تصوراقامت دین (ڈاکٹر حافظ وقاص خان)


سید مودودی اور جاوید احمد غامدی کی آرا کا تقابلی جائزہ


اقامت دین ایک ایسی قرآنی اصطلاح ہے کہ جس کی تشریح مختلف مفسرین نے مختلف مواقعوں پر مختلف انداز میں کی ہے۔اور اس کی اہمیت کے حولے سے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس اصطلاح کی بنیاد پر اسلام کی تعلیمات کا بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔اس اصطلاح  کا بظاہر مطلب تو یہی سمجھ آتا ہے، اس کے لیے امر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے   کہ دین قائم کرو اور تفرقے میں نہ پڑو۔لیکن جس امر پر اختلاف پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس حکم کے مخاطب کون لوگ ہیں ؟ آیا کہ صرف حکمران ہیں یا اہل علم حضرات ہیں جوامت کی رہنمائی پر مامور ہیں یایہ حکم عام ہے  پوری امت مسلمہ کے لیے ۔ پھر ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اس حکم کی حیثیت فرض کی ہے یا مندوب کی ۔ یہی وہ اختلافی مباحث ہیں کہ جن کی بنیاد پر اسلام کے غلبے کا بیانیہ سامنے آتا ہے ۔اس مقالے میں تصور اقامتِ دین کے دو واضح بیانیے پر تحقیق کی جائے گی کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اقامتِ دین سے مراد کیا ہے اور نبیﷺ کی حیات طیبہ سے ہمیں اقامتِ دین کے حوالے سے کس جانب رہنمائی ملتی ہے۔

جاوید احمد غامدی کا  نظریہ

جاوید احمد غامدی کی ولادت صوبہ پنجاب کے ساہیوال ضلع کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواحی  علاقے میں ہوئی ہے ۔ انھوں نے اس وقت  کے مروجہ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم علاقہ ساہیوال ہی کے ایک دیہات نانک پال کے مولانا نور احمد سے حاصل کی ۔ دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف معلمین سے پڑھے۔ اور قرآن مجید و حدیث کے علوم ‘امام امین احسن اصلاحی سے حاصل کیے۔ جاوید غامدی کے ا نورالھی صاحب کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے۔ اسی لفظ مصلح کی  تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور ابھ اسی رعایت سے جاوید احمد  غامدی کہلاتے ہیں۔ دانش سرا، المورد، ماہنامہ اشراق،  میزان اورالبیان کے مصنف ہیں۔مختلف مسائل میں جمہور علماء سےمنفرد رائے اختیار کرناآپ کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔[1]

اقامتِ دین  کا مفہوم

 غامدی صاحب کی نظر میں اقامت دین ایک اصولی ہدایت ہے،عصر حاضر میں بعض مفکرین اس فکرو خیال کے بھی پیدا ہوئے جو کہ اسلامی نظام کی ہما گیریت اور اجتماعی زندگی سے متعلق اس کی تعلیمات کو تسلیم کرتے ہیں۔اور یہ  مانتے ہیں کی اسلام نے ریاست کا تصور بھی دیا ہے، ریاست کے لیے قوانین بھی تجویز کیے ہیں، اور یہ قوانین، اسلامی  شریعت کا جز ہیں لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ان قوانین و احکام کا مخاطف عام مسلمان نہیں ہے۔ ان میں خطاب حکمرانوں کو ہیں اور یہ ارباب حل وعقد کو دی گئی چند نصیحتیں اور اخلاقی اصول ہیں ۔  ان کے نزدیک اگرکسی  شخص کو حکومت او ر اقتدار مل جائے تو پھر اس کے لے یہ ضروری  ہو جاتا ہے کہ وہ قانون سازی اور ریاست کے انتظام وانصرام میں اللہ  رب العزت کے کے دیے ہوۓ احکام کی تعمیل کریں،  لیکن ایک  عام مسلمان، جنھیں حکومت و اختیار حاصل نھیں وی عام مسلمان نہ  تو ان احکامات کے مخاطب ہے اور نہ  ہی اس کے مکلف ہیں کہ ان شرعی احکام کی تنفیذ کے لیے کوئی اجتماعی کوشش کریں۔ انکی زمداری صرف وعظ ونصیحت اور تبلیغ و تلقین ہے۔ ان کافریضہ بس ذاتی زندگیوں میں اور  معاشرے کے جن معاملات پر انہیں اختیار حاصل ہے، ان میں خدا کے احکامات کی تعمیل تک محدود ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی صرف انسان کی ذات، اسکے اخلاق اور تزکیہ سے متعلق چند احکامات دیتا ہے۔ معاشرہ،حکومت ،سماج،  اس کے اصل مخاطب ہی نہیں ہیں بلکہ وہ صرف فرد کو مخاطب کرتا ہے۔ عصر حاضرمیں اس فکر کی آوازوں میں سے ایک  آواز جاوید احمد غامدی صاحب کی بھی ہے۔ جاوید غامدی صاحب  نے اس سوج ، ونظریہ  پر تفصیل سے تنقید اپنے مضمون” تاویل کی  غلطی ” مین کی ہے جو کہ ان کی کتاب برہان میں شامل ہے اس کے علاوہ ان کی ویڈیوز میں بھی اس  مسئلہ  کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر موجود ہے[2]۔ اور اپنے دیگر  کتب و مضامین  اور تفسیر میں بھی اس سے متعلق اشارے فرمائے ہیں۔

جاوید احمد غامدی اقیموا الدین ” کی تفصیل  ذکر کرتے ہوئے لکھاہے کہ

اقامت کا معنی قائم یا نافذ کرنا نہیں بلکہ پیروی کرنا اور قائم رکھنا ہے ۔ اور وہ مثال  پیش کرتے ہیں کہ جسطرح   سورہ شوریٰ کی آیت میں صرف دین کی پیروی  کا حکم دیا گیا ہےـ

“یہ دین کے فرائض میں سے ایک فرض اور اس کے احکامات میں سے ایک حکم نہیں ہے کہ اسے فریضہ اقامت دین قرار دےکر فرائض دینی میں ایک فرض کا اضافہ کیا جائے، بلکہ پورے دین کے متعلق ایک اصولی ہدایت ہے۔ہروہ چیز جو قرآن و سنت کی رُو سے’الدین’میں شامل ہے، آیۃ زیربحث میں ہمیں اس کو بالکل درست اور اپنی زندگی میں برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے،اس ہدایت کا تقاضہ ہے کہ عقائد و اصول، نمازو روزہ،حج وزکوٰۃ، حسن معاشرت،اصلاح و دعوت،قانون وشریعت،جہادو قتال اور دوسرے تمام احکام میں سے جوچیز ماننے کی ہے،اسےمانا جائے اور جو کرنے کی ہے اسے کیا جائے،لیکن اس لیے نہیں کہ یہ تمام یا ان میں کوئی حکم لفظ’اقیموا’ کے مفہوم میں داخل ہے، بلکہ اس وجہ سےکہ یہ سب قرآن مجیداور نبیﷺ کے ارشادات کے مطابق’الدین’میں شامل ہیں اور آیہ زیربحث میں ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم پورے دین کو ہر لحاظ سےدرست اور اپنی زندگی میں برقرار رکھیں اور اس میں متفرق نہ ہو جائیں”[3]

غامدی صاحب کی مندرجہ بالا تشریح سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ  عقائد و اصول، نمازو روزہ،حج وزکوٰۃ، حسن معاشرت،اصلاح و دعوت،قانون وشریعت،جہادو قتال اور دوسرے تمام احکام ماننے کا حکم تو دیا جارہا ہے لیکن  اسے  فریضہ نہ سمجھا جائے۔

جبکہ مذکورہ احکامات کو بھی باریک بینی سے دیکھا جائے تو ان پر مکمل عمل کرنے کے لیے کسی نہ کسی دائرہ میں حکومت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر مسلمان ان پر عمل نہیں کر سکتا۔چاہے وہ نظامِ زکوٰۃ ہو، قانون و شریعت ہو، جہاد و قتال ہو۔

اس کی واضح مثال صدیق اکبرؓکےزمانے میں اس وقت سامنے آتی ہے کہ جب مدینہ کےاطراف میں بسنےوالے چند مسلمان قبائل جن میں عبس، ذبیان، بنو کنانہ، غطفان اور بنوفزارہ شامل تھے نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکارکردیا۔ ان میں بھی دو آراء رکھنے والے قبیلے تھے،

” ایک گروہ نے حرص وبخل کی بنیاد پر سرے سے زکوٰۃ دینے سے ہی انکارکر کردیا تھا۔ان کا کہنا تھاکہ ‘اللہ کی قسم ہم ایمان کے بعد کا فر نہیں ہوئے لیکن ہم نےاپنے مالوں میں حرص وبخل کیاہے’اور بعض نےمرکز کو زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا،جیسا کہ انہوں نے کہاتھا ‘ہم نماز اور دیگر شرائع اسلام ادا کریں گے لیکن زکوٰۃ ابوبکرؓنہ دیں گے’[4]

حضرت ابوبکر صدیقؓ اگر اس وقت غامدی صاحب کے بیان کردہ دین کے فہم کے مطابق عمل کرتے تومرکز اور اسکے خلیفہ کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی، اسلامی فوج، اسلامی معیشت اور پورا اسلامی نظام ختم ہوجاتا۔

لیکن چونکہ صدیق اکبرؓاقامتِ دین کے مفہوم سےبخوبی واقف تھےلہٰذا انہوں نے مذکورہ دونوں مسلمان گروہ سے جہاد کا اعلان کیا ۔انہیں اس بات کابھی ادراک تھا کہ ” اقیموا الدین “کے تحت  نظام صلاۃ اور نظام زکوٰۃ آتے ہیں اور جو شخص اس نظام کو متاثر کرے گااور ایک اسلامی ریاست کے شہری ہونے کے باوجوداپنی مرضی کی تشریح کرے گا تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے گا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی ایک تعارف

سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) مشہور عالم دین اور مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے تھے ۔ مولانا کے افکار اور تصانیف نے پوری دنیا کے اسلامی تحریکات کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا اور بیسویں صدی کے مجدد اسلام ثابت ہوئے، مولانا مودودی کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے مختلف پہلوﺅں پر جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے لکھا اور اسلام کے ایک ایک پہلو اور رخ پر بہترین انداز میں مطمئن اور مغربی تہذیب و نظریہ سے بیزار کردیا،مولانامودودی نے کسی ایک موضوع پہ نھیں بلکہ ان تصانیف مختلف موضوعات جیسے کہ دینی مباحث ،تاریخ،سیاسیات وعمرانیات ،معاشیات،قانون، تعلیم اور ادب کے موضوع پر ہیں۔

فریضہ اقامتِ دین کی حیثیت

مولانا مودودی اقامتِ دین کو بطور فریضہ قرار دیتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں

’’اقامتِ دین کی حیثیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیایہ فرض ہے یا مستحب، اور یہ ذمہ داری  انفرادی حیثیت میں  ادا کرنی ہےیا اجتماعی حیثیت میں۔اس حوالے سےاہلِ علم کے نزدیک دو واضح آراء موجود ہیں ۔سید ابو الاعلیٰ مودودی کے نزدیک یہ بحیثیت  مجموعی پوری امت مسلہ کی ذمہ داری ہےجسے   فرض کی  حیثیت میں ادا کرنا ضروری ہے۔اس ضمن میں آپ لکھتے ہیں

“فریضہ اقامتِ دین کی حیثیت سمجھنے میں آپ کو الجھن اس لیے پیدا آئی ہے کہ آپ ارکان اسلام اور فرائض اہلِ ایمان میں فرق نہیں کر رہے ہیں۔ ارکان اسلام وہ ہیں جن پر اسلامی زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے اور فرائض اہلِ ایمان وہ مقتضیات ایمان ہیں جنہیں اسلامی زندگی کی تعمیر کے بعد پورا کیا جانا چاہیے۔ ارکان اسلام قائم نہ ہوں تو سرے سے اسلامی زندگی کی عمارت کھڑی ہی نہ ہوگی۔ لیکن اس عمارت کے کھڑے ہو جانے کے بعد اگر مقتضیات ایمان پورے نہ کیے جائیں تو یہ ایسا ہوگا جیسے جنگل میں ایک بے مصرف اور ویران عمارت کھڑی ہے۔ فریضہ اقامتِ دین اسلام کا ستون نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی عمارت تعمیر کرنے کے مقاصد میں سے اہم ترین مقصد ہے اور مزید برآں اسی پر اس عمارت کے استحکام اور اس کی آبادی اور اس کی توسیع کا انحصار ہے۔ اگر اس فرض کو مہمل چھوڑ دیا جائے تو اسلام کی عمارت بتدریج بوسیدہ ہو جائے گی، اور اس میں فسق و کفر کو قدم جمانے کا موقع مل جائے گا، اور اس کے وسیع ہو کر جمیع خلائق کے لیے پناہ گاہ بننے کا تو کوئی امکان ہی نہ ہوگا۔ اس لیے اس کام کو اسلام میں مسلمان کی زندگی کے مقصد کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔

( جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ(البقرہ 143:2) اور كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ)  “آل عمران 110:2” “[5]

مذکورہ عبارت میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اسلام کی عمارت  کی مثال دے کر سمجھا رہے ہیں  کہ ارکان اسلام کی ادائیگی سے دین کی عمارت تو تعمیر ہوجائے گی لیکن اقامت دین کےبغیر اس عمارت کےقیام کا مقصدپورا نہیں ہوگا،لہٰذااقامت دین دراصل فرائض اہل ایمان کا درجہ ہےکہ اگر یہ ادا نہ کیا گیا   تو اسلام کی عمارت جنگل میں کھڑی ہوئی اس بے مصرف عمارت کی  مانند ہو گی جو بتدریج بوسیدہ ہو کرناقابل استعمال ہو جائے گی۔

اقامت ِ دین کے حوالے سے دونوں حضرات کا نقطہ نظر جاننے کے بعد اب اس اصطلاح کی تحقیق کی جائے گی۔

اقامت دین کی  قرآنی  تحقیق

سورۃ الشوریٰ کی آیت 13 اقامت دین کے   حوالے سے رہنمائی دیتی ہے

’’شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ ۖ أَنْ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ‘‘[6]

سید ابو الاعلیٰ مودودی ‘تفہیم القرآن میں اس آیت کے ضمن میں رقم طراز ہیں

” مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی حکومت قائم کی تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ اس نے اپنی حکومت کی طرف دعوت دی، بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ملک کے لوگوں کو اپنا مطیع کرلیا اور حکومت کے تمام شعبوں کی ایسی تنظیم کردی کہ ملک سارا انتظام اس کے احکام کے مطابق چلنے لگا۔ اسی طرح جب قرآن مجید میں حکم دیا جاتا ہے کہ نماز قائم کرو تو اس سے مراد نماز کی دعوت و تبلیغ نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتی ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ نہ صرف خود ادا کرو بلکہ ایسا انتظام کرو کہ وہ اہل ایمان میں باقاعدگی کے ساتھ رائج ہوجائے۔ مسجدیں ہوں۔ جمعہ و جماعت کا اہتمام ہو۔ وقت کی پابندی کے ساتھ اذانیں دی جائیں۔ امام اور خطیب مقرر ہوں۔ اور لوگوں کو وقت پر مسجدوں میں آنے اور نماز ادا کرنے کی عادت پڑجائے۔ اس تشریح کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آسکتی کہ انبیاء ؑکو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں، اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے تاکہ اس کے مطابق عمل در آمد ہونے لگے اور ہوتا رہے۔”[7]

اقامت دین کی تفہیم

اقامتِ دین کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ دین کی طرف دعوت دے کر اسی کو فریضہ سمجھ کر ذمہ داری ادا کر لی جائےاور  نماز،روزہ ذکر واذکار پر اکتفا کرلیاجائے،اگر یہی تصور تھا  تو اس کام کو فرشتے زیادہ احسن انداز میں کر رہے تھے پھر تخلیقِ انسانی کی کوئی مؤثر دلیل موجود نہیں تھی، لہٰذا اقامتِ دین کا مطلب واضح ہوتا ہے کہ اختیار واقتدار کے ذریعے دین کے احکامات بندگان خدا پر نافذکرنے کی   جدو جہدکرناہے، یقینا اس پورے عمل کی ابتدا کا آغاز دعوت و تبلیغ سے ہی ہو گا لیکن اس مشن کی تکمیل اس دین کے مکمل نفاذ سے ہی ممکن ہو گی۔

دین بمعنیٰ قانون

غامدی صاحب کے بقول  جو چیز دین کے مفہوم میں  داخل ہے اس پر عمل کیا جائے۔سورۃ النور میں ‘دین’   بمعنیٰ قانون ہی مستعمل ہے۔

(سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنْزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ)[8]

یہاں غامدی صاحب اپنے مخصوص ترجمےکے بعد تفسیر کرتے ہوئے  لکھتے ہیں

یعنی یہ اسی نوعیت کے احکام تھے جو پچھلی امتوں کے لیے مزلۂ قدم ثابت ہوئے اور انھوں نے ان سے گریز وفرار کے راستے تلاش کرنا چاہے۔ چناچہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ سفارشات نہیں ہیں، بلکہ خدا کے عائد کردہ فرائض اور اس کے قطعی احکام ہیں جن کی ہر جگہ اور ہر زمانے میں بےچون وچرا تعمیل ہونی چاہیے۔ ان میں کسی کے لیے بےپروائی یا سہل انگاری کی گنجایش نہیں ہے۔”[9]

ایک طرف آپ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ  یہ واجب حکم ہے جس پر ہر زمانے میں بے چون وچرا تعمیل ہو نی چاہیےاور اس میں کسی سستی کی گنجائش نہیں ہےتو دوسری جانب آپ کا مؤقف ہے کہ دین پر عمل کرنے کے لیے ریاست کی ضرورت نہیں ہےجبکہ یہ سزا ریاست کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے

درج بالا تفسیر کا تجزیہ کیا جائے تو یہاں بھی آپ قرآن کے احکامات کی رعایت کرتے ہوئےاس سزا پر عمل کے وقت نرمی نہ برتنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی جیو کے پروگرام میں اقامتِ دین کی عدم ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں

” بہت سے احکام ایسے ہیں کہ اگر ارباب حل و عقد کو ان پر اطمعنان ہو جائے گا تو وہ بھی نافذ ہوجائیں گے،کہتے ہیں:اللہ نے یہ حق مسلمان عوام کو دیا ہے کہ قانون کیا بننا چاہیے”[10]

سید ابوالاعلیٰ مودودی سورۃ النور کی ابتدائی آیت کی تفسیر میں  لکھتے ہیں

’’ ان سب فقروں میں ” ہم نے ” پر زور ہے۔ یعنی اس کا نازل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ” ہم ” ہیں، اس لیے اسے کسی بےزور ناصح کے کلام کی طرح ایک ہلکی چیز نہ سمجھ بیٹھنا۔ خوب جان لو کہ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس کے قبضے میں تمہاری جانیں اور قسمتیں ہیں، اور جس کی گرفت سے تم مر کر بھی نہیں چھوٹ سکتے۔ دوسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو باتیں اس سورے میں کہی گئی ہیں وہ ” سفارشات ” نہیں ہیں کہ آپ کا جی چاہے تو مانیں ورنہ جو کچھ چاہیں کرتے رہیں، بلکہ یہ قطعی احکام ہیں جن کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اگر مومن اور مسلم ہو تو تمہارا فرض ہے کہ ان کے مطابق عمل کرو۔ تیسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو ہدایات اس سورے میں دی جا رہی ہیں ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ صاف صاف اور کھلی کھلی ہدایات ہیں جن کے متعلق تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ فلاں بات ہماری سمجھ ہی میں نہیں آئی تھی تو ہم عمل کیسے کرتے۔ بس یہ اس فرمان مبارک کی تمہید (Preamble) ہے جس کے بعد احکام شروع ہوجاتے ہیں۔ اس تمہید کا انداز بیان خود بتارہا ہے کہ سورة نور کے احکام کو اللہ تعالیٰ کتنی اہمیت دے کر پیش فرما رہا ہے۔ کسی دوسری احکامی سورت کا دیباچہ اتنا پر زور نہیں ہے۔ ‘‘[11]

بظاہر دونوں تفاسیر میں اس آیت کے تحت یہی لکھا ہوا ہے کہ یہ سفارشات نہیں ہیں بلکہ واضح احکامات ہیں جن کا ماننا فرض کی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن سوال یہی سامنے آتا ہے کہ کیا ایک عام شہری کسی بھی شخص پر زنا کی حد جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے یا یہ ذمہ داری صرف ریاست کی بنتی ہے۔عقلی اور نقلی دونوں لحاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت پر عمل کرنے کے لیے اسلامی حکومت کا قیام ناگزیر ہے جسے اقامتِ دین کہا جائے گااور یہ کوئی سفارش نہیں ہے کہ اس قانون پر عمل کیا تو ٹھیک’ نہیں کر سکے   تو صبر کا مظاہرہ کریں بلکہ یہ ایک فرض حکم میں سے ایک حکم ہے جسے اس سے پہلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

کتاب اللہ کے مطابق فیصلے

قرآن نے کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کے حوالے سے بڑی واضح انداز میں تاکید کی ہے۔

’’إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ  وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ‘‘[12]

مولانا اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ ’’اللہ تعالی نے یہاں ان لوگوں کے حق میں جو رب  کے نازل کردہ قوانین کے مطابق  فیصلے نہ کریں  تین احکام ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں دوسرا یہ کہ وہ ظالم ہیں ، تیسرا یہ کہ وہ فاسق ہیں ۔ اس  حکم کا صاف کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اللہ کے حکم کو اور اس کے طرف سے نازل کردہ  قانون  کو چھوڑ کر اپنے یا کسی  دوسرے انسانوں کے طرف سے  بناۓ گۓ قوانین پہ فیصلہ کرتا ہےتو وہ دراصل تین بڑے جرائم کا مرتکب ہوتاہے۔ اوّلاً اس کا یہ کام حکم خداوندی کے انکار کا ہم پلہ ہے اور یہ کفر ہے۔ ثانیاً اس کا کام عدل و انصف کے خآلف ہے، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو اللہ نے دے دیا تھا، اس لیے جب اللہ کے حکم سے ھٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا ۔ تیسرا یہ کہ وہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہوکر اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔ ‘‘

ابتدائی آیت میں ان یہودیوں  اور ربانیوں کی تعریف بیان کی ہے جو اللہ کی کتاب کی حفاظت  کے ساتھ ساتھ اسی کتاب کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرتے تھے لیکن بعد میں اس عمل پر تنقید کی کہ ملزمان کے مفادات کی خاطر پیسے لیکر مرضی کے فیصلے کرنا شروع کر دیے اور پہلے جس کتاب کو معیار بنا کر فیصلے سنایا کرتے تھے اب اسے پسِ پشت ڈال دیا۔ اور پھر ہر آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ سنادیاکہ جو بھی کتاب  اللہ کے مطابق اپنی عدالتوں میں فیصلہ نہیں سنائے گا وہ  کافر ، ظالم اور فاسق ہے۔

غامدی صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں

’’ مطلب یہ ہے کہ جنھیں گواہ بنایا گیا تھا، اُنھیں یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ اس گواہی کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے صرف خدا سے ڈریں، دوسروں کا خوف اور رعب اپنے سینے سے نکال دیں اور اپنے دنیوی اغراض کے لیے خدا کی اس امانت میں کوئی خیانت نہ کریں۔ یہ ہدایت تورات کے ان تمام مقامات پر بڑی تاکید کے ساتھ کی گئی ہے، جہاں یہود سے احکام شریعت کی پابندی کا عہد لینے کا ذکر ہوا ہے۔ اس کو غائب کے صیغے سے بیان کرنے کے بجاے حاضر کے صیغے میں اس لیے فرمایا ہے کہ کلام کا تنوع اسے سامعین کے لیے زیادہ موثر بنا دے۔

یہی حکم ان مسلمانوں کا بھی ہوگا جو آزادی و اختیار رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کتاب الٰہی کے مطابق نہیں کرتے۔۔۔۔ اِس لیے کہ جو خدا کے قانون کو نظرانداز کرتا ہے، وہ اپنے اوپر خدا کے سب سے بڑے حق کو تلف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے کہ جن و بشر سب اس کے پابند ہیں کہ اس کے بندے بن کر رہیں۔ یہ بندگی خدا کا حق اور اطاعت و فرماں برداری اس کا لازمی تقاضا ہے۔ خدا کے ماننے والوں میں سے اگر کوئی اس سے انحراف کرتا ہے تو یقیناً ظالم ہے۔  ‘‘

ایک طرف آپ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو مسلمان بھی اپنے فیصلے کتاب اللہ کےمطابق نہیں کرتے وہ ظالم ہیں لیکن ساتھ ہی غامدی صاحب اسلامی ریاست کے اختیارات کے تنفیذ میں زبردستی کے قائل نہیں ان کے نزدیک ریاست قانون کو طاقت کے ذریعے سے لوگوں پر نافذ نہیں کرسکتی ہے۔

” ریاست اپنے مسلمان شہریوں کو کسی گناہ کے کرنے سے روک سکتی اور اس سزا  تو دےسکتی ہےلیکن دین کے ایجابی تقاضوں میں سے نماز اور زکوۃ علاوہ کسی چیز کو بھی قانون کے طاقت سے لوگوں پر نافذ نہیں کرسکتی۔ وہ مثال کے طور پر انہیں روزے رکھنے کا حکم تو دے سکتی ۔ان میں سےکسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہوجانے کے باوجود کہ وہ صاحب استطاعت ہے ، اسے حج پہ جانے کے لیے مجبور نہیں کرسکتی۔جہاد وقتال کےلیے جبری بھرتی کا کوئی قانون پاس نہیں کرسکتی۔ محتصر یہ کہ جرایم کے معاملے میں اس کا دائرہ اختیار آخری حدتک وسیع ہے، لیکن شریعت کے آوامر میں سے ان دو َ۔۔۔نماز زکوۃ ۔۔۔کے سوا باقی سب معاملات میں یہ صرف ترغیب وتلقین اور تبلیغ وتعلیم ہی ہےجس کے ذریعےسےوہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرسکتی ہے۔ اس طرح کے تمام معاملات میں اس کے سوا کوئی چیز اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے “[13]

ریاست کے اختیار کے حوالے سے کوئی واضح بات یہاں نہیں کی جارہی ہے۔ اگر ریاست کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہ کرے تو وہ ظالم لیکن کتب اللہ کےفیصلوں کو قانونی طورپر عوام پر نافذ کرنے کا اختیار بھی نہیں دیا جارہا۔

بعثت محمدیﷺ کا مقصد: اقامت دین

یہاں ایک سوال اور سامنے آتا ہے کہ بعثت محمدیﷺ کا مقصد کیا تھا۔اگر قرآنی آیات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی بعثت کا مقصد بھی دراصل اقامتِ دین تھایہی وہ مشن تھا کہ جس کے لیے آپﷺ کو مکی دور میں دعوت وتبلیغ  کے ساتھ صبر کے مراحل سے گزرنا پڑ ااور پھر مدینہ میں ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے معاہدے اور غزوات سر انجام دیے ، بالآخر عرب اور اس کے اطراف میں دین کے غلبے کی صورت میں بعثت کا مقصد مکمل ہوا۔ اس حوالے سے تین مختلف مقامات پر قرآنی آیت موجود ہیں

’’هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ‘‘[14]

غامدی صاحب کے بقول

یہ ایک صریح پیشین گوئی ہے جو حرف بحرف صیحیح ثابت ہوئی اور دین کا غلبہ پورے جزیرہ عرب پہ قائم ہوگیا ۔ اور جو منکرین تھے یھود  اور مشرکین سے دونوں کی خواہشات کے بر خلاف یہ غلبہ قائم ہوا اور جس نور کو وہ اپنے منہ کی پھونگ سے بھجانا چاھتے تھے وہ تو ھر لحاظ سے کامیاب ہوگئی۔ یہ ایک سنت الٰہی کا ظہور تھا جو رسولوں کے باب میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ ان کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ اُنھیں غلبہ عطا فرماتے اور ان کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کردیتے ہیں۔ اس کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ آخرت کا تصور بھی اسی معیار پر ثابت کردیا جائے جس معیار پر سائنسی حقائق معمل (laboratory) کے تجربات سے ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس کا انقلاب کی کسی جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس طرح کہ دورحاضر کے بعض مفکرین نے سمجھا ہے۔یہاں اس پیشین گوئی کا ذکر مخاطبین کو یہ بتانے کے لیے ہوا ہے کہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کا فیصلہ ہر حال میں نافذ ہوجائے گا، اب تمہیں دیکھنا ہے کہ تم کیا کرتے ہو۔ اس میں شرکت کی سعادت حاصل کرتے ہو یا یہود کی طرح یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہو کہ جاؤ تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔

غامدی صاحب کی اس تفسیر کا تجزیہ کیا جائے تو یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا دین محض انبیائے کرام ؑکے زمانے میں ہی غالب ہونے کے لیے آیا تھا ، ان کے بعد اس دین کی صورت ہمیشہ مغلوب ہی رہنی ہے جس کا جی چاہے دین کو مسخ کردے اور اس دین کے ماننے والے کسی جدوجہد کے بجائے محض امید اور دعا کے سہارے زندگی گزاریں ۔یہ بات عقل سے ماورا محسوس ہوتی ہے۔

تفہیم القرآن میں اس آیت کے تحت بیان ہوا ہے

دین کا لفظ عربی زبان میں اس نظام زندگی یا طریق زندگی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے قائم کرنے والے کو سند اور مطاع تسلیم کر کے اس کا اتباع کیا جائے۔ پس بعثت رسول کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ خدا کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اور نظاموں پر غالب کر دے۔ دوسرے الفاظ میں رسول کی بعثت کبھی اس غرض کے لیے نہیں ہوئی کہ جو نظام زندگی لے کر وہ آیا ہے وہ کسی دوسرے نظام زندگی کا تابع اور اس سے مغلوب بن کر اور اس کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں میں سمٹ کر رہے۔ بلکہ وہ بادشاہ ارض و سما کا نمائندہ بن کر آیا ہے اور اپنے بادشاہ کے نظام حق کو غالب دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نظام زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجائشوں میں سمٹ کر رہنا چاہیے جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمییوں کا نظام زندگی رہتاہے”[15]

سید ابو الاعلیٰ مودودی کے بقول غلبہ اسلام ہی دراصل بعثت محمدی کا بنیادی مقصد ہےیہی وجہ ہے کہ اسلام یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بھی  کفریہ نظام کے تحت رہ کر زندگی بسر کرے  بلکہ جتنے بھی نظام زندگی دنیا میں متعارف ہوئے ہیں اسلام انہیں اپنے تابع کرنے کے لیے آیاہے

اس  مضمون سے متعلق دوسری آیت  سورۃ الصف میں آئی ہے

’’هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ‘‘[16]

مولانا مودودی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ٰہیں کہ یعنی مشرک لوگ جو اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ پورا کا پورا نظام زندگی صرف ایک خدا کی اطاعت اور ہدایت پر قائم ہو۔ جنہیں اس بات پر اصرار ہے کہ جس جس معبود کی چاہیں گے بندگی کریں گے  ۔ ایسے سب لوگوں کو یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کا رسول ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ جو ہدایت اور دین حق وہ اللہ کی طرف سے لایا ہے اسے پورے دین، یعنی نظام زندگی کے ہر شعبے پر غالب کر دے ۔ “[17]

مولانا نے اس آیت میں یہ بات صراحت کے ساتھ لکھی ہے کہ پورا کا پورا نظام زندگی صرف اللہ تعالی کی اطاعت پہ قائم ہوگاِ، اور دین اسلام تمام شعبہ ہاے حیات پہ غالب ہوگا، اگرچہ کافروں کو یہ بات نا گواراہی کیوں نہ ہو۔

یہ امر بھی غورو فکر کا متقاضی ہے کہ اس مقصد بعثت پر عمل کرنے کے آغاز کے ساتھ ہی مشرکین،کفار،منافقین کو ناگوار گزرے گااور اس کے خلاف تدابیر اختیار کی جائیں گی، روڑے اٹکائے جائیں گے، مشکلات کھڑی کی جائیں گی یہی وجہ ہے کہ جب جب اقامت دین کی جدوجہد کی  گئی ہے مختلف طریقوں سے آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اسی لیے قرآن میں جہاں اقامت ِدین کی جدوجہد سے متعلقہ آیات آئی ہیں اس کے ساتھ ہی  صبر کی تاکید اور ہدایات آئی ہیں

’’يَابُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ‘‘[18]

“بیٹا، نماز قائم کرنے کی کا حکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کریہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے”

غلبہ دین کے لیے دعا

قرآن کے مطالعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ چونکہ  اقامت دین بعثت نبویﷺ کا مقصد ہے اس لیے اس کے لیے اللہ رب العالمین نے قرآن میں دعا بھی سکھائی ہے

’’وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا‘‘[19] 

سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنی تفسیر میں مفسرینِ قرآن ابن جریرطبری اور ابن کثیر کاحوالہ  دیتے ہوئے لکھتے ہیں
“یعنی یا تو مجھےے خود اقتدار عطا کر، یا کسی کی حکومت کو میرا مددگار بنا دے تاکہ اس کی  حمایت سے میں  دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں، اور تیرے قانون عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری اور قتادہ رحمہما اللہ نے کی ہے، اور اسی کو ابن جریر اور ابن کثیر رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے،

آگے اس کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جبکہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔ اگر جہاد کے لے تلوار کا طالب ہونا گناہ نہیں ہے تو اجرائے احکام شریعت کے لیے سیاسی اقتدار کا طالب ہونا آخر کیسے گناہ ہوجائے گا ؟ “[20]

غامدی صاحب اس  آیت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں

’’ یہ ہجرت کی دعا ہے۔ اوپر بیان ہوا ہے کہ قریش اب آپ کو مکہ سے نکالنے کے درپے تھے۔ یہ دعا اسی تعلق سے تلقین فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تلقین بتارہی ہے کہ بظاہر یہ ایک دعا ہے، مگر حقیقت میں رسول ﷺ کے لیے یہ ایک عظیم بشارت ہے۔ ‘‘

آپ کے بقول یہ دعا بھی نبیﷺ کے ساتھ خاص ہےاس طرح بھت سے قران کریم کے احکام غامدی صاحب نبی کریم ﷺ کے ساتھ  مخصوص کردیتے ہیں ۔ حالانکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالی نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے جو احکامات دیئے ہیں ، وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں الّا یہ کہ نبی کریمﷺکے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی  واضح دلیل موجود ہو ۔ دین کے اظہار والی آیت کے ساتھ بھی ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس میں رسول  اللہ ﷺ کے سلسلہ میں اللہ کے وعدہ اور سنت کا ذکر ہے۔ وہ یہاں المشرکون کا ترجمہ عرب کے مشرک اور دین کلہ کا ترجمہ عرب کے ادیان کرتے ہیں۔ اس تخصیص کی بھی کوئی دلیل اس کے سوا نہیں دیتے کہ غلبہ دین، رسول کے سلسلہ میں انبیا کی سنت ہے

اقامت ِ دین بذریعہ غلبہ اسلام

قرآن میں جا بجا ایسی آیات کا ذکر ملتا ہے کہ جس میں غلبہ اسلام کی پیشنگوئی کی جارہی  ہے۔یہ آیات براہ راست اقامت ِ دین کی اہمیت کو واضح کرتی ہے

(وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ)[21]

اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنالے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے

(وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ)[22]

“دل شکستہ نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو”

ان آیات سے بھی یہی پیغام برآمد ہوتا  ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی گئی  یہ خوشخبریاں دراصل یہ باور کراتی ہیں کہ اسلام کفر سے مغلوب رہنے کے لیے نہیں آیا ہےبلکہ دنیا میں غالب ہو کر اللہ کا بول اونچا کرنے کے لیے آیا ہے۔

مندرجہ بالا آیات مدنی سورتوں کی آیات ہیں کہ جب تسلسل کے ساتھ معرکہ حق و باطل جاری تھاایسے  میں غلبہ اسلام کی خوشخبری سنائی جارہی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام محض دعوت و تبلیغ کے بعد چھوڑ دینے کےلیے دنیا میں نہیں آیا بلکہ یہ اسلام کے مزاج کا حصہ ہےکہ وہ غالب ہونے کے لیےآیا ہےجس کی پیشنگوئی ان آیات میں کی جا رہی ہے اور یہ غلبہ اسلام کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے بعد نہیں ہو گا بلکہ عدل کے قیام کے لیے ہو گا اور عدل کا تقاضا ہی یہی ہے کہ یہ زمین اللہ کی ہے ، اس پر مخلوق اللہ کی بنائی ہوئی ہے لہٰذا اس پر مرضی بھی اللہ کی چلنی چاہیے اور وہ اللہ کے منتخب کردہ دین اسلام کے غلبے کے ساتھ ہی مشروط ہے۔

خلاصہ کلام

اس مقالے میں اقامتِ دین کے حوالے سے جاوید احمد غامدی اور سید مودودی صاحب کی آرا ٔ کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ان کے دلائل کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

غامدی صاحب کے نزدیک اقامت کا مطلب قائم کرنا یا نافذ کرنانہیں ہے بلکہ پیروی کرنا  اور قائم رکھنا ہے۔ اس لیے سورۃ شوریٰ کی آیت میں صرف دین کی پیروی کا حکم ہے۔ دین کے غلبے کا تعلق رسول ﷺسے تھا۔ اور اللہ کی سنت ہے کہ جب رسول مبعوث ہوتا ہے تو دین کو غلبہ ملتا ہے۔ یہ سنت رسول ﷺ کے ذریعہ پوری ہوگئی۔ اب عام مسلمان  ان آیتوں میں خطاب نہیں ہیں۔

دین کے سیاسی اور اجتماعی احکام کے مخاطب حکمران ہیں۔ وہی اس کے مکلف ہیں۔ عام مسلمانوں کا کام صرف اپنے دائرہ میں دین پر عمل اور اس کی دعوت ہے۔جاوید غامدی صاحب نے عربی شاعری وغیرہ کے حوالوں سے تفصیلی بحث یہ ثابت کرنے کے لیے کی ہے کہ اقیموا کے معنی قائم کرنا نہیں ہے بلکہ قائم رکھنا ہے۔

جبکہ اقامت کا ترجمہ’ قائم کرنا‘ کیا جائے یا’ قائم رہنا‘ یا ’قائم رکھنا‘، اس وجہ سے اصل بحث پہ کوئی اثر نحیں پڑتا ۔ مولانا مودودی نے ترجمہ ’قائم کرنا‘ کیاہے لیکن تفہیم القرآن میں ’قائم رکھنا‘ اِس ترجمہ کی گنجائش کو بھی تسلیم کیا ہے ۔ دین قائم کرنا  یا دین پہ قائم رہنا ، دونوں کا مطلب ایک ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں دین کی اتباع کی جائے۔ جاوید غامدی بھی تقریبا اس بات سے متفق نظر آتے ہیںِ،انہوں نے دین پر قائم رینے کے معنوں میں قانون و شریعت اور جہاد و قتال وغیرہ سارے احکامات شمار کیے ہیں لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ اقیموکا مطلب صرف دین کے اْس حصہ پر عمل تک محدود ہے جس کا تعلق  ہماری ذات سے ہے۔ اور جن کاموں کا تعلق ہم سے نہیں ہے ان پر عمل کرانا یا انہیں نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا اقیموکے معنی میں شامل نہیں ہے۔ مولانا مودودی  اخلاقی لحاظ سے قرآنی آیت سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کا مزاج غالب ہونے والا ہے اس لیے اقامتِ دین کی جدوجہد ہر دور میں اسلام کے غلبے تک کی جائے گی۔ آپ قانونی لحاظ سے یہ واضح کرتے ہیں کہ دین کے غلبے کے بغیر کوئی بھی ریاست قرآن میں مذکور قوانین پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی اور اس صورت میں تمام مسلمان صریح ظالم کی فہرست میں داخل ہوں گے۔ اسی طرح قرآن میں  جو غلبے کی دعائیں مانگی گئی ہیں وہ بھی اسی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ اقامتِ دین کی اہمیت بطور فریضہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔قرآن کی پوری اسکیم پر غور کیا جائے تو بھی دین کی اقامت ایک مرکزی ذمہ داری کی حیثیت میں موجود  ہے۔ قرآن مجید نے اس فریضہ کو کئی اصطلاحات میں بیان کیا ہے ۔ دین کا اظہار، قیام ، قسط ، عدل، شہادت علی الناس، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، دعوت دین ، ان سب میں اقامت دین کا مفہوم پوشیدہ ہےان سب احکامات کا تقاضہ بھی یہی ہے  کہ دین اسلام پہ عمل کرنے کے ساتھ ساتھ باقی انسانیت کو دین کی طرف بلانے، دین پر انہیں مطمئن کرنے اور معاشرہ میں اللہ کے احکامات کی ترویج اور تنفیذ کی ممکنہ کوشش کی جائے۔ مولانا مودودی انہی باتوں کو اقامت دین قرار  دیتےہیں۔

تجاویز و سفارشات

اقامت دین ایک قرآنی اصطلاح ہے جسے قرآن کے تناظر میں اور اسلام کے مزاج کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے

اسلام ایک پورا نظام زندگی ہے جو کہ محض دعوت و تبلیغ کے لیے نہیں بلکہ دنیا پر غالب ہونے کے لیے آیا ہے لہٰذ دفاعی انداز کے بجائےاقدامی رویہ اختیار کرتے ہوئے دین کو غالب کرنے کی کوشش کی جائے

حیات نبویﷺ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کی آمد کا مقصد دین حق کو دنیاپر نافذ کرنا ہے اسی لیے اس مقصد کی تفہیم کے مطابق اقامتِ دین کو سمجھاجائے

نبیﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد امت مسلمہ پر یہ ایک فریضہ کے حیثیت رکھتا ہے جس کے مطابق امت کی جانب سے اس کے لیے سعی و جہد کی جانی چاہیے

اقامتِ دین کی اس جدوجہد میں دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ اختیار و اقتدار کا حصول بھی مطلوب ہے تاکہ اللہ کی زمین پر اللہ کی احکامات کو نافذ کیا جاسکے۔


[1] ۔ https://www.javedahmedghamidi.org/#!/

[2]۔ https://www.youtube.com/javedghamidiofficialAccessed on 23-11-22, Time: 18:14

[3]برہان، تاویل کی غلطی، جاوید احمد غامدی، المورد ادارہ علم و تحقیق،لاہور، دسمبر 2009ء، ص 180

[4]اجتہاد، مولانا محمد تقی امینی، قدیمی کتب خانہ کراچی، 1996ء، ص 50

[5]رسائل  ومسائل، سید ابوالاعلیٰ مودودی، حصہ چہارم، اسلامک پبلیکیشنز لمیٹیٖڈ لاہور، 1965ء، ص 348

[6]۔سورۃ الشوریٰ 13

[7]-۔فہیم القرآن ، سید ابو الاعلی ٰ مودودی ، ادارہ ترجمان القرآن لاہور، 1972ء  ، ص 4/488

[8]۔سورۃالنور 2:24

[9]۔تفسیر بیان القرآن، جاوید احمد غامدی، المورد ادارہ علم وتحقیق، 1992ء، ص 3/64

https://www.youtube.com/watch?v=aevtx5uVbiQ, Accessed on 27-7-2021, Time.[10] 20:48

[11]تفہیم القرآن، ص 319/3

[12]سورۃ المائدہ 4/47

[13]میزان ، جاوید احمد غامدی،المورد، ادارہ علم و تحقیق،2008   لاہور، ص 492

[14]سورۃ التوبۃ9/ 33

[15]تفہیم القرآن، ص2/ 190

[16]سورۃ الصف61/ 9

 [17]تفہیم القرآن، ص5/ 477

[18]سورہ لقمان17 /31

[19]سورہ بنی اسرائیل17/ 80

[20]تفہیم القرآن، ص 2/638

[21]سورۃ المائدہ5/ 56

[22]سورۃآلعمران 3/ 139