تفہیم الاحادیث (جلدششم)

ریڈ مودودی ؒ   کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔

چند باتیں

قارئین محترم کی خدمت میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے فکر و قلم کے شاہ کار تفہیم الاحادیث کا زیر نظر حصہ پیش کرتے ہوے ہمیں یک گونہ خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کے لیے اس کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اکیسویں صدی کے بالکل آغاز میں اپنے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات و فرمودات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پیش کرنے کی توفیق بخشی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور حدیث کے اس مبارک سلسلے کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور انھیں پیغام رسولؐ سے روشناس کرانے میں مکتبے کے ساتھ بھر پور تعاون کا مظاہرہ ہوگا۔
تفہیم الاحادیث مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ، بلکہ یہ ان احادیث کا مجموعہ ہے، جو مولانا محترم نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ اور بعض دوسری تصانیف میں حسب موقع نقل کی ہیں ۔
صورت واقعہ یہ ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس نہج پر اپنی مقبول عام تفسیر ’’تفہیم القرآن ‘‘ کی چھے۶ جلدیں تحریر کی تھیں، بالکل اسی نہج پر وہ احادیث پر بھی کام کرنے کا عزم مصمّم کرچکے تھے۔ نہ صرف عزم مصمم کرچکے تھے، بلکہ انھوں نے اس کام کے لیے ایک ابتدائی خاکہ بھی تیار کرلیا تھا ـــــــلیکن اچانک وہ بیمار ہوگئے، پھر بیماری کا یہ سلسلہ اتنا طویل ہوتا گیا کہ انھیں اس سے نجات ہی نہ مل سکی۔ اسی بیماری میں ان کی مہلتِ عمر بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد یہ کام التوا میں پڑگیا۔ وفات کے کافی دنوں کے بعد مولانا محترم کے رفیق خاص مولانا خلیل احمد حامدیؒڈائریکٹر ادارۂ معارف اسلامی منصورہ کو اس کام کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انھوں نے ذمے داروں اور دوسرے ارباب علم و دانش کے مشوروں سے علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے فاضل مشہور عالم و محقق مولانا عبدالوکیل علوی کو یہ ذمّے داری تفویض کی کہ وہ تفہیم القرآن اور دوسری تصانیف کی مدد سے مولانا محترم کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھریں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے پورے کام کااز سر نو خاکہ تیارکیا اور ضروری کتب فراہم کرکے کام کا آغاز کردیا۔
مولانا عبدالوکیل علوی کا نام تحریکی حلقے کے لیے غیر معروف و اجنبی نہیں ہے۔ وہ عربی ادب کے مایۂ ناز فاضل، اسلامی علوم کے ذہین عالم اور صاحب طرز اہل قلم کی حیثیت سے تعارف رکھتے ہیں۔اس سے پہلے مولانا مودودیؒ کی تصانیف کی مدد سے وہ متعدد ترتیبی و تخریجی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔سیرت سرور عالم کی دو جلدیں ان کی ترتیبی و تخریجی صلاحیتوں کی بہترین نمایندگی کرتی ہیں۔
مولانا عبدالوکیل علوی نے اس کام میں کتنا وقت صرف کیا ہے ،اورانھوں نے احادیث کی چھان بین یا ترتیب و تخریج میں کتنی عرق ریزی اور دقّتِ نظر سے کام لیا ہے، یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پڑھنے والے خود ہی اس کا ادراک کرلیں گے۔ ’’مشک آنست کہ خود بہ بوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ اصلی مشک خود اپنی مہک سے پہچان لیا جاتا ہے، اس کے لیے کسی عطار کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی اس کوشش کو شرفِ قبول سے نوازے، تمام انسانوں کے لیے اِسے نفع بخش بنائے اور اس کی تیاری میں جن رفقاء اور کارکنوں نے حصہ لیا ہے، انھیں حدیثِ رسول ؐ کی خدمت کی برکات سے سرفراز کرے۔
ناشر
مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی

عرض مرتب

الحمد للہ تفہیم الاحادیث کے جس کار عظیم کو آج سے چند سال قبل شروع کیا تھا، اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔ یہ سعادت محض خالق ارض وسما کے فضل وکرم اور اس کی توفیق خاص کی مرہون منت ہے، ورنہ ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کٹھن مراحل سے گزر کر ساحل تکمیل تک پہنچنے کی اپنی حد تک ایک کاوش کی ہے۔
جب یہ کام شروع کیا گیا تب اندازہ ہوا کہ ایک ٹھوس علمی وتحقیقی کتاب اپنی طرف سے مدون ومرتب کرنے کے مقابلے میں مولانا محترم رحمتہ اللہ علیہ کے پورے ذخیرۂ کتب میں سے عبارتیں نکال کر کوئی کتاب ترتیب دینے کا کام کتنا محنت طلب ہے۔ تفہیم القرآن کی چھے جلدوں کے ساتھ ساتھ مولانا کے وسیع لٹریچر کو ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھنا، تمام احادیث کے متون، تراجم، تشریحات اور فقہی مسائل کی الگ الگ نشان زدگی، پھر اس کی تشریح کے لیے مفید مطلب مناسب و موزوں عبارات پر نشان لگانا، ان کی نقول تیار کرنا اور سب سے آخر میں ان کی بہ اعتبارِ ابواب و فصول ترتیب اور ان کی عنوان بندی، یہ سارا کام اتنا صبر آزماتھا کہ بار بار دامن ہمت تار تار ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتارہا۔ مگر ایسے مواقع پر فضل ایزدی نے ڈھارس بندھائی اور کام جاری رہا۔ الحمد للہ آج اس کاوش اور سعی وجہد کا ثمرہ آپ کے سامنے ہے۔
تالیف وتدوین کا یہ کام اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے جتنا اہم اور عظیم ہے، اپنے حجم کے لحاظ سے اُسی قد ر ضخیم بھی۔ مولانا کی تصانیف میں سے انتخاب کرکے جو مواد نقل کیا گیا، وہ سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جمع کی گئی ہیں، جنہیں مولانا محترم نے اپنے پورے لٹریچر میں استعمال کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اسے نقل کرنے سے پہلے پورے کا پورا لٹریچر ایک خاص نقطہ نظر سے پڑھاگیا، مفید مطلب عبارات پر نشان لگایا گیا اور واضح کیا گیا کہ یہ حدیث کا متن ہے اور یہ اس کا ترجمہ وتشریح۔ جن احادیث سے فقہی مسائل استنباط کیے گئے، ان پر الگ نشان لگایاگیا، متنِ حدیث کی بجائے کہیں محض ترجمہ ملا تو اسے بھی نکال لیا گیا۔
اس کام کی تکمیل پر کس قدر محنت کی گئی یا کتنی عرق ریزی سے یہ کام انجام پایا؟ اس کا صحیح اندازہ صرف انہیں کو ہوسکتاہے، جنہوں نے کبھی اس وادیٔ پر خار میں قدم رکھاہو۔ مولانا محترم نے زیادہ تر مقامات پر احادیث نقل کرتے وقت صرف اتنا کہہ دیاہے کہ فلاں حدیث بخاری ومسلم میں ہے یا متفق علیہ یا ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ اسی طرح احادیث کی دوسری کتب کے حوالے بھی دیے ہیں، مگر بخاری ومسلم نے اس حدیث کو کس کتاب میں، کس فصل یا باب میں اور کس عنوان کے تحت یا کتاب کے کس صفحے پر روایت کیاہے؟ اس کا التزام کم ہی کیا جاسکاہے۔ پھر مولانا محترم نے اکثر مقامات پر حدیث کا صرف اتنا ہی جز نقل کیاہے جتنا انہیں اس مقام کے لحاظ سے استشہاد کے لیے مطلوب تھا۔ پوری حدیث نقل نہیں کی اور پوری سند تو بہت ہی کم نقل ہوسکی ہے۔
اس نقل شدہ مواد کو ایک مفید کتاب کی صورت میں مرتب ومدون کرنے کے لیے ان تمام نقل شدہ احادیث کی سندیں شامل کی گئیں۔ جہاں حدیث کا ایک جزو استعمال کیا گیا، وہ پوری حدیث مع سند نقل کی گئی تاکہ قاری یہ جان سکے کہ یہ کس حدیث کا جزو ہے یا کس محدث نے اپنی کس کتاب اوراس کتاب کے کس باب یا فصل میں اور کس عنوان کے تحت روایت کیا ہے وغیرہ اورحدیث کے بارے میں محدث کی محدثانہ رائے کہ یہ حدیث کس درجے کی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف وغیرہ بھی درج کی گئی ہے۔ مزید برآں ایسی احادیث بھی شامل کی گئی ہیں، جو ان کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، جنہیں مویدات کہہ سکتے ہیں۔ اس مفید اضافے سے اصل مواد کی ضخامت تو واقعۃً بڑھ گئی مگر فوائد میں بے حساب اضافہ بھی ہوا ہے۔
حدیث کی تخریج کے لیے جو اصول پیش نظر رکھاگیاہے وہ یہ ہے:
سب سے پہلے حدیث کو( بخاری ومسلم) میں تلاش کیاگیا۔ اگروہ ان میں مل گئی اور دونوں کے الفاظ بھی یکساں ملے تو اس صورت میں سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیا اور حوالے میں متفق علیہ درج کیا گیاہے۔ اگر صحیحین کی روایت میں معنوی یکسانی تو موجود ہے مگر لفظی اختلاف ہے تو اس صورت میں بھی سند اور متن حدیث صحیح بخاری کا لیا گیاہے اور صحیح مسلم کا اختلاف اور فرق الگ سے واضح کردیاگیاہے۔ اگر مولانا محترم نے خود ہی صحیح مسلم کی روایت لی ہے تو پھر اصل متن اسی روایت کو قراردیا گیاہے اور صحیح بخاری کی روایت میں جو اختلاف ہے، اسے واضح کرکے اس کا حوالہ دیاہے اور اگر مولانا نے صحیحین کے علاوہ باقی کتب اربعہ یعنی سنن ابی داؤد، ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں سے کسی کا حوالہ دیا ہے اور وہ حدیث صحیحین میں سے کسی ایک میں بھی قدرے لفظی اختلاف یا فرق کے ساتھ موجود ہے تو اس صورت میں اصل ماخذ بیان کرنے کے بعد صحیحین کا حوالہ اور فرق واختلاف بھی درج کرنے کی محتاط کوشش کی گئی ہے۔اگرکوئی حدیث صحیحین میں نہ ملی تو پھر ابوداؤد کی روایت کو ترجیحاً نقل کیاگیاہے۔ اگر ابوداؤد اور دیگر کتب میں بھی کوئی حدیث موجود ہے تو اصل متن کے طورپر ابوداؤد کی روایت درج کی گئی ہے اور باقی ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ اور دیگر کتب کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں میری یہ کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع ایک حدیث کے زیادہ سے زیادہ ممکن الحصول ماخذ ومصادر درج کیے جائیں۔ اصل کتب ماخذ جتنی مجھے دستیاب ہوسکیں، ان سب کے حوالے دینے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ تخریج مواد، اس کو نقل کرنے، عبارات پر اعراب لگانے اور اضافہ شدہ عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کے بعد نقل شدہ مواد کی روشنی میں اسے ایک کتابی صورت میں لانے کے لیے اس کی پہلے ابواب بندی کی گئی اور پھر انہیں فصول اور مختلف عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا، پھرذیلی عنوانات قائم کیے گئے۔ بعد ازاں حوالے جات اور احادیث کے نمبر لگائے گئے اور ان حوالوں کو اپنے اپنے مقام پر درج کیا گیا تاکہ قاری کو اگر کسی عبارت کے اصل ماخذ کی ضرورت محسوس ہوتو وہ بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے اصل ماخذ سے رجوع کرسکے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دست بہ دعاہو ںکہ اس کام کو اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبول حاصل ہو اور یہ مولانا محترم کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے۔
وماتوفیقی الا باللہ
خاکسار
عبدالوکیل علوی

فصل :۱ غزوات اور متعلقات : سوق عکاظ کی طرف تبلیغی سفر

١-حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ا اپنے چند اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جارہے تھے، راستے میں نخلہ کے مقام پر آپؐ نے صبح کی نماز پڑھائی، اُس وقت جنوں کا ایک گروہ اُدھر سے گزر رہا تھا، تلاوت کی آواز سن کر وہ ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا۔ (اس قصے کی صراحت میں حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ) رسول اللہ ا نے جنوں کے سامنے قرآن نہیں پڑھا تھا نہ آپ نے ان کو دیکھا تھا۔ (مسلم، ترمذی، مسنداحمد، ابن جریر)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنْطَلَقَ النَّبِیُّ ﷺ فِیْ طَائِفَۃٍ مِّنْ اَصْحَابِہٖ عَامِدِیْنَ اِلٰی سُوْقِ عُکَاظٍ، وَ قَدْ حِیْلَ بَیْنَ الشَّیَاطِیْنَ وَ بَیْنَ خَبَرِ السَّمَآئِ، وَ اُرْسِلَتْ عَلَیْھِمُ الشُّھُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّیَاطِیْنُ اِلٰی قَوْمِھِمْ، فَقَالُوْا: مَالَکُمْ؟ حِیْلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ خَبَرِ السَّمَآئِ وَ اُرْسِلَتْ عَلَیْنَا الشُّھُبُ، قَالُوْا: مَا حَالَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ خَبَرِ السَّمَآئِ اِلاَّ شَـْیئٌ حَدَثٌ، فَاضْرِبُوْا مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا، فَانْظُرُوْا مَا ھٰذَا الَّذِیْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ خَبَرِ السَّمَآئِ، فَانْصَرَفَ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ تَوَجَّھُوْا نَحْوَ تِھَامَۃَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَ ھُوَ بِنَخْلَۃَ عَامِدِیْنَ اِلٰی سُوْقِ عُکَاظٍ وَ ھُوَ یُصَلِّیْ بِاَصْحَابِہٖ صَلاَۃَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوْا الْقُرْٰ انَ اسْتَمَعُوْا لَہٗ، فَقَالُوْا: ھٰذَا وَاللّٰہِ الَّذِیْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ خَبَرِ السَّمَآئِ۔ فَھُنَالِکَ حِیْنَ رَجَعُوْا اِلٰی قَوْمِھِمْ قَالُوْا: یَا قَوْمَنَا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَھْدِیْ اِلٰی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّہٖ ﷺ (قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ)، وَ اِنَّمَا اُوْحِیَ اِلَیْہِ قَوْلُ الْجِنِّ۔(١)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ (ایک روز) نبی ا اپنے چند صحابہ کی معیت میںعکاظ کے بازار کی جانب چلے (اس وقت) شیاطین کو آسمانی خبریں سننے کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں تھیں اور (سننے کی کوشش) کے مواقع پران پر شعلے پھینکے جاتے تھے (ایسی صورت حال محسوس) کرکے شیاطین واپس اپنی قوم کے پاس لوٹ آئے، تو قوم نے دریافت کیاکہ کیاہوا تمہیں؟ انہوں نے جواب دیاکہ آسمان سے خبروں کے راستوں میں ہمارے لیے رکاوٹیں حائل کردی گئیں ہیں اور ہمارے اوپر شعلے پھینکے جاتے ہیں۔ قوم نے کہا تمہارے آسمان تک رسائی میں رکاوٹ کسی خاص وجہ سے پیدا ہوئی ہے جو حال ہی میں رونماہوئی ہے لہٰذا اطراف عالم کے مشرق و مغرب میں گھوم پھر کر دیکھو کہ وہ کیا نئی چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبر کے مابین رکاوٹ کا باعث بنی ہے۔ چناں چہ وہ شیاطین اس غرض کے لیے نکل کھڑے ہوئے تو جو شیاطین ان میں سے تہامہ کی طرف نکلے تھے وہ نبی ا کی جانب آگئے۔ آپ اس وقت مقام نخلہ پر اپنے اصحاب کو صبح کی نماز باجماعت پڑھا رہے تھے اور عکاظ کی جانب عازم سفر تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو بڑے غور اور توجہ سے سننے لگے اور بولے: اللہ کی قسم! یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبر کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ پس اسی جگہ سے وہ اپنی قوم کے پاس واپس لوٹ گئے اور انہیں بتایا کہ اے ہمارے قومی بھائیو! ہم نے تو بڑا عجیب و انوکھا قرآن سنا ہے جو رشد و ہدایت کی طرف رہ نمائی کرتاہے، ہم تو اس پر ایمان لاچکے ہیں لہٰذا اس کے بعد اب ہم ہرگز اپنے رب کا کسی کو شریک و ساجھی نہ بنائیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر (قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ) اور جنوں کی گفتگو بذریعہ وحی نازل فرمائی۔
تشریح : اکثر مفسرین نے اس روایت کی بنا پر یہ سمجھا ہے کہ یہ حضور ا کے مشہور سفر طائف کا واقعہ ہے جو ہجرت سے تین سال پہلے ۱۰ ؁ نبوی میں پیش آیا تھا لیکن یہ قیاس متعدد وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ طائف کے اُس سفر میںجنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اُس کا قصہ سورۂ احقاف: ۲۹- ۳۲ میںبیان کیا گیا ہے۔ اُن آیات پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اُس موقع پر جو جن قرآن مجید سن کر ایمان لائے تھے وہ پہلے سے حضرت موسیٰ اور سابق کتب آسمانی پر ایمان رکھتے تھے، اس کے برعکس اس سورہ(الجن) کی آیات:۲-۷ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر قرآن سننے والے یہ جن مشرکین اور منکرین آخرت اور رسالت میں سے تھے۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ طائف کے اُس سفرمیں حضرت زید بن حارثہ ؓکے سوا اور کوئی حضورا کے ساتھ نہ تھا بخلاف اِس کے اِس سفر کے متعلق ابن عباس ؓ فرما رہے ہیں کہ اس میں چند صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔ مزید برآں روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اُس سفر میںجنوں نے قرآن اُس وقت سنا تھا جب حضور ا طائف سے مکہ تشریف لاتے ہوئے نخلہ میں ٹھہرے تھے اور اِس سفر میں ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق جنوں کے قرآن سننے کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب آپ مکہ سے عکاظ تشریف لے جارہے تھے۔ ان وجوہ سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورۂ احقاف اور سورۂ جن میں ایک ہی واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ دو الگ واقعات تھے جو دو مختلف سفروں میں پیش آئے تھے۔
جہاں تک سورۂ احقاف کا تعلق ہے، اُس میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں روایات متفق ہیں کہ وہ ۱۰؁نبوی کے سفر طائف میں پیش آیاتھا۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ دوسرا واقعہ کس زمانے میں پیش آیا، اس کا کوئی جواب ہمیں ابن عباسؓ کی روایت سے نہیں ملتا نہ کسی اور تاریخی روایت سے یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ا صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ کے بازار میں کب تشریف لے گئے تھے البتہ اِس سورہ کی آیات :۸-۱۰ پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ نبوت کے ابتدائی دور کا واقعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ان آیات میںبیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہا کی بعثت سے پہلے جن عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے کے لیے آسمان میں سن گن لینے کا کوئی نہ کوئی موقع پالیتے تھے مگر اس کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ہر طرف فرشتوں کے سخت پہرے لگ گئے ہیں اور شہابوں کی بارش ہورہی ہے جس کی وجہ سے کہیں ان کو ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں ٹھہر کر وہ کوئی بھنک پاسکیں۔
اس سے ان کو یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ زمین میں ایسا کیا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کے لیے یہ سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ غالباً اُسی وقت سے جنوں کے بہت سے گروہ اِس تلاش میں پھرتے رہے ہوں گے اور اُن میں سے ایک گروہ نے رسول اللہا کی زبان مبارک سے قرآن سن کر یہ رائے قائم کی ہوگی کہ یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر جنوں پر عالم بالا کے تمام دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن :ج۶، الجن: زمانۂ نزول)

مظالم کی شدت اور ہجرت حبشہ

٢- لَوْ خَرَجْتُمْ اِلٰی اَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَاِنَّ بِھَا مَلِکًا لاَ یُظْلَمُ عِنْدَہُ اَحَدٌ وَ ھِیَ اَرْضُ صِدْقٍ حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ فَرْجًا مِمَّا اَنْتُمْ فِیْہِ۔
’’(حضور انے فرمایا:) اچھا ہو کہ تم لوگ نکل کر حبش چلے جاؤ، وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ بھلائی کی سر زمین ہے، جب تک اللہ تمہاری اس مصیبت کو رفع کرنے کی کوئی صورت پیدا کرے، تم لوگ وہاں ٹھہرے رہو۔‘‘
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَلَمَّا رَأَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا یُصِیْبُ اَصْحَابَہُ مِنَ الْبَلاَئِ، وَمَا ھُوَ فِیْہِ مِنَ الْعَافِیَۃِ بِمَکَانِہِ مِنَ اللّٰہِ وَ مِنْ عَمِّہِ اَبِیْ طَالِبٍ۔ وَ اِنَّہُ لاَ یَقْدِرُ عَلٰی اَنْ یَّمْنَعَھُمْ مِمَّا ھُمْ فِیْہِ مِنَ الْبَلاَئِ قَالَ لَھُمْ: لَوْ خَرَجْتُمْ اِلٰی اَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَاِنَّ بِھَا مَلِکًا لاَ یُظْلَمُ عِنْدَہُ اَحَدٌ وَ ھِیَ اَرْضُ صِدْقٍ حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ فَرْجًا مِمَّا اَنْتُمْ فِیْہِ۔(٢)
ترجمہ: جب رسول اللہ ا نے ملاحظہ فرمایا کہ آپ کے صحابہ مصائب اوربلاؤں کا تختہ مشق بن رہے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق اور اپنے چچا ابوطالب کی وجہ سے (تحت الاسباب) ان آفتوں اور آزمائشوں سے (نسبتاً) محفوظ ہیں۔ نیز یہ بھی آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان بلاؤں سے جن میں وہ مبتلا ہیں آپ ان کی حفاظت و دفاع نہیں کرسکتے تو ان سے فرمایا: ’’اگر تم لوگ سرزمین حبشہ کی طرف چلے جاؤ (تو بہتر ہے) اس لیے کہ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ بھلائی کی سرزمین ہے تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان فتنوں سے جن میں تم (اس وقت) مبتلا ہو کوئی آسانی و کشائش پیدا فرمادے۔‘‘
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِی الزُّھْرِیُّ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا زَوْجِ النَّبِیّ ﷺ اَنَّھَا قَالَتْ: لَمَّا ضَاقَتْ عَلَیْنَا مَکَّۃُ وَ اُوْذِیَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ فُتِنُوْا وَ رَأَوْا مَا یُصِیْبُھُمْ مِنَ الْبَلاَئِ وَ الْفِتْنَۃِ فِیْ دِیْنِھِمْ وَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لاَ یَسْتَطِیْعُ دَفْعَ ذٰلِکَ عَنْھُمْ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ مَنْعَۃٍ مِنْ قَوْمِہٖ وَ عَمِّہٖ لاَ یَصِلُ اِلَیْہِ شَـْیئٌ مِمَّا یَکْرَہُ مَایَنَالُ اَصْحَابُہُ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ بِاَرْضِ الْحَبَشَۃِ مَلِکًا لاَ یُظْلَمُ اَحَدٌ عِنْدَہُ فَالْحَقُوْا بِبِلاَدِہِ حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ فَرْجًا وَّ مَخْرَجًا مِمَّا اَنْتُمْ فِیْہِ۔۔۔ الخ(٣)
ترجمہ: حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب مکہ ہم پر تنگ ہوگیا اور اصحاب رسول ا اذیت رسانی کا تختۂ مشق بن گئے اور مختلف فتنوں میں مبتلا کردیے گئے، دین کے سلسلہ میں جو مصائب ان کو پہنچائے گئے ان کا بچشم خود ملاحظہ کرلیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ا ان مصائب کو ان سے ہٹا نہیں سکتے اور خود آپ اپنی قوم اور چچا کی حفاظت میں تھے اس لیے جو مصائب اصحاب رسول کوپہنچ رہے تھے جنہیں آپ پسند نہیں فرماتے تھے، وہ آپ کی ذات تک نہیں پہنچ رہے تھے تو ایسی صورت حال میں رسول اللہ ا نے فرمایا: ’’بلاشبہ حبشہ میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور تم اس کی سرزمین میں چلے جاؤ جب تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس مصیبت سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا نہ فرمادے۔‘‘
٣- آپ ا نے فرمایا:’’تم سے پہلے جو اہل ایمان تھے اُن پر اس سے زیادہ مظالم ہوچکے ہیں ان کی ہڈیوں پر لوہے کی کنگھیاں گھسی جاتی تھیں، ان کے سروں پر رکھ کر آرے چلائے جاتے تھے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے تھے۔یقین جانوں کہ اللہ اس کام کو پورا کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ ایک آدمی صنعاء سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ ہوگا مگر تم جلد بازی کرتے ہو۔‘‘ (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا قَیْسٌ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ، قَالَ: شَکَوْنَا اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَ ھُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَّہُ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، فَقُلْنَا: اَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا، اَلاَ تَدْعُوْا لَنَا؟ قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ فِی الْاَرْضِ، فَیُجْعَلُ فِیْھَا، فَیُجَآئُ بِالْمِنْشَارِ، فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ، فَیُشَقُّ بِاِثْنَیْنِ وَمَا یَصُدُّہُ عَنْ دِیْنِہٖ وَ یُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِہٖ مِنْ عَظْمٍ وَ عَصَبٍ وَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہٖ وَاللّٰہِ لَیُتِمَّنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰی یَسِیْرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَ مَوْتَ لاَ یَخَافُ اِلاَّ اللّٰہَ اَوِ الذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہٖ وَ ٰ لکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔(٤)
ترجمہ: حضرت خباب بن ارت سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی ا سے شکوہ کیا، اس وقت آپ خانہ کعبہ کے زیر سایہ اپنی چادر کو بطور تکیہ لگائے تشریف فرما تھے، ہم نے عرض کیا: کیا آپ ہمارے لیے نصرت و مدد طلب نہیں فرماتے؟ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں مانگتے؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں ایسا آدمی ہوتا تھا کہ اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتااور اس میں اُس آدمی کو گاڑکر آرا لایا جاتا پھر اس کے سرپر رکھ کر چلایا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کردیے جاتے مگر یہ اذیت بھی اسے اپنے دین سے نہ پھیر سکتی، لوہے کی کنگھیاں اس کے گوشت پر گھسی جاتیں اور پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتا یقین جانو اللہ تعالیٰ اس کام کو پورا کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی صنعاء سے حضرموت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ ہوگا یا بھیڑیے کا خوف اپنی بکری کے بارے میں لیکن تم ہو کہ جلد بازی کرتے ہو۔‘‘
٤-چناں چہ صحیحین میں خباب بن ارتؓ کی روایت ہے:
’’میں مکے میں لوہار کا کام کرتا تھا، مجھ سے عاص بن وائل نے کام لیا، پھر جب میں اس سے اجرت لینے گیا تو اس نے کہا کہ میں تیری اجرت نہ دوں گا جب تک تو محمد کا انکار نہ کرے۔ ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ، ثَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، اَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِی الضُّحٰی، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: کُنْتُ قَیْنًا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، وَ کَانَ لِیْ عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلِ دَرَاھِمُ، فَاَتَیْتُہٗ اَتَقَاضَاہُ، فَقَالَ: لاَ اَقْضِیْ لَہٗ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: لاَ وَاللّٰہِ! لاَ اَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ حَتّٰی یُمِیْتَکَ اللّٰہُ ثُمَّ یَبْعَثَکَ، قَالَ: فَدَعْنِیْ حَتّٰی اَمُوْتَ ثُمَّ اُبْعَثَ، فَاُوْتِیَ مَالاً وَّ وَلَدًا ثُمَّ اَقْضِیْکَ، فَنَزَلَتْ:(اَفَرَأَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِٰایٰـتِنَا وَ قَالَ لاَُوْتَیَنَّ مَالاً وَّ وَلَدًا) (٥)
تشریح: قریش کے سردار جب تضحیک، استہزاء، اطماع، تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر سے تحریک اسلامی کو دبانے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے شروع کیے۔ ہر قبیلے کے لوگوں نے اپنے اپنے قبیلے کے نومسلموں کو تنگ پکڑا اور طرح طرح سے ستا کر، قید کرکے، بھوک پیاس کی تکلیفیں دے کر حتی کہ سخت جسمانی اذیتیں دے دے کر انہیں اسلام چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ غریب لوگ اور وہ غلام اور موالی جو قریش والوں کے تحت زیردست کی حیثیت سے رہتے تھے، بری طرح پیسے گئے مثلاً: بلال، عامر بن فہیرہ، اُم عبیس، زنیرہ، عمار بن یاسر اور ان کے والدین وغیرہم۔ ان لوگوں کو مار مار کر ادھ مؤا کردیا جاتا، بھوکا پیاسا بند رکھا جاتا، مکے کی تپتی ہوئی ریت پر چلچلاتی دھوپ میں لٹادیا جاتا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ کر گھنٹوں تڑپایا جاتا، جو لوگ پیشہ ور تھے ان سے کام لے لیا جاتا اور اجرت ادا کرنے میںپریشان کیا جاتا۔
اسی طرح جو لوگ تجارت کرتے تھے ان کے کاروبار کو برباد کرنے کی کوششیں کی جاتیں اور جو معاشرے میں کچھ عزت کا مقام رکھتے تھے ان کو ہر طریقے سے ذلیل و رسوا کیا جاتا۔ اسی زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت خباب کہتے ہیں: ’’ایک روز نبی ا کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے، میںنے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے، آپ اللہ سے دعا نہیں فرماتے؟‘‘ اس پر حضورا نے مندرجہ بالا الفاظ فرمائے مگر جب حالات سخت خراب ہوگئے تو حضور علیہ السَّلام نے ان کو اجازت دے دی۔
آپ کے اس ارشاد کی بنا پر پہلے گیارہ مرد اور چار خواتین نے حبش کی راہ لی۔ قریش کے لوگوں نے ساحل تک ان کا پیچھا کیا مگر خوش قسمتی سے شعیبیہ کی بندرگاہ پر ان کو حبش کے لیے بروقت کشتی مل گئی اور وہ گرفتار ہونے سے بچ گئے۔ پھر چند مہینوں کے اندر مزید لوگوں نے ہجرت کی یہاں تک کہ ۸۳ مرد، گیارہ عورتیں اور سات غیرقریش مسلمان حبش میں جمع ہوگئے اور مکے میں نبی ا کے ساتھ صرف ۴۰ آدمی رہ گئے۔
اس ہجرت سے مکے کے گھر گھر میں کہرام مچ گیا کیوں کہ قریش کے بڑے اور چھوٹے خاندانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چشم و چراغ ان مہاجرین میں شامل نہ ہوں، کسی کا بیٹا گیا تو کسی کا داماد، کسی کی بیٹی گئی تو کسی کا بھائی اور کسی کی بہن۔ ابوجہل کے بھائی سلمہ بن ہشام، اس کے چچازاد بھائی ہشام بن ابی حذیفہ اور عیاش بن ابی ربیعہ اور اس کی چچازاد بہن حضرت ام سلمہ، ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ، عتبہ کے بیٹے اور ہند جگر خوار کے سگے بھائی ابوحذیفہ، سہیل بن عمرو کی بیٹی سہلہ اور اسی طرح دوسرے سرداران قریش اور مشہور دشمنان اسلام کے اپنے جگر گوشے دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اسی لیے کوئی گھر نہ تھا جو اس واقعہ سے متاثر نہ ہوا ہو بعض لوگ اس کی وجہ سے اسلام دشمنی میں پہلے سے زیادہ سخت ہوگئے اور بعض کے دلوں پر اس کا اثر ایسا ہواکہ آخر کار وہ مسلمان ہوکر رہے چناں چہ حضرت عمرؓ کی اسلام دشمنی پرپہلی چوٹ اسی واقعہ سے لگی۔ ان کی ایک قریبی رشتہ دار لیلیٰ بنت ابی حثمہ بیان کرتی ہیں کہ میںہجرت کے لیے اپنا سامان باندھ رہی تھی اور میرے شوہر عامر بن ربیعہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اتنے میں عمر آئے اور کھڑے ہوکر میری مشغولیت کو دیکھتے رہے کچھ دیرکے بعد کہنے لگے: ’’عبد اللہ کی ماں! جارہی ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہاں!خدا کی قسم! لوگوں نے ہمیں بہت ستایا، خدا کی زمین کھلی پڑی ہے، اب ہم کسی ایسی جگہ چلے جائیں گے جہاں خدا ہمیںچین دے۔‘‘ یہ سن کر عمرکے چہرے پر رقت کے ایسے آثار طاری ہوئے جو میں نے کبھی ان پر نہ دیکھے تھے اور وہ بس یہ کہہ کر نکل گئے: ’’خدا تمہارے ساتھ ہو۔‘‘
(تفہیم القرآن،ج۳، سورہ مریم: تاریخی پس منظر)

اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ کے متعلق آپؐ کا ارشاد

٣- مَاتَ الْیَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا عْلٰی اَخِیْکُمْ اَصْحَمَۃَ۔
’’آج ایک مردِ صالح نے وفات پائی ہے، اُٹھو! اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔‘‘ (بخاری و مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو الرَّبِیْعِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ حِیْنَ مَاتَ النَّجَاشِیُّ، مَاتَ الْیَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا عَلٰی اَخِیْکُمْ اَصْحَمَۃَ۔(٦)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا نے نجاشی کی وفات پر فرمایا: ’’آج ایک صالح مرد وفات پاگیا ہے، اُٹھو! اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔‘‘
تشریح: جب مہاجرین وہاں (حبشہ) پہنچے اور کفار مکہ نے نجاشی سے اُن کو واپس مانگنے کے لیے اپنا وفد روانہ کیا اور حضرت جعفر اور نجاشی کے درمیان مکالمہ ہوا تو محدثین اور اہل سیرت کی متفقہ روایت کے مطابق نجاشی نے نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے متعلق اس عقیدے کی تصدیق کی جو قرآن میں بیان ہوا ہے بلکہ مزید برآں نبی اکی نبوت کا اقرار بھی کیا۔ اس کے بعد نجاشی کے مسلمان ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ امام احمد نے عبد اللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے (جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں) نجاشی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس نے کہا: مرحبا بکم و لمن جئتم من عندہٖ اشھد انہ رسول اللّٰہ و انَّہ الَّذی نجد فی الانجیل و انَّہ الرَّسول الَّذی بشَّر بہ عیسٰی ابن مریم ’’خوش آمدید ہو تمہارے لیے اور ان کے لیے جن کے پاس سے تم آئے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کاذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور آں حضرت اوہی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم نے دی ہے۔‘‘
کیا یہ الفاظ کسی غیرمسلم کے ہوسکتے ہیں؟ بیہقی میں خود عمرو ابن عاص ؓ سے (جو مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے حبش بھیجے گئے تھے) یہ الفاظ مروی ہیں کہ انہوں نے آکر اہل مکہ کو جو رپورٹ دی، وہ یہ تھی کہ اِنَّ اَصْحَمَۃَ یزعم انہ صاحبکم نبیٌ ’’اصحمہ نجاشی بیان کرتا ہے کہ تمہارا ساتھی نبی ہے۔‘‘ کیاکوئی شخص نبی اکی نبوت کا اقرار کرکے بھی غیرمسلم قرار دیا جاسکتا ہے؟
ابن ہشام( سیرت ابن ہشام:ج ۳ص۲۷۷) نے اپنی سیرت نبوی میں حضرت عمرو بن عاص کے قبول اسلام کا جو قصہ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوّل اوّل نجاشی ہی کی تبلیغ نے ان کے دل میں ایمان پیدا کیا تھا اور صلح حدیبیہ سے پہلے وہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرچکے تھے۔ اس موقع پر جو الفاظ اس نے حضرت عمرو بن عاص سے کہے تھے وہ یہ تھے: اطعنی واتبعہ فانہ واللّٰہ لعلی الحق و لیظھرنَّ علی من خالفہ کما ظھر موسٰی علی فرعون و جنودہ ’’میری بات مانو اور محمدا کی پیروی قبول کرلو کیوں کہ وہ حق پر ہیں اور وہ اسی طرح اپنے مخالفین پر غالب آکر رہیں گے جس طرح موسیٰ علیہ السّلام فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔‘‘ علامہ ابن عبد البر نے استیعاب میں وہ خطبہ نقل کیا ہے جو نجاشی نے حضرت اُم حبیبہ سے نبی ا کا غائبانہ نکاح پڑھاتے ہوئے دیا تھا۔ اس میں صاف طور پر یہ الفاظ موجود ہیں:(اشھد ان محمداً رسول اللّٰہ و انہ الَّذی بشر بہ عیسٰی ابن مریم) ’’میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدا اللہ کے رسول ہیں جن کی آمد کی خبر عیسٰی بن مریم نے دی تھی۔‘‘ ان سب سے بڑھ کر مستند و معتبر و ہ روایت ہے جو بخاری و مسلم میں آئی ہے کہ نجاشی کی وفات کی خبر پاکر نبی ا نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور فرمایا: مات الیوم رجل صالح فقوموا فصلوا علی اخیکم اصحمۃ ’’آج ایک مرد صالح نے وفات پائی ہے اُٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔‘‘ (اسلامی ریاست، ہجرت حبشہ سے غلط استدلال)

کفار مکہ کا مطالبۂ عذاب

٥- نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ نے کہا تھا: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍo(الانفال:۳۲) ’’خدایا! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۶، المعارج، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوْفَۃِ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ، ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ سَأَلَ سَائِلٌم بِعَذَابٍ وَاقعٍّ لا لِّلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَہٗ دَافِعٌلا مِّنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ۔ سَأَلَ سَائِلٌ قَالَ: ھُوَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ کَلَدَۃَ قَالَ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ۔(٧)
بخاری و مسلم وغیرہ نے یہ دعا ابوجہل سے بھی منسوب بیان کی ہے:
(۲) حَدَّثَنِیْ اَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ، وَ ھُوَ ابْنُ کُرْدَیْدٍ صَاحِبُ الزِّیَادِیِّ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، قَالَ اَبُوْجَھْلٍ: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ، فَنَزَلَتْ: وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَ اَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ وَ مَالَھُمْ اَلاَّ یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ وَ ھُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔۔۔الایۃ۔ (٨)

سات سالہ قحط کے لیے حضورؐ کی دعا

٦- اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْھِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ۔
خدایا، ان کے مقابلہ میں میری مددیوسف کے ہفت سالہ قحط جیسے سات برسوں سے کر۔
اس کے متعلق صحیحین میں ابن مسعودؓ کی یہ روایت ہے کہ جب قریش نے نبی ا کی دعوت قبول کرنے سے پیہم انکار کیا اور سخت مزاحمت شروع کردی تو حضور ا نے دعا کی۔ (چناں چہ ایسا سخت قحط شروع ہوا کہ مردار تک کھانے کی نوبت آگئی۔ اس قحط کی طرف مکی سورتوں میںبکثرت اشارات ملتے ہیں، مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: الانعام:۴۲-۴۴، الاعراف:۹۴-۹۹، یونس:۱۱-۱۲-۲۱، النحل:۱۱۲-۱۱۳، الدخان:۱۰-۱۶ مع حواشی تفہیم القرآن:ج۳، المؤمنون،حاشیہ:۷۲۔)
تحقیق: اس قحط کے متعلق روایات نقل کرتے ہوئے بعض لوگوں نے دو قحطوں کے قصوں کو خلط ملط کردیا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے یا بعد کا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ا کے دور میں اہل مکہ کو دو مرتبہ قحط سے سابقہ پیش آیا ہے۔ ایک نبوت کے آغاز سے کچھ مدت بعد، دوسرا ہجرت کے کئی سال بعد جب کہ ثمامہ بن اثال یمامہ نے مکے کی طرف غلے کی برآمد روک دی تھی۔ یہاں ذکر دوسرے قحط کا نہیں بلکہ پہلے قحط کا ہے۔
(تفہیم القرآن،ج ۳، المومنون، حاشیہ:۷۲)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِی الضُّحٰی، عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ فَقَالَ: اِنَّ مِنَ الْعِلْمِ اَنْ تَقُوْلَ لِمَا لاَ تَعْلَمُ، اَللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ لِنَبِیِّہٖ ﷺ قُلْ مَا اَسْئَالُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ۔ اِنَّ قُرَیْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِیَّ ﷺ وَاسْتَعْصَوْا عَلَیْہِ قَالَ: اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلَیْھِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ، فَأَخَذَتْھُمْ سَنَۃٌ، اَکَلُوْا فِیْھَا الْعِظَامَ وَالْمَیْتَۃَ مِنَ الْجَھْدِ حَتّٰی جَعَلَ اَحَدُھُمْ یَرٰی مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ السَّمَآئِ کَھَیْئَاۃِ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوْعِ، قَالُوْا: ’’رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ‘‘ فَقِیْلَ لَہٗ اِنْ کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَادُوْا فَدَعَا رَبَّہٗ فَکَشَفَ عَنْھُمْ فَعَادُوْا، فَاَنْتَقَمَ اللّٰہُ مِنْھُمْ یَوْمَ بَدْرٍ فَذٰلِکَ قولہ تعالٰی: (یَوْمَ تَأْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ) الی قولہ جل ذکرہ (اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ) (٩)
ترجمہ: ابوالضحی مسروق سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے بیان کیا کہ میں عبد اللہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ علم کی بات یہ ہے کہ جس چیز کے متعلق تجھے علم نہ ہو تو تو کہے کہ ’’اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ا سے فرمایا کہ ’’آپ کہہ دیجیے میں تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا اور نہ خود ساختہ باتیں کرتا ہوں۔‘‘ قریش نے جب نبی اکی نافرمانی کی اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا تو آپ نے اللہ سے دعا کی: یا الٰہی! ان کے مقابلہ میں میری مدد یوسف کے ہفت سالہ قحط جیسے سات برسوں سے کر، چناں چہ وہ لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے اور فاقہ کشی کی وجہ سے ہڈیاں اور مُردار کھانے لگے۔ یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے انسان کو اس کے اپنے اور آسمان کے درمیان فضا دھوئیں کی مانند نظر آنے لگی۔ ان لوگوں نے دعا کی کہ ’’اے ہمارے پروردگار! ہم سے عذاب دور فرمادے، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔‘‘ جواب میں کہا گیا کہ ’’اگر ان سے عذاب دور کردیں تو دوبارہ وہی حرکتیں کریں گے۔‘‘ چناں چہ آپ نے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ نے عذاب ان سے دور فرمادیا مگر یہ لوگ ان حرکات سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بدر کے روز انتقام لیا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد یوم تأتی السماء بدخان مبین سے (انا منتقمون) سے یہی مراد ہے۔
تشریح: ایک ایک نبی اور ایک ایک قوم کا معاملہ الگ الگ بیان کرنے کے بعد وہ جامع ضابطہ بیان کیا جارہاہے جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہما السّلام کی بعثت کے موقع پر اختیار فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبول دعوت کے لیے نہایت سازگار بنایا گیا۔ یعنی اس کو مصائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا، قحط و و با، تجارتی خسارے، جنگی شکست یا اور اسی طرح کی تکلیفیں اس پر ڈالی گئیں تاکہ اس کادل نرم پڑے، اس کی شیخی، غرور اور تکبر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو، اس کا غرور طاقت اور نشۂ دولت ٹوٹ جائے، اپنے ذرائع ووسائل اور اپنی قوتوں اور قابلیتوں پر اس کا اعتماد شکست ہوجائے، اسے محسوس ہوکہ اوپرکوئی اور طاقت بھی ہے جس کے ہاتھ میں اس کی قسمت کی باگیں ہیں اور اس طرح اس کے کان نصیحت کے لیے کھل جائیں اور وہ اپنے خدا کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جانے پر آمادہ ہوجائے پھر جب اس سازگار ماحول میں بھی اس کا دل قبول حق کی طرف مائل نہیں ہوتا تو اس کو خوش حالی کے فتنہ میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور یہاں سے اس کی بربادی کی تمہید شروع ہوجاتی ہے، جب وہ نعمتوں سے مالا مال ہونے لگتی ہے تو اپنے برے دن بھول جاتی ہے اور اس کے کج فہم رہنما اس کے ذہن میں تاریخ کا یہ احمقانہ تصور بٹھاتے ہیںکہ حالات کا اُتار چڑھاؤ اور قسمت کا بناؤ اور بگاڑ کسی حکیم کے انتظام میں اخلاقی بنیادوں پر نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک اندھی طبیعت بالکل غیر اخلاقی اسباب سے کبھی اچھے اور کبھی برے دن لاتی ہی رہتی ہے لہٰذا مصائب اور آفات کے نزول سے کوئی اخلاقی سبق لینا اور کسی ناصح کی نصیحت قبول کرکے خدا کے آگے زاری و تضرع کرنے لگنا، بجز ایک طرح کی نفسی کم زوری کے اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وہ احمقانہ ذہنیت ہے جس کا نقشہ نبی ا نے اس حدیث میں کھینچا ہے:
لاَ یَزَالُ الْبَلاَئُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنْ ذُنُوْبِہٖ، وَالْمُنَافِقُ مَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْحِمَارِ لاَ یَدْرِیْ فِیْمَ رَبَطَہٗ اَھْلُہٗ وَ لاَ فِیْمَ اَرْسَلُوْہُ۔
یعنی ’’مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اِس بھٹی سے نکلتا ہے تو ساری کھوٹ سے صاف ہوکر نکلتا ہے، لیکن منافق کی حالت بالکل گدھے کی سی ہوتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے کیوں اسے باندھا تھا اور کیوں اسے چھوڑدیا۔‘‘
پس جب کسی قوم کا حال یہ ہوتا ہے کہ نہ مصائب سے اس کا دل خدا کے آگے جھکتا ہے، نہ نعمتوں پر وہ شکر گزار ہوتی ہے اور نہ کسی حال میں اصلاح قبول کرتی ہے تو پھر اس کی بربادی اِس طرح اس کے سرپر منڈلانے لگتی ہے جیسے پورے دن کی حاملہ عورت کہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب اس کا وضع حمل ہوجائے۔
یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ سورۂ اعراف کی ان آیات:(۹۴،۹۵) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس ضابطہ کا ذکر فرمایا ہے ٹھیک یہی ضابطہ نبی اکی بعثت کے موقع پر بھی برتاگیا اور شامت زدہ قوموں کے جس طرز عمل کی طرف اشارہ فرمایا گیاہے، ٹھیک وہی طرز عمل سورۂ اعراف کے نزول کے زمانے میں قریش والوں سے ظاہر ہورہا تھا۔ حدیث میں عبد اللہ بن مسعود ؓ اور عبد اللہ بن عباسؓ دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ نبی ا کی بعثت کے بعد جب قریش کے لوگوں نے آپ کی دعوت کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو حضور ا نے دعا کی کہ خدایا: ’’یوسف کے زمانہ میں جیسا ہفت سالہ قحط پڑا تھا ویسے ہی قحط سے ان لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد کر۔‘‘ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت قحط میںمبتلا کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ مردار کھانے لگے، چمڑے اور ہڈیاں اور اُون تک کھا گئے۔ آخر کار مکہ کے لوگوں نے، جن میں ابوسفیان پیش پیش تھا، حضوؐر سے درخواست کی کہ ہمارے لیے خدا سے دعا کیجیے مگر جب آپ کی دعا سے اللہ نے وہ برا وقت ٹال دیا اور بھلے دن آئے تو ان لوگوں کی گردنیں پہلے سے زیادہ اکڑ گئیں اور جن کے دل تھوڑے بہت پسیج گئے تھے ان کو بھی اشرار قوم نے یہ کہہ کہہ کر ایمان سے روکنا شروع کردیا کہ میاں، یہ تو زمانے کا اتار چڑھاؤ ہے، پہلے بھی آخر قحط آتے ہی رہے ہیں، کوئی نئی بات تو نہیں ہے کہ اس مرتبہ ایک لمبا قحط پڑگیا ہے لہٰذا ان چیزوں سے دھوکا کھاکرمحمد کے پھندے میں نہ پھنس جانا۔
(تفہیم القرآن،ج ۲، الاعراف، حاشیہ:۷۷)

ہجرت مدینہ

٧-جب آپ ہجرت پر مجبور ہوئے تو شہر سے نکل کر آپ نے اُس کی طرف رخ کرکے فرمایا تھا: ’’اے مکہ! تو دنیا کے تمام شہروں میں خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور خدا کے تمام شہروں میں مجھے سب سے بڑھ کر تجھ سے محبت ہے اگر مشرکوں نے مجھے نہ نکالا ہوتا تو میں تجھے چھوڑ کر کبھی نہ نکلتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نا اللَّیْثُ عَنْ عَقِیْلٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَدِیِّ بْنِ حَمْرَائَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَاقِفًا عَلَی الْحَزْوَرَۃِ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! اِنَّکِ لَخَیْرُ اَرْضِ اللّٰہِ، وَ اَحَبُّ اَرْضِ اللّٰہِ اِلَی اللّٰہِ، وَ لَوْلاَ اَنِّیْ اُخْرِجْتُ مِنْکِ مَا خَرَجْتُ۔(١٠)
ترجمہ: عبد اللہ بن عدی بن حمراء سے مروی ہے، انہوں ے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ا کو حزورہ کے مقام پر کھڑے دیکھا کہ آپ فرما رہے تھے: ’’اللہ کی قسم! (اے مکہ) تو اللہ کی زمین کا بہترین حصہ ہے اور اللہ کے تمام شہروں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر مشرکوں نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تجھے چھوڑ کر نہ نکلتا۔‘‘
تشریح: اس سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ا کو مکہ سے نکلنے کا بڑا رنج تھا۔ (تفہیم القرآن ،ج۵، محمد، حاشیہ:۱۸)

حب وطن کہاں تک جائز ہے؟

٨-  ’’اے مکہ! تو مجھ کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہے مگر کیا کروں کہ تیرے باشندے مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے۔‘‘ ( رسول اللہ ا پر یہ بہتان گھڑا گیا ہے کہ آپ انے فرمایا: (حب الوطن من الایمان) حالاں کہ ایسی کوئی صحیح حدیث آپ سے ماثور نہیں ہے۔)
پس منظر: مکہ کو چھوڑتے وقت (ہجرت) آپ نے فرمایا تھا۔ رسول اللہ ا نے خود اپنے وطن مکہ کو چھوڑا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کی، اس کے یہ معنی نہ تھے کہ آپ کو اور مہاجرین کو اپنے وطن سے وہ فطری محبت نہ تھی جو انسان کو ہوا کرتی ہے۔ اس لیے تو آپ نے یہ الفاظ فرمائے تھے۔ حضرت بلالؓ جب مدینہ جاکر بیمار ہوئے تو مکہ کی ایک ایک چیز کو یاد کرتے تھے، ان کی زبان سے نکلے ہوئے یہ حسرت بھرے اشعار آج تک مشہور ہیں:
الا لیت شعری ھل ابیتن لیلۃبفخ و حولی اذخر و جلیل
و ھل اردن یوما میاہ مجنۃو ھل تبدو لی شامۃ و طفیل
’’کاش! مجھے معلوم ہوجاتا کہ کیا میں (کبھی کوئی) رات مقام فخ میں گزاروں گا اور میرے گرد اذخر (ایک خوشبودار گھاس) اور جلیل (بابو نہ کے پودے) ہوں گے۔ اور کیا میں کسی دن مجنہ (جگہ کا نام ہے) کے گھاٹ پر بھی وار د ہوں گا اور مجھے شامہ و طفیل (پہاڑ اور مقام کے نام) نظر آئیں گے۔‘‘
مگر اس کے باوجود حب وطن نے ان بزرگوں کو اسلام کی خاطر ہجرت کرنے سے باز نہ رکھا۔ ( اسلامی ریاست، اسلامی تصور قومیت، مہاجرین کا اسوہ)
 ترمذی میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی روایت:
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسٰی الْبَصَرِیُّ حَدَّثَنَا الْفُضَلُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُشَمٍ، حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَ اَبُوالطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِمَکَّۃَ مَا اَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَ اَحَبَّکِ اِلَیَّ، وَ لَوْلاَ اَنَّ قَوْمِیْ اَخْرَجُوْنِیْ مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ۔(١١)
(۲) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وُعِکَ اَبُوْبَکْرٍ وَ بِلاَلٌ، قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَیْھِمَا فَقُلْتُ یَا اَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ وَ یَا بِلاَلُ کَیْفَ تَجِدُلَکَ فَکَانَ اَبُوْبَکْرٍ اِذَا اَخَذَتْہُ الْحُمّٰی یَقُوْلُ:
کُلُّ امْرِیئٍ مُصَبِّحٌ فِیْ اَھْلِہٖ وَالْمَوْتُ اَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ
وَ کَانَ بِلاَلٌ اِذَا اُقْلِعَ عَنْہُ الْحُمّٰی یَرْفَعُ عَقِیْرَتَہٗ یَقُوْلُ:
اَلاَ لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ اَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ وَ حَوْلِیْ اِذْخِرٌ وَ جَلِیْلٌ
وَ ھَلْ اَرِدَنْ  یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍوَ ھَلْ یَبْدُوَنْ لِیْ شَامَۃٌ وَّ طَفِیْلٌ(١٢)
ترجمہ:  حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی ا مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ بخار میں مبتلا ہوگئے۔ (ان کے پاس میں خود گئی اور دریافت کیا:’’ابا جان! کیسی طبیعت ہے؟ بلال تمہارا کیا حال ہے؟‘‘ عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ) حضرت ابوبکرؓ کا حال یہ تھا کہ انہیں جب بخار چڑھتا تو یہ شعر کہتے:
ہر شخص اپنے اہل و عیال میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور حضرت بلالؓ کا جب بخار اترتا تو یہ اشعار پڑھتے:
’’کاش! مجھے معلوم ہوجاتا کہ کیامیں کوئی رات وادی (مکہ) میں گزار سکوں گا کہ میرے چاروں جوانب اذخر اور جلیل گھاس ہو، کیا میں کبھی مجنہ نامی چشمہ پر وارد ہوسکوں گا اور کیا کبھی شامہ اور طفیل نامی پہاڑیاں مجھے نظر آئیں گی؟‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یُوْنُسُ، ثَنَا لَیْثٌ عَنْ یَزِیْدَ یعنی ابْنِ حَبِیْبٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ  اللّٰہِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّﷺ الْمَدِیْنَۃَ اِشْتَکٰی اَصْحَابُہٗ وَاشْتَکٰی اَبُوْبَکْرٍ، وَ عَامِرُ بْنُ فُھَیْرَۃَ مَوْلَی اَبِیْ بَکْرٍ وَ بِلاَلٌ۔ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیِّﷺ فِیْ عِیَادَتِھِمْ، فَاَذِنَ لَھَا، فَقَالَتْ لِاَبِیْ بَکْرٍ: کَیْفَ تَجِدُکَ؟ فَقَالَ:
کُلُّ امْرِیئٍ مُصَبِّحٌ فِیْ اَھْلِہٖوَالْمَوْتُ اَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ
وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ:
اِنِّیْ وَجَدْتُّ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِہٖاِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُہٗ مِنْ فَوْقِہٖ
وَسَأَلَتْ بِلاَلاً فَقَالَ:
یَا لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ اَبِیْتَنَّ لَیْلَۃًبِفَجّ وَ حَوْلِیْ اِذْخِرٌ وَ جَلِیْلٌ
فَاَتَتِ النَّبِیَّ ﷺ فَاَخْبَرَتْہُ بِقَوْلِھِمْ، فَنَظَرَ اِلَی السَّمَآئِ وَ قَالَ: اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَمَا حَبَّبْتَ اِلَیْنَا مَکَّۃَ۔(١٣)

غارثور میں تین دن

٩-لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ (نبی ا نے فرمایا:) ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَآئٍ، ثَنَا اِسْرَآئِیْلُ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَآئِ، قَالَ: اِشْتَرٰی اَبُوْبَکْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلاً بِثَلاَثَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَآئَ فَلْیَحْمِلْ اِلَیَّ رَحْلِیْ، فَقَالَ عَازِبٌ: لاَ، حَتّٰی تُحَدِّثَنَا کَیْفَ صَنَعْتَ اَنْتَ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ خُرِجْتُمَا مِنْ مَّکَّۃَ وَ الْمُشْرِکُوْنَ یَطْلُبُوْنَکُمْ؟ قَالَ: اِرْتَحَلْنَا مِنْ مَّکَّۃَ فَاَحْیَیْنَا اَوْ سَرَیْنَا لَیْلَتَنَا وَ یَوْمَنَا حَتّٰی اَظْھَرْنَا وَ قَامَ قَآئِمُ الظَّھِیْرَۃِ، فَرَمَیْتُ بِبَصَرِیْ ھَلْ اَرٰی مِنْ ظِلٍّ فَاٰوِیْ اِلَیْہِ، فَاِذَا صَخْرَۃٌ اَتَیْتُھَا، فَنَظَرْتُ بَقِیَّۃَ ظِلٍّ لَھَا، فَسَوَّیْتُہٗ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِلنَّبِیِّ ﷺ فِیْہِ، ثُمَّ قُلْتُ لَہٗ: اِضْطَجِعْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، فَاضْطَجَعَ النَّبِیُّ ﷺ ثُمَّ انْطَلَقْتُ اَنْظُرُ مَا حَوْلِیْ ھَلْ اَرٰی مِنَ الطَّلَبِ اَحَدًا فَاِذَ اَنَا بِرَاعِیِ غَنَمٍ یَسُوْقُ غَنَمَہٗ اِلَی الصَّخْرَۃِ یُرِیْدُ مِنْھَا الَّذِیْ اَرَدْنَا، فَسَأَلْتُہُ، فَقُلْتُ: لِمَنْ اَنْتَ یَا غُلاَمُ؟ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ سَمَّاہٗ، فَعَرَفْتُہٗ فَقُلْتُ: فَھَلْ فِیْ غَنَمِکَ لَبَنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَھَلْ اَنْتَ حَالِبٌ لَبَنًا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاَمَرْتُہُ فَاعْتَقَلَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہٖ ثُمَّ اَمَرْتُہٗ اَنْ یَّنْفُضَ ضَرْعَھَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّ اَمَرْتُہُ اَنْ یَّنْفُضَ کَفَّیْہِ، فَقَالَ: ھٰکَذَا ضَرَبَ اِحْدٰی کَفَّیْہِ بِالْاُخْرٰی، فَحَلَبَ لِیْ کُثْبَۃً مِنْ لَبَنٍ، وَ قَدْ جَعَلْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِدَاوَۃً عَلٰی فَمِھَا خِرْقَۃٌ فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ حَتّٰی بَرَدَ اَسْفَلُہٗ، فَانْطَلَقْتُ بِہٖ اِلَی النَّبِیِّﷺ فَوَافَقْتُہٗ قَدِ اسْتَیْقَظَ فَقُلْتُ: اِشْرَبْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَشَرِبَ حَتّٰی رَضِیْتُ ثُمَّ قُلْتُ: قَدْ ٰ انَ الرَّحِیْلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: بَلٰی، فَارْتَحَلْنَا، وَالْقَوْمُ یَطْلُبُوْنَنَا، فَلَمْ یُدْرِکْنَا اَحَدٌ مِّنْھُمْ غَیْرَ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلٰی فَرَسٍ لَہٗ فَقُلْتُ: ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ: لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔(۱۴)
ترجمہ: حضرت براءؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے (ان کے والد) عازب سے تیرہ درہم میں ایک کجا وہ خرید کر ان سے کہا کہ ’’براء سے کہو کہ وہ اس کجاوے کو میرے گھر پہنچادے۔‘‘ عازب نے کہا: ’’نہیں جب تک کہ آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ تم پر اور رسول اللہ ا پر اس وقت کیا گزری جب آپ دونوں مکہ سے نکل کھڑے ہوئے اور مشرکین مکہ تمہاری تلاش میں تھے۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے بیان کیا کہ: ’’جب ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ایک رات اور دن بھر مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا تو میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ کہیں سایہ نظر آجائے تو میں وہاں دھوپ سے پناہ گاہ بناؤں اچانک میری نظر ایک پتھر کی چٹان پر پڑی۔ میں اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ اس کا کچھ سایہ ابھی باقی ہے میں نے اسے صاف و ہموار کیا۔ بعد ازاں رسول اللہا کے لیے وہاں فرش بچھا کر آپ سے گزارش کی یارسول اللہ آپ آرام فرمائیں، آپ استراحت کے لیے دراز ہوگئے، پھر میں اپنے ارد گرد کا ملاحظہ کرنے کے لیے چلا پھرا کہ دیکھوں کہ کوئی متلاشی نظر آئے مگر اتفاق سے ایک گڈریے پر نظر پڑی جو اپنی بکریوں کو ہانک کر اسی چٹان کی جانب لے جارہا تھا۔ وہ چرواہا بھی اس چٹان سے وہی فائدہ اُٹھانا چاہتا تھاجو ہم چاہتے تھے، میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کس کا غلام ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک قریشی کا غلام ہوں، اس قریشی کا اس نے نام بھی لیا جسے میں نے پہچان لیا، پھر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی بکری دودھ دینے والی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: کیا تو دودھ دوہے گا؟ اس نے کہا: ہاں، تو میں نے اسے دوہنے کے لیے کہا، اس نے اپنی ایک بکری کے پاؤں باندھے میں نے اسے کہا: بکری کے تھنوں کو صاف کرے اور اپنے ہاتھوں کو بھی ، براء کا بیان ہے کہ اس نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا (اور انہوں نے اپنا ہاتھ مار کر دکھایا کہ اس طرح اس نے ہاتھ پر ہاتھ مارا) پھر اس نے میرے لیے ایک برتن میں تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میں نے نبیؐ کے لیے چمڑے کا ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ میں اوپر سے پانی ڈالا جس سے وہ دودھ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا، پھر اسے لے کر نبیؐ کی خدمت میں پیش کرنے چلا تو میںنے آپ کو بیدار پایا۔ میں نے دودھ پیش کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے نوش فرمائیں، چناں چہ آپ نے نوش فرمایا، تو میں خوش ہوگیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوچ کا وقت ہوگیا ہے، ارشاد فرمایا: ہاں، پھر ہم روانہ ہوئے، کفار ہماری تلاش میں سرگرداں تھے مگر سراقہ بن مالک کے سوا ان میں سے کسی نے بھی ہمیں نہ پایا سراقہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے تشویش کا اظہار کیا کہ تلاش کرنے والوں نے ہمیں آلیا ہے، اس وقت آپ نے فرمایا غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ﷺ وَ اِنَّا فِی الْغَارِ، لَوْ اَنَّ اَحَدَھُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَیْہِ لاََ بْصَرَنَا، فَقَالَ: مَا ظَنُّکَ یَا اَبَا بَکْرٍ بِاِثْنَیْنِ اللّٰہُ ثَالِثُھُمَا۔(١٥)
ترجمہ: ابوبکرؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی ا سے عرض کیا جب میں اور آپ غار میںچھپے ہوئے تھے، اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لیتا تو لازماً ہمیں دیکھ لیتا، آپؐ نے فرمایا: ’’اے ابوبکر! ان دوکے متعلق تمہارا کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا اللہ تھا۔‘‘
تشریح: یہ اُس موقع کا ذکر ہے جب کفار مکہ نے نبی ا کے قتل کا تہیہ کرلیا تھا اور آپ عین اس رات کو جو قتل کے لیے مقرر کی گئی تھی، مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد دو دو چار چار کرکے پہلے ہی مدینہ جاچکی تھی۔ مکہ میں صرف وہی مسلمان رہ گئے تھے جو بالکل بے بس تھے یا منافقانہ ایمان رکھتے تھے اور ان پر کوئی بھروسہ نہ کیا جاسکتا تھا۔ اس حالت میں جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے قتل کا فیصلہ ہوچکا ہے تو آپ صرف ایک رفیق حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر مکہ سے نکلے اور اس خیال سے کہ آپ کا تعاقب ضرور کیا جائے گا، آپ نے مدینہ کی راہ چھوڑ کر (جو شمال کی جانب تھی) جنوب کی راہ اختیار کی۔ یہاں تین دن تک آپ غار ثور میں چھپے رہے، خون کے پیاسے دشمن آپ کو ہر طرف ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ اطراف مکہ کی وادیوں کاکوئی گوشہ انہوں نے ایسا نہ چھوڑا جہاں آپ کو تلاش نہ کیا ہو۔ اسی سلسلے میں ایک مرتبہ ان میں سے چند لوگ عین اُس غار کے دہانے پر بھی پہنچ گئے جس میں آپ چھپے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کوسخت خوف لاحق ہوا کہ اگر ان لوگوں میں سے کسی نے ذرا آگے بڑھ کر غار میں جھانک لیا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا لیکن نبی ا کے اطمینان میں ذرا فرق نہ آیا اور آپ نے یہ کہہ کر حضرت ابوبکرؓ کو تسکین دی کہ ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن،ج۲، التوبہ، حاشیہ:۴۲)

میثاق مدینہ۔۔۔یہود سے معاہدہ کی شرائط

١٠-اِنَّ عَلَی الْیَھُوْدِ نَفَقَتَھُمْ وَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ نَفَقَتَھُمْ، وَ اِنَّ بَیْنَھُمُ النَّصْرَ عَلٰی مَنْ حَارَبَ اَھْلِ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ، وَ اِنَّ بَیْنَھُمُ النُّصْحُ وَ النَّصِیْحَۃَ وَالْبِرَّ دُوْنَ الْاِثْمِ، وَ اِنَّہٗ لَمْ یَاْثِمْ امْرُؤٌ بِحَلِیْفِہٖ، وَ اِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظْلُوْمِ، وَ اِنَّ الْیَھُوْدَ یُنْفِقُوْنَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَادَامُوْا مُحَارِبِیْنَ، وَ اِنَّ یَثْرَبَ حَرَامٌ جَوْفُھَا لِاَھْلِ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ۔۔۔ وَ اِنَّہٗ مَاکَانَ بَیْنَ اَھْلِ ھٰذِہٖ الصَّحِیْفَۃِ مِنْ حَدَثٍ اَوِ اشْتِجَارٍ یُخَافُ فَسَادُہٗ فَاِنَّ مَرَدَّہٗ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ اِلٰی مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔۔۔ وَ اِنَّہٗ لاَ تُجَارُ قُرَیْشٌ وَلاَ مَنْ نَصَرَھَا وَ اَنَّ بَیْنَھُمُ النَّصْرَ عَلٰی مَنْ دَھِمَ یَثْرِبَ۔۔۔ عَلٰی کُلِّ اُنَاسٍ حِصَّتُھُمْ مِنْ جَانِبِھِمُ الَّذِیْ قِبْلَھُمْ۔
(جب رسول اللہ ا مدینہ تشریف لے گئے اور ایک اسلامی ریاست بنائی تو آپ نے جو اولین کام کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اَوس اور خزرج اورمہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی اور دوسرا یہ تھاکہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے، اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن امور کی پابندی قبول کی تھی:)یہ کہ یہودی اپنا خرچ اُٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ٭ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے٭ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیرخواہی کریں گے٭ اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا٭ اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا٭ اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اُٹھائیں گے٭ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرناحرام ہے٭ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ ا کریں گے۔۔۔٭ اور یہ کہ قریش اور ان کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی٭ اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکاء معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔۔۔ ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا۔ (ابن ہشام،ج۲ص:۱۴۷تا ۱۵۰)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَ کَتَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کِتَابًا بَیْنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ، وَادَعَ فِیْہِ یَھُوْدَ وَ عَاھَدَھُمْ وَ اَقَرَّھُمْ عَلٰی دِیْنِھِمْ وَ اَمْوَالِھِمْ، وَ شَرَطَ لَھُمْ، وَاشْتَرَطَ عَلَیْھِمْ۔۔۔ وَ اِنَّ عَلَی الْیَھُوْدِ نَفَقَتَھُمْ وَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ نَفَقَتَھُمْ، وَ اِنَّ بَیْنَھُمُ النَّصْرَ عَلٰی مَنْ حَارَبَ اَھْلَ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ وَ اِنَّ بَیْنَھُمُ النُّصْحَ وَ النَّصِیْحَۃَ وَالْبِرَّ دُوْنَ الْاِثْمِ، وَ اِنَّہٗ لَمْ یَأْثَمْ امْرُؤٌ بِحَلِیْفِہٖ، وَ اِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظْلُوْمِ وَ اِنَّ الْیَھُوْدَ یُنْفِقُوْنَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَادَامُوْا مُحَارِبِیْنَ، وَ اِنَّ یَثْرَبَ حَرَامٌ جَوْفُھَا لِاَھْلِ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ وَ اِنَّ الْجَارَ کَالنَّفْسِ غَیْرَ مُضَارٍّ وَلاَ آثِمٍ، وَ اِنَّہٗ لاَ تُجَارُ حُرْمَۃٌ اِلاَّ بِاِذْنِ اَھْلِھَا، وَ اِنَّہٗ مَاکَانَ بَیْنَ اَھْلِ ھٰذِہٖ الصَّحِیْفَۃِ مِنْ حَدَثٍ اَوِ اشْتِجَارٍ یُخَافُ فَسَادُہُ، فَاِنَّ مَرَدَّہٗ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ اِلَی مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی اَتْقٰی مَا فِیْ ھٰذِہٖ الصَّحِیْفَۃِ وَ اَبِرِّہٖ، وَ اِنَّہٗ لاَ تُجَارُ قُرَیْشٌ وَلاَ مَنْ َنَصَرَھَا، وَ اَنَّ بَیْنَھُمُ النَّصْرَ عَلٰی مَنْ دَھِمَ یَثْرِبَ، وَ اِذَا دُعُوْا اِلٰی صُلْحٍ یُصَالِحُوْنَہٗ وَ یَلْبَسُوْنَہٗ، وَ اِنَّھُمْ اِذَا دُعُوْا اِلٰی مِثْلِ ذٰلِکَ فَاِنَّہٗ لَھُمْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِلاَّ مَنْ حَارَبَ فِی الدِّیْنِ۔ عَلٰی کُلِّ اُنَاسٍ حِصَّتُھُمْ مِنْ جَانِبِھِمِ الَّذِیْ قِبَلَھُمْ۔۔۔ الخ (۱۶)
تشریح: یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ ا اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کردیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے:
٭ ایک یہ کہ وہ رسول اللہ ا کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کرکے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے مگر انہوں نے دیکھا کہ آپ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود اُن کے اپنے رسولوں اور کتابوں پرایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت چھوڑ کر ان احکام الٰہی کی اطاعت اختیار کرنے اور ان اخلاقی حدود کی پابندی اختیار کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء علیہما السّلام بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں، یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی، ان کو خطرہ پیدا ہوگیاکہ یہ عالمگیر اصولی تحریک اگرچل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اوران کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گی۔
٭ دوسرے یہ کہ اَوس اورخزرج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر اور یہ دیکھ کرکہ گردو پیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اِس دعوت کو قبول کررہے ہیںوہ سب مدینے کی اس اسلامی برادری میںشامل ہوکر ایک ملت بنتے جارہے ہیں، انہیں یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انہوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا اُلو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اب اس نئے نظام میں نہ چل سکے گی بلکہ ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہوسکیں گی۔
٭ تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ ا کررہے تھے اس میںکاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سد باب شامل تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سود جو ان کا ذریعہ آمدنی تھا کو بھی آپ ناپاک کمائی اور حرام خوری قراردے رہے تھے جس سے انہیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرماں روائی قائم ہوگئی تو آپ اسے قانونًا ممنوع کردیں گے اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی۔
ان وجوہ سے انہوں نے حضوراکی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنالیا۔ آپ کو زک دینے کے لیے کوئی چال، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بدگمان ہوجائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے تاکہ وہ اس دین سے برگشتہ ہوجائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے تھے تاکہ لوگوںمیں اسلام اور رسول اللہ ا کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جاسکیں۔ فتنے برپا کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔ ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا، مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے تھے۔ اَوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کا ہدف تھے جن سے ان کے مدت ہائے دراز سے تعلقات چلے آرہے تھے۔ جنگ بعاث (جو اسلام سے قبل ان میں ہوئی تھی) کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہوجائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے، جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا، ان میں سے جونہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتے تھے، اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کرکے اس کا ناک میں دم کردیتے اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا اب چوں کہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے اس لیے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔ ( اس کی متعدد مثالیں طبری، نیشا پوری اور روح المعانی میں سورۂ آل عمران، آیت:۷۵ کے تحت بیان کی ہیں۔) معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کرچکے تھے مگر جب بدر میں رسول اللہ ا اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اُٹھے اور اُن کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اُٹھی۔ اِس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا، اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے ہی مدینے میں یہ افواہیں اُڑانی شروع کردیں تھیںکہ رسول اللہ ا شہید کردیے گئے اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی اور اب اَبوجہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے لیکن جب نتیجہ اُن کی اُمیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے، بنی نضیرکا سردار کعب بن اشرف چیخ اُٹھا: ’’خدا کی قسم! اگر محمد نے ان اشراف عرب کو قتل کردیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سرداران قریش مارے گئے تھے اُن کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اُکسایا۔ پھر مدینہ واپس آکر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہار عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اُس کی شرارتوں سے تنگ آکر رسول اللہ ا نے ربیع الاوّل ۳ ھ؁ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرادیا۔ (ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ طبری)
یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑدیا، بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے اور چوں کہ یہ سنہار، لوہار اور ظروف ساز تھے، اسی لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا، آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو(۷۰۰) مردان جنگی ان کے اندر موجود تھے اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خزرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبد اللہ بن ابی اُن کا پشتیبان تھا۔ بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا اور خاص طور پر ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو برسر عام برہنہ کردیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہوگیا۔ جب حالات اِس حد تک پہنچ گئے تو رسول اللہ ا ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کرکے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی مگر انہوں نے جواب دیا:’’اے محمد! تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انہیں مار لیا، ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔‘‘ یہ گویا صاف صاف اعلان جنگ تھا۔ آخر کار رسول اللہ ا نے شوال (اور بروایت بعض ذی القعدہ) ۲ ھ؁ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کرلیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبد اللہ بن اُبی ان کی حمایت کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کردیں، چناں چہ حضور ا نے اس کی درخواست قبول کرکے یہ فیصلہ فرمادیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلات صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں۔ (ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ طبری)
ان دو سخت اقدامات (یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی مگر اس کے بعد شوال ۳ ھ؁ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ آئے اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلے میں رسول اللہ ا کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہوکر پلٹ آئے ہیں تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح خلاف ورزی اِس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوئے حالاں کہ وہ اس کے پابند تھے پھر جب معرکۂ اُحد میں مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچا تو ان کی جرأتیں اور بڑھ گئیں یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ ا کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہوگئی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ صفر ( ۴ ھ؁) کے بعد عمرو بن اُمیہ ضمری نے انتقامی کارروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا جو دراصل ایک معاہد قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کا آدمی سمجھ لیا تھا، اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون بہا مسلمانوں پر واجب آگیا تھا اور چوں کہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے اس لیے رسول اللہ ا چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خون بہا کی ادائے گی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرادے جس کی دیوار کے سائے میں آپ تشریف فرما تھے مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بروقت خبردار کردیا اور آپ فوراً وہاں سے اُٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور ا نے ان کو بلا تاخیر اَلٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی وہ میرے علم میں آگئی ہے لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ، اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھہرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا اس کی گردن مار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبد اللہ بن اُبی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دوہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا اور بنی قریظہ اور بنو غطفان بھی تمہاری مدد کو آئیں گے تم ڈٹ جاؤ اور ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔ اس جھوٹے بھروسے پر انہوں نے حضور ا کو اَلٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے آپ سے جو کچھ ہوسکے کرلیجیے۔ اس پر ربیع الاوّل ۴ ھ؁ میں نبی ا نے ان کا محاصرہ کرلیااور صرف چند روز کے محاصرہ کے بعد (جس کی مدت بعض روایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آئی ہے) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہوگئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کر لے جاسکیں گے لے جائیں گے۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینہ کی سرزمین خالی کرالی گئی۔ ان میں سے صرف دو ( ولم یسلم من بنی النضیر الا رجلان یامین بن عُمَیر اَبو کعب بن عمرو بن جحاش و ابو سعد بن وھب۔ اسلما علی اموالھا فاحرزاھما (ابن ھشام،ج۳، ص۲۹۱، امرا جلاء بنی النضیر) مسلمان ہوکر یہاں ٹھہر گئے باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔
(ابن ہشام،ج۳ص۲۹۱۔ امرا جلاء بنی النضیر، تفہیم القرآن ،ج۵، حشر: تاریخی پس منظر)

انصار کا ایثار

١١-مہاجرین جب مکہ اور دوسرے مقامات سے ہجرت کرکے (مدینہ) آئے تو (انصار) نے رسول اللہ ا کی خدمت میں یہ پیش کش کی کہ ہمارے باغ اورنخلستان حاضر ہیں آپ انہیں ہمارے اور ان مہاجر بھائیوں کے درمیان بانٹ دیں۔ حضورا نے فرمایا:’’یہ لوگ توباغبانی نہیں جانتے، یہ اُس علاقے سے آئے ہیں، جہاں باغات نہیں ہیں، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اپنے ان باغوں اور نخلستانوں میں کام تم کرو اورپیداوار میں سے حصہ اِن کو دو؟‘‘ انہوں نے کہا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا(’’بسرو چشم منظور ہے۔‘‘) (بخاری، ابن جریر) اس پر مہاجرین نے عرض کیا:’’ہم نے کبھی ایسے لوگ نہیں دیکھے جو اس درجہ ایثار کرنے والے ہوں، یہ کام خود کریں گے اور حصہ ہم کو دیں گے ہم تو سمجھتے ہیں کہ سارا اجر یہی لوٹ لے گئے۔‘‘ حضور ا نے فرمایا:’’نہیں! جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور ان کے حق میں دعائے خیرکرتے رہوگے، تم کوبھی اجر ملتا رہے گا۔ (مسند احمد)
(تفہیم القرآن،ج۵، حشر، حاشیہ:۱۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ اَبُوْ ھَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوالزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَتِ الْاَنْصَارُ: اَقْسِمْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمُ النَّخْلَ، قَالَ: لاَ، قَالَ: تَکْفُوْنَّا الْمَؤُنَۃَ وَ تُشْرِکُوْنَّا فِی الْاَمْرِ، قَالُوْا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۔(١٧)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ انصار نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ہمارے اور مہاجرین کے مابین کھجوروں کے درخت تقسیم فرمادیں۔ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:’’نہیں، بلکہ محنت و مشقت تم کرو اور ہمیں کھجوروں میں شریک کرو۔‘‘ انہوں نے کہا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ’’بسرو چشم منظور ہے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ زَیْدٍ فِیْ قَوْلِہٖ: (وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوْا) الْمُھَاجِرُوْنَ، قَالَ: وَ تَکَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ یَعْنِیْ اَمْوَالَ بَنِی النَّضِیْرِ بَعْضُ مَنْ تَکَلَّمَ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَعَاتَبَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ ذٰلِکَ، فَقَالَ:(وَمَا اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ، مِنْھُمْ فَمَا اَوْ جَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلاَ رِکَابٍ وَ ٰ لکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ، وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَـْیئٍ قَدِیْرٌ) قَالَ: قَاَل رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَھُمْ: اِنَّ اِخْوَانَکُمْ قَدْ تَرَکُوْا الْاَمْوَالَ، وَالْاَوْلاَدَ، وَ خَرَجُوْا اِلَیْکُمْ، فَقَالُوْا: اَمْوَالُنَا بَیْنَھُمْ قَطَائِعَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَوَ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ قَالُوْا: وَمَا ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ھُمْ قَوْمٌ لاَ یَعْرِفُوْنَ الْعَمَلَ فَتَکْفُوْنَھُمْ وَ تَقَاسَمُوْنَھُمُ الثَّمَرَ، فَقَالُوْا: نَعَمْ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔(١٨)
ترجمہ: ابن زید کی تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوْا) میں مہاجرین مراد ہیں۔ جب بنو نضیر کے اموال مہاجرین میں تقسیم ہوئے تو کسی انصاری نے اس سلسلہ میں کلام کیا، اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے انصار کو عتاب کیا اور فرمایا: (وَمَا اَفَآئَ اللّٰہُ۔۔۔)’’اللہ نے بنو نضیر کا جو مال بطور فئے اپنے رسول کو دیا ہے، اس پر تم نے اپنے گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے تھے بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلّط عطا فرما دیتا ہے۔ اور اللہ توہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ آں حضور ا نے ان سے فرمایا: ’’تمہارے مہاجر بھائی اپنے اموال اور اولاد چھوڑ کر تمہارے پاس آئے ہیں‘‘ انصار نے کہا: ’’آپ ہمارا مال ہمارے اور ان کے درمیان بانٹ دیں۔‘‘ آپ نے دریافت فرمایا: ’’اس کے علاوہ بھی کچھ کرسکتے ہو؟‘‘ انصار بولے: ’’وہ کیا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’مہاجرین کھیتی باڑی اور باغبانی کا کام نہیں کرسکتے، محنت تم خود کرو اور پیداوار ان میں اور اپنے درمیان تقسیم کرو۔‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! ہمیں بسرو چشم منظور۔‘‘
ابن کثیر نے ابوہریرہؓ سے روایت نقل کی ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَتِ الْاَنْصَارُ: اَقْسِمْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ اِخْوَانِنَا النَّخِیْلَ، قَالَ:لاَ، اَتَکْفُوْنَا الْمَؤُنَۃَ وَ نُشْرِکُکُمْ فِی الثَّمَرَۃِ؟ قَالُوْا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۔ (١٩)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ انصار نے پیش کش کی کہ یارسول اللہ! آپ ہمارے کھجوروں کے باغات ہمارے اور مہاجرین بھائیوں کے درمیان بانٹ دیں، آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: نہیں، کیا تمہیں منظور ہے کہ محنت و مشقت تم خود کرو اور پیداوار میں ہمیں شریک رکھو؟ انصار بولے: سمعنا و اطعنا (بسرو چشم منظور ہے)
(۴) حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِیُّ بِمَکَّۃَ، نَا ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، نَا حُمَیْدٌ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ اَتَاہُ الْمُھَاجِرُوْنَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا رَأَیْنَا قَوْمًا اَبْذَلَ مِنْ کَثِیْرٍ وَلاَ اَحْسَنَ مَوَاسَاۃً مِنْ قَلِیْلٍ مِنْ قَوْمٍ، نَزَلْنَا بَیْنَ اَظْھُرِھِمْ، لَقَدْ کَفَوْنَا الْمَؤُنَۃَ وَ اَشْرَکُوْنَا فِی الْھُنَائِ حَتّٰی لَقَدْ خِفْنَا اَنْ یَّذْھَبُوْا بِالْاَجْرِ کُلِّہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لاَ مَادَعَوْتُمُ اللّٰہَ لَھُمْ وَ اَثْنَیْتُمْ عَلَیْھِمْ۔ (٢٠)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی ا مدینہ میں تشریف لائے تو مہاجرین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! ہم نے تو ایسے لوگ نہیں دیکھے جو تھوڑے میں سے تھوڑا اور زیادہ میں سے زیادہ خرچ کرتے ہیں، محنت و مشقت خود برداشت کرتے ہیں اور ناز برداریوں میں ہمیں برابر کا شریک رکھتے ہیں، ہمیں تو اس درجہ ایثار کرنے والے لوگ نہیں ملے، ہمیں اندیشہ و خوف ہے کہ سارے کا سارا اجر و ثواب یہی لوٹ کر لے جائیں گے؟ یہ سن کر نبی ا نے فرمایا: ’’نہیں ایسا نہیں جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہوگے اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو گے۔‘‘
١٢-جب بنی النضیرکا علاقہ فتح ہوا تو رسول اللہا نے فرمایا: ’’اب بندو بست کی ایک شکل یہ ہے کہ تمہاری املاک اور یہودیوں کے چھوڑے ہوئے باغات اور نخلستانوں کو ملا کر ایک کردیا جائے اور پھر اس پورے مجموعے کو تمہارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا جائے اور دوسری شکل یہ ہے کہ تم اپنی جائیدادیں اپنے پاس رکھو اور یہ متروکہ اراضی مہاجرین میں بانٹ دی جائیں۔ انصارؓ نے عرض کیا: یہ جائیدادیں آپ ان میں بانٹ دیں اور ہماری جائیدادوں میں سے بھی جو کچھ آپ چاہیں ان کو دے سکتے ہیں۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ پکار اُٹھے: (جزاکم اللّٰہ یا معشر الانصار خیراً) (یحییٰ بن آدم، بلاذری) اس طرح انصار کی رضا مندی سے یہودیوں کے چھوڑے ہوئے اموال مہاجرین ہی میں تقسیم کیے گئے اور انصار میں سے صرف حضرت ابودُجانہ، حضرت سہل بن حنیف اور (بروایت بعض) حضرت حارثہ بن الصمہ کو حصہ دیا گیا کیوں کہ یہ حضرات بہت غریب تھے۔ (بلاذری۔ ابن ہشام۔ روح المعانی)
اسی طرح انصار نے اس وقت بھی ایثار کا ثبوت دیا جب بحرین کا علاقہ اسلامی حکومت میںشامل ہوا، رسول اللہ ا چاہتے تھے کہ اس علاقے کی مفتوحہ اراضی انصار کو دی جائیں مگر انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس میں سے کوئی حصہ نہ لیں گے جب تک اتنا ہی ہمارے مہاجر بھائیوں کو نہ دیا جائے۔ (یحییٰ بن آدم)۔ (تفہیم القرآن،ج۵ ، حشر، حاشیہ:۱۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ اٰدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنِ الْکَلْبِیِّ، قَالَ: لَمَّا ظَھَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی اَمْوَالِ بَنِی النَّضِیْرِ وَ کَانُوْا اَوَّلَ مَنْ اُجْلِیَ قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: (ھُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ) (وَالْحَشْرُ اَلْجَلاَئُ) فَکَانَتْ مِمَّا لَمْ یُوْجِفِ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَیْہِ بِخَیْلٍ وَّلاَ رِکَابٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، لِلْاَنْصَارِ لَیْسَتْ لِاِخْوَانِکُمْ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ اَمْوَالٌ، فَاِنْ شِئْتُمْ قَسَمْتُ ھٰذِہِ وَ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ جَمِیْعًا، وَ اِنْ شِئْتُمْ اَمْسَکْتُمْ اَمْوَالَکُمْ وَ قَسَمْتُ ھٰذِہِ فِیْھِمْ خَاصَّۃً؟ فَقَالُوْا: بَلِ اقْسِمْ ھٰذِہٖ فِیْھِمْ وَاقْسِمْ لَھُمْ مِنْ اَمْوَالِنَا مَا شِئْتَ، فَنَزَلَتْ: (وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَ لَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ) فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: جَزَاکُمُ اللّٰہُ یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ خَیْرًا۔ (فتوح البلدان۔ بلاذری،ج١،ص٢٦-٢٧)
قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَ خَلَّوُا الْاَمْوَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ خَاصَّۃً، یَضَعُھَا حَیْثُ یَشَآئُ، فَقَسَّمَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْمُھَاجِرِیْنَ الْاَوَّلِیْنَ دُوْنَ الْاَنْصَارِ۔ اِلاَّ اَنَّ سَھْلَ بْنَ حُنَیْفٍ وَ اَبَا دُجَانَۃَ سِمَاکَ بْنِ خَرْشَۃَ، ذُکِرَا فَقْرًا، فَاَعْطَاھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(۲۱)
ترجمہ: کلبی نے بیان کیاکہ: جب رسول اللہ ا بنی النضیر کے اموال پر غالب ہوئے اوریہ پہلی قوم تھی جوجلاوطن کی گئی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ــــ ھُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ــــ (الحشر:۲) ــــوہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کفران نعمت کرنے والوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا(کہ وہ اپنے ساتھیوں سے جاملیں جو ان سے پہلے جلاوطن کیے جاچکے ہیں)اوریہ ان اموال میں سے تھے جن پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ رسول اللہا نے انصار سے دریافت فرمایا:’’تمہارے بھائی مہاجر نادار ہیں اگر تمہاری مرضی ہو تو میں یہ مال اور تمہارے اموال کے پورے مجموعے کو تمہارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کردوں؟ اور اگر یہ نہ چاہو تو تم اموال اپنے ہی پاس رکھو اور میں یہ مال انہی میں تقسم کردیتا ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’یہ جائیدادیں آپ انہی میںبانٹ دیں اور ہماری جائیدادوں میں سے بھی جو کچھ آپ چاہیں انہیں عطا فرمادیجیے۔ ان کی نسبت یہ آیت نازل ہوئی: ــــ وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَ لَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ ــــ (الحشر:۹) ’’وہ ایثار کرکے اپنے اوپر مہاجرین کو ترجیج دیتے ہیں اگرچہ وہ خود مفلس ہی ہوجائیں۔‘‘ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے کہا:’’اللہ تمہیں جزائے خیر دے، اے گروہ انصار!‘‘
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ یہود نے اپنے اموال رسول اللہا کے لیے چھوڑے یہ اموال بطور خاص آپ ہی کے لیے تھے، آپ جس طرح چاہتے ان میں تصرف فرماتے، لیکن رسول اللہ ا نے یہ اموال مہاجرین اولین میں تقسیم فرمادیے، انصار اس تقسیم میں شامل نہ تھے، البتہ سہل بن حنیف اور ابو دُجانہ سماک بن خرشہ کے افلاس و فقر کا حال رسول اللہ ا کو بتایا گیا تو آپ نے کچھ انہیں بھی عطا فرمادیا۔
امام شوکانی فتح القدیر میںبیان کرتے ہیں:
(۲) فَلَمَّا غَنَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ، بَنِی النَّضِیْرِ دَعَا الْاَنْصَارَ وَ شَکَرَھُمْ فِیْمَا صَنَعُوْا مَعَ الْمُھَاجِرِیْنَ مِنْ اِنْزَالِھِمْ اِیَّاھُمْ فِیْ مَنَازِلِھِمْ، وَ اِشْرَاکِھِمْ فِیْ اَمْوَالِھِمْ، ثُمَّ قَالَ: اِنْ اَحْبَبْتُمْ قَسَّمْتُ مَا اَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیَّ مِنْ بَنِی النَّضِیْرِ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ الْمُھَاجِرِیْنَ، وَکَانَ الْمُھَاجِرُوْنَ عَلٰی مَا ھُمْ عَلَیْہِ مِنَ السُّکْنٰی فِیْ مَسَاکِنِھِمْ وَالْمُشَارَکَۃِ لَکُمْ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَ اِنْ اَحْبَبْتُمْ اَعْطَیْتُھُمْ ذٰلِکَ وَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ، فَرَضُوْا بِقِسْمَۃِ ذٰلِکَ فِی الْمُھَاجِرِیْنَ وَ طَابَتْ اَنْفُسُھُمْ۔(٢٢)
ترجمہ: جب نبی ا نے بنی نضیر کے غنائم حاصل کیے تو آپ نے انصار کو بلایا اور مہاجرین کو اپنے ہاں ٹھہرانے اوران کو اپنے اموال میں شریک کرنے پران کا شکریہ اداکیا پھر فرمایا: اگر تم پسند کرو، توبنی نضیر کے جواموال اللہ تعالیٰ نے میری طرف پلٹائے ہیں تمہارے اور مہاجرین کے درمیان بانٹ دوں اور مہاجرین جہاں اب رہائش رکھے ہوئے ہیں انہی گھروں میں رہیں اور تمہارے اموال میں شریک بھی رہیں اور اگر تمہیں یہ پسند ہوکہ میں یہ اموال انہیں دے دوں اور تمہارے گھروں سے وہ نکل جائیں، مہاجرین اس تقسیم پر راضی ہوگئے خوش اور مطمئن ہوگئے۔
(۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسًا قَالَ: اَرَادَ النَّبِیُّ ﷺ اَنْ یُقْطِعَ مِنَ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ: حَتّٰی تُقْطِعَ لِاِخْوَانِنَا مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مِثْلَ الَّذِیْ تُقْطِعُ لَنَا، قَالَ: سَتَرَوْنَ بَعْدِیْ اِثْرَۃً فَاصْبِرُوْا۔ حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔(٢٣)
ترجمہ: یحییٰ بن سعید سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی ا نے بحرین کی مفتوحہ اراضی انصار میں تقسیم کرنے کا ارادہ فرمایا تو انصار نے عرض کیا: جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اتنا حصہ نہ دیں (اس وقت تک ہم نہیں لیں گے) آپ نے فرمایا: ’’میرے بعد تمہیں خود غرضی سے واسطہ پڑے گا، پس مجھ سے ملاقات کرنے تک صبر کرنا۔‘‘
(۴) عَنْ اَنَسٍ، دَعَا النَّبِیُّ ﷺ الْاَنْصَارَ لِیُقْطِعَ لَھُمْ بِالْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ فَعَلْتَ، فَاکْتُبْ لِاِخْوَانِنَا مِنْ قُرَیْشٍ بِمِثْلِھَا فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِیْ اِثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔(۲۴)
ترجمہ: حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ا نے بحرین کی مفتوحہ اراضی دینے کے لیے انصار کو مدعو فرمایا تو انہوں نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ! اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے قریشی بھائیوں کو بھی ویسا ہی حصہ دیں۔‘‘ رسول اللہا کے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ نے فرمایا: ’’میرے بعد تمہیں خود غرضی اور خود پسندی سے سابقہ پیش آئے گا، پس تم مجھ سے ملاقات تک صبرکا دامن نہ چھوڑنا۔‘‘
(۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیٰی قِیْلَ لِسُفْیَانِ یَعْنِیْ عَنْ اَنَسٍ یَقُوْلُ دَعَاالنَّبِیُّ صَلَعَمْ اَلْاَنْصَارَ یُقْطِعُ لَھُمُ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا لاَ حَتّٰی نُقْطِعَ لِاِخْوَانِنَا مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مِثْلَنَا فَقَالَ اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ اَثْرَۃٌ فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔(٢٥)
ترجمہ: یحییٰ بن سعید سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انسؓ سے بیان کرتے سنا کہ نبی ا نے بحرین کی مفتوحہ اراضی دینے کے لیے انصار کو بلایا تو انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا نہیں تاوقتیکہ آپ ہمارے مہاجرین بھائیوں کو بھی ایسا ہی عنایت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا! ایسا تو اس وقت مشکل ہے، پھر تم مجھ سے (حوض کوثر) پرملاقات تک صبر سے کام لینا کیوں کہ تمہیں میرے بعد خود پسندی اور خود غرضی سے واسطہ پڑے گا۔

واقعۂ نخلہ

١٣-آپؐ نے فرمایا:’’میںنے تمہیں لڑنے کی اجازت تونہیں دی تھی۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ حَجْشِ بْنِ رِئَابِ نِ الْاَسَدِیُّ فِیْ رَجَبَ، مَقْفَلَہٗ مِنْ بَدْرِ الْاُوْلٰی، وَ بَعَثَ مَعَہٗ ثَمَانِیَۃَ رَھْطٍ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ، لَیْسَ فِیْھِمْ مِنَ الْاَنْصَارِ اَحَدٌ، وَ کَتَبَ لَہٗ کِتَابًا وَ اَمَرَہُ اَلاَّ یَنْظُرَ فِیْہِ حَتّٰی یَسِیْرَ یَوْمَیْنِ ثُمَّ یَنْظُرُ فِیْہِ، فَیَمْضِیْ لِمَا اَمَرَہٗ بِہٖ، وَلاَ یَسْتَکْرَہُ مِنْ اَصْحَابِہٖ اَحَدًا۔۔۔ فَلَمَّا سَارَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَحْشٍ یَوْمَیْنِ فَتَحَ الْکِتَابَ، فَنَظَرَ فِیْہِ فَاِذَا فِیْہِ: اِذَا نَظَرْتَ فِیْ کِتَابِیْ ھٰذَا فَامْضِ حَتّٰی تَنْزِلَ نَخْلَۃَ، بَیْنَ مَکَّۃَ وَالطَّائِفَ، فَتَرَصَّدْ بِھَا قُرَیْشًا وَ تَعَلَّمْ لَنَا مِنْ اَخْبَارِھِمْ، فَلَمَّا نَظَرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَحْشٍ فِی الْکِتَابَ، قَالَ: سَمْعًا وَ طَاعَۃً ثُمَّ قَالَ لِاَصْحَابِہٖ: قَدْ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ اَمْضِیَ اِلٰی نَخْلَۃَ، اَرْصُدُ بِھَا قُرَیْشًا، حَتّٰی ٰ اتِیَہٗ مِنْھُمْ بِخَبَرٍ وَ قَدْ نَھَانِیْ اَنْ اَسْتَکْرِہَ اَحَدًا مِنْکُمْ۔ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُرِیْدُ الشَّھَادَۃَ وَ یَرْغَبُ فِیْھَا فَلْیَنْطَلِقْ، وَ مَنْ کَرِہَ ذٰلِکَ فَلْیَرْجِعْ، فَاَمَّا اَنَا فَمَاضٍ لِاَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَمَضٰی وَ مَضٰی مَعَہٗ اَصْحَابُہٗ، لَمْ یَتَخَلَّفْ عَنْہُ مِنْھُمْ اَحَدٌ۔ وَ سَلَکَ عَلَی الْحِجَازِ، حَتّٰی اِذَا کَانَ بِمَعْدِنٍ، فَوْقَ الْفُرُعِ یُقَالُ لَہٗ: بَحْرَانَ، اَضَلَّ سَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ، وَ عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ بَعِیْرًا لَھُمَا، کَانَا یَعْتَقِبَانِہٖ، فَتَخَلَّفَا عَلَیْہِ فِیْ طَلَبِہٖ، وَ مَضٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَحْشٍ وَ بَقِیَّۃُ اَصْحَابِہٖ حَتّٰی نَزَلَ بِنَخْلَۃَ، فَمَرَّتْ بِہٖ عِیْرٌ لِقُرَیْشٍ تَحْمِلُ زَبِیْبًا وَ اَدَمًا، وَ تِجَارَۃً مِنْ تِجَارَۃِ قُرَیْشٍ، فِیْھَا عَمْرُو بْنُ الْحَضْرَمِیِّ۔ فَلَمَّا رَاٰھُمُ الْقَوْمُ ھَابُوْھُمْ وَ قَدْ نَزَلُوْا قَرِیْبًا مِنْھُمْ، فَاَشْرَفَ لَھُمْ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ، وَکَانَ قَدْ حَلَّقَ رَأسَہٗ، فَلَمَّا رَاَوْہُ اَمِنُوْا، وَ قَالُوْا: عُمَّارٌ، لاَ بَأْسَ عَلَیْکُمْ مِنْھُمْ۔ وَ تَشَاوَرَ الْقَوْمُ فِیْھِمْ، وَ ذَالِکَ فِیْ اٰخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَجَبَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: وَاللّٰہِ لَئِنْ تَرَکْتُمُ الْقَوْمَ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ، لَیَدْخُلُنَّ الْحَرَمَ، فَلْیَمْتَنِعُنَّ مِنْکُمْ بِہٖ، وَ لَئِنْ قَتَلْتُمُوْھُمْ لَتَقْتُلُنَّھُمْ فِی الشَّھْرِ الْحَرَامِ، فَتَرَدَّدَ الْقَوْمُ، وَ ھَابُوا الْاِقْدَامَ عَلَیْھِمْ، ثُمَّ شَجَّعُوْا اَنْفُسَھُمْ عَلَیْھِمْ، وَ اَجْمَعُوْا عَلٰی قَتْلِ مَنْ قَدَرُوْا عَلَیْہِ مِنْھُمْ، وَ اَخْذِ مَا مَعَھُمْ، فَرَمٰی وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ التَّمِیْمِیُّ عَمْرَو بْنَ الْحَضْرِمِیِّ بِسَھْمٍ فَقَتَلَہٗ، وَاسْتَأْسَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، وَالْحَکَمَ بْنَ کَیْسَانَ، وَ اَفْلَتَ الْقَوْمَ نَوْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَاَعْجَزَھُمْ، وَاَقْبَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حَجْشٍ وَ اَصْحَابُہُ بِالْعِیْرِ وَ بِالْاَسِیْرَیْنِ، حَتّٰی قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ۔ فَلَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ۔ قَالَ:مَا اَمَرْتُکُمْ بِقِتَالٍ فِی الشَّھْرِ الْحَرَامِ۔ فَوَقَّفَ الْعِیْرَ وَالْاَسِیْرَیْنِ، وَ اَبٰی اَنْ یَّأْخُذَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا، فَلَمَّا قَالَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سُقِطَ فِیْ اَیْدِی الْقَوْمِ، وَ ظَنُّوْا اَنَّھُمْ قَدْ ھَلَکُوْا وَ عَنَّفَھُمْ اِخْوَانُھُُمْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْمَا صَنَعُوْا، وَ قَالَتْ قُرَیْشٌ: قَدِ اسْتَحَلَّ مُحَمَّدٌ وَ اَصْحَابُہٗ الشَّھْرَ الْحَرَامَ، وَ سَفَکُوْا فِیْہِ الدَّمَ، وَ اَخَذُوْا فِیْہِ الْاَمْوَالَ وَ اَسَرُوْا فِیْہِ الرِّجَالَ۔(٢٦)
تشریح: یہ بات ایک واقعہ سے متعلق ہے۔ رجب ۲ ھ؁میں نبی ا نے آٹھ آدمیوں کا ایک دستہ نخلہ کی طرف بھیجا تھا (جو مکے اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) اور ا س کو ہدایت فرمادی تھی کہ قریش کی نقل و حرکت اور ان کے آئندہ ارادوں کے متعلق معلومات حاصل کرے، جنگ کی کوئی اجازت آپ نے نہیں دی تھی لیکن ان لوگوں کو راستے میں قریش کا ایک چھوٹا سا تجارتی قافلہ ملا اور اس پر انہوں نے حملہ کرکے ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کوان کے مال سمیت گرفتار کرکے مدینے لے آئے۔ یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی جب کہ رجب ختم اور شعبان شروع ہورہا تھا اور یہ امر مشتبہ تھا کہ آیا حملہ رجب (ماہ حرام) ہی میں ہوا ہے یا نہیں لیکن قریش نے اوران سے درپردہ ملے ہوئے یہودیوں اور منافقین مدینہ نے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لیے اس واقعہ کو خوب شہرت دی اور سخت اعتراضات شروع کردیے کہ یہ لوگ چلے ہیں بڑے اللہ والے بن کر اور حال یہ ہے کہ ماہِ حرام تک میں خونریزی سے نہیں چوکتے۔
ان اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ ماہِ حرام میں لڑنا بڑی بری حرکت ہے مگر اس پر اعتراض کرنا ان لوگوں کے منہ کو تو زیب نہیں دیتا جنہوں نے ۱۳ برس مسلسل اپنے سینکڑوں بھائیوں پر صرف اس لیے ظلم توڑے کہ وہ ایک خدا پر ایمان لائے تھے، پھر ان کو یہاں تک تنگ کیا کہ وہ جلاوطن ہونے پر مجبور ہوگئے، پھر اس پر بھی اکتفا نہ کیا اور اپنے ان بھائیوں کے لیے مسجد حرام تک جانے کا راستہ بھی بند کردیا حالاں کہ مسجد حرام کسی کی مملوکہ جائیداد نہیں ہے اور پچھلے دو ہزار برس میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کو اس کی زیارت سے روکا گیا ہو، اب جن ظالموں کا نامۂ اعمال ان کرتوتوں سے سیاہ ہے ان کا کیا منہ ہے کہ ایک معمولی سی سرحدی جھڑپ پر اس قدر زور شور کے اعتراضات کریں حالاں کہ اس جھڑپ میں جو کچھ ہوا ہے وہ نبی ا کی اجازت کے بغیر ہواہے اور اس کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اسلامی جماعت کے چند آدمیوں سے ایک غیر ذمہ دارانہ فعل کا ارتکاب ہوگیا ہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی معلوم رہنی چاہیے کہ جب یہ دستہ قیدی اور مال غنیمت لے کر نبی ا کے پاس پہنچا تو آپ نے مندرجہ بالا حدیث ارشاد فرمائی، نیز آپ نے ان کے لائے ہوئے مال غنیمت میں سے بیت المال کا حصہ لینے سے بھی انکار فرمادیا تھا، جواس بات کی علامت تھی کہ ان کی یہ لوٹ ناجائز ہے، تمام مسلمانوں نے بھی اس فعل پر اپنے ان آدمیوں کو سخت ملامت کی تھی اور مدینے میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے انہیں اس پر داد دی ہو ۔
(تفہیم القرآن،ج۱،بقرہ، حاشیہ:۲۳۲)
ترجمہ: رسول اللہ ا نے غزوۂ بدر اولیٰ سے واپسی کے بعد ماہ رجب میں عبد اللہ بن جحش بن رئاب الاسدی کو مہاجرین میں سے آٹھ آدمیوں کے ساتھ روانہ فرمایا، کوئی انصاری ان میں شریک نہیں تھا۔ آپ نے عبد اللہ کو نوشتہ تحریر کروا کر حکم دیاکہ اس مکتوب کو دو دن کی مسافت تک نہ کھولیں۔ اس کے بعد اسے ملاحظہ کریں، اس میں جو فرمان تحریر ہے اس کے مطابق عمل کریں مگر ساتھیوں میں سے کسی کو تعمیل پر مجبور نہ کریں۔۔۔ عبد اللہ نے جب دو دن کی مسافت طے کرلی تواس مکتوب کو کھولا تو اس میں تحریر تھا: ’’جب تم میری اس تحریر کو دیکھو تو چلتے جاؤ کہ مکہ اور طائف کے درمیان واقع جگہ نخلہ میں جا قیام کرو اور اس جگہ قیام کے دوران میں قریش کی کار روائیوں کی نگرانی کرو اور ان سے ہمیں مطلع کرتے رہو۔‘‘ جب عبد اللہ نے یہ تحریر دیکھی تو کہا: ’’بسرو چشم۔‘‘ پھر اپنے ساتھیوں سے اس کا ذکر کیا کہ ’’رسول اللہا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں نخلہ میں جاؤں اور وہاں ٹھہر کر قریش کے حالات و احوال کی نگہبانی کرتا رہوں اور آپ کو اطلاع دیتارہوں، تم میں سے کسی کو بھی اس کے لیے مجبور کرنے سے آپ نے مجھے روک دیا ہے، تم میں سے جو جام شہادت نوش کرنے کا شوقین ہے اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی خوشی سے میرے ساتھ چلے اور جسے یہ چیز نا پسند ہے وہ واپس لوٹ جائے،میں تو فرمان رسالت مآب کے مطابق جانے والا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر عبد اللہ چل کھڑے ہوئے ان کے ساتھی بھی ان کے ساتھ چل پڑے، ان میں سے ایک بھی اس سے پیچھے نہ رہا۔ وہ سب حجاز کے راستہ پر چلے اور فرع نامی معدن جسے بحران بھی کہا جاتاہے پر پہنچے تو وہاں سعد ابن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا وہ اونٹ گم ہوگیا جسے وہ اپنے پیچھے لارہے تھے وہ دونوں تواس اونٹ کی تلاش میںپیچھے رہ گئے، عبداللہ اور اس کے باقی ساتھی وہاں سے چلے اور نخلہ کے مقام پر فروکش ہوئے، ان کے پاس سے قریش کاایک تجارتی قافلہ گزرا جو منقی ٰاور چمڑا اور دوسرا تجارتی سامان لیے جارہا تھا، اس میں عمرو بن الحضرمی بھی شامل تھا۔ ۔۔۔ جب ان لوگوں نے انہیں (مہاجرین) کو دیکھا تو ہیبت زدہ ہوگئے وہ ان کے قریب ہی فروکش ہوئے تھے۔ عکاشہ بن محصن نے جاکر انہیں دیکھا، عکاشہ نے اپنا سر منڈایا ہوا تھا، اسے دیکھ کر وہ مطمئن ہوگئے اور سمجھے کہ عمرہ کرنے والے لوگ ہیں، ان سے تمہیں کوئی خطرہ و خوف نہیں۔ یہ واقعہ ماہ رجب کے آخری دن کا تھا، مہاجرین نے باہم صلاح و مشورہ کیا اور کہا: واللہ! اگر ان لوگوں کوآج رات چھوڑدیا تو یہ حرم میں داخل ہوجائیں گے اور پھر اس وجہ سے تم ان پر ہاتھ نہ اُٹھا سکوگے اور اگر تم نے انہیں قتل کیا تو یہ قتل ماہ حرام میں شمار ہوگا۔ غرض وہ تردد و تذبذب میں مبتلا رہے اور پیش قدمی سے گھبرائے، آخر کار حملہ کرنے کے لیے اپنے دل مضبوط کیے اور اجماعی فیصلہ کیا کہ ان میں سے جس پر قابو پایا جاسکے اسے قتل کردیا جائے اور ان کے پاس جو کچھ ہواسے چھین لیا جائے، واقد بن عبد اللہ تمیمی نے عمرو بن الحضرمی پرایک تیر مارااور اسے قتل کردیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو قید کرلیا۔ نوفل بن عبد اللہ نے اپنے ساتھیوں کو چھوڑا اور مخالفوں کو عاجز کرکے بچ کر نکل گیا۔۔۔ عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھی قافلے اونٹ اور دونوں قیدیوں کو لے کر رسول اللہ ا کی خدمت میں مدینہ منورہ پہنچے۔ جب یہ لوگ مدینہ میں رسول اللہ ا کی خدمت میںپہنچے تو آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں ماہ حرام میں کسی جنگ کا تو حکم نہیں دیا تھا۔‘‘ پھر قافلے کے اونٹوں اور دونوں اسیروں کا معاملہ ملتوی رکھا اور اس میں سے کچھ بھی لینے سے انکار کردیا۔ رسول اللہا کا یہ ارشاد سن کر وہ لوگ پشیمان ہوئے اور خیال کیا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوگئے، دوسرے مسلمان بھائیوں نے بھی ان کی کارگزاری پر لے دے کی۔ قریش نے کہا: محمد اور اس کے رفقاء نے ماہ حرام کو بھی حلال کردیا اور اس میں خونریزی کا ارتکاب کیا۔ مال و متاع لوٹا اور لوگوں کو قید کرلیا۔

غزوۂ بدر

١٤-(جنگ بدر کے موقع پر) آپؐ نے فرمایا: ’’ایک طرف شمال میں تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف جنوب سے قریش کا لشکر چلا آرہا ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک تمہیں مل جائے گا، بتاؤ تم کس کے مقابلے پر چلنا چاہتے ہو؟‘‘
تخریج:(۱) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا بَلَغَہٗ خُرُوْجُ النَّفِیْرِ اَوْحَی اللّٰہُ اِلَیْہِ یَعِدُہٗ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اِمَّا الْعِیْرُ وَ اِمَّا النَّفِیْرُ۔۔۔ وَ رَغِبَ کَثِیْرٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَی الْعِیْرِ لِاَنَّہٗ کَسَبٌ بِلاَ قِتَالٍ۔(٢٧)
ترجمہ: رسول اللہ ا کو جب مقابلہ کے لیے نکلنے والوں کی خبر پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اس میں آپ سے اللہ تعالیٰ دو گروہوں سے ایک کا وعدہ کرتاہے، تجارتی قافلہ یا لشکر قریش سے نبرد آزمائی کا، مسلمانوں کی اکثریت نے تجارتی قافلہ کی جانب جانے کی دلچسپی کا اظہار کیا کیوں کہ یہ بغیر کسی قسم کے عمل و کسب کے حاصل ہونے والا ہے۔‘‘
(۲) وَ قَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ سَبَبِ نُزُوْلِ قَوْلِہٖ تَعَالٰی: (کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکَارِھُوْنَ) وَ عِنْدَ ذٰلِکَ قَامَ اَبُوْبَکْرٍ، فَقَالَ وَ اَحْسَنَ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ، فَقَالَ وَ اَحْسَنَ، ثُمَّ قَامَ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِمْضِ لِمَا اَمَرَکَ اللّٰہُ، فَنَحْنُ مَعَکَ، وَاللّٰہِ! لاَ نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ: اَیْ لِمُوْسٰی: (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ) اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا مَعَکُمْ مُقَاتِلُوْنَ مَادَامَتْ مِنَّا عَیْنٌ تَطْرُفُ۔۔۔الخ(٢٨)
(۳) وَ قَدْ رَوَی ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ فِیْ تَفْسِیْرِہٖ وَ ابْنُ مَرْدَوَیْہِ، وَاللَّفْظُ لَہٗ، مِنْ طَرِیْقِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ لَھِیَعَۃَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ اَسْلَمَ، عَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیَّ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ نَحْنُ بِالْمَدِیْنَۃِ: اِنِّیْ اُخْبِرْتُ عَنْ عِیْرِ اَبِیْ سُفْیَانَ اَنَّھَا مُقْبِلَۃٌ، فَھَلْ لَکُمْ اَنْ نَخْرُجَ قِبَلَ ھٰذِہٖ الْعِیْرِ لَعَلَّ اللّٰہَ یُغْنِمْنَاھَا؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَخَرَجَ وَ خَرَجْنَا، فَلَمَّا سِرْنَا یَوْمًا اَوْ یَوْمَیْنِ، قَالَ لَنَا: مَا تَرَوْنَ فِی الْقَوْمِ، فَاِنَّھُمْ قَدْ اُخْبِرُوْا بِمَخْرَجِکُمْ؟ فَقُلْنَا: لاَ وَاللّٰہِ! مَالَنَا طَاقَۃٌ بِقِتَالِ الْقَوْمِ، وَلٰکِنَّا اَرَدْنَا الْعِیْرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا تَرَوْنَ فِیْ قِتَالِ الْقَوْمِ؟ فَقُلْنَا مِثْلَ ذَالِکَ، فَقَامَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ: اِذًا لاَ نَقُوْلُ لَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی لِمُوْسٰی: (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ) (٢٩)
ترجمہ: ابو عمران سے مروی ہے، انہوں نے ابو ایوب انصاری کو بیان کرتے سناکہ رسول اللہ ا نے فرمایا: ’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ ابوسفیان کا تجارتی قافلہ واپس لوٹ رہا ہے، کیا تم لوگ اس کے لیے آمادہ و تیار ہو کہ ہم اس قافلہ کی جانب بڑھیں؟ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔‘‘ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو آپ ہمیں لے کر روانہ ہوئے، ایک یا دو دن کی مسافت طے کرچکنے کے بعد آپ ہم سے مخاطب ہوئے اور دریافت فرمایا:’’قریش سے جہاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے نکلنے کاپتہ چل گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کے لیے چل پڑے ہیں۔‘‘ ہم نے جواب دیا: ’’واللہ! ہم میں ان سے لڑنے کی ہمت و طاقت نہیں، ہم صرف تجارتی قافلہ کا عزم و ارادہ لے کر نکلے ہیں۔‘‘ آپ نے دوبارہ پھر یہی استفسار فرمایا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا(کہ ہم میں لڑنے کی ہمت و طاقت نہیں ہے) اب مقداد بن عمروؓ کھڑے ہوئے اور آپ کو مخاطب کرکے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس وقت وہ بات نہ کہیں گے جو قوم موسیٰ نے حضرت موسیٰؑ سے کہی تھی کہ ’’تو اور تیرا رب دونوں جاکر کافروں سے لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں (ہم یہاں بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں)۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلُ، عَنْ مُخَارِقِ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: شَھِدْتُّ مِنَ الْمِقْدَادِ ح وَ حَدَّثَنِیْ حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ یَوْمَ بَدْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا لاَ نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ لِمُوْسٰی: (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ) وَ ٰ لکِنْ اِمْضِ وَ نَحْنُ مَعَکَ، فَکَاَنَّہٗ سُرِیَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ و رواہ وکیع عن سفیان عن مخارق، عن طارق، ان المقداد، قَالَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(٣٠)
ترجمہ: حضرت عبداللہ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ بدر کے روز مقداد نے کہا: ’’اے رسول اللہ! ہم ہرگز اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ’’تو اور تیرا رب دونوں جاکر دشمن سے لڑو ہم تو یہاں تشریف رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ آپ چلیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ا کا رخ انور مسرت سے چمک اُٹھا۔
(۵) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلَ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ، یَقُوْلُ شَھِدْتَّ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ مَشْھَدًا لَاَنْ اَکُوْنَ صَاحِبَہٗ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہٖ، اَتَی النَّبِیَّ ﷺ وَ ھُوَ یَدْعُوْ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ: لاَ نَقُوْلُ کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوْسٰی: (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ) وَ ٰ لکِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ یَمِیْنِکَ، وَ عَنْ شِمَالِکَ، وَ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَ خَلْفِکَ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ اَشْرَقَ وَجْھُہٗ وَ سَرَّہٗ۔(٣١)
ترجمہ: طارق بن شہاب کا بیان ہے کہ میں نے ابن مسعودؓ سے سنا وہ بیان کررہے تھے کہ میں نے مقداد بن اسود کی ایک بات ایسی مشاہدہ کی ہے کہ اگر وہ مجھے نصیب ہوتی تو اس کے مقابلہ میں دنیا کی کسی نعمت کومحبوب نہ رکھتا، وہ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ا صحابہ کرام کو مشرکین کے مقابلہ کے لیے رغبت دلا رہے تھے کہ اسی اثنا میں مقداد نے کھڑے ہوکر کہا: ’’اے رسول الٰہی! ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰؑ نے ان سے کہا تھا کہ ’’اے موسیٰ! تو اور تیرا رب دونوں جاکر عمالقہ سے لڑو۔‘‘ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں، بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے۔‘‘ ابن مسعود کا بیان ہے کہ یہ سن کر رسول اللہا کا رخ منور روشن و تابناک ہوگیا۔ مقداد کی گفتگو سے مسرور اور خوش ہوگئے۔
مسلم میں حضرت انسؓ سے مروی روایت:
(۶) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ نَا عَفَّانُ قَالَ نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ شَاوَرَ حِیْنَ بَلَغَ اِقْبَالُ اَبِیْ سُفْیَانَ، قَالَ فَتَکَلَّمَ اَبُوْبَکْرٍ، فَاَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ، فَاَعْرَضَ عَنْہُ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ فَقَالَ: اِیَّانَا تُرِیْدُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ اَمَرْتَنَا اَنْ نُخِیْضَھَا الْبَحْرَ لَاَخَضْنَاھَا، وَلَوْ اَمَرْتَنَا اَنْ نَضْرِبَ اَکْبَادَھَا اِلٰی بَرْکِ الْغِمَادِ، لَفَعَلْنَا، قَالَ: فَنَدَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ النَّاسَ، فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی نَزَلُوْا بَدْرًا۔۔۔الخ(٣٢)
ترجمہ: حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ا کو ابو سفیان کے واپس آنے کی اطلاع موصول ہوئی توآپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے بات کی تو آپ نے توجہ مبذول نہ فرمائی اور منہ پھیر لیا پھر حضرت عمرؓ نے بات کی تو بھی آپ نے اعراض کیا، پھر حضرت سعد بن عُبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! آپ کی مراد ہم سے ہے؟ اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ارشاد فرمائیں کہ ہم سمندر میں اپنے گھوڑوں پر کود جائیں تو بلا تردد اس میں کود جائیںگے اور اگر آپ کا ارشاد ہو کہ ہم برک الغماد تک اپنی سواریوں کو لے جائیں تو تعمیل ارشاد میں تامل سے کام نہیں لیں گے۔ راوی کا بیان ہے (یہ امید افزا بات سن کر) رسول اللہ ا نے لوگوں کو آواز دی چناں چہ لوگ چلے اور بدر میں آکر ٹھہرے۔
مسند احمد میں حضرت انسؓ کے حوالہ سے مندرجہ ذیل روایت بھی منقول ہے:
(۷) عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی بَدْرٍ خَرَجَ، فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَاَشَارَ عَلَیْہِ اَبُوْبَکْرٍؓ، ثُمَّ اسْتَشَارَھُمْ، فَاَشَارَ عَلَیْہِ عُمَرُؓ، فَسَکَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنَّمَا یُرِیْدُکُمْ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ! لاَ نَکُوْنُ کَمَا قَالَتْ بَنُوْا اِسْرَائِیْلَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ) وَ ٰ لکِنْ وَاللّٰہِ! لَوْ ضَرَبْتَ اَکْبَادَ الْاِبِلِ حَتّٰی تَبْلُغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَکُنَّا مَعَکَ۔(٣٣)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے، ان کا بیان ہے کہ جب رسول اللہا بدر کی طرف جانے کے لیے نکلے تو صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکرؓ نے اس بارے میں مشورہ دیا، مگر آپ نے پھر صحابہ سے رائے طلب فرمائی، تو حضرت عمرؓ نے اس پر رائے دی، مگر آپ خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری مرد کھڑا ہوا اور انصار سے مخاطب ہوکر بولا: آپ کا روئے سخن تمہاری طرف ہے، تو انصار بولے: یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں ہیں کہ جیسا بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے صاف کہہ دیا تھا کہ ’’تم اور تمہارا رب دونوں جاکر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘ لیکن اللہ شاہد ہے کہ آپ اگر اونٹوں کو برک الغماد تک لے جائیں گے تو ہم لازماً آپ کے ساتھ ہوں گے۔‘‘
(۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیْمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّیْثِیِّ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی بَدْرٍ حَتّٰی اِذَا کَانَ بِالرَّوْحَائِ، خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: کَیْفَ تَرَوْنَ؟ قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بَلَغَنَا اَنَّھُمْ بِکَذَا وَ کَذَا، قَالَ: ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: کَیْفَ تَرَوْنَ؟ فَقَالَ: عُمَرُ مِثْلَ قَوْلِ اَبِیْ بَکْرٍ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ؟ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: اِیَّانَا تُرِیْدُ، فَوَالَّذِیْ اَکْرَمَکَ، وَ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مَا سَلَکْتُھَا قَطُّ وَلاَ لِیْ بِھَا عِلْمٌ، وَ لَئِنْ سِرْتَ حَتّٰی تَأْتِیَ بَرْکَ الْغِمَادِ مِنْ ذِیْ یَمْنٍ لَنُسَیِّرَنَّ مَعَکَ، وَلاَ نَکُوْنُ کَالَّذِیْنَ قَالُوْا لِمُوْسٰی مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ: (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ) وَ ٰ لکِنِ اذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا مَعَکُمَا مُتَّبِعُوْنَ، وَ لَعَلَّکَ اَنْ تَکُوْنَ خَرَجْتَ لِاَمْرٍ، وَ اَحْدَثَ اللّٰہُ اِلَیْکَ غَیْرَہُ، فَانْظُرْ الَّذِیْ اَحْدَثَ اللّٰہُ اِلَیْکَ فَامْضِ لَہٗ فَصِلْ حِبَالَ مَنْ شِئْتَ وَاقْطَعْ حِبَالَ مَنْ شِئْتَ وَ سَالِمْ مَنْ شِئْتَ، وَ عَادِ مَنْ شِئْتَ، وَ خُذْ مِنْ اَمْوَالِنَا مَا شِئْتَ۔۔۔الخ (٣٤)
ترجمہ: محمد بن عمرو لیثی نے اپنے دادا سے روایت کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا بدر کی جانب نکلے جب آپ روحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ نے صحابہ سے خطاب فرمایا اور اس میں اس بارے میں رائے و مشورہ طلب فرمایا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں، آپ نے پھر خطاب ارشاد فرمایا اور وہی سوال دہرایا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو حضرت عمرؓ نے وہی جواب، عرض کیا جو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا تھا، پھر تیسری مرتبہ خطاب فرمایا اور وہی سوال دہرایا تو سعد بن معاذ نے جواب میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کا روئے سخن ہماری جانب ہے؟ اس ذات اقدس کی قسم! جس نے آپ کو عزت و شرف سے نوازا ہے اور آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، میں خود نہ ان راستوں پر چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر ہی کاکوئی علم ہے مگر یہ ضرور عرض کروں گا کہ آپ اگر برک الغماد تک بھی چلیں تو ہم لازماً آپ کے ہم رکاب رہیں گے، ہم ان بنی اسرائیلیوں کی طرح نہیں، جنہوں نے حضرت موسیٰؑ سے صاف کہہ دیا تھا کہ:’’تو اور تیرا رب دونوں جاکر ان سے لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘ بلکہ ہم عرض کرتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب لڑیں، ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ ممکن ہے آپ اے رسول الٰہی! کسی دوسرے کام کے پیش نظر نکلے ہوں مگر اس وقت کوئی نیا کام پیش نگاہ ہو جسے اللہ نے پیدا فرمادیا ہو تو بسم اللہ کیجیے، ہم روگردانی اور اعراض کرنے والے نہیں، آپ کو اختیار ہے جس سے چاہیں جوڑیں، جس سے چاہیں توڑیں، جس سے چاہیں محبت کریں، جس سے چاہیں عداوت کریں، ہم ہر صورت آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے اموال میں سے جتنا چاہیں لے لیں۔‘‘
(۹) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ:۔۔۔ وَ اَتَاہُ الْخَبَرُ عَنْ قُرَیْشٍ بِمَسِیْرِھِمْ لِیَمْنَعُوْا عِیْرَھُمْ، فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، وَ اَخْبَرَھُمْ عَنْ قُرَیْشٍ، فَقَامَ اَبُوْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقُ فَقَالَ، وَ اَحْسَنَ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: وَ اَحْسَنَ، ثُمَّ قَامَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِمْضِ لِمَا اَرَاکَ اللّٰہُ، فَنَحْنُ مَعَکَ وَاللّٰہِ! لاَ نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ لِمُوْسٰی: (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ) وَ ٰ لکِنِ اذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا مَعَکُمَا مُقَاتِلُوْنَ، فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَوْ سِرْتَ بِنَا اِلٰی بَرْکِ الْغِمَادِ، لَجَالَدْنَا مَعَکَ مِنْ دُوْنِہٖ حَتّٰی تَبْلُغَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْرًا وَ دَعَا لَہٗ بِہٖ۔(٣٥)
ترجمہ: آپ کے پاس قریش کی روانگی کی اطلاع پہنچی کہ وہ لوگ اپنے تجارتی قافلہ کا دفاع کریں گے، رسول اللہ ا نے اپنے اصحاب میں سے رائے طلب فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اُٹھے اور عمدہ رائے کا اظہار کیا، پھر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اظہار خیال احسن انداز میں پیش کیا، پھر حضرت مقداد بن عمرو اُٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کو جو چیز سجھائی ہے، اسے کر گزریے ہم آپ کے ساتھ ہیں، واللہ! ہم آپ سے وہ ہرگز نہیں کہیں گے جو بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ’’تواور تیرا رب دونوں جاکر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘ بلکہ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب دونوں چل کر لڑیں، ہم آپ کے ساتھ لڑنے والے ہیں۔ (ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے) قسم ہے اس ذات کی! جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے، اگر آپ ہمیں برک الغماد تک بھی لے چلیں تو ہم وہاں تک آپ کے ساتھ چلیں گے تا آنکہ آپ اس مقام پرپہنچ جائیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ا نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں دعا فرمائی۔
(۱۰) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَشِیْرُوْا عَلَیَّ اَیُّھَا النَّاسُ۔ وَ اِنَّمَا یُرِیْدُ الْاَنْصَارَ، وَ ذَالِکَ اَنَّھُمْ عَدَدُ النَّاسِ، وَ اَنَّھُمْ حِیْنَ بَایَعُوْہٗ بِالْعَقَبَۃِ، قَالُوْا:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا بَرَآئٌ مِنْ ذِمَامِکَ، حَتّٰی تَصِلَ اِلٰی دِیَارِنَا، فَاِذَا وَصَلْتَ اِلَیْنَا، فَاَنْتَ فِیْ ذِمَّتِنَا، تَمْنَعُکَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ اَبْنَائَ نَا وَ نِسَائَ نَا، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَخَوَّفُ اَلاَّ تَکُوْنَ الْاَنْصَارُ تَرٰی عَلَیْھَا نَصْرَہٗ اِلاَّ مِمَّنْ دَھْمَہٗ بِالْمَدِیْنَۃِ مِنْ عَدُوِّہٖ، وَ اَنْ لَیْسَ عَلَیْھِمْ اَنْ یَسِیْرَ بِھِمْ اِلٰی عَدُوٍّ مِّنْ بِلاَدِھِمْ۔ فَلَمَّا قَالَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَہٗ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: وَاللّٰہِ! لَکَأَنَّکَ تُرِیْدُنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: اَجَلْ! قَالَ: فَقَدْ اٰمَنَّا بِکَ وَ صَدَّقْنَاکَ، وَ شَھِدْنَا اَنَّ مَا جِئْتَ بِہٖ ھُوَ الْحَقُّ، وَ اَعْطَیْنٰـکَ عَلٰی ذَالِکَ عُھُوْدَنَا وَ مَوَاثِیْقَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فَامْضِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَا اَرَدْتَّ، فَنَحْنُ مَعَکَ، فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَوْ اِسْتَعْرَضْتَ بِنَا ھٰذَا الْبَحْرَ، فَخُضْتَہٗ لَخُضْنَاہٗ مَعَکَ، مَا تَخَلَّفَ مِنَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ، وَمَا نَکْرَہُ اَنْ تَلْقٰی بِنَا عَدُوَّنَا غَدًا، اِنَّا لَصُبْرٌ فِی الْحَرْبِ صُدُقٌ فِی اللِّقَائِ، لَعَلَّ اللّٰہَ یُرِیْکَ مِنَّا مَا تَقَرُّ بِہٖ عَیْنُکَ، فَسِرْبِنَا عَلٰی بَرَکَۃِ اللّٰہِ، فَسُرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِقَوْلِ سَعَدٍ وَ نَشَّطَہُ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: سِیْرُوْا وَ اَبْشِرُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ وَعَدَنِیْ اِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، وَاللّٰہِ لَکَأَنِّیْ الْآنَ اَنْظُرُ اِلٰی مَصَارِعِ الْقَوْمِ۔(۳۶)
ترجمہ: پھر رسول اللہ ا نے فرمایا: لوگو! مجھے مشورہ دو۔۔ الناس سے یہاں آپ کی مراد انصار کے لوگ تھے اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ انصار کی تعداد کافی تھی اوربیعت عقبہ کے موقع پر انہوںنے کہاتھا کہ اے رسول الٰہی!ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں تاوقتیکہ آپ ہمارے ہاں تشریف نہ لے چلیں، جب آپ ہمارے ہاں پہنچ جائیں گے تو آپ کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہوگی، ہم آپ کی حفاظت ہر اس چیز اور طریقہ سے کریں گے جس چیز اور طریقہ سے اپنے اہل و عیال یعنی بیوی بچوں کی کرتے ہیں۔ پس رسول اللہ ا کو اندیشہ تھا کہ کہیں انصار مدینہ سمجھے ہوں کہ آپ کی امداد ان پر اسی صورت میں لازم ہے جب کہ کوئی دشمن مدینہ میں آپ پر اچانک حملہ آور ہو اور ان کے لیے ضروری اور لازمی نہیں کہ آپ انہیں ان کی بستیوں سے نکال کر دشمن کے مقابلہ میں لے جائیں۔۔ جب رسول اللہ ا نے یہ فرمایا تو حضرت سعد بن معاذؓ نے آپ سے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! آپ کا روئے سخن ہماری جانب ہے؟‘‘ ارشاد ہوا: ’’ہاں!‘‘ حضرت سعدؓ نے عرض کیا: ’’بلاشبہ ہم آپ پر ایمان لاچکے ہیں، آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو چیز آپ لے کر تشریف فرما ہوئے ہیں وہ برحق ہے، اس پر ہم آپ کو قول و قرار اور عہد و میثاق دے چکے ہیں آپ کی اطاعت و فرماں برداری کا عہد کرچکے ہیں لہٰذا اے رسول الٰہی! آپ جہاں چاہیں تشریف لے چلیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایاہے اگر آپ سمندر بھی ہمارے رو برو لے آئیں آپ اس میں اتر جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں اتر جائیں گے ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا اور ہمیں یہ بھی ناپسند نہیں ہے کہ کل ہمیں اپنے ساتھ لے کر دشمن سے مقابل ہوں۔ ہم جنگ لڑنے کے لیے بڑے حوصلہ والے مضبوط اور سخت جنگ جو لوگ ہیں۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے ایسے کارنامے دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ غرض آپ ہمیں لے کر تشریف لے چلیں۔‘‘ رسول اللہا سعد کی تقریر سے بہت خوش و مسرور ہوئے۔ سعد کی اس گفتگو سے آپ کو بڑی نشاط حاصل ہوئی، پھر فرمایا: ’’چلو اور بشارت حاصل کرو کہ اللہ نے مجھ سے دونوں گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے، اللہ کی قسم! میں یقینا ان لوگوں کے قتل کیے جانے کی جگہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ (یہ لوگ اس معرکہ میں کام آجائیں گے۔)
تشریح: ۲ ھ ؁ میں قریش کا ایک بہت بڑا قافلہ جس کے ساتھ تقریباً ۵۰ ہزار اشرفی کا مال تھا اور تیس چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے، شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقے میں پہنچا جو مدینہ کی زد میں تھا، چوں کہ مال زیادہ تھا، محافظ کم تھے اور سابق حالات کی بنا پُر خطرہ قوی تھا کہ کہیں مسلمانوں کا کوئی طاقتور دستہ اس پر چھاپہ نہ ماردے، اس لیے سردار قافلہ ابو سفیان نے اس پر خطر علاقہ میں پہنچتے ہی ایک آدمی کو مکہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ وہاں سے مدد لے آئے، اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے مطابق اپنے اونٹ کے کان کاٹے اور اس کی ناک چیردی، کجاوے کو اُلٹ کر رکھ دیا اور اپنا قمیص آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا: (یا معشر قریش! اللطیمۃ اللطیمۃ، اموالکم مع ابی سفیان قد عرض لھا محمد فی اصحابہ، لا اُریٰ ان تُدرکوھا، الغوث، الغوث) ’’قریش والو! اپنے قافلۂ تجارت کی خبر لو، تمہارے مال جو ابوسفیان کے ساتھ ہیں، محمد اپنے آدمی لے کر ان کے درپے ہوگیا ہے، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پاسکو گے، دوڑو! دوڑو! مدد کے لیے۔‘‘ اس پر سارے مکہ میں ہیجان برپا ہوگیا۔ قریش کے تمام بڑے بڑے سردار جنگ کے لیے تیار ہوگئے تقریباً ایک ہزار مردان جنگی جن میں سے ۶۰۰ زرہ پوش تھے اور جن میں سو (۱۰۰) سواروں کا رسالہ بھی شامل تھا، پوری شان و شوکت کے ساتھ لڑنے کے لیے چلے، ان کے پیش نظر صرف یہی کام نہ تھا کہ اپنے قافلے کو بچائیں بلکہ وہ اس ارادے سے نکلے تھے کہ اس آئے دن کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں اور مدینہ میں یہ مخالف طاقت جو ابھی ابھی نئی نئی مجتمع ہونی شروع ہوئی ہے اسے کچل ڈالیں اوراس نواح کے قبائل کو اس حد تک مرعوب کردیں کہ آئندہ کے لیے یہ تجارتی راستہ بالکل محفوظ ہوجائے۔
اب نبی انے، جو حالات سے ہمیشہ باخبر رہتے تھے، محسوس فرمایا کہ فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے اور یہ ٹھیک و ہ وقت ہے جب کہ ایک جسورانہ اقدام اگر نہ کر ڈالا گیا تو تحریک اسلامی ہمیشہ کے لیے بے جان ہوجائے گی، ممکن تھا کہ قریش حملہ آور ہوجائیں تو مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کا بھی خاتمہ ہوجائے لیکن اگر وہ حملہ نہ کریں اور صرف اپنے زور سے قافلے کو بچا کر ہی نکال لے جائیں اور مسلمان دبکے بیٹھے رہیں تب بھی یک لخت مسلمانوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی۔ اس بنا پر نبی انے عزم فرمالیا کہ جو طاقت بھی اس وقت میسر ہے، اسے لے کر نکلیں اور میدان میں فیصلہ کریں کہ جینے کا بل بوتا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔
اس فیصلہ کن اقدام کا ارادہ کرکے آپ نے انصار و مہاجرین کو جمع کیا اور ان کے سامنے ساری پوزیشن صاف صاف رکھ دی۔ جواب میں ایک بڑے گروہ کی طرف سے اس خواہش کااظہار ہوا کہ قافلے پر حملہ کیاجائے، لیکن نبی اکے پیش نظر کچھ اور تھا اس لیے آپ نے اپنا سوال دہرایا۔ اس پر مہاجرین میں سے مقداد بن عَمرو نے اُٹھ کر کہا:
یا رسول اللّٰہ! امض لما امرک اللّٰہ، فانا معک حیثما احببت، لا نقول لک کما قال بنو اسرائیل لموسٰی اذھب انت و ربک فقاتلا انا ھٰھُنا قاعدون و لکن اذھب انت و ربک فقاتلا انا معکما مقاتلون ما دامت عین منا تطرف۔
’’یا رسول اللہ! جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے، اسی طرف چلیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں جس طرف بھی آپ جائیں، ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں کہ ’’جاؤ تم اور تمہارا خدا دونوں لڑیں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں ہم کہتے ہیں کہ چلیے آپ اور آپ کا خدا دونوں لڑیں۔‘‘ اور ہم آپ کے ساتھ جانیں لڑائیں گے جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کررہی ہے۔‘‘
مگر لڑائی کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا کیوں کہ ابھی تک فوجی اقدامات میں ان سے کوئی مدد نہیں لی گئی تھی اور ان کے لیے یہ آزمائش کا پہلا موقع تھا کہ اسلام کی حمایت کا جو عہد انہوں نے اول روز کیا تھا اسے وہ کہاں تک نباہنے کے لیے تیار ہیں، اس لیے حضور انے براہ راست ان کو مخاطب کیے بغیر پھر اپنا سوال دہرایا اس پر سعد بن معاذ ص اُٹھے اور انہوں نے عرض کیا، شاید حضوؐر کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ فرمایا: ہاں، انہوں نے کہا:
لقد اٰمنا بک و صدقناک و شھدنا ان ما جئت بہ ھو الحق و اعطیناک عھودنا و مواثیقنا علی السمع والطاعۃ۔ فامض یا رسول اللّٰہ لما اردت۔ فوالذی بعثک بالحق لو استعرضت بنا ھٰذا البحر فخضتہ لخضناہ معک وما تخلف منا رجل واحد۔ وما نکرہ ان تلقی بنا عدونا غدًا انالنصبر عند الحرب صُدُقٌ عند اللقاء و لعل اللّٰہ یریک منا ما نقربہ عینک فسربنا علی برکۃ اللّٰہ۔
’’ہم آپ پر ایمان لائے ہیں، آپ کی تصدیق کرچکے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ سے سمع و طاعت کاپختہ عہد باندھ چکے ہیں، پس اے اللہ کے رسول! جو کچھ آپ نے ارادہ فرما لیا ہے اسے کر گزریے، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیںلے کر سامنے سمندر پرجا پہنچیں اور اس میں اتر جائیں تو ہم آپ کا ساتھ دیںگے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا، ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ کل ہمیں لے کردشمن سے جا بھڑیں، ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے، مقابلہ میں سچی جانثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اللہ آپ کو، ہم سے وہ کچھ دکھوا دے جسے دیکھ کرآپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہمیں لے چلیں۔‘‘
ان تقریروں کے بعد فیصلہ ہوگیا کہ قافلہ کے بجائے لشکر قریش ہی کے مقابلے پر چلنا چاہیے۔
(تفہیم القرآن ج۲،الانفال،تاریخی پس منظر)

حضور کی دعا

١٥-اللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ قُرَیْشٌ قَدْ اَتَتْ بِخُیَلاَئِھَا تُحَاوِلُ اَنْ تُکَذِّبَ رَسُوْلَکَ، اَللّٰھُمَّ فَنَصْرَکَ الَّذِیْ وَعَدْتَنِیْ، اَللّٰھُمَّ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃُ الْیَوْمَ لاَ تُعْبَدْ فِی الْاَرْضِ۔
حضورا نے دعا کی کہ:خدایا!یہ ہیں قریش، اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کوجھوٹا ثابت کریں، خداوند! بس اب آجائے تیری وہ مدد جس کا تونے مجھ سے وعدہ کیا تھا، اے خدا! اگر آج یہ مٹھی بھرجماعت ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پرپھر تیری عبادت نہ ہوگی۔‘‘
تخریج:(۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ وَ ھُوَ فِیْ قُبَّۃٍ یَوْمَ بَدْرٍ: اَللّٰھُمَّ اَنْشُدُکَ عَھْدَکَ۔۔۔(الحدیث) وَ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃُ الْیَوْمَ فَلاَ تُعْبَدْ۔(٣٧)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ نبی نے بدر کے روز جب خیمہ میں تشریف فرما تھے، دعا کی: ’’یا اللہ میں تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔۔۔ الٰہی آج کے روز اگریہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔‘‘
(۲) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ، وَ قَدِ ارْتَحَلَتْ قُرَیْشٌ حِیْنَ اَصْبَحَتْ فَاَقْبَلَتْ، فَلَمَّا رَاٰھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تُصَوِّبُ مِنَ الْعَقَنْقَلِ۔۔۔وَ ھُوَ الْکَثِیْبُ الَّذِیْ جَاؤُا مِنْہُ اِلَی الْوَادِیْ۔ قَالَ: اَللّٰھُمَّ! ھٰذِہٖ قُرَیْشٌ قَدِ اقْبَلَتْ بِخُیَلاَئِھَا وَ فَخْرِھَا تُحَادُّکَ، وَ تُکَذِّبُ رَسُوْلَکَ اَللّٰھُمَّ! فَنَصْرَکَ الَّذِیْ وَعَدْتَّنِیْ، اَللّٰھُمَّ اَحِنْھُمُ الْغَدَاۃَ۔(٣٨)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ صبح ہوتے ہی قریش کے لشکروں کوٹیلے کے پیچھے سے وادی کی جانب آتے ہوئے رسول اللہ ا نے دیکھ لیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعا کی: ’’یا الٰہی! یہ قریش، اپنے سامان فخرو غرور کے ساتھ آئے ہیں اور تیرے رسول کی تکذیب کرتے ہیں، الٰہی! بس اب آجائے تیری وہ مدد جس کا تونے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، اے اللہ! انہیں آج صبح ہلاک کردے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ الْحَنَفِیُّ، حَدَّثَنَا عِکْرَمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ زُمَیْلٍ (ھُوَ سَمَّاکُ الْحَنَفِیُّ) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ، وَ ھُمْ اَلْفٌ وَ اَصْحَابُہٗ ثَلاَثُ مِائَۃٍ وَّ تِسْعَۃَ عَشَرَ رَجُلاً، فَاسْتَقْبَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ، فَجَعَلَ یَھْتِفُ بِرَبِّہٖ: اَللّٰھُمَّ اَنْجِزْ لِیْ مَا وَعَدْتَّنِیْ، اَللّٰھُمَّ ٰ اتِ مَا وَعَدْتَّنِیْ، اَللّٰھُمَّ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃُ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِی الْاَرْضِ۔۔۔ فَمَا زَالَ یَھْتِفُ بِرَبِّہٖ مَآدًّا یَدَیْہِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ حَتّٰی سَقَطَ رِدَائُ ہٗ عَنْ مَنْکِبَیْہِ، فَاَتَاہُ اَبُوْبَکْرٍ، فَاَخَذَ رِدَائَ ہُ فَاَلْقَاہُ عَلٰی مَنْکِبَیْہِ ثُمَّ الْتَزَمَہٗ مِنْ وَرَائِہٖ وَ قَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَفَاکَ مُنَا شَدَتُکَ رَبَّکَ، فَاِنَّہٗ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: (اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اِنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِنَ الْمَلَآئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ) فَاَمَدَّہُ اللّٰہُ بِالْمَلَآئِکَۃِ۔(٣٩)
ترجمہ: حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن خطاب نے بتایا کہ جس روز جنگ بدر ہوئی، رسول اللہ ا نے مشرکین کو دیکھا کہ وہ تعداد میں ہزار ہیں جب کہ آپ کے ساتھی تین سو انیس تھے، پس نبی ا فوراً قبلہ رو ہوئے اپنے ہاتھ دراز کیے اور پکار کر دعا کرنے لگے اپنے آقا پروردگار سے: ’’یا اللہ! اب پورا فرما وہ وعدہ جس کا تونے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔ الٰہی! اگر یہ مختصر سی جماعت ہلاک ہوگئی یا اگر اس مسلم جماعت کو تونے آج ہلاک کردیا تو پھر روئے زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔‘‘ برابر آپ یہ دعا اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کرتے رہے کہ آپ کی چادر کندھوں سے نیچے گرگئی، اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے چادر اُٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈال دی اور خود پیچھے سے لپٹ کر عرض کیا: ’’اے اللہ کے نبی! آپ کی اپنے رب سے اتنی دعا و مناجات ہی کافی ہے، اب اللہ تعالیٰ اپنا وہ وعدہ جو اس نے آپ سے کیا ہے ضرور پورا فرمائے گا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے: (اذ تستغیثون ربکم۔۔۔الایۃ) نازل فرمائی۔‘‘
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، ثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِکْرَمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ وَ ھُوَ فِیْ قُبَّۃٍ، یَوْمَ بَدْرٍ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَنْشُدُکَ عَھْدَکَ وَ وَعْدَکَ۔ اَللّٰھُمَّ! اِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ، فَاَخَذَ اَبُوْبَکْرٍ بِیَدِہٖ، فَقَالَ: حَسْبُکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَدْ اَلْحَحْتَ عَلٰی رَبِّکَ وَ ھُوَ فِی الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ۔(٤٠)
ترجمہ: حضرت عکرمہ ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا نے بدر کے روز جب کہ آپ ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے، فرمایا: اے اللہ! میں تجھے تیرے عہد اور وعدہ کو یاد دلاتا ہوں اے اللہ! اگر تیری مشیت یہ ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔۔۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپ کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا:’’یا رسول اللہ! اتنی ہی دعا آپ کے لیے نہایت کافی ہے، بلاشبہ آپ نے اپنے رب سے انتہائی زاری سے استدعا کی ہے، آپ اس موقعہ پر زرہ پوش تھے، پس آپ یہ پڑھتے ہوئے باہر نکلے: ’’عنقریب یہ جتھا شکست سے دو چار ہوگا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، قیامت ان کے وعدہ کی جگہ ہے اور قیامت تو بہت ہی تلخ اور سخت ہے۔‘‘

قیدی بنائے جانے پر حضرت سعدؓ کا ردعمل

١٦- سیرت ابن ہشام میں یہ روایت نظر سے گزری کہ جس وقت مجاہدین اسلام مال غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کرباندھنے میں لگے ہوئے تھے، نبی ا نے دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذؓ کے چہرے پر کراہت کے آثار ہیں۔ حضورؐ نے ان سے دریافت فرمایا:’’اے سعد! معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی یہ کارروائی تمہیں پسند نہیں آرہی ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’جی ہاں! یا رسول اللہ! یہ پہلا معرکہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کو شکست دلوائی ہے، اس موقع پر انہیں قیدی بناکر ان کی جانیں بچالینے سے زیادہ بہتر یہ تھاکہ ان کوخوب کچل ڈالا جاتا۔ (سیرت ابن ہشام:۲)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، اَخَذَ حَفْنَۃً مِنَ الْحَصْبَائِ، فَاسْتَقْبَلَ قُرَیْشًا بِھَا، ثُمَّ قَالَ: شَاھَتِ الْوُجُوْہُ، ثُمَّ نَفَحَھُمْ بِھَا وَ اَمَرَ اَصْحَابَہٗ فَقَالَ: شُدُّوْا فَکَانَتِ الْھَزِیْمَۃُ، فَقَتَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِیْدِ قُرَیْشٍ، وَ اَسَرَ مَنْ اَسَرَ مِنْ اَشْرَافِھِمْ فَلَمَّا وَضَعَ الْقَوْمُ اَیْدِیْھِمْ یَأْسِرُوْنَ، وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْعَرِیْشِ وَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ قَآئِمٌ عَلٰی بَابِ الْعَرِیْشِ، الَّذِیْ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُتَوَشِّحَ السَّیْفِ فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْاَنْصَارِ یَحْرُسُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَخَافُوْنَ عَلَیْہِ کَرَّۃَ الْعَدُوِّ، وَ رَأَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا ذُکِرَ لِیْ۔۔۔ فِی وَجْہِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذِ الْکَرَاھِیَۃَ لِمَا یَصْنَعُ النَّاسُ، فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاللّٰہِ! لَکَأَنَّکَ یَا سَعْدُ تَکْرَہُ مَا یَصْنَعُ الْقَوْمُ، قَالَ: اَجَلْ، وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ اَوَّلُ وَقْعَۃٍ اَوْقَعَھَا اللّٰہُ بِاَھْلِ الشِّرْکِ فَکَانَ الْاِثْخَانُ فِی الْقَتْلِ بِاَھْلِ الشِّرْکِ، اَحَبَّ اِلَیَّ مِن اسْتِبْقَائِ الرِّجَالِ۔(٤١)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ ا نے مٹھی بھر سنگریزے اپنے دست مبارک میںلیے اور قریش کی طرف منہ کرکے فرمایا: (شاھت الوجوہ) ’’چہرے بگڑ جائیں۔‘‘ اور سنگریزے ان کی طرف پھینکے اور اپنے اصحاب کو حکم فرمایا کہ حملہ کرو۔ انہوں نے بھر پور حملہ کیا اور قریش کو شکست ہوگئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے قریشی سور ماؤں سے جن کو قتل کرنا تھا، انہیں قتل کیا اور ان کے اشراف و سربر آوردہ لوگوں میں سے جن کو قید کرنا تھا انہیں قید کیا جب صحابہ کرامؓ قریش کو گرفتار کررہے تھے اس وقت آپ سائبان کے خیمہ میں تشریف فرما تھے، حضرت سعد بن معاذ اپنی تلوار حمائل کیے ہوئے اس سائبان کے دروازے پر کھڑے (پہرہ دے رہے) تھے۔ ان کے ساتھ انصار میں سے کچھ اور آدمی بھی تھے۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں دشمن آپ پر حملہ نہ کردیں۔ قیدی گرفتار کیے جارہے تھے، رسول اللہا نے معاذؓ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار ملاحظہ فرمائے تو ارشاد فرمایا:’’اے سعد! معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں لوگوں کو قید کرنے کی کارروائی ناگوار ہے۔‘‘ سعد نے عرض کیا: ’’جی ہاں یا رسول اللہ! یہ پہلا معرکہ و موقع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کو شکست دلوائی ہے، اس موقع پر انہیں قیدی بناکر ان کی جانیں بچا لینے سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ ان کو خوب کچل ڈالا جاتا۔
جنگ (بدر) میں جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑ پکڑ کرباندھنے میں لگ گیا اور بہت کم آدمیوں نے دشمنوں کا کچھ دور تک تعاقب کیا، حالاں کہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہوگیاہوتا۔

اس پر اللہ کا عتاب

اسی پر اللہ تعالیٰ عتاب فرما رہا ہے: (لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ الانفال:۶۸)؟ ’’اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں اہل تاویل نے جو روایات بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ جنگ بدر میں لشکر قریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کے متعلق بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمرؓ نے کہا کہ قتل کردیا جائے۔ نبی ا نے حضرت ابوبکرؓ کی رائے قبول کی اور فدیہ کا معاملہ طے کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بطور عتاب نازل فرمائیں۔

مفسرین کی آراء

مفسرین آیت کے اس فقرے کی کوئی معقول تاویل نہیں کرسکے کہ’’اگر اللہ تعالیٰ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد تقدیر الٰہی ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ ارادہ فرما چکا تھا کہ مسلمانوں کے لیے غنائم کو حلال کردے گا لیکن یہ ظاہر ہے کہ جب تک وحی تشریعی کے ذریعہ سے کسی چیز کی اجازت نہ دی گئی ہو، اس کا لینا جائز نہیں ہوسکتا۔ پس نبی ا سمیت پوری اسلامی جماعت اس تاویل کی رو سے گناہ گار قرار پاتی ہے اور ایسی تاویل کو اخبار احاد کے اعتماد پر قبول کرلینا ایک بڑی ہی سخت بات ہے۔
میرے نزدیک اس مقام کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے سورۂ محمد میں جنگ کے متعلق جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں، ان میں یہ ارشاد ہوا تھا کہ ــــ فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِط حَتّٰیٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّوْا الْوَثَاقَ ق لا فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا ــــ (محمد:٤)
اس ارشاد میں جنگی قیدیوں سے فدیہ وصول کرنے کی اجازت تو دے دی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی تھی کہ’’پہلے دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچل دیا جائے پھر قیدی پکڑنے کی فکرکی جائے۔‘‘ اس فرمان کی رُو سے مسلمانوں نے بدر میں جو قیدی گرفتار کیے اور اس کے بعد ان سے جوفدیہ وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق، مگر غلطی یہ ہوئی کہ ’’دشمن کی طاقت کو کچل دینے۔‘‘ کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی، اسی پر اللہ تعالیٰ عتاب فرما رہا ہے اور یہ نبی ا پرنہیں ہے بلکہ مسلمانوں پر ہے۔

فرمان مبارک کا منشا

فرمان مبارک کا منشا یہ ہے کہ: ’’تم لوگ ابھی نبی کے مشن کو اچھی طرح نہیں سمجھے ہو، نبی کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ فدیے اور غنائم وصول کرکے خزانے بھرے بلکہ اس کے نصب العین سے جو چیز براہ راست تعلق رکھتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ کفر کی طاقت ٹوٹ جائے، مگر تم لوگوں پر بار بار دنیا کالالچ غالب ہوجاتا ہے۔ پہلے دشمن کی اصل طاقت کے بجائے قافلے پر حملہ کرنا چاہا، پھر دشمن کا سرکچلنے کے بجائے غنیمت لوٹنے اور قیدی پکڑنے میں لگ گئے، پھر غنیمت پر جھگڑنے لگے، اگر ہم پہلے فدیہ وصول کرنے کی اجازت نہ دے چکے ہوتے تو اس پر تمہیں سخت سزا دیتے۔ خیراب جوکچھ تم نے لیا وہ کھالو مگر آئندہ ایسی روش سے بچتے رہو جو خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ میں اس رائے پر پہنچ چکا تھا کہ امام جَصَّاص کی کتاب احکام القرآن میں یہ دیکھ کر مجھے مزید اطمینان حاصل ہوا کہ امام موصوف بھی اس تاویل کوکم از کم قابل لحاظ ضرور قرار دیتے ہیں۔
(تفہیم القرآن،ج۲، الانفال، حاشیہ:۴۹)

آپؐ کا ’’شَاھَتِ الْوُجُوْہُ‘‘ فرمانا

١٧-(حضور ا نے فرمایا:) شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنِی الْحَرْثُ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْ مِعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ وَ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ الْقُرَظِیِّ، قَالاَ: لَمَّا دَنَا الْقَوْمُ بَعْضُھُمْ مِنْ بَعْضٍ، اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَبْضَۃً مِنْ تُرَابٍ، فَرَمٰی بِھَا فِیْ وُجُوْہِ الْقَوْمِ، وَ قَالَ: شَاھَتِ الْوُجُوْہُ، فَدَخَلَتْ فِیْ اَعْیُنِھِمْ کُلِّھِمْ، وَ اَقْبَلَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَقْتُلُوْنَھُمْ وَ یَأْسِرُوْنَھُمْ وَ کَانَتْ ھَزِیْمَتُھُمْ فِیْ رَمْیَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ: (وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ ٰلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔۔۔ الایۃ اِلی۔۔۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (٤٢)
ترجمہ: محمد بن قیس اور محمد بن کعب قرظی دونوں کا بیان ہے کہ جب دونوں فوجیں ایک دوسری کے قریب ہوئیں تو رسول اللہ ا نے مٹھی بھر مٹی لی اور اسے کافروں کی جانب پھینکی اور فرمایا’’ شَاھَتِ الْوُجُوْہُ ‘‘وہ مٹی ان کی آنکھوں میںجا پڑی (وہ اندھے سے ہوگئے) اصحاب رسول ا نے ان کو قتل کرنا اور قید کرنا شروع کیا۔ رسول اللہ ا کے مٹی پھینکنے کی وجہ سے کافروں کو شکست ہوئی۔ اس موقع پر ارشاد ربانی ہوا: ’’کہ وہ مٹی تونے نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی۔‘‘ یہ آیت نازل ہوئی ــــ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ ٰلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔۔۔ الایۃ اِلی۔۔۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ــــ
(۲) حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ زَیْدٍ فِیْ قَوْلِہٖ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی، قَالَ: ھٰذَا یَوْمُ بَدْرٍ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثَ حَصَیَاتٍ فَرَمٰی بِحَصَاۃٍ فِیْ مَیْمَنَۃِ الْقَوْمِ وَ حَصَاۃٍ فِیْ مَیْسَرَۃِ الْقَوْمِ وَ حَصَاۃٍ بَیْنَ اَظْھُرِھِمْ وَ قَالَ: شَاھَتِ الْوُجُوْہُ، فَانْھَزَمُوْا، فَذٰلِکَ قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: (وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ ٰلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی) (٤٣)
ترجمہ: ابن زید کا (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللّٰہ رمی) کے بارے میں قول ہے کہ یہ یوم بدر کے موقع کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ ا نے تین مٹھی کنکر لے کر پھینکے، ان میں سے ایک کافروں کی دائیں جانب دوسرا بائیں جانب اور تیسرا درمیان میں اور ساتھ ہی پڑھا ــــشاھت الوجوہ ــــ پس مشرکین ہزیمت سے دو چار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ــــوما رمیت اذ رمیت ولکن اللّٰہ رمی ــــ کا تعلق اسی موقع سے ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ الْمَلاَئَ مِنْ قُرَیْشٍ اِجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ فَتَعَاھَدُوْا بِاللاَّتِ وَالْعُزّٰی وَ مَنَاۃِ الثَّالِثَۃِ الْاُخْرٰی لَوْ قَدْ رَأَیْنَا مُحَمَّدًا، اَقَمْنَا اِلَیْہِ قِیَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نَفَارِقْہُ حَتّٰی نَقْتُلَہُ، قَالَ: فَاَقْبَلَتْ فَاطِمَۃُ تَبْکِیْ حَتّٰی دَخَلَتْ عَلٰی اَبِیْھَا، فَقَالَتْ: ھٰٓؤُلاَئِ الْمَلاَئُ مِنْ قَوْمِکَ فِی الْحِجْرِ قَدْ تَعَاھَدُوْا اَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْکَ، قَامُوْا اِلَیْکَ فَقَتَلُوْکَ، فَلَیْسَ مِنْھُمْ رَجُلٌ اِلاَّ قَدْ عَرَفَ نَصِیْبَہٗ مِنْ دَمِکَ، قَالَ: یَا بُنَیَّۃُ اُدْنِیْ وَضُوْئً، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَیْھِمُ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْہُ، قَالُوْا: ھُوَ ھٰذَا، فَخَفَضُوْا اَبْصَارَھُمْ وَ عَقَرُوْا فِیْ مَجَالِسِھِمْ، فَلَمْ یَرْفَعُوْا اِلَیْہِ اَبْصَارَھُمْ، وَلَمْ یَقُمْ مِنْھُمْ رَجُلٌ، فَاَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی قَامَ عَلٰی رُؤُسِھِِمْ فَأَخَذَ قَبْضَۃً مِنْ تُرَابٍ، فَحَصَبَھُمْ بِھَا وَ قَالَ: شَاھَتِ الْوُجُوْہُ، قَالَ: فَمَا اَصَابَتْ رَجُلاً مِّنْھُمْ حَصَاۃً الاَّ قَدْ قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ کَافِرًا۔(٤٤)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کابیان ہے کہ قریشی سردار حجر میں جمع ہوئے اپنے معبودوں لات، عزی، مناۃ، کی قسمیں کھا کر پختہ عہد کیا کہ اگر ہم نے محمدا کودیکھ لیا تو ہم سب اجتماعی طورپر اس کی جانب یکجان ہوکر کھڑے ہوں گے اور جب تک اسے قتل نہ کردیں اس وقت ا س سے الگ نہ ہوں گے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضرت فاطمہؓ روتی ہوئی حضورؐ کے پاس داخل ہوئیں اور عرض کیا: ’’آپ کی قوم کے ان سرداروں نے حجر میں پختہ عہد کیا ہے کہ اگر آپ کو دیکھ لیں گے تو سب یکجان ہوکر آپ کی طرف کھڑے ہوں گے اور آپ کو قتل کردیں گے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’بیٹی! وضو کے لیے پانی لاؤ۔‘‘ آپ نے وضو فرمایا پھر خانہ کعبہ میں ان کافروں کے سروں پر جا کھڑے ہوئے، انہوں نے جب آپ کودیکھا تو (ہکے بکے) رہ گئے اور بولے:’’وہ تویہی ہے۔‘‘ پس ان کی نگاہیں نیچے جھک گئیں اور اپنی مجلسوں میں شرم سار ہوکر دبک گئے، آپ کی جانب نظریں اوپر اٹھا کر بھی نہ دیکھ سکے اور نہ ایک بھی ان میں سے آپ کی طرف اُٹھا رسول اللہ ا ان کی جانب چلے اور ان کے سروں پر جاکر کھڑے ہوئے اور مٹھی بھر ریت لے کر ان کی طرف پھینکی اور’’ شاھت الوجوہ‘‘ پڑھا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان میں سے جس جس پر ریت پڑی وہ بدر میں کفر کی حالت میں قتل ہوا۔
(۴) حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ الْحَنَفِیُّ، قَالَ: نَا عِکْرِمَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حُنَیْنًا۔۔۔ وَ مَرَرْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مُنْھَزِمًا وَ ھُوَ عَلٰی بَغْلَتِہٖ الشَّھْبَآئِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَقَدْ رَجَعَ ابْنُ الْاَکْوَعِ فَزَعًا فَلَمَّا عَشَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَۃِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَۃً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْاَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِہٖ وَجُوْھَھُمْ، فَقَالَ: شَاھَتِ الْوُجُوْہُ فَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْھُمْ اِنْسَانًا اِلاَّ مَلاَئَ عَیْنَیْہِ تُرَابًا بِتِلْکَ الْقَبْضَۃِ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ، فَھَزَمَھُمُ اللّٰہُ بِذٰلِکَ وَ قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ غَنَائِمَھُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(٤٥)
ترجمہ: اِیاس بن سلمہ نے اپنے والد کے حوالہ سے حدیث بیان کی۔ ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ا کے ساتھ غزوۂ حنین لڑا۔۔۔ شکست خوردگی کی حالت میں،میں رسول اللہ ا کے سامنے سے گزرا آپ اس وقت اپنے خچر شہباء پر سوار تھے (جس کا رنگ سیاہی مائل سفید تھا )آپ کو دشمنوں نے گھیر لیا تو اپنے خچر سے نیچے اترے اور ایک مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور ان کے منہ پر ماری اور فرمایا: ’’بگڑ گئے چہرے ان کے‘‘ پھر ان میںکوئی آدمی ایسا نہ رہا جس کی آنکھ میں خاک نہ بھرگئی ہو، اسی ایک مٹھی بھر ریت کی وجہ سے آخر وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور اس وجہ سے اللہ نے ان کو شکست دی اور رسول اللہ ا نے ان کے اموال بطور غنیمت صحابہ کرامؓ میں تقسیم فرمادیے۔

اموال غنیمت

١٨-اِنَّ ھٰذَا غَنَائِمُکُمْ وَ اِنَّہٗ لَیْسَ لِیْ فِیْھَا اِلاَّ نَصِیْبِیْ مَعَکُمْ اَلْخَمْسُ وَالْخَمْسُ مَرْدَوْدٌ عَلَیْکُمْ فَاَدُّوْا الْخَیْطَ وَ الْمَخِیْطَ وَ اَکْبَرَ مِنْ ذَالِکَ وَ اَصْغَرَ وَلاَ تَغُلُّوْا فَاِنَّ الْغُلُوْلَ عَارٌ وَ نَارٌ۔
یہ غنائم تمہارے ہی لیے ہیں، میری اپنی ذات کا ان میں کوئی حصہ نہیں ہے بجز خمس کے اور وہ خمس بھی تمہارے ہی اجتماعی مصالح پر صرف کردیا جاتا ہے لہٰذا ایک ایک سوئی اور ایک ایک دھاگہ تک لاکر رکھ دو کوئی چھوٹی یا بڑی چیز چھپا کر نہ رکھو کہ ایسا کرنا شرمناک ہے اور اس کا نتیجہ دوزخ ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُو الْیَمَانِ وَ اِسْحَاقُ بْنُ عِیْسٰی، قَالاَ: ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ اَبِیْ سَلاَمٍ، قَالَ اِسْحَاقُ الْاَعْرَجُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ، اِنَّہٗ جَلَسَ مَعَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَ اَبِی الدَّرْدَآئِ، وَالْحَارِثُ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ، فَتَذَاکَرُوْا حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ اَبُوالدَّرْدَائِ لِعُبَادَۃَ: یَا عُبَادَۃُ! کَلِمَاتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غَزْوَۃِ کَذَا وَ کَذَا فِیْ شَانِ الْاَخْمَاسِ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: قَالَ اِسْحَاقُ فِیْ حَدِیْثِہٖ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَلَّی بِھِمْ فِیْ غَزْوَۃٍ اِلٰی بَعِیْرٍ مِنَ الْمُقْسِمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَتَنَاوَلَ وَبْرَۃً بَیْنَ اَنْمَلَتَیْہِ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذِہٖ مِنْ غَنَائِمِکُمْ وَ اِنَّہٗ لَیْسَ لِیْ فِیْھَا اِلاَّ نَصِیْبِیْ مَعَکُمْ اِلاَّ الْخُمْسُ، وَالْخُمْسُ مَرْدُوْدٌ عَلَیْکُمْ، فَاَدُّوْا الْخَیْطَ وَالْمَخِیْطَ، وَ اَکْبَرَ مِنْ ذَالِکَ وَ اَصْغَرَ وَلاَ تَغُلُّوْا، فَاِنَّ الْغُلُوْلَ نَارٌ وَ عَارٌ عَلٰی اَصْحَابِہٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ جَاھِدُوْا النَّاسَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْقَرِیْبَ، وَالْبَعِیْدَ، وَلاَ تُبَالُوْا فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ وَ اَقِیْمُوْا حُدُوْدَ اللّٰہِ فِی الْحَضْرِ وَالسَّفَرِ، وَ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّ الْجِھَادَ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ عَظِیْمٌ، یُنْجِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہٖ مِنَ الْغَمِّ وَالْھَمِّ۔(٤٦)
ترجمہ: مقدام بن معدیکرب کندی، عبادہ بن صامت، اور ابو الدرداء اورحارث ابن معاویہث کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، حدیث رسول اللہ ا پر مذاکرہ کررہے تھے۔ ابو الدرداء نے عبادہ سے پوچھا کہ فلاں، فلاں غزوے میں رسول اللہ ا نے خمس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا؟ عبادہ نے کہا: ’’اسحاق نے اپنی حدیث میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ا نے ایک غزوے میں اونٹ کے پیچھے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور چند بال اپنی چٹکی میں پکڑ کر فرمایا:’’یہ بال اس اونٹ کے ہیں جو مال غنیمت میں سے ہے یہ بھی مال غنیمت میں سے ہی ہیں اور میرے لیے نہیں ہیں، میرا حصہ تو تمہارے ساتھ صرف پانچواں ہے اور پھر وہ بھی تم ہی کو واپس دے دیا جاتاہے لہٰذا سوئی دھاگہ تک ہر بڑی چھوٹی چیز پہنچادیا کرو۔ خیانت نہ کرو، خیانت تو آگ ہے اور خیانت کرنے والوں کے لیے دونوں جہاں میں عار ہے۔ اللہ کی راہ میں لوگوں سے، خواہ قریب ہوں یا دور جہاد جاری رکھو اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کا خیال تک نہ کرو اور حضر و سفر میں حدود اللہ جاری کرتے رہو، فی سبیل اللہ جہاد کرتے رہو، جہاد جنت کے بڑے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اسی جہاد کی بدولت اللہ تعالیٰ غم و رنج سے نجات دیتا ہے۔‘‘
تشریح: یہاں مال غنیمت کی تقسیم کا قانون بتایا ہے۔ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کا انعام ہے۔ اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ اور اس کے رسول کو ہی حاصل ہے، وہ فیصلہ یہ ہے کہ لڑائی کے بعد تمام سپاہی ہر طرح کا مال غنیمت لاکر امام کے سامنے رکھ دیں اور کوئی چیز چھپا کر نہ رکھیں، پھر اس مال میں پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول، رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے نکال لیا جائے اور باقی چار حصے ان سب لوگوں میں تقسیم کردیے جائیں، جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا ہو، چناں چہ نبی ا ہمیشہ لڑائی کے بعد مندرجہ بالا اعلان کرتے تھے۔
’’اس تقسیم میں اللہ اور رسول کا حصہ ایک ہی ہے‘‘ اس سے مقصود یہ ہے کہ خمس کا ایک جزء اعلاے کلمۃ اللہ اور اقامت دین حق کے کام میں صرف کیا جائے۔
’’رشتہ داروں‘‘ سے مراد نبی ا کی زندگی میں تو حضور ہی کے رشتہ دار تھے کیوں کہ جب آپ اپنا سارا وقت دین کے کام میں صرف فرماتے تھے اور اپنی معاش کے لیے کوئی کام کرنا آپ کے لیے ممکن نہ رہا تھا تو لامحالہ اس کا انتظام ہونا چاہیے تھا کہ آپ کی اور آپ کے اہل و عیال اور ان دوسرے اقرباء کی جن کی کفالت آپ کے ذمہ تھی، ضروریات پوری ہوں، اس لیے خمس میں آپ کے اقرباء کا حصہ رکھا گیا، لیکن اس امر میں اختلاف ہے کہ حضور ا کی وفات کے بعد ذوی القربیٰ کا یہ حصّہ کس کو پہنچتا ہے۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ نبی ا کے بعد یہ حصہ منسوخ ہوگیا، دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ حضور ا کے بعد یہ حصہ اس شخص کے اقرباء کو پہنچے گا جو حضورا کی جگہ خلافت کی خدمت انجام دے، تیسرے گروہ کے نزدیک یہ حصہ خاندان نبوت کے فقہاء میں تقسیم کیا جاتا رہے گا، جہاں تک میں تحقیق کرسکا ہوں خلفاء راشدین کے زمانہ میں اسی تیسری رائے پر عمل ہوتا تھا۔ (تفہیم القرآن،ج۲، الانفال، حاشیہ:۳۲)

مسئلۂ غنیمت

١٩- قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَمْ تَحِلَّ الغَنَائِمُ لِقَوْمِ سُوْدِ الرَّؤُسِ قَبْلَکُمْ کَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِّنَ السَّمَآئِ فَتَاکُلُھَا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ اَسْرَعَ النَّاسُ فِی الْغَنَائِمِ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ــــلَوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌo فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا ــــ
(عن ابی ھریرۃ)
رسول اللہ ا نے فرمایا کہ تم سے پہلے کسی کالے سروالی قوم کے لیے غنیمت حلال نہیں کی گئی۔ ایک آگ آسمان سے اترتی اور مال غنیمت کو کھا جایا کرتی تھی۔ جب جنگ بدر واقع ہوئی تو لوگ غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ اس پر یہ آیت اتری کہ: ’’اگر اللہ کا نوشتہ پہلے ہی سے نہ آچکا ہوتا تو تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا، خیر اب جو کچھ تم نے لوٹا ہے اس سے کھاؤ کہ وہ تمہارے لیے حلال و پاک ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، اَخْبَرَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ سُوْدِ الرَّؤُسِ مِنْ قَبْلِکُمْ، کَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِّنَ السَّمَآئِ فَتَأْکُلُھَا، قَالَ سُلَیْمَانُ الْاَعْمَشُ: فَمَنْ یَّقُوْلُ ھٰذَا اِلاَّ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ الْاٰنَ۔ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ وَقَعُوْا فِی الْغَنَائِمِ قَبْلَ اَنْ تَحِلَّ لَھُمْ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: لَوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (٤٧)
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غنیمت پہلے حلال نہ تھی مگر انسانی فطرت کے ناقابل تغیر رجحان کو دیکھ کر اسے حلال کردیا گیا تاہم محض فطرت کی رعایت ہی کرکے سپر نہیں ڈال دی گئی بلکہ اس رجحان کی اصلاح اور اس کی حد بندی کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے جنہوں نے رفتہ رفتہ دلوں سے شوق غنیمت ہی کو دور کردیا اور جو تھوڑا بہت باقی رہ گیا اس کی اصلاح اس طرح کی گئی کہ اموال غنیمت پر متعدد اقسام کی پابندیاں عائد کردی گئیں اور خود اموال غنیمت کے دائرہ کو بہت محدود کردیا گیا۔ (الجہاد فی الاسلام: جنگ کے مہذب قوانین ’’غنیمت کا مسئلہ‘‘)

اسیروں کی رہائی کے لیے تعلیم کی شرط

٢٠- ’’جنگ بدر کے موقع پر قریش کے جو قیدی مالی فدیہ دینے کے قابل نہ تھے، ان کے رہائی کے لیے حضورؐنے یہ شرط عائد کردی کہ وہ انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔‘‘
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، اَخْبَرَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: اَسَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ بَدْرٍ سَبْعِیْنَ اَسِیْرًا، وَکَانَ یُفَادِیْ بِھِمْ عَلٰی قَدْرِ اَمْوَالِھِمْ، وَکَانَ اَھْلُ مَکَّۃَ یَکْتُبُوْنَ وَ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ لاَ یَکْتُبُوْنَ، فَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗ فِدَائٌ، دُفِعَ اِلَیْہِ عَشَرَۃُ غِلْمَانٍ مِنْ غِلْمَانِ الْمَدِیْنَۃِ، فَعَلَّمَھُمْ فَاِذَا حَذَقُوْا فَھُوَ فِدَاؤُہٗ۔(٤٨)
ترجمہ: حضرت عامرؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ بدر کے روز رسول اللہ ا نے (مشرکین مکہ) کے ستر (۷۰) آدمی قید کیے، ان سے ان کی مالی حالت کے مطابق فدیہ وصول کیا۔ اہل مکہ لکھنا جانتے تھے جب کہ مدینہ والے نہیں جانتے تھے۔ پس جس قیدی کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو اس کے سپرد مدینہ کے دس بچے کردیے، اس نے انہیں لکھنا پڑھنا سکھایا اور وہ اس میں ماہر ہوگئے۔ پس یہی اس کی طرف سے فدیہ کی ادائے گی قرار پائی۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۲) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، اَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ قُرَیْشٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: کَانَ فِدَائُ اَھْلِ بَدْرٍ اَرْبَعِیْنَ اُوْقِیَّۃً اَرْبَعِیْنَ اُوْقِیَّۃً، فَمَنْ لَّمْ یَکُنْ عِنْدَہٗ، عَلَّمَ عَشْرَۃً مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ الْکِتَابَۃَ، فَکَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِمَّنْ عُلِّمَ۔(٤٩)
ترجمہ: حضرت عامرؓ سے منقول دوسری روایت میں ہے، انہوں نے بتایا کہ بدر میں قید ہونے والوں کا فدیہ فی قیدی چالیس چالیس اوقیہ تھا، جس کے پاس یہ رقم نہ تھی اس نے مسلمانوں کے دس دس بچوں کو کتابت سکھائی، زید بن ثابت بھی ایسے ہی تعلیم پانے والوں میں سے تھے۔
مسند احمد نے عبد اللہ بن عباسؓ سے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں:
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ دَاوٗدُ، ثَنَا عِکْرِمَۃُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ نَاسٌ مِنَ الْاَسْرٰی یَوْمَ بَدْرٍ لَمْ یَکُنْ لَھُمْ فِدَائٌ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِدَائَ ھُمْ اَنْ یُعَلِّمُوْا اَوْلاَدَ الْاَنْصَارِ الْکِتَابَۃَ۔(٥٠)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے، انہوں نے بتایا کہ بدر کے قیدیوں میں سے جس کسی کے پاس فدیہ کی ادائے گی کے لیے کچھ نہ تھا تو ان کے لیے رسول اللہ ا نے انصار کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دینے کو ان کا فدیہ مقرر فرمایا۔
تشریح: گویا کہ قیدیوں کوکوئی خدمت لے کر بھی چھوڑا گیا۔ (تفہیم القرآن، ج۵، محمد، حاشیہ:۸)

ابوالعاص کا فدیہ

٢١- جنگ بدر میں قریش کے دوسرے سرداروں کے ساتھ خود رسول اللہ ا کے داماد (ابوالعاص) گرفتار ہوکر آتے ہیں، (یہ صاحب حضرت زینب بنت رسولؐ کے شوہر تھے۔ ۷ھ تک یہ کافر رہے بعد میں انہوںنے اسلام قبول کرلیا۔) عام قیدیوں کی طرح انہیں بھی بند کردیا جاتا ہے، ان کے پاس فدیہ ادا کرنے کے لیے مال نہیں ہوتا تو حکم ہوتا ہے کہ گھر سے منگا کر دو، ورنہ قید رہو۔ وہ اپنی بیوی یعنی رسول اللہ (ا) کی بیٹی حضرت زینبؓ کو پیغام بھیجتے ہیں اور ان کے پاس سے شوہر کے فدیہ میں ایک قیمتی ہار آتا ہے جو حضرت خدیجہؓ زوجہ رسول اللہا نے ان کے جہیز میں دیا تھا۔ ہار کو دیکھ کر آپؐ کو اپنی رفیقۂ حیات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔ تاہم خود اپنے اختیار سے فدیہ معاف نہیں کرتے، عام مسلمانوں سے اجازت مانگتے ہیں کہ اگر تم پسند کرو تو بیٹی کو اس کی ماں کی یاد گار واپس کردی جائے اور جب عام مسلمان اس کی اجازت دے دیتے ہیں اس وقت رسول اللہ ا کے اپنے داماد کوبغیر فدیہ کے رہائی نصیب ہوتی ہے۔ (طبری، ابوداؤد)
(الجہاد فی الاسلام:مصلحانہ جنگ ’’اسلام اور جہانگیریت‘‘)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ اَھْلُ مَکَّۃَ فِیْ فِدَائِ اَسْرَاھُمْ بَعَثَتْ زَیْنَبُ فِیْ فِدَائِ اَبِی الْعَاصِ بِمَالٍ، وَ بَعَثَتْ فِیْہِ بِقَلاَدَۃٍ لَّھَا کَانَتْ عِنْدَ خَدِیْجَۃَ اَدْخَلَتْھَا بِھَا عَلٰی اَبِی الْعَاصِ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَاٰھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَقَّ لَھَا رِقَّۃً شَدِیْدَۃً وَ قَالَ: اِنْ رَأَیْتُمْ اَنْ تُطْلِقُوْا لَھَا اَسِیْرَھَا وَ تَرُدُّوْا عَلَیْھَا الَّذِیْ لَھَا، فَقَالُوْا: نَعَمْ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَخَذَ عَلَیْہِ، اَوْ وَعَدَہٗ اَنْ یَخَلّٰی سَبِیْلَ زَیْنَبَ اِلَیْہِ وَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ وَ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ: کُوْنَا بِبَطْنِ یَاْجِجَ حَتّٰی تَمُرَّ بِکُمَا زَیْنَبُ فَتَصْحَبَاھَا حَتّٰی تَاتِیَا بِھَا۔(٥١)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ کی رقم بھیجی تو حضرت زینبؓ نے اپنے شوہر ابوالعاص کی رہائی کے لیے کچھ مال بھیجا۔ اس میں وہ ہار بھی شامل تھا جو ان کو ان کی والدہ حضرت خدیجہؓ نے ان کی رخصتی کے وقت دیا تھا حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ا نے اسے دیکھا (تو حضرت زینبؓ کی بے کسی پر بہت ترس آیا) آپ پر شدید رقت طاری ہوگئی، آپ نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کی خاطر اس کے قیدی کو رہا کردو اور اس کا مال بھی واپس دے دو۔ صحابہؓ نے عرض کیا:’’ٹھیک ہے۔ (مال بھی واپس فرمادیں اور قیدی کو بھی رہا کردیں) رسول اللہؐ نے ابوالعاص سے عہد لیا کہ زینب کو میرے پاس آنے سے نہیں روکے گا۔ آپ نے زید بن حارثہ کو اور ایک انصاری کو روانہ فرمایا اور انہیں ہدایت فرمائی کہ تم دونوں مقام یا جج میں جاکر ٹھہرو، جب زینب تمہارے پاس سے گزرے تو اس کے ساتھ ہوجاؤ اور اسے میرے پاس لے آنے تک اس کے ساتھ رہو۔

مطعم بن عدی کے احسان کا بدلہ

٢٢- لَوْکَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا ثُمَّ کَلَّمَنِیْ فِیْ ھٰٓؤُلَآئِ النَّتْنٰی لَتَرَکْتُھُمْ لَہٗ۔
(بخاری، ابوداوٗد، مسند احمد)
’’جنگ بدر کے قیدیوں کے متعلق حضوؐر نے فرمایا:’’اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان گھناؤنے لوگوں کے بارے میں بات کرتا تو میں اس کی خاطر انہیں یوں ہی چھوڑدیتا۔ (تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)
تخریج: حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ فِیْ اُسَارٰی بَدْرٍ، لَوْکَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا، ثُمَّ کَلَّمَنِیْ فِیْ ھٰٓؤُلاَئِ الْنَتْنٰی، لَتَرَکْتُھُمْ لَہٗ۔(٥٢)

ثمامہ بن اثال کی رہائی

٢٣-(بخاری، مسلم اور مسند احمد کی روایت ہے کہ) یمامہ کے سردار ثمامہ بن اُثال جب گرفتار ہوکر آئے تو حضوؐر نے ان سے پوچھا: ’’ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون کچھ قیمت رکھتا ہے اگر مجھ پر احسان کریں گے تو ایسے شخص پر کریں گے جواحسان ماننے والا ہے اور اگرآپ مال لینا چاہتے ہیں تو مانگیے، آپ کو دیاجائے گا۔‘‘ تین دن تک آپ ان سے یہی بات پوچھتے رہے اور وہ یہی جواب دیتے رہے آخر کو آپ نے حکم دیا کہ ثمامہ کو چھوڑدو۔ رہائی پاتے ہی وہ قریب کے ایک نخلستان میں گئے، نہا دھوکر واپس آئے، کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے اور عرض کیا: ’’آج سے پہلے کوئی شخص میرے لیے آپ سے اور آپ کے دین سے بڑھ کر مبغوض نہ تھا مگر اب کوئی شخص اور کوئی دین مجھے آپ سے اور آپ کے دین سے بڑھ کر محبوب نہیں ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِی اللَّیْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ سَعِیْدٍ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ ﷺ خَیْلاً قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَآئَ تْ بِرَجُلٍ مِّنْ بَنِیْ حَنِیْفَۃَ یُقَالُ لَہٗ ثُمَامَۃُ بْنُ اُثَالٍ، فَرَبَطُوْہُ بِسَارِیَۃٍ مِّنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺ فَقَالَ: مَا عِنْدَکَ یَا ثُمَامَۃُ؟ فَقَالَ: عِنْدِیْ خَیْرٌ یَا مُحَمَّدُ، اِنْ تَقْتُلْنِیْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَ اِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ، وَ اِنْ کُنْتَ تُرِیْدُ الْمَالَ، فَسَلْ مِنْہُ مَا شِئْتَ، فَتَرَکَہٗ حَتّٰی کَانَ الْغَدُ ثُمَّ قَالَ لَہٗ: مَا عِنْدَکَ یَا ثُمَامَۃُ؟ قَالَ: عِنْدِیْ مَا قُلْتُ لَکَ، اِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ، فَتَرَکَہٗ حَتّٰی کَانَ بَعْدُ الْغَدِ، فَقَالَ: مَا عِنْدِکَ یَا ثُمَامَۃُ؟ فَقَالَ: عِنْدِیْ مَا قُلْتُ لَکَ، فَقَالَ: اَطْلِقُوْا ثُمَامَۃَ، فَانْطَلَقَ اِلٰی نَخْلٍ قَرِیْبٍ مِّنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، یَا مُحَمَّدُ، وَاللّٰہِ! مَا کَانَ عَلَی الْاَرْضِ وَجْہٌ اَبْغَضَ اِلَیَّ مِنْ وَّجْھِکَ فَقَدْ اَصْبَحَ وَجْھُکَ اَحَبَّ الْوُجُوْہِ اِلَیَّ وَاللّٰہِ! مَاکَانَ مِنْ دِیْنٍ اَبْغَضَ اِلَیَّ مِنْ دِیْنِکَ، فَاَصْبَحَ دِیْنُکَ اَحَبَّ الدِّیْنِ اِلَیَّ، وَاللّٰہِ مَاکَانَ مِنْ بَلَدٍ اَبْغَضَ اِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ، فَاَصْبَحَ بَلَدُکَ اَحَبَّ الْبِلاَدِ اِلَیَّ، وَ اِنَّ خَیْلَکَ اَخَذَتْنِیْ وَ اَنَا اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَمَاذَا تَرٰی؟ فَبَشَّرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ اَمَرَہٗ اَنْ یَّعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ، قَالَ لَہٗ قَآئِلٌ: صَبَوْتَ، قَالَ: لاَ وَ ٰ لکِنْ اَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَلاَ وَاللّٰہِ! لاَ تَأْتِیْکُمْ مِنَ الْیَمَامَۃِ حَبَّۃُ حَنْطَۃٍ حَتّٰی یَأْذَنَ فِیْھَا النَّبِیُّﷺ۔(٥٣)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ؐ نے نجد کی جانب سواروں کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ یہ دستہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اُثال نامی آدمی گرفتار کرلائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ اسے جکڑ دیا۔ نبیؐ کا اس کے پاس سے گزر ہوا۔ آپ نے اس سے فرمایا: ’’ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ وہ بولا: ’’اے محمدؐ! میرے پاس خیر ہے، (میرا خیال اچھا ہے) اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ذی نفس کو قتل کریں گے اور اگر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار احسان مند پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال کے خواہش مند ہیں تو جتنا دل چاہے طلب کرلیجیے۔‘‘ تا آنکہ دوسرا دن ہوا، آپ نے دوبارہ اس سے دریافت فرمایا:’’ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’میرا تو وہی خیال ہے جس کا میں کل گزشتہ اظہار کرچکا ہوں کہ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک احسان مند پر احسان کریں گے۔‘‘ آپ نے اسے اس کی حالت پر چھوڑدیا کہ تیسرا دن بھی طلوع ہوا۔ آپ نے پوچھا: ’’ثمامہ! کہو کیا خیال ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’میرے پاس تو وہی جواب ہے جو اس سے قبل دے چکا ہوں۔‘‘ اس پر آپ نے حکم ارشاد فرمایا: ’’ثمامہ کو آزاد کردو۔‘‘ رہائی کے بعد ثمامہ مسجد کے قریبی نخلستان میں گیا وہاں غسل کیا اور واپس مسجدنبوی آ داخل ہوا اور ( اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ) کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا اور عرض کیا: ’’اے محمد(ا)! روئے زمین پر آپ کے چہرے سے مبغوض چہرہ میرے نزدیک کوئی نہیں تھا مگر اب آپ کے چہرے مبارک سے زیادہ محبوب چہرہ روئے زمین پر کوئی نہیں ہے واللہ! آپ کے دین سے زیادہ دشمنی مجھے کسی دین سے نہیں تھی مگر اب آپ کے دین سے زیادہ محبوب مجھے اور کوئی دین نہیں۔ واللہ! آپ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر مجھے کوئی نہیں تھا مگر اب آپ کے شہر سے زیادہ پسندیدہ کوئی شہر نہیں۔ آپ کے سواروں نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جب کہ میں عمرہ کی ادائے گی کے لیے جارہا تھا، اب آپ کا کیا ارشاد ہے؟‘‘ رسول اللہ ا نے اسے بشارت دی اور اسے عمرہ ادا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ جب وہ مکہ میں داخل ہوا تو کہنے والے نے کہا: ’’تو بے دین ہوگیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ایسا نہیں بلکہ میں تو رسول اللہا کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوا ہوں، واللہ! اب نبیؐ کی اجازت کے بغیر یمامہ سے گندم کا ایک دانہ تک بھی نہیں آئے گا۔‘‘

جبیر بن مطعمؓ پر تلاوت قرآن کااثر

٢٤- بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ جبیر بن مطعم جنگ بدر کے بعد قریش کے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کرنے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے مدینہ آئے۔ یہاں رسول اللہا مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور زیر تلاوت تھی ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ جب حضوؐر اس سورہ کی چھتیسویں آیت پر پہنچے تو میرا دل میرے سینے سے اڑا جاتاتھا، بعد میں ان کے مسلمان ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس روز یہ آیات سن کر اسلام ان کے دل میں جڑپکڑ چکا تھا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَفَّانُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ: ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ اِخْوَتِیْ عَنْ اَبِیْ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ اَنَّہٗ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ فِدَآئِ بَدْرٍ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فِی فِدَآئِ الْمُشْرِکِیْنَ وَمَا اَسْلَمَ یَوْمَئِذٍ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالطُّوْرِ، فَکَأَنَّمَا صَدَعَ عَنْ قَلْبِیْ حِیْنَ سَمِعْتُ الْقُرْٰانَ۔(٥٤)
ترجمہ: سعد بن ابراہیم سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے بھائیوں سے سنا، وہ میرے والد کے حوالہ سے، اس نے جبیر بن مطعم کے حوالہ سے بیان کیا کہ وہ (جبیر بن مطعم) اسیران بدر کے فدیہ کے سلسلہ میں گفتگو کرنے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابن جعفر نے فِیْ فِدَآئِ بَدْرٍ کی جگہ فِیْ فِدَآئِ الْمُشْرِکِیْنَ کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ اس وقت جبیر بن مطعم خود مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ جبیر کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو اس وقت رسول اللہا نماز مغرب ادا فرما رہے تھے۔ آپ نے اس نماز میں سورۂ طور تلاوت فرمائی، جب میں نے قرآن کی یہ سورت سنی تو میرا دل سینے سے اڑا جاتا تھا۔
(۲) حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: حَدَّثُوْنِیْ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّﷺ یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالطُّوْرِ فَلَمَّا بَلَغَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃ: (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَـْیئٍ اَمْ ھُمُ الْخَالِقُوْنَ اَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَج بَلْ لاَّ یُوْقِنُوْنَ۵ط اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ) کَادَ قَلْبِیْ اَنْ یَّطِیْرَ۔(٥٥)
ترجمہ: حضرت جبیر بن مطعمؓ کا بیان ہے کہ میںنے نبیؐ کو مغرب کی نماز میں سورہ طور تلاوت فرماتے سنا، جب آپ (ام خلقوا السماوات والارض بل لا یوقنون ام عندھم خزائن ربک ام ھم المصیطرون ) کی آیت پر پہنچے تو میرا دل قریب تھا کہ اڑجاتا۔
تشریح: سورۂ طور میں پہلے جو سوالات چھیڑے گئے تھے وہ کفار مکہ کو یہ احساس دلانے کے لیے تھے کہ محمدؐ کے دعوائے رسالت کو جھٹلانے کے لیے جو باتیں وہ بنا رہے ہیں وہ کس قدر غیر معقول ہیں۔ اس حدیث میں جس آیت کا ذکر ہے اس میں ان کے سامنے یہ سوال رکھا گیا ہے کہ جو دعوت محمدؐ پیش کررہے ہیں آخر اس میں وہ بات کیا ہے کہ جس پر تم لوگ اس قدر بگڑ رہے ہو، وہ یہی تو کہہ رہے ہیں کہ اللہ تمہارا خالق ہے اور اسی کی تم کو بندگی کرنی چاہیے، اس پر تمہارے بگڑنے کی آخر کیا معقول وجہ ہے؟ کیا تم خود بن گئے ہو؟ کسی بنانے والے نے تمہیں نہیں بنایا؟ یا اپنے بنانے والے تم خود ہو؟ یا یہ وسیع کائنات تمہاری بنائی ہوئی ہے؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے اور تم خود مانتے ہو کہ تمہارا خالق بھی اللہ ہی ہے اور اس کائنات کا خالق بھی وہی ہے تواس شخص پر تمہیں غصہ کیوں آتاہے جو تم سے کہتا ہے کہ وہی اللہ تمہاری بندگی و پرستش کا مستحق ہے؟ غصے کے لائق بات یہ ہے کہ یہ کہے کہ جو خالق نہیں ہیں ان کی بندگی کی جائے اور جو خالق ہے اس کی بندگی نہ کی جائے؟ تم زبان سے یہ اقرار تو ضرور کرتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا اور کائنات کا خالق ہے لیکن اگر تمہیں واقعی اس بات کا یقین ہوتاتو اس کی بندگی کی طرف بلانے والے کے پیچھے اس طرح ہاتھ دھوکر نہ پڑجاتے۔ (تفہیم القرآن،ج۵، طور، حاشیہ:۲۸)

اسیران بدر کے فدیہ کے بارے میں مشاورت

٢٥- ’’اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم کردیتے ہیں کہ دودھ کی طرح ہوجاتے ہیں اور بعض کے دلوں کو اتنا سخت کردیتے ہیں کہ پتھر بن جاتے ہیں۔ ابوبکرؓ کی مثال ابراہیم ؑاور عیسیٰؑ کی سی ہے اور عمر ؓ کی مثال نوحؑ کی سی۔‘‘
پس منظر: اسیران جنگ بدر کے فدیہ کے متعلق احادیث اور تفسیر کی کتابوں میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ جب یہ لوگ قید ہوکر آئے تو آں حضرتؐ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ ان کے معاملے میں کیا کیا جائے؟ یہ وہ وقت تھاکہ مہاجرین کے دلوں پر ان کے مظالم کے زخم تازہ تھے۔ دو برس پہلے انہی لوگوں نے مکہ سے نکالا تھا اور اب اس لیے ان پر چڑھ کر آئے تھے کہ انہیں مدینہ میں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیں۔ اس وجہ سے اکثر طبیعتوں میں ان کے خلاف سخت اشتعال تھا۔ علاوہ ازیں اس وقت مسلمانوں کی جمعیت بھی تھوڑی تھی، کفار ان سے کئی گنا زیادہ طاقت لے کر میدان میں آئے تھے اور ان کی تعداد میں ایک ایک آدمی کا اضافہ بھی مسلمانوں کے لیے مہلک تھا۔ اس لیے قدرتی طور پر مسلمان یہ چاہتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو دشمن کی قوت کو توڑا جائے اور یہ ۷۰ آدمی جو ان میں سے کم ہوگئے، دوبارہ ان سے مل کر ان کی فوجی قوت میں اضافہ نہ کرسکیں۔ تیسری بات یہ تھی کہ اس وقت مسلمانوں پر فاقوں پر فاقے گزررہے تھے اور ان کے پاس خود اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بھی کافی سامان موجود نہ تھا، اس لیے اسیران جنگ کو اختتام جنگ تک قید رکھنا اور ان کی خوراک کا بندو بست کرنا ان کی قدرت سے باہر تھا۔ ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر حضرت عمرؓ نے یہ رائے دی کہ ان کو قتل کردیا جائے۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے کہا: گھنی جھاڑی میں آگ لگا کر اس میں پھینک دیا جائے مگر حضرت ابوبکرؓ نے جوکہ سراسر لطف و رحم تھے اس کے خلاف رائے دی کہ انہیں معاف کردیاجائے۔ یہ مختلف رائیں سننے کے بعد رسول اکرمؐ نے مندرجہ بالا الفاظ فرمائے۔
(الجہاد فی الاسلام: جنگ کے مہذب قوانین ’’اسیران جنگ‘‘)
تخریج:(۱) حدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ، ثَنَا الْاَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ ھٰؤُلاَئِ الْاُسَارٰی؟ قَالَ: فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَوْمُکَ وَ اَھْلُکَ اسْتَبْقِھِمْ، وَاسْتَأْنِ بِھِمْ، لَعَلَّ اللّٰہَ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ، قَالَ: وَ قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْرَجُوْکَ وَ کَذَّبُوْکَ قَرِّبْھُمْ فَاضْرِبْ اَعْنَاقَھُمْ، قَالَ: وَ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اُنْظُرُوْا وَادِیًا کَثِیْرَ الْحَطَبِ، فَاَدْخِلْھُمْ فِیْہِ، ثُمَّ اَضْرِمْ عَلَیْھِمْ نَارًا۔ قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَطَعْتَ رَحِمَکَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْھِمْ شَیْئًا قَالَ: فَقَالَ نَاسٌ: یَأْخُذُ بِقَوْلِ اَبِیْ بَکْرٍ، وَ قَالَ نَاسٌ یَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ، وَ قَالَ نَاسٌ: یَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ۔ قَالَ: فَخَرَجَ عَلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:اِنَّ اللّٰہَ لَیَلِیَنَّ قُلُوْبَ رِجَالٍ فِیْہِ حَتّٰی تَکُوْنَ اَلْیَنَ مِنَ اللَّبَنِ، وَ اِنَّ اللّٰہَ لَیَشُدُّ قُلُوْبَ رِجَالٍ فِیْہِ حَتّٰی تَکُوْنَ اَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ، وَ اِنَّ مَثَلَکَ یَا اَبَابَکْرٍ کَمَثَلِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ: (فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) وَمَثَلُکَ یَا اَبَا بَکْرٍ کَمَثَلِ عِیْسٰی قَالَ:(اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ) وَ اِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ کَمَثَلِ نُوْحٍ، قَالَ: (رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا)، وَ اِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ کَمَثَلِ مُوْسٰی قَالَ: (وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ) اَنْتُمْ عَالَۃٌ فَلاَ یَنْفَلِتَنَّ مِنْھُمْ اَحَدٌ اِلاَّ بِفَدَائٍ اَوْ ضَرْبَۃِ عُنُقٍ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِلاَّ سُھَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُہٗ یَذْکُرُ الْاِسْلاَمَ، قَالَ: فَسَکَتَ، قَالَ: فَمَا رَأَیْتُنِیْ فِیْ یَوْمٍ اَخْوَفَ تَقَعَ عَلَیَّ حِجَارَۃٌ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ حَتّٰی قَالَ: اِلاَّ سُھَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔۔۔اِلٰی قَوْلِہٖ۔۔۔ مَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ)۔(٥٦)
ترجمہ: حضرت عبد اللہؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا بدر کے روز رسول اللہؐ نے صحابہ سے اسیران بدر کے بارے میں ان کی رائے طلب فرمائی کہ تم لوگ ان کے بارے میںکیا مشورہ اور رائے دیتے ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ ابوبکرؓ نے عرض کیا:’’اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کے قومی بھائی ہیں اور خاندانی لوگ ہیں، انہیں زندہ چھوڑدیں اور ان سے توبہ کرالیں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ کل ان پر مہربان ہو اور انہیں توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے کہا: ’’یارسول اللہ! یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی ہے اور آپ کو گھر سے بے گھر کیاہے، انہیں ذرا قریب کریں کہ میں ان کی گردن اُڑا دوں۔‘‘ عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے رائے دی کہ اس میدان میں درخت کثرت سے ہیں، ان کو اس وادی میں داخل کرکے ان پر آگ لگادی جائے۔‘‘ ’’حضرت عباس ؓ نے رائے دی کہ ان سے قطع رحم کرلیں۔‘‘آپ یہ آراء سن کر خاموش رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اُٹھ کر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے باتیں شروع کردیں۔ کچھ نے کہا: آپ حضرت ابوبکرؓ کی رائے قبول فرمائیں گے، کچھ دوسروں نے رائے دی کہ آپ حضرت عمرؓ کی رائے قبول فرمائیں گے، اور کچھ نے کہا کہ آپ عبد اللہ بن رواحہؓ کی رائے پر عمل فرمائیں گے۔ راوی کا بیان کہ رسول اللہؐ باہر نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کے دلوں میں نرمی ڈال دی ہے کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہیں اور کچھ لوگوں کے دلوں میں سختی پیدا فرمادی ہے کہ وہ پتھرسے بھی زیادہ سخت ہیں۔ ابوبکر! تمہاری مثال ابراہیم ؑ کی سی ہے، جنہوں نے اللہ کے حضور عرض کیا’’جس نے میری اتباع کی وہ میرا ہے، اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس کا معاملہ تیرے سپرد، تو بلاشبہ غفور و رحیم ہے اور ابوبکر! تیری مثال عیسیٰ ایسی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا: ’’اگر ان کو تو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر درگزر فرمائے تو بلاشبہ تو غالب اور حکیم ہے‘‘ اور اے عمر! تیری مثال حضرت نوحؑ کی سی ہے جنہوں نے اپنے رب کے حضور استدعا کی: ’’پروردگار! روئے زمین پر کافروں کا ایک گھر بھی باقی نہ چھوڑ۔‘‘ اور اے عمر! تمہاری مثال موسیٰؑ کی سی ہے، جس نے اللہ کے حضور درخواست کی:’’(اے پروردگار) ان کے دلوں پر سختی فرما۔‘‘ یہ لوگ جب تک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ سنو! اس وقت تمہیں ضرورت و حاجت ہے، ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیے کے رہائی نہ پائے، فدیہ نہ دینے کی صورت میں ان کی گردنیں مارد ی جائیں۔ اسی وقت عبد اللہ بن مسعودؓ نے درخواست کی: ’’یا رسول اللہ! سہیل بن بیضا کو مستثنیٰ فرمادیں، میں نے اسے اسلام کا ذکر کرتے خود سنا ہے۔‘‘ آپ یہ سن کر خاموش رہے، واللہ! میں دن بھر خوف زدہ رہا کہ کہیں اس درخواست کی پاداش میں مجھ پر آسمان سے سنگ باری نہ ہوجائے تاآنکہ آپ نے فرمایا: سہیل بن بیضاء کے علاوہ۔ راوی کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے: مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْریٰ حَتّٰی یُثْخِنَ۔۔۔سے لے کر لَوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ تک نازل فرمایا۔
(۲) حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السِّرِّیِّ، قَالَ: نَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سِمَاکُ الْحَنَفِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ ح قَالَ وَ حَدَّثَنا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ الْحَنَفِیُّ، قَالَ: نَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ زُمَیْلٍ ھُوَ سِمَاکُ الْحَنَفِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ۔۔۔قَالَ اَبُوْ زُمَیْلٍ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا اَسَرُوا الْاُسَارٰی قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺلِاَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ: مَاتَرَوْنَ فِیْ ھٰؤُلَآئِ الْاُسَارٰی؟ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیْرَۃِ اَرٰی اَنْ تَأْخُذَ مِنْھُمْ فِدْیَۃً، فَتَکُوْنُ لَنَا قُوَّۃً عَلَی الْکُفَّارِ، فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَھْدِیَھُمْ لِلْاِسْلاَمِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا تَرٰی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: قُلْتُ لاَ وَاللّٰہِ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَرَی الَّذِیْ رَاٰی اَبُوْبَکْرٍ وَلٰـکِنِّیْ اَرٰی اَنْ تُمَکَّنَّا فَنَضْرِبُ اَعْنَاقَھُمْ، فَتَمَکِّنْ عَلِیًّا مِنْ عَقِیْلٍ فَیَضْرِبْ عُنُقَہٗ، وَ تَمَکَّنِّیْ مِنْ فُلاَنٍ نَسَبِیًا لِعُمَرَ فَاَضْرِبْ عُنُقَہٗ فَاِنَّ ھٰؤُلَآئِ اَئِمَّۃُ الْکُفْرِ وَ صَنَادِیْدُھَا فَھَوِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا قَالَ اَبُوْبَکْرٍ، وَلَمْ یَھْوَ مَا قُلْتُ۔۔۔الحدیث(٥٧)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن خطاب نے بتایا کہ بدر کے روز جب صحابہ کرامؓ نے مشرکین کے فوجیوں کواسیر بنایا تو آپ نے حضرت ابوبکر و عمرؓ سے دریافت فرمایا کہ تمہاری ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے اور مشورہ ہے؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا:’’اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے خاندان اور برادری کے ہیں، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ انہیں کچھ مالی معاوضہ لے کر رہا فرمادیں، یہ ہمارے لیے کافروں کے مقابلہ میں قوت ثابت ہوگا اور توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت عطا فرمادے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ ؐ نے روئے سخن عمر بن خطاب کی طرف فرمایا اور ان سے دریافت فرمایا:’’ابن خطاب تمہاری کیا راے ہے؟‘‘ عمر نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا:’’نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میری رائے وہ نہیںجو ابو بکر کی ہے بلکہ میرا مشورہ تو یہ ہے کہ ہمیں ان پر اس وقت غلبہ ہے ہم ان کی گردنیں اڑادیں، عقیل کو علی کے سپرد کریں اور وہ اس کی گردن مار دے اور فلاں (جو ان کے خاندان کا تھا کے بارے میں کہا) میرے قابو میں کریں میں اس کی گردن اڑاتا ہوں، یہ سب کفر کے امام اور سرغنے ہیں۔‘‘ رسول اللہ ا کا رجحان ابوبکرؓ کی رائے کی جانب ہوا اور میں نے جو رائے پیش کی اسے نظر انداز کردیا۔

قریش کے بارے میں آپؐ کی پیشین گوئی

٢٦- لَنْ تَغْزُوَکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَ لٰـکِنَّکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ۔
(حضورؐ نے فرمایا:) ’’اس سال کے بعد اب قریش تم پر چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ تم ان پر چڑھائی کروگے۔‘‘ (یہ بات حضوؐر نے جنگ خندق یا غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمائی) یہ حالات کابالکل صحیح اندازہ تھا، قریش ہی نہیں سارے دشمن قبائل متحد ہوکر اسلام کے خلاف اپنا آخری داؤ چل چکے تھے،اس میں ہار جانے کے بعد ان میں یہ ہمت باقی نہ رہی تھی کہ مدینے پر حملہ آور ہونے کی جرأت کرسکتے ۔ اب حملے کی قوت دشمنوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔ (تفہیم القرآن ج۴، الاحزاب،تعارف سورہ))
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَ لَمَّا انْصَرَفَ اَھْلُ الْخَنْدَقِ عَنِ الْخَنْدَقِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا بَلَغَنِیْ: لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَ ٰ لکِنَّکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ، فَلَمْ تَغْزُھُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ ذٰلِکَ، وَکَانَ ھُوَ الَّذِیْ یَغْزُوْھَا حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ مَکَّۃَ۔(٥٨)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب اہل خندق معرکۂ خندق سے واپس آئے تو جیسا کہ مجھے پہنچا ہے، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: ’’اس سال کے بعد قریش تم سے ہرگز لڑائی و جنگ نہیں کریں گے، لیکن تم ان سے جنگ کروگے۔‘‘ چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ قریش نے اپنی جانب سے جنگ نہ کی اور رسول اللہؐ ان سے جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ مکہ فتح کرلیا۔
امام ترمذیؒ نے مالک بن برصاء سے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کی ہے:
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِکِ بْنِ بَرْصَائَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ یَقُوْلُ: لاَ تَغْزِیْ ھٰذِہٖ بَعْدَ الْیَوْمِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(٥٩)
ترجمہ: حارث بن مالک سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبیؐ کو فتح مکہ کے روز فرماتے خود سنا ہے: ’’آج کے بعد قیامت تک یہ (قریش) تم سے جنگ نہیں کریں گے۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ الْاَحْزَابِ: نَغْزُوْھُمْ وَلاَ یَغْزُوْنَنَا۔(٦٠)
ترجمہ: سلیمان بن صرد کا بیان ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے روز نبیؐ نے فرمایا:( پیشین گوئی فرمائی) ’’ہم ان سے (قریش) لڑیں گے مگر وہ اب ہم سے جنگ نہیں کریں گے۔‘‘
سلیمان بن صرد سے مروی ایک روایت میں ہے:
(۴) سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ حِیْنَ اُجْلِیَ الْاَحْزَابُ عَنْہُ، اَلْاٰنَ نَغْزُوْھُمْ وَلاَ یَغْزُوْنَنَا نَحْنُ نَسِیْرُ اِلَیْھِمْ۔(٦١)
ترجمہ: میں نے نبیؐ سے سنا جب کہ خندق کے روز کافر اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ گئے اور میدان صاف ہوگیا، فرما رہے تھے: ’’آج کے بعد ہم ہی ان پر چڑھائی کریں گے اور جنگ کریں گے وہ ہم پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے۔‘‘
تشریح: جنگ بدر کی فتح سے عرب میں تحریک اسلامی کا جو عروج شروع ہوا تھا وہ غزوۂ خندق تک پہنچتے پہنچتے اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ مشرکین یہود، منافقین اور متربِّصین، سب ہی یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اس نوخیز طاقت کو محض ہتھیاروں اور فوجوں کے بل پر شکست نہیں دی جاسکتی۔ جنگ خندق میں یہ لوگ متحد ہوکر دس ہزار(۰۰۰’۱۰)فوج کے ساتھ مدینے پر چڑھ آئے تھے مگر ایک مہینے تک سرمارنے کے بعد آخر کار ناکام ہوکرچلے گئے۔
یہ گویا اس امر کا اعلان تھا کہ مخالف اسلام طاقتوں کی قوت اقدام ختم ہوچکی ہے، اب اسلام بچاؤ کی نہیں بلکہ اقدام کی لڑائی لڑے گااور کفر کو اقدام کے بجائے بچاؤ کی لڑائی لڑنی پڑے گی۔ یہ حالات کا بالکل صحیح جائزہ تھا جسے دوسرا فریق بھی اچھی طرح محسوس کررہا تھا۔
اسلام کے اس روز افزوںعروج کی اصل وجہ مسلمانوں کی تعداد نہ تھی۔ بدر سے خندق تک ہر لڑائی میں کفار ان سے کئی گنا زیادہ قوت لے کر آئے تھے اور مردم شماری کے لحاظ سے بھی مسلمان اس وقت تک عرب میں بہ مشکل ۱۰-۱ فیصدی تھے۔ اس عروج کی وجہ مسلمانوں کے اسلحہ کی برتری بھی نہ تھی، ہر طرح کے ساز و سامان میں کفار ہی کا پلہ بھاری تھا، معاشی طاقت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا اُن سے کوئی مقابلہ نہ تھا، اُن کے پاس تمام عرب کے معاشی وسائل تھے اور مسلمان بھوکوں مررہے تھے، اُن کی پشت پر تمام عرب کے مشرک اوراہل کتاب قبائل تھے اورمسلمان ایک نئے دین کی دعوت دے کر قدیم نظام کے سارے حامیوں کی ہمدردیاں کھوچکے تھے۔
ان حالات میں جو چیز مسلمانوں کوبرابر آگے بڑھا ئے لیے جارہی تھی وہ دراصل مسلمانوں کی اخلاقی برتری تھی جسے تمام دشمنان اسلام خود بھی محسوس کررہے تھے۔ ایک طرف وہ دیکھتے تھے کہ نبی ؐ اور صحابہ کرامؓ کی بے داغ سیرتیں ہیں، جن کی طہارت و پاکیزگی اور مضبوطی دلوں کو مسخر کرتی چلی جارہی ہے اور دوسری طرف انہیں صاف نظر آرہا تھا کہ انفرادی اور اجتماعی اخلاق طہارت نے مسلمانوں کے اندر کمال درجے کا اتحاد اور نظم و ضبط بھی پیدا کردیا ہے، جس کے سامنے مشرکین اور یہود کا ڈھیلا نظام جماعت امن اور جنگ دونوں حالتوں میں شکست کھاتا چلا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، النور، تاریخی پس منظر)

جنگی قیدیوں کا تبادلہ

٢٧- ایک مرتبہ حضورا نے ابوبکرص کو ایک مہم پر بھیجا اور اس میں چند قیدی گرفتار ہوئے، ان میں ایک نہایت خوب صورت عورت بھی تھی جو حضرت سلمہ بن اکوع کے حصے میں آئی، رسول اللہ انے بہ اصرار اس کو حضرت سلمہ سے مانگ لیا اور پھر اسے مکہ بھیج کر اس کے بدلے کئی مسلمان قیدیوں کو رہا کرایا۔ (مسلم۔ ابوداوٗد۔ طحاوی۔ کتاب الاموال لابی عبید۔ طبقات ابن سعد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: نَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ:غَزَوْنَا فَزَارَۃَ وَ عَلَیْنَا اَبُوْبَکْرٍ اَمَّرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَیْنَا فَلَمَّا کَانَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْمَائِ سَاعَۃٌ، اَمَرَنَا اَبُوْبَکْرٍ فَعَرَّسْنَا ثُمَّ شَنَّ الْغَارَۃَ فَوَرَدَ الْمَائَ، فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَیْہِ وَ سَبَا، وَاَنْظُرُ اِلٰی عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِیْھِمُ الذَّرَارِیُّ، فَخَشِیْتُ اَنْ یَّسْبِقُوْنِیْ اِلَی الْجَبَلِ، فَرَمَیْتُ بِسَھْمٍ بَیْنَھُمْ وَ بَیْنَ الْجَبَلِ، فَلَمَّا رَأَوُا السَّھْمَ وَقَفُوْا فَجِئْتُ بِھِمْ اَسُوْقُھُمْ وَ فِیْھِمِ امْرَأَۃٌ مِّنْ بَنِیْ فَزَارَۃَ، عَلَیْھَا قَشْعٌ مِّنْ اٰدَمٍ، قَالَ: الْقَشْعُ النِّطْعُ، مَعَھَا ابْنَۃٌ لَّھَا مِنْ اَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَسُقْتُھُمْ حَتّٰی اَتَیْتُ بِھِمْ اَبَابَکْرٍ، فَنَفَّلَنِیْ اَبُوْبَکْرٍ ابْنَتَھَا فَقَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ، وَمَا کَشَفْتُ لَھَا ثَوْبًا فَلَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی السُّوْقِ، فَقَالَ: یَا سَلَمَۃُ: ھَبْ لِی الْمَرَأَۃَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ اَعْجَبَتْنِیْ وَمَا کَشَفْتُ لَھَا ثَوْبًا، ثُمَّ لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْغَدِ فِی السُّوْقِ، فَقَالَ: یَا سَلَمَۃُ: ھَبْ لِی الْمَرْأَۃَ لِلّٰہِ اَبُوْکَ، فَقُلْتُ: ھِیَ لَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَوَاللّٰہِ! مَا کَشَفْتُ لَھَا ثَوْبًا، فَبَعَثَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی اَھْلِ مَکَّۃَ فَفَدٰی بِھَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ کَانُوْا اُسِرُوْا بِمَکَّۃَ۔(٦٢)
ترجمہ: حضرت سلمہ بن اکوع ص سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیاکہ ہم نے فزارہ قبیلہ سے جنگ لڑی۔ اس معرکہ میں حضرت ابوبکر ہمارے امیر جنگ تھے، جنہیں رسول اللہا نے مقرر فرمایا تھا جب ہمارے اور پانی کے درمیان ایک گھڑی بھر کا فاصلہ باقی رہ گیا (یعنی جہاں قبیلہ فزارہ رہتا تھا) ابوبکرص نے ہمیں حکم دیا اور ہم رات کے پچھلے حصہ میں اتر پڑے، پھر حملہ کا حکم ہوا ہر جانب سے، پھرپانی پر پہنچ گئے۔۔ وہاں جو مارا گیا وہ ماراگیا اور کچھ قید ہوئے، میں انسانوں کے گروہ کو دیکھ رہا تھا اس میں بچے بھی تھے، مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پرنہ پہنچ جائیں، تو میںنے پہاڑ اور ان لوگوں کے درمیان تیر مارا جب انہوں نے تیر کو دیکھا تو وہیں ٹھہر گئے میں ان سب کو ہانکتا ہوا لایا، ان میں بنی فزارہ کی ایک خاتون بھی تھی۔ وہ پرانی پوستین زیب تن کیے ہوئے تھی، اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔ عرب کی خوب صور ت ترین اور حسین و جمیل۔ میں ان سب کو حضرت ابوبکر ص کی خدمت میں ہانک لایا، انہوں نے وہ لڑکی بطور انعام مجھے عنایت فرمادی، پھر ہم مدینہ پہنچے، ابھی تک میں نے اس لڑکی کا کوئی کپڑا تک نہیں کھولا تھا کہ بازار میں مجھے رسول اللہ املے اور فرمایا:’’اے سلمہ! وہ لڑکی مجھے دے دو۔‘‘ میں نے عرض کیا:’’یارسول اللہ! وہ تو مجھے بہت پسند ہے اور ابھی تک میں نے اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔‘‘ دوسرے دن پھر بازار میں رسول اللہ اسے ملاقات ہوگئی تو آپ نے دوبارہ فرمایا: ’’سلمہ! وہ لڑکی مجھے دے دو، اللہ تیرے باپ کا بھلا کرے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! وہ آپ کی ہے، واللہ! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔‘‘ آپ نے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں کئی مسلمان رہا کروالیے جو مکہ میں اسیر تھے۔
٢٨-(حضرت عمران بن حصین کی روایت ہے کہ) ایک مرتبہ قبیلۂ ثقیف نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کو قید کرلیا۔ اس کے کچھ مدت بعد ثقیف کے حلیف قبیلے بنی عقیل کا ایک آدمی مسلمانوں کے پاس گرفتار ہوگیا۔ حضور ا نے اس کو طائف بھیج کر اس کے بدلے ان دونوں مسلمانوں کو رہا کرالیا۔ (مسلم، ترمذی، مسنداحمد)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَ عَلِیُّ بْنُ حُجْرِ السَّعْدِیُّ وَاللَّفْظُ لِزُھَیْرٍ، قَالاَ: نَا اِسْمَاعِیْلُ ابْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: نَا اَیُّوْبُ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ اَبِی الْمُھَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ:کَانَتْ ثَقِیْفٌ حُلَفَائَ لِبَنِیْ عُقَیْلٍ، فَاَسَرَتْ ثَقِیْفٌ رَجُلَیْنِ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَسَرَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ رَجُلاً مِنْ بَنِیْ عُقَیْلٍ وَ اَصَابُوْا مَعَہُ الْعَضْبَائَ، فَاَتٰی عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ فِی الْوَثَاقِ، قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! فَاَتَاہُ قَالَ: مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ: بِمَ اَخَذْتَنِیْ وَ بِمَ اَخَذْتَ سَابِقَۃَ الْحَاجِّ؟ قَالَ: اِعْظَامًا لِذٰلِکَ، اَخَذْتُکَ بِجَرِیْرَۃِ حُلَفَائِکَ ثَقِیْفٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ، فَنَادَاہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! یَا مُحَمَّدُ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَحِیْمًا رَقِیْقًا، فَرَجَعَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ:اِنِّیْ مُسْلِمٌ، قَالَ: لَوْ قُلْتَھَا وَ اَنْتَ تَمْلِکُ اَمْرَکَ اَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلاَحِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَادَاہُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! یَا مُحَمَّدُ! فَاَتَاہُ، فَقَالَ:مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ: اِنِّیْ جَائِعٌ فَاَطْعِمْنِیْ، وَ ظَمْآنُ فَاَسْقِنِیْ، قَالَ: ھٰذِہٖ حَاجَتُکَ فَفُدِیَ بِالرَّجُلَیْنِ۔۔۔(الخ) (٦٣)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین صسے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ثقیف بنی عقیل کے حلیف تھے، ثقیف نے رسول اللہا کے صحابہ میں سے دو کو قید کرلیا اور رسول اللہ اکے صحابہ نے بنی عقیل کا ایک آدمی گرفتار کرکے قید کرلیا اور عضباء نامی اونٹنی بھی انہوں نے پکڑ لی۔ اس شخص کو جب نبی اکی خدمت میں پیش کیا گیا تو وہ جکڑا ہوا تھا۔ اس نے بلند آواز سے پکارا: ’’یا محمد!‘‘ آپ اس کی آواز سن کر اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا:’’کیا بات ہے؟‘‘ وہ بولا کہ مجھے اور عضباء کو تم نے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’تمہیں اس بات سے مطلع کرنے کے لیے کہ تمہارے حلیف قبیلے ثقیف نے ہمارے دو آدمی قیدی بناکر کتنا بڑا جرم کیا ہے؟‘‘ پھر آپ واپس ہوئے تو اس نے پھر زور سے پکارنا شروع کیا: ’’یا محمد! یا محمد!‘‘ آپ انتہائی رقیق القلب اور رحم دل انسان تھے، واپس اس کی طرف لوٹے اور دریافت فرمایا: ’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے کہا:’’میں مسلمان ہوں۔ (اب اسلام قبول کرتا ہوں) آپ نے فرمایا: ’’اگر یہ بات تونے اس وقت کہی ہوتی جب کہ تو آزاد تھا تو یقینا فلاح پاجاتا۔‘‘ پھر آپ واپس ہوئے تو اس نے پھر زور زور سے ’’یا محمد، یا محمد‘‘ کہہ کر پکارنا شروع کیا۔ آپ نے پوچھا: ’’کیا ماجراہے؟‘‘ وہ بولا: ’’میںبھوکا ہوں، پیاسا ہوں، کچھ کھلائیں، پلائیں۔‘‘ آپ نے کہا: یہی تمہاری ضرورت ہے۔ پھر اسے دو آدمیوں کے بدلے رہا کردیا گیا۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، ثَنَا سُفْیَانُ، ثَنَا اَیُّوْبُ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ عَمِّہٖ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ فَدٰی رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ بِرَجُلٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (٦٤)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین صسے مروی ہے کہ نبی انے ایک مشرک کے بدلہ دو مسلمانوں کو رہا کرایا۔
تشریح: فقہاء میںسے امام ابو یوسف، امام محمد، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد ؒتبادلۂ اسیران کو جائز رکھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ کا ایک قول یہ ہے کہ تبادلہ نہیں کرنا چاہیے مگر دوسرا قول ان کا بھی یہی ہے کہ تبادلہ کیا جاسکتاہے البتہ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ جو قیدی مسلمان ہوجائے اسے تبادلہ میں کفار کے حوالے نہ کیا۔ (تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)

جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک

٢٩-اِسْتَوْصُوْا بِالْاُسَارٰی خَیْرًا۔
(جنگ بدر کے قیدیوں کو رسول اللہ انے مختلف صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ہدایت فرمائی کہ) ’’ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نُبَیْہُ بْنُ وَھْبٍ اَخُوْ بَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اَقْبَلَ بِالْاُسَارٰی، فَرَّقَھُمْ فِیْ اَصْحَابِہٖ وَ قَالَ: اسْتَوْصُوْا بِالْاُسَارٰی خَیْرًا۔(٦٥)
٣٠-ایک قیدی سہیل بن عمرو کے متعلق حضوؐر سے کہا گیا:’’یہ بڑا آتش بیان مقرر ہے، آپ کے خلاف تقریریں کرتا رہاہے، اس کے دانت تڑوا دیجیے‘‘ حضور انے جواب دیا:’’اگر میں اس کے دانت تڑواؤں تو اللہ میرے دانت توڑدے گا اگرچہ میں نبی ہوں۔‘‘ (سیرت ابن ہشام)
یمامہ کے سردار ثمامہ بن اُثال جب گرفتار ہوکر آئے تو جب تک وہ قید میں رہے، نبی اکے حکم سے عمدہ کھانا اور دودھ ان کے لیے مہیا کیا جاتا رہا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، فَحَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَلْقَمَۃَ اَخُوْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنْتَزِعُ ثَنَیَّتَیْ سُھَیْلِ بْنِ عَمْرِو السِّفْلَتَیْنِ، یَدْلَعُ لِسَانَہٗ، فَلاَ یَقُوْمُ عَلَیْکَ خَطِیْبًا فِیْ مَوْطِنٍ اَبَدًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ اُمَثِّلُ بِہٖ فَیُمَثِّلُ اللّٰہُ بِیْ وَ اِنْ کُنْتُ نَبِیًّا۔۔۔الخ (٦٦)
تشریح: نبی اکے اس طرز عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک جنگی قیدی جب تک حکومت کی قید میں رہے، اس کی غذا اور لباس اور اگر وہ بیمار یا زخمی ہوتو اس کا علاج حکومت کے ذمے ہے۔ قیدیوں کو بھوکا ننگا رکھنے یا ان کو عذاب دینے کا کوئی جواز اسلامی شریعت میں نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک اور فیاضانہ برتاؤ کی ہدایت کی گئی ہے۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں سے ایک قیدی ابو عزیز کا بیان ہے:’’مجھے جن انصاریوں کے گھر میں رکھا گیا تھا وہ صبح و شام مجھ کو روٹی کھلاتے تھے اور خود صرف کھجوریں کھاکر رہ جاتے تھے۔‘‘
یہی طرز عمل صحابۂ کرامث کے دور میں بھی رہا۔ جنگی قیدیوں سے برے سلوک کی کوئی نظیر اس دور میںنہیں ملی۔
(تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)

قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان

٣١- نبی انے جنگ بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کرایا اور فتح مکہ کے بعد آپ نے ۱۷ آدمیوں کو عفو عام سے مستثنیٰ فرمایا اور پھر ان میں سے چار کو سزائے موت دی۔
تخریج:(۱) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمَّا اَسَرَ اَھْلَ بَدْرٍ قَتَلَ عُقْبَۃَ بْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ، وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ، وَ مَنَّ عَلٰی اَبِیْ عَزَّۃَ الْجُمَحِیِّ۔(٦٦)
ترجمہ: حضرت عائشہ ز سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے جب اہل بدر کو قید کیا تو عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو تو قتل کیااور ابو عزہ کو بطور احسان چھوڑدیا۔
(۲) قَالَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ: وَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ جِھْۃِ ذَالِکَ، قَبْلَ رُجُوْعِہٖ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ مُعَاوِیَۃَ بْنَ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ اَبِی الْعَاصِ بْنِ اُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَ ھُوَ جَدُّ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ اَبُوْ اُمِّہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ مُعَاوِیَۃَ وَ اَبَا عَزَّۃَ الْجُمَحِیَّ، وَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَسَرَہٗ بِبَدْرٍ، ثُمَّ مَنَّ عَلَیْہِ۔۔۔الخ (٦٨)
ترجمہ: ابو عبیدہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے مدینہ میں واپسی سے پہلے اسی جہت میں معاویہ بن مغیرہ اور ابو عزہ کو گرفتار کیا۔ رسول اللہ انے بدر میں ابو عزہ کو قید کیا اور پھر احسان کے طور پر اسے رہائی بخش دی۔
(۳) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: ثُمَّ اَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَافِلاً اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَ مَعَہٗ الْاُسَارٰی، وَ فِیْھِمْ عُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ، وَالنَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ۔۔۔(٦٩)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ ا مدینہ کی جانب واپسی کے لیے متوجہ ہوئے، اس موقع پر آپ کے ساتھ قیدی بھی تھے۔ ان قیدیوں میں عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث بھی تھے۔
(۴) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: حَتّٰی اِذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالصَّفْرَائِ قُتِلَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، قَتَلَہٗ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، کَمَا اَخْبَرَنِیْ بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ اَھْلِ مَکَّۃَ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی اِذَا کَانَ بِعِرْقِ الظَّبْیَۃِ قُتِلَ عُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ۔(٧٠)
ترجمہ: ابن اسحاق کابیان ہے کہ جب نبی ا صفراء کے مقام پر تھے تو نضر بن حارث کو قتل کردیا گیا۔ علی بن ابی طالبؓ نے اسے قتل کیا۔ یہ بیان اس اطلاع کے مطابق ہے جو مجھے اہل مکہ کے کسی صاحب علم نے دی، پھر وہاں سے نکلے اورعِرْقِ الظَّبْیَۃ مقام پرپہنچے تو وہاں عقبہ بن ابی معیط کو قتل کردیا گیا۔
(۵) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُوْ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، اَنْبَأَ الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ، اَنْبَأَ الشَّافِعِیُّ، اَنْبَأَ عَدَدٌ مِنْ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَیْشٍ وَ غَیْرِھِمْ مِنْ اَھْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَسَرَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَبْدِیِّ یَوْمَ بَدْرٍ وَ قَتَلَہٗ بِالْبَادِیَۃِ اَوِ الْاَثِیْلِ صَبْرًا وَ اَسَرَ عُقْبَۃَ بْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ فَقَتَلَہٗ صَبْرًا۔(٧١)
ترجمہ: قریش اور دوسرے قبائل کے علماء مغازی میں سے بہت علماء نے اطلاع دی ہے کہ رسول اللہا نے نضر بن حارث کو بدر کے روز قید کیا اور بادیہ یا اَثیل کے مقام پر باندھ کر اسے قتل کردیا اور عقبہ بن ابی معیط کو اسیر بنایا اور اسے بھی باندھ کر قتل کردیا۔
(۶) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللّٰہُ: وَ اَسَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَھْلَ بَدْرٍ مِنْھُمْ مَنْ مَنَّ عَلَیْھِمْ بِلاَ شَـْیئٍ اَخَذَہٗ مِنْھُمْ وَ مِنْھُمْ مَنْ اَخَذَ مِنْہُ فِدْیَۃٌ وَ مِنْھُمْ مَنْ قَتَلَہٗ وَ کَانَ الْمَقْتُوْلاَنِ بَعْدَ الْاِسَارِ یَوْمَ بَدْرٍ عُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ وَالنَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ۔(٧١)
ترجمہ: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ رسول اللہا نے اہل بدر کو اسیر بنایا۔ ان میں سے بعض کو بغیر کسی قسم کا معاوضہ لیے رہا فرمادیا اور ان میں سے بعض کو قتل کردیا اور بدر میں قید ہونے والوں میں دو قیدی جو قتل کیے گئے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث تھے۔
(۷) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، اَنْبَأَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَصْبَھَانِیُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَھْمِ، ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ ثََنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ قَالَ:اَمَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ ٰ الِہٖ وَسَلَّمَ مِنَ الْاُسَارٰی یَوْمَ بَدْرٍ اَبَا عَزَّۃَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ اَلْجُمَحِیَّ، وَ کَانَ شَاعِرًا وَکَانَ قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ یَا مُحَمَّدُ اِنَّ لِیْ خَمْسَ بَنَاتٍ لَیْسَ لَھُنَّ شَـْیئٌ فَتَصَدَّقْ بِیْ عَلَیْھِنَّ، فَفَعَلَ وَ قَالَ اَبُوْ عَزَّۃَ: اُعْطِیْکَ مَوْثِقًا اَنْ لاَ اُقَاتِلَکَ وَلاَ اُکْثِرُ عَلَیْکَ اَبَدًا فَاَرْسَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَیْشٌ اِلٰی اُحُدٍ جَآئَ ہٗ صَفْوَانُ بْنُ اُمَیَّۃَ فَقَالَ: اُخْرُجْ مَعَنَا، فَقَالَ: اِنِّیْ قَدْ اَعْطَیْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا اَنْ لاَ اُقَاتِلَہٗ، فَضَمَنَ صَفْوَانُ اَنْ یَّجْعَلَ بَنَاتَہٗ مَعَ بَنَاتِہٖ اِنْ قُتِلَ وَ اِنْ عَاشَ اَعْطَاہُ مَالاً کَثِیْرًا فَلَمْ یَزَلْ بِہٖ حَتّٰی خَرَجَ مَعَ قُرَیْشٍ یَوْمَ اُحُدٍ، فَاُسِرَ وَلَمْ یُؤْسَرْ غَیْرُہُ مِنْ قُرَیْشٍ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّمَا اُخْرِجْتُ کَرْھًا، وَلِیْ بَنَاتٌ، فَامْنُنْ عَلَیَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیْنَ مَا اَعْطَیْتَنِیْ مِنَ الْعَھْدِ وَالْمِیْثَاقِ لاَ، وَاللّٰہِ! لاَ تَمْسَحُ عَارِضَیْکَ بِمَکَّۃَ، تَقُوْلُ: سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَیْنِ، قَالَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ: فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ یُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَیْنِ، یَا عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ، قَدِّمْہُ فَاضْرِبْ عُنُقَہٗ، فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَ عُنُقَہٗ۔(٧٣)
ترجمہ: حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ بدر کے روز قید ہونے والوں میںسے رسول اللہ ا نے ابو عزہ عبد اللہ بن عمرو بن عبد جمحی کو امن دیا (قتل نہیں کیا) یہ صاحب شاعر تھے، اس نے نبی اکی خدمت میں گزارش کی: ’’اے محمد! میری پانچ بچیاں ہیں، ان کی گزر بسر کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ان کی وجہ سے مجھ پر رحم فرمائیں اور صدقہ عنایت فرمائیں۔‘‘ آپ نے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا۔ ابو عزہ نے عرض کیا: ’’میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں نہ تو آپ سے لڑوں گا اور نہ آپ کے خلاف قوت میں اضافہ کا کبھی باعث بنوں گا۔‘‘ رسول اللہ انے اسے آزاد فرمادیا مگر جب غزوہ اُحد کے لیے قریش نکلے تو صفوان بن امیہ اس کے پاس گیا اور اسے کہا کہ ہمارے ساتھ جنگ کے لیے نکلو۔ اس نے جواب دیا کہ میں محمداکو پختہ عہد و میثاق دے چکا ہوں کہ ان سے لڑائی نہیں کروں گا۔ اس پر صفوان بن امیہ نے ان کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بنانے کی ضمانت دی، اگر وہ قتل ہوگیا ورنہ زندہ واپس آنے کی صورت میں بہت سا مال و متاع اسے دیا جائے گا۔ صفوان بہ اصرار تقاضا کرتا رہا کہ وہ اُحد کے روز قریش کے ساتھ لڑائی کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ قریش میں سے صرف وہی گرفتار ہوکر قید ہوگیا۔ اس نے عرض کیا: ’’اے محمد! مجھے جبراً نکال کر لا کھڑا کیا گیا ہے، میری چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں، مجھ پر نظر کرم و احسان فرمائیں۔‘‘ رسول اللہ انے اس سے دریافت فرمایا: ’’جو عہد و پیمان تونے مجھ سے کیا تھا اس کا کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! اب مکہ تیرا چہرہ نہیں دیکھے گا تو کہتا ہے کہ میں نے محمد اکا دو مرتبہ مذاق اُڑایا ہے۔‘‘ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ نبی انے فرمایا: ’’یقینا مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت اسے آگے بڑھاؤ اور اس کی گردن تن سے جدا کردو چناں چہ عاصم نے اسے آگے بڑھا کر قتل کردیا۔‘‘
(۸) قَالَ الشَّافِعِیُّ۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ۔ وَ کَانَ الْمَمْنُوْنُ عَلَیْھِمْ بِلاَ فِدْیَۃَ اَبُوْ عَزَّۃَ الْجُمَحِیُّ، تَرَکَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِبَنَاتِہٖ، وَ اَخَذَ عَلَیْہِ عَھْدًا اَنْ لاَ یُقَاتِلَہٗ فَاَخْفَرَہٗ وَ قَاتَلَہٗ یَوْمَ اُحُدٍ فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ لاَ یُفَلَّتَ، فَمَا اُسِرَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ رَجُلٌ غَیْرَہٗ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ اُمْنُنْ عَلَیَّ وَدَعْنِیْ لِبَنَاتِیْ وَ اُعْطِیْکَ عَھْدًا اَنْ لاَّ اَعُوْدَ لِقَتَالِکَ، فَقَالَ النَّبِیُّﷺ لاَ تَمْسَحُ عَلٰی عَارِضَیْکَ بِمَکَّۃَ تَقُوْلُ قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَیْنِ فَاُمِرَ بِہٖ، فَضُرِبَ عُنُقُہٗ۔(٧٤)
ترجمہ: امام شافعی رحمۃ ا للہ علیہکا قول ہے کہ فدیہ لیے بغیر بطور احسان چھوڑ گئے لوگوں میں ابوعزہ جمحی تھا۔ اسے رسول اللہ ا نے اس کی بچیوں کی وجہ سے چھوڑدیا تھا اور اس سے عہد و پیمان لیا تھا کہ وہ آپ سے نہیں لڑے گا مگر اس نے آپ سے بے وفائی کی اور اُحد کے روز آپ کے ساتھ لڑنے کے لیے آگیا۔ رسول اللہ انے اعلان فرمادیا کہ اسے نہ چھوڑا جائے، چناں چہ مشرکین میں سے یہ واحد شخص تھا جو اسیر ہوا، اس نے عرض کیا:’’اے محمد! مجھ پر نظر کرم ہو اور مجھے میری بچیوں کے لیے رہا فرمادیں میں آپ سے پختہ عہد و پیمان کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کے ساتھ لڑنے کے لیے ہرگز نہیں آؤں گا۔‘‘ نبی انے ارشاد فرمایا:’’اب مکہ تیرے رخسارے (چہرہ) نہیں دیکھے گا تو کہتا ہے کہ میں نے دو مرتبہ محمد کو دھوکا و فریب دیا ہے۔‘‘ اس کے بعد اس کے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا اور اس کی گردن مار دی گئی۔
تشریح: مطلب یہ ہے کہ جب نظام باطل کی جگہ نظام حق قائم ہوجائے تو تمام لوگوں کو معاف کردیاجائے گا لیکن ایسے لوگوں کو سزا دینے میں اہل حق بالکل حق بجانب ہوں گے، جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں نظام حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم و ستم کی حد کردی ہو اگرچہ اس معاملے میں بھی مومنین صالحین کو زیب یہی دیتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور فتح یاب ہوکر ظالموں سے انتقام نہ لیں مگر جن کے جرائم کی فہرست بہت ہی زیادہ سیاہ ہو ان کو سزا دینا بالکل جائز ہے۔ اسی اجازت سے نبی انے فائدہ اُٹھایا جن سے بڑھ کر عفو و درگزر کسی کے شایان شان نہ تھا۔ (تفہیم القرآن، ج۱، البقرہ، حاشیہ:۲۰۵)
٣٢-فتح مکہ کے بعد آپ نے تمام اہل مکہ میں سے صرف چند اشخاص کے متعلق حکم دیا کہ ان میں سے جو بھی پکڑا جائے وہ قتل کردیا جائے۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوْ نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ، اَنْبَأَ اَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا الْاَدِیْبُ، ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادِ الْقَبَانِی، ثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ، ثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِیْ عُمَرُ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعِیْدِ الْمَخْزُوْمِیُّ، حَدَّثَنِیْ، جَدِّیْ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: اَمَنَ النَّاسَ اِلاَّ ھٰٓؤُلَآئِ الْاَرْبَعَۃِ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ فِیْ حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ، ابْنِ خَطَلِ وَ مِقْیَسِ بْنِ صُبَابَۃَ الْمَخْزُوْمِیِّ، وَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ، وَابْنِ نَقِیْذٍ۔ فَاَمَّا ابْنُ خَطَلٍ، فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَاَمَّا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَہٗ عُثْمَانُ ؓ فَاُوْمِنَ، وَکَانَ اَخَاہُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَلَمْ یُقْتَلْ وَ مَقِیْسُ بْنُ صُبَابَۃَ قَتَلَہُ ابْنُ عَمٍّ لَہٗ قَدْ سَمَّاہُ وَ قَتَلَ عَلِیُّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ابْنَ نَقِیْذٍ وَ قَیْنَتَیْنِ کَانَتَا لِمِقْیَسٍ، فَقُتِلَتْ اِحْدَاھُمَا وَ اُفْلِتَتِ الْاُخْرٰی وَ اَسْلَمَتْ۔(٧٥)
ترجمہ: رسول اللہ انے فتح مکہ کے روز فرمایا میں ان چار کے علاوہ سب کو امن دیتا ہوں۔ ان کو حل و حرم کہیں بھی امان نہیں۔ یہ ہیں ابن خطل، مقیس بن صبابہ مخزومی، عبد اللہ بن ابی سرح اور ابن نقیذ۔ ابن خطل کو تو زبیر بن عوام صنے قتل کیا اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے لیے حضرت عثمان صنے امان طلب کی اور اسے امان دے دی گئی۔ یہ صاحب حضرت عثمان صکے رضائی (دودھ شریک) بھائی تھے۔ لہٰذا ان کو قتل نہ کیاگیا۔ مقیس بن صبابہ کو ان کے چچا زاد بھائی نے تہہ تیغ کیا۔ اس نے اس کا نام بھی لیا۔ ابن نقیذ کو حضرت علی صنے قتل کیا۔ نیز مقیس کی دو لونڈیاں بھی تھیں ان میں سے ایک کو تو قتل کردیا گیا اور دوسری کو چھوڑ دیا گیا اور وہ مسلمان ہوگئی۔
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، ثَنَا اَبُوْ اَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَۃَ الْقَنَّادُ، ثَنَا اَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّیِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ ٰ امَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ النَّاسَ اِلاَّاَرْبَعَۃَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَیْنِ، وَ قَالَ: اُقْتُلُوْھُمْ وَ اِنْ وَجَدْتُمُوْھُمْ مُتَعَلِّقِیْنَ بِاَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ، عِکْرِمَۃَ بْنَ اَبِیْ جَھْلٍ، وَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ خَطَلٍ، وَ مِقْیَسَ بْنَ صُبَابَۃَ، وَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ۔(٧٦)
ترجمہ: حضرت مصعب اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہا نے چار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ سب لوگوں کو امان دی، آپ نے فرمان جاری فرمایا کہ ان کو قتل کردو خواہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے پردے سے لپٹے اور چمٹے ہوئے ہی کیوں نہ پائے جائیں (وہ حضرات یہ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ ابن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح۔
ایک روایت میں ہے:
(۳) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: اَرْبَعَۃً لاَ اُوْمِنُھُمْ فِیْ حِلٍّ وَلاَ فِیْ حَرَمٍ، اَلْحُوَیْرِثَ بْنَ مَعْبَدٍ وَ مِقْیَسَ، وَ ھِلاَلَ بْنَ خَطَلٍ، وَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ سَرْحٍ۔۔۔الخ (٧٧)
ترجمہ: فتح مکہ کے روز رسول اللہ انے فرمایا: چار آدمی ہیں جنہیں میں حل و حرم میں کہیں بھی امان نہیں دیتا، وہ ہیں: حویرث بن معبد، مقیس بن صبابہ، ہلال بن خطل اور عبد اللہ بن ابی سرح۔
تشریح: حضور ا کا عام طریقہ اسیران جنگ کو قتل کرنے کا کبھی نہیں رہا اور یہی عمل خلفائے راشدین کا بھی تھا۔ ان کے زمانے میں بھی قتل اسیران جنگ کی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں اور ہر مثال میں قتل کسی خاص وجہ سے کیا گیا ہے۔ چناںچہ اگر کوئی خاص وجہ ایسی ہو جس کی بنا پر اسلامی حکومت کا فرماں روا کسی قیدی یا بعض قیدیوں کو قتل کرنا ضروری سمجھے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ چناں چہ رسول اللہا نے جنگ بدر کے ۷۰ قیدیوں میں سے صرف عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن الحارث کو قتل کیا۔ جنگ اُحد کے قیدیوں میں سے صرف ابو عزہ شاعر کو قتل فرمایا۔ بنی قریظہ نے چوں کہ اپنے آپ کو حضرت سعد بن معاذ کے فیصلے پر حوالے کیا تھا اور ان کے اپنے تسلیم کردہ حکم کا فیصلہ یہ تھا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے، اس لیے آپ نے ان کو قتل کرادیا۔ جنگ خیبر میں جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں سے صرف کنانہ بن ابی الحقیق قتل کیا گیا کیوں کہ اس نے بد عہدی کی تھی۔ خلفاء کا عمل بھی یہی تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ ا للہ علیہنے بھی اپنے پورے زمانۂ خلافت میں صرف ایک جنگی قیدی کو قتل کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ اسی بنا پر جمہور فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ اسلامی حکومت اگر ضرورت سمجھے تو اسیر کو قتل کرسکتی ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے، ہر فوجی اس کا مجاز نہیں ہے کہ جس قیدی کا چاہے قتل کردے، البتہ اگر قیدی کے فرار ہونے کا یا اس سے کسی خطرناک شرارت کا اندیشہ ہوجائے تو جس شخص کو بھی اس صورت حال سے سابقہ پیش آئے وہ اسے قتل کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں فقہائے اسلام نے تین تصریحات اور بھی کی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر قیدی اسلام قبول کرلے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ قیدی صرف اسی وقت تک قتل کیا جاسکتا ہے جب تک وہ حکومت کی تحویل میں ہو، تقسیم یا بیع کے ذریعہ سے اگر وہ کسی شخص کی ملک میں جاچکا ہو تو پھر اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ تیسرے یہ کہ قیدی کو قتل کرناہو تو بس سیدھی طرح قتل کردیا جائے، عذاب دے دے کر نہ مارا جائے۔ (تفہیم القرآن،ج۵، محمد۔ حاشیہ:۸)

فوج میں بھرتی کے لیے عمر کی حد

٣٣- ابن عمرژ کی روایت ہے کہ میں ۱۴ سال کا تھا، جب غزوۂ اُحد کے موقع پر نبی ا کے سامنے پیش ہوا اور آپ ا نے مجھے شریک جنگ ہونے کی اجازت نہ دی پھر غزوۂ خندق کے موقع پر جب کہ میں ۱۵ سال کا تھا، مجھے دوبارہ پیش کیاگیا اور آپ انے مجھے اجازت دے دی۔ (صحاح ستہ ومسند احمد)
تخریج: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ عَرَضَہٗ یَوْمَ اُحُدٍ وَ ھُوَ ابْنُ اَرْبَعَ عَشَرَۃَ فَلَمْ یُجِزْہُ، وَ عَرَضَہٗ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَ ھُوَ ابْنُ خَمْسَۃَ عَشَرَ فَاَجَازَہٗ۔(٧٨)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرژ سے مروی ہے کہ غزوۂ اُحد میں مجھے جب نبی اکی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس وقت میری عمر چودہ برس تھی، آپ نے مجھے شریک جنگ ہونے کی اجازت نہیں دی، پھر غزوۂ خندق کے روز آپ کے سامنے پیش ہوا تو اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے مجھے شرکت کی اجازت دے دی۔
تشریح: یہ روایت بیان کرنے میں کچھ غلطی ہے کیوں کہ غزوہ اُحد شوال ۳ ھ ؁ کاواقعہ ہے اور غزوۂ خندق بقول محمد بن اسحاق شوال ۵ ھ؁ میں اور بقول ابن سعد ذی القعدہ میں ۵ ھ ؁ پیش آیا۔
دونوں واقعات کے درمیان پورے دو سال یا اس سے زیادہ کا فرق ہے۔ اب اگر غزوۂ اُحد کے زمانے میں ابن عمر۱۴ سال کے تھے تو کس طرح ممکن ہے کہ غزوہ خندق کے زمانے میں وہ صرف ۱۵ سال کے ہوں؟ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ۱۳ سال ۱۱ مہینے کی عمر کو ۱۴ سال اور ۱۵ سال ۱۱ مہینے کی عمر کو ۱۵ سال کہہ دیا ہو، لیکن ۱۵ برس کی عمر ضروری نہیں کہ اس عمر والے کو، جنگ کے لائق سمجھا جائے یا نہ سمجھا جائے۔ (تفہیم القرآن،ج۳، النور، حاشیہ:۹۱)

غزوۂ اُحد

٣٤-آپ انے فرمایا: ’’کسی کو ہمارے قریب نہ پھٹکنے دینا، کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا اگر تم دیکھو کہ ہماری بوٹیاں پرندے نوچے لیے جاتے ہیں، تب بھی تم اس جگہ سے نہ ٹلنا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا زُھَیْرٌ، ثَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یُحَدِّثُ، قَالَ جَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَی الرَّجَّالَۃِ یَوْمَ اُحُدٍ، وَ کَانُوْا خَمْسِیْنَ رَجُلاً عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جُبَیْرٍ، فَقَالَ: اِنْ رَأَیْتُمُوْنَا تَخْطَفُنَا الطَّیْرُ، فَلاَ تَبْرَحُوْا مَکَانَکُمْ ھٰذَا حَتّٰی اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ، وَ اِنْ رَأَیْتُمُوْنَا ھَزَمْنَا الْقَوْمَ وَ اَوْطَأْنَاھُمْ فَلاَ تَبْرَحُوْا حَتّٰی اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ۔ فَھَزَمَھُمْ، قَالَ: فَاَنَا وَاللّٰہِ! رَأَیْتُ النِّسَآئَ یَشْتَدِدْنَ قَدْ بَدَتْ خَلاَخِیْلُھُنَّ وَ سُوْقُھُنَّ رَافِعَاتٍ ثِیَابَھُنَّ، فَقَالَ اَصْحَابُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُبَیْرٍ اَلْغَنِیْمَۃَ اَیْ قَوْمٌ اَلْغَنِیْمَۃَ ظَھَرَ اَصْحَابُکُمْ فَمَا تَنْتَظِرُوْنَ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جُبَیْرٍ: اَنَسِیْتُمْ مَا قَالَ لَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالُوْا: وَاللّٰہِ! لَنَأْتِیَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِیْبَنَّ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ، فَلَمَّا اَتَوْھُمْ، صُرِفَتْ وُجُوْھُھُمْ، فَاَقْبَلُوْا مُنْھَزِمِیْنَ، فَذَاکَ اِذْ یَدْعُوْھُمُ الرَّسُوْلُ فِیْ اُخْرٰھُمْ، فَلَمْ یَبْقَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ غَیْرُ اثْنٰی عَشَرَ رَجُلاً فَاَصَابُوْا مِنَّا سَبْعِیْنَ، وَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ وَ اَصْحَابُہٗ اَصَابُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یَوْمَ بَدْرٍ اَرْبَعِیْنَ وَ مِائَۃً سَبْعِیْنَ اَسِیْرًا وَ سَبْعِیْنَ قَتِیْلاً، فَقَالَ: اَبُوسُفْیَانَ:اَفِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَنَھَاھُمُ النَّبِیُّ ﷺ اَنْ یُّجِیْبُوْہُ ثُمَّ قَالَ: اَفِی الْقَوْمِ ابْنُ اَبِیْ قُحَافَۃَ؟ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اَفِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖ، فَقَالَ: اَمَّا ھٰٓؤُلَآئِ فَقَدْ قُتِلُوْا، فَمَا مَلَکَ عُمَرُ نَفْسَہُ، فَقَالَ: کَذَبْتَ وَاللّٰہِ! یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! اِنَّ الَّذِیْنَ عَدَدْتَّ لَاَحْیَائٌ کُلُّھُمْ، وَ قَدْ بَقِیَ لَکَ مَا یَسُوٓئُکَ، قَالَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ۔ اِنَّکُمْ سَتَجِدُوْنَ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃً لَمْ ٰ امُرْ بِھَا وَلَمْ تَسُؤْنِیْ، ثُمَّ اَخَذَ یَرْتَجِزُ: اُعْلُ ھُبَلْ، اُعْلُ ھُبَلْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَلاَ تُجِیْبُوْہُ لَہٗ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا نَقُوْلُ؟ قَالَ: قُوْلُوْا: اَللّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَلُّ، قَالَ: اِنَّ لَنَا الْعُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَکُمْ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَلاَ تُجِیْبُوْہُ لَہٗ؟ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا نَقُوْلُ؟ قَالَ: قُوْلُوْا: اللّٰہُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ۔(٧٩)
ترجمہ: ابو اسحاق کا بیان ہے کہ میں نے براء بن عازب کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ انے عبد اللہ بن جبیرص کی کمان میں غزوۂ اُحد کے دن پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ ایک درے پر متعین فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ اگر وہ دیکھیں کہ پرندے ہماری بوٹیاں نوچے چلے جارہے ہیں تب بھی تمہیں اپنے مورچہ سے نہیں ہٹنا تا وقتیکہ میرا پیغام تمہیں موصول ہو۔ نیز اگر تم دیکھوکہ ہم نے حریف کو شکست دے دی ہے اور ان کو اچھی طرح پامال کردیا ہے پھر بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا یہاں کہ میرا پیغام تم تک پہنچ جائے۔ راوی کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ہزیمت سے دوچار کردیا۔ راوی کا مزید بیان ہے کہ میں نے خواتین کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں، اللہ گواہ ہے کہ ان کی پازیبیں نمایاں اور پنڈلیاں نظر آرہی تھیں، انہوں نے اپنے کپڑے اوپر اٹھائے ہوئے تھے۔ (دہشت اور سراسیمگی کا عالم تھا) عبد اللہ بن جبیرص کے ساتھیوں نے کہا: لوگو! مال غنیمت، ساتھیو مال غنیمت، تمہارے ساتھی تو غالب آگئے، اب کیا دیکھ رہے ہو؟ عبداللہ بن جبیرص نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ا کا فرمان فراموش کردیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم تو ضرور جاکر کافروں کا مال لوٹیں گے۔ چناں چہ یہ لوگ ان کے پاس پہنچے تو ان کا رخ پھیر دیا گیا اور کفار بھاگتے ہوئے سامنے آگئے۔ جنگ پھر سے شروع ہوئی اور مسلمان شکست کھا گئے۔ اور یہی معنی ہیں آیت میں مذکور حکم الٰہی کے:’’کہ جب رسول ان کو پیچھے بلا رہے تھے۔‘‘ اس وقت رسول اللہ ا کے ہمراہ صرف بارہ جانثاروں کے ماسوا کوئی نہ تھا اور کافروں نے ہمارے ستر آدمی شہید کردیے جب کہ رسول اللہا اور آپ کے صحابہ نے غزوہ بدر کے روز کافروں کے ایک سو چالیس آدمیوں کو لیا تھا، ان میں سے ستر کو تو قتل کرکے جہنم رسید کیا اور ستر کو قید کیا۔ ابوسفیان نے اس صورت حال میں تین مرتبہ مسلمانوں کو مخاطب کرکے دریافت کیا کہ ان میں محمد (ا)زندہ موجود ہیں؟ آپ نے اپنے اصحاب کو اس کا جواب دینے سے منع فرمادیا۔ ابوسفیان نے پھر تین مرتبہ پوچھا کہ کیا ان میں ابن ابی قحافہ (ابوبکر صدیق ص ) زندہ موجودہ ہیں؟ پھر تین مرتبہ پوچھا کہ کیا ان میں عمر بن خطاب زندہ موجود ہیں؟ اِدھر سے کوئی جواب نہ پاکر ابو سفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’یہ سب مارے جاچکے ہیں۔‘‘ اب حضرت عمر ص اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے: ’’اے اللہ کے دشمن، اللہ کی قسم! جن حضرات کا تونے نام لیا ہے وہ سب حیات ہیں، زندہ سلامت ہیں جو تجھے تا زندگی اذیت و تکلیف دیتے رہیں گے۔‘‘ ابوسفیان نے کہا: ’’آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، جنگ تو ڈول کی مانند ہے، تم لوگ اپنے کچھ مقتولین کے ناک، کان وغیرہ اعضاء بدن کاٹے ہوئے پاؤگے، میں نے اگرچہ اس کا حکم نہیں دیا تھا تاہم مجھے یہ ناگوار بھی نہیں۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان نے رجز پڑھنا شروع کیا: ’’ہبل کی جے، ہبل کی جے، اس پرر سالت مآب ا نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ’’تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! ہم کیا جواب دیں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ یوں جواب دو: اَللّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَلُّ ’’اللہ بزرگ وبرتر اوربلندو بالا ہے۔‘‘ ابو سفیان نے پھر نعرہ مارا: لَنَا عُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَکُمْ ’’ہمارا عزی ہے تمہارا عزی نہیں۔‘‘ نبی انے فرمایا: ’’جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: ’’اب کیا جواب دیں؟‘‘ ارشاد ہوا: یوں نعرہ کا جواب دو: اَللّٰہُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ ’’اللہ ہمارا مولیٰ ہے تمہارا مولیٰ کوئی نہیں۔‘‘
تشریح: سات سو آدمیوں کے ساتھ نبی اآگے بڑھے اور اُحد کی پہاڑی کے دامن میں (مدینہ سے تقریباً چار میل کے فاصلے پر) اپنی فوج کو اس طرح صف آرا کیا کہ پہاڑ پشت پرتھا اور قریش کا لشکر سامنے، پہلو میں صرف ایک درہ ایسا تھا جس سے اچانک حملے کا خطرہ ہوسکتا تھا۔ وہاں آپ نے عبداللہ بن جبیر ص کے زیر قیادت پچاس تیر انداز بٹھا دیے اور ان کو مندرجہ بالا تاکید کردی۔
اس کے بعد جنگ شروع ہوئی ابتداء ً مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا، یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی لیکن اس ابتدائی کامیابی کو کامل فتح تک پہنچانے کے بجائے مسلمان مال غنیمت کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور انہوں نے دشمن کے لشکر کو لوٹنا شروع کردیا۔ اُدھر جن تیر اندازوں کو نبی انے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا، انہوں نے جو دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے اور غنیمت لٹ رہی ہے تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت کی طرف لپکے حضرت عبد اللہ بن جبیر ص نے ان کو نبی اکا تاکیدی حکم یاد دلاکربہتیرا روکا مگر چند آدمیوں کے سوا کوئی نہ ٹھہرا۔اس موقع سے خالد بن ولید نے جو اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کررہے تھے بروقت فائدہ اُٹھایا اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر پہلو کے درے سے حملہ کردیا۔ عبد اللہ بن جبیر نے جن کے ساتھ چند ہی آدمی رہ گئے تھے اس حملے کو روکنا چاہا مگر مدافعت نہ کرسکے اور یہ سیلاب یکا یک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہوگئے اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ گیا اور مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پراگندہ ہوکر بھاگ نکلا۔ سپاہی ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے، اتنے میں کہیںسے یہ افواہ اُڑگئی کہ نبی ا شہید ہوگئے، اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کردیے اور باقی ماندہ لوگ بھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے۔ (تفہیم القرآن،ج۱، آل عمران، حاشیہ:۹۴)

اُحد میں حضورؐکا زخمی ہونا

٣٥- ’’وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کرے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ بْنِ قَعْنَبٍ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہٗ یَوْمَ اُحْدٍ وَ شُجَّ فِیْ رَأْسِہٖ، فَجَعَلَ یَسْلِتُ الدَّمَ عَنْہُ وَ یَقُوْلُ: کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ ﷺ، وَ کَسَرُوْا رَبَاعِیَتَہٗ وَ ھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلَی اللّٰہِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَـْیئٌ)۔(٧٨)
ترجمہ: حضرت انس ص سے روایت ہے کہ غزوۂ اُحد میں رسول اللہؐ کے سامنے کے چار دانت توڑ دیے گئے اور سر زخمی کردیا گیا۔ آپ خون صاف کررہے تھے اور فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی اکا سر زخمی کردیا ہو اور اس کے سامنے کے چار دانت بھی توڑ دیے ہوں، حالاں کہ وہ ان کو اللہ کی جانب بلا رہا ہو۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے: (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَـْیئٌ) ’’اس معاملہ میں تمہارا کوئی اختیار نہیں۔‘‘ آیت نازل فرمائی۔
ترمذی نے حضرت انس ص سے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ شُجَّ فِیْ وَجْھِہٖ وَ کُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہٗ وَ رُمِیَ رَمْیَۃً عَلٰی کَتِفِہٖ، فَجَعَلَ الدَّمُ یَسِیْلُ عَلٰی وَجْھِہٖ وَ ھُوَ یَمْسَحُہٗ وَ یَقُوْلُ: کَیْفَ تُفْلِحُ اُمَّۃٌ فَعَلُوْا ھٰذَا بِنَبِیِّھِمْ وَ ھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلَی اللّٰہِ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَـْیئٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْ یُعَذِّبَھُمْ فاِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) (٨١)
تشریح: نبی اجب جنگ اُحد میں زخمی ہوئے تو آپ کے منہ سے کفار کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ انے مندرجہ بالا الفاظ ادا فرمائے۔ (تفہیم القرآن،ج۱۔ آل عمران، حاشیہ97:

غزوہ اُحد میں ابو سفیان کا نعرہ

٣٦- جنگ اُحد میں جب نبیؐ زخمی ہوکر چند صحابہ کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت ابو سفیان نے نعرہ لگایا: (لَنَا عُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَکُم ’’ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں‘‘ اس پر نبی انے فرمایا: ’’اسے جواب دو: (اَللّٰہُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ) ’’ہمارا حامی و ناصر اللہ ہے اور تمہارا حامی و ناصر کوئی نہیں۔‘‘
(تفہیم القرآن،ج۵، محمد۔ حاشیہ:۱۶)
مجمع الزوائد میں مندرجہ ذیل روایت منقول ہے:
تخریج:(۱) قَالَ اَبُوْ سُفْیَانُ اُعْلُ ھُبَلْ: فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: قُوْلُوْا: اَللّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَلُّ، قَالَ اَبُوْ سُفْیَانَ: لَنَا عُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَللّٰہُ مَوْلاَنَا وَالْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمْ۔۔۔الخ (٨٢)
علامہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے:
(۲) حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ: ثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ: ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُضِلَّ اَعْمَالَھُمْ ذَکَرَ لَنَا ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ اُنْزِلَتْ یَوْمَ اُحُدٍ، وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الشِّعْبِ وَ قَدْ فَشَتْ فِیْھِمُ الْجَرَاحَاتُ وَالْقَتْلُ۔ وَ قَدْ نَادَی الْمُشْرِکُوْنَ یَوْمَئِذٍ: اُعْلُ ھُبَلْ۔ فَنَادَی الْمُسْلِمُوْنَ: اَللّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَلُّ، فَنَادَی الْمُشْرِکُوْنَ: یَوْمٌ بِیَوْمٍ، اِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ، اِنَّ لَنَا عُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَکُمْ، قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَللّٰہُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلاَ لَکُمْ۔ اِنَّ الْقَتْلٰی مُخْتَلِفَۃٌ اَمَّا قَتْلاَنَا فَاَحْیَائٌ یُرْزَقُوْنَ وَ اَمَّا قَتْلاَکُمْ فَفِی النَّارِ یُعَذَّبُوْنَ۔(٨٣)

ابو سفیان کا آئندہ سال کے لیے جنگ کا چیلنج

٣٧- (ابو سفیان نے احد سے پلٹتے ہوئے کہا:) اِنَّ مَوْعِدَکُمْ بَدَرٌ لِّلْعَامِ الْمُقْبِلِ(تو حضورانے اعلان کروایا) نَعَمْ، ھِیَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکَ مَوْعِدٌ۔
(خاتمہ جنگ اُحد پر ابو سفیان نے پلٹ کر نبی ااور صحابہ ڑکی طرف رخ کرکے کہا کہ) آئندہ سال بدر کے مقام پرہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہوگا (اور حضورا نے جواب میں ایک صحابی کے ذریعے سے اعلان کرادیا) ٹھیک ہے، یہ بات ہمارے اور تیرے درمیان طے ہوگئی۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَلَمَّا انْصَرَفَ اَبُوْ سُفْیَانَ وَ مَنْ مَعَہٗ، نَادٰی: اِنَّ مَوْعِدَکُمْ بَدْرٌ لِلْعَامِ الْقَابِلِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِرَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ: قُلْ: نَعَمْ، ھُوَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ مَوْعِدٌ۔(٨٤)
تشریح: شعبان ۴ ھ؁ میں آپ ابو سفیان کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے نکلے، اس قرار داد کے مطابق طے شدہ وقت پر آپ ۱۵ سو صحابیوں کو لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ ادھر سے ابو سفیان ۲ ہزار کا لشکر لے کر چلا مگر مر الظہران (موجود ہ وادیٔ فاطمہ) سے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ حضور انے آٹھ دن اس کا انتظار کیا اور اس دوران میں مسلمان تجارت کرکے ایک درہم کے دو درہم کماتے رہے۔ اس واقعہ سے وہ دھاک جو اُحد میں اکھڑی تھی پہلے سے بھی زیادہ جم گئی اس نے پورے عرب پر یہ بات کھول دی کہ اب تنہا قریش محمد اکے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے۔
(تفہیم القرآن، ج۴، الاحزاب، دیباچہ، جنگ احزاب سے پہلے کے غزوات

بدر ثانی

٣٨- حضور انے فرمایا: ’’اگر کوئی نہ جائے گا تو میں اکیلا جاؤں گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ثَنِیْ عَمِّیْ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ جَلَّ وَعَزَّ قَذَفَ فِیْ قَلْبِ اَبِیْ سُفْیَانَ الرُّعْبَ یَعْنِیْ یَوْمَ اُحُدٍ بَعْدَ مَا کَانَ مِنْہُ مَا کَانَ فَرَجَعَ اِلٰی مَکَّۃَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّ اَبَا سُفْیَانَ قَدْ اَصَابَ مِنْکُمْ طَرَفًا وَ قَدْ رَجَعَ وَ قَذَفَ اللّٰہُ فِیْ قَلْبِہٖ الرُّعْبَ، وَکَانَتْ وَقْعَۃُ اُحُدٍ فِیْ شَوَّالٍ وَکَانَ التُّجَّارُ یَقْدِمُوْنَ الْمَدِیْنَۃَ فِیْ ذِیْ الْقَعْدَۃِ، فَیَنْزِلُوْنَ بِبَدْرِ الصُّغْرٰی فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَ اِنَّھُمْ قَدَمُوْا بَعْدَ وَقْعَۃِ اُحُدٍ وَ کَانَ اَصَابَ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقَرْحُ وَاشْتَکُوْا ذٰلِکَ اِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ وَاشْتَدَّ عَلَیْھِمُ الَّذِیْ اَصَابَھُمْ وَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ نَدَبَ النَّاسَ لِیَنْطَلِقُوْا مَعَہٗ وَ یَتَّبِعُوْا مَاکَانُوْا مُتَّبِعِیْنَ، وَ قَالَ: اِنَّمَا یَرْتَحِلُوْنَ الْاٰنَ، فَیَأْتُوْنَ الْحَجَّ وَلاَ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی مِثْلِھَا حَتّٰی عَامٌ مُقْبِلٌ فَجَائَ الشَّیْطَانُ، فَخَوَّفَ اَوْلِیَائَ ہٗ، فَقَالَ: اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاَبٰی عَلَیْہِ النَّاسُ اَنْ یَّتَّبِعُوْہٗ فَقَالَ: اِنِّیْ ذَاھِبٌ وَ اِنْ لَّمْ یَتَّبِعْنِیْ اَحَدٌ لَاَحَضَّضَ النَّاسَ، فَانْتَدَبَ مَعَہٗ اَبُوْبَکْرِ الصِّدّیْقُ، وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ وَ عَلِیٌّ، وَالزُّبَیْرُ وَ سَعْدٌ وَ طَلْحَۃُ وَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ، وَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ وَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ، وَ اَبُوْ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْجَرَّاحِ فِیْ سَبْعِیْنَ رَجُلاً، فَسَارُوْا فِیْ طَلَبِ اَبِیْ سُفْیَانَ، فَطَلَبُوْہُ حَتّٰی بَلَغُوْا الصَّفْرَآئَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْم بَعْدِ مَا اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔(٨٥)
ترجمہ: حضرت ابن عباس صسے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے احد کے روز ابو سفیان کے دل میں رعب ڈال دیا وہ اپنے کرتوت کی وجہ سے مکہ کی طرف لوٹ گیا۔ نبی انے فرمایا: بلا شبہ ابوسفیان تمہارا کافی نقصان کرکے واپس لوٹ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رعب و دبدبہ ڈال دیا۔ غزوۂ احد شوال میں ہوا۔ تاجر حضرات ہر سال ذوالقعدہ میں سامان کی فروخت کے لیے مدینہ میں آیاکرتے تھے اور بدر صغریٰ میں قیام کرتے تھے، اس مرتبہ غزوہ اُحد کے بعد ہی آگئے تھے، اہل ایمان ابھی زخم خوردہ تھے، انہوں نے اس کا شکوہ نبی اسے کیا کیوں کہ جو زخم انہیں لگ چکا تھا اس کی تکلیف کی شدت محسوس کررہے تھے۔ رسول اللہ انے اپنے ساتھ چلنے کے لیے صحابہ کو آواز دی، جو اتباع کرنے والے تھے وہ ساتھ چلے، آپ نے فرمایا: اس وقت جو لوگ سفر جنگ کے لیے کوچ کررہے ہیں وہی حج کے لیے آئیں پھر ایسا موقعہ آئندہ سال تک نہیں ملے گا۔ ایسی صورت حال میں شیطان آدھمکا اور اپنے دوستوں سے خوف زدہ کرنے لگا اور کہا کہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہوچکے ہیں تو لوگوں نے ان کی اتباع کرنے سے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا: اگر میرے ساتھ کوئی بھی نہیں جائے گا تو میں اکیلا ہی جاؤں گا، آپ نے لوگوں کو برانگیختہ کیا تو ابو بکر صدیق، عمرو عثمان و علی، زبیر و سعد اور طلحہ و عبد الرحمن بن عوف، عبد اللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابو عبیدہ بن جراح ان ستر آدمیوں میں شامل تھے جو ساتھ جانے کے لیے تیار ہوئے۔ یہ سب ابو سفیان کی تلاش میں نکلے اور تلاش کرتے ہوئے صفراء کے مقام پر پہنچ گئے۔ ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے: اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ۔۔۔ الایۃ نازل فرمائی۔
تشریح: اُحد سے پلٹتے ہوئے ابوسفیان مسلمانوں کو چیلنج دے گیاتھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہوگا، مگر جب وعدے کا وقت قریب آیا تو اس کی ہمت نے جواب دے دیا کیوں کہ اس سال مکے میں قحط تھا، لہٰذا اس نے پہلو بچانے کے لیے یہ تدبیر کی کہ خفیہ طور پر ایک شخص کوبھیجا جس نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کیں کہ اب کے سال قریش نے بڑی زبردست تیاری کی ہے اور ایسا بھاری لشکر جمع کررہے ہیں جس کا مقابلہ تمام عرب میںکوئی نہ کرسکے گا۔ اس سے مقصد یہ تھا کہ مسلمان خوف زدہ ہوکر اپنی جگہ رہ جائیں اور مقابلہ پر نہ آنے کی ذمہ داری انہی پر رہے۔ ابو سفیان کی اس چال کا یہ اَثر ہوا کہ جب آں حضرت انے بدر کی طرف چلنے کے لیے مسلمانوں سے اپیل کی تو اس کا کوئی ہمت افزا جواب نہ ملا۔ آخر کار اللہ کے رسول انے بھرے مجمع میں اعلان کردیا کہ ’’اگرکوئی نہ جائے گا تو میں اکیلا جاؤں گا۔‘‘ اس پر پندرہ سو فدا کار آپ کے ساتھ چلنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ انہی کو لے کر بدر تشریف لے گئے ادھر سے ابو سفیان ۲ ہزار کی جمعیت لے کر چلا مگر دو روز کی مسافت تک جاکر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس سال لڑنا مناسب نہیں معلوم ہوتا، آئندہ سال آئیں گے چناں چہ وہ اور اس کے ساتھی واپس ہوگئے۔ آں حضرت اآٹھ روز تک بدر کے مقام پراس کے انتظار میں مقیم رہے اور اس دوران میں آپ کے ساتھیوں نے ایک تجارتی قافلہ سے کاروبار کرکے خوب مالی فائدہ اُٹھایا۔
(تفہیم القرآن،ج۱، آل عمران، حاشیہ:۱۲۴)

آپؐ کی شجاعت

٣٩-اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ۔
’’اللہ کے بندو! میری طرف آؤ، اللہ کے بندو! میری طرف آؤ۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ، قَالَ: ثَنَا اَحْمَدُ، قَالَ: ثَنَا اَسْبَاطٌ عَنِ السُّدِّیِّ، قَالَ: لَمَّا شَدَّ الْمُشْرِکُوْنَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ بِاُحُدٍ، فَھَزَمُوْھُمْ، دَخَلَ بَعْضُھُمُ الْمَدِیْنَۃَ، وَانْطَلَقَ بَعْضُھُمْ فَوْقَ الْجَبَلِ اِلَی الصَّخْرَۃِ، فَقَامُوْا عَلَیْھَا، وَ جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدْعُوا النَّاسَ: اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ، اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ۔(٨٦)
تشریح: جب مسلمانوں پراچانک دو طرف سے بیک وقت حملہ ہوا اور ان کی صفوں میں ابتری پھیل گئی تو کچھ لوگ مدینے کی طرف بھاگ نکلے اور کچھ اُحد پر چڑھ گئے، مگر نبی اایک انچ اپنی جگہ سے نہ ہٹے، دشمنوں کا چاروں طرف ہجوم تھا۔ دس بارہ آدمیوں کی مٹھی بھر جماعت پاس رہ گئی تھی، مگر اللہ کا رسول اس نازک موقع پر بھی پہاڑ کی طرح اپنی جگہ جما ہوا تھا اور بھاگنے والوں کوپکار رہاتھا۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج۱، حاشیہ:۱۱۰)

احتساب و جواب طلبی

٤٠- بَلْ ظَنَنْتُمْ اِنَّا نَغُلُّ وَلاَ َنْقُسِمُ لَکُمْ۔
’’اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہم پر اطمینان نہ تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے اور تم کو حصہ نہیں دیں گے۔‘‘
تخریج: فَقَدْ حَکَی الْوَاحِدِیُّ عَنِ الْکَلْبِیِّ وَ مُقَاتِلٍ، اَنَّ الرُّمَاۃَ حِیْنَ تَرَکُوا الْمَرْکَزَ یَوْمَئِذٍ طَلَبًا لِلْغَنِیْمَۃِ، قَالُوْا: نَخْشٰی اَنْ یَّقُوْلَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ اَخَذَ شَیْئًا فَھُوَ لَہٗ، وَاَنْ لاَّ یُقْسَمُ الْغَنَائِمُ کَمَا لَمْ یُقْسَمْ یَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ النَّبِیُّﷺ:ظَنَنْتُمْ اَنَّا نَغُلُّ وَلاَ نَقْسِمُ لَکُمْ۔(٨٧)
ترجمہ: کلبی اور مقاتل سے مروی ہے کہ تیر انداز دستہ نے جب اس روز اپنے مرکز کو چھوڑدیا غنیمت کے حصول کے لالچ میں اور انہوں نے گمان کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ نبی ایہ ارشاد نہ فرمادیں کہ جس فوجی نے جو مال و اسباب حاصل کرلیا ہے وہ اس کا ہے اور غزوہ بدر کی طرح آج بھی اموال غنیمت کو تقسیم نہ فرمائیں (تو ہمیں کیا ملے گا؟) اس پر نبی انے فرمایا:’’تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے اور تم کو حصہ نہیں دیں گے۔‘‘
تشریح: جن تیر اندازوں کو نبی ا نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا، انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکر لوٹا جارہا ہے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ساری غنیمت انہی لوگوں کو نہ مل جائے جو اسے لوٹ رہے ہیں اور ہم تقسیم کے موقع پر محروم رہ جائیں۔ اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑدی تھی، جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی امدینہ تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی، انہوں نے جواب میں کچھ عذرات پیش کیے جو نہایت کم زور تھے، تو حضورؐ نے مندرجہ بالا الفاظ فرمائے۔
اسی معاملے کے بارے میں سورۃ آل عمران میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کرجائے اور جو کوئی خیانت کرے تووہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔‘‘
ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہاری فوج کا کمانڈر خود اللہ کا نبی تھا اور سارے معاملات اس کے ہاتھ میں تھے تو تمہارے دل میں یہ اندیشہ پیدا کیسے ہوا کہ نبی کے ہاتھ میں تمہارا مفاد محفوظ نہ ہوگا کیا خدا کے پیغمبر سے یہ توقع رکھتے ہو کہ جو مال اس کی نگرانی میں ہو وہ دیانت، امانت اور انصاف کے سوا کسی اور طریقہ سے بھی تقسیم ہوسکتا ہے؟
(تفہیم القرآن،ج۱، آل عمران، حاشیہ:۱۱۴)

شہداء کی میراث

٤١- حدیث میں آیا ہے کہ جنگ اُحد کے بعد حضرت سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بچیوں کو لیے ہوئے نبی اکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! یہ سعد کی بچیاں ہیں جو آپ کے ساتھ اُحد میں شہید ہوئے ہیں، ان کے چچا نے پوری جائداد پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے لیے ایک حبہ تک نہیں چھوڑا ہے، اب بھلا ان بچیوں سے کون نکاح کرے گا؟‘‘ تو یہ آیات نازل ہوئیں: (وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوْا عَلَیْھِمْص فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًاo اِنَّ الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًاط وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا) (تفہیم القرآن،ج۱، النساء، حاشیہ:۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، نَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ، نَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: جَآئَ تْ اِمْرَأَۃُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیْعِ بِاِبْنَتَیْھَا مِنْ سَعْدٍ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِیْعِ، قُتِلَ اَبُوْھُمَا مَعَکَ یَوْمَ اُحُدٍ شَھِیْدًا، وَ اِنَّ عَمَّھُمَا اَخَذَ مَالَھُمَا، فَلَمْ یَدَعْ لَھُمَا مَالاً، وَلاَ تُنْکَحَانِ اِلاَّ وَلَھُمَا مَالٌ، قَالَ: یَقْضِی اللّٰہُ فِیْ ذٰلِکَ، فَنَزَلَتِ الْاٰیَۃُ (الْمِیْرَاثِ) فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی عَمِّھِمَا، فَقَالَ: اَعْطِ ابْنَتَیْ سَعْدِ الثُّلُثَیْنِ، وَاعْطِ اُمَّھُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِیَ فَھُوَ لَکَ۔(٨٨)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ ص سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت سعد ابن ربیع کی بیوی سعد کی دونوں بیٹیوں کو لے کر رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، ان دونوں کا باپ سعد غزوہ اُحد میں آپ کے ساتھ شریک تھا، جام شہادت نوش کرگیا ہے، ان بچیوں کے چچا نے دونوں کے حصہ کا مال قبضہ میں کرلیا ہے اور ان کے لیے کچھ مال و متاع نہیں چھوڑا، مال کے بغیر ان سے نکاح کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا، پس آیت میراث نازل ہوئی، تو رسول اللہ انے دونوں بچیوں کے چچا کو بلایا اور فرمایا: سعد کی دونوں بچیوں کو دو ثلث مال دے اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ۔ اس کے بعد جو باقی بچے وہ تمہارا ہے۔

غزوہ احزاب۔۔۔حالات و واقعات

٤٢- غزوہ احزاب کے موقع پر جب حضورؐنے بنی غطفان سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہا تو انصار کے سرداروں سعد بن عبادہ ص اور سعد بن معاذ صنے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! یہ آپ کی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے؟ یا آپ صرف ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا: ’’میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کررہاہوں کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہوکر تم پر پل پڑا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں۔‘‘ اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا: ’’اگر آپ ہماری خاطر یہ معاہدہ کررہے ہیں تو اسے ختم کردیجیے، یہ قبیلے ہم سے اس وقت بھی ایک حبہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے اور اب تو اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے، کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے؟ ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہے، یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کردے۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَلَمَّا اشْتَدَّ عَلَی النَّاسِ الْبَلاَئُ، بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، کَمَا حَدَّثَنِیْ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَ مَنْ لاَ اَتَّھِمُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ شِھَابِ الزُّھْرِیِّ، اِلٰی عُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ بْنِ بَدْرٍ وَ اِلَی الْحَارِثِ بْنِ عَوْفِ بْنِ اَبِیْ حَارِثَۃَ الْمُرِّیِّ، وَ ھُمَا قَائِدَا غَطَفَانَ، فَاَعْطَاھُمَا ثُلُثَ ثِمَارِ الْمَدِیْنَۃِ، عَلٰی اَنْ یَّرْجِعَا بِمَنْ مَعَھُمَا عَنْہُ وَ عَنْ اَصْحَابِہٖ، فَجَرٰی بَیْنَہٗ وَ بَیْنَھُمَا الصُّلْحُ، حَتّٰی کَتَبُوْا الْکِتَابَ وَلَمْ تَقَعِ الشَّھَادَۃُ، وَلاَ عَزِیْمَۃُ الصُّلْحِ، اِلاَّ الْمَرَاوَضَۃُ فِیْ ذٰلِکَ، فَلَمَّا اَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَّفْعَلَ، بَعَثَ اِلٰی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَھُمَا، وَاسْتَشَارَھُمَا فِیْہِ، فَقَالاَ لَہٗ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمْرًا یُحِبُّہٗ، فَنَصْنَعُہٗ اَمْ شَیْئًا اَمَرَکَ اللّٰہُ بِہٖ، لاَبُدَّ لَنَا مِنَ الْعَمْلِ بِہٖ اَمْ شَیْئًا تَصْنَعُہٗ لَنَا؟ قَالَ: بَلْ شَـْیئٌ اَصْنَعُہٗ لَکُمْ، وَاللّٰہِ! مَا اَصْنَعُ ذٰلِکَ اِلاَّ لِاَنَّنِیْ رَاَیْتُ الْعَرَبَ قَدْ رَمَتْکُمْ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَۃٍ وَکَالَبُوْکُمْ مِّنْ کُلِّ جَانِبٍ، فَاَرَدْتُّ اَنْ اَکْسِرَ عَنْکُمْ مِنْ شَوْکَتِھِمْ اِلٰی اَمْرٍ مَّا، فَقَالَ لَہٗ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ کُنَّا نَحْنُ وَ ھٰٓؤُلاَئِ الْقَوْمِ عَلَی الشِّرْکِ بِاللّٰہِ وَ عِبَادَۃِ الْاَوْثَانِ، لاَ نَعْبُدُ اللّٰہَ وَلاَ نَعْرِفُہٗ وَ ھُمْ لاَ یَطْمَعُوْنَ اَنْ یَّأْکُلُوْا مِنْھَا تَمْرَۃً اِلاَّ قِرًی اَوْ بَیْعًا، اَفَحِیْنَ، اَکْرَمَنَا اللّٰہُ بِالْاِسْلاَمِ، وَ ھَدَانَا لَہٗ، وَ اَعَزَّنَا بِکَ وَ بِہٖ نُعْطِیْھِمْ اَمْوَالَنَا؟ (وَاللّٰہِ!) مَالَنَا بِھٰذَا مِنْ حَاجَۃٍ، وَاللّٰہِ! لاَ نُعْطِیْھِمْ اِلاَّ السَّیْفَ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمْ۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاَنْتَ وَ ذَاکَ۔ فَتَنَاوَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، الصَّحِیْفَۃَ، فَمَحَا مَا فِیْھَا مِنَ الْکِتَابِ ثُمَّ قَالَ لِیَجْھَدُوْا عَلَیْنَا۔(٨٩)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب مسلمان سخت آزمائش و امتحان میں پڑگئے تو جس طرح مجھے عاصم بن عمر بن قتادہ اور وہ لوگ جنہیں میں متہم نہیں کرتا، نے محمد بن مسلم بن عبداللہ ابن شہاب زہری سے روایت کیا ہے۔۔۔ تو رسول اللہؐ نے عیینہ ابن حصن اور حارث بن عوف مُرّی کو اپنے پاس مدعو فرمایا، یہ دونوں قبیلہ غطفان کے سردار تھے۔ آپ نے ان دونوں کو مدینہ کی پیداوار کا ۳؍۱ حصہ پھل اس شرط پردینے کی پیش کش فرمائی کہ وہ اپنے ساتھیوں کو واپس لے کر چلے جائیں اور رسولؐ اللہ اور آپ کے صحابہ کی مخالفت نہ کریں، آپ کے اور ان دونوں کے مابین مصالحت کی بات چیت جاری تھی اور تحریر بھی لکھی جاچکی تھی مگر ہنوز اس پر گواہی ثبت نہیں ہوئی تھی اور آخری و قطعی فیصلہ بھی ابھی نہیں ہوا تھا، اس سلسلہ میں دوڑ دھوپ اور تگ و دو جاری تھی مگر آپ نے آخری فیصلہ کرنے سے پہلے سعد بن معاذ صاور سعد بن عبادہ صدونوں کو بلا بھیجا اور ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا اور مشورہ اور رائے طلب فرمائی۔ دونوں نے عرض کیا: کیا یا رسول اللہ! یہ ایسا معاملہ ہے جسے آپ پسند فرماتے ہیں کہ ہم ایسا کریں یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے؟ یا آپ صرف ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں؟ آپ انے فرمایا: میں صرف آپ لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کررہا ہوں کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمام عرب متحد ہوکر آپ پر پل پڑا ہے میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑدوں۔ ان دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ ’’اگر آپ ہماری خاطر یہ معاہدہ کررہے ہیں تو اسے ختم کردیجیے، حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اور یہ مشرک لوگ سبھی بت پرست تھے، بتوں کو پوجتے تھے، نہ اللہ کو جانتے تھے اور نہ اس کی عبادت کرتے تھے، مہمان نوازی اور خریداری کا معاملہ الگ نوعیت کا ہے، اس کے علاوہ یہ لوگ مدینہ کی ایک کھجور کی جانب بھی للچائی ہوئی نظر سے نہیں دیکھ سکتے، اب تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایا ہے اور اس کے ذریعہ ہمیں سیدھی راہ پر چلایا ہے۔ آپ کی بدولت اور اسلام کی وجہ سے مقام اعزاز ہمیں حاصل ہوا ہے۔ کیا اب یہ لوگ ہم سے خراج لیں گے، اللہ کی قسم! ہمیں ایسے معاہدے کی قطعاً ضرورت نہیں، ہماری جانب سے اب تلوار کے ماسوا اور کوئی عطیہ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور ان کا فیصلہ فرمادے۔ یہ سن کر رسولؐ اللہ نے فرمایا: (فانت و ذاک) ’’اچھا تم جانو اور تمہارا کام جانے۔‘‘ حضرت سعد صنے وہ پرچہ لیا اور تحریر کو محو کردیا اور کہا: لیجھدوا علینا ’’اب یہ کفار ہمارے خلاف طاقت آزمائی کرلیں۔‘‘
تشریح: غزوۂ احزاب کے موقع پر بہت سی طاقتوں نے مل کر مدینہ پر حملہ کردیا تھا مجموعی طور پر ان کی تعداد دس بارہ ہزار تھی۔ نبی انے مدافعت کے لیے خندق کھدوادی یہ اُحد کے مشرقی اور مغربی گوشوں کی طرف تھی باقی اطراف سے شہر، پہاڑوں اور باغات سے گھرا ہوا تھا۔ اہل عرب نے جب خندق دیکھی تو حیران رہ گئے۔ سخت سردی میں ان کو طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ تیار ہوکر نہیں آئے تھے۔
اس کے بعد کفار کے پاس ایک تدبیر باقی رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ بنی قریظہ کے یہودی قبیلے کو غداری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا چوں کہ اس قبیلے سے مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سے بے فکر ہوکر اپنے بال بچے اُن گڑھیوں میں بھجوادیے تھے جوبنو قریظہ کی جانب تھیں اور ادھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ تھا، کفار نے اسلامی دفاع کے اس کم زور پہلو کو بھانپ لیا۔ اُن کی طرف سے بنی النضیر کا یہودی سردار حیی بن اخطب بنی قریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ ابتداء ً انہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد (ا)سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن جب ابن اخطب نے ان سے کہا کہ: ’’دیکھو! میں اس وقت عرب کی متحدہ طاقت اس شخص پر چڑھا لایا ہوں، یہ اسے ختم کردینے کا نادر موقع ہے، اگر تم نے اس کو کھودیا تو پھر دوسرا کوئی موقع نہ مل سکے گا۔‘‘ تو یہودی ذہن کی اسلام دشمنی اخلاق کے پاس و لحاظ پر غالب آگئی اور بنی قریظہ عہد توڑنے پر آمادہ ہوگئے۔
نبی اکو بروقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ نے فوراً انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ، عبد اللہ بن رواحہ اور خوات بن جبیر ڑ)کو ان کے پاس تحقیق حال اور فہمائش کے لیے بھیجا۔ چلتے وقت آپ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قریظہ عہد پر قائم رہیں تو آکر سارے لشکر کے سامنے علی الاعلان یہ خبر سنا دینا لیکن اگر وہ نقص عہد پر مصر ہوں تو صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سن کر پست ہمت نہ ہوجائیں، یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سے کہہ دیا کہ: (لاعقد بیننا و بین محمد ولا عھد) ’’ہمارے اور محمد کے درمیان کوئی عہد و پیمان نہیں ہے۔‘‘ اس جواب کو سن کر وہ لشکر اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضورا سے عرض کردیا: (عَضَل وقارَہ) یعنی ’’قبیلہ عضل نے رجیع کے مقام پر مبلغین اسلام کے وفد سے جو غداری کی تھی، وہی کچھ اب بنی قریظہ کررہے ہیں۔‘‘
یہ خبر بہت جلد مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہوگیا کیوں کہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آگئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصہ خطرے میں پڑگیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچے بھی اسی جانب تھے۔ اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہوگئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کردیے کسی نے کہا کہ ہم سے وعدے تو قیصر و کسریٰ کے ملک فتح ہوجانے کے کیے جارہے تھے ( قال موسی بن عقبۃ فی قصۃ الخندق: فلما اشتد البلاء علی النبی ﷺ و اصحابہ۔ نافق ناس کثیرٌ و تکلموا بکلام قبیح۔ فلما رای رسول اللہ ﷺ ما فیہ الناس من البلاء والکرب۔ جعل یبشرھم ویقول: والذی نفسی بیدہ لیفرجن عنکم ماترون من الشدۃ والبلاء فانی ارجو ان اطوف بالبیت العتیق اٰمنا و ان یدفع اللہ عزوجل مفاتح الکعبۃ والیھلکن اللہ کِسرٰی و قیصر و لتنفقن کنوزھما فی سبیل اللہ، فقال ۔۔۔ السنن الکبریٰ للبیھقی ج۹۔ کتاب السیر) اور حال یہ ہے کہ ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔ کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذسے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑگئے ہیں ہمیں جاکران کی حفاظت کرنی ہے۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کرلو اور محمدا کو ان کے حوالے کردو۔ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہوگیا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نفاق موجود تھا۔ صرف صادق و مخلص اہل ایمان ہی تھے جو اس کڑے وقت میں بھی فدا کاری کے عزم پر ثابت قدم رہے۔ نبی انے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا ۳؍۱ حصہ لے کر واپس چلے جائیں مگر سرداران انصار نے اس نازک موقت پر بھی یہ فیصلہ نہ ہونے دیا اور معاہدے کے اس مسودے کو چاک کردیا جس پر ابھی فریقین کے دستخط نہیں ہوئے تھے۔ (تفہیم القرآن،ج۴، الاحزاب، تاریخی پس منظر: غزوۂ احزاب)

نعیم بن مسعود رض کا کردار

٤٣- نعیم بن مسعود مسلمان ہوکر حضور ا کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ابھی تک کسی کو میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے، آپ مجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں۔‘‘ حضورا نے فرمایا :’’تم جاکر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو، اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ (الحرب خدعۃ) ’’جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: ثُمَّ اِنَّ نَعِیْمَ بْنَ مَسْعُوْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ اُنَیْفِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ قُنْفُدِ ابْنِ ھَلاَلِ بْنِ خَلاَوَۃَ بْنِ اَشْجَعَ بْنِ رَیْثِ بْنِ غَطْفَانَ، اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ اَسْلَمْتُ، وَ اِنَّ قَوْمِیْ لَمْ یَعْلَمُوْا بِاِسْلاَمِیْ، فَمُرْنِیْ بِمَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: وَ اِنَّمَا اَنْتَ فِیْنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ، فَخَذِّلْ عَنَّا اِنِ اسْتَطَعْتَ، فَاِنَّ الْحَرْبَ خُدْعَۃٌ۔ الخ(٩٠)
تشریح: جنگ خندق کے موقع پر جب سارا عرب مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگیا تو اسی دوران میں نعیم بن مسعود نے حضورا کے پاس حاضر ہوکر یہ بات عرض کی۔ وہ قبیلۂ غطفان کی شاخ اشجع سے تعلق رکھتے تھے۔ حضور اکے فرمان بالا کو سن کر پہلے تو وہ بنی قریظہ کے پاس گئے جن سے ان کا بہت میل جول تھا اور ان سے کہا: ’’قریش اور غطفان تو محاصرے سے تنگ آکر واپس بھی جاسکتے ہیں، ان کا کچھ نہ بگڑے گا مگر تمہیں مسلمانوں کے ساتھ اسی جگہ رہنا ہے وہ لوگ اگر چلے گئے تو تمہارا کیا بنے گا؟ میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک جنگ میں حصہ نہ لو جب تک ان باہر سے آئے ہوئے قبائل کے چند نمایاں آدمی تمہارے پاس یرغمال کے طور پر نہ بھیج دیے جائیں۔‘‘ یہ بات بنی قریظہ کے دل میں اتر گئی اور انہوں نے متحدہ محاذ کے قبائل سے یرغمال طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر یہ صاحب قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا: ’’بنی قریظہ اب کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آرہے ہیں، بعید نہیں کہ تم سے یرغمال کے طور پر کچھ آدمی مانگیں اور انہیں محمدا کے حوالے کرکے اپنا معاملہ صاف کرلیں۔ اس لیے ذرا ان کے ساتھ ہوشیاری سے معاملہ کرنا۔‘‘ اس سے متحدہ محاذ کے لیڈر بنی قریظہ کی طرف سے کھٹک گئے اور انہوں نے قرظی سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اس طویل محاصرے سے ہم تنگ آگئے ہیں اب فیصلہ کن لڑائی ہوجانی چاہیے، کل تم ادھر سے حملہ کرو اور ہم ادھر سے یکبارگی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ بنی قریظہ نے جواب کہلا بھیجا: ’’آپ لوگ جب تک اپنے چند نمایاں آدمی یرغمال کے طور پر ہمارے حوالے نہ کردیں، ہم جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔‘‘ اس جواب سے متحدہ محاذ کے لیڈروں کو یقین آگیا کہ نعیم کی بات سچی تھی، انہوں نے یرغمال دینے سے انکار کردیا اور اس سے بنی قریظہ نے سمجھ لیا کہ نعیم نے ہم کو ٹھیک مشورہ دیا تھا اس طرح یہ جنگی چال کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے دشمنوں کے کیمپ میں پھوٹ ڈال دی۔ (تفہیم القرآن:ج۴، الاحزاب، تاریخی پس منظر غزوۂ احزاب)

جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے

٤٠- اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ۔ ’’جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: ثُمَّ اِنَّ نَعِیْمَ بْنَ مَسْعُوْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ اُنَیْفِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ قُنْفُدِ ابْنِ ھَلاَلِ بْنِ خَلاَوَۃَ بْنِ اَشْجَعَ بْنِ رَیْثِ بْنِ غَطْفَانَ، اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ اَسْلَمْتُ، وَ اِنَّ قَوْمِیْ لَمْ یَعْلَمُوْا بِاِسْلاَمِیْ، فَمُرْنِیْ بِمَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: وَ اِنَّمَا اَنْتَ فِیْنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ، فَخَذِّلْ عَنَّا اِنِ اسْتَطَعْتَ، فَاِنَّ الْحَرْبَ خُدْعَۃٌ۔الخ (٩١)
تشریح: عربی زبان میں (خُدْعَۃٌ) کے معنی ہیں ’’مکر‘‘ یعنی ظاہر کچھ کرنا اور مخفی طور پر عمل کچھ اور کرنا یا بے خبری میں کسی کو نقصان پہنچانا اور اردو زبان میں جب اِس فقرے کا مطلب ادا کیا جائے تو لامحالہ اسی مفہوم کا حامل کوئی لفظ استعمال کرنا ہوگا، آدمی کسی بات کی تشریح میں تو آزاد ہوسکتا ہے لیکن ترجمہ کرتے ہوئے اصل لفظ کا ہم معنی لفظ ہی استعمال کرنا پڑتا ہے۔
(مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ،ج۲، مکتوب:۹۰)

غزوہ بنی نضیر۔۔۔جنگی ضرورت کے تحت درخت وغیرہ کاٹنا

٤٥- بنی نضیر کا محاصرہ کرتے وقت مسلمانوں نے آسانی کے لیے کچھ درخت کاٹے، حضرت عبد اللہ بن عمر ژکی روایت ہے کہ حضور انے خود اس کا حکم دیا تھا۔ (بخاری و مسلم، مسند احمد۔ ابن جریر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَیْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیْرِ وَ قَطَعَ وَ ھِیَ الْبُوَیْرَۃُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ) (٩٢)
ترجمہ: حضرت ابن عمر ص سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے بنو نضیر کے کھجوروں کے کچھ درخت جلادیے (جلوادیے) اور کچھ کاٹ ڈالے (کٹوادیے) اور یہی نخلستان بویرہ کے نام سے موسوم تھا اس پراللہ تعالیٰ نے: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ) ’’جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو جڑوں پر کھڑا رہنے دیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا تاکہ وہ فاسق لوگوں کو ذلیل و رسوا کرے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ الزَّعْفَرَانِیُّ، نَا عَفَّانٌ، نَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، نَا حَبِیْبُ بْنُ اَبِیْ عُمْرَۃَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا۔۔ قَالَ اللِّیْنَۃُ: النَّخْلَۃُ۔۔ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ)۔۔قَالَ: اسْتَنْزَلُوْھُمْ مِنْ حُصُوْنِھِمْ، قَالَ: وَ اُمِرُوْا بِقَطْعِ النَّخْلِ فَحَکَّ فِیْ صُدُوْرِھِمْ فَقَالَ الْمُسْلِمُوْنَ: قَدْ قَطَعْنَا بَعْضًا وَ تَرَکْنَا بَعْضًا فَلَنَسْأَلَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ھَلْ لَّـنَا فِیْمَا قَطَعْنَا مِنْ اَجْرٍ وَ ھَلْ عَلَیْنَا فِیْمَا تَرَکْنَا مِنْ وِزْرٍ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا۔۔۔الایۃ) (٩٣)
ترجمہ: حضرت ابن عباس ژسے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا۔۔۔الخ) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا (لِیْنَۃ) سے مراد کھجور کا درخت ہے اور (لیخزی الفاسِقِیْن) سے مراد یہودی ہیں۔ ان فاسق یہودیوں کو ان کے قلعوں سے نیچے اتر آنے کو کہا گیا اور بیان کیا کہ صحابہ کو ان کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا تو ان کے دلوں میں کھٹکا پیدا ہوا اور مسلمانوں نے آپس میں کہا کہ ہم نے کچھ درخت تو کاٹ ڈالے ہیں اور کچھ کواسی طرح چھوڑدیا ہے جس طرح وہ قائم تھے لہٰذا ہمیں رسول اللہ اسے ضرور دریافت کرنا چاہیے کہ کیا درختوں کو کاٹ ڈالنے میں ہمیں اجر و ثواب ملے گا اور کیا جن کو ہم نے چھوڑدیا اس پر عذاب ہوگا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے: (مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا)نازل فرمائی۔
(۳) عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَخَصَ لَھُمْ فِیْ قَطْعِ النَّخْلِ، ثُمَّ شَدَّدَ عَلَیْھِمْ، فَاَتَوْا النَّبِیَّ ﷺ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلَیْنَا اِثْمٌ فِیْمَا قَطَعْنَا اَوْ عَلَیْنَا وِزْرٌ فِیْمَا تَرَکْنَا؟ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ۔(٩٤)
ترجمہ: حضرت جابر ص سے منقول ہے کہ کھجور کے درخت کاٹنے کی رخصت و اجازت صحابہ کو دے دی گئی، پھر یہ ان پر گراں گزری تو صحابہ ث نے نبی اسے عرض کیا:یا رسول اللہ! ہم نے جو درخت کاٹ ڈالے ہیں اس پر ہمیں گناہ ہے اور جو چھوڑدیے اس پر بھی گناہ ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ۔۔۔الایۃ) نازل فرمائی۔
(۴) حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ: ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِھِمْ یعنی بِبَنِی النَّضِیْرِ تُحْصِنُوْا مِنْہُ فِی الْحُصُوْنِ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِقَطْعِ النَّخْلِ وَالتَّحْرِیْقِ فِیْھَا، فَنَادَوْا: یَا مُحَمَّدُ! قَدْ کُنْتَ تَنْھٰی عَنِ الْفَسَادِ، وَ تُعِیْبُہٗ عَلٰی مَنْ صَنَعَہٗ فَمَا بَالُ قَطْعِ النَّخْلِ وَ تَحْرِیْقِھَا، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ)۔(٩٥)
ترجمہ: یزید بن ہارون نے بیان کیا کہ جب رسول اللہا بنو نضیر کے ہاں فروکش ہوئے تو یہ لوگ اپنے قلعوں میں محصور ہوگئے تو رسول اللہ انے کھجور کے درخت کاٹنے اورجلا دینے کا فرمان جاری کیا، اس وقت یہ لوگ چیخ اٹھے کہ: اے محمد! خود تو تم فساد سے روکتے ہو اور اس کے مرتکب پر عیب چینی کرتے ہو تو اب کھجور کے درختوں کوکاٹنے اور جلانے کا کیا معاملہ ہے؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ۔۔۔الایۃ ) نازل فرمائی۔
تشریح: یہی روایت یزید بن رومان کی ہے (ابن جریر) بخلاف اس کے مجاہد اور قتادہ کی روایت یہ ہے کہ مسلمانوں نے بطور خود یہ درخت کاٹے تھے، پھر ان میں اس مسئلے پر اختلاف ہوا کہ یہ کام کرنا چاہیے یا نہیں، بعض اس کے جواز کے قائل ہوئے اور بعض نے اس سے منع کیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک اس سلسلے میں نازل ہوا (جو سورۂ حشر کی آیت:۴ میں ہے) تو دونوں کے فعل کی تصویب ہوگئی۔ ( فقہاء میں سے جن لوگوں نے پہلی روایت کو ترجیح دی ہے، وہ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ا کا اجتہاد تھا جس کی توثیق اللہ تعالیٰ نے بعد میں وحی جلی سے فرمائی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جن معاملات میں اللہ تعالیٰ کا حکم موجود نہ ہوتاتھا ان میں حضورا اجتہاد پر عمل فرماتے تھے۔ دوسری طرف جن فقہاء نے دوسری روایت کو ترجیح دی ہے، وہ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے دوگروہوں نے اپنے اپنے اجتہاد سے دو مختلف رائیں اختیار کی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کی توثیق فرمادی لہٰذا اگر ایک نیک نیتی کے ساتھ اجتہاد کرکے اہل علم مختلف رائیں قائم کریں تو باوجود اس کے کہ ان کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی مگر اللہ کی شریعت میں وہ سب حق پر ہوں گے۔
(ابن جریر)
اس کی تائید حضرت عبد اللہ بن عباس ژکی یہ روایت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اس بات پر خلش پیدا ہوئی کہ ہم میں سے بعض نے درخت کاٹے ہیں اور بعض نے نہیں کاٹے، اب رسول اللہ اسے پوچھنا چاہیے کہ ہم میں سے کس کا فعل اجر کا مستحق ہے اور کس کے فعل پر مؤاخذہ ہوگا۔ (نسائی)
حدیث بالا میں اس معاملہ کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں نے جب محاصرہ شروع کیا تو بنی نضیر کی بستی کے اطراف میں جو نخلستان واقع تھے ان کے بہت سے درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا یا جلا دیا تاکہ محاصرہ بآسانی کیاجاسکے اور جو نقل و حرکت میں حائل نہ تھے ان کو کھڑا رہنے دیا۔ اس پر مدینہ کے منافقین اور بنی قریظہ اور خود بنی نضیر نے شور مچادیا کہ محمدا تو فساد فی الارض سے منع کرتے ہیںمگر یہ دیکھ لو، ہرے بھرے پھل دار درخت کاٹے جارہے ہیں، یہ آخر فساد فی الارض نہیں تو کیا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ تم لوگوں نے جو درخت کاٹے اور جن کو کھڑا رہنے دیا، ان میں سے کوئی فعل بھی ناجائز نہیں ہے بلکہ دونوں کو اللہ کا اذن حاصل ہے۔ اس سے یہ شرعی مسئلہ نکلتا ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے جو تخریبی کار روائی ناگزیر ہو وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی بلکہ فساد فی الارض یہ ہے کہ کسی فوج پر جنگ کا بھوت سوار ہوجائے اور وہ دشمن کے ملک میں گھس کر کھیت، مویشی، باغات، عمارات ہر چیز کو خواہ مخواہ تباہ و برباد کرتی پھرے۔اس معاملہ میں عام حکم تو وہی ہے جو حضرت ابوبکر صدیق صنے فوجوں کو شام کی طرف روانہ کرتے وقت دیا تھا کہ پھلدار درختوں کو نہ کاٹنا، فصلوں کو خراب نہ کرنا اور بستیوں کو ویران نہ کرنا، یہ قرآن مجید کی اس تعلیم کے عین مطابق تھا کہ اس نے مفسد انسانوں کی مذمت کرتے ہوئے اُن کے اس فعل پر زجر و توبیخ کی ہے کہ ’’جب وہ اقتدار پالیتے ہیں تو فصلوں اور نسلوں کو تباہ کرتے پھرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ:۲۰۵) لیکن جنگی ضروریات کے لیے خاص حکم یہ ہے کہ اگر دشمن کے خلاف لڑائی کو کامیاب کرنے کی خاطر کوئی تخریب ناگزیر ہو تو وہ کی جاسکتی ہے، چناں چہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ص نے اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ وضاحت فرمادی ہے کہ(قطعوا منھا ماکان موضعاً للقتال)’’مسلمانوں نے بنی نضیر کے درختوں میں سے صرف وہ درخت کاٹے تھے جو جنگ کے مقام پر واقع تھے۔‘‘ (تفسیرنیشا پوری) فقہائے اسلام میں سے بعض نے معاملہ کے اس پہلو کو نظر انداز کرکے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ بنی نضیر کے درخت کاٹنے کا جواز صرف اسی واقعہ کی حد تک مخصوص تھا، اس سے یہ عام جواز نہیں نکلتا کہ جب کبھی جنگی ضروریات داعی ہوں دشمن کے درختوں کو کاٹا اور جلایا جاسکے۔ امام اوزاعی، لیث اور ابو ثور اسی طرف گئے ہیں لیکن جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ اہم جنگی ضروریات کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، البتہ محض تخریب و غارت گری کے لیے یہ فعل جائز نہیں۔ (تفہیم القرآن،ج۵، الحشر، حاشیہ:۹)

بنو قریظہ

آپؐ کا اعلان
٤٦- (خندق سے پلٹ کر جب حضور ا گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبریل عنے آکر حکم سنایا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں، بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے، ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہیے، یہ حکم پاتے ہی حضورا نے فوراً اعلان فرمایا کہ): ’’جو کوئی سمع و طاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار قریظہ پر نہ پہنچ جائے۔‘‘
تخریج:(۱) فَلَمَّا کَانَتِ الظُّھْرُ اَتٰی جِبْرِیْلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَمَا حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِھَابِ الزُّھْرِیِّ مُعْتَجِرًا بِعِمَامَۃٍ مِنِ اسْتَبْرَقٍ عَلٰی بَغْلَۃٍ عَلَیْھَا رِحَالَۃٌ عَلَیْھَا قَطِیْفَۃٌ مِنْ دِیْبَاجٍ فَقَالَ: اَقَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ جِبْرِیْلُ: مَا وَضَعَتِ الْمَلاَئِکَۃُ السِّلاَحَ وَمَا رَجَعَتِ الْاٰنَ اِلاَّ مَنْ طَلَبَ الْقَوْمَ، اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکَ یَا مُحَمَّدُ بِالسَّیْرِ اِلٰی بَنِیْ قُرَیْظَۃَ وَ اَنَا عَامِدٌ اِلٰی بَنِیْ قُرَیْظَۃَ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُنَادِیًا، فَاَذِّنْ فِی النَّاسِ: اِنَّ مَنْ کَانَ سَامِعًا مُطِیْعًا، فَلاَ یُصَلِّیَنَّ الْعَصْرَ اِلاَّ فِیْ بَنِیْ قُرَیْظَۃَ۔۔۔الخ۔(٩٦)
ترجمہ: جب ظہر کا وقت ہوا، جبریل عرسول اللہ اکی خدمت میں حاضر ہوئے، سر پر اطلس و دیبا کی پگڑی تھی، اپنے خچر پر سوار تھے، جس پر ریشمی پالان تھا۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! جبریلع نے کہا: ملائکہ نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے اور نہ واپس ہی ہوئے، ابھی ان لوگوں کے تعاقب کی ضرورت ہے، اے محمد! اللہ تعالیٰ بنو قریظہ کی طرف جانے کا حکم دیتاہے اور میں خود بنی قریظہ کی طرف جارہا ہوں، پس رسول اللہ انے اعلان کرنے والے کوفرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کردے کہ جو شخص سمع و طاعت پر قائم ہے اسے عصر کی نماز بنو قریظہ میں جاکر پڑھنی چاہیے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِیُّ ﷺ مِنَ الْخَنْدَقِ، وَ وَضَعَ السِّلاَحَ، وَاغْتَسَلَ، اَتَاہُ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللّٰہِ! مَا وَضَعْنَاہُ، اُخْرُجْ اِلَیْھِمْ، قَالَ: فَاِلٰی اَیْنَ؟ قَالَ: ھٰھُنَا، وَ اَشَارَ اِلٰی بَنِیْ قُرَیْظَۃَ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ اِلَیْھِمْ۔(٩٧)
ترجمہ: حضرت عائشہ ز سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہا غزوہ خندق سے واپس تشریف لائے، ہتھیار اتارے اور غسل فرمایا تو حضرت جبریل ع تشریف لائے اور عرض کیا: آپ نے ہتھیار کھول دیے ہیں؟ مگر ہم فرشتوں نے واللہ ہنوز ہتھیار نہیں اتارے، ان کی جانب نکلیں، آپ نے دریافت کیا: کن کی جانب؟ جبریل عنے اشارہ سے کہا: بنیقریظہ کی طرف، پس بنی قریظہ کی طرف تشریف لے گئے۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَسْمَائَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ اَسْمَائَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ الْاَحْزَابِ: لاَ یُصَلِّیَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلاَّ فِیْ بَنِیْ قُرَیْظَۃَ، فَاَدْرَکَ بَعْضُھُمُ الْعَصْرَ فِی الطَّرِیْقِ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ لاَ نُصَلِّیْ حَتّٰی نَأْتِیَھَا، وَ قَالَ بَعْضُھُمْ: بَلْ نُصَلِّیْ لَمْ یُرَدْ مِنَّا ذٰلِکَ۔ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْھُمْ۔(٩٨)
ترجمہ: حضرت ابن عمرژ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ا نے غزوۂ خندق کے روز اعلان فرمایا کہ کوئی بھی عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک وہ دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے، کچھ لوگ ایسے تھے کہ انہوں نے نماز عصر کا وقت راستہ ہی میں پالیا (اب دو گروہ ہوگئے) ایک گروہ کے لوگوں نے کہا: ہم جب تک دیار بنی قریظہ پر پہنچ نہیں جاتے نماز عصر نہیں پڑھیں گے اور دوسرے گروہ کے لوگ بولے، ہم تو پڑھیں گے آپ کے ارشاد کا یہ مطلب نہیں تھا (کہ وقت ہوجائے تب بھی نماز نہ پڑھو!) اس کا ذکر نبی اکے پاس کیاگیا تو آپ نے ان میں سے کسی کو عتاب کیا نہ سرزنش کی۔
(۴) فَلَمَّا کَانَتِ الظُّھْرُ، اَتٰی جِبْرِیْلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ۔۔۔فَقَالَ: اَوَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: فَمَا وَضَعَتِ الْمَلاَئِکَۃُ السِّلاَحَ بَعْدُ، وَمَا رَجَعَتِ الْآنَ اِلاَّ مَنْ طَلَبَ الْقَوْمَ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَأْمُرُکَ یَا مُحَمَّدُ بِالْمَسِیْرِ اِلٰی بَنِیْ قُرَیْظَۃَ، فَاِنِّیْ عَامِدٌ اِلَیْھِمْ فَمُزَلْزِلٌ بِھِمْ۔(٩٩)
ترجمہ: جب ظہر کا وقت ہوگیا تو حضرت جبریلع (ریشمی عمامہ باندھے، ایک خچر پر سوار ہوکر جس پر زین تھا اور زین پر ریشمی کپڑا پڑا ہوا تھا) رسول اللہ اکے پاس آئے اور دریافت کیا: ’’اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’جی ہاں!‘‘ جبریل عنے بتایا کہ ’’ملائکہ نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے اور نہ ہی اس وقت تک واپس جائیں گے جب تک لوگوں کی تلاش و تعاقب جاری ہے، اے محمد! اللہ تعالیٰ بنو قریظہ کی جانب پیش قدمی کا حکم دیتا ہے، میں خود ان کی طرف جارہا ہوں کہ ان کے عزائم و ارادوں میں زلزلہ ڈال دوں۔‘‘
سیرت ابن ہشام نے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے:
(۵) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَ تَلَاَحَقَ بِہٖ النَّاسُ، فَاَتٰی رِجَالٌ مِنْھُمْ مِنْم بَعْدِ الْعِشَائِ الْاٰخِرَۃِ، وَلَمْ یُصَلُّوا الْعَصْرَ، لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: لاَ یُصَلِّیَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلاَّ بِبَنِیْ قُرَیْظَۃَ، فَشَغَلَھُمْ مَالَمْ یَکُنْ مِنْہُ بُدٌّ فِیْ حَرْبِھِمْ، وَ اَبَوْا اَنْ یُّصَلُّوْا لِقَوْلِ رَسُولِ اللّٰہِص حَتّٰی تَأْتُوْا بَنِیْ قُرَیْظَۃَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ بِھَا بَعْدَ الْعِشَائِ الْاٰخِرَۃِ، فَمَا عَابَھُمُ اللّٰہُ بِذٰلِکَ فِیْ کِتَابِہٖ وَلاَ عَنَّفَھُمْ بِہٖ رَسُوْلُ ﷺ۔(١٠٠)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اب مسلمان بھی جاکر رسول اللہ اسے مل گئے، اور ان میں سے کچھ نماز عشاء کے بعد پہنچے اور انہوں نے نماز عصرا دا نہ کی اس لیے کہ رسول اللہ انے اعلان فرمادیا تھا کہ کوئی شخص اس وقت تک نماز عصر نہ پڑھے جب تک کہ وہ دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے نماز عصر نہ پڑھی وجہ یہ تھی کہ جنگی ضرورت کے پیش نظر کسی ناگزیر مشغولیت کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے اور انہوں نے رسول اللہ ا کے ارشاد کی وجہ سے کہ دیار بنی قریظہ میںپہنچنے سے پہلے نماز عصر نہ پڑھیں، نماز عصر نہیں پڑھی۔ بنو قریظہ میں پہنچ کر نماز عشاء کے بعد نماز عصر پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں ان کی مذمت نہیں فرمائی اور نہ رسول اللہ انے سرزنش فرمائی۔
(۶) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ یَقُوْلُ: نَزَلَ اَھْلُ قُرَیْظَۃَ عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَاَرْسَلَ النَّبِیُّ ﷺ اِلٰی سَعْدٍ، فَاَتٰی عَلٰی حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ: لِلْاَنْصَارِ: قُوْمُوْا اِلٰی سَیِّدِکُمْ اَوْ اَخْیَرِکُمْ، فَقَالَ: ھٰٓؤُلاَئِ نَزَلُوْا عَلٰی حُکْمِکَ، فَقَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُھُمْ، وَ تُسْبٰی ذَرَارِیُّھُمْ، قَالَ: قَضَیْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ وَ رُبَّمَا قَالَ: بِحُکْمِ الْمَلِکِ۔(١٠١)
ترجمہ: ابو امامہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری صکو میں نے بیان کرتے ہوئے سنا، اہل قریظہ حضرت سعد بن معاذ ص کے حکم پر، اپنی گڑھیوں سے نیچے اترے۔ نبی انے حضرت معاذص کو پیغام بھیجا، وہ اپنے گدھے پر سوار ہوکر حاضر خدمت ہوئے۔ جب آپ مسجد کے قریب پہنچے تو آپ نے انصار سے فرمایا اپنے سردار یا فرمایا اپنے بہترین آدمی کے استقبال کے لیے اُٹھو! نبی انے فرمایا: یہ لوگ (بنو قریظہ) آپ کے حکم پر نیچے اترے ہیں (اب ان کے بارے میں فیصلہ کریں) تو حضرت سعد بن معاذص نے فیصلہ کیا کہ ان کے قابل جنگ مردوں کو قتل کردیاجائے اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا جائے۔ (غلام بنا لیا جائے) اس فیصلہ پر آپ نے فرمایا: معاذ! تم نے حکم الٰہی کے عین مطابق فیصلہ کیا ہے اور راوی کا بیان یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: تونے فیصلہ بادشاہ کے حکم کے مطابق کیا ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامٌ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: اُصِیْبَ سَعْدٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاہُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہٗ حِبَّانُ ابْنُ الْعَرَقَۃَ، رَمَاہُ فِی الْاَکْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِیُّ ﷺ خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُوْدَہٗ مِنْ قُرِیْبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ، وَاغْتَسَلَ فَاَتَاہُ جِبْرِیْلُ وَ ھُوَ یَنْفُضُ رَأْسَہٗ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللّٰہِ! مَا وَضَعْتُہٗ اُخْرُجْ اِلَیْھِمْ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ فَاَیْنَ؟ فَاَشَارَ اِلٰی بَنِیْ قُرَیْظَۃَ، فَاَتَاھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَنَزَلُوْا عَلٰی حُکْمِہٖ، فَرَدَّ الْحُکْمُ اِلٰی سَعْدٍ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَحْکُمُ فِیْھِمْ اَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَۃُ وَ اَنْ تُسْبَی النِّسَآئُ وَالذُّرِّیَّۃُ، وَ اَنْ تُقْسَمَ اَمْوَالُھُمْ۔۔۔الخ (١٠٢)
ترجمہ: حضرت عائشہ ز سے مروی ہے، انہوں نے بیان فرمایا کہ غزوۂ خندق کے روز حضرت سعد صکو تیر کا زخم لگا، یہ تیر قریش کے ایک حبان بن عرقہ نامی شخص نے مارا تھا۔تیر اس نے حضرت سعد ص کی بازو کی رگ میں پیوست کردیا۔ نبی انے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوا دیا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت و تیمار داری کرسکیں۔ جب رسول اللہ ا غزوہ خندق سے واپس تشریف لائے، ہتھیار اتار دیے اور غسل فرما لیا تو اسی اثنا میں حضرت جبریلع تشریف لائے۔ اپنے سر سے گرد و غبار جھاڑتے ہوئے عرض کیا: آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں مگر اللہ گواہ ہے میں نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے، ان کی طرف چلیں۔ نبی انے پوچھا کدھر؟ توجبریل ع نینے بنو قریظہ کی جانب اشارہ فرمایا کہ ان کی طرف۔ رسول اللہ ا ان کے پاس تشریف لائے، پس بنو قریظہ آپ کے حکم پر نیچے اترے مگر آپ نے اذن و حکم کو حضرت سعد کی طرف لوٹا دیا۔ حضرت سعد ص نے فیصلہ کیا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ا ن کے قابل جنگ مردوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنالیا جائے اور ان کے اموال بطور مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کردیے جائیں۔
تشریح: حضرت علیص کے دستہ کی مقدمۃ الجیش کے طور پر روانگییہ اعلان کرنے کے ساتھ ہی آپ انے حضرت علی ص کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنی قریظہ کی طرف روانہ کردیا، وہ جب وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبی ااور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی لیکن یہ بد زبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچا سکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالا اور حملہ آوروں سے مل کر مدینہ کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کردیا۔ حضرت علیص کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں۔ لیکن جب حضورا کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا گیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے۔

محاصرہ اور اس کی تفصیل

محاصرے کی شدت کو وہ تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کرسکے اور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبی اکے حوالے کردیا کہ قبیلۂ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کردیں گے اسے فریقین مان لیں گے۔ انہوں نے حضرت سعد کو اس امید پر حکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اَوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدتوں سے چلے آرہے تھے وہ ان کا لحاظ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینے سے نکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قینقاع اور بنی نضیر کو نکل جانے دیا گیا تھا۔ خود قبیلۂ اَوس کے لوگ بھی حضرت سعدص سے تقاضا کررہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں لیکن حضرت سعدص ابھی ابھی دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا گیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے اور یہ معاملہ بھی ان کے سامنے تھاکہ اس آخری یہودی قبیلے نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بد عہدی کرکے اہل مدینہ کو تباہ کردینے کا کیا سامان کیا تھا۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مرد قتل کردیے جائیں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے ان غداروں نے ۱۵ سو تلواریں، تین سو زرہیں، دو ہزار نیزے اور ۱۵ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں، اگر اللہ تعالیٰ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین اس وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا جب کہ مشرکین یکبارگی خندق پار کرکے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کررہے تھے، اس انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعد ص نے ان لوگوں کے معاملے میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا۔ (تفہیم القرآن،ج۴، الاحزاب، تاریخی پس منظر غزوۂ بنی قریظہ)

غزوۂ بنی المصطلق۔۔۔(حالات و واقعات)

٤٧- فَکَیْفَ یَا عُمَرُ اِذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّداً یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔
(حضور ا نے فرمایا:) ’’عمر دنیا کیا کہے گی کہ محمدا خود اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: کُنَّا فِیْ غَزَاۃٍ، قَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً فِیْ جَیْشٍ، فَکَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلاً مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَا ٰ الَ الْاَنْصَارِ! وَ قَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا ٰ الَ الْمُھَاجِرِیْنَ! فَسَمِعَ ذَاکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: مَا بَالُ دَعْوٰی جَاھِلِیَّۃٍ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلاً مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ: دَعُوْھَا فَاِنَّھَا مُنْتِنَۃٌ، فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُبَیٍّ، فَقَالَ: فَعَلُوْھَا، اَمَا وَاللّٰہِ! لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، فَبَلَغَ النَّبِیُّﷺ فَقَامَ عُمَرُ: دَعْنِیْ اَضْرِبْ عُنُقَ ھٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ دَعْہُ لاَ یَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔ وَ کَانَتِ الْاَنْصَارُ اَکْثَرَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ حِیْنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَ ثُمَّ اِنَّ الْمُھَاجِرِیْنَ کَثَرُوْا بَعْدُ۔(١٠٣)
ترجمہ: عمرو کا بیان ہے کہ میں نے جابر بن عبد اللہ صکو بیان کرتے سنا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے۔ سفیان نے کبھی غزوہ کے بجائے جیش کا لفظ بیان کیا ہے، جس کے معنی لشکر کے ہیں، ایک مہاجر نے کسی انصاری کو لات رسید کردی تو اس انصاری نے انصار کو اپنی مدد کے لیے پکارا اور مہاجر نے مہاجرین کو مدد کے لیے پکارا۔ رسول اللہانے اسے سن لیا تو فرمایا کہ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات رسید کردی ہے۔ آپ نے فرمایا: جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑ دو، یہ گندی چیز ہے۔ عبد اللہ بن ابی نے بھی اسے سن لیا تو کہنے لگا: ’’ان مہاجرین نے ایسا کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ واپس لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو نکال باہر کرے گا۔‘‘ یہ بات نبی اکو پہنچ گئی اس موقع پر حضرت عمرصاپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اڑادوں؟‘‘ نبی انے فرمایا: ’’اسے چھوڑدو، لوگ کہیں کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔ مہاجرین جب مدینہ منورہ میں آئے تھے، اس وقت انصار کی تعداد زیادہ تھی۔ پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔
امام بخاری نے ایک دوسرے مقام پر مندرجہ ذیل روایت بھی ذکر کی ہے:
(۲) حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاہُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: کُنَّا فِیْ غَزَاۃٍ، فَکَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلاً مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَا ٰ الَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا ٰ الَ الْمُھَاجِرِیْنَ! فَسَمِعَھَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ ﷺ فَقَالَ: مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: کَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلاً مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَا لَلْاَنْصَارِ! وَ قَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا لِلْمُھَاجِرِیْنَ! فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: دَعُوْھَا فَاِنَّھَا مُنْتِنَۃٌ، قَالَ جَابِرٌ: وَ کَانَتِ الْاَنْصَارُ حِیْنَ قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ اَکْثَرَ، ثُمَّ کَثَرَ الْمُھَاجِرُوْنَ بَعْدُ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُبَیٍّ: اَوَ قَدْ فَعَلُوْا؟ وَاللّٰہِ! لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَضْرِبْ عُنُقَ ھٰذَا الْمُنَافِقِ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ دَعْہُ، لاَ یُحَدِّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔(١٠٤)
ترجمہ: عمرو بن دینار سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبد اللہ کو بیان کرتے سنا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، ایک مہاجر نے کسی انصاری کی پیٹھ پر لات رسید کردی۔ انصاری نے انصار کو اپنی مدد کے لیے آواز دی اور مہاجر نے مہاجرین کو پکارا کہ وہ اس کی مدد کے لیے آئیں۔ یہ پکار اللہ اور اس کے رسول انے سن لی۔ رسول اللہ ا نے فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’ایک مہاجر نے ایک انصاری کی پیٹھ پر لات رسید کردی تو اس پر انصاری نے انصار کو اور مہاجر نے مہاجرین کو اپنی اپنی مدد کے لیے پکارا۔‘‘ یہ سن کر نبی انے فرمایا: ’’چھوڑو اس پکار کو یہ تو گھناؤنی اور گندی پکار ہے۔‘‘ حضرت جابر ص کا بیان ہے کہ جب نبی امدینہ میں رونق افروز ہوئے تھے تو اس وقت انصار تعداد میں زیادہ تھے مگر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ اس موقع پر عبد اللہ بن اُبی پکار اُٹھا: ’’کیا ان مہاجرین نے ایسا کیا ہے؟‘‘ اللہ کی قسم! اگر اب ہم مدینہ کی جانب واپس لوٹ گئے تو صاحب عزت آدمی ذلیل آدمی کو نکال باہر کردے گا۔‘‘ اس پر حضرت عمر ص نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے! میں اس منافق کی گردن تن سے جدا کردوں۔‘‘ نبی انے فرمایا: ’’چھوڑو اسے لوگ باتیں بنائیں گے کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔‘‘
تشریح: شعبان ۶ ھ؁ نبی اکو اطلاع ملی کہ بنو المصطلق کے لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں اور دوسرے قبائل کو بھی جمع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع پاتے ہی آپ ایک لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ فتنے کے سر اُٹھانے سے پہلے ہی اسے کچل دیا جائے۔ اس مہم میں عبد اللہ بن ابی بھی منافقوں کی ایک بڑی تعداد لے کر آپ کے ساتھ ہوگیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے کسی جنگ میں منافقین اس کثرت سے شامل نہ ہوئے تھے، مریسیع کے مقام پر آں حضرت انے اچانک دشمن کو جالیا اور تھوڑی سی زد و خورد کے بعد پورے قبیلے کو مال و اسباب سمیت گرفتار کرلیا۔ اس مہم سے فارغ ہوکر ابھی مریسیع ہی پر لشکر اسلام پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ ایک روز حضرت عمرص کے ایک ملازم (جہجاہ بن مسعود غفاری) اور قبیلۂ خزرج کے ایک حلیف (سنان بن وبر الجہنی) کے درمیان پانی پر جھگڑا ہوگیا۔ ایک نے انصار کو پکارا، دوسرے نے مہاجرین کو آواز دی، لوگ دونوں طرف سے جمع ہوگئے اور معاملہ رفع دفع کردیا گیا لیکن عبد اللہ بن ابی نے جو انصار کے قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتا تھا، بات کا بتنگڑ بنادیا، اس نے انصارکو یہ کہہ کہہ کر بھڑکانا شروع کیا:
’’یہ مہاجرین ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں اور ہمارے حریف بن بیٹھے ہیں، ہماری اور ان قریشی کنگلوں کی مثال ایسی ہے کہ کتے پال تاکہ تجھی کو بھنبھوڑ کھائے، یہ سب کچھ تمہارا اپنا کیا دھرا ہے، تم لوگوں نے خود ہی انہیں اپنے ہاں لاکر بسایا ہے اور ان کو اپنے مال و جائداد میں حصہ دار بنایا ہے۔ آج اگر تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں۔‘‘
پھر اس نے قسم کھا کر کہا:
’’مدینے واپس پہنچنے کے بعد جو ہم میں سے عزت والا ہے وہ ذلیل لوگوں کو نکال باہرکردے گا۔‘‘
اس کی ان باتوں کی اطلاع جب نبی اکو پہنچی تو حضرت عمر صنے مشورہ دیا کہ اس شخص کو قتل کرادیا جائے مگر حضور انے اس پر مندرجہ بالا حدیث کے الفاظ فرمائے۔ پھر آپ نے فوراً اس مقام سے کوچ کا حکم دے دیا اور دوسرے دن دوپہر تک کسی جگہ پڑاؤ نہ کیا تاکہ لوگ خوب تھک جائیں اور کسی کو بیٹھ کر چہ می گوئیاں کرنے اور سننے کی مہلت نہ ملے۔
راستے میں اُسیدبن حضیر نے عرض کیا: ’’یا نبی اللہ! آج آپ نے اپنے معمول کے خلاف نا وقت کوچ کا حکم دے دیا؟‘‘
آپ نے جواب دیا: ’’تم نے سنا نہیں کہ تمہارے صاحب نے کیا باتیں کی ہیں؟‘‘
انہوں نے پوچھا: ’’کون صاحب؟‘‘
آپ انے فرمایا: ’’عبد اللہ بن ابی۔‘‘
انہوں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! اس شخص سے رعایت فرمایے، آپ جب مدینے تشریف لائے تھے تو ہم لوگ اسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے اور اس کے لیے تاج تیار ہورہاتھا، آپ کی آمد سے اس کا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا، اسی کی جلن وہ نکال رہا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج۳، النور، تاریخی پس منظر)

رئیس المنافقین کی گھناؤنی سازش

٤٨- (واقعۂ حدیث) مندرجہ ذیل واقعہ کو بخاری،مسلم، احمد، نسائی،ترمذی، بیہقی، طبرانی، ابن مردویہ، عبد الرزاق، ابن جریر طبری، ابن سعد اورمحمد بن اسحاق نے بکثرت سندوں سے نقل کیا ہے۔ بعض روایات میں اُس مہم کا نام نہیں دیا گیا جس میں یہ پیش آیا تھا اور بعض میں اسے غزوہ تبوک کا واقعہ بیان کیا گیا ہے مگر مغازی اور سیر کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر پیش آیا تھا۔ صورت واقعہ تمام روایات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے:)
بنی المصطلق کو شکست دینے کے بعد ابھی لشکر اسلام اس بستی میں ٹھہرا ہوا تھا جو مریسیع نامی کنویں پر آباد تھی کہ یکا یک پانی پر دوصاحبوں کا جھگڑا ہوگیا۔ ان میں سے ایک کا نام جہجاہ بن مسعود غفاری تھا جو حضرت عمر صکے ملازم تھے اور اُن کا گھوڑا سنبھالنے کی خدمت انجام دیتے تھے اور دوسرے صاحب سنان بن وَبر الجہنی ( دونوں اصحاب کے نام مختلف روایات میں مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ ہم نے یہ نام ابن ہشام کی روایت سے لیے ہیں۔) تھے، جن کا قبیلہ خزرج کے ایک قبیلے کا حلیف تھا۔ زبانی ترش کلامی سے گزر کر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی اور جہجاہ نے سنان کے ایک لات رسید کردی، جسے اپنی قدیمی روایات کی بنا پر انصار سخت توہین و تذلیل سمجھتے تھے۔ اس پر سنان نے انصار کو مدد کے لیے پکارا اور جہجاہ نے مہاجرین کو آواز دی۔ ابن ابی نے اس جھگڑے کی خبر سنتے ہی اَوس اور خزرج کے لوگوں کو بھڑکانا اور چیخنا شروع کردیا کہ دوڑو اور اپنے حلیف کی مدد کرو۔ اُدھر سے کچھ مہاجرین بھی نکل آئے قریب تھا کہ بات بڑھ جاتی اوراسی جگہ انصار و مہاجرین آپس میں لڑ پڑتے جہاں ابھی ابھی وہ مل کر ایک دشمن قبیلے سے لڑے تھے اور اسے شکست دے کر ابھی اسی کے علاقے میں ٹھہرے ہوئے تھے لیکن یہ شور سن کر رسول اللہا نکل آئے اور آپ نے فرمایا: (ما بال دعوی الجاھلیۃ؟ مالکم ولدعوۃ الجاھلیۃ؟ دعوھا فانھا منتنۃ)’’یہ جاہلیت کی پکار کیسی؟ تم لوگ کہاں اور یہ جاہلیت کی پکار کہاں؟ اِسے چھوڑدو؟ یہ بڑی گندی چیز ہے۔‘‘ اس پر دونوں طرف کے صالح لوگوں نے آگے بڑھ کر معاملہ رفع دفع کرادیا اور سنان نے جہجاہ کو معاف کرکے صلح کرلی۔
اس کے بعد ہر وہ شخص جس کے دل میں نفاق تھا عبد اللہ بن ابی کے پاس پہنچا اور ان لوگوں نے جمع ہوکر اس سے کہا: ’’اب تک تو تم سے امیدیں وابستہ تھیں اور تم مدافعت کررہے تھے مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمارے مقابلے میں ان کنگلوں کے مددگار بن گئے ہو۔‘‘
ابن ابی پہلے ہی کھول رہا تھا، ان باتوں سے وہ اور بھی زیادہ بھڑک اُٹھا کہنے لگا: ’’یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے، تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی، ان پر اپنے مال تقسیم کیے، یہاں تک کہ اب یہ پھل پھول کر خود ہمارے ہی حریف بن گئے اور ہماری اور ان قریش کے کنگلوں (یا اصحاب محمد) کی حالت پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کر تاکہ تجھی کو پھاڑ کھائے، تم لوگ ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں، خدا کی قسم! مدینے واپس پہنچ کر ہم میں سے جوعزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال دے گا۔‘‘
مجلس میں اتفاق سے حضرت زیدبن ارقم بھی موجود تھے جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے، انہوں نے یہ باتیں سن کر اپنے چچا سے ان کا ذکر کیا اور ان کے چچا نے جو انصار کے رئیسوں میں سے تھے جاکر حضور اکی خدمت میں سارا واقعہ بیان کردیا۔ حضور ا نے زید کو بلا کر دریافت کیا تو انہوں نے جو کچھ سناتھا من و عن دہرادیا۔ ( فقہاء نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے کہ ایک شخص کی بری بات دوسرے شخص تک پہنچانا اگر کسی دینی اخلاقی یا ملی مصلحت کے لیے ہو تویہ چغلی کی تعریف میںنہیں آتا۔ شریعت میںجس چغل خوری کو حرام کیا گیا ہے وہ فساد کی غرض سے اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کے لیے چغلی کھانا ہے۔) حضورؐ نے فرمایا: ’’شاید تم ابن ابی سے ناراض ہو، ممکن ہے تم سے سننے میں کچھ غلطی ہوگئی ہو ممکن ہے تمہیں شبہ ہوگیا ہو کہ ابن ابی یہ کہہ رہا ہے۔‘‘ مگر زیدؓ نے عرض کیا: ’’نہیں، حضور! اللہ کی قسم! میں نے اس کو یہ باتیں کہتے سنا ہے۔‘‘
اس پر حضور انے ابن ابی کو بلا کر پوچھا تو وہ صاف مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ باتیں ہرگز نہیں کہیں۔ انصار کے لوگوں نے بھی کہا: ’’حضورا! لڑکے کی بات ہے، شاید اسے وہم ہوگیا ہو، یہ ہمارا شیخ اور بزرگ ہے، اس کے مقابلے میں ایک لڑکے کی بات کا اعتبار نہ فرمایے۔‘‘
قبیلے کے بڑے بوڑھوں نے زیدکو بھی ملامت کی اور وہ بیچارے رنجیدہ ہوکر اپنی جگہ بیٹھ رہے، مگر حضورؐ زید ص کو بھی جانتے تھے اور عبد اللہ بن ابی کو بھی، اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اصل بات کیا ہے۔
حضرت عمر ص کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آکر عرض کیا: ’’مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اُڑادوں یا اگر مجھے یہ اجازت دینا مناسب خیال نہیں فرماتے تو خود انصار ہی میں سے معاذ بن جبل یا عباد بن بشر یا سعد بن معاذ یا محمد بن مسلمہ کو حکم دیجیے (مختلف روایات میں مختلف انصاری بزرگوں کے نام آئے ہیں جن کے متعلق حضرت عمرص نے عرض کیا تھا کہ آپ ان میں سے کسی شخص سے یہ خدمت لے لیں، اگر مجھ سے اس لیے یہ کام لینا مناسب خیال نہیں فرماتے کہ میں مہاجر ہوں، میرے ہاتھوں اس کے مارے جانے سے فتنے بھڑک اُٹھنے کا امکان ہے) کہ وہ اسے قتل کردیں۔‘‘
مگر حضورؐنے فرمایا: ’’ایسا نہ کرو، لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔‘‘
اس کے بعد آپ نے فوراً ہی کوچ کا حکم دے دیا، حالاں کہ حضورؐکے معمول کے لحاظ سے وہ کوچ کا وقت نہ تھا، مسلسل ۳۰ گھنٹے چلتے رہے، یہاں تک کہ لوگ تھک کر چور ہوگئے۔ پھر آپ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اور تھکے ہوئے لوگ زمین پر کمر ٹکاتے ہی سوگئے۔ یہ آپ انے اس لیے کیا کہ جوکچھ مریسیع کے کنویں پر پیش آیا تھا، اس کے اثرات لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوجائیں۔
راستے میں انصار کے ایک سردار اُسید بن حضیر آپ سے ملے اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! آج آپ نے ایسے وقت کوچ کا حکم دیا جو سفر کے لیے موزوں نہ تھا اور آپ کبھی ایسے وقت میں سفر کا آغاز نہیں فرمایا کرتے تھے؟‘‘
حضور انے فرمایا: ’’تم نے سنا نہیں کہ تمہارے ان صاحب نے کیا گوہر افشانی کی ہے؟‘‘
انہوں نے پوچھا: ’’کون صاحب؟‘‘
آپ نے فرمایا: ’’عبد اللہ بن اُبی‘‘
انہوں نے پوچھا: ’’اس نے کیا کہا؟‘‘
فرمایا: ’’اس نے کہا ہے کہ مدینہ پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال باہر کرے گا۔‘‘
انہوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! خدا کی قسم! عزت والے تو آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے، آپ جب چاہیں اسے نکال سکتے ہیں۔‘‘
رفتہ رفتہ یہ بات تمام انصار میں پھیل گئی اور ان میں ابن ابی کے خلاف سخت غصہ پیدا ہوگیا۔ لوگوں نے ابن ابی سے کہا: ’’جاکر رسول اللہ اسے معافی مانگو۔‘‘
مگر اس نے تڑخ کر جواب دیا: ’’تم نے کہا کہ ان پر ایمان لاؤ، میں ایمان لے آیا، تم نے کہا کہ اپنے مال کی زکوٰۃ دو، میں نے زکوٰۃ بھی دے دی، اب بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ میں محمد کو سجدہ کروں۔‘‘
ان باتوں سے اس کے خلاف مومنین انصار کی ناراضگی اور زیادہ بڑھ گئی اور ہر طرف سے اُس پرپھٹکار پڑنے لگی۔ جب یہ قافلہ مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگا تو عبد اللہ بن ابی کے صاحب زادے، جن کا نام بھی عبد اللہ ہی تھا، تلوارسونت کر باپ کے آگے کھڑے ہوگئے اور بولے: ’’آپ نے کہا تھا کہ مدینہ واپس پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال دے گا، اب آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ عزت آپ کی ہے یا اللہ اور اس کے رسول اکی، خدا کی قسم! آپ مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک رسول اللہا آپ کو اجازت نہ دیں۔‘‘
اس پر ابن ابی چیخ اُٹھا: ’’خزرج کے لوگو! ذرا دیکھو!میرا بیٹا ہی مجھے مدینہ داخل ہونے سے روک رہاہے۔‘‘
لوگوں نے یہ خبر حضورؐ تک پہنچائی تو آپ انے فرمایا: ’’عبد اللہ سے کہو اپنے باپ کو گھرآنے دے۔‘‘
عبد اللہ نے کہا:’’ان کا حکم ہے تو اب آپ داخل ہوسکتے ہیں۔‘‘
اس وقت حضور انے حضرت عمر ص سے فرمایا: ’’کیوں عمر! اب تمہارا کیا خیال ہے؟ جس وقت تم نے کہا تھا کہ مجھے اس کو قتل کرنے کی اجازت دیجیے، اس وقت اگر تم اسے قتل کردیتے تو بہت سی ناکیں اس پرپھڑکنے لگتیں، آج اگر میں اس کے قتل کا حکم دوں تواسے قتل تک کیا جا سکتاہے۔‘‘
حضرت عمرصنے عرض کیا: ’’خدا کی قسم! اب مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ کے رسول کی بات میری بات سے زیادہ مبنی بر حکمت تھی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْرَآئِیْلُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ زَیْدِ ابْنِ اَرْقَمَ، قَالَ: کُنْتُ فِیْ غَزَاۃٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اُبَیٍّ، یَقُوْلُ: لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِہٖ، وَ لَوْ رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِہٖ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِعَمِّیْ اَوْ لِعُمَرَ، فَذَکَرَہٗ لِلنَّبِیِّ ﷺ: فَدَعَانِیْ، فَحَدَّثْتُہٗ، فَاَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُبَیٍّ وَ اَصْحَابِہٖ، فَحَلَفُوْا مَا قَالُوْا، فَکَذَّبَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ صَدَّقَہٗ فَاَصَابَنِیْ ھَمٌّ لَمْ یُصِبْنِیْ مِثْلُہٗ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِی الْبَیْتِ، فَقَالَ لِیْ عَمِّیْ: مَا اَرَدْتَّ اِلٰی اَنْ کَذَّبَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ مَقَتَکَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: (اِذَا جَآئَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ) فَبَعَثَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ﷺ فَقَرَأَ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ قَدْ صَدَّقَکَ یَا زَیْدُ۔(١٠٥)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقمص سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک غزوہ میںشامل تھا میں نے عبد اللہ بن ابی کو یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ رسولؐ اللہ کے پاس جو لوگ ہیں (مہاجرین) ان پر خرچ نہ کرو تو وہ لوگ آپ کی معیت سے الگ ہوجائیں اگر ہم ان کے پاس (بہ سلامت) واپس مدینہ لوٹ گئے تو عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ ابن ارقم کا بیان ہے میں نے اپنے چچا سے یا حضرت عمرص سے سارا واقعہ بیان کردیا۔ انہوں نے نبی اکو سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے مجھے بلا بھیجا۔ میں نے سارا واقعہ جوں کا توں بیان کردیا تو رسولؐ اللہ نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ہمنواؤں کو بلایا۔ وہ سب قسم کھا گئے کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ رسول اللہ انے مجھے جھوٹا سمجھا اور اس کے بیان کو سچا تصور فرمایا۔ مجھے اس کا اتنا صدمہ اور دکھ ہوا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا تو میرے چچا نے مجھ سے کہا کہ کیا بات ہے کہ رسولؐ اللہ نے تجھے جھوٹا سمجھا اور ناراض بھی ہوئے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت:(اِذا جاء ک المنافقون۔۔۔الآیۃ)نازل فرمائی تو نبی انے مجھے بلا بھیجا اور یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیان کی تصدیق فرمادی ہے، اے زید!‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۲) عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَمِّیْ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنَ اُبَیِّ بْنِ سَلُوْلٍ، یَقُوْلُ: لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا، وَ قَالَ اَیْضًا: لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِعَمِّیْ، فَذَکَرَ عَمِّیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اُبَیٍّ وَ اَصْحَابِہٖ، فَحَلَفُوْا مَا قَالُوْا، فَصَدَّقَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ کَذَّبَنِیْ۔۔۔الخ۔ (١٠٦)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقمص سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے چچا کے ہمراہ تھا، میں نے عبد اللہ بن ابی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ ا کے ہمراہ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر تتر بتر ہوجائیں گے، نیز اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ واپس لوٹ گئے تو عزت والا ذلیل کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔ چناں چہ میں نے یہ ساری باتیں اپنے چچا تک پہنچادیں اور میرے چچا نے رسولؐ اللہ  کو سنا دیں، تو رسول اللہ ا نے عبد اللہ بن اُبی اور اس کے احباب کو بلا بھیجا۔ وہ آکر قسم کھا گئے کہ انہوں نے تو یہ باتیں نہیں کیں، رسولؐ اللہ  نے ان کا بیان سن کر ان کی تصدیق فرمائی اور مجھے جھوٹا سمجھا۔۔۔الخ
بخاری کی ایک اور روایت میں ہے، زید بن ارقم کہتے ہیں:
(۳) قَالَ: لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ اُبَیٍّ: لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ وَ قَالَ اَیْضًا: لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، اَخْبَرْتُ بِہٖ النَّبِیَّ ﷺ، فَلاَمَنِی الْاَنْصَارُ وَ حَلَفَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُبَیٍّ مَا قَالَ ذٰلِکَ فَرَجَعْتُ اِلَی الْمَنْزِلِ، فَنِمْتُ، فَاَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاَتَیْتُہٗ فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ قَدْ صَدََّقَکَ۔۔۔الخ (١٠٧)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم کا بیان ہے کہ ابن اُبی نے جب یہ کہا کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو نیز یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ واپس لوٹ گئے تو عزیز ذلیل ترین کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا، میں نے اس کی اطلاع نبی اکو دے دی۔ اس پر انصار نے مجھے ملامت کی، ادھر عبد اللہ بن ابی نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی، میں واپس اپنے گھر لوٹ آیا اور سوگیا۔ اتنے میں رسول اللہ انے مجھے بلا بھیجا۔ میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہاری بات کی تصدیق فرمادی ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
(۴) قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ سَفَرٍ، اَصَابَ النَّاسَ فِیْہِ شِدَّۃٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ اُبَیٍّ لِاَصْحَابِہٖ: لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِہٖ وَ قَالَ: لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ، فَاَخْبَرْتُہٗ، فَاَرْسَلَ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُبَیٍّ، فَسَأَلَہٗ فَاجْتَھَدَ یَمِیْنَہٗ مَا فَعَلَ، قَالُوْا: کََذَبَ زَیْدٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِمَّا قَالُوْا شِدَّۃٌ حَتّٰی اَنْزَلَ اللّٰہُ تَصْدِیْقِیْ فِیْ (اِذَا جَآئَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ)۔۔۔الخ (١٠٨)
ترجمہ: حضرت زید بن ارقم کا بیان ہے کہ ہم نبی اکی معیت میں ایک سفر پر نکلے، اس سفر کے دوران میں لوگوں کوبہت سختی پہنچی، (یعنی لوگوں نے بہت تکلیف اُٹھائی) تو عبد اللہ بن ابی نے اپنے ہم خیال لوگوں سے کہا: رسولؐ اللہ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کے ارد گرد سے چھٹ جائیں (یعنی رسولؐ اللہ اور آپ کے ساتھیوں پر معاشی دباؤ ڈالو کہ لوگ ان کا ساتھ چھوڑ جائیں) اور مزید یہ کہا کہ مدینہ پہنچ کر ہم میں جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ میں نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے ابن اُبی کو پیغام ارسال فرمایا: (وہ حاضر خدمت ہوا) تو اس سے آپ نے دریافت فرمایا تو اس نے بڑی کڑی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ کام نہیں کیا۔ لوگ کہنے لگے زید نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں غلط بیانی کی ہے ان کی اس بات سے میرے دل میں بڑی تکلیف ہوئی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بیان کی تصدیق فرماتے ہوئے (اِذَا جَآئَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ) آیت نازل فرمائی۔
(۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی، قَالَ: ثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ غُلاَمًا جَآئَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنَ اُبَیٍّ، یَقُوْلُ کَذَا وَ کَذَا، قَالَ: فَلَعَلَّکَ غَضَبْتَ عَلَیْہِ، قَالَ: لاَ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُہٗ، قَالَ: فَلَعَلَّکَ اَخْطَأَ سَمْعُکَ، قَالَ: لاَ، وَاللّٰہِ، یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُہٗ، قَالَ: فَلَعَلَّہٗ شَبَّہَ عَلَیْکَ، قَالَ:لاَ، وَاللّٰہِ! قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَصْدِیْقًا لِلْغُلاَمِ: (لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ) فَاَخَذَ النَّبِیُّ ﷺ بِاُذُنِ الْغُلاَمِ فَقَالَ: وَفَتْ اُذُنُکَ، وَفَتْ اُذُنُکَ، یَا غُلاَمُ۔(١٠٩)
ترجمہ: حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک لڑکا نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن اُبی کو اس طرح باتیں کرتے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ’’ممکن ہے تم اس سے ناراض ہو۔‘‘ اس نے عرض کیا: ’’نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اسے یہ کہتے ہوئے خود سنا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ممکن ہے تمہیں سننے میں غلطی ہوگئی ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! میں نے یقینا اسے یہ کہتے سنا ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’شاید تمہیں شبہ ہوگیا ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’اللہ کی قسم! نہیں، میں نے اسے یہ باتیں کہتے سنا ہے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے لڑکے کے بیان کی تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرمائی: ( لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذل)نبی انے لڑکے کا کان پکڑ کر فرمایا: ’’اے لڑکے! تیرے کان نے تیرے ساتھ وفا کی، اے لڑکے! تیرے کان نے تیرے ساتھ وفا کی۔‘‘
ترمذی نے ابواب التفسیر میں سورۃ المنافقین کے ضمن میں زید بن ارقم صکے حوالہ سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں ہے:
(۶) فَبَیْنَمَا اَنَا اَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ قَدْ خَفَقْتُ بِرَأْسِیْ مِنَ الْھَمِّ اِذْ اَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَحَرَّکَ اُذُنِیْ وَضَحِکَ فِیْ وَجْھِیْ۔۔۔الخ (١١٠)
ترجمہ: میں ایک سفر میں رسولؐ اللہ کے ساتھ، پریشانی کی وجہ سے سرجھکائے بیٹھا تھا کہ اسی اثناء میں رسولؐ اللہ تشریف فرما ہوئے اور میرے کان کو پکڑ کے حرکت دی اور میرے سامنے خندہ رو ہوئے۔
تشریح: اس حدیث کے واقعہ میں منافقین کی ایک شرارت کا ذکر ہے، جس سے وہ مسلمانوں کو ذلیل کرنا چاہتے تھے مگر خود ہی ذلیل و رسوا ہوگئے۔
حضور انے جب دونوں افراد کو اپنے اپنے قبیلے کوپکارتے سنا تو آپ نے جو بات ارشاد فرمائی وہ بڑی اہم تھی۔ اسلام کی صحیح روح کو سمجھنے کے لیے اسے ٹھیک ٹھیک سمجھ لینا ضروری ہے۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ دو آدمی اگر اپنے جھگڑے میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا چاہیں تو وہ کہیں مسلمانو! آؤ، ہماری مدد کرو یا یہ کہ لوگو! ہماری مدد کے لیے آؤ، لیکن اگر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے قبیلے یا برادری یا نسل ورنگ یا علاقے کے نام پر لوگوں کو پکارتا ہے تویہ جاہلیت کی پکار ہے اوراس پکار پرلبیک کہہ کر آنے والے اگر یہ نہیں دیکھتے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون اور حق و انصاف کی بنا پر مظلوم کی حمایت کرنے کے بجائے اپنے اپنے گروہ کے آدمی کی حمایت میں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوجاتے ہیں تو یہ جاہلیت کا فعل ہے، جس سے دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے، اسی لیے رسول اللہ انے اسے گندی اور گھناؤنی چیز قرار دیا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہارا اس جاہلیت کی پکار سے کیا واسطہ؟ تم اسلام کی بنیاد پر ایک ملت بنے تھے، اب یہ انصار اور مہاجر کے نام پر تمہیں کیسے پکارا جارہا ہے اور اس پکارپر تم کہاں دوڑے جارہے ہو؟ علامہ سہیلی نے روض الانف میں لکھا ہے کہ فقہائے اسلام نے کسی جھگڑے یا اختلاف میں جاہلیت کی پکار بلند کرنے کو ایک فوجداری جرم قرار دیا ہے۔ ایک گروہ اس کی سزا پچاس ضرب تازیانہ قرار دیتا ہے۔ دوسرا گروہ دس ضرب تجویز کرتا ہے اور تیسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کی سزا حالات کی مناسبت سے دی جانی چاہیے۔ بعض حالت میں صرف زجر و توبیخ کافی ہے بعض دوسرے حالات میں ایسی پکار بلند کرنے والے کو قید کرنا چاہیے اور اگر یہ زیادہ شر انگیز ہو تو اس کے مرتکب کو سزائے تازیانہ دینی چاہیے۔
حدیث سے مستنبط دو اہم مسائل: اس حدیث سے دواہم شرعی مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے ایک یہ کہ جو طرز عمل ابن ابی نے اختیار کیا تھا، اگر کوئی شخص مسلم ملت میں رہتے ہوئے اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو وہ قتل کا مستحق ہے۔ دوسرے یہ کہ محض قانوناً کسی شخص کے مستحق قتل ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرور اسے قتل ہی کردیا جائے ایسے کسی فیصلے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس کا قتل کسی عظیم تر فتنے کا موجب تو نہ بن جائے گا۔ حالات سے آنکھیں بند کرکے قانون کا اندھا دھند استعمال بعض اوقات اس مقصد کے خلاف بالکل اُلٹا نتیجہ پیدا کردیتا ہے جس کے لیے قانون استعمال کیا جاتا ہے اگر ایک منافق اور مفسد آدمی کے پیچھے کوئی قابل لحاظ سیاسی طاقت موجود ہو تو اسے سزا دے کر مزید فتنوں کو سر اُٹھانے کا موقع دینے سے بہتر یہ ہے کہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اس اصل سیاسی طاقت کا استیصال کردیا جائے جس کے بل پر وہ شرارت کررہا ہو۔ یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر حضور انے عبد اللہ بن ابی کو اس وقت بھی سزا نہ دی جب آپ اسے سزا دینے پر قادر تھے بلکہ اس کے ساتھ برابر نرمی کا سلوک کرتے رہے یہاں تک کہ دو تین سال کے اندر مدینہ میں منافقین کا زور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔
(تفہیم القرآن، ج۵، المنافقون، تاریخی پس منظر)

ولید بن عقبہ کی غلط بیانی

٤٩- قبیلۂ بنی المصطلق جب مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ انے ولید بن عقبہ کو بھیجا تاکہ ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرلائیں، یہ اُن کے علاقے میں پہنچے تو کسی وجہ سے ڈرگئے اور اہل قبیلہ سے ملے بغیر مدینہ واپس جاکر رسول اللہ اسے شکایت کردی کہ انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے اور آپ نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے ایک دستہ روانہ کریں۔ (بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے وہ دستہ روانہ کردیا تھا اور بعض میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ روانہ کرنے والے تھے، بہ ہر حال اس بات پر سب متفق ہیں کہ)بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار (ام المؤمنین حضرت جویریہز کے والد) اس دوران میں خود ایک وفد لے کر نبی اکی خدمت میں پہنچ گئے اور انہوں نے عرض کیا: ’’خدا کی قسم! ہم نے تو ولید کو دیکھا تک نہیں، کجا کہ زکوٰۃ دینے سے انکار اور ان کے قتل کے ارادے کا کوئی سوال پیدا ہو، ہم ایمان پر قایم ہیں اور ادائے زکوٰۃ سے ہمیں ہر گز انکار نہیں ہے۔‘‘ (تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اس قصے کو امام احمد، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن جریر نے حضرات عبد اللہ بن عباسژ ، حارث بن ضرارص ، مجاہد، قتادہ، عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ، یزید بن رومان، ضحاک اور مقاتل بن حیان سے نقل کیا ہے۔ حضرت ام سلمہز کی روایت میں یہ پورا قصہ بیان تواسی طرح ہوا ہے مگر اس میں ولید کے نام کی تصریح نہیں ہے۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا عِیْسَی بْنُ دِیْنَارٍ، ثَنَا اَبِیْ اَنَّہٗ سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ ضِرَارِ الْخُزَاعِیَّ، قَالَ: قَدَمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَدَعَانِیْ اِلَی الْاِسْلاَمِ، فَدَخَلْتُ فِیْہِ وَ اَقْرَرْتُ بِہٖ، فَدَعَانِیْ اِلَی الزّٰکوٰۃِ، فَاَقْرَرْتُ بِھَا وَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرْجِعُ اِلٰی قَوْمِیْ، فَاَدْعُوْھُمْ اِلَی الْاِسْلاَمِ وَ اَدَائِ الزَّکوٰۃِ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِیْ، جَمَعْتُ زَکوٰتَہٗ۔ فَیُرْسِلُ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَسُوْلاً لِاَبَانِ کَذَا وَ کَذَا لَیَأْتِیْکَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّکوٰۃِ، فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّکوٰۃَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَہٗ وَ بَلَغَ الْاَبَانُ الَّذِیْ اَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَّبْعَثَ اِلَیْہِ احْتَبَسَ عَلَیْہِ الرَّسُوْلُ فَلَمْ یَأْتِہٖ فَظَنَّ الْحَارِثُ اَنَّہٗ قَدْ حَدَثَ فِیْہِ سَخْطَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلِہٖ فَدَعَا بِسَرَوَاتِ قَوْمِہٖ فَقَالَ لَھُمْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ وَقَّتَ لِیْ وَقْتًا یُرْسِلُ اِلَیَّ رَسُوْلَہٗ لِیَقْبِضَ مَا کَانَ عِنْدِیْ مِنَ الزَّکوٰۃِ وَلَیْسَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْخُلْفُ وَلاَ اَرٰی حَبْسَ رَسُوْلِہٖ اِلاَّ مِنْ سَخْطَۃٍ کَانَتْ، فَانْطَلِقُوْا، فَنَأْتِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ اِلَی الْحَارِثِ لِیَقْبِضَ مَاکَانَ عِنْدَہٗ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّکوٰۃِ فَلَمَّا اَنْ سَارَ الْوَلِیْدُ حَتّٰی بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِیْقِ فَرَقَ فَرَجَعَ فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِی الزَّکوٰۃَ وَ اَرَادَ قَتْلِیْ، فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْبَعْثَ اِلَی الْحَارِثِ، فَاَقْبَلَ الْحَارِثُ بِاَصْحَابِہٖ اِذَا اسْتَقْبَلَ الْبَعْثُ وَ فَصَلَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ لَقِیَھُمُ الْحَارِثُ، فَقَالُوْا: ھٰذَا الْحَارِثُ؟ فَلَمَّا غَشِیَھُمْ، قَالَ لَھُمْ: اِلٰی مَنْ بُعِثْتُمْ؟ قَالُوْا: اِلَیْکَ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ بَعَثَ اِلَیْکَ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ، فَزَعَمَ اَنَّکَ مَنَعْتَہُ الزَّکوٰۃَ وَ اَرَدَتَّ قَتْلَہٗ، قَالَ: لاَ، وَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، مَا رَأَیْتُہٗ بَتَّۃَ، وَلاَ اَتَانِیْ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنَعْتَ الزَّکوٰۃَ، وَ اَرَدْتَّ قَتْلَ رَسُوْلِیْ؟ قَالَ: لاَ، وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، مَا رَأَیْتُہٗ وَلاَ اَتَانِیْ، وَمَا اَقْبَلْتُ اِلاَّ حِیْنَ احْتَبَسَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ کَانَتْ سَخْطَۃً مِّنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلِہٖ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ: (یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْآ اِنْ جَآئَکُمْ فَاسِقٌم بِنَبَأٍ، فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا م بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ) اِلٰی ھٰذَا الْمَکَانِ (فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَ نِعْمَۃً وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (١١١)
ترجمہ: حارث بن ضرار خزاعی کا بیان ہے، میں رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جسے میں نے منظور کرلیا اور میں دائرہ ٔاسلام میں داخل ہوگیا، پھر آپ نے مجھے ادائے گی زکوٰۃ کی دعوت دی میں نے اسے ادا کرنے کا بھی اقرار کرلیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں واپس اپنی قوم کے پاس جاتا ہوں اور انہیں بھی قبول اسلام اور ادائے گی زکوٰۃ کی دعوت دیتا ہوں، جس نے میری دعوت تسلیم کرلی اس کی زکوٰۃ میں جمع کروں گا، رسول اللہ امیرے پاس اپنا قاصد فلاں وقت بھیجیں گے تاکہ زکوٰۃ کا وہ مال جو میں نے جمع کیا ہوگا اسے وصول کرلیں۔ پس جب حارث نے زکوٰۃ کا مال ان لوگوں سے جمع کرلیا جنہوں نے دعوت قبول کی تھی اور وہ وقت مقررہ بھی ہوگیا، جب رسول اللہ انے وصول کنندہ زکوٰۃ بھیجنا تھا اور وہ نہ آیا تو حارث نے گمان کیا کہ یقینا اللہ اور اس کے رسول اکی ناراضگی واقع ہوگئی ہے تو اس نے اپنی قوم کے سربر آوردہ اصحاب کو بلایا اوران سے کہا کہ رسول اللہ انے مجھ سے ایک مقرر وقت پر اپنا قاصد بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا تاکہ وہ میرے پاس جمع شدہ مال زکوٰۃ، وصول کرے، رسول اللہ ا وعدہ خلافی نہیں کرتے، میرے خیال کے مطابق قاصد کا نہ آنا بجز ناراضگی کے اور کوئی وجہ نہیں رکھتا، چلو! ہم خود رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ پس ہم رسول اکے پاس آئے۔ ادھر رسول اللہ ا نے ولید بن عقبہ کو حارث کے پاس جمع شدہ مال زکوٰۃ کی وصولی کے لیے روانہ فرمادیا لیکن یہ صاحب کہیں راستہ ہی سے ڈر کر واپس لوٹ آئے اور رسالت مآب ا کی خدمت میں آکر رپورٹ دی کہ حارث نے مجھے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ا نے حارث کی جانب ایک دستہ بھیجا۔ مدینہ کے قریب ہی اس دستہ نے حارث اور اس کے ساتھیوں کو پاکر ان سب کو گھیرے میں لے لیا اور دریافت کیا کہ یہی حارث ہے؟ جب انہوں نے حارث اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لیا تو ان لوگوں نے پوچھا: آپ لوگوں کو کن کی طرف بھیجا گیا ہے؟ اصحاب رسول ث نے جواب دیا: تمہاری طرف، حارث نے کہا: کس لیے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ انے ولید بن عقبہ کو تمہاری طرف بھیجا تھا، اس کے زعم و گمان میں تونے زکوٰۃ روک لی اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا۔ حارث نے کہا: نہیں، اس ذات گرامی کی قسم جس نے محمد ا کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے! میں نے تو ولید کو دیکھا تک نہیں اور وہ میرے پاس آیا بھی نہیں۔ پس جب حارث رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا: تونے زکوٰۃ روک لی اور میرے قاصد کو قتل کرنا چاہا؟ حارث نے عرض کیا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے! میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں اور نہ وہ میرے پاس آیا ہے، میں تو صرف اس بنا پر حاضر خدمت ہوا ہوں کہ آپ کی جانب سے قاصد کا نہ آنا اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا باعث ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس وقت سورۂ الحجرات کی آیت ــــیایھا الذین امنوا ان جائکم فاسق ــــ سے لے کر ــــ واللّٰہ علیم حکیم ــــ تک نازل ہوئی۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، مَوْلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَجُلاً فِیْ صَدَقَاتِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ بَعْدَ الْوَقْعَۃِ، فَسَمِعَ بِذَالِکَ الْقَوْمُ، فَتَلَقَّوْہُ یُعَظِّمُوْنَ اَمْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فَحَدَّثَہُ الشَّیْطَانُ اَنَّھُمْ یُرِیْدُوْنَ قَتْلَہٗ، قَالَتْ: فَرَجَعَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: اِنَّ بَنِیْ الْمُصْطَلَقِ قَدْ مَنَعُوْا صَدَقَاتِھِمْ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالْمُسْلِمُوْنَ، قَالَ: فَبَلَغَ الْقَوْمَ رُجُوْعُہٗ قَالَ: فَأَتَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَصَفُّوْا لَہٗ حِیْنَ صَلَّی الظُّھْرَ، فَقَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ وَ سَخَطِ رَسُوْلِہٖ، بَعَثْتَ اِلَیْنَا رَجُلاً مُّصَدِّقًا، فَسَرَرْنَا بِذَالِکَ، وَ قَرَّتْ بِہٖ اَعْیُنُنَا ثُمَّ اَنَّہٗ رَجَعَ مِنْم بَعْضِ الطَّرِیْقِ، فَخَشِیْنَا اَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ غَضَبًا مِّنَ اللّٰہِ وَ مِنْ رَّسُوْلِہٖ، فَلَمْ یَزَالُوْا یُکَلِّمُوْنَہٗ حَتّٰی جَآئَ بِلاَلٌ وَاَذَّنَ لِصَلاَۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: وَ نَزَلَتْ ــــ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْا اِنْ جَآئَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا م بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ ــــ(١١٢)
ترجمہ: حضرت ام سلمہز سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے غزوہ بنی المصطلق کے بعد ان کی زکوٰۃ کی وصولی کے لیے ایک آدمی کوبھیجا، اس کی خبر بنی المصطلق کے لوگوں نے بھی سن لی۔ یہ لوگ ارشاد نبویؐ کی تعظیم کے پیش نظر خوشی سے اس آدمی کو ملے تو اس موقع پر شیطان نے وصولی کے لیے جانے والے آدمی کے دل میں ڈال دیا کہ وہ تو اس کے قتل کے درپے تھے۔ حضرت ام سلمہز کابیان ہے کہ وہ قاصد واپس رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور رپورٹ دی کہ بنو مصطلق نے زکوٰۃ روک لی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہا اور مسلمان ناراض ہوگئے۔ اس کی یہ واپسی کی خبر بنو مصطلق تک بھی پہنچ گئی تو وہ رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صف بستہ کھڑے ہوکر نماز ظہر کے وقت عرض کیا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول اکی ناراضگی اور غصہ سے پناہ کے طلب گار ہیں، آپ نے زکوٰۃ وصول کرنے والا آدمی ہماری جانب بھیجا، ہم بڑے خوش اور مسرور ہوئے اور اس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں مگر وہ شخص راستہ ہی سے واپس آگیا تو ہم خوف زدہ ہوگئے کہ کہیں اللہ اور اس کے رسول ناراض نہ ہوگئے ہوں، ان حضرات کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ حضرت بلال صنے آکر نماز عصر کی اذان کہہ دی، اس موقع پر( یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ امنوا ان جائکم فاسق)سے لے کر (نٰدمین) تک نازل ہوئی۔
تشریح: مسلمانوں کے لیے اس واقعہ میں ایک سبق اس نازک موقع پرجب کہ ایک بے بنیاد خبر پر اعتماد کرلینے کی وجہ سے ایک عظیم غلطی ہوتے ہوتے رہ گئی، تو مسلمانوں کو یہ سبق حاصل ہوا کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر جس پر کوئی بڑا نتیجہ مرتب ہوتا ہو، تمہیں ملے تواس کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر لانے والا کیسا آدمی ہے؟ اگر کوئی فاسق شخص ہو، یعنی جس کا ظاہر حال یہ بتارہا ہو کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں ہے تو اس کی دی ہوئی خبر پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کرلو کہ امر واقعہ کیا ہے؟
اس کی رو سے مسلمانوں کی حکومت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی کارروائی ایسے مخبروں کی دی ہوئی خبروں کی بنا پر کر ڈالے جن کی سیرت بھروسے کے لائق نہ ہو۔
اسی قاعدے کی بنا پر محدثین نے جرح و تعدیل کا فن ایجاد کیا تاکہ اُن لوگوں کے حالات کی تحقیق کریں جن کے ذریعہ سے بعد کی نسلوں کو نبی اکی احادیث پہنچی تھیں اور فقہاء نے قانون شہادت میں یہ اصول قائم کیا کہ کسی ایسے معاملے میں جس سے کوئی شرعی حکم ثابت ہوتا ہو یا کسی انسان پر کوئی حق عائد ہو، فاسق کی گواہی قابل قبول نہیں ہے، البتہ اس امر پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ عام دنیوی معاملات میں ہر خبر کی تحقیق اور خبر لانے والے کے لائق اعتماد ہونے کا اطمینان کرنا ضروری نہیں ہے۔ مثلاً: آپ کسی کے ہاںجاتے ہیں اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں، اندر سے کوئی آکر کہتا ہے کہ آجاؤ، آپ اس کے کہنے پراندر جاسکتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ صاحب خانہ کی طرف سے اذن کی اطلاع دینے والا فاسق ہو یا صالح۔ اسی طرح اہل علم کا اس پربھی اتفاق ہے کہ جن لوگوں کا فسق جھوٹ اور بدکرداری کی نوعیت کا نہ ہو بلکہ فساد عقیدہ کی بنا پر وہ فاسق قرار پاتے ہوں، ان کی شہادت بھی قبول کی جاسکتی ہے اور روایت بھی، محض ان کے عقیدے کی خرابی ان کی شہادت یا روایت قبول کرنے میں مانع نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الحجرات، حاشیہ:۸)

واقعۂ افک اور منافقین کا کردار

٥٠- ’’مسلمانو! کون ہے جو اس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزامات لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کردی ہے۔ بخدا میں نے نہ تو اپنی بیوی ہی میں کوئی برائی دیکھی ہے اور نہ اس شخص میں جس کے متعلق تہمت لگائی جاتی ہے۔ وہ تو کبھی میری غیر موجودگی میں میرے گھر آیا بھی نہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، وَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَ عَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ قَالَ لَھَا اَھْلُ الْاِفْکِ مَا قَالُوْا، وَ کُلُّھُمْ، حَدَّثَنِیْ طَائِفَۃً مِّنْ حَدِیْثِھَا وَ بَعْضُھُمْ کَانَ اَوْعٰی لِحَدِیْثِھَا مِنْم بَعْضٍ، وَ اَثْبَتَ لَہٗ اقْتِصَاصًا وَ قَدْ وَعَیْتُ عَنْ کُلِّ رَجُلٍ مِّنْھُمُ الْحَدِیْثَ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ عَنْ عَائِشَۃَ، وَ بَعْضُ حَدِیْثِھِمْ یُصَدِّقُ بَعْضًا وَ اِنْ کَانَ بَعْضُھُمْ اَوْعٰی لَہٗ مِنْم بَعْضٍ، قَالُوْا: قَالَتْ عَائِشَۃُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَرَادَ سَفْرًا اَقْرَعَ بَیْنَ اَزْوَاجِہٖ، وَ اَیُّھُنَّ خَرَجَ سَھْمُھَا، خَرَجَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَعَہٗ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَاَقْرَعَ بَیْنَنَا فِیْ غَزْوَۃٍ غَزَاھَا، فَخَرَجَ فِیْھَا سَھْمِیْ، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَعْدَ مَا اُنْزِلَ الْحِجَابُ، فَکُنْتُ اُحْمَلُ فِیْ ھَوْدَجٍ، وَاُنْزِلَ فِیْہِ، فَسِرْنَا حَتّٰی اِذَا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ غَزْوَتِہٖ تِلْکَ، وَ قَفَلَ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ قَافِلِیْنَ، اٰذَنَ لَیْلَۃً بِالرَّحِیْلِ فَقُمْتُ حِیْنَ اٰذَنُوْا بِالرَّحِیْلِ، فَمَشَیْتُ حَتّٰی جَاوَزْتُ الْجَیْشَ، فَلَمَّا قَضَیْتُ شَانِیْ، اَقْبَلْتُ اِلٰی رَحْلِیْ، فَلَمَسْتُ صَدْرِیْ فَاِذَا عِقْدٌ لِیْ مِنْ جَزَعِ ظِفَارٍ قَدِ انْقَطَعَ، فَرَجَعْتُ، فَالْتَمَسْتُ عِقْدِیْ، فَحَبَسَنِیْ ابْتِغَاؤُہٗ، قَالَتْ: وَ اَقْبلَ الرَّھْطُ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُرَحِّلُوْنَ بِیْ، فَاحْتَمَلُوْا ھَوْدَجِیْ، فَرَحَلُوْہُ عَلٰی بَعِیْرِیِ الَّذِیْ کُنْتُ اَرْکَبُ عَلَیْہِ وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنِّیْ فِیْہِ، وَکَانَ النِّسَآئَ اِذَا ذَاکَ خِفَافًا لَمْ یَھْبُلْنَ وَلَمْ یَغْشَھُنَّ اللَّحْمُ اِنَّمَا یَاْکُلْنَ الْعُلْقَۃَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمْ یَسْتَنْکَرِ الْقَوْمُ خِفَّۃَ الْھَوْدَجِ حِیْنَ رَفَعُوْہُ وَ حَمَلُوْہُ، وَ کُنْتُ جَارِیَۃً حَدِیْثَۃَ السِّنِّ فَبَعَثُوْا الْجَمَلَ، فَسَارُوْا، وَوَجَدْتُّ عِقْدِیْ بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَیْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَھُمْ، وَ لَیْسَ بِھَا مِنْھُمْ دَاعٍ، وَلاَ مُجِیْبٌ، فَتَیَمَّمْتُ مَنْزِلِیْ الَّذِیْ کُنْتُ بِہٖ، وَ ظَنَنْتُ اَنَّھُمْ سَیَفْقِدُوْنِّیْ، فَیَرْجِعُوْنَ اِلَیَّ فَبَیْنَا اَنَا جَالِسَۃٌ فِیْ مَنْزِلِیْ غَلَبَتْنِیْ عَیْنِیْ، فَنِمْتُ وَکَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیُّ ثُمَّ الذَّکَوَانِیُّ مِنْ وَّرَائِ الْجَیْشِ، فَاَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِیْ، فَرَاٰی سَوَادَ اِنْسَانٍ نَائِمٍ، فَعَرَفَنِیْ حِیْنَ رَاٰنِیْ، وَکَانَ رَاٰنِیْ قَبْلَ الْحِجَابِ، فَاسْتَیْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِہٖ حِیْنَ عَرَفَنِیْ، فَخَمَّرْتُ وَجْھِیْ بِجِلْبَابٍ، وَ وَاللّٰہِ مَا تَکَلَّمْنَا بِکَلْمَۃٍ، وَلاَ سَمِعْتُ مِنْہُ کَلِمَۃً غَیْرَ اسْتِرْجَاعِہٖ وَ ھَوٰی حَتّٰی اَنَاخَ رَاحِلَتَہٗ، فَوَطِئَی عَلٰی یَدِھَا، فَقُمْتُ اِلَیْھَا، فَرَکِبْتُھَا، فَانْطَلَقَ یَقُوْدُ بِیْ الرَّاحِلَۃَ حَتّٰی اَتَیْنَا الْجَیْشَ مُوْغِرِیْنَ فِیْ نَحْرِ الظَّھِیْرَۃِ وَ ھُمْ نُزُوْلٌ، قَالَتْ: فَھَلَکَ مَنْ ھَلَکَ وَ کَانَ الَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَ الْاِفْکِ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ اُبَیِّ بْنِ سَلُوْلٍ قَالَ عُرْوَۃُ: اُخْبِرْتُ اَنَّہٗ کَانَ یُشَاعُ، وَ یَتَحَدَّثُ بِہٖ عِنْدَہٗ، فَیُقِرُّہٗ، وَ یَسْتَمِعُہٗ، وَ یَسْتَوْشِیْہِ، وَ قَالَ عُرْوَۃُ اَیْضًا: لَمْ یُسَمَّ مِنْ اَھْلِ الْاِفْکِ اَیْضًا اِلاَّ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَ مِسْطَحُ بْنُ اُثَاثَۃَ وَ حَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ فِیْ نَاسٍ اٰخَرِیْنَ لاَ عِلْمَ لِیْ بِھِمْ غَیْرَ اَنَّھُمْ عُصْبَۃٌ کَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَ اِنَّ کُبْرَ ذٰلِکَ یُقَالُ لَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُبَیِّ بْنِ سَلُوْلٍ، قَالَ عُرْوَۃُ: کَانَتْ عَائِشَۃُ تَکْرَہُ اَنْ یَّسُبَّ عِنْدَھَا حَسَّانٌ، وَ تَقُوْلُ: اِنَّہٗ الَّذِیْ قَالَ: فَاِنَّ اَبِیْ وَ وَالِدَہٗ وَعِرْضِیْ: لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَاء۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ، فَاشْتَکَیْتُ حِیْنَ قَدِمْتُ شَھْرًا، وَالنَّاسُ یُفِیْضُوْنَ فِیْ قَوْلِ اَصْحَابِ الْاِفْکِ، لاَ اَشْعُرُ بِشَـْیئٍ مِّنْ ذٰلِکَ وَ ھُوَ یُرِیْبُنِیْ فِیْ وَجْعِیْ، اَنِّیْ لاَ اَعْرِفُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اللُّطْفَ الَّذِیْ کُنْتُ اَرٰی مِنْہُ حِیْنَ اشْتَکِیْ، اِنَّمَا یَدْخُلُ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَیُسَلِّمُ، ثُمَّ یَقُوْلُ:کیْفَ تِیْکُمْ؟ ثُمَّ یَنْصَرِفُ، فَذٰلِکَ یُرِیْبُنِیْ وَلاَ اَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتّٰی خَرَجْتُ حِیْنَ نَقَھْتُ، فَخَرَجَتْ مَعِیْ اُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ، وَکَانَ مُتَبَرَّ زَنَا، وَ کُنَّا لاَ نَخْرُجُ اِلاَّ لَیْلاً اِلٰی لَیْلٍ، وَ ذٰلِکَ قَبْلَ اَنْ تُتَّخَذَ الْکُنُفُ قَرِیْبًا مِّنْ بُیُوْتِنَا، وَ اَمْرُنَا اَمْرُ الْعَرَبِ الْاَوَّلِ فِی الْبَرِیَّۃِ قِبَلَ الْغَائِطِ، وَ کُنَّا نَتَأَذّٰی بِالْکُنُفِ اَنْ نَتَّخِذَھَا عِنْدَ بُیُوْتِنَا، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ اَنَا وَ اُمُّ مِسْطَحٍ وَ ھِیَ ابْنَۃُ اَبِیْ رُھْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَ اُمُّھَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ، خَالَۃُ اَبِیْ بَکْرٍ نِالصِّدِّیْقِ وَابْنُھَا مِسْطَحُ بْنُ اُثَاثَۃَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَاَقْبَلْتُ اَنَا وَاُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَیْتِیْ حِیْنَ فَرَغْنَا مِنْ شَانِنَا، فَعَثَرَتْ اُمُّ مِسْطَحٍ فِیْ مِرْطِھَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ لَھَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّیْنَ رَجُلاً شَھِدَ بَدْرًا، فَقَالَتْ: اَیْ ھَنْتَاہٗ وَلَمْ تَسْمَعِیْ مَا قَالَ؟ قَالَتْ: وَ قُلْتُ: مَا قَالَ؟ فَاَخْبَرْتَنِیْ بِقَوْلِ اَھْلِ الْاِفْکِ، قَالَتْ: فَازْدَدْتُّ مَرْضًا عَلٰی مَرَضِیْ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِلٰی بَیْتِیْ، دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: کِیْفَ تِیْکُمْ؟ فَقُلْتُ لَہٗ: أَتَاْذَنُ لِیْ اَنْ اٰتِیَ اَبَوَیَّ؟ قَالَتْ: وَ اُرِیْدُ اَنِ اسْتَیْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِھِمَا، قَالَتْ: فَاَذِنَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقُلْتُ لِاُمّیْ: یَا اُمَّتَاہُ! مَاذَا یَتَحَدَّثُ النَّاسُ؟ قَالَتْ: یَا بُنَیَّۃُ ھَوِّنِیْ عَلَیْکِ فَوَاللّٰہِ لَقَلَّمَا کَانَتِ امْرَأَۃٌ قَطُّ وَضِیْئَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ یُحِبُّھَا لَھَا ضَرَائِرُ اِلاَّ کَثَّرْنَ عَلَیْھَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! اَوَ لَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِھٰذَا؟ قَالَتْ: فَبَکَیْتُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ حَتّٰی اَصْبَحْتُ لاَ یَرْقَأُ لِیْ دَمْعٌ، وَلاَ اکْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ اَصْبَحْتُ اَبْکِیْ، قَالَتْ: وَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ، وَ اُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ حِیْنَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْیُ، یَسْأَلُھُمَا وَ یَسْتَشِیْرُھُمَا فِیْ فِرَاقِ اَھْلِہٖ، قَالَتْ: فَاَمَّا اُسَامَۃُ، فَاَشَارَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِالَّذِیْ یَعْلَمُ مِنْ بَرَائَ ۃِ اَھْلِہٖ وَ بِالَّذِیْ یَعْلَمُ لَھُمْ فِیْ نَفْسِہٖ، فَقَالَ اُسَامَۃُ: اَھْلُکَ، وَلاَ نَعْلَمُ اِلاَّ خَیْرًا، وَ اَمَّا عَلِیٌّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَمْ یُضَیِّقِ اللّٰہُ عَلَیْکَ، وَالنِّسَائُ سِوَاھَا کَثِیْرٌ، وَسَلِ الْجَارِیَۃَ تَصْدُقْکَ، قَالَتْ: فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَرِیْرَۃَ، فَقَالَ: اَیْ بَرِیْرَۃُ، ھَلْ رَأَیْتِ مِنْ شَـْیئٍ یَرِیْبُکِ؟ قَالَتْ لَہٗ بَرِیْرَۃُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا رَأَیْتُ عَلَیْھَا اَمْرًا قَطُّ اَغْمِصُہٗ غَیْرَ اَنَّھَا جَارِیَۃٌ، حَدِیْثَۃُ السِّنِّ، تَنَامَ عَنْ عَجِیْنِ اَھْلِھَا، فَتَاتِی الدَّاجِنُ، فَتَاْکُلُہٗ، قَالَتْ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ یَوْمِہٖ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُبَیٍّ وَ ھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ مَنْ یَّعْذِرُنِیْ مِنْ رَّجُلٍ قَدْ بَلَغَنِیْ عَنْہُ اَذَاہُ فِیْ اَھْلِیْ وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلٰی اَھْلِیْ اِلاَّ خَیْرًا وَ لَقَدْ ذَکَرُوْا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ اِلاَّ خَیْرًا وَمَا یَدْخُلُ عَلٰی اَھْلِیْ اِلاَّ مَعِیْ۔ قَالَتْ: فَقَامَ سَعْدٌ اَخُوْبَنِیْ عَبْدِ الْاَشْھَلِ، فَقَالَ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَعْذِرُکَ، فَاِنْ کَانَ مِنَ الْاَوْسِ، ضَرَبْتُ عُنُقَہٗ، وَ اِنْ کَانَ مِنْ اِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ اَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا اَمْرَکَ، قَالَتْ: وَ قَامَ رَجُلٌ مِّنَ الْخَزْرَجِ وَکَانَتْ اُمُّ حَسَّانٍ بِنْتَ عَمِّہٖ مِنْ فَخِذِہٖ وَ ھُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ وَ ھُوَ سَیِّدُ الْخَزْرَجِ، قَالَتْ: وَکَانَ قَبْلَ ذَالِکَ رَجُلاً صَالِحًا، وَ ٰ لکِنِ احْتَمَلَتْہُ الْحَمِیَّۃُ، فَقَالَ لِسَعْدٍ: کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللّٰہِ لاَ تَقْتُلُہٗ وَلاَ تَقْدِرُ عَلٰی قَتْلِہٖ وَلَوْ کَانَ مِنْ رَھْطِکَ مَااَحْبَبْتَ اَنْ یُّقْتَلَ، فَقَامَ اُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَ ھُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ: کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللّٰہِ لَنَقْتُلَنَّہٗ، فَاِنَّکَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِیْنَ، قَالَتْ: فَثَارَ الْحَیَّانُ اَلْاَوْسُ وَالْخَزْرَجُ، حَتّٰی ھَمُّوْا اَنْ یَّقْتَتِلُوْا وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَائِمٌ عَلَی الْمِنْبَرِ، قَالَتْ: فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُخَفِّضُھُمْ حَتّٰی سَکَتُوْا، وَ سَکَتَ، قَالَتْ: فَبَکَیْتُ یَوْمِیْ ذٰلِکَ کُلَّہٗ لاَ یَرْقَأُ لِیْ دَمْعٌ، وَلاَ اَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ، قَالَتْ: وَ اَصْبَحَ اَبَوَایَ عِنْدِیْ، وَقَدْ بَکَیْتُ لَیْلَتَیْنِ وَ یَوْمًا لاَ اَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ، وَلاَ یَرْقَأَ لِیْ دَمْعٌ حَتّٰی اَنِّیْ لَاَظُنُّ اَنَّ الْبُکَائَ فَالِقٌ کَبِدِیْ، فَبَیْنَا اَبَوَایَ جَالِسَانِ عِنْدِیْ، وَ اَنَا اَبْکِیْ، فَاسَتَاْذَنَتْ عَلَیَّ امْرَاَۃٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَاَذِنْتُ لَھَا، فَجَلَسَتْ تَبْکِیْ مَعِیْ، قَالَتْ: فَبَیْنَا نَحْنُ عَلٰی ذٰلِکَ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَیْنَا، فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، قَالَتْ: وَلَمْ یَجْلِسْ عِنْدِیْ مُنْذُ قِیْلَ مَا قِیْلَ قَبْلَھَا، وَقَدْ لَبِثَ شَھْرًا لاَ یُوْحٰی اِلَیْہِ فِیْ شَانِیْ بِشَیْئٍ قَالَتْ: فَتَشَھَّدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ! یَا عَائِشَۃُ اَنَّہٗ بَلَغَنِیْ عَنْکِ کَذَا وَ کَذَا، فَاِنْ کُنْتِ بَرِیْئَۃً فَسَیُبَرِّئُکِ اللّٰہُ، وَ اِنْ کُنْتِ اَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِیْ اللّٰہَ، وَ تُوْبِیْ اِلَیْہِ، فَاِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اعْتَرَفَ، ثُمَّ تَابَ، تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ مَقَالَتَہٗ، قَلَصَ دَمْعِیْ حَتّٰی مَا اُحِسُّ مِنْہُ قَطْرَۃً، فَقُلْتُ لِاَبِیْ: اَجِبْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِّیْ فِیْمَا قَالَ، فَقَالَ اَبِیْ: وَاللّٰہِ مَا اَدْرِیْ مَا اَقُوْلُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقُلْتُ لِاُمِّیْ: اَجِیْبِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْمَا قَالَ، قَالَتْ اُمِّیْ: وَاللّٰہِ مَا اَدْرِیْ مَا اَقُوْلُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ فَقُلْتُ وَ اَنَا جَارِیَۃٌ حَدِیْثَۃُ السِّنِّ لاَ اَقْرَأُ مِنَ الْقُرْاٰنِ کَثِیْرًا۔ اِنِّیْ وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ حَتّٰی اسْتَقَرَّ فِیْ اَنْفُسِکُمْ وَ صَدَّقْتُمْ بِہٖ، فَلَئِنْ قُلْتُ لَکُمْ: اِنِّیْ بَرِیْئَۃٌ لاَ تُصَدِّقُوْنِّیْ، وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَکُمْ بِاَمْرٍ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَنِّیْ مِنْہُ بَرِیْئَۃٌ لَتُصَدِّقُنّیْ، فَوَاللّٰہِ لاَ اَجِدُ لِیْ وَلَکُمْ مَثَلاً اِلاَّ اَبَا یُوْسُفَ حِیْنَ قَالَ: فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ، وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ، وَاضْطَجَعْتُ عَلٰی فِرَاشِیْ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَنِّیْ حِیْنَئِذٍ بَرِیْئَۃٌ، وَ اَنَّ اللّٰہَ مُبَرِّئِیْ بِبَرَائَ تِیْ، وَ لٰـکِنْ وَاللّٰہِ مَا کُنْتُ اَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ مُنْزِلٌ فِیْ شَانِیْ وَحْیًا یُتْلٰی، لَشَاْنِیْ فِیْ نَفْسِیْ کَانَ اَحْقَرَ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ اللّٰہُ فِیَّ بِاَمْرٍ، وَلٰـکِنْ کُنْتُ اَرْجُوْ اَنْ یُّرٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی النَّوْمِ رُؤْیًا یُبَرِّئُنِی اللّٰہُ بِھَا، فَوَاللّٰہِ مَادَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَجْلِسَہٗ، وَلاَ خَرَجَ اَحَدٌ مِنْ اَھْلِ الْبَیْتِ حَتّٰی اُنْزِلَ عَلَیْہِ۔ فَاَخَذَہٗ مَاکَانَ یَاْخُذُہٗ مِنَ الْبُرَحَآئَ حَتّٰی اَنَّہٗ لَیَتَحَدَّرُ مِنْہُ مِنَ الْعَرَقِ مِثْلُ الْجُمَانِ وَ ھُوَ فِیْ یَوْمٍ شَاتٍ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: فَسُرِّیَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ یَضْحَکُ، فَکَانَتْ اَوَّلَ کَلِمَۃٍ تَکَلَّمَ بِھَا اَنْ قَالَ: یَا عَائِشَۃُ، اَمَّا اللّٰہُ فَقَدْ بَرَّأَکِ، قَالَتْ: فَقَالَتْ لِیْ اُمِّیْ: قُوْمِیْ اِلَیْہِ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ لاَ اَقُوْمُ اِلَیْہِ، فَاِنِّیْ لاَ اَحْمَدُ اِلاَّ اللّٰہَ، قَالَتْ: وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اِنَّ الَّذِیْنَ جَآئُ وْا بِالْاِفْکِ الْعَشَرِ الْاٰیَاتِ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ ھٰذَا فِیْ بَرَائَ تِیْ، قَالَ اَبُوْبَکْرِ الصِّدِّیْقُ، وَکَانَ یُنْفِقُ عَلٰی مِسْطَحِ بْنِ اُثَاثَۃَ لِقَرَابَتِہٖ مِنْہُ وَ فَقْرِہٖ، وَاللّٰہِ لاَ اُنْفِقُ عَلٰی مِسْطَحٍ شَیْئًا اَبْدًا بَعْدَ الَّذِیْ قَالَ لِعَائِشَۃَ مَاقَالَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ اِلٰی قَوْلِہٖ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ قَالَ اَبُوْبَکْرِ نِالصِّدِّیْقُ: بَلٰی، وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاُحِبُّ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لِیْ، فَرَجَعَ اِلٰی مِسْطَحِ النَّفَقَۃَ الَّتِیْ کَانَ یُنْفِقُ عَلَیْہِ، وَ قَالَ: وَاللّٰہِ لاَ اَنْزِعُھَا مِنْہُ اَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَاَلَ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ اَمْرِیْ، فَقَالَ لِزَیْنَبَ: مَاذَا عَلِمْتِ اَوْ رَأَیْتِ؟ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَحْمِیْ سَمْعِیْ وَ بَصَرِیْ، وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ اِلاَّ خَیْرًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَ ھِیَ الَّتِیْ تُسَامِیْنِیْ مِنْ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ فَعَصَمَھَا اللّٰہُ بِالْوَرَعِ، قَالَتْ: وَطَفِقَتْ اُخْتُھَا حَمْنَۃُ تُحَارِبُ لَھَا، فَھَلَکَتْ فِیْمَنْ ھَلَکَ۔(١١٣)
ترجمہ: نبی اکی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ز سے اس واقعہ کی روایت، جب بہتان لگانے والوں نے کہا جو کچھ کہا۔ اوپر مذکور اصحاب میں سے ہر ایک نے حضرت عائشہ ز کے واقعۂ افک کا کچھ نہ کچھ حصہ مجھے بیان کیا۔ ان میں سے بعض ایسے تھے کہ جس نے حضرت عائشہزکے واقعہ کو دوسرے کی بہ نسبت زیادہ محفوظ رکھا تھا اور اسے پوری طرح بیان کیا۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کی بیان کردہ حدیث جو انہوں نے حضرت عائشہ ز کے حوالہ سے مجھ سے بیان کی اسے یاد رکھا۔ ایک کی بیان کردہ حدیث دوسرے کی تصدیق کرتی ہے اگرچہ ان میں سے ایسے بھی تھے جو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ یاد رکھنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ چناں چہ ان سب (چاروں) نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ ز نے خود بیان فرمایا کہ رسول اللہا جب کسی سفر پر جانے کا قصد فرماتے تو اپنی ازواج کے مابین قرعہ ڈالتے۔ قرعہ میں جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ہمراہ لے جاتے۔ حضرت عائشہز کا بیان ہے کہ ایک غزوہ پر جاتے وقت آپ نے قرعہ اندازی کی اس قرعہ اندازی میں میرا نام نکل آیا تو اس سفر میں، میں آپ کی شریک سفر ہوئی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ پردہ کی آیات نازل ہوچکی تھیں۔ چناں چہ مجھے پردہ میں اونٹ کے کجاوے میں سوار کرایا جاتا اور اسی طرح اس سے اتارا جاتا ہم لوگ چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ا اس غزوہ سے فارغ ہوگئے۔ اور واپس لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچ گئے۔ آپ نے رات ہی کو کوچ کا حکم دے دیا۔ جب لوگوں کو کوچ کا حکم دیا گیا تو میں اٹھی اور لشکر سے ذرا دور نکل گئی۔ جب میں رفع حاجت سے فارغ ہوئی اور اپنی سواری کی جانب آئی تو میں نے اپنے سینے کوچھوا تو دیکھا کہ میرا خزف یمنی کا ہار کہیں ٹوٹ کر گرگیا ہے۔ میں فوراً واپس لوٹی اور ہار کی تلاش کرنے لگی۔ ہار کی تلاش میں مجھے دیر ہوگئی۔ پھر انہوں نے بیان فرمایا کہ جو لوگ مجھے ہودے میں بٹھانے کی ذمہ داری پر مامور تھے انہوں نے ہودے کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور خیال کیا کہ میں اس میں موجود ہوں۔ (حالاں کہ میں اس میں موجود نہیں تھی) کیوں کہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ ان کی خوراک سادہ اور غیر مرغن تھی۔ اسی بنا پر ہودہ اٹھانے والوں کو محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں اس میں موجود نہیں۔ اور میں اس وقت نو عمرتھی۔ اس کے بعد انہوں نے اونٹ کھڑے کیے اور چل دیے۔ لشکر کی روانگی کے بعد مجھے میرا گم شدہ ہار مل گیا اور میں جب لشکریوں کی جگہ واپس آئی تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا نہ کوئی جواب دینے والا۔ (بالکل خاموشی اور سکوت تھا۔) چناں چہ میں نے اپنی جگہ کا قصد کیا اور وہیں جاکر بیٹھ گئی۔ میں نے خیال کیاکہ وہ مجھے جب گم پائیں گے تو تلاش کے لیے واپس ضرور آئیں گے۔ اس خیال میں، میں اپنی جگہ پر جا بیٹھی۔ اور مجھ پر نیند نے غلبہ کیا اور میں لیٹ کر سوگئی۔ اتنے میں صفوان بن معطل سلمی جو بعد میں ذکوانی کے نام سے مشہور ہوئے، وہ لشکر کے پیچھے تھے، انہوں نے صبح میرے پاس پہنچ کر کی تو اس نے انسانی سویا ہوا وجود محسوس کیا۔ اس نے دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا کیوں کہ پردہ کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکا تھا۔ اس کے مجھے پہچاننے کے بعد (اِنا للّٰہ) پڑھنے کی وجہ سے میں نیند سے یکا یک بیدارہوگئی اور اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ گواہ ہے ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی اور میں نے ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ کے سوا ان کے منہ سے کوئی کلمہ نہیں سنا۔ صفوان نے نیچے اتر کر اپنی سواری کے دست و پا باندھ دیے میں اس کے پاس آکر سوار ہوگئی۔ صفوان خود آگے آگے پیدل سواری کو کھینچتا ہوا چلا۔ ہم عین دوپہر کے وقت جب کہ سخت گرمی پڑ رہی تھی لشکر میں پہنچ گئے جہاں وہ سب ٹھہرے ہوئے تھے۔ پھر جسے تہمت لگا کر ہلاک ہونا تھا وہ ہوا۔ اس بہتان طرازی کا سب سے بڑا محرک منافقین کا سردار و سرغنہ عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔ عروہ کا بیان ہے کہ مجھے اطلاع دی گئی کہ جب ابن ابی کے پاس اس واقعہ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اسے تسلیم بھی کرتا اور اسے غور سے سن کر آگے بھی بیان کرتا۔ حضرت عروہؓ کا بیان ہے کہ بہتان لگانے والوں میں حضرت حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے علاوہ اور کسی کا نام نہیں لیا گیا۔ اگر لیا گیا ہے تو اس کا مجھے علم نہیں۔ بہ ہر حال وہ ایک جماعت تھی۔ جیسا کہ ارشاد ربانی میں ہے اور اس جماعت کا بڑا سرغنہ عبد اللہ بن ابی ہے۔ حضرت عروہؓ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہز اس بات کو ناپسند فرماتی تھیں کہ حضرت حسان کو برا بھلا کہا جائے۔ وہ فرماتی تھیں کہ یہ شعر حضرت حسان کا کہا ہوا ہے: ’’بلاشبہ میرا باپ، میری ماں اور میری عزت و آبرو، سب تم سے بچاؤ کے لیے محمدا کی عزت کا بچاؤ ہیں۔‘‘ مزید حضرت عائشہز کا بیان ہے کہ ہم مدینہ پہنچے تو میں پورا مہینہ بیمار پڑی رہی۔ بہتان تراشوں کی بہتان ترازی کے متعلق لوگوں میں چہ می گوئیاں ہوتی رہیں مگر مجھے ان میں سے کسی بات کا شعور نہیں حالاں کہ وہ میری تکلیف میں اضافہ ہی کرتا کہ رسول اللہ اکی وہ شفقت اور توجہ جو بیماری کی حالت میں اس سے پہلے ہوتی تھی وہ اب میرے ساتھ نظر نہیں آرہی تھی۔ آپ بس میرے پاس تشریف لاتے اور اتنا پوچھ لیتے کیسی ہو تم۔ پھر تشریف لے جاتے۔ یہ بات مجھے شک میں مبتلا کردیتی۔ مگر مجھے اس وقت تک اس شرکا مطلق علم نہیں تھا جب تک مجھے قدرے صحت نہ ہوئی۔ میں ام مسطح کے ساتھ رفع حاجت کے لیے رات کے وقت نکلی اور ہم رات ہی کو نکلا کرتی تھیں اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں ہوا کرتے تھے اور عربوں کی قدیم عادت و رواج کے مطابق اس کام کے لیے جنگل ہی میں جایا کرتے تھے کیوں کہ گھروں میں بیت الخلاء بنانے سے ہمیں اذیت و تکلیف ہوتی تھی۔ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ ز نے فرمایا کہ میں اور ام مسطح دونوں چلیں۔ ام مسطح ابورہم بن عبد المطلب بن عبد مناف کی صاحب زادی تھیں اور اس کی والدہ فہر بن عامر کی بیٹی تھیں اور ابوبکر الصدیق کی خالہ تھیں۔ اس کا لڑکا مسطح بن اثاثہ تھا۔ پس میں اور ام مسطح رفع حاجت سے فارغ ہوکر واپس گھر لوٹیں تو راستے میں ان کا پاؤں چادر میں الجھ گیا اور وہ گر پڑیں۔ اور بولیں۔غارت ہو مسطح ۔ تومیں نے کہا آپ مسطح کو برا بھلا کہتی ہیں جو بدر میں شریک تھا اس نے کہا واہ رہی مصیبت تونے نہیں سنا جو کچھ اس نے کہا ہے۔ میں نے کہا نہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں سنا تو ام مسطح نے بہتان تراشوں کی بہتان تراشی کے بارے میں مجھے بتایا۔ حضرت عائشہ ز کا اپنا بیان ہے کہ یہ سن کر میری بیماری مزید بڑھ گئی۔ چناں چہ جب میں واپس گھر آئی تو رسول اللہا میرے پاس تشریف لائے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ کیسی ہو تم۔ میں نے گزارش کی کہ آپ مجھے اجازت دیں تو اپنے والدین کے ہاں چلی جاؤں۔ ارادہ میرا یہ تھا کہ وہاں جاکر ماں باپ دونوں سے اس خبر کے بارے میں یقین حاصل کروں گی۔ حضرت عائشہز کا بیان ہے کہ آپ نے مجھے میکے جانے کی اجازت دے دی۔ میں میکے چلی گئی اور اپنی والدہ سے پوچھا امی جان، لوگ کیا باتیں کررہے ہیں۔ ماں نے تسلی دیتے ہوئے کہا: ’’بیٹی تم اس کا بالکل غم مت کرو۔ یہ تو شروع سے ہوتا آیا ہے کہ جب کسی حسین و جمیل اور خوب صورت عورت کی سوکنیں ہوتی ہیں اور شوہر کو اس سے محبت بھی ہوتی ہے تو اس کے متعلق اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ میں نے ماں کا جواب سن کر کہا سبحان اللہ۔ (اے اللہ تو ہی پاک و منزہ ہے ہر قسم کے عیوب و نقائص سے۔) کیا لوگ ایسی باتیں کرنے لگے؟ خود فرماتی ہیں کہ میں رات بھر روتی رہی نہ نیند آئی اور نہ آنسو ہی خشک ہوئے۔ صبح ہوگئی روتے روتے۔ خود فرماتی ہیں۔ پھر رسول اللہ ا نے حضرت علیؓ اور اسامہ بن زید کو بلایا (جب وحی کی آمد میں ذرا تاخیر ہوئی) مشورہ کرنے اور ان سے دریافت احوال کیے۔ (اپنے اہل کے بارے میں) حضرت عائشہ ز کا بیان ہے اسامہ بن زید ذاتی طور پر جو کچھ ان کے بارے میں معلومات رکھتا تھا وہ رسول اللہا کے گوش گزار کردیں اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی اہلیہ کے متعلق خیرو بھلائی کے سوا ہم اور کچھ نہیں جانتے۔ اور حضرت علیؓ نے کہا یا رسول اللہااللہ نے آپ پر تنگی نہیں رکھی۔ عورتیں بے شمار ہیں تاہم لونڈی سے دریافت فرمالیں وہ صحیح صورت حال سے آپ کو آگاہ کردے گی۔ حضرت عائشہز کے بیان کے مطابق رسول اللہ ا نے بریرہ کو بلا کر پوچھا اے بریرہ کیا تونے عائشہ میں کوئی ایسی چیز ملاحظہ کی ہے جو مشکوک ہو؟ بریرہ نے آپ سے عرض کیا، اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا، میں نے حضرت عائشہز میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ میں اس تہمت و بہتان کی تصدیق کرسکوں۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ایک کم سن لڑکی ہے۔ اس کی سادہ لوحی اور بھول پن کی یہ حالت ہے کہ آٹا گوندھ کر سوجاتی ہے اور بکری آکر اسے کھاجاتی ہے۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ بریرہ کی گفتگو سن کر رسول اللہا اسی روز کھڑے ہوئے اور منبر پر تشریف لاکر عبد اللہ بن ابی کے شر سے پناہ طلب کرتے ہوئے فرمایا۔ مسلمانو! اس شخص سے کون مجھے بچاتا ہے، اس سے مجھے میرے اہل کے متعلق بڑی اذیت پہنچی ہے، واللہ! میں اپنی اہلیہ کے بارے میں بجز بھلائی و خیر کے کچھ نہیں جانتا اور جس شخص کو اس اتہام میں شریک کرر ہے ہیں وہ تو کبھی میری اہلیہ کے پاس میری عدم موجودگی میں آیا تک نہیں۔‘‘ آپ کا یہ کلام سنتے ہی قبیلہ بنو اشھل کے سعد بن معاذ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ امیںآپ کو اس ذیت رسانی سے نجات دلانے کے لیے تیار ہوں بشرطے کہ وہ آدمی میرے قبیلہ کا ہو۔ تو ابھی اس کا سر تن سے جدا کیے دیتا ہوں اور اگر اس کا تعلق ہمارے بھائیوں خزرجیوں سے ہے تو آپ جو حکم ارشاد فرمائیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ خزرج قبیلہ کا ایک آدمی اٹھا جس کی والدہ حسان کی چچا زاد بہن تھیں اور اسی خاندان سے تھیں۔ یہ اٹھنے والے سعد بن عبادہ تھے، جو ان دنوں قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ اس سے پہلے یہ ایک صالح انسان تھے لیکن اس موقع پر حمیت غالب آگئی۔ اس نے سعد بن معاذ سے کہا اللہ کی قسم تم جھوٹ کہتے ہو تم اسے کبھی نہیں مار سکتے اور نہ ہی اس کے قتل پر تجھے قدرت حاصل ہے۔ اور اگر وہ تیرے قبیلہ کا ہوتا تو کبھی تو اسے قتل کرنا پسند نہ کرتا۔ اس پر اُسید جو سعد بن معاذ کا چچا زاد بھائی تھا نے سعد بن عبادہ سے کہا: تو نے جھوٹ کہا ہم اسے ضرور قتل کردیں گے تو منافق ہے۔ منافقوں کی طرف داری کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ز فرماتی ہیں کہ اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ برانگیختہ ہوگئے اور مرنے مارنے پر تیار ہوگئے۔ اس موقعہ پر رسول اللہا منبر پر تشریف فرما تھے۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ رسول اللہا ان کو دھیما اور ٹھنڈا کرتے رہے کہ وہ خاموش ہوگئے۔ اور آپ بھی خاموش ہوگئے۔ حضرت عائشہ ز فرماتی ہیں میں اس روز دن بھر روتی رہی نہ آنسو تھے کہ تھمتے اور نہ نیند ہی آئی تھی۔ اور میرے ماں باپ بھی کبیدہ خاطر تھے۔ میں برابر دو راتیں اور ایک دن روتی رہی نہ نیند میرے قریب آئی اور نہ میرے آنسو ہی رکے۔ یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ میرے رونے سے تو میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میں روئے جارہی تھی ماں باپ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک انصاری خاتون اجازت طلب کرکے میرے پاس آ بیٹھی اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی۔ حضرت عائشہ ز کابیان ہے کہ ہم لوگ اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہا تشریف لائے اور السلام علیکم کہا اور بیٹھ گئے۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ اس دن سے پہلے آپ میرے پاس جب سے بہتان ترازیاں کی جارہی تھیں نہیں بیٹھے تھے۔ اور میرے بارے میں آپ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ انہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ا جب بیٹھے تو کلمہ شہادت پڑھا اور پھر فرمایا: ’’اے عائشہ! مجھے تمہارے بارے میں اس طرح، اس طرح کی باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم بے گناہ ہو، تو اللہ تعالیٰ ضرور عنقریب تمہاری پاک دامنی ظاہر فرمادے گا۔ اور اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے تو اللہ سے معافی طلب کرلو۔ اور بخشش کی درخواست کرو اس لیے کہ جب بندہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلے اور اس کی جناب میں رجوع کرلے تواللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ رسول اللہ اجب اپنی بات ختم کرچکے تو حضرت عائشہ ز فرماتی ہیں کہ میرے آنسو فوراً بند ہوگئے اور ایک قطرہ تک آنکھوں میں باقی نہ رہا۔ اب میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ کی بات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا واللہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ میں آپ کو کیا جواب دوں۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہا کو میری جانب سے جواب دیں۔ انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا۔ جب میں نے دونوں کو جواب دینے سے عاجز دیکھا تو خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ حالاں کہ میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی اور قرآن بھی زیادہ پڑھی ہوئی نہ تھی۔میںنے کہا اللہ کی قسم آپ لوگوں نے وہ بات سنی اور وہ بات آپ کے دلوں میں بیٹھ گئی اور اسے آپ لوگوں نے سچ تسلیم کرلیا۔ اب اگر میں اپنی براء ت کا اظہار کروں کہ میں بے گناہ ہوں تو آپ مجھے سچا تسلیم نہیں کریں گے، ہاں اگر میں گناہ کا اعتراف کرلوں جب کہ میں حقیقت میں بے گناہ ہوں اور پاک ہوں تو آپ اسے تسلیم کرلیں گے۔ اللہ شاہد ہے اب میری اور آپ کی مثال وہی ہے جو یوسف کے والد (یعقوب) کی تھی کہ انہوں نے فراق یوسف پر واللّٰہ المستعان علی ماتصفونکہا۔ اب یہی میرے لیے بہتر ہے کہ صبر کروں۔ یہ کہہ کر میں نے اپنا رخ دوسری جانب پھیر لیا اور جاکر بستر پر خاموشی سے لیٹ گئی۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں اور وہ میری براء ت فرمائے گا۔ مگر مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میرے معاملے کے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل کی جائے گی۔ پھر وہ آیت قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی کیوں کہ میں اپنی حیثیت اتنی نہ سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق کلام فرمائے گا۔ بس میرا خیال تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نبیؐ کو بذریعہ خواب مطلع فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس بہتان سے بری فرمادے گا۔ ابھی نبی ااپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور گھر کا کوئی فرد بھی باہر نہیں گیا تھا کہ آپ پر وحی کی حالت طاری ہوگئی جیسا کہ نزول وحی کے وقت ہوا کرتی تھی۔ یہ سختی آپ پر اس وحی کے وزن کی وجہ سے ہوتی تھی جو آپ پر نازل ہوتی تھی کہ سردی کے ایام میں بھی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا۔ حضرت عائشہ ز فرماتی ہیں کہ پس وحی کی حالت ختم ہوئی تو خوشی سے مسکرائے اور سب سے پہلے جو کلمہ فرمایا وہ یہ تھا کہ اے عائشہ اللہ نے تمہاری پاک دامنی بیان فرمادی ہے اس پر میری والدہ نے فرمایا، اٹھو! آں حضرتؐ کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں ان کا شکریہ ادا کرنے ان کی طرف نہیں اٹھوں گی۔ پس میں تو اللہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں یا کروں گی، اللہ نے ان الذین جاء وا بالافکسے لے کر دس آیات نازل فرمائیں اور میری براء ت نازل فرمادی۔ حضرت ابوبکر صدیق صجو مسطح بن اثاثہ پر اپنے قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے، نے قسم کھائی کہ اللہ کی قسم میں اب کبھی بھی مسطح پر حضرت عائشہزپر بہتان لگانے کی وجہ سے خرچ نہیں کروں گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے( ولا یاتل اولوا الفضل منکم۔۔۔الی۔۔۔قولہ غفور رحیم)تک نازل فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فوراً بول اٹھے کہ میری مسرت اور خوشی اسی میں ہے کہ اللہ مجھے بخش دے۔ اس کے بعد پھر انہوں نے مسطح کو وہی اخراجات دینے شروع کردیے جو پہلے دیتے تھے۔ ساتھ ہی اللہ کو شاہد بناکر عرض کیا کہ میں اس سلسلہ کو کبھی بھی بند نہ کروں گا۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ نبی انے زینب بنت جحش سے جو میری سوکن ہوتی تھیں میرے متعلق پوچھا کہ تمہاری معلومات اور رائے عائشہ کے بارے میں کیاہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے کان اور اپنی آنکھوں کو محفوظ رکھتی ہوں(برائی وبد گوئی سننے اور دیکھنے سے)اللہ گواہ ہے میرے علم میں بھلائی کے سوا ان کے بارے میں کوئی چیز نہیں ہے۔ حضرت عائشہز کا بیان ہے کہ ازواج مطہرات میں یہی زینب ہی میرا مقابلہ کرتی تھیں۔ اللہ نے ان کو ان کی نیکی و پرہیزگاری کی وجہ سے محفوظ رکھا اور ان کی ہمشیرہ حمنہ نے لڑائی شروع کردی۔ جس کی وجہ سے وہ بھی تہمت لگانے والوں کے ساتھ تباہ و ہلاک ہوگئی۔
تشریح: غزوۂ بنی المصطلق کے سفر میں عبد اللہ بن ابی نے ایک خطرناک فتنہ اٹھا دیا اور فتنہ بھی ایسا کہ اگر نبی ااور آپ کے جاں نثار صحابہ کمال درجہ ضبط و تحمل اور حکمت و دانائی سے کام نہ لیتے تو مدینے کی نوخیز مسلم سوسائٹی میں سخت خانہ جنگی برپا ہوجاتی۔ یہ حضرت عائشہ زپر تہمت کا فتنہ تھا۔ اس کاواقعہ خود انہی کی زبان سے درج ذیل ہے۔ جس سے صورت حاصل سامنے آجائے گی۔ بیچ بیچ میں جو امور تشریح طلب ہوں گے انہیں ہم دوسری معتبر روایات کی مدد سے قوسین میں بڑھاتے جائیں گے تاکہ جناب صدیقہ کے تسلسل بیان میں خلل نہ واقع ہو۔

روداد واقعہ خود انہی کی زبان سے

رسول اللہاکا قاعدہ تھا کہ جب آپ سفر پرجانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے۔ غزوۂ بنی المصطلق کے موقع پر میرا نام نکلااور میں آپ کے ساتھ گئی۔ واپسی پرجب ہم مدینے کے قریب تھے، ایک منزل پر رات کے وقت رسول اللہانے پڑاؤ کیا۔ اورا بھی رات کاکچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے گئی اور جب پلٹنے لگی تو قیام گاہ کے قریب پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا ہے۔ میں اسے تلاش کرنے میں لگ گئی اور اتنے میں قافلہ روانہ ہوگیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ میںکوچ کے وقت اپنے ہودے میںبیٹھ جاتی تھی اور چار آدمی اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ ہم عورتیں اس زمانے میں غذا کی کمی کے سبب سے بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ میرا ہودہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں۔ وہ بے خبری میں خالی ہو دہ اونٹ پر رکھ کر روانہ ہوگئے۔ میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا کہ آگے جاکر جب یہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آجائیں گے۔ اسی حالت میں مجھ کو نیند آگئی۔ صبح کے وقت صفوان بن معطل سلمی اس جگہ سے گزرے۔ جہاں میں سو رہی تھی اور مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے۔ کیوں کہ پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے بارہا دیکھ چکے تھے۔ (یہ صاحب بدری صحابیوں میں سے تھے ان کو صبح دیر تک سونے کی عادت تھی، اس لیے یہ بھی لشکر گاہ میں کہیں پڑے سوتے رہ گئے تھے اور اب اٹھ کر مدینے جارہے تھے) مجھے دیکھ کر انہوں نے اونٹ روک لیا اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا:
ــــ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ــــ رسول اللہ اکی بیوی یہیں رہ گئیں!‘‘
اسی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اٹھ کر فوراً اپنے منہ پر چادر ڈال لی۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی، لاکر اپنا اونٹ میرے پاس بٹھا دیا اور الگ ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ میں اونٹ پر سوار ہوگئی اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہوگئے۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کوجا لیا جب کہ وہ ابھی ایک جگہ جاکر ٹھہرا ہی تھا اور لشکر والوں کو یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میںپیچھے چھوٹ گئی ہوں۔ اس پر بہتان اٹھانے والوں نے بہتان اٹھا دیے اور ان میں سب سے پیش پیش عبد اللہ بن ابی تھا۔ مگرمیں اس سے بے خبر تھی کہ مجھ پر کیا باتیں بن رہی ہیں۔
دوسری روایات میں آیا ہے کہ جس وقت صفوان کے اونٹ پر حضرت عائشہ ز لشکر گاہ میں پہنچیں اور معلوم ہوا کہ آپ اس طرح پیچھے چھوٹ گئی تھیں۔ اسی وقت عبد اللہ بن ابی پکار اٹھا کہ ’’خدا کی قسم یہ بچ کر نہیں آئی ہے، لو دیکھو، تمہارے نبی کی بیوی نے رات ایک اور شخص کے ساتھ گزاری اور اب وہ اسے علانیہ لیے چلا آرہا ہے۔
مدینے پہنچ کر میںبیمار ہوگئی اور ایک مہینے کے قریب پلنگ پر پڑی رہی۔ شہر میں اس بہتان کی خبریں اڑ رہی تھیں۔ رسول اللہا کے کانوں تک بھی بات پہنچ چکی تھی، مگر مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ البتہ جو چیز مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ رسول اللہ اکی وہ توجہ میری طرف نہ تھی جو بیماری کے زمانے میں ہواکرتی تھی۔ آپ گھر میں آتے تو بس گھر والوں سے یہ پوچھ کر چلے جاتے: (کیف تیکم؟)’’کیسی ہیں یہ؟‘‘ خود مجھ سے کوئی کلام نہ کرتے۔ اس سے مجھے شبہ ہوتا کہ کوئی بات ضرور ہے۔ آخر آپ سے اجازت لے کر میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی۔ تاکہ وہ میری تیمار داری اچھی طرح کرسکیں۔
ایک روز رات کے وقت حاجت کے لیے میں مدینے کے باہر گئی۔ اس وقت تک ہمارے گھروں میں بیت الخلاء نہ تھے اور ہم لوگ جنگل ہی جایا کرتے تھے۔ میرے ساتھ مسطح ابن اُثاثہ کی ماں بھی تھیں جو میرے والد کی خالا زاد بہن تھیں (دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے خاندان کی کفالت حضرت ابو بکر صدیق صنے اپنے ذمے لے رکھی تھی، مگر اس احسان کے باوجود مسطح بھی ان لوگوں میںشامل ہوگئے تھے جو حضرت عائشہ ز کے خلاف اس بہتان کو پھیلا رہے تھے) راستے میں ان کو ٹھوکرلگی اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا: ’’غارت ہو مسطح‘‘
میں نے کہا: ’’اچھی ماں ہو جو بیٹے کو کوستی ہو اور بیٹا بھی وہ جس نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’بیٹا! کیا تجھے اس کی باتوں کی کچھ خبر نہیں؟‘‘
پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا کہ افترا پرداز لوگ میرے متعلق کیا باتیں اڑا رہے ہیں۔ (منافقین کے سوا خود مسلمانوں میں سے جو لوگ اس فتنے میں شامل ہوگئے تھے ان میں مسطح، حسان بن ثابت مشہور شاعر اسلام اور حمنہ بنت جحش، حضرت زینبز کی بہن کا حصہ سب سے نمایاں تھا) یہ داستان سن کر میرا خون خشک ہوگیا وہ حاجت بھی بھول گئی جس کے لیے آئی تھی، سیدھی گھر گئی اور رات بھر رو رو کر کاٹی۔
آگے چل کر حضرت عائشہ ز فرماتی ہیں:’’میرے پیچھے رسول اللہا نے علی اور اسامہ بن زیدژ کو بلایا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ اُسامہ نے میرے حق میں کلمۂ خیر کہا اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ بھلائی کے سوا آپ کی بیوی میں کوئی چیز ہم نے نہیں پائی۔ یہ سب کچھ کذب اور باطل ہے جو اڑایا جارہا ہے۔‘‘
رہے علی (ص)تو انہوں نے کہا ’’یا رسول اللہ ا عورتوں کی کمی نہیں ہے، آپ اس کی جگہ دوسری بیوی کرسکتے ہیں اور تحقیق کرنا چاہیں تو خدمت گار لونڈی کو بلا کر حالات دریافت فرمائیں۔‘‘
چناں چہ خدمت گار کو بلایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے کہا ’’اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میںنے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی جس پر حرف رکھا جاسکے بس اتنا عیب ہے کہ میں آٹا گوندھ کر کسی کام کو جاتی ہوں اور کہہ جاتی ہوں کہ بیوی ذرا آٹے کا خیال رکھنا، مگر وہ سوجاتی ہیں اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے۔‘‘
اسی روز رسول اللہ انے خطبہ میں حدیث بالا کے الفاظ فرمائے ’’اس پر اُسید بن حضیرص (بعض روایات میں سعد بن معاذؓ) نے اٹھ کر کہا کہ ’’یا رسول اللہ ا ، اگر وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں اور اگر ہمارے بھائی خزرجیوں میں سے ہے تو آپ حکم دیں، ہم تعمیل کے لیے حاضر ہیں‘‘ یہ سنتے ہی سعد بن عبادہ، رئیس خزرج اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ’’جھوٹ کہتے ہو، تم ہرگز اسے نہیں مار سکتے۔ تم اس کی گردن مارنے کا نام صرف اس لیے لے رہے ہو کہ وہ خزرج میں سے ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلے کا آدمی ہوتا تو تم کبھی یہ نہ کہتے ہم اس کی گردن مار دیں گے۔‘‘ اُسید بن حضیر نے جواب میں کہا: ’’تم منافق ہو اسی لیے منافقوں کی حمایت کرتے ہو۔‘‘
اس پر مسجد نبوی میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا حالاں کہ رسول اللہ ا ممبرپر تشریف رکھتے تھے، قریب تھا کہ اَوس اور خزرج مسجد ہی میں لڑ پڑتے مگر رسول اللہ انے ان کو ٹھنڈا کیا اور پھر ممبر سے اتر آئے۔

عبد اللہ بن ابی کی غرض

عبد اللہ بن ابی نے یہ شوشہ چھوڑ کر بیک وقت کئی شکار کرنے کی کوشش کی:
l ایک طرف اس نے رسول اللہ ا اور حضرت ابوبکر صکی عزت پر حملہ کیا۔
l دوسری طرف اس نے اسلامی تحریک کے بلند ترین اخلاقی وقار کو گرانے کی کوشش کی۔
l تیسری طرف اس نے یہ ایک ایسی چنگاری پھینکی تھی کہ اگر اسلام اپنے پیروؤں کی کایا نہ پلٹ چکا ہوتا تو مہاجرین اور انصار خود انصار کے بھی دونوں قبیلے آپس میں لڑ مرتے۔ (تفہیم القرآن ، ج۳،النور۔۔۔تاریخی پس منظر)
حضور انے حضرت عائشہ ز کے متعلق وضاحت کردی تھی مگر وہ لوگوں کی زبان بند کرنے کے لیے کافی نہ تھی۔ جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’جس وقت تم لوگوں نے اسے (یعنی حضرت عائشہ زپر تہمت کی بات کو) سنا تھا۔ اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا؟ اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟‘‘ تو عام لوگوں کے دل میں یہ سوال اٹھ سکتا تھا کہ خود نبی ااورحضرت ابوبکر صدیق ؓنے اسے کیوں نہ اول روز ہی جھٹلا دیا اور کیوں انہوں نے اسے اتنی اہمیت دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شوہر اور باپ کی پوزیشن عام آدمیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک شوہر سے بڑھ کر کوئی اپنی بیوی کو نہیں جان سکتا اورایک شریف و صالح بیوی کے متعلق کوئی صحیح الدماغ شوہر لوگوں کے بہتانوں پر فی الواقع بدگمان نہیں ہوسکتا، لیکن اگر اس کی بیوی پر الزام لگادیا جائے تو وہ اس مشکل میں پڑجاتا ہے کہ اسے بہتان کہہ کر رد کر بھی دے تو کہنے والوں کی زبان نہ رکے گی (جیسے حضور انے کہہ دیا تھا) بلکہ وہ اس پر ایک اور ردّا یہ چڑھائیں گے کہ بیوی نے میاں صاحب کی عقل پر کیسا پردہ ڈال رکھا ہے۔ سب کچھ کر رہی ہے اور میاں یہ سمجھتے ہیں کہ میری بیوی بڑی پاک دامن ہے، ایسی ہی مشکل ماں باپ کو پیش آتی ہے، وہ غریب اپنی بیٹی کی عصمت پر صریح جھوٹے الزام کی تردید میں اگر زبان کھولیں بھی توبیٹی کی پوزیشن صاف نہیں ہوتی۔ کہنے والے یہی کہیں گے کہ ماں باپ ہیں، اپنی بیٹی کی حمایت نہ کریں گے تواور کیا کریں گے یہی چیز تھی جو رسول اللہا اور حضرت ابوبکرؓ اور ام رومانؓ کو اندر ہی اندر غم سے گھلائے دے رہی تھی۔ ورنہ حقیقت میں کوئی شک ان کو لاحق نہ تھا۔ (جیسا کہ حضوؐرکے ارشاد بالا سے ظاہر ہے)
(تفہیم القرآن، ج۳، ۔ نور، حاشیہ:۱۳)

دو قیدیوں کی رہائی

٥١- ’’بنی قریظہ کے قیدیوں میں سے آپ انے زبیر بن باطا اور عمرو بن سعد (یا ابن سعدی) کی جان بخشی کی۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، اَنْبَأَ اَبُوْ جَعْفَرٍ اَلْبَغْدَادِیُّ، ثَنَا اَبُوْ (عَلاَثَۃَ)، ثَنَا اَبِیْ، ثَنَا ابْنُ لَھْیِعَۃَ عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَۃَ، قَالَ: وَ اَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: ھَبْ لِی الزَّبِیْرَ الْیَھُوْدِیَّ اَجْرِیْہِ، فَقَدْ کَانَتْ لَہٗ عِنْدِیْ یَوْمَ بُعَاثٍ،(۱) فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ، فَاَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتّٰی اَتَاہُ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! ھَلْ تَعْرِفُنِیْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَ ھَلْ یُنْکِرُ الرَّجُلُ اَخَاہُ؟ قَالَ ثَابِتٌ: اَرَدْتُّ اَنْ اَجْزِیَکَ الْیَوْمَ بِیَدٍ لَکَ عِنْدِیْ یَوْمَ بُعَاثٍ، قَالَ: فَافْعَلْ، فَاِنَّ الْکَرِیْمَ یَجْزِی الْکَرِیْمَ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ سَأَلَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَوَھَبَکَ لِیْ، فَاَطْلَقَ عَنْہُ اَسَارَہٗ، فَقَالَ الزَّبِیْرُ: لَیْسَ لِیْ قَائِدٌ وَقَدْ اَخَذْتُمُ امْرَأَتِیْ وَ بَنِیَّ فَرَجَعَ ثَابِتٌ اِلَی الزَّبِیْرِ، فَقَالَ: رَدَّ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ امْرَأَتَکَ وَ بَنِیْکَ، فَقَالَ الزَّبِیْرُ: حَائِطٌ لِیْ فِیْہِ اَعْذَقُ لَیْسَ لِیْ، وَلاَ لِاَھْلِیْ عَیْشٌ اِلاَّ بِہٖ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَوَھَبَ لَہٗ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ اِلَی الزَّبِیْرِ فَقَالَ: قَدْ رَدَّ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَھْلَکَ وَ مَالَکَ، فَاَسْلِمْ تَسْلَمْ، قَالَ: مَا فَعَلَ الْجَلِیْسَ

ذَکَرَ رِجَالَ قَوْمِہٖ، قَالَ ثَابِتٌ: قَدْ قُتِلُوْا، وَ فَرَغَ مِنْھُمْ، وَ لَعَلَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی اَنْ یَّکُوْنَ اَبْقَاکَ لِخَیْرٍ، قَالَ الزَّبِیْرُ: اَسْأَلُکَ بِاللّٰہِ یَا ثَابِتُ وَ بِیَدِی الْخَصِیْمُ عِنْدَکَ یَوْمَ بُعَاثٍ اِلاَّ اَلْحَقْتَنِیْ بِھِمْ، فَلَیْسَ فِی الْعَیْشِ خَیْرٌ بَعْدَھُمْ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ ثَابِتٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَمَرَ بِالزَّبِیْرِ فَقُتِلَ۔(١١٤)
ترجمہ: حضرت ثابت بن قیس بن شماس صرسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ زبیر یہودی مجھے عنایت فرمادیں۔ میں اسے بدلہ چکانا چاہتا ہوں اس کا جنگ بعاث کے دن کا ایک احسان مجھ پر ہے۔ آپ نے اس کی درخواست پر زبیر اسے عطا فرمادیا۔ ثابت زبیر کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: اے ابو عبد الرحمن مجھے پہچانا۔ اس نے کہا ہاں بھلا ایک آدمی اپنے بھائی کو نہیں پہچانے گا۔ ثابت نے اسے کہا میں چاہتا ہوں کہ تمہارے جنگ بعاث کے دن کا ایک احسان کا بدلہ دوں جو مجھ پر واجب الادا ہے وہ بولا ضرور ادا کریں۔ ایک معزز و مکرم آدمی معزز آدمی کا بدلہ دیتا ہے۔ ثابت نے کہا تو میں نے ایسا کردیا ہے۔ میں نے رسول اللہا سے درخواست کی تھی کہ آپ تجھے مجھ کو ہبہ فرمادیں تو میں اسے اسیری و قید سے آزاد کردوں۔ زبیر نے کہا بھئی میرا تو قائد نہیں۔ بیوی بچے آپ لوگوں نے قید کرلیے ہیں۔ یہ سن کر ثابت رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے بیوی بچوں کی رہائی کی سفارش کی۔ آپ نے رہا فرمایا۔ ثابت نے واپس آکر زبیر کو خوش خبری سنائی کہ رسول اللہ انے اس کے بیوی بچے بھی رہا فرمادیے ہیں۔ زبیر نے پھر ایک اور تقاضا کردیا کہ میرا ایک باغ ہے جس کی کھجوریں شیریں، پانی نہایت میٹھا، ان کے بغیرمیں اور میرے اہل و عیال تو زندہ نہیں رہ سکتے۔ ثابت پھر رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے تقاضا کا ذکر کیا آپ نے یہ بھی اسے عطا فرما دیں۔ ثابت نے واپس آکر زبیر کو مژدہ سنایا کہ رسول اللہ انے تمہیں تمہارا اہل و عیال اور مال سب واپس فرمادیا ہے اب تجھے اسلام قبول کرنا چاہیے۔ امن و سلامتی سے رہوگے۔ اس نے پوچھا میرے ہم جلیس ساتھیوں کا کیا ہوا اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں کا تذکرہ کیا۔ ثابت نے اسے بتایا وہ تو قتل کیے جاچکے ہیں وہ ان سے فارغ ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے بھلائی کے لیے زندہ رکھا ہو۔ زبیر نے کہا اے ثابت میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جب کہ تیری جانب سے یوم بعاث والا دشمن میرے ہاتھ میں ہوگا۔ مجھے بھی انہیں کے ساتھ ملادے۔ ان کے بعد زندگی میں کیا مزا ہے۔ اس کا ذکر ثابت نے رسول اللہ اسے کیا تو آپ نے حکم دیا کہ زبیر کو قتل کردیا جائے چناں چہ اسے قتل کردیا گیا۔
(۲) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَقَدْ کَانَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ کَمَا ذَکَرَ لِی ابْنُ شِھَابِ الزُّھْرِیُّ، اَتَی الزَّبِیْرَ بْنَ بَاطَا الْقُرَظِیَّ، وَکَانَ یُکْنٰی اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔ وَکَانَ الزَّبِیْرُ قَدْ مَنَّ عَلٰی ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، ذَکَرَ لِیْ بَعْضُ وَلَدِ الزَّبِیْرِ اَنَّہٗ کَانَ مَنَّ عَلَیْہِ یَوْمَ بُعَاثٍ، اَخَذَہٗ فَجَزَّ نَاصِیَتَہٗ، ثُمَّ خَلّٰی سَبِیْلَہٗ۔ فَجَائَہٗ ثَابِتٌ وَ ھُوَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ھَلْ تَعْرِفُنِیْ؟ قَالَ: وَھَلْ یَجْھَلُ مِثْلِیْ مِثْلَکَ، قَالَ: اِنِّیْ قَدْ اَرَدْتُّ اَنْ اَجْزِیَکَ بِیَدِکَ عِنْدِیْ، قَالَ: اِنَّ الْکَرِیْمَ یَجْزِی الْکَرِیْمَ، ثُمَّ اَتٰی ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (ﷺ) اِنَّہٗ قَدْ کَانَتْ لِلزَّبِیْرِ عَلَیَّ مَنَّۃٌ، وَقَدْ اَحْبَبْتُ اَنْ اَجْزِیَہٗ بِھَا، فَھَبْ لِیْ دَمَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ھُوَلَکَ، فَاَتَاہُ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْ وَھَبَ لِیْ دَمَکَ، فَھُوَ لَکَ؟ قَالَ: شَیْخٌ کَبِیْرٌ لاَ اَھْلَ لَہٗ وَلاَ وَلَدَ، فَمَا یَصْنَعُ بِالْحَیَاۃِ؟ قَالَ: فَاَتٰی ثَابِتٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَ اُمِّیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ھَبْ لِی امْرَأَتَہٗ وَ وَلَدَہٗ، قَالَ: ھُمْ لَکَ۔ قَالَ: فَاَتَاہُ، فَقَالَ: قَدْ وَھَبَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَھْلَکَ وَلَدَکَ، فَھُمْ لَکَ؟ قَالَ: اَھْلُ بَیْتٍ بِالْحِجَازِ لاَ مَالَ لَھُمْ، فَمَا بَقَائُ ھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ؟ فَاَتٰی ثَابِتٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَالَہٗ؟ قَالَ: ھُوَلَکَ۔ فَاَتَاہُ ثَابِتٌ فَقَالَ: قَدْ اَعْطَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَالَکَ، فَھُوَ لَکَ؟ قَالَ:اَیْ ثَابِتٌ، مَا فَعَلَ الَّذِیْ کَانَ وَجْھُہٗ مِرَآۃً صِینیَّۃً یَتَرَاَئَ ی فِیْھَا عَذَارِی الْحَیِّی، کَعْبُ بْنُ اَسَدٍ؟ قَالَ: قُتِلَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ سَیِّدُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِی حُیَیَّ بْنُ اَخْطَبَ؟ قَالَ: قُتِلَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ مُقَدِّمَتُنَا اِذَا شَدَدْنَا، وَحَامِیَتُنَا اِذَا فَرَرْنَا، عَزَّالُ بْنُ سَمَوْئَ لَ؟ قَالَ: قُتِلَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ الْمَجْلِسَانُ؟ یَعْنِیْ بَنِیْ کَعْبِ بْنِ قُرَیْظَۃَ وَ بَنِیْ عَمَرُو بْنِ قُرَیْظَۃَ، قَالَ: ذَھَبُوْا قُتِلُوْا؟ قَالَ: فَاِنِّیْ اَسْأَلُکَ یَا ثَابِتُ بِیَدِی عِنْدَکَ اِلاَّ اَلْحَقْتَنِیْ بِالْقَوْمِ، فَوَاللّٰہِ مَا فِی الْعَیْشِ بَعْدَ ھٰٓؤُلَآئِ مِنْ خَیْرٍ، فَمَا اَنَا بِصَابِرٍ لِلّٰہِ فَتْلَۃَ دَلْوِ نَاضِحٍ حَتّٰی اَلْقَی الْاَحِبَّۃَ، فَقَدَّمَہٗ ثَابِتٌ، فَضَرَبَ عُنُقَۃً۔(١١٥)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس زبیر بن باطا کے پاس پہنچے۔ زبیر کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی۔ زبیر نے زمانہ جاہلیت میں ثابت پر ایک احسان کیا تھا۔ زبیر کی اولاد میں سے کسی نے مجھے بتایا کہ اس نے ثابت پر جو احسان کیا تھا وہ جنگ بعاث کے موقع پر کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ زبیر نے ثابت کو پکڑ لیا تھا۔ اور صرف اس کی پیشانی کے بال کاٹ کر اسے چھوڑدیا تھا۔ بہ ہر حال ثابت جو بہت بوڑھا ہوچکا تھا۔ زبیر کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن مجھے پہچانتے ہو؟ وہ بولا کیا مجھ ایسا آدمی تم ایسے آدمی کو نہیں پہچانے گا۔ ثابت نے کہا میرا ارادہ ہے کہ تمہارا جو احسان مجھ پر ہے اس کا میں بدلہ چکادوں۔ زبیر بولا۔ بے شک شریف و معزز آدمی ہی شریف آدمی کا بدلہ چکاتا ہے۔ اس کے بعد ثابت رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ زبیر کا مجھ پر ایک احسان ہے۔ میں اسے اس کا بدلہ دینا چاہتاہوں میری درخواست ہے کہ آپ میری خاطر اس کا خون معاف فرمادیں اور مجھے ہبہ فرمادیں۔ رسول اللہ انے فرمایا فھولک۔ یہ خون اب تمہارا ہے۔ ثابت یہ مژدہ لے کر زبیر کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ رسول اللہ ا نے میری خاطر تمہارا خون بخش دیا ہے۔ لہٰذا اب یہ خون تمہاری ملکیت ہے۔ زبیر نے کہا میں بوڑھا آدمی ہوں۔ بیوی ہے نہ بچے، میں زندہ رہ کر کیا کروں گا؟ ثابت پھر رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ا میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، آپ زبیر کی اہلیہ اور اس کے بچے مجھے ہبہ فرمادیں۔ رسول اللہ ا نے وہ ہبہ فرمادیے۔ ثابت پھر زبیر کے پاس آئے اور اسے بتایا کہ رسول اللہ ا نے تمہارے اہل و عیال مجھے ہبہ فرمادیے ہیں۔ لہٰذا اب یہ تمہارے ہیں۔ زبیر نے کہا اہل و عیال حجاز میں ہیں ان کے پاس مال نہیں۔ ایسی صورت میں وہ زندہ کیسے رہیں گے۔ ثابت پھر رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ اس کا مال و متاع بھی عنایت فرمادیجیے۔ آپ نے اس کا مال و متاع بھی عنایت فرمادیا۔ ثابت پھر اس کے پاس آئے اور اسے بتایا کہ رسول اللہا نے تمہارا مال بھی مجھے عطا فرمادیا ہے۔ لو اب وہ مال تمہارا ہے۔ زبیر بولا: اے ثابت: یہ تو بتاؤ کہ فلاں شخص یعنی کعب بن اسد کا کیا ہوا جس کا چہرہ شفاف آئینہ کی طرح چمکتا تھا محلہ کی کنواری اور حسین و جمیل لڑکیاں اس میں اپنا رخ زیبا دیکھنے کے لیے ہجوم کیا کرتی تھیں۔ ثابت نے جواب دیااسے تو قتل کردیا گیا۔ پھر زبیر نے دریافت کیا اچھا یہ بتاؤ کہ شہر و دیہات کے سردار حی بن اخطب کا کیاہوا۔ ثابت نے کہا وہ بھی مارا گیا۔ زبیر نے پھر دریافت کیا کہ اچھا بتاؤ اس شخص کا کیا ہوا جو ہمارے حملہ کے وقت پیش پیش ہوتا تھا اور جب ہم راہ فرار اختیار کرتے تھے تو وہ ہمارا محافظ ہوا کرتا تھا یعنی عزال بن سموء ل۔ ثابت نے جواب دیا کہ وہ بھی مارا گیا۔ زبیر نے پھر دریافت کیا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ ہماری دونوں مجلسوں یعنی بنو کعب بن قریظہ اور بنو عمرو بن قریظہ کا حشر کیا ہوا۔ جواب ملا کہ وہ بھی مارے گئے۔ اس پر زبیر نے کہا تو پھر اے ثابت میں اپنے احسان کے بدلہ میں تجھ سے جودرخواست کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجھے اپنی قوم کے ساتھ ہی ملادو۔ واللہ ان کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں۔ اب تو میں اتنی دیر بھی صبر نہیں کرسکتا جتنی دیر میں بھرے ہوئے ڈول کا پانی پیاؤ میں ڈالا جاتا ہے بس اپنے دوستوں سے ملاقات کا آرزو مند ہوں۔ اس کے بعد حضرت ثابتؓ نے آگے بڑھ کے اس کو قتل کردیا۔

حضرت جویریہ ز کی آزادی اور آپ٘ سے نکاح

٥٢- ’’غزوۂ بنی المصطلق کے بعد جب اسے قبیلے کے قیدی لائے گئے اور لوگوں میں تقسیم کردیے گئے اس وقت حضرت جویریہؓ جس شخص کے حصے میں آئی تھیں اس کو ان کا معاوضہ ادا کرکے آپ نے انہیں رہا کرایا اور پھر ان سے خود نکاح کرلیا اس پر تمام مسلمانوں نے یہ کہہ کر اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کردیا کہ:’’یہ اب رسول اللہ ا کے رشتہ دار ہوچکے ہیں۔‘‘ اس طرح سو خاندانوں کے آدمی رہا ہوگئے۔ (تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَعْقُوْبَ، قَالَ: ثَنَا اَبِیْ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ، قَالَتْ: لَمَّا قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِی السَّھْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ اَوْ لِاِبْنِ عَمٍّ لَہٗ، وَکَاتَبَتْہٗ عَلٰی نَفْسِھَا، وَکَانَتِ امْرَأَۃٌ حُلْوَۃٌ مُلاَّحَۃٌ، لاَ یَرَاھَا اَحَدٌ اِلاَّ اَخَذَتْ بِنَفْسِہٖ، فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تَسْتَعِیْنُہٗ فِیْ کِتَابَتِھَا، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ مَا ھُوَ اِلاَّ اِنْ رَأَیْتُھَا عَلٰی بَابِ حُجْرَتِیْ، فَکَرِھْتُھَا، وَعَرَفْتُ اَنَّہٗ سَیَرٰی مِنْھَا مَا رَأَیْتُ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اَنَا جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ ابْنِ اَبِیْ ضِرَارٍ سَیِّدِ قَوْمِہٖ، وَقَدْ اَصَابَنِیْ مِنَ الْبَلاَئِ مَالَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ، فَوَقَعْتُ فِی السَّھْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ اَوْ لِاِبْنِ عَمٍّ لَّہٗ، فَکَاتَبْتُہٗ عَلٰی نَفْسِیْ فَجِئْتُکَ اَسْتَعِیْنُکَ عَلٰی کَتَابَتِیْ، قَالَ: فَعَلْ لَّکِ فِیْ خَیْرٍ مِّنْ ذَالِکَ؟ قَالَتْ: وَمَا ھُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اَقْضِیْ کِتَابَتَکِ، وَاَتَزَوَّجُکِ، قَالَتْ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: وَ خَرَجَ الْخَبَرُ اِلَی النَّاسِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تَزَوَّجَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَقَالَ النَّاسُ اَصْھَارَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَرْسَلُوْا مَا بِاَیْدِیَھِمْ، قَالَتْ: فَلَقَدْ اُعْتِقَ بِتَزْوِیْجِہٖ اِیَّاھَا مِائْۃُ اَھْلِ بَیْتٍ مِّنْم بَنِی الْمُصْطَلِقِ۔ فَمَا اَعْلَمُ امْرَأَۃً کَانَتْ اَعْظَمَ بَرَکَۃً عَلٰی قَوْمِھَا مِنْھَا۔(١١٦)
ترجمہ: حضرت عائشہ ز سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم فرمایا تو جویریہ بنت حارث ثابت قیس ابن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے اپنے مالک سے مکاتبت طے کرلی۔ جویریہ بہت حسین و جمیل خاتون تھیں۔ جو کوئی اسے ایک مرتبہ دیکھتا اس کے دل پر قابض ہوجاتیں۔ یہ رسول اللہا کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں کہ آپ سے اپنی مکاتبت میں طے شدہ رقم کی اداے گی میں تعاون حاصل کریں۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے اللہ کی قسم! میں نے اسے اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو وہ مجھ پر ناگوار گزری۔ میں سمجھ گئی کہ جو حسن و جمال و ملاحت میں نے ان میں دیکھا ہے رسول اللہا بھی دیکھیں گے۔ بہ ہر حال جویریہ رسول اللہ اکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ا میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ ہوں جو اپنی قوم کے سردار ہیں۔ اس وقت جو مصیبت مجھ پر آن پڑی ہے اس سے آپ بے خبر نہیں۔ میں ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئی ہوں میں نے انہیں مکاتبت پر راضی کرلیا ہے اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں کہ اپنی مکاتبت کی رقم کی اداے گی میں آپ سے تعاون و مدد حاصل کرسکوں۔ آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ اس سے بہتر سلوک و برتاؤ کیا جائے تو کیا خیال ہے پسند کروگی؟ جویریہ نے پوچھا وہ کیا ہے یا رسول اللہا ۔ آپ نے بتایا یہ کہ میں تمہاری طرف سے بدل مکاتبت ادا کردوں اور تم سے رشتۂ ازدواج قائم کرلوں۔ جویریہ نے جواب دیا جی ہاں۔ یا رسول اللہا (میں راضی ہوں) رسول اللہ ا نے فرمایا میں نے کرلیا۔ حضرت عائشہ ز کا بیان ہے کہ یہ خبر تمام لوگوں میں پھیل گئی کہ رسول اللہا نے جویریہ کو اپنے حق زوجیت میں لے لیا ہے۔ لوگوں نے کہا یہ تو رسول اللہ کے رشتہ دار ہیں۔ اور بنو مصطلق کے اپنے قیدیوں کو آزاد کردیا کہ اب یہ آپ کے رشتہ دار بن گئے۔ اس طرح بنو مصطلق کے سو خاندان آزاد ہوگئے میری نظر میں ایسی کوئی عورت نہیں جو اپنی قوم کے لیے اتنی باعث برکت ثابت ہوئی ہو جتنی جویریہ اپنی قوم کے لیے ثابت ہوئی۔

ماخذ

(١) بخاری ج١۔ کتاب الاذان۔ باب الجھر بقرأۃ صلاۃ الفجر٭ بخاری ج٢۔کتاب التفسیر ۔ سورۃ قل اوحی اِلیَّ۔ عن ابن عباس٭ مسلم ج١۔ کتاب الصلاۃ۔ باب الجھر بالقرأۃ فی الصبح والقرأۃ علی الجن۔ عن ابن عباس۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ الجن۔ عن ابن عباس۔٭ مسند احمد ج١۔ عن ابن عباس ٭المستدرک ج٢۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الجن عن ابن عباس۔٭ تفسیر ابن جریر طبری ج١٢ سورۃ الجن عن ابن عباس۔٭ تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج٥ عن ابن عباس ٭ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورۃ احقاف۔
(٢) سیرۃ ابن ھشام ج١اشارۃ رسول اللّٰہ ﷺ اصحابہ بالھجرۃ۔
(٣) (السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩ کتاب السیر۔ باب الأذن بالھجرۃ٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:٢
(٤) بخاری:ج١کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام٭ بخاری:ج٢۔ کتاب الاکراہ۔ باب من اختار الضرب والقتل والھوان علی الکفر٭ ابوداؤد ج٣ کتاب الجھاد باب فی الاسیر یکرہ علی الکفر۔ عن خباب بن الارتِّ٭ ابوداؤد میں تستعجلون کی جگہ تعجلون منقول ہے۔٭ مسند احمد:ج ٥، ص١٠٩۔١١١۔ عن خباب بن الارتِّ مسند احمد نے ص:١٠٩پر تعجلون اور ص:١١١ پر تستعجلون نقل کیا ہے اور من صنعاء کی جگہ من المدینۃ الی حضرت موت روایت کیاہے۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی:ج٩۔ کتاب السیر۔ باب مبتدء الخلق۔ عن خباب بن الارتِّ٭ المعجم الکبیر للطبرانی:ج٤ عن خباب بن الارتِّ حدیث نمبر:٣٦٣٨۔ اس صفحہ پرتستعجلون ہے اور یہی روایت احادیث:ج٢؍٣٦٣٨۔٣٦٣٩۔٣٦٤٠ اور٣٦٤٦ میں بھی مذکور ہے۔
(٥) بخاری ج١، کتاب الخصومات۔ باب التقاضی، بخاری۔ بخاری ج٢، کتاب التفسیر۔ سورۃ کھیعص: بخاری ج١ کتاب البیوع۔ باب ذکر القین والحداد وکتاب الاجارہ٭ مسلم ج٢، کتاب المنافقین۔ باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار٭ ترمذی ج٢ ابواب التفسیر۔ سورۃ مریم: مسند احمد ج ٥،ص١١٠-١١١۔
(٦) بخاری ج١۔ باب موت النجاشی۔٭ مسلم ج١۔کتاب الجنائز۔ باب فی الصلاۃ علی الغائب۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔ مسلم نے ایک روایت میں مَاتَ الْیَوْمَ عَبْدٌ لِّلّٰہِ صَالِحٌ اَصْحَمَۃُ کے الفاظ اور ایک میں ان اخالکم قد مات فقوموا فصلوا علیہ قال فقمنا فصفنا صفین، عن جابر اور عمران بن حصین کی روایت میںبھی ان اخالکم قد مات قوموا فصلوا علیہا اور زہیر کی روایت میں ان اخاکم مروی ہے۔ ٭ ترمذی:ج١۔ ابواب الجنائز۔ باب ماجاء فی صلاۃ النبی ﷺ علی النجاشی۔ عن عمران بن حصین۔ ھذا حدیث حسن صحیح، غریب من ھٰذا الوجہ٭ نسائی:ج٤۔کتاب الجنائز۔ باب الصفوف علی الجنازۃ۔ عن جابر اور عن عمران بن حصین٭ ابن ماجہ۔ کتاب الجنائز۔ باب:٣٣، ماجاء فی الصلاۃ علی النجاشی عن عمران بن حصین اور مجمع بن جاریہ الانصاری٭ مسند احمد:ج٤، ص٤٣١۔٤٣٣۔٤٣٩۔٤٤١۔ عمران بن حصین٭ مسند احمد:ج ٥، ص٣٧٦۔ ابن جاریہ الانصاری۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی:٤؍٢٩۔ کتاب الجنائز۔ باب صلاۃ الجنازۃ بامام وما یرجی للمیت فی کثرۃ من یصلی علیہ۔ عن جابر بن عبد اللہ٭ مجمع الزوائد:ج٣ عن ابی سعید خدری اور ص:٣٩پر عن وحشی بن حرب۔ وحشی بن حربؓ کی روایت کے الفاظ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِیُّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَصْحَابِہٖ اِنَّ اَخَاکُمُ النَّجَاشِیَّ قَدْ مَاتَ قُوْمُوْا فَصَلُّوْا عَلَیْہِ۔۔۔ الخ ابوسعید خدریؓ سے مروی روایت کے الفاظ: لمَّا  قدم علی النبی ﷺ وفاۃ النجاشی قال: اخرجوا فصلوا علی اخ لکم لم تروہ قط۔۔۔الخ
(٧) المستدرک ج٢۔ تفسیر سورہ سأل سائل۔۔۔ ھٰذا حدیث صحیح علی شرط الصحیحین ولم یخرجاہ قد اخرج الفریابی، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، نسائی، ابن مردویہ عن ابن عباس قولہ سأل سائل قال: ھو النضر بن الحرث، قال: اللھم ان کان ھٰذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء۔٭ فتح القدیر للشوکانی ج٥ سورۃ سأل سائل٭ سیرۃ لابن ھشام ج٢، ص٦٧٠٭ ابن کثیر ج٤ ٭ تفسیر روح المعانی:ج١٠المعارج۔
(٨) بخاری ج٢۔ سورۃ الانفال۔٭ مسلم ج٢، کتاب التفسیر، سورۃ الانفال٭ تفسیر روح المعانی:ج١٠المعارج۔
(٩) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ باب قول ربنا اکشف عنا العذاب۔۔۔ الخ (الدخان)٭ بخاری:ج٢۔کتاب التفسیر۔  باب قولہ (انّٰی لھم الذکر و قد جاء ھم رسول مبین) الدخان۔ ٭بخاری:ج٢۔ کتاب التفسیر۔ باب قولہ (ثم تولوا عنہ قالوا معلم مجنون) الدخان٭ بخاری:ج٢۔ کتاب الدعوات۔ باب الدعاء علی المشرکین اس صفحہ پر مختصر روایت ہے۔٭ بخاری:ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورہ روم٭ ترمذی:ج٢۔ ابواب التفسیر سورۃ الدخان۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود٭ تفسیر ابن کثیر:ج٢۔ سورہ یوسف۔٭ فتح القدیر للشوکانی:ج٤۔ سورۃ الدخان٭ مسند احمدج١؍٤٣١ ص٤٤١۔ عبد اللّٰہ بن مسعود٭ روح المعانی، ص:١٠٨ (پ:٢٥) سورۃ الدخان٭ البدایۃ والنھایۃ ٣؍١٠٧۔ عن ابن مسعود٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:ص٢۔ بخاری نے کتاب التفسیر باب قولہ (و راودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ۔۔۔الخ) کے تحت اللھم اکفنیھم بسبع کسبع یوسف۔۔۔ الخ بھی بیان کیا ہے اور مزید براں بخاری نے ابواب الاستسقاء۔ باب الاستسقاء خروج النبیﷺ کے تحت اور بخاری کتاب الدعوات۔ باب الدعاء علی المشرکین کے ضمن میں اور بخاری کتاب التفسیر۔ باب لیس لک من الامر شییئٌ کے ضمن میں اور کتاب الادب۔ باب تسمیۃ الولید کے تحت واجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف وغیرہ کے الفاظ منقول ہیں اور ابوداؤد نے کتاب الصلاۃ۔ باب القنوت فی الصلاۃ میں بھی اسے نقل کیا ہے۔
(١٠) ترمذی ج٢۔ابواب المناقب۔ باب فی فضل مکۃ ھذا حدیث حسن غریب صحیح٭ ابن ماجہ۔ کتاب المناسک۔ باب فضل مکۃ۔٭ دارمی:ج٢۔کتاب السیر۔ باب:٦٦۔ اخراج النبی ﷺ من مکۃ عن عدی بن حمراء زھری۔٭ المستدرک حاکم:ج٣ کتاب الھجرۃ۔ ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ ٭طبقات ابن سعد:ج٢ غزوۃ رسول اللہ ﷺ عام الفتح٭ ابن ابی حاتم۔ بحوالہ ابن کثیر:ج٤۔ سورہ محمد٭ ابن جریر:ج١١سورہ محمد ابن ابی حاتم اور ابن جریر دونوں کی روایت یکساں ہے۔٭ السیرہ النبویۃ لابن کثیر۔ج٢ص٢٨٦٭ مصنف ابن ابی شیبۃ:ج١٤ص٤٧٦۔
(١١) ترمذی ج٢۔ ابواب المناقب۔ باب فی فضل مکۃ ھذا حدیث حسن غریب من ھٰذا الوجہ٭ المستدرک ج١۔ کتاب المناسک۔ باب قولہ ﷺ لمکۃ ما اطیب من بلدۃ۔ عن ابن عباس۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد و لم یخرجاہ۔ مسند احمد میں عبد اللّٰہ بن عدی سے مروی روایت: انہ سمع النبی ﷺ و ھو واقف بالحزورۃ فی سوق مکۃ واللّٰہ! انک لخیر ارض اللّٰہ، و احب ارض اللّٰہ الی اللّٰہ عزوجل! و لولا انی اخرجت منک ما خرجت ان ہی سے مروی دوسری روایت میں ہے: انہ سمع رسول اللّٰہ ﷺ و ھو واقف بالحزورۃ من مکۃ، یقول لمکۃ: واللّٰہ! انک لخیر ارض اللّٰہ واحب ارض اللّٰہ عزوجل و لولا انی اخرجت منک ما خرجت ( مسند احمد:ج٤ ص٣٠٥۔ عبد اللّٰہ بن عدی بن الحمراء الزھری) حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت: عن ابی ھریرۃ، قال: وقف النبی ﷺ علی الحزورۃ، فقال: علمت انک خیر ارض اللّٰہ و احب الارض الی اللّٰہ و لولا ان اھلک اخرجونی منک ما خرجت (مسند احمد:ج٤ص٣٠٥٭ مجمع الزوائد:ج٣۔ کتاب الحج۔ باب ماجاء فی مکۃ و فضلھا۔ عن ابن عباس) اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں: و انی لاعلم انک احب بلاد اللّٰہ الی و اکرمہ علی اللّٰہ، و لولا ان اھلک اخرجونی ما خرجت۔۔۔الخ۔
(١٢) بخاری:ج١۔ کتاب فضائل المدینۃ٭ بخاری:ج١۔ کتاب المناقب۔ باب مقدم النبی ﷺ و اصحابہ الی المدینۃ دونوں مقام پر نبی ﷺ کے مندرجہ ذیل الفاظ بھی منقول ہیں: اللھم حبب الینا المدینۃکحبنا مکۃ او اشد حبا۔۔۔ الخ کتاب المرضی میں منقول روایت میں بھی یہی الفاظ ہیں البتہ اس مقام پر رسم الخط میں فرق ہے:
وَ ھَلْ اَرِدًا یَوْمًا مِیَاہَ مَجِنَّۃٍ وَ ھَلْ یَبْدُؤْا لِیْ شَامَۃٌ وَ طَفِیْلٌ
٭بخاری:ج٢۔ کتاب المرضی۔ باب من دعا برفع الوباء و الحمی٭ بخاری:ج٢۔ کتاب المرضی۔ باب عیادۃ النساء الرجال کے تحت بھی پہلی روایت والے الفاظ منقول ہیں۔٭ مؤطا امام مالک:ج٢۔ کتاب الجامع۔ باب ماجاء فی وباء المدنیۃ موطا نے بھی بخاری کی پہلی روایت والے الفاظ سے روایت نقل کی ہے۔٭ مسند احمد:ج٦ص٨٣۔ عن عائشۃ۔٭ مسند احمد:ج٦ص٢٦٠۔ عن عائشۃ۔
(١٣) مسند احمد:ج٦ص٦٥٠ عن عائشۃؓ ٭ مسند احمد:ج٦ص٢٢٢عن عائشۃؓ ٭مسند احمد:ج٦ص٢٤٠ عن عائشۃؓ ص:٢٤٠ پر مروی عبارت میں:
اَلاَ لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ اَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً بِفَخٍّ وَ حَوْلِیْ اِذْخِرٌ وَ جَلِیْلٌ
مسند احمد کے باقی حوالہ جات میں بفج ہے عین ممکن ہے کہ کمپوزر سے غلطی ہوئی ہو فخ کو فج کمپوز کرگیا ہو۔٭السنن الکبریٰ ج٣۔ کتاب الجنائز۔ باب قول العائد للمریض کیف تجدک۔
(١٤) بخاری١۔ کتاب مناقب المھاجرین وفضلھم منھم ابوبکر عبد اللہ بن ابی قحافہ التیمی٭ مسلم:٢۔ کتاب الزھد۔ باب فی حدیث الھجرۃ و یقال لہ حدیث الرحل٭ مسند احمد:ج١ص٣۔ عن ابی بکر الصدیق مسند احمد نے سراقہ بن مالک بن جعشم کا تفصیلی واقعہ نقل کیا ہے، جس میں اس کے گھوڑے کا زمین میں دھنسنے اور اس کے معافی مانگنے کا ذکر بھی ہے اور نیز حضور ﷺ کے مدینہ میں داخلہ تک کی روایت ہے۔٭ فتح القدیر للشوکانی نے ج٢ص٣٦٤ پر ابن شاہین، ابن مردویہ اور ابن عساکر وغیرہ سے یا ابا بکر لا تحزن ان اللّٰہ معنا نقل کیا ہے۔ ٭ تفسیر روح المعانی: سورۃ التوبۃ، مسلم اور مسند احمد والی روایت نقل کی ہے۔٭تفسیر ابن جریر طبری سورۃ التوبۃ ابن جریر نے تفصیلی واقعہ نقل نہیں کیا۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر۔ج٢ص٢٤٠٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر:ج٢ص٧٤٭ السیرۃ الحلبیہ:ج٢ص٢١٠۔
(١٥) بخاری:ج١۔ کتاب المناقب۔٭ بخاری:ج٢۔ کتاب التفسیر۔ باب قولہ: (ثانی اثنین اذھما فی الغار) ٭ترمذی:ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ التوبۃ٭ تفسیر ابن کثیر ج٢ سورۃ التوبۃ٭ روح المعانی: سورۃ التوبۃ:٨٧٭ تفسیر ابن جریر سورۃ التوبۃ:٩٦۔٭ السیرۃ الحلبیۃ:ج٢ص٢١٠٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:ج٢ص٢٤٢۔٢٤٣ ٭کنز العمال:١٦۔ حدیث نمبر:٤٦٢٧٩٭ مسند احمد:ج١ص٤۔
(١٦) سیرۃ لابن ہشام ج٣ کتابۃ ﷺ بین المھاجرین والانصار و موادعۃ یھود۔
(١٧) بخاری ج١۔کتاب المناقب۔ باب اِخاء النبی ﷺ بین المھاجرین والانصار۔٭ تفسیر ابن کثیر:ج٤۔ الحشر۔ عن ابی ھریرۃؓ ابن کثیر نے النخیل نقل کیا ہے۔
(١٨) تفسیر ابن جریر:ج١٢ سورۃ الحشر۔٭ ابن کثیر:ج٤۔ الحشر
(١٩) تفسیر ابن کثیر:ج٤۔ سورۃ الحشر۔
(٢٠) ترمذی ج٢۔ ابواب صفۃ القیامۃ ھذا حدیث حسن صحیح غریب۔٭ مسند احمد ج٣ ص٢٠٠۔ عن انس بن مالک٭ ابو داؤدج٤۔ کتاب الادب۔ باب فی شکر المعروف۔ ابوداؤد نے صرف مندرجہ ذیل حصہ روایت کیا ہے: عن انس، ان المھاجرین قالوا: یا رسول اللّٰہ ذھبت الانصار بالاجر کلہ، قال: لا، ما دعوتم اللّٰہ لھم، واثنیتم علیھم٭ ابن کثیر ج٤ ص٣٣٧۔ عن انس مسند احمد والی روایت نقل کی ہے، آخر میں ابن کثیر نے لم ارہ فی الکتب من ھذا الوجہ بھی لکھا ہے۔
(٢١) سیرۃ ابن ھشام ج٣۔ تقسیم الرسول اموالھم بین المھاجرین٭ فتوح البلدان ج١، ص٢٦ ابن ہشام کی روایت میں حرث بن صمہ کا ذکر نہیں، تفسیر روح المعانی میں مندرجہ ذیل عبارت ہے:
و قال الضحاک: کانت لہ ﷺ خاصۃ: فاثر بھا المھاجرین وقسمھا علیھم، ولم یعط الانصار منھا شیئا الا ابا دجانۃ سماک بن خرشۃ، و سھل بن حنیف والحرث بن الصمۃ اعطاھم لفقرھم (روح االمعانی :ج١٢الحشر۔
(٢٢) تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج٤۔ الحشر۔
(٢٣) بخاری ج١۔ کتاب المساقاۃ۔ باب القطائع، مسند احمد ج٣ ص١٨٢۔
(٢٤) بخاری ج١۔ کتاب المساقاۃ۔ باب کتابۃ القطائع۔
(٢٥) مسند احمد ج٣ ص١١١۔ عن انس بن مالک٭ مسنداحمدج٣ص١٨٢پر منقول روایت کے الفاظ قدرے مختلف ہیں۔٭ تفسیر ابن کثیر:ج٤، ص٣٣٧ انس بن مالک۔
(٢٦) سیرۃ ابن ہشام ج٢ سریۃ عبداللّٰہ بن جحش٭ تفسیر ابن کثیرج١ص٢٥٣٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ماجاء فی نسخ العفو عن المشرکین و نسخ النھی عن القتال حتی یقاتلوا والنھی عن القتال فی الشھر الحرام۔ بیھقی میں مختصر روایت ہے۔ ٭تفسیر فتح القدیر للشوکانی:١فتح القدیر میں بیہقی والی روایت ہے۔٭ ابن ابی حاتم، ابن المنذر اور الطبرانی نے بھی اسے نقل کیاہے۔٭ تفسیر ابن جریر٢ تفسیر ابن کثیر اور سیرت ابن اسحاق والی روایت ہے۔٭ السیرۃ النبویۃ:ج٢ص٣٦٦-٣٦٨٭الطبری۔تاریخ الامم والملوک ج١ص٢٦٢۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر:ج٢ ص٧٩-٨٠ قدرے مختصر۔
(٢٧) تفسیر ابن کثیر ج٢۔ الانفال
(٢٨) السیرۃ الحلبیۃ ج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔
(٢٩) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢٭ الطبرانی، البیھقی فی الدلائل عن ابی ایوب انصاری۔ بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ج٢٭ تفسیر ابن کثیر ج٢۔ الانفال
(٣٠) بخاری ج٢ کتاب التفسیر سورۃ المائدۃ۔ باب قولہ اللّٰہ تعالٰی: (فاذھب اَنت و ربک فقاتلا انا ھٰھنا قاعدون) ٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢٭ فتح القدیر للشوکانی ج٢۔
(٣١) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب قول اللّٰہ تعالٰی: (اِذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم۔۔۔الخ)٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢٭ مسند احمد:ج١ص٤٢٨۔ عبد اللّٰہ بن مسعود۔
(٣٢) مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب غزوۃ بدر٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:ج٢۔
(٣٣) مسند احمد:ج٣ ٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیرج٢۔
(٣٤) مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ بدر الکبرٰی و متی کانت و امرھا٭ الدر للسیوطی:ج٣۔  بحوالہ ابن ابی شیبہ وابن مردَویہ٭ فتح القدیر للشوکانی ج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢٭ تفسیر ابن کثیرج٢۔
(٣٥) سیرۃ ابن ھشام ج٢ص٦١٥٭البدایۃ والنھایۃ ج٣ ٭ فتح القدیر للشوکانی ج٢۔ان دونوںمیں انا معکم متبعون ہے۔٭الطبری۔ تاریخ الامم والملوک ج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢ ٭مجمع الزوائد:ج ٥۔پرابن ہشام والی روایت سے ملتی جلتی روایت منقول ہے۔٭ تفسیر ابن کثیر ج٢پر متبعون والی روایت ہے اور (ص:٢٨٨) پر انا معکما مقاتلون والی۔٭ المصنف عبد الرزاق:ج ٥۔ کتاب المغازی۔٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٢٭ تفسیر ابن جریر ج٦(پ:٩)
(٣٦) سیرۃ ابن ھشام ج٢ استیثاق الرسول ﷺ من امر الانصار٭ البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر ج٣ ٭ تفسیر ابن کثیر ج٢٭الطبری۔ تاریخ الامم والملوک ج٢اس نے صدق نقل کیاہے۔ تفسیر ابن کثیرج٢٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر٢ ٭ طبقات لابن سعد ج٢٭ السیرۃ الحلبیہ٢٭ تفسیر ابن جریر ج٦٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔
(٣٧) السیرۃ الحلبیۃ ج٢ص٤٠٥٭ سیرۃ ابن ھشام ج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔ عن ابن عباس اس صفحہ پر لا تعبد ہے۔
(٣٨) سیرۃ ابن ھشام ج٢ ارتحال قریش٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢٭ السیرۃ الحلبیۃ٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢٭ تفسیر ابن کثیر٢٭ الطبری۔ تاریخ الامم والملوک٢٭ البدایۃ والنھایۃ٣٭ دلائل النبوۃ للبیھقی٢۔٣؍٥، دلائل النبوۃ ٢ اور ج٣ پر اللھم ھذہ قریش قد جاء ت بخیلائھا بھی ہے۔
(٣٩) مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ البدر و اباحۃ الغنائم٭ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ الانفال٭ مسند احمد ج١، ص٣٢،١١٧٭تفسیر ابن کثیر ج٢۔ سورۃ الانفال ابن کثیر نے یا رب ان تھلک ھٰذہ العصابۃ فلن تعبد فی الارض ابدا نقل کیا ہے۔٭ فتح القدیر للشوکانی٢ پر اللھم انک ان تھلک ھٰذہ العصابۃ لا تعبد نقل کیا ہے۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر٢ اس نے اللھم ان تھلک ھٰذہ العصابۃ لا تعبد بعدھا فی الارض نقل کیا ہے۔٭ تفسیر ابن جریرج٦(پ:٩) سورۃ الانفال۔ ابن جریر نے اسی جلد کے اسی صفحہ پر تفسیر ابن کثیر ٢ والی روایت کی عبارت بھی نقل کی ہے۔ ابن جریر نے (٦) پر اللھم انصر ھٰذہ العصابۃ فانک ان لم تفعل لن تعبد فی الارض بھی نقل کیا ہے۔٭ الطبری۔ تاریخ الامم والملوک:٢۔
(٤٠) بخاری ج١۔ کتاب الجھاد، باب ما قیل فی درع النبی ﷺ والقمیص فی الحرب٭ بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ القمر اس مقا پر بعد الیوم کے بعد ابداً کااضافہ منقول ہے۔ بخاری ج٢ پر باب قوم سیھزم الجمع و یولون الدبر کے تحت بخاری ج١والی روایت منقول ہے۔ بخاری ج٢ میں ابن عباسؓ کے حوالہ سے بھی یہ روایت منقول ہے مگر یہاں صرف ان شئت لم تعبد ہے۔٭ مسند احمد ج١ص٣٢٩۔ عن ابن عباس٭ مسند احمد ج٣ ص١٢١پر حضرت انسؓ سے مندرجہ ذیل روایت بھی نقل کی ہے: عن انس، قال: کان من دعاء النبی ﷺ بعد حنین: اللھم ان شئت ان لا تعبد بعد الیوم۔ مسند احمد٣ اور ٢٥٢ پر حضرت انس نے ان الفاظ کو یوم اُحد کی طرف منسوب کیا ہے، روایت میں ہے کہ: ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یقول اللھم انک ان تشاء ان لا تعبد فی الارض۔٭ السنن الکبریٰ ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ماجاء فی قول اللّٰہ عزوجل:(وانفقوا فی سبیل اللّٰہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ)۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی۔
(٤١) سیرۃ ابن ھشام ج٢۔ رمی الرسول للمشرکین بالحصباء٭ الکامل فی التاریخ۔ لابن اثیر ج٢٭ الطبری۔ تاریخ الامم والملوک ج٢٭ السیرۃ الحلبیۃج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر٢۔
(٤٢) تفسیر ابن جریر ج٦۔ سورۃ الانفال٭ تفسیر ابن کثیرج٢۔ الانفال٭ سیرۃ ابن ھشام ج٢٭فتح القدیر للشوکانی ج٢۔ سورۃ الانفال۔ عن حکیم بن حزام (قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ)٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤ (واقعہ حنین کے موقع پر)
(٤٣) تفسیر ابن جریر ج٦- الانفال۔
(٤٤) مسند احمد ج١ص٢٦٨۔
(٤٥) مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔٭ سنن دارمی ج٢۔ کتاب السیر۔ قول النبی ﷺ شاھت الوجوہ۔
(٤٦) ابو داؤد ج٣، کتاب الجہاد، باب فی فداء الاسیر بالمال ابو داؤد نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے واسطہ سے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے: یایھا الناس، انہ لیس لی من ھٰذا الفییء ولا ھٰذا و رفع اصبعیہ الا الخمس والخمس مردود علیکم فادوا الخیاط والمخیط۔۔۔الخ ٭ ابن ماجہ۔ کتاب الجھاد۔ باب الغلول ابن ماجہ نے صرف مندرجہ ذیل الفاظ روایت کیے ہیں: یایھا الناس ان ھذا من غنائمکم ادوا الخیط والمخیط فما فوق ذلک فما دون ذلک۔۔۔الخ٭نسائی٧۔ کتاب الفییء٭ المستدرک ج٣۔ کتاب المغازی۔ باب ذکر الانفال والغنائم٭ السنن الکبریٰ اور المصنف دونوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے حوالہ سے بیان کیا: مالی مما افاء اللّٰہ علیکم ولا مثل ھذہ الا الخمس والخمس مردود علیکم۔۔۔الخ نسائی میں ہے: یایھا الناس انہ لا یحل لی مما افاء اللہ علیکم قدر ھٰذہ الا الخمس، والخمس مردود علیکم۔ السنن الکبریٰ ج٩۔ کتاب السیر۔ باب لا یقطع من غل فی الغنیم۔۔۔الخ٭ المصنف عبد الرزاق ٥۔ کتاب الجھاد۔ باب الغلول ٭ابوداؤد اور السنن الکبری دونوں نے عمرو بن عبسۃ سے ولا یحل لی من غنائمکم مثل ھٰذا الا الخمس والخمس مردود فیکم بھی روایت کیا ہے۔٭ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی الامام یستأثر بشییء من الفئی لنفسہ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج٦۔ کتاب قسم الفئی والغنیمۃ۔٭ مسند احمد ج٥ص٣١٦ ٭تفسیر ابن کثیر ج٢۔ سورۃ الانفال٭ کنزالعمال٤۔
(٤٧) ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ الانفال ھٰذا حدیث حسن صحیح۔٭ مسند احمد ج٢ص٢٥٢۔ عن ابی ھریرۃ٭موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان۔ کتاب الجھاد۔ باب فی الغنائم۔ مسند احمد کی روایت میں: فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا منقول ہے۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی٭ ابن کثیر نے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے: قال الاعمش عن ابی صالح، عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: لم تحل الغنائم لسود الرء وس غیرنا٭ تفسیر ابن کثیر ج٢۔ سورۃ الانفال٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔
(٤٨) طبقات ابن سعد ج٢۔ ص٢٢۔
(٤٩) طبقات ابن سعد ج٢۔ص٢٢۔
(٥٠) مسند حمد ج١۔ص٢٤٧۔
(٥١) ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی فداء الاسیر بالمال۔
(٥٢) بخاری ج١۔ کتاب الجھاد۔ باب ما منَّ النبی ﷺ علی الاسارٰی من غیر ان یخمس٭ ابو داؤد ج٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی المن علی الاسیر بغیر فداء ابو داؤد نے لا طلقتھم لہ نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد ج٤ ص٨٠۔ عن جبیر بن مطعم مسند احمد میں فکلمنی فی ھؤلاء النتنین منقول ہے۔٭ السنن الکبری ج٩ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔ عن جبیر بن مطعم٭ المصنف عبدالرزاق ج ٥۔ کتاب الجھاد۔ باب قتل اھل الشرک صبرا فداء الاسارٰی۔ عن جبیر بن مطعم عن ابیہ۔
(٥٣) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامہ بن اُثال٭ مسلم:ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب ربط الاسیر و حبسہ و جواز المنِّ علیہ٭ ابو داؤد ج٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی الاسیر یوثق ٭مسند احمد ج٢ص٢٤٧ عن ابی ھریرۃ الفاظ مختلف ہیں اور اس مقام پر مسجد کے ستون سے باندھنے کا ذکر نہیں۔٭ السنن الکبریٰ ٩۔ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔ عن ابی ھریرۃؓ۔
(٥٤) مسند احمد ج٤ ص٨٣-٨٥۔ عن جبیر بن مطعم۔ مسند احمد کی ایک روایت میں و کان فی فداء الاساری یوم بدر کے الفاظ بھی منقول ہیں۔
(٥٥) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ الطور٭ مسلم ج١۔ کتاب الصلاۃ۔ باب القراء ۃ فی العشاء مسلم نے صرف سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقرأ بالطور بالمغرب نقل کیا ہے۔٭ نسائی۔ کتاب الصلاۃ۔ باب القراء ۃ فی المغرب بالطور۔ اس میں بھی یقرأ فی المغرب بالطور تک ہے۔٭ ابن ماجہ۔ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا۔ باب:٩۔ القراء ۃ فی صلاۃ المغرب۔
(٥٦) مسند احمد ج١ص٣٨٣-٣٨٤ عن ابن مسعود٭ ترمذی ج٢ ابواب التفسیر۔ سورۃ الانفال ترمذی نے مختصر نقل کیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر ج٢۔ سورۃ الانفال۔ تفسیر زیر آیت ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الایۃ عن عبد اللّٰہ بن مسعود٭ تفسیر فتح القدیر للشوکانی٢۔ عن ابن مسعود٭ ابن المنذر۔ ابن ابی حاتم۔ الطبرانی۔ ابن مردویہ البیھقی فی الدلائل وغیرہ بحوالہ فتح القدیر للشوکانی ٢۔ عن ابن مسعود۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی۔ غزوہ بدر الکبریٰ و متی کانت و امرھا عن عبد اللّٰہ اس میں من السماء متی ہی منقول ہے۔ ٭مجمع الزوائد ٦۔ عن عبد اللّٰہ اس نے یشد کی جگہ لیشدد نقل کیا ہے۔٭ السیرۃ الحلبیۃ ٢ سیرت حلیہ میں ان اللّٰہ لیلین قلوب اقوام فیہ حتی تکون الین من البن، و ان اللّٰہ لیشدن قلوب اقوام فیہ۔۔۔ الخ منقول ہے۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر٢ السیرۃ النبویۃ وغیرہ نے ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم پوری آیت نقل کی ہے۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک٢٭ المستدرک للحاکم ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ الانفال۔ شان نزول ماکان لنبی ان تکون لہ اسری۔۔۔ الایۃ مستدرک نے بہت مختصر سی روایت نقل کی ہے۔
(٥٧) مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر و اباحۃ الغنائم٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی۔ غزوۃ بدر الکبریٰ ومتی کانت وامرھا۔٭ السیرۃ الحلبیۃج٢٭السیرۃ النبویۃ لابن کیثر ج٢٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب مایفعلہ بالرجال البالغین منھم عن عمر۔ ٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢۔
(٥٨) سیرۃ لابن ھشام ج٣۔ بشر الرسول المسلمین بغزو قریش۔
(٥٩) ترمذی ج١۔ ابواب السیر۔ باب ماجاء قال النبی ﷺ یوم فتح مکۃ ان ھذہ لا تغزی بعد الیوم۔ و فی الباب عن ابن عباس و سلیمان بن صرد و مطیع۔ ھذا حدیث حدیث حسن صحیح۔ و ھو حدیث زکریا بن ابی زائدۃ عن الشعبی لا نعرفہ الا من حدیثہ۔٭ طبقات ابن سعدج٢ طبقات ابن سعد نے لا تغزی قریش بعد ھٰذا الیوم الی یوم القیامۃ نقل کیاہے۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔ اس صفحہ پر لا تغزی ھٰذہ بعد الیوم الی یوم القیامۃ۔
(٦٠) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق و ھی الاحزاب۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔
(٦١) مسند احمد ج٤ ص٢٦٢۔ عن سلیمان بن صرد۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ٢ الکامل نے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں: قال رسول اللہ ﷺ: الان نغزوھم ولا یغزوننا، فکان کذالک حتی فتح اللہ مکۃ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اب ہم ان پر چڑھائی کرکے لڑیں گے وہ ہم پر چڑھائی نہیں کرسکتے، چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ اللّٰہ تعالٰی نے مکہ فتح کرادیا۔
(٦٢) مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب التنفیل وفداء المسلمین بالاسارٰی۔٭ ابوداؤد:ج٣- کتاب الجھاد۔ باب الرخصۃ فی المدرکین یفرق بینھم۔ عن ایاس بن سلمۃ٭ ابن ماجہ۔ کتاب الجھاد۔ باب فداء الاسارٰی عن ایاس بن سلمۃ عن ابیہ٭ سنن دارمی ج٢- کتاب السیر۔ باب:٢٧٭ مسند احمد:ج٤ ص٥٠- عن ایاس بن سلمۃ ٭طبقات ابن سعد ج٢ ابن سعد میں دیگر لفظی اختلاف کے علاوہ روایت کے آخری الفاظ بھی مختلف ہیں، مثلاً: فبعث بھا رسول اللّٰہ ﷺ الی اھل مکۃ ففدی بھا اسری من المسلمین کانوا فی ایدی المشرکین۔
(٦٣) مسلم ج٢۔ کتاب النذر باب: لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللّٰہ ولا فیما لا یملک العبد۔٭ ابوداؤدج٣۔کتاب الایمان والنذور باب فی النذر فیما لایملک٭ سنن دارمی ج٢ کتاب السیر۔ باب اذا احرز العدو من مال المسلمین۔٭ مسند احمدج٤ ص٤٣٠،٤٣٤٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔ دارمی نے ثم ان الرجل فدی برجلین بیان کیا ہے۔
(٦٤) ترمذی ج٢۔ ابواب السیر۔ باب ماجاء فی قتل الاسارٰی والفداء۔ ھذا حدیث حسن صحیح  وَ عَمُّ اَبِیْ قِلاَبَۃَ ھُوَ اَبُوْ الْمُھَلَّبِ، وَاِسْمُہٗ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ عَمْرٍو، وَ یُقَالُ: مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو، وَ اَبُوْ قِلاَبَۃُ اِسْمُہٗ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدِ الْجَرْمِیُّ۔۔۔والعمل علی ھٰذا عند اکثر اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ و غیرھم۔ ان للامام ان یمُنَّ علی من شاء من الاسارٰی و یقتل من شاء منھم و یفی من شاء۔ واختار بعض اھل العلم القتل علی الفداء، و قال الاوزاعی بلغنی ان ھٰذہ الایۃ منسوخۃٌ قولہ تعالٰی: (فامَّا منًّا بعدُ وَ اِمَّا فداء نسختھا واقتلوھم حیث ثقفتموھم)٭ مسند احمد:٤۔ عمران بن حصینؓ مسند احمد کی روایت میں من المشرکین کے بعد من بنی عقیل بھی منقول ہے۔٭ روح المعانی ج١١سورہ محمد٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔ عن عمران بن حصین۔
(٦٥) الطبری تاریخ الامم والملوک ج١ص٢٨٧٭ سیرۃ ابن ھشام ج٢٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔ صاحب السیرۃ النبویۃ نے نبیہ بن وھب کے حوالہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں ان رسول اللہ ﷺ حین اقبل بالاساری فرقھم بین اصحابہ و قال: استوصوا بھم خیرا کے الفاظ ہیں۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر٢ ٭مجمع الزوائدج٦۔ کتاب المغازی۔ باب ماجاء فی الاسارٰی۔ عن عزیر بن عمیر۔
(٦٦) الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢ص٢٨٩٭ سیرۃ ابن ھشام ج٢٭ السیرۃ الحلبیہ ج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔ فصل بعث قریش الی رسول اللّٰہ ﷺ فداء اسراھم۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢۔اس نے صرف قال عمر بن الخطاب: دعنی انزع ثنیتیہ یا رسول اللّٰہ فلا یقوم علیک خطیبا ابدا تک ہی نقل کیا ہے۔
(٦٧) شرح السنۃ بحوالہ مشکٰوۃ۔ باب الاسارٰی۔
(٦٨) سیر ابن ھشام ج٣۔ مقتل ابی عزَّۃ و معاویۃ بن المغیرۃ۔
(٦٩) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٢۔ مقتل النضر ابن الحارث و عقبۃ بن ابی معیط لعنھما اللہ۔
(٧٠) السنن الکبریٰ ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔
(٧١) السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔
(٧٢) السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:ج٢۔
(٧٣) السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر، باب ما یفعلہ بالرجال البالعین منھم۔
(٧٤) السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔کتاب السیر۔ باب فتح مکۃ۔
(٧٥) السنن الکبری ج٩ کتاب الجزیۃ۔ باب الحربی اذا لجأ الی الحرم۔۔۔الخ۔
(٧٦) السنن الکبری ج٩ کتاب الجزیۃ۔ باب الحربی اذا لجأ الی الحرم۔۔۔الخ۔
(٧٧) السنن الکبری ج٩ کتاب الجزیۃ۔ باب الحربی اذا لجأ الی الحرم۔۔۔الخ۔
(٧٨) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق۔ وھی الاحزاب۔ قال موسی بن عقبہ کانت فی شوَّال سنۃ اربع۔ ٭بخاری١۔ کتاب الشھادات۔ باب بلوغ الصبیان و شھادتھم٭ ابو داؤد:ج٤۔ کتاب الحدود۔ باب فی الغلام یصیب الحد٭ مسند احمد ج٢ص١٧۔ بخاری نے ص:٣٦٦ پر مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے: ان رسول اللّٰہ ﷺ عرضہ یوم احد و ھو ابن اربع عشرۃ سنۃ فلم یجزنی ثم عرضنی یوم الخندق و انا ابن خمس عشرۃ فاجارنی۔۔۔الخ ٭ابن ماجۃ۔ کتاب الحدود۔ باب من لا یجب علیہ الحد۔٭ مسلم:ج٢۔ کتاب الامارۃ۔ باب بیان سن البلوغ مسلم نے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے: عن ابن عمر، قال: عرضنی رسول اللّٰہ ﷺ یوم احد فی القتال و انا ابن اربع عشرۃ سنۃ فلم یجزنی و عرضنی یو الخندق و انا ابن خمس عشرۃ سنۃ فاجارنی۔ ٭ترمذی:١۔ ابواب الجھاد۔ باب ماجاء فی حد بلوغ الرجل و متی یفرض لہ۔ عن ابن عمر اور ترمذی ج١۔ ابواب الاحکام۔ باب ماجاء فی حد البلوغ ارجل والمرأۃ ترمذی نے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے: عن ابن عمر، قال: عرضت علی رسول اللّٰہ ﷺ فی جیش و انا ابن اربع عشرۃ فلم یقبلنی ثم عرضت علیہ من قابل فی جیش و انا خمس عشرۃ فقبلنی۔۔۔الخ٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩ میں منقول ہے: عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنھا قال: عرضت یوم الخندق و انا و رافع بن خدیج علی النبی ﷺ، انا و ھو ابنا خمس عشرۃ سنۃ فقبلنا۔
(٧٩) بخاری ج١۔ کتاب الجھاد۔ باب مایکرہ من التنازع والاختلاف فی الحرب و عقوبۃ من عصی امامہ۔ وقال اللّٰہ تبارک و تعالی: (ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم) یعنی الحرب٭ ابو داؤد:ج٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی الکمناء٭ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورہ محمد۔٭ مجمع الزوائد:ج٦۔ کتاب المغازی والسیر۔ باب منہ فی وقعۃ احد (لفظی اختلاف کے ساتھ)٭ مسند احمد ج١ص٢٨٩۔ عن ابن عباس٭ و مسند احمد ج٤ ص٢٩٣۔ عن البراء٭ الطبری تاریخ الامم والملوک٣۔ بخاری میں یہ روایت کتاب المغازی۔ باب غزوۃ اُحد کے تحت بھی منقول ہے، اس روایت میں لقینا المشرکین یومئذ و اجلس النبی ﷺ جیشا من الرماۃ ہے۔
(٨٠) مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ غزوۃ اُحد٭ مسند احمد:ج٣ ص٢٥٣۔ عن انس٭ بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب لیس لک من الامر شیء ۔ بخاری نے مندرجہ ذیل سند اور متن میں اسے نقل کیا ہے: قال حمید و ثابت عن انس، شج النبی ﷺ یوم احد، فقال: کیف یفلح قوم شجوا نبیھم فنزلت: (لیس لک من الامر شیء) ٭مسند احمد ج٣ ص١٧٩،٢٠٦- عن انس۔ ان صفحات پر خضبوا وجہ نبیھم کے الفاظ ہیں۔
(٨١) ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورہ آل عمران ٭ ابن ماجۃ۔ کتاب الفتن۔ باب:٢٣۔ الصبر علی البلاء ابن ماجہ نے کیف یفلح قوم خضبوا وجہ نبیھم بالدم نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد:٣۔ عن انس۔٭سیرت ابن ھشام ٣- ٭السیرۃ الحلبیۃ ٢۔ اس میں بھی کیف یفلح قوم خضبوا وجہ نبیھم۔۔۔الخ ہے۔٭ الطبری تاریخ الامم والملوک٣ پر بھی کیف یفلح قوم خضبوا وجہ نبیھم بالدم و ھو یدعوھم الی اللہ منقول ہے۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ٣ فصل فیما لقی النبی ﷺ یومئذ من المشرکین قبحھم اللہ۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح۔
(٨٢) مجمع الزوائد للھیثمی ج٦۔ کتاب المغازی والسیر۔ باب منہ فی وقعۃ احد٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی٭ الطبری تاریخ الامم والملوک ج٣ اس میں ہے فقال رسول اللہ ﷺ لعمر قل: اللّٰہ مولانا ولا مولی لکم ہے۔
(٨٣) تفسیر ابن جریر ج١١، سورہ محمد٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٢۔٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح۔
(٨٤) سیرۃ ابن ھشام ج٣۔ توعد أبي سفیان المسلمین۔
(٨٥) تفسیر ابن جریر الطبری ج٣۔ سورۃ آل عمران٭ تفسیر ابن کثیر ج١۔ آل عمران۔٭ بخاری ج٢۔کتاب المغازی۔ باب الذین استجابوا للّٰہ والرسول۔ بخاری نے مختصر بیان کیا ہے۔
(٨٦) تفسیر ابن جریر ج٣۔ آل عمران زیر آیت (اذ تصعدون ولا تلون علی احد والرسول یدعوکم فی اخرکم) ابن عباس کی ایک روایت میں: الی عباد اللّٰہ ارجعوا الی عباد اللّٰہ ارجعوا٭ ابن جریر ج٣ اور یہی روایت ابن المنذر نے بھی نقل کی ہے، جسے فتح القدیر للشوکانی نے اپنی تفسیر١ پر نقل کیا ہے۔٭ ابن کثیر١٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣ جنگ احد٭ الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢۔ جنگ اُحد۔
(٨٧) روح المعانی ج٢، آل عمران۔ آیت١٦١(وما کان لنبی ان یغل۔۔۔الایۃ)
(٨٨) ترمذی ج٢ کتاب الفرائض۔ باب ماجاء فی میراث البنات ھذا حدیث حسن صحیح، لا نعرفہ الا من حدیث عبد اللّٰہ بن محمد بن عقیل، و قد رواہ شریک ایضا من عبد اللّٰہ بن محمد بن عقیل٭ ابو داؤ د ج٣۔ کتاب الفرائض۔ باب ماجاء فی میراث الصلب۔٭ ابن ماجۃ۔ کتاب الفرائض۔ باب:٢۔ فرائض الصلب٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج٦۔ کتاب الفرائض۔ باب فرض الابنتین فصاعداً ابو داؤد اور السنن الکبریٰ دونوں نے ایک روایت نقل کی ہے، جس میں سعد بن ربیعؓ کے بجائے ھاتان بنتا ثابت بن قیس بن شماس قتل معک یوم اُحد۔۔۔الخ منقول ہے، ابوداؤد نے روایت بیان کرنے کے بعد کہا ہے: قال ابو داؤد: اخطاء بشر فیہ انما ھما ابنتا سعد بن ربیع، وثابت بن قیس قتل یوم الیمامۃ٭ المستدرک ج٤۔ کتاب الفرائض۔ باب اذا تحدثتم فتحدثوا بالفرائض۔ عن جابر۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔٭ سنن دار قطنی ج٤۔کتاب الفرائض۔٭ تفسیر ابن کثیر ج١۔ سورہ نساء۔٭ مسند احمد ج٣ ص٣٥٢۔ عن جابر۔
(٨٩) سیرۃ ابن ھشام ج٣۔ غزوہ احزاب: ھم الرسلول بعقد صلح بینہ و بین غطفان ثم عدل۔
(٩٠) سیرۃ ابن ھشام ج٣۔ شان نعیم فی تخذیل المشرکین عن المسلمین۔
(٩١) سیرۃ ابن ھشام ج٣۔ شأن نعیم فی تغذیل المشرکین من المسلمین الحرب۔ خدعۃ مندرجہ ذیل کتب میں بھی منقول ہے: (١) بخاری ج١۔ کتاب الجھاد۔ باب الحرب خدعۃ (٢) بخاری۔ کتاب المناقب۔ کتاب الاستتابۃ ٭مسلم۔ کتاب الجھاد٭ ابوداؤد۔ کتاب الجھاد اور کتاب السنۃ٭ ترمذی۔ ابواب الجھاد۔٭ ابن ماجۃ۔ کتاب الجھاد٭ سنن دارمی۔ کتاب السیر۔٭ مسند احمد ج١ص٨١ وغیرہ٭ السنن الکبریٰ ج٩۔ کتاب السیر۔ باب من اراد غزوۃ فوری بغیرھا٭ المعجم الطبرانی ج٣۔ عن حسن بن علی۔
(٩٢) بخاری٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ الحشر۔٭ مسلم ٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب جواز قطع اشجار الکفار و تحریقھا۔٭ ابوداؤد ٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی الحرق فی بلاد العدو۔٭ ترمذی١۔ ابواب السیر۔ باب فی التحریق والتخریب۔٭ ابن ماجۃ ١۔ کتاب الجھاد۔ باب بالتحریق بارض العدو۔ ٭مسند احمد ٢۔
(٩٣) ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ الحشر۔ قال ابو عیسی سمع منی محمد بن اسماعیل ھذا الحدیث۔ ٭فتح القدیر للشوکانی ٥۔ سورۃ الحشر۔ عن ابن عباس۔ ھذا حدیث حسن غریب  و روی بعضھم ھذا الحدیث عن حفص بن غیاث عن حبیب بن ابی عمرۃ عن سعید بن جبیر مرسلاً ولم یذکر فیہ عن ابن عباسؓ۔
(٩٤) ابو یعلٰی۔ بحوالہ ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الحشر٭ مجمع الزوائد ج ٧۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ الحشر۔ عن جابر۔ رواہ ابویعلٰی عن شیخہ سفیان بن وکیع وھو ضعیف۔
(٩٥) ابن جریر ج١٢سورۃ الحشر۔
(٩٦) الطبری تاریخ الامم والملوک:ج٣۔ غزوۃ بنی قریظۃ۔
(٩٧) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق۔ باب مرجع النبی ﷺ من الاحزاب و مخرجہ الی بنی قریظۃ، و محاصرتہ ایاھم۔٭ مسند احمد ج٦ص٥٦۔ عن عائشۃ۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔ عن عائشۃ۔ ٭المستدرک للحاکم ج٣۔ عن عائشۃ۔ مستدرک والی روایت کے الفاظ مختلف ہیں۔
(٩٨) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی ﷺ من الاحزاب و مخرجہ الی بنی قریظۃ و محاصرتہ ایاھم۔ ٭بخاری ج١۔ ابواب صلاۃ الخوف۔ باب صلاۃ الطالب والمطلوب راکباً و ایماء اس مقام پر بخاری میں قال النبی ﷺ لنا لما رجع من الاحزاب۔۔۔الخ نقل کیا ہے۔٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔ عن ابن عمرژ۔ ٭طبقات ابن سعد ج٢۔٭سیرۃ النبی لابن ھشام ج٣۔
(٩٩) السیرۃ النبویۃ ج٣ ص٢٢٤۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر٢۔ پر دونوں نے بھی اسے نقل کیا ہے۔
(١٠٠) سیرۃ النبی لابن ھشام ج٣۔تلاحق المسلمین بالرسول٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔
(١٠١) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی ﷺ من الاحزاب و مخرجہ الی بنی قریظۃ و محاصرتہ ایاھم۔ ٭بخاری١۔ کتاب المناقب۔ مناقب سعد بن معاذ۔٭سنن دارمی ج٢۔ کتاب السیر۔ باب نزول اھل قریظۃ۔ علٰی حکم سعد بن معاذ۔ دارمی نے: فحکم ان تقتل رجالھم، وتستحی نسائھم و ذراریھم لیستعین بھم المسلمون، فقال رسول اللّٰہ ﷺ اصبت حکم اللّٰہ فیھم و کانوا اربعمائۃ نقل کیا ہے۔٭ ترمذی ج١۔ ابواب السیر۔ باب ماجاء فی النزول علی الحکم۔ ترمذی نے بھی فحکم ان یقتل رجالھم و یستحیی نسائھم یستعین بھن المسلمون نقل کیا ہے۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ مسند احمد ج٣ ص٢٢۔ عن ابن سعید خدری۔ بخاری والی روایت۔٭ المستدرک ج٣۔ کتاب المغازی۔ باب حکم سعد ابن معاذ فی بنی قریظۃ۔ اس میں ہے۔ فحکم فیھم ان یقتل مقاتلتھم و تسبی ذراریھم و نسائھم۔ ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین فانھما قد احتجا بعبد اللّٰہ بن عمر فی الشواھد ولم یخرجاہ۔٭ السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بذر اری من ظھر علیہ۔ اس نے بخاری والی روایت کے الفاظ نقل کیے ہیں۔٭ طبقات ابن سعد ج٢۔ ٭مجمع الزوائد ج٦۔ اس نے وتسبی النساء والذریۃ و تقسم الاموال بیان کیا ہے۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢۔
(١٠٢) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی ﷺ من الاحزاب و مخرجہ الی بنی قریظۃ و محاصرتہ ایاھم۔ ٭السنن الکبری للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب نزول اھل الحصن او بعضھم علی حکم الامام۔۔۔الخ ٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔٭السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ج٣ اور السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣ میں قال سعد فانی احکم فیھم ان تقتل الرجال، و تقسم الاموال، و تسبی الذراری والنساء نقل کیا ہے اور (ص:٢٣٤) پر قضیت بحکم اللّٰہ ہے۔ ٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٢۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ ابن ابی شیبۃ نے قدرے دیگر اختلاف الفاظ کے علاوہ روایت کے آخر میں لقد حکمت فیھم بحکم اللّٰہ و حکم رسولہ نقل کیا ہے۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤میں بخاری والی روایت نقل کی ہے۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٣ اس نے  بھی لقد حکمت فیھم بحکم اللّٰہ و حکم رسولہ نقل کیا ہے۔
(١٠٣) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ المنافقون۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب البر۔ والصلۃ باب نصر الاخ ظالمًا او مظلومًا۔ ٭السنن الکبریٰ ج٩۔ کتاب السیر۔ باب من لیس للامام ان یغزو بہ بحال۔ مسلم نے ج٢ کتاب البر۔ باب نصر الاخ ظالمًا او مظلوما کے تحت مَا ھٰذَا دَعْوَی اھل الجاھلیۃ نقل کیا ہے۔
(١٠٤) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ المنافقون۔ باب قولہ یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذل۔۔۔الخ ٭ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ المنافقین۔٭مسند احمد ج٣ ص٣٣٨،٣٨٥۔ جابر بن عبد اللّٰہ ٭ابن جریر ج١٢۔ سورۃ المنافقین۔ ترمذی نے و قال غیر عمرو: فقال لہ ابنہ عبد اللّٰہ بن عبد اللّٰہ واللّٰہ! لا تنقلب حتی تقر انک الذلیل و رسول اللہ ﷺ العزیز، ففعل کا اضافہ نقل کیا ہے۔ و قال ھذا حدیث حسن صحیح۔ ٭السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب من لیس للامام ان یغزو بہ بحال۔ ٭ابن اسحاق بحوالہ ابن کثیر ج٤۔ سورۃ المنافقین۔ ٭سیرۃ ابن ھشام ج٣۔
(١٠٥) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ المنافقون ٭ تفسیر ابن جریرج١٢۔ سورۃ المنافقون۔
(١٠٦) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ المنافقون۔
(١٠٧) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ باب قولہ ذٰلک بانھم آمنوا ثم کفروا۔۔۔الخ٭ ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ المنافقون۔٭ ابن جریر ج١٢۔ سورۃ المنافقون٭ مسند احمد ج٤ ص٣٦٩۔ زید ابن ارقم۔
(١٠٨) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر۔ باب قولہ و اذا رایتھم تعجبک اجسامھم۔۔۔الخ٭ مسند احمدج٤ ص٣٧٣۔ زید بن ارقم۔
(١٠٩) ابن جریر ج١٢۔ سورۃ المنافقون۔
(١١٠) ترمذی۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ المنافقون۔
(١١١) مسند احمد ج٤ص٢٧٩۔٭ تفسیر ابن کثیر٤۔ سورۃ الحجرات۔٭ تفسیر روح المعانی ج١١۔ سورۃ الحجرات۔٭ ابن ابی الدنیا۔ ابن مندہ۔ ابن مردویہ بحوالہ روح المعانی:ج١١۔٭ ابن ابی حاتم، طبرانی بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج٤۔٭ تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج ٥۔
(١١٢) تفسیر ابن جریر ج١١۔ سورۃ الحجرات۔ اسی صفحہ پر عبد اللہ بن عباسژ سے مروی روایت بھی منقول ہے۔
(١١٣) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی باب حدیث الافک٭مسلم:ج٢۔ عن عائشۃ، کتاب التوبۃ باب فی حدیث الافک۔ ٭ترمذی ج٢، ابواب التفسیر سورۃ النور (قدرے کمی و بیشی اور اختلاف الفاظ کے ساتھ منقول ہے)۔ ٭ھذا حدیث حسن صحیح غریب من حدیث ھشام بن عروۃ۔٭ مسند احمدج٦ص٥٩-٦٠ عن عائشۃ۔٭ تفسیر ابن کثیر ج٣۔ سورۃ النور ابن کثیر نے بخاری اور ترمذی دونوں کی مرویات نقل کی ہیں۔٭ تفسیر ابن جریر ج٩۔ سورۃ النور۔٭ تفسیر روح المعانی (پ:١٨)۔ عن عائشۃ۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔٭الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢۔٭السیرۃ الحلبیہ ج٢۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢۔٭المصنف عبد الرزاق ج ٥۔
(١١٤) السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔
(١١٥) سیرت ابن ھشام ج٣، شأن الزبیر بن باطا٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٢،٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣،٭ السیرۃ النبویۃ میں عزال بن شموال ہے اور فتلۃ کی جگہ فیلۃ ہے۔ جب کہ سیرت ابن ھشام، سیرت الحلیۃ اور الروض الانف للسھیلی من فتلۃ منقول ہے۔٭ قال ابن اسحاق: فیلۃ بالفاء والیاء المثناۃ من اسفل۔٭ السیرۃ النبویۃ ج٣، ٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٣۔ غزوہ بنی قریظۃ۔
(١١٦) مسند احمد ج٦ص٢٧٧۔ عن عائشۃ،٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب من یجری علیہ الرق عن عائشۃ۔ ٭طبقات ابن سعدج ٨،٭ ابن سعد میں یہ وضاحت ہے کہ اس نے ثابت بن قیس سے ٩اوقیہ کی مکاتبت طے کی تھی، اس کے الفاظ ہیں: (فکاتبھا ثابت بن قیس علی نفسھا علی تسع اواق)٭سیرۃ ابن ھشام:ج٣۔ مزید برآں ان سے نکاح کی روایت سیرت ابن ہشام:ج١٤میں مختصر ہے۔ ابن ہشام نے مُلاَّحَۃً نقل کیا ہے۔

فصل:۲ صلح حدیبیہ حضرت عثمان کی شہادت کی افواہ اور بیعت

٥٣- مکہ معظمہ میں حضرت عثمانؓ کے شہید ہوجانے کی خبر سن کر رسول اللہ انے صحابہ کرام سے حدیبیہ کے مقام پر بیعت لی تھی۔ صحابہ نے رسول پاک اکے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کا معاملہ اگر صحیح ثابت ہوا تو وہ سب یہیں اوراسی وقت قریش سے نمٹ لیں گے خواہ نتیجہ میں وہ سب کٹ ہی کیوں نہ مریں۔ اس موقع پر چوں کہ یہ امر ابھی یقینی نہیں تھا کہ حضرت عثمانؓ واقعی شہید ہوچکے ہیں یا زندہ ہیں۔ اس لیے رسول اللہ ا نے ان کی طرف سے خود اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت فرمائی اور اس طرح ان کو یہ شرف عظیم حاصل ہوا کہ آپ نے اپنے دست مبارک کو ان کے ہاتھ کا قائم مقام بناکر انہیں اس بیعت میں شریک فرمایا۔ حضور ا کا ان کی طرف سے خود بیعت کرنا لازماً یہ معنی رکھتا ہے کہ حضوؐر کو ان پرپوری طرح یہ اعتماد تھا کہ اگر وہ موجود ہوتے تو یقینا بیعت کرتے۔ (تفہیم القرآن،ج۵، الفتح، حاشیہ:۱۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوْ قَطَنٍ، ثَنَا یُوْنُسُ یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اَشْرَفَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنَ الْقَصْرِ وَ ھُوَ مَحْصُوْرٌ۔۔۔قَالَ: اَنْشُدُ بِاللّٰہِ مَنْ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ بَیْعَۃِ الرِّضْوَانِ اِذْ بَعَثَنِیْ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ اِلٰی اَھْلِ مَکَّۃَ قَالَ: ھٰذِہٖ یَدِیْ وَ ھٰذِہٖ یَدُ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَبَایَعَ لِیْ۔۔۔الخ(١)
ترجمہ: حضرت عثمانؓ جب بلوائیوں کے گھیراؤ کی وجہ سے محصور ہوگئے تو انہوں نے اوپر سے جھانک کر دیکھا۔۔۔ فرمایا بیعت رضوان کے روز جو حضرات رسول اللہ ا کے ہمراہ تھے انہیں گواہ بناکر کہتا ہوں کہ جب مجھے رسول اللہ ا نے اہل مکہ کے مشرکین کی طرف سفیر بناکر بھیجا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا تھا۔ یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے اس طرح آپ نے میری بیعت لی۔
(۲) قَالَ ابْنُ ھِشَامٍ: وَحَدَّثَنِیْ مَنْ اَوْثَقَ بِہٖ، عَمَّنْ حَدَّثَہٗ بِاِسْنَادٍ لَّہٗ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ عُمَرَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَایَعَ لِعُثْمَانَ، فَضَرَبَ بِإحْدٰی یَدَیْہِ عَلَی الْاُخْرٰی۔(٢)
ترجمہ: ابن ابی عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہانے حضرت عثمانؓ کی طرف سے خود بیعت لی۔ وہ اس طرح کہ اپنا ایک دست مبارک دوسرے دست مبارک پر مارا۔

شرائط معاہدہ

٥٤- صلح حدیبیہ کا معاہدہ جب لکھا جارہا تھا توکفار مکہ کے نمائندے نے ’’رسول اللہ‘‘ (ا) کے نام کے ساتھ ’’رسول اللہ‘‘ لکھے جانے پر اعتراض کیا۔ اس پر حضورا نے کاتب (یعنی حضرت علی ص)کو حکم دیاکہ اچھا’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ کاٹ کر ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ لکھ دو۔ حضرت علی ص نے لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کاٹنے سے انکار کردیا۔ اس پر حضور انے ان کے ہاتھ سے قلم لے کر وہ الفاظ خود کاٹ دیے اور ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ لکھ دیا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بُْن اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَفَّانُ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ قُرَیْشًا صَالَحُوا النَّبِیَّ ﷺ فِیْھِمْ سُھَیْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِعَلِیٍّ اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، قَالَ سُھَیْلٌ: اَمَّا بِسْمِ اللّٰہِ فَمَا نَدْرِیْ مَا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، وَلٰـکِنِ اکْتُبْ مَا نَعْرِفُ، بِاِسْمِ اللّٰھُمَّ، فَقَالَ: اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالُوْا: لَوْ عَلِمْنَا اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، لاَتَّبَعْنَاکَ، وَلٰکِنِ اکْتُبْ اِسْمَکَ وَاِسْمَ اَبِیْکَ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اُکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، فَاشْتَرَطُوْا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ اِنَّ مَنْ جَآئَ مِنْکُمْ، لَمْ نَرُدَّہٗ عَلَیْکُمْ، وَمَنْ جَائَکُمْ مِنَّا، رَدَدْتُّمُوْہُ عَلَیْنَا، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ: أَنَکْتُبُ ھٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، اِنَّہٗ مَنْ ذَھَبَ مِنَّا اِلَیْھِمْ، فَاَبْعَدَہُ اللّٰہُ وَمَنْ جَآئَ نَا مِنْھُمْ، سَیَجْعَلُ اللّٰہُ لَہٗ فَرَجًا وَّمَخْرَجًا۔(٣)
ترجمہ: حضرت انس صسے مروی ہے کہ قریش نے رسول اللہا سے مصالحت کی۔ قریشی وفد میں سہیل بن عمرو بھی تھا۔ نبی انے حضرت علی صسے فرمایا (پہلے) (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) لکھو۔ سہیل نے کہا: (بسم اللّٰہ) ہم نہیں جانتے کہ (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) کیا ہے؟ جس کا ہمیں علم ہے وہ لکھو وہ (بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) آپ انے پھر فرمایا لکھو کہ یہ معاہدہ محمد کی جانب سے ہے جواللہ کے رسول ہیں۔ مشرکین بولے کہ اگر ہمارے علم میں یہ ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اگر ہم یہ تسلیم کرلیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں) تو پھر لازماً آپ کی اتباع کرتے، اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں (لکھوائیں) نبی انے فرمایا: ’’اچھا! لکھو کہ یہ تحریر محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔‘‘ پھر انہوں نے آپ سے یہ شرط طے کی کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی بھاگ کر ہمارے پاس آجائے تو اسے ہم واپس نہیں کریں گے اور اگر ہم میں سے کوئی آدمی بھاگ کر تمہارے پاس پہنچ جائے تو اسے ہمارے ہاں واپس لوٹانا ہوگا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم یہ شرط تحریر کریں آپ نے فرمایا ہاں لکھو۔ کہ ہم میں سے کوئی ان کے پاس چلا جائے، تو اللہ نے اسے دور کردیا۔ (یا اللہ اسے ہم سے دور رکھے) اور ان میں سے جوکوئی ہمارے پاس آئے گا تو اس کے لیے اللہ ضرور راستہ نکالے گا اور اس کے لیے کشادگی و فراخی پیدا فرمائے گا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا غُنْدُرٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَھْلَ الْحُدَیْبِیَّۃِ، کَتَبَ عَلِیٌّ بَیْنھُمْ کِتَابًا، فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: لاَ تَکْتُبْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، لَوْکُنْتَ رَسُوْلاً لَمْ نُقَاتِلْکَ، فَقَالَ لِعَلِیٍّ: اُمْحُہٗ، قَالَ عَلِیٌّ: مَا اَنَا بِالَّذِیْ اَمْحَاہُ، فَمَحَاہُ رَسُوْلُاللّٰہُﷺ بِیَدِہٖ، وَ صَالَحَھُمْ عَلٰی اَنْ یَّدْخُلَ ھُوَ وَ اَصْحَابُہٗ ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ، وَلاَ یَدْخُلُوْھَا اِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ، فَسَأَلُوْہُ: مَا جُلُبَّانِ السِّلاَحِ؟ قَالَ الْقِرَابُ بِمَا فِیْہِ۔(٤)
ترجمہ: ابو اسحاق سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ا نے اہل حدیبیہ (مشرکین مکہ) سے معاہدہ صلح کیا تو اس معاہدہ کی دستاویز حضرت علیص نے تحریر کی۔ تو انہوں نے محمد رسول اللہ تحریر کیا۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ محمد رسول اللہ مت لکھو۔ تم (ہمارے عقیدے کے مطابق) اللہ کے رسول ہوتے تو ہم تم سے جنگ نہ کرتے۔ آپ نے علیص سے فرمایا۔ اسے مٹادو۔ حضرت علی ص نے عرض کیا۔ میں تو اسے نہیں کاٹ سکتا۔ آخر کار رسول اللہ انے اسے دست مبارک سے کاٹ دیا۔ مشرکین سے اس پر صلح ہوئی کہ آئندہ سال آپ اپنے اصحاب کے ساتھ صرف تین روز مکہ میں قیام کرسکیں گے اور ہتھیار میان میں ہوں لوگوں نے آپ سے پوچھا جلبان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میان اور جو کچھ اس میں ہو۔
(۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: اِعْتَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، فَاَبٰی اَھْلُ مَکَّۃَ اَنْ یَّدَعُوْہُ یَدْخُلُ مَکَّۃَ حَتّٰی قَاضَاھُمْ عَلٰی اَنْ یُّقِیْمَ بِھَا ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ، فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ، کَتَبُوا ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالُوْا: لاَ نُقِرُّبِھَا، فَلَوْ نَعْلَمُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، مَا مَنَعْنَاکَ، لٰکِنْ اَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِیٍّ: اُمْحُ رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: لاَوَاللّٰہِ! لاَ اَمْحُوْکَ اَبَدًا، فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکِتَابَ، فَکَتَبَ ھٰذَا مَا قَاضٰی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ لاَ یَدْخُلُ مَکَّۃَ بِسِلاَحٍ اِلاَّ فِی الْقِرَابِ وَ اَنْ لاَّ یَخْرُجَ مِنْ اَھْلِھَا بِاَحَدٍ اِنْ اَرَادَ اَنْ یَّتَّبِعَہٗ، وَ اَنْ لاَّ یَمْنَعَ اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِہٖ اَرَادَ اَنْ یُّقِیْمَ بِھَا، فَلَمَّا دَخَلَھَا وَ مَضَی الْاَجَلُ، اَتَوْا عَلِیًّا، فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِکَ اُخْرُجْ عَنَّا، فَقَدْ مَضَی الْاَجَلُ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ، فَتَبِعَتْھُمُ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ یَا عَمِّ یَا عَمِّ فَتَنَاوَلَھَا عَلِیٌّ، فَاَخَذَ بِیَدِھَا، وَ قَالَ لِفَاطِمَۃَ دُوْنَکِ ابْنَۃَ عَمِّکِ حَمَلَتْھَا، فَاخْتَصَمَ فِیْھَا عَلِیٌّ وَ زَیْدٌ وَ جَعْفَرٌ، فَقَالَ عَلِیٌّ: اَنَا اَحَقُّ بِھَا، وَھِیَ بِنْتُ عَمِّیْ، وَ قَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّیْ وَ خَالَتُھَا تَحْتِیْ، وَ قَالَ زَیْدٌ: بِنْتُ اَخِیْ، فَقَضٰی بِھَا النَّبِیُّ ﷺ لِخَالَتِھَا، وَ قَالَ: اَلْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْاُمِّ، وَ قَالَ لِعَلِیٍّ: اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ، وَ قَالَ لِجَعْفَرٍ: اَشْبَھْتَ خَلْقِیْ وَ خُلُقِیْ، وَ قَالَ لِزَیْدٍ: اَنْتَ اَخُوْنَا وَ مَوْلاَنَا۔(٥)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ نبی انے ذوالقعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ پھر فیصلہ اس پر ہوا کہ آئندہ سال صرف تین دن قیام کرسکیں گے مگر جب صلح کی دستاویز لکھنے لگے تو ابتدا میں یہ تحریر کیا کہ یہ صلح نامہ وہ ہے جس پر محمد جو اللہ کے رسول ہیں راضی ہوئے۔ مشرکین مکہ نے جواب دیا کہ ہم تو اس کا اقرار نہیں کرتے اگر ہم یہ تسلیم کرتے کہ تم اللہ کے رسول ہوتو پھر ہم تمہیں مکہ میں داخل ہونے سے روکتے ہی کیوں۔ بلکہ تم محمد بن عبد اللہ ہو آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبد اللہ بھی۔ پھر آپ نے حضرت علی صکو ارشاد فرمایا رسول اللہ کا جملہ مٹادو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں آپ کوکبھی بھی نہیں مٹاؤں گا آپ نے خود وہ مسودۂ تحریر اپنے ہاتھ میں لیا اور لکھا (ھذا ماقاضی علیہ محمد بن عبد اللّٰہ) یہ وہ دستاویز و صلح نامہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ راضی ہوا۔ وہ مکہ میں اس حالت میں داخل ہوں گے کہ ہتھیار نیام میں ہوں گے اوراگر مکہ کاکوئی باشندہ ان کے ساتھ جانا چاہے تو وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور آپ کے ساتھیوں میں سے اگر کوئی مکہ میں قیام پذیر ہونا چاہے گا تو اسے منع نہیں کریں گے۔ پھر جب آپ مکہ میں داخل ہوئے اور مدت قیام پوری ہوگئی تو مشرکین حضرت علی صکے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اپنے ساتھی سے کہیں کہ وہ اب ہمارے ہاں سے واپس چلے جائیں، کیوں کہ طے شدہ مدت قیام ختم ہوگئی ہے۔ چناں چہ نبی ا وعدہ کے مطابق نکل کھڑے ہوئے تو حضرت حمزہ کی بیٹی چچا جان چچا جان پکارتی پیچھے ہوگئی۔ حضرت علی ص نے پہنچ کر اسے پکڑ لیا۔ ہاتھ میں پکڑ کر حضرت فاطمہ زسے کہا اپنی چچا زاد بہن کو لے لو، انہوں نے اسے سوار کرلیا۔ اس پر علی، زید اور جعفرثمیں تنازع و جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ حضرت علیؓ نے دعویٰ کیا کہ میں اس لڑکی کا زیادہ استحقاق رکھتا ہوں، وہ میری چچا زاد بہن ہے اور جعفرنے دعویٰ کیا کہ وہ میری چچا زاد بہن بھی ہے اور اس کی خالہ میری اہلیہ ہیں لہٰذا میں زیادہ استحقاق رکھتا ہوں اور زید نے کہا وہ میری بھتیجی ہے یہ روداد سن کر نبی انے لڑکی کی خالہ کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا اور فرمایا خالہ بمنزلہ ماں ہے۔ حضرت علی صسے فرمایا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور جعفر سے فرمایا تو سیرت و صورت میرے مشابہ ہے اور زید سے فرمایا تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولا ہے۔
سیرت ابن ہشام میں مندرجہ ذیل عبارت منقول ہے۔
(۴) قَالَ: ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ رِضْوَانَ اللّٰہِ عَلَیْہِ، فَقَالَ: اُکْتُبْ: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، قَالَ: فَقَالَ سُھَیْلٌ: لاَ اَعْرِفُ ھٰذَا، وَلٰـکِنِ اکْتُبْ: بِاسْمِکَ اَللّٰھُمَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اکْتُبْ بِاسْمِکَ اَللّٰھُمَّ، فَکَتَبَھَا، ثُمَّ قَالَ: اکْتُبْ: ھٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ سُھَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: فَقَالَ سُھَیْلٌ: لَوْ شَھِدْتُّ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَمْ اُقَاتِلْکَ، وَ لٰـکِنِ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاسْمَ اَبِیْکَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اکْتُبْ: ھٰذَا مَاصَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ سُھَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، اِصْطَلَحَا عَلٰی وَضْعِ الْحَرْبِ عَنِ النَّاسِ عَشْرَ سِنِیْنَ، یَاْمَنُ فِیْھِنَّ النَّاسُ، وَ یَکُفُّ بَعْضُھُمْ عَنْ بَعْضٍ، عَلٰی اَنَّہٗ مَنْ اَتٰی مُحَمَّدًا مِنْ قُرَیْشٍ بِغَیْرِ اِذْنِ وَلِیِّہٖ رَدَّہٗ عَلَیْھِمْ، وَ مَنْ جَآئَ قُرَیْشًا مِمَّنْ مَعَ مُحَمَّدٍ لَمْ یَرُدُّوْہُ عَلَیْہِ، وَ اِنَّ بَیْنَنَا عَیْبَۃً مَکْفُوْفَۃً، وَ اِنَّہٗ لاَ اِسْلاَلَ وَلاَ اِغْلاَلَ، وَ اِنَّہٗ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْ عَقْدِ قُرَیْشٍ وَ عَھْدِھِمْ دَخَلَ فِیْہِ۔(٦)
ترجمہ: (امام زہری) کا بیان ہے پھر رسول اللہ انے علی بن ابی طالب کوبلایا اور فرمایا: (بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم) لکھ کر صلح نامہ کا آغاز کرو اس پر سہیل نے اعتراض کیا کہ مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں (کہ دستاویز کے شروع میں بسم اللہ لکھا گیا ہو) بلکہ(بِاِسْمِکَ اللّٰہُمَّ) لکھو۔ رسول اللہ انے فرمایا: اچھا باسمک اللھم ہی لکھو۔ حضرت علی صنے یہی فقرہ تحریر کردیا۔ رسول اللہ انے پھر فرمایا: ’’(آگے) لکھو: (ھٰذا ما صالح علیہ محمد رسول اللّٰہ)’’یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ نے سہیل بن عمرو سے طے کیا ہے۔‘‘ سہیل بول: ’’اگر میں اس کا اقراری ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر میں آپ سے مقاتلہ ہی کیوں کرتا۔ بلکہ آپ اپنا اور اپنے باپ کا نام تحریر کریں۔ راوی کا بیان ہے رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: (اچھا) لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی۔ دونوں نے اس پر اتفاق رائے کیا کہ دس سال تک جنگ بند رہے گی۔ ان سالوں میں لوگ امن و آشتی سے رہیں گے ایک دوسرے پر دست درازی سے باز رہیں گے اس صلح کی شرط ہے کہ قریش کا کوئی آدمی اگر اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد (ا) کے پاس آئے گا تو محمدا قریش کے پاس اسے واپس لوٹا دیں گے اور اگر محمدا کے رفقاء و ساتھیوں میں سے اگر کوئی آدمی قریش کے پاس پہنچ جائے گا تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔ نیز یہ کہ دلوں کی عداوتیں دلوں ہی میں رہیں گی۔ انہیں ظاہر نہیں کیاجائے گا اور یہ بد عہدی اور خیانت بھی نہ کی جائے گی اور یہ کہ جو کوئی محمداکے عقد و عہد میں داخل ہونا چاہے تو وہ اس میں داخل ہوسکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عقد و عہد میں داخل ہونا چاہے وہ اس میں داخل ہوسکتا ہے۔
(۵) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ اَخْبَرَنِی الزُّھْرِیُّ، اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَ مَرْوَانَ، یُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا حَدِیْثَ صَاحِبِہٖ قَالاَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَّۃِ۔۔۔ فَجَآئَ سُھَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ: ھَاتِ اکْتُبْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ کِتَابًا، فَدَعَا النَّبِیُّ ﷺ الْکَاتِبَ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اکْتُبْ: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، فَقَالَ سُھَیْلٌ: اَمَّا الرَّحْمٰنُ فَوَاللّٰہِ مَااَدْرِیْ مَاھُوَ، وَ لٰـکِنِ اکْتُبْ: بِاِسْمِکَ اَللّٰھُمَّ کَمَا کُنْتَ تَکْتُبُ۔ فَقَالَ الْمُسْلِمُوْنَ: وَاللّٰہِ! لاَ نَکْتُبُھَا اِلاَّ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اکْتُبْ بِاِسْمِکَ اَللّٰھُمَّ، ثُمَّ قَالَ: ھَذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ سُھَیْلٌ: وَاللّٰہِ! لَوْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا صَدَدْنَاکَ عَنِ الْبَیْتِ، وَلاَ قَاتَلْنَاکَ، وَلٰـکِنِ اکْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ وَ اِنْ کَذَّبْتُمُوْنِیْ، اکْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الحدیث۔(٧)
ترجمہ: امام زہری کا بیان ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انہوں نے مسور بن مخرمہ اور مروان دونوں سے روایت کیا دونوں ایک دوسرے کی بیان کردہ روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔ دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا زمانہ حدیبیہ میں نکلے۔۔۔ زہری نے اپنی روایت میں کہا کہ سہیل بن عمرو آیا اور اس نے کہا کہ آپ اپنے اور ہمارے درمیان صلح نامہ تحریر کریں (کرائیں) نبی انے اپنے منشی (کاتب) کو بلایا اور اسے ارشاد فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو۔ اس پر سہیل نے اعتراض کیا کہ رحمن کو تو واللہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کون ہے۔ آپ جس طرح پہلے لکھوایا کرتے تھے اسی طرح باسمک اللھم ہی لکھوائیں۔ مسلمانوں نے اصرار کیا کہ ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے (لکھوائیں گے) نبی انے فرمایا (ضد و اصرار کی چنداں ضرورت نہیں) باسمک اللھم ہی لکھ دو۔ پھر فرمایا آگے لکھو ہذا ماقاضی علیہ محمد رسول اللّٰہ اس پر بھی سہیل نے اعتراض کیا کہ واللہ اگر ہم تسلیم کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو بیت اللہ کی حاضر سے آڑے کیوں آتے اور آپ سے مقاتلہ کیوں کرتے۔ (نہ ہم آپ کو بیت اللہ کی زیارت سے روکتے اور نہ آپ سے لڑائی کرتے) بلکہ آپ محمد بن عبد اللہ لکھوائیں۔ نبی انے ارشاد فرمایا اللہ شاہد ہے میں یقینا اللہ کا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب کتنی ہی کرتے رہو۔ محمد بن عبد اللہ لکھ دو۔
(۶) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیْمٍ، ثَنِیْ شُرَیْحُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ یُوْسُفَ بْنِ اَبِیْ اِسْحَاقَ، ثَنِیْ اَبِیْ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، ثَنِی الْبَرَائُ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَمَّا اَرَادَ اَنْ یَّعْتَمِرَ اَرْسَلَ اِلٰی اَھْلِ مَکَّۃَ یَسْتَاْذِنُھُمْ لِیَدْخُلَ مَکَّۃَ، فَاشْتَرَطُوْا عَلَیْہِ اَنْ لاَّ یُقِیْمَ بِھَا اِلاَّ ثَلاَثَ لَیَالٍ، وَلاَ یَدْخُلَھَا اِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ وَلاَ یَدْعُوَ مِنْھُمْ اَحَدًا، قَالَ: فَاَخَذَ یَکْتُبُ الشَّرْطَ بَیْنَھُمْ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ، فَکَتَبَ ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالُوْا: لَوْ عَلِمْنَا اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَمْ نَمْنَعْکَ وَ لَبَایَعْنٰـکَ، وَ لٰـکِنِ اکْتُبْ ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: اَنَا وَاللّٰہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، وَاَنَا وَاللّٰہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: وَکَانَ لاَ یَکْتُبُ، قَالَ: فَقَالَ لِعَلِیٍّ: اُمْحُ رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ عَلِیٌّ: وَاللّٰہِ! لاَ اَمْحُوْہُ اَبَدًا، قَالَ: فَاَرِنِیْہِ، فَاَرَاہُ اِیَّاہُ، فَمَحَاہُ النَّبِیُّ ﷺ بِیَدِہٖ، فَلَمَّا دَخَلَ، وَ مَضَی الْاَیَّامُ اَتَوْا عَلِیًّا، فَقَالُوْا:مُرْ صَاحِبَکَ، فَلْیَرْتَحِلْ فَذَکَرَ ذَالِکَ عَلِیٌّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ ارْتَحَلَ۔ (٨)
ترجمہ: ابو اسحاق نے براء بن عازب سے روایت بیان کی ہے کہ نبی انے جب عمرہ اداکرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ کے پاس اپنا قاصد بھیج کر مکہ میں داخلہ کی اجازت طلب فرمائی۔ مشرکین مکہ نے یہ شرط عائد کی کہ مکہ میں صرف تین روز قیام کرنا ہوگا اور غلاف پوش ہتھیاروں کے سوا دوسرا کوئی ہتھیار لے کر داخل نہ ہونا نیز کسی فرد کو دعوت دین بھی نہ دینا ہوگی۔ چناں چہ اس شرط پر معاہدہ کی تحریر حضرت علی صنے شروع کی اور لکھنے لگے کہ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہا نے صلح کی ہے۔ اس پر مشرکین بول اٹھے کہ اگر ہم یہ جان لیتے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو تمہیں کسی صورت بھی نہ روکتے اور لازما ًتمہاری بیعت بھی کرلیتے۔ لہٰذا یہ تحریر کروائیں کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ کی قسم میں محمد عبد اللہ کا بیٹا ہوں اور اللہ شاہد ہے میں اس کا رسول بھی ہوں۔ راوی کا بیان ہے آپ بذات خود یہ معاہدہ تحریر نہیں فرما رہے تھے چناں چہ حضرت علیص سے فرمایا رسول اللہ کا جملہ مٹادو، محو کردو۔ اس پر حضرت علی صنے عرض کی اللہ کی قسم میں تو اسے کبھی بھی محو نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا اچھا مجھے اس مقام کی نشان دہی کرو تو حضرت علی صنے آپ کو وہ جگہ نشان زد کردی تو رسول اللہ انے اپنے دست مبارک سے اسے مٹا دیا۔ (معاہدہ میں طے شدہ شرائط کی روشنی میں) آپ مکہ میں داخل ہوئے۔ جب تین دن وہاں گزر گئے تو مشرکین نے حضرت علیص کی خدمت میں آکر یاد دہانی کرائی کہ اپنے صاحب سے کہو کہ اب انہیں چلے جانا چاہیے۔ حضرت علیص نے اس کا ذکر رسول اللہ اسے کیا تو آپ انے فرمایا ہاں درست ہے۔ پھر آپ انے وہاں سے کوچ فرمایا۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں منقول عبارت مندرجہ ذیل ہے:
(۷) فَقَالَ لِعَلِیٍّ: اُکْتُبُ الشَّرْطَ بَیْنَنَا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ: فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: لَوْ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ تَابَعْنَاکَ، وَلٰـکِنِ اکْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: فَاَمَرَ عَلِیًّا اَنْ یَّمْحُوْھَا، فَقَالَ عَلِیٌّ: لاَ وَاللّٰہِ! لاَ اَمْحُوْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَرِنِیْ مَکَانَھَا، فَاَرَاہُ مَکَانَھَا، فَمَحَاھَا، وَ کَتَبَ ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ؟(٩)
ترجمہ: مصنف ابن شیبہ کی روایت میں ہے آپ نے علی صسے فرمایا ہمارے درمیان شرط تحریر کرو اور بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرو کہ یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی ہے۔ مشرکین بولے اگر تم اللہ کے رسول ہوتے تو ہم تمہاری اتباع کرتے۔ بلکہ محمد بن عبد اللہ لکھو۔ راوی کا بیان ہے آپ نے علیؓ سے فرمایا کہ اسے محو کردو۔ علیؓ نے عرض کیا واللہ! میں تو اسے اپنے ہاتھ سے نہیں مٹاؤں گا تو نبی انے فرمایا: مجھے اس جگہ کی نشان دہی کرو تو انہوں نے آپ کو وہ مقام دکھادیا۔ چناں چہ آپ نے خود اپنے دست مبارک سے مٹاکر ابن عبد اللہ تحریر فرمادیا۔
(۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: اِعْتَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، فَاَبٰی اَھْلُ مَکَّۃَ اَنْ یَّدَعُوْہُ یَدْخُلُ مَکَّۃَ حَتّٰی قَاضَاھُمْ عَلٰی اَنْ یُّقِیْمَ بِھَا ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ، کَتَبُوْا، ھٰذَا مَا قَاضَانَا عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ قَالُوْا: لاَ نُقِرُّ بِھٰذَا لَوْ نَعْلَمُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا مَنَعْنَاکَ شَیْئًا وَ لٰـکِنْ اَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِیٍّ اُمْحُ رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ عَلِیٌّ: لاَ، وَاللّٰہِ! لاَ اَمْحُوْکَ اَبَدًا، فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکِتَابَ وَ لَیْسَ یُحْسِنُ یَکْتُبُ فَکَتَبَ ھٰذَا مَا قَاضٰی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ لاَ یُدْخِلُ مَکَّۃَ السِّلاَحَ اِلاَّ السَّیْفَ فِی الْقِرَابِ الحدیث۔(١٠)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ا نے ذوالقعدہ میں عمرہ کا ارادہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کے مکہ میں داخلہ سے انکار کردیا تا آنکہ آپ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ مکہ میں آپ کا قیام تین روز کا ہوگا۔ جب مسلمانوں نے معاہدہ صلح تحریر کیا تو انہوں نے تحریر کیاکہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ نے ہمارے ساتھ طے کیا ہے۔ کفار نے کہا ہم اس کا اقرار نہیں کرتے اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ تم اللہ کے رسول ہو تو ہم ذرا برابر بھی رکاوٹ نہ ڈالتے۔ لیکن تم محمد بن عبد اللہ ہو۔ آپ نے فرمایا میں رسول اللہ بھی اور محمد بن عبد اللہ بھی۔ پھر آپ نے علی ؓ سے فرمایا رسول اللہ کا جملہ محو کردو۔ تو انہوں نے عرض کیا نہیں، اللہ کی قسم میں اسے کبھی بھی محو نہیں کروں گا۔ نبی ا نے وہ دستاویز خود پکڑی حالاں کہ آپ عمدہ لکھنا نہیں جانتے تھے تاہم آپ نے تحریر فرمایا یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبد اللہ راضی ہیں کہ وہ مکہ میں نیام میں تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوں گے۔
الکامل فی التاریخ لابن اثیرمیں منقول ہے:
(۹) فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلِیَّ ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فَقَالَ: اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، فَقَالَ سُھَیْلٌ: لاَ نَعْرِفُ ھٰذَا وَ لٰـکِنِ اکْتُبْ بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ، فَکَتَبَھَا، ثُمَّ قَالَ: اکْتُبْ: ھٰذَا مَاصَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ سُھَیْلَ بْنَ عمْرٍو، فَقَالَ سُھَیْلٌ: لَوْنَعْلَمُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَمْ نُقَاتِلُکَ، وَ لٰـکِنِ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاِسْمَ اَبِیْکَ، فَقَالَ لِعَلِیٍّ: اُمْحُ رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ: لاَ اَمْحُوْکَ اَبَدًا، فَاَخَذَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَلَیْسَ یُحْسِنُ اَنْ یَّکْتُبَ فَکَتَبَ مَوْضِعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الخ۔(١١)
ترجمہ: رسول اللہ انے علی بن ابی طالب کو بلا کر فرمایا لکھو بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ سہیل نے اعتراض کیا۔ اس طریق تحریر سے تو میں واقف نہیں ہوں۔ آپ باسمک اللھم لکھیں۔ تو علی بن ابی طالب نے ایسا ہی لکھ دیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اب لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے جسے محمد رسول اللہ نے سہیل بن عمرو سے طے کیا ہے۔ اس پر بھی سہیل نے اعتراض کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ تم اللہ کے رسول ہو تو ہماری تمہارے ساتھ لڑائی نہ ہوتی۔ بلکہ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھوائیں تو آپ نے علی بن ابی طالب سے کہا کہ رسول اللہ کا جملہ محو کردو۔ حضرت علی صنے عرض کیا میں تو اسے کبھی بھی نہیں مٹاؤں گا۔ رسول اللہ ا نے وہ دستاویز خود پکڑی حالاں کہ رسول اللہ ا لکھنا اچھی طرح نہیں جانتے تھے مگر آپ نے رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبد اللہ تحریر فرمادیا۔
مصنف ابن ابی شیبۃ نے ایک اور روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کی ہے:
(۱۰) فَجَائَہٗ سُھَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ: قَدْ بَعَثَنِیْ قُرَیْشٌ اِلَیْکَ اُکَاتِبُکَ عَلٰی قَضِیَّۃٍ نَرْتَضِیْ اَنَا وَ اَنْتَ، فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: نَعَمْ، اُکْتُبْ: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قَالَ: مَا اَعْرِفُ اللّٰہَ وَلاَ اَعْرِفُ الرَّحْمٰنَ، وَ لٰـکِنِ اکْتُبْ کَمَا کُنَّا نَکْتُبُ بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْ ذَالِکَ وَ قَالُوْا: لاَ نُکَاتِبُکَ عَلٰی خُطَّۃٍ حَتّٰی تَقِرَّ بِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، قَالَ سُھَیْلٌ: اِذًا لاَ اُکَاتِبُہٗ عَلٰی خُطَّۃٍ حَتّٰی اَرْجِعَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اکْتُبْ: بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ ھٰذَا مَاقَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ:لاَ اُقِرُّ، لَوْ اَعْلَمُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا خَالَفْتُکَ وَلاَ عَصَیْتُکَ، وَلٰـکِنْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْھَا اَیْضًا، قَالَ: اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ سُھَیْلَ بْنَ عَمَرٍو الخ۔(١٢)
ترجمہ: سہیل بن عمرو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ مجھے قریش نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے اس مسئلہ پر دستاویز تحریر کروں جسے ہم بھی پسند کریں اور تم بھی جس پر راضی ہو۔ نبی انے فرمایا ہاں۔ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سہیل نے کہا۔ جسے میں جانتا ہوں وہ تو اللہ کا لفظ ہے مگر رحمن سے تو میں متعارف نہیں ہوں بلکہ ہم جس طرح پہلے لکھتے آرہے ہیں اسی طرز پر لکھیں یعنی باسمک اللھم صحابہ نے اس اصرار پر کبیدہ خاطری کا احساس کیا اور کہنے لگے اس حد بندی پر ہم تحریر نہیں کرتے تا وقتیکہ تو رحمن و رحیم کا اقرار نہ کرلے۔ سہیل بولا تو پھر میں بھی ایسی حد بندی کے باوجود صلح نامہ تحریر نہیں کرتا اور واپس چلا جاؤں گا۔ رسول اللہ انے فرمایا اچھا لکھو باسمک اللھم۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس کا محمد رسول اللہ نے فیصلہ کیاہے۔ سہیل نے کہا میں تو اس کا اقرار نہیں کرتا۔ اگر میرے علم میں ہوتا کہ تم اللہ کے رسول ہو تو نہ میں تمہاری مخالفت کرتا اور نہ نافرمانی کا مرتکب ہوتا۔ بلکہ تم تو محمد بن عبد اللہ ہو۔ صحابہ نے اسے دل میں برا محسوس کیا۔ آپ انے فرمایا اچھا لکھو محمد بن عبد اللہ نے سہیل کے ساتھ صلح نامہ طے کیا۔
مجمع الزوائد میں اس سلسلہ کی منقول عبارت:
(۱۱) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ: اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، فَاَخَذَ سُھَیْلٌ بِیَدِہٖ فَقَالَ: مَا نَعْرِفُ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمَ اکْتُبْ فِیْ قَضْیَتِنَا مَا نَعْرِفُ، فَقَالَ: اکْتُبْ بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ فَکَتَبَ ھٰذَا مَاصَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اَھْلَ مَکَّۃَ فَاَمْسَکَ سُھَیْلُ ابْنُ عَمْرٍو بِیَدِہٖ فَقَالَ: لَقَدْ ظَلَمْنَاکَ اِنْ کُنْتَ رَسُوْلَہٗ اکْتُبْ فِیْ قَضْیَتِنَا مَا نَعْرِفُ، قَالَ: اکْتُبْ: ھٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔الخ۔ (١٣)
ترجمہ: رسول اللہ انے حضرت علی صسے فرمایا۔ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سہیل نے حضرت علی صکا ہاتھ پکڑلیا اور بولا رحمن و رحیم سے تو ہم شناسا نہیں۔ ہماری اس دستاویز میں وہ کچھ لکھو جسے ہم جانتے پہچانتے ہیں۔ باسمک اللھم لکھو۔ پس حضرت علی صنے لکھا کہ یہ وہ معاہدۂ صلح ہے جس پر محمد رسول اللہ نے اہل مکہ سے مصالحت کی ہے۔ سہیل نے حضرت علی ص کا ہاتھ تھام لیا اور کہا کہ اگر تم اس کے رسول ہو تو پھر ہم نے تم پر ظلم کیا۔ دستاویز تحریر کرنے کے لیے جس طرز سے ہم واقف ہیں اسی طرز پر لکھیں یہ کہہ کر اس نے کہا لکھو یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے مصالحت کی ہے۔
(۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، ثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ زُمَیْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحُرُوْرِیَّۃُ، اعْتَزَلُوْا، فَقُلْتُ لَھُمْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّۃِ صَالَحَ الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ لِعَلِیٍّ: اُکْتُبْ یَا عَلِیُّ ھٰذَا مَاصَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، قَالُوْا: لَوْ نَعْلَمُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا قَاتَلْنَاکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمْحُ یَا عَلِیُّ، اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّیْ رَسُوْلُکَ، اُمْحُ یَا عَلِیُّ، وَاکْتُبْ ھٰذَا مَاصَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَاللّٰہِ! لَرَسُوْلُ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ عَلِیٍّ، وَقَدْ مَحَا نَفْسَہٗ وَلَمْ یَکُنْ مَحْوُہٗ ذٰلِکَ یَمْحَاہُ مِنَ النُّـبُوَّۃِ اُخْرِجْتَ مِنْ ھٰذِہٖ قَالُوْا: نَعَمْ۔(١٤)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب حروریہ فرقہ نے خروج کیا اور کنارہ کش ہوگئے۔ میں نے ان سے کہاکہ رسول اللہ انے حدیبیہ کے روز مشرکین سے صلح کی۔ تو آپ نے علی صسے فرمایا اے علیص لکھو کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جس کی بنیاد پر رسول اللہ نے صلح کی ہے۔ مشرکین مکہ نے کہا اگر ہم جانتے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو ہم تم سے لڑتے کیوں۔ تو رسول اللہ انے فرمایا علی اسے محو کردو۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ یقینا میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی اسے مٹادو اور لکھوکہ یہ وہ معاہدہ ہے جس کی بنیاد پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کی۔ اللہ شاہد ہے کہ رسول اللہ ا علی سے بہتر ہیں پھر خود رسول اللہ ا مٹادیا اور مٹانا منصب نبوت سے مٹانا نہیں ہے جس نے آپ کو اس منصب سے خارج کردیا ہو۔ خوارج کے حروریہ گروہ نے کہا: ’’ہاں!‘‘
تشریح: مندرجہ بالا احادیث میں سے پہلی حدیث کو بخاری میں براء بن عازب سے چار جگہ اور مسلم میں دوجگہ روایت کیا گیا ہے اور ہر جگہ الفاظ مختلف ہیں:
(۱) بخاری کتاب الصلح میں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
قال لعلی امحہ فقال علی ما انا بالذی امحاہ فمحاہ رسول اللّٰہ بیدہ
’’حضور انے حضرت علیص سے فرمایا: ’’یہ الفاظ کاٹ دو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’میں تو نہیں کاٹ سکتا۔‘‘ آخر کار حضورانے اپنے ہاتھ سے انہیں کاٹ دیا۔
(۲) اس کتاب میں دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
ثم قال لعلی امح رسول اللّٰہ، قال: لا واللّٰہ! لا امحوک ابدا فاخذ رسول اللّٰہ الکتاب فکتب ھذا ما قاضٰی علیہ محمد بن عبد اللّٰہ۔
’’پھر علی صسے کہا: ’’رسول اللہ‘‘ کاٹ دو۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’خدا کی قسم! میں آپ کا نام کبھی نہ کاٹوں گا۔‘‘
آخر حضور ا نے تحریر لے کر لکھا: ’’یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدبن عبد اللہ نے طے کیا۔‘‘
(۳) تیسری روایت انہی براء بن عازب سے بخاری کتاب الجزیہ (یہ روایت کتاب الجزیۃ میں نہیں بلکہ بخاری،ج۱، کتاب الجہاد میں ہے۔ (مرتب) میں یہ ہے کہ:
وکان لا یکتب فقال لعلی امح رسول اللّٰہ فقال علی واللّٰہ لا امحاہ ابدا قال فارنیہ قال فاراہ ایاہ فمحاہُ النبی ﷺ بیدہ
’’حضور ا خود نہ لکھ سکتے تھے، آپ نے حضرت علی صسے کہا:’’رسول اللہ کاٹ دو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’خدا کی قسم! میں یہ الفاظ ہرگز نہ کاٹوںگا۔‘‘ اس پر حضورا نے فرمایا: ’’مجھے وہ جگہ بتاؤ جہاں یہ الفاظ لکھے ہیں؟‘‘ انہوں نے آپ کو جگہ بتائی اور آپ نے اپنے ہاتھ سے وہ الفاظ کاٹ دیے۔‘‘
(۴) چوتھی روایت بخاری کتاب المغازی میں یہ ہے:
فاخذ رسول اللّٰہ ﷺ الکتاب ولیس یحسن یکتب فکتب ھذا ماقاضی محمد بن عبد اللّٰہ۔
’’پس حضور انے وہ تحریر لے لی درآں حالیکہ آپ لکھنا نہ جانتے تھے اور آپ نے لکھا: ’’یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدبن عبداللہ نے طے کیا۔‘‘
(۵) انہی براء بن عازب سے مسلم، کتاب الجہاد میں ایک روایت یہ ہے کہ حضرت علیص کے انکار کرنے پر حضور نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہا کے الفاظ مٹا دیے۔
(۶) دوسری روایت اسی کتاب میں ان سے یہ منقول ہے کہ حضور انے حضرت علی صسے فرمایا:’’مجھے بتاؤ رسول اللہ کا لفظ کہاں لکھا ہے؟‘‘ حضرت علی صنے آپ کو جگہ بتائی اور آپ نے اسے مٹا کر ابن عبد اللہ لکھ دیا۔
روایات کے اس اضطراب سے واضح ہوتا ہے کہ بیچ کے راویوں نے حضرت براء بن عازب صکے الفاظ جوں کے توں نقل نہیں کیے ہیں، اس لیے ان میں سے کسی ایک کی نقل پر بھی ایسا مکمل اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکے کہ حضورا نے ’’محمدا بن عبد اللہ‘‘ کے الفاظ اپنے دست مبارک سے ہی لکھے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ صحیح صورت واقعہ یہ ہو کہ جب حضرت علیص نے رسول اللہ کا لفظ مٹانے سے انکار کردیا تو آپ نے اس کی جگہ ان سے پوچھ کر یہ لفظ اپنے ہاتھ سے مٹادیا ہو اور پھر ان سے یا کسی دوسرے کاتب سے ابن عبد اللہ کے الفاظ لکھوادیے ہوں کیوں کہ حضورا تو نبی امی تھے۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے کہ اس موقع پر صلح نامہ دو کاتب لکھ رہے تھے، ایک حضرت علی ص، دوسرے محمد بن مسلمہ (فتح الباری،ج۵، ص۲۱۷) اس لیے یہ امر بعید نہیں ہے کہ جو کام ایک کاتب نے نہ کیا تھا وہ دوسرے کاتب سے لے لیا گیا ہو۔
دوسری وہ حدیث جس میں نبی اکے خواندہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے مجاہد سے ابن ابی شیبہ اور عمر بن شبہ نے نقل کی ہے۔ ما مات رسول اللّٰہ ﷺ حتی کتب وقراً۔ ’’حضوؐر اپنی وفات سے پہلے لکھنا پڑھنا سیکھ چکے تھے۔‘‘ لیکن اول تو یہ سنداً بہت ضعیف روایت ہے جیسا کہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ــــ فضعیف لا اصل لہ ــــ دوسرے اس کی کم زوری یوں بھی واضح ہے کہ اگر حضورانے فی الواقع بعد میں لکھنا پڑھنا سیکھا ہوتا تو یہ بات مشہور ہوجاتی۔ بہت سے صحابہ اس کو روایت کرتے اوریہ بھی معلوم ہوجاتا کہ حضور انے کس شخص یا کن اشخاص سے یہ تعلیم حاصل کی تھی۔ لیکن سوائے ایک عون بن عبد اللہ کے، جن سے مجاہد نے یہ بات سنی، اور کوئی شخص اسے روایت نہیں کرتا اور یہ عون بھی صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں جنہوں نے قطعاً یہ نہیں بتایا کہ انہیں کسی صحابی یا کن صحابیوں سے اس واقعہ کا علم حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسی کم زور روایتوں کی بنیاد پر کوئی ایسی بات قابل تسلیم نہیں ہوسکتی جو مشہور و معروف واقعات کی تردید کرتی ہو۔ (تفہیم القرآن،ج۳، العنکبوت، حاشیہ:۹۱)

ابو جندل کا واقعہ

٥٥- یَا اَبَا جَنْدَلٍ! اِصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَاِنَّا لاَ نَغْدِرُ، اِنَّ اللّٰہَ جَاعِلٌ لَّکَ فَرَجًا وَ مَخْرَجًا۔
(فتح الباری ج:۵۔ باب الشروط فی الجھاد)
ابو جندل، صبر کرو اور ضبط سے کام لو، ہم بد عہدی نہیں کرسکتے، اللہ تمہارے لیے رہائی کی کوئی صورت نکالے گا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ، عَنِ الزُّھْرِیِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، قَالاَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ یُرِیْدُ زِیَارَۃَ الْبَیْتِ لاَ یُرِیْدُ قِتَالاً۔۔۔وَ صَرَخَ اَبُوْ جَنْدَلٍ بِاَعْلٰی صَوْتِہٖ یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اَتُرَدُّوْنَنِیْ اِلٰی اَھْلِ الشِّرْکِ فَیَفْتِنُوْنِیْ فِیْ دِیْنِیْ۔۔۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا اَبَا جَنْدَلٍ اِصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَاعِلٌ لَّکَ وَ لِمَنْ مَّعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ فَرَجًا وَ مَخْرَجًا اِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا، فَاَعْطَیْنَا ھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ وَ اَعْطَوْنَا عَلَیْہِ عَھْدًا وَ اِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِھِمْ، الخ (١٥)
ترجمہ: عروہ بن زبیر نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں سے روایت بیان کی ہے دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا حدیبیہ کے سال زیارت بیت اللہ کے لیے نکلے، لڑنے کے لیے نہیں۔۔۔ادھر ابو جندل نے بلند آواز سے چیخنا چلانا شروع کردیا کہ اے مسلمانوں کی جماعت کیا تم مجھے مشرکوں کی طرف واپس لوٹا رہے ہو جو مجھے میرے دین کے بارے میں آزمائش و فتنہ میں مبتلا کردیں گے۔ اس پر رسول اللہ انے فرمایا: ’’اے ابو جندل! صبرو ضبط سے کام لو اور ثواب کا خیال رکھو، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان کم زور و ضعیف مسلمانوں کے لیے جوتمہارے ساتھ ہیں کشادگی و فراخی کا راستہ پیدا فرمائے گا، ہم نے اپنے اور اس قوم کے درمیان صلح کا معاہدہ طے کرلیا ہے اور اس پر ہم نے اور انہوں نے ایک دوسرے کو عہد و پیمان دے دیا ہے اور ہم اب ان کے ساتھ بد عہدی نہیں کرسکتے۔‘‘
بیہقی نے:
(۲) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَبِیْ جَنْدَلٍ اَبَا جَنْدَلٍ اِصْبِرْ وَاحْتَسِبْ، فَاِنَّ اللّٰہَ جَاعِلٌ لَّکَ وَ لِمَنْ مَّعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ فَرَجًا وَ مَخْرَجًا، اِنَّا قَدْ صَالَحْنَا ھٰٓؤُلَآئِ الْقَوْمَ وَ جَرٰی بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمُ الْعَھْدُ وَ اِنَّا لاَ نَغْدِرُ الخ بیان کیا ہے۔ (١٦)
پس منظر: حدیبیہ کے مقام پر رسول خدا اور کفار قریش کا معاہدہ ہوتاہے۔ صلح کی شرائط طے ہوچکی ہیں اور معاہدہ کی کتابت ہورہی ہے۔ عین اس حالت میں ایک مسلمان ابو جندل بن سہیل کفار کی قید سے بھاگ کر آتے ہیں۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں، بدن پر مار کے اتنے زخم ہیں کہ چور چور ہورہا ہے، وہ آکر مسلمانوں کے سامنے گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا را مجھے ان کی قید سے نکالو۔ رسول اللہ کی رکاب میں ۱۴ سو تلوار بند مسلمان ہیں اور آپ اکے ایک اشارہ میں ابو جندل صکو رہائی مل سکتی ہے مگر کفار سے شرط ہوچکی ہے کہ ’’قریش والوں میںسے جو شخص مسلمانوں کے پاس جائے گا وہ واپس کردیا جائے گا اور مسلمانوں میں سے جو شخص مکہ جائے گا وہ واپس نہ کیا جائے گا۔‘‘ اس لیے رسول اللہا انہیں اپنی حمایت میں لینے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ اپنے زخم دکھا کر فریاد کرتے ہیں کہ کیا آپ مجھے پھر اسی ظلم کا تختہ مشق بننے کے لیے واپس کرتے ہیں۔ اس وقت آپؐ نے مندرجہ بالا الفاظ فرمائے۔ (الجہاد فی الاسلام مصلحانہ جنگ ’’اسلام اور جہانگیریت‘‘)
شرائط معاہدہ کی رو سے عورت کی واپسی کا مسئلہ
٥٦- صلح حدیبیہ کے بعد جو مرد مسلمان ہوکر مکہ سے مدینہ آئے انہیں واپس کردیا گیا مگر جب پہلی خاتون ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ہجرت کرکے مدینے پہنچیں توکفار نے معاہدے کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیااور ان کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انہیں واپس لے جانے کے لیے مدینے میں حضور اکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ انے ان کو واپس کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ: (کان الشرط فی الرجال دون النساء) ’’شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔‘‘ (احکام القرآن، ابن عربی۔ تفسیر کبیر، امام رازی)
تخریج:(۱) وَ عَنِ الزُّھْرِیِّ، اَنَّہٗ قَالَ: اِنَّھَا جَائَ تْ اُمُّ کُلْثُوْمٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعَیْطٍ وَھِیَ عَاتِقٌ، فَجَآئَ اَھْلُھَا یَطْلُبُوْنَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَّرْجِعَھَا اِلَیْھِمْ، وَکَانَتْ ھَرَبَتْ مِنْ زَوْجِھَا عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَ مَعَھَا اَخَوَاھَا عُمَارَۃُ وَالْوَلِیْدُ، فَرَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَخَوَیْھَا وَ حَبَسَھَا فَقَالُوْا: اُرْدُدْھَا عَلَیْنَا، فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَانَ الشَّرْطُ فِی الرِّجَالِ دُوْنَ النِّسَآئِ۔(١٧)
ترجمہ: زہری سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم جو ابھی آزاد دو شیزہ تھیں آئیں تو اس کے سرپرست والی رسول اللہ ا کی خدمت میں یہ مطالبہ پیش کرنے کے لیے آئے کہ آپ اسے ان کے حوالہ کردیں اور اپنے شوہر عمرو بن عاص سے بھاگ کر آئی تھیں اور اس کے دو بھائی عمارہ اور ولید بھی اس کے ساتھ تھے۔ آپ نے ام کلثوم کے دونوں بھائیوں کو تو واپس کردیا اور ام کلثوم بیٹھ رہیں تو سرپرستوں نے تقاضا کیا کہ آپ اسے بھی ہمارے حوالہ کردیں آپ نے فرمایا۔ شرط مردوں کے بارے میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔
(۲) ثَبَتَ اَنَّ النَّبِیَّﷺ لَمَّا صَالَحَ اَھْلَ الْحُدَیْبِیَّۃِ کَانَ فِیْہِ: اَنَّ مَنْ جَآئَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ رُدَّ اِلَیْھِمْ، وَ مَنْ ذَھَبَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ لَمْ یَرُدَّ، وَ تَمَّ الْعَھْدُ عَلٰی ذٰلِکَ۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَدَّ اَبَا بَصِیْرٍ عُتْبَۃَ بْنَ اُسَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ الثَّقَفِیَّ حِیْنَ قَدِمَ، وَ قَدِمَ اَیْضًا نِسَائٌ مُسْلِمَاتٌ، مِنْھُنَّ اُمُّ کُلْثُوْمٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعَیْطٍ، وَ سُبَیْعَۃُ الْاَسْلَمِیَّۃُ وَ غَیْرُھُمَا۔ فَجَآئَ الْاَوْلِیَائُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَسَالُوْہُ رَدَّھُنَّ عَلَی الشَّرْطِ، وَاسْتَدَعُوْا مِنْہُ الْوَفَائَ بِالْعَھْدِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّمَا الشَّرْطُ فِی الرِّجَالِ لاَ فِی النِّسَآئِ۔(١٨)
ترجمہ: یہ ثابت ہے کہ نبی انے اہل حدیبیہ سے جب مصالحت کی تو اس معاہدے میں یہ شرط بھی تھی کہ مسلمانوں کی جانب جو مشرک آئے وہ اسے واپس مشرکین کی جانب لوٹا دیں گے اور جو مسلمان مشرکین کی طرف نکل کر آئے گا اسے واپس نہیں لوٹایا جائے گا۔ اس پر معاہدہ مکمل ہوگیا تھا۔ چناں چہ رسول اللہ انے ابو بصیر جس کا نام عتبہ بن اسید بن حارثہ ثقفی تھا، کو جب وہ آپ کی خدمت میں آیا، واپس کردیا تھا۔ اسی طرح مسلمان خواتین بھی آئیں جن میں ام کلثوم بنت عقبہ اور سبیعہ اسلمیہ وغیرہما تھیں۔ تو ان کے اولیاء (سرپرست) رسول اللہ ا کی خدمت میں آئے اور اس معاہدے کی بنا پر جو آپ اور قریش کے مابین طے ہوا تھا یاد دلاکر عرض کیا کہ وفاء عہد کے طور پر ان کو واپس لوٹانے کی درخواست کی۔ اس کے جواب میں نبی انے فرمایا یہ شرط تو مردوں کے بارے میں تھی عورتوں کے بارے میں نہیں۔
(۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَحْمَدَ، قَالَ: ھَاجَرَتْ اُمُّ کُلْثُوْمٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعَیْطٍ فِی الْھِجْرَۃِ، فَخَرَجَ اَخْوَاھَا عُمَارَۃُ وَالْوَلِیْدُ حَتّٰی قَدِمَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَکَلَّمَاہُ فِیْھَا اَنْ یَّرُدَّھَا اِلَیْھِمَا، فَنَقَضَ اللّٰہُ الْعَھْدَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ الْمُشْرِکِیْنَ فِی النِّسَآئِ خَاصَّۃً فَمَنَعَھُمْ اَنْ یَّرُدُّوْھُنَّ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ اٰیَۃَ الْاِمْتِحَانِ۔(١٩)
ترجمہ: عبد اللہ بن احمد سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ام کلثوم جو عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی تھی نے رسول اللہ اکی طرف ہجرت کی۔ ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید گھر سے نکلے اور رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی بہن کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو جو آپؐ کے اور مشرکین مکہ کے مابین بالخصوص خواتین کے بارے میں طے پایا تھا توڑدیا۔ اور مسلمانوں کو منع فرمادیا کہ وہ عورتوں کو مشرکین کے حوالہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت امتحان نازل فرمادی۔
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اَنَا مَعْمَرٌ، اَخْبَرَنِی الزُّھْرِیُّ اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَ مَرْوَانَ یُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا حَدِیْثَ صَاحِبِہٖ قَالاَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَّۃِ الخ۔۔۔فَقَالَ سُھَیْلٌ: وَعَلٰی اَنَّہٗ لاَ یَاتِیْکَ مِنَّا رَجُلٌ وَ اِنْ کَانَ عَلٰی دِیْنِکَ اِلاَّ رَدَدْتَّہٗ اِلَیْنَا قَالَ الْمُسْلِمُوْنَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ کَیْفَ یُرَدُّ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ وَ قَدْ جَآئَ مُسْلِمًا۔الخ (٢٠)
ترجمہ: عروہ بن زبیر نے مسور اور ابن مخرمہ دونوں سے روایت کی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی بیان کردہ روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔ دونوں نے بیان کیا کہ حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ انکلے۔۔۔سہیل نے یہ شرط طے کی کہ تمہارے پاس ہم میں سے کوئی مرد بھی آئے اگرچہ وہ تمہارے دین ہی پر ہو، تم اسے ہماری طرف واپس کروگے۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! اگر کوئی مسلمان آئے تو ہم کیسے اسے مشرکوں کو واپس کردیں گے؟
تشریح: مدینہ آنے والوں کو واپس کرنے کی شرط مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ کفار قریش کی طرف سے تھی اور ان کی جانب سے ان کے نمائندے سہیل بن عمرو نے جو الفاظ معاہدے میں لکھوائے تھے وہ یہ تھے:
(علی ان لا یاتیک منا رجل و ان کان علی دینک الا رددتہ الیہ)
’’اور یہ کہ تمہارے پاس ہم میں سے کوئی مرد بھی آئے اگرچہ وہ تمہارے دین ہی پر ہو، تم اسے ہماری طرف واپس کروگے۔‘‘
معاہدے کے یہ الفاظ’’بخاری۔ کتاب الشروط، باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ ‘‘میں قوی سند کے ساتھ نقل ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سہیل نے رجل کا لفظ شخص کے معنی میں استعمال کیاہو، لیکن یہ اس کی ذہنی مراد ہوگی، معاہدے میں جو لفظ لکھا گیا تھا وہ رجل ہی تھا جو عربی زبان میںمرد کے لیے بولا جاتا ہے۔
دراصل قریش کے لوگ خود بھی اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدے کا اطلاق ہر طرح کے مہاجرین پر ہوتا ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت مگر جب حضور انے ان کو معاہدے کے ان الفاظ کی طرف توجہ دلائی تو وہ دم بخود رہ گئے اور انہیں ناچار اس فیصلے کو ماننا پڑا۔
اس معاہدے کے بارے میں مسلمانوں کا خیال بھی یہی ہے کہ شرط مرد و عورت دونوں کے بارے میں تھی۔ اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کی شرائط کے متعلق احادیث میں جو روایتیں ہمیں ملتی ہیں وہ اکثرو بیشتر بالمعنی روایات ہیں۔ اس شرط کے متعلق ان میں سے کسی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ:
(من جاء منکم لم نردہ علیکم و من جاء کم منا رددتموہ علینا)
’’تم میں سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا اسے ہم واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو تمہارے پاس جائے گا اسے تم واپس کروگے۔‘‘
کسی میں یہ الفاظ ہیں:
(من اتی رسول اللّٰہ من اصحابہ بغیر اذن ولیہ ردہ علیہ)
’’رسول اللہ اکے پاس ان کے اصحاب میں سے جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آئے گا اسے وہ واپس کردیں گے۔‘‘
اور کسی میںہے:
(من اتی محمداً من قریش بغیر اذن ولیہ ردہ علیھم)
’’قریش میں سے جو شخص محمد کے پاس اپنے ولی کی اجازت کے بغیر جائے گا اسے وہ قریش کوواپس کردیں گے۔‘‘
ان روایات کا طرز بیان خود یہ ظاہر کررہا ہے کہ ان میں معاہدے کی اس شرط کو ان الفاظ میں نقل نہیں کیا گیا ہے جو اصل معاہدے میں لکھے گئے تھے، بلکہ راویوں نے ان کا مفہوم خود اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے، لیکن چوں کہ بکثرت روایات اس نوعیت کی ہیں اس لیے عام طور پر مفسرین و محدثین نے اس سے یہی سمجھا کہ معاہدہ عام تھا جس میں عورت مرد سب داخل تھے اور عورتوں کو بھی اس کی رو سے واپس ہونا چاہیے تھا اس کے بعد جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم آیا کہ مومن عورتیں واپس نہ کی جائیں تو ان حضرات نے ان کی یہ تاویل کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومن عورتوں کی حد تک معاہدہ توڑ دینے کا فیصلہ فرمادیا۔ مگریہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جس کو اس آسانی کے ساتھ قبول کرلیا جائے۔ اگر معاہدہ فی الواقع بلا تخصیص مرد و زن سب کے لیے عام تھا تو آخر یہ کیسے جائز ہوسکتا تھا کہ ایک فریق اس میں یک طرفہ ترمیم کردے یا اس کے کسی جز کو بطور خود بدل ڈالے؟ اور بالغرض ایسا کیا بھی گیا تھا تو یہ کیسی عجیب بات ہے کہ قریش کے لوگوں نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ قریش والے تو رسول اللہا اور مسلمانوں کی ایک ایک بات پر گرفت کرنے کے لیے خار کھائے بیٹھے تھے انہیں اگر یہ بات ہاتھ آجاتی کہ آپ شرائط معاہدہ کی صریح خلاف ورزی کر گزرے ہیں تو وہ زمین و آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ لیکن ہمیں کسی روایت میںاس کا شائبہ تک نہیں ملتا کہ انہوںنے قرآن کے اس فیصلے پر ذرہ برابربھی چوں و چرا کی ہو۔ یہ ایسا سوال تھا جس پر غور کیا جاتا تو معاہدے کے اصل الفاظ کی جستجو کرکے اس پیچیدگی کا حل تلاش کیا جاتا۔ مگر بہت سے لوگوں نے تو اس کی طرف توجہ نہ کی اور بعض حضرات (مثلاً قاضی ابوبکر ابن عربی) نے توجہ کی بھی تو انہوں نے قریش کے اعتراض نہ کرنے کی یہ توجیہ تک کرنے میں تامل نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ ( احکام القرآن لابن العربی ج۴ ص۱۷۸۶۔) اس معاملے میں قریش کی زبان بند کردی تھی۔ تعجب ہے کہ اس توجیہہ پر ان حضرات کا ذہن کیسے مطمئن ہوا۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الممتحنۃ، حاشیہ:۱۴)

اسلامی کیمپ پر شب خون کی سازش

٥٧-صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے ۸۰ آدمی تنعیم کی طرف سے آئے اور فجر کی نماز کے قریب انہوں نے آپ کے کیمپ پر اچانک شب خون مارنے کا ارادہ کیا۔ مگر وہ سب کے سب پکڑ لیے گئے اور حضوؐر نے سب کو چھوڑدیا تاکہ اس نازک موقع پر یہ معاملہ لڑائی کا موجب نہ بن جائے۔ (مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، مسند احمد) (تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ النَّاقِدُ، قَالَ: نَا یَزِیْدُ ابْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ ثَمَانِیْنَ رَجُلاً مِّنْ اَھْلِ مَکَّۃَ ھَبَطُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِیْمِ مُتَسَلِّحِیْنَ یُرِیْدُوْنَ غِرَّۃَ النَّبِیِّ ﷺ وَ اَصْحَابَہٗ، فَاَخَذَھُمْ سَلْمًا فَاسْتَحْیَاھُمْ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَ ھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْھِمْ۔(٢١)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ اسی (۸۰) افراد پر مشتمل ایک مسلح گروہ تنعیم پہاڑ کی جانب سے رسول اللہا کی جانب اترا انہوں نے آپ اور آپ کے صحابہ کے کیمپ پر اچانک شب خون مارنے کا ارادہ کیا ان سب کو پکڑ لیا گیا مگر حضور انے سب کو چھوڑدیا۔ اس موقع سے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: (وَ ھُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْھِم) ’’اللہ وہ ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم پر پڑنے سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان پر پڑنے سے روکا مکہ کی وادی میں، اس کے بعد کہ تم ان پر فتح یاب تھے۔‘‘

فتح مبین

٥٨- (جب قرآن میں صلح حدیبیہ کو فتح مبین کہا گیا تو صحابہ ث حیران ہوئے) حضرت عمرص نے پوچھا: ’’یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے؟‘‘ حضورا نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ ای والذی نفس محمد بیدہ! انہ لفتح۔ (ابن جریر)
ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی یہی سوال کیا، آپ نے فرمایا(ای والذی نفس محمد بیدہٖ! انہ لفتح )’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یقینا یہ فتح ہے۔‘‘ (مسند احمد، ابو داؤد) (تفہیم القرآن،ج۵، الفتح، حاشیہ:۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ ح قَالَ وَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ وَ تَقَارَبَا فِی اللَّفْظِ، قَالَ نَا اَبِیْ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ سِیَاہٍ، قَالَ: نَا حَبِیْبُ بْنُ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، قَالَ: قَامَ سَھْلُ بْنُ حُنَیْفٍ یَوْمَ صِفِّیْنَ، فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّھِمُوْا اَنْفُسَکُمْ لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّۃِ وَلَوْ نَرٰی قِتَالاً لَقَاتَلْنَا وَ ذٰلِکَ فِی الصُّلْحِ الَّذِیْ کَانَ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ بَیْنَ الْمُشْرِکِیْنَ، فَجَآئَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَسْنَا عَلٰی حَقٍّ وَ ھُمْ عَلٰی بَاطِلٍ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: اَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَ قَتْلاَ ھُمْ فِی النَّارِ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَفِیْمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِیْ دِیْنِنَا وَ نَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمْ، قَالَ: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ لَنْ یُضَیِّعَنِی اللّٰہُ اَبَدًا، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ یَصْبِرْ مُتَغَیِّظًا، فَاَتٰی اَبَابَکْرٍ، فَقَالَ: یَا اَبَابَکْرٍ! أَلَسْنَا عَلٰی حَقٍّ وَ ھُمْ عَلٰی بَاطِلٍ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: اَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَ قَتْلاَھُمْ فِی النَّارِ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَعَلاَمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِیْ دِیْنِنَا وَ نَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمْ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ: اِنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللّٰہُ اَبَدًا، قَالَ: فَنَزَلَ الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِالْفَتْحِ، فَاَرْسَلَ اِلٰی عُمَرَ فَاَقْرَأْہٗ اِیَّاہُ، فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَوَ فَتْحٌ ھُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَطَابَتْ نَفْسُہٗ وَ رَجَعَ۔(٢٢)
ترجمہ: حضرت سہل بن حنیف معرکۂ صفین کے روز کھڑے ہوئے اور کہا۔ لوگو! ذرا سمجھو، غور کرو جب ہم حدیبیہ کے روز رسول اللہ اکے ساتھ تھے۔ اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑائی کرسکتے تھے اور یہ اس صلح کی بات ہے جو رسول اللہ ا اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت عمرص رسول اللہ اکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا: ’’کیوں نہیں‘‘ حضرت عمرص نے پھر دریافت کیا: ’’کیا ہمارے مقتول، شہداء جنت میں نہیں ہیں اور ان مشرکین کے آتش دوزخ میں؟‘‘ فرمایا: ’’کیوں نہیں، بالکل ایسا ہی ہے۔‘‘ تو حضرت عمر ص نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ! پھر ہم اپنے دین میں یہ دھبہ لگا کر کیوں واپس جائیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ نہیں فرمایا۔‘‘ اس پر رسول اللہا نے فرمایا: ’’خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں وہ مجھے ہرگز ضائع نہیں فرمائے گا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ غصہ سے مغلوب ہوکربے صبری میں حضرت ابو بکر ص کے پاس آئے اور ان سے بھی پوچھا: کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ باطل پر؟’’کیا ہمارے مقتول، شہداء جنت میں نہیں جائیں گے اور ان مشرکین کے جہنم میں؟‘‘ ابوبکر صے جواب دیا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ تو حضرت عمر صبولے: ’’تو پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین پر یہ دھبہ، رسوائی لگوا کر واپس جائیں، جب کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا۔‘‘ حضرت ابوبکر صنے کہا: ’’اے ابن خطاب! وہ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں، اللہ ان کو ہرگز کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ پھر قرآن نازل ہوا جس میں فتح و کامرانی کا تذکرہ ہے۔ (سورہ فتح میں انا فتحنا۔۔۔الخ) آپ نے حضرت عمرصکو بلایا اور انہیں یہ سورت پڑھائی۔ انہوں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! کیا یہ صلح فتح ہے ہماری؟‘‘ ارشاد ہوا: ’’ہاں! پس پھر وہ خوش ہوگئے اور واپس لوٹ گئے۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیْسٰی، ثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یَعْقُوْبَ بْنَ مُجَمِّعٍ یَذْکُرُ عَنْ عَمِّہٖ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیِّ عَنْ عَمِّہٖ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِیَۃَ الْاَنْصَارِیِّ وَکَانَ اَحَدَ الْقُرَّائِ الَّذِیْنَ قَرَؤُا الْقُرْاٰنَ قَالَ: شَھِدْنَا الْحُدَیْبِیَّۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْھَا اِذَا النَّاسُ یَھُزُّوْنَ الْاَبَاعِرَ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوْا: اُوْحِیَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوْجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِیَّ ﷺ وَاقِفًا عَلٰی رَاحِلَتِہٖ عِنْدَ کُرَاعِ الْغَمِیْمِ فَلَمَّا اجْتَمَعَ عَلَیْہِ النَّاسُ قَرَأَ عَلَیْھِمْ اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا، فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَتْحٌ ھُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ اِنَّہٗ لَفَتْحٌ الحدیث۔(٢٣)
ترجمہ: مجمع بن جاریہ انصاری کا بیان ہے کہ ہم حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہا کے ساتھ تھے۔ جب ہم واپس ہوئے تو دیکھا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو جلدی جلدی بھگانے لگے۔ تو ایک دوسرے سے پوچھا کہ ایسی جلدی کرنے کا کیا سبب ہے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ا پر وحی کا نزول ہوا ہے۔ تو ہم بھی بھاگتے ہوئے لوگوں کے ساتھ نکلے۔ ہم نے رسول اللہا کو اپنی اونٹنی پر کراع الغمیم کے پاس سوارپایا۔ جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ نے ان کے سامنے (انا فتحنا لک فتحا مبینا) پڑھا۔ ایک آدمی نے دریافت کیا: ’’یا رسول اللہ ا ! کیا وہ فتح ہے؟‘‘ ارشاد ہوا: ’’ہاں، اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یقینا وہ فتح ہے۔‘‘
(۳) قَالَ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ فِیْ قِصَّۃِ الْخَنْدَقِ: فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلاَئُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ وَ اَصْحَابِہٖ، نَافَقَ نَاسٌ کَثِیْرٌ، وَ تَکَلَّمُوْا بِکَلاَمٍ قَبِیْحٍ فَلَمَّا رَاَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا فِیْہِ النَّاسِ مِنَ الْبَلاَئِ وَالْکَرْبِ جَعَلَ یُبَشِّرُھُمْ وَ یَقُوْلُ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُفَرِّجَنَّ عَنْکُمْ مَا تَرَوْنَ مِنَ الشِّدَّۃِ وَالْبَلاَئِ، فَاِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ اَطُوْفَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ آمِنًا وَ اَنْ یَّدْفَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَفَاتِحَ الْکَعْبَۃِ، وَ لَیُھْلِکَنَّ اللّٰہُ کِسْرٰی وَ قَیْصَرَ، وَلَتُنْفِقُنَّ کُنُوْزَھُمَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ مَعَہٗ لِاَصْحَابِہٖ: أَلاَ تَعْجَبُوْنَ مِنْ مُّحَمَّدٍ یَعِدُنَا اَنْ نَّطُوْفَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ وَ اَنْ نَغْنِمَ کُنُوْزَ فَارِسَ وَالرُّوْمَ وَ نَحْنُ ھٰھُنَا لاَ یَاْمُنَ اَحَدُنَا اَنْ یَّذْھََبَ اِلَی الْغَائِطِ وَاللّٰہِ لَمَّا یَعِدُنَا اِلاَّ غُرُوْرًا، وَ قَالَ آخَرُوْنَ مِمَّنْ مَعَہٗ اِئْذَنْ لَنَا، فَاِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ، وَ قَالَ آخَرُوْنَ: یَا اَھْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا۔(٢٤)
ترجمہ: موسی بن عقبہ نے خندق کے قصہ میں بیان کیا کہ جب نبی ا اور آپ کے ساتھیوں پر سخت مصیبت آن پڑی تو بہت سے لوگ نفاق کی روش پر چل نکلے اور ناگفتہ بہ بری باتیں کرنے لگے۔ جب رسول اللہ ا نے لوگوں کو مصائب اور تکلیفوں میں مبتلا دیکھا تو آپ نے انہیں خوش خبری اور بشارت دینی شروع کی اور فرماتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ بالضرور تمہیں ان مشکلات و مصائب سے نجات دے گا جن میں اس وقت تم لوگ گرفتار ہو اور مجھے توقع اور امید ہے کہ میں امن و امان سے بیت اللہ کا طواف کروں گا اور اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کی چابیاں مجھے دلوائے گا اور کسریٰ اور قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کے خزانے کو فی سبیل اللہ لازماً خرچ کروگے۔ آپ کے ساتھ شریک لوگوں میں سے ایک نے کہا کیا تمہیں محمدؐ پر تعجب و حیرت نہیں کہ وہ وعدہ تو ہم سے یہ کررہے ہیں کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے اور قیصر و کسریٰ کے خزانے آپس میں بطور غنیمت تقسیم کریں گے۔ حالاں کہ ہم جس نازک صورت حال میں دو چار ہیں اس کی نوعیت یہ ہے کہ ہم سے کوئی اطمینان و امن سے جنگل تک نہیں جاسکتا۔ اللہ کی قسم محمدؐ جو ہم سے وعدہ کررہے ہیں وہ سراسر دھوکہ اور فریب ہے اور کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے، بولے ہمیں تو اجازت دیں کہ ہم گھر واپس جائیں کیوں کہ ہمارے گھر اب غیر محفوظ ہیں اور کچھ نے کہا اہل یثرب اب تمہارے لیے کوئی مقام نہیں لہٰذا واپس لوٹ چلو۔
٥٩- مدینہ پہنچ کر ایک اور صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’یہ کیسی فتح ہے؟ ہم بیت اللہ جانے سے روک دیے گئے، ہماری قربانی کے اونٹ بھی آگے نہ جاسکے، رسول اللہا کو حدیبیہ میں ہی رک جانا پڑا اور اس صلح کی بدولت ہمارے دو مظلوم بھائیوں (ابو جندل اور ابو بصیر) کو ظالموں کے حوالے کردیا گیا۔‘‘ نبی ا تک یہ بات پہنچی تو آپ ا نے فرمایا: ’’یہ بڑی غلط بات کہی گئی ہے، حقیقت میں تو یہ بہت بڑی فتح ہے۔ تم مشرکوں کے عین گھرپر پہنچ گئے اور انہوں نے آئندہ سال عمرہ کرنے کی درخواست کرکے تمہیں واپس جانے پر راضی کیا، انہوں نے تم سے خود جنگ بند کردینے اور صلح کرلینے کی خواہش کی، حالاں کہ ان کے دلوں میں تمہارے لیے جیسا کچھ بغض ہے وہ معلوم ہے، اللہ نے تم کوان پر غلبہ عطا کردیا ہے۔ کیا وہ دن بھول گئے جب احد میں تم بھاگے جارہے تھے اور میں تمہیں پیچھے سے پکار رہا تھا؟ کیا وہ دن بھول گئے جب جنگ احزاب میں ہر طرف سے دشمن چڑھ آئے تھے اور کلیجے منہ کو آر ہے تھے؟‘‘ (بیہقی بروایت عروہ بن زبیر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: تَعُدُّوْنَ اَنْتُمُ الْفَتْحَ، فَتْحَ مَکَّۃَ، وَقَدْ کَانَ فَتْحُ مَکَّۃَ فَتْحًا، وَ نَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّۃِ الخ۔(۲۵)
(۲) عَنْ عُرْوَۃَ، قَالَ: اَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْحُدَیْبِیَّۃِ مُرَاجِعًا فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاللّٰہِ مَا ھٰذَا بِفَتْحٍ، لَقَدْ صَدَدْنَا عَنِ الْبَیْتِ وَ صَدَّ ھَدْیَنَا وَعَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، وَرَدَّ رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ خَرَجَا، فَبَلَغَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ، فَقَالَ: بِئْسَ الْکَلاَمُ ھٰذَا بَلْ ھُوَ اَعْظَمُ الْفَتْحِ، لَقَدْ رَضِیَ الْمُشْرِکُوْنَ اَنْ یَّدْفَعُوْکُمْ بِالرَّاحِ عَنْ بِلاَدِھِمْ وَ یَسْأَلُوْنَکُمُ الْقَضِیَّۃَ وَ یَرْغَبُوْنَ اِلَیْکُمْ فِی الْاَمَانِ۔ وَ قَدْ کَرِھُوْا مِنْکُمْ مَاکَرِھُوْا وَقَدْ اَظْفَرَکُمُ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَدَّکُمْ سَالِمِیْنَ غَانِمِیْنَ مَاجُوْرِیْنَ، فَھٰذَا اَعْظَمُ الْفَتْحِ۔ أَ نَسِیْتُمْ یَوْمَ اُحُدٍ: اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلاَ تَلْوٗنَ عَلٰی اَحَدٍ وَاَنَا اَدْعُوْکُمْ فِیْ اُخْرَاکُمْ؟ أَ نَسِیْتُمْ یَوْمَ الْاَحْزَابِ، اِذْ جَائُ وْکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَ؟ قَالَ الْمُسْلِمُوْنَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ ھُوَ اَعْظَمُ الْفُتُوْحِ وَاللّٰہِ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ الخ۔(٢٦)
ترجمہ: حضرت عروہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہا حدیبیہ سے واپس ہوئے تو آپ کے اصحاب میں سے کسی نے عرض کیا واللہ یہ فتح نہیں ہے ہمیں بیت اللہ کے حج و عمرہ سے روک دیا گیا ہے نیز ہماری قربانیوں کے جانور وہاں پہنچنے نہیں دیے گئے۔ خود رسول اللہا حدیبیہ میں بند ہوگئے اور مشرکین کی قید سے نکل بھاگنے والے دوشخصوں کو واپس کردیا گیا۔ یہ کیسی فتح ہے؟ یہ بات رسول اللہا تک بھی پہنچ گئی تو آپ نے فرمایا بہت بری ہے یہ گفتگو، ایسی بات نہیں بلکہ صلح حدیبیہ تو بہت بڑی فتح ہے۔ مشرکین تمہیں اپنے شہروں سے بخوشی واپس بھیجنے پر رضا مند ہوئے اور مسئلہ کے حل کا تم سے تقاضا کیا اور امن و امان کے بارے میں تمہارے ساتھ دلچسپی کا اظہار کیا اور تمہارے بارے میں جس ناپسندیدگی کا اظہار کیا وہ تو کیا، مگر اللہ نے تمہیں کامرانی و کامیابی سے سرفراز فرمایا اور تمہیں بسلامت واپس کیا مال غنیمت تمہیں حاصل ہوا اور اجرو ثواب سے نوازا گیا۔ لہٰذا یہ تو بہت بڑی فتح ہے کیا تم احد کے روز کو بھول گئے ہو جب تم پہاڑ کے اوپر چڑھ رہے تھے اور کوئی کسی کی طرف مڑ کر دیکھتا تک نہ تھا اور میں تمہیں پیچھے سے پکار رہا تھا۔ کیا تمہیں خندق کا دن بھول گیا ہے جب دشمن کا گروہ تم پر اوپر سے نیچے سے حملہ آور تھا اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور بھیجے منہ کو آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔ مسلمان بولے۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے۔ واللہ! اے اللہ کے نبی وہ سب سے بڑی فتح ہے۔
تشریح: صلح حدیبیہ کے بعد جب فتح کا مژدہ سنایا گیا تو لوگ حیران تھے کہ آخر اس صلح کو فتح کیسے کہا جاسکتا ہے۔ ایمان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو مان لینے کی بات تو دوسری تھی مگر اس کے فتح ہونے کا پہلو کسی کی سمجھ میں نہ آرہا تھا۔
مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ اس صلح کا فتح ہونا بالکل عیاں ہوتا چلا گیا اور ہر خاص و عام پر یہ بات پوری طرح کھل گئی کہ فی الواقع اسلام کی فتح کا آغاز صلح حدیبیہ ہی سے ہوا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت براء بن عازب ثتینوں حضرات سے قریب قریب ایک ہی معنی میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ: ’’لوگ فتح مکہ کو فتح کہتے ہیں، حالاں کہ ہم اصل فتح حدیبیہ کو سمجھتے ہیں۔‘‘ (تفہیم القرآن،ج۵، الفتح، حاشیہ:۱)

وفود کی آمد وفد نجران

٦٠- جب نبی ا نے مکہ فتح کیا اور تمام اہل عرب کو یقین ہوگیا کہ ملک کا مستقبل اب محمدا کے ہاتھ میں ہے تو عرب کے مختلف گوشوں سے آپ کے پاس وفد آنے شروع ہوگئے۔ اسی سلسلہ میں نجران کے تینوں سردار بھی ۶۰ آدمیوں کا ایک وفد لے کر مدینہ پہنچے۔ جنگ کے لیے بہ ہر حال وہ تیار نہ تھے۔ اب سوال صرف یہ تھا کہ آیا وہ اسلام قبول کرتے ہیں یا ذمی بن کر رہنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی ا پر خطبہ نازل کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے وفد نجران کو اسلام کی طرف دعوت دی جائے۔ (تفہیم القرآن،ج۱، اٰل عمران، حاشیہ:۲۹)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَ قَدِمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ وَفْدُ نَصَارٰی نَجْرَانَ، سِتُّوْنَ رَاکِبًا، فِیْھِمْ اَرْبَعَۃَ عَشَرَ رَجُلاً مِّنْ اَشْرَافِھِمْ، فِی الْاَرْبَعَۃِ عَشَرَ مِنْھُمْ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ اِلَیْھِمْ یَئُوْلُ اَمْرُھُمْ اَلْعَاقِبُ، اَمِیْرُالْقَوْمِ وَ ذُوْ رَأیِھِمْ، وَ صَاحِبُ مَشْوُرَتِھِمْ وَالَّذِیْ لاَ یُصْدِرُوْنَ اِلاَّ عَنْ رَأْیِہٖ، وَ اِسْمُہٗ، عَبْدُ الْمَسِیْحِ، وَالسَّیِّدُ، ثُمَالُھُمْ، وَ صَاحِبُ رَحْلِھِمْ مُجْتَمِعِھِمْ وَ اِسْمُہٗ الْاَیْھُمْ، وَ اَبُوْحَارِثَۃَ بْنُ عَلْقَمَۃَ، اَحَدُ بَنِیْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ، اُسْقُفُّھُمْ، وَ حَبْرُھُمْ وَ اِمَامُھُمْ، وَ صَاحِبُ مِدْرَاسِھِمْ۔(٢٧)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہا کے پاس نجران کے نصاریٰ کا وفد آیا، جس میں ساٹھ سوار تھے۔ ان ساٹھ میں سے چودہ ان کے سربر آوردہ لوگ تھے۔ پھران چودہ میں سے تین شخص ایسے تھے جو مرجع عام تھے۔ ان میں سے ایک عاقب تھا، جو قوم کا سردار اور ان سب کو ایسا مشورہ اور رائے دینے والا تھا کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی رائے کی جانب رجوع نہ کرتے تھے۔ اس کا نام عبد المسیح تھا اور دوسرا سید تھا جو ان کی دیکھ بھال کرنے والا اور ان کے سفروں اور اجتماعات کا انتظام کرنے والا تھا۔ اس کا نام ایہم تھا اور تیسرا ابو حارثہ بن علقمہ تھا جو بنو بکر بن وائل کا ایک فرد تھا نیز ان کا مذہبی قائد و رہنما اور ان کی درس گاہوں کا افسرتھا۔
(۲) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ:اِنَّ ھٰذَا: الَّذِیْ جِئْتُ بِہٖ مِنَ الْخَبَرِ عَنْ عِیْسٰی: لَھُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ، مِنْ اَمْرِہٖ، وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلاَّ اللّٰہُ، وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِالْمُفْسِدِیْنَ۔ قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا، وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا، فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ فَدَعَاھُمْ اِلَی النَّصَفِ وَ قَطَعَ عَنْھُمُ الْحُجَّۃَ۔(٢٨)
ترجمہ: ابن اسحاق نے کہا بے شک جو خبر میں عیسیٰ کے متعلق لایا ہوں یقینا سچی و حقیقی خبر ہے اور اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں اور اللہ یقینا غالب اور حکمت والا ہے۔ پھر اگر انہوں نے روگردانی کا ارتکاب کیا تو (یاد رکھو) اللہ فسادیوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اہل کتاب، آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے مابین مشترکہ ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ کسی کو اس کا شریک قرار دیں اور نہ اللہ کو چھوڑ کر ہم میں سے کوئی دوسرے کو اپنا رب بنائے پھر اگر انہوں نے روگردانی کی تو تم ان سے صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو اسی کے مطیع فرمان ہیں۔ پس آپ نے انہیں انصاف کی ایک بات کی طرف دعوت دی اور لاجواب کردیا۔

مباہلہ و مناظرہ

٦١- مباہلہ کا فیصلہ حضور ا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور یہ مباہلہ یہود سے نہیں بلکہ عیسائیوں سے کیا گیا تھا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَیْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ آدَمَ عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: جَآئَ الْعَاقِبُ وَالسَّیِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یُرِیْدَانِ اَنْ یُّلاَعِنَاہُ، قَالَ: فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: لاَ تَفْعَلْ فَوَاللّٰہِ لَئِنْ کَانَ نَبِیًّا فَلاَعَنَّا لاَ نُفْلِحُ نَحْنُ وَلاَ عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا قَالاَ: اِنَّا نُعْطِیْکَ مَاسَأَلْتَنَا، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً اَمِیْنًا، وَلاَ تَبْعَثُ مَعَنَا اِلاَّ اَمِیْنًا، فَقَالَ: لَاَبْعَثَنَّ مَعَکُمْ رَجُلاً اَمِیْنًا حَقَّ اَمِیْنٍ فَاسْتَشْرَفَ لَھَا اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: قُمْ اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَلَمَّا قَامَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ھٰذَا اَمِیْنُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔(٢٩)
(۲) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَلَمَّا اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ الْخَبَرُ مِنَ اللّٰہِ عَنْہُ، وَالْفَصْلُ مِنَ الْقَضَائِ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَھُمْ، وَاُمِرَ بِمَا اُمِرَ بِہٖ مِنْ مُلاَعَنَتِھِمْ اِنْ رَدُّوْا ذٰلِکَ عَلَیْہِ، دَعَاھُمْ اِلٰی ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہٗ: یَا اَبَا الْقَاسِمِ، دَعْنَا نَنْظُرْ فِیْ اَمْرِنَا، ثُمَّ نَاْتِیْکَ بِمَا نُرِیْدُ اَنْ نَفْعَلَ فِیْمَا دَعَوْتَنَا اِلَیْہِ، فَانْصَرَفُوْا عَنْہُ، ثُمَّ خَلَوْا بِالْعَاقِبِ، وَکَانَ ذَا رَأْیِھِمْ، فَقَالُوْا: یَا عَبْدَ الْمَسِیْحِ، مَاذَا تَرٰی؟ فَقَالَ: وَاللّٰہِ یَا مَعْشَرَ النَّصَارٰی، لَقَدْ عَرَفْتُمْ اَنَّ مُحَمَّدًا لَنَبِیٌّ مُّرْسَلٌ، وَلَقَدْ جَآئَکُمْ بِالْفَصْلِ مِنْ خَبَرِ صَاحِبِکُمْ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ مَالاَعَنَ قَوْمٌ نَبِیًّا قَطُّ فَبَقِیَ کَبِیْرُھُمْ، وَلاَ نَبَتَ صَغِیْرُھُمْ، وَ اِنَّہٗ لَلْاِسْتِئْصَالُ مِنْکُمْ اِنْ فَعَلْتُمْ، فَاِنْ کُنْتُمْ قَدْاَبَیْتُمْ اِلاَّ إِلْفَ دِیْنِکُمْ، وَالْاِقَامَۃَ عَلٰی مَا اَنْتُمْ عَلَیْہِ مِنَ الْقَوْلِ فِیْ صَاحِبِکُمْ، فَوَادِعُوا الرَّجُلَ، ثُمَّ انْصَرِفُوْا اِلٰی بِلاَدِکُمْ۔ فَاَتَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالُوْا: یَا اَبَا الْقَاسِمِ، قَدْ رَأَیْنَا اَلاَّ نُلاَعِنَکَ، وَاَنْ نَتْرُکَکَ عَلٰی دِیْنِکَ وَنَرْجِعَ عَلٰی دِیْنِنَا، وَلٰـکِنِ ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً مِنْ اَصْحَابِکَ تَرْضَائُ لَنَا یَحْکُمُ بَیْنَنَا فِیْ اَشْیَائٍ اِخْتَلَفْنَا فِیْھَا مِنْ اَمْوَالِنَا فَاِنَّکُمْ عِنْدَنَا رِضًا۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ائتُونِی الْعَشِیَّۃَ اَبْعَثْ مَعَکُمُ الْقَوِیَّ الْاَمِیْنَ۔ قَالَ: فَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ: مَا اَحْبَبْتُ الْاِمَارَۃَ قَطُّ حُبِّیْ اِیَّاھَا یَوْمَئِذٍ رِجَائَ اَنْ اَکُوْنَ صَاحِبَھَا، فََرَحْتُ اِلَی الظُّھْرِ مُھَجِّرًا، فَلَمَّا صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الظُّھْرَ سَلَّمَ۔ ثُمَّ نَظَرَ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ یَّسَارِہٖ۔ فَجَعَلْتُ اَلطَّاوَلُ لَہٗ لِیَرَانِیْ۔ فَلَمْ یَزَلْ یَلْتَمِسُ بِبَصَرِہٖ، حَتّٰی رَاٰی اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ اَلْجَرَّاحِ فَدَعَاہُ، فَقَالَ: اُخْرُجْ مَعَھُمْ، فَاقْضِ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ قَالَ عُمَرُ: فَذَھَبَ بِھَا اَبُوْ عُبَیْدَۃَ۔(٣٠)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب اللہ کی جانب سے رسول اللہ ا کے پاس خبر آئی اور آپ کے اور ان کے درمیان جھگڑے کا فیصلہ پہنچ گیا اگرچہ وہ آپ کے ان دعوؤں کی تردید ہی کرتے رہے تو آپ کو ان سے مباہلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ چناں چہ آپ نے ان کو مباہلہ کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا اے ابوقاسم ہمیں اپنے معاملہ میں غور کرنے کی مہلت دیں، آپ نے جو دعوت ہمیں دی ہے اس کی روشنی میں ہم جو کچھ کرنا چاہیں اس سلسلہ میں اہم فیصلہ کرکے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ غرض وہ آپ کے پاس سے چلے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے العاقب کے ساتھ جو ان میں صاحب الرائے تھے خلوت و تنہائی میں گفتگو کی۔ تبادلہ خیالات کے دوران میں انہوں نے اس سے کہا اے عبد المسیح آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا اے گروہ نصاریٰ یقینا تم لوگ جانتے ہو کہ محمدؐ بلا شبہ اللہ کا رسول ہے اس کا مبعوث کیا ہوا نبی ہے۔ تمہارے پاس اپنے دوست کے اس فیصلے کی اطلاع بھی پہنچ چکی ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کسی قوم نے جب اپنے نبی سے مباہلہ کیا تو نہ اس کا کوئی بڑا بوڑھا باقی رہا اور نہ کم سن پروان چڑھے۔ اور شان یہ ہے کہ اگر تم نے مباہلہ کی حماقت کی تو تمہاری جڑ تک اکھاڑ دی جائے گی۔ اگر تمہیں دین کی الفت کے سوا دوسری بات سے انکار ہو اور جو کچھ کہہ چکے ہو اسی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو اس شخص سے مصالحت کرلو اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ پس وہ رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے ابوالقاسم ہمیں یہی مناسب معلوم ہوا کہ آپ سے مباہلہ نہ کریں اور آپ کو آپ کے دین پر چھوڑدیں اور ہم اپنے دین پر رہتے ہوئے واپس چلے جائیں۔ لیکن آپ اپنے ساتھیوں میں سے ایسے کسی شخص کو ہمارے ساتھ بھیج دیں جو ہمارے درمیان مالی معاملات کے اختلافات کا فیصلہ کرے۔ آپ ہمارے نزدیک پسندیدہ لوگ ہیں۔ محمدبن جعفر کا بیان ہے آپ نے فرمایا شام کو میرے پاس آنا۔ میں ایک قوی، امانت دار کو تمہارے ساتھ بھیج دوں گا۔ راوی کا بیان ہے حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ عہدۂ امارت پر فائز ہونے کی جتنی خواہش میرے اندر اس روز پیدا ہوئی ویسی خواہش کبھی بھی پیدا نہ ہوئی۔ محض اس امید کی بنا پر کہ میں اس کا اہل ہوں ( قوی و امین ہوں) اس لیے میں نماز ظہر کے لیے دھوپ میں جلدی مسجد میں پہنچ گیا۔ جب رسول اللہ ا نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور سلام پھیرا۔ پھر آپ نے اپنی دائیں اور بائیں جانب نظر دوڑائی تو میں اونچا ہو ہوکر آپ کے روبرو آنے کی کوشش کرتا رہا کہ آپ کی نگاہ مجھ پر پڑجائے۔ مگر آپ کی نگاہیں کسی کو تلاش کرتی رہیں یہاں تک آپ کو ابوعبیدہ بن الجراح نظر آگئے۔ انہیں آپ نے بلا کر فرمایا۔ ان لوگوں کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافی معاملات میں ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ابوعبیدہ اس وفد کے ساتھ گئے۔
تشریح:نبی ا کی حیات طیبہ میں مباہلہ کا صرف یہی ایک واقعہ ملتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے مباہلے کو نزاعی امور کے فیصلے کا مستقل طریقہ قرار نہیں دیا ہے کہ جب کبھی کسی کافر یا مسلمان سے کسی قسم کا اختلاف ہو تو فوراً مباہلے کی دعوت دے ڈالی جائے۔ پیشہ ور مناظرین نے آج کل مباہلے کو کشتی کے داؤں میں باضابطہ طور پر شامل کرلیا ہے، لیکن پوری تاریخ اسلام میں مباہلہ کی دعوت دینے اور اسے قبول کرنے کی مثالیں مشکل ہی سے مل سکیں گی۔ صحابہ کرام ثمیں بڑے بڑے اختلاف ہوئے، حتیٰ کہ بعض اوقات لڑائیوں تک کی نوبت آئی، لیکن مباہلہ کرنے کی نوبت شاذ و نادر ہی آئی ہے۔ تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ بڑے بڑے مسائل پر بحثیں بھی ہوئیں۔ لیکن مباحثہ کے بجائے مباہلہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ بعد کے زمانوں میں بھی علماء کے مابین اختلاف رائے کا ظہور ہوا، تکفیرو تفسیق کا بازار بھی گرم ہوا۔ لیکن مباہلے کو کبھی کسی نے اپنا معمول نہیں بنایا۔
خود نبی ا ے زمانے میں آپ کے مخالفین کثیر تعداد میں موجود تھے، یہود و نصاریٰ، منافقین، ہر ایک نے قدم قدم پر آپ کی مخالفت کی، مگر ایک نجران کے نصاریٰ کے سوا اور کسی سے مباہلہ کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی ۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ مباہلہ ایک استثنائی طریق کار تھا جسے بعض خاص وجوہ و حالات کی بنا پر صرف نجران کے عیسائیوں کے معاملے میں خود اللہ تعالیٰ نے متعین فرمایا تھا اور یہ مسائل کے تصفیے کاکوئی مقرر قاعدہ و ضابطہ نہیں ہے جسے ہمیشہ ہر متنازع فیہ معاملے میں اختیار کیا جاسکے۔ نجران کے معاملے میں کیوں خاص طور پر یہ شکل اختیار کی گئی، اس کی ایک وجہ جو احادیث سے معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ نجران کے تین دینی پیشوا جو وفد کی شکل میں نبی ا کے پاس آئے تھے، وہ اپنے دلوں میں آپ کی نبوت کے قائل اور معترف ہوچکے تھے، لیکن صرف اپنی قوم میں اپنا وقار برقرار رکھنے کے لیے ایمان لانے سے پرہیز کررہے تھے۔ سفر کے دوران میں ان میں سے جب ایک نے نبی ا کے حق میں ناشائستہ الفاظ اپنی زبان سے نکالے تو دوسرے نے فوراً ٹوک دیا اور کہا کہ اس شخص (رسول اللہا ) کے متعلق نازیبا کلمات استعمال نہ کرو کیوں کہ یہ وہی نبی ہیں جس کے بارے میں پیشین گوئیاں ہماری کتابوں میں مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو چوں کہ علم غیب کی بنا پر ان کے دلوں کا چور معلوم تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ یہ لوگ اس دلی اعتراف کے بعد مباہلے کی دعوت قبول کرنے اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہہ کر اپنے اوپر لعنت مسلط کرنے کی جرأت کبھی نہیں کریں گے۔ اس لیے ان کی باطنی کیفیت کو بے نقاب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ شکل تجویز فرمائی۔ چناں چہ اس کا نتیجہ وہی نکلا۔ وفد نجران نے مباہلہ کرنے سے گریز کیا اور ان کا کذب و نفاق بالکل عیاں ہوگیا۔
(رسائل و مسائل حصہ چہارم: عام مسائل ’’مباہلہ و مناظرہ‘‘)

اہل نجران کے ساتھ رسولؐ اکرم کا صلح نامہ

٦٢-وَ لِنَجْرَانَ وَ حَاشِیَتِھَا جَوَارُ اللّٰہِ وَ ذِمَّۃُ مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَ مِلَّتِِھِمْ، وَ اَرْضِھِمْ وَ اَمْوَالِھِمْ وَ غَائِبِھِمْ وَ شَاھِدِھِمْ وَعِیْرِھِمْ وَ بَعَثِھِمْ وَاَمْثِلَتِھِمْ لاَ یُغَیَّرُ مَاکَانُوْا عَلَیْہِ وَلاَ یُغَیَّرُ حَقٌّ مِّنْ حُقُوْقِھِمْ وَ اَمْثِلَتِھِمْ لاَ یُفْتَنُ اُسْقُفٌ مِنْ اُسْقُفِیَّتِہٖ وَلاَ رَاھِبٌ مِنْ رَھْبَانِیَّتِہٖ وَلاَ وَاقِفٌ مِنْ وَقْفَانِیَّتِہٖ عَلٰی مَا تَحْتَ اَیْدِیْھِمْ مِنْ قَلِیْلٍ اَوْ کَثِیْرٍ وَ لَیْسَ عَلَیْھِمْ رَھْقٌ وَلاَ دَمٌ جَاھِلِیَّۃٍ وَلاَ یُحْشَرُوْنَ وَلاَ یُعْشَرُوْنَ وَلاَ یُطَائُ اَرْضَھُمْ جَیْشٌ، مَنْ
سَئَلَ مِنْھُمْ حَقًّا بَیْنَھُمُ النَّصَفُ غَیْرَ ظَالِمِیْنَ وَلاَ مَظْلُوْمِیْنَ بِنَجْرَانَ وَمَنْ اَکَلَ مِنْھُمُ الرِّبَا مِنْ ذِیْ قَبْلٍ فَذِمَّتِیْ مِنْہُ بَرِیْئَۃٌ وَلاَ یُوْخَذُ مِنْھُمْ رَجَلٌ بِظُلْمٍ آخَرَ وَلَھُمْ عَلٰی مَا فِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ جِوَارُ اللّٰہِ وَ ذِمَّۃُ مُحَمَّدِ النَّبِیِّ اَبْدًا حَتّٰی یَاتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ، مَانَصَحُوْا وَاصْدَقُوْا فِیْمَا عَلَیْھِمْ۔(ڈاکٹر حمید اللہ نے مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ (ص۸۰-۸۱) پر اس معاہدہ کو نقل کیا ہے۔ مگر اس میں پوری عبارت نہیں ہے۔) (٣١)
نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں ( ڈاکٹر اسپر نگر نے حاشیہ میں ہمسایوں سے مراد یہودی لیے ہیں۔ (سیرۃ محمد:۳؍۲-۵) مگر دراصل اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیںجو عیسائیوں کے ساتھ
وہاں آباد تھے۔) کے لیے اللہ کی پناہ اور اللہ کے رسول محمدنبی کا ذمہ ہے، ان کی جانوں کے لیے، ان کے مذہب، ان کی زمین، ان کے اموال، ان کے حاضر و غائب، ان کے اونٹوں، ان کے قاصدوں، اور ان کے مذہبی نشانات، (امثلۃ سے مراد صلیبیں اور تصویریں وغیرہ ہیں جو کنیسوں میں رکھی جاتی ہیں۔) سب کے لیے۔ جس حالت پر وہ اب تک ہیں اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔ ان کے کسی اسقف کو اس کی اسقفیت سے، اور کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے اور کسی خادم کلیسا کو اس کی خدمت سے نہ ہٹایا جائے گا، خواہ اس کے ہاتھ کے نیچے جو کچھ ہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ ( اس سے معاہد کے املاک و اوقاف کا تحفظ مقصود ہے۔) ان پر عہد جاہلیت کے کسی خون یا عہد کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ان کو فوجی خدمت یا دَہ یکی ادا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا اور ان کی زمین کو کوئی لشکر پامال نہ کرے گا۔ ( اس شرط کا مدعا صرف یہی نہیں ہے کہ اسلامی لشکر ان کی زمین کو پامال نہ کرے گا بلکہ یہ بھی ہے کہ تمام خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں ان کی حفاظت و مدافعت
کی جائے گی۔) اگر کوئی شخص ان کے خلاف کسی حق کا دعویٰ کرے گا تو فریقین کے درمیان انصاف کیا جائے گا، نہ اہل نجران ظالم بن سکیں گے، نہ مظلوم مگر جس شخص نے اس سے پہلے سود کھایا ہو، اس کی ذمہ داری سے میں بری (اس سے مراد یہ ہے کہ جس نے معاہدہ سے پہلے سود پر رقم دی ہو اور معاہدہ کے بعد وہ مدیون پر سود کا دعویٰ کرے، تو ہم اس کو دلوانے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
مگر یعقوبی نے جو معاہدہ نقل کیا ہے اس میں ’’اس سے پہلے‘‘ کے بجائے ’’اس سال کے بعد‘‘ لکھا ہے۔ (دیکھو:۴؍۶۳)ہوں۔ ان میں سے کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہ پکڑا جائے گا۔ اس صحیفہ میں جو کچھ ہے اس کے لیے اللہ کی ضمانت اور محمدنبی ا کا ذمہ ہے، ہمیشہ کے واسطے جب تک کہ اللہ کا حکم آئے، اور جب تک وہ خیرخواہ رہیں اور ان حقوق کو ادا کرتے رہیں جو اس معاہدہ کی رو سے ان پر عائد ہوتے ہیں۔ (الجہاد فی الاسلام، جنگ کے مہذب قوانین، مفتوحین کی دوقسمیں)
تخریج:(۱) قَالُوْا: وَکَتَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَھْلِ نَجْرَانَ: ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ مُّحَمَّدِ النَّبِیِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِاَھْلِ نَجْرَانَ اَنَّہٗ کَانَ لَہٗ عَلَیْھِمْ حُکْمُہٗ فِیْ کُلِّ ثَمَرَۃٍ صَفْرَائَ اَوْبَیْضَائَ اَوْ سَوْدَائَ اَوْ رَقِیْقٍ، فَاَفْضَلَ عَلَیْھِمْ وَتَرَکَ ذٰلِکَ کُلَّہٗ عَلٰی اَلْفَیْ حُلَّۃٍ، حُلَلِ الْاَوَاقِی فِیْ کُلِّ رَجَبٍ اَلْفُ حُلَّۃٍ، وَ فِیْ کُلِّ صَفَرٍ اَلْفُ حُلَّۃٍ، کُلُّ حُلَّۃٍ اُوْقِیَۃٌ، فَمَازَادَتْ حُلَلُ الْخَرَاجِ اَوْنَقَصَتْ عَلَی الْاَوَاقِی فَبِالْحِسَابِ، وَمَا قَبَضُوْا مِنْ دُرُوْعٍ اَوْ خَیْلٍ اَوْ رِکَابٍ اَوْ عَرْضٍ اُخِذَ مِنْھُمْ فَبِالْحِسَابِ، وَعَلٰی نَجْرَانَ مَثْوَاۃُ رُسُلِیْ عِشْرِیْنَ یَوْمًا، فَدُوْنَ ذٰلِکَ وَلاَ تُحْبَسُ رُسُلِیْ فَوْقَ شَھْرٍ وَ عَلَیْھِمْ عَارِیَّۃُ ثَلاَثِیْنَ دِرْعًا وَ ثَلاَثِیْنَ فَرَسًا وَ ثَلاَثِیْنَ بَعِیْرًا اِذَا کَانَ بِالْیَمَنِ کَیْدٌ، وَمَا ھَلَکَ مِمَّا اَعَارُوْا رُسُلِیْ مِنْ دُرُوعٍ اَوْ خَیْلٍ اَوْ رِکَابٍ فَھُوَ ضَمَانٌ عَلٰی رُسُلِیْ حَتّٰی یُؤَدُّوْہُ اِلَیْھِمْ وَ لِنَجْرَانَ وَ حَاشِیَتِھِمْ جَوَارُ اللّٰہِ وَ ذِمَّۃُ مُحَمَّدِ النَّبِیِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَ مِلَّتِھِمْ وَ اَرْضِھِمْ وَاَمْوَالِھِمْ وَغَائِبِھِمْ وَ شَاھِدِھِمْ وَ بِیْعِھِمْ وَصَلَوَاتِھِمْ لاَ یُغَیَّرُوْا اُسْقُفًا عَنْ اُسْقُفِیَّتِہٖ وَلاَ رَاھِبًا عَنْ رَھْبَانِیَّتِہٖ وَلاَ وَاقِفًا عَنْ وَقْفَا نِیَّتِہٖ۔وَکُلَّ مَا تَحْتَ اَیْدِیْھِمْ مِنْ قَلِیْلٍ اَوْ کَثِیْرٍ، وَلَیْسَ رِبًا وَلاَ دَمَ جَاھِلِیَّۃٍ وَ مَنْ سَأَلَ مِنْھُمْ حَقًّا فَبَیْنَھُمُ النَّصَفُ غَیْرَ ظَالِمِیْنَ وَلاَ مَظْلُوْمِیْنَ لِنَجْرَانَ، وَمَنْ اَکَلَ رِبًا مِنْ ذِیْ قَبْلٍ فَذِمَّتِیْ مِنْہُ بِرِیْئَۃٌ، وَلاَ یُؤَاخَذُ اَحَدٌ مِّنْھُمْ بِظُلْمِ آخَرَ وَ عَلٰی مَا فِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ جَوَارُ اللّٰہِ وَ ذِمَّۃُ النَّبِیِّ اَبَدًا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ اِنْ نَصَحُوْا وَ اَصْلَحُوْا فِیْمَا عَلَیْھِمْ غَیْرَ مُثْقَلِیْنَ بِظُلْمٍ۔(٣١)
(۲) اَنَّ الْاُسْقُفَّ اَبَا الْحٰرِثِ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَ مَعَہُ السَّیِّدُ وَالْعَاقِبُ وَ وَجُوْہُ قَوْمِہٖ وَ اَقَامُوْا عِنْدَہٗ یَسْتَمِعُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَکَتَبَ لِلْاُسْقُفِّ ھٰذَا الْکِتَابَ وَ لِلْاَسَاقِفَۃِ بِنَجْرَانَ بَعْدَہٗ۔
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
مِنْ مُّحَمَّدِ النَّبِیِّ اِلَی الْاُسْقُفِّ اَبِی الْحٰرِثِ وَاَسَاقِفَۃِ نَجْرَانَ وَ کَھْنَتِھِمْ وَ رَھْبَانِھِمْ وَاَھْلِ بِیَعِھِمْ وَرَقِیْقِھِمْ وَ مِلَّتِھِمْ وَ سَوَاطَتَھِمْ، وَعَلٰی کُلِّ مَا تَحْتَ اَیْدِیْھِمْ مِنْ قَلِیْلٍ وَّ کَثِیْرٍ جَوَارُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لاَ یُغَیَّرُ اُسْقُفٌّ مِنْ اُسْقُفَّتِہٖ وَلاَ رَاھِبٌ مِنْ رَھْبَانِیَّتِہٖ وَلاَ کَاھِنٌ مِنْ کَھَانَتِہٖ، وَلاَ یُغَیَّرُ حَقٌّ مِنْ حُقوْقِھِمْ وَلاَ سُلْطَانِھِمْ، وَلاَ مِمَّا کَانُوْا عَلَیْہِ۔ عَلٰی ذَالِکَ جَوَارُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ اَبَدًا مَا نَصَحُوْا وَ اَصْلَحُوْ عَلَیْھِمْ غَیْرَ مُتَقَلِّبِیْنَ بِظَالِمٍ وَلاَ ظَالِمِیْنَ۔الخ(٣٢)

قبیلۂ عرینہ کے چند لوگوں کا واقعہ

٦٣- حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوکر مدینہ میں رہنے لگے، مگر وہاں کی آب وہوا انہیں موافق نہ آئی اور وہ بیمار پڑگئے، ایک روایت کے مطابق ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور پیٹ بڑھ گئے تھے۔ آں حضرتؐ نے ان سے فرمایا:
لَوْ خَرَجْتُمْ اِلٰی ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ اَلْبَانِھَا وَاَبْوَالِھَا۔
’’اگر تم ہمارے اونٹوں میں جاکر رہو اور ان کے دودھ اور دوا کے طور پر ان کے پیشاب پیو تو تمہاری صحت درست ہوجائے گی۔‘‘
چناں چہ وہ مدینہ سے باہر اونٹوں کی چراگاہوں میں پہنچے اور جب آرام ہوگیا تو نبی ا کے چرواہوں کو قتل کرکے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور اسلام سے پھر گئے۔ ان کی اس حرکت کی جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ نے لوگوں کو بھیج کر انہیں پکڑوا منگایا ان کے ہاتھ پاؤں کٹوائے، ان کی آنکھیں نکلوائیں اور انہیں دھوپ میں چھوڑدیا یہاں تک کہ وہ مرگئے ۔
(ابن ماجہ،ج۲، باب من حارب و سعٰی فی الارض فساداً)
تخریج: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ، ثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ اُنَاسًا مِنْ عُرَیْنَۃَ قَدِمُوْا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِیْنَۃَ، فَقَالَ: لَوْ خَرَجْتُمْ اِلٰی ذَوْدٍلَّنَا، فَشَرِبْتُمْ مِنْ اَلْبَانِھَا وَاَبْوَالِھَا، فَفَعَلُوْا، فَارْتَدُّوْا عَنِ الْاِسْلاَمِ، وَ قَتَلُوا رَاعِیَ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ، وَاسْتَاقُوْا ذَوْدَہٗ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْ طَلَبِھِمْ، فَجِیْئَ بِھِمْ، فَقَطَعَ اَیْدِیَھُمْ وَ اَرْجُلَھُمْ، وَسَمَرَ اَعْیُنَھُمْ وَ تَرَکَھُمْ بِالْحَرَّۃِ حَتّٰی مَاتُوْا۔(٣٣)
ترجمہ: حضرت انس سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور مسلمان ہوکر مدینہ میں رہنے لگے) مگر وہاں کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی (اور بیمار پڑگئے) تو آپ نے انہیں مشورہ دیا کہ اگر تم جاکر ہمارے اونٹوں میں رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو، تو تمہاری صحت ٹھیک ہوجائے۔ چناں چہ وہ اونٹوں میں جاکر رہنے لگے۔ (جب صحت یاب ہوگئے) تو اسلام سے پھر گئے۔ رسول اللہ ا کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ (جب آپ کو ان کی اس حرکت کا علم ہوا) تو آپ نے صحابہ کو پیچھے بھیج کر ان کو پکڑوا منگایا۔ اور ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے اور آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں اور انہیں دھوپ میں چھوڑدیا۔ یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
تشریح: حدیث میں اس طرح مذکور ہوا ہے۔ ممکن ہے یہ مشورہ طبی وجوہ سے دیا گیا ہو اور اس وقت کی طبی معلومات میں اس مرض کا یہی علاج ہو۔ اسی بنا پر علاج کے لیے بعض حرام چیزوں کا استعمال شرعاً جائز قرار دیا گیا ہے جب کہ ان کا کوئی جائز بدل ممکن یا معلوم نہ ہو۔
صحیح بخاری میں بھی مختلف طریقوں سے اسی مضمون کی روایتیں درج ہیں اور امام بخاری رحمۃ ا للہ علیہنے ان کو قول اللہ عزوجل: (انما جزاء الذین یحاربون اللّٰہ و رسولہ۔۔۔الایۃ) کے زیر عنوان درج کیا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت انسؓ کے حوالے سے آنکھیں اندھی کرانے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہوں نے آں حضرتؐ کے چرواہوں کی آنکھیں سلائی پھیر کر پھوڑ دی تھیں۔ اس لیے آپؐ نے ان سے آنکھوں کا قصاص لیا۔ ابو داؤد اور نسائی میں ابوالزناد کے واسطہ سے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ یہ آیت انہی عرینوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور حضرت ابوہریرہؓ کا بھی یہی بیان ہے۔ اگرچہ علمائے مجتہدین کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ یہ آیت ان عرینہ والوں کے حق میں نہیں اتری۔ لیکن یہ امر متفق علیہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ عبرت ناک سزائیں جو تجویز کی گئی ہیں۔ یہ انہی لوگوں کے لیے ہیں جو دارالاسلام کے امن میں لوٹ مار قتل و غارت سے خلل برپا کریں، اور سزاؤں کے مختلف مدارج نوعیت جرم کے مختلف مدارج سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تفصیل فقہائے کرام نے بوضاحت بیان فرمائی ہے۔
(الجہاد فی الاسلام، مدافعانہ جنگ، دغا بازی و عہد شکنی کی سزا)

غزوۂ خیبر

٦٤- رسول اللہ ا صفر ۷ھ میں خیبر پر چڑھائی کرنے کے لیے نکلے تو آپ نے صرف انہی صحابہث کو اپنے ساتھ لیا جوبیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے۔
تشریح: کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر سے حاصل ہونے والا مال غنیمت ان لوگوں کے لیے مخصوص فرمادیا تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے، ان کے سوا کسی کو اس فتح اور غنائم میں شریک ہونے کا حق نہ تھا، اس میں شک نہیں کہ بعد میں حضوؐر نے حبش سے واپس آنے والے مہاجرین اور بعض دوسی اوراَشعری صحابیوں کو بھی اموال خیبر میں سے کچھ حصہ عطا فرمایا، مگر وہ تو خمس میں سے تھا یا اصحاب رضوان کی رضا مندی سے دیا گیا۔ کسی کو حق کے طور پر اس مال میں حصہ دار نہیں بنایا گیا۔
(تفہیم القرآن،ج۵، الفتح، حاشیہ:۱)

ماخذ

(١) مسند احمد ج١ص٥٩۔
(٢) سیرت ابن ھشام ج٣، بیعۃ الرضوان٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣،٭ السیرۃ الحلبیۃج٢میں یہ عبارت منقول ہے: (بایع ﷺ عن عثمان فوضع یدہ علی یدہ: ای وضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری۔۔۔ قال: اللھم ان عثمان ذھب فی حاجۃ اللّٰہ و حاجۃ رسولہ فانا ابایع عنہ، فضرب بیمینہ شمالہ) ’’رسول اللّٰہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے اپنا ہی ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا یعنی دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا اور فرمایا الٰہی عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام و ضرورت میں گیا ہے لہٰذا اس کی جانب سے بیعت کرتا ہوں یہ کہہ کر اپنا سیدھا ہاتھ اپنے الٹے ہاتھ پر رکھا۔ (دایاں بائیں پر)‘‘
٭فتح القدیر للشوکانی ج ٥ میں فبایع لعثمان احدی یدیہ علی الاخری منقول ہے۔٭ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالہ سے فبایع رسول اللّٰہ ﷺ لعثمان رضی اللّٰہ عنہ بإحدی یدیہ علی الاخری بیان کیا ہے۔٭ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الفتح۔
(٣) مسلم ج٢، کتاب الجھاد والسیر۔ باب صلح الحدیبیۃ٭ بخاری ج١کتاب الشروط، باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب۔٭مسند احمدج٣ ص٢٦٨ عن انس۔٭مصنف ابن ابی شیبۃج١٤کتاب المغازی۔ غزوۃ الحدیبیۃ٭ ابن کثیر ج٤۔ عن انس۔٭المستدرک للحاکم٢۔ کتاب قتال اھل البغی۔ (اختصار اور اختلاف الفاظ کے ساتھ مروی ہے)
(٤) بخاری ج١۔ کتاب الصلح، باب کیف یکتب ھذا ماصالح فلان بن فلان و فلان بن فلان و ان لم ینسبہ الی قبیلتہٖ او نسبہ۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر۔ باب صلح الحدیبیۃ۔٭مسند احمدج٤ ص٢٩١۔ عن البراء۔
(٥) بخاری ج١۔ کتاب الصلح باب کیف یکتب ھذا ماصالح فلان بن فلان الخ٭بخاری ج٢کتاب المغازی باب عمرۃ القضاء۔
(٦) سیرت ابن ھشام ج٣۔ علی یکتب شروط الصلح٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٣۔ قصۃ الحدیبیۃ۔
(٧) بخاریج١، کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب و کتابۃ الشروط۔٭المصنف عبد الرزاق ج ٥۔٭ابن کثیر ج٤۔
(٨) بخاری ج١۔ کتاب الجھاد، باب المصالحۃ علی ثلاثۃ ایام او وقت معلوم۔٭مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر باب صلح الحدیبیۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج باب المحرم یتقلد السیف۔ السیرۃ الحلبیۃ:٢۔
(٩) ٭مصنف ابن ابی شیبۃج١٤۔ کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیۃ۔ عن براء بن عازب۔
(١٠) بخاریج٢۔ کتاب المغازی۔ باب عمرۃ القضاۃ ذکرہ انس عن النبیﷺ۔٭سنن دارمی ج٢۔ کتاب السیر باب فی صلح النبی ﷺ یوم الحدیبیۃ۔٭ ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد۔ باب فی صلح العدو کے تحت روایت میں (اکتب! ھذا ماقاضی علیہ محمد رسول اللہ) نقل کیا ہے جیسے مسور بن مخرمہ نے روایت کیا ہے۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٣۔ قصۃ الحدیبیۃ٭ مسند احمدج٤ ص١٩٨۔ عن البراء۔
(١١) الکامل فی التاریخ لابن اثیرج٢۔
(١٢) مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیۃ۔
(١٣) مجمع الزوائدج٦۔ کتاب المغازی والسیر باب الحدیبیۃ و عمرۃ القضاء۔٭ ابن کثیرج٤۔ سورۃ الفتح۔
(١٤) مسند احمدج١ص٣٤٢۔ عن ابن عباس۔
(١٥) فتح الباری شرح بخاری ج ٥۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجھاد۔٭مسند احمدج٤ ص٣٢٥۔ سیرت ابن ھشام ج٣۔ سیرت ابن ھشام میں و انا لا نغدر بھم منقول ہے۔
(١٦) السنن الکبریٰ للبیھقی ج٩۔ کتاب الجزیۃ باب الھدنۃ علی ان یرد الامام من جاء بلدہ مسلما من المشرکین۔ ٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢ میں حرف و ان اللّٰہ جاعل لک و لمن معک من المستضعفین فرجا ومخرجا نقل کیا ہے۔٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:٣۔ اس نے مسند احمد اور سیرت ابن ہشام والی روایت کے الفاظ بیان کیے ہیں۔٭السیرۃ الحلبیہ ج٢۔ اس میں بھی مسند احمد اور سیرت ابن ہشام والی روایت مذکور ہے۔ ٭طبقات ابن سعد ج٢ طبقات ابن سعد میں: و قال: یا ابا جندل، قد تم الصلح بیننا و بین القوم، فاصبر حتی یجعل اللہ لک فرجا و مخرجا۔ منقول ہے۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢ میں صرف فقال لہ رسول اللّٰہ ﷺ احتسب فان اللّٰہ جاعل لک و لمن معک من المستضعفین فرجا و مخرجا منقول ہے۔
(١٧) تفسیر کبیر امام رازی سورۃ الممتحنۃ۔
(١٨) احکام القرآن لابن العربی ج٤۔ آیت (یایھا الذین آمنوا اذا جائکم المومنات مھاجرات فامتحنوھن) ٭روح المعانی ج١٢۔ روح المعانی نے (انما کان فی الرجال دون النساء) نقل کیا ہے۔
(١٩) تفسیر ابن کثیرج٤۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭روح المعانی ج١٢سورۃ الممتحنۃ روح المعانی نے (فلم یردھا علیہ الصلاۃ والسلام ثم انکھا ﷺ زید بن حارثۃ رضی اللہ عنہ) کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔٭سیرت ابن ہشام ج٣۔ ٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢۔ ٭ابن ھشام اور الطبری دونوں نے (فلم یفعل ابی اللہ) عزوجل تک ذکر کیا ہے۔٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٢۔ ٭السنن الکبرٰی ج٩۔ کتاب الجزیۃ باب نقض الصلح فیما لا یجوز الخ۔
(٢٠) بخاری ج١۔ کتاب الشروط، باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج٩۔ کتاب الجزیۃ باب نقض الصلح فیما لا یجوز۔
(٢١) مسلم ج کتاب الجھاد والسیر باب قول اللّٰہ تعالٰی و ھو الذی کف ایدیھم عنکم الایۃ٭ ابوداؤدج٣ کتاب الجھاد، باب فی المن علی الاسیر بغیر فداء۔٭ ابوداؤد میں فاستحیاھم کی جگہ فاعتقھم ہے اور جبل التنعیم کے بجائے جبال التنعیم عند صلاۃ الفجر ہے۔٭ ترمذی ج٣۔ ابواب التفسیر سورۃ فتح۔ ترمذی نے عند الصبح نقل کیا ہے۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭مسند احمدج٣ ص١٢٢-١٢٤۔ عن انس۔٭ ابن کثیرج٤۔ سورۃ فتح۔٭ فتح القدیر للشوکانی ج ٥۔٭اخرج ابن ابی شیبہ۔ عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، البیھقی فی الدلائل عن انس۔ بحوالہ فتح القدیر للشوکانی:ج ٥۔٭ تفسیر ابن جریرج١١ سورۃ فتح٭ابن جریر نے بھی فاعتقھم نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر باب ما یفعلہ بالرجال البالغین منھم۔ عن ثابت بن انس۔
(٢٢) مسلم ج٢۔ کتاب المغازی والسیر۔ باب صلح الحدیبیۃ٭ تفسیر ابن جریرج١١سورۃ الفتح۔
(٢٣) ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد باب فیمن اسھم لہ سھما٭ تفسیر ابن جریر الطبری ج١١سورۃ الفتح ٭مسند احمد ج٣ ص٤٢٠-٤٨٦۔ عن مجمع بن جاریۃ، ابن ابی شیبۃ، ابن المنذر، ابن مردویہ، البیھقی فی الدلائل بحوالہ فتح القدیر للشوکانی:ج ٥۔ سورۃ الفتح۔٭ المستدرک للحاکم ج٢۔ سورۃ الفتح، عن مجمع بن جاریۃ الانصاری۔ ٭فتح القدیر للشوکانی میں یوجفون الا باعر منقول ہے۔٭تفسیر ابن کثیر:ج٤، سورۃ الفتح ابن کثیر اور فتح القدیر دونوں نے مجمع بن حارثہ الانصاری سے بیان کیا ہے جب کہ ابن جریر، مسند احمد اور ابوداؤد وغیرہ نے مجمع بن جاریۃ نقل کیا ہے۔ نیز ابن کثیر نے (ینفرون الا باعر اور فخرجنا مع الناس نوجف) بیان کیا ہے۔ ٭روح المعانی ج٩۔ (پ:٢٦) الفتح۔
(٢٤) السنن الکبرٰی بیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب من لیس للامام ان یغزو بہ بحال۔ عروۃ بن الزبیر سے بھی ص:٣٢ پر یہ روایت ہے۔
(٢٥) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الحدیبیۃ لقول اللّٰہ تعالی: (لقد رضی اللّٰہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ) ٭مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والسیر باب صلح الحدیبیۃ٭ فتح القدیر للشوکانی ج٤۔ سورۃ الفتح ٭ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الفتح۔ عن البراء٭ تفسیر ابن جریر ج١١۔ سورۃ الفتح عن البراء۔ ابن جریر نے حضرت جابرص سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں: (عن جابر، قال: ما کنا نعد الفتح الا یوم الحدیبیۃ) ٭ابن کثیرج٤۔ سورۃ الفتح عن جابر۔ ٭ابن کثیر ج٤ پر عن ابن مسعود وغیرہ (انہ قال: انکم تعدون الفتح فتح مکۃ، و نحن نعد الفتح صلح الحدیبیۃ)۔٭ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:ج٣ الفتح)
(٢٦) روح المعانی ج٩ سورۃ الفتح۔٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٢۔ (اختلاف الفاظ کی قدرے کمی بیشی کے ساتھ)
(٢٧) سیرۃ ابن ہشام ج٢۔ امر السید والعاقب و ذکر المباھلۃ۔ معنی العاقب والسید والاسقف۔
(٢٨) ایضًا رفع عیسی علیہ السلام۔
(٢٩) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب قصۃ اھل نجران۔
(٣٠) سیرۃ ابن ھشام ج٢۔ اِباؤھم الملاعنۃ اور تولیۃ ابی عبیدۃ امورھم۔
(٣١) (الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج١ص٢٨٧-٢٨٨) شھد ابو سفیان بن حرب و غیلان بن عمرو، ومالک بن عوف النصری، والاقرع بن حابس، والمستورد بن عمرو اخو بلی، والمغیرۃ بن شعبۃ و عامر مولی ابی بکر۔
(٣٢) زاد المعاد:٣۔ کتابہ ا لا ساقفۃ نجران۔
(٣٣) ابن ماجہ، ابواب الحدود ج٢۔ باب من خارب و سعی فی الارض فسادا٭ بخاری نے مندرجہ ذیل مقامات پر تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ اس روایت کو نقل کیا ہے۔٭ بخاری ج١۔ کتاب الجھاد، باب اذا حرق المشرک المسلم ھل تحرق٭ بخاری:٢۔ کتاب التفسیر باب قولہ انما جزاء الذین یحاربون اللّٰہ و رسولہ ٭بخاری ٢۔ کتاب المغازی۔ باب قصۃ عکل و عُرینہ۔٭ بخاری ج٢۔ کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ۔ ٭بخاری ج٢۔ کتاب الدیات، باب القسامۃ۔ مسلم نے اس کو کتاب القسامۃ میں نقل کیا ہے قدرے لفظی اختلاف کے ساتھ۔٭ مسلم:٢۔ کتاب القسامۃ۔ باب حکم المحاربین والمرتدین۔ عن انس٭ ابوداؤد ج٤۔ کتاب الحدود۔ باب ماجاء فی المحاربۃ۔٭ نسائی ج ٧۔ کتاب تحریم الدم باب تاویل قول اللّٰہ عزوجل انما جزاء الذین۔ یحاربون اللّٰہ الخ٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر، باب قتل المشرکین بعد اسار بضرب الاعناق دون المثلۃ عن انس بن مالک صحیح مسلم والی روایت نقل کی گئی ہے۔ ٭مسند احمد ج٣ ص١٠٧۔ عن انس بن مالک۔

فصل:۳ فتح مکہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رض کا خفیہ خط

٦٥- جب قریش کے لوگوں نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو رسول اللہا نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کردیں مگر چند مخصوص صحابہ کے سوا کسی کو یہ نہ بتایا کہ آپ کس مہم پر جانا چاہتے ہیں۔ اتفاق سے اسی زمانے میں مکہ معظمہ سے ایک عورت آئی جو پہلے بنی عبد المطلب کی لونڈی تھی اور پھر آزاد ہوکر گانے بجانے کا کام کرتی تھی۔ اس نے آکر حضورا سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور کچھ مالی مدد مانگی آپ نے بنی عبد المطلب اور بنی المطلب سے اپیل کرکے اس کی حاجت پوری کردی۔ جب وہ مکہ جانے لگی تو حضرت حاطب ؓ بن ابی بلتعہ اس سے ملے اور اس کو چپکے سے ایک خط بعض سرداران مکہ کے نام دیا اور دس دینار دیے تاکہ وہ راز فاش نہ کرے اور چھپا کر یہ خط ان لوگوں تک پہنچادے۔ ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ا کو اس پر مطلع فرمادیا۔ آپؐ نے فوراً حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت مقداد بن اسودؓ کو اس کے پیچھے بھیجا اور حکم دیا کہ تیزی سے جاؤ، روضۂ خاخ کے مقام پر (مدینہ سے ۱۲ میل بجانب مکہ) تم کو ایک عورت ملے گی جس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہے جس طرح بھی ہو اس سے وہ خط حاصل کرو۔ اگر وہ دے دے تو اسے چھوڑ دینا۔ نہ دے تو اس کو قتل کردینا۔ یہ حضرات جب اس مقام پرپہنچے تو عورت وہاں موجود تھی۔ انہوں نے اس سے خط مانگا۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے تلاشی لی۔ مگر کوئی خط نہ ملا۔ آخر کو انہوں نے کہا خط حوالے کر ورنہ ہم برہنہ کرکے تیری تلاشی لیں گے جب اس نے دیکھا کہ بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تواپنی چوٹی میں سے وہ خط نکال کر انہیں دے دیا اور یہ اسے حضوؐر کی خدمت میں لے آئے۔ کھو ل کر پڑھا گیا تو اس میں قریش کے لوگوں کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ رسول اللہا تم پر چڑھائی کی تیاری کررہے ہیں۔ (مختلف روایات میں خط کے الفاظ مختلف نقل ہوئے ہیں، مگر مدعا سب کا یہی ہے) حضوؐر نے حضرت حاطب سے پوچھا، یہ کیا حرکت ہے؟ انہوں نے عرض کیا آپ میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیں۔ میں نے جو کچھ کیا ہے اس بنا پر نہیںکیا ہے کہ میں کافرو مرتد ہوگیا ہوں اور اسلام کے بعد اب کفرکو پسند کرنے لگا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے اقرباء مکہ میں مقیم ہیں۔ میں قریش کے قبیلہ کا آدمی نہیں ہوں بلکہ بعض قریشیوں کی سرپرستی میں وہاں آباد ہوا ہوں۔ مہاجرین میں سے دوسرے جن لوگوں کے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کو تو ان کا قبیلہ بچالے گا مگر میرا کوئی قبیلہ وہاں نہیں ہے جسے کوئی بچانے والا ہو۔ اس لیے میں نے یہ خط اس خیال سے بھیجا تھا کہ قریش والوں پر میرا ایک احسان رہے جس کا لحاظ کرکے وہ میرے بال بچوں کو نہ چھیڑیں (حضرت حاطب کے بیٹے عبد الرحمن کی روایت یہ ہے کہ اس وقت حضرت حاطب کے بچے اور بھائی مکہ میں تھے اور خود حضرت حاطب کی ایک روایت سے معلوم ہوتاہے کہ ان کی ماں بھی وہیں تھیں) رسول اللہ ا نے حاطب کی یہ بات سن کر حاضرین سے فرمایا: (قد صدقکم) ’’حاطب نے تم سے سچی بات کہی ہے‘‘ حضرت عمر ص نے اٹھ کر عرض کیا:’’یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن ماردوں اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے۔‘‘ حضورا نے فرمایا: ’’اس شخص نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے، تمہیں کیا خبر، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو ملاحظہ فرماکر کہہ دیا ہو کہ تم خواہ کچھ بھی کرو، میں نے تم کو معاف کیا۔‘‘ یہ بات سن کر حضرت عمرص رو دیے اور انہوں نے کہا: ’’اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ اَنَّہٗ سَمِعَ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ رَافِعٍ، کَاتِبَ عَلِیٍّ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُوْلُ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَا وَالزُّبَیْرَ، وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ: اِنْطَلِقُوْا حَتّٰی تَاْتُوْا رَوْضَۃَ خَاخٍ، فَاِنَّ بِھَا ظَعِیْنَۃً، مَعَھَا کِتَابٌ، فَخُذُوْہُ مِنْھَا، فَذَھَبْنَا تَعَادٰی بِنَاخَیْلُنَا حَتّٰی اَتَیْنَا الرَّوْضَۃَ، فَاِذَا نَحْنُ بِالظَّعِیْنَۃِ، فَقُلْنَا:اَخْرِجِی الْکِتَابَ، قَالَت: مَا مَعِیْ مِنْ کِتَابٍ، فَقُلْنَا:لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ اَوْ لَتُلْقِیَنَّ الثِّیَابَ، فَاَخْرَجَتْہُ مِنْ عِقَاصِھَا، فَاَتَیْنَا بِہِ النَّبِیَّﷺ، فَاِذَا فِیْہِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ اَبِیْ بَلْتَعَۃَ اِلٰی نَاسٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ مِمَّنْ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُھُمْ بِبَعْضِ اَمْرِ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَاھٰذَا یَا حَاطِبُ؟ قَالَ: لاَ تَعْجَلْ عَلَیَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ کُنْتُ امْرَأً مِنْ قُرَیْشٍ، وَلَمْ اَکُنْ مِنْ اَنْفُسِھِمْ، وَکَانَ مَنْ مَّعَکَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ لَھُمْ قَرَابَاتٌ یَّحْمُوْنَ بِھَا اَھْلِیْھِمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِمَکَّۃَ، فَاَحْبَبْتُ اِذْ فَاتَنِیْ مِنَ النَّسَبِ فِیْھِمْ، اَنْ اَصْطَنِعَ اِلَیْھِمْ یَدًا یَحْمُوْنَ قَرَابَتِیْ، وَمَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُفْرًا وَلاَ اِرْتِدَادًا عَنْ دِیْنِیْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِنَّہٗ قَدْ صَدَقَکُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَضْرِبْ عُنُقَۃٗ، فَقَالَ: اِنَّہٗ شَھِدَ بَدْرًا وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ اللّٰہَ اطَّلَعَ عَلٰی اَھْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ، قَالَ عَمْرٌو: وَ نَزَلَتْ فِیْہِ یٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ الایۃ۔(١)
ترجمہ: عبید اللہ بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کو بیان کرتے سناہے کہ رسول اللہ ا نے مجھے زبیراور مقداد کوبھیجا اورفرمایاکہ جاؤ یہاں تک کہ روضۂ خاخ پر پہنچ جاؤ تو وہاں تمہیںایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے اس سے یہ خط حاصل کرو۔ چناں چہ ہم اپنے گھوڑے سرپٹ دوڑاتے ہوئے روضۂ خاخ پر پہنچ گئے تو وہی خاتون موجود تھی جسے ہم نے جالیا۔ ہم نے اسے کہا خط نکال دو۔ اس نے جواب دیا کہ میرے پاس توکوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے ذرا (رعب سے) کہاکہ خط نکال کر ہمارے حوالے کردو ورنہ ہم تمہارے بدن کے سارے کپڑے اتار کربرہنہ کردیں گے (اس دھمکی کے نتیجہ میں) اس نے خط اپنی چٹیا سے نکال کر ہمارے سپرد کردیا۔ ہم اس خط کو لے کر نبی ا کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکین مکہ کے نام تحریر تھا۔ جس میں نبی ا کے بعض (مخفی) امور سے متعلق اطلاع دی گئی تھی۔ نبی ا نے دریافت فرمایا اے حاطب یہ کیا حرکت ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہا آپ میرے بارے میں جلدی نہ کریں۔ میں قریش کا آدمی نہیں تھا بلکہ ان کے حلیفوں میں سے تھا۔ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی ان کے ساتھ قرابت داری ہے جس کی بنا پر وہ لوگ ان کے گھروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نسب کے اعتبار سے چوں کہ میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اس لیے میں نے چاہا کہ ان پر کوئی احسان کروں تاکہ وہ میری قرابت کا خیال رکھیں۔ میں نے یہ فعل اس بنا پر ہرگز نہیں کیا کہ میں اسلام سے پھر گیاہوں اور کفر کو پسند کرنے لگاہوں۔ اس پر نبی ا نے فرمایا تم نے سچ کہا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہا مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑادوں۔ آپؐ نے فرمایا وہ بدر میں شریک ہوچکا ہے تمہیں کیا معلوم کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو دیکھ کر فرمایا، جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی( یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ۔۔۔ الایۃ)
تشریح: عدالت سے معافی کا اعلانمعاف کرنے کے لیے مختلف روایات میں مختلف الفاظ آئے ہیں کسی میں (قد غفرت لکم) ’’میں نے تمہاری مغفرت کردی۔‘‘ کسی میں ہے: (انی غافر لکم) ’’میں تمہیں بخش دینے والا ہوں‘‘ اور کسی میں ہے: (ساغفرلکم) ’’میں تمہیں بخش دوں گا۔‘‘
مندرجہ بالا واقعہ ان کثیرالتعداد روایات کا خلاصہ ہے جو متعدد معتبر سندوں سے بخاری ، مسلم، احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن جریر طبری، ابن ہشام، ابن حبان اور ابن ابی حاتم نے نقل کی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مستند روایت وہ ہے جو حضرت علی صکی زبان سے ان کے کاتب (سکرٹیری) عبید اللہ بن ابی رافع نے سنی اور ان سے حضرت علی ص کے پوتے حسن بن محمد بن حنفیہ نے سن کر بعد کے راویوں تک پہنچائی۔ ان میں سے کسی روایت میںبھی یہ تصریح نہیں ہے۔ کہ حضرت حاطب کا یہ عذر سن کر ان کو معاف کردیا گیا لیکن کسی ذریعے سے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ انہیں کوئی سزا دی گئی۔ اسی لیے علمائے امت نے یہی سمجھا ہے کہ حضرت حاطب کا عذر قبول کرکے انہیں چھوڑدیا گیا تھا۔ (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۱)
بدری صحابہ ث کی فضیلت میں رسول اللہ ا کا ارشاد ہے کہ: ’’تمہیں کیا خبر، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدرکو ملاحظہ فرما کر کہہ دیا ہو کہ خواہ کچھ بھی کرو، میں نے تم کو معاف کردیا۔‘‘
اس ارشاد کے معنی یہ نہ تھے کہ بدری صحابیوں کو سات خون معاف ہیں اور انہیں کھلی چھٹی ہے کہ دنیا میں جو گناہ اور جو جرم بھی کرنا چاہیں کرتے رہیں، مغفرت کی ان کو پیشگی ضمانت حاصل ہے۔ یہ مطلب نہ حضوؐر کا تھا، نہ صحابہ نے کبھی اس ارشاد کا یہ مطلب لیا، نہ کسی بدری صحابی نے یہ بشارت سن کر اپنے آپ کو ہر گناہ کرنے کے لیے آزاد سمجھا اور نہ اسلامی شریعت میں اس کی بنا پر کوئی ایسا قاعدہ بنایا گیا کہ بدری صحابی سے اگر کوئی جرم سرزد ہوتو اسے کوئی سزا نہ دی جائے دراصل جس موقع و محل میں یہ بات فرمائی گئی تھی اس پر اور خود ان الفاظ پر جو آپ نے استعمال فرمائے ہیں، اگر غور کیا جائے تواس ارشاد کا صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اہل بدر نے اللہ اور اس کے دین کے لیے اخلاص اور سرفروشی و جان بازی کا اتنا بڑا کارنامہ انجام دیاہے جس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرمادیے ہوں تو یہ بھی اس خدمت اور اللہ کے کرم کو دیکھتے ہوئے کچھ بعید از امکان نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن ،ج۵، الممتحنہ حاشیہ:۵)

حضور٘ نے صحابہ کرام ثکی تربیت کیسے کی؟

جن لوگوں نے حدیث کا مطالعہ کیا ہے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ نبی کریم ا نے اس لحاظ سے اپنی جماعت کو کتنا سنجیدہ، باوقار، مہذب اور منضبط بنایا تھا اور اسلامی جماعت کے عرب پر چھاجانے میں اس کیفیت کا کتنا بڑا دخل تھا۔ ایک طرف مشرکین عرب کا یہ حال تھا کہ ان کا ایک چھوٹا سا دستہ بھی اگر کسی علاقے سے گزر جاتا تھا تو شور محشر برپا ہوجاتا۔ دوسری طرف صحابہ کرام ثکا یہ حال تھا کہ ا ن کے بڑے سے بڑے لشکر بھی منزلوں پر منزلیں طے کرتے چلے جاتے تھے اور کوئی ہنگامہ برپا نہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ جہاد میں صحابہ کرام ثنے صورت حال سے متاثر ہوکر اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے۔ تو حضور ا نے فرمایا: ’’جس کو تم پکار رہے ہو وہ بہرہ نہیں ہے۔‘‘ یہی باوقار رویہ تھا، جس کی تربیت دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ نبی کریم ا جب فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار کا لشکر لے کر چلے تو اہل مکہ کو اس وقت تک کانوں کان آپ کے آنے کی خبر نہ ہوسکی، جب تک کہ آپؐ نے خود ہی ان کے عین سر پر پہنچ کر آگ روشن کرنے کا حکم نہ دیا۔ (روداد جماعت اسلامی ج سوم اجلاس اول ’’امیر جماعت کی افتتاحی تقریر‘‘)

فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان

٦٦-لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اِذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ۔
آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تمہیں معاف کیا۔
پس منظر: مکہ معظمہ میں جب آپ کا فاتحانہ داخلہ ہوا تو آپؐ نے ان کافروں کو جو آپ کے خون کے پیاسے تھے، مندرجہ بالا ارشاد فرماکر آزاد چھوڑدیا اور کسی کو قبول اسلام پر مجبور نہ کیا۔ (الجہاد فی الاسلام، اشاعت اسلام اور تلوار ’’لااکراہ فی الدین‘‘)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ، اَنْبَأَ اَبُوْ سَعِیْدِ الرَّازِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَیُّوْبَ، اَنْبَأَ الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَمٍ۔ (فَذَکَرَہٗ وَ فِیْمَا حَکَی الشَّافِعِیُّ) عَنْ اَبِیْ یُوْسُفَ فِیْ ھٰذِہٖ الْقِصَّۃِ اَنَّہٗ قَالَ لَھُمْ حِیْنَ اجْتَمَعُوْا فِی الْمَسْجِدِ: مَاتَرَوْنَ اَنِّیْ صَانِعٌ بِکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرًا: اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ قَالَ: اذْھَبُوْا، فَاَنْتُمُ الطُّلَقَآئُ۔(٢)
ترجمہ: ابویوسف سے اس قصہ سے متعلق مروی ہے کہ جب اہل مکہ مسجد میں جمع ہوگئے تو آپ نے ان سے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے کہ آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا بھلائی اور خیر،معزز بھائی، معزز بھائی کے صاحب زادے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ جاؤ۔ تم سب آزاد ہو۔
سیرت ابن ہشام، الطبری السیرۃ النبویۃ، سیرۃ النبی از شبلی، اصح السیر اور مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ وغیرہ نے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے:
(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوْسَی بْنِ الْوَجِیْہِ، عَنْ قَتَادَۃَ السَّدُوْسِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَامَ قَائِمًا حِیْنَ وَقَفَ عَلٰی بَابِ الْکَعْبَۃِ ثُمَّ قَالَ: یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ وَیَا اَھْلَ مَکَّۃَ مَاتَرَوْنَ اَنِّیْ فَاعِلٌ بِکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرًا، اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ، ثُمَّ قَالَ: اذْھَبُوْا، فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ۔(٣)
ترجمہ: قتادہ سدوسی سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ا نے بیت اللہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر قریش سے پوچھا اے گروہ قریش اور مکہ کے رہنے والو تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک روا رکھنے والا ہوں سب بولے۔ بھلائی اور خیر۔ معزز بھائی ہیں معزز بھائی کے صاحب زادے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ۔ تم سب آزاد ہو۔
ایک دوسرے مقام پر (آپ انے فرمایا:)
فَاِنِّیْ اَقُوْلُ لَکُمْ کَمَا قَالَ یُوْسُفُ لِاِخْوَتِہٖ (لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ، اذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ)
’’میں تمہیں وہی جواب دیتا ہوں جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو دیا تھا کہ: ’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تمہیں معاف کیا۔‘‘
تخریج: یَامَعْشَرَ قُرَیْشِ! مَاتَرَوْنَ اَنِّیْ فَاعِلٌ بِکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرًا، اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَقُوْلُ لَکُمْ کَمَا قَالَ یُوْسُفُ لِاِخْوَتِہٖ: لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اذْھَبُوْا، فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ۔(٤)
تشریح: یوسف ع اور محمد ا کے حالات کو قرآن (سورۂ یوسف) میں یکساں دکھایا گیا ہے۔ یہ قریش کے لیے پیش گوئی تھی چناں چہ بعد میں اس سورہ کے نزول پر ڈیڑھ دو سال ہی گزرے ہوں گے کہ قریش والوں نے برادران یوسف کی طرح محمدا کے قتل کی سازش کی اور آپ کو مجبوراً ان سے جان بچا کر مکہ سے نکلنا پڑا۔ پھر ان کی توقعات کے بالکل خلاف آپ کوبھی جلاوطنی میں ویسا ہی عروج و اقتدار نصیب ہوا جیسا یوسف کو ہوا تھا۔ پھر فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک ٹھیک وہی کچھ پیش آیا جو مصر کے پایۂ تخت میں یوسف علیہ السلام کے سامنے ان کے بھائیوں کی آخری حضوری کے موقع پر پیش آیا تھا۔ وہاں جب برادران یوسف انتہائی عجزو درماندگی کی حالت میں ان کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے کہ (تَصَدَّقْ عَلَیْنَآ ط اِنَّ اللّٰہَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ) ’’ہم پر صدقہ کیجیے، اللہ صدقہ کرنے والوں کو نیک جزا دیتا ہے۔‘‘ تو یوسف نے انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود انہیں معاف کردیا اور فرمایا لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ، یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اسی طرح جب محمد ا کے سامنے شکست خوردہ قریش سرنگوں کھڑے ہوئے تھے اور آں حضر ت ا ان کے ایک ایک ظلم کا بدلہ لینے پر قادر تھے تو آپ نے ان سے پوچھا: ’’تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: (اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ) ’’آپ ایک عالی ظرف بھائی ہیں اور ایک عالی ظرف بھائی کے بیٹے ہیں۔‘‘ اس پر آپ نے حدیث والے الفاظ فرمائے۔ (تفہیم القرآن،ج۲، یوسف، مقاصد نزول)

جَائَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ) کااعلان)

٦٧- حضرت عبد اللہ بن مسعود ص کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن حضورا کعبے کے بتوں پر ضرب لگارہے تھے اور آپ کی زبان پر یہ آیت تھی کہ : جَائَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًاo جَائَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِیئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ نَجِیْحٍ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ﷺ مَکَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ، وَحَوْلَ الْبَیْتِ سِتُّوْنَ وَ ثَلاَثُ مِائَۃٍ نُصُبٍ فَجَعَلَ یَطْعَنُھَا بِعُوْدٍ فِیْ یَدِہٖ، وَ یَقُوْلُ: جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ، جَآئَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِیئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ۔(٥)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی ہے انہوں نے بیان کیا نبی ا فتح مکہ کے روز مکہ میں تشریف فرما ہوئے تو بیت اللہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے ہاتھ میںپکڑی ہوئی چھڑی سے ان بتوں کو ٹھوکا دینا شروع کیا اور فرماتے جاتے تھے حق آگیا ہے اورباطل ملیا میٹ ہوگیا ہے اب نہ باطل کا آغاز ہوگا اورنہ لوٹ کر آئے گا۔
تشریح: مندرجہ بالا الفاظ قرآن اس وقت نازل کیے گئے جب کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ چھوڑ کر حبش میں پناہ گزین تھی اور باقی مسلمان سخت بے کسی و مظلومی کی حالت میں مکہ اوراطراف مکہ میں زندگی بسرکرر ہے تھے اور خود نبیؐ کی جان ہر وقت خطرے میں تھی۔ اس وقت بظاہر باطل ہی کا غلبہ تھا اور غلبہ حق کے آثار کہیں دور دور تک نظر نہ آتے تھے مگر اسی حالت میں نبیؐ کو حکم دے دیا گیا کہ تم صاف صاف ان باطل پرستوں کو سنادو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ ایسے وقت یہ عجیب اعلان لوگوں کومحض زبان کا پھاگ محسوس ہوا اور انہوں نے اسے ٹھٹھوں میں اڑا دیا۔ مگر اس پر نو برس ہی گزرے تھے کہ نبی ؐاسی شہر مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور آپ نے کعبے میں جاکر اس باطل کو مٹادیا جو تین سو ساٹھ بتوں کی صورت میں وہاں سجا رکھا تھا۔ (تفہیم القرآن،ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۱۰۱)

خواتین سے بیعت

٦٨- مکہ معظمہ میں جب عورتوں سے بیعت لی جارہی تھی تواس وقت حضرت ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے حضوؐر سے عرض کیا، یا رسول اللہ ا ، ابوسفیان ذرا بخیل آدمی ہیں، کیا میرے اوپر اس میں کوئی گناہ ہے کہ میں اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات کے لیے ان سے پوچھے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں، مگر بس معروف کی حد تک۔ (یعنی اتنا مال لے لو جو فی الواقع جائز ضروریات کے لیے کافی ہو) (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۱۹)
تخریج:(۱) لَمَّا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَھُنَّ فِی الْبَیْعَۃِ اَلاَّ یَسْرِقْنَ، قَالَتْ ھِنْدٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ مَسِیْکٌ( اس کا تلفظمِسِّیْکٌ بھی ہے۔ (مرتب)، فَھَلْ عَلَیَّ حَرَجٌ، اَنْ آخُذَ مِنْ مَّالِہٖ مَا یَکْفِیْنِیْ وَ وَلَدِیْ؟ فَقَالَ: لاَ، اِلاَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔۔۔فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ﷺ:لاَ اَیْ: لاَ حَرَجَ عَلَیْکِ فِیْمَا اَخَذْتِ بِالْمَعْرُوْفِ یَعْنِیْ مِنْ غَیْرِ اسْتَطَالَۃٍ اِلٰی اَکْثَرِ مِنَ الْحَاجَۃِ۔(٦)

بیعت لیتے وقت خواتین سے نوحہ نہ کرنے کا عہد

٦٩-ابن عباس، ام سلمہ اور ام عطیہ انصاریہژ وغیرہ کی روایات ہیں کہ رسول اللہ ا نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ عہد لیاکہ وہ مرنے والوں پر نوحہ نہ کریں گی۔ (یہ روایات بخاری، مسلم، نسائی اور ابن جریر نے نقل کی ہیں)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَرَأَ عَلَیْنَا اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَ نَھَانَا عَنِ النِّیَاحَۃِ، فَقَبَضَتِ امْرَأَۃٌ یَدَھَا، فَقَالَتْ: اَسْعَدْتَّنِیْ فُلاَنَۃُ، اُرِیْدُ اَنْ اَجْزِیَھَا، فَمَا قَالَ لَھَا النَّبِیُّ ﷺ شَیْئًا، فَانْطَلَقَتْ، وَ رَجَعَتْ، فَبَایَعَھَا۔(٧)
ترجمہ: ام عطیہ سے مروی ہے انہوںنے بیان کیا کہ ہم خواتین نے رسول اللہ ا کی بیعت کی۔ تو آپ نے ہمارے سامنے ان لا یشرکن باللّٰہ الخ پڑھی اور ہمیںنوحہ (بین) کرنے سے منع فرمایا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور بولی کہ فلاں عورت نے (نوحہ کرنے میں) میری مدد کی تھی۔ میں چاہتی ہوںکہ اس کا بدلہ چکادوں۔ نبی ا نے اسے کچھ نہیں فرمایا۔ وہ چلی گئی پھر واپس لوٹ کر آئی تو آپ نے اس سے بیعت کی۔
(۲) عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ: لَمَّااَرَدْتُّ اَنْ اُبَایِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ امْرَأَۃً اَسْعَدَتْنِیْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَاَذْھَبُ، فَاُسْعِدُھَا، ثُمَّ اَجِیْئُکَ، فَاُبَایِعُکَ، قَالَ: فَاذْھَبِیْ، فَاَسْعَدِیْھَا، قَالَتْ: فَذَھَبْتُ، فَسَاعَدْتُّھَا ثُمَّ جِئْتُ، فَبَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ۔(٨)
ترجمہ: ام عطیہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب میں نے رسول اللہ ا سے بیعت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک عورت نے نوحہ کرنے میںمیری مدد کی تھی۔ میں جاکراس کی مدد کرنا چاہتی ہوں پھر واپس آکر بیعت کروں گی۔ آپ نے فرمایا جاؤ چلی جاؤ اور اس کی مدد کرلو۔ ام عطیہ کا بیان ہے کہ میں چلی گئی اور اس کی مدد کرکے واپس لوٹ آئی پھر میں نے رسول اللہ ا سے بیعت کی۔
٧٠-ابن عباس کی ایک روایت میں یہ تفصیل ہے کہ حضورا نے حضرت عمرؓ کوعورتوں سے بیعت لینے کے لیے مامور کیا اور حکم دیاکہ ان کو نوحہ کرنے سے منع کریں کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں عورتیں مرنے والوں پر نوحہ کرتے ہوئے کپڑے پھاڑتی تھیں، منہ نوچتی تھیں، بال کاٹتی تھیں اور سخت واویلا مچاتی تھیں۔ (ابن جریر)
زید بن اسلم روایت کرتے ہیں کہ آپ نے بیعت لیتے وقت عورتوں کو اس سے منع کیا کہ وہ مرنے والوں پر نوحہ کرتے ہوئے اپنے منہ نوچیں اور گریبان پھاڑیں اور واویلا کریں اور شعر گاگا کر بین کریں۔ (ابن جریر)
(اسی کی ہم معنی ایک روایت ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ایک ایسی خاتون سے نقل کی ہے جو بیعت کرنے والیوں میں شامل تھیں) (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۲۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ثَنِیْ عَمِّیْ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ عَنْ اَبِیْہِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَتْ مِحْنَۃُ النِّسَآئِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ: قُلْ لَّھُنَّ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُبَایِعُکُنَّ عَلٰی اَنْ لاَّ تُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا۔ وَکَانَتْ ھِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ الَّتِیْ شَقَّتْ بَطْنَ حَمْزَۃَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، مُتَنَکِّرَۃٌ فِی النِّسَآئِ، فَقَالَتْ: اِنِّیْ اَنْ اَتَکَلَّمَ، یَعْرِفُنِیْ، وَ اِنْ عَرَفَنِیْ، قَتَلَنِیْ، وَ اِنَّمَا تَنَکَّرَتْ فَرَقًا مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَسَکَتِ النِّسْوَۃُ اللاَّتِیْ مَعَ ھِنْدَ وَ اَبَیْنَ اَنْ یَّتَکَلَّمْنَ، فَقَالَتْ ھِنْدٌ: وَھِیَ مُتَنَکِّرَۃٌ، کَیْفَ یَقْبِلُ مِنَ النِّسَآئِ شَیْئًا لَمْ یَقْبَلْہٗ مِنَ الرِّجَالِ۔ فَنَظَرَ اِلَیْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ لِعُمَرَ: قُلْ لَّھُنَّ: وَلاَ یَسْرِقْنَ، قَالَتْ ھِنْدٌ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَصِیْبُ مِنْ اَبِیْ سُفْیَانَ الْھَاتِ، مَااَدْرِیْ اَیَحْلُھُنَّ لِیْ اَمْ لاَ؟ قَالَ اَبُوْسُفْیَانَ: مَااَصَبْتِ مِنْ شَـْیئٍ مَضٰی اَوْقَدْ بَقِیَ فَھُوَ لَکِ حَلاَلٌ، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَعَرَفَھَا، فَدَعَاھَا، فَاَتَتْہُ، فَاَخَذَتْ بِیَدِہٖ، فَعَاذَتْ بِہٖ، فَقَالَ: اَنْتِ ھِندٌ، فَقَالَتْ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ، فَصَرَفَ عَنْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: وَلاَ یَزْنِیْنَ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَھَلْ تَزْنِی الْحُرَّۃُ؟ قَالَ: لاَ وَاللّٰہِ! مَاتَزْنِی الْحُرَّۃُ، قَالَ: وَلاَ یَقْتُلْنَ اَوْلاَدَھُنَّ، قَالَتْ ھِنْدٌ: اَنْتَ قَتَلْتَھُمْ یَوْمَ بَدْرٍ، فَاَنْتَ وَھُمْ اَبْصَرُ، قَالَ: وَلاَ یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَ اَرْجُلِھِنَّ وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ، قَالَ: مَنَعَھُنَّ اَنْ یَّنِحْنَ وَکَانَ اَھْلُ الْجَاھِلِیَّۃِ یَمْزُقْنَ الثِّیَابَ وَ یِخْدِشْنَ الْوُجُوْہَ وَ یَقْطَعْنَ الشُّعُوْرَ وَ یَدْعُوْنَ بِالثَّبُوْرِ وَالْوَیْلِ۔(٩)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ عورتوں کا امتحان یہ تھا کہ رسول اللہ ا نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا کہ وہ خواتین سے کہیں کہ رسول اللہا ان سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ان عورتوں میں ہند بنت عتبہ بن ربیعہ جو حضرت ابو سفیانؓ کی اہلیہ تھیں، بھی شامل تھیں۔ جس نے حالت کفر میں حضوؐر کے چچا حضرت حمزہؓ کا (جنگ احد میں) پیٹ چاک کیا تھا۔ اس نے اپنی ہیئت ایسی بنا رکھی تھی کہ پہچانی نہ جائے۔ اس نے آپ کاارشاد سن کر عرض کیا میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ مگر بات یہ ہے کہ اگر میں بولوں گی تو حضوؐر مجھے پہچان لیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ (قتل کرادیں گے) اور میں صرف اسی وجہ سے ایسی ہیئت میں آئی ہوں کہ پہچانی نہ جاؤں مگر دوسری ساری عورتیں توپھر بھی خاموش رہیں اور ان کی بات اپنی زبان سے ادا کرنے سے انکار کردیا۔ آخر کار اسے خود ہی اپنی بات کہنی پڑی۔ ایسی صورت میں کہ وہ پہچانی نہیں جارہی تھیں۔ بولیں کہ یہ ٹھیک ہے جب شرک کی ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہوگی، رسول اللہ ا نے ان کی طرف دیکھا اسے خود کچھ نہ فرمایا حضرت عمر ص سے فرمایا۔ ان عورتوں سے کہو کہ دوسری بات یہ ہے کہ وہ چوری نہ کریں۔ ہند پھر بول اٹھیں کہ میں تو ابوسفیان کی کوئی چیز کبھی کبھار لے لیتی ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ میرے لیے حلال ہے یا نہیں؟ حضرت ابوسفیانؓ بھی اس مجلس میں حاضر تھے۔ انہوں نے سن کر جواب دیا کہ میرے مال میں سے جو کچھ بھی تو نے (میری اجازت کے بغیر) لیا خواہ وہ خرچ ہوگیا ہو یا ہنوز باقی ہو سب تمہارے لیے حلال ہے اب تو رسول اللہ ا نے اسے پہچان لیا اور ہنس کر اسے بلایا۔ وہ آپ کے پاس آئیں اور آپ کا دست مبارک تھام کر معافی کی طلب گار ہوئیں۔ آپ نے بس اتنا پوچھا تم ہند ہو؟ اس نے عرض کیا گزشتہ گناہ اللہ نے معاف فرمادیے ہیں۔ رسول اللہ ا نے اپنا رخ پھیر لیا اور فرمایا۔ تیسری بات یہ ہے کہ بدکاری نہ کریں۔ اس پر ہند نے کہا کیا کوئی آزادو شریف عورت بھی بدکاری کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے شریف و آزاد عورتیں برے کام کا ارتکاب نہیں کرتیں۔ چوتھی بار۔ پھر فرمایا اپنی اولاد کو قتل نہ کریں۔ ہند نے پھر کہا۔ آپ نے انہیں بدر کے روز قتل کیا ہے۔ آپ جانیں اور وہ جانیں۔ پھر فرمایا۔ پانچویں بات یہ ہے کہ خود اپنی جانب سے بے سر و پا بہتان نہ تراشیں۔ اور چھٹی بات یہ ہے کہ شرعی باتوں میں میری نافرمانی نہ کریں اور ساتویں بات یہ ہے کہ وہ نوحہ نہ کریں۔ اہل جاہلیت اپنے مرنے والے پر کپڑے چاک کر ڈالتے تھے۔ منہ نوچ لیتے تھے، بال کٹوادیتے تھے اور واویلا یعنی ہائے وائے کیا کرتے تھے۔
حضوؐر کی ایک خالہ سلمیٰ بنت قیس کہتی ہیں کہ میں انصار کی چند عورتوں کے ساتھ بیعت کے لیے حاضر ہوئی تو آپؐ نے ہم سے عہد لیا۔ پھر فرمایا (ولا تغشش ازواجکم) ’’اپنے شوہروں سے دھوکے بازی نہ کرنا۔‘‘ جب ہم واپس ہونے لگیں تو ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ جاکر حضوؐر سے پوچھو شوہروں سے دھوکے بازی کرنے کا کیا مطلب ہے؟ میں نے جاکر پوچھا تو آپؐ نے فرمایا (تاخذ مالہ فتحابی بہ غیرہ) یہ کہ تو اس کا مال لے اور دوسروں پر لٹائے۔‘‘
(مسنداحمد) (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۲۲)
٧١- قَالَ: ثَنَا مَھْرَانُ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ وَلاَ یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ، قَالَ: لاَ یَخْدِشْنَ وَجْھًا، وَلاَ یَشْقُقْنَ جَیْبًا، وَلاَ یَدْعُوْنَ وَیْلاً، وَلاَ یَنْشُدْنَ شِعْرًا۔
زید بن اسلم کی روایت میں ہے کہ معروف میںمیری نافرمانی نہ کریں اور فرمایا اپنے چہرے نہ نوچیں۔ اپنے گریبان چاک نہ کریں، ہائے تباہی بین نہ کریں اور شعر نہ کہیں۔ (تفسیر ابن جریر:۱۲، پ۲۸)
قتادہ اور حسن بصری رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ جو عہد حضور ا نے بیعت لیتے وقت عورتوں سے لیے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ وہ غیر محرم مردوں سے بات نہ کریں گی۔ (ابن عباس کی روایت میں اس کی یہ وضاحت ہے کہ غیرمردوں سے تخلیہ میں بات نہ کریں گی۔ قتادہ نے مزید وضاحت یہ کی ہے کہ حضوؐرکا یہ ارشاد سن کر حضرت عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا یا رسول اللہ ا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم گھر پر نہیں ہوتے اور ہمارے ہاں کوئی صاحب ملنے آجاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میری مراد یہ نہیں ہے۔ یعنی عورت کا کسی آنے والے سے اتنی بات کہہ دینا ممنوع نہیں ہے کہ صاحب خانہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔
(یہ روایات ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے نقل کی ہیں)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خالہ امیمہ بنت رُقیقہ سے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضوؐر نے ان سے یہ عہد لیا کہ نوحہ نہ کرنا اور جاہلیت کے سے بناؤ سنگھار کرکے اپنی نمائش نہ کرنا۔ (مسند احمد ابن جریر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: ثَنَیِ ابْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ ابْنِ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: جَآئَ تْ اُمَیْمَۃُ بِنْتُ رُقَیْقَۃَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ تُبَایِعُہٗ عَلَی الْاِسْلاَمِ، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ﷺ: اُبَایِعُکِ عَلٰی اَنْ لاَّ تُشْرِکِیْ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلاَ تَسْرِقِیْ، وَلاَ تَزْنِیْ، وَلاَ تَقْتُلِیْ وََلَدَکِ، وَلاَ تَاْتِیْ، بِبُھْتَانٍ تَفْتَرِیَنَۃَ بَیْنَ یَدَیْکِ وَ رِجْلَیْکِ وَلاَ تَنُوْحِیْ، وَلاَ تَبَرُّجِیْ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی۔(١٠)
ترجمہ: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے حوالہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ امیمہ رقیقہ کی بیٹی نبی ا کی خدمت میںاسلام پربیعت کے لیے حاضر ہوئی تو نبی ا نے اسے فرمایا میں تم سے اس بات پربیعت لیتا ہوں کہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دے گی۔ چوری نہ کروگی، زنا نہ کروگی، اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی اور بے سروپا اپنے سامنے بہتان تراشی نہ کروگی، نیزنوحہ نہ کروگی۔ دور جاہلیت اولیٰ کے سے ہار سنگھار نہ کرو گی۔
(۲) حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: ثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ: ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اَِذا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ حَتّٰی بَلَغَ فَبَایِعْھُنَّ، ذَکَرَ لَنَا اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ اَخَذَ عَلَیْھِنَّ یَوْمَئِذِ النِّیَاحَۃَ، وَلاَ تُحَدِّثْنَ الرِّجَالَ اِلاَّ رَجُلاً مِنْکُنَّ مَحْرَمًا، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنَّ لَنَا اَضْیَافًا وَ اِنَّا نَغِیْبُ عَنْ نِسَآئِ نَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ اُولٰئِکَ عَنِیْتُ۔(١١)
ترجمہ: حضرت قتادہؓ سے یایھا النبی اذا جاء ک المؤمنات الخ کے بارے میں منقول ہے انہوںنے ہمیںبتایا کہ نبی ا نے بیعت کے روز عورتوں سے عہد لیا کہ وہ نوحہ نہ کریں گی۔نیز یہ عہد بھی لیا کہ وہ غیر مردوں سے محرم کی غیر موجودگی میں بات چیت بھی نہ کریں گی۔ عبد الرحمن بن عوف نے عرض کیا یا رسول اللہا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم گھر پر نہیں ہوتے اور ہمارے ہاں مہمان آجاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میری مراد یہ نہیں ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَعْقُوْبُ، قَالَ: ثَنَا اَبِیْ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَلِیْطُ بْنُ اَیُّوْبَ بْنِ الْحَکْمِ بْنِ سُلَیْمٍ، عَنْ اُمِّہٖ، عَنْ سَلْمٰی بِنْتِ قَیْسٍ، وَکَانَتْ اِحْدٰی خَالاَتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَدْ صَلَّتْ مَعَہُ الْقِبْلَتَیْنِ، وَکَانَتْ اِحْدٰی نِسَآئِ بَنِیْ عَدِیِّ بْنِ النَّجَّارِ، قَالَتْ: جِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَبَایَعْتُہٗ فِیْ نِسْوَۃٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَیْنَا اَنْ لاَّ نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ، وَلاَ نَزْنِیْ، وَلاَ نَقْتُلَ اَوْلاَدَنَا، وَلاَ نَاْتِیْ، بِبُھْتَانٍ نَفْتَرِیْہِ بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَاَرْجُلِنَا، وَلاَ نَعْصِیْہِ فِیْ مَعْرُوْفٍ، قَالَ: وَلاَ تَغْشُشْنَ اَزْوَاجَکُنَّ، قَالَتْ: فَبَایَعْنَاہُ ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَقُلْتُ لِامْرَاَۃٍ مِّنْھُنَّ:اِرْجِعِیْ، فَاسْئَالِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَا غِشُّ اَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَسَأَلْتُہٗ، فَقَالَ: تَاْخُذُ مَالَہٗ فَتَحَابٰی بِہٖ غَیْرَہٗ۔(١٢)
ترجمہ: حضرت سلمیٰ بنت قیس سے مروی ہے، یہ رسول اللہا کی خالہ ہوتی تھیں۔ انہوں نے آپ کے ساتھ مسجد قبلتین میں نماز ادا کی تھی، بنو عدی بن نجار کے قبیلہ کی ایک خاتون تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ میں انصار کی عورتوں میں رسول اللہا کی خدمت میں بیعت کے لیے گئی۔ جب آپ نے ہم سے اس شرط پر بیعت لی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور جان بوجھ کر بے سرو پا بہتان تراشی نہ کریں گی۔ اور معروف میں نافرمانی نہ کریں گی تو آپ نے یہ بھی عہد لیا کہ اپنے شوہروں سے دھوکہ بازی نہ کریں گی۔ سلمیٰ بنت قیس کا بیان ہے کہ ہم ان شروط پر بیعت کرکے واپس لوٹیں تو میں نے ان عورتوں میںسے ایک سے کہاجاؤ واپس جاکر رسول اللہا سے پوچھو ہمارا اپنے شوہروں سے دھوکہ بازی کرنے کا کیا مطلب ہے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے جاکر دریافت کیا تو آپ نے فرمایا یہ کہ تو اس کا مال لے اور دوسروں پر لٹائے۔
٧٢-ام عطیہز فرماتی ہیں کہ حضور ا نے بیعت لینے کے بعد ہمیں حکم دیا کہ ’’ہم عیدین کی جماعت میں حاضر ہوا کریں گی، البتہ جمعہ ہم پر فرض نہیں ہے اور جنازوں کے ساتھ جانے سے ہمیں منع فرمادیا۔ (ابن جریر)
تخریج:(۱) حَدّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانِ الْقَزَّازُ، ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِدْرِیْسَ، ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَعْقُوْبَ، قَالَ: ثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَطِیَّۃَ، عَنْ جَدَّتِہٖ اُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ، جَمَعَ بَیْنَ نِسَآئِ الْاَنْصَارِ فِیْ بَیْتٍ، ثُمَّ اَرْسَلَ اِلَیْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَی الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَیْنَا، فَرَدَوْنَ اَوْ فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اَنَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِلَیْکُنَّ، قَالَتْ: فَقُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ بِرَسُوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، فَقَالَ: تُبَایِعْنَ عَلٰی اَنْ لاَّ تُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلاَ تَسْرِقْنَ، وَلاَ تَزْنِیْنَ، قَالَتْ: قُلْنَا، نَعَمْ، قَالَ: فَمَدَّ یَدَہٗ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ اَوِ الْبَیْتِ وَ مَدَدْنَا اَیْدِیْنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ، قَالَتْ: وَاَمَرَنَا فِی الْعِیْدَیْنِ اَنْ نَخْرُجَ فِیْہِ الْحُیَّضَ، وَالْعَوَاتِقَ، وَلاَجُمُعَۃَ عَلَیْنَا وَ نَھَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ۔(١٣)
ترجمہ: حضرت ام عطیہ سے مروی ہے ان کا بیان ہے کہ جب رسول اللہا مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے انصاری خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور ان کی طرف حضرت عمر بن خطاب کو (اپنا نمائندہ بناکر) بھیجا۔ حضرت عمرؓ جاکر دروازے پر کھڑے ہوگئے اور سلام کیا۔ ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ میں رسول اللہ ا کا قاصد و نمائندہ ہوں۔ ہم نے جواب میں کہا رسول اللہ کوبھی ہم خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کے نمائندہ کو بھی۔ حضرت عمرؓ نے بتایا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ تمہیں آپ کا یہ پیغام پہنچادوں کہ تم اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، بدکاری نہ کریں گی۔ ام عطیہ کا بیان ہے ہم نے جواب دیا ہاں۔ ہم اقرار کرتی ہیں۔ چناں چہ آپ نے انہیں کھڑے کھڑے اپنا ہاتھ اندر کی جانب بڑھا دیا اور ہم نے اپنے ہاتھ مکان کے اندر ہی اندر ان کی جانب بڑھا دیے۔ پھر آپ نے فرمایا اے اللہ گواہ و شاہد رہ۔ ام عطیہ کا بیان ہے کہ پھر آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم دونوں عیدوں کے موقع پر اپنی حائضہ عورتوں اور جوان بن بیاہی لڑکیوں کو بھی لے جایا کریں۔ مگر جمعہ ہم پر فرض نہیں اور ہمیں جنازوں میں شرکت سے منع فرمادیا۔
تشریح: فتح مکہ کے بعد حضوؐر نے مردوں اور عورتوں سے بیعت لی اور احادیث بالا کے مطابق ان سے بہت سی برائیوں کے چھوڑنے کا عہد لیا جو اس وقت عرب معاشرے کی عورتوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔
بعض لوگ حضوؐر کے احکام صادر کرنے کے اس آئینی اختیار کو آپؐ کی حیثیت رسالت کے بجائے حیثیت امارت سے متعلق قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ چوں کہ اپنے وقت کے حکمران بھی تھے اس لیے اپنی اس حیثیت میں آپ نے جو احکام دیے وہ صرف آپ کے زمانے تک ہی واجب الاطاعت تھے۔ حالاں کہ وہ بڑی جہالت کی بات کہتے ہیں۔ اوپر کی سطور میں ہم نے حضوؐر کے جو احکام نقل کیے ہیں ان پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ ان میں عورتوں کی اصلاح کے لیے جو ہدایات آپ نے دی ہیں وہ اگر محض حاکم وقت ہونے کی حیثیت سے ہوتیں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پوری دنیا کے مسلم معاشرے کی عورتوں میں یہ اصلاحات کیسے رائج ہوسکتی تھیں؟ آخر دنیاکا وہ کون سا حاکم ہے جس کو یہ مرتبہ حاصل ہو کہ ایک مرتبہ اس کی زبان سے ایک حکم صادر ہوا اور روئے زمین پر جہاں جہاں بھی مسلمان آباد ہیں وہاں کے مسلم معاشرے میں ہمیشہ کے لیے وہ اصلاح رائج ہوجائے جس کا حکم اس نے دیا ہے؟ (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۲۲)

عورتوں سے بیعت کا طریقہ

٧٣- حضرت عائشہز فرماتی ہیں کہ ’’خدا کی قسم بیعت میں حضوؐر کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ سے چھوا تک نہیں ہے۔ آپ عورت سے بیعت لیتے ہوئے بس زبان مبارک سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے تجھ سے بیعت لی۔ (بخاری، ابن جریر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَخِیِ ابْنُ شِھَابٍ، عَنْ عَمِّہٖ، اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَمْتَحِنُ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْہِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِھٰذِہِ الایۃ بِقَوْلِ اللّٰہِ یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ اِلٰی قَوْلِہٖ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ قَالَ عُرْوَۃُ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَمَنْ اَقَرَّ بِھٰذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ بَایَعْتُکَ کَلاَمًا، وَلاَ وَاللّٰہِ! مَا مَسَّتْ یَدُہُ یَدَ امْرَأَۃٍ قَطُّ فِی الْمُبَایَعَۃِ، مَا یُبَایِعُھُنَّ اِلاَّ بِقَوْلِہٖ: قَدْ بَایَعْتُکَ عَلٰی ذٰلِکَ۔(١٤)
ترجمہ: حضرت عروہ نے حضرت عائشہ ز سے روایت کیا کہ انہوںنے بیان کیا کہ رسول اللہا ان عورتوں کا جو ہجرت کرکے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ یایھا النبی اذا جاء ک المومنات یبایعنک۔۔۔غفور رحیم تک کی آیت کی رو سے امتحان لیا کرتے تھے۔ عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہز نے فرمایا مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کرلیتی تو اس سے رسول اللہا فرماتے کہ میں نے تجھ سے بیعت لے لی۔ آپ فقط گفتگو سے بیعت فرماتے۔ واللہ بیعت کے وقت آپ کے دست مبارک نے کسی دوسری اجنبی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ آپ ان سے صرف زبانی اقرار کی صورت میں بیعت لیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ بس میں نے تم سے اس پر بیعت لی۔
مسلم اور ابو داؤد سجستانی دونوں نے حضرت عائشہز سے مندرجہ ذیل روایت بھی نقل کی ہے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ ھَارُوْنَ بْنِ سَعِیْدُ الْاِبْلِیْ وَاَبُوْ الطَّاہِرِ اَنَا وَقَالَ ھَارُوْنَ نَا ابْنُ وَھْبٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ۔۔۔ عَنْ عُرْوَۃَ، اَنَّ عَائِشَۃَ اَخْبَرَتْہُ عَنْ بَیْعَۃِ النِّسَآئِ قَالَتْ: مَا مَسَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ امْرَأَۃً قَطُّ اِلاَّ اَنْ یَّاْخُذَ عَلَیْھَا، فَاِذَا اَخَذَ عَلَیْھَا، فَاَعْطَتْہُ، قَالَ: اذْھَبِیْ، فَقَدْ بَایَعْتُکَ۔(۱۵)
ترجمہ: حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ز نے ان سے خواتین سے آپ کی بیعت کا تذکرہ کیا تو بتایا کہ رسول اللہ ا کا دست مبارک کسی اجنبی عورت سے کبھی بھی نہیں لگا۔ البتہ زبان سے آپ بات کرتے۔ جب آپ اس سے گفتگو فرما لیتے اور وہ زبان سے قول و قرار دے دیتی تو آپ فرماتے جاؤ میں نے تجھ سے بیعت لے لی۔
(۳) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُبَایِعُ النِّسَآئَ بِالْکَلاَمِ بِھٰٰذِہِ الْاٰیَۃِ لاَ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا، قَالَتْ: وَمَا مَسَّتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَدَامْرَأَۃٍ اِلاَّ امْرَأَۃً یَمْلِکُھَا۔(۱۶)
ترجمہ: حضرت عائشہ ز سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا عورتوں سے بیعت لا تشرکوا باللّٰہ شیئا کے اقرار سے لیتے تھے۔ نیز انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا کے دست مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ بجز اس عورت کے جس کے آپ مالک ہوتے۔
٧٤-امیمہ بنت رُقیقہ کا بیان ہے کہ میں اور چند عورتیں حضوؐر کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئیں اور آپ نے قرآن کی ہدایت کے مطابق ہم سے عہد لیا۔ جب ہم نے کہا کہ ’’ہم معروف میں آپؐ کی نافرمانی نہ کریں گی‘‘ تو آپ نے فرمایا (فیما استطعتن و اطقتن)’’جہاں تک تمہارے بس میں ہو اور تمہارے لیے ممکن ہو‘‘ ہم نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کا رسول ہمارے لیے خود ہم سے بڑھ کر رحیم ہیں‘‘ پھر ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہا ہاتھ بڑھایے تاکہ ہم آپ سے بیعت کریں۔ آپؐ نے فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا بس میں تم سے عہد لوں گا۔ چناں چہ آپ نے عہد لیا۔
ایک اور روایت میں ان کا بیان ہے کہ آپؐ نے ہم میں سے کسی عورت سے بھی مصافحہ نہیں کیا۔
(مسنداحمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ اُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ التَّیْمِیَّۃِ، قَالَتْ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ نِسْوَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَقُلْنَا لَہٗ: جِئْنَاکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ نُبَایِعُکَ عَلٰی اَنْ لاَّ نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ، وَلاَ نَزْنِیْ، وَلاَ نَقْتُلَ اَوْلاَدَنَا، وَلاَ نَاْتِیْ، بِبُھْتَانٍ نَفْتَرِیْہٖ بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ اَرْجُلِنَا، وَلاَ نَعْصِیْکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: فِیْمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَ اَطَقْتُنَّ، فَقُلْنَا:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَرْحَمُ بِنَا مِنْ اَنْفُسِنَا، فَقُلْنَا: بَایَعْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ: اِذْھَبْنَ فَقَدْ بَایَعْتُکُنَّ، اِنَّمَا قَوْلِیْ لِمِائَۃِ امْرَأَۃٍ کَقَوْلِیْ لِامْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ، وَمَا صَافَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَّا اَحَدًا۔(١٧)
ترجمہ: حضرت امیمہ بنت رقیقہ کا بیان ہے کہ میں نے کئی دوسری عورتوں کے ساتھ رسول اللہ ا کی بیعت کی۔ ہم سب نے آپ سے عرض کیا، یا رسول اللہا ہم سب اس شرط پر آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ خود بخود اپنے سامنے بہتان طرازی نہ کریں گی اور معروف میں آپ کی نافرمانی بھی نہیں کریں گی۔ یہ گفتگو سن کر رسول اللہ ا ے فرمایا۔ اس حد تک جتنی تم میں استطاعت و قدرت ہو۔ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ ہم پر اس سے زیادہ مہربان و شفیق ہے جتنا ہم اپنی جانوںپر مہربان ہیں۔ پھر ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم سے بیعت لیں۔ (اس سے ان کی مراد تھی کہ مردوں کی طرح ہم سے بھی مصافحہ کریں) اس پر رسول اللہ ا نے فرمایا چلی جاؤ میں نے تمہاری بیعت لے لی ہے۔ میرا سو عورتوں سے کہنا بھی ایسا ہی ہے جیسے ایک عورت سے کہنا۔ (مطلب غالباً یہ تھا کہ مصافحہ کرنے کے بجائے میرا زبانی قول ہی کافی ہے) چناںچہ رسول اللہ ا نے ہم میں سے کسی سے بھی مصافحہ نہیں کیا۔
٧٥-ابوداؤد نے مراسیل میں شعبی کی روایت نقل کی ہے کہ عورتوں سے بیعت لیتے وقت ایک چادر حضوؐر کی طرف بڑھائی گئی۔ آپؐ نے بس اسے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ (یہی مضمون ابن ابی حاتم نے شعبی سے، عبد الرزاق نے ابراہیم نخعی سے اور سعید بن منصور نے قیس بن ابی حازم سے نقل کیا ہے) (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۲۳)
تخریج: قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعِیْدِ الْاَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ حُصَیْنٍ، عَنْ عَامِرٍ ھُوَ الشَّعْبِیُّ، قَالَ: بَایَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ النِّسَآئَ، وَ فِیْ یَدِہٖ ثَوْبٌ قَدْ وَضَعَۃٗ عَلٰی کَفِّہٖ، ثُمَّ قَالَ: وَلاَ تَقْتُلْنَ اَوْلاَدَکُنَّ ، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ: تَقْتُلُ اَبَآئَ ھُمْ وَ تُوْصِیْنَا بِاَوْلاَدِھِمْ؟ قَالَ:وَکَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ اِذَا جَآئَ النِّسَآئُ یُبَایِعْنَۃٗ، جَمَعَھُنَّ، فَعَرَضَ عَلَیْھِنَّ، فَاِذَا اَقْرَرْنَ رَجَعْنَ۔(١٨)
ترجمہ: عامر شعبی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا نے عورتوں سے اس طرح بھی بیعت لی کہ آپ کے ہاتھ ایک کپڑا تھا اسے اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا۔ تو ایک عورت بولی۔ ان کے باپ کو تو آپ نے قتل کردیے ہیں ان کی اولاد میں ہمیں وصیت فرما رہے ہیں؟ راوی کا بیان ہے اس کے بعد جوں ہی بیعت کے لیے خواتین آتیں تو آپ انہیں اکٹھا کرکے ان سب کے رو برو اوپر والی شق رکھتے۔ جب وہ اس شرط کا اقرار کرلیتیں تو واپس چلی جاتیں۔
٧٦- ابن اسحاق نے مغازِی میں اَبان بن صالح سے روایت نقل کی ہے کہ ’’حضوؐر پانی کے ایک برتن میں ہاتھ ڈال دیتے تھے اور پھر اسی برتن میں عورت بھی اپنا ہاتھ ڈال دیتی تھی۔
تخریج:(۱) اَخْرَجَ ابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ مَرْدُویہ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا بَایَعَ النِّسَآئِ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَّآئٍ، فَغَمَسَ یَدَہٗ فِیْہِ ثُمَّ یَغْمِسْنَ اَیْدَیْھِنَّ فِیْہِ۔ وَکَانَ ھٰذَا بَدْلُ الْمُصَافَحَۃِ، وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ بِصِحَتِہٖ۔(١٩)
ترجمہ: عمرو بن شعیب اپنے باپ کے حوالہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہا عورتوں سے بیعت لیتے تھے۔ ایک مرتبہ پانی کا ایک برتن منگوایا اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور عورتوں نے بھی اس میں اپنے ہاتھ ڈالے۔ یہ مصافحہ کے قائم مقام تھا۔ ( راوی کہتے ہیں کہ اس حدیث کے صحیح ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے)
٧٧-بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ عید کا خطبہ دینے کے بعد آپؐ مردوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے اس مقام پر تشریف لے گئے جہاں عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے وہاں اپنی تقریر میں قرآن مجید کی یہ آیت (یایھا النبی۔۔۔ واستغفرلھن اللّٰہط (الممتحنۃ ۱۲۔ پارہ ۲۸) تلاوت فرمائی، پھر عورتوں سے پوچھا تم اس کا عہد کرتی ہو؟ مجمع میں سے ایک عورت نے جواب دیا ہاں رسول اللہ ا ۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیْمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھَارُوْنَ بْنُ مَعْرُوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ، قَالَ: وَاَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْحٍ، اَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ، اَخْبَرَہٗ عَنْ طَاوٗسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَھِدْتُّ الصَّلوٰ ۃَ یَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ اَبِیْ بَکْرٍ، وَ عُمَرَ، وَ عُثْمَانَ فَکُلُّھُمْ یُصَلِّیْھَا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ یَخْطُبُ بَعْدُ، فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فَکَأَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ حِیْنَ یُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِیَدِہٖ ثُمَّ اَقْبَلَ یَشُقُّھُمْ حَتّٰی اَتَی النِّسَآئَ مَعَ بِلاَلٍ، فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لاَّ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلاَ یَسْرِقْنَ وَلاَ یَزْنِیْنَ وَلاَ یَقْتُلْنَ اَوْلاَدَھُنَّ وَلاَ یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَ اَرْجُلِھِنَّ حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْاٰیَۃِ کُلِّھَا، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ فَرَغَ: اَنْتُنَّ عَلٰی ذَالِکَ، وَ قَالَتِ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ، لَمْ یُجِبْہُ غَیْرُھَا، نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ۔ لاَ یَدْرِی الْحَسَنُ مَنْ ھِیَ؟ قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ وَ بَسَطَ بِلاَلٌ ثَوْبَہٗ فَجَعَلْنَ یُلْقِیْنَ الْفَتْخَ وَالْخَوَاتِیْمَ فِیْ ثَوْبِ بِلاَلٍ۔(٢٠)
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ا ، حضرات ابوبکر و عمر اور عثمان ثکے ساتھ عید الفطر کی نمازوں میں شریک رہا ہوں یہ سب نماز عید خطبہ سے پہلے ادا فرماتے تھے۔ بعد ازاں خطبہ دیتے تھے۔ نبی ا نماز سے فارغ ہوئے اور تشریف لائے تو وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ جب آپ مردوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھے رہنے کا حکم صادر فرماتے ہوئے صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس حضرت بلال کے ساتھ پہنچے اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے نبیؐ جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں اور اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی، اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ خود اپنے سامنے گھڑ کر بہتان باندھیں گی، یہاں تک جب پوری آیت سے فارغ ہوگئے تو دریافت فرمایا کیا تم اس پر بیعت کرتی ہو؟ تو ایک خاتون نے جواب دیا۔ اس کے سوا دوسری کسی نے جواب نہیں دیا۔ ہاں رسول اللہ ا ۔ حسن کو معلوم نہیں کہ وہ عورت کون تھی۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا صدقہ و خیرات کرو۔ ساتھ ہی حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلادیا۔ پس پھر عورتوں نے بلال کے کپڑے میں چھلے اور انگشتریاں ڈالنی شروع کردیں۔
تشریح: ام عطیہ کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ عورتوں نے آپؐ سے مصافحہ بھی کیا ہو کیوں کہ حضرت ام عطیہ نے مصافحہ کی تصریح نہیں کی۔ غالبا اس موقع پر صورت یہ رہی ہوگی کہ عہد لیتے وقت آپ نے باہر سے ہاتھ بڑھایا ہوگا اور اندر سے عورتوں نے اپنے اپنے ہاتھ آپ کے ہاتھ کی طرف بڑھادیے ہوں گے بغیر اس کے کہ ان میں کسی کا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے مس ہو۔
چناںچہ حضوؐر کے زمانے میں عورتوں سے بیعت لینے کا طریقہ مردوں کی بیعت سے مختلف تھا۔ مردوں سے بیعت لینے کا طریقہ یہ تھا کہ بیعت کرنے والے آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کرتے تھے۔ لیکن عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے آپ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، بلکہ مختلف دوسرے طریقے اختیار فرمائے۔
(تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۳۳)

حضور٘ سے حضرت علی رض کا ایک سوال

٧٨-فتح مکہ کے روز جب حضرت علیؓ نے آں حضرت ا سے عرض کیا کہ آپؐ اپنے اس مکان میں کیوں نہیں قیام فرماتے جو ہجرت سے پہلے آپؐ کا تھا تو حضوؐر نے جواب دیا کہ ’’ھل ترک لنا عقیل من ربع‘‘ عقیل نے ہمارے لیے چھوڑا ہی کیا ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عَلَیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: قُلتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِیْ حَجَّتِہٖ؟ قَالَ: وَھَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِیْلٌ مَنْزِلاً؟ ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ نَازِلُوْنَ غَدًا بِخَیْفِ بَنِیْ کِنَانَۃَ الْمُحَصَّبِ حَیْثُ قَاسَمَتْ قُرَیْشٌ عَلَی الْکُفْرِ، وَ ذٰلِکَ اَنَّ بَنِیْ کِنَانَۃَ حَالَفَتْ قُرَیْشًا عَلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ: اَنْ لاَّ یُبَایِعُوْھُمْ وَلاَ یُؤوُوْھُمْ۔(٢١)
ترجمہ: حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ حجۃ الوداع کے موقع پر میںنے نبی ا سے دریافت کیا یا رسول اللہا آپ کا کل قیام کہاں ہوگا؟ جواب میں آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا ہے؟ (اس نے سب پر قبضہ کرلیا ہے) پھر ارشاد فرمایا کل ہم لوگ بنو کنانہ کے ہاں محصب کے مقام پر قیام کریں گے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں قریش نے کفر پر قائم رہنے کی قسم کھائی تھی اور یہ واقعہ اس طرح تھا کہ بنو کنانہ نے قریش سے یہ قسم کھائی تھی کہ بنوہاشم کو وہ نہ کوئی چیز فروخت کریں گے اور نہ ان کو ٹھہرنے کی جگہ مہیا کریں گے۔
تشریح: اس کے معنی یہ ہیں کہ جب آپ اسے چھوڑ کر نکل گئے تھے اور عقیل بن ابو طالب نے اس پر قبضہ کرلیا تھا تو اس پر سے آپ کی ملک ساقط اور عقیل کی ملکیت ثابت ہوگئی۔ اب باوجود اس کے کہ آپ نے مکہ فتح کرلیا تھا آپ نے اپنے سابق حقوق ملکیت کی بنا پر اس مکان کو اپنا مکان قرار دینے سے خود انکار فرمادیا۔ (سود:دار الحرب میں کفار کے حقوق ملکیت)

(لاَھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتِْح) کا صحیح مفہوم

٧٩- (لاَھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتِْح) ’’فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنِیْ مَنْصُوْرٌ عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ طَاوٗسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلٰـکِنْ جِھَادٌ وَّ نِیَّۃٌ وَاِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ، فَانْفِرُوْا۔(٢٢)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد (عملاً) اور اس کی نیت کا اجر و ثواب اب بھی ملتا ہے اور جب تمہیںجہاد کے لیے طلب کیا جائے تو بلا تردد سب کھڑے ہو۔
(۲) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، ثَنَا یَحْیٰ، ثَنَا سُفْیَانُ، ثَنَا مَنْصُوْرٌ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ طَاوٗسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّﷺ، قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ: لاَ ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلٰـکِنْ جِھَادٌ وَّ نِیَّۃٌ وَاِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ، فَانْفِرُوْا۔(٢٣)
تشریح: جو شخص اللہ کے دین پر ایمان لایا ہو اس کے لیے نظام کفر کے تحت زندگی بسر کرنا صرف دو ہی صورتوں میں جائز ہوسکتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اسلام کو اس سرزمین میں غالب کرنے اور نظام کفر کو نظام اسلام میں تبدیل کرنے کی جدو جہد کرتا رہے جس طرح انبیاء ف اور ان کے ابتدائی پیرو کرتے رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ درحقیقت وہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پاتا ہو اور سخت نفرت و بیزاری کے ساتھ وہاں مجبورانہ قیام رکھتا ہو ان دوصورتوں کے سوا ہر صورت میں دارالکفر کا قیام ایک مستقل معصیت ہے اور اس معصیت کے لیے یہ عذر کوئی بہت وزنی عذر نہیں ہے کہ ہم دنیا میں کوئی ایسا دارالاسلام پاتے ہی نہیں ہیں جہاں ہم ہجرت کرکے جاسکیں۔ اگر کوئی دارالاسلام موجود نہیں ہے تو کیا خدا کی زمین میں کوئی پہاڑ یا کوئی جنگل بھی ایسا نہیں ہے جہاں آدمی درختوں کے پتے کھاکر اور بکریوں کا دودھ پی کر گزر کرسکتا ہو اور احکام کفر کی اطاعت سے بچا رہے۔
بعض لوگوں کو اس حدیث سے غلط فہمی ہوئی ہے۔ حالاں کہ دراصل یہ حدیث کوئی دائمی حکم نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس وقت کے حالات میں اہل عرب سے ایسا فرمایا گیا تھا۔ جب تک عرب کا بیشتر حصہ دارالکفر و دار الحرب تھا اور صرف مدینہ و اطراف مدینہ میں اسلامی احکام جاری ہورہے تھے۔ مسلمانوں کے لیے تاکیدی حکم تھا کہ ہر طرف سے سمٹ کر دار الاسلام میں آجائیں۔ مگر جب فتح مکہ کے بعد عرب میں کفر کا زور ٹوٹ گیا اور قریب قریب پورا ملک اسلام کے زیر نگیں آگیا تو نبی اکرم ا نے فرمایا کہ اب ہجرت کی حاجت باقی نہیں رہی ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہ تھی کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے تمام حالات میں قیامت تک کے لیے ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی ہے۔ (تفہیم القرآن ،ج۱، النساء، حاشیہ: ۱۳۱)

ابن ابی السرح اور ان کی رہائی

٨٠- عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح پہلے مرتد ہوچکے تھے اور فتح مکہ کے موقع پر حضرت عثمانؓ کی سفارش سے نبی ا نے ان کی جان بخشی کرکے ان کی بیعت قبول فرمائی تھی۔ یہ واقعہ ابو داؤد باب الحکم فیمن ارتد، نسائی باب الحکم فی المرتد، مستدرک حاکم، کتاب المغازی، طبقات ابن سعد ج۲، ص ۱۳۶-۱۴۱- سیرت ابن ہشام ج۴ ص ۵۱-۵۲ (مصطفی البابی مصر ۱۹۳۶ء)۔ الاستیعاب جلد۱، ص ۳۸۱ اور الاصابہ ج۲ ص ۳۰۹ میںبیان ہوا ہے۔ ان کتابوں میں واقعہ کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ صاحب پہلے مسلمان ہوکر مدینہ طیّبہ میں ہجرت کر آئے تھے اور نبی ا نے ان کو کاتبین وحی میں شامل فرمالیا تھا۔ پھر یہ مرتد ہوکر مکہ معظمہ واپس چلے گئے اور انہوں نے اپنی اس پوزیشن سے کہ یہ کاتب وحی رہ چکے تھے غلط فائدہ اٹھا کر حضوؐر کی رسالت اور قرآن کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلادیں۔ اس وجہ سے فتح مکہ کے موقع پر جن لوگوں کے متعلق حضورا نے اعلان فرمایا تھا کہ وہ اگر کعبہ کے پردوں میں چھپے ہوئے ہوں تو ان کو قتل کردیا جائے، ان میں یہ بھی شامل تھے۔ اس اعلان کو سن کر یہ حضرت عثمانؓ کے پاس، جو ان کے رضاعی بھائی تھے، پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے ان کو چھپا لیا۔ جب مکہ میں امن و امان ہوگیا اور نبی ا اہل مکہ سے بیعت لینے کے لیے تشریف فرما ہوئے تو حضرت عثمانؓ ان کو لے کر حضورا کے سامنے پہنچ گئے اور ان کے لیے عفو تقصیر کی درخواست کرتے ہوئے گزارش کی کہ ان کی بیعت بھی قبول فرمالیں۔ حضور ا خاموش رہے۔ حتی کہ تین مرتبہ ان کی درخواست پر خاموش رہنے کے بعد آپؐ نے ان سے بیعت لے لی، اور پھر صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ تم میںکوئی ایسا بھلا آدمی نہ تھا کہ جب میں بیعت نہیں لے رہا تھا تو وہ اٹھ کر انہیں قتل کردیتا۔ عرض کیا گیا کہ ہم آپ کے اشارے کا انتظار کررہے تھے۔ حضورا نے فرمایا نبی کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ آنکھ سے خفیہ اشارے کرے۔ (خلافت و ملوکیت ،استدراک)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثَنَا اَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّیُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ اخْتَبَأَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَجَارَ بِہٖ حَتّٰی اَوْقَفَہٗ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ بَایِعْ عَبْدَ اللّٰہِ، فَرَفَعَ رَأْسَہٗ، فَنَظَرَ اِلَیْہِ، ثَلاَثًا، کُلَّ ذٰلِکَ یَأبٰی، فَبَایَعَہٗ بَعْدَ ثَلاَثٍ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ، فَقَالَ: أَمَا کَانَ فِیْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ یَقُوْمُ اِلٰی ھٰذَا حِیْثُ رَآنِیْ کَفَفْتُ یَدِیْ عَنْ بَیْعَتِہٖ فَیَقْتُلَہٗ؟ فَقَالُوْا: مَا نَدْرِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا فِیْ نَفْسِکَ ألاَّ اَوْ مَأْتَ اِلَیْنَا بِعَیْنِکَ؟ قَالَ: اِنَّہٗ لاَ یَنْبَغِیْ لِنَبِیٍّ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ خَائِنَۃُ الْاَعْیُنِ۔(٢٤)
ترجمہ: حضرت سعد کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح حضرت عثمانؓ کے ہاں چھپ گیا تھا۔ حضرت عثمانؓ اسے لے کر نبی ا کی خدمت میںپہنچے اور درخواست کی کہ عبد اللہ کی بیعت لے لیں۔ آپؐ نے اپنا سر اوپر اٹھا کر اسے تین مرتبہ دیکھا اور تینوں مرتبہ بیعت لینے سے انکار فرمادیا۔ تین دفعہ ایسا کرنے کے بعد آخر کار اس سے بیعت لے لی۔ پھر اپنے صحابہ کی جانب روئے سخن کرکے فرمایا کیا تم میں کوئی بھلا مانس نہ تھا کہ جب میں بیعت نہیں لے رہا تھا تو وہ اٹھ کر اسے قتل کردیتا۔ صحابہ نے عرض کی۔ یا رسول اللہا ہم سمجھ نہ سکے کہ آپؐ کا ارادہ کیا ہے، آپ نے ہمیں اشارہ فرمادیا ہوتا۔ فرمایا نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ آنکھ سے خفیہ اشارہ کرے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْمَرْوَزِیُّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ یَزِیْدَ النَّحْوِیِّ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ سَرْحٍ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاَزَلَّہُ الشَّیْطَانُ، فَلَحِقَ بِالْکُفَّارِ، فَاَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُّقْتَلَ یَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَہٗ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَاَجَارَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(٢٥)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ عبد اللہ ابن سعد بن ابی سرح وحی رسالت مآب کتاب تحریر کرتا تھا۔ شیطان نے اسے پھسلادیا اور وہ کفار کے ساتھ جا ملا۔ تو رسول اللہا نے فتح مکہ کے موقع پر حکم صادر فرمایا کہ اسے قتل کردیا جائے۔ حضرت عثمانؓ نے اس کے لیے آپؐ سے پناہ کی سفارش کی۔ جسے رسول اللہا نے پناہ دے دی۔

وفد ہوازن حضورؐ کی خدمت میں

٨١- جنگ حنین کے بعد جب قبیلۂ ہوازن کا وفد اپنے قیدیوںکی رہائی کے لیے حاضر ہوا تو سارے قیدی تقسیم کیے جاچکے تھے۔ حضوؐر نے سب مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا یہ لوگ تائب ہوکر آئے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس دے دیے جائیں۔ تم میں جوکوئی بخوشی اپنے حصے میں آئے ہوئے قیدی کو بلا معاوضہ چھوڑنا چاہے وہ اس طرح چھوڑ دے اور جو معاوضہ لینا چاہے اس کو ہم بیت المال میں آنے والی پہلی آمدنی سے معاوضہ دے دیں گے۔ (تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَخِیِ بْنُ شِھَابٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِھَابٍ وَ زَعَمَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، اَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اَخْبَرَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَامَ حِیْنَ جَائَ ہٗ وَفْدُ ھَوَازِنَ مُسْلِمِیْنَ، فَسَأَلُوْہُ اَنْ یَّرُدَّ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ وَ سَبْیَھُمْ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَعِیْ مَنْ تَرَوْنَ، وَاَحَبُّ الْحَدِیْثِ اِلَیَّ اَصْدَقُہٗ، فَاخْتَارُوْا، اِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، اِمَّاالسَّبْیَ وَاِمَّا الْمَالَ؟ وَقَدْ کُنْتُ اَسْتَانَیْتُ بِکُمْ، وَکَانَ اَنْظَرَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِضْعَ عَشرَۃَ لَیْلَۃً حِیْنَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ غَیْرُ رَادٍّ اِلَیْھِمْ اِلاَّ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ، قَالُوْا: فَاِنَّا نَخْتَارُ سَبْیَنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْمُسْلِمِیْنَ، فَاَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ھُوَ اَھْلُہٗ، ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ اِخْوَانَکُمْ قَدْ جَآئُونَا تَائِبِیْنَ، وَاِنِّیْ، قَدْ رَأَیْتُ اَنْ اَرُدَّ اِلَیْھِمْ سَبْیَھُمْ، فَمَنْ اَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یُّطَیِّبَ ذٰلِکَ فَلْیَفْعَلْ، وَاَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یَّکُوْنَ عَلٰی حَظِّہٖ حَتّٰی نُعْطِیَہٗ، اِیَّاہُ مِنْ اَوَّلِ مَایُفِیئُ اللّٰہُ عَلَیْنَا فَلْیَفْعَلْ، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَیَّـبْـنَا ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّا لاَ نَدْرِیْ مَنْ اَذِنَ مِنْکُمْ فِیْ ذٰلِکَ مِمَّنْ لَّمْ یَاْذَنْ، فَارْجِعُوْا حَتّٰی یَرْفَعَ اِلَیْنَا عُرَفَاؤُکُمْ اَمْرَکُمْ، فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَھُمْ عُرَفَاؤُھُمْ، ثُمَّ رَجَعُوْا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاَخْبَرُوْہُ اَنَّھُمْ قَدْ طَیَّبُوْا وَاَذِنُوْا۔(٢٦)
ترجمہ: مروان اور مسور بن مخرمہ دونوں کا بیان ہے کہ جب ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے درخواست کی کہ ان کے اموال اور قیدی ان کو واپس لوٹا دیے جائیں، تو آپؐ نے ان سے فرمایا میرے ساتھ وہ ہیں جنہیں تم لوگ دیکھ رہے (میرے صحابہؓ) اور مجھے سب سے زیادہ پسند و محبوب سچی بات ہے لہٰذا تم دو میں سے ایک چیز پسند کرلو۔ اپنے قیدی چھڑالو یا اپنے اموال واپس لے لو۔ میں نے تو تمہاری خاطر تقسیم غنیمت میں تاخیر بھی کی تھی اور رسول اللہ ا نے طائف سے واپس تشریف لاتے وقت دس دن سے زائد دن تک ہوازن کا انتظار بھی کیا تھا۔ جب ان پر یہ چیز واضح ہوگئی کہ رسول اللہا صرف ایک چیز ہی واپس فرمائیں گے تو انہوں نے کہا ہم اپنے اسیران کو واپس لینا پسند کرتے ہیں۔ رسول اللہا مسلمانوں میں خطاب فرمانے کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ عزوجل کی شایان شان اس کی تعریف کرکے فرمایا اما بعد۔ تمہارے بھائی کفر سے تائب ہوکر ہمارے پاس آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کردوں لہٰذا تم میں سے جو کوئی بطور احسان اپنی خوشی سے چھوڑنا چاہے وہ ایسا کرے اور جسے اپنے حصہ میں آئے ہوئے قیدی کو ایسے چھوڑنا منظور نہ ہو اور اس کی خواہش یہ ہو کہ ہم اس کے عوض میں اس مال غنیمت میں سے جو اللہ تعالیٰ ہمیں سب سے پہلے عطا فرمائے، اسے دیں، تو وہ ایسا کرے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہا ہم احسان کرنا چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہمیں معلوم نہیں کہ تم میں سے کس نے بطیب خاطر اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ لہٰذا تم لوگ اس وقت واپس لوٹ جاؤ اور تمہارے ذمہ دار سردار آکر ہمارے پاس یہ معاملہ پیش کریں۔ وہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سرداروں نے آکر ان سے بات چیت کی اور نبی ا کی خدمت میں حاضر ہوکر رپورٹ پیش کی کہ سب لوگوں نے بخوشی اس کی اجازت دے دی ہے۔

جنگی قیدیوں کی بطور احسان رہائی

٨٢-غزوہ حنین میں ۶ہزار عورتیں اور بچے قید ہوئے۔ بعد میں ہوازن کا وفد حاضر ہوا اور اس نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ آں حضرت ا نے فرمایا کہ جو میری اور بنی عبد المطلب کے قبضہ میں ہیں، ان کو میں احسان کے طورپر رہا کرتا ہوں۔ مگر دوسروں کے معاملے میں حکم دینے کا مجھے حق نہیں۔ صرف سفارش کرسکتا ہوں۔ چناں چہ حضوؐر کی سفارش پر انصار اور مہاجرین نے اپنے اپنے حصے کے لونڈی غلاموں کو چھوڑدیا۔ مگر بنو تمیم اور بنو فزارہ اور بنو سلیم کے نمائندوں نے انکار کیا۔ آخر کار حضوؐر نے ان سے وعدہ کیا کہ بعد کی لڑائیوں میں جو لونڈی غلام ہاتھ آئیں گے ان میں سے ہم تم کو ایک ایک کے بدلے چھ چھ دیں گے تب وہ ہوازن کے قیدیوں کو چھوڑنے پر راضی ہوئے۔
(۲) اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرٍ اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِیُّ، ثَنَا اَبُوْالْعَبَّاسِ، ثَنَا اَحْمَدُ، ثَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِحُنَیْنٍ، فَلَمَّا اَصَابَ مِنْ ھَوَازِنَ مَا اَصَابَ مِنْ اَمْوَالِھِمْ وَ سَبَا یَاھُمْ اَدْرَکَہٗ وَفْدُ ھَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَقَدْ اَسْلَمُوْا۔ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَنَا اَصْلٌ وَعَشِیْرَۃٌ، وَقَدْ اَصَابَنَا مِنَ الْبَلاَئِ مَالَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ فَامْنُنْ عَلَیْنَا، مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَقَامَ خَطِیْبُھُمْ زُھَیْرُ بْنُ صُرَدٍ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا فِی الْحَظَائِرِ مِنَ السَّبَایَا خَالاَتُکَ وَ عَمَّاتُکَ وَ حَوَاضِنُکَ اللاَّتِیْ کُنَّ یَکْفِلْنَکَ وَ ذَکَرَ کَلاَمًا وَاَبْیَاتًا۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: نِسَائُ کُمْ وَ اَبْنَائُ کُمْ اَحَبُّ اِلَیْکُمْ اَمْ اَمْوَالُکُمْ؟ فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! خَیَّرْتَنَا بَیْنَ اَحْسَابِنَا وَ بَیْنَ اَمْوَالِنَا، اَبْنَائُنَا وَ نِسَائُنَا اَحَبُّ اِلَیْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ اَمَّا مَاکَانَ لِیْ وَلِبَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَھُوَ لَکُمْ۔ وَاِذَا اَنَا صَلَّیْتُ بِالنَّاسِ، فَقُوْمُوْا، وَقُوْلُوْا: اِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَبِالْمُسْلِمِیْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ اَبْنَائِنَا وَ نِسَائِنَا، سَاُعْطِیْکُمْ عِنْدَ ذَالِکَ وَاَسْئَالُ لَکُمْ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالنَّاسِ الظُّھْرَ، قَامُوْا، فَقَالُوْا مَااَمَرَھُمْ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَمَّا مَاکَانَ لِیْ وَ لِبَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَھُوَ لَکُمْ، وَ قَالَ الْمُھَاجِرُوْنَ: وَمَاکَانَ لَنَا فَھُوَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ فَقَالَ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: اَمَّا اَنَا وَ بَنُوْتَمِیْمٍ فَلاَ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسِ السُّلَمِیُّ: اَمَّا اَنَا وَبَنُوْ سُلَیْمٍ فَلاَ فَقَالَتْ بَنُوْ سُلَیْمٍ: بَلْ مَاکَانَ لَنَا فَھُوَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَقَالَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ:اَمَّا اَنَا وَ بَنُوْ فَزَارَۃَ فَلاَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَمْسَکَ مِنْکُمْ بِحَقِّہٖ، فَلَہٗ بِکُلِّ اِنْسَانٍ سِتَّۃُ فَرَائِضَ مِنْ اَوَّلِ فَئْیٍ نُصِیْبُہٗ، فَرَدُّوْا اِلَی النَّاسِ نِسَائَھُمْ وَاَبْنَائَھُمْ۔(٢٧)
ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ کے حوالہ سے اپنے دادا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ حنین کے موقع پر ہم رسول اللہ ا کے ساتھ تھے جب قبیلۂ ہوازن کے اموال اور قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے تو ہوازن کے ایک وفد نے جعرانہ کے مقام پر آپ کو آلیا۔ اس وقت یہ لوگ مسلمان ہوچکے تھے۔ انہوںنے درخواست کی اے اللہ کے رسول ہم حسب و نسب رکھنے والے خاندانی لوگ ہیں۔ اس وقت جس مصیبت میں ہم مبتلا ہیں وہ آپ پر مخفی نہیں۔ لہٰذا ہم پر احسان فرمائیں، اللہ آپ پر کرم و احسان فرمائے گا۔ ساتھ ہی ان کا خطیب زہیر ابن صرد کھڑا ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ان قیدیوں میں آپ کی خالائیں، پھوپھیاں اور رضاعی مائیں بھی ہیں جنہوں نے آپ کی کفالت کی ہے۔ پھر اس نے اشعار بھی سنائے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ا نے دریافت فرمایا تمہیں تمہاری بیویاں اور بچے زیادہ محبوب ہیں یا اموال؟ انہوں نے عرض کیا۔ ہماری اولاد اور ہماری بیویاں اور بچے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر رسول اللہا نے فرمایا اچھا تو پھر جو قیدی میرے اور بنو عبد المطلب کے حصہ میں آئے ہیں وہ تو تمہارے ہوئے۔ اور مزید برآں جب میں لوگوں کو نماز پڑھا چکوں تو تم کھڑے ہوکر کہنا کہ ہم رسول اللہا کو مسلمانوں کے پاس مسلمانوں کے ذریعہ اپنی اولاد اور بیویوں کے بارے میں سفارشی لائے ہیں۔ میں تواسی وقت اپنے حصہ کے قیدی تمہیں دے دوں گا اور لوگوں سے سفارش کروں گا۔ پس جب رسول اللہا لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا چکے تو یہ لوگ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ا کے دیے گئے مشورہ کے مطابق عرض کیا، رسول اللہ ا نے تو فرمایا کہ میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں آئے ہوئے قیدی تو تمہارے ہیں اور مہاجرین نے بھی پیش کش کردی کہ جو قیدی ہمارے حصہ میں آئے ہیں وہ بھی رسول اللہ کے۔ مگر اقرع بن حابس بولا۔ میں اور بنو تمیم اس سے مستثنیٰ ہیں پھر عباس بن مرداس سلمی بھی بول اٹھے کہ میں اور بنو سلیم بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ معاً بنو سلیم نے کہا نہیں ایسا نہیں بلکہ ہمارے حصہ میں آئے ہوئے قیدی بھی رسول اللہ کے ہیں۔ پھرعیینہ بن بدر نے بھی کہا میں اور بنو فزارہ بھی اس سے مستثنیٰ ہیں(ہم قیدی نہیں چھوڑیں گے) اس پر نبی ا نے فرمایا تم میں سے جس کسی نے اپنے حق (حصہ) کو روک لیا اسے ایک قیدی کے بدلہ میں ہم چھ اونٹنیاں اس مال میں سے دیں گے جو سب سے پہلے بطور فئی ہمیں حاصل ہوگا اب لوگوں نے ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس کردیا۔
تشریح: اس میں شک نہیں کہ حضوؐر نے بعض مواقع پر قیدیوں کو احسان کے ساتھ رہا بھی کیا ہے، کبھی قیدیوں کا مبادلہ بھی کیا ہے، اور کبھی زر فدیہ لے کر چھوڑ بھی دیا ہے۔ (تفہیمات حصہ دوم،غلامی کا مسئلہ ’’نبی ﷺ کا عمل‘‘)
گویاکہ قیدیوں کو بلاکسی معاوضے اور فدیے کے یونہی رہا کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک خاص رعایت ہے جو اسلامی حکومت صرف اس حالت میں کرسکتی ہے جب کہ کسی خاص قیدی کے حالات اس کے متقاضی ہوں، یا توقع ہو کہ یہ رعایت اس قیدی کو ہمیشہ کے لیے ممنون احسان کردے گی اور وہ دشمن سے دوست اور کافر سے مومن بن جائے گا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ دشمن قوم کے کسی شخص کو اس لیے چھوڑدینا کہ وہ پھر ہم سے لڑنے آجائے کسی طرح بھی تقاضائے مصلحت نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے فقہائے اسلام نے بالعموم اس کی مخالفت کی ہے اور اس کے جواز کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ ’’اگر امام مسلمین قیدیوں کو، یا ان میں سے بعض کو بطور احسان چھوڑ دینے میں مصلحت پائے تو ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ (السیر الکبیر)
مندرجہ ذیل احادیث میں مصلحت نمایاں ہے۔ مثلاً:
حضوؐر نے جو یہ فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان گھناؤنے لوگوں کے بارے میں بات کرتا تو میں اس کی خاطر انہیں یونہی چھوڑدیتا۔ یہ بات حضوؐر نے اس لیے فرمائی تھی کہ آپ جب طائف سے مکہ معظمہ واپس ہوئے تھے۔ اس وقت مطعم ہی نے آپ کو اپنی پناہ میں لیا تھا۔ اس کے لڑکے ہتھیار باندھ کر اپنی حفاظت میں آپ کو حرم تک لے گئے تھے۔ اس لیے آپ اس کے احسان کا بدلہ اس طرح اتارنا چاہتے تھے۔
اسی طرح یمامہ کے سردار کی رہائی ان کے مسلمان ہونے کا باعث بنی ۔ پھر جب وہ عمرہ کے لیے مکے گئے تو وہاں قریش کے لوگوں کو نوٹس دے دیا کہ آج کے بعد تمہیں کوئی غلہ یمامہ سے نہ پہنچے گا جب تک محمدا اجازت نہ دیں۔ چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مکہ والوں کو حضوؐر سے التجا کرنی پڑی کہ یمامہ سے ہمارے غلہ کی رسد بند نہ کرائیں۔
بنی قریظہ کے دو قیدیوں میں سے آپ نے زَبیر بن باطا اور عمرو بن سعد (یا ابن سعدی) کی جان بخشی کی۔ اس لیے چھوڑا کہ اس نے جاہلیت کے زمانے میں جنگ بعاث کے موقع پر حضرت ثابت بن قیس انصاری کو پناہ دی تھی، اس لیے آپ نے اس کو حضرت ثابت کے حوالے کردیا تاکہ اس کے احسان کا بدلہ ادا کردیں اور عمرو بن سعد کو اس لیے چھوڑا کہ جب بنی قریظہ حضوؐر کے ساتھ بد عہدی کررہے تھے اس وقت یہی شخص اپنے قبیلے کو غداری سے منع کررہا تھا۔ (کتاب الاموال لابی عبید)
احادیث بالا میں سے آخری حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم ہوچکنے کے بعد حکومت قیدیوں کو خود رہا کردینے کی مجاز نہیں رہتی، بلکہ یہ کام ان لوگوں کی رضامندی سے، یا ان کو معاوضہ دے کرکیا جاسکتا ہے۔ جن کی ملکیت میں قیدی دیے جاچکے ہوں۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ نے چند آدمیوں کو مستثنیٰ کرکے تمام اہل مکہ کو بطور احسان معاف کردیا اور جنہیں مستثنیٰ کیا گیا تھا ان میں سے بھی تین چار کے سوا کوئی قتل نہ کیا گیا۔ سارا عرب اس بات کو جانتا تھا کہ اہل مکہ نے رسول اللہا اور مسلمانوں پر کیسے کیسے ظلم کیے تھے۔ اس کے مقابلے میں فتح پاکر جس عالی حوصلگی کے ساتھ حضوؐر نے ان لوگوں کو معاف فرمایا اس سے اہل عرب کو یہ اطمینان حاصل ہوگیا کہ ان کا سابقہ کسی جبار سے نہیں بلکہ ایک نہایت رحیم و شفیق اور فیاض رہنما سے ہے۔ اس بنا پر فتح مکہ کے بعد پورے جزیرۃ العرب کو مسخر ہونے میں دوسال سے زیادہ دیر نہ لگی۔
نبی ا کے بعد صحابۂ کرام کے دور میں بھی بطور احسان قیدیوں کو رہا کرنے کی نظیریں مسلسل ملتی ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے اشعث بن قیس کندی کو رہا کیا، اور حضرت عمرؓ نے ہرمزان کو اور مناذر اور میسان کے قیدیوں کو آزادی عطا کی۔
(تفہیم القرآن،ج۵، محمد، حاشیہ:۸)

ماخذ

١) بخاریج٢۔ کتاب التفسیر سورۃ الممتحنۃ۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعۃ واھل بدرث ٭ ابو داؤد ج٣۔ کتاب الجھاد باب فی حکم الجاسوس اذا کان مسلما٭ ترمذیج٢۔ ابواب التفسیر سورۃ الممتحنۃ ھذا حدیث حسن صحیح مسلم، ابو داؤد اور ترمذی تینوں نے حضرت عمرؓ کا قول (دعنی یا رسول اللّٰہ! اضرب عنق ھذا المنافق) ذکر کیا ہے اس کے علاوہ بھی بیان الفاظ میں تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔
امام بخاری نے کتاب المغازی میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔ اس میں: (عن علی، قال: بعثنی رسول اللہ ﷺ و ابا مرثد والزبیر) اور آگے: (فالتمسنا فلم نر کتابا، فقلنا: ماکذب رسول اللہ ﷺ لتخرجن الکتاب او لنجردنک) ہے اور آگے روایت میں (فقال عمر: انہ قد خان اللہ و رسولہ و للمومنین فدعنی لاضرب عنقہ) منقول ہے۔
٭ بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب فضل من شھد بدرا٭ الادب المفرد للبخاری ص:١١٧۔ باب من قال لاٰخر: یا منافق فی تاویل تاولہ٭ اور بخاری ج١۔ کتاب الجھاد، باب الجاسوس و التجسس والتبحث و قول اللہ تعالٰی لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء۔ اس صفحہ پر امام بخاریؒ نے بھی حضرت عمرؓ کا قول: (دعنی اضرب عنق ھذا المنافق) نقل کیا ہے اور اس روایت میں (انی کنت امراء ملصقا فی قریش) کی وضاحت بھی منقول ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب المسلم یدل المشرکین علی عورۃ المسلمین ٭مسند احمدج١ص٢٩۔ عن علی٭ تفسیر ابن جریرج١٢سورۃ الممتحنۃ:٣٨ ٭ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الممتحنۃ٭ ابن ابی حاتم بحوالہ ابن کثیر ج٤۔٭ فتح القدیر للشوکانی ج ٥۔ سورۃ الممتحنۃ۔ عن علی٭ روح المعانی:(پ:٢٨)٥٨۔  سورۃ الممتحنۃ۔ عن علی٭ ابن مردویہ بحوالہ روح المعانی: (پ:٢٨) ٥٨۔ ابن مردویہ نے حضرت انس صکے حوالہ سے (انہ علیہ الصلاۃ والسلام بعث عمرو علیا) ذکر کیا اور مختصر سی روایت نقل کی ہے۔٭ ابن کثیر نے بھی ابو حیان کی ایک روایت مندرجہ بالا الفاظ میںبیان کی ہے۔ ٭سیرت ابن ہشام:٤۔ (قدرے لفظی اختلاف)۔٭السیرۃ الحلبیۃج٣۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢۔ ٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیرج٣ ٭طبقات ابن سعدج٢ (مختصر روایت)٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیرج٢۔
(٢) السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر۔ باب فتح مکۃ حرسھا اللّٰہ تعالٰی۔
(٣) الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢٭سیرت ابن ھشام ج٢٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣ ٭الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢٭ سیرۃ النبیا شبلی نعمانی ج١٭ مجموعۃ الوثائق السیاسیۃص٨٠٭ اصح السیر از عبد الرؤف دانا پوری ص٣١٤٭ الکامل لابن اثیر نے (فانتم الطلقاء) کے بعد (فعفا عنھم) بھی نقل کیا ہے۔
(٤) زاد المعاد لابن القیم الجوزیۃج٢ دخول النبی ﷺ والمسلمین مکۃ السیرۃ الحلبیۃ ج٣ السیرۃ الحلبیۃ میں یا معشر قریش ماترون؟ کے علاوہ ماتقولون؟ ماذا تظنون کے الفاظ بھی منقول ہیں اور قالوا کے بجائے فقال سھیل بن عمرو نقول: خیرا، و نظن خیرا مذکور ہے۔
(٥) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب این رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح۔٭ بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر باب قولہ و قل جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا یزھق یھلک۔ اس روایت میں یوم الفتح نہیں ہے۔ ٭بخاری ج١۔ کتاب المظالم باب ھل تکسر الدنان التی فیھاالخمر وتخرق الزقاق الخ۔٭مسلم ج٢۔ کتاب الجھاد والیسر باب فتح مکۃ۔٭ترمذی ج،٢۔ ابواب التفسیر سورۂ بنی اسرائیل۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔٭ مسند احمد ج١ص٣٧٧۔ عن عبد اللہ بن مسعود۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج٩۔ کتاب السیر، باب فتح مکۃ حرمھا اللّٰہ تعالٰی۔ بیہقی میں مسلم والی روایت ہے۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔٭ مجمع الزوائد ج٦۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الفتح۔ عن عبد اللّٰہ بن عمر۔ ٭ السیرۃ الحلبیہ ج٣۔ فتح مکۃ۔ عن ابن عبس۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔ عن ابن مسعود۔٭نیز اس نے عبد اللّٰہ بن عمر اور عبد اللّٰہ بن عباس کی روایت بھی ص٧١۔٧٢ پر نقل کی ہے۔٭تفسیر ابن کثیر ج٣۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔ اور ابن کثیر نے حافظ ابو یعلٰی کے حوالہ سے حضرت جابر سے مروی روایت بھی نقل کی ہے۔٭ تفسیر ابن جریر پ ١٥بنی اسرائیل ص١٠٢۔ آیت قل جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ عن ابن مسعود۔٭تفسیر فتح القدیر للشوکانی۔٣۔ عن ابن مسعود۔ ٭طبقات ابن سعد ج٢۔
(٦) احکام القرآن لابن العربی ج٤۔ تفسیر سورۃ الممتحنۃ۔
(٧) بخاری ج٢۔کتاب التفسیر سورۃ الممتحنۃ باب قولہٖ اذا جاء ک المؤمنات یبایعنک (احکام القرآن لابن العربی ج٤)۔ ٭بخاری ج٢۔ کتاب الاحکام باب بیعۃ النساء بخاری کے اس صفحہ (١٠٧١) پر ثم رجعت کے بعد فما وفت امرأۃ الا ام سلیم و ام العلاء، وابنۃ ابی سبرۃ امرأۃ معاذ اوابنۃ ابی سبرۃ وامرأۃ معاذ (فتح القدیر للشوکانی ج ٥) ٭بخاری ج١۔ کتاب الجنائز باب ما ینھی عن النَّوحِ والبکائِ والزجر عن ذلک۔ اس صفحہ (١٧٥) پر عن عطیۃ، قالت: اخذ علینا النبی ﷺ عند البیعۃ ان لا ننوح فما وفت منا امرأۃ غیر خمس الخ۔
(٨) نسائی ج ٧، کتاب البیعۃ باب بیعۃ النساء۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر سورۃ الممتحنہ عن ام سلمۃ۔ (روایت کے الفاظ مختلف ہیں) ھذا حدیث حسن غریب۔٭ تفسیر ابن جریر الطبری ج١٢، سورۃ الممتحنہ۔ ٭تفسیر ابن کثیرج٤۔ سورۃ الممتحنہ۔٭ ابن ابی حاتم، بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ الممتحنہ ابن ابی حاتم کی روایت میں جمع کا صیغہ منقول ہے اور کسی خاتون کا نام بھی ذکر نہیں بلکہ عن امراۃ من المبایعات ہے۔
(٩) تفسیر ابن جریر ج١٢۔ سورۃ الممتحنہ۔٭ تفسیر ابن کثیرج٤۔ سورۃ الممتحنہ۔ ابن کثیر نے اس روایت کے بارے میں ھذا اثر غریب و فی بعضہ نکارۃ کہا ہے۔
(١٠) تفسیر ابن جریر١٢۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ مسند احمد ج٢ ص١٩٦۔ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ، عن جدہ۔ ٭تفسیر ابن کثیرج٤۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ مجمع الزوائد ج٦۔ کتاب المغازی والسیر باب البیعۃ علی الاسلام التی تسمی بیعۃ النساء۔
(١١) تفسیر ابن جریرج١٢۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ ابن کثیر نے لیس اولئک عنیت دو مرتبہ بیان کیا ہے۔٭ابن ابی حاتم بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ الممتحنۃ۔
(١٢) مسند احمد ج٦ص٣٧٩-٣٨٠۔٭ ابن کثیرج٤۔٭مجمع الزوائد ج٦۔
(١٣) تفسیر ابن جریر طبری ج١٢، پ٢٨۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ مجمع الزوائد للھیثمی ج٦۔
(١٤) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر سورۃ الممتحنۃ۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب الامارۃ، باب کیفیۃ بیعۃ النساء۔٭ مسلم نے وما مست کف رسول اللّٰہ ﷺ کف امراۃ بھی نقل کیا ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الجھاد باب ٤٣۔ بیعۃ النساء۔ ٭تفسیر ابن جریر ج١٢۔ سورۃ الممتحنۃ۔
(١٥) مسلم ج٢۔ کتاب الامارۃ باب کیفیۃ بیعۃ النساء۔٭ ابوداؤد ج٣۔ کتاب الخراج والامارۃ۔ باب ماجاء فی البیعۃ۔ عن عائشۃز۔
(١٦) بخاری ج٢۔ کتاب الاحکام باب بیعۃ النساء۔٭ تفسیر ابن جریر ج١٢۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر۔ سورۃ الممتحنۃ ترمذی نے اس روایت کو حدیث حسن صحیح قرار دیا ہے۔
(١٧) تفسیر ابن جریر ج١٢ سورۃ الممتحنۃ۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب٤٣ بیعۃ النساء ص٥٥٩۔ ابن ماجہ نے بہت مختصر روایت نقل کی ہے۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب السیر باب ماجاء فی بیعۃ النساء۔ ٭نسائی ج ٧۔ کتاب البیعۃ۔ باب بیعۃ النساء۔٭ مسند احمدج٦ص٣٥٧۔ امیمۃ بنت رقیقۃ۔٭ ابن جریر ج١٢۔ پ٢٨۔ ٭تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الممتحنۃ۔٭ موطا امام مالک ٢۔ باب ماجاء فی البیعۃ عن امیمہ بنت رقیقہ۔
(١٨) ابن ابی حاتم، بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج٤۔ سورۃ الممتحنۃ۔
(١٩) روح المعانی ج١٢الممتحنۃ۔٭ مجمع الزوائدج٦۔ کتاب المغازی والسیر٭ باب البیعۃ علی الاسلام التی تسمی بیعۃ النساء۔٭ دارقطنی ج٤۔ النوادر کے تحت۔ حاشیہ نمبر ١٤ کے ضمن میں و فی المغازی لابن اسحاق عن ابان بن صالح انہ کان یغمس یدہ فی اناہ فیغمسن ایدیھن فیہ اخرج سعید بن منصور وابن سعد عن الشعبی قال: کان رسول اللّٰہ ﷺ اذا بایع النساء وضع علی یدہ ثوبا۔ ٭روح المعانی ج١٢، سورۃ الممتحنۃ۔٭مجمع الزوائد٦ پر معقل بن یسار سے ان النبی ﷺ کان یصافح النساء من تحت الثوب کے الفاظ بھی منقول ہیں۔
(٢٠) بخاری ج٢۔ کتاب التفسیر سورۃ الممتحنۃ۔٭ مسلم ج١۔ کتاب صلاۃ العیدین۔٭ تفسیر ابن کثیرج٤ سورۃ الممتحنۃ۔
(٢١) بخاری ج١۔ کتاب الجھاد باب اذا اسلم قوم فی دارالحرب ولھم مال و ارضون فھی لھم٭بخاری ج٢۔ کتاب المغازی، باب این رکز النبیا الرایۃ یوم الفتح۔٭ مسلم ج١۔ کتاب الحج۔٭ ابوداؤد ج٣۔ کتاب الفرائض، باب ھل یرث المسلم الکافر۔ عن اسامہ بن زید۔٭ ابن ماجہ کتاب المناسک، باب دخول مکۃ۔٭ دار قطنی ج٤۔ کتاب البیوع۔٭ مسند احمد ج ٥۔ اسامہ بن زید۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٦۔ کتاب الفرائض باب لایرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم عن اسامۃ بن زید۔
(٢٢) بخاری ج١۔کتاب الجہاد باب فضل الجھاد والسیر و قولہٖ تعالٰی ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم و اموالھم۔ ٭مسلم ج٢۔ کتاب الامارۃ، باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ علی الاسلام والجھاد والخیر وبیان معنی لاھجرۃ بعد الفتح۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی۔ عن ابن عباس۔٭ السیرۃ النبویۃ ج٣۔ عن صفوان بن امیہ۔
(٢٣) بخاری ج١۔ کتاب الجہاد باب وجوب النیر وما یجب من الجھاد والنیۃ و قولہ انفروا خفافا و ثقالا وجاھدوا باموالکم و انفسکم فی سبیل اللّٰہ الخ۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب الامارۃ باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ علی الاسلام والجھاد عن عائشۃ۔٭ بخاری ج١۔ کتاب الجھاد باب اثم الغادر للبر والفاجر۔
اس مقام پر بخاری نے ابن عباس سے قال رسول اللہ ﷺ یوم فتح مکۃ: لاھجرۃ ولکن جھاد و نیۃ واذا استنفرتم فانفروا نقل کیا ہے۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔ عن ابن عباس۔ اور ١پر باب لا ھجرۃ بعد الفتح کے تحت عن عائشہز بھی مندرجہ بالا روایت انہی الفاظ میں منقول ہے۔ مزید برآں حضرت عائشہز سے اسی صفحہ پر ان کا مندرجہ ذیل قول بھی مذکور ہے۔ انقطعت الھجرۃ منذ فتح اللّٰہ علی نبیہ ﷺ مکۃ۔٭ مسلم٢۔ کتاب الامارۃ باب المبایعۃ بعد فتح مکۃ علی الاسلام والجھاد والخیر و بیان معنی ہجرۃ بعد الفتح۔ عن ابن عباس۔٭ ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد باب فی الھجرۃ ھل انقطعت۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب السیر باب ماجاء فی الھجرۃ۔٭ نسائی ج ٧۔ کتاب البیعۃ، باب ذکر الاختلاف فی انقطاع الھجرۃ۔ عن ابن عباس۔ ٭سنن دارمی ج٢۔ کتاب السیر باب لاھجرۃ بعد الفتح۔ عن ابن عباس۔٭ دارمی نے ابن عباس کے حوالہ سے یوم الفتح فتح مکۃ لا ھجرۃ ولکن جھاد ونیۃ الخ بیان کیا ہے۔ نسائی نے لاھجرۃ بعد فتح مکۃ الخ نقل کیا ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الکفارات باب١٢۔ ابرار المقسم۔ ابن ماجہ میں صرف لاھجرۃ ہے۔٭ مسند احمد ج١ص٢٦٦۔ عن ابن عباس مسند احمد ج٢ص٢٢۔ عن ابی سعید خدری ج٣۔ عن صفوان بن ایہ ص:٤٦٨۔٢٦٩ عن مجاشع بن مسعود: ٥؍٧١۔ عن مجاشع بن مسعود ج ٥ ص١٨٧۔ زید بن ثابت ج٦ص٤٦٦۔ عن صنوانی بن امیہ۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر باب الرخصۃ فی الاقامۃ بدار الشرک لمن لا یخاف الفتنۃ عن ابن عباس۔ بیہقی نے سنن دارمی والی روایت نقل کی ہے بیہقی کے اسی صفحہ پر ایک روایت بایں الفاظ مذکور ہے۔ قد انقطعت الھجرۃ یوم الفتح اور اسی جلد اور اسی باب کے تحت ص١٧پر فقد انقطعت الھجرۃ ولکن جھاد و نیۃ الخ بھی منقول ہے۔ اور بیہقی ج ٥ عن ابن عباس۔ ٭المستدرک للحاکم ج٣ کتاب الھجرۃ۔ مستدرک نے لا ھجرۃ بعد الفتح ولکن جھاد و نیۃ تک مذکور ہے۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی عن عائشہ: مستدرک للحاکم والی روایت ہے۔٭ السیرۃ النبویۃج٣۔ عن ابی سعید خدری اس نے بھی مستدرک اور ابن ابی شیبہ والی روایت نقل کی ہے۔٭ المصنف عبد الرزاق ج ٥۔ عن ابن عباس۔ المصنف میں اسی صفحہ پر سنن بیہقی والی روایت ان الھجرۃ قد انقطعت بعد الفتح، ولکن جھاد ونیۃ الخ بھی منقول ہے۔
(٢٤) ابوداؤد ج٤۔ کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد۔٭ ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد باب قتل الاسیر ولا یعرض علیہ السلام۔٭ نسائی ج ٧۔ کتاب تحریم الدم، باب الحکم فی المرتد۔٭ المستدرک ج٣۔ کتاب المغازی باب استجارۃ عبد اللّٰہ بن ابی سرح عند عثمان و شفاعتہ عند النبی ﷺ۔٭ طبقات ابن سعدج٢ص١٤١۔ ٭اس صفحہ پر عبارت ابوداؤد، نسائی اور المستدرک سے مختلف ہے مفہوم وہی ہے جو مذکورہ کتب کی روایت میں بیان ہوا ہے۔٭ سیرت ابن ہشام ج٤۔ سبب امر الرسول بقتل سعد و شفاعتہ عثمان فیہ۔
(٢٥) ابوداؤد ج٤۔ کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد۔٭ المستدرک ج٣۔ کتاب المغازی، باب استجارۃ عبد اللّٰہ بن سرح عند عثمان و شفاعتہ عند النبی ﷺ۔
(٢٦) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی، باب قول اللہ و یوم حنین اذا اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا الخ٭ بخاری ج١۔ کتاب العتق باب من ملک من العرب رقیقا فوھب و باع و جامع وفدٰی وسبٰی۔٭ بخاری ج١۔ کتاب الھبۃ باب من رای الھبۃ الغائبۃ جائزۃ۔٭ بخاری ج١۔ کتاب الجھاد باب من قال و من الدلیل علی ان الخمس لنوائب المسلمین الخ۔٭ ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد، باب فی فداء الاسیر بالمال۔ عن مروان و مسور بن مخرمہ۔٭ نسائی ج٦۔کتاب الھبۃ، باب ھبۃ المشاع عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ۔٭ مسند احمد ج٤ ص٣٢٦۔ مسور بن مخرمہ۔٭ نسائی نے فلہ ست فرائض من اول شی یفیئہ اللّٰہ عزوجل تک تو بخاری کے مطابق نقل کی ہے باقی حصۂ حدیث اس نے نقل نہیں کیا۔٭ مجمع الزوائد:ج٦۔ کتاب المغازی باب ماجاء فی غنائِم ھوازن و سبیھم۔ عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج٩۔ کتاب السیر باب مایفعلہ بالرجال البالغین منھم عن مروان و مِسور بن مخرمہ۔
(٢٧) السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر باب من یجری علیہ الرق۔٭ مسند احمد ج٢ص١٨٤۔ عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔ ٭سیرت ابن ھشام ج٤۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٣۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢۔ ٭الکامل فی التاریخ میں فساعطیکم واسأل فیکم منقول ہے۔

فصل:۴ غزوہ تبوک غزوہ تبوک ایمان و نفاق کی کسوٹی

٨٣-دَعُوْہُ فَاِنْ یَکُ فِیْہِ خَیْرٌ فَسَیُلْحِقُہُ اللّٰہُ بِکُمْ وَ اِنْ یَکُ غَیْرُ ذٰلِکَ فَقَدْ اَرَاحَکُمُ اللّٰہُ مِنْہُ۔
’’جانے دو، اگر اس میں کچھ بھلائی ہے تو اللہ اسے پھر تمہارے ساتھ لاملائے گا اور اگر کچھ دوسری حالت ہے تو شکر کرو کہ اللہ نے اس کی جھوٹی رفاقت سے تمہیں خلاصی بخشی۔‘‘
تخریج:(۱) قَالَ یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ بُرَیْدَۃَ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبِ نِالْقُرَظِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی تَبُوْکَ جَعَلَ لاَ یَزَالُ الرَّجُلُ یَتَخَلَّفُ، فَیَقُوْلُوْنَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَخَلَّفَ فُلاَنٌ فَیَقُوْلُ: دَعُوْہُ اِنْ یَّکُ فِیْہِ خَیْرٌ، فَسَیُلْحِقُہُ اللّٰہُ بِکُمْ، وَ اِنْ یَّکُ غَیْرُ ذٰلِکَ فَقَدْ اَرَاحَکُمُ اللّٰہُ مِنْہُ حَتّٰی قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ تَخَلَّفَ اَبُوْذَرٍّ وَ اَبْطَأَ بِہٖ بَعِیْرَہٖ فَقَالَ: دَعُوْہُ اِنْ یَّکُ فِیْہِ خَیْرٌ فَسَیُلْحِقُہُ اللّٰہُ بِکُمْ، وَ اِنْ یَّکُ غَیْرُ ذَالِکَ فَقَدْ اَرَاحَکُمُ اللّٰہُ مِنْہُ الخ۔(١)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ جب رسول اللہا تبوک کی جانب چل کھڑے ہوئے تو ایک آدمی پیچھے رہنے لگا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہا فلاں صاحب پیچھے رہ گئے ہیں۔ لوگوں کی بات سن کر آپؐ فرماتے۔ چھوڑو، جانے دو اسے اگر اس میں کچھ بھلائی ہے تو اللہ اسے پھر تمہارے ساتھ لا ملائے گا اور اگر کچھ دوسری حالت ہے تو اللہ نے تمہیں اس کی رفاقت سے خلاصی ونجات دلا دی۔ یہاں تک کہ کہا گیا یا رسول اللہؐ ابو ذرؓ پیچھے رہ گئے ہیں اورانہوں نے اپنے اونٹ کی رفتار سست کرلی ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ اسے جانے دو، اگر اس کے اندر خیرو بھلائی کا جذبہ ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے تم لوگوں سے ملائے گا اور اگر معاملہ اس کے خلاف ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نجات دے دی۔
تشریح: غزوۂ تبوک عملاً ایمان اور نفاق کے امتیاز کی کسوٹی بن گیا تھا حتی کہ اس وقت پیچھے رہ جانے کے معنی یہ تھے کہ اسلام کے ساتھ آدمی کے تعلق کی صداقت ہی مشتبہ ہوجائے۔ چناں چہ تبوک کی طرف جاتے ہوئے دوران سفر میں جو جو شخص پیچھے رہ جاتا تھا صحابۂ کرام نبی ا کو اس کی خبر دیتے تھے اور جواب میں حضوؐر برجستہ مندرجہ بالا الفاظ فرماتے تھے۔
(تفہیم القرآن،ج۲، التوبہ تاریخی پس منظر، ’’غزوہ تبوک‘‘)

کعب بن مالک اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ

٨٤-نبی ا نے تبوک سے واپس تشریف لاکر مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ کوئی ان (یعنی کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اورمرارہ بن ربیع) سے سلام کلام نہ کرے۔
(کعب بن مالک کو چالیس روز گزرنے کے بعد نبی ا نے یہ پیغام بھجوایا کہ) اپنی بیوی سے بھی علیحدہ ہوجاؤ۔ میں نے پوچھا کیا طلاق دے دوں؟ جواب ملا نہیں، بس الگ رہو۔ چناں چہ انہوں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اس معاملے کا فیصلہ کردے۔
پچاسویں دن ان کی معافی کا حکم ہوگیا تو نبی ا کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا۔ کعبؓ نے سلام کیا تو فرمایا ’’تجھے مبارک ہو، یہ دن تیری زندگی میں سب سے بہتر ہے‘‘ انہوں نے پوچھا یہ معافی حضوؐر کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے؟ فرمایا خدا کی طرف سے اور آیات الٰہی سنائیں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اپنا سارا مال خدا کی راہ میں صدقہ کردوں۔ فرمایا ’’کچھ رہنے دو کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، وَکَانَ قَائِدَ کَعْبٍ مِنْ بَنِیْہِ حِیْنَ عَمِیَ، قَالَ: سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ، یُحَدِّثُ حِیْنَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّۃِ تَبُوْکَ، قَالَ کَعْبٌ: لَمْ اَتَخَلَّفْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غَزْوَۃٍ غَزَاھَا اِلاَّ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ غَیْرَ اِنِّیْ کُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِیْ غَزْوَۃِ بَدْرٍ، وَلَمْ یُعَاتِبْ اَحَدٌ، تَخَلَّفَ عَنْھَا اِنَّمَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُرِیْدُ عِیْرَ قُرَیْشٍ حَتّٰی جَمَعَ اللّٰہُ بَیْنَھُمْ وَ بَیْنَ عَدُوِّھِمْ عَلٰی غَیْرِ مِیْعَادٍ، وَلَقَدْ شَھِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ حِیْنَ تَوَاثَقْنَا عَلَی الْاِسْلاَمِ، وَمَا اُحِبُّ اَنَّ لِیْ بِھَا مَشْھَدَ بَدْرٍ، وَ اِنْ کَانَتْ بَدْرٌ اَذْکَرُ فِی النَّاسِ مِنْھَا کَانَ مِنْ خَبْرِیْ اِنِّیْ لَمْ اَکُنْ قَطُّ اَقْوٰی، وَلاَ اَیْسَرُ حِیْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْہُ فِیْ تِلْکَ الْغَزَاۃِ، وَاللّٰہِ! مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِیْ قَبْلَہٗ رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتّٰی جَمَعْتُھُمَا فِیْ تِلْکَ الْغَزَاۃِ، وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُرِیْدُ غَزْوَۃً اِلاَّ وَرّٰی بِغَیْرِھَا حَتّٰی کَانَتْ تِلْکَ الْغَزْوَۃُ غَزَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ فِیْ حَرٍّ شَدِیْدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیْدًا، وَمَفَازًا، وَعَدُوًّا کَثِیْرًا، فَجَلّٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ اَمْرَھُمْ لِیَتَأَھَّبُوْااُھْبَۃَ غَزْوِھِمْ، فَاَخْبَرَھُمْ بِوَجْھِہِ الَّذِیْ یُرِیْدُ، وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَثِیْرٌ، وَلاَ یَجْمَعُھُمْ کِتَابٌ حَافِظٌ، یُرِیْدُ الدِّیْوَانَ، قَالَ کَعْبٌ: فَمَا رَجُلٌ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَغَیَّبَ اِلاَّ ظَنَّ اَنَّہٗ سَیُخْفٰی لَہٗ مَالَمْ یُنْزَلْ فِیْہِ وَحْیُ اللّٰہِ، وَ غَزَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تِلْکَ الْغَزْوَۃَ حِیْنَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ، وَ تَجَھَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَہٗ، فَطَفِقْتُ اغْدُوْ لِکَیْ اَتَجَھَّزَ مَعَھُمْ، فَاَرْجِعُ، وَلَمْ اَقْضِ شَیْئًا، فَاَقُوْلُ فِیْ نَفْسِیْ، وَ اَنَا قَادِرٌ عَلَیْہِ، فَلَمْ یَزَلْ یَتَمَادٰی بِیْ حَتّٰی اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجدُّ، فَاَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَہٗ، وَلَمْ اَقْضِ مِنْ جِھَازِیْ شَیْئًا، فَقُلْتُ: اَتَجَھَّزُ بَعْدَہٗ بِیَوْمٍ اَوْ یَوْمَیْنِ، ثُمَّ الْحَقُھُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ اَنْ فَصَلُوْا لاَِتَجَھَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ اَقْضِ شَیْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ، فَرَجَعْتُ، وَلَمْ اَقْضِ شَیْئًا، فَلَمْ یَزَلْ بِیْ حَتّٰی اَسْرَعُوْا، وَ تَفَارَطَ الْغَزْوُ، وَ ھَمَمْتُ اَنْ اَرْتَحِلَ فَاُدْرِکَھُمْ، وَلَیْتَنِیْ فَعَلْتُ، فَلَمْ یُقَدَّرْ لِیْ ذٰلِکَ، فَکُنْتُ اِذَا خَرَجْتُ فِی النَّاسِ بَعْدَ خُرُوْجِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَطُفْتُ فِیْھِمْ اَحْزَنَنِیْ اَنِّیْ لاَ اَرٰی اِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوْصًا عَلَیْہِ النِّفَاقُ، اَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللّٰہُ مِنَ الضُّعَفَآئِ وَلَمْ یَذْکُرْنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی بَلَغَ تَبُوْکَ، فَقَالَ: وَھُوَ جَالِسٌ فِی الْقَوْمِ بِتَبُوْکَ، مَا فَعَلَ کَعْبٌ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ سَلَمَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَبَسَہٗ بُرْدَاہُ وَ نَظَرُہٗ فِیْ عِطْفَیْہِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَاعَلِمْنَا عَلَیْہِ اِلاَّ خَیْرًا، فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ: فَلَمَّا بَلَغَنِیْ اَنَّہٗ تَوَجَّہَ قَافِلًا، حَضَرَنِیْ ھَمِّیْ، وَ طَفِقْتُ اَتَذَکَّرُ الْکَذِبَ وَ اَقُوْلُ بِمَاذَا اَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہٖ غَدًا، وَاسْتَعَنْتُ عَلٰی ذٰلِکَ بِکُلِّ ذِیْ رَاْیٍ مِنْ اَھْلِیْ، فَلَمَّا قِیْلَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَدْ اَظَلَّ قَادِمًا، زَاحَ عَنِّی الْبَاطِلُ، وَعَرَفْتُ اَنِّیْ لَنْ اَخْرُجَ مِنْہُ اَبَدًا بِشَـْیئٍ فِیْہِ کَذِبٌ، فَاَجْمعْتُ صِدْقَہٗ، وَاَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَادِمًا وَکَانَ اِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَیَرْکَعُ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذٰلِکَ، جَائَ ہُ الْمُخَلَّفُوْنَ، فَطَفِقُوْا یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْہِ، وَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ، وَکَانُوْا بِضْعَۃً وَ ثَمَانِیْنَ رَجُلاً، فَقَبِلَ مِنْھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلاَنِیَتَھُمْ وَ بَایَعَھُمْ، وَاسْتَغْفَرَلَھُمْ، وَوَکَلَ سَرَائِرَھُمْ اِلَی اللّٰہِ، فَجِئْتُہٗ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالَ، فَجِئْتُ اَمْشِیْ حَتّٰی جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَقَالَ لِیْ: مَاخَلَّفَکَ؟ اَلَمْ تَکُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَھْرَکَ؟ فَقُلْتُ: بَلٰی، اِنِّیْ وَاللّٰہِ لَوْجَلَسْتُ عِنْدَ غَیْرِکَ مِنْ اَھْلِ الدُّنْیَا، لَرَأَیْتُ اَنْ سَاَخْرُجَ مِنْ سَخَطِہٖ بِعُذْرٍ، وَلَقَدْ اُعْطِیْتُ جَدَلاً، وَ لٰـکِنِّیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ عَلِمْتُ، لَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْیَوْمَ حَدِیْثَ کَذِبٍ تَرْضٰی بِہٖ عَنِّیْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یُّسْخِطَکَ عَلَیَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُکَ حَدِیْثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَیَّ فِیْہِ اِنِّیْ لَاَرْجُوْ فِیْہِ عَفْوَ اللّٰہِ، لاَ، وَاللّٰہِ، مَاکَانَ لِیْ مِنْ عُذْرٍ، وَاللّٰہِ مَا کُنْتُ قَطُّ اَقْوٰی، وَلاَ اَیْسَرَ مِنِّیْ حِیْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ فِیْکَ، فَقُمْتُ، وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِیْ سَلمَۃَ، فَاتَّبَعُوْنِیْ، فَقَالُوْا لِیْ: وَاللّٰہِ! مَاعَلِمْنَاکَ کُنْتَ اَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ ھٰذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ اَنْ لاَّ تَکُوْنَ اعْتَذَرْتَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ بِمَااعْتَذَرَ اِلَیْہِ الْمُخَلَّفُوْنَ، قَدْ کَانَ کَافِیَکَ ذَنْبَکَ اسْتِغْفَارُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَکَ، فَوَاللّٰہِ! مَازَالُوْا یُؤَنِّبُوْنَنِیْ حَتّٰی اَرَدْتُ اَنْ اَرْجِعَ، فَاُکَذِّبَ نَفْسِیْ، ثُمَّ قُلْتُ لَھُمْ: ھَلْ لَقِیَ ھٰذَا مَعِیْ اَحَدٌ؟ قَالُوْا: نََعَمْ، رَجُلاَنِ، قَالاَ مِثْلَ مَاقُلْتَ، فَقِیْلَ لَھُمَا مِثْلَ مَاقِیْلَ لَکَ، فَقُلْتُ: مَنْ ھُمَا؟ قَالُوْا: مُرَارَۃُ بْنُ الرَّبِیْعِ العَمْرِوِیُّ، وَ ھِلاَلُ بْنُ اُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ، فَذَکَرُوْا لِیْ رَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَھِدَا بَدْرًا، فِیْھِمَا اُسْوَۃٌ، فَمَضَیْتُ حِیْنَ ذَکَرُوْھُمَا لِیْ وَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمُسْلِمِیْنَ عَنْ کَلاَمِنَا، اَیُّھَا الثَّلاَثَۃُ مِنْ بَیْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ، وَتَغَیَّرُوْا لَنَا حَتّٰی تَنَکَّرَتْ فِیْ نَفْسِی الْاَرْضُ فَمَا ھِیَ الَّتِیْ اَعْرِفُ؟ فَلَبِثْنَا عَلٰی ذٰلِکَ خَمْسِیْنَ لَیْلَۃً، فَاَمَّا صَاحِبَایَ، فَاسْتَکَانَا، وَ قَعَدَا فِیْ بُیُوْتِھِمَا یَبْکِیَانِ، وَاَمَّا اَنَا فَکُنْتُ اَشَبَّ الْقَوْمِ، وَاَجْلَدَھُمْ، فَکُنْتُ اَخْرُجُ، فَاَشْھَدُ الصَّلوٰۃَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ، وَ اَطُوْفُ فِی الْاَسْوَاقِ، وَلاَ یُکَلِّمُنِیْ اَحَدٌ، وَ اٰتِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَاُسَلِّمَ عَلَیْہِ وَ ھُوَ فِیْ مَجْلِسِہٖ بَعْدَ الصَّلوٰۃِ، فَاَقُوْلُ فِیْ نَفْسِیْ ھَلْ حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِرَدِّ السَّلاَمِ عَلَیَّ، اَمْ لَا، ثُمَّ اُصَلِّیْ قَرِیْبًا مِنْہُ فَاُسَارِقُہُ النَّظْرَ، فَاِذَا اَقْبَلْتُ عَلٰی صَلاَتِیْ، اَقْبَلَ اِلَیَّ، وَ اِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَہٗ، اَعْرَضَ عَنِّیْ حَتّٰی اِذَا طَالَ عَلَیَّ ذٰلِکَ مِنْ جَفْوَۃِ النَّاسِ مَشَیْتُ حَتّٰی تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ اَبِیْ قَتَادَۃَ وَ ھُوَ ابْنُ عَمِّیْ، وَ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَوَاللّٰہِ! مَارَدَّ عَلَیَّ السَّلاَمَ، فَقُلْتُ: یَا اَبَا قَتَادَۃَ! اَنْشُدُکَ باللّٰہِ ھَلْ تَعْلَمُنِیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ؟ فَسَکَتَ، فَعُدْتُّ لَہٗ فَنَشَدْتُّہٗ، فَسَکَتَ، فَعُدْتُّ لَہٗ، فَنَشَدْتُّہٗ، فَقَالَ:اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، فَفَاضَتْ عَیْنَایَ وَ تَوَلَّیْتُ حَتّٰی تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ، قَالَ: فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِیْ بِسُوْقِ الْمَدِیْنَۃِ اِذَا نَبَطِیٌّ مِنْ اَنْبَاطِ اَھْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ یَبِیْعُہٗ بِالْمَدِیْنَۃِ، یَقُوْلُ: مَنْ یَّدُلُّ عَلٰی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ؟ فَطَفِقَ النَّاسُ یُشِیْرُوْنَ لَہٗ حَتّٰی اِذَاجَآئَنِیْ، دَفَعَ اِلَیَّ کِتَابًا مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ، فَاِذَا فِیْہِ: اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّہٗ قَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّ صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ، وَلَمْ یَجْعَلْکَ اللّٰہُ بِدَارِ ھَوَانٍ، وَلاَ مَضْیَعَۃٍ، فَالْحَقْ بِنَا، نُوَاسِکَ، فَقُلْتُ لَمَّا قَرَأْتُھَا، وَ ھٰذَا اَیْضًا مِنَ الْبَلاَئِ، فَتَیَمَّمْتُ بِھَا التَّنُّوْرَ، فَسَجَرْتُہٗ، بِھَا حَتّٰی اِذَا مَضَتْ اَرْبَعُوْنَ لَیْلَۃً مِنَ الْخَمْسِیْنَ اِذَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَاْتِیْنِیْ، فَقَالَ:اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَاْمُرُکَ اَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَکَ، فَقُلْتُ: اُطَلِّقُھَا اَمْ مَاذَا اَفْعَلُ؟ قَالَ، لاَ، بَلِ اعْتَزِلْھَا، وَلاَ تَقْرَبْھَا، وَاَرْسَلَ اِلٰی صَاحِبَیَّ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَقُلْتُ لِاِمْرَأَتِیْ: اِلْحَقِیْ بِاَھْلِکِ، فَتَکُوْنِیْ عِنْدَھُمْ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ، قَالَ کَعْبٌ: فَجَائَ تِ امْرَأَۃُ ھِلاَلِ بْنِ اُمَیَّۃَ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ:فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ھِلاَلَ بْنَ اُمَیَّۃَ شَیْخٌ ضَائِعٌ، لَیْسَ لَہٗ خَادِمٌ، فَھَلْ تَکْرَہُ اَنْ اَخْدُمَہٗ، قَالَ: لاَ، وَلٰـکِن لاَّ یَقْرُبْکِ، قَالَتْ:اِنَّہٗ وَاللّٰہِ مَابِہٖ حَرْکَۃٌ اِلٰی شَـْیئٍ، وَاللّٰہِ مَازَالَ یَبْکِیْ مُنْذُ کَانَ مِنْ اَمْرِہٖ مَاکَانَ اِلٰی یَوْمِہٖ ھٰذَا، فَقَالَ لِیْ بَعْضُ اَھْلِیْ: لَوِ اسْتَاْذَنْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِی امْرَأَتِکَ کَمَا اَذِنَ لاِمْرَأَۃِ ھِلاَلِ بْنِ اُمَیَّۃَ اَنْ تَخْدُمَہٗ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لاَاَسْتَاْذِنُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، وَمَا یُدْرِیْنِیْ مَا یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اسْتَاْذَنْتُہٗ فِیْھَا، وَاَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذٰلِکَ عَشْرَ لَیَالٍ حَتّٰی کَمَلَتْ لَنَا خَمْسُوْنَ لَیْلَۃً مِنْ حِیْنَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ کَلاَمِنَا، فَلَمَّا صَلَّیْتُ صَلوٰۃَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِیْنَ لَیْلَۃً، وَاَنَا عَلٰی ظَھْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِنَا، فَبَیْنَا اَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِیْ ذَکَرَ اللّٰہُ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِیْ، وَضَاقَتْ عَلَیَّ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ اَوْفٰی عَلٰی جَبَلِ سَلْعٍ بِاَعْلٰی صَوْتِہٖ یَاکَعْبَ بْنَ مَالِکٍ:اَبْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ اَنْ قَدْ جَآئَ فَرَجٌ وَ اٰذَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِتَوْبَۃِ اللّٰہِ عَلَیْنَا حِیْنَ صَلَّی صَلوٰۃَ الْفَجْرِ، فَذَھَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُوْنَا، وَذَھَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّ مُبَشِّرُوْنَ، وَ رَکَضَ اِلَیَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَ سَعٰی سَاعٍ مِنْ اَسْلَمَ، فَاَوْفٰی عَلَی الْجَبَلِ، وَکَانَ الصَّوْتُ اَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَآئَ نِی الَّذِیْ سَمِعْتُ صَوْتَہٗ یُبَشِّرُنِیْ، نَزَعْتُ لَہٗ ثَوْبَیَّ، فَکَسَوْتُہٗ اِیَّاھُمَا بِبُشْرَاۃٍ، وَاللّٰہِ مَا اَمْلِکُ غَیْرَھُمَا یَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُھُمَا، وَانْطَلَقْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَیَتَلَقَّانِی النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا یُھَنِّؤُنِّیْ بِالتَّوْبَۃِ، یَقُوْلُوْنَ: لِتَھْنِکَ تَوْبَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکَ، قَالَ کَعْبٌ: حَتّٰی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَاِذَا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ حَوْلَہُ النَّاسُ، فَقَامَ اِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ یُھَرْوِلُ حَتّٰی صَافَحَنِیْ، وَھَنَّانِیْ، وَاللّٰہِ! مَاقَامَ اِلَیَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ غَیْرُہٗ، وَلاَ اَنْسَاھَا لِطَلْحَۃَ، قَالَ کَعْبٌ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ یَبْرُقُ وَجْھُہٗ مِنَ السُّرُوْرِ اَبْشِرْ بِخَیْرِ یَوْمٍ مَرَّ عَلَیْکَ مُنْذُ وَلَدَتْکَ اُمُّکَ۔ قَالَ: قُلْتُ: أَمِنْ عِنْدِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَمْ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ قَالَ:لاَ، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا سَرَّ اسْتَنَارَ وَجْھُہٗ حَتّٰی کَأَنَّہٗ قِطْعَۃُ قَمَرٍ، وَکُنَّا نَعْرِفُ ذٰلِکَ مِنْہُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ اَنْخَلِعَ مِنْ مَّالِیْ صَدَقَۃً اِلَی اللّٰہِ وَاِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَمْسِکْ عَلَیْکَ بَعْضَ مَالِکَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکَ، قُلْتُ: فَاِنِّیْ اُمْسِکُ سَھْمِی الَّذِیْ بِخَیْبَرَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ اَنَّمَا نَجَّانِیْ بِالصِّدْقِ وَ اِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ لاَ اُحَدِّثَ اِلاَّصِدْقًا، مَا بَقِیْتُ فَوَاللّٰہِ مَا اَعْلَمُ اَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَبْلاَہُ اللّٰہُ فِیْ صِدْقِ الْحَدِیْثِ مُنْذُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ مِمَّا اَبَلاَنِیْ، وَمَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی یَوْمِیْ ھٰذَا کَذِبًا وَ اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ یَّحْفَظَنِیَ اللّٰہُ فِیْمَا بَقِیْتُ، وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھَاجِرِیْنَ اِلٰی قَوْلِہٖ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ، فَوَاللّٰہِ! مَا اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ مِنْ نِّعْمَۃٍ قَطُّ بَعْدَ اَنْ ھَدَانِیْ لِلْاِسْلاَمِ اَعْظَمَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ صِدْقِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنْ لاَ اَکُوْنَ کَذَبْتُہٗ، فَاَھْلِکَ کَمَا ھَلَکَ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ قَالَ لِلَّذِیْنَ کَذَبُوْا حِیْنَ اَنْزَلَ الْوَحْیَ شَرَّ مَا قَالَ لِاَحَدٍ، فَقَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ اِلٰی قَوْلِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ، قَالَ کَعْبٌ: وَکُنَّا تُخَلِّفُنَا اَیُّھَا الثَّلاَثَۃُ عَنْ اَمْرِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ قَبِلَ مِنْھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ حَلَفُوْا لَہٗ، فَبَایَعَھُمْ، وَاسْتَغْفَرَلَھُمْ، وَاَرْجَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَمْرَنَا حَتّٰی قَضَی اللّٰہُ فِیْہِ، فَبِذَالِکَ قَالَ اللّٰہُ وَعَلَی الثَّلٰـثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا۔ وَ لَیْسَ الَّذِیْ ذَکَرَ اللّٰہُ مِمَّا خُلِّفْنَا عَنِ الْغَزْوِ، وَاِنَّمَا ھُوَ تَخْلِیْفُہٗ، اِیَّانَا وَ اِرْجَاؤُہٗ اَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَہٗ، وَاعْتَذَرَ اِلَیْہِ فَقَبِلَ مِنْہُ۔(٢)
ترجمہ: عبد الرحمن بن عبد اللہ بن کعب سے مروی ہے کہ عبد اللہ اپنے باپ کعب کو نابینا ہونے کی وجہ سے پکڑ کر چلایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے خود سنا وہ کہتے تھے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہ تبوک کے مجاہدین میں شریک ہونے سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ا کے ساتھ بجز غزوۂ تبوک اور غزوۂ بدر میں پیچھے رہ جانے والوں پر عتاب الٰہی نہیں ہوا۔ غزوۂ بدر میں رسول اللہا کے نکلنے کی غرض قریش کے تجارتی کارواں کا تعاقب تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اور آپؐ کے دشمنوں کے درمیان اچانک معرکۂ آرائی کروا دی۔ میں لیلۃ العقبہ کے موقع پر رسول اللہا کی خدمت میں حاضر تھا جب آپؐ نے ہم سے اسلام میں قائم و ثابت قدم رہنے کا عہد لیا تھا۔ مجھے تو عقبہ کی رات بدر کے مقابلہ میں زیادہ محبوب ہے اگرچہ عقبہ کی رات کے مقابلہ میں بدر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے۔ غزوۂ تبوک میںمیری عدم شرکت کی وجہ یہ ہے۔ تبوک کے موقع پر میری مالی حالت پہلے کی بہ نسبت بہت اچھی تھی جسمانی قوت بھی خوب تھی۔ اللہ شاہد ہے کہ اس سے پہلے میرے پاس دوسواریاں نہیں تھیں مگر اس موقع پر میری ملکیت میں دو سواریاں موجود تھیں۔ رسول اللہ ا کا عام معمول تھا کہ جب کبھی جنگ کا عزم و ارادہ فرماتے تو واضح اور صاف طور پر جگہ وغیرہ کی نشان دہی نہیں فرماتے تھے بلکہ توریہ سے کام لیتے (تاکہ دشمن کو علم نہ ہوجائے) مگر اس غزوہ کے موقع پر شدید گرمی تھی۔ سفر طویل تھا۔ راستہ بے آب و گیاہ تھا۔ دشمن کی نفری بہت زیادہ تھی۔ اس لیے آپ نے صحابہ کرام کو واضح طور پر آگاہ فرمادیا کہ ہم تبوک جارہے ہیں تاکہ وہ لوگ اپنی حیثیت کے مطابق جنگ کی تیاری کرلیں۔ اس وقت کثیر تعداد میں مسلمان آپ کے ساتھ تھے مگر کوئی رجسٹر اندراج ایسا نہیں تھا جس میں ان کے نام درج ہوں۔ کعب نے بتایا کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں تھا کہ جو اس غزوہ میں شرکت نہ چاہتا ہو۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی ان کے ذہنوں میں تھا کہ کسی کا اس غزوہ میں شامل نہ ہونا آپ کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا جب تک وحی کے ذریعہ بتا نہ دیا جائے۔ غرض رسول اللہا اس غزوہ کے لیے عین اس وقت روانہ ہوئے جب پھلوں کی فصل پک کر تیار ہورہی تھی اور سایہ میں بیٹھنا خوش گوار معلوم ہوتا تھا۔ رسول اللہا اور صحابہ کرام تیاریوں میں مصروف تھے۔ مگر میں یہی سوچتا تھا کہ میں تیاری کرلوں گا۔ یہ سوچ کر واپس آجاتا اور کوئی عملی فیصلہ نہ کرسکا۔ دل ہی دل میں سوچتا کہ کیا جلدی ہے میں تو ہر وقت تیاری کرنے کی طاقت رکھتاہوں۔ اسی ٹال مٹول میں دن گزرتے رہے۔ تا آن کہ لوگوں نے پورے شدو مد سے تیاری کرلی۔ اور ایک روز صبح رسول اللہا مسلمانوں کو لے کر نکل کھڑے ہوئے میں نے کہا میں ایک دو روز میں تیاری کرکے راستہ ہی میں ان کے ساتھ جاملوں گا۔ غرض دوسرے روز میں نے تیاری کرنا چاہی مگر نہ ہوسکی اور تیسرے روز بھی اسی طرح شش و پنج میں رہا اور تیاری نہ کرسکا کہ لوگ جلدی سے آگے نکل گئے۔ میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ غزوہ کے لیے نکلوں گا اور ان کوراستہ میں جالوں گا مگر ہائے افسوس میں ایسا نہ کرسکا۔ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا۔ رسول اللہا کے غزوہ کے لیے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر مدینہ میں چلتا پھرتا تو مجھے یا منافق نظر آتے یا پھر ایسے لوگ نظر آتے جو کم زور، ضعیف اور بیمار ہوتے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑا افسوس ہوتا تھا۔ رسول اللہ ا نے راستہ میں مجھے کہیں یاد نہیں فرمایا۔ البتہ تبوک پہنچ کر جب آپ سب لوگوں میں تشریف فرما تھے تو دریافت فرمایا کعب نے کیا کیا؟ (کہاں ہے) بنو سلمہ کے ایک آدمی نے بتایا کہ یا رسول اللہ اسے تو اس کی چادروں کی خوب صورتی اور حسن و جمال پر اس کے نازو نخرے نے روک رکھا ہے۔ یہ سن کر حضرت معاذ بن جبل نے کہا تم نے اچھی بات نہیں کی۔ واللہ اے اللہ کے رسول ہم تو اسے بھلاو اچھا آدمی ہی جانتے ہیں۔ رسول اللہ ا یہ سن کر خاموش رہے۔ کعب بن مالک کا بیان ہے کہ جب مجھے یہ اطلاع پہنچی کہ رسول اللہ واپس تشریف لارہے ہیں تو میںاس سوچ میںپڑگیا کہ کوئی ایسا بہانہ سوجھ جائے جو مجھے آپ کے غصہ اور ناراضگی سے تحفظ کا ذریعہ بن جائے۔ پھر میں نے اس بارے میں اپنے خاندان کے اہل الرائے اصحاب سے بھی مدد لی کہ وہ سوچ کر میرے لیے کوئی راستہ بتائیں۔ پس جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہا تو مدینہ کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں تو میرے دل و دماغ سے اس بہانہ سازی کا خیال زائل ہوگیا اور مجھے سمجھ آگئی کہ حق گوئی و صداقت بیانی کے سوا مجھے اس سے نکالنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ غلط بیانی کی کوئی صورت مجھے اس سے نکال نہیں سکتی۔ تو میں نے حق گوئی کا فیصلہ کرلیا۔ آپؐ بھی مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ کسی بھی سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں تشریف فرما ہوتے اور دو رکعت نفل ادا فرماتے۔ پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھ جاتے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو پیچھے رہ جانے والے حضرات آپ کی خدمت میں حاضر ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے عذر تراشے، اور قسمیں کھانے لگے۔ ان لوگوں کی تعداد اسی (۸۰) سے کچھ اوپر ہی تھی۔ رسول اللہا نے ان کی ظاہری معذرتوں کو قبول فرمالیا اور ان سے بیعت لی اور ان کے حق میں دعاء مغفرت فرمائی اور ان کے دلوں کے مخفی رازوں کو اللہ کے سپرد کیا۔ کعب کا بیان ہے کہ پھر میں بھی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپؐ نے ایسے تبسم و مسکراہٹ سے جواب دیا جس میں ناراضگی و غصہ کے آثار تھے۔ فرمایا تشریف لایے، آپ کو کس چیز نے روکا تھا؟ حالاں کہ تم نے تو سواری کا بندو بست بھی کرلیا تھا۔ میں نے عرض کیا واللہ اگر میں اہل دنیا میں سے کسی کے سامنے حاضر ہوا ہوتا تو ضرور کوئی نہ کوئی بات بناکر اس کو راضی کرنے کی کوشش کرتا۔ تو یقینا اس عذر کی وجہ سے اس کی ناراضگی و غصہ سے بچ نکلتا۔ باتیں تو مجھے بھی خوب بنانی آتی ہیں۔ مگر آپ کے متعلق میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر اس وقت کوئی جھوٹا عذر پیش کرکے میں نے آپ کو راضی کربھی لیا تو اللہ ضرور آپؐ کو مجھ سے ناراض کردے گا۔ البتہ اگر سچ کہوں تو چاہے آپ ناراض ہی کیوں نہ ہوں مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لیے معافی کی کوئی صورت پیدا فرمادے گا۔ واللہ واقعہ یہ ہے کہ میرے پاس کوئی عذر نہیں۔ اللہ شاہد و گواہ ہے کہ اس سے پہلے میرے پاس نہ اتنی دولت تھی اور نہ اتنی فراخی و آسانی۔ جب کہ آپؐ کے ساتھ جانے سے پیچھے رہا۔ رسول اللہا نے فرمایا کعب نے سچ کہا ہے اچھا جاؤ اور اپنے بارے میں اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ میں اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔ بنی سلمہ کے کچھ لوگ بھی میرے ساتھ ہو لیے۔ اور کہنے لگے کہ اب تک تمہارا کوئی گناہ و قصور تو ہمارے علم میں نہیں آیا اور تو اسے انجام دینے سے عاجز بھی نہیں تھا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تو بھی معذرت پیش کرتا اور عذر تراش لیتا اور رسول اللہ ا کی دعا تمہارے قصور و گناہ کی تلافی کے لیے کافی ہوتی۔ وہ مسلسل مجھے یہی سمجھانے میں لگے رہے کہ میرے دل میں بھی یہ خیال جنم لینے لگا کہ واپس جاکر اپنے پہلے قول کی تردید کرکے کوئی بہانہ تراش کر پیش کردوں۔ پھر میں نے ان سے دریافت کیا کہ آیا کوئی اور بھی ہے جس نے میری طرح صاف طور پر اعترافِ گناہ کیاہے۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہاکہ ہاں دو آدمی اور بھی ہیں جنہوں نے اپنے اس جرم و قصور کا اقرار کیا ہے اور رسول اللہ ا نے انہیں بھی وہی جواب دیا ہے۔ میں نے پوچھا وہ کون کون صاحبان ہیں۔ انہوں نے بتایا مرارہ بن ربیع عمروی اور ہلال بن امیہ واقفی۔ انہوں نے مجھے ان دوصالح آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں بھی شریک ہوچکے تھے۔ دونوں میں ایک اسوہ موجود تھا جب انہوں نے ان دو صالح آدمیوں کا میرے روبرو ذکر کیا تو میں سن کر وہاں سے چلا گیا۔ اور پھر رسول اللہا نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت سے منع فرمادیا مگر یہ حکم ہمارے علاوہ دوسرے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے نہیں تھا۔ چناں چہ لوگوں نے ہم سے اجتناب کرنا شروع کردیا اور لوگ ہمارے لیے اجنبی ہوگئے۔ ایسی صورت حال بن گئی کہ وہ زمین جسے میں خوب جانتا تھا غیرمعروف اور اوپری ہوگئی۔ (زمین و آسمان بھی بھول گئے) غرض پچاس راتیں (پچاس دن) اسی کیفیت و حالت میں گزر گئے۔ میرے دونوں ساتھی تو کم زور اور سست پڑگئے اور اپنے گھر بیٹھ گئے اور آہ و زاری کرتے رہے۔ مگر میںجوان و توانا آدمی تھا لہٰذا میںگھر سے باہر بھی نکلتا رہا اور نماز باجماعت میں بھی شریک ہوتا رہا۔ بازار میں بھی گھومتا پھرتا رہتا لیکن مجھ سے بات تک کوئی بھی نہیں کرتا تھا۔ میں رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ سلام عرض کرتا آپؐ نماز سے فراغت کے بعد جائے نماز پر رونق افروز ہوتے۔ سلام کے جواب میں مجھے شبہ گزرتا کہ آں جنابؐ کے لب مبارک میں جنبش ہے شاید میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں یا نہیں۔ پھر میں آپؐ کے بالکل قریب نماز پڑھتا، آنکھ چرا کر دیکھتا (کن انکھیوں سے دیکھتا) کہ آپ کا رد عمل کیا ہے میرے بارے میں۔ جب تک میں حالت نماز میں رہتا آپ مجھے ملاحظہ فرماتے رہتے لیکن جب میں آپؐ کی جانب ملتفت ہوتا تو آپ اپنا رخ انور پھیر لیتے۔ لوگوں کی میرے ساتھ بے رخی و بدسلوکی کا دورِ طویل مجھ پر گراں ہوگیا تو میں دیوار پھاند کر اپنے چچازاد بھائی ابوقتادہ کے پاس گیا۔ میںنے انہیں سلام پیش کیا۔ اللہ شاہد ہے انہوں نے میرے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ تو میں نے ابوقتادہ سے کہا۔ ابو قتادہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تو مجھے نہیں جانتا کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دوبارہ قسم کھا کر وہی سوال کیا تو اس نے پھر بھی جواب نہ دیا۔ تیسری بار پھر میں نے قسم کھاکر پوچھا تو اس نے صرف یہ کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ میں دیوار پھاند کر واپس لوٹ آیا۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ میں ایک روز مدینہ کے بازار میں گھوم پھررہا تھا کہ اچانک ایک نصرانی دہقان جو ملک شام کا باشندہ تھا، اناج وغیرہ فروخت کرنے آیا تھا۔ یہ پکار رہا تھا کہ کوئی صاحب ہیں جو مجھے کعب بن مالک کااتا پتا بتادیں؟ لوگوں نے میری طرف اشاروں سے اسے بتایا کہ وہ ہے کعب بن مالک۔ تا آن کہ وہ میرے پاس پہنچ گیا اور غسان کے فرماںرواں کا ایک مکتوب میرے سپرد کیا جس میں تحریر تھا کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ تمہارا صاحب تم پر زیادتی کررہا ہے۔ حالاں کہ اللہ نے تمہیں ذلت و رسوائی کا مقام نہیں دیا۔ معزز آدمی ہو ہمارے ساتھ مل جاؤ ہم ہرطرح کی خیرخواہی کریں گے تمہارے ساتھ۔ آرام سے تمہیں رکھیں گے۔ خط پڑھ کر میں نے سوچا یہ بھی مزید ایک آزمائش ہے۔ پھر میں نے تندور کے پاس اس خط کو آگ کی نذر کردیا۔ اس کے بعد ابھی تک صرف چالیس راتیں (دن) گزرے تھے کہ رسول اللہا کا قاصد میرے پاس آیا اور پیغام پہنچایا کہ رسول اللہا نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے بھی علاحدہ ہوجاؤ۔ تو میںنے اس سے پوچھا کیا اسے طلا ق دے دوں یا پھر اور کیا کروں؟ اس نے کہا نہیں صرف علاحدگی اختیار کرو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح کا فرمان میرے دوسرے دونوں ساتھیوں کی جانب بھی بھیجا۔ میں نے تو تعمیل امر میں اپنی اہلیہ سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں میرا فیصلہ نہ فرمادے۔ کعب کا بیان ہے کہ ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی اے رسول الٰہی ہلال بن امیہ میرا شوہر تو بہت بوڑھا آدمی ہے اس کا کوئی خدمت گار بھی نہیں میں اگر اس کا کام کردیا کروں توکوئی مضائقہ تو نہیں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں لیکن وہ تمہارے ساتھ قربت نہیں کرسکتا۔ وہ بولی۔ حضور اللہ گواہ ہے اس میں تو ایسی خواہش ہی نہیں۔جب سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے وہ تو روئے ہی جارہا ہے۔ مسلسل آج تک اس کا یہی حال ہے۔ کعب کا بیان ہے کہ مجھے بھی میرے بعض عزیزوں نے مشورہ دیا کہ تم بھی رسول اللہ ا کی خدمت میں پیش ہوکر اپنی اہلیہ کے بارے میں ایسی ہی اجازت لے لو تاکہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے۔ جس طرح ہلال کی بیوی کو رخصت مل گئی ہے۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ اللہ کی قسم میں ایسا کسی صورت بھی نہیں کرسکتا۔ نا معلوم رسول اللہا کیا ارشاد فرمائیں۔ میں تو نوجوان آدمی ہوں۔ غرض اس کے بعد وہ دس راتیں (دس دن) بھی گزر گئیں اور پچاسویں رات کو میں اپنے گھر کی چھت پربیٹھا تھا اور میری حالت بعینہ وہی تھی جسے اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے کہ مجھ پر میری زندگی اجیرن بن چکی تھی اور زمین اپنی وسعت و کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ ہوچکی تھی کہ میں کسی پکارنے والے کی زور دار بلند آواز سطح پہاڑ سے سنی کہ اے کعب، بشارت ہو تمہیں۔ یہ آواز سنتے ہی میں بے اختیار سر بسجود ہوگیا میں سمجھ گیا کہ اب مشکل آسان ہوگئی ہے۔ رسول اللہا نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد لوگوں کو مطلع فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ کو شرف قبولیت سے نواز دیا ہے پس اب لوگ ہمیں مبارک باد کی بشارتیں دینے کے لیے دوڑے۔ ایک آدمی نے گھوڑا میری طرف دوڑایا۔ اور بنو اسلم کا ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا اور سلع پہاڑ پر بلند آواز سے پکارا جو مجھے قبولیت توبہ کا مژدہ سنا رہاتھا۔ یہ آواز گھوڑے سے بھی زیادہ جلدی میرے کان میں پڑگئی۔ خوشی کے مارے میں نے اپنے زیب تن دونوں کپڑے اتار کر بشارت دینے کے صلہ میں اسے دے دیے اور خود کسی سے عاریتاً مانگ کر کپڑے پہن لیے۔ خود رسول اللہا کی خدمت میں پیش ہونے کے لیے چل دیا۔ سر راہ لوگوں کا ایک جم غفیر تھا جو میری توبہ کی قبولیت پر مبارک باد دے رہا تھا یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ اللہ کا یہ انعام تمہیں مبارک ہو۔ کعب کا بیان ہے کہ میں یہ بشارتی پیغامات سنتا ہوا سیدھا مسجد پہنچا۔ آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ ارد گرد لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔
طلحہ بن عبید اللہ نے لپک کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے صرف طلحہ نے ایسا کیا۔ میں ان کا یہ حسن ِ معاملہ کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ کعب کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہ ا کو سلام عرض کیا اس وقت آپؐ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا جب آپ خوش ہوتے تو آپؐ کا چہرہ ایسا لگتا گویا کہ چاند کا ٹکڑا ہے آپؐ کے رخ انور کی اس چمک سے ہم واقف تھے۔ جب میں آپ کے رو برو بیٹھ گیا تو عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی نجات اور معافی کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ و خیرات نہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا۔ اپنا کچھ مال اپنے لیے روک رکھو۔ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا اچھا تو میں اپنا خیبر والا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات پائی ہے۔ لہٰذا اب میں زندگی بھر سچ ہی بولوں گا۔ واللہ میرے علم میں ایسا کوئی آدمی مسلمانوں میں نہیں جس پر ایسی مہربانی فرمائی ہو جیسی مجھ پر فرمائی ہے۔ اس وقت سے لے کر آج تک پھر کبھی میں نے جھوٹ نہیں بولا، اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عمر بھر جھوٹ بولنے سے مجھے بچائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ا پر لقد تاب اللّٰہ علی النبی والمھاجرین والانصاریعنی اللہ تعالیٰ نے نبی، مہاجرین اور انصار کو معاف فرمادیا۔ اللہ کی قسم قبول اسلام کے بعد اس سے بڑھ کر میں نے کوئی انعام اور احسان نہیں دیکھا کہ آں حضورا کے رو برو سچ بولنے کی مجھے توفیق عنایت فرماکر تباہ و برباد اور ہلاک ہونے سے بچالیا۔ بہ صورت دیگر میں بھی دیگر لوگوں کی طرح تباہ و برباد ہوجاتا جنہوں نے آپؐ کے سامنے جھوٹ بولا اور قسمیں کھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کے حق میں بہت سخت ارشاد فرمایا۔ سیحلفون باللّٰہ لکم اذا انقلبتم الیھمسے لے کر فان اللّٰہ لا یرضی عن القوم الفاسقین تک یعنی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کا معاملہ کرو۔ مگر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ کعب بن مالک کا بیان ہے ہم تینوں ان منافقوں سے الگ ہیں جنہوں نے نہ جانے کے بہانے تراشے اور جھوٹی قسمیں کھائیں اور نبی ا نے ان کی بات پر یقین کرلیا اور ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے دعاء مغفرت بھی فرمائی۔ ہمارا معاملہ التوا میں رکھا تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ خود اس معاملہ کا فیصلہ فرمادے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے۔ و علی الثلاثۃ الذین خلفوا۔ یعنی ان تینوں کو معاف کیا جو پیچھے رہ گئے تھے اور اس سے وہ مراد نہیں جو عمداً ان سے پیچھے رہے۔ جنہوں نے قسمیں کھائیں، عذرات پیش کیے اور نبی ا نے ان کے عذرات کو قبول فرمایا۔
ابوداؤد نے کعب بن مالک سے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں۔
(۲) عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ اَنْخَلِعَ مِنْ مَّالِیْ صَدَقَۃً اِلَی اللّٰہِ وَ اِلٰی رَسُوْلِہٖ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَمْسِکْ عَلَیْکَ بَعْضَ مَالِکَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنِّیْ اُمْسِکُ سَھْمِی الَّذِیْ بِخَیْبَرَ۔(٣)
ترجمہ: حضرت کعب بن مالک سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ا میں معافی کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ و خیرات کردوں؟ رسول اللہا نے فرمایا۔ اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ کعب بن مالک کا بیان ہے میں نے عرض کیا اچھا تو میں اپنا خیبر والا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔
تشریح: یہ تینوں اشخاص سچے مومن تھے۔ اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ قربانیاں کرچکے تھے۔ آخر الذکر دو اصحاب تو غزوۂ بدر کے شرکاء میں سے تھے جن کی صداقت ایمانی ہر شبہے سے بالا تر تھی اور اول الذکر بزرگ اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بدر کے سوا ہر غزوہ میں نبیؐ کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود جو سستی اس نازک موقع پر، جب کہ تمام قابل جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لیے نکل آنے کا حکم دیا گیا تھا، ان حضرات نے دکھائی، اس پر سخت گرفت کی گئی۔ ۴۰ دن کے بعد ان کی بیویوں کو بھی ان سے الگ رہنے کی تاکید کردی گئی۔ فی الواقع مدینہ کی بستی میں ان کا وہی حال ہوگیا تھا جس کی تصویر سورۃ توبہ آیت ۱۱۸ میں کھینچی گئی ہے آخر کار جب ان کے مقاطعہ کو ۵۰ دن ہوگئے تب معافی کاحکم نازل ہوا۔
(تفہیم القرآن، ج۲، التوبہ، حاشیہ:۱۱۹)
یہ حدیث حضرت کعب بن مالکؓ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق ہے۔ وہ سستی کی بنا پر غزوۂ تبوک میں شامل نہ ہوسکے۔ پھر حضرت کعب بن مالکؓ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو بڑھاپے میں یہ قصہ سنایا کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے زمانہ میں نبی ا جب کبھی مسلمانوں سے شرکت جنگ کی اپیل کرتے تھے۔ میں اپنے دل میں ارادہ کرلیتا تھا کہ چلنے کی تیاری کروں گا۔ مگر پھر واپس آکر سستی کرجاتا تھا اور کہتا تھا کہ ابھی کیا ہے جب چلنے کا وقت آئے گا تو تیار ہوتے کیا دیر لگتی ہے۔ اسی طرح بات ٹلتی رہی یہاں تک کہ لشکر کی روانگی کا وقت آگیا اور میں تیار نہ تھا۔ میں نے دل میںکہا کہ لشکر کو چلنے دو میں ایک دو روز بعد راستہ ہی میں اس سے جا ملوں گا۔ مگرپھر وہی سستی مانع ہوئی حتی کہ وقت نکل گیا۔ اس زمانہ میں جب کہ میں مدینہ میں رہا۔ میرا دل یہ دیکھ دیکھ کر بے حد کڑھتا تھا کہ میںپیچھے جن لوگوں کے ساتھ رہ گیا ہوں وہ یاتو منافق ہیں یا وہ ضعیف اور مجبور لوگ جن کو اللہ نے معذور رکھا ہے۔
جب نبی ا تبوک سے واپس تشریف لائے تو حسب معمول آپؐ نے پہلے مسجد میں آکر دو رکعت نماز پڑھی، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھے۔ اس مجلس میں منافقین نے آ آکر اپنے عذرات لمبی چوڑی قسموں کے ساتھ پیش کرنے شروع کیے۔ یہ ۸۰ سے زیادہ آدمی تھے۔ حضوؐر نے ان میں سے ایک ایک کی بناوٹی باتیں سنیں۔ ان کے ظاہری عذرات کو قبول کرلیا اور ان کے باطن کو خدا پر چھوڑ کر فرمایا ’’خدا تمہیں معاف کرے۔‘‘ پھر میری باری آئی۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام عرض کیا۔ آپؐ میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ’’تشریف لایئے! آپ کوکس چیز نے روکا تھا۔‘‘ میں نے عرض کیا ’’خدا کی قسم اگر میں اہل دنیا میں سے کسی کے سامنے حاضر ہوا ہوتا تو ضرور کوئی نہ کوئی بات بنا کر اس کو راضی کرنے کی کوشش کرتا، باتیں بنانی تو مجھے بھی آتی ہیں، مگر آپ کے متعلق میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر اس وقت کوئی جھوٹا عذر پیش کرکے میں نے آپؐ کو راضی کر بھی لیا تو اللہ ضرور آپؐ کو مجھ سے پھر ناراض کردے گا۔ البتہ اگر سچ کہوں تو چاہے آپ ناراض ہی کیوں نہ ہوں، مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لیے معافی کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے جسے پیش کرسکوں، میں جانے پر پوری طرح قادر تھا۔‘‘ اس پر حضوؐر نے فرمایا ’’یہ شخص ہے جس نے سچی بات کہی۔ اچھا، جاؤ اور انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ تمہارے معاملے میں کوئی فیصلہ کردے۔‘‘ میں اٹھا اور اپنے قبیلے کے لوگوں میں جا بیٹھا۔ یہاں سب کے سب میرے پیچھے پڑگئے اور مجھے بہت ملامت کی کہ تونے کوئی عذر کیوں نہ کردیا۔ یہ باتیں سن کر میرا نفس بھی کچھ آمادہ ہونے لگا کہ پھر حاضر ہوکر کوئی بات بنادوں مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ دو اور صالح آدمیوں (مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ) نے بھی وہی سچی بات کہی ہے جو میں نے کہی تھی تو مجھے تسکین ہوگئی اور میں اپنی سچائی پر جما رہا۔
اس کے بعد نبی ا نے عام حکم دے دیا کہ ہم تینوں آدمیوں سے کوئی بات نہ کرے۔ وہ دونوں تو گھر بیٹھ گئے، مگر میں نکلتا تھا جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا تھا، بازاروں میں چلتا پھرتا تھا اور کوئی مجھ سے بات نہ کرتا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سرزمین بدل گئی ہے۔ میں یہاںاجنبی ہوں اور اس بستی میں کوئی بھی میرا واقف کار نہیں۔ مسجد میں نماز کے لیے جاتا تو حسب معمول نبی ا کو سلام کرتا تھا۔ مگر بس انتظار ہی کرتا رہ جاتا تھا کہ جواب کے لیے آپؐ کے ہونٹ جنبش کریں۔ نماز میں نظریں چرا کر حضوؐر کو دیکھتا تھا کہ آپؐ کی نگاہیں مجھ پر کیسی پڑتی ہیں مگر وہاں حال یہ تھا کہ جب تک میں نماز پڑھتا آپ میری طرف دیکھتے رہتے اور جہاں میں نے سلام پھیرا کہ آپؐ نے میری طرف سے نظر ہٹائی۔ ایک روز میں گھبرا کر اپنے چچا زاد بھائی اور بچپن کے یار ابوقتادہ کے پاس گیا اور ان کے باغ کی دیوار پر چڑھ کر انہیں سلام کیا۔ مگر اس اللہ کے بندے نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا ’’ابوقتادہ! میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں خدا اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا؟‘‘ وہ خاموش رہے۔ میں نے پھر پوچھا وہ پھر خاموش رہے۔ تیسری مرتبہ جب میں نے قسم دے کر یہی سوال کیا تو انہوں نے بس اتنا کہا کہ ’’اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں‘‘ اس پر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور میں دیوار سے اتر آیا۔ انہی دنوں میں ایک دفعہ بازار سے گزر رہاتھا کہ شام کے نبطیوں میں سے ایک شخص مجھے ملا اور اس نے شاہ غسان کا خط حریر میں لپٹا ہوا مجھے دیا۔ میں نے کھول کر پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ ’’ہم نے سنا ہے تمہارے صاحب نے تم پر ستم توڑ رکھا ہے، تم کوئی ذلیل آدمی نہیںہو، نہ اس لائق ہو کہ تمہیں ضائع کیا جائے، ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہاری قدر کریں گے۔‘‘ میں نے کہا یہ ایک اور بلا نازل ہوئی اور اسی وقت اس خط کو چولہے میں جھونک دیا۔ چالیس دن اسی طرح گزرنے کے بعد بیوی کو بھی چھوڑ دینے کا حکم ہوا۔
پچاسویں دن صبح کی نماز کے بعد میں اپنے مکان کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا اور اپنی جان سے بیزار ہورہا تھا کہ یکایک کسی شخص نے پکار کر کہا ’’مبارک ہو کعب بن مالک‘‘ میں یہ سنتے ہی سجدے میں گرگیا اور میں نے جان لیا کہ میری معافی کا حکم ہوگیا ہے‘‘ پھر تو فوج درفوج لوگ بھاگے چلے آرہے تھے اور ہر ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر مجھے مبارک دے رہا تھاکہ تیری توبہ قبول ہوگئی۔ میںاٹھا اور مسجد نبوی کی طرف چلا دیکھا کہ نبیؐ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا ہے۔ پھر حضوؐر کے فرمان کے مطابق انہوں نے اپناخیبر کا حصہ رکھ لیا اور باقی گھرکا سارا اثاثہ راہِ حق میں قربان کردیا۔ پھر انہوں نے خدا سے عہد کیا کہ جس راست گفتاری کے صلے میں اللہ نے مجھے معافی دی ہے اس پر تمام عمر قائم رہوں گا۔ چناں چہ آج تک میں نے کوئی بات جان بوجھ کر خلاف واقعہ نہیں کہی اور خدا سے امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی مجھے اس سے بچائے گا۔ (تفہیم القرآن،ج۲، التوبہ ،حاشیہ:۱۱۹)

اس غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے سات صحابہؓ

٨٥- نبی ا نے فرمایا کہ سارا مال دینے کی ضرورت نہیں، صرف ایک تہائی کافی ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنِ ابْنِ کَعْبِ ابْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہٗ قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ، اَوْ اَبُوْلُبَابَۃَ اَوْ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ: اِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ اَھْجُرَ دَارَ قَوْمِی الَّتِیْ اَصَبْتُ فِیْھَا الذَّنْبَ، وَ اَنْ اَنْخَلِعَ مِنْ مَالِیْ کُلِّہٖ صَدَقَۃً، قَالَ: یَجْزِیُ عَنْکَ الثُّلُثُ۔(٤)
ترجمہ: ابن کعب نے اپنے والد کعب سے روایت بیان کی کہ انہوں نے یاابولبابہ یا وہ شخص جسے اللہ نے چاہا نبیؐ سے عرض کیا کہ میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اپنا وہ خاندانی مکان جس میں، میںاس کوتاہی و گناہ کا مرتکب ہوا اسے چھوڑدوں اور اپنا سارا مال صدقہ کردوں۔ آپؐ نے فرمایا بس مال کا تیسرا حصہ صدقہ کرنا تیرے لیے کافی ہے۔
ابوداؤد نے حضرت کعب سے ایک روایت میں مندرجہ ذیل الفاظ بھی ذکر کیے ہیں۔
(۲) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اِلَی اللّٰہِ اَنْ اُخْرِجَ مِنْ مَالِیْ کُلِّہٖ اِلَی اللّٰہِ وَاِلٰی رَسُوْلِہٖ صَدَقَۃً قَالَ: لاَ، قُلْتُ: فَنِصْفَہٗ، قَالَ: لاَ قُلْتُ: فَثُلُثَہٗ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَاِنِّیْ سَاُمْسِکُ سَھْمِیْ مِنْ خَیْبَرَ۔(٥)
ترجمہ: حضرت کعب بن مالک کا اپنا بیان ہے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میری توبہ اور رجوع الی اللہ میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا سارا مال صدقہ کردوں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ میں نے پھر عرض کی۔ پس آدھا مال۔ آپؐ نے فرمایا نہیں میں نے پھر عرض کی تیسرا حصۂ مال اب آپ نے جواب میں فرمایا ہاں۔ (اتنا کافی ہے) چناں چہ میں نے خیبر والے اپنے حصہ کو روک لیا۔
تشریح: ابو لبابہ بن عبد المنذر اور ان کے چھ ساتھی بیعت عقبہ کے موقع پر ہجرت سے پہلے اسلام لاے تھے۔ پھر جنگ بدر جنگ احد اور دوسرے معرکوں میں برابر شریک رہے۔ مگر غزوۂ تبوک کے موقع پر نفس کی کم زوری نے غلبہ کیا اور یہ کسی عذرِ شرعی کے بغیر بیٹھے رہ گئے۔ ایسے ہی مخلص ان کے دوسرے ساتھی تھے اور ان سے بھی یہ کم زوری سرزد ہوگئی۔ جب نبی ا غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے اور ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق اللہ اور رسول کی کیا راے ہے تو انہیں سخت ندامت ہوئی۔ قبل اس کے کہ کوئی باز پرس ہوتی انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو باندھ لیا اور کہا کہ ہم پر خواب و خور حرام ہے جب تک ہم معاف نہ کردیے جائیں یا پھر ہم مرجائیں۔ چناں چہ کئی روز وہ اسی طرح بے آب و دانہ اور بے خواب بندھے رہے حتی کہ بیہوش ہوکر گر پڑے۔ آخر کار جب انہیں بتایا گیا کہ اللہ اور رسول نے تمہیں معاف کردیا تو انہوں نے نبی ا سے عرض کیا کہ ہماری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جس گھر کی آسائش نے ہمیں فرض سے غافل کیااسے اور اپنے تمام مال کو خدا کی راہ میں دے دیں۔ تو نبی ا نے مندرجہ بالا الفاظ فرمائے۔ چناں چہ انہوں نے اسی وقت تہائی مال فی سبیل اللہ وقف کردیا۔ (تفہیم القرآن، ج۲، التوبۃ، حاشیہ:۹۹)

واپسی اور مسجد ضرار

٨٦- منافقین جن کے ساتھ اب تک وقتی مصالح کے لحاظ سے چشم پوشی و درگزر کا معاملہ کیا جارہا تھا اب چوں کہ بیرونی خطرات کا دباؤ کم ہوگیا تھا بلکہ گویا نہیں رہاتھا اس لیے حکم دیا گیا کہ آیندہ ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے اور وہی سخت برتاؤ ان چھپے ہوئے منکرین ِ حق کے ساتھ بھی ہو جو کھلے منکرین ِ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ چناں چہ یہی پالیسی تھی جس کے مطابق نبی ا نے غزوۂ تبوک کی تیاری کے زمانہ میں سویلم کے گھر میں آگ لگوادی۔ جہاں منافقین کا ایک گروہ اس غرض سے جمع ہوتا تھا کہ مسلمانوں کو شرکت جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کرے اور اسی پالیسی کے تحت تبوک سے واپس تشریف لاتے ہی نبی ا ے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد ضرار کو ڈھانے اور جلادینے کا حکم دے دیا۔ (تفہیم القرآن ،ج۲، التوبہ، مسائل و مباحث)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: ثُمَّ اَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی نَزَلَ بِذِی اَوَانٍ، بَلَدٍ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْمَدِیْنَۃِ سَاعَۃٌ مِنْ نَّھَارٍ، وَکَانَ اَصْحَابُ مَسْجِدِ الضِّرَارِ قَدْ کَانُوْا اَتَوْہُ وَھُوَ یَتَجَھَّزُ اِلٰی تَبُوْکَ فَقَالُوْا:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّا قَدْ بَنَیْنَا مَسْجِدًا لِذِی الْعِلَّۃِ وَالْحَاجَۃِ وَاللَّیْلَۃِ الْمَطِیْرَۃِ وَاللَّیْلَۃِ الشَّاتِیَۃِ، وَاِنَّا نُحِبُّ اَنْ تَاْتِیَنَا، فَتُصَلِّیْ لَنَا فِیْہِ، فَقَالَ: اِنِّیْ عَلٰی جَنَاحِ سَفَرٍ، وَحَالِ شُغْلٍ، اَوْکَمَا قَالَ ﷺ، وَلَوْ قَدْ قَدِمْنَا اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لاَ تَیْنَاکُمْ، فَصَلَّیْنَا لَکُمْ فِیْہِ۔ فَلَمَّا نَزَلَ بِذِی اَوَانٍ، اَتَاہُ خَبَرُ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَالِکَ بْنَ الدُّخْشُمِ، اَخَا بَنِیْ سَالِمِ ابْنِ عَوْفٍ، وَ مَعْنَ بْنَ عَدِیٍّ، اَوْ اَخَاہُ عَاصِمَ بْنَ عَدِیٍّ، اَخَا بَنِی الْعَجْلاَنِ، فَقَالَ:انْطَلِقَا اِلٰی ھٰذَا الْمَسْجِدِ الظَّالِمِ اَھْلُہٗ، فَاھْدِمَاہُ وَحَرِّقَاہُ، فَخَرَجَا سَرِیْعَیْنِ حَتّٰی اَتَیَا بَنِیْ سَالِمِ ابْنِ عَوْفٍ۔ وَھُمْ رَھْطُ مَالِکِ بْنِ الدُّخْشُمِ، فَقَالَ مَالِکٌ لِمَعْنٍ: اَنْظِرْنِیْ حَتّٰی اَخْرُجَ اِلَیْکَ بِنَارٍ مِنْ اَھْلِیْ، فَدَخَلَ اِلٰی اَھْلِہٖ، فَاَخَذَ سَعْفًا مِنَ النَّخْلِ، فَاَشْعَلَ فِیْہِ نَارًا، ثُمَّ خَرَجَا یَشْتَدَّانِ حَتّٰی دَخَلاَہُ، وَ فِیِِْہِ اَھْلُہٗ، فَحَرَّقَاہُ وَ ھَدَّمَاہُ، وَ تَفَرَّقُوْا عَنْہُ وَ نَزَلَ فِیْھِمْ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَانَزَلَ۔ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِلٰی آخِرِ الْقِصَّۃِ۔(٦)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے: پھر رسول اللہ ا روانہ ہوکر ذی اوان کے مقام پر فروکش ہوئے۔ مدینہ منورہ سے اس کا فاصلہ صرف ایک گھڑی کا تھا۔ رسول اللہا جب تبوک کی جانب کی تیاری میں مصروف تھے، اس وقت مسجد ضرار بنانے والوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا تھا۔ یا رسول اللہ ہم لوگوں نے بیماروں، محتاجوں کے لیے نیز بارش اور سردی کی راتوں کے لیے ایک مسجد تعمیر کی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ آپ اس مسجد میں تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھا کر اس کا باقاعدہ افتتاح فرمائیں۔ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ میں اس وقت تو رخت سفر باندھے ہوئے ہوں اور مشغولیت و مصروفیت کے عالم میں ہوں یا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ اگرہم واپس آئے تو ان شاء اللہ تمہارے پاس آئیں گے اور اس مسجد میں تمہیں نماز پڑھائیں گے۔ واپسی پر جب آپ ذی اوان میں آکر اترے تو مسجد کے بارے میں صحیح صورت حال کی اطلاع ملی۔ تو رسول اللہا نے مالک بن دخشم جو بنو سالم بن عوف سے تعلق رکھتے تھے اور معن بن عدی کو یا ان کے بھائی عاصم بن عدی کو جن کا تعلق بنوعجلان سے تھا کو بلا کر فرمایا تم دونوں اس مسجد میں جاؤ جس کے تعمیر کرنے والے ظالم لوگ ہیں۔ اسے منہدم کردو اور نظر آتش کرکے جلا ڈالو۔ یہ دونوں بڑی تیزی سے نکل گئے اور بنو سالم بن عوف کے پاس پہنچ گئے یہ بنو مالک بن د خشم کا خاندان تھا۔ مالک نے معن سے کہا کہ مجھے ذرا اتنی سی مہلت درکار ہے کہ گھر سے آگ لے کر آجاؤں۔ چناں چہ یہ اپنے گھر گئے اور کھجور کے درخت کی ایک شاخ لے کر اسے آگ لگائی۔ پھر دونوں دوڑتے ہوئے مسجد ضرار میں پہنچے۔ (مسجد ضرار تعمیر کرنے والے حضرات اس میں موجود تھے) انہوں نے مسجد کو آگ لگادی اور اسے گرا کر پیوند خاک کردیا۔ اس دوران میں اصحاب مسجد ضرار چھوڑ چھاڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے بارے میں قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرارا و کفرا و تفریقا بین المؤمنین۔

مسجد ضرار کو مسمار کیوں کیا گیا؟

منافقین نے ایک قرار داد سے یہ طے کیا کہ وہ مدینہ میں اپنی علیحدہ مسجد بنائیں گے تاکہ عام مسلمانوں سے بچ کر منافق مسلمانوں کی علیحدہ جتھہ بندی اس طرح کی جاسکے کہ اس پر مذہب کا پردہ پڑا رہے اور آسانی سے اس پر کوئی شبہہ نہ کیاجاسکے اور وہاں نہ صرف یہ کہ منافقین منظم ہوسکیں اور آیندہ کارروائیوں کے لیے مشورے کرسکیں بلکہ ابو عامر جو روم میں ان کا ساتھی تھا، کے پاس سے جو ایجنٹ خبریں اور ہدایات لے کر آئیں وہ بھی غیرمشتبہ فقیروں اور مسافروں کی حیثیت سے اس مسجد میں ٹھہر سکیں۔ یہ تھی وہ ناپاک سازش جس کے تحت مسجد ضرار تیار کی گئی تھی۔
مدینہ میں اس وقت دو مسجدیں تھیں۔ ایک مسجد قبا جو شہر کے مضافات میں تھی دوسری مسجد نبوی جو شہر کے اندر تھی، ان دو مسجدوں کی موجودگی میں ایک تیسری مسجد بنانے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور وہ زمانہ ایسی احمقانہ مذہبیت کا نہ تھا کہ مسجد کے نام سے ایک عمارت بنادینا بجائے خود کار ثواب ہو۔قطع نظر اس سے کہ اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بلکہ اس کے برعکس ایک نئی مسجد بننے کے معنی یہ تھے کہ مسلمانوں کی جماعت میں خواہ مخواہ تفریق رونما ہو۔ جسے ایک صالح اسلامی نظام کسی طرح گوارا نہیں کرسکتا۔ اسی لیے یہ لوگ مجبور ہوئے کہ اپنی علیحدہ مسجد بنانے سے پہلے اس کی ضرورت ثابت کریں۔ چناں چہ انہوں نے نبی ا کے حضور اس تعمیر نو کے لیے یہ ضرورت پیش کی کہ بارش میں اور جاڑے کی راتو ںمیں عام لوگوں کو اور خصوصاً ضعیفوں اور معذوروں کو جو ان دونوں مسجدوں سے دور رہتے ہیں، پانچوں وقت حاضری دینی مشکل ہوتی ہے، لہٰذا ہم محض نمازیوں کی آسانی کے لیے یہ ایک نئی مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
ان پاکیزہ ارادوں کی نمائش کے ساتھ جب یہ مسجد ضرار بن کر تیار ہوئی تو یہ اشرار رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے درخواست کی کہ آپ ایک مرتبہ خود نماز پڑھا کر ہماری مسجد کا افتتاح فرمادیں۔ مگر آپ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’اس وقت میں جنگ کی تیاری میں مشغول ہوں اور ایک بڑی مہم درپیش ہے۔ اس مہم سے واپس آکر دیکھوں گا۔‘‘ اس کے بعد آپ تبوک کی طرف روانہ ہوگئے اور آپ کے پیچھے یہ لوگ اس مسجد میں اپنی جتھہ بندی اور سازش کرتے رہے، حتی کہ انہوں نے یہاں تک طے کرلیا کہ ادھر رومیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قلع قمع ہو اور ادھر یہ فوراً ہی عبد اللہ بن ابی کے سرپر تاج شاہی رکھ دیں۔ لیکن تبوک میں جو معاملہ پیش آیا اس نے ان کی ساری امیدوں پر پانی پھیردیا۔ واپسی پر جب رسول اللہ ا مدینہ کے قریب ذی اوان کے مقام پرپہنچے تو سورۃ توبہ کی کچھ آیات نازل ہوئیں۔ آپؐنے اسی وقت چند آدمیوں کو مدینہ کی طرف بھیج دیا تاکہ آپ کے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پہلے وہ اس مسجد ضرار کو مسمار کردیں۔ (تفہیم القرآن ،ج۲، التوبہ، حاشیہ:۱۰۲)

عذر شرعی کی بنا پر شریک جہاد نہ ہونے والوں کی حیثیت

٨٧- اِنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِیْرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِیًا اِلاَّ کَانُوْا مَعَکُمْ۔
مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے کوئی وادی طے نہیں کی اور کوئی کوچ نہیں کیا جس میں وہ تمہارے ساتھ ساتھ نہ رہے ہوں۔ صحابہؓ نے تعجب سے کہا ’’کیا مدینہ ہی میں رہتے ہوئے؟‘‘ فرمایا ’’ہاں، مدینے ہی میں رہتے ہوئے۔ کیوں کہ مجبوری نے انہیں روک لیا تھاورنہ خود رکنے والے نہ تھے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا حُمَیْدُ نِالطَّوِیْلُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ رَجَعَ مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکٍ، فَدَنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ، فَقَالَ: اِنَّ بِالْمَدِیْنَۃِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِیْرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ، وَادِیًا اِلاَّ کَانُوْا مَعَکُمْ، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَھُمْ بِالْمَدِیْنَۃِ قَالَ: وَھُمْ بِالْمَدِیْنَۃِ حَبَسَھُمُ الْعُذْرُ۔(٧)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے نبی ا غزوۂ تبوک سے واپسی پر مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا، مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے کوئی وادی طے نہیں کی اور کوئی کوچ نہیں کیا جس میں وہ تمہارے ساتھ ساتھ نہ رہے ہوں۔ صحابہؓ نے تعجب سے کہا ’’کیا مدینہ ہی میں رہتے ہوئے؟ فرمایا۔ ہاں مدینہ ہی میں رہتے ہوئے، کیوں کہ مجبوری نے انہیں روک لیا تھا (ورنہ وہ خود رکنے والے نہ تھے)
تشریح: ایسے لوگ جو خدمت دین کے لیے بے تاب ہوں اور اگر کسی حقیقی مجبوری کے سبب سے یا ذرائع نہ پانے کی وجہ سے عملاً خدمت نہ کرسکیں تو ان کے دل کو اتنا ہی سخت صدمہ ہوتا ہے جتنا کسی دنیا پرست کو روزگار چھوٹ جانے یا کسی بڑے نفع کے موقع سے محروم رہ جانے کا ہواکرتا ہے، ان کا شمار خداکے ہاں خدمت انجام دینے والوں ہی میں ہوگا۔
اگرچہ انہوں نے عملاً کوئی خدمت انجام نہ دی ہو۔ اس لیے کہ وہ چاہے ہاتھ پاؤں سے کام نہ کرسکے ہوں لیکن دل سے تو وہ برسر خدمت ہی رہے ہیں۔ یہی بات ہے جو نبیؐ نے غزوۂ تبوک سے واپسی پر اثنائے سفر میں اپنے رفقاء کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی۔ (تفہیم القرآن، ج۲، التوبہ، حاشیہ:۹۳)

حجۃ الوداع اور حرمت سود

٨٨-کُلَّ رِبًا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعٌ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ وَاَوَّلُ مَا اَضَعُہٗ رِبَا الْعَبَّاسِ۔
حجۃ الوداع کے موقع سے آپ نے اعلان کیا کہ زمانۂ جاہلیت کا ہر سود جو لوگوں کے ذمے تھا میرے ان قدموں تلے روند ڈالا گیا اور سب سے پہلے جس سود کو میں ساقط کرتا ہوں وہ میرے چچا عباس کا ہے۔ (واضح رہے کہ سود کی حرمت کا حکم آنے سے پہلے حضرت عباسؓ سود پر روپیہ چلاتے تھے اور ان کا بہت سا سود اس وقت لوگوں کے ذمے وصول طلب تھا۔
(از مولف)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوَبَکْرِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ جَمِیْعًا عَنْ حَاتِمٍ، قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْمَدَنِیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ۔۔۔ فَقُلْتُ: اَخْبِرْنِیْ عَنْ حَجَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔۔۔فَاَتٰی بَطْنَ الْوَادِیِّ فَخَطَبَ النَّاسَ؟ وَقَالَ: اِنَّ دِمَآئَ کُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، اَلاَ کُلُّ شَـْیئٍ مِنْ اَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ، وَدِمَآئُ الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ، وَاِنَّ اَوَّلَ دَمٍ اَضَعُ مِنْ دِمَآئِنَا دَمُ ابْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ کَانَ مُسْتَرْضِعًا فِیْ بَنِیْ سَعْدٍ، فَقَتَلَتْہُ ھُذَیْلٌ وَ رِبَا الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ وَ اَوَّلُ رِبًا اَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَاِنَّہٗ مَوْضُوْعٌ کُلُّہٗ، الحدیث۔(٨)
ترجمہ: حضرت جعفر اپنے باپ محمد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبد اللہ کے پاس گئے۔۔۔ تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مجھے رسول اللہا کے حج (حجۃ الوداع) کے متعلق بتائیں۔ (انہوں نے شروع سے لے کر آخر تک بیان کیا) تو بتایا کہ آپ بطن وادی میں تشریف لائے اور خطاب فرمایا کہ تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت ہے اس مہینے میں، اس شہر کے اندر۔ سن لو کہ زمانۂ جاہلیت کی ہرچیز میرے قدموں کے نیچے روند ڈالی گئی ہے۔ جاہلیت کے خون میرے پاؤں تلے روند دیے گئے۔ اور سب سے پہلا خون جسے میں اپنے خونوں میں سے روندتا ہوں وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جو بنی سعد میں شیر خوار تھا اور جسے ہذیل نے قتل کردیا تھا اور جاہلیت کے زمانہ کا ہر سود جو لوگوں کے ذمہ تھا میرے ان قدموں تلے روند ڈالا گیا اور سب سے پہلے جس سود کو میں ساقط کرتا ہوں وہ اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ وہ سارا سود ساقط ہے۔
ابو داؤد اور ترمذی اور ابن ماجہ میں سلیمان بن عمرو، عن ابیہ کی سند سے مندرجہ ذیل الفاظ منقول ہیں۔
(۲) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَقُوْلُ: اَلاَ اِنَّ کُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعٌ لَکُمْ رَؤُسُ اَمْوَالِکُمْ لاَ تَظْلِمُوْنَ وَلاَ تُظْلَمُوْنَ۔الخ (٩)
ترجمہ: عمرو سے مروی ہے انہوںنے بیان کیا کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ا کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ سنو زمانۂ جاہلیت کا ہر سود ساقط کردیا گیا ہے۔ اب راس المال تمہارا ہے نہ تم ظلم و نا انصافی کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔
دارمی میں ابوحرہ الرقاشی نے اپنے چچا سے جو روایت نقل کی ہے اسے امام دارمی نے کتاب البیوع میں لیا ہے اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔
(۳) کُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ اَوْسَطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ اَذُوْدُ النَّاسَ عَنْہُ، فَقَالَ: اَلاَ اِنَّ کُلَّ رِبًا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعٌ۔۔۔اِنَّ اَوَّلَ رِبَا یُوْضَعُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَکُمْ رُؤُسُ اَمْوَالِکُمْ لاَ تَظْلِمُوْنَ وَلاَ تُظْلَمُوْنَ۔(١٠)
ترجمہ: ابوحرہ رقاشی نے اپنے چچا کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایام تشریق کے درمیان میں رسول اللہ ا کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھا اور لوگوں کو آپ سے دور کررہا تھا۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا۔ سن لو زمانۂ جاہلیت کا ہر سود ساقط کردیاگیا ہے۔ پہلا سود جسے ساقط کیا جاتا ہے وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ تمہارے لیے راس المال ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔
تشریح: حدیث بالاسے ظاہر ہے کہ حضوؐرنے اپنے رشتہ داروں کو جمع کرکے اس کی تعمیل کردی۔ اور اس سے یہ اصول واضح ہوگیا کہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں، جن سے دوسرے محروم ہوں۔ جو چیز زہر قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے۔ نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے۔ پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کردے کہ جو بھی اسے کھائے گا، ہلاک ہوجائے گا۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے، نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے، تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے، بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے۔ اس طریقے پرنبی ا زندگی بھر عامل رہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، الشعراء، حاشیہ: ۱۳۵)

آخری رسولؐ کی آخری وصیت

٨٩- لاَ تَرْجَعُوْنَ بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔ (بخاری،کتاب الفتن)
کہیں ایسانہ ہو کہ میرے بعد تم پھر کفر کی طرف پلٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْھَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ؟ یَقُوْلُ: لاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔(١١)
ترجمہ: حضرت ابن عمر سے مروی ہے انہوں نے نبی ا کو یہ فرماتے سنا کہ تم میرے بعد کفر کی طرف پلٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگو۔
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَشْکَابٍ قِتَالٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عِکْرَمَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لاَ تَرْتَدُّوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔(١٢)
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی ا نے فرمایا میرے بعد مرتد ہوکر کفر کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگو۔
(۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَلِّيِ بْنِ مُدْرَکٍ سَمِعْتُ اَبَا زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو ابْنِ جَرِیْرٍ عَنْ جَدِّہٖ جَرِیْرٍ، قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: لاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔(١٣)
ترجمہ: جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے حجۃ الوداع میںمجھے فرمایا کہ میںلوگوں کو خاموش رہنے کی اپیل کروں۔ پھر آپ نے فرمایا میرے بعد کفر کی طرف پلٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگو۔
بخاری کی کتاب المغازی میں حضرت ابوبکرہؓ سے مروی روایت:
(۴) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا اَیُّوْبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ کَھَیْئَاتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ،السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا، مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ، ثَلٰثٌ مُتَوَالِیَاتٌ: ذُوالْقَعْدَۃِ، وَ ذُوالْحَجَّۃِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِیْ بَیْنَ جُمَادٰی وَ شَعْبَانَ، اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، فَسَکَتَ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہٖ، قَالَ: اَلَیْسَ ذُوالْحَجَّۃِ؟ قُلْنَا:بَلٰی، قَالَ: فَاَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قُلْنَا اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، فَسَکَتَ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہٖ، قَالَ:اَلَیْسَ الْبَلْدَۃَ، قُلْنَا: بَلٰی، قَالَ فَاَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا، قُلْنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہٖ قَالَ اَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلٰی، قَالَ: فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ، وَ اَمْوَالَکُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ وَ اَحْسَبَہٗ قَالَ: وَ اَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا، وَ سَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَسَیَسْئَالُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ، اَلاَ، فَلاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ ضُلاَّ لاً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اَلاَ لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلَّغُہٗ اَنْ یَّکُوْنَ اَوْعٰی لَہٗ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَہٗ فَکَانَ مُحَمَّدٌ اِذَا ذَکَرَہٗ یَقُوْلُ: صَدَقَ مُحَمَّدٌ ﷺ، ثُمَّ قَالَ: اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَیْنِ۔(١٤)
ترجمہ: حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی ا سے روایت کیا کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو زمانہ گھوم پھر کر پھر اپنی اصل جگہ پر آگیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان (کائنات) کو پیدا فرمایا تھا۔ سال کے بارہ مہینے ہیں۔ ان میں سے چار حرام مہینے ہیں۔ تین تو متواتر و مسلسل ہیں۔ یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجۃ اور محرم اور چوتھا رجب کا مہینہ ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے مابین پڑتا ہے۔ پھر آپ نے حاضرین سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ تھوڑی دیر خاموش رہے ہمارا خیال تھا کہ آپ اس ماہ کا کوئی دوسرا نام تجویز فرمائیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجۃ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ تھوڑی دیر خاموش رہے ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی دوسرا نام تجویز فرمائیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ مکہ نہیں؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ خاموش رہے۔ ہمیں گمان ہوا کہ آپ اس دن کا شاید کوئی اور نام تجویز فرمائیں گے۔ آپ نے پوچھا کیا آج یوم النحر نہیں؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا خوب سن لو۔ تمہاری جانیں، تمہارے مال محمد کہتے ہیں کہ میرا خیال ابوبکرہ نے یہ بھی بیان کیا کہ تمہاری آبروئیں اسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ مہینہ، یہ شہر اور یہ دن حرام ہیں۔ تمہیں ایک دن ضرور اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ خبردار میرے بعد گم راہ ہوکر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگنا۔ سنو جو اس وقت حاضر ہے وہ غائب تک یہ پیغام پہنچادے۔ اس لیے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پہنچانے والے سے وہ شخص زیادہ یاد رکھتا ہے جسے پہنچائی جائے۔ محمد اس حدیث کو بیان کرتے وقت کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ نے سچ فرمایا۔ آخر میں آپ نے فرمایا سن لو میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچادیا ہے۔
(۵) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْيٰ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ سِیْرِیْنَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ وَ عَنْ رَّجُلٍ اٰخَرَ ھُوَ اَفْضَلُ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: اَلاَ تَدْرُوْنَ اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہٗ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہٖ، فَقَالَ: اَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ اَلَیْسَتْ بِالْبَلْدَۃِ الْحَرَامِ؟ قُلْنَا:بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: فَاِنَّ دَمَائَ کُمْ، وَاَمْوَالَکُمْ، وَ اَعْرَاضَکُمْ، وَ اَبْشَارَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ فَاِنَّہٗ رُبَّ مُبَلَّغٍ یُبَلَّغُہٗ مَنْ ھُوَ اَوْعٰی لَہٗ وَکَانَ کَذَاکَ، فَقَالَ: لاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔الخ (١٥)
ترجمہ: حضرت ابوبکرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے خطاب میں فرمایا جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اوراس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ ہمارا خیال تھا کہ آپ اس دن کا کوئی اور نام تجویز فرمائیں گے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کیا یہ یوم نحرنہیں؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ پھر خود ہی فرمایا کیا یہ بلد حرام نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ۔ پھر ارشاد ہوا۔ بے شک تمہارے خون، اور تمہارے اموال اور تمہاری آبروئیں اور تمہاری جانیں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں یہ دن حرام ہے۔ پھر دریافت فرمایا کیا میں نے پیغام الٰہی تمہیں پہنچا دیا؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپؐ نے فرمایا الٰہی گواہ رہیو۔ پس اب جو یہاں حاضر ہے وہ غائب کو یہ پیغام پہنچائے۔ کیوں کہ بہت سے شخص ایسے ہوتے ہیں جو اس سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں جس نے پہنچایا ہے۔ نیز آپ نے فرمایا میرے بعد کفر کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے نہ لگ جانا۔
(۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ اَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ، بِمِنٰی: اَتَدْرُوْنَ اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا:اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: فَاِنَّ ھٰذَا یَوْمٌ حَرَامٌ، اَفَتَدْرُوْنَ اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ:اَتَدْرُوْنَ اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: شَھْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَاِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ دِمَآئَ کُمْ، وَاَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا۔ وَقَالَ ھِشَامُ بْنُ الْغَازِانبأ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَقَفَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ بَیْنَ الْجَمَرَاتِ فِی الْحَجَّۃِ الَّتِیْ حَجَّ بِھٰذَا وَقَالَ: ھٰذَا یَوْمُ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ، فَطَفِقَ النَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ وَوَدَّعَ النَّاسَ، فَقَالُوْا: ھٰذِہٖ حَجَّۃُ الْوَدَاعِ۔(١٦)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ نبی ا نے مقام منٰی میں فرمایا جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ فرمایا یقینا یہ یوم حرام ہے۔ پھر دریافت فرمایا جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ عرض کیا اللہ اوراس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا شہر حرام ہے۔ پھر دریافت فرمایا جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اوراس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد ہوا۔ ماہ حرام ہے۔ پھر فرمایا۔ یقینا اللہ نے تم پر تمہارے خون اور اموال اور آبروئیں اسی طرح حرام قرار دی ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے اس مہینے میں اس شہر میں۔ ابن عمر کا بیان ہے کہ نبی ا حجۃ الوداع میں یوم نحر میںجمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا یہ حج اکبر کا دن ہے اے اللہ تو گواہ رہ اور لوگوں کو الوداع کہا۔ چناں چہ لوگوں نے کہا کہ یہ حجۃ الوداع ہے۔
(۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ ثَنَا فُضَیْلُ بْنُ غَزْوَانَ ثَنَا عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: یٰـٓاَیُّھَا النَّاسُ: اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: یَوْمٌ حَرَامٌ، فَقَالَ: فَاَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَاَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: شَھْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَاِنَّ دِمَآئَکُمْ، وَاَمْوَالَکُمْ، وَاَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا۔ فَاَعَادَھَا مِرَارًا۔ ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ، اَللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اَنَّھَا لَوَصِیَّتُہٗ اِلٰی اُمَّتِہٖ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ لاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔(١٦)
ترجمہ: ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہا نے یوم النحر(قربانی کے روز) خطاب فرمایا لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے عرض کیا یہ یوم حرام ہے پھر آپ نے دریافت فرمایا یہ کون سا شہرہے؟ صحابہ نے عرض کیا شہر حرام ہے۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا ماہ حرام ہے۔ اس کے بعد فرمایا بے شک تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پراس طرح حرام ہیںجس طرح تمہارا آج کا دن، اس شہرمیں، اس مہینے میں تم پر حرام ہے۔ یہ جملہ آپ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمایا پھر اپنا سر مبارک اوپر اٹھاکر فرمایا، اے اللہ کیا میں نے پیغام پہنچادیا ہے۔ اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ ابن عباس کا بیان ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ آپ کی اپنی امت کو وصیت ہے کہ جو حاضر ہے وہ غائب تک یہ پیغام پہنچائے اور میرے بعد کفر کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگو۔
(۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالَ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ۔۔۔قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اَلاَ اَیُّ شَھْرٍ تَعْلَمُوْنَہٗ اَعْظَمَ حُرْمَۃً؟ قَالُوْا: اَلاَ شَھْرُنَا ھٰذَا؟ قَالَ:اَلاَ اَیُّ بَلَدٍ تَعْلَمُوْنَہٗ اَعْظَمَ حُرْمَۃً؟ قَالُوْا: اَلاَ بَلَدُنَا ھٰذَا، قَالَ: اَلاَ اَیُّ یَوْمٍ تَعْلَمُوْنَہٗ اَعْظَمَ حُرْمَۃً؟ قَالُوْا:اَلاَ یَوْمُنَا ھٰذَا، قَالَ: فَاِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ دِمَائَ کُمْ، وَ اَمْوَالَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا، اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ؟ ثَلاَثًا کُلَّ ذٰلِکَ یُجِیْبُوْنَہٗ اَلاَ نَعَمْ، قَالَ: وَیْحَکُمْ اَوْ وَیْلَکُمْ لاَ تَرْجِعُنَّ بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔(١٨)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے حجۃ الوداع کے موقع پر دریافت فرمایا۔ حرمت کے اعتبار سے تمہارے نزدیک کون سا مہینہ ہے۔ صحابہ کرام نے جواب میں عرض کیا کہ ہمارا یہ مہینہ نہیں؟ آپ نے پھر دریافت فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟ انہوں نے عرض کیا۔ کیا ہمارا یہ شہر نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ کیا ہمارا یہ دن نہیں؟ جب لوگ پوری طرح متوجہ ہوگئے تو فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے تم ایک دوسرے پر تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری آبروئیں، اسی طرح حرام فرمائی ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے، اس شہر میں اور اس مہینہ میں۔ اور یہ کہ اس پر شرعی حق آتا ہو۔ کیا میں نے پہنچا نہیں دیا؟ تین مرتبہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔ ہر بارانہوںنے جواب میں کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تمہاری تباہی و بربادی ہو میرے بعد کفر کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنا۔
السنن الکبری بیہقی نے سراء بنت نبہان سے مندرجہ ذیل روایت بھی نقل کی ہے۔
(۹) حَدَّثَتْنِیْ سَرَّائُ بِنْتُ نَبْھَانَ، وَکَانَتْ رَبَّۃَ بَیْتٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ھَلْ تَدْرُوْنَ اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالَ: وَھُوَ الْیَوْمُ الَّذِیْ یَدْعُوْنَ یَوْمَ الرَّؤُسِ، قَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: ھٰذَا اَوْسَطُ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ، ھَلْ تَدْرُوْنََ اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: ھٰذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ قَالَ: اِنِّیْ لاَ اَدْرِیْ لَعَلِّیْ لاَ اَلْقَاکُمْ بَعْدَ ھٰذَا، اَلاَ وَ اِنَّ دِمَآئَ کُمْ، وَ اَمْوَالَکُمْ، وَ اَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا حَتّٰی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ اَلاَ فَلْیُبَلِّغْ اَدْنَاکُمْ اَقْصَاکُمْ، اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ لَمْ یَلْبَثْ اِلاَّ قَلِیْلاً حَتّٰی مَاتَ(ﷺ) (١٩)
ترجمہ: مجھے سراء بنت نبہان نے بتایا اور وہ جاہلیت کے دور میں گھر کی مالکہ تھیں اس نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہا کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے سنا۔ آپؐ دریافت فرما رہے تھے کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سا دن ہے؟ خود ہی فرمایا یہ وہی دن ہے جسے تم یوم الرؤس کہتے ہو۔ انہوںنے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ ایام تشریق کا اوسط ہے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سی جگہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ خود ہی فرمایا، مشعر حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ اس سال کے بعد پھر تم سے ملاقات کرسکوں گا، ہوش گوش سے سنو، تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں آبروئیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا دن، تمہارے اس شہر میں۔یہ حرمت برقرار رہے گی تا آں کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو۔ پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پرسش کرے گا۔ ہوش سے سنو تم میں سے جو قریب ہے وہ دور والے کو یہ پیغام پہنچادے۔ کیا میں نے حق تبلیغ ادا کردیا۔ مدینہ واپس آکر تھوڑی دیر بعد وفات پاگئے۔
(۱۰) حدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، جَمِیْعًا عَنْ حَاتِمٍ، قَالَ اَبُوْبَکْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْمَدَنِیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، فَسَاَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتّٰی انْتَھٰی اِلَیَّ، فَقُلْتُ: اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، فَاَھْوٰی بِیَدِہٖ اِلٰی رَاْسِیْ، فَنَزَعَ زِرِّی الْاَعْلٰی، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّی الْاَسْفَلِ، ثُمَّ وَضَعَ کَفَّہٗ بَیْنَ ثَدْیَیَّ وَاَنَا یَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِکَ یَا ابْنَ اَخِیْ سَلْ عَمَّ شِئْتَ۔۔۔فَقُلْتُ: اَخْبِرْنِیْ عَنْ حَجَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:۔۔۔فَاَتٰی بَطْنَ الْوَادِیِّ، فَخَطَبَ النَّاسَ، وَقَالَ: اِنَّ دِمَآئَ کُمْ، وَاَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، اَلاَ کُلُّ شَـْیئٍ مِنْ اَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ، وَ دِمَآئُ الْجَاھِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ، وَ اَنَّ اَوَّلَ دَمٍ اَضَعُ مِنْ دِمَآئِ نَا دَمُ ابْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ کَانَ مُسْتَرْضِعًا فِیْ بَنِیْ سَعْدٍ، فَقَتَلَتْہُ ھُذَیْلٌ وَ رِبَا الْجَاھلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ، وَ اَوَّلُ رِبًا اَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَاِنَّہٗ مَوْضُوْعٌ کُلُّہٗ، فَاتَّقُوا اللّٰہَ فِی النِّسَآئِ فَاِنَّکُمْ اَخَذْتُمُوْھُنَّ بِاَمَانِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَھُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ، وَلَکُمْ عَلَیْھِنَّ اَنْ لاَّ یُوَطِّئَنَّ فُرُشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَھُوْنَہٗ، فَاِنْ فَعَلْنَ ذٰلِکَ، فَاضْرِبُوْھُنَّ ضَرْبًا غَیْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَھُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَالَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَہٗ اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ کِتَابَ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تُسْئَالُوْنَ عَنِّیْ، فَمَا اَنْتُمْ قَائِلُوْنَ؟ قَالُوْا: نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَ اَدَّیْتَ وَ نَصَحْتَ الخ۔(٢٠)
ترجمہ: ہم جابر بن عبد اللہ کے پاس حاضر ہوے انہوں نے آنے والے حضرات کے نام دریافت کیے آخر میں مجھ تک پہنچے تومیںنے اپنا تعارف کرایا کہ میں محمد بن علی بن حسین ہوں۔ انہوں نے از راہ شفقت اپنا ہاتھ میری جانب بڑھایا اور میرے سرپر رکھا اور میرا اوپر اور نیچے والا بٹن کھول کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا۔ میں ان دنوں نوجوان تھا۔ بھتیجے خوش آمدید پوچھو جو کچھ پوچھنا ہے پس میںنے درخواست کی کہ آپؐ مجھے رسول اللہ ا کے حج کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں۔ چناں چہ انہوں نے بیان کرنا شروع کیا اور بتایا کہ آپ وادی کے درمیان پہنچے تو وہاں خطاب کے دوران لوگوں سے فرمایا۔ بلاشبہ تمہارے خون، اور تمہارے اموال ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جس طرح آج کادن تمہارے لیے حرام ہے اس مہینے میں اس شہر کے اندر۔ سن لو زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں تلے پامال کردی گئی ہے۔ جاہلیت کے خون بھی ساقط کردیے گئے اور پہلا خون جسے میں اپنے خونوں میں سے ساقط قرار دیتاہوں، وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے۔ وہ بنی سعد میں شیر خوار تھا اسے ہذیل نے قتل کردیاتھا۔ نیز زمانۂ جاہلیت کا سود بھی ساقط کردیا گیا اس سلسلہ میں پہلا سود جسے میں اپنے سودوں سے ساقط قرار دیتا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے اس لیے اب تمام سود ساقط قرار دے دیے گئے ہیں۔ اب تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیوں کہ تم لوگوں نے انہیں اللہ کی امان دے کر حاصل کیا ہے اور اللہ کے حکم کے ذریعہ سے تم نے ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر (گھر) پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کی آمد تمہارے لیے ناگواری کا موجب ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو انہیں ایسی مار مارو کہ جوجسم پر چوٹ کا نشان نہ چھوڑے۔ (ہڈی شکستہ نہ ہوجاے یا جسم کا کوئی عضو ضائع نہ ہوجاے) اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ ان کا معروف و دستور کے مطابق ان کا کھانا پینا اور لباس تم پر ہے۔ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جارہاہوں اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رکھوگے تو کبھی گم راہ نہ ہوگے وہ ہے اللہ کی کتاب (قرآن مجید)۔ قیامت کے روز تم سے میرے متعلق استفسار ہوگا کہ میں نے پیغام الٰہی تمہیں پہنچادیا یا نہیں) تو تم کیا جواب دو گے؟ سب بولے ہم اس کی گواہی دیں گے کہ آپؐ نے اللہ کا پیغام پہنچادیا اور حق رسالت ادا کردیا اور امت کی خیرخواہی فرمائی۔
المستدرک میں جابر بن عبد اللہ کے واسطہ سے روایت:
(۱۱) فَلَمَّا وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ، اَمَرَ رَبِیْعَۃَ بْنَ اُمَیَّۃَ بْنِ خَلْفٍ، فَقَامَ تَحْتَ یَدَیْ نَاقَتِہٖ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ:اَصْرِخْ اَیُّھَا النَّاسُ ھَلْ تَدْرُوْنَ اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا:اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ، قَالَ: فَھَلْ تَدْرُوْنَ اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، ثُمَّ قَالَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا، قَالُوْا: یَوْمُ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ دِمَآئَ کُمْ، وَ اَمْوَالَکُمْ کَحُرْمَۃِ شَھْرِکُمْ ھٰذَا، وَ کَحُرْمَۃِ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، وَ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا الخ۔(٢١)
ترجمہ: جب رسول اللہ ا عرفات میں تشریف فرما تھے تو ربیعہ بن امیہ بن خلف کو جو اس وقت اونٹنی کے پاؤں کے درمیان کھڑا تھا۔ نبی ا نے اسے حکم دیا کہ وہ بلند آواز سے کہے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ماہ حرام ہے۔ پھر پوچھا جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا بلد حرام ہے۔ پھر دریافت کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حج اکبر کا دن ہے۔ تو پھر رسول اللہ ا نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے ایک دوسرے کے خون اور اموال کو اسی طرح حرام قرار دیا ہے جس طرح تمہارا یہ مہینہ حرام ہے اور جس طرح تمہارا یہ شہر تمہارے لیے حرام ہے اور جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے لیے حرام ہے۔
العداء بن خالد الکلابی کہتے ہیں:
(۱۲) رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ عَرَفَۃَ وَ ھُوَ قَآئِمٌ فِی الرِّکَابَیْنِ، یُنَادِیْ بِاَعْلٰی صَوْتِہٖ، یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اَیُّ یَوْمٍ یَوْمِکُمْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ:اَیُّ شَھْرٍ، شَھْرکُمْ ھٰذَا؟ قَالُوْا:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ فَاَیُّ بَلَدٍ، بَلَدِکُمْ؟ قَالُوْا:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَالَ: شَھْرُکُمْ، شَھْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَقَالَ: اَلاَ اِنَّ دِمَائَ کُمْ، وَ اَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا اِلٰی یَوْمٍ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی، فَیَسْئَالُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ اِلٰی السَّمَآئِ قَالَ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ عَلَیْھِمْ الخ۔(٢٢)
ترجمہ: عداء بن خالد کلابی کابیان ہے کہ میں نے یوم عرفہ میں رسول اللہ ا کو دیکھا اس وقت آپ رکابوں میں پاؤں رکھ کر کھڑے ہوے تھے۔ بلند آواز سے پکار رہے تھے لوگو! (تمہیں معلوم ہے کہ) تمہارا کون سا دن ہے۔ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپؐ نے دریافت فرمایا یہ مہینہ کون سا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے پھر پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر خود ہی فرمایا کہ یہ مہینہ، ماہ حرام ہے۔ راوی کابیان ہے توپھر آپ نے فرمایا بے شک تمہارے خون، تمہارے اموال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے لیے یہ دن اس مہینے میں، اس شہر میں حرام ہے اور قیامت تک یہ حرمت برقرار رہے گی تا آں کہ تم اپنے رب سے ملاقات کروگے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی جانب اوپر اٹھائے اور دعافرمائی۔ اے اللہ ان پر گواہ رہیو، اے اللہ ان پر گواہ رہیو۔
تشریح: رسول اللہ ا کو اپنے آخری زمانہ میں سب سے زیادہ خطرہ جس چیز کا تھا وہ یہی تھا کہ کہیں مسلمانوں میں جاہلی عصبیتیں پیدا نہ ہوجائیں اور ان کی بدولت اسلام کا قصر ملت پارہ پارہ نہ ہوجاے۔ اس لیے حضوؐر بار بار یہ وصیت فرماتے تھے۔
اپنی زندگی کے آخری حج حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے تو عرفات کے خطبہ میں عام مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا۔ ’’سن رکھو کہ اور جاہلیت میں سے ہر چیز آج میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ عربی کوعجمی پراور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ تم سب آدمؑ کی اولاد ہو اور آدمؑ مٹی سے تھے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ جاہلیت کے سب دعوے باطل کردیے گئے۔ اب تمہارے خون اور تمہاری عزتیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لیے ویسے ہی حرام ہیں جیسے آج کا دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔‘‘
پھر منیٰ میں تشریف لے گئے اس سے بھی زیادہ زور کے ساتھ اس تقریر کو دہرایا اور اس پر اضافہ کیا ’’دیکھو! میرے بعد پھر گم راہی کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگنا۔‘‘
’’عنقریب تم اپنے رب سے ملنے والے ہو، وہاں تمہارے اعمال کی تم سے باز پرس ہوگی۔‘‘ سنو! اگرکوئی نکٹا حبشی بھی تمہارا امیر بنادیا جاے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلاے تو اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا۔‘‘
یہ ارشاد فرماکر پوچھا کہ ’’کیا میں نے تم کو یہ پیغام پہنچادیا؟ لوگوں نے کہا ہاں، یا رسول اللہ۔ فرمایا اے خدا! تو گواہ رہیو!‘‘ اور لوگوں سے کہا کہ ’’جو موجود ہے وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچادے جو موجود نہیں ہیں۔‘‘ ( ملاحظہ ہو بخاری کتاب الفتن، مسلم، مشکوۃ، کتاب الامارۃ اور سیرت ابن ہشام۔)
حج سے واپس ہوکر شہداے احد کے مقام پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا: ’’مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کروگے، مگر ڈرتااس سے ہوں کہ کہیں تم دنیا میں مبتلا نہ ہوجاؤ اور آپس میں لڑنے نہ لگو۔ اگر ایسا کروگے تو ہلاک ہوجاؤگے جس طرح پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ (اسلامی ریاست،اسلامی تصور قومیت ’’رسول اللہؐ کی آخری وصیت‘‘)

عصبیت میں مبتلا ہونے کا نتیجہ

مسلمانوں میں ہندیت، ترکیت، افغانیت، عربیت اور ایرانیت کے احساسات کا پیدا ہونا، اسلامی قومیت کااحساس مٹنے اور اسلامی وحدت کے پارہ پارہ ہونے کو مستلزم ہے۔ اور یہ نتیجہ محض عقلی نہیں ہے بلکہ بارہا مشاہدہ میں آچکا ہے۔ مسلمانوں میں جب کبھی وطنی یا نسلی تعصّبات پیدا ہوے تو مسلمانوں نے مسلمان کا گلا ضرور کاٹا اور لا ترجعون بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض کے اندیشہ نبوی کی تصدیق کرکے ہی چھوڑی۔ لہٰذا وطنیت کے داعیوں کو اگر یہ کام کرنا ہی ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور دنیا کو دھوکا نہ دیں بلکہ جو کچھ کریں یہ جان کرکریں کہ وطنی قومیت کی دعوت محمد رسول اللہؐ کی دعوت کی عین ضد ہے۔ (اسلامی ریاست، اسلامی تصور قومیت ’’مغرب کی اندھی تقلید‘‘)

 

ماخذ

(١) البدایہ والنھایہ لابن کثیرج ٥ ص٨۔٭ الطبری تاریخ الامم والملوک ج٢۔٭ سیرۃ ابن ھشام ج٤۔ شان ابی ذر۔ ٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:١٤۔١٥٭ السیرۃ الحلبیۃ ج ٣۔٭ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ج٢۔
(٢) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث کعب بن مالک و قول اللّٰہ عزوجل و علی الثلاثۃ الذین خلفوا۔ ٭مسلم ج٢۔ کتاب التوبۃ باب حدیث توبۃ کعب بن مالک و صاحبیہ۔٭ مسند احمد ج٤ ص٤٥٦-٤٥٧۔ عن کعب بن مالک۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩۔ کتاب السیر باب من لیس للامام ان یغزو بہ بحال۔ عن کعب بن مالک۔ ٭سیرت ابن ھشام ج٤۔٭ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٤۔
(٣) ابوداوٗد ج٣ کتاب الایمان والنذور باب فیمن نذر ان یتصدق بمالہ۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر، سورۃ التوبۃ۔
(٤) ابوداوٗد ج٣۔ کتاب الایمان والنذور باب فیمن نذر ان یتصدق بمالہ۔٭ موطا امام مالک ج١۔ کتاب النذور باب جامع الایمان۔٭ موطا نے یجزیک من ذلک الثلث نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی ج١٠۔ کتاب الایمان، باب الخلاف فی النذر الذی یخرجہ مخرج الیمین۔ السنن نے یجزی عنک الثلث من مالک نقل کیا ہے۔
(٥) ابوداوٗد ج٢۔ کتاب الایمان والنذور باب فیمن نذر ان یتصدق بمالہ۔
(٦) سیرت ابن ہشام ج٤۔ أمر مسجد الضرار عند القفول۔۔۔٭تفسیر ابن کثیر ج٢۔٭ السیرۃ النبویۃ ج٤۔مختصر۔
(٧) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی، باب۔۔۔٭ بخاری ج١۔ کتاب الجھاد، باب من حبسہ العذر عن الغزو۔۔۔ اس مقام پر بخاری نے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے۔ عن انس، ان النبی ﷺ کان فی غزاۃ، فقال: ان اقواما بالمدینۃ خلفنا ما سلکنا شعبا ولا وادیا الا وھم معنا فیہ حبسھم العذر۔ ٭ابوداؤد ج٣۔ کتاب الجھاد، باب فی الرخصۃ فی القعود من العذر۔ اس میں آغاز روایت لقد ترکتم بالمدینۃ سے ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب من حبسہ العذر عن الجھاد، عن انس بن مالک ابن ماجہ کی ایک روایت میں شرکوکم فی الاجر کے الفاظ بھی منقول ہیں۔٭ مسند احمدج٣ ص١٠٣،١٦٠ عن انس۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩ کتاب السیر باب من اعتذر الضعف۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٤۔ کتاب المغازی باب٤ ما حفظ ابوبکر فی غزوۃ تبوک۔ عن انسؓ۔٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج٤۔ عن انس۔٭ السیرۃ الحلبیۃ ج٣۔ (غزوۃ تبوک) ٭طبقات ابن سعد ج٢۔ (غزوۃ تبوک)٭ طبقات ابن سعد نے حضرت جابر سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں حبسھم العذر کے بجائے حبسھم المرض ہے۔
(٨) مسلم ج١۔ کتاب الحج، باب حجۃ النبی ﷺ٭ ابوداؤد ج٢۔ کتاب المناسک باب صفۃ حجۃ النبی ﷺ۔
(٩) ابوداؤدج٣۔ کتاب البیوع باب فی وضع الربا۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب التفسیر، سورۃ التوبۃ۔٭ابن ماجہ کتاب المناسک باب٧٦۔ باب الخطبۃ یوم النحر۔٭ دارمی ج١۔ کتاب الحج باب٣٤ فی سنۃ الحج۔
(١٠) دارمی ج٢۔ کتاب البیوع باب٣ فی الربا الذی کان فی الجاھلیۃ۔٭ مسند احمد ج ٥ ص٧٣۔ ابوحرہ الرقاشی عن عمہ۔ ٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج ٥۔ کتاب الحج باب ما یدل علی ان النبی ﷺ احرم احراما۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔ مسلم والی روایت نقل کی ہے السنن الکبرٰی ج٩میں حضرت جابر سے مروی روایت الا وان کل شیء من امر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی الخ ہے۔
(١١) بخاری کتاب الفتن ج٢۔ باب قول النبی ﷺ لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔٭ابوداؤد ج٤۔ کتاب السنۃ۔ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ۔ عن ابن عمر۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔ عن ابن عباس۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح۔٭ سنن دارمی ج١۔ کتاب المناسک باب ٧٦ فی حرمۃ المسلم عن جریر بن عبد اللّٰہ۔٭ مسنداحمدج٢ص٨٥، ٨٧۔ عن ابن عمر۔ ٭مسند احمد ج ٥ ص٤٤-٤٥ عن ابی بکرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم النحر عن ابی بکرۃ۔
(١٢) بخاری کتاب الفتن ج٢۔ باب قول النبی ﷺ لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔٭ابوداؤد ج٤۔ کتاب السنۃ۔ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ۔ عن ابن عمر۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔ عن ابن عباس۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح۔٭ سنن دارمی ج١۔ کتاب المناسک باب ٧٦ فی حرمۃ المسلم عن جریر بن عبد اللّٰہ۔٭ مسنداحمدج٢ص٨٥، ٨٧۔ عن ابن عمر۔ ٭مسند احمد ج ٥ ص٤٤-٤٥ عن ابی بکرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم النحر عن ابی بکرۃ۔
(١٣) ٭ بخاری ج٢کتاب الفتن۔ باب قول النبی ﷺ لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔ ٭ابوداؤدج٤۔ کتاب السنۃ۔ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ۔ عن ابن عمر۔٭ ترمذی ج٢۔ ابواب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔ عن ابن عباس۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح۔٭ سنن دارمی ج١۔ کتاب المناسک باب ٧٦ فی حرمۃ المسلم عن جریر بن عبد اللّٰہ۔٭ مسنداحمد ج٢ص٨٥، ٨٧۔ عن ابن عمر۔٭مسند احمد ج ٥ ص٤٤-٤٥ عن ابی بکرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم النحر عن ابی بکرۃ۔
(١٤) بخاری ج٢۔ کتاب المغازی باب حجۃ الوداع۔ عن ابی بکرۃ۔٭ بخاری ج١۔ کتاب العلم لیبلغ الشاھد الغائب۔ اس مقام پر روایت کا آخری حصہ منقول ہے عن ابی بکرہ۔٭ بخاری ج٢۔ کتاب الاضاحی باب من قال الاضحٰی یوم النحر عن ابی بکرۃ۔٭ بخاری ج٢۔ کتاب الادب باب قول اللّٰہ یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم عن قوم الخ۔ عن ابن عمر۔٭ بخاری ج٢۔ کتاب التوحید باب قول اللّٰہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ۔ ٭مسلم ج٢کتاب القسامۃ، باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض والاموال عن ابی بکرۃ۔٭ مسند احمدج ٥ ص٣٧۔ عن ابی بکرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج باب من کرہ ان یقال للمحرم صفر و ان النسئی من امر الجاھلیہ۔ عن ابی بکرۃ۔٭ مجمع الزوائدج٣۔ کتاب الحج، باب الخطب فی الحج عن ابی ھریرۃ۔٭ بخاری ج١۔ کتاب المناسک۔ باب الخطبۃ ایام منی۔٭ مسلم ج٢کتاب القسامۃ مختصر۔ باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض والاموال٭ مسند احمد ج ٥ ص٤٩۔ عن ابی بکرہ مختصر۔٭ کنزالعمال ج ٥ حدیث:عن ابی بکرہ۔
(١٥) بخاری ج٢۔ کتاب الفتن، باب قول النبی ﷺ لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔٭ مسند احمد ج ٥۔ من ابی بکرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم النحر الخ۔ عن ابی بکرۃ۔ ٭السنن الکبری ج ٨۔ کتاب الجنایات باب تحریم القتل من السنۃ۔ ابوبکرہ۔
(١٦) بخاری ج١۔ کتاب المناسک، باب الخطبۃ ایام منی۔٭ السنن الکبرٰی ج ٥۔ کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم النحر وان یوم النحر یوم الحج الاکبر عن ابن عمر۔
(١٧) بخاری ج١۔ کتاب المناسک، باب الخطبۃ ایام منٰی۔٭ مسند احمد ج١ص٢٣٠۔ عن ابن عباس۔٭المعجم الکبیر للطبرانی ج٤۔ مخشی بن حجیر عن ابیہ۔
(١٨) بخاری ج٢۔ کتاب الحدود باب ظھر المومن حِمًی الا فی حد اوفی حق۔٭ مسند احمد ج٣ ص٣١٣۔ جابر ابن عبد اللّٰہ۔ اس مقام پر فی شھرکم ھٰذا تک ہے۔ اور ص:٣٧١۔٭ کنز العمال ج ٥۔ حدیث ١٢٩٢٠ عن وابصۃ۔ تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ۔
(١٩) السنن الکبرٰی للبیھقی ج ٥ کتاب الحج، باب خطبۃ الامام بمنٰی اوسط ایام التشریق۔٭مجمع الزوائد ج٣۔ کتاب الحج، باب الخطب فی الحج۔ عن سراء بنت نبھان۔
(٢٠) مسلم ج١ کتاب الحج باب حجۃ النبی ﷺ۔٭ ابوداؤد:٢۔ کتاب المناسک (الحج) باب صفۃ حجۃ النبی ﷺ۔ ٭ ترمذی ج٢ ابواب التفسیر۔ عن عمرو بن الاحوص۔ ترمذی میں حج کی تفصیل کے ضمن میں یہ عبارت منقول نہیں ہے صرف مذکورہ عبارت ہی ہے۔ ترمذی نے دم حارث بن عبد المطلب نقل کیا ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب المناسک، باب:٧٦۔ الخطبۃ یوم النحر عن عمرو بن الاحوص۔ ترمذی اور ابن ماجہ دونوں کی روایت یکساں ہے۔ اور بن ماجہ کتاب المناسک باب ٨٤ حجۃ رسول اللّٰہ ﷺ کے ضمن میں جابر بن عبد اللّٰہ مفصل روایت کرتا ہے۔٭ سنن دارمی ج١ کتاب مناسک الحج باب ٣٤ فی سنۃ الحج۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔ ٭دارمی میں دم ربیعۃ بن الحارث منقول ہے۔٭ مجمع الزوائد ج٣۔ کتاب الحج، باب الخطب فی الحج۔ عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ۔ مجمع الزوائد میں بھی دم ربیعۃ بن الحارث ہے۔
(٢١) المستدرک للحاکم ج١۔ کتاب المناسک باب خطبۃ النبی ﷺ فی حجۃ الوداع۔ ھٰذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ولم یخرجاہ۔٭ مجمع الزوائد ج٣۔ کتاب الحج باب الخطب فی الحج۔
(٢٢) مجمع الزوائد ج٣۔ کتاب الحج باب فی الخطبۃ یوم عرفۃ۔٭ المعجم الطبرانی ج٤۔ عن حذیم بن عمرو۔ مختصر۔ ٭کنز العمال ج ٥۔ حدیث نمبر١٢٩٢٩۔

فصل :۱ جہاد اور اس سے متعلقہ ہدایات جہاد تاقیامت جاری رہے گا

٩٠-اَلْجِھَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللّٰہُ اِلٰی اَنْ یُّقَاتِلَ آخِرُ ھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ الدَّجَّالَ لاَ یُبْطِلُہٗ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ۔
اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب کہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا۔ نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کرسکتا ہے، نہ کسی عادل کا عدل۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ نُشْبَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثَۃٌ مِنْ اَصْلِ الْاِیْمَانِ: اَلْکَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَلاَ تُکَفِّرْہُ بِذَنْبٍ، وَلاَ تُخْرِجْہُ مِنَ الْاِسْلاَمِ بِعَمَلٍ، وَالْجِھَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللّٰہُ اِلٰی اَنْ یُّقَاتِلَ آخِرُ اُمَّتِی الدَّجَّالَ لاَ یُبْطِلُہٗ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ وَالْاِیْمَانُ بِالْاَقْدَارِ۔(١)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے روایت سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں۔ جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقراری ہو اس کے قتل سے رک جانا اور ارتکاب گناہ کی بنا پراسے کافر قرار نہ دینا اور بدعملی کی وجہ سے اسے دائرۂ اسلام سے خارج نہ کرنا۔ اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب کہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا۔ نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کرسکتا ہے، نہ کسی عادل کا عدل۔ اور ایمان وہ معتبر ہے جو تقدیروں کے ساتھ ہو۔
تشریح: یعنی جہاد کو نہ اس عذر کی بنا پر بند کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت بڑے جبابرہ ہم پر مسلط ہیں نہ اس بات کو جہاد نہ کرنے کے لیے بہانہ بنایا جاسکتاہے کہ حکومت اگرچہ کفار کی ہے، مگر ہم کو امن نصیب ہے، اور ہمارے ساتھ انصاف ہورہا ہے اور نہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہوکر بیٹھ رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو۔ اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں۔ (تفہیمات حصہ دوم۔ رواداری کا غیر اسلامی تصور)
فاسق وفاجر امراء کے بارے میں جو اسلامی قاعدہ ہے وہ یہ ہے کہ اگر جہاد کی نوبت آئے تو امیر خواہ فاسق ہو خواہ فاجر یا متقی اور پرہیزگار۔ دونوں صورتوںمیں اس کی رہ نمائی میں جہاد کیا جائے۔ مسلمانوں کی عدالتیں کام کرتی رہیں گی چاہے ہیڈ آف دی اسٹیٹ فاسق ہے۔ بشرطے کہ عدالتیں قانون شریعت کے مطابق فیصلہ کرتی ہوں۔ Revenuesاگر ناجائز طور پر لگائے جارہے ہوں تب بھی بغاوت نہیں کی جاے گی۔ Taxesادا کیے جائیں گے۔ اسلام کا جو منشا ہے وہ یہ ہے کہ نظم قائم رہے۔ نظم کی جگہ بدنظمی نہ ہو۔ بد نظمی کی بدولت مسلمانوں کو اس سے زیادہ بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے جوکسی فاسق امیر کی امارت سے پہنچتا ہے۔ (۵، اے ذیلدار پارک حصہ دوم، ص:۶۶)

جہادِ اکبر اور جہادِ اصغر

٩١- قَدِمْتُمْ خَیْرَ مَقْدَمٍ، وَ قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ۔(اور بڑا جہاد) مُجَاھَدَۃُ الْعَبْدِ ھَوَاہُ۔
تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف پلٹ آے ہو۔ عرض کیاگیا وہ بڑا جہادکیا ہے؟ فرمایا آدمی کی خود اپنی خواہش نفس کے خلاف جدو جہد۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ حَمْزَۃَ۔ فِیْ سَنَۃِ خَمْسِیْنَ وَ اَرْبَعَ مِائَۃٍ۔ اَخْبَرَنَا اَبُوْسَھْلٍ عَبْدُ الْکَرِیْمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ بْنِ سُلَیْمَانَ۔ بِبُخَارٰی۔ حَدَّثَنَا خَلْفُ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ الْخَیَّامُ، حَدَّثَنَا اَبُوْعَبْدِ اللّٰہِ مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ حَاتِمِ بْنِ نُعَیْمٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ مُوْسٰی عَنِ الْحَسَنِ۔ ھُوَ ابْنُ ھَاشِمٍ۔ عَنْ یَحْیَ بْنِ اَبِی الْعَلاَئِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَیْثٌ، عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ مِنْ غَزَاۃٍ لَّہٗ، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: قَدِمْتُمْ خَیْرَ مَقْدَمٍ، وَ قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ، قَالُوْا: وَمَا الْجِھَادُ الْاَکْبَرُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: مُجَاھَدَۃُ الْعَبْدِ ھَوَاہُ۔(٢)
تشریح: جہاد سے مراد محض ’’قتال‘‘ (جنگ) نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ جدو جہد اور کشمکش اور انتہائی سعی و کوشش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ پھر جہاد اورمجاہدے میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ مزاحمت کرنے والی طاقتیں ہیں جن کے مقابلے میں یہ جدو جہد مطلوب ہے اور اس کے ساتھ فی اللہ کی قید یہ متعین کردیتی ہے کہ مزاحمت کرنے والی طاقتیں جو اللہ کی بندگی اور اس کی رضا جوئی میں اور اس کی راہ پر چلنے میں مانع ہیں اور جدو جہد کا مقصود یہ ہے کہ ان کی مزاحمت کو شکست دے کر آدمی خود بھی اللہ کی ٹھیک ٹھیک بندگی کرے اور دنیا میں بھی اس کا کلمہ بلند اور کفر و الحاد کے کلمے پست کردینے کے لیے جان لڑادے۔ اس مجاہدے کا اولین ہدف آدمی کا اپنا نفس امارہ ہے جو ہر وقت خدا سے بغاوت کرنے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے اور آدمی کوایمان و اطاعت کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب تک اس کومسخر نہ کرلیا جاے، باہر کسی مجاہدے کا امکان نہیں۔ جنگ سے واپس آنے والے غازیوں سے نبی انے مندرجہ بالا ارشاد فرمایا۔ اور اس نفس امارہ کے بعد جہاد کا وسیع تر میدان پوری دنیا ہے جس میں کام کرنے والی تمام بغاوت کیش اور بغاوت آموز اور بغاوت انگیز طاقتوں کے خلاف دل اور دماغ اور جسم اور مال کی ساری قوتوں کے ساتھ سعی و جہد کرنا وہ حق جہاد ہے جسے ادا کرنے کا یہاں مطالبہ کیا جارہا ہے۔
(تفہیم القرآن،ج۳، الحج، حاشیہ:۱۲۸

مقصد جنگ کی تطہیر

٩٢-ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں۔ جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ، اَلرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلذَّکَرِ وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِیُرِیَ مَکَانَہٗ، فَمَنْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔
ایک شخص رسول اللہ ا کے پاس حاضر ہوا اوربولا کہ کوئی شخص مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے، کوئی شہرت و ناموری کے لیے جنگ کرتا ہے، کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے جنگ کرتا ہے، فرمایے کہ اس میں سے کس کی جنگ راہ خدا میں ہے؟ حضوؐر نے جواب دیا کہ راہ خدا کی جنگ تو صرف اس شخص کی ہے جو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے لڑے۔‘‘
(الجہاد فی الاسلام) (اسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی۔۔۔۔‘‘)
تخریج: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: اَلرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلذِّکْرِ وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِیُرِیَ مَکَانَہٗ، فَمَنْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔(٣)
٩٣- جَآئَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا الْقِتَالُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ فَاِنَّ اَحَدَنَا یُقَاتِلُ غَضَبًا وَ یُقَاتِلُ حَمِیَّۃً۔ فَرَفَعَ اِلَیْہِ رَأْسَہٗ فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ (عن ابی موسٰی اشعری)
’’ایک شخص نبی اکے پاس آیا اور اور بولا کہ یا رسول اللہ قتال فی سبیل اللہ کیا ہے؟ ہم میں سے کوئی شخص جوش غضب میں لڑتا ہے اور کوئی حمیت قومی کی بنا پر۔ آپؐ نے سر اٹھایا اور جواب دیا کہ جو شخص اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے لڑتا ہے اسی کی جنگ راہ خدا میں ہے۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، اسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی۔۔۔۔‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا الْقِتَالُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ فَاِنَّ اَحَدَنَا یُقَاتِلُ غَضَبًا وَ یُقَاتِلُ حَمِیَّۃً فََرَفَعَ اِلَیْہِ رَأْسَہٗ قَالَ: وَمَا رَفَعَ اِلَیْہِ رَأسَہٗ اِلاَّ اَنَّہٗ کَانَ قَائِمًا، فَقَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔(٤)
مسلم نے ابو موسیٰ اشعری سے مندرجہ ذیل روایات بھی نقل کی ہیں:
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَابْنُ نُمَیْرٍ وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ قَالَ اِسْحَاقُ اَنَا وَ قَالَ الآخَرُوْنَ نَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ شَفِیْقٍ۔۔۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ یُقَاتِلُ شُجَاعَۃً وَ یُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَ یُقَاتِلُ رِیَائً اَیُّ ذٰلِکَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔(٥)
ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعری سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ا سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیاجو شجاعت اور بہادری کے لیے لڑتا ہے اورحمیت قومی کے لیے لڑتا ہے اور کوئی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے۔ ان سے راہ خدا میں لڑنے والا کون سا ہے؟ اس کے جواب میں رسول اللہ ا نے فرمایا جس نے اللہ کے حکم کو بلند و بالا کرنے کے لیے لڑائی کی پس وہی فی سبیل اللہ لڑنے والا شمار ہوگا۔
تشریح: اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جومحض اس کی خوشنودی کے لیے ہو اور کوئی شخصی یا جماعتی غرض پیش نظر نہ ہو۔ پس جہادکے لیے فی سبیل کی قید اسلامی نقطہ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جان دار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے پورا زور صرف کررہا ہے۔ لیکن ’’مسلمان‘‘ جس انقلابی جماعت کا نام ہے اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپاؤ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو۔ اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کردو۔ نہ اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میںنافذ ہو۔
(اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات۔ جہاد فی سبیل اللہ ’’فی سبیل اللہ کی لازمی قید‘‘)
یہ ساری تعلیمات صاف اور واضح ہیں۔ مسلمان اگر لڑسکتا ہے تو اس فتنہ کو بحیثیت مجموعی مٹادینے اور اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے لڑسکتا ہے۔ رہا یہ کہ وہ خود فتنہ و فساد میں کس طرح سے حصہ لے اور کفر کے جھنڈے تلے کفر کا بول بالا کرنے کے لیے جنگ کرے، تویہ کام مسلمان ہوتے ہوے وہ نہیں کرسکتا۔ جس کو یہ حرکت کرنی ہو وہ بہتر ہے کہ مسلمان کے نام بٹہ لگانے کے بجائے کھلم کھلا انہی میں جاملے جن کا وہ بول بالا کرنا چاہتا ہے۔
(تفہیمات حصہ سوم، اقوام عرب کا عبرت ناک انجام)
٩٤- مَنْ غَزَا فَخْرًا وَ رِیَائً وَ سُمْعَۃً، وَعَصَی الْاِمَامَ، وَ اَفْسَدَ فِی الْاَرْضِ، فَاِنَّہٗ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ۔ (ابوداؤد، باب فی من یغزو و یلتمس الدنیا)
جس شخص نے فخر کی نیت سے، اور دنیا کو اپنی قوت و شجاعت دکھانے کے لیے اور نامور ی حاصل کرنے کے لیے جنگ کی اور امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد برپا کیا، اسے اجر ملنا تو درکنار وہ تو برابر بھی نہ چھوٹے گا۔ (سود ،غنیمت)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحِ الْحَضْرَمِیُّ، ثَنَا بَقِیَّۃُ، حَدَّثَنِیْ بُحَیْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ اَبِیْ بَحْرِیَّۃَ، عَنْ اَبِیْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ:اَلْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَاَمَّا مَنِ ابْتَغٰی وَجْہَ اللّٰہِ، وَ اَطَاعَ الْاِمَامَ، وَ اَنْفَقَ الْکَرِیْمَۃَ، وَیَاسَرَ الشَّرِیْکَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَاِنَّ نَوْمَہٗ وَ نَبْھَہٗ اَجْرٌ کُلُّہٗ، وَ اَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَ رِیَائً وَ سُمْعَۃً، وَعَصَی الْاِمَامَ، وَ اَفْسَدَ فِی الْاَرْضِ، فَاِنَّہٗ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ۔(٦)
ترجمہ: حضرت معاذبن جبل سے مروی ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا لڑائی دو طرح کی ہے پس جس کسی نے اللہ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے کیا اور اپنے امام کی اطاعت کی، عمدہ مال اس میں خرچ کیا اور اپنے ساتھی سے نرم سلوک روا رکھا اور فساد سے اجتناب کیا تو ایسے شخص کا سونا، جاگنا سارے کا سارا باعث اجرو ثواب ہے اور جس نے جنگ فخر جتانے، ریاکاری اور دکھاوے کے لیے کی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور زمین پر فساد انگیزی کی۔ ایسے شخص کو اجر ملنا تو درکنار وہ تو برابر بھی نہ چھوٹے گا۔
تشریح: شہادت کا درجہ جذبے کی شدت کے حساب سے ہوتا ہے۔ ایک شخص لاکھوں روپے اللہ کی راہ میں پیش کرتا ہے۔ دوسرا صرف ایک کھجور۔ کھجور والے کے پاس جو کچھ تھا اس نے سب کچھ پیش کردیا۔ گویا اس کے جذبے کی Intensityلاکھوں روپے دینے والے کے مقابلے میں زیادہ ہے تو اس کواجر زیادہ ملے گا۔ خدا کی راہ میں جس شخص کا جذبہ جتنا صادق ہوگا، اتنا ہی بڑا درجہ اس کو نصیب ہوگا۔ مگر درجات کا فیصلہ کرنا بہر کیف ہمارا کام نہیں۔ ہم تو صرف اس قدر جانتے ہیں کہ ایک شخص مومن تھا، لڑا اور شہید ہوگیا۔ خدا اس کی شہادت اور جذبۂ شہادت کو قبول فرماے۔ (۵۔ اے ذیلدار پارک حصہ دوم، ص:۷۶)

طریق جنگ کی تطہیر

٩٥- ایک مرتبہ میدان جنگ میں رسول اللہ انے ایک عورت کی لاش پڑی دیکھی ناراض ہوکر فرمایا کہ(ماکانت ھذہ تقاتل فیمن یقاتل)یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی۔ پھر سالار فوج حضرت خالدؓ کو کہلا بھیجا کہ(لا تقتلن امرأۃً و لا عسیفا)عورت اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔ (الجہاد فی الاسلام ،اسلام کی اصلاحات ’’غیر اہل قتال۔‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَمَرَرْنَا عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُوْلَۃٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَیْھَا النَّاسُ، فَاَفْرَجُوْا لَہٗ، فَقَالَ:مَاکَانَتْ ھٰذِہٖ تُقَاتِلُ فِیْمَنْ یُقَاتِلُ، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ: انْطَلِقْ اِلٰی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ، فَقُلْ لَّہٗ:اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَاْمُرُکَ، یَقُوْلُ: لاَ تَقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً وَلاَ عَسِیْفًا۔(٧)
ترجمہ: حضرت حنظلہ کاتب سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ا کے ساتھ لڑائی میں شریک تھے۔ ہمارا گزر ایک ایسی مقتول عورت پر ہوا جس پر لوگوں نے ہجوم کیا ہوا تھا۔ لوگوں نے آپؐ کے لیے راستہ کشادہ کردیا۔ تو دیکھ کر آپؐ نے فرمایا یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی۔ پھر آپ نے ایک آدمی کو بلا کر فرمایا کہ سالار فوج خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ رسول اللہ ا کا فرمان تمہارے لیے یہ ہے کہ بچوں اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔
(۲) حَدَّثَنَااَبُو الْوَلِیْدِ الطِّیَالِسِیُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَیْفِیِّ (ابن رباح)، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، عَنْ جَدِّہٖ رَبَاحِ بْنِ رَبِیْعٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غَزْوَۃٍ، فَرَأَی النَّاسَ مُجْتَمِعِیْنَ عَلٰی شَـْیئٍ، فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ:اُنْظُرْ عَلاَمَ اجْتَمَعَ ھٰؤُلَآئِ، فَجَآئَ فَقَالَ:(عَلٰی) امْرَأَۃٍ قَتِیْلٍ، فَقَالَ: مَاکَانَتْ ھٰذِہٖ لِتُقَاتِلَ؟ وَعَلَی الْمُقَدَّمَۃِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ، فَبَعَثَ رَجُلاً، فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ، لاَ یَقْتُلَنَّ امْرَأَۃً وَلاَ عَسِیْفًا۔(٨)
ترجمہ: حضرت رباح بن ربیع سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ ہم ایک غزوہ میں نبی اکے ساتھ تھے۔ آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کسی چیز پر جمع ہیں۔ آپ نے ایک آدمی کوبھیجا اور فرمایا کہ دیکھو لوگ کس چیز پر جمع ہورہے ہیں۔ وہ آدمی گیا اور واپس آکر رپورٹ دی کہ وہ وہ ایک عورت پر جمع ہیں جسے قتل کردیا گیا ہے۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا یہ لڑنے والی تو نہیں تھی۔ اس وقت مقدمۂ لشکر پر خالد بن ولید تھے۔ آپؐ نے خالد کے پاس ایک آدمی کوبھیجا کہ جاکر خالد سے کہے کسی عورت اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔
٩٦- فَنَھَی النَّبِیُّ عَنْ قَتْلِ النِّسَآئِ وَالصِّبْیَانِ۔
آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی عام ممانعت فرمادی۔ (الجہاد فی الاسلام،اسلام کی اصلاحات ’’غیر اہل قتال۔‘‘)
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: قُلْتُ لِاَبِیْ اُسَامَۃَ: حَدَّثَکُمْ عُبَیْدُ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وُجِدَتِ امْرَأَۃٌ مَقْتُوْلَۃٌ فِیْ بَعْضِ مَغَازِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَنَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النِّسَآئِ وَالصِّبْیَانِ۔(٩)
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک غزوہ، جس میں رسول اللہا خود شریک تھے، میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کردیا گیا تھا۔ رسول اللہ انے عورتوں اوربچوں کے قتل سے منع فرمادیا۔
٩٧-لاَ تَقْتُلُوْا شَیْخًا فَانِیًا، وَلاَ طِفْلاً، وَلاَ صِغِیْرًا، وَلاَ امْرَأَۃً، وَلاَ تَغُلُّوْا، وَ ضُمُّوْا غَنَائِمَکُمْ، وَاَصْلِحُوْا وَ اَحْسِنُوْا (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔)
نہ کسی بوڑھے ضعیف کو قتل کرو، نہ چھوٹے بچے کو اور نہ عورت کو، اموال غنیمت میں چوری نہ کرو۔ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے سب ایک جگہ جمع کرو۔ نیکی و احسان کرو کیوں کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ آدَمَ وَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ، حَدَّثَنِیْ، اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنْطَلِقُوْا بِاِسْمِ اللّٰہِ وَ بِاللّٰہِ وَ عَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، وَلاَ تَقْتُلُوْا شَیْخًا فَانِیًا، وَلاَ طِفْلاً، وَلاَ صِغِیْرًا، وَلاَ امْرَأَۃً، وَلاَ تَغُلُّوْا، وَ ضُمُّوْا غَنَائِمَکُمْ، وَاَصْلِحُوْا وَ اَحْسِنُوْا (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ) (١٠)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ انے لشکر کو روانگی کے موقع پر ہدایت فرمائی کہ اللہ کا نام لے کر چلو (جہاد کے لیے) اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، رسول اللہ کی ملت پر قائم رہتے ہوئے۔ نیز کسی بوڑھے ضعیف اور بچے کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی عورت کو قتل کرنا اور اموال غنیمت میں خیانت نہ کرنا بلکہ اموال غنیمت کو جمع کرنا۔ باہم اصلاح کرنا، حسن سلوک و نیکی کرنا، نیکو کار لوگ ہی اللہ کو پسندہیں۔
٩٨- ابن عباس سے روایت ہے کہ آں حضرت اجب کہیں فوج بھیجتے تھے توہدایت کردیتے تھے کہ معابد کے بے ضرر خادموں اور خانقاہ نشین زاہدوں کو قتل نہ کرنا۔ لا تقتلوا اصحاب الصوامع۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُوْ الْقَاسِمِ، قَالَ: اَخْبَرَنِی ابْنُ اَبِیْ حَبِیْبَۃَ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا بَعَثَ جُیُوْشَہٗ قَالَ:اُخْرُجُوْا بِسْمِ اللّٰہِ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، لاَ تَغْدِرُوْا، وَلاَ تَغُلُّوْا، وَلاَ تُمَثِّلُوْا، وَلاَ تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ، وَلاَ اَصْحَابَ الصَّوَامِعِ۔(١١)
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ اجب لشکروں کو جہاد کے لیے روانہ فرماتے تویہ ہدایات دیتے۔ اللہ کا نام لے کر نکلو، جو اللہ سے کفر کا مرتکب ہو اس سے اللہ کی راہ میں قتال کرو۔ دھوکہ نہ دو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور بچوں کو قتل نہ کرو نیز گرجوں میں گوشہ نشین لوگوں کو بھی قتل نہ کرو۔
تشریح: فتح مکہ کے موقعے پر آپؐ نے پہلے سے ہدایت فرمادی کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کرنا، جو کوئی جان بچا کر بھاگے اس کا پیچھا نہ کرنا اور جو اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے اسے امان دینا۔ (فتوح البلدان: ص،۴۷)

مستنبط قاعدہ

ان مختلف جزئی احکام سے فقہائے اسلام نے یہ قاعدہ کلیہ مستنبط کیا ہے۔ کہ تمام وہ لوگ جو لڑنے سے معذور ہیں، یا عادتاً معذور کے حکم میںہیں، قتال سے مستثنیٰ ہیں لیکن ان کا استثناء علی الاطلاق نہیں ہے بلکہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ عملاً جنگ میں حصہ نہ لیں۔ اگر ان میں سے کوئی اعمال جنگ میں فی الواقع شرکت کرے، مثلاً بیمار پلنگ پر لیٹے لیٹے فوجوں کو جنگی چالیں بتارہا ہو، یا عورت غنیم کی جاسوسی کا کام کررہی ہو یا بچہ خفیہ خبریں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو، یا مذہبی طبقہ کا کوئی فرد دشمن قوم کو جنگ کا جوش دلاتا ہو تو اس کا قتل جائز ہوگا کیوں کہ اس نے خود مقاتلین میں شامل ہوکر اپنے آپ کو غیر مقاتلین کے حقوق سے محروم کرلیا۔ اس باب میں اسلامی قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص جو اہل قتال میں سے ہے۔ اس کا قتل جائز ہے خواہ وہ بالفعل لڑے یا نہ لڑے۔ اور ہر شخص جو اہل قتال سے نہیں ہے، اس کا قتل ناجائز ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ حقیقتاً لڑائی میں شامل ہو یا مقاتلین کے سے کام کرنے لگے۔ ( ہدایہ باب کیفیۃ القتال۔ فتح القدیر ج۴۔ ص ۲۹۰-۲۹۲۔ بدائع صنائع ج۷، ص:۱۰۱۔) (الجہاد فی الاسلام، اسلام کی اصلاحات ’’غیر اہل قتال۔۔۔‘‘)

لڑائی کی دو قسمیں

٩٩-اَلْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَاَمَّا مَنِ ابْتَغٰی وَجْہَ اللّٰہِ وَ اَطَاعَ الْاِمَامَ، وَ اَنْفَقَ کَرِیْمَتَہٗ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَاِنَّ نَوْمَہٗ وَ نَبْھَہٗ اَجْرٌ کُلُّہٗ وَ اَمَّا مَنْ غَزَا رِیَائً وَ سُمْعَۃً، وَعَصَی الْاِمَامَ، وَ اَفْسَدَ فِی الْاَرْضِ، فَاِنَّہٗ لاَ یَرْجِعُ بِالْکَفَافِ۔ (عن معاذ بن جبل)
لڑائیاں دو قسم کی ہیں۔ جس شخص نے خالص اللہ کی رضا کے لیے لڑائی کی اور اس میں امام کی اطاعت کی، اپنا بہترین مال خرچ کیا اور فساد سے پر ہیز کیا، تواس کا سونا جاگنا سب اجر کا مستحق ہے اور جس نے دنیا کے دکھاوے اور شہرت و ناموری کے لیے جنگ کی، اور اس میں امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو وہ برابر بھی نہ چھوٹے گا۔ (یعنی الٹا عذاب میں مبتلا ہوگا)
الجہاد فی الاسلام ــــاسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحِ الْحَضْرَمِیُّ، ثَنَا بَقِیَّۃٌ، حَدَّثَنِیْ بُحَیْرٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ اَبِیْ بَحْرِیَّۃَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: اَلْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَاَمَّا مَنِ ابْتَغٰی وَجْہَ اللّٰہِ، وَ اَطَاعَ الْاِمَامَ، وَ اَنْفَقَ الْکَرِیْمَۃَ، وَ یَاسَرَ الشَّرِیْکَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَاِنَّ نَوْمَہٗ وَ نَبْھَہٗ اَجْرٌ کُلُّہٗ۔ وَ اَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَ رِیَائً وَ سُمْعَۃً، وَعَصَی الْاِمَامَ، وَ اَفْسَدَ فِی الْاَرْضِ، فَاِنَّہٗ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ۔(١٢)
(۲) اَلْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِیْہِ الْکَرِیْمَۃُ وَ یُیَاسَرُ فِیْہِ الشَّرِیْکُ، وَ یُطَاعُ فِیْہِ ذُوالْاَمْرِ، وَ یُجْتَنَبُ فِیْہِ الْفَسَادُ، فَذٰلِکَ الْغَزْوُ خَیْرٌ کُلُّہٗ، وَ غَزْوٌ لاَ تُنْفَقُ فِیْہِ الْکَرِیْمَۃُ، وَلاَ یُیَاسَرُ فِیْہِ الشَّرِیْکُ، وَلاَ یُطَاعُ فِیْہِ ذُوالْاَمْرِ، وَلاَ یُجْتَنَبُ فِیْہِ الْفَسَادُ، فَذٰلِکَ الْغَزْوُ لاَ یَرْجِعُ صَاحِبُہٗ کَفَافًا۔(١٣)
ترجمہ: لڑائیاں دو قسم کی ہیں۔ ایک لڑائی وہ ہے کہ جس میں عمدہ مال خرچ کیا جاتا ہے اور اپنے ساتھی کے ساتھ نرم سلوک کیا جاتا ہے۔ صاحب امر کی اطاعت کی جاتی ہے۔ فساد سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ ایسی لڑائی تو ساری کی ساری خیرو بھلائی ہے اور ایک لڑائی وہ ہے جس میں نہ تو عمدہ مال خرچ کیا جاتا ہے اور نہ اپنے ساتھی کو کوئی آسانی پہنچائی جاتی ہے اور نہ صاحب امر (امام) کی اطاعت کی جاتی ہے اور نہ فساد انگیزی سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ یہ لڑائی تو ایسی ہے جس میں شریک ہونے والا بہ مشکل برابر برابر لوٹے گا۔
تشریح: جہاد فی سبیل اللہ کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک وہ جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کیا جائے، دوسرا جو مظلوموں کو ظالموں سے نجات دلانے کے لیے کیا جائے، تیسرا جو خود اپنے دفاع کے لیے کیا جائے۔ یعنی کسی مسلمان ملک پر جب کوئی دشمن حملہ آور ہو تو اس کے باشندوں کا فرض ہے کہ وہ مدافعت کریں اور ملک کو دشمن کے قبضے میں جانے سے روکیں۔ اگر ان شکلوںمیں پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا ہوگی تو جہاد فی سبیل اللہ ہوگا اور اگر خدا کی رضا پیش نظر نہ ہوئی تو جہاد نہ ہوگا۔ محض کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دینا جہاد نہیں ہوسکتا۔ اس لحاظ سے اگر یہ دیکھا جائے کہ امپریلزم کے اندر ظلم، سرکشی، اپنی حد سے تجاوز اور دوسروں پر زیادتی پائی جاتی ہے، تو وہ اس کامستحق ہے کہ اس کی مخالفت کی جائے۔ مگر نیت یہ ہونی چاہیے کہ انسان پر سے انسان کی حاکمیت کو ہٹایا جائے اور اللہ کی حاکمیت قائم کی جائے۔ یہ مقصد ہوگا تو وہ جہاد ہوگا۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے انسان ہر ایک سے آزاد ہو مگر خدا کا غلام ضرور ہونا چاہیے۔ انسان اگر خدا کی غلامی میں آزاد ہوجائے تو پھر کسی آزادی کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ (۵، اے ذیلدار پارک حصہ دوم ص:۷۲)

اہل قتال کے حقوق

١٠٠-کَانَ اِذَا جَآئَ قَوْمًا بِلَیْلٍ لاَ یُغِیْرُ عَلَیْھِمْ، حَتّٰی یُصْبِحَ۔ (عن انس بن مالک)
’’آں حضرت اجب کسی دشمن قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوجاتی حملہ نہ کرتے تھے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی خَیْبَرَ، فَانْتَھٰی اِلَیْھَا لَیْلاً قَالَ: وَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا طَرَقَ لَیْلاً لَمْ یُغِرْ عَلَیْھِمْ حَتّٰی یُصْبِحَ فَاِنْ سَمِعَ اَذَانًا اَمْسَکَ، وَ اِنْ لَّمْ یَکُوْنُوْا یُصَلُّوْنَ اَغَارَ عَلَیْھِمْ، قَالَ: فَلَمَّا اَصْبَحْنَا رَکِبَ وَ رَکِبَ الْمُسْلِمُوْنَ، قَالَ: فَخَرَجَ اَھْلُ الْقَرْیَۃِ اِلٰی حُرُوْثِھِمْ مَعَھُمْ مَکَاتِلُھُمْ وَ مَسَاحِیْھِمْ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَالْمُسْلِمِیْنَ قَالُوْا: مُحَمَّدٌ وَاللّٰہِ وَالْخَمِیْسُ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ، اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ۔(١٤)
ترجمہ: حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہا خیبر کی طرف تشریف لے چلے تو وہاں رات کے وقت پہنچے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ا کا معمول تھا کہ جب کہیں رات کے وقت پہنچتے تو صبح ہونے تک حملہ نہ کرتے۔ اگر اذان کی آواز سنتے توحملہ آور ہونے سے باز رہتے اور اگر وہ لوگ نماز نہ پڑھتے توان پرحملہ کردیتے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب صبح نمودار ہوگئی تو آپ اور سب مسلمان سوار ہوئے۔ راوی ہی کا بیان ہے بستی (خیبر) کے باشندے اپنے کدالیں، کسیاں اور ٹوکرے لے کر اپنے کھیتوں کی جانب نکلے۔ جب انہوں نے نبی ااور مسلمانوں کو دیکھا تو حیران و ششدر ہوکر پکاراٹھے محمد اللہ کی قسم اپنے لشکر کے ساتھ آگیا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہا نے دو مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ خیبر برباد ہوگیا۔ یقینا ہم جب کسی قوم کے میدان و صحن میںجا اترتے ہیں توان ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا غَزَا بِنَاح وَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ اِلٰی خَیْبَرَ، فَجَائَ ھَا لَیْلاً وَ کَانَ اِذَا جَآئَ قَوْمًا بِلَیْلٍ لاَ یُغِیْرُ عَلَیْھِمْ، حَتّٰی یُصْبِحَ فَلَمَّا اَصْبَحَ خَرَجَتْ یَھُوْدُ بِمَسَاحِیْھِمْ وَ مَکَاتِلِھِمْ، فَلَمَّا رَاَوْہُ قَالُوْا: مُحَمَّدٌ وَاللّٰہِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیْسُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَللّٰہُ اَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ۔(١٥)
ترجمہ: حضرت انس کا بیان ہے کہ نبی ا خیبر کی طرف نکلے تو رات کے وقت وہاں پہنچے آپ کا عموماً معمول تھا کہ جب رات کے وقت کسی قوم کے پاس پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوتی ان پر حملہ آور نہ ہوتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو (دیکھا) کہ یہود (خیبر) اپنے کدال اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے۔ جب آپؐ کو انہوں نے دیکھا تو (ششدر رہ گئے) کہا کہ محمد اپنے لشکر سمیت آگیا ہے۔ ان کی سراسیمگی و حیرت کو ملاحظہ فرما کر آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر تے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔
١٠١- لاَ یَنْبَغِیْ اَنْ یُعَذَّبَ بِالنَّارِ اِلاَّ رَبُّ النَّارِ۔
’’آگ کا عذاب دینا سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے کسی اور کو سزاوار نہیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ صَالِحٍ مَحْبُوْبُ بْنُ مُوْسٰی، اَخْبَرَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفِزَارِیُّ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ، عَنِ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ غَیْرُ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِہٖ فَرَأَیْنَا حُمَّرَۃً مَعَھَا فَرْخَانِ، فَاَخَذْنَا فَرْخَیْھَا، فَجَآئَ تِ الْحُمَّرَۃُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ، فَجَآئَ النَّبِیُّ ﷺ، فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ ھٰذِہٖ بِوَلَدِھَا؟ رُدُّوْا وَلَدَھَا اِلَیْھَا، وَرَأیَ قَرْیَۃَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاھَا، فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ ھٰذِہٖ؟ قُلْنَا: نَحْنُ، قَالَ: اِنَّہٗ لاَ یَنْبَغِیْ، اَنْ یُّعَذِّبَ بِالنَّارِ اِلاَّ رَبُّ النَّارِ۔(١٦)
ترجمہ: عبد اللہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ا کے ساتھ تھے۔ آپ قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ ہم نے سرخ رنگ کا ایک پرندہ دیکھا اس کے ساتھ دوبچے تھے۔ ان بچوں کو ہم نے پکڑ لیا وہ سرخ رنگ کا جانور آیا اور زمین پر اپنے پر بچھانے لگا۔ (جیسے کوئی منت و سماجت کرتا ہے)۔ اسی اثنا میں رسول اللہ ا تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا اس کے بچہ کی وجہ سے کسی نے اسے بے چین و بے قرار کیا ہے۔ اس کا بچہ اسے لوٹا دو اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک بل دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم نے اسے جلایا ہے۔ آپ نے اس موقع پر فرمایا۔ آگ کا عذاب دینا سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے کسی اور کو سزاوار نہیں۔
١٠٢-اِنِّیْ اَمَرْتُکُمْ اَنْ تُحَرِّقُوْا فُلاَنًا فُلاَنًا وَ اِنَّ النَّارَ فَلاَ یُعَذِّبُ بِھَا اِلاَّ اللّٰہُ، فَاِنْ وَجَدْتُّمُوْھُمَا فَاقْتُلُوْھُمَا۔
میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں اشخاص کو جلا دینا مگر آگ کا عذاب سوائے خدا کے کوئی نہیں دے سکتا، اس لیے اگر تم انہیں پاؤ تو بس قتل کردینا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثَنَا مُغِیْرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِزَامِیُّ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ الْاَسْلَمِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَمَّرَہٗ عَلٰی سَرِیَّۃٍ، وَ قَالَ:اِنْ وَجَدْتُّمْ فُلاَنًا، فَاَحْرِقُوْہُ بِالنَّارِ، فَوَلَّیْتُ، فَنَادَانِیْ، فَرَجَعْتُ اِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنْ وَجَدْتُّمْ فُلاَنًا، فَاقْتُلُوْہُ، وَلاَ تُحْرِقُوْہُ فَاِنَّہٗ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ اِلاَّ رَبُّ النَّارِ۔(١٧)
ترجمہ: حمزہ اسلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے انہیں ایک سریہ پر امیر بنایا اور اسے حکم دیا کہ اگر فلاں شخص کو پاؤ تو اسے آگ سے جلا دینا مگر جب میں جانے لگا تو آپؐ نے مجھے بلایا میں واپس خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے فرمایا اگر تم فلاں آدمی کو پاؤ تو اسے صرف قتل کردینا، جلانا نہیں۔ اس لیے کہ آگ کا عذاب سوائے آگ کے پیدا کرنے والے کے اور کوئی نہیں دیتا۔
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ بُکَیْرٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہٗ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ بَعْثٍ، فَقَالَ:اِنْ وَجَدْتُّمْ فُلاَنًا وَ فُلاَنًا فَاَحْرِقُوْھُمَا بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ اَرَدْنَا الْخُرُوْجَ: اِنِّیْ اَمَرْتُکُمْ اَنْ تُحَرِّقُوْا فُلاَنًا وَ فُلاَنًا وَ اِنَّ النَّارَ لاَ یُعَذِّبُ بِھَا اِلاَّ اللّٰہُ، فَاِنْ وَجَدْتُّمُوْھُمَا فَاقْتُلُوْھُمَا۔(١٨)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور ہدایت فرمائی کہ اگر تم فلاں فلاں شخص کو پاؤ تو دونوں کو آگ میں جلا دینا۔ جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو اس وقت رسول اللہ انے فرمایا میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں اشخاص کوجلادینا مگر آگ کا عذاب اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ اس لیے اگر تم انہیں پاؤ تو بس قتل کردینا۔
پس منظر: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آں حضرت انے ہم لوگوں کو لڑائی پر جانے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اگر فلاں دو آدمی تم کو ملیں تو ان کو جلادینا۔ مگر جب ہم روانہ ہونے لگے تو بلا کر مندرجہ بالا حکم ارشاد فرمایا۔
١٠٣-ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے زنادقہ کو آگ کا عذاب دیا تھا۔ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے انہیں روکا اور نبی اکا یہ حکم بیان کیا کہ لا تعذبوا بعذاب اللّٰہ۔ آگ اللہ کا عذاب ہے اس کے بندوں کو عذاب نہ دو۔
(الجہاد فی الاسلام’’اہل قتال کے حقوق‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ اَنَّ عَلِیًّا حَرَّقَ قَوْمًا فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْکُنْتُ اَنَا لَمْ اُحْرِقْھُمْ لِاَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ:لاَ تُعَذِّبُوْا بِعَذَابِ اللّٰہِ، وَ لَقَتَلْتُھُمْ کَمَا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ بَدَّل دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ۔(١٩)
ترجمہ: حضرت عکرمہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ حضرت علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلادیا تھا۔ ابن عباسؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا تو ہرگز ان کو نہ جلاتا کیوںکہ نبی انے فرمایا کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب نہ دینا۔ میں تو ان کو قتل کردیتا جیسا کہ نبی انے فرمایا ہے کہ جو کوئی اپنا دین تبدیل کرلے تو اسے قتل کر ڈالو۔

قتل صبر کی ممانعت

١٠٤- عبید بن یعلٰی کا بیان ہے کہ ہم عبد الرحمن بن خالد کے ساتھ جنگ پر گئے تھے ایک موقع پر ان کے لشکر اعداء میں سے چار گبریلے پکڑے ہوئے آئے اور انہوں نے حکم دیا کہ انہیں باندھ کر قتل کیا جائے۔ اس کی اطلاع جب حضرت ابو ایوبؓ انصاری کو ہوئی تو انہوں نے کہا۔
سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ کَانَتِ الدَّجَاجَۃُ مَا صَبَرْتُھَا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ وَلِیْدٍ فَاَعْتَقَ اَرْبَعَۃَ رِقَابٍ۔
میں نے رسول اللہ اسے سنا ہے کہ آپؐ نے قتل صبر (باندھ کر مارنے) سے منع فرمایا۔ خدا کی قسم اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اس کو اس طرح باندھ کر نہ مارتا۔ اس کی خبر جب عبد الرحمن بن خالد کو پہنچی تو انہوں نے چار غلام آزاد کردیے۔
(الجہاد فی الاسلام ،اہل قتال کے حقوق ’’قتل صبر کی۔۔۔‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو ابْنِ الْحَرْثِ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْاَشَجِّ، عَنِ ابْنِ تِعْلِیْ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ، فَاُتِیَ بِاَرْبَعَۃِ اَعْلاَجٍ مِنَ الْعَدُوِّ، فَاَمَرَ بِھِمْ فَقُتِلُوْا صَبْرًا، قَالَ اَبُوْدَاؤُدَ: قَالَ لَنَا غَیْرُ سَعِیْدٍ عَنِ ابْنِ وَھْبٍ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، قَالَ: بِالنَّبْلِ صَبْرًا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ اَبَا اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیَّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَنْھٰی عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ کَانَتْ دَجَاجَۃٌ مَا صَبَرْتُھَا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَاَعْتَقَ اَرْبَعَ رِقَابٍ۔(٢٠)
ترجمہ: عبید بن تعلِی کا بیان ہے کہ ہم عبد الرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ جنگ پر گئے۔ ان کے لشکر اعداء میں سے چار گبر پکڑے ہوئے آئے اور انہوں نے حکم دیا کہ انہیں باندھ کر قتل کیا جائے۔ ابو داؤد نے بیان کیا کہ سعید کے سوا باقی لوگوں نے اس طرح بیان کیا ہے کہ باندھ کر تیروں سے مار ڈالے گئے۔ یہ خبر جب حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ اسے سنا ہے باندھ کر قتل کرنے سے آپؐ منع فرماتے تھے۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اسے بھی اس طرح نہ مارتا۔ جب یہ اطلاع عبد الرحمن بن خالد تک پہنچی تو انہوں نے اس کے بدلہ میں چار غلام آزاد کیے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

١٠٥-اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُعَذِّبُ الْعَامَّۃَ بِعَمَلِ الْخَاصَّۃِ حَتّٰی یَرَوُا الْمُنْکَرَ بَیْنَ ظَھْرَانِیْھِمْ وَ ھُمْ قَادِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّنْکِرُوْہُ فَلاَ یُنْکِرُوْہُ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَذَّبَ اللّٰہُ الْخَاصَّۃَ وَالْعَامَّۃَ۔
(مسند احمد)
’’اللہ عام لوگوں پر خاص لوگوں کے عمل کے باعث اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان میںیہ عیب پیدا نہ ہوجائے کہ اپنے سامنے برے اعمال ہوتے دیکھیں اور انہیں روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر نہ روکیں۔ جب وہ ایسا کرنے لگتے ہیں تو پھر اللہ عام اور خاص سب پر عذاب نازل کرتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ، اَبِیْ ثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ثَنَا سَیْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ عَدِیِّ الْکِنْدِیِّ یُحَدِّثُ عَنْ مُجَاہِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَوْلًی لَّنَا اَنَّہٗ سَمِعَ عَدِیًّا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لاَ یُعَذِّبُ الْعَامَّۃَ بِعَمَلِ الْخَاصَّۃِ حَتّٰی یَرَوُا الْمُنْکَرَ بَیْنَ ظَھْرَانِیْھِمْ وَ ھُمْ قَادِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّنْکِرُوْہُ فَلاَ یُنْکِرُوْہُ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَذَّبَ اللّٰہُ الْخَاصَّۃَ وَالْعَامَّۃَ۔(٢١)
تشریح: جس بستی میں اعلانیہ احکام الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حد استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھرقرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چناں چہ قرآن میں فرمایا گیا ہے( واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ) ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو ــــ
(تفہیم القرآن،ج۲، الاعراف، حاشیہ:۱۲۵)
پس امر بالمعروف نہی عن المنکر صرف دوسروں ہی کی خدمت نہیں بلکہ اپنی خدمت بھی ہے اور درحقیقت مجموعی بہتری چاہنے کی دانش مندانہ حکمت عملی کا دوسرا نام ہے۔ ( الجہاد فی الاسلام ،مصلحانہ جنگ ’’امر بالمعروف۔۔۔‘‘)
ان احادیث سے قرآن پاک کے حکم نہی عن المنکر کے معنی صاف متعین ہوجاتے ہیں کہ اس سے مراد صرف زبان و قلم ہی سے منکر کو روکنا اور اس کے خلاف تبلیغ کرنا نہیںہے۔ بلکہ حسب ضرورت بزور قوت اس کو روک دینا اور دنیا کو اس کے وجود سے پاک کردینا بھی ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی قدرت واستطاعت پر موقوف ہے۔ اگر مسلمانوں میں اتنی قوت ہو کہ تمام دنیا کو منکر سے روک کر اسے قانون عدل کا مطیع بنادیں تو ان کا فرض ہے کہ اس قوت کو استعمال کریں اور جب تک اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچا نہ دیں، چین نہ لیں۔ لیکن اگر وہ اتنی قوت نہ رکھتے ہوں تو جس حد تک ممکن ہو، انہیں اس خدمت کو انجام دینا چاہیے اور تکمیل مدعا کے لیے مزید قوت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(الجہاد فی الاسلام، مصلحانہ جنگ ’’نہی عن المنکرکا طریقہ‘‘)
١٠٦- بنی اسرائیل میںپہلا نقص جوپیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ان کے دلوں سے برائی کی نفرت دور ہوگئی تھی اور وہ جھوٹی رواداری پیدا ہوگئی تھی جو برائی کو برداشت کرتے کرتے خود برائی میں مبتلا ہوجانے پر انسان کو آمادہ کردیتی ہے۔ کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ یَا ھٰذَا اِتَّقِ اللّٰہِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَاِنَّہٗ لاَ یَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ اَنْ یَکُوْنَ اَکِیْلَہٗ وَ قَعِیْدَہٗ وَ شَرِیْبَہٗ۔ یعنی جب ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا کہ اے شخص اللہ سے ڈر اور یہ فعل چھوڑ دے جو تو کرتا ہے۔ کیوں کہ یہ تیرے لیے جائز نہیں ہے۔ مگر دوسرے دن جب اس سے ملتا تو اسی کا ہم پیالہ و ہم نوالہ اور ہم نشیں بننے سے کوئی چیز اسے باز نہ رکھتی۔ آخر ان پر ایک دوسرے کی برائی کا اثر پڑگیا اور ان کے ضمیر مردہ ہوگئے۔ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضِ۔ جس وقت حضوؐر یہ فرما رہے تھے تو دفعتاً لیٹے لیٹے اٹھ بیٹھے اور جوش میں آکر فرمایا:
وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَاخُذُنَّ عَلٰی یَدٍ الْمَسِیْ وَ لَتَاطُرُنَّ عَلَی الْحَقِّ اِطْرَائً اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اَوْ لَیَلْعَـنَّنـَکُمْ کَمَا لَعَنّٰھُمْ۔
’’اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تمہیں لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور بدکار کا ہاتھ پکڑ لو، اور اسے حق کی طرف موڑ دو، ورنہ اللہ تمہارے دلوں پر بھی ایک دوسرے کا اثر ڈال دے گا۔ یا تم پر بھی اس طرح لعنت کرے گا جس طرح ان لوگوں پر کی تھی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بُذَیْمَۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ: یَا ھٰذَا اِتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَاِنَّہٗ لاَ یَحِلُّ لَکَ، ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ اَنْ یَّکُوْنَ اَکِیْلَہٗ وَ شَرِیْبَہٗ، وَقَعِیْدَہٗ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ: (لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ)۔ اِلٰی قَوْلِہٖ (فَاسِقُوْنَ) ثُمَّ قَالَ:کَلاَّ وَاللّٰہِ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لَتَاْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ وَ لَتَاْطُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا وَ لَتَقْصُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا۔(٢٢)
ترمذی میں منقول روایت:
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ اَبِیْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیِّ، عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْہُ، فَتَدْعُوْنَہٗ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَکُمْ۔(٢٣)
ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمان سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ انے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں ضرور نیکی کا حکم دیناہوگا اور بدی سے روکنا ہوگا یا پھر اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب ضرور نازل فرمائے گا پھر تم اس سے دعائیں مانگو گے مگر وہ تمہاری دعائیں قبول نہیں فرمائے گا۔
(۳) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، بِنَحْوِہٖ، زَادَ اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ بِقُلُوْبِ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ، ثُمَّ لَیَلْعَنَنَّکُمْ، کَمَا لَعَنّٰھُمْ۔(٢٤)
ترجمہ: عبد اللہ بن مسعود نے نبی اکا ارشاد بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا۔ یا پھر اللہ تمہارے دلوں پر ایک دوسرے کا اثر ضرور ڈال دے گا۔ پھر تم پربھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح ان لوگوں پر کی تھی۔
(۴) حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، عَنْ خَالِدٍ، ح وَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، اَخْبَرَنَا ھُشَیْمٌ، اَلْمَعْنَی، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ، عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْبَکْرٍ بَعْدَ اَنْ حَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ وَ تَضَعُوْنَھَا عَلٰی غَیْرِ مَوْضِعِھَا (عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ) قَالَ عَنْ خَالِدٍ: وَ اِنَّا سَمِعْنَا النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَأَوُ الظَّالِمَ فَلَمْ یَاْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یَّعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ۔ وَ قَالَ عَمْرٌو عَنْ ھُشَیْمٍ: وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَا مِنْ قَوْمٍ یُعَمَلُ فِیْھِمْ بِالْمَعَاصِیْ ثُمَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّغَیِّرُوْا ثُمَّ لاَ یُغَیِّرُوْا اِلاَّ یُوْشِکُ اَنْ یَّعُمَّھُمُ اللّٰہُ مِنْہُ بِعِقَابٍ۔(٢٥)
ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ نے خطاب کے دوران فرمایا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد۔ لوگو! تم یہ آیت تو پڑھتے ہو مگر اسے غیر محل پر استعمال کرتے ہو۔( علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم) خالد کے حوالہ سے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی ا کو یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ جب ظالم کودیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو عذاب میںمبتلا کردے۔ اور عمرو نے ہشیم کے حوالہ سے بیان کیا ۔ کہ میں نے رسول اللہ اکو ارشاد فرماتے سنا کوئی قوم جس میں بدی و معاصی کا ارتکاب ہوتاہو اور وہ لوگ اسے تبدیل کرنے پر قدرت بھی رکھتے ہوں مگراس کے باوجود اس کے بدلنے کی سعی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے عذاب عام میں مبتلا کردے گا۔
تشریح: اپنے اعتقاد میںکسی جماعت کے صادق ہونے کا واحد معیار یہی ہے کہ وہ جس مسلک پر اعتقاد رکھتی ہو اس کو حکمراں بنانے کے لیے جان و مال سے جہاد کرے۔ اگر تم اپنے اوپر مسلک مخالف کی حکومت گوارا کرتے ہو تو یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ تم اپنے اعتقاد میں جھوٹے ہو اور اس کا فطری نتیجہ یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ آخر کار اسلام کے مسلک پر تمہارا نام نہاد عقیدہ بھی باقی نہ رہے گا۔ ابتدا میں تم مسلک مخالف کی حکومت کو بکراہت گوارا کروگے، پھر رفتہ رفتہ تمہارے دل اس سے مانوس ہوتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کراہت رغبت سے بدل جائے گی اور آخر میں نوبت اس حد تک پہنچے گی کہ مسلک مخالف کی حکومت قائم ہونے اور قائم رہنے میں تم خود مددگار بنوگے، اپنی جان و مال سے جہاد اس لیے کروگے کہ مسلک اسلام کے بجائے مسلک غیر اسلام قائم ہو یا قائم رہے۔ تمہاری اپنی طاقتیں مسلک اسلام کے قیام کی مزاحمت میں صرف ہونے لگیں گی، اوریہاں پہنچ کر تم میں اور کافروں میں اسلام کے منافقانہ دعویٰ، ایک بدترین جھوٹ، ایک پر فریب نام کے سوا کوئی فرق نہ رہے گا۔ (اس) حدیث میں نبی انے اس نتیجہ کو صاف صاف بیان فرمادیا ہے۔
(تفہیمات حصہ اول،جہاد فی سبیل اللہ ’’جہاد کی ضرورت اور اس کی غایت‘‘

اطاعت امام

١٠٧- اِجْعَلْ اَمْرَ الْجَاھلِِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیْکَ ’’تم اس جاہلیت کے کام کوجاکر مٹادو۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ حَکِیْمُ بْنُ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، قَالَ:ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، فَقَالَ: یَا عَلِیُّ، اُخْرُجْ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ الْقَوْمِ، فَانْظُرْ فِیْ اَمْرِھِمْ وَاجْعَلْ اَمْرَ الْجَاھلِِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیْکَ۔الخ(٢٦)
ترجمہ: محمد بن علی کا بیان ہے انہوں نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ انے علیؓ کوبلایا اور کہا ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے معاملہ میں غور کرو اور جاکر اس جاہلیت کے کام کو اپنے پاؤں تلے روند کر مٹا دو۔
پس منظر: حضرت خالد بنی جذیمہ کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجے گئے اور وہاں انہوں نے امام کی اجازت کے بغیر ایک غلط فہمی کی بنا پر قتل کا بازار گرم کردیا۔ اس کی اطلاع جب رسول اکرم اکو ہوئی تو آپؐ شدت غضب سے بے تاب ہوکر کھڑے ہوگئے۔ اور فوراً حضرت علیؓ کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ تم اس جاہلیت کے کام کو جاکر مٹادو۔
(الجہاد فی الاسلام، جنگ کے مہذّب قوانین ’’اطاعت امیر‘‘)
١٠٨- مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَ مَنْ یُّطِعِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ یَّعْصِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ عَصَانِیَ۔
جس نے میری اطاعت کی۔ اس نے خداکی اطاعت کی۔ اور جس نے مجھ سے نافرمانی کی۔ اس نے خدا سے نافرمانی کی۔ پھر جس نے امیر کی اطاعت کی۔ اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے امیر کی نافرمانی کی۔ اس نے گویا مجھ سے نافرمانی کی۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام،جنگ کے مہذب قوانین ’’اطاعت امام‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُو الْیَمَانِ، اَنَا شُعَیْبٌ، ثَنَا اَبُو الزِّنَادِ اَنَّ الْاَعْرَجَ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ وَ بِھٰذَا الْاِسْنَادِ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَ مَنْ یُّطِعِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ یَّعْصِی الْاَمِیْرَ فَقَدْ عَصَانِیْ، وَ اِنَّمَا الْاِمَامُ جُنَّۃً یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَآئِہٖ وَ یُتَّقٰی بِہٖ، فَاِنْ اَمَرَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَعَدَلَ فَاِنَّ لَہٗ بِذٰلِکَ اَجَرًا، وَ اِنْ قَالَ بِغَیْرِہٖ فَاِنَّ عَلَیْہِ مِنْہُ۔(٢٧)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ اکو فرماتے سنا کہ باعتبار زمانہ ہم دیگر امتوں کے بعد ہیں مگر مرتبہ کے لحاظ سے بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ نیز اسی اسناد سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو شخص حاکم شریعت کی اطاعت کرے گا، اس نے میری اطاعت کی اور جوحاکم کی نافرمانی کرے گا اس نے میری نافرمانی کی۔ سنو، امام ڈھال ہے۔ اس کی آڑ میں (پشت پناہی میں) جنگ کی جاتی ہے اور اسی کی پناہ لی جاتی ہے۔ پس اگر وہ اسے اللہ سے ڈرنے اور عدل و انصاف کرنے کا حکم دے تو اسے اجر و ثواب ملے گا اور اگر وہ اس کی خلاف ورزی و نافرمانی کرے تو اس کا بار گناہ اس پرہوگا۔

دوران جنگ ایفاء عہدکی تلقین

١٠٩- اِنْصَرِفَا نَفِیْ لَھُمْ لِعَھْدِھِمْ وَ نَسْتَعِیْنُ اللّٰہَ عَلَیْھِمْ۔
’’تم مدینہ چلے جاؤ، ہم عہد کو پورا کریں گے اور ان کے مقابلہ میں اللہ سے مدد مانگیں گے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَ سَمِعْتُہٗ اَنَا مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ جُمِیْعٍ، ثَنَا اَبُو الطُّفَیْلِ، ثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ قَالَ:مَا مَنَعَنِیْ اَنْ اَشْھَدَ بَدْرًا اِلاَّ اِنِّیْ خَرَجْتُ اَنَا وَ اَبِیْ حُسَیْلٍ، فَاَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ فَقَالُوْا: اِنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ مُحَمَّدًا، قُلْنَا: مَا نُرِیْدُ اِلاَّ الْمَدِیْنَۃَ، فَاَخَذُوْا مِنَّا عَھْدَ اللّٰہِ، وَ مِیْثَاقَہٗ، لَنَنْصَرِفَنَّ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہٗ، فَاَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، فَاَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: اِنْصَرِفَا نَفِیْ بِعَھْدِھِمْ وَ نَسْتَعِیْنُ اللّٰہَ عَلَیْھِمْ۔(٢٨)
ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمان نے بیان کیا کہ میں اور ابو حسیل غزوۂ بدر میں اس لیے شریک نہ ہوسکے کہ ہمیں قریشی کافروں نے گرفتار کرلیاتھا اور کہنے لگے کہ تم لوگ محمد کے ساتھ شریک ہونے کے لیے جارہے ہو۔ ہم نے ان کو کہا کہ ہم مدینہ جارہے ہیں۔ چناں چہ انہوں نے ہم سے اس پر اللہ کے نام کا عہد و میثاق لیا کہ ہم مدینہ لوٹ جائیں محمدؐ کے ساتھ جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ یہ عہد و پیمان دینے کے بعد ، ہم رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا تو آپؐ نے فرمایا۔ تم دونوں مدینہ لوٹ جاؤ ہم عہد کو پورا کریں گے اور ان کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کریں گے۔
پس منظر: جنگ بدر میں جب کفار کی تعداد مسلمانوں سے تگنی تھی اور مسلمان اپنی جمعیت بڑھانے کے لیے ایک ایک آدمی کے حاجت مند تھے۔ حذیفہ بن یمان اور ان کے والد حُسیل بن جابر لشکر اسلام کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں کفار نے ان کو روک لیا اور کہا کہ تم ضرور محمدؐ کی مدد کو جارہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو مدینہ کاارادہ رکھتے ہیں۔ اس پر کفار نے ان سے یہ عہد لے کر چھوڑ دیا کہ جنگ میں شریک نہ ہوں گے۔ یہ دونوں حضرات کفار کے پنجہ سے چھوٹ کر بدر کے میدان میں آں حضرت اکے پاس پہنچے اور یہ قصہ دہرایا۔ آپؐ نے اس وقت (ان دونوں کو) یہ حکم دیا۔
(الجہاد فی الاسلام، جنگ کے مہذب قوانین ’’وفائے عہد‘‘

قتل سفیر کی ممانعت

١١٠- لَوْلاَ اَنَّ الرُّسُلَ لاَ تُقْتَلُ، لَضَرَبْتُ عُنُقَکَ۔
’’اگر قاصدوں کا قتل ممنوع نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ، اَنَّہٗ اَتٰی عَبْدَ اللّٰہِ، فَقَالَ: مَا بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ جِنَّۃٌ ( بکسر الحاء المھملۃ۔ الحقد والغضب۔ و یقال: انما ھی الاحنۃ بکسر الھمزۃ و سکون الحاء۔)وَ اِنِّیْ مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِیْ حَنِیْفَۃَ فَاِذَا ھُمْ یُؤْمِنُوْنَ بِمُسَیْلَمَۃَ، فَاَرْسَلَ اِلَیْھِمْ عَبْدُ اللّٰہِ، فَجِیئَ بِھِمْ فَاسْتَتَابَھُمْ، غَیْرَ ابْنِ النَّوَاحَۃِ، قَالَ لَہٗ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لَوْلاَ اَنَّکَ رَسُوْلٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَکَ۔ الحدیث(٢٩)
ترجمہ: حارثہ بن مضرب عبد اللہ بن مسعود کے پاس آئے اور رپورٹ پیش کی کہ میرے اور عربوں کے مابین کسی قسم کا کینہ اور بغض نہیں۔ میں بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے گزرا تو دیکھا اس مسجد میں مسیلمہ پر ایمان لانے والے لوگ موجود ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود نے آدمی بھیج کر انہیں اپنے پاس بلوا بھیجا۔ (جب وہ حاضر ہوئے تو) انہیں تائب ہونے کے لیے کہا۔ ابن نواحہ کو چھوڑ دیا۔ ابن نواحہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ میں رسول اللہ اسے سنا ہے۔ آپ فرما رہے تھے کہ اگر توایلچی و قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کردیتا۔
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرو الرَّازِیُّ، ثَنَا سَلَمَۃُ یعنی ابْنُ الْفَضْلِ۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ:کَانَ مُسَیْلِمَۃٌ کَتَبَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ شَیْخٍ مِنْ اَشْجَعَ یُقَالُ لَہٗ: سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نَعِیْمِ بْنِ مَسْعُوْدِ الْاَشْجَعِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ نَعِیْمٍ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ لَھُمَا حِیْنَ قَرَأَ کِتَابَ مُسَیْلَمَۃَ: مَا تَقُوْلاَنِ اَنْتُمَا؟ قَالاَ: نَقُوْلُ کَمَا قَالَ: اَمَا وَاللّٰہِ لَوْلاَ اَنَّ الرُّسُلَ لاَ تُقْتَلُ، لَضَرَبْتُ اَعْنَاقَکُمَا۔(٣٠)
ترجمہ: نعیم بن مسعود سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہا کو جب آپ نے مسیلمہ کا مکتوب پڑھ کر دریافت فرمایا۔ یہ فرماتے سنا کہ تم دونوں اس کے بارے میں کیا کہتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ نے کہا (ہم تو اس کی رسالت کے قائل ہیں) یہ سن کر رسول اللہ انے فرمایا اللہ کی قسم اگر یہ اصول نہ ہوتا کہ ایلچیوں (سفیروں) کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں دونوں کی گردنیں مار دیتا۔ (دونوں کو قتل کردیتا)
پس منظر: مسلیمہ کذاب کا قاصد عبادہ بن الحارث جب اس کا گستاخانہ پیغام لے کر حاضر ہوا۔ تو آپؐ نے اس وقت یہ اصول بیان فرمایا۔
فقہی مباحث: اس اصل سے فقہاء نے یہ جزئیہ نکالا ہے کہ جب کوئی شخص اسلامی سرحد پر پہنچ کر یہ بیان کرے کہ میں فلاں حکومت کا سفیر ہوں اور حاکم اسلام کے پاس پیغام دے کر بھیجا گیا ہو تو اس کو امن کے ساتھ داخلہ کی اجازت دی جائے، اس پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے، اس کے مال و متاع، خدم و حشم، حتی کہ اسلحہ سے بھی تعرض نہ کیا جائے، الا اس صورت میں کہ وہ اپنا سفیر ہونا ثابت نہ کرسکے۔ بعض فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ اسلامی حکومت میں رہ کر زنا اور چوری بھی کرے تو اس پر حد جاری نہ ہوگی۔ (الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’قتل سفیر کی ممانعت‘‘)
جنگ کے دوران میں ( لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ)کہنے والے کو قتل نہیں کیا جاسکتا
١١١- ایک مرتبہ ایک سریہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کو دیکھ کر کہا اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ مگر ایک مسلمان نے یہ گمان کرکے کہ اس نے محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے اسے قتل کردیا۔ نبی اکو اس کا علم ہوا تو حضورا اس پر سخت ناراض ہوئے اور اس مسلمان سے باز پرس کی۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا اس شخص نے محض ہماری تلوار سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھ دیا تھا۔ اس پر سرکار نے فرمایا ھَلاَّ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ کیا تونے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ وَ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ الْمَعْنٰی قَالاَ ثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ ظَبْیَانَ ثَنَا اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً اِلٰی الْحُرَقَاتِ، فَنَذِرُوْا بِنَا فَھَرَبُوْا، فَادْرَکْنَا رَجُلاً فَلَمَّا غَشَّیْنَاہُ قَالَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ فَضَرَبْنَاہُ حَتّٰی قَتَلْنَاہُ فَذَکَرْتُہُ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: مَنْ لَکَ بِلاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّمَا قَالَھَا مَخَافَۃَ السَّلاَحِ قَالَ اَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ قَالَھَا اَمْ لاَ؟ مَنْ لَکَ بِلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَمَا زَالَ یَقُوْلُھَا حَتّٰی وَدَدْتُ اَنِّیْ لَمْ اُسْلِمْ اِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔(٣١)
تشریح: ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر ایک شخص مجھ پر حملہ کرکے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے، اور جب میں اس پر حملہ کروں تو وہ کلمہ پڑھ لے۔ کیاایسی حالت میں اس کو قتل کرسکتا ہوں؟ حضورا نے فرمایا نہیں۔ صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس نے تو میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ آپؐ نے فرمایا باوجود اس کے تم اس کو نہیں مار سکتے۔ اگر تم نے اس کو مارا تووہ اس مرتبے میں ہوگا جس میں تم اس کے قتل سے پہلے تھے اور تم اس مرتبے میںہوجاؤگے جس میں وہ کلمہلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہنے سے پہلے تھا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور انے فرمایا اگرکوئی شخص کسی کافر پر نیزہ تانے اور جب سنان اس کے حلق تک پہنچ جائے اس وقت وہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُکہہ دے، تو مسلمان کو لازم ہے کہ فوراً اپنے نیزہ کو واپس کھینچ لے۔ (اشارات ترجمان القرآن، ج۶، عدد:۲)

اسلامی فوج کا شعار

ابتدائے اسلام میں ’’السلام علیکم‘‘ کالفظ مسلمانوں کے لیے شعار اور علامت کی حیثیت رکھتا تھا اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دیکھ کر یہ لفظ اس معنی میں استعمال کرتا تھا کہ میں تمہارے ہی گروہ کا آدمی ہوں، دوست اور خیر خواہ ہوں، میرے پاس تمہارے لیے سلامتی و عافیت کے سواکچھ نہیں ہے، لہٰذا نہ تم مجھ سے دشمنی کرو اور نہ میری طرف سے عداوت اور ضرر کا اندیشہ رکھو۔ جس طرح فوج میں ایک لفظ شعار (Password)کے طورپر مقرر کیا جاتا ہے اور رات کے وقت ایک فوج کے آدمی ایک دوسرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ فوج مخالف کے آدمیوں سے ممیّز ہوں۔ اسی طرح اسلام کا لفظ بھی مسلمانوں میں شعار کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ نو مسلموں اور کافروں کے درمیان لباس، زبان اور کسی دوسری چیز میں کوئی نمایاں امتیاز نہ تھا جس کی وجہ سے ایک مسلمان سر سری نظر میں دوسرے مسلمان کو پہچان سکتا ہو۔
لیکن لڑائیوں کے موقع پر ایک پیچیدگی یہ پیش آتی تھی کہ مسلمان جب کسی دشمن گروہ پر حملہ کرتے اور وہاں کوئی مسلمان اس لپیٹ میں آجاتا تو وہ حملہ آور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ بھی ان کا دینی بھائی ہے۔ ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ‘‘ یا لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہپکارتا تھا، مگر مسلمانوں کو اس پر یہ شبہہ ہوتا تھا کہ یہ کوئی کافر ہے جو محض جان بچانے کے لیے حیلہ کررہا ہے۔ اس لیے بسا اوقات وہ اسے قتل کر بیٹھتے تھے اور اس کی چیزیں غنیمت کے طور پر لوٹ لیتے تھے۔ نبی انے ایسے ہر موقع پر نہایت سختی کے ساتھ سرزنش فرمائی۔ مگر اس قسم کے واقعات برابر پیش آتے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس پیچیدگی کو حل کیا (اور سورۂ نساء میں آیت نمبر ۹۴ یعنی یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میںجہادکے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فورا ًنہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے)
آیت کا منشا یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کررہا ہے اس کے متعلق تمہیں سرسری طور پر یہ فیصلہ کردینے کا حق نہیں ہے کہ وہ محض جان بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے۔ ہوسکتاہے کہ وہ سچا ہو اور ہوسکتا ہے کہ جھوٹا ہو۔ حقیقت تو تحقیق ہی سے معلوم ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان ہے کہ ایک کافر جھوٹ بول کر جان بچا لے جائے تو قتل کردینے میں اس کا امکان بھی ہے کہ ایک مومن بے گناہ تمہارے ہاتھ سے مارا جائے۔ اور بہ ہر حال تمہارا ایک کافر کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بدرجہا زیادہ بہتر ہے کہ تم ایک مومن کو قتل کرنے میں غلطی کرو۔
(تفہیم القرآن، ج۱، النساء حاشیہ:۱۲۶)

ذمیوں کی جان کا احترام

١١٢-مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا لَمْ یَرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ، وَ اِنَّ رِیْحَھَا لَتُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا۔
’’جو کسی معاہد کو قتل کرے، اسے جنت کی خوشبو تک نصیب نہ ہوگی، حالاں کہ اس کی خوشبو ۴۰ سال کی مسافت تک پہنچتی ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ حَفْصٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا مُجَاھِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا، لَمْ یَرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ، وَ اِنَّ رِیْحَھَا لَتُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا۔(٣٢)
المستدرک اور ترمذی میں مروی روایت کے الفاظ:
(۲) عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَلاَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاھِدًا لَہٗ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَ ذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ، فَقَدْ اَخْفَرَ بِذِمَّۃِ اللّٰہِ فَلاَ یَرَحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَ اِنَّ رَیْحَھَا لَتُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔ (٣٣)
ترجمہ: نبی اسے منقول ہے کہ جس کسی نے ایسے شخص کو قتل کیا جس نے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ وذمہ داری حاصل کی تھی تو اس قاتل نے اللہ کی ذمہ داری و پناہ سے بے وفائی کی۔ پس ایسا شخص جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔ حالاں کہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے۔
تشریح: اس کے متعلق یہ کہنا صحیح نہیں ہوسکتا کہ یہ احترام جان ومال محض احترام عہد و پیمان کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ یہ حکم تمام ذمیوں کے لیے عام ہے اور عقد ذمہ کی صرف یہی ایک صورت نہیں ہے کہ حکومت اسلامیہ کے ساتھ ان کا باقاعدہ معاہدہ ہو بلکہ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ وہ بلا شرط اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے حوالے کریں اور حکومت خود ہی ان کو ذمی قرار دے۔ چناں چہ فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ اگر مسلمان کسی ملک کو بزور شمشیر فتح کریں اور اس کے باشندوں سے ان کا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو تب بھی مفتوح غیر مسلموں کو ذمی ہی قرار دیا جائے گا اور مسلمانوں کا امام ان پر جزیہ عائد کرکے ان کو اللہ اور رسولؐ کے ذمہ میں لے لے گا۔ (الجہاد فی الاسلام، مصلحانہ جنگ ’’قتال کی غرض و غایت‘‘)
١١٣- ’’جو لوگ دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تکلیف دے گا۔‘‘
(الجہاد فی الاسلام، مصلحانہ جنگ، ’’جزیہ کی حقیقت‘‘ )
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: مَرَّ بِقَوْمٍ یُعَذَّبُوْنَ فِی الْجِزْیَۃِ بِفِلَسْطِیْنٍ، قَالَ: فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعَذِّبُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا۔(٣٤)
ترجمہ: ہشام بن حکیم بن حزام سے مروی ہے۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ اس کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جنہیں فلسطین میں جزیہ کی عدم ادائے گی کی وجہ سے سزا (عذاب) دی جارہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر انہوں نے کہاکہ میں نے رسول اللہ ا کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو دنیا میں لوگوں کو تکلیف و اذیت دیتے ہیں، قیامت کے روز ان کو تکلیف و اذیت دے گا۔
انہی سے مروی روایت:
(۲) عَنِ ابْنِ حِزَامٍ اَنَّہٗ مَرَّ بِاُنَاسٍ مِنْ اَھْلِ الذِّمَّۃِ قَدْ اُقِیْمُوْا فِی الشَّمْسِ بِالشَّامِ، فَقَالَ:مَا ھٰٓؤُلَآئِ؟ قَالُوْا: بَقِیَ عَلَیْھِمْ شَـْیئٌ مِنَ الْخَرَاجِ، فَقَالَ: اِنِّیْ اَشْھَدُ اَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعَذِّبُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ۔(٣٥)
ترجمہ: ابن حزام سے منقول ہے کہ ان کا گزر ذمیوں کے کچھ ایسے اشخاص پر ہوا جنہیں شام کے علاقہ میںدھوپ میںکھڑا کرکے سزا دی جارہی تھی۔ ابن حزام نے دریافت کیا ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کے ذمہ خراج کی کچھ ادائے گی باقی ہے۔ (اسی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے) انہوں نے کہا میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے خود رسول اللہا کو یہ فرماتے سناہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں۔

لوٹ مار کی ممانعت

١١٤-أَ یَحْسَبُ اَحَدُکُمْ مُتَّکِأً عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ قَدْ یَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًا اِلاَّ مَا فِی ھٰذَا الْقُرْاٰنِ، اَلاَ، وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ قَدْ وَعَظْتُ وَ اَمَرْتُ وَ نَھَیْتُ عَنْ اَشْیَائَ، اِنَّھَا لَمِثْلُ الْقُرْاٰنِ اَوْ اَکْثَرُ۔ وَ اَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَمْ یَحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلاَّ بِاِذْنٍ، وَلاَ ضَرْبَ نِسَآئِھِمْ، وَلاَ اَکْلَ ثِمَارِھِمْ اِذَا اَعْطَوْکُمُ الَّذِیْ عَلَیْھِمْ۔
’’کیا تم میںکا کوئی شخص تخت غرور پر بیٹھایہ سمجھ رہا ہے کہ اللہ نے سوائے ان چیزوں کے جو قرآن میں حرام کی گئی ہیں کوئی اور چیز حرام نہیں کی؟ خدا کی قسم میں جو کچھ تم کو نصیحت کرتا ہوں اور جو امرو نہی کے احکام دیتا ہوں وہ بھی قرآن کی طرح یا اس سے زیادہ ہیں۔ اللہ نے تمہارے لیے یہ جائز نہیں کیا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں بلااجازت گھس جاؤ، ان کی عورتوں کو مارو پیٹو اور ان کے پھل کھا جاؤ، حالاں کہ ان پر جو کچھ واجب تھا، وہ تمہیں دے چکے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیْسٰی، ثَنَا اَشْعَثُ بْنُ شُعْبَۃَ، ثَنَا اَرْطَاۃُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَکِیْمَ بْنَ عُمَیْرٍ اَبَا الْاَحْوَصِ یُحَدِّثُ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ النَّبِیِّﷺ خَیْبَرَ وَ مَعَہٗ مَنْ مَعَہٗ مِنْ اَصْحَابِہٖ، وَکَانَ صَاحِبُ خَیْبَرَ رَجُلاً مَارِدًا مُنْکَرًا، فَاَقْبَلَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ، ألَکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا حُمُرَنَا، وَ تَاْکُلُوْا ثَمَرَنَا، وَ تَضْرِبُوْا نِسَآئَ نَا؟ فَغَضِبَ یعنی النَّبِیُّﷺ۔۔۔وَ قَالَ: یَا ابْنَ عَوْفٍ ارْکَبْ فَرَسَکَ، ثُمَّ نَادِ:اَلاَ، اِنَّ الْجَنَّۃَ لاَ تَحِلُّ اِلاَّ لِمُؤْمِنٍ وَ اَنِ اجْتَمِعُوْا لِلصَّلوٰۃِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوْا، ثُمَّ صَلّٰی بِھِمْ النَّبِیُّﷺ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ:أَ یَحْسَبُ اَحَدُکُمْ مُتَّکِئًا عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ قَدْ یَظُنُّ اَنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًا اِلاَّ مَا فِی ھٰذَا الْقُرْاٰنِ، اَلاَ، وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ قَدْ وَعَظْتُ وَ اَمَرْتُ وَ نَھَیْتُ عَنْ اَشْیَائَ، اِنَّھَا لَمِثْلُ الْقُرْاٰنِ اَوْ اَکْثَرُ، وَ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ یَحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلاَّ بِاِذْنٍ، وَلاَ ضَرْبَ نِسَآئِھِمْ، وَلاَ اَکْلَ ثِمَارِھِمْ اِذَا اَعْطَوْکُمُ الَّذِیْ عَلَیْھِمْ۔(٣٦)
ترجمہ: حکیم بن عمیر عرباض بن ساریہ سلمی کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں۔ عرباض نے بتایا کہ ہم نبی اکی معیت میں خیبر میں فروکش ہوئے۔ آپ کے ہمراہ جو صحابہ کرامؓ تھے، وہ تھے ہی۔ رئیس خیبر شریر و سرکش آدمی تھا۔ وہ نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمدؐ کیا تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم ہمارے گدھوں کو ذبح کرو، ہمارے پھلوں کو کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو پیٹو۔ رسول اللہا یہ سن کر غضب ناک ہوگئے۔ غصہ میں عبد الرحمن بن عوف کو حکم دیا کہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر اعلان کردو۔ سنو لوگو! جنت صرف مومن کے لیے حلال ہے۔ نیز نماز کے لیے جمع ہوجاؤ۔ راوی کا بیان ہے کہ لوگ جمع ہوگئے۔ نبی انے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر خطاب فرمانے کھڑے ہوئے۔ فرمایا۔ کیا تم میں سے کوئی شخص تخت غرور پر بیٹھا یہ سمجھ رہا ہے کہ اللہ نے سوائے ان چیزوں کے جو قرآن میں حرام کی گئی ہیں کوئی اور چیز حرام نہیں کی۔ اللہ کی قسم میں جو کچھ تم کو نصیحت کرتا ہوں اور جو امر و نہی کے احکام دیتا ہوں وہ بھی قرآن کی طرح یا اس سے زیادہ ہیں۔ اللہ نے تمہارے لیے یہ جائز نہیں کیا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں بلا اجازت گھس جاؤ، ان کی عورتوں کو مارو پیٹو اور ان کے پھل کھاؤ۔ حالاںکہ ان پر جو کچھ واجب تھا وہ تمہیں دے چکے۔
پس منظر: جنگ خیبر میں صلح ہوجانے کے بعد جب اسلامی فوج کے بعض نئے رنگ روٹ بے قابو ہوگئے اور انہوں نے غارت گری شروع کردی تو یہودیوں کا سردار رسول اللہ اکے پاس حاضر ہوا اور کرخت لہجہ میں آپؐ کو خطاب کرکے بولا یا محمد الکم ان تذبحوا حمرنا و تاکلوا ثمرنا تضربوا نساء نا؟ اے محمد! کیا تم کو زیبا ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کرو، ہمارے پھل کھا جاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو؟ اس پر رسول اللہ انے فورا ًابن عوف کو حکم دیا کہ لشکر میں اجتمعوا للصلوۃکی منادی کریں۔ جب تمام اہل لشکر جمع ہوگئے تو حضوؐر کھڑے ہوئے اور مندرجہ بالا فرمان نافذ کیا۔
(الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’لوٹ مار کی ممانعت‘‘

کافروں کے نفوس و اموال کب مباح ہیں؟

١١٥-لاَ تَقْتُلُوْھُمْ حَتّٰی تَدْعُوْھُمْ، فَاِنْ اَبَوْا فَلاَ تَقْتُلُوْھُمْ حَتّٰی یَبْدَوُؤْا فَاِنْ بَدَؤُوْا فَلاَ تُقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی یَقْتُلُوْا مِنْکُمْ قَتِیْلاً ثُمَّ اُرُوْھُمْ ذٰلِکَ الْقَتِیْلَ وَ قُوْلُوْا لَھُمْ ھَلْ اِلٰی خَیْرٍ مِنْ ھٰذَا سَبِیْلٌ فُلاَنٌ یَّھْدِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی یَدَیْکَ خَیْرٌ لَّکَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَ غَرَبَتْ۔
’’ان سے جنگ نہ کرنا جب تک کہ ان کو دعوت نہ دے لو۔ پھر اگر وہ انکار کریں تب بھی جنگ نہ کرنا جب تک وہ ابتدا نہ کریں۔ پھر اگر وہ ابتدا کریں تب بھی جنگ نہ کرنا جب تک کہ وہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کردیں۔ پھر اس مقتول کو دکھا کر ان سے کہنا کہ کیا اس سے زیادہ بہتر کسی بات کے لیے تم آمادہ نہیں ہوسکتے؟ اے معاذ اس قدر صبرو تحمل کی تعلیم اس لیے ہے کہ اگر اللہ تیرے ہاتھ پر لوگوں کو ہدایت بخش دے تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تیرے قبضہ میں مشرق سے مغرب تک کا سارا ملک و مال آجائے۔‘‘
تخریج: فَحَسَنَ لِمَا رُوِیَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا فِیْ سَرِیَّۃٍ وَ قَالَ: لاَ تُقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی تَدْعُوْھُمْ، فَاِنْ اَبَوْا فَلاَ تُقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی یَبْدَؤُکُمْ فَاِنْ بَدَؤُکُمْ فَلاَ تُقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی یَقْتُلُوْا مِنْکُمْ قَتِیْلاً ثُمَّ اُرُوْھُمْ ذٰلِکَ الْقَتِیْلَ وَ قُوْلُوْا لَھُمْ ھَلْ اِلٰی خَیْرٍ مِنْ ھٰذَا سَبِیْلٌ فُلاَنٌ یَّھْدِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی یَدَیْکَ خَیْرٌ لَّکَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَ غَرَبَتْ۔(٣٧)
تشریح: نبی انے حضرت معاذ بن جبل کو یہ ہدایات دی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حربی کفار جو ذمی نہیں ہیں، جن سے کوئی معاہدہ نہیں ہے، جن کادار ہمارے دار سے مختلف ہے۔ جن کی عصمت ہمارا قانون تسلیم نہیں کرتا، ان کے نفوس و اموال بھی ہم پر اس وقت تک حلال نہیں ہیں جب تک کہ اتمام حجت نہ ہو اور ہمارے اور ان کے درمیان باقاعدہ اعلان جنگ نہ ہوجائے۔ نبی اے اس باب میں حضرت معاذ بن جبل کو (مندرجہ بالا) جو ہدایات دی تھیں۔ وہ قابل غور ہیں۔
(سود، غیر معاہدین)

مسلمانوں کی حیثیت بہ لحاظ اختلاف دار

١١٦- قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَنَا بَرِیٌٔ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ اَقَامَ بَیْنَ اَظْھُرِ الْمُشْرِکِیْنَ۔ وَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَیْضًا مَنْ اَقَامَ مَعَ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ اَوْ قَالَ لاَ ذِمَّۃَ لَہٗ۔
’’نبی انے فرمایا میں ہر اس مسلمان کی ذمہ داری سے بری (’’میں‘‘ کا لفظ آپؐ نے حکومت اسلامی کے رئیس کی حیثیت سے فرمایا ہے نہ کہ رسول کی حیثیت سے۔ پس اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت ایسے مسلمان کی حفاظت کی ذمہ دار نہیں ہے۔ (سود ،ضمیمہ:۳، ’’مسلمانوں کی حیثیات بلحاظ اختلاف دار)
) ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو اور حضوؐر ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ جس نے مشرکین کے ساتھ قیام کیا اس سے میں بری الذمہ ہوں۔ یا فرمایا اس کے لیے کوئی ذمہ نہیں ۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السَّرِّیّٰ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ عَنْ قَیْسٍ، عَنْ جَرِیْرِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ:بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً اِلٰی خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْھُمْ بِالسُّجُوْدِ، فَاُسْرِعَ فِیْھِمُ الْقَتْلُ قَالَ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ﷺ فَاَمَرَ لَھُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ: اَنَا بَرِیٌٔ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ اَظْھُرِ الْمُشْرِکِیْنَ الخ (٣٨)
ترجمہ: جریر بن عبد اللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے خثعم قبیلہ کی جانب ایک سریہ روانہ فرمایا۔ کچھ لوگوں نے سجدہ میں گر کر اپنے آپ کو بچانا چاہا مگر انہیں جلدی سے قتل کردیا گیا۔ راوی کا بیان ہے یہ اطلاع نبی ا تک پہنچی تو آپ نے ان کو (آدھی دیت) دینے کا فرمان جاری فرمایا نیز یہ فرمایا میں ہر اس مسلمان کی ذمہ داری سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔
٢١٧-ابو داؤد کی کتاب الجہاد میں ہے کہ جب حضور ا کسی کو لشکر کا سردار مقرر کرکے بھیجتے تو اس کو منجملہ دوسری ہدایات کے ایک یہ ہدایت بھی فرماتے تھے۔
اَدْعُھُمْ اِلَی الْاِسْلاَمِ فَاِنْ اَجَابُوْکَ فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَکُفَّ عَنْھُمْ۔ ثُمَّ اَدْعُھُمْ اِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِھِمْ اِلٰی دَارِ الْمُھَاجِرِیْنَ، وَاَعْلِمْھُمْ اَنَّھُمْ اِنْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ اَنَّ لَھُمْ مَا لِلْمُھَاجِرِیْنَ وَ اَنَّ عَلَیْھِمْ مَا عَلَی الْمُھَاجِرِیْنَ فَاِنْ اَبَوْا وَاخْتَارُوْا دَارَھُمْ فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّھُمْ یَکُوْنُوْنَ کَاَعْرَابِ الْمُسْلِمِیْنَ۔ یُجْرٰی عَلَیْھِمْ حُکْمُ اللّٰہِ الَّذِیْ کَانَ یَجْرِیْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، وَلاَ یَکُوْنُ لَھُمْ فِی الْفَئْیِ وَالْغَنِیْمَۃِ نَصِیْبٌ اِلاَّ اَنْ یُّجَاھِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (باب فی دعاء المشرکین)
’’ان کو پہلے اسلام کی طرف دعوت دینا، اگر وہ قبول کرلیں تو ان سے ہاتھ روک لینا۔ پھر ان سے کہنا کہ اپنے دار کو چھوڑ کر مہاجرین کے دار یعنی دار الاسلام میں آجائیں اور انہیں بتادینا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں۔ اور وہی واجبات ان پر عائد ہوں گے جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی دار میں رہنا اختیار کریں تو انہیں آگاہ کردینا کہ ان کی حیثیت اعراب مسلمین کی سی ہوگی۔ ان پر اللہ کے وہ تمام احکام جاری ہوں گے جو مومنین پر جاری ہوتے ہیں مگر فے اور غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْاَنْبَارِیُّ، ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرِیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا بَعَثَ اَمِیْرًا عَلٰی سَرِیَّۃٍ اَوْ جَیْشٍ اَوْصَاہُ بِتَقْوَی اللّٰہِ فِیْ خَاصَّۃِ نَفْسِہٖ وَ بِمَنْ مَّعَہٗ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرًا وَ قَالَ:اِذَا لَقِیْتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ فَادْعُھُمْ اِلٰی اِحْدٰی ثَلاَثِ خِصَالٍ، اَوْ خِلاَلٍ، فَاَیَّتُھَا اَجَابُوْکَ اِلَیْھَا فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَ کُفَّ عَنْھُمْ:اَدْعُھُمْ اِلَی الْاِسْلاَمِ، فَاِنْ اَجَابُوْکَ فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَکُفَّ عَنْھُمْ، ثُمَّ اَدْعُھُمْ اِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِھِمْ اِلٰی دَارِ الْمُھَاجِرِیْنَ، وَاَعْلِمْھُمْ اَنَّھُمْ اِنْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ اَنَّ لَھُمْ مَا لِلْمُھَاجِرِیْنَ وَ اَنَّ عَلَیْھِمْ مَا عَلَی الْمُھَاجِرِیْنَ، فَاِنْ اَبَوْا وَاخْتَارُوْا دَارَھُمْ فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّھُمْ یَکُوْنُوْنَ کَاَعْرَابِ الْمُسْلِمِیْنَ۔ یُجْرٰی عَلَیْھِمْ حُکْمُ اللّٰہِ الَّذِیْ یَجْرِیْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، وَلاَ یَکُوْنُ لَھُمْ فِی الْفَئْیِ وَالْغَنِیْمَۃِ نَصِیْبٌ، اِلاَّ اَنْ یُّجَاھِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ، فَاِنْ ھُمْ اَبَوْا فَادْعُھُمْ اِلٰی اِعْطَائِ الْجِزْیَۃِ، فَاِنْ اَجَابُوْا فَاقْبَلْ مِنْھُمْ وَکُفَّ عَنْھُمْ فَاِنْ اَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ تَعَالٰی، وَ قَاتِلْھُمْ، وَ اِذَا حَاصَرْتَ اَھْلَ حِصْنٍ فَاَرَادُوْکَ اَنْ تُنْزِلَھُمْ عَلٰی حُکْمِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَلاَ تُنْزِلْھُمْ، فَاِنَّکُمْ لاَ تَدْرُوْنَ مَا یَحْکُمُ اللّٰہُ فِیْھِمْ وَ لٰـکِنْ اَنْزِلُوْھُمْ عَلٰی حُکْمِکُمْ، ثُمَّ اقْضُوْا فِیْھِمْ بَعْدَ مَا شِئْتُمْ۔(٣٩)
تشریح: ان احادیث سے مسلمان تین حیثیتوں کے مالک ہیں۔ (۱) دار الاسلام کے مسلمان (۲)مستامن مسلمان دار الکفر اور دار الحرب میں (۳) دار الکفر اور دار الحرب کی مسلم رعایا۔
نوٹ: اگر تفصیل مطلوب ہو توملاحظہ ہو کتاب ’’سود‘‘ ،ضمیمہ:۳ ’’مسلمانوں کی حیثیات بلحاظ اختلاف وار‘‘

مثلہ اور نہبٰی کی ممانعت

١١٨- نَھَی النَّبِیُّ ﷺ مِنَ النُّھْبٰی وَالْمُثْلَۃِ۔
’’نبی انے لوٹ کے مال اور مثلہ (قطع اعضا) کو حرام قرار دیا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِیْ اِیَاسٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، ثَنَا عَدِیُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّ وَ ھُوَ جَدُّہٗ اَبُوْ اُمِّہٖ، قَالَ: نَھَی النَّبِیُّ ﷺ عَنِ النُّھْبٰی وَالْمُثْلَۃِ۔(٤٠)
(۲) حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السَّرِّیِّ، ثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ۔ یَعْنِیْ ابْنِ کُلَیْبٍ۔ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ، فَاَصَابَ النَّاسَ حَاجَۃٌ شَدِیْدَۃٌ وَ جَھْدٌ، وَاَصَابُوْا غَنَمًا فَانْتَھَبُوْھَا، فَاِنَّ قُدُوْرَنَا لَتَغْلِیْ اِذْ جَآئَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَمْشِیْ عَلٰی قَوْسِہٖ، فَاَکْفَا قُدُوْرَنَا بِقَوْسِہٖ، ثُمَّ جَعَلَ یُرَمِّلُ اَللَّحْمَ بِالتُّرَابِ، ثُمَّ قَالَ:اِنَّ النُّھْبَۃَ لَیْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَیْتَۃِ اِنَّ الْمَیْتَۃَ لَیْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ النُّھْبَۃِ۔ اَلشَّکُّ مِنْ ھُنَا۔(٤١)
ترجمہ: ایک انصاری سے منقول ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم کسی سفرجہاد میں رسول اللہ اکے ساتھ تھے۔ لوگوں کو دوران سفر میں شدید ضرورت و مشقت پیش آگئی۔ (سخت بھوک لگی) لوگوں کو کچھ بکریاں ملیں تو انہوں نے بکریاں لوٹ لیں۔ بس اب ہماری ہنڈیاں جوش مارنے لگیں تو اسی اثنا میں رسول اللہا ادھر تشریف لے آئے آپ اپنی قوس کے سہارے چل رہے تھے۔ آپؐ نے اپنی کمان کے ذریعہ ہماری ہنڈیاں (دیگچیاں) الٹ دیں پھر گوشت سے مٹی مل دی۔ اور فرمایا کہ لوٹ کھسوٹ کا مال مردار سے بہتر نہیں ہے یا فرمایا کہ مردار لوٹ کھسوٹ سے بہترنہیں ہے۔
تشریح: لوٹ کے مال سے مراد وہ مال ہے جو دشمن کے ملک میں پیش قدمی کرتے ہوئے عام باشندوں سے چھین لیا جائے۔ اس کے علاوہ نہبہ اس مال غنیمت کو بھی کہتے ہیں جو باقاعدہ تقسیم سے پہلے لیا جائے۔
ایک دفعہ سفر جہاد میں اہل لشکر کے کچھ بکریاں لوٹ لیں اور ان کا گوشت پکا کر کھانا چاہا۔ آں حضرت اکو خبر ہوئی تو آپؐ نے آکر دیگچیاں الٹ دیں اور فرمایا ان النھبۃ لیست باحل من المیتۃ۔ کہ لوٹ کھسوٹ کا مال مردار سے بہتر نہیں ہے۔ (الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’مثلہ کی ممانعت‘‘)

وحشیانہ افعال کے خلاف عام ہدایات

١١٩- اُغْزُوْا بِسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ اُغْزُوْا وَلاَ تَغْدِرُوْا، وَلاَ تَغُلُّوْا وَلاَ تُمَثِّلُوْا وَلاَ تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا۔
’’جاؤ اللہ کانام لے کر اور اللہ کی راہ میں لڑو ان لوگوں سے جو اللہ سے کفر کرتے ہیں مگر جنگ میں کسی سے بد عہدی نہ کرو، غنیمت میں خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا وَکِیْعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْیَانَ،ح قَالَ وَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَنَا یَحْیَ بْنُ آدَمَ، قَالَ:اَنَا سُفْیَانُ، قَالَ اَمْلاَہُ عَلَیْنَا اِمْلاَئً ح قَالَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ھَاشِمٍ وَاللَّفْظُ لَہٗ، قَالَ:ثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ یَعْنِیْ ابْنُ مَھْدِیٍّ قَالَ: نَا سُفْیَانُ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَمَّرَ اَمِیْرًا عَلٰی جَیْشٍ اَوْ سَرِیَّۃٍ اَوْصَاہُ فِیْ خَاصَّتِہٖ بِتَقْوَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ مَنْ مَّعَہٗ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرًا ثُمَّ قَالَ: اُغْزُوْا بِسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ اُغْزُوْا فَلاَ تَغُلُّوْا، وَلاَ تَغْدِرُوْا، وَلاَ تُمَثِّلُوْا، وَلاَ تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا۔ الحدیث(٤٢)
ترجمہ: حضرت بریدہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا جب کسی لشکر یا سریہ پر کسی کو امیر مقرر فرماتے تو اسے بالخصوص اللہ سے ڈرنے کا حکم فرماتے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی کرنے کی تلقین فرماتے۔ پھر فرماتے جاؤ اللہ کا نام لے کر اور اللہ کی راہ میں لڑو ان لوگوںسے جو اللہ سے کفر کرتے ہیں۔ لڑو مگر جنگ میں کسی سے بد عہدی نہ کرو، غنیمت میں خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو۔
پس منظر: فوجوں کی روانگی کے وقت جنگی برتاؤ کے متعلق ہدایات دینے کا طریقہ جس سے انیسویں صدی کے وسط تک مغربی دنیا نا بلد تھی، ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے امی پیغمبر نے ایجاد کیا تھا۔ داعی ٔ اسلام ا کا قاعدہ تھا کہ جب آپؐ کسی سردار کو جنگ پر بھیجتے تو اسے اوراس کی فوج کو پہلے تقویٰ اور خوف خدا کی نصیحت کرتے اور وحشیانہ افعال سے منع فرماتے۔
(الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’وحشیانہ افعال کے خلاف عام ہدایات‘‘

جنگ میں شور و ہنگامہ کی ممانعت

١٢٠-کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکُنَّا اِذَا اَشْرَفْنَا عَلٰی وَادٍ ھَلَّلْنَا وَ کَبَّرْنَا وَارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِرْبَعُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ فَاِنَّکُمْ لاَ تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا اِنَّہٗ مَعَکُمْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ۔ (عن ابی موسیٰ اشعری)
ہم رسول اللہ اکے ساتھ تھے۔ اور جب کسی وادی پر پہنچتے تھے تو زور و شور سے تکبیر و تہلیل کے نعرے بلند کرتے تھے۔ اس پر حضوؐر نے فرمایا کہ لوگو! وقار کے ساتھ چلو، تم جس کو پکار رہے ہو وہ نہ بہرا ہے نہ غائب ، وہ تو تمہارے ساتھ ہے، سب کچھ سنتا ہے اور بہت ہی قریب ہے۔ (الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق’’شور و ہنگامہ کی ممانعت‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ، ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ:کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکُنَّا اِذَا اَشْرَفْنَا عَلٰی وَادٍ ھَلَّلْنَا وَ کَبَّرْنَا، ارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِرْبَعُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ فَاِنَّکُمْ لاَ تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا اِنَّہٗ مَعَکُمْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ۔(٤٣)
بخاری کتاب المغازی میں مروی روایت:
(۲) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْبَرَ اَوْ قَالَ: لَمَّا تَوَجَّہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَشْرَفَ النَّاسُ عَلٰی وَادٍ فَرَفَعُوْا اَصْوَاتَھُمْ بِالتَّکْبِیْرِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِرْبَعُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ، اِنَّکُمْ لاَ تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا اِنَّکُمْ تَدْعُوْنَ سَمِیْعًا قَرِیْبًا وَ ھُوَ مَعَکُمْ۔(٤٤)

بدعہدی کی ممانعت

١٢١- مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا لَمْ یَرَحْ رَآئِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَ اِنَّ رِیْحَھَا لَتُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا۔
(عن عبد اللّٰہ بن عمرو)
’’جو کوئی کسی معاہد کو قتل کرے گا، اسے جنت کی بو تک نصیب نہ ہوگی، حالاں کہ اس کی خوشبو ۴۰ برس کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ ( الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’بدعہدی کی ممانعت‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ حَفْصٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا مُجَاھِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیّﷺ، قَالَ:مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا لَمْ یَرَحْ رَآئِحَۃَ الْجَنَّۃِ، وَ اِنَّ رِیْحَھَا لَتُوْجَدُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا۔(٤٥)
١٢٢-اَرْبَعُ خِلاَلٍ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا مَنْ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَ اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔ (عن عبد اللّٰہ بن عمرو)
’’چار خصلتیں ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہوگا۔ ایک یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے، دوسرے یہ کہ جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، تیسرے یہ کہ جب معاہدہ کرے تو اس کو توڑدے، چوتھے یہ کہ جب جھگڑے تو گالیاں دے۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’بد عہدی کی ممانعت‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَرْبَعُ خِلاَلٍ، مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، مَنْ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَ اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، مَنْ کَانَتْ فِیْہِ خصْلَۃٌ مِنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا۔(٤٦)
١٢٣- لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدْرِ غَدْرِہٖ اَلاَ وَلاَ غَادِرٌ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَۃٍ۔
’’ہر غدار و عہد شکن کی بے ایمانی کا اعلان کرنے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جو اس کے غدر کا ہم قدر ہوگا۔ اور یاد رکھو کہ جو سردارِ قوم غدر کرے اس سے بڑا کوئی غدار نہیں ہے۔ ‘‘
(الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’بد عہدی کی ممانعت‘‘)
تخریج: حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: نَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّیَّانِ قَالَ:نَا اَبُوْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدْرِ غَدْرِہٖ، اَلاَ وَلاَ غَادِرٌ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَۃٍ۔(٤٧)
١٢٤- مَنْ کَانَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَلاَ یَحُلَّنَّ عَھْدًا وَلاَ یَشُدَّنَّہٗ حَتّٰی یَمْضِیَ اَمَدُہٗ اَوْ یَنْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَائٍ۔
’’جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو اس میں کوئی تغیر و تبدل نہ کرے تا وقتیکہ کہ اس کی مدت گزر نہ جائے یا پھر اگر خیانت کا خوف ہو تو برابری کو ملحوظ رکھ کر اس کو ختم معاہدہ کا نوٹس دے دے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، ثَنَا اَبُوْدَاؤُدُ، اَنْبَانَا شُعْبَۃُ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبُو الْفَیْضِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَ بْنَ عَامِرٍ، یَقُوْلُ:کَانَ بَیْنَ مُعَاوِیَۃَ وَ بَیْنَ اَھْلِ الرُّوْمِ عَھْدٌ، وَکَانَ یَسِیْرُ فِیْ بِلاَدِھِمْ حَتّٰی اِذَا انْقَضَی الْعَھْدُ اَغَارَ عَلَیْھِمْ، فَاِذَا رَجُلٌ عَلٰی دَابَّۃٍ اَوْعَلٰی فَرَسٍ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَفَائَ لاَ غَدَرَ وَ اِذَا ھُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ، فَسَألَہُ مُعَاوِیَۃُ عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:مَنْ کَانَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ، فَلاَ یَحُلَّنَّ عَھْدًا، وَلاَ یَشُدَّنَّہٗ حَتّٰی یَمْضِیَ اَمَدُہٗ اَوْ یَنْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَائٍ، قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِیَۃُ بِالنَّاسِ۔(٤٨)
ترجمہ: سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں کہ امیر معاویہ اور اہل روم کے درمیان معاہدۂ صلح تھا۔ ایک مرتبہ امیر معاویہ بلاد روم پر حملہ کرنے جارہے تھے ان کا ارادہ تھا کہ مدت معاہدہ ختم ہوتے ہی ان پر حملہ کردیں گے۔ کہ اسی اثنا میں ایک آدمی اپنے گدھے یا اپنے گھوڑے پر سوار کہہ رہا تھا۔ اللّٰہ اکبر وفاء لا غدر۔ اور یہ صاحب عمرو بن عبسہ تھے۔ امیر معاویہ نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ا کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو اس میں کوئی تغیر و تبدل نہ کرے تا وقتیکہ اس کی مدت گزر نہ جائے یا پھر اگر خیانت کا خوف ہو تو برابری کو ملحوظ رکھ کر اس کو ختم معاہدہ کا نوٹس دے دے۔
پس منظر: ایک مرتبہ امیر معاویہ بلاد روم پر حملہ کرنے کے لیے جارہے تھے۔ حالاں کہ ابھی معاہدۂ صلح کی مدت ختم نہ ہوئی تھی۔ امیر معاویہؓ کا ارادہ تھا کہ مدت ختم ہوتے ہی حملہ کردیں۔ مگر ایک صحابی عمرو بن عبسہ نے زمانۂ صلح میں جنگ کی تیاری اور سرحدوں کی طرف فوج کی روانگی کو بھی بدعہدی سے تعبیر کیا اور امیر کے پاس دوڑتے ہوئے اور پکارتے ہوئے پہنچے کہ اللہ اکبر، وفاء لا غدر۔ معاویہؓ نے سبب پوچھا تو کہا میں نے رسول اللہ اسے یہ مندرجہ بالا فرمان سنا ہے۔
(الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’بدعہدی کی ممانعت‘‘)

لوگوں کو تنگ کرنے کی ممانعت

١٢٥- مَنْ ضَیَّقَ مَنْزِلاً اَوْ قَطَعَ طَرِیْقًا فَلاَ جِھَادَ لَہٗ۔
’’جو کوئی منزل کو تنگ کرے گا یا راہ گیروں کو لوٹے گا اس کا جہاد نہیں ہوگا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ اُسَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْخَثْعَمِیِّ، عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ مُجَاھِدِ اللَّخْمِیِّ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ اَنَسِ الْجُھَنِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ نَبِیِ اللّٰہِ ﷺ غَزْوَۃَ کَذَا وَ کَذَا، فَضَیَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَ قَطَعُوا الطَّرِیْقَ، فَبَعَثَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ مُنَادِیًا یُنَادِیْ فِی النَّاسِ۔ اَنَّ مَنْ ضَیَّقَ مَنْزِلاً اَوْ قَطَعَ طَرِیْقًا فَلاَ جِھَادَ لَہٗ۔(٤٩)
ترجمہ: معاذ بن انس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں فلاں فلاں معرکۂ جنگ میں نبی اکے ساتھ تھا۔ لوگوں نے منازل کو تنگ کردیا اور راستے کو منقطع کردیا۔ (لوگوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بن گئے یا راہ گیروں کو لوٹنا شروع کردیا) تونبی انے منادی کرنے والے کو بھیجا جو لوگوں میں منادی کرتاتھا۔ جس نے منزل تنگ کی یا راہ گیروں کو لوٹا اس کا جہاد نہیں۔
(۲) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِیُّ وَ یَزِیْدُ بْنُ قُبَیْسٍ، مِنْ اَھْلِ جَبْلَۃَ سَاحِلِ حِمْصٍ، وَ ھٰذَا لَفْظُ یَزِیْدَ، قَالاَ: ثَنَا الْوَلِیْدُ (بْنُ مُسْلِمٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْعَلاَئِ، اَنَّہٗ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْکَمٍ اَبَا عُبَیْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ثَنَا اَبُوْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیُّ وَ قَالَ:کَانَ النَّاسُ اِذَا نَزَلُوْا مَنْزِلاً، قَالَ عَمْرٌو:کَانَ النَّاسُ اِذَا نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْزِلاً تَفَرَّقُوْا فِی الشِّعَابِ وَالْاَوْدِیَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ تَفَرُّقَکُمْ فِیْ ھٰذِہِ الشِّعَابِ وَالْاَوْدِیَۃِ اِنَّمَا ذٰلِکُمْ مِنَ الشَّیْطَانِ، فَلَمْ یَنْزِلْ بَعْدَ ذٰلِکَ مَنْزِلاً اِلاَّ انْضَمَّ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ حَتّٰی یُقَالَ: لَوْ بُسِطَ عَلَیْھِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّھُمْ۔(٥٠)
ترجمہ: ابوثعلبہ خشنی کا بیان ہے کہ لوگ جب کسی پڑاؤ پر منزل کرتے، عمرو نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ا کسی جگہ پر اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہوجاتے۔ آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا تمہارا اس طرح گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہوجانا ایک شیطانی فعل ہے۔ اس کے بعد پھر لوگ کسی جگہ اس طرح منتشر طور پر نہ اترے۔ بلکہ اس طرح پڑاؤ ڈالتے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل جاتے کہ اگر ان پر ایک کپڑا پھیلا کر ڈال دیا جاتا تو وہ ان کو اپنے اندر لے لیتا۔
پس منظر: ایک مرتبہ جب آپؐ جہاد کو تشریف لے جارہے تھے تو آپؐ کے پاس شکایت آئی کہ فوج میں عہد جاہلیت کی سی بد نظمی پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں نے منزل کو تنگ کر رکھا ہے۔ اس پر آپؐ نے یہ منادی کرائی۔ ایک دوسرے موقع پر آپ نے فرمایا کہ ان تفرقکم فی ھذہ الشعاب والاودیۃ انما ذلکم الشیطان۔ تمہارا اس طرح وادیوں اور گھاٹیوں میں منتشر ہوجانا ایک شیطانی فعل ہے۔ (الجہاد فی الاسلام، اہل قتال کے حقوق ’’بد نظمی و انتشار کی ممانعت‘‘)

ذمیوں کی حفاظت

١٢٦-لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَاَبْنَائِ ھِمْ (وَ فِیْ حَدِیْثٍ فَیُصَالِحُوْنَکُمْ عَلٰی صُلَحٍ) فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ فَوْقَ ذٰلِکَ فَاِنَّہٗ لاَ یَصْلُحُ لَکُمْ۔ (ابو داؤد کتاب الجھاد)
’’اگر تم کسی قوم سے لڑو اور اس پر غالب آجاؤ اور وہ قوم اپنی اور اپنی اولاد کی جان بچانے کے لیے تم کو خراج دینا منظور کرلے (ایک دوسری حدیث میں ہے) کہ تم سے ایک صلح نامہ طے کرے) تو پھر تم اس مقررہ خراج سے ایک حبہ بھی زائد نہ لینا کیوں کہ وہ تمہارے لیے درست نہ ہوگا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَ سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالاَ: ثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ ھِلاَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیْفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ جُھَیْنَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا، فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ، دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَاَبْنَائِ ھِمْ۔ قَالَ سَعِیْدٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ فَیُصَالِحُوْنَکُمْ عَلٰی صُلْحٍ ثُمَّ اتَّفَقَا فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ شَیْئًا فَوْقَ ذٰلِکَ، فَاِنَّہٗ لاَ یَصْلُحُ لَکُمْ۔(٥١)
١٢٧- اَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِ انْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (ابوداؤد۔ کتاب الجھاد)
خبردار! جو شخص کسی معاہد پر ظلم کرے گا یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا یا اس سے کوئی چیز اس کی مرضی کے خلاف وصول کرے گا، اس کے خلاف قیامت کے دن میں خود مستغیث بنوں گا۔
(۲) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤُدَ الْمَھْرِیُّ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَخْرِ الْمَدِیْنِیُّ، اَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَیْمٍ اَخْبَرَہٗ عَنْ عِدَۃٍ مِنْ اَبْنَائِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، عَنْ اٰبَائِ ھِمْ دِنْیَۃً، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِ انْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(٥٢)
فقہی مباحث: ان دونوں حدیثوں کے الفاظ عام ہیں اور ان سے یہ عام حکم مستنبط ہوتا ہے کہ معاہد ذمیوں کے ساتھ صلح نامہ میں جو شرائط طے ہوجائیں ان میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ نہ ان پر ٹیکس بڑھایا جاسکتا ہے نہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جاسکتا ہے، نہ ان کی عمارتیں چھینی جاسکتی ہیں، نہ ان پر سخت فوج داری قوانین نافذ کیے جاسکتے ہیں، نہ ان کے مذہب میں دخل دیا جاسکتا ہے، نہ ان کی عزت و آبرو پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور نہ کوئی ایسا فعل کیا جاسکتا ہے جو ظلم یا انتقاص یا تکلیف مالا یطاق یا اخذ بغیر طیب نفس کی حدود میں آتا ہو۔ انہی احکام کی بنا پر فقہائے اسلام نے صلحاً فتح ہونے والی قوموں کے متعلق کسی قسم کے قوانین مقرر نہیں کیے اور صرف یہ عام قاعدہ بیان کرکے چھوڑدیا کہ ان کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل شرائط صلح کے مطابق ہوگا۔ (الجہاد فی الاسلام، ’’مفتوحین کی دو قسمیں‘‘)

غازی کا اجر

١٢٨-مَا مِنْ غَازِیَۃٍ تَغْزُوْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُصِیْبُوْنَ الْغَنِیْمَۃَ اِلاَّ تَعَجَّلُوْا ثُلُثَیْ اَجْرِھِمْ مِنَ الْاٰخِرَۃِ وَ یَبْقٰی لَھُمُ الثُّلُثُ، وَ اِنْ لَمْ یُصِیْبُوْا غَنِیْمَۃً تَمَّ لَھُمْ اَجْرُھُمْ۔
(مسلم۔ کتاب الجھاد۔(۱) نسائی باب السریۃ التی تخفق)
’’جس فوج نے اللہ کی راہ میں جنگ کی اور مال غنیمت پالیا۔ اس نے اپنے آخرت کے ثواب میں سے دو تہائی حصہ یہیں پالیا اور اس کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ گیا اور جس نے غنیمت نہ پائی تو اس کو پورا اجر ملے گا۔
(الجہاد فی الاسلام، جنگ کے مہذب قوانین ’’غنیمت کا مسئلہ‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ:اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ:نَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ، عَنْ اَبِیْ ھَانِیٍٔ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ غَازِیَۃٍ تَغْزُوْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُصِیْبُوْنَ الْغَنِیْمَۃَ اِلاَّ تَعَجَّلُوْا ثُلُثَیْ اَجْرِھِمْ مِنَ الْاٰخِرَۃِ وَ یَبْقٰی لَھُمُ الثُّلُثُ، وَ اِنْ لَّمْ یُصِیْبُوْا غَنِیْمَۃً تَمَّ لَھُمْ اَجْرُھُمْ۔(٥٣)
مسلم میں ایک اور روایت عبد اللہ بن عمرو سے مندرجہ ذیل الفاظ میں منقول ہے:
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ التَّمِیْمِیُّ قَالَ نَا ابْنُ اِلٰی مَرْیَمَ قَالَ نَافِعُ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ حَدَّثَنِیْ اَبُوْھَائِنِیْ قَالَ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ غَازِیَۃٍ اَوْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُوْ فَتَغْنَمُ وَ تَسْلَمُ اِلاَّ کَانُوْا قَدْ تَعَجَّلُوْا ثُلُثَیْ اُُجُوْرِھِمْ وَمَا مِنْ غَازِیَۃٍ اَوْ سَرِیَّۃٍ تَخْفِقُ وَ تُصَابُ اِلاَّ تَمَّ اُجُوْرَھُمْ۔(٥٤)
١٢٩- مَنْ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَمْ یَنْوِ اِلاَّ عِقَالاً فَلَہٗ مَا نَوٰی۔ (عبادۃ بن صامت)
’’جو شخص خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے گیا اور صرف ایک اونٹ باندھنے کی رسی کی بھی نیت کرلی تو بس اس کو وہ رسی ہی ملے گی ثواب کچھ نہ ملے گا۔‘‘ (مسلم کے کتاب الجہاد میں یہ روایت نہیں ہے۔ بلکہ کتاب الامارہ میں ہے۔ (مرتب) ( الجہاد فی الاسلام، مقصد جنگ کی تطہیر)
تخریج: اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ، عَنْ یَحْیَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ غَزَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَمْ یَنْوِ اِلاَّ عِقَالاً فَلَہٗ مَا نَوٰی۔
ایک دوسری روایت جوانہی سے مروی ہے میں مندرجہ ذیل الفاظ منقول ہیں:
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ غَزَا وَ ھُوَ لاَ یُرِیْدُ اِلاَّ عِقَالاً فَلَہٗ مَا نَوَیٰ۔ (٥٥)
تشریح: اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتاہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو، کسی شخص یا جماعتی غرض کے لیے نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطہ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جان دار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے پورا زور صرف کر رہاہے۔ لیکن ’’مسلمان‘‘ جس انقلابی جماعت کا نام ہے۔ اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپاؤ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کردو۔ نہ اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو۔ بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو۔
(تفہیمات حصہ اول،جہاد فی سبیل اللہ ’’فی سبیل کی لازمی قید‘‘)
١٣٠- ابو امامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا ارأیت رجلا غزا یلتمس الاجر والذکر؟ مالہ؟ ’’اس شخص کے بارے میں آپؐ کی کیا رائے ہے جو مالی فائدے اور ناموری کے لیے جنگ کرتاہے؟ ایسے شخص کو کیا ملے گا؟‘‘ آں حضرت ا نے جواب دیا لا شیء لہ۔ اس کو کچھ ثواب نہ ملے گا‘‘ سائل کے لیے یہ بات عجیب تھی، پلٹ کر پھر آیا اور پھر یہی سوال کیا، آپؐ نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ اس کا اطمینان اب بھی نہ ہوا۔ تیسری اور چوتھی مرتبہ پلٹ پلٹ کر آیا اور یہی سوال کرتا رہا۔ آخر آں حضرت انے اس کو مطمئن کرنے کے لیے فرمایا ’’ان اللّٰہ لا یقبل من العمل الا ماکان لہ خالصا وابتغی بہ وجھہ‘‘ اللہ کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اسی کی خوشنودی و رضا کے لیے نہ کیاجائے۔ (الجہاد فی الاسلام، اسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی تطہیر‘‘)
تخریج: اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ ھِلاَلِ الْحِمْصِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْیَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ اَبِیْ عَمَّارٍ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ، قَالَ:جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ: اَرَأَیْتَ رَجُلاً غَزَا یَلْتَمِسُ الْاَجْرَ وَالذِّکْرَ مَالَہٗ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ شَـْیئَ لَہٗ، فَاَعَادَھَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، یَقُوْلُ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ شَـْیئَ لَہٗ، ثُمَّ قَالَ:اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ اِلاَّ مَاکَانَ لَہٗ خَالِصًا، وَابْتُغِیَ بِہٖ وَجْھُہٗ۔(٥٦)

باغیوں کے بارے میں ضابطۂ اسلام

١٣١- حضوؐر نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے پوچھا اے ابن ام عبد جانتے ہو اس امت کے باغیوں کے بارے میںاللہ کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا ان کے زخمیوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا، ان کے اسیر کو قتل نہیں کیا جائے گا، ان کے بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا اور ان کا مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیںکیا جائے گا۔
تخریج: رَوٰی کَوْثَرُ بْنُ حَکِیْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:یَا ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ کَیْفَ حُکْمُ اللّٰہِ فِیْمَنْ بَغٰی ھٰذِہِ الْاُمَّۃَ، قَالَ:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ:لاَ یُجْھَزُ عَلٰی جَرْحِھَا، وَلاَ یُقْتَلُ اَسِیْرُھَا، وَلاَ یُطْلَبُ ھَارِبُھَا۔
المستدرک نے اس روایت کو ابن عمر سے مندرجہ ذیل متن میں نقل کیا ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ اَتَدْرِیْ مَا حُکْمُ اللّٰہِ فِیْمَنْ بَغٰی مِنْ ھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ؟ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: فَاِنَّ حُکْمَ اللّٰہِ فِیْھِمْ اَنْ لاَّ یُتَّبَعَ مُدْبِرُھُمْ، وَلاَ یُقْتَلَ اَسِیْرُھُمْ، وَلاَ یُذَفَّفَ عَلٰی جَرِیْحِھِمْ۔(۵۷)
تشریح: باغیوں سے لڑائی میں جن باتوں کو ملحوظ رکھا جائے گا وہ نبی اکے اس ارشاد پر مبنی ہے اسے حضرت عبد اللہ بن عمر کے حوالہ سے حاکم، بزار اور الجصاص نے نقل کیا ہے۔
اس ضابطہ پر عمل کی مثال حضرت علیؓ نے پیش کی۔ آپ نے جنگ جمل میں فتح یاب ہونے کے بعد اعلان کیا کہ ’’بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرو، زخمی پر حملہ نہ کرو، گرفتار ہوجانے والوں کو قتل نہ کرو، جو ہتھیار ڈال دے اس کو امان دو، لوگوں کے گھروں میں نہ گھسو، اور عورتوں پر دست درازی نہ کرو، خواہ وہ تمہیں گالیاں ہی کیوں نہ دے رہی ہوں۔‘‘ آپ کی فوج کے بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مخالفین کو اور ان کے بال بچوں کو غلام بناکر تقسیم کردیا جائے۔ اس پر غضب ناک ہوکر آپؐ نے فرمایا ’’تم میں سے کون ام المومنین عائشہؓ کو اپنے حصے میں لینا چاہتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۵، الحجرات، حاشیہ:۱۷)

قتل اسیر کی ممانعت

١٣٢- لا تجھزن علی جریح ولا یتبعن مدبر ولا یقتلن اسیر من اغلق بابہ فھو آمن۔
(فتوح البلدان ص:٤٧)
کسی مجروح پر حملہ نہ کیا جائے، کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ امان میں ہے۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ، اَنْبَأَ اَبُو الْوَلِیْدِ الفقیہ، ثنا الْحَسَنُ ابْنُ سُفْیَانَ، ثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ:اَمَرَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مُنَادِیْہِ، فَنَادٰی یَوْمَ الْبَصْرَۃِ لاَ یُتَّبَعُ مُدْبِرٌ وَلاَ یُذَفَّفُ عَلٰی جَرِیْحٍ، وَلاَ یُقْتَلُ اَسِیْرٌ، وَمَنْ اَغْلَقَ بَابَہٗ فَھُوَ اٰمِنٌ وَ مَنْ اَلْقٰی سَلاَحَہٗ، فَھُوَ اٰمِنٌ وَلَمْ یَاْخُذْ مِنْ مَّتَاعِھِمْ شَیْئًا۔ (٥٨)

باغیوں سے قتال

١٣٣- قَالَ ﷺ اَلْفِتْنَۃُ نَائِمَۃٌ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ اَیْقَظَھَا۔
نبی کریم انے فرمایا:فتنہ خوابیدہ ہے، جو اسے جگائے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ (پس جو شارع کے ارشاد کے مطابق ملعون ہے، اس کے خلاف لڑا جائے۔)
تخریج:(۱) اَلْفِتْنَۃُ نَائِمَۃٌ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ اَیْقظَھَا۔(٥٩)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُسْنَدِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا اَبُوْ رَوْحِ الْحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ، قَالَ:حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَ یُؤْتُو الزَّکوٰۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَآئَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلاَّ بِحَقِّ الْاِسْلاَمِ وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ۔(٦٠)
ترجمہ: واقد نے بیان کیا کہ میںنے اپنے والد کو ابن عمر کے حوالہ سے بیان کرتے سنا ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کہہ دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ ایسا کریں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون (جانیں) اور مال بچا لیے۔ الا یہ کہ اسلام کے حق کی وجہ سے کوئی سزا ان پر لاگو ہوتی ہو اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
تشریح: واضح ہوگیا کہ باغیوں کے ساتھ قتال واجب ہے۔ اور قتال شرعی نقطۂ نظر سے ان لوگوں کے ساتھ جائز ہوسکتا ہے جو معصوم الدم نہ ہوں۔ اس کی طرف حضوؐر کے درج ذیل ارشاد میں اشارہ کیا گیا ہے۔
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰہِ فَاِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دَمَائَ ھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ۔ الحدیث۔
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کہہ دیں۔ جب وہ ایسا کہہ دیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانیں اور مال بچالیے۔‘‘
پس جب باغیوں کے ساتھ قتال واجب ہوگیا تومعلوم ہوا کہ ان کو جان کی پوری عصمت حاصل نہیں ہے تو قتل بھی جائز ہوگا۔
مسلمان باغیوں پر اگر اسلامی حکومت غالب آجائے تو وہ تمام ان بالغ مردوں کو قتل کرکے ان کے مال لوٹ لینے کی مجاز ہے جو بغاوت کے مرتکب ہوچکے ہوں۔ قطع نظر اس سے کہ ان مسلمان باغیوں نے پہلے خود یہ شرط قبول کی ہو یا نہ کی ہو۔ مگر قتال اور قتل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ باغی لوگ ہتھیار نہ ڈالیں اور جب وہ ہتھیار ڈالیں گے تو قتل و قتال بھی بند کردیا جائے گا۔
البتہ ان کا مال بطور غنیمت تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ جنگ ختم ہونے یا ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں واپس کیا جائے گا۔ (تفہیمات حصہ سوم ،خروج کے بارے میں امام ابو حنیفہؒ کا مسلک)

میدان جنگ سے فرار کبیرہ گناہ ہے

١٣٤- ایک حدیث میں آپؐ نے سات بڑے گناہوں کا ذکرکیا ، جو انسان کے لیے تباہ کن اور اس کے انجام اخروی کے لیے غارت گر ہیں۔ ان میں سے ایک یہ گناہ بھی ہے کہ آدمی کفر و اسلام کی جنگ میں کفار کے آگے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَبِی الْغَیْثِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ:اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ، قَالُوْا:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا ھُنَّ؟ قَالَ:الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَالسِّحْرُ، وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ، وَاَکْلُ الرِّبٰوْا، وَ اَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ، وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ، وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُوْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ۔(٦١)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکا ارشاد بیان کیا کہ آپ نے فرمایا۔ سات تباہ کن ومہلک چیزوں سے بچو۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون سی کون سی ہیں ارشاد ہوا۔ اللہ کے ساتھ شرک، جادو، جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہو اسے بغیر کسی حق کے قتل کرنا، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، معرکہ کے روز میدان کارزار سے فرار، پاک دامن، اہل ایمان، سادہ لوح خواتین پر تہمت زنا لگانا۔
تشریح: دشمن کے شدید دباؤ پر مرتب پسپائی (Orderly retreat)ناجائز نہیں ہے جب کہ اس کا مقصود اپنے عقبی مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصہ سے جا ملنا ہو۔ البتہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ بھگدڑ (Rout)ہے جو کسی جنگی مقصد کے لیے نہیںبلکہ محض بزدلی و شکست خوردگی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس لیے ہوا کرتی ہے کہ بھگوڑے آدمی کو اپنے مقصد کی بہ نسبت جان زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
اس فعل کو اتنا بڑا گناہ قرار دینے کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ یہ ایک بزدلانہ فعل ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص کا بھگوڑا پن ایک پوری پلٹن کو، اورایک پلٹن کا بھگوڑا پن ایک پوری فوج کو بدحواس کرکے بھگا دیتاہے اور پھر جب ایک دفعہ کسی فوج میں بھگدڑ پڑجائے تو کہا نہیں جاسکتا کہ تباہی کس حد پر جاکر ٹھہرے گی۔ اسی طرح کی بھگدڑ صرف فوج ہی کے لیے تباہ کن نہیں ہے بلکہ اس ملک کے لیے بھی تباہ کن ہے جس کی فوج ایسی شکست کھائے۔
(تفہیم القرآن ،ج۲، الانفال، حاشیہ:۱۳)

دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو

١٣٥-لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَاسْئَلُوْا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوْفِ۔
’’دشمن سے مقابلہ کی تمنا مت کرو۔ بلکہ اللہ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو۔ مگر جب دشمن سے مقابلہ ہوجائے، تو پھر جم کر لڑو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ (الجہاد فی الاسلام، اسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی تطہیر‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا اِسْحَاقُ، عَنْ مُوْسٰی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ سَالِمٍ اَبِی النَّضْرِ مَوْلٰی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، وَکَانَ کَاتِبٌ لَہٗ۔ قَالَ:کَتَبَ اِلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ اَوْفٰی، فَقَرَأْتُہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ بَعْضِ اَیَّامِہِ الَّتِیْ لَقِیَ فِیْھَا انْتَظَرَ حَتّٰی مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ، فَقَالَ:اَیُّھَا النَّاسُ! لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَآئَ الْعَدُوِّ وَسْئَلُوْا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ، فَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوْفِ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَ مُجْرِیَ السَّحَابِ وَ ھَازِمَ الْاَحْزَابِ اُھْزِمْھُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْھِمْ۔(٦٢)
ترجمہ: عمرو بن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام ابو النضر سے مروی ہے۔ یہ ان کے کاتب بھی تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابو اوفیٰ نے انہیں ایک خط تحریر کیا۔ جسے میں نے خود پڑھا تھا کہ رسول اللہ ا ایک مرتبہ جہاد کے دوران میں سورج زوال پذیر ہونے (سورج کے ڈھل جانے) کا انتظار کرتے رہے۔ آفتاب کے ڈھل جانے کے بعد آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور خطاب میں فرمایا۔ لوگو! دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو۔ مگر جب دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر جم کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ پھر فرمایا اے اللہ کتاب نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے لشکر دشمنان کے گروہوں کو شکست دینے والے ان کافروں کو ہزیمت و شکست سے دو چار فرما اور ہمیں ان پر فتح عطا فرما۔

مجاہدین کے اہل و عیال سے جرم خیانت کی سزا

١٣٦- مسلم اور ابو داؤد نے حضرت بریدہؓ سے نقل کیا ہے کہ حضوؐر نے فرمایا ’’کسی مجاہد کے پیچھے اگر کسی شخص نے اس کی بیوی اور اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خیانت کی تو قیامت کے روز وہ اس مجاہد کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا کہ اس کی نیکیوں میں سے جو کچھ تو چاہے لے لے‘‘ پھر حضوؐر نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا ’’پھر تمہارا کیا خیال؟‘‘ یعنی تم کیا اندازہ کرتے ہو کہ وہ اس کے پاس کیا چھوڑ دے گا؟‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ:حَدَّثَنَا قَعْنَبٌ کُوْفِیٌّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ:حُرْمَۃُ نِسَآئِ الْمُجَاھِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ فِی الْحُرْمَۃِ کَاُمَّھَاتِھِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِیْنَ یَخْلُفُ رَجُلاً مِنَ الْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ اَھْلِہٖ اِلاَّ نُصِبَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُقَالُ:یَا فُلاَنُ! ھٰذَا فُلاَنٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِہٖ مَاشِئْتَ، ثُمَّ الْتَفَتَ النَّبِیُّ ﷺ اِلٰی اَصْحَابِہٖ، فَقَالَ: مَا ظَنُّکُمْ تَرَوْنَ یَدَعُ لَہٗ مِنْ حَسَنَاتِہٖ شَیْئًا۔(٦٣)
تشریح: گویا کہ قیامت کے روز اہل جنت اہل دوزخ کا وہ حصہ مار لے جائیں گے جو اُن کو جنت میں ملتا اگر وہ جنتیوں کے سے کام کرکے آئے ہوتے اور اہل دوزخ جنتیوں کا وہ حصہ لوٹ لیں گے جو انہیں دوزخ میں ملتا۔ اگر انہوں نے دوزخیوں کے سے کام کیے ہوتے۔
یا یہ کہ اس روز ظالم کی اتنی نیکیاں مظلوم لوٹ لے جائے گا جو اس کے ظلم کا بدلہ ہوسکیں، یا مظلوم کے اتنے گناہ ظالم پر ڈال دیے جائیں گے جو اس کے حق کے برابر وزن رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ قیامت کے روز آدمی کے پاس کوئی مال و زر تو ہوگا نہیں کہ وہ مظلوم کا حق ادا کرنے کے لیے کوئی ہرجانہ یا تاوان دے سکے۔ وہاں تو بس آدمی کے اعمال ہی ایک زر مبادلہ ہوںگے لہٰذا جس شخص نے دنیامیں کسی پر ظلم کیاہو وہ مظلوم کا حق اسی طرح ادا کرسکے گاکہ اپنے پلے میں جو کچھ بھی نیکیاں رکھتا ہو ان میں سے اس کا تاوان ادا کرے، یا مظلوم کے گناہوں میں سے کچھ اپنے اوپر لے کر اس کا جرمانہ بھگتے۔
(تفہیم القرآن، ج۵، تغابن، حاشیہ:۲۰)
١٣٧-حُرْمَۃُ نِسَآئِ الْمُجَاھِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ کَحُرْمَۃِ اُمَّھَاتِکُمْ۔ مَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِیْنَ یَخْلُفُ رَجُلاً مِنَ الْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ اَھْلِہٖ، فَیَخُوْنُہٗ فِیْھِمْ اِلاَّ وُقِفَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَیَاْخُذُ مِنْ عَمَلِہٖ مَایَشَآئُ، فَمَا ظَنُّکُمْ۔
مجاہدین کی بیویاں پیچھے رہنے والے مردوں کے لیے ویسی ہی حرام کی گئی ہیں جیسی خود ان کی مائیں ان پر حرام ہیں۔ پیچھے رہ جانے والے مردوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے بال بچوں میں اس کا جانشین ہو اور پھر وہ ان کے معاملہ میں اس کے ساتھ کسی قسم کی خیانت کرے وہ قیامت کے روز کھڑا کیا جائے گا اور اس مجاہد کو حق دیا جائے گا کہ اس شخص کے عمل میں سے جوکچھ چاہے لے لے۔ پھر تمہارا کیا گمان ہے کہ وہ اس کے پاس کچھ چھوڑدے گا۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا وَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: حُرْمَۃُ نِسَآئِ الْمُجَاھِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ کَحُرْمَۃِ اُمَّھَاتِھِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِیْنَ یَخْلُفُ رَجُلاً مِنَ الْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ اَھْلِہٖ، فَیَخُوْنُہٗ فِیْھِمْ اِلاَّ وُقِفَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیَاْخُذُ مِنْ عَمَلِہٖ مَاشَآئَ، فَمَا ظَنُّکُمْ۔(٦٤)
تشریح: احادیث و آثار کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ انسانی کم زوریوں کا لحاظ کرتے ہوئے یہ دیکھنا اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے کہ اس کے سپاہی زیادہ مدت تک اپنی عورتوں سے علیحدہ رہ کر، اور ان کی عورتیں زیادہ دیر تک اپنے مردوں سے جدا رہ کر کہیں بد اخلاقیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ یہی غرض تھی جس کی خاطر نبی انے فرمایا کہ ’’مجاہدین کی بیویاں پیچھے رہ جانے والے مردوں کے لیے ویسی ہی حرام کی گئی ہیںجیسی خود ان کی مائیں ان پرحرام ہیں۔‘‘
یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے مدینے کے دو خوب صورت نوجوانوں کو صرف اس لیے شہر سے منتقل کردیاکہ آپ نے بعض عورتوں کی زبان سے ان کے حسن کی تعریف سن لی تھی اور آپ کو اندیشہ ہوگیا تھا کہ کہیں یہ چیز ان عورتوں کے حق میں فتنہ نہ بن جائے جن کے شوہر جہاد پر گئے ہوئے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓنے اعلان کردیا تھا کہ جو شخص کسی عورت سے تشبیب(یعنی اپنے اشعار میں اس سے اظہار عشق کرے گا۔ (از مؤلف) کرے گا۔ اس کو درے لگائے جائیں گے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے جب ایک مرتبہ ایک مجاہد کی بیوی کو اپنے شوہر کے فراق میں مشتاقانہ اشعار گاتے ہوئے سنا تو آکر پہلا حکم جو آپ نے جاری کیا وہ یہ تھا کہ آئندہ سے سپاہیوں کو اتنی طویل مدت تک ان کی بیویوں سے جدا نہ رکھا جائے جس سے ان کے کسی بد اخلاقی میںملوث ہوجانے کا احتمال ہو۔ بالفاظ دیگر فوج میں رخصت (Furlough)کا طریقہ اسلامی حکومت میںجاری ہی اس غرض کے لیے کیا گیا تھا کہ حکومت اپنے سپاہیوں اور ان کی عورتوں کے اخلاق کی حفاظت کرنا چاہتی تھی۔
(کنزالعمال ج۱۶ ، حدیث نمبر ۴۵۹۲۴۔ رسائل و مسائل حصہ ص: ۲۶۷-۲۶۸) (مرتب)

مجوس سے جزیہ

١٣٨-نبی انے مجوسیوں کواہل کتاب قرار نہیں دیا، حالاں کہ وہ زردشت کو مانتے ہیں جس پر نبی ہونے کا شبہ کیا جاسکتا ہے۔ ہجر کے مجوسیوں سے جب معاملہ پیش آیا تو حضورا نے فرمایا کہ سنوابھم سنۃ اھل الکتاب ’’ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کرو۔‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ وہ اہل کتاب ہیں۔ پھر جو نامۂ مبارک آپؐ نے مجوس ہجر کو لکھا تھا اس میں صراحت کے ساتھ یہ تحریر فرما دیا تھا کہ:
فَاِنْ اَسْلَمْتُمْ فَلَکُمْ مَالَنَا وَ عَلَیْکُمْ مَا عَلَیْنَا وَ مَنْ اَبٰی فَعَلَیْہِ الْجِزْیَۃُ غَیْرَ اَکْلِ ذَبَائِحِھِمْ وَلاَ نِکَاحَ نِسَآئِ ھِمْ۔
’’اگر تم اسلام قبول کروگے تو تمہارے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیںاور تم پر وہی واجبات ہوں گے جو ہم پر ہیں اور جو لوگ تم میں سے انکارکریں گے ان پر جزیہ عائد کردیا جائے گا۔ مگر نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے گا اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔ (تفہیمات حصہ دوم، نکاح کتابیہ ’’صحیح مسلک‘‘)
نبی انے مجوس سے جزیہ لے کر انہیں ذمی بنایا (اور اس کے بعد صحابۂ کرامؓ نے بالاتفاق بیرون عرب کی تمام قوموں پر اس کو عام کردیا)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًوا، قَالَ:کُنْتُ جَالِسًا مَعَ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ وَ عَمْرِو بْنِ اَوْسٍ، فَحَدَّثَھُمَا بَجَالَۃُ سَنَۃَ سَبْعِیْنَ عَامٍ حَجَّ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَیْرِ بِاَھْلِ الْبَصَرَۃِ عِنْدَ دَرْجِ زَمْزَمَ، قَالَ:کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَمَّ الْاَحْنَفِ فَاَتَانَا کِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِہٖ بِسَنَۃٍ فَرِّقُوْا بَیْنَ کُلِّ ذِیْ مُحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوْسِ وَلَمْ یَکُنْ عُمَرُ اَخَذَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَھِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَخَذَھَا مِنْ مَّجُوْسِ ھَجَرَ۔(٦٥)
ترجمہ: علی بن عبد اللہ سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے عمرو سے سناانہوں نے بیان کیا کہ میں جابر بن زید اور عمرو بن اوس کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بجالہ نے ان دونوں سے چاہ زمزم کی سیڑھیوں کے پاس ۷۰ ھ میں جس سال مصعب بن زبیر نے اہل بصرہ کے ساتھ حج کیا تھا، یہ بیان کیا کہ میں احنف کے بھتیجے جزء بن معاویہ کے پاس منشی کی حیثیت سے کام پر مامور تھا کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطابؓ کا نامہ مبارک ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا تھا (جس میں تحریر تھا) کہ مجوسیوں کے ہر ذی رحم محرم کے درمیان جدائی کرادو۔ اس وقت عمر فاروقؓ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا۔ عبد الرحمن بن عوف نے اس امر کی گواہی دی کہ رسول اللہ انے مقام ہجر کے مجوسیوں (پارسیوں) سے جزیہ وصول کیا ہے۔
مؤطا میں:
(۲) بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَخَذَ الْجِزْیَۃَ مِنْ مَجُوْسِ الْبَحْرَیْنِ، وَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ فَارِسَ وَ اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ اَخَذَھَا مِنَ الْبَرْبَرِ۔(٦٦)
ترجمہ: مؤطا میںامام مالک سے منقول ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ انے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ہے اور عمر بن خطاب نے فارس کے مجوسیوں سے اور عثمان بن عفان نے بربر سے جزیہ وصول کیاہے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْکِیْنِ الْیَمَامِیُّ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ حَسَّانٍ، ثَنَا ھُشَیْمٌ اَخْبَرَنَا دَاؤُدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدٍ، عَنْ قُشَیْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَۃَ بْنِ عَبْدَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَآئَ رَجُلٌ مِنَ الْاَسْبَذِیِّیْنَ مِنْ اَھْلِ الْبَحْرَیْنِ، وَ ھُمْ مَجُوْسُ اَھْلِ ھَجَرَ، اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَمَکَثَ عِنْدَہٗ ثُمَّ خَرَجَ فَسَأْلْتُہٗ، مَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ فِیْکُمْ؟ قَالَ:شَرٌّ، قُلْتُ: مَہْ؟ قَالَ:الْاِسْلاَمُ اَوِ الْقَتْلُ، قَالَ: وَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: قَبِلَ مِنْھُمُ الْجِزْیَۃَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَ تَرَکُوْا مَا سَمِعْتُ اَنَا مِنَ الْاَسْبَذِیِّ۔(٦٧)
ترجمہ: ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ بحرین کے باشندوں میں سے اسبذیین کا ایک آدمی یعنی ہجر کے رہنے والے مجوسیوں میں سے، رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تھوڑی دیر آپ کے پاس ٹھہرا اور پھر باہر نکلا تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ اللہ اور رسول نے کیا فیصلہ فرمایا۔ اس نے جواب میں کہا برا فیصلہ کیاہے۔ میں نے کہا خاموش، (ایسی بات منہ سے نکالتاہے) وہ بولا۔ فیصلہ یہ کیا ہے کہ اسلام لاؤ ورنہ قتل۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ عبد الرحمن بن عوف نے کہا رسول اللہ انے ان سے جزیہ قبول کیا ہے تو لوگوں نے عبد الرحمن بن عوف کے قول کو لیا اور میں نے جو اسبذی سے سنا تھا اسے چھوڑدیا۔
تشریح: لڑائی کی غرض و غایت یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور دین حق کے پیرو بن جائیں، بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ ان کی خود مختاری و بالا دستی ختم ہوجائے۔ وہ زمین میں حاکم اور صاحب امر بن کر نہ رہیں بلکہ زمین کے نظام زندگی کی باگیں اور فرماں روائی و امامت کے اختیارات متبعین دین حق کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ ان کے ماتحت تابع و مطیع بن کر رہیں۔
جزیہ بدل ہے اس امان اور اس حفاظت کا جو ذمیوں کو اسلامی حکومت میں عطا کی جائے گی۔ نیز وہ علامت ہے اس امر کی کہ یہ لوگ تابع امر بننے پر راضی ہیں۔ ’’ہاتھ سے جزیہ دینے‘‘ کا مفہوم سیدھی طرح مطیعانہ شان کے ساتھ جزیہ ادا کرنا ہے اور چھوٹے بن کر رہنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں بڑے وہ نہ ہوں بلکہ وہ اہل ایمان بڑے ہوں جو خلافت الٰہی کا فرض انجام دے رہے ہوں۔
یہ جزیہ وہ چیز ہے جس کے لیے بڑی بڑی معذرتیں انیسویں صدی عیسوی کے دور مذلت میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں اورا س دور کی یادگار کچھ لوگ اب بھی موجود ہیں جو صفائی دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن خدا کا دین اس سے بہت بالا و برتر ہے کہ اسے خدا کے باغیوں کے سامنے معذرت پیش کرنے کی کوئی حاجت ہو۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے دین کو اختیار نہیں کرتے اور اپنی یا دوسروں کی نکالی ہوئی غلط راہوں پر چلتے ہیں وہ حد سے حد بس اتنی ہی آزادی کے مستحق ہیں کہ خود جو غلطی کرنا چاہتے ہیں کریں، لیکن انہیں اس کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ اقتدار و فرماں روائی کی باگیں ان کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کا نظام اپنی گم راہیوں کے مطابق قائم کریں اور چلائیں۔ یہ چیز جہاںکہیں ان کو حاصل ہوگی، فساد رونما ہوگا اور اہل ایمان کا فرض ہوگا کہ ان کو اس سے بے دخل کرنے اور انہیں نظام صالح کا مطیع بنانے کی کوشش کریں۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ جزیہ آخر کس چیز کی قیمت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس آزادی کی قیمت ہے جو انہیں اسلامی اقتدار کے تحت اپنی گم راہیوں پر قائم رہنے کے لیے دی جاتی ہے۔ اور اس قیمت کو اس صالح نظام حکومت کے نظم و نسق پر صرف ہونا چاہیے جو انہیں اس آزادی کے استعمال کی اجازت دیتا ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرتاہے اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جزیہ ادا کرتے وقت ہر سال ذمیوں میں یہ احساس تازہ ہوتا رہے گا کہ خدا کی راہ میں زکوۃ دینے کے شرف سے محرومی اور اس کے بجائے گم راہیوں پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا کتنی بڑی بد قسمتی ہے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۲، التوبہ، حاشیہ:۲۸)

شہید کی تمنا و خواہش

١٣٩- (مسند احمد میں نبی اکی ایک حدیث مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ) جو شخص نیک عمل لے کر دنیا سے جاتا ہے اسے اللہ کے ہاں اس قدر پر لطف اور پر کیف زندگی میسر آتی ہے جس کے بعد وہ کبھی دنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتا۔ مگر شہید اس سے مستثنیٰ ہے وہ تمنا کرتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجا جائے اور پھر اس لذت، اس سرور اس نشے سے لطف اندوز ہو جو راہ خدا میں جان دیتے وقت حاصل ہوتاہے۔ (تفہیم القرآن، ج۱، آل عمران، حاشیہ:۱۲۱)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثَنَا حَمَّادٌ، ثَنَا ثَابِتٌ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ نَّفْسٍ تَمُوْتُ، لَھَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ یَسُرُّھَا اَنْ تَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا اِلاَّ الشَّھِیْدُ، فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی مِمَّا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ۔(٦٨)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا جس نفس کے لیے اللہ کے پاس کچھ خیرو بھلائی ہے وہ مرنے کے بعد نہیں چاہتا کہ وہ پھر دنیا کی طرف لوٹ جائے۔ مگر شہید یہ تمنا و خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس لوٹ جائے اور ایک مرتبہ پھر راہ خدا میں قتل کیاجائے۔ وہ تمنا اس لیے کرے گا کہ فی سبیل اللہ شہادت کی فضیلت کو خود ملاحظہ کرچکاہوگا۔
مسلم نے اس روایت کے مندرجہ ذیل الفاظ روایت کیے ہیں:
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ نَا اَبُوْ خَالِدِ الْاَحْمَرِ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ وَ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ نَّفْسٍ تَمُوْتُ لَھَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ یَسُرُّھَا اِنَّھَا تَرْجِعُ اِلَی الدُّنْیَا وَلاَاَنَّ لَھَا الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلاَّ الشَّھِیْدُ یَتَمَنّٰی اَنْ یَّرْجِعَ، فَیُقْتَلُ فِی الدُّنْیَا لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ۔(٦٩)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکا ارشاد بیان کیا کہ کوئی نفس جس کے لیے اللہ کے پاس بھلائی ہے مرنے کے بعد یہ نہیں چاہے گا کہ اسے دنیا میں دوبارہ واپس بھیج دیا جائے خواہ دنیا میں اس کے لیے دنیا و مافیہا کی چیزیں ہی کیوں نہ ملنے کی توقع ہو۔ ماسوائے شہید کے کہ وہ یہ تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس لوٹ جائے اور دنیا میں جاکر پھر فی سبیل اللہ قتل کیا جائے۔ یہ خواہش اس کی اس وجہ سے ہوگی کہ وہ خود شہادت کی فضیلت ملاحظہ کرچکا ہوگا۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ، عَنْ حُمَیْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ یَمُوْتُ، لَہٗ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا، وَ اَنَّ لَہُ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلاَّ الشَّھِیْدُ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی۔(٧٠)
ترجمہ: حمید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ میں نے انس بن مالک سے سنا انہوں نے نبی اکا ارشاد بیان کیا کہ جس بندہ کے لیے اللہ کے پاس کچھ خیرو بھلائی ہے وہ مرنے کے بعد یہ نہیں چاہتا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیا و مافیہا کی ہر چیز دے دی جائے سوائے شہید کے، اس وجہ سے کہ وہ شہادت کی فضیلت کو خود ملاحظہ کرچکا ہے۔ یہ شہید اس کو پسند کرے گا کہ وہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور دوبارہ راہ خدا میں جام شہادت نوش کرے۔
(۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا غُنْدَرٌ، ثَنَا شُعْبَۃُ، سَمِعْتُ قَتَادَۃَ، سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: مَا اَحَدٌ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا، وَلَہٗ مَا عَلَی الْاَرْضِ مِنْ شَـْیئٍ اِلاَّ الشَّھِیْدُ یَتَمَنّٰی اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ۔(٧١)
ترجمہ: قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے انس بن مالک سے سنا انہوں نے نبی اسے۔ آپؐ نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ یہ خواہش نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے خواہ دنیا میں اسے دنیا بھر کی چیزیں ہی کیوں نہ ملیں۔ بجز شہید کے کہ وہ یہ تمنا و خواہش کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹایا جاتا رہے کہ ہر مرتبہ راہ خدا میں قتل کیا جاتا رہے یہ تمنا وہ اس وجہ سے کرے گا کہ وہ فی سبیل اللہ قتل کی فضیلت کو خود ملاحظہ و مشاہدہ کرچکا ہوگا۔

عدالت الٰہی میں شہید کی پیشی

١٤٠-اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ یُقْضٰی لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَیْہِ رَجُلٌ اُسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہٗ نِعَمَہٗ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ قَالَ قَاتَلْتُ فِیْکَ حَتّٰی اسْتَشْھَدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰـکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِیُقَالَ فُلاَنٌ جَرِیٌٔ فَقَدْ قِیْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ۔
(عن ابی ھریرۃ)
’’قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے آدمیوں کا فیصلہ کیا جائے گا، پہلے وہ شخص لایا جائے گا جو لڑکر شہید ہوا تھا۔ خدا اس کو اپنی نعمتیں جتائے گا اور جب وہ ان کا اقرار کرے گا تو پھر خدا پوچھے گا کہ تونے میرے لیے کیاکیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے تیرے لیے جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ اس پر خدا فرمائے گا کہ تونے جھوٹ بولا، تو تو اس لیے لڑا تھا کہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص بڑا جری ہے۔ سو تیرا یہ مقصد پورا ہوگیا۔ پھر خدا اس کے لیے عذاب کا حکم دے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، اسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی تطہیر‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ حَبِیْبِ نِالْحَارِثِیُّ، قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: نَا ابْنُ جُرَیْحٍ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ یُوْسُفَ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، فَقَالَ لَہٗ نَاتِلٌ: اَھْلُ الشَّامِ اَیُّھَا الشَّیْخُ حَدِّثْنِیْ حَدِیْثًا سَمِعْتَہٗ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ یُقْضٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَیْہِ رَجُلٌ اُسْتُشْھِدَ، فَاُتِیَ بِہٖ، فَعَرَّفَہٗ نِعَمَہٗ، فَعَرَفَھَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِیْکَ حَتّٰی اسْتَشْھَدْتُّ قَالَ:کَذَبْتَ، وَلٰـکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِاَنْ یُّقَالَ جَرِیٌٔ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ، فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ، وَ رَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَ عَلَّمَہٗ وَقَرَأَ الْقُرْاٰنَ، فَاُتِیَ بِہٖ، فَعَرَّفَہٗ نِعَمَہٗ، فَعَرَفَھَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَ عَلَّمْتُہٗ، وَ قَرَأتُ فِیْکَ الْقُرْاٰنَ، قَالَ:کَذَبْتَ، وَلٰـکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِیُقَالَ عَالِمٌ وَ قَرَأتَ الْقُرْاٰنَ لِیُقَالَ ھُوَ قَارِیٌٔ، فَقَدْ قِیْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ، وَ رَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہٖ، فَاُتِیَ بِہٖ، فَعَرَّفَہٗ نِعَمَہٗ، فَعَرَفَھَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِیْھَا، قَالَ:مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِیْلٍ تُحِبُّ اَنْ یُّنْفَقَ فِیْھَا اِلاَّ اَنْفَقْتُ فِیْھَا لَکَ۔ قَالَ:کَذَبْتَ، وَلٰـکِنَّکَ فَعَلْتَ لِیُقَالَ ھُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارٍ۔(٧٢)
ترجمہ: سلیمان بن یسار سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ لوگ حضرت ابوہریرہ کے پاس سے جدا ہوگئے تو ناتل نے ابو ہریرہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں کوئی حدیث رسول سنائیں جو (ناتل شام کا باشندہ تھا۔ خود یہ تابعی تھا اس کا باپ صحابی تھا) انہوں نے رسول اللہا سے سماعت فرمائی ہو۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا ہاں، میں نے رسول اللہ اکو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ لوگوں میں سے سب سے پہلا شخص جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایسا شخص ہوگا جو شہید ہوا ہوگا۔ اسے پیش کیا جائے گا اور اسے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ شخص ان نعمتوں کو پہچان لے گا اور اعتراف کرے گا (کہ یہ انعامات تیرے مجھ پر تھے) پھر اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا ان نعمتوں کی موجودگی میں تونے کیا عمل کیا۔ وہ جواب میں عرض کرے گا کہ میں تیری راہ میں ایسا لڑا کہ شہید ہوگیا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تونے جھوٹ بولا تو محض اس لیے لڑا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے چناں چہ تجھے دنیا میں بہادر کہا گیا۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر اسے آتش جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر اس شخص کا فیصلہ ہوگا جس نے پہلے خود دین کا علم حاصل کیا ہوگا پھر اس کی تعلیم دی ہوگی اور قرآن پڑھا ہوگا۔ اسے عدالت الٰہی میں پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کے اعتراف کے لیے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا جسے وہ اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ تونے ان نعمتوں کی موجودگی میں کیا عمل کیا؟ وہ جواب میں عرض کرے گا کہ میںنے پہلے خود علم دین سیکھا پھر اس کی تعلیم دی اور تیری رضا کے لیے قرآن خوانی کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تونے جھوٹ بولا۔ تونے تو علم دین اس غرض کے لیے سیکھا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے چناں چہ عالم اور قاری تجھے دنیا میں کہا جاتا رہا۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم رسید کردیا جائے۔ چناں چہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایسا شخص عدالت کے رو برو پیش کیا جائے گا جسے اللہ نے ہر قسم اور ہر طرح کے مال سے نوازا ہوگا اسے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں اور انعامات یاد دلاکر اعتراف کرائے گا۔ وہ ان کا اعتراف کرے گا تو اللہ دریافت فرمائے گا پھر تونے ان کی موجودگی میں کیا عمل کیا ہے؟ وہ جواب دے گا میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو وہاں خرچ نہ کیا۔ اللہ فرمائے گا تونے جھوٹ کہا۔ تونے تو اس لیے خرچ کیا کہ تجھے سخی کہا جائے۔ چناں چہ سخی تجھے کہا گیا۔ پھر حکم ہوگا کہ اوندھے منہ گھسیٹ کر اسے بھی جہنم میں ڈال دیا جائے۔ چناں چہ اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
سوال: ’’کیا شہید کے کبیرہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں؟ اگر کوئی آدمی پورے خلوص سے جہاد میں شریک ہو مگر شہید نہ ہو بلکہ غازی کا درجہ حاصل کرے اس کے گناہ کہاں تک معاف ہوں گے؟‘‘
جواب: ان معاملات میں ہم اتنا جانتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے اس کی مغفرت ہوتی ہے اور اسے اجر ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قرب کا درجہ عطا فرماتا ہے۔ مگر بعض چیزیں مثلاً قرض معاف نہیں ہوتا۔ غازی کو اجر عظیم ملتا ہے مگر یہ کوئی گارنٹی نہیں کہ اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ گناہ معاف کرنا اللہ کے سوا کسی کا کام نہیں۔ یغفر لمن یشاء و یعذب من یشائاس امید پر گناہ نہیں کرنے چاہیے کہ فلاں خدمت انجام دینے سے یہ گناہ معاف ہوجائیں گے اور نہ مایوس ہونا چاہیے کہ خواہ کیسا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، گناہ معاف نہیں ہوسکیں گے۔ مومن کو بین الخوف والرجاء ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے اور اس سے امیدیں بھی رکھنی چاہیے۔ (۵، اے ذیلدار پاک حصہ دوم، ص:۷۶)

مقتول کی آخرت میں داد رسی

١٤١- یَجِئْیُ الرَّجُلُ آخِذًا بِیَدِ رَجُلٍ فَیَقُوْلُ یَا رَبِّ! ھٰذَا قَتَلَنِیْ۔ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ لَہٗ لِمَ قَتَلْتَہٗ؟ فَیَقُوْلُ قَتَلْتُہٗ لِتَکُوْنَ الْعِزَّۃُ لَکَ۔ فَیَقُوْلُ فَاِنَّھَا لِیْ۔ وَ یَجِیئُ الرَّجُلُ آخِذًا بِیَدِ رَجُلٍ فَیَقُوْلُ اِنَّ ھٰذَا قَتَلَنِیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ لِمَ قَتَلْتَہٗ؟ فَیَقُوْلُ لِتَکُوْنَ الْعِزَّۃُ لِفُلاَنٍ فَیَقُوْلُ اِنَّھَا لَیْسَتْ لِفُلاَنٍ فَیَبُوْئُ بِاثْمِہٖ۔ (عن عبد اللّٰہ بن مسعود)
’’قیامت کے دن ایک شخص دوسرے شخص کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے رب اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا کہ تونے اس کو کیوں قتل کیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا کہ عزت تیرے لیے ہو اس پر خدا فرمائے گا کہ ہاں عزت میرے ہی لیے ہے پھر ایک دوسرا شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا اور عرض کرے گا کہ اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تونے اسے کیوں قتل کیا؟ وہ کہے گا کہ میںنے اس لیے قتل کیا کہ عزت فلاں کے لیے ہو۔ اس پر اللہ کہے گا کہ عزت اس کا حق تو نہ تھی۔ پھر وہ اس کے گناہ میں پکڑا جائے گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیْلَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: یَجِئْیُ الرَّجُلُ آخِذًا بِیَدِ الرَّجُلِ فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ ھٰذَا قَتَلَنِیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ لَہٗ: لِمَ قَتَلْتَہٗ فَیَقُوْلُ: قَتَلْتُہٗ لِتَکُوْنَ الْعِزَّۃُ لَکَ فَیَقُوْلُ: فَاِنَّھَا لِیْ، وَ یَجِیُ الرَّجُلُ آخِذًا بِیَدِ الرَّجُلِ، فَیَقُوْلُ:اِنَّ ھٰذَا قَتَلَنِیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ لَہٗ: لِمَ قَتَلْتَہٗ فَیَقُوْلُ: لِتَکُوْنَ الْعِزَّۃُ لِفُلاَنٍ فَیَقُوْلُ: اِنَّھَا لَیْسَتْ لِفُلاَنٍ فَیَبُوْئُ بِاثْمِہٖ۔(٧٣)
تشریح: یہ تعلیم جنگ کو ہر قسم کے دنیوی مقاصد سے پاک کردیتی ہے شہرت و ناموری کی طلب، عزت و فرماں روائی کی خواہش، مال و دولت اور حصول غنائم کی طمع، شخصی و قومی عداوت کا انتقام، غرض کوئی دنیوی غرض ایسی نہیں ہے۔ جس کے لیے جنگ جائز رکھی گئی ہو۔ ان چیزوں کو الگ کردینے کے بعد جنگ محض ایک خشک و بے مزہ اخلاقی و دینی فرض رہ جاتی ہے۔ جس کے مہلک و خطرات میں مبتلا ہونے کی از خود خواہش تو کوئی کر ہی نہیں سکتا، اور اگر دوسرے کی طرف سے فتنے کی ابتدا ہو تب بھی صرف اس وقت مقابلہ کے لیے تلوار اٹھا سکتا ہے جب کہ اصلاح حال اور دفع ضرر کے لیے تلوار کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ باقی نہ رہے۔ (الجہاد فی الاسلام،اسلام کی اصلاحات ’’مقصد جنگ کی تطہیر‘‘)

ماخذ

(۱) ابو داؤدج۳۔ کتاب الجھاد، باب فی الغزو مع ائمۃ الجور۔٭ السنن الکبرٰی ج۹۔ کتاب السیر باب الغزو مع ائمۃ الجور عن انس بن مالک۔٭ مشکوٰۃ کتاب الکبائر و علامات النفاق عن انس۔٭ سنن سعید بن منصور حدیث نمبر ۲۳۶۷۔٭ نصب الرایہ ج۳ ص ۳۷۷۔٭ کنز العمال حدیث نمبر ۴۳۲۲۶۔
(۲) تاریخ بغداد، ازخطیب بغدادی ج۱۳۔ نمبر:۷۳۴۵۔ واصل بن حمزہ۔٭ تفسیر روح المعانی ج۶، سورۃ الحج و فی اسنادہ ضعف مغتفر فی مثلہ۔٭ کنز العمال ج۴۔ کتاب الجھاد۔ الجھاد الاکبر نیز ج۴ میں بھی خطیب بغدادی کے حوالہ سے مذکور ہے۔٭ الموضوعات الکبرٰی از ملا علی القاری ص:۲۰۷۔ حدیث نمبر ۲۱۱۔ قلت: ذکر الحدیث فی الاحیاء، و نسبہ العراقی الی البیھقی من حدیث جابر۔ و قال: ھٰذا اسناد فیہ ضعف۔ (الموضوعات الکبرٰی ص۲۰۶)۔٭ الدر المنثور للسیوطی۔ص۹۰٭ المغنی عن حمل الاسفار للعراقی ج۳۔ ٭ الاسرار المرفوعہ ص ۲۰۷۔ لعلی القاری۔
(۳) بخاری ج۱۔ کتاب الجھاد، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا۔٭ بخاری ج۱۔ کتاب الجھاد، باب من قاتل للمغنم ھل ینقص من اجرہ۔٭ مسلم ج۲۔ کتاب الامارۃ، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا فھو فی سبیل اللّٰہ۔ عن ابی موسٰی اشعری۔٭ ابوداؤد ج۳۔ کتاب الجھاد، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا۔ ٭ابوداؤد میں ھی العلیا کی جگہ ھی اعلٰی منقول ہے۔ ابوداؤد میں و یقاتل لیحمد بھی منقول ہے۔٭ نسائی ج۶۔ کتاب الجھاد، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا۔ عن ابی موسی الاشعری۔ نسائی نے مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں۔
فقال: الرجل یقاتل لیذکر و یقاتل لیغنم و یقاتل لیری مکانہ فمن فی سبیل اللّٰہ، قال: من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا فھو فی سبیل اللّٰہ عزوجل۔ السنن الکبرٰی بیھقی ج۹۔ کتاب السیر، باب بیان النیۃ التی یقاتل علیھا لیکون فی سبیل اللّٰہ عزوجل۔ عن ابی موسٰی الاشعری۔
(۴) بخاری ج۱۔ کتاب العلم، باب من سأل و ھو قائم عالمًا جالسًا۔٭ مسلم ج۲۔ کتاب الامارہ، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا فھو فی سبیل اللّٰہ۔
(۵) مسلم ج۲۔ کتاب الامارۃ، باب من قاتل لتکون کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا فھو سبیل اللّٰہ۔٭ بخاری ج۲۔ کتاب التوحید، باب قولہ و لقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین۔ عن ابی موسٰی لاشعری۔٭ ابن ماجہ ج۲ کتاب الجھاد، باب ۱۳ النیۃ فی القتال۔ عن ابی موسی الاشعری۔٭ ترمذی ج۱۔ ابواب فضائل الجھاد، باب ماجاء من یقاتل ریاء و للدنیا۔ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔٭ مسند احمد ج۴ ص ۳۹۷۔ ابو موسٰی الاشعری۔٭ تفسیر ابن کثیر ج۲۔ سورۃ التوبۃ۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج۹۔ کتاب السیر باب بیان النیۃ التی یقاتل علیھا لیکون فی سبیل اللّٰہ عزوجل۔
(۶) ابوداؤد ج۳۔ کتاب الجھاد، باب فیمن یغزو و یلتمس الدنیا۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۲۳۴۔ عن معاذ بن جبل۔
(۷) ابن ماجہ ابواب الجھاد ج۲۔ باب الغارۃ والبیات و قتل النساء والصبیان۔٭ المستدرک ج۲ کتاب الجھاد، باب لا یقتل ذریۃ ولا عسیف۔ عن حنظلۃ الکاتب۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر باب ترک قتل من لا قتال فیہ من الرھبان والکبیر و غیرھما۔
(۸) ابو داؤد ج۳۔ کتاب الجھاد باب فی قتل النساء۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج۹۔ کتاب السیر باب المرأۃ تقاتل فتقتل۔٭ المستدرک ج۲۔ کتاب الجھاد باب لا یقتل ذریۃ ولا عسیفًا۔٭ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان کتاب الجھاد، باب فیما نھی عن قتلہ۔
(۹) بخاری ج۱۔ کتاب الجھاد، باب قتل النساء فی الحرب٭ مسلم ج۲۔ کتاب الجھاد والسیر باب تحریم قتل النساء والصبیان فی الحرب۔ بخاری کتاب الجھاد باب قتل الصبیان فی الحرب، اور مسلم کتاب الجھاد والسیر باب تحریم قتل النساء والصبیان اور ترمذی ابواب السیر باب ما جاء فی النھی عن قتل النساء والصبیان اور ابن ماجہ نے کتاب الجھاد اور ابو داؤد کتاب الجھاد باب فی قتل النساء وغیرہ نے نھی کے بجائے انکر النبی ﷺ بھی منقول ہے اور مسند احمد ج۲ص۹۱،۱۲۲،۱۲۳پر منقول ہے۔٭ ترمذی ج۱۔ ابواب السیر، باب ماجاء فی النھی عن قتل النساء والصبیان۔٭ ابن ماجہ ج۲ کتاب الجھاد باب۳۰۔ الغارۃ والبیات و قتل النساء والصبیان۔ ٭موطا امام مالک ج۱۔ کتاب الجھاد باب النھی عن قتل النساء ولولدان فی الغزو۔٭ سنن دارمی ج۲۔ کتاب السیر باب النھی عن قتل النساء والصبیان۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹۔ کتاب السیر باب النھی عن قصد النساء ولولدان بالقتل۔٭ مجمع الزوائد ج ۵ ص۳۱۶۔ عن ابن عباس۔
(۱۰) ابو داؤد ج۳۔ کتاب الجھاد، باب فی دعاء المشرکین۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر باب ترک قتل من لا قتال فیہ من الرھبان والکبیر و غیرھما۔ عن انسؓ ۔
(۱۱) مسند احمد ج۱ص۳۰۰۔٭ مجمع الزوائد للھیثمی ج ۵کتاب الجھاد باب ما نھی عن قتلہ من النساء و غیر ذلک۔ عن ابن عباس۔٭ ابو یعلٰی، الطبرانی الکبیر والاوسط بحوالہ الزوائد ج ۵ ص۳۱۶۔٭ مصنف ابن ابی شبیہ نے ج۱۲ص ۳۸۷ پر کتاب الجھاد میں حضرت ابن عباس سے صرف لا تقتلوا اصحاب الصوامع نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر باب ترک قتل من لا قتال فیہ من الرھبان والکبیر و غیرھما۔
(۱۲)ابو داؤد ج۳۔ کتاب الجھاد، باب فی من یغزو ویلتمس الدنیا۔٭ نسائی ج۶۔ کتاب الجھاد، باب فضل الصدقۃ فی سبیل اللّٰہ عزوجل۔ عن معاذ بن جبل۔ نسائی نے فان نومہ کی جگہ کان نومہ اور فانہ لم یرجع کی جگہ فانہ لا یرجع نقل کیا ہے۔٭ نسائی ج ۷۔ کتاب البیعۃ التشدید فی عصیان الامام۔
(۱۳) مؤطا امام مالک کتاب الجہاد باب الترغیب فی الجہاد٭سنن دارمی ج۲۔ کتاب الجھاد، باب۲۵الغزو غزوان۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۲۳۴۔ عن معاذ بن جبل۔٭ السنن الکبرٰی ج۹۔ کتاب السیر، باب بیان النیۃ التی یقاتل علیھا لیکون فی سبیل اللّٰہ عزوجل عن معاذ بن جبل۔٭ المستدرک للحاکم ج۲۔ کتاب الجھاد باب من ابتغی وجہ اللّٰہ و اطاع الامام فان نومہ و نبھتہ اجرکلہ۔ عن معاذ بن جبل۔ مستدرک نے لن یرجع بکفاف نقل کیا ہے٭ کنز العمال ج۴ ص۳۰۲۔ حدیث نمبر۱۰۶۰۵۔
(۱۴) مسند احمد ج۳ ص۲۰۶۔
(۱۵) بخاری ج۱۔ کتاب الجھاد، باب دعاء النبی ﷺ الی الاسلام والنبوۃ الخ۔٭بخاری ج۲کتاب المغازی باب غزوہ خیبر۔٭ ترمذی ج۱۔ ابواب السیر باب فی البیات والغارات۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹۔کتاب السیر، باب قتل النساء والصبیان فی البیت والغارۃ من غیر قصد و ماورد فی اباحۃ البییت عن انس۔
(۱۶) ابو داؤد ج۳۔ کتاب الجھاد، باب فی کراھیۃ حرق العدو بالنار۔ اور کتاب الادب، باب فی قتل الذر۔ ٭دارمی میں لا ینبغی لا حد ہے۔٭ المصنف عبد الرزاق ج ۵۔ کتاب الجھاد، باب القتل بالنار۔ المصنف میں لا ینبغی لبشر مروی ہے۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج۱۲۔ باب النھی عن التحریق بالنار عن ابی ھریرۃ۔ مصنف ابن ابی شیبۃ نے لا ینبغی ان یعذب بالنار الا اللّٰہ بیان کیا ہے۔
(۱۷) ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی کراھیۃ حرق العدو بالنار۔٭ سنن دارمی ج۲ کتاب السیر باب ۲۴فی النھی عن التعذیب بعذاب اللّٰہ۔٭ مسند احمد ج۳ ص۴۹۴۔ عن حمزہ بن عمرو الاسلمی۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹کتاب السیر باب المنع من احراق المشرکین بالنار بعد الاسار۔ عن حمزہ بن عمرو الاسلمی۔٭ مجمع الزوائد ج۶بحوالہ طبرانی اور بزار صرف لا یعذب بالنار الا رب النار نقل کیا ہے۔ ٭المصنف عبد الرزاق  ج ۵ کتاب الجھاد باب القتل بالنار عن حمزۃ بن عمرو اسلمی۔
(۱۸) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب لا یعذب بعذاب اللّٰہ اور کتاب الجھاد باب التودیع عند السفر میںبھی یہ روایت مذکور ہے۔٭ ترمذی ج۲ ابواب السیر باب۔ عن ابی ھریرۃ حسن صحیح۔ مسند احمد ج۲ ص ۳۰۷۔ ۳۳۸۔ ۴۵۳۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر باب المنع من احراق المشرکین بالنار بعد الاسار۔
(۱۹) بخاری ج۱کتاب الجھاد باب لا یعذب بعذاب اللّٰہ۔٭ ابو داؤد ج۴ کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد۔ ٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹کتاب السیر باب المنع من احراق المشرکین بالنار بعد الاسار۔ عن ابن عباس۔٭ مجمع الزوائد ج۶ کتاب الحدود باب النھی عن التعذیب بالنار۔ عن ابی الدرداء اس میں لا یعذب بعذاب اللّٰہ کے الفاظ منقول ہیں۔ المصنف عبد الرزاق ج ۵ کتاب الجھاد باب القتل بالنار عن عکرمۃ۔
(۲۰) دارمی ج۲ ص۱۰۔ حاشیہ پر حدیث نمبر۱۹۸۰۔ ابن تعلی: بکسر التاء المثناۃ و سکون العین المھملۃ بعدھا لام مکسورۃ۔ ھو عبید بن تعلی الطائی الفلسطینی۔ ٭و فی الدمشقیہ عبید اللّٰہ بن یعلی، والصواب: عبید بن تعلی٭ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد۔ باب فی قتل الاسیر بالنبل۔٭ سنن دارمی ج۲ کتاب الاضاحی باب۱۳ النھی عن مثلۃ الحیوان۔ عن ابی ایوب الانصاری۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۴۲۲۔ عن ابی ایوب الانصاری۔ ٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹کتاب السیر باب المنع من صبر الکافر بعد الاسار بان یتخذ غرضا۔ بیھقی کی سند میں بھی عبید بن یعلی ہے۔ بیہقی میں فامر بھم ان یصبروا فرموا بالنبل منقول ہے۔ قال ابو زرعۃ: عبید بن یعلی من اھل فلسطین منزلہ عسقلان٭ السنن الکبرٰی ج۹ص۷۱۔
(۲۱) مسند احمد ج۴ص۱۹۲۔ مرویات عدی بن عمیرہ الکندی۔٭ شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ باب الامر بالمعروف۔
(۲۲) ٭ابو داؤد ج۴ کتاب الملاحم باب الامر والنھی۔٭ ابن ماجہ کتاب الفتن، باب۲۰ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔٭ مسند احمد ج۱ص۳۹۱ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔ مختصر روایت۔
(۲۳) ترمذی ج۲ کتاب الفتن باب۲ باب ماجاء فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔
(۲۴)ابو داؤد ج۴ کتاب الملاحم، باب الامر والنھی۔
(۲۵) ابو داؤد ج۴کتاب الملاحم، باب الامر والنھی۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الفتن، باب ماجاء فی نزول العذاب اذا لم یغیر المنکر عن قیس بن ابی حازم۔٭ ابن ماجہ کتاب الفتن، باب۲۰الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔
(۲۶) سیرت ابن ھشام ج۳۔ مسیر خالد بن الولید بعد الفتح الی بنی جذیمۃ من کنانۃ، ومسیر علی لتلافی خطا خالد۔ ٭السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج۳ بعثہ علیہ السلام خالد بن الولید بعد الفتح الی بنی جذیمۃ من کنانۃ۔٭الطبری تاریخ الامم والملوک ج۲ص۱۲۴۔٭ السیرۃ الحلبیۃ ج۳ ص۲۱۰۔ پر صرف یا علی اخرج الی ھؤلاء القوم فانظر فی امرھم منقول ہے۔
(۲۷) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب یقاتل من وراء الامام و یتقٰی بہ۔٭ بخاری ج۲ کتاب الاحکام، باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم۔٭مسلم ج۲ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ نسائی ج ۷ کتاب البیعۃ، باب الترغیب فی طاعۃ الامام۔ عن ابی ھریرۃ۔ ٭السنن الکبرٰی ج ۸ کتاب قتال اھل البغی باب السمع والطاعۃ للامام۔ ٭ابن ماجہ ج۲ کتاب الجھاد، باب طاعۃ الامام۔٭ مسند احمد ج۲ ص۳۱۳۔۳۴۲۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۲۸) مسند احمد ج ۵ ص۳۹۵۔٭ مسند احمد ج ۵ ص ۳۹۷ پر مندرجہ ذیل الفاظ مذکور ہیں۔
عن حذیفۃ ان المشرکین اخذوہ و اباہ، فاخذوا علیھم ان لا یقاتلوھم یوم بدر، فقال رسول اللّٰہ ﷺ: فوالھم و نستعین اللّٰہ علیھم۔
(۲۹) ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد باب فی الرسل۔٭ السنن الکبرٰیج۹ کتاب الجزیۃ باب السنۃ ان لا یقتل الرسل ٭مسند احمدج۱ص۴۰۶۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔٭ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان۔ کتاب الجھاد باب النھی عن قتل الرسل۔
(۳۰) ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد باب فی الرسل۔٭ سنن دارمی ج۲ کتاب السیر باب فی النھی عن قتل الرسل۔ دارمی نے لو کنت قاتلا وفدًا لقتلتکما نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹کتاب الجزیۃ٭ المستدرک ج۲ کتاب قسم الفئی باب الرسل لا تقتل عن نعیم بن مسعود۔٭ مجمع الزوائد ج ۵ ص۳۱۴۔
(۳۱) ابوداؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب علی ما یقاتل المشرکون۔
(۳۲) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب اثم من قتل معاھدا، بغیرجرم۔٭ بخاری ج۲ کتاب الدیات، باب اثم من قتل ذمیا بغیر جرم۔ اس مقام پر بخاری نے من قتل نفسا معاھدۃ لم یرح رائحۃ الجنۃ و ان ریحھا توجد من مسیرۃ اربعین عاما۔٭ ترمذی ج۱ ابواب الدیات، باب ماجاء فیمن یقتل نفسا معاھداً۔ عن ابی ھریرۃ۔٭المستدرک ج۱۔ کتاب الجھاد بب من قتل معاھدا الخ۔
(۳۳) ابن ماجہ ج۲۔۔۔الدیات، باب من قتل معاھدا۔ ابن ماجہ نے دونوں روایتیں نقل کی ہیں۔٭ مسند احمد ج۱ ص۲۷۳۔٭ مسند احمد ج۲ ص۱۷۱-۱۸۶-۱۹۴۔٭ مسند احمد ج۴ ص۶۱- ج ۵ ص ۵۰-۵۱- ۳۶۹- ۳۷۴۔ ٭السنن الکبرٰی بیھقی ج۹ کتاب السیر باب لا یاخذ المسلمون من ثمار اھل الذمۃ ولا اموالھم شیئا بغیر امرھم اذا اعطوا ما علیھم۔٭ بیھقی نے بھی عبد اللّٰہ بن عمرو اور حضرت ابو ہریرہ دونوں کی روایت نقل کی ہیں۔٭ مجمع الزوائد:۶ کتاب الدیات، باب فیمن قتل معاھدا اخفر ذمۃ۔٭ مجمع الزوئد میں مسیرۃ تسعین عاما مائۃ عام اور مسیرۃ خمس مائۃ عام کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ ان اللّٰہ یعذب یوم القیامۃ الذین یعذبون الناس فی الدنیا۔ حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح ۔
(۳۴) مسند احمد ج۳ ص۳۶۸، مسلم ج۲کتاب البر باب الوعید الشدید لمن عذب الناس بغیرحق۔٭ ابوداؤد ج۳ کتاب الامارۃ والخراج باب فی التشدید فی جبایۃ الجزیۃ۔٭ مسند احمد ج۳ ص۴۰۳-۴۰۴۔٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب الجزیۃ باب النھی عن التشدید فی جبایۃ الجزیۃ۔ عن ھشام بن حکیم۔٭ الطبرانی والبزار بحوالہ مجمع الزوائد ج۶ص۲۵۱۔ ان دونوں نے لا یعذب بالنار الا رب النار بیان کیا ہے۔ مسلم نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اس میں یوم القیامۃ کے الفاظ نہیںاس نے صرف ان اللّٰہ یعذب الذین یعذبون الناس فی الدنیا نقل کیا ہے۔
(۳۵) مسند احمدج۳۰ ص۳۶۸۔
(۳۶) ابو داؤد ج ۳ کتاب الخراج والامارۃ باب فی تعشیر اھل الذمۃ اذا اختلفوا بالتجارات۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب الجزیۃ باب لا یاخذ المسلمون من ثمار اھل الذمۃ ولا اموالھم شیئا بغیر امرھم اذا اعطوا ما علیھم وما ورد من التشدید فی ظلمھم و قتلھم۔
(۳۷) المبسوط للسرخسی جزء ۱۰(المجلد ۵) باب معاملۃ الجیش مع الکفار۔
(۳۸) ابوداؤد ج۳ کتاب الجھاد باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود۔٭ نسائی ج ۸ کتاب القسامۃ، باب القود بغیر حدیدۃ۔ نسائی نے انی بری من کل مسلم مع مشرک بیان کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی ج۹ کتاب السیر باب الاسیر یوخذ علیہ العھد ان لا یھرب۔ السنن الکبرٰی میں انا بری من کل مسلم مقیم بین اظھر المشرکین الخ ہے۔
(۳۹) ابو داؤد ج۳ کتاب الجہاد باب فی دعاء المشرکین۔
(۴۰) بخاری ج۱کتاب المظالم، باب النھبٰی بغیر اذن صاحبہ و قال عبادہ بایعنا النبی ﷺ ان لا ننتھب۔ ٭بخاری ج۲کتاب المغازی، باب قصۃ عکل و عرینۃ۔٭ بخاری ج۲ کتاب الذبائح، باب مایکرہ من المثلہ۔ والمصبورہ والمجثمۃ۔٭ بخاری ج۲ میں صرف ینھی عن المثلۃ منقول ہے۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی النھی عن المثلۃ۔ عن عمران بن حصین۔ اس میں و ینھانا عن المثلۃ ہے۔٭ سنن دارمی ج۱کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی الصدقہ کے ضمن میں و نھانا عن المثلۃ نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد ج۴ ص۲۴۶ پر عن المثلۃ اور ص ۳۰۷ پر عن عبد اللّٰہ ابن یزید الخطمی و ھو الانصاری کے حوالہ سے نھی رسول اللّٰہ ﷺ عن النھبۃ والمثلۃ منقول ہے۔٭ ابو داؤد ج۴ کتاب اللباس باب من کرھہ میں نھی رسول اللّٰہ ﷺ عن عشر کے تحت و عن النھبٰی بھی نقل کیا گیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹کتاب السیر۔ باب قتل المشرکین بعد الاسار بضرب الاعناق دون المثلۃ۔ عن عبد اللّٰہ بن یزید۔٭ مسند احمد ج۳ ص۱۴۰۔ عن انس۔ اس صفحہ پر صرف نھی رسول اللّٰہ ﷺ عن النھبۃ منقول ہے۔٭ مسند احمد ج۴ ص۱۱۷پر اور عبد الرحمن بن زید بن خالد جھنی کے حوالہ سے انہ سمع النبی ﷺ نھی عن النھبۃ منقول ہے۔ ج ۵ ص۱۹۳پر زید بن خالد جہنی سے بھی منقول ہے۔٭ مجمع الزوائد ج۶ ص۲۴۹۔ عن ابی ایوب اور زید بن خالد۔
(۴۱) ابو داؤد ج۳  کتاب الجھاد، باب فی النھی عن النھبٰی اذا کان فی الطعام قلۃ فی ارض العدو۔
(۴۲) مسلم ج۲ کتاب الجھاد والسیر، باب تامیر الامام الامراء علی البعوث و وصیتہ ایاھم بآداب الغزو وغیرھا۔ ٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی دعاء المشرکین عن سلیمان بن بریدہ عن ابیہ۔٭ ترمذی ج۲ ابواب السیر باب ماجاء فی وصیۃ رسول اللّٰہ فی القتال عن سلیمان بن بریدۃ اور ابواب الدیات ج۱۔ باب ماجاء فی النھی عن المثلۃ۔٭ موطا امام مالک ج۱کتاب الجھاد النھی عن قتل النساء والولدان فی الغزو۔٭ سنن دارمی ج۲ کتاب السیر باب ۵۔ وصیۃ الامام فی السرایا۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب ۳۸۔ وصیۃ الامام۔ عن ابن بریدۃ۔ ابن ماجہ نے صفوان بن عسال سے مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی روایت بیان کی ہے۔
بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَرِیَّۃٍ فَقَالَ: سِیْرُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ، وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، وَلاَ تَمْثُلُوْا،(۱) وَلاَ تَغْدِرُوْا وَلاَ تَغُلُّوْا، فَلاَ تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا۔٭مسند احمد ج ۵ ص۳۵۸۔ عن بریدۃ اسلمی اور ج۴ ص۲۴۰۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب ۳۸۔ وصیۃ الامام۔ عن ابن بریدۃ۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۳۵۸۔ عن بریدۃ اسلمی اور ج۴ص۲۴۰۔٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر باب قتل المشرکین بعد الاسار عن سلیمان بن بریدۃ۔٭ المصنف عبد الرزاق ج ۵ کتاب الجھاد باب دعاء العدو۔
٭مجمع الزوائد للھیثمی ج ۵ کتاب الجھاد باب وصیۃ الامیر فی السفر۔ عن ابن عباس۔
(۴۳) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر۔
(۴۴) بخاری ج۲کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر۔٭مسلم ج۲ کتاب الذکر، باب استحباب خفض الصوت ٭ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کی کتاب القدر میں مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں۔
عن ابی موسی الاشعری قال: کنا مع رسول اللّٰہ ﷺ فی غزاۃ۔۔۔ فدنا منا رسول اللّٰہ ﷺ فقال: یایھا الناس اربعوا علی انفسکم فانکم لا تدعون اصم ولا غائبا انما تدعون سمیعا بصیرا۔ اور بخاری ج۲ کتاب التوحید باب قولہ وکان اللّٰہ سمیعا بصیرا اور کتاب الدعوات ج۲ میں بھی مندرجہ بالا الفاظ سے روایت منقول ہے۔٭ ابوداؤد ج۲ کتاب الصلاۃ باب فی الاستغفار۔ عن ابی موسیٰ اشعری۔٭ مسند احمد ج۴ ص۳۹۴-۴۰۲-۴۱۸۔ عن ابی موسٰی اشعری۔
(۴۵) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب اثم من قتل معاھدا بغیر جرم۔٭ ترمذی ج۱ابواب الدیات باب ماجاء فیمن یقتل نفسا معاہدا۔ عن ابی ھریرۃ۔ ترمذی نے اتنا جزء ایک حدیث کے ساتھ بیان کیا ہے۔
(۴۶) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب اثم من عاھد ثم غدر و قول اللّٰہ الذین عاھدت منھم ثم ینقضون عھدھم فی کل مرۃ الایۃ۔٭ مسلم ج۱کتاب الایمان، باب خصال المنافق۔ عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔٭ابوداؤد ج۴ کتاب السنۃ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ۔ عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔٭ترمذی ج۲ ابواب الایمان، باب فی علامۃ۔ المنافق۔ عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔
(۴۷) مسلم ج۲ کتاب الجھاد والسیر باب تحریم الغدر۔
(۴۸) ترمذی ج۱ابواب السیر باب ماجاء فی الغدر۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ ابوداؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی الامام یکون بینہ و بین العدو عھد فیسیر الیہ۔ ابو داؤد نے من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یشد عقدۃ ولا یحلھا حتی ینقضی امدھا او ینبذ الیھم علی سواء نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد ج۴ ص۱۱۱-۱۱۳-۳۷۶۔ عمرو بن عبسۃ۔ (ابو نجیح سلمی)۔ ٭السنن الکبرٰی ج۹ کتاب الجزیۃ، باب الوفاء بالعھد اذا کان العھد مباحا و ما ورد من التشدید فی نقضہ۔
(۴۹) ابوداؤد  ج۳ کتاب الجھاد، باب مایومر من انضمام العسکر (وسعتہ)
(۵۰) ابوداؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب مایومر من انضمام العسکر۔٭ المستدرک ج۲ کتاب الجھاد، باب نھی التفرق فی المنزل اذا نزلوا۔
(۵۱) ابوداؤدج۳ کتاب الخراج والامارۃ باب فی تعشیر اھل الذمۃ اذا اختلفوا بالتجارات۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب الجزیۃ باب لا یاخذ المسلمون من ثمار اھل الذمۃ ولا اموالھم شیئا بغیر امرھم اذا اعطوا ما علیھم۔
(۵۲) ابو داؤد ج۳  کتاب الخراج والامارۃ باب فی تعشیر اھل الذمۃ اذا اختلفوا بالتجارات۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب الجزیۃ باب لا یاخذ المسلمون من ثمار اھل الذمۃ ولا اموالھم شیئا بغیر امرھم اذا اعطوا ما علیھم۔
(۵۳) مسلم ج۲کتاب الامارۃ، باب بیان قدر ثواب من غزا الخ۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد باب فی السریۃ تخفق۔ ٭نسائی ج۲ کتاب الجھاد باب ثواب السریۃ التی تخفق۔٭ ابن ماجہ ج۲ کتاب الجھاد باب۱۳النیۃ فی القتال۔٭ مسند احمد ج۲ ص۱۶۹عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر۔ باب ماجاء فی السریۃ تخفق، و ھو ان تتمنو القاء فلا تغنم شیئا عن عبد اللّٰہ بن عمرو۔ ٭المستدرک ج۲ کتاب الجھاد باب لاتتمنو القاء العدو وسلوا اللّٰہ العافیۃ۔
(۵۴) مسلم ج۲ کتاب الامارۃ باب بیان قدر ثواب من غزا فغنم و من لم یغنم۔
(۵۵) نسائی ج۶ کتاب الجھاد باب من غزا فی سبیل اللّٰہ ولم ینومن غزاتہ الا عقالا۔٭ سنن دارمی ج۲کتاب الجھاد باب۲۴۔ من غزا ینوی شیئا فلہ مانوی۔ عن عبادۃ بن الصامت۔٭ المستدرک للحاکم ج۲ کتاب الجھاد باب من غزا فلہ ما نوی۔ عن عبادۃ بن الصامت۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۳۱۵- ۳۲۰-۳۲۹۔ عن عبادۃ بن الصامت۔ (کنز العمالج ۴ ص۳۳۶۔ حدیث نمبر ۱۰۷۷۷)
(۵۶) نسائی ج۶ کتاب الجھاد باب من غزا یلتمس الاجر والذکر۔
(۵۷) المستدرک للحاکم ج۲ کتاب قتال اھل البغی، باب حکم البغاۃ من ھذہٖ الامۃ۔ حافظ امام ذہبی نے اپنی تلخیص میں اس روایت کی سند میں مذکور کوثر بن حکیم کو متروک کہا ہے۔ المستدرک ج۲ میں اس حدیث پر ذیلی حاشیہ میں (قلت) کوثر متروک٭السنن الکبری بیھقی ج ۸ کتاب قتال اھل البغی، باب اھل البغی اذاقا و الم یتبع مدبرھم، ولم یقتل اسیرھم، ولم یجھز علی جریمھم الخ میں المستدرک والی روایت بیان کی ہے اور آخر میں کہا ہے۔ و فی روایۃ الخوارزی ولا یجاز علی جریمھم زاد ولا یقسم فیوھم۔ تفرد بہ کوثر بن حکیم و ھو ضعیف۔ تفسیر روح المعانی ج۲۶، سورۃ الحجرات۔ صاحب روح المعانی نے مستدرک حاکم کے حوالہ سے مندرجہ ذیل  روایت نقل کی ہے۔
’’قال علیہ الصلاۃ والسلام : یا ابن ام عبد ھل تدری کیف حکم اللہ فیمن بغی من ھذہ الامۃ؟ قال : اللّٰہ تعالٰی و رسولہ اعلم، قال: لا یجھز علی جریحھا ولا یقتل اسیرھا ولا یطلب ھاربھا ولا یقسم فیؤھا۔
(۵۸) السنن الکبریٰ للبیھقی ج ۸ کتاب اھل البغی، باب اھل البغی اذا فاؤا الم ینبع مدیرھم الخ۔
(۵۹) الرافعی عن انس بحوالہ کنز العمال ج۱۱ص ۱۲۷، حدیث:۳۰۸۹۱۔
(۶۰) بخاریج۱کتاب الایمان، باب فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم۔٭ مسلم ج۱کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ یقیموا الصلاۃ و یوتوا الزکوۃ الخ عن ابن عمر۔ ٭سنن دار قطنی ج۱کتاب الصلوۃ باب تحریم دماء ھم و اموالھم اذا یشھدوا بالشھادتین الخ عن ابن عمر۔
(۶۱) بخاریج۱کتاب الوصایا، باب قول اللّٰہ تعالٰی ان الذین یاکلون اموال الیتامٰی ظلما الخ۔٭ بخاری ج۲کتاب الحدود، کتاب المحاربین، باب رمی المحصنات والذین یرمون المحصنات (عن ابی ھریرۃ)۔٭ مسلم ج۱کتاب الایمان، باب الکبائر واکبرھا۔  عن ابی ھریرۃ۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الوصایا، باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال الیتیم۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ نسائی ج۶ کتاب الوصایا، باب اجتناب اکل مال الیتیم، عن ابی ھریرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج۹ کتاب السیر، باب تحریم الفرار من الزحف و صبر الواحد مع الاثنین۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۶۲) بخاریج۱کتاب الجھاد، باب کان النبی ﷺ اذا لم یقاتل اول النھار اخر القتال حتی تزول الشمس۔ ٭بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب الجنۃ تحت بارقۃ السیوف۔٭ بخاری۱ کتاب الجھاد، باب لا تمنوا لقاء العدو۔ عن عبد اللّٰہ بن اوفٰی۔٭ مسلم ج۲ کتاب الجھاد والسیر۔ باب کراھۃ التمنی لقاء العدو۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی کراھیۃ تمنی لقاء العدو۔ عن عبد اللّٰہ بن اوفی۔٭ السنن الکبرٰی ج۹ کتاب السیر، باب تحریم الفرار من الزحف و صبر الواحد مع الاثنین۔ عن عبد اللّٰہ بن اوفی۔ ٭المستدرک ج۲ کتاب الجھاد، باب لاتمنوا لقاء العدو و سلوا اللّٰہ العافیۃ عن عبد اللّٰہ بن اوفی۔ ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔( بخاری و مسلم دونوں نے تحت ظلال السیوف سے آگے بھی الفاظ نقل کیے ہیں پھر حاکم نے کیسے کہہ دیا کہ انہی دونوں نے اسے نہیں لیا۔ (مرتب) ٭مسند ج۴ ص۳۵۳-۳۵۴۔ عن عبد اللّٰہ بن ابی اوفی۔
(۶۳) نسائیج۶ کتاب الجھاد باب من خان غازیا فی اھلہ۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد باب فی حرمۃ۔ نساء المجاھدین علی القاعدین۔ ابو داؤد نے فی الحرمۃ اور ترون یدع لہ من جسناتہ شیئا نقل نہیں کیا۔ ٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج ۹ کتاب السیر باب ماجاء فی حرمۃ نساء المجاھدین۔
(۶۴) مسلم ج۲ کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاھدین و اثم من خانھم فیھن۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی حرمۃ المجاھدین علی القاعدین۔٭ نسائی ج۶ کتاب الجھاد، باب حرمۃ نساء المجاھدین۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۳۵۲۔ عن سلیمان بن بریدہ عن ابیہ۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج۹ کتاب السیر باب ما جاء فی حرمۃ نساء المجاھدین۔٭ مسند احمد ج ۵ ص ۳۵۵۔ پر مندرجہ ذیل متن روایت منقول ہے۔ فضل نساء المجاھدین فی الحرمۃ کفضل امھاتھم وما من قاعد یخلف مجاھدا فی اھلہ، فیخبب فی اھلہ الا وقف لہ یوم القیامۃ، قیل لہ: ان ھٰذا خانک فی اھلک، فخذ من عملہ ما شئت قال: فما ظنکم۔
(۶۵) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب الجزیۃ والموادعۃ مع اھل الذمۃ والحرب الخ۔٭ ابو داؤد ج۳ کتاب الخراج والفئی، باب فی اخذ الجزیۃ من المجوس۔٭ ترمذی ج۱ ابواب السیر، باب فی اخذ الجزیۃ من المجوس، ھٰذا حدیث حسن۔٭ مؤطا امام مالک ج۱ کتاب الزکوۃ، باب جزیۃ اھل الکتاب والمجوس۔
(۶۶) السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب الجزیۃ، باب المجوس اھل کتاب، والجزیۃ تؤخذ منھم۔ اس صفحہ پر مؤطا والی روایت منقول ہے اور اسی صفحہ پر بخاری وغیرہ والی روایت بھی مذکور ہے۔
(۶۷) ابو داؤد ج۳ کتاب الخراج والفئی، باب فی اخذ الجزیۃ من المجوس۔٭ السنن الکبرٰی  ج۹ کتاب الجزیۃ باب المجوس اھل کتاب والجزیۃ توخذ منھم۔
(۶۸) مسند احمد:ج۳ ص۱۲۶۔ ٭ تفسیر ابن کثیرج۱ص ۴۲۶۔ تفرد بہ مسلم من طریق حماد۔
(۶۹) مسلم ج۲ کتاب الامارۃ باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ۔٭ نسائی اور دارمی نے بھی کتاب الجھاد میں اسی مفہوم کی مختلف الفاظ میں روایات بیان کی ہیں۔
(۷۰) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب الحور العین۔٭ ترمذی ج۱ابواب فضائل الجھاد، باب ماجاء فی ثواب الشھید۔ ھذا حدیث صحیح۔
(۷۱) بخاری ج۱کتاب الجھاد باب تمنی المجاھد ان یرجع الی الدنیا۔٭ مسلم ج۲ کتاب الامارۃ باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ۔ مسلم نے ما من احد نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد ج۳ ص۲۷۶۔ عن انس۔
(۷۲) مسلم ج۲ کتاب الجھاد والسیر من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار۔٭ نسائی ج۶ کتاب الجھاد باب من قاتل لیقال فلان جری۔٭ مسند احمدج۲ص۳۲۲۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۹ کتاب السیر۔ باب بیان النیۃ التی یقاتل علیھا لیکون فی سبیل اللّٰہ عزوجل عن ابی ھریرۃ۔٭المستدرک للحاکم ج۲ کتاب الجھاد باب اول الناس یقضٰی فیہ یوم القیامۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔ اور المستدرک للحاکم ج۱کتاب العلم باب اول الناس یقضٰی فیہ یوم القیامۃ ثلاثۃ۔
(۷۳) نسائی ج ۷ کتاب تحریم الدم، باب تعظیم الدم۔

کتاب الجماعۃ۔فصل :۱ نظم جماعت انقلاب نبوی

آں حضرتؐ جب مبعوث ہوئے تو روئے زمین پر ایک شخص بھی مسلم نہ تھا۔ آپؐ نے اپنی دعوت دنیا کے سامنے پیش کی اور آہستہ آہستہ متفرق طور پر ایک ایک دو دو چار چار آدمی مسلمان ہوتے چلے گئے۔ یہ لوگ اگرچہ پہاڑ سے زیادہ مضبوط ایمان رکھتے تھے اور ایسی فدویت ان کو اسلام کے ساتھ تھی کہ دنیا ان کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، مگر چوں کہ متفرق تھے، کفار کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔ بے بس اور کم زور تھے اس لیے اپنے ماحول سے لڑتے لڑتے ان کے بازو شل ہوجاتے تھے اور پھر بھی وہ ان حالات کو نہ بدل سکتے تھے جن کو بدلنے کے لیے وہ اور ان کے ہادی و مرشد فدا امی و ابی کوشش فرما رہے تھے۔۱۳ سال تک حضوؐر اسی طرح جدو جہد کرتے رہے اور اس مدت میں سر فروش اہل ایمان کی ایک مٹھی بھر جماعت آپؐ نے فراہم کرلی، اس کے بعد اللہ نے دوسری تدبیر کی طرف آپؐ کو ہدایت فرمائی اور وہ یہ تھی کہ ان سرفروشوں کو لے کر کفر کے ماحول سے نکل جائیں، ایک جگہ ان کو جمع کرکے اسلامی ماحول پیدا کریں۔ اسلام کا ایک گھر بنائیں جہاں اسلامی زندگی کا پورا پروگرام نافذ ہو۔ ایک مرکز بنائیں جہاں مسلمانوں میں اجتماعی طاقت پیدا ہو۔ ایک ایسا پاور ہاؤس بنادیں جس میں تمام برقی طاقت ایک جگہ جمع ہوجائے اور پھر ایک منضبط طریقہ سے وہ پھیلنی شروع ہو۔ یہاں تک کہ زمین کا گوشہ گوشہ اس سے منور ہوجائے۔ مدینہ طیبہ کی جانب آپ کی ہجرت اسی غرض کے لیے تھی۔ تمام مسلمان جو عرب کے مختلف قبیلوں میں منتشر تھے۔ ان سب کو حکم دیا گیا کہ سمٹ کر اس مرکز پر جمع ہوجائیں۔ یہاں اسلام کو عمل کی صورت میں نافذ کرکے بتایا گیا۔ اس پاک ماحول میں پوری جماعت کو اسلامی زندگی کی ایسی تربیت دی گئی کہ اس جماعت کا ہر شخص چلتا پھرتا اسلام بن گیا جسے دیکھ لینا ہی یہ معلوم کرنے کے لیے کافی تھا کہ اسلام کیا اور کس لیے آیا ہے۔ ان پر اللہ کا رنگ صبغۃ اللّٰہ ومن احسن من اللّٰہ صبغۃ اتنا گہرا اثر چڑھ گیا کہ وہ جدھر جائیں دوسروں کا رنگ قبول کرنے کے بجائے اپنا رنگ دوسروں پر چڑھائیں۔ ان میں کیریکٹر کی اتنی طاقت پیدا کی گئی کہ وہ کسی سے مغلوب نہ ہوں اور جو ان کے مقابلے میں آئے ان سے مغلوب ہوکر رہ جائے۔ ان کی رگ رگ میں اسلامی زندگی کا نصب العین اس طرح پیوست کردیا گیا کہ زندگی کے ہر عمل میں وہ مقدم ہو اور باقی تمام دنیوی اغراض ثانوی درجہ میں ہوں۔ ان کو تعلیم اور تربیت دونوں کے ذریعہ سے اس قابل بنادیا گیا کہ جہاں جائیں زندگی کے اسی پروگرام کو نافذ کرکے چھوڑیں۔ جو قرآن و سنت نے انہیں دیا ہے اور ہر قسم کے بگڑے ہوئے حالات کو منقلب کرکے اسی کے مطابق ڈھال لیں۔
یہ حیرت انگیز تنظیم تھی جس کا ایک ایک جز گہرے مطالعہ اور غور و فکر کا مستحق ہے۔ اس تنظیم میں کام کو چار بڑے بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا تھا:
(۱) ایک گروہ ایسے لوگوں کا تیار کیا جائے جو دین میں تفقہ حاصل کریں اور جن میں یہ استعداد ہو کہ وہ لوگوں کو دین اور اس کے احکام بہترین طریقہ پر سمجھا سکیں فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ (التوبۃ:۱۲۲)
(۲)کچھ لوگ ایسے تیار کیے جائیں جن کی زندگیاں اسلام کے نظام عمل کو قائم کرنے اور پھیلانے کے لیے وقف ہوں۔ جماعت کا فرض ہے کہ ان کو کسب معیشت سے بے نیاز کردے لیکن خود انہیں اس کی پروانہ ہو۔ چاہے معیشت کا کوئی انتظام ہو یا نہ ہو، بہ ہر حال اپنے دل کی لگن سے مجبور ہوں اور ہر قسم کی مصیبتیں برداشت کرکے اس کام میں لگے رہیں جو ان کی زندگی کا واحد نصب العین ہے وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَامُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (آل عمران:۱۰۴)
(۳) پوری جماعت میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے کہ ہر ہر شخص اعلائے کلمۃ اللہ کو اپنی زندگی کااصل مقصد سمجھے۔ وہ اپنے دنیا کے کاروبار چلاتا رہے۔ مگر ہر کام میں یہ مقصد اس کے سامنے ہو۔ تاجر اپنی تجارت میں، کسان اپنی زراعت میں، صناع اپنے پیشے کے کام میں اور ملازم اپنی ملازمت میں اس مقصد کو نہ بھولے۔ وہ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھے کہ یہ سب کام جینے کے لیے ہیں اور جینا اس کام کے لیے ہے۔ وہ زندگی کے جس دائرے میں بھی کام کرے، اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق اور معاملات میں اسلام کے اصول کی پابندی کرے۔ اور جہاں دنیوی فوائد میں اور اصول اسلام میں نقیض واقع ہو جائے، وہاں فوائد پر لات مار دے اور اصول کو ہاتھ سے دے کر اسلام کی عزت بٹہ نہ لگائے۔ پھر وہ جتنا مال اور جتنا وقت اپنی ذاتی ضروریات سے بچا سکتا ہو۔ اس کو اسلام کی خدمت میں صرف کردے اور ان لوگوں کا ہاتھ بٹائے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کی ہیںکُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (آل عمران:۱۱۰)
(۴) باہر کے لوگوں کو موقع دیا جائے کہ وہ دار الاسلام میں آئیں اور ایسے ماحول میں رہ کر کلام اللہ کا مطالعہ کریں جہاں کی ساری زندگی اس کلام پاک کی عملی تفسیر ہو۔ کفر کے ماحول کی بہ نسبت اسلام کے ماحول میں وہ قرآن کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھیں گے اور زیادہ گہرا اثر لے کر واپس جائیں گے وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فاََجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ (التوبۃ:۶)
اس طرح صرف آٹھ برس کی قلیل مدت میں دنیا کے اس سب سے بڑے ہادی او ررہبر نے مدینہ کے پاور ہاؤس میں اتنی زبردست طاقت بھر دی کہ دیکھتے دیکھتے اس نے سارے عرب کو منور کردیا اور پھر عرب سے نکل کر اس کی روشنی روئے زمین پر پھیل گئی۔ حتی کہ آج ساڑھے تیرہ سو برس گزر چکے ہیں (اب چودہ سو بیس سال ہوگئے ہیں۔ (مرتب) مگر وہ پاور ہاؤس اب بھی طاقت کے خزانوں سے بھرا ہوا ہے۔
(تنقیحات مرض اور اس کا علاج)

اسلام آدمی کو کیا بنانا چاہتا ہے؟

اسلام بنیادی اخلاقیات کی ابتدائی منزل پر اخلاق فاضلہ کی ایک نہایت شاندار بالائی منزل تعمیر کرتا ہے۔ جس کی بدولت انسان اپنے شرف کی انتہائی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ اس کے نفس کو خود غرضی سے، نفسانیت سے، ظلم سے، بے حیائی اور خلاعت و بے قیدی سے پاک کردیتا ہے۔ اس میں خدا پرستی، تقویٰ و پرہیزگاری اور حق پرستی پیدا کرتا ہے۔ اس کے اندر اخلاقی ذمہ داریوں کا شعور و احساس ابھارتا ہے، اس کو ضبط نفس کا خوگر بناتا ہے۔ اسے تمام مخلوقات کے لیے کریم، فیاض، رحیم، ہمدرد، امین، بے غرض خیر خواہ، بے لوث منصف اور ہر حال میں صادق و راست باز بنا دیتا ہے، اور اس میں ایک ایسی بلند پایہ سیرت پرورش کرتا ہے جس سے ہمیشہ صرف بھلائی کی توقع ہو اور برائی کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔ پھر اسلام آدمی کو محض نیک ہی بنانے پراکتفا نہیں کرتا، بلکہ حدیث رسولؐ کے الفاظ میں وہ اسے مِفْتَاحٌ لِلْخَیْرِ مِغْلاَقٌ لِلشَّرِّ (بھلائی کا دروازہ کھولنے والا اور برائی کا دروازہ بند کرنے والا) بناتا ہے۔ یعنی وہ ایجاباً یہ مشن اس کے سپرد کرتا ہے کہ دنیا میں بھلائی پھیلائے اور برائی کو روکے۔ اس سیرت واخلاق میں فطرتاً وہ حسن ہے، وہ کشش ہے، وہ بلا کی قوت تسخیر ہے کہ اگر کوئی منظم جماعت اس سیرت کی حامل ہو اور عملاً اپنے اس مشن کے لیے کام بھی کرے جو اسلام نے اس کے سپرد کیا ہے تو اس کی جہاں گیری کا مقابلہ کرنا دنیا کی کسی قوت کے بس کا کام نہیں۔ (اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات،اسلامی اخلاقیات)
بنیادی اخلاقیات اور اسلامی اخلاقیات کی طاقت کے فرق کو یوں سمجھیے کہ بنیادی اخلاقیات کے ساتھ اگر سو درجے مادی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے تو اسلامی اور بنیادی اخلاقیات کی مجموعی قوت کے ساتھ صرف ۲۵ درجے مادی طاقت کافی ہوجاتی ہے، باقی ۷۵ فی صدی قوت کی کمی کو محض اسلامی اخلاق کا زور پورا کردیتا ہے۔ بلکہ نبی اکے عہد کا تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ اسلامی اخلاق اگر اس پیمانے کا ہو جو حضوؐر اور آپؐ کے صحابہؓ کا تھا تو صرف پانچ فی صدی مادی طاقت سے بھی کام چل جاتا ہے۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف آیت و ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین (اگر تم میں سے بیس صابر آدمی ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے۔ الانفال:۶۵ میں اشارہ کیاگیا ہے۔
(اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، بنیادی اخلاقیات اور اسلامی اخلاقیات کی طاقت کا فرق)
تَخَلَّقُوْا بِاَخْلاَقِ اللّٰہِ
جب انسان کو خدا کا خلیفہ اور نائب قرار دیا گیا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسان خدا کی نیابت و خلافت کاپورا حق اسی وقت ادا کرسکتاہے جب خدا کی مخلوق کے ساتھ برتاؤ کرنے میں اس کی روش بھی ویسی ہی ہو جیسی خود خدا کی روش ہے۔ یعنی جس شانِ ربوبیت کے ساتھ خدا اپنی مخلوق کی خبر گیری اور پرورش کرتا ہے ویسی شان کے ساتھ انسان بھی اپنے محدود دائرہ عمل میں ان چیزوں کی خبر گیری اور پرورش کرے جو اللہ نے اس کے قبضۂ قدرت میں دی ہیں۔ اسی طرح جس شان رحمانی و رحیمی کے ساتھ خدا اپنی ملکیت میں تصرف کرتا ہے، جس شان عدل کے ساتھ اپنی مخلوقات میںنظم قائم کرتاہے، جس شان رحم و کرم کے ساتھ خدا اپنی صفت قہر و جبر کا اظہار کرتا ہے، چھوٹے پیمانے پر اسی شان کے ساتھ انسان بھی خدا کی اس مخلوق کے ساتھ معاملہ کرے، جس پر اللہ نے اس کو حکومت بخشی ہے۔ اور جسے اس کے لیے مسخر کیا ہے۔ یہی مفہوم ہے جو تخلقوا باخلاق اللّٰہ کے حکیمانہ جملے میں ادا کیا گیا ہے۔ (اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، اسلامی تصور اخلاق)
امام رازی نے اپنی تفسیر ’’تفسیر کبیر‘‘ میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۹۔ (یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا) الخ پر بحث کرتے ہوئے الحکمۃ کے معنی بیان کیے ہیں اور مسائل استنباط کرتے ہوئے المسألۃ الاولی کے تحت تفسیر الحکمۃ فی القرآن علی اربعۃ اوجہ کے ضمن میں بیان کرتے ہیں:
وَ اما الحکمۃ بمعنی فعل الصواب فقیل فی حدھا: انھا التخلق باخلاق اللّٰہ بقدر الطاقۃ البشریۃ، و مداد ھذا المعنی علی قولہ ﷺ تَخَلَّقُوْا بِأَخْلاَقِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔
(تفسیر کبیر ج ٧، البقرہ:٢٦٩)

نظم جماعت کی اہمیت

١٤٢-اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ الْجَمَاعَۃَ وَالسَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ وَالْھِجْرَۃَ، وَالْجِھَادَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہٗ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِۃٖ اِلاَّ اَنْ یُّرَاجِعَ۔ وَ مَنْ دَعَا بِدَعْوٰی جَاھِلِیَّۃٍ فَھُوَ مِنْ جُثَائِ جَھَنَّمَ۔ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ اِنْ صَامَ وَ صَلّٰی؟ قَالَ وَ اِنْ صَلّٰی وَ صَامَ وَ زَعَمَ اَنَّہٗ مُسْلِمٌ۔ (احمد و حاکم)
’’میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، جن کا حکم اللہ نے مجھے دیا ہے۔ جماعت، سمع، طاعت، ہجرت اور خدا کی راہ میں جہاد۔ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اُس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکا، الا یہ کہ وہ پھر جماعت کی طرف پلٹ آئے اور جس نے جاہلیت ( افتراق و انتشار) کی دعوت دی وہی جہنمی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ، اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے؟ فرمایا ہاں اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا اَبُوْ خَلْفٍ مُوْسَی بْنُ خَلْفٍ کَانَ یُعَدُّ مِنَ الْبَدَلاَئِ، قَالَ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ جَدِّہٖ مَمْطُوْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْیَ بْنَ زَکَرِیَّا بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ یَّعْمَلَ بِھِنَّ۔۔ وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ: اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ، بِالْجَمَاعَۃِ، وَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَالْھِجْرَۃِ، وَالْجِھَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہٗ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِۃٖ اِلٰی اَنْ یَرْجِعَ، وَ مَنْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَھُوَ مِنْ جُثَائِ جَھَنَّمَ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَ اِنْ صَامَ وَ صَلّٰی؟ قَالَ: وَ اِنْ صَامَ وَ صَلّٰی، وَ زَعَمَ اَنَّہٗ مُسْلِمٌ، فَادْعُوا الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا سَمَّاھُمُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَادَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔(١)
تشریح: اس حدیث سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(۱) کار دین کی صحیح ترتیب یہ ہے کہ پہلے جماعت ہو اور اس کی ایسی تنظیم ہو کہ سب لوگ کسی ایک کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں، پھر جیسا بھی موقع ہو اس کے لحاظ سے ہجرت اور جہاد کیاجائے۔
(۲) جماعت سے علیحدہ ہوکر رہنا گویا اسلام سے علیحدہ ہونا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اس زندگی کی طرف واپس جارہا ہے جو اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں عربوں کی تھی کہ ان میں کوئی کسی کی سننے والا نہ تھا۔
(۳) اسلام کے بیشتر تقاضے اور اس کے اصل مقاصد جماعت اور اجتماعی سعی ہی سے پورے ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے حضوؐر نے جماعت سے الگ ہونے والے کو اس کی نماز اور روزے اور مسلمانی کے دعوے کے باوجود اسلام سے نکلنے والا قرار دیا۔ اسی مضمون کی شرح ہے جو حضرت عمرؓ نے اپنے اس ارشاد میں فرمائی ہے کہ (لا اسلام الا بجماعۃ) (جامع بیان العلم لابن عبد البر)
(شہادت حق ص:۲۶)

جماعت کی فضیلت

١٤٣- یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ وَ مَنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ۔
’’جماعت پراللہ کا ہاتھ ہے جو اس سے بچھڑا وہ آگ میں گیا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ نَافِعِ الْبَصَرِیُّ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، ثَنَا سُلَیْمَانُ الْمَدِیْنِیُّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ:اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَجْمَعُ اُمَّتِیْ اَوْ قَالَ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ عَلٰی ضَلاَلَۃٍ، وَ یَدُ اللّٰہِ مَعَ الْجَمَاعَۃِ، وَ مَنْ شَذَّ، شُذَّ اِلَی النَّارِ۔(٢)
(۲) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ مُوْسٰی، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَیْمُوْنٍ، عَنِ ابْنِ طَاوٗسٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَدُ اللّٰہِ مَعَ الْجَمَاعَۃِ۔(٣)
اور فرمایا:
١٤٤- مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ قِیْدَ شِبْراً خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِہٖ۔
(رواہ احمد و ابو داؤد، مشکوٰۃ کتاب الایمان)
’’جو ایک بالشت بھر بھی جماعت سے جدا ہوا اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، ثَنَا زُھَیْرٌ، وَ اَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ وَ مَنْدَلٌ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ اَبِیْ جَھْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَھْبَانَ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ قِیْدَ شِبْرٍ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِہٖ۔(٤)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ اَبِیْ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ رَجَائِ الْعُطَارَدِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ رَاٰی مِنْ اَمِیْرِہٖ شَیْئًا یَکْرَہُ فَلْیَصْبِرْ عَلَیْہِ، فَاِنَّہٗ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ اِلاَّ مَاتَ مَیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً۔(٥)
اسی پر بس نہیں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ:
َ١٤٥- مَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ وَ ھِیَ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہُ بِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔
(مسلم۔ کتاب الامارۃ)
’’جو کوئی اس امت کے بندھے ہوئے رشتہ کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کرے اس کی تلوار سے خبر لو خواہ وہ کوئی ہو۔‘‘
(اسلامی ریاست ،اسلامی تصور قومیت ’’اسلام کا طریق جمع و تفریق‘‘)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ قَالَ حَدَّثَنَا یَحْيٰ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ عَلاَقَۃَ عَنْ عَرْفَجَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ ھَنَاتٌ ھَنَاتٌ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ وَھُمْ جَمْعٌ فَاضْرِبُوْہُ بِالسَّیْفِ۔(٦)
ترجمہ: حضرت عرفجہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ا کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب فتنے اور فساد رونما ہوں گے۔ پھر جو کوئی امت محمدؐ کے بندھے ہوئے رشتہ کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کرے جب کہ وہ سب متفق ہو تواس کی تلوار سے خبر لو۔
مسلم نے عرفجۃ سے مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی روایت نقل کی ہے۔
(۲) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ اَتَاکُمْ وَ اَمْرُکُمْ جَمِیْعٌ عَلٰی رَجُلٍ وَاحِدٍ یُرِیْدُ اَنْ یَّشُقَّ عَصَاکُمْ اَوْ یُفَرِّقَ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوْہُ۔(٧)
ترجمہ: حضرت عرفجہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہا کو فرماتے سنا ہے کہ جو شخص تمہارے پاس آئے اور تم سب ایک شخص پر متفق ہو اور وہ تمہارے درمیان میں پھوٹ ڈالنا چاہے۔ یا جدائی و تفریق کرنا چاہے اسے قتل کر ڈالو۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ عَنْ عُثْمَانَ، عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ، عَنْ عَرْفَجَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اِنَّھَا سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ وَ رَفَعَ یَدَیْہِ، فَمَنْ رَأَیْتُمُوْہُ یُرِیْدُ تَفْرِیْقَ اَمْرَ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ وَ ھُمْ جَمِیْعٌ فَاقْتُلُوْہُ کَائِنًا مَنْ کَانَ مِنَ النَّاسِ۔(٨)
(۴) عَنْ عَرْفَجَۃَ بْنِ شُرَیْحِ الْاَشْجَعِیِّ، قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ:اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ ھَنَاتٌ وَ ھَنَاتٌ فَمَنْ رَأَیْتُمُوْہُ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ اَوْ یُرِیْدُ یُفَرِّقُ اَمْرَ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ﷺ کَائِنًا مَنْ کَانَ فَاقْتُلُوْہُ فَاِنَّ یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ یَرْکُضُ۔(٩)
(۵) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ، عَنْ عَرْفَجَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: سَتَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ، فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ ھُمْ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہُ بِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔(١٠)
(۶) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ، عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ یُفَرِّقُ بَیْنَ اُمَّتِیْ، فَاضْرِبُوْا عُنُقَہٗ۔(١١)

اصطلاح جماعت کی تشریح

ایک اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے نبی انے بکثرت استعمال کیا ہے لفظ ’’جماعت‘‘ ہے اور یہ لفظ بھی ’’حزب‘‘ کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے۔ علیکم بالجماعۃ و ید اللّٰہ علی الجماعۃ اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ انے لفظ ’’قوم‘‘ ’’یا شعب‘‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصداً احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ’’جماعت‘‘ ہی کی اصطلاح استعمال کی۔ آپؐ نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ ’’ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو‘‘ یا ’’قوم پر خدا کا ہاتھ ہے۔‘‘ بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپؐ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے ’’قوم‘‘ کے بجائے جماعت، حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں۔ قوم کا لفظ جن معنوں میں عموماً مستعمل ہوتا ہے ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو، ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے کہ جب کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہو اور اپنے نام، طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو۔ لیکن پارٹی، جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے اصول مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے۔ آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہرگز اس میں شامل نہیں رہ سکتے، نہ اس کا نام استعمال کرسکتے ہیں، اور نہ اس کے نمائندے بن سکتے ہیں، نہ اس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہوسکتے ہیں، اور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہوسکتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں، لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبر رہ چکے ہیں اور میرا نام اس کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھ کو ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہئیں تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ انگیز ہوگا کہ شاید یہ سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگے گا۔ لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور میں بدل ڈالیے اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجایش نکل آتی ہے۔

اسلام کا اجتماعی مزاج

١٤٦- اِذَا خَرَجَ ثَلٰـثَۃٌ فِیْ سَفَرٍ فَلْیُؤَمِّرُوْا عَلَیْھِمْ اَحَدَھُمْ۔ (ابو داؤد)
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، اَنَا بَقِیَّۃُ، حَدَّثَنِیْ صَفْوَانُ بْنُ رُسْتَمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ مَیْسَرَۃَ،عَنْ تَمِیْمِ نِالدَّارِیِّ، قَالَ: تَطَاوَلَ النَّاسُ فِی الْبَنَائِ فِیْ زَمَنِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا مَعْشَرَ الْعَرِیْبِ، اَلْاَرْضَ، اَلْاَرْضَ، اَنَّہٗ لاَ اِسْلاَمَ اِلاَّ بِجَمَاعَۃٍ، وَلاَ جَمَاعَۃَ اِلاَّ بِاِمَارَۃٍ، وَلاَ اِمَارَۃَ اِلاَّ بِطَاعَۃٍ الخ۔(١٢)
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِیٍّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ:اِذَا خَرَجَ ثَلاَثَۃٌ فِیْ سَفَرٍ، فَلْیُؤَمِّرُوْا اَحَدَھُمْ۔(١٣)
تشریح: اسلام کے پورے نظام پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دین مسلمانوں کے ہر اجتماعی کام میں نظم چاہتا ہے اور اس نظم کی صحیح صورت یہ تجویز کرتا ہے کہ کام جماعت بن کر کیاجائے، جماعت میں سمع و طاعت ہو اور ایک شخص اس کا امیر ہو۔ نماز پڑھی جائے تو جماعت کے ساتھ پڑھی جائے اور ایک اس کا امام ہونا چاہیے۔ حج کیا جائے تو منظم طریقے پر کیا جائے اور ایک اس کا امیر حج ہونا چاہیے۔ حتی کہ تین آدمی اگر سفر کونکلیں تب بھی ان کو منظم طریقے سے سفر کرنا چاہیے اور اپنے ایک ساتھی کو امیر بنا لینا چاہیے۔ اِذَا خَرَجَ ثَلٰـثَۃٌ فِیْ سَفَرٍ فَلْیُؤَمِّرُوْا اَحَدَھُمْ۔ (ابو داؤد)
اسلامی شریعت کی یہی وہ روح ہے جس کو حضرت عمر صکے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ جماعت کے بغیر اسلام نہیں اور امارت کے بغیر جماعت نہیں اور اطاعت کے بغیر امارت نہیں۔(بلکہ مسند احمد میں جو روایت حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے نقل ہوئی ہے اس میں تو یہ الفاظ نہیں کہ لا یحل لثلثۃ یکونوا بفلاۃ من الارض الا امروا علیھم احدھم (حلال نہیں ہے یہ بات کہ تین آدمی کسی جنگل میں ہوں اور وہ اپنے اوپر اپنے میں سے ایک کو امیر نہ بنالیں) اس سے معلوم ہوا کہ صرف سفر ہی میں نہیں بلکہ ہر حالت میں مسلمانوں کو منظم زندگی بسر کرنی چاہیے اور ان کا کوئی اجتماعی کام بھی جماعت اور امارت کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔
لا اسلام الا بجماعۃ ولا جماعۃ الا بامارۃ ولاامارۃ الا بطاعۃ (جامع بیان العلم و فضلہ ابن عبد البر))

اجتماعی زندگی کے بڑے بڑے اصول (احادیث کی روشنی میں)

١٤٧- ’’تمہاری دوستی اور دشمنی خدا کی خاطر ہونی چاہیے جو کچھ دو اس لیے دو کہ خدا اس کا دینا پسند کرتا ہے، اور جو کچھ روکو اس لیے روکو کہ خدا کو اس کا دینا پسند نہیں ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ شَابُوْرٍ، عَنْ یَحْیَ بْنِ الْحَرْثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ، وَ اَبْغَضَ لِلّٰہِ، وَ اَعْطٰی لِلّٰہِ، وَ مَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔(١٤)
١٤٨-’’آپس میں بدگمانی نہ کرو۔ ایک دوسرے کے معاملات کا تجسّس نہ کرو، ایک کے خلاف دوسرے کو نہ اکساؤ۔ آپس کے حسد اور بغض سے بچو۔ ایک دوسرے کی کاٹ میں نہ پڑو۔ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بن کر رہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبَّہٍ، عَن اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ، فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوْا، وَلاَ تَجَسَّسُوْا، وَلاَ تَحَاسَدُوْا، وَلاَ تَبَاغَضُوْا، وَلاَ تَدَابَرُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔(١٥)
١٤٩-’’دوسرے کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ وَ عَنْ حُسَیْنِ الْمُعَلِّمِ قَالَ: ثَنَا قَتَادَۃ عَنْ اَنْسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: قَالَ: لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔(١٦)
١٥٠-’’غیر حق میں اپنی قوم کی حمایت کرنا ایسا ہے جیسے تمہارا اونٹ کنوئیں میں گرنے لگا تو تم بھی اس کی دم پکڑ کر اس کے ساتھ ہی جا گرے۔‘‘ (اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، اسلام کا معاشرتی نظام)
تخریج: حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ، ثَنَا زُھَیْرٌ، ثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمِٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: مَنْ نَصَرَ قَوْمَہٗ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ فَھُوَ کَالْبَعِیْرِ الَّذِیْ رُدِّیَ فَھُوَ یُنْزَعُ بِذَنْبِہٖ۔(١٧)

آں حضرتؐ کا مرتب کیا ہوا نظام زندگی

١٥١-اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ شُعْبَۃً اَفْضَلُھَا قَوْلُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَ اَدْنَاھَا اِمَاطَۃُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔
’’ایمان کے بہت سے شعبے ہیں۔ اس کی جڑ یہ ہے کہ تم خدا کے سوا کسی کو معبود نہ مانو، اور اس کی آخری شاخ یہ ہے کہ راستے میں اگر تم کوئی ایسی چیز دیکھو جو بندگان خدا کو تکلیف دینے والی ہو۔ تو اسے ہٹادو اور حیا بھی ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ سُھَیْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ اَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً فَاَفْضَلُھَا قَوْلُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَ اَدْنَاھَا اِمَاطَۃُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔(١٨)
١٥٢- اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ۔
’’جسم ولباس کی پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ: نَا حَبَّانُ بْنُ ھِلاَلٍ، قَالَ: نَا اَبَانٌ، قَالَ نَا یَحْیٰ، اَنَّ زَیْدًا حَدَّثَہٗ، اَنَّ اَبَا سَلاَّمٍ، حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلاَ ُ الْمِیْزَانَ، وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ، وَالصَّلوٰۃُ نُوْرٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَیْکَ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا۔(١٩)
١٥٣-اَلْمُؤْمِنُ مَنْ اَمَنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِ ھِمْ وَ اَمْوَالِھِمْ۔
’’مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان و مال کا کوئی خطرہ نہ ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ یَدِہٖ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ اَمَنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِ ھِمْ وَ اَمْوَالِھِمْ۔(٢٠)
١٥٤- لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَ اَمَانَۃَ لَہٗ وَلاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَ عَھَدَ لَہٗ۔
’’اس شخص میں ایمان نہیں ہے جس میں امانت داری نہیں، اور وہ شخص بے دین ہے جو عہد کا پابند نہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا بَھْزٌ، ثَنَا اَبُوْ ھِلاَلٍ، ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: مَا خَطَبَنَا نَبِیٌّ ﷺ، اِلاَّ قَالَ: لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَ اَمَانَۃَ لَہٗ، وَلاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَ عَھْدَ لَہٗ۔(٢١)
١٥٥-اِذَا سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ وَ سَائَ تْکَ سَیِّاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ۔
’’جب نیکی کرکے تجھے خوشی ہو اور برائی کرکے تجھے پچھتاوا ہو تو تو مومن ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ یَحْیَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ یَقُوْلُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: مَا الْاِثْمُ؟ فَقَالَ: اِذَا حَکَّ فِیْ نَفْسِکَ شَـْیئٌ فَدَعْہُ، قَالَ: فَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ:اِذَا سَائَ تْکَ سَیِّئَتُکَ وَ سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ، فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ۔(٢٢)
١٥٦- اَلْاِیْمَانُ اَلصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ۔
’’ایمان تحمل اور فراخ دلی کا نام ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، ثَنَا حَجَّاجٌ یَعْنِی ابْنَ دِیْنَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَکَوَانَ، عَنْ شَھْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ تَبَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْاَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَّ عَبْدٌ۔ قُلْتُ: مَا الْاِسْلاَمُ؟ قَالَ:طِیْبُ الْکَلاَمِ وَ اِطْعَامُ الطَّعَامِ، قُلْتُ: مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ، قَالَ: قُلْتُ: اَیُّ الْاِسْلاَمِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ یَدِہٖ، قَالَ: قُلْتُ:اَیُّ الْاِیْمَانِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: خُلْقٌ حَسَنٌ، قَالَ: قُلْتُ:اَیُّ الصَّلوٰۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: طُوْلُ الْقُنُوْتِ: قَالَ: قُلْتُ: اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:اَنْ تَھْجُرَ مَاکَرِہَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: قُلْتُ: فَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ عَقَرَ جَوَادُہٗ وَ اُھْرِیْقَ دَمُہٗ، قَالَ: قُلْتُ: اَیُّ السَّاعَاتِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّیْلِ الْآخِرِ ثُمَّ الصَّلوٰۃُ مَکْتُوْبَۃٌ مَشْھُوْدَۃٌ حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ۔الحدیث۔(٢٣)
١٥٧-اَفْضَلُ الْاِیْمَانِ اَنْ تُحِبَّ لِلّٰہِ وَ تُبْغِضَ لِلّٰہِ وَ تُعْمِلَ لِسَانَکَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ اَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَ تَکْرَہُ لَھُمْ مَا تَکْرَہُ لِنَفْسِکَ۔
’’بہترین ایمانی حالت یہ ہے کہ تیری دوستی اور دشمنی خدا واسطے کی ہو، تیری زبان پر خدا کا نام جاری ہو، اور تو دوسروں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے اور ان کے لیے وہی کچھ ناپسند کرے جو اپنے لیے ناپسند کرتاہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ غَیْلاَنَ، ثَنَا رُشْدَیْنٌ عَنْ زَبَّانٍ، عَنْ سَھْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ مُعَاذٍ، اَنَّہٗ سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنْ اَفْضَلِ الْاِیْمَانِ، قَالَ: اَنْ تُحِبَّ لِلّٰہِ وَ تُبْغِضَ لِلّٰہِ وَ تُعْمِلَ لِسَانَکَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ، قَالَ: وَ مَاذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَ اَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَ تَکْرَہُ لَھُمْ مَا تَکْرَہُ لِنَفْسِکَ۔الحدیث۔(٢٤)
١٥٨-اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا وَ اَلْطَفُھُمْ بِاَھْلِہٖ۔
’’تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعِ الْبَغْدَادِیُّ، اَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ، نَا خَالِدُ نِالْحَذَّائُ عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا وَ اَلْطَفُھُمْ بِاَھْلِہٖ۔ (٢٥)
١٥٩-مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ وَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلاَ یُؤذِ جَارَہٗ وَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔
’’جو شخص خدا اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے۔ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دینی چاہیے۔ اور اس کی زبان کھلے تو بھلائی پر کھلے ورنہ چپ رہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ، عَنْ اَبِیْ حَصِیْنٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ، وَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلاَ یُؤذِ جَارَہٗ، وَ مَنْ کَانَ یُؤمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔(٢٦)
١٦٠- لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَانِ، وَلاَ بِاللِّعَّانِ، وَلاَ الْفَاحِشُ وَلاَ الْبَذِّیُّ۔
’’مومن کبھی طعنے دینے والا، لعنت کرنے والا، بد گو اور زبان دراز نہیں ہوا کرتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَ الْاَزْدِیُّ الْبَصَرِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلاَ اللَّعَّانِ، وَلاَ الْفَاحِشُ، وَلاَ الْبَذِّیُّ۔(٢٧)
١٦١- لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَشْبَعُ وَجَارُہٗ جَائِعٌاِلٰی جَنْبِہٖ۔
’’جو شخص خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کے پہلومیں اس کا ہمسایہ بھوکا رہ جائے وہ ایمان نہیں رکھتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ اَبِیْ بَشِیْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُسَاوِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَشْبَعُ وَجَارُہٗ جَائِعٌ۔(٢٨)
١٦٢- وَاللّٰہِ لاَ یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لاَ یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لاَ یُؤْمِنُ الَّذِیْ لاَ یَامَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ۔
’’مومن نہیں ہے، خدا کی قسم، مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی بدی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: وَاللّٰہِ لاَ یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لاَ یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لاَ یُؤْمِنُ، قِیْلَ: وَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ:الَّذِیْ لاَ یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ۔(٢٩)
١٦٣- یُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَی الْخِصَالِ کُلِّھَا اِلاَّ الْخِیَانَۃَ وَالْکَذِبَ۔
’’مومن سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا اور خائن نہیں ہوسکتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الْاَعْمَشَ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ: یُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَی الْخِلاَلِ کُلِّھَا اِلاَّ الْخِیَانَۃَ وَالْکَذِبَ۔(٣٠)
١٦٤-مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَ ھُوَ یَقْدِرُ عَلٰی اَنْ یَّنْفَذَہٗ مَلأَ اللّٰہُ قَلْبَہٗ اَمْنًا وَ اِیْمَانًا۔
’’جو شخص اپنا غصہ نکال لینے کی طاقت رکھتا ہو، اور پھر ضبط کرجائے، اس کے دل کو خدا ایمان اور اطمینان سے لبریز کردیتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، ثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، عَنْ سَعِیْدٍ یَعْنِیْ ابْنَ اَبِیْ اَیُّوْبَ۔ عَنْ اَبِیْ مَرْحُوْمٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَ ھُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُّنَفِّذَہَ دَعَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی رُؤُسِ الْخَلاَئِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُخَیِّرَہُ اللّٰہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعَیْنِ مَاشَآئَ۔ قَالَ اَبُوْ دَاوٗدَ: اِسْمُ اَبِیْ مَرْحَوْمٍ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَیْمُوْنَ۔ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مُکَرَّمٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ۔ یعنی ابْنَ مَھْدِیٍّ عَنْ بِشْرٍ۔ یعنی ابْنَ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُوَیْدِ بْنِ وَھْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَبْنَائِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نَحْوَہٗ، قَالَ: مَلاَئَ ہُ اللّٰہُ اَمْنًا وَ اِیْمَانًا، لَمْ یَذْکُرْ قِصَّۃَ دَعَاہُ اللّٰہُ۔ الحدیث۔(٣١)
١٦٥- مَنْ مَشٰی مَعَ ظَالِمٍ لِیُقَوِّیَہٗ، وَ ھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلاَمِ۔
’’جو شخص کسی ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اس کا ساتھ دے، وہ اسلام سے نکل گیا۔‘‘
تخریج: عَنْ اَوْسِ بْنِ شُرَحْبِیْلَ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ مَشٰی مَعَ ظَالِمٍ لِیُقَوِّیَہٗ، وَ ھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلاَمِ۔
تفسیر ابن کثیر مندرجہ ذیل سند سے ابو القاسم الطبرانی کی سند کے حوالہ سے بھی مندرجہ بالا الفاظ منقول ہیں:
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ زُرَیْقِ الْحِمْصِیُّ، حَدَّثَنَا اَبِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَیْدیِّ، قَالَ عَبَّاسُ بْنُ یُوْنُسَ، اَنَّ اَبَا الْحَسَنِ ثَمْرَانَ بْنَ صَخْرٍ حَدَّثَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ مَشٰی مَعَ ظَالِمٍ لِیُعِیْنَہٗ وَ ھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلاَمِ۔(٣٢)
١٦٦-مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَ مَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَ مَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ۔
’’جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا۔ اور جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے خیرات کی، اس نے شرک کیا۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَبُو النَّضْرِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ یَعْنِیْ ابْنُ بَھْرَامٍ، قَالَ: قَالَ شَھْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ ابْنُ غَنَمٍ: لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِیَۃِ اَنَا وَ اَبُو الدَّرْدَائِ لَقِیْنَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ۔۔۔ قَالَ: فَبَیْنَا نَحْنُ کَذٰلِکَ اِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ اَوْسٍ وَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ، فَجَلَسَا اِلَیْنَا، فَقَالَ شَدَّادٌ:اِنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مِنَ الشَّھْوَۃِ الْخَفِیَّۃِ وَالشِّرْکِ، فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَ اَبُو الدَّرْدَائِ:اَللّٰھُمَّ غَفَرَا اَوَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ حَدَّثَنَا اَنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ اَنْ یُّعْبَدَ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، فَاَمَّا الشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ، فَقَدْ عَرَفْنَاھَا ھِیَ شَھَوَاتُ الدُّنْیَا مِنْ نِّسَائِھَا وَ شَھَوَاتِھَا، فَمَا ھٰذَا الشِّرْکُ الَّذِیْ تُخَوِّفُنَا بِہٖ یَا شَدَّادُ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ: اَرَأَیْتُکُمْ لَوْ رَأَیْتُمْ رَجُلاً یُصَلِّیْ لِرَجُلٍ اَوْ یَصُوْمُ لَہٗ اَوْ یَتَصَدَّقُ لَہٗ أَتَرَوْنَ اَنَّہٗ قَدْ اَشْرَکَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، وَاللّٰہِ! اَنَّہٗ مَنْ صَلّٰی لِرَجُلٍ، اَوْ صَامَ لَہٗ، اَوْ تَصَدَّقَ لَہٗ لَقَدْ اَشْرَکَ فَقَالَ شَدَّادٌ: فَاِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَ مَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَ مَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ۔(٣٣)
١٦٧-اَرْبَعُ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا۔ اِذَا ائْتُمِنَ خَانَ وَ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَ اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔
’’چار صفات ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے۔ امین بنایا جائے تو خیانت کرے، بولے تو جھوٹ بولے، عہد کرے تو اسے توڑدے اور لڑے تو شرافت کی حد سے گزر جائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَرْبَعُ خِلاَلٍ، مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، مَنْ اِذَا حَدَّثَ، کَذَبَ، وَ اِذَا وَعَدَ، اَخْلَفَ، وَ اِذَا عَاھَدَ، غَدَرَ، وَ اِذَا خَاصَمَ، فَجَرَ، مَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنْھُنَّ، کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا۔(٣٤)
١٦٨- عُدِلَتِ الشَّھَادَۃُ الزُّوْرُ بِالْاِشْرَاکِ بِاللّٰہِ۔
’’جھوٹی گواہی اتنا بڑا گناہ ہے کہ شرک کے قریب جا پہنچتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ مُوْسٰی الْبَلَخِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ، حَدَّثَنِیْ سُفْیَانُ۔ یَعْنِیْ الْعَصْفَرِیُّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْاَسَدِیِّ، عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ صَلوٰۃَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ بِالْاِشْرَاکِ بِاللّٰہِ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ ثُمَّ قَرَأَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ، وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَآئَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ۔(٣٥)
١٦٩-اَلْمُجَاھِدُ؟ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ۔
’’اصلی مجاہد وہ ہے جو خداکی فرماں برداری میں خود اپنے نفس سے لڑے اور اصلی مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑدے جنہیں خدا نے منع فرمایا ہے۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْجُنَیْدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ، اَنْبَأنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ ھَانِیئِ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکِ الْجَنَبِیِّ، حَدَّثَنِیْ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ اَمَنَہُ النَّاسُ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ، وَالْمُجَاھِدُ؟ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ، وَالْمُھَاجِرُ؟ مَنْ ھَجَرَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوْبَ۔(٣٦)
١٧٠-اَتَدْرُوْنَ مَنِ السَّابِقُوْنَ اِلٰی ظِلِّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ قَالُوْا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔ قَالَ:الَّذِیْنَ اِذَا اُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوْہُ وَ اِذَا سُئِلُوْہُ بَذَلُوْہُ وَ حَکَمُوْا لِلنَّاسِ کَحُکْمِھِمْ لِاَنْفُسِھِمْ۔
’’جانتے ہو کہ قیامت کے روز خدا کے سائے میں سب سے پہلے جگہ پانے والے لوگ کون ہوں گے؟ کہا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتا ہے وہ جن کا حال یہ رہا ہے کہ جب بھی حق ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے مان لیا اور جب بھی حق ان سے مانگا گیا تو انہوں نے کھلے دل سے دیا اور دوسروں کے معاملہ میں انہوں نے وہی فیصلہ کیا جو وہ خود اپنے معاملے میں چاہتے تھے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا حَسَنٌ وَ یَحْیَ بْنُ اِسْحَاقَ، قَالاَ: ثَنَا ابْنُ لَھْیِعَۃَ، قَالَ: ثَنَا خَالِدُ بْنُ اَبِیْ عِمْرَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ:أَتَدْرُوْنَ مَنِ السَّابِقُوْنَ اِلٰی ظِلِّ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالُوْا:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: الَّذِیْنَ اِذَا اُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوْہُ، وَ اِذَا سُئِلُوْہُ بَذَلُوْہُ، وَ حَکَمُوْا لِلنَّاسِ کَحُکْمِھِمْ لِاَنْفُسِھِمْ۔(٣٧)
١٧١-اِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِنْ اَنْفُسِکُمْ، اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اَصْدِقُوْا اِذَا حَدَّثْتُمْ، وَ اَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُّمْ، وَ اَدُّوْا اِذَائتُمِنْتُمْ، وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ، وَ غَضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ۔
’’تم چھ باتوں کی مجھے ضمانت دو، میں جنت کی تمہیں ضمانت دیتا ہوں۔ بولو تو سچ بولو۔ وعدہ کرو تو وفا کرو۔ امانت میں پورے اترو۔ بدکاری سے پرہیز کرو۔ بد نظری سے بچو اور ظلم سے ہاتھ روکو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ الْھَاشِمِیُّ، اَنَا اِسْمَاعِیْلُ، اَنَا عَمْرٌو عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِنْ اَنْفُسِکُمْ، اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اَصْدِقُوْا اِذَا حَدَّثْتُمْ، وَ اَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُّمْ، وَ اَدُّوْا اِذَائتُمِنْتُمْ، وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ، وَ غَضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ۔(٣٨)
١٧٢- لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَلاَ بَخِیْلٌ وَلاَ مَنَّانٌ۔
’’دھوکہ باز اور بخیل اور احسان جتانے والا آدمی جنت میں نہیں جاسکتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، ثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ مُوْسٰی، عَنْ فَرْقَدِ السَّبَخِیْ عَنْ مُرَّۃَ الطِّیْبِ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ نِالصَّدِّیْقِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ، وَلاَ بَخِیْلٌ، وَلاَ مَنَّانٌ۔(٣٩)
١٧٣-لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنَ السُّحْتِ وَ کُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنَ السُّحْتِ فَالنَّارُ اَوْلٰی بِہٖ۔
’’جنت میں وہ گوشت نہیں جاسکتا جو حرام کے لقموں سے پلا ہو۔ حرام خوری سے پلے ہوئے جسم کے لیے آگ ہی زیادہ موزوں ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، اَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُشَیْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّ النَّبِیَّﷺ، قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: اَعَاذَکَ اللّٰہُ مِنْ اِمَارَۃِ السُّفَھَآئِ، قَالَ: وَمَا اِمَارَۃُ السُّفَھَآئِ؟ قَالَ اُمَرَآئُ یَکُوْنُونَ بَعْدِیْ، لاَ یَقْتَدُوْنَ بِھَدْیِیْ، وَلاَ یَسْتَنُّوْنَ بِسُنَّتِیْ، فَمَنْ صَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ، وَ اَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ، فَاُولٰٓـئِـکَ لَیْسُوْا مِنِّیْ وَ لَسْتُ مِنْھُمْ، وَلاَ یَرِدُوْا عَلٰی حَوْضِیْ، وَلَمْ یُصَدِّقْھُمْ بِکَذِبِھِمْ، وَلَمْ یُعِنْھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ، فَاُولٰٓئِکَ مِنِّیْ وْ اَنَا مِنْھُمْ، وَ سَیَرِدُوْا عَلٰی حَوْضِیْ، یَا کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ، اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ، وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ الْخَطِیْئَۃَ، وَالصَّلوٰۃُ قُرْبَانٌ اَوْ قَالَ: بُرْھَانٌ، یَا کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ! اَنَّہٗ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، اَلنَّارُ اَوْلٰی بِہٖ یَا کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ، النَّاسُ غَادِیَانِ، فَمُبْتَاعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا وَ بَائِعٌ نَفْسَہٗ فَمُوْبِقُھَا۔(٤٠)
١٧٤-مَنْ بَاعَ عَیْبًا، لَمْ یُنَبِّہْ لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللّٰہِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلٓـئِکَۃُ تَلْعَنُہٗ۔
’’جس شخص نے عیب دار چیز بیچی اور خریدار کو عیب سے آگاہ نہ کیا اس پر خدا کا غصہ بھڑکتا رہتا ہے اور فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ الضَّحَّاکِ، ثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ یَحْیٰ، عَنْ مَکْحُوْلٍ، وَ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی، عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:مَنْ بَاعَ عَیْبًا، لَمْ یُبَیِّنْہٗ، لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللّٰہِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلاَئِکَۃُ تَلْعَنُہٗ۔(٤١)
١٧٥- لَوْ اَنَّ رَجُلاً قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ وَ عَلَیْہِ دَیْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یُقْضٰی دَیْنُہٗ۔
’’کوئی شخص خواہ کتنی ہی بار زندگی پائے اور خدا کی راہ میں جہاد کر کرکے جان دیتا رہے مگر وہ جنت میں نہیں جاسکتا اگر اس پر قرض ہو اور وہ ادا نہ کیا گیا ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ عَنْ زُھَیْرٍ، عَنِ الْعَلاَئِ، عَنْ اَبِیْ کَثِیْرٍ مَوْلٰی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ:کُنَّا جُلُوْسًا بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ حَیْثُ تُوْضَعُ الْجَنَائِزُ، وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، جَالِسٌ بَیْنَ ظَھْرَیْنَا، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَصَرَہٗ قِبَلَ السَّمَآئِ فَنَظَرَ ثُمَّ طَأْ طَأَ بَصَرَہَ وَ وَضَعَ یَدَہٗ عَلٰی جَبْھَتِہٖ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِیْدِ، قَالَ: فَسَکَتْنَا یَوْمَنَا وَ لَیْلَتَنَا، فَلَمْ نَرَھَا خَیْرًا حَتّٰی اَصْبَحْنَا، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَا التَّشْدِیْدُ الَّذِیْ نَزَلَ؟ قَالَ: فِی الدَّیْنِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَوْ اَنَّ رَجُلاً قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ وَ عَلَیْہِ دَیْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یُقْضٰی دَیْنُہٗ۔(٤٢)
١٧٦- اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ وَالْمَرْأَۃُ بِطَاعَۃِ اللّٰہِ سِتِّیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَحْضُرُھُمَا الْمُوْتُ فَیُضَارَّانِ فِی الْوَصِیَّۃِ فَتَجِبُ لَھُمَا النَّارُ۔
’’ایک شخص ۶۰ برس خدا کی عبادت کرتاہے اور مرتے وقت ایک وصیت میں حق دار کی حق تلفی کرکے اپنے آپ کو دوزخ کا مستحق بنا لیتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ الْحَدَانِیُّ، ثَنَا الْاَشْعَثُ ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِیْ شَھْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَہٗ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ وَالْمَرْأَۃُ بِطَاعَۃِ اللّٰہِ سِتِّیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَحْضُرُھُمَا الْمُوْتُ، فَیُضَارَّانِ فِی الْوَصِیَّۃِ، فَتَجِبُ لَھُمَا النَّارُ۔ قَالَ: وَ قَرَأَ عَلَیَّ ابو ھریرۃ من ھٰھُنَا ’’مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوْصٰی بِھَا اَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ حَتّٰی بَلَغَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔(٤٣)
١٧٧- لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَیِّیئُ الْمَلَکَۃِ۔
’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جو اپنے ماتحتوں پر بری طرح افسری کرے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، عَنْ ھَمَّامِ بْنِ یَحْیٰ، عَنْ فَرْقَدٍ عَنْ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ الصِّدِّیْقِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَیِّیئُ الْمَلَکَۃِ۔(٤٤)
١٧٨- اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِاَفْضَلِ مِنْ دَرَجَۃِ الصِّیَامِ وَالصَّدَقَۃِ وَالصَّلٰوۃِ اِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَیْنِ وَ فَسَادُ ذَاتِ الْبَیْنِ الْحَالِقَۃُ۔
’’میں تمہیں بتاؤں کہ روزے اور خیرات اور نماز سے بھی افضل کیا چیز ہے وہ ہے بگاڑ میں صلح کرانا۔ اور لوگوں کے باہمی تعلقات میں فساد ڈالنا وہ فعل ہے جو آدمی کی ساری نیکیوں پرپانی پھیر دیتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اُمِّ الدَّرْدَآئِ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَآئِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: أَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِاَفْضَلِ مِنْ دَرَجَۃِ الصِّیَامِ، وَالصَّلٰوۃِ وَالصَّدَقَۃِ؟ قَالُوْا:بَلٰی، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ اِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَیْنِ، وَ فَسَادُ ذَاتِ الْبَیْنِ الْحَالِقَۃُ۔(و یروی عن النبی ﷺ انہ قال: ھی حالقۃ، لا اقول تحلق الشعر ولکن تحلق الدین ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ۔)(٤٥)
١٧٩- اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ یَّاْتِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ بِصَلوٰۃٍ وَ صِیَامٍ وَ زَکوٰۃٍ وَ یَاْتِیْ قَدْ شَتَمَ ھٰذَا وَ قَذَفَ ھٰذَا وَ اَکَلَ مَالَ ھٰذَا وَسَفَکَ دَمَ ھٰذَا وَ ضَرَبَ ھٰذَا فَیُعْطٰی ھٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہٖ وَ ھٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہٖ فَاِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہٗ قَبْلَ اَنْ یُّقْضٰی مَا عَلَیْہِ اُخِذَ مِنْ خَطَایَاھُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ۔
’’اصل مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز خدا کے حضور اس حال میں حاضرا ہوا کہ اس کے ساتھ نماز، روزہ زکوٰۃ سب ہی کچھ تھا، مگر اس کے ساتھ وہ کسی کو گالی دے کر آیا تھا، کسی پر بہتان لگا کر آیا تھا، کسی کا مال مار کھایا تھا، کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو پیٹ کر آیا تھا۔ پھر خدا نے اس کی ایک ایک نیکی ان مظلوموں پر بانٹ دی اور جب اس سے بھی حساب چکتا نہ ہوا تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے اور اسے دوزخ میں جھونک دیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَ عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ: نَا اِسْمَاعِیْلُ وَ ھُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَئِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: أَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوْا: الْمُفْلِسُ فِیْنَا مَنْ لاَ دِرْھَمَ لَہٗ وَلاَ مَتَاعَ، فَقَالَ: اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ یَّاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِصَلوٰۃٍ وَ صِیَامٍ، وَ زَکوٰۃٍ، وَ یَاْتِیْ قَدْ شَتَمَ ھٰذَا وَ قَذَفَ ھٰذَا، وَ اَکَلَ مَالَ ھٰذَا، وَسَفَکَ دَمَ ھٰذَا، وَ ضَرَبَ ھٰذَا، فَیُعْطٰی ھٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہٖ وَ ھٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہٖ، فَاِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہٗ قَبْلَ اَنْ یُّقْضٰی مَا عَلَیْہِ، اُخِذَ مِنْ خَطَایَاھُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ۔(٤٦)
١٨٠- لَنْ یَّھْلِکَ النَّاسُ حَتّٰی یَعْذِرُوْا اَوْ یُعْذِرُوْا مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔
’’لوگ کبھی نجات سے محروم نہ ہوں اگر اپنی برائیوں کی تاویلیں کر کرکے اپنے نفس کو برائیوں پر مطمئن نہ کرتے رہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ: ثَنَا شُعْبَۃُ، وَ ھٰذَا لَفْظُہٗ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ مُرَّۃَ، عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیَّ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ، وَ قَالَ سُلَیْمَانُ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: لَنْ یَّھْلِکَ النَّاسُ حَتّٰی یَعْذِرُوْا اَوْ یُعْذِرُوْا مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔(٤٧)
١٨١- اَلْمُحْتَکِرُ مَلْعُوْنٌ۔
’’جو تاجر قیمتیں چڑھانے کے لیے مال روک رکھے وہ ملعون ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ، ثَنَا اَبُوْ اَحْمَدَ، ثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جَدْعَانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْجَالِبُ مَرْزُوْقٌ، وَالْمُحْتَکِرُ مَلْعُوْنٌ۔( قال الحافظ۔ اخرجہ ابن ماجہ والحاکم عن عمر بن الخطاب مرفوعا، و اسنادہ ضعیف۔ کذا فی الفتح: ۴؍۲۳۹۔) (٤٨)
١٨٢- مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا یُرِیْدُ بِہٖ الْغَلاَئَ فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ اللّٰہِ وَ بَرِیَٔ اللّٰہُ مِنْہُ۔
’’جس نے چالیس دن غلہ اس نیت سے روک رکھا کہ قیمتیں چڑھ جائیں تو خدا کا اس سے اور اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
تخریج: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا یُرِیْدُ بِہٖ الْغَلاَئَ فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ اللّٰہِ وَ بَرِیَٔ اللّٰہُ مِنْہُ۔(٤٩)
١٨٣- مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہٖ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کَفَّارَۃً۔
’’چالیس دن غلہ روکنے کے بعد اگر آدمی اس غلہ کو خیرات بھی کردے تو معاف نہ کیا جائے گا۔‘‘
تخریج: عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہٖ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کَفَّارَۃً۔(٥٠)
تشریح: یہ نبی اکے بہت سے اقوال میں سے چند ہیں جو میںنے محض نمونے کے طور پر آپؐ کے سامنے پیش کیے ہیں۔ ان سے آپ کو اندازہ ہوگاکہ حضوؐر نے ایمان سے اخلاق اور اخلاق سے زندگی کے تمام شعبوں کا تعلق کس طرح قائم کیاہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ آپؐ نے ان باتوں کو صرف باتوں کی حد تک ہی نہ رکھا بلکہ عمل کی دنیا میں ایک پورے ملک کے نظام تمدن و سیاست کو انہی بنیادوں پر قائم کرکے دکھا دیا، اور آپؐکا یہی وہ کارنامہ ہے جس کی بنا پر آپؐ نوع انسانی کے سب سے بڑے رہ نما ہیں۔ (نشری تقریریں، سرور عالمؐ کا اصلی کارنامہ)

مسلمانوں کی باہمی شفقت و رحمت

١٨٤-اَلْمُسْلِمُ لِلْمُسْلِمِ (متن میں (المسلم للمسلم) درج ہے۔ یہ الفاظ مشکوٰۃ کے کتاب الاداب باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق میں نہیں ہے۔ بلکہ وہاں (المؤمن للمؤمن) ہے۔ (مرتب)
کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا۔
(متفق علیہ۔ مشکوٰۃ کتاب الاداب باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق)
’’مسلمان کے ساتھ مسلمان کا تعلق ایسا ہے جیسے ایک دیوار کے اجزا، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے قوت پاتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ جَدِّیْ اَبُوْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَبِیْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنُ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا، ثُمَّ شَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہٖ، وَکَانَ النَّبِیُّ ﷺ جَالِسًا اِذْ جَآئَ رَجُلٌ یَسْأَلُ اَوْ طَالِبٌ حَاجَۃً، اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ فَقَالَ: اشْفَعُوْا فَلْتُوْجَرُوْا، وَ لَیَقْضِ اللّٰہُ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہٖ مَاشَآئَ۔(٥١)
١٨٥- مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّھُمْ وَ تَرَاحُمِھِمْ وَ تَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عَضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھْرِ وَالْحُمّٰی۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ، ایضًا)
’’آپس کی محبت اور رحمت و مہربانی میں مسلمانوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس کے لیے بے خواب و بے آرام ہوجاتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: ثَنَا زَکَرِیَّا، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّھِمْ، تَعَاطُفِھِمْ وَ تَرَاحُمِھِمْ مَثَلَ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھْرِ وَالْحُمّٰی۔(٥٢)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنْ عَامِرٍ، قَالَ:سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ابْنَ بَشِیْرٍ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَرَاحُمِھِمْ، وَ تَوَادِّھِمْ، وَ تَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھْرِ وَالْحُمّٰی۔(٥٣)
تشریح: ملت اسلامیہ کے اس جسد نامی کو رسول اللہؐ نے ’’جماعت‘‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے ۔
(اسلامی ریاست ، اسلامی تصور قومیت ’’اسلام کا طریق جمع و تفریق‘‘

دعوت دین کے لیے لازمی شخصی اور جماعتی اوصاف

١٨٦- اَلْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ۔     (مسند احمد روایات ابی ھریرۃ)
’’حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے کشمکش کرے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ اِسْحَاقَ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَنَا لَیْثٌ قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ ھَانِیِٔالْخَوْلاَنِیُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکِ الجبنی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ اٰمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ، وَالْمُسْلِمُ، مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ یَدِہٖ۔ وَالْمُجَاھِدُ، مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ، وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوْبَ۔(٥٤)
تشریح:  یعنی قبل اس کے کہ آپ باہر کی دنیا میں خدا کے باغیوں سے مقابلہ کے لیے نکلیں، اس باغی کو مطیع بنایئے جو خود آپ کے اندر موجود ہے اور خدا کے قانون اور اس کی رضا کے خلاف چلنے کے لیے ہر وقت تقاضا کرتا رہتا ہے۔ اگر یہ باغی آپ کے اندر پل رہا ہے اور آپ پر اتنا قابو یافتہ ہے کہ آپ سے رضائے الٰہی کے خلاف اپنے مطالبے منوا سکتا ہے تویہ بالکل ایک بے معنی بات ہے کہ آپ بیرونی باغیوں کے خلاف اعلان جنگ کریں۔ یہ تو وہی بات ہوگی کہ گھر میں شراب کی بوتل پڑی ہے اور باہر شرابیوں سے لڑائی ہورہی ہے۔ یہ تضاد ہماری تحریک کے لیے تباہ کن ہے۔ پہلے خود خدا کے آگے سرجھکایئے۔ پھر دوسروں سے اطاعت کا مطالبہ کیجیے۔    (روداد جماعت اسلامی حصہ دوم،امیر جماعت کی تقریر)
١٨٧- آں حضوؐر سے پوچھا گیا کہ اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔ یا رسول اللہؐ کون سی ہجرت افضل ہے؟۔
جواب ملا اَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَیہ کہ تو ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اللہ کو ناپسند ہیں۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَکَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: اَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَلْھِجْرَۃُ ھِجْرَتَانِ:ھِجْرَۃُ الْحَاضِرِ، وَ ھِجْرَۃُ الْبَادِیْ، فَاَمَّا الْبَادِیُ فَیُجِیْبُ اِذَا دُعِیَ، وَ یُطِیْعُ اِذَا اُمِرَ، وَ اَمَّا الْحَاضِرُ فَھُوَ اَعْظَمُھُمَا بَلِیَّۃً وَ اَعْظَمُھُمَا اَجْرًا۔(٥٥)
تشریح:  ہجرت کا اصل مدعا گھر بار چھوڑنا نہیں ہے بلکہ خدا کی نافرمانی سے بھاگ کر خدا کی رضا جوئی کی طرف بڑھنا ہے۔ اصلی مہاجر ترک وطن اگر کرتا ہے تو اس لیے کہ اس کے وطن میں قانون الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص نے گھر بار چھوڑا اور اللہ کی فرماں برداری ہی نہ اختیار کی، تو اس نے حماقت کی۔
اندر کا باغی اگر مطیع نہ ہو تو آدمی کا ترک وطن کردینا خدا کی بارگاہ میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اسی لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ حضرات باہر کی قوتوں سے پہلے اپنے اندر کی سرکش قوتوں سے لڑیئے اور اصطلاحی کفارکو مسلمان بنانے سے پہلے اپنے نفس کو مسلمان بنایئے۔           (حوالہ مذکورہ بالا ، روداد جماعت اسلامی حصہ دوم، امیر جماعت کی تقریر)
١٨٨- مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَ مَثَلُ الْاِیْمَانِ کَمَثَلِ الْفَرْسِ فِیْ آخِیَّتِہٖ یَجُوْلُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی آخِیَّتِہٖ۔
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَعْمُرُ بْنُ بِشْرٍ، اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ اَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ اَیُّوْبَ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْوَلِیْدِ، عَنْ اَبِیْ سُلَیْمَانَ اللَّیْثِیُّ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَ مَثَلُ الْاِیْمَانِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ فِیْ آخِیَّتِہٖ یَجُوْلُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی آخِیَّتِہٖ، وَ اِنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْھُوْ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَی الْاِیْمَانِ الخ۔(٥٦)
تشریح:  حدیث نبویؐ کے مطابق اپنے آپ کو اس گھوڑے کی طرح بنایئے جو ایک کھونٹے سے بندھا ہوا ہے اور کتنا ہی گھومے پھرے بہ ہرحال اس حد سے آگے نہیں جاسکتا جہاں تک رسی اسے جانے دیتی ہے۔ ایسے گھوڑے کی حالت آزاد گھوڑے سے بالکل مختلف ہوتی ہے، جو ہر میدان میں گھومتا ہے، ہر کھیت میں گھس جاتا ہے اور جہاں ہری گھاس دیکھتا ہے وہیں پوری بے صبری کے ساتھ ٹوٹ پڑتا ہے۔  (روداد جماعت اسلامی حصہ دوم،امیرجماعت کی تقریر)
١٨٩- اِذَا رُئُ وْا ذُکِرَ اللّٰہُ۔
تخریج: حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ سُلَیْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ شَھْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ اَسْمَآئَ بِنْتِ یَزِیْدَ، اَنَّھَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: أَلاَ اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: خِیَارُکُمُ الَّذِیْنَ اِذَا رُؤُا ذُکِرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔(٥٧)
ترجمہ:  ’’اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ اکو ارشاد فرماتے سنا آپ فرماتے ہیں کیا میں تمہیں تم میں سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا ہاں اے اللہ کے رسول (ضرور ارشاد فرمائیں) آپؐ نے فرمایا بہترین آدمی وہ ہیں کہ جب ان پر نگاہیں پڑیں تو اللہ یاد آجائے۔‘‘
تشریح:  اصل تبلیغ یہ ہے کہ آپ اپنی دعوت کا مجسم ظہور اور نمونہ ہوں۔ جہاں کہیں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے یہ نمونہ گزر جائے وہ آپ کے طرز عمل سے پہچان لیں کہ یہ ہیں خدا کے راہی۔ جس طرح کوئی ’’فنا فی الکانگریس‘‘ آدمی سامنے آجاتا ہے تو کانگریسیت کی پوری تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے اسی طرح آپ ایسے ’’فنا فی الاسلام‘‘ بن جایئے کہ جہاں آپ سامنے آئیں، اسلامی تحریک کا پورا نقشہ واضح ہوجائے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا فوراً ہوجانا چاہیے۔ یہ مقام تو تدریجاً ہی حاصل ہوگا۔ خدا کی راہ میں جب اپنے ماحول سے پیہم آپ کا تصادم ہوتا رہے گا اور آپ ہر آن، ہر لمحہ اپنے مقصد کے لیے کوشش کرتے ہوئے قربانیاں دیتے رہیں گے تو ایک مدت میں جاکر فنانیت کی کیفیت آپ پر طاری ہوگی اور آپ اپنی دعوت کا مجسم ظہور بن سکیں گے۔
(روداد جماعت اسلامی حصہ دوم، امیر جماعت کی تقریر)
١٩٠- مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَ اَبْغَضَ لِلّٰہِ وَ اَعْطٰی لِلّٰہِ وَ مَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ
(ابو داؤد کتاب السنۃ۔ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ)
تخریج: حَدَّثَنَا مُؤَمَلُ بْنُ الْفَضْلِ نَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبِ بْنُ شَابُوْرٍ عَنْ یَحْیٰ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَعَمَ اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَ اَبْغَضَ لِلّٰہِ وَ اَعْطٰی لِلّٰہِ وَ مَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔(٥٨)
تشریح:  یعنی آدمی پورا مومن اس وقت بنتا ہے جب اس کی کیفیت یہ ہوجائے کہ اس کی دوستی اور دشمنی اور اس کا دینا، روکنا جو کچھ ہو خالص اللہ کے لیے ہو، نفسانی اور دنیوی محرکات اس کے لیے ختم ہوجائیں۔ (روداد جماعت اسلامی حصہ دوم، امیر جماعت کی تقریر)
١٩١- مَنْ نَظَرَ فِیْ دِیْنِہٖ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقَہٗ فَاقْتَدٰی بِہٖ وَ نَظَرَ فِیْ دُنْیَاہُ اِلٰی مَنْ ھُوَ دُوْنَہٗ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلٰی مَا فَضَّلَہٗ بِہٖ عََلَیْہِ کَتَبَہُ اللّٰہُ شَاکِرًا صَابِرًا۔ وَ مَنْ نَظَرَ فِیْ دِیْنِہٖ اِلٰی مَنْ ھُوَ دُوْنَہٗ وَ نَظَرَ فِیْ دُنْیَاہُ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقَہٗ فَاَسِفَ عَلٰی مَا فَاتَہٗ مِنْہُ، لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ شَاکِرًا وَلاَ صَابِرًا۔
’’جس نے اپنے دین کے معاملہ میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھا اور اس کی پیروی میں آگے بڑھا اور اپنی دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھا اور اللہ کے دیئے ہوئے فضل پر اس کا شکر ادا کیا وہ اللہ کے ہاں شاکر اور صابر لکھا گیا۔ بخلاف اس کے جس نے اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو دیکھا اور دنیا پانے میں جو کمی رہ گئی، اس پر حسرت و اندوہ میں مبتلا ہوا، وہ اللہ کے ہاں نہ شاکر لکھا گیا نہ صابر۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سُوَیْدٌ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ، عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ جَدِّہٖ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: خَصْلَتَانِ، مَنْ کَانَتَا فِیْہِ، کَتَبَہُ اللّٰہُ شَاکِرًا صَابِرًا، وَ مَنْ لَّمْ تَکُوْنَا فِیْہِ لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ شَاکِرًا وَلاَ صَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِیْ دِیْنِہٖ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقَہٗ، فَاقْتَدٰی بِہٖ، وَ مَنْ نَظَرَ فِیْ دُنْیَاہُ اِلٰی مَنْ ھُوَ دُوْنَہٗ فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلٰی مَا فَضَّلَہٗ بِہٖ عََلَیْہِ، کَتَبَہُ اللّٰہُ شَاکِرًا صَابِرًا، وَ مَنْ نَظَرَ فِیْ دِیْنِہٖ اِلٰی مَنْ ھُوَ دُوْنَہٗ وَ نَظَرَ فِیْ دُنْیَاہُ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقَہٗ، فَاَسِفَ عَلٰی مَا فَاتَہٗ مِنْہُ، لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ شَاکِرًا وَلاَ صَابِرًا۔(٥٩)
تشریح:  مومن کا کام یہ ہے کہ دولت دین کے معاملے میں وہ ہمیشہ اپنے سے اونچے لوگوں کی طرف دیکھے تاکہ یہ دولت کمانے کی حرص کبھی اس کے اندر بجھنے نہ پائے اور دولت دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر لوگوں کی طرف دیکھے تاکہ جتنا کچھ بھی اس کے رب نے اسے دیا ہے، اس پر وہ خدا کا شکر بجا لائے اور زرو مال کی پیاس تھوڑے ہی سے بجھ جائے۔
(روداد جماعت اسلامی حصہ ششم ص:۴۴۴)
١٩٢-  حضوؐر نے فرمایا۔
اَمَرَنِیْ رَبِّیْ بِتِسْعٍ۔
’’میرے رب نے مجھے نو چیزوں کا حکم دیا ہے۔‘‘
(۱) خَشْیَۃِ اللّٰہِ فِی السِّرِّ وَالْعَلاَنِیَۃِ۔
’’کھلے اور چھپے ہر حال میں خدا سے ڈرتا رہوں۔‘‘
(۲) وَ کَلِمَۃِ الْعَدْلِ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَائِ۔
’’کسی پر مہربان ہوں یا کسی کے خلاف غصہ میں ہوں، دونوں حالتوں میں انصاف ہی کی بات کہوں۔‘‘
(۳) وَالْقَصْدِ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنَائِ۔
’’خواہ فقیری کی حالت میں ہوں، یا امیری کی حالت میں، بہ ہر حال راستی و اعتدال پر قائم رہوں۔‘‘
(۴) وَ اَنْ اَصِلَ مَنْ قَطَعَنِیْ۔
’’اور یہ کہ جو مجھ سے کٹے ہیں اس سے جروں۔‘‘
(۵) وَ اُعِطَی مَنْ حَرَمَنِیْ۔
’’اور جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں۔‘‘
(۶) وَاعْفُوَ مَنْ ظَلَمَنِیْ۔
’’اور جو مجھ پر زیادتی کرے میں اسے معاف کروں۔‘‘
(۷) وَ اَنْ یَّکُوْنَ صَمَتِیْ فِکْراً۔
’’اور یہ کہ میری خاموشی تفکر کی خاموشی ہو۔‘‘
(۸) وَ نُطْقِیْ ذِکْراً۔
’’اور میری گفتگو ذکر الٰہی کی گفتگو ہو۔‘‘
(۹) وَ نَظْرِیْ عِبْرَۃً۔
’’اور میری نگاہ عبرت کی نگاہ ہو۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَمَرَنِیْ رَبِّیْ بِتِسْعٍ:خَشْیَۃِ اللّٰہِ فِی السِّرِّ وَالْعَلاَنِیَۃِ، وَ کَلِمَۃِ الْعَدْلِ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدِ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی، وَ اَنْ اَصِلَ مَنْ قَطَعَنِیْ، وَ اُعْطِیَ مَنْ حَرَمَنِیْ، وَاَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِیْ، وَ اَنْ یَّکُوْنَ صَمْتِیْ فِکْرًا وَ نُطْقِیْ ذِکْرًا، وَ نَظْرِیْ عِبْرَۃً، وَاٰمُرَ بِالْعُرْفِ وَ قِیْلَ بِالْمَعْرُوْفِ۔(٦٠)
تشریح:  ان اوصاف مطلوبہ کا ذکر کرنے کے بعد نبی ا فرماتے ہیں کہ: ان اٰمر بالمعروف وانھی عن المنکر یعنی مجھے حکم دیا گیا کہ میں نیکی کا حکم دوں اور بدی سے روکوں۔
معلوم ہوا کہ نیکی کو پھیلانے اور بدی کو ختم کرنے کے لیے جو امت وسط اٹھے، اس کے فرد فرد میں یہ اوصاف ہونے چاہئیں۔ انہیں اوصاف کے ساتھ فریضہ ادا ہوسکتا ہے۔  یہ نہ ہوں تو ہم اپنے منصب کے مقتضیات کو پورا نہیں کرسکتے۔
(روداد جماعت اسلامی حصہ دوم، امیر جماعت کی تقریر)

بدی کے مقابلہ میں مومن صالح کا کردار

١٩٣-(حضوؐرنے فرمایا) لاَ تَکُوْنُوْا اِمَّعَۃً تَقُوْلُوْنَ اِنْ اَحْسَنَ النَّاسُ اَحْسَنَّا وَ اِنْ ظَلَمُوْنَا ظَلَمْنَا۔ وَ لٰـکِنْ وَطِّنُوْا اَنْفُسَکُمْ، اِنْ اَحْسَنَ النَّاسُ اَنْ تُحْسِنُوْا وَ اِنْ اَسَائُ وْا فَلاَ تَظْلِمُوْا۔
’’تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر نہ رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ تم اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابند بناؤ۔ اگر لوگ نیکی کریں تو تم نیکی کرو اور اگر لوگ تم سے بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ ھِشَامِ الرِّفَاعِیُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُمَیْعٍ، عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ تَکُوْنُوْا اِمَّعَۃً تَقُوْلُوْنَ: اِنْ اَحْسَنَ النَّاسُ اَحْسَنَّا، وَ اِنْ ظَلَمُوْا، ظَلَمْنَا وَ لٰـکِنْ وَطِّنُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنْ اَحْسَنَ النَّاسُ اَنْ تُحْسِنُوْا وَ اِنْ اَسَائُ وْا فَلاَ تَظْلِمُوْا۔(٦١)
١٩٤-(حضوؐر نے فرمایا) (لا تخن من خانک)
’’جو تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، وَ اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالاَ: ثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِیْکٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلاَئِ: وَ قَیْسٍ عَنْ اَبِیْ حَصِیْنٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَدِّ الْاَمَانَۃَ اِلٰی مَنِ ائْتَمَنَکَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَکَ۔(٦٢)
تشریح: ان احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مومن بدی کے مقابلے میں بدی نہیں بلکہ نیکی کرتے ہیں وہ شر کا مقابلہ شر سے نہیں بلکہ خیر ہی سے کرتے ہیں کوئی ان پر خواہ کتنا ہی ظلم کرے وہ جواب میں ظلم نہیں بلکہ انصاف ہی کرتے ہیں۔ کوئی ان کے خلاف کتنا ہی جھوٹ بولے، وہ جواب میں سچ ہی بولتے ہیں کوئی ان سے خواہ کتنی ہی خیانت کرے، وہ جواب میں دیانت ہی سے کام لیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ جو شخص تیرے ساتھ معاملہ کرنے میں خدا سے نہیں ڈرتا اس کو سزا دینے کی بہترین صورت یہ ہے کہ تو اس کے ساتھ خدا سے ڈرتے ہوئے معاملہ کر۔ (تفہیم القرآن ج۲، الرعد حاشیہ:۴۰)

داعیٔ حق کے اوصاف

١٩٥- نبی انے فرمایا:’’میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ غضب اور رضا دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں، جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں جو مجھے میرے حق سے محروم کرے میں اسے اس کا حق دوں، جو میرے ساتھ ظلم کرے میںاس کو معاف کردوں۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَمَرَنِیْ رَبِّیْ بِتِسْعٍ، خَشْیَۃِ اللّٰہِ فِی السِّرِّ وَالْعَلاَنِیَۃِ، وَ کَلِمَۃِ الْعَدْلِ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَا، وَالْقَصْدِ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی، وَ اَنْ اَصِلَ مَنْ قَطَعَنِیْ وَ اُعْطِیَ مَنْ حَرَمَنِیْ، وَ اَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِیْ، وَ اَنْ یَّکُوْنَ صَمْتِیْ فِکْرًا، وَ نُطْقِیْ ذِکْرًا، وَ نَظْرِیْ عِبْرَۃً، وَاٰمُرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ قِیْلَ بِالْعُرْفِ۔(٦٣)
١٩٦- بَشِّرُوْا وَلاَ تُنَفِّرُوْا وَ یَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا۔
یعنی جہاں تم جاؤ وہاں تمہاری آمد لوگوں کے لیے مژدۂ جان فزا ہو نہ کہ باعث نفرت اور لوگوں کے لیے تم سہولت کے موجب بنو نہ کی تنگی و سختی کے۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا بَعَثَ اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِہٖ فِیْ بَعْضِ اَمْرِہٖ قَالَ: بَشِّرُوْا، وَلاَ تُنَفِّرُوْا، وَ یَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا۔(٦٤)
تشریح: داعیٔ حق کے لیے جو صفات سب سے زیادہ ضروری ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے نرم خو، متحمل اور عالی ظرف ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے ساتھیوں کے لیے شفیق، عامۃ الناس کے لیے رحیم اور اپنے مخالفوں کے لیے حلیم ہونا چاہیے۔ اس کو اپنے رفقاء کی کم زوریوں کوبھی برداشت کرنا چاہیے اور اپنے مخالفین کی سختیوں کو بھی۔ اسے شدید سے شدید اشتعال انگیز مواقع پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے۔ نہایت ناگوار باتوں کو بھی عالی ظرفی کے ساتھ ٹال دینا چاہیے۔ مخالفوں کی طرف سے کیسی ہی سخت کلامی، بہتان تراشی، ایذا رسانی اور شریرانہ مزاحمت کا اظہار ہو، اس کو درگزر ہی سے کام لینا چاہیے۔ سخت گیری، درشت خوئی، تلخ گفتاری اور انتقامانہ اشتعال طبع اس کام کے لیے زہر کا حکم رکھتا ہے اور اس سے کام بگڑتا ہے بنتا نہیں ہے۔ اس چیز کی تعریف اللہ نے نبی اکے حق میں فرمائی کہ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْج وَ لَوْ کُنْتُ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ۔ (یعنی یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان لوگوںکے لیے نرم ہو ورنہ اگر تم درشت خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے)۔ (تفہیم القرآن: ج۲، الاعراف، حاشیہ:۱۵۰)

اسلامی معاشرہ اور تجسّس

١٩٧- یَا مَعْشَرَ مَنْ ٰ امَنَ بِلِسَانِہٖ وَلَمْ یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ قَلْبَہٗ لاَ تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ، فَاِنَّہٗ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتَھُمْ یَتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہٗ وَ مَنْ یَّتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہٗ یَفْضَحَہٗ فِیْ بَیْتِہٖ۔ (ابو داؤد)
’’اے لوگو جو زبان سے ایمان لے آئے ہو، مگر ابھی تمہارے دلوں میں ایمان نہیںاترا ہے، مسلمانوں کے پوشیدہ حالات کی کھوج نہ لگایا کرو، کیوں کہ جو شخص مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنے کے درپے ہوگا اللہ اس کے عیوب کے درپے ہوجائے گا اور اللہ جس کے درپے ہوجائے اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُرَیْحٍ، عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا مَعْشَرَ مَنْ ٰ امَنَ بِلِسَانِہٖ، وَلَمْ یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ قَلْبَہٗ لاَ تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِیْنَ، وَلاَ تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِھِمْ فَاِنَّہٗ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِھِمْ یَتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہٗ وَ مَنْ یَّتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہٗ یَفْضَحَہٗ فِیْ بَیْتِہٖ۔(٦٥)
١٩٨-اِنَّکَ اِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ اَفْسَدَتَھُمْ اَوْ کِدْتَ اَنْ تُفْسِدَھُمْ۔ (ابو داؤد)
’’حضرت معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ا کویہ فرماتے سنا ہے: تم اگر لوگوں کے مخفی حالات معلوم کرنے کے درپے ہوگے تو ان کو بگاڑ دوگے یا کم از کم بگاڑ کے قریب پہنچادوگے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ مُحَمَّدِ الرَّمْلِیُّ وَابْنُ عَوْفٍ وَ ھٰذَا لَفْظُہٗ قَالاَ: ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِنَّکَ اِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ اَفْسَدَھُمْ اَوْ کِدْتَّ اَنْ تُفْسِدَھُمْ۔(٦٦)
١٩٩-اِذَا ظَنَنْتُمْ فَلاَ تُحَقَّقُوْا۔ (احکام القرآن للجصاص)
’’ایک حدیث میں حضوؐر کا ارشاد ہے: جب کسی شخص کے متعلق تمہیں کوئی برا گمان ہوجائے تو اس کی تحقیق نہ کرو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا ظَنَنْتُمْ فَلاَ تَحَقَّقُوْا۔(٦٧)
٢٠٠- مَنْ رَأیَ عَوْرَۃً فَسَتَرَھَا کَانَ کَمَنْ اَحْیَا مَوْئُ وْدَۃً۔ (الجصاص)
’’ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے کوئی مخفی عیب دیکھ لیا اور اس پر پردہ ڈال دیا تو یہ ایسا ہے جیسے کسی نے ایک زندہ گاڑی ہوئی بچی کو موت سے بچالیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ نَشِیْطٍ، عَنْ کَعْبِ ابْنِ عَلْقَمَۃَ، عَنْ اَبِی الْھَیْثَمِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: مَنْ رَاٰی عَوْرَۃً فَسَتَرَھَا کَانَ کَمَنْ اَحْیَا مَوْئُ وْدَۃً۔(٦٨)
٢٠١-اِنَّ الْاَمِیْرَ اِذَا ابْتَغٰی الرِّیْبَۃَ فِی النَّاسِ اَفْسَدَھُمْ۔ (ابو داؤد)
’’نبی انے فرمایا ہے کہ :حکمران جب لوگوں کے اندر شبہات کے اسباب تلاش کرنے لگے تو وہ ان کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَمْرِو الْحَضْرَمِیُّ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ، ثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَۃَ، عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ خُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، وَ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ، وَ عَمْرِو بْنِ الْاَسْوَدِ، وَالْمِقْدَامِ ابْنِ مَعْدِیْکَرِبَ، وَ اَبِیْ اُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِنَّ الْاَمِیْرَ اِذَا ابْتَغٰی الرِّیْبَۃَ فِی النَّاسِ اَفْسَدَھُمْ۔(٦٩)
تشریح: یعنی لوگوں کے رازنہ ٹٹولو۔ ایک دوسرے کے عیب نہ تلاش کرو۔ دوسروں کے حالات اور معاملات کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو۔ یہ حرکت خواہ بدگمانی کی بنا پر کی جائے یا بدنیتی سے کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر کی جائے، یا محض اپنا استعجاب (Curiosity)دور کرنے کے لیے کی جائے، ہر حال میں شرعاً ممنوع ہے۔ ایک مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسروں کے جن حالات پر پردہ پڑا ہوا ہے ان کی کھوج کرید کرے اور پردے کے پیچھے جھانک کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ کس میںکیا عیب ہے اور کس کی کون سی کم زوریاں چھپی ہوئی ہیں، لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، دو آدمیوں کی باتیں کان لگا کر سننا، ہمسایوں کے گھرمیںجھانکنا، اور مختلف طریقوں سے دوسروں کی خانگی زندگی یا ان کے ذاتی معاملات کی ٹٹول کرنا ایک بڑی بد اخلاقی ہے جس سے طرح طرح کے فساد رونما ہوتے ہیں۔
تجسّس کی ممانعت کا یہ حکم صرف افراد ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت کے لیے بھی ہے۔ شریعت نے نہی عن المنکر کا جو فریضہ حکومت کے سپرد کیا ہے اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ وہ جاسوسی کاایک نظام قائم کرکے لوگوں کی چھپی ہوئی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالے اور ان پر سزا دے، بلکہ اسے صرف ان برائیوں کے خلاف طاقت استعمال کرنی چاہیے جو ظاہر ہوجائیں۔ رہیں مخفی برائیاں تو ان کی اصلاح کا راستہ جاسوسی نہیں ہے بلکہ تعلیم، وعظ و تلقین، عوام کی اجتماعی تربیت اور ایک پاکیزہ معاشرتی ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عمرؓ کا یہ واقعہ بہت سبق آموز ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت آپ نے کسی شخص کی آواز سنی جو اپنے گھرمیں گارہا تھا۔ آپ کو شک گزرا اور دیوار پر چڑھ گئے۔ دیکھا کہ وہاں شراب بھی موجود ہے اور ایک عورت بھی۔ آپ نے پکار کر کہا ’’اے دشمن خدا، کیا تونے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا اور اللہ تیرا پردہ فاش نہ کرے گا؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’امیر المؤمنین جلدی نہ کیجیے۔ اگر میں نے ایک گناہ کیا ہے تو آپ نے تین گناہ کیے ہیں۔ اللہ نے تجسّس سے منع کیا تھا اور آپ نے تجسّس کیا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور آپ دیوار پر چڑھ کر آئے۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اجازت لیے بغیر نہ جاؤ اور آپ میری اجازت کے بغیر میرے گھر میں تشریف لائے۔‘‘ یہ جواب سن کر حضرت عمرؓ اپنی غلطی مان گئے۔ اور اس کے خلاف انہوں نے کوئی کار روائی نہ کی، البتہ اس سے یہ وعدہ لے لیا کہ وہ بھلائی کی راہ اختیار کرے گا۔ (مکارم الاخلاق لابی بکر محمد بن جعفر الخرائطی) اس سے معلوم ہوا کہ افراد ہی کے لیے نہیں خود اسلامی حکومت کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے راز ٹٹول ٹٹول کر ان کے گناہوں کا پتہ چلائے اور پھر انہیں پکڑے۔
اس حکم سے مستثنیٰ صرف وہ مخصوص حالات ہیں جن میں تجسّس کی فی الحقیقت ضرورت ہو مثلاً کسی شخص یا گروہ کے رویے میںبگاڑ کی کچھ علامات نمایاں نظر آرہی ہوں اور اس کے متعلق یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ وہ کسی جرم کاارتکاب کرنے والا ہے تو حکومت اس کے حالات کی تحقیق کرسکتی ہے، یا مثلاً کسی شخص کے ہاں کوئی شادی کا پیغام بھیجے، یا اس کے ساتھ کوئی کاروباری معاملہ کرنا چاہے تو وہ اپنے اطمینان کے لیے اس کے حالات کی تحقیق کرسکتا ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۵، الحجرات، حاشیہ:۲۵)

حسن معاشرت

٢٠٢-رَجُلٌ رَحِیْمٌ رَقِیْقُ الْقَلْبِ لِکُلِّ ذِیْ قُرْبٰی وَ مُسْلِمٍ۔ (مسلم)
’’حضرت عیاض بن حمار کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا تین قسم کے آدمی جنتی ہیں: ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو ہر رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے رحیم اور رقیق القلب ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ غَسَّانِ الْمِسْمَعِیُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ، وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ غَسَّانٍ وَابْنِ مُثَنّٰی قَالاَ: نَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُطَرِّفِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارِ الْمُجَاشِعِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِیْ خُطْبَتِہٖ:اَلاَ اِنَّ رَبِّیْ اَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَا جَھِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ھٰذَاکُلُّ مَالٍ نَحَلْتُہُ عَبْدًا، حَلاَلٌ، وَ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَآئَ کُلُّھُمْ وَ اِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنِھِمْ وَ حَرَّمَتْ عَلَیْھِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَھُمْ وَ اَمَرَتْھُمْ اَنْ یُّشْرِکُوْا بِیْ مَالَمْ اُنْزِلْ بِہٖ سُلْطَانًا۔۔۔قَالَ: وَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ ثَلاَثَۃٌ: ذُوْ سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفِّقٌ وَ رَجُلٌ رَحِیْمٌ رَقِیْقُ الْقَلْبِ لِکُلِّ ذِیْ قُرْبٰی وَ مُسْلِمٍ وَ عَفِیْفٌ وَ مُتَعَفِّفٌ ذُوْ عِیَالٍ۔(٧٠)
٢٠٣- تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَرَاحُمِھِمْ وَ تَوَادِّھِمْ وَ تَعَاطُفِِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسْدِ اِذَا اشْتَکٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھْرِ وَالْحُمّٰی۔ (بخاری، مسلم)
’’حضرت نعمانؓ بن بشیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں رحم اور محبت اور ہمدردی کے معاملے میں ایک جسم کی طرح پاؤگے کہ اگر ایک عضو میں کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم اس کی خاطر بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنْ عَامِرٍ، قَالَ:سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنِ بَشِیْرٍ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَرَاحُمِھِمْ، وَ تَوَادِّھِمْ، وَ تَعَاطُفِِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ جَسَدِہٖ بِالسَّھْرِ وَالْحُمّٰی۔(٧١)
٢٠٤-اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا۔ (بخاری ومسلم)
’’حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ حضوؐر نے فرمایا: مومن دوسرے مومن کے لیے اس دیوار کی طرح ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتاہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ جَدِّیْ اَبُوْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ اَبِیْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا۔ ثُمَّ شَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہٖ۔(٧٢)
٢٠٥-اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہٗ وَلاَ یُسْلِمُہٗ وَ مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِیْ حَاجَتِہِ وَ مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرُبَۃً فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرُبَاتِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (بخاری و مسلم)
’’حضرت عبد اللہؓ بن عمر حضوؐر کایہ ارشاد نقل کرتے ہیں مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے۔ نہ اس کی مدد سے باز رہتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی کسی حاجت کو پورا کرنے میںلگا ہوگا اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگ جائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو کسی مصیبت سے نکالے گا اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت کی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت سے نکال دے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا اللہ قیامت کے روز اس کی عیب پوشی کرے گا۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۶، البلد، حاشیہ:۱۴)
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ بُکَیْرٍ، ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، اَنَّ سَالِمًا اَخْبَرَہٗ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہٗ وَلاَ یُسْلِمُہٗ، وَ مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِیْ حَاجَتِہٖ، وَ مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرُبَۃً فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرُبَاتِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(٧٣)
٢٠٦-’’حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کی تذلیل نہیں کرتا، ایک آدمی کے لیے یہی شر بہت ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔‘‘ ( اس ارشاد رسول ﷺ میںاگرچہ خبر دی گئی ہے کہ مسلمان مسلمان پر ظلم نہیں کرتا، لیکن دراصل اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ مسلمان مسلمان پر ظلم نہ کرے۔
(تفہیم القرآن، ج۵، واقعہ ،حاشیہ:۳۹)
) (مسند احمد)
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ اَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدِ الْقُرَشِیُّ، ثَنَا اَبِیْ عَنْ ھِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَخُوْنُہٗ، وَلاَ یَکْذِبُہٗ، وَلاَ یَخْذُلُہٗ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُہٗ وَ مَالُہٗ وَ دَمُہٗ۔ التَّقْوٰی ھٰھُنَا بِحَسْبِ امْرِیٍٔ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ یَّحْتَقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ۔(٧٤)
٢٠٧-’’حضرت سہل بن سعد ساعدی آپؐ کا یہ ارشاد روایت کرتے ہیں کہ ’’گروہ اہل ایمان کے ساتھ ایک مومن کا تعلق ویسا ہی ہے جیسا سر کے ساتھ جسم کا تعلق ہوتا ہے۔ وہ اہل ایمان کی ہر تکلیف کو اس طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سر جسم کے ہر حصے کا درد محسوس کرتاہے۔‘‘ (مسند احمد)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، نَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَھْلَ بْنَ سَعْدِ السَّاعِدِیِّ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ اَھْلِ الْاِیْمَانِ بِمَنْزِلَۃِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، یَاْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِاَھْلِ الْاِیْمَانِ کَمَا یَاْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِی الرَّأْسِ۔(٧٥)
تشریح: ان احادیث ہی کی بدولت تمام مسلمانوں کی ایک عالم گیربرادری قائم ہوتی ہے۔ یہ انہی کی برکت ہے کہ کسی دین یا مسلک کے پیروؤں میں وہ اخوت نہیں پائی گئی ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۵، الحجرات، حاشیہ:۱۸)
٢٠٨-حضوؐر کا ارشاد ہے کہ ’’میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (صحیح الفطرت) پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آکر ان کو ان کے دین (یعنی ان کے فطری دین) سے گم راہ کردیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان کو شریک کریں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔‘‘ (مسند احمد، مسلم نے بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں حضوؐر کا یہ ارشاد نقل کیا ہے)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ غَسَّانِ الْمِسْمَعِیُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ، وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ غَسَّانٍ وَابْنِ مُثَنّٰی قَالاَ: نَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُطَرِّفِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارِ الْمُجَاشِعِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِیْ خُطْبَتِہٖ:اَلاَ اِنَّ رَبِّیْ اَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَا جَھِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ھٰذَاکُلُّ مَالٍ نَحِلْتُہُ عَبْدًا، حَلاَلٌ، وَ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَآئَ کُلُّھُمْ وَ اِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنِھِمْ وَ حَرَّمَتْ عَلَیْھِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَھُمْ وَ اَمَرَتْھُمْ اَنْ یُّشْرِکُوْا بِیْ مَالَمْ اُنْزِلْ بِہٖ سُلْطَانًا۔۔۔قَالَ: وَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ ثَلاَثَۃٌ: ذُوْ سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفِّقٌ وَ رَجُلٌ رَحِیْمٌ رَقِیْقُ الْقَلْبِ لِکُلِّ ذِیْ قُرْبٰی وَ مُسْلِمٍ وَ عَفِیْفٌ وَ مُتَعَفِّفٌ ذُوْ عِیَالٍ۔(٧٦)
تشریح: خدا نے انسان کو پیدایشی گناہ گار اور جبلی بد معاش بناکر نہیں بلکہ راست اور سیدھی فطرت پرپیدا کیا اور اس کی ساخت میں کوئی خلقی کجی نہیں رکھ دی کہ وہ سیدھی راہ اختیار کرنا بھی چاہے تو نہ کرسکے۔ یہی بات ہے جسے سورۂ روم میں بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے کہ فطرت اللّٰہ التی فطر الناس علیھا ’’قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پراللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ (آیت:۳۰) خدا نے انسان کو راہ راست پر پیدا کیا ہے جانور کے بچوں کو وہ صحیح سالم پیدا کرتا ہے مگریہ مشرکین ہیں جو اپنے اوہام جاہلیت کی بناپر ان کے کان کاٹتے ہیں، ورنہ خدا کسی جانور کو ماں کے پیٹ سے کٹے ہوئے کان لے کر پیدا نہیں کرتا۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الشمس حاشیہ:۴)
٢٠٩-نبی انے مختلف مواقع پر اپنے ارشادات میں کی ایسی تشریح فرمادی ہے کہ اس کے مفہوم و مدعا میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ حضوؐر کے بیانات کا تتبع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلق باللہ کے معنی ہیں۔
خَشیَۃ اللّٰہ فی السِّرِّ والعَلاَنیۃِ۔ ’’کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرنا۔‘‘
اور یہ کہ ان تکون بما فی یدی اللّٰہ اوثق بما فی یدیک۔ ’’اپنے ذرائع وسائل کی بہ نسبت تیرا بھروسہ اللہ کی قدرت پر زیادہ ہو‘‘ اور یہ کہ من التمس رضی اللّٰہ بسخط الناس۔ ’’آدمی اللہ کو راضی کرنے کے لیے لوگوں کو ناراض کر لے۔‘‘ جس کے بالکل برعکس حالت یہ ہے کہ آدمی لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کی ناراضی مول لے۔ من التمس رضی الناس بسخط اللّٰہ۔ پھر جب یہ تعلق بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ جائے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی اور اس کا دینا اور روکنا جو کچھ بھی ہو اللہ کے لیے اور اللہ کی خاطر ہو، اور نفسانی رغبت و نفرت کی لاگ اس کے ساتھ لگی نہ رہے۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے تعلق باللہ کی تکمیل کرلی۔
مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَ اَبْغَضَ لِلّٰہِ وَ اَعْطٰی لِلّٰہِ وَ مَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔ (ابو داؤد کتاب السنۃ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ) ’’جس نے اللہ کے لیے دوستی کی، اور اللہ کے لیے دشمنی کی اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روک رکھا۔ اس نے اپنے ایمان کو مکمل کرلیا۔
پھر یہ جو آپ ہر روز رات کو اپنی دعائے قنوت میں پڑھتے ہیں۔ اس کا لفظ لفظ اس تعلق کی نشان دہی کرتا ہے جو آپ کا اللہ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس کے الفاظ پر غور کیجیے اور دیکھتے جایئے کہ آپ ہر رات اپنے اللہ کے ساتھ اس قسم کا تعلق رکھنے کا اقرار کیا کرتے ہیں۔ َاللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَھْدِیْکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَ نُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ۔ نَشْکُرُکَ وَلاَ نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ۔ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ، وَلَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ وَ اِلَیْکَ نَسْعٰی وَ نَحْفِدُ وَ نَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَ نَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ الْجَدَّ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ۔( یہ دعا وتروں کی نماز میں رسول اللہ ﷺ سے صحیح مرفوع روایت سے ثابت نہیں البتہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کا عمل مروی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ حصن حصین)’’خدایا، ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے رہ نمائی طلب کرتے ہیں، تجھ سے معافی چاہتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تیرے ہی اوپربھروسہ رکھتے ہیں، اور ساری تعریفیں تیرے ہی لیے مخصوص کرتے ہیں۔ ہم تیرے شکر گزار ہیں، کفران نعمت کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے، جو تیری نافرمانی کرے۔ خدایا ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں، تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ہماری ساری دوڑ دھوپ تیری طرف ہی ہے۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، یقینا تیرا سخت عذاب ان لوگوں کو پہنچنے والا ہے جو کافر ہیں۔‘‘
پھر اسی تعلق باللہ کی تصویر اس دعا میں پائی جاتی ہے جو نبی ارات کو تہجد کے لیے اٹھتے وقت پڑھا کرتے تھے۔ اس میں آپؐ اللہ کو خطاب کرکے عرض کرتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ وَ بِکَ خَاصَمْتُ وَ اِلَیْکَ حَاکَمْتُ۔’’خدایا میں تیرا ہی مطیع فرمان ہوا اور تجھی پر ایمان لایا اور تیرے ہی اوپر میں نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف میں نے رجوع کیا اور تیری ہی وجہ سے میں لڑا، اور تیرے ہی حضور میں اپنا مقدمہ لایا۔
(روداد جماعت اسلامی حصہ ششم۔ ص:۴۲۵ تا ۴۲۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ نَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ نَا یُوْنُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلاَنِیِّ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ:الزَّھَادَۃُ فِی الدُّنْیَا لَیْسَتْ بِتَحْرِیْمِ الْحَلاَلِ، وَلاَ اِضَاعَۃُ الْمَالِ، وَ لٰـکِنِ الزَّھَادَۃُ فِی الدُّنْیَا اَنْ لاَّ تَکُوْنَ بِمَا فِیْ یَدَیْکَ اَوْثَقَ مِمَّا فِیْ یَدِ اللّٰہِ، وَ اَنْ تَکُوْنَ فِیْ ثَوَابِ الْمُصِیْبَۃِ اِذَا اَنْتَ اُصِبْتَ بِھَا اَرْغَبَ فِیْھَا لَوْ اَنَّھَا اُبْقِیَتْ لَکَ۔ (٧٧)
(۲) حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَبْدِ الْوَھَّابِ بْنِ الْوَرَدِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، قَالَ:کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ اِلٰی عَائِشَۃَ اَنْ اُکْتُبِیْ اِلَیَّ کِتَابًا تُوْصِیْنِیْ فِیْہِ، وَلاَ تُکْثِرِیْ عَلَیَّ، قَالَ: فَکَتَبَتْ عَائِشَۃُ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ: سَلاَمٌ عَلَیْکَ، اَمَّا بَعْدُ! فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنِ الْتَمَسَ رِضَی اللّٰہِ بِسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مُؤُنَۃَ النَّاسِ، وَ مَنِ الْتَمَسَ رِضَی النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَ کَّلَہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ، وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ۔(٧٨)
(۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ اَبِیْ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاؤُسٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یَتَھَجَّدُ، قَالَ:اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَیِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ مَنْ فِیْھِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ مَنْ فِیْھِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ مَنْ فِیْھِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَ لِقَآئُ کَ حَقٌّ، وَ قَوْلُکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ، وَ مُحَمَّدٌ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ، اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ اٰمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ اِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ، وَمَا اَعْلَنْتُ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ اَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اَنْتَ اَوْ لاَ اِلٰـہَ غَیْرُکَ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَ زَادَ عَبْدُ الْکَرِیْمِ اَبُوْ اُمَیَّۃَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ۔(٧٩)

امت مسلمہ پر امر بالمعروف و نہی عن المنکرکی ذمہ داری

٢١٠- وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لَتَاخُذُنَّ یَدَ الْمُسْیِ وَ لَتَاطِرُنَّہٗ عَلٰی اَلْحَقِّ اِطْرَائً وَلَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اَوْ لَیَلْعَنَنَّکُمْ کَمَا لَعَنّٰھُمْ۔
’’اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تمہیں نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا اور بدکار کاہاتھ پکڑنا اوراسے حق کی طرف بزور موڑنا ہوگا یا پھر اللہ کے قانون فطرت کا یہ نتیجہ ظاہرہوکر رہے گا کہ بدکاروں کے دلوں کا اثر تمہارے دلوں پر بھی پڑجائے اور ان کی طرح تم بھی ملعون ہوکر رہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ نِالنُّفَیْلِیُّ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیْمَۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ: یَا ھٰذَا اتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ، فَاِنَّہٗ لاَ یَحِلُّ لَکَ، ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ، فَلاَ یَمْنَعُہُ ذٰلِکَ اَنْ یَّکُوْنَ اَکِیْلَہٗ، وَ شَرِیْبَہٗ، وَ قَعِیْدَہٗ، فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ: ’’لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاؤدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ اِلٰی قَوْلِہٖ فَاسِقُوْنَ ثُمَّ قَالَ:کَلاَّ، وَاللّٰہِ، لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَ لَتَاْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ، وَ لَتَاطِرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا، وَ لَتَقْصُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا۔ اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ بِقُلُوْبِ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ، ثُمَّ لَیَلْعَنَنَّکُمْ کَمَا لَعَنّٰھُمْ۔(٨٠)
تشریح: اپنے اعتقاد میں (Convictions)میںکسی جماعت کے صادق ہونے کا واحد معیار یہی ہے کہ وہ جس مسلک پراعتقاد رکھتی ہو، اس کو حکمران بنانے کے لیے جان و مال سے جہاد کرے۔ اگر تم مسلک مخالف کی حکومت کو گوارا کرتے ہو تو یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ تم اپنے اعتقاد میں جھوٹے ہو اور اس کا فطری نتیجہ یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ آخر کار اسلام کے مسلک پر تمہارا نام نہاد عقیدہ بھی باقی نہ رہے گا۔ ابتدا میں تم مسلک مخالف کی حکومت کو بکراہت گوارا کروگے پھر رفتہ رفتہ تمہارے دل اس سے مانوس ہوتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کراہت رغبت سے بدل جائے گی اور آخر میں نوبت اس حد تک پہنچے گی کہ مسلک مخالف کی حکومت قائم ہونے اور قائم رہنے میں تم خود مددگار بنوگے، اپنی جان و مال سے جہاد اس لیے کروگے کہ مسلک اسلام کے بجائے مسلک غیر اسلام قائم ہو یا قائم رہے۔ تمہاری اپنی طاقتیں مسلک اسلام کے قیام کی مزاحمت میں صرف ہونے لگیں گی اور یہاں پہنچ کر تم میں اور کافروں میں اسلام کے منافقانہ دعوے، ایک بدترین جھوٹ، ایک پر فریب نام کے سوا کوئی فرق نہ رہے گا۔ (مندرجہ بالا) حدیث میں نبی انے اسی نتیجہ کو صاف صاف بیان فرمادیا ہے۔
(اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، جہاد فی سبیل اللہ ’’جہاد کی ضرورت‘‘)
٢١١- اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُعَذِّبُ الْعَامَّۃَ بِعَمَلٍ خَاصٍّ حَتّٰی یَرَوَا الْمُنَکَرَ بَیْنَ ظَھْرَانِیْھِمْ وَ ھُمْ قَادِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّنْکِرُوْہُ فَلاَ یُنْکِرُوْہُ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَذَّبَ اللّٰہُ الْخَاصَّۃَ وَالْعَامَّۃَ۔
’’اللہ خاص لوگوں کے عمل پر عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا۔ مگر جب وہ اپنے سامنے بدی کو دیکھیں اور اس کو روکنے پر قدرت رکھنے کے باوجود اس کو نہ روکیں تو اللہ خاص اور عام سب کو مبتلائے عذاب کردیتاہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، ثَنَا سَیْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ عَدِیِّ الْکِنْدِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ مُجَاھِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَوْلًی لَّـنَا اَنَّہٗ سَمِعَ عَدِیًّا یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لاَ یُعَذِّبُ الْعَامَّۃَ بِعَمَلِ الْخَاصَّۃِ حَتّٰی یَرَوَا الْمُنَکَرَ بَیْنَ ظَھْرَانِیْھِمْ، وَ ھُمْ قَادِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّنْکِرُوْہُ، فَلاَ یُنْکِرُوْہُ، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَذَّبَ اللّٰہُ الْخَاصَّۃَ وَالْعَامَّۃَ۔(٨١)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْاَنْصَارِ وَ ھُوَ یَعِظُ اَخَاہُ فِی الْحَیَائِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: دَعْہُ، فَاِنَّ الْحَیَائَ مِنَ الْاِیْمَانِ۔(٨٢)
(۳) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ حَبِیْبِ نِالْحَارِثِیِّ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اِسْحَاقَ وَ ھُوَ ابْنُ سُوَیْدٍ، اَنَّ اَبَا قَتَادَۃَ حَدَّثَ قَالَ:کُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ فِیْ رَھْطٍ مِّنَّا وَ فِیْنَا بُشَیْرُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ یَوْمَئِذٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْحَیَائُ خَیْرٌ کُلُّہٗ، قَالَ: اَوْ قَالَ: اَلْحَیَائُ کُلُّہٗ خَیْرٌ۔(٨٣)
٢١٢-مَنْ رَأیٰ مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔
’’تم میں سے جو کوئی بدی کو دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے اور اگر ایسا نہ کرسکتا ہو تو زبان سے اور اگر یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو دل سے اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا وَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ ح وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ کِلاَھُمَا عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ وَ ھٰذَا حَدِیْثُ اَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: قَالَ اَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ یَوْمَ الْعِیْدِ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ مَرْوَانُ، فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلوٰۃُ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِکَ مَا ھُنَالِکَ، فَقَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ: اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ۔ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ رَأٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا، فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔(٨٤)
تشریح: قوم کی اخلاقی اور دینی صحت کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ اس کے ہر فرد میں غیرت ایمانی اور حاسۂ اخلاقی موجود ہو، جس کو نبی انے ایک جامع لفظ’’حیا‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ حیا، دراصل ایمان کا ایک جزو ہے۔ جیسا کہ حضوؐر نے فرمایا ہے۔ ان الحیاء من الایمان۔ بلکہ ایک موقع پر جب حضوؐر سے عرض کیا گیا کہ حیا دین کا ایک جز ہے تو آپ نے فرمایا بل ھو الدین کلہ۔ یعنی وہ پورا ایمان ہے۔
حیا سے مراد یہ ہے کہ بدی اور معصیت سے نفس میں طبعی طور پر انقباض پیدا ہو اور دل اس سے نفرت کرے۔ جس شخص میں یہ صفت موجود ہوگی وہ نہ صرف قبائح سے اجتناب کرے گا بلکہ دوسروں میں بھی اس کو برداشت نہ کرسکے گا۔ وہ برائیوں کو دیکھنے کا روادار نہ ہوگا۔ ظلم اور معصیت سے مصالحت کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ جب اس کے سامنے قبائح کا ارتکاب کیا جائے گا تو اس کی غیرت ایمانی جوش میں آجائے گی اور وہ اس کو ہاتھ سے یا زبان سے مٹانے کی کوشش کرے گا۔ یا کم از کم اس کا دل اس خواہش سے بے چین ہوجائے گا کہ اس برائی کو مٹادے۔
جس قوم کے افراد میں عام طور پر یہ صفت موجود ہوگی اس کا دین محفوظ رہے گا اور اس کا اخلاقی معیار کبھی نہ گرسکے گا، کیوں کہ اس کا ہر فرد دوسرے کے لیے محتسب اور نگراں ہوگا اور عقیدہ و عمل کے فساد کو اس میں داخل ہونے کے لیے کوئی راہ نہ مل سکے گی۔ (تنقیحات ،اجتماعی فساد)
٢١٣-’’بنی اسرائیل میں جب بدکاری پھیلنی شروع ہوئی تو حال یہ تھا کہ ایک شخص اپنے بھائی یا دوست یا ہمسایہ کو برا کام کرتے دیکھتا تواس کو منع کرتا اور کہتا کہ اے شخص خدا کا خوف کر۔ مگر اس کے بعد وہ اسی شخص کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتا اور بدی کا مشاہدہ اس کو اس بدکار شخص کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے میں شرکت کرنے سے نہ روکتا۔ جب ان کا یہ حال ہوگیا تو ان کے دلوں پر ایک دوسرے کا اثر پڑگیااوراللہ نے سب کو ایک رنگ میں رنگ دیا اور ان کے نبی داؤد اور عیسی بن مریم غ کی زبان سے ان پر لعنت کی۔‘‘
راوی کہتا ہے کہ جب حضور سلسلۂ تقریر میں اس مقام پر پہنچے تو جوش میں آکر اٹھ بیٹھے اور فرمایا۔
’’قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم پرلازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو اور بدی سے روکو اور جس کو برا فعل کرتے دیکھو اس کاہاتھ پکڑلو اور اسے راہ راست کی طرف موڑدو اور اس معاملہ میں ہرگز رواداری نہ برتو ورنہ اللہ تمہارے دلوںپر بھی ایک کا اثر ڈال دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر کی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ نِالنُّفَیْلِیُّ، ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیْمَۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ: یَا ھٰذَا اتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ، فَاِنَّہٗ لاَ یَحِلُّ لَکَ، ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ، فَلاَ یَمْنَعُہُ ذٰلِکَ اَنْ یَّکُوْنَ اَکِیْلَہٗ، وَ شَرِیْبَہٗ، وَ قَعِیْدَہٗ، فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ: ’’لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاؤدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ اِلٰی قَوْلِہٖ فَاسِقُوْنَ ثُمَّ قَالَ:کَلاَّ، وَاللّٰہِ، لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَ لَتَاْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ، وَ لَتَاطِرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا، وَ لَتَقْصُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا۔ اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ بِقُلُوْبِ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ، ثُمَّ لَیَلْعَنَنَّکُمْ کَمَا لَعَنّٰھُمْ۔ (٨٥)
ایک دوسری روایت میں:
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، اَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیْمَۃَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِی الْمَعَاصِیْ، فَنَھَتْھُمْ عُلَمَآئُ ھُمْ، فَلَمْ یَنْتَھُوْا، فَجَالَسُوْھُمْ فِیْ مَجَالِسِھِمْ، وَ وَاکَلُوْھُمْ، وَ شَارَبُوْھُمْ، فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ عَلٰی بَعْضٍ، وَ لَعَنَھُمْ عَلٰی لِسَانِ دَاؤُدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَکَانَ مُتَّکِئًا، فَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی تَاْطِرُوْھُمْ اَطْرًا۔(٨٦)
تشریح: اعتقاد اور عمل کے فساد کا حال وبائی امراض کا سا ہے۔ ایک وبائی مرض ابتدا میں چند کم زور افراد پرحملہ کرتا ہے۔ اگر آب و ہوا اچھی ہو، حفظان صحت کی تدابیر درست ہوں۔ نجاستوں اور کثافتوں کو دور کرنے کا کافی انتظام ہو اور مرض سے متاثر ہونے والے مریضوں کا بروقت علاج کردیا جائے تومرض وبائے عام کی صورت اختیار کرنے نہیں پاتا اور عام لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن اگر طبیب غافل ہو، حفظان صحت کا محکمہ بے پروا ہو، صفائی کے منتظم نجاستوں اور کثافتوں کے روادار ہوجائیں، تو رفتہ رفتہ مرض کے جراثیم فضا میں پھیلنے لگتے ہیں اور آب وہوا میں سرایت کرکے اس کو اتنا خراب کردیتے ہیں کہ وہ صحت کے بجائے مرض کے لیے سازگار ہوجاتی ہے۔ آخر کار جب بستی کے عام افراد کو ہوا، پانی، غذا، لباس، مکان غرض کی کوئی چیز بھی گندگی اور سمیت سے پاک نہیں ملتی، تو ان کی قوت حیات جواب دینے لگتی ہے اور ساری کی ساری آبادی وبائے عام میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ پھر قوی سے قوی افراد کے لیے بھی اپنے آپ کو مرض سے بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ خود طبیب اور صفائی کے منتظم اور صحت عامہ کے محافظ تک بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ لوگ بھی ہلاکت سے محفوظ نہیں رہتے، جو اپنی حد تک حفظان صحت کی جملہ تدبیریں اختیار کرتے اور دوائیں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ ہوا کی سمیت، پانی کی گندگی، وسائل غذا کی خرابی اور زمین کی کثافت کا ان کے پاس کیا علاج ہوسکتا ہے۔
اسی پر اخلاق و اعمال کے فساد کا اور اعتقاد کی گم راہیوں کو بھی قیاس کرلیجیے۔ علماء قوم کے طبیب ہیں۔ حکام اور اہل دولت، صفائی اور حفظان صحت کے ذمہ دار ہیں قوم کی غیرت ایمانی اور جماعت کا حاسۂ اخلاقی بمنزلۂ قوت حیات (Vitality) ہے۔ اجتماعی ماحول کی حیثیت وہی ہے جو ہوا، پانی، غذا اور لباس و مکان کی ہے اور حیات قومی میں دین و اخلاق کے اعتبار سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا وہی مقام ہے جو صحت جسمانی کے اعتبار سے صفائی اور حفظان صحت کی تدابیر کا ہے۔ جب علماء اور اولو الامر اپنے اصلی فرض یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیتے ہیں اور شرو فساد کے ساتھ رواداری برتنے لگتے ہیں تو گم راہی اور بد اخلاقی قوم کے افراد میں پھیلنی شروع ہوجاتی ہے اور قوم کی غیرت ایمانی ضعیف ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ سارا اجتماعی ماحول فاسد ہوجاتا ہے، قومی زندگی کی فضا خیرو صلاح کے لیے نا مساعد اور شرو فساد کے لیے سازگار ہوجاتی ہے لوگ نیکی سے بھاگتے ہیں اور بدی سے نفرت کرنے کے بجائے اس کی طرف کھنچنے لگتے ہیں۔ اخلاقی قدریں الٹ جاتی ہیں، عیب ہنر بن جاتے ہیں اور ہنر عیب۔ اس وقت گم راہیاں اور بد اخلاقیاں خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ اور بھلائی کا کوئی بیج برگ و بار لانے کے قابل نہیں رہتا۔ زمین، ہوا اور پانی سب اس کو پرورش کرنے سے انکار کردیتے ہیں کیوں کہ ان کی ساری قوتیں اشجار خبیثہ کو نشو و نما دینے کی طرف مائل ہوجاتی ہیں۔ جب کسی قوم کا یہ حال ہوجاتا ہے تو پھر وہ عذاب الٰہی کی مستحق ہوجاتی ہے اور اس پر ایسی عام تباہی نازل ہوتی ہے جس سے کوئی نہیں بچتا۔ خواہ وہ خانقاہوں میں بیٹھا ہوا رات دن عبادت کررہا ہو۔ (تنقیحات، اجتماعی فساد)

ماخذ

۱) مسند احمدج۴ ص۲۰۲۔ اور ج ۵ص۳۴۴۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الامثال، باب ماجاء مثل الصلاۃ والصیام والصدقۃ۔ ترمذی نے ممطور کا نام لے کر کنیت ابو سلام بتائی ہے اور اس کی روایت کو حسن غریب کہا ہے اور اسی ابو سلام سے دوسری سند سے روایت نقل کی ہے۔ جسے امام ترمذی نے حسن صحیح غریب قرار دیا ہے اور آخر میں کہا ہے۔ قال محمد بن اسماعیل: الحارث الاشعری لہ صحبۃ، ولہ غیر ھذا الحدیث۔٭ مجمع الزوائد ج کتاب الخلافۃ، باب لزوم الجماعۃ و طاعۃ الائمۃ والنھی عن قتالھم۔
(۲) ترمذی ابواب الفتن ج۲ باب فی لزوم الجماعۃ۔ ھذا حدیث غریب من ھذا الوجہ، و سلیمان المدینی، ھو عندی سلیمان بن سفیان۔ و فی الباب عن ابن عباس۔٭ سنن دارمی مقدمہ باب۸۔٭ مسند احمد ج ۵ ص۱۴۵۔ ٭المستدرک ج کتاب العلم باب لا یجمع ھذہ الامۃ علی الضلالۃ ابدا۔٭ مجمع الزوائد ج کتاب الخلافۃ باب لزوم الجماعۃ و طاعۃ الائمۃ والنھی عن قتالھم و ید اللہ علی الجماعۃ تک ہے۔
دارمی میں ہے ان اللّٰہ عزوجل و عدنی فی امتی واجارھم من ثلاث: لا یعمھم بسنۃ، ولا یستاصلھم عدو، ولا یجمعھم علی الضلالۃ۔ مسند احمد میں فعلیکم بالجماعۃ، فان اللہ عزوجل لن یجمع امتی الا علی ھدی۔ ٭مجمع الزوائد ج ۵ کتاب الخلافۃ الخ۔
(۳) ترمذی ابواب الفتن ج۲۔ باب فی لزوم الجماعۃ۔  ھٰذا حدیث غریب، لا نعرفہ من حدیث ابن عباس الا من ھذا الوجہ۔ ٭ نسائی ج ۷ کتاب تحریم الدم باب قتل من فارق الجماعۃ۔
(۴) ابو داؤد ج کتاب السنۃ، باب الخوارج۔٭ مسند احمد ج ۵۔ ص۱۸۰۔ عن ابی ذر۔ اس صفحہ پر قید شبر کی بجائے شبرا ہے۔٭ مسند احمد ج۴ ص۱۳۰ اور مسند احمد ج ۵ ص۳۴۴۔ عن ابی مالک اشعری پر من خرج من الجماعۃ قید شبر فقد خلع ربقۃ الاسلام ص ۱۳۰ پر من عنقہ اور ص۳۴۴ پر من راسہ ہے۔٭ مجمع الزوائد ج ۵ کتاب الخلافۃ، باب لزوم الجماعۃ والنھی عن الخروج عن الائمۃ و قتالھم۔ عن ابن عباس۔ ٭المستدرک ج۱ کتاب العلم باب من فارق الجماعۃ قید شبر فقد خلع ربقۃ الاسلام من عنقہ۔ ٭المستدرک  ج ۱ کتاب الایمان باب من خرج من الجماعۃ الخ۔
(۵) بخاری ج۲ کتاب الفتن، باب قول النبی ﷺ سترون بعدی امورا تنکرونھا۔٭ مسلم ج۲۔ کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظھور الفتن۔ عن ابن عباس٭ دارمی ج۲۔ کتاب السیر، باب فی لزوم الطاعۃ والجماعۃ۔ عن ابن عباس۔٭ مسند احمد ج۱ص۲۹۔ عن ابن عباس۔
(۶) نسائی ج ۷ کتاب التحریم، باب قتل من فارق الجماعۃ۔٭ مسند احمدج۴ ص۳۴۱۔ عن عرفجۃ بن شریح۔
السنن الکبرٰی ج ۸ کتاب قتال اھل البغی، باب ماجاء فی قتال اھل البغی والخوارج۔٭کنز العمال ج ۶ص ۶۴۔ ۶۵۔ حدیث نمبر ۱۴۸۵۸ عن عرفجۃ اور ص۵۷۔ حدیث نمبر ۱۴۸۳۰۔
(۷) مسلم ج۲ کتاب الامارۃ، باب حکم من فرق امر المسلمین و ھو مجتمع۔
(۸) نسائیج۲کتاب التحریم، باب قتل من فرق الجماعۃ۔٭ مسند احمد ج۴ ص۳۴۱۔ عن عرفجۃ بن شریح الاسلمی۔ ٭کنز العمال ج۶ص۵۸۔ حدیث نمبر ۱۴۸۳۱۔ عن عرفجۃ بن شریح الاشجعی۔٭ السنن الکبرٰی ج ۸ ص۱۶۹۔ کتاب قتال اہل البغی، باب ماجاء فی قتال اہل البغی والخوارج۔٭ المستدرک ج۲ کتاب قتال اہل البغی الامر بقتل من یفرق بین امۃ محمد ﷺ۔ عن عرفطۃ بن شریح الاسلمی۔
(۹) نسائی ج ۷ کتاب التحریم، باب قتل من فارق الجماعۃ۔٭ کنز العمال ج۱۔ ص۱۸۱-۱۸۲۔ حدیث نمبر ۹۱۹۔٭کنز العمال ج۶ص۵۸۔ حدیث نمبر۱۴۸۳۱۔ عن عرفجۃ۔
(۱۰) ابو داؤد ج۴ کتاب السنۃ، باب الخوارج۔٭ نسائی ج ۷ کتاب التحریم باب قتل من فارق الجماعۃ۔ نسائی کی روایت میں ہنات دو مرتبہ ہے اور جمیع کی جگہ جمع ہے٭ کنز العمال ج۶ ص۵۱۔ حدیث نمبر ۱۴۸۰۴
(۱۱) نسائی ج ۷ کتاب التحریم، باب قتل من فارق الجماعۃ۔٭ کنز العمال ج۶ ص۵۱۔ حدیث نمبر ۱۴۸۰۳۔ عن اسامہ بن شریک۔
(۱۲) سنن دارمی ج۱باب فی ذھاب العلم٭ جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر ج۱ص۷۴۔ عن عمر بن الخطاب جامع بیان العلم و فضلہ من یا معشر العرب ہے نیز اس میں تطاول الناس فی البنیان ہے۔
(۱۳) ابو داؤد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی القوم یسافرون یؤمرون احدھم۔  حضرت ابوہریرہ سے مروی روایت میں  اِذَا کَانَ ثَلاَثَۃٌ الخ ہے۔ یعنی خَرَجَاس میں نہیں ہے۔
(۱۴) ابو داؤد ج۴کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ۔٭ کنز العمال ج۱ص۴۰۔ حدیث نمبر۹۰۔٭ ترمذی اور مسند احمد میں سہل بن معاذ الجہنی عن ابیہ کے حوالہ سے روایت منقول ہے جس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔
ان النبی ﷺ قال: من اعطی للّٰہ و منع للّٰہ و احب للّٰہ و ابغض للّٰہ و انکح للّٰہ فقد استکمل ایمانہ٭ ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ، باب۔۔۔٭ مسند احمد ج۳ ص۴۳۸-۴۴۰۔ عن معاذ بن انس عن ابیہ۔ ترمذی نے اس روایت کو ہذا حدیث حسن منکر کہا ہے۔ مسنداحمد ج۴ ص۲۸۶ پر ان اوسط عری الایمان ان تحب فی اللّٰہ و تبغض فی اللّٰہ کے الفاظ براء بن عازب کے حوالہ سے منقول ہیں۔ اور ج ۵ ص ۲۴۷۔ پر بھی اور کنز العمال ۱؍۷۳۔ حدیث نمبر ۱۰۵۔ اور امام بخاری نے ج۱۔ کتاب الایمان کے تحت ایک باب میں الحب فی اللّٰہ والبغض فی اللّٰہ من الایمان نقل کیا ہے۔ اور نسائی نے کتاب الایمان میں ان یحب فی اللّٰہ و ان یبغض فی اللّٰہ روایت کیا ہے۔
(۱۵) بخاری ج۲ کتاب الادب، باب ما ینھی عن التحاسد والتدابر و قولہ و من شر حاسد اذا حسد۔ بخاری میں کتاب الوصایا، کتاب النکاح اور کتاب الفرائض میں بھی یہ روایت ہے۔ بخاری میں ابو ہریرہؓ سے مروی ایک روایت میں ولا تناجشوا بھی مروی ہے اور حضرت انسؓ کی روایت میں ولا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاثۃ ایام ہے۔٭ مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ، باب تحریم التحاسد والتباغض والتدابر۔ مسلم نے حضرت انس بن مالک سے بھی روایت لی ہے اور اس میں ولا تقاطعوا کا اضافہ نقل کیا ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں ولا تنافسوا کا اضافہ ہے جسے امام مسلم نے باب تحریم الھجر فوق ثلاثۃ ایام بلا عذر شرعی کے تحت بیان کیا ہے۔٭ ابو داؤد ج۴ کتاب الادب، باب فیمن یھجر اخاہ المسلم۔ عن انس بن مالک روایت لی ہے جو مختصر ہے اور حضرت ابو ہریرہ سے ص ۲۸۰ پر۔٭ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الحسد۔ عن انس۔٭ مؤطا امام مالک ج۲ کتاب الجامع باب ماجاء فی المھاجرۃ کے تحت حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو ہریرہ دونوں کی روایات مذکور ہیں۔٭ مسند احمد میں ج۲ ص۲۴۵، ۲۸۷، ۳۱۲، ۳۴۲، ۴۶۵، ۴۷۰، ۴۸۲، ۴۹۲، ۵۰۴، ۵۱۷، ۵۳۹ پر روایت مذکور ہے۔ ٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج۱ کتاب الشھادات، باب شھادۃ اھل العصبیۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔ اور ص۲۳۲ پر حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ کی دوسری روایات بھی مذکور ہیں المختصر بیہقی فی الشعب الایمان ص:۱۵۷۔ حدیث نمبر۴۳۔
(۱۶) بخاری ج۱کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ۔ مسلم ج۱کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من خصال الایمان یحب لاخیہ المسلم ما یحب لنفسہ۔ مسلم کی ایک روایت میں لجارۃ بھی ہے۔ ٭ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ باب۔۔۔ھذا حدیث صحیح۔٭ نسائی ج ۸ کتاب الایمان و شرائعہ، باب علامۃ الایمان۔ عن انس۔٭ ابن ماجہ المقدمہ، باب فی الایمان اور کتاب الجنائز باب۱ میں صرف و یحب لہ ما یحب لنفسہ مروی ہے۔٭ کنز العمال ج۱؍۴۰۔ حدیث نمبر۹۶۔ سنن دارمی ج۲ کتاب الاستیذان، باب۵ فی حق المسلم علی المسلم کے تحت و یحب لہٗ ما یحب لنفسہ ہے۔٭ سنن دارمی ج۲ کتاب الرقاق، باب لایومن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ۔٭ مسند احمد ج۱ص۸۹۔ج ۳ ص۱۷۶، ۲۰۶، ۲۵۱، ۲۷۲، ۲۷۸، ۲۸۹۔٭ کنز العمال ج۱ص۴۲ اور موارد الظمان الٰی زوائد لابن حبان نے کتاب الایمان فی الاسلام والایمان کے تحت حضرت انسؓ سے نبی ﷺ کی حدیث لا یبلغ العبد حقیقۃ الایمان حتی یحب للناس ما یحب لنفسہ من الخیر بھی روایت کی ہے۔٭ نسائی ج ۸ ص ۱۱۵ اور مسند احمد ج۳ ص۲۰۶، ۲۵۱ پر حضرت انسؓ سے مروی حضور ﷺ کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔ والذی نفسی بیدہ لا یومن عبد حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ من الخیر۔
٭احکام القرآن للجصاص ج۳ سورۂ نور فصل کے زیر عنوان میں نقل کیا ہے۔
(۱۷) ابوداؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی العصبیۃ۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۱۰کتاب الشھادات، باب شھادۃ اھل العصبیۃ رواہ زھیر بن معاویہ عن سماک موقوفا۔ بیھقی نے مرفوع نقل کیا ہے یعنی عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود عن ابیہ قال، قال رسول اللّٰہ ﷺ (الحدیث)  (ابو داؤد نے اور سند سے اس روایت کو مرفوع بھی نقل کیا ہے)  عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ انْتَھَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَ ھُوَ فِیْ قُبَّۃٍ مِنْ اَدَمٍ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔
(۱۸) مسلم ج۱کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان و فضلھا وادناھا۔٭ ابو داؤد ج۴ کتاب السنۃ، باب فی رد الارجاء۔ عن ابی ھریرۃ ابو داؤد نے او بضع و ستون روایت نہیں کیا۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الایمان، باب فی استکمال الایمان والزیادۃ والنقصان۔ ھٰذا حدیث حسن صحیح۔ ترمذی میں الایمان بضع و سبعون بابا اور افضلھا کی جگہ ارفعھا ہے۔٭ نسائی ج۸۔ کتاب الایمان و شرائعہ، باب ذکر شعب الایمان۔ نسائی نے ادناھا کی جگہ اوضعھا نقل کیا ہے۔٭ ابن ماجہ المقدمہ باب فی الایمان۔ ترمذی والی روایت ہے۔٭ مسند احمد ج۲ ص۳۷۹، ۴۱۴، ۴۴۵۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ کنز العمال ج۱ص ۳۵۔ حدیث نمبر۵۲۔٭ بخاری ج۱ص۶پر صرف الایمان بضع و ستون شعبۃ، والحیاء شعبۃ من الایمان ہے۔ اس روایت کو کنز العمال ج۱ ص۳۵ حدیث نمبر۵۳ میں بھی نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد نے ج۲ ص۳۷۹ پر الایمان اربعۃ و ستون بابا ارفعھا و اعلاھا قول لا الہ الا اللّٰہ و ادناھا اماطۃ الاذی عن الطریق اور ص۴۱۴ پر الایمان بضع و سبعون بابا افضلھا لا الہ الا اللّٰہ و ادناھا اماطۃ العظم عن الطریق والحیاء شعبۃ من الایمان اور ص۴۴۵ پر الایمان بضع و سبعون بابا فادناھا اماطۃ الاذی عن الطریق و ارفعھا قول لا الہ الا اللّٰہ نقل کیا ہے۔ البیھقی فی الشعب الایمان (المختصر) ص۲۵۰۔ حدیث نمبر ۷۷۔٭البیھقی فی الشعب الایمان (المختصر) ص۴۔
(۱۹) مسلم ج۱کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوء۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الدعوات باب۔۔۔ھذا حدیث حسن صحیح۔ ٭نسائی ج ۵ کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ۔ نسائی اسباغ الوضوء شطر الایمان ہے۔ ٭ابن ماجہ کتاب الطھارت، باب ۵ الوضوء شطر الایمان، عن ابی مالک الاشعری۔ اسباغ الوضوء ہے۔٭سنن دارمی ج۱کتاب الوضوء باب۲ ماجاء فی الطھور۔٭ مسند احمد ج۴ ص۳۶۰۔ ج ۵ ص۳۴۲، ۳۴۳، ۳۴۴، ۳۶۳، ۳۷۲۔٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج۱کتاب الطھارۃ باب فرض الطھور و محلہ من الایمان، عن ابی مالک الاشعری۔
(۲۰) ترمذی ج۲ابواب الایمان، باب ماجاء المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ۔ حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن صحیح٭ نسائی ج ۸کتاب الایمان وشرائعہ باب صفۃ المؤمن۔٭ ابن ماجہ کتاب الفتن، باب الکف من قال لا الہ الا اللّٰہ۔٭ مسند احمد ج۳ ص۱۵۴۔ ج۶ص۲۱، ۲۲ اور۲؍۲۰۶، ۲۱۵، ۳۷۹۔٭موارد الظماٰن الی زوائد ابن حبان۔ کتاب الایمان، باب فی الاسلام والایمان۔
(۲۱) مسند احمد ج۳ ص۱۳۵، ۱۵۴، ۲۱۰، ۲۵۱۔٭ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان، کتاب الایمان، باب فیما یخالف کمال الایمان۔٭ مشکوٰۃ المصابیح ج۱کتاب الایمان الفصل الثانی عن انس بحوالہ البیھقی فی شعب الایمان۔
(۲۲) مسند احمد ج ۵ ص۲۵۱۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الایمان، عن ابی امامۃ۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الفتن، باب فی لزوم الجماعۃ۔٭ ترمذی نے من سرتہ حسنتہ و ساء تہ سیئتہ فذلکم المؤمن نقل کیا ہے۔ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان نے کتاب العلم باب ماجاء فی البر والاثم میں مسند احمد اور مستدرک والی روایت نقل کی ہے۔٭ مشکوٰۃ ج۱۔ کتاب الایمان۔ کتاب الایمان فصل ثالث۔
(۲۳) مسند احمد ج۴ ص۳۸۵۔٭کنز العمال ج۱ص۳۶۔ حدیث نمبر ۵۷ ص۳۸ حدیث بحوالہ طبرانی فی مکارم الاخلاق عن جابر نمبر ۷۴۔ بحوالہ بخاری فی التاریخ من حدیث عبید بن عمیر عن ابیہ اور الدیلمی عن معقل بن یسار۔
(۲۴) مسند احمد ج ۵ ص ۲۴۷۔ ٭ مشکوٰۃ ج۱ کتاب الایمان، ص۱۶۔ فصل ثالث۔٭ کنز العمال ج۱ص۳۷۔ حدیث نمبر ۶۷۔ بحوالہ طبرانی عن معاذ بن جبل اور ص۳۸۔ حدیث نمبر۷۳۔ بحوالہ ابن مندہ عن ایاس ابن سھل الجھنی۔
(۲۵) ترمذی ج۲ ابواب الایمان باب ماجاء فی استکمال الایمان و زیادتہ و نقصانہ۔٭ مسند احمد ج۶ص ۴۷۔ ۹۹۔ عن عائشۃ۔٭ المستدرک للحاکم ج۱کتاب الایمان، باب من اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا والطفھم باھلہ عن عائشۃ۔ و فی الباب عن ابی ھریرۃ، و انس بن مالک۔ ھذا حدیث حسن، ولا نعرف لابی قلابۃ سماعا من عائشۃ۔و قد روی ابو قلابۃ عن عبد اللّٰہ بن یزید رضیع لعائشۃ عن عائشۃ غیر ھذا الحدیث، و ابو قلابۃ اسمہ عبد اللّٰہ بن زید الجرمی۔۔۔ذکر ایوب السختیانی ابا قلابۃ، فقال کان واللّٰہ من الفقھاء ذوی الالباب۔
(۲۶) بخاری ج۲ کتاب الادب، باب من کان یؤمن باللہ والیوم الاخر فلا یوذ جارہٗ اور بخاری کتاب الرقاق باب حفظ اللسان۔٭ ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ، باب۔۔۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ مسلم ج۱کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجار والضیف و لزوم الصمت الا عن الخیر وکون ذلک کلہ من الایمان عن ابی ہریرۃ۔ الفاظ آگے پیچھے ہیں اور آخر میں او لیسکت ہے۔ بخاری، مسلم اور ترمذی نے ابو شریح العدوی کے حوالہ سے بھی ایک روایت نقل کی ہے۔ ابو شریح کی روایت ابو داؤد ج۳ کتاب الاطعمۃ باب ماجاء فی الضیافۃ میں بھی نقل کی ہے۔ اور ابن ماجہ نے کتاب الادب باب حق الضیف کے ضمن میں اسے ذکر کیا ہے اور سنن دارمی نے بھی ابو شریح الخزاعی سے اس روایت کو کتاب الاطعمۃ باب الضیافۃ میں بیان کیا ہے۔ آخر میں او لیسکت روایت کیا ہے اور مؤطا امام مالک میں ابو شریح الکعبی کے حوالہ سے اسے کتاب الجامع باب جامع ماجاء فی الطعام والشراب کے تحت روایت کیا گیا ہے۔٭ مسند احمد ج۲ ص۱۷۴، ۲۶۷، ۲۶۹، ۴۳۳، ۴۶۳۔ ج۳ ص۷۶۔ ج۴ص۳۱، ج ۵ص۴۱۲۔ ج۶ص۶۹، ۳۸۴، ۳۸۵۔٭ مسند احمد نے ج۲ ص۱۷۴پر منقول روایت میں فلیحفظ جارہ روایت کیا ہے۔ اور ص: ۲۶۷، ۴۳۳ پر بخاری والی روایت مذکور ہے اور ص۴۶۳ پر مذکور روایت میں او لیسکت نقل کیا ہے۔ ج۳ ص۷۶۔ ابو سعید خدری سے من کان یؤمن باللہ والیوم الاخر فلیکرم ضیفہ ثلاثا ذکر کیا ہے۔ اور ج۴ ص۳۱ پر ابو شریح الخزاعی کی روایت ذکر کی ہے اور ج۵ ص۴۱۲۔ عن رجل اس روایت میں بھی او یسکت ہے اور ج۶ص۶۹ پر عن عائشہ مروی ہے اس میں او لیصمت ہے اور ج۶ص۳۸۴، ۳۸۵ پر عن ابی شریح الخزاعی الکعبی ہے اس روایت میں بھی او لیصمت ہے۔ اور البیھقی فی شعب الایمان (المختصر) ص۲۲۳۔ حدیث نمبر۶۸۔
(۲۷) ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی اللغۃ۔٭ مسند احمد ج۱ص۴۰۵-۴۱۶۔ عن عبد اللّٰہ۔ ٭موارد الظماٰن الی زوائد بن حبان۔ کتاب الایمان باب فیما یخالف کمال الایمان۔٭ المستدرک ج۱ کتاب الایمان باب لیس المؤمن بالطعان۔٭ کنز العمال ج۱ص۱۴۶۔ حدیث نمبر۷۲۰ بحوالہ بیھقی مستدرک وغیرہ۔٭ الادب المفرد للبخاری ص۸۷۔ حدیث نمبر ۳۱۲، ۳۳۲۔ عن عبد اللّٰہ۔٭ مشکوٰۃ المصابیح ص۴۱۳۔ بحوالہ بیھقی فی شعب الایمان۔
(۲۸) الادب المفرد للبخاری ص۳۹۔ باب لا یشبع دون جارہ حدیث نمبر۱۱۲۔ ٭البیھقی فی شعب الایمان بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح۔ ص۴۲۴۔ کتاب الادب باب الرحمۃ علی الخلق۔ مشکوۃ میں لیس المؤمن بالذی یشبع و جارہ جائع الی جنبہ ہے۔٭ المستدرک للحاکم ج۴ کتاب البر والصلۃ باب لیس المؤمن الذی یبیت و جارہ الی جنبہ جائع۔
(۲۹) بخاری ج۲ کتاب الادب، باب اثم من لا یامن جارہ بوائقہ۔٭ مسلمج۱ کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجار والضیف۔٭ مسند احمد ج۱ص ۳۸۷، ج۲ص ۲۸۸، ۳۳۶، ۳۷۳، ج۳ ص۱۵۴، ۱۹۸، ج۴ ص۳۱، ج۶ص ۳۸۵۔ ٭مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق۔ عن ابی ھریرۃ۔ ٭المستدرک للحاکم ج۴ کتاب البر والصلۃ باب من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الاخر فلیکرم جارہ۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۳۰) مسند احمد ج ۵ ص۲۵۲۔ ٭مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب، باب حفظ اللسان و الغیبۃ والشتم بحوالہ بیھقی فی شعب الایمان۔٭ کنز العمالج۱ص۱۶۶۔ حدیث نمبر ۸۳۳ اور حدیث ۸۳۲ میں کنز العمال نے اسی صفحہ پر المؤمن یطبع علی کل خلق الا الکذب والخیانۃ۔ اور حدیث ۸۳۴ میں یطبع المؤمن علی کل شیء الا الخیانۃ والکذب۔ اور صفحہ ۱۶۷ پر حدیث نمبر ۸۳۵ میں یطبع المؤمن علی کل خلۃ غیر الخیانۃ والکذب اور حدیث ۸۳۶ میں یطبع المؤمن علی کل خلۃ لیس الخیانۃ والکذب۔
(۳۱) ابو داؤد ج۴ کتاب الادب، باب من کظم غیظا۔٭ ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی کثرۃ الغضب۔ ھذا حدیث حسن غریب۔٭ ابن ماجہ کتاب الزھد باب ۱۸ الحلم۔٭ مسند احمد ج۳ ص۴۳۸، ۴۴۰ ص۴۳۸ ان ینفذہ کی جگہ ان ینتصرہ ہے۔
(۳۲) مشکوٰۃ المصابیح کتاب الاداب فصل سوم بحوالہ بیھقی فی شعب الایمان۔٭کنز العمال ج۶ص۸۵، ۸۶۔ حدیث نمبر ۱۴۹۵۵۔ بحوالہ بخاری فی التاریخ بغوی، باوردی، ابن شاھین، ابن نافع، ابو نعیم وغیرہ قال البغوی: والصحیح عندی شرجیل بن اوس۔
(۳۳) مسند احمد ج۴ ص۱۲۶۔٭ مشکوٰۃ المصابیح باب الریاء و السمعۃ۔٭ المستدرک للحاکم ج۴کتاب الرقاق، باب ان الریاء الشرک الاصغر۔ المستدرک میں ہے من صلی و ھو یرائی فقد اشرک و من صام و ھو یرائی فقد اشرک و من تصدق و ھو یرائی فقد اشرک۔
(۳۴) بخاری ج۱کتاب الجھاد، باب اثم من عاھد ثم غدر، وقول اللہ الذین عاھدت منھم ثم ینقضون عھدھم فی کل مرۃ الایۃ۔٭ بخاری ج۱ کتاب الایمان، باب ظلم دون ظلم اس باب میں امام بخاری نے اربع نقل کیا ہے۔٭ مسلم ج۱ کتاب الایمان باب خصال المنافق۔ مسلم نے و ان صام و صلی و زعم انہ مسلم کا اضافہ بھی بیان کیا ہے۔ ٭ترمذی ج۲ ابواب الایمان، باب ماجاء فی علامۃ المنافق۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ مسند احمدج۲ص۱۹۸ پر بھی اربع ہے۔٭مختصر شعب الایمان ص۹۷۔ حدیث نمبر ۳۲۔
(۳۵) ابو داؤد ج ۳ کتاب الاقضیۃ باب فی شھادۃ الزور۔
(۳۶) موارد الظماٰن الی زوائد ابن حبان، کتاب الایمان باب فی الاسلام والایمان۔٭ المستدرک ج۱کتاب الایمان۔ ترمذی نے۱ ابواب فضائل الجھاد باب ماجاء فی فضل من مات مرابطا اور مسند احمد ج۶ص۲۰ اور۲۲پر فضالۃ بن عبید سے مندرجہ ذیل الفاظ سے روایت نقل کی ہے۔
فضالۃ بن عبید یحدث عن رسول اللّٰہ ﷺ انہ قال: کل میت یختم علی عملہ الا الذی مات مرابطا فی سبیل اللّٰہ فانہ ینمی لہ عملہ الی یوم القیامۃ و یامن فتنۃ القبر و سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول: المجاھد من جاھد نفسہ۔ مسند احمد نے نفسہ للّٰہ او قال فی اللّٰہ عزوجل نقل کیا ہے۔ ترمذی نے فضالۃ بن عبید کی روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔٭ امام بخاری نے اپنی الجامع الصحیح ج۱کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ کے تحت عبد اللّٰہ ابن عمرو کے واسطہ سے والمسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ، والمھاجر من ھجر ما نھی اللّٰہ عنہ۔ روایت کیا ہے یہی بخاری والے الفاظ ابو داوٗد ج۳ کتاب الجھاد، باب فی الھجرۃ ھل انقطعت میں بھی مذکور ہیں۔
(۳۷) مسند احمدج۶ص ۶۷-۶۹۔٭ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ والقضاء ۃ، فصل ثالث بحوالہ البیھقی۔
(۳۸) مسند احمدج ۵ ص۳۲۳۔٭ موارد الظماٰن الی زوائد ابن حبان، کتاب العلم باب فی الصدق والکذب۔
(۳۹) ترمذیج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی البخیل ۔ ھذا حدیث حسن غریب۔٭مسند احمد ج۱ص۴۔۷ عن ابی بکر الصدیق۔
(۴۰) مسند احمد ج۳ ص۳۲۱، ۳۹۹۔٭ المستدرک ج۴ کتاب الفتن والملاحم، باب الترھیب عن امارۃ السفھاء۔٭ موارد الظماٰن الی زوائد ابن حبان، کتاب الامارۃ، باب فیمن یدخل علی الامراء السفھاء و یعینھم علی ظلمھم۔
(۴۱) ابن ماجہ کتاب التجارات، باب من باع عیبا فلیبینہ۔ فی الزوائد: فی اسنادہ بقیۃ بن الولید، وھو مدلس، و شیخہ ضعیف۔
(۴۲) مسند احمد ج ۵ ص۲۸۹، ۲۹۰۔٭ نسائی ج ۷کتاب البیوع، باب التغلیظ، فی الدین نسائی نے ثم عاش کی جگہ ثم اُحْیٰی نقل کیا ہے۔
(۴۳) ابوداؤد ج۳ کتاب الوصایا باب ماجاء فی کراھیۃ الاضرار فی الوصیۃ۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الوصایا۔ باب ماجاء فی الوصیۃ فی الثلث۔ ھذا حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ۔
(۴۴) ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الاحسان الی الخادم۔٭ابن ماجہ کتاب الادب، باب۱۰ الاحسان الی الممالیک۔٭ مسند احمد ج۱ص۴،۷،۱۲۔ عن ابی بکرالصدیق۔
(۴۵) ابو داؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات البین۔٭ ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ، باب۔۔۔ ھذا حدیث صحیح۔٭ مسند احمد ج۶ص۴۴۴، ۴۴۵۔ عن ابی الدرداء۔
(۴۶) مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء فی شان الحساب والقصاص۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔ ترمذی میں ان یقضٰی کی جگہ ان یقتص ہے۔٭ مسند احمد ج۲ ص۳۰۳، ۳۳۴، ۳۷۲۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۴۷) ابو داؤد ج۴ کتاب الملاحم، باب الامر والنھی۔٭ مسند احمدج۴ ص۲۶۰۔ حدیث عن رجل ج ۵ ص۲۹۳۔ حدیث عبد اللّٰہ بن سعدؓ۔
(۴۸) ابن ماجہ کتاب التجارات، باب الحکرۃ والجلب٭ سنن دارمی ج۲ کتاب البیوع، باب فی النھی عن الاحتکار۔٭ المستدرک للحاکم ج۲ کتاب البیوع۔ باب لا یحتکر الا خاطئی عن عمر۔٭ المصنف لعبد الرزاق ج ۸ کتاب البیوع باب الحکرۃ۔ المستدرک نے صرف المحتکر ملعون ہی بیان کیا ہے۔ ٭کنز العمال ج۴ ص۱۸۲۔ حدیث نمبر۱۰۰۷۲۔ (فی الزوائد: فی اسنادہ علی بن زید بن جدعان، و ھو ضعیف)
(۴۹) مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الاحتکار بحوالہ رزین۔٭ المستدرک للحاکم نے ج۲ کتاب البیوع، باب الحکرۃ کے تحت حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت مندرجہ ذیل الفاظ سے روایت کی ہے۔
عن ابی ھریرۃ، قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: من احتکر یرید ان یتغالی بھا علی المسلمین فھو خاطئی فقد بری منہ ذمۃ اللہ۔ مستدرک والی روایت کو السنن الکبرٰی للبیھقی نے ج۶ کتاب البیوع باب ماجاء فی الاحتکار میںنقل کیا ہے۔
(۵۰) مشکوٰۃ المصابیح کتاب البیوع باب الاحتکار، بحوالہ رزین۔
(۵۱) بخاری ج۲ کتاب الادب، باب تعاون المؤمنین بعضھم بعضا۔٭ بخاری ج۱کتاب المظالم، باب نصر المظلوم۔ ٭بخاری ج۱کتاب الصلاۃ، باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ۔ بخاری نے جلد اول کے دونوں مقامات پر شبک اصابعہ تک روایت بیان کی ہے۔٭ مسلم ج۲کتاب البر والصلۃ باب تراحم المؤمنین۔٭ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی شفقۃ المسلم علی المسلم۔ ھذا حدیث صحیح۔ و فی الباب عن علی و ابی ایوب۔٭ نسائی ج ۵ کتاب الزکوۃ باب الشفاعۃ فی الصدقۃ۔ نسائی میں اشفعوا، توجروا سے آگے والی عبارت ہے۔٭ نسائی ج ۵ کتاب الزکوۃ باب اجر الخازن اذا تصدق باذن مولاہ، کے تحت عن ابی موسٰی جو روایت نقل کی ہے اس میں المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا اس مقام پر اشفعوا توجروا نہیں ہے۔٭ مسند احمد ج۴ ص۴۰۴، ۴۰۵، ۴۰۹۔٭ مجمع الزوائد ج ۸ کتاب الادب، باب مثل المؤمن من اھل الایمان۔ اور کتاب البر والصلۃ باب مثل المؤمن من اھل الایمان کے ضمن میں بھی منقول ہے۔٭ السنن الکبرٰی ج ۸ کتاب قتال اھل البغی باب ماجاء فی الشفاعۃ والذب عن اخیہ المسلم عن الاخر۔
(۵۲) مسند احمد ج۴ ص۲۷۰۔ نعمان بن بشیر۔
(۵۳) بخاریج۲ کتاب الادب، باب رحمۃ الناس والبھائم۔٭ مسلم ج۲کتاب البر والصلۃ والادب، باب تراحم المؤمنین و تعاطفھم و تعاضدھم۔ عن نعمان بن بشیر۔ مسلم میں اذا اشتکی منہ عضو ہے۔٭مسند احمد ج ۴ ص۲۷۰۔ عن نعمان بن بشیر۔ اس مقام پر مثل المؤمنین فی توادھم الخ ہے۔ ٭مسنداحمد ج ۴ ص۲۷۱ ص۲۷۶۔ عن نعمان بن بشیر۔
مسلم میں انہی سے مروی اور روایات:
قال رسول اللّٰہ ﷺ: المؤمنون کرجل احد ان اشتکی راسہ تداعی سائر الجسد بالحمی والسھر۔
ایک دوسری روایت میں ہے۔
المسلمون کرجل واحد ان اشتکی عینہ، اشتکی کلہ، و ان اشتکی راسہ، اشتکی کلہ۔
٭مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ والادب باب تراحم المؤمنین و تعاطفھم و تعاضدھم٭ مسند احمد ج۴ ص۲۷۸۔ عن النعمان بن بشیر۔ اس مقام پر انما مثل المسلمین کالرجل الواحد اذا وجع منہ شیء تداعٰی سائر جسدہ۔
مجمع الزوائد میں دو روایتیں منقول ہیں۔
عن سھل بن سعد الساعدی، عن النبی ﷺ قال: ان المؤمن من اھل الایمان بمنزلۃ الراس من الجسد یالم المؤمن من اھل الایمان کما یالم الجسد لما فی الراس۔ رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر والاوسط، و رجال احمد رجال صحیح۔
دوسری روایت:
عن بشیر بن سعد صاحب رسول اللّٰہ ﷺ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: منزلۃ المؤمن من المؤمن منزلۃ الراس من الجسد متی ما اشتکی الجسد اشتکی لہ الراس و متی ما اشتکی الراس، اشتکی سائر الجسد۔
٭مجمع الزوائد ج ۸ کتاب الادب، باب مثل المؤمن من اھل الایمان۔
(۵۴) مسند احمد ج۶ص۲۱-۲۲٭ بخاری نے ج۲ کتاب الرقاق کے تحت باب من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللّٰہ، قائم کیا ہے۔
(۵۵) نسائی ج ۷ کتاب البیعۃ، باب ھجرۃ البادی٭ نسائی ج ۵ کتاب الزکوۃ، باب جھد المقل کے تحت اور ابو داؤد ج۲ کتاب الوتر میں اور سنن دارمی نے ج۱ص۲۷۲ پر عبد اللّٰہ بن حبشی الخثعمی کے حوالہ سے نبی ﷺ کا ارشاد مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے۔
قیل: فای الھجرۃ افضل؟ قال: من ھجر ما حرم اللّٰہ عزوجل۔
٭مسند احمد ج۲ص۱۶۰-۱۹۱عن عبد اللّٰہ بن عمرو اور ج۴ ص۳۸۵۔ عن عمرو بن عبسہ۔٭ موارد الظماٰن الی زوائد ابن حبان کتاب الجھاد باب ماجاء فی الھجرۃ۔
(۵۶) مسند احمد ج۳ ص۵۵ اور مسند احمد ج۳ ص ۳۸ پر ابو سعید خدری ہی سے مروی روایت میں مثل المؤمن کمثل الفرس منقول ہے۔
(۵۷) ابن ماجہ ابواب الزھد، باب۴ من لا یؤبہ لہ۔٭ مسند احمد ج۶، ص۴۵۹۔ عن اسماء بنت یزید۔٭ مسند احمد ج۴، ص۲۲۷۔ عن عبد الرحمن بن غنم۔٭ مشکوٰۃ المصابیح  باب الحب فی اللّٰہ و من اللّٰہ۔ ٭مجمع الزوائد للھیثمی ج ۸کتاب الادب، باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ۔ عن عبد الرحمن اور عن اسماء بنت یزید۔ ان دونوں روایات کی سند میں شھر بن حوشب ہے جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اگرچہ بعض نے اسے ثقہ بھی قرار دیا ہے اور الطبرانی عبادہ بن صامت کے واسطہ سے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے مگر اس سند میں یزید بن ربیعہ ہے جسے متروک قرار دیا گیا ہے۔
(۵۸) ابو داؤد ج۴، کتاب السنۃ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہٖ۔
(۵۹) ترمذی ج۲ ابواب صفۃ القیامۃ، باب۔۔۔(ھذا حدیث غریب ولم یذکر سوید عن ابیہ فی حدیثہ) ٭ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ لنا صر الدین البانی ج۲، ص۶۳۳۔٭ الشکر لابن ابی الدنیا۔
(۶) مشکوٰۃ المصابیح  فصل ثالث، کتاب الادب، باب البکاء والخوف بحوالہ رزین۔
(۶۱) ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الاحسان والعفو۔ ھذا حدیث حسن غریب۔ لا نعرفہ الا من ھذا الوجہ۔
(۶۲) ابو داؤد ج۳ کتاب البیوع (الاجارۃ) باب فی الرجل یاخذ حقہ من تحت یدہ۔٭ ترمذی ج۱ابواب البیوع۔ باب۔۔۔ھذا حدیث حسن غریب۔٭سنن دارمی ج۲ کتاب البیوع باب۵۷۔ فی اداء الامانۃ واجتناب الخیانۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ مسند احمد ج۳ ص۴۱۴۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج۱۰ کتاب الدعوٰی والبینات باب اخذ الرجل حقہ ممن یمنعہ ایاہ عن ابی ھریرۃ۔ المعجم الکبیر (الطبرانی) ج۱ص۲۶۱۔ حدیث نمبر۷۶۰۔ عن انس۔ ٭مختصر بیھقی فی الشعب الایمان ص۱۲۲عن ابی ھریرۃ۔٭ کنز العمال ج۳ ص۶۳۔ عن ابی ھریرۃ۔   ھٰذا حدیث حسن غریب۔ لا نعرفہ الا من ھذا الوجہ۔
(۶۳) مشکوٰۃ المصابیح باب البکاء والخوف رزین بحوالہ۔
(۶۴) مسلم ج۲ کتاب الجھاد والسیر باب تامیر الامام الامراء علی البعوث ووصیتہ ایاھم باداب الغزو وغیرہ۔ ٭بخاری ج۱کتاب العلم، باب ماکان النبی ﷺ یتخولھم بالموعظۃ والعلم کی لا ینفروا بخاری نے یسروا ولا تعسروا پہلے بیان کیا ہے۔ اور بشروا ولا تنفروا بعد میں۔٭ ابو داؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی کراھیۃ المراء عن ابی موسٰی۔ ابو داؤد نے مسلم کے الفاظ کی ترتیب سے روایت نقل کی ہے۔٭مسند احمد ج۴ ص۳۹۹ پر یسروا عن ابی موسٰی اشعری۔ اور ص۴۱۲ پر بشروا ہے۔
(۶۵) ابو داؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی الغیبۃ۔٭ مسند احمد ج۴ ص۴۲۱،۴۲۴۔ عن ابی برزہ اسلمی۔
(۶۶) ابو داؤد ج۴ کتاب الادب باب فی النھی علی التجسس۔
(۶۷) احکام القرآن للجصاص ج ۵ سورۃ الحجرات۔
(۶۸) ابو داؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی الستر علی المسلم۔٭احکام القرآن للجصاص ج ۵ الحجرات۔ ٭مسند احمدج۴ ص ۱۴۷،۱۵۸۔ عن عقبہ بن عامر۔٭مسند احمدج۴ ص۱۵۸پر مؤودۃ کے بعد من قبرھا بھی ہے۔
(۶۹) ابوداؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی النھی عن التجسس۔٭مسند احمد ج۶ص۴۔ عن ابی امامۃ و مقداد بن اسود۔
(۷۰) مسلمج۲کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا و اھلھا۔ باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا اھل الجنۃ و اھل النار۔٭ مسند احمد ج۴ ص۱۶۱۔ عن عیاض بن حمار المجاشعی۔
(۷۱) بخاری ج۲ کتاب الادب، باب رحمۃ الناس بالبھائم۔٭ مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین و تعاطفھم و تعاضدھم۔
مسلم نے اذا اشتکی منہ عضو نقل کیا ہے اور مسلم نے نعمان بن بشیر سے مروی ایک روایت المؤمنون لرجل واحد اور ایک دوسری روایت المسلمون کرجل واحد کے الفاظ بھی نقل کیے ہیں۔٭مسند احمد ج ۴ ص۲۶۸ اورص۲۷۰ عن نعمان بن بشیر۔
(۷۲) بخاریج۲ کتاب الادب، باب تعاون المؤمنین بعضھم بعضا نیز کتاب الصلاۃ ج۱باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ اور کتاب المظالم۱باب نصر المظلوم۔٭ مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین و تعاطفھم۔٭ ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی شفقۃ المسلم علی المسلم۔٭ نسائی ج ۵ کتاب الزکوٰۃ، باب اجر الخازن اذا تصدق باذن مولاہ۔٭ مسند احمد ج۴ ص۴۰۴، ۴۰۵،۴۰۶۔ عن ابی موسٰی اشعری۔٭ تاریخ بغداد از خطیب بغدادی ج۲ ص۵۔ عن ابی موسٰی اشعری۔
(۷۳) بخاری ج۱ابواب المظالم والقصاص باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ اور کتاب الاکراہ باب یمین الرجل لصاحبہ انہ اخوہ اذا خاف علیہ القتل۔٭ مسلم ج۲ کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم۔ مسلم نے کربات کی جگہ کرب نقل کیا ہے۔٭ مختصر شعب الایمان ص۲۲۵۔ عن سالم بن عبد اللّٰہ بن عمر٭ ابو داؤد ج۴ کتاب الادب باب المواخاۃ اور باب فی المعونۃ للمسلم ص۲۸۷ پر عن ابی ھریرۃ۔ ابو داؤد نے المسلم اخو المسلم نقل نہیں کیا اس نے من نفس عن مسلم کربۃ من کرب الدنیا نفس اللّٰہ عنہ کربۃ من کرب یوم القیامۃ، و من یسر علی معسر یسر اللّٰہ علیہ فی الدنیا والاخرۃ، ومن ستر علی مسلم ستر اللّٰہ علیہ فی الدنیا والاخرۃ واللّٰہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ قال ابو داؤد: لم یذکر عثمان عن ابی معاویۃ و من یسر علی معسر۔٭ترمذی۱کتاب الحدود، باب ماجاء فی الستر علی المسلم عن ابی ھریرۃ۔ ابوداؤد والی روایت نقل کی ہے اور ترمذی ج۲ ابواب البر باب ماجاء فی الستر علی المسلمین کے تحت بھی یہی روایت نقل کی ہے۔ ھذا حدیث حسن۔٭ مسند احمد ج۲ص۹۱۔ عن عبد اللّٰہ بن عمر۔٭مسند احمد ج۲ص۲۵۲۔ عن ابی ھریرۃ ج۴ ص۱۰۴۔ مسند میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی روایت کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔
قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: من وسع علی مکروب کربۃ فی الدنیا، وسع اللّٰہ علیہ کربۃ فی الاخرۃ، و من ستر عورۃ مسلم فی الدنیا ستر اللّٰہ عورتہ فی الاخرۃ، واللّٰہ فی عون المرء ماکان فی عون اخیہ۔ (مسند احمد ج۲ ص۲۷۴۔ عن ابی ھریرۃ)
(۷۴) ترمذی ج۲ ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی شفقۃ المسلم علی المسلم۔ ھذا حدیث حسن غریب۔ ٭ابوداؤد ج۴ کتاب الادب، باب فی الغیبۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔ ابو داؤد نے کل المسلم علی المسلم حرام مالہ و عرضہ و دمہ، حسب امریٔ من الشر ان یحقر اخاہ المسلم نقل کیا ہے۔٭مسند احمد ج۲ ص۲۷۷۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۷۵) مسند احمد ج ۵ ص۳۴۰۔
(۷۶) مسلم ج۲ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا، باب صفات التی یعرف بھا فی الدنیا اھل الجنۃ و اھل النار۔ ٭مسند ج۴ ص۱۶۱ عن عیاض بن حمار المجاشعی۔
(۷۷) ترمذی ج۲ ابواب الزھد، باب ماجاء فی الزھادۃ فی الدنیا۔  ھٰذا حدیث غریب لا نعرفہ الا من ھذا الوجہ، و ابو ادریس الخولانی، اسمہ عائذ اللّٰہ، بن عبد اللّٰہ و عمرو بن واقد منکر الحدیث۔٭ ابن ماجہ کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا۔ قال ھشام: قال: ابو ادریس الخولانی: یقول: مثل ھذا الحدیث فی الاحادیث کمثل الابریز فی الذھب۔
(۷۸) ترمذیج۲ ابواب صفۃ القیامۃ، باب۔۔۔ حدثنا محمد بن یحی، نا محمد بن یوسف، عن سفیان، عن ھشام بن عروۃ، عن ابیہ، عن عائشۃ انھا کتبت الی معاویۃ، فذکر الحدیث بمعناہ ولم یرفع۔
(۷۹) بخاری ج۱کتاب التھجد۔ باب التھجد باللیل و قولہ عزوجل من اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک۔ مزید برآں اس روایت کو بخاری نے کتاب التوحید اور کتاب الدعوات میں مسلم نے کتاب المسافرین میں اور ابو داؤد نے کتاب الصلاۃ میں، نسائی نے کتاب التطبیق میں، اور قیام اللیل میں، ابن ماجہ نے کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا میں سنن دارمی نے کتاب الصلاۃ اور مؤطا امام مالک نے قرآن کے عنوان کے تحت، اوربیھقی نے کتاب الصلاۃ میں اور مسند احمد نے ج۱ص۹۵، ۱۰۲، ۱۱۹، ۳۰۲، ۳۰۸، ۳۵۸ وغیرہ پر الفاظ سے تقدیم و تاخیر کے ساتھ نقل کیا ہے۔
(۸۰) تفسیر ابن کثیر ج۲ سورۃ الانفال٭ ترمذی ج۲ ابواب الفتن، باب ماجاء فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔
(۸۱) مسند احمدج۴ ص۱۹۲٭ مشکوٰۃ المصابیح۔ باب الامر بالمعروف۔٭ تفسیر ابن کثیر ج۲ سورۃ الانفال۔
(۸۲) بخاری ج۱کتاب الایمان، باب الحیاء من الایمان۔٭مسلم۱کتاب الادب، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان و افضلھا و ادناھا و فضیلۃ الحیاء و کونہ من الایمان۔٭ ابو داؤد ج۴ کتاب السنۃ، باب فی رد الارجاء۔ (والحیاء شعبۃ من الایمان) ٭ترمذی ج۲ ابواب البر، باب ماجاء فی الحیاء۔ عن ابی ھریرۃ۔ ٭ترمذی ج۲ ابواب الایمان، باب ماجاء الحیاء من الایمان۔ (حسن صحیح)٭ نسائی ج ۸کتاب الایمان، باب شعب الایمان عن ابی ھریرۃ۔٭ ابن ماجہ المقدمہ باب۹فی الایمان۔ عن سالم بن عبد اللّٰہ عن ابیہ و ابو ھریرۃ۔ ابن ماجہ کتاب الزھد، باب الحیاء۔ (الحیاء من الایمان) عن ابی بکرۃ۔٭ مؤطا امام مالک ج۲ کتاب الجامع حسن الخلق باب ماجاء فی الحیاء۔٭مسند احمد ج۲ ص۵۶، ۱۴۷، ۳۹۲، ۴۱۴، ۴۴۲، ۵۰۱، ۵۳۳۔ ج ۵ ص۲۶۹۔
(۸۳) مسلم ج۱کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان و افضلھا و ادناھا و فضیلۃ الحیاء و کونہ من الایمان۔ ٭مسند احمد ج۴ ص۴۲۶، ۴۲۷، ۴۳۶، ۴۴۰، ۴۴۲، ۴۴۵، ۴۴۶۔
(۸۴) مسلم ج۱کتاب الایمان، باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان۔٭ ترمذی ج۲ ابواب الفتن، باب ماجاء فی تغییر المنکر بالید او باللسان او بالقلب۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ نسائی ج ۸ کتاب الایمان و شرائعہ باب ذکر شعب الایمان۔٭ مسند احمد ج۳ ص۲۰، ۴۹-۵۳۔ عن ابی سعید خدری۔ ٭ابن ماجہ کتاب الفتن باب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔٭ ابو داؤد نے کتاب الصلاۃ اور کتاب الملاحم میں ابن ماجہ نے کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا اور کتاب الفتن باب۲۰ میں اور مسند احمد ج۳ ص۱۰-۵۲ پر من رای منکم منکرا فاستطاع ان یغیرہ فلیغیرہ منقول ہے۔
(۸۵) ابو داؤد ج۴ کتاب الملاحم باب الامر والنھی۔
(۸۶) ترمذی ج۲ ابواب تفسیر القرآن، سورۃ المائدۃ، ترمذی کی ایک روایت میںان بنی اسرائیل لما وقع فیھم النقص کان الرجل فیھم یری اخاہ یقع علی الذنب فینھاہ عنہ فاذا کان الغد لم یمنعہ ما رای منہ ان یکون اکیلہ و شریبہ و خلیطہ٭ مسند احمد ج۱ص۳۹۱۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔  ھذا حدیث حسن غریب۔

کتاب السیاسۃ۔فصل چہارم:۱ سیاسیات اصلاح دنیا کے لیے سیاسی طاقت کی ضرورت

٢١٤- اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالاَ یَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ۔
’’اللہ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کردیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں کرتا۔‘‘
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا اَبُوْ بَکْرِ نِاَلْبَرَقَانِیُّ، اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْھَمَذَانِیُّ اَبُوْ حَامِدٍ، حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیْمِ، حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا الْھَیْثَمُ ابْنُ عَدِیٍّ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ: لَمَا یَزَعُ اللّٰہُ بِالسُّلْطَانِ اَعْظَمُ مِمَّا یَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ۔(١)
تشریح: انبیاء کرام اس مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے کہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم کریں۔ اس لیے دیکھیے کہ ہجرت سے پہلے نبی اکرم اکی زبان مبارک سے یہ دعا منگوائی جاتی ہے وَ قُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَصِیْرًا (بنی اسرائیل:۸۰) اور دعا کر کہ ’’پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا، سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مدد گار بنا دے۔‘‘
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنادے تاکہ میں اس کی طاقت سے دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں اور تیرے قانون عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری اور قتادہ اللہ رحمۃ علیہما نے کی ہے اور اس کو ابن جریر اور ابن کثیر اللہ رحمۃ علیہما جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ ان اللّٰہ لیزع بالسلطان مالا یزع بالقراٰن۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے، وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔ (اسلامی ریاست، اسلامی ریاست کیوں؟)

اسلامی ریاست کا مقصد وجود

ایک اسلامی ریاست کے قیام کا اصل مقصد اُس اصلاحی پروگرام کو مملکت کے تمام ذرائع سے عمل میں لانا ہے جو اسلام نے انسانیت کی بہتری کے لیے پیش کیاہے۔ محض امن کا قیام، محض قومی سرحدوں کی حفاظت، محض عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا اس کا آخری اور انتہائی مقصد نہیں ہے۔ اس کی امتیازی خصوصیت جو اسے غیرمسلم ریاستوںسے ممتاز کرتی ہے یہ ہے کہ وہ ان بھلائیوں کو فروغ دینے کی کوشش کرے جن سے اسلام انسانیت کو آراستہ کرنا چاہتا ہے اور اُن برائیوں کو مٹانے اور دبانے میں اپنی ساری طاقت خرچ کردے جن سے اسلام انسانیت کو پاک کرنا چاہتاہے۔
(اسلامی ریاست، ریاست کا مقصد وجود)
٢١٥-اس ریاست میں حکمراں اور اس کی حکومت کا اولین فریضہ یہ قرار دیا گیا تھا کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو کسی رد و بدل کے بغیر جوں کا توں قائم کرے اور اسلام کے معیار اخلاق کے مطابق بھلائیوں کو فروغ دے اور برائیوں کو مٹائے۔۔۔آپ کی قائم کردہ ریاست کااصل کام ہی یہ تھا کہ دین کے پورے نظام کو قائم کرے اور اس کے اندر کوئی ایسی آمیزش نہ ہونے دے جو مسلم معاشرے میں دو رنگی پیدا کرنے والی ہو۔ اس آخری نکتے کے بارے میں نبی انے اپنے اصحاب اور جانشینوں کو سختی سے متنبہ فرمادیا کہ:
مَنْ اَحْدَثَ فِی اَمْرنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ۔ (مشکٰوۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔) ’’جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات نکالے۔ جو اس کی جنس سے نہ ہو اس کی بات مردود ہے۔‘‘ اِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ۔( ایضًا) ’’خبردار، نرالی باتوں سے بچنا، کیوں کہ ہر نرالی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گم راہی۔‘‘ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلاَمِ۔ ( ایضًا) ’’جس نے کسی بدعت نکالنے والے کی توقیر کی۔ اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔‘‘

اس سلسلے میں آپؐ کا یہ ارشاد بھی ہمیں ملتا ہے کہ تین آدمی خدا کو سب سے زیادہ ناپسند ہیں اور ان میں ایک وہ شخص ہے جو مبتغ فی الاسلام سنۃ الجاھلیۃ ’’اسلام میں جاہلیت کا کوئی طریقہ چلانا چاہیے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ۔(٢)
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیْدَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ:حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرِو السُّلَمِیُّ وَ حَجَرُ بْنُ حَجَرٍ، قَالاَ: اَتَیْنَا الْعِرْبَاضَ ابْنَ سَارِیَۃَ، وَ ھُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِیْہِ وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لاَ اَجِدُ مَا اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ، فَسَلَّمْنَا، وَ قُلْنَا: اَتَیْنَاکَ زَائِرِیْنَ وَ عَائِدِیْنَ وَ مُقْتَبِسِیْنَ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً ذَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ فَقَالَ قَآئِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَأَنَّ ھٰذِہٖ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْھِدُ اِلَیْنَا؟ فَقَالَ:اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَ اِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَاِنَّہٗ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَ سُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الْمَھْدِیِّیْنَ الرَّاشِدِیْنَ تَمَسَّکُوْا بِھَا، وَ عَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ، وَ اِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ۔(٣)
ترجمہ: عبد الرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجرکا بیان ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم دونوں عرباض بن ساریہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور وہ ان اصحاب میں سے تھے جن کے بارے میں ولا علی الذین اذا ما اتوک (الاٰیۃ) نازل ہوئی تھی۔ ہم نے انہیں سلام عرض کیا اور کہا ہم آپ کی ملاقات، عیادت اور استفادہ کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ (علم دین سیکھنے کے لیے) (ان کی آمد کا مدعا سن کر) عرباض نے بیان کیا کہ ایک روز رسول اللہ انے ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر ہماری جانب روئے انور پھیر کر متوجہ ہوئے اور بڑی بلیغ (دل کی گہرائیوں میں اترجانے والی) نصیحت فرمائی جس کی وجہ سے آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور دل دہل گئے (خوف زدہ ہوگئے) (اسی اثنا میں) ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تو ایسی نصیحت ہے جیسے الوداع کہنے والا اپنے ساتھیوں کو کرتا ہے تو آپؐ ہمیں کیا نصیحت فرماتے ہیں؟ فرمایا۔ میں تم کو تقویٰ اللہ اور سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں۔ (اللہ سے ہر حال میں ڈرنے اپنے مسلمانوں کے حاکموں کی تابع داری کرنے اور ان کے احکام کو بہ دل و جان تسلیم کرنے کی وصیت کرتا ہوں)۔ وہ حاکم و فرماں روا خواہ ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ ضرور بہت سے اختلاف ملاحظہ کرے گا۔ تو ایسے موقع پر تمہیں میرے طریقہ اور ہدایت و رشد یافتہ خلفاء کے طریقہ کو مضبوطی سے پکڑلینا، بلکہ دانتوں سے مضبوط پکڑلینا اور نئے طریقوں کو اختیار کرنے سے بچنا کیوں کہ ہر نیا طریقہ بدعت ہے اور ہر بدعت سراسر گم راہی ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ اَبِیْ اِیَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرَّۃَ الْھَمْدَانِیَّ یَقُوْلُ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اِنَّ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَاَحْسَنَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَ شَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَ اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَآتٍ وَمَا اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۔(٤)
(۴) قَالَ: وَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، نَا اَبُوْ ھَمَّامٍ، نَا حَسَّانُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ الطَّائِفِیْ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلاَمِ۔(٥)
(۵) حَدَّثَنَا اَبُو الْیَمَانِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ حُسَیْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ ابْنُ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اَبْغَضُ النَّاسِ اِلَی اللّٰہِ ثَلٰـثَۃٌ: مُلْحِدٌ فِی الْحَرَمِ، وَ مُبْتَغٍ فِی الْاِسْلاَمِ سُنَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَ مُطَّلِبٌ دَمَ امْرِیٍٔ بِغَیْرِ حَقٍّ لِیُھْرِیْقَ دَمَہٗ۔(٦)
ترجمہ: حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی انے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض ترین آدمی تین ہیں۔ (ایک) حرم میں ظلم کرنے والا (دوسرا) اسلام میں جاہلیت کا کوئی طریقہ چلانے والا (تیسرا) کسی شخص کو ناحق قتل کرنے کا شدید تقاضا کرنے والا۔

انسان پر انسان کی خدائی

٢١٦- قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ فَجَائَ تْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ مِنْ دِیْنِھِمْ وَ حَرَّمَتْ عَلَیْھِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَھُمْ۔ (حدیث قدسی)
’’اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو صحیح فطرت پر پیدا کیا پھر شیاطین نے ان کو آن گھیرا، انہیں فطرت کی راہ راست سے بھٹکالے گئے اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا ان شیاطین نے ان کو اس سے محروم کرکے رکھ دیا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ غَسَّانِ الْمِسْمَعِیُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِاَبِیْ غَسَّانٍ وَابْنِ مُثَنّٰی قَالاَ: نَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارِ الْمُجَاثِعِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِیْ خُطْبَتِہٖ: اَلاَ اِنَّ رَبِّیْ اَمَرَنِیْ اَنْ اُعَلِّمَکُمْ مَا جَھِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ھٰذَا، کُلُّ مَالٍ نَحِلْتُہٗ عَبْدًا حَلاَلٌ وَ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّھُمْ، وَ اِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنِھِمْ وَ حَرَّمَتْ عَلَیْھِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَھُمْ وَ اَمَرَتْھُمْ اَنْ یُّشْرِکُوْا بِیْ مَالَمْ اُنْزِلْ بِہٖ سُلْطَانًا۔الخ۔(٧)
تشریح: انسان پر انسان کی خدائی قائم رہنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ وہی جو ایک کم ظرف آدمی کو پولیس کمشنر بنا دینے یا ایک جاہل کو وزیر اعظم بنا دینے کا نتیجہ ہوتاہے۔ اول تو خدائی کا نشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ آدمی اس شراب کو پی کر کبھی اپنے قابو میں رہ نہیں سکتا اور بالفرض اگر وہ قابو میں رہ بھی جائے تو خدائی کے فرائض انجام دینے کے لیے جس علم کی ضرورت ہے اور جس بے لوثی و بے غرضی اور بے نیازی کی حاجت ہے وہ انسان کہاں سے لائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں انسانوں پر انسانوں کی الٰہیت و ربوبیت قائم ہوئی وہاں ظلم، طغیان، ناجائز انتفاع، بے اعتدالی اور ناہمواری نے کسی نہ کسی صورت سے راہ پاہی لی۔ انسانی روح اپنی فطری آزادی سے محروم ہوکر ہی رہی انسان کے دل و دماغ پر،اس کی پیدایشی قوتوں اور صلاحیتوں پر ایسی بندشیں عائد ہوکر ہی رہیں، جنہوں نے انسانی شخصیت کے نشو و ارتقا کو روک دیا۔ کس قدر سچ فرمایااس صادق و مصدوق علیہ و علی آلہ الصلوۃ والسلام نے: ’’اللہ عزوجل فرماتاہے کہ میں نے اپنے بندوں کو صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا۔ پھر شیطانوں نے ان کو آن گھیرا۔ انہیں فطرت کی راہ راست سے بھٹکا لے گئے اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا۔ ان شیطانوں نے ان کو اس سے محروم کرکے رکھ دیا۔‘‘
یہی وہ چیز ہے جو انسان کے سارے مصائب، اس کی ساری تباہیوں، اس کی تمام محرومیوں کی اصل جڑ ہے۔ یہی اس کی ترقی میں اصل رکاوٹ ہے، یہی وہ روگ ہے جو اس کے اخلاق اور اس کی روحانیت کو اس کی علمی و فکری قوتوں کو، اس کے تمدن اور اس کی معاشرت کو، اس کی سیاست اور اس کی معیشت کو، اور قصہ مختصر اس کی انسانیت کو تپ دق کی طرح کھا گیا ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے کھارہا ہے اور آج تک کھائے چلا جاتا ہے۔ اس روگ کا علاج بجز اس کے کچھ ہے ہینہیں کہ انسان سارے ارباب اور تمام الٰہوں کا انکار کرکے صرف اللہ کو اپنا الٰہ اور صرف رب العالمین کو اپنا رب قرار دے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اس کی نجات کے لیے نہیں ہے، کیوں کہ ملحد اور دہریہ بن کر بھی تو وہ الٰہوں اور ارباب سے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔
(اسلامی ریاست ، بنیادی مقدمات ’’فتنہ کی جڑ‘

ایسی خدائی کے خلاف جہاد

٢١٧-نبی افرماتے ہیں کہ ’’مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (ا) اللہ کا بندہ اور رسول ہے، نیز وہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ پھیریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں۔ جو نہی انہوں نے ایسا کیا ہم پر اُن کے خون اور اُن کے مال حرام ہوگئے، الا یہ کہ حق اور انصاف کی خاطر ان کو حلال کیا جائے۔ اُس کے بعد اُن کے وہی حقوق ہیں جو سب مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی واجبات ہیں جو سب مسلمانوں پر ہیں۔ (اسلامی ریاست،اسلامی تصور قومیت ’’اسلام کا طریق جمع و تفریق‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ یَعْقُوْبَ الطَّالَقَانِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ، وَ اَنْ یَّسْتَقْبِلُوْا قِبْلَتَنَا، وَ اَنْ یَّاْکُلُوْا ذَبِیْحَتَنَا، وَ اَنْ یُّصَلُّوْا صَلوٰ تَنَا، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُھُمْ وَ اَمْوَالُھُمْ، اِلاَّ بِحَقِّھَا: لَھُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَ عَلَیْھِمْ مَا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔(٨)
بخاری نے ایک روایت مندرجہ ذیل متن سے نقل کی ہے:
(۲) حَدَّثَنَا نُعَیْمُ قَالَ نَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَمِیْدِ الطَّوِیْلِ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْھَا وَ صَلُّوْا صَلوٰ تَنَا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَ اَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُھُمْ وَ اَمْوَالُھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ۔(٩)
٢١٨-آںحضرت انے ایک شخص سے فرمایا اسلم۔ اسلام قبول کرلے۔ اس نے عرض کی کہ انی اجدنی کارھا۔ میں اپنے اندر کچھ کراہت محسوس کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا و ان کنت کارھا فان اللّٰہ سیرزقک حسن النیۃ والاخلاص۔ ’’اس کراہت کے باوجود قبول کرلے۔ پھر اللہ تجھے حسن نیت اور اخلاص بھی بخش دے گا۔‘‘
(الجہاد فی الاسلام، اشاعت اسلام اور تلوار)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ:اَسْلِمْ، قَالَ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ کَارِھًا، قَالَ: وَاِنْ کُنْتَ کَارِھًا۔۔۔فَاِنَّ اللّٰہَ سَیَرْزُقُکَ حُسْنَ النِّـیَّۃِ وَالْاِخْلاَصِ۔(١٠)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ: اَسْلِمْ، قَالَ: اَجِدُنِیْ کَارِھًا، قَالَ: اَسْلِمْ وَلَوْ کُنْتَ کَارِھًا۔(١١)

عصبیت کے خلاف اسلام کا جہاد

٢١٩- لَیْسَ مِنَّا مَنْ مَّاتَ عَلَی العَصَبِیَّۃِ۔ لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلَی الْعَصَبِیَّۃِ۔لَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَی الْعَصَبِیَّۃِ۔
’’جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصیبت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، ثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ اَیُّوْبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَکِیِّ۔ (یَعْنِیْ ابْنُ اَبِیْ لَبِیْبَۃَ۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلٰی عَصَبِیَّۃٍ، وَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلٰی عَصَبِیَّۃٍ، وَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ مَّاتَ عَلٰی عَصَبِیَّۃٍ۔(١٢)
تشریح: کفرو شرک کی جہالت کے بعد اسلام کی دعوت حق کا اگر کوئی سب سے بڑا دشمن تھا تو وہ یہی نسل و وطن کا شیطان تھا اور یہی وجہ تھی کہ نبی انے اپنی ۲۳ سالہ حیات نبویہ میں ضلالت کفر کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کو مٹانے کے لیے جہاد کیا وہ یہی عصبیت جاہلیہ تھی۔ آپ احادیث و سیر کی کتابوں کو اٹھا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ حضورا سرور کائنات نے کس طرح خون اور خاک، رنگ اور زبان، پستی اور بلندی کی تفریقوں کو مٹایا، انسان اور انسان کے درمیان غیر فطری امتیازات کی تمام سنگین دیواروں کو مسمار کیا اور انسان ہونے کی حیثیت سے تمام بنی آدم کو یکساں قرار دیا۔
٢٢٠- لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِدِیْنٍ وَ تَقْوٰی۔ اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آدَمَ وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔
’’پرہیزگاری اور دین داری کے سوا کسی اور چیز کی بنا پر ایک شخص کو دوسرے شخص پر فضیلت نہیں ہے سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ اِسْحَاقَ، اَنَا ابْنُ لَھْیَعَۃَ عَنِ الْحَرْثِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ الْجُھَنِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اَنْسَابَکُمْ ھٰذِہٖ لَیْسَتْ بِمَسَبَّۃٍ عَلٰی اَحَدٍ کُلُّکُمْ بَنُوْ آدَمَ طَفَّ الصَّاعُ لَمْ تَمْلُؤْہٗ، لَیْسَ لِاَحَدٍ عَلٰی اَحَدٍ فَضْلٌ اِلاَّ بِدِیْنٍ اَوْ تَقْوٰی وَ کَفٰی بِالرَّجُلِ اَنْ یَّکُوْنَ بَذِیًّا بَخِیْلاً فَاحِشًا۔(١٣)
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا۔ تمہارے یہ انساب (نسب نامے) در حقیقت کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے، تم سب بالکل برابر و مساوی مرتبہ کے آدم کے بیٹے ہو، کسی کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں۔ فضیلت تو دین و تقویٰ کی بنا پر ہے۔ آدمی کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل اور بد اخلاق ہو۔
(۲) قَالَ الْحَافِظُ اَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عُبَیْدَۃَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْعَسْکَرِیُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَبَلَۃَ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ حُنَیْنِ الطَّائِیُّ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَبِیْبِ بْنِ خَرَاشِ الْعَصْرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اَلْمُسْلِمُوْنَ اِخْوَۃٌ لاَ فَضْلَ لِاَحَدٍ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔(١٤)
ترجمہ: رسول اللہ انے فرمایا: مسلمان سب بھائی بھائی ہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقویٰ کے۔
٢٢١-نسل وطن ، زبان اور رنگ کی تفریق کو آپؐ نے یہ کہہ کر مٹایا کہ:
لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ کُلُّکُمْ اَبْنَآئُ آدَمَ۔ (بخاری۔ مسلم)
’’نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت ہے نہ عجمی کو عربی پر۔ تم سب آدم کی اولاد ہو۔‘‘ (بخاری، مسلم میں یہ الفاظ نہیں ملے) (مرتب)
تخریج:(۱) وَ قَالَ ﷺ: لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی النَّاسُ مِنْ آدَمَ، وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔(١٥)
ترجمہ: رسول اللہاے فرمایا کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت ہے ماسوائے تقویٰ۔ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہے۔
(۲) عَنْ فَھْدِ بْنِ الْبُحَیْرِیِّ بْنِ شُعَیْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْاَزْرَقِ، قَالَ: خَرَجْتُ اِلٰی مَکَّۃَ، فَلَمَّا صِرْتُ بِالصَّحْرِیَّۃِ قَالَ لِیْ اِخْوَانِیْ: ھَلْ لَّکَ فِیْ رَجُلٍ لَہٗ صُحْبَۃٌ مِّنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: صَاحِبُ الْقُبَّۃِ الْمَضْرُوْبَۃِ فِیْ مَوْضِعِ کَذَا وَ کَذَا، فَقُلْتُ لِاَصْحَابِیْ: قُوْمُوْا بِنَا اِلَیْہِ، فَقُمْنَا، فَانْتَھَیْنَا اِلٰی صَاحِبِ الْقُبَّۃِ، فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلاَمَ، فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا قَوْمٌ مِنْ اَھْلِ الْبَصَرَۃِ، بَلَغَنَا اَنَّ لَکَ صُحْبَۃً مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ: نَعَمْ، صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَ قَعَدْتُّ تَحْتَ مِنْبَرِہٖ یَوْمَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ، وَ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ) فَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ فَضْلٌ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ فَضْلٌ، وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ فَضْلٌ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ فَضْلٌ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ: لاَ تَجِیْؤُا بِالدُّنْیَا تَحْمِلُوْنَھَا عَلٰی رِقَابِکُمْ، وَ یَجِیُٔ النَّاسُ بِالْاٰخِرَۃِ۔ فَاِنِّیْ لاَ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ قُلْنَا: مَا اسْمُکَ؟ قَالَ:اَنَا الْعَدَائُ بْنُ خَالِدِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْیَآئَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ۔(١٦)
ترجمہ: فہد سے مروی ہے اس نے بیان کیا کہ میں مکہ کی جانب جانے کے لیے نکلا۔ جب میں صحریہ پہنچا تو میرے ساتھی رفقاء نے کہا کہ کیا تمہیں ایسے شخص سے ملاقات کی رغبت و دلچسپی ہے جسے صحابیت کا شرف حاصل ہو۔ میں نے کہا ہاں اس نے کہا فلاں جگہ گنبد نما خیمہ میں جو صاحب ہیں وہ صحابی ہیں تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا اٹھو ہمیں ان کے پاس لے چلو۔ چناں چہ ہم سب اٹھے اور صاحب قبہ کے پاس پہنچ گئے ہم نے سلام کہا۔ اس نے ہمارے سلام کا جواب دیا اور دریافت کیا کہ کون لوگ ہیں؟ ہم نے جواب دیا کہ بصری لوگ ہیں۔ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کو صحابیت کا شرف حاصل ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ میں صحبت رسالت مآب سے بہرہ ور ہوں۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر میں آپ کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شعوب و قبائل میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے ہاں معزز و مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے نیز کسی گورے کو کالے پر بھی کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ۔ اے گروہ قریش۔ دنیا اپنے کاندھوں پر لادے ہوئے نہ آنا جب کہ دوسرے آخرت کا توشہ لے کر آئیں گے۔ میں اللہ کی گرفت و سزا سے تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کا نام کیاہے؟ اس نے بتایا عداء بن خالد بن عمرو بن عامر میرا نام ہے۔ دور جاہلیت میں فارس الضحیاء سے مشہور تھا۔
(۳) اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِنَّ اَنْسَابَکُمْ ھٰذِہٖ لَیْسَتْ بِسَبَّابٍ عَلٰی اَحَدٍ، وَ اِنَّمَا اَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفَّ الصَّاعُ لَمْ تَمَلُؤْہٗ لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ اِلاَّ بِالدِّیْنِ اَوْ عَمَلٌ صَالِحٌ حَسْبُ الرَّجُلِ اَنْ یَّکُوْنَ فَاحِشًا بَذِیًّا، بَخِیْلاً، جُبَانًا۔(١٧)
ترجمہ: بلا شبہ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے کہ تمہارے یہ انساب کچھ بھی نہیں ہیں دوسرے کسی کو برا بھلا تصور کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ تم تو سب آدم کی اولاد ہو برابر کی حیثیت کے بجزدین یا عمل صالح کے کسی کے لیے فضیلت نہیں ہے۔ آدمی کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ بد اخلاق، بد گو، بخیل اور بزدل ہو۔
٢٢٢- لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلاَ لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔ (زاد المعاد)
’’کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر فضیلت نہیں ہے۔ اگر فضیلت ہے تو وہ صرف پرہیزگاری کی بنا پر ہے۔‘‘
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ لَوِ اسْتُعْمَلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَأَنَّ رَأسَہٗ زَبِیْبَۃٌ۔ (بخاری۔ کتاب الاحکام)
’’سنو اور اطاعت کرو چاہے تمہارے اوپر کوئی حبشی غلام ہی امیر بنادیا جائے جس کا سر کشمش جیسا ہو۔‘‘ (یہ خطاب شرفائے عرب سے ہورہا ہے کہ اگر تمہارا امیر کوئی حبشی ہو، تو اس کی اطاعت کرنا، کیا کوئی نیشنلسٹ اس چیز کا تصور بھی کرسکتاہے؟)
فتح مکہ کے بعد جب تلوار کے زور نے قریش کی اکڑی ہوئی گردنوں کو جھکادیا تو حضوؐر خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس میں پورے زور کے ساتھ یہ اعلان فرمایا:
اَلاَ کُلُّ مَأْثُرَۃٍ اَوْ دَمٍ اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ۔’’خوب سن رکھو کہ فخر و ناز کا ہر سرمایہ، خون اور مال کا ہر دعویٰ آج میرے ان قدموں کے نیچے ہے۔‘‘ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَعَظُّمِھَا الْاٰبَآئَ۔ ’’اے اہل قریش اللہ نے تمہاری جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا کی بزرگی کے ناز کو دور کردیا۔‘‘ اَیُّھَا اَلنَّاسُ کُلُّکُمْ مِنْ آدَمَ۔ وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔ لاَ فَخْرَ لِلْاَنْسَابِ لاَ فَخْرَ لِلْعَرَبِیِّ عَلَی الْعَجَمِیِّ وَلاَ لِلْعَجَمِیِّ عَلَی الْعَرَبِیِّ۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔ ’’اے لوگو! تم سب آدمؑ سے ہو اور آدمؑ مٹی سے تھے۔ نسب کے لیے کوئی فخر نہیں ہے۔ عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر کوئی فخر نہیں ہے۔ تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
عبادت الٰہی کے بعد آپ اپنے خدا کے سامنے تین باتوں کی گواہی دیتے تھے۔ پہلے اس بات کی کہ ’’خدا کا کوئی شریک نہیں ہے‘‘ پھر اس بات کی کہ ’’محمد اللہ کا بندہ اور رسول ہے‘‘ پھر اس بات کی کہ ’’اللہ کے بندے سب بھائی بھائی ہیں۔‘‘ (ان العباد کلھم اخوۃ) (اسلامی ریاست، اسلامی تصور قومیت’’عصبیت کے خلاف اسلام کا جہاد‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَأَنَّ رَأسَہٗ زَبِیْبَۃٌ۔(١٨)
(۲) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَامَ عَلٰی بَابِ الْکَعْبَۃِ، فَقَالَ:لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَ نَصَرَ عَبْدَہٗ، وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ، اَلاَ کُلُّ مَأْثُرَۃٍ، اَوْ دَمٍ، اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ، اِلاَّ سَدَانَۃَ الْبَیْتِ وَ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ، اِلاَّ وَ قَتِیْلُ الْخَطَائِ شِبْہُ الْعَمَدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا، فَفِیْہِ الدِّیَۃُ مُغَلَّظَۃٌ مِئَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ۔اَرْبَعُوْنَ مِنْھَا فِیْ بُطُوْنِھَا اَوْلاَدُھَا یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ، اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَعَظُّمَھَا بِالْاَبَآئِ۔اَلنَّاسُ مِنْ اٰدَمَ، وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ تَلاَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ۔یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی، وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا، انَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اَلْاٰیَۃَ کُلَّھَا۔ ثُمَّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! مَا تَرَوْنَ اَنِّیْ فَاعِلٌ فِیْکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرًا، اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ، قَالَ:اِذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ۔(١٩)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ مجھ سے بعض اہل علم نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے خانہ کعبہ کے در پر کھڑے ہوکر خطاب فرمایا۔ اللہ وحدہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کا کوئی ساجھی و سہیم نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اس نے اپنے بندے کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔ اور تن تنہا سب گروہوں کو شکست دی۔ خوب سن لو فخرو ناز کا ہر سرمایہ، خون اور مال کا ہر دعویٰ آج میرے ان قدموں کے نیچے ہے بجز خدمت بیت اللہ اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے۔ خوب سن رکھو جو خطاء قتل ہوا ہو وہ کوڑے اور لاٹھی سے عملاً قتل کیے جانے والے کے مشابہ ہے پس اس میں دیت مغلظہ ہے۔ یعنی سو اونٹ جن میں چالیس اونٹنیاں ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں (گابھن اونٹنیاں) اے گروہ قریش۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخرو غرور کو زائل کردیا ہے۔ سب انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے اس کے بعد یایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثیمکمل آیت ان اللّٰہ علیم خبیر تک پڑھی۔ (اے لوگو! ہم نے تمہاری تخلیق ایک مرد اور ایک عورت سے کی اور ہم نے تمہارے گروہ اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ تم میں سب سے معزز و مکرم اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقینا اللہ علیم و خبیر ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ اے گروہ قریش تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟ وہ بولے خیرو بھلائی۔ آپ معزز و شریف بھائی ہیں اور قابل احترام بھائی کے لخت جگر ہیں یہ سن کر فرمایا: جاؤ اب تم سب آزاد ہو۔
(۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَ مُسَدَّدٌ، اَلْمَعْنَی، قَالاَ: ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقٰسِمِ ابْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ اَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مُسَدَّدٌ خَطَبَ یَوْمَ الْفَتْحِ بِمَکَّۃَ (فَکَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ: لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَ نَصَرَ عَبْدَہٗ، وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ اِلٰی ھَاھُنَا حَفِظْتُہٗ عَنْ مُسَدَّدٍ) ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ اَلاَ اِنَّ کُلَّ مَأْثُرَۃٍ کَانَتْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ تُذْکَرُ وَ تُدَّعٰی مِنْ دَمٍ اَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَیَّ، اِلاَّ مَاکَانَ مِنْ سِقَایَۃِ الْحَاجِّ، وَ سِدَانَۃِ الْبَیْتِ ثُمَّ قَالَ:اَلاَ اِنَّ دِیَۃَ الْخَطَائِ شِبْہُ الْعَمَدِ مَاکَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَۃٌ مِّنَ الْاِبِلِ: مِنْھَا اَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھَا اَوْلاَدُھَا۔ وَ حَدِیْثُ مُسَدَّدٍ اَتَمُّ۔(٢٠)
(۴) رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْ خُطْبَتِہٖ اَنَّہٗ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذْھَبَ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَعَظُّمَھَا بِالْآبَائِ، اَلنَّاسُ مِنْ آدَمَ، وَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ اَکْرَمُکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ، لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔(٢١)
(۵) عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ اَذْھَبَ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَ تَکَبُّرَھَا بِٰابَآئِھَا کُلُّکُمْ لِاٰدَمَ وَ حَوَّائَ کَطَفِّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ وَ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ فَمَنْ اَتَاکُمْ تَرْضَوْنَ دِیْنَہٗ وَ اَمَانَتَہٗ فَزَوِّجُوْہُ۔(٢٢)
(۶) قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ، حَدَّثَنَا اَسَدُ بْنُ مُوْسٰی، حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ زَکَرِیَّا الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، قَالَ: طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ عَلٰی نَاقَتِہِ الْقَصْوَائَ یَسْتَلِمُ الْاَرْکَانَ بِمِحْجَنٍ فِیْ یَدِہٖ فَمَا وَجَدَلَھَا مُنَاخًا فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی نَزَلَ ﷺ عَلٰی اَیْدِی الرِّجَالِ، فَخَرَجَ بِھَا اِلٰی بَطْنِ الْمَسِیْلِ فَاُنِیْخَتْ، ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ خَطَبَھُمْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا ھُوَ لَہٗ اَھْلٌ ثُمَّ قَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عَیْبَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَ تَعَظُّمَھَا بِاٰ بَآئِھَا، فَالنَّاسُ رَجُلاَنِ، رَجُلٌ بَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیْمٌ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی، وَ رَجُلٌ فَاجِرٌ شَقِیٌّ ھَیِّنٌ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔(٢٣)
(۷) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِیُّ، ثنا المعافی ح و ثنا اَحْمَدُ بْنُ سَعِیْدِ الْھَمْدَانِیُّ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، وَ ھٰذَا حَدِیْثُہٗ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبَّـیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَ فَخْرَھَا بِالْآبَائِ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِیٌّ، اَنْتُمْ بَنُوْ آدَمَ، وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ، لَیَدَ عَنَّ رِجَالٌ فَخْرَھُمْ بِاَقْوَامٍ، اِنَّمَا ھُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَھَنَّمَ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجِعْلاَنِ الَّتِیْ تَدْفَعُ بِاَنْفِھَا النَّتَنَ۔(٢٤)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ رسول اللہ انے فرمایا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے فخرو نخوت کو اور اپنے باپ دادا پر فخرو غرور کو دور کردیا ہے۔ اب انسان دو قسم کے ہیں۔ مومن پرہیزگار اور فاجر و بدکار، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی پیدایش مٹی سے ہے۔ (سب اصل کے اعتبار سے مساوی المرتبہ ہیں پھر فخرو غرور کیسا) لوگوں کو چاہیے کہ اپنی اپنی قوم پر فخر کرنا چھوڑ دیں وہ تو جہنم کے کوئلوں میں سے ایک کوئلہ ہیں۔ اگر یہ لوگ اسے نہ چھوڑیں گے تو اللہ کے نزدیک یہ گبریلے کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے۔ جو اپنے ناک سے گندگی کو دھکیل کر لے جاتا ہے۔
(۸) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ:لَیَنْتَھِیَنَّ اَقْوَامٌ یَفْتَخِرُوْنَ بِاَبَآئِ ھِمِ الَّذِیْنَ مَاتُوْا اِنَّمَا ھُمْ فَحْمُ جَھَنَّمَ اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجُعْلِ الَّذِیْ یُدَھْدِہُ الْخِرَائَ بِاَنْفِہٖ اِنَّ اللّٰہَ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبَّـیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ فَخْرَھَا بِالْاَبَآئِ اِنَّمَا ھُوَ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِیٌّ النَّاسُ بَنُوْ آدَمَ وَ آدَمَ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ۔ (٢٥)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے نبی انے فرمایا لوگ اپنے فوت شدہ آباء و اجداد پر فخر کرنا چھوڑدیں وہ تو جہنم کا کوئلہ بن چکے ہیں یا پھر وہ اللہ کے نزدیک اس کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی دھکیل کر لے جاتاہے۔ بے شک اللہ نے تم سے جاہلیت کے فخرکو دور کردیا ہے اور باپ دادا سے غرور کرنے کو ختم کردیا ہے۔ انسان اب دو طرح کے ہیں۔ مومن پرہیزگار اور فاجرو بدکار۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے۔
(۹) قَالَ اَبُوْ بَکْرِ الْبَزَّارُ فِیْ مُسْنَدِہٖ۔ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَ الْکُوْفِیُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَیْنِ، حَدَّثَنَا قَیْسٌ یَعْنِی ابْنُ الرَّبِیْعِ، عَنْ شَبِیْبِ بْنِ عَرْفَدَۃَ، عَنِ الْمُسْتَظِلِّ بْنِ حُصَیْنٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: کُلُّکُمْ بَنُوْ آدَمَ، وَ آدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ وَلْیَنْتَھِیَنَّ قَوْمٌ یَفْخَرُوْنَ بِآبَائِھِمْ اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی مِنَ الْجِعْلاَنِ۔(٢٦)

اسلام میں تلوار کا استعمال کب جائز ہے؟

٢٢٣-اَلاَ کُلُّ مَاثُرَۃٍ اَوْ دَمٍ اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ۔
’’ہر موروثی امتیاز، ہر خون کا دعویٰ (جس کی بنا پر ایک قبیلہ یا خاندان دوسرے قبیلے یا خاندان سے انتقام لینے کا مدعی ہو) اور ہر مال کا دعویٰ (جو پرانی جاہلیت کے غلط رواجوں پر قائم ہو) میرے ان قدموں کے نیچے ہے (یعنی اس کے لیے سر اٹھانے کا اب کوئی موقع نہیں)‘‘
(۲) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَھْلِ الْعِلْمِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَامَ عَلٰی بَابِ الْکَعْبَۃِ، فَقَالَ:لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَ نَصَرَ عَبْدَہٗ، وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ، اَلاَ کُلُّ مَأْثُرَۃٍ، اَوْ دَمٍ، اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ، اِلاَّ سَدَانَۃَ الْبَیْتِ وَ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ، اِلاَّ وَ قَتِیْلُ الْخَطَائِ شِبْہُ الْعَمَدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا، فَفِیْہِ الدِّیَۃُ مُغَلَّظَۃٌ مِئَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ۔اَرْبَعُوْنَ مِنْھَا فِیْ بُطُوْنِھَا اَوْلاَدُھَا یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ، اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَعَظُّمَھَا بِالْاَبَآئِ۔اَلنَّاسُ مِنْ اٰدَمَ، وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ تَلاَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ۔یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی، وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا، انَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اَلْاٰیَۃَ کُلَّھَا۔ ثُمَّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! مَا تَرَوْنَ اَنِّیْ فَاعِلٌ فِیْکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرًا، اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ، قَالَ:اِذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ۔(٢٧)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ مجھ سے بعض اہل علم نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے خانہ کعبہ کے در پر کھڑے ہوکر خطاب فرمایا۔ اللہ وحدہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کا کوئی ساجھی و سہیم نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اس نے اپنے بندے کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔ اور تن تنہا سب گروہوں کو شکست دی۔ خوب سن لو فخرو ناز کا ہر سرمایہ، خون اور مال کا ہر دعویٰ آج میرے ان قدموں کے نیچے ہے بجز خدمت بیت اللہ اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے۔ خوب سن رکھو جو خطاء قتل ہوا ہو وہ کوڑے اور لاٹھی سے عملاً قتل کیے جانے والے کے مشابہ ہے پس اس میں دیت مغلظہ ہے۔ یعنی سو اونٹ جن میں چالیس اونٹنیاں ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں (گابھن اونٹنیاں) اے گروہ قریش۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخرو غرور کو زائل کردیا ہے۔ سب انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے اس کے بعد یایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثیمکمل آیت ان اللّٰہ علیم خبیر تک پڑھی۔ (اے لوگو! ہم نے تمہاری تخلیق ایک مرد اور ایک عورت سے کی اور ہم نے تمہارے گروہ اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ تم میں سب سے معزز و مکرم اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقینا اللہ علیم و خبیر ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ اے گروہ قریش تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟ وہ بولے خیرو بھلائی۔ آپ معزز و شریف بھائی ہیں اور قابل احترام بھائی کے لخت جگر ہیں یہ سن کر فرمایا: جاؤ اب تم سب آزاد ہو۔
پس منظر: رسول اللہا ۱۳ برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے، وعظ و تلقین کا جو موثر سے موثر انداز ہوسکتا تھا، اسے اختیار کیا۔ مضبوط دلائل دیے۔ واضح حجتیں پیش کیں۔ فصاحت و بلاغت اور زور خطابت سے دلوں کو گرمایا۔ اللہ کی جانب سے محیر العقول معجزے دکھائے۔ اپنے اخلاق اور اپنی پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا اور کوئی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا، جو حق کے اظہار اور اثبات کے لیے مفید ہوسکتا تھا۔ لیکن آپؐ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپؐکی صداقت کے روشن ہوجانے کے باوجود آپؐ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حق ان کے سامنے خوب ظاہر ہوچکا تھا، انہوں نے برایٔ العین دیکھ لیا تھا، کہ جس راہ کی طرف ان کا ہادی انہیں بلارہا ہے وہ سیدھی راہ ہے۔ اس کے باوجود صرف یہ چیز انہیں اس راہ کو اختیار کرنے سے روک رہی تھی کہ ان لذتوں کو چھوڑنا انہیں ناگوار تھا، جو کافرانہ بے قیدی کی زندگی میں انہیں حاصل تھیں۔ لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعیٔ اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی اور الاکل ماثرۃ او دم او مال یدعی فھو تحت قدمی ھاتین کا اعلان کرکے تمام موروثی امتیازات کا خاتمہ کردیا، عزت و اقتدار کے تمام رسمی بتوں کو توڑدیا، ملک میں ایک منظم اور منضبط حکومت قائم کردی، اخلاقی قوانین کو بزور نافذ کرکے اس بدکاری و گناہ گاری کی آزادی کو سلب کرلیا جس کی لذتیں انہیں مدہوش کیے ہوئے تھیں اور وہ پر امن فضا پیدا کردی جو اخلاقی فضائل اور انسانی محاسن کے نشو و نما کے لیے ہمیشہ ضروری ہوا کرتی ہے تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا رنگ چھوٹنے لگا۔ طبیعتوں سے فاسد مادے خود بخود نکل گئے، روحوں کی کثافتیںدور ہوگئیں اور یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نور صاف عیاں ہوگیا، بلکہ گردنوں میں وہ سختی اور سروں میں وہ نخوت باقی نہیں رہی جو ظہور حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔
(الجہاد فی الاسلام، اشاعت اسلام اور تلوار ’’اشاعت اسلام میں تلوار کا حصہ‘‘)

ماخذ

(١) ابن کثیرج٣۔ سورۃ بنی اسرائیل٭ البدایہ والنھایہ ج٢ص١٠۔٭تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج٣۔ سورۃ بنی اسرائیل٭جامع الاصول ج٤ ص٨٤۔ علامہ ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر ج٣ ص٥٩ پر سورۃ بنی اسرائیل کی آیت واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا کی تفسیر کے ضمن میں و فی الحدیث کہہ کر مذکورہ عبارت نقل کی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالاَ یَزَعُ بِالقرآن۔
(٢) بخاری ج١کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فھو مردود۔٭ مسلم ج٢ کتاب الاقضیۃ، باب نقض الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الامور۔ عن عائشۃ۔٭ ابو داؤد ج٤ کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ۔ ٭ابن ماجہ المقدمہ، باب٢ تعظیم حدیث رسول اللّٰہ ﷺ۔ عن عائشۃ۔٭ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔٭مسند احمد ج٦ص٢٧٠۔ عن عائشۃ۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج١٠کتاب آداب القاضی باب من اجتھد ثم رأی ان اجتھادہ خالف نصا او اجماعا اوما فی معناہ ردہ علی نفسہ و علی غیرہ۔ اور ج ١٠کتاب الشھادات۔٭دار قطنی ج٤ کتاب الاحکام۔ حدیث نمبر٧٨٭ کنز العمال ج١ حدیث نمبر١١٠١۔ عن عائشۃ۔ عن عائشۃ ان رسول اللّٰہ ﷺ قال: من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد۔ ٭مسلم ج٢ کتاب الاقضیۃ، باب نقض الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الامور۔٭دار قطنی ج٤ کتاب الاحکام۔ حدیث نمبر٨١۔٭ ابو داؤد ج٤ کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ میں قال ابن عیسی: قال النبی ﷺ: من صنع امرا علی غیر امرنا فھو رد۔
(٣) ابوداؤد ج٤ کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ۔٭ ترمذی ج٢ ابواب العلم باب الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ۔ ٭نسائی ج٣ کتاب الجمعۃ باب کیف الخطبۃ۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔ ابن ماجہ نے عبد اللّٰہ بن مسعود مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں۔
ان رسول اللّٰہ ﷺ قال: انما ھما اثنتان، الکلام والھدی، فاحسن الکلام، کلام اللّٰہ، و احسن الھدی، ھدی محمد الا و ایاکم و محدثات الامور، فان شر الامور محدثاتھا۔٭دارمی مقدمہ ص٦١ باب ٢٣ فی کراھیۃ اخذ الرای۔ عن جابر بن عبد اللہ۔ اس نے ان افضل الھدی، ھدی محمد ﷺ و شر الامور محدثاتھا الخ نقل کیا ہے۔ اور نسائی نے ان اصدق الحدیث کتاب اللہ و احسن الھدی ھدی محمد و شر الامور محدثاتھا الخ روایت کیا ہے۔ ٭مسند احمد ج٤ ص١٢٦،١٢٧عرباض بن ساریہ۔٭المستدرک ج١کتاب العلم علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء الراشدین۔ عرباض بن ساریہ۔٭احکام القرآن للجصاص ج٣ ص٦٣۔
(٤) بخاری ج٢ کتاب الاعتصام باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ ﷺ۔٭ مسلم ج١کتاب الجمعۃ۔ مسلم میں ہے:
و یقول: اما بعد! فان خیر الحدیث کتاب اللّٰہ و خیر الھدی ھدی محمد ﷺ و شر الامور محدثاتھا و کل بدعۃ ضلالۃ٭ مسند احمد ج٣ ص٣٧١۔ جابر بن عبد اللّٰہ۔ مسلم والی روایت ہے۔
(٥) شعیب الایمان للبیھقی ج ٧ص٦١۔٭ مشکوٰۃ کتاب الایمان۔ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ٭قرطبی ج ٧ ص١٣۔٭اتحاف النبلاء ج٦ص١٩٦۔٭ تھذیب تاریخ دمشق لابن عساکر ج٤ ص٢٨٣ اور ج ٧ ص٢٧٦۔٭ کنز العمال ج١ص١٢٩۔ بحوالہ طبرانی حدیث نمبر١١٠٢۔٭ حلیہ ابو نعیم ج ٥ ص٢١٨۔٭ تذکرۃ الحفاظ ذھبی ص١٦۔ ٭الکامل فی الضعفاء لابن عدی ج٢ ص٧٣٦۔
(٦) بخاری ج٢ کتاب الدیات، باب من طلب دم امری بغیر حق۔٭السنن الکبرٰی ج ٨ کتاب الجنایات، باب ایجاب القصاص علی القاتل دون غیرہ۔٭ مشکوٰۃ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔٭ طبرانی۔ حدیث نمبر٣٧٤٨٠۔٭ تلخیص الحبیر ج٤ ص٢٢۔٭کنز العمال حدیث نمبر٤٣٨٣٣۔
(٧) مسلم ج٢ کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا واھل الجنۃ و اھل النار۔ ٭مسند احمد ج٤ ص١٦٢۔ عن عیاض بن حمار۔ مسند احمد نے فاجتالتھم کی جگہ فاضلتھم نقل کیا ہے۔ ٭ابن کثیر  ج٢۔ سورۃ المائدۃ زیر آیت یاھل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ما جاء نا من بشیر  ولا نذیر فقد جاء کم بشیر و نذیر واللّٰہ علی کل شیء قدیر۔٭ابن کثیر نے اس صفحہ پر فاضلتھم والی روایت نقل کی ہے۔٭ ابن کثیر ج٣ سورۃ الروم زیر آیت فطرۃ اللّٰہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللّٰہ ذلک الدین القیم۔ اس مقام پر بھی فاضلتھم والی روایت ہی نقل کی ہے۔٭فتح القدیر للشوکانی ج٤ عن عیاض بن حمار سورۃ الروم زیر آیت فطرت اللہ التی فطر الناس۔ ’’فتح القدیر کی سند میں عیاض بن حماد لکھا ہوا ہے جو صحیح نہیں ہے صحیح حمار ہی ہے۔(مرتب)
(٨) ابو داؤد ج٣ کتاب الجھاد، باب علی ما یقاتل المشرکون۔٭ترمذی ج٦ابواب الایمان، باب ما جاء امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللّٰہ و یقیموا الصلاۃ۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔ عن انس ابن مالک۔ ٭نسائی ج ٧ کتاب تحریم الدم عن انس۔ اور کتاب الایمان۔٭سنن دار قطنی:١ کتاب الصلاۃ باب تحریم دماء ھم و اموالھم اذا یشھدوا بالشھادتین۔ و یقیموا الصلاۃ و یوتوا الزکوٰۃ عن انس۔٭کنز العمال ج١ ص٨٨۔٭ مسند احمد ج٣ ص١٩٩، ٢٢٥۔
(٩) بخاری ج١کتاب الصلوٰۃ۔ باب فضل استقبال القبلۃ۔٭ نسائی ج ٧ کتاب تحریم الدم عن انس۔ نسائی نے روایت کا آخری حصہ مندرجہ ذیل الفاظ سے نقل کیا ہے۔ فھو مسلم لہ ما للمسلمین و علیہ ما علی المسلمین۔ ٭دارقطنی ج١کتاب الصلاۃ، باب تحریم دِماء ھم و اموالھم۔
(١٠) تفسیر ابن کثیر ج١ البقرۃ آیت لا اکراہ فی الدین۔
(١١) مسند احمد ج٣ ص١٠٩،١٨١۔٭ تفسیر ابن کثیر ج٢ سورۃ توبہ۔٭مجمع الزوائد ج٦ کتاب الجھاد باب عرض الاسلام والدعاء الیہ قبل القتال۔٭کنز العمال ج١ حدیث نمبر٤١٠۔ عن انس۔
(١٢) ابو داؤد ج٤ کتاب الادب، باب فی العصبیۃ۔
(١٣) مسند احمد ج٤ ص١٥٨، عن عقبہ بن عامر جھنی۔٭ تفسیر ابن کثیر ج٤ الحجرات۔٭ تفسیر ابن جریر ج١١ص٢٦۔ ص٨٩٭ کنز العمال ج١حدیث نمبر١٣٠١۔ کنز میں تقوی اللّٰہ منقول ہے۔٭ تفسیر ابن جریر، مجلد١١، جز٢٦۔ ص٨٩۔ الحجرات۔٭ کنز العمال ج١ حدیث نمبر١٣٠٠۔ عن عقبہ بن عامر۔ ٭مجمع الزوائد ج ٨ ص٨٣،٨٤۔ عن عقبہ بن عامر۔
(١٤) تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٢١٧۔ سورہ حجرات۔٭ مجمع الزوائد ج ٨ رواہ الطبرانی و فیہ عبد الحمید بن عمرو بن حبلہ۔ و ھو متروک۔٭ کنز العمال ج١ص١٤٩۔ حدیث نمبر٧٤٣۔٭ المعجم الکبیر للطبرانی ج ٤ ص٢٥۔ عن حبیب بن خراش العصفری۔
(١٥) زاد المعاد جز٤۔ ص٢٨۔ فصل فی حکمہ ﷺ فی الکفاء ۃ فی النکاح۔
(١٦) محمع الزوائد ج٣ ص٢٧٢۔ کتاب الحج باب الخطب فی الحج۔
(١٧) مسند احمد ج٤ ص١٤٥۔
(١٨) بخاریج٢ کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔٭ بخاری ج١کتاب الاذان، باب امامۃ العبد والمولٰی و کانت عائشۃ یومھا عبدھا ذکوان من المصحف۔ اور امام بخاری نے کتاب الاذان باب امامۃ المبتدع کے تحت حضرت انس کی مندرجہ ذیل روایت بھی نقل کی ہے۔ قال النبی ﷺ لابی زر:
اسمع و اطع و لو لحبشی کأن رأسہ زبیبۃ۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی المعصیۃ۔ مسلم نے و لو استعمل علیکم عبد یقودکم لکتاب اللّٰہ اسمعوا و اطیعوا۔ ایک روایت میں عبدا مجدع اور ایک میں عبدا جشیا مجدعا ایک روایت میں مجدع الاطراف بھی نقل کیا ہے۔ ٭ابو داؤد ج٤ کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ۔ ابو داؤد میں اوصیکم بتقوی اللّٰہ والسمع والطاعۃ و ان عبدا حبشیا الخ ہے۔٭ ترمذی ج١ ابواب الجھاد، باب ماجاء فی طاعۃ الامام۔ عن ام الحصین الاحمسیۃ۔ ترمذی نے یایھا الناس اتقوا اللّٰہ و ان امر علیکم عبد حبشی مجدع فاسمعوا لہ و اطیعوا ما اقام لکم کتاب اللّٰہ۔
ھذا حدیث حسن صحیح قد روی من غیر وجہ عن ام حصین۔٭ ترمذی نے کتاب العلمج٢ پر باب الاخذ بالسنۃ اجتناب البدعۃ کے تحت ابو داؤد والی روایت ذکر کی ہے جسے عرباض بن ساریہ نے بیان کیا ہے۔ ٭نسائی:٧کتاب البیعۃ، باب الحض علی طاعۃ الامام۔ نسائی نے و لو استعمل علیکم عبد حبشی یقودکم بکتاب اللہ فاسمعوا لہ و اطیعوا نقل کیا ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب ٣٩۔ طاعۃ الامام۔ ابن ماجہ نے انس بن مالک سے اسمعوا و اطیعوا و ان استعمل علیکم عبد حبشی، کأن رأسہ زبیبۃ اور ام الحصین سے ان امر علیکم عبد حبشی مجدع والی اور ابو ذر سے اوصانی خلیلی ﷺ ان اسمع و اطیع و ان کان عبدا حبشیا مجدع الاطراف روایت کیا ہے۔٭ مسند احمد ج٤ ص٦٩۔ یحی بن حصین عن جدتہ۔٭ مسند احمد ج ٥ ص٣٨١۔ یحی بن حصین عن امہ، وجدتہ۔ اس صفحہ پر دو روایت منقول ہیں لو استعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اللّٰہ فاسمعوا لہ و اطیعوا اور دوسری یایھا الناس اتقوا اللّٰہ واسمعوا واطیعوا و ان امر علیکم عبد حبشی مجدع ما اقام فیکم کتاب اللّٰہ عزوجل اور ج٦ص٤٠٢ پر عن ام الحصین الاحمسیۃ۔ اس مقام پر بھی مذکورہ بالا دونوں حدیثیں منقول ہیں۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج ٨ کتاب قتال اھل البغی باب السمع والطاعۃ للامام و من ینوب عنہ مالم یامر بمعصیۃ۔ اس باب کے تحت حضرت انس بن مالک والی روایت ہے جسے بخاری اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے اور دوسری حضرت ابو ذر والی روایت جسے مسلم ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے اور باب جواز تولیۃ الامام من ینوب عنہ و ان لم یکن قرشیا کے تحت ام حصین الاحمسیۃ والی روایت نقل کی ہے۔٭ المستدرک حاکم ج١کتاب العلم باب علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین۔ عن عرباض بن ساریہ۔ اس جگہ اوصیکم بتقوی اللّٰہ والسمع والطاعۃ و ان امر علیکم عبد حبشی الخ ہے۔
(١٩) سیرت ابن ھشام ج٣ طواف الرسول بالبیت و کلمتہ فیہ٭ زاد المعاد ج٢ص١٨٤۔ فصل فی الفتح الاعظم۔٭ تاریخ الطبری ج٢ ص١٢٠۔
(٢٠) ابو داؤد ج٤ کتاب الدیات، باب فی الخطاء شبہ العمد۔٭ ابن ماجہ کتاب الدیات، باب دیۃ شبہ العمد مغلظۃ۔ عن ابن عمر۔٭مسند احمد ج٢ ص١١-٣٦۔ عن ابن عمر۔ اور ص١٠٣ پر ابن عمر سے مروی روایت میں الا ان کل دم و مال و ماثرۃ کانت فی الجاھلیۃ۔ الخ۔٭مسند احمد ج٣ ص٤١٠۔ عن رجل من اصحاب النبی ﷺ اس صفحہ پر الا ان کل ماثرۃ کانت فی الجاھلیۃ تعد، و تدعی، و کل دم او دعوی موضوعۃ تحت قدمی ھاتین (الخ) ٭مسند احمد نے ج ٥ ص٧٣ پر ایام تشریق کے درمیان کا خطبہ نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ الا ان کل دم، و مال، و مأثرۃ کانت فی الجاھلیۃ تحت قدمی ھذہ الی یوم القیامۃ الخ اور ص٤١٢ ج ٥ پر مسند احمد ج٣ ص٤١٠ والی روایت بھی مذکور ہے۔٭ دار قطنی ج٣ کتاب الحدود والدیات۔٭السنن الکبرٰی بیھقی ج ٨ کتاب الدیات۔ باب اسنان الابل المغلظۃ فی شبہ العمد۔ عن عبد اللہ بن عمرو۔٭المصنف عبد الرزاق ج٩ص٢٨٢۔ حدیث نمبر ١٧٢١٣۔ عن رجل کتاب العقول باب شبہ العمد۔
(٢١) احکام القرآن للجصاص ج٣۔ الحجرات۔
(٢٢) تفسیر روح المعانی جز٢٦۔ ص١٤٩۔ الحجرات۔
(٢٣) ابن کثیر ج٤ ص ٢١٧،٢١٨۔ الحجرات۔٭ابن مردویہ، بیھقی فی شعب الایمان، عبد بن حمید، بحوالہ روح المعانی جز٢٦۔ ص١٤٨۔ الحجرات۔٭احکام القرآن لابن العربی ج٤ ص١٧٢٥۔٭ شعب الایمان اور ابن عربی کی روایت میں تعظمھا کی جگہ تعاظمھا ہے۔ و ھین علی اللّٰہ کے بعد والناس بنو آدم، و خلق اللّٰہ آدم من تراب ہے۔ ٭ کنز العمال ج١ص٢٥٨۔ حدیث نمبر ١٢٩٦۔ عن ابن عمر۔
(٢٤) ابو داؤد ج٤ کتاب الادب باب فی التفاخر بالاحساب۔
(٢٥) ترمذیج٢ ابواب المناقب ھذا حدیث حسن۔٭ شعب الایمان ج٤ص٢٨٦۔٭ترمذی کی اس روایت میں انتم بنو آدم کے بجائے الناس بنو آدم ہے۔٭ مسند احمد ج٢ص٣٦١۔ عن ابی ھریرۃ۔٭حوالہ متذکرہ بالا۔ مسند احمد ج٢ص٥٢٤۔ عن ابی ھریرہؓ۔٭کنز العمال ج١ص٢٥٨۔ حدیث نمبر١٢٩٤ عن ابی ھریرۃ اور حدیث نمبر ١٢٩٥۔
(٢٦) تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٢١٧۔ الحجرات۔٭روح المعانی ج٢٦ص١٤٩۔ الحجرات٭مجمع الزوائد ج ٨ کتاب الادب، باب فیمن افتخر باھل الجاھلیۃ۔ رواہ البزار و فیہ الحسن بن الحسین العرنی و ھو ضعیف۔
(٢٧) سیرت ابن اسحاق ج٣، طواف الرسول بالبیت و کلمتہ فیہ٭ زاد المعاد ج٢، فصل فی الفسخ الاعظم۔

فصل:۲ اسلامی نظام سیاست کی بنیادیں اطاعت الٰہی

٢٢٤-لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔
’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: ثَنَا مُبَارَکٌ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔(١)
(۲) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ اَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ قَالَ لِلْحَکْمِ الْغِفَارِیِّ: اَسَمِعْتَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ لاَ طَاعَۃَ لِلْمَخْلُوْقِ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ؟ قَالَ: نَعَمْ:(٢)
ترجمہ: عمران بن حصین نے حکم غفاری سے دریافت کیا کہ کیا تونے نبی ا کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں (میں نے خود سنا ہے)
تشریح: اسلامی نظام میں اصل مطاع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک مسلمان سب سے پہلے بندۂ خدا ہے، باقی جو بھی ہے اس کے بعد ہے۔ مسلمان کی انفرادی زندگی اور مسلمانوں کے اجتماعی نظام، دونوں کا مرکز و محور خدا کی فرماں برداری اور وفاداری ہے۔ دوسری اطاعتیں اور وفاداریاں صرف اس صورت میں قبول کی جائیں گی کہ وہ خدا کی اطاعت اور وفاداری کی مد مقابل نہ ہوں۔ بلکہ اس کے تحت اور اس کی تابع ہوں۔ ورنہ ہر وہ حلقہ اطاعت توڑ کر پھینک دیا جائے گا جو اس اصلی اور بنیادی اطاعت کا حریف ہو۔ یہی بات ہے جسے نبی انے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن،ج۱، النساء، حاشیہ:۸۹)

اطاعت رسول

٢٢٥- مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ۔
’’جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَ مَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَ مَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔(٣)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی تو اس نے میری نافرمانی کی۔
بخاری نے کتاب الجہاد میں اور مسلم نے ایک روایت حضرت ابوہریرہ ؓسے مندرجہ ذیل الفاظ میں بھی نقل کی ہے:
(۲) عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ مَنْ یَّعْصِنِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَ مَنْ یُّطِعِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَ مَنْ یَّعْصِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ عَصَانِیْ۔(٤)
ترجمہ: نبی ا کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی اور جو امیر کی اطاعت کرے تو اس نے درحقیقت میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے حقیقت میں میری نافرمانی کی۔
تشریح: اسلامی نظام کی دوسری بنیاد رسول کی اطاعت ہے۔ یہ کوئی مستقل بالذات اطاعت نہیں ہے بلکہ اطاعت خدا کی واحد عملی صورت ہے۔ رسول اس لیے مطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقے سے کرسکتے ہیں کہ رسول کی اطاعت کریں۔ کوئی اطاعت خدا اور رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے، اور رسول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی مضمون کو یہ حدیث واضح کرتی ہے۔ اور یہی بات خود قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ آگئی ہے۔

اطاعت امیر

٢٢٦-اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا اَحَبَّ وَ کَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ۔ اِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔ (بخاری، مسلم)
’’مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اُسے پسند ہو یا ناپسند، تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب اُسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہیے نہ ماننا چاہیے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثََنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَالَمْ یُوْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ، فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔(٥)
٢٢٧-لاَطَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ، اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (بخاری و مسلم)
’’(خدا اور رسول کی) نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت جو کچھ بھی ہے۔ ’’معروف‘‘ میں ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِاِبْنِ الْمُثَنّٰی، قَالاَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَا شُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَلِیٍّ اَنْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ جَیْثًا وَ اَمَّرَ عَلَیْھِمْ رَجُلاً، فَاَوْقَدَ نَارًا وَ قَالَ: اُدْخُلُوْھَا، فَاَرَادَ نَاسٌ اَنْ یَدْخُلُوْھَا، وَ قَالَ الآخَرُوْنَ: اِنَّا فَرَرْنَا مِنْھَا، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَعَمَ، فَقَالَ لِلَّذِیْنَ اَرَادُوْا اَنْ یَّدْخُلُوْھَا لَوْ دَخَلْتُمُوْھَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَ قَالَ لِلْاٰخَرِیْنَ قَوْلاً حَسَنًا قَالَ: لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔(٦)
تشریح: مذکورۂ بالا دونوں اطاعتوں کے بعد اور ان کے ماتحت تیسری اطاعت جو اسلامی نظام میں مسلمانوں پر واجب ہے وہ اُن ’’اولی الامر‘‘ کی اطاعت ہے جو خود مسلمانوں میں سے ہوں۔ ’’اولی الامر‘‘ کے مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے سربراہ کار ہوں۔ خواہ وہ ذہنی و فکری رہ نمائی کرنے والے علماء ہوں یا سیاسی رہ نمائی کرنے والے لیڈر، یا ملکی انتظام کرنے والے حکام، یا عدالتی فیصلے کرنے والے جج یا تمدنی و معاشرتی امور میں قبیلوں اور بستیوں اور محلوں کی سربراہی کرنے والے شیوخ اور سردار۔ غرض جو جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا صاحب امر ہے وہ اطاعت کا مستحق ہے اور اس سے نزاع کرکے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے۔ بشرطیکہ وہ خو د مسلمانوں کے گروہ میں سے ہو اور خدا اور رسول کا مطیع ہو یہ دونوں شرطیں اس اطاعت کے لیے لازمی شرطیں ہیں اور حدیث میں نبی انے ان کوپوری شرح و بسط کے بیان فرمادیا ہے۔ مثلا یہ احادیث ملاحظہ ہوں:
یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اُمَرَائُ تَعْرِفُوْنَ وَ تُنْکِرُوْنَ، فَمَنْ اَنْکَرَ فَقَدْ بَرِیَٔ وَ مَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ۔ وَ لٰـکِنْ مَنْ رَضِیَ وَ تَابِعٌ۔ فَقَالُوْا اَفَلاَ نُقَاتِلُھُمْ؟ قَالَ لاَ َما صَلُّوْا۔ (مسلم) ’’حضوؐر نے فرمایا تم پر ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پاؤگے اور بعض کو منکر۔ تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضگی کیا وہ بریٔ الذمہ ہوا اور جس نے اُن کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا، مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا، پھر جب ایسے حکام کا دور آئے تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔‘‘
یعنی ترک نماز وہ علامت ہوگی جس سے صریح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ وہ اطاعت خدا اور رسول سے باہر ہوگئے ہیں اور پھر ان کے خلاف جدو جہد کرنا درست ہوگا۔
شِرَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُبْغِضُوْنَھُمْ وَ یُبْغِضُوْنَکُمْ وَ تَلْعَنُوْنَھُمْ وَ یَلْعَنُوْنَکُمْ۔ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلاَ نُنَابِذْھُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ لاَ مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلوٰۃَ۔ لاَ مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلوٰۃَ۔ (مسلم)’’حضوؐر نے فرمایا تمہارے بدترین سردار وہ ہیں جو تمہارے لیے مبغوض ہیں اور تم ان کے لیے مبغوض ہو۔ تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ، جب یہ صورت ہو تو کیا ہم ان کے مقابلہ پر نہ اٹھیں۔‘‘ فرمایا نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں، نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔‘‘
اس حدیث میں اوپر والی شرط کو اور واضح کردیا گیا ہے اوپر کی حدیث سے گمان ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اپنی انفرادی زندگی میں نماز کے پابند ہوں تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز پڑھنے سے مراد دراصل مسلمانوں کی جماعتی زندگی میں نماز کا نظام قائم کرنا ہے۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ لوگ خود پابند نماز ہوں، بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے تحت جو نظام حکومت چل رہا ہو وہ کم از کم اقامت صلوۃ کا انتظام کرے۔ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ان کی حکومت اپنی اصلی نوعیت کے اعتبار سے ایک اسلامی حکومت ہے و گرنہ اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ حکومت اسلام سے منحرف ہوچکی ہے اور اُسے الٹ پھینکنے کی سعی مسلمانوں کے لیے جائز ہوجائے گی۔ اسی بات کو ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ نبی انے ہم سے من جملہ اور باتوں کے ایک اس امر کا عہد بھی لیا کہ ان لا ننازع الامر اھلہ الا ان تروا کفرا بواحا عندکم من اللّٰہ فیہ برھان۔ یعنی یہ کہ ’’ہم اپنے سرداروں اور حکام سے نزاع نہ کریں گے۔ الا یہ کہ ہم ان کے کاموں میں کھلا کفر دیکھیں جس کی موجودگی میں ان کے خلاف ہمارے پاس خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے دلیل موجود ہو۔‘‘ (بخاری و مسلم) (اسلامی ریاست، اصول اطاعت و وفاداری)
٢٢٨- لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔
(رسول اللہا نے فرمایا) ’’اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے، اطاعت صرف معروف میں ہے۔‘‘ (مسلم، ابو داؤد، نسائی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَلِیٍّ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَ جَیْشًا وَاَمَّرَ عَلَیْھِمْ رَجُلاً، فَاَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: اُدْخُلُوْھَا فَاَرَادُوْا اَنْ یَّدْخُلُوْھَا، فَقَالَ اٰخَرُوْنَ اِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْھَا، فَذَکَرُوْا لِلنَّبِیِّﷺ، فَقَالَ:لِلَّذِیْنَ اَرَادُوْا اَنْ یَّدْخُلُوْھَا، لَوْ دَخَلُوْھَا لَمْ یَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَ قَالَ لِلْاٰخَرِیْنَ: لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔(٧)
٢٢٩- مَنْ اَطَاعَ مَخْلُوْقًا فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ذٰلِکَ الْمَخْلُوْقَ۔
’’نبی ا کا ارشاد ہے کہ جو شخص خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت کرے۔ اللہ تعالیٰ اس پر اسی مخلوق کو مسلط کردیتا ہے۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص)
تخریج:(۱) وَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ اَطَاعَ مَخْلُوْقًا فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ذٰلِکَ الْمَخْلُوْقَ۔(٨)
تشریح: احادیث بالا میں معروف کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے تاکہ کوئی شخص کبھی اس امر کی گنجایش نہ نکال سکے کہ ایسی حالت میں بھی سلاطین کی اطاعت کی جائے جب کہ ان کا حکم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں نہ ہو۔
پس درحقیقت یہ ارشاد اسلام میں قانون کی حکمرانی (Rule of Law)کا سنگ بنیاد ہے اصولی بات یہ ہے کہ ہر کام جو اسلامی قانون کے خلاف ہو جرم ہے اور کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ ایسے کسی کام کا کسی کو حکم دے۔ جو شخص بھی خلاف قانون حکم دیتا ہے وہ خود مجرم ہے اور جو شخص اس حکم کی تعمیل کرتاہے وہ بھی مجرم ہے۔ کوئی ماتحت اس عذر کی بنا پر سزا سے نہیں بچ سکتا کہ اس کے افسر بالا نے اسے ایک ایسے فعل کا حکم دیا تھا جو قانون میں جرم ہے۔ (تفہیم القرآن،ج۵، الممتحنہ، حاشیہ:۲۲)

اولی الامر اور اصول اطاعت

٢٣٠- اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا اَحَبَّ وَ کَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔ (بخاری و مسلم)
’’ایک مسلمان پر سمع وطاعت لازم ہے خواہ برضا و رغبت کرے یا بکراہت۔ تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اس کو معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سمع ہے نہ طاعت۔‘‘
اِنْ اُمِرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجْدَّعٌ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا۔ (مسلم) ’’اگر تم پر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنادیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تواس کی سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ۔ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (بخاری و مسلم) ’’معصیت میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔‘‘ لاَ طَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللّٰہ۔ (طبرانی) ’’کوئی اطاعت اس شخص کے لیے نہیں ہے جو اللہ کا نافرمان ہو۔‘‘ لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔ (شرح السنۃ) ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنُ وَھْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُکَیْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَ ھُوَ مَرِیْضٌ، قُلْنَا اَصْلَحَکَ اللّٰہُ حَدَّثَنَا بِحَدِیْثٍ یَنْفَعُکَ اللّٰہُ بِہٖ سَمِعْتَہٗ مِنَ النَّبِیِّﷺ قَالَ: دَعَانَا النَّبِیُّ ﷺ فَبَایَعْنَا فَقَالَ فِیْمَا اَخَذَ عَلَیْنَا اَنْ بَایَعْنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِیْ مَنْشَطِنَا وَ مَکْرَھِنَا وَ عُسْرِنَا وَ یُسْرِنَا وَ اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا وَ اَلاَّ نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا، عِنْدَکُمْ مِنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ۔(٩)
(۲) حَدَّثَنَا دَاوٗدُ بْنُ رُشَیْدٍ، قَالَ: نَا الْوَلِیْدُ یعنی ابن مُسْلِمٍ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ یَزِیْدَ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَوْلٰی بَنِیْ فَزَارَۃَ وَ ھُوَ رُزَیْقُ بْنُ حَیَّانَ اَنَّہٗ سَمِعَ مُسْلِمُ بْنُ قَرَظَۃَ ابْنَ عَمٍّ عَوْفَ بْنِ مَالِکٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ نِالْاَشْجَعِیَّ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: خِیَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَھُمْ وَ یُحِبُّوْنَکُمْ وَ تُصَلُّوْنَ عَلَیْھِمْ وَ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ، وَ شِرَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُبْغِضُوْنَھُمْ وَ یُبْغِضُوْنَکُمْ وَ تَلْعَنُوْنَھُمْ وَ یَلْعَنُوْنَکُمْ، قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَلاَنُنَا بِذْھُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: لاَ، مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلوٰۃَ، قَالَ: لاَ، مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلوٰۃَ اِلاَّ مَنْ وَلِیَ عَلَیْہِ وَالٍ فَرَاٰہُ یَاْتِیْ شَیْئًا مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، فَلْیَکْرَہُ مَا یَاْتِیْ مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلاَ یَنْزِعَنَّ یَدًا مِنْ طَاعَۃٍ۔(١٠)
(۳) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ:اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا اَحَبَّ وَ کَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ، فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔(١١)
(۴) حَدَّثَنِیْ سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیْبٍ، قَالَ: نَا الْحَسَنُ بْنُ اَعْیَنَ، قَالَ: نَا مَعْقِلٌ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ، عَنْ یَحْیَ بْنِ حُصَیْنٍ، عَنْ جَدَّتِہٖ اُمِّ الْحُصَیْنِ قَالَ: سَمِعْتُھَا تَقُوْلُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَوْلاً کَثِیْرًا ثُمَّ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُھَا قَالَتْ: اَسْوَدُ، یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا۔(١٢)
(۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِاِبْنِ الْمُثَنّٰی، قَالاَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَا شُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَلِیٍّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ جَیْشًا وَ اَمَّرَ عَلَیْھِمْ رَجُلاً، فَاَوْقَدَ نَارًا وَ قَالَ:اُدْخُلُوْھَا، فَاَرَادَ نَاسٌ اَنْ یَّدْخُلُوْھَا، وَ قَالَ الْاٰخَرُوْنَ:اِنَّا فَرَرْنَا مِنْھَا، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ لِلَّذِیْنَ اَرَادُوْا اَنْ یَّدْخُلُوْھَا، لَوْ دَخَلْتُمُوْھَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَ قَالَ لِلْاٰخَرِیْنَ قَوْلاً حَسَنًا قَالَ: لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔(١٣)
(۶) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعْدُ بْنُ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ ﷺ سَرِیَّۃً، فَاسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ، وَ اَمَرَھُمْ اَنْ یُّطِیْعُوْہُ فَغَضِبَ، قَالَ:اَلَیْسَ اَمَرَکُمُ النَّبِیُّﷺاَنْ تُطِیْعُوْنِیْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَاجْمَعُوْا لِیْ حَطَبًا، فَجَمَعُوْا، فَقَالَ: اَوْقِدُوْا نَارًا، فَاَوْقَدُوْھَا، فَقَالَ: اُدْخُلُوْھَا، فَھَمُّوْا، وَ جَعَلَ بَعْضُھُمْ یُمْسِکُ بَعْضًا، وَ یَقُوْلُوْنَ: فَرَرْنَا اِلَی النَّبِیِّ ﷺ مِنَ النَّارِ، فَمَا زَالُوْا حَتّٰی خَمِدَتِ النَّارُ، فَسَکَنَ غَضَبُہٗ فَبَلَغَ النَّبِیُّ ﷺ: لَوْ دَخَلُوْھَا مَا خَرَجُوْا مِنْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَلطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔(١٤)
(۷) حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ سُلَیْمٍ، ح وَ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عَیَّاشٍ، قَالاَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: سَیَلِیْ اُمُوْرَکُمْ بَعْدِیْ رِجَالٌ یُطْفِئُوْنَ السُّنَّۃَ وَ یَعْمَلُوْنَ بِالْبِدْعَۃِ، وَ یُؤَخِّرُوْنَ الصَّلوٰۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِھَا، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ اَدْرَکْتُھُمْ، کَیْفَ اَفْعَلُ؟ قَالَ: تَسْأَلُنِیْ یَابْنَ اُمِّ عَبْدٍ کَیْفَ تَفْعَلُ؟ لاَ طَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔(١٥)
(۸) عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَعِیْدٍ، اَبُوْ مُحَمَّدِ الطَّالَقَانِیُّ الْقَطَّانُ قَدِمَ بغداد وَ حَدَّثَ بِھَا عَنْ عَمَّارِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِیْدِ الطَّالَقَانِیِّ۔ روی عنہ اَبُوْ حَفْصِ بْنِ شَاھِیْنٍ، اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْقَرْشِیُّ، اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ اَحْمَدَ الْوَاعِظُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَعِیْدِ الطَّالَقَانِیُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیْدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ الرَّازِیُّ عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ جَعْفَرِ بْنِ ھَارُوْنَ الْوَاسِطِیُّ عَنْ سَمْعَانَ بْنِ الْمَھْدِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔( و بھامش الاصل۔ عن نسخۃ الاخری فی معصیۃ اللّٰہ۔) (١٦)
تشریح:سنت کے یہ تمام محکمات اس باب میں ناطق ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں مجلس قانون ساز کوئی ایسا قانون بنانے کا حق نہیں رکھتی۔ جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف ہو، اور اگر وہ ایسا کوئی قانون بنادے تو وہ رد کردیے جانے کے لائق ہے نہ کہ نافذ ہونے کے لائق۔ اسی طرح یہ احادیث اس باب میں بھی ناطق ہیں کہ ایک اسلامی ریاست کی عدالتوں میں اللہ اور رسول کا قانون لازماً نافذ ہونا چاہیے اور جو بات کتاب وسنت کی دلیل سے حق ثابت کردی جائے اسے کوئی جج اس بنا پر رد نہیںکرسکتا۔ کہ لیجسلیچر کا بنایا ہوا قانون اس کے خلاف ہے۔ تصادم کی صورت میں اللہ اور رسول کا قانون نہیں بلکہ لیجسلیچر کا قانون حدود دستور سے خارج قرار دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح یہ احادیث اس بات میں بھی ناطق ہیں کہ اسلامی ریاست کی انتظامیہ کو ایسا کوئی حکم یا ضابطہ بنانے کا حق نہیں ہے جس سے خدا اور رسول کی معصیت لازم آتی ہو۔ اگر وہ ایسا کوئی حکم دے اور لوگ اس کی اطاعت نہ کریں تو وہ مجرم نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے برعکس، خود حکومت زیادتی کی مرتکب ہوگی۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں اولی الامر مسلمان ہی ہوسکتے ہیں کیوں کہ نزاع کی صورت میں متنازع فیہ معاملے کو اللہ اور رسول کی طرف پھیرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ رعایا اور حکومت کی نزاع میں اللہ اور رسول کو حکم صرف مسلمان اولی الامر ہی مان سکتے ہیں نہ کہ کافر اولی الامر۔ مستند احادیث کی تصریحات بھی اس کی تائید بلکہ تاکید کرتی ہیں۔ چناں چہ ابھی اوپر نبی اکے یہ ارشادات نقل ہوچکے ہیں کہ’’اگر ایک نکٹا غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو‘‘ اور یہ کہ ’’کوئی اطاعت اس شخص کے لیے نہیں جو اللہ کا نافرمان ہو، ایک اور حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ نبی انے ہم سے اس بات پر بیعت لی تھی:
اَنْ لاَ نُنَازَعِ الْاَمرَ اَھْلَہٗ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ۔ (بخاری و مسلم)’’ہم اپنے حکمرانوں سے جھگڑا نہ کریں گے الا یہ کہ ہم ان کے کاموں میں کھلا کھلا کفر دیکھیں جو ہمارے پاس ان کے خلاف اللہ کی طرف سے ایک دلیل ہو۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے کہ جب صحابہ کرامؓ نے نبی اسے برے حاکموں کے خلاف بغاوت کرنے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے فرمایا لا، ما اقاموا الصلوۃ (مسلم) ’’نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔‘‘
ان تصریحات کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے صاحب امر بننے کی کوئی گنجایش نہیںہے، بالکل اسی طرح جس طرح ایک اشتراکی ریاست میں منکرین اشتراکیت اور ایک جمہوری ریاست میں مخالفین جمہوریت کے لیے اولی الامر بننے کا نہ عقلاً کوئی موقع ہے، نہ عملاً۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ان احادیث کی رُو سے مسلمان اپنے اولی الامر سے نزاع کا حق رکھتے ہیں اور نزاع کی صورت میں فیصلہ جس چیز پر چھوڑا جائے گا وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہوگی۔ یہ آخری سند جس کے حق میں بھی فیصلہ دے دے اسے ماننا پڑے گا خواہ فیصلہ اولی الامر کے حق میں ہو یا رعایا کے حق میں، اب یہ ظاہر بات ہے کہ اس حکم کا تقاضا پورا کرنے کے لیے کوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جس کے پاس نزاع لے جائی جائے اور جس کا کام یہ ہو کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق اس نزاع کا فیصلہ کرے۔ یہ ادارہ خواہ کوئی مجلس علماء ہو یا سپریم کورٹ، یا کوئی اور اس کے تعین کی کسی خاص شکل پر شریعت نے ہمیں مجبور نہیں کردیاہے۔ مگر بہر حال ایسا کوئی ادارہ مملکت میں ہونا چاہیے اور اس کو یہ حیثیت حاصل ہونی چاہیے کہ انتظامیہ اور مقننہ اور عدلیہ کے احکام اور فیصلوں کے خلاف اس کے پاس مرافعہ کیا جاسکے، اور اُس کا بنیادی اصول یہ ہوناچاہیے کہ کتاب و سنت کی ہدایات کے مطابق وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے۔ (اسلامی ریاست ،اولی الامر اور اصول اطاعت)

جواب دہی کا تصور

٢٣١-کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔ (اس حدیث کی تخریج دوسرے مقام پر آچکی ہے۔ (مرتب)
(بخاری کتاب الاحکام باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم)
’’تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور تم سب خدا کے سامنے اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہو۔‘‘
تشریح: سب مومن خلافت کے حامل ہیں۔ خداکی طرف سے جو خلافت مومنوں کو عطا ہوتی ہے۔ وہ عمومی خلافت (Papular Vicegerency)ہے کسی شخص یا خاندان یا نسل یا طبقہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ ہر مومن اپنی جگہ خدا کا خلیفہ ہے۔ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے فرداً فرداً ہر ایک خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اور ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کے مقابلہ میں کسی حیثیت سے فرو تر نہیں ہے۔ (اسلامی ریاست، ص:۱۴۰)

اسلام اور جہانگیریت

٢٣٢- اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ لَوِ اسْتَعْمَلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَانَ رَأسَہٗ زَبِیْبَۃً۔
’’سنو اور اطاعت کرو۔ خواہ تمہارے اوپر ایک گنجا حبشی غلام ہی حاکم بنا دیا جائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ اَبِی التَّـیَّاحِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَعَمْ: اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَأَنَّ رَاسَہٗ زَبِیْتَۃٌ۔(١٧)
تشریح: اسلام کسی نسل یا قوم یا وطن کا نام نہیں ہے۔ وہ ایک قانون زندگی اور نظام حیات ہے جس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ عربی، عجمی، حبشی، چینی، ہندی، فرنگی سب اس کو اختیار کرسکتے ہیں اور اختیار کرلینے کے بعد سب کے حقوق، اختیارات اور مراتب اس کے نظام اجتماعی میں یکساں قرار پاتے ہیں۔ اس کو انسان کی نسل، یا رنگ یا وطنیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وہ انسان کو محض انسان ہونے کی حیثیت سے خطاب کرتا ہے اور اس کے سامنے زندگی بسر کرنے کا ایک طریقہ اور تنظیم حیات انسانی کا ایک قانون پیش کرتا ہے جو اس کے نزدیک بہترین ہے۔ اس طریقہ و قانون کو جو کوئی اختیار کرلے وہ اسلامی جماعت کارکن ہے۔ اسلامی حکومت میں برابر کا شریک ہے۔ اور اس کی شخصی قابلیت اسے خلیفہ و امام کے درجہ تک بھی پہنچا سکتی ہے۔ جس طرح دنیا کی حکومتوں میں فرماں روائی کی قابلیتوں کا معیار سول سروس یا اسی قسم کا کوئی اور امتحان پاس کرنا ہے، اسی طرح اسلام کی حکومت میں فرماں روائی اور منصب اصلاح و ہدایت کی اہلیت کا اصولی معیار اسلام کے نظام حیات کو اختیار کرنا اور اس کے قانون حق کی پابندی کرنا ہے۔ جو کوئی اس معیار پرپورا اترتا ہے وہ بلا لحاظ نسل و رنگ اس منصب پر فائز ہوجاتا ہے۔ اسلام میں نہ تو ’’حکومت قوم بر قوم دیگر‘‘ کا کوئی سوال ہے اور نہ ’’حکومت قوم بر قوم خود‘‘ کا۔ بلکہ وہ ’’حکومت صالحہ‘‘ کا اصول پیش کرتا ہے اور اس کے نزدیک صالح اگر ایک حبشی غلام ہو تو کوئی چیز اسے شرفائے عرب پر حکومت کرنے سے نہیں روک سکتی۔
اسلام کی آخری دعوت عرب سے اٹھی۔ عربوں ہی کو اس کا علم بلند کرنے کا شرف حاصل ہے۔ مگر اس نے کبھی حکومت و فرماں روائی کو عرب کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔ جب تک عرب ’’صالح‘‘رہے۔ انہوں نے آدھی دنیا پر حکومت کی۔ جب ان میں صلاحیت باقی نہ رہی تو جن عجمی قوموں کو عربوں نے فتح کیا تھا، وہ اسلامی حکومت کی مسند نشین بن گئیں اور انہوں نے خود عرب پر حکومت کی۔ ترک اسلام کے شدید دشمن تھے، مگر جب وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئے تو دنیائے اسلام کے آدھے سے زیادہ حصے نے انہیں اپنا حکمران تسلیم کیا اور چاٹگام سے لے کر قرطاجنہ تک ان کی فرماں روائی کے پھریرے اڑتے رہے۔ (الجہاد فی الاسلام،مصلحانہ جنگ ’’اسلام اور جہانگیریت‘‘)

اسلامی جمہوریت

٢٣٣-یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ، اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عجََمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلَی الْاَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔(تفسیر روح المعانی، بحوالہ بیہقی و ابن مردویہ، ۲۶؍۱۴۸)
’’لوگو! سن رکھو تمہارا رب ایک ہے عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ نہ کالے کو گورے پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے۔ فضیلت اگر ہے تو تقویٰ کی بنا پر ہے۔ درحقیقت تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہے۔
تخریج:(۱) اَخْرَجَ الْبَیْھَقِیُّ وَابْنُ مَرْدَوَیْہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: خَطَبَـنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ وَسْطِ التَّشْرِیْقِ خُطْبَۃَ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ! اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عجََمِیٍّ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی، اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ، اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: فَلْیُبَلِّغُ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔(١٨)
(۲) حَدََّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، ثَنَا سَعِیْدُ الْجَرِیْرِیُّ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ وَسْطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ، فَقَالَ:یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ! اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَ اِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ، اَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍّ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَلاَ اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔ أَبَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: بَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، ثُمَّ قَالَ:اَیُّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: یَوْمٌ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ: اَیُّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: شَھْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:اَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ بَیْنَکُمْ دِمَائَ کُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ، قَالَ: وَلاَ اَدْرِیْ! قَالَ اَوْ اَعْرَاضَکُمْ اَمْ لاَ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، أَبَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: بَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔(١٩)
(۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ طَافَ یَوْمَ الْفَتْحِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ یَسْتَلِمُ الْاَرْکَانَ بِمِحْجَنِہٖ فَلَمَّا خَرَجَ لَمْ یَجِدْ مَنَاخًا، فَنَزَلَ عَلٰی اَیْدِی الرِّجَالِ فَخَطَبَھُمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ وَ قَالَ:الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عَیْبَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَکَبُّرَھَا، یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ، اَلنَّاسُ رَجُلاَنِِ بَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیْمٌ عَلَی اللّٰہِ، وَ فَاجِرٌ شَقِیٌّ ھَیِّنٌ عَلَی اللّٰہِ، النَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آدَمَ، وَ خَلَقَ اللّٰہُ اٰدَمَ مِنْ تُرَابٍ، وَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی اِلٰی قَوْلِہٖ تَعَالٰی خَبِیْرٌ۔(٢٠)
(۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ دِیْنَارٍ۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ:اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عَبَّیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَعَاظُمَھَا بِٰابَآئِھَا، فَالنَّاسُ رَجُلاَنِ، رَجُلٌ بَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیْمٌ عَلَی اللّٰہِ، وَ فَاجِرٌ شَقِیٌّ ھَیِّنٌ عَلَی اللّٰہِ، وَالنَّاسُ بَنُو اٰدَمَ، وَ خَلَقَ اللّٰہُ اٰدَمَ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ اللّٰہُ:یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔(٢١)
پس منظر: حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے مندرجہ بالا خطبہ ارشاد فرمایا۔
تشریح: ایسی سوسائٹی جس میں ہر شخص خلیفہ ہو اور خلافت میں برابر کا شریک ہو، طبقات کی تقسیم اور پیدایشی یا معاشرتی امتیازات کو اپنے اندر راہ نہیں دے سکتی۔ اس میں تمام افراد مساوی الحیثیت اور مساوی المرتبہ ہوں گے۔ فضیلت جو کچھ بھی ہوگی وہ شخصی قابلیت اور سیرت کے اعتبار سے ہوگی۔ یہی بات ہے جس کو نبی انے بار بار بتصریح بیان فرمایا ہے۔
فتح مکہ کے بعد جب تمام عرب اسلامی ریاست کے دائرے میں آگیا تو رسول اللہا نے خود اپنے خاندان والوں کو، جو عرب میں برہمنوں کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عَیْبَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَ تَکَبُّرَھَا، یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ، اَلنَّاسُ رَجُلاَنِ۔ بَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیْمٌ عَلَی اللّٰہِ، وَ فَاجِرٌ شَقِیٌّ ھَیِّنٌ عَلَی اللّٰہِ۔ اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آدَمَ وَ خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی) (تفسیر روح المعانی ج۲۶، ص ۱۴۸۔) ’’شکر ہے اس خدا کا جس نے جاہلیت کا عیب اور تکبر تم سے دور کردیا۔ لوگو! انسان دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو نیک اور پرہیزگار ہو، وہ اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ دوسرا وہ جو بد اعمال اور شقی ہو، وہ اللہ کے نزدیک فرو مایہ ہے۔ اصل کے اعتبار سے سب انسان اولاد آدم ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیداکیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ ’’لوگو، ہم نے تم کوایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔۔۔ ایسی سوسائٹی میں جب کسی فرد یا کسی گروہ افراد کے لیے اس کی پیدایش یا اس کے معاشرتی مرتبے (Social Status)یا اس کے پیشے کے اعتبار سے اس قسم کی رکاوٹیں (Disabilities)نہیں ہوسکتیں، جو اس کی ذاتی قابلیتوں کے نشو و نما اور اس کی شخصیت کے ارتقاء میں کسی طرح بھی مانع ہوں۔ اس کو سوسائٹی کے تمام دوسرے افراد کی طرح ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہونے چاہیے۔ اس کے لیے راستہ کھلا ہوا ہونا چاہیے کہ اپنی قوت و استعداد کے لحاظ سے جہاں تک بڑھ سکتا ہے بڑھتا چلا جائے۔ بغیر اس کے کہ دوسروں کے اسی طور پر بڑھنے میں مانع ہو۔ یہ چیز اسلام میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ غلام اور غلام زادے فوجوں کے سپہ سالار اور صوبوں کے گورنر بنائے گئے اور بڑے بڑے اونچے گھرانوں کے شیوخ نے ان کی ماتحتی کی۔ چمار جوتیاں گانٹھتے گانٹھتے اٹھے اور امامت کی مسند پر بیٹھ گئے۔ جولاہے اور بزاز مفتی اور قاضی اور فقیہہ بنے اور آج ان کے نام بزرگوں کی فہرست میں ہیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اسمعوا و اطیعوا و لو استعمل علیکم عبد حبشی ’’سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہارا سردار ایک حبشی ہی کیوں نہ بنا دیا جائے؟ (بخاری ج۲، کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام۔۔۔) (اسلامی ریاست،نظریۂ خلافت۔۔۔’’اسلامی جمہوریت کی حیثیت‘‘)

رشتہ دین پر مادی علائق کی قربانی

٢٣٤- ’’مجھے خاندان والوں کی محبت نے ہرگز نہیں کھینچا۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اللہ کے لیے تمہارے پاس ہجرت کرکے جاچکا ہوں۔ اب میرا جینا تمہارے ساتھ ہے اور مرنا تمہارے ساتھ۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ، قَالَ: نَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمَغِیْرَۃِ، قَالَ: نَا ثَابِتُ الْبَنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: وَفَدَتْ وَفُوْدًا اِلٰی مُعَاوِیَۃَ، وَ ذٰلِکَ فِیْ رَمَضَانَ، فَکَانَ یَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضِ الطَّعَامِ، وَکَانَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ مِمَّا یَکْثُرُ اَنْ یَّدْعُوْنَا اِلٰی رَحْلِہٖ، فَقُلْتُ: اَلاَ اَصْنَعُ طَعَامًا؟ فَادْعُوْھُمْ اِلٰی رَحْلِیْ فَاَمَرْتُ بِطَعَامٍ یَصْنَعُ، ثُمَّ لَقِیْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ مِنَ الْعَشِیِّ، فَقُلْتُ:الدَّعْوَۃُ عِنْدِی اللَّیْلَۃَ، فَقَالَ: سَبَقْتَنِیْ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَوْتُھُمْ، فَقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: اَلاَ اُعْلِمُکُمْ بِحَدِیْثٍ مِنْ حَدِیْثِکُمْ، یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّۃَ۔ فَقَالَ: اَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی قَدِمَ مَکَّۃَ، فَبَعَثَ الزُّبَیْرَ عَلٰی اِحْدَی الْمُجَنِّبَتَیْنِ، وَ بَعَثَ خَالِدًا عَلَی الْمُجَنِّبَۃِ الْاُخْرٰی، وَ بَعَثَ اَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْحُسَّرِ۔۔۔ فَاَخَذُوْا بَطْنَ الْوَادِیِّ، وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ کَتَیْبَۃٍ، قَالَ: فَنَظَرَ فَرَاٰنِیْ، فَقَالَ:اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: لاَ یَاْتِیْنِیْ اِلاَّ اَنْصَارِیُّ زَادَ غَیْرَ شَیْبَانَ، فَقَالَ:اِھْتِفْ لِیْ بِالْاَنْصَارِ، قَالَ: فَاَطَافُوْا بِہٖ وَ وَبَّشَتْ قُرَیْشٌ اَوْ بَاشًا لَھَا وَ اَتْبَاعًا، فَقَالُوْا: نُقَدِّمُ ھٰٓؤُلَآئِ فَاِنْ کَانَ لَھُمْ شَـْیئٌ کُنَّا مَعَھُمْ، وَ اِنْ اَصِیْبُوْا اَعْطَیْنَا الَّذِیْ سَئَلْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَرَوْنَ اِلٰی اَوْبَاشِ قُرَیْشٍ وَ اَتْبَاعِھِمْ، ثُمَّ قَالَ: بِیَدَیْہِ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی، ثُمَّ قَالَ: حَتّٰی تَوَافُوْنِیْ بِالصَّفَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَآئَ اَحَدٌ مِنَّا اَنْ یَّقْتُلَ اَحْدًا اِلاَّ قَتَلَہٗ، وَمَا اَحَدٌ مِنْھُمْ یُوَجِّہُ اِلَیْنَا شَیْئًا، قَالَ: فَجَآئَ اَبُوْ سُفْیَانَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اُبِیْحَتْ خَضْرَآئُ قُرَیْشٍ، لاَ قرَیْشٍ بَعْدَ الْیَوْمِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ دَخَلَ دَارَ اَبِیْ سُفْیَانَ، فَھُوَ اٰمِنٌ فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: اَمَّا الرَّجُلُ فَاَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِیْ قَرْیَتِہٖ، وَ رَاْفَۃٌ بِعَشِیْرَتِہٖ، قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: وَ جَآئَ الْوَحْیُ وَ کَانَ اِذَا جَآئَ الْوَحْیُ لاَ یَخْفٰی عَلَیْنَا، فَاِذَا جَآئَ فَلَیْسَ اَحَدٌ یَرْفَعُ طَرْفَہٗ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی یَنْقَضِی الْوَحْیُ، فَلَمَّا انْقَضَی الْوَحْیُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ! قَالُوْا: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: قُلْتُمْ: اَمَّا الرَّجُلُ، فَاَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِیْ قَرْیَتِہٖ، قَالُوْا: قَدْ کَانَ ذٰلِکَ قَالَ: کَلاَّ! اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُہٗ ھَاجَرْتُ اِلَی اللّٰہِ وَ اِلَیْکُمْ، وَالْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ، فَاَقْبَلُوْا اِلَیْہِ یَبْکُوْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ: وَاللّٰہِ! مَا قُلْنَا الَّذِیْ قُلْنَا اِلاَّ الضَّنُّ بِاللّٰہِ وَ بِرَسُوْلِہٖ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلُہٗ یُصَدِّقَانِکُمْ وَ یَعْذِرَانِکُمْ۔ الخ۔(٢٢)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ کئی جماعتیں سفر کرکے حضرت معاویہ کے پاس گئیں۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ عبد اللہ بن رباح نے بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک، ایک دوسرے کا کھانا تیار کرتا تھا اور ابوہریرہ ان میں سے تھے جو اکثر اوقات ہمیں اپنے گھر پر مدعو کیا کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ میں کیوں نہ کھانا تیار کروں اوران سب کواپنے گھر پر دعوت طعام دوں۔ یہ طے کرکے میں شام کو ابو ہریرہ سے جاکر ملا اور کہا آج شام دعوت میرے ہاں ہوگی۔ ابو ہریرہ بولے۔ تو مجھ سے سبقت لے گیا میں نے کہا ہاں۔ پھر میں نے ان سب کو دعوت پر بلایا۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا اے انصار کے گروہ میں تمہارے باب میں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ پھر انہوں نے فتح مکہ کے بعد کا ذکر کیا کہ رسول اللہا تشریف لائے اور مکہ میں قدوم میمنت فرمایا تو ایک جانب زبیر کو بھیجا اور دوسری جانب خالد بن ولید کو (ایک کو میمنہ اور دوسرے کو میسرہ پر) اور ابو عبیدہ بن جراح کو ان لوگوں کا سردار مقرر کیا جن کے پاس زرہیں نہ تھیں۔ انہوں نے وادی کے اندر کا راستہ لیا اور رسول اللہا چھوٹے سے دستے میں تھے۔ آپ نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا ابوہریرہ۔ میں نے عرض کیا حضور حاضر ہوں۔ فرمایا میرے پاس انصار کے سوا کوئی نہ آئے۔ شیبان کے علاوہ دوسروں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا میرے لیے انصار کو آواز دو۔ راوی کا بیان ہے کہ انصار سب آپ کے ارد گرد ہوگئے۔ قریش نے بھی اپنے گروہ اور تابعدار اکٹھے کیے اور کہا کہ ہم ان کو آگے کرتے ہیں۔ اگر کچھ ملا تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں اور اگر کوئی آفت آن پڑی تو مطالبہ کے مطابق ہم بھی دے دیں گے۔ رسول اللہ انے فرمایا تم قریش کی جماعتوں اور تابع داروں کو دیکھ رہے ہو پھر آپ نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر بتایا (یعنی کفار کو مارو کسی ایک کو بھی نہ چھوڑو) نیز فرمایا کہ مجھے صفا پر ملو۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ پھر ہم چلے۔ ہم میں سے جوکوئی کافروں میں سے کسی کو مارنا چاہتا، وہ مار ڈالتا۔ کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کرتا تھا۔ نوبت بایں جا رسید کہ ابو سفیان آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ قریش کا گروہ تباہ و برباد ہوگیا۔ آج کے بعد قریش کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ رسول اللہ انے فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگیا اسے امان ہے۔ اس وقت انصار ایک دوسرے کو کہنے لگے آپ کو وطن کی الفت نے پکڑلیا اور اپنے اہل قبیلہ پر راحت و محبت نے جوش مارا۔ ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ اسی اثنا میں وحی کا نزول شروع ہوگیا اور جب وحی کا آغاز ہوتا تو ہم پر مخفی نہ رہتا تھا۔ نزول وحی کے دوران میں کسی کو رسول اللہ اکی طرف آنکھ اٹھانے کی جرأت و ہمت نہ ہوتی تھی۔ تا آنکہ وحی کا نزول ختم ہوجاتا۔ جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو رسول اللہ انے فرمایا۔ اے گروہ انصار۔ وہ بولے حاضر ہیں اے اللہ کے رسول۔ آپ نے فرمایا تم لوگوں نے کہا کہ اس شخص کو اپنے وطن کی الفت آگئی ہے۔ انہوں نے عرض کیا ہاں یہ تو ہم نے کہا ہے۔ آپ نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کی طرف ہجرت کی ہے اور تمہاری طرف۔ اب میرا مرنا جینا تمہارے ساتھ ہے۔ یہ سن کر انصار روتے ہوئے بھاگتے بھاگتے آپ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے۔ اللہ کی قسم۔ ہم نے جو کچھ کہا وہ محض اللہ اور اس کے رسول سے لالچ اور حرص میںکہا (کہ تمہارا منشا یہی تھا جو تم نے بیان کیا) اور تمہاری معذرت خواہی کو قبول کرتے ہیں۔
(۲) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ حِیْنَ اَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مَا اَفَائَ مِنْ اَمْوَالِ ھَوَازِنَ، فَطَفِقَ النَّبِیُّ ﷺ یُعْطِیْ رِجَالاً نِالْمِائَۃَ مِنَ الْاِبِلِ، فَقَالُوْا: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ یُعْطِیْ قُرَیْشًا وَ یَتْرُکُنَا وَ سُیُوْفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِھِمْ قَالَ اَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِمَقَالَتِھِمْ، فَاَرْسَلَ اِلَی الْاَنْصَارِ، فَجَمَعَھُمْ فِیْ قُبَّۃٍ مِنْ اَدَمٍ وَلَمْ یَدْعُ مَعَھُمْ غَیْرَھُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوْا قَامَ النَّبِیُّﷺ فَقَالَ: مَا حَدِیْثٌ بَلَغَنِیْ عَنْکُمْ؟ فَقَالَ فُقَھَائُ الْاَنْصَارِ:اَمَّا رُؤُسَاؤُنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَلَمْ یَقُوْلُوْا شَیْئًا، وَ اَمَّا نَاسٌ مِّنَّا حَدِیْثَۃٌ اَسْنَانُھُمْ فَقَالُوْا: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِرَسُوْلٍ یُعْطِیْ قُرَیْشًا وَ یَتْرُکُنَا وَ سُیُوْفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِھِمْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: فَاِنِّیْ اُعْطِیْ رِجَالاً حَدِیْثِیْ عَھْدٍ بِکُفْرٍ، اَتَاَلَّفُھُمْ اَمَا تَرْضَوْنَ اَنْ یَّذْھَبَ النَّاسُ بِالْاَمْوَالِ وَ تَذْھَبُوْنَ بِالنَّبِیِّ اِلٰی رِحَالِکُمْ فَوَ اللّٰہِ لَمَا تَنْقَلِبُوْنَ بِہٖ خَیْرٌ مِّمَّا یَنْقَلِبُوْنَ بِہٖ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ رَضِیْنَا، فَقَالَ لَھُمُ النَّبِیُّ ﷺ سَتَجِدُوْنَ اِثْرَۃً شَدِیْدَۃً، فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَاِنِّیْ عَلَی الْحَوْضِ۔ قَالَ اَنَسٌ: فَلَمْ یَصْبِرُوْا۔(٢٣)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ کچھ انصار نے، جب اللہ نے نبی کواموال فے سے نوازا کہا، اموال فے ہوازن کے اموال میں سے تھا۔ نبی ا لوگوں کو سو سو اونٹ عطا فرما رہے ہیں۔ تو ان لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو معاف فرمائے۔ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز فرما رہے ہیں حالاں کہ ہماری تلواروں سے تو ابھی تک خون ٹپک رہا۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ا تک ان کی باتوں کی اطلاع پہنچ گئی۔ تو آپ نے ان سب کو ایک ایسے خیمہ میںجمع کیا جو چمڑے کا بنا ہوا تھا۔ اس اجتماع میں آپ نے انصار کے ساتھ کسی دوسرے کو مدعو نہیں فرمایا۔ جب سب انصار جمع ہوگئے تو نبی اخطاب فرمانے کھڑے ہوئے اور فرمایا وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟ سمجھ دار انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ جہاں تک ہمارے اکابر سرداروں کا معاملہ ہے انہوں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ اور رہے وہ لوگ جو ہم میں ابھی نو عمر ہیں انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ا کو معاف فرمائے قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کررہے ہیں حالاں کہ ہماری تلواروں سے تو ابھی تک خون ٹپک رہا ہے۔ یہ سماعت فرما کر نبی انے فرمایا۔ بے شک میں ایسے اشخاص کو جن کا عہد کفر کے قریب ہے دے رہا ہوں اور ان کی تالیف قلوب کر رہاہوں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ دوسرے لوگ یہاں سے اموال (دنیا) لے کر واپس پلٹیں اور تم اپنے گھروں کی طرف نبی کو اپنے ساتھ لے کر پلٹو۔ واللہ جو چیز تم لے کر واپس جاؤگے وہ کہیں بہتر ہے اس چیز سے جو وہ لے کر پلٹیں گے۔ سب بیک زبان بول اٹھے یا رسول اللہ ہم راضی ہیں پھر رسول اللہ انے فرمایا عنقریب تم لوگوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہوئے پاؤگے پس صبر و تحمل سے کام لینا تا آنکہ تم اللہ اور اس کے رسول سے آکر ملاقات کرو اور میں حوض کوثر پر موجود ہوں گا۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ انہوں نے صبر سے کام نہیں لیا۔
(۳) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُھَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: لَمَّا اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ یَوْمَ حُنَیْنٍ قَسَمَ فِی النَّاسِ فِی الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ، وَلَمْ یُعْطِ الْاَنْصَارَ شَیْئًا، فَکَاَنَّھُمْ وَجَدُوْا اِذْلَمْ یُصِبْھُمْ مَا اَصَابَ النَّاسَ اَوْ کَأَنَّھُمْ وَجَدُوْا اِذْلَمْ یُصِبْھُمْ مَا اَصَابَ النَّاسَ فَخَطَبَھُمْ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ اَلَمْ اَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً، فَھَدَاکُمُ اللّٰہُ بِیْ، وَ کُنْتُمْ مُتَفَرِّقِیْنَ، فَاَلَّفَکُمُ اللّٰہُ بِیْ، وَعَالَۃً فَاَغْنَاکُمُ اللّٰہُ بِیْ؟ کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا، قَالُوْا:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَنُّ، قَالَ: مَا یَمْنَعُکُمْ اَنْ تُجِیْبُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا، قَالُوْا:اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَنُّ، قَالَ: لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ: جِئْتَنَا کَذَا وَ کَذَا أَتَرْضَوْنَ اَنْ یَّذْھَبَ النَّاسُ بِالشَّاۃِ وَالْبَعِیْرِ، وَ تَذْھَبُوْنَ بِالنَّبِیِّ اِلٰی رِحَالِکُمْ۔ لَوْلاَ الْھِجْرَۃُ لَکُنْتُ اِمْرَأً مِّنَ الْاَنْصَارِ وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَ شِعْبًا، لََسلَکْتُ وَادِیَ الْاَنْصَارِ وَ شِعْبَھَا، الْاَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ۔ اَنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ اِثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ عَلَی الْحَوْضِ۔(٢٤)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم سے مروی ہے کہ یوم حنین کے موقع پر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اموال فے عطا فرمایا تو آپ نے لوگوں میں سے مؤلفۃ القلوب میں تقسیم فرمایا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہ دیا تو جب انہیں وہ چیز نہ ملی جو لوگوں کو حاصل ہوئی تو انہوں نے دل میں محسوس کیا (آپ کے علم میں جب یہ معاملہ آیا تو) نبی انے ان سے خطاب فرمایا۔ اے گروہ انصار (تمہیں یاد ہے) کہ تم گم کردہ راہ تھے۔ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں راہ ہدایت نصیب فرمائی اور (یہ بھی یاد ہوگا ) کہ تم آپس میں بٹے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہارے دلوں میں الفت ڈال کراکٹھا کردیا اور تم تہی دست و محتاج تھے اللہ تعالیٰ نے میرے واسطہ سے تمہیں تونگری سے سرفراز فرمایا۔ جونہی آپ نے کچھ ارشاد فرمایا یہ بولے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم پر بہت احسان فرمایا ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا جب اللہ کا رسول کچھ دریافت کرتا ہے تو پھر کون سی چیز جواب دینے سے تمہارے لیے مانع ہے۔ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول نے ہم پر بہت ہی احسان فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا تم لوگ چاہو تو یہ کہہ سکتے ہو کہ تم ہمارے پاس جب آئے تو اس وقت آپ کی ایسی ایسی پوزیشن تھی۔ کیا تمہیں یہ چیز پسند ہے کہ لوگ تو بھیڑ بکریاں لے کر گھروں کو واپس جائیں اور تم نبی کواپنے ساتھ لے کر اپنے گھروں کو واپس پلٹو۔ (سن لو) اگر ہجرت نہ ہوتی تو میںانصار کا ایک آدمی ہوتا۔ اگر دیگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلتے تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلتا۔ انصار کی حیثیت تو اس کپڑے کی ہے جو بدن کے ساتھ بالوں سے متصل ہوتا ہے۔ (شعار ہیں) اور دوسرے لوگوں کی حیثیت اس کپڑے کی ہے جو بدن سے متصل کپڑے کے اوپر گرم کپڑا ہوتا ہے (دثار ہیں) (تمہارا میرا تعلق شعار کا ہے اور لوگوں کا دثار کا) تم میرے بعد لوگوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہوئے پاؤگے۔ لہٰذا تم صبرو تحمل کا اس وقت تک مظاہرہ کرنا کہ حوض کوثرپر میرے ساتھ ملاقات ہو۔
حضرت انس کے حوالہ سے بخاری میں مروی روایات:
(۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنَا اَزْھَرٌ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ اَنْبَانَا ھِشَامُ بْنِ زَیْدِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ حُنَیْنٍ اِلْتَقَی النَّبِیُّ ﷺ ھَوَازِنَ وَ مَعَ النَّبِیِّﷺ عَشْرَۃُ آلاَفٍ وَالطُّلَقَائُ فَاَدْبَرُوْا، قَالَ: یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ، قَالُوْا: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ سَعْدَیْکَ، لَبَّیْکَ وَ نَحْنُ بَیْنَ یَدَیْکَ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ﷺ فَقَالَ: اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُہٗ فَانْھَزَمَ الْمُشْرِکُوْنَ، فَاَعْطَی الطُّلَقَائَ وَالْمُھَاجِرِیْنَ، وَلَمْ یُعْطِ الْاَنْصَارَ شَیْئًا، فَقَالُوْا فَدَعَاھُمْ، فَاَدْخَلَھُمْ فِیْ قُبَّۃٍ، فَقَالَ:اَمَا تَرْضَوْنَ اَنْ یَّذْھَبَ النَّاسُ بِالشَّاۃِ وَالْبَعِیْرِ، وَ تَذْھَبُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ؟ فَقَالُوْا: (رَضِیْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ) فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَ سَلَکَتِ الْاَنْصَارُ شِعْبًا، لاَخْتَرْتُ شِعْبَ الْاَنْصَارِ۔
ترجمہ: حضرت انس سے روایت ہے کہ حنین کے روز نبی اکا قبیلۂ ہوازن سے مقابلہ ہوا۔ اس روز نبی اکے ساتھ دس ہزار (مہاجر و انصار تھے) نیز کچھ مکہ کے طلقاء (نو مسلم) بھی تھے۔ یہ میدان چھوڑ کر بھاگے۔ آپ نے انصار کو مخاطب ہوکر آواز دی اے گروہ انصار! انہوں نے جواب دیا لبیک یا رسول اللّٰہ و سعدیک لبیک و نحن بین یدیک۔ (اے اللہ کے رسول ہم حاضر ہیں۔ آپ کی مدد کو موجود ہیں اور آپ کے روبرو کھڑے ہیں) نبی ا سواری سے نیچے اترے اور فرمایا میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پس اتنے میں مشرکین کو شکست ہوئی۔ آپ نے مکی نو مسلموں اور مہاجرین کو مال عطا فرمایا اور انصار کو کچھ بھی نہ دیا تو انہوں نے چہ می گوئیاں کیں تو آپ نے ان سب کوایک خیمہ میں بلا کر جمع کیا اور خطاب فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ بکری اور بھیڑ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم لوگ نبی اکو لے کر اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ تو وہ بیک زبان بولے (یا رسول اللہ ہمیں منظور ہے ہم اس تقسیم پر راضی ہیں) تو نبی انے فرمایا اگر دوسرے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔
(۵) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ثَنَا غُنْدُرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: جَمَعَ النَّبِیُّ ﷺ نَاسًا مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ:اِنَّ قُرَیْشًا حَدِیْثُ عَھْدٍ بِجَاھِلِیَّۃٍ وَ مُصِیْبَۃٍ، وَاِنِّیْ اَرَدْتُّ اَنْ اُجِیْزَھُمْ وَ اَتَأَلَّفَھُمْ، اَمَا تَرْضَوْنَ اَنْ یَّرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْیَا وَ تَرْجِعُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ اِلٰی بُیُوْتِکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَ سَلَکَتِ الْاَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِیَ الْاَنْصَارِ اَوْ شِعْبَ الْاَنْصَارِ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی انے انصار کے کچھ آدمیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ قریش ابھی نو مسلم اور تازہ زخم خوردہ اور مبتلاء مصیبت ہیں۔ میں نے سوچا کہ ان کی دل جوئی اور تالیف قلب کردوں۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول اکو لے جاؤ انصار بولے کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر سارے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے میدان میں یا فرمایا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔
(۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ ھِشَامِ بْنِ زَیْدِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ حُنَیْنٍ اَقْبَلَتْ ھَوَازِنُ وَ غَطَفَانُ وَ غَیْرُھُمْ بِنَعَمِھِمْ وَ ذَرَارِیِّھِمْ وَ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ عَشْرَۃُ اٰلاَفٍ مِنَ الطُّلَقَائِ فَاَدْبَرُوْا عَنْہُ حَتّٰی بَقِیَ وَحْدَہٗ فَنَادٰی یَوْمَئِذٍ نِدَائَیْنِ لَمْ یَخْلِطْ بَیْنَھُمَا اِلْتَفَتَ عَنْ یَمِیْنِہٖ، فَقَالَ:یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ، قَالُوْا: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَبْشِرْ نَحْنُ مَعَکَ، ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ یَسَارِہٖ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ قَالُوْا: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَبْشِرْ نَحْنُ مَعَکَ وَ ھُوَ عَلٰی بَغْلَۃٍ بَیْضَائَ فَنَزَلَ، فَقَالَ: اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُہٗ فَانْھَزَمَ الْمُشْرِکُوْنَ وَ اَصَابَ یَوْمَئِذٍ غَنَائِمَ کَثِیْرَۃً فَقَسَمَ فِی الْمُھَاجِرِیْنَ وَالطُّلَقَائَ وَلَمْ یُعْطِ الْاَنْصَارَ شَیْئًا فَقَالَتِ الْاَنْصَارُ: اِذَا کَانَتْ شَدِیْدَۃٌ، فَنَحْنُ نُدْعٰی وَ یُعْطِی الْغَنِیْمَۃَ غَیْرَنَا، فَبَلَغَہٗ ذٰلِکَ، فَجَمَعَھُمْ فِیْ قُبَّۃٍ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ: مَا حَدِیْثٌ بَلَغَنِیْ، فَسَکَتُوْا، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ اَلاَ تَرْضَوْنَ اَنْ یَّذْھَبَ النَّاسُ بِالدُّنْیَا وَ تَذْھَبُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ تَحُوْزُوْنَہٗ اِلٰی بُیُوْتِکُمْ، فَقَالُوْا: بَلٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَ سَلَکَتِ الْاَنْصَارُ شِعْبًا لَاَخَذْتُ شِعْبَ الْاَنْصَارِ۔ قَالَ ھِشَامٌ: قُلْتُ: یَا اَبَا حَمْزَۃَ وَ اَنْتَ شَاھِدٌ ذَاکَ؟ قَالَ: اَیْنَ اَغِیْبُ عَنْہُ۔
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حنین کے روز قبیلۂ ہوازن و غطفان وغیرہ اپنے جانوروں اور اپنی اولاد کے ساتھ مقابلہ کے لیے آئے۔ آپ کے ساتھ اس روز دس ہزار مہاجر و انصار اور کچھ نو مسلم تھے۔ یہ لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور میدان میں آپ صرف اکیلے ہی رہ گئے۔ اس روز آپ نے دو آوازیں ایسی دیں جو بالکل صاف اور واضح تھیں۔ آپ نے اپنی دائیں طرف رخ کرکے پکارا۔ اے گروہ انصار۔ انہوں نے جواب دیا ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر بائیں جانب متوجہ ہوکر پکارا اے گروہ انصار۔ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ ہم حاضر ہیں بشارت ہو آپ کو۔ ہم آپ کے ہم رکاب ہیں اس روز آپ سفید خچر پر رونق افروز تھے اس سے نیچے اترے اور فرمایا میں بندۂ خدا ہوں اور اس کا رسول ہوں۔ اتنے میں مشرکین کو ہزیمت ہوئی۔ اس معرکہ میں بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا۔ آپ نے اس مال کو مہاجرین اور نو مسلم حضرات میں تقسیم فرمادیا اور انصار کو کچھ بھی نہ دیا تو انصار بول اٹھے کہ جب مشکل اور سختی کا موقع ہوتا تو ہمیں بلایا جاتا اور مال غنیمت دوسروں کو دے دیا جاتاہے یہ بات آپ تک بھی پہنچ گئی۔ آپ نے ان کو ایک خیمہ میںجمع کیا اور فرمایا اے جماعت انصار وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری جانب سے پہنچی ہے؟ انصار خاموش رہے۔ آپ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ تو رسول کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ۔ سب نے کہا کیوں نہیں ہم راضی ہیں۔ پھر نبی انے فرمایا کہ اگر دوسرے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا۔ ہشام کا بیان ہے کہ میں نے کہا اے ابو حمزہ تم اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے جدا کب ہوا تھا۔
بخاری میںعبد اللہ بن مسعود کے حوالہ سے مروی روایت:
(۷) حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ حُنَیْنٍ اٰثَرَ النَّبِیُّ ﷺ نَاسًا اَعْطَی الْاَقْرَعَ مِائَۃً مِّنَ الْاِبِلِ، وَ اَعْطٰی عُیَیْنَۃَ مِثْلَ ذٰلِکَ وَ اَعْطٰی نَاسًا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا اُرِیْدُ بِھٰذِہِ الْقِسْمَۃِ وَجْہُ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: لَاُخْبِرَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: رَحِمَ اللّٰہُ مُوْسٰی قَدْ اُوْذِیْ بِاَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ۔(٢٥)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ حنین کے روز نبی انے کچھ لوگوں کو ترجیحاً زیادہ مال عطا فرمایا مثلاً اقرع بن حابس کو سو اونٹ اور عیینہ کو سو اونٹ اسی طرح دوسرے کچھ قریش لوگوں کو بھی دیا۔ تو ایک آدمی نے کہا اس تقسیم میں اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں تھی۔ میں نے کہا میں اس کی خبر نبی اکو ضرور دوں گا (آپ نے یہ سن کر) فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے ان کو اس سے کہیں زیادہ تکلیف دی گئی انہوں نے صبر سے کام لیا۔
(۸) حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: ثَنَا یَزِیْدُ، قَالَ: ثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلِہٖ ’’لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، قَرَئَ الْآیَۃَ کُلَّھَا اِلٰی لاَ یَعْلَمُوْنَ، قَالَ قَدْ قَالَھَا مُنَافِقٌ عَظِیْمُ النِّفَاقِ، فِیْ رَجُلَیْنِ اقْتَتَلاَ اَحَدُھُمَا غِفَارِیٌّ وَالْاٰخَرُ جُھَنِیٌّ، فَظَھَرَ الْغِفَارِیُّ عَلَی الْجُھَنِیِّ، وَکَانَ بَیْنَ جُھَیْنَۃَ وَالْاَنْصَارِ حِلْفٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُنَافِقِیْنَ وَ ھُوَ ابْنُ اُبَیٍّ، یَا بَنِی الْاَوْسِ یَا بَنِی الْخَزْرَجِ: عَلَیْکُمْ صَاحِبَکُمْ وَ حَلِیْفَکُمْ ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ مَا مَثَلُنَا وَ مَثَلُ مُحَمَّدٍ اِلاَّ کَمَا قَالَ الْقَائِلُ: سَمِّنْ کَلْبَکَ یَاْکُلْکَ، وَاللّٰہِ لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، فَسَعٰی بِھَا بَعْضُھُمْ اِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مُرْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ اَنْ یَّضْرِبَ عُنُقَ ھٰذَا الْمُنَافِقِ، فََقَالَ: لاَ، یَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔(٢٦)
ترجمہ: حضرت قتادہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے لئن رجعنا الی المدینۃ۔۔۔لا یعلمون تک مکمل آیت پڑھی اور کہا کہ یہ بات ایک بڑے منافق نے اس موقع پر کہی تھی جب دو آدمی آپس میں لڑ پڑے تھے۔ ایک ان میں سے غفاری تھا اور دوسرا جہنی۔ غفاری جہنی پر غالب آگیا۔ جہینہ اور انصار کے درمیان حلیفانہ تعلقات تھے۔ منافقین میں سے ایک منافق نے کہا اور وہ ابن ابی تھا۔ (بنو اوس یا بنو خزرج سے) کہ اپنے ساتھی اور حلیف کی مدد تم پر لازم ہے پھر اس نے کہا خدا کی قسم ہماری اور محمدؐ کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے کسی نے کہا تھا کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ پہنچ کر جو ہم میں سے عزت والا ہوگا وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ پس ان میں سے کسی نے دوڑ کر یہ خبر نبی اتک پہنچادی۔ حضرت عمرؓ نے سن کر عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ آپ معاذ بن جبل کو حکم دیں وہ اس کی گردن مار دے۔ آپ نے فرمایا نہیں لوگ باتیں بنائیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا رہا ہے۔
(۹) حَدَّثَنِیْ اَحْمَدُ بْنُ مَنْصُوْرِ الرَّمَادِیُّ، قَالَ: ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْحَکَمِ، قَالَ: ثَنِیْ اَبِیْ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اُبَیِّ ابْنِ سَلُوْلٍ، کَانَ لَہٗ ابْنٌ یُقَالُ لَہٗ حُبَابٌ فَسَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَبْدَ اللّٰہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ وَالِدِیْ یُؤْذِی اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَذَرْنِیْ حَتّٰی اَقْتُلَہٗ، فَقَالَ لَہٗ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ تَقْتُلْ اَبَاکَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَتَوَضَّأ حَتّٰی اسْقِیَہٗ مِنْ وَّضُوْئِ کَ لَعَلَّ قَلْبَہٗ اَنْ یَّلِیْنَ، فَتَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاَعْطَاہُ، فَذَھَبَ بِہٖ اِلٰی اَبِیْہِ، فَسَقَاہُ ثُمَّ قَالَ لَہٗ ھَلْ تَدْرِیْ مَا سَقَیْتُکَ؟ فَقَالَ لَہٗ وَالِدُہٗ: نَعَمْ، سَقَیْتَنِیْ بَوْلَ اُمِّکَ، فَقَالَ لَہٗ ابْنُہٗ:لاَ، وَاللّٰہِ! وَ ٰلٰـکِنْ سَقَیْتُکَ وَضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ عِکْرِمَۃُ: وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُبَیٍّ عَظِیْمَ الشَّاْنِ فِیْھِمْ، وَ فِیْھِمْ اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الآیَۃَ فِی الْمُنَافِقِیْنَ ’’ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا، وَ ھُوَ الَّذِیْ قَالَ: لَئِنِ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغُوْا الْمَدِیْنَۃَ، مَدِیْنَۃَ الرَّسُوْلِ ﷺ وَ مَنْ مَّعَہٗ اَخَذَ ابْنُہُ السَّیْفَ ثُمَّ قَالَ لِوَالِدِہٖ: اَنْتَ تَزْعُمُ لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ، فَوَاللّٰہِ! لاَ تَدْخُلُھَا حَتّٰی یَاْذَنَ لَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اُبَیٍّ عَلٰی بَابِھَا بِالسَّیْفِ لِاَبِیْہِ ثُمَّ قَالَ: اَنْتَ الْقَائِلُ: لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ۔ اَمَّا وَاللّٰہِ لَتَعْرِفَنَّ الْعِزَّۃُ لَکَ اَوْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ لاَ یَاْوِیْکَ ظِلُّہٗ وَلاَ تَاْوِیْہِ اَبَدًا اِلاَّ بِاِذْنٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ، فَقَالَ: یَا لَلْخَزْرَجِ ابْنِیْ یَمْنَعُنِیْ بَیْتِیْ یَا لَلْخَزْرَجِ ابْنِیْ یَمْنَعُنِیْ بَیْتِیْ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لاَ تَاْوِیْہِ اَبَدًا اِلاَّ بِاِذْنٍ مِّنْہُ، فَاجْتَمَعَ اِلَیْہِ رِجَالٌ فَکَلَّمُوْہُ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لاَ یَدْخُلُہٗ اِلاَّ بِاِذْنٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ، فَاَتَوُا النَّبِیَّﷺ فَاَخْبَرُوْہُ، فَقَالَ:اذْھَبُوْا اِلَیْہِ، فَقُوْلُوْا لَہٗ: خَلِّہٖ وَ مَسْکَنَہٗ، فَاَتَوْہُ، فَقَالَ: اَمَّا اِذَا جَآئَ اَمْرُ النَّبِیِّ ﷺ فَنَعَمْ۔(٢٧)
ترجمہ: عبد اللہ بن ابی بن سلول کا ایک بیٹا تھا۔اسے حباب کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ رسول اللہ انے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ عبد اللہ نے کہا یا رسول اللہؐ میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتا ہے تو مجھے اجازت دیں کہ میںاسے قتل کردوں۔ رسول اللہ انے فرمایا اپنے باپ کو قتل مت کرو۔ تو اس نے عرض کیا تو پھر آپ اپنے وضو کا پانی عنایت فرمادیں کہ میں یہ پانی اپنے باپ کو پلاؤں۔ شاید اس کا دل نرم پڑجائے۔ رسول اللہ انے وضو فرمایا اور پانی عبد اللہ کو دے دیا۔ وہ پانی لے کر اپنے باپ کے پاس گئے اور اسے پلادیا پھر پوچھا آپ کو معلوم ہے میں نے آپ کو کیا پلایا ہے۔اس کے والد نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے تونے مجھے اپنی والدہ کا پیشاب پلایا ہے۔ اس کے بیٹے نے کہا نہیں، بخدا ایسا نہیں میں نے تو رسول اللہ اکے وضو کا پانی آپ کو پلایا ہے۔
عکرمہ کا قول ہے کہ عبد اللہ بن ابی ان میں عظیم الشان آدمی تھا۔ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی یہ آیت ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللّٰہ حتی ینفضوا۔ اور وہ شخص جس نے لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذلکہا تھا۔ جب وہ اپنے ہم نواؤں کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے تو اس کے لڑکے عبد اللہ نے تلوار سونت کر اپنے باپ سے کہا تیرا خیال و گمان تھا کہ اگر ہم واپس مدینہ پہنچ گے تو عزت والا ذلت والے کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔ اللہ کی قسم تو اس شہر میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا تا وقتیکہ رسول اللہ ا تمہیں اندر آنے کی اجازت نہ دیں۔
عبد اللہ بن ابی کا بیٹا عبد اللہ اپنے باپ کے لیے تلوار سونت کر مدینہ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا (جب باپ آیا) تو عبد اللہ نے کہا لئن رجعنا الی المدینۃکہنے والا تو ہی ہے نا۔ اللہ کی قسم تجھے معلوم ہوجائے گا کہ عزت تیرے لیے ہے یا رسول اللہ کے لیے۔ بخدا آپؐ کا تو سایہ بھی تجھ سے پناہ نہیں مانگے اور تو کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ ابن ابی چیخ اٹھا اے خزرج والو دیکھو میرا بیٹا مجھے میرے گھر میں داخل نہیںہونے دیتا ہے۔ یہ دوہائی اس نے تین بار دی۔ مگر عبد اللہ نے برملا کہا کہ یہ کبھی بھی رسول اللہ کی اجازت کے بغیر مدینہ میں جگہ نہیں پاسکتا۔ کچھ لوگ اکٹھے ہوکر عبد اللہ کے پاس بات چیت کرنے کے لیے گئے اور عبد اللہ سے گفتگو کی تو اس نے برملا کہا کہ اللہ کی قسم یہ اللہ اور اس کے رسول کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ اب یہ لوگ رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا جاؤ عبد اللہ سے کہہ دو کہ اپنے باپ کو داخل ہونے دے جب ان لوگوں نے عبد اللہ کو پیغام رسالت پہنچایا تو اس نے کہا جب حکم رسالت ہے تو سر آنکھوںپر۔ (ہاں اب وہ داخل ہوسکتا ہے)
پس منظر: فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرمؐ غیر قبیلہ اور غیر علاقہ والوں کو لے کر خود اپنے قبیلہ اور اپنے وطن پر حملہ آور ہوئے اور غیروں کے ہاتھوں اپنوں کی گردنوں پر تلوار چلائی۔ عرب کے لیے یہ بالکل نئی بات تھی کہ کوئی شخص خود اپنے قبیلہ اور اپنے وطن پر غیر قبیلہ والوں کو چڑھا لائے اور وہ بھی کسی انتقام یا زر و زمین کے قضیہ کی بنا پر نہیں بلکہ محض ایک کلمۂ حق کی خاطر، جب قریش کے اوباش مارے جانے لگے تو ابو سفیان نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! قریش کے نونہال کٹ رہے ہیں۔ آج کے بعد قریش کا نام و نشان نہ رہے گا۔ رحمۃ للعالمینؐ نے یہ سن کر اہل مکہ کو امان دے دی۔ انصار سمجھے کہ رسول اللہؐ کا دل اپنی قوم کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’حضوؐر آخر آدمی ہی تو ہیں اپنے خاندان والوں کا پاس کر ہی گئے۔ رسول اللہاکو ان باتوں کی خبر پہنچی تو انصار کو جمع کرکے مندرجہ بالا خطبہ فرمایا۔
جو کچھ حضوؐر نے فرمایا تھا، اسے لفظ بہ لفظ سچا کرکے دکھا دیا۔ باوجودیکہ مکہ معظمہ کے فتح ہوجانے کے بعد وہ علّت باقی نہ رہی تھی جس کی بنا پر حضوؐر ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تھے۔ مگر آپؐ نے مکہ میں قیام نہ فرمایا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ رسول خدا نے مکہ پر کسی وطنی یا انتقامی جذبہ کے تحت حملہ نہ کیا تھا، بلکہ محض اعلائے کلمۃ الحق مقصود تھا۔
اس کے بعد جب ہوازن اور ثقیف کے اموال فتح ہوئے تو پھر وہی غلط فہمی پیدا ہوئی۔ حضوؐر نے غنیمت میں سے قریش کے نو مسلموں کو زیادہ حصہ دیا۔ انصار کے بعض نوجوان سمجھے کہ یہ قومی پاسداری کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے بگڑ کر کہا ’’خدا رسول اللہ کو معاف کرے وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑتے ہیں حالاں کہ اب تک ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔‘‘ اس پر رسول اللہؐ نے ان کو پھر جمع کیا اور فرمایا کہ’’میں ان لوگوں کو اس لیے زیادہ دیتا ہوں کہ یہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ محض ان کی تالیف قلب مقصود ہے۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ یہ دنیا کا مال لے جائیں اور تم خدا کے رسولؐ کو لے جاؤ۔‘‘
غزوہ بنی المصطلق میں ایک غفاری اور ایک جہنی میں جھگڑا ہوگیا ۔ غفاری نے جہنی کو تھپڑ مارا بنی جہینہ انصار کے حلیف تھے۔ اس لیے جہنی نے انصار کو مدد کے لیے پکارا۔ بنی غفار مہاجرین کے حلیف تھے۔ اس لیے غفاری نے مہاجرین کو آواز دی۔ قریب تھا کہ فریقین کی تلواریں کھنچ جائیں رسول اللہؐ کو خبر ہوئی تو آپؐ نے فریقین کو بلا کر فرمایا کہ یہ کیا جاہلیت کی پکار تھی جو تمہاری زبانوں سے نکل رہی تھی۔ (مالکم و لدعوۃ الجاھلیۃ) انہوں نے کہا کہ ایک مہاجر نے انصاری کو مارا ہے آپؐ نے فرمایا ’’تم اس جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو، یہ بڑی گھناؤنی چیز ہے۔‘‘
اس غزوہ میں مدینہ کا مشہور قوم پرست لیڈر عبد اللہ بن ابی بھی شریک تھا۔ اس نے جو سنا کہ مہاجرین کے حلیف نے انصار کے حلیف کو مارا ہے تو کہا کہ ’’یہ ہمارے ملک میں آکر پھل پھول گئے ہیں اور اب ہمارے ہی سامنے سر اٹھاتے ہیں۔ ان کی مثل تو ایسی ہے کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تجھی کو پھاڑکھائے۔ بخدا مدینہ پہنچ کر جو ہم میں سے عزت والا ہوگا وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔‘‘ پھر اس نے انصار سے کہا کہ ’’یہ تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی اور اپنے اموال ان پر بانٹ دیئے۔ خدا کی قسم آج تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ ہوا کھاتے نظر آئیں گے۔‘‘ یہ باتیں رسول اللہؐ تک پہنچیں تو آپؐ نے عبد اللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کو بلا کر فرمایا کہ تمہارا باپ یہ یہ کہتا ہے۔ وہ اپنے باپ سے غایت درجہ محبت رکھتے تھے اور ان کو فخر تھا کہ خزرج میں کوئی بیٹا اپنے باپ سے اتنی محبت نہیں کرتا۔ مگر یہ قصہ سن کر انہوں نے عرض کیا کہ ’’یا رسول اللہؐ اگر حکم ہو تو میں اس کا سر کاٹ لاؤں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ پھر جب جنگ سے واپس ہوئے تو مدینہ پہنچ کر حضرت عبد اللہؓ اپنے باپ کے آگے تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے اور کہاکہ ’’تو مدینہ میں گھس نہیں سکتا جب تک کہ رسول اللہؐ اجازت نہ دیں۔ تو کہتا ہے کہ ہم میںجو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو مدینہ سے نکال دے گا۔ تو اب تجھے معلوم ہو کہ عزت صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ اس پر ابن ابی چیخ اٹھا کہ ’’لو سنو اے اہل خزرج! اب میرا بیٹا مجھ کو گھر میں گھسنے نہیں دیتا۔‘‘ لوگوں نے آکر حضرت عبد اللہ کو سمجھایا مگر انہوں نے کہا کہ ’’رسول اللہ کی اجازت کے بغیر یہ مدینہ کے سائے میں بھی پناہ نہیں لے سکتا۔‘‘ آخر کار لوگ رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ’’جاکر عبد اللہ سے کہو کہ اپنے باپ کو گھر میں جانے دے‘‘ جب عبد اللہ نے یہ فرمان مبارک سنا تو تلوار رکھ دی اور کہا ’’ان کا حکم ہے تو اب یہ جاسکتا ہے۔‘‘ (اس واقعہ کی پوری تفصیل ابن جریر کی تفسیر جلد۔۲۸۔ صفحہ ۶۶یا ۷۰ میں ملاحظہ فرمائیں۔)
بنو قینقاع پر جب حملہ کیا گیا تو حضرت عبادہ بن صامتؓ کو ان کے معاملہ میں حکم بنایا گیا اور انہوں نے فیصلہ دیا کہ اس پورے قبیلے کو مدینہ سے جلا وطن کردیا جائے۔ یہ لوگ حضرت عبادہ کے قبیلے خزرج کے حلیف تھے، مگر انہوں نے اس تعلق کا ذرہ برابر خیال نہ کیا۔ اس طرح بنو قریظہ کے معاملہ میں اوس کے سردار سعد بن معاذؓکو حکم بنایا گیا اور ان کا فیصلہ یہ تھا کہ بنو قریظہ کے تمام مردوں کو قتل کردیاجائے۔ عورتوں اور بچوں کو سبایا اور ان کے اموال کو غنیمت قرار دیا جائے۔ اس معاملہ میں حضرت سعدؓ نے ان حلیفانہ تعلقات کا ذرا خیال نہ کیا جو اوس اور بنو قریظہ کے درمیان مدت سے قائم تھے۔ حالاں کہ عرب میں حلف کی جو اہمیت تھی وہ سب کو معلوم ہے اور مزید برآں یہ لوگ صدیوں سے انصار کے ہم وطن تھے۔
(اسلامی ریاست، اسلامی تصور قومیت ’’رشتہ دین پر‘

اسلامی ریاست میں انتظامیہ کا اصل کام

٢٣٥-مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ۔
’’جس نے ہمارے اس کام (یعنی اسلامی نظام زندگی) میںکوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس کے مزاج سے بیگانہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ۔(٢٨)
٢٣٦- مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلاَمِ۔ (البیھقی فی شعب الایمان)
’’جس نے کسی صاحب بدعت (یعنی اسلامی زندگی میں غیر اسلامی طریقے رائج کرنے والے) کی توقیر کی، اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔‘‘
تخریج:(۱) قَالَ: وَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، اَنَا اَبُوْ ھَمَّامٍ، نَا حَسَّانُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ الطَّائِفِیِّ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلاَمِ۔(٢٩)
تشریح: ایک اسلامی ریاست میں انتظامیہ کے (Executive) کا اصل کام احکام الٰہی کو نافذ کرنا اور ان کے نفاذ کے لیے ملک اور معاشرے میں مناسب حالات پیدا کرنا ہے۔ یہی امتیازی خصوصیت اس کو ایک غیر مسلم ریاست کی انتظامیہ سے ممیّز کرتی ہے، ورنہ ایک کافر حکومت اور مسلم حکومت میں کوئی فرق باقی ہی نہیں رہتا۔ انتظامیہ وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں ’’اولی الامر‘‘ اور حدیث میں ’’امراء‘‘ کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن وحدیث دونوں میں ان کے لیے سمع و طاعت (Obedience)کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ احکام خدا اور رسول کے تابع رہیں، ان سے آزاد ہوکر معصیت اور بدعت اور احداث فی الدین کی راہ پر نہ چل پڑیں۔ قرآن اس باب میں صاف کہتاہے۔
وَلاَ تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۔ (کھف:۲۸)’’اور کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہو اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہو اور جس کا امر حدود آشنا نہ ہو۔‘‘وَلاَ تُطِیْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَ الَّذِیْنَoلا یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ یُصْلِحُوْنَ۔(الشعراء:١٥١-١٥٢) ’’اور ان حد سے گزرجانے والوں کے امر کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرت ہیں، اور کوئی اصلاح نہیں کرتے۔‘‘

اسلامی نظام زندگی میں مشاورت کی اہمیت

٢٣٧- اجتماعی خلافت کے مذکورہ بالا تقاضے کو قرآن ان الفاظ میں واضح طور پر بیان کرتا ہے: (وَ اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ) (الشورٰی:۳۸) ’’اور ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔‘‘
اس آیت میں اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اس میں تمام اجتماعی امور مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ یہ صرف بیان خصوصیت ہی نہیں ہے بلکہ اپنے فحوائے کلام کے لحاظ سے حکم بھی ہے اور اسی بنا پر کسی اجتماعی کام کو مشورے کے بغیرانجام دینا ممنوع ہے۔ چناں چہ خطیب بغدادی نے حضرت علیؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ:
قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلْاَمْرُ یَنْزِلُ بِنَا بَعْدَکَ لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ قُرْاٰنٌ وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْکَ فِیْہِ شَیْئٌ، قَالَ اَجْمِعُوْا الْعَابِدَ( اسلامی ریاست کے ص۴۰۶ پر اجمعوا العابدین ہے۔ (مرتب) مِنْ اُمَّتِیْ وَاجْعَلُوْہُ بَیْنَکُمْ شُوْرٰی وَلاَ تَقْضُوْا فِیْہِ بِرَاْیٍ وَاحِدٍ۔( یعنی ایسے لوگوں کو جو اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں، اس کے مقابلے میں خود مختاری و بغاوت کا رویہ اختیار کرنے والے نہ ہوں۔) (روح المعانی)
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے بعد کوئی معاملہ ایسا پیش آجائے جس کے متعلق نہ قرآن میں کچھ اترا اور نہ آپ سے کوئی بات سنی گئی ہو؟ فرمایا میری امت میں سے عبادت گزار لوگوں کو جمع کرو اور اسے آپس کے مشورے کے لیے رکھ دو اور کسی ایک شخص کی رائے پر فیصلہ نہ کرو۔
پھر اس شوریٰ کی اصل روح کو نبیؐ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
مَنْ اَشَارَ عَلٰی اَخِیْہِ بِاَمْرٍ یَعْلَمُ اَنَّ الرُّشْدَ فِیْ غَیْرِہٖ فَقَدْ خَانَہٗ۔
’’جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسی بات کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ خود جانتا ہو کہ صحیح بات دوسری ہے۔ تو اس نے دراصل اس کے ساتھ خیانت کی۔ (ابو داؤد)
تخریج:(۱) عَنْ عَلِیٍّ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ، قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلْاَمْرُ یَنْزِلُ بِنَا بَعْدَکَ لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ قُرْاٰنٌ وَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْکَ فِیْہِ شَـْیئٌ؟ قَالَ:اَجْمِعُوْا لَہُ الْعَابِدِیْنَ مِنْ اُمَّتِیْ وَاجْعَلُوْہُ بَیْنَکُمْ شُوْرٰی وَلاَ تَقْضُوْہُ بَرَأیٍ وَّاحِدٍ۔ وَ یَنْبَغِیْ اَنْ یَّکُوْنَ الْمُسْتَشَارُ عَاقِلاً کَمَا یَنْبَغِیْ اَنْ یَّکُوْنَ عَابِدًا۔(٣٠)
مجمع الزوائد میں ہے:
(۲) قَالَ عَلِیٌّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔ اَرَأَیْتَ اِنْ عَرَضَ لَنَا اَمْرٌ لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ قُرْاٰنٌ وَلَمْ تَمْضِ فِیْہِ سُنَّۃٌ مِنْکَ؟ قَالَ: تَجْعَلُوْنَہٗ شُوْرٰی بَیْنَ الْعَابِدِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ تَقْضِیْ بِرَأْیٍ خَاصَّۃٍ۔
کنز العمال میں ہے:
(۳) عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ عَرَضَ لِیْ اَمْرٌ لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ قَضَائٌ فِیْ اَمْرِہٖ وَلاَ سُنَّۃٌ کَیْفَ تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: تَجْعَلُوْنَہٗ شُوْرٰی بَیْنَ اَھْلِ الْفِقْہِ وَالْعَابِدِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ تَعْصِیْ فِیْہِ بِرَأْیٍ خَاصَّۃٍ۔
(۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَأَیْتَ اِنْ عَرَضَ لَنَا اَمْرٌ لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ قُرْاٰنٌ وَلَمْ تَمْضِ فِیْہِ سُنَّۃٌ مِّنْکَ، قَالَ: تَجْعَلُوْنَہٗ شُوْرٰی بَیْنَ الْعَابِدِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ تَقْضُوْنَہٗ بِرَأْیٍ خَاصَّۃٍ۔
(۵) وَ عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ نَزَلَ بِنَا اَمْرٌ لَیْسَ فِیْہِ بَیَانُ اَمْرٍ، وَلاَ نَھْیٌ، فَمَا تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: شَاوِرُوْا فِیْہِ الْفُقَھَآئَ وَالْعَابِدِیْنَ، وَلاَ تُمْضُوْا فِیْہِ رَأیٍ خَاصَّۃٍ۔(٣١)
(۶) حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ الْقَاسِمِ وَ عَلِیُّ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالاَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ رَشِیْقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُوْسَی الْکُوْفِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اَبِی الْفَیَّاضِ الْبَرَقِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنِ بَدِیْعٍ، عَنْ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ، عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْاَمْرُ یَنْزِلُ بِنَا بَعْدَکَ، لَمْ یَنْزِلْ بِہٖ الْقُرْاٰنُ وَلَمْ نَسْمَعْ مِنْکَ فِیْہِ شَیْئًا، قَالَ:اَجْمِعُوْا لَہُ الْعَابِدِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَاجْعَلُوْہُ شُوْرٰی بَیْنَکُمْ، وَلاَ تَقْضُوْا فِیْہِ بِرَاْیٍ وَاحِدٍ۔ (٣٢)
(۷) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، ثَنَا اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِیْ، ثَنَا سَعِیْدٌ یَعْنِیْ ابْنُ اَبِیْ اَیُّوْبَ۔ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ اُفْتِیَ ح وَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِیْ یَحْیَ بْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ اَبِیْ نُعَیْمَۃَ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ الطُّنْبُذِیِّ رَضِیْعِ عَبْدِ الْمَلِکِ ابْنِ مَرْوَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، یَقُوْلُُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ اُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ اِثْمُہٗ عَلٰی مَنْ اَفْتَاہُ زَادَ سُلَیْمَانُ الْمُھْرِیُّ فِیْ حَدِیْثِہٖ وَ مَنْ اَشَارَ عَلٰی اَخِیْہِ بِاَمْرٍ یَعْلَمُ اَنَّ الرُّشْدَ فِیْ غَیْرِہٖ فَقَدْ خَانَہٗ۔ وَ ھٰذَا لَفْظُ سُلَیْمَانَ۔(٣٣)
تشریح: یہ حکم نہایت وسیع الفاظ میں ہے اور اس میں شوریٰ کی کوئی خاص شکل معین نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے احکام ساری دنیا کے لیے ہیں اور ہمیشہ کے لیے ہیں۔ اگر شوریٰ کا کوئی خاص طریقہ مقرر کردیا جاتا تو وہ عالمگیر اور ابدی نہ ہوسکتا۔ شوریٰ براہ راست تمام لوگوں سے ہو، یا لوگوں کے نمائندوں سے۔ نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں یا خواص کے ووٹوں سے؟ انتخاب مملکت گیر ہو یا صرف صدر مقام میں؟ انتخاب الیکشن کی صورت میں ہو یا ایسے لوگ لے لیے جائیں جن کی نمائندہ حیثیت معلوم و معروف ہو؟ مجلس شوریٰ ایک ایوانی ہو یا دو ایوانی۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا ایک جواب ہر سوسائٹی اور ہر تمدن کے لیے یکساں موزوں نہیں ہوسکتا۔ ان کے جواب کی مختلف صورتیں مختلف حالات کے لیے ہوسکتی ہیں اور حالات کی تبدیلی سے نئی نئی صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے شریعت نے ان امور کو کھلا چھوڑ دیاہے۔ نہ کسی خاص شکل کا تعین کیا ہے اور نہ کسی خاص شکل کو ممنوع ہی قرار دیا ہے۔ البتہ اصولاً اوپر کی آیت اور اس کی توضیح کرنے والی احادیث میں تین باتیں لازم کردی گئی ہیں۔
(۱) مسلمانوں کا کوئی اجتماعی کام مشورے کے بغیر انجام نہ پانا چاہیے۔ یہ چیز ملوکیت کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ اس لیے کہ حکومت کے معاملات میں سب سے اہم معاملہ تو خود رئیس حکومت کا تقرر ہے۔ اگر دوسرے معاملات میں مشورہ لازم ہے تو رئیس حکومت کا زبردستی مسلط ہوجانا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ اس طرح یہ چیز ڈکٹیٹر شپ کو بھی ممنوع ٹھہراتی ہے۔ کیوں کہ ڈکٹیٹر شپ کے معنی استبداد کے ہیں اور استبداد شوریٰ کی ضد ہے۔ اسی طرح دستور کو عارضی یا مستقل طور پر معطل کرنے کے اختیارات بھی اس حکم کی موجودگی میں رئیس مملکت کو نہیں دیے جاسکتے۔ کیوں کہ تعطل کے دور میں لامحالہ وہ استبداد سے کام کرے گا اور استبداد ممنوع ہے۔
(۲) معاملہ جن لوگوں کے اجتماعی کام سے متعلق ہو، ان سب کو مشورے میں شریک ہونا چاہیے۔ خواہ وہ براہ راست شریک ہوں یا اپنے معتمد علیہ نمائندوں کے واسطے سے شریک ہوں۔
(۳) مشورہ آزادانہ اور بے لاگ اور مخلصانہ ہونا چاہیے، دباؤ اور لالچ کے تحت ووٹ یا مشورہ لینا دراصل مشورہ نہ لینے کا ہم معنی ہے۔
پس دستور کی تفصیلات خواہ کچھ ہوں، اس میں شریعت کے یہ تینوں اصول بہر حال ملحوظ رہنے چاہیے۔ اس میں ایسی کوئی گنجایش نہ رکھی جانی چاہیے کہ کسی وقت بھی عوام سے یا اُن کے معتمد علیہ نمائندوں سے مشورہ لیے بغیر حکومت کی جانے لگے، اس میں انتخابات کا ایسا نظام تجویز کیا جانا چاہیے جس سے پوری قوم شریک مشورہ ہوسکے اور اس میں اُن اسباب کا سد باب ہونا چاہیے جن کے زیراثر عوام سے یا ان کے نمائندوں سے خوف یا لالچ یا فریب کے تحت رائے لینا ممکن ہو۔
(اسلامی ریاست، اصول مشاورت)

اصول انتخاب

٢٣٨-اِنَّا لاَ نُوَلِّیْ عَلٰی عَمَلِنَا ھٰذَا اَحَداً سَأَلَہٗ اَوْ حَرَصَ عَلَیْہِ۔ (متفق علیہ)
’’خدا کی قسم! ہم اپنی اس حکومت کے کسی کام پر کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کی درخواست کرے یا اس کا حریص ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، عَنْ بُرَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ اَنَا وَ رَجُلَیْنِ مِنْ قَوْمِیْ فَقَالَ اَحَدُ الرَّجُلَیْنِ اَمِّرْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ قَالَ الْاٰخَرُ: مِثْلَہٗ، فَقَالَ: اِنَّا لاَ نُوَلِّیْ ھٰذَا مَنْ سَاَلَہٗ، وَلاَ مَنْ حَرَصَ عَلَیْہِ۔(٣٤)
(۲) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ، عَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ حُمَیْدُ بْنُ ھِلاَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: اَقْبَلْتُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَ مَعِیْ رَجُلاَنِ مِنَ الْاَشْعَرِیِّیْنَ اَحَدُھُمَا عَنْ یَّمِیْنِیْ وَالْاٰخَرُ عَنْ یَسَارِیْ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَسْتَاکُ، فَکِلاَھُمَا سَأَلَ، فَقَالَ: یَا اَبَا مُوْسٰی اَوْ قَالَ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا اَطْلَعَانِیْ عَلٰی مَا فِیْ اَنْفُسِھِمَا، وَمَا شَعَرْتُ اَنَّھُمَا یَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی سِوَاکِہٖ تَحْتَ شَفَتِہٖ قَلَصَتْ، فَقَالَ: لَنْ اَوْلاَ نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَہٗ وَ لٰـکِنْ اِذْھَبْ اَنْتَ یَا اَبَا مُوْسٰی اَوْ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ اِلَی الْیَمَنِ ثُمَّ اَتَّبَعَہٗ مُعَاذُ بْنُ جََبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ، اَلْقٰی لَہٗ وِسَادَۃً، قَالَ: اِنْزِلْ، وَ اِذَا رَجُلٌ عِنْدَہٗ مُوْثَقٌ، قَالَ: مَا ھٰذَا؟ قَالَ:کَانَ یَھُوْدِیًّا فَاَسْلَمَ، ثُمَّ تَھَوَّدَ، قَالَ: اِجْلِسْ، قَالَ: لاَ اَجْلِسُ حَتّٰی یُقْتَلَ قَضَائُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ فَاُمِرَ بِہٖ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاکَرَ قِیَامَ اللَّیْلِ فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَمَا اَنَا فَاَقُوْمُ وَ اَنَامُ وَ اَرْجُوْا فِیْ نَوْمَتِیْ مَا اَرْجُوْا فِیْ قَوْمَتِیْ۔(٣٥)
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ میں نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے ہمراہ دو اشعری بھی تھے۔ ان میں سے ایک میری دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف تھا اور آن حضرت ااس وقت مسواک فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ انہیں کہیں عامل مقرر فرما دیں۔ آپ نے فرمایا اے ابو موسیٰ یا فرمایا عبد اللہ بن قیس۔ ابو موسیٰ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا۔ ان دونوں نے مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتائی تھی اور مجھے علم بھی نہیں تھا کہ یہ دونوں حضرات آپ سے کسی عہدے پر تقرری کی درخواست کریں گے۔ اس موقعہ پر میں گویا آپؐ کی مسواک کو دیکھ رہا تھا جو آپؐ نے اپنے ہونٹوں میں دبائی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا ہم خود درخواست کرنے والے کو کبھی کسی ذمہ داری پر عامل نہیں بناتے لیکن اے ابو موسیٰ یا فرمایا عبد اللہ بن قیس تم یمن جاؤ۔ پھر معاذ بن جبل اس کے پیچھے گئے۔ جب معاذ بن جبل یمن پہنچے تو ابو موسیٰ نے ان کے لیے بچھونا بچھایا اور کہا نیچے تشریف لایئے۔ اس وقت ان کے پاس ایک آدمی دیکھا جو بندھا ہوا تھا۔ اس کے متعلق دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ ابو موسیٰ نے بتایا کہ یہ یہودی ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر یہودی بن گیا۔ ابو موسیٰ نے کہا تشریف رکھیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس وقت نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اسے قتل نہیں کردیا جاتا۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کا یہی فیصلہ ہے۔ اس جملہ کو تین بار دہرایا۔ چناں چہ اس کے قتل کا حکم جاری کیا گیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں ہم نے شب بیداری کا تذکرہ کیا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تورات کو عبادت بھی کرتاہوں اور سوتا بھی ہوں اور حالت نیند میں اس چیز کی توقع رکھتا ہوں جس کی توقع حالت بیداری میں رکھتا ہوں۔
(۳) حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ اَخِیْہِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّۃَ الْکَلْبِیِّ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ:اِنْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَیْنِ اِلَی النَّبِیِّﷺ فَتَشَھَّدَ اَحَدُھُمَا، ثُمَّ قَالَ: جِئْنَا لِتَسْتَعِیْنَ بِنَا عَلٰی عَمَلِکَ، وَ قَالَ الْاٰخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِہٖ، فَقَالَ:اِنَّ اَخْوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہٗ، فَاعْتَذَرَ اَبُوْ مُوْسٰی اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: لَمْ اَعْلَمْ لِمَا جَآئَ لَہٗ فَلَمْ یَسْتَعِنْ بِھِمَا عَلٰی شَـْیئٍ حَتّٰی مَاتَ۔(٣٦)
تشریح: رئیس حکومت، وزراء، اہل شوریٰ اور حکام کے انتخاب میں کیا امور ملحوظ رہنے چاہیے، اس باب میں قرآن و سنَّت کی ہدایات یہ ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا۔ (النساء:٥٨)’’اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ امانتیں (یعنی اعتماد کی ذمہ داریاں) اہل امانت (یعنی امین لوگوں) کے سپرد کرو۔‘‘ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔ (الحجرات:١٣) ’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔‘‘خِیَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَھُمْ وَ یُحِبُّوْنَکُمْ وَ تُصَلُّوْنَ عَلَیْھِمْ وَ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ وَ شِرَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُبْغِضُوْنَھُمْ وَ یَبْغِضُوْنَکُمْ وَ تَلْعَنُوْنَھُمْ وَ یَلْعَنُوْنَکُمْ۔ (رواہ مسلم)’’تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور جن کو تم دعا دو اور وہ تمہیں دعا دیں اور تمہارے بد ترین سردار وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں اور جن پر تم لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔‘‘ اِنَّ اَخَوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہٗ۔ (ابو داوٗد)’’ہمارے نزدیک تم میں سب سے برا خائن وہ شخص ہے جو اس کا خود طالب ہو۔‘‘حدیث سے گزر کر یہ بات تاریخ کے صفحات پر بھی ثبت ہوچکی ہے کہ اسلام میں عہدوں کی طلب سخت ناپسندیدہ چیز ہے۔ چناں چہقَلْقَشَنْدِیْ اپنی کتاب صبح الاعشی میںبیان کرتا ہے۔وَ قَدْ اَثَرَ عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّہٗ قَالَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ھٰذَا الْاَمْرُ فَقَالَ لِیْ یَا اَبَا بَکْرٍ ھُوَ لِمَنْ یَّرْغَبُ عَنْہُ لاَ لِمَنْ یُجَاحِشُ عَلَیْہِ، وَ لِمَنْ یَتَضَائَ لُ عَنْہُ، لاَ لِمَنْ یَّتَقَبَّحُ اِلَیْہِ۔ ھُوَ لِمَنْ یُقَالُ ھُوَلَکَ لاَ لِمَنْ یَّقُوْلُ ھُوَ لِیْ۔ (صبح الاعشٰی للقلقشندی ج۱، ص:۲۴۰)’’حضرت ابوبکرؓ سے ماثور ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ا سے امارت کے بارے میں دریافت کیا تو حضوؐر نے جواب دیا اے ابو بکر وہ اس کے لیے ہے جو اس سے بے رغبت ہو نہ کہ اس کے لیے جو اس پر ٹوٹا پڑتا ہو وہ اس کے لیے ہے جو اس سے بچنے کی کوشش کرے، نہ کہ اس کے لیے جو اس پر جھپٹے۔ وہ اس کے لیے ہے جس سے کہاجائے کہ یہ تیرا حق ہے نہ کہ اس کے لیے جو خود کہے کہ یہ میرا حق ہے۔ ( یہ اثر اگرچہ کسی حدیث کی کتاب میں ہمیں ان الفاظ میں نہیں ملا ہے، بلکہ یہ ایک مورخ کا بیان ہے، لیکن ہم نے اس بنا پر اسے نقل کردیا ہے کہ حدیث کی دو مستند روایتیں اسی معنی میں اوپر نقل کی جاچکی ہیں۔ اس طرح کم زور روایتیں معنی کے اعتبار سے قوی ہوجاتی ہیں جب کہ ان کی تائید میں صحیح روایات موجود ہوں۔ (اسلامی ریاست،اصول انتخاب)
یہ ہدایات اگرچہ محض اصولی ہدایات ہیں ان میںیہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مطلوبہ صفات کے سرداروں اور نمائندوں کو منتخب کرنے اور ناپسندیدہ لوگوں کو روکنے کے لیے مشینری کیا ہو، لیکن بہ ہر حال یہ وقت کے دستور سازوں کا کام ہے کہ ان ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مناسب عملی تدابیر تجویز کریں۔ انہیں انتخاب کا ایسا نظام سوچنا چاہیے جس سے امین اور متقی اور عوام کے محبوب اور خیرخواہ لوگ منتخب ہوں، اور وہ لوگ نہ ابھر سکیں، جو عوام کے ووٹ لے کربھی عوام کے مبغوض ہوتے ہیں، جن پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوتی ہے، جن کے حق میں لوگ بد دعا کرتے ہیں، اور جنہیں عہدے پیش نہیں کیے جاتے، بلکہ وہ خود عہدوں پر جھپٹتے ہیں۔

عورتوں کے مناصب

٢٣٩- لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمُ امْرَأَۃً۔ (بخاری)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْھَیْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، قَالَ: لَقَدْ نَفَعَنِی اللّٰہُ بِکَلِمَۃٍ اَیَّامَ الْجَمَلِ لَمَّا بَلَغَ النَّبِیَّ ﷺ اِنَّ فَارِسَ مَلَّکُوْا ابْنَۃَ کِسْرٰی قَالَ: لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمُ امْرَأَۃً۔(٣٧)
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ سَعِیْدِ الْاَشْقَرُ، نَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَ ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالاَ: نَا صَالِحُ الْمُرِّیُّ، عَنْ سَعِیْدِ الْجَرِیْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّھْدِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِذَا کَانَ اُمَرَائُ کُمْ خِیَارَکُمْ، وَ اَغْنِیَائُ کُمْ سُمَحَائَ کُمْ، وَ اُمُوْرُکُمْ شُوْرٰی بَیْنَکُمْ، فَظَھْرُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ بَطْنِھَا وَ اِذَا کَانَ اُمَرَائُ کُمْ شِرَارَکُمْ، وَ اَغْنِیَاؤُکُمْ بُخَلائَ کُمْ، وَ اُمُوْرُکُمْ اِلٰی نِسَائِ کُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ ظَھْرِھَا۔(٣٨)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا۔ جب تمہارے امراء بہترین ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے باہمی معاملات مشورے سے طے ہوں تو زمین کی پشت تمہارے لیے اس کے پیٹ سے بہتر ہے اور جب تمہارے امراء بدترین لوگ ہوں اور تمہارے دولت مند بخیل ہوں اور جب تمہارے معاملات تمہاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۔
تشریح: اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْط فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰـہُ (النساء:۳۴) ’’مرد عورتوں پر قوام ہیں بوجہ اس فضیلت کے جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر دی ہے اور بوجہ اس کے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس صالح عورتیں اطاعت شعار اور غیب کی حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں اللہ کی حفاظت کے تحت۔‘‘
یہ دونوں نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت میں ذمہ داری کے مناصب (خواہ وہ صدارت ہو یا وزارت یا مجلس شوریٰ کی رکنیت، یا مختلف محکموں کی امارت) عورتوں کویہ پوزیشن دینا یا اس کے لیے گنجایشیں رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے اور اطاعت خدااور رسول کی پابندی قبول کرنے والی ریاست اس خلاف ورزی کی سرے سے مجاز نہیں ہے۔ چناں چہ ہم کو نبی اکے یہ واضح ارشادات ملتے ہیں:
اِذَا کَانَ اُمَرَائُ کُمْ شِرَارَکُمْ وَ اَغْنِیَائُ کُمْ بُخَلاَئَ کُمْ وَ اُمُوْرَکُمْ اِلٰی نِسَائِ کُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ مِنْ ظَھْرِھَا۔ (ترمذی)جب تمہارے امراء تمہارے بدترین لوگ ہوں، اور جب تمہارے دولت مند بخیل ہوں اور جب تمہارے معاملات تمہاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہترہے۔عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ اَھْلَ فَارِسَ مَلَکُوْا عَلَیْھِمَ بِنْتُ کِسْرٰی قَالَ لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمُ اِمْرَأَۃً۔ (بخاری، احمد، نسائی، ترمذی)ابوبکرہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکو خبر پہنچی کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے تو آپؐ نے فرمایا وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کیے ہوں۔
یہ دونوں حدیثیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد الرجال قوامون علی النساء کی ٹھیک ٹھیک تفسیر بیان کرتی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سیاست و ملک داری عورت کے دائرہ عمل سے خارج ہے۔ رہا یہ سوال کہ عورت کا دائرہ عمل کیا ہے تو نبی اکے یہ ارشادات اس کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ (اسلامی ریاست، ملکی سیاست میں عورتوں کا حصہ)

عورت کا دائرہ عمل

٢٤٠- وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَ وَلَدِہٗ وَ ھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔ (ابو داؤد)
’’اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی راعیہ ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلاَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، فَالْاَمِیْرُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ عَلَیْھِمْ، وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْھُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہٖ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْھُمْ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَ وَلَدِہٖ وَ ھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلٰی مَالِ سَیِِّدِہٖ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْہُ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔(٣٩)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا خوب سن رکھو تم سب راعی ہو اور ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے اور لوگوں پر جو حکمران ہے وہ ان پر راعی ہے اور وہ ان کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر والوں پر راعی ہے اور ان کے بارے میں وہ جواب دہ ہے۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی راعیہ ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے اور غلام اپنے آقا کے مال کا راعی ہے اور وہ اس بارے میں جواب دہ ہے پس تم سب راعی ہو اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں جواب دہی ہوگی۔
٢٤١-اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃِ اِلاَّ اَرْبَعَۃٌ۔ عَبْدٌ مَّمْلُوْکٌ۔ اَوْ اِمْرَأَۃٌ اَوْ صَبِیٌّ اَوْ مَرِیْضٌ۔ (ابو داؤد)
’’جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا حق اور واجب ہے بجز چار قسم کے لوگوں کے ایک غلام، دوسرے عورت، تیسرے بچہ، چوتھے مریض۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ، حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، ثَنَا ھُرَیْمٌ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ اِلاَّ اَرْبَعَۃٌ، عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ، اَوِامْرَأَۃٌ، اَوْ صَبِیٌّ اَوْ مَرِیْضٌ۔(٤٠)
٢٤٢-عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ نُھِیْنَا عَنْ اِتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ۔ (بخاری)
’’ام عطیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا تھا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قَبِیْصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ خَالِدِ الْحَذَّآئِ، عَنْ اُمِّ الْھُذَیْلِ، عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ اَنَّھَا قَالَتْ: نُھِیْنَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا۔(٤١)
تشریح: اگرچہ ہمارے پاس اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں مضبوط عقلی دلائل بھی ہیں اور کوئی چیلنج کرے تو ہم انہیں پیش کرسکتے ہیں۔ مگر اول تو ان کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرے ہم کسی مسلمان کا یہ حق ماننے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں کہ وہ خدا اور رسول کے واضح احکام سننے کے بعد ان کی تعمیل کرنے سے پہلے اور تعمیل کے لیے شرط کے طور پر عقلی دلائل کا مطالبہ کرے۔ مسلمان کو اگر وہ واقعی مسلمان ہے پہلے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے، پھر وہ اپنے دماغی اطمینان کے لیے عقلی دلائل مانگ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ پہلے عقلی حیثیت سے مطمئن کرو ورنہ میں خدا اور رسول کا حکم نہ مانوں گا تو ہم اسے سرے سے مسلمان ہی نہیں مانتے، کجا کہ اس کو ایک اسلامی ریاست کے لیے دستور بنانے کا مجاز تسلیم کریں۔ تعمیل حکم کے لیے عقلی دلیل مانگنے والے کا مقام اسلام کی سرحد سے باہر ہے نہ کہ اس کے اندر۔
سیاست و ملک داری میں عورت کے دخل کو جائز ٹھہرانے والے اگر کوئی دلیل رکھتے ہیں تو وہ بس یہ کہ حضرت عائشہؓ حضرت عثمانؓ کے خون کا دعویٰ لے کر اٹھیں اور حضرت علیؓ کے خلاف جنگ جمل میں نبرد آزما ہوئیں۔ مگراول تو یہ دلیل اصولاً ہی غلط ہے اس لیے کہ جس مسئلے میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی واضح ہدایت موجود ہو اس میں کسی صحابی کا کوئی ایسا انفرادی فعل جو اس ہدایت کے خلاف نظر آتا ہو۔ ہرگز حجت نہیں بن سکتا۔ صحابہ کی پاکیزہ زندگیاں بلا شبہ ہمارے لیے مشعل ہدایت ہیں۔ مگر اس غرض کے لیے کہ ہم ان کی روشنی میں اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ نہ اس غرض کے لیے کہ ہم اللہ اور رسول کی ہدایت چھوڑ کر ان میں سے کسی کی انفرادی لغزشوں کا اتباع کریں۔ پھر جس فعل کو اسی زمانہ میں جلیل القدر صحابہؓ نے غلط قرار دیا تھا، اور جس پر بعد میں خود ام المؤمنین بھی نادم ہوئیں۔ اسے آخر کس طرح اسلام میںایک نئی بدعت کا آغاز کرنے کے لیے دلیل قرار دیا جاسکتاہے۔
حضرت عائشہؓ کے اس اقدام کی اطلاع پاتے ہی ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے ان کو جو خط لکھا تھا وہ پورا کا پورا ابن قتیبہ نے ’’الامامۃ والسیاسۃ‘‘ میں اور ابن عبد ربہ نے عقد الفرید میں نقل کیا ہے۔ اسے ملاحظہ فرمایئے کتنے پرزور الفاظ میں وہ فرماتی ہیں۔ ’’کہ آپ کے دامن کو قرآن نے سمیٹ دیا ہے، آپ اسے پھیلایئے نہیں‘‘ اور ’’کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ انے آپ کو دین میں افراط برتنے سے روکا ہے؟ اور یہ کہ آپ رسول اللہؐ کو کیا جواب دیتیں اگر وہ آپ کو اس طرح کسی صحرا میں ایک گھاٹ سے دوسرے گھاٹ کی طرف اونٹ دوڑاتے ہوئے دیکھ لیتے؟‘‘
پھر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے اس قول کو یاد کیجیے کہ ’’عائشہؓ کے لیے ان کا گھر ان کے ہودے سے بہتر ہے۔‘‘
اور حضرت ابوبکرہؓ کا یہ قول بخاری میں ملاحظہ فرمالیجیے کہ میں جنگ جمل کے فتنے میں مبتلا ہونے سے صرف اس لیے بچ گیا کہ مجھے رسول اللہا کا یہ ارشاد یاد آگیا ’’کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کردیئے ہوں۔‘‘
حضرت علیؓ سے بڑھ کر اس زمانے میںکون شریعت کا جاننے والا تھا؟ انہوں نے صاف الفاظ میں حضرت عائشہؓکو لکھا کہ آپ کا یہ اقدام حدود شریعت سے متجاوز ہے، اور حضرت عائشہؓ اپنی کمال درجے کی ذہانت و فقاہت کے باوجود اس کے جواب میں کوئی دلیل نہ پیش کرسکیں۔ حضرت علیؓ کے الفاظ یہ تھے کہ ’’بلا شبہ آپ اللہ اور اس کے رسول ہی کی خاطر غضب ناک ہوکر نکلی ہیں، مگر آپ ایک ایسے کام کے پیچھے پڑی ہیں جس کی ذمہ داری آپؐ پر نہیں ڈالی گئی۔ عورتوں کو آخر جنگ اور اصلاح بین الناس سے کیا تعلق؟ آپ عثمانؓ کے خون کا دعویٰ لے کر اٹھی ہیں۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ جس شخص نے آپ کو اس بلا میں ڈالا اور اس معصیت پر آمادہ کیا وہ آپ کے حق میں عثمانؓ کے قاتلوں سے زیادہ گناہ گار ہے۔‘‘
دیکھیے، اس خط میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ حضرت عائشہؓ کے فعل کو صریحاً خلاف شرع قرار دے رہے ہیں۔ مگر حضرت عائشہؓ اس کاکوئی جواب اس کے سوا نہ دے سکیں کہ جل الامر عن العتاب۔ معاملہ اب اس حد سے گزر چکاہے کہ عتاب و ملامت سے کام چل سکے۔ پھر جنگ جمل کے خاتمے پر حضرت علیؓ ام المومنینؓ سے ملنے تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا یا صاحبۃ الھودج قد امرک اللّٰہ ان تقعدی فی بیتک ثم خرجت تقاتلین؟ اے ہودے والی، اللہ نے آپ کو گھر بیٹھنے کا حکم دیا تھا اور آپ لڑنے کے لیے نکل پڑیں‘‘ مگر اس وقت بھی حضرت عائشہؓ یہ نہ کہہ سکیں۔ کہ اللہ نے ہم عورتوں کو گھر بیٹھنے کا حکم نہیں دیا ہے اور ہمیں سیاست اور جنگ میں حصہ لینے کا حق ہے۔
پھر یہ بھی ثابت ہے کہ آخر کار حضرت عائشہؓ خود اپنے اس فعل پر پچھتاتی رہیں۔ چناں چہ علامہ ابن عبد البر استیعاب میں یہ روایت لاتے ہیں کہ ام المومنینؓ نے عبد اللہ بن عمرؓسے شکایتاً فرمایا ’’اے ابو عبد الرحمن تم نے کیوں نہ مجھے اس کام پر جانے سے منع کیا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’میں نے دیکھا کہ ایک شخص (یعنی عبد اللہ بن زبیر) آپ کی رائے پر حاوی ہوگیا ہے اور مجھے امید نہ تھی کہ آپ اس کے خلاف چل سکیں گی‘‘ اس پر ام المومنین نے فرمایا ’’کاش تم مجھے منع کردیتے تو میں نہ نکلتی۔‘‘
اس کے بعد جناب صدیقہؓ کے عمل میں آخر کیا دلیل باقی رہ جاتی ہے جس کے بل بوتے پر کوئی صاحب علم یہ دعویٰ کرسکتاہو کہ اسلام میں عورتیں بھی سیاست اور نظم مملکت کی ذمہ داری میں شریک قرار دی گئی ہیں؟ رہے وہ لوگ جن کے لیے اصل معیار حق صرف دنیاکی غالب قوموں کا طرز عمل ہے، اور جنہیں بہر حال چلنا اسی طرف ہے جس طرف انبوہ جارہا ہو، تو انہیں کس نے کہا ہے کہ اسلام کو اپنے ساتھ ضرور لے چلیں۔ ان کا جدھر جی چاہے شوق سے جائیں۔ مگر کم از کم اتنی راست بازی تو ان میں ہونی چاہیے کہ جس مقتدا کے دراصل وہ پیرو ہیں اسی کا نام لیں۔ بلا دلیل اسلام کی طرف وہ باتیں منسوب نہ کریں جن سے خداکی کتاب اور اس کے رسول کی سنت اور قرون مشہود لہا بالخیر کی تاریخ صاف صاف انکار کر رہی ہے۔
(اسلامی ریاست،ملکی سیاست میں عورتوں کا حصہ)

بنیادی حقوق اور اجتماعی عدل

٢٤٣- اب دیکھیے کہ جہاں تک ریاست کا تعلق ہے، نبی ااور خلفائے راشدین کی سنت سے حکم بین الناس میں عدل برتنے کا کیا طریقہ ثابت ہوتا ہے۔
(۱) حجۃ الوداع کے مشہور خطبے میں نبی انے اسلامی ریاست کے جن بنیادی اصولوں کا اعلان فرمایا تھا ان میں ایک اہم اصول یہ بھی تھا:
فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔’’یقینا تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ویسی ہی محترم ہیںجیسا آج حج کا یہ دن محترم ہے۔‘‘اس اعلان میں مملکت اسلامیہ کے تمام شہریوں کوجان، مال اور آبرو کی حرمت کا بنیادی حق عطا کیا گیا ہے جس کا بہر حال ہر اس ریاست کو التزام کرنا ہوگا جو ’’اسلامی ریاست‘‘ کے نام سے موسوم ہو۔ ( اگرچہ اس حدیث میں صرف مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا ذکر ہے، لیکن اسلامی شریعت کا یہ مسلم اصول ہے کہ جو غیرمسلم اسلامی ریاست کی حفاظت میں رہنا قبول کرلیں ان کو دیوانی اور فوج داری قانون کی نگاہ میں وہی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔)
(۲) یہ حرمت کس حال میں کس طرح ٹوٹ سکتی ہے؟ اس کا تعین نبی اان الفاظ میں فرماتے ہیں:
فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَ ھُمْ اِلاَّ بِحَقِّ الْاِسْلاَمِ وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ۔ (بخاری و مسلم)’’پھر جب لوگ یہ کام (یعنی شہادت توحید و رسالت اور اقامت صلوۃ و ایتائے زکوٰۃ) کردیں تو وہ اپنی جانیں مجھ سے بچالیں گے، الا یہ کہ اسلام کے کسی حق کی بنا پر وہ مجرم ہوں اور ان کی نیتوں کا حساب لینا اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ھُمْ وَ اَمْوَالُھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ۔(بخاری ومسلم)’’پس ان کی جان و مال ہم پر حرام ہیں الا یہ کہ جان و مال ہی کا کوئی حق ان پر قائم ہو اور ان کے باطن کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘فَمَنْ قَالَھَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّیْ مَالُہٗ وَنَفْسُہٗ اِلاَّ بِحَقِّہٖ وَ حِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ۔ (بخاری)’’پھر جو اس کا (یعنی کلمۂ توحید کا) قائل ہوجائے اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنا نفس بچا لیا۔ الا یہ کہ اللہ کا کوئی حق اس پر قائم ہو، اور اس کے باطن کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘یہ احادیث اس باب میں ناطق ہیں کہ اسلامی ریاست میںکسی شہری کی آزادیٔ نفس اور حرمت جان ومال و آبرو پر کوئی دست درازی نہیںکی جاسکتی جب تک کہ اسلامی قانون کی رو سے اس پر (یا اس کے خلاف) کوئی حق ثابت نہ کردیا جائے۔
(۳) کسی پر (یا کسی کے خلاف) حق کا اثبات کس طرح ہوسکتا ہے؟ اس کو نبی ایوں بیان فرماتے ہیں:
اِذَا جَلَسَ اِلَیْکَ الْخَصَمَانِ فَلاَ تَقْضِ بَیْنَھُمْ حَتّٰی تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْاَوَّلِ۔ (ابو داؤد، ترمذی، احمد)’’جب تیرے سامنے دو فریق اپنا معاملہ لے کر بیٹھیں تو ان کا فیصلہ نہ کر جب تک کہ دوسرے کی بات بھی نہ سن لے۔ جس طرح پہلے کی سنی ہے۔اور حضرت عمرؓ ایک مقدمے کے فیصلے میں تصریح کرتے ہیں:لاَ یُوْسَرُ رَجُلٌ فِی الْاِسْلاَمِ بِغَیْرِ الْعَدْلِ۔ (مؤطا)’’اسلام میں کوئی شخص عدل کے بغیر قید نہیں کیاجاسکتا۔‘‘اس مقدمے کی جو تفصیل مؤطا میں دی گئی ہے اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق کے نو مفتوح علاقے میں جھوٹی چغلیاں کھا کھا کر لوگ ایک دوسرے کو پکڑوا رہے تھے۔ اس کی شکایت جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائی گئی تو آپ نے اس کے فیصلے میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ یہاں عدل سے مراد ’’معروف عدالتی کارروائی‘‘ (Due process of Law)ہے یعنی ایک آدمی کا جرم کھلی عدالت میں ثابت کیا جائے اور اسے صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔ اس کے بغیر اسلام میںکوئی شخص قید نہیں کیا جاسکتا۔
(۴) حضرت علیؓ کے زمانے میں جب خوارج کا ظہور ہوا، جو سرے سے ریاست ہی کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے تو آپ نے انہیں لکھا کہ:
کُوْنُوْا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلاَّ تَسْفِکُوْا دَمًا وَلاَ تَقْطَعُوْا سَبِیْلاً وَلاَ تَظْلِمُوْا اَحَداً فَاِنْ فَعَلْتُمْ نَبَذْتُ اِلَیْکُمُ الْحَرْبَ۔ (نیل الاوطار)’’تم جہاں چاہو رہو، ہمارے اور تمہارے درمیان شرط یہ ہے کہ تم خون نہ بہاؤ اور بد امنی نہ پھیلاؤ اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ اگر ان کاموں میں سے کوئی کام تم نے کیا تومیں تمہارے خلاف جنگ کروں گا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلَی الْیَمَنِ قَاضِیًا، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تُرْسِلُنِیْ وَ اَنَا حَدِیْثُ السِّنِّ وَلاَ عِلْمَ لِیْ بِالْقَضَائِ؟ فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ سَیَھْدِیْ قَلْبَکَ وَ یُثَبِّتْ لِسَانَکَ، فَاِذَا جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْکَ الْخَصْمَانُ فَلاَ تَقْضِیَنَّ حَتّٰی تَسْمَعَ مِنَ الْاٰخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْاَوَّلِ، فَاِنَّہ اَحْرٰی اَنْ یَّتَبَیَّنَ لَکَ الْقَضَائُ۔ قَالَ: فَمَا زِلْتُ قَاضِیًا، اَوْ مَا شَکَکْتُ فِیْ قَضَائٍ بَعْدُ۔(٤٢)
(۲) مَالِکٌ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہٗ قَالَ: قَدِمَ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: لَقَدْ جِئْتُکَ لِاَمْرٍ مَالَہٗ رَاْسٌ، وَلاَ ذَنَبٌ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا ھُوَ؟ قَالَ: شَھَادَاتُ الزُّوْرِ ظَھَرَتْ بِاَرْضِنَا، فَقَالَ عُمَرُ: اَوْ قَدْ کَانَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللّٰہِ! لاَ یُؤْسَرُ رَجُلٌ فِی الْاِسْلاَمِ بِغَیْرِ الْعُدُوْلِ۔(٤٣)
یعنی جو خیالات تم چاہو رکھو، تمہارے خیال اور نیت پر گرفت نہ کی جائے گی البتہ اگر تم اپنے خیالات کے مطابق حکومت کا تختہ زبردستی الٹ دینے کی کوشش کروگے تو یقینا تمہارے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تشریح: ان تصریحات کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اسلامی تصور عدل کسی حال میں بھی انتظامیہ کو یہ اختیارات دینے کا روادار نہیں ہے کہ وہ معروف عدالتی کارروائی کے بغیر یوں ہی جس کو چاہیں پکڑیں، جسے چاہیں قید کردیں، جسے چاہیں خارج البلد کریں، جس کی چاہیں زبان بندی کریں، اور جسے چاہیں اظہار رائے کے وسائل سے محروم کردیں۔ اس طرح کے اختیارات جو ریاست اپنی انتظامیہ کو دیتی ہو وہ اسلامی ریاست ہرگز نہیں ہوسکتی۔
پھر حکم بین الناس میں عدل برتنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہم کو اسلام کی مستند روایات سے معلوم ہوتاہے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام میں صدر ریاست اور گورنروں اوراعلیٰ حکام اور عامۃ الناس، سب کے لیے ایک ہی قانون اور ایک ہی نظام عدالت ہے۔ کسی کے لیے کوئی قانونی امتیاز نہیں ہے کسی کے لیے خاص عدالتیں نہیں ہیں اور کوئی قانون کی پکڑ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ نبی انے آخر وقت میں خود اپنے آپ کو پیش کیا کہ جس کو میرے خلاف کوئی دعویٰ ہو۔ وہ لائے اور اپنا حق وصول کرے۔ حضرت عمرؓ نے ایک والی ٔ ریاست جبلہ بن ایہم سے ایک بدوی کو قصاص دلوایا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے گورنروں کے لیے قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا تو حضرت عمرؓ نے اسے ماننے سے صاف انکار کردیا اور عام لوگوں کو یہ حق دیاکہ جس حاکم کے خلاف انہیں شکایت ہو، اسے کھلی عدالت میں لائیں۔ (اسلامی ریاست، بنیادی حقوق اور اجتماعی عدل)

فلاح عامہ

٢٤٤-اَلسُّلْطَانُ وَلِیٌّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہٗ۔ (ابو داؤد، ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ، دارمی)
’’حکومت اس کی سرپرست ہے جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنُ مُوْسٰی، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَعَمَ: اَیُّمَا مْرَأَۃٍ نَکَحَتْ بِغَیْرِ اِذْنٍ مَوَالِیْھَا فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَاِنْ دَخَلَ بِھَا فَالْمَھَرُ لَھَا بِمَا اَصَابَ مِنْھَا۔ فَاِنْ تَشَاجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہٗ۔(٤٤)
٢٤٥-اِنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً تُوْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِ ھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ۔
(بخاری و مسلم)
’’اللہ نے مسلمانوں پرایک صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال داروں سے لیا جائے گا اور ان کے حاجت مندوں پر لوٹا دیا جائے گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمِ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ اِسْحَاقَ، عَنْ یَحْیَ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَیْفِیِّ، عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ، فَقَالَ:اُدْعُھُمْ اِلٰی شَھَادَۃِ اَنْ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ، فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً فِیْ اَمْوَالِھِمْ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَآئِھِمْ وَ تُرَدُّ فِیْ فُقَرَآئِھِمْ۔(٤٥)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی انے معاذ کو یمن کی طرف والی بنا کر بھیجا اور فرمایا ان کو اس کی دعوت دوکہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور یہ کہ میںاللہ کا رسول ہوں پس اگر وہ تمہاری اس دعوت کو تسلیم کرلیں تو پھر ان کے علم میں یہ بات لاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے شب و روز میں تم پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری اس دعوت کو بھی مان لیں تو ان کے علم میں یہ بات لاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقراء میں لوٹا دی جائے گی (تقسیم کردی جائے گی)
٢٤٦-مَنْ مَّاتَ وَ عَلَیْہِ دَیْنٌ وَلَمْ یَتْرُ کْ وَفَائً فَعَلَیَّ قَضَاہُ وَ مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ۔
’’جو شخص مرجائے اور اس کے ذمے قرض ہو اور وہ اسے ادا کرنے کے قابل مال نہ چھوڑے تواس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَ عَلَیْہِ دَیْنٌ وَلَمْ یَتْرُکْ وَفَائً، فَعَلَیْنَا قَضَاؤُہٗ، وَ مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ۔(٤٥)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی انے فرمایا کہ میں مومنوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ دوست و خیرخواہ ہوں پس جو کوئی فوت ہوجائے اور اس پر واجب الادا قرض ہو اور اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو جس سے قرض پورا ادا ہوجائے تو اس کا ادا کرنا ہمارے ذمہ ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔
مسلم نے قدرے تفصیل بیان کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ الْمَیِّتِ عَلَیْہِ الدَّیْنُ، فَیَسْأَلُ: ھَلْ تَرَکَ لِدَیْنِہٖ مِنْ قَضَائٍ، فَاِنْ حُدِّثَ اَنَّہٗ تَرَکَ وَفَائً صَلّٰی عَلَیْہِ، وَ اِلاَّ قَالَ: صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ، وَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْفُتُوْحَ قَالَ: اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ، فَمنْ تُوُفِّیَ وَ عَلَیْہِ دَیْنٌ، فَعَلَیَّ قَضَائُ ہٗ، وَ مَنْ تَرَکَ مَالاً فَھُوَ لِوَرَثَتِہٖ۔(٤٦)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ اکے پاس مرد میت کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ دریافت فرماتے کہ آیا اس نے اتنا ترکہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے جس سے قرض پورا ادا ہوجائے۔ اگر یہ بتایا جاتا کہ اس نے اپنے پیچھے اتنا مال چھوڑا ہے جو قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ فرمادیتے جاؤ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔ جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات سے نوازا تو پھر آپ نے فرمایا کہ میں مومنوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ خیر خواہ اور دوست ہوں۔ اب جو فوت ہوجائے اور اس کے ذمہ قرض بھی ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ اور جو مال ترکہ چھوڑے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔
مسلم کی ایک اور روایت:
(۳) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: نَا شَبَابَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ وَرْقَآئُ عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ اِنْ عَلَی الْاَرْضِ مِنْ مُوْمِنٍ اِلاَّ وَ اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِہٖ، فَاَیُّکُمْ مَا تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضَیَاعًا فَاَنَا مَوْلاَہُ، وَ اَیُّکُمْ تَرَکَ مَالاً فَاِلَی الْعَصَبَۃِ مَنْ کَانَ۔(٤٨)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ نبی انے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ روئے ارض پر جو بھی مومن ہے میں اس کا لوگوں سے زیادہ خیر خواہ اور دوست ہوں۔ پس تم میں سے جو قرض دار مرے یا ایسے پسماندگان چھوڑ جائے جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتومیں ان کا سرپرست ہوں۔ نیز تم میں سے کوئی جو مال ترکہ میں چھوڑے وہ عصبہ کی طرف جائے جو بھی عصبہ ہو۔
٢٤٧-وَ فِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضِیَاعًا فَلْیَاتِنِیْ فَاِنَّا مَوْلاَہُ۔
ایک دوسری روایت میں ہے) ’’جو شخص قرض چھوڑے یا ایسے پسماندگان چھوڑ جائے جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو وہ میرے پاس آئیں، میں ان کا سرپرست ہوں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، عَنْ ھِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ عَمْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ اِلاَّ وَ اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِہٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔ اِقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمُ النَّبِیَّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ، فَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَکَ مَالاً فَلْیَرِثُہٗ عَصَبَتُہٗ مَنْ کَانُوْا، فَاِنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضَیَاعًا فَلْیَاْتِنِیْ وَ اَنَا مَوْلاَہُ۔(٤٩)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی انے فرمایا میں دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں اہل ایمان کا لوگوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ خیرخواہ اور دوست ہوں۔ تصدیق کے لیے اگر چاہو یہ آیت پڑھ لو۔ النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم۔ نبی ایمان والوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہے۔ آپ نے فرمایا جس مومن نے مال چھوڑا ہے تو اس کے وارث اس کے عصبہ ہوں گے جو بھی وہ ہوں گے اور اگر اس نے اپنے اوپر کسی کا قرض چھوڑا ہے یا پسماندگان ایسے چھوڑے ہیں جن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو میرے پاس آئے میں اس کا سرپرست ہوں۔
٢٤٨-وَ فِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ وَ مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیْنَا۔ (بخاری و مسلم)
ایک اور روایت میں ہے جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جو ذمہ داریوں کا بار چھوڑ جائے تو وہ ہمارے (یعنی حکومت کے ذمے ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اِسْرَائِیْلُ، عَنْ اَبِیْ حَصِیْنٍ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ، فَمَنْ مَّاتَ، وَ تَرَکَ مَالاً، فَمَالُہٗ لِمَوَالِی الْعَصَبَۃِ، وَ مَنْ تَرَکَ کَلاًّ اَوْ ضَیَاعًا فَاَنَا وَلِیُّہٗ فَلَاُدْعَ لَہٗ۔(٥١)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا کہ میں مومنوں کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ خیر خواہ و دوست ہوں۔ جو کوئی وفات پاجائے اور مال چھوڑ جائے تو اس کا مال اس کے عصبہ کے لیے ہے۔ اور جو قرض چھوڑ مرا یا پسماندگان ایسے پیچھے چھوڑے جن کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا تو اس کا میں سرپرست ہوں۔ مجھ سے اس کا مطالبہ و تقاضا کیا جائے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَدِیٍّ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ وَ مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیْنَا۔(٥٢)
ترمذی میں منقول روایت:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ تَرَکَ مَالاً، فَلِاَھْلِہٖ، وَ مَنْ تَرَکَ ضَیَاعًا فَاِلَیَّ۔(٥٣)
٢٤٩-اَنَا وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَہٗ وَاَعْقِلُ عَنْہُ وَارِثَہٗ۔ (ابو داؤد)
’’جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا میں وارث ہوں، اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا اور اس کی میراث لوں گا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ بُدَیْلٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْ عَامِرٍ (الھوزنی عبد اللّٰہ بن لحی) عَنِ الْمِقْدَامِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیَّ، وَ رُبَّمَا قَالَ: اِلَی اللّٰہِ وَ اِلٰی رَسُوْلِہٖ، وَ مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ، وَ اَنَا وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَہٗ: اَعْقِلُ لَہٗ، وَاَرِثُہٗ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَہٗ: یَعْقِلُ عَنْہُ، وَ یَرِثُہٗ۔(٥٣)
ترجمہ: حضرت مقدام سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی انے فرمایا جو کوئی بار قرض چھوڑ مرے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمہ اور کبھی فرمایا اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ۔ اور جو کچھ ترکہ چھوڑ کرمرے تو وہ اس کے ورثا کے لیے۔ اور میں تو ہر اس کا وارث ہوں جس کا کوئی دوسرا وارث نہ ہو۔ اس کی دیت بھی دوں گا اور اس سے وراثت بھی لوں گا اور ماموں بھی وارث ہے اس کا جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ وہ دیت بھی ادا کرے گا اور وراثت بھی پائے گا۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا شَبَابَۃُ،ح وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیْدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ: ثَنَا شُعْبَۃُ، حَدَّثَنِیْ بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ الْعُقَیْلِیُّ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْ عَامِرِ الْھَوْزَنِیِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ اَبِیْ کَرِیْمَۃَ، رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الشَّامِ، مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ تَرَکَ مَالاً، فَلِوَرَثَتِہٖ، وَ مَنْ تَرَکَ کَلاًّ، فَاِلَیْنَا۔ وَ رُبَّمَا قَالَ: فَاِلَی اللّٰہِ وَ اِلٰی رَسُوْلِہٖ وَ اَنَا وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَہٗ۔ اَعْقِلُ عَنْہُ وَاَرِثُہٗ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَہٗ یَعْقِلُ عَنْہُ وَ یَرِثُہٗ۔(٥٤)
تشریح: یہ احادیث تصریح کرتی ہیں کہ اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ایک اہم فرض زکوٰۃ کی تنظیم ہے اور اس کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے حدود کے اندر تمام لوگوں کی کفیل بنے جو مدد کے محتاج ہوں اور وسائل رزق سے محروم رہ گئے ہوں۔ (اسلامی ریاست، فلاح عامہ)

ماخذ

(١) مصنف ابن ابی شیبۃ ج١٢ حدیث نمبر١٥٥٦٤ کتاب الجھاد باب فی امام السریۃ یامرھم بالمعصیۃ، من قال: لا طاعۃ لہ۔٭ ورد الحدیث بتمامہ فی تھذیب تاریخ ابن عساکر ج٤ ص١٠٠عن ابن سیرین، واخرج جزئً ا منہ ابن سعد فی الطبقات۔٭ ابن ابی شیبہ کے طریق سے سیوطی نے بھی الدر المنثور ج٢ص١٧٧ پر اسے نقل کیا ہے۔ ٭ تاریخ بغداد ج١٠ص٢٢۔ عن انس۔ تاریخ بغداد ج٣ ص١٤٥٭ شرح السنہ بحوالہ مشکوٰۃ کتاب الامارۃ والقضاہ الفصل الثانی ص٣٢١  عن نواس بن سمعان۔٭احکام القرآن للجصاص ج٣ سورہ بنی اسرائیل اور سورہ ممتحنہ۔٭ابو نعیم اصفہانی کی تاریخ اصفہان ج١ص١٣٣۔
(٢) ابو نعیم بحوالہ کنز العمال ج ٥ ص٧٩٢۔
(٣) بخاری ج٢ کتاب الاحکام، باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم۔٭بخاری ج٢ کتاب الجھاد، باب یقاتل من وراء الامام و یتقی بہ۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ مسلم ج٢ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی المعصیۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ السنن الکبرٰی ج ٨ کتاب قتال اھل البغی باب السمع والطاعۃ للامام و من ینوب عنہ۔
(٤) نسائی ج ٧ کتاب البیعۃ، باب الترغیب فی طاعۃ الامام۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ ابن ماجہ مقدمہ باب اتباع سنۃ رسول اللّٰہ ﷺ ابن ماجہ سے مندرجہ ذیل حصہ بھی نقل ہے۔ من اطاعنی فقد اطاع اللّٰہ، و من عصانی فقد عصی اللّٰہ۔٭ ابن ماجہ نے کتاب الجہاد میں باب طاعۃ الامام کے تحت حضرت ابوہریرہؓ کے حوالہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں الامیر کی جگہ الامام ہے۔٭ مسند احمد ج٢ص٢٤٤، ٢٥٢، ٢٧٠، ٣١٣، ٣٤٢، ٤١٦، ٤٦٧، ٤٧١، ٥١١۔ عن ابی ھریرہ۔٭مجمع الزوائد ج ٥ ص٢٣٧۔٭کنز العمال ج٦ص٥٢۔ حدیث نمبر ١٤٨٠٨۔
(٥) بخاری ج٢، کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔
(٦) مسلم ج٢، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔
(٧) بخاری ج٢ کتاب اخبار الاحاد باب ما جاء فی اجازۃ خبر الواحد الصدوق فی الاذان والصلاۃ والصوم، والفرائض والاحکام۔٭مسلم ج٢ کتاب الامارۃ باب وجوب اطاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی المعصیۃ۔ اور باب وجوب الوفاء بیعۃ الخلیفۃ الاول۔ اس مقام پر اطعہ فی طاعۃ اللّٰہ واعصہ فی معصیۃ اللّٰہ عزوجل۔٭ ابو داؤد ج٣ کتاب الجھاد باب فی الطاعۃ۔٭ نسائی ج ٧ کتاب البیعۃ باب جزاء من امر بمعصیۃ فاطاع۔٭ مسند احمد ج٢ص١٦١۔ عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص۔
(٨) احکام القرآن للجصاص ج٣ سورۃ الممتحنۃ۔
(٩) بخاری ج٢ کتاب الفتن، باب قول النبی ﷺ سترون بعدی امورا تنکرونھا۔٭ مسلم ج٢ کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی المعصیۃ عن عبادۃ بن الصامت۔٭ نسائی ج ٧ کتاب البیعۃ، باب البیعۃ علی الاثرۃ۔ باب البیعۃ علی القول بالعدل۔٭ السنن الکبرٰی ج ٨ کتاب قتال اھل البغی باب کیفیۃ البیعۃ عن عبادۃ بن الصامت۔ مسند احمد ج ٥ ص٣١٤۔ عن عبادہ بن صامت۔
(١٠) مسلم ج٢ کتاب الامارۃ باب خیار الائمۃ و شرارھم۔٭ سنن دارمی ج٢ کتاب الرقاق، باب فی الطاعۃ و لزوم الجماعۃ۔٭ مسند احمد ج٦ص٢٤۔ عوف بن مالک۔ تاریخ بغداد ج ٧ ص٣١٨۔
(١١) بخاری ج٢ کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔٭ مسلم ج٢۔ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔٭ ابو داؤد ج٣ کتاب الجھاد باب فی الطاعۃ۔ عن عبد اللّٰہ۔٭ ترمذی ابواب الجھاد باب ماجاء لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ ترمذی میں فلا سمع علیہ ولا طاعۃ ہے۔ ٭نسائی٧ کتاب البیعۃ، باب جزاء من امر بمعصیۃ فاطاع۔ عن عبد اللّٰہ بن عمر۔٭ابن ماجہ کتاب الجھاد باب٤٠، لا طاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ۔ عن عبد اللّٰہ بن عمر۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج ٨ کتاب قتال اھل البغی۔ عن عبد اللّٰہ بن عمر۔٭ مسند احمد ج٢ص١٧،١٤٢۔٭ کنز العمال ج٦ص٦٨۔ حدیث نمبر١٤٨٨١۔ بخاری نے ایک روایت کتاب الجہاد میں باب السمع والطاعۃ للامام مالم یامر بمعصیۃ کے تحت مندرجہ الفاظ میں نقل کی ہے۔ عن ابن عمر عن النبی ﷺ قال: السمع والطاعۃ حق مالم یؤمر بمعصیۃ فاذا امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ۔
(١٢) مسلم ج٢ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی المعصیۃ۔٭ ترمذی ابواب الجھاد باب ماجاء فی طاعۃ الامام۔٭ نسائی ج ٧ کتاب البیعۃ باب الحض علی طاعۃ الامام اس میں استعمل ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الجہاد باب٣٩۔ طاعۃ الامام۔٭ ابن ماجہ میں ما قادکم بکتاب اللّٰہ ہے۔٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج ٨ کتاب قتال اھل البغی، باب جواز تولیۃ الامام من ینوب عنہ و ان لم یکن قریشا۔٭ مسند احمد ج٤ ص٧٠۔٭ مسنداحمدج ٥ ص٣٨١-ج٦ص٤٠٢،٤٠٣۔
(١٣) مسلم ج٢ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ۔٭ ابو داؤد ج٣ کتاب الجھاد، باب فی الطاعۃ۔٭ نسائی ج ٧ کتاب البیعۃ باب جزاء من امر بمعصیۃ فاطاع۔٭ مسند احمد ج١ص١٢٩۔ عن علیؓ اور کنزالعمال ٦؍٧٧۔ حدیث نمبر١٤٩١١۔ اور مسند احمد کے اسی صفحہ پر لا طاعۃ لبشر فی معصیۃ اللّٰہ ہے۔ اور ص١٣١ پر لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللّٰہ عزوجل عن علیؓ اور ج١ص٤٠٩۔ عن ابن مسعود۔ ٭ مسند احمدج٤ ص٤٢٦، ٤٢٧، ٤٣٦۔ عن عمران بن حصین۔ ان صفحات پر لا طاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ عزوجل ہے۔٭ مسند احمد ج ٥ ص٦٦، ٦٧، ٧٠۔ حکم بن عمرو الغفاری عن عمران بن حصین۔ اسی صفحہ پر بھی لا طاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ ہے۔٭ المعجم الکبیر للطبرانی ج ٣ ص٢٠٨، ٢٠٩۔ عمران بن حصین لا طاعۃ لاحد فی معصیۃ اللّٰہ۔ اور ص٢١١ پر لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ ہے۔٭کنز العمال ج٦ص٧٦۔ حدیث١٤٩٠٧۔ عن ابن مسعود لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللّٰہ۔٭ کنز العمال ج ٥ ص٧٩١۔ حدیث ١٤٣٩٨۔
(١٤) بخاری ج٢ کتاب المغازی، باب سریۃ عبد اللّٰہ بن حذافۃ السھمی۔٭ بخاری ج٢ کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔٭ مسلم ج٢ کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامر۔٭ مسند احمد ج١ص٨٢، ٩٤، ١٢٤۔
(١٥) ابن ماجہ ابواب الجھاد، باب٤٠۔ لا طاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ۔٭ مجمع الزوائد ج ٥ کتاب الخلافۃ، باب لا طاعۃ فی معصیۃ۔ عن عبادہ بن الصامت۔٭ مسند احمد ج١ص٤٠٠۔ عن ابن مسعود۔ اس صفحہ پر لیس یا ابن ام عبد طاعۃ لمن عصی اللّٰہ ہے۔٭ مسند احمد ج ٥ ص٣٢٥۔ عن عبادہ بن الصامت۔٭ کنز العمال ج٦ص٧١۔ حدیث نمبر ١٤٨٨٩۔ عن ابن مسعود۔
(١٦) تاریخ بغداد خطیب بغدادی ج١٠ص٢٢۔ عبد اللّٰہ بن عمر الطالقانی نمبر ٥١٣٧۔٭ مجمع الزوائد ج ٥ ص٢٢٦۔ بحوالہ الطبرانی۔٭ زاد المعاد جز ٢ ص١٦٨۔ فصل فی سریۃ عبد اللّٰہ بن حذافہ السھمی۔٭ ابو نعیم بحوالہ کنز العمال ج ٥ ص٧٩٢۔ حدیث نمبر١٤٤٠١۔ عن ابن سیرین ان عمران بن حصین قال للحکم الغفاری: أسمعت النبی ﷺ یقول: لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق قال: نعم۔
ترمذی نے ابواب الجہاد میں ایک باب بایں عنوان قائم کیا ہے۔ باب ماجاء لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ مگراس کے تحت مندرجہ بالا الفاظ نقل نہیں کیے۔
(١٧) بخاری ج٢، کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔
(١٨) روح المعانی پ٢٦ ج٩ص١٤٨٭ شعب الایمان ج٤ ص٢٨٩۔
(١٩) مسند احمد ج ٥ ص٤١١۔ حدیث رجل من اصحاب النبی ﷺ۔٭مجمع الزوائد ج٣ کتاب الحج باب الخطب فی الحج۔٭ شعب الایمان ج٤ ص٢٨٩۔٭ ابن مردویہ، بیھقی بحوالہ روح المعانی جز٢٦، ص١٤٨۔ الحجرات عن جابر۔٭مجمع الزوائد ج ٨ کتاب الادب باب لا فضل لاحد علی احد الا بالتقوٰی۔ عن ابی سعید۔ اس مقام پر مندرجہ ذیل عبارت ہے۔
قال: قال رسول اللّٰہﷺ ان ربکم واحد و اباکم واحد فلا فضل لعربی علی اعجمی ولا احمر علی اسود الا بالتقوی رواہ الطبرانی فی الاوسط والبزار بنحوہ الا انہ قال: ان اباکم واحد و ان دینکم واحد ابوکم آدم، و آدم خلق من تراب و رجال البزار رجال الصحیح۔
(٢٠) روح المعانی ج٩ص١٦٣۔ پ٢٦۔
(٢١) ترمذی ج٢ ابواب التفسیر، سورۃ الحجرات۔ ھذا حدیث غریب، لا نعرفہ من حدیث عبد اللّٰہ بن دینار عن ابن عمر الا من ھذا الوجہ، و عبد اللّٰہ بن جعفر یضعف ضعفہ یحی بن معین وغیرہ۔ و ھو والد علی بن مدینی و فی الباب عن ابی ھریرۃ و عبد اللّٰہ بن عباس۔
(٢٢) مسلم ج٢ کتاب الجھاد والسیر، باب فتح مکۃ۔٭ مسلم کی ایک روایت ابیحت خضراء قریش کی جگہ ابیدت خضراء قریش بھی ہے۔٭مسلم ج٢ کتاب الجھاد والسیر باب فتح مکۃ۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ج٩ کتاب السیر باب فتح مکۃ حرسھا اللّٰہ تعالٰی عن ابی ھریرۃ۔٭دار قطنی ج٣ کتاب البیوع۔
(٢٣) بخاری ج٢ کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف۔٭ بخاری ج١کتاب الجھاد، باب ماکان النبی ﷺ یعطی المؤلفۃ قلوبھم۔٭ بخاری ج٢ کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف (مختصر) ٭ مسلم ج١کتاب الزکوٰۃ، باب اعطاء المؤلفۃ و من یخاف علی ایمانہ۔٭ مسلم ص٣٣٩ کی ایک روایت میں ترضون ان یذھب الناس بالدنیا و تذھبون بحمد۔٭السنن الکبرٰی للبیھقی ج ٧ کتاب الصدقات باب من یعطی من المؤلفۃ قلوبھم۔ عن انس بن مالک۔
(٢٤) بخاری ج٢ کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف۔
(٢٥) بخاریج٢ کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف۔
(٢٦) بخاری ج٢ کتاب المغازی، باب غزوۃ الطائف۔
(٢٧) تفسیر ابن جریر ج١٢ص٢٣۔ پ٢٨۔
(٢٨) بخاری ج١کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فھو مردود۔٭ مسلم ج٢کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الامور عن عائشۃ۔٭ ابن ماجہ مقدمہ ص٧۔ باب تعظیم حدیث رسول اللہ ﷺ والتغلیظ علی من عارضہ، عن عائشۃ۔٭ مسند احمد ج٢ص٢٧٠۔ عن عائشۃ۔٭ ابو داؤد ج٤ کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ ابو داؤد نے منہ کے بجائے فیہ نقل کیا ہے۔٭ مسلم ج٢ کتاب الاقضیۃ باب نقض الاحکام الباطلۃ، ورد محدثات الامور کے تحت حضرت عائشہؓ سے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد بیان کیا ہے اور ابوداؤد: ٤ کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ کے ضمن میں من صنع امرا علی غیر امرنا فھو رد نقل کیا ہے۔ اور سنن دار قطنی نے حضرت عائشہؓ سے کئی روایتیں نقل کی ہیں۔ ایک روایت میں قال رسول اللہ ﷺ من صنع فی مالہ ما لیس فی کتاب اللہ فھو رد اور دوسری روایت میں ان النبی ﷺ من فعل امرا لیس علیہ امرنا فھو رد۔ اور تیسری روایت میں ابو داؤد والی مذکورہ بالا روایت کے الفاظ میں اور چوتھی روایت میں قال رسول اللہ ﷺ، کل امر لم یکن علیہ امرنا فھو رد نقل کیا ہے۔
(٢٩) شعب الایمان للبیھقی ج ٧ ص٦١۔٭ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔٭ طبرانی، سعید بن منصور فی سنۃ عن عبد اللّٰہ بن بشیر۔ بحوالہ کنز العمال ج١ص٢١٩۔ طبرانی اور حلیہ لابی نعیم میں حضرت معاذ سے مندرجہ ذیل روایت بھی منقول ہے۔ من مشی الی صاحب بدعۃ لیؤقرہ فقد اعان علی ھدم الاسلام۔ (کنز العمال ج١ص٢٢٢) ’’جو شخص کسی صاحب بدعت کی طرف چل کر گیا تاکہ اس کی توقیر کرے تو اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں اعانت کی۔‘‘
(٣٠) روح المعانی پ٢٥ص٤٢۔ بحوالہ خطیب بغدادی۔٭ مجمع الزوائد ج١ص١٨٠۔ عن علی کتاب العلم باب فی القیاس والتقلید۔٭ کنز العمال ج ٥ ص٨١٢۔ حدیث نمبر١٤٤٥٦۔
(٣١) مجمع الزوائد للھیثمی ج١ کتاب العلم باب فی الاجماع۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط و رجالہ موثقون من اھل الصحیح۔
(٣٢) جامع بیان العلم و فضلہ ج٢ص٧٣،٧٤۔ باب اجتھاد الرای علی الاصول عند عدم النصوص۔ قال ابو عمر: ھذا حدیث لا یعرف من حدیث مالک الا بھذا الاسناد، ولا اصل لہ فی حدیث مالک عندھم، ولا فی حدیث غیرہ۔ ابراھیم البرقی، و سلیمان بن بدیع لیسا بالقویین ولا ممن یحتج بہ ولا یعول علیہ۔
(٣٣) ابو داوٗد ج٣ کتاب العلم باب التوقی فی الفتیا۔٭ مسند احمد ج٢ص٣٢١۔ عن ابی ھریرۃ۔ اس صفحہ پر۔۔۔ و من استشارہ اخوہ المسلم فاشارہ علیہ بغیر رشد فقد خانہ، ومن افتی بفتیا غیر ثبت  فانما اثمہ علی من افتاہ۔ اور ص٣٦٥ پر ہے۔ و من افتی بفتیا بغیر علم کان اثم ذلک علی من افتاہ و من استشار اخاہ فاشار علیہ بامر و ھو یری الرشد غیر ذلک فقد خانہ۔٭ السنن الکبرٰی ج١٠کتاب آداب القاضی۔ عن ابی ھریرۃ۔ ٭المستدرک للحاکم ج١ کتاب العلم باب من قال علی مالم اقل فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ عن ابی ھریرۃ۔
(٣٤) بخاری ج٢ کتاب الاحکام، باب ما یکرہ من الحرص علی الامارۃ۔٭ مسلم ج٢ کتاب الامارۃ، باب النھی عن طلب الامارۃ والحرص علیھا۔ مسلم نے انا واللّٰہ لا نولی علی ھذا العمل احدا سالہ ولا احدا حرص علیہ نقل کیا ہے۔٭ کنز العمال ج٦ص ٤٧۔ حدیث نمبر ١٤٧٨٦۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج١٠کتاب آداب القاضی، باب کراھیۃ طلب الامارۃ والقضاء وما یکرہ من الحرص علیھا۔ ابو موسٰی۔
(٣٥) بخاری ج٢ کتاب استتابۃ المعاندین المرتدین، باب حکم المرتد والمرتدہ۔ الخ۔
بخاری نے کتاب الاجارۃ میں بھی اس روایت کو نقل کیا ہے مگر مختصر۔ عن ابی موسی، قال: اقبلت الی النبی ﷺ و معی رجلان من الاشعریین۔ قال: فقلت: ما علمت انھما یطلبان العمل، قال: لن اولا نستعمل علی عملنا من ارادہ۔
٭بخاریج١کتاب الاجارۃ باب استیجار الرجل الصالح۔٭ مسلم ج٢ کتاب الامارۃ، باب النھی عن طلب الامارۃ والحرص علیھا۔٭ ابو داؤد ج٣ کتاب الاقضیۃ باب فی طلب القضاء والتسرع الیہ۔ ٭مسند احمد ج٤ ص٤٠٩۔ عن ابی موسٰی۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج ٨ کتاب المرتد باب قتل من ارتد عن الاسلام٭کنز العمال ج٦ص ٤٧۔ حدیث ١٤٧٨٥۔ عن ابی موسٰی۔
(٣٦) ابو داؤد ج٣ کتاب الخراج والامارۃ باب ماجاء فی طلب الامارۃ۔٭ مسند احمد ج٤ ص٣٩٣،٤١١۔ عن ابی موسیٰ ص٤١١ پر ان اخونکم عندی من یطلبہ ہے۔٭ کنز العمال ج٦ ص٢٧۔ حدیث: ١٤٦٩٤۔ کنز میں طلبہٗ کے بعد یعنی العمل کا اضافہ ہے۔
(٣٧) بخاری ج٢ کتاب الفتن، باب۔۔۔٭بخاری ج٢ کتاب المغازی، باب کتاب النبی ﷺ الی کسریٰ و قیصر۔ اس مقام پر منقول روایت کے الفاظ۔ عن ابی بکرۃ، قال: لما بلغ رسول اللہ ﷺ ان فارس قد ملکوا علیھم بنت کسری قال: لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأۃ۔
٭ترمذی ج٢ ابواب الفتن، باب۔۔۔ عن ابی بکرۃ۔ ھذا حدیث صحیح۔٭نسائی ج ٨ کتاب آداب القضاۃ، باب النھی عن استعمال النساء فی الحکم عن ابی بکرۃ۔٭ کنز العمالج٦ص٢٣۔ حدیث١٤٦٧٣۔ ٭مسند احمد ج ٥ ص٣٨۔ عن ابی بکرۃ۔ اور ص ٤٧ پر لن یفلح قوم اسندوا امرھم الی امرأۃ اور ص٤٣، ٤٧،٥١ پر لا یفلح قوم تملکھم امرأۃ۔ منقول ہے۔٭ کنز العمال ج٦ص٣١۔ حدیث١٤٧١٦۔٭السنن الکبریٰج١٠کتاب آداب القاضی باب لا یولی الوالی امرأۃ ولا فاسقا ولا جاھلا امر القضا۔ اس مقام پر دونوں روایتیں منقول ہیں۔٭المستدرک ج٣ کتاب معرفۃ الصحابۃ۔٭ تفسیر مواھب الرحمن ص٢٣٠۔٭ فتح الباری ج ٨ ج١٣ ص٥٣۔٭ احسن التفاسیر: ٥؍٥٦ از مولانا احمد حسن صاحب محدث دہلوی۔٭تفسیر مظھری ج ٧ ص٤٠٨۔ از علامہ قاضی ثناء اللّٰہ صاحب پانی پتی۔٭ روح المعانی پ١٩ص١٧١۔ از علامہ سید محمود آلوسی بغدادی۔٭تفسیر خازن ج٣ ص٤٠٨۔ از علامہ علی بن محمد بن ابراھیم بغدادی۔٭ابن کثیر ج١ص٤٩١۔ الرجال قوامون علی النساء کے تحت۔٭ قرطبیج١ص ٣٥٥۔٭ بدایہ ج١٢ ص١٣٩۔ الدر المنثور حدیث ١٣٦۔ ضعیفہ حدیث نمبر٤٣٦۔٭ تلخیص الحبیر ج٤ ص١٨٤۔ پر لن یفلح قوم ولیتھم امرأۃ اور مجمع الزوائد ج٥، ص٢٠٩ پر لن یفلح قوم یملک رایھم امرأۃ اور مسند احمد ج ٥ ص٥١ مستدرک ج٤ ص٢٩١۔ فتح الباری ج١٣ص٥٦ اور کشف الخفا ج ٢ص٤٦٠ پر لن یفلح قوم تملکھم امرأۃ منقول ہے۔
(٣٨) ترمذی ج٢ کتاب الفتن، باب۔۔۔ ھذا حدیث غریب، لا نعرفہ الا من حدیث صالح المری و صالح فی حدیثہ غرائب لا یتابع علیھا و ھو رجل صالح۔
(٣٩) ابو داؤد ج٣ کتاب الخراج والفئی والامارۃ، باب ما یلزم الامام من حق الرعیۃ۔٭ بخاری ج٢ کتاب الاحکام، باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم۔٭ ترمذی ج١ ابواب الجھاد، باب ماجاء فی الامام۔
(٤٠) ابو داؤدج١ کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ۔ قال ابو داؤد: طارق بن شھاب قد رای النبی ﷺ ولم یسمع منہ شیئا۔
(٤١) بخاری ج١ کتاب الجنائز باب اتباع النساء الجنازۃ۔
(٤٢) ابو داؤد ج٣ کتاب الاقضیۃ، باب کیف القضاء۔٭ ترمذی ج١ ابواب الاحکام باب ماجاء فی القاضی لا یقضی بین الخصمین حتی یسمع کلامھما۔ ترمذی نے اذا تقاضا الیک رجلان فلا تقض للاول حتی تسمع کلام الاخر فسوف تدری کیف تقضی، قال علی: فما زلت قاضیا بعد۔ ھذا حدیث حسن۔٭ مسند احمد ج١ص٩٠۔ عن علی۔ ترمذی والی روایت ہے۔٭کنز العمال ج ٥ ص٨٠٤۔ حدیث نمبر١٤٤٣٤ اور ١٤٤٣٥۔ ٭المستدرک ج٢ ص٩٣۔ کتاب الاحکام استماع بیان الخصمین واجب علی القاضی۔٭ السنن الکبرٰی: ١٠؍٨٦،١٣٧،١٤٠ اور کتاب آداب القاضی۔٭ کنز العمال ج٦ ص١٠٣۔ حدیث نمبر١٥٠٣٦۔ عن علی۔
(٤٣) مؤطا امام مالک ج٢ کتاب الاقضیۃ باب الترغیب فی القضاء بالحق۔
(٤٤) ابو داؤد ج٢ کتاب النکاح باب فی الولی٭ ترمذی ج١ ابواب النکاح، باب ماجاء لا نکاح الا بولی۔ ھذا حدیث حسن٭ ابن ماجہ کتاب النکاح باب ١٥۔ لا نکاح الا بولی۔
(٤٥) بخاری ج١کتاب الزکوٰۃ باب وجوب الزکوٰۃ٭ بخاری ج٢ کتاب المغازی بعث ابی موسٰی و معاذ الی الیمن قبل حجۃ الوداع۔ اس مقام پر علی فقراء ھم ہے۔٭ مسلم ج١کتاب الایمان، باب الدعاء الی الشھادتین و شرائع الاسلام۔ اس مقام پر فی فقراء ھم و علی فقراء ھم دونوں ہیں۔٭ ابو داؤد ج٢ کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ السائمۃ۔ ابو داؤد نے فی فقراء ھم والی حدیث نقل کی ہے۔٭ ترمذی ج١ ابواب الزکوٰۃ باب ما جاء فی کراھیۃ اخذ خیار المال فی الصدقۃ۔ اس نے بھی علی فقراء ھم والی روایت لی ہے۔ ٭نسائی ج ٥ کتاب الزکوٰۃ، باب وجب الزکوٰۃ۔ نسائی نے علی فقراء ھم والی روایت نقل کی ہے۔ ٭ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ باب:١، کتاب الزکوٰۃ باب فرض الزکوٰۃ۔ ابن ماجہ میں فقراء ھم والی روایت ہے۔ ٭دارمی۔کتاب الزکوٰۃ باب:١، کتاب الزکوٰۃ، باب فی فضل الزکوٰۃ۔ علی فقراء ھم والی روایت ہے۔٭مسند احمد ج١ص٢٣٣۔ عن ابن عباس۔ مسند احمد نے بھی فی فقراء ھم ہی روایت کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی ج٤ کتاب الزکوٰۃ باب لا یاخذ الساعی فوق ما یجب ولا ما خضا الان یتطوع۔ عن ابن عباس۔
(٤٦) بخاری ج٢ کتاب الفرائض، باب قول النبی ﷺ من ترک مالا فلاھلہ۔
(٤٧) مسلم ج٢ کتاب الفرائض۔
(٤٨) مسلم ج٢ کتاب الفرائض۔٭ السنن الکبرٰی ج٦ کتاب الفرائض، باب العصبۃ۔
(٤٩) بخاریج٢ کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب۔٭ السنن الکبریٰ بیھقی ج٦ کتاب الفرائض باب العصبۃ۔ عن ابی ھریرۃ بیھقی نے ایما امری نقل کیا ہے۔
(٥٠) بخاری ج٢ کتاب الفرائض، باب ابنی عم احدھما اخ لام والاخر زوج۔٭ مسلم ج٢ کتاب الفرائض۔٭السنن الکبرٰی بیھقی ج٦ کتاب الفرائض باب العصبۃ۔ عن ابی ھریرۃ۔
(٥١) بخاری ج٢ کتاب الفرائض، باب میراث الاسیر الخ۔٭ مسلم ج٢ کتاب الفرائض۔
(٥٢) ترمذی ج٢ ابواب الفرائض، باب ماجاء فی من ترک مالا فلورثتہ ھذا حدیث حسن صحیح۔٭ ابو داؤد ج٣ کتاب الفرائض، باب فی میراث ذوی الارحام۔
(٥٣) ابو داؤد ج٣ کتاب الفرائض، باب فی میراث ذوی الارحام۔
(٥٤) ابن ماجہ کتاب الفرائض، باب:٩، ذوی الارحام۔٭ سنن دار قطنی ج٤ ص٨٥،٨٦۔ عن المقدام السنن الکبرٰی بیقھی ج٦ کتاب الفرائض باب من قال بتوریث ذوی الارحام۔

فصل:۳ اسلامی ریاست کے بنیادی اصول قانون الٰہی کی بالا تری

٢٥٠- عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ۔ اَحِلُّوْا حَلاَلَہٗ وَ حَرِّمُوْا حَرَامَہٗ۔( کنز العمال بحوالہ طبرانی و مسند احمد، جلد اوّل حدیث نمبر: ۹۰۷-۹۶۶)
’’تم پر لازم ہے کتاب اللہ کی پیروی۔ جس چیز کو اس نے حلال کیا ہے اسے حلال کرو، اور جسے اس نے حرا م کیا ہے اسے حرام کرو۔ ‘‘
تخریج:(۱) عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ مَرْعُوْبٌ، فَقَالَ: اَطِیْعُوْنِیْ مَا کُنْتُ بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ وَ عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ، اَحِلُّوْا حَلاَلَہٗ وَ حَرِّمُوْا حَرَامَہٗ۔(مشکوٰۃ بحوالہ دار قطنی، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، کنز العمال ج اوّل۔ حدیث ۹۸۱-۹۸۲۔)
تشریح: ظہور اسلام کے ساتھ جو مسلم معاشرہ وجود میں آیا اور پھر ہجرت کے بعد سیاسی طاقت حاصل کرکے جس ریاست کی شکل اس نے اختیار کی، اس کی بنیاد چند واضح اصولوں پر تھی۔ ان میںاہم تر یہ ہیں۔
قانون خداوندی کی بالاتری
٢٥١-نبیؐ نے اپنے متعدد ارشادات میںاس اصل الاصول کوپوری صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا وَ حَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلاَ تَنْتَھِکُوْھَا۔ وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلاَ تَعْتَدُوْھَا وَ سَکَتَ عَنْ اَشْیَائَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوْا عَنْھَا۔(۲)
’’اللہ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ حرمتیں مقرر کی ہیں، انہیں نہ توڑو، کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت فرمایا ہے بغیر اس کے کہ اسے نسیان لاحق ہو، ان کی کھوج میں نہ پڑو۔‘‘
تخریج:(۱) نا الْقَاسِمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْمُحَامِلِیُّ، نَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْاَزْرَقُ قَالاَ: ثَنَا اِسْحَاقُ الْاَزْرَقُ، نَا دَاوٗدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدٍ عَنْ مَکْحُوْلٍ، عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا، وَ حَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلاَ تَنْتَھِکُوْھَا، وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلاَ تَعْتَدُوْھَا، وَ سَکَتَ عَنْ اَشْیَائَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوْا عَنْھَا۔(٢)
(۲) ضَحَّاکُ بْنُ مُزَاحِمٍ، اَنَّہٗ اجْتَمَعَ ھُوَ وَالْحَسَنُ بْنُ اَبِی الْحَسَنِ، وَ مَکْحُوْلُ الشَّامِیُّ، وَ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارِ الْمَکِّیُّ، وَ طَاؤُسُ الْیَمَانِیُّ، فَاجْتَمَعُوْا فِیْ مَسْجِدِ الْخَیْفِ، فَارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُھُمْ، وَ کَثُرَ لَغَطُھُمْ فِی الْقَدْرِ، فَقَالَ طَاؤُسٌ وَ کَانَ فِیْھِمْ مَرْضِیًّا، اَنْصِتُوْا حَتّٰی اُخْبِرَکُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ اَبِی الدَّرْدَآئِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْکُمْ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا، وَحَدَّ لَکُمْ حُدُوْدًا فَلاَ تَعْتَدُوْھَا، وَ نَھَاکُمْ عَنْ اَشْیَائَ فَلاَ تَنْتَھِکُوْھَا، وَ سَکَتَ عَنْ اَشْیَائَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَکْلَفُوھَا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاقْبَلُوْھَا نَقُوْلُ مَا قَالَ رَبُّنَا، وَ نَبِیًّا ﷺ۔ اَلْاُمُوْرُ بِیَدِ اللّٰہِ، مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ مَصْدَرُھَا وَ اِلَیْہِ مَرْجِعُھَا، لَیْسَ اِلَی الْعِبَادِ فِیْھَا تَفْوِیْضٌ وَلاَ مَشِیْئَۃٌ، فَقَامُوْا وَ ھُمْ رَاضُوْنَ بِقَوْلِ طَاؤُسٍ۔(٣)
(۳) اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ الْفَرَائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا وَ حَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلاَ تَنْتَھِکُوْھَا وَ حَدَّ حُدُوْدًا فَلاَ تَعْتَدُوْھَا وَ سَکَتَ عَنْ اَشْیَائَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوْھَا۔(٤)
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ بْنِ قَعْنَبٍ نَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ التُّسْتَرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ تَلاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیَاتٌ مُّحْکَمَاتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتَابِ وَ اُخَرُ مُتَشَابِھَاتٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلاَّ اللّٰہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلاَّ ٓ اُولُوا الْاَلْبَابِ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا رَأَیْتُمُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ سَمَّی اللّٰہُ فَاحْذَرُوْھُمْ۔(٥)
تشریح: اس حدیث میں غیر نسیان کے الفاظ توجہ طلب ہیں حضوؐر کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کی تفصیلی کیفیت بیان نہیں فرمائی، ان کی کھوج کرید کرنے کے معنی یہ ہیں کہ معاذ اللہ حضرت حق سے کچھ ہدایت دینے میں بھول چوک ہوگئی تھی جس کی تلافی کرنے کے لیے آپ چلے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضورانے فرمایا: اِذْ رَأَیْتُمُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ سَمَّی اللّٰہُ فَاحْذَرُوْھُمْ (مسلم کتاب العلم) یعنی جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن مجید کے متشابہات کی کھوج میںلگے ہوئے ہیں تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اہل زیغ قرار دیا ہے۔ لہٰذا ان سے پرہیز کرو۔ حضور انے ان سے حذر کرنے کا حکم اسی لیے دیا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ محبت و گفتگو کرتے کرتے آدمی خود بھی نا دانستہ متشابہات کی کھوج کرید میں گم ہوجاتا ہے۔
٢٥٢-مَنِ اقْتَدٰی بِکِتَابِ اللّٰہِ لاَ یَضِلُّ فِی الدُّنْیَا وَلاَ یَشْقٰی فِی الْاٰخِرَۃِ۔(مشکوٰۃ بحوالہ رزین، باب مذکورہ)
جس نے کتاب اللہ کی پیروی کی وہ نہ دنیا میں گمراہ ہوگا نہ آخرت میں بد بخت۔(مشکوٰۃ بحوالہ مؤطا، باب مذکور، کنز العمال ج۱۔ حدیث۸۷۷،۹۴۹،۹۵۵،۱۰۰۱۔)
تخریج:(۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ تََعَلَّمَ کِتَابَ اللّٰہِ ثُمَّ اتْبَعَ مَا فِیْہِ ھَدَاہُ اللّٰہُ مِنَ الضَّلاَلَۃِ فِی الدُّنْیَا وَ وَقَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سُوْئَ الْحِسَابِ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَنِ اقْتَدٰی بِکِتَابِ اللّٰہِ لاَ یَضِلُّ فِی الدُّنْیَا وَلاَ یَشْقٰی فِی الْاٰخِرَۃِ ثُمَّ تَلاَ ھٰذِہٖ الْآیَۃِ فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی۔(٦)
٢٥٣- تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا، کِتَابَ اللّٰہِ وَ سُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ۔(ْکنز العمال: ۱؍۸۸۶)
’’میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں جنہیں اگر تم تھامے رہو۔ تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔‘‘
تخریج:(۱) مَالِکٌ اَنَّہٗ بَلَغَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا کِتَابَ اللّٰہِ وَ سُنَّۃَ نَبِیِّہٖ۔(٧)
٢٥٤-مَا اَمَرْتُکُمْ بِہٖ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔
جس چیز کا میں نے حکم دیا ہے اسے اختیار کرلو اور جس چیز سے روکا ہے اس سے رک جاؤ۔
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: ثَنَا شَرِیْکٌ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَعَمَ: مَا اَمَرْتُکُمْ بِہٖ فَخَذُوْہُ، وَمَا نَھِیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔(٨)

عدل بین الناس

٢٥٥-اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا یُقِیْمُوْنَ الْحَدَّ عَلَی الْوَضِیْعِ وَ یَتْرُکُوْنَ عَلَی الشَّرِیْفِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ (بِنْتَ مُحَمَّدٍ) فَعَلَتْ ذٰلِکَ لَقَطَعْتُ یَدَھَا۔)( بخاری، کتاب الحدود، ابواب نمبر ۱۱،۱۲)
’’تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں وہ اسی لیے تو تباہ ہوئیں کہ وہ لوگ کمتر درجے کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیتے تھے اور اونچے درجے والوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر محمد کی اپنی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ اُسَامَۃَ کَلَّمَ النَّبِیَّ ﷺ فِی امْرَأَۃٍ، فَقَالَ: اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اِنَّھُمْ کَانُوْا یُقِیْمُوْنَ الْحَدَّ عَلَی الْوَضِیْعِ وَ یَتْرُکُوْنَ عَلَی الشَّرِیْفِ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ فَاطِمَۃُ فَعَلَتْ ذٰلِکَ لَقَطَعْتُ یَدَھَا۔(٩)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ اسامہ نے ایک خاتون کے بارے میں نبی اسے گفتگو کی (سفارش کی)۔ گفتگو سن کر آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگ بھی اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ کم حیثیت و کمزور پر حد قائم کرتے (سزا دیتے) اور معزز و باحیثیت آدمی کو چھوڑدیتے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ (بنت محمد) بھی یہ جرم کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔
(۲) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ قُرَیْشًا اَھَمَّتْھُمُ الْمَرْأَۃُ الْمَخْزُوْمِیَّۃُ الَّتِیْ سَرَقَتْ، قَالُوْا:مَنْ یُّکَلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، وَ مَنْ یَّجْتَرِیُٔ عَلَیْہِ اِلاَّ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: أَتَشْفَعُ فِیْ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ، ثُمَّ قَامَ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: یٰـٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَکُمْ اِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ الشَّرِیْفُ، تَرَکُوْہُ، وَ اِذَا سَرَقَ الضَّعِیْفُ فِیْھِمْ اَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحُدُوْدَ (الْحَدَّ) وَ اَیْمُ اللّٰہِ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ یَدَھَا۔(١٠)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ قریش کو قبیلۂ مخزوم کی فاطمہ نامی خاتون، جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا، کے معاملہ نے فکرو تردد اور تشویش میں مبتلا کردیا۔ ان لوگوں نے غور کیا کہ رسول اللہ اکی خدمت میں جاکر بات کون کرے اور رسول اللہ اکے پیارے اسامہ بن زید کے سوا یہ جرأت کون کرسکتا ہے (زید کو اس کام کے لیے آمادہ کیا) تو انہوں نے رسول اللہ اسے سفارش کی آپؐ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو پھر آپ اپنی جگہ سے اٹھے اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو بھی اسی چیز نے برباد کیا۔ وہ لوگ جب شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے (سزا نہ دیتے) اور جب کوئی کمزور ضعیف آدمی چوری کرتا تو اس پر حد سرقہ قائم کرتے۔ اللہ کی قسم اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کا ارتکاب کرتی تو محمدؐ اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ قَالَ اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، اَنَّ امْرَأَۃً سَرَقَتْ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ غَزْوَۃِ الْفَتْحِ، فَفَزِعَ قَوْمُھَا اِلٰی اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ یَسْتَشْفِعُوْنَہٗ، قَالَ عُرْوَۃُ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ اُسَامَۃُ فِیْھَا تَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ:اَتُکَلِّمُنِیْ فِیْ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ، قَالَ اُسَامَۃُ:اسْتَغْفِرْلِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَطِیْبًا، فَاَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ھُوَ اَھْلُہٗ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّمَا اَھْلَکَ النَّاسَ قَبْلَکُمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَ اِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ اَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا، ثُمَّ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِتِلْکَ الْمَرْأَۃِ فَقُطِعَتْ یَدُھَا فَحَسُنَتْ تَوْبَتُھَا بَعْدَ ذَالِکَ وَ تَزَوَّجَتْ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَکَانَتْ تَاْتِیْ بَعْدَ ذَالِکَ فَاَرْفَعُ حَاجَتَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔(١١)
ترجمہ: حضرت عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ غزوۂ مکہ کے موقع پر عہد رسالت مآب میں ایک عورت نے چوری کی۔ اس کی قوم کے لوگ حضرت اسامہ کی خدمت میں گھبرائے ہوئے آئے کہ ان سے سفارش کی درخواست کریں۔ حضرت عروہ کا بیان ہے کہ اسامہ نے اس عورت کے بارے میں رسول اللہ اسے بات کی (سفارش کی) تو رسول اللہ اکے چہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا فرمایا کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتاہے؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے لیے اللہ سے معافی کی درخواست فرمائیں۔ پچھلے پہر رسول اللہا لوگوں سے خطاب فرمانے تشریف فرما ہوئے۔ اللہ کی حمد و ثنا فرمائی جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا تم سے پہلے لوگوں کو بھی اسی نے ہلاک کیا کہ وہ جب شریف آدمی چوری کا مرتکب ہوتا تو اسے نظر انداز کردیتے اور جب ضعیف و ناتواں آدمی چوری کرتا تو اس پر حد سرقہ قائم کردیتے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ اس کے بعد رسول اللہا نے حکم صادر فرمایا اور اس عورت کا ہاتھ قطع کردیا گیا۔
حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ اس کے بعد اس کی توبہ بہت اچھی رہی۔ اس نے شادی کرلی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پھر وہ خاتون ان کی خدمت میں حاضر ہوتی تو۔ آپ اس کا معاملہ حضوؐر کے سامنے رکھ دیتیں۔
تشریح: دوسرا قاعدہ جس پر اس ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی یہ تھا کہ قرآن و سنت کا دیا ہوا قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس کو مملکت کے ادنی ترین آدمی سے لے کر مملکت کے سربراہ تک سب پر یکساں نافذ ہونا چاہیے۔ کسی کے لیے بھی اس میں امتیازی سلوک کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکو یہ اعلان کرنے کی ہدایت فرماتا ہے کہ امرت لاعدل بینکم۔ ( الشوریٰ:۱۵) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں۔
یعنی میں بے لاگ انصاف پسندی کرنے پر مامور ہوں۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف تعصب برتوں۔ میرا سب انسانوں سے یکساں تعلق ہے، اور وہ ہے عدل و انصاف کا تعلق۔ حق جس کے ساتھ ہو، میں اس کا ساتھی ہوں اور حق جس کے خلاف ہو میں اس کا مخالف ہوں۔ میرے دین میں کسی کے لیے بھی کوئی امتیاز نہیں ہے اپنے اور غیر، بڑے اور چھوٹے، شریف اور کمین کے لیے الگ الگ حقوق نہیں ہیں۔ جو کچھ حق ہے وہ سب کے لیے حق ہے، جو گناہ ہے وہ سب کے لیے گناہ ہے جو حرام ہے وہ سب کے لیے حرام ہے۔ جو حلال ہے وہ سب کے لیے حلال ہے اور جو فرض ہے وہ سب کے لیے فرض ہے۔ میری اپنی ذات بھی قانون خداوندی کی اس ہمہ گیری سے مستثنیٰ نہیں۔ نبی اخود اس قاعدے کو یوںبیان فرماتے ہیں۔

مساوات بین المسلمین

٢٥٦-حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں۔
رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُقِیْدُ مِنْ نَّفْسِہٖ۔( کتاب الخراج، امام ابو یوسف، ص۱۱۶۔ مسند ابو داؤد، الطیالسی، حدیث نمبر ۵۵۔ )
’’میں نے خود رسول اللہا کو اپنی ذات سے بدلہ دیتے دیکھا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) قَالَ: وَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَطَائٍ، قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔۔۔اِلٰی عُمَّالِہٖ اَنْ یُّوَافُوْہُ بِالْمَوْسِمِ، فَوَافَوْہُ، فَقَامَ فَقَالَ: اَیُّھَا النَّاسُ، اِنِّیْ بَعَثْتُ عُمَّالِیْ ھٰٓؤُلَآئِ عَلَیْکُمْ وَلَمْ اَسْتَعْمِلْھُمْ لِیُصِیْبُوْا مِنْ اَبْشَارِکُمْ، وَلاَ مِنْ دِمَائِکُمْ، وَلاَ مِنْ اَمْوَالِکُمْ، فَمَنْ کَانَتْ لَہٗ مَظْلَمَۃٌ عِنْدَ وَاحِدٍ مِّنْھُمْ فَلْیَقُمْ۔ قَالَ: فَمَا قَامَ عَنِ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ غَیْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، عَامِلِیْ ضَرَبَنِیْ مِائَۃَ سَوْطٍ۔ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ:أَتَضْرِبُہٗ مِائَۃَ سَوْطٍ؟ قُمْ، فَاسْتَقِدْ مِنْہُ۔ فَقَامَ اِلَیْہِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ لَہٗ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، اِنَّکَ اِنْ تَفْتَحْ ھٰذَا عَلٰی عُمَّالِکَ، کَبُرَ عَلَیْھِمْ، وَ کَانَتْ سُنَّۃً یَّاْخُذُ بِھَا مَنْ بَعْدَکَ! وَ قَالَ عُمَرُ: أَلاَ اُقِیْدُ مِنْہُ وَ قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُقِیْدُ مِنْ نَّفْسِہٖ؟(١٢)
ترجمہ: حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ وہ موسم حج میں آکر ان سے ملیں چناں چہ وہ آئے اور ملے۔ حضرت عمرؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا۔ لوگو! میں نے اپنے ان گورنروں کو تمہارے پاس بھیجا ہے۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہاری چمڑی ادھیڑیں، تمہارا خون گرائیں، تمہارے اموال پر قبضہ کرلیں۔ پس جس کسی کو ظلم و زیادتی کی شکایت ہو وہ کھڑا ہو۔ راوی کا بیان ہے اس وقت لوگوں میں سے صرف ایک آدمی کے سوا کوئی بھی کھڑا نہ ہوا اس نے شکایت کی کہ امیر المومنین میرے عامل نے مجھے سو کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کیا تواسے سو کوڑے مارنا چاہتا ہے۔ اٹھو اور قصاص لے لو تو حضرت عمرو بن عاص فوراً حضرت عمرؓ کی جانب کھڑے ہوگئے اور عرض کیا اے امیرالمومنین آپ نے اگر یہ در کھول دیا تو یہ عمال پر گراں گزرے گا۔ (ان کے لیے دشواری کا باعث ہوگا) اور یہ ایسا طریقہ و اصول بن جائے گا بعد میں آنے والے بھی اسے اخذ کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کیا میں اس سے قصاص نہ لوں جبکہ میںنے خود رسول اللہ ا کو اپنی ذات سے بدلہ دیتے دیکھا ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُو دَاوٗدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ اَلْجُدَیْرِیُّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ:اَلاَ فَمَنْ ظَلَمَہٗ اَمِیْرُہٗ فَلْیَرْفَعْ ذٰلِکَ اِلَیَّ اَقِیْدُ مِنْہُ۔ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَئِنْ اٰذَی رَجُلٌ رَجُلاً مِّنْ اَھْلِ رَعِیَّتِہٖ لَتَقُصَّہٗ مِنْہُ قَالَ: کَیْفَ لاَ اَقُصَّہٗ مِنْہُ، وَ قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُقِصُّ مِنْ نَّفْسِہٖ۔(١٣)
ترجمہ: ابو فراس سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ نے خطاب فرمایا اور کہا کہ جس کسی کے امیرنے اس پر ظلم کیا ہو وہ مقدمہ میرے پاس لائے میں اس سے قصاص لوں گا۔ عمرو بن عاص یہ سن کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے امیر المومنین اس کی رعایا میں سے ایک آدمی نے دوسرے کو اذیت پہنچائی ہے تو آپ اس سے قصاص لیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا میں اس سے قصاص کیسے نہ لوں جب کہ میں نے رسول اللہا کو اپنی ذات سے قصاص دیتے دیکھا ہے۔
٢٥٧-اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَ اَمْوَالِکُمْ وَ لٰـکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَ اَعْمَالِکُمْ۔(تفسیر ابن کثیر، بحوالہ مسلم و ابن ماجہ: ۴؍۲۱۷۔ )
’’اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دل اور تمہارے اعمال دیکھتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَمْرُو النَّاقِدُ، نَا کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامٍ، نَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْاَصَمِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَ اَمْوَالِکُمْ وَ لٰـکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَ اَعْمَالِکُمْ۔(١٤)
٢٥٨- اَلْمُسْلِمُوْنَ اِخْوَۃٌ، لاَ فَضَلَ لِاَحَدٍ اِلاَّ بِالتَّقْویٰ۔
’’مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنا پر۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ عُبَیْدَۃَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْعَسْکَرِیُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبْلَۃَ، ثَنَا عُبَیْدُ بْنُ حُنَیْنِ الطَّائِیُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ خِرَاشِ الْعَصَرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ،اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اَلْمُسْلِمُوْنَ اِخْوَۃٌ لاَ فَضْلَ لِاَحَدٍ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔(١٥)
تشریح: اسی قاعدے کی فرع یہ تیسرا قاعدہ ہے جو اس ریاست کے مسلمات میں سے تھا کہ تمام مسلمانوں کے حقوق بلحاظ رنگ و نسل و زبان و وطن بالکل برابر ہیں، کسی فرد، گروہ، طبقے یا نسل و قوم کو اس ریاست کے حدود میں نہ امتیازی حقوق حاصل ہوسکتے ہیں اور نہ کسی کی حیثیت کسی دوسرے کے مقابلے میں فروتر قرار پاسکتی ہے۔ نبی اکے حسب ذیل ارشادات اس قاعدے کی صراحت کرتے ہیں۔
اَلْمُسْلِمُوْنَ اِخْوَۃٌ۔ لاَ فَضَلُ لِاَحَدٍ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔ ( ابو داؤد کتاب الامارۃ باب ۳۷۔۔) ’’مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بناپر۔‘‘
٢٥٩-یٰٓـاَیُّھَا النَاسُ، اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ۔ لاَ فَضَلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔(تفسیر روح المعانی، ج۲۶۔ ص۱۴۸۔ بحوالہ بیہقی و ابن مردویہ، ادارہ الطباعۃ المنیریہ، مصر۔)
’’لوگو! سن لو، تمہارا رب ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر، یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ کالے کو گورے پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے مگر تقویٰ کے لحاظ سے۔‘‘
تخریج: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ وَسْطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ خُطْبَۃَ الْوَدَاعِ فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ! اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ أَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔(١٦)
٢٦٠- مَنْ شَھِدَ اَنْ لآَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَ صَلّٰی صَلٰوتَنَا وَ اَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَھُوَ الْمُسْلِمُ لَہٗ مَا لِلْمُسْلِمِ وَ عَلَیْہِ مَا عَلَی الْمُسْلِمِ۔(بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب۲۸۔)
’’جس نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا اور ہماری طرف نماز پڑھی اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے۔ اس کے حقوق وہی ہیں جو مسلمان کے حقوق ہیں اور اس پر فرائض وہی ہیں جو مسلمان کے فرائض ہیں۔‘‘
تخریج:(۱) وَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: نَا حُمَیْدٌ، قَالَ: سَأَلَ مَیْمُوْنُ بْنُ سِیَاہِ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، فَقَالَ یَا اَبَا حَمْزَۃَ وَمَا یُحَرِّمُ دَمَ الْعَبْدِ وَ مَالَہٗ؟ فَقَالَ: مَنْ شَھِدَ اَنْ لآَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَ صَلّٰی صَلاَتَنَا، وَ اَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَھُوَ الْمُسْلِمُ لَہٗ مَا لِلْمُسْلِمِ وَ عَلَیْہِ مَا عَلَی الْمُسْلِمِ۔(١٧)
٢٦١-اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَائُ ھُمْ، وَ ھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ، وَ یَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ۔( ابو داؤد، کتاب الدیات، باب۱۱، نسائی، کتاب القسامۃ۔ باب ۱۴۱۔)
مومنون کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں، وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں اور ان میں سے ایک ادنی آدمی بھی ان کی طرف سے ذمہ لے سکتا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَ مُسَدَّدٌ، قَالاَ: ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، اَخْبَرَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَّادٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ اَنَا وَالْاَشْتَرُ اِلٰی عَلِیٍّ، فَقُلْنَا: ھَلْ عَھِدَ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ شَیْئًا لَمْ یَعْھَدْہُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ: لاَ، اِلاَّ مَا فِیْ کِتَابِیْ ھٰذَا، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَاَخْرَجَ کِتَابًا، وَ قَالَ اَحْمَدُ: کِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَیْفِہٖ، فَاِذَا فِیْہِ: اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ، وَ ھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ، وَ یَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ، اَدْنَاھُمْ، اَلاَ! لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ، وَلاَ ذُوْ عَھْدٍ فِیْ عَھْدِہٖ، مَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلٰی نَفْسِہٖ، وَ مَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا اَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔(١٨)
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ (ھُوَ مُحَمَّدٌ) بِبَعْضِ ھٰذَا، ح وَ ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ (ابْنِ مَیْسَرَۃَ) حَدَّثَنِیْ ھُشَیْمٌ، عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، جَمِیْعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْمُسْلِمُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ:یَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ، وَ یُجِیْرُ عَلَیْھِمْ اَقْصَاھُمْ، وَ ھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ، یَرُدُّ مُشِدُّھُمْ عَلٰی مُضْعِفِھِمْ، وَ مُتَسَرِّعُھُمْ عَلٰی قَاعِدِھِمْ لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ، وَلاَ ذُوْ عَھْدٍ فِیْ عَھْدِہٖ۔(١٩)
ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب نے اپنے باپ کے حوالہ سے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہانے فرمایا۔ سب مسلمانوں کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں ان کا ادنیٰ آدمی بھی ان کی طرف سے ذمہ داری لے سکتا ہے اور ان کا دور کا آدمی بھی امان دے سکتاہے اور وہ دوسروں کے مقابلہ میں ایک ہیں۔ ان کے طاقتور کو کمزور کے مقابلہ میں رد کیا جاسکتا ہے اور بھاگنے والے کوبیٹھے والے کے مقابلہ میں رد کیا جاسکتا ہے اور مومن کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیاجائے گا اور نہ کسی ذمی کو اس کے عہد ذمہ کی حالت میں قتل کیاجائے گا۔
٢٦٢-لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ جِزْیَۃٌ۔( بخاری، کتاب الاحکام باب۱۔ مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ۵ بخاری مسلم دونوں میں الامام اعظم کے الفاظ نہیں۔ (مرتب)۲۱۷۔)
’’مسلمان پر جزیہ عاید نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْجَرَاحِ، عَنْ جَرِیْرٍ، عَنْ قَابُوْسٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ جِزْیَۃٌ۔(٢٠)

حکومت کی ذمہ داری

٢٦٣- اَلاَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ فَالْاِمَامُ الْاَعْظَمُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔(ابو داؤد، کتاب الامارۃ، باب ۳۷۔)
’’خبردار رہو! تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے اور مسلمانوں کا سب سے بڑا سردار جو سب پر حکمران ہو، وہ بھی راعی ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلاَ کُلُّکُمْ رَاعٍ، وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ فَالْاِمَامُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہٖ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالْمَرَأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِ زَوْجِھَا وَ وَلَدِہٖ وَ ھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ، وَ عَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلٰی سَیِّدِہٖ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْہُ، اَلاَ فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔(٢١)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا خبردار رہو۔ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔ لوگوں کا امام بھی راعی ہے وہ اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے اور ایک آدمی اپنے اہل و عیال پر راعی، وہ اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی راعی ہے اور وہ ان سب کے بارے میں جواب دہ ہے۔ آدمی کا غلام اپنے سردار کا راعی ہے اس سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ سنو! تم سب راعی ہو اور تم سب سے جواب دہی ہوگی اس کی رعیت کے بارے میں۔
٢٦٤- مَا مِنْ وَالٍ یَلِیْ رَعِیَّۃً مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَمُوْتُ وَ ھُوَ غَاشٍ لَّھُمْ اِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا حُسَیْنُ الْجَعْفِیُّ، قَالَ زَائِدَۃُ: ذَکَرَہٗ عَنْ ھِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، اَتَیْنَا مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ نَعُوْدُہٗ، فَدَخَلَ عُبَیْدُ اللّٰہِ، فَقَالَ لَہٗ مَعْقِلٌ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہٗ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: مَا مِنْ وَالٍ یَلِیْ رَعِیَّۃً مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَمُوْتُ وَ ھُوَ غَاشٌ لَّھُمْ اِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔(٢٢)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ غَسَّانَ الْمِسْمَعِیُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مَثـَنّٰی وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ اِسْحَاقُ: اَنَا وَ قَالَ الْاٰخَرَانِ: نَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، اَنَّ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ زِیَادٍ، عَادَ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ فِیْ مَرَضِہٖ، فَقَالَ لَہٗ مَعْقِلٌ: اِنِّیْ مُحَدِّثُکَ بِحَدِیْثٍ، لَوْلاَ اَنِّیْ فِی الْمَوْتِ لَمْ اُحَدِّثُکَ بِہٖ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَا مِنْ اَمِیْرٍ یَلِیْ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ ثُمَّ لاَ یَجْھَدُ لَھُمْ وَ یَنْصَحُ اِلاَّ لَمْ یَدْخُلْ مَعَھُمُ الْجَنَّۃَ۔(٢٣)
معقل بن یسار سے مروی ایک دوسری روایت میں مندرجہ ذیل الفاظ بھی منقول ہیں:
(۳) حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوْخٍ قَالَ نَا اَبُوْ الْاَشْھَبِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنِ زَیَادٍ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارِ الْمُزْنِیِّ فِیْ مَرْضِہِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ فَقَالَ مَعْقِلٌ اِلٰی مُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہٗ مِنْ رَّسُوِلِ اللّٰہِ ﷺ لَوْ عَلِمْتُ اَنَّ لِیْ حَیَاۃً مَا حَدَّثْتُکَ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْتَرِعِیْہِ اللّٰہُ رَعِیَّۃً یَمُوْتُ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ ھُوَ غَاشٌ لِرَعِیَّتِہٖ اِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔(٢٤)
ترجمہ: حضرت معقل بن یسار سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ا کو فرماتے سنا ہے کہ کوئی بندہ ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ کوئی رعیت دے پھر وہ جس دن مرے اپنی رعیت کے حقوق میں خیانت کرتا ہوا مرے، مگر اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔
تشریح: چوتھا اہم قاعدہ جس پر یہ ریاست قائم ہوئی تھی، یہ تھا کہ حکومت اور اس کے اختیارات اور اموال، خدا اور مسلمانوں کی امانت ہیں، جنہیں خدا ترس، ایمان دار اور عادل لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہیے اور اس امانت میں کسی شخص کو من مانے طریقے پر، یا نفسانی اغراض کے لیے تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے۔
مَا مِنْ وَالٍ یَلِیْ رَعِیَّتَہٗ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَمُوْتُ وَ ھُوَ غَاشٍ لَّھُمْ اِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہ الْجَنَّۃَ۔(بخاری، کتاب الاحکام، باب۸، مسلم، کتاب الایمان، باب۶۱۔ کتاب الامارہ باب۵۔) ’’کوئی حکمران، جو مسلمانوں میں سے کسی رعیت کے معاملات کا سربراہ ہو، اگر اس حالت میں مرے کہ وہ ان کے ساتھ دھوکا اور خیانت کرنے والا تھا، تو اللہ اس پر جنت حرام کردے گا۔‘‘مَا مِنْ اَمِیْرٍ یَلِیْ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ ثُمَّ لاَ یَجْھَدُ لَھُمْ وَلاَ یَنْصَحُ اِلاَّ لَمْ یَدْخُلْ مَعَھُمْ فِی الْجَنَّۃِ)(مسلم۔ کتاب الامارۃ، باب۵) ’’کوئی حاکم جو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی منصب سنبھالے، پھر اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے جان نہ لڑائے اور خلوص کے ساتھ کام نہ کرے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں قطعاً نہ داخل ہوگا۔‘‘
٢٦٥- یَا اَبَا ذَرٍّ، اِنَّکَ ضَعِیْفٌ، وَ اِنَّھَا اَمَانَۃٌ، وَ اِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَ نَدَامَۃٌ اِلاَّ مَنْ اَخَذَ بِحَقِّھَا وَ اَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَا۔(مسلم، کتاب الامارہ، باب۵۔)
(نبی انے حضرت ابوذرؓ سے فرمایا) ’’اے ابو ذر تم کمزور آدمی ہو، اور حکومت کا منصب ایک امانت ہے، اور قیامت کے روز وہ رسوائی اور ندامت کا موجب ہوگا، سوائے اس شخص کے جو اس کے حق کاپورا پورا لحاظ کرے، اور جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیْدَ الْحَضْرَمِیِّ عَنِ ابْنِ حُجَیْرَۃَ الْاَکْبَرِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلاَ تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ: فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکَبِیْ ثُمَّ قَالَ: یَا اَبَا ذَرٍّ! اِنَّکَ ضَعِیْفٌ، وَ اِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَ اِنَّھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَ نَدَامَۃٌ اِلاَّ مَنْ اَخََذَھَا بِحَقِّھَا وَ اَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَا۔(٢٥)
٢٦٦-اِنَّ مِنْ اَخْوَنِ الْخِیَانَۃِ تِجَارَۃُ الْوَالِیِ فِیْ رَعِیَّتِہٖ۔(کنز العمال۔ ج۶، حدیث نمبر ۷۸۔)
’’کسی حاکم کا اپنی رعیت میں تجارت کرنا بدترین خیانت ہے۔‘‘
تخریج: اِنَّ مِنْ اَخْوَنِ الْخِیَانَۃِ تِجَارَۃُ الوَالِیْ فِیْ رَعِیَّتِہٖ۔(٢٦)
٢٦٧-مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلاً وََلَمْ تَکُنْ لَّہٗ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَّخِذْ زَوْجَۃً، وَ مَنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا، اَوْ لَیْسَ لَہٗ مَسْکَنٌ فَلْیَتَّخِذْ مَسْکَنًا اَوْ لَیْسَ لَہٗ دَآبَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَآبَّۃً۔ فَمَنْ اَصَابَ سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ اَوْ سَارِقٌ۔(کنز العمال ج۶۔ ج،۳۴۶۔)
’’جو شخص ہماری حکومت کے کسی منصوب پر فائز ہو وہ اگر بیوی نہ رکھتا ہو، تو شادی کرلے۔ اگر خادم نہ رکھتا ہو تو ایک خادم حاصل کرلے۔ اگر گھر نہ رکھتا ہو توایک گھر لے لے۔ اگر سواری نہ رکھتا ہو تو ایک سواری لے لے۔ اس سے آگے جو شخص قدم بڑھاتا ہے وہ خائن یا چور۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُوْسَی بْنُ دَاوٗدَ، ثَنَا ابْنُ لَھْیَعَۃَ، عَنِ ابْنِ ھُبَیْرَۃَ، وَالْحَرْثِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلاً وَ لَیْسَ لَہٗ مَنْزِلٌ فَلْیَتَّخِذْ مَنْزِلاً، اَوْ لَیْسَتْ لَہٗ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَزَوَّجْ، اَوْ لَیْسَ لَہٗ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا اَوْ لَیْسَتْ لَہٗ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَابَّۃً، وَ مَنْ اَصَابَ شَیْئًا سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ۔
ان ہی سے مروی دوسری روایت مستورد بیان کرتے ہیں:
سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلاً فَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَزَوَّجْ اَوْ خَادِمًا فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا اَوْ مَسْکَنًا فَلْیَتَّخِذْ مَسْکَنًا اَوْ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَآبَّۃً، فَمَنْ اَصَابَ شَیْئًا سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ اَوْ سَارِقٌ۔(٢٧)
(۲) عَنِ الْمَسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ کَانَ لَنَا عَامِلاً فَلْیَکْتَسِبْ زَوْجَۃً: فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ خَادِمٌ فَلْیَکْتَسِبْ خَادِمًا، فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ مَسْکَنٌ، فَلْیَکْتَسِبْ مَسْکَنًا، قَالَ: قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: اُخْبِرْتُ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: مَنِ اتَّخَذَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ اَوْ سَارِقٌ۔(٢٨)
(۳) مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلاً، وََلَمْ تَکُنْ لَّہٗ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَّخِذْ زَوْجَۃً، وَ مَنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا اَوْ لَیْسَ لَہٗ مَسْکَنٌ فَلْیَتَّخِذْ مَسْکَنًا اَوْ لَیْسَ لَہٗ دَآبَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَآبَّۃً فَمَنْ اَصَابَ سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ اَوْ سَارِقٌ۔(٢٩)
٢٦٨-’’ مَنْ یَّکُنْ اَمِیْرًا فَاِنَّہٗ مِنْ اَطْوَلِ النَّاسِ حِسَابًا وَ اَغْلِظِہٖ عَذَابًا، وَ مَنْ لاَّ یَکُوْنُ اَمِیْرًا فَاِنَّہٗ مِنْ اَیْسَرِ النَّاسِ حِسَابًا وَ اَھْوَنِہٖ عَذَابًا لِاَنَّ الْاُمَرَائَ اَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ مَنْ یَّظْلِمُ الْمُؤْمِنِیْنَ فَاِنَّمَا یَخْفِرُ اللّٰہَ۔‘‘(کنز العمال ج۵۔ مع۵،۲۵)
’’جو شخص حکمران ہو اس کو سب سے زیادہ بھاری حساب دینا ہوگا۔ اور وہ سب سے زیادہ سخت عذاب کے خطرے میں مبتلا ہوگا اور جو حکمران نہ ہو اس کو ہلکا حساب دینا ہوگا اور اس کے لیے ہلکے عذاب کا خطرہ ہے کیوں کہ حکام کے لیے سب سے بڑھ کر اس بات کے مواقع ہیں کہ ان کے ہاتھوں مسلمانوں پر ظلم ہو اور جو مسلمانوں پر ظلم کرے وہ خدا سے غداری کرتا ہے۔‘‘
تخریج: عَنْ رَافِعِ الطَّائِیِّ، قَالَ: صَحِبْتُ اَبَا بَکْرٍ فِیْ غَزْوَۃٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا، قُلْتُ: یَا اَبَا بَکْرٍ! اَوْصِنِیْ قَالَ: اَقِمِ الصَّلوٰۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ لِوَقْتِھَا، وَ اَدِّ زَکوٰۃَ مَالِکَ طِیْبَۃً بِھَا نَفْسُکَ، وَ صُمْ رَمَضَانَ، وَاحْجَجِ الْبَیْتَ، وَاعْلَمْ اَنَّ الْھِجْرَۃَ فِی الْاِسْلاَمِ حَسَنٌ، وَ اَنَّ الْجِھَادَ فِی الْھِجْرَۃِ حَسَنٌ، وَلاَ تَکُنْ اَمِیْرًا، ثُمَّ قَالَ: ھٰذِہِ الْاِمَارَۃُ الَّتِیْ تَرَی الْیَوْمَ سِیْرَۃٌ قَدْ اَوْ شَکَتْ اَنْ تَفْشُوَ وَ تَکْثُرَ حَتّٰی یَنَالَھَا مَنْ لَیْسَ لَھَا بِاَھْلٍ، وَ اِنَّہٗ مَنْ یَّکُنْ اَمِیْرًا فَاِنَّہٗ مِنْ اَطْوَلِ النَّاسِ حِسَابًا وَ اَغْلَظِہٖ عَذَابًا، وَ مَنْ لاَّ یَکُوْنَ اَمِیْرًا فَاِنَّہٗ مِنْ اَیْسَرِ النَّاسِ حِسَابًا وَ اَھْوَنِہٖ عَذَابًا لِاَنَّ الْاُمَرَائَ اَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَ مَنْ یَّظْلِمُ الْمُؤْمِنِیْنَ فَاِنَّمَا یَخْفِرُ اللّٰہَ۔ ھُمْ جِیْرَانُ اللّٰہِ وَ ھُمْ عِبَادُ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَتُصَابُ شَاۃُ جَارِہٖ اَوْ بَعِیْرُ جَارِہٖ فَیَبِیْتُ وَارمَ العضل یَقُوْلُ: شَاۃُ جَارِیْ اَوْ بَعِیْرُ جَارِیْ فَاِنَّ اللّٰہَ اَحَقُّ اَنْ یَّغْضِبَ لِجِیْرَانِہٖ۔(٣٠)
٢٦٩-حضرت عمرؓ کہتے ہیں:
لَوْ ھَلَکَ حَمَلٌ مِنْ وَلَدِ الضَّانِ ضِیَاعاً بِشَاطِئی الْفُرَاتِ خَشِیْتُ اَنْ یَّسْأَلَنِیَ اللّٰہُ۔
’’دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی اگر ضائع ہوجائے تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے باز پرس کرے گا۔‘‘
(اسلامی ریاست، دور نبویؐ اور خلافت۔۔۔ ’’حکومت کی ذمہ داری‘‘)
تخریج: قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ یَحْیَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: لَوْ مَاتَ جَمَلٌ ضِیَاعًا عَلٰی شَطِّ الْفُرَاتِ لَخَشِیْتُ اَنْ یَّسْأَلَنِی اللّٰہُ عَنْہُ۔(٣١)
اطاعت فی المعروف
٢٧٠- اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا اَحَبَّ اَوْ کَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔(بخاری، کتاب الاحکام، باب۴۔ مسلم، کتاب الامارۃ، باب۸۔ ابو داوٗد، کتاب الجہاد، باب ۹۵۔ نسائی کتاب البیعۃ، باب ۳۳۔ ابن ماجہ ابواب الجہاد، باب۴۰۔
)
’’ایک مسلمان پر اپنے امیر کی سمع و طاعت فرض ہے خواہ اس کا حکم اسے پسند ہو یا نہ پسند تا وقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت نہیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ الْحَکَمَ بْنَ عَمْرِو الْغِفَارِیِّ عَلٰی خُرَاسَانَ، قَالَ: فَتَمَنَّاہُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ حَتّٰی قِیْلَ لَہٗ یَا اَبَا نجید! اَلاَ نَدْعُوْہُ لَکَ؟ قَالَ: لاَ، فَقَامَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فَلَقِیَہٗ بَیْنَ النَّاسِ قَالَ: تَذْکُرْ یَوْمَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عِمْرَانُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔(٣٢)
(۲) مَنْ اَمَرَکُمْ مِنَ الْوُلاَۃِ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ تُطِیْعُوْہُ۔(٣٣)
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ عَلْقَمَۃَ بْنَ مُجَزِّزٍ عَلٰی بَعْثٍ، وَ اَنَا فِیْھِمْ، فَلَمَّا انْتَھٰی اِلٰی رَأسِ غََزَاتِہٖ، اَوْ کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ، اسْتَاْذَنَتْہُ طَائِفَۃٌ مِنَ الْجَیْشِ، فَاَذِنَ لَھُمْ وَ اَمَّرَ عَلَیْھِمْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسِ السَّھْمِیَّ۔ فَکُنْتُ فِیْمَنْ غَزَا مَعَہٗ، فَلَمَّا کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیْقِ اَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِیَصْطَلُوْا اَوْ لِیَصْطَنَعُوْا عَلَیْھَا صَنِیْعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (وَ کَانَتْ فِیْہِ دُعَابَۃٌ) اَلَیْسَ لِیْ عَلَیْکُمُ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَمَا اَنَا بِآمِرِکُمْ بِشَیْئٍ اِلاَّ صَنَعْتُمُوْہُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَعْزِمُ عَلَیْکُمْ اِلاَّ تَوَاثَبْتُمْ فِیْ ھٰذِہِ النَّارِ، فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوْا، فَلَمَّا ظَنَّ اَنَّھُمْ وَاثِبُوْنَ، قَالَ: اَمْسِکُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ، فَاِنَّمَا کُنْتُ اَمْزَحُ مَعَکُمْ۔ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ مَنْ اَمَرَکُمْ مِنْھُمْ بِمَعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَلاَ تُطِیْعُوْہُ۔(٣٤)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہا نے علقمہ بن مجزز کو ایک لشکر کا سردار مقرر فرما کر بھیجا۔ میں بھی ان میں شامل تھا جب وہ اپنے غزوہ کے آخر مقام پرپہنچے یا راستے ہی میں تھے تو لشکر میں سے کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی۔ انہوں نے اجازت دے دی اور ان کا سردار عبد اللہ بن حذافہ سہمی کو مقرر کیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شریک تھا جنہوں نے عبد اللہ کی قیادت میں جہاد کیا۔ ایک موقع پر یہ راستہ ہی میں تھے کہ لوگوں نے تاپنے کے یاکوئی چیز تیار کرنے کی غرض سے آگ جلائی۔ عبد اللہ کی طبیعت میں ظرافت اور خوش طبعی تھی اسی موڈ میں اس نے کہا کہ کیا تم پر میری اطاعت اور تعمیل حکم لازمی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا ضرور لازم و واجب ہے۔ عبد اللہ نے کہا میں جس بات کا تمہیں حکم دوں اس پر عمل پیرا ہوگے۔ انہوں نے کہاہاں ضرور تعمیل امر کریں گے۔ اس پر عبد اللہ نے کہا تو میں تم کو قطعی حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں چھلانگ لگادو تو بعض لوگ کمر بستہ ہوکر آگ میں کود جانے کے لیے بالکل تیار ہوگئے آمادگی کی یہ صورت حال دیکھ کر عبد اللہ نے کہا روکو اپنے آپ کو میں تو تم سے دل لگی اور مذاق کر رہاتھا۔ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کا ذکر نبی اسے کیا آپؐ نے فرمایا اللہ کی نافرمانی کا تمہیں کوئی حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو۔
تشریح: چھٹا قاعدہ جس پر یہ ریاست قائم کی گئی تھی، یہ تھا کہ حکومت کی اطاعت صرف معروف میں واجب ہے۔ معصیت میں کسی کو اطاعت کا حق نہیں پہنچتا۔ دوسرے الفاظ میں اس قاعدے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اور حکام کا صرف وہی حکم ان کے ماتحتوں او ر رعیت کے لیے واجب الاطاعت ہے جو قانون کے مطابق ہو۔ قانون کے خلاف حکم دینے کا نہ انہیں حق پہنچتا ہے اور نہ کسی کو اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ قرآن مجید میں خود رسول اللہ اکی بیعت کو بھی اطاعت فی المعروف کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ حالاں کہ آپ کی طرف سے کسی معصیت کا حکم صادر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ولا یعصینک فی معروف (الممتحنہ، ۱۲۔) ’’اور یہ کہ کسی امر معروف میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گے۔ نبی اکا ارشاد ہے۔
لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔(کتاب الامارۃ باب۸۔ ابو داوٗد، کتاب الجہاد، باب ۹۵۔ نسائی، کتاب البیعۃ، باب۳۳۔) ’’اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے۔‘‘
یہ مضمون نبی اکے بکثرت ارشادات میں مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ کہیں آپؐ نے فرمایا لا طاعۃ لمن عصی اللّٰہ (جو اللہ کی نافرمانی کرے، اس کے لیے کوئی اطاعت نہیں) کہیں فرمایا لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں) کہیں فرمایا لا طاعۃ لمن لم یطع اللّٰہ (جو اللہ کی اطاعت نہ کرے اس کے لیے کوئی اطاعت نہیں) کہیں فرمایا من امرکم من الولاۃ بمعصیۃ فلا تطیعوہ۔ حکام میں سے جو کوئی تمہیں کسی معصیت کا حکم دے، اس کی اطاعت نہ کرو۔ ( کنز العمال ج۶۔ احادیث نمبر ۲۹۳، ۲۹۴، ۲۹۵، ۲۹۶، ۲۹۹، ۳۰۱۔

اسلامی ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کی محافظ

٢٧١- نبی ﷺکا ارشاد ہے کہ:
اَنَا وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہٗ۔
’’میں ہر اس شخص کا سرپرست ہوں جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْ کَرِبَ الْکِنْدِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ تَرَکَ مَالاً فلِوَرَثَتِہٖ وَ مَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضَیْعَۃً فَاِلَیَّ وَ اَنَا وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہٗ اَفُکُّ عَنْہُ وَ اَرِثُ مَالَہٗ وَالْخَالُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہٗ یَفُکُّ عَنْہُ وَ یَرِثُ مَالَہٗ۔(٣٥)
ترجمہ: حضرت مقدام سے مروی ہے انہوں نے نبی اسے روایت کیا۔ فرمایا کہ جس کسی نے اپنے پیچھے ترکہ چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جو قرض یا ایسے پسماندگان چھوڑ کر مرا جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے اس کی ذمہ داری میری ہے اور میں ہر اس کا سرپرست ہوں جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔ اس کی گردن بھی چھڑاؤں گا اور اس کا وارث بھی ہوں گا اور ماموں سرپرست ہے اس کا جس کا کوئی سرپرست نہ ہو وہ اس کو قید سے بھی چھڑائے گا اور اس کی وراثت بھی لے گا۔
تشریح: یہ محض ایک اخلاقی ہدایت نہ تھی بلکہ آگے چل کر جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو یتامیٰ کے حقوق کی حفاظت کے لیے انتظامی اور قانونی، دونوں طرح کی تدابیر اختیار کی گئیں جن کی تفصیل حدیث و فقہ کی کتابوں میں ملتی ہے پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ اسلامی ریاست اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کرنے کے قابل نہ ہو۔ حدیث بالا اسی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ اسلامی قانون کے ایک وسیع باب کی بنیاد ہے۔
(تفہیم القرآن،ج۲، بنی اسرائیل، حاشیہ:۳۸)

اسلام کی بین الاقوامی پالیسی

٢٧٢- مَنْ کَانَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَلاَ یَشُدُّ عُقْدَۃً حَتّٰی یَنْقَضِیَ اَمَدُھَا اَوْ یَنْبِذَ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَائٍ۔
’’ جس کاکسی قوم سے معاہدہ ہو اسے چاہیے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے عہد کا بند نہ کھو لے یا نہیں تو ان کا عہد برابری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی طرف پھینک دے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمْرِیُّ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِی الْفَیْضِ، عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ رَجُلٌ مِنْ حِمْیَرَ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ مُعَاوِیَۃَ وَ بَیْنَ الرُّوْمِ عَھْدٌ، وَ کَانَ یَسِیْرُ نَحْوَ بِلاَدِھِمْ، حَتّٰی اِذَا انْقَضَی الْعَھْدُ غَزَاھُمْ، فَجَائَ رَجُلٌ عَلٰی فَرَسٍ اَوْ بِرْذَوْنٍ، وَ ھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَفَائٌ لاَ غَدْرٌ، فَنَظَرُوْا فَاِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ مُعَاوِیَۃُ، فَسَأَلَہٗ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ کَانَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَلاَ یَشُدُّ عُقْدَۃً وَلاَ یَحُلُّھَا حَتّٰی یَنْقَضِیَ اَمَدُھَا اَوْ یَنْبِذَ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَائٍ، فَرَجَعَ مُعَاوِیَۃُ۔(٣٦)
تشریح: ہمارے لیے کسی طرح بھی یہ جائز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص یاگروہ سے ہمارا معاہدہ ہو اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت لاحق ہوجائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہاہے یا یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ وہ موقع پاتے ہی ہمارے ساتھ غداری کر بیٹھے گا تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ ہمارے اور اس کے درمیان معاہدہ نہیں رہا اور یکا یک اس کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا شروع کردیں جو معاہدہ نہ ہونے کی صورت ہی میں کیا جاسکتا ہو۔ اس کے برعکس ہمیں اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو ہم کوئی مخالفانہ کار روائی کرنے سے پہلے فریق ثانی کو صاف صاف بتادیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب معاہدہ باقی نہیں رہا، تاکہ فسخ معاہدہ کا جیسا علم ہم کو ہے ویسا ہی اس کو بھی ہوجائے۔ اور وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ معاہدہ اب بھی باقی ہے۔ حضوؐر نے اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کا یہ مستقل اصول قرار دے دیا۔ پھر اسی قاعدے کو آپ نے اور زیادہ پھیلا کر تمام معاملات میں عام اصول یہ قائم کیا تھا کہ ’’لا تخن من خانک‘‘(جو تیری خیانت کرے تو اس کی خیانت نہ کر) اور یہ اصول صرف وعظوں میںبیان کرنے اور کتابوں کی زینت بننے کے لیے نہ تھا بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کی پابندی کی جاتی تھی۔ چناں چہ ایک مرتبہ جب امیر معاویہؓ نے اپنے عہد بادشاہی میں سرحد روم پر فوجوں کا اجتماع اس غرض سے کرنا شروع کیا کہ معاہدہ کی مدت ختم ہوتے ہی یکایک رومی علاقے پر حملہ کردیا جائے تو ان کی اس کار روائی پر عمرو بن عبسہ صحابی نے سخت احتجاج کیا اور نبی اکی یہی حدیث سنا کر کہا کہ معاہدہ کی مدت کے اندر یہ معاندانہ طرز عمل اختیار کرنا غداری ہے۔ آخر کار امیر معاویہؓ کو اس اصول کے آگے سرجھکا دینا پڑا اور سرحد پر اجتماع فوج روک دیا گیا۔
یک طرف فسخ معاہدہ اور اعلان جنگ کے بغیر حملہ کردینے کا طریقہ قدیم جاہلیت میں بھی تھا اور زمانۂ حال کی مہذب جاہلیت میں بھی اس کا رواج موجود ہے۔ چناں چہ اس کی تازہ ترین مثالیں جنگ عظیم دوم میں روس پر جرمنی کے حملے اور ایران کے خلاف روس و برطانیہ کی فوجی کارروائی میں دیکھی گئی ہیں۔ عموماً اس کار روائی کے لیے یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ حملے سے پہلے مطلع کردینے سے دوسرا فریق ہوشیار ہوجاتا اور سخت مقابلہ کرتا، یا اگر ہم مداخلت نہ کرتے تو ہمارا دشمن فائدہ اٹھا لیتا۔ لیکن اس قسم کے بہانے اگر اخلاقی ذمہ داریوں کو ساقط کردینے کے لیے کافی ہوں تو پھر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی بہانے نہ کیا جاسکتا ہو۔ ہر چور، ہر ڈاکو، ہر زانی، ہر قاتل، ہر جعل ساز اپنے جرائم کے لیے ایسی ہی کوئی مصلحت بیان کرسکتا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ بین الاقوامی سوسائٹی میں قوموں کے لیے ان بہت سے افعال کو جائز سمجھتے ہیں جو خود ان کی نگاہ میں حرام ہیں جب کہ ان کا ارتکاب قومی سوسائٹی میں افراد کی جانب سے ہو۔
اس موقع پر یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی قانون صرف ایک صورت میں بلا اطلاع حملہ کرنے کو جائز رکھتا ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ فریق ثانی علی الاعلان معاہدے کو توڑ چکا ہو اور اس نے صریح طور پر ہمارے خلاف معاندانہ کار روائی کی ہو۔ ایسی صورت میں یہ ضروری نہیں رہتا کہ ہم اسے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق فسخ معاہدہ کا نوٹس دیں بلکہ ہمیں اس کے خلاف بلا اطلاع جنگی کار روائی کرنے کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ فقہائے اسلام نے یہ استثنائی حکم نبی اکے اس فعل سے نکالا ہے کہ قریش نے جب بنی خزاعہ کے معاملے میں صلح حدیبیہ کو علانیہ توڑ دیا تو آپ نے پھر انہیں فسخ معاہدہ کا نوٹس دینے کی کوئی ضرورت نہ سمجھی بلکہ بلا اطلاع مکہ پر چڑھائی کردی۔ لیکن اگر کسی موقع پر ہم اس قاعدۂ استثناء سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو لازم ہے کہ وہ تمام حالات ہمارے پیش نظر رہیں جن میں نبی انے یہ کار روائی کی تھی، تاکہ پیروی ہو تو آپ کے پورے طرز عمل کی ہو نہ کہ اس کے کسی ایک مفید مطلب جزء کی۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ:
اولاً: قریش کی خلاف ورزی عہد ایسی صریح تھی کہ اس کے نقض عہد ہونے میںکسی کلام کا موقع نہ تھا۔ خود قریش کے لوگ بھی اس کے معترف تھے کہ واقعی معاہدہ ٹوٹ گیا ہے انہوں نے خود ابو سفیان کو تجدید عہد کے لیے مدینہ بھیجا تھا جس کے صاف معنی یہی تھے کہ ان کے نزدیک بھی عہد باقی نہیں رہا تھا۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ناقض عہد قوم کو خود بھی اپنے نقض عہد کا اعتراف ہو۔ البتہ یہ یقینا ضروری ہے کہ نقض عہد بالکل صریح اور غیر مشتبہ ہو۔
ثانیاً: نبی انے ان کی طرف سے عہد ٹوٹ جانے کے بعد پھر اپنی طرف سے صراحۃً یا اشارۃً و کنایۃً ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے یہ ایماء نکلتا ہو کہ اس بد عہدی کے باوجود آپ ابھی تک ان کو ایک معاہد قوم سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کے معاہدانہ روابط اب بھی قائم ہیں۔ تمام روایات بالاتفاق یہ بتاتی ہیں کہ جب ابو سفیان نے مدینہ آکر تجدید معاہدہ کی درخواست پیش کی تو آپؐ نے اسے قبول نہیں کیا۔
ثالثاً: قریش کے خلاف جنگی کار روائی آپ نے خود کی اور کھلم کھلا کی۔ کسی ایسی فریب کاری کا شائبہ تک آپ کے طرز عمل میں نہیں پایا جاتا کہ آپ نے بظاہر صلح و بباطن جنگ کاکوئی طریقہ استعمال فرمایا ہو۔
یہ اس معاملہ میں نبی ا کا اسوۂ حسنہ ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا حکم عام سے ہٹ کر اگر کوئی کار روائی کی جاسکتی ہے تو ایسے ہی مخصوص حالات میںکی جاسکتی اور اسی سیدھے سیدھے شریفانہ طریقے سے کی جاسکتی ہے جو حضوؐر نے اختیار فرمایا تھا۔
مزید برآں اگر کسی معاہد قوم سے کسی معاملہ میں ہماری نزاع ہوجائے اور ہم دیکھیں کہ گفت و شنید یا بین الاقوامی ثالثی کے ذریعہ سے وہ نزاع طے نہیں ہوتی یا یہ کہ فریق ثانی اس کو بزور طے کرنے پر تلا ہوا ہے، تو ہمارے لیے یہ بالکل جائز ہے کہ ہ اس کو طے کرنے میں طاقت استعمال کریں لیکن حدیث مذکورہ بالا ہم پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ہمارا یہ استعمال طاقت صاف صاف اعلان کے بعد ہونا چاہیے اور کھلم کھلا ہونا چاہیے۔ چوری چھپے ایسی جنگی کار روائیاں کرنا جن کا علانیہ اقرار کرنے کے لیے ہم تیار نہ ہوں، ایک بد اخلاقی ہے جس کی تعلیم اسلام نے ہم کو نہیں دی ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۲، الانفال، حاشیہ:۴۳)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا حق اور فرض

٢٧٣- مَنْ رَأیٰ مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔(مسلم، کتاب الایمان، باب۲۰۔ ترمذی،ابواب الفتن، باب ۱۲۔ ابو داؤد، کتاب الملاحم، باب ۱۷، ابن ماجہ۔ ابواب الفتن باب ۲۰۔)
’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے۔ اسے چاہیے کہ اس کو ہاتھ سے بدل دے، اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے۔ اگر یہ بھی نہ کرسکے تو دل سے (برا سمجھے اور روکنے کی خواہش رکھے) اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا وَکِیْعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، ح وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ کِلاَھُمَا عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ وَ ھٰذَا حَدِیْثُ اَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: اَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ یَوْمَ الْعِیْدِ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ مَرْوَانٌ، فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلوٰۃُ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِکَ مَا ھُنَالِکَ، فَقَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ: اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ۔ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ رَأی مِنْکُمْ مُنْکَرًا، فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔(٣٧)
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، قَالَ: اَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِیْ یَوْمِ عِیْدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّۃَ، اَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِیْ یَوْمِ عِیْدٍ، وَلَمْ یَکُنْ یُخْرَجُ فِیْہِ، وَ بَدَأتَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْل الصَّلوٰۃِ، فَقَالَ اَبُوْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیُّ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ، فَقَالَ: اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ رَاٰی مُنْکَرًا فَاسْتَطَاعَ اَنْ یُّغَیِّرَہٗ بِیَدِہٖ، فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ، فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔(٣٨)
(۳) حَدَّثَنِیْ عَمْرُو النَّاقِدُ، وَ اَبُوْ بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَ عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالُوْا: نَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَکَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلاَّ کَانَ لَہٗ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَ اَصْحَابٌ یَّاخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَ یَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ، ثُمَّ اَنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ وَ یَفْعَلُوْنَ مَالاَ یُؤْمَرُوْنَ، فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَ مَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَ مَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَ لَیْسَ وَرَائَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ۔(٣٩)
تشریح: اس ریاست کے قواعد میں سے آخری قاعدہ جو اس کو صحیح راستہ پر قائم رکھنے کا ضامن تھا، یہ تھا کہ مسلم معاشرے کے ہر فرد کا نہ صرف یہ حق ہے بلکہ یہ اس کا فرض بھی ہے کہ کلمۂ حق کہے، نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے، اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کو روکنے میں اپنی امکانی حد تک پوری کوشش صرف کردے۔ نبی اکے ارشادات اس معاملہ میں حسب ذیل ہیں۔
ثُمَّ اَنَّھَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ وَ یَفْعَلُوْنَ مَالاَ یُؤْمَرُوْنَ، فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَ مَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَ مَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَ لَیْسَ وَرَائَ ذٰلِکَ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ مِنَ الْاِیْمَانِ۔(مسلم، کتاب الایمان، باب۲۰۔ ۔۔) ’’پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کی جگہ آئیں گے، کہیں گے وہ باتیں جو کریں گے نہیں۔ اورکریں گے وہ کام جن کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ پس جو ان کے خلاف ہاتھ سے جدو جہد کرے وہ مومن ہے، اور جو ان کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے، اور جو ان کے خلاف دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور اس سے کم تر ایمان کا ذرہ برابر بھی کوئی درجہ نہیں ہے۔

منکر کو روکنے کے لیے قوت کے استعمال کا حکم

ان احادیث میں ہاتھ کا لفظ محض جسمانی ہاتھ کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ مجازاً قوت کے معنی میںبولا گیا ہے۔ بدکار کا ہاتھ پکڑنے سے مراد دراصل یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں کہ وہ بدی و شرارت کا ارتکاب نہ کرسکے۔ اسی طرح برائی کو ہاتھ سے بدل دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی قوت و طاقت کو منکر کے مٹانے اور روکنے اور معروف سے بدل دینے میںاستعمال کرو۔ (الجہاد فی الاسلام ،مصلحانہ جنگ ’’نہی عن المنکر کا طریقہ‘‘)
مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّتِہٖ قَبْلِیْ اِلاَّ کَانَ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَ اَصْحَابٌ یَّاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَ یَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّمَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ وَ یَفْعَلُوْنَ مَالاَ یُؤْمَرُوْنَ۔ فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَ مَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَ مَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ۔ وَ لَیْسَ وَرَائَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ۔ یَکُوْنُ بَعْدِیْ اَئِمَّۃٌ لاَ یَھْتَدُوْنَ بِھَدَایَ وَلاَ یَسْتَنُّوْنَ بِسُنَّتِیْ وَ سَیَقُوْمُ فِیْھِمْ رِجَالٌ قُلُوْبُھُمْ قُلُوْبُ الشَّیَاطِیْنِ فِیْ جُثْمَانِ اِنْسٍ۔ قَالَ حُذَیْفَۃُ: قُلْتُ: کَیْفَ اَصْنَعُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ اَدْرَکْتُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: تَسْمَعُ وَ تُطِیْعُ الْاَمْرَ وَ اِنْ ضُرِبَ ظَھْرُکَ وَ اُخِذَ مَالُکَ فَاسْمَعْ وَ اَطِعْ۔ یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ مُسْلِمٍ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِھَا شَعْفَ الْجِبَالِ وَ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ۔’’ مجھ سے پہلے جو انبیاء اپنی اپنی امتوں میں آتے رہے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے کہ ابتدا ان کی امتوں میں ایسے حواری اور اصحاب ہوتے تھے جو ان کی سنت پر چلتے اور ان کے احکام کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہونے لگے وہ کہتے تھے جن پران کا عمل نہ تھا اور وہ حرکتیں کرتے تھے جن کاانہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ تو ایسے لوگوں کے خلاف جو ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو ان کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو ان کے خلاف دل سے جہاد کرے (یعنی دل میں ان سے نفرت رکھے اور ان کے زوال کا آرزو مند ہو) وہ بھی مومن ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں ایک رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہیں ہے۔
میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ میری ہدایت پر چلیں گے اور نہ میری سنت کی پیروی کریں گے ایسے لوگ بھی اٹھیں گے جن کے دل انسانی قالب میں شیطانوں کے سے دل ہوں گے۔ حضرت حذیفہؓ نے پوچھا اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا امیر کی سنو اور اطاعت کرو۔ اگرچہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے تب بھی سنو اور اطاعت کرو۔ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہاڑوں اور جنگلوں میں پھرتا رہے گا۔‘‘
ان احادیث کی روشنی میں میری تحقیق یہ ہے کہ جہاں تک کفار کی حکومت کا تعلق ہے اس کا معاملہ تو صاف ہے، یعنی اس حکومت کو اسلام کی حکومت سے بدلنے کی جدو جہد تمام جائز طریقوں سے کی جانی چاہیے۔ البتہ مسلمانوں کی بگڑی ہوئی حکومت کے معاملہ میں احتیاط ضروری ہے تاکہ ایک خرابی کو مٹانے کی کوشش میں کوئی اس سے بڑی خرابی رونما نہ ہوجائے۔ یہ امر کہ نصیحت اور تبلیغ و تلقین کے ذریعہ سے اصلاح کی کوشش کی جائے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ یہ امر کہ بگڑے ہوئے نظام کو بزور درست کرنے کی کوشش کی جائے، اس میں اختلاف رونما ہوا ہے۔ میں جہاں تک سمجھ سکا ہوں، جو شخص یہ محسوس کرے کہ وہ اس بگڑے ہوئے نظام کو بدل دینے کے لیے کافی قوت رکھتا ہے اور جس کی نیت اپنے لیے حکومت حاصل کرنا نہ ہو، بلکہ شریعت الٰہی کی حکومت قائم کرنا ہو، اس کے لیے اٹھنا اور جدو جہد کرنا فرض ہے، نہ کرے گا تو گناہ گار ہوگا اور جسے اندیشہ ہو کہ وہ اصلاح حال کی قدرت نہیں رکھتا اور ظالم حکومت کے مقابلہ میں خروج کا نتیجہ بجز فساد کے اور کچھ نہ ہوگا، اس کے لیے خروج کرنا جائز نہیں ہے اور احسن یہی ہے کہ یا تو وہ پر امن طریقوں سے صلاح کی کوشش کرے یا گوشہ نشین ہوجائے۔
ان احادیث میں تین مختلف ہدایات دے کر مسلمانوں کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ ان میں سے ہر صاحب عقل و بصیرت آدمی اپنے لیے خود راہ عمل تجویز کرسکے۔ امام حسینؓ اور ان کی طرح متعدد حضرات نے پہلی حدیث پر عمل کیا، کیوں کہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ ان حالات کو بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ تجربہ سے ان کا اندازہ غلط نکلا۔ بعض دوسرے بزرگوں نے دوسری حدیث پر عمل کیا اور وہ پرامن طریقوں سے اصلاح حال کی کوشش کرتے رہے اور مصائب بھگتتے رہے۔ بعض اور بزرگوں نے تیسری حدیث پر عمل کیا اور وہ اپنے دین کو اپنی ذات کی حد تک بچانے کے لیے گوشہ گیر ہوگئے۔
(ترجمان القرآن ج،۲۳۔ عدد۱-۲۔ رسائل و مسائل، ص:۳۰۶ تا ۳۰۸)
٢٧٤-اَفْضَلُ الْجِھَادِ کَلِمَۃُ الْعَدْلِ (اَوْ حَقٍّ) عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ۔(ابو داؤد، کتاب الملاحم، باب ۱۷، ترمذی، کتاب الفتن، باب ۱۲۔ نسائی، کتاب البیعۃ، باب ۳۶۔ ابن ماجہ ابواب الفتن باب ۲۰۔)
سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی (یا حق کی) بات کہنا ہے۔
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَۃَ اَلْوَاسِطِیُّ، ثَنَا یَزِیْدُ۔ یعنی ابْنَ ھَارُوْنَ، اَخْبَرَنَا اِسْرَائِیْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جحَادَۃَ، عَنْ عَطِیَّۃَ الْعَوْفِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَفْضَلُ الْجِھَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ اَوْ اَمِیْرٍ جَائِرٍ۔(٤٠)
٢٧٥-اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ یَاخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یَّعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ مِنْہُ۔(ابو داؤد، کتاب الملاحم، باب ۱۷، ترمذی، کتاب الفتن، باب ۱۲۔)
’’لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ ان پر عذاب عام بھیج دے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، عَنْ خَالِدٍ ح وَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، اَخْبَرَنَا ھُشَیْمٌ اَلْمَعْنٰی، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ بَعْدَ اَنْ حَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ:یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّکُمْ تَقْرَؤُنَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ وَ تَضَعُوْنَھَا عَلٰی غَیْرِ مَوْضِعِھَا ’’عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ‘‘ قَالَ عَنْ خَالِدٍ: وَ اِنَّا سَمِعْنَا النَّبِیَّﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ یَاْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یَّعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ وَ قَالَ عَمْرٌو عَنْ ھُشَیْمٍ: وَ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَا مِنْ قَوْمٍ یُعْمَلُ فِیْھِمْ بِالْمَعَاصِیْ ثُمَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی اَنْ یُّغَیِّرُوْا ثُمَّ لاَ یُغَیِّرُوْا اِلاَّ یُوْشِکُ اَنْ یَّعُمَّھُمُ اللّٰہُ مِنْہُ بِعِقَابٍ۔(٤١)
٢٧٦-اَنَّہٗ سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ اُمَرَائُ۔ مَنْ صَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَ اَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَ لَسْتُ مِنْہُ۔(نسائی، کتاب البیعۃ، باب ۳۴،۳۵۔)
’’میرے بعد کچھ لوگ حکمران ہونے والے ہیں۔ جو ان کے جھوٹ میں ان کی تائید کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ اَبِیْ حَصِیْنٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَاصِمِ الْعَدَوِیِّ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ نَحْنُ تِسْعَۃٌ، فَقَالَ:اِنَّہٗ سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ اُمَرَائُ مَنْ صَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَ اَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَ لَسْتُ مِنْہُ وَ لَیْسَ بِوَارِدٍ عَلَیَّ الْحَوْضَ، وَ مَنْ لَّمْ یُصَدِّقْھُمْ بِکَذِبِھِمْ، وَلَمْ یُعِنْھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَھُوَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْہُ وَ ھُوَ وَارِدٌ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔(٤٢)
٢٧٧-سَیَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اَئِمَّۃٌ یَّمْلِکُوْنَ اَرْزَاقَکُمْ یُحَدِّثُوْنَکُمْ فَیُکَذِّبُوْنَکُمْ وَ یَعْمَلُوْنَ فَیُسِیْئُوْنَ الْعَمَلَ لاَ یَرْضُوْنَ مِنْکُمْ حَتّٰی تُحَسِّنُوْا قَبِیْحَھُمْ وَ تُصَدِّقُوْا کَذِبَھُمْ فَاعْطُوْھُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوْا بِہٖ فَاِذَا تَجَاوَزُوْا فَمَنْ قُتِلَ عَلٰی ذٰلِکَ فَھُوَ شَھِیْدٌ۔(کنز العمال ج۶، ج۲۹۷۔)
’’عنقریب تم پر ایسے لوگ حاکم ہوں گے جن کے ہاتھ میں تمہاری روزی ہوگی، وہ تم سے بات کریں گے تو جھوٹ بولیں گے اور کام کریں گے تو برے کام کریں گے۔ وہ تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی برائیوں کی تعریف اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو۔ پس تم ان کے سامنے حق پیش کرو۔ جب تک وہ اسے گوارا کریں۔ پھر اگر وہ اس سے تجاوز کریں تو جو شخص اس پر قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔‘‘
تخریج: سَیَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اَئِمَّۃٌ یَّمْلِکُوْنَ اَرْزَاقَکُمْ یُحَدِّثُوْنَکُمْ فَیَکْذِبُوْنَکُمْ، وَ یَعْمَلُوْنَ فَیُسِیْئُوْنَ الْعَمَلَ لاَ یَرْضُوْنَ مِنْکُمْ حَتّٰی تُحَسِّنُوْا قَبِیْحَھُمْ وَ تُصَدِّقُوْا کَذِبَھُمْ فَاعْطُوْھُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوْا بِہٖ، فَاِذَا تَجَاوَزُوْا فَمَنْ قُتِلَ عَلٰی ذٰلِکَ فَھُوَ شَھِیْدٌ۔(٤٣)
٢٧٨- مَنْ اَرْضٰی سُلْطَانًا بِسَخَطِ رَبِّہٖ عَزَّوَجَلَّ خَرَجَ مِنْ دِیْنِ اللّٰہِ۔(کنز العمال ج۶، ص۷۰۔ حدیث ۱۴۸۸۸ عن جابر۔)
’’جس نے کسی حاکم کو راضی کرنے کے لیے وہ بات کی جو اس کے رب کو ناراض کردے وہ اللہ کے دین سے نکل گیا۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اِسْحَاقَ، انبا مُحَمَّدُ بْنُ اَیُّوْبَ، انبا غَسَّانُ بْنُ مَالِکٍ، ثَنَا عَنْبَسَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَلاَّقِ بْنِ اَبِیْ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ اَرْضٰی سُلْطَانًا بِسَخَطِ رَبِّہٖ عَزَّوَجَلَّ خَرَجَ مِنْ دِیْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی۔(٤٤)

نزاعی امورکے فیصلہ کا صحیح طریقہ

٢٧٩-اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ کَیْفَ تَقْضِیْ، قَالَ:اَقْضِیْ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، قَالَ: فَاِنْ لَمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ قَالَ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، قَالَ اجْتَھِدُ رَائِیْ۔ قَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ لِمَا یُحِبُّ وَ یَرْضٰی۔ (ترمذی، ابواب الاحکام، ابو داؤد، کتاب الاقضیۃ)
’’رسول اللہا نے جب معاذ بن جبل ؓکو یمن کی طرف قاضی بنا کر روانہ کیا توان سے پوچھا، تم کس طرح فیصلہ کروگے؟ انہوں نے عرض کیا اس ہدایت کے مطابق جو اللہ کی کتاب میں ہے۔ فرمایا اگر کتاب اللہ میں نہ ملے۔ عرض کیا پھر جو سنت رسول اللہ میں ہو۔ فرمایا اگر سنت رسول اللہ میں بھی نہ ملے۔ عرض کیا میں اپنی رائے سے (حق و صواب تک پہنچنے کی) پوری کوشش کروں گا۔ اس پر حضوؐر نے فرمایا شکر ہے اس خدا کا جس نے رسول اللہ کے فرستادہ شخص کو وہ طریقہ اختیار کرنے کی توفیق دی جو رسول اللہ کو پسند ہے۔‘‘
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ شُرَیْحٍ اَنَّہٗ کَتَبَ اِلٰی عُمَرَ یَسْئَالُہٗ، فَکَتَبَ اِلَیْہِ:اَنِ اقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَلاَ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاقْضِ بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ، فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، وَلاَ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، وَلَمْ یَقْضِ بِہِ الصَّالِحُوْنَ، فَاِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، وَ اِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ، وَلاَاَرَی التَّأَخُّرَ اِلاَّ خَیْرًا لَّکَ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔(٤٥)
(۲) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَۃَ ھُوَ ابْنُ عُمَیْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: اَکْثَرُوْا عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ ذَاتَ یَوْمٍ، فَقَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ اَنَّہٗ قَدْ اَتٰی عَلَیْنَا زَمَانٌ وَ لَسْنَا ھُنَالِکَ ثُمَّ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدَّرَ عَلَیْنَا اَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عَرَضَ لَہٗ مِنْکُمْ قَضَائٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلْیَقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، فَلْیَقْضِ بِمَا قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہٗ ﷺ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَلاَ قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہٗ ﷺ فَلْیَقْضِ بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ، فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَلاَ قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہٗ ﷺ وَلاَ قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ، فَلْیَجْتَھِدْ رَأْیَہٗ، وَلاَ یَقُوْلُ اِنِّیْ اَخَافُ وَ اِنِّیْ اَخَافُ، فَاِنَّ الْحَلاَلَ بَیِّنٌ وَالْحَرَامَ بَیِّنٌ وَ بَیْنَ ذٰلِکَ اُمُوْرٌ مُشْتَبَھَاتٌ فَدَعْ مَا یُرِیْبُکَ اِلٰی مَالاَ یُرِیْبُکَ۔(٤٦)
ترجمہ: وہ زمانہ گزر چکا ہے جب ہم نہ فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہماری یہ حیثیت تھی کہ فیصلے کریں (یعنی سرکار رسالت مآبؐ کا دور) اب تقدیر الٰہی سے ہم اس حالت کو پہنچے ہیں جو تم لوگ دیکھ رہے ہو پس اب تم میں سے جس کے سامنے کوئی معاملہ فیصلے کے لیے پیش ہو تو اسے چاہیے کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے اور اگرایسا کوئی معاملہ آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو اس کا فیصلہ نبی اکے فیصلے کے مطابق کرے۔ اور اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس کا حکم نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبیؐ نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو تو صالحین نے اس کا جو فیصلہ کیا ہو اس کی پیروی کرے۔ لیکن اگر ایک ایسا معاملہ جو نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبیؐ کے فیصلوں میں اور نہ صالحین نے اس سے پہلے کبھی اس کا فیصلہ کیا ہو تو اپنی رائے سے (حق و صواب تک پہنچنے کی) پوری کوشش کرے۔ اور یہ نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں میں ڈرتا ہوں۔ کیوں کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح۔ اور ان دونوں کے درمیان کچھ اور امور مشتبہ ہیں، سو مشتبہ امور میں آدمی کو وہ فیصلہ کرنا چاہیے جو اس کے ضمیر کو نہ کھٹکے اور ایسا فیصلہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جس کے متعلق خود اس کے ضمیر میں کھٹک ہو۔‘‘
(۳) حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ، ثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ مِنْ اَصْحَابِ مُعَاذٍ، عَنْ مُعَاذٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ، فَقَالَ:کَیْفَ تَقْضِیْ؟ فَقَالَ:اَقْضِیْ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، قَالَ: فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ؟ قَالَ: فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، قَالَ: اِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ: اجْتَھِدُ رَائِیْ، قَالَ:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِمَا یُحِبُّ وَ یَرْضٰی۔(٤٧)
(ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں مندرجہ ذیل الفاظ نقل کیے ہیں)
(۴) قَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ حِیْنَ بَعَثَہٗ اِلَی الْیَمَنِ بِمَ تَحْکُمُ؟ قَالَ بِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی، قَالَ ﷺ: فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ؟ قَالَ: بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ ﷺ: فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ؟ قَالَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اَجْتَھِدُ رَأیِیْ، فَضَرَبَ فِیْ صَدْرِہٖ وَ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لِمَا یَرْضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔(٤٨)
تشریح: حضوؐر کی حیات طیبہ میں جو معاملات براہ راست آپ تک پہنچتے تھے، ان میں تو اللہ اور رسول کا منشا بتانے والے، اور اس کے مطابق نزاعات کا فیصلہ کرنے والے آپ خود تھے۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلی ہوئی آبادی کو جو معاملات پیش آتے تھے وہ سب کے سب براہ راست حضوؐر ہی تک نہیں پہنچائے جاتے تھے اور نہ آپ ہی سے شخصاً ان کا فیصلہ حاصل کیا جاتا تھا۔ اس کے بجائے مملکت کے مختلف علاقوں میں آپ کی طرف سے معلمین مامور تھے جو لوگوں کو دین سکھاتے تھے اور عام لوگ اپنے روز مرہ کے معاملات انہی سے معلوم کرتے تھے کہ کتاب اللہ کا حکم کیا ہے اور رسول اللہ ا نے کس طریقے کی تعلیم دی ہے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں امیر، عامل اور قاضی مقرر تھے جو اپنے اپنے دائرہ عمل سے تعلق رکھنے والے اکثر و بیشتر معاملات میں خود فیصلے کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے فردوہ الی اللّٰہ والرسولکا منشا پورا کرنے کا جو طریقہ حضوؐر نے خود پسند فرمایا تھا وہ حضرت معاذؓ بن جبل کی اس مشہور حدیث میں بیان ہوا ہے۔
(اسلامی ریاست،نظام اسلامی میں نزاعی امور کے فیصلے کا صحیح طریقہ)
مندرجہ بالا حدیث سے اجماع کے بارے میں رسول اللہ کی پسند ظاہر ہوتی ہے یعنی قرآن و سنت کے بعد لوگوں کے ائمہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کریں۔ اس کی وضاحت کے لیے ہم قرآن و سنت، دور صحابہ کا تعامل، عقل عام اور دنیا کا معروف طریق کار سب کو دیکھیں گے۔ سب سے پہلے قرآن کو لیجیے وہ اس معاملے میں تین اصولی ہدایات دیتا ہے۔

پہلی ہدایت اہل ذکر کی طرف رجوع

اوّل یہ کہ فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ ’’اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو۔‘‘ (النحل:۴۳) (الانبیاء:۷) اس آیت میں ’’اہل الذکر‘‘ کا لفظ بہت معنی خیز ہے ’’ذکر‘‘ کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں مخصوص طور پر اس سبق کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے کسی امت کو دیا ہو اور اہل الذکر صرف وہ لوگ ہیں جنہیں یہ سبق یاد ہو۔ اس لفظ سے محض علم (Knowledge)مراد نہیں لیا جاسکتا بلکہ اس کا اطلاق لازماً علم کتاب و سنت ہی پر ہوسکتا ہے۔لہٰذا یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ معاشرے میں مرجعیت کا مقام ان لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے جو کتاب الٰہی کا علم رکھتے ہوں اور اس طریقے سے باخبر ہوں جس پر چلنے کی تعلیم اللہ کے رسول نے دی ہے۔

دوسری ہدایت اولی الامر کی طرف رجوع

دوم یہ کہ و اذا جاء ھم امر من الامن او الخوف اذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول و الی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم (النساء:۸۳) ’’اور جب کبھی امن یا خوف سے تعلق رکھنے والا کوئی اہم معاملہ ان کو پیش آتا ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں، حالاں کہ اگر وہ اس کو رسول تک اور اپنے اولی الامر تک پہنچاتے تو اس کی کنہ جان لیتے وہ لوگ جو ان کے درمیان اس کی کنہ نکال لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ معاشرے کو پیش آنے والے اہم معاملات میں، خواہ وہ امن کی حالت سے تعلق رکھتے ہوں یا جنگ کی حالت سے، غیر اندیشناک نوعیت کے ہوں یا اندیشناک نوعیت کے، ان میں صرف وہی لوگ مرجع ہوسکتے ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اولی الامر ہوں، یعنی جن پر اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی اور جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہوں، یعنی پیش آمدہ معاملے کی حقیقت بھی معلوم کرسکتے ہوں اور کتاب اللہ و طریق رسول اللہ سے بھی دریافت کرسکتے ہوں کہ اس طرح کی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اجتماعی مہمات اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے معاملات میں عام اہل الذکر کے بجائے ان لوگوں کو مرجع قرار دیتی ہے جو اولی الامر ہوں۔ لیکن بہر حال ان کو بھی ہونا چاہیے اہل الذکر ہی میں سے، کیوں کہ وہی اس قابل ہوسکتے ہیں کہ جس قضیے سے ان کو سابقہ پڑا ہے اس میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی دی ہوئی قولی و عملی ہدایات کو نگاہ میں رکھ کر صحیح رائے قائم کرسکیں۔

تیسری ہدایت شوریٰ کا انعقاد

سوم یہ کہ امرھم شورٰی بینھم ’’ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔‘‘ (الشوریٰ:۳۸)
یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا آخری فیصلہ کس طرح ہونا چاہیے۔ ان تین اصولوں کو جمع کرکے دیکھا جائے تو تمام نزاعات فردوہ الی اللّٰہ والرسولکا منشا پورا کرنے کی عملی صورت یہ سامنے آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی میں عموماً جو مسائل پیش آئیں ان میں سے وہ ’’اہل الذکر‘‘ سے رجوع کریں اور وہ انہیں بتائیں کہ ان معاملات میں خدا اور رسول کا حکم کیا ہے۔ رہے مملکت اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے مسائل، تو وہ اولی الامر کے سامنے لائے جائیں اور وہ باہمی مشاورت سے یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی رو سے کیا چیز زیادہ سے زیادہ قرین حق صواب ہے۔

مذکورہ اصولوں کا لحاظ عہد رسالت میں

اب دیکھیے کہ رسول اللہ اکے عہد مبارک میںاور حضوؐر کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں عمل در آمد کیا تھا؟ حضوؐر کی حیات طیبہ میںجو معاملات براہ راست آپ تک پہنچتے تھے ان میں تو اللہ اور رسول کا منشا بتانے والے، اور اس کے مطابق نزاعات کا فیصلہ کرنے والے آپ خود تھے لیکن ظاہر بات ہے کہ پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلی ہوئی آبادی کو جو معاملات پیش آتے تھے وہ سب کے سب براہ راست حضوؐر ہی تک نہیں پہنچائے جاتے تھے اور نہ آپ ہی سے شخصاً ان کا فیصلہ حاصل کیا جاتا تھا۔ اس کے بجائے مملکت کے مختلف علاقوں میں آپ کی طرف سے معلمین مامور تھے جو لوگوں کو دین سکھاتے تھے اور عام لوگ اپنے روز مرہ کے معاملات میں انہی سے معلوم کرتے تھے کہ کتاب اللہ کا حکم کیاہے اور رسول اللہ نے کس طریقے کی تعلیم دی ہے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں امیر، عامل اور قاضی مقرر تھے جو اپنے اپنے دائرۂ عمل سے تعلق رکھنے والے اکثر و بیشتر معاملات کے خود فیصلے کیاکرتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے فردوہ الی اللّٰہ والرسول کا منشا پورا کرنے کا جو طریقہ حضوؐر نے خود پسند فرمایا تھا وہ مندرجہ بالا حدیث میں بیان ہوا ہے۔
حضوؐر نے اپنے عہد میں شوری کی بنا بھی ڈال دی تھی اور ہر ایسے معاملے میں جس کے متعلق آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص حکم نہ ملا ہو، آپ معاشرے کے اہل الرائے لوگوں سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ اس کی ایک نمایاں مثال وہ مشاورت ہے جو آں حضور نے اس مسئلے پر فرمائی تھی کہ لوگوں کو نماز کے اوقات پر جمع کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور جس کے نتیجے میں بالآخر اذان کا طریقہ آپ نے مقرر فرمایا۔

مذکورہ اصولوں کا لحاظ خلافت راشدہ میں

اب دیکھیے کہ رسول اللہ اکے عہد مبارک میںاور حضوؐر کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں عمل در آمد کیا تھا؟ حضوؐر کی حیات طیبہ میںجو معاملات براہ راست آپ تک پہنچتے تھے ان میں تو اللہ اور رسول کا منشا بتانے والے، اور اس کے مطابق نزاعات کا فیصلہ کرنے والے آپ خود تھے لیکن ظاہر بات ہے کہ پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلی ہوئی آبادی کو جو معاملات پیش آتے تھے وہ سب کے سب براہ راست حضوؐر ہی تک نہیں پہنچائے جاتے تھے اور نہ آپ ہی سے شخصاً ان کا فیصلہ حاصل کیا جاتا تھا۔ اس کے بجائے مملکت کے مختلف علاقوں میں آپ کی طرف سے معلمین مامور تھے جو لوگوں کو دین سکھاتے تھے اور عام لوگ اپنے روز مرہ کے معاملات میں انہی سے معلوم کرتے تھے کہ کتاب اللہ کا حکم کیاہے اور رسول اللہ نے کس طریقے کی تعلیم دی ہے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں امیر، عامل اور قاضی مقرر تھے جو اپنے اپنے دائرۂ عمل سے تعلق رکھنے والے اکثر و بیشتر معاملات کے خود فیصلے کیاکرتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے فردوہ الی اللّٰہ والرسول کا منشا پورا کرنے کا جو طریقہ حضوؐر نے خود پسند فرمایا تھا وہ مندرجہ بالا حدیث میں بیان ہوا ہے۔
حضوؐر نے اپنے عہد میں شوری کی بنا بھی ڈال دی تھی اور ہر ایسے معاملے میں جس کے متعلق آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص حکم نہ ملا ہو، آپ معاشرے کے اہل الرائے لوگوں سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ اس کی ایک نمایاں مثال وہ مشاورت ہے جو آں حضور نے اس مسئلے پر فرمائی تھی کہ لوگوں کو نماز کے اوقات پر جمع کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور جس کے نتیجے میں بالآخر اذان کا طریقہ آپ نے مقرر فرمایا۔

مذکورہ اصولوں کا لحاظ خلافت راشدہ میں

قریب قریب یہی طریق کار عہد رسالت کے بعد خلافت راشدہ میں جاری رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ عہد رسالت میں حضوؐر خود موجود تھے اس لیے معاملات کا آخری فیصلہ آپ سے شخصاً حاصل کیا جاسکتا تھا اور بعد کے دور میں مرجع آپ کی ذات نہ رہی بلکہ وہ روایات ہوگئیں جو آپ کی سنت کے متعلق لوگوں کے پاس محفوظ تھیں۔ اس دور میں تین ادارے الگ الگ پائے جاتے تھے جو اپنے اپنے مقام و موقف کے لحاظ سے فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کا منشا پورا کرتے تھے۔
(۱) عام اہل علم جو کتاب اللہ کو جانتے تھے اور جن کے پاس رسول اللہ کے فیصلوں یا حضوؐر کے طریق عمل یا حضوؐر کی تقریر کے بارے میںکوئی علم موجود تھا۔ ان سے صرف عوام الناس ہی اپنی زندگی کے معاملات میں فتویٰ نہیںلیتے تھے بلکہ خود خلفائے راشدین کو بھی جب کسی مسئلے کا فیصلہ کرنے میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی کہ حضوؐر نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے یا نہیں، تو انہی لوگوں کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ خلیفۂ وقت نے علم نہ ہونے کی وجہ سے ایک مسئلے کا فیصلہ اپنی رائے سے کردیا ہے اور بعد میں جب معلوم ہواہے کہ اس معاملہ میں کوئی دوسری بات حضوؐر سے ثابت ہے تو اس فیصلے کو بدل دیا۔ ان اہل علم کی موجودگی کا فائدہ صرف یہی نہ تھا کہ فرداً فرداً وہ عوام اور اولی الامر کے لیے ایک ذریعۂ علم کا کام دیتے تھے بلکہ اس سے بڑھ کر ان کا عظیم تر فائدہ یہ تھا کہ مجموعی طور پر وہ اس بات کی ضمانت تھے کہ کوئی عدالت اور کوئی حکومت اور کوئی مجلس شوریٰ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے خلاف فیصلہ نہ کرسکے۔ ان کی مضبوط رائے عام نظام اسلامی کی پشت پناہ تھی۔ ہر غلط فیصلے کو ٹوکنے کے لیے ان کا چوکنا رہنا نظام کے صحیح چلنے کا ضامن تھا۔ کسی مسئلے میں ان کا اتفاق رائے اس بات کی دلیل تھا کہ اس مسئلہ خاص میں دین کی راہ متعین ہے جس سے ہٹ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، اور ان کا اختلاف رائے یہ معنی رکھتا تھا کہ اس مسئلے میں دو یا زیادہ اقوال کی گنجائش ہے اگرچہ فیصلہ ایک ہی قول پر ہوچکا ہو۔ ان کی موجودگی میں یہ ممکن نہ تھا کہ امت کے اندر کوئی بدعت قبول عام حاصل کرجائے۔ کیوں کہ ہر طرف دین کے جاننے والے لوگ اس پر گرفت کرنے کے لیے موجود تھے۔
(۲) قضاء یعنی عدلیہ جس کے ضابطے کی وضاحت حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کے نام اپنے ایک فرمان میں اس طرح کی ہے۔
اقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَلاَ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فاقض بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَلاَ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَلَمْ یَقْضِ بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمَ وَ اِنْ شِئْتَ فَتَاَخَّرْ وَلاَ اَریٰ التَّاَخُّرَ اِلاَّ خَیْرًا لَکَ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔ (النسائی، کتاب آداب القضاۃ)فیصلہ اس حکم پر کرو جو کتاب اللہ میں ہو، اگر کتاب اللہ میں نہ تو پھر رسول اللہا کی سنت پر، اگر نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسول اللہ میں تو پھر صالحین نے جو فیصلے کیے ہوں، ان کے مطابق فیصلہ کرو لیکن اگر کسی معاملے کا حکم نہ کتاب اللہ میں ملتا ہو، نہ سنت رسول اللہ میں اور نہ صالحین ہی کے فیصلوں میں اس کے متعلق کوئی نظیر موجود ہو تو تمہیں اختیار ہے، چاہے خود پیش قدمی کرو یا رک جاؤ اور میرے نزدیک رک جانا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔( رک جانے سے دو چیزیں مراد ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ قاضی کچھ دیر اس بات کا انتظار کرے کہ کوئی دوسری عدالت پیش قدمی کرکے اس طرح کے ایک معاملے میں نظیر قائم کرتی ہے یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ قاضی خود فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے میں اس تیسرے ادارے کی طرف رجوع کرے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔)
یہ عدلیہ صرف عوام ہی کے باہمی نزاعات کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہ تھی بلکہ انتظامیہ (Executive)کے خلاف بھی وہ لوگوں کے دعاوی سنتی اور ان کے فیصلے کرتی تھی۔ اس کے سامنے حاضر ہونے سے نہ کوئی گورنر مستثنیٰ تھا نہ خود خلیفۂ وقت۔ اسی طرح انتظامیہ کے بڑے سے بڑے شخص، حتی کہ خلیفۂ وقت کو بھی، اور خود حکومت کو بھی اگر کسی کے خلاف کوئی ذاتی یا سرکاری دعویٰ ہوتا تھا تو اسے عدالت میں جانا ہوتا تھا اور عدالت ہی یہ طے کرتی تھی کہ خدا اور رسول کے قانون کی رو سے اس کا صحیح فیصلہ کیا ہے۔
(۳) اولی الامر، یعنی خلیفہ اور اس کی مجلس شوریٰ۔ یہ وہ آخری با اختیار ادارہ تھا جو قرآن کی ہدایت کے مطابق باہمی مشورے سے یہ طے کرتا تھا کہ معاشرے اور مملکت کو پیش آنے والے مختلف معاملات میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے کیا حکم ثابت ہے اور اگر کسی معاملے کا حکم کتاب و سنت میں نہیں ہے تو اس کے بارے میں کون سا طرز عمل دین کے اصول اور اس کی روح اور جماعت مسلمین کی مصلحت کے لحاظ سے اقرب الی الصواب ہے۔ اس ادارے کے بکثرت فیصلے احادیث و آثار اور فقہ کی کتابوں میں مستند ذرائع سے نقل ہوئے ہیں اور اکثر و بیشتر کے ساتھ وہ تفصیلی بحثیں بھی منقول ہوئی ہیں جو فیصلہ کرتے وقت صحابہ کی مجلس میںہوئی تھیں۔ ان کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ پوری سختی کے ساتھ جس قاعدہ کلیہ کی پابندی کرتا تھا وہ یہ تھا کہ ہر معاملے میں سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، پھر یہ معلوم کیا جائے کہ اگر اس طرح کا کوئی معاملہ حضوؐر کے زمانے میں پیش آیا ہے تو آپؐ نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایاہے اور اپنی صواب دید پر صرف اس صورت میں فیصلہ کیا جائے جب کہ یہ دونوں ماخذ ہدایت خاموش ہوں۔ جس معاملے میں بھی اللہ کی کتاب سے کوئی آیت یا رسول اللہا کی سنت سے کوئی نظیر ان کو مل گئی ہے۔ اس میں کبھی انہوں نے اس سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ پورے دور صحابہ میں اس قاعدے کے خلاف ایک مثال بھی ہم کو نہیں ملتی۔ اگرچہ عملاً مملکت میں آخری فیصلے کے اختیارات اولی الامر ہی کو حاصل تھے لیکن قانوناً وہ قرآن اور سنت رسول اللہ ا کو آخری فیصلہ کی سند تسلیم کرتے تھے اور مسلم معاشرہ بھی ان کے اقتدار کی اطاعت اس اطمینان و اعتماد کی بنا پر کرتا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں میں قرآن و سنت کی پیروی سے تجاوز نہ کریں گے۔ ان میں سے کسی کے ذہن میں یہ وہم و گمان تک نہ تھا کہ وہ نص قرآن کے خلاف کوئی قانون بنانے یا حکم دینے کے مجاز ہیں۔ اس طرح کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی اس تصور نے کبھی راہ نہیں پائی کہ نبیؐ اپنے زمانے کے صاحب امر تھے اور ہم اپنے زمانے کے صاحب امر ہیں۔ ہم اس کے پابند نہیں ہیں کہ حضور نے اپنے دور حکومت میں احکام دیئے ہوں ان کے نظائر کی پیروی کریں۔ حضوؐر کی وفات کے بعد خلافت کا ادارہ جس روز وجود میں آیا اسی روز خلیفۂ اول نے اپنے خطبے میں اعلان کردیا تھا کہ:
اَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ۔’’میری اطاعت کرو جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں اور اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو میرے لیے کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔‘‘
اس اعلان سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ خلافت کا یہ ادارہ قائم ہی اس معاہدے پر ہوا تھا کہ خلیفہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور امت خلیفہ کی اطاعت کرے گی۔ دوسرے الفاظ میں امت پر خلیفہ کی اطاعت اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ وہ خدا اور رسول کے احکام کی پیروی کرے گا۔ اس شرط کے فوت ہوتے ہی امت پر سے خلیفہ کی اطاعت کا فریضہ آپ سے آپ ساقط ہوجاتا ہے۔
حدیث زیر بحث پورے مسلم معاشرے کو خطاب کرکے اسے علی الترتیب تین اطاعتوں کا ملتزم قرار دیتی ہے، پہلے خدا کی، پھر رسول کی، پھر ان اولی الامر کی، جو خود اس معاشرے میں سے ہوں۔ اور نزاعات کے بارے میں ہدایات کرتی ہے کہ فیصلے کے لیے خدا اور رسول کی طرف رجوع کرو۔ اس سے آیت کا جو منشا ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ معاشرے پر اصل طاعت خدا اور رسول کی واجب ہے اولی الامر کی اطاعت، خدا اور رسول کی اطاعت کے تابع ہے۔ نزاع صرف عوام کے درمیان ہی نہیں عوام اور اولی الامر کے درمیان بھی ہوسکتی ہے اور نزاع کی تمام صورتوں میں آخری فیصلہ کن اقتدار اولی الامر کا نہیں بلکہ خدا اور رسول کا ہے، ان کا جو حکم بھی ہو اس کے آگے عوام کو سرجھکا دینا چاہیے اور اولی الامر کو بھی۔
اب پہلا سوال یہ ہے کہ فیصلہ کے لیے خدا اور رسول کی طرف رجوع کرنے کا مطلب کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ خدا کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا خود سامنے موجود ہو اور اس کے حضور مقدمہ پیش کرکے فیصلہ حاصل کیا جائے، بلکہ اس سے مراد خدا کی کتاب سے یہ معلوم کرنا ہے کہ معاملہ متنازع فیہ میں اس کا حکم کیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہؐ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ ذات رسولؐ سے براہ راست رجوع کیاجائے، بلکہ لامحالہ اس کا مطلب بھی یہی ہوسکتا ہے کہ حضوؐر کی تعلیمات اور آپ کے قول و عمل سے ہدایت حاصل کی جائے۔ یہ بات تو خود حضوؐر کی زندگی میں بھی ممکن نہ تھی کہ عدن سے لے کر تبوک تک، اور بحرین سے لے کر جدہ تک ساری مملکت اسلامیہ کا ہر باشندہ اپنے ہر معاملے کا فیصلہ براہ راست حضوؐر ہی سے کراتا ہو۔ اس زمانے میں بھی سنت رسول ہی کو احکام کا ماخذ ہونا چاہیے تھا۔
اس کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ نزاعات میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت سے فیصلہ حاصل کرنے کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟ ظاہر بات ہے کہ یہ فیصلہ انسان ہی دیں گے، کتاب اور سنت خود تو نہیں بولیں گے۔ لیکن لا محالہ یہ انسان وہی ہونے چاہیے جن کے پاس کتاب و سنت کا قابل اعتماد علم ہو اور کتاب و سنت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے والے بہر حال نزاع کے فریقین خود نہیں ہوسکتے، ان کے سواکوئی تیسرا غیر جانب دار شخص یا ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ اب یہ بات نزاعات کی نوعیت پر منحصر ہے کہ کس قسم کی نزاع ایسی ہے جس کا فیصلہ ہر ذی علم آدمی کرسکتا ہے۔ دوسری قسم کی نزاع لازماً ایک عدالت چاہتی ہے اور بعض نزاعات اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے ایسی ہیں کہ ان کا حتمی فیصلہ اولی الامر کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ مگر ان سب صورتوں میں فیصلے کا ماخذ کتاب اور سنت ہی کو ہونا چاہیے۔
یہ وہ بات ہے جو عقل عام کی مدد سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کے ذہن میں کوئی اونچ نیچ نہ ہو۔ اب ایک نظریہ بھی دیکھ لیجیے کہ دنیا کا معروف طریقہ اس آیت کے تجویز کردہ نظام اور اس کی عملی صورت کے سمجھنے میں ہماری کیا مدد کرتا ہے۔ دنیا میں آج قانون کی حکومت (Rule of Law) کا بڑا چر چاہے، اور کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انصاف کے قیام کے لیے قانون کی بالا تری ناگزیر ہے۔ جس کے آگے بڑے اور چھوٹے سب یکساں ہوں اور جسے عامی اور حاکم اور خود حکومت پر بے لاگ طریقے سے نافذ کیا جائے۔ اس قانون کو چاہے ایک پارلیمنٹ ہی بنائے، مگر جب وہ قانون بن جائے تو جب تک وہ قانون ہے خود پارلیمنٹ کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس حاکمیت قانون کے نظریے کو جہاں بھی عملی جامہ پہنایا گیاہے وہاں لازماً چار چیزوں کا ہونا ضروری سمجھا گیا ہے:
ایک، ایسا معاشرہ جو قانون کا احترام کرنے والا ہو اور اس کی پیروی کا حقیقی ارادہ رکھتاہو۔
دوسرے، معاشرے میں بکثرت ایسے لوگوں کا پایا جانا جو قانون کو جانتے ہوں، لوگوں کو قانون کی پیروی میں مدد دے سکتے ہوں، اور جن کا مجموعی علم اور رسوخ و اثر اس بات کا ضامن ہو کہ نہ معاشرہ قانون کی راہ سے ہٹ سکے اور نہ سیاسی اقتدار کو اس سے ہٹنے کی جرأت ہوسکے۔
تیسرے، ایک بے لاگ عدلیہ جو عوام اور حکام اور حکومت کی باہمی نزاعات میں قانون کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلے کرے۔
چوتھے، ایک بلند ترین اختیارات رکھنے والا ادارہ جو معاشرے کو پیش آنے والے تمام مسائل و معاملات کا آخری حل تجویز کرے اور وہی حل معاشرے میں قانون کی حیثیت سے نافذ ہو۔
ان حقائق کو نگاہ میں رکھ کر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کی آیات دراصل اسلامی معاشرے میں قانون کی فرماں روائی ہی قائم کرتی ہیں اور ان پر عمل در آمد کے لیے وہی چار چیزیں درکار ہیں جن کا اوپر ذکر کیاگیا ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ وہ جس قانون کی فرماں روائی قائم کرتی ہیں وہ فی الواقع اس کا مستحق ہے اور دنیا میں جن قوانین کی بالا تری قائم کی جاتی ہے وہ اس کے مستحق نہیں ہیں۔ وہ خدا اور رسول کے قانون کو بالا تر قانون قرار دیتی ہیں جس کے آگے سب کو سر تسلیم خم کردینا چاہیے اور جس قانون پر ایمان لائے اور اپنے قلب و ضمیر کے تقاضے سے اس کی اطاعت کرے۔ اس کا منشا پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں اہل الذکر کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہو جن کی مدد سے افراد معاشرہ اپنی زندگی کے معاملات میں ہر جگہ ہر وقت اس بالا تر قانون کی رہ نمائی حاصل کرتے رہیں اور جن کے ذریعہ سے رائے عام اس نظام کی حفاظت کے لیے ہمیشہ بیدار رہے۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایک نظام عدالت موجود ہو جو عوام ہی کے درمیان نہیں بلکہ عوام اور ان کے حاکموں کے درمیان بھی بالا تر قانون کے مطابق فیصلے کرے۔ اور وہ اولی الامر کے ایک ایسے ادارے کی طالب بھی ہے جو خود اس بالا تر قانون کا تابع ہو اور معاشرے کی اجتماعی ضروریات اس کی تفسیر و تعبیر اوراس کے تحت اجتہاد کے آخری اختیارات استعمال کرے۔ (ترجمان القرآن۔ رجب ۱۳۷۷، اپریل ۱۹۵۸ء ص ۴۸۔ نظام اسلامی میں نزاعی امور کے فیصلے کا صحیح طریقہ)
یہ اپنے اجتہاد پر کتاب اللہ و سنت رسول کو مقدم رکھنا اور ہدایت حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے ان کی طرف رجوع کرنا ہی وہ چیز ہے جو ایک مسلمان جج اور ایک غیر مسلم جج کے درمیان وجہ امتیاز ہے۔ اسی طرح قانون سازی کے معاملے میں یہ بات قطعی طور پر متفق علیہ ہے کہ اولین ماخذ قانون خدا کی کتاب ہے اور اس کے بعد رسول اللہ اکی سنت۔ پوری امت کا اجماع تک ان دونوں کے خلاف یا ان سے آزاد نہیں ہوسکتا کجا کہ افراد امت کا قیاس و اجتہاد۔
یہ حکم مسلمانوں کے محض انفرادی معاملات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کے جملہ اجتماعی معاملات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ در حقیقت یہ اسلامی آئین کی بنیادی دفعہ ہے جس کی پابندی سے نہ مسلمانوں کی حکومت آزاد ہوسکتی ہے، نہ ان کی عدالت اور نہ پارلیمنٹ۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الحجرات حاشیہ:۱)

مساوات کا سبق

٢٨٠-لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍّ، وَلاَ لاَِعْجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی وَلاَ فَضْلَ لِلْاَنْسَابِ۔
’’کسی عربی کو کسی عجمی پرکوئی فضیلت نہیںاور نہ کسی عجمی کو عربی پر، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر۔ ما سوا تقویٰ کے اور نسبی بنیادوں پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔‘‘
تخریج:(۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ وَسْطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ خُطْبَۃَ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ! اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ، وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلاَ لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی، اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ۔(۴۹)
تشریح: یعنی فضیلت دیانت اور تقویٰ پر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص چاندی سے پیدا کیا گیا ہو، اور کوئی پتھر سے اور کوئی مٹی سے۔ بلکہ سب انسان یکساں ہیں۔ ( نظام فرعون کو قرآن نے جن وجوہ سے باطل قرار دیا ہے ان میں سے ایک یہ تھی کہ: ان فرعون علا فی الارض و جعل اھلھا شیعا یستضعف طائفۃ منھم (القصص:۴) ’’بیشک فرعون ملک میں بڑا مغرور ہوگیا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو اس قدر کمزور کردیا تھا کہ۔۔۔ الخ
یعنی اسلام اس کا روادار نہیں کہ کسی معاشرہ میں انسانوں کو فوقانی اور تحتانی یا  کمران اور محکوم طبقوں میں بانٹا )

معصیت سے اجتناب کا حق

٢٨١-لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔
تخریج:(۱) قَالَ حَمْزَۃُ: وَ سَمِعْتُ اَبَا الْحَسَنِ الدَّارَ قُطْنِیَّ یَقُوْلُ: کَانَ یَتَّقِیْ لِسَانَ تَمَّامَ، قَالَ اَبُو الْحَسَنِ: وَالصَّوَابِ اَنَّ الْوَرَکَانِیَّ حَدَّثَ بِھٰذَا الْاِسْنَادِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ، قَالَ: لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔(۵۰)
تشریح: کسی شخص کو معصیت کا حکم نہیں دیا جاسکتا اور نہ کسی پر یہ واجب یا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ اس کو اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرے۔ قانون قرآن کی رو سے اگر کوئی افسر اپنے ماتحت کو ناجائز کار روائیوں کا حکم دیتا ہے تو ماتحت کے لیے اس معاملے میں اطاعت جائز نہیںہے۔ نبی ا کا ارشاد مبارک ہے (لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق) جن چیزوں کو خالق نے ناجائز ٹھہرایا ہے اور معصیت بتایا ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ ان کے ارتکاب کا کسی کو حکم دے۔ نہ حکم دینے والے کے لیے معصیت کا حکم دینا جائز ہے اور نہ کسی دوسرے شخص کے لیے ایسے حکم کی تعمیل جائز ہے۔
(اسلامی ریاست، انسان کے بنیادی حقوق ’’معصیت سے اجتناب۔۔۔‘‘)

معاہدین سے معاملہ کیسا ہو؟

٢٨٢-لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَ اَبْنَائِھِمْ (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ فَیُصَالِحُوْنَکُمْ عَلٰی صُلْحٍ) فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ فَوْقَ ذَالِکَ فَاِنَّہٗ لاَ یَصْلُحُ لَکُمْ۔ (ابو داؤد، کتاب الجھاد)
’’اگر تم کسی قوم سے لڑو اور اس پر غالب آجاؤ اور وہ قوم اپنی اور اپنی اولاد کی جان بچانے کے لیے تم کو خراج دینا منظور کرلے (ایک دوسری روایت میں ہے کہ) تم سے صلح نامہ طے کرلے تو پھر بعد میں اس مقررہ خراج سے ایک حبہ بھی زائد نہ لینا کیوں کہ وہ تمہارے لیے ناجائز ہوگا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَ سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالاَ: اَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ ھِلاَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیْفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُھَیْنَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا، فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَ اَبْنَائِ ھِمْ، قَالَ سَعِیْدٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ، فَیُصَالِحُوْنَکَ عَلٰی صُلْحٍ، ثُمَّ اتَّفُقَا فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ شَیْئًا فَوْقَ ذٰلِکَ، فَاِنَّہٗ لاَ یَصْلُحُ لَکُمْ۔(۵۱)
(۲) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ الْمَھْرِیُّ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَخْرِ الْمَدِیْنِیُّ، اَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَیْمٍ اَخْبَرَہٗ، عَنْ عِدَۃٍ مِنْ اَبْنَائِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عَنْ آبَآئِھِمْ دِنْیَۃً، عَنْ َّرُسْوِل اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِانْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ، فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(۵۲)
تشریح: اس (اسلام) کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ جب کسی قوم کے ساتھ کچھ شرائط طے ہوجائیں (خواہ وہ مرغوب ہوں یا نہ ہوں) تو اس کے بعد ان شرائط سے یک سر تجاوز نہ کیا جائے۔ بلا لحاظ اس کے کہ فریقین کی اعتباری حیثیت اور طاقت و قوت (Relative position)میںکتنا ہی فرق آجائے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آں حضرت انے فرمایا:
اَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِ انْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طیْبِ نَفْسٍ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (ابو داؤد، کتاب الجھاد)’’خبردار! جو شخص کسی معاہد پر ظلم کرے گا یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا، یا اس سے کوئی چیز اس کی مرضی کے خلاف وصول کرے گا، اس کے خلاف قیامت کے دن میں خود مستغیث بنوں گا۔‘‘
مندرجہ بالا حدیث کے الفاظ عام ہیں اور ان سے یہ قاعدہ کلیہ مستنبط ہوتا ہے کہ معاہد ذمیوں کے ساتھ صلح نامہ میں جو شرائط طے ہوجائیں، ان میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، نہ ان پر خراج بڑھایا جاسکتا ہے، نہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جاسکتا ہے، نہ ان کی عمارتیں چھینی جاسکتی ہیں نہ ان پر سخت فوج داری قوانین نافذ کیے جاسکتے ہیں، نہ ان کے مذہب میں دخل دیاجاسکتا ہے۔ نہ ان کی عزت و آبرو پر حملہ کیا جاسکتا ہے، اور نہ کوئی ایسا فعل کیا جاسکتا ہے جو ظلم یاانتقاص، یا تکلیف مالا یطاق، یا اخذ بغیر طیب نفس کی حدود میں آتا ہو۔ انہی احکام کی بنا پر فقہاء اسلام نے صلحاً فتح ہونے والی قوموں کے متعلق کسی قسم کے قوانین مدون نہیں کیے ہیں اور صرف یہ عام قاعدہ وضع کرکے چھوڑ دیا ہے کہ ان کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل شرائط صلح کے مطابق ہوگا۔ امام ابو یوسفؒ لکھتے ہیں۔
یُوْخَذُ مِنْھُمْ مَا صُوْلِحُوْا عَلَیْہِ وَ یُوْفٰی لَھُمْ وَلاَ یُزَادُ عَلَیْھِمْ۔ (کتاب الخراج، ص:۳۵)’’ان سے وہی لیا جائے گا جس پران کے ساتھ صلح ہوئی ہے، ان کے حق میں صلح کی شرائط پوری کی جائیں گی۔ اور ان پر کچھ اضافہ نہ کیا جائے گا۔‘‘

ذمیوں کے عام حق

٢٨٣- اَنَا اَحَقُّ مَنْ وَفٰی بِذِمَّتِہٖ۔( عنایہ شرح ہدایہ: ۸؍۲۵۶، دار قطنی نے یہی حدیث ابن عمرؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے اور اس میں ’’انا اکرم من و فی بذمتہ‘‘ آیا ہے۔
(اسلامی ریاست، ص:۵۸۲
’’اپنے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ الصَّفَّارُ، نَا الرَّمَادِیُّ ح و نا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْفَارِسِیُّ، نَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالاَ: نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِیِّ، عَنْ رَبِیْعَۃَ۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ یَرْفَعُہٗ:اَنَّ النَّبِیَّﷺ اَقَادَ مُسْلِمًا قَتَلَ یَھُوْدِیًّا، وَ قَالَ الرَّمَادِیُّ اَقَادَ مُسْلِمًا بِذِمِّیٍّ، وَ قَالَ: اَنَا اَحَقُّ مَنْ وَفٰی بِذِمَّتِہٖ۔(۵۳)
ترجمہ: عبد الرحمن نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبی انے ایک مسلمان سے یہودی کے قتل کرنے پر قصاص لیا۔ رمادی نے بیان کیاکہ آپ نے ایک ذمی کے قتل کرنے پر قصاص لیا۔ اور فرمایا کہ اپنے ذمے کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔
(۲) نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا مُوْسَی بْنُ اِسْحَاقَ، نَا اَبُوْ بَکْرٍ نَا عَبْدُ الرَّحِیْمِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ، قَالَ: قَتَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَجُلاً مِّنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ بِرَجُلٍ مِّنْ اَھْلِ الذِّمَّۃِ، وَ قَالَ: اَنَا اَحَقُّ مَنْ اَوْفٰی بِذِمَّتِہٖ۔(۵۴)
(۳) نَا الْحَسَنُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سَعِیْدِ الرَّھَاوِیُّ، اَخْبَرَنِیْ جَدِّیْ سَعِیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ الرَّھَاوِیُّ، اَنَّ عَمَّارَ(عمار بن مطر یکنی ابا عثمان الرھاوی، و ثقہ بعضھم، ومنھم من وصفہ بالحفظ، قال عبد اللّٰہ بن سالم، ثنا عثمان بن مطر الرھاوی و کان حافظا للحدیث، و قال ابن حبان: کان یسرق الحدیث، وقال العقیلی: یحدث عن الثقات بمناکیر، و قال ابو حاتم الرازی: کان یکذب، و قال ابن عدی: احادیثہ بواطیل، و قال دار قطنی: ضعیف، کذا فی الزیلعی۔ (دار قطنی: ۳؍۱۳۴۔ حاشیہ:۱۰۴)
) بْنَ مَطَرٍ، حَدَّثَھُمْ نَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُحَمَّدِ الْاَسْلَمِیُّ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنِ ابْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاھِدٍ، وَ قَالَ:اَنَا اَکْرَمُ مَنْ وَفٰی بِذِمَّتِہٖ۔(۵۵)
تشریح: ذمی کے خون کی قیمت مسلمان کے خون کے برابر ہے۔ اگر کوئی مسلمان ذمی کو قتل کرے گا تو اس کا قصاص اسی طرح لیاجائے گا جس طرح مسلمان کو قتل کرنے کی صورت میں لیا جاتاہے۔ نبی اکے زمانے میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کیا تو آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اور فرمایا کہ ’’اپنے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔

ذمیوں سے جزیہ و خراج کی تحصیل میں رعایات

٢٨٤- اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعَذِّبُ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا۔
(ابو داؤد، کتاب الخراج، باب الفیء والامارۃ)
’’اللہ عزوجل ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: مَرَّ بِالشَّامِ عَلٰی اُنَاسٍ وَ قَدْ اُقِیْمُوْا فِی الشَّمْسِ وَ صُبَّ عَلٰی رُؤُسِھِمُ الزَّیْتُ، فَقَالَ: مَا ھٰذَا؟ قِیْلَ: یُعَذَّبُوْنَ فِی الْخَرَاجِ، فَقَالَ:اَمَا اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ یُعَذِّبُ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا۔(۵۶

ایک دوسری روایت میں ہے
(۲) مَرَّ ھِشَامُ بْنُ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ عَلٰی اُنَاسٍ مِّنَ الْاَنْبَاطِ بِالشَّامِ قَدْ اُقِیْمُوْا فِی الشَّمْسِ، فَقَالَ: مَا شَانُھُمْ؟ قَالُوْا: حُبِسُوْا فِی الْجِزْیَۃِ، فَقَالَ ھِشَامٌ: اَشْھَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ یُعَذِّبُ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا۔(۵۷)
تیسری روایت میں ہے۔
(۳) حَدَّثَنِیْ اَبُو الطَّاھِرِ قَالَ اَنَا ابْنُ وَھْبٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ ابْنِ زُبَیْرٍ اَنَّ ھِشَامَ بْنَ حَکِیْمٍ وَجَدَ رَجُلاً وَ ھُوَ عَلٰی حِمْصَ یُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبْطِ فِیْ اَدَائِ الْجِزْیَۃِ فَقَالَ: مَا ھٰذَا؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ یُعَذِّبُ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا۔(۵۸)
پس منظر: ہشام بن حکم نے ایک سرکاری افسر کو دیکھا کہ وہ ایک قبطی کوجزیہ وصول کرنے کے لیے دھوپ میں کھڑا کررہا ہے۔ اس پرانہوں نے ملامت کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ا کو یہ فرماتے سنا ہے۔ ’’اللہ عزوجل ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔‘‘

حقوق شہریت

٢٨٥- جان، مال اور آبرو کی حفاظت
اِنَّ دِمَائَ کُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔( اس حدیث کی تخریج دوسرے مقام پر آچکی ہے۔)
’’تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ویسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسی حج کے اس دن کی حرمت ہے۔‘‘
تشریح: شہریوں کا اولین حق اسلام میں یہ ہے کہ ان کے جان، مال اور آبرو کی حفاظت کی جائے اور جائز قانونی وجوہ کے سوا اور کسی وجہ سے ان پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ اس چیز کو نبی انے بکثرت احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے اپنا وہ مشہور خطبہ دیا تھا جس میں اسلامی نظام زندگی کے قواعد بیان فرمائے تھے۔ اس میں آپؐ نے فرمایا کہ ’’تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ویسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسی حج کے اس دن کی حرمت ہے۔‘‘
اس حرمت میں استثناء صرف ایک ہے اور اسے نبی اایک اور حدیث میں الا بحق الاسلام کے الفاظ سے ادا فرماتے ہیں۔ یعنی اسلام کے قانون کی رو سے اگر کسی شخص پر جان یا مال یا آبرو کا کوئی حق واجب ہوتا ہو تو وہ اس سے قانون کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق وصول کیا جائے گا۔
٢٨٦- خَلُّوْا لَہٗ جِیْرَانَہٗ۔
’’اس کے ہمسایوں کو رہا کردو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَۃَ، وَ مُؤَمَّلُ بْنُ ھِشَامٍ، قَالَ ابْنُ قُدَامَۃَ: حَدَّثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ، عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ ابْنُ قُدَامَۃَ:اَنَّ اَخَاہُ اَوْ عَمَّہٗ، وَ قَالَ مُؤَمَّلٌ: اَنَّہٗ قَامَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَ ھُوَ یَخْطُبُ، فَقَالَ: جِیْرَانِیْ بِمَا اُخِذُوْا، فَاَعْرَضَ عَنْہُ، مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ ذَکَرَ شَیْئًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَمْ یَذْکُرْ مُؤَمَّلٌ وَ ھُوَ یَخْطُبُ خَلُّوْا لَہٗ جِیْرَانَہٗ۔(۵۹)
(۲) حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہٗ قَالَ قَدِمَ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ: لَقَدْ ِجئْتُکَ لِاَمْرٍ مَالَہٗ رَأسٌ وَلاَ ذَنَبٌ، فَقَالَ: عُمَرُ: مَا ھُوَ؟ قَالَ: شَھَادَاتُ الزُّوْرِ ظَھَرَتْ بِاَرْضِنَا، فَقَالَ عُمَرُ: اَوْقَدْ کَانَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللّٰہِ لاَ یُؤْسَرُ رَجُلٌ فِی الْاِسْلاَمِ بِغَیْرِ الْعُدُوْلِ۔(۶۰)
پس منظر: ابو داؤد میںیہ روایت بیان کی گئی ہے کہ مدینے میں کچھ لوگ شبہ کی بنا پر گرفتار کیے گئے تھے۔ ایک صحابی نے عین خطبہ کے دوران میں اٹھ کر نبی اسے سوال کیا کہ میرے ہمسایوں کو کس قصور میں پکڑا گیا ہے؟ نبی انے دو مرتبہ اس کے اس سوال کو سن کر سکوت فرمایا تاکہ کوتوال شہر اگر گرفتاری کے لیے کوئی معقول وجوہ رکھتا ہے تو اٹھ کر بیان کرے۔ لیکن جب تیسری مرتبہ ان صحابی نے اپنے سوال کا اعادہ کیا اور کوتوال نے کوئی وجہ بیان نہ کی تو آپؐ نے حکم دیا کہ اس کے ہمسایوں کو رہا (کردو۔ ( ابو داؤد۔ کتاب القضاء)
تشریح: دوسرا اہم حق شخصی آزادی کی حفاظت ہے۔ اسلام میںکسی شخص کی آزادی معروف قانونی طریقے پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اور اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر سلب نہیں کی جاسکتی۔
یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک کسی شخص پر ایک متعین الزام لگا کراس کو ثابت نہ کردیاجائے اسے قید نہیں کیا جاسکتا۔ امام خطابی اپنی معالم السنن میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسلام میں حبس دو ہی قسم کا ہے۔ ایک حبس عقوبت یعنی یہ کہ عدالت سے سزا پاکر کوئی شخص قید کیا جائے، دوسرے حبس استظہار، یعنی ملزم کو بغرض تفتیش روک رکھنا۔ اس کے سوا حبس کی کوئی صورت اسلام میں نہیں ہے۔ ( معالم السنن۔ کتاب القضاء۔) یہی بات امام ابو یوسفؒ نے بھی اپنی کتاب ’’الخراج‘‘ میں بھی لکھی ہے کہ ’’کسی شخص کو محض تہمت کی بنا پر قید نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہا لوگوں کو مجرد الزام پر قید نہیں کردیا کرتے تھے۔ ضروری ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ عدالت میںحاضر ہوں۔ مدعی اپنا ثبوت پیش کرے اور اگر وہ اپنا الزام ثابت نہ کرسکے تو مدعا علیہ کو چھوڑ دیا جائے۔ (کتاب الخراج، ص:۱۰۷۔) حضرت عمر رضی اللہ نے بھی ایک مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے کہ (لایؤسر رجل فی الاسلام بغیر عدل) (مؤطا باب شرط الشاہد) (اسلامی ریاست،حقوق شہریت)

شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے

٢٨٧- اَلسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَہٗ۔
’’حکومت ہر اس شخص کی ولی (دست گیر و مددگار) ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، اَخْبَرَنَا ابْنُ جُریْجٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَکَحَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ مَوَالِیْھَا فَنِکَاحُھَا بَاطِلٌ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَاِنْ دَخَلَ بِھَا فَالْمَھَرُ لَھَا بِمَا اَصَابَ مِنْھَا۔ فَاِنْ تَشَاجَرُوْا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَہٗ۔(۶۱)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے۔ تین مرتبہ یہ ارشاد آپ نے فرمایا پھر اگر وہ مرد اس عورت سے لطف اندوز ہوچکا ہو تو پھر یہ عورت مہر کی حق دار ہے اس لذت کے عوض جو وہ مرد اٹھا چکاہے۔ اگر ان میں جھگڑا کھڑا ہوجائے تو پھر سلطان (یعنی سربراہ مملکت اور حکومت) اس کی سرپرست ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
٢٨٨- تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِ ھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقْرَائِ ھِمْ۔ (بخاری و مسلم)
’’ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کردی جائے گی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ یَحْیَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِیْنَ بَعَثَہٗ اِلَی الْیَمَنِ، اِنَّکَ سَتَاْتِیْ قَوْمًا اَھْلَ الْکِتَابِ فَاِذَا جِئْتَھُمْ، فَادْعُھُمْ اِلٰی اَنْ یَّشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذٰلِکَ، فَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَواتٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوْا لَکَ بِذَالِکَ فَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ وَ تُرَدُّ عَلٰی فُقَرَآئِھِمْ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوْا لَکَ فَاِیَّاکَ وَ کَرَآئِمَ اَمْوَالِھِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ، فَاِنَّہٗ لَیْسَ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔(۶۲)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی انے جب معاذ بن جبل کو یمن میں گورنر بنا کر بھیجا توان سے فرمایاکہ تم ایسے لوگوں کے پاس جارہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ جب تم ان کے پاس پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تیری یہ دعوت تسلیم کرلیں تو پھر ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں۔ اگر وہ یہ بھی تسلیم کرلیں تو پھر ان کو خبردو کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے جو ان ہی کے اغنیاء سے لی جائے گی اور انہی کے فقراء میں تقسیم کردی جائے گی اگر وہ تمہاری یہ دعوت بھی مان لیں تو تمہیں ان کے اچھے اور عمدہ اموال سے بچنا چاہیے اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے کیوں کہ مظلوم انسان اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔
تشریح: ایک اور حق جس پر اسلام میںبہت زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ اپنی حدود میں کسی شہری کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہنے دے۔ اسی غرض کے لیے اسلام میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے جس کے متعلق نبی ا فرماتے ہیں کہ:
تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِ ھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ۔ (بخاری و مسلم) ’’ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کردی جائے گی۔‘‘
اور ایک دوسری حدیث میں آپؐ فرماتے ہیں کہ:
مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیْنَا۔ (بخاری و مسلم)’’جس مرنے والے نے ذمہ داریوں کا کوئی بار (مثلاً قرض یا بے سہارا کنبہ) چھوڑا ہو وہ ہمارے ذمے ہے۔‘‘
اس معاملے میں اسلام نے ذمی شہریوں اور مسلم شہریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیاہے۔ وہ مسلمان کی طرح ذمی کو بھی اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ اسٹیٹ اس کو بھوکا، ننگا اور بے ٹھکانہ نہ رہنے دے گا۔ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ ایک ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا تو آپؓ نے فوراً اس کا جزیہ معاف کرکے اس کا وظیفہ مقرر کیا اور اپنے افسر خزانہ کو لکھا:
وَاللّٰہِ مَا انْصَفْنَاہُ اَنْ اَکَلْنَا شَبِیْبَتَہٗ ثُمَّ نَخْذُلُہٗ عَنِ الْھَرَمِ۔ (کتاب الخراج لابی یوسف، ص:۷۲) ’’خدا کی قسم ہم نے اس سے انصاف نہ کیا جوانی میں اس سے فائدہ اٹھایا اور بڑھاپے میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔‘‘
حضرت خالد ؓ نے حیرہ کے غیر مسلموں کو جو وثیقہ لکھ کر دیا تھا اس میں یہ صراحت تھی کہ جو شخص بوڑھا ہوجائے گا یا جو کسی آفت کا شکار ہوگا یا جو مفلس ہوجائے گا اس سے جزیہ وصول کرنے کے بجائے مسلمانوں کے بیت المال سے اس کی اور اس کے کنبے کی کفالت کی جائے گی۔ (اسلامی ریاست، حقوق شہریت)

علاقۂ غیر میں رہنے والے مسلمان کی کوئی دیت نہیں

٢٨٩- نبی ااسامہ بن زید کو ایک سریہ کا افسر بناکر حرقات کی طرف بھیجتے ہیں وہاں ایک شخص لا الہ الا اللہ کہہ کر جان بچانا چاہتا ہے۔ مگر مسلمان اس کو قتل کردیتے ہیں، حضوؐر کو اس کی اطلاع ہوتی ہے تو اسامہ کو بلا کر آپ بار بار فرماتے ہیں ’’من لک بلا الہ الا اللّٰہ یوم القیمۃ‘‘ قیامت کے روز تجھے لا الہ الا اللہ کے مقابلے میں کون بچائے گا‘‘ مگر اس مقتول کی دیت ادا کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ (ابو داؤد، باب علی ما یقاتل المشرکین۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، وَ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، المعنی، قَالاَ: ثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ ظَبْیَانَ، ثَنَا اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً اِلَی الْحُرَقَاتِ،( الحرقات قبائل جہینہ میں سے ایک قبیلہ کا نام۔ (مرتب)) فَنَذِرُوْا بِنَا، فَھَرَبُوْا، فَاَدْرَکْنَا رَجُلاً، فَلَمَّا غَشَّیْنَاہُ قَالَ: لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ، فَضَرَبْنَاہُ حَتّٰی قَتَلْنَاہُ، فَذَکَرْتُہٗ لِلنَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: مَنْ لَکَ بِلاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّمَا قَالَھَا مَخَافَۃَ السِّلاَحِ، قَالَ: اَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ قَالَھَا اَمْ لاَ؟ مَنْ لَکَ بِلاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ فَمَا زَالَ یَقُوْلُھَا حَتّٰی وَدَدْتُّ اِنِّیْ لَمْ اُسْلِمْ اِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔(۶۳)
ترجمہ: اسامہ بن زید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ انے ایک سریہ میں حرقات کی طرف بھیجا (ہماری آمد کی اطلاع پاکر) وہ چوکنے ہوگئے اور بھاگ گئے۔ ہم نے ایک آدمی پالیا۔ جب ہم نے اس پر قابو پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا مگر ہم نے پھر اسے قتل کردیا۔ اس واقعہ کا ذکر میں نے نبی اکے سامنے کیا تو آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کے مقابلہ میں قیامت کے روز تجھے کون بچائے گا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول اس نے اسلحہ کے ڈر سے لا الہ الا اللہ کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا ہے کہ تمہیں معلوم ہوا کہ اس نے اس وجہ سے کہا یا کسی اور وجہ سے؟ آپ یہ جملہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا۔
٢٩٠-ایسے ہی ایک دوسرے موقع پر حدود اسلامی سے باہر رہنے والے چند مسلمان مارے جاتے ہیں تو حضوؐر فرماتے ہیں ’’اَنَا بَرِیٌٔ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ اَظْھُرِ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘ میں ہر ایسے مسلمان کی حفاظت سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتاہو۔ (ابو داؤد، کتاب الجھاد، باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود۔ اس دوسرے واقعہ میں حضوؐر نے مقتولوں کی نصف دیت دلوائی تھی۔ اغلب ہے کہ آپ کا یہ فعل اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہوگا۔ جس میں ایسے مقتول کی دیت ساقط کی گئی ہے) ‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ، عَنْ قَیْسٍ، عَنْ جَرِیْرِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً اِلٰی خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِّنْھُمْ بِالسُّجُوْدِ، فَاسْرَعَ فِیْھِمُ الْقَتْلَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیُّﷺ فَاَمَرَ لَھُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَ قَالَ: اَنَا بَرِیٌٔ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ اَظْھُرِ الْمُشْرِکِیْنَ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لِمَ؟ قَالَ: لاَ تَرَائَ ی نَارَاھُمَا۔ قَالَ اَبُوْ دَاؤُدَ:(۶۴)
ترجمہ: حضرت جریر بن عبد اللہ سے مروی ہے رسول اللہ انے ایک سریہ خثعم قبیلہ کی طرف بھیجا۔ چند لوگوں نے جو مسلمان ہوچکے تھے سر بسجود ہوکر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی مگر لوگوں نے جلدی سے انہیں مار دیا۔ یہ اطلاع نبی اتک پہنچی تو آپ نے ان کے وارثوں کو نصف دیت دینے کا حکم جاری فرمایا نیز یہ بھی فرمایا کہ میں ہر ایسے مسلمان کی حفاظت سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتاہو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کیوں آپ نے فرمایا دیکھتے نہیں دونوں کی آگ جدا جداہے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوْسِ بْنِ کَامِلِ نِالسِّرَاجُ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانٍ، ثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسٍ، عَنْ جَرِیْرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً اِلٰی خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْھُمْ بِالسُّجُوْدِ، فَاَسْرَعَ فِیْھِمُ الْقَتْلُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیُّ ﷺ فَاَمَرَ لَھُمْ بِنَصْفِ الْعَقْلِ وَ قَالَ:اِنِّیْ بَرِیٌٔ مِّنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُّقِیْمُ بَیْنَ ظَھْرَانَی الْمُشْرِکِیْنَ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلِمَ؟ قَالَ: لاَ تَرَائَ ی نَارَاھُمَا۔(۶۵)
معاہد قوم کا جان و مال کب مباح ہوتا ہے؟
اس حکم سے صرف وہ حالت مستثنیٰ ہے جب کہ کسی معاہد قوم نے علانیہ اپنا معاہدہ توڑ دیا ہو اور صریح طور پر ہمارے حقوق پر کوئی دست درازی یا ہمارے خلاف کوئی محاربانہ کار روائی کی ہو۔ ایسی حالت میں ہم کو حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی اس کے خلاف بلا اطلاع جنگی کار روائی کریں۔ فقہائے اسلام نے اس کے لیے نبی اکے اس فعل سے استشہاد کیا ہے کہ قریش نے جب بنی خزاعہ کے معاملہ میں صلح حدیبیہ کو علانیہ توڑ دیا تو آپ نے پھر انہیں فسخ معاہدہ کا نوٹس دینے کی کوئی ضرورت نہ سمجھی بلکہ بلا اطلاع مکہ پر چڑھائی کردی۔ لیکن اس اجازت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان تمام حالات کو سامنے رکھیں جن میں حضوؐر نے نبذ عہد کو ضروری نہ سمجھا تھا اور اس پورے طرز عمل کی پیروی کریں جو ایسی حالت میں آپ نے اختیار کیا۔
اولاً: قریش کی خلاف ورزی ایسی صریح تھی کہ نقض عہد ہونے میں کسی قسم کا التباس نہ تھا۔ خود قریش کے لوگ بھی اس کے معترف تھے کہ فی الواقع ان سے بد عہدی کا فعل سرزد ہوا ہے۔ چناں چہ انہوں نے ابو سفیان کو تجدید عہد کے لیے مدینہ بھیجا۔ جس کے صاف معنی یہ تھے کہ ان کے نزدیک بھی عہد باقی نہیں رہا تھا۔ تاہم یہ بات ضروری نہیں ہے کہ خود ناقض عہد قوم کی طرف سے بھی نقض عہد کااعتراف ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کا نقض عہد بالکل غیر مشتبہ ہو۔
ثانیاً: نبی انے ان کی طرف سے عہد ٹوٹ جانے کے بعد پھر اپنی طرف سے صراحتاً یا اشارتاً یا کنایتاً کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس سے یہ ایما نکلتا ہو کہ اس بد عہدی کے باوجود آپ ابھی تک قریش کو ایک معاہد قوم سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ آپ کے معاہدانہ روابط اب بھی قائم ہیں۔ تمام روایات بالاتفاق یہ بتاتی ہیں کہ جب ابو سفیان نے مدینہ آکر تجدید معاہدہ کی درخواست پیش کی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔
ثالثاً: قریش کے خلاف جنگی کارروائی آپ نے خود کی اور کھلم کھلا کی۔ کسی ایسی فریب کاری کا شائبہ تک آپ کے طرز عمل میں نہیں پایا جاتا کہ آپ نے بظاہر صلح و بباطن جنگ کا کوئی طریقہ استعمال کیا ہو۔
یہ اس معاملہ میں حضوؐر کا اسوۂ حسنہ ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کے حکم فانبذ الیھم علی سواء سے ہٹ کر اگر کوئی کار روائی کی جاسکتی ہے تو صرف ان حالات میں اور اسی طرح کی جاسکتی ہے۔ جن میں اور جس طرح حضوؐر نے ایسی کار روائی کی۔ (سود، کفار کی اقسام ’’اہل غدر‘‘)

معاہد قوم کا جان و مال کب مباح ہوتا ہے؟

اس حکم سے صرف وہ حالت مستثنیٰ ہے جب کہ کسی معاہد قوم نے علانیہ اپنا معاہدہ توڑ دیا ہو اور صریح طور پر ہمارے حقوق پر کوئی دست درازی یا ہمارے خلاف کوئی محاربانہ کار روائی کی ہو۔ ایسی حالت میں ہم کو حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی اس کے خلاف بلا اطلاع جنگی کار روائی کریں۔ فقہائے اسلام نے اس کے لیے نبی اکے اس فعل سے استشہاد کیا ہے کہ قریش نے جب بنی خزاعہ کے معاملہ میں صلح حدیبیہ کو علانیہ توڑ دیا تو آپ نے پھر انہیں فسخ معاہدہ کا نوٹس دینے کی کوئی ضرورت نہ سمجھی بلکہ بلا اطلاع مکہ پر چڑھائی کردی۔ لیکن اس اجازت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان تمام حالات کو سامنے رکھیں جن میں حضوؐر نے نبذ عہد کو ضروری نہ سمجھا تھا اور اس پورے طرز عمل کی پیروی کریں جو ایسی حالت میں آپ نے اختیار کیا۔
اولاً: قریش کی خلاف ورزی ایسی صریح تھی کہ نقض عہد ہونے میں کسی قسم کا التباس نہ تھا۔ خود قریش کے لوگ بھی اس کے معترف تھے کہ فی الواقع ان سے بد عہدی کا فعل سرزد ہوا ہے۔ چناں چہ انہوں نے ابو سفیان کو تجدید عہد کے لیے مدینہ بھیجا۔ جس کے صاف معنی یہ تھے کہ ان کے نزدیک بھی عہد باقی نہیں رہا تھا۔ تاہم یہ بات ضروری نہیں ہے کہ خود ناقض عہد قوم کی طرف سے بھی نقض عہد کااعتراف ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کا نقض عہد بالکل غیر مشتبہ ہو۔
ثانیاً: نبی انے ان کی طرف سے عہد ٹوٹ جانے کے بعد پھر اپنی طرف سے صراحتاً یا اشارتاً یا کنایتاً کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس سے یہ ایما نکلتا ہو کہ اس بد عہدی کے باوجود آپ ابھی تک قریش کو ایک معاہد قوم سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ آپ کے معاہدانہ روابط اب بھی قائم ہیں۔ تمام روایات بالاتفاق یہ بتاتی ہیں کہ جب ابو سفیان نے مدینہ آکر تجدید معاہدہ کی درخواست پیش کی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔
ثالثاً: قریش کے خلاف جنگی کارروائی آپ نے خود کی اور کھلم کھلا کی۔ کسی ایسی فریب کاری کا شائبہ تک آپ کے طرز عمل میں نہیں پایا جاتا کہ آپ نے بظاہر صلح و بباطن جنگ کا کوئی طریقہ استعمال کیا ہو۔
یہ اس معاملہ میں حضوؐر کا اسوۂ حسنہ ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کے حکم فانبذ الیھم علی سواء سے ہٹ کر اگر کوئی کار روائی کی جاسکتی ہے تو صرف ان حالات میں اور اسی طرح کی جاسکتی ہے۔ جن میں اور جس طرح حضوؐر نے ایسی کار روائی کی۔ (سود، کفار کی اقسام ’’اہل غدر‘‘

شہریوں پر حکومت کے حقوق

٢٩١- بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النِّشَاطِ وَالْکَسْلِ وَ عَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَ عَلَی الْاَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ عَلٰی اَنْ نَّقُوْلَ فِی اللّٰہِ تَعَالٰی وَلاَ نَخَافُ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔
رسول اللہ انے ہم سے اس بات پر بیعت(

اصطلاح میں بیعت سے مراد اطاعت اور پیروی کااقرار ہے اس کی تین قسمیں ہیں)
 (۱)  وہ بیعت جو کسی خاص موقع پر کسی خاص معاملہ کے لیے ہو۔ جیسے بیعت الرضوان تھی کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ سن کر حضوؐر نے اہل مکہ سے جنگ کا ارادہ فرمایا اور اس وقت صحابہؓ سے اس امر پر بیعت لی کہ وہ پیش آمدہ مہم میں آپ کے ساتھ جاں فروشی کریں گے۔
(۲)  دوسری وہ بیعت جو تزکیۂ نفس اور اصلاح اخلاق و روحانیت کی نیت ایک مرشد و معلم اس شخص سے لیتاہے جو اس کے پاس تربیت حاصل کرنے کے لیے آئے۔ یہ وہ بیعت تھی جو بالعموم اس شخص کی کرنی پڑتی تھی جو نبی اکے ہاتھ پر ایمان لاتا تھا۔ آپ اس سے اقرار کراتے تھے کہ وہ شرک، زنا، چوری وغیرہ سے پرہیز کرے گا، اور جو احکام خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پہنچائیں گے ان کی اطاعت کرے گا۔ اس بیعت کے لینے کا حق یا تو نبی کو پہنچتا ہے یا اس شخص کو جو نبی کے طریقہ پر ہو۔ یعنی طریقۂ نبوی کا صحیح علم بھی رکھتا ہو، اس پر خود بھی عامل ہو اور بیعت لینے سے اصلاح و ارشاد کے سوا قطعاً کوئی دوسری نیت نہ رکھتا ہو۔
(۳)  تیسری بیعت وہ ہے جو اسلامی جماعت کے امیر یا امام کے ہاتھ پرکی جاتی ہے۔ اس کی نوعیت یہ ہے کہ جب تک امیر یاامام اللہ اور رسول کا مطیع ہے اس وقت تک جماعت کے تمام ارکان پراس کی اطاعت فرض ہے۔ ’’من مات و لیس فی عنقہ بیعۃ‘‘ اور دوسری تمام احادیث میں جس بیعت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ان میں سے مراد تیسری بیعت ہے،کیوں کہ اس پر اسلامی جماعت کی زندگی اور اس کے نظام کا قیام منحصر ہے۔ اس سے الگ ہونے یا الگ رہنے کے معنی یہ ہیں کہ نبی اجس کام کے لیے تشریف لائے تھے اور جس امر عظیم کا بار آپؐ امت پر چھوڑ گئے ہیں اس کو نقصان پہنچایا جائے یا ختم کردیا جائے۔
صوفیائے کرام میں جو بیعت رائج رہی ہے وہ دوسری قسم کی ہے، اور وہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص دین کا علم حاصل اور احکام کو سمجھ کر ان کی پیروی کرنے کی کوشش کرے، بغیر اس کے کہ کسی روحانی مربی کی بیعت اس کی گردن میں ہو، تو وہ نہ کوئی گناہ کرتا ہے نہ آخرت میں اس سے کوئی باز پرس اس امر کی ہوگی کہ اس نے کسی پیر کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑا۔ البتہ اگرکوئی دیندار متبع شریعت صاحب اخلاق فاضلہ شخص اس کو مل جائے جس کی زندگی کو دیکھ کر اسے یقین ہوجائے کہ فی الواقع وہ جانشین پیمبر ہونے کا شرف رکھتا ہو، تو اس کے ہاتھ پر بیعت کرلینا فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ بشرطیکہ بیعت کرنے والا خود بھی دین کا علم رکھتا ہو، اور اپنے شیخ کا اندھا مقلد نہ ہو اور شیخ سے بشری کمزوری کی بنا پر اگر شریعت کے خلاف کچھ باتیں سرزد ہوجائیں تو مرید عقیدت مندی میں ان غلط باتوں میں بھی شیخ کی پیروی کرتا نہ چلا جائے۔ رہی موجودہ زمانے کی پیری مریدی جس میں اصلاح و ارشاد کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا بلکہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر ان کے نالائق بے علم بد اعمال جانشین اللہ کے بندوں کو اپنا بندہ بناتے ہیں، اور لوگوں کو اس دھوکہ میں ڈالتے ہیںکہ بس ہمارا ہاتھ پکڑلینے کے بعد تمہارے لیے جنت واجب ہوجائے گی، اور مریدوں سے اس طرح نذرانے وصول کرتے ہیں کہ گویا کہ وہ زمیندار ہیں اور اپنے اسامیوں سے لگان وصول کررہے ہیں، توایسی پیری مریدی کا واجب ہونا تو درکنار، یہ جائز بھی نہیں ہے یہ تو ایک مصیبت ہے بلکہ میرے نزدیک اس کا شمار کبائر میں ہے۔ میں ان پیروں کو بدترین مجرم اور ان کے مریدوں کو سخت گمراہ سمجھتا ہوں۔ اگر میرے ہاتھ میں طاقت ہوتی تو میں بالجبر اس گمراہی کو روک دیتا۔  (مکاتیب سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، حصہ دوم، ص:۲۱ تا ۲۳)

) لی تھی کہ ہم چستی اور سستی ہر حال میں سمع و طاعت پر قائم رہیں گے خوشحالی اور تنگ حالی، دونوں حالتوں میں راہ خدا پر خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے منع کریں گے، اللہ کی خاطر حق بات کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ (تفہیم القرآن، ج۵، الحدید، حاشیہ:۱۲)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ اَبُوْ الْیَمَانِ، ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ ابْنِ خُثَیْمٍ، حَدَّثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُبَیْدِ الْاَنْصَارِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ عُبَادَۃُ (بْنُ الصَّامِتِ) لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: یٰا اَبَا ھُرَیْرَۃَ! اِنَّکَ لَمْ تَکُنْ مَعَنَا اِذْ بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اِنَّا بَایَعْنَاہُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسْلِ وَ عَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْیُسْرِ وَالْعُسْرِ وَ عَلَی الْاَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ عَلٰی اَنْ نَّقُوْلَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَلاَ نَخَافُ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ فِیْہِ وَ عَلٰی اَنْ نَنْصُرَ النَّبِیَّ ﷺ اِذَا قَدِمَ عَلَیْنَا یَثْرِبَ فَنَمْنَعُہٗ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ اَنْفُسَنَا وَ اَزْوَاجَنَا وَ اَبْنَائَ نَا وَ لَنَا الْجَنَّۃُ۔(۶۶)
٢٩٢-اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ۔
’’سننا اور ماننا پڑے گا، تنگی اور فراخی اور خوشگواری اور ناخوشگواری میں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، حَدَّثَنِیْ، مَالِکٌ عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ وَ اَنْ لاَ نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ، وَ اَنْ نَّقُوْمَ اَوْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ حَیْثُ مَا کُنَّا لاَ نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔(۶۷)
تشریح: شہریوں پر ریاست کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں سے پہلا حق اطاعت کاہے۔ جس کے لیے اسلام میں ’’سمع و طاعت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ نبی انے اس کے متعلق صراحت فرمائی ہے کہ ’’سننا اور ماننا پڑے گا‘‘ تنگی اور فراخی اور خوشگواری اور ناخوشگواری میں۔ یعنی خواہ کوئی حکم آدمی کو گوارا ہو یا ناگوار اور خواہ کوئی شخص اس کو بآسانی بجا لاسکے یا دشواری سے، بہر حال اسے اطاعت کرنی پڑے گی۔ (اسلامی ریاست، شہریوں پر حکومت کے حقوق)

عہدہ اور اقتدار کی طلب و حرص کا ممنوع ہونا

٢٩٣-اَنَا وَاللّٰہِ لاَ نُوَلِّیْ عَلٰی عَمَلِنَا ھٰذَا اَحَداً سَأَلَہٗ اَوْ حَرَصَ عَلَیْہِ۔(بخاری کتاب الاحکام، باب۷۔ مسلم کتاب الامارۃ باب۳)
’’بخدا ہم اپنی اس حکومت کا منصب کسی ایسے شخص کو نہیں دیتے جو اس کا طالب ہو، یا اس کا حریص ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ اَنَا وَ رَجُلَیْنِ مِنْ قَوْمِیْ، فَقَالَ اَحَدُ الرَّجُلَیْنِ اَمِّرْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَ قَالَ الْاٰخَرُ مِثْلَہٗ فَقَالَ: اِنَّا لاَ نُوَلِّیْ ھٰذَا الْاَمْرَ مَنْ سَاَلَہٗ وَلاَ مَنْ حَرَصَ عَلَیْہِ۔(۶۸)
(۲) حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ اَخِیْہِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّۃَ الْکَلَبِیِّ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ:انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَیْنِ اِلَی النَّبِیِّﷺ فَتَشَھَّدَ اَحَدُھُمَا۔ ثُمَّ قَالَ: جِئْنَا لِتَسْتَعِیْنَ بِنَا عَلٰی عَمَلِکَ، وَ قَالَ الْاٰخَرُ مِثْلَ قَوْلَ صَاحِبِہٖ، فَقَالَ:اِنَّ اَخْوَتَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہٗ۔ فَاعْتَذَرَ اَبُوْ مُوْسٰی اِلَی النَّبِیِّ ﷺ، وَ قَالَ: لَمْ اَعْلَمْ لِمَا جَائَ لَہٗ، فَلَمْ یَسْتَعِنْ بِھِمَا عَلٰی شَـْیئٍ حَتّٰی مَاتَ۔(۶۹)
(۳) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ھِلاَلٍ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ بُرْدَۃَ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: لَنْ نَسْتَعْمِلَ، اَوْلاَ نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَہٗ۔(۷۰)
(۴) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْھَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ لاَ تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُوْتِیْتَھَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا۔ وَ اِنْ اُوْتِیْھَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا، وَ اِذَا حَلَفْتَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَا فَکَفِّرْ عَنْ یَّمِیْنِکَ وَائْتِ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ۔(۷۱)
(۵) حَدَّثَنَا اَبُوْ مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ لاَ تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْأَلَہٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا وَ اِذَا حَلَفْتَ عَلٰی یَمِیْنٍ، فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَا، فَاْتِ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَ کَفِّرْ عَنْ یَّمِیْنِکَ۔(۷۲)
تشریح: یہ قاعدہ بھی اس ریاست کے قواعد میں سے تھا کہ حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب کے لیے عموماً اور خلافت کے لیے خصوصاً وہ لوگ سب سے زیادہ غیر موزوں ہیں جو خود عہدہ حاصل کرنے کے طالب ہوں اور اس کے لیے کوشش کریں۔ نبی انے فرمایا:
اِنَّ اَخْوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہٗ ۔(ابو داؤد، کتاب الامارۃ باب۲۔) ’’تم میں سے سب سے بڑھ کر خائن ہمارے نزدیک وہ ہے جو اسے خود طلب کرے۔‘‘
اِنَّا لاَ نَسْتَعْمَلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَہٗ۔(کنز العمال ج۶۔ ح۲۰۶۔)
’’ہم اپنی حکومت میں کسی ایسے شخص کو عامل نہیں بناتے جو اس کی خواہش کرے۔‘‘
یَا اَبَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ لاَ تَسْأَلُ الْاَمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِذَا اُوْتِیْتُھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُکِّلْتَ اِلَیْھَا۔ وَ اِنْ اُوْتِیْتُھَا عَنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا۔(کنز العمال ج۶۔ ح۶۹ (ج۶ ص ۲۷ حدیث نمبر۱۴۶۹۴) اس مقام پر کسی کو یہ شبہ نہ ہوکہ اگر یہ اسلام کا اصول ہے تو پھر حضر یوسف عنے مصر کے بادشاہ سے حکومت کا منصب کیوں مانگا تھا۔ دراصل حضرت یوسف عکسی مسلمان ملک اوراسلامی حکومت میں نہیں، بلکہ ایک کافر ملک اور کافر حکومت میں تھے۔ وہاں ایک خاص نفسیاتی موقع پر انہوں نے یہ محسوس کیاکہ اس وقت اگر میں بادشاہ سے حکومت کا بلند ترین منصب طلب کروں تو وہ مجھے مل سکتا ہے اور اس کے ذریعے سے میں اس ملک میں خدا کا دین پھیلانے کے لیے راستہ نکال سکتا ہوں۔ لیکن اگر میں طلب اقتدار سے باز رہوں تو اس کافر قوم کی ہدایت کے لیے جو نادر موقع مجھے مل رہا ہے وہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہ ایک خاص صورت حال تھی۔ جس پر اسلام کا عام قاعدہ چسپاں نہیں ہوتا۔
(اسلامی ریاست، ص: ۴۱۰ تا ۴۱۲)
(عبد الرحمن بن سمرہ سے حضوؐر نے فرمایا) اے عبد الرحمن بن سمرہ امارت کی درخواست نہ کرو کیوں کہ اگر وہ تمہیں مانگنے پر دی گئی، تو خدا کی طرف سے تم کو اسی کے حوالہ کردیا جائے گا اوراگر وہ تمہیں بے مانگے ملی تو خدا کی طرف سے تم کو اس کا حق ادا کرنے میں مدد دی جائے گی۔

اسلامی عدالت کے جاری کردہ سمن کی قانونی حیثیت

۱۹۵- مَنْ دُعِیَ اِلٰی حَاکِمٍ مِنْ حُکَّامِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَمْ یُجِبْ فَھُوَ ظَالِمٌ لاَ حَقَّ لَہٗ۔
ایک مرسل حدیث میں مروی ہے جسے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے حکام عدالت میں سے کسی حاکم کی طرف بلایا جائے اور وہ حاضر نہ ہو تو وہ ظالم ہے۔ اس کا کوئی حق نہیں ہے۔
تخریج:(۱) نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَالِکِیُّ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، نَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، نَا اَبُوالْاَشْھَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ دُعِیَ اِلٰی حَاکِمٍ مِنْ حُکَّامِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَمْ یُجِبْ، فَھُوَ ظَالِمٌ لاَ حَقَّ لَہٗ۔(۷۳)
تشریح: یہ معاملہ صرف نبی اکی زندگی ہی کے لیے نہ تھا، بلکہ آپ کے بعد جو بھی حکومت اسلامی کے منصب قضا پر ہو اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلے کرے اس کی عدالت کا سمن دراصل اللہ اور رسول کی عدالت کا سمن ہے اور اس سے منہ موڑنے والا درحقیقت اس سے نہیں بلکہ اللہ اور رسول سے منہ موڑنے والا ہے، بالفاظ دیگر ایسا شخص سزا کا بھی مستحق ہے اور مزید برآں اس کا بھی مستحق ہے کہ اسے برسر باطل فرض کرکے اس کے خلاف یک طرفہ فیصلہ دے دیا جائے۔
(تفہیم القرآن: ج۳،النور ، حاشیہ:۷۸)

عدالت کے فیصلہ کی قانونی حیثیت

۱۹۶-(نبی ا نے فرمایا) اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَ اَنْتُمْ تَخْتَصِمُوْنَ اِلَیَّ، وَ لَعَلَّ بَعْضَکُمْْ یَکُوْنُ اَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ، فَاقْضِیَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مَا اَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِشَـْیئٍ مِنْ حَقِّ اَخِیْہِ اَخِیْہِ، فَاِنَّمَا اَقْضِی لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ۔
’’یعنی میں بہر حال ایک انسان ہی تو ہوں، ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لاؤ اور تم میں سے ایک فریق دوسرے کی نسبت زیادہ چرب زبان ہو اور اس کے دلائل سن کر میںاس کے حق میں فیصلہ کردوں مگر یہ سمجھ لو کہ اگر اس طرح اپنے کسی بھائی کے حق میں سے کوئی چیز تم نے میرے فیصلے کے ذریعے سے حاصل کی تو دراصل تم دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کروگے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَ اِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ اِلَیَّ، وَ لَعَلَّ بَعْضَکُمْ اَنْ یَّکُوْنَ اَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ فَاقْضِیَ عَلٰی نَحْوِ مَا اَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِحَقِّ اَخِیْہِ شَیْئًا فَلاَ یَاْخُذْہُ، فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ۔(۷۴)
تشریح: اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حاکموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدے اٹھانے کی کوشش نہ کرو اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے تو محض اس لیے کہ اس کے پاس اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا اس بنا پر کہ کسی ایچ پیچ سے تم اس کو کھا سکتے ہو اس کا مقدمہ عدالت میں نہ لے جاؤ۔ ہوسکتا ہے کہ حاکم عدالت روداد مقدمہ کے لحاظ سے وہ مال تم کو دلوا دے مگر حاکم کا ایسا فیصلہ دراصل غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکہ کھا جانے کا نتیجہ ہوگا۔ اس لیے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کرلینے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے جائز مالک نہ بن جاؤگے۔ عند اللہ وہ تمہارے لیے حرام ہی رہے گا۔ (تفہیم القرآن: ج۱۔ البقرہ حاشیہ:۱۹۷)

قاضی (جج) کے اجتہاد کی شرعی حیثیت

۱۹۷-(اِذَا اجْتَھَدَ الْحَاکِمُ فَاَصَابَ فَلَہٗ اَجْرَانِ وَ اِذَا اجْتَھَدَ فَاخْطَأَ فَلَہٗ اَجْرٌ۔
’’بخاری میں عمرو بن العاص کی روایت ہے اگر حاکم اپنی حد تک فیصلہ کرنے کی پوری کوشش کرے تو صحیح فیصلہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور غلط فیصلہ کرنے کی صورت میںاکہرا اجر۔
ابو داؤد اور ابن ماجہ میں بُریدہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قاضی تین قسم کے ہیں، ایک ان میں سے جنتی ہے اور دو جہنمی۔ جنتی وہ قاضی ہے جوحق کو پہچان جائے تو اس کے مطابق فیصلہ دے مگر جو شخص حق کو پہچاننے کے باوجود خلاف حق فیصلہ دے تو وہ جہنمی ہے اور اسی طرح وہ بھی جہنمی ہے جو علم کے بغیر لوگوں کے فیصلے کرنے کے لیے بیٹھ جائے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ الْمُقْرِیُٔ الْمَکِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُسرِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ قَیْسٍ مَوْلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَھَدَ فَاَصَابَ فَلَہٗ اَجْرَانِ وَ اِذَا حَکَمَ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ اَخْطَأَ فَلَہٗ اَجْرٌ۔(۷۵)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانٍ السمتی، ثَنَا خَلْفُ بْنُ خَلِیْفَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَلْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ: وَاحِدٌ فِی الْجَنَّۃِ، وَاثْنَانِ فِی النَّارِ، فَاَمَّا الَّذِیْ فِی الْجَنَّۃِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضٰی بِہٖ، وَ رَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِی الْحُکْمِ فَھَوَ فِی النَّارِ، وَ رَجُلٌ قَضٰی لِلنَّاسِ عَلٰی جَھْلٍ فَھُوَ فِی النَّارِ۔(۷۶)
تشریح: اس سے عدالت کا یہ اصول معلوم ہوا کہ اگر دو جج کسی ایک مقدمے کا فیصلہ کریں اور دونوں کے فیصلے مختلف ہوں تو اگرچہ صحیح فیصلہ ایک ہی کا ہوگا، لیکن دونوں برحق ہوں گے، بشرطیکہ عدالت کرنے کی ضروری استعداد دونوں میں موجود ہو، ان میں سے کوئی جہالت اور نا تجربہ کاری کے ساتھ عدالت کرنے نہ بیٹھ جائے۔
قرآن کی سورۂ انبیاء میں ایک واقعہ اسی قسم کا دیا گیا ہے۔ اس واقعے کا ذکر بائبل میں نہیں ہے اور یہودی لٹریچر میں بھی ہمیں اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ مسلمان مفسرین نے اس کی جو تشریح کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص کے کھیت میں دوسرے شخص کی بکریاں رات کے وقت گھس گئی تھیں۔ اس نے حضرت داؤد عکے ہاں استغاثہ کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی بکریاں چھین کر اسے دے دی جائیں گی۔ حضرت سلیمانؑ نے اس سے اختلاف کیا اور یہ رائے دی کہ بکریاں اس وقت تک کھیت والے کے پاس رہیں جب تک بکری والا اس کے کھیت کو پھر سے تیار نہ کرلے۔ اسی کے متعلق فرمان ربانی ہے کہ ’’یہ فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھایا تھا‘‘ مگر چوں کہ مقدمے کی یہ تفصیل قرآن میں بیان نہیں ہوئی ہے اور نہ کسی حدیث میں نبی سے یہ تصریح نقل ہوئی ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس طرح کے مقدمے میں یہی ثابت شدہ اسلامی قانون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفیہ، شافعیہ، مالکیہ اور دوسرے فقہائے اسلام کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ اگر کسی کا کھیت دوسرے شخص کے جانور خراب کردیں تو کوئی تاوان عائد ہوگا یا نہیں اور عائد ہوگا تو کس صورت میں ہوگا اور کس صورت میں نہیں، نیز یہ کہ تاوان کی شکل کیا ہوگی۔ (تفہیم القرآن: ج۳۔ الانبیاء ، حاشیہ:۷۰)

ماخذ

(۱) مجمع الزوائد للھیثمی۱؍۱۷۰۔٭ مسند احمد: ۲؍۱۷۲-۲۱۲۔٭ شیخ البانی کی الصحیحہ حدیث نمبر ۱۷۴۲۔٭ طبرانی عن عوف بن مالک بحوالہ کنز العمال ۱؍۱۷۹۔ حدیث نمبر۹۰۶۔٭ دیلمی عن معاذ کے حوالہ سے کنز العمال:۱؍۱۸۹ پر مندرجہ ذیل عبارت منقول ہے:
اطیعونی ما دمت بین اظھرکم فاذا ذھبت فعلیکم بکتاب اللّٰہ احلوا حلالہ و حرموا حرامہ۔
(۲) سنن دار قطنی:۴ کتاب الرضاع۔ اور کتاب الحدود۔٭ کنز العمال ۱؍۱۹۳-۱۹۴۔ حدیث نمبر ۹۸۰۔ عن ابی ثعلبہ خشنی طبرانی اور البزار نے بھی اسے روایت کیا ہے۔٭ المستدرک:۴ کتاب الاطعمۃ، باب شان نزول ما احل اللہ فھو حلال۔ عن ابی ثعلبہ خشنی۔
(۳) دار قطنی: ۴؍۲۹۸۔٭ کنز العمال ۱؍۱۹۴۔ حدیث نمبر۹۸۱۔
 (۴) مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ بحوالہ دار قطنی۔(مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ بحوالہ دار قطنی)
(۵) مسلم کتاب العلم باب النھی عن اتباع متشابہ القرآن۔
(۶) مشکوٰۃ:۱ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔
(۷) مؤطا امام:۲ کتاب الجامع، باب النھی عن القول بالقدر۔٭ مشکوٰۃ:۱ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ مشکوٰۃ میں سنۃ رسولہ جب کہ محولہ کتاب مؤطا امام مالک میں سنۃ نبیہ ہے۔ (مرتب)٭ کنز العمال ۱؍۱۸۷۔ پر ابن عباس سے مندرجہ ذیل الفاظ سے روایت منقول ہے۔
یایھا الناس انی تارک فیکم ما ان اعتصمتم بہ فلن تضلوا ابدا کتاب اللہ و سنۃ نبیہ۔٭کنز العمال: ۱؍۱۸۷۔ حدیث نمبر ۹۵۴۔٭المستدرک: ۱؍۹۳۔ کتاب العلم۔ باب خطبۃ ﷺ فی حجۃ الوداع۔ کنز العمال والی روایت کے الفاظ منقول ہیں۔٭ السنن الکبرٰی۱۰کتاب آداب القاضی باب لا یقضی القاضی ولا یفتی المفتی۔٭ ابن ماجہ المقدمہ، باب اتباع سنۃ رسول اللّٰہ ﷺ۔٭ کنز العمال: ۱؍۱۷۵۔ حدیث نمبر ۸۸۵۔٭ مسند احمد۲؍۳۵۵۔ عن ابی ھریرۃ۔ اس صفحہ پر ما نھیتکم عنہ فانتھوا وما امرتکم بہ فخذوا منہ ما استطعتم کے الفاظ منقول ہیں۔
(۸) بخاری:۲ کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود علی الشریف والوضیع۔
(۹) بخاری:۲ کتاب الحدود، باب کراھیۃ الشفاعۃ فی الحد اذا رفع الی السلطان۔٭مسلم:۲ کتاب الحدود باب قطع السارق الشریف وغیرہ والنھی عن الشفاعۃ فی الحدود۔ عن عائشۃ٭ ابو داؤد:۴ کتاب الحدود، باب فی الحد یشفع فیہ۔ عن عائشۃ۔٭ ترمذی:۱ ابواب الحدود، باب ماجاء فی کراھیۃ ان یشفع فی الحدود عن عائشۃ حدیث عائشہ حدیث حسن صحیح۔٭ نسائی: ۷ کتاب قطع السارق باب ذکر اختلاف الفاظ الناقلین لخبر الزھری فی المخزویۃ التی سرقت۔٭ ابن ماجہ کتاب الحدود، باب الشفاعۃ فی الحدود، عن عائشۃ بخاری کے علاوہ باقی سب نے خطب کی جگہ ناختطب نقل کیا ہے۔٭ سنن دارمی:۲ کتاب الحدود، باب۵ الشفاعۃ فی الحدود دون السلطان عن عائشہ اس کے آخر میں و ایم اللّٰہ لوان فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا ہے۔ ٭السنن الکبرٰی بیھقی:۸ کتاب السرقۃ باب السارق توھب لہ السرقۃ۔٭السنن الکبرٰی۔ کتاب السرقۃ باب جماع ابواب القطع فی السرقۃ۔ عن عائشۃ۔٭ مجمع الزوائد:۶ کتاب الحدود، باب فی الحدیث عند الامام فیشفع فیہ۔ عن ام سلمہ۔ قدرے مختصر۔
(۱۰) بخاری:۲ کتاب المغازی باب۔۔۔٭ بخاری:۱ کتاب الانبیاء، باب۔۔۔٭ مسلم:۲ کتاب الحدود، باب قطع السارق الشریف وغیرہ۔٭ نسائی:۷ کتاب قطع السارق، باب ذکر اختلاف الفاظ الناقلین لخبر الزھری فی الخزومیۃ التی سرقت۔٭ مسند احمد: ۶؍۱۶۲۔ عن عائشہؓ۔٭المصنف عبد الرزاق: ۱۰؍۲۰۱، ۲۰۲۔ کتاب العقول باب الذی یستعیر المتاع ثم یجحدہ المصنف میں تستعیر والی روایت ہے۔
(۱۱) کتاب الخراج امام ابو یوسف ص۲۴۲ طبع دار الاصلاح۔
(۱۲) ابو داؤد الطیالسی۱؍۱۱۔ عمر بن الخطاب کتاب الخراج امام ابو یوسف ص۲۴۲۔٭نسائی:۸کتاب القسامۃ باب القصاص من السلاطین عن عمرؓ نسائی نے جریری سے نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی:۸کتاب الجنایات باب ماجاء فی قتل الامام و جرحہ۔٭ بیھقی نے و قد رایت رسول اللّٰہ ﷺ اقص من نفسہ نقل کیا ہے۔ نیز بیھقی نے کتاب الخراج امام یوسف والی روایت کو بھی اسی روایت میں بیان کردیا ہے۔ اور السنن الکبرٰی:۹ کتاب السیر۔
(۱۳) مسلم:۲ کتاب البر والصلۃ باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ و احتقارہ و دمہ و عرضہ و مالہ۔٭ ابن ماجہ کتاب الزھد، باب۹ القناعۃ۔ ابن ماجہ نے و لکن کے بعد انما ینظر الی اعمالکم و قلوبکم نقل کیا ہے۔
مسلم کی ایک اور روایت میں مذکور ہے۔
ان اللّٰہ لا ینظر الی اجسادکم ولا الی صورکم و لکن ینظر الی قلوبکم۔ و اشار باصابعہ الی صدرہ۔٭المعجم الکبیر للطبرانی: ۳؍۲۹۷۔ عن ابی مالک مندرجہ ذیل روایت منقول ہے۔ ان اللّٰہ عزوجل لا ینظر الی اجسامکم، ولا الی احسابکم، ولا الی اموالکم و لکن ینظر الی قلوبکم۔٭مجمع الزوائد:۱۰کتاب الزھد، باب منہ فی المواعظ۔ عن ابی مالک۔ اس روایت کی سند میں محمد بن اسماعیل بن عباس ضعیف روای ہے جیسا کہ المعجم الکبیر کے ص۲۹۷پر حاشیہ۳۴۵۶ کے تحت تصریح کی گئی ہے۔
(۱۴) المعجم الکبیر للطبرانی۴؍۲۵۔ حدیث نمبر۳۵۴۷۔٭ابن کثیرء ۴؍۲۱۷۔ سورہ الحجرات۔
(۱۵) روح المعانی۲۵؍۲۷ص۱۴۸۔ سورہ الحجرات۔٭شعب الایمان:۴؍۲۸۹۔ اس صفحہ پر ان اباکم واحد کا اضافہ بھی ہے۔
(۱۶) بخاری:۱ کتاب الصلاۃ، باب فضل استقبال القبلۃ یستقبل باطراف رجلیہ القبلۃ۔
(۱۷) ابوداؤد:۴ کتاب الدیات، باب  ایقاد المسلم بالکافر؟ نسائی۸کتاب القسامۃ، باب القود بین الاحرار والممالیک فی النفس عن علی۔٭ سنن دار قطنی: ۳؍۹۸۔ اور ص۱۳۱۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی:۸ کتاب الجنایا باب فیمن لا قصاص بینہ باختلاف الدینین۔ عن عائشۃ۔٭ المصنف عبد الرزاق: ۱۰؍۹۹۔ حدیث نمبر ۱۸۵۰۷۔ باب قود المسلم بالذمی، عن علی۔٭ المستدرک: ۲؍۱۴۱۔ کتاب قسم الفئی باب لا یقتل مومن بکافر ولا ذو عھد فی عھدہ۔ عن علی بن طالب۔٭ مجمع الزوائد:۶ کتاب الدیات، باب المسلمون تکافأ دماء ھم عن جابر بن عبد اللّٰہ۔ الزوائد میں مندرجہ ذیل عبارت ہے۔ المسلم اخو المسلم لا یخونہ ولا یخذلہ۔ ید علی من سواھم تکافا دماؤھم و یسعی بذمتھم ادناھم۔٭ السنن الکبرٰی:۹ کتاب السیر باب امان العبد۔ عن علیؓ ٭کنز العمال:۱؍۹۹۔ احادیث نمبر۴۳۹،۴۴۰،۴۴۱،۴۴۲،۴۴۳،۴۴۴۔
(۱۸) ابوداؤد:۳ کتاب الجھاد، باب فی السریۃ ترد علی اھل العسکر۔٭ ابو داؤد:۴ کتاب الدیات، باب ایقاد المسلم بالکافر۔ اس مقام پر منقول روایت میں متسریھم مذکور ہے۔٭ ابن ماجہ کتاب الدیات، المسلمون تتکافا دماء ھم۔٭ السنن الکبرٰی:۸ کتاب الجنایات، باب فیمن لا قصاص بینہ باختلاف الدینین عن قیس بن عباد۔٭ مجمع الزوائد:۶ کتاب الدیات، باب المسلمون تکافأ دماؤھم۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔٭ المصنف عبد الرزاق: ۱۰؍۹۹۔ حدیث نمبر ۱۸۵۰۶۔ باب قود المسلم بالذمی عن الحسن۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ: ۹؍۴۳۲۔ کتاب الدیات باب ان المسلمین تتکافأ دماؤھم حدیث نمبر ۸۰۱۷، ۸۰۱۸۔ المستدرک للحاکم: ۲؍۱۴۱۔ کتاب قسم الفئی باب لا یقتل مومن بکافر ولا ذو عھد فی عھدہ۔
(۱۹) ابوداؤد:۳ کتاب الامارہ باب فی الذمی یسلم فی بعض السنۃ ھل علیہ جزیۃ؟ ٭ ترمذی ۱؍۱۳۸۔ ابواب الزکوٰۃ باب ما جاء علی المسلمین جزیۃ ترمذی میں عن ابن عباس و لیس علی المسلمین جزیۃ ہے۔ ٭مسند احمد ۱؍۲۲۳۔ عن ابن عباس۔ اس صفحہ پر روایت ترمذی والی ہے مگر یہاں لیس علی مسلم جزیۃ ہے۔٭ مسند احمد ۱؍۲۸۵ عن ابن عباس۔٭ اس صفحہ پر دونوں روایتیں یعنی لیس علی المسلم اور لیس علی المسلمین منقول ہیں۔٭ دار قطنی۴؍۱۵۶، ۱۵۷۔ عن ابن عباس۔ باب خبر الواحد یوجب العمل حدیث نمبر۶،۷۔ دار قطنی میں لیس علی مسلم جزیۃ ہے۔
(۲۰) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب قول اللّٰہ اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم۔ بخاری کے دیگر مقامات جہاں یہ روایت الفاظ کے تقدم و تاخر کے ساتھ منقول ہے۔٭ بخاری۱؍۱۲۲، کتاب الجمعۃ باب الجمعۃ فی القرٰی۔٭ بخاری: ۱؍۳۲۴، کتاب الاستقراض، باب العبد راع فی مال سیدہ ولا یعمل الا باذنہ۔٭ بخاری: ۱؍۳۴۷۔ کتاب العتق، باب العبد راع فی مال سیدہ۔٭ بخاری: ۱؍۳۸۴۔ کتاب الوصایا، باب تاویل قولہ من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین۔٭ کنز العمال۶؍۲۲۔ حدیث ۱۴۶۷۰۔٭ بخاری: ۲؍۷۷۹۔ کتاب النکاح، باب قولہ قوا انفسکم و اھلیکم نارا۔٭ مسند احمد: ۲؍۱۲۱۔٭ مسلم: ۲؍۱۲۲۔ کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامیر العادل الخ عن ابن عمر۔٭ ابو داؤد: ۳؍۱۳۰۔ کتاب الامارۃ، باب ما یلزم الامام من حق الرعیۃ۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ۸؍۱۶۰۔ کتاب قتال اھل البغی باب ما علی السلطان من القیام فیما ولی بالقسط والنصح للرعیۃ الخ عن عبد اللّٰہ بن عمر۔٭ مجمع الزوائد: ۵؍۲۰۷۔ کتاب الخلافہ، باب کلکم راع و مسئول عن انس بن مالک۔ بخاری اور مسند احمد کے علاوہ باقی سب نے فالامام کی جگہ فالامیر نقل کیا ہے۔٭المعجم الکبیر للطبرانی: ۵؍۳۲۔ عن ابی لبابہ۔ اس نے بھی الامیر ہی روایت کیا ہے۔
(۲۱) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح۔٭ مشکوٰۃ حدیث نمبر۳۶۸۶۔٭کنز العمال: ۶؍۴۰۔ حدیث ۱۴۷۵۹۔ عن معقل بن یسار۔٭ فتح الباری: ۱۳؍۱۴۷۔
عن عمر قال: لو ھلک حمل من ولدالضان ضیاعا بشاطئی الفرات، خشیت ان یسالنی اللّٰہ عنہ۔
٭ کنز العمال: ۵؍۷۵۶۔ حدیث نمبر ۱۴۲۹۴۔ اس روایت کو ابن ابی شیبہ اور حلیہ ابی نعیم میں بھی روایت کیا گیا ہے۔٭ بحوالہ کنز العمال ۵؍۷۵۶۔٭ الطبقات الکبرٰی لابن سعد: ۳؍۳۰۵۔
(۲۲) مسلم:۱کتاب الایمان باب استحقاق الوالی الغاش لرعیتہ النار۔٭ مسلم ج۲۔ کتاب الامارۃ۔٭ السنن الکبرٰی:۹ کتاب السیر، باب ما علی الوالی من امر الجیش۔ بیہقی میں ثم لا یجھد ولا ینصح الخ ہے۔٭ کنز العمال: ۶؍۱۷۔ حدیث نمبر ۱۴۶۴۴۔٭ ابو عوانہ: ۱؍۳۲۔ اتحاف، النبلاء: ۸؍۳۱۴۔ ٭ترغیب۳؍۱۷۶۔
(۲۳) مسلم:۱کتاب الایمان باب استحقاق الوالی الغاش لرعیتہ النار۔ اس مفہوم کی دو حدیثیں کنز العمال: ۶؍۳۳۔ حدیث نمبر ۱۴۷۲۵، ۱۴۷۲۶۔٭ السنن الکبرٰی:۹ کتاب السیر، باب ما علی الوالی من امر الجیش۔ معقل بن یسار۔٭کنز العمال ۶؍۲۵۔ حدیث نمبر۱۴۶۸۵۔عن عقبہ بن عامر۔٭ دارمی:۲؍۲۳۲۔ حدیث نمبر۲۷۹۹۔ کتاب الرقاق، باب فی العدل بین الرعیۃ۔ معقل بن یسار۔
(۲۴) مسلم:۲کتاب الامارۃ، باب کراھیۃ الامارۃ بغیر ضرورۃ۔٭ کنز العمال: ۶؍۲۸۔ حدیث ۱۴۷۰۱- ۱۴۶۹۸۔ اور ۱۴۶۵۷۔٭المستدرک:۴ کتاب الاحکام، باب الامارۃ امانۃ و ھی یوم القیامۃ خزی و ندامۃ۔
(۲۵) ابو سعید النقاش فی القضاۃ عن ابی الاسود المالکی عن ابیہ عن جدہ۔ بحوالہ کنز العمال: ۶؍۲۷۔ حدیث ۱۴۶۹۸ اور ۱۴۶۵۷۔
(۲۶) مسند احمد: ۴؍۲۲۹۔
(۲۷) ابوداؤد:۳ کتاب الامارۃ، باب فی ارزاق العمال۔٭ المستدرک۱ کتاب الزکوٰۃ، باب العامل علی الصدقۃ بالحق کالغازی فی سبیل اللّٰہ حتی یرجع۔ عن مستورد بن شداد۔
(۲۸) کنز العمال: ۶؍۸۰۔ حدیث نمبر ۱۴۹۲۵۔ عن مستورد بن شداد۔
(۲۹) کتاب الزھد والرقائق ص۲۳۵، ۲۳۶۔ للامام شیخ الاسلام عبد اللہ ابن المبارک المروزی المتوفی سنہ ۱۸۱ھ و طبع بالھند ۱۳۸۶ھ۔ بحوالہ کنز العمال: ۵؍۷۵۲۔ حدیث نمبر ۱۴۲۸۸۔ منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب۔ مطبعہ البلاغۃ حلب۔
(۳۰) طبقات ابن سعد: ۳؍۳۰۵۔
عن عمر قال: لو ھلک حمل من ولد الضان ضیاعا بشاطئی الفرات، خشیت ان یسالنی اللّٰہ عنہ۔
٭ کنز العمال: ۵؍۷۵۶۔ حدیث نمبر ۱۴۲۹۴۔ اس روایت کو ابن ابی شیبہ اور حلیہ ابی نعیم میں بھی روایت کیا گیا ہے۔٭ بحوالہ کنز العمال ۵؍۷۵۶۔٭ الطبقات الکبرٰی لابن سعد: ۳؍۳۰۵۔
(۳۱) مسند احمد: ۵؍۶۶۔
(۳۲) کنز العمال: ۶؍۶۷۔ حدیث ۱۴۸۷۳۔
(۳۳) ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب۴۰، لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ۔٭ مسند احمد: ۳؍۶۷۔ ابو سعید خدری۔
(۳۴)مسند احمد ۴؍۱۳۳۔
(۳۵) ابو داؤد:۳ کتاب الجھاد، باب فی الامام یکون بینہ و بین العدو عھد فیسیر الیہ۔٭ ترمذی۱۔ ابواب السیر، باب ماجاء فی الغدر۔ ھذا حدیث حسن صحیح۔
ترمذی میں متن حدیث مندرجہ ذیل ہے۔
من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحلن عھدا ولا یشدنہ حتی یمضی امدہ او ینبذ الیھم علی سواء۔ قال: فرجع معاویۃ بالناس۔
٭ مسند احمد: ۴؍۱۱۱، ۱۱۳۔ عن سلیم بن عامر۔ مسند احمد کے ص۱۱۱ پر من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحل عقدۃ ولا یشدھا الخ ہے۔ اور ص۱۱۳۔ پر من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحل عقدۃ و لا یشدھا ہے۔ ٭ السنن الکبرٰی:۹ کتاب الجزیۃ، باب الوفاء بالعھد اذا کان العقد مباحا و ما ورد من التشدید فی نقضہ۔٭ بیہقی نے من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یشد عقدۃ ولا یحلھا نقل کیا ہے۔٭ ابن کثیر: ۲؍۳۲۰۔ سورۃ الانفال۔٭ ابو داؤد الطیالسی اور ابن حبان عن شعبۃ بحوالہ ابن کثیر: ۲؍۳۲۰۔
(۳۶) مسلم:۱کتاب الایمان، باب ان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر واجبان۔٭ ابو داؤد:۴ کتاب الملاحم باب الامر والنھی۔ ابو داؤد میں قال سمعت رسول اللہ ﷺ سے پہلے کی عبارت نہیں ہے اور ۱؍۲۹۷ والی عبارت ہے۔٭ ترمذی ۲ ابواب الفتن، باب ماجاء فی تغیر المنکر بالید او باللسان او بالقلب۔ مسلم والی عبارت ہے۔٭ نسائی: ۸ کتاب الایمان والشرائع، باب تفاضل اھل الایمان۔ عن ابی سعید خدری۔ نسائی نے مروان کا واقعہ نقل کیا ہے۔٭ ابن ماجہ، کتاب الفتن باب۲۰ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔ ابن ماجہ نے بھی مروان کا واقعہ نقل کیا ہے۔٭ مسند احمد: ۳؍۲۰۔ عن ابی سعید خدری۔ مسند میں بھی مروان والا واقعہ منقول ہے۔٭ ریاض الصالحین ص۶۷۔ باب۲۳۔ حدیث ۱۸۴۔ فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔٭ احکام القرآن للجصاص: ۳؍۴۰۰۔
(۳۷) ابو داؤد:۱ کتاب الصلاۃ باب الخطبۃ یوم العید۔٭ ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا باب ۱۵۵ ماجاء فی صلاۃ العیدین۔٭ ابن ماجہ کتاب الفتن باب۲۰ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔٭مسند احمد: ۳؍۱۰، ۵۲۔ ابو سعید خدری۔٭ السنن الکبرٰی:۳ کتاب صلاۃ العیدین باب یبدا بالصلاۃ قبل الخطبۃ اور السنن: ۱۰؍۹۰۔ کتاب آداب القاضی۔٭ المصنف عبد الرزاق:۳ کتاب العیدین باب اول من خطب ثم صلی۔ عن طارق بن شھاب۔
(۳۸) مسلم:۱کتاب الایمان، باب ان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر واجبان۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی: ۱۰؍۹۰۔ کتاب آداب القاضی۔٭ ریاض الصالحین ص۶۸۔ حدیث ۱۸۵۔
(۳۹) ابو داؤد:۴ کتاب الملاحم، باب الامر والنھی۔٭ ترمذی:۲ کتاب الفتن، باب افضل الجھاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر۔ ترمذی نے ابو سعید خدری سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ ہیں۔
ان من اعظم الجھاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر۔ آخر میں کہا ہے و فی الباب عن ابی امامۃ۔ ھذا حدیث حسن غریب من ھٰذا الوجہ۔٭ نسائی:۷ کتاب البیعۃ، باب فضل من تکلم بالحق عند امام جائر۔ نسائی نے عن طارق بن شھاب ان رجلا سأل النبی ﷺ و قد وضع رجلہ فی الغرز، ای الجھاد افضل؟ قال: کلمۃ حق عند سلطان جائر۔
٭ابن ماجہ کتاب الفتن باب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔ عن ابی سعید خدری۔ ابن ماجہ نے ابو امامہ سے اسی باب میں جو روایت نقل کی ہے اس میں ہے۔ کلمۃ حق عند ذی سلطان جائر۔٭ مسند احمد: ۳؍۱۹۔ ابو سعید خدری۔٭ مسند احمد: ۵؍۲۵۶۔ عن ابی امامہ باھلی کے حوالہ سے کلمۃ عدل عند امام جائر منقول ہے اور مسند احمد ج۵، ص۲۵۱ پر عن ابی امامہ سے منقول ہے۔ ای الجھاد احب الی اللّٰہ عزوجل قال کلمۃ حق تقال لامام جائر۔ ایک روایت میں اسی صفحہ پر لامام ظالم بھی منقول ہے۔ یہ روایت السنن الکبری کے: ۱۰؍۹۱۔ کتاب آداب القاضی پر بھی ہے۔٭ مجمع الزوائد: ۵ کتاب الخلافۃ، باب الکلام بالحق عند الائمۃ۔ رواہ الطبرانی۔ و فیہ بکر بن خنیس و ھو ضعیف۔
(۴۰) ابو داؤد:۴ کتاب الملاحم باب الامر والنھی۔
(۴۱) نسائی: ۷ کتاب البیعۃ، باب ذکر الوعید لمن اعان امیرا علی الظلم۔٭ نسائی ۷ باب من لم یعن امیرا علی الظلم۔٭ کنز العمال: ۶؍۷۰۔ حدیث نمبر۱۴۸۹۱۔٭ المستدرک۱ کتاب الایمان، باب من دخل علی امراء فصدتھم بکذبھم و اعانھم علی ظلمھم لیس بوارد علی الحوض۔٭ مجمع الزوائد:۵کتاب الخلافۃ، باب فیمن یصدق الامراء بکذبھم و یعینھم علی ظلمھم۔
 (۴۲) کنز العمال: ۶؍۶۷۔ حدیث نمبر ۱۴۸۷۶۔ بحوالہ طب عن ابی سلالۃ۔
(۴۳) المستدرک للحاکم:۴ کتاب الاحکام۔٭ کنز العمال: ۶؍۷۰۔ حدیث نمبر ۱۴۸۸۸۔ عن جابر۔
(۴۴) نسائی:۸ کتاب آداب القضاۃ باب الحکم باتفاق اھل العلم۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی:۱۰کتاب آداب القاضی، باب ما یقضی بہ القاضی و یفتی بہ المفتی فانہ غیر جائز لہ ان یقلد احدا من اھل دھرہ۔
اس ضابطے کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ قد اتی علینا زمان و لسنا نقضی و لسنا ھنالک ان اللہ عزوجل قدر علینا ان بلغنا ما ترون فمن عرض لہ منکم قضاء بعد الیوم فلیقض بما فی کتاب اللہ فان جاء امر لیس فی کتاب اللہ فلیقض بما قضی بہ نبیہ ﷺ فلیقض بما قضی بہ الصالحون فان جاء امر لیس فی کتاب اللہ ولا قضی بہ نبیہ ﷺ ولا قضی بہ الصالحون فلیجتھد رایہ ولا یقول انی اخاف و انی اخاف فان الحلال بین والحرام بین و بین ذالک امور مشتبھات فدع ما یریبک الی مالا یریبک۔ (نسائی۔ کتاب مذکور) رواہ ابو داؤد فی المراسیل من طریق ابن وھب، عن سلیمان بن بلال، عن ربیعۃ بن ابی عبد الرحمن ابن البیلمانی، ان رسول اللّٰہ ﷺ اتی برجل من المسلمین قتل معاھدا من اھل الذمۃ۔ فقدمہ رسول اللّٰہ ﷺ فضرب عنقہ، و قال: انا اولٰی من اوفٰی بذمتہ۔ و رواہ عبد الرزاق فی مصنفہ اخبرنا الثوری عن ربیعۃ بہ۔ و رواہ الشافعی فی مسندہ اخبرنا محمد بن الحسن، انبا ابراھیم ابن محمد، عن محمد بن المنکدر، عن عبد الرحمن ابن البیلمانی فذکرہ، و رواہ الدار قطنی فی غرائب مالک من حدیث خبیب عن مالک عن ربیعۃ بہ۔ قال الدار قطنی: وخبیب ھذا ضعیف ولا یصح۔
(۴۵) نسائی:۸ کتاب آداب القضاۃ باب الحکم باتفاق اھل العلم۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی:۱۰ کتاب آداب القاضی باب ما یقضی بہ القاضی و یفتی بہ المفتی۔ عن ابن مسعود۔٭ کنز العمال: ۵؍۸۱۴۔ حدیث نمبر ۱۴۴۶۱۔
(۴۶) ترمذی:۱ابواب الاحکام، باب ماجاء فی القاضی کیف یقضی۔٭ ابو داؤد ۳ کتاب الاقضیۃ، باب اجتھاد الرای فی القضاء اس میں آغاز روایت یوں ہے۔ کیف تقضی اذا عرض لک قضاء اور آخر میں الحمد للّٰہ الذی وفق رسول رسول اللّٰہ لما یرضی رسول اللّٰہ ابو داؤد نے عن رجال کی جگہ عن اناس من اھل حمص نقل کرکے وضاحت کردی ہے۔٭ ابو داؤد الطیالسی: ۲؍۷۶۔ احادیث معاذ بن جبل۔ حدیث نمبر ۵۵۹۔ ٭ مسند احمد: ۵؍۲۳۶،۲۴۲۔٭ سنن دارمی مقدمہ ص۵۵۔ حدیث نمبر ۱۷۰۔ عن معاذ۔ اس میں ’’اتنا اضافہ ہے فضرب صدرہ ثم قال الحمد للہ مسند احمد اور دارمی دونوں نے اجتھد رائی ولا آلو بھی نقل کیا ہے۔ یعنی میں پوری حد استطاعت تک کوشش کروں گا اور کسی قسم کا دقیقہ فرو گزاشت نہیں کروں گا۔ اور مسند احمد: ۵؍۲۳۔ پر کیف تصنع بھی منقول ہے۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی: ۱۰؍۱۱۴۔ کتاب آداب القاضی۔ باب ما یقضی بہ القاضی و یفتی بہ المفتی۔
(۴۷) ابن کثیر: ۴؍۲۰۵۔ الحجرات۔٭بحوالہ مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ۔
نوٹ: ابن ماجہ میں یہ روایت نہیں ملی۔ (مرتب)
(۴۸) اخرج البیھقی وابن مردویہ، بحوالہ روح المعانی پ۲۶۔ سورہ حجرات ص۱۴۸۔٭ مسند احمد ۵؍۴۱۱۔ ٭الدر المنثور: ۶؍۹۸۔٭ مجمع الزوائد: ۸؍۸۴۔ اس میں بالتقویٰ تک ہے۔
نوٹ: ولا فضل للانساب کے الفاظ نہیں ملے۔ (مرتب)
(۴۹) تاریخ بغداد: ۳؍۱۴۵۔
(۵۰) ابو داؤد: ۳ کتاب الخراج والفئی والامارۃ باب فی تعشیر اھل الذمۃ اذا اختلفوا بالتجارات۔
(۵۱) ابو داؤد:۳ کتاب الخراج  والامارۃ والفئی، باب فی تعشیر اھل الذمۃ اذا اختلفوا بالتجارات۔٭السنن الکبرٰی:۹ کتاب الجزیۃ باب لا یاخذ المسلمون من ثمار اھل الذمۃ ولا اموالھم شیئا بغیر امرھم اذا اعطوا ما علیھم وما ورد من التشدید فی ظلمھم و قتلھم۔٭ کنز العمال۹؍۲۰۵۔٭ کشف الخفا: ۲؍۳۰۳۔
(۵۲) دار قطنی: ۳؍۱۳۵۔ کتاب الحدود۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی: ۸کتاب الجنایات، باب بیان ضعف الخبر الذی روی فی قتل المومن بالکافر۔
(۵۳) دار قطنی: ۳؍۱۳۵۔ کتاب الحدود۔
(۵۴) حاشیہ نمبر ۱۰۶۔ ص۱۳۵، ۱۳۶۔ بیھقی نے سننِ کبرٰی کے ص۳۰ ج۸ پر انا احق من وفیٰ بذمتہ نقل کرکے لکھا ہے:
ھذا ھو الاصل فی ھذا الباب و ھو منقطع و راویہ غیر ثقۃ و قد روی عن ربیعۃ عن عبد الرحمن بن البیلمانی عن النبی ﷺ مرسلا۔ لم یسندہ غیر ابراھیم بن ابی یحی، و ھو متروک الحدیث۔
والصواب عن ربیعۃ عن ابن البیلمانی مرسل عن النبی ﷺ وابن البیلمانی ضعیف لا تقوم بہ حجۃ، اذا وصل الحدیث، فکیف بما یرسلہ۔ واللّٰہ اعلم۔
(۵۵) دار قطنی:۳ کتاب الحدود۔٭ السنن الکبرٰی:۱کتاب الجنایات باب بیان ضعف الخبر الذی روی فی قت المومن بالکافر۔
(۵۶) مسلم:۲کتاب البر والصلۃ باب الوعید الشدید لمن عذب الناس بغیر حق۔٭ ابو داؤد:۳ کتاب الخراج والامارۃ۔ باب فی التشدید فی جبایۃ الجزیۃ۔ ابو داؤد نے یوم القیامۃ نقل نہیں کیا۔٭ مسند احمد ۳؍۴۰۳-۴۶۸۔٭ مسند احمد میں یوم القیامۃ کی تصریح بھی اور حمص کی جگہ فلسطین ہے۔٭ السنن الکبرٰی:۹ کتاب الجزیۃ، باب النھی عن التشدید فی جبایۃ الجزیۃ۔ عن ھشام بن حکیم۔
(۵۷) مسلم:۲کتاب البر والصلۃ باب الوعید الشدید لمن عذب الناس بغیر حق۔
(۵۸) ابو داؤد:۳ کتاب الاقضیہ، باب فی الحبس فی الدین وغیرہ۔٭ مسند احمد: ۵؍۲۔ بھزین بن حکیم ابیہ عن جدہ۔
(۵۹) مؤطا امام مالک کتاب الاقضیۃ الترغیب فی القضاء بالحق۔
(۶۰) ابو داؤد:۲ کتاب النکاح، باب فی الولی۔٭ ترمذی:۱ابواب النکاح، باب ما جاء لا نکاح الا بولی۔ ھذا حدیث حسن۔٭ ابن ماجہ کتاب النکاح، باب ۱۵لا نکاح الا بولی۔ عن عائشۃ۔٭ سنن دارمی:۲کتاب النکاح، باب النھی عن النکاح بغیر ولی۔ عن عائشۃؓ۔٭ سنن دار قطنی:۳ کتاب النکاح، حدیث نمبر۱۰۔٭ مسند احمد: ۱؍۲۵۰۔ عن ابن عباس۔ ۶؍۴۷، ۶۶، ۱۶۶، ۲۶۰۷۔ عن عائشۃؓ۔ ٭السنن الکبرٰی للبیھقی: ۷؍۱۰۵، باب لا نکاح الا بولی اور ص ۱۲۴۔ کتاب النکاح اور السنن ج۱۰۔ ص۱۴۸۔ اس مقام پر صرف آخری حصہ ہے۔٭ المستدرک حاکم:۲کتاب النکاح باب السلطان ولی من لا ولی لہ۔ عائشۃ ھذاحدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔٭ کنز العمال: ۱۶؍۳۱۳۔ حدیث نمبر ۴۴۶۷۱۔ عن ابی امامۃ۔٭ کنز العمال: ۱۶؍۳۱۴۔ حدیث نمبر ۴۴۶۷۳ عن عائشۃؓ۔٭ کنز العمال:۱۶؍۳۱۴۔ حدیث نمبر ۴۴۶۷۵۔ عن عائشۃؓ۔٭کنز العمال: ۱۶۳۱۴۔ حدیث نمبر۴۴۶۷۸ عن عائشۃؓ۔٭مجمع الزوائد:۴کتاب النکاح، باب ماجاء فی الولی والشھود، عن ابن عباس۔٭ مصنف ابن ابی شیبۃ ج۲؍۴۔کتاب النکاح، باب من قال لا نکاح الا بولی او سلطان عن عائشۃ۔٭المصنف عبد الرزاق: ۶ کتاب النکاح باب النکاح بغیر ولی۔ عن عائشۃؓ۔
(۶۱) بخاری:۱؍۲ کتاب الزکوٰۃ باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء و ترد فی الفقراء حیث کانوا۔٭ مسلم۱کتاب الایمان۔ باب الدعاء الی الشھادتین و شرائع الاسلام۔٭ نسائی: ۵ کتاب الزکوٰۃ باب وجوب الزکوٰۃ، عن ابن عباس۔٭ نسائی میں فانہ لیس بینہ و بین اللّٰہ حجاب منقول نہیں ہے۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی ۷؍۲۔ کتاب الصدقات باب۲؍۱ فرض اللّٰہ تبارک و تعالی علی اھل دینہ من المسلمین فی اموالھم لغیرھم من اھل دینہ المسلمین والمحتاجین الیہ۔ عن ابن عباس۔٭ بخاری:۲کتاب التوحید باب ما جاء فی دعاء النبی ﷺ۔ اس مقام پر توخذ من غنیھم فترد علی فقیرھم ہے اور ص۷ پر باب من جعل الصدقۃ فی صنف واحد من ھذہ الاصناف کے تحت مروی روایت میں توخذ من اغنیائھم فترد علی فقرائھم ہے۔٭سنن  دار قطنی ۲؍۱۳۶۔ کتاب الزکوٰۃ عن ابن عباس۔٭ دار قطنی نے اسی صفحہ پر توخذ من غنیھم فترد علی فقیرھم بھی نقل کیا ہے۔٭ سنن دارمی:۱ کتاب الزکوٰۃ باب فی فضل الزکوٰۃ۔ عن ابن عباس۔ ٭مصنف ابن ابی شیبۃ۳ کتاب الزکوٰۃ باب ما قالوا فی منع الزکوٰۃ۔ عن ابی عباس۔ ٭بخاری:۱ کتاب الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ و قول اللّٰہ عزوجل، و اقیموا الصلاۃ و اتو الزکوۃ۔ اس مقام پر منقول روایت میں علی فقرائھم کی بجائے فی فقراء ھم ہے۔٭ مسلم:۱کتاب الایمان، باب الدعاء، الی الشھادتین و شرائع الاسلام۔ عن ابن عباس۔٭ ابو داؤد:۲ کتاب الزکوٰۃ، باب فی زکوٰۃ السائمۃ۔ عن ابن عباس۔٭ ابو داؤد میں فانھا لیس بینھا و بین اللّٰہ حجاب ہے (ضمیرتانیث کے ساتھ)۔٭ ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ، باب فرض الزکوٰۃ عن ابن عباس۔ ابن ماجہ نے بھی ضمیر تانیث سے نقل کیا ہے۔٭السنن الکبرٰی: ۷؍۸۔ کتاب الصدقات، باب من قال لا یخرج صدقۃ قوم منھم من بلدھم و فی بلدھم من یستحقھا۔ عن ابن عباس۔
(۶۲) ابو داؤد:۳ کتاب الجھاد، باب علی ما یقاتل المشرکون۔٭ مسند احمد ۵؍۲۰۰۔ اسامہ بن زید۔ ٭مسند ابی داؤد الطیالسی جز۲، ص۸۷۔ اسامہ بن زید۔ الطیالسی نے مختصر روایت نقل کی ہے۔
(۶۳) ابو داؤد:۳ کتاب الجھاد، باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود۔٭ ترمذی ۱؍۲۸۹۔ ابواب السیر، باب ماجاء فی کراھیۃ المقام بین اظھر المشرکین۔٭ سمعت محمدا یقول: الصحیح حدیث قیس عن النبی ﷺ مرسل۔٭ نسائی۸کتاب القسامۃ، باب القود بغیر حدیدۃ۔٭ نسائی نے انی بریٔ من کل مسلم مع مشرک نقل کیا ہے اور متن میں فاعتصم ناس منھم کی جگہ فاستعصموا بالسجود فقتلوا روایت کیا ہے۔ ٭السنن: ۸؍۱۳۱ پر کتاب الدیات کے تحت نسائی والی روایت بھی نقل کی ہے۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی:۹کتاب السیر، باب الاسیر یوخذ علیہ العھد ان لا یھرب عن جریر بن عبد اللہ۔٭ السنن: ۸؍۱۳۱۔ کتاب الدیات۔ عن قیس بن ابی حازم۔ بیھقی نے انا بری من کل مسلم مقیم بین اظھر المشرکین روایت کیا ہے۔ ٭ مجمع الزوائد: ۵کتاب الجھاد، باب النھی عن مساکنۃ الکفار۔ الزوائد میں ہے انا بری من کل مسلم اقام مع المشرکین۔ رواہ ھشیم و معمر و خالد الواسطی و جماعۃ، لم یذکروا جریرا۔
(۶۴) المعجم الکبیر للطبرانی ۲؍۳۰۳۔ حدیث نمبر۲۲۶۴۔
(۶۵) مسند احمد: ۵؍۳۲۵۔ عبادہ بن صامت۔٭ مسند احمد: ۳؍۳۲۲۔ جابر بن عبد اللّٰہ۔٭ مجمع الزوائد:۵ کتاب الخلافۃ، باب لا طاعۃ فی معصیۃ۔٭ السنن الکبرٰی:۸ کتاب قتال اھل البغی باب کیفیۃ البیعۃ۔٭ روح المعانی ۲۷؍۱۴۷۔ سورہ الحدید۔٭ ابن ماجہ کتاب الجھاد باب۴۱۔ البیعۃ۔٭ مؤطا امام مالک کتاب الجھاد ۱؍۲۹۶۔ باب الترغیب فی الجھاد۔٭ کنز العمال۱؍۳۲۴۔ حدیث نمبر۱۵۱۷۔ عن عبادہ بن الصامت ان حوالہ جات کے تحت مندرج عبارت میں قدرے لفظی اختلاف موجود ہے۔
(۶۶) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب کیف یبایع الامام الناس۔ اور بخاری: ۲۔ کتاب الفتن۔٭مسلم:۲کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی المعصیۃ۔٭نسائی۷ کتاب البیعۃ، باب البیعۃ علی ان لا ننازع الامر اھلہ۔٭ مسند احمد: ۵؍۳۱۴، ۳۱۸، ۳۱۹۔٭ ابن ماجہ کتاب الجھاد، باب۴۱ البیعۃ۔
ابن ماجہ کی روایت میں بایعنا رسول اللّٰہ ﷺ علی السمع والطاعۃ فی العسر والیسر والمنشط والمکرہ الخ ہے۔٭مؤطا امام مالک کتاب الجھاد۱ باب الترغیب فی الجھاد۔٭ کنز العمال ۱؍۳۲۴۔ حدیث نمبر ۱۵۱۷۔ عبادہ بن الصامت۔٭ السنن الکبرٰی:۸ کتاب قتال اھل البغی، باب کیفیۃ البیعۃ، عن عبادہ بن الصامت۔
(۶۷) بخاری:۲ کتاب الاحکام باب ما یکرہ من الحرص علی الامارۃ۔٭ مسلم۲ کتاب الامارۃ باب النھی عن طلب الامارۃ والحرص علیھا۔ مسلم میں ہے انا واللّٰہ لا نولی علی ھٰذا العمل احدا سالہ ولا احدا حرص علیہ۔ ٭ ابوداؤد۳ کتاب الاقضیہ باب فی طلب القضاء والتسرع الیہ۔
(۶۸) ابو داؤد:۳ کتاب الخراج والامارۃ والفئی۔ باب ماجاء فی طلب الامارۃ۔
(۶۹) ابو داؤد:۳ کتاب الاقضیہ باب من طلب القضاء والتسرع الیہ۔
(۷۰) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب من لم یسئال اللّٰہ الامارۃ اعانہ اللّٰہ۔٭ بخاری۲ کتاب الایمان والنذور باب قول اللہ لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم۔٭ ترمذی:۱ ابواب النذور والایمان باب ماجاء فی من حلف علی یمین فرای غیرھا خیرا منھا۔ ترمذی میں ہے فانک ان اتتک عن مسئلۃ۔٭ مسند احمد: ۵؍۶۳۔ عن عبد الرحمن بن سمرۃ۔٭ کنز العمال: ۶؍۱۸،۱۹۔ حدیث نمبر ۱۴۶۴۸۔
(۷۱) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب من سال الامارۃ و کل الیھا۔٭ بخاری:۲ کتاب الایمان والنذور باب الکفارۃ قبل الحنث و بعدھا۔٭ مسلم:۲کتاب الامارۃ باب النھی عن طلب الامارۃ والحرص علیھا۔٭ مسلم:۲ کتاب الایمان والنذور باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا خیرا منھا ان یاتی الذی ھو خیر ویکفر عن یمینہ۔٭ ابوداؤد:۳ کتاب الامارۃ باب ماجاء فی طلب الامارۃ۔ ابو داؤد نے اس مقام پر اعنت علیھا تک نقل کیا ہے۔٭ نسائی:۸ کتاب القضاۃ باب النھی عن مسألۃ الامارۃ۔ ٭سنن دارمی:۲ کتاب النذور والایمان باب۹۔ من حلف علی یمین فرای غیرھا خیرا منھا۔٭ مسند احمد: ۵؍۶۲۔ عن عبد الرحمن بن سمرہ۔٭ السنن الکبرٰی للبیھقی:۱۰ کتاب الایمان باب الکفارۃ بعد الحنث اور:۱۰؍۱۰۰۔
(۷۲) سنن دار قطنی:۴ کتاب الاقضیۃ والاحکام حدیث نمبر ۳۶۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی نے ۱۰کتاب آداب القاضی باب من دعی الی حکم حاکم کے تحت عن الحسن کے حوالہ سے من دعی الی حکم من الاحکام فلم یجب فھو ظالم نقل کرکے لکھا ہے ھذا مرسل۔ ابو داؤد نے اپنی مراسیل میں اسے بیان کیا ہے۔ بحوالہ کنز العمال: ۶؍۶۵۔ عن سمرۃ مندرجہ ذیل عبارت بیان کی ہے من دعی الی سلطان فلم یجب فھو ظالم لا حق لہ۔
(۷۳) بخاری۲کتاب الاحکام۔ باب موعظۃ الامام للخصوم۔٭ بخاری۲ کتاب الحیل، باب۔۔۔ ٭مسلم:۲کتاب الاقضیۃ، باب ان حکم الحاکم لا یغیر الباطن۔٭ ابو داؤد ۳ کتاب الاقضیۃ، باب فی قضاء القاضی اذا اخطاء۔ عن ام سلمۃ۔٭نسائی:۸ کتاب آداب القضاۃ باب ما یقطع القضاء۔ عن ام سلمۃ۔٭ نسائی:۸ کتاب آداب القضاۃ، باب الحکم بالظاھر۔٭ ابن ماجہ کتاب الاحکام، باب قضیۃ الحاکم لا تحل حراما ولا تحرم حلالا۔ ابن ماجہ نے فانما اقطع لہ قطعۃ من النار کے بعد یاتی بھا یوم القیامۃ بھی نقل کیا ہے ابن ماجہ نے اسی صفحہ پر ابو ہریرہ سے بھی یہی روایت کی ہے۔٭ مؤطا امام مالک کتاب الاقضیۃ باب الترغیب فی القضاء بالحق۔ عن ام سلمۃ۔٭ مسند احمد: ۶؍۲۹۰۔ عن ام سلمۃ۔٭السنن الکبرٰی۱۰کتاب آداب القاضی باب من قال لیس للقاضی ان یقضی بعلمہ۔ عن ام سلمۃ۔٭ السنن:۱۰کتاب الشھادات، باب لا یحیل حکم القاضی علی المقضی لہ۔ عن ام سلمۃ۔٭ دار قطنی:۴ کتاب آداب القاضی حدیث نمبر۱۲۷۔ عن ام سلمۃ۔٭ موارد الظمان الی زوائد ابن حبان، کتاب القضاء باب حکم الحاکم۔٭ کنز العمال: ۶؍۱۰۴۔ حدیث نمبر ۱۵۰۴۳۔ ٭بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب القضاء فی قلیل المال و کثیرہ سواء اور بخاری:۲کتاب الاحکام، باب من قضی لہ بحق اخیہ فلا یاخذہ، فان قضاء الحاکم لا یحل حراما ولا یحرم حلالا۔ اور بخاری۱ ابواب المظالم والقصاص، باب اثم من خاصم فی باطل و ھو یعلمہ پر ان یکون الحن کی جگہ ان یکون ابلغ من بعض فاحسب انہ صادق ہے اور یہی الفاظ مسلم:۲ کتاب الاقضیۃ باب حکم الحاکم لا یغیر الباطن کے تحت بیان کیے ہیں۔ مسلم میں فلیاخذ کی جگہ فلیحملھا اور لیدعھا کی جگہ یذرھا نقل کیا ہے یہی روایت السنن الکبری:۱۰کتاب الشھادات باب لا یحیل حکم القاضی علی المقضی لہ عن ام سلمۃ اور۱۰کتاب آداب القاضی، باب من قال لیس للقاضی ان یقضی بعلمہ۔ عن ام سلمۃ پر بھی یہ روایت منقول ہے اور سنن دار قطنی ۴ کتاب آداب القاضی کے تحت یہی روایت نقل کی ہے اور جامع ترمذی نے۱ ابواب الاحکام باب ماجاء فی التشدید علی من یقضی لہ بشیء لیس لہ ان یاخذہ نے بھی اسے بیان کیا ہے۔
(۷۴) بخاری:۲ کتاب الاعتصام، باب اجر الحاکم اذا اجتھد، فاصاب او اخطأ۔٭ مسلم:۲ کتاب الاقضیۃ، باب بیان اجر الحاکم اذا اجتھد فاصاب او اخطأ۔٭ ابو داؤد:۳ کتاب الاقضیۃ، باب فی القاضی یخطئی۔٭ ترمذی۱ ابواب الاحکام، باب ما جاء فی القاضی یصیب و یخطئی۔ و فی الباب عن عمرو بن العاص و عقبۃ بن عامر حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن غریب من ھٰذا الوجہ، لا نعرفہ من حدیث سفیان الثوری عن یحی بن سعید الامن حدیث عبد الرزاق عن معمر بن سفیان الثوری۔٭ نسائی:۸کتاب آداب القاضی، باب الاصابۃ فی الحکم۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ ابن ماجہ کتاب الاحکام، باب۳۔ الحاکم یجتھد فیصیب الحق۔٭ دار قطنی۴ کتاب فی الاقضیۃ والاحکام۔ عن ابی ھریرۃ۔ دار قطنی نے و اذا اقضی القاضی فاجتھد فاصاب فلہ اجران بھی روایت کیا ہے۔٭ مسند احمد: ۲؍۱۸۷۔۴؍۱۹۸، ۲۰۴، ۲۰۵۔ ٭السنن الکبرٰی بیھقی:۱۰کتاب آداب القاضی باب اجتھاد الحاکم فیما یسوغ فیہ الاجتھاد و ھو من اھل الاجتھاد۔ عن عمرو بن العاص۔ اور ص۱۱۹ پر ابو ہریرۃ سے مروی روایت مذکور ہے۔ ٭ کنز العمال: ۶؍۷۔ حدیث نمبر ۱۴۵۹۷۔ عن عمرو بن العاص۔قال: فحدثت ھذا الحدیث ابا بکر بن محمد بن عمرو ابن حزم، فقال: ھکذا حدثنی ابو سلمۃ بن عبد الرحمن عن ابی ھریرۃ، وقال عبد العزیز ابن المطلب عن عبد اللہ بن ابی بکر عن ابی سلمۃ عن النبی ﷺ مثلہ۔
(۷۵) ابو داؤد:۳ کتاب الاقضیۃ، باب فی القاضی یخطئی۔٭ ابن ماجہ کتاب الاحکام۔ باب ۳ الحاکم یجتھد فیصیب الحق۔ قال ابو داؤد: و ھذا اصح شیء فیہ، یعنی حدیث ابن بریدۃ القضاۃ ثلاثۃ۔

فصل:۴ خلافت کے لیے قرشیت کی شرط امامت ِ قریش کے بارے میں آں حضوؐر کے ارشادات

۱۹۸- احادیث نبی ااسے کوئی ایک ہی قول اس مسئلے سے متعلق منقول نہیں ہے۔ بلکہ حضوؐر نے متعدد مواقع پر اسے مختلف طریقوں سے ارشاد فرمایا ہے۔ ان ارشادات کو خود دیکھ لیجیے۔
(۱) بخاری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہسمعت رسول اللّٰہ ﷺ ان ھذا الامر فی قریش لا یعادیھم احد الا کبہ اللّٰہ فی النار علی وجھہ ما اقاموا الدین۔ ’’ میں نے رسول اللہ ا کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ کام قریش میں رہے گا، جو شخص بھی اس میں ان کی مخالفت کرے گا اسے اللہ اوندھے منہ آگ میں پھینک دے گا، جب تک کہ وہ دین کو قائم کرتے رہیں۔‘‘
(۲) مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ حضوؐر کی ایک تقریر نقل کرتے ہیں جو آپ نے قریش کو خطاب کرکے ارشاد فرمائی: ــــ اما بعد یا معشر قریش فانکم اھل ھٰذا الامر مالم تعصوا اللہ فاذا عصیتموہ بعث الیکم من یلحاکم کما یلحی ھذا القضیب ــــ ’’اما بعد، اے گروہ قریش تم اس کام کے اہل ہو جب تک کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔ پھر اگر نافرمانی کروگے تو اللہ تم پر کسی کو بھیجے گا جو تمہاری کھال اس طرح اتارے گا جیسے اس ٹہنی کی چھال اتار دی جائے۔‘‘
(۳)مسند احمد اور مسند ابو داؤد طیالسی میں حضرت ابو برزہؓ کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: الائمۃ من قریش ما عملوا بثلث، ما حکموا فعدلوا واسترحموا فرحموا و عاھدوا فوفوا فمن لم یفعل ذالک منھم فعلیہ لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین۔‘‘ ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ کریں۔ جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں۔ جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جو ان میں سے ایسا نہ کرے اس پر خدا اور فرشتوں اور انسانوں کی لعنت۔‘‘ قریب قریب یہی مضمون اس سے ملتے جلتے الفاظ میں ان دونوں ائمہ حدیث نے حضرت انس بن مالکؒ سے بھی نقل کیا ہے۔
(۴) امام شافعی اور بیہقیؒنے عطاء کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ حضوؐر نے قریش کو خطاب کرکے فرمایا: انتم اولی الناس بھذا الامر ما کنتم علی الحق الا ان تعدلوا عنہ فتلحون کما تلحی ھذا الجریدہ۔ ’’تم اس کار حکومت کے سب لوگوں سے زیادہ مستحق ہو جب تک کہ حق پر قائم رہو۔ لیکن اگر حق سے منہ موڑوگے تو تمہاری کھال اس طرح کھینچی جائے گی جیسے اس ٹہنی کی چھال اتار دی جائے۔‘‘
(۵) بیہقی، طبرانی اور شافعیؒ نے مختلف سندوں سے حضوؐر کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ (قدموا قریشا ولا تقدموھا) ’’قریش کو آگے کرو اور ان سے آگے نہ بڑھو۔‘‘
(۶) مسند احمد میں حضرت عمرو بن العاصؓ کی روایت ہے کہ قریش قادۃ الناس۔ ’’قریش لوگوں کے قائد و رہ نما ہیں۔‘‘

ارشادات مذکورہ کا منشا

یہ تمام روایات صاف بتا رہی ہیں کہ حضوؐر نے محض اپنے فوراً بعد رونما ہونے والے کسی قضیۂ خلافت کا فیصلہ نہیں فرمایا تھا بلکہ مستقل طور پر یہ طے فرمادیا تھا کہ جب تک قریش میں چند خاص صفات موجود ہیں اس وقت تک دوسروں کی بہ نسبت (چاہے ان دوسروں میں بھی یہ صفات موجود ہوں) خلافت پر ان کا حق مرجح ہوگا۔ اس میں صرف انصار پر ترجیح کا مسئلہ نہ تھا بلکہ تمام عرب وعجم کے مسلمانوں پر اس قبیلے کی مشروط ترجیح کا فیصلہ تھا۔ یہی مطلب ان ارشادات کا تمام علمائے امت نے بالاتفاق سمجھا ہے اور تاریخ میں بجز خوارج اور معتزلہ کے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہوا ہے۔

امامت قریش کے بارے میں علمائے امت کا مسلک

عبد القاہر بغدادی (متوفی ۴۲۹ھ) اپنی مشہور کتاب الفرق بین الفرق کی تیسری فصل میں وہ پندرہ اصول بیان کرتے ہیں جن پر گمراہ فرقوں کے مقابلے میں اہل السنت کا اتفاق ہے۔ ان میں سے بارہواں اصول ان کے بیان کے مطابق یہ ہے:
’’امامت کا قیام امت پر فرض و واجب ہے۔۔۔اس امت میں امامت منعقد ہونے کا طریقہ اجتہاد سے کسی شخص کا انتخاب ہے۔۔۔ اور وہ سب اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قرشی النسب ہونا شرط ہے۔‘‘ (صفحہ ۳۴۰،۳۴۱)
ابن حزم (متوفی ۴۵۶ھ) الفِصَل فِی الْمِلَل وَالنِّحَل میں لکھتے ہیں:
’’اہل السنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ امامت جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں ۔۔۔اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہر اس شخص کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنت پر قائم ہو خواہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ اور ضرار بن عمرو غطفانی کہتا ہے کہ اگر حبشی و قریشی دو شخص کتاب و سنت پر قائم ہوں تو واجب یہ ہے کہ حبشی کو آگے کیا جائے کیوں کہ بد راہ ہوجانے کی صورت میں اسے ہٹانا آسان ہے۔ (اس کے بعد ابن حزم خود اپنی تحقیق بیان کرتے ہیں کہ) فہر بن مالک کی اولاد کے لیے امامت کو خاص کرنے کا وجوب ہم رسول اللہ ا کی اس نص کی بنا پر مانتے ہیں کہ آپ نے امامت قریش ہی میں رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ روایت تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہے۔۔۔ اور اس روایت کی صحت پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انصار نے سقیفۂ بنی ساعدہ میں اس کے آگے سرتسلیم خم کردیا حالاں کہ شہر ان کا تھا، وہ سرو سامان اور تعداد رکھتے تھے اور اسلامی خدمات میں کسی سے کم نہ تھے۔ اگر رسول اللہ اکی نص سے یہ حجت قائم نہ ہوجاتی کہ اس معاملہ میں دوسروں کا حق ان پر فائق ہے تو وہ اپنے اجتہاد کے مقابلے میں دوسرے کسی کا اجتہاد ماننے پر مجبور نہ تھے۔‘‘ (جلد۴،ص: ۸۹)
عبد الکریم شہرستانی (متوفٰی ۵۴۸ھ) اپنی کتاب الملل والنحل میںلکھتے ہیں کہ ان الامۃ اجتمعت علی انھا لا تصلح لغیر قریش۔ تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیں ہے۔‘‘
(ج۱، ص:۱۰۶)
امام نسفی(متوفٰی ۵۳۷ھ) عقائد نسفی میں لکھتے ہیں و ینبغی ان یکون الامام من قریش ولا یجوز من غیرھم۔ ’’ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہو اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں ہے۔‘‘ اس کی تشریح کرتے ہوئے علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفی میں لکھتے ہیں کہ ’’اس پر اجماع ہے اور بجز خوارج اور بعض معتزلہ کے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیاہے۔‘‘
قاضی عیاض (متوفٰی۵۴۴ھ) لکھتے ہیں کہ ’’امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علماء کا مذہب ہے اور علماء نے اس کو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے۔‘‘ (شرح مسلم للنووی، کتاب الامارہ)
امام نووی (متوفٰی ۷۷۶ھ) شرح مسلم میں لکھتے ہیں: ’’یہ احادیث اور اسی معنی کی دوسری احادیث اس بات پر کھلی دلیل ہیں کہ خلافت قریش کے لیے خاص ہے اور ان کے سوا کسی اور کے لیے اس کا انعقاد جائز نہیں ہے۔ اس پر صحابہ کے زمانے میں اجماع ہوچکا تھا اور اسی طرح ان کے بعد بھی یہ اجماع قائم رہا۔‘‘ (کتاب الامارہ باب الخلافۃ فی قریش)
یہ تمام اکابر اہل علم آٹھ صدیوں تک مسلسل اس مسئلے پر امت کا اجماع نقل کرتے چلے گئے ہیں۔ نویں صدی کے قریب پہنچ کر ابن خلدون یہ خبر دیتا ہے کہ یہ اجماع ٹوٹنا شروع ہوگیا مگر اس بنا پر نہیں کہ نبی اکی نص کے کوئی نئے معنی اس وقت منکشف ہونے لگے تھے بلکہ اس بنا پر کہ:
’’جب قریش کا اثر و اقتدار کم زور پڑگیا اور مسلسل عیش و عشرت میں رہتے رہتے ان کی عصیبت ختم ہوگئی اور سلطنت کے معاملات نے ان کو تمام روئے زمین پر منتشر کردیا تو وہ بار خلافت اٹھانے سے عاجز ہوگئے اور عجمیوں کو ان پر اتنا غلبہ حاصل ہوگیا کہ تمام حل وعقد کے وہی مالک ہوگئے۔ اس وجہ سے بکثرت محققین پر ان کا معاملہ مشتبہ ہوگیااور وہ یہ رائے قائم کرنے لگے کہ اب خلافت کے لیے قرشیت کی شرط باقی نہیں رہی ہے۔‘‘ (مقدمہ۔ صفحہ:۱۹۴)
یہی بنیاد تھی اس امر کی کہ آخر کار دسویں صدی میں علماء کے ایک بڑے گروہ نے سلاطین آل عثمان کی خلافت تسلیم کرلی۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ آیا علماء امت نے حضوؐر کے ارشادات کو انصار و مہاجرین کے کسی قضیے کا وقتی فیصلہ سمجھا تھا یا بعض اوصاف کی شرط کے ساتھ ایک مستقل دستوری حکم۔ کیایہ بات باور کیے جانے کے لائق ہے کہ پوری امت کے علماء بالاتفاق ایک نص کا مطلب سمجھنے میں غلطی کرجائیں اور صدیوں اس غلطی میں پڑے رہیں؟

خلافت کے لیے قرشیت کی شرط کی حقیقت

اس کے بعد دوسرے سوال کو لیجیے۔ یہ بات سمجھنے کے لیے کسی بڑی عقل و خرد کی ضرورت نہیں ہے کہ ’’اہلیت و قابلیت‘‘ کا اطلاق صرف انہی اوصاف پر ہوتا ہے جو ہر شخص کو حاصل ہونے ممکن ہوں، نہ کہ کسی ایسے وصف پر جو کسی شخص کو اس وقت تک نصیب نہ ہوسکے جب تک وہ کسی خاص قبیلے، خاندان، وطن یا رنگ و نسل میں پیدا نہ ہو۔ اصول مساوات کے ساتھ اگر مطابقت رکھتی ہے تو صرف پہلی قسم کے اوصاف کی شرط ہی رکھتی ہے۔ رہا دوسرا وصف، تو چا ہے آپ کھینچ تان کر اس پر بھی ’’اہلیت و قابلیت‘‘ کی اصطلاح استعمال کر ڈالیں، لیکن اس نوع کی ’’اہلیت‘‘ کو کسی منصب کے قابل ہونے کے لیے شرط قرار دے دینا اصول مساوات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کہیں کہ پاکستان کے باشندوں میں سے جو شخص بھی عمدہ قانونی قابلیت رکھتا ہو وہ جج بنائے جانے کا اہل ہے۔ تو یہ بات حقوق میں تمام پاکستانیوں کی مساوات کے اصول سے پوری طرح مطابق ہوگی۔ لیکن اگر آپ مثلاً یہ کہیں کہ صرف ایک قانون داں جاٹ ہی پاکستان میں جج بن سکتا ہے تو اسے کوئی صاحب عقل آدمی اصول مساوات سے مطابق نہیں مانے گا۔ اس پر آپ خواہ کتنی ہی منطق بگھاریں کہ عدالت کے لیے قانونی دھاک کی ضرورت ہے اور یہاں مدتوں سے جاٹوں ہی کی قانونی دھاک بیٹھی ہوئی ہے اس لیے جاٹ ہونا بھی قابلیت ہی کا ایک حصہ ہے، مگر آپ کی کوئی سخن سازی بھی کسی سیدھی سادھی عقل کے آدمی کو اس بات پر مطمئن نہ کرسکے گی کہ اس خاص قسم کی ’’قابلیت‘‘ کو عدالتی مناصب کے لیے شرط ٹھہرانے پر بھی اس معاملے میں تمام پاکستانیوں کی مساوات کااصول قائم رہتاہے۔ وہ کہے گا کہ اگر آپ اپنے ہاں کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں تو صاف کہیے کہ ہم بربنائے مصلحت ایسا کررہے ہیں، آخر یہ خواہ مخواہ محض زبان کے زور سے آپ اصول مساوات کے گول سوراخ میں اس نئے تصور اہلیت کی چو کھونٹی میخ کیوں ٹھونک رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت اپنی کسی بات کی صحت و صداقت ثابت کرنے کے لیے اس طرح کی لاطائل سخن سازیوں کی محتاج نہیں ہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ اسلام اپنے نظام زندگی میں بلا امتیاز نسل و وطن و رنگ تمام مسلمانوں کو برابر کے حقوق دینے کا قائل ہے۔ اس پر ہر شخص ہر منصب کا اہل ہے جب کہ وہ اس کی صلاحیت رکھتا ہو، خواہ وہ کالا ہو یا گورا، عربی ہو یا عجمی، سامی ہو یا حامی۔ خلافت کے سوا باقی تمام مناصب کے معاملے میں یہ اصول اول روز ہی سے اسلام میں عملاً قائم کردیا گیا تھا اور خود خلافت کے معاملے میں بھی اسلام کا مطمح نظر یہی تھا کہ اسمعوا و اطیعوا ولو استعمل علیکم عبد حبشی۔ ’’سنو اور مانو خواہ تمہارے اوپر ایک حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔‘‘ لیکن اس خاص منصب کے لیے اس وقت جس وجہ سے قرشیت کی شرط لگائی گئی وہ یہ تھی کہ خلافت اسلامیہ کے لیے عربوں ہی کو ایک طویل مدت تک ریڑھ کی ہڈی کا کام دینا تھا، اور عربوں کے اندر سے قبائلی عصبیتیں اس حد تک عملاً نہیں نکل سکی تھیں کہ کوئی مسلمان بھی خلیفہ بنادیا جاتا تو وہ اس کی قیادت میں پوری طرح مجتمع ہوکر کام کرسکتے، اس لیے ایک ایسے قبیلے کو خلافت کا علم بردار بنا دینا مناسب سمجھا گیا جس کی قیادت ایک مدت دراز سے عرب میں مسلم چلی آرہی تھی، جس کی سربراہی عربوں کو متحد رکھ سکتی تھی، اور جس کی طاقت انحراف کرنے والوں کو دبا سکتی تھی۔ یہ وہ مصلحت ہے جو رسول اللہ انے خود اپنے متعدد ارشادات میں واضح فرمائی ہے۔ مسند احمد میں سقیفۂ بنی ساعدہ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو بکر نے صحابہ کی بھری مجلس میں حضرت سعد بن عبادہ کو خطاب کرکے فرمایا۔
لقد علمت یا سعد ان رسول اللّٰہ ﷺ قال و انت قاد، قریش ولاۃ ھذا الامر خیر الناس تبع لبرھم و فاجرھم تبع لفاجرھم فقال سعد صدقت۔
(مرویات ابی بکر صدیق، حدیث۱۸)
’’اے سعد تم کو معلوم ہے کہ نبی انے یہ فرمایا تھا اور تم اس وقت بیٹھے تھے جب حضوؐر نے یہ فرمایا کہ قریش اس قیادت کے متولی ہیں، نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور بد ان کے بدوں کی۔ سعد نے کہا آپ سچ کہتے ہیں۔‘‘ پھر اسی تقریر میں حضرت ابوبکرؓ نے کہا:
وَلَمْ تَعْرِفِ الْعَرَبُ ھٰذَا الْاَمْرُ اِلاَّ لِھٰذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ۔
(مرویات عمر فاروق حدیث ۳۹۱)
’’اور عرب اس قبیلۂ قریش کے سوا کسی اور کی قیادت کو نہیں جانتے۔‘‘
اسی مسند میں سیدنا علیؓ کی روایت ہے کہ:
سَمِعْتُ اُذُنَایَ وَوَعَاہٗ قَلْبِیْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَلنَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ صَالِحُھُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِھِمْ وَ شِرَارُھُمْ تَبَعٌ لِشرَارِھِمْ۔ (حدیث:۷۹۰)
’’میرے ان دونوں کانوں نے یہ بات رسول اللہ اسے سنی ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے کہ لوگ قریش کے پیچھے چلنے والے ہیں، ان کے صالح قریش کے صالحوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے اشرار قریش کے اشرار کی۔‘‘
اسی مضمون کی روایات مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ اور جابر بن عبداللہ سے بھی منقول ہوئی ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نبی انے جس بنا پر قریش کے لیے خلافت مخصوص کرنے کی ہدایت فرمائی وہ یہ تھی کہ عرب میں ان کا اثر و اقتدار پہلے سے قائم چلا آرہا تھا۔ اصول مساوات قائم کرنے کے لیے اگر اس وقت خلافت کا منصب ہر عربی و عجمی مسلمان کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا اور کسی غیر قریشی عرب یا عجمی مسلمان یا غلام زادے کو خلیفہ منتخب کرلیا جاتا تو نہ صرف یہ کہ عرب قبائل اس کے قابو میں نہ رہتے بلکہ خود قریش کے اندر جو برے لوگ تھے ان کو بھی سر اٹھانے کا موقع مل جاتا اور قریش کی طاقت کا بڑا حصہ خلافت اسلامیہ کی مزاحمت میں صرف ہوتا۔ اس طرح یہ خطرہ تھا کہ سرے سے وہ اسلامی نظام ہی مستحکم نہ ہوسکتا جس کے بے شمار اصول خیر میں سے صرف ایک یہ اصول مساوات تھا۔ اس لیے حضوؐر نے اولیٰ اور انسب یہی سمجھا کہ ان حالات میں قریش کے صالحین کو کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ اس قبیلے کی طاقت اسلامی خلافت کی مزاحم بننے کے بجائے اس کی پشت پناہ بنے۔ اس صورت میں یہ غالب توقع تھی کہ اسلامی نظام زندگی غالب اور مستحکم ہوکر رہے گا، اور جب وہ پوری طرح نافذ و مستحکم ہوگا تو جہاں اور بے شمار بھلائیاں قائم ہوں گی وہاں ایک روز خلافت کے معاملے میں بھی اصول مساوات قائم کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا ہوجائیں گے۔

حدیث امامت قریش سے مستنبط ہونے والے اصول

ْبَبْتُ اَنْ یَّسْکُتَ، قَالَ: ثُمَّ اَتَیْتُہٗ فَتَشَھَّدَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ! یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ فَاِنَّکُمْ اَھْلُ ھٰذَا الْاَمْرِ مَالَمْ تَعْصُوا اللّٰہَ، فَاِذَا عَصَیْتُمُوْہُ بَعَثَ اِلَیْکُمْ مَنْ یَّلْحَاکُمْ کَمَا یُلْحٰی ھٰذَا الْقَضِیْبُ لَقَضِیْبٌ فِیْ یَدِہٖ ثُمَّ لَحَا قَضِیْبَہٗ فَاِذَا ھُوَ اَبْیَضُ یَصْلِدُ۔(۲)
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ، ثَنَا سُکَیْنٌ، ثَنَا سَیَّارُ بْنُ سَلاَمَۃَ سَمِعَ اَبَا بَرْزَۃَ یَرْفَعُہٗ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ اِذَا اسْتَرْحَمُوْا، رَحَمُوْا، وَ اِذَا عَاھَدُوْا، اَوْفُوْا، وَ اِذَا حَکَمُوْا عَدَلُوْا فَمَنْ لَّمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْھُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔(۳)
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُکَیْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ مَا عَمِلُوْا بِثَلاَثٍ۔(۴)
(۵) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یَقُوْلُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْشٍ مَا بَقِیَ مِنْھُمُ اثْنَانِ۔(۵)
(۶) حَدَّثَنِیْ یَحْیَ بْنُ حَبِیْبِ نِالْحَارِثِیُّ، قَالَ: نَا رَوْحٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَیْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُو الزُّبَیْرِ اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ۔(۶)
ترمذی نے ایک روایت عمرو بن العاص سے نقل کی ہے:
(۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ الْبَصَرِیُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَرَّاثِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنُ اَبِی الْھُذَیْلِ یَقُوْلُ:کَانَ نَاسٌ مِنْ رَبِیْعَۃَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ لَتَنْتَھِیَنَّ قُرَیْشٌ اَوْ لَیَجْعَلَنَّ اللّٰہُ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ جُمْھُوْرٍ مِّنَ الْعَرَبِ غَیْرِھِمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ کَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: قُرَیْشٌ وُلاَۃُ النَّاسِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(۷)
(۸) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِیْرَۃُ، عَنْ اَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِیْ ھٰذَا الشَّانِ، مُسْلِمُھُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِھِمْ، وَ کَافِرُھُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِھِمْ وَالنَّاسُ مَعَادِنُ، خِیَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلاَمِ اِذَا فَقِھُوْا تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ اَشَدَّ النَّاسِ کَرَاھِیَۃً لِھٰذَا الشَّانِ حَتّٰی یَقَعَ فِیْہِ۔(۸)
(۹) اَخْبَرَنَا اَبُوْ زَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ اِسْحَاقَ وَ اَبُوْ بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَ اَبُوْ سَعِیْدِ بْنُ اَبِیْ عَمْرٍو قَالُوْا: ثَنَا اَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ ابْنُ یَعْقُوْبَ، اَنْبَأَ الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ، اَنْبَأَ الشَّافِعِیُّ، اَنْبَأَ ابْنُ اَبِیْ فُدَیْکٍ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ شَرِیْکِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ نَمِرٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِقُرَیْشٍ: اَنْتُمْ اَوْلَی النَّاسِ بِھٰذَا الْاَمْرِ مَا کُنْتُمْ مَعَ الْحَقِّ اِلاَّ اَنْ تَعْدِلُوْا عَنْہُ فَتُلَحُّوْنَ کَمَا تُلَحّٰی ھٰذِہِ الْجَرِیْدَۃُ۔ یُشِیْرُ اِلٰی جَرِیْدَۃٍ بِیَدِہٖ۔(۹)
(۱۰) اَخْبَرَنَا الْقَاضِی اَبُو الطَّیِّبِ الطَّبَرِیُّ، قَالَ: اَنْبَأْنَا عَلِیُّ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ابْنِ اَحْمَدَ الْبَیْضَاوِیُّ، قَالَ:اَنْبَأْنَا اَحْمَدُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ الْجَارُوْدِ الرَّقِّیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِیْعَ بْنَ سُلَیْمَانَ یَقُوْلُ: نَاظَرَ الشَّافِعِیُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بِالرِّقَّۃِ، فَقَطَعَہُ الشَّافِعِیُّ فَبَلَغَ ذٰلِکَ ھَارُوْنَ الرَّشِیْدَ، فَقَالَ ھَارُوْنَ: أما علم محمد بن الحسن اِذَا نَاظَرَ رجلا من قریش انہ یقطعہ سائلا او مجیبا؟ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ: قَدِّمُوْا قُرَیْشًا، وَلاَ تَقَدَّمُوْھَا، و تعلموا منھا ولا تعلموھا، فان علم العالم منھم یسع طباق الارض۔(۱۰)
(۱۱) اَخْرَجَ اَحْمَدُ مِنْ طَرِیْقِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی الْھُزَیْلِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاوِیَۃُ الْکُوْفَۃَ قَالَ رَجُلٌ مِّنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ قُرَیْشٌ لَنَجْعَلُنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ جُمْھُوْرٍ مِّنْ جَمَاھِیْرِ الْعَرَبِ غَیْرِھِمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ:کَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: قُرَیْشٌ قَادَۃُ النَّاسِ۔(۱۱)
(۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ ابْنَ اَبِی الْھُزَیْلِ قَالَ:کَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ یَتَخَوَّلُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ قُرَیْشٌ لَیَضَعَنَّ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ جُمْھُوْرٍ مِنْ جَمَاھِیْرِ الْعَرَبِ سِوَاھُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ:کَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: قُرَیْشٌ وُلاَۃُ النَّاسِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(۱۲)
(۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، قَالَ: ثَنَا عَفَّانٌ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ دَاوٗدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَوْدِیِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: تَوَفّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ اَبُوْ بَکْرٍ فِیْ طَائِفَۃٍ مِّنَ الْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: فَجَائَ فَکَشَفَ عَنْ وَجْھِہٖ فَقَبَّلَہٗ، وَ قَالَ: فَدَاکَ اَبِیْ وَ اُمِّیْ مَا اَطْیَبَکَ حَیًّا وَ مَیِّتًا، مَاتَ مُحَمَّدُ ﷺ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثُ۔ قَالَ: فَانْطَلَقَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ یَتَقَاوَدَانِ حَتّٰی أَتَوْھُمْ فَتَکَلَّمَ اَبُوْ بَکْرٍ وَلَمْ یَتْرُکْ شَیْئًا اُنْزِلَ فِی الْاَنْصَارِ، وَلاَ ذَکَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ شَاْنِھِمْ اِلاَّ وَ ذَکَرَہٗ، وَ قَالَ: وَ لَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَ سَلَکَتِ الْاَنْصَارُ وَادِیًا سَلَکْتُ وَادِیِ الْاَنْصَارِ، وَ لَقَدْ عَلِمْتَ یَا سَعْدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ وَ اَنْتَ قَاعِدٌ، قُرَیْشٌ وُلاَۃُ ھٰذَا الْاَمْرِ، فَبَرَّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّھِمْ، وَ فَاجِرُھُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِھِمْ قَالَ: فَقَالَ لَہٗ سَعْدٌ: صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَائُ وَ اَنْتُمُ الْاُمَرَائُ۔(۱۳)
تشریح: آپ جو نظام زندگی قائم کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے وہ پوری نوع انسانی کے لیے تھا۔ صرف عرب کے لیے نہ تھا، مگر عرب میں اس کا قائم ہونا اور پوری طرح جم جانا، دنیا میں اس کے قیام کا ایک ناگزیر ذریعہ تھا۔ کیوں کہ آپ کو اپنے مشن کی کامیابی کے لیے جو مواقع عرب میں حاصل تھے اور وہ کہیں نہ تھے۔ اس لیے آپ نے اس کو مقصدی اہمیت دی۔ بیرونی دنیا میں دعوت پہنچانے کی صرف ابتدائی تدبیروں پر اکتفا فرمایا۔ اپنی پوری توجہ اور پوری طاقت صرف عرب میں اقامت دین پر صرف فرمائی اور بین الاقوامیت کی خاطر کوئی ایسا کام نہ کیا جو عرب میں اس مقصد عظیم کی کامیابی کے لیے نقصان دہ ہو۔ اسلامی نظام کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمام نسلی اور قبائلی امتیازات کو ختم کرکے اس برادری میں شامل ہونے والے سب لوگوں کو یکساں حقوق دیے جائیں اور تقویٰ کے سوا فرق مراتب کی کوئی بنیاد نہ رہنے دی جائے۔ اس چیز کو قرآن مجید میں بھی پیش کیا گیا اور حضورانے بھی با ر بار اس کو نہ صرف زبان مبارک سے بیان فرمایا، بلکہ عملاً موالی اور غلام زادوں کو امارت کے مناصب دے کر واقعی مساوات قائم کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔ لیکن جب پوری مملکت کی فرماں روائی کا مسئلہ سامنے آیا تو آپؐ نے ہدایات دی کہ الائمۃ من قریش ’’امام قریش میں سے ہوں‘‘ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اس خاص معاملہ میں یہ ہدایت مساوات کے اس اصول کے خلاف پڑتی ہے جو کلیہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے ایسے اہم اصول میں اتنے بڑے استثنا کی گنجایش کیوں پیدا کی گئی؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس وقت عرب کے حالات میںکسی غیر عرب تو درکنار کسی غیر قریشی کی خلافت بھی عملاً کامیاب نہیں ہوسکتی تھی، اسی لیے حضور اے خلافت کے معاملہ میں مساوات کے اس عام اصول پر عمل کرنے سے صحابہ کو روک دیا، کیوں کہ اگر عرب ہی میں حضوؐر کے بعد اسلامی نظام درہم برہم ہوجاتا تو دنیا میں اقامت دین کا فریضہ کون انجام دیتا۔ یہ اس بات کی صریح مثال ہے کہ ایک اصول کو قائم کرنے پر ایسا اصرار جس سے اصول کی بہ نسبت بہت زیادہ اہم دینی مقاصد کو نقصان پہنچ جائے، حکمت عملی ہی نہیں، حکمت دین کے بھی حلاف ہے۔ مگر یہ معاملہ اسلام کے سارے اصولوں کے بارے میں یکساں نہیں ہے۔ جن اصولوں پر دین کی اساس قائم ہے مثلاً توحید اور رسالت وغیرہ، ان میں عملی مصالح کے لحاظ سے لچک پیدا کرنے کی کوئی مثال حضوؐر کی سیرت میں نہیں ملتی، نہ اس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ (رسائل و مسائل حصہ چہارم، ص:۳۲۲-۳۲۴)
۱۹۹- قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلنَّاسُ اَتْبَاعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ھٰذَا الشَّانِ کُفَّارُھُمْ اَتْبَاعٌ لِکُفَّارِھِمْ وَ مُسْلِمُوْھُمْ اَتْبَاعٌ لِمُسْلِمِیْھِمْ۔
مسند احمد: ۲؍۴۳۳۔ عن ابی ہریرہ پر منقول ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، اَلنَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ھٰذَا الشَّانِ، خِیَارُھُمْ اَتْبَاعٌ لِخِیَارِھِمْ وَ شِرَارُھُمْ اَتْبَاعٌ لِشِرَارِھِمْ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ عَمَّارَۃَ ابْنِ رُوَیْبَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعَتْ اُذُنَایُ وَ وَعَاہُ قَلْبِیْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: اَلنَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ صَالِحُھُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِھِمْ وَ شِرَارُھُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِھِمْ۔ (مسند احمد:ج،۱؍۱۰۱۔ مجمع الزوائد: ۵؍۱۹۱۔ عن علی)
تشریح: ان احادیث میں قریش کی برتری کے متعلق حضوؐر کے ارشادات نقل کیے گئے ہیں۔ ان کو یہ برتری اس طرح حاصل ہوئی کہ قریش کا قبیلہ نبی اکے جد اعلیٰ قصی بن کلاب کے زمانے تک حجاز میں منتشر تھا۔ سب سے پہلے قصی نے اس کو مکے میں جمع کیا اور بیت اللہ کی تولیت اس قبیلے کے ہاتھ میں آگئی۔ اسی بنا پر قصی کو مجمع (جمع کرنے والے) کا لقب دیا گیا۔ اس شخص نے اپنے اعلی درجہ کے تدبر سے مکہ میں ایک شہری ریاست کی بنیاد رکھی اور جملہ اطراف عرب سے آنے والے حاجیوں کی خدمت کا بہترین انتظام کیا جس کی بدولت رفتہ رفتہ عرب کے تمام قبائل اور تمام علاقوں میں قریش کا اثر و رسوخ قائم ہوتا چلا گیا۔ قصی کے بعد اس کے بیٹوں عبد مناف اور عبد الدار کے درمیان مکہ کی ریاست کے مناصب تقسیم ہوگئے، مگر دونوں میں سے عبد مناف کو اپنے باپ ہی کے زمانے میں زیادہ ناموری حاصل ہوچکی تھی اور عرب میں اس کا شرف تسلیم کیا جانے لگا تھا۔ عبد مناف کے چار بیٹے تھے۔ ہاشم، عبد شمس، مطلب اور نوفل۔ ان میں سے ہاشم عبد المطلب کے والد اور رسول اللہ اکے پردادا کو سب سے پہلے یہ خیال پیدا ہوا کہ اس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیا جائے جو عرب کے راستے بلاد مشرق اور شام و مصر کے درمیان ہوتی تھی اور ساتھ ساتھ اہل عرب کی ضروریات کا سامان بھی خرید کر لایا جائے تاکہ راستے کے قبائل ان سے مال خریدیں اور مکے کی منڈی میں اندرون ملک کے تجار خریداری کے لیے آنے لگیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی ساسانی حکومت اس بین الاقوامی تجارت پر اپنا تسلط قائم کرچکی تھی جو شمالی علاقوں اور خلیج فارس کے راستوں سے رومی سلطنت اور بلاد مشرق کے درمیان ہوئی تھی۔ اس لیے جنوبی عرب سے بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام و مصر کی طرف جاتا تھا اس کا کاروبار بہت چمک اٹھا تھا۔ دوسرے عربی قافلوں کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیت اللہ کے خدام ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے اس کی بنا پر سب ان کے احسان مند تھے۔ انہیں اس امر کا کوئی خطرہ نہ تھا کہ راستے میں کہیں ان کے قافلوں پر ڈاکہ مارا جائے گا راستے کے قبائل ان سے رہ گزر کے وہ بھاری ٹیکس بھی وصول نہ کرسکتے تھے جو دوسرے قافلوں سے طلب کیے جاتے تھے۔ ہاشم نے انہی تمام پہلوؤں کو دیکھ کر تجارت کی اسکیم بنائی اور اپنی اس اسکیم میں اپنے باقی تینوں بھائیوں کو شامل کیا۔ شام کے غسانی بادشاہ سے ہاشم نے، حبش کے بادشاہ سے عبد شمس نے، یمنی امراء سے مطلب نے اور عراق و فارس کی حکومتوں سے نوفل نے تجارتی مراعات حاصل کیں۔ اس طرح ان لوگوں کی تجارت بڑی تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی۔ اسی بنا پر یہ چاروں بھائی متجرین (تجارت پیشہ) کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اور جو روابط انہوں نے گرد و پیش کے قبائل اور ریاستوں سے قائم کیے تھے ان کی بنا پر ان کو اصحاب الایلاف بھی کہا جاتا تھا جس کے لفظی معنی ’’الفت پیدا کرنے والوں‘‘ کے ہیں۔
اس کاروبار کی وجہ سے قریش کے لوگوں کو شام، مصر، عراق، ایران، یمن اور حبش کے ممالک سے تعلقات کے وہ مواقع حاصل ہوئے اور مختلف ملکوں کی ثقافت و تہذیب سے براہ راست سابقہ پیش آنے کے باعث ان کا معیار دانش و بینش اتنا بلند ہوتا چلا گیا کہ عرب کا کوئی دوسرا قبیلہ ان کی ٹکر کا نہ رہا۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی وہ عرب میں سب پر فائق ہوگئے اور مکہ جزیرۃ العرب کا سب سے زیادہ اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ ان بین الاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق سے یہ لوگ وہ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں قرآن مجید لکھنے کے لیے استعمال ہوا۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں اتنے پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں تھے۔ (سورہ قریش تاریخی پس منظر،ص:۴۷۴۔ ج،۶۔قریش)
ابن خلدون نے یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی ہے کہ اس وقت اسلامی ریاست کی اصل پشت پناہ عرب تھے، اور عربوںکا زیادہ سے زیادہ اتفاق اگر ممکن تھا تو قریش ہی کی خلافت پر۔ دوسرے کسی گروہ کا آدمی لینے کی صورت میں تنازع اور افتراق کے امکانات اتنے زیادہ تھے کہ خلافت کے نظام کو اس خطرے میں ڈالنا مناسب نہ تھا۔ اسی وجہ سے نبی ا نے ہدایت کی تھی کہ امام قریش میں سے ہوں۔‘‘
نبی انے خود بھی قریش میں خلافت رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے یہ بات واضح کردی تھی کہ یہ منصب ان کے اندر اس وقت تک رہے گا جب تک ان میں مخصوص صفات باقی رہیں گی۔ (ابن حجر، فتح الباری: ۱۳؍۹۵)
اس سے خود بہ خود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان صفات کے فقدان کی صورت میں خلافت غیر قریش کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔
(خلافت و ملوکیت ــــاہلیت خلافت کی شرائط ’’خلافت کے لیے قرشیت کی شرط‘‘)
۲۰۰-عَنْ جَابِرِ ابْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ یَکُوْنُ اثْنَا عَشَرَ اَمِیْرًا فَقَالَ کَلِمَۃً لَمْ اَسْمَعْھَا۔ فَقَالَ اَبِیْ اِنَّہٗ قَالَ:کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: یَکُوْنُ اثْنَا عَشَرَ اَمِیْرًا، فَقَالَ:کَلِمَۃً لَمْ اَسْمَعْھَا، فَقَالَ اَبِیْ: اِنَّہٗ قَالَ:کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۱۴)
(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، قَالَ: نَا سُفْیَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: لاَ یَزَالُ اَمْرُ النَّاسِ مَاضِیًا مَا وَلِیَھُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً ثُمَّ تَکَلَّمَ النَّبِیُّ ﷺ بِکَلِمَۃٍ خَفِیَتْ عَلَیَّ، فَسَاَلْتُ اَبِیْ مَاذَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۱۵)
(۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ اَبِیْ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ، فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ لاَ یَنْقَضِیْ حَتّٰی یَمْضِیَ فِیْھِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً، قَالَ: ثُمَّ تَکَلَّمَ بِکَلاَمِ خَفِیَ عَلَیَّ قَالَ: فَقُلْتُ لِاَبِیْ: مَا قَالَ؟ قَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۱۶)
ترمذی میں جابر بن سمرہ سے مروی روایت:
(۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَکُوْنُ مِنْم بَعْدِیِ اثْنَا عَشَرَ اَمِیْرًا، قَالَ: ثُمَّ تَکَلَّمَ بِشَـْیئٍ لَمْ اَفْھَمْہُ، فَسَاَلْتُ الَّذِیْ یَلِیْنِیْ، فَقَالَ: قَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔ ھذا حدیث حسن صحیح، و قد روی من غیر وجہ عن جابر بن سمرۃ۔(۱۷)
(۵) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّﷺ یَقُوْلُ: لاَ یَزَالُ الْاِسْلاَمُ عَزِیْزًا اِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً ثُمَّ قَالَ کَلِمَۃً لَمْ اَفْھَمْھَا، فَقُلْتُ لِاَبِیْ: مَا قَالَ؟ فَقَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۱۸)
ایک اور روایت میں ہے:
(۶) قَالَ: اَنْطَلَقْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ مَعِیْ اَبِیْ، فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: لاَ یَزَالُ ھٰذَا الدِّیْنُ عَزِیْزًا مَنِیْعًا اِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً، فَقَالَ کَلِمَۃً صَمَّنِیْھَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِاَبِیْ: مَا قَالَ؟ قَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۱۹)
ابو داؤد میں منقول روایت:
(۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لاَ یَزَالُ ھٰذَا الدِّیْنُ قَآئِمًا حَتّٰی یَکُوْنَ عَلَیْکُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً، کُلُّھُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْاُمَّۃُ، فَسَمِعْتُ کَلاَمًا مِنَ النَّبِیِّ ﷺ لَمْ اَفْھَمْہُ، قُلْتُ لِاَبِیْ: مَا یَقُوْلُ؟ قَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۲۰)
دوسری روایت میں ہے:
(۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لاَ یَزَالُ ھٰذَا الدِّیْنُ عَزِیْزًا اِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً قَالَ: فَکَبَّرَ النَّاسُ وَضَحُّوْا، ثُمَّ قَالَ کَلِمَۃً خَفِیْفَۃً قُلْتُ لِاَبِیْ: یَا اَبَتِ مَا قَالَ؟ قَالَ: کُلُّھُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔(۲۱)
تشریح: بخاری میں یہ روایت بہت مختصر ہے۔ لیکن مسلم، ابو داؤد، ترمذی، اور طبرانی وغیرہ میں اس مضمون کی متعدد روایات موجود ہیں جو پوری تفصیل بیان کرتی ہیں اور ان سے اصل مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بارہ خلفاء یا امراء (الفاظ مختلف ہیں) کے دور تک اسلام زبردست اور طاقت ور رہے گا، امت ایک نظام میں مجتمع رہے گی، اور کسی کی عداوت ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی۔ مسلمانوں کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف امراء پر اس کی پیشین گوئی کا اطلاق کیا جاسکتاہے اور بعض لوگوں نے اس کی کوشش بھی کی ہے لیکن بہر حال ان تفصیلات سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان بارہ امراء یا خلفاء سے مراد ائمہ اثنا عشر نہیں ہوسکتا کیوںکہ ان کے ہاتھ میں حکومت نہیں رہی۔
(رسائل و مسائل حصہ سوم، ص:۳۷۱) (ائمہ اربعہ اوراہل بیت)

ماخذ

(۱) بخاری:۲کتاب الاحکام باب الامراء من قریش۔ بخاری:۱کتاب المناقب، باب مناقب قریش۔٭ السنن الکبرٰی:۸ کتاب قتال اھل البغی باب الائمۃ من قریش۔تابعہ نعیم عن ابن المبارک عن معمر عن الزھری عن محمد بن جبیر۔
(۲) مسند احمد:۱؍۴۵۸۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔٭ مجمع الزوائد:۵کتاب الخلافۃ باب الخلفاء الاثنی عشر۔ عن عبد اللّٰہ بن مسعود۔
(۳) مسند احمد: ۴؍۴۲۱۔٭ مجمع الزوائد ۵؍۱۹۲۔ السنن الکبرٰی للبیھقی ۸؍۱۴۴۔ عن انس۔ مسند احمد: ۴؍۴۲۴ عن ابی برزہ، مجمع الزوائد ج۵ ص۱۹۲ اور السنن الکبرٰی للبیھقی ج۸ص۱۴۴ عن انس مندرجہ ذیل عبارت بھی منقول ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ الامراء من قریش، الامراء من قریش الامراء من قریش، لی علیھم حق ولھم علیکم حق ما فعلوا ثلاثا ما حکموا، فعدلوا، واسترحموا فرحموا و عاھدوا فوفوا فمن لم یفعل ذلک منھم فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین۔
(۴) مسند ابی داؤد الطیالسی ص۱۲۵۔ ما روی عن ابی برزۃ واسمہ نضلۃ بن عبیدؓ۔۔۔
(۵) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب الامراء من قریش۔٭ بخاری:۱باب المناقب، مناقب قریش۔ ٭مسلم:۲ کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش۔ مسلم نے ما بقی من الناس اثنان نقل کیا ہے۔٭ السنن الکبرٰی۸کتاب قتال اھل البغی باب الائمۃ من قریش۔ عن ابن عمر۔ ٭کنز العمال: ۶؍۴۹۔ حدیث نمبر ۱۴۷۹۴۔ عن ابن عمر۔
(۶) مسلم:۲ کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش۔٭ مسند احمد: ۳؍۳۳۱، ۳۷۹، ۳۸۳۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی:۸ کتاب قتال اھل البغی باب الائمۃ من قریش۔ عن جابر بن عبد اللّٰہ۔
(۷) ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء ان الخلفاء من قریش الٰی ان تقوم الساعۃ۔٭ مجمع الزوائد:۵ کتاب الخلافۃ، باب الخلفاء الاثنی عشر۔ عن سھل بن سعد۔و فی الباب، عن ابن عمر، وابن مسعود، و جابر، ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب۔
(۸) بخاری:۱ کتاب المناقب،  باب المناقب و قول اللہ تعالی یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی۔ و جعلناکم شعوبا و قبائل۔٭ مسلم:۲ کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش۔ عن ابی ھریرۃ۔ مسلم نے انہی سے الناس تبع لقریش فی ھٰذا الشان مسلمھم لمسلمھم و کافرھم لکافرھم۔٭ مسند احمد: ۲؍۲۴۳۔ عن ابی ھریرۃ۔٭ مسند احمد: ۴؍۱۰۱۔ عن معاویۃ۔٭ السنن الکبرٰی بیھقی:۸ کتاب قتال اھل البغی باب الائمۃ من قریش۔ عن ابی ھریرۃ۔
(۹) السنن الکبرٰی بیھقی۸ کتاب قتال اھل البغی باب الائمۃ من قریش۔
(۱۰) تاریخ بغداد: ۲؍۶۱۔٭ مجمع الزوائد: ۱۰؍۲۵۔٭ تلخیص الحبیر: ۲؍۳۶۔٭ کنز العمال حدیث نمبر ۱۳۷۹۱۔۳۳۷۸۹۔۳۳۷۹۰۔ فتح الباری ج۱۳۔ص۱۱۸۔
فی حدیث جبیر بن مطعم رفعہ، قدموا قریشا ولا تقدموھا۔ اخرجہ البیھقی، و عند الطبرانی من حدیث عبد اللہ بن حنطب، و من حدیث عبد اللہ بن السائب مثلہ، و فی نسخۃ ابی الیمان، عن شعیب، عن ابی ھریرۃ، عن ابی بکر ابن سلیمان بن ابی حثمۃ مرسلا انہ بلغہ مثلہ۔ و اخرجہ الشافعی من وجہ آخر عن ابن شھاب انہ بلغہ مثلہ۔
فتح الباری شرح بخاری: ۱۶؍۲۳۵۔٭ تلخیص الجبیر ۲؍۳۶۔٭ اتحاف النبلا: ۲؍۲۳۱۔٭ مجمع الزوائد: ۱۰؍۲۵۔٭ کنز العمال حدیث نمبر ۱۳۷۹۱-۳۳۷۸۹-۳۳۷۹۰۔
(۱۱) فتح الباری:۱۶کتاب الاحکام۔
نوٹ: مسند میں تو مجھے رجل من بنی بکر کے اور عمرو کے ضمن میں کہیں یہ حدیث ان الفاظ میں نہیں ملی۔ (مرتب)
(۱۲) مسند احمد: ۴؍۲۰۳
(۱۳) مسند احمد: ۱؍۵۔٭ مجمع الزوائد: ۵؍۱۹۱۔ و فی الصحیح طرف من اولہ و رجالہ ثقات الا ان حمید بن عبد الرحمن لم یدرک ابا بکر۔ (مسند احمد ۱؍۵۔ عن حمید بن عبد الرحمن۔)
(فقال ابو بکر) : و لقد علمت یا سعد ان رسول اللّٰہ ﷺ قال و انت قاعد: قریش ولاۃ ھٰذا الامیر فبر الناس تبع لبرھم، و فاجرھم تبع لفاجرھم۔ مجمع الزوائدج۵ کتاب الخلافۃ باب الخلفاء الاثنی عشر۔ مسند احمد: ۲؍۲۶۱۔ عن ابی ھریرۃ۔اس مقام پر الناس تبع لقریش فی ھذا الامر، خیارھم تبع لخیارھم و شرارھم تبع لشرارھم ہے۔ مسند احمد: ۲؍۳۱۹ پر عن ابی ھریرۃ۔ الناس تبع لقریش فی ھٰذا الشان مسلمھم تبع لمسلمھم، وکافرھم تبع لکافرھم۔ مسند احمد: ۲؍۳۹۵ پر عن ابی ھریرہ۔
(۱۴) بخاری:۲ کتاب الاحکام، باب۔۔۔٭ المعجم الکبیر للطبرانی: ۲؍۲۱۴۔ عن جابر بن سمرۃ۔
(۱۵) مسلم:۲ کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش۔
(۱۶) مسلم:۲ کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش۔
ایک دوسری روایت میں جو جابر بن سمرہ سے مروی ہے فقال: لا یزال الدین قائما حتی تقوم الساعۃ او یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ کلھم من قریش۔ (حوالہ مذکورہ بالا)
(۱۷) ترمذی ابواب الفتن، باب ما جاء فی الخلفاء۔٭ المعجم الکبیر للطبرانی ۲؍۲۵۵۔ عن جابر بن سمرۃ۔
(۱۸) مسلم:۲ کتاب الامارۃ۔ المعجم الکبیر للطبرانی: ۲؍۲۳۲۔ عن جابر بن سمرۃ۔
(۱۹) مسلم:۲ کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش۔
(۲۰) ابو داؤد:۴ کتاب المھدی۔
(۲۱) ابو داؤد:۴ کتاب المھدی۔