قطعاً غلط ہے۔ جس کی بیوی پر الزام رکھا جائے اس کی تو پوری اولاد کا نسب مشتبہ ہوجاتاہے۔ علاوہ بریں یہ خیال بھی صحیح نہیں ہے کہ حدِّ قذف صرف نسب پر حرف آنے کی وجہ سے واجب قراردی گئی ہے۔ نسب کے ساتھ عزت پر حرف آنا بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔ اور ایک شریف مرد یا عورت کے لیے یہ کچھ کم بے عزتی نہیں ہے کہ اس کی بیوی یا اس کے شوہر کو بدکار قراردیاجائے۔ لہٰذا اگر حد قذف کا مطالبہ قابل توریث ہو تو زوجین کو اس سے مستثنیٰ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔
حد قذف سے بچنے کی صرف ایک صورت
یہ بات ثابت ہوجانے کے بعد کہ ایک شخص نے قذف کا ارتکاب کیاہے، جو چیز اسے حد سے بچا سکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ چار گواہ ایسے لائے جو عدالت میں یہ شہادت دیں کہ انہوں نے مقذوف کو فلاں مرد یا عورت کے ساتھ بالفعل زنا کرتے دیکھا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک یہ چاروں گواہ بیک وقت عدالت میں آنے چاہئیں اور انہیں بیک وقت شہادت دینی چاہیے، کیوں کہ اگر وہ یکے بعد دیگرے آئیں تو ان میں سے ہر ایک قاذف ہوتا چلاجائے گا اور اس کے لیے پھر چار گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ لیکن یہ ایک کم زور بات ہے۔ صحیح بات وہی ہے جو امام شافعی اور عثمان البتی نے کہی ہے کہ گواہوں کے بیک وقت آنے اور یکے بعد دیگرآنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ دوسرے مقدمات کی طرح گواہ ایک کے بعد ایک آئے اور شہادت دے۔ حنفیہ کے نزدیک ان گواہوں کا عادل ہونا ضروری نہیں ہے اگر قاذف چار فاسق گواہ بھی لے آئے تو وہ حد قذف سے بچ جائے گا اور ساتھ ہی مقذوف بھی حد زنا سے محفوظ رہے گا کیوں کہ گواہ عادل نہیں ہیں۔ البتہ کافر، یا اندھے، یا غلام، یا قذف کے جرم میں پہلے کے سزا یافتہ گواہ پیش کرکے قاذف سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مگر امام شافعی کہتے ہیں کہ قاذف اگر فاسق گواہ پیش کرے تو وہ اور اس کے گواہ سب حد کے مستحق ہوں گے۔ اور یہی رائے امام مالک کی بھی ہے اس معاملے میں حنفیہ کا مسلک ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتاہے۔ گواہ اگر عادل ہوں تو قاذف جرم قذف سے بری ہوجائے گا اور مقذوف پر جرم زنا ثابت ہوجائے گا۔ لیکن اگر گواہ عادل نہ ہوں تو قاذف کا قذف ، اور مقذوف کا فعل زنا اور گواہوں کا صدق وکذب، ساری ہی چیزیں مشکوک قرار پائیں گی اور شک کی بنا پر کسی کو بھی حد کا مستوجب قرار نہ دیا جاسکے گا۔
جو شخص ایسی شہادت پیش نہ کرسکے
جو شخص ایسی شہادت پیش نہ کرسکے جو اسے جرم قذف سے بری کرسکتی ہو، اس کے لیے قرآن نے تین حکم ثابت کیے ہیں: ایک یہ کہ اسے ۸۰ ؍کوڑے لگائے جائیں۔ دوسرے یہ کہ اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے۔ تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ سوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کریں اور اصلاح کریں ، کہ اللہ غفور اور رحیم ہے۔‘‘ یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ اس فقرے میں توبہ اور اصلاح سے جس معافی کا ذکر کیا گیاہے اس کا تعلق ان تینوں احکام میں سے کس کے ساتھ ہے۔ فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ پہلے حکم سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ یعنی توبہ سے حد ساقط نہ ہوگی اور مجرم کو سزائے تازیانہ بہر حال دی جائے گی۔ فقہاء اس پر بھی متفق ہیں کہ اس معافی کا تعلق آخری حکم سے ہے، یعنی توبہ اور اصلاح کے بعد مجرم فاسق نہ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اسے معاف کردے گا۔ (اس میں اختلاف صرف اس پہلو سے ہے کہ آیا مجرم نفس قذف سے فاسق ہوتاہے یا عدالتی فیصلہ صادر ہونے کے بعد فاسق قرار پاتاہے۔ امام شافعی اور لیث بن سعد کے نزدیک وہ نفس قذف سے فاسق ہوجاتاہے اس لیے وہ اسی وقت سے اس کو مردود الشہادت قراردیتے ہیں۔ اس کے برعکس امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب اور امام مالک کہتے ہیں کہ وہ عدالتی فیصلہ نافذ ہوجانے کے بعد فاسق ہوتاہے، اس لیے وہ نفاذِ حکم سے پہلے تک اس کو مقبول الشہادت سمجھتے ہیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ مجرم کا عنداللہ فاسق ہونا نفس قذف کا نتیجہ اور عند الناس فاسق ہونا اس پر موقوف ہے کہ عدالت میں اس کا جرم ثابت ہو اور سزا پائے۔ اب رہ جاتاہے بیچ کا حکم، یعنی یہ کہ ’’قاذف کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے ۔‘‘فقہاء کے درمیان اس پر بڑا اختلاف واقع ہوگیاہے کہ آیا اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا کے فقرے کا تعلق اس حکم سے بھی ہے یا نہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اس فقرے کا تعلق صرف آخری حکم سے ہے یعنی جو شخص توبہ اور اصلاح کرلے گا وہ عند اللہ اور عند الناس فاسق نہ رہے گا، لیکن پہلے دونوں حکم اس کے باوجود برقرار رہیںگے، یعنی مجرم پر حد بھی جاری کی جائے گی اور وہ ہمیشہ کے لیے مردود الشہادت بھی رہے گا۔ اس گروہ میں قاضی شریح، سعید بن مسیِّب، سعید بن جبیر، حسن بصری، ابراہیم نخعی، ابن سیرین، مکحول، عبد الرحمن بن زید ، ابوحنیفہ، ابویوسف، زفر، محمد، سفیان ثوری اور حسن بن صالح جیسے اکابر شامل ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا کا تعلق پہلے حکم سے تو نہیں ہے مگر آخری دونوں حکموں سے ہے، یعنی توبہ کے بعد قذف کے سزایافتہ مجرم کی شہادت بھی قبول کی جائے گی اور وہ فاسق بھی نہ شمار ہوگا۔ اس گروہ میں عطاء ،طاؤس، مجاہد، شعبی، قاسم بن محمد، سالم، زہری، عکرمہ، عمر بن عبد العزیز، ابن ابی نجیح، سلیمان بن یسار، مسروق، ضحّاک، مالک بن انس، عثمان البتّی لیث بن سعد، شافعی، احمد بن حنبل اور ابن جریر طبری جیسے بزرگ شامل ہیں۔ یہ لوگ اپنی تائید میں دوسرے دلائل کے ساتھ حضرت عمر ؓکے اس فیصلے کو بھی پیش کرتے ہیں جو انہوں نے مغیرہ بن شعبہ کے مقدمے میں کیا تھا، کیوں کہ اس کی بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ حد جاری کرنے کے بعد حضرت عمرؓ نے ابوبکرہ اور ان کے دونوں ساتھیوں سے کہا ،اگر تم توبہ کرلو (یا ’’اپنے جھوٹ پر اقرار کرلو‘‘) تو میں آیندہ تمہاری شہادت قبول کروں گا ورنہ نہیں۔ دونوں ساتھیوں نے اقرار کرلیا، مگر ابوبکرہ اپنے قول پر قائم رہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی قوی تائید معلوم ہوتی ہے۔ لیکن مغیرہ بن شعبہ کے مقدمے کی جو روداد ہم پہلے درج کرچکے ہیں اس پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہوجاتاہے کہ اس نظیر سے اس مسئلے میں استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ وہاں نفس فعل متفق علیہ تھا اور خود مغیرہ بن شعبہ کو بھی اس سے انکار نہ تھا۔بحث اس میں تھی کہ عورت کون تھی۔ مغیرہ بن شعبہ کہتے تھے کہ وہ ان کی اپنی بیوی تھیں جنہیں یہ لوگ ام جمیل سمجھ بیٹھے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ثابت ہوگئی تھی کہ حضرت مغیرہ کی بیوی اور ام جمیل باہم اس حد تک مشابہ تھیں کہ واقعہ جتنی روشنی میں جتنے فاصلے سے دیکھا گیا اس سے غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ عورت ام جمیل ہے۔ مگر قرائن سارے کے سارے مغیرہ بن شعبہ کے حق میں تھے اور خود استغاثے کا بھی ایک گواہ اقرار کرچکا تھا کہ عورت صاف نظر نہ آتی تھی۔ اسی بنا پر حضرت عمرؓ نے مغیرہ بن شعبہ کے حق میں فیصلہ دیا اور ابوبکرہ کو سزا دینے کے بعد وہ بات کہی جو مذکورہ روایتوں میں منقول ہوئی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کا منشا دراصل یہ تھا کہ تم لوگ مان لوکہ تم نے بدگمانی کی تھی اور آیندہ کے لیے ایسی بدگمانیوں کی بنا پر لوگوں کے خلاف الزامات عاید کرنے سے توبہ کرو، ورنہ آیندہ تمہاری شہادت کبھی قبول نہ کی جائے گی۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ جو شخص صریح جھوٹا ثابت ہوجائے وہ بھی حضرت عمرؓ کے نزدیک توبہ کرکے مقبول الشہادت ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں پہلے گروہ ہی کی رائے زیادہ وزنی ہے۔ آدمی کی توبہ کا حال خدا کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ ہمارے سامنے جو شخص توبہ کرے گا ہم اسے اس حد تک تو رعایت دے سکتے ہیں کہ اسے فاسق کے نام سے یاد نہ کریں۔ لیکن اس حد تک رعایت نہیں دے سکتے کہ جس کی زبان کا اعتبار ایک دفعہ جاتارہاہے اس پر پھر محض اس لیے اعتبار کرنے لگیں کہ وہ ہمارے سامنے توبہ کررہاہے۔ علاوہ بریں خود قرآن کی عبارت کا انداز بیان بھی یہی بتارہاہے کہ اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا کا تعلق صرف اُولٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ سے ہے۔ اس لیے کہ عبارت میں پہلی دوباتیں حکم کے الفاظ میں فرمائی گئی ہیں:’’ ان کو اسّی کوڑے مارو‘‘ ’’اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔‘‘ اور تیسری بات خبر کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے ’’وہ خود ہی فاسق ہیں۔‘‘ اس تیسری بات کے بعد متصلاً یہ فرمایا کہ ’’سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں‘‘خود ظاہر کردیتاہے کہ یہ استثناء آخری فقرۂ خبریہ سے تعلق رکھتاہے نہ کہ پہلے دومحکمی فقروں سے۔ تاہم اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ استثناء آخری فقرے تک محدود نہیں ہے، تو پھر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ ’’شہادت قبول نہ کرو‘‘ کے فقرے تک پہنچ کر رک کیسے گیا’’اسّی کوڑے مارو‘‘ کے فقرے تک بھی کیوں نہ پہنچ گیا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
سوال کیا جاسکتاہے کہ اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا کااستثناء آخر پہلے حکم سے بھی متعلق کیوں نہ مان لیا جائے؟ قذف آخر ایک قسم کی توہین ہی تو ہے۔ایک آدمی اس کے بعد اپنا قصور مان لے، مقذوف سے معافی مانگ لے اور آیندہ کے لیے اس حرکت سے توبہ کرلے تو آخر کیوں نہ اسے چھوڑدیا جائے جب کہ اللہ تعالیٰ خود حکم بیان کرنے کے بعد فرمارہاہے اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا۔۔۔فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ، یہ تو ایک عجیب بات ہوگی کہ خدا معاف کردے اور بندے معاف نہ کریں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ توبہ دراصل’’ ت وب ہ‘‘ کے تلفظ کا نام نہیں ہے بلکہ دل کے احساس ندامت اور عزم اصلاح اور رجوع الی الخیر کا نام ہے، اوراس چیز کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے توبہ سے دنیوی سزائیں معاف نہیں ہوتیں بلکہ صرف اُخروی سزا معاف ہوتی ہے، اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں تو تم انہیں چھوڑدو، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جو لوگ توبہ کرلیں گے میں ان کے حق میں غفور ورحیم ہوں۔ اگر توبہ سے دنیوی سزائیں بھی معاف ہونے لگیں تو آخر وہ کون سا مجرم ہے جو سزاسے بچنے کے لیے توبہ نہ کرلے گا؟
کیا شہادت نہ لاسکنا اس کے لازمی جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے؟
یہ بھی سوال کیا جاسکتاہے کہ ایک شخص کا اپنے الزام کے ثبوت میں شہادت نہ لاسکنا لازماً یہی معنی تو نہیں رکھتا کہ وہ جھوٹا ہو۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا الزام واقعی صحیح ہو اور وہ ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ اسے صرف ثبوت نہ دے سکنے کی بنا پر فاسق ٹھیرایا جائے، اور وہ بھی عند الناس ہی نہیں عند اللہ بھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک شخص نے اگر اپنی آنکھوں سے بھی کسی کو بدکاری کرتے دیکھ لیا ہوپھر بھی وہ اس کا چرچا کرنے اور شہادت کے بغیر اس پر الزام عائد کرنے میں گنہ گار ہے۔ شریعت الٰہی یہ نہیں چاہتی کہ ایک شخص اگر ایک گوشے میں نجاست لیے بیٹھا ہو تو دوسرا شخص اسے اٹھا کر سارے معاشرے میں پھیلانا شروع کردے۔ اس نجاست کی موجودگی کا اگر اس کو علم ہے تو اس کے لیے دوہی راستے ہیں۔ یا اس کو جہاں وہ پڑی ہے وہیں پڑا رہنے دے، یا پھر اس کی موجودگی کا ثبوت دے تاکہ حکومت اسلامی کے حکام اسے صاف کردیں۔ ان دوراستوں کے سوا کوئی تیسرا راستہ اس کے لیے نہیں ہے۔ اگر وہ پبلک میں چرچا کرے گا تو محدود گندگی کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کا مجرم ہوگا۔ اور اگر وہ قابل اطمینان شہادت کے بغیر حکام تک معاملہ لے جائے گا تو حکام اس گندگی کو صاف نہ کرسکیں گے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ اس مقدمے کی ناکامی گندگی کی اشاعت کا سبب بھی بنے گی اور بدکاروں میں جرأت بھی پیدا کردے گی۔ اسی لیے ثبوت اور شہادت کے بغیر قذف کا ارتکاب کرنے والا بہر حال فاسق ہے خواہ وہ اپنی جگہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔
حدقذف کے بارے میں فقہاء حنفیہ کی رائے
حدِّ قذف کے بارے میں فقہائِ حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ قاذف کو زانی کی بہ نسبت ہلکی مار ماری جائے۔ یعنی تازیانے تو ۸۰؍ہی ہوں، مگر ضرب اتنی سخت نہ ہونی چاہیے جتنی زانی کو لگائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ جس الزام کے قصور میں اسے سزا دی جارہی ہے اس میں اس کا جھوٹا ہونا بہرحال یقینی نہیں ہے۔
تکرار قذف کے بارے میں حنفیہ اور جمہور فقہاء کا مسلک
تکرار قذف کے بارے میں حنفیہ اور جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ قاذف نے سزا پانے سے پہلے یا سزا کے دوران میں خواہ کتنی ہی مرتبہ ایک شخص پر الزام لگایا ہو، اس پر ایک ہی حد جاری کی جائے گی اور اگر اجرائے حد کے بعد وہ اپنے سابق الزام ہی کی تکرار کرتارہے تو جو حدا سے لگائی جاچکی ہے وہی کافی ہوگی۔ البتہ اگر اجرائے حد کے بعد وہ اس شخص پر ایک نیا الزام زنا عائد کردے تو پھر نئے سرے سے مقدمہ قائم کیاجائے گا۔ مغیرہ بن شعبہ کے مقدمہ میں سزا پانے کے بعد ابوبکرہ کھلے بندوں کہتے رہے کہ ’’میں شہادت دیتاہوں کہ مغیرہ نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔‘‘ حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ ان پر پھر مقدمہ قائم کریں، مگر چوں کہ وہ سابق الزام ہی کودہرارہے تھے اس لیے حضرت علیؓ نے رائے دی کہ اس پر دوسرا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا، اور حضرت عمرؓ نے ان کی رائے قبول کرلی۔ اس کے بعد فقہاء میں اس بات پر قریب قریب اتفاق ہوگیا کہ سزایافتہ قاذف کو صرف نئے الزام ہی پر پکڑا جاسکتاہے، سابق الزام کے اعادے پر نہیں۔
قذف جماعت کے بارے میں فقہاء کا اختلاف
قذفِ جماعت کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص بہت سے لوگوں پر بھی الزام لگائے، خواہ ایک لفظ میں یا الگ الگ الفاظ میں، تو اس پر ایک ہی حد لگائی جائے گی اِلاّ یہ کہ حد لگنے کے بعد وہ پھر کسی نئے قذف کا ارتکاب کرے۔ اس لیے کہ آیت کے الفاظ یہ ہیں’’جولوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایک فرد ہی نہیں ایک جماعت پر الزام لگانے والا بھی صرف ایک ہی حد کا مستحق ہوتاہے۔ نیز اس لیے بھی کہ زنا کا کوئی الزام ایسا نہیں ہوسکتا جو کم از کم دوشخصوں پر نہ لگتا ہو، مگر اس کے باوجود شارع نے ایک ہی حد کا حکم دیا، عورت پر الزام کے لیے الگ اور مرد پر الزام کے لیے الگ حد کا حکم نہیں دیا، بخلاف اس کے امام شافعی کہتے ہیں کہ ایک جماعت پر الزام لگانے والا خواہ ایک لفظ میں الزام لگائے یا الگ الگ الفاظ میں، اس پر ہرشخص کے لیے الگ الگ پوری حد لگائی جائے گی۔ یہی رائے عثمان البتی کی بھی ہے۔ اور ابن ابی لیلیٰ کا قول، جس میں شعبی اور اوزاعی بھی ان کے ہم نواہیں، یہ ہے کہ ایک لفظ میں پوری جماعت کو زانی کہنے والا ایک حد کا مستحق ہے اور الگ الگ الفاظ میں ہرایک کو کہنے والا ہرایک کے لیے الگ حد کا مستحق ہے۔
(تفہیم القرآن ،ج۳،النور، حاشیہ:۶)
گواہوں میں اختلاف ہوجائے تو کیا عدالت ان پر قذف کا مقدمہ چلائے گی؟
اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ اگر زنا کے گواہوں میں اختلاف ہوجائے، یا اور کسی وجہ سے ان کی شہادتوں سے جرم ثابت نہ ہوتو کیا الٹے گواہ جھوٹے الزام کی سزا پائیں گے؟ فقہاء کا ایک گروہ کہتاہے کہ اس صورت میں وہ قاذف قرار پائیں گے اور انہیں ۸۰؍ کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ان کو سزا نہیں دی جائے گی کیوں کہ وہ گواہ کی حیثیت سے آئے ہیں نہ کہ مدعی کی حیثیت سے۔ اور اگر اس طرح گواہوں کو سزادی جائے تو پھر زنا کی شہادت بہم پہنچنے کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا۔ آخر کس کی شامت نے دھکا دیاہے کہ سزا کا خطرہ مول لے کر شہادت دینے آئے جب کہ اس امر کا یقین کسی کو بھی نہیں ہوسکتا کہ چاروں گواہوں میں سے کوئی ٹوٹ نہ جائے گا۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری رائے معقول ہے، کیوں کہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملنا چاہیے اسی طرح گواہوں کو بھی ملنا چاہیے۔ اگر ان کی شہادت کی کمزوری اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ ملزم کو زنا کی خوفناک سزا دے ڈالی جائے، تو اسے اس بات کے لیے بھی کافی نہ ہونا چاہیے کہ گواہوں پر قذف کی خوفناک سزا برسادی جائے، الا یہ کہ ان کا صریح جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے۔ پہلے قول کی تائید میں دوبڑی دلیلیں دی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ قرآن زنا کی جھوٹی تہمت کو مستوجب سزا قرار دیتاہے۔ لیکن یہ دلیل اس لیے غلط ہے کہ قرآن خود قاذف (تہمت لگانے والے) اور شاہد کے درمیان فرق کررہاہے۔ اور شاہد محض اس بنا پر قاذف قرار نہیں پاسکتاکہ عدالت نے اس کی شہادت کو ثبوت جرم کے لیے کافی نہیں پایا۔ دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مغیرہ بن شعبہ کے مقدمے میں حضرت عمرؓ نے ابوبکرہ اور ان کے دوساتھی شاہدوں کو قذف کی سزا دی تھی۔ لیکن اس مقدمے کی پوری تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظیر ہر اس مقدمے پر چسپاں نہیں ہوتی جس میں ثبوت جرم کے لیے شہادتیں ناکافی پائی جائیں۔ مقدمے کے واقعات یہ ہیں کہ بصرے کے گورنر مغیرہ بن شعبہ سے ابوبکرہ کے تعلقات پہلے سے خراب تھے۔ دونوں کے مکان ایک ہی سڑک پر آمنے سامنے واقع تھے۔ ایک روز یکایک ہوا کے زور سے دونوں کے کمروں کی کھڑکیاں کھل گئیں۔ ابوبکرہ اپنی کھڑکی بند کرنے کے لیے اٹھے تو ان کی نگاہ سامنے کے کمرے پر پڑی اور انہوں نے حضرت مغیرہ کو مباشرت میں مشغول دیکھا۔ ابوبکرہ کے پاس ان کے تین دوست (نافع بن کلدہ، زیاد اور شبل بن معبد) بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آؤ، دیکھو اور گواہ رہو کہ مغیرہ کیا کررہے ہیں۔ دوستوں نے پوچھا یہ عورت کون ہے؟ ابوبکرہ نے کہا امِّ جمیل۔ دوسرے روز اس کی شکایت حضرت عمرؓ کے پاس بھیجی گئی۔ انہوں نے فوراً حضرت مغیرہ کو معطل کرکے حضرت ابوموسیٰ اشعری کو بصرے کا گورنر مقرر کیا اور ملزم کو گواہوں سمیت مدینے طلب کرلیا۔ پیشی پر ابوبکرہ اور دوگواہوں نے کہا کہ ہم نے مغیرہ کو امّ جمیل کے ساتھ بالفعل مباشرت کرتے دیکھا ہے۔ مگر زیاد نے کہا کہ عورت صاف نظر نہیں آتی تھی اور میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ امّ جمیل تھی۔ مغیرہ بن شعبہ نے جرح میں یہ ثابت کردیا کہ جس رخ سے یہ لوگ ا نہیں دیکھ رہے تھے اس سے دیکھنے والا عورت کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ ان کی بیوی اور امّ جمیل باہم بہت مشابہ ہیں۔ قرائن خود بتارہے تھے کہ حضرت عمرؓ کی حکومت میں ایک صوبے کا گورنر، خود اپنے سرکاری مکان میں، جہاں اس کی بیوی اس کے ساتھ رہتی تھی، ایک غیرعورت کو بلاکر زنا نہیں کرسکتاتھا۔ اس لیے ابوبکرہ اور ان کے ساتھیوں کا یہ سمجھنا کہ مغیرہ اپنے گھر میں اپنی بیوی کے بجائے امِّ جمیل سے مباشرت کررہے ہیں، ایک نہایت بے جابد گمانی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے صرف ملزم کو بری کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ابوبکرہ نافع اور شبل پر حدقذف بھی جاری فرمائی۔ یہ فیصلہ اس مقدمے کے مخصوص حالات کی بنا پر تھا نہ کہ اس قاعدہ کلیہ کی بنا پر کہ جب کبھی شہادتوں سے جرم زنا ثابت نہ ہوتو گواہ ضرور پیٹ ڈالے جائیں۔ مقدمے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو احکام القرآن لابن العربی ج۲، ص ۸۸،۸۹۔ (تفہیم القرآن، ج۳، النور، حاشیہ:۲)
قذف سوبرس کے اعمال غارت کردیتی ہے
۵۵۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ہے جو ’’موبقات‘‘ (تباہ کن) ہیں۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ،ثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ،عَنْ ثَوْرِبْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَبِی الْغَیْثِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ:اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوْبِقَاتِ، قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَاھُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ، وَاَکْلُ الرِّبٰو، وَاَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ، وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُوْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ۔(۱)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سات تباہ کن چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ سات چیزیں کون سی ہیں؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جادو، اس جان کا قتل جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے معرکہ آرائی کے دن فرار اختیار کرنا اور پاک دامن مومن وسادہ لوح عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگانا۔
۵۶۔ قَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِأَۃِ سَنَۃٍ۔
’’ حضورؐ نے فرمایا ایک پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، سوبرس کے اعمال کو غارت کردینے کے لیے کافی ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن، ج۳، النور، حاشیہ:۲۱)
تخریج: وَقَالَ الْحَافِظُ اَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ اَبِیْ خَالِدٍ الطَّائِیِّ الْحَرْبِیِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ ح وَحَدَّثَنَا اَبُوْشُعَیْب نِالْحَرَّانِیُّ، حَدَّثَنَا جَدِّیْ اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ شُعَیْبٍ، حَدَّثَنِیْ مُوْسٰی ابْنُ اَعْیَنَ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: قَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔(۲)
معیار شہادت
۵۷۔ اِذَا رَأَیْتَ مِثْلَ الشَّمْسِ فَاشْھَدْ وَاِلَّافَدَعْ۔(احکام القرآن للجصاص)
’’اگر تونے واقعہ کو خود اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھا ہے جیسے تو سورج کو دیکھ رہاہے تو گواہی دے ورنہ رہنے دے۔ ‘‘
تخریج:(۱) رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: اِذَا رَأَیْتَ مِثْلَ الشَّمْسِ، فَاشْھَدْ، وَاِلاَّ، فَدَعْ۔(۳)
السنن الکبری ٰمیں مروی ایک روایت:
(۲)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذُکِرَعِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الرَّجُلُ یَشْھَدُ بِشَھَادَۃٍ، فَقَالَ:اَمَا اَنْتَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَلاَتَشْھَدْ اِلاَّعَلٰی اَمْرٍ یُضِیئُ لَکَ کَضِیَائِ ھٰذِہٖ الشَّمْسِ وَاَوْمَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ اِلَی الشَّمْسِ۔(۴)
ترجمہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر ہوا جو گواہی دیتا تھا (ہرقسم کی گواہی)۔ آپ نے ابن عباس سے مخاطب ہوکر فرمایا ابن عباس تم اس وقت تک گواہی نہ دو جب تک معاملہ کا ہر پہلو تمہارے سامنے اس طرح روشن نہ ہو جس طرح یہ آفتاب روشن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر سورج کی جانب اپنے دست مبارک سے اشارہ کرکے فرمایا۔
تشریح : اس حدیث سے قانون شہادت کا یہ قاعدہ نکلتاہے کہ گواہی کے لیے علم شرط ہے۔ گواہ جس واقعہ کی گواہی دے رہاہو اس کااگر اسے علم نہیں ہے تو اس کی گواہی بے معنی ہے۔اور یہ کہ علم کے بغیر حق کی شہادت دینا چاہے دنیا میں معتبر ہو، مگر اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن ج۴، الزخرف ،حاشیہ:۶۸)
جھوٹی شہادت اور شرک باللہ برابر ہیں
۵۸۔ عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْ رِ بِالْاِشْرَاکِ بِاللّٰہِ۔
’’ جھوٹی گواہی شرک باللہ کے برابر رکھی گئی ہے۔‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ مُوْسٰی الْبَلَخِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ، حَدَّثَنِیْ سُفْیَانُ یَعْنِی الْعَصْفَرِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْاَسَدِیِّ، عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ صَلاَۃَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ:عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ بِالْاِشْرَاکِ بِاللّٰہِ ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَرَأَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَائَ لِلّٰہِ غَیْرَمُشْرِکِیْنَ بِہٖ۔(۵)
تشریح : جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت بھی اسی حکم کے ضمن میں آتی ہے۔ اسلامی قانون میں یہ جرم مستلزم تعزیر ہے۔ امام ابویوسف اور امام محمد کا فتویٰ یہ ہے کہ جوشخص عدالت میں جھوٹا گواہ ثابت ہوجائے اس کی تشہیر کی جائے اور لمبی قید کی سزادی جائے۔ یہی حضرت عمرؓ کا قول اور فعل بھی ہے۔ مکحول کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا یُضْرَبُ ظَھْرُہٗ وَیُحْلَقُ رَاْسُہٗ وَیُسْخَمُ وَجْھُہٗ وَیُطَالُ حَبْسُہٗ۔ ’’اس کی پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں، اس کا سرمونڈا جائے اور منہ کالا کیا جائے اور لمبی قید کی سزا دی جائے۔‘‘ عبداللہ بن عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی عدالت میں ایک شخص کی گواہی جھوٹی ثابت ہوگئی تو انہوں نے اس کو ایک دن برسرعام کھڑا رکھ کر اعلان کرایا کہ’’ یہ فلاں بن فلاں جھوٹا گواہ ہے اسے پہچان لو، پھر اس کو قید کردیا۔‘‘ موجودہ زمانے میں ایسے شخص کا نام اخبارات میں نکال دینا تشہیر کا مقصد پورا کرسکتاہے۔
(تفہیم القرآن ج۳، الحج ،حاشیہ:۵۸)
ماخذ
(۱) بخاری ج۱کتاب الوصایا باب قول اللہ تعالٰی ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا۔ج۲کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب فی المحصنات والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتوا باربعۃ شھداء فاجلدوھم ثمانین جلدۃ الی غفور رحیم ان الذین یرمون المحصنات الغافلات المؤمنات الاٰیۃ۔٭ مسلم ج۱کتاب الایمان، باب الکبائر واکبرھا۔ ٭ابوداؤد ج۳کتاب الوصایا باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال الیتیم۔٭نسائی ج۶کتاب الوصایا باب اجتناب اکل مال الیتیم۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸کتاب الحدود، باب ماجاء فی تحریم القذف۔
(۲) تفسیر ابن کثیر ج۳۔سورۃ النور بحوالہ ابن ابی حاتم۔٭ المستدرک للحاکم ج۴کتاب الاھوال مستدرک نے وان قذف المحصنۃ لَیَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ نقل کیاہے اور وقد اخرجہ مسلم شاھدا بھی نقل کیاہے۔
(۳) احکام القرآن للجصاص ج۳ الزخرف۔
(۴) السنن الکبری ج۱۰کتاب الشھادات، باب التحفظ فی الشھادۃ والعلم بھا۔٭ اس روایت کی سند میں محمد بن سلیمان بن مسمول المکی نامی راوی کے بارے میں حمیدی نے کلام کیاہے اور تکلم فیہ الحمیدی ولم یرو من وجہ یعتمد علیہ واللہ اعلم۔
(۵) ابوداؤد ج۳کتاب الاقضیۃ، باب فی شھادۃ الزور۔٭ابنِ ماجہ کتاب الاحکام باب ۳۲ شھادۃ الزور۔ عن خریم بن فاتک۔٭ترمذی ج۲ ابواب الشھادات، عن ایمن بن خُریم۔ ترمذی نے اَیُّھَا النَّاسُ عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ اِشْرَاکاً بِاللّٰہِ الخ نقل کرکے لکھا ہے ھذا حدیث انما نعرفہ من حدیث سفیان بن زیاد وقد اختلفوا فی روایۃ ھذا الحدیث عن سفیان بن زیاد ولانعرفہ لایمن بن خریم سماعا من النبی ﷺ۔ مسند احمد ج۴ص۱۷۸۔۲۳۳ عن ایمن بن خریم۔ اورص۳۲۱۔۳۲۲۔ عن خریم بن فاتک۔
فصل:۶ تعزیرات تعزیر کی مقدار
ماخذ
۱) بخاری ج۲۔کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب کم التعزیر والادب؟٭مسلم ج۲۔کتاب الحدود، باب قدر اسواط التعزیر مسلم نے فوق عشرۃ اسواط روایت کیاہے۔٭ابوداؤد ج۴کتاب الحدود، باب ماجاء فی التعزیر۔٭ترمذی ج۱ابواب الحدود، باب ماجاء فی التعزیر۔ترمذی نے لایجلد فوق عشر جلدات الخ نقل کیاہے، اور ھذا حدیث غریب لانعرفہ الا من حدیث بکیر ابن الاشج کہا ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الحدود، باب ۳۲ التعزیر۔ ٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود، باب التعزیر فی الذنوب اس میں فوق عشرۃ اسواط الخ ہے۔٭دارقطنی ج۳کتاب الحدود، دارقطنی میں لایجلد فوق عشرۃ اسواط ہے۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ کتاب الاشربۃ والحد فیھا باب ماجاء فی التعزیر وانہ لایبلغ بہ اربعین۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث ۱۳۴۰۵۔
(۲) مسلم ج۲کتاب التوبۃ، باب قولہ تعالٰی ان الحسنات یذھبن السیات۔٭ابوداوٗد ج۴۔کتاب الحدود، باب فی الرجل یصیب من المرأۃ دون الجماع فیتوب قبل ان یاخذہ الامام۔٭ترمذی ج۲۔ ابواب التفسیر سورہ ہود۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔
(۳) بخاری ج۲۔کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ، باب اذا اقر بالحد ولم یبین ھل للامام ان یستر علیہ؟٭ مسلم ج۲کتاب الحدود، باب قولہ تعالٰی ان الحسنات یذھبن السیئات۔٭ ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب فی الرجل یعترف بحدٍ لایسمیہ (مختصر)٭مسند احمد ج۳۔ص۴۹۱۔ عن واثلۃ بن اسقع۔ اس مقام پر ولم یسألہ عنہ مروی نہیں ہے۔
فصل:۷ سزائے رجم کے دواہم واقعات ماعز بن مالک اسلمیؓ کا واقعہ
غامدیہ کا واقعہ
۶۲۔غامدیہ قبیلہ غامد کی ایک عورت تھی اس نے بھی آکر چار مرتبہ اقرار کیا کہ وہ زنا کی مرتکب ہوئی ہے اور اسے ناجائز حمل ہے۔ آپؐ نے اسے بھی پہلے اقرار پر فرمایا وَیْحَکِ، اِرْجِعِیْ فَاسْتَغْفِرِی اللّٰہَ وَتُوْبِیْ اِلَیْہِ۔ مگر اس نے کہا ’’یارسول اللہ کیا آپ مجھے ماعز کی طرح ٹالنا چاہتے ہیں، میں زنا سے حاملہ ہوں۔‘‘ یہاں چوں کہ اقرار کے ساتھ حمل بھی موجود تھا، اس لیے آپ نے اس قدر مفصل جرح نہ فرمائی۔ جوماعز کے ساتھ کی تھی۔ آپؐ نے فرمایا، ’’اچھا نہیں مانتی تو جاوضع حمل کے بعد آئیو‘‘ وضع حمل کے بعدوہ بچے کو لے کر آئی اور کہا اب مجھے پاک کردیجیے آپؐ نے فرمایا ’’جااور اس کو دو دھ پلا۔ دودھ چھوٹنے کے بعد آئیو۔ پھر وہ دودھ چھٹانے کے بعد آئی اور ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لیتی آئی۔ بچے کو روٹی کا ٹکڑا کھلا کر حضوؐر کود کھایا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ اب اس کا دودھ چھوٹ چکا ہے اور دیکھیے یہ روٹی کھانے لگا ہے۔ تب آپؐ نے بچے کو پرورش کے لیے ایک شخص کے حوالے کیا ور اس کے رجم کا حکم دیا۔
تشریح : ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ شہادت کے بعد دوسری چیز جس سے جرم زنا ثابت ہوسکتاہے وہ مجرم کا اپنا اقرار ہے۔ یہ اقرار صاف اور صریح الفاظ میں فعل زنا کے ارتکاب کا ہونا چاہیے، یعنی اسے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ اس نے ایک ایسی عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی کَالْمِیْلِ فِی الْمُکْحَلَۃِ یہ فعل کیا ہے۔ اور عدالت کو پوری طرح یہ اطمینان کرلینا چاہیے کہ مجرم کسی خارجی دباؤ کے بغیر بطور خود بحالت ہوش وحواس یہ اقرار کررہاہے۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ایک اقرار کافی نہیں ہے بلکہ مجرم کو چار مرتبہ الگ الگ اقرار کرنا چاہیے (یہ امام ابوحنیفہ، امام احمد، ابن ابی لیلی، اسحاق بن راہویہ اور حسن بن صالح کا مسلک ہے) اور بعض کہتے ہیں کہ ایک ہی اقرار کافی ہے (امام مالک، امام شافعی، عثمان البتی اور حسن بصری وغیرہ اس کے قائل ہیں) پھر ایسی صورت میں جب کہ کسی دوسرے تائیدی ثبوت کے بغیر صرف مجرم کے اپنے ہی اقرار پر فیصلہ کیا گیا ہو اگر عین سزا کے دوران میں بھی مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے، تو سزا کو روک دینا چاہیے۔ خواہ یہ بات صریحاً ہی کیوں نہ ظاہر ہورہی ہو کہ وہ مار کی تکلیف سے بچنے کے لیے اقرار سے رجوع کررہاہے۔
مندرجہ بالا دونوں واقعات میں بصراحت چار اقراروں کا ذکر ہے اور ابوداوٗد میں حضرت بریدہ کی روایت ہے کہ صحابہ کرام کا عام خیال یہی تھا کہ اگر ماعز اور غامدیہ چار مرتبہ اقرار نہ کرتے تو انہیں رجم نہ کیا جاتا۔ البتہ ایک واقعہ میں صرف یہ الفاظ ملتے ہیں کہ جاکر اس کی بیوی سے پوچھ اور اگر وہ اعتراف کرلے تو اسے رجم کردے اس میں چار اعترافوں کا ذکر نہیں ہے، اور اسی سے فقہاء کے ایک گروہ نے استدلا ل کیا ہے کہ ایک ہی اعتراف کافی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، النور ،حاشیہ:۲)
ماعز اور غامدیہ کے لیے دعاء مغفرت
۶۳۔ اِسْتَغْفِرُوْا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ، لَقَدْ تَابَ تَوْبَۃً لَوْقُسِمَتْ بَیْنَ اُمَّۃٍ لَوَسِعَتْھُمْ۔
’’ماعز بن مالک کے حق میں دعائے مغفرت کرو اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایک پوری امت پر تقسیم کردی جائے تو سب کے لیے کافی ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: نَایَحْیٰ بْنُ یَعْلٰی وَھُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ غَیْلاَنَ وَھُوَ ابْنُ جَامِعِ الْمُحَارِبِیُّ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: جَآئَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طَھِّرْنِیْ، فَقَالَ: وَیْحَکَ اِرْجِعْ، فَاسْتَغْفِرِاللّٰہَ وَتُبْ اِلَیْہِ، قَالَ:فَرَجَعَ غَیْرَبَعِیْدٍ، ثُمَّ جَآئَ، فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طَھِّرْنِیْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ مِثْلَ ذٰلِکَ حَتّٰی اِذَاکَانَتِ الرَّابِعَۃُ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:فِیْمَ اُطَھِّرُکَ؟ فَقَالَ:مِنَ الزِّنَا،فَسَأَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، أبِہٖ جُنُوْنٌ؟ فَاُخْبِرَ اَنَّہٗ لَیْسَ بِمَجْنُوْنٍ۔ فَقَالَ:أشَرِبَ خَمْراً؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَاسْتَنْکَھَہُ، فَلَمْ یَجِدْ مِنْہُ رِیْحَ خَمْرٍ۔قَالَ فَقَالَ:رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:أَزَنَیْتَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ، فَاَمَرَبِہٖ، فَرُجِمَ، فَکَانَ النَّاسُ فِیْہِ فِرْقَتَیْنِ۔ قَائِلٌ یَقُوْلُ: لَقَدْ ھَلَکَ، لَقَدْ اَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْئَتُہٗ، وَقَائِلٌ یَقُوْلُ: مَاتَوْبَۃٌ اَفْضَلَ مِنْ تَوْبَۃِ مَاعِزٍ، اَنَّہٗ جَآئَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَوَضَعَ یَدَہَ فِیْ یَدِہٖ ثُمَّ قَالَ:اُقْتُلْنِیْ بِالْحِجَارَۃِ، قَالَ:فَلَبِثُوْا بِذٰلِکَ یَوْمَیْنِ اَوْثَلاَثَۃً، ثُمَّ جَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺوَھُمْ جُلُوْسٌ۔ فَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسَ۔فَقَالَ:اسْتَغْفِرُوْا لِمَاعِزِبْنِ مَالِکٍ، قَالَ:فَقَالُوْا:غَفَرَاللّٰہُ لِمَاعِزِبْنِ مَالِکٍ،قَالَ:فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَقَدْ تَابَ تَوْبَۃً، لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ اُمَّۃٍ لَوَسِعَتْھُمْ۔(۶)
ترجمہ : حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ ماعز رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے پاک کردیجیے۔ آپ نے فرمایا ارے واپس چل اللہ سے معافی مانگ اور توبہ کر۔ تھوڑی سی دور جاکر واپس آیا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ مجھے پاک کیجیے۔ نبی ﷺ نے ویسا ہی جواب دیا۔ مگر جب چوتھی بار آیا تو آپ نے پوچھا کس سے پاک کروں میں تجھے؟ بولا زنا سے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اسے جنون تو نہیں؟ آپ کو بتایا گیا کہ اسے جنون قسم کی کوئی چیز لاحق نہیں ہے۔ پھر دریافت فرمایا کہ کیا اس نے شراب پی ہے؟ ایک شخص نے کھڑے ہوکر اس کا منہ سونگھا۔ اس نے منہ میں شراب کی بو نہیں پائی۔ پھر آپ نے ماعز سے دریافت فرمایا کیا تونے زنا کی ہے؟ وہ بولا ہاں اس پر آپ نے حکم صادر فرمایا اور اسے سنگسار کردیا گیا۔ اب اس کے بارے میں لوگ دوگروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ کہتاتھا کہ ماعز کو گناہوں نے گھیر لیا اور وہ تباہ وبرباد ہوگیا۔ دوسرا گروہ یہ کہتا تھا کہ ماعز کی توبہ سے کسی کی توبہ اچھی نہیں۔ وہ خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں رکھ دیا اور عرض کیا کہ مجھے سنگسار کردیجیے لوگ دو تین روز تک ایسی باتیں کرتے رہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ اور فرمایا کہ ماعز کے لیے مغفرت کی دعا کرو۔ لوگوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ماعز کو معاف فرمادے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ماعز نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ توبہ ایک امت کے لوگوںمیں تقسیم کردی جائے تو سب کو کافی ہوجائے۔
۶۴۔ مَھْلاً یَاخَالِدُ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْتَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَلَہٗ۔
’’خالد، اپنی زبان کو روکو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی تھی کہ اگر ظالمانہ محصول وصول کرنے والا بھی وہ توبہ کرتا توبخش دیا جاتا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِسْحَاقَ اَلْاَھْوَازِیُّ، ثَنَا اَبُوْ اَحْمَدَ، ثَنَا بَشِیْرُ بْنُ الْمُھَاجِرِ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:کُنَّا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ نَتَحَدَّثُ:اَنَّ الْغَامِدِیَّۃَ وَمَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ لَوْرَجَعَابَعْدَ اعْتِرَافِھِمَا،اَوْقَالَ:لَوْلَمْ یَرْجِعَا بَعْدَ اعْتِرَافِھِمَا، لَمْ یُطْلَبْھُمَا، وَاِنَّمَا رُجِمَھُمَا عِنْدَالرَّابِعَۃِ۔(۷)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ(وَتَقَارَبَا فِیْ لَفْظِ الْحَدِیْثِ) حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنَا بُشَیْرُبْنُ الْمُھَاجِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: فَجَآئَ تِ الْغَامِدِیَّۃُ، فَقَالَتْ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ زَنَیْتُ فَطَھِّرْنِیْ وَاِنَّہٗ رَدَّھَا، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ تَرُدَّنِیْ؟ لَعَلَّکَ اَنْ تَرُدَّنِیَ کَمَارَدَدْتَّ مَاعِزًا، فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ الْحُبْلٰی، قَالَ:اِمَّالاَ، فَاذْھَبِیْ حَتّٰی تَلِدِیْ، قَالَ:فَلَمَّا وَلَدَتْ اَتَتْہُ بِالصَّبِیِّ فِیْ خِرْقَۃٍ، قَالَتْ:ھٰذَا قَدَ وَلَدْتُّہٗ، قَالَ:اذْھَبِیْ، فَارْضِعِیْہِ، حَتّٰی تَفْطِمِیْہِ فَلَمَّا فَطََمَتْہُ، اَتَتْہُ بِالصَّبِیِّ، فِیْ یَدِہٖ کِسْرَۃُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ:ھٰذَا یَانَبِیَّ اللّٰہِ! قَدْفَطَمْتُہٗ، وَقَدْاَکَلَ الطَّعَامَ، فَدَفَعَ الصَّبِیَّ اِلٰی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، ثُمَّ اَمَرَبِھَا، فَحُفِرَ لَھَا اِلٰی صَدْرِھَا وَاَمَرالنَّاسَ فَرَجَمُوْھَا، فَیُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ بِحَجَرٍ، فَرَمٰی رَأسَھَا، فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِ خَالِدٍ، فَسَبَّھَا، فَسَمِعَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ سَبَّہٗ اِیَّاھَا، فَقَالَ، مَھْلاً یَاخَالِدُ! فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْتَابَھَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَلَہٗ، ثُمَّ اَمَرَبِھَا فَصَلّٰی عَلَیْھَا وَدُفِنَتْ۔(۸)
ترجمہ : عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ پھر غامدیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ میں نے زنا کی ہے لہٰذا مجھے پاک کردیجیے۔ آپ نے اسے واپس بھیج دیا۔ دوسرے روز وہ پھر آئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ مجھے واپس کس لیے بھیج دیتے ہیں؟ شاید آپ ماعز کی طرح مجھے واپس کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم میں توحاملہ ہوں (اب بھی زنا میں شک ہے؟) آپ نے فرمایا اچھا نہیں مانتی توجابچے کی پیدایش کے بعد آنا۔ جب بچہ پیدا ہوگیا تو اس بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور بولی یہ بچہ ہے جسے میں نے جنم دیاہے۔ آپ نے فرمایا۔ چلی جا اور اسے دودھ پلا۔ جب اس کا دودھ چھٹے تو پھر آنا۔ جب اس کا دودھ چھٹا تو وہ بچے کو لے کر پھر حاضر ہوئی اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ عرض کیا یارسول اللہ میں نے بچے کا دودھ چھڑا دیاہے اب یہ کھانے بھی لگاہے۔ آپ نے اس کو پرورش کے لیے ایک مسلمان کے سپرد کیا۔ پھر آپ نے حکم دیا اور ایک گڑھا کھودا گیا اس میں سینے تک اس عورت کوگاڑ دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے سنگسار کردیں،لوگوں نے سنگسار کیا۔ خالد بن ولید ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کے سر پر زور سے مارا جس سے خون اڑ کر خالد کے منہ پر گرا۔ خالد نے اسے برا بھلا کہا نبی ﷺ نے خالد کا اسے برابھلا کہنا سن لیا۔ فرمایا خالد رک جاؤ ذرا۔ ایسا مت کہو قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ناجائزمحصول لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کو بھی معاف کردیا جاتا۔ پھر آپؐ نے حکم دیا( کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے) چناں چہ اس کی نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفن کیا گیا۔
(۳) حَدَّثَنِیْ اَبُوْغَسَّانَ، مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِیُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ (یَعْنِیْ ابْنُ ھِشَامٍ) حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ یَحْیٰ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْقِلاَبَۃَ اَنَّ اَبَا الْمُھَلَّبِ حَدَّثَہٗ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: اَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُھَیْنَۃَ، اَتَتْ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ وَھِیَ حُبْلٰی مِنَ الزِّنیٰ فَقَالَتْ:یَانَبِیَّ اللّٰہِ! اَصَبْتُ حَدًّا، فَاَقِمْہُ عَلَیَّ، فَدَعَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ وَلِیَّھَا، فَقَالَ:اَحْسِنْ اِلَیْھَا فَاِذَا وَضَعَتْ، فَاْتِنِیْ بِھَا، فَفَعَلَ، فَاَمَرَبِھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فَشُکَّتْ عَلَیْھَا ثِیَابُھَا، ثُمَّ اَمَرَبِھَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّی عَلَیْھَا۔فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ: تُصَلِّیْ عَلَیْھَا یَانَبِیَّ اللّٰہِ! وَقَدْزَنَتْ؟ قَالَ:لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْقُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِیْنَ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَوَسِعَتْھُمْ۔ ھَلْ وَجَدْتَّ تَوْبَۃً اَفْضَلَ مِنْ اَنْ جَادَتْ بِنَفْسِھَا لِلّٰہِ تَعَالٰی۔(۹)
ترجمہ : حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ زنا سے اسے حمل تھا اس نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں نے ایسا جرم کیا ہے جس سے مجھ پر حد واجب ہوگئی ہے لہٰذا آپ مجھ پر حد جاری فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سر پرست (ولی) کو بلایا اور اسے فرمایا کہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آ جب بچہ پیدا ہوجائے تو پھر اسے میرے پاس لے آنا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اس کے کپڑے بدن کے ساتھ ذرامضبوطی سے باندھے گئے (کہ سترنہ کھل جائے) پھر حکم دیا اور اسے سنگسار کردیا گیا پھر آپؐ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ (اس موقعہ پر) حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں اس نے تو زنا کی تھی۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس نے تو بہ بھی توایسی کی ہے کہ اگر وہ توبہ مدینے کے ستر۷۰؍ آدمیوں پر تقسیم کردی جائے تو سب کو کافی ہوجائے۔ تونے اس سے بہتر اور عمدہ توبہ کون سی دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان خدا کے واسطے دے دی؟
ماخذ
(۱) ابوداؤد ج۴کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک۔٭ترمذی ج۱ابواب الحدود، باب ماجاء فی درء الحد عن المعترف اذا رجع۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب۹ الرجم۔ عن ابی ھریرۃ (مختصر ہے) ٭ السنن الکبری ج۸ کتاب الحدود، باب المعترف بالزنا یرجع عن اقرارہ فیترک۔ عن ابی ھریرۃ (مختصر) ٭سنن دارمی ج۲ کتاب الحدود، باب المعترف یرجع عن اعترافہ اس میں صرف فھلاترکتموہ ھی ہے۔
(۲) بخاری ج۲کتاب الحدودباب ہل یقول الإمام للمُقِرِّ لعلّک لمست أوغمزت٭ابوداوٗد ج۴ کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک۔٭السنن الکبری ج۸ کتاب الحدود، باب من قال لایقام علیہ الحد حتی یعترف اربع مرات۔ عن ابن عباس۔٭سنن دارقطنی ج۳۔حدیث نمبر۱۳۲۔٭المستدرک للحاکم ج۴ ص۳۶۱ عن ابن عباس۔
(۳) بخاری ج۲کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃِ باب لایرجم المجنون والمجنونۃ الخ باب سوال الامام المقرَّ ھل احصنت۔٭مسلم ج۲کتاب الحدود، باب حد الزنا۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الحدود باب من قال لایقام علیہ الحد حتی یعترف اربع مرات۔
(۴) مسلم ج۲کتاب الحدود باب من اعترف علی نفسہ بالزنی۔٭ابوداوٗدج۴کتاب الحدود، باب المرأۃ التی امر النبی ﷺ برجمھا من جھینۃ۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود، باب الحامل اذا اعترفت بالزنا۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الحدود باب ماجاء فی الرجم عن عبداللہ بن ابی ملیکۃ۔ (مختصر)٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ کتاب الحدود، باب الحبلی لاترجم حتی تضع ویکفل ولدھا۔ عبد اللہ بن بریدہ عن ابیہ اور باب ماجاء فی الحفر والمرجومۃ کے تحت بھی منقول ہے۔
(۵) ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر ۱۳۵۵۳۔٭سنن دارقطنی ج۳ص۱۹۷۔ کتاب الحدود حدیث نمبر ۳۳۸۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ص۲۲۷ کتاب الحدود، باب من قال لایقام علیہ الحد حتّٰی یعترف اربع مرات۔
(۶) مسلم ج۲کتاب الحدود، باب حد الزنا۔ ٭سنن دارقطنی ج۳کتاب الحدود حدیث نمبر۳۹۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸۔ کتاب الحدود، باب من قال لایقام علیہ الحد حتی یعترف اربع مرات۔
(۷) ابوداؤد ج۴ کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک۔
(۸) مسلم ج۲کتاب الحدود باب حد الزنا۔٭ابوداوٗدج۴کتاب الحدود باب المرأۃ التی امر النبی ﷺ برجمھا من جھینۃ۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود باب الحامل اذا اعترفت بالزنا۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الحدود، باب ماجاء فی الرجم (مختصر)٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ کتاب الحدود، باب الحبلی۔
(۹) مسلم ج۲کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی۔٭ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب المرأۃ التی امر النبی ﷺ برجمھا۔ من جھینۃ۔٭ترمذی ج۱۔ابواب الحدود، باب منہ۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب الرجم (بہت مختصر)٭السنن الکبری ج۸کتاب الحدود باب اقامۃ الحد علی من اعترف بالزنا وثبت علیھا۔٭سنن دارقطنی ج۳ کتاب الحدود حدیث نمبر۶۸۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود، باب الحامل اذا اعترف بالزنا۔
فصل:۸ شادی شدہ یہودی مرد اور عورت کے لیے حد رجم
۶۵۔ خیبر کے معزز یہودی خاندانوں میں سے ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ناجائز تعلق پایا گیا۔ توراۃ کی رو سے ان کی سزا رجم تھی یعنی یہ کہ دونوں کو سنگسار کیا جائے (استثناء ، باب۲۲، آیت ۲۳،۲۴)۔ لیکن یہودی اس سزا کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مقدمہ میں محمد ﷺ کو پنچ بنایا جائے۔ اگر وہ رجم کے سوا کوئی اور حکم دیں تو قبول کرلیا جائے اور جم ہی کا حکم دیں تو قبول نہ کیا جائے۔ چناں چہ مقدمہ آپؐ کے سامنے لایا گیا۔ آپ نے رجم کا حکم دیا۔ انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا۔ اس پر آپ نے پوچھا تمہارے مذہب میں اس کی کیا سزا ہے؟ انہوں نے کہا کوڑے مارنا اور منھ کالا کرکے گدھے پر سوار کرنا۔ آپ نے ان کے علماء کو قسم دے کر ان سے پوچھا، کیا توراۃ میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی یہی سزا ہے؟ انہوں نے پھر وہی جھوٹا جواب دیا۔ لیکن ان میں سے ایک شخص ابن صوریا جوخود یہودیوں کے بیان کے مطابق اپنے وقت میں تو راۃ کا سب سے بڑا عالم تھا، خاموش رہا۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوکر فرمایا، میں تجھے اس خدا کی قسم دے کر پوچھتاہوں جس نے تم لوگوں کو فرعون سے بچایا اور طور پر تمہیں شریعت عطا کی، کیا واقعی توراۃ میں زنا کی یہی سزا لکھی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ’’اگر آپ مجھے ایسی بھاری قسم نہ دیتے تو میں نہ بتاتا۔واقعہ یہ ہے کہ زنا کی سزا تورجم ہی ہے۔ مگر ہمارے ہاں جب زنا کی کثرت ہوئی تو ہمارے حکام نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بڑے لوگ زنا کرتے تو انہیں چھوڑدیا جاتا اور چھوٹے لوگوں سے یہی حرکت سرزد ہوتی تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ پھر جب اس سے عوام میں ناراضی پیدا ہونے لگی تو ہم نے توراۃ کے قانون کو بدل کر یہ قاعدہ بنالیا کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور انہیں منہ کالا کرکے گدھے پر الٹے منہ سوار کیا جائے۔ اس کے بعد یہودیوں کے لیے کچھ بولنے کی گنجایش نہ رہی اور آپ کے حکم سے زانی اور زانیہ کو سنگسار کردیا گیا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ یَحْیٰ وَاَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ کِلاَھُمَا عَنْ اَبِیْ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ یَحْیٰ:اَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:مُرَّعَلَی النَّبِیِّﷺ، بِیَھُوْدِیٍّ مُحَمَّمًا مَجْلُوْدًا، فَدَعَاھُمْ،فَقَالَ:ھٰکَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّالزَّانِیْ فِیْ کِتَابِکُمْ؟ قَالُوْا:نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلاً مِنْ عُلَمَائِھِمْ، فَقَالَ:اَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوْسٰی، اَھٰکَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّالزَّانِیِّ فِیْ کِتَابِکُمْ؟ قَالَ:لاَ، وَلَوْلاَ اَنَّکَ نَشَدْتَّنِیْ بِھٰذَا لَمْ اُخْبِرْکَ۔ نَجِدُہُ الرَّجْمَ وَلٰکِنَّہٗ کَثُرَ فِیْ اَشْرَافِنَا، فَکُنَّا اِذَا اَخَذْنَا الشَّرِیْفَ تَرَکْنَاہُ۔وَاِذَا اَخَذْنَا الضَّعِیْفَ اَقَمْنَا عَلَیْہِ الْحَدَّ۔قُلْنَا:تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلٰی شَیْئٍ نُقِیْمُہٗ عَلَی الشَّرِیْفِ وَالْوَضِیْعِ، فَجَعَلْنَا التَّحْمِیْمَ وَالْجَلْدَ مَکَانَ الرَّجْمِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَوَّلُ مَنْ اَحْیٰ اَمَرَکَ اِذْ اَمَاتُوْا، فََاَمَرَبِہٖ فَرُجِمَ فَانْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یٰآ اَیُّھَاالرَّسُوْلُ لاَیَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ اِلٰی قَوْلِہٖ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ یَقُوْلُ ائْتُوا مُحَمَّدًا ﷺ فَاِنْ اَمَرَکُمْ بِالتَّحْمِیْمِ وَالْجَلْدِ، فَخُذُوْہُ، وَاِنْ اَفْتَاکُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوْا، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٓئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٓئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ۔ فِیْ الْکُفَّارِ کُلُّھَا۔(۱)
ترجمہ : حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے ایک یہودی گزرا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور کوڑے کھایا ہوا۔آپ نے یہودیوں کو بلایا اور پوچھا کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔ پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک عالم آدمی کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتاہوں جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اتاری، کیا تمہاری کتاب میں زنا کی یہی سزا ہے؟ وہ بولا نہیں اگر تم مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں نہ بتاتا۔ ہماری کتاب میں زنا کی حد تو رجم ہے۔ لیکن ہمارے اشراف میں زنا کی کثرت ہوگئی۔ جب ہم اشراف کو جرم زنا میں پکڑتے تو انہیں چھوڑدیتے اور جب غریب وادنیٰ آدمی کو اس جرم میں گرفتار کرتے تو اس پر حد جاری کردیتے۔ آخر ہم نے سوچا کہ ایک جگہ جمع ہوکر فیصلہ کریں کہ ایسی سزا تجویز کریں جو سب پر یکساں لاگو ہو۔ چناں چہ اس کے بعد ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کی سزا مقرر کردی۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا، اے اللہ میں سب سے پہلے تیرے فرمان کو زندہ کرتاہوں جسے انہوں نے مردہ کردیا تھا۔ پھر آپ نے حکم دیا اور اسے سنگسار کردیا گیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ۔۔۔(المائدہ:۴۱)’’اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھارہے ہیں۔۔۔ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو۔۔۔۔‘‘یہود کہتے ہیںکہ محمدﷺکے پاس چلو اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تواس پر عمل کرو اور اگر وہ رجم کرنے کا فیصلہ سنائیں تو بچے رہو ( تسلیم نہ کرو) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ ۔۔۔ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (المائدہ:۴۴،۵۴،۷۴) ــــــ ’’جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔۔۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔۔۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔۔۔ ــــــ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔ ان تمام آیات کا نزول کافروں کے حق میں ہوا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰ، ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ،اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، ثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَیْنَۃَ،ح وَثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا عَنْبَسَۃُ، ثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ:قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ: سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ مِمَّنْ یَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَیَعِیْہِ، ثُمَّ اتَّفَقَا:وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِیْدِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ، فَحَدَّثَنَا عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، وَھٰذَا حَدِیْثُ مَعْمَرٍوَھُوَ اَتَمُّ، قَالَ:زَنٰی رَجُلٌ مِّنَ الْیَھُوْدِ وَامْرَأَۃٌ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ:اِذْھَبُوْا بِنَااِلٰی ھٰذَا النَّبِیِّ فَاِنَّہٗ نَبِیٌّ بُعِثَ بِالتَّخْفِیْفِ، فَاِنْ اَفْتَانَا بِفُتْیَا دُوْنَ الرَّجْمِ قَبِلْنَاھَا وَاحْتَجَجْنَا بِھَا عِنْدَ اللّٰہِ، قُلْنَا:فُتْیَا نَبِیٍّ مِنْ اَنْبِیَائِکَ، قَالَ: فَاَتَوُا النَّبِیَّ ﷺ وَھُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ فِیْ اَصْحَابِہٖ، فَقَالُوْا: یَااَبَاالْقَاسِمِ، مَاتَرٰی فِیْ رَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ زَنَیَا؟ فَلَمْ یُکَلِّمْھُمْ کَلِمَۃً حَتّٰی اَتٰی بَیْتَ مِدْرَاسِھِمْ، فَقَامَ عَلَی الْبَابِ فَقَالَ: اَنْشُدُکُمُ بِاللّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوْسٰی مَاتَجِدُوْنَ فِی التَّوْرَاۃِ عَلٰی مَنْ زَنٰی اِذَا اُحْصِنَ؟ قَالُوْا: یُحَمَّمُ وَیُجَبَّہُ وَیُجْلَدُ، وَالتَّجْبِیَۃُ اَنْ یُّحْمَلَ الزَّانِیَانِ عَلٰی حِمَارٍ وَتَقَابَلَ اَقْفِیَتُھُمَا وَیُطَافَ بِھِمَا، قَالَ: وَسَکَتَ شَابٌّ مِنْھُمْ، فَلَمَّارَاٰہُ النَّبِیُّﷺ سَکَتَ اَلَظَّ بِہٖ النَّشْدَۃَ، فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ اِذْ نَشَدْتَّنَا فَاِنَّانَجِدُ فِی التَّوْرَاۃِ الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ:فَمَا اَوَّلُ مَاارْتَخَصْتُمْ اَمْرَاللّٰہِ، قَالَ:زَنٰی ذُوْقَرَابَۃٍ مِنْ مَلِکٍ مِنْ مُّلُوْکِنَا فَاُخِّرَ عَنْہُ الرَّجْمُ۔ثُمَّ زَنٰی رَجُلٌ فِیْ اُسْرَۃٍ مِنَ النَّاسِ فَاَرَادَ رَجْمَہٗ فَحَالَ قَوْمُہٗ دُوْنَہٗ وَقَالُوْا:لاَیُرْجَمُ صَاحِبُنَا حَتّٰی تَجِیئَ بِصَاحِبِکَ فَتَرْجُمُہٗ، فَاصْطَلَحُوْا عَلٰی ھٰذِہٖ الْعُقُوْبَۃِ بَیْنَھُمْ، فَقَالَ النَّبِیُّﷺ:’’فَاِنِّیْ اَحْکُمُ بِمَا فِی التَّوْرَاۃِ،‘‘فَاَمَرَ بِھِمَا فَرُجِمَا۔(۲)
ـــــــ قَالَ الزُّھْرِیُّ: فَبَلَغْنَا اِنَّ ھٰذِہٖ الآیَۃُ نَزَلَتْ فِیْھِمْ ’’اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌ یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا،کَانَ النَّبِیُّ ﷺ مِنْھُمْ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کی۔ ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو جسے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اگر اس نے رجم سے کم تر سزادی تو ہم اسے قبول کرلیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس فیصلہ کو بطور دلیل پیش کردیں گے کہ تیرے انبیاء میں سے ایک نبی کا یہ فیصلہ ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ہمراہ مسجد میں تشریف فرماتھے۔ یہودیوں نے کہا اے ابوالقاسم تمہارا کیا فیصلہ ہے اس مرد اور عورت کے بارے میں جنہوں نے زنا کی ہو؟ آپ سن کر فی الفور کوئی جواب دیئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اور دروازے پر کھڑے ہوکر فرمایا میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتاہوں جس نے حضرت موسیٰؑ پر تورات نازل فرمائی۔ تم اپنی کتاب میں اس شخص کے بارے میں کیا حکم پاتے ہو جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کی ہو؟ یہودی بولے اسے منہ کالا کرکے، گدھے پر سوار کرکے گھمایا پھرایا جائے گا اور کوڑے مارے جائیں گے (تجبیہ کہتے ہیں دونوں زانیوں کو گدھے پر الٹے منہ سوار کرکے گھمایا پھرایا جائے) ایک نوجوان ان میں خاموش رہا۔ جب نبی ﷺ نے اسے خاموش دیکھا تو آپ نے اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو وہ بولا، آپ نے اتنی سخت قسم دی ہے اس لیے میں بتاتا ہوں، ہم تورات میں رجم کا حکم پاتے ہیں نبی ﷺ نے دریافت فرمایا پھر تم نے کب حکم الٰہی کو آسان سمجھ کر چھوڑا۔ اس نے جواب دیا کہ ہمارے بادشاہوں میں سے کسی کے قریبی عزیز نے زنا کی تو بادشاہ نے اسے سزائے رجم نہ دی۔ پھر رعایا میں سے کسی عام آدمی نے زنا کی تو بادشاہ نے اسے سزائے رجم دینا چاہی تو اس کے قبیلہ کے لوگ درمیان میں حائل ہوگئے اور بولے پہلے اپنے عزیز کو رجم کرو ورنہ ہمارے آدمی کو رجم نہیں کیا جائے گا۔ آخرسب نے اتفاق کرکے اس سزا کو تسلیم کرلیا اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تووہی حکم دیتاہوں جو تورات میں مذکور ہے۔ پھر آپ نے ان دونوں کے رجم کا فیصلہ فرمایا اور دونوں رجم کردیے گئے ۔امام زہری کا قول ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَالخ ’’ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی ؑ، جو مسلم تھے اسی کے مطابق اِن یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔۔۔ـــــ انہی لوگوں کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔
(۳)اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اُتِیَ بِیَھُوْدِیٍّ وَیَھُوْدِیَّۃٍ قَدْزَنَیَا فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی جَآئَ یَھُوْدَ، فَقَالَ:مَاتَجِدُوْنَ فِی التَّوْرَاۃِ عَلٰی مَنْ زَنَا؟ قَالُوْا نُسَوِّدُ وُجُوْھَھُمَا وَنَحْمِلُھُمَا وَنُخَالِفُ بَیْنَ وُجُوْھِھِمَا وَیُطَافُ بِھِمَا، قَالَ:فَأتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ، فَجَاؤُا بِھَا فَقَرَئُ وْھَا حَتّٰی اِذَا مَرُّوْا بِآیَۃِ الرَّجْمِ وَضَعَ الْفَتَی الَّذِیْ یَقْرَأُ یَدَہٗ عَلٰی اٰیَۃِ الرَّجْمِ وَقَرَئَ مَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا وَرَائَ ھَا، فَقَالَ لَہٗ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ سَلاَمٍ وَھُوَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُرْہُ فَلْیَرْفَعْ یَدَہٗ، فَرَفَعَھَا، فَاِذَا تَحْتَھَاآیَۃُ الرَّجْمِ فَاَمَرَ بِھِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَا۔قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ:کُنْتُ فِیْمَنْ رَجَمَھُمَا فَلَقَدْ رَأَیْتُہٗ یَقِیْھَا مِنَ الْحِجَارَۃِ بِنَفْسِہٖ۔(۳)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک عورت پیش کیے گئے جنہوں نے زنا کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس یہود کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا زانی کے متعلق تم لوگ تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟ وہ بولے ہم دونوں کے منہ کالا کرکے الٹے رخ دونوں کو سوار کرکے چکر لگواتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اچھا تورات لاؤ اگر تم اپنے بیان میں سچے ہو۔ وہ تورات لے آئے اور پڑھنا شروع کیا تاآں کہ جب رجم کی آیت آئی تو پڑھنے والے نوجوان نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور آگے پیچھے سے پڑھا۔ عبد اللہ بن سلام جو نبی ﷺ کے ساتھ ہی تھے عرض کیا یا رسول اللہ اسے کہیے کہ اپنا ہاتھ ذرا اٹھائے اس نے ہاتھ اٹھایا تو نیچے آیت رجم موجود تھی پس رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو رجم کرنے کا حکم فرمایا چناں چہ دونوں کو رجم کردیا گیا۔ عبد اللہ بن عمر کا بیان ہے کہ میں ان کو رجم کرنے والوں میں شامل تھا۔ میں نے اس یہودی کو دیکھا اپنے آپ کو ڈھال یا آڑ بناکر عورت کو سنگساری سے بچا رہاتھا۔
ابوداؤد الطیالسی کی روایت:
(۴)عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، اُتِیَ بِیَھُوْدِیٍّ وَیَھُوْدِیَّۃٍ قَدْزَنَیَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَاتَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِکُمْ؟ قَالُوْا:لاَنَجِدُ الرَّجْمَ، فَقَالَ ابْنُ سَلاَمٍ کَذَبُوْا،الرَّجْمُ فِی کِتَابِھِمْ، قَالَ:فَدُعِیَ ابْنُ صُوْرِیَا فَجَعَلَ یَقْرَأُ حَتّٰی اِذَا انْتَھٰی اِلٰی مَوْضِعِ الرَّجْمِ، وَضَعَ یَدَہٗ عَلٰی مَوْضِعِ الرَّجْمِ، فَقَالَ ابْنُ سَلاَمٍ:اِرْفَعْ یَدَکَ،فَرَفَعَھَا،فَاِذَاآیَۃُ الرَّجْمِ فَقَالَ:یَامُحَمَّدُ الرَّجْمُ فِیْ کِتَابِنَا،فَرَجَمَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ بِالْبَلاَطِ، قَالَ: فَجَعَلَ الْیَھُوْدِیُّ یَقِیْھَا بِنَفْسِہٖ۔(۴)
عبد اللہ بن عمر سے مروی روایت:
(۵)عَنِ ابْنِ عُمَرَ،قَالَ:اَتٰی نَفَرٌمِنْ یَھُوْدَ، فَدَعَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِلَی الْقُفِّ، فَاَتَاھُمْ فِیْ بَیْتِ الْمِدْراسِ، فَقَالُوْا: یَااَبَاالْقَاسِمِ اِنَّ رَجُلاً مِّنَّازَنٰی بِاِمْرَأَۃٍ،فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ،فَوَضَعُوْالِرَسُوْلِ اللّٰہِﷺ وِسَادَۃً، فَجَلَسَ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ:ائْتُوْنِیْ بِالتَّوْرٰۃِ، فَاُتِیَ بِھَا، فَنَزَعَ الْوِسَادَۃَ مِنْ تَحْتِہٖ وَوَضَعَ التَّوْرَاۃَ عَلَیْھَا ثُمَّ قَالَ:اٰمَنْتُ بِکِ وَبِمَنْ اَنْزَلَکِ ثُمَّ قَالَ، ائْتُوْنِیْ بِاَعْلَمِکُمْ، فَاُتِیَ بِفَتًی شَابٍّ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃَ الرَّجْمِ نَحْوَحَدِیْثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ۔(۵)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ چند یہود آئے اور رسول اللہ ﷺ کو قف کی طرف بلاکر لے گئے۔آپ بیت المدراس (تورات پڑھنے کی جگہ) میں ان کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم ہم میں سے ایک مرد نے ایک عورت کے ساتھ زنا کی ہے،ان کے درمیان آپ فیصلہ فرمادیں۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں تکیہ پیش کیا کہ آپ اس پر تشریف رکھیں۔ آپ اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تورات میرے پاس لاؤ ،تورات لائی گئی۔ آپ نے اپنے نیچے سے تکیہ نکالا اور تورات اس پر رکھی اور فرمایا میں تجھ پر ایمان لایا اور اس ذات پر ایمان لایا جس نے تجھے نازل فرمایا۔ پھر فرمایا اپنے میں سے سب سے زیادہ علم والے آدمی کو بلاؤ تو ایک نوجوان لایا گیا (اس کے بعد رجم کا قصہ بیان کیاجیسا کہ مالک نے نافع سے روایت کی ہے)۔
(۶)حَدَّثَنَااِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ،عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ قَالَ:اِنَّ الْیَھُوْدَ جَاؤُا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرُوْا لَہٗ: اَنَّ رَجُلاً مِنْھُمْ وَامْرَأۃً زَنَیَا، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَاتَجِدُوْنَ فِی التَّوْرَاۃِ فِیْ شَاْنِ الرَّجْمِ؟فَقَالُوْا:نَفْضَحُھُمْ وَیُجْلَدُوْنَ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلاَمٍ:کَذَبْتُمْ، اِنَّ فِیْھَا الرَّجْمَ، فَاَتَوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَنَشَرُوْھَا،فَوَضَعَ اَحَدُھُمْ یَدَہٗ عَلٰی اٰیَۃِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَاقَبْلَھَا وَمَا بَعْدَھَا، فَقَالَ لَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلاَمٍ:اِرْفَعْ یَدَکَ، فَرَفَعَ یَدَہٗ، فَاِذَا فِیْہَا اٰیَۃُ الرَّجْمِ، قَالُوْا:صَدَقَ یَامُحَمَّدُ! فِیْھَا اٰیَۃُ الرَّجْمِ فَاَمَرَ بِھِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَا، فَرَأَیْتُ الرَّجُلَ یَحْنَأُ عَلَی الْمَرْأَۃِ یَقِیْھَا الْحِجَارَۃَ۔(۶)
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ یہود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیان کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کی ہے آں حضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم پاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کو رسوا کرتے ہیں اور انھیںکوڑے لگائے جاتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ ابن سلام بولے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تورات میں تو رجم کرنے کا حکم ہے ۔ چناں چہ وہ تورات لائے اور کھول کر رکھ دیا۔ ان میں سے ایک صاحب نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ کر چھپالیا اور آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کیا۔ عبد اللہ بن سلام نے اسے کہا کہ اپنا ہاتھ ذرا یہاں سے اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ وہاں سے اٹھایا تو وہیں آیت رجم تھی یہودی فوراً بول اٹھے کہ اے محمد ﷺ عبد اللہ بن سلام نے ٹھیک کہا ہے تورات میں آیت رجم ہے۔ آپ نے ان دونوں کو سنگسار کیے جانے کا حکم فرمایا ،ان کو سنگسار کردیا گیا۔ میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اس عورت پر جھکا پڑتاتھا کہ اسے پتھر لگنے سے بچائے۔
(۷)عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَھُوْدِیٍّ وَیَھُوْدِیَّۃٍ قَدْ اَحْدَثَا جَمِیْعًا، فَقَالَ لَھُمْ: مَاتَجِدُوْنَ فِیْ کِتَابِکُمْ؟ قَالُوْا: اِنَّ اَحْبَارَنَا اَحْدَثُوْا تَحْمِیْمَ الْوَجْہِ وَالتَّجْبِیَۃِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلاَمٍ:اُدْعُھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ بِالتَّوْرَاۃِ، فَاُتِیَ بِھَا فَوَضَعَ اَحَدُھُمْ یَدَہٗ عَلٰی اٰیَۃِ الرَّجْمِ، وَجَعَلَ یَقْرَأُ مَاقَبْلَھَا وَمَابَعْدَھَا، فَقَالَ لَہُ ابْنُ سَلاَمٍ: اِرْفَعْ یَدَکَ، فَاِذَا اٰیَۃُ الرَّجْمِ تَحْتَ یَدِہٖ، وَاَمَرَ بِھِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَرُجِمَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرُجِمَا عِنْدَ الْبَلاَطِ، فَرَأَیْتُ الْیَھُوْدِیَّ اَجْنَأَ عَلَیْھَا۔(۷)
ترجمہ : حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں ایک یہودی مرد اور عورت کو پیش کیا گیا جنہوں نے زنا کی تھی۔ آپ نے یہودیوں سے پوچھا تم اپنی کتاب میں اس کا کیا حکم پاتے ہو؟ وہ بولے ہمارے احبار (علماء) نے منہ کالا کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا بتایاہے۔ عبد اللہ بن سلام نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کو تورات پیش کرنے کا حکم فرمائیں! چناں چہ تورات لاکر پیش کی گئی۔ ان میں سے ایک آدمی نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ کر چھپالیا اور آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کیا۔ عبد اللہ بن سلام نے اسے کہاکہ ذرا اپنا ہاتھ اوپر اٹھاؤ وہیں ہاتھ کے نیچے آیت رجم تھی۔ چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو رجم کرنے کا حکم صادر فرمایا اور دونوں سنگسار کردیئے گئے۔ ابن عمرؓ نے بتایا کہ ان کو بلاط میں رجم کیا گیا۔ میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ عورت پر جھکا پڑتا تھا (کہ کسی طرح سنگساری سے بچ جائے)۔
(۸)حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ مُوْسٰی الْبَلَخِیُّ، ثَنَا اَبُوْاُسَامَۃَ، قَالَ مُجَالِدٌ: اَخْبَرَنَا عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِابْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ:جَائَ تِ الْیَھُوْدُ بِرَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ مِنْھُمْ زَنَیَا،فَقَال:اِئتُوْنِیْ بِاَعْلَمِ رَجُلَیْنِ مِنْکُمْ، فَاَتَوْہُ بِابْنَیْ صُوْرِیَا فَنَشَدَھُمَا کَیْفَ تَجِدَانِ اَمْرَ ھٰذَیْنِ فِی التَّوْرٰۃِ؟ قَالاَ:نَجِدُ فِی التَّوْرٰۃِ اِذَا شَھِدَ اَرْبَعَۃٌ اَنَّھُمْ رَأوْذَکَرَہٗ فِیْ فَرْجِھَا مِثْلَ الْمِیْلِ فِی الْمُکْحَلَۃِ رُجِمَا، قَالَ: فَمَا یَمْنَعُکُمَا اَنْ تَرْجُمُوْھُمَا؟ قَالاَ ذَھَبَ سُلْطَانُنَا فَکَرِھْنَا الْقَتْلَ،فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالشُّھُوْدِ، فَجَاؤُا بِاَرْبَعَۃٍ، فَشَھِدُوْا اَنَّھُمْ رَأَوْاذَکَرَہٗ فِیْ فَرْجِھَا مِثْلَ الْمِیْلِ فِی الْمُکْحَلَۃِ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِرَجْمِھِمَا۔(۸)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ یہود ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کی تھی۔ آپ نے فرمایا تم اپنے میں سے سب سے بڑے دوعالم میرے پاس لاؤ۔ وہ صوریا کے دونوں بیٹوں کو لے کر آئے۔ آپ نے ان دونوں کو قسم دی اور پوچھا کہ ان دونوں کے متعلق تم تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟ تو انہوں نے بتایا کہ تورات میں تو ہم یہ حکم پاتے ہیں کہ جب چار آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے مرد کی شرم گاہ کو عورت کی شرم گاہ میں اس طرح داخل ہوتے دیکھا جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے، تو ان دونوں کو رجم کیا جائے۔ آپ نے ان سے پوچھا پھر تم کو کس چیز نے ان کو رجم کرنے سے باز رکھا؟ دونوں بولے، ہماری سلطنت تو چلی گئی تو ہمیں قتل کرنا ناپسند معلوم ہوا۔ پھر آپ نے گواہ طلب فرمائے، وہ چار گواہ لے کر آئے۔ انہوں نے گواہی دی کہ ہم نے مرد کی شرم گاہ کو عورت کی شرم گاہ میں اس طرح داخل ہوتے دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں۔ آپ نے حکم دیا دونوں کو سنگسار کردیا گیا۔
(۹)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: زَنٰی رَجُلٌ وَامْرَأَۃٌ مِنَ الْیَھُوْدِ وَقَدْ اُحْصِنَا حِیْنَ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ، وَقَدْ کَانَ الرَّجْمُ مَکْتُوْبًا عَلَیْھِمْ فِی التَّوْرٰۃِ فَتَرَکُوْہُ وَاَخَذُوْا بِالتَّجْبِیَۃِ، یُضْرَبُ مِائَۃٌ بِحَبْلٍ مَطْلِیٍّ بِقَارٍ وَیُحْمَلُ عَلٰی حِمَارٍ وَجْھُہُ مِمَّا یَلِیْ دُبُرَالْحِمَارِ، فَاجْتَمَعَ اَحْبَارٌ مِنْ اَحْبَارِھِمْ فَبَعَثُوْا قَوْمًا آخَرِیْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالُوْا: سَلُوْہُ عَنْ حَدِّ الزَّانِیِّ وَسَاقَ الْحَدِیْثِ۔(۹)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ایک یہودی مرد اور عورت نے زنا کی، وہ دونوں شادی شدہ تھے اور تورات میں ان کے لیے رجم لکھا ہوا تھا۔ لیکن یہود نے اس سزا کو چھوڑ دیا اور اس کی جگہ گدھے پر الٹے رخ گدھے سوار کرنے اور تار کول سے لتھڑی ہوئی رسی سے سودفعہ مارنے کو اختیار کرلیا۔ یہودی علماء جمع ہوئے اور کچھ لوگوں کو آپؐ کے پاس اس جرم کی سزا پوچھنے کے لیے بھیجا۔ الحدیث۔
تشریح : یہودی اس وقت تک اسلامی حکومت کی باقاعدہ رعایا نہیں بنے تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے۔ان معاہدات کی روسے یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی اور ان کے مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے۔ نبی ﷺ کے پاس یا آپ کے مقرر کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کے لیے وہ ازروئے قانون مجبور نہ تھے لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے۔ ان کا فیصلہ کرانے کے لیے نبی ﷺ کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کے لیے کوئی دوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے مذہبی قانون کی پیروی سے بچ جائیں۔ (تفہیم القرآن، ج۱، المائدہ ،حاشیہ:۷۰)
ماخذ
(۱) مسلم ج۲ کتاب الحدود، باب رجم الیھود، اھل الذمۃ فی الزنٰی۔ براء بن عازب کی ایک دوسری روایت میں اللھم انی اول من احیا مااماتوا من کتابک کے الفاظ بھی مسلم اور ابوداؤد دونوں نے روایت کیے ہیں۔ ٭ابوداؤد ج۴کتاب الحدود، باب حد الزنا۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود، باب رجم الیھودی والیھودیۃ۔ ٭ السنن الکبری للبیھقی ج۸۔ کتاب الحدود باب ماجاء فی حد الذمیین الخ عن براء بن عازب۔
(۲) ابوداؤد ج۴ کتاب الحدود، باب فی رجم الیھودیین حدیث ۴۴۴۹۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر ۱۳۵۵۲۔
(۳) مسلم ج۲کتاب الحدود، باب رجم الیھود، اھل الذمۃ فی الزنٰی۔٭ دارمی ج۲کتاب الحدود باب فی الحکم بین اھل الکتاب الخ حدیث ۲۳۲۶۔٭مؤطا امام مالک کتاب الحدود، باب ماجاء فی الرجم۔ عن ابن عمر۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الحدود باب ماجاء فی حد الذمیین الخ عن ابن عمر۔
(۴) ابوداؤد الطیالسی ج۸۔ص۲۵۳۔۲۵۴۔ عن ابن عمر۔
(۵) ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب حد الزنا۔٭ترمذی ابواب الحدود، باب ماجاء فی رجم اھل الکتاب۔ ترمذی نے تفصیل بیان نہیں کی صرف ان النبی ﷺ رجم یھودیا ویھودیۃ وفی الحدیث قصۃ۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب رجم الیھودی والیھودیۃ بہت مختصر۔٭نصب الرایۃ للزیلعی ج۳۔ حدیث۱۷۔
(۶) بخاری ج۲ کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب احکام اھل الذمۃ واحصانھم اذا زنوا ورفعوا الی الامام۔
(۷) بخاری ج۲۔ کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب الرجم بالبلاط۔٭مجمع الزوائد ج۶ ص۲۷۱۔ عن ابن عباس۔
(۸) ابوداؤد ج۴۔کتاب الحدود، باب فی رجم الیھودیین۔
(۹) ابوداوٗد۔ج۴۔کتاب الحدود، باب فی رجم الیھودیین۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد الذمیین۔
فصل:۹ آیت رجم کے بارے میں تحقیق
ماخذ
(۱) بخاری ج۲ کتاب الحدود باب رجم الحبلٰی من الزنا اذا احصنت۔٭مسلم ج۲کتاب الحدود باب حد الزنا۔ (باب رجم الیھود، اھل الذمۃ فی الزنٰی)۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر۱۳۵۱۲۔
(۲) بخاری ج۲۔٭ابوداوٗد ج۴۔ کتاب الحدود، باب فی الرجم۔٭ترمذی ج۱ابواب الحدود باب ماجاء فی تحقیق الرجم۔٭ابن ماجہ کتاب الحدود باب ۹الرجم۔ابن ماجہ میں وقد قراتھا کے بعد (اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا الْبَتَّۃَ) بھی منقول ہے۔٭ السنن الکبریٰ ج۸کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود باب فی حد المحصنین بالزنا۔
(۳) مؤطا امام مالک ج۲کتاب الحدود باب ماجاء فی الرجم۔٭کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر ۱۳۵۱۶اور۱۳۵۲۳۔
(۴) السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الحدود، باب فی حد المحصنین بالزنا۔٭المستدرک للحاکم ج۴ کتاب الحدود، باب من کفر بالرجم فقد کفر بالقرآن مستدرک کی اس روایت میں البتۃ تک ہے نکالا من اللہ ورسولہ وغیرہ نہیں ہے۔
(۵) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب۔ ٭ مؤطا امام مالک ج۲ کتاب الحدود باب ماجاء فی الرجم (او الاعتراف) تک ۔
(۶) السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸۔ کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب۔ حدیث۱۶۹۱۱۔ ٭المستدرک للحاکم ج۴کتاب الحدود، باب من کفر بالرجم فقد کفر بالقرآن۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔
(۷) السنن الکبریٰ للبیھقی ج ۸کتاب الحدود، باب مایستدل بہ علی ان السبیل ھو جلد الزانیین ورجم الثیب حدیث ۱۶۹۳۱۔ کنزالعمال ج۵ حدیث نمبر۱۳۴۸۲۔
(۸) المستدرک للحاکم ج۴۔ کتاب الحدود، باب من کفر بالرجم فقد کفر بالقرآن۔
(۹) المستدرک للحاکم ج۴کتاب الحدود، باب من کفربالرجم فقد کفر بالقرآن حدیث ۸۰۶۹/۴۶۔
فصل:۱۰ قتلِ خطا قتلِ خطا کا خون بہا اور عاقلہ
۶۷۔ احادیث سے یہ بات بتواترثابت ہے کہ قتل خطا کے لیے نبی ﷺ نے سو اونٹ خون بہا مقرر فرمادیاتھا جن کی قیمت اُس زمانے میں دس ہزار درہم کے برابر تھی (۱۰؍ہزار درہم=۲۲سیر ۱ ۲ ۱۲ چھٹانک چاندی)۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ،ح وَثَنَا ھَارُوْنُ بْنُ زَیْدِ بْنِ اَبِی الزَّرْقَائِ، ثَنَا اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَضٰی اَنَّ مَنْ قَتَلَ خَطَأً فَدِیَتُہٗ مِائۃٌ مِّنَ الْاِبِلِ:ثَلاَثُوْنَ بِنْتُ مَخَاضٍ، وَثَلاَثُوْنَ بِنْتُ لَبُوْنٍ، وَثَلاَثُوْنَ حِقَّۃٌ، وَعَشْرَۃٌ بَنِی لَبُوْنٍ ذَکَرٍ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اورانھوں نے اپنے دادا سے روایت کیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قتل خطا میں فیصلہ فرمایاکہ اس کی دیت میں سواونٹ دیے جائیں (ان کی تفصیل اس طرح ہوگی) تیس اونٹنیاں ایک برس کی عمر والی۔ تیس ہی دوبرس کی اور تیس تین سالہ اور دس نر اونٹ جو دوسال مکمل کرکے تیسرے میں داخل ہوئے ہوں۔
(۲) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، اَلْمَعْنٰی قَالاَ:ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ اَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:خَطَبَ یَوْمَ الْفَتْحِ بِمَکَّۃَ، فَکَبَّرَثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ: لآَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَعَبْدَہٗ، وَحَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ اِلٰی ھٰھُنَا حَفِظْتُہٗ عَنْ مُسَدَّدٍ ثُمَّ اتَّفَقَا۔۔۔اَلاَ اِنَّ دِیَۃَ الْخَطَائِ شِبْہُ الْعَمَدِ مَاکَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ۔ مِنْھَا اَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھَا اَوْلاَدُھَا وَحَدِیْثُ مُسَدَّدٍ اَتَمُّ۔(۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے روز خطاب (خطبہ) فرمایا: پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا پھر فرمایا کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی الٰہ نہیںاس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور لشکروں کو شکست سے دوچار کیا۔۔۔ فرمایا سن لو قتل خطا، شبہ العمد کے مشابہ ہے جو کوڑے یا لاٹھی سے قتل کیا گیاہو سواونٹ دیت ہے ان میں چالیس تو وہ ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں (حاملہ یا گابھن) اور مسدد سے مروی حدیث مکمل ہے۔
تشریح: یہ خون بہا کا معاملہ اس لیے بڑی اہمیت رکھتاہے کہ قرآن مجید میں اس کا حکم دیا گیاہے اور صاف ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے قتل خطا کی معافی حاصل کرنے کے لیے کفارے کے ساتھ اس کا ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اب اگر ہمارا ملکی قانون قتل خطا کی کوئی دوسری سزا دے، خواہ وہ قید ہو یا جرمانہ تو یقینا وہ اس کفارے اور تاوان کا بدل نہیں ہوسکتی جو آخرت میں ایک مسلمان کو خدا کے حضور بری الذمہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے ہم ذرا وضاحت کے ساتھ خون بہا کے قاعدے کو یہاں بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے ٹھیک ٹھیک واقفیت ہوجائے۔
۱۔ خون بہا ادا کرنے کی ذمہ داری شریعت نے صرف قاتل پر نہیں ڈالی ہے، بلکہ اس کے ’’عاقلہ‘‘ کو اس کے ساتھ برابر کا شریک کیاہے۔
۲۔ ’’عاقلہ‘‘ سے مراد فقہائے حنفیہ کی تحقیق کے مطابق ایک شخص کے اعوان وانصار ہیں۔ اگر وہ شخص کسی سرکاری محکمہ کا آدمی ہو تو اس محکمے کے تمام ملازم اس کے عاقلہ ہیں۔ ورنہ بدرجۂ آخر خزانۂ سرکار اس کی دیت ادا کرے گا۔
۳۔ عاقلہ پر قتل خطا کی دیت کا یہ بار اس لیے نہیں ڈالا گیاہے کہ ایک شخص کے گناہ کی سزا سب کو دی جائے، بلکہ اس لیے ڈالا گیاہے کہ ایک بھائی پر احیاناً جو بار گناہ آپڑا ہے، اس کی ذمہ داری ادا کرنے میں اس سے قریبی تعلق رکھنے والے سب لوگ اس کا ہاتھ بٹائیں، اور تنہا اس پر اتنا بوجھ نہ پڑجائے کہ اس کی کمر توڑدے۔ نیز جس خاندان کو اس کی غلطی کی وجہ سے جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کی تلافی بھی آسانی سے ہوجائے یہ ایک طرح کا صدقہ یا فی سبیل اللہ چندہ ہے جو ہر اس شخص کی مدد کے لیے اس کے وسیع حلقۂ اقارب سے حاصل کیاجاتاہے جس سے کوئی مہلک غلطی سرزد ہوجائے۔ ہم اس کو اخلاقی انشورنس سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
۴۔ عاقلہ سے پورا خون بہا بیک وقت وصول نہیں کیا جائے گا بل کہ تین سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے لیا جائے گا۔ اگر عاقلہ کی وسعت کو پیش نظر رکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتاہے کہ فی کس دوتین آنے ماہوار سے زیادہ چندے کا بار کسی شخص پر نہیں پڑسکتا۔
۵۔ یہ چندہ صرف مردوں سے لیا جائے گا۔ عاقلہ میں عورتیں شامل نہیں ہیں۔
۶۔ خون بہا لینے کے حق دار مقتول کے وارث ہوتے ہیں۔ جس قاعدے سے میراث تقسیم ہوتی ہے اسی قاعدے سے یہ رقم بھی وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔
۷۔ مقتول کے وارث ہی خون بہا معاف کرنے کے حق دار ہیں۔ اور یہ معافی قرآن کی زبان میں ان کی طرف سے قاتل پر صدقہ ہے۔
ان احکام پراگر کوئی شخص غور کرے تو وہ بلاتامل یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ یہ طریقہ اخلاقی وتمدنی حیثیت سے موجودہ ملکی قانون کی بہ نسبت زیادہ افضل ہے۔اس میں ایک طرف ۶۰؍ روزوں کا کفارہ اس شخص کے دل کو پاک کردیتاہے جس کی غفلت یا غلطی سے ایک جان ضائع ہوئی۔ دوسری طرف یہی کفارہ آس پاس کے سب لوگوں کو چوکنا کردیتاہے کہ وہ ایسی غلطیوں اور غفلتوں میں مبتلا ہونے سے بچیں۔ اس میں ایک طرف خون بہا ادا کرنے کا حکم دیا گیاہے تاکہ اس خاندان کے آنسو پونچھے جائیں جس کا ایک فرد قاتل کی غلطی کا شکار ہواہے۔ دوسری طرف اس خوں بہا کا بار عاقلہ پر ڈال کر اس کی ادائیگی کو آسان کردیاگیاہے۔ پھر یہ ادائے دیت کی مشترک ذمہ داری ایک طرف عاقلہ کو چوکنا کرتی ہے کہ وہ اپنے افراد کی نگرانی کریں، تو دوسری طرف یہ ہرہر فرد میں یہ احساس بھی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک ہمدرد اور شریک رنج وراحت برادری سے تعلق رکھتاہے، نہ کہ ایسی برادری سے جس میں’’ کسے راباکسے کارے نباشد۔‘‘ (رسائل ومسائل دوم،فقہی مسائل:قتل۔۔۔)
خون بہاکی مقدار
۶۸۔ نبی ﷺ نے خون بہا کی مقدار سو اونٹ، یادوسو گائیں، یا دوہزار بکریاں مقرر فرمائی ہے۔
تخریج:(۱)حَدَّثَنَا مُوْسٰی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ، اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَضٰی فِی الدِّیَۃِ عَلٰی اَھْلِ الْاِبِلِ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ وَعَلٰی اَھْلِ الْبَقَرِ مِائَتَیْ بَقَرَۃٍ، وَعَلٰی اَھْلِ الشَّاۃِ اَلْفَیْ شَاۃٍ، وَعَلٰی اَھْلِ الْحُلَلِ مِائَتَیْ حُلَّۃٍ وَعَلٰی اَھْلِ الْقَمْحِ شَیْئًا لَمْ یَحْفَظْہُ مُحَمَّدٌ۔(۳)
ترجمہ : حضرت عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیت کے سلسلہ میں اونٹ کے مالکوں پر سو اونٹ، گائے بیل کے مالکوں پر دوسوگائیں اور بکریوں کے مالکوں پر دوہزار بکریاں اور حلوں (جوڑوں) کے مالکوں پر دوسو جوڑے اور گندم کے مالکوں پر اتنی گندم جس کی صحیح مقدار محمد بن اسحاق کو یاد نہیں رہی۔
(۲) اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ:اَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِیَتُہٗ مِائَۃٌ مِّنَ الْاِبِلِ، ثَلاَثُوْنَ بِنْتُ مَخَاضٍ وَثَلاَثُوْنَ بِنْتُ لَبُوْنٍ وَثَلاَثُوْنَ حِقَّۃٌ وَعَشْرَۃٌ بَنِیْ لَبُوْنٍ ذُکُوْرٍ۔ قَالَ۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُقَوِّمُھَا عَلٰی اَھْلِ الْقُریٰ اَرْبَعَ مِائَۃَ دِیْنَارٍ اَوْعِدْلَھَا مِنَ الْوَرِقِ، وَیُقَوِّمُھَا عَلٰی اَھْلِ الْاِبِلِ اِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِیْ قِیْمَتِھَا، وَاِذَاھَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِیْمَتِھَا عَلٰی نَحْوِالزَّمَانِ مَاکَانَ فَبَلَغَ قِیْمَتُھَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ مَابَیْنَ الْاَرْبَعِ مِائَۃَ دِیْنَارٍ اِلٰی ثَمَانِ مِائَۃِ دِیْنَارٍ اَوْعِدْلَھَا مِنَ الْوَرِقِ۔قَالَ:وَقَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ مَنْ کَانَ عَقْلُہٗ فِی الْبَقَرِ عَلٰی اَھْلِ الْبَقَرِ مِائَتَیْ بَقَرَۃٍ، وَمَنْ کَانْ عَقْلُہٗ فِی الشَّاۃِ اَلْفَیْ شَاۃٍ الخ۔(۴)
ترجمہ : حضرت عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے دادا سے روایت کیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو غلطی سے قتل کیا گیا اس کی دیت سو اونٹ ہے (وہ اس طرح) کہ تیس یک سالہ اونٹ اور تیس ہی دوسالہ اور تیس سہ سالہ جو چوتھے سال میں قدم رکھ چکا ہو اور دس دوسالہ نر اونٹ، اور رسول اللہ ﷺ نے دیہاتیوں کے لیے چار سو دینار یا اس کے مساوی چاندی، اور اونٹ کے مالکوں کے لیے جیسے وقت کے اعتبار سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا اسی طرح مقرر فرمادیتے۔ آپ اپنے عہد میں چار سو دینار سے آٹھ سودینار تک قیمت مقرر فرماتے یا اس کے مساوی چاندی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے جس کے ذمہ دیت گائے کی صورت میں دینی ہوتی تھی ان کے لیے دوسوگائیں اور جس کے ذمہ دیت بکریوں کی صورت میں دینی ہوتی تھی اس کے لیے دوہزار بکریاں مقرر فرمائیں۔
(۳)حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ حَکِیْمٍ، نَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عُثْمَانَ، نَاحُسَیْنُ نِ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ،عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ:کَانَتْ قِیْمَۃُ الدِّیَۃِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثَمَانَ مِائَۃِ دِیْنَارٍ اَوْثَمَانِیَۃَ اٰلاَفِ دِرْھَمٍ۔ وَدِیَۃُ اَھْلِ الْکِتَابِ یَوْمَئِذ نِالنِّصْفُ مِنْ دِیَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ:فَکَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ حَتّٰی اسْتُخْلِفَ عُمَرُ، فَقَامَ خَطِیْبًا فَقَالَ:اَلاَ اِنَّ الْاِبِلَ قَدْغَلَتْ، قَالَ:فَفَرَضَھَا عُمَرُ عَلٰی اَھْلِ الذَّھَبِ اَلْفَ دِیْنَارٍ، وَعَلٰی اَھْلِ الْوَرَقِ اثْنَی عَشَرَ اَلْفَ دِرْھَمٍ وَعَلٰی اَھْلِ الْبَقَرِ مِائَتَیْ بَقَرَۃٍ وَعَلٰی اَھْلِ الشَّاۃِ اَلْفَیْ شَاۃٍ وَعَلٰی اَھْلِ الْحُلَلِ مائـتَیْ حُلَّۃٍ الحدیث۔(۵)
ترجمہ : حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیت کی مقدار (سکوں میں) آٹھ سو دینار یا آٹھ ہزار درہم تھی۔ اور اہل کتاب کی اس وقت مسلمانوں سے آدھی تھی۔ یہ حکم اسی طرح جاری رہاکہ حضرت عمرؓ خلیفہ مقرر ہوئے اور آپ خطاب کرنے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اب اونٹ کی قیمت گراں ہوچکی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے سونے کے مالکوں پر ہزار دینار اور چاندی والوں کے لیے بارہ ہزار درہم دیت قرار دے دی، نیز گائے بیل والوں کے لیے دوسوگائیں اور بکریوں کے مالک پر دوہزار بکریاں اور حلہ والوں پر دوسوحلہ دیت مقرر کی الخ۔
تشریح : اگر دوسری کسی شکل میں کوئی شخص خون بہا دینا چاہے تو اس کی مقدار انہی چیزوں کی بازاری قیمت کے لحاظ سے معین کی جائے گی۔ مثلاً نبی ﷺ کے زمانے میں نقد خون بہادینے والوں کے لیے ۸؍سودینار یا ۸؍ہزار درہم مقرر تھے۔ جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے فرمایا کہ اونٹوں کی قیمت اب چڑھ گئی ہے۔ لہٰذا اب سونے کے سکے میں ایک ہزار دینار یا چاندی کے سکے میں۱۲؍ہزار درہم خون بہادلایا جائے گا۔ مگر واضح رہے کہ خون بہا کی یہ مقدار جو مقرر کی گئی ہے قتل عمد کی صورت کے لیے نہیں ہے بل کہ قتلِ خطا کی صورت کے لیے ہے۔ (تفہیم القرآن ج۱،النساء، حاشیہ:۱۲۲)
لاوارث قاتل کی دیت کون ادا کرے گا؟
۶۹۔ مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہٖ وَاَنَا وَارِثُ مَنْ لَّاوَارِثَ لَہٗ، اَعْقِلُ لَہٗ وَاَرِثُہٗ۔(ابوداوٗد)
’’اگر کوئی شخص بے سہارا اہل وعیال چھوڑے تو ان کی کفالت میرے ذمے ہے، اور اگر کوئی مال ودولت چھوڑے تو وہ اس کے ورثہ کے لیے ہے۔ اور میں لاوارث کا وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کا ورثہ بھی لوں گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ:ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ بُدَیْلٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْ عَامِرٍ (اَلْھُوذَنِیِّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ لُحَییِّ) عَنِ الْمِقْدَامِ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیَّ، وَرُبَّمَا قَالَ:اِلَی اللّٰہِ وَاِلٰی رَسُوْلِہٖ‘‘ وَمَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ، وَاَنَا وَارِثُ مَنْ لاَّوَارِثَ لَہٗ، اَعْقِلُ لَہٗ، وَاَرِثُہٗ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَّوَارِثَ لَہٗ یَعْقِلُ عَنْہُ وَیَرِثُہٗ۔(۶)
ترجمہ : حضرت مقدام سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی نے بے سہارا اہل وعیال چھوڑا تو ان کی کفالت میرے ذمہ ہے اور بسا اوقات یہ بھی فرمایا کہ ان کی کفالت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال ودولت چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور میں لاوارث کا وارث ہوں۔ میں اس کی جانب سے دیت بھی دوں گا اور اس کا ورثہ بھی لوں گا۔ اور ماموں بھی لاوارث کا وارث ہے، اس کی طرف سے دیت بھی دے گا اور اس کا ورثہ بھی لے گا۔
تشریح : اگر قاتل ایک لاوارث آدمی ہویا اس کا قریب تر حلقہ اولیاء دیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں صحیح یہ ہے کہ اس کی دیت کا بوجھ وسیع ترحلقہ اولیاء پر ڈالا جائے، حتیٰ کہ بالآخر اس کا بوجھ ریاست کے خزانے پر پڑنا چاہیے۔ اس قول کا ماخذ یہی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے رئیس مملکت ہونے کی حیثیت سے فرمایا ہے: مَنْ تَرَکَ کَلًّا فَاِلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَ رَثَتِہٖ وَاَنَا وَارِثُ مَنْ لَّاوَارِثَ لَہٗ، اَعْقِلُ لَہٗ وَاَرِثُہٗ۔
اس حدیث کی رو سے ریاست ہر اس شہری کی وارث ہے جو لاوارث مرگیا ہو اور ہر اس شہری کی عاقلہ ہے جس کی دیت ادا کرنے والا کوئی نہ ہو۔ خود عقل کی رو سے ایسا ہی ہونا چاہیے، کیوں کہ ریاست ملک میں امن کی ذمہ دارہے، اگر وہ قتل کو روکنے میں ناکام رہی ہے تو مقتول کے وارثوں کے نقصان کی تلافی یا تو اسے قاتل کے وارثوں اور حامیوں سے کرانی چاہیے یا پھر خود کرنی چاہیے۔ (رسائل ومسائل دوم، فقہی مسائل: قصاص۔۔۔)
قاتل کے ساتھ اس کے اولیاء بھی دیت ادا کریں
۷۰۔ قُوْمُوْا فَدُوْا۔
’’اٹھو اور دیت ادا کرو۔ ‘‘
شرح ہدایہ فتح القدیرمیں منقول ہے:
تخریج : وَالْاَصْلُ فِیْ وُجُوْبِھَا عَلَی الْعَاقِلَۃِ قَوْلُہٗ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ فِیْ حَدِیْثِ حَمْلِ بْنِ مَالِکٍؓ لِلْاَوْلِیَائِ قُوْمُوْا فَدُوْہُ۔
علامہ ابن الہمام کی شرح ہدایہ فتح القدیر، تکملہ ج ۱۰، کتاب المعاقل ۔
پس منظر: حمل بن مالک والی روایت میں صاف مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے اولیاء قاتل کو خطاب کرکے فرمایا ،اٹھو اور دیت ادا کرو۔
تشریح : قاضی یقینا یہ حق رکھتاہے کہ قاتل کے اولیاء کو دیت ادا کرنے پر مجبور کرے۔ اس حدیث سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ دیت ادا کرنے کی ذمہ داری میں قاتل کے ساتھ اس کے اولیاء بھی شریک ہیں۔ البتہ اس امر میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ دیت ادا کرنے کے معاملے میں قاتل کے اولیاء (یاعاقلہ) کن لوگوں کو قرار دیاجائے گا؟ شافعیہ کے نزدیک ’’ عاقلہ سے مراد‘‘ ورثہ یا عصبہ ہیں، اور حنفیوں کے نزدیک وہ تمام لوگ عاقلہ ہیں جو زندگی کے معاملات میں ایک شخص کے پشت پناہ اور سہارا بنتے ہوں، خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا ہم پیشہ برادری والے یا وہ لوگ جو عہد وپیمان کی بنا پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہوں۔ شافعیہ نے جو رائے دی ہے وہ صرف اس معاشرے کے لیے موزوں ہے جس میں قبائلی سسٹم رائج ہو۔ لیکن حنفیہ کی رائے ان معاشروں میں بھی چل سکتی ہے جن میں قبیلے کے بجائے دوسرے نسبی یا معاشی یا تمدنی روابط کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے پشت پناہ بنتے ہوں۔ حنفیہ کی رائے کے مطابق ایک سیاسی پارٹی بھی اپنے ایک فرد کی عاقلہ بن سکتی ہے، کیوں کہ اس کے ارکان زندگی کے اہم معاملات میں ایک دوسرے کے حامی ومدد گار ہوتے ہیں، اور بڑی حد تک ایک دوسرے کی ذمہ داریوں میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب معاشرے کی بنیادیں قبائلی نظام کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہوگئیں تو حضرت عمرؓ نے ایک فوجی کی دیت کا ذمہ دار اس کے پورے لشکر کو ٹھہرایا۔ چناں چہ فتح القدیر میں ہے: فَاِنَّہٗ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِیْنَ جَعَلَ الْعَقْلَ عَلیٰ اَھْلِ الدِّیْوَانِ وَکَانَ ذٰلِکَ بِمَحْضَرِ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ مِنْ غَیْرِ نَکِیْرٍ مِّنْھُمْ۔ (ج۸ص:۴۲) ’’حضرت عمرؓ نے جب عسکری نظام قائم کیا تو دیت کو پورے اہل لشکر پر عائد کیا۔ آپ کا یہ فعل صحابہ کی ایک مجلس میں انجام دیا گیا اور انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔‘‘
رہا یہ سوال ،کہ اولیاء یاعاقلہ پر دیت عائد کرنا، گناہ گار کی سزا بے گناہوں کو دینے کا ہم معنی تو نہیں ہے؟ تو اس کا جواب آپ خود پالیتے اگر اس امر پر غور فرماتے کہ ایک شخص اجتماعی زندگی کے اندر رہتے ہوئے قتل جیسے اجتماع کش فعل کا ارتکاب بالعموم اپنے حمایتیوں کے بل بوتے پر ہی کیا کرتاہے۔ اگر وہ لوگ جن کی حمایت اور پشتیبانی پر وہ بھروسہ رکھتاہے، یہ جان لیں کہ اس کی ایسی حرکات کی ذمہ داری میں وہ بھی شریک ہوں گے تو اسے قابو میں رکھنے کی خود کوشش کریں گے اور اسے ایسی چھوٹ نہ دیں گے کہ وہ دوسروں کی جانیں لیتا پھرے۔ کیا عجب کہ دیت کے ذمہ دار اولیاء کے لیے ’’عاقلہ‘‘ کا لفظ اسی رعایت سے اختیار کیا گیا ہو۔ عقل کے معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں شاید ابتداء ً اس لفظ کو اختیار کرنے میں یہی مناسبت پیش نظر ہو کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کام یہ ہے کہ آدمی کو قابو میں رکھیں اور ایسا بے قابو نہ ہونے دیں کہ وہ قتل وغارت کا ارتکاب کرنے لگے۔ (رسائل ومسائل دوم،فقہی مسائل: قصاص۔۔۔)
صدقہ کی نیت سے قصاص کی معافی کا ثواب
۷۱۔ مَنْ جُرِحَ فِیْ جَسَدِہٖ جَرَاحَۃً فَتَصَدَّقَ بِھَا کُفِّرَ عَنْہُ ذُنُوْبُہٗ بِمِثْلِ مَاتَصَدَّقَ بِہٖ۔
’’یعنی جس کے جسم میں کوئی زخم لگایا گیا اور اس نے معاف کردیا تو جس درجے کی یہ معافی ہوگی اس کے بقدر اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ ‘‘
تخریج : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، ثَنَا شُجَاعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا ھُشَیْمٌ عَنْ مُغِیْرَۃَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ:قَالَ عُبَادَۃُ ابْنُ الصَّامِتِ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:مَنْ جُرِحَ فِیْ جَسَدِہٖ جَرَاحَۃً، فَتَصَدَّقَ بِھَا کَفَّرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنْہٗ بِمِثْلِ مَاتَصَدَّقَ بِہٖ۔(۷)
تشریح : یعنی جو شخص صدقہ کی نیت سے قصاص معاف کردے اس کے حق میں یہ نیکی اس کے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی۔ (تفہیم القرآن ج۱، المائدہ، حاشیہ:۷۵)
ماخذ
(۱) ابوداوٗد ج۴ کتاب الدیات، باب الدیۃ کم ھی؟ ٭نسائی ج۸کتاب القسامۃ والدیات، باب کم دیۃ شبہ العمد الخ۔٭ابن ماجہ کتاب الدیات باب دیۃ الخطأ۔٭ السنن الکبری ج۸کتاب الدیات باب من قال ھی ارباع علی اختلاف بینھم فی الاوصاف۔ قال علی : محمد بن راشد ضعیف عند اھل الحدیث۔
(۲) ابوداوٗد ج۴، کتاب الدیات، باب فی دیۃ الخطاء شبہ العمد۔٭نسائی ج۸کتاب القسامۃ باب کم دیۃ شبہ العمد۔٭ ابن ماجہ کتاب الدیات، باب دیۃ شبہ العمد۔٭ دارقطنی ج۳۔کتاب الحدود عن ابن عمر۔٭نسائی اور دارقطنی دونوں نے مائۃ من الابل کے بعد مغلظۃ بھی بیان کیاہے۔٭مسند احمدج۲ص۱۰۳ ابن عمر۔٭سنن دارمی ج۲کتاب الدیات، باب الدیۃ فی شبہ العمد دارمی میں روایت کا آخری حصہ ہے۔٭السنن الکبری ج۸ کتاب الدیات باب دیۃ النفس اورباب اسنان الابل المغلظۃ فی شبہ العمد۔
(۳) ابوداوٗد ج۴۔کتاب الدیات، باب الدیۃ کم ھی؟
(۴) نسائی ج۸کتاب القسامۃ، باب کم دیۃ شبہ العمد۔٭ ابوداوٗد ج۴کتاب الدیات، باب فی الخطأ شبہ العمد۔ ٭ابن ماجہ کتاب الدیات باب دیۃ الخطأ۔
(۵) ابوداوٗد ج۴۔کتاب الدیات، باب الدیۃ کم ھی؟
(۶) ابوداوٗد ج۳کتاب الفرائض، باب فی میراث ذوی الارحام۔٭ ابن ماجہ کتاب الفرائض باب۹ ذوی الارحام۔
(۷) مسند احمد ج۵ص۳۲۹۔ انہی عبادہ بن صامت سے ص۳۱۶ پر مامن رجل یجرح فی جسدہ جراحۃ بھی مروی ہے اور مجمع الزوائد ج۵ص۳۰۲ پر بھی کتاب الحدود باب ماجاء فی العفو عن الجانی والقاتل کے تحت منقول ہے۔ عن عبادۃ بن الصامت۔٭ترمذی ج۱ابواب الدیات، باب ماجاء فی العفو، اور ابن ماجہ نے کتاب الدیات میں باب العفو فی القصاص کے تحت ابوالدرداء سے مامن رجل یصاب بشیء من جسدہ فیتصدق بہ الارفعہ اللّٰہ بہ درجۃ الخ بھی مذکورہے۔
فصل :۱۱ مرتد کی سزا حکم قتل مرتد کا ثبوت حدیث سے
۷۲۔ مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ۔
’’جو شخص (مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوالنُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ:اُتِیَ عَلِیٌّ بِزَنَادِقَۃٍ فَاَحْرَقَھُمْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْکُنْتُ اَنَا لَمْ اُحْرِقْھُمْ لِنَھْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لاَتُعَذِّبُوْا بِعَذَابِ اللّٰہِ، وَلَقَتَلْتُھُمْ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ۔(۱)
ترجمہ : حضرت عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علیؓ کے پاس کچھ زندیق لوگ لائے گئے۔ حضرت علیؓ نے ان کو جلوادیا۔ حضرت ابن عباس کو جب یہ اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو ان کو نہ جلواتا اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہ دو فرماکر اس سے منع فرمایاہے بل کہ میں تو ان کو قتل کرتا اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے کہ جس نے اپنا دین بدل ڈالا ہو اسے قتل کردو۔
تشریح : یہ حدیث حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاذبن جبلؓ، حضرت ابوموسی اشعریؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور متعدد دوسرے صحابہؓ سے مروی ہے۔ اور تمام معتبر کتب حدیث میں موجود ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں:
۷۳۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ اَنْ لّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَّابِاِحْدیٰ ثَلٰثٍ:النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثِّیِّبُ الزَّانِیْ،وَالْمُفَارِقُ لِدِیْنِہٖ التَّارِکُ لِلْجَمَاعَۃِ۔ (بخاری، مسلم، ابوداوٗد)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسلمان ہو اور شہادت دیتا ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اور اس بات کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون تین جرائم کے سوا کسی صورت میں حلال نہیں: ایک یہ کہ اس نے کسی کی جان لی ہو اور قصاص کا مستحق ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کرے، تیسرے یہ کہ اپنے دین کو چھوڑدے اور جماعت سے الگ ہوجائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ،قَالَ:حَدَّثَنَا اَبِیْ،قَالَ:حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ،عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَیَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلاَّ بِاِحْدٰی ثَلاَثٍ، اَلنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّیِّبُ الزَّانِیُّ، وَالْمُفَارِقُ لِدِیْنِہٖ التَّارِکُ الْجَمَاعَۃَ (لِلْجَمَاعَۃِ)۔(۲)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:
۷۴۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺقَالَ: لَایَحِلُّ دَمَ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ اِلَّا رَجُلٌ زَنیٰ بَعْدَ اِحْصَانِہٖ، اَوْ کَفَرَ بَعْدَ اِسْلاَمِہٖ اَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ۔ (نسائی)
’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کسی مسلمان کا خون حلال نہیں الا یہ کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کی ہو، یا مسلمان ہونے کے بعد کفر اختیار کیا ہو، یا کسی کی جان لی ہو۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ:ثَنَا یَحْیٰ، قَالَ:ثَنَا سُفْیَانُ،قَالَ : ثَنَا اَبُواِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:لاَیَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ اِلاَّرَجُلٌ زَنٰی بَعْدَ اِحْصَانِہِ، اَوْکَفَرَ بَعْدَ اِسْلاَمِہٖ، اَوِالنَّفْسِ بِالنَّفْسِ، وَقَّفَہٗ زُھَیْرٌ۔(۳)
حضرت عثمانؓ کی روایت ہے:
۷۵۔ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ لَایَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ اِلَّا بِاِحْدیٰ ثَلٰثٍ، رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ اِسْلَامِہٖ اَوْ زَنیٰ بَعْدَ اِحْصَانِہٖ اَوْقَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ۔ (نسائی)
’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سناہے، کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے بجز تین صورتوں کے۔ ایک یہ کہ کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہوگیا ہو، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہونے کے بعد اس نے زنا کی ہو، تیسرے یہ کہ وہ قتل کا مرتکب ہو بغیر اس کے کہ اسے جان کے بدلے جان لینے کا حق حاصل ہوا ہو۔ ‘‘
نسائی نے عثمان کے حوالہ سے نقل کیاہے:
تخریج: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لاَیَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ اِلاَّبِاحْدیٰ ثَلاَثٍ،کَفَرَ بَعْدَ اِیْمَانٍ، اَوْزَنٰی بَعْدَ اِحْصَانٍ، اَوْیَقْتُلُ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ فَیُقْتَلُ۔(۴)
حضرت عثمانؓ ہی سے دوسری روایت ہے:
۷۶۔ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ لَایَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ اِلَّا بِاِحْدیٰ ثَلاَثٍ رَجَلٌ زَنیٰ بَعْدَ اِحْصَانِہٖ فَعَلَیْہِ الرَّجْمُ اَوْقَتَلَ عَمَدًا فَعَلَیْہِ الْقَوَدُ اَوِارْتَدَّ بَعْدَ اِسْلَامِہٖ فَعَلَیْہِ الْقَتْلُ۔ (نسائی)
’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین جرائم کی پاداش میں۔ ایک یہ کہ کسی نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کی ہو، اس کی سزا سنگساری ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی نے عمداً قتل کا ارتکاب کیا ہو، اس پر قصاص ہے۔ تیسرے یہ کہ کوئی اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا ہو، اس کی سزا قتل ہے۔‘‘
تخریج:(۱)اَخْبَرَنَا اَبُوالْاَزْھَرِ اَحْمَدُ بْنُ الْاَزْھَرِ النَّیْسَابُورِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّازِیُّ، قَالَ:اَنْبَأنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرِ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:لاَیَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ اِلاَّبِاِحْدٰی ثَلاَثٍ، رَجُلٌ زَنٰی بَعْدَ اِحْصَانِہِ فَعَلَیْہِ الرَّجْمُ اَوْقَتَلَ عَمَدًا، فَعَلَیْہِ الْقَوَدُ اَوِارْتَدَّ بَعْدَ اِسْلاَمِہٖ، فَعَلَیْہِ الْقَتْلُ۔(۵)
(۲) اَخْبَرَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ یَعْقُوْبَ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ سَعِیْدٍ،قَالَ:حَدَّثَنِیْ اَبُواُمَامَۃَ بْنُ سَھْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَامِرِ ابْنِ رَبِیْعَۃَ، قَالاَ :کُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَھُوَ مَحْصُوْرٌ، وَکُنَّا اِذَا دَخَلْنَا مَدْخَلاً نَسْمَعُ کَلاَمَ مَنْ بِالْبَلاَطِ۔فَدَخَلَ عُثْمَانُ یَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:اِنَّھُمْ لَیَتَوَاعَدُوْنِیْ بِالْقَتْلِ، قُلْنَا:یَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ، قَالَ:فَلِمَ یَقْتُلُوْنَنِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:لاَیَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ اِلاَّبِاِحْدٰی ثَلاَثٍ،رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ اِسْلاَمِہٖ، اَوْزَنٰی بَعْدَ اِحْصَانِہٖ، اَوْقَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ، فَوَاللّٰہِ! مَازَنَیْتُ فِیْ جَاھِلِیَّۃٍ وَلاَاِسْلاَمٍ، وَلاَ تَمَنَّیْتُ اَنَّ لِیْ بِدِیْنِیْ بَدَلاًمُنْذُ ھَدَانِیَ اللّٰہُ، وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا، فَلِمَ یَقْتُلُوْنَنِیْ۔(۶)
ترجمہ : ابوامامہؓ اور عبداللہ بن عامر کا بیان ہے کہ حضرت عثمانؓ بلوائیوں کی وجہ سے جب محصور تھے ہم اس وقت ان کے ساتھ تھے۔ ہم جب گھر میں داخل ہوتے تو باہر میدان میں موجود لوگوں کی باتیں سن رہے ہوتے۔ پس ایک روز حضرت عثمانؓ داخل ہوئے اور باہر نکل گئے اور فرمایا یہ بلوائی لوگ مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں ہم نے کہا آپ کو ان کے مقابلہ میں اللہ کافی ہے، حضرت عثمانؓ نے کہا پس مجھے یہ لوگ کیوں قتل کرتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین جرائم کی پاداش میں ایک یہ کہ کوئی آدمی اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا ہو یا شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کی ہو یا بغیر کسی قصاص میں قتل کرنے کے اس نے قتل کیا ہو۔ واللہ! میں نے تو نہ دور جاہلیت میں زنا کی ہے اور نہ اسلام قبول کرنے کے بعد، نہ میںنے دین کو جس کی ہدایت مجھے اللہ نے فرمائی ہے تبدیل کرنے کی خواہش کی ہے اور نہ میں نے کسی کو قتل کیاہے پھر وہ مجھے قتل کیوں کرتے ہیں؟
تشریح:تاریخ کی تمام معتبر کتابوں سے ثابت ہے کہ یہ حدیث حضرت عثمانؓ نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہوکر ہزاروں آدمیوں کے سامنے اس وقت بیان کی تھی، جب کہ باغی آپ کے مکان کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور آپ کے قتل کے درپے تھے۔ باغیوں کے مقابلے میں آپ کے استدلال کی بنا یہ تھی کہ اس حدیث کی رو سے تین جرائم کے سوا کسی چوتھے جرم میں ایک مسلمان کوقتل کرنا جائز نہیں ہے اور میں نے ان میں سے کوئی جرم نہیں کیاہے، لہٰذا مجھے قتل کرکے تم لوگ خود مجرم قرار پاؤگے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح یہ حدیث حضرت عثمان کے حق میں باغیوں پر صریح حجت بن رہی تھی۔ اگر یہ امر ذرہ برابر بھی مشتبہ ہوتا کہ آیا یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں، تو سینکڑوں آوازیں بلند ہوجاتیں کہ آپ کا بیان غلط ہے یا مشکوک ہے، لیکن باغیوں کے پورے مجمع میں سے کوئی ایک شخص بھی اس حدیث کی صحت پر اعتراض نہ کرسکا۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے:
۷۷۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَہٗ اَلَی الْیَمَنِ ثُمَّ اَرْسَلَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ اَیُّھَا النَّاسُ اَنِّیْ رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ فَاَلْقٰی لَہٗ اَبُوْمُوْسٰی وِسَادَۃً لِیَجْلِسَ اِلَیْھَا فَاُتِیَ رَجُلٌ کَانَ یَھُوْدِیًّا فَاَسْلَمَ ثُمَّ کَفَرَ فَقَالَ مُعَاذٌ لَااَجْلِسُ حَتّٰی یُقْتَلَ قَضَائَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا قُتِلَ قَعَدَ۔ (نسائی، بخاری،ابوداوٗد)
’’نبی ﷺ نے ان (حضرت ابوموسیٰ ؓ)کو یمن کا حاکم مقرر کرکے بھیجا۔ پھر اس کے بعد معاذ بن جبل کو ان کے معاون کی حیثیت سے روانہ کیا جب معاذ وہاں پہنچے تو انہوں نے اعلان کیا کہ لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا فرستادہ ہوں۔ ابوموسیٰ نے ان کے لیے تکیہ رکھا تاکہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھیں۔ اتنے میں ایک شخص پیش ہوا جو پہلے یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا، پھر یہودی ہوگیا۔ معاذؓ نے کہا میں ہرگز نہ بیٹھوں گا جب تک یہ شخص قتل نہ کردیاجائے، اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے، معاذؓ نے یہ بات تین دفعہ کہی۔ آخر کار جب وہ قتل کردیا گیا تو معاذ بیٹھ گئے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَدَّثَنِیْ حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ، قَالاَ:حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ حُمَیْدِ ابْنِ ھِلاَلٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَہٗ اِلَی الْیَمَنِ، ثُمَّ اَرْسَلَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ بَعْدَ ذَالِکَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ:اَیُّھَا النَّاسُ! اِنِّیْ رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ، فَاَلْقٰی لَہٗ اَبُوْمُوْسٰی وِسَادَۃً لِیَجْلِسَ عَلَیْھَا، فَاُتِیَ بِرَجُلٍ کَانَ یَھُوْدِیًّا، فَاَسْلَمَ ثُمَّ کَفَرَ، فَقَالَ مُعَاذٌ:لاَاَجْلِسُ حَتّٰی یُقْتَلَ۔ قَضَائُ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ فَلَمَّا قُتِلَ قَعَدَ۔(۷)
تشریح: خیال رہے کہ یہ واقعہ نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں پیش آیا۔ اس وقت حضرت ابوموسیٰ آنحضرت ﷺ کے گورنر کی حیثیت میں اور حضرت معاذ وائس گورنر کی حیثیت میں تھے۔ اگر ان کا یہ فعل واقعی اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر مبنی نہ ہوتا تو یقینا نبی ﷺ اس پر باز پرس فرماتے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے:
۷۸۔کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَزَلَّہٗ الشَّیْطَانُ فَلَحِقَ بِالْکُفَّارِ فَاَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُّقْتَلَ یَوْمَ الْفَتْحِ۔ فَاسْتَجَارَ لَہٗ عُثْمَانُ ابْنُ عَفَّانَ فَاَجَارَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ (ابوداؤد)
’’عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کسی زمانے میں رسول اللہ ﷺ کا کاتب (سکریٹری) تھا۔ پھر شیطان نے اس کو پھسلادیا اور کفار سے جاملا۔ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے قتل کردیاجائے۔ مگر بعد میں حضرت عثمان نے اس کے لیے پناہ مانگی، رسول اللہؐ نے اس کو پناہ دے دی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّد نِالْمَرْوَزِیُّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ ابْنِ وَاقِدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ یَزِیْدَ النَّحْوِیِّ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعْدِ ابْنِ اَبِیْ سَرْحٍ، یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَزَلَّہُ الشَّیْطَانُ، فَلَحِقَ بِالْکُفَّارِ، فَاَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ اَنْ یُّقْتَلَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَاسْتَجَارَ لَہٗ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ۔ فَاَجَارَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۸)
اس آخری واقعہ کی تشریح حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت میں ہم کو یہ ملتی ہے:
۷۹۔ لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ اِخْتَبَأَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَائَ بِہٖ حَتّٰی اَوْقَفَہٗ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ بَایَعَ عَبْدُ اللّٰہِ فَرَفَعَ رَأَسَہَ فَنَظَرَ اِلَیْہِ ثَلٰثاً کُلُّ ذٰلِکَ یَاْبٰی فَبَایَعَہٗ بَعْدَ ثَلٰثٍ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلیٰ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ اَمَا کَانَ فِیْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ یَقُوْمُ اِلیٰ ھٰذَا حِیْنَ رَآنِیْ کَفَفْتُ یَدِیَ عَنْ بَیْعَتِہٖ فَیَقْتُلَہٗ فَقَالُوْا مَانَدْرِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَافِیْ نَفْسِکَ اِلَّا اَوْ مَأْتَ اِلَیْنَا بِعَیْنِکَ؟ فَقَالَ اَنَّہٗ لَایَنْبَغِیْ لِنَبِیٍّ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ خَائِنَۃُ الْاَعْیُنِ۔
’’جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے عثمان بن عفان کے دامن میں پناہ لی، عثمانؓ اس کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عبد اللہ کی بیعت قبول فرمالیجیے۔ حضورؐ نے سراٹھایا اور اس کی طرف دیکھا اور چپ رہے۔ تین دفعہ یہی ہوا اور آپ اس کی طرف بس دیکھ دیکھ کر رہ جاتے تھے۔ آخر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس کو بیعت میں لے لیا۔ پھر آپ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تمہارے اندر کوئی ایسا بھلا آدمی موجود نہ تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں نے بیعت سے ہاتھ روک رکھا ہے تو آگے بڑھتا اور اس شخص کو قتل کردیتا؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں، آپ نے آنکھ سے اشارہ کیوں نہ فرمادیا؟ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ ایک نبی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ آنکھوں کی چوری کرے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا اَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ:زَعَمَ السُّدِّیُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ، اِخْتَبَأَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَجَائَ بِہٖ حَتّٰی اَوْقَفَہٗ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَایِعْ عَبْدَ اللّٰہِ، فَرَفَعَ رَاْسَہٗ، فَنَظَرَ اِلَیْہِ، ثَلاَثاً، کُلَّ ذٰلِکَ یَاْبٰی، فَبَایَعَہٗ بَعْدَ ثَلاَثٍ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ فَقَالَ:اَمَاکَانَ فِیْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ یَقُوْمُ اِلٰی ھٰذَا حَیْثُ رَاٰنِیْ کَفَفْتُ یَدِیْ عَنْ بَیْعَتِہٖ فَیَقْتُلَہُ؟ فَقَالُوْا:مَانَدْرِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَافِیْ نَفْسِکَ، اَلاَّ اَوْمَأتَ اِلَیْنَا بِعَیْنِکَ؟ قَالَ:اِنَّہٗ لاَیَنْبَغِیْ لِنَبِیٍّ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ خَائِنَۃُ الْاَعْیُنِ۔(۹)
حضرت عائشہؓ سے روایت :
۸۰۔ اِنَّ امْرَأَۃً اِرْتَدَّتْ یَوْمَ اَحَدٍ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ اَنْ تُسْتَابَ فَاِنْ تَابَتْ وَاِلاَّ قُتِلَتْ۔ (بیھقی)
’’جنگ احد کے موقع پر (جب کہ مسلمانوں کو شکست ہوئی) ایک عورت مرتد ہوگئی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایاکہ اس سے توبہ کرائی جائے، اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کردی جائے۔‘‘
تخریج: نَامُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ حَاتِمِ الطَّوِیْلُ،نَامُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنُ یُوْنُسَ السِّرَاجُ، نَامُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَیَّاشٍ، نَا اَبِیْ، نَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْاَنْصَارِیُّ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: ارْتَدَّتْ امْرَأَۃٌ یَوْمَ اُحُدٍ، فَاَمَرَالنَّبِیُّ ﷺ اَنْ تُسْتَتَابَ، فَاِنْ تَابَتْ، وَاِلاَّقُتِلَتْ۔(۱۰)
حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے:
۸۱۔ اِنَّ امْرَأَۃً اُمَّ رَوْمَانَ اِرْتَدَّتْ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِاَنْ یُّعْرَضَ عَلَیْھَا الْاِسْلَامُ فَاِنْ تَابَ وَاِلَّاقُتِلَتْ۔
(دارقطنی، بیھقی)
’’ایک عورت ام رومان (یاام مروان) نامی مرتد ہوگئی تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے سامنے پھر اسلام پیش کیا جائے، پھر وہ توبہ کرلے تو بہتر ورنہ قتل کردی جائے۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرٍاَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیْہُ، اَنْبَأَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ، الْحَافِظُ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ بَطْحَا، ثَنَا نَجِیْحُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الزُّھْرِیُّ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ بَکَّارٍ اَلسَّعْدِیُّ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ،اَنَّ امْرَأَۃً یُقَالُ لَھَا اُمُّ مَرْوَانَ، ارْتَدَّتْ عَنِ الْاِسْلاَمِ، فَاَمَرَالنَّبِیُّ ﷺ اَنْ یُعْرَضَ عَلَیْھَا الْاِسْلاَمُ، فَاِنْ رَّجَعَتْ، وَاِلاَّقُتِلَتْ۔(۱۱)
ـــــــبیہقی کی دوسری روایت اس سلسلے میں یہ ہے کہ فَاَبَتْ اَنْ تُسْلِمَ فَقُتِلَتْ ، ’’اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا، اس بنا پر قتل کردی گئی۔‘‘
خلافت راشدہ کے نظائر
اس کے بعددورخلافت راشدہ کے نظائر ملاحظہ ہوں:
(۱) حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں ایک عورت جس کا نام ام قرفہ تھا، اسلام لانے کے بعدکافر ہوگئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا، مگر اس نے توبہ نہ کی۔ حضرت ابوبکر ؓنے اسے قتل کرادیا۔ (دارقطنی، بیہقی)
(۲) عمروبن عاص حاکم مصر نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ ایک شخص اسلام لایا تھا، پھر کافر ہوگیا، پھر اسلام لایا پھر کافر ہوگیا۔ یہ فعل وہ کئی مرتبہ کرچکاہے۔ اب اس کا اسلام قبول کیا جائے یانہیں؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیاکہ جب تک اللہ اس سے اسلام قبول کرتاہے تم بھی کیے جاؤ۔ اس کے سامنے اسلام پیش کرو، مان لے توچھوڑدو ورنہ گردن ماردو۔
(کنزالعمال)
(۳) سعد بن ابی وقاص اور ابوموسیٰ اشعری نے تستر کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ قاصد نے حضرت عمرؓ کے سامنے حالات کی رپورٹ پیش کی۔ آخرمیں حضرت عمرؓ نے پوچھا کوئی اور غیرمعمولی بات؟ اس نے عرض کیا ہاں اے امیر المومنین! ہم نے ایک عرب کو پکڑا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہوگیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا ہم نے اسے قتل کردیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا، ’’تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اسے ایک کمرے میں بند کرکے دروازہ کا تیغہ لگادیتے پھر تین دن تک روزانہ ایک روٹی اس کے پاس پھینکتے رہتے، شاید کہ وہ اس دوران میں توبہ کرلیتا۔ خدایا یہ کام میرے حکم سے نہیں ہوا، نہ میرے سامنے ہوا، نہ میں اسے سن کر راضی ہوا۔‘‘ لیکن حضرت عمرؓ نے اس پر حضرت سعدؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ سے کوئی باز پرس نہیں کی اور نہ کوئی سزا تجویز کی۔ ۱؎ (طحاوی،نیز مؤطا، بیہقی، وکتاب الام للشافعی)
اس سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت سعد اور ابوموسیٰ کا فعل تھا تو قانون کی حدود کے اندر، لیکن حضرت عمرؓ کی رائے میں قتل سے پہلے اس شخص کو توبہ کا موقع دینا زیادہ بہتر تھا۔
(۴) حضرت عبد اللہ ابن مسعود کو اطلاع ملی کہ بنی حنیفہ کی ایک مسجد میں کچھ لوگ شہادت دے رہے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے یہ سن کر حضرت عبد اللہ نے پولس بھیجی اور ان کو گرفتار کرکے بلالیا۔ جب وہ لوگ ان کے سامنے پیش ہوئے تو سب نے توبہ کرلی اور اقرار کیا کہ ہم آیندہ ایسا نہ کریں گے۔ حضرت عبد اللہ نے اوروں کو تو چھوڑدیا، مگر ان میں سے ایک شخص عبد اللہ ابن النواحہ کو موت کی سزادی۔ لوگوں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ نے ایک ہی مقدمہ میں دومختلف فیصلے کیے۔ حضرت عبد اللہ نے جواب دیا کہ یہ ابن النَّواحہ وہ شخص ہے جو مسیلمہ کی طرف سے نبی ﷺکے پاس سفیر بن کر آیاتھا، میں اس وقت حاضر تھا۔ ایک دوسرا شخص حجر بن دثال بھی اس کے ساتھ سفارت میں شریک تھا۔ آں حضرت نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم شہادت دیتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان دونوں نے جواب دیا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ اگر سفارتی وفد کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا۔ یہ واقعہ بیان کرکے حضرت عبداللہ نے کہا میں نے اسی وجہ سے ابن النواحہ کو سزائے موت دی ہے۔ (طحاوی)
اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا ضروری ہے کہ بنی حنیفہ کا قبیلہ ابن النواحہ اور حجر بن دثال سمیت پہلے مسلمان ہوچکا تھا۔ پھر مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو یہ لوگ اس کی نبوت کے قائل ہوگئے۔ اس بنا پر جب نبی ﷺ نے عبد اللہ بن النواحہ اور حجر بن دثال سے فرمایا کہ ’’اگر سفیروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تمہیں قتل کردیتا‘‘ تو اس کا صریح مطلب یہ تھا کہ اس ارتداد کی وجہ سے تو واجب القتل ہوچکاہے، لیکن چونکہ اس وقت تو سفیر بن کر آیاہے اس لیے تجھ پر شریعت کا یہ حکم نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ حضرت عمرؓ کے زمانے کا ہے جب کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ ان کے ماتحت کوفہ کے چیف جج تھے۔
(۵) کوفہ میں چند آدمی پکڑے گئے جو مسیلمہ کی دعوت پھیلارہے تھے، حضرت عثمانؓ کو اس باب میں لکھا گیا۔ آپ نے جواب میں لکھا ،ان کے سامنے دین حق اور شہادت لاالہ الا اللہ ومحمد رسول اللہ پیش کی جائے، جو اسے قبول کرے اور مسیلمہ سے براء ت کا اظہار کردے اسے چھوڑدیاجائے اور جو دین مسیلمہ پر قائم رہے اسے قتل کردیاجائے۔ (طحاوی)
(۶) حضرت علیؓ کے سامنے ایک شخص پیش کیا گیا جو پہلے عیسائی تھا، پھر مسلمان ہوا پھر عیسائی ہوگیا۔ آپ نے اس سے پوچھا تیری اس روش کا کیا سبب ہے؟ اس نے جواب دیا میں نے عیسائیوں کے دین کو تمہارے دین سے بہتر پایا۔ حضرت علیؓ نے پوچھا عیسیٰؑ کے بارے میں تیرا کیا عقیدہ ہے؟ اس نے کہا وہ میرے رب ہیں، یا یہ کہا کہ وہ علی کے رب ہیں۔ اس پر حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ اسے قتل کردیاجائے۔ (طحاوی)
(۷) حضرت علیؓ کو اطلاع دی گئی کہ ایک گروہ عیسائی سے مسلمان ہوا پھر عیسائی ہوگیا۔ حضرت علیؓ نے ان لوگوں کو گرفتار کراکے اپنے سامنے بلوایا اور حقیقت حال دریافت کی۔ انہوں نے کہا ہم عیسائی تھے، پھر ہمیں اختیار دیا گیا کہ عیسائی رہیں یا مسلمان ہوجائیں، ہم نے اسلام کو اختیار کرلیا،مگر اب ہماری رائے یہ ہے کہ ہمارے سابق دین سے افضل کوئی دین نہیں ہے، لہٰذا اب ہم عیسائی ہوگئے۔ اس پر حضرت علیؓ کے حکم سے یہ لوگ قتل کردیئے گئے اور ان کے بال بچے غلام بنالیے گئے۔ (طحاوی)
(۸) حضرت علیؓ کو اطلاع دی گئی کہ کچھ لوگ آپ کو اپنا رب قراردیتے ہیں۔ آپ نے انہیں بلاکر پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے خالق ورازق ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا، تمہاری حالت پر افسوس ہے، میں تو تم جیسا ایک بندہ ہوں، تمہاری طرح کھاتا اور پیتا ہوں، اگر اللہ کی اطاعت کروں گا تو وہ مجھے اجر دے گا اور اس کی نافرمانی کروں تو مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے سزادے گا۔ لہٰذا تم خدا سے ڈرو اور اپنے اس عقیدے کو چھوڑدو مگر انہوں نے انکار کیا۔ دوسرے دن قنبر نے آکر عرض کیا کہ وہ لوگ پھر وہی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے انہیں بلاکر دریافت کیا اور انہوں نے وہی سب باتیں دہرادیں۔ تیسرے روز حضرت علیؓ نے انہیں بلاکر دھمکی دی کہ اگر اب تم نے وہ بات کہی تو میں تم کو بدترین طریقہ سے قتل کروں گا، مگر وہ اپنی بات پر اڑے رہے۔ آخر کار حضرت علیؓ نے ایک گڑھا کھدوایا، اس میں آگ جلوائی، پھر ان سے کہا، دیکھو اب بھی اپنے اس قول سے باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں اس گڑھے میں پھینک دوں گا، مگر وہ اپنے اسی عقیدے پر قائم رہے۔ تب حضرت علیؓ کے حکم سے وہ سب اس گڑھے میں پھینک دیئے گئے۔ (فتح الباری، ج۱۲،ص:۲۳۸)
(۹) حضرت علیؓ رحبہ کے مقام پر تھے کہ آپ کو ایک شخص نے آکر اطلاع دی کہ یہاں ایک گھر کے لوگوں نے اپنے ہاں ایک بت رکھ چھوڑا ہے اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت علیؓ خود وہاں تشریف لے گئے۔ تلاشی لینے پربت نکل آیا۔ حضرت علیؓ نے اس گھر میں آگ لگادی اور وہ گھر والوں سمیت جل گیا۔ (فتح الباری، ج۱۲،ص:۲۳۹)
(۱۰) حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک شخص پکڑا ہوا آیا جو مسلمان تھا پھر کافر ہوگیا۔آپ نے اسے ایک مہینہ تک توبہ کی مہلت دی، پھر اس سے پوچھا، مگر اس نے توبہ سے انکار کردیا۔ آخر کار آپ نے اسے قتل کرادیا۔
(کنز العمال ج۱،ص:۳۱۳)
تشریح: یہ دس نظیریں پورے دور خلافت راشدہ کی ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ چاروں خلفاء کے زمانہ میں جب بھی ارتداد کا واقعہ پیش آیاہے اس کی سزا قتل ہی دی گئی ہے، اور ان میں سے کسی واقعہ میں بھی نفس ارتداد کے سوا کسی دوسرے جرم کی شمولیت ثابت نہیں ہے، جس کی بنا پر یہ کہاجاسکے کہ قتل کی سزا دراصل اس جرم پر دی گئی تھی نہ کی ارتداد پر۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ عَمْرٍو، ثَنَا اَبُوالْعَبَّاسِ الْاَصَمُّ ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِیْ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ العْزِیْزِ التَنُّوْخِیِّ، اَنَّ امْرَأَۃً یُقَالُ لَھَا اُمُّ قُرْفَۃَ، کَفَرَتْ بَعْدَ اِسْلاَمِھَا، فَاسْتَتَابَھَا اَبُوْبَکْرِ نِالصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَلَمْ تَتُبْ، فَقَتَلَھَا۔(۱۲)
(۲) حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَبْدِ نِالْقَارِیْ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ قَالَ: قَدِمَ عَلٰی عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ اَبِیْ مُوْسیٰ الْاَشْعَرِیِّ فَسَأَلَہٗ عَنِ النَّاسِ، فَاَخْبَرَہٗ، ثُمَّ قَالَ لَہٗ عُمَرُ: ھَلْ کَانَ فِیْکُمْ مِنْ مُغَرِّبَۃِ خَبَرٍ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ اِسْلاَمِہٖ۔ قَالَ : فَمَا فَعَلْتُمْ بِہِ؟ قَالَ: قَرَّبْنَاہُ، فَضَرَبْنَا عُنُقَہٗ، فَقَالَ عُمَرُ:اَفَلاَ حَبَسْتُمُوْہُ ثَلَاثًا، وَاَطْعَمْتُمُوْہُ کُلَّ یَوْمٍ رَغِیْفًا وَاسْتَتَبْتُمُوْہُ لَعَلَّہٗ یَتُوْبُ وَیُرَاجِعُ اَمْرَ اللّٰہِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَمْ اَحْضُرْ وَلَمْ اٰمُرْ وَلَمْ اَرْضِ اِذْبَلَغَنِیْ۔(۱۳)
مرتدوں کے خلاف خلیفہ اول کا جہاد
مگر ان سب نظیروں سے بڑھ کر وزنی نظیر اہل ردّہ کے خلاف حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جہاد ہے اس میں صحابہ کرامؓ کی پوری جماعت شریک تھی۔ اس سے اگر ابتدا میں کسی نے اختلاف کیا بھی تھا تو بعد میں وہ اختلاف اتفاق سے بدل گیا۔ لہٰذا یہ معاملہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ جن لوگوں نے براہ راست نبی ﷺ سے دین کی تعلیم وتربیت پائی تھی، ان سب کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ جوگروہ اسلام سے پھر جائے اس کے خلاف اسلامی حکومت کو جنگ کرنی چاہیے۔
بعض لوگ اس جہاد کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ مرتدین کی حیثیت دراصل باغیوں کی تھی کیوں کہ انہوں نے حکومت کا ٹیکس (زکوٰۃ) دینا بند کردیا تھا اور وہ حکومت کے عاملوں کو الگ کرکے خود اپنی حکومتیں قائم کرنے لگے تھے۔ لیکن یہ توجیہہ چار وجوہ سے قطعی غلط ہے:
(۱) جہاد جن لوگوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ وہ سارے کے سارے مانعین زکوٰۃ ہی نہیں تھے بلکہ ان میں مختلف قسم کے مرتدین شامل تھے۔ کچھ لوگ ان مدعیان نبوت پر ایمان لے آئے تھے، جنہوں نے عرب کے مختلف گوشوں میں اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا۔ کچھ کو محمد ﷺ کی نبوت کا یقین نہ رہاتھا اور وہ کہتے تھے کہ لَوْکَانَ مُحَمَّدٌ نَبِیّاً مَا مَاتَ ’’اگر محمد نبی ہوتے تو مرتے نہیں‘‘ کچھ لوگ تمام ضروریات دین کے قائل تھے اور زکوٰۃ بھی ادا کرنے کے لیے تیار تھے، مگر ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم اپنی زکوٰۃ بطورِ خود جمع اور خرچ کریں گے، ابوبکر کے عاملوں کو نہیں دیں گے۔ کچھ اور لوگ کہتے تھے۔ اَطَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِذَا کَانَ بَیْنَنَا فَوَاعَجَباً مَا بَالُ مُلْکِ اَبِیْ بَکْرٍ ’’ہم نے خدا کے رسول کی پیروی کرلی جب کہ وہ ہمارے درمیان تھے، مگر مقام حیرت ہے کہ یہ ابوبکر کی حکومت ہم پر کیوں مسلط ہوئی۔‘‘
گویا انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کا نظام قائم ہو اور سب مسلمانوں کو اسی طرح اس مرکز سے وابستہ رہنے پر مجبور کیا جائے جس طرح وہ رسول اللہ کی شخصیت سے وابستہ تھے۔
(۲) ان سب مختلف قسم کے لوگوں کے لیے صحابہؓ نے باغی کے بجائے ’’مرتد‘‘ کا لفظ، اور اس ہنگامے کے لیے بغاوت کے بجائے ’’ارتداد‘‘ کا لفظ استعمال کیا، جس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ان کی نگاہ میں وہ اصل جرم جس کے یہ لوگ مرتکب ہوئے تھے، ارتداد تھا نہ کہ بغاوت۔ جنوب عرب میں جن لوگوں نے لقیط بن مالک الازدی کی نبوت تسلیم کرلی تھی ان کے خلاف حضرت ابوبکرؓ نے عِکْرِمہ بن ابی جہل کو جہاد کے لیے روانہ کرتے وقت یہ ہدایت کی تھی کہ وَمَنْ لَقِیْتَہٗ مِنَ الْمُرْتَدَّۃِ بَیْنَ عُمَانَ اِلـٰی حَضْرَ مَوْتَ وَالْیَمَنِ فَنَکِّلْ بِہٖ’’عمان سے حضر موت اور یمن تک جہاں مرتدوں کو پاؤ، کچل ڈالو۔‘‘
(۳) جن لوگوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا، ان کے معاملہ میں جب یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ ایسے لوگوں کے خلاف جنگ کرنا جائز بھی ہے یا نہیں تو حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا تھا کہ وَاللّٰہِ لَاُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلوٰۃِ وَالزَّکوٰۃِ ’’خدا کی قسم جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا،میں اس سے جنگ کروں گا‘‘ اس کے صاف معنیٰ یہ ہیں کہ خلیفہ اول کی نگاہ میں ان کا اصل جرم ٹیکس نہ دینا نہیں تھا بلکہ دین اسلام کے دوارکان میں سے ایک کو ماننا اور دوسرے کو نہ ماننا تھا۔ اور آخر کار جس بنا پر صحابہ کرام نے ان مانعین زکوۃ سے جنگ کرنے کے معاملے میں خلیفہ سے اتفاق کیا وہ یہی تھی کہ خلیفہ برحق کے دلائل سے انہیں اس امر کا پورا اطمینان ہوگیا کہ نماز اور زکوۃ میں تفریق کرنے کی وجہ سے یہ لوگ دائرہ دین سے باہر نکل چکے ہیں۔
(۴) ان سب سے بڑھ کر فیصلہ کن چیز سیدنا ابوبکرؓ صدیق کا وہ فرمان عام (Proclamation)ہے جو آپ نے عرب کے مختلف گوشوں میں مرتدین کے خلاف جہاد کے لیے ۱۱؍فوجیں روانہ کرتے وقت ہرفوج کے کمانڈر کو لکھ کردیاتھا۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی کتاب (البدایہ والنہایہ ج۶،ص:۳۱۶) میں پورا فرمان نقل کیاہے۔ اس کے حسب ذیل فقرے خاص طور پر قابلِ غور ہیں:
’’تم میں سے جن لوگوں نے شیطان کی پیروی قبول کی ہے اور جو اللہ سے بے خوف ہوکر اسلام سے کفر کی طرف پھر گئے ہیں، ان کی اس حرکت کا حال مجھے معلوم ہوا، اب میں نے فلاں شخص کو مہاجرین وانصار اور نیک نہاد تابعین کی ایک فوج کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا ہے۔ اور اسے ہدایت کردی ہے کہ ایمان کے سوا کسی سے کچھ قبول نہ کرے، اور اللہ عزوجل کی طرف دعوت دیئے بغیر کسی کو قتل نہ کرے۔ پس جو کوئی اس کی دعوت الی اللہ کو قبول کرے گا اور اقرار کرنے کے بعد اپنے عمل کو درست رکھے گا، اس کے اقرار کو وہ قبول کرلے گا اور اسے راہ راست پر چلنے میں مدد دے گا۔ اور جو انکار کرے گا اس سے وہ لڑے گا یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے۔ اس کو حکم دے دیا گیاہے کہ انکار کرنے والوں میں سے جس پر وہ قابو پائے، اسے جیتا نہ چھوڑے۔ ان کی بستیوں کو وہ جلادے، ان کو نیست ونابود کردے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالے اور اسلام کے سوا کسی سے کچھ قبول نہ کرے۔ پس جو اس کی بات مان لے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو نہ مانے گا وہ اللہ کو عاجز نہ کرسکے گا۔ میں نے اپنے فرستادہ امیر کو یہ بھی ہدایت کردی ہے کہ میری اس تجویز کو تمہارے ہرمجمع میں سنادے اور یہ کہ اسلام قبول کرنے کی علامت اذان ہے۔ جہاں سے اذان کی آواز آئے، اس بستی سے تعرض نہ کرو اور جہاں سے یہ آواز نہ آئے وہاں کے لوگوں سے پوچھوکہ وہ کیوں اذان نہیں دیتے۔ اگر وہ انکار کریں تو ان پر ٹوٹ پڑو، اور اگر اقرار کریں تو ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جس کے وہ مستحق ہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُتْبَۃَ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ النَّبِیُّ ﷺ وَاسْتَخْلَفَ اَبُوْبَکْرٍ، وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: یَا اَبَا بَکْرٍ! کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ فَمَنْ قَالَ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّاللّٰہُ عَصَمَ مِنِّیْ مَالُہٗ وَنَفْسُہٗ اِلاَّبِحَقِّہٖ، وَحِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ، قَالَ اَبُوبَکْرٍ: وَاللّٰہِ! لَاُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ، فَاِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللّٰہِ! لَوْمَنَعُوْنِیْ عَنَاقًا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَقَاتَلْتُھُمْ عَلٰی مَنْعِھَا، قَالَ عُمَرُ:فَوَاللّٰہِ! مَاھُوَ اِلاَّ اَنْ رَأَیْتُ اَنْ قَدْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَ اَبِیْ بَکْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ اَنَّہُ الْحَقُّ۔(۱۴)
ائمہ مجتہدین کا اتفاق
اقامت حدود الٰہی
۸۲۔ اِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِاَرْبَعَیْنَ لَیْلَۃً فِیْ بِلَادِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔
’’اللہ کی حدود میں سے ایک حد قائم کرنے کی برکت۴۰؍ دن کی بارش سے زیادہ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا سَعِیْدُ ابْنُ سِنَانٍ، عَنْ اَبِی الزَّاھِرِیَّۃِ، عَنْ اَبِیْ شَجَرَۃَ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِقَامَۃُ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ، خَیْرٌ مِنْ مَطَرِ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، فِی بِلاَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔(۱۵)
ـــــــ فِی الزَّوَائِدِ:فِیْ اِسْنَادِہٖ سَعِیْدُ بْنُ سِنَانٍ، ضَعَّفَہٗ ابْنُ مُعِیْنٍ وَغَیْرُہٗ، وَقَالَ الدَّارُ قُطْنِیْ : یَضَعُ الْحَدِیْثَ۔
(۲)حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، اَنْبَأنَا عِیْسٰی بْنُ یَزِیْدَ(اَظُنُّہٗ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ یَزِیْدَ) عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: حَدٌّ یُعْمَلُ بِہٖ فِی الْاَرْضِ، خَیْرٌ لِاَھْلِ الْاَرْضِ مِنْ اَنْ یُمْطَرُوْا اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا۔(۱۶)
تشریح: بارش کی برکت یہ ہے کہ اس سے زمین سیراب ہوتی ہے، فصلیں خوب تیار ہوتی ہیں، خوش حالی بڑھتی ہے، مگر اقامت حدود کی برکت اس سے بڑھ کر ہے کہ اس سے فتنہ و فساد اور ظلم و بدامنی کی جڑکٹتی ہے، خدا کی مخلوق کو امن چین سے زندگی بسر کرنا نصیب ہوتا ہے اور قیام امن سے وہ طمانیت میسر آتی ہے جو تمدن کی جان اور ترقی کی روح ہے۔
(الجہاد فی الاسلام ، باب اول: قتل بالحق)
ماخذ
(۱) بخاری ج۲کتاب استتابۃ المعاندین والمرتدین وقتالھم باب حکم المرتد اور ج۱کتاب الجھاد، باب لایعذب بعذاب اللّٰہ، اورکتاب الاعتصام، باب قول اللّٰہ وامرھم شوریٰ بینھم۔٭ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد۔٭ترمذی ج۱ ابواب الحدود، باب ماجاء فی المرتد۔٭نسائی ج۷ کتاب تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد۔٭ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب المرتد عن دینہ۔٭مسند احمد ج۱ص۲۔ ۷۔۲۸۲۔۲۸۳۔۳۲۳ وغیرہ۔٭دارقطنی ج۲کتاب الحدود۔٭مؤطا امام مالک ج۲کتاب الاقضیۃ، باب القضاء فیمن ارتد عن الاسلام۔ ٭نیل الاوطار ج۷ابواب احکام الردۃ والاسلام، باب قتل المرتد۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام اور باب قتل من ارتد عن الاسلام اذا ثبت علیہ رجلا کان او امرأۃ۔
(۲) بخاری ج۲کتاب الدیات، باب قول اللّٰہ ان النفس بالنفس الآیۃ۔٭مسلم ج۲کتاب القسامۃ باب مایباح بہ دم المسلم۔٭ابوداوٗدج۴کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد۔٭ترمذی ج۱ابواب الحدود، باب ماجاء من شرب الخمر فاجلدوہ فان عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ۔٭نسائی ج۷ کتاب تحریم الدم، باب ذکر مایحل بہ دم المسلم۔ ٭دارقطنی ج۳کتاب الحدود۔٭سنن دارمی ج۲کتاب السیر باب لایحل دم رجل یشھد ان لاالہ الا اللّٰہ۔٭ مسنداحمد ج۱ص۶۱۔۶۳۔۶۵۔۷۰۔ ۱۶۳۔ ۳۸۲۔ ۴۲۸۔۴۴۴۔۴۶۵وغیرہ ج۶ص۱۸۱۔۲۱۴۔٭ السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸ص۲۰۲۔ کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام اذاثبت علیہ رجلاً کان اوامرأۃ۔
(۳) نسائی ج۷کتاب المحاربۃ، باب ذکر مایحل بہ دم المسلم۔
(۴) نسائی ج۷کتاب المحاربۃ، باب ذکر مایحل بہ دم المسلم۔اسی عثمان کے حوالہ سے سنن دارمی نے ج۲کتاب الحدود باب مایحل بہ دم المسلم کے تحت متذکرہ روایت بیان کی ہے۔٭ابوداوٗد نے ج۴کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد کے ضمن میں حضرت عائشہ سے قدرے اختلاف الفاظ کے ساتھ روایت نقل کی ہے۔ اور السنن الکبری نے ج۸کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام کے تحت اس روایت کو ذکر کیاہے۔
(۵) نسائی ج۷کتاب تحریم الدم باب الحکم فی المرتد۔
(۶) نسائی ج۷کتاب تحریم الدم۔ باب ذکرمایحل بہ دم المسلم۔٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج۸کتاب المرتد، باب قتل من ارتد عن الاسلام۔
(۷) نسائی ج۷کتاب تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد۔٭بخاری ج۲کتاب الاستتابۃ المعاندین والمرتدین باب حکم المرتد والمرتدۃ اور مسلم ج۲کتاب الامارۃ باب النھی عن طلب الامارۃ۔٭ابوداوٗد ج۴کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد۔٭السنن الکبریٰ ج۸کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام۔
(۸) ابوداوٗدج۴کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد۔٭نسائی ج۷کتاب تحریم الدم باب توبۃ المرتد۔٭السنن الکبریٰ ج۸کتاب المرتد، باب مایحرم الدم من الاسلام زندیقا کان اوغیرہ۔ عن ابن عباس۔
(۹) ابوداوٗدج۴کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد اور ابوداوٗد نے کتاب الجھاد میں بھی اسے نقل کیاہے۔ ٭نسائی ج۷کتاب تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد۔٭السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب المرتد باب من قال فی المرتد یستتاب مکانہ، فان تاب والا قتل۔
(۱۰) سنن دارقطنی ج۲کتاب الحدود۔
(۱۱) السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام اذا ثبت علیہ رجلا کان اومرأۃ۔ ٭سنن دارقطنی ج۲کتاب الحدود۔٭دراقطنی نے ج۲ص۳۳۷ پر حضرت جابر سے فعرض علیھا فابت ان تسلم، فقتلت کے الفاظ بیان کیے ہیں۔
(۱۲) السنن الکبری للبیھقی ج۸کتاب المرتد، باب قتل من ارتد عن الاسلام اذا ثبت علیہ رجلا کان اوامرأۃ۔ ٭سنن دارقطنی ج۲٭دارقطنی نے ان ابابکر قتل ام قرفۃ الفزاریۃ فی ردتھا قتلۃ مثلۃ۔ شد رجلیھا بفرسین ثم صاح بھما فشقاھا۔ نقل کیاہے۔
(۱۳) مؤطا امام مالک ج۲کتاب الاقضیۃ، باب القضاء فیمن ارتد عن الاسلام۔
(۱۴) بخاری ج۲کتاب استتابۃ المعاندین والمرتدین الخ باب قتل من ابی قبول الفرائض، وما نسبوا الی الردۃ۔
(۱۵) ابن ماجہ ج۲۔کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود۔٭نسائی ج۸کتاب قطع السارق، باب الترغیب فی اقامۃ الحد۔ ٭نسائی میں عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ، قَالَ: قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقَامَۃُ حَدٍّ بِاَرْضٍ خَیْرٌ لِاَھْلِھَا مِنْ مَطَرِ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ہے۔
(۱۶) ابن ماجہ ج۲کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود،٭نسائی ج۸۔کتاب قطع السارق باب الترغیب فی اقامۃ الحد۔ نسائی نے ثلاثین نقل کیاہے۔٭مسند احمد ج۲ عن ابی ھریرۃ، نسائی والی روایت کے الفاظ اور ص۳۶۲ پرحَدٌّ یُقَامُ فِی الْاَرْضِ خَیْرٌ لِلنَّاسِ مِنْ اَنْ یُمْطَرُوْا ثَلاَثِیْنَ اَوْ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا منقول ہے۔٭مجمع الزوائد ج۶۔کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود۔ عن ابن عباس۔ اس میں وَحَدٌّ یُقَامُ فِی الْاَرْضِ بِحَقِّہِ اَزْکیٰ مِنْ مَّطَرِ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا منقول ہے۔ وَقَالَ:لایروی عن ابن عباس الابھذا الاسناد، وفیہ زریق بن السخت ولم اعرفہ۔
زبان: اُردو
صفحات: 652
ادارہ معارف اسلامی، لاہور