مولانا مودودیؒ انسانی معاشرے میں جس تبدیلی کے داعی تھے، جن وجوہ سے وہ اسے انسانیت کی خیر و فلاح کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے، اور اس کے لیے جو طریق کار ان کی نگاہ میں درست تھا، اس کی پوری تفصیل ان کے چھوڑے ہوئے تحریری و تقریری سرمائے میں محفوظ ہے۔ اس کا جائزہ لے کر کوئی بھی بآسانی جان سکتا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے مولانا مودودیؒ کا وژن کیا تھا۔
عین عالم جوانی سے وہ انسانی معاشرے میں جس تبدیلی کے داعی اور اس کے لیے جس طریق کار کے علَم بردار بن کر اٹھے تھے، زندگی کے آخری لمحات تک اس حوالے سے ان کی فکر میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا۔ ان کے تحریری کام اور عملی جدوجہد کا سلسلہ اگرچہ نصف صدی سے زیادہ مدت پر پھیلا ہوا ہے، اس کے باوجود اس میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی جدوجہد کے آغاز سے پہلے رائج الوقت افکار و نظریات اور قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ کیا، اور پھر خوب سوچ سمجھ کر اپنے مقصدِ زندگی کی بنیاد کاملاً قرآن و سنت پر رکھی اور اس میں کسی ملاوٹ اور مداہنت سے قطعی مجتنب رہے۔ چنانچہ جو کچھ انھوں نے 35سال کی عمر میں لکھا، 70 سال کی عمر میں بھی انھیں اس میں کسی ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان کے کسی دور کی تحریر اٹھا کر دیکھ لیجیے، ان کی بنیادی فکر میں مکمل یکسانیت ملے گی۔
ذیل میں ان کے افکار کی روشنی میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ معاشرے میں جس تبدیلی کی جدوجہد انھوں نے شروع کی تھی، اس کی تفصیلات ان کی نگاہ میں کیا تھیں۔
ظلم و استیصال سے پاک نئی دنیا کی تعمیر: مولانا مودودیؒ انسانی معاشرے میں جو تبدیلی لانا چاہتے تھے، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے جولائی 1939ء کے ترجمان القرآن میں ’’تعارف مقصد“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: ’’اگر اسلام صرف اسی مذہب کا نام ہوتا جو اِس وقت مسلمانوں میں پایا جاتا ہے تو شاید میں بھی آج ملحدوں اور لامذہبوں میں جاملا ہوتا۔ لیکن جس چیز نے مجھے الحاد کی راہ پر جانے یاکسی دوسرے اجتماعی مسلک کو قبول کرنے سے روکا اور ازسرنو مسلمان بنایا وہ قرآن اور سیرتِ محمدیؐ کا مطالعہ تھا۔ اس نے مجھے انسانیت کی اصل قدر و قیمت سے آگاہ کیا۔ اس نے آزادی کے اس تصور سے مجھے روشناس کرایا جس کی بلندی تک دنیا کے کسی بڑے سے بڑے انقلابی اور لبرل کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس نے انفرادی حسن سیرت اور اجتماعی عدل کا ایسا نقشہ میرے سامنے پیش کیا، جس سے بہتر کوئی نقشہ میں نے نہیں دیکھا۔ اس کے تجویز کردہ لائحہ زندگی میں مجھے ویسا ہی کمال درجے کا توازن نظر آیا جیسا ایک سالمے (atom) کی بندش سے لے کر اجرام فلکی کے قانونِ جذب و کشش تک ساری کائنات کے نظم میں پایا جاتا ہے۔“
اس کے بعد کہتے ہیں:’’میں صرف غیرمسلموں ہی کو نہیں بلکہ خود مسلمانوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اور اس دعوت سے میرا مقصد اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کو باقی رکھنا اور بڑھانا نہیں ہے جو خود ہی اسلام کی راہ سے بہت دور ہٹ گئی ہے،بلکہ یہ دعوت اس بات کی طرف ہے کہ، آؤ اس ظلم اور طغیان کو ختم کردیں جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ انسان پر سے انسان کی خدائی کو مٹادیں۔“ (تحریک ِآزادیٔ ہند اور مسلمان، ج 2، ص 24-25)
’’انسان پر سے انسان کی خدائی کا خاتمہ اور قرآن کی بنیاد پر ظلم اور بے انصافی سے پاک ایک نئی دنیا کی تعمیر“…یہ ہے وہ تبدیلی جس کی دعوت لے کر مولانا مودودیؒ اٹھے تھے۔
خرابی کی جڑ: انسانی دنیا میں بار بار رونما ہونے والے فساد و انتشار کے اصل سبب اور اس کے ازالے کے لیے مطلوب اس تبدیلی کی مزید تشریح کرتے ہوئے مئی، جون 1940ء کے ترجمان القرآن میں ’’اسلام کی دعوت اور مسلمانوں کا نصب العین“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: ’’دنیا میں جہاں جو خرابی پائی جاتی ہے اس کی جڑ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت تسلیم کرنا۔ یہی ام الخبائث ہے۔ اسی سے وہ شجرِخبیث پیدا ہوتا ہے جس کی شاخیں پھیل پھیل کر انسانوں پر مصیبتوں کے زہریلے پھل ٹپکاتی ہیں۔ یہ جڑ جب تک باقی ہے، آپ شاخوں کی جتنی چاہیں قطع و برید کرلیں، بجز اس کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا کہ ایک طرف سے مصائب کا نزول بند ہوجائے اور دوسری طرف سے شروع ہوجائے۔“
فلاح وسعادت کی واحد راہ: پھر اسی سلسلۂ گفتگو میں انسانی معاشرے کے مسائل کے مستقل حل کی نشان دہی اس طرح کرتے ہیں: ’’انسانی زندگی کو حقیقی فلاح و سعادت سے ہم کنار کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ غیراللہ کی حاکمیت سے کلیتاً انکار کیا جائے اور اس کی حاکمیت تسلیم کی جائے جو فی الواقع مالک الملک ہے…ہر اُس حکومت کے حقِ حکمرانی کو ماننے سے انکار کردیا جائے جس میں انسان بذاتِ خود حاکم اور صاحب ِامرونہی ہونے کا مدعی ہو، اور صرف اس حکومت کو جائز قرار دیا جائے جس میں انسان اصلی اور حقیقی حاکم کے ماتحت خلیفہ ہونے کی حیثیت قبول کرے۔ یہ بنیادی اصلاح جب تک نہ ہوگی، جب تک انسان کی حاکمیت، خواہ کسی شکل اور کسی نوعیت کی ہو، جڑ پیڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینک دی جائے گی، اور جب تک انسانی حاکمیت کے غیر واقعی تصور کی جگہ خلافتِ الٰہی کا واقعی (realistc) تصور نہ لے لے گا، اُس وقت تک انسانی تمدن کی بگڑی ہوئی کَل کبھی درست نہ ہوسکے گی، چاہے سرمایہ داری کی جگہ اشتراکیت قائم ہوجائے یا ڈکٹیٹر شپ کی جگہ جمہوریت متمکن ہوجائے، یا امپیریلزم کی جگہ قوموں کی حکومت ِ خوداختیاری کا قاعدہ نافذ ہوجائے۔صرف خلافت ہی کا نظریہ انسان کو امن دے سکتا ہے۔اسی سے ظلم مٹ سکتا اور عدل قائم ہوسکتا ہے، اور اسی کو اختیار کرکے انسان اپنی قوتوں کا صحیح مصرف اور اپنی سعی و جہد کا صحیح رخ پاسکتا ہے۔“
اسلام… انسانیت کی فلاح کا علَم بردار: اسی سلسلۂ بیان میں مزیدکہتے ہیں:’’اسلام انسانی زندگی میں یہی بنیادی اصلاح کرنے آیا ہے۔ اس کو کسی ایک قوم سے دل چسپی اور کسی دوسری قوم سے عداوت نہیں ہے کہ ایک کو چڑھانا اور دوسری کو گرانا اس کا مقصود ہو، بلکہ اسے تمام نوع انسانی کی فلاح و سعادت مطلوب ہے جس کے لیے وہ ایک عالم گیر کلیہ و ضابطہ پیش کرتا ہے۔ وہ ایک تنگ زاویے سے کسی خاص ملک یا کسی خاص گروہِ انسانی کو نہیں دیکھتا، بلکہ وسیع نظر سے تمام روئے زمین کو اس کے تمام باشندوں سمیت دیکھتا ہے، اور چھوٹے چھوٹے وقتی حوادث اور مسائل سے بالاتر ہوکر ان اصولی و بنیادی مسائل کی طرف توجہ کرتا ہے جن کے حل ہوجانے سے تمام زمانوں اور تمام حالات و مقامات میں سارے فروعی و ضمنی مسائل آپ سے آپ حل ہوجاتے ہیں۔“
جدوجہد کا درست طریق کار: انسانی معاشرے میں یہ بنیادی تبدیلی جس کی دعوت لے کر مولانا مودودیؒ اٹھے، بندگیِ رب کی عین وہی دعوت ہے جس کے لیے تاریخ کے ہر دور میں انبیا مبعوث کیے جاتے رہے۔ لہٰذا اس تبدیلی کے لیے درست طریق کار بھی وہی ہوسکتا ہے جو اللہ کے رسولوں نے ہر زمانے میں اختیار کیا، یعنی تمام وقتی اور مقامی مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام انسانوں کو براہ راست اللہ کی حاکمیت تسلیم کرنے کی دعوت دینا۔ مولانا مودودیؒ اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جو لوگ آج اس دعوت کو لے کر اٹھیں، انھیں بھی وقت کے فروعی مسائل، قومی حقوق کے جھگڑوں، سیاسی قضیوں اور معاشی تنازعوں سے بالاتر ہوکر اپنی پوری توجہ دنیا کے سارے انسانوں کو اللہ کی بندگی کی دعوت دینے اور غیراللہ کی حاکمیت ختم کرنے پر صرف کرنی چاہیے، کیونکہ انسانی معاشرے میں اس تبدیلی کو برپا کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران مسلمان قائدین اس بنیادی کام کے بجائے جن مسائل میں الجھے ہوئے تھے، ان کا ذکر کرتے ہوئے اسی سلسلۂ تحریر میں مولانا مودودی ؒلکھتے ہیں: ’’مغربی طرز کے لیڈروں پر تو چنداں حیرت نہیں کہ ان بے چاروں کو قرآن کی ہوا تک نہیں لگی ہے، مگر حیرت اور ہزار حیرت ہے ان علمائے کرام پر جن کا رات دن کا مشغلہ ہی ’قال اللہ و قال الرسول، ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ قرآن کو کس نظر سے پڑھتے ہیں کہ ہزار بار پڑھنے کے بعد بھی انھیں اس قطعی اور دائمی پالیسی کی طرف ہدایت نہیں ملتی جو مسلمانوں کے لیے اصولی طور پر مقرر کردی گئی ہے۔ جن مسائل کو انھوں نے اہم اور اقدم قرار دے رکھا ہے، قرآن میں ہم کو ان کی فروعی اور ضمنی اہمیت کا نشان بھی نہیں ملتا۔ برعکس اس کے قرآن میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی پر نبی آتا ہے اور ایک ہی بات کی طرف اپنی قوم کو دعوت دیتا ہے: یٰقَوْمِ اعْبُدُوْاﷲ مَا لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗخواہ بابل کی سرزمین ہو یا ارضِ سدوم، یا ملک مدین، یا حجر کا علاقہ، یا نیل کی وادی، خواہ وہ چالیسویں صدی قبل مسیح ہو یا بیسویں یا دسویں، خواہ وہ غلام قوم ہو یا آزاد، خستہ و درماندہ ہو یا تمدنی و سیاسی حیثیت سے بام عروج پر… ہر جگہ، ہردور میں، ہر قوم میں، اللہ کی طرف سے آنے والے رہنماؤں نے انسان کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کی، اور وہ یہ تھی کہ: اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔“
اُمُّ المسائل: غیراللہ کی حاکمیت: اس کے بعد متعدد انبیا علیہم السلام کی اقوام کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل کا حوالہ دینے کے بعد کہتے ہیں: ’’یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جن ملکوں اور قوموں میں انبیا علیہم السلام آئے ان میں سرے سے کوئی سیاسی، معاشی، تمدنی مسئلہ حل طلب تھا ہی نہیں جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہوتی۔ پس جب یہ واقعہ ہے کہ اسلامی تحریک کے ہر رہنما نے ہر ملک اور ہر زمانے میں تمام وقتی اور مقامی مسائل کو نظرانداز کرکے اسی ایک مسئلے کو آگے رکھا اور اسی پر اپنا سارا زور صرف کیا تو اس سے صرف یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ مسئلہ اُمُّ المسائل تھا اور وہ اسی کے حل پر زندگی کے تمام مسائل کا حل موقوف سمجھتے تھے۔“
اسی سلسلۂ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اب یا تو یہ کہہ دیجیے کہ اسلامی تحریک کے وہ رہنما جو خدا کی طرف سے آئے تھے، سب کے سب عملی سیاسیات سے نابلد تھے، نہ جانتے تھے کہ انسانی زندگی کے معاملات میں کون سی چیز مقدم اور کون سی مؤخر ہونی چاہیے، اور انھیں خبر نہ تھی کہ آزادی کے لیے جدوجہد کس طرح کی جاتی ہے، اور ملکی معاملات کو حل کرنے کی کیا تدبیریں ہیں۔ یا پھر یہ تسلیم کیجیے کہ اِس دور میں جو حضرات اسلام کے نمائندے اور مسلمانوں کے قائد و رہنما بنے ہوئے ہیں، وہ جزئیات شرع پر کتنا ہی عبور رکھتے ہوں، بہرحال اسلامی تحریک کے مزاج کو نہیں سمجھتے اور نہیں جانتے کہ اس تحریک کو چلانے اور آگے بڑھانے کا طریقہ کیا ہے۔“
انبیا کا راستہ ہی مسلمانوں کا راستہ ہے: اس پوری بحث سے یہ حتمی نتیجہ اخذکرتے ہیں کہ انسانی معاشرے میں حقیقی خیر و فلاح کی حامل تبدیلی لانے کی جدوجہد کرنے والوں کو وہی طریق کار اختیار کرنا ہوگا جو ہردور میں اس تحریک کے اصل رہنماؤں، یعنی اللہ کے نبیوں نے اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہوئے اختیار کیا، چنانچہ کہتے ہیں: ’’تمام مسلمانوں کو جان لینا چاہیے کہ بحیثیت ایک مسلم جماعت ہونے کے ہمارا تعلق اُس تحریک سے ہے جس کے رہبر و رہنما انبیاء علیہم السلام تھے۔ ہر تحریک کا ایک خاص نظام فکر اور ایک خاص طریق کار ہوتا ہے۔ اسلام کا نظام فکر اور طریق کار وہ ہے جو ہم کو انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں میں ملتا ہے۔ ہم خواہ کسی ملک اور کسی زمانے میں ہوں، اور ہمارے گرد و پیش مسائل و معاملات خواہ کسی نوعیت کے ہوں، ہمارے لیے مقصد اور نصب العین وہی ہے جو انبیا کا تھا اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ وہی ہے جس پر انبیا ہر زمانے میں چلتے رہے: اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اﷲ فَبھَدٰھُمُ اقْتَدِہْ (الانعام6:90)۔ ہمیں زندگی کے سارے معاملات کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے جس سے انھوں نے دیکھا۔ ہمارا معیار قدر وہی ہونا چاہیے جو ان کا تھا، اور ہماری اجتماعی پالیسی انھی خطوط پر قائم ہونی چاہیے جن پر انھوں نے قائم کی تھی۔ اس مسلک کو چھوڑ کر اگر ہم کسی دوسرے مسلک کا نظریہ اور طرزعمل اختیار کریں گے تو گمراہ ہوجائیں گے۔
یہ بات ہمارے مرتبے سے فروتر ہے کہ ہم اس تنگ زاویے سے دنیا پر نگاہ ڈالیں جس سے ایک قوم پرست، یا ایک جمہوریت پسند، یا ایک اشتراکی اس کو دیکھتا ہے۔ جو چیزیں ان کے لیے بلند ترین منتہائے نظر ہیں وہ ہمارے لیے اتنی پست ہیں کہ ادنیٰ التفات کی بھی مستحق نہیں۔ اگر ہم ان کے سے رنگ ڈھنگ اختیار کریں گے، انھی کی زبان میں باتیں کریں گے اور انھی گھٹیا درجے کے مقاصد پر زور دیں گے جن پر وہ فریفتہ ہیں، تو اپنی وقعت کو ہم خودہی خاک میں ملادیں گے… تعداد کی بنا پر اکثریت و اقلیت کے نوحے، یہ تحفظات اور حقوق کی چیخ و پکار… یہ بولیاں بول کر ہم خود ایک غلط حیثیت اختیار کرتے ہیں اور اپنی حیثیت اس قدر غلط طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں… حالانکہ خدا نے ہمیں اس سے بہت اونچا منصب دیا ہے۔
ہمارا منصب یہ ہے کہ ہم کھڑے ہوکر تمام دنیا سے غیراللہ کی حاکمیت مٹادیں اور خدا کے بندوں پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت باقی نہ رہنے دیں… اس منصب کو ادا کرنے کے لیے کسی قسم کی خارجی شرائط درکار نہیں، بلکہ صرف شیر کا دل درکار ہے۔“
ان اقتباسات سے واضح ہے کہ مولانا مودودیؒ دنیا میں اسی معاشرتی تبدیلی کی دعوت لے کر اٹھے تھے، جس کے لیے انبیا کرام دنیا میں بھیجے گئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ اسی تبدیلی کی جدوجہد دنیا میں ان کا مشن ہے اور اس کا طریق کار وہی ہے جو اللہ کے رسولوں نے اپنے ادوار میں اختیار کیا، اور خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہر زمانے کے لیے اسی نہج پر پھیلانا اور تبدیلی لانے کی کوشش کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر لازم ہے۔
اسلامی تحریک اور قومی حقوق کے جھگڑے: جغرافیائی، نسلی یا لسانی رشتوں کی بنیاد پر بننے والی قوم کے مقابلے میں ایک آفاقی نظریے پر تشکیل پانے والی جماعت کی قوت اور دائرۂ اثر کی اس تشریح اور مسلمانوں کو اس کے مطابق ایک جماعت قرار دینے کے بعد مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’اگر… مسلمانوں کی اصل حیثیت ایک عالم گیر اصولی تحریک کے پیروؤں اور داعیوں کی ہے تو وہ سارے مسائل یک قلم اُڑ جاتے ہیں جن پر اب تک مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی رہنما وقت ضائع کرتے رہے ہیں…… نہ ہمارا کوئی قومی جھگڑا ہے، نہ ]متحدہ[ وطنیت کی بنیاد پر ہماری لڑائی ہے، نہ ان ریاستوں سے ہمارا کوئی رشتہ ہے جہاں نام نہاد مسلمان خدا بنے بیٹھے ہیں، نہ اقلیت کی حیثیت سے اپنے تحفظ کی ہمیں ضرورت ہے، نہ اکثریت کی بنیاد پر اپنی قومی حکومت ہمیں مطلوب ہے۔ ہمارے سامنے تو صرف ایک مقصد ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے بندے اللہ کے سوا کسی کے محکوم نہ ہوں۔ بندوں کی حاکمیت ختم ہوجائے اور حکومت اس قانونِ عدل کی قائم ہو جو اللہ نے خود بھیجا ہے۔ اس مقصد کو ہم انگریز، ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی اور مردم شماری کے مسلمان، سب کے سامنے پیش کریں گے، جو اسے قبول کرے گا وہ ہمارا رفیق ہے، اور جو اس سے انکار کرے گا اُس سے ہماری لڑائی ہے بلالحاظ اس کے کہ اُس کی طاقت کتنی ہے اور ہماری کتنی۔“
اس وضاحت کے بعد کہ پوری انسانیت کی فلاح کی علَم بردار ایک عالم گیر اصولی تحریک کے داعیوں کی حیثیت سے مسلمانوں کا دنیا کی دوسری اقوام کے ساتھ مادّی مفادات کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، اس حیثیت کے عملی تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ حیثیت اختیار کرنے اور اس تحریک کو لے کر اٹھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے شخصی اور قومی مفاد اور اغراض کو بھول جائیں، تمام تعصبات سے بالاتر ہوجائیں، اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے نظر ہٹالیں جن سے ہمارے حقیر دُنیوی فوائد کا تعلق ہے۔ اگر ہم نام نہاد مسلم قوم کے تعصب میں مبتلا ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہندو یا سکھ یا عیسائی کے دل کا دروازہ ہماری پکار کے لیے کھل جائے۔ اگر ہم ]نام کی مسلم[ ریاستوں کی حمایت محض اس لیے کریں کہ ان کے ]حکمران[ مسلمان ہیں اور ان سے مسلمانوں کو کچھ معاشی سہارا مل جاتا ہے، تو کوئی احمق ہی ہوگا جو اس کے بعد بھی یہ باور کرلے گا کہ ہم اسلام کے نظریۂ سیاسی پر ایمان رکھتے ہیں اور واقعی حکومتِ الٰہی قائم کرنا ہمارا نصب العین ہے۔“
جماعت اسلامی کا مقصود.. فلاحِ انسانیت: اس فرق کو پوری طرح جاننے ہی کا نتیجہ تھا کہ اگست 1941ء میں جب مولانا مودودیؒ کی اس دعوت پر پورے ہندوستان سے لبیک کہنے والے75 افراد پر مشتمل جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا تو مولانا مودودیؒ نے اپنی تاسیسی تقریر میں واضح کردیا کہ یہ جماعت دنیا بھر کے انسانوں کی فلاح کے لیے اٹھی ہے۔ اُس دور میں مسلمانوں کی جو دوسری تنظیمیں موجود تھیں، ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے امتیاز پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا:
”ان تحریکوں کی نظر صرف ]مقامی[ مسلم قوم تک محدود رہی ہے۔ کسی نے وسعت اختیار کی تو زیادہ سے زیادہ بس اتنی کہ دنیا کے مسلمانوں تک نظر پھیلا دی۔ مگر بہرحال یہ تحریکیں صرف اُن لوگوں تک محدود رہیں جو پہلے سے ’’مسلم قوم“ میں شامل ہیں، اور ان کی دل چسپیاں بھی انھی مسائل تک محدود رہیں، جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ ان کے کاموں میں کوئی چیز ایسی شامل نہیں رہی ہے، جو غیرمسلموں کو اپیل کرنے والی ہو، بلکہ بالفعل ان میں سے اکثر کی سرگرمیاں غیر مسلموں کے اسلام کی طرف آنے میں الٹی سدِّراہ بن گئی ہیں۔ لیکن ہمارے لیے چونکہ خود اسلام ہی تحریک ہے اور اسلام کی دعوت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہے، لہٰذا ہماری نظر کسی خاص قوم یا کسی خاص ملک کے وقتی مسائل میں الجھی ہوئی نہیں ہے، بلکہ پوری نوعِ انسانی اور سارے کرۂ زمین پر وسیع ہے۔ تمام انسانوں کے مسائلِ زندگی ہمارے مسائلِ زندگی ہیں، اور اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت سے ہم ان مسائلِ زندگی کا وہ حل پیش کرتے ہیں،جس میں سب کی فلاح اور سب کے لیے سعادت ہے۔“ (روداد جماعت اسلامی، حصہ اول، ص 11)
اسلامی تحریکیں اور غیرمسلموں میں دعوت: یہاں اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ اسلامی تحریک کی آفاقی حیثیت کا اتنا واضح شعور موجود ہونے کے باوجود جماعت اسلامی سمیت عالمی اسلامی انقلاب کی داعی کوئی بھی تحریک آخر آج بالفعل پوری دنیا کے انسانوں کو یکساں طور پر مخاطب کرتی اور مسلمانوں کے وقتی اور مقامی مسائل اور مختلف قوموں کے ساتھ ان کے قومی حقوق اور مفادات کے جھگڑوں سے بالاتر رہتے ہوئے، مکمل غیر جانب داری کے ساتھ دنیا کے تمام انسانوں کو بندگیِ رب کی وہ دعوت دیتی کیوں دکھائی نہیں دیتی، جو خاتم الانبیاؐ کی امت کی حیثیت سے مسلمانوں کا اصل مشن ہے؟ برائے نام مستثنیات کو چھوڑ کر ان کا سارا کام صرف نسلی مسلمانوں تک کیوں محدود ہے؟ عملاً ان کی ساری دل چسپیاں صرف مسلمانوں کے مفادات کے گرد کیوں گھومتی ہیں؟ اور خیرخواہی کے سچے جذبے کے ساتھ غیر مسلم دنیا کو دوزخ سے بچاکر جنت میں لے جانے کی کوئی واضح فکر اور اس کے لیے عملی کوشش ان کے ہاں کیوں نظر نہیں آتی؟
ماڈل اسلامی ریاست کے قیام کی حکمتِ عملی: ہماری عاجزانہ رائے میں کم ازکم پاکستان کی حد تک اسلامی تحریک کے عملی رویّے میں یہ فرق آزادی کے بعد ساری توجہات کے اس بات پر مرتکز ہوجانے کی وجہ سے رونما ہوا کہ پہلے پاکستان کو ایک ماڈل اسلامی ریاست بنایا جائے اور اس کے بعد پوری دنیا کو اسلام کی دعوتِ عام دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے، کیونکہ جب ایک نمونے کی اسلامی ریاست موجود ہوگی تو پوری دنیا اسلام کے نظام عدل و رحمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی اور اس کے لیے دلوں کے دروازے خودبخود کھلتے چلے جائیں گے۔ یہ کوئی غیر شعوری رویہ نہیں تھا، بلکہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت اسے اختیار کیا گیا تھا۔ چنانچہ 1970ء میں پاکستان میں ہونے والے پہلے عام انتخابات کے موقع پر جماعت اسلامی کے انتخابی منشور کے دیباچے میں یہ بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے:
”یہ جماعت کوئی قوم پرست یا وطن پرست جماعت نہیں ہے بلکہ اس کا نظریۂ حیات عالم گیر ہے اور پوری انسانیت کی فلاح اس کے پیش نظر ہے، مگر وہ یقین رکھتی ہے کہ جب تک ہم خود اپنے ملک کو اسلامی نظام کا مثالی نمونہ نہ بنادیں، اور جب تک ہم یہ ثابت نہ کردیں کہ جس حق و صداقت پر ہم ایمان کا دعویٰ کررہے ہیں اس پر خود بھی عمل کررہے ہیں، اور جب تک ہم یہ نہ دکھادیں کہ اس پر عمل کرنے کے کیسے بہتر نتائج ہمارے ملک میں برآمد ہوئے ہیں، اُس وقت تک ہم دنیا کو اس کے حق اور صداقت ہونے کا قائل نہیں کرسکتے۔“
اسی مقصد کے لیے جماعت نے قراردادِ مقاصد کی منظوری کے نتیجے میں پاکستان کے اصولی طور پر اسلامی ریاست قرار پاجانے کے بعد انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم انتخابات میں حصہ لینے کا اصل مقصد اس ذریعے سے اپنی دعوت لوگوں تک پہنچانا تھا اور مقصود یہ تھا کہ مسلسل انتخابی عمل بالآخر لوگوں میں بھلے برے کا شعور پیدا کردے گا اور معاشرہ اس تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجائے گا جو جماعت اسلامی کو مطلوب ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب ”تحریکِ اسلامی کا آئندہ لائحۂ عمل“ میں انتخابی سیاست میں شرکت کی یہی حکمت بتائی ہے۔
پائیدار انقلاب کی بنیاد: سیاسی جوڑ توڑ یا کسی اور شارٹ کٹ کے ذریعے معاشرے کو ذہنی طور پر تیار کیے بغیر اقتدار کا حصول کبھی ان کے پیش نظر نہ تھا۔ یہ بات وہ ہر اُس جگہ کہتے رہے، جہاں اس کی ضرورت تھی، مثلاً ”تفہیمات“ جلد سوم کے آخری صفحے پر ان کی یہ ہدایت آج بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ:
”اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی بے صبری اور جلدبازی ہی کی ایک صورت ہے، اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی نسبت زیادہ خراب۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک کے ذریعے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے، بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے، لوگوں کے خیالات بدلیے، اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا، وہ ایسا پائیدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف قوتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلدبازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا، اسی راستے سے مٹایا بھی جاسکے گا۔“
تحریک ِاسلامی کی اصل ذمہ داری: مولانا مودودیؒ اپنی اس رائے پر اپنی زندگی کے آخری مراحل تک پوری طرح قائم رہے۔ چنانچہ 1970ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی کی ناکامی کے تناظر میں جب 1974ء میں نوجوانوں کے ایک اجتماع میں ان سے پوچھا گیا کہ ’’جماعت اسلامی 30،40 سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود اقتدار حاصل نہ کرسکی اور پاکستان پیپلز پارٹی چندسال کے اندر ہی اقتدار تک پہنچ گئی اور آج وہ ملک کے سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ کیا یہ بات تحریکِ اسلامی کی غیر مقبولیت کا ثبوت نہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا:
”جماعت اسلامی کو سچائی نے شکست نہیں دی، جھوٹ نے شکست دی ہے۔ جماعت اسلامی اگر سچائی سے شکست کھاتی تو فی الواقع اس کے لیے شدید ندامت کا مقام تھا۔ لیکن چونکہ اس نے جھوٹ سے شکست کھائی ہے اِس لیے اس کا سر فخر سے بلند ہے۔ وہ جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں لائی۔ وہ بداخلاقی کے مقابلے میں بداخلاقی نہیں لائی۔ اس نے سڑکوں پر رقص نہیں کیا۔ اس نے غنڈوں کو منظم نہیں کیا۔ اس نے برسرعام گالیاں نہیں دیں۔ اس نے لوگوں سے جھوٹے وعدے نہیں کیے۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ جھوٹے وعدوں کے فریب میں لوگ مبتلا ہورہے ہیں۔ کچھ لوگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ’’کچھ نہ کچھ آپ کوبھی کرنا چاہیے“۔لیکن میں اس زمانے میں برابر لوگوں سے کہتا رہا کہ چاہے آپ کو ایک نشست بھی نہ ملے لیکن آپ سچائی کے راستے سے نہ ہٹیں۔وہ وعدہ جسے آپ پورا نہ کرسکتے ہوں وہ آپ نہ کیجیے۔کوئی ایسا کام نہ کیجیے جس سے خدا کے ہاں آپ پر یہ ذمہ داری آجائے کہ آپ بھی اس قوم کے اخلاق بگاڑ کر آئے ہیں۔ آپ بھی اس قوم کو جھوٹ، گالی گلوچ اور دوسری اخلاقی برائیوں میں مبتلا کرکے آئے ہیں۔جو ذمہ داری آپ پر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو اللہ اور رسولؐ کا بتایا ہوا راستہ ہے ،اس کے مطابق کام کریں۔آپ نے کوئی ٹھیکہ نہیں لیا ہے کہ اس ملک کے اندر ضرورہی اسلامی نظام قائم کریں گے۔اسلامی نظام کا قیام تو اللہ کی تائید اور توفیق پر منحصر ہے، اور اس قوم کی صلاحیت اور استعداد پر منحصر ہے جس کے اندر آپ کام کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو اس قابل سمجھتا ہے یا نہیں کہ اس کو اسلامی نظام کی برکتوں سے مالا مال کرے، یا ان کو تجربوں کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دے جن کی ٹھوکریں وہ آج کھارہی ہے۔آپ کاکام اللہ اور رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر محنت کرنا ہے، جان کھپانا ہے۔ اس میں اگر آپ کوتاہی کریںگے توماخوذ ہوں گے۔ اس میں اگر آپ کوتاہی نہیں کرتے تو خدا کے ہاں کامیاب ہیں، خواہ دنیا میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں۔“(تصریحات،ص 277-278)
علمی و فکری انقلاب.. غلبۂ اسلام کی واحد راہ: یہ بات واضح ہے کہ پوری دنیا کو اسلام کی دعوتِ عام سے پہلے پاکستان میں انتخابی اور سیاسی طریقوں سے مطلوبہ معاشرتی تبدیلی کے لیے جدوجہد کو اولیت دینے کا جو فیصلہ مولانا مودودیؒ کی قیادت میں کیا گیا، اس کے پیچھے بھی اصل خیال یہی تھا کہ ماڈل اسلامی ریاست کے قیام سے دنیا کے لیے اس نظام کو سمجھ کر قبول کرنے کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ یہ بات ایک تدبیر کے طور پر اگرچہ درست تھی، لیکن چونکہ پاکستان کا قیام کسی شعوری اسلامی تحریک کے بجائے مسلم قومیت کی جذباتی تحریک کا نتیجہ تھا، لہٰذا یہاں نہ قیادت کسی حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے تیار تھی اور نہ عوام ہی اس کے تقاضوں سے آگاہ تھے۔ نتیجہ یہ کہ یہاں اسلامی نظام کا قیام نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی عمل میں نہ آسکا، اور دینی و لادینی قوتوں کے درمیان ر سّاکشی آج بھی جاری ہے۔ اس کے باوجود یہ جدوجہد اپنی جگہ انتہائی اہم ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے، تاہم چونکہ ساری توجہ اسی پر مرتکز ہوجانے کی وجہ سے اسلامی تحریک کی دل چسپیوں کا دائرہ عملی طور پر رفتہ رفتہ صرف پاکستان اور زیادہ سے زیادہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے مسائل تک محدود ہوکر رہ گیا ہے، اور پوری انسانی برادری کو یکساں طور پر اور مکمل غیر جانب داری کے ساتھ اللہ کی طرف بلانے کا کام نہیں ہوپارہا ہے جس کی وجہ سے اس کے پروگرام میں غیر مسلم دنیا کو اپنے لیے کوئی کشش نظر نہیں آتی۔ اس لیے مقامی سطح پر نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مولانا مودودیؒ کی ہدایت کے مطابق تحریکِ اسلامی کے دائرہ کار کو پوری انسانی برادری تک وسعت دینے کا پروگرام مرتب کیا جانا اور روبۂ عمل لایا جانا چاہیے۔
مولانا مودودیؒ کے ہاں سے جو رہنمائی ملتی ہے اس کی رو سے دنیا سے غیراﷲ کی حاکمیت کے خاتمے اور اﷲ کی زمین پر اﷲ کی حاکمیت کے قیام کا یہ کام‘ عالمی سطح پر ایک علمی و فکری انقلاب برپا کرکے ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:’’اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا سوادِ اعظم اب بھی اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے لیکن دماغ مغربی افکار اور مغربی تہذیب سے متاثر ہوکراسلام سے منحرف ہورہے ہیں‘ اور یہ انحراف بڑھتا چلا جارہا ہے۔سیاسی غلبہ و استیلا سے قطع نظر‘ مغرب کا علمی و فکری دبدبہ اور تسلط دنیا کی ذہنی فضا پر چھایا ہوا ہے‘ اور اس نے نگاہوں کے زاویے اس طرح بدل دیے ہیںکہ دیکھنے والوں کے لیے مسلمان کی نظر سے دیکھنا اور سوچنے والوں کے لیے اسلامی طریق پرسوچنا مشکل ہوگیا ہے۔یہ اشکال اس وقت تک دور نہ ہوگا‘ جب تک مسلمانوں میں آزاد اہل فکر پیدا نہ ہوں گے۔ اب اگر اسلام دوبارہ دنیا کا رہنما بن سکتا ہے تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکرونظر اور تحقیق و اکتشاف کی قوت سے اُن بنیادوں کوڈھادیں جن پر مغربی (لادینی) تہذیب کی عمارت تعمیر ہوئی ہے۔قرآن کے بتائے ہوئے طریق فکر و نظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجو سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بنیاد رکھیںجو خالص اسلامی فکر کا نتیجہ ہو۔ایک نئی حکمت طبیعی(نیچرل سائنس) کی عمارت اٹھائیں جو قرآن کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اٹھے۔ملحدانہ نظریے کو توڑ کر الٰہی نظریے پر فکرو تحقیق کی اساس قائم کریںاور اس جدید فکروتحقیق کی عمارت کو اس قوت کے ساتھ اٹھائیں کہ وہ تمام دنیا پرچھاجائے اور دنیا میں مغرب کی مادّی تہذیب کے بجاے اسلام کی حقانی تہذیب جلوہ گر ہو‘‘۔ (تنقیحات‘ص:۱۹-۲۰)
وقت کا اصل تقاضا: در اصل یہی وہ راستہ ہے جسے اختیار کرکے دنیا کو یہ حقیقت باور کرائی جاسکتی ہے کہ اسلام تمام نوع انسانی کو ظلم اور بے انصافی سے نجات دلانے اور عزت و شرف اور فلاح و ترقی کی حقیقی شاہراہ پر گام زن کرنے والا واحدنظام زندگی ہے اور کسی مخصوص انسانی گروہ کے مفادات کا تحفظ اس کا مقصود نہیں ہے۔اس طرح پوری دنیا کے انسانوں کے دلوں کے دروازے دعوت اسلامی کے لیے کھلنے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ جس معاشرتی تبدیلی کا پرچم لے کر اٹھے تھے‘اس راستے کو اختیار کیے بغیر اس کے وقوع پذیر ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ مادّی وسائل میں ساری کم تری کے باوجودعقیدے اور فکر کا یہ میدان وہ ہے‘ جس میں دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو شکست نہیں دے سکتی ۔مغرب کی مادّی تہذیب پر اس میدان میں اسلام کو یقینی برتری حاصل ہے۔وہ انسانیت کے مسائل کو حل کرنے‘ظلم کو ختم اور انصاف کو قائم کرنے میں قطعی ناکام ہوچکی ہے اور اپنے ہی تضادات کا شکار ہوکر تیزی سے روبہ زوال ہے ۔ یہ تہذیب قرآن کی روشنی میں کی گئی تنقید کا مقابلہ کرنے کی ہرگز سکت نہیں رکھتی۔
اس کام کو شروع کرنے کے لیے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ مسلمان پہلے سائنس اور ٹکنالوجی میں جدید مادّہ پرست قوتوں کے ہم پلہ ہوجائیں‘صنعت و حرفت میں ان کی برابری کرنے لگیں اورفوجی طاقت میں ان کی ٹکر پر آجائیں۔مولانا مودودیؒ کے بقول اس کام کا آغاز تمام وسائل سے محروم پوری دنیا میں ایک اکیلا شخص بھی کرسکتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ وقت کی نمرودی اور فرعونی تہذیبوں کو چیلنج کرنے کا یہ کام ہمیشہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام جیسے ظاہری دنیاوی وسائل سے سراسر محروم انسانوں ہی نے کیا ہے۔البتہ آج کی اسلامی تحریکوں کو یہ کام کرنے کے لیے اپنے آپ کو عملاً محض مسلمانوں کے قومی مفادات کی وکالت اور اس سلسلے میں دوسری اقوام کے ساتھ ان کے تنازعات میں جانبداری سے بالاتر ہونا پڑے گا۔کیونکہ ایسا نہ کرنے کا مطلب مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم’’وسیع تر انسانیت کو اپیل کرنے کا دروازہ خود ہی بند کردیں‘‘۔اس حوالے سے اپنے مشہور مقالے اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟ میں وہ کہتے ہیں:
اصولی حکومت کے تخیل کی تو بنیاد ہی یہ ہے کہ ہمارے سامنے قومیں اور قومیتیں نہیں‘ صرف انسان ہیں۔ہم ان کے سامنے ایک اصول اس حیثیت سے پیش کرتے ہیں کہ ’اسی پر تمدن کا نظام اور حکومت کا ڈھانچا تعمیر کرنے میں ان کی فلاح ہے‘اور جو اس کو قبول کرلے وہ اس نظام کو چلانے میں برابر کا حصہ دار ہے۔غور کیجیے اس تخیل کو لے کر وہ شخص کس طرح اٹھ سکتا ہے جس کے دماغ‘ زبان‘ افعال اور حرکات‘ ہر چیز پر قومیت اور قوم پرستی کا ٹھپہ لگا ہوا ہو۔اس نے تو وسیع تر انسانیت کواپیل کرنے کا دروازہ خود ہی بند کردیا‘پہلے ہی قدم پر اپنی پوزیشن کو آپ غلط کرکے رکھ دیا۔قوم پرستی کے تعصب میں جو قومیں اندھی ہورہی ہیں‘جن کے لڑائی جھگڑوں کی ساری بنیادہی قوم پرستی اور قومی ریاستیں ہیں‘ ان کو انسانیت کے نام پر پکارنے اور انسانی فلاح کے اصول کی طرف بلانے کا آخر یہ کون سا ڈھنگ ہے کہ ہم خود اپنے قومی حقوق کے جھگڑوں سے اس دعوت کی ابتدا کریں؟ (تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘ ج ۲‘ ص ۱۶۶)
اعترافِ حق کی منزل قریب ہے: حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے حالات بندگیِ رب کی دعوت کی اشاعت اور قبولیت کے لیے جتنے آج سازگار ہیں‘ انسانی تاریخ کے کسی دور میں نہیں رہے۔ہر نبی کے دعوت کی راہ میں عموماً سب سے بڑی رکاوٹ تقلید آبا کا روگ ہوتا تھا۔ لوگ صاف کہہ دیتے تھے کہ ہم تو وہی کچھ کریں گے جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ آج کی دنیا میں یہ روایت پرستی بالکل ختم ہوچکی ہے اور جدید دور کے انسان سے دلیل کی بنیاد پر بات کی جاسکتی ہے۔سائنس کے نام پر انکارِ خدا کا فتنہ بھی دم توڑ چکا ہے اور جدید سائنس ‘تخلیق کائنات کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈ یاخالق کی موجودگی کی پوری طرح قائل ہے۔اشتراکیت کا نظریہ اپنی جنگ ہار چکا ہے ‘جب کہ سرمایہ داری نے دنیا کو ظلم اور فساد سے بھردیا ہے۔ اس کے نتیجے میںآج کا انسان شعوری یا لاشعوری طور پر ایک ایسے نظامِ زندگی کا متلاشی ہے جو اس کی روحانی پیاس بھی بجھائے اور دنیا کے معاملات میں اس کے لیے انصاف ‘ عافیت اور خوش حالی کاضامن بھی ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ و مواصلات نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ایک چھوٹا سا گاؤں بنادیا ہے۔ ٹیلی وژن کے سٹیلائٹ چینل اور انٹر نیٹ جیسی ایجادات نے ہر ایک کے لیے پوری دنیا تک بیک وقت اپنا پیغام پہنچانے کی سہولت مہیا کردی ہے۔ان حالات میں یہ بات واضح ہے کہ اب دنیا میں جو تبدیلی بھی آئے گی‘ عالمی سطح ہی پر آئے گی۔ افکار و رجحانات کے عالمی سرچشموں سے دنیا کا کوئی گوشہ اثرپذیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جس کا پیغام زیادہ موثر اور جان دار ہوگا بالآخر وہی جدید انسان کے ذہن کو مسخر کرنے اور اس کا دل جیتنے میں کامیاب رہے گا۔آج اگر مغرب اپنے پروپیگنڈے کی طاقت سے دنیا کو باور کرارہا ہے کہ اسلام دہشت گردی کا دوسرا نام ہے‘ تو انھی جدید ذرائع سے لوگوں تک اسلام کی صحیح دعوت پہنچاکر کل صورت حال یکسر بدلی بھی جاسکتی ہے‘کیونکہ اسلام بہرحال حق ہے اوریہ فطرت کا اٹل قانون ہے کہ روشنی کے سامنے اندھیرا کبھی نہیں ٹھیرتا۔ جاء الحق وزھق الباطل‘ انّ الباطل کان زھوقا۔دنیا کی یہ کیفیت اس امر کا کھلا اشارہ ہے کہ جو نبی ؐ پوری انسانیت کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اور جس کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانے کی ذمہ داری اس کی امت کے سپرد کی گئی ہے‘ اس نبیؐ کے مشن کی تکمیل کا وقت آپہنچا ہے۔
دور حاضر میں اسلامی تحریک کو اپنی حکمت عملی وقت کے اس تقاضے کے مطابق ترتیب دینی چاہیے۔ مقامی طور پر نفاذ اسلام کی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مولانا مودودی ؒکے افکار کے مطابق عالمی محاذ پرعلمی و فکری کام کے لیے بھی اسے اپنے وسائل اور صلاحیتوں کا معقول حصہ وقف کرنا چاہیے‘ اور ان کاوشوں کو جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے تمام دنیا تک پورے اہتمام کے ساتھ پہنچاناچاہیے۔ان کوششوں کے نتیجے میں عین ممکن ہے کہ نفاذ اسلام کا سلسلہ کسی مسلمان ملک کے بجاے کسی ایسے غیر مسلم ملک سے شروع ہوجائے جس کے بارے میں ابھی سوچابھی نہ جاسکتا ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے اﷲ کے نبیؐ کی دعوت مکہ میں اس کے ہم وطنوں سے پہلے حبش کے بادشاہ اور مدینہ کے اجنبیوں نے قبول کی ۔ داس کیپی ٹال جس ملک میںلکھی گئی اس کی بنیاد پر انقلاب اس ملک سے ہزاروں میل دور زاروں کی سرزمین اور چیانگ کائی شیک کے وطن میں برپا ہوا۔ ابوجہل اور ابولہب کی صفوں سے اگر ڈیڑھ ہزار برس پہلے لشکر اسلام کو عمرؓ بن خطاب اور خالدؓ بن ولید جیسے مردانِ کار دستیاب ہوسکتے تھے توآخرآج کعبے کو صنم خانوں سے پاسباں کیوں میسر نہیں آسکتے ؟پھر جدید ذرائع ابلاغ کے باوجود اپنے ملک میں نفاذ اسلام کے انتظار میں بندگیِ رب کی دعوت دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچانے سے رکے رہنے کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے۔ اس دعوت کا تعلق صرف اجتماعی معاملات سے نہیں‘ ہر فرد کی انفرادی فلاح و نجات سے بھی ہے۔ لہٰذا اس سے ناواقفیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے والا ہر شخص رب کائنات کے حضور یہ شکایت کرنے میں بالکل حق بجانب ہوگا کہ جن لوگوں کوآپ نے اپنے آخری پیغام کا امین اورپوری دنیا کے لیے اس حق کا گواہ بنایا تھا‘وسائل موجود ہونے کے باوجودانھوں نے یہ پیغام ہم تک نہیں پہنچایا‘ اس لیے ہمارے دوزخ میں جانے کے اصل ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔
آج غیروں کی زیادتیوں کے ردعمل میں چلنے والی احتجاجی تحریکوں پرمسلمانوں کے جو وسائل صرف ہورہے ہیں اور جتنی جانی قربانیاں ان تحریکوں کے وابستگان دے رہے ہیں ‘اگر یہ مالی وسائل اور یہ انسانی توانائیاں دنیا تک اسلام کے پیغام کو قومی حقوق اور مفادات کے جھگڑوں سے بالاتررہتے ہوئے پوری انسانیت کے لیے خیرخواہی کے سچے جذبے کے ساتھ پہنچانے پر صرف کی جائیں‘ تو یقینی طور دنیا میں اسلام کی مقبولیت کے حوالے سے کہیں بہتر نتائج رونما ہوسکتے ہیں۔پوری دنیا پراﷲ کی حاکمیت کے قیام کے لیے مولانا مودودی ؒنے اسی راستے کی نشان دہی کی ہے‘ اورانسانی معاشرے میں مولانا مودودیؒ کے وژن کے مطابق تبدیلی برپا کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کا اختیار کیا جانا ضروری ہے۔
مصنف: ثروت جمال اصمعی
زبان: اردو
زبان: اردو