اسلامی ریاست

اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اُصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے۔ اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔
اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرامؑ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کےلیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد، اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضا ہے۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور سیاست کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔
زیر نظر کتاب’’اسلامی ریاست‘‘مفکرِ اسلام مولا نا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کی تصنیف ہے ۔جس میں انھوں نے بیک وقت ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کی کما حقہ کوشش کی ہے ۔ ایک طرف انھوں نے اسلام کےپورے نظام حیات کودینی اور عقلی دلائل کےساتھ اسلام کی اصل تعلیمات کودورحاضر کی زبان میں پیش کیاہے ۔ ان کی تحریرات کےمطالعہ سے قاری کوزندگی کے بارے میں اسلام کے نقظہ نظر کا کلی علم حاصل ہوتا ہے اوروہ پوری تصویر کو بیک نظر دیکھ سکتا ہے۔انھوں نےہر مرعوبیت سے بالا تر ہوکر دورحاضرکے ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اورفوقیت کوثابت کیا ہے۔پھر یہ بھی بتایا ہےکہ اس نظام کودور حاضر میں کیسے قائم کیا جاسکتا ہے اور آج کے اداروں کوکس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتاہے ۔انھوں نے اسلامی ریاست کے ہمہ پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئےدور جدید کے تقاضوں کوسامنے رکھ کر اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کیاہے ۔کتاب ہذا دراصل مولانامودودی کے منتشر رسائل ومضامین کامجموعہ ہے جسے پروفیسر خورشید احمد صاحب (مدیر ماہنامہ ترجمان القرآن)نے بڑے حسن ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومرتب کی اشاعتِ اسلام کےلیے کی جانے والی تمام کاوشوں کو قبول فرماے۔آمین

دیباچہ

از: مصنف
پچھلے بیس پچیس سال کے دوران میں، مجھے اسلام کے سیاسی نظام پر بہت کچھ لکھنے اور کہنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے اس موضوع پر اور اس کے بہت سے متعلقات پر اصولی و نظری بحثیں بھی کی ہیں، اور اس امر پر بھی اچھی خاصی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کہ اس زمانے میں عملاً ایک اسلامی ریاست کس نقشے پر بن سکتی ہے۔ یہ مضامین اس طویل مدت کے دوران میں مختلف مواقع پر مختلف مناسبتوں سے لکھے گئے ہیں، یا تقریر کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں، اور مختلف صورتوں میں طبع بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ایک مدت تک ان کو یکجا ایک کتابی شکل میں مرتب نہیں کیا جاسکا تھا۔
چند سال پہلے جناب خورشید احمد صاحب نے میرے متعدد مضامین کو’’اسلامی ریاست‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا تھا، لیکن اس وقت سارا مواد استعمال نہ کیا جاسکا تھا۔ نیز اس مجموعے میں نظری مباحث اور پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے کے مضامین یکجا کردیے تھے۔ اب ادارہ معارف اسلامی ( کراچی) کے زیر اہتمام جناب خورشید احمد صاحب نے اس موضوع سے متعلق میرے تمام مضامین کو دو حصوں میں مرتب کر دیا ہے۔
٭ پہلے حصے میں اسلامی ریاست کے تمام نظری مباحث سمو دیے ہیں۔
٭ اور دوسرے حصے میں پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے کے سب مضامین یکجا کر دیے ہیں۔
اب ایک قاری کے سامنے بیک وقت اسلام کے سیاسی نظریے اور اس کے نظام ریاست کی پوری تصویر آجاتی ہے۔ اس سے پہلے اس تصویر کا ایک ایک رخ تو مختلف اوقات میں دکھایا جاتا رہا تھا، مگر ایک ہی مرقع میں پوری تصویر سامنے نہیں آسکی تھی۔ یہی اس مجموعے کا اصل فائدہ ہے۔
میں نے اس پوری کتاب پر از سرِ نو نظر ثانی کرلی ہے اور ترتیب میں بھی میرا مشورہ شامل رہا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اپنی موجودہ صورت میں یہ کتاب، نہ صرف عام ناظرین کے لیے مفید ثابت ہوگی، بلکہ خاص طور پر اسلامیات اور علمِ سیاست کے طالب علم اسے اپنے لیے بہت فائدہ مند پائیں گے۔

خاکسار
ابو الاعلیٰ
لاہور
/۶شوال المکرم ۱۳۸۶ھ
مطابق۱۸ /جنوری ۱۹۶۷ء

مقدمہ

از: مرتب
انسان نے اپنی اجتماعی زندگی کی ترتیب و تہذیب کے لیے جو ادارے قائم کیے ہیں ان میں ریاست کا ادارہ سب سے اہم اور بنیادی ہے۔ ریاست وہ ہیئت ِ سیاسی ہے جس کے ذریعے ایک ملک کے باشندے ایک باقاعدہ حکومت کی شکل میں اپنا اجتماعی نظم قائم کرتے ہیں اور اسے قوت قاہرہ اور قوت نافذہ کا امین قرار دیتے ہیں۔ انسان نے اپنی تہذیبی زندگی کے آغاز سفر ہی میں اس ادارے کی ضرورت کو محسوس کرلیا تھا اور پوری انسانی تاریخ، ریاست کے قیام و استحکام‘ اس کی تنظیم و تہذیب اور اس کے فروغ و ارتقا کی تاریخ ہے۔
دورِ جدید میں عملی طریقوں کی ترقی اور اجتماعی زندگی میں نت نئی پیچیدگیوں کے راہ پا جانے کی وجہ سے ریاست کا دائرۂ کار برابر بڑھ رہا ہے۔ اب دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں ریاست کاکام محض امن و امان اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہی نہیں، بلکہ اجتماعی عدل اور سماجی فلاح کا قیام بھی ہے۔ آج ریاست نے ایک مثبت کردار (role)اختیار کر لیا ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔
۱ ۔ ریاست اور اسلام
اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔ انبیاء کرام علیہم السلام وقت کی اجتماعی قوت کو اسلام کے تابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار خدا اور صرف خدا کے لیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کر دیا جائے۔ ان میں سے ہر ایک کی پکار یہی تھی کہ:
۱۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ الاعراف7:65
اے برادران قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔
اور ان میں سے ہر ایک نے خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنی قوم سے مطالبہ کیا کہ:
۲۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ الشعرآء26:163
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
خدا کے ان فرستادہ بندوں نے زندگی کے ہر شعبے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کی، تاکہ خدا کی زمین پر خدا کا دین قائم ہو، اور اسی کا قانون جاری و ساری ہو۔ ان کی یہ جدوجہد پوری زندگی کی اصلاح کے لیے تھی اور ریاست کی اصلاح ان ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ تھا۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ،حضرت دائود ؑ، حضرت سلیمان ؑ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔ بائبل اور تلمود کے مطالعے سے دوسرے انبیائے بنی اسرائیل کے بارے میں بھی اس کی شہادت ملتی ہے کہ انھوں نے ریاست کے ادارے کی اصلاح کی کوشش کی اور غلط قیادت پر بھرپور تنقید کی۔
فکر اسلامی میں ریاست کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ خالقِ ارض و سماوات اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھاتا ہے کہ:
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا
بنی اسرائیل17: 80
اور دعا کرو: اے پروردگار!مجھ کو جہاں بھی تو داخل کر‘ سچائی کے ساتھ داخل فرما اورجہاں سے بھی نکال، سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔
یہ آیت ہجرت نبوی سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس تاریخی پس منظر سے اس کی اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے اور اس سے ریاست کے ادارے کی اہمیت بالکل روشن ہو جاتی ہے اور اس آیت کا مفہوم مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے الفاظ میں یہ ہے کہ:
یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے اور اسی کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ: اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالاَ یَزَعُ بِالْقُرْآنِ۔۲؎
یعنی ’’اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے‘ وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں‘ بلکہ خدا پرستی کا عین تقاضا ہے۔ (تفہیم القرآن‘ ج۲‘ص ۶۳۸)
اس پر مزید روشنی مندرجہ ذیل آیات و احادیث سے پڑتی ہے:
۱۔ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۔ الحدید57:25
ہم نے اپنے رسول واضح نشانیاں دے کر بھیجے ہیں اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) اتاری ہے، تاکہ انسان انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے اتارا لوہا (ریاست کی قوت و جبروت) جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے بہت فوائد ہیں۔
۲۔ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ
الصّف61: 9
وہی ہے (ذات باری تعالیٰ) جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
۳۔ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ المائدہ5:44
اور وہ جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں۔
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْاِسْلَامُ وَالسُّلْطَانُ اَخَوَانِ تَوَامَانِ لَایَصْلَحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا اِلاَّ بِصَاحِبٍ فَالْاِسْلَامُ اَسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَمَالَالِاَسٍّ لَہ‘ لَیَھْدِ مُ وَمَا لَاحَارِسٌ لَہ‘ ضَائِعٌ۔ (کنزالعمال)
اسلام اورحکومت و ریاست دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے، جس عمارت کی بنیاد نہ ہو، وہ گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو، وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔
اسلامی فکر میں دین اور سیاست کی دُوئی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کو اسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ یہ جدوجہد ان کے دین و ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ قرآنِ پاک اور احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جس طرح اخلاق اور حسن کردار کی تعلیمات پاتے ہیں، اسی طرح معاشرت‘ تمدن‘ معیشت اور سیاست کے بارے میں واضح احکام بھی پاتے ہیں۔ اس دوسرے حصے پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی ریاست ہو، اور اگر اس حصے پر عمل نہ کیا جائے تو شریعت کا ایک حصہ معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن کے تصور کا معاشرہ وجود میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے امت نے متفقہ طور پر نصب امامت کو فرض قرار دیا ہے اور اس بارے میں کوتاہی ایک دینی حکم کی بجا آوری میں کوتاہی ہے۔ علامہ ابن حزم اپنی کتاب ’’الفصل بین الملل و النحل‘‘ میں لکھتے ہیں:
اِتَّفَقَ جَمِیْعُ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَجَمِیْعُ الْمَرجِیْئَۃِ وَجَمِیْعُ الشِّیْعَۃِ وَجَمِیْعُ الْخَوَارِجِ عَلٰی وُجُوْبِ الْاِمَامَۃِ وَاَنَّ الِاْمَامَۃَ وَاجِبٌ عَلَیْھَا الْاِ نْقَیَادُ لِاِمَامٍ عَادِلٍ یُقِیْمُ اَحْکَامَ اللّٰہِ وَ یَسُوْ سُھُمْ بِاَحْکَامِ الشَّرِیْعَۃِ الَّتِیْ اَتٰی بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ ۳؎
کل اہل سنت‘ مرجیہ‘ شیعہ اور خوارج سب کا اتفاق ہے کہ نصب امام واجب ہے اور یہ کہ امت پر ایسے امام عادل کی اطاعت واجب ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام قائم کرے اور ان احکامِ شریعت کے مطابق ان کا سیاسی نظام قائم کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔
اور شاہ ولی اللہؒ لکھتے ہیں:
مسلمانوں پر جامع شرائط خلیفہ کا مقرر کرنا واجب بالکفایہ ہے اور یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔۴؎
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ عملاً صحابہ کرامؓ نے نصب امام کو کتنی اہمیت دی تھی‘ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جسد مطہر کی تجہیز و تدفین سے بھی پہلے امام کا انتخاب عمل میں آیا‘ جس نے آپؐ کے قائم کیے ہوئے نظام کو تھام لیا اور پھر پوری شانِ مرکزیت کے ساتھ سارے کام انجام دیے۔ اسلام مادی اقتدار چاہتا ہے اور اس کے بغیر وہ اپنا مشن پورا نہیں کرسکتا۔ یہ اقتدار بجائے خود مقصود نہیں ہے لیکن دعوت کی تکمیل اور اصلاحِ انسانیت کے عظیم کام کی انجام دہی کے لیے ناگزیر ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے اس نکتے کو واضح کر دیا کہ اسلام کا مادی اقتدار اس کے روحانی اقتدار کا ذریعہ ہے اور اس کے نتیجے میں نیکیوں کا قیام اور برائیوں کا استیصال واقع ہوتا ہے:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ الحج22:41
یہ مسلمان وہ ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں صاحب اقتدار کر دیا (یعنی ان کا حکم چلنے لگا) تو وہ نماز قائم کریں گے‘ ادائے زکوٰۃ میں سرگرم ہوں گے‘ نیکیوں کا حکم دیں گے‘ برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجامِ کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
ہماری اب تک کی بحث سے یہ نتائج نکلتے ہیں:
۱۔ ریاست کا ادارہ انسانی سماج کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر منظم اجتماعی زندگی کا تصور مشکل ہے۔
۲۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کے لیے ہدایت ہے اور اس نے اجتماعی زندگی کے لیے بھی واضح رہنمائی دی ہے۔
۳۔ اسلام دین و سیاست میں کسی تفریق کا روادار نہیں۔ وہ پوری زندگی کو خدا کے قانون کے تابع کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے سیاست کو بھی اسلامی اصولوں پر مرتب کرتا ہے اور ریاست کو اسلام کے قیام اور اس کے استحکام کے لیے استعمال کرتا ہے۔
۴۔ یہ روش دنیا اور آخرت دونوں میں عتاب الٰہی کی موجب ہے کہ کچھ احکامِ الٰہی کو تو تسلیم کیا جائے اور کچھ دوسرے احکام سے صرفِ نظر اور روگردانی اختیار کی جائے‘ خواہ خواہش اور نفس کی اندرونی وحشت کی بنا پر، یا کسی بیرونی دبائو یا مرعوبیت کی وجہ سے۔
۵۔ دین اور ریاست و حکومت کا اتنا قریبی تعلق ہے اور یہ ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہیں کہ اگر ریاست و حکومت اسلام کے بغیر ہوں تو ظلم اور بے انصافی کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں’چنگیزی‘ رونما ہوتی ہے اور اگر اسلام، ریاست و حکومت کے بغیر ہو تو اس کا ایک حصہ معطل ہو کر رہ جاتا ہے اور خدا کا دین حکمرانی اور غلبے کے بجائے غلامی اور مغلوبیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست کو اسلامی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ حکومت اسلام کی پابند ہو، اور اس کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔
۲۔دور جدید اور اسلامی ریاست
یہ تو ہے مسئلے کا دینی پہلو، لیکن اگر ہم دور حاضر کے تجربات کی روشنی میں اس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کا قیام وقت کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔ مغرب میں لادینی ریاست کا تخیل ایک خاص پس منظر کی پیداوار ہے۔ وہاں پاپائی نظام نے جو شکل اختیار کرلی تھی اور مذہب کے نام پر بادشاہوں سے گٹھ جوڑ کے ذریعے جن مظالم کو سند جواز دی گئی انھوں نے ایک ردعمل پیدا کیا۔ عیسائیت کی مخالفت میں اتنی بے اعتدالی پیدا ہوئی کہ خود مذہب ہی کے خلاف بغاوت کر دی گئی اور اس بغاوت کا سیاسی مظہر لادینی ریاست تھی۔
سیکولرزم کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ۱۸۳۲ء میں ہوا، جب جیکب ہولیک ] ۱۷۸۱ء۔ ۱۸۳۲ء[ نے سیاست کو مذہب سے پاک رکھنے کی یہ تحریک قائم کی۔ اس تحریک کی سربراہی اہل فکر و سیاست کے ہاتھوں میں رہی اور بہت جلد اس مسلک کو سیاسی قبولیت حاصل ہوگئی۔ مختصراً اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ مذہب کا دائرہ انفرادی زندگی تک محدود رہنا چاہیے اور اسے اجتماعی اور سیاسی زندگی میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ شروع میں بات صرف مذہب کے معاملے میں غیر جانب داری اور فرد کی کامل آزادی کی تھی، لیکن بعد میں اس تحریک کا ایک حصہ مذہب کی مخالفت اور جارحانہ مادیت اور اشتراکیت کا داعی بن گیا۔
مغرب میں لادینی ریاست کے جو اثرات رونما ہوئے ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ سیکولرزم نے تشکیک اور ذہنی پراگندگی کو پیدا کیا ہے۔ کوئی ایک نصب العین انسان کے سامنے نہیں رہا اور ایک قسم کی بے عقیدگی پھیل گئی ہے۔ یہ اسی ذہنی انتشار اور فکری تَشَتُّت ہی کا نتیجہ ہے کہ اشتراکیت اور فسطائیت جیسی تحریکوں نے جنم لیا اور انسان کو مادہ پرستی کی انتہا کی طرف لے گئیں۔ اشتراکیت کا مشہور نقاد آر۔ این کریوہنٹ لکھتا ہے:
’’اشتراکیت غربت و افلاس اور خراب سماجی حالات کی پیداوار نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اصلی کشش نچلے افلاس زدہ طبقات کے مقابلے میں، اچھی تنخواہ والے مزدوروں اور تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ کارکنوں کے لیے ہے۔ یہ اس امر کا نتیجہ بھی نہیں ہے کہ عوام میں اب سرمایہ دارانہ نظام کی خباثتوں اور بے انصافیوں کا شعور پیدا ہوگیا ہے اور نہ ہی یہ نظام پیداوار کی اکتا دینے والی یکسانی اور عدم تنوع کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے اور آخری تجزیہ ہمیں اسی نتیجے تک لاتا ہے کہ اشتراکیت ان نظریات کے مجموعے کا نام ہے جنھوں نے ہماری زندگی کے اس خلا کو پُر کیا ہے جسے منظم مذہب کے انہدام نے پیدا کیا تھا اور جو زندگی پر لادینیت کے غلبے کا لازمی نتیجہ تھا، اور اس نظام فکر و عمل کا مقابلہ اگر کیا جاسکتا ہے تو ایک دوسرے ہمہ گیر نظام حیات ہی سے کیا جاسکتا ہے جو کچھ دوسرے اصولوں کا علم بردار ہو‘‘۔۵؎
اور جو حضرات اشتراکیت کی طرف نہیں گئے‘ وہ ذہنی بے اطمینانی‘ روحانی اضطراب‘ جذباتی تَلَوُّن اور بے عقیدگی کا شکار ہوئے ہیں۔
۲۔ فرد کے سامنے نیا نصب العین صرف ذاتی اغراض و خواہشات کی تکمیل رہ گیا اور قومی پیمانے پر مصلحت اور موقع پرستی نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ظلم سے بھر دیا اور کوئی مستقل ضابطۂ اخلاق، ملکی اور قومی زندگی کے لیے باقی نہ رہا۔ نتیجتاً اس صدی نے دو ایسی ہولناک عالمی جنگوں کا مشاہدہ کیا جن میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد انسانیت کی پوری تاریخ کی تمام جنگوں کے مجموعی مقتولین و مجروحین کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
۳۔ اس کے عام اخلاقی اثرات بھی تباہ کن تھے۔ مستقل مزاجی‘ پامردی‘ جرأت‘ اور سب سے بڑھ کر نیکی اور بدی میں تمیز کا مادہ ختم ہونے لگا اور افادیت‘ مصلحت بینی اور ابن الوقتی انفرادی اور اجتماعی اخلاق کی بنیاد بن گئے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں سماجی اور معاشرتی برائیاں رونما ہوئیں جو معاشرے کو سکون و اطمینان سے محروم کیے ہوئے ہیں۔
۴۔ تجربے نے بتایا ہے کہ اگر خالص مادی فائدہ پیشِ نظر ہو اور کوئی اعلیٰ اخلاقی اور روحانی نظام موجود نہ ہو‘ تو محض مادی فائدہ بھی انسان کو حاصل نہیں ہوتا ہے۔
آرنلڈ ٹائن بی سیکولرزم کے نتائج کا جائزہ لے کر کھلے الفاظ میں اس کی ناکامی کا اعتراف کرتا ہے:
’’یہ اب واضح ہوگیا ہے کہ اگر صرف دنیاوی خوشی کو مقصد زیست بنا دیا جائے گا تو اس میں فرد کی مادی خوش حالی اور دنیاوی سکون کا حصول بھی ناممکن ہے۔ ہاں یہ قابلِ فہم ہے کہ اگر سیکولرزم سے بلند و بالا کوئی روحانی مقصد سامنے رکھا جائے تو ایک ضمنی نتیجے کی حیثیت سے انسان کو دنیاوی خوشی بھی حاصل ہو جائے۔۶؎ ‘
۵۔ پھر حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم عملاً ناکام ہی نہیں ہوا ہے، بلکہ تاریخ اب سیکولرزم سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو سیکولرزم آج ایک دقیانوسی اور ازکارِ رفتہ تصور ہے اور گردشِ ایام کے اس کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ سیکولرزم کچھ خاص تاریخی عوامل کی پیداوار تھا اور ایک مخصوص فضا ہی میں وہ کام کرسکتا ہے۔ اگر وہ عوامل موجود نہ ہوں تو اس کا قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔
سیکولرزم، جیسا کہ ہم نے اوپر کہا: اس نظام کو کہتے ہیں جس میں سیاسی اور ریاستی معاملات میں مذہب کو کوئی دخل نہ ہو۔ لیکن اگر مزید تجزیہ کیا جائے تو بات یہاں آجاتی ہے کہ یہ مذہبی اور نظریاتی غیر جانب داری کا داعی ہے۔ انیسویں صدی کی سیاسی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکولرزم‘ انفرادیت‘ قومیت اور معاشی امور میں مکمل آزادی اور ریاست کی عدمِ مداخلت سیاست کے بنیادی تصورات تھے، اور یہ تمام تصورات ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ سیکولرزم اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب ریاست صرف ایک دفاعی ادارہ (پولیس اسٹیٹ) ہو۔ یعنی اس کی ذمے داری محض نظم و نسق کو قائم رکھنا اور ملک کو بیرونی حملے اور اندرونی بدامنی سے بچانا ہو۔ ایسے ہی نظام ریاست میں فرد کو پوری پوری آزادی دی جاسکتی ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے اور صرف اسی صورت میں حکومت (کم از کم نظری حد تک) مذہبی اور نظریاتی غیر جانب داری کو روا رکھ سکتی ہے اور یہی تصور انیسویں صدی میں تھا لیکن آج ریاست کا تصور بدل گیا ہے۔ آج ریاست محض ایک عظیم الشان بت نہیں۔ آج یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک خاص دائرے کو چھوڑ کر ملک میں جو کچھ بھی ہوتا رہے‘ ریاست عدمِ مداخلت پر کار بند رہے گی۔ آج اس کے وظائف نہایت عظیم اور اس کا دائرۂ کار نہایت وسیع ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے کی صورت گری کرتی ہے اور اپنی پالیسی کے ذریعے سے اس کی ضابطہ بندی کرتی ہے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ جہالت کو ختم کرے اور علم کی شمعیں روشن کرے، غربت کو ختم کرے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی کوشش کرے، سماجی برائیوں کا قلع قمع کرے اور شہریوں کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیم کا بندوبست کرے، بیماریوں کا علاج‘ مظلوموں کی فریاد رسی‘ مجبوروں کی مدد و استعانت کا اہتمام کرے۔ مختصراً، آج کی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے اور اس کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ نظریاتی غیر جانب داری برت سکے۔ اسے کچھ نہ کچھ اقدار کوتو ماننا ہوگا‘ کسی نہ کسی نظریے کو قبول کرنا ہوگا‘ خیر و شر اور فلاح و خسران کے کسی نہ کسی معیار کو اختیار کرنا ہوگا، اور اس کی روشنی میں اپنی پوری پالیسی کو ترتیب دینا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی ریاست ایک نظریاتی ریاست بنتی جا رہی ہے اور وہ بنیادیں جن پر سیکولرزم کا نظامِ فکر قائم تھا‘ تاریخی یادوں کی حیثیت سے تو ضرور موجود ہیں لیکن دنیائے حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ جن بنیادوں پر یہ قلعہ تعمیر ہوا تھا وہ گر چکی ہیں اور محض تمنائوں کے ذریعے اس خلا کو پر نہیں کیا جاسکتا۔ آج کی دنیا میں سیکولرزم کے لیے کوئی گنجایش نہیں‘ تاریخ اسے بہت پیچھے چھوڑ آئی ہے۔ آج کی ضرورت نظریاتی ریاست ہے جو سیکولرزم کی عین ضد ہے اور جسے اسلام قائم کرنے کا داعی ہے۔
۳۔عالمِ اسلام میں اسلامی ریاست کی جدوجہد
اس پس منظر میں جب ہم قدرت کے اس انتظام پر غور کرتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد، مسلمان ممالک برسوں کی غلامی کے بعد پھر آزادی سے ہمکنار ہو رہے ہیں اور ان میں سے تقریباً ہر ملک میں اسلامی نظام اور اسلامی ریاست کے قیام کی تحریک زور پکڑ رہی ہے تو ہمیں فطرت کا یہ اشارہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ گویا جدید تہذیب کے زوال سے جو خلا رونما ہو رہا ہے، اُسے پُر کرنے کابندوبست کیا جارہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی میں مسلمان ممالک ایک ایک کرکے مغربی استعمار کے چنگل میں چلے گئے، اور صرف دو تین ہی ملک ایسے رہ گئے جو سیاسی غلامی کی تاریک رات سے محفوظ رہے۔ بیسویں صدی میں حالات نے کروٹ لی اور خصوصیت سے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد مسلمان ممالک کی آزادی کا رجحان رونما ہوا۔ اس وقت ۳۴ آزاد مسلمان ملک موجود ہیں۷؎ جو اپنے سیاسی اور تمدنی مستقبل کو خود تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
سیاسی آزادی کے ساتھ ہی بہت سے اہم مسائل رونما ہوگئے ہیں۔ جب تک مسلمان استعماری طاقتوں کے غلام تھے‘ ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ اپنی اجتماعی زندگی کی صورت گری اسلام کے اصولوں کے مطابق کرسکیں۔ ان کا دین زندگی کا ایک مکمل ضابطہ فراہم کرتا ہے اور وہ اس وقت تک اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے جب تک انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو جاری و ساری نہ کرلیں۔ فطری طور پر آزادی کے فوراً بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ اب مجموعی نظامِ حیات کو اور خصوصیت سے ریاست اور قانون کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یہی وہ احساس ہے جو اسلامی نظامِ حیات اور اسلامی ریاست کے قیام کے عوامی مطالبے کی پُشت پر کار فرما ہے۔
تاریخ کے وسیع ترپس منظر میں یہ تحریک بڑی حوصلہ افزا ہے اور اس سے مستقبل کی بہترین امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں لیکن غور و فکر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آخر ایک مسلمان ملک میں اسلامی ریاست کے مطالبے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ____ اسے تو فطری طور پر اسلامی ریاست ہی ہونا چاہیے اور اس کی ساری قوتیں اسی مقصد کے لیے صرف ہونی چاہییں کہ وہ اسلام کے معیار سے مطابقت پیدا کرے ____ لیکن بدقسمتی سے اصل صورت حال یہ نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دور استعمار میں جو تعلیمی انقلاب آیا اس نے خود مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام سے دور کر دیا۔ ان میں سے ایک عظیم اکثریت کی معلومات اسلام کے بارے میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے ذہنوں کو اتنا مسموم کر دیا گیا ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں چند در چند غلط فہمیوں کا شکار ہوگیا ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات سے بدظن ہے اور ان کو مغرب کے پیدا کردہ تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ یہ گروہ آج کے دور میں اسلام کو ازکارِ رفتہ سمجھتا ہے اور مغرب کی اندھی تقلید اس کا دین و ایمان بن چکی ہے۔ یہ طبقہ خود اپنے ملک کے لوگوں کے جذبات و احساسات سے برسرپیکار ہے اور آگے بڑھتے ہوئے قدموں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ ایک طرف غفلت اور جہالت ہے اور دوسری طرف سُو ئے ظن اور عداوت اور یہی چیزیں اسلامی ریاست کے فروغ کی راہ میں اہم ترین رکاوٹیں ہیں۔
ہماری نگاہ میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف اسلامی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اور عوام کی ذہنی اور فکری تربیت ہو، اور دوسری طرف زندگی کے تمام شعبوں میں ایک ایسی قیادت کو ابھار کر اوپر لایا جائے جو مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے جذبات و احساسات کو سمجھتی ہو‘ اسلام پر پکا یقین رکھتی ہو اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسے جاری و ساری کرنے کا داعیہ رکھتی ہو۔ یہی وہ صورت ہے جس میں قوم کی صلاحیتیں اور قوتیں باہم کشمکش کے بجائے مثبت تعمیر میں صرف ہوں گی اور اس طرح برسوں کی منزلیں مہینوں میں طے ہوسکیں گی۔
۴۔ کچھ اس کتاب کے بار ے میں
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ہی یہ ہے کہ انھوں نے بیک وقت ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کی کماحقہ کوشش کی ہے۔ ایک طرف انھوں نے اسلام کے پورے نظامِ حیات کو دینی اور عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے اور اسلام کی اصل تعلیمات کو دورِ حاضر کی زبان میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریرات کے مطالعے سے قاری کو زندگی کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر کا کلی علم حاصل ہوتا ہے اور وہ پوری تصویر کو بیک نظر دیکھ سکتا ہے۔ انھوں نے ہر مرعوبیت سے بالا ہو کر دور حاضر کے ہر فتنے کا مقابلہ کیا ہے اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اور فوقیت کو ثابت کیا ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر اسلامی نظام کی محض نظری تشریح و توضیح ہی نہیں کی ہے، بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ اس نظام کو دور حاضر میں کیسے قائم کیا جاسکتا اور آج کے اداروں کو کس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔
ویسے تو مولانا مودودی صاحب نے یہ کام زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں کیا ہے لیکن اسلامی ریاست کے تصور اور اس کے نظام کار کی تشریح و توضیح ان کا خاص میدان رہی ہے۔ انھوں نے جس اعتماد اور یقین کے ساتھ‘ جس بالغ نظری کے ساتھ‘ جس وسعت فکر اور گہرائی کے ساتھ اور جس شرح و بسط کے ساتھ اسلامی ریاست کے ہمہ پہلوئوں کی وضاحت کی ہے‘ اس میں دور حاضر میں ان کا کوئی شریک اور مد مقابل نہیں۔ بلاشبہہ وہ اس پہلو سے عرب و عجم میں منفرد ہیں۔ موصوف نے دور جدید کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کیا ہے اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے اور تمام عملی مسائل کا لحاظ رکھتے ہوئے پیش کیا ہے ____ اور یہی ان کا امتیازی کارنامہ ہے۔
اسلامی ریاست کے بارے میں مولانا کے یہ مضامین و مقالات منتشر تھے۔ ان میں سے کچھ مختصر پمفلٹوں کی شکل میں شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں‘ لیکن تمام مضامین ایک جگہ کتابی شکل میں پیش نہیں کیے جاسکے تھے۔ میں نے جس وقت اسلامی قانون اور اسلامی ریاست کے موضوعات پر مولانا کی تحریرات کا انتخاب انگریزی میں ’اسلامک لا اینڈ کانسٹی ٹیوشن‘ (Islamic Law & Constitution)کے نام سے پیش کیا تھا‘ اسی وقت اس ضرورت کا احساس بھی پیدا ہوا تھا کہ یہ مجموعہ اردو میں بھی شائع ہونا چاہیے لیکن مولانا اپنی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث خود یہ کام نہ کرسکے۔ پھر جب میں نے انگریزی کتاب کا دوسرا نظر ثانی شدہ ایڈیشن تیار کیا تو یہ احساس دوبارہ تازہ ہوگیا اور چند احباب کے اصرار پر مولانا کے ارشاد کے مطابق میں نے اردو کتاب کی ترتیب کاکام بھی شروع کر دیا۔ تمام مواد جمع کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اسلامی ریاست اور اسلامی قانون کے موضوعات پر الگ الگ کتابیں تیار کرنی ہوں گی۔ ایک ہی کتاب دونوں قسم کے مقالات کی متحمل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے ۱۳۸۰ھ (مطابق ۱۹۶۰ء) میں‘ میں نے ’اسلامی ریاست‘ کے نام سے مولانا کے اہم مضامین کو مرتب کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ یہ کتاب بڑی مقبول ہوئی۔ اہل علم نے اسے بہت پسند کیا اور یونی ورسٹیوں میں اسے نصاب میں شامل کیا گیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ کتاب کئی پہلوئوں سے نامکمل تھی اور میرے اصل منصوبے کے مطابق نہ تھی‘ لیکن چونکہ اس وقت کام کرنے کی وہ سہولتیں موجود نہ تھیں جو کام کی تکمیل کے لیے درکار تھیں، اس لیے اس حالت میں کتاب کو طباعت کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب الحمد للہ ادارہ معارف اسلامی ] کراچی [ میں مولانا محترم کی تمام تحریرات جمع کرلی گئی ہیں اور یہاں مولانا کی تمام نگارشات کو نئی ترتیب کے ساتھ لانے کاکام کیا جارہا ہے۔ کئی مہینے کی محنت کے بعد ہم اپنی پہلی پیش کش ’’اسلامی ریاست: فلسفہ، نظام کار اور اصول حکمرانی‘‘ پیش کر رہے ہیں۔
اس کتاب میں حتی الوسع مولانا مودودی صاحب کی ان تمام تحریرات کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا جو اسلامی ریاست سے متعلق ہیں۔ کتاب کے پہلے ایڈیشن میں نظری مباحث اور پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے کی تحریرات گڈمڈ تھیں‘ اب ان کو بھی الگ الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں صرف نظری اور علمی مباحث ہیں۔ پاکستان کے سلسلے کی نگارشات کو ان شاء اللہ الگ مرتب کیا جائے گا۔
اس کتاب میں ماہنامہ ترجمان القرآن کے پرانے فائلوں سے وہ مضامین بھی لے لیے گئے ہیں جو اب تک کتابی شکل میں نہیں آئے تھے، البتہ ہم نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ پرانی تحریرات میں سے صرف ان حصوں کو شامل کیا جائے جو موضوع زیر نظر سے متعلق ہیں۔ رہیں وہ بحثیں جو وقتی نوعیت کی تھیں، یا جن کا تعلق مخصوص شخصیات اور ان کے اس وقت کے نظریات سے تھا‘ ان کو حذف کر دیا گیا ہے۔ چونکہ ہمارے پیش نظر ان بحثوں اور اختلافات کو زندہ کرنا نہیں ہے‘ اس لیے وہ چیزیں اب غیر ضروری تھیں، البتہ ہم نے ان تمام حصوں کو محفوظ کرلیا ہے جن میں اصولی مباحث تھے اور اس طرح وہ اپنی دائمی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ماہنامہ ترجمان القرآن کے فائلوں کے علاوہ ہم نے تفہیم القرآن کوبھی بغور پڑھا ہے اور اس کے حواشی میں کی ہوئی علمِ سیاست کی تمام اہم بحثوں کو بھی نکال لیا ہے اور انھیں دو مستقل مقالات کی شکل میں مرتب کر دیا ہے۔ اس طرح یہ دونوں مقالے اپنی موجودہ شکل میں پہلی مرتبہ زیور طباعت سے آراستہ ہو رہے ہیں اور ان سے قارئین کو اندازہ ہوگا کہ تفہیم القرآن میں کتنی ضمنی بحثیں آگئی ہیں جن کے منتشر ہونے کی وجہ سے ان سے بیک نظر استفادہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
مرتب نے اس بات کی پوری کوشش کی ہے کہ مولانا کی تحریرات کو زیادہ سے زیادہ حسنِ ترتیب اور منطقی ربط کے ساتھ پیش کرے۔ اسے اس سلسلے میں کچھ حذف و اضافے سے بھی کام لینا پڑا ہے۔ اس کے لیے مولانا کی تحریر میں ذرا سی تبدیلی بھی ایک بڑا ہی مشکل اور شاق کام تھا۔ لیکن ایسے مضامین کو جو تقریباً ۲۵ سال کے عرصے میں مختلف نوعیت کی ضرورتوں کے پیش نظر لکھے گئے ہوں اور جن میں لکھتے وقت کسی کتابی ترتیب کو سامنے نہ رکھا گیا ہو‘ کتابی شکل میں لاتے وقت کچھ تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔ حق تو یہ تھا کہ یہ کام مولانا محترم خود انجام دیتے، لیکن ان کی مصروفیات نے انھیں اجازت نہ دی اور حالات تقاضا کر رہے تھے کہ یہ قیمتی تحریرات مرتب شکل میں اہل علم کے سامنے آجائیں۔
مجھے اپنی علمی بے بضاعتی کا پورا پورا احساس ہے اور شاید میں یہ کام کبھی نہ کر پاتا اگر خود مولانا کی حوصلہ افزائی مہمیز کاکام نہ کرتی۔ میں ان کا ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھ پر اتنا اعتماد فرمایا اور یہ اہم خدمت میرے سپرد کی۔
میرے لیے اس کتاب کی تیاری ایک بہت بڑی سعادت کی حیثیت رکھتی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ مولانا نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی ہے اور اپنے مشوروں سے مجھے نوازتے رہے ہیں۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میں اس ذمے داری کو کس حد تک ادا کرسکا ہوں۔ اگر میں اس میں کچھ بھی کامیاب رہا ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کام میں جو بھی کوتاہی رہی ہے‘ اس کا بار میرے اوپر ہے۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلاَّ بِاللّٰہِ۔

خورشید احمد
ادارہ معارف اسلامی‘ کراچی
/۲۷ صفر‘ ۱۳۸۶ھ
مئی ۱۹۶۶ء

باب اول:

اسلام کے سیاسی نظام کے مطالعے میں جو سوال سب سے پہلے ہمارے سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا تصور مذہب کیا ہے اور وہ سیاست‘ اقتدار اور اجتماعی امورِ حیات کے بارے میں کیا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ مذہب کے محدود تصور کی وجہ سے اس بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں اور مذہبی اور سیاسی دونوں ہی حلقوں کے بہت سے لوگ اس بارے میں فکری انتشار میں مبتلا ہیں۔ اس لیے ہم اسلام کے فلسفۂ سیاست کے بارے میں سب سے پہلے اس بحث کو پیش کررہے ہیں۔
دورِ جدید کی اسلامی فکر میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مخصوص کارنامہ ہے کہ انھوں نے تفریق دین و سیاست پر ایک کاری ضرب لگائی ہے اور اسلام کے جامع اور انقلابی تصور کو آئینے کی طرح صاف کرکے پیش کیا ہے۔ ہم اس بات کو مولانا موصوف کی مختلف تحریرات سے مرتب کررہے ہیں۔ اس میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ اول اور ماہنامہ ترجمان القرآن کے فائلوں میں پائی جانے والی بہت سی بحثوں سے ضروری حصے لیے گئے ہیں، اور مرتب نے ان موتیوں کو ایک لڑی میں پرو کر زیر نظر مضمون کی شکل دی ہے۔(مرتب )

دین و سیاست

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا میں مذہب کا عام تصور یہ تھا کہ: زندگی کے بہت سے شعبوں میں سے یہ بھی ایک شعبہ ہے‘ یا دوسرے الفاظ میں یہ انسان کی دنیوی زندگی کے ساتھ ایک ضمیمے کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ بعد کی زندگی میں نجات کے لیے ایک سرٹیفکیٹ کے طور پر کام آئے۔ اس کا تعلق کلیتہً صرف اس رشتے سے ہے جو انسان اور اس کے معبود کے درمیان ہے۔ جس شخص کو نجات کے بلند مرتبے حاصل کرنے ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیوی زندگی کے تمام دوسرے شعبوں سے بے تعلق ہو کر صرف اسی ایک شعبے کا ہو جائے، مگر جس کو اتنے بڑے مراتب مطلوب نہ ہوں، بلکہ نجات مطلوب ہو‘ اور اس کے ساتھ یہ خواہش بھی ہو کہ معبود اُس پر نظر عنایت رکھے اور اس کو دنیوی معاملات میں برکت عطا کرتا رہے‘ اس کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اپنی دنیوی زندگی کے ساتھ اس ضمیمے کو بھی لگائے رکھے۔ دنیا کے سارے کام اپنے ڈھنگ پر چلتے رہیں اور ان کے ساتھ چند مذہبی رسموں کو ادا کرکے معبود کو بھی خوش کیا جاتا رہے۔ انسان کا تعلق خود اپنے نفس سے‘ اپنے ابنائے نوع سے‘ اپنے گرد وپیش کی ساری دنیا سے ایک الگ چیز ہے‘ اور اس کا تعلق اپنے معبود سے ایک دوسری چیز‘ ان دونوں کے درمیان کوئی ربط نہیں۔
یہ جاہلیت کا تصور تھا اور اس کی بنیاد پر کسی انسانی تہذیب و تمدن کی عمارت قائم نہ ہوسکتی تھی۔ تہذیب و تمدن کے معنی انسان کی پوری زندگی کے ہیں‘ اور جو چیز انسان کی زندگی کا محض ایک ضمیمہ ہو‘ اس پر پوری زندگی کی عمارت‘ ظاہر ہے کہ کسی طرح قائم نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر جگہ مذہب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ ایک دوسرے سے الگ رہے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر تھوڑا یا بہت اثر ضرور ڈالا‘ مگر یہ اثر اس قسم کا تھا جو مختلف اور متضاد چیزوں کے یکجا ہونے سے مترتب ہوتا ہے۔ اس لیے یہ اثر کہیں بھی مفید نظر نہیں آتا۔ مذہب نے تہذیب و تمدن پر جب اثر ڈالا تو اس میں رہبانیت‘ مادی علائق سے نفرت‘ لذاتِ دنیوی سے کراہت‘ عالم اسباب سے بے تعلقی‘ انسانی تعلقات میں انفرادیت‘ تنافر اور تعصب کے عناصر داخل کر دیے۔ یہ اثر کسی معنی میں بھی ترقی پرور نہ تھا، بلکہ دنیوی ترقی کی راہ میں انسان کے لیے ایک سنگِ گراں تھا۔ دوسری طرف تہذیب و تمدن نے جس کی بنیاد سراسر مادیت اور خواہشاتِ نفس کے اتباع پر قائم تھی‘ مذہب پر جب کبھی اثر ڈالا اس کو گندہ کر دیا۔ اس نے مذہب میں نفس پرستی کی ساری نجاستیں داخل کر دیں‘ اور اس سے ہمیشہ یہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ ہر اس گندی اور بد سے بدتر چیز کو جسے نفس حاصل کرنا چاہے‘ مذہبی تقدس کا جامہ پہنا دیا جائے‘ تاکہ نہ خود اپنا ضمیر ملامت کرے‘ نہ کوئی دوسرا اس کے خلاف کچھ کہہ سکے۔ اسی چیز کا اثر ہے کہ بعض مذاہب کی عبادتوں تک میں ہم کو لذت پرستی اور بے حیائی کے ایسے طریقے ملتے ہیں جن کو مذہبی دائرے کے باہر خود ان مذاہب کے پیرو بھی بداخلاقی سے تعبیر کرنے پر مجبور ہیں۔
مذہب اور تہذیب کے اس تعامل سے قطع نظر کرکے دیکھا جائے تو یہ حقیقت بالکل نمایاں نظر آتی ہے‘ کہ دنیا میں ہر جگہ تہذیب و تمدن کی عمارت غیر مذہبی اور غیر اخلاقی دیواروں پر قائم ہوئی ہے۔سچے مذہبی لوگ اپنی نجات کی فکر میں دنیا سے الگ رہے اور دنیا کے معاملات کو دنیا والوں نے اپنی خواہشاتِ نفس اور اپنے ناقص تجربات کی بنا پر‘ جن کو ہر زمانے میں کامل سمجھا گیا اور ہر زمانۂ مابعد میں ناقص ہی ثابت ہوئے‘ جس طرح چاہا چلایا اور اس کے ساتھ اگر ضرورت سمجھی تو اپنے معبود کو خوش کرنے کے لیے کچھ مذہبی رسمیں بھی ادا کرلیں۔ مذہب چونکہ ان کے لیے محض زندگی کا ایک ضمیمہ تھا، اس لیے اگر وہ ساتھ رہا بھی تو محض ایک ضمیمے ہی کی حیثیت سے رہا۔ ہر قسم کے سیاسی ظلم و ستم‘ ہر قسم کی معاشی بے انصافیوں‘ ہر قسم کی معاشرتی بے اعتدالیوں اور ہر قسم کی تمدنی کج راہیوں کے ساتھ یہ ضمیمہ منسلک ہوسکتا تھا۔ اس نے ٹھگی اور قزاقی کا بھی ساتھ دیا، جہاں سوزی اور غارت گری کا بھی‘ سود خوری اور قارونیت کا بھی‘ فحش کاری اور قحبہ گری کا بھی۔

۱۔مذہب کا اسلامی تصور

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس غرض کے لیے بھیجے گئے وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ مذہب کے اس جاہلی تصور کو مٹا کر ایک عقلی و فکری تصور پیش کریں اور صرف پیش ہی نہ کریں بلکہ اسی کی اساس پر تہذیب و تمدن کا ایک مکمل نظام قائم کر کے اور کامیابی کے ساتھ چلا کر دکھا دیں۔ آپؐ نے بتایا کہ مذہب قطعاً بے معنی ہے، اگر وہ انسان کی زندگی کا محض ایک شعبہ یا ضمیمہ ہے۔ ایسی چیز کو دین و مذہب کے نام سے موسوم کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت میں دین وہ ہے جو زندگی کا ایک جز نہیں بلکہ تمام زندگی ہو‘ زندگی کی روح اور اس کی قوتِ محرکہ ہو۔ فہم و شعور اور فکر و نظر ہو‘ صحیح و غلط میں امتیاز کرنے والی کسوٹی ہو‘ زندگی کے ہر میدان میں ہر ہر قدم پر راہ راست اور راہ کج کے درمیان فرق کرکے دکھائے‘ راہ کج سے بچائے‘ راہ راست پر استقامت اور پیش قدمی کی طاقت بخشے‘ اور زندگی کے اس لامتناہی سفر میں‘ جو دنیا سے لے کر آخرت تک مسلسل چلا جارہا ہے‘ انسان کو ہر مرحلے سے کامیابی و سعادت کے ساتھ گزارے۔
اسی مذہب کا نام اسلام ہے۔ یہ زندگی کا ضمیمہ بننے کے لیے نہیں آیا ہے‘ بلکہ اس کے آنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اگر اس کو بھی پرانے جاہلی تصور کے ماتحت ایک ضمیمۂ زندگی قرار دیا جائے۔ یہ جس قدر خدا اور انسان کے تعلق سے بحث کرتا ہے‘ اسی قدر انسان اور انسان کے تعلق سے بھی کرتا ہے اور اسی قدر انسان اور ساری کائنات کے تعلق سے بھی۔ اس کے آنے کا اصل مقصد انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ تعلقات کے یہ شعبے الگ الگ اور ایک دوسرے سے مختلف و بیگانہ نہیں ہیں‘ بلکہ ایک مجموعے کے مربوط اور مرتب اجزا ہیں اور ان کی صحیح ترکیب ہی پر انسان کی فلاح کا مدار ہے۔ انسان اور کائنات کا تعلق درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ انسان اور خالق کائنات کا تعلق درست نہ ہو۔ پس یہ دونوں تعلق ایک دوسرے کی تکمیل و تصحیح کرتے ہیں۔ دونوں مل کر ایک کامیاب زندگی بناتے ہیں، اور مذہب کا اصل کام اسی کامیاب زندگی کے لیے انسان کو ذہنی و عملی حیثیت سے تیار کرنا ہے۔ جو مذہب یہ کام نہیں کرتا وہ مذہب ہی نہیں ہے اور جو اس کام کو انجام دیتا ہے وہی اسلام ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ آل عمران3:19
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
مذہب اور تہذیب
اسلام ایک خاص طریق فکر (attitude of mind)اور پوری زندگی کے متعلق ایک خاص نقطۂ نظر (outlook of life)ہے۔ پھر وہ ایک خاص طرز عمل ہے جس کا راستہ اسی طریق فکر اور اسی نظریۂ زندگی سے متعین ہوتا ہے۔ اس طریق فکر اور طرز عمل سے جو ہیئت حاصل ہوتی ہے وہی مذہب اسلام ہے‘ وہی تہذیب اسلامی ہے۔ یہاں مذہب اور تہذیب و تمدن الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ سب مل کر ایک مجموعہ بناتے ہیں۔ وہی ایک طریق فکر اور نظریۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر مسئلے کا تصفیہ کرتا ہے۔ انسان پر خدا کے کیا حقوق ہیں۔ خود اس کے اپنے نفس کے کیا حقوق ہیں۔ ماں باپ کے‘ بیوی بچوں کے‘ عزیزوں اور قرابت داروں کے‘ پڑوسیوں اور معاملہ داروں کے‘ ہم مذہبوں اور غیر مذہب والوں کے‘ دشمنوں اور دوستوں کے‘ ساری نوع انسانی کے‘ حتیٰ کہ کائنات کی ہر چیز اور قوت کے کیا حقوق ہیں؟ وہ ان تمام حقوق کے درمیان کامل توازن اور عدل قائم کرتا ہے اور ایک شخص کا مسلمان ہونا ہی اس امر کی کافی ضمانت ہے کہ وہ ان تمام حقوق کو پورے انصاف کے ساتھ ادا کرے گا، بغیر اس کے کہ ظلم کی راہ سے ایک حق کو دوسرے حق پر قربان کرے۔پھر یہی طریق فکر اور نظریۂ حیات انسان کی زندگی کا ایک بلند اخلاقی نصب العین اور ایک پاکیزہ روحانی منتہائے نظر معین کرتا ہے اور زندگی کی تمام سعی و جہد کو‘ خواہ وہ کسی میدان میں ہو‘ ایسے راستوں پر ڈالنا چاہتا ہے جو ہر طرف سے اسی ایک مرکز کی طرف راجع ہوں۔
یہ مرکز ایک فیصلہ کن چیز ہے۔ اسی کے لحاظ سے ہر شے کی قدر (value)متعین کی جاتی ہے۔ اسی معیار پر ہر شے کو پرکھا جاتا ہے۔ جو شے اس مرکزی مقصد تک پہنچنے میں مددگار ہوتی ہے اسے اختیار کرلیا جاتا ہے اور جو شے سَدِّراہ ہوتی ہے‘ اسے رد کر دیا جاتا ہے۔ فرد کی زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے معاملات سے لے کر جماعت کی زندگی کے بڑے سے بڑے معاملات تک‘ یہ معیار یکساں کار فرما ہے۔ وہ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ ایک شخص کو اکل و شرب میں‘ لباس میں‘ صنعتی تعلقات میں‘ لین دین میں‘ بات چیت میں‘ غرض زندگی کے ہر معاملے میں کن حدود کو ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ وہ مرکز مقصود کی طرف جانے والی سیدھی راہ پر قائم رہے اور ٹیڑھے راستوں پر نہ پڑ جائے۔ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں افراد کے باہمی روابط کن اصولوں پر مرتب کیے جائیں جن سے معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ غرض ہر شعبۂ زندگی کا ارتقا ایسے راستوں پر ہو جو اصل منزل مقصود کی طرف جانے والے ہوں‘ اور وہ راہیں نہ اختیار کرے جو اس سے دور ہٹانے والی ہوں۔ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ زمین و آسمان کی جن قوتوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو، اور جو چیزیں اس کے لیے مسخر کی جائیں‘ ان کو وہ کن طریقوں سے استعمال کرے‘ تاکہ وہ اس کے مقصد کی خادم بن جائیں‘ اور کن طریقوں سے اجتناب کرے، تاکہ وہ اس کی کامیابی میں مانع نہ ہوں۔ اس کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ اسلامی جماعت کے لوگوں کو غیر اسلامی جماعتوں کے ساتھ دوستی میں اوردشمنی میں‘ جنگ میں اور صلح میں‘ اشتراکِ اغراض میں اور اختلافِ مقاصد میں‘ غلبے کی حالت میں اور مغلوبی کے دور میں‘ علوم و فنون کے اکتساب میں‘ اور تہذیب و تمدن کے لین دین میں کن اصولوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے، تاکہ خارجی تعلقات کے ان مختلف پہلوئوں میں وہ اپنے مقصد کی راہ سے ہٹنے نہ پائیں‘ بلکہ جہاں تک ممکن ہو‘ بنی نوع انسان کے ان نادان اور گمراہ افراد سے بھی طوعاًو کرہاً شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر اس مقصد کی خدمت لے لیں جو اصل فطرت کے اعتبار سے ان کا بھی ویسا ہی مقصد ہے جیسا کہ پیروانِ اسلام کا ہے۔
غرض وہ ایک ہی نقطۂ نظر ہے جو مسجد سے لے کر بازار اور میدانِ کارزار تک‘ طریقِ عبادت سے لے کر ریڈیو اور ہوائی جہاز کے طریق استعمال تک‘ غسل و وضو اور طہارت و استنجا کے جزوی مسائل سے لے کر اجتماعیات‘ معاشیات‘ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے بڑے سے بڑے مسائل تک‘ مکتب کی ابتدائی تعلیم سے لے کر آثار فطرت کے انتہائی مشاہدات اور قوانین طبعی کی بلند ترین تحقیقات تک‘ زندگی کی تمام مساعی اور فکر و عمل کے تمام شعبوں کو ایک ایسی وحدت بناتا ہے جس کے اجزا میں ایک مقصدی ترتیب اور ایک ارادی ربط پایا جاتا ہے‘ اور ان سب کو ایک مشین کے پرزوں کی طرح اس طرح جوڑتا ہے کہ ان کی حرکت اور تعامل سے ایک ہی نتیجہ برآمد ہو۔
مذہب کی دنیا میں یہ ایک انقلابی تصور تھا‘ اور جاہلیت کے خمیر سے بنے ہوئے دماغوں کی گرفت میں یہ تصور کبھی پوری طرح نہ آسکا۔ آج دنیا علم و عقل کے اعتبار سے چھٹی صدی عیسوی کے مقابلے میں کس قدر آگے بڑھ چکی ہے مگر آج بھی اتنی قدامت پرستی اور تاریک خیالی موجود ہے کہ یورپ کی شہرہ آفاق یونی ورسٹیوں میں اعلیٰ درجے کی تعلیم پائے ہوئے لوگ بھی اس انقلاب انگیز تصور کے ادراک سے اسی طرح عاجز ہیں جس طرح قدیم جاہلیت کے اَن پڑھ اور کودَن لوگ تھے۔ ہزاروں برس سے مذہب کا جو غلط تصور وراثت میں منتقل ہوتا چلا آرہا ہے‘ اس کی گرفت دماغوں پر ابھی تک مضبوط جمی ہوئی ہے۔ عقلی تنقید اور علمی تحقیق کی بہترین تربیت سے بھی اس کے بند نہیں کھلتے۔ خانقاہوں اور مسجدوں کے تاریک حجروں میں رہنے والے اگر مذہبیت کے معنی گوشۂ عزلت میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے کے سمجھیں اور دین داری کو عبادت کے دائرے میں محدود دخیال کریں تو جائے تعجب نہیں‘ کہ وہ تو ہیں ہی ’تاریک خیال‘۔ جاہل عوام اگر مذہب کو باجے‘ تعزیے اور گائے کے سوالات میں محدود سمجھیں تو یہ بھی مقامِ حیرت نہیں کہ وہ تو ہیں ہی جاہل، مگر یہ ہمارے پروردگانِ نور علم کو کیا ہوا کہ ان کے دماغوں سے بھی قدامت پرستی کی ظلمت دور نہیں ہوتی؟ وہ بھی مذہب اسلام کو انھی معنوں میں ایک مذہب سمجھتے ہیں جن میں ایک غیر مسلم قدیم جاہلی تصور کے تحت سمجھتا ہے۔
ہماری سیاست میں جاہلی تصوّرِ مذہب کے اثرات
فہم و ادراک کے اس تصور کی وجہ سے مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کا ایک بڑا حصہ نہ صرف خود غلط روش پر چل رہا ہے‘ بلکہ دنیا کے سامنے اسلام اور اس کی تہذیب و تمدن کی نہایت غلط نمائندگی کر رہا ہے۔ مسلم جماعت کے اصلی مسائل جن کے حل پر اس کی حیات و ممات کا مدار ہے‘ سرے سے ان لوگوں کی سمجھ ہی میں نہیں آتے، اور یہ ضمنی غیر متعلق مسائل کو اصل مسائل سمجھ کر عجیب عجیب طریقوں سے ان کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مذہب کا پرانا محدود تصور ہی ہے جو مختلف شکلوں میں ظہور کر رہا ہے۔
کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ میں پہلے ہندستانی ۱؎ ہوں‘ پھر مسلمان اور یہ کہتے وقت ان کے ذہن میں مذہب کا یہ تصور ہوتا ہے کہ اسلام جغرافی تقسیم قبول کرسکتا ہے۔ ترکی اسلام‘ ایرانی اسلام‘ مصری اسلام‘ ہندستانی اسلام اور پھر پنجابی‘ بنگالی‘ دکنی اور مدراسی اسلام الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ ہر جگہ مسلمان اپنے اپنے مقامی حالات کے لحاظ سے ایک الگ طریق ِ فکر اختیار کرسکتا ہے۔ زندگی کا ایک جداگانہ نقطۂ نظر اور نصب العین قبول کرسکتا ہے۔ ان تمام سیاسی‘ معاشی اور اجتماعی نظاموں میں جذب ہوسکتا ہے، جو مختلف قوموں نے مختلف اصولوں پر قائم کیے ہیں اور پھر بھی وہ مسلمان رہ سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ’مذہبی ضمیمہ‘ ہے جو دنیوی زندگی کے ہر ڈھنگ اور ہر طریقے کے ساتھ چسپاں ہوسکتا ہے۔
ایک دوسرے صاحب فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو دین اور دنیا کے معاملات میں واضح امتیاز کرنا چاہیے۔ دین کا تعلق ان معاملات سے ہے جو انسان اور خدا کے درمیان ہیں‘ یعنی اعتقادات اور عبادات۔ ان کی حد تک مسلمان اپنی راہ پر چل سکتے ہیں‘ اور کوئی ان کو اس راہ سے نہ ہٹانا چاہتا ہے‘ نہ ہٹا سکتا ہے۔ رہے دنیوی معاملات تو ان میں دین کو دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس طرح دنیا کے دوسرے لوگ ان کو انجام دیتے ہیں‘ اسی طرح مسلمانوں کو بھی انجام دینا چاہیے۔
ایک تیسرے صاحب کا ارشاد ہے کہ اپنے مذہبی‘ تمدنی اور لسانی حقوق کے لیے مسلمانوں کو بلاشبہ ایک الگ نظام کی ضرورت ہے، مگر سیاسی اور معاشی اغراض کے لیے ان کو الگ جماعت بندی کی ضرورت نہیں۔ ان معاملات میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق بالکل غیر حقیقی اور مصنوعی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے مختلف طبقوں کو اپنے اپنے مفاد اور اپنی اپنی اغراض کے لحاظ سے ان مختلف جماعتوں میں شامل ہونا چاہیے جو غیر مذہبی اصولوں پر سیاسی و معاشی مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
ایک اور صاحب جو مسلم قوم کے تنِ مُردہ میں جان ڈالنے کے لیے اٹھے ہیں‘ ان کا خیال یہ ہے کہ اصل چیز ایمان باللہ اور اعتقاد یوم آخر اور اتباع کتاب و سنت نہیں ہے‘ بلکہ عناصر کی تسخیر اور قوانین طبعی کی دریافت اور نظم و ضبط کی طاقت سے ان عناصر مسخرہ و قوانین معلومہ کو استعمال کرنا ہے‘ تاکہ نتیجے میں عُلُوّ اور تَمَکُّن فِی الْاَرْضْ حاصل ہو۔ یہ صاحب مادی ترقی کو مقصود بالذات قرار دیتے ہیں، اس لیے جو وسائل اس ترقی میں مددگار ہوں‘ وہی ان کے نزدیک اصلی اہمیت رکھتے ہیں۔ باقی رہا وہ ذہن جو علم و عقل کی تہہ میں کام کرتا ہے‘ اور جو اپنے طریق فکر اور زاویۂ نظر کے لحاظ سے وسائل ترقی کے استعمال کا مقصد اور تہذیب و تمدن کے ارتقا کا راستہ اور تمکن فی الارض کا مدعا متعین کرتا ہے‘ سو وہ ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ____ وہ ذہن چاہے جاپانی ذہن ہو‘ یا جرمن‘ یا اطالوی یا فاروقی یا خالدی‘ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں‘ ان کے نزدیک یہ سب یکساں ’اسلامی‘ ذہن ہیں، کیونکہ ان سب کے عمل کا نتیجہ ان کو ایک ہی نظر آتا ہے‘ یعنی عُلُوّ اور تَمَکُّن فِی الْاَرْضْ۔ ان کی نگاہ میں جس کو ’زمین کی وراثت‘ حاصل ہے، وہی ’صالح‘ ہے، اگرچہ وہ ابراہیم ؑ کے مقابلے میں نمرود ہی کیوں نہ ہو۔ جو غالب اور بالادست ہے‘ وہی ’مومن‘ ہے اگرچہ وہ مسیح ؑ کے مقابلے میں بت پرست رومی فرماں رواہی کیوں نہ ہو۔
ایک بڑا گروہ جو مسلمانوں کے قومی حقوق کی حفاظت کے لیے اٹھا ہے، اس کے نزدیک اسلام اور اس کی تہذیب کی حفاظت صرف اس چیز کا نام ہے کہ ان کے مذہب اور’پرسنل لا‘ کی حفاظت کا اطمینان دلایا جائے‘ ان کی زبان کو اپنے رسم الخط سمیت ایک سرکاری زبان تسلیم کرلیا جائے‘ اور جن لوگوں کی شخصیت پر اسلام کا لیبل لگا ہوا ہو، صرف انھی کو مسلمانوں کی نمائندگی کا حق حاصل ہو۔ انتخابی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں متناسب نمائندگی ان کے نزدیک سب سے بڑی اہمیت رکھتی ہے، اور اگر یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ خالص اسلامی مسائل میں کوئی تصفیہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک خود مسلمان نمائندوں کی غالب اکثریت اس کو قبول نہ کرے‘ تو اُن کے نزدیک گویا اسلامی حقوق کا پورا پورا تحفظ ہوگیا۔
دیکھا آپ نے! شکلیں کس قدر مختلف ہیں‘ مگر حقیقت ان سب میں ایک ہے۔ یہ سب مختلف مظاہر ہیں‘ اسی جاہلی تصور مذہب کے جو اسلامی تصورِ مذہب کے خلاف ہر زمانے میں نت نئی شکلوں کے ساتھ بغاوت کرتا رہا ہے۔
اگر یہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ مسلم کسے کہتے ہیں اور حقیقی معنی میں اسلامی جماعت کا اطلاق کس گروہ پر ہوتا ہے‘ تو ان کی تمام غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔ قانونی حیثیت سے ہر وہ شخص ’مسلم‘ ہے‘ جو کلمہ طیبہ کا زبانی اقرار کرے اور ضروریاتِ دین کا منکر نہ ہو‘ لیکن اس معنی میں جو شخص ’مسلم‘ ہے‘ اس کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہے۔ ہم اس کو کافر نہیں کہہ سکتے‘ نہ وہ حقوق دینے سے انکار کرسکتے ہیں جو مجرد اقرار اسلام سے اس کو مسلم سوسائٹی میں حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اصل اسلام نہیں ہے، بلکہ اسلام کی سرحد میں داخل ہونے کا پروانہ ہے۔ اصل اسلام یہ ہے کہ تمھارا ذہن اسلام کے سانچے میں ڈھل جائے۔ تمھارا طریق فکر وہی ہو‘ جو قرآن کا طریقِ فکر ہے ____ زندگی اور اس کے تمام معاملات پر تمھاری نظر وہی ہو‘ جو قرآن کی نظر ہے۔ تم اشیاء کی قدریں (values)اسی معیار کے مطابق معین کرو‘ جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ تمھاراانفرادی و اجتماعی نصب العین وہی ہو‘ جو قرآن نے پیش کیا ہے____ تم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں مختلف طریقوں کو چھوڑ کر ایک طریقہ اسی معیار انتخاب کی بنا پر انتخاب کرو‘ جو قرآن اور طریقِ محمدیؐ کی ہدایت سے تم کو ملا ہے۔ اگر تمھارا ذہن اس چیز کو قبول کرتا ہے اور تم اپنے نفسیات کو قرآنی نفسیات کے ساتھ محدود کرلیتے ہو‘ تو پھر زندگی کے کسی معاملے میں بھی تمھاراراستہ اُس راستے سے الگ نہیں ہوسکتا جسے قرآن ’’سبیل المؤمنین‘‘ کہتا ہے۔

اسلامی ذہن یا قرآنی ذہن ____ کہ حقیقت میں ایک ہی چیز ہیں ____ جس نظریۂ زندگی کے تحت چند اعتقادات پر ایمان لاتا ہے، چند عبادات تجویز کرتا ہے‘ چند شعائر (جو عام اصطلاح میں ’’مذہبی شعائر‘‘ کہے جاتے ہیں) اختیار کرتا ہے، ٹھیک اسی نظریے کے تحت وہ کھانے کی چیزوں میں‘ پہننے کے سامان میں‘ لباس کی وضعوں میں‘ معاشرت کے طریقوں میں‘ تجارتی لین دین میں‘ معاشی بندوبست میں‘ سیاست کے اصولوں میں‘ تمدن و تہذیب کے مختلف مظاہر میں‘ مادی وسائل اور قوانین طبعی کے علم کو استعمال کرنے کے مختلف طریقوں میں‘ بعض کو رد کرتا ہے اور بعض کو اختیار کرتا ہے۔ یہاں چونکہ نقطۂ نظر ایک ہے‘ طریق فکر ایک ہے‘ نصب العین ایک ہے، ترک واختیار کا معیار ایک ہے، اس لیے زندگی بسر کرنے کے طریقے‘ سعی و جہد کے راستے‘ معاملات دنیا کی انجام دہی کے اصول الگ نہیں ہوسکتے۔ جزئیات میں عمل کی شکلیں الگ ہوسکتی ہیں‘ احکام کی تعبیروں اور فروعات پر اصول کے انطباق میں تھوڑا بہت اختلاف ہوسکتا ہے‘ ایک ہی ذہن کی کارفرمائی مختلف مظاہر اختیار کرسکتی ہے‘ لیکن یہ اختلاف عوارض کا اختلاف ہے‘ جوہری اختلاف ہرگز نہیں ہے۔ جس بنیاد پر اسلام میں زندگی کی پوری اسکیم مرتب کی گئی ہے‘ اور اس کے تمام شعبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے وہ کسی قسم کا اختلاف قبول نہیں کرتی۔ آپ خواہ پاکستانی ہوں‘ یا ترکی یا مصری، اگر آپ مسلمان ہیں تو یہی اسکیم اپنی اسی اسپرٹ کے ساتھ آپ کو اختیار کرنی پڑے گی اور اس اسکیم کو رد کر دینا پڑے گا جو اپنی اسپرٹ اور اپنے اصولوں کے لحاظ سے اس کے خلاف ہو۔
یہاں آپ ’مذہبی‘ اور’دنیوی‘ شعبوں کو ایک دوسرے سے الگ کر ہی نہیں سکتے۔ اسلام کی نگاہ میں دنیا اور آخرت دونوں ایک ہی مسلسل زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ سعی و عمل کا ہے‘ اور دوسرا مرحلہ نتائج کا ____ آپ زندگی کے پہلے مرحلے میں دنیا کو جس طرح برتیں گے، دوسرے مرحلے میں ویسے ہی نتائج ظاہر ہوں گے____ اسلام کا مقصد آپ کے ذہن اور آپ کے عمل کو اس طرح تیار کرنا ہے‘ کہ زندگی کے اس ابتدائی مرحلے میں آپ دنیا کو صحیح طریقے سے برتیں تاکہ دوسرے مرحلے میں صحیح نتائج حاصل ہوں۔ پس یہاں پوری دنیوی زندگی ’مذہبی‘ زندگی ہے‘ اور اس میں اعتقادات و عبادات سے لے کر تمدن و معاشرت اور سیاست و معیشت کے اصول و فروع تک ہر چیز ایک معنوی اور مقصدی ربط کے ساتھ مربوط ہے۔ اگر آپ اپنے سیاسی و معاشی معاملات کو اسلام کی تجویز کردہ اسکیم کے بجائے کسی اور اسکیم کے مطابق منظم کرنا چاہتے ہیں تو یہ جزوی ارتداد ہے‘ جو آخر کار کُلّیْ ارتداد پر منتہی ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اسلامی تعلیمات کا تجزیہ کرکے بعض کو رد اور بعض کو قبول کرتے ہیں۔ آپ معتقدات دین اور عبادات دینی کو قبول کرتے ہیں‘ مگر اس نظامِ زندگی کو ترک کر دیتے ہیں جس کی عمارت انھی عبادات کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہے۔ اول تو یہ تجزیہ ہی اسلام کی رُو سے غلط ہے اور کوئی مسلمان جو حقیقت میں اسلام پر ایمان رکھتا ہو‘ اس کا ارادہ نہیں کر سکتا‘ کیونکہ یہ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۲؎ کا مصداق ہے۔ پھر اگر آپ نے یہ تجزیہ کرکے دائرۂ اسلام میں رہنے کا عزم کیا بھی تو آپ اس دائرے میں زیادہ مدت تک نہ رہ سکیں گے کیونکہ نظامِ زندگی سے بے تعلق ہونے کے بعد معتقدات دین اور عبادات دینی سب بے معنی ہو جاتے ہیں، ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ غیر اسلامی اصول حیات پر ایمان لانے کے بعد اس قرآن پر ایمان قائم ہی نہیں رہ سکتا، جو قدم قدم پر ان اصول حیات کی تکذیب کرتا ہے۔
بخلاف اس کے اگر آپ اس اسکیم کے مطابق اپنی سیاسی و معاشی زندگی کے معاملات کو منظم کرنا چاہتے ہیں جو اسلام نے تجویز کی ہے تو آپ کو الگ پارٹیوں میں منقسم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ایک ہی پارٹی ____ حزب اللہ ____ ان سب کاموں کے لیے کافی ہے‘ کیونکہ یہاں سرمایہ دار اور مزدور‘ زمین دار اور کاشت کار‘ راعی اور رعیت کے مفاد میں تنازع نہیں ہے‘ بلکہ ان کے درمیان موافقت اور اشتراکِ عمل پیدا کرنے والے اصول موجود ہیں، کیوں نہ آپ ان اصولوں کے مطابق اپنی قوم کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کریں؟ جن کے پاس یہ اصول موجود نہیں ہیں‘ وہ اگر مجبورًاتنازع طبقات (class war)کی آگ میں کودتے ہیں‘ تو آپ کیوں ان کے پیچھے جائیں۔
اسی طرح اگر آپ مادی ترقی چاہتے ہیں، عُلُوّاور تَمَکُّن فی الارض چاہتے ہیں تو اسلام خود اس باب میں آپ کی مدد کرتا ہے، مگر وہ چاہتا ہے کہ آپ فرعونی و نمرودی علو اور ابراہیمی ؑ و موسوی ؑ علو میں امتیاز کریں۔ ایک تمکن وہ ہے جو جاپان اور انگلستان کو حاصل ہے۔ دوسرا وہ تھا جو صحابہ کرامؓ اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے حاصل کیا تھا۔ تمکن دونوں ہیں‘ اور دونوں تسخیر عناصر‘ استعمالِ اسباب اور قوانین طبعی کے علم اور ان سے استفادہ کرنے ہی کے نتائج ہیں‘ مگر زمین و آسمان کا فرق ہے، دونوں گروہوں کے مقاصد اور نقطۂ نظر میں۔ آپ نتائج کے ظاہری اور نہایت سطحی تماثل کو دیکھتے ہیں مگر ان کے درمیان جو روحی و اخلاقی بُعد ____ بُعد المشرقین ____ ہے اس کو نہیں دیکھتے۔ دنیا پرستوں کی ترقی اور ان کا تمکن اس تسخیر عناصر اور استعمال اسباب کا نتیجہ ہے جس کی تہہ میں زندگی کا حیوانی نصب العین کام کر رہا ہے۔ بخلاف اس کے قرآن جس علو اور تمکن فی الارض کا وعدہ کرتا ہے وہ بھی اگرچہ تسخیرِ عناصر اور استعمالِ اسباب سے ہی حاصل ہوسکتا ہے‘ مگر اس کی تہہ میں زندگی کا بلند ترین اخلاقی و روحانی نصب العین ہونا چاہیے جس کا تحقق ہو نہیں سکتا، جب تک کہ ایمان باللہ اور اعتقاد یوم آخر پوری طرح مستحکم نہ ہو‘ اور جب تک کہ زندگی کی ساری جدوجہد اس آہنی فریم کے اندر کسی ہوئی نہ ہو جس کی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے صوم و صلوٰۃ اور حج و زکوٰۃ کو آپ پر فرض کیا گیا ہے ____ وہی ’ارکانِ اسلام‘ جن کو آپ مولوی کے غلط مذہب کی ایجاد قرار دیتے ہیں۔

۲۔ اسلامی ریاست کیوں؟

ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے‘ اگر وہ بحیثیت مسلمان زندگی گزارنا چاہتے ہیں،اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ اپنی پوری زندگی کو خدا کی اطاعت میں دیں اور اپنے انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات کا فیصلہ خدا کے قانون اور اس کی شریعت کے مطابق کریں۔ اسلام اس بات کو گوارا کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں کہ آپ ایمان کا اعلان تو کریں اللہ رب العالمین پر اور زندگی کے معاملات طے کریں غیر الٰہی قانون کے مطابق۔ یہ وہ سب سے بڑا تناقض ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے اور اسلام اس کو گوارا کرنے کے لیے نہیں‘ اس تناقض کو مٹانے کے لیے آیا ہے، اور اسلامی ریاست اور اسلامی دستور کے مطالبے کی پشت پر دراصل یہی احساس کار فرما ہے کہ اگر مسلمان خدا کے قانون کی پیروی نہیں کرتا تو اس کا دعویِ اسلام ہی مشتبہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر پورا قرآن دلیل ہے۔۳؎
۱۔ قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ خلق اسی کی ہے، لہٰذا فطرتاً امر کا حق (right of rule) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ملک (dominion)میں اس کی خلق پر‘ خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ صحیح راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت میں اس کے قانونِ شرعی کے مطابق حکمرانی ہو اور فیصلے کیے جائیں۔
۱۔ قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ آل عمران3: 26
کہو: اے اللہ‘ مالک الملک! تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔
۲۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔ فاطر35:13
وہ ہے اللہ‘ تمھارارب، ملک اسی کا ہے۔
۳۔ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ ۔ بنی اسرائیل17:111
بادشاہی میں کوئی اس کا شریک (partner)نہیں۔
۴۔ فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ ۔ المومن40:12
لہٰذا حکم اللہ بزرگ و برتر کے لیے خاص ہے۔
۵۔ وَّ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا ۔ الکہف18:26
اور وہ اپنے حکم میں کسی کو حصے دار نہیں بناتا۔
۶۔ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ۔ اعراف7:54
خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔
۷۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَکُلَّہٗ لِلّٰہِ ۔ آل عمران3:154
لوگ پوچھتے ہیں کیا امر میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہہ دو کہ امر سارا اللہ کے لیے مخصوص ہے۔
اس اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے سلب کرلیا گیا ہے، کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے‘ بندہ اور محکوم ہے‘ اور اس کاکام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو، البتہ قانون الٰہی کی حدود کے اندر استنباط و اجتہاد سے تفصیلاتِ فقہی مرتب کرنے کا معاملہ دوسرا ہے جس کی اجازت ہے۔ نیز جن امور میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی صریح حکم نہ دیا ہو‘ ان میں روح شریعت اور مزاج اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ قانون بنانے کا حق اہل ایمان کو حاصل ہے، کیونکہ ایسے امور میں کسی صریح حکم کا نہ ہونا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کے متعلق ضوابط و احکام مقرر کرنے کا قانونی حق اہل ایمان کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے، یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت و باغی اور خارج از اطاعتِ حق ہے‘ اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے:
۱۔ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ ۔ النحل16:116
اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو‘ ان کے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال (lawfull)ہے اور یہ حرام (unlawfull)ہے۔
۲۔ اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ۔ الاعراف7:3
جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تمھاری طرف اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے اولیا (اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں) کی پیروی نہ کرو۔
۳۔ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ المائدہ5:45
اور جو اس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں۔
۴۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ۔ النساء4:60
اے نبیؐ! کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اس ہدایت پر ایمان لانے کا جو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے، اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملے کا فیصلہ طاغوت سے کرائیں حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ طاغوت سے کفر کریں (یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں)۔
خداوند ِ عالم کی زمین پر صحیح حکومت اور عدالت صرف وہ ہے‘ جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہو‘ جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے‘ اسی کا نام خلافت ہے] ارشاد ہوتا ہے:[
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۔ النساء4:64
اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا اَرٰ کَ اللّٰہُ ۔ النساء4: 64
اے نبیؐ! ہم نے تمھاری طرف کتاب برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اسی روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمھیں دکھائی ہے۔
۳۔ وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكَ۝۰ۭ۔ المائدہ5:49
اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمھیں فتنے میں مبتلا کرکے اس ہدایت کے کسی جز سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمھاری طرف نازل کی ہے۔
۴۔ اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ۔ المائدہ5:50
کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں؟
۵۔ یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ ص38:26
اے دائود! ہم نے تم کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ اللہ کے راستے سے وہ تم کو بھٹکا لے جائے گی۔
اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت باغیانہ ہے جو خداوند عالم کی طرف سے اس کے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو۔ بلالحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں باہم کتنی ہی مختلف ہوں۔ ان کے تمام افعال بے اصل‘ بے وزن اور باطل ہیں۔ ان کے حکم اور فیصلے کے لیے سرے سے کوئی جائز بنیاد ہی نہیں ہے۔ حقیقی مالک الملک نے جب انھیں سلطان (charter)عطا ہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہوسکتی ہیں۔۴؎ وہ تو جو کچھ کرتی ہیںخدا کے قانون کی رو سے سب کا سب کالعدم ہے۔ اہل ایمان (یعنی خدا کی وفادار رعایا) ان کے وجود کو بطور ایک خارجی واقعے (defacto) کے تسلیم کرسکتے ہیں، مگر بطور ایک جائز وسیلہ انتظام و فصل قضایا (dejure)کے تسلیم نہیں کرسکتے۔ ان کاکام اپنے اصل فرماںروا (اللہ) کے باغیوں کی اطاعت کرنا اور ان سے اپنے معاملات کا فیصلہ چاہنا نہیں ہے اور جو ایسا کریں‘ ادّعائے اسلام و ایمان کے باوجود‘ وفاداروں کے زمرے سے خارج ہیں۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے کہ کوئی حکومت ایک گروہ کو باغی بھی قرار دے اور پھر اپنی رعایا پر ان باغیوں کے اقتدار کو جائز بھی تسلیم کرے اور اپنی رعایا کو ان کا حکم ماننے کی اجازت دے دے:
۱۔ قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ لِقَآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا ۔ الکہف18:103-105
اے نبیؐ! ان سے کہو: کیا میں تمھیں بتائوں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ ناکام و نامراد کون ہیں؟ وہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی پوری سعی بھٹک گئی (یعنی انسانی کوششوں کے فطری مقصودرضائے الٰہی سے ہٹ کر دوسرے مقاصد کی راہ میں صرف ہوئی) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم خوب کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کی ملاقات (یعنی اس کے سامنے حاضر ہو کر حساب دینے) کا عقیدہ قبول نہ کیا۔ اس لیے ان کے سب اعمال حبط (کالعدم) ہوگئے اور قیامت کے روز ہم انھیں کوئی وزن نہ دیں گے۔
۲۔ تِلْکَ عَادٌ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَہٗ وَ اتَّبَعُوْٓا اَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ ھود11:59
یہ عاد ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر جبار دشمنِ حق کے امر کا اتباع کیا۔
۳۔ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ مَلَاْئِہٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ وَ مَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ۔ ھود11:96-97
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح روشن سلطان کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان ریاست کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے (ہمارے فرستادہ شخص کے بجائے) فرعون کے امر کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا امر درست نہ تھا۔ (یعنی مالک الملک کے سلطان پر مبنی نہ تھا)
۴۔ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ۔ الکہف18:28
اور تو کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے (یعنی اس حقیقت کے شعور و ادراک سے کہ ہم اس کے رب ہیں) غافل کر دیا ہے‘ جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور جس کا امر حق سے ہٹا ہوا ہے۔
۵۔ قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا۔ الاعراف7:33
اے نبیؐ! کہہ دو کہ میرے رب نے حرام کیا ہے فحش کاموں کو خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور معصیت کو‘ اور حق کے بغیر ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کو‘ اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ (حاکمیت اور الوہیت میں) ان کو شریک کرو جن کے لیے اللہ نے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔
۶۔ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ۔ یوسف12:40
تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی بندگی کرتے ہو‘ وہ تو محض نام ہیں، جو تم نے اور تمھارے اگلوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔ حکم صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔
۷۔ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآئَ ت مَصِیْرًا۔ النساء4:115
اور جو کوئی رسولؐ سے جھگڑا کرے در آں حالیکہ راہ راست اس کو دکھا دی گئی‘ اور ایمان داروں کا راستہ چھوڑ کر دوسری راہ چلنے لگے‘ اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود مڑ گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
۸۔ فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ۔ النساء4:65
پس تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اے نبی! تجھ کو اپنے باہمی اختلاف میں فیصلہ کرنے والا نہ تسلیم کریں۔
۹۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا۔ النساء4:61
اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آئو رسولؐ کی طرف تو تونے منافقین کو دیکھا کہ وہ تمھاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔
۱۰۔ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا ۔ النساء4:141
اور اللہ نے کافروں (یعنی اپنی سلطنت کے باغیوں) کے لیے اہلِ ایمان (یعنی اپنی وفادار رعایا) پر کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔
یہ قرآن کے محکمات ہیں۔ ان میں کچھ بھی متشابہ نہیں ہے اور یہی وہ مرکزی عقیدہ ہے جس پر اسلام کے نظام فکر‘ نظام اخلاق اور نظام تمدن کی بنیاد رکھی گئی ہے اور مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے جب تک وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت قائم نہ کرلیں۔ خدا کے قانون کی بالادستی قائم کیے بغیر بحیثیت مسلمان زندگی نہیں گزار سکتے، اس لیے ان کے دین و ایمان کا تقاضا ہے کہ خلافت الٰہی کا نظام قائم ہو، اور زندگی کے تمام معاملات خدا کے قانون کے مطابق طے ہوں۔ انبیائے کرام علیہم السلام اس مقصد کے لیے مبعوث کیے گئے کہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم کریں۔ اس لیے دیکھیے کہ ہجرت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ دعا منگوائی جاتی ہے:
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔
بنی اسرائیل17: 80
اور دعا کر کہ پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مدد گار بنا دے۔
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں‘ اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے‘ اور اس کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ:
اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَایَزَعُ بِالْقُرَآنِ۔ (تفسیر ابن کثیر، ج۳، ص ۵۹۔ البدایہ و النہایۃ، ج۲، ص۱۰۔تفسیر فتح القدیر للشوکانی ج۳، ص ۳۵۶، ص ۲۵۶۔ کنزالعُمال حدیث ۱۴۲۸۴)
یعنی اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے‘وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سکھائی ہے‘ تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب و مندوب ہے‘ اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں، بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔۵؎

۳۔ اسلام اور اقتدار

اوپر کی بحث سے اسلامی ریاست کی ضرورت واضح ہو چکی ہے، لیکن چونکہ مختلف وجوہ سے دین و سیاست کی تفریق کے شیطانی فلسفے نے خود مسلمانوں کے ذہن و فکر کو بھی متاثر کیا ہے اور وہ طرح طرح کی تاویلیں کرکے اس تفریق کے لیے گنجایش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اسلام کس قسم کا انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے اور اس بارے میں جو غلط تاویلات کی جارہی ہیں‘ ان کی حقیقت کیا ہے۔
تفہیم القرآن۶؎ میں آیت وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ۷ ؎ البقرہ2:193کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ:
باز آ جانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجانا نہیں بلکہ فتنے سے باز آجانا ہے۔ کافر‘ مشرک‘ دہریے‘ ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے‘ یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمائش اور نصیحت تو کریں گے، مگر اس سے لڑیں گے نہیں، لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور اللہ کے بندوں کو غیر از اللہ کسی کا بندہ بنائے۔ یہ فتنہ بزور شمشیر مٹایا جائے گا اور مومن کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ جائے گی جب تک کفار اپنی روش سے باز نہ آجائیں۔
اس تفسیر کے خط کشیدہ فقرے پر ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب علم بزرگ نے حسب ذیل اعتراض کیا:
(الف) اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے‘ دوسروں کے مذہب میں مداخلت اور اس بنا پر لڑائی روا رکھتا ہے‘ حالانکہ یہ امرلَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ البقرہ2:256 کے مخالف ہے۔
(ب) مخالفین کو اپنے اپنے مذہب اور عقائد پر قائم رہنے کی آزادی لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ الکافرون109:6 سے بھی ظاہر ہے۔ جو کوئی اپنے عقائد میں آزاد ہو گا اُسے ان کی اشاعت اور تبلیغ میں بھی آزادی ہونی چاہیے، کیونکہ وہ انھی عقائد کو برحق سمجھتا ہے۔ قرآنی مفہوم سے اسی آزادی کا پتہ چلتا ہے اور باہمی مناظرات کا ثبوت بھی ملتا ہے‘ مثلاً: لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ العنکبوت29:46 غیر مذاہب کے عبادت خانے اور طریق عبادت اسلامی مداخلت سے محفوظ رہے ہیں۔ حتٰی کہ مسجد نبویؐ میں اہلِ کتاب کو اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کی ملازمت اختیار کی جس کا عقیدہ اور عمل مشرکانہ تھا۔ ہاں اپنے طور پر امن کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے جیسا کہ یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ۔ یوسف12:39 سے ظاہر ہے۔ اسی طرح دوسروں کو بھی اپنے خیالات کی اشاعت کا حق پہنچتا ہے۔
(ج) زیر خط عبارت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمان کہیں بھی مخلوط آبادی میں امن سے زندگی نہیں گزار سکتے۔ غیر مسلم تمدنی اور معاشرتی امور میں بھی، کیوں ان کے ساتھ تعاون باہمی اور رواداری سے کام لیں، جب کہ ان کا سیاسی اور اساسی عقیدہ ہی سدراہ ہو؟ ایسے مسلمان اگر ترکی اور ایران میں بھی آباد ہوں تو بقول آپ کے وہاں بھی انھیں عَلَمِ جہاد بلند کرنا ہوگا کیونکہ ان ممالک میں حدود اور قوانین ِ اسلامی نافذ نہیں۔ اس زمانے میں عالمگیر سیاست اس نہج پر مدون ہے کہ کوئی جماعت غیر معروف طریقوں سے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل باہمی سے کام نہیں لے سکتی‘ کیونکہ آپ کا فرمودہ استدلال کسی اشتراکِ عمل کے لیے مانع ہوگا۔ اگر اسلامی جماعت اپنے عقائد کی اشاعت کا حق رکھتی ہے تو اسے غیر مسلموں کو بھی‘ خصوصاً جب کہ وہ حکمران ہوں‘ وہی حق دینا ہوگا۔ ہرچہ برخود نہ پسندی بردیگراں پسند۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے اہل کتاب کے ساتھ جو تعامل باہمی کے معاہدے کیے تھے، کیا وہ معاہدے ایسی ہی شرائط پر مبنی تھے؟ مکی زندگی کے ابتدائی مراحل آپ کے استدلال کے مؤید نہیں۔ بالفاظ دیگر ایسی جماعت کا وجود ہی کسی غیر مسلم حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ جونہی اسے قوت ملی وہ اس کے قوانین اور اس کے نظام حکومت کو مٹانے کے لیے تلوار ہاتھ میں لے لے گی۔ کون اس کو برداشت کرے گا؟
اس اعتراض کا مختصر جواب تو چند جملوں میں بھی دیا جاسکتا ہے‘ لیکن درحقیقت یہ اعتراض اپنی پُشت پر غلط فہمیوں کا ایک بڑا انبار رکھتا ہے‘ اور وہ غلط فہمیاں امت میں بڑی کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی وجہ سے مسلمان بالعموم اپنے دین کے بنیادی تقاضوں تک کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں‘ اس لیے یہاں اس پرذرا تفصیل سے بحث کی جاتی ہے۔
اسلام کا مشن
یہ بحث تو بعد میں ہوتی رہے گی کہ اسلام امن اور سلامتی کا مؤید کس معنی میں ہے اور لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِالبقرہ2:256 اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ الکٰفرون109:6کا کیا مطلب ہے اور یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبوت کرنے آئے تھے یا تلاشِ روزگار میں نکلے تھے۔ ان سب باتوں سے پہلے اس سوال کا تصفیہ ہونا چاہیے کہ فی الواقع اسلام کا مشن اس دنیا میں ہے کیا؟ کیا وہ جباروں کی سواری کے لیے انسانوں کو سُدھانے آیا ہے، تاکہ جبار جب دنیا میں خدائی کرنے اٹھے تو اسلام کے پیروئوں کو اپنا اطاعت گزار خادم پائے؟ کیا اس نے دنیابھر کی حکومتوں اور سلطنتوں کے لیے پر امن رعیت فراہم کرنے کا اجارہ لیا ہے کہ ہر حکومت کو‘ خواہ اس کا نظام کسی نوعیت کا ہو‘ اپنی مشینری چلانے کے لیے اسلام کے کارخانے سے ہر قسم کے ڈھلے ڈھلائے پرزے حاصل ہو جایا کریں؟ کیا اس کاکام بس یہی ہے کہ چند عقائد اور چند اصولِ اخلاق کی تعلیم دے کر آدمیوں میں اتنی لچک اور اتنی نرمی پیدا کر دے کہ وہ ہر نظامِ تمدن میں‘ خواہ وہ کسی قسم کا تمدن ہو‘ باآسانی کھپ سکیں؟
اگر معاملہ حقیقت میں یہی ہے تو اسلام‘ بودھ مذہب اور سینٹ پال کی بنائی ہوئی مسیحیت سے کچھ بہت زیادہ مختلف چیز نہیں ہے اور اس کے بعد یہ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ ایسے مذہب کی کتاب میں قَاتِلُوْھُمْالانفال8:39 جیسا خوف ناک لفظ سرے سے آیا ہی کیوں؟ اسے تو اپنے پیرووں کو جنگ اور جہاد کا حکم دینے کے بجائے اپنے مخالفین سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ:
ہم غریبوں کو آخر کیوں مارتے ہو؟ ہم نہ نظامِ حکومت میں کوئی انقلاب کرنا چاہیں، نہ نظامِ تمدن میں کسی ترمیم و تنسیخ کی دعوت دیں۔ اقتدار کسی کا بھی ہو‘ اس کے ماتحت پر امن باشندوں کی حیثیت سے رہنا ہمارا مسلک اور حکومت وقت کی وفاداری ہمارا دین و ایمان‘ پھر ہم سے تمھیں پرخاش کی کیا وجہ؟ رہا ہمارا مذہبی عقیدہ اور ہمارا پوجا پاٹ کا نظام تو اس سے تمھارا کیا بگڑتا ہے؟ تمھارا کون سا تمدنی ادارہ اور کون سا مفاد ایسا ہے جس پر ہمارے عقیدے یا ہماری پوجا کی ضرب پڑتی ہو؟
یہ جواب اگر اچھے معقول پیرائے میں دیا جاتا اور عملاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے پیر و وفادارانہ خدمات بھی انجام دیتے رہتے تو مشرکینِ مکہ ہمارے انگریز آقائوں ۸؎ کے مقابلے میں کچھ ایسے زیادہ نامعقول نہ تھے کہ مسجدوں میں اذان و نماز کی آزادی اور تبلیغی انجمنوں کے قیام کی اجازت نہ دیتے،لیکن اگر حقیقت یہ نہیں ہے، بلکہ اسلام خود اپنا ایک نظام زندگی رکھتا ہے جس میں عقائد‘ اخلاق اور عبادات کے ساتھ انفرادی طرز عمل اور اجتماعی زندگی کے تمام معاملات سے متعلق احکام و قوانین بھی ہیں‘ اور اگر اسلام کی دعوت اپنے اس پورے نظام کی طرف ہے‘ اور اگر اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کا اپنا نظام ہی برحق ہے اور اسی میں انسان کی فلاح ہے اور اس کے سوا ہر دوسرا نظام باطل ہے‘ تو ان باتوں کے ساتھ یہ قطعی ناگزیر ہے کہ اسلام زمین میں اپنے نظام کو غالب اور دوسرے نظامات کو مغلوب کرنے کا بھی تقاضا کرے۔ ایک نظام زندگی کو حق اور صدق ہونے کی حیثیت سے پیش کرنا اور پھر عملاً اس کی اقامت کی دعوت نہ دینا، سراسر ایک مہمل بات ہے، اور اس سے بھی زیادہ مہمل بات یہ ہے کہ دوسرے نظامات کو باطل بھی کہا جائے اور پھر ان کے غلبے کو برداشت بھی کیا جائے۔ مزید برآں یہ بات بداہتہً محال ہے کہ ایک نظام زندگی کی پیروی کسی دوسرے نظام زندگی کے ماتحت رہتے ہوئے کی جاسکے۔ اس لیے وہ صرف ایک فاتر العقل ہی ہو سکتا ہے جو ایک ہی وقت میں اپنے پیش کردہ نظام کی پیروی کا مطالبہ بھی کرے اور ساتھ ہی دوسرے نظامات کے اندر پر امن وفادارانہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم بھی دے۔
پس اسلام کا اپنے مخصوص نظام زندگی کی طرف دعوت دینا، عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرے اور اس مقصد کے لیے اپنے پیروئوں کو جدوجہد کی ان تمام صورتوں کے اختیار کرنے کا حکم دے جن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے اور مدعیان اتباع کے ایمان و عدم ایمان کا نشان امتیاز اسی سوال کو قرار دے کہ آیا وہ اس جدوجہد میں جان و مال کی بازی لگاتے ہیں، یا باطل نظامات کے ماتحت جینے پر راضی ہوتے ہیں؟ قرآن اور حدیث دونوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو صاف نظر آ جائے گا____ بشرطیکہ دل میں کوئی چور نہ ہو ____ کہ اسلام کا اصل موقف یہی ہے نہ کہ وہ جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔
پھر جب حقیقت یہ ہے اور ہم اسلام کی حقیقت کو جان کر اس پر ایمان لائے ہیں تو یقیناً ہمارے وجود کو ہر غیر اسلامی حکومت کے لیے کھلا چیلنج ہونا ہی چاہیے۔ کوئی اس کو برداشت کرے یا نہ کرے‘ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل ہوسکے یا نہ ہوسکے۔ بہرحال اگر ہم اپنے ایمان میں صادق ہیں تو ہمارا کام یہی ہے کہ جہاں بھی اللہ کا قانون شرعی نافذ نہیں ہے‘ وہاں ہم اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کریں۔ ہمارا مسلمان ہونا اس شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے کہ جو لوگ اللہ سے پھرے ہوئے ہیں وہ ہماری اس جدوجہد کو برداشت بھی کریں، اور غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل بھی ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس نظام زندگی پر ہم ایمان لائے ہیں اس کے قیام کی جدوجہد صرف اس لیے چھوڑ دیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون و تعامل اس صورت میں نہ ہوسکے گا۔ اسلام بے شک امن اور سلامتی کا حامی اور مؤید ہے‘ مگر اس کی نگاہ میں حقیقی امن اور سلامتی وہی ہے جو حدود اللہ کی اقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ جس کسی نے امن اور سلامتی کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ شیطانی نظامات کے زیر سایہ اطمینان کے ساتھ سارے کاروبار چلتے رہیں اور مسلمان کی نکسیر تک نہ پھوٹے‘ اس نے اسلام کا نقطۂ نظر بالکل نہیں سمجھا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہوجانا چاہیے کہ اسلام ایسے امن اور ایسی سلامتی کا ہرگز حامی اور مؤید نہیں ہے۔ اسے دوسروں کا قائم کردہ امن نہیں، بلکہ اپنا قائم کردہ امن مطلوب ہے اور اسی میں وہ انسان کی سلامتی دیکھتا ہے۔
رہا لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ البقرہ2:256 تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام اپنے عقائد زبردستی کسی سے نہیں منواتا کیونکہ یہ بزور منوانے کی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عبادات بھی‘ جن کا لازمی تعلق اس کے عقائد سے ہے‘ زبردستی کسی پر مسلط نہیں کرتا‘ کیونکہ ایمانِ صحیح کے بغیر یہ عبادات محض بے معنی ہیں۔ ان دونوں امور میں وہ ہر ایک کو آزادی دینے کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن‘ جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے‘ خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں‘ اور خدا کی زمین پر اس کے باغی اس کو نافذ کریں اور مسلمان ان کے تابع ہو کر رہیں۔ اس معاملے میں بہرحال ایک فریق کو دوسرے فریق کے’مذہب‘ میں مداخلت کرنی ہی پڑے گی۔ اگر مسلمان ’مذہب کفر‘ میں مداخلت نہ کریں گے تو کافر’مذہبِ اسلام‘ میں مداخلت کرکے رہیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی زندگی کے بہت بڑے حصے پر مذہب کفر جاری ہوگا۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ یہ مداخلت کفار کی طرف سے ہو‘ اسلام یہ تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظام زندگی پر قبضہ کریں اور پھر جہاں تک مذہبی عقائد اور عبادات کا تعلق ہے‘ غیر مسلموں کے ساتھ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن کے اصول پر عمل کریں۔
رواداری کا غلط تصور اور اس کا جائزہ
اب ہم ان دلائل پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں جن کا سہارا جناب معترض نے لیا ہے اور جن پر اس طرز خیال کے لوگ بالعموم اعتماد کیا کرتے ہیں۔
٭ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جب تم ’فتنے‘ سے مراد کفر کا غلبہ اور کفار کی بالادستی لیتے ہو‘ اورجہاد و قتال کی غایت یہ قرار دیتے ہو کہ تمھاری اس تفسیر کے مطابق جس چیز کا نام ’’فتنہ‘‘ ہے وہ مٹ جائے اور اس کی جگہ ’اللہ کا دین‘ قائم ہو‘ تو اس سے یہ ماننا لازم آتا ہے کہ اسلام دو بالکل متضاد حیثیتیں اختیار کر رہا ہے۔ ایک طرف کہتا ہے لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنَ دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے۔ دوسری طرف غیر مسلموں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ وہ اپنے نظریے و مسلک کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں‘ اور ان کے قوانین کا اجرا موقوف کر کے زبردستی ان پر ’اللہ کے دین‘ کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِکہہ کر غیر مذاہب کے پیرووں کو اپنے مذہب و عقائد پر قائم رہنے کی آزادی دیتا ہے۔ دوسری طرف ان سے ٹھیک اس بات پر لڑائی چھیڑتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور اپنے اصولوں کے مطابق معاملاتِ دنیا کا انتظام کیوں کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام ہرگز اس تضاد کا حامل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا تمھاری تفسیر صحیح نہیں ہے۔
٭ دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر غیر اسلامی حکومت کا نفس وجود اسلام کی نگاہ میں فتنہ ہوتا اور اس کو مٹانے پر مسلمان مامور ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کی غیر اسلامی حکومت میں وزارت کا عہدہ طلب کرتے اور اپنی وزارت کے دور میں مصر کے شاہی قوانین کے پابند رہ کر کام کرتے جیسا کہ آیت مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ یوسف12:76 سے ظاہر ہے۔
٭ تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر تمھاری اس تفسیر کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اسلام دنیا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑتا ہے اور اپنے پیرووں پر جارحانہ جنگ کا ایک ایسا فرض عائد کرتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان دنیا میں کہیں امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس تفسیر کی رُو سے تو ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ نہ صرف تمام غیر مسلم حکومتوں کے خلاف، بلکہ ان مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی علمِ جہاد بلند کریں جن میں اسلامی حدود و قوانین نافذ نہیں ہیں، اور جب یہ ہمارا نظریہ اور یہ ہمارا دینی فریضہ ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ غیر مسلم ہم کو اپنا پُرامن ہمسایہ سمجھ کر بہ اطمینان ہمارے ساتھ معاملت کرسکیں اور غیر مسلم حکومتیں اپنے حدود عمل میں ہمارے وجود کو برداشت کرسکیں۔
دلائل کا تجزیہ
۱۔ ان دلائل میں سے پہلی دلیل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کسی شخص کا بجائے خود ایک عقیدے کو ماننا اور اپنی زندگی میں ایک خاص طریقے کی پیروی کرنا اور چیز ہے‘ اور اس کا اپنے نظریات کے مطابق اجتماعی زندگی کے لیے ایک نظام بنانا اور اس نظام کو بزور ایک ملک کے باشندوں پر جاری کر دینا ۹؎ بالکل ایک دوسری چیز۔ معترضین ان دونوں چیزوں کو ایک سمجھتے ہیں اور ان کے فرق کو نظر انداز کرکے لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن وغیرہ آیات کو ان کے مجموعے پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان آیات کا تعلق صرف امر اوّل سے ہے۔ بلاشبہہ ہم کسی غیر مسلم کو مجبور نہ کریں گے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ کر اسلامی عقیدہ قبول کرے، یا اپنی مذہبی عبادات ترک کرکے نماز روزے کی پابندی اختیار کرلے، لیکن ہم اس کا یہ حق کسی طرح تسلیم نہیں کرسکتے کہ وہ اخلاق‘ تعلیم‘ تمدن‘ معاشرت‘ معیشت‘ قانون اور سیاست وغیرہ اجتماعی امور کے متعلق اپنے نظریات کو حاکمانہ قوت کے ساتھ بہ جبر ہم پر مسلط کردے۔ دوسروں کو ان کے مسلک پر چلنے دینا بے شک رواداری ہے، مگر یہ کوئی رواداری نہیں ہے کہ اپنے مسلک کے خلاف ہم اپنے اوپر دوسروں کے مسلک کا تسلط برداشت کرلیں۔ ملک کی حکومت جس فلسفۂ زندگی پر مبنی ہوگی‘ لامحالہ تمام قوانین اور پوری انتظامی پالیسی اور سارا کاروبار معیشت اسی فلسفے کے نظریات پر چلے گا اور ایسی حکومت کے تحت رہتے ہوئے یہ کسی طرح ممکن ہی نہ ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا نظام اپنے مذہب و مسلک کے اصولوں پر چلا سکیں۔ ہم خواہ راضی ہوں یا نہ ہوں‘ بہرحال مذہب مخالف کے پیرو اپنے سیاسی غلبے کی بدولت اپنے نظریات کو زبردستی ہماری پوری زندگی میں نافذ کرکے چھوڑیں گے۔ اس معاملے میں رواداری برتنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ زنا کو حلال سمجھتے ہوں اور لوگوں کو اس کی عام اجازت دیتے ہوں تو ان کی حکومت میں بے بس رعیت کی حیثیت سے رہتے ہوئے خود ہماری سوسائٹی میں زنا پھیلتی چلی جائے اور ہم اسے گوارا کریں۔ اگر وہ سود کو جائز سمجھتے ہوں اور خود ان کی حکومت سودی لین دین کرتی ہو تو ملک کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے ہمارا کوئی بڑے سے بڑا زاہد و متقی تک سود کے غبار سے نہ بچ سکے اور ہم ایک دیا سلائی اور روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ خرید سکیں جب تک کہ اس کی قیمت میں سے سود کا ایک حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں ہماری جیب سے نہ نکل جائے۔ اگر وہ دہریت و الحاد کے نظریات پر اعتقاد رکھتے ہوں تو ملک کی عمومی تعلیم کا پورا نظام انھی نظریات اور اسی ذہنیت اور اسی ملحدانہ اخلاق پر تعمیر ہو جائے اور باشندگانِ ملک کے لیے ترقی و خوش حالی کے تمام دروازے اس ایک جہنم کے دروازے کے سوا بند ہو جائیں اور ہمارا کوئی بڑے سے بڑا خدا پرست بھی اپنی نسل کو اس الحاد اور ملحدانہ اخلاق کے اثرات سے نہ بچاسکے۔ اگر وہ خدا کے قوانین کو منسوخ کرکے خود قوانین بنائیں اور ملک کا نظامِ تمدن اپنے خود ساختہ قوانین پر قائم کریں تو ہماری معاشی و معاشرتی اور تمدنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مجبوراً اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جائے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور اس قانون پر چلنے لگے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے۔ کوئی ہمیں بتائے کہ آخر یہ رواداری کی کون سی قسم ہے؟ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن کا یہ مطلب آخر کس عقل کی رُو سے صحیح ہوسکتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے دین میں جو اِکْرَاہ ہو‘ اسے ہم برداشت کرلیں؟
ریاست کی ضرورت
یہ ظاہر ہے کہ اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کرنے کے لیے بہرحال ایک قوتِ قاہرہ (coercive power)کی ضرورت ہے جسے ’اسٹیٹ‘ یا ریاست کہتے ہیں ____ اس ضرورت کا انکار انار کی پر اعتقاد رکھنے والوں کے سوا آج تک کسی نے نہیں کیا، یا پھر اشتراکی تصوف میں ایک ایسے مقام کا تصور کیا گیا ہے جہاں پہنچ کر انسان کی حیاتِ اجتماعی ریاست کی ضرورت سے بے نیاز ہو جائے گی۱۰؎ لیکن یہ صرف عالمِ خیال کی باتیں ہیں جن کی تائید میں کوئی تجربہ یا مشاہدہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عملی زندگی کا تجربہ اور انسانی فطرت کا علم یہی بتاتا ہے کہ تمدن کا قیام ایک قوتِ قاہرہ کا یقیناً محتاج ہے ____ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ قوت‘ جو اپنے قہر و غلبے سے نظامِ تمدن کو قائم رکھتی ہے‘ بجائے خود کسی نہ کسی نظریے اور کسی نہ کسی اجتماعی مسلک کی قائل ہوتی ہے۔ اسی نظریے و مسلک کے مطابق وہ اپنے لیے ایک لائحہ عمل بناتی ہے۔ اسی لائحہ عمل کو وہ قاہرانہ طاقت کے ساتھ اجتماعی زندگی میں نافذ کرتی ہے، اور تمدنی شکل کے بننے اور بگڑنے میں اس قہر کی نوعیت اور اس لائحہ عمل کی اصولی و تفصیلی صورت کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ صرف اجتماعی زندگی ہی نہیں‘ انفرادی زندگی بھی بڑی حد تک طوعاً و کرھاً اس سانچے میں ڈھل کر ہی رہتی ہے جسے اسٹیٹ اپنے قہر و تسلط سے بنا دیتا ہے۔ جو لوگ کسی ریاست کے دائرے میں رہتے ہوں وہ چاہے اس کے بنیادی نظریے اور اس کے تفصیلی لائحہ عمل پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح اس پر راضی نہ ہوں‘ لیکن انھیں چار و ناچار اپنے عقیدے و مسلک کے ۹۰ فی صدی حصے سے دست بردار ہو کر ریاست کے عقیدے و مسلک پر چلنا پڑتا ہے اور باقی ۱۰ فی صدی میں بھی ان کے عقیدے و مسلک کی گرفت روز بروز ڈھیلی ہی ہوتی جاتی ہے۔
ریاست کی اس نوعیت کو ملحوظ رکھنے اور یہ سمجھ لینے کے بعد کہ اجتماعی زندگی کے لیے ریاست بہرحال ہے ناگریز۔ ایک صاحب فکر و نظر آدمی کے لیے اس حقیقت کا ادراک کچھ مشکل نہیں رہتا کہ جو گروہ آج کل کے محدود معنوں میں محض ایک ’مذہب‘ کا معتقد نہ ہو، بلکہ ایک ہمہ گیر نظام زندگی‘ یعنی ’دین‘ پر اعتقاد رکھتا ہو،وہ اگر اپنے اعتقاد میں سچا ہے اور اپنے اعتقاد کے خلاف زندگی گزارنا نہیں چاہتا تو اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر خود اس قوتِ قاہرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے جو نظمِ اجتماعی کی صورت گری کرتی ہے اور اپنے زور سے اس کو قائم رکھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو دوسرے اس قوت پر قبضہ کریں گے اور پھر یہ گروہ مجبور ہوگا کہ اجتماعی و انفرادی زندگی کے کم از کم ۹۰ فی صدی امور میں اپنے ’دین‘ کے بجائے ان کے ’دین‘پر چلے۔ متمدن زندگی میں یہ’اکراہ‘ لامحالہ ہم میں سے کسی ایک کو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر ہم نہ کریں گے تو کفار کریں گے۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ کفار اس دائرے میں ہم پر اِکْرَاہ کریں اور ہمیں جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں‘ یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہم ان پر اِکْرَاہ کریں اور انھیں اس مقام کے قریب لاکھڑا کریں جہاں اگر وہ چاہیں تو ان کو بَہ آسانی جنت کا راستہ مل سکتا ہے۔
یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہے۔ اس کی زمین پر رہنے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور اس کی ملکیت میں تصرف کرنے کا حق صرف اس کو پہنچتا ہے جو اس کا مطیعِ فرمان ہو، اور اس کے قانون فطری و شرعی کا اتباع کرے۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ ظالم ہے، غاصب ہے‘ باغی ہے۔ اس کی یہ نافرمانی صرف خلافِ حق ہی نہیں، بلکہ زمین کے انتظام میں فساد اور اہلِ زمین کے لیے فتنے کی موجب بھی ہے۔ لہٰذا حق تو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے پھرے ہوئے ہیں اور اس کے قانون فطری و شرعی کی پیروی سے منحرف ہیں‘ ان کو زمین میں جینے کا حق بھی نہ ہونا چاہیے، لیکن یہ اللہ کی بہت بڑی عنایت اور اس کا انتہائی حلم ہے کہ وہ ان کو نہ صرف جینے کی مہلت دیتا ہے‘ بلکہ ان کو ان کے کفر‘ شرک‘ دہریت اور الحاد پر اس حد تک قائم رہنے کا اختیار بھی دیتا ہے جہاں تک ان کی بغاوت اللہ کے دوسرے بندوں کے لیے فتنہ و فساد کی موجب نہ ہوسکے، البتہ وہ اس بات کو ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ یہ لوگ اس کے قانون شرعی کو منسوخ کرکے اپنے خود ساختہ قوانین پر اس کی زمین کا نظم و نسق چلائیں اور اس کی زمین کو فساد سے بھر دیں۔ اس لیے وہ اپنے قانون شرعی پر ایمان لانے والوں کو حکم دیتا ہے کہ کفار کو دین حق پر ایمان لانے کے لیے تو مجبور نہ کرو‘ لیکن غلبۂ کفر و کفار کے فتنے کو پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کرو، یہاں تک کہ زمین کا انتظام عملاً میرے ’دین‘ پر قائم ہو جائے اور جو میرے دین کو نہیں مانتے وہ ’اکابر‘ نہیں بلکہ ’اصاغر‘ بن کر رہیں: حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ۔۱۱؎
حضرت یوسف علیہ السلام اور اقتدارِ حکومت
۲۔ان حقائق کو ذہن نشین کر لینے کے بعد دوسری دلیل کا زور آپ سے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام فی الواقع اللہ کے فرستادہ پیغمبر تھے تو یقیناً ان کی زندگی کا مشن اس ایک مشن کے سوا کچھ اور نہ ہوسکتا تھا جو ہر رسولِ برحق کا مشن رہا ہے‘ یعنی اللہ کے دین کو ہر دوسرے دین پر غالب کر دیں۔ یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے تمام پیغمبروں کی سیرتوں کے مختلف واقعات کی تعبیر و تفسیر میں ہم کو ایک قاعدے کلیے کے طور پر ملحوظ رکھنا ہوگا، ورنہ اگر ہم یہ مان لیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی حکومت میں ملک مصر پر اللہ کے دین کی جگہ بادشاہ کا دین نافذ کرتے تھے تب تو پھر یوسف صدیق اور سرسکندر و فضل الحق۱۲؎ میں کوئی اصولی فرق باقی نہیں رہتا۔ افسوس ہے کہ اس معاملے میں لوگ حقیقت سے بہت دور چلے گئے۔ انھوں نے دراصل قصۂ یوسف علیہ السلام کو نہیں سمجھا ہے۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ سے جو کہا تھا کہ اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَائِنِ الْاَرْضِ۱۳؎ تو یہ ان کی طرف سے محض ملازمت کی ایک درخواست تھی جو دربار شاہی میں قبول ہوگئی اور ان کو وہ منصب مل گیا جو اکبر کے ہاں ٹوڈرمل کا منصب تھا۔ حالانکہ وہاں صورت حال کچھ اور ہی تھی۔
سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام نے ابتداء ً دین حق کی اقامت کے لیے وہی راستہ اختیار فرمایا تھا جو انبیاء علیہم السلام اختیار فرماتے رہے ہیں‘ یعنی پہلے دعوت عام‘ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں ان کی تربیت و تنظیم‘ پھر انھیں ساتھ لے کر اقامت دین کے لیے مجاہدہ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اس دعوت کا سلسلہ جیل ہی میں شروع کر دیا تھا جس کے مواعظ میں سے ایک بے نظیر وعظ سورۂ یوسف کے پانچویں رکوع میں نقل کیا گیا ہے، لیکن آگے چل کر ان کے سامنے یکایک ایک ایسا موقع آگیا جس سے وہ اپنے مقصود تک مختصر راستے سے پہنچ سکتے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ عزیز مصر کی بیوی اور اس کی سہیلیوں کے معاملے میں جس پاکیزہ اور مضبوط سیرت کا اظہار ان سے ہوا تھا‘ اور پھر تعبیر خواب کے معاملے میں جس بصیرت کا ثبوت انھوں نے دیا تھا اس کی وجہ سے بادشاہِ مصر ان کا اس حدتک معتقد ہو چکا تھا کہ اگر وہ اس وقت حکمرانی کے کامل اختیارات اس سے طلب کریں تو وہ بلاتامل پیش کر دے گا۔ اس لیے انھوں نے تحریک عمومی کی راہ سے اپنا مشن پورا کرنے کے بجائے اقتدار حکومت پر فوراً قبضہ کرکے دین حق قائم کر دینے کو زیادہ قریب کا راستہ پایا اور بادشاہ سے مطالبہ کر دیا کہ اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف12:55
زمین مصر کے تمام وسائل و ذرائع میرے اختیار میں دے۔
یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا‘ جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں‘ بلکہ یہ اختیار کلی کا مطالبہ تھا اور اس کے نتیجے میں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل ہے۱۴؎ اس فرق کے ساتھ کہ اٹلی کا بادشاہ مسولینی کا معتقد نہیں‘ بلکہ محض اس کی پارٹی کے اثر سے مجبور ہے‘ اور مصر میں بادشاہ خود حضرت یوسف ؑ کا مرید ہو چکا تھا۔۱۵؎
حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی شہادت اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے :
کَذٰلِکَ مَکَّنَّالِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ یوسف12:56
اس طرح ہم نے یوسفؐ کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا۔ وہ اس کے جس حصے کو چاہتا‘ اپنی جگہ بنا سکتا تھا‘‘۔ یعنی پورا ملک اس کے قابو میں تھا۔
پھر اس کی مزید شہادت ہمیں سورۂ مائدہ میں ملتی ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:
یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ المائدہ5:20
اے میری قوم کے لوگو! یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا کہ تم میں انبیاء پیدا کیے تھے‘ تم کو حکمران قوم بنایا تھا اور تمھیں وہ کچھ دیا تھا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں جو اقتدار حاصل ہوا تھا‘ اس کی وجہ سے وہاں آخر کار مکمل انقلاب رونما ہوا‘ فراعنہ کے بجائے بنی اسرائیل حکمران ہوئے اور ان کو وہ عروج نصیب ہوا جو ان کی ہمسرقوموں میں کسی کو حاصل نہ تھا۔
پھر جو مذہبی اثر حضرت یوسف علیہ اسلام نے مصر میں چھوڑا اس کی شہادت ہم کو سورۂ مومن میں ملتی ہے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون کو خطاب کر کے قبطی قوم کا ایک صاحب ایمان شخص کہتا ہے:
وَلَقَدْ جَآئَکُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَکُمْ بِہٖ حَتّٰی اذَا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِہٖ رَسُوْلًا المؤمن40:34
تمھارے پاس یوسف (علیہ السلام) روشن نشانیاں لے کر آئے تھے‘ مگر پہلے تو تم اس چیز کی طرف سے شک میں رہے جسے وہ لائے تھے اور جب وہ انتقال فرما گئے تو تم نے کہا کہ اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ (یعنی تم نے کہا کہ اس پائے کا شخص اب نہیں آسکتا۔)
حضرت یوسف علیہ السلام کے معاملے میں یہ حقیقت جاننے کے بعد کون اس سے یہ استدلال کرنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ غیر اسلامی نظام حکومت کا پُرزہ بننا برحق ہے کیونکہ ایک نبی ِ برحق ایسا کر چکا ہے۔ رہی آیت مَاکَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ ۱۶؎ جس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونی قوانین کی پابندی کرتے تھے‘ تو اگرچہ اس آیت کے مفہوم و معنی میں بہت کچھ کلام کی گنجائش ہے‘ لیکن اس کا جو مفہوم بیان کیا جاتا ہے، اگر اسی کو تسلیم کرلیا جائے‘ تب بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ اس سے ثابت ہوتا ہے‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور حکومت میں جس موقع پر یہ معاملہ پیش آیا (اور قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی دور ہی کا واقعہ تھا کیونکہ آنجناب کے عزیز مصر ہونے کے چند ہی سال بعد وہ مشہور ہفت سالہ قحط شروع ہوا جس میں آپ کے بھائیوں کو غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آنا پڑا تھا) اس وقت تک مصر میں فوجداری قانون وہی رائج تھا جو پہلے سے چلا آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک ملک کے نظام تمدن کو آنِ واحد میں نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ کام بہرحال تدریج ہی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی عرب کے نظام تمدن کو بدلتے بدلتے دس سال لگ گئے تھے۔ وراثت کا قانون ۳ھ یا ۴ھ میں بدلا گیا۔ نکاح و طلاق کے قوانین ہجرت کے بعد پانچ چھ سال میں مکمل طور پر نافذ کیے گئے۔ فوج داری قوانین کی تکمیل میں پورے آٹھ سال لگ گئے۔ ملک کا معاشی نظم بتدریج ۹ سال میں بدلا گیا۔ شراب کا قطعی انسداد ۸ھ میں ہوا اور سود کی کلی ممانعت ۹ھ میں کی گئی۔ اسی طرح اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی ملک کے قوانین بدلنے میں تدریج سے کام لیا ہو، اور ایک خاص وقت تک ان کے زمانۂ حکومت میں سابق قوانین جاری رہے ہوں تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ ایک پیغمبر خدا کے سوا دوسروں کے جاہلی قوانین کو جائز سمجھ کر ان کی پابندی کرتا تھا۔
۳۔ رہی تیسری دلیل تو اسے دراصل دلیل کے بجائے عذر کہنا چاہیے۔ اس عذر کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں۔ لہٰذا یہاں صرف ایک حدیث سنانے پر اکتفا کرتے ہیں جسے ابودائود نے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَالْجِھَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللّٰہُ اَنْ یُّقَاتِلَ اٰخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ الدَّجَّالَ لَایُبْطِلُہ‘ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ (ابودائود‘ باب فی الغزو مع ائمۃ الجور ،مشکوۃ کتاب الکبائر و علامات النفاق)
اور جہاد میری بعثت کے وقت سے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب کہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا۔ نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کرسکتا ہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔
یعنی جہاد کو نہ اس عذر کی بنا پر بند کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت بڑے جبابرہ ہم پر مسلط ہیں، نہ اس بات کو جہاد نہ کرنے کے لیے بہانہ بنایا جاسکتا ہے کہ حکومت اگرچہ کفار کی ہے مگر ہم کو امن نصیب ہے اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے، اور نہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو وہ مطمئن ہو کر بیٹھ رہیں اور باہر کی دنیا میں جو ظلم و فساد برپا ہو‘ اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں۔

۴۔ دین و سیاست کی تفریق کا باطل نظریہ اورقصۂ یوسف ؑ سے غلط استدلال

ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب لکھتے ۱۷؎ ہیں سورۂ یوسف سے متعلق آپ کے فہم قرآنی سے مستفیض ہونا چاہتا ہوں۔ قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو تَمَکُّنْ فِی الْاَرْضَ عطا فرمایا گیا اور وہ دائرۂ حکومت میں ایک ممتاز حیثیت سے شریک ہوگئے، لیکن ظاہر ہے کہ آپ رسولؑ تھے‘ اس لیے فریضۂ رسالت کی سرانجام دہی بھی آپ کے لیے ضروری تھی۔ دربار فرعون کے مرد مومن نے اپنی تقریر میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی نبوت پر قوم فرعون ایمان نہیں لائی تھی اور یہ بھی کہ آپ اپنی وفات تک ڈھیل دیتے رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی نبوت کو پیش کیا لیکن فرعون اور اس کی قوم اس پر ایمان نہ لائی۔ اس کے باوجود حضرت یوسف ؑ ان کی حکومت میں شریک کار رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا ایک برگزیدہ رسول ایک غیر خدائی نظام حکومت کا شریک کار کس طرح رہا‘ درآں حالیکہ وہ اس قوم کے سامنے اپنی نبوت بھی پیش کر چکے تھے اور اس قوم نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایسے منکرین دعوت اسلامی کے خلاف یا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو جہاد کرنا چاہیے تھا، یا برسبیل تنزل وہاں سے ہجرت لازم تھی، لیکن آپؑ نے نہ تو ہجرت ہی فرمائی اور نہ ان کے خلاف جہاد ہی کیا‘ بلکہ ان کے خلاف تبریٰ و بیزاری کا اعلان بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا آپ اس گتھی کو سلجھائیں گے؟
بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ دور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزرا ہے‘ قریب قریب بالکل تاریکی میں ہے۔ ۱۸؎ اس لیے قرآن کے اشارات کی تفصیل معلوم کرنا مشکل ہے۔ تاہم قرآن مجید نے اپنے مجمل اشارات سے اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہنے دیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی‘ بلکہ مختار کل کی تھی‘ اور انھوں نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی ہی اس شرط کے ساتھ تھی کہ کل اختیارات ان کے ہاتھ میں ہوں۔ اس آیت کو بغور پڑھیے:
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّالِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ یوسف12:55-56
یوسف علیہ السلام نے کہا: مجھے ملک کے خزانوں پر حاکم بنا دے‘ یقیناً میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم رکھتا ہوں اور اس طرح ہم نے یوسف ؑ کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا۔ وہ وہاں جس جگہ بھی چاہتا‘ اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔
خط کشیدہ الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ مطالبہ کلی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کلی اختیارات ہی۔ خَزَائِنِ الْاَرْضْ کا لفظ دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ جگہ شاید فنانس منسٹریا ریونیو ممبر کی تھی‘ حالانکہ دراصل اس سے مراد ملک کے جملہ وسائل (resources) ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت ِ مصر کے تمام وسائل میرے ہاتھ میں دیے جائیں اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری سرزمین مصر ان کی تھی۔ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ کو بھی لوگوں نے بہت ہی محدود معنوں میں لے لیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مفہوم بس اتنا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ہر جگہ مکان بنا لینے یا قیام کرنے کے مجاز تھے۔ حالانکہ درحقیقت اس فقرے سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس سرزمین پر حضرت یوسف علیہ السلام کا اقتدار ویسا ہی تھا جیسا ایک زمین کے مالک کو اپنی زمین پر حاصل ہوتا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو جو اقتدار حاصل ہوا‘ اس کے ذریعے سے انھوں نے ملک کے نظام تہذیب و تمدن و اخلاق و سیاست کو اصول اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کی کیا کوشش کی اور اس میں کس قدر کامیابی ہوئی‘ تو اس کے متعلق کوئی تفصیل ہمیں تاریخ سے نہیں ملتی، البتہ سورۂ مائدہ کے ایک اشارے سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کا اقتدار محض ایک فرد واحد کا عارضی اقتدار نہ تھا ،بلکہ آپ کے بعد ایک مدت دراز تک آپ ہی کے جانشین‘ جو یقیناً مسلمان ہی تھے‘ مصر پر حکمران رہے۔ انھیں وہ عظمت و شوکت حاصل ہوئی جو اس دور میں دنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ تھی۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۔ المائدہ5:20
یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو! اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء پیدا کیے اور تم کو فرماں روا بنایا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔
اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس اسلامی غلبے و تسلط کا لازمی اثر ملک کی پوری زندگی پر مرتب ہوا ہوگا۔
سورۂ مومن کی جس آیت سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قبطی قوم نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ماننے سے انکار کر دیا تھا‘ دراصل اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ میں ایسا سمجھا ہوں کہ وہاں ہندستان کی سی صورت پیش آئی تھی کہ ملک کی آبادی کے معتدبہ حصے نے اسلام قبول کیا اور بڑی اکثریت اپنے شرک پر قائم رہی۔ ۱۹؎ پھر جس حصے نے اسلام قبول کیا وہی ایک مدت تک برسر اقتدار رہا‘ مگر رفتہ رفتہ اخلاقی و اعتقادی انحطاط نے اس کو غلامی اور گمراہی کی پستیوں میں گرا دیا۔ حتٰی کہ غلو اور اشخاص پرستی کے فتنے میں پڑ کر عملاً اس میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی خاص فرق باقی نہ رہا۔ اسی چیز کی طرف مومن آل فرعون نے اشارہ کیا ہے:
وَلَقَدْ جَآئَکُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَکُمْ بِہٖ o حَتّٰی اِذَا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِہٖ رَسُوْلًا۔ المومن40:34
اس سے پہلے یوسف ؑ تم لوگوں کے پاس صریح نشانیاں لے کر آئے تھے‘ مگر تم اس چیز میں برابر شک کرتے رہے جسے وہ لائے تھے‘ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی رسول کو ہرگز نہ بھیجے گا۔
خط کشیدہ دو فقروں میں سے پہلا فقرہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ملک کی بیش تر آبادی آپ کی نبوت کے متعلق شک میں رہی‘ جیسا کہ اکثر انبیاء کے ساتھ ہوا ہے، اور دوسرے فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے بعد جو لوگ آپ کے معتقد ہوئے وہ آپ کی شخصیت کے گرویدہ ہو کر غلو میں مبتلا ہوگئے اور کہنے لگے کہ اب کوئی رسول نہیں آسکتا اور اسی بنا پر انھوں نے بعد کے آنے والے کو ماننے سے انکار کر دیا، جیسا کہ آگے چل کر یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا۔ درآں حالیکہ حضرت یوسف ؑ یا حضرت موسیٰ ؑ یا حضرت عیسیٰ ؑ میں سے کسی کے بعد بھی اللہ کی طرف سے ختم نبوت کا اعلان نہ ہوا تھا۔
بہرحال اس آیت کے یہ معنی نہیں نکالے جاسکتے کہ حضرت یوسف علیہ السلام پر ملک میں کوئی بھی ایمان نہیں لایا تھا بلکہ دوسرے اشارات کی مدد سے قیاس یہی ہوتا ہے کہ ملک میں اہل ایمان کا ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا جس نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مدت تک اسلامی نظام حکومت کو قائم رکھا اور بعد میں بتدریج مائل بَہ انحطاط (degenerate)ہوتا چلا گیا۔

۵۔ تفریق دین و سیاست کا دفاع اور اس کا جائزہ

گذشتہ مضمون’سورۂ یوسف کے متعلق چند سوالات‘ کی اشاعت کے کچھ مدت بعد ایک مشہور بزرگ نے (جن کا اب انتقال ہو چکا ہے اور جو خان بہادر کا خطاب رکھتے تھے‘ یو پی میں کلکٹر اور ہندستان کی ایک ریاست میں دیوان رہ چکے تھے) اس پر ایک مفصل تنقید لکھی۔ چونکہ مولانا مودودی صاحب کے جواب کو سمجھنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ صاحب موصوف کی تنقید ناظرین کے سامنے ہو‘ اس لیے ہم پہلے اس کے متعلقہ حصے یہاں نقل کرتے ہیں‘ پھر مصنف کا جواب نقل کریں گے۔۲۰؎
مستفسر نے جو بات دریافت کی تھی اور جو بات دراصل بحث طلب ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ آیا یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن اور شریک کار بنے ہیں یا نہیں؟ اور اگر بنے تو حضرت یوسف علیہ السلام کا ایسا کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے یا نہیں؟ مولانا مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر میں غیر خدائی نظام حکومت کے شریک کار کی نہ تھی‘‘ اور تعجب ہے کہ اپنی اس رائے کی تائید میں کلام پاک کی وہی آیت قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَائِنِ الْاَرْضِ پیش کرتے ہیں جو دراصل اس کے ضد کو ثابت کرتی ہے۔
آیت مذکور کا لفظی ترجمہ شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے الفاظ میں یہ ہے کہ:
’’یوسف ؑ نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر‘ میں نگہبان ہوں، خوب جاننے والا اور یوں قدرت دی ہم نے یوسفؑ کو اس زمین میں، جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا۔‘‘
اب دیکھیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام فرعونِ مصر سے خواہش کرتے ہیں کہ تو مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دے۔ فرعون آپ کا مطالبہ منظور کرتا ہے اور آپ فرعون کے محکمہ مال کے افسر مقرر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ آپ فرعون کے نظام حکومت کے ایک رکن یا شریک کار بن جاتے ہیں۔ مولانا مودودی صاحب اس بدیہی نتیجے سے بچنے کی ناکام کوشش کرتے ہیںجب کہ وہ فرماتے ہیں کہ: مطالبہ کلی اختیارات کا تھا اور ملے بھی کلی اختیارات۔
……اول تو کلی اختیارات کا لفظ کلامِ پاک میں ہے نہیں۔ یہ لفظ مولانا اپنی طرف سے کلام پاک کی عبارت پر بڑھانا چاہتے ہیں، تاکہ کلام پاک مولانا کے ذاتی نظریوں کا تابع ہوجائے نہ یہ کہ مولانا اپنے ذاتی نظریوں کی اصلاح مفہوم قرآنی کے مطابق کرلیں۔ اسی جیسی ذہنیت کے متعلق غالباً اقبال مرحوم نے کہا تھا: ’’خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں‘‘ لیکن اس کلی کے لفظ کے ناجائز اضافے سے بھی مولانا کے اجتہاد یا نظریے کی تائید نہیں ہوتی۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کلی اختیاراتِ مال کا مطالبہ کیا تھا اور کلی اختیارات ہی ملے تھے‘ لیکن وہ اختیارات فرعون مصر ہی سے تو مانگے گئے تھے اور فرعون مصر ہی نے تو وہ اختیارات عطا کیے تھے۔ اس لیے باوجود ان کلی اختیارات کے حضرت یوسف علیہ السلام کی حیثیت اس وقت کے نظام حکومت میں ایک رکن یا ایک شریک کار سے زائد کی نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح مولانا مودودی صاحب کا یہ فرمانا کہ:حضرت یوسف علیہ السلام کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطنت مصر کے تمام وسائل میرے اختیار میں دے دیے جائیں اور اس کے نتیجے میں جو اختیارات ان کو ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین ِ مصراُن کی تھی‘ بالکل خلافِ واقعہ ہے۔ یہ مان بھی لیا جاوے کہ یوسف علیہ السلام نے مال کے جملہ اختیارات کا مطالبہ کیا تھا اور مال کے جملہ اختیارات آپ کو تفویض ہوگئے تھے‘ تاہم سلطنت میں مال کے علاوہ بہت سے دیگر محکمے ہوتے ہیں‘ مثلاً: پولیس‘ فوج‘ عدالت۔ ان میں سے نہ کسی کا مطالبہ یوسف علیہ السلام کی طرف سے کیا گیا، نہ یہ محکمے آپ کے سپرد کیے گئے، تو پھر مولانا مودودی کا یہ کہنا کہ ’جو اختیارات انھیں ملے وہ ایسے تھے کہ پھر ساری زمین ِ مصراُن کی تھی‘ بالکل بے بنیاد ہے۔اس لیے یوسف علیہ السلام کی حیثیت مصر کے خزائن پر متصرف ہونے کے بعد بھی سلطنت کے ایک رکن یا شریک کار کی رہتی ہے جب تک کہ کسی ذریعے سے یہ ثابت نہ ہو کہ فرعونِ مصر اپنی سلطنت اور حکومت سے دست بردار ہو گیا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام اس کی جگہ مصر کے بادشاہ اور ملک بن گئے تھے۔ سو یہ تاریخ سے ثابت ہے‘ نہ کلام پاک سے‘ بلکہ کلام پاک سے بصراحت اس کی تردید ہوتی ہے۔ آیت زیر بحث سے عین ماقبل یہ آیت ہے:
وَ قَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔
یوسف12: 54
انھیں میرے پاس لے آئو کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں۔ پھر جب اس سے (یوسف علیہ السلام سے) بات کی‘ کہا: بے شک آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں۔
ان ہر دو آیات سے بالکل واضح ہے کہ فرعون مصر نے یوسف علیہ السلام کو اپنی سلطنت کا معزز اور معتمد رکن اور اپنا مشیر خاص بنایا۔ ان آیات میں اس بات کا شائبہ بھی نہیں کہ فرعون مصر اپنی سلطنت، یا اپنے اختیارات سے دست بردار ہوگیا تھا۔ نیز ایک مابعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے عرصہ بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک پر جاری تھا، کیونکہ جب برادرانِ یوسف دوسری مرتبہ غلے کی بھرتی کرنے آئے اور اپنے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی خواہش کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی بنیامین کو بھی لائے اور حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھااور بنیامین پر ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ان کا حقیقی بھائی ہے، مگر اپنے دوسرے بھائیوں پر اس امر کو ظاہر نہیں کیا اور چونکہ حضرت یوسف ؑ بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اس لیے دوسرے بھائیوں پر اس امر کے ظاہر کیے بغیر کہ بنیامین ان کا بھائی ہے اس کی یہ تدبیر کی کہ جب برادرانِ یوسف کے واسطے ان کا اسباب تیار کیا گیا تو بنیامین کے اسباب میں ایک پانی پینے کا پیالہ رکھوا دیا اور جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو موذن یا پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو!تم البتہ چور ہو۔ برادران یوسف ؑ نے اس سے انکار کیا تو پکارنے والے نے کہا کہ کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے نکلے؟ برادران یوسف ؑ نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ہاتھ آوے، وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو۔ اس کے بعد تلاشی لی گئی اور پیالہ بنیامین کے اسباب میں سے برآمد ہوا۔ چنانچہ بنیامین پیالے کے بدلے میں روک لیے گئے۔ اس موقع پر ارشاد خداوندی ہے:
مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ۔ یوسف12:76
جس کا لفظی ترجمہ ہے:
وہ (یعنی یوسف ؑ) ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ۔
خط کشیدہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک ملک مصر میں جاری تھا اور اس قانون کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی بنیامین کو چوری کے الزام میں اپنے بھائیوں سے لے نہیں سکتے تھے‘ مگر خداوند عالم نے خود ان کے بھائیوں کے منہ سے کہلوا دیا کہ چوری کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں سے چوری کا مال ہاتھ آوے‘ وہی اس کے بدلے میں جاوے۔ چنانچہ اس آیت کریمہ کی جو تفسیر مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی ؒنے کی ہے وہ یہ ہے کہ:
یعنی بھائیوں کی زبان سے آپ ہی نکلا کہ جس کے پاس سے مال نکلے اس کو غلام بنا لو۔ اس پر پکڑے گئے، ورنہ حکومت مصر کا قانون یہ نہ تھا۔ اگر ایسی تدبیر نہ کی جاتی کہ وہ اپنے اقرار میں بندھ جاویں تو ملکی قانون کے مطابق کوئی صورت بنیامین کو روک لینے کی نہ تھی۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ کاکام نہیں کیا، یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ سجن یا جیل میں تھے، اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے ساتھی قیدیوں سے فرماتے ہیں:
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ o مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ۔ یوسف12:39-40
اسی طرح وزارت کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد بھی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی تبلیغ کاکام ضرورجاری رکھا ہوگا۔ البتہ جو بات ان آیات سے بلاشک و شبہہ ثابت ہوتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسفؑ کے اس حکومت کے رکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا اور یوسف علیہ السلام کے اس عمل پر بجائے اس کے کہ خداوند عالم کی طرف سے کوئی سرزنش کی جاوے یوسف علیہ السلام کے اس عمل کو ایک طرح سراہا جاتا ہے کیونکہ یوسف علیہ السلام کے اس تَمَکُّن فی الارض کو انعام خداوندی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّالِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ یوسف12:56
جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان انبیاء تک کے لیے غیر اسلامی نظام حکومت کارکن بننا جائز ہے اور جائز ہی نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں بطور فرض کفایہ کے واجب ہے‘ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا خود خواہش کرکے مصر کے خزائن پر متصرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنے کو یوسف علیہ السلام اپنے لیے جائز ہی نہیں بلکہ اپنے اوپر واجب خیال فرماتے تھے، ورنہ وہ فرعون سے ایسی خواہش کبھی نہ فرماتے اور نہ ایسی خواہش کرتے وقت وہ اپنے حفیظ و علیم ہونے کا اظہار کرتے، کیونکہ اگرآپ کے نزدیک ملک مصر کا وزیر بننا آپ پر لازم اور واجب نہیں تھا تو آپ کا اپنے آپ کو حفیظ اور علیم بتانا، بے جا مدح سرائی اور خود ستائی میں داخل ہوتا ہے۔
(اس کے بعد موصوف نے اپنے بیان کی تائید میں چند حوالے پیش کیے ہیں اور کچھ عقلی دلائل بھی فراہم کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ نیز ہجرت حبشہ سے بھی استدلال کیا ہے۔ چونکہ ان کے دلائل کا جوہر اوپر آگیا ہے، اس لیے ہم بخوف طوالت باقی حصہ حذف کر رہے ہیں۔)
جواب
ہم جناب خان بہادر صاحب کے بہت شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اس مسئلے کو چھیڑ کر پھر ایک مرتبہ ہمیں اپنا نقطۂ نظر صاف صاف پیش کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا۔ ہم اس بحث میں اپنا وقت صرف اس امید پر صرف کر رہے ہیں کہ بہت سے طالبین حق کو اس سلسلے میں اکثر گمراہ کن دلائل کا جواب مل جائے گا جو اطاعت غیر اللہ، یا بالفاظ دیگر اسلام لغیر اللہ کو جائز قرار دینے اور نظام کفر کی بندگی کو مباح، بلکہ فرض کفایہ ٹھیرانے کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں۔
قصۂ یوسف علیہ السلام کے زیر نظر پہلو پر ہم اس سے پہلے دو مرتبہ بحث کر چکے ہیں۔ پہلی بحث زیادہ مفصل و مدلل تھی اور دوسری مجمل و مختصر، لیکن خان بہادر صاحب نے نہ معلوم کیوں پہلی کو چھوڑ کر دوسری کو مدارِ گفتگو بنا لیا۔ حالانکہ جو اعتراضات انھوں نے اپنے مضمون میں درج فرمائے ہیں‘ ان میں سے اکثر کا‘ بلکہ شاید سب ہی کا جواب ہماری پہلی بحث میں انھیں مل جاتا۔۲۱؎ بہرحال یہ عدم التفات خواہ کسی وجہ سے ہو‘ ہمارے لیے اس میں خیر ہی کا پہلو نکل آیا کہ جن باتوں کو بار بار چھیڑ کر ہمارے لیے واضح کرنا مشکل تھا انھیں دوسروں کے چھیڑنے پر بیان کرنے کا ہمیں موقع مل گیا۔
کیا اسلام میں تناقض ہے؟
دنیا میں ایک معقول آدمی سے جن چیزوں کی توقع کی جاتی ہے غالباً ان میں سب سے پہلی چیز یہی ہوتی ہے کہ اس کی باتوں میں تناقض نہ ہو۔ ایک معمولی عقل کا گنوار آدمی بھی جب کسی شخص کو ایسی باتیں کرتے دیکھتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف پڑتی ہوں تو فوراً ٹوک دیتا ہے، کیوں کہ اس کی نہایت موٹی عقل بھی متناقض باتوں کی غیر معقولیت کو برداشت نہیں کرسکتی، لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ جن باتوں کی توقع کسی گھٹیا سے گھٹیا، مگر ذی عقل انسان سے نہیں کی جاسکتی ان کی توقع اس اللہ سے کی جاتی ہے جو خود عقل کا خالق اور تمام حکمت کا مالک ہے اور اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ اللہ سے اس انتہائی نامعقولیت کی توقع رکھنے والے‘ بلکہ اس کا مطالبہ کرنے والے کوئی جاہل‘ کو دن لوگ نہیں ہیں، بلکہ وہ ذی علم لوگ ہیں جو دنیا بھر کو علم و عقل کے درس دیتے ہیں اور وہ فاضل اصحاب ہیں جن کی عقلیں اپنی دنیا کے معاملات چلانے میں خوب لڑتی ہیں۔ یہ ہوش مند حضرات اپنے خدا سے چاہتے ہیں، اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اس کی باتوں میں تناقض ہو۔ یعنی وہ یہ بھی کہے کہ میں بادشاہ زمین و آسمان ہوں اور پھر اپنی زمین کے کسی گوشے پر کسی اور کی بادشاہی تسلیم بھی کرے۔ وہ یہ بھی کہے کہ لوگو! تم سب میرے احکام کی اطاعت کرو‘ پھر لوگوں کو یہ اجازت بھی دے‘ بلکہ اس کو فرض تک قرار دے دے کہ ان حاکموں کی اطاعت بجا لائیں جو اس کے حکم کی سند کے بغیر‘ اور اکثر حالات میں اس کے حکم کے خلاف احکام دیتے ہیں۔ وہ انسانوں کے لیے خود ایک قانون بھی بنائے اور یہ اعلان کرے کہ میرا یہی قانون ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے‘ باطل ہے‘ اور پھر اس کے ساتھ دوسرے قوانین کے نفاذ کو بھی جائز رکھے اور انھی انسانوں کو جن کے لیے اس نے قانون بنایا ہے یہ ’حق‘ بھی دے کہ چاہیں خود اپنے لیے قانون بنائیں اور چاہیں دوسروں کے قوانین کی پیروی کرتے رہیں۔ وہ اپنے پیغمبروں کو خاص اسی غرض کے لیے مبعوث بھی کرے کہ زمین کے باشندوں کو اس کا دین قبول کرنے کی دعوت دیں اور پھر انھی پیغمبروں کو یا ان میں سے کسی کو اس بات کی اجازت بھی دے (بلکہ خان بہادر صاحب کے بقول اس خدمت پر سراہے بھی) کہ اس دین کے سوا کسی اور دین کے نظام میں کارکن و خدمت گزار بن جائیں اور اسے کامیابی کے ساتھ چلانے میں اپنی قابلیتیں صرف کر دیں۔ وہ ساری دنیا کے باشندوں میں سے چھانٹ کر ایک امت خاص اس مقصد کے لیے بنائے کہ اس معروف کا حکم دے جسے اس نے معروف قرار دیا ہے اور اس منکر کو مٹائے جسے اس نے منکر ٹھیرایا ہے‘ اور پھر اسی امت کے لیے اس بات کو حلال، بلکہ اس کے بعض ’برگزیدہ‘ افراد کے لیے فرض کفایہ ٹھیرا دے کہ ان منکرات کو قائم کرنے اور رواج دینے میں حصہ لیں جنھیں اس کے باغی معروف ٹھیرا چکے ہیں اور ان معروفات کو مٹانے اور دبانے میں آلہ کار بنیں جو اس کے نافرمانوں کی نگاہ میں منکر قرار پا چکے ہیں۔
یہ ایسی صریح متناقض باتیں ہیں جن کے تناقض کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے لیکن عجیب بات ہے کہ جو لوگ تفسیریں لکھنے اور فقہ و معقولات کا درس دینے کی قابلیت رکھتے ہیں‘ اور جو اتنی عقل رکھتے ہیں کہ کلکٹری اور دیوانی جیسے بڑے بڑے مناصب کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں‘ انھیں یا تو ان باتوں میں کوئی تناقض نظر نہیں آتا‘ یا پھر خداوند عالم کے متعلق ان کی رائے اتنی بری ہے کہ وہ اس سے ان بے عقلیوں اور نادانیوں کی توقع رکھتے ہیں جنھیں ایک جاہل گنوار بھی اپنی چوپال کے کسی رفیق میں پاکر صبر نہیں کرسکتا۔
خان بہادر صاحب اپنے اسی مضمون میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
ایک بعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک میں جاری تھا۔
مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ یوسف12:76
(ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ)یہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک مصر میں جاری تھا۔
دین کا مفہوم
ان الفاظ کو تحریر کرتے وقت صاحب موصوف جس بات کو ثابت کرنے کی دھن میں لگے ہوئے تھے اس نے شاید انھیں اتنی مہلت نہ دی کہ کچھ دیر ٹھیر کر اس صریح تناقض پر غور کرلیتے جو ان کی مزعومہ تفسیر کے لحاظ سے یہاں قرآن کے بیان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ براہ کرم، اب وہ ہمارے ہی توجہ دلانے سے غور فرمائیں۔ یہاں خود ان کی اپنی نقل کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مصر کے ملکی قانون کو جو فرعون مصر کی حاکمیت کی بنیاد پر تھا ’دین الملک‘ (بادشاہ کا دین) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دین صرف اس پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے جو مندروں اور معبدوں میں کی جاتی ہے‘ بلکہ اس قانون کا نام بھی ہے جس کے مطابق پولیس مجرموں کو پکڑتی ہے‘ جس کے تحت عدالت معاملات دیوانی و فوج داری کا فیصلہ کرتی ہے‘ جس کی پیروی میں ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے اور جس پر تمدن کا سارا نظام قائم ہوتا ہے۔ زندگی کے یہ سارے شعبے بحیثیت مجموعی جس طریقے پر چلتے ہیں‘ اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں ’دین‘ ہے اور چونکہ ملک مصر میں وہ طریقہ فرعون کی مشیت سے ماخوذ اور اس کے اقتدار اعلیٰ پر مبنی تھا‘ اس لیے قرآن اس کو ’دین الملک‘ کہہ رہا ہے۔ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ’دین اللہ‘ بھی صرف اسی چیز کا نام نہیں ہے جو مسجدوں اور نماز روزے تک محدود ہو‘ بلکہ اس سے مراد بھی اس پوری شریعت کی پابندی ہے جو اللہ کی رضا سے ماخوذ اور اس کی حاکمیت پر مبنی ہو اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی ہونے کی حیثیت سے کس کام کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے؟ ’دین اللہ‘ کی دعوت دینے کے لیے یا ’دین الملک‘کو فروغ دینے کے لیے؟ اگر خان بہادر صاحب کی تاویل اور ان حضرات کی تفسیر‘ جن کے بڑے بڑے نام لے کر خان بہادر صاحب ہم کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں‘ مان لی جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنے نبی کو اس بات پر مامور فرمایا کہ اس کی مخلوق کو‘ اور خصوصاً اس مخلوق کو جو مصر میں رہتی تھی‘ ’دین اللہ‘ اختیار کرنے کی دعوت دے‘ اور دوسری طرف وہی نبی خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت و نگرانی میں ’دین الملک‘ کے قیام و استحکام کی خدمت انجام دینے لگا، اور لطف یہ ہے کہ اللہ میاں اس صریح متناقض طرز عمل کا تناقض تو کیا محسوس فرماتے‘ الٹا اس نبی کے اس فعل کو‘ خان بہادر صاحب کے اپنے الفاظ میں سراہنے لگے اور نظامِ کفر میں اپنے نبی کے بعہدۂ وزارت فائز ہو جانے کو ’انعام خداوندی‘ سے تعبیر فرمانے لگے۔گویا کہ اللہ میاں کا حال بھی معاذ اللہ ہمارے زمانے کے ان دین دار بزرگوں کا سا ہے جو خود تو پیشانی پر سیاہ گٹا لیے ہوئے مصلے پر سجدہ گردانی فرما رہے ہوتے ہیں مگر صاحب زادے جب ایم۔ اے پاس کرکے نیم انگریز بنے ہوئے آبکاری کی انسپکٹری پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہی دین مجسم بزرگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کے خاندان کو اپنی نعمت سے نواز دیا۔
آگے چل کر خان بہادر صاحب پھر فرماتے ہیں:
’’اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ حق کاکام نہیں کیا‘ یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ جیل میں تھے‘ اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی… البتہ جو بات آیات سے بلاشک و شبہ ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے اس حکومت کے رکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا۔‘‘
یہاں پھر کھلا ہوا تناقض پایا جاتا ہے جس کی طرف صاحب موصوف نے اپنے مدعا کی دُھن میں توجہ نہیں فرمائی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخر یہ کس قسم کی وحدانیت کی تبلیغ فرمائی تھی؟ اگر اس ’وحدانیت‘ کے معنی یہ تھے کہ وہ پوجا جو معبد میں کی جاتی ہے اور وہ اطاعت قانون جس پر سوسائٹی کا نظم اور ملک کا انتظام قائم ہوتا ہے‘ ایک ہی خدا کے لیے ہو‘ یعنی پوری زندگی دین اللہ کی تابع ہو جائے‘ تو خان بہادر صاحب کی تاویل کے لحاظ سے حضرت یوسف ؑ نے نوکری کرکے خود اپنی اس تبلیغ ِ حق کے خلاف عمل کیا، اور اگر یہ تبلیغ اس بات کی تھی کہ معبد میں’’دین ُ اللہ‘‘ جاری ہو اور ملک اور سوسائٹی کا سارا انتظام ’دین الملک‘ پر بدستور چلتا رہے، تو ظاہر ہے کہ یہ وحدانیت کی نہیں، بلکہ ثنویت اور دو عملی کی تبلیغ تھی۔
پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی رسالت کا اعلان آخر کس معنی میں کیا تھا؟ اگر انھوں نے بادشاہ سمیت تمام لوگوں سے کہا تھا کہ میں مالک زمین و آسمان کا نمائندہ ہوں، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘ جیسا کہ تمام انبیاء علیھم السلام کہتے رہے ہیں: کہ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ الشعراء26:108
تو اس اعلان کے ساتھ ان کا غیر مسلم بادشاہ کی آقائی تسلیم کرنا اور اس کی اطاعت میں اسلامی نظام کے بجائے، غیر اسلامی نظام کی خدمت انجام دینا کسی طرح مطابقت نہیں رکھتا، اور اگر انھوں نے یہ کہا تھا کہ لوگو! میں ہوں تو بادشاہِ ارض و سما کا نمائندہ‘ مگر میرا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ مصر کی اطاعت کروں اور تم کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ اسی کی اطاعت کرو‘ تو صرف یہی نہیں کہ یہ ایک صریح متناقض بات کا اعلان تھا جس کا استقبال سنجیدگی کے بجائے قہقہے سے ہونا چاہیے تھا اور ایسا اعلان کرنے والے کو ایوان وزارت کے بجائے پاگل خانے میں جگہ ملنی چاہیے تھی‘ بلکہ آج بھی ایسی کتاب ہرگز ایمان لائے جانے کے قابل نہیں رہتی جو ایک طرف تو خود ہی یہ قاعدہ کلیہ بیان کرتی ہے کہ خدا نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کے تحت وہ مطاع بن کر رہے۔(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ) النساء4:64‘ اور دوسری طرف وہی کتاب ایک ایسے شخص کو رسول بھی قرار دیتی ہے جو مطاع بن کر نہیں بلکہ غیر اللہ کا مطیع بن کر رہا اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی اذنِ خداوندی کے تحت اپنا نہیں، بلکہ اسی غیر خدا کا مطیع بناتا رہا۔ قرآن اپنے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں خود یہ معیار پیش کرتا ہے کہ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا النساء4:82
یعنی اگر یہ کتاب، اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلافِ بیان پاتے‘ لیکن اگر ہم خان بہادر صاحب اور ان کے طرز خیال کے لوگوں کی تاویلات تسلیم کرلیں تو قرآن کے بیانات میں یہاں ایسے کھلے ہوئے تناقضات پائے جائیں گے جن سے قرآن آپ اپنے ہی پیش کردہ معیار کی رو سے اللہ کے سوا کسی اور کا کلام قرار پائے گا بلکہ وہ ’اور‘ بھی جس کی تصنیف اسے سمجھا جائے گا بہرحال کوئی صحیح الدماغ انسان تو نہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ خان بہادر صاحب جس طرز خیال کی نمائندگی فرما رہے ہیں وہ اپنے پیچھے اخلاقی انحطاط کی ایک طویل اور درد ناک تاریخ رکھتا ہے۔
تفریقِ دین و سیاست کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ
مسلمان جب اپنے اصل مقصد کو بھول کر اور اپنے حقیقی مشن کو چھوڑ کر دنیا پرستی میں مبتلا ہوگئے اور دین داری کے معنی ان کی نگاہ میں صرف یہ رہ گئے کہ عبادات اور معاشرت میں چند شرعی طور طریقوں کی پابندی کی جاتی رہے‘ خواہ مقاصد ِ زندگی وہی ہوں جو دنیا پرستوں کے ہوتے ہیں‘ خواہ نظام اجتماعی کی زمامِ کار صالحین کے ہاتھ میں ہو یا فجار کے ہاتھ میں‘ اور خواہ اجتماعی امامت اپنے اصول اور نصب العین کے اعتبار سے اسلامی ہو یا غیر اسلامی‘ تو اس غفلت کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں اس شکل میں دی گئی کہ ان کی بڑی بڑی آبادیاں پے درپے کفار کی تابع فرمان ہوتی چلی گئیں، لیکن انھوں نے اور ان کے علما نے اسے سزا سمجھنے اور اس اصلی قصور کی‘ جس کی پاداش میں یہ سزا ملی تھی‘ تلافی کرنے کے بجائے الٹا یہ سوچنا شروع کر دیا کہ نظامِ کفر میں ’اسلامی زندگی‘ کیسے بسر کی جائے۔ چنانچہ ’اضطرار‘ کے بہانے سے اس شرعی اور اسلامی زندگی کا ایک نیا نقشہ مرتب کیا گیا جو غیر شرعی اور غیر اسلامی نظام کے اندر بسر کی جاسکے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید سزائوں کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ انھیں آزمایا جائے کہ یہ سنبھل کر پلٹتے ہیں یا اپنی ضلالت میں بعید سے بعید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اضطرار جسے ابتداء ً صرف ایک ہی اضطرار سمجھا گیا تھا‘ اللہ کی سنت کے مطابق آگے بڑھا اور اس نے دائمی‘ روز افزوں اور غیر متناہی اضطراروں کی شکل اختیار کرلی۔ ہر نئے اضطرار نے مطالبہ کیا کہ جو حدود تم نے کفر کے اندر اسلام اور کفر کے ماتحت اسلامی زندگی کے لیے تجویز کیے ہیں انھیں سکیڑو اور سکیڑتے چلے جائو، مگر یہ جتنے عذاب اللہ کی طرف سے آئے ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھولیں اور انھوں نے مستقل طور پر یہ قاعدہ ہی طے کرلیا کہ واقعی ہر اضطرار کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسلامی زندگی کے حدود سکیڑتے رہیں اور تسلط کفر کی حدوں کو پھیلنے دیں۔
پھر اس ’اضطرار‘کے تصور نے بھی انھیں ستانا شروع کیا، کیونکہ اضطرار کے نیچے حرمت کا تصور لازماً موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس صریح بات کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جب آپ محض مضطر ہونے کی وجہ سے سور کا گوشت کھائیں گے تو بہرحال سور آپ کی نگاہ میں حرام تو ضرور ہی رہے گا اور جب اسے آپ فی الاصل حرام سمجھتے ہوئے مجبوراًکھائیں گے تو ناممکن ہے کہ آپ کے دل میں نفرت و کراہت نہ ہو،ٗ ناممکن ہے کہ آپ اس سے لذت لیں‘ شوق سے کھائیں‘ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی کوشش کریں اور اس کے کباب اور قورمہ اور پلائو پکوانے کی فکر کریں۔ ایسے ہی اجتناب اور تنفر کا جذبہ ان تمام معاملات میں ناگزیر طور پر پیدا ہوتا ہے جنھیں آپ حقیقت کے اعتبار سے حرام سمجھتے ہوں اور صرف اضطرار کی وجہ سے اپنے لیے عارضی طور پر جائز کرلیں، مگر ایک پوری قوم کا اپنی زندگی کے سارے تمدنی‘ معاشی‘ سیاسی معاملات میں دائماً اس طرح رہنا کہ اس پر اضطرار کی شرعی و نفسیاتی کیفیت طاری رہے‘ اور وہ حاضر الوقت نظام زندگی سے نفرت و کراہیت کے ساتھ ہمہ گیر اجتناب کرتی رہے‘ اور صرف اس حد تک اس سے تعلق رکھے جس حد تک ایسا تعلق جینے کے لیے ناگزیر ہو‘ عملاً محال ہے۔ ایسی حالت کو ایک قلیل مدت سے زیادہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ بہت جلدی طبائع اس سے تھک جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ تھکاوٹ بھی مسلمانوں میں ٹھیک اپنے وقت پر پیدا ہوئی لیکن پہلے سے دینی انحطاط جس تسلسل کے ساتھ بڑھتا چلا آرہا تھا اس نے ان تھکنے والوں کے ذہن کو اس طرف متوجہ نہ ہونے دیا کہ اپنے اُس غلط نظریے پر نظر ثانی کرتے جو ’نظام کفر میں اسلامی زندگی‘ کے امکان کے متعلق انھوں نے ابتداء ً قائم کیا تھا اور اس حالتِ اضطرار کو ختم کرنے کی تدبیریں سوچتے جس کی وجہ سے وہ ہر طرف ہر شعبۂ زندگی میں حرمتوں سے محصور اور خبائث میں مبتلا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کے برعکس دینی انحطاط کی سابق رفتار انھیں جس رخ پر بڑھا لے گئی وہ یہ تھا کہ سرے سے ’اضطرار‘ کے بہانے ہی کو ختم کر دیں‘ تاکہ جو حرمتیں نظامِ کفر میں ترقیات اور آسائشوں کے دروازے ان پر بند کیے ہوئے ہیں وہ ٹوٹ جائیں اور اباحت و حلت میں تبدیل ہو کر رہیں۔
اس غرض کے لیے دین کا ایک نیا نظریہ قائم کیا گیا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ دین کا تعلق صرف عقائد و عبادات اور چند معاشرتی امور مثل نکاح و طلاق وغیرہ سے ہے۔ اگر ان معاملات میں کوئی نظامِ حکومت مسلمانوں کو امن دینے کا ذمہ لے لے تو اسلامی زندگی کا اصل مدعا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دارالکفر، دارالامن ہے۔ اس کی وفاداری و اطاعت لازم ہے‘ اس کے تحت سارے تمدنی معاملات (جو اس نئے نظریے کے مطابق ’’دنیا بمقابلہ دین‘‘ کے زیر عنوان آجاتے ہیں) انھی قوانین کے مطابق چلنے چاہییں جو کافرانہ اصولوں پر بنائے گئے ہوں‘ اور اس کی قانونی و انتظامی مشین کو چلانے میں‘ بلکہ اس کے تحفظ اور اس کی توسیع کے لیے جان کی قربانیاں تک دینے میں بھی کوئی ’مضائقہ‘ نہیں ہے۔لیکن یہ معاملہ صرف ’عدم مضائقہ‘ یا اباحت و حلت پر بھی نہ رکا۔ دارالکفرمیں مسلمانوں کی ضروریات نے جلد ہی انھیں مجبور کرنا شروع کیا کہ اپنی نئی نسلوں کو خدمت کفر کا شوق دلانے کی کوشش کریں، تاکہ ان نقصانات کی تلافی ہو جو اول اول کچھ مدت کے ’’مضائقے‘‘ نے انھیں پہنچایا تھا۔ اس لیے ایک آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح اور بعض حالات میں ان کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ نظامِ کفر کے عدالتی‘ تشریعی‘ انتظامی‘ فوجی‘ صنعتی‘ غرض تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں‘ ورنہ امت کے وفات پا جانے یا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیر مسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس دلیل نے بہ یک جنبشِ قلم اسی چیز کو جو کل تک صرف مباح کے مقام پر تھی‘ فرض کے درجے پر پہنچا دیا اور واجب ہوگیا کہ اگر ساری قوم نہیں تو اس میں سے ایک طبقہ تو اس فرض کے انجام دینے کے لیے ضرور نکلتا ہی رہے‘ گویا حکم الٰہی یوں قرار پایا کہ:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الْکُفْرِ وَلِیُضِلُّوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یُضِلُّوْنَ اور وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الشَّرِّ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ ‘
دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑے بڑے متقی و دین دارحضرات تسبیحوں کو گردش دیتے ہوئے وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے‘ تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے اس کے مطابق وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں، اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتے رہیں۔ اسی ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحا و اتقیا کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظامِ کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی اور اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداء ً محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سے گزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔ وہی ’فرض کفایہ‘ جسے ادا کرنے کے لیے پہلے مرد اٹھے تھے‘ عورتوں پر بھی عائد ہوگیا‘ اور ان بے چاریوں کو بھی آخر اس ’دینی خدمت‘ کی بجا آوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیر مسلم ان سے بازی نہ لے جائیں۔۲۲؎
کہیں یہ گمان نہ کر لیجیے گا کہ دین میں یہ ترمیم آج کچھ نئی ہوئی ہے۔ درحقیقت اس کی بنا آج سے صدیوں پہلے پڑ چکی تھی‘ جبکہ تاتار کے کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ ’نظام کفر میں اسلامی زندگی‘ کا نقشہ پہلی مرتبہ اسی دور کے علما نے مرتب کیا تھا‘ بلکہ اسی زمانے میں بڑے بڑے علما و صلحا نے خود نظامِ کفر کی خدمت گزاری اختیار فرمائی تھی اور ان میں بکثرت لوگ وہ تھے جن کی کتابیں پڑھ پڑھ کر آج ہمارے مدارس عربیہ میں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین تیار ہوتے ہیں۔ اسی قدامت کی وجہ سے یہ غلطی اب ایک مقدس غلطی بن چکی ہے اور کوئی تعجب نہیں ہے اگر ہمارے زمانے کے فقیہ اور محدث اور مفسر سب اس میں مبتلا نظر آتے ہیں، لیکن یہ ظاہر ہے کہ غلط بات نہ اس دلیل سے صحیح ہوسکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حق کا اثبات اگر ہوسکتا ہے تو اللہ کی کتاب اور رسولوں کی سنت ہی سے ہوسکتا ہے۔
اس پورے انحطاط کے دوران میں‘ جو ابتدائی اضطرار کی بنا پر اسلام ’زیر سایہ کفر‘ کے نظریے سے شروع ہوا‘ پھر رفتہ رفتہ ’نظام کفر کی خدمت جائز ____ مستحب ____ فرض کفایہ ‘ کے نظریے تک پہنچا اور بالآخر گرتے گرتے اس انتہائی ذلیل نقطۂ نظر کی پستیوں میں جاگرا کہ ’معمولی آزادی دینے والے حکمرانوں کی وفاداری عین مقتضائے دین ہے۔‘ مسلمانوں کی کوشش برابر یہی رہی کہ اپنے تنزل کے ہر مرحلے میں نیچے اور زیادہ نیچے اترنے کے لیے دلیل بہرحال انھیں اللہ کے دین ہی سے ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بظاہر تو ان کے زعم میں اس فارمولے پر مبنی تھا کہ’خدا کا دین چونکہ ہماری تمام ضرورتوں کا ضامن ہے، اس لیے جو ضرورتیں اب پیش آرہی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی دین سے ہم کو رہنمائی ملنی چاہیے‘ لیکن دراصل اس ظاہر فارمولے کے باطن میں جو حقیقی فارمولا چھپا ہوا تھا اور جس پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجائے ہمارے پیچھے چلنا شروع کردے۔ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو جو ضرورتیں ہم کو پیش آتی جائیں یہ انھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے‘ بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کاکام‘ حتیٰ کہ اُس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں اس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے اور جن جن ادیانِ باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں ،ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے اور اس کے منشاء کے خلاف جو جو طرز زندگی ہم قبول کریں ان میں پیش آنے والی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہ ضامن ہو۔
چنانچہ اسی غلط نقطۂ نظر کو لیے ہوئے ان لوگوں نے قرآن و سنت میں رہنمائی تلاش کرنی شروع کی اور حاصل یہ ہوا کہ پورے قرآن میں اگر کسی چیز پر جاکر ان کی نگاہ ٹھیری تو وہ سورہ عنکبوت تھی‘ نہ بقرہ‘ نہ آل عمران‘ نہ انفال‘ نہ توبہ‘ بلکہ سورہ یوسف تھی۔ اور اس کے بھی صرف وہ مقامات جن سے خان بہادر صاحب استدلال فرما رہے ہیں۔ اسی طرح پوری سیرت نبوی میں بھی اگر کوئی چیز ان کو قابلِ اتباع ملی تو وہ نہ مکے کی تپتی ہوئی ریت تھی‘ نہ طائف کی سنگ باری‘ نہ بدر و احد کے میدان‘ بلکہ صرف یہ واقعہ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کرکے حبش گئی تھی اور وہاں ایک عیسائی بادشاہ کے ماتحت چند سال رعایا بن کر رہی، لیکن جو شخص مطلب جُو ذہنیت نہ رکھتا ہو بلکہ طالب حق ہو اس کے لیے یہ سوال غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے کہ درحقیقت یوسف علیہ السلام کے زیر بحث واقعات سے بھی کیا وہی نتیجہ نکلتا ہے‘ جو یہ حضرات نکالنا چاہتے ہیں؟ اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہی نتیجہ نکلتا ہے‘ یعنی یہ کہ ایک نبی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ایک نظامِ کفر کی خدمت اور غیر الٰہی قانون (دین الملک) کے اجراء و نفاذ کی ذمے داری اسی غرض کے لیے قبول کی تھی کہ ایسا کرنا فی نفسہٖ مقصود تھا‘ یہ کہ مسلمانوں نے مکہ سے حبش کی طرف اسی بنیاد پر ہجرت کی تھی کہ ایک مسلم جماعت کے لیے ایک غیر مسلم نظام تمدن و سیاست بالکل ایک موزوں جائے قیام ہے، بشرطیکہ وہ مسجد میں اپنے منشا کے مطابق پوجا کرلینے کی اور اپنے سینے میں کچھ عقائد رکھ لینے اور زبان سے ان کے پھاگ اڑا لینے کی اس کو اجازت دے دے‘ تو اس کے بعد کچھ مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں جو اوپر کے سوال سے بدرجہا زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ بات مان لینے کے بعد تو یہی امر تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ:
۱۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے نوع انسانی کے لیے بھیجا آیا وہ صرف عبادت گاہ کے لیے تھا یا پوری انسانی زندگی کے لیے؟
۲۔ اور جو انبیاء اس دین کو لے کر آئے وہ سارے کے سارے ایک ہی مقصد کے لیے آئے تھے اور ایک ہی ان کا مشن تھا، یا مختلف مقاصداور مختلف مشنوں کے لیے‘ جن میں سے بعض مشن بعض کی ضد پڑتے ہوں؟
۳۔ اور یہ کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ فی الواقع کیا ہے؟ ____ اپنی پوری زندگی میں اس کی بندگی کرے اور اسی کے قانون کی متابعت میں کام کرے، یا صرف پوجا اس کی کرتا رہے اور باقی اپنے سارے معاملات جن طریقوں پر چاہے چلائے؟
ان سوالات کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے جو دین بھیجا ہے اُس کا تعلق صرف اس محدود زندگی سے ہے جو آج کل کے تصور کے لحاظ سے ’مذہبی‘ کہلاتی ہے، مگر یہ مان لینے کے بعد قرآن میں اور دوسری کتب آسمانی میں تمدن‘ معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ قانون دیوانی و فوج داری‘ ضوابط شہادت و عدالت اور مسائل صلح و جنگ وغیرہ کے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں وہ سب بے معنی قرار پاتی ہیں، یا پھر ان کی حیثیت احکام کی نہیں، بلکہ سفارشات کی رہ جاتی ہے جن پر عمل ہو جائے تو اچھا اور نہ ہو تو اللہ میاں کو کوئی خاص شکایت نہ ہوگی۔
اسی طرح دوسرے سوال کا جواب بھی یہ ہوسکتا ہے اور ہوسکتا کیا معنی‘ آج کل عام طور پر نبوت کا تصور یہی ہے کہ مختلف انبیاء مختلف مشن لے کر آئے ہیں، حتیٰ کہ ایک نبی کا مقصد بعثت اگر یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کو توڑنے کے لیے لڑے اور اس کی جگہ نظامِ اسلامی کو زمین پر حکمران ہونے کی حیثیت سے قائم کرے تو دوسرے نبی کا مقصد بعثت اس کے برعکس یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کے اندر نہ صرف یہ کہ محدود قسم کی مذہبی و اخلاقی اصلاح پر اکتفا کرے‘ بلکہ اس نظامِ کفر کا مطیع و وفادار بن کر رہے اور موقع ملے تو اس کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے خود اپنی خدمات پیش کر دے، مگر یہ بات نہ تو قرآن کے بیان کے مطابق ہے جو پورے زور کے ساتھ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ سارے انبیاء ؑ کا مقصد بعثت ایک ہی تھا اور نہ عقل یہ باور کرنے کے لیے تیار ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی متضاد اور باہم متصادم حرکات کا ظہور ہوسکتا ہے۔ شاید کوئی معقول آدمی بھی اس خدا کوایک حکیم خدا ماننے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا جو انسانوں کی طرف اپنے پیغمبر کبھی کسی مقصد کے لیے بھیجے اور کبھی اس کے بالکل برعکس کسی دوسرے مقصد کے لیے۔
یہ الگ بات ہے کہ ایک نبی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی جدوجہد میں کامیابی کے آخری مرحلوں پر پہنچ جائے‘ دوسرا نبی بیچ کے کسی مرحلے میں یا ابتدائی مرحلے ہی میں آخر وقت تک کام کرتا رہے اور کوئی تیسرا نبی دعوت و تبلیغ یا جنگ کے بجائے کسی درمیانی صورت کو اپنے مخصوص حالات میں قابل عمل پا کر اسے اختیار کرلے، اور ان اشکال کے اختلاف کے باوجود مقصد سب کا ایک ہی ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نظام زندگی کو مکمل طور پر دنیا میں قائم کرنے کی سعی کرنا‘ لیکن اس اختلافِ اشکال کو یہ معنی پہنانا کہ انبیاء کے مقاصد بعثت ہی سرے سے مختلف و متضاد تھے‘ اللہ پر ایسا بہتان لگانا ہے جس سے بدتر بہتان شاید کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
اس طرح تیسرے سوال کا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے اور آج کل کے مسلمان بالعموم یہی سمجھتے ہیں کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس کی پوجا کرلیا کرے اور کچھ مسائل غسل و طہارت اور چند مخصوص حدودِ حلال و حرام کی پابندی کرلے۔ اس سے آگے نہ اللہ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ اس سے کچھ بحث کہ آدمی زندگی کے وسیع تر معاملات میں اپنے نفس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے، یا ان شیاطینِ جن و انس کے احکام کی جو اس کی وسیع زمین پر مسلط ہوگئے، مگر یہ جواب موجودہ زمانے کے دنیا پرستوں کے لیے خواہ کتنا ہی اطمینان بخش ہو اور خواہ ’الَدِّیْنُ یُسْرٌ‘ اور وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ الحج22:78 کا یہ منشا قرار دے کر وہ اپنے لیے اس سے کتنی ہی سہولتیں پیدا کر لیں‘ بہرحال یہ تصور عبدیت و بندگی کے تصور کی قطعی نفی ہے۔ بندگی کا شاید اس سے زیادہ مضحکہ انگیز مفہوم کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ بندہ چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹوں کے لیے بندہ ہو اور باقی اوقات میں آزاد‘ یا صرف آقا کو سلامی دے دینے پر اس کی بندگی ختم ہوجائے اور پھر سارے کام اسے اپنے، یا دوسروں کے منشا کے مطابق کرتے رہنے کی آزادی حاصل ہو۔ پھر وہ اللہ تو ہرگز اللہ مانے جانے کے قابل نہیں ہے جو ایک طرف اپنے آپ کو انسان کا خالق اور رب بھی کہتا ہو، اور دوسری طرف پورے انسان کو چھوڑ کر صرف اس کے ایک نہایت ہی قلیل اور غیر اہم جز تک اپنی آقائی و فرماں روائی کو اور اس کی بندگی و غلامی کو محدود رکھنے پر راضی ہو جائے۔ کوئی باپ اپنے بیٹے پر اپنی پدرانہ حیثیت کو‘ کوئی شوہر اپنی بیوی پر شوہرانہ حیثیت کو‘ کوئی حاکم اپنی مملکت اور اپنی رعایا پر اپنی حاکمانہ حیثیت کو اس حد تک محدود کرنے پر راضی نہیں ہوتا کہ چند مراسم اطاعت و وفاداری ادا ہو جانے کے بعد پدریت اور شوہریت اور حاکمیت کا مقتضا پورا ہو جائے اور پھر بیٹے کو اختیار ہو کہ جس جس کو چاہے اپنا باپ بناتا پھرے اور عورت کو اختیار ہو کہ جس جس کے لیے مناسب سمجھے وجۂ سکون بنتی پھرے‘ اور رعایا کو اختیار ہو کہ جس جس کے قانون کی چاہے پیروی کرے‘ جس کو چاہے ٹیکس دے اور جس کے احکام کی چاہے اطاعت کرتی رہے، مگر یہ اللہ آخر کیسا اللہ ہے کہ جو انسان سارے کا سارا اس کی مخلوق اور اسی کا پروردہ ہے اور اسی کے بل پر قائم و موجود ہے‘ اس پر وہ اپنی آقائی کو محدود کر لینے اور اس سے بندگی کی چند رسمی باتیں قبول کرکے اسے خود مختار، یا ہر ایک کی غلامی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینے پر راضی رہے؟
دین اور نبوت اور تقاضائے عبدیت کے یہ تصورات اگر صحیح نہیں ہیں‘ اگر فی الواقع اللہ کا بھیجا ہوا دین انسان کی ساری اجتماعی و انفرادی زندگی سے تعلق رکھتا ہے‘ اگر اللہ کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ ہر حیثیت سے اس کے قانون کے پیرو اور اس کی ہدایت کے متبع ہو کر رہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ اس برحق نظام زندگی کو قائم کرنے کی دعوت دیں اور اسی کی اقامت کے لیے سعی کریں جو خدائے واحد کی اطاعت پر مبنی ہو‘ تو کسی معقول آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل ہے کہ سارے نبیوں میں سے تنہا ایک حضرت یوسف علیہ السلام ہی ایسے انوکھی قسم کے نبی تھے جن کے سپرد دین اللہ کو قائم کرنے کی سعی کے بجائے یہ خدمت کی گئی تھی کہ دین ِ الملک کے تحت وزارت مال کی نوکری کریں اور اسی طرح کوئی معقول آدمی ان دو متضاد باتوں کو بھی باہم منطبق نہیں کرسکتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف تو عرب کے غیر اسلامی نظام میں دین حق کی اقامت کے لیے جدوجہد بھی فرما رہے تھے اور دوسری طرف آپؐ کے نزدیک حبش کا غیر اسلامی نظام اس درجہ برحق بھی تھا کہ ایک مسلم جماعت کے لیے وہ ایک مناسب جائے قیام ہو سکتا تھا۔ جو لوگ دین کو ایک معقول و متناسب نظام فکر کی حیثیت سے نہیں دیکھتے‘ بلکہ اس کو منتشر اور ایک دوسرے سے بے تعلق اجزا کا مجموعہ سمجھتے ہیں‘ ان کے لیے تویہ بہت آسان ہے کہ انبیاء کے حالات زندگی‘ قرآن کی تعلیمات اور دین کے احکام و اوامر کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر ایک کی ایسی تاویلیں اور تفسیریں کریں جن سے ایک جز دوسرے جز سے اور ایک پہلو دوسرے پہلو سے صریح تناقض کا رنگ اختیار کرلے، لیکن اس دین کو ایک حکیم کے بنائے ہوئے مرتب و مربوط اور متناسب نظام کی حیثیت سے دیکھنے والوں کے لیے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو اور ہر جز کی وہی تفسیر و تاویل اختیار کریں جو کلی نظام کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہو اور کسی ایسی تعبیر کو‘ خواہ وہ کیسے ہی بڑے علما کی طرف سے پیش کی گئی ہو‘ قبول نہ کریں جس سے اس دین کے اندر تناقض اور اس کی تعلیمات اور انبیاء علیہم السلام کے کاموں کے درمیان تصادم لازم آتا ہو۔
اب ہم سورۂ یوسف کے زیر بحث مقامات اور ہجرت حبشہ کے واقعات سے براہ راست بحث کریں گے۔
قصۂ یوسف علیہ السلام سے غلط استدلال
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ جس طریقے سے سورۂ یوسف میں بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب قبل اس کے کہ نبوت سے سرفراز ہوتے، اپنے بھائیوں کی غداری اور ایک تجارتی قافلے کی خیانت کی بدولت عزیز مصر کے مملوک ہو چکے تھے۔ اس مملوکیت کے زمانے میں‘ یا اس کے بعد جب کہ آپ قید کیے جاچکے تھے‘ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا منصب عطا کیا گیا ____ اغلب یہی ہے کہ یہ سرفرازی قید ہی کے زمانے میں ہوئی ہوگی‘ کیونکہ قید ہونے سے پہلے آپ کے کلام کا انداز پیغمبرانہ شان کا نہیں‘ بلکہ صرف ایک مرد صالح کا سا نظر آتا ہے ____ اس حالت میں جب آپ نبوت سے سرفراز ہوئے تو آپ نے معاً اپنی پیغمبرانہ دعوت کی ابتدا کر دی اور ساتھ کے قیدیوں ہی کو اس چیز کی طرف بلانا شروع کر دیا جس کے لیے آپ مامور ہوئے تھے۔ اس دعوت کا خلاصہ سورۂ یوسف (رکوع ۵ آیات: ۳۶۔۴۲ ) میں بیان ہوا ہے جس کا مطالعہ کرکے آج بھی ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کا بلاوا ’ئَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ‘ کی بندگی کی طرف نہیں تھا‘ بلکہ ایک رب کی بندگی کی طرف تھا اور وہ بار بار اہل مصر پر یہ واضح کرتے رہے تھے کہ جس بادشاہ کو تم نے رب بنا رکھا ہے وہ میرا رب نہیں ہے‘ بلکہ میرا رب اللہ ہے اور جس ملت کی میں پیروی کرتا ہوں وہ اللہ ہی کی بندگی سے عبارت ہے۔ یہ تبلیغ جو وہ قید خانے میں کر رہے تھے‘ اس کے دوران میں یکایک یہ صورت حال پیش آئی کہ دیانت وتقویٰ اور حکمت و بصیرت کے جو غیر معمولی نشانات ان کی ذات سے ظاہر ہوئے تھے‘ فرماں روائے مصر اُن سے متاثر ہوگیا اور اس حد تک متاثر ہوا کہ انھیں یہ توقع ہوگئی کہ اگر وہ سلطنت کے پورے اختیارات اس سے مانگیں تو وہ انھیں دینے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے:
٭ ایک راستہ یہ کہ وہ اسلامی انقلاب کے لیے دعوت عام‘ جدوجہد‘ کشمکش اور جنگ کے طویل عمل ہی کو اختیار کریں‘ جو عام حالات میں اختیار کرنا پڑتا ہے۔
٭ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس موقع کو جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے ہاتھ آگیا تھا‘ استعمال کریں اور عقیدت مند بادشاہ سے جو اختیارات مل رہے تھے‘ انھیں لے کر ملک کے نظام فکر و اخلاق اور نظام تمدن و سیاست کو بدلنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے جو بصیرت اُن کو عطا کی تھی اس کی بنا پر انھوں نے پہلے راستے کی بہ نسبت دوسرے راستے کو اپنے مقصد کے لیے مفید تر اور اپنی منزل مقصود سے قریب تر سمجھا اور اسے اختیار کرلیا۔
یہ غیر اسلامی نظام کی نوکری نہیں تھی جو پیٹ پالنے کے لیے‘ یا ذاتی جاہ و منزلت کے لیے‘ یا نظامِ فاسد کے جزوی مصالح کے لیے کی گئی ہو‘ بلکہ یہ ایک تدبیر تھی جو اسی ایک مقصد کے لیے اختیار کی گئی تھی جس کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح حضرت یوسف علیہ السلام بھی مبعوث ہوئے تھے۔ جن لوگوں نے اسے محض نوکری سمجھا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے نظام اسلامی کے قیام کے لیے اس کو ذریعہ ہونے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس غرض کے لیے حاصل کیا تھا کہ کافرانہ نظام بدستور قائم رہے اور وہ اس کے تحت بس فائنانس منسٹر کی خدمت انجام دیتے رہیں‘ ان کے نزدیک حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ موجودہ حکومتوں اور ریاستوں کے تنخواہ دار ملازموں سے کچھ بھی بلند نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اتنا بلند بھی نہیں جتنا ہمارے اس ملک میں کانگریسی وزارتوں کا مقام ثابت ہوا ہے۔ جن کا طرز عمل تمام ملک دیکھ چکا ہے کہ جب تک انھیں اپنے مقصد (آزادی ملک) کے لیے وزارت کے مفید ہونے کا یقین نہ ہوگیا‘ انھوں نے اور ان کے کسی گرے پڑے شخص نے بھی وزارت قبول کرنے کا خیال تک نہ کیا اور پھر جب وزارتیں قبول کیں تو یہ دیکھ کر کہ فی الواقع جوہر اقتدار (substance of power)ان کی طرف منتقل نہیں کیا گیا ہے‘ انھوں نے تمام وزارتوں کو لات مار دی۔
یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اختیارات بادشاہ سے مانگے گئے تھے، یا اس سے چھینے گئے تھے‘ اور نہ یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے برسراقتدار آتے ہی بادشاہ معزول کر دیا گیا، یا تخت ِ سلطنت پر قائم رہا۔ اصل اہمیت جو چیز رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جو منصب طلب کیا تھا وہ آیا کافرانہ نظام کو چلانے کے لیے اور اس کی ملازمت قبول کرنے کی خاطر کیا تھا، یا اپنے مقصد ِ بعثت یعنی نظام اسلامی کو قائم کرنے کی خاطر۔ دوسری چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ آیا فی الواقع ان کو ایسے اختیارات ملے تھے یا نہیں، جن سے وہ ملک کے نظام میں تبدیلی کرنے کے قابل ہوسکتے؟ ہمارے نزدیک دین اور نبوت کے پورے تصور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے مطالبے ’اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف12:55 کا مقصد نظام اسلامی کا قیام سمجھیں اور یہ سمجھیں کہ خزائن الارض کے مطالبے سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مدعا یہ تھا کہ ملک کے تمام ذرائع و وسائل (resources)ان کے ہاتھ میں دیے جائیں۔
خان بہادر صاحب خواہ مخواہ خزائن کے لفظ کو مالیات کے معنی میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ مالیات کے معنوں میں نہیں آیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کا تَتَبُّعْ کرنے سے یہ بات واضح ہوسکتی ہے کہ اس لفظ کا مفہوم وہی ہے جو ’ذرائع و وسائل‘ کا مفہوم۲۳؎ ہے‘ اور ظاہر بات یہ ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ میں کسی ملک کے تمام ذرائع و وسائل کا ہونا اور اس کا ملک کے تمام سپید و سیاہ پر متصرف ہو جانا‘ دونوں بالکل ہم معنی ہیں۔ اسی بات کی تصدیق بائبل سے بھی ہوتی ہے جس میں بصراحت یہ بیان ہوا ہے کہ فرعون مصر صرف برائے نام بادشاہ رہا ورنہ تمام ملک عملاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زیر نگیں ہوگیا۔۲۴؎
اب رہا یہ دعویٰ کہ حضرت یوسف ؑ کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک میں سکہ تو دین الملک ہی کا رواں رہا، جیسا کہ آیت ’ مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ‘ سے ظاہر ہوتا ہے‘ تو اس کے متعلق پہلی بات تو یہ ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عام طور پر اس آیت کا جو ترجمہ کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مترجمین اس کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو نہیں پکڑ سکتے تھے۔ حالانکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ یوسف ؑ کاکام یہ نہ تھا‘ یا یوسف ؑ کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اپنے بھائی کو دین الملک کے تحت پکڑتا۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس محاورے کا مفہوم عدم قدرت نہیں‘ بلکہ عدم موزونیت و عدم مناسبت ہی ہے۔ مثلاً: مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ آل عمران3:179 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تم کو غیب پر مطلع نہیں کرسکتا‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع کرے۔ اسی طرح مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْالبقرہ 2:143 ، مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْالتوبۃ9:70 اور مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ آل عمران3:179 میں اللہ تعالیٰ کی عدمِ قدرت کا ذکر نہیں ہے‘بلکہ یہ ذکر ہے کہ ظلم اور اضاعتِ ایمان اور مومنین و منافقین کو خلط ملط چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کا طریقہ نہیں ہے اور خود سورۂ یوسف میں اس آیت سے پہلے ایک مقام پر جو ارشاد ہوا ہے‘ مَا کَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیْئٍیوسف12:38تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر قادر نہیں ہیں‘ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ہم لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں‘‘ پس آیت زیر بحث کو بھی یہ معنی پہنانا صحیح نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر اس کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار نہیں کرسکتے تھے‘ بلکہ قرآنی استعمالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار کرنا یوسف علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں تھا۔ البتہ اس آیت سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے صاحب اقتدار ہونے کے باوجود غیر اسلامی قانون تعزیرات کم از کم سات آٹھ برس بعد تک (جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی وہاں پہنچے تھے) ملک میں نافذ تھا، لیکن اس کے متعلق اس سے پہلے بھی ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ایک ملک کے نظامِ تمدن کو ایک رات کے اندر کلی طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور اسلامی انقلاب کا یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جاہلیت کے تمام قوانین و رسوم کو یک لخت بدل ڈالا جائے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ملک کے نظام تمدن کو کلی طور پر تبدیل کرنے میں پورے دس برس لگے تھے۔ لہٰذا حضرت یوسف علیہ السلام کے دور حکومت میں چند سال تک غیر اسلامی قانون تعزیرات، یا اس کے ساتھ کچھ دوسرے غیر اسلامی قوانین بھی جاری رہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پیش نظر خدائی قوانین کا اجرا سرے سے تھا ہی نہیں اور وہ کافرانہ قوانین ہی ملک میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
ہجرتِ حبشہ سے غلط استدلال
اب بحث ختم کرنے سے پہلے ذرا ایک نظر ہجرتِ حبشہ کے مسئلے پر بھی ڈال لیجیے۔
اس معاملے کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ حبش میں ایک غیر مسلم حکومت قائم تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو وہاں بھیج دیا، تاکہ اس کی رعیت بن کر رہیں۔پھر صحابہ کرام وہاں غیر مسلم بادشاہ کے وفادار بن کر رہے کیونکہ انھیں اس کے ماتحت عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل تھی‘ اور جب ایک ہمسایہ بادشاہ نے اس کے ملک پر حملہ کیا تو انھوں نے اس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں۔ لیکن یہ واقعات کی بالکل غلط نقشہ کشی ہے۔
٭ اول تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حبش بھیجا تھا اُسی وقت آپؐ کو اس امر کا اندازہ تھا کہ نجاشی صالحین نصاریٰ میں سے ہے۔ چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپؐ نے مہاجرین سے اُس کی مملکت کے متعلق فرمایا تھا: وَھِیَ اَرْضُ صِدْقٍ (سیرت ابن ہشام،ج۱،ص۳۲۱)۔ (وہ ایک اچھی سرزمین ہے)
٭ دوسرے‘ مہاجرین کو وہاں بھیجنے کی غرض یہ نہ تھی کہ وہاں کی رعایا بن کر رہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو ہجرت کا مشورہ دیتے وقت یہ فرمایا تھا کہ :
لَوْخَرَجْتُمْ اِلٰی اَرْضِ الْحَبَشَۃِ … حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ فَرْجًا وَمَخْرَجًا۔ (سیرت ابن ہشام، ج۱، ص ۳۲۱)
کاش تم لوگ حبش کی طرف چلے جاتے یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کوئی صورت نکالے۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پیشِ نظر صرف یہ چیز تھی کہ جو مسلمان کشمکش کے اس مرحلے میں اپنی قوت برداشت سے زیادہ مصائب کے شکار ہو رہے تھے ان کو آپ نے عارضی طور پر ایک ایسی جگہ بھیج دیا جہاں اس قسم کے مصائب کی توقع نہ تھی اور مقصود یہ تھا کہ بعد میں جب حالات سازگار ہو جائیں تو یہ لوگ وہاں سے واپس آجائیں۔ اس کو نظیر بنا کر یہ نتیجہ نکالنا آخر کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی غیر مسلم حکومت میں عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل ہو تو یہ اس کے تحت ان کے وفادار رعیت بن کر رہ پڑنے کے لیے کافی ہے اور اس کے آگے کچھ اور مطلوب نہیں ہے۔
۳۔ پھر جب مہاجرین وہاں پہنچے اور کفار مکہ نے نجاشی سے ان کو واپس مانگنے کے لیے اپنا وفد روانہ کیا اور حضرت جعفرؓ اور نجاشی کے درمیان مکالمہ ہوا تو محدثین اور اہلِ سیرت کی متفقہ روایت کے مطابق نجاشی نے نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس عقیدے کی تصدیق کی جو قرآن میں بیان ہوا ہے‘ بلکہ مزید برآں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار بھی کیا۔ اس کے بعد نجاشی کے مسلمان ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ امام احمد نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے (جو اس واقعے کے عینی شاہد ہیں) نجاشی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس نے کہا:
مَرْحَبًا بِکُمْ وَلِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِہٖ اَشْھَدُ اَنَّہ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنَّہُ الَّذِیْ نَجِدُ فِی الْاِنْجِیْلِ وَاَنَّہُ الرَّسُوْلُ الَّذِیْ بَشَّرَ بِہٖ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔ (سیرت ابن ہشام، ج۳، ص۲۷۷)
خوش آمدید ہو تمھارے لیے اور ان کے لیے جن کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ نے دی ہے۔
کیا یہ الفاظ کسی غیر مسلم کے ہوسکتے ہیں۔ بیہقی میں خود عمرو بن عاص سے (جو مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے حبش بھیجے گئے تھے) یہ الفاظ مروی ہیں کہ انھوں نے آکر اہلِ مکہ کو جو رپورٹ دی وہ یہ تھی کہ : اِنَّ اَصْحَمَۃَ یَزْعُمُ اَنَّ صَاحِبَکُمْ نَبِیٌّ (ایضاً)۔ اصحمہ نجاشی بیان کرتا ہے کہ تمھارا ساتھی نبی ہے۔
کیا کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرکے بھی غیر مسلم قرار پاسکتا ہے۔
ابن ہشام نے اپنی سیرت نبوی میں حضرت عمرو بن عاص کے قبول اسلام کا جو قصہ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوّل اوّل نجاشی ہی کی تبلیغ نے ان کے دل میں ایمان پیدا کیا تھا اور صلح حدیبیہ سے پہلے وہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کر چکے تھے۔ اس موقع پر جو الفاظ اس نے حضرت عمرو بن عاص سے کہے تھے وہ یہ تھے کہ:
اَطِعْنِیْ وَاتَّبِعْہُ فَاِنَّہ‘ وَاللّٰہِ لَعَلَی الْحَقِّ وَلَیَظْھَرَنَّ عَلٰی مَنْ خَالَفَہ‘ کَمَا ظَھَرَ مُوْسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ وَجُنُوْدِہٖ۔ (ایضاً)
میری بات مانو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرلو‘ کیونکہ وہ حق پر ہیں اور وہ اسی طرح اپنے مخالفین پر غالب آکر رہیں گے جس طرح موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔
علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں وہ خطبہ نقل کیا ہے جو نجاشی نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غائبانہ نکاح پڑھاتے ہوئے دیا تھا۔ اس میں صاف طور پر یہ الفاظ موجود ہیں:
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنَّہُ الَّذِیْ بَشَّرَبِہٖ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جن کی آمد کی خبر عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی۔
ان سب سے بڑھ کر مستند و معتبر وہ روایت ہے جو بخاری و مسلم میں آئی ہے کہ نجاشی کی وفات کی خبر پاکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور فرمایا:
مَاتَ الْیَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقُوْ مُوْا فَصَلُّوْا عَلٰی اَخِیْکُمْ اَصْحَمَۃَ۔ (بخاری، باب موت النجاشی)
آج ایک مرد صالح نے وفات پائی ہے‘ اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھو۔
اس کے بعد تو سرے سے اس استدلال کی بنا ہی منہدم ہو جاتی ہے جو ہجرتِ حبشہ کے واقعے سے کیا جاتا ہے۔۲۵؎


باب ۱

مسلمانوں کا سیاسی نظام کیا ہو؟ ہر مسلمان کی یہ دلی خواہش تھی اور ہے کہ اس کا اجتماعی نظام اسلام کی بنیادوں پر قائم ہو، لیکن آج کی دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے محبت تو کرتے ہیں، مگر اس کا صحیح فہم نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کے لیے جان دینے کو تو تیار رہتے ہیں، مگر اسلام کے مطابق جینا نہیں جانتے۔
مسلمانوں کے ذہن کی اس حالت کو محسوس کرکے مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی نظام حیات کے بنیادی خدوخال کو مناسب تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک مقالہ ’’انٹرکالجیٹ مسلم برادر ہڈ لاہور‘‘ کے اجتماع منعقدہ اکتوبر ۱۹۳۹ء میں پڑھا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان ابھی تک اپنا کوئی واضح قومی مقصد متعین نہیں کرسکے تھے۔ مولاناؒ نے اپنے اس مقالے میں ملتِ اسلامیہ کو بتایا کہ اسلامی ریاست کی بنیادیں کیا ہیں۔ یہ ریاست کن مقاصد کے لیے قائم ہوتی ہے اور اس کے اساسی اصول کون کون سے ہیں۔
آئندہ صفحات میں یہی مقالہ نظرثانی کے بعد دیا جارہا ہے۔ تکرار سے بچنے کے لیے اصل مقالے کا وہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس میں عملی پہلو کی طرف اشارے کیے گئے تھے، کیونکہ آئندہ ابواب میں مصنف محترم کی دوسری چیزیں پیش کی جا رہی ہیں جن میں وہ مباحث زیادہ تفصیل کے ساتھ آگئے ہیں۔(مرتب)

اسلام کا سیاسی نظریہ

ہندستان میں مسلمانوں کی جدید سیاسی بیداری اپنے جلو میں نت نئے مسائل لائی۔ ان میں سب سے زیادہ اہم یہ تھا کہ مستقبل میں

اسلام کے متعلق اس قسم کے فقرے آپ اکثر سنتے رہتے ہیں کہ یہ :
٭ ایک جمہوری نظام ہے۔
٭ اسلام آمریت کا حامی ہے۔
٭ اسلام سوشلزم کا علم بردار ہے، وغیرہ۔
پچھلی صدی کے آخر ی دور سے اس قسم کے فقروں کا بار بار اعادہ کیا جارہا ہے، مگر جو لوگ ان کو زبان سے نکالتے ہیں‘ مجھے یقین ہے کہ ان میں سے ایک فی ہزار بھی ایسے نہیں ہیں جنھوں نے اس دین کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو اور یہ سمجھنے کی کوشش کی ہو کہ اسلام کا نظام حیات کیا ہے اور اس میں جمہوریت کس حیثیت سے ہے اور کس نوعیت کی ہے‘ یا عدل اجتماعی اور سیاسی استحکام کے لیے اس نے کیا اصول وضع کیے ہیں۔
ان میں سے بعض لوگ تو اسلامی نظام جماعت کی چند ظاہری شکلوں کو دیکھ کر اس پر جمہوریت، یا آمریت، یا سوشلزم کا نام چسپاں کر دیتے ہیں اور اکثر ایسے ہیں جن کی ذہنیت کچھ اس طور پر بنی ہے کہ دنیا میں (اور خصوصاً عالمی قیادت پرفائز طاقتوں اور اپنے ممالک کے برسراقتدار لوگوں میں) جو چیز مقبول عام ہو، اس کو کسی نہ کسی طرح اسلام میں موجود ثابت کر دینا، ان کے نزدیک اس مذہب کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ شاید وہ اسلام کو اس یتیم بچے کی طرح سمجھتے ہیں جو ہلاکت سے بس اس طرح بچ سکتا ہے کہ کسی بااثر شخص کی سرپرستی اس کو حاصل ہوجائے، یا پھر غالباً ان کا خیال یہ ہے کہ ہماری عزت محض مسلمان ہونے کی حیثیت سے قائم نہیں ہوسکتی‘ بلکہ صرف اسی طرح قائم ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے مسلک میں دنیا کے کسی چلتے ہوئے مسلک کے اصولوں کی جھلک دکھا دیں۔ اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ جب دنیا میں اشتراکیت کا غلغلہ بلند ہوا تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے پکارنا شروع کیا کہ اشتراکیت تو محض اسلام ہی کا ایک جدید ایڈیشن ہے، اور جب ڈکٹیٹر شپ کا آوازہ اٹھا تو کچھ دوسرے لوگوں نے اطاعت امیر‘ اطاعت امیر کی صدائیں بلند کرنی شروع کر دیں اور کہنے لگے کہ یہاں سارا نظامِ جماعت‘ ڈکٹیٹر شپ ہی پر قائم ہے۔ غرض اسلام کا نظریۂ سیاسی اس زمانے میں ایک چیستان‘ ایک چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گیا ہے جس میں سے ہر وہ چیز نکال کر دکھا دی جاتی ہے جس کا بازار میں چلن ہو۔
ضرورت ہے کہ باقاعدہ علمی طریقے سے اس امر کی تحقیق کی جائے کہ فی الواقع اسلام کا سیاسی نظریہ ہے کیا۔ اس طرح نہ صرف ان پراگندہ خیالیوں کا خاتمہ ہو جائے گا جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں اور نہ صرف ان لوگوں کا منہ بند ہو جائے گا جنھوں نے حال میں علی الاعلان یہ لکھ کر اپنی جہالت کا ثبوت دیا تھا کہ:
’اسلام سرے سے کوئی سیاسی و تمدنی نظام تجویز ہی نہیں کرتا‘ بلکہ درحقیقت تاریکیوں میں بھٹکنے والی دنیا کے سامنے ایک ایسی روشنی نمودار ہو جائے گی جس کی وہ سخت حاجت مند ہے‘ اگرچہ اپنی اس حاجت مندی کا شعور نہیں رکھتی۔‘

۱۔بنیادی مُقدّمات

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ اسلام محض چند منتشر خیالات اور منتشر طریق ہائے عمل کا مجموعہ نہیں ہے جس میں اِدھر اُدھرسے مختلف چیزیں لاکر جمع کر دی گئی ہوں‘ بلکہ یہ ایک باضابطہ نظام ہے جس کی بنیاد چند مضبوط اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ اس کے بڑے بڑے ارکان سے لے کر چھوٹے چھوٹے جزئیات تک ہر چیز اس کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ایک منطقی ربط رکھتی ہے۔ انسانی زندگی کے تمام مختلف شعبوں کے متعلق اس نے جتنے قاعدے اور ضابطے مقرر کیے ہیں ان سب کی روح اور ان کا جو ہر اس کے اصول اوّلیہ ہی سے ماخوذ ہے۔ ان اصول اوّلیہ سے پوری اسلامی زندگی اپنی مختلف شاخوں کے ساتھ بالکل اسی طرح نکلتی ہے جس طرح درخت میں آپ دیکھتے ہیں کہ بیج سے جڑیں‘ اور جڑوں سے تنا‘ اورتنے سے شاخیں اور شاخوں سے پتیاں پھوٹتی ہیں اور خوب پھیل جانے کے باوجود اس کی ایک ایک پتی اپنی جڑ کے ساتھ مربوط رہتی ہے۔ پس آپ اسلامی زندگی کے جس شعبے کوبھی سمجھنا چاہیں آپ کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کی جڑ کی طرف رجوع کریں‘ کیونکہ اس کے بغیر آپ اس کی روح کو نہیں پاسکتے۔
انبیاء علیہم السلام کا مشن
اسلام کے متعلق دو باتیں قریب قریب ہر مسلمان کو معلوم ہیں:
ایک یہ کہ اسلام تمام انبیاء علیہم السلام کا مشن ہے۔ یہ صرف محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن ہی نہیں ہے، بلکہ انسانی تاریخ کے قدیم ترین دور سے جتنے انبیاء ؑ بھی اللہ کی طرف سے آئے ہیں، ان سب کا یہی مشن تھا۔
دوسری یہ کہ اللہ کی طرف سے جتنے انبیاء علیھم السلام بھی دنیا میں آئے ہیں ان کی آمد کا مقصدِ وحید خدائے واحد کی خدائی منوانا اور صرف اسی ایک کی عبادت کرانا تھا۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے لیے بظاہر یہ دونوں باتیں بالکل پیش پا اُفتادہ حقیقتیں ہیں۔ ہر مسلمان ان کو سن کر کہے گا کہ یہ معلوم و معروف باتیں ہیں جنھیں ایک دیہاتی مسلمان بھی جانتا ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس اجمال کا پردہ اٹھا کر ذرا آپ گہرائی میں اتریں۔ سب کچھ اسی پردے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ تجسس کی نگاہ ڈال کر اچھی طرح دیکھیے کہ ایک اللہ کی خدائی منوانے سے مقصد کیا تھا؟ صرف اسی کی عبادت کرانے کا مطلب کیا تھا؟ اور آخر اس میں ایسی کون سی بات تھی کہ جہاں کسی اللہ کے بندے نے مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ۲۶؎ کا اعلان کیا اور ساری طاغوتی طاقتیں جھاڑ کا کانٹا بن کر اس کو چمٹ گئیں؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی جتنی آج کل سمجھی جاتی ہے کہ مسجد میں خدائے واحد کے سامنے سجدہ کرلو اور پھر باہر نکل کر حکومت ِ وقت (جو بھی وقت کی حکومت ہو) کی غیر مشروط وفاداری اور اطاعت میں لگ جائو تو کس کا سر پھرا تھا کہ اتنی سی بات کے لیے خواہ مخواہ اپنی وفادار رعایا کی مذہبی آزادی میں مداخلت کرتا۔
آئیے! ہم تحقیق کرکے دیکھیں کہ اللہ کے بارے میں انبیاء علیہم السلام کا اور دنیا کی دوسری طاقتوں کا اصل جھگڑا کس بات پر تھا۔
قرآن میں ایک جگہ نہیں بکثرت مقامات پر یہ بات صاف کر دی گئی ہے کہ کفار و مشرکین‘ جن سے انبیاء کی لڑائی تھی، اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ ان سب کو تسلیم تھا کہ اللہ ہے اور وہی زمین و آسمان کا خالق اور خود ان کفار و مشرکین کا خالق بھی ہے، کائنات کا سارا انتظام اسی کے اشارے سے ہو رہا ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی ہوائوں کو گردش دیتا ہے، اسی کے ہاتھ میں سورج اور چاند اور زمین سب کچھ ہیں:
قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْہَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝۰ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَo قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِo سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝۰ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَo قُلْ مَنْۢ بِيَدِہٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّہُوَيُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝۰ۭ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ o المومنون 84-89:23
ان سے پوچھو کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے وہ کس کا ہے‘ بتائو اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: اللہ کا ہے۔ کہو: پھر تم غور نہیں کرتے؟ ان سے پوچھو: ساتوں آسمانوں کا رب اور عرشِ عظیم کا رب کون ہے؟ وہ کہیں گے: اللہ۔ کہو: پھر تم اس سے ڈرتے نہیں؟ ان سے پوچھو: وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے مگر کوئی اس کے مقابلے میں کسی کو پناہ نہیں دے سکتا؟ بتائو اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اللہ۔ کہو: پھر تم کس دھوکے میں ڈال دیے گئے ہو؟
٭ وَ لَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ العنکبوت29:61
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ اور کس نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر آخر یہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں؟
٭ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط
العنکبوت29: 63
اور اگر تم ان سے یہ پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا اور کس نے مری ہوئی زمین کو روئیدگی بخشی؟ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔
وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْ فَکُوْنَ o الزخرف43:87
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ تم کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر آخر یہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں؟
ان آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کے ہونے میں اور اس کے خالق ہونے اور مالک ارض و سما ہونے میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ لوگ ان باتوں کو خود ہی مانتے تھے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ انھی باتوں کو منوانے کے لیے تو انبیاء کے آنے کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی آمد کس لیے تھی اور جھگڑا کس چیز کا تھا؟
قرآن کہتا ہے کہ سارا جھگڑا اس بات پر تھا کہ انبیاء کہتے تھے‘ جو تمھارااور زمین و آسمان کا خالق ہے وہی تمھارارب اور الٰہ بھی ہے‘ اس کے سوا کسی کو الٰہ اور رب نہ مانو، مگر دنیا اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھی۔
آئیے! ذرا پھر تجسس کریں کہ اس جھگڑے کی تہہ میں کیا ہے؟ الٰہ سے کیا مراد ہے؟ رب کسے کہتے ہیں؟ انبیاء کو کیوں اصرار تھا کہ صرف اللہ ہی کو الٰہ اور رب مانو؟ اور دنیا کیوں اس بات پر لڑنے کھڑی ہو جاتی تھی؟
الٰہ اور رب کا مفہوم
الٰہ کے معنی آپ سب جانتے ہیں کہ معبود کے ہیں، مگر معاف کیجیے گا معبود کے معنی آپ بھول گئے ہیں۔ معبود کا مادہ عبد ہے۔ عبد بندے اور غلام کو کہتے ہیں۔ عبادت کے معنی: محض پوجا کے نہیں ہیں‘ بلکہ بندہ اور غلام‘ جو زندگی غلامی اور بندگی کی حالت میں بسر کرتا ہے‘ وہ پوری کی پوری سراسر عبادت ہے۔ خدمت کے لیے کھڑا ہونا‘ احترام میں ہاتھ باندھنا، اعتراف بندگی میں سرجھکانا‘ جذبۂ وفاداری سے سرشار ہونا‘ فرماں برداری میں دوڑ دھوپ اور سعی وجہد کرنا‘ جس کام کا اشارہ ہو اُسے بجا لانا‘ جو کچھ آقا طلب کرے اسے پیش کر دینا‘ اس کی طاقت و جبروت کے آگے ذلت اور عاجزی اختیار کرنا‘ جو قانون وہ بنائے اس کی اطاعت کرنا‘ جس کے خلاف وہ حکم دے اُس پر چڑھ دوڑنا‘ جہاں اُس کا فرمان ہو سر تک کٹوا دینا۔ یہ عبادت کا اصل مفہوم ہے اور آدمی کا معبود حقیقت میں وہی ہے جس کی عبادت وہ اس طرح کرتا ہے۔
اور ’رب‘ کا مفہوم کیا ہے؟ عربی زبان میں رب کے اصلی معنی: پرورش کرنے والے کے ہیں، اور چونکہ دنیا میں پرورش کرنے والے ہی کی اطاعت و فرماں برداری کی جاتی ہے، لہٰذا رب کے معنی مالک اور آقا کے بھی ہوئے۔ چنانچہ عربی محاورے میں مال کے مالک کو رَبُّ المال اور صاحب خانہ کو رَبُّ الدَّار کہتے ہیں۔ آدمی جس کو اپنا رازق اور اپنا مربی سمجھے‘ جس سے نوازش اور سرفرازی کی امید رکھے‘ جس سے عزت اور ترقی اور امن کا متوقع ہو‘ جس کی نگاہِ لطف کے پھر جانے سے اپنی زندگی برباد ہو جانے کا خوف کرے‘ جس کو اپنا آقا اور مالک قرار دے اور جس کی فرماں برداری اور اطاعت کرے وہی اس کا رب۲۷؎ہے۔
ان دونوں لفظوں کے معنی پر نگاہ رکھیے اورپھر غور سے دیکھیے‘ انسان کے مقابلے میں یہ دعویٰ لے کر کون کھڑا ہوسکتا ہے کہ میں تیرا الٰہ ہوں اور میں تیرا رب ہوں‘ میری بندگی و عبادت کر؟ کیا درخت؟ پتھر؟ دریا؟ جانور؟ سورج؟ چاند؟ تارے؟ کسی میں بھی یہ یارا ہے کہ وہ انسان کے سامنے آکر یہ دعویٰ پیش کرسکے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ صرف انسان ہی ہے جو انسان کے مقابلے میں خدائی کا دعویٰ لے کر اٹھتا ہے اور اٹھ سکتا ہے۔ خدائی کی ہوس انسان ہی کے سر میں سما سکتی ہے۔ انسان ہی کی حد سے بڑھی ہوئی خواہشِ اقتدار یا خواہشِ انتفاع اسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا الٰہ بنے‘ ان سے اپنی بندگی کرائے‘ ان کے سر اپنے آگے جھکوائے‘ ان پر اپنا حکم چلائے‘ ان کو اپنی خواہشات کے حصول کا آلہ بنائے۔ یہ الٰہ بننے کی لذت ایسی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی لذیذ چیز انسان آج تک دریافت نہیں کرسکا۔ جس کو کچھ طاقت یا دولت یا چالاکی یا ہوشیاری یا کسی نوع کا کچھ زور حاصل ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ اپنے فطری اور جائز حدود سے آگے بڑھے‘ پھیل جائے اور آس پاس کے انسانوں پر‘ جو اس کے مقابلے میں ضعیف یا مفلس یا بیوقوف یا کسی حیثیت سے بھی کمزور ہوں‘ اپنی خدائی کا سکہ جما دے۔
اس قسم کی ہوسِ خداوندی رکھنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں اور دو مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔(الف) راست دعوے دار، (ب) بالواسطہ دعوے دار
(ا) راست دعوے دار
ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن میں زیادہ جرأت ہوتی ہے، یا جن کے پاس خدائی کے ٹھاٹھ جمانے کے کافی ذرائع ہوتے ہیں۔ وہ براہ راست اپنی خدائی کا دعویٰ پیش کر دیتے ہیں۔ مثلاً: ایک وہ فرعون تھا جس نے اپنی بادشاہی اور اپنے لشکروں کے بل بوتے پر مصر کے باشندوں سے کہہ دیا کہ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی النٰزعٰت79:24 میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں،اور مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْالقصص28:38میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمھارا اور بھی کوئی الٰہ ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے سامنے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ پیش کیا اور اس سے کہا کہ تو خود بھی الٰہ العالمین کی بندگی اختیار کر‘ تو اس نے کہا کہ میں تم کو جیل بھیج دینے کی قدرت رکھتا ہوں، لہٰذا تم مجھ کو الٰہ تسلیم کرو۔
لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰـھًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ الشعرائ26:29
اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمھیں قید کردوں گا‘‘۔
اسی طرح ایک وہ بادشاہ تھا جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بحث ہوئی تھی۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر جن الفاظ کے ساتھ آیا ہے، انھیں ذرا غور سے پڑھیے:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَط البقرہ2: 258
تو نے نہیں دیکھا اُس شخص کو جس نے ابراہیم علیہ السلام سے بحث کی اس بارے میں کہ ابراہیم علیہ السلام کا رب کون ہے اور یہ بحث اس نے اس لیے کی کہ اللہ نے اس کو حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے تو اس نے جواب دیا کہ زندگی اور موت تو میرے ہاتھ میں ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اچھا اللہ تو سورج کو مشرق کی طرف سے لاتا ہے‘ تو ذرا مغرب کی طرف سے نکال لا۔یہ سن کر وہ کافر ہکا بکا رہ گیا۔
غور کیجیے! وہ کافر ہکا بکا کیوں رہ گیا؟ اس لیے کہ وہ اللہ کے وجود کا منکر نہ تھا۔ وہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ کائنات کا فرماں روا اللہ ہی ہے۔ سورج کو وہی نکالتا اور وہی غروب کرتا ہے۔ جھگڑا اس بات میں نہ تھا کہ کائنات کا مالک کون ہے، بلکہ اس بات میں تھا کہ انسانوں کا اور خصوصاً سرزمین عراق کے باشندوں کا مالک کون ہے۔ وہ اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتا تھا، بلکہ اس بات کا دعویٰ رکھتا تھا کہ سلطنت عراق کے باشندوں کا رب میں ہوں اور یہ دعویٰ اس بنا پر تھا کہ حکومت اس کے ہاتھ میں تھی۔ لوگوں کی جانوں پر وہ قابض و متصرف تھا۔ اپنے آپ میں یہ قدرت پاتا تھا کہ جسے چاہے پھانسی پر لٹکا دے‘ اور جس کی چاہے جان بخشی کر دے۔ یہ سمجھتا تھا کہ میری زبان قانون ہے اور میرا حکم ساری رعایا پر چلتا ہے، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس کا مطالبہ یہ تھا کہ تم مجھے رب تسلیم کرو‘ میری بندگی اور عبادت کرو، مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تو اسی کو رب مانوں گا اور اسی کی بندگی و عبادت کروں گا جو زمین و آسمان کا رب ہے اور جس کی عبادت یہ سورج کر رہا ہے تو وہ حیران رہ گیا اور اس لیے حیران رہ گیا کہ ایسے شخص کو کیوں کر قابو میں لائوں۔۲۸؎
یہ خدائی جس کا دعویٰ فرعون اور نمرود نے کیا تھا‘ کچھ انھی دو آدمیوں تک محدود نہ تھی۔ دنیا میں ہر جگہ فرماں روائوں کا یہی دعویٰ تھا اور یہی دعویٰ ہے۔ ایران میں بادشاہ کے لیے خدا اور خداوند کے الفاظ مستعمل تھے اور ان کے سامنے پور ے مراسم عبودیت بجا لائے جاتے تھے۔ حالانکہ کوئی ایرانی ان کو خدائے خدائیگاں (یعنی اللہ) نہیں سمجھتا تھا اور نہ وہ خود اس کے مدعی تھے، اسی طرح ہندستان میں فرماںروا خاندان اپنا نسب دیوتائوں سے ملاتے تھے ____ چنانچہ سورج بنسی اور چندر بنسی آج تک مشہور ہیں ____ راجہ کو اَن داتا یعنی رازق کہا جاتا تھا اور اس کے سامنے سجدے کیے جاتے تھے، حالانکہ پر میشور اور پرماتما ہونے کا دعویٰ نہ کسی راجہ کو تھا اور نہ پرجا ہی ایسا سمجھتی تھی۔ ایسا ہی حال دنیا کے دوسرے ممالک کا بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بعض جگہ فرماںروائوں کے لیے الٰہ اور رب کے ہم معنی الفاظ اب بھی صریحًابولے جاتے ہیں، مگر جہاں یہ نہیں بولے جاتے وہاں اسپرٹ وہی ہے جو ان الفاظ کے مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ اس نوع کے دعوائے خداوندی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی صاف الفاظ میں الٰہ اور رب ہونے ہی کا دعویٰ کرے، نہیں‘ وہ سب لوگ جو انسانوں پر اس اقتدار‘ اس فرماںروائی و حکمرانی‘ اس آقائی و خداوندی کو قائم کرتے ہیں جیسے فرعون اور نمرود نے قائم کیا تھا‘ دراصل وہ الٰہ اور رب کے معنی و مفہوم کا دعویٰ کرتے ہیں‘ چاہے الفاظ کا دعویٰ نہ کریں اور وہ سب لوگ جو ان کی اطاعت و بندگی کرتے ہیں وہ بہرحال ان کے الٰہ و رب ہونے کو تسلیم کرتے ہیں‘ چاہے زبان سے یہ الفاظ نہ کہیں۔
(ب) بالواسطہ دعوے دار
غرض ایک قسم تو انسانوں کی وہ ہے جو براہ راست اپنی الہٰیت اور ربوبیت کا دعویٰ کرتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی‘ اتنے ذرائع نہیں ہوتے کہ خود ایسا دعویٰ لے کر اٹھیں اور اسے منوالیں‘ البتہ چالاکی اور فریب کاری کے ہتھیار ہوتے ہیں جن سے وہ عام انسانوں کے دل و دماغ پر جادو کرسکتے ہیں۔ سو ان ذرائع سے کام لے کر وہ کسی روح‘ کسی دیوتا‘ کسی بت‘ کسی قبر‘ کسی سیارے یا کسی درخت کو الٰہ بنا دیتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ تمھیں نفع اور ضرر پہنچانے پر قادر ہیں۔ یہ تمھاری حاجت روائی کرسکتے ہیں۔ یہ تمھارے ولی اور محافظ اور مدد گار ہیں۔ ان کو خوش نہ کرو گے تو یہ تمھیں قحط اور بیماریوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیں گے۔ انھیں خوش کرکے حاجتیں طلب کرو گے تو یہ تمھاری مدد کو پہنچیں گے‘ مگر انھیں خوش کرنے اور ان کو تمھارے حال پر متوجہ کرنے کے طریقے ہم کو معلوم ہیں۔ ان تک پہنچنے کا ذریعہ ہم ہی بن سکتے ہیں، لہٰذا ہماری بزرگی تسلیم کرو‘ ہمیں خوش کرو اور ہمارے ہاتھ میں اپنی جان‘ مال‘ آبرو سب کچھ دے دو۔ بہت سے بیوقوف انسان اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور یوں جھوٹے خدائوں کی آڑ میں ان پروہتوں اور پجاریوں اور مجاوروں کی خداوندی قائم ہوتی ہے۔
اسی نوع میں کچھ دوسرے لوگ ہیں جو کہانت اور نجوم اور فال گیری اور تعویذ گنڈوں اور منتروں کے وسیلے اختیار کرتے ہیں۔ کچھ اور لوگ ہیں جو اللہ کی بندگی کا اقرار تو کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ تم براہ راست اللہ تک نہیں پہنچ سکتے‘ اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہم ہیں۔ عبادت کے مراسم ہمارے ہی واسطے سے ادا ہوں گے اور تمھاری پیدائش سے لے کر موت تک ہر مذہبی رسم ہمارے ہاتھوں سے انجام پائے گی۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اللہ کی کتاب کے حامل بن جاتے ہیں‘ عام لوگوں کو اس کے علم سے محروم کر دیتے ہیں اور خود اپنے زعم میں خدا کی زبان بن کر حلال و حرام کے احکام دینے شروع کر دیتے ہیں۔ یوں ان کی زبان قانون بن جاتی ہے اور وہ انسانوں کو خدا کے بجائے خود اپنے حکم کا تابع بنا لیتے ہیں۔ یہی اصل ہے اس برہمنیت اور پایائیت کی جو مختلف ناموں اور مختلف صورتوں سے قدیم ترین زمانے سے آج تک دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلی ہوئی ہے اور جس کی بدولت بعض خاندانوں‘ نسلوں یا طبقوں نے عام انسانوں پر اپنی سیادت کا سکہ جما رکھا ہے۔
فتنے کی جڑ
اس نظر سے جب آپ دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں فتنے کی اصل جڑ اور فساد کا اصلی سرچشمہ انسان پر انسان کی خدائی ہے‘ خواہ وہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ۔ اسی سے خرابی کی ابتدا ہوئی اور اسی سے آج بھی بِس کے زہریلے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو خیر انسان کی فطرت کے سارے راز ہی جانتا ہے‘ مگر اب تو ہزارہا برس کے تجربے سے خود ہم پر بھی یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہو چکی ہے کہ انسان کسی نہ کسی کو الٰہ اور رب مانے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ گویا کہ اس کی زندگی محال ہے اگر کوئی اس کا الٰہ اور رب نہ ہو۔ اگر اللہ کو نہ مانے گا تب بھی اسے الٰہ اور رب سے چھٹکارا نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں بہت سے الٰہ اور ارباب اس کی گردن پر مسلط ہو جائیں گے۔ آج بھی آپ جدھر نگاہ ڈالیں گے یہی نظر آئے گا کہ کہیں ایک قوم دوسری قوم کی الٰہ ہے، کہیں ایک طبقہ دوسرے طبقوں کا الٰہ ہے، کہیں ایک پارٹی نے الہٰیت و ربوبیت کے مقام پر قبضہ کر رکھا ہے، کہیں قومی ریاست خدائی کے مقام پر براجمان ہے اور کہیں کوئی ڈکٹیٹر مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِی القصص28:38کی منادی کر رہا ہے۔ انسان کسی ایک جگہ بھی الٰہ کے بغیر نہ رہا۔
پھر انسان پر انسان کی خدائی قائم ہونے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ وہی جو ایک کم ظرف آدمی کو پولیس کمشنر بنا دینے، یا ایک جاہل کو وزیراعظم بنا دینے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اول تو خدائی کا نشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ آدمی اس شراب کو پی کر کبھی اپنے قابو میں رہ نہیں سکتا اور بالفرض اگر وہ قابو میں رہ بھی جائے تو خدائی کے فرائض انجام دینے کے لیے جس علم کی ضرورت ہے اور جس بے لوثی و بے غرضی اور بے نیازی کی حاجت ہے وہ انسان کہاں سے لائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں انسانوں پر انسانوں کی الہٰیت و ربوبیت قائم ہوئی وہاں ظلم‘ طغیان‘ ناجائز انتفاع‘ بے اعتدالی اور ناہمواری نے کسی نہ کسی صورت سے راہ پا ہی لی۔ انسانی روح اپنی فطری آزادی سے محروم ہو کر ہی رہی۔ انسان کے دل و دماغ پر‘ اس کی پیدائشی قوتوں اور صلاحیتوں پر ایسی بندشیں عائد ہو کر ہی رہیں‘ جنھوں نے انسانی شخصیت کے نشو و ارتقا کو روک دیا۔ کس قدر سچ فرمایا اُس صادق و مصدوق علیہ و علیٰ آلہ الصلوۃ و السلام نے:
قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنِّیْ خَلَقْتُ عِبَادِیْ حُنَفَائَ کُلَّھُمْ وَاِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنھِمِ وَ حَرَّمَتْ عَلَیْھِمْ مَا اَحْلَلْتُ لَھُمْ۔ (مسلم)
اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا، پھر شیطانوں نے ان کو آن گھیرا‘ انھیں فطرت کی راہ راست سے بھٹکا لے گئے اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اُن شیطانوں نے ان کو اس سے محروم کرکے رکھ دیا۔
یہی وہ چیز ہے جو انسان کے سارے مصائب‘ اس کی ساری تباہیوں‘ اس کی تمام محرومیوں کی اصل جڑ ہے، یہی اس کی ترقی میں اصل رکاوٹ ہے، یہی وہ روگ ہے جو اس کے اخلاق اور اس کی روحانیت کو‘ اس کی علمی و فکری قوتوں کو‘ اس کے تمدن اور اس کی معاشرت کو‘ اس کی سیاست اور اس کی معیشت کو اور قصہ مختصر اس کی انسانیت کو تپ دق کی طرح کھا گیا ہے۔ قدیم ترین زمانے سے کھا رہا ہے اور آج تک کھائے چلا جاتا ہے۔ اس روگ کا علاج بجز اس کے کچھ ہے ہی نہیں کہ انسان سارے ارباب اور تمام الہٰوں کا انکار کرکے صرف اللہ کو اپنا الٰہ اور صرف رب العالمین کو اپنا رب قرار دے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اس کی نجات کے لیے نہیں ہے کیونکہ ملحد اور دہریہ بن کر بھی تو وہ الہٰوں اور ارباب سے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔
انبیاء علیہم السلام کا اصل اصلاحی کام
یہی وہ بنیادی اصلاح تھی جو انبیاء علیہم السلام نے انسانی زندگی میں کی۔ وہ دراصل انسان پر انسان کی خدائی تھی جس کو مٹانے کے لیے یہ لوگ آئے۔ ان کا اصلی مشن یہ تھا کہ انسان کو اس ظلم سے‘ ان جھوٹے خدائوں کی بندگی سے‘ اس طغیان اور ناجائز انتفاع سے نجات دلائیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ جو انسان انسانیت کی حد سے آگے بڑھ گئے ہیں انھیں دھکیل کر پھر اس حد میں واپس پہنچائیں۔ جو اس حد سے نیچے گرا دیے گئے ہیں انھیں ابھار کر اس حد تک اٹھا لائیں اور سب کو ایک ایسے عادلانہ نظام زندگی کا پابند بنا دیں جس میں کوئی انسان نہ کسی دوسرے انسان کا عبد ہو نہ معبود‘ بلکہ سب ایک اللہ کے بندے بن جائیں۔ ابتدا سے جتنے نبی دنیا میں آئے ان سب کا ایک ہی پیام تھا اور وہ یہ تھا:
یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ۔ المومنون23:23
لوگو! اللہ کی بندگی کرو‘ اس کے سوا کوئی تمھارا الٰہ نہیں ہے۔
یہی حضرت نوح ؑ نے کہا، یہی حضرت ہود علیہ السلام نے کہا۔ یہی حضرت صالح ؑ نے کہا۔ یہی حضرت شعیب علیہ السلام نے کہااور اسی کا اعلان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے:
۱۔ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ وَّمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ o رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا۔
ص38: 66
میں بس ایک متنبہ کرنے والا ہوں۔ کوئی الٰہ نہیں ہے بجز اس ایک اللہ کے، جو سب پر غالب ہے‘ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ہر اس چیز کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔
۲۔ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …… وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ۔ الاعراف7:54
یقیناً تمھارا رب وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو …… اور سورج اور چاند اور تاروں کو۔ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! خلق بھی اسی کی ہے اور حکومت بھی اسی کی۔
۳۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوْہُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ۔
الانعام6: 102
وہی ایک اللہ تمھارا رب ہے‘ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے‘ ہر چیز کا خالق‘ لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
۴۔ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ ۔ البینۃ98:5
لوگو ں کو کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ اللہ کی بندگی کریں‘ اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے‘ یک سو ہو کر۔
۵۔ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ آل عمران3:64
آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی ہم بندگی نہ کریں اور خدائی میں کسی کو اس کا شریک نہ قرار دیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا رب نہ بنائے۔
یہی وہ منادی تھی جس نے انسان کی روح اور اس کی عقل و فکر اور اس کی ذہنی و مادی قوتوں کو غلامی کی ان بندشوں سے رہا کر دیا جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ یہ انسان کے لیے حقیقی آزادی کا چارٹر تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کارنامے کے متعلق قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ:
وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ۔ الاعراف7:157
یعنی یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اتار تا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور ان بندھنوں کو کاٹتا ہے جن میں وہ کسے ہوئے تھے۔

۲۔ نظریۂ سیاسی کے اوّلین اصول

انبیاء علیہم السلام نے انسانی زندگی کے لیے جو نظام مرتب کیا اس کا مرکز و محور‘ اس کی روح اور اس کا جوہر یہی عقیدہ ہے اور اسی پر اسلام کے نظریۂ سیاسی کی بنیاد بھی قائم ہے۔ اسلامی سیاست کا سنگ بنیاد یہ قاعدہ ہے کہ حکم دینے اور قانون بنانے کے اختیارات تمام انسانوں سے فردًا فردًا اور مُجتمعًا سلب کر لیے جائیں‘ کسی شخص کا یہ حق تسلیم نہ کیا جائے کہ وہ حکم دے اور دوسرے اس کی اطاعت کریں‘ وہ قانون بنائے اور دوسرے اس کی پابندی کریں۔ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے:
۱۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۔ یوسف12:40
حکم سوائے اللہ کے کسی اور کا نہیں۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ یہی صحیح دین ہے۔
۲۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَکُلَّہٗ لِلّٰہِ ۔ آل عمران3: 154
وہ پوچھتے ہیں کہ اختیارات میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہو کہ اختیارات تو سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
۳۔ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ ۔ النحل16:116
اپنی زبانوں سے یونہی غلط سلط نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام۔
۴۔ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ المائدہ5:44
جو خدا کی نازل کی ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی دراصل کافر ہیں۔
اس نظریے کے مطابق حاکمیت (sovereignty)صرف خدا کی ہے۔ قانون ساز (law giver) صرف خدا ہے۔ ۲۹؎ کوئی انسان خواہ وہ نبی ؑہی کیوں نہ ہو‘ بذات خود حکم دینے اور منع کرنے کا حق دار نہیں۔ نبی خود بھی اللہ کے حکم ہی کا پیرو ہے۔
اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ۔ الانعام6:50
میں تو صرف اس حکم کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے ۔
عام انسان نبی کی اطاعت پر صرف اس لیے مامور ہیں کہ وہ اپنا حکم نہیں، بلکہ خدا کا حکم بیان کرتا ہے:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۔ النسائ4:64
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن (sanction)کے تحت اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبَوَّۃَ ۔ الانعام6:89
یہ (نبی) وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی کتاب دی، حکم (authority)سے سرفراز کیا اور نبوت عطا کی۔
۳۔ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ۔ آل عمران3: 79
کسی بشر کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکم اور نبوت سے سرفراز کرے اور وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم خدا کے بجائے میرے بندے بن جائو، بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ تم ربانی بنو۔
پس اسلامی اسٹیٹ کی ابتدائی خصوصیات جو قرآن کی مذکورہ بالا تصریحات سے نکلتی ہیں یہ ہیں:
۱۔ کوئی شخص‘ خاندان‘ طبقہ یا گروہ، بلکہ اسٹیٹ کی ساری آبادی مل کر بھی حاکمیت کی مالک نہیں ہے۔ حاکم اعلیٰ (sovereign) صرف اللہ ہے‘ اور باقی سب محض رعیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
۲۔ قانون سازی کے اختیارات بھی خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہیں۔ سارے مسلمان مل کر بھی نہ اپنے لیے کوئی قانون بنا سکتے ہیں اور نہ اللہ کے بنائے ہوئے کسی قانون میں ترمیم کرسکتے ہیں۔۳۰؎
۳۔ اسلامی اسٹیٹ بہرحال اس قانون پر قائم ہوگا جو اللہ کی طرف سے اس کے نبی ؑنے دیا ہے، اور اس اسٹیٹ کو چلانے والی گورنمنٹ صرف اس حال میں اور اس حیثیت سے اطاعت کی مستحق ہوگی کہ وہ خدا کے قانون کو نافذ کرنے والی ہو۔

۳۔ اسلامی ریاست کی نوعیت

ایک شخص بیک نظر ان خصوصیات کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ یہ مغربی طرز کی لادینی جمہوریت (secular democracy)نہیں ہے۔ اس لیے کہ فلسفیانہ نقطۂ نظر سے جمہوریت تو نام ہی اس طرز حکومت کا ہے جس میں ملک کے عام باشندوں کو حاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔ انھی کی رائے سے قوانین بنیں اور صرف انھی کی رائے سے قوانین میں تغیر و تبدل ہو۔ جس قانون کو وہ چاہیں نافذ ہو، اور جسے وہ نہ چاہیں وہ کتاب آئین میں سے محو کر دیا جائے۔ یہ بات اسلام میں نہیں ہے۔ یہاں ایک بالاتر بنیادی قانون خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول ؑ کے ذریعے سے دیتا ہے جس کی اطاعت ریاست اور قوم کو کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا اس معنی میں اسے جمہوریت نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے لیے زیادہ صحیح نام ’الٰہی حکومت‘ ہے جس کو انگریزی میں theocracyکہتے ہیں، مگر یورپ جس تھیاکریسی سے واقف ہے اسلامی تھیاکریسی اس سے بالکل مختلف ہے۔ یورپ اس تھیاکریسی سے واقف ہے جس میں ایک مخصوص مذہبی طبقہ (priest-class)اللہ کے نام سے خود اپنے بنائے ہوئے قوانین نافذ کرتا ہے،۳۱؎ اور عملاً اپنی خدائی عام باشندوں پر مسلط کر دیتا ہے۔ ایسی حکومت کو تو الٰہی حکومت کے بجائے شیطانی حکومت کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔ بخلاف اس کے اسلام جس تھیاکریسی کو پیش کرتا ہے وہ کسی مخصوص مذہبی طبقے کے ہاتھ میں نہیں ہوتی‘ بلکہ عام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور یہ عام مسلمان اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق چلاتے ہیں۔ اگر مجھے ایک نئی اصطلاح وضع کرنے کی اجازت دی جائے تو میں اس طرز حکومت کو (theo-democracy)یعنی ’الٰہی جمہوری حکومت‘ کے نام سے موسوم کروں گا، کیونکہ اس میں خدا کے اقتدار اعلیٰ (paramountcy) کے تحت مسلمانوں کو ایک محدود عمومی حاکمیت (limited popular sovereignty)عطا کی گئی ہے۔ اس میں انتظامیہ (executive) اور مقننہ (legislature)مسلمانوں کی رائے سے بنے گی۔ مسلمان ہی اس کو معزول کرنے کے مختار ہوں گے۔ سارے انتظامی معاملات اور تمام وہ مسائل جن کے متعلق اللہ کی شریعت میں کوئی صریح حکم موجود نہیں ہے‘ مسلمانوں کے اجماع سے طے ہوں گے اور الٰہی قانون جہاں تعبیر طلب ہوگا وہاں کوئی مخصوص طبقہ یا نسل نہیں، بلکہ عام مسلمانوں میں سے ہر وہ شخص اس کی تعبیر کا مستحق ہوگا جس نے اجتہاد کی قابلیت بہم پہنچائی ہو۔ اس لحاظ سے یہ ڈیمو کریسی ہے، مگر جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے‘ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہو‘ وہاں مسلمانوں کے کسی امیر کو‘ کسی مقننہ کو‘ کسی مجتہد اور عالم دین کو، بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو مل کر بھی اس حکم میں یک سرِمُوترمیم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس لحاظ سے یہ تھیاکریسی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں اس امر کی تھوڑی سی تشریح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلام میں ڈیموکریسی پر یہ حدود و قیود کیوں عائد کیے گئے ہیں‘ اور ان حدود و قیود کی نوعیت کیا ہے۔ اعتراض کرنے والا اعتراض کرسکتا ہے کہ اس طرح تو اللہ نے انسانی عقل و روح کی آزادی سلب کرلی‘ حالانکہ ابھی تم یہ ثابت کر رہے تھے کہ اللہ کی الہٰیت انسان کو عقل و فکر اور جسم و جان کی آزادی عطا کرتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قانون سازی کا اختیار اللہ نے اپنے ہاتھ میں انسان کی فطری آزادی سلب کرنے کے لیے نہیں‘ بلکہ اس کو محفوظ کرنے کے لیے لیا ہے۔ اس کا مقصد انسان کو بے راہ ہونے اور اپنے پائوں پر آپ کلہاڑی مارنے سے بچانا ہے۔
یہ مغرب کی نام نہاد لادینی جمہوریت‘ جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس میں عمومی حاکمیت (popular sovereignty)ہوتی ہے‘ اس کا ذرا تجزیہ کرکے دیکھیے۔ جن لوگوں سے مل کر کوئی اسٹیٹ بنتا ہے وہ سب کے سب نہ تو خود قانون بناتے ہیں اور نہ خود اس کو نافذ کرتے ہیں۔ انھیں اپنی حاکمیت چند مخصوص لوگوں کے سپرد کرنی پڑتی ہے، تاکہ ان کی طرف سے وہ قانون بنائیں اور اسے نافذ کریں۔ اسی غرض سے انتخاب کا ایک نظام مقرر کیا جاتا ہے اور چونکہ سوسائٹی اخلاق اور امانت و دیانت کی نعمتوں سے محروم ہے اور ان تصورات کو کوئی اہمیت بھی نہیں دیتی‘ اس لیے اس انتخاب میں زیادہ تر وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو عوام کو اپنی دولت‘ اپنے علم‘ اپنی چالاکی اور اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ پھر یہ خود عوام کے ووٹ ہی سے ان کے الٰہ بن جاتے ہیں۔ عوام کے فائدے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے شخصی اور طبقاتی فائدے کے لیے قوانین بناتے ہیں اور اسی طاقت سے جو عوام نے ان کو دی ہے‘ ان قوانین کو عوام پر نافذ کرتے ہیں۔ یہی مصیبت امریکہ میں ہے‘ یہی انگلستان میں ہے اور یہی ان سب ممالک میں ہے جن کو جمہوریت کی جنت ہونے کا دعویٰ ہے۔
پھر اس پہلو کو نظر انداز کرکے اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہاں عام لوگوں ہی کی مرضی سے قانون بنتے ہیں‘ تب بھی تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عام لوگ خودبھی اپنے مفاد کو نہیں سمجھ سکتے۔ انسان کی یہ فطری کمزوری ہے کہ یہ اپنی زندگی کے اکثر معاملات میں حقیقت کے بعض پہلوئوں کو دیکھتا ہے اور بعض کو نہیں دیکھتا۔ اس کا فیصلہ (judgement)عموماًیک طرفہ ہوتا ہے۔ اس پر جذبات اور خواہشات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ خالص عقلی اور علمی حیثیت سے بے لاگ رائے بہت کم قائم کرسکتا ہے، بلکہ بسا اوقات عقلی اور علمی حیثیت سے جو بات اس پر روشن ہو جاتی ہے اس کو بھی یہ جذبات و خواہشات کے مقابلے میں رد کر دیتا ہے۔ اس کے ثبوت میں بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں مگر طوالت سے بچنے کے لیے میں صرف امریکہ کے قانون منع شراب (prohibition law)کی مثال پیش کروں گا۔ علمی اور عقلی حیثیت سے یہ بات ثابت ہوچکی تھی کہ شراب صحت کے لیے مضر ہے‘ عقلی و ذہنی قوتوں پر برا اثر ڈالتی ہے اور انسانی تمدن میں فساد پیدا کرتی ہے۔ انھی حقائق کو تسلیم کرکے امریکہ کی رائے عام اس بات کے لیے راضی ہوئی تھی کہ منع شراب کا قانون پاس کیا جائے۔ چنانچہ عوام کے ووٹ ہی سے یہ قانون پاس ہوا تھا ۳۲؎مگر جب وہ نافذ کیا گیا تو انھی عوام نے جن کے ووٹ سے وہ پاس ہوا تھا اس کے خلاف بغاوت کی۔ بدتر سے بدتر قسم کی شرابیں ناجائز طور پر بنائیں اور پیں۔ پہلے سے کئی گنا زیادہ شراب کا استعمال ہوا۔ جرائم میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔ آخر کار انھی عوام کے ووٹوں سے وہ شراب جو حرام کی گئی تھی‘ حلال کر دی گئی۔۳۳؎
یہ حرمت کا فتویٰ حلت سے جو بدلا گیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ علمی و عقلی حیثیت سے اب شراب کا استعمال مفید ثابت ہوگیا تھا، بلکہ صرف یہ وجہ تھی کہ عوام اپنی جاہلانہ خواہشات کے بندے بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی حاکمیت اپنے نفس کے شیطان کی طرف منتقل کر دی تھی۔ اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا تھا اور اس الٰہ کی بندگی میں وہ اس قانون کو بدلنے پر مصر تھے جسے انھوں نے خود ہی علمی اور عقلی حیثیت سے صحیح تسلیم کرکے پاس کیا تھا۔ اس قسم کے اور بہت سے تجربات ہیں جن سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ انسان خود اپنا واضعِ قانون (legislator)بننے کی پوری اہلیت نہیں رکھتا۔ اگر اس کو دوسرے الہٰوں کی بندگی سے رہائی مل بھی جائے تو وہ اپنی جاہلانہ خواہشات کا بندہ بن جائے گا اور اپنے نفس کے شیطان کو الٰہ بنا لے گا۔ لہٰذا وہ اس کا محتاج ہے کہ اس کی آزادی پر خوداُس کے اپنے مفاد میں مناسب حدیں لگا دی جائیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وہ قیود عاید کی ہیں جن کو اسلام کی اصطلاح میں ’حدود اللہ‘ (divine limits)کہا جاتا ہے۔ یہ حدود زندگی کے ہر شعبے میں چند اصول‘ چند ضوابط اور چند قطعی احکام پر مشتمل ہیں جو اس شعبے کے اعتدال و توازن کو برقرار رکھنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ ان کا منشا یہ ہے کہ یہ تمھاری آزادی کی آخری حدیں ہیں‘ ان کے اندر رہ کر تم اپنے برتائو کے لیے ضمنی اور فروعی ضوابط (regulations)بنا سکتے ہو‘ مگر ان حدود سے تجاوز کرنے کی تمھیں اجازت نہیں ہے۔ ان سے تجاوز کرو گے تو تمھاری اپنی زندگی کا نظام فاسد و مختل ( خراب) ہو جائے گا۔
مثال کے طور پر انسان کی معاشی زندگی کو لیجیے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے شخصی ملکیت کا حق‘ زکوٰۃ کی فرضیت‘ سود کی حرمت‘ جوئے اور سٹے کی ممانعت‘ وراثت کا قانون اور دولت کمانے‘ جمع کرنے اور خرچ کرنے پر پابندیاں عائد کرکے چند سرحدی نشانات لگا دیے ہیں۔ اگر انسان ان نشانات کو برقرار رکھے اور ان کے اندر رہ کر اپنے معاملات کی تنظیم کرے تو ایک طرف شخصی آزادی (personal liberty)بھی محفوظ رہتی ہے اور دوسری طرف طبقاتی جنگ (class war)اور ایک طبقے پر دوسرے طبقے کے تسلط کی وہ حالت بھی پیدا نہیں ہوسکتی جو ظالمانہ سرمایہ داری سے شروع ہو کر مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ پر منتہی ہوتی ہے۔
اسی طرح عائلی زندگی (family life)میں اللہ تعالیٰ نے حجاب شرعی‘ مرد کی قوامیت‘ شوہر‘ بیوی‘ بچوں اور والدین کے حقوق و فرائض‘ طلاق اور خلع کے احکام‘ تعدّد ازواج کی مشروط اجازت‘ زنا اور قذف کی سزائیں مقرر کرکے ایسی حدیں کھڑی کر دی ہیں کہ اگر انسان ان کی ٹھیک ٹھیک نگہداشت کرے اور ان کے اندر رہ کر اپنی خانگی زندگی کو منضبط کرے تو نہ گھر ظلم و ستم کی دوزخ بن سکتے ہیں اور نہ ان گھروں سے عورتوں کی شیطانی آزادی کا وہ طوفان اٹھ سکتا ہے جو آج پوری انسانی تہذیب کو غارت کر دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اسی طرح انسانی تمدن و معاشرت کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا قانون‘ چوری کے لیے ہاتھ کاٹنے کی سزا‘ شراب کی حرمت‘ جسمانی ستر کے حدود‘ اور ایسے چند مستقل قاعدے مقرر کرکے فساد کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں۔
میرے لیے اتنا موقع نہیں ہے کہ میں حدود اللہ کی ایک مکمل فہرست آپ کے سامنے پیش کرکے تفصیل کے ساتھ بتائوں کہ انسانی زندگی میں توازن و اعتدال قائم کرنے کے لیے ان میں سے ایک ایک حد کس قدر ضروری ہے۔ یہاں میں صرف یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے ایک ایسا مستقل ناقابلِ تغیر و تبدل دستور (constitution) بنا کر انسان کو دے دیا ہے جو اس کی روح آزادی کو سلب اور اس کی عقل و فکر کو معطل نہیں کرتا‘ بلکہ اس کے لیے ایک صاف‘ واضح اور سیدھا راستہ مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی جہالت اور اپنی کمزوریوں کے سبب سے تباہی کی بھول بھلیوں میں بھٹک نہ جائے‘ اس کی قوتیں غلط راستوں میں ضائع نہ ہوں‘ اور وہ اپنی حقیقی فلاح و ترقی کی راہ پر سیدھا بڑھتا چلا جائے۔ اگر آپ کو کسی پہاڑی مقام پر جانے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ پُر پیچ پہاڑی راستوں میں‘ جن کے ایک طرف عمیق غار اور دوسری طرف بلند چٹانیں ہوتی ہیں‘ سڑک کے کناروں کو ایسی رکاوٹوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے کہ مسافر غلطی سے کھڈ کی طرف نہ چلا جائے۔ کیا ان رکاوٹوں کا مقصد راہ رَو کی آزادی سلب کرنا ہے؟ نہیں! دراصل ان سے مقصد یہ ہے کہ اس کو ہلاکت سے محفوظ رکھا جائے اور ہر پیچ‘ ہر موڑ اور ہر امکانی خطرے کے موقع پر اسے بتایا جائے کہ تیرا راستہ اِدھر نہیں اُدھر ہے‘ تجھے اِس رخ پر نہیں اُس رخ پر مڑنا چاہیے‘ تاکہ تو بسلامت اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ سکے۔ بس یہی مقصد ان حدود کا بھی ہے جو خدا نے اپنے دستور میں مقرر کی ہیں۔ یہ حدیں انسان کے لیے زندگی کے سفر کا صحیح رخ مُعَیّن کرتی ہیں اور ہر پر پیچ مقام‘ ہر موڑ اور ہر دوراہے پر اسے بتاتی ہیں کہ سلامتی کا راستہ اس طرف ہے‘ تجھے ان سمتوں پر نہیں، بلکہ اس سمت پر پیش قدمی کرنی چاہیے۔
اللہ کا مقرر کیا ہوا یہ دستور ناقابل تغیر و تبدل ہے۔ آپ اگر چاہیں تو بعض مغربیت زدہ مسلمان ملکوں کی طرح اس دستور کے خلاف بغاوت کرسکتے ہیں، مگر اس کو بدل نہیں سکتے۔ یہ قیامت تک کے لیے اٹل دستور ہے۔ اسلامی ریاست جب بنے گی اسی دستور پر بنے گی۔ جب تک قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں باقی ہے‘ اس دستور کی ایک دفعہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹائی جاسکتی۔ جس کو مسلمان رہنا ہو وہ اس کی پابندی پر مجبور ہے۔
اسلامی ریاست کا مقصد
اس دستور کی حدود کے اندر جو ریاست بنے اس کے لیے ایک مقصد بھی خدا نے متعین کر دیا ہے اور اس کی تشریح قرآن میں متعدد مقامات پر کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ الحدید57: 25
ہم نے اپنے رسولوں کو واضح ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں زبردست طاقت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔
اس آیت میں لوہے سے مراد سیاسی قوت یا قوت قاہرہ (coercive power)ہے اور رسولوںؑ کاکام یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح ہدایات اور اپنی کتاب میں جو میزان ان کو دی ہے‘ یعنی جس ٹھیک ٹھیک متوازن (well balanced)نظام زندگی کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی ہے‘ اس کے مطابق اجتماعی عدل (social justice)قائم کریں۔ دوسری جگہ فرمایا:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ۔ الحج22:41
یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں تَمکُّن و حکومت عطا کریں تو یہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔
ایک اور جگہ فرمایا:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ۔
آل عمران3: 110
تم وہ بہترین جماعت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

۴۔ اسلامی ریاست کی خصوصیات

(الف) ایجابی اور ہمہ گیر ریاست
ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جس ریاست کا تخیل پیش کررہا ہے‘ اس کا مقصد سلبی (negative)نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایجابی (positive)مقصد اپنے سامنے رکھتی ہے۔ اس کا مدعا صرف یہی نہیں ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے روکے‘ ان کی آزادی کی حفاظت کرے اور مملکت کو بیرونی حملوں سے بچائے‘ بلکہ اس کا مدعا اجتماعی عدل کے اس متوازن نظام کو رائج کرنا ہے جو اللہ کی کتاب پیش کرتی ہے۔ اس کا مقصد بدی کی ان تمام صورتوں کو مٹانا اور نیکی کی ان تمام شکلوں کو قائم کرنا ہے جن کو اللہ نے اپنی واضح ہدایت میں بیان کیا ہے۔ اس کام میں حسب موقع و محل سیاسی طاقت بھی استعمال کی جائے گی‘ تبلیغ و تلقین سے بھی کام لیا جائے گا‘ تعلیم و تربیت کے ذرائع بھی کام میں لائے جائیں گے اور جماعتی اثر اور رائے عام کے دبائو کو بھی استعمال کیا جائے گا۔
اس نوعیت کی ریاست ظاہر ہے کہ اپنے عمل کے دائرے کو محدود نہیں کرسکتی۔ یہ ہمہ گیر ریاست ہے۔ اس کا دائرۂ عمل پوری انسانی زندگی پر محیط ہے۔ یہ تمدن کے ہر شعبے کو اپنے مخصوص اخلاقی نظریے اور اصلاحی پروگرام کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی شخص اپنے کسی معاملے کو پرائیویٹ اور شخصی نہیں کہہ سکتا۔ اس لحاظ سے یہ ریاست فاشستی اور اشتراکی حکومتوں سے یک گونہ مماثلت رکھتی ہے، مگر آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ اس ہمہ گیریت کے باوجود اس میں موجودہ زمانے کی کلی (totalitarion)اور استبدادی (authoritarion) ریاستوں کا سا رنگ نہیں ہے۔ اس میں شخصی آزادی سلب نہیں کی جاتی اور نہ اس میں آمریت (dictatorship)پائی جاتی ہے۔ اس معاملے میں جو کمال درجے کا اعتدال اسلامی نظام حکومت میں قائم کیا گیا ہے‘ اور حق و باطل کے درمیان جیسی نازک اور باریک سرحدیں قائم کی گئی ہیں‘ انھیں دیکھ کر ایک صاحب بصیرت آدمی کا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ ایسا متوازن نظام حقیقت میں خدائے حکیم و خبیر ہی وضع کرسکتا ہے۔
(ب)جماعتی اور اصولی ریاست
دوسری بات جو اسلامی ریاست کے دستور اور اس کے مقصد اور اس کی اصلاحی نوعیت پر غور کرنے سے خود بخود واضح ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی ریاست کو صرف وہ لوگ چلا سکتے ہیں، جو اس کے دستور پر ایمان رکھتے ہوں‘ جنھوں نے اس کے مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہو‘ جو اس کے اصلاحی پروگرام سے نہ صرف پوری طرح متفق ہوں‘ نہ صرف اس میں کامل عقیدہ رکھتے ہوں، بلکہ اس کی اسپرٹ کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہوں اور اس کی تفصیلات سے بھی واقف ہوں۔ اسلام نے اس بات میں کوئی جغرافی‘ لونی یا لسانی قید نہیں رکھی ہے۔ وہ تمام انسانوں کے سامنے اپنے دستور‘ اپنے مقصد اور اپنے اصلاحی پروگرام کو پیش کرتا ہے۔ جو شخص بھی اسے قبول کرلے‘ خواہ وہ کسی نسل‘ کسی ملک‘ کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو‘ وہ اس جماعت میں شریک ہوسکتا ہے جو اس ریاست کو چلانے کے لیے بنائی گئی ہے، اور جو اسے قبول نہ کرے اسے ریاست کے کام میں دخیل نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ریاست کے حدود میں ذمی (protected citizen)کی حیثیت سے رہ سکتا ہے۔ اس کے لیے اسلام کے قانون میں معین حقوق اور مراعات موجود ہیں۔ اس کی جان و مال اور عزت کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ لیکن بہرحال اس کو حکومت میں شریک کی حیثیت نہ دی جائے گی‘ کیونکہ یہ ایک اصولی ریاست ہے جس کے نظم و نسق کو وہی لوگ چلا سکتے ہیں جو اس کے اصولوں کو مانتے ہوں۔۳۴؎
یہاں بھی اسلامی ریاست اور کمیونسٹ اسٹیٹ میں یک گونہ مماثلت پائی جاتی ہے، لیکن دوسرے مسلکوں پر اعتقاد رکھنے والوں کے ساتھ جو برتائو اشتراکی جماعت کا اسٹیٹ کرتا ہے اس کو اس برتائو سے کوئی نسبت نہیں جو اسلامی ریاست کرتی ہے۔ اسلام میں وہ صورت نہیں جو کمیونسٹ حکومت میں ہے کہ غلبہ و اقتدار حاصل کرتے ہی اپنے تمدنی اصولوں کو دوسروں پر بہ جبر مسلط کر دیا جائے‘ جایدادیں ضبط کی جائیں‘ قتل و خون کا بازار گرم ہو اور ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو پکڑ کر زمین کے جہنم‘ سائبیریا کی طرف پیک کر دیا جائے۔ اسلام نے غیر مسلموں کے لیے جو فیاضانہ برتائو اپنی ریاست میں اختیار کیا ہے اور اس بارے میں عدل و ظلم اور راستی و ناراستی کے درمیان جو ایک خط امتیاز کھینچا ہے اسے دیکھ کر ہر انصاف پسند آدمی بیک نظر معلوم کرسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو مصلح آتے ہیں وہ کس طرح کام کرتے ہیں اور زمین میں جو مصنوعی اور جعلی مصلحین اٹھ کھڑے ہوتے ہیں‘ ان کا طریق کار کیا ہوتا ہے۔

۵۔ نظریۂ خلافت اور اس کے سیاسی مضمرات

اب میں آپ کے سامنے اسلامی ریاست کی ترکیب اور اس کے طرز عمل کی تھوڑی سی تشریح کروں گا۔ یہ بات میں آپ سے عرض کرچکا ہوں کہ اسلام میں اصلی حاکم اللہ ہے۔ اس اصل الاصول کو پیش نظر رکھ کر جب آپ اس سوال پر غور کریں گے کہ زمین میں جو لوگ خدا کے قانون کو نافذ کرنے کے لیے اٹھیں ان کی حیثیت کیا ہونی چاہیے تو آپ کا ذہن خود بخود پکارے گا کہ وہ اصلی حاکم کے نائب قرار پانے چاہییں۔ ٹھیک ٹھیک یہی حیثیت اسلام نے بھی ان کو دی ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ۔ النور24:55
جو تم میں سے ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا اسی طرح جس طرح ان سے پہلے اس نے دوسروں کو خلیفہ بنایا تھا۔
یہ آیت اسلام کے نظریۂ ریاست (theory of state)پر نہایت صاف روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں دو بنیادی نکات بیان کیے گئے ہیں:
٭ پہلا نکتہ یہ ہے کہ اسلام حاکمیت کے بجائے خلافت (vicegerency) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ چونکہ اس کے نظریے کے مطابق حاکمیت اللہ کی ہے، لہٰذا جو کوئی اسلامی دستور کے تحت زمین پر حکمران ہو اُسے لامحالہ حاکم اعلیٰ کا خلیفہ (vicegerent)ہونا چاہیے جو محض تفویض کردہ اختیارات (delegated powers) استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔
٭ دوسری کانٹے کی بات اس آیت میں یہ ہے کہ خلیفہ بنانے کا وعدہ تمام مومنوں سے کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ بنائوں گا۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ سب مومن خلافت کے حامل ہیں۔ خدا کی طرف سے جو خلافت مومنوں کو عطا ہوتی ہے، وہ عمومی خلافت (popular vicegerency)ہے۔ کسی شخص یا خاندان یا نسل یا طبقے کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ ہر مومن اپنی جگہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے فردًا فردًاہر ایک اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ (کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ ۳۵؎ ) اور ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کے مقابلے میں کسی حیثیت سے فروتر نہیں ہے۔
اسلامی جمہوریت کی حیثیت
یہ ہے اسلام میں جمہوریت کی اصل بنیاد۔ عمومی خلافت کے اس تصور کا تجزیہ کرنے سے حسب ذیل نتائج نکلتے ہیں:
۱۔ ایسی سوسائٹی جس میں ہر شخص خلیفہ ہو، اور خلافت میں برابر کا شریک ہو‘ طبقات کی تقسیم اور پیدائشی یا معاشرتی امتیازات کو اپنے اندر راہ نہیں دے سکتی۔ اس میں تمام افراد مساوی الحیثیت اور مساوی المرتبہ ہوں گے۔ فضیلت جو کچھ بھی ہوگی شخصی قابلیت اور سیرت کے اعتبار سے ہوگی۔ یہی بات ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار بہ تصریح بیان فرمایا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے فرمایا:
یٰاَیُّھَا النَّاسُ الَاَ اِنَّ رَبُّکُمْ وَاحِدٌ لَافَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَسْوَدٍ عَلٰی اَحْمَرَ وَلَا لِاَ حْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔
(روح المعانی، بحوالہ بیہقی و ابن مردویہ‘ ج ۲۶،ص۱۴۸)
لوگو! سن رکھو‘ تمھارارب ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر، یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں‘ نہ کالے کو گورے پر، یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے۔ فضیلت اگر ہے تو تقویٰ کی بنا پر ہے۔ درحقیقت تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے۔
فتح مکہ کے بعد جب تمام عرب اسلامی ریاست کے دائرے میں آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے خاندان والوں کو‘ جو عرب میں برہمنوں کی سی حیثیت رکھتے تھے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عَیْبَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَتَکَبُّرَھَا یٰاَیُّھَا النَّاسُ اَلنَّاسُ رَجُلَانِ بَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیْمٌ عَلَی اللّٰہِ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ ھَیِّنٌ عَلَی اللّٰہِ اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آٰدَمَ وَ خَلَقَ اللّٰہُ آٰدَمَ مِنْ تُرَابٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّاخَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی…الایۃ۔ (بخاری، کتاب الاحکام)
شکر ہے اس اللہ کا جس نے جاہلیت کا عیب اور تکبر تم سے دور کر دیا۔ لوگو‘ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو نیک اور پرہیزگار ہو‘ وہ اللہ کے نزدیک معزز ہے۔ دوسرا وہ جو بداعمال اور شقی ہو‘ وہ اللہ کے نزدیک فرومایہ ہے۔ اصل کے اعتبار سے سب انسان اولاد آدم ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔‘‘
۲۔ ایسی سوسائٹی میں کسی فرد یا کسی گروہ افراد کے لیے اس کی پیدائش، یا اس کے معاشرتی مرتبے (social status) یا اس کے پیشے کے اعتبار سے اس قسم کی رکاوٹیں (disabilities) نہیں ہوسکتیں جو اس کی ذاتی قابلیتوں کے نشوونما اور اس کی شخصیت کے ارتقا میں کسی طرح بھی مانع ہوں۔ اس کو سوسائٹی کے تمام دوسرے افراد کی طرح ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہونے چاہییں۔ اس کے لیے راستہ کھلا ہوا ہونا چاہیے کہ اپنی قوت و استعداد کے لحاظ سے جہاں تک بڑھ سکتا ہے بڑھتا چلا جائے‘ بغیر اس کے کہ دوسروں کے اسی طور پر بڑھنے میں مانع ہو۔ یہ چیز اسلام میں بدرجۂ اَتم پائی جاتی ہے۔ غلام اور غلام زادے فوجوں کے سپہ سالار اور صوبوں کے گورنر بنائے گئے اور بڑے بڑے اونچے گھرانوں کے شیوخ نے ان کی ماتحتی کی۔ چمار جوتیاں گانٹھتے گانٹھتے اٹھے اور امامت کی مسند پر بیٹھ گئے۔ جولا ہے اور بَزَّاز ٭ مفتی اور قاضی اور فقیہ بنے اور آج ان کے نام اسلام کے بزرگوں کی فہرست میں ہیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَلَوْ اِسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ (بخاری، کتاب الاحکام، مشکوٰۃ ۳۴۹۳) سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمھارا سردار ایک حبشی ہی کیوں نہ بنا دیا جائے۔
۳۔ایسی سوسائٹی میں کسی شخص یا گروہ (group) کی ڈکٹیٹر شپ کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے کہ یہاں ہر شخص خلیفہ ہے‘ کسی شخص یا گروہ کو حق نہیں ہے کہ عام مسلمانوں سے ان کی خلافت کو سلب کرکے خود حاکم مطلق بن جائے۔ یہاں جو شخص حکمران بنایا جاتا ہے اس کی اصلی حیثیت یہ ہے کہ تمام مسلمان یا اصطلاحی الفاظ میں‘ تمام خلفا اپنی رضامندی سے اپنی خلافت کو انتظامی اغراض کے لیے اس کی ذات میں مرکوز (concentrate)کر دیتے ہیں۔ وہ ایک طرف خدا کے سامنے جواب دہ ہے اور دوسری طرف ان عام خلفا کے سامنے جنھوں نے اپنی خلافت اس کو تفویض کی ہے۔ اب اگر وہ غیر ذمہ دار مطاع مطلق یعنی آمر (dictator)بنتا ہے تو خلیفہ کے بجائے غاصب کی حیثیت اختیار کرتا ہے، کیونکہ آمریت دراصل عمومی خلافت کی نفی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلامی ریاست ایک ہمہ گیر ریاست ہے اور زندگی کے تمام شعبوں پر اس کا دائرہ وسیع ہے‘ مگر اس کلیت اور ہمہ گیری کی بنیاد یہ ہے کہ خدا کا وہ قانون ہمہ گیر ہے جسے اسلامی حکومت کو نافذ کرنا ہے۔ خدا نے زندگی کے ہر شعبے کے متعلق جو ہدایات دی ہیں وہ یقیناً پوری ہمہ گیری کے ساتھ نافذ کی جائیں گی، مگر ان ہدایات سے ہٹ کر اسلامی حکومت خود ضابطہ بندی (regimentation) کی پالیسی اختیار نہیں کرسکتی۔ وہ لوگوں کو مجبور نہیں کرسکتی کہ فلاں پیشہ کریں اور فلاں پیشہ نہ کریں‘ فلاں فن سیکھیں اور فلاں نہ سیکھیں‘ اپنے بچوں کو فلاں قسم کی تعلیم دلوائیں اور فلاں قسم کی نہ دلوائیں، اپنے سر پر فلاں قسم کی ٹوپی پہنیں‘ اپنی زبان کے لیے فلاں رسم الخط اختیار کریں‘ اپنی عورتوں کو فلاں قسم کا لباس پہنائیں۔ یہ خداوندانہ اختیارات جو روس اور جرمنی اور اٹلی میں ڈکٹیٹروں نے اپنے ہاتھ میں لے لیے اور جن کو اتاترک نے ترکی میں استعمال کیا‘ اسلام نے اپنے نظام میں امیر کو ہرگز عطا نہیں کیے ہیں۔ علاوہ بریں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں ہر فرد شخصی طور پر خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ یہ شخصی جواب دہی (personal accountability) ایسی ہے جس میں کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ شریک نہیں۔ لہٰذا اس کو قانون کی حدود کے اندر پوری آزادی ہونی چاہیے کہ اپنے لیے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جدھر اس کا میلان ہو‘ اپنی قوتوں کو اسی طرف بڑھنے کے لیے استعمال کرے۔ اگر امیر اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالے گا تو وہ خود اس ظلم کے لیے اللہ کے ہاں پکڑا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپؐ کے خلفائے راشدین کی حکومت میں ضابطہ بندی (regimentation) کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔
۴۔ ایسی سوسائٹی میں ہر عاقل و بالغ مسلمان کو‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ رائے دہی کاحق حاصل ہونا چاہیے‘ اس لیے کہ وہ خلافت کا حامل ہے۔ اللہ نے اس خلافت کو کسی خاص معیارِ لیاقت یا کسی معیار ثروت سے مشروط نہیں کیا ہے‘ بلکہ صرف ایمان و عمل ِ صالح سے مشروط کیا ہے۔ لہٰذا رائے دہی میں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ مساوی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک طرف اسلام نے یہ کمال درجے کی جمہوریت قائم کی ہے۔ دوسری طرف ایسی انفرادیت (individualism) کا سدباب کر دیا ہے جو اجتماعیت کی نفی کرتی ہو۔ یہاں افراد و جماعت کا تعلق اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ نہ فرد کی شخصیت جماعت میں گم ہو جائے‘ جس طرح کمیونزم اور فاشزم کے نظام اجتماعی میں ہو جاتی ہے اور نہ فرد اپنی حد سے اتنا بڑھ جائے کہ جماعت کے لیے نقصان دہ ہو‘ جیسا کہ مغربی جمہوریتوں کا حال ہے۔ اسلام میں فرد کا مقصد حیات وہی ہے جو جماعت کا مقصد حیات ہے۔ یعنی قانونِ الٰہی کا نفاذ اور رضائے الٰہی کا حصول۔ مزید برآں اسلام میں فرد کے حقوق پوری طرح تسلیم کرنے کے بعد اس پر جماعت کے لیے مخصوص فرائض بھی عائد کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح انفرادیت اور اجتماعیت میں ایسی موافقت پیدا ہوگئی ہے کہ فرد کو اپنی قوتوں کے نشوونما کا پورا موقع بھی ملتا ہے اور پھر وہ اپنی ان ترقی یافتہ قوتوں کے ساتھ اجتماعی فلاح و بہبود میں مددگار بھی بن جاتا ہے۔ یہ ایک مستقل بحث ہے جس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کا یہاں موقع نہیں۔ اس کی طرف اشارہ کرنے سے میرا مقصد صرف ان غلط فہمیوں کا سدباب کرنا تھا جو اسلامی جمہوریت کی مذکورہ بالا تشریح سے پیدا ہوسکتی تھیں۔


باب۳ قرآن کا فلسفہ ٔ سیاست

قرآن کریم اللہ کی وہ آخری کتاب ہے جس میں خالقِ ارض و سما نے زندگی کے تمام بنیادی مسائل کے متعلق اپنی ہدایت مکمل ترین شکل میں انسان کو دے دی ہے اور ہمیشہ کے لیے یہ اصول بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ جو اس ہدایت کو دانتوں سے پکڑے گا اور اس پر عمل پیرا ہوگا وہی کامیاب و کامران ہے:
فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَo وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ البقرہ2:38-39
تو جنھوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے اور جنھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
یہ قرآن زندگی کے ہر شعبے کے متعلق بنیادی ہدایت دیتا ہے۔ اس کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے اور مہد سے لحد تک ____ بلکہ لحد کے بعد کی زندگی ____ کے لیے بھی یہ واضح رہنمائی دیتا ہے۔ کوئی وجہ نہ تھی کہ بنیادی سیاسی مسائل کے متعلق خدا کی یہ کتاب خاموش رہتی۔ قرآن‘ دین اور دنیا کی تقسیم کو ایک فتنہ قرار دیتا ہے اور اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً البقرہ2:208 (داخل ہو جائو اسلام میں پورے کے پورے۔)
زیر نظر مقالے میں قرآن کے سیاسی تصورات کو مرتب کیا گیا ہے۔
تفہیم القرآن مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی وہ تاریخی تفسیر ہے جس میں دور حاضر کے مسائل اور مسلمانوں کے جدید ذہن کو سامنے رکھ کر قرآن پاک کے حقیقی مطالب کی تشریح و توضیح بڑے دل نشین انداز میں کی گئی ہے۔ یہ تفسیر ۶ جلدوں پر مشتمل ہے۔ راقم نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ اس تفسیر سے ان تمام مباحث کو منتخب کرکے تین مقالوں میں منسلک کر دے جو سیاسی نظام کے متعلق ہیں۔ کتاب کے پہلے حصے میں ہم قرآن کا فلسفۂ سیاست کے عنوان سے ان مباحث کو پیش کر رہے ہیں جو فلسفۂ سیاست کے بنیادی امور سے متعلق ہیں۔ بعد کے حصوں میں ان سے متعلقہ حصے مقالے کی شکل میں پیش کیے جائیں گے۔ (مرتب)

 

۱۔علم سیاست کے بنیادی سوال

علم سیاست کا اصل موضوع: فرد اور ریاست کے باہم تعلق کا مسئلہ ہے۔ اس علم کے چند بنیادی سوال یہ ہیں:
۱۔ ریاست کی ضرورت کیا ہے؟
۲۔ ریاست میں حاکمیت اعلیٰ کس کو حاصل ہو؟
۳۔ اطاعت اور وفاداری کا اصول کیا ہو؟
۴۔ حکومت کا مقصد اور اس کے بنیادی وظائف کیا ہوں؟
مندرجہ ذیل صفحات میں ان سوالات کے جواب قرآن پاک سے دیے جارہے ہیں اور چونکہ قرآن کے سیاسی تصورات کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کائنات میں انسان کے مقام اور اس کے پورے تصور زندگی کے متعلق قرآن نے جو نقطۂ نظر دیا ہے وہ سامنے رہے۔ اس لیے پہلے اسلام کے تصورِ حیات کے متعلق چند بنیادی باتیں دی جارہی ہیں اور اس کے بعد قرآن کے سیاسی تصورات کو پیش کیا جارہا ہے۔

۲۔ چند بنیادی حقیقتیں

سب سے پہلے ناظر کو قرآن کی اصل سے واقف ہونا چاہیے۔ وہ خواہ اس پر ایمان لائے، یا نہ لائے‘ مگر اس کتاب کو سمجھنے کے لیے اسے نقطۂ آغاز کے طور پر اس کی وہی اصل قبول کرنی ہوگی جو خود اس نے اور اس کے پیش کرنے والے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے:
۱۔ خداوندِ عالم نے‘ جو ساری کائنات کا خالق اور مالک اور فرماں روا ہے‘ اپنی بے پایاں مملکت کے اس حصے میں‘ جسے زمین کہتے ہیں‘ انسان کو پیدا کیا۔ اسے جاننے اور سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں دیں۔ بھلائی اور برائی کی تمیز دی۔ انتخاب اور ارادے کی آزادی عطا کی۔ تصرف کے اختیارات بخشے اور فی الجملہ ایک طرح کی خود اختیاری (autonomy) دے کر اسے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا۔
۲۔ اس منصب پر انسان کو مقرر کرتے وقت خداوند ِ عالم نے اچھی طرح اس کے کان کھول کر یہ بات اس کے ذہن نشین کر دی تھی کہ تمھارا اور سارے جہان کا مالک‘ معبود اور حاکم میں ہوں۔ میری اس سلطنت میں نہ تم خود مختار ہو‘ نہ کسی دوسرے کے بندے ہو‘ اور نہ میرے سوا کوئی تمھاری اطاعت و بندگی اور پرستش کا مستحق ہے۔ دنیا کی یہ زندگی جس میں تمھیں اختیارات دے کر بھیجا جارہا ہے دراصل تمھارے لیے ایک امتحان کی مدت ہے جس کے بعد تمھیں میرے پاس آنا ہوگا اور میں تمھارے کام کی جانچ کرکے فیصلہ کروں گا کہ تم میں سے کون امتحان میں کامیاب رہا ہے اور کون ناکام۔ تمھارے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ مجھے اپنا واحد معبود اور حاکم تسلیم کرو‘ جو ہدایت میں بھیجوں اس کے مطابق دنیا میں کام کرو اور دنیا کو دار الامتحان سمجھتے ہوئے، اس شعور کے ساتھ زندگی بسر کرو کہ تمھارا اصل مقصد میرے آخری فیصلے میں کامیاب ہونا ہے۔ اس کے برعکس تمھارے لیے ہر وہ رویہ غلط ہے جو اس سے مختلف ہو۔ اگر پہلا رویہ اختیار کرو گے (جسے اختیار کرنے کے لیے تم آزاد ہو) تو تمھیں دنیا میں امن و اطمینان حاصل ہوگا اور جب میرے پاس پلٹ کر آئو گے تو میں تمھیں ابدی راحت و مسرت کا وہ گھردوں گا جس کا نام جنت ہے، اور اگر دوسرے کسی رویے پر چلو گے (جس پر چلنے کے لیے بھی تم کو آزادی ہے) تو دنیا میں تم کو فساد اور بے چینی کا مزا چکھنا ہوگا اور دنیا سے گزر کر عالم آخرت میں جب آئو گے‘ تو ابدی رنج و مصیبت کے اس گڑھے میں پھینک دیے جائو گے جس کا نام دوزخ ہے۔
۳۔ یہ فہمائش] نصیحت[ کرکے مالک کائنات نے نوع انسانی کو زمین میں جگہ دی اور اس نوع کے اوّلین افراد (آدم و حواعلیہما السلام) کو وہ ہدایت بھی دے دی جس کے مطابق انھیں اور ان کی اولاد کو زمین میں کام کرنا تھا۔ یہ اوّلین انسان جہالت اور تاریکی کی حالت میں پیدا نہیں ہوئے تھے، بلکہ اللہ نے زمین پر ان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں کیا تھا۔ وہ حقیقت سے واقف تھے۔ انھیں ان کا قانون حیات بتا دیا گیا تھا۔ ان کا طریق زندگی اللہ کی اطاعت (یعنی اسلام) تھا اور وہ اپنی اولاد کو یہی بات سکھا کر گئے کہ وہ اللہ کےمطیع (مسلم) بن کر رہیں۔ لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ انسان اس صحیح طریق زندگی (دین) سے منحرف ہو کر مختلف قسم کے غلط رویوں کی طرف چل پڑے۔ انھوں نے غفلت سے اس کو گم بھی کیا اور شرارت سے اس کو مسخ بھی کر ڈالا۔ انھوں نے اللہ کے ساتھ زمین و آسمان کی مختلف انسانی اور غیر انسانی‘ خیالی اور مادی ہستیوں کو خدائی میں شریک ٹھیرا لیا۔ انھوں نے اللہ کے دیے ہوئے علم حقیقت (العلم) میں طرح طرح کے اوہام اور نظریوں اور فلسفوں کی آمیزش کرکے بے شمار مذاہب پیدا کرلیے۔ انھوں نے خدا کے مقرر کیے ہوئے عادلانہ اصولِ اخلاق و تمدن (شریعت) کو چھوڑ کر، یا بگاڑ کر اپنی خواہشات نفس اور اپنے تعصبات کے مطابق ایسے قوانینِ زندگی گھڑ لیے جن سے اللہ کی زمین ظلم سے بھر گئی۔
۴۔ اللہ نے جو محدود خود اختیاری انسان کو دی تھی اس کے ساتھ یہ بات مطابقت نہ رکھتی تھی کہ وہ اپنی تخلیقی مداخلت سے کام لے کر ان بگڑے ہوئے انسانوں کو زبردستی صحیح رویے کی طرف موڑ دیتا، اور اس نے دنیا میں کام کرنے کے لیے جو مہلت اس نوع کے لیے اور اس کی مختلف قوموں کے لیے مقرر کی تھی اس کے ساتھ یہ بات بھی مطابقت نہ رکھتی تھی کہ اس بغاوت کے رونما ہوتے ہی وہ انسانوں کو ہلاک کر دیتا۔ پھر جو کام ابتدائے آفرینش سے اس نے اپنے ذمے لیا تھا وہ یہ تھا کہ انسان کی خود اختیاری کو برقرار رکھتے ہوئے‘ اس کی مہلت عمل کے دوران میں‘ اس کی رہنمائی کا انتظام وہ کرتا رہے گا۔ چنانچہ اپنی اس خود عائد کردہ ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے اس نے انسانوں ہی میں سے ایسے آدمیوں کو استعمال کرنا شروع کیا جو اس پر ایمان رکھنے والے اور اس کی رضا کی پیروی کرنے والے تھے، اس نے ا ن کو اپنانمائندہ بنایا۔ اپنے پیغامات ان کے پاس بھیجے۔ ان کوعلمِ حقیقت بخشا۔ انھیں صحیح قانون حیات عطا کیا اور انھیں اس کام پر مامور کیا کہ بنی آدم کو اسی راہ راست کی طرف پلٹنے کی دعوت دیں جس سے وہ ہٹ گئے تھے۔
۵۔ یہ پیغمبر مختلف قوموں اور ملکوں میں اٹھتے رہے۔ ہزار ہا برس تک ان کی آمد کا سلسلہ چلتا رہا۔ ہزارہا کی تعداد میں وہ مبعوث ہوئے۔ ان سب کا ایک ہی دین تھا‘ یعنی وہ صحیح رویہ جو اوّل روز ہی انسان کو بتا دیا گیا تھا۔ وہ سب ایک ہی ہدایت کے پیرو تھے‘ یعنی اخلاق و تمدن کے وہ ازلی و ابدی اصول جو آغاز ہی میں انسان کے لیے تجویز کر دیے گئے تھے اور ان سب کا ایک ہی مشن تھا‘ یعنی یہ کہ اس دین اور اس ہدایت کی طرف اپنے ابنائے نوع کو دعوت دیں۔ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں ان کو منظم کرکے ایک ایسی امت بنائیں جو خود اللہ کے قانون کی پابند ہو اور دنیا میں قانونِ الٰہی کی اطاعت قائم کرنے اور اس قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے جدوجہد کرے۔ ان پیغمبروں نے اپنے اپنے دور میں اپنے اس مشن کو پوری خوبی کے ساتھ ادا کیا‘ مگر ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ انسانوں کی ایک کثیر تعداد تو ان کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہی نہ ہوئی اور جنھوں نے اسے قبول کرکے امت مسلمہ کی حیثیت اختیار کی وہ رفتہ رفتہ خود بگڑتے چلے گئے حتیٰ کہ ان میں سے بعض امتیں ہدایت الٰہی کو بالکل ہی گم کر بیٹھیں اور بعض نے اللہ کے ارشادات کو اپنی تحریفات اور آمیزشوں سے مسخ کر دیا۔
۶۔ آخر کار خداوند عالم نے سرزمین عرب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کام کے لیے مبعوث کیا جس کے لیے پچھلے انبیاء (علیھم السلام) آتے رہے تھے۔ ان کے مخاطب عام انسان بھی تھے اور پچھلے انبیاء ؑ کے بگڑے ہوئے پیرو بھی۔ سب کو صحیح رویے کی طرف دعوت دینا‘ سب کو از سر نو خدا کی ہدایت پہنچا دینا اورجو اس دعوت و ہدایت کو قبول کریں‘ انھیں ایک ایسی امت بنا دینا ان کاکام تھا جو ایک طرف خود اپنی زندگی کا نظام اللہ کی ہدایت پر قائم کرے اور دوسری طرف دنیا کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرے ____ اسی دعوت اور ہدایت کی کتاب یہ قرآن ہے جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔۳۶؎

۳۔اسلامی تصورِ حیات

قرآن اس دنیا میں انسان کے صحیح مقام اور زندگی کے متعلق اس کے پورے نظریے کو ایک آیت میں بیان کرتا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ وَ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ التوبۃ9:111
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے‘ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں منائو اپنے سودے پر جو تم نے اللہ سے چکا لیا ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
یہاں ایمان کے اس معاملے کو جو اللہ اور بندے کے درمیان طے ہوتا ہے بیع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان محض ایک مابعد الطبیعیاتی عقیدہ نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے بندہ اپنا نفس اور اپنا مال اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے اور اس کے معاوضے میںاللہ کی طرف سے اس وعدے کو قبول کرلیتا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں وہ اسے جنت عطا کرے گا۔ اس اہم مضمون کے مضمرات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بَیع کی حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔
جہاں تک اصل حقیقت کا تعلق ہے‘ اس کے لحاظ سے تو انسان کی جان و مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ کیونکہ وہی اس کا اور ان ساری چیزوں کا خالق ہے جو اس کے پاس ہیں اور اسی نے وہ سب کچھ اسے بخشا ہے جس پر وہ تصرُّف کر رہا ہے۔ لہٰذا اس حیثیت سے تو خریدو فروخت کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ نہ انسان کا اپنا کچھ ہے کہ وہ اسے بیچے‘ نہ کوئی چیز اللہ کی ملکیت سے خارج ہے کہ وہ اسے خریدے، لیکن ایک چیز انسان کے اندر ایسی بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کلیتاً اس کے حوالے کر دیا ہے اور وہ ہے اس کا اختیار‘ یعنی اس کا اپنے انتخاب و ارادے میں آزاد ہونا (free will and freedom of choice)۔اس اختیار کی بنا پر حقیقت نفس الامری تو نہیں بدلتی مگر انسان کو اس امر کی خود مختاری حاصل ہو جاتی ہے کہ چاہے تو حقیقت کو تسلیم کرے، ورنہ انکار کر دے۔ بالفاظ دیگر اس اختیار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان فی الحقیقت اپنے نفس کا اور اپنے ذہن و جسم کی قوتوں کا اور ان اقتدارات کا جو اسے دنیا میں حاصل ہیں‘ مالک ہوگیا ہے اور اسے یہ حق مل گیا ہے کہ ان چیزوں کو جس طرح چاہے استعمال کرے، بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اسے اس امر کی آزادی دے دی گئی ہے کہ اللہ کی طرف سے کسی جبر کے بغیر وہ خود ہی اپنی ذات پر اور اپنی ہر چیز پر اللہ کے حقوق مالکانہ کو تسلیم کرنا چاہے تو کرے، ورنہ آپ ہی اپنا مالک بن بیٹھے اور اپنے زعم میں یہ خیال کرلے کہ وہ اللہ سے بے نیاز ہو کر اپنے حدود اختیار میں اپنے حسب منشا تصرّف کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے بیع کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ دراصل یہ بیع اس معنی میں نہیں ہے کہ جو چیز انسان کی ہے اللہ اُسے خریدنا چاہتا ہے، بلکہ اس معاملے کی صحیح نوعیت یہ ہے کہ جو چیز خدا کی ہے اور جسے اس نے امانت کے طور پر انسان کے حوالے کیا ہے اور جس میں امین رہنے یا خائن بن جانے کی آزادی اس نے انسان کو دے رکھی ہے‘ اس کے بارے میں وہ انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ تو برضا و رغبت (نہ کہ بہ مجبوری) میری چیز کو میری ہی چیز مان لے اور زندگی بھر اس میں خود مختار مالک کی حیثیت سے نہیں، بلکہ امین ہونے کی حیثیت سے تصرف کرنا قبول کر لے اور خیانت کی جو آزادی تجھے میں نے دی ہے اس سے خود بخود دست بردار ہو جا۔ اس طرح اگر تو دنیا کی موجودہ عارضی زندگی میں اپنی خود مختاری کو (جو تیری حاصل کردہ نہیں، بلکہ میری عطا کردہ ہے) میرے ہاتھ فروخت کر دے گا تو میں تجھے بعد کی جاودانی زندگی میں اس کی قیمت بصورت جنت ادا کروں گا۔ جو انسان اللہ کے ساتھ بیع کا یہ معاملہ طے کرلے‘ وہ مومن ہے اور ایمان دراصل اسی بیع کا دوسرا نام ہے اور جو شخص اس سے انکار کر دے، یا اقرار کرنے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرے جو بیع نہ کرنے کی صورت ہی میں اختیار کیا جاسکتا ہے‘ وہ کافر ہے اور اس بیع ہی سے گریز کا اصطلاحی نام کفر ہے۔
بیع کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد اب اس کے تضمّنات کا تجزیہ کیجیے:
۱۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو بہت بڑی آزمائشوں میں ڈالا ہے۔ پہلی آزمائش اس امر کی کہ آزاد چھوڑ دیے جانے پر اتنی شرافت دکھاتا ہے یا نہیں کہ مالک ہی کو مالک سمجھے اور نمک حرامی و بغاوت پر نہ اتر آئے۔ دوسری آزمائش اس امر کی کہ یہ اپنےاللہ پر اتنا اعتماد کرتا ہے یا نہیں کہ جو قیمت آج نقد نہیں مل رہی ہے، بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ملے گی‘ جس کے ادا کرنے کا اللہ کی طرف سے وعدہ ہے‘ اس کے عوض اپنی آج کی خود مختاری اور اس کے مزے بیچ دینے پر بخوشی راضی ہو جائے۔
۲۔ دنیا میں جس فقہی قانون پر اسلامی سوسائٹی بنتی ہے اُس کی رُو سے تو ایمان بس چند عقائد کے اقرار کا نام ہے جس کے بعد کوئی قاضیِ شرع کسی کے غیر مومن یا خارج از ملت ہونے کا حکم نہیں لگا سکتا جب تک اس امر کا کوئی صریح ثبوت اسے نہ مل جائے کہ وہ اپنے اقرار میں جھوٹا ہے، لیکن اللہ کے ہاں جو ایمان معتبر ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ خیال اور عمل دونوں میں اپنی آزادی و خود مختاری کو اللہ کے ہاتھ بیچ دے اور اس کے حق میں اپنے ادّعائے ملکیت سے کلیتاً دست بردار ہو جائے۔ پس اگر کوئی شخص کلمۂ اسلام کا اقرار کرتا ہو، اور صوم و صلوٰۃ وغیرہ احکام کا بھی پابند ہو، لیکن اپنے جسم و جان کا‘ اپنے دل و دماغ اور بدن کی قوتوں کا‘ اپنے مال اور وسائل و ذرائع کا اور اپنے قبضہ و اختیار کی ساری چیزوں کا مالک اپنے آپ ہی کو سمجھتا ہو، اور ان میں اپنے حسبِ منشا تصرف کرنے کی آزادی اپنے لیے محفوظ رکھتا ہو‘ تو ہوسکتا ہے کہ دنیا میں وہ مومن سمجھا جاتا رہے‘ مگر اللہ کے ہاں یقیناً وہ غیر مومن ہی قرار پائے گا، کیونکہ اس نے اللہ کے ساتھ وہ بیع کا معاملہ سرے سے کیا ہی نہیں جو قرآن کی رُو سے ایمان کی اصل حقیقت ہے۔ جہاں اللہ کی مرضی ہو وہاں جان و مال کھپانے سے دریغ کرنا اور جہاں اس کی مرضی نہ ہو وہاں جان و مال کھپانا‘ یہ دونوں طرز عمل ایسے ہیں جو اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں کہ مُدعیِ ایمان نے یا تو جان و مال کو اللہ کے ہاتھ بیچا نہیں ہے، یا بیع کا معاہدہ کر لینے کے بعد بھی وہ بیچی ہوئی چیز کو بدستور اپنی سمجھ رہا ہے۔
۳۔ ایمان کی یہ حقیقت اسلامی رویۂ زندگی اور کافرانہ رویۂ زندگی کو شروع سے آخر تک بالکل ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔ مسلم جو صحیح معنی میں اللہ پر ایمان لایا ہو‘ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی مرضی کا تابع بن کر کام کرتا ہے اور اس کے رویّے میں کسی جگہ بھی خود مختاری کا رنگ نہیں آنے پاتا، اِلاَّیہ کہ عارضی طور پر کسی وقت اس پر غفلت طاری ہو جائے اور وہ اللہ کے ساتھ اپنے معاہدۂ بیع کو بھول کر کوئی خود مختارانہ حرکت کر بیٹھے۔ اسی طرح جو گروہ اہلِ ایمان سے مرکب ہو، وہ اجتماعی طور پر بھی کوئی پالیسی‘ کوئی سیاست‘ کوئی طرز تمدن و تہذیب‘ کوئی طریق معیشت و معاشرت اور کوئی بین الاقوامی رویہ اللہ کی مرضی اور اس کے قانونِ شرعی کی پابندی سے آزاد ہو کر اختیار نہیں کرسکتا اور اگر کسی عارضی غفلت کی بنا پر اختیار کر بھی جائے تو جس وقت اسے تَنَبُّہ ہوگا اسی وقت وہ آزادی کا رویہ چھوڑ کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئے گا۔ اللہ سے آزاد ہو کر کام کرنا اور اپنے نفس و متعلقات نفس کے بارے میں خود یہ فیصلہ کرنا کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں، بہرحال ایک کافرانہ رویۂ زندگی ہے۔ خواہ اس پر چلنے والے لوگ ’مسلمان‘ کے نام سے موسوم ہوں یا ’غیر مسلم‘ کے نام سے۔
۴۔ اس بیع کی رُو سے اللہ کی جس مرضی کا اتباع آدمی پر لازم آتا ہے وہ آدمی کی اپنی تجویز کردہ مرضی نہیں، بلکہ وہ مرضی ہے جو اللہ خود بتائے۔ اپنے آپ کسی چیز کو اللہ کی مرضی ٹھیرا لینا اور اس کا اتباع کرنا اللہ کی مرضی کا اتباع نہیں‘ بلکہ اپنی ہی مرضی کا اتباع ہے اور یہ معاہدۂ بیع کے قطعی خلاف ہے۔ اللہ کے ساتھ اپنے معاہدۂ بیع پر صرف وہی شخص اور وہی گروہ قائم سمجھا جائے گا جو اپنا پورا رویۂ زندگی اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت سے اخذ کرتا ہو۔
یہ اس بیع کے تضمنات ہیں اور ان کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات بھی خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس خرید و فروخت کے معاملے میں قیمت (یعنی جنت) کو موجودہ دنیوی زندگی کے خاتمے پر کیوں مؤخر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جنت صرف اس اقرار کا معاوضہ نہیں ہے کہ ’’بائع نے اپنا نفس و مال اللہ کے ہاتھ بیچ دیا‘‘ بلکہ وہ اس عمل کا معاوضہ ہے کہ ’’بائع اپنی دنیوی زندگی میں اس بیچی ہوئی چیز پر خود مختارانہ تصرف چھوڑ دے اور اللہ کا امین بن کر اس کی مرضی کے مطابق تصرف کرے۔‘‘ لہٰذا یہ فروخت مکمل ہی اُس وقت ہوگی جب کہ بائع کی دنیوی زندگی ختم ہو جائے اور فی الواقع یہ ثابت ہو کہ اس نے معاہدۂ بیع کرنے کے بعد سے اپنی دنیوی زندگی کے آخری لمحے تک بیع کی شرائط پوری کی ہیں۔ اس سے پہلے وہ اَزرُوئے انصاف قیمت پانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔
ان امور کی توضیح کے ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ مضمون کس مناسبت سے آیا ہے۔ اوپر سے جو سلسلۂ تقریر چل رہا تھا اس میں ان لوگوں کا ذکر تھا جنھوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا‘ مگر جب امتحان کا نازک موقع آیا تو ان میں سے بعض نے تساہل کی بنا پر‘ بعض نے اخلاص کی کمی کی وجہ سے اور بعض نے قطعی منافقت کی راہ سے اللہ اور اس کے دین کی خاطر اپنے وقت‘ اپنے مال‘ اپنے مفاد اور اپنی جان کو قربان کرنے میں دریغ کیا۔ لہٰذا ان مختلف اشخاص اور طبقوں کے رویے پر تنقید کرنے کے بعد اب ان کو صاف صاف بتایا جارہا ہے کہ وہ ایمان جسے قبول کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے‘ محض یہ مان لینے کانام نہیں ہے کہ اللہ ہے اور وہ ایک ہی ہے‘ بلکہ دراصل وہ اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ہی تمھارے نفس اور تمھارے مال کا مالک ہے۔ پس یہ اقرار کرنے کے بعد اگر تم اس نفس و مال کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے سے جی چراتے ہو اور دوسری طرف اپنے نفس کی قوتوں کو اور اپنے ذرائع کو اللہ کے منشا کے خلاف استعمال کرتے ہو‘ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے اقرار میں جھوٹے ہو۔ سچے اہلِ ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو واقعی اپنا نفس و مال اللہ کے ہاتھ بیچ چکے ہیں اور اسی کو ان چیزوں کا مالک سمجھتے ہیں۔ جہاں اس کا حکم ہوتا ہے وہاں انھیں بے دریغ قربان کرتے ہیں اور جہاں اس کا حکم نہیں ہوتا وہاں نفس کی طاقتوں کا کوئی ادنیٰ ساجز اور مالی ذرائع کا کوئی ذرا سا حصہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اس امر پر بہت اعتراضات کیے گئے ہیں کہ جس وعدے کا یہاں ذکر ہے وہ تورات اور انجیل میں موجود نہیں ہے، مگر جہاں تک انجیل کا تعلق ہے یہ اعتراضات بے بنیاد ہیں۔ جو اناجیل اس وقت دنیا میں موجود ہیں، ان میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعدد اقوال ہم کو ایسے ملتے ہیں جو اس آیت کے ہم معنی ہیں‘ مثلاً:
۱۔ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کے سبب ستائے گئے ہیں‘ کیونکہ آسمان کی بادشاہت انھی کی ہے۔ (متی ۵:۱۰)
۲۔ جوکوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے کھوئے گا اور جو کوئی میرے سبب اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا۔ (متی۱۰: ۳۹)
۳۔ جس کسی نے گھروں‘ یا بھائیوں‘ یا بہنوں‘ یا باپ‘ یا ماں‘ یا بچوں‘ یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سوگنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔ (متی۱۹: ۲۹)
البتہ تورات جس صورت میں اس وقت موجود ہے اس میں بلاشبہ یہ مضمون نہیں پایا جاتا اور یہی مضمون کیا‘ وہ تو حیات بعد الموت اور یوم الحساب اور اخروی جزا و سزا کے تصور ہی سے خالی ہے۔ حالانکہ یہ عقیدہ ہمیشہ سے دین حق کا جزو لَایَنْفک رہا ہے۔ لیکن موجودہ تورات میں اس مضمون کے نہ پائے جانے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ واقعی تورات اس سے خالی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود اپنے زمانۂ تنزل میں کچھ ایسے مادہ پرست اور دنیا کی خوش حالی کے بھوکے ہوگئے تھے کہ ان کے نزدیک نعمت اور انعام کے کوئی معنی اس کے سوا نہ رہے تھے کہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو۔ اسی لیے کتاب الٰہی میں بندگی و اطاعت کے بدلے جن جن انعامات کے وعدے ان سے کیے گئے تھے ان سب کو وہ دنیا ہی میں اتار لائے اور جنت کی ہر تعریف کو انھوں نے فلسطین کی سرزمین پر چسپاں کر دیا جس کے وہ امیدوار تھے۔ مثال کے طور پر تورات میں متعدد مقامات پر ہم کو یہ مضمون ملتا ہے:
۱۔ سن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت کر۔ (استثناء۶: ۴‘۵)
اور یہ کہ:
۲۔ کیا وہ تمھارا باپ نہیں جس نے تم کو خریدا ہے؟ اسی نے تم کو بنایا اور قیام بخشا۔ (استثناء ۳۲:۶)
لیکن اس تعلق باللہ کی جو جزا بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تم اس ملک کے مالک ہو جائو گے جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے‘ یعنی فلسطین۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ توراۃ جس صورت میں اس وقت پائی جاتی ہے اول تو پوری نہیں ہے اور پھر وہ خالص کلام الٰہی پر بھی مشتمل نہیں ہے، بلکہ اس میں بہت سا تفسیری کلام اللہ کے کلام کے ساتھ ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس کے اندر یہودیوں کی قومی روایات‘ ان کے نسلی تعصبات‘ ان کے اوہام‘ ان کی آرزوئوں اور تمنائوں‘ ان کی غلط فہمیوں اور ان کے فقہی اجتہادات کا ایک معتدبہ حصہ ایک ہی سلسلۂ عبارت میں کلام الٰہی کے ساتھ کچھ اس طرح رَل مِل گیا ہے کہ اکثر مقامات پر اصل کلام کو ان زوائد سے ممیز کرنا قطعاً غیر ممکن ہو جاتا ہے۔۳۷؎

۴۔ دین اور قانونِ حق

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِا ئَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۔ النور24:2
زانی عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو، اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو‘ اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔
اوّلین چیز جو اس آیت میں قابلِ توجہ ہے وہ یہ کہ یہاں فوج داری قانون کو ’دین اللّٰہ‘ فرمایا جارہا ہے۔ معلوم ہوا کہ صرف نماز اور روزہ اور حج و زکوٰۃ ہی دین نہیں ہیں بلکہ مملکت کا قانون بھی دین ہے۔ دین کو قائم کرنے کا مطلب صرف نماز ہی قائم کرنا نہیں ہے بلکہ اللہ کا قانون اور نظام شریعت قائم کرنا بھی ہے۔ جہاں یہ چیز قائم نہ ہو، وہاں نماز اگر قائم ہو بھی تو گویا ادھورا دین قائم ہوا۔ جہاں اس کو رد کرکے دوسرا کوئی قانون اختیار کیا جائے وہاں کچھ اور نہیں خود دینُ اللہ ردّ کر دیا گیا۔۳۸؎

۵۔حکومت کی ضرورت اور اہمیت

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔
بنی اسرائیل17:80
اور دعا کرو کہ پروردگار!مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے۔
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے، تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں‘ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں‘ اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور اسی کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے اور اسی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کرتی ہے کہ:
اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَایَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ۔ ۳۹؎
یعنی اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اِسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو، رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا، تو یہ دنیا پرستی نہیں، بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔۴۰؎
یہی چیز ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے اُسوہ میں نظر آتی ہے۔ جس اخلاقی اور اصلاحی انقلاب کے وہ داعی تھے اس کے لیے اقتدار کی قوت ناگزیر تھی۔ جب حالات نے اس کا موقع فراہم کیا تو آپ نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اسلامی حکومت قائم کی۔ قرآن میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:
وَ قَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ o قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ ۔ یوسف12:54-55
بادشاہ نے کہا:انھیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں۔ جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا:اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر بھروسہ ہے۔ یوسفؑ نے کہا:ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے‘ میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔
اس سے پہلے اس سورۃ میں جو مضامین گزر چکے ہیں ان کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ کوئی نوکری کی درخواست نہیں تھی جو نعوذ باللہ کسی ’طالب جاہ‘ نے وقت کے بادشاہ کا اشارہ پاتے ہی جھٹ سے پیش کر دی ہو۔ درحقیقت یہ اس انقلاب کا دروازہ کھولنے کے لیے آخری ضرب تھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کی اخلاقی طاقت سے پچھلے دس بارہ سال کے اندر نشوو نما پاکر ظہور کے لیے تیار ہو چکا تھا اور اب جس کا فتح باب صرف ایک ٹھونکے ہی کا محتاج تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلامآزمائشوں کے ایک طویل سلسلے سے گزر کر آرہے تھے اور یہ آزمائشیں کسی گمنامی کے گوشے میں پیش نہیں آئی تھیں‘ بلکہ بادشاہ سے لے کر عام شہریوں تک مصر کا بچہ بچہ ان سے واقف تھا۔ ان آزمائشوں میں انھوں نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ امانت‘ راست بازی‘ حلم‘ ضبطِ نفس‘ عالی ظرفی‘ ذہانت و فراست اور معاملہ فہمی میں کم از کم اپنے زمانے کے لوگوں کے درمیان تو اپنا نظیر نہیں رکھتے۔ ان کی شخصیت کے یہ اوصاف اس طرح کھل چکے تھے کہ کسی کو ان سے انکار کی مجال نہ رہی تھی۔ زبانیں ان کی شہادت دے چکی تھیں۔ دل اُن سے مسخر ہو چکے تھے۔ خود بادشاہ ان کے آگے ہتھیار ڈال چکا تھا۔ ان کا ’حفیظ‘ اور ’علیم‘ہونا اب محض ایک دعویٰ نہ تھا ‘بلکہ ایک ثابت شدہ واقعہ تھا جس پر سب ایمان لاچکے تھے۔ اب اگر کچھ کسر باقی تھی تو وہ صرف اتنی کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود حکومت کے ان اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے پر رضامندی ظاہر کریں جن کے لیے بادشاہ اور اس کے اعیان سلطنت اپنی جگہ بخوبی جان چکے تھے کہ ان سے زیادہ موزوں آدمی اور کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وہ کسر تھی جو انھوں نے اپنے اس فقرے سے پوری کر دی۔ ان کی زبان سے اس مطالبے کے نکلتے ہی بادشاہ اور اس کی کونسل نے جس طرح اسے بسر و چشم قبول کیا‘ وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پھل اتنا پک چکا تھا کہ اب ٹوٹنے کے لیے ایک اشارے ہی کا منتظر تھا۔ (تلمود کا بیان ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حکومت کے اختیارات سونپنے کا فیصلہ تنہا بادشاہ ہی نے نہیں کیا تھا‘ بلکہ پوری شاہی کونسل نے بالاتفاق اس کے حق میں رائے دی تھی)
یہ اختیارات جو حضرت یوسف علیہ السلام نے مانگے اور ان کو سونپے گئے‘ ان کی نوعیت کیا تھی؟ ناواقف لوگ یہاں ’خزائن ارض‘ کے الفاظ اور آگے چل کر غلے کی تقسیم کا ذکر دیکھ کر قیاس کرتے ہیں کہ شاید یہ افسر خزانہ‘ یا افسر مال‘ یا قحط کمشنر یا وزیر مالیات یا وزیر غذائیات قسم کا کوئی عہدہ ہوگا لیکن قرآن‘ بائبل اور تلمود کی متفقہ شہادت ہے کہ درحقیقت حضرت یوسف علیہ السلام سلطنت مصر کے مختار کل (رومی اصطلاح میں ڈکٹیٹر) بنائے گئے تھے اور ملک کا سیاہ و سپید سب کچھ ان کے اختیار میں دے دیا گیا تھا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام مصر پہنچے ہیں تو اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام تخت نشین تھے۔ (وَ رَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ ۔یوسف 12:100) حضرت یوسف ؑ کی اپنی زبان سے نکلا ہوا یہ فقرہ قرآن میں منقول ہے کہ:اے میرے رب! تو نے مجھے بادشاہی عطا کی۔ ( رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ ۔ یوسف12:101)پیالے کی چوری کے موقع پر سرکاری ملازم حضرت یوسف علیہ السلام کے پیالے کو بادشاہ کا پیالہ کہتے ہیں (قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ ۔ یوسف12:72)اور اللہ تعالیٰ مصر پر ان کے اقتدار کی کیفیت یہ بیان کرتا ہے کہ ساری سرزمین مصر اُن کی تھی (یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ۔یوسف 12:56)۔ رہی بائیبل تو وہ شہادت دیتی ہے کہ فرعون نے یوسف ؑ سے کہا:
سو‘ تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا…… دیکھ! میں تجھے سارے ملک ِ مصر کا حاکم بناتا ہوں…… اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ یا پائوں نہ ہلائے گا اور فرعون نے یوسف علیہ السلام کا نام ضغنات فعینح (دنیا کا نجات دہندہ) رکھا۔ (پیدائش ۴۱: ۳۹۔۴۵)
اور تلمود کہتی ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے مصر سے واپس جاکر اپنے والد سے حاکمِ مصر (یوسف علیہ السلام) کی تعریف کرتے ہوئے بیان کیا:
اپنے ملک کے باشندوں پر اس کا اقتدار سب سے بالا ہے۔ اس کے حکم پر وہ نکلتے اور اس کے حکم پر وہ داخل ہوتے ہیں۔ اس کی زبان سارے ملک پر فرماں روائی کرتی ہے، کسی معاملے میں فرعون کے اذن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ اختیارات کس غرض کے لیے مانگے تھے؟ انھوں نے اپنی خدمات اس لیے پیش کی تھیں کہ ایک کافر حکومت کے نظام کو اس کے کافرانہ اصول و قوانین ہی پر چلائیں؟ یا ان کے پیش نظر یہ تھا کہ حکومت کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر ملک کے نظامِ تمدن و اخلاق و سیاست کو اسلام کے مطابق ڈھال دیں؟ اس سوال کا بہترین جواب وہ ہے جو علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر ’کشاف‘ میں دیا ہے‘ وہ لکھتے ہیں:
حضرت یوسف علیہ السلام نے اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف12:55جو فرمایا تو اس سے ان کی غرض صرف یہ تھی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے احکام جاری کرنے اور حق قائم کرنے اور عدل پھیلانے کا موقع مل جائے اور وہ اس کام کو انجام دینے کی طاقت حاصل کریں جس کے لیے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے جاتے ہیں۔ انھوں نے بادشاہی کی محبت اور دنیا کے لالچ میں یہ مطالبہ نہیں کیا تھا‘ بلکہ یہ جانتے ہوئے کیا تھا کہ کوئی دوسرا شخص ان کے سوا ایسا نہیں ہے جو اس کام کو انجام دے سکے۔
اور سچ یہ ہے کہ یہ سوال دراصل ایک اور سوال پیدا کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم اور بنیادی سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام آیا پیغمبر بھی تھے یا نہیں؟ اگر پیغمبر تھے تو کیا قرآن میں ہم کو پیغمبری کا یہ تصور ملتا ہے کہ اسلام کا داعی خود نظامِ کفر کو کافرانہ اصولوں پر چلانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے؟ بلکہ یہ سوال اس پر بھی ختم نہیں ہوتا‘ اس سے بھی زیادہ نازک اور سخت ایک دوسرے سوال پر جاکر ٹھیرتا ہے‘ یعنی یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک راست باز آدمی بھی تھے یا نہیں؟ اگر راست باز تھے تو کیا ایک راست باز انسان کا یہی کام ہے کہ قید خانے میں تو وہ اپنی پیغمبرانہ دعوت کا آغاز اس سوال سے کرے کہ ’’بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے‘‘ اور بار بار اہل مصر پر بھی واضح کر دے کہ تمھارے ان بہت سے متفرق خود ساختہ خدائوں میں سے ایک یہ شاہ مصر بھی ہے اور صاف صاف اپنے مشن کا بنیادی عقیدہ یہ بیان کرے کہ ’’فرماں روائی کا اقتدار خدائے واحد کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے’مگر جب عملی آزمائش کا وقت آئے تو وہی شخص خود اس نظام حکومت کا خادم‘ بلکہ ناظم اور محافظ اور پشت پناہ تک بن جائے جو شاہ مصر کی ربوبیت میں چل رہا تھا اور جس کا بنیادی نظریہ ’’فرماں روائی کے اختیارات خدا کے لیے نہیں بلکہ بادشاہ کے لیے ہیں‘ تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ اس مقام کی تفسیر میں دور انحطاط کے مسلمانوں نے کچھ اسی ذہنیت کا اظہار کیا ہے جو کبھی یہودیوں کی خصوصیت تھی۔ یہ یہودیوں کا حال تھا کہ جب وہ ذہنی و اخلاقی پستی میں مبتلا ہوئے تو پچھلی تاریخ میں جن جن بزرگوں کی سیرتیں ان کو بلندی پر چڑھنے کا سبق دیتی تھیں‘ ان سب کو وہ نیچے گرا کر اپنے مرتبے پر اتار لائے تاکہ اپنے لیے اور زیادہ نیچے گرنے کا بہانہ پیدا کریں۔ افسوس کہ یہی کچھ مسلمانوں نے بھی کیا۔ انھیں کافر حکومتوں کی چاکری کرنی تھی‘ مگر اس پستی میں گرتے ہوئے اسلام اور اس کے علم برداروں کی بلندی دیکھ کر انھیں شرم آئی‘ لہٰذا اس شرم کو مٹانے اور اپنے ضمیر کو راضی کرنے کے لیے یہ اپنے ساتھ اس جلیل القدر پیغمبر کو بھی خدمت کفر کی گہرائی میں لے گرے جس کی زندگی دراصل انھیں یہ سبق دے رہی تھی کہ اگر کسی ملک میں ایک اور صرف ایک مرد مومن بھی خالص اسلامی اخلاق اور ایمانی فراست و حکمت کا حامل ہو تو وہ تن تنہا مجرد اپنے اخلاق اور اپنی حکمت کے زور سے اسلامی انقلاب برپا کرسکتا ہے اور یہ کہ مومن کی اخلاقی طاقت (بشرطیکہ وہ اس کا استعمال جانتا ہو، اور اسے استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو) فوج اور اسلحہ اور سروسامان کے بغیر بھی ملک فتح کرسکتی ہے اور سلطنتوں کو مسخر کرلیتی ہے۔۴۱؎

۶۔ تصور حاکمیت و خلافت

اسلام کا تصور حاکمیت بہت صاف اور واضح ہے۔ خدا اس کائنات کا خالق ہے اور وہی اس کا حاکمِ اعلیٰ بھی۔ اقتدار اعلیٰ صرف اسی کا حصہ ہے۔ انسان کی حیثیت حاکمِ اعلیٰ کے خلیفہ اور نمائندے کی ہے اور سیاسی نظام کو اسی حاکم اعلیٰ کے قانون کے تابع ہونا چاہیے۔ خلیفہ کاکام حاکم اعلیٰ کے قانون کو اس کے اصل منشا کے مطابق نافذ کرنا ہے اور نظام سیاسی کو اس کی ہدایات کے مطابق چلانا ہے:
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ o مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ یوسف12:39-40
اے زنداں کے ساتھیو! تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں، یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آبائو اجداد نے رکھ لیے ہیں‘ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماںروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے‘ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی تقریر کا ایک حصہ ہے اور توحید اور حاکمیت الٰہی پر بہترین تقریروں میں سے ہے۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام دین کے اس نقطۂ آغاز کو پیش کرتے ہیں جہاں سے اہلِ حق کا راستہ اہلِ باطل کے راستے سے جدا ہوتا ہے‘ یعنی توحید اور شرک کا فرق۔ پھر اس فرق کو وہ ایسے معقول طریقے سے واضح کرتے ہیں کہ عقل عام رکھنے والا کوئی شخص اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خصوصیت کے ساتھ جو لوگ اس وقت ان سے مخاطب تھے ان کے دل و دماغ میں تو تیر کی طرح یہ بات اتر گئی ہوگی‘ کیونکہ وہ نوکر پیشہ غلام تھے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات کو خوب محسوس کرسکتے تھے کہ ایک آقا کا غلام ہونا بہتر ہے یا بہت سے آقائوں کا‘ اور سارے جہاں کے آقا کی بندگی بہتر ہے یا بندوں کی بندگی۔ پھر وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ اپنا دین چھوڑو اور میرے دین میں آجائو‘ بلکہ ایک عجیب انداز میں ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو! اللہ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے سوا ہم کو کسی کا بندہ نہیں بنایا، مگر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور خواہ مخواہ خود گھڑ گھڑ کر اپنے رب بناتے اور ان کی بندگی کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنے مخاطبوں کے دین پر تنقید بھی کرتے ہیں‘ مگر نہایت معقولیت کے ساتھ اور دل آزاری کے ہر شائبے کے بغیر، بس اتنا کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ معبود جن میں سے کسی کو تم اَن داتا‘ کسی کو خداوند نعمت‘ کسی کو مالک زمین اور کسی کو رب دولت یا خود مختار صحت و مرض وغیرہ کہتے ہو‘ یہ سب خالی خولی نام ہی ہیں‘ ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقی ان داتائی و خداوندی اور مالکیت و ربوبیت موجود نہیں ہے۔ اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے جسے تم بھی کائنات کا خالق و رب تسلیم کرتے ہو، اور اس نے ان میں سے کسی کے لیے بھی خداوندی اور معبودیت کی کوئی سند نہیں اتاری ہے۔ اس نے تو فرماںروائی کے سارے حقوق اور اختیارات اپنے ہی لیے مخصوص رکھے ہیں اور اس کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔۴۲؎
(الف) وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓاَیُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ۔ القصص28:38
اور فرعون نے کہا: اے اہلِ دربار! میں تو اپنے سوا تمھارے کسی الٰہ کو نہیں جانتا۔
اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ میں ہی تمھارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں‘ کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی۔ اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ اہل مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبودیت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ سب سے بڑی شہادت قرآن مجید کی موجود ہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتائوں کا پرستار تھا۔ (الاعراف۷:۱۲۷)
اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن اُن ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد و خود مختار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کی مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمۂ قانون اور صاحب امر و نہی کسی بادشاہ کو مانیں یا قوم کی مرضی کو‘ بہرحال جب تک وہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدا اور اس کے رسول ؑ کا نہیں، بلکہ ہمارا حکم چلے گا، اس وقت تک ان کے اور فرعون کے موقف میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے شعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے رہیں اور ان ریاستوں کو سندِ جواز عطا کرتے رہیں۔ حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ فرعون نے اپنے لیے ’اِلٰہ‘کا لفظ استعمال کیا تھا اور یہ اسی معنی میں ’حاکمیت‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔۴۳؎
(ج) الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا ۔ الفرقان25:2
وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے‘ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔
یہاں لفظ ملک استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں بادشاہی‘ اقتدار اعلیٰ اور حاکمیت (sovereignty) کے لیے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا مختار مطلق ہے اور فرماںروائی کے اختیارات میں ذرہ برابر بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ چیز آپ سے آپ اس بات کو مستلزم ہے کہ پھر معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہے، اس لیے کہ انسان جس کو بھی معبود بناتا ہے یہ سمجھ کر بناتا ہے کہ اس کے پاس کوئی طاقت ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیں کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے اور ہماری قسمتوں پر اچھا یا برا اثر ڈال سکتا ہے۔ بے زور اور بے اثر ہستیوں کو ملجا و ماویٰ بنانے کے لیے کوئی احمق سے احمق انسان بھی کبھی تیار نہیں ہوسکتا۔ اب اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ جَلَّ شَاْنُہ‘ کے سوا اس کائنات میں کسی کے پاس بھی کوئی زور نہیں ہے تو پھر نہ کوئی گردن اس کے سوا کسی کے آگے اظہار عجز و نیاز کے لیے جھکے گی‘ نہ کوئی ہاتھ اس کے سوا کسی کے آگے نذر پیش کرنے کے لیے بڑھے گا‘ نہ کوئی زبان اس کے سوا کسی کی حمد کے ترانے گائے گی، یا دعا و التجا کے لیے کھلے گی اور نہ دنیا کے کسی نادان سے نادان آدمی سے بھی کبھی یہ حماقت سرزد ہوسکے گی کہ وہ اپنے حقیقی خدا کے سوا کسی اور کی اطاعت و بندگی بجا لائے‘ یا کسی کو بذات خود حکم چلانے کا حق دار مانے۔ اس مضمون کو مزید تقویت اوپر کے اس فقرے سے پہنچتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور اسی کے لیے ہے۔۴۴؎
لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ البقرہ2:284
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔ تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو، خواہ چھپائو۔ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا۔ پھر اسے اختیار ہے جسے چاہے معاف کردے اور جسے چاہے سزا دے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اولین بنیاد خدا کی حاکمیت کا عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مالک زمین و آسمان ہونا اور ان تمام چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں‘ اللہ ہی کی مِلک ہونا‘ دراصل یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس کی بنا پر انسان کے لیے کوئی دوسرا طرز عمل اس کے سوا جائز اور صحیح نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دے۔ پھر اس آیت میں جواب دہی کے تصور اور انفرادی ذمے داری کے اصول کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ ہر انسان فردًا فردًا اللہ کے سامنے ذمے دار اور جواب دہ ہے۔ دوسرے یہ کہ جس بادشاہ زمین و آسمان کے سامنے جواب دہ ہے‘ وہ غیب و شہادت کا علم رکھنے والا ہے حتیٰ کہ دلوں کے چھپے ہوئے ارادے اور خیالات تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں اور آخر میں اللہ کے اختیار مطلق کا بیان ہے۔ اس کو کسی قانون نے باندھ نہیں رکھا ہے کہ اس کے مطابق عمل کرنے پر وہ مجبور ہو، بلکہ وہ مالک مختار ہے۔ سزا دینے اور معاف کرنے کے کلی اختیارات اس کو حاصل ہیں۔۴۵؎
(ھ) وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ o اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ۔
آل عمران 50-51:3
اور میں اس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تورات میں سے اس وقت میرے زمانے میں موجود ہے اور اس لیے آیا ہوں کہ تمھارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور میں تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں‘ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی۔ لہٰذا تم اسی کی بندگی اختیار کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے بھی بنیادی نکات یہی تین تھے:
۱۔ ایک یہ کہ اقتدار اعلیٰ‘ جس کے مقابلے میں بندگی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور جس کی اطاعت پر اخلاق و تمدن کا پورا نظام قائم ہوتا ہے‘ صرف اللہ کے لیے مختص تسلیم کیا جائے۔
۲۔ دوسرے یہ کہ اس مقتدر اعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے نبی کے حکم کی اطاعت کی جائے۔
۳۔ تیسرے یہ کہ انسانی زندگی کو حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کی پابندیوں سے جکڑنے والا قانون و ضابطہ صرف اللہ کا ہو، اور دوسروں کے عاید کردہ قوانین منسوخ کر دیے جائیں۔
پس درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کے مشن میں یک سرِمُو فرق نہیں ہے۔ جن لوگوں نے مختلف پیغمبروں کے مختلف مشن قرار دیے ہیں اور ان کے درمیان مقصد و نوعیت کے اعتبار سے فرق کیا ہے انھوں نے سخت غلطی کی ہے۔ مالک الملک کی طرف سے اس کی رعیت کی طرف جو شخص بھی مامور ہو کر آئے گا اس کے آنے کا مقصد، اس کے سوا اور کچھ ہوسکتا ہی نہیں کہ وہ رعایا کونافرمانی اور خود مختاری سے روکے اور شرک سے (یعنی اس بات سے کہ وہ اقتدار اعلیٰ میں کسی حیثیت سے دوسروں کو مالک الملک کے ساتھ شریک ٹھیرائیں اور اپنی وفاداریوں اور عبادت گزاریوں کو ان میں منقسم کریں) منع کرے اور اصل مالک کی خالص بندگی و اطاعت اور پرستاری و وفاداری کی طرف دعوت دے۔
افسوس ہے کہ موجودہ اناجیل میں مسیح علیہ السلام کے مشن کو اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جس طرح اوپر قرآن میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم منتشر طور پر اشارات کی شکل میں وہ تینوں بنیادی نکات ہمیں ان کے اندر ملتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً: یہ بات کہ مسیح علیہ السلام صرف اللہ کی بندگی کے قائل تھے ان کے اس ارشاد سے صاف ظاہر ہوتی ہے:
تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ (متی۴:۱۰)
اور صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے قائل تھے، بلکہ ان کی ساری کوششوں کا مقصود یہ تھا کہ زمین پر خدا کے امر شرعی کی اسی طرح اطاعت ہو جس طرح آسمان پر اس کے امر تکوینی کی اطاعت ہورہی ہے:
تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ (متی۶:۱۰)
پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام اپنے آپ کو نبی اور آسمانی بادشاہت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرتے تھے اور اسی حیثیت سے لوگوں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے، ان کے متعدد اقوال سے معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے جب اپنے وطن ناصرہ سے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ان کے اپنے ہی بھائی بند اور اہلِ شہران کی مخالفت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس پر متی‘ مرقس اور لوقا تینوں کی متفقہ روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: نبی اپنے وطن میں مقبول نہیں ہوتا، اور جب یروشلم میں ان کے قتل کی سازشیں ہونے لگیں اور لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کہیں اور چلے جائیں تو انھوں نے جواب دیا:
ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو۔ (لوقا ۱۳:۲۳)
آخری مرتبہ جب وہ یروشلم میں داخل ہو رہے تھے تو ان کے شاگردوں نے بلند آواز سے کہنا شروع کیا:
’مبارک ہے وہ بادشاہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے۔‘
اس پر یہودی علما ناراض ہوئے اور انھوں نے حضرت مسیح سے کہا کہ آپ اپنے شاگردوں کو چپ کرائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’اگر یہ چپ رہیں گے تو پتھر پکار اٹھیں گے۔ (لوقا ۱۹:۳۸۔۴۰)
ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا:
اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو! سب میرے پاس آئو‘ میں تم کو آرام دوں گا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھالو… میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔ (متی۱۱:۲۸۔۳۰)
پھر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام انسانی ساخت کے قوانین کے بجائے خدائی قانون کی اطاعت کرانا چاہتے تھے متی اور مرقس کی اس روایت سے صاف طور پر مترشح ہوتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودی علما نے اعتراض کیا کہ آپ کے شاگرد بزرگوں کی روایات کے خلاف ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کیوں کھالیتے ہیں۔ اس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم ریاکاروں کی حالت وہی ہے جس پر یسعیاہ نبی کی زبان سے یہ طعنہ دیا گیا ہے کہ ’’یہ امت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے مگر ان کے دل مجھ سے دور ہیں‘ کیونکہ یہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘ تم لوگ خدا کے حکم کو تو باطل کرتے ہو اور اپنے گھڑے ہوئے قوانین کو برقرار رکھتے ہو۔ خدا نے توراۃ میں حکم دیا تھا کہ ماں باپ کی عزت کرو اور جو کوئی ماں باپ کو برا کہے وہ جان سے مارا جائے، مگر تم کہتے ہو کہ جو شخص اپنی ماں یا باپ سے یہ کہہ دے کہ میری جو خدمات تمھارے کام آسکتی تھیں انھیں میں خدا کی نذر کر چکا ہوں‘ اس کے لیے بالکل جائز ہے کہ پھر ماں یاباپ کی کوئی خدمت نہ کرے۔ (متی ۱۵:۳۔۹۔مرقس ۷:۵۔۱۳)۴۶؎
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ الاعراف7:54
درحقیقت تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا‘ پھر اپنے تخت سلطنت پر متمکن ہوا۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔ خبردار رہو! اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے۔ بڑا بابرکت ہے اللہ‘ سارے جہانوں کا مالک اور پروردگار۔
خدا کے استوا عَلَی الْعَرش (تختِ سلطنت پر متمکن ہونے) کی تفصیلی کیفیت کو سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے بعد کسی مقام کو اپنی اس لامحدود سلطنت کا مرکز قرار دے کر اپنی تجلیات کو وہاں مرتکز فرما دیا ہو، اور اسی کا نام عرش ہو جہاں سے سارے عالم پر وجود اور قوت کا فیضان بھی ہو رہا ہے اور تدبیر امر بھی فرمائی جارہی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عرش سے مراد اقتدار فرماں روائی ہو، اور اس پر متمکن ہو جانے سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کرکے اس کی زمام سلطنت اپنے ہاتھ میں لی۔ بہرحال اِستوا علی العرش کا تفصیلی مفہوم خواہ کچھ بھی ہو‘ قرآن میں اس کے ذکر کا اصل مقصد یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق کائنات ہی نہیں ہے بلکہ مدبر کائنات بھی ہے۔ وہ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد اس سے بے تعلق ہو کر کہیں بیٹھ نہیں گیا ہے، بلکہ عملاً وہی سارے جہان کے جزو کل پر فرماںروائی کر رہا ہے۔ سلطانی و حکمرانی کے تمام اختیارات بالفعل اس کے ہاتھ میں ہیں‘ ہر چیز اس کے امر کی تابع ہے‘ ذرہ ذرہ اس کے فرمان کا مطیع ہے اور موجودات کی قسمتیں دائماً اس کے حکم سے وابستہ ہیں۔ اس طرح قرآن اس بنیادی غلط فہمی کی جڑ کاٹنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے انسان کبھی شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوا ہے اور کبھی خود مختاری و خود سری کی ضلالت میں۔ خدا کو کائنات کے انتظام سے عملاً بے تعلق سمجھ لینے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی قسمت کو دوسروں سے وابستہ سمجھے اور ان کے آگے سرجھکا دے، یا پھر اپنی قسمت کا مالک خود اپنے آپ کو سمجھے اور خود مختار بن بیٹھے۔
یہاں ایک بات اور قابل توجہ ہے۔ قرآن مجید میں خدا اور خلق کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے انسانی زبان میں سے زیادہ تر وہ الفاظ‘ مصطلحات‘ استعارے اور انداز بیان انتخاب کیے گئے ہیں جو سلطنت و بادشاہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ طرز بیان قرآن میں اس قدر نمایاں ہے کہ کوئی شخص جو سمجھ کر قرآن کو پڑھتا ہو اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بعض کم فہم ناقدین کے معکوس دماغوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ کتاب جس عہد کی ’تصنیف‘ ہے، اس زمانے میں انسان کے ذہن پر شاہی نظام کا تسلط تھا اس لیے مصنف نے (جس سے مراد ان ظالموں کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) خدا کو بادشاہ کے رنگ میں پیش کیا۔ حالانکہ دراصل قرآن جس دائمی و ابدی حقیقت کو پیش کر رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں میں پادشاہی صرف ایک ذات کی ہے اور حاکمیت (sovereignty)جس شے کا نام ہے وہ اسی ذات کے لیے خاص ہے اور یہ نظام کائنات ایک کامل مرکزی نظام ہے جس میں تمام اختیارات کو وہی ایک ذات استعمال کر رہی ہے، لہٰذا اس نظام میں جو شخص یا گروہ اپنی یا کسی اور کی جزوی یا کلی حاکمیت کا مدعی ہے وہ محض فریب میں مبتلا ہے۔ نیز یہ کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے انسان کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا رویہ صحیح نہیں ہوسکتا کہ اسی ایک ذات کو مذہبی معنوں میں واحد معبود بھی مانے اور سیاسی و تمدنی معنوں میں واحد سلطان (sovereign)بھی تسلیم کرے۔
لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ الاعراف7:54 کے الفاظ سے اسی مضمون کی مزید تشریح کی گئی ہے جو ’’استوا علی العرش‘‘ کے الفاظ میں مجملاً بیان کیا گیا تھا۔ یعنی یہ کہ خدا محض خالق ہی نہیں آمر اور حاکم بھی ہے۔ اس نے اپنی خلق کو پیدا کرکے نہ تو دوسروں کے حوالے کر دیا ہے کہ وہ اس میں حکم چلائیں اور نہ پوری خلق کو یا اس کے کسی حصے کو خود مختار بنا دیا ہے کہ جس طرح چاہے خود کام کرے، بلکہ عملاً تمام کائنات کی تدبیر خدا کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ لیل و نہار کی گردش آپ سے آپ نہیں ہو رہی ہے بلکہ خدا کے حکم سے ہو رہی ہے‘ جب چاہے اسے روک دے اور جب چاہے اس کے نظام کو تبدیل کر دے۔ سورج اور چاند اور تارے خود کسی طاقت کے مالک نہیں ہیں، بلکہ خدا کے ہاتھ میں بالکل مسخر ہیں اور مجبور غلاموں کی طرح بس وہی کام کیے جا رہے ہیں جو خدا ان سے لے رہا ہے۔۴۷؎
(ز) اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ المائدہ5:1
بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
یعنی اللہ حاکم مطلق ہے۔ اسے پورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے۔ بندوں کو اس کے احکام میں چون و چرا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگرچہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں، لیکن بندۂ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی برمصلحت سمجھتا ہے، بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے۔ جو چیز اس نے حرام کردی ہے وہ صرف اس لیے حرام ہے کہ اس نے حرام کی ہے اور اسی طرح جو اس نے حلال کر دی ہے وہ بھی کسی دوسری بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف اس بنیاد پر حلال ہے کہ جو خدا ان ساری چیزوں کا مالک ہے، وہ اپنے غلاموں کو اس چیز کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا قرآن پورے زور کے ساتھ یہ اصول قائم کرتا ہے کہ اشیا کی حرمت و حلت کے لیے مالک کی اجازت و عدم اجازت کے سوا کسی اور بنیاد کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور اسی طرح بندے کے لیے کسی کام کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا مدار بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ خدا جس کو جائز رکھے وہ جائز ہے اور جسے ناجائز قرار دے وہ ناجائز۔۴۸؎
(ک) وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللہِ الْكَذِبَ۝۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَo النحل116:16
اور یہ جو تمھاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام‘ تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پایا کرتے۔
یہ آیت صاف تصریح کرتی ہے کہ خدا کے سوا تحلیل و تحریم کا حق کسی کو بھی نہیں‘ یا بالفاظ دیگر قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا جو شخص بھی جائز اور ناجائز کا فیصلہ کرنے کی جرأت کرے گا وہ اپنی حد سے تجاوز کرے گا‘ الایہ کہ وہ قانون الٰہی کو سند مان کر اس کے فرامین سے استنباط کرتے ہوئے یہ کہے کہ فلاں چیز یا فلا ں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔
اس خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اس طرح کے احکام لگاتا ہے‘ اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا:
۱۔ یا وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الٰہی کی سند سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کہہ رہا ہے اسے خدا نے جائز یا ناجائز ٹھیرایا ہے۔
۲۔ یا اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ نے تحلیل وتحریم کے اختیارات سے دست بردار ہو کر انسان کو خود اپنی زندگی کی شریعت بنانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔
ان میں سے جو دعویٰ بھی وہ کرے وہ لامحالہ جھوٹ اور اللہ پر افترا ہے۔ ۴۹؎
(ل) قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا۝۰ۭ قُلْ اٰۗللہُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَي اللہِ تَفْتَرُوْنَo یونس59:10
اے نبی! ان سے کہو: تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا‘ ان سے پوچھو اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟۔
اردو زبان میں رزق کا اطلاق صرف کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اس قانون سازی پر کی گئی ہے جو دستر خوان کی چھوٹی سی دنیا میں‘ مذہبی اوہام یا رسم و رواج کی بنیاد پر لوگوں نے کر ڈالی ہے۔ اس غلط فہمی میں جہلاء یا عوام ہی نہیں‘ علما تک مبتلا ہیں۔ حالانکہ عربی زبان میں رزق محض خوراک تک محدود نہیں ہے بلکہ عطا اور بخشش اور نصیب کے معنوں میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دنیا میں انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے حتیٰ کہ اولاد تک رزق ہے۔ اسماء الرجال کی کتابوں میں بکثرت راویوں کے نام رزق اور رزیق اور رزق اللہ ملتے ہیں جس کے معنی تقریباً وہی ہیں جو اردو میں اللہ دیے کے معنی ہیں۔ مشہور دعا ہے: اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَہ‘ یعنی ہم پر حق واضح کر اور ہمیں اس کے اتباع کی توفیق دے۔محاورے میں بولا جاتا ہے رُزِقَ عِلْمًا ‘ فلاں شخص کو علم دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حاملہ کے پیٹ میں ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ پیدا ہونے والے کا رزق اور اس کی مدت عمر اور اس کاکام لکھ دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رزق سے مراد صرف وہ خوراک ہی نہیں ہے جو اس بچے کو آئندہ ملنے والی ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے جو اسے دنیا میں دیا جائے گا۔ خود قرآن میں ہے: وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ البقرہ 3:2 جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس رزق کو محض دستر خوان کی سرحدوں تک محدود سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان پابندیوں اور آزادیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملے میں لوگوں نے بطور خود اختیار کرلی ہیں‘ سخت غلطی ہے اور یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے۔ اس کی بدولت خدا کے دین کی ایک بہت بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ یہ اسی غلطی کا تو نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کا معاملہ تو ایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کرلیا جائے کہ انسان خود اپنے لیے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے اور اسی بنا پر خدا اور اس کی کتاب سے بے نیاز ہو کر قانون سازی کی جانے لگے تو عامی تو درکنار علمائے دین و مفتیان شرع متین اور مفسرینِ قرآن و شیوخِ حدیث تک کو یہ احساس نہیں ہوتا کو یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس طرح ماکولات و مشروبات میں شریعت ِ الٰہی سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کے حدود بطور خود مقرر کرلینا۔
پھر فرمایا جارہا ہے کہ تمھیں کچھ احساس بھی ہے کہ یہ کتنا سخت باغیانہ جرم ہے جو تم کر رہے ہو۔ رزق اللہ کا ہے اور تم خود اللہ کے ہو‘ پھر یہ حق آخر تمھیں کہاں سے حاصل ہوگیا کہ اللہ کی املاک میں اپنے تصرف‘ استعمال اور انتفاع کے لیے خود حد بندیاں مقرر کرو؟ کوئی نوکر اگر یہ دعویٰ کرے کہ آقا کے مال میں اپنے تصرف اور اختیارات کی حدیں اسے خود مقرر کرلینے کا حق ہے اور اس معاملے میںآقا کے کچھ بولنے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں‘ تو اس کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے؟ تمھارا اپنا ملازم اگر تمھارے گھر میں اور تمھارے گھر کی سب چیزوں میں اپنے عمل اور استعمال کے لیے اس آزادی و خود مختاری کا دعویٰ کرے تو تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے؟ ____ اس نوکر کا معاملہ تودوسرا ہی ہے جو سرے سے نہیں مانتا کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور کوئی اس کا آقابھی ہے اور یہ کسی اور کا مال ہے جو اس کے تصرف میں ہے۔ اس بدمعاش غاصب کی پوزیشن یہاں زیر بحث نہیں ہے۔ یہاں سوال اس نوکر کی پوزیشن کا ہے جو خود مان رہا ہے کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ مال اسی کا ہے جس کا وہ نوکر ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس مال میں اپنے تصرف کے حقوق مقرر کرلینے کا حق مجھے آپ ہی حاصل ہے اور آقا سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آخر میں یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ تمھاری یہ پوزیشن صرف اسی صورت میں صحیح ہوسکتی تھی کہ آقا نے خود تم کو مجاز کر دیا ہو تا،کہ میرے مال میں تم جس طرح چاہو تصرف کرو‘ اپنے عمل اور استعمال کے حدود‘ قوانین‘ ضوابط سب کچھ بنالینے کے جملہ حقوق میں نے تمھیں سونپے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تمھارے پاس واقعی اس کی کوئی سند ہے کہ آقا نے تم کو یہ اختیارات دے دیے ہیں، یا تم بغیر کسی سند کے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ وہ تمام حقوق تمھیں سونپ چکا ہے۔ اگر پہلی صورت ہے تو براہ کرم وہ سند دکھائو، ورنہ بصورت دیگر یہ کھلی بات ہے کہ تم بغاوت پر جھوٹ اور افترا پردازی کا مزید جرم کر رہے ہو۔ ۵۰؎
(ج) وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَo ……… الظٰلِمُوْنَ … …الْفٰسِقُوْنَ
المائدہ 47-45-44:5
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں…… ظالم ہیں…… فاسق ہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں:
ایک یہ کہ وہ کافر ہیں‘ دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں‘ تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے، یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے‘ وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے:
٭ اولاً ،اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔
٭ ثانیاً، اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے‘ کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دیا تھا‘ اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔
٭ تیسرے یہ کہ، بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔
یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو، وہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہ ہوں، البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔ جو شخص حکم الٰہی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے، اور جو اعتقاداًحکمِ الٰہی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگرچہ خارج از ملت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر‘ ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔ اسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکمِ الٰہی سے انحراف اختیار کرلیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر‘ ظالم اور فاسق ہے اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے، اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے ان آیات کو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے، مگر کلامِ الٰہی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجایش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں سے جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر‘ وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
نِعْمَ الْاِخْوَۃُ لَکُمْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ اَنْ کَانَتْ لَھُمْ کُلَّ مُرَّۃٍ وَلَکُمْ کُلَّ حُلْوَۃٍ کَلاَّ وَاللّٰہِ لَتَسْلُکُنَّ طَرِیْقَھُمْ قَدْرَ الشِّرَاکِ۔
کتنے اچھے بھائی ہیں تمھارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمھارے لیے! ہرگز نہیں‘ خدا کی قسم تم انھی کے طریقے پر قدم بہ قدم چلو گے۔۵۱؎
حاکمیت الٰہی کا یہی اصل الاصول ہے جس پر قرآن میں جگہ جگہ گفتگو کی گئی ہے۔ خدا کے سوا جس کو بھی مختار مطلق مانا جائے گا اس کی حیثیت قرآن کی اصطلاح میں طاغوت کی ہے اور یہ بندگیِ الٰہی کی ضد ہے۔
(ت) فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى۝۰ۤ لَاانْفِصَامَ لَہَا۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo البقرہ 256:2
اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا‘ اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
طاغوت لغت کے اعتبار سے ہر اُس شخص کو کہا جائے گا جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جو بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں:
٭ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرماں برداری ہی کو حق مانے مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام فسق ہے۔
٭ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اصولاً منحرف ہو کر یا تو خود مختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے‘ یہ کفر ہے۔
٭ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہو کر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔۵۲؎
ایک دوسری آیت پر غور کیجیے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِہٖ۝۰ۭ۔ النسائ 60:4
اے نبیؐ! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمھاری طرف نازل کی گئی اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیںمگر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہاں صریح طور پر’طاغوت‘ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو، اور وہ نظامِ عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔ لہٰذا یہ آیت اس معنی میں بالکل صاف ہے کہ جو عدالت ’طاغوت‘ کی حیثیت رکھتی ہو اس کے پاس اپنے معاملات فیصلے کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ قرآن کی رُو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر دونوں لازم و ملزوم ہیں اور خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا عین منافقت ہے۔۵۳؎
مندرجہ بالا بحث سے قرآن کا تصور حاکمیت واضح ہو جاتا ہے۔ اس تصور کے لحاظ سے حاکمیت میں انسان کا سرے سے کوئی حصہ نہیں ہوسکتا۔ اسی بنا پر قرآن انسان کو زمین پر خدا کا خلیفہ اور نائب قرار دیتا ہے اور اس نائب کا اصل مشن یہ بتاتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے مالک کے حکم کے مطابق کام کرے۔ اسی چیز کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے:
وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۝۰ۭ۔ البقرہ2:30
جب کہ تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا:میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔
خلیفہ اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کی ملک میں اس کے تفویض کردہ اختیارات اس کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے۔ وہ مالک نہیں ہوتا‘ بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے۔ اس کے اختیارات ذاتی نہیں ہوتے‘ بلکہ مالک کے عطا کردہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے منشا کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا‘ بلکہ اس کاکام مالک کے منشا کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اپنے آپ کو مالک سمجھ بیٹھے اور تفویض کردہ اختیارات کو من مانے طریقے سے استعمال کرنے لگے، یا اصل مالک کے سوا کسی اور کو مالک تسلیم کرکے اس کے منشا کی پیروی اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے لگے‘ تو یہ سب غداری اور بغاوت کے افعال ہوں گے۔۵۴؎

۷۔ اصول اطاعت ووفاداری

مندرجہ بالا تصورِ حاکمیت و خلافت کا فطری اور منطقی تقاضا یہ ہے کہ اطاعت اور وفاداری کا مرجع بھی خالق اور اس کی ہدایات ہوں اور ریاست میں باقی تمام وفاداریاں اسی بنیادی وفاداری کی تابع ہوں۔ اس اصول کی وضاحت قرآن نے اس طرح کی ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًاo
النساء: 59:4
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘ پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو‘ اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
یہ آیت اسلام کے پورے مذہبی‘ تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولین دفعہ ہے۔ اس میں حسب ذیل اصول مستقل طور پر قائم کر دیے گئے ہیں:
۱۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک مسلمان سب سے پہلے بندۂ خدا ہے‘ باقی جو کچھ بھی ہے اس کے بعد ہے۔ مسلمان کی انفرادی زندگی اور مسلمانوں کے اجتماعی نظام‘ دونوں کا مرکز و محور خدا کی فرماں برداری اور وفاداری ہے۔ دوسری اطاعتیں اور وفاداریاں صرف اس صورت میں قبول کی جائیں گی کہ وہ خدا کی اطاعت اور وفاداری کی مدمقابل نہ ہوں‘ بلکہ اس کے تحت اور اس کی تابع ہوں، ورنہ ہر وہ حلقۂ اطاعت توڑ کر پھینک دیا جائے گا جو اس اصلی اور بنیادی اطاعت کا حریف ہو۔ یہی بات ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: لَاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ(مشکوٰۃ،حدیث ۳۵۲۵)’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے‘۔
۲۔ اسلامی نظام کی دوسری بنیاد رسول ؑ کی اطاعت ہے۔ یہ کوئی مستقل بالذات اطاعت نہیں ہے بلکہ اللہ کی اطاعت کی واحد عملی صورت ہے۔ رسول ؑ اس لیے مطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقے سے کرسکتے ہیں کہ رسول کی اطاعت کریں۔ کوئی اطاعت خدا اور رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے اور رسول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی مضمون کو یہ حدیث واضح کرتی ہے: مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ(مشکوٰۃ، حدیث۳۴۹۱ )
جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی‘‘ اور یہی بات خود قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ آگے آرہی ہے۔
۳۔ مذکورہ بالا دونوں اطاعتوں کے بعد اور ان کے ماتحت تیسری اطاعت جو اسلامی نظام میں مسلمانوں پر واجب ہے وہ ان’اولی الامر‘ کی اطاعت ہے جو خود مسلمانوں میں سے ہوں۔ ’اولی الامر‘ کے مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے سربراہ کار ہوں‘ خواہ وہ ذہنی و فکری رہنمائی کرنے والے علما ہوں، یا سیاسی رہنمائی کرنے والے لیڈر‘ یا ملکی انتظام کرنے والے حکام‘ یا عدالتی فیصلے کرنے والے جج یا تمدنی و معاشرتی امور میں قبیلوں اور بستیوں اور محلوں کی سربراہی کرنے والے شیوخ اور سردار۔ غرض جو جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا صاحب امر ہے وہ اطاعت کا مستحق ہے اور اس سے نزاع کرکے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے‘ بشرطیکہ وہ خود مسلمانوں کے گروہ میں سے ہو اور وہ خدا و رسولؐ کا مطیع ہو۔ یہ دونوں شرطیں اس اطاعت کے لیے لازمی شرطیں ہیں اور یہ نہ صرف آیت مذکورۂ صدر میں صاف طور پر درج ہیں، بلکہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ مثلاً حسب ذیل احادیث ملاحظہ ہوں:
۱۔ اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْ مَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔ (بخاری و مسلم)
مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند‘ تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہیے نہ ماننا چاہیے۔
۲۔ لاَ طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (بخاری و مسلم)
خدا اور رسول کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت جو کچھ بھی ہے ’معروف‘ میں ہے۔
یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اُمَرَائِ تَعْرِفُوْنَ وَتُنْکِرُوْنَ فَمَنْ اَنْکَرَ فَقَدْ بَرِیَٔ وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ فَقَالُوْا اَفَلاَ نُقَاتِلُھُمْ قَالَ لَا مَاصَلُّوْا۔۵۵؎
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پائو گے اور بعض کو منکر۔ تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضی کیا وہ بری الذمہ ہوا، اور جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا، مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا: پھر جب ایسے حکام کا دور آئے تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا :نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔(یعنی ترک نماز وہ علامت ہوگی جس سے صریح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت سے باہر ہوگئے ہیں اور پھر ان کے خلاف جدوجہد کرنا درست ہوگا۔)
۴۔ شِرَار اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تَبْغُضُوْنَھُمْ وَیَبْغُضُوْنَکُمْ وَتَلْعَنُوْنَھُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلاَ نُنَابِذُھُمْ عِنْدَذٰلِکَ قَالَ لَامَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلوٰۃَ لَامَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلٰوۃَ۔
(مسلم۔ مشکوۃ۳۵۰۰)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھارے بدترین سردار وہ ہیں جو تمھارے لیے مبغوض ہوں اور تم ان کے لیے مبغوض ہو۔ تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:یارسولؐ اللہ! جب یہ صورت ہو تو کیا ہم ان کے مقابلے پر نہ اٹھیں؟ فرمایا:’نہیں‘ جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں‘ نہیں‘ جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔
اس حدیث میں اوپر والی شرط کو واضح کر دیا گیا ہے۔ اوپر کی حدیث سے گمان ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اپنی انفرادی زندگی میں نماز کے پابند ہوں تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی، لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز پڑھنے سے مراد دراصل مسلمانوں کی جماعتی زندگی میں نماز کا نظام قائم کرنا ہے۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ لوگ خود پابند نماز ہوں‘ بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے تحت جو نظامِ حکومت چل رہا ہو وہ کم از کم اقامت ِ صلوٰۃ کا انتظام کرے۔ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ان کی حکومت اپنی اصلی نوعیت کے اعتبار سے ایک اسلامی حکومت ہے ورنہ اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ حکومت اسلام سے منحرف ہو چکی ہے اور اسے الٹ پھینکنے کی سعی مسلمانوں کے لیے جائز ہو جائے گی۔ اسی بات کو ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے من جملہ اور باتوں کے ایک اس امر کا عہد بھی لیا کہ:
اَنْ لاَّ نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہ‘ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ۔
(بخاری، مسلم۔ مشکوٰۃ ۳۴۹۶)
یعنی یہ کہ ہم اپنے سرداروں اور حکام سے نزاع نہ کریں گے‘ الایہ کہ ہم ان کے کاموں میں کھلا کفر دیکھیں جس کی موجودگی میں ان کے خلاف ہمارے پاس خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے دلیل موجود ہو۔
۴۔ چوتھی بات جو آیت زیر بحث میں ایک مستقل اور قطعی اصول کے طور پر طے کر دی گئی ہے یہ ہے کہ اسلامی نظام میں خدا کا حکم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند (final authority)کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان یا حکومت اور رعایا کے درمیان جس مسئلے میں بھی نزاع واقع ہوگی اُس میں فیصلے کے لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اس کے سامنے سب سرِتسلیم خم کردیں گے۔ اس طرح تمام مسائل زندگی میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سند اور مرجع اور حرفِ آخر تسلیم کرنا اسلامی نظام کی وہ لازمی خصوصیت ہے جو اسے کافرانہ نظامِ زندگی سے ممیز کرتی ہے۔ جس نظام میں یہ چیز نہ پائی جائے وہ بالیقین ایک غیر اسلامی نظام ہے۔
اس موقع پر بعض لوگ یہ شُبہ پیش کرتے ہیں کہ تمام مسائل زندگی کے فیصلے کے لیے کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیسے رجوع کیا جاسکتا ہے جب کہ میونسپلٹی اور ریلوے اور ڈاک خانے کے قواعد و ضوابط اور ایسے ہی بے شمار معاملات کے احکام سرے سے وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ شُبہ اصول دین کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان کو جو چیز کافر سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کافر مطلق آزادی کا مدعی ہے اور مسلمان فی الاصل بندہ ہونے کے بعد صرف اس دائرے میں آزادی سے متمتع ہوتا ہے جو اس کے رب نے اسے دی ہے۔ کافر اپنے سارے معاملات کا فیصلہ خود اپنے بنائے ہوئے اصول اور قوانین و ضوابط کے مطابق کرتا ہے اور سرے سے کسی خدائی سند کا اپنے آپ کو حاجت مند سمجھتا ہی نہیں۔ اس کے برعکس مسلمان پر ہر معاملے میں سب سے پہلے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا ہے‘ پھر اگر وہاں سے کوئی حکم ملے تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے اور اگر کوئی حکم نہ ملے تو وہ صرف اسی صورت میں آزادیِ عمل برتتا ہے اور اس کی یہ آزادی عمل اس حجت پر مبنی ہوتی ہے کہ اس معاملے میں شارع کا حکم نہ دینا اس کی طرف سے آزادی عمل عطا کیے جانے کی دلیل ہے۔
۵۔ پھر اس آیت کی رُو سے مسلمان اپنے اولی الامر سے نزاع کا حق رکھتے ہیں اور نزاع کی صورت میں فیصلہ جس چیز پر چھوڑا جائے گا وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوگی۔ یہ آخری سند جس کے حق میں بھی فیصلہ دے اسے ماننا پڑے گا خواہ فیصلہ اولی الامر کے حق میں ہو، یا رعایا کے حق میں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ اس حکم کا تقاضا پورا کرنے کے لیے کوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جس کے پاس نزاع لے جائی جائے اور جس کاکام یہ ہو کہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس نزاع کا فیصلہ کرے۔ یہ ادارہ خواہ کوئی مجلسِ علما ہو، یا سپریم کورٹ یا کوئی اور‘ اس کے تعین کی کسی خاص شکل پر شریعت نے ہمیں مجبور نہیں کر دیا ہے، مگر بہرحال ایسا کوئی ادارہ مملکت میں ہونا چاہیے اور اس کی یہ حیثیت خاص ہونی چاہیے کہ انتظامیہ اور مقننہ اور عدلیہ کے احکام اور فیصلوں کے خلاف ____ اس کے پاس مرافعہ کیا جاسکے اور اس کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کتاب و سنت کی ہدایات کے مطابق وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے۔
مزید برآں قرآنِ مجید چونکہ محض کتابِ آئین ہی نہیں ہے، بلکہ کتاب تعلیم و تلقین اور صحیفۂ وعظ و ارشاد بھی ہے‘ اس لیے پہلے فقرے میں جو قانونی اصول بیان کیے گئے تھے‘ اب اس دوسرے فقرے میں ان کی حکمت و مصلحت سمجھائی جارہی ہے۔ اس میں دوباتیں ارشاد ہوئی ہیں:
٭ ایک یہ کہ مذکورہ بالا چاروں اصولوں کی پیروی کرنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ اور ان اصولوں سے انحراف‘ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔
٭ دوسرے یہ کہ ان اصولوں پر اپنے نظام زندگی کو تعمیر کرنے ہی میں مسلمانوں کی بہتری بھی ہے۔
صرف یہی ایک چیز ان کو دنیا میں صراط مستقیم پر قائم رکھ سکتی ہے اور اسی سے ان کی عاقبت بھی درست ہوسکتی ہے۔ یہ نصیحت ٹھیک اس تقریر کے خاتمے پر ارشاد ہوئی ہے جس میں یہودیوں کی اخلاقی و دینی حالت پر تبصرہ کیا جارہا تھا۔ اس طرح ایک نہایت لطیف طریقے سے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمھاری پیش رَو امت دین کے ان بنیادی اصولوں سے منحرف ہو کر جس پستی میں گر چکی ہے اس سے عبرت حاصل کرو۔ جب کوئی گروہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت کو پسِ پُشت ڈال دیتا ہے‘ اور ایسے سرداروں اور رہنمائوں کے پیچھے لگ جاتا ہے جو خدا اور رسول کے مطیع فرمان نہ ہوں اور اپنے مذہبی پیشوائوں اور سیاسی حاکموں سے کتاب و سنت کی سند پوچھے بغیر ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے تو وہ ان خرابیوں میں مبتلا ہونے سے کسی طرح بچ نہیں سکتا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوئے۔ (تفہیم القرآن، ج ا، ص ۳۶۳۔۳۶۷)


باب ۴

اسلام کے سیاسی نظریے ہی میں نہیں، اُس کے پورے نظام حیات میں انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کو ایک مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ پچھلے ابواب میں اسلام کے سیاسی فلسفے پر جو گفتگو کی گئی ہے اس میں بھی اس تصور کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ لغت اور قرآن کے استعمالات کی روشنی میں اس لفظ کے معنی کی پوری پوری تحقیق کی جائے۔ یہ ضرورت اس لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایک گروہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ لوگوں کو باور کرائے کہ خلافت کے معنی نیابت نہیں، بلکہ جانشینی ہے اور قرآن میں اس لفظ سے مراد: انسان کو اختیارات کی تفویض اور دنیا کے انصرام کے لیے حقِ نیابت نہیں، بلکہ زمین پر انسان کی آمد سے پہلے جو مخلوق یہاں بستی تھی اس کی جانشینی ہے۔ یہ استدلال منکرینِ حدیث کی طرف سے خاص طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس گروہ کے ایک سرخیل نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آدم علیہ السلام کو جو خلافت، اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھی وہ اس معنی میں نہ تھی کہ اللہ نے ان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا تھا‘ بلکہ اس معنی میں تھی کہ ان کو اپنے سے پہلے ساکنانِ زمین کا جانشین بنایا گیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ خلافت کے معنی صرف جانشینی کے ہیں‘ اس لیے خلافتِ الٰہیہ کا تصور بے معنی ہے۔ اس نادر استدلال کو متجددین‘ منکرین حدیث اور لادینیت کے علم بردار بار بار پیش کرتے رہے ہیں اور چونکہ اب بھی کبھی کبھی یہ آوازیں سنائی دیتی ہیں اس لیے اس مسئلے کا صاف ہو جانا بہت ضروری ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمان القرآن میں اس طرزِ استدلال پر گرفت کی تھی۔ ایک دوسرے اہلِ قلم نے مولانا کے جواب پر تعاقب کیا‘ جس کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے یہ مضمون لکھا جو ماہنامہ ترجمان القرآن کے ذی القعدہ ۱۳۵۲ھ، مطابق فروری ۱۹۳۵ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ (مرتب)

معنی ٔ خلافت

خلافت کی بحث میں سب سے پہلے ہم کو لغت عرب کی طرف رجوع کرکے یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ کیا فی الواقع عربی زبان میں اس لفظ کے معنی صرف ’جانشینی‘ ہی کے ہیں، یا اس کے معنی نیابت کے بھی آتے ہیں۔
لغوی بحث
امام راغب اصفہانی اپنی مفردات میں لکھتے ہیں:
وَالْخِلاَ فَۃُ نِیَابَۃٌ عَنِ الْغَیْرِ اَمَّا لِغَیْبَۃِ الْمَنُوْبِ عَنْہُ وَاَمَّا لِمَوْتِہٖ وَاَمَّالِعَجْزِہٖ وَاَمَّالِتَشْرِیْفِ الْمُسْتَخْلِفِ۔
خلافت کسی دوسرے کی نیابت ہے‘ خواہ منوب عنہ‘ کے غائب ہونے کی وجہ سے ہو، یا اس کی موت کے سبب سے ہو، یا اس کے عجز کے سبب سے، یا اس شخص کو بزرگی عطا کرنے کے لیے جسے خلیفہ بنایا گیا ہے۔
لین (lane)نے اپنی مشہور لغت مدالقاموس (arabic english lexicon) میں لفظ خلیفہ کے معنی: successor کے علاوہ vicegerent کے بھی لکھے ہیں۔
خلافت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ منوب عنہ مر جائے یا موجود نہ ہو۔ امام راغب لکھتے ہیں:
خَلَفَ فُلاَنٌ فُلاَ نًا قَامَ بِالْاَمْرِعَنْہُ اَمَّا مَعَہ‘ وَاِمَّا بَعْدَہٗ۔
فلاں شخص فلاں شخص کا خلیفہ ہوا، یعنی اس کی طرف سے کار پرداز ہوا، خواہ اس کے ساتھ یا اس کے بعد۔
اس مادے سے جو ابواب مشتق ہوئے ہیں ان کی خاصیتوں سے اس کے معنی میں بھی تغیر واقع ہوتا ہے۔
خَلَفَ خِلاَفَۃً کے معنی: خلیفہ ہونے، یا بعد میں آنے، یا پیچھے رہنے کے ہیں۔ خَلَفَہ‘ خِلَافَۃً کَانَ خَلِیْفَتَہ‘ وَبَقِیَ بَعْدَہ‘ وَجَائَ بَعْدَہ‘۔ (تاج العروس)۔قرآن مجید میں ہے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ الاعراف169:7 یعنی ان کے بعد ایسے ناخلف آئے، یا ان کے جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث ہوئے۔ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ الاعراف142:7 اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم میری قوم کے اندر میرے بعد میرے جانشین یا نائب ہو۔ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ۔ الاعراف 150:7 موسیٰ نے کہا کہ میرے بعد تم نے میری بہت بری نیابت کی۔ وَلَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰۗىِٕكَۃً فِي الْاَرْضِ يَخْلُفُوْنَo الزخرف60:43 اگر ہم چاہیں تو زمین میں تم میں سے ملائکہ پیدا کریں جو تمھاری جگہ آباد ہوں۔
تَخَلُّفْ کے معنی: پیچھے رہ جانے کے ہیں۔ مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ۔ التوبہ120:9 مدینہ کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسولؐ کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے۔
اَخْلَفَ کے معنی: کھوئی ہوئی چیز واپس دینے‘ یا دلانے‘ یا اس کا بدل عطا کرنے کے ہیں۔ اَخْلَفَ اللّٰہُ لَکَ وَعَلَیْکَ خَیْرًا اَیْ اَبْدَلَکَ بِمَا ذَھَبَ عَنْکَ وَعَوَّضَکَ عَنْہُ (نہایہ ابن اثیر) چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَہُوَيُخْلِفُہٗ وَہُوَخَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ سبا39:34 جو تم خرچ کرو گے اللہ اس کا نعم البدل تم کو دے گا اور وہ بہترین رازق ہے۔ حدیث میں ہے:فَکَفَّلَ اللّٰہُ لِلْغَازِیْ اَنْ یُّخْلِفَ نَفَقَتَہ‘ ۔ اللہ نے غازی کے لیے ذمہ لیا ہے کہ جو کچھ وہ خرچ کرے گا‘ اللہ اس کا بدل عطا کرے گا۔
خَلَّفَ اور اِسْتَخْلَفَ کے معنی: اپنا خلیفہ بنانے کے ہیں:یُقَالُ خَلَّفَ فُلاَنًا اِذْجَعَلَہ‘ خَلِیْفَتَہ‘ کَاَسْتَخْلَفَہ‘۔ (تاج العروس)
اِسْتَخْلَفَ کہہ کر اگر منوب عنہ کی تصریح نہ کی گئی ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ اپنا خلیفہ بنایا: اِسْتَخْلَفَ فُلاَ نًا اَیْ جَعَلَہ‘ خَلِیْفَۃً لَہ‘۔اور اگر منوب عنہ کی تصریح ہو تو پھر معنی یہ ہوں گے کہ اس شخص کا جانشین بنایا جس کا ذکر کیا گیا ہے‘ اِسْتَخْلَفَ فُلاَ نًا مِنْ فُلاَنٍ اَیْ جَعَلَہ‘ مَکَانَہ‘ (اقرب الموارد)۔ پس جہاں قرآن مجید نے محض استخلاف کا ذکر کیا ہے اور مستخلف لہ کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا مثلاً: لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ النور55:24 ایسے مقامات پر استخلاف کے معنی یہی ہوں گے کہ اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا، اور جہاں مستخلف لہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں معنی یہ ہوں گے کہ دوسرے کی جگہ یا دوسرے کے بعد خلیفہ بنایا، لیکن واضح رہے کہ جب کبھی پچھلے نائب کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنے کا ذکر کیا جائے گا تو اس میں دونوں مفہوم شامل ہوں گے۔ یعنی اس کا مفہوم یہ بھی ہو گا کہ حاکم اعلیٰ نے فلاں شخص کو فلاں شخص کی جگہ مقرر کیا اور یہ بھی کہ اس نے فلاں شخص کے بعد فلاں شخص کو اپنا نائب مقرر کیا۔ مثلاً: اگر کہا جائے کہ ’ اِسْتَخْلَفَ الْمَلِکُ اللَّوْرَدَ اَرُوْنَ بَعْدَ اللَّوْرَدَ رِیْدِنْکَ فِی وِلاَیَۃِ ھِنْد‘ تو اس کے یہ معنی بھی ہوں گے کہ بادشاہ نے لارڈارون کو لارڈریڈنگ کے بعد اس کی جگہ ہندستان کا وائسرائے بنایا اور یہ بھی ہوں گے کہ اس نے ارون کو ریڈنگ کے بعد ہندستان کی ولایت میں اپنا وائسرائے مقرر کیا۔ ان دونوں مفہوموں میں کوئی تضاد و تناقض نہیں ہے کہ بیک وقت صادق نہ آسکیں۔ پس اِنْ يَّشَاْ يُذْہِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَاۗءُ الانعام133:6 کا یہ مفہوم بھی ہے کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو دے دے گا اور یہ بھی کہ خدا تمھاری جگہ دوسروں کو اپنا خلیفہ بنا لے گا۔ جہاں تک لغت کا تعلق ہے کوئی امر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں مفہوم لینے میں مانع نہیں ہے۔
جَعَلَہ‘ خَلِیْفَۃً کے معنی: صرف خلیفہ بنانے کے ہیں۔ خلیفہ کے معنی خواہ نائب کے ہوں یا جانشین کے‘ دونوں صورتوں میں اس کا مفہوم ایک اضافی مفہوم ہے اور اس کا اتمام بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ کوئی مستخلف لہ اور منوب عنہ بھی ہو‘ عام اس سے مقدر ہو یا مذکور۔ پس جس جگہ جَعَلَ خَلِیْفَۃً کے ساتھ قرآن مجید نے مستخلف لہ کی تصریح کر دی ہے وہاں تو مفہوم واضح ہے۔ مثلاً: وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ الاعراف69:7 اور وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ الاعراف74:7 اور ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِہِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ یونس14:10 لیکن جہاں مستخلف کی طرف قطعاً کوئی اشارہ نہیں ہے، وہاں ایک مستخلف لہ مقدر ماننا پڑے گا‘ مثلاً: يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَۃً فِي الْاَرْضِص26:38 اوروَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ النمل62:27 اور وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ الانعام 165:6 اور اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً البقرہ 30:2
اس طرح کی تمام آیات کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں انسان یا انسانوں کو کس کا خلیفہ بنانے کا ذکر ہے؟
اگر آپ کہتے ہیں کہ پچھلی مخلوقات یا گذشتہ اقوام‘ یا شاہانِ پیشین کا خلیفہ‘ تو قطع نظر اس سے کہ یہ ایک تکلف ہے، بعض آیتوں میں یہ معنی کھپتے ہی نہیں۔ مثال کے طور پر وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَائَ الْاَرْضِ میں خلفا کو زمین کی طرف مضاف کیا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ: زمین کے خلفا ہے۔ اس سے یہ معنی نکالنے کی کہاں گنجایش ہے کہ زمین پر پہلے جو لوگ متمکن تھے ان کے خلفاء؟ پھر اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ:میں پچھلے ساکنینِ ارض کا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں ان ساکنینِ ارض کا ذکر کیا ہے جن کی خلافت انسان کے سپرد کی گئی ہے؟ اگر کیا ہے تو حوالہ پیش کیجیے۔ اگر نہیں کیا تو فرمائیے کہ ایسی صورت میں محض زبان اور ادب کے نقطۂ نظر سے اس فقرے کا یہ مفہوم زیادہ اقرب الی الفہم ہے کہ’میں پچھلے مجہول الحال ساکنینِ ارض کا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘ یا یہ کہ میں زمین میں اپنا ایک نائب مقرر کرنے والا ہوں؟ اگر سامع صرف عربی جانتا ہو، اور ان عقلی مقدمات سے ناآشنائے محض ہو جنھیں مولانا …… نے ترتیب دے کر ایک نتیجہ اخذ کیا ہے‘ تو اس فقرے کو سن کر وہ ان دونوں معنوں میں سے کون سے معنی مراد لے گا؟

خلافت میں فرماں روائی کا مفہوم
اس لغوی تحقیق کے بعد میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ خلافت کے اس مفہوم پر غور کیجیے جس کو خود آپ نے اور مولانا …… نے مراد لیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
خلافت فی الارض سے مراد: زمین کی سلطنت و حکومت کی جانشینی ہے۔
مولانا…… اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً کا ترجمہ ’’میں زمین میں ایک بادشاہ بنانے والا ہوں‘ کرتے ہیں اور اس پر نوٹ لکھتے ہیں:
حضرت آدمؑ اپنے سے پہلے ساکنانِ زمین کے بجائے بادشاہ بنائے گئے تھے۔
غور فرمائیے کہ خلافت کے معنی تو محض جان نشینی یا قائم مقامی‘ یا بعد میں آنے کے ہیں۔ پھر اس میں بادشاہی اور فرماںروائی کا مفہوم کہاں سے آگیا؟ اگر نفسِ خلافت اس مفہوم سے خالی ہے اور یقیناً خالی ہے تو اس میں یہ مفہوم اس اعتبار ہی سے آ سکتا ہے کہ خلیفہ کو خلافت کسی فرماںروا اور کسی سلطان سے ملی ہو۔ پھر جب انسان کو وہ خلافت ملی جس میں خود آپ کے اعتراف کے مطابق سلطنت و فرماںروائی کی جھلک ہے تو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ انسان جس کا خلیفہ ہوا وہ کوئی فرماںروا تھا۔ اب فرمائیے کہ کیا قرآن سے علمی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر کوئی ایسی مخلوق تھی جس میں فرماںروائی کی شان تھی؟ فرماںروائی کے لیے علم‘ حکمت‘ اختیار‘ ارادہ‘ قدرت وغیرہ صفات کا ہونا ضروری ہے‘ کیونکہ ان کے بغیر زمین اور اس کی موجودات پر فرماںروائی نہیں ہوسکتی۔ علمی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کرۂ خاکی پر انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی موجود نہ تھی جو ان صفات سے متصف ہوتی۔ اسی کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے۔ وہ ہم کو بتاتا ہے کہ انسان سے پہلے خدا کی جو مخلوق سب سے افضل تھی یعنی ملا ئکہ جن کو عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ الانبیاء 26:21 کہا گیا ہے،اس کا بھی یہ حال تھا کہ وہ علم اشیاء سے بے خبر تھی ۔
ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَۃِ۝۰ۙ فَقَالَ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا البقرہ31-32:2 اور ارادہ و اختیار کی آزادی سے بالکل محروم تھی۔ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَo التحریم66:6 دوسری مخلوق جن تھے‘ سو اُن کے متعلق کوئی بات قرآن مجید نے ایسی بیان نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ان کو زمین کی فرماںروائی حاصل تھی۔ رہے حیوانات و نباتات و جمادات‘ تو ان کا حال آپ جانتے ہیں۔ پھر آخر وہ کون سی مخلوق تھی جس کی خلافت‘ زمین کی فرماںروائی کے اعزاز کے ساتھ انسان کو حاصل ہوئی؟
تاہم اگر مان لیا جائے کہ یہ پرانے ساکنینِ ارض ہی کی خلافت ہے اور وہ ساکنینِ ارض انسان سے پہلے زمین کے فرماںروا تھے‘ تو کیا وہ بالاصالت فرماںروا تھے‘ یا ان کی فرماںروائی بھی نائبانہ تھی؟ پہلی شق تو آپ اختیار نہیں کرسکتے‘ کیونکہ اسلامی عقیدے کی رُو سے بالاصل اور بالذات فرماںروا صرف حق تعالیٰ ہے اور اس کے سوا سب کی فرماںروائی محض عطائی ہے۔ اب رہی دوسری شق تو اس کو اختیار کرنے کی صورت میں یا تو آپ کو خلافت درخلافت کا ایک لامتناہی سلسلہ ماننا پڑے گا‘ یا پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ فرماںروائی کی شان خواہ یکے بعد دیگرے کتنے ہی خلفا کو ملی ہو‘ بہرحال اس کا سرچشمہ وہی ذاتِ حق تعالیٰ ہے اور خلافت میں بادشاہی کی جھلک اسی وقت آسکتی ہے جب کہ وہ خلافتِ الٰہی ہو۔
قرآنی اشارات
اب میں آپ کو ان قرآنی اشارات کی طرف توجہ دلائوں گا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جس خلافت سے سرفراز کیا گیا ہے وہ دراصل خلافت ِ الٰہی ہے۔ قرآنِ مجید کا بیان ہے کہ خدا نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍالتین95:4 اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا:قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَo صٓ75:38 اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی ‘ثُمَّ سَوّٰىہُ وَنَفَخَ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ السجدہ 9:32 اس کو علم کی نعمت سے سرفراز کیا: وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّہَا البقرہ31:2 زمین و آسمان کی ساری چیزوں کواُس کے حق میں مسخر کر دیا: وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ۝۰ۭ الجاثیہ13:45
ان صفات کے ساتھ جب انسان کی تخلیق پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ یہ حکم سورہ ص کے آخر میں جس انداز سے بیان کیا گیا ہے وہ خاص طور پر قابلِ غور ہے:
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍo فَاِذَا سَوَّيْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِيْنَo فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ كُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَo اِلَّآ اِبْلِيْسَ۝۰ۭ اِسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَo قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَo قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ۝۰ۭ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍo قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ o ص 71-77:38
جبکہ تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں‘ پس جب میں اس کو پورا بنالوں اور اس کے اندر اپنی رُوح سے کچھ پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ چنانچہ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا‘ مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ گھمنڈ میں پڑ گیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس کس چیز نے تجھے اس ہستی کو سجدہ کرنے سے منع کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو نے اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا ہے یا واقعی تو کچھ بڑے لوگوں میں سے ہے۔ اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اچھا تو یہاں سے تُو نکل جا، تُو مردود ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا تھا۔ یعنی وہ قدرت اور صنعت الٰہی کا مظہرِ اتم تھا اور اس کے اندر خود اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونکی تھی اور ایک محدود پیمانے پر اس میں وہ صفات پیدا کردی تھیں جو بدرجہ فوق التمام خود باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ اس شان اور ان صفات پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم اس کو زمین میں خلیفہ بنانے والے ہیں‘ جیسا کہ سورہ بقرہ کے چوتھے رکوع میں ارشاد ہوا ہے۔ فرشتوں نے اس معاملے میں کچھ اپنے شکوک پیش کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے انسان کی سب سے افضل صفت یعنی علم کا مظاہرہ کرایا۔ اس طرح جب خلافت کے لیے انسان کی اہلیت ثابت کر دی گئی تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کی خلافت تسلیم کرو اور علامتِ تسلیم کے طور پر اسے سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے اسے تسلیم کیا اور سربسجود ہوگئے‘ مگر شیطان نے اس کی خلافت ماننے سے انکار کیا‘ اس لیے اس کو راندہ ٔدرگاہ کر دیا گیا۔
یہ تمام اشارات کیا ظاہر کر رہے ہیں؟ تمام مخلوقات پر انسان کی فضیلت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام مقابلے میں اس کی فضیلت ثابت کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ہماری صفات کا مظہرِ اَتم ہے۔ ہم نے اس میں اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونکی ہے۔ حکم ہوتا ہے اور وہ بھی کس کو؟ فرشتوں کو کہ اس کو سجدہ کرو۔ ان سب باتوں کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اس کو خلیفہ بنانے والے ہیں۔ ان تیاریوں کے ساتھ جس خلیفہ کی خلافت کا اعلان کیا گیا‘ کیا وہ محض پرانے ساکنینِ ارض ہی کا خلیفہ تھا؟ اگر صرف بات اتنی ہی تھی کہ پرانے بسنے والوں کی جگہ کسی دوسرے کو بسایا جارہا تھا تو اس کے لیے فرشتوں کے سامنے اس کی خلافت کا اعلان کرنے اور یوں اس کی فضیلت کا مظاہرہ کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر ملائکہ کو یہ حکم کیوں دیا گیا کہ اس کرۂ خاکی کے نو آباد کار کو جو فقط دوسرے لوگوں کی جگہ لینے کے لیے جارہا تھا‘ سجدہ کریں؟
خلافت ِالٰہی سے مراد کیا ہے؟
دوسری بات جو قرآن مجید میں ایک اور موقع پر ارشاد ہوئی ہے‘ خلافت ِالٰہی کے مفہوم پر صاف روشنی ڈالتی ہے۔ فرمایا:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًاo الاحزاب72:33
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تھا، مگر انھوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے‘ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور انجام سے بے خبر نکلا۔
اس آیت میں بار امانت سے مراد اختیار (freedom of choice)اور ذمے داری و جواب دہی (responsibility)ہے اور ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں میں اس بار کو اٹھانے کی تاب نہ تھی۔ انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی نہ تھی جو یہ پوزیشن قبول کرسکتی۔ آخر کار انسان آیا اور اس نے یہ بار اٹھا لیا۔ اس بیان سے متعدد نکات نکلتے ہیں:
۱۔ انسان سے پہلے زمین و آسمان میں کوئی مخلوق بار امانت کی حامل نہیں تھی۔ انسان پہلی مخلوق ہے جس نے یہ بار اٹھایا ہے۔ لہٰذا منصب امانت میں وہ کسی مخلوق کا جانشین (successor) نہیں ہے۔
۲۔ جس چیز کو سورۂ بقرہ میں خلافت کہا گیا ہے وہی چیز یہاں امانت کے لفظ سے تعبیر کی گئی ہے، کیونکہ وہاں فرشتوں پر ثابت کیا گیا تھا کہ تم خلافت کے اہل نہیں ہو‘ اس کا اہل انسان ہے اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق ہماری امانت کا بار اٹھانے کی اہل نہ تھی‘ صرف انسان اس کا متحمل ہوا۔
۳۔ خلافت کے مفہوم کو امانت کا لفظ واضح کر دیتا ہے، اور یہ دونوں لفظ نظام عالم میں انسان کی صحیح حیثیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انسان زمین کافرماںروا ہے، مگر اس کی فرماںروائی بالاصالت نہیں ہے بلکہ تفویض کردہ (delegated)ہے۔ لہٰذا اللہ نے اس کے اختیاراتِ مفوضہ (delegated power)کو امانت سے تعبیر کیا ہے‘ اور اس حیثیت سے کہ وہ اس کی طرف سے ان اختیارات مفوضہ کو استعمال کرتا ہے، اسے خلیفہ (vicegerent)کہا ہے۔ اس تشریح کے مطابق خلیفہ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ شخص جو کسی کے بخشے ہوئے اختیارات کو استعمال کرے۔(person excercising delegated powers)



باب ۵

تقسیم ملک سے پہلے متحدہ ہندستان کے سیاسی مباحث میں سب سے اہم مسئلہ قومیت کا تصور رہا ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے اپنا جداگانہ تصور قومیت رکھتے ہیں اور انھوں نے کبھی غیر مسلموں کے ساتھ مل کر ایک قوم بن جانے کا تصور قبول نہیں کیا ہے لیکن بیسویں صدی میں مغربی اثرات اور ہندو سیاست کی وجہ سے متحدہ قومیت کا فتنہ ابھرا اور اس کے بڑے دور رَس اثرات تعلیم یافتہ طبقے پر پڑے۔ علامہ اقبالؒ ، مولانا مودودی ؒاوردوسرے مفکرین نے اس چیلنج کا جواب دیا اور متحدہ قومیت کے تصور پر شدید ترین تنقید کی۔ یہ اسی بروقت فکری رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ مسلمان متحدہ قومیت کے فتنے سے بچ گئے اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک برپا ہوئی۔
مولانا مودودیؒ کی تحریرات نے اس بیداری کے پیدا کرنے میں خصوصی حصہ اداکیا۔ ہم اس مجموعے کے موضوع کی مناسبت سے مولانا کے دو مضامین اس میں شامل کر رہے ہیں۔ یہ مضامین ماہنامہ ترجمان القرآن بابت ماہ نومبر و دسمبر ۱۹۳۳ء و بابت جون ۱۹۳۹ء سے لیے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے یہ مضامین دوسرے مضامین کے ساتھ کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں اور بلاشبہہ لاکھوں افراد کے ذہنوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ (مرتب)

۱۔اسلامی تصور قومیت

وحشت ۵۶؎ سے مدنیت کی طرف انسان کا پہلا قدم اٹھتے ہی ضروری ہو جاتا ہے کہ کثرت میں وحدت کی ایک شان پیدا ہو، اور مشترک اغراض و مصالح کے لیے متعدد افراد آپس میں مل کر تعاون اور اشتراکِ عمل کریں۔ تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس اجتماعی وحدت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس میں داخل ہو جاتی ہے۔ اسی مجموعۂ افراد کا نام ’قوم‘ ہے۔ اگرچہ لفظ ’قوم‘ اور’قومیت‘ اپنے مخصوص اصطلاحی معنوں میں حدیث العہد ہیں، مگر جس معنی پر ان کا اطلاق ہوتا ہے وہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود تمدن قدیم ہے۔ ’قوم‘ اور ’قومیت‘ جس ہیئت کا نام ہے وہ بابل‘ مصر‘ روم اور یونان میں بھی ویسی ہی تھی جیسی آج فرانس‘ انگلستان‘ جرمنی اور اٹلی میں ہے۔
قومیت کے غیر منفک لوازم
اس میں شک نہیں کہ قومیت کی ابتدا ایک معصوم جذبے سے ہوتی ہے‘ یعنی اس کا مقصد اول یہ ہوتا ہے کہ ایک خاص گروہ کے لوگ اپنے مشترک مفاد و مصالح کے لیے عمل کریں اور اجتماعی ضروریات کے لیے ایک ’قوم‘ بن کر رہیں، لیکن جب ان میں ’قومیت‘ پیدا ہو جاتی ہے تو لازم طور پر ’عصبیت‘ کا رنگ اس میں آجاتا ہے اور جتنی جتنی ’’قومیت‘‘ شدید ہوتی جاتی ہے اسی قدر ’عصبیت‘ میں بھی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جب کبھی ایک قوم اپنے مفاد کی خدمت اور اپنے مصالح کی حفاظت کے لیے اپنے آپ کو ایک رشتۂ اتحاد میں منسلک کرے گی، یا بالفاظ دیگر‘ اپنے گرد’قومیت‘ کا حصار چن لے گی تو لازماً وہ اس حصار کے اندر والوں اور باہر والوں کے درمیان اپنے اور غیر کا امتیاز کرے گی۔ اپنے کو ہر معاملے میں غیر پر ترجیح دے گی۔ غیر کے مقابلے میں اپنے کی حمایت کرے گی۔ جب کبھی دونوں کے مفاد و مصالح میں اختلاف واقع ہوگا تو وہ اپنے کے مفاد کی حفاظت کرے گی اور اس پر غیر کے مفاد کو قربان کردے گی۔ انھی وجوہ سے ان میں صلح بھی ہوگی اور جنگ بھی، مگر رزم اور بزم دونوں میں قومیت کی حد فاصل دونوں گروہوں کے درمیان قائم رہے گی۔ اسی چیز کا نام عصبیت و حمیت ہے اور قومیت کی یہ وہ لازمی خصوصیت ہے جو اس کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔
قومیت کے عناصرِ ترکیبی
قومیت کا قیام وحدت و اشتراک کی کسی ایک جہت سے ہوتا ہے‘ خواہ وہ کوئی جہت ہو۔ البتہ شرط یہ ہے کہ اس میں ایسی زبردست قوت رابطہ و ضابطہ ہونی چاہیے کہ اجسام کے تعدد اور نفوس کے تکثر کے باوجود وہ لوگوں کو ایک کلمہ‘ ایک خیال‘ ایک مقصد اور ایک عمل پر جمع کر دے اور قوم کے مختلف کثیر التعداد اجزا کو قومیت کے تعلق سے اس طرح بستہ و پیوستہ کر دے کہ وہ سب ایک ٹھوس چٹان بن جائیں اور افرادِ قوم کے دل و دماغ پر اتنا تسلط و غلبہ حاصل کرے کہ قومی مفاد کے معاملے میں وہ سب متحد ہوں اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہیں۔
یوں تو اشتراک اور وحدت کی جہتیں بہت سی ہونی ممکن ہیں‘ لیکن آغاز عہد تاریخ سے آج تک دنیا میں جتنی قومیتیں بنی ہیں ان سب کی تعمیر بجز ایک اسلامی قومیت کے‘ حسب ذیل اشتراکات میں سے کسی ایک قسم کے اشتراک پر ہوئی ہے اور اس عنصر کے ساتھ چند دوسرے اشتراکات بھی بطور مددگار کے شریک ہوگئے ہیں:
۱۔ اشتراکِ نسل‘ جس کو ’نسلیت‘کہتے ہیں۔
۲۔ اشتراکِ مرزبوم‘ جس کو’وطنیت‘ کہتے ہیں۔
۳۔ اشتراکِ زبان‘ جو وحدت خیال کا ایک زبردست ذریعہ ہونے کی وجہ سے قومیت کی تعمیر میں خاص حصہ لیتا ہے۔
۴۔ اشتراکِ رنگ‘ جو ایک رنگ کے لوگوں میں یک جنسی کا احساس پیدا کرتا ہے اور پھر یہی احساس ترقی کرکے ان کو دوسرے رنگ کے لوگوں سے احتراز و اجتناب پر آمادہ کر دیتا ہے۔
۵۔ معاشی اغراض کا اشتراک‘ جو ایک معاشی نظام کے لوگوں کو دوسرے معاشی نظام والوں کے مقابلے میں ممتاز کرتا ہے اور جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے معاشی حقوق و منافع کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
۶۔ نظام حکومت کا اشتراک‘ جو ایک سلطنت کی رعایا کو مشترک نظم و نسق کے رشتے میں منسلک کرتا ہے اور دوسری سلطنت کی رعایا کے مقابلے میں حدود فاصلہ قائم کر دیتا ہے۔
قدیم ترین عہد سے لے کر آج بیسیویں صدی کے روشن زمانے تک‘ جتنی قومیتوں کے عناصرِ اصلیہ کا آپ تجسس کریں گے‘ ان سب میں آپ کو یہی مذکورہ بالا عناصر ملیں گے۔اب سے دو تین ہزار برس پہلے یونانیت‘ رومیت‘ اسرائیلیت‘ ایرانیت وغیرہ بھی انھی بنیادوں پر قائم تھیں جن پر آج جرمنیت‘ اطالویت‘ فرانسیسیت‘ انگریزیت‘ امریکنیت‘ روسیت اور جاپانیت وغیرہ قائم ہیں۔
یہ بالکل صحیح ہے کہ یہ بنیادیں جن پر دنیا کی مختلف قومیتیں تعمیر کی گئی ہیں انھوں نے بڑی قوت کے ساتھ جماعتوں کی شیرازہ بندی کی ہے‘ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ اس قسم کی قومیتیں بنی نوع انسان کے لیے ایک شدید مصیبت ہیں۔ انھوں نے عالمِ انسانی کو سیکڑوں ہزاروں حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور حصے بھی ایسے کہ ایک حصہ فنا کیا جاسکتا ہے، مگر دوسرے حصے میں کسی طرح تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ایک نسل دوسری نسل میں نہیں بدل سکتی۔ ایک وطن دوسرا وطن نہیں بن سکتا۔ ایک زبان کے بولنے والے دوسری زبان کے بولنے والے نہیں بن سکتے۔ ایک رنگ دوسرا رنگ نہیں بن سکتا۔ ایک قوم کی معاشی اغراض بعینہٖ دوسری قوم کی اغراض نہیں بن سکتیں۔ ایک سلطنت کبھی دوسری سلطنت نہیں بن سکتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو قومیتیں ان بنیادوں پر تعمیر ہوتی ہیں‘ ان کے درمیان مصالحت کی کوئی سبیل نہیں نکل سکتی۔ قومی عصبیت کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے خلاف مسابقت‘ مزاحمت اور منافست ] مقابلے[ کی ایک دائمی کشمکش میں مبتلا رہتی ہیں۔ ایک دوسرے کو پامال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپس میں لڑ لڑ کر فنا ہو جاتی ہیں اور پھر انھی بنیادوں پر دوسری قومیتیں ایسے ہی ہنگامے برپا کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ دنیا میں فساد‘ بدامنی اور شرارت کا ایک مستقل سرچشمہ ہے‘ خدا کی سب سے بڑی لعنت ہے‘ شیطان کا سب سے زیادہ کامیاب حربہ ہے جس سے وہ اپنے ازلی دشمن کا شکار کرتا ہے۔
عصبیت ِ جاہلیہ
اس قسم کی قومیت کا فطری اقتضا یہ ہے کہ وہ انسان میں جاہلانہ عصبیت پیدا کرے۔ وہ ایک قوم کو دوسری قوم سے مخالفت اور نفرت برتنے پر صرف اس لیے آمادہ کرتی ہے کہ وہ دوسری قوم کیوں ہے؟ اسے حق‘ صداقت‘ دیانت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ صرف یہ بات کہ ایک شخص کالا ہے‘ گورے کی نظر میں اسے حقیر بنا دیتی ہے۔ صرف اتنی سی بات کہ ایک انسان ایشیائی ہے‘ فرنگی کی نفرتوں اور جابرانہ دراز دستیوں اور حق تلفیوں کو اس کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ آئن سٹائن جیسے فاضل کا اسرائیلی ہونا اس کے لیے کافی ہے کہ جرمن اس سے نفرت کرے۔ تشکیدی ۵۷؎ کا محض سیاہ فام حبشی ہونا‘اس کو جائز کر دیتا ہے کہ یورپین کو سزا دینے کے جرم میں اس کی ریاست چھین لی جائے۔ امریکہ کے مہذب باشندوں کے لیے یہ قطعاً جائز ہے کہ وہ حبشیوں کو پکڑ کر زندہ جلا دیں کیونکہ وہ حبشی ہیں۔ ان کو اپنے محلوں میں نہ رہنے دیں‘ عام سڑکوں پر نہ چلنے دیں‘ تعلیمی اداروں میں تعلیم نہ پانے دیں اور ووٹ تک سے محروم رکھیں۔ جرمن کا جرمن ہونا اور فرانسیسی کا فرانسیسی ہونا اس بات کے لیے کافی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کریں، اور دونوں کو ایک دوسرے کے محاسن یکسر معائب نظر آئیں۔ سرحد کے آزاد افغانیوں کا افغانی ہونا اور دمشق کے باشندوں کا عرب ہونا‘ انگریز اور فرانسیسی کو اس کا پورا حق بخش دیتا ہے کہ وہ ان کے سروں پر طیاروں سے بم برسائیں اور ان کی آبادیوں کا قتل عام کریں‘ خواہ یورپ کے مہذب شہریوں پر اس قسم کی گولہ باری کتنی ہی وحشیانہ حرکت سمجھی جاتی ہو۔ غرض یہ جنسی امتیاز وہ چیز ہے جو انسان کو حق اور انصاف سے اندھا بنا دیتی ہے اور اس کی وجہ سے عالمگیر اصول اخلاق و شرافت بھی قومیتوں کے قالب میں ڈھل کر کہیں ظلم اور کہیں عدل‘ کہیں سچ اور کہیں جھوٹ‘ کہیں کمینگی اور کہیں شرافت بن جاتے ہیں۔
کیا انسان کے لیے اس سے زیادہ غیر معقول ذہنیت اور کوئی ہوسکتی ہے کہ وہ نالائق‘ بدکار اور شریر آدمی کو ایک لائق‘ صالح اور نیک نفس آدمی پر صرف اس لیے ترجیح دے کہ پہلا ایک نسل میں پیدا ہوا ہے اور دوسرا کسی اور نسل میں؟ پہلا سپید ہے اور دوسرا سیاہ؟ پہلا ایک پہاڑ کے مغرب میں پیدا ہوا ہے اور دوسرا اس کے مشرق میں؟ پہلا ایک زبان بولتا ہے اور دوسرا کوئی اور زبان۔ پہلا ایک سلطنت کی رعایا ہے اور دوسرا کسی اور سلطنت کی؟ کیا جلد کے رنگ کو روح کی صفائی و کدورت میں بھی کوئی دخل ہے؟ کیا عقل اس کو باور کرتی ہے کہ اخلاق و اوصاف انسانی کے صلاح و فساد سے پہاڑوں اور دریائوں کا کوئی تعلق ہے‘ کیا کوئی صحیح الدماغ انسان یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ مشرق میں جو چیز حق ہو، وہ مغرب میں باطل ہو جائے؟ کیا کسی قلب سلیم میں اس چیز کے تصور کی گنجائش نکل سکتی ہے کہ نیکی‘ شرافت اور جو ہر انسانیت کو رگو ں کے خون‘ زبان کی بولی‘ مولدو مسکن کی خاک کے معیار پر جانچا جائے؟ یقیناً عقل ان سوالات کا جواب نفی میں دے گی، مگر نسلیّت‘ وطنیت اور اس کے بہن بھائی نہایت بے باکی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہے۔
قومیت کے عناصر پر ایک عقلی تنقید
تھوڑی دیر کے لیے اس پہلو سے قطع نظر کر لیجیے۔ یہ جتنے اشتراکات آج قومیت کی بنیاد بنے ہوئے ہیں ان کو خود ان کی ذاتی حیثیت سے دیکھیے اور غور کیجیے کہ آیا یہ بجائے خود کوئی مضبوط عقلی بنیاد بھی رکھتے ہیں یا ان کی حقیقت محض سراب تخیل کی ہے۔
۱۔ نسلیت کیا ہے؟ محض خون کا اشتراک۔ اس کا نقطۂ آغاز ماں اور باپ کا نطفہ ہے جس سے چند انسانوں میں خونی رشتہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی نطفہ پھیل کر خاندان بنتا ہے‘ پھر قبیلہ‘ پھر نسل۔ اس آخری حد یعنی نسل تک پہنچتے پہنچتے انسان اپنے اس باپ سے جس کو اس نے اپنی نسل کا مورث اعلیٰ قرار دیا ہے‘ اتنا دور ہو جاتا ہے کہ اس کی موروثیت محض ایک خیالی چیز بن جاتی ہے۔ نام نہاد ’نسل‘ کے اس دریا میں بیرونی خون کے بہت سے ندی نالے آکر مل جاتے ہیں اور کوئی صاحبِ عقل و علم انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ دریا خالص اسی پانی کا ہے جو اپنے اصلی سرچشمے سے نکلا تھا۔ پھر اگر اس خلط ملط کے باوجود خون کے اشتراک کی بنا پر انسان ایک ’نسل‘ کو اپنے لیے مادہ ٔاتحاد قرار دے سکتا ہے‘ تو کیوں نہ اس خون کے اشتراک کو بنائے وحدت قرار دیا جائے جو تمام انسانوں کوان کے پہلے باپ اور پہلی ماں سے ملاتا ہے اور کیوں نہ تمام انسانوں کو ایک ہی نسل اور ایک ہی اصل کی طرف منسوب کیا جائے؟ آج جن لوگوں کو مختلف نسلوں کا بانی و مورث قرار دے لیا گیا ہے ان سب کا نسب اوپر جاکر کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے مل جاتا ہے اور آخر میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ سب ایک اصل سے ہیں۔ پھر یہ آریت اور سامیت کی تقسیم کیسی؟
۲۔ مرزبوم کے اشتراک کی حقیقت اس سے زیادہ موہوم ہے۔ انسان جس جگہ پیدا ہوتا ہے اس کا رقبہ یقیناً ایک گز مربع سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس رقبے کو اگر وہ اپنا وطن قرار دے تو شاید وہ کسی ملک کو اپنا وطن نہیں کہہ سکتا۔ لیکن وہ اس چھوٹے سے رقبے کے گرد میلوں اور کوسوں اور بسا اوقات سیکڑوں اور ہزاروں میل تک ایک سرحدی خط کھینچ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں تک میرا وطن ہے اور اس سے باہر جو کچھ ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض اس کی نظر کی تنگی ہے‘ ورنہ کوئی چیز اسے تمام رُوئے زمین کو اپنا وطن کہنے سے مانع نہیں ہے۔ جس دلیل کی بنا پر ایک مربع گز کا وطن پھیل کر ہزاروں مربع گز بن سکتا ہے‘ اسی دلیل کی بنا پر وہ پھیل کر پورا کرۂ ارضی بھی بن سکتا ہے۔ اگر آدمی اپنے زاویۂ نظر کو تنگ نہ کرے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ دریا اور پہاڑ اور سمندر وغیرہ جن کو اس نے محض اپنے خیال میں حدودِ فاصل قرار دے کر ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان فرق کیا ہے‘ سب کے سب ایک ہی زمین کے اجزا ہیں۔ پھر کس بنا پر اس نے دریائوں اور پہاڑوں اور سمندروں کو یہ حق دے دیا کہ وہ اسے ایک خاص خطے میں قید کر دیں؟ وہ کیوں نہیں کہتا کہ میں زمین کا باشندہ ہوں‘ سارا کرۂ زمین میرا وطن ہے‘ جتنے انسان ربع مسکون ۵۸؎ میں آباد ہیں ‘ میرے ہم وطن ہیں‘ اس پورے سیارے پر میں وہی پیدائشی حقوق رکھتا ہوں‘ جو اس گز بھر زمین پر مجھے حاصل ہیں جہاں میں پیدا ہوا ہوں؟
۳۔ اشتراکِ زبان کا فائدہ صرف اس قدر ہے کہ جو لوگ ایک زبان بولتے ہیں وہ باہمی تفاہم اور تبادلۂ خیالات کے زیادہ مواقع رکھتے ہیں۔ اس سے اجنبیت کا پردہ بڑی حد تک اٹھ جاتا ہے‘ اور ایک زبان بولنے والے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے قریب تر محسوس کرتے ہیں، مگر ادائے خیال کے وسیلے کا مشترک ہونا خود خیال کے اشتراک کو مستلزم نہیں ہے۔ ایک ہی خیال دس مختلف زبانوں میں ادا ہوسکتا ہے اور ان سب کے بولنے والوں کا اس خیال میں متحد ہو جانا ناممکن ہے۔ بخلاف اس کے دس مختلف خیالات ایک زبان میں ادا ہوسکتے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ اس ایک ہی زبان کے بولنے والے، ان مختلف خیالات کے معتقد ہو کر باہم مختلف ہو جائیں۔ لہٰذا وحدتِ خیال جو حقیقتاً قومیت کی جان ہے‘ اشتراکِ زبان کی محتاج نہیں ہے اور نہ اشتراکِ زبان کے ساتھ وحدثِ خیال ضروری ہے۔ پھر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آدمی کی آدمیت اور اس کے ذاتی حسن و قبح میں اس کی زبان کو کیا دخل ہے؟ ایک جرمن بولنے والے شخص کو ایک فرنچ بولنے والے کے مقابلے میں کیا محض اس بنا پر ترجیح دی جاسکتی ہے کہ وہ جرمن زبان بولتا ہے؟ دیکھنے کی چیز اس کا جوہر ذاتی ہے نہ کہ اس کی زبان۔ زیادہ سے زیادہ اگر کچھ کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ ایک ملک کے انتظامی معاملات اور عام کاروبار میں وہی شخص مفید ہو سکتا ہے جو اس ملک کی زبان جانتا ہو، مگر انسانیت کی تقسیم اور قومی امتیاز کے لیے یہ کوئی صحیح بنیاد نہیں ہے۔
۴۔انسانی جماعتوں میں رنگ کا امتیاز سب سے زیادہ لغو اور مہمل چیز ہے۔ رنگ محض جسم کی صفت ہے‘ مگر انسان کے انسان ہونے کا شرف اس کے جسم کی بنا پر نہیں‘ اس کی روح‘ اس کے نفسِ ناطقہ کی بنا پر ہے‘ جس کا کوئی رنگ نہیں ہے۔ پھر انسان اور انسان میں زردی اور سرخی‘ سیاہی اور سپیدی کا امتیاز کیسا؟ ہم کالی گائے اور سپید گائے کے دودھ میں کوئی فرق نہیں کرتے اس لیے کہ مقصود اس کا دودھ ہے نہ کہ اس کا رنگ۔ لیکن عقل کی بے راہ روی کا بُرا ہو کہ اس نے ہم کو انسان کی نفسی صفات سے قطع نظر کرکے اس کی جلد کے رنگ کی طرف متوجہ کر دیا۔
۵۔ معاشی اغراض کا اشتراک انسانی خود غرضی کا ایک ناجائز بچہ ہے۔ قدرت نے اس کو ہرگز پیدا نہیں کیا۔ آدمی کا بچہ کام کرنے کی قوتیں ماں کے پیٹ سے لے کر پیدا ہوتا ہے۔ جدوجہد کے لیے اسے ایک وسیع میدان ملتا ہے اور زندگی کے بے شمار وسائل اس کا استقبال کرتے ہیں، مگر وہ اپنی معیشت کے لیے صرف اس کو کافی نہیں سمجھتا کہ اس کے لیے رزق کے دروازے کھلیں‘ بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ دوسروں کے لیے وہ بند ہو جائیں۔ اسی خود غرضی میں انسانوں کی کسی بڑی جماعت کے مشترک ہو جانے سے وہ وحدت پیدا ہوتی ہے جو انھیں ایک قوم بننے میں مدد دیتی ہے۔ بظاہر وہ سمجھتے ہیں کہ انسان نے معاشی اغراض کا ایک حلقہ قائم کرکے اپنے حقوق و مفاد کا تحفظ کرلیا۔ لیکن جب اس طرح بہت سی جماعتیں اپنے گرد اسی قسم کے حصار کھینچ لیتی ہیں تو انسان پر اس کے اپنے ہاتھوں سے عرصۂ حیات تنگ ہو جاتا ہے۔ اس کی اپنی خود غرضی اس کے لیے پائوں کی بیڑی اور ہاتھ کی ہتھکڑی بن جاتی ہے۔ دوسروں کے لیے رزق کے دروازے بند کرنے کی کوشش میں وہ خود اپنے رزق کی کنجیاں گم کردیتا ہے۔ آج ہماری آنکھوں کے سامنے یہ منظر موجود ہے کہ یورپ‘ امریکہ اور جاپان کی سلطنتیں اسی کا خمیازہ بھگت رہی ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان معاشی قلعوں کو کس طرح مسمار کریں جن کو انھوں نے خود ہی حفاظت کا بہترین وسیلہ سمجھ کر تعمیر کیا تھا۔ کیا اس کے بعد بھی ہم یہ نہ سمجھیں گے کہ کسبِ معیشت کے لیے حلقوںکی تقسیم اور ان کی بنا پر قومی امتیازات کا قیام ایک غیر عاقلانہ فعل ہے؟ خدا کی وسیع زمین پر انسان کو اپنے رب کا فضل تلاش کرنے کی آزادی دینے میں آخر کون سی قباحت ہے؟
۶۔نظام حکومت کا اشتراک بجائے خود ایک ناپایدار اور ضعیف البنیان چیز ہے اور اس کی بنا پر ہرگز کسی مستحکم قومیت کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ ایک سلطنت کی رعایا کو اس کی وفاداری کے رشتے میں منسلک کرکے ایک قوم بنا دینے کا خیال کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ سلطنت جب تک غالب و قاہر رہتی ہے‘ رعایا اس کے قانون کی گرفت میں بندھی رہتی ہے۔ یہ گرفت جہاں ڈھیلی ہوئی مختلف عناصر منتشر ہو گئے۔ سلطنت ِ مغلیہ میں مرکزی طاقت کے کمزور ہونے کے بعد کوئی چیز ہندستان کے مختلف علاقوں کو اپنی الگ الگ سیاسی قومیتیں بنا لینے سے نہ روک سکی۔ یہی حشر سلطنت ِعثمانیہ کا ہوا۔ آخری دور میں جو ان ترک نے عثمانی قومیت کا قصر تعمیر کرنے کے لیے بہت کچھ زور لگایا، مگر ایک ٹھیس لگتے ہی سب اینٹ پتھر جدا ہوگئے۔ تازہ ترین مثال آسٹریا‘ ہنگری کی ہے۔ تاریخ سے بہت سی مثالیں اور بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد جو لوگ سیاسی قومیتوں کی تعمیر ممکن سمجھتے ہیں وہ محض اپنے تخیل کی شادابی کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
اس تنقید سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نسلِ انسانی میں یہ جتنی تفریقیں کی گئی ہیں، ان کے لیے کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے۔ یہ صرف حسی اور مادی تفریقیں ہیں جن کا ہر دائرہ زاویۂ نظر کی ہر وسعت پرٹوٹ جاتا ہے۔ ان کا قیام و بقا جہالت کی تاریکی‘ نگاہ کی محدودیت اور دل کی تنگی پر منحصر ہے۔ علم و عرفان کی روشنی جس قدرپھیلتی ہے‘ بصیرت کی رسائی جس قدر بڑھتی ہے‘ قلب میں جتنی جتنی وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے‘ یہ مادی اور حسی پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ نسلیت کو انسانیت کے لیے اور وطنیت کو آفاقیت کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔ اختلاف رنگ و زبان میں جو ہر انسانی کی وحدت جلوہ گر ہوتی ہے۔ خدا کی زمین میں خدا کے سب بندوں کی معاشی اغراض مشترک پائی جاتی ہیں۔ سیاسی نظامات کے دائرے محض چند سائے نظر آتے ہیں جو آفتاب ِاقبال کی گردش سے رُوئے زمین پر چلتے پھرتے اور گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔
اسلام کا وسیع نظریہ
ٹھیک یہی بات ہے جو اسلام کہتا ہے۔ اس نے انسان اور انسان کے درمیان کسی مادی اور حسی فرق کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سب انسان ایک ہی اصل سے ہیں:
خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً النسائ4:1
خدا نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا۔ پھر اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو (دنیا میں) پھیلا دیا۔
تمھارے درمیان مرزبوم اور مولد و مدفن کا اختلاف کوئی جوہری چیز نہیں ہے۔ اصل میں تم سب ایک ہی ہو۔
وَہُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ۝۰ۭ الانعام98:6
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ پھر ہر ایک کا ایک ٹھکانہ ہے اور ایک جگہ اس کے سپرد خاک ہونے کی ہے۔
اس کے بعد نسل اور خاندان کے اختلاف کی بھی یہ حقیقت بتلا دی کہ:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات13:49
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو گروہ اور قبائل بنا دیا تاکہ تم آپس میں پہچانے جائو، مگر درحقیقت معزز تو تم میں وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔
یعنی یہ شعوب و قبائل کا اختلاف محض تعارف کے لیے ہے‘ آپس کے بغض، ایک دوسرے پر تفاخر‘ ایک دوسرے سے جھگڑنے کے لیے نہیں ہے۔ اس اختلاف میں انسانی اصل کی وحدت کو نہ بھول جائو۔ تم میں اگر کوئی حقیقی تفریق ہے تو وہ اخلاق و اعمال کی نیکی اور بدی کی بنا پر ہے۔
پھر فرمایا کہ یہ گروہوں کی تفریق اور جماعتوں کا اختلاف خدا کا عذاب ہے جو تم کو آپس کی دشمنی کا مزہ چکھاتا ہے:
اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ۝۰ۭ الانعام65:6
یا تو تم کو گروہ گروہ بنا دے اور تمھیں ایک دوسرے کی قوت کا مزہ چکھائے۔
اس گروہ بندی کو اس نے مِن جملہ ان جرائم کے قرار دیا ہے جن کی بنا پر فرعون لعنت و عذاب کا مستحق ہوا۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا القصص 4:28
فرعون نے زمین پر تکبر کیا اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔۵۹؎
پھر کہا: زمین خدا کی ہے‘ اس نے نوعِ انسانی کو اس میں اپنی خلافت سے سرفراز کیا ہے‘ اس کی سب چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے۔ کچھ ضروری نہیں کہ انسان ایک خطے کا بندہ بن کر رہ جائے۔ یہ وسیع زمین اس کے لیے کھلی ہوئی ہے‘ ایک جگہ اس کے لیے تنگ ہو تو دوسری جگہ چلا جائے‘ جہاں جائے گا خدا کی نعمتیں موجود پائے گا:
اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً۝۰ۭ البقرہ30:2
(آدم کی تخلیق کے وقت خدا نے فرمایا کہ) میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ الحج65:22
کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے تمھارے لیے ان چیزوں کو مسخر کر دیا ہے جو زمین میں ہیں۔
اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا۝۰ۭ النساء97:4
کیا اللہ کی زمین وسیع اور کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرکے چلے جاتے۔
وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَۃً۝۰ۭ النساء100:4
جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں وافر جگہ اور کشائش پائے گا۔
آپ پورے قرآن کو دیکھ جائیے۔ اس میں ایک لفظ بھی آپ کو نسلیت یا وطنیت کی تائید میں نہ ملے گا۔ اس کی دعوت کا خطاب پوری نوع انسانی سے ہے۔ تمام رُوئے زمین کی انسانی مخلوق کو وہ خیر و صلاح کی طرف بلاتا ہے۔ اس میں نہ کسی قوم کی تخصیص ہے اورنہ کسی سرزمین کی۔ اس نے اگر کسی زمین کے ساتھ خاص تعلق پیدا کیا ہے تو وہ صرف مکہ کی زمین ہے‘ لیکن اس کے متعلق بھی صاف کہہ دیا کہ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْہِ وَالْبَادِ ط الحج25:22 یعنی مکہ کے اصلی باشندے اور باہر والے سب مسلمان برابر ہیں، ۶۰؎ اور جو مشرکین وہاں کے اصلی باشندے تھے، ان کے متعلق کہا کہ وہ نجس ہیں‘ ان کو وہاں سے نکال باہر کرو: اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عَا مِھِمْ ھٰذَا۔ التوبہ 28:9 مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔
اس تصریح کے بعد اسلام میں وطنیت کا کلی استیصال ہو جاتا ہے اور درحقیقت ایک مسلمان یہی کہہ سکتا ہے کہ:
ہر ملک ملکِ ماست کہ ملک خدائے ماست
عصبیت اور اسلام کی دشمنی
اسلام جب ظاہر ہوا تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی نسل و وطن کے تعصبات و امتیازات تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی قوم ان تعصبات میں سب سے پیش پیش تھی۔ خاندانوں کے مفاخر اور نسبی و ذاتی و جاہتوں کے تخیّلات، ان کے اور اسلام کے درمیان شدت کے ساتھ حائل تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اگر خدا کی طرف سے اترتا تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر اترتا: وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ۔۶۱؎ الزخرف31:43 ابوجہل سمجھتاتھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسالت کا دعویٰ کرکے اپنے خاندانی مفاخر میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا قول تھا کہ:
ہم سے اور بنو عبدمناف سے مقابلہ تھا۔ ہم شہسواری میں ان کے حریف تھے۔ کھانے اور کھلانے میں‘ عطا اور بخشش میں ان کے برابر تھے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں وحی آنی شروع ہوئی ہے۔ خدا کی قسم! ہم تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق نہ کریں گے۔
یہ صرف ابوجہل ہی کے خیالات نہ تھے، بلکہ تمام مشرکین قریش کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ دین کا یہی عیب تھا کہ:
مذہب او قاطع ملک و نسب
از قریش و منکر از فضل عرب
در نگاہ او یکے بالا و پست
با غلام خویش بریک خواں نشست
قدرِ احرارِ عرب نشناختہ
با کلفتان حبش در ساختہ
احمراں با اسوداں آمیختند
آبروئے دودمانے ریختند ۶۲؎
اسی بنا پر قریش کے تمام خاندان بنی ہاشم سے بگڑ گئے اور بنی ہاشم نے بھی اسی قومی عصبیت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی‘ حالانکہ ان میں سے اکثر مسلمان نہ تھے۔ شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کو اسی لیے محصور کیا گیا اور تمام قریش نے اسی وجہ سے ان سے مقاطعہ کرلیا۔ جن مسلمانوں کے خاندان کمزور تھے ان کو شدید مظالم سے تنگ آکر حبش کی جانب ہجرت کرنی پڑی اور جن کے خاندان طاقت وَر تھے وہ اپنی حق پرستی کی بنا پر نہیں، بلکہ خاندانی طاقت کی بنا پر قریش کے ظلم و ستم سے ایک حد تک محفوظ رہے۔
عرب کے یہودی، انبیائے بنی اسرائیل (علیھم السلام)کی پیشین گوئیوں کی بنا پر مدتوں سے ایک نبی کے منتظر تھے۔ انھی کی دی ہوئی خبروں کا نتیجہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت شائع ہوئی تو مدینہ کے بہت سے باشندے مسلمان ہوگئے، مگر خود یہودیوں کو جس چیز نے آپؐ کی تصدیق سے روکا وہ یہی نسلی عصبیت تھی۔ ان کو اس پر اعتراض تھا کہ آنے والا نبی‘ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں آیا؟ اس تعصب نے ان کو یہاں تک مدہوش کر دیا کہ وہ موحدین کو چھوڑ کر مشرکین کے ساتھی ہوگئے۔
یہی حال نصاریٰ کا تھا۔ آنے والے نبی کے وہ بھی منتظر تھے مگر ان کو توقع تھی کہ وہ شام میں پیدا ہوگا۔ عرب کے کسی نبی کے ماننے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ ہرقل کے پاس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پہنچا تو اس نے قریش کے تاجروں سے کہا کہ:
مجھے معلوم تھا کہ ایک نبی ابھی اور آنے والا ہے، مگر یہ امید نہ تھی کہ وہ تم میں سے ہوگا۔
مقوقس مصر کے پاس جب دعوت نامہ اسلام پہنچا تو اس نے بھی یہی کہا کہ:
ابھی ایک نبی آنا باقی ہے‘ یہ مجھے معلوم ہے مگر مجھے امید تھی کہ وہ شام میں آئے گا۔
اسی تعصب کا دور دورہ عجم میں بھی تھا۔ خسرو پرویز کے پاس جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامۂ مبارک پہنچا تو کس چیز نے اس کو غضب ناک کیا؟ یہی کہ ’ایک غلام قوم کا فرد اور پادشاہِ عجم کو اس طرح مخاطب کرے‘۔ وہ عرب کی قوم کو ذلیل سمجھتا تھا۔ اپنا ماتحت خیال کرتا تھا۔ یہ بات ماننے کے لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھا کہ ایسی قوم میں کوئی حق کی طرف بلانے والا پیدا ہوگا۔
اسلام کے خلاف اس کے دشمن یہودیوں کے پاس سب سے بڑا کار گر حربہ یہی تھا کہ مسلمانوں میں قبائلی عصبیت پیدا کریں۔ اسی بنیاد پر مدینہ کے منافقین سے ان کی سازباز تھی۔ ایک مرتبہ انھوں نے جنگِ بُعَاث کا ذکر چھیڑ کر انصار کے دونوں قبیلوں ( اوس اور خزرج) میں عصبیت کی ایک ایسی آگ بھڑکائی کہ تلواریں کھنچنے کی نوبت آگئی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی کہ:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَo
آل عمران 100:3
مسلمانو! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مانو گے تو وہ تم کو ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں گے۔
یہی نسل و وطن کا تعصب تھا جس نے مدینہ میں قریش کے نبی کو حکمران دیکھ کر اور مہاجرین کو انصار کے باغوں اور نخلستانوں میں چلتے پھرتے دیکھ کر مدینہ کے منافقین کو آتشِ زیرِ پا کر رکھا تھا۔ عبداللہ بن اُبی رئیس المنافقین کہا کرتا تھا کہ:
یہ قریش کے فقیر ہمارے ملک میں آکر پھل پھول گئے ہیں۔ ان کی مثل ایسی ہے کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کر، تاکہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔
وہ انصار سے کہتا تھا کہ ’تم نے ان کو اپنے سر چڑھا لیا ہے۔ اپنے ملک میں جگہ دی۔ اپنے اموال میں ان کو حصہ دیا۔ خدا کی قسم آج تم ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں گے‘۔ ان کی ان باتوں کا جواب قرآن مجید میں اس طرح دیا گیا ہے:
ہُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا۝۰ۭ وَلِلہِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَہُوْنَo يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ۝۰ۭ وَلِلہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَo المنافقون 7-8:63
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ تتر بتر ہو جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک اللہ ہے مگر منافقین اس کو نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم (میدان جنگ سے) مدینہ کی طرف واپس ہوئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔ حالانکہ عزت دراصل اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی ہے مگر منافقین اس بات کو نہیں جانتے۔
یہی عصبیت کا جوش تھا جس نے عبداللہ بن اُبیّ سے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگوائی اور خزرج والوں کی حمایت نے اس دشمن خدا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کیے کی سزا پانے سے بچالیا۔ ۶۳؎
عصبیت کے خلاف اسلام کا جہاد
اس بیان سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کفر و شرک کی جہالت کے بعد اسلام کی دعوت حق کا اگر کوئی سب سے بڑا دشمن تھا تو وہ یہی نسل و وطن کا شیطان تھا اور یہی وجہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۲۳ سالہ حیات نبویہ میں ضلالتِ کفر کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کو مٹانے کے لیے جہاد کیا وہ یہی عصبیتِ جاہلیہ تھی۔ آپ احادیث و سِیَر کی کتابوں کو اٹھا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح خون اور خاک‘ رنگ اور زبان‘ پستی اور بلندی کی تفریقوں کو مٹایا‘ انسان اور انسان کے درمیان غیر فطری امتیازات کی تمام سنگین دیواروں کو مسمار کیا اور انسان ہونے کی حیثیت سے تمام بنی آدم کو یکساں قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ تھی:
٭ لَیْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَی الْعَصَبِیَّۃِ لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلَی الْعَصَبِیَّۃِ لَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَی الْعَصَبِیَّۃِ۔ (سنن ابی دائود، ۵۱۲۱)
جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
آپؐ فرماتے تھے:
٭ لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِدِیْنٍ وَ تَقْوٰی اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بَنُوْ آٰدَمَ وَ آٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔
(مسند احمد تفہیم الاحادیث ششم، ص ۴۱۸)
پرہیزگاری اور دین داری کے سوا کسی اور چیز کی بنا پر ایک شخص کو دوسرے شخص پر فضیلت نہیں ہے۔سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
نسل‘ وطن‘ زبان اور رنگ کی تفریق کو آپؐ نے یہ کہہ کر مٹایا کہ:
۱۔ لَافَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ کُلُّکُمْ اَبْنَائِ آٰدَمَ۔(بخاری و مسلم)
نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت ہے اور نہ عجمی کو عربی پر۔ تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو۔
۲۔ لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔ (زاد المعاد)
کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر‘ اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر فضیلت نہیں ہے‘ اگر فضیلت ہے تو وہ صرف پرہیزگاری کی بنا پر ہے۔
۳۔ اِسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَاَنَّ رَاْسَہ‘ زَبِیْبَۃٌ۔
(بخاری کتاب الاحکام ۔ مشکوۃ ۳۴۹۳)
سنو اور اطاعت کرو چاہے تم پر کوئی حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے جس کا سرکشمش جیسا ہو۔۶۴؎
فتح مکہ کے بعد جب تلوار کے زور نے قریش کی اکڑی ہوئی گردنوں کو جھکا دیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس میں پورے زور کے ساتھ یہ اعلان فرمایا:
اَلاَ کُلُّ مَاْثِرَۃٍ اَوْدَمٍ اَوْمَالٍ یُدْعٰی فَھُوَتَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ۔ (ابودائود، ترمذی)
خوب سن رکھو کہ فخر و ناز کا ہر سرمایہ،خون اور مال کا ہر دعویٰ آج میرے ان قدموں کے نیچے ہے۔
یَا مَعْشَرَقُرَیْشٍ اِنَّ اللّٰہَ اَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَتَعَظُّمَھَا الْآٰبَائِ۔ (احمد، کنز العمال، حدیث ۱۲۹۴)
اے اہل قریش! اللہ نے تمھاری جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا کی بزرگی کے ناز کو دور کر دیا۔
اَیُّھَا النَّاسُ کُلُّکُمْ مِنْ آٰدَمَ وَآٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَافَخْرَ لِلْاَنْسَابِ وَلَا فَخْرَ لِلْعَرَبِیِّ عَلَی الْعَجَمِیِّ وَلَا لِلْعَجَمِیِّ عَلَی الْعَرَبِیِّ اِنَّ اکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔ (تفسیر ابن کثیر، ج۴، ص۲۱۷۔ مجمع الزوائد، ج۸، ص۸۶)
اے لوگو! تم سب آدم علیہ السلام سے ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے تھے۔ نسب کے لیے کوئی فخر نہیں ہے۔ عربی کو عجمی پر‘ عجمی کو عربی پر کوئی فخر نہیں ہے۔ تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
عبادت الٰہی کے بعد آپؐ اپنے خدا کے سامنے تین باتوں کی گواہی دیتے تھے۔
۱۔ پہلے اس بات کی کہ’خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔‘
۲۔ پھر اس بات کی کہ ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔‘
۳۔ پھر اس بات کی کہ ’اللہ کے بندے سب بھائی بھائی ہیں۔ ‘ (اِنَّ الْعِبَادَ کُلُّھُمْ اِخْوَۃٌ)
اسلامی قومیت کی بنیاد
اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی ان تمام محدود مادی‘ حسی اور وہمی بنیادوں کو جن پر دنیا کی مختلف قومیتوں کی عمارتیں قائم کی گئی تھیں‘ ڈھا دیا۔ رنگ‘ نسل‘ وطن‘ زبان‘ معیشت اور سیاست کی غیر عقلی تفریقوں کو جن کی بنا پر انسان نے اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے انسانیت کو تقسیم کر رکھا تھا‘ مٹا دیا اور انسانیت کے مادے میں تمام انسانوں کو ایک دوسرے کا ہم مرتبہ قرار دے دیا۔
اس تخریب کے ساتھ اسلام نے خالص عقلی بنیادوں پر ایک نئی قومیت کی تعمیر کی۔ اس قومیت کی بنا بھی امتیاز پر تھی‘ مگر مادی اور ارضی امتیاز پر نہیں‘ بلکہ روحانی اور جوہری امتیاز پر۔ اس نے انسان کے سامنے ایک فطری صداقت پیش کی‘ جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ اس نے خدا کی بندگی و اطاعت‘ نفس کی پاکیزگی و طہارت‘ عمل کی نیکی اور پرہیزگاری کی طرف ساری نوعِ بشری کو دعوت دی۔ پھر کہہ دیا کہ جو اس دعوت کو قبول کرے وہ ایک قوم سے ہے اور جو اس کو رد کر دے وہ دوسری قوم سے ہے۔ ایک قوم ایمان اور اسلام کی ہے اور اس کے سب افراد ایک امت ہیں: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا۶۵؎ اور ایک قوم کفر اور گمراہی کی ہے اور اس کے متبعین اپنے اختلاف کے باوجود ایک گروہ ہیں۔ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ۔۶۶؎
ان دونوں قوموں کے درمیان بنائے امتیاز نسل اور نسب نہیں‘ اعتقاد اور عمل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے اسلام اور کفر کی تفریق میں جدا جدا ہو جائیں‘ اور دو بالکل اجنبی آدمی اسلام میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک قومیت میں مشترک ہوں۔
وطن کا اختلاف بھی ان دونوں قوموں کے درمیان وجۂ امتیاز نہیں ہے۔ یہاں امتیاز حق اور باطل کی بنیاد پر ہے جس کا کوئی وطن نہیں۔ ممکن ہے کہ ایک شہر‘ ایک محلے‘ ایک گھر کے دو آدمیوں کی قومیتیں اسلام اور کفر کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوجائیں اور ایک حبشی رشتۂ اسلام میں مشترک ہونے کی وجہ سے ایک مراکشی کا قومی بھائی بن جائے۔
رنگ کا اختلاف بھی یہاں قومی تفریق کا سبب نہیں ہے۔ یہاں اعتبار چہرے کے رنگ کا نہیں‘ اللہ کے رنگ کا ہے اور وہی بہترین رنگ ہے۔ صِبْغَۃَ اللّٰہِ ط وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً۔ ۶۷؎ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے اعتبار سے ایک گورے اور ایک کالے کی ایک قوم ہو، اور کفر کے اعتبار سے دو گوروں کی دو الگ قومیتیں ہوں۔
زبان کا امتیاز بھی اسلام اور کفر میں وجہِ اختلاف نہیں ہے۔ یہاں منہ کی زبان نہیں، محض دل کی زبان کا اعتبار ہے جو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اعتبار سے عربی اور افریقی کی ایک زبان ہوسکتی ہے اور دو عربوں کی زبانیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
معاشی اور سیاسی نظاموں کا اختلاف بھی اسلام اور کفر کے اختلاف میں بے اصل ہے۔ یہاں جھگڑا دولتِ زر کا نہیں، دولت ایمان کا ہے، انسانی سلطنت کا نہیں خدا کی بادشاہت کا ہے۔ جو لوگ حکومتِ الٰہی کے وفادار ہیں اور جو خدا کے ہاتھ اپنی جانیں فروخت کر چکے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں خواہ ہندستان میں ہوں یا ترکستان میں، اور جو خدا کی حکومت سے باغی ہیں اور شیطان سے جان و مال کا سودا کرچکے ہیں وہ ایک دوسری قوم ہیں۔ ہم کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس سلطنت کی رعایا ہیں اور کس معاشی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس طرح اسلام نے قومیت کا جو دائرہ کھینچا ہے وہ کوئی حسی اور مادی دائرہ نہیں، بلکہ ایک خالص عقلی دائرہ ہے۔ ایک گھر کے دو آدمی اس دائرے سے جدا ہو سکتے ہیں اور مشرق و مغرب کا بُعد رکھنے والے دو آدمی اس میں داخل ہوسکتے ہیں ؎
سر عشق از عالم ارحام نیست
اوزسام و روم و شام نیست
کوکب بے شرق و غرب و بے غروب
در مدارش نے شمال و نے جنوب ۶۸؎
اس دائرے کا محیط ایک کلمہ ہے: لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ اسی کلمے پر دوستی بھی ہے اور اسی پر دشمنی بھی۔ اسی کا اقرار جمع کرتا ہے اور اسی کا انکار جدا کر دیتا ہے۔ جن کو اس نے جدا کر دیا ہے ان کو نہ خون کا رشتہ جمع کرسکتا ہے‘ نہ خاک کا‘ نہ زبان کا‘ نہ رنگ کا‘ نہ روٹی کا‘ نہ حکومت کا، اور جن کو اس نے جمع کر دیا ہے انھیں کوئی چیز جدا نہیں کرسکتی۔ کسی دریا‘ کسی پہاڑ‘ کسی سمندر‘ کسی زبان‘ کسی نسل‘ کسی رنگ اور کسی زر و زمین کے قضیے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسلام کے دائرے میں امتیازی خطوط کھینچ کر مسلمان اور مسلمان کے درمیان فرق کرے۔ ہر مسلمان خواہ وہ چین کا باشندہ ہو یا مراکش کا‘ گورا ہو یا کالا‘ ہندی بولتا ہو یا عربی‘ سامی ہو یا آرین‘ ایک حکومت کی رعیت ہو یا دوسری حکومت کی‘ مسلمان قوم کا فرد ہے‘ اسلامی سوسائٹی کا رکن ہے‘ اسلامی اسٹیٹ کا شہری ہے‘ اسلامی فوج کا سپاہی ہے‘ اسلامی قانون کی حفاظت کا مستحق ہے۔ شریعت اسلامیہ میں کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں ہے جو عبادات‘ معاملات‘ معاشرت‘ معیشت‘ سیاست‘ غرض زندگی کے کسی شعبے میں جنسیت یا زبان یا وطنیت کے لحاظ سے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مقابلے میں کم تریا بیش تر حقوق دیتی ہو۔
اسلام کا طریقِ جمع و تفریق
یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اسلام نے تمام انسانی اور مادی رشتوں کو قطع کر دیا ہے۔ ہرگز نہیں! اس نے مسلمانوں کو صلہ رحمی کا حکم دیا ہے‘ قطع رحم سے منع کیا ہے‘ ماں باپ کی اطاعت و فرماںبرداری کی تاکید کی ہے‘ خون کے رشتوں میں وراثت جاری کی ہے‘ خیر و صدقات اور بذل و انفاق میں ذوی القربیٰ کو غیر ذوی القربیٰ پر ترجیح دی ہے‘ اپنے اہل و عیال‘ اپنے گھر بار‘ اور اپنے مال کو دشمنوں سے بچانے کا حکم دیا ہے‘ ظالم کے مقابلے میں لڑنے کا حکم دیا ہے اور ایسی لڑائی میں جان دینے والے کو شہید قرار دیا ہے۔ زندگی کے تمام معاملات میں بلا امتیازِ مذہب ہر انسان کے ساتھ ہم دردی‘ حسنِ سلوک اور محبت سے پیش آنے کی تعلیم دی ہے۔ اس کے کسی حکم کو یہ معنی نہیں پہنائے جاسکتے کہ وہ ملک و وطن کی خدمت و حفاظت سے روکتا ہے‘ یا غیر مسلم ہمسائے کے ساتھ صلح و مسالمت کرنے سے باز رکھتا ہے۔۶۹؎
یہ سب کچھ ان مادی رشتوں کی جائز اور فطری مراعات ہیں، مگر جس چیز نے قومیت کے معاملے میں اسلام اور غیر اسلام کے اصول میں فرق کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ دوسروں نے انھی رشتوں پر جداگانہ قومیتیں بنالی ہیں اور اسلام نے ان کو بنائے قومیت قرار نہیں دیا۔ وہ ایمان کے تعلق کو ان سب تعلقات پر ترجیح دیتا ہے اور وقت پڑے تو ان میں سے ہر ایک کو اس پر قربان کر دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
۱۔ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ الممتحنہ60: 4
تمھارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں یہ قابلِ تقلید نمونہ تھا کہ انھوں نے اپنی وطنی و نسلی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہمارا تم سے اور تمھارے معبودوں سے جنھیں تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو‘ کوئی تعلق نہیں ہے‘ ہم نے تم کو چھوڑ دیا۔ ہمارے اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور دشمنی ہوگئی تاوقتیکہ تم ایک خدا پر ایمان نہ لائو۔
۲۔ لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَo التوبہ23:9
اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی دوست اور محبوب نہ رکھو اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر کو محبوب رکھیں۔ تم میں سے جو کوئی ان کو محبوب رکھے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا۔
۳۔ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ۝۰ۚ التغابن14:64
تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تمھارے دشمن ہیں‘ ان سے ہوشیار رہو۔
وہ کہتا ہے کہ اگر تمھارے دین اور تمھارے وطن میں دشمنی ہو جائے تو دین کی خاطر وطن چھوڑ کر نکل جائو۔ جو شخص دین کی محبت پر وطن کی محبت کو قربان کر کے ہجرت نہ کرے وہ منافق ہے‘ اس سے تمھارا کوئی تعلق نہیں۔فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ النساء89:4
اس طرح اسلام اور کفر کے اختلاف سے خون کے قریب ترین رشتے کٹ جاتے ہیں۔ ماں‘ باپ‘ بھائی‘ بیٹے صرف اسی لیے جدا ہو جاتے ہیں کہ وہ اسلام کے مخالف ہیں۔ ہم نسل قوم کو اس لیے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ خدا سے دشمنی رکھتی ہے۔ وطن کو اس لیے خیر باد کہا جاتا ہے کہ وہاں اسلام اور کفر میں عداوت ہے۔ گویا اسلام دنیا کی ہر چیز پر مقدم ہے‘ ہر چیز اسلام پر قربان کی جاسکتی ہے اور اسلام کسی چیز پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اب دوسری طرف دیکھیے۔ یہی اسلام کا تعلق ہے جو ایسے لوگوں کو ملا کر بھائی بھائی بنا دیتا ہے جن کے درمیان نہ خون کا رشتہ ہے‘ نہ وطن کا‘ نہ زبان کا‘ نہ رنگ کا۔ تمام مسلمانوں کو خطاب کرکے کہا جاتا ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ
آل عمران 103:3
تم سب مل کر اللہ کی رسی کو تھامے رہو اور آپس میں متفرق نہ ہو جائو۔ اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے‘ اس نے تمھارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت (اسلام) کی بدولت بھائی بھائی بن گئے۔ تم (آپس کی عصبیت کی بدولت) آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے۔ اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔
تمام غیر مسلموں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ التوبہ11:9
اگر وہ کفر سے توبہ کرلیں‘ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔
اور مسلمانوں کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ الفتح29:48
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔ نیز وہ ہمارے قبلے کی طرف منہ پھیریں‘ ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں۔ جونہی کہ انھوں نے ایسا کیا ہم پر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہوگئے۔ اِلاّیہ کہ حق اور انصاف کی خاطر ان کو حلال کیا جائے۔ اس کے بعد ان کے وہی حقوق ہیں جو سب مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی واجبات ہیں جو سب مسلمانوں پر ہیں۔ (ابودائود، کتاب الجہاد)
پھر یہی نہیں کہ حقوق اور فرائض میں مسلمان برابر ہیں اور ان میں کسی فرق و امتیاز کی گنجایش نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد نبویؐ ہے کہ:
o اَلْمُسْلِمُ لِلْمُسْلِمِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہ‘ بَعْضًا۔ (متفق علیہ)
مسلمان کے ساتھ مسلمان کا تعلق ایسا ہے جیسے ایک دیوار کے اجزا، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے قوت پاتا ہے۔
اور:
o مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہ‘ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی۔(متفق علیہ۔ مشکوٰۃ)
آپس کی محبت اور رحمت و مہربانی میں مسلمانوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم اس کے لیے بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے۔
ملت ِ اسلامیہ کے اس جسمِ نامی کو رسولؐ اللہ نے ’جماعت‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے متعلق آپؐ کا فرمان ہے:
۱۔ یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ وَمَنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ۔ (ترمذی ۲۱۶۷)
جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے جو اس سے بچھڑا وہ آگ میں گیا۔
۲۔ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہٖ۔ ( احمد و ابودائود۔ مشکوٰۃ)
جو ایک بالشت بھر بھی جماعت سے جدا ہوا اس نے اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔
اسی پر بس نہیں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ:
مَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقْ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوْہُ۔ (مسلم۔ مشکوۃ ۳۵۰۷)
جو تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے اس کو قتل کردو۔
مَنْ اَرَادَاَنْ یُّفَرِّق اَمْرَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ وَھِیَ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہُ بِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔
(مسلم۔مشکوۃ۳۵۰۷)
جو کوئی اس امت کے بندھے ہوئے رشتے کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کرے‘ اس کی تلوار سے خبرلو‘ خواہ وہ کوئی ہو۔
اسلامی قومیت کی تعمیر کس طرح ہوئی؟
اس جماعت میں جس کی شیرازہ بندی اسلام کے تعلق کی بنا پر کی گئی تھی خون اور خاک‘ رنگ اور زبان کی کوئی تمیز نہ تھی۔ اس میں سلمان ؓ ایرانی تھے جن سے ان کا نسب پوچھا جاتا‘ تو فرماتے کہ سلمان بن اسلام۔ حضرت علیؓ ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ ’سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں‘۔اس میں باذان بن ساسان اور ان کے بیٹے شہر بن باذان تھے جن کا نسب بہرام گور سے ملتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت باذانؓ کو یمن کا اور ان کے صاحبزادے کو صنعا کا والی مقرر فرمایا تھا۔ اس جماعت میں بلال حبشیؓ تھے جن کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بِلَالُ سَیِّدُنَا وَمَوْلَاسَیِّدِنَا بلالؓ ہمارے آقا کا غلام اور ہمارا آقا ہے۔اس جماعت میں صہیبؓ رومی تھے جنھیں حضرت عمرؓ نے اپنی جگہ نماز میں امامت کے لیے کھڑا کیا۔ اس میں حضرت ابوحذیفہؓ کے غلام سالم ؓ تھے جن کے متعلق حضرت عمرؓ نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو میں خلافت کے لیے انھی کو نامزد کرتا۔ اس میں زید بن حارثہ ؓ ایک غلام تھے جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی پھوپھی کی بیٹی ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو بیاہ دیا تھا۔ اس میں حضرت زیدؓ کے بیٹے اسامہؓ تھے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے لشکر کا سردار بنایا تھا‘ جس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ‘ حضرت عمر فاروق ؓ‘ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شریک تھے۔ انھی اسامہؓ کے متعلق حضرت عمرؓ اپنے بیٹے عبداللہؓ سے فرماتے ہیں کہ:اسامہؓکا باپ تیرے باپ سے افضل تھا اور اسامہؓخود تجھ سے افضل ہے۔
مہاجرین کا اُسوہ
اس جماعت نے اسلام کے تبر سے عصبیت کے ان تمام بتوں کو توڑ ڈالا جو نسل اوروطن‘ رنگ اور زبان وغیرہ کے نام سے موسوم ہیں اور جن کی پرستش قدیم جاہلیت سے جدید جاہلیت کے زمانے تک دنیا میں ہو رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے وطن مکہ کو چھوڑا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے یہ معنی نہ تھے کہ آپؐ کو اور مہاجرین کو اپنے وطن سے وہ فطری محبت نہ تھی جو انسان کو ہوا کرتی ہے۔ مکہ کو چھوڑتے وقت آپؐ نے فرمایا تھا کہ: اے مکہ! تو مجھ کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہے، مگر کیا کروں کہ تیرے باشندے مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے۔
حضرت بلالؓ جب مدینہ جا کر بیمار ہوئے تو مکہ کی ایک ایک چیز کو یاد کرتے تھے۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے یہ حسرت بھرے اشعار آج تک مشہور ہیں:
اَلاَ لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ اَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً
بِفَخْ وَحَوْلِیْ اِذْخَرٌ وَ جَلِیْل‘
وَھَلْ اَرِدَنَّ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّہْ
وَھَلْ تَبْدُوَنْ لِیْ شَامَۃُ وَطَفِیْل‘
(البدایہ و النہایۃ، ج۳، ص۲۲)
کاش! مجھے معلوم ہو جاتا کہ میں (کبھی کوئی) رات مقام فخ میں گزاروں گا اور میرے گرد اِذخر (خوشبودار گھاس) اور جلیل (بابونہ کے پودے) ہوں گے؟
اور کیا میں کسی دن مَجِنَّہ (نامی جگہ) کے گھاٹ پر بھی وارد ہوں گا اور مجھے شامہ اور طفیل (مقام اور پہاڑ) نظر آئیں گے؟
مگر اس کے باوجود حبّ وطن نے ان بزرگوں کو اسلام کی خاطر ہجرت کرنے سے باز نہ رکھا۔ ۷۰ ؎
انصار کا طرز عمل
دوسری طرف اہل مدینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اپنے جان و مال خدمت اقدس میں پیش کر دیے۔ اسی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مدینہ قرآن سے فتح ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تو یہ ایسے بھائی بھائی بنے کہ مدتوں ان کو ایک دوسرے کی میراث ملتی رہی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس توارث کو بند کیا۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ۷۱؎ انصار نے اپنے کھیت اور باغ آدھے آدھے تقسیم کرکے اپنے مہاجر بھائیوں کو دے دیے اور جب بنو نضیر کی زمینیں فتح ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یہ زمین بھی ہمارے مہاجر بھائیوں کو دے دیجیے۔ یہی ایثار تھا جس کی تعریف اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے:وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ۷۲؎ حضرت عبداللہ بن عوفؓ اور حضرت سعد بن ربیع انصاریؓ کے درمیان مواخاۃ کرائی گئی تو حضرت سعدؓ اپنے دینی بھائی کو آدھا مال دینے اور اپنی بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے کر ان سے بیاہ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ عہدِ رسالت کے بعد جب مہاجرین پیہم منصب خلافت پر سرفراز ہوئے تو کسی مدنی نے یہ نہ کہا کہ تم غیر ملکیوں کو ہمارے ملک پر حکومت کرنے کا کیا حق ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمرؓ نے مدینہ کے نواح میں مہاجرین کو جاگیریں دیں اور کسی انصاری نے اس پر زبان تک نہ ہلائی۔
رشتۂ دین پر مادی علائق کی قربانی
پھر جنگ بدر اور جنگ احد میں مہاجرین مکہ دین کی خاطر خود اپنے رشتہ داروں سے لڑے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمان پر تلوار اٹھائی۔ حضرت حذیفہؓ نے اپنے باپ ابوحذیفہ پر حملہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ماموں کے خون میں ہاتھ رنگے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباسؓ ‘ چچا زاد بھائی عقیلؓ ‘ داماد ابو العاص ؓ بدر میں گرفتار ہوئے اور عام قیدیوں کی طرح رکھے گئے۔ حضرت عمرؓتو یہاں تک آمادہ ہوگئے تھے کہ سب قیدیوں کو قتل کر دیا جائے اور ہر شخص خود اپنے عزیز کو قتل کرے۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر قبیلہ اور غیر علاقہ والوں کو لے کر خود اپنے قبیلے اور اپنے وطن پر حملہ آور ہوئے اور غیروں کے ہاتھوں اپنوں کی گردنوں پر تلوار چلوائی۔ عرب کے لیے یہ بالکل نئی بات تھی کہ کوئی شخص خود اپنے قبیلے اور اپنے وطن پر غیر قبیلہ والوں کو چڑھا لائے اور وہ بھی کسی انتقام یا زر و زمین کے قضیے کی بنا پر نہیں‘ بلکہ محض ایک کلمۂ حق کی خاطر۔ جب قریش کے اوباش مارے جانے لگے تو ابو سفیان نے آکر عرض کیا کہ: یارسولؐ اللہ! قریش کے نونہال کٹ رہے ہیں۔ آج کے بعد قریش کا نام و نشان نہ رہے گا۔ رحمۃللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اہل مکہ کو امان دے دی۔ انصار سمجھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اپنی قوم کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخر آدمی ہی تو ہیں، اپنے خاندان والوں کا پاس کر ہی گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان باتوں کی خبر پہنچی تو انصار کو جمع کیا اور فرمایا:مجھے خاندان والوں کی محبت نے ہرگز نہیں کھینچا۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسولؐ ہوں۔ اللہ کے لیے تمھارے پاس ہجرت کرکے جا چکا ہوں۔ اب میرا جینا تمھارے ساتھ ہے اور مرنا تمھارے ساتھ۔ جو کچھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا‘ اسے لفظ بلفظ سچا کرکے دکھا دیا، باوجودیکہ مکہ معظمہ کے فتح ہو جانے کے بعد وہ علت باقی نہ رہی تھی جس کی بنا پر حضور اکرمؐ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تھے، مگر آپؐ نے مکہ میں قیام نہ فرمایا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر کسی وطنی یا انتظامی جذبے کے تحت حملہ نہ کیا تھا‘ بلکہ محض اعلائے کلمۃ الحق مقصود تھا۔
اس کے بعد جب ہوازن اور ثقیف کے اموال فتح ہوئے تو پھر وہی غلط فہمی پیدا ہوئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے قریش کے نو مسلموں کو زیادہ حصہ دیا۔ انصار کے بعض نوجوان سمجھے یہ قومی پاس داری کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے بگڑ کر کہا کہ:خدا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کرے، وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ اب تک ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پھر جمع کیا اور فرمایا کہ میں ان لوگوں کو اس لیے زیادہ دیتا ہوں کہ یہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ محض ان کی تالیفِ قلب مقصود ہے۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ یہ دنیا کا مال لے جائیں اور تم خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائو؟
غزوۂ بنی المصطلق میں ایک غفاری اور ایک عوفی میں جھگڑا ہوگیا۔ غفاری نے عوفی کو تھپڑ مارا۔ بنی عوف انصار کے حلیف تھے۔ اس لیے عوفی نے انصار کو مدد کے لیے پکارا۔ بنی غِفار مہاجرین کے حلیف تھے‘ اس لیے غفاری نے مہاجرین کو آواز دی۔ قریب تھا کہ فریقین کی تلواریں کھنچ جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپؐ نے فریقین کو بلا کر فرمایا کہ یہ کیا جاہلیت کی پکار تھی جو تمھاری زبانوں سے نکل رہی تھی؟ (مَالَکُمْ وَلِدَعْوَۃِ الْجَاھِلِیَّۃِ) ۔انھوں نے کہا کہ ایک مہاجر نے انصاری کو مارا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:تم اس جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو۔ یہ بڑی گھنائونی چیز ہے۔
اس غزوے میں مدینہ کا مشہور قوم پرست لیڈر عبداللہ بن اُبیّ بھی شریک تھا۔ اس نے جو سنا کہ مہاجرین کے حلیف نے انصار کے حلیف کو مارا ہے تو کہا کہ:
یہ ہمارے ملک میں آکر پھَل پُھول گئے ہیں اور اب ہمارے ہی سامنے سر اٹھاتے ہیں۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔ بخدا مدینہ واپس پہنچ کر جو ہم میں سے عزت والا ہوگا وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔
پھر اس نے انصار سے کہا کہ:’یہ تمھارا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی اور اپنے اموال ان پر بانٹ دیے۔ خدا کی قسم! آج تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ ہوا کھاتے نظر آئیں گے۔‘
یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچیں تو آپؐ نے عبداللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ ؓ کو بلا کر فرمایا کہ تمھارا باپ یہ کہتا ہے۔ وہ اپنے باپ سے غایت درجہ محبت رکھتے تھے، اور ان کو فخر تھا کہ خزرج میں کوئی بیٹا اپنے باپ سے اتنی محبت نہیں کرتا، مگر یہ قصہ سن کر انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر حکم ہو تو میں اس کا سر کاٹ لائوں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ پھر جب جنگ سے واپس ہوئے تو مدینہ پہنچ کر حضرت عبداللہؓ اپنے باپ کے آگے تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ :’تو مدینہ میں گھس نہیں سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں۔ تو کہتا ہے کہ ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو مدینہ سے نکال دے گا۔ تو اب تجھے معلوم ہو کہ عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔‘ اس پر ابن اُبَیّ چیخ اٹھا کہ لو سنو اے اہل خزرج! اب میرا بیٹا مجھ کو گھر میں گھسنے نہیں دیتا۔ لوگوں نے آکر حضرت عبداللہؓ کو سمجھایا، مگر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر یہ مدینہ کے سائے میں بھی پناہ نہیں لے سکتا۔آخر کار لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ جاکر عبداللہ سے کہو کہ اپنے باپ کو گھر میں جانے دے۔ جب عبداللہ نے یہ فرمان مبارک سنا تو تلوار رکھ دی اور کہا کہ ان کا حکم ہے تو اب یہ جاسکتا ہے۔۷۳؎
بنو قینقاع پر جب حملہ کیا گیا تو حضرت عبادہ بن الصامت ؓ کو ان کے معاملے میں حَکم بنایا گیا۔ انھوں نے فیصلہ دیا کہ اس پورے قبیلے کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا جائے۔ یہ لوگ حضرت عبادہ کے قبیلے خزرج کے حلیف تھے‘ مگر انھوں نے اس تعلق کا ذرہ برابر خیال نہ کیا۔ اس طرح بنوقریظہ کے معاملے میں اوس کے سردار سعد بن معاذ ؓ کو حَکم بنایا گیا اور ان کا فیصلہ یہ تھا کہ بنو قریظہ کے تمام مردوں کو قتل کر دیا جائے‘ عورتوں اور بچوں کو سبایا ] قیدی[ اور ان کے اموال کو غنیمت قرار دیا جائے۔ اس معاملے میں حضرت سعدؓ نے ان حلیفانہ تعلقات کا ذرا خیال نہ کیا جو اوس اور بنوقریظہ کے درمیان مدت سے قائم تھے، حالانکہ عرب میں حلف کی جو اہمیت تھی وہ سب کو معلوم ہے اور مزید برآں یہ لوگ صدیوں سے انصار کے ہم وطن تھے۔
جمعیت ِ اسلامیہ کی اصلی رُوح
ان شواہد سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی قومیت کی تعمیر میں نسل و وطن اور زبان و رنگ کا قطعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس عمارت کو جس معمار نے بنایا ہے اس کا تخیل ساری دنیا سے نرالا تھا۔ اس نے تمام عالم انسانی کے مواد خام پر نظر ڈالی۔ جہاں جہاں سے اس کو اچھا اور مضبوط مسالہ ملا اس کو چھانٹ لیا۔ ایمان اور عمل صالح کے پختہ ہونے سے ان متفرق اجزا کو پیوستہ کر دیا اور ایک عالمگیر قومیت کا قصر تعمیر کیا جو سارے کرۂ ارضی پر چھایا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان عمارت کا قیام و دوام منحصر ہے اس پر کہ اس کے تمام مختلف الاصل‘ مختلف الشکل‘ مختلف المقام اجزا اپنی جدا جدا اصلیتوں کو بھول کر صرف ایک اصل کو یاد رکھیں‘ اپنے جدا جدا رنگ چھوڑ کر ایک رنگ میں رنگ جائیں‘ اپنے الگ الگ مقاموں سے قطع نظر کرکے ایک مخرج صدق سے نکلیں اور ایک مدخل صدق میں داخل ہو جائیں۔ یہی وحدت ملی اس بنیان مرصوص کی جان ہے۔ اگر یہ وحدت ٹوٹ جائے‘ اگر اجزائے ملت میں اپنی اصلوں اور نسلوں کے جدا جدا ہونے‘ اپنے وطن اور مقام کے مختلف ہونے‘ اپنے رنگ و شکل کے متنوع ہونے اور اپنی اغراضِ دنیوی کے متضاد ہونے کا احساس پیدا ہو جائے تو اس عمارت کی دیواریں پھٹ جائیں گی اور اس کی بنیادیں ہل جائیں گی اور اس کے تمام اجزا پارہ پارہ ہو جائیں گے۔ جس طرح ایک سلطنت میں کئی سلطنتیں نہیں بن سکتیں اسی طرح ایک قومیت میں کئی قومیتیں نہیں بن سکتیں۔ اسلامی قومیت کے اندر نسلی‘ وطنی، لسانی اورلونی قومیتوں کا جمع ہونا قطعاً محال ہے۔ ان دونوں قسم کی قومیتوںمیں سے ایک ہی قائم رہ سکتی ہے۔ اس لیے کہ:
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
پس جو مسلمان ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے اسے تمام قومیتوں کے احساس کو باطل اور سارے خاک و خون کے رشتوں کو قطع کرنا پڑے گا اور جو ان رشتوں کو قائم رکھنا چاہتا ہے اس کے متعلق ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اسلام اس کے قلب و روح میں نہیں اترا۔ جاہلیت اس کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے۔ آج نہیں تو کل وہ اسلام سے چھوٹے گا اور اسلام اس سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری زمانے میں سب سے زیادہ خطرہ جس چیز کا تھا وہ یہی تھا کہ کہیں مسلمانوں میں جاہلی عصبیتیں پیدا نہ ہو جائیں اور ان کی بدولت اسلام کا قصرِ ملت پارہ پارہ نہ ہو جائے۔ اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرمایا کرتے تھے کہ:
لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ(بخاری‘ کتاب الفتن۔ ترمذی ۲۱۹۳)
کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم پھر کفر کی طرف پلٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
اپنی زندگی کے آخری حج، حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے تو عرفات کے خطبے میں عام مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا:
سن رکھو کہ! امور جاہلیت میں سے ہر چیز آج میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ تم سب آدم ؑ کی اولاد سے ہو، اور آدم ؑ مٹی سے تھے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ جاہلیت کے سب دعوے باطل کر دیے گئے۔ اب تمھارے خون اور تمھاری عزتیں اور تمھارے اموال ایک دوسرے کے لیے ویسے ہی حرام ہیں جیسے آج حج کا دن تمھارے اس مہینے، تمھارے اس شہر میں حرام ہے۔
پھر منیٰ میں تشریف لے گئے تو اس سے بھی زیادہ زور کے ساتھ اس تقریر کو دہرایا اور اس پر اضافہ کیا:
دیکھو! میرے بعد پھر گمراہی کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگنا۔
عنقریب تم اپنے رب سے ملنے والے ہو۔ وہاں تمھارے اعمال کی تم سے باز پرس ہوگی۔
سنو! اگر کوئی نکٹا حبشی بھی تمھارا امیر بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا۔
یہ ارشاد فرما کر پوچھا کہ:’کیا میں نے تم کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے؟‘ لوگوں نے کہا: ہاں! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرمایا: اے خدا ‘ گواہ رہیو، اور لوگوں سے کہا کہ: جو موجود ہے وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں۔۷۴؎
حج سے واپس ہو کر شہدائے احد کے مقام پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا:
مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرو گے، مگر ڈرتا اس سے ہوں کہ کہیں تم دنیا میں مبتلا نہ ہو جائو اور آپس میں لڑنے نہ لگو۔ اگر ایسا کرو گے تو ہلاک ہو جائو گے جس طرح پہلی امتیں ہلاک ہو چکی ہیں۔
اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ
یہ فتنہ جس کے ظاہر ہونے کا سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا حقیقت میں ویسا ہی مہلک ثابت ہوا، جیسا آپؐ نے فرمایا تھا۔ قرنِ اول سے آج تک اسلام اور مسلمانوں پر جو تباہی بھی نازل ہوئی ہے اسی کی بدولت ہوئی ہے۔ وصالِ نبویؐ کے چند ہی برس بعد ہاشمی اور اموی عصبیت کا فتنہ اٹھا، اور اس نے اسلام کے اصلی نظام سیاست کو ہمیشہ کے لیے درہم برہم کر دیا۔ پھر اس نے عربی‘ عجمی اور ترکی عصبیت کی شکل میں ظہور کیا اور اسلام کی سیاسی وحدت کا بھی خاتمہ کر دیا۔ پھر مختلف ممالک میں جو مسلمان سلطنتیں قائم ہوئیں ان سب کی تباہی میں سب سے زیادہ اسی فتنے کا ہاتھ تھا۔ قریب ترین زمانے میں دو سب سے بڑی مسلمان سلطنتیں ہندستان اور ترکی کی تھیں۔ ان دونوں کو اسی فتنے نے تباہ کیا۔ ہندستان میں مغل اور ہندستانی کی تفریق نے سلطنتِ مغلیہ کو ختم کیا اور ترکی میں ترک‘ عرب اور کُرد کی تفریق تباہی کی موجب ہوئی۔
اسلام کی پوری تاریخ اٹھا کردیکھ جائیے۔ جہاں کوئی طاقت ور سلطنت آپ کو نظر آئے گی اس کی بنیاد میں آپ کو بلا امتیاز جنسیت مختلف نسلوں اور مختلف قوموں کا خون ملے گا۔ ان کے مدبر‘ ان کے سپہ سالار‘ ان کے اہل قلم‘ ان کے اہل سیف‘ سب کے سب مختلف الاجناس پائے جائیں گے۔ آپ عراقی کو افریقہ میں‘ شامی کو ایران میں‘ افغانی کو ہندستان میں مسلمان حکومتوں کی اسی جاں بازی‘ دیانت‘ صداقت اور امانت کے ساتھ خدمت کرتے ہوئے دیکھیں گے جس سے وہ خود اپنے وطن کی خدمت کرتا۔ مسلمان سلطنتیں کبھی اپنے مردانِ کار کی فراہمی میں کسی ایک ملک، یا ایک نسل کے وسائل پر منحصر نہیں رہیں۔ ہر جگہ سے قابل دماغ اور کار پرداز ہاتھ ان کے لیے جمع ہوئے اور انھوں نے ہر دارالاسلام کو اپنا وطن اور گھر سمجھا، مگر جب نفسانیت‘ خود غرضی اور عصبیت کا فتنہ اٹھا‘ اور مسلمانوں میں مرزبوم اور رنگ و نسل کے امتیازات نے راہ پائی‘ تو وہ ایک دوسرے سے بغض و حسد کرنے لگے‘ دھڑے بندیوں اور سازشوں کا دور دورہ ہوا۔ جو قوتیں دشمنوں کے خلاف صرف ہوتی تھیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صرف ہونے لگیں‘ مسلمانوں میں خانہ جنگی برپا ہوئی اور بڑی بڑی مسلمان سلطنتیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔
مغرب کی اندھی تقلید
آج مغربی قوموں سے سبق سیکھ کر ہر جگہ کے مسلمان نسلیت اور وطنیت کے راگ الاپ رہے ہیں۔ عرب عربیت پر ناز کر رہا ہے۔ مصری کو اپنے فراعنہ یاد آرہے ہیں۔ ترک اپنی ترکیت کے جوش میں چنگیز خاں اور ہلاکو سے رشتہ جوڑ رہا ہے۔ ایرانی اپنی ایرانیت کے جوش میں کہتا ہے کہ یہ محض عرب امپیریلزم کا زور تھا کہ حسین ؓ اور علیؓ ہمارے ہیرو بن گئے‘ حالانکہ حقیقت میں ہمارے قومی ابطال تو رستم و اسفند یار تھے۔ ہندستان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے آپ کو ہندستانی قومیت سے منسوب کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی یہاں موجود ہیں جو آب زمزم سے قطع تعلق کرکے آب گنگا سے وابستگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو بھیم اور ارجن کو اپنا قومی ہیرو قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسے بھی جنھیں ارض مکہ تو بھولے سے بھی یاد نہیں آتی لیکن ٹیکسلا‘ موہن جوداڑو‘ اور ہڑپا سے اپنا رشتہ استوار کرنے کے لیے وہ شب و روز بے چین رہتے ہیں، مگر یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ان نادانوں نے نہ اپنی تہذیب کو سمجھا ہے اور نہ مغربی تہذیب کو۔ اصول اور حقائق ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ وہ محض سطح بیں ہیں اور سطح پر جو نقوش ان کو زیادہ نمایاں اور زیادہ خوش رنگ نظر آتے ہیں انھی پر لوٹ پوٹ ہونے لگتے ہیں۔ ان کو خبر نہیں کہ جو چیز مغربی قومیت کے لیے آبِ حیات ہے‘ وہی چیز اسلامی قومیت کے لیے زہر ہے۔ مغربی قومیتوں کی بنیاد نسل و وطن اور زبان و رنگ کی وحدت پر قائم ہوئی ہے‘ اس لیے ہر قوم مجبور ہے کہ ہر اس شخص سے اجتناب کرے جو اس کا ہم قوم‘ ہم نسل‘ ہم زبان نہ ہو‘ خواہ وہ اس کی سرحد سے ایک ہی میل کے فاصلے پر کیوں نہ رہتا ہو۔ وہاں ایک قوم کا آدمی دوسری قوم کا سچا وفادار نہیں ہوسکتا۔ ایک ملک کا باشندہ دوسرے ملک کا سچا خادم نہیں بن سکتا۔ کوئی قوم کسی دوسری قوم کے فرد پر یہ اعتماد نہیں کرسکتی کہ وہ اس کے مفاد کو اپنی قوم کے مفاد پر ترجیح دے گا، مگر اسلامی قومیت کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، یہاں قومیت کی بنیاد نسل و وطن کے بجائے اعتقاد و عمل پر رکھی گئی ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان ہر جنسی امتیاز کے بغیر ایک دوسرے کے شریکِ حال اور معاون ہیں۔ ایک ہندی مسلمان مصر کا ویسا ہی وفادار شہری بن سکتا ہے جیسا کہ وہ خود ہندستان کا ہے۔ ایک افغانی مسلمان شام کی حفاظت کے لیے اسی جاں بازی کے ساتھ لڑ سکتا ہے جس کے ساتھ وہ خود افغانستان کے لیے لڑتا ہے۔ اس لیے ایک ملک کے مسلمان اور دوسرے ملک کے مسلمان میں جغرافی یا نسلی تفریق کی کوئی وجہ نہیں۔ اس معاملے میں اسلام کے اصول اور مغرب کے اصول ایک دوسرے کی ضد واقع ہوئے ہیں۔ جو وہاں سبب قوت ہے وہ یہاں عین سبب ضعف ہے اور جو یہاں مایۂ حیات ہے وہ وہاں بعینہٖ سِمِ ّ قاتل ہے۔ اقبال نے اس حقیقت کو کس خوبی کے ساتھ بیا ن کیا ہے؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
بعض لوگ اس خیالِ خام میں مبتلا ہیں کہ وطنی یا نسلی قومیت کے احساسات پیدا ہونے کے بعد بھی اسلامی قومیت کا رشتہ مسلمانوں کے درمیان باقی رہ سکتا ہے، اس لیے وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر دھوکا دیتے ہیں کہ یہ دونوں قسم کی قومیتیں ساتھ ساتھ چلیں گی‘ ایک سے دوسری پر آنچ نہ آئے گی‘ اور ہم ان دونوں کے فوائد جمع کرلیں گے۔ لیکن یہ محض جہل اور قلتِ فکر کا کرشمہ ہے۔ جس طرح خدا نے ایک سینے میں دو قلب نہیں رکھے اسی طرح ایک قلب میں دو قومیتوں کے متضاد اور متصادم جذبات کو جمع کرنے کی گنجائش بھی نہیں رکھی ہے۔ احساس قومیت کا لازمی نتیجہ اپنے اور غیر کا امتیاز ہے۔ اسلامی قومیت کے احساس کا فطری مقتضا یہ ہے کہ آپ مسلم کو اپنا اور غیر مسلم کو غیر سمجھیں، اور وطنی یا نسلی قومیت کے احساس کا طبعی اقتضا یہ ہے کہ آپ ہر اس شخص کو اپنا سمجھیںجو آپ کا ہم وطن یا ہم نسل ہو، اور اُس کو غیر سمجھیں جو دوسرے ملک یا نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ اب کوئی صاحب عقل ہمیں سمجھا دے کہ دونوں احساس ایک جگہ کیسے جمع ہوسکتے ہیں؟ کیونکر ممکن ہے کہ آپ اپنے غیر مسلم ہم وطن کو اپنا بھی سمجھیں اور غیر بھی؟ اور غیر وطنی مسلمان سے بعید بھی ہوں اور قریب بھی؟ ھَلْ یَجْتَمِعَانِ مَعًا؟ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ۷۵؎
پس یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں میں ہندیت‘ ترکیت‘ افغانیت‘ عربیت اور ایرانیت کے احساسات کا پیدا ہونا اسلامی قومیت کا احساس مٹنے اور اسلامی وحدت کے پارہ پارہ ہونے کو مستلزم ہے اور یہ نتیجہ محض عقلی نہیں ہے بلکہ بارہا مشاہدے میں آچکا ہے۔ مسلمانوں میں جب کبھی وطنی یا نسلی تعصبات پیدا ہوئے تو مسلمان نے مسلمان کا گلا ضرور کاٹا اور لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (ترمذی ‘ ۲۱۹۳) ۷۶؎ کے اندیشۂ نبویؐ کی تصدیق کرکے ہی چھوڑی۔ لہٰذا وطنیت کے داعیوں کو اگر یہ کام کرنا ہی ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور دنیا کو دھوکا نہ دیں، بلکہ جو کچھ کریں یہ جان کر کریں کہ وطنی قومیت کی دعوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی عین ضد ہے۔

۲۔ اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم

زمانۂ حال میں مسلمانوں کی جماعت کے لیے لفظ ’قوم‘ کا استعمال کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے اور عموماً یہی اصطلاح ہماری اجتماعی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے رائج ہو چکی ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن اور حدیث میں مسلمانوں کے لیے لفظ ’قوم‘ (یانیشن کے معنی میں کسی دوسرے لفظ کو) اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان الفاظ میں اصلی قباحت کیا ہے جس کی وجہ سے اسلام میں ان سے پرہیز کیا گیا اور وہ دوسرے الفاظ کون سے ہیں جن کو قرآن و حدیث میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے‘ بلکہ اس سے ہمارے ان بہت سے تصورات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جن کی بدولت زندگی میں ہمارا رویہ بنیادی طور پر غلط ہو کر رہ گیا ہے۔
لفظ ’قوم‘ اور اس کے ہم معنی انگریزی لفظ nation‘ دونوں دراصل جاہلیت کی اصطلاحیں ہیں۔ اہل جاہلیت نے ’’قومیت‘‘ (nationality)کو کبھی خالص تہذیبی بنیاد (cultural basis)پر قائم نہیں کیا‘ نہ قدیم جاہلیت کے دور میں اور نہ جدید جاہلیت کے دور میں۔ ان کے دل و دماغ کے ریشوں میں نسلی اور روایتی علائق کی محبت کچھ اس طرح پلا دی گئی ہے کہ وہ نسلی روابط اور تاریخی روایات کی وابستگی سے قومیت کے تصور کو کبھی پاک نہ کرسکے۔ جس طرح قدیم عرب میں قوم کا لفظ عموماً ایک نسل یا ایک قبیلے کے لوگوں پر بولا جاتا تھا اسی طرح آج بھی لفظ ’نیشن‘ کے مفہوم میں مشترک جنسیت (common descent) کا تصور لازمی طور پر شامل ہے اور یہ چیز چونکہ بنیادی طور پر اسلامی تصورِ اجتماع کے خلاف ہے، اس وجہ سے قرآن میں لفظ قوم اور اس کے ہم معنی دوسرے عربی الفاظ مثلاً شُعَب وغیرہ کو مسلمانوں کی جماعت کے لیے اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی اصطلاح اس جماعت کے لیے کیوں کر استعمال کی جاسکتی تھی جس کے اجتماع کی اساس میں خون اور خاک اور رنگ اور اس نوع کی دوسری چیزوں کا قطعاً کوئی دخل نہ تھا‘ جس کی تالیف و ترکیب محض اصول اور مسلک کی بنیاد پر کی گئی تھی اور جس کا آغاز ہی ہجرت اور قطعِ نسب اور ترکِ علائق مادی سے ہوا تھا۔
قرآن نے جو لفظ مسلمانوں کی جماعت کے لیے استعمال کیا ہے وہ’حزب‘ ہے، جس کے معنی پارٹی کے ہیں۔ قومیں نسل و نسب کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور پارٹیاں اصول و مسلک کی بنیاد پر۔ اس لحاظ سے مسلمان حقیقت میں قوم نہیں بلکہ ایک پارٹی ہیں، کیونکہ ان کو تمام دنیا سے الگ اور ایک دوسرے سے وابستہ صرف اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول اور مسلک کے معتقد اور پیرو ہیں اور جن سے ان کا اصول و مسلک میں اشتراک نہیں، وہ خواہ ان سے قریب ترین مادی رشتے ہی کیوں نہ رکھتے ہوں‘ ان کے ساتھ ان کا کوئی میل نہیں ہے۔ قرآن رُوئے زمین کی اس پوری آبادی میں صرف دو ہی پارٹیاں دیکھتا ہے۔ ایک اللہ کی پارٹی (حِزبُ اللہ)، دوسرے شیطان کی پارٹی (حِزبُ الشیطان) شیطان کی پارٹی میں خواہ باہم اصول و مسلک کے اعتبار سے کتنے ہی اختلافات ہوں‘ قرآن ان سب کو ایک سمجھتا ہے، کیونکہ ان کا طریقِ فکر اور طریقِ عمل بہرحال اسلام نہیں ہے اور جزئی اختلافات کے باوجود بہرحال وہ سب شیطان کے اتباع پر متفق ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
اِسْتَحْوَذَ عَلَيْہِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰـىہُمْ ذِكْرَ اللہِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ المجادلۃ 19:58
شیطان ان پر غالب آگیا اور اس نے خدا سے انھیں غافل کر دیا۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ شیطان کی پارٹی آخر کار نامراد ہی رہنے والی ہے۔
برعکس اس کے اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں‘ بلکہ چاہے ان کے آبائواجداد میںباہم خونی عداوتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں، جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقِ فکر اور مسلکِ حیات میں متفق ہوگئے تو گویا الٰہی رشتے (حَبلُ اللہ) سے باہم جڑ گئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلقات حِزبُ الشیطان والوں سے کٹ گئے۔
پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پاسکتا۔ حدیث کے الفاظ میں: لَایَتَوَارَثُ اَھْلُ مِلَّتَیْنِ۔ (ترمذی ۲۱۰۸۔ مشکوۃ ۲۹۱۵ ابودائود، ابن ماجہ) دو مختلف ملتوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے‘۔
پارٹی کا یہ اختلاف بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے حتیٰ کہ اختلاف رونما ہوتے ہی دونوں پر ایک دوسرے کی مواصلت حرام ہو جاتی ہے‘ محض اس لیے کہ دونوں کی زندگی کے راستے جدا ہوچکے۔ قرآن میں ہے: لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ۝۰ۭ الممتحنۃ 10:60
نہ وہ ان کے لیے حلال‘ نہ یہ ان کے لیے حلال۔
پارٹی کا یہ اختلاف ایک برادری‘ ایک خاندان کے آدمیوں میں پورا معاشرتی مقاطعہ کرا دیتا ہے‘ حتیٰ کہ حزب اللہ والے کے لیے خود اپنی نسلی برادری کے ان لوگوں میں شادی بیاہ کرنا حرام ہو جاتا ہے جو حزب الشیطان سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے :
مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن لونڈی‘ مشرک بیگم سے بہتر ہے‘ خواہ وہ تمھیں کتنی ہی پسند ہو اور اپنی عورتوں کے نکاح بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن غلام مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے‘ چاہے وہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ (البقرہ۲:۲۲۱)
پارٹی کا یہ اختلاف نسلی و وطنی قومیت کا تعلق صرف کاٹ ہی نہیں دیتا، بلکہ دونوں میں ایک مستقل نزاع قائم کر دیتا ہے جو دائمًا قائم رہتی ہے تاوقتیکہ وہ اللہ کی پارٹی کے اصول تسلیم نہ کرلیں۔ قرآن کہتا ہے:
۱۔ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ۝۰ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ الممتحنہ 4:60
تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم ؑ اور اس کے ساتھیوں میں ہے۔ ان لوگوں نے اپنی (نسلی) قوم والوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارا تم سے اور تمھارے ان مبعودوں سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو‘ کوئی واسطہ نہیں۔ ہم تم سے بے تعلق ہو چکے اور ہمارے تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت پڑ گئی تاوقتیکہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لائو، مگر تمھارے لیے ابراہیمؑ کے اس قول میں نمونہ نہیں ہے کہ اس نے اپنے (کافر) باپ سے کہا کہ میں تیرے لیے بخشش کی دعا کروںگا:
۲۔ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝۰ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۝۰ۭ التوبہ114:9
ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا محض اس وعدے کی بنا پر تھا جووہ اس سے کرچکا تھا، مگر جب اس پر کھل گیا کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہوگیا۔
پارٹی کا یہ اختلاف ایک خاندان والوں اور قریب ترین رشتہ داروں کے درمیان بھی محبت کا تعلق حرام کر دیتا ہے‘ حتیٰ کہ اگر باپ اور بھائی اور بیٹے بھی حزب الشیطان میں شامل ہوں تو حزب اللہ والا اپنی پارٹی سے غداری کرے گا اگر ان سے محبت رکھے۔ قرآن میں ارشاد ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ۝۰ۭ …… اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللہِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
المجادلۃ 22:58
تم ایسا ہرگز نہ پائو گے کہ کوئی جماعت اللہ اور یوم آخر پر ایمان بھی رکھتی ہو، اور پھر اللہ اور رسولؐ کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھے‘ خواہ وہ ان کے باپ‘ بیٹے‘ بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں…… یہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں اور جان رکھو کہ آخر کار اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔
دوسرا لفظ پارٹی ہی کے معنی میں قرآن نے مسلمانوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ لفظ ’امت‘ ہے۔ حدیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے مستعمل ہوا ہے۔ امت اس جماعت کو کہتے ہیں جس کو کسی امر جامع نے مجتمع کیا ہو۔ جن افراد کے درمیان کوئی اصل مشترک ہو، ان کو اسی اصل کے لحاظ سے’امت‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً: ایک زمانے کے لوگ بھی ’امت‘ کہے جاتے ہیں۔ ایک نسل یا ایک ملک کے لوگ بھی ’امت‘ کہے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو جس اصل مشترک کی بنا پر امت کہا گیا ہے وہ نسل یا وطن یا معاشی اغراض نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کی زندگی کا مشن اور ان کی پارٹی کا اصول اور مسلک ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
۱۔ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ
آل عمران 110:3
تم وہ بہترین امت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
۲۔ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ البقرہ143:2
اور اس طرح ہم نے تم کو ایک بیچ کی امت بنایا ہے تاکہ تم نوع انسانی پر نگران ہو اور رسولؐ تم پر نگران ہو۔
ان آیات پر غور کیجیے۔ ’بیچ کی امت‘ سے مراد یہ ہے کہ’مسلمان‘ ایک بین الاقوامی جماعت (international party) کا نام ہے۔ دنیا کی ساری قوموں میں سے ان اشخاص کو چھانٹ کر نکالا گیا ہے جو ایک خاص اصول کو ماننے‘ ایک خاص پروگرام کو عمل میں لانے اور ایک خاص مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہوں۔ یہ لوگ چونکہ ہر قوم میں سے نکلے ہیں اور ایک پارٹی بن جانے کے بعد کسی قوم سے ان کا تعلق نہیں رہا ہے، اس لیے یہ بیچ کی امت ہیں۔ لیکن ہر ہر قوم سے تعلق توڑنے کے بعد سب قوموں سے ان کا ایک دوسرا تعلق قائم کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں خدائی قانون کو قائم کرنے کے فرائض انجام دیں۔ ’تم نوع انسانی پر نگران ہو‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ مسلمان خدا کی طرف سے دنیا میں فوج دار مقرر کیا گیا ہے اور ’نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے‘ کا فقرہ صاف کہہ رہا ہے کہ مسلمان کا مشن ایک عالم گیر مشن ہے۔ اس مشن کا خلاصہ یہ ہے کہ ’حزب اللہ‘ کے لیڈر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر و عمل کا جو ضابطہ خدا نے دیا تھا اس کو تمام ذہنی‘ اخلاقی اور مادی طاقتوں سے کام لے کر دنیا میں نافذ کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ہر دوسرے طریقے کو مغلوب کر دیا جائے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی بنیاد پر مسلمان ایک امت بنائے گئے ہیں۔
تیسرا اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استعمال کیا ہے وہ لفظ ’جماعت‘ ہے اور یہ لفظ بھی ’حزب‘ کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے۔ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ اور یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ (ترمذی‘ ۲۱۶۷) اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ’قوم‘ یا ’شعب‘ یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصداً احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ’جماعت‘ ہی کی اصطلاح استعمال کی۔ آپؐ نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ’ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو‘ یا ’قوم پر خدا کا ہاتھ ہے‘ بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپؐ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے’قوم‘ کے بجائے جماعت‘ حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں۔ ’قوم‘ کا لفظ جن معنوں میں عموماً مستعمل ہوتا ہے، ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو‘ ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے جب کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہو اور اپنے نام‘ طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو، لیکن پارٹی‘ جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے اصول اور مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے‘ یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے۔ آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہرگز اس میں شامل نہیں رہ سکتے‘ نہ اس کا نام استعمال کرسکتے ہیں، نہ اُس کے نمایندے بن سکتے ہیں، نہ اُس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہوسکتے ہیںاور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہوسکتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں‘ لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبر رہ چکے ہیں‘ اور میرا نام اس کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھ کو بھی ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہییں تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ انگیز ہوگا کہ شاید سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہہ ہونے لگے گا، لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور سے بدل ڈالیے، اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجایش نکل آتی ہے۔
اسلام نے اپنی بین الاقوامی پارٹی کے ارکان میں یک جہتی اور ان کی معاشرت میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے اور ان کو ایک سوسائٹی بنا دینے کے لیے حکم دیا تھا کہ آپس ہی میں بیاہ شادی کرو۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اولاد کے لیے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام تجویز کیا گیا تھا کہ وہ خودبخود پارٹی کے اصول و مسلک کے پیرو بن کر اٹھیں اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ افزائش نسل سے بھی پارٹی کی قوت بڑھتی رہے۔ یہیں سے اس پارٹی کے قوم بننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ بعد میں مشترک معاشرت‘ نسلی تعلقات اور تاریخی روایات نے اس قومیت کو زیادہ مستحکم کر دیا۔
اس حد تک جو کچھ ہوا‘ درست ہوا، لیکن رفتہ رفتہ مسلمان اس حقیقت کو بھولتے چلے گئے کہ وہ دراصل ایک پارٹی ہیں‘ اور پارٹی ہونے کی حیثیت ہی پر ان کی قومیت کی اساس رکھی گئی ہے۔ یہ بھُلاوا بڑھتے بڑھتے اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پارٹی کا تصور قومیت کے تصور میں بالکل ہی گم ہوگیا۔ مسلمان اب صرف ایک قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی طرح کی ایک قوم جیسی کہ جرمن ایک قوم ہے یا جاپانی ایک قوم ہے یا انگریز ایک قوم ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اصل چیز وہ اصول اور مسلک ہیں جس پر اسلام نے ان کو ایک امت بنایا تھا‘ وہ مشن ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے پیروئوں کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کیا تھا۔ اس حقیقت کو فراموش کرکے انھوں نے غیر مسلم قوموں سے ’قومیت‘ کا جاہلی تصور لے لیا ہے۔ یہ ایسی بنیادی غلطی ہے اور اس کے قبیح اثرات اتنے پھیل گئے ہیں کہ احیائے اسلام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ اس غلطی کو دور نہ کر دیا جائے۔
ایک پارٹی کے ارکان میں باہمی محبت‘ رفاقت اور معاونت جو کچھ بھی ہوتی ہے شخصی یا خاندانی حیثیت سے نہیں ہوتی‘ بلکہ صرف اس بنا پر ہوتی ہے کہ وہ سب ایک اصول کے معتقد اور ایک مسلک کے پیرو ہوتے ہیں۔ پارٹی کا ایک رکن اگر جماعتی اصول اور مسلک سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کی مدد کرنا پارٹی والوں کا فرض نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کے برعکس پارٹی والوں کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسے غدارانہ اور باغیانہ طرز عمل سے روکیں‘ نہ مانے تو اس کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت سخت کارروائی کریں‘ پھر بھی نہ مانے تو جماعت سے نکال باہر کریں۔ ایسی مثالیں بھی دنیا میں ناپید نہیں ہیں کہ جو شخص پارٹی کے مسلک سے شدید انحراف کرتا ہے اسے کچھ خاص حالتوں میں قتل تک کر دیا جاتا ہے۔۷۷؎ لیکن ذرا مسلمانوں کا حال دیکھیے کہ اپنے آپ کو پارٹی کے بجائے قوم سمجھنے کی وجہ سے یہ کیسی شدید غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان میں سے جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے غیر اسلامی اصولوں پر کوئی کام کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی مدد کریں گے۔ اگر مدد نہیں کی جاتی تو شکایت کرتا ہے کہ دیکھو‘ مسلمان مسلمان کے کام نہیں آتے۔ سفارش کرنے والے ان کی سفارش ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی کا بھلا ہوتا ہے‘ اس کی مدد کرو۔ مدد کرنے والے بھی اگر اس کی مدد کرتے ہیں تو اپنے اس فعل کو اسلامی ہمدردی سے موسوم کرتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں ہر ایک کی زبان پر اسلامی ہمدردی‘ اسلامی برادری‘ اسلام کے رشتۂ دینی کا نام بار بار آتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت اسلام کے خلاف عمل کرنے میں خود اسلام ہی کا حوالہ دینا اور اس کے نام سے ہمدردی چاہنا یا ہمدردی کرنا صریح لغو بات ہے۔ جس اسلام کا یہ لوگ نام لیتے ہیں اگر حقیقت میں وہ ان کے اندر زندہ ہو تو جونہی ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسلامی جماعت کا کوئی شخص کوئی کام اسلامی نظریے کے خلاف کر رہا ہے‘ یہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اس سے توبہ کرا کے چھوڑیں۔ کسی کا مدد چاہنا تو درکنار‘ ایک زندہ اسلامی سوسائٹی میں تو کوئی شخص اصول اسلام کی خلاف ورزی کا نام تک نہیں لے سکتا لیکن آپ کی سوسائٹی میں رات دن یہی معاملہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ آپ کے اندر جاہلی قومیت آگئی ہے۔ جس چیز کو آپ اسلامی اخوت کہہ رہے ہیں یہ دراصل جاہلی قومیت کا رشتہ ہے جو آپ نے غیر مسلموں سے لے لیا ہے۔
اسی جاہلیت کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ آپ کے اندر’قومی مفاد‘ کا ایک عجیب تصور پیدا ہوگیا ہے اور آپ اس کو بے تکلف ’اسلامی مفاد‘ بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد اسلامی مفاد یا قومی مفاد کیا چیز ہے؟ یہ کہ جو لوگ ’مسلمان‘ کہلاتے ہیں ان کا بھلا ہو‘ ان کے پاس دولت آئے‘ ان کی عزت بڑھے‘ ان کو اقتدار نصیب ہو‘ اور کسی نہ کسی طرح ان کی دنیا بن جائے۔ بلا لحاظ اس کے کہ یہ سب فائدے اسلامی نظریے اور اسلامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے حاصل ہوں، یا خلاف ورزی کرتے ہوئے۔ پیدائشی مسلمان یا خاندانی مسلمان کو آپ ’مسلمان‘ کہتے ہیں‘ چاہے اس کے خیالات اور اس کے طرز عمل میں اسلام کی صفت کہیں ڈھونڈے نہ ملتی ہو۔ گویا آپ کے نزدیک مسلمان روح کا نہیں، بلکہ جسم کا نام ہے اور صفت اسلام سے قطع نظر کرکے بھی ایک شخص کو مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ اس غلط تصور کے ساتھ جن جسموں کا اسم ذات آپ نے مسلمان رکھ چھوڑا ہے ان کی حکومت کو آپ اسلامی حکومت‘ ان کی ترقی کو آپ اسلامی ترقی‘ ان کے فائدے کو آپ اسلامی مفاد قرار دیتے ہیں‘ خواہ یہ حکومت اور یہ ترقی اور یہ مفاد سراسر اصول اسلام کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح جرمنیت کسی اصول کا نام نہیں‘ محض ایک قومیت کا نام ہے‘ اور جس طرح ایک جرمن قوم پرست صرف جرمنوں کی سربلندی چاہتا ہے‘ خواہ کسی طریقے سے ہو‘ اسی طرح آپ نے بھی ’مسلمانیت‘ کو محض ایک قومیت بنا لیا ہے اور آپ کے مسلمان قوم پرست محض اپنی قوم کی سربلندی چاہتے ہیں، خواہ یہ سربلندی اصولاً اور عملاً اسلام کے بالکل برعکس طریقوں کی پیروی کا نتیجہ ہو۔ کیا یہ جاہلیت نہیں ہے؟ کیا درحقیقت آپ اس بات کو بھول نہیں گئے ہیں کہ مسلمان صرف اس بین الاقوامی پارٹی کا نام تھا جو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خاص نظریے اور ایک عملی پروگرام لے کر اٹھی تھی؟ اس نظریے اور پروگرام کو الگ کرنے کے بعد محض اپنی شخصی یا اجتماعی حیثیت سے جو لوگ کسی دوسرے نظریے اور پروگرام پر کام کرتے ہیں ان کے کاموں کو آپ ’اسلامی‘ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو شخص سرمایہ داری کے اصول پر کام کرتا ہو‘ اسے اشتراکی کے نام سے یاد کیا جائے؟ کیا سرمایہ دارانہ حکومت کو بھی آپ اشتراکی حکومت کہتے ہیں؟ کیا فاشستی طرز ادارہ کو آپ جمہوری طرز ادارہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اس طرح اصطلاحوں کو بے جا استعمال کرے تو آپ شاید اسے جاہل اور بے وقوف کہنے میں ذرا تأمل نہیں کریں گے، مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان کی اصطلاح کو بالکل بے جا استعمال کیا جارہا ہے اور اس میں کسی کو جاہلیت کی بو تک محسوس نہیں ہوتی۔
مسلمان کا لفظ خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ’اسم ذات‘ نہیں بلکہ ’اسم صفت‘ ہی ہوسکتا ہے اور ’پیرو اسلام‘ کے سوا اس کا کوئی دوسرا مفہوم سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ انسان کی اس خاص ذہنی‘ اخلاقی اور عملی صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ لہٰذا آپ اس لفظ کو شخص مسلمان کے لیے اس طرح استعمال نہیں کرسکتے جس طرح آپ ہندویا جاپانی یا چینی کے الفاظ شخصِ ہندو‘ شخصِ جاپانی یا شخصِ چینی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سانام رکھنے والا جونہی اصول اسلام سے ہٹا‘ اس سے مسلمان ہونے کی حیثیت خود بخود سلب ہو جاتی ہے۔اب وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی شخصی حیثیت میں کرتا ہے۔ اسلام کا نام استعمال کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔ اسی طرح ’مسلمان کا مفاد‘ ’مسلمان کی ترقی‘، ’مسلمان کی حکومت و ریاست‘،’مسلمان کی وزارت‘، ’مسلمان کی تنظیم‘ اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آپ صرف ان مواقع پر بول سکتے ہیں جب کہ یہ چیزیں اسلامی نظریے اور اصول کے مطابق ہوں اور اس مشن کو پورا کرنے سے متعلق ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی لفظ مسلمان کا استعمال درست نہیں۔۷۸؎ آپ ان کو جس دوسرے نام سے چاہیں‘ موسوم کریں‘ بہرحال مسلمان کے نام سے موسوم نہیں کرسکتے کیونکہ صفت اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان سرے سے کوئی شے ہے ہی نہیں۔ آپ کبھی اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ اشتراکیت سے قطع نظر کرکے کسی شخص یا قوم کا نام اشتراکی ہے اور اس معنی میں کسی مفاد کو اشتراکی مفاد یا کسی حکومت یا کسی تنظیم کو اشتراکیوں کی حکومت یا تنظیم یا کسی ترقی کو اشتراکیوں کی ترقی کہا جاسکتا ہے۔ پھر آخر مسلمان کے معاملے میں آپ نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان کسی شخص یا قوم کا ذاتی نام ہے اور اس کی ہر چیز کو اسلامی کہہ دیا جاسکتا ہے۔
اس غلط فہمی نے بنیادی طور پر اپنی تہذیب‘ اپنے تمدن اور اپنی تاریخ کے متعلق آپ کے رویے کو غلط کر دیا ہے۔ جو بادشاہتیں اور حکومتیں غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہوئی تھیں آپ ان کو ’اسلامی حکومتیں‘ کہتے ہیں۔ محض اس لیے کہ ان کے تخت نشین مسلمان تھے۔ جو تمدن قرطبہ و بغداد اور دہلی و قاہرہ کے عیش پرست درباروں میں پرورش پایا تھا‘ آپ اسے ’اسلامی تمدن‘ کہتے ہیں حالانکہ اسلام سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔
آپ سے جب اسلامی تہذیب کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو آپ جھٹ سے آگرہ] بھارت[ کے تاج محل کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔ گویا یہ ہے اس تہذیب کا سب سے زیادہ نمایاں نمونہ۔ حالانکہ اسلامی تہذیب سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ایک میت کو سپرد خاک کرنے کے لیے ایکڑوں زمین مستقل طور پر گھیر لی جائے اور اس پر لاکھوں روپے کی عمارت تعمیر کی جائے۔ آپ جب اسلامی تاریخ کے مفاخر بیان کرنے پر آتے ہیں تو عباسیوں‘ سلجوقیوں اور مغلوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اسلامی تاریخ کے نقطۂ نظر سے ان کارناموں کا بڑا حصہ آب زر سے نہیں، بلکہ سیاہ روشنائی سے جرائم کی فہرست میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کا نام ’اسلامی تاریخ‘ رکھ چھوڑا ہے‘ بلکہ آپ اسے ’تاریخ اسلام‘ بھی کہہ دیتے ہیں‘ گویا ان بادشاہوں کا نام اسلام ہے۔ آپ بجائے اس کے کہ اسلام کے مشن اور اس کے اصول و نظریات کو سامنے رکھ کر اپنی گزشتہ تاریخ کا احتساب کریں‘ اور پورے انصاف کے ساتھ اسلامی حرکات کو غیر اسلامی حرکات سے ممتاز کرکے دیکھیں اور دکھائیں۔ اسلامی تاریخ کی خدمت آپ اس کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کی حمایت و مدافعت کریں۔ آپ کے زاویۂ نظر میں یہ کجی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ مسلمان کی ہر چیز کو ’اسلامی‘ سمجھتے ہیں اور آپ کا گمان یہ ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ اگر غیر مسلمانہ طریق پر بھی کام کرے تو اس کے کام کو مسلمان کاکام کہا جاسکتا ہے۔
یہی ٹیڑھا زاویۂ نظر آپ نے اپنی ملّی سیاست میں بھی اختیار کر رکھا ہے۔ اسلام کے اصول و نظریات اور اس کے مشن سے قطع نظر کرکے آپ ایک قوم کو ’مسلم قوم‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس قوم کی طرف سے‘ یا اس کے نام سے‘ یا اس کے لیے ہر شخص اور ہر گروہ من مانی کارروائیاں کرسکتا ہے۔ آپ کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمانوں کا نمایندہ، بلکہ ان کا لیڈر بھی بن سکتا ہے جو ’مسلمانوں کی قوم‘ سے تعلق رکھتا ہو‘ خواہ اس غریب کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ آپ ہر اس پارٹی کے ساتھ لگ چکنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی پیروی میں آپ کو کسی نوعیت کا فائدہ نظر آئے‘ خواہ اس کا مشن اسلام کے مشن سے کتنا ہی مختلف ہو۔ آپ خوش ہو جاتے ہیں جب مسلمانوں کو چار روٹیاں ملنے کا کوئی انتظام ہو جائے‘ خواہ اسلام کی نگاہ میں وہ حرام کی روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ پھولے نہیں سماتے جب کسی جگہ مسلمان آپ کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے‘ خواہ وہ اس اقتدار کو بالکل اسی طرح غیر اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہو‘ جس طرح ایک غیر مسلم کرسکتا ہے۔ آپ اکثر ان چیزوں کا نام اسلامی مفاد رکھتے ہیں جو حقیقتاً غیر اسلامی ہیں‘ ان اداروں کی حمایت و حفاظت پر اپنا زور صرف کرتے ہیں جو اصول اسلام کے بالکل خلاف قائم ہوئے ہیں‘ اور ان مقاصد کے پیچھے اپنا روپیہ اور اپنی قومی طاقت ضائع کرتے ہیں جو ہرگز اسلامی نہیں ہیں۔ یہ سب نتائج اسی ایک بنیادی غلطی کے ہیں کہ آپ نے اپنے آپ کو محض ایک ’قوم‘ سمجھ لیا ہے اور اس حقیقت کو آپ بھول گئے ہیں کہ دراصل آپ ایک ’بین الاقوامی پارٹی‘ ہیں جس کا کوئی مفاد اور کوئی مقصد اپنی پارٹی کے اصولوں کو دنیا میں حکمران بنانے کے سوا نہیں ہے۔ جب تک آپ اپنے اندر قوم کے بجائے پارٹی کا تصور پیدا نہ کریں گے اور اس کو ایک زندہ تصور نہ بنائیں گے‘ زندگی کے کسی معاملے میں بھی آپ کا رویہ درست نہ ہوگا۔
اِستدراک
اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد اصحاب نے اس شبہے کا اظہار کیا کہ ’اسلامی جماعت‘ کو ’قوم‘ کے بجائے پارٹی کہنے سے اس امر کی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ کسی وطنی قومیت کی جز بن کر رہے۔ جس طرح ایک قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور اپنا الگ الگ مسلک رکھنے کے باوجود سب کی سب اس بڑے مجموعے میں شامل رہتی ہیں جس کو’قوم‘ کہا جاتا ہے‘ اسی طرح اگر مسلمان ایک پارٹی ہیں تو وہ بھی اپنے وطن کی قوم کا ایک جز بن کر رہ سکتے ہیں۔
چونکہ جماعت یا پارٹی کے لفظ کو عام طور پر لوگ سیاسی یا پولیٹیکل پارٹی کے معنی میں لیتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ غلط فہمی پیدا ہوئی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اس لفظ کا اصلی مفہوم نہیں ہے بلکہ ایک خاص معنی میں بکثرت استعمال ہونے سے پیدا ہوگیا ہے۔ اصلی مفہوم اس لفظ کا یہ ہے کہ جو لوگ ایک مخصوص عقیدے‘ نظریے‘ مسلک اور مقصد پر مجتمع ہوں وہ ایک جماعت ہیں۔ اس معنی میں قرآن نے ’حزب‘ اور ’امت‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں‘ اور اسی معنی میں ’جماعت‘ کا لفظ احادیث اور آثار میں مستعمل ہوا ہے اور یہی مفہوم ’پارٹی‘ کا بھی ہے۔
اب ایک جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کے پیشِ نظر ایک قوم یا ملک کے مخصوص حالات کے لحاظ سے، سیاسی تدبیر کا ایک خاص نظریہ اور پروگرام ہوتا ہے۔ اس قسم کی جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس قوم کا جز بن کر کام کرسکتی ہے اور کرتی ہے جس میں وہ پیدا ہو۔
دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو ایک کلی نظریے اور جہانی تصور (world idea)لے کر اٹھتی ہے۔ جس کے سامنے تمام بنی نوع انسانی کے لیے بلا لحاظ قوم و وطن ایک عالم گیر مسلک ہوتا ہے، جو پوری زندگی کی تشکیل و تعمیر ایک نئے ڈھنگ پر کرنا چاہتی ہے۔ جس کا نظریہ و مسلک‘ عقائد و افکار اور اصول اخلاق سے لے کر انفرادی برتائو اور اجتماعی نظام کی تفصیلات تک ہر چیز کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ جو ایک مستقل تہذیب اور ایک مخصوص تمدن (civilisation) کو وجود میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ جماعت بھی اگرچہ حقیقت میں ایک جماعت ہی ہوتی ہے‘ لیکن یہ اس قسم کی جماعت نہیں ہوتی جو کسی قوم کا جز بن کر کام کر سکتی ہو۔ یہ محدود قومیتوں سے بالا تر ہوتی ہے۔ اس کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ ان نسلی و روایتی تعصبات کو توڑ دے جن پر دنیا میں مختلف قومیتیں بنتی ہیں۔ پھر یہ خود اپنے آپ کو کس طرح ان قومیتوں کے ساتھ وابستہ کرسکتی ہے؟ یہ نسلی و تاریخی قومیتوں کے بجائے ایک عقلی قومیت (rational nationality)بناتی ہے۔ جامد قومیتوں کی جگہ ایک نامی قومیت (expanding nationality)بناتی ہے۔ یہ خود ایک ایسی قومیت بنتی ہے جو عقلی و تہذیبی وحدت کی بنیاد پر روئے زمین کی پوری آبادی کو اپنے دائرے میں لینے کے لیے تیار ہوتی ہے، لیکن ایک قومیت بننے کے باوجود حقیقت میں یہ ایک جماعت ہی رہتی ہے کیونکہ اس میں شامل ہونے کا مدار پیدائش پر نہیں ہوتا، بلکہ اس نظریے و مسلک کی پیروی پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ جماعت بنی ہے۔
مسلمان دراصل اسی دوسری قسم کی جماعت کا نام ہے۔ یہ اس قسم کی پارٹی نہیں ہے جیسی پارٹیاں ایک قوم میں بنا کرتی ہیں، بلکہ یہ اس قسم کی پارٹی ہے جو ایک مستقل نظام تہذیب و تمدن (civilisation)بنانے کے لیے اٹھتی ہے، اور چھوٹی چھوٹی قومیتوں کی تنگ سرحدوں کو توڑ کر عقلی بنیادوں پر ایک بڑی جہانی قومیت (world nationality)بنانا چاہتی ہے۔ اس کو ’قوم‘ کہنا اس لحاظ سے یقیناً درست ہوگا کہ یہ اپنے آپ کو دنیا کی نسلی یا تاریخی قومیتوں میں سے کسی قومیت کے ساتھ بھی باعتبار جذبات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، بلکہ اپنے نظریۂ حیات اور فلسفۂ اجتماعی (social philosophy)کے مطابق خود اپنی تہذیب و مدنیت کی عمارت الگ بناتی ہے، لیکن اس معنی کے لحاظ سے ’قوم‘ ہونے کے باوجود یہ حقیقت میں ’جماعت‘ ہی رہتی ہے کیونکہ محض اتفاقی پیدائش (mere accident of birth)کسی شخص کو اس قوم کا ممبر نہیں بناسکتی، جب تک کہ وہ اس کے مسلک کا معتقد اور پیرو نہ ہو، اور اسی طرح کسی شخص کا کسی دوسری قوم میں پیدا ہونا اس کے لیے اس امر میں مانع بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی قوم سے نکل کر اس قوم میں داخل ہوجائے جب کہ وہ اس کے مسلک پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو۔ پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ مسلم قوم کی قومیت اس کے ایک جماعت یا پارٹی ہونے ہی کی بنا پر قائم ہے۔ جماعتی حیثیت جڑ کا حکم رکھتی ہے اور قومی حیثیت اس کی فرع ہے۔ اگر جماعتی حیثیت کو اس سے الگ کرلیا جائے اور یہ مجرد ایک قوم بن کر رہ جائے تو یہ اس کا تنزل (degeneration)ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی اجتماعات کی تاریخ میں اسلامی جماعت کی حیثیت بالکل نرالی اور انوکھی واقع ہوئی ہے۔ اسلام سے پہلے بدھ مت اور مسیحیت نے قومیتوں کے حدود کو توڑ کر تمام عالم انسانی کو خطاب کیا اور ایک نظریے و مسلک کی بنیاد پر عالم گیر برادری بنانے کی کوشش کی، مگر ان دونوں مسلکوں کے پاس چند اخلاقی اصولوں کے سوا کوئی ایسا اجتماعی فلسفہ نہ تھا جس کی بنیاد پر یہ تہذیب و تمدن کا کوئی کلی نظام بنا سکتے۔ اس لیے یہ دونوں مسلک کوئی عالم گیر قومیت نہ بنا سکے، بلکہ ایک طرح کی برادری (brotherhood)بنا کر رہ گئے۔ اسلام کے بعد مغرب کی سائنٹیفک تہذیب اٹھی‘ جس نے اپنے خطاب کو بین الاقوامی بنانا چاہا‘ مگر اول یوم پیدائش سے اس پر نیشنلزم کا بھوت سوار ہوگیا، لہٰذا یہ بھی عالم گیر قومیت بنانے میں ناکام ہوئی۔ اب مار کسی اشتراکیت آگے بڑھی ہے اور قومیتوں کی حدوں کو توڑ کر جہانی تصور کی بنیاد پر ایک ایسی تہذیب وجود میں لانا چاہتی ہے جو عالم گیر ہو، لیکن چونکہ ابھی تک وہ نئی تہذیب پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہے‘ جو اس کے پیش نظر ہے‘ اس لیے ابھی تک مارکسیت بھی ایک عالم گیر قومیت میں تبدیل نہیں ہو سکی ہے۔۷۹؎ اس وقت تک میدان میں تنہا اسلام ہی ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جو نسلی اور تاریخی قومیتوں کو توڑ کر تہذیبی بنیادوں پر ایک عالم گیر قومیت بناتا ہے‘ لہٰذا جو لوگ اسلام کی اسپرٹ سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی اجتماعی ہیئت کس طرح بیک وقت قوم بھی اور پارٹی بھی ہوسکتی ہے۔ وہ دنیا کی جتنی قوموں کو جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ارکان پیدا نہ ہوتے ہوں، بلکہ بنتے ہوں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص اٹالین پیدا ہوا ہے وہ اٹالین قومیت کا رکن ہے، اور جو اٹالین پیدا نہیں ہوا وہ کسی طرح اٹالین نہیں بن سکتا۔ ایسی کسی قومیت سے وہ واقف نہیں ہیں جس کے اندر آدمی اعتقاد اور مسلک کی بنا پر داخل ہوتا ہو‘ اور اعتقاد و مسلک کے بدل جانے پر اس سے خارج ہو جاتا ہو۔ ان کے نزدیک یہ صفت ایک قوم کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کی ہوسکتی ہے، مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نرالی پارٹی اپنی الگ تہذیب بناتی ہے‘ اپنی مستقل قومیت کا اِدّعا کرتی ہے اور کسی جگہ بھی مقامی قومیت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے پر راضی نہیں ہوتی تو ان کے لیے یہ معاملہ ایک چیستان بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی نافہمی غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کو بھی پیش آرہی ہے۔ مدتوں سے غیر اسلامی تعلیم و تربیت پاتے رہنے اور غیر اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کے اندر ’تاریخی قومیت‘ کا جاہلی تصور پیدا ہوگیا ہے۔ یہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ہماری اصلی حیثیت ایک ایسی جماعت کی تھی جو دنیا میں ایک عالم گیر انقلاب برپا کرنے کے لیے وجود میں آئی تھی‘ جس کی زندگی کا مقصد اپنے نظریے کو دنیا میں پھیلانا تھا‘ جس کاکام دنیا کے غلط اجتماعی نظامات کو توڑ پھوڑ کر اپنے فلسفۂ اجتماعی کی بنیاد پر ایک اجتماعی نظام مرتب کرنا تھا۔ یہ سب کچھ بھول بھال کر انھوں نے اپنے آپ کو بس اسی قسم کی ایک قوم سمجھ لیا ہے جیسی اور بہت سی قومیں موجود ہیں۔ اب ان کی مجلسوں اور انجمنوں میں‘ ان کی کانفرنسوں اور جمعیتوں میں‘ ان کے اخباروں اور رسالوں میں‘ کہیں بھی ان کی اجتماعی زندگی کے اس مشن کا ذکر نہیں آتا، جس کے لیے ان کو دنیا بھر کی قوموں میں سے نکال کر ایک امت بنایا گیا تھا۔ اس مشن کے بجائے اب جو چیز ان کی تمام توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہے‘ وہ ’مسلمانوں‘ کا مفاد ہے۔ مسلمانوں سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو مسلمان ماں باپ کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں‘ اور مفاد سے مراد اُن نسلی مسلمانوں کا مادی و سیاسی مفاد ہے یا بدرجۂ آخر اس کلچر کا تحفظ ہے جو اُن کو آبائی ورثے میں ملا ہے ____ اس مفاد کی حفاظت اور ترقی کے لیے جو تدبیر بھی کارگر ہو‘ اس کی طرف یہ دوڑ جاتے ہیں‘ بالکل اسی طرح جس طرح مسولینی ہر اس طریقے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جو اطالویوں کے مفاد کے لیے مناسب ہو۔ کسی اصول اور نظریے کا نہ وہ پابند ہے نہ یہ۔ وہ کہتا ہے کہ جو کچھ اطالویوں کے لیے مفید ہو‘ وہ حق ہے۔ یہی چیز ہے جس کو میں مسلمانوں کا تنزل کہتا ہوں‘ اور اسی تنزل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ تم نسلی اور تاریخی قوموں کی طرح ایک قوم نہیں ہو، بلکہ حقیقت میں ایک جماعت ہو‘ اور تمھاری نجات صرف اس چیز میں ہے کہ اپنے اندر جماعتی احساس (partysense)پیدا کرو۔
اس جماعتی احساس کے فقدان یا خود فراموشی کے برے نتائج اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ یہ اسی بے حسی و خود فراموشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر رہ روکے پیچھے چلنے اور ہر نظریے اور مسلک کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے‘ خواہ وہ اسلام کے نظریے اور اس کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے کتنا ہی ہٹا ہوا ہو۔ وہ نیشنلسٹ بھی بنتا ہے، کمیونسٹ بھی بن جاتا ہے۔ فاشستی اصول تسلیم کرنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں ہوتا، مغرب کے مختلف اجتماعی فلسفوں اور مابعد الطبیعی افکار اور علمی نظریات میں سے قریب قریب ہر ایک کے پیرو آپ کو مسلمانوں میں مل جائیں گے۔ دنیا کی کوئی سیاسی‘ اجتماعی یا تمدنی تحریک ایسی نہیں جس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسلمان شریک نہ ہوں اور لطف یہ ہے کہ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں‘ سمجھتے ہیں اور سمجھے جاتے ہیں۔ ان مختلف راہوں پر بھٹکنے اور دوڑنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ یاد نہیں آتا کہ’مسلمان‘ کوئی پیدائشی لقب نہیں ہے، بلکہ اسلام کی راہ پر چلنے والے کا اسم صفت ہے۔ جو شخص اسلام کی راہ سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چلے‘ اس کو مسلمان کہنا اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے۔مسلم نیشنلسٹ اور مسلم کمیونسٹ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحیں بالکل اسی طرح کی متناقض اصطلاحیں ہیں جس طرح ’کمیونسٹ مہاجن‘ اور’بدھسٹ قصائی‘ کی اصطلاحیں متناقض ہیں۔


باب۶

کتاب کے اس دوسرے حصے میں ہم اسلامی ریاست کے بنیادی اصول اور اس کے نظام کار کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ اس سے اسلامی دستور کا ایک واضح خاکہ بھی ہمارے سامنے آجائے گا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حصے میں سب سے پہلے ہم اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ سے بحث کرلیں، تاکہ بعد کے تمام مباحث کی اساس ہمارے سامنے آجائے۔ اسلامی ریاست کے بارے میں اگر پہلے ہی قدم پر یہ بات واضح ہو جائے کہ اس کے اصل مآخذ قرآن و سنت ہیں‘ دوسرے ممالک کے تجربات نہیں تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہی نہ ہوں۔ مسلمان ممالک کے موجودہ حکمرانوں اور متجددین کی اصل فکری غلطی ہی یہ ہے کہ وہ بات تو کرتے ہیں اسلامی ریاست کی لیکن بطور مآخذ رجوع کرتے ہیں مغربی اقوام کی طرف۔ بلاشبہہ ہم دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن خود اپنے نظام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اور اس کی روح کو محفوظ رکھتے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب سے پہلے دستوری مآخذ اور ان سے استفادے کی راہ کی مشکلات کو پیش کر رہے ہیں۔
اس بحث کی ضرورت ایک اور وجہ سے بھی پیش آئی ____ اور وہ ہے فتنۂ انکارِ حدیث۔ ایک گروہ حدیث کے بارے میں ذہنوں کو مشکوک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے حجت اور مآخذ قانون ہونے پر اعتراض کرتا ہے۔ اس نقطۂ نظر پر تنقید اور صحیح صورت حال کی تشریح بے حد ضروری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی نظم مملکت کا کوئی واضح خاکہ بن ہی نہیں سکتا۔
اس باب کو مصنف محترم کی مختلف تحریرات سے مرتب کیا گیا ہے اور حاشیوں میں ان مقامات کی نشان دہی کر دی گئی ہے جہاں سے متعلقہ مواد لیا گیا ہے۔(مرتب )

 

اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ

اسلامی ریاست وہ ریاست ہے جو حاکمیتِ الٰہی اور خلافتِ علیٰ منہاج النبوۃ کے نظام کو اس کے تمام تضمنات کے ساتھ قائم کرنے کی داعی ہو۔ آج دنیا میں جہاں بھی ایسی ریاست قائم کرنے اور اس کی نوعیت اور نظامِ کار متعین کرنے کی کوشش کی جائے گی تو چند خاص مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور وہ ہیں:
۱۔ قرآن
۲۔ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
۳۔ تعاملِ خلافت ِ راشدہ
۴۔ مجتہدین امت کے فیصلے
اسلام کے غیر تحریری دستور مملکت کے یہی چار مآخذ ہیں، اور انھی کے مطالعے سے اسلامی ریاست کی نوعیت اور اس کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے اور انھی سے ہم وہ اصول و کلیات اور احکام و دفعات اخذ کرسکتے ہیں جو اسلامی دستور کا جز ہوں گی۔

ا۔قرآن مجید

اس کا سب سے پہلا ماخذ قرآن مجید ہے۔ اسلام۸۰؎ کی اصطلاح میں ’کتاب‘ سے مراد وہ کتاب ہے جو بندوں کی رہنمائی کے لیے اللہ کی طرف سے رسول پر نازل کی جاتی ہے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے کتاب گویا اسی پیغام کا سرکاری بیان (official version)یا اسلامی اصطلاح کے مطابق ’الٰہی کلام‘ ہے جسے لوگوں تک پہنچانے‘ جس کی توضیح و تشریح کرنے‘ اور جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیغمبر دنیا میں بھیجے گئے۔ سُنّتُ اللہ یہ ہے کہ خدا کو پیغمبر کے ذریعے سے جو تعلیم بندوں کو دینی مقصود ہے، وہ اس کے اصول و مہمات مسائل پیغمبر کے دل پر اِلقا کرتا ہے۔ اس ہدایت کے الفاظ اور معانی دونوں میں پیغمبر کی اپنی عقل و فکر‘ ارادے اور خواہش کا ذرہ برابر دخل نہیں ہوتا۔ پیغمبر اس کلام کو ایک امانت دار قاصد کی حیثیت سے خدا کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر خدا کے عطا کیے ہوئے علم اور بصیرت سے اس کے معانی و مطالب کی تشریح کرتا ہے‘ انھی الٰہی اصولوں پر اخلاق و معاشرت اور تہذیب و تمدن کا نظام قائم کرتا ہے۔ اپنی تعلیم و تلقین اور اپنی پاکیزہ سیرت سے لوگوں کے خیالات و رجحانات اور افکار میں ایک انقلاب برپا کرتا ہے۔ تقویٰ اور طہارت اور پاکیزگیِ نفس اور حسنِ عمل کی رُوح ان میں پھونکتا ہے۔ اپنی تربیت اور عملی رہنمائی سے ان کو اس طور پر منظم کرتا ہے کہ ان سے ایک نئی سوسائٹی، نئی ذہنیت‘ نئے افکار و خیالات‘ نئے آداب و اطوار اور نئے آئین و قوانین کے ساتھ وجود میں آجاتی ہے‘ پھر وہ ان میں اللہ کی کتاب اور اس کے ساتھ اپنی سنت‘ اپنی تعلیم اور اپنی پاکیزہ سیرت کے آثار چھوڑ جاتا ہے جو ہمیشہ اس جماعت اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ ہدایت کاکام دیتے ہیں۔
قرآن مجید خدا کی نازل کردہ کتب سماوی میں سب سے آخری اور مکمل ترین کتاب ہے۔ مسلمان ایمان تو تمام آسمانی کتب پر رکھتے ہیں لیکن ان کے لیے قانونِ ہدایت اور آئینِ زندگی کی حیثیت صرف قرآن مجید کو حاصل ہے۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، جہاں سے بالفعل اتباع کی سرحد شروع ہوتی ہے‘ وہاں دوسری کتابوں سے تعلق منقطع کرکے صرف قرآن کے ساتھ تعلق استوار کیا گیا ہے اور ہمارے لیے یہی کتاب اصل ماخذِ ہدایت اور حجت (authority) ہے۔ اس کے متعدد وجوہ ہیں:
۱۔ قرآن مجید انھی الفاظ میں محفوظ ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیش کیا تھا۔ اول روز سے سیکڑوں‘ ہزاروں‘ لاکھوں آدمیوں نے ہر زمانے میں اس کو لفظ بہ لفظ یاد کیا ہے۔لاکھوں، کروڑوں آدمیوں نے روزانہ اس کی تلاوت کی ہے‘ ہمیشہ اس کے نسخے ضبطِ کتابت میں لائے جاتے رہے ہیں اور کبھی اس کی عبارت میں ذرہ برابر اختلاف نہیں پایا گیا ہے۔ لہٰذا اس امر میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ جو قرآن نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنا گیا تھا وہی آج دنیا میں موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ اس میں کبھی ایک لفظ کا تغیر و تبدل نہ ہوا ہے‘ نہ ہوسکتا ہے۔
۲۔ وہ عربی زبان میں اترا ہے جو ایک زندہ زبان ہے اور آج تک اس زبان کا فصیح اور معیاری لٹریچر وہی ہے جو نزول قرآن کے وقت تھا۔ اس کے معانی و مطالب معلوم کرنے میں انسان کے لیے وہ دقتیں نہیں ہیں جو مُردہ زبانوں کی کتابوں کو سمجھنے میں پیش آتی ہیں۔
۳۔ وہ سراسر حق‘ اور از اول تا آخر الٰہی تعلیمات سے لبریز ہے۔ اس میں کہیں انسانی جذبات‘ نفسانی خواہشات‘ قومی یا طائفی خود غرضیوں اور جاہلانہ گمراہیوں کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ اس کے اندر کلامِ الٰہی کے ساتھ انسانی کلام کی ذرہ برابر آمیزش نہیں ہوسکی ہے۔
۴۔ وہ ایک جامع کتاب ہے جس کے اندر ان تمام حقائق و معارف اور خیرات و صالحات کو جمع کر دیا گیا ہے جو اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں بیان کیے گئے تھے۔ ایسی جامع کتاب کی موجودگی میں انسان آپ سے آپ دوسری تمام کتابوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
۵۔ وہ آسمانی ہدایات اور الٰہی تعلیمات کا جدید ترین مجموعہ (latest edition)ہے۔ بعض ہدایات جو پچھلی کتابوں میں مخصوص حالات کے تحت دی گئی تھیں‘ وہ اس میں سے نکال دی گئیں اور بہت سی نئی تعلیمات جو پچھلی کتابوں میں نہ تھیں‘ اس میں اضافہ کر دی گئیں:
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا۝۰ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
البقرہ 106:2
ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں‘ یا بھلا دیتے ہیں اُس کی جگہ اُس سے بہتر لاتے ہیں‘ یا کم از کم ویسی ہی۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
لہٰذا جو شخص آبائو اجداد کا نہیں بلکہ فی الواقع خدائی ہدایت کا پیرو ہے اس کے لیے لازم ہے کہ اسی آخری اور جدید ایڈیشن کا اتباع کرے نہ کہ پرانے ایڈیشنوں کا۔ حجت اب قرآن ہے‘ اس سے پہلے کی کتب نہیں۔ یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر اسلام نے تمام کتابوں سے اتباع کا تعلق منقطع کرکے صرف قرآن کو متبوع قرار دیا ہے اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے کہ وہ اسی ایک کتاب کو اپنا دستور العمل بنائے اور مسلمانوں کے لیے اسی کتاب کو اولین ماخذِ ہدایت قرار دیا:
۱۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ النساء105:4
ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس علمِ حق کے ساتھ فیصلہ کرے جو خدا نے تجھے دیا ہے۔
۲۔ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ۝۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
الاعراف 157:7
پس جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی مدد اور حمایت کی اور اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساتھ اترا ہے‘ وہی فلاح پانے والے ہیں۔
۳۔ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ …… فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ…… فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ المائدہ 45-47-44:5
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں…… وہی ظالم ہیں…… وہی فاسق ہیں۔
یہاں۸۱؎ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں:
ایک یہ کہ وہ کافر ہیں‘ دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں‘ تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے:
٭ اولاً: اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔
٭ ثانیاً: اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے‘ کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا‘ اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔
٭ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر، اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اوریہی فسق ہے۔
یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو‘ وہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہ ہوں، البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔
مسلمانوں۸۲؎ کے لیے اصل سند اور حجت قرآن پاک ہے۔ جو چیز قرآن کے خلاف ہے وہ ہرگز قابلِ اتباع نہیں ہے۔
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ الاعراف7:3
جو کچھ تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کو چھوڑ کر دوسرے کارسازوں کی پیروی نہ کرو۔
اور قرآن کے احکام اور اس کی تعلیمات میں رد و بدل کا حق کسی کو‘ حتیٰ کہ پیغمبر کو بھی نہیں ہے:
قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَاۗئِ نَفْسِيْ۝۰ۚ اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝۰ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍo یونس15:10
اے محمدؐ! کہہ دو کہ میں اس کتاب کو اپنی طرف سے بدلنے کا حق نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اسی وحی کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف اتاری جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
قرآن مجید۸۳؎ اسلامی تصور ریاست کا سب سے پہلا ماخذ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور فرامین ہیں۔ یہ احکام و فرامین انسان کی پوری زندگی کے معاملات پر حاوی ہیں۔ ان میں صرف انفرادی کردار اور سیرت ہی کے بارے میں ہدایات نہیں دی گئی ہیں، بلکہ اجتماعی زندگی (social life)کے بھی ہر پہلو کی اصلاح و تنظیم کے لیے کچھ اصول اور کچھ قطعی احکام دیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنی ریاست کن اصولوں اور کن مقاصد کے لیے قائم کریں۔

۲۔ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۸۴؎

دوسرا۸۵؎ ماخذ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی ہدایات کو اور اس کے دیے ہوئے اصولوں کو عرب کی سرزمین میں کس طرح نافذ کیا‘ کس طرح اسلام کے تخیل کو عمل کا جامہ پہنایا‘ کس طرح اس تخیل پر ایک سوسائٹی کی تشکیل کی‘ پھر کس طرح اس سوسائٹی کو منظم کر کے ایک اسٹیٹ کی شکل دی اور اس اسٹیٹ کے مختلف شعبوں کو کس طرح چلا کر بتایا۔ یہ چیزیں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہمیں معلوم ہوسکتی ہیں اور انھی کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ قرآن کا ٹھیک ٹھیک منشا کیا ہے۔ یہ قرآن کے دیے ہوئے اصولوں کا عملی حالات پر انطباق ہے جس سے ہم کو اسلامی دستور کے لیے نہایت قیمتی نظائر (precedents) حاصل ہوتی ہیں اور دستوری روایات (conventions of the constitution)کا بڑا اہم مواد بہم پہنچتا ہے۔
سنت ہمارے دستوری قانون کا دوسرا ماخذ ہے اور بڑا ہی اہم ماخذ ہے۔ افسوس ہے کہ ایک عرصے سے ایک گروہ اس کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کے قانونی حجت (legal sanction) ہونے کے پہلو کا انکار کرکے لوگوں کے ذہنوں میں انتشار برپا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے ہم مختصراً اس کے حجت ہونے پر روشنی ڈالیں گے۔
یہ۸۶؎ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی، ایک نیا نظام تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے‘ یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپؐ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن ؟ یا آپؐ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنانے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپؐ عام مسلمانوں کی طرح محض ایک مسلمان رہ جاتے تھے، جس کا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند و حجت نہیں رکھتا۔ پہلی بات تسلیم کی جائے تو سنت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند و حجت ماننے کے سوا چارہ نہیں رہتا، البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف نامہ بر نہیں تھے‘ بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر‘ حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی و اطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہلِ ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا گیا تھا اور آپ ان تمام حیثیتوں میں مامور من اللہ تھے۔ مکہ میں اسلام قبول کرنے والوں نے باختیارِ خود آپؐ کو اپنا لیڈر منتخب نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس قیادت کے منصب سے وہ نعوذ باللہ آپ کو ہٹانے کے مجاز تھے اور نہ ہی ایسا ہوا کہ مدینہ پہنچ کر جب اسلامی ریاست کی بنا ڈالی گئی اس وقت انصار و مہاجرین نے کوئی مشاورت منعقد کرکے یہ طے کیا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس ریاست کے صدر اور قاضی اور افواج کے قائد اعلیٰ ہوں گے۔ قرآن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تمام حیثیتیں خود متعین کرتا ہے اور یہ سب منصب نبوت ہی کے مختلف پہلو ہیں۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو اور اس کے بعد وہ محض ایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغازِ اسلام سے آج تک بالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونۂ واجب الاتباع اور ان کے امر و نہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی غیر مسلم عالم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حیثیت مانی ہے اور اسی بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ دوسرا ماخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص سنت کی اس قانونی حیثیت کو کیسے چیلنج کرسکتا ہے جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف تلاوتِ قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ہی ان کی حیثیت نبوت ختم ہو جاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعویٰ کرے بھی تو اسے بتانا ہوگا کہ یہ مرتبہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی مرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کااسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری صورت میں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
اس بارے میں کوئی اشتباہ نہیں چھوڑا گیا کہ قرآن نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا حیثیت متعین کی ہے اور منصب رسالت کے کون کون سے کام آپؐ نے انجام دیے۔
(الف)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم و مربی
قرآن پاک۸۷؎ میں چار مقامات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے:
۱۔ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ ……… رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ البقرہ127-129:2
اور یاد کرو جب کہ ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (انھوں نے دعا کی)… اے ہمارے پروردگار، ان لوگوں میں خود انھی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما جو انھیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔
۲۔ كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo البقرہ151:2
جس طرح ہم نے تمھارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا‘ جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔
۳۔ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ آل عمران164:3
اللہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جب کہ ان کے اندر خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
۴۔ ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ الجمعہ62:2
وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
ان آیات میں بار بار جس بات کو بتاکید دہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف آیاتِ قرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا‘ بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھی تھے:
٭ ایک یہ کہ آپؐ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔
٭ دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔
٭ اور تیسرے یہ کہ آپؐ افراد کا بھی اور ان کی اجتماعی ہیئت کا بھی تزکیہ کریں یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کو نشوونما دیں۔
ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنا دینے سے زائد ہی کوئی چیز تھی، ورنہ اس کا الگ ذکر بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اور معاشرے کی تربیت کے لیے آپؐ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے وہ بھی قرآن کے الفاظ کو پڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں‘ ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کے کوئی معنی نہ تھے اور قرآن پہنچانے کے علاوہ یہ معلّم اور مربی کے مناصب جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مامور فرمایا تھا۔ کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحات کے بعد اس کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ یہ دونوں مناصب رسالت کے اجزا نہ تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان مناصب کے فرائض اور خدمات بحیثیت رسول نہیں، بلکہ اپنی پرائیویٹ حیثیت میں انجام دیتے تھے؟ اگر نہیں کہہ سکتا تو بتائیے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کتاب و حکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول و عمل سے افراد اور معاشرے کی جو تربیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اسے من جانب اللہ ماننے اور سند تسلیم کرنے سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت شارح کتاب اللہ
سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل44:16
اور (اے نبیؐ) یہ ذکر ہم نے تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو اُن کی طرف اتاری گئی ہے۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد یہ خدمت کی گئی تھی کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ جو احکام و ہدایات دے اُن کی آپؐ توضیح و تشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات تو سمجھ ہی سکتا ہے کہ کسی بات کی تشریح و توضیح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہوتی، بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے، تاکہ سننے والا کتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سے متعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ (practical demonstration)کرکے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب و مدّعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہی سنا دینا کسی طفلِ مکتب کے نزدیک بھی تشریح و توضیح قرار نہیں پاسکتا۔ اب فرمائیے کہ اس آیت کی رُو سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے شارح اپنی ذاتی حیثیت میں تھے، یا خدا نے آپؐ کو شارح مقرر کیا تھا؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے، پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ شارح قرآن کی حیثیت سے آپؐ کے منصب کو رسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپؐ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپؐ کی شرح و تفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکار خود رسالت کا انکار نہ ہوگا۔
(ج)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت پیشوا و نمونۂ تقلید
سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ…… قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَo آل عمران31-32:3
(اے نبیؐ) کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو‘ اللہ تم سے محبت کرے گا… کہو کہ اطاعت کرو اللہ اور رسول کی‘ پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
اور سورۂ احزاب میں فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۔ الاحزاب21:33
تمھارے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک نمونۂ تقلید ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو۔
ان دونوں آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشوا مقرر کر رہا ہے‘ ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے‘ ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے‘ اور صاف فرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار نہ کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو‘ میری محبت اس کے بغیر تمھیں حاصل نہیں ہوسکتی‘ بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔ اب فرمائیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رہنما اور لیڈر خود بن بیٹھے تھے، یا مسلمانوں نے آپؐ کو منتخب کیا تھا، یا اللہ نے اس منصب پر آپؐ کو مامور کیا تھا؟ اگر قرآن کے یہ الفاظ بالکل غیر مشتبہ طریقے سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور من اللہ رہنما و پیشوا قرار دے رہے ہیں‘ تو پھر آپؐ کی پیروی اور آپؐ کے نمونۂ زندگی کی تقلید سے انکار کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیروی ہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فَا تَّبِعُوا الْقُرْآنَ فرمایا جاتا نہ کہ فَا تَّبِعُوْنِیْ اور اس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے۔
(د) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت شارع
سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ الاعراف 157:7
وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے جو اُن پر چڑھے ہوئے تھے۔
اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریعی اختیارات (legislative powers)عطا کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے امر و نہی اور تحلیل و تحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے‘ بلکہ جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے‘ وہ بھی اللہ کے دیے ہوئے اختیارات سے ہے‘اس لیے وہ بھی قانونِ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورہ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے:
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ
الحشر59: 7
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کردے اس سے رک جائو اور اللہ سے ڈرو‘ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویل نہیں کی جاسکتی کہ ان میں قرآن کے امر اور قرآن کی تحلیل و تحریم کا ذکر ہے۔ یہ تاویل نہیں، بلکہ اللہ کے کلام میں ترمیم ہوگی۔ اللہ نے یہاں امر و نہی اور تحلیل و تحریم کو رسولؐ کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔ پھر کیا کوئی شخص اللہ میاں سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ آپ سے بیان میں غلطی ہوگئی‘ آپ بھولے سے قرآن کے بجائے رسولؐ کا نام لے گئے۔
(ھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت قاضی
قرآن میں ایک جگہ نہیں‘ بکثرت مقامات پر اللہ تعالیٰ اس امر کی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قاضی مقرر کیا ہے۔ مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ النساء:105:4
(اے نبی ؐ) ہم نے تمھاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللہ کی دکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو۔
۲۔ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنْ كِتٰبٍ۝۰ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ۝۰ۭ الشوریٰ 15:42
اور (اے نبیؐ) کہو کہ میں ایمان لایا ہوں اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں۔
۳۔ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۭ النور51:24
ایمان لانے والوں کاکام تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف تاکہ رسولؐ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔
۴۔ وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاo النسائ 61:4
اورجب ان کو کہا جاتا ہے کہ آئو اللہ کی نازل کردہ کتاب کی طرف اور رسول کی طرف تو تم دیکھتے ہو منافقوں کو کہ وہ تم سے کنی کتراتے ہیں۔
۵۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النسائ65:4
پس (اے نبیؐ) تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلہ تو کرے اس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی تک محسوس نہ کریں بلکہ اسے بسر و چشم قبول کرلیں۔
یہ تمام آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ساختہ یا مسلمانوں کے مقرر کیے ہوئے جج نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے جج تھے۔ تیسری آیت بتا رہی ہے کہ آپؐ کے جج ہونے کی حیثیت رسالت کی حیثیت سے الگ نہیں تھی، بلکہ رسول ہی کی حیثیت میں آپؐ جج بھی تھے اور ایک مومن کا ایمان بالرسالت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ آپؐ کی اس حیثیت کے آگے بھی سمع و طاعت کا رویہ نہ اختیار کرلے۔ چوتھی آیت میں مَااَنْزَلَ اللّٰہ(قرآن) اور رسول دونوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دو مستقل مرجع ہیں، ایک: قرآن قانون کی حیثیت سے‘ دوسرے: رسول صلی اللہ علیہ وسلم جج کی حیثیت سے‘ اور ان دونوں سے منہ موڑنا منافق کا کام ہے نہ کہ مومن کا۔ آخری آیت میں بالکل بے لاگ طریقے سے کہہ دیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے‘ حتیٰ کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخص اپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔
(و) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت حاکم و فرماںروا
قرآن مجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم و فرماںروا تھے اور آپؐ کو یہ منصب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے عطا ہوا تھا:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن (sanction)سے۔
۲۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
۳۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ۝۰ۭ الفتح10:48
(اے نبیؐ ) یقیناً جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔
۴۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ o محمد33:47
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرلو۔
۵۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo الاحزاب36:33
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملے کا فیصلہ اللہ اور اس کا رسول کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرلینے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
۶۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ النساء59:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں‘ پھر اگر تمھارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللہ اور رسولؐ کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور روز آخر پر۔
یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ رسولؐ کوئی ایسا حاکم نہیں ہے جو خود اپنی قائم کردہ ریاست کا سربراہ بن بیٹھا ہو‘ یا جسے لوگوں نے منتخب کرکے سربراہ بنایا ہو‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیا ہوا فرماںروا ہے۔ اس کی فرماںروائی اس کے منصبِ رسالت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا رسول ہونا ہی اللہ کی طرف سے اس کا حاکمِ مطاع ہونا ہے۔ اس کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ اس سے بیعت دراصل اللہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللہ کی نافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں مقبول نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو (جن میں ظاہر ہے کہ پوری امت اور اس کے حکمران سب شامل ہیں) قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملے کا فیصلہ وہ کرچکا ہو اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔
ان تمام تصریحات سے بڑھ کر صاف اور قطعی تصریح آخری آیت کرتی ہے جس میں یکے بعد دیگرے تین اطاعتوں کا حکم دیا گیا ہے:
٭ سب سے پہلے اللہ کی اطاعت
٭ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت
٭ پھر تیسرے درجے میں اولی الامر کی اطاعت
اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ رسول، اولی الامر میں شامل نہیں ہے‘ بلکہ ان سے الگ اور بالاتر ہے اور اس کا درجہ خدا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوئی وہ یہ کہ اولی الامر سے نزاع ہوسکتی ہے، مگر رسول سے نزاع نہیں ہوسکتی۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نزاعات میں فیصلے کے لیے مرجع دو ہیں‘ ایک اللہ‘ دوسرا اُس کے بعد اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ظاہر ہے کہ اگر مرجع صرف اللہ ہوتا تو صراحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر محض بے معنی ہوتا۔ پھر جب کہ اللہ کی طرف رجوع کرنے سے مراد کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ عہد رسالت میں خود ذاتِ رسولؐ کی طرف اور اس عہد کے بعد سنت رسولؐ کی طرف رجوع کیا جائے۔۸۸؎
سنت کے مآخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع
اب اگر آپ واقعی قرآن کو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں‘ تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا معلم‘ مربی‘ پیشوا‘ رہنما‘ شارح کلام اللہ‘ شارع (law giver)‘ قاضی اور حاکم و فرماںروا قرار دے رہا ہے‘ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رُو سے منصب رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلامِ الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا ماخذ قانون (source of law)ہے۔
سنت کو بجائے خود ماخذِ قانون تسلیم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ میں اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ آج پونے چودہ سو۸۹؎ سال گزر جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہم کو اس سوال سے سابقہ پیش نہیں آگیا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل جو نبوت مبعوث ہوئی تھی اس نے کیا سنت چھوڑی تھی۔ دو تاریخی حقیقتیں ناقابلِ انکار ہیں:
۱۔ ایک یہ کہ قرآن کی تعلیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جو معاشرہ اسلام کے آغاز میں پہلے دن قائم ہوا تھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے۔ اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا ہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرز فکر‘ اخلاق اور اقدار‘ عبادات اور معاملات‘ نظریۂ حیات اور طریقِ حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے‘ جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے‘ جو اُن کو تمام رُوئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے‘ یہی اس امر کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو ایک سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری رہی ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محض ایک پیرو مرشد اور واعظ نہیں تھے بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد‘ رہنما‘ حاکم‘ قاضی‘ شارع‘ مربی‘ معلم سب کچھ تھے اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپؐ ہی کے بتائے‘ سکھائے اور مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لیے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپؐ نے نماز،روزے اور مناسکِ حج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پا گئی ہو اور باقی باتیں محض وعظ و ارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں، بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا، وہ یہ تھا کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی نماز فورًا مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اُس پر قائم ہونے لگیں‘ اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین ٓپؐ نے مقرر کیے انھی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہوگیا۔ لین دین کے جو ضابطے آپؐ نے مقرر کیے انھی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا۔ مقدمات کے جو فیصلے آپؐ نے کیے وہی ملک کا قانون قرار پائے۔ لڑائیوں میں جو معاملات آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پاکر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور اس کا نظام حیات اپنے تمام پہلوئوں کے ساتھ انھی سنتوں پر قائم ہوا‘ جو آپؐ نے خود رائج کیں، یا جنھیں پہلے کے مروّج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپؐ نے سنتِ اسلام کا جز بنا لیا۔
یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھیں جن پر مسجد سے لے کر خاندان‘ منڈی‘ عدالت‘ ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کا ڈھانچہ انھی پر قائم ہے۔ پچھلی صدی تک تو ان ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت و عدالت اور پبلک لاء کے ادارات عملاً درہم برہم ہو جانے سے ہوا ہے …ان (سنتوں) کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل‘ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
۲۔ دوسری تاریخی حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنتِ ثابتہ کیا ہے۔ ایک تو وہ معلوم اور متعارف سنتیں تھیں جن کا ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں اور دوسرے ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہرت اور رواجِ عام حاصل نہ ہوا تھا‘ جو مختلف اوقات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلے‘ ارشاد‘ امر و نہی‘ تقریر۹۰؎ و اجازت‘ یا عمل کو دیکھ کر یا سُن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھیں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہوسکے تھے ……ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا‘ امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا، کیونکہ خلفا‘ حکام‘ قاضی‘ مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے ہی معلوم کرلینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا‘ اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور ۱۱ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کرنے کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریب سب ناکام بنا دی گئیں، کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حق ثابت یا ساقط ہوتا تھا‘ جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی‘ جن سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا‘ ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتا کی مسندیں اتنی بے پروا نہیں ہوسکتی تھیں کہ یونہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیتا اور ایک حاکم یا جج‘ یا مفتی اسے مان کر کوئی حکم صادر کر ڈالتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی‘ سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا‘ روایت کے اصولوں پر بھی انھیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی‘ اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا ردّ کر دی گئی ہے‘ تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کرسکے۔ چونکہ ان کے لیے سنت قانون کی حیثیت رکھتی تھی‘ اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے‘ اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروا اور لا اُبالی نہیں ہوسکتے تھے۔ اس تحقیق کے ذرائع بھی اور اس کے نتائج بھی ہم کو اسلام کی پہلی خلافت کے زمانے سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ میراث میں ملے ہیں اور بلا اِنقطاع ہر نسل کا کیا ہوا کام محفوظ ہے۔
ان دو حقیقتوں کو اگر کوئی شخص اچھی طرح سمجھ لے اور سنت کو معلوم کرنے کے ذرائع کا باقاعدہ علمی مطالعہ کرے تو اسے کبھی یہ شبہہ لاحق نہیں ہوسکتا کہ یہ کوئی لاَیَنْحَلمعمّاہے جس سے وہ دوچار ہوگیا ہے۔

۳۔خلافتِ راشدہ کا تعامل

تیسرا۹۱؎ مآخذ خلافتِ راشدہ کا تعامل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی اسٹیٹ کو خلفائے راشدین نے جس طرح چلایا، اس کے نظائر اور اس کی روایات سے حدیث‘ تاریخ اور سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور یہ سب چیزیں ہمارے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام میں یہ اصول شروع سے آج تک مُسلّم رہا ہے کہ دینی احکام و ہدایات کی جو تعبیریں صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق کی ہیں (جسے اصطلاح میں اجماع کہا جاتا ہے) اور دستوری و قانونی مسائل کے جو فیصلے خلفائے راشدین نے صحابہؓ کے مشورے سے کر دیے ہیں وہ ہمارے لیے حجت ہیں‘ یعنی ان کو جوں کا توں تسلیم کرنا پڑے گا، کیونکہ صحابہؓ کے کسی معاملے میں متفق ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک مستند تعبیرِ قانون اور معتبر طریقِ عمل ہے۔ جہاں ان کے درمیان اختلافات ہوئے ہیں‘ وہاں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مسئلے میں دو یا دو سے زیادہ تعبیروں کی گنجایش ہے اور ایسے معاملات میں دلیل سے ایک قول کو دوسرے قول پر ترجیح دی جاسکتی ہے، مگر جہاں ان کے درمیان کامل اتفاق ہوگیا ہے، وہاں ان کا فیصلہ لازماً ایک ہی تعبیر اور ایک ہی طرز عمل کو صحیح و مستند ثابت کردیتا ہے‘ کیونکہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست شاگرد اور تربیت یافتہ تھے اور ان سب کا متفق ہو کر دین کے معاملے میں غلطی کر جانا، یا دین کے سمجھنے میں راہِ صواب سے ہٹ جانا قابلِ تسلیم نہیں ہے۔

۴۔ مجتہدینِ امت کے فیصلے

چوتھا مآخذ مجتہدین امت کے وہ فیصلے ہیں جو انھوں نے مختلف دستوری مسائل پیش آنے پر اپنے علم و بصیرت کی روشنی میں کیے ہیں۔ یہ چاہے حجت نہ ہوں‘ مگر بہرحال اسلامی دستور کی روح اور اس کے اصولوں کو سمجھنے میں ہماری بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ ہیں ہمارے دستور کے چار مآخذ۔ ہم جب کبھی اسلامی حکومت کا دستور تحریری شکل میں لانا چاہیں‘ ہم کو انھی مآخذ سے اس کے قواعد جمع کرکے مرتب کرنے ہوں گے‘ بالکل اسی طرح جیسے انگلستان کے لوگ اگر آج اپنا دستور مدون کرنا چاہیں تو انھیں اپنے وضعی قانون (statute law) اور عرفی قانون (common law)اور اپنے دستوری رواج (conventions of the constitution) سے ایک ایک جز اخذ کرکے صفحۂ کاغذ پر ثبت کرنا ہوگا اور بہت سے دستوری احکام و قواعد ان کو اپنی عدالتوں کے فیصلوں سے چن چن کر نکالنے ہوں گے۔۹۲؎
مشکلات اور موانع
جہاں تک اسلامی دستور مملکت کے ان مآخذ کا تعلق ہے‘ یہ سب تحریری شکل میں موجود ہیں۔ قرآن لکھا ہوا ہے۔سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعامل خلفائے راشدین کے متعلق سارا مواد کتابوں میں مل سکتا ہے۔ مجتہدینِ امت کی آرا بھی معتبر کتابوں میں مل جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی نہ مفقود ہے نہ نایاب، لیکن اس کے باوجود ان مآخذ سے اس غیر تحریری دستور کے قواعد اخذ کرکے، ان کو تحریری دستور کی شکل دینے میں چند مشکلات اور چند دقتیں حائل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آگے بڑھنے سے پہلے آپ ان کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں:
(الف) اصطلاحات کی اجنبیت
سب سے پہلی دقت زبان کی ہے۔ قرآن‘ حدیث اور فقہ میں دستوری احکام کو بیان کرنے کے لیے جو اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں وہ اب بالعموم لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہوگئی ہیں‘ کیونکہ ایک مدت دراز سے ہمارے ہاں اسلام کا سیاسی نظام معطل ہو چکا ہے اور ان اصطلاحوں کا چلن نہیں رہا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کی ہم روزانہ تلاوت کرتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ دستوری اصطلاحات ہیں۔ مثلاً: سلطان‘ ملک‘ حکم‘ امر‘ ولایت وغیرہ۔ ان الفاظ کے صحیح دستوری مفہوم کو عربی میں بھی کم لوگ سمجھتے ہیں اور ترجموں میں منتقل ہو کر ان کا سارا مطلب خبط ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی قرآن کے دستوری احکام کا ذکر سن کر حیرت کے ساتھ پوچھنے لگتے ہیں کہ قرآن میں کون سی آیت دستور سے تعلق رکھتی ہے؟ فی الواقع ان بے چاروں کی حیرت بجا ہے۔ قرآن میں کوئی سورت ’الدستور‘ کے نام سے نہیں ہے اور نہ بیسویں صدی کی اصطلاحات میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔
(ب) قدیم فقہی لٹریچر کی نامانوس ترتیب
دوسری دقت یہ ہے کہ ہمارے فقہی لٹریچر میں دستوری مسائل کہیں الگ ابواب کے تحت یکجا بیان نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ دستور اور قوانین ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ قانون سے الگ دستور کا جداگانہ تصور بہت بعد کے زمانے کی پیداوار ہے‘ بلکہ خود لفظ دستور کااستعمال بھی اپنے جدید معنوں میں ابھی حال ہی میں شروع ہوا ہے، البتہ ان مسائل پر جنھیں اب ہم دستوری مسائل کہتے ہیں‘ تمام فقہائے اسلام نے بحث کی ہے‘ مگر ان کی بحثیں ہم کو فقہی کتابوں کے اندر مختلف قانونی ابواب میں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔ ایک مسئلے پر کتاب القضاء میں بحث ہے تو دوسرے پر کتاب الامارت میں۔ ایک مسئلہ کتاب السِیَر (مسائل صلح و جنگ کی کتاب) میں بیان ہوا ہے تو دوسرا کتابُ النکاح و الطلاق میں۔ ایک مسئلہ کتاب الحدود (فوج داری قانون کی کتاب) میں آیا ہے تو دوسرا کتابُ الفئے (پبلک فینانس کی کتاب) میں۔ پھر ان کی زبان اور اصطلاحات آج کل کی رائج اصطلاحوں سے اس قدر مختلف ہیں کہ جب تک کوئی شخص قانون کے مختلف شعبوں اور ان کے مسائل پر کافی بصیرت نہ رکھتا ہو، اور پھر عربی زبان سے بھی بخوبی واقف نہ ہو‘ اس کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ کہاں قانون ملکی کے درمیان قانون بین الاقوام کا کوئی مسئلہ آگیا ہے اور کہاں پرسنل لا کے درمیان دستوری قانون کے کسی مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پچھلی صدیوں کے دوران میں ہمارے بہترین قانونی دماغوں نے غایت درجہ بیش قیمت ذخیرہ چھوڑا ہے‘ مگر آج ان کی چھوڑی ہوئی میراث کو چھان پھٹک کر ایک ایک قانونی شعبے کے مواد کو الگ الگ کرنا اور اسے مُنَقّح صورت میں سامنے لانا ایک بڑی دیدہ ریزی کاکام ہے جس کے لیے موجودہ نسلیں‘ جنھوں نے مدتوں سے دوسروں کے پس خوردہ پر قناعت کرلی ہے‘ مشکل ہی سے آمادہ ہوسکتی ہیں، بلکہ ستم یہ ہے کہ آج وہ اپنی اس آبائی میراث کو بے جانے بوجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔
(ج) نظامِ تعلیم کا نقص
تیسری مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم ایک کافی مدت سے بڑی ناقص ہو رہی ہے۔ جو لوگ ہمارے ہاں علوم دینی پڑھتے ہیں وہ موجود زمانے کے علم السیاست اور اس کے مسائل اور دستوری قانون اور اس سے تعلق رکھنے والے معاملات سے بیگانہ ہیں۔ اس لیے وہ قرآن و حدیث اور فقہ کے پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے میں تو عمریں گزار دیتے ہیں‘ مگر ان کے لیے اس وقت کے سیاسی و دستوری مسائل کو آج کل کی زبان اور اصطلاحوں میں سمجھنا اور پھر ان کے بارے میں اسلام کے اصول و احکام کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ اُن کے سامنے یہ مسائل اُس زبان اور اُن اصطلاحوں میں پیش کیے جائیں جنھیں وہ سمجھتے ہیں۔ پھر وہ آسانی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ ان کے بارے میں اسلام کے کیا احکام اور اصول ہیں اور وہ کہاں کہاں بیان ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو عملاً ہمارے تمدن و سیاست اور قانون و عدالت کا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ زندگی کے جدید مسائل سے تو واقف ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا دین ان مسائل کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے۔ وہ دستور اور سیاست اور قانون کے متعلق جو کچھ جانتے ہیں مغربی تعلیمات اور مغرب کے عملی نمونوں ہی کے ذریعے سے جانتے ہیں، قرآن اور سنت اور اسلامی روایات کے بارے میں ان کی معلومات بہت محدود ہیں۔ اس لیے ان میں سے جو لوگ واقعی نیک نیتی کے ساتھ اسلامی زندگی کا از سر نو احیا چاہتے ہیں وہ بھی اس کے محتاج ہیں کہ کوئی ان مسائل کے بارے میں اسلام کی ہدایات، ان کے سامنے اس زبان میں پیش کرے جسے وہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیچیدگی ہے جو ایک صحیح اسلامی دستور کی تدوین میں حارج ہو رہی ہے۔
(د) اجتہاد بلا علم کا دعوٰی
چوتھی مشکل ایک اور ہے جو اب بڑھتے بڑھتے ایک لطیفے اور مذاق کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ حال میں یہ ایک نرالا اندازِ فکر پیدا ہوا ہے کہ اسلام میں ’پریسٹ ہڈ‘ نہیں ہے‘ قرآن اور سنت اور شریعت پر ’ملا‘ کا اجارہ نہیں ہے کہ بس وہی ان کی تعبیر کرنے کا مجاز ہو‘ جس طرح وہ تعبیر احکام اور اجتہاد و استنباط کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح ہم بھی یہی حق رکھتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ دین کے معاملے میں ملا کی بات ہماری بات سے زیادہ وزنی ہو۔ یہ باتیں وہ لوگ کہتے ہیں جو نہ قرآن وسنت کی زبان سے واقف ہیں‘ نہ اسلامی روایات پر جن کی نگاہ ہے‘ نہ اپنی زندگی کے چند روز بھی جنھوں نے اسلام کے تحقیقی مطالعے میں صَرف کیے ہیں۔ وہ ایمان داری کے ساتھ اپنے علم کا نقص محسوس کرنے اور اسے دور کرنے کے بجائے، سرے سے علم کی ضرورت ہی کا انکار کرنے پر تُل گئے ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ انھیں علم کے بغیر اپنی تعبیروں سے اسلام کی صورت بگاڑ دینے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
اگر جہالت کی اس طغیانی کو یونہی بڑھنے دیا گیا تو بعید نہیں کل کوئی اٹھ کر کہے کہ اسلام میں ’وکیل ہڈ‘ نہیں ہے اس لیے ہر شخص قانون پر بولے گا، چاہے اس نے قانون کا ایک لفظ نہ پڑھا ہو، اور پرسوں کوئی دوسرے صاحب اٹھیں اور فرمائیں کہ اسلام میں ’انجینئر ہڈ‘ نہیں ہے اس لیے ہم بھی انجینئرنگ پر کلام کریں گے، چاہے ہم اس فن کی الف ب سے بھی واقف نہ ہوں، اور پھر کوئی تیسرے صاحب اسلام میں ’ڈاکٹر ہڈ‘ کا انکار کرکے مریضوں کا علاج کرنے کھڑے ہو جائیں، بغیر اس کے کہ ان کو علمِ طب کی ہوا بھی لگی ہو۔
میں سخت حیران ہوں کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور ذی عزت لوگ یہ کیسی اوچھی اور طفلانہ باتیں کرنے پر اتر آئے ہیں اور کیوں انھوں نے اپنی ساری قوم کو ایسا نادان فرض کرلیا ہے کہ وہ ان کی یہ باتیں سن کر آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہہ دے گی۔ بے شک اسلام میں پریسٹ ہڈ نہیں ہے‘ مگر انھیں معلوم بھی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام میں نہ تو بنی اسرائیل کی طرح دین کا علم اور دینی خدمات کسی نسل اور قبیلے کی میراث ہیں اور نہ عیسائیوں کی طرح دین و دنیا کے درمیان تفریق کی گئی ہے کہ دنیا قیصروں کے حوالے اور دین پادریوں کے حوالے کر دیا گیا ہو۔ بلاشبہ یہاں قرآن اورسنت اور شریعت پر کسی کا اجارہ نہیں ہے اور ملا کسی نسل یا خاندان کا نام نہیں ہے جس کو دین کی تعبیر کرنے کا آبائی حق ملا ہوا ہو۔ جس طرح ہر شخص قانون پڑھ کر وکیل اور جج بن سکتا ہے اور ہر شخص انجینئرنگ پڑھ کر انجینئر اور طب پڑھ کر ڈاکٹر بن سکتا ہے، اسی طرح ہر شخص قرآن اور سنت کے علم پر وقت اور محنت صَرف کرکے، مسائل شریعت میں کلام کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے۔ اسلام میں پریسٹ ہڈ نہ ہونے کا اگر کوئی معقول مطلب ہے تو وہ یہی ہے۔ نہ یہ کہ اسلام کو بازیچۂ اطفال بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ جس کا جی چاہے اٹھ کر اس کے احکام اور تعلیمات کے بارے میں ماہرانہ فیصلے صادر کرنے شروع کردے‘ خواہ اس نے کتاب اور سنت میں بصیرت پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی ہو۔ علم کے بغیر اتھارٹی بننے کا دعویٰ اگر دنیا کے کسی دوسرے معاملے میں قابلِ قبول نہیں ہے تو آخردین ہی کے معاملے میں کیوں قابل قبول ہو؟
یہ چوتھی پیچیدگی ہے جو اسلامی ریاست کے تصور کو پراگندہ کرنے اور اسلامی دستور کی تدوین کے معاملے میں اب ڈال دی گئی ہے اور اس وقت درحقیقت یہی سب سے بڑی پیچیدگی ہے۔ پہلی تین مشکلات کو تو محنت اور کوشش سے رفع کیا جا سکتا ہے اور خدا کے فضل سے ایک حد تک رفع کر بھی دیا گیا ہے، لیکن اس نئی الجھن کا علاج سخت مشکل ہے‘ خصوصاً جب کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے ہو جو بالفعل اقتدار کی کنجیوں پر قابض ہیں۔

ضمیمہ باب ۶: سنت ِرسولؐ اللہ بحیثیت ِ مآ خذ ِقانون

ذیل میں جسٹس ایس اے رحمان صاحب کے ایک خط پر مصنف کا تبصرہ درج کیا جارہا ہے۔ وہ خط دراصل اس مراسلت کا ایک حصہ تھا جو ماہنامہ ترجمان القرآن کے صفحات میں صاحب موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی صاحب کے درمیان ہوئی تھی۔ ان صفحات میں اس بحث کو نقل کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ اس سلسلے میں سنت کے متعلق جو اہم مسائل زیر بحث آگئے ہیں ان سے عام ناظرین استفادہ کرسکیں۔ فاضل مکتوب نگار کے اصل خط کو یہاں درج کرنے کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ اس کا متعلقہ حصہ خود ہمارے تبصرے میں آگیا ہے۔
فاضل مکتوب نگار نے اپنے موقف کی وضاحت فرماتے ہوئے نمبروار جو اشارات فرمائے ہیں ان میں سے نمبر۳ کچھ بحث طلب ہے‘ کیونکہ اپنی موجودہ مختصر صورت میں وہ بہت سی غلط فہمیاں پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے میں اس کے متعلق کچھ باتیں اس توقع کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ ان پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔
صدیقی صاحب نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ائمۂ سلف کی مرتب کردہ فقہ پر نظرثانی اگر کی جاسکتی ہے تو صرف اس بنیاد پر کہ ان کا کوئی اجتہاد و استنباط قرآن و سنت کے مطابق ہے، یا نہیں۔ فاضل مکتوب نگار اس کے متعلق فرماتے ہیں:
’’جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے تفسیر و تعبیر کا حق برقرار رکھتے ہوئے ہر شخص اس سے اتفاق کرے گا، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں سنت کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔‘‘
ان الفاظ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ موصوف کے نزدیک قرآن تو اسلامی احکام معلوم کرنے کے لیے ضرور مرجع و سند ہے مگر وہ سنت کو یہ حیثیت دینے میں اس بنا پر متأمل ہیں کہ اس کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اب یہ بات ان کے بیان سے واضح نہیں ہوتی کہ اس مسئلے میں کیا چیز مختلف فیہ ہے؟

کیا سنت کا مآخذِ قانون ہونا مسلمانوں میں اختلافی مسئلہ ہے؟
اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ بجائے خود سنت (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل اور امر و نہی) کا مآخذ قانون اور مرجع احکام ہونا ہی مختلف فیہ ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔ جس روز سے امتِ مسلمہ وجود میں آئی ہے اس وقت سے آج تک یہ بات اہلِ اسلام میں کبھی مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ تمام امت نے ہمیشہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطاع اور متبوع ہیں‘ ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے امر و نہی کا اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جس طریقے پر چلنے کی انھوں نے اپنے قول و عمل اور تقریر۹۳؎ سے تعلیم دی ہے اس کی پیروی پر ہم مامور ہیں اور زندگی کے جس معاملے کا بھی انھوں نے فیصلہ کر دیا ہے اس میں کوئی دوسرا فیصلہ کر لینے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ تاریخ اسلام کے گذشتہ ۱۳۸۱ سال۹۴؎ میں کس نے اور کب اس سے اختلاف کیا ہے۔ نرالی اپج نکالنے والے کچھ منفرد اور شاذ قسم کے خبطی تو دنیا میں ہمیشہ ہرگروہ میں پائے جاتے رہے ہیں۔ اس طرح کے افراد نے کبھی مُسلّماتِ قوم کے خلاف کوئی بات کر دی ہو تو اس کی بنا پر یہ کہہ دینا صحیح نہیں ہے کہ ایک عالم گیر مُسَلَّمہ مختلف فیہ ہوگیا ہے، اس لیے وہ مُسَلَّمہ نہیں رہا۔ اس طرح تو خبطیوں کی تاخت سے قرآن بھی نہیں بچا ہے۔ کہنے والے تحریفِ قرآن تک کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں۔ اب کیا ان کی وجہ سے ہم کلامِ الٰہی کے مرجع و سند ہونے کو بھی مختلف فیہ مان لیں گے؟
کیا اختلافات کی گنجائش ہونا سنت کے ماخذِ قانون ہونے میں مانع ہے؟
لیکن اگر مختلف فیہ سنت کا بجائے خود مرجع و سند ہونا نہیں ہے بلکہ اختلاف جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے اور ہوا ہے وہ اس امر میں ہے کہ کسی خاص مسئلے میں جس چیز کے سنت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو وہ فی الواقع سنتِ ثابتہ ہے یا نہیں‘ تو ایسا ہی اختلاف قرآن کی آیات کے مفہوم و منشا میں بھی واقع ہوتا ہے۔ ہر صاحب علم یہ بحث اٹھا سکتا ہے کہ جو حکم کسی مسئلے میں قرآن سے نکالا جارہا ہے وہ درحقیقت اس سے نکلتا ہے یا نہیں۔ فاضل مکتوب نگار نے خود قرآن مجید میں اختلاف تفسیر و تعبیر کا ذکر کیا ہے اور اس اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود وہ بجائے خود قرآن کو مرجع و سند مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسی طرح الگ الگ مسائل کے متعلق سنتوں کے ثبوت و تحقیق میں اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود فی نفسہ’سنت‘ کو مرجع و سند تسلیم کرنے میں انھیں کیوں تامل ہے۔
یہ بات ایک ایسے فاضل قانون دان سے جیسے کہ محترم مکتوب نگار ہیں‘ مخفی نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص‘ ادارے یا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالٓاخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو اس کے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی اللہ کا حکم ہے، اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکم خدا ہے، بالکل اسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کرکے کسی مسئلے میں جو سنت بھی ایک فقیہ‘ یا لیجسلیچر یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے وہی اس کے لیے حکمِ رسولؐ ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حقیقت میں رسولؐ کا حکم وہی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ امر تو ضرور مختلف فیہ رہتا ہے کہ میرے نزدیک خدا یارسول کا حکم کیاہے اور آپ کے نزدیک کیا، لیکن جب تک میں اور آپ خدا اور اس کے رسولؐ کو آخری سند (final authority)مان رہے ہیں‘ ہمارے درمیان یہ امر مختلف فیہ نہیں ہوسکتا کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم بجائے خود ہمارے لیے قانون واجب الاتباع ہے۔ لہٰذا میں جناب ایس اے رحمان صاحب کی یہ بات سمجھنے سے معذور ہوں کہ احکامِ فقہ کی تحقیق میں وہ قرآن کو تو ان اختلافات کے باوجود مرجع و سند مانتے ہیں جو اس کے منشا کی تعیین میں واقع ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں‘ مگر سنت کو یہ حیثیت دینے میں اس بنا پر تامل کرتے ہیں کہ جزئیات مسائل کے متعلق سنتوں کے مُشَخّص کرنے میں اختلافات واقع ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔
کیا احادیثِ موضوعہ کی موجودگی واقعی بے اطمینانی کی موجب ہے؟
آگے چل کر صاحب موصوف سنت کو سند قرار نہ دینے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ:متعدد احادیث موضوعہ متداولہ مجموعوں میں شامل ہوگئی ہیں،‘ اور اس کے ساتھ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’اس موضوع پر ضخیم کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔‘ بظاہر اس ارشاد سے ان کا مدعا یہ متصور ہوتا ہے کہ سنت ایک مشکوک چیز ہے۔ ممکن ہے کہ یہ شبہ اختصار بیان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہو، اور فی الواقع ان کا مدعا یہ نہ ہو۔ لیکن اگر ان کا مدعا یہی ہے تو میں عرض کروں گا کہ وہ اس مسئلے پر مزید غور فرمائیں۔ اِنْ شَائَ اللہ انھیں خود محسوس ہوگا کہ جس چیز کو وہ سنت کے مشکوک ہونے کی دلیل سمجھ رہے ہیں وہی دراصل اس کے محفوظ ہونے کا اطمینان دلاتی ہے۔ میں تھوڑی دیر کے لیے اس سوال کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ کون سے متداول مجموعے ہیں جن میں احادیثِ موضوعہ شامل ہوگئی ہیں۔ اگرچہ مختلف محدثین نے جو مجموعے بھی مرتب کیے ہیں ان میں اپنی حد تک پوری چھان بین کرکے انھوں نے یہی کوشش کی ہے کہ قابلِ اعتماد روایات جمع کریں، مگر اس معاملے میں صحاح ستہ اور موطا کا پایہ جس قدر بلند ہے وہ اہلِ علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تاہم تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ مان بھی لیں کہ سب مجموعوں میں موضوعات نے کچھ نہ کچھ راہ پالی ہے تو غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ’ضخیم کتابیں‘ جن کا ذکر فاضل مکتوب نگار کر رہے ہیں آخر ہیں کس موضوع پر۔ ان کا موضوع یہی تو ہے کہ کون کون سی حدیثیں وضعی ہیں‘ کون کون سے راوی کذاب اور وضاع حدیث ہیں‘ کہاں کہاں موضوع احادیث نے راہ پائی ہے‘ کس کتاب کی کون کون سی روایات ساقط الاعتبار ہیں‘ کن راویوں پر ہم اعتماد کرسکتے ہیں اور کن پر نہیں کرسکتے‘ ’موضوع‘ کو’صحیح‘ سے جدا کرنے کے طریقے کیا ہیں اور روایات کی صحت‘ ضعف‘ علت وغیرہ کی تحقیق کن کن طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ ان ضخیم کتابوں کی اطلاع پاکر تو ہمیں امن کا ویسا ہی اطمینان حاصل ہوتا ہے جیسا کسی کو یہ سن کر ہو کہ بکثرت چور پکڑ لیے گئے ہیں‘ بڑے بڑے جیل خانے ان سے بھر گئے ہیں‘ بہت سے اموال مسروقہ برآمد کرلیے گئے ہیں اور سراغ رسانی کا ایک باقاعدہ انتظام موجود ہے جس سے آئندہ بھی چور پکڑے جاسکتے ہیں، لیکن تعجب کی بات ہوگی اگر کسی کے لیے یہی اطلاع الٹی بے اطمینانی کی موجب ثابت ہو، اور وہ اسے بدامنی کے ثبوت میں پیش کرنے لگے۔ بے شک بڑی مثالی حالت ِ امن ہوتی، اگر چوری کا سرے سے کبھی وقوع ہی نہ ہوتا۔ بلاشبہ اس طرح کی واردات ہو جانے سے کچھ نہ کچھ بے اطمینانی تو پیدا ہو ہی جاتی ہے‘ لیکن مکمل حالت ِ امن زندگی کے اور کس معاملے میں ہم کو نصیب ہے جو یہاں ہم اسے طلب کریں۔ جس حالت پر ہم دنیا میں بالعموم مطمئن رہتے ہیں اس کے لیے اتنا امن کافی ہے کہ چوروں کی اکثریت پکڑ کر بند کر دی جائے اور جو قلیل تعداد بھی آزاد پھر رہی ہو اس کے پکڑے جانے کا معقول انتظام موجود ہو۔ کیا ہمارے سپریم کورٹ کے فاضل جج سنت کے معاملے میں اتنے امن پر قانع نہیں ہوسکتے؟ کیا وہ اس مکمل امن سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہیں جس میں سرے سے چوری کے وقوع ہی کا نام و نشان نہ پایا جائے؟
روایات کی صحت جانچنے کے اصول
آخر میں فاضل محترم تحریر فرماتے ہیں:
’’میں اس معاملے میں بھی افراط و تفریط کا قائل نہیں۔ سنن متوارث جن کا تعلق طریق عبادات مثلاً: نماز یا مناسک حج وغیرہ سے ہے ان کی حیثیت مصون و مامون ہے، لیکن باقی ماندہ مواد احادیث روایت کے ساتھ درایت کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے، پیش تر اس کے کہ اس کی حجیت قبول کی جائے میں تاریخی تنقید کا قائل ہوں۔‘‘
یہ ایک حد تک صحیح نقطۂ نظر ہے لیکن اس میں چند امور ایسے ہیں جن پر میں آں محترم کو مزید غور و فکر کی دعوت دوں گا۔ جس تاریخی تنقید کے وہ قائل ہیں‘ فنِ حدیث اسی تنقید ہی کا تو دوسرا نام ہے۔ پہلی صدی سے آج تک اس فن میں یہی تنقید ہوتی رہی ہے اورکوئی فقیہ یا محدث اس بات کا قائل نہیں رہا ہے کہ عبادات ہوں یا معاملات‘ کسی مسئلے کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت دی جانے والی کسی روایت کو تاریخی تنقید کے بغیر حجت کے طور پر تسلیم کرلیا جائے۔ یہ فن حقیقت میں اس تنقید کا بہترین نمونہ ہے اور جدید زمانے کی بہتر سے بہتر تاریخی تنقید کو بھی مشکل ہی سے اس پر کوئی اضافہ و ترقی (improvement)کہا جا سکتا ہے، بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ محدثین کی تنقید کے اصول اپنے اندر ایسی نزاکتیں اور باریکیاں رکھتے ہیں جن تک موجودہ دور کے ناقدینِ تاریخ کا ذہن بھی ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر میں بلا خوفِ تردید یہ کہوں گا کہ دنیا میں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت اور ان کے دور کی تاریخ کا ریکارڈ ہی ایسا ہے جو اس کڑی تنقید کے معیاروں پر کسا جانا برداشت کرسکتا تھا جو محدثین نے اختیارکی ہے‘ ورنہ آج تک دنیا کے کسی انسان اور کسی دور کی تاریخ بھی ایسے ذرائع سے محفوظ نہیں رہی ہے کہ ان سخت معیاروں کے آگے ٹھیر سکے اور اس کو قابلِ تسلیم تاریخی ریکارڈ مانا جاسکے۔
مجھے افسوس ہے کہ ہمارے جدید زمانے کے اہلِ علم اس فن کا تحقیقی مطالعہ نہیں کرتے اور قدیم طرز کے اہلِ علم جو اس میں بصیرت رکھتے ہیں وہ اس کو عصرِ حاضر کی زبان اور اسالیب بیان میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔اسی وجہ سے باہر والے تو درکنار خود ہمارے اپنے گھر کے لوگ آج اس کی قدر نہیں پہچان رہے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ علوم حدیث میں سے اگر صرف ایک عِلَلِ حدیث ہی کے فن کی تفصیلات سامنے رکھ دی جائیں تو دنیا کو معلوم ہو کہ تاریخی تنقید کس چیز کا نام ہے۔ تاہم میں یہ کہوں گا کہ مزید اصلاح و ترقی کا دروازہ بند نہیں ہے۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ روایات کو جانچنے اور پرکھنے کے جو اصول محدثین نے اختیار کیے ہیں وہ حرفِ آخر ہیں۔ آج اگر کوئی ان کے اصولوں سے اچھی طرح واقفیت پیدا کرنے کے بعد ان میں کسی کمی یا خامی کی نشان دہی کرے اورزیادہ اطمینان بخش تنقید کے لیے کچھ اصول معقول دلائل کے ساتھ سامنے لائے تو یقیناً اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ہم میں سے آخر کون یہ نہ چاہے گا کہ کسی چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قراردینے سے پہلے اس کے سنتِ ثابتہ ہونے کا تیقن حاصل کرلیا جائے اورکوئی کچی پکی بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ ہونے پائے۔
درایت کی حقیقت
احادیث کے پرکھنے میں روایت کے ساتھ درایت کا استعمال بھی‘ جس کا ذکر محترم مکتوب نگار نے کیا ہے‘ ایک متفق علیہ چیز ہے۔ اگرچہ درایت کے مفہوم‘ اصول اور حدود میں فقہا و محدثین کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلاف رہے ہیں‘ لیکن بجائے خود اس کے استعمال پر تقریبًا اتفاق ہے اور دور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اسے استعمال کیا جارہا ہے، البتہ اس سلسلے میں جو بات پیشِ نظر رہنی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ فاضل مکتوب نگار کو بھی اس سے اختلاف نہ ہوگا‘ وہ یہ ہے کہ درایت صرف انھی لوگوں کی معتبر ہوسکتی ہے جو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مطالعے و تحقیق میں اپنی عمر کاکافی حصہ صرف کرچکے ہوں‘ جن میں ایک مدت کی ممارست نے ایک تجربہ کار جوہری کی سی بصیرت پیدا کر دی ہو اور خاص طور پر یہ کہ جن کی عقل اسلامی نظام فکر و عمل کے حدود اربعہ سے باہر کے نظریات‘ اصول اور اقدار لے کر اسلامی روایات کو ان کے معیار سے پرکھنے کا رجحان نہ رکھتی ہو۔ بلاشبہ عقل کے استعمال پر ہم کوئی پابندی نہیں لگا سکتے‘ نہ کسی کہنے والے کی زبان پکڑ سکتے ہیں، لیکن بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ اسلامی علوم سے کورے لوگ اگر اناڑی پن کے ساتھ کسی حدیث کو خوش آئند پا کر قبول اور کسی کو اپنی مرضی کے خلاف پاکر رد کرنے لگیں، یااسلام سے مختلف کسی دوسرے نظامِ فکر و عمل میں پرورش پائے ہوئے حضرات یکایک اٹھ کر اجنبی معیاروں کے لحاظ سے احادیث کے رد و قبول کا کاروبار پھیلا دیں تو مسلم ملت میں نہ ان کی درایت مقبول ہوسکتی ہے اور نہ اس ملت کا اجتماعی ضمیر ایسے بے تکے عقلی فیصلوں پر کبھی مطمئن ہوسکتا ہے۔ اسلامی حدود میں تو اسلام ہی کی تربیت پائی ہوئی عقل اور اسلام کے مزاج سے ہم آہنگی رکھنے والی عقل ہی ٹھیک کام کرسکتی ہے۔ اجنبی رنگ و مزاج کی عقل یا غیر تربیت یافتہ عقل بجز اس کے کہ انتشار پھیلائے، کوئی تعمیری خدمات اس دائرے میں انجام نہیں دے سکتی۔
سنت کے معتبر ہونے کے دلائل
سنت کی جو تقسیم محترم مکتوب نگار نے: ’سننِ متوارث جن کا تعلق طریق عبادات سے ہے‘ اور’باقی ماندہ مواد احادیث‘ میں کی ہے‘ اور ان میں سے مقدم الذکر کو مصون و مامون اور موخر الذکر کو محتاجِ تنقید قرار دیا ہے‘ اس سے اتفاق کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ بظاہر اس تقسیم میںجو تصور کام کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ جو طریقے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات کے متعلق سکھائے تھے وہ تو امت میں عملاً جاری ہوگئے اور نسل کے بعد نسل ان کی پیروی کرتی رہی‘ اس لیے یہ ’’متوارث‘‘ سنتیں محفوظ رہ گئیں‘ باقی رہے دوسرے معاملاتِ زندگی تو ان میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات نہ عملاً جاری ہوئیں‘ نہ ان پر کوئی نظام تمدن و معاشرت کام کرتا رہا‘ نہ وہ بازاروں اور منڈیوں میں رائج ہوئیں‘ نہ عدالتوں میں ان پر فیصلے ہوئے‘ اس لیے وہ بس متفرق لوگوں کی سینہ بَہ سینہ روایات تک محدود رہ گئیں اور یہی مواد ایسا ہے کہ اب اس میں سے بڑی دیدہ ریزی کے بعد قابل اعتبار چیزیں تلاش کرنی ہوں گی۔ فاضل مکتوب نگار کا تصور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو میں بہت شکر گزار ہوں گا کہ وہ میری غلط فہمی رفع کردیں، لیکن اگر یہی ان کا تصور ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ تاریخ سنت کی واقعی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محض ایک پیرو مرشد اور واعظ نہیں تھے، بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد‘ رہنما‘ حاکم‘ قاضی‘ شارع‘ مربی‘ معلم سب کچھ تھے اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپؐ ہی کے بتائے، سکھائے اور مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لیے یہ کبھی نہیں ہوا کہ آپؐ نے نماز، روزے اور مناسکِ حج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پاگئی ہو‘ اور باقی باتیں محض وعظ و ارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں، بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ جس طرح آپؐ کی سکھائی ہوئی نماز فوراً مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اس پر قائم ہونے لگیں۔ ٹھیک اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین آپؐ نے مقرر کیے انھی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہوگیا‘ لین دین کے جو ضابطے آپؐ نے مقرر کیے انھی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا‘ مقدمات کے جو فیصلے آپؐ نے کیے وہی ملک کا قانون قرارپائے‘ لڑائیوں میں جو معاملات آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پا کر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور اس کا نظامِ حیات اپنے تمام پہلوئوں کے ساتھ انھی سنتوں پر قائم ہوا جو آپؐ نے یا تو خود رائج کیں یا جنھیں پہلے کے مُروّج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپؐ نے سنتِ اسلام کا جز بنا لیا۔ یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھیں جن پر مسجد سے لے کر خاندان‘ منڈی‘ عدالت‘ ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دور حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کا ڈھانچہ انھی پر قائم ہے۔ پچھلی صدی تک تواِن ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت و عدالت اور پبلک لاکے ادارات عملاً درہم برہم ہو جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر آپ ’متوارث‘ سنتوں کی محفوظیت کے قائل ہیں تو عبادات اور معاملات دونوں سے تعلق رکھنے والی یہ سب معلوم و متعارف سنتیں متوارث ہی ہیں۔ ان کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل‘ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان میں مسلمانوں کی بے راہ روی سے جوالحاقی چیز بھی کبھی داخل ہوئی ہے، علمائے امت نے اپنے اپنے دور میں بروقت ’بدعت‘ کی حیثیت سے اس کی الگ نشان دہی کر دی ہے اور قریب قریب ہر ایسی بدعت کی تاریخ موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس زمانے سے اس کا رواج شروع ہوا، مسلمانوں کے لیے ان بدعات کو سنن متعارفہ سے ممیز کرنا کبھی مشکل نہیں رہا ہے۔

اخبارِ آحاد کی حیثیت
ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہرت اور رواجِ عام حاصل نہ ہوا تھا‘ جو مختلف اوقات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلے‘ ارشاد‘ امر و نہی‘ تقریر و اجازت یا عمل کو دیکھ کر یا سُن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھیں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہوسکے تھے۔ یہ سنتیں عبادات اور معاملات دونوں ہی طرح کے امور سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ان کا تعلق صرف معاملات سے تھا۔ ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا، کیونکہ خلفا‘ حکام‘ قاضی‘ مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آمدہ مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا‘ اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور ۱۱ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کرنے کی جتنی بھی کوششیں کیں وہ قریب قریب سب ناکام ہوگئیں‘ کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حق ثابت یا ساقط ہوتا تھا‘ جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی‘ جن سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا، یا کوئی ملزم بری ہوسکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتا کی مسندیں اتنی بے پروا نہیں ہوسکتی تھیں کہ یوں ہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیتا اور ایک حاکم یا جج یا مفتی اسے مان کر کوئی حکم صادر کر ڈالتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی‘ سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا‘ روایت کے اصولو ں پر بھی انھیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی‘ اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے، یا رد کر دی گئی ہے تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کرسکے۔ ان سنتوں کا ایک معتدبہ حصہ فقہا اور محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے اور ایک حصے میں اختلافات ہیں۔ بعض لوگوں نے ایک چیز کو سنت مانا ہے اور بعض نے نہیں مانا، مگر اس طرح کے تمام اختلافات میں صدیوں اہلِ علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کا استدلال‘ اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے‘ فقہ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آج کسی صاحب علم کے لیے بھی مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق تحقیق سے خود کوئی رائے قائم کرسکے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ سنت کے نام سے متوحش ہونے کی کسی کے لیے بھی کوئی معقول وجہ ہوسکتی ہے، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس شعبۂ علم سے واقف نہیں ہیں اور جنھیں بس دور ہی سے حدیثوں میں اختلافات کا ذکر سن کر گھبراہٹ لاحق ہوگئی ہے۔
احکامی احادیث کی امتیازی حیثیت
اس سلسلے میں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ احادیث میں جو مواد احکام سے متعلق نہیں ہے، بلکہ جس کی نوعیت محض تاریخی ہے‘ یا جو فتن‘ ملاحم‘ رقاق‘ مناقب‘ فضائل اور اسی طرح کے دوسرے امور سے تعلق رکھتا ہے‘ اس کی چھان بین میں وہ عرق ریزی نہیں کی گئی ہے جو احکامی سنتوں کے باب میں ہوئی ہے۔ اس لیے موضوعات نے اگر راہ پائی بھی ہے تو زیادہ تر انھی ابواب کی روایات میں پائی ہے۔ احکامی سنتیں بے اصل اور جھوٹی روایتوں سے تقریباً بالکل ہی پاک کر دی گئی ہیں۔ ان سے تعلق رکھنے والی روایتوں میں ضعیف خبریں تو ضرور موجود ہیں، مگر موضوعات کی نشان دہی مشکل ہی سے کی جاسکتی ہے اور اخبارِ ضعیفہ میں سے بھی جس کسی کو فقہ کے کسی سکول نے قبول کیا ہے اس بنا پر کیا ہے کہ اس کے نزدیک وہ قرآن سے‘ سنن متعارفہ کے جانے پہچانے نظام سے‘ اور شریعت کے جامع اصولوں سے مناسبت رکھتی ہے‘ یعنی روایتہ ضعیف ہونے کے باوجود درایۃًاس میں معنی کی قوت موجود ہے۔
محترم مکتوب نگار کی چند سطروں پر یہ تفصیلی تبصرہ میں نے صرف اس لیے کیا ہے کہ یہ سطریں کسی عام آدمی کے قلم سے نہیں نکلی ہیں، بلکہ ایک ایسے بزرگ کے قلم سے نکلی ہیں جنھیں ہمارے سپریم کورٹ کے جج کی بلند پوزیشن حاصل ہے۔ سنت کی شرعی و قانونی حیثیت کے متعلق اس پوزیشن کے بزرگوں کی رائے میں ذرہ برابر بھی کوئی کمزور پہلو ہو تو وہ بڑے دور رس نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ قریب کے زمانے میں سنت کے متعلق عدلیہ کی بعض دوسری بلند پایہ شخصیتوں کے ایسے ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں جو صحیح نقطۂ نظر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جو باتیں میں نے اس تبصرے میں عرض کی ہیں انھیں فاضل مکتوب نگار ہی نہیں‘ ہمارے دوسرے حکام عدالت بھی اسی بے لاگ نگاہ سے ملاحظہ فرمائیں جس کی ہم اپنی عدلیہ سے توقع رکھتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸ء)



باب۷

۲۴ /نومبر ۱۹۵۲ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو اسلامی دستور کے موضوع پر ایک محفل مذاکرہ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔ اس مجلس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے پڑھے لکھے طبقے‘ خصوصیت سے وکلا کے ذہن میں اسلامی دستور کے متعلق جو الجھنیں ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ زمانہ ملک کی تاریخ میں بڑا اہم تھا اور سارے ملک میں اسلامی دستور کا مطالبہ بڑے زور شور سے برپا تھا۔
نومبر۱۹۵۲ء میں ناظم الدین رپورٹ پیش کی جانے والی تھی، لیکن عوامی مطالبے کے پیشِ نظر رپورٹ کے اجرا کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ فطری طور پر مغربی تعلیم یافتہ طبقے کے ذہن میں بہت سے سوالات ابھر رہے تھے جن کا جواب ضروری تھا۔ مولانا مودودیؒ نے اس محفلِ مذاکرہ میں شرکت کرکے کئی گھنٹے کے بحث و مباحثے کے ذریعے اس ضرورت کو پورا کیا۔ مذاکرے کا آغاز مولانا مودودی کی ایک تقریر سے ہوا جس میں موصوف نے اسلامی ریاست اور اسلامی دستور کے بنیادی خدوخال واضح کیے اور اس کے بعد کئی گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ چلتا رہا۔ مندرجہ ذیل صفحات میں مولانا موصوف کی تقریر پیش کی جارہی ہے جو اسلامی ریاست کی بنیادوں کو واضح کرتی ہے۔(مرتب)

اسلامی ریاست کی بنیادیں

میں سب سے پہلے دستور و ریاست کے چند بڑے بڑے اور بنیادی مسائل کو لے کر مختصراً یہ بتائوں گا کہ اسلام کے اصلی مآخذ میں ان کے متعلق کیا قواعد ہمیں ملتے ہیں۔ اس سے آپ خود یہ اندازہ کرسکیں گے کہ اسلام دستوری مسائل میں کوئی راہنمائی کرتا ہے یا نہیں‘ اور کرتا ہے تو آیا اس کی نوعیت محض سفارشات کی ہے، یا ایسے قطعی احکام کی جنھیں ہم مسلمان ہوتے ہوئے رد نہیں کرسکتے۔ اس سلسلے میں طوالت سے بچنے کے لیے میں دستور کے صرف ۹ بنیادی مسائل پر گفتگو کروں گا:
۱۔ پہلا سوال یہ ہے کہ حاکمیت کس کی ہے؟ کسی بادشاہ کی؟ یا کسی طبقے کی؟ یا پوری قوم کی؟ یا خدا کی؟
۲۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کے حدود عمل کیا ہیں؟ کس حد تک وہ اطاعت کی مستحق ہے اور کہاں اس کی اطاعت کا حق ساقط ہو جاتا ہے؟
۳۔ تیسرا بنیادی سوال دستور کے بارے میں یہ ہے کہ ریاست کے مختلف اعضا (organs of the state) یعنی انتظامیہ (executive)،عدلیہ (judiciary) اور مقننہ (legislature) کے الگ الگ حدود عمل کیا ہیں؟ ان میں سے ہر ایک کیا فریضہ ادا کرے گا اور کن حدود کے اندر کرے گا؟ اور پھر ان کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوگی؟
۴۔ چوتھا اہم سوال یہ ہے کہ ریاست کا مقصدِ وجود کیا ہے؟ کس غرض کے لیے ریاست کام کرے گی اور اس کی پالیسی کے بنیادی اصول کیا ہیں؟
۵۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے حکومت کی تشکیل کیسے کی جائے گی؟
۶۔ چھٹا سوال یہ ہے کہ حکومت کے نظام کو چلانے والوں کی صفات (qualifications) کیا ہوں گی؟ کون لوگ اس کو چلانے کے اہل قراردیے جائیں گے؟
۷۔ ساتواں سوال یہ ہے کہ دستور میں شہریت کی بنیادیں کیا ہوں گی؟ کیسے کوئی شخص اس ریاست کا شہری قرار پائے گا اور کیسے نہیں؟
۸۔ آٹھواں سوال یہ ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کیا ہیں؟
۹۔ نواں سوال یہ ہے کہ شہریوں پر ریاست کے حقوق کیا ہیں؟
ہر دستور کے معاملے میں یہ سوالات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمیں دیکھنا ہے کہ اسلام ان سوالات کا کیا جواب دیتا ہے؟

۱۔حاکمیت کس کی ہے؟

سب سے پہلے اس سوال کو لیجیے کہ اسلامی ریاست کا دستور ’’حاکمیت‘‘ کا مقام کس کو دیتا ہے؟
اس کا قطعی اور ناطق جواب قرآن سے ہمیں یہ ملتا ہے کہ حاکمیت ہر معنی میں اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لیے کہ وہی فی الواقع حاکمِ حقیقی ہے اور اسی کا یہ حق ہے کہ اس کو حاکمِ اعلیٰ مانا جائے۔ اس مسئلے کو اگر کوئی شخص اچھی طرح سمجھنا چاہے تو میں اسے مشورہ دوں گا کہ پہلے وہ’حاکمیت‘ کے معنی اور تصور کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے۔
حاکمیت کا مفہوم
علمِ سیاست کی اصطلاح میں یہ لفظ اقتدار اعلیٰ اور اقتدار مطلق کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ کسی شخص یا مجموعۂ اشخاص یا ادارے کے صاحب حاکمیت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حکم قانون ہے۔ اسے افرادِ ریاست پر حکم چلانے کے غیر محدود اختیارات حاصل ہیں۔ افراد اس کی غیر مشروط اطاعت پر مجبور ہیں‘ خواہ بطوع و رغبت یا بکراہت۔ اس کے اختیارات حکمرانی کو اس کے اپنے ارادے کے سوا کوئی خارجی چیز محدود کرنے والی نہیں ہے۔ افراد کو اس کے مقابلے میں کوئی حق حاصل نہیں۔ جس کے جو کچھ بھی حقوق ہیں‘ اسی کے دیے ہوئے ہیں اوروہ جس حق کو بھی سلب کرے وہ آپ سے آپ معدوم ہو جاتا ہے۔ ایک قانونی حق پیدا ہی اس بنا پر ہوتا ہے کہ شارع (lawgiver)نے اس حق کو پیدا کیا ہے‘ اس لیے جب شارع نے اس کو سلب کر لیا تو سرے سے کوئی حق باقی ہی نہیں رہا کہ اس کا مطالبہ کیا جاسکے۔ قانون صاحب حاکمیت کے ارادے سے وجود میں آتا ہے اور افراد کو اطاعت کا پابند کرتا ہے‘ مگر خود صاحب حاکمیت کو پابند کرنے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں قادر مطلق ہے۔ اس کے احکام کے بارے میں خیر اور شر‘ صحیح اور غلط کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جو کچھ وہ کرے وہی خیر ہے‘ اس کے کسی تابع کو اسے شر قرار دے کر رد کر دینے کا حق نہیں ہے۔ جو کچھ وہ کرے وہ صحیح ہے‘ کوئی تابع اس کو غلط قرار نہیں دے سکتا۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ اسے سُبُّوْحَ و قُدُّوْس اور مُنَزَّہْ عَنِ الْخَطَامانا جائے‘ قطع نظر اس سے کہ وہ ایسا ہو یا نہ ہو۔
یہ ہے قانونی حاکمیت (legal sovereignty)کا تصور جسے ایک قانون دان‘ فقیہ یا juristپیش کرتا ہے اور جس سے کم کسی چیز کا نام ’حاکمیت‘ نہیں ہے، مگر یہ حاکمیت اس وقت تک بالکل ایک مفروضہ رہتی ہے جب تک اس کی پشت پر کوئی واقعی حاکمیت یا علم سیاست کی اصطلاح میں سیاسی حاکمیت (political sovereignty)نہ ہو‘ یعنی عملاً اس اقتدار کی مالک جو اس قانونی حاکمیت کو مسلط کرے۔
حاکمیت فی الواقع کس کی ہے؟
اب پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی کوئی حاکمیت فی الواقع انسانی دائرے میں موجود بھی ہے؟ اور ہے تو وہ کہاں ہے؟ کس کو اس حاکمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے؟
کیا کسی شاہی نظام میں واقعی کوئی بادشاہ ایسی حاکمیت کا حامل ہے یا کبھی پایا گیا ہے، یا پایا جاسکتا ہے؟ آپ کسی بڑے سے بڑے مختار مطلق فرماں روا کو لے لیجیے،اس کے اقتدار کا آپ تجزیہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس کے اختیارات کو بہت سی خارجی چیزیں محدود کر رہی ہیں جو اس کے ارادے کی تابع نہیں ہیں۔
پھر کیا کسی جمہوری نظام میں کسی خاص جگہ انگلی رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہاں واقعی حاکمیت موجود ہے؟ جس کو بھی آپ اس کا حامل قرار دیں گے‘ تجزیہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس کے ظاہری اختیارِ مطلق کے پیچھے کچھ اور طاقتیں ہیں جن کے ہاتھ میں اس کی باگیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ علم سیاست کے ماہرین جب حاکمیت کا واضح تصور لے کر انسانی سوسائٹی کے دائرے میں اس کا واقعی مصداق تلاش کرتے ہیں تو انھیں سخت پریشانی پیش آتی ہے۔ کوئی قامت ایسا نہیں ملتا جس پر یہ جامہ راست آتا ہو۔ اس لیے کہ انسانیت کے دائرے میں‘ بلکہ درحقیقت مخلوقات کے دائرے میں اس قامت کی کوئی ہستی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن بار بار کہتا ہے کہ فی الواقع حاکمیت کا حامل صرف ایک خدا ہے۔ وہی مختار مطلق ہے (فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ)،۹۵؎ وہی غیر مسئول اور غیر جواب دہ ہے (لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ)۹۶؎وہی تمام اقتدار کا مالک ہے (بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ)،۹۷؎ وہی ایک ہستی ہے جس کے اختیارات کو محدود کرنے والی کوئی طاقت نہیں ہے (وَھُوَیُجِیْرُ وَلَا یُجَارَ عَلَیْہِ)۹۸؎ اور اسی کی ذات مُنَزّہ عَنِ الخطا ہے (اَلْمَلِکُ القُّدُوْسُ السَّلَامُ)۹۹؎
حاکمیت کس کا حق ہے؟
پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت نفس الامری سے قطع نظر کرتے ہوئے، اگر کسی غیر اللہ کو یہ حاکمانہ حیثیت دے دی جائے تو کیا فی الواقع اس کا یہ حق ہے کہ اس کا حکم قانون ہو‘ اور اس کے مقابلے میں کسی کا کوئی حق نہ ہو، اور اس کی غیر مشروط اطاعت کی جائے اور اس کے حکم کے بارے میں خیر و شر یا صحیح و غلط کا سوال نہ اٹھایا جاسکے؟ یہ حق خواہ کسی شخص کو دیا جائے‘ یا کسی ادارے کو‘ یا باشندوں کی اکثریت کو‘ بہرحال یہ پوچھا جائے گا کہ اس کو آخر یہ حق کس بنیاد پر حاصل ہوا ہے؟ اور اس بات کی دلیل کیا ہے کہ اسے افراد پر اس طرح حاکم ہونے کا حق حاصل ہے؟
اس سوال کا زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جواب دیا جاسکتا ہے تو وہ صرف یہ کہ لوگوں کی رضامندی اس حاکمیت کے برحق ہونے کی دلیل ہے؟ مگر کیا آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی رضامندی سے اپنے آپ کو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کردے تو اس خریدار کو اس شخص پر جائز حقِ مالکانہ حاصل ہو جاتا ہے؟ اگر یہ رضامندی اس ملکیت کو برحق نہیں بناتی تو آخر کسی غلط فہمی کی بنا پر محض جمہور کارضامند ہو جانا کسی حاکمیت کو برحق کیسے بنا سکتا ہے؟ قرآن اس گتھی کو بھی یہ کہہ کر سلجھا دیتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر کسی مخلوق کو بھی حکم چلانے کا حق نہیں ہے۔ یہ حق صرف اللہ کو حاصل ہے اور اس بنا پر حاصل ہے کہ وہی اپنی مخلوق کا خالق ہے: اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۔الاعراف54:7 خبردار خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کے لیے ہے۔ یہ ایک ایسی معقول بات ہے جسے کم از کم وہ لوگ تو رد نہیں کرسکتے جو خدا کو خالق تسلیم کرتے ہیں۔
حاکمیت کس کی ہونی چاہیے؟
پھر تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگربالفرض حق اور باطل کی بحث کو نظر انداز کرکے حاکمیت کا یہ منصب کسی انسانی اقتدار کو دے بھی دیا جائے تو کیا اس میں انسانیت کی بھلائی ہے؟ انسان‘ خواہ وہ کوئی ایک شخص ہو‘ یا کوئی طبقہ‘ یا کسی قوم کا مجموعہ‘ بہرحال حاکمیت کی اتنی بڑی خوراک ہضم نہیں کرسکتا کہ اس کو افراد پر حکم چلانے کے غیر محدود اختیارات حاصل ہوں اور اس کے مقابلے میں کسی کا کوئی حق نہ ہو، اور اس کے فیصلے کو بے خطا مان لیا جائے۔ اس طرح کے اختیارات جب بھی کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہوں گے‘ ظلم ضرور ہوگا۔ معاشرے کے اندر بھی ظلم ہوگا اور معاشرے کے باہر دوسرے ہمسایہ معاشروں پر بھی ظلم ہوگا۔ فساد اس بندوبست کی فطرت میں مضمر ہے اور جب کبھی انسانوں نے زندگی کا یہ ہنجار اختیار کیا ہے، فساد رونما ہوئے بغیر نہیں رہا ہے، اس لیے کہ جس کی فی الواقع حاکمیت نہیں ہے اور جس کو حاکمیت کا حق بھی حاصل نہیں ہے‘ اسے اگر مصنوعی طور پر حاکمیت کا مقام حاصل ہو جائے تو وہ اس منصب کے اختیارات کبھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرسکتا۔ یہی بات ہے جسے قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ المائدہ 45:5
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی ظالم ہیں۔
اللہ کی قانونی حاکمیت
ان وجوہ سے اسلام میں یہ قطعی طور پر طے کر دیا گیا ہے کہ قانونی حاکمیت اسی کی مانی جائے جس کی واقعی حاکمیت ساری کائنات پر قائم ہے اور جسے انسانوں پر بھی حاکمیت کا، لاشریک حق حاصل ہے۔ اس بات کو قرآن میں اتنی بار بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے اور اتنے زور کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے زیادہ پر زور الفاظ کسی بات کو بیان کرنے کے لیے ہو نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ فرمایا:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ یوسف40:12
حکم اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں‘ اس کا فرمان ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی و اطاعت نہ کرو‘ یہی صحیح طریقہ ہے۔
دوسری جگہ فرمایا:
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ الاعراف7:3
پیروی کرو اس قانون کی جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اسے چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔
تیسری جگہ خدا کی اس قانونی حاکمیت سے انحراف کرنے کو صریح کفر سے تعبیر کیا گیا ہے:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ المائدہ44:5
اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قانونی حاکمیت تسلیم کرنے ہی کا نام ایمان و اسلام ہے اور اس سے انکار قطعی کفر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت
دنیا میں اللہ کی اس قانونی حاکمیت کے نمائندے انبیاء علیہم السلام ہیں۔ یعنی جس ذریعے سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے شارع (law giver)کا ہمارے لیے کیا حکم اور کیا قانون ہے، وہ ذریعہ انبیاء ہیں اور اسی بنا پر اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی بے چون و چرا اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں آپ دیکھیں گے کہ خدا کی طرف سے جو نبی بھی آیا ہے اس نے یہی اعلان کیا ہے کہ فَا تَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ۔۱۰۰؎ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ اور قرآن اس بات کو بطور ایک قطعی اصول کے بیان کرتا ہے کہ:
۱۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔
۲۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جو رسولؐ کی اطاعت کرے اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔
حتیٰ کہ قرآن کسی ایسے شخص کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہے جو اختلافی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری فیصلہ دینے والی اتھارٹی تسلیم نہ کرے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النساء65:4
پس نہیں‘ تیرے رب کی قسم! وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلاف میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو فیصلہ تو کرے اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سربسر تسلیم کر لیں۔
پھر وہ کہتا ہے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا oالاحزاب36:33
اور کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ اللہ اور رسولؐ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے پھر خود اپنے معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
اس کے بعد یہ شبہہ کرنے کی کوئی گنجایش ہی باقی نہیں رہتی کہ اسلام میں قانونی حاکمیت خالصتًا اور کلیتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔
اللہ ہی کی سیاسی حاکمیت
اس اہم ترین دستوری مسئلے کا فیصلہ ہو جانے کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ پھر سیاسی حاکمیت (political sovereignty)کس کی ہے؟ اس کا جواب لامحالہ یہی ہے اور یہی ہوسکتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہے‘ کیونکہ انسانوں میں جو ایجنسی بھی سیاسی طاقت سے اللہ تعالیٰ کی قانونی حاکمیت کو نافذ (enforce)کرنے کے لیے قائم ہوگی اس کو کسی بھی طرح قانون اور سیاست کی اصطلاح میں صاحب حاکمیت (sovereign)نہیں کہا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ جو طاقت قانونی حاکمیت نہ رکھتی ہو، اور جس کے اختیارات کو پہلے ہی ایک بالاتر قانون نے محدود اور پابند کر دیا ہو جسے بدلنے کا اسے اختیار نہ ہو‘ وہ حاکمیت کی حامل تو نہیں ہوسکتی۔ اب اس کی صحیح پوزیشن کس لفظ سے ادا کی جائے؟ اس سوال کو قرآن ہی نے حل کر دیا ہے۔ وہ اسے لفظ خلافت سے تعبیر کرتا ہے۔ یعنی وہ بجائے خود حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے، بلکہ حاکمِ اعلیٰ کی نائب ہے۔
جمہوری خلافت
اس نیابت کے لفظ سے آپ کا ذہن ظل اللہ اور پاپائیت اور بادشاہوں کے خدائی حقوق (divine rights of the king)کی طرف منتقل نہ ہو جائے۔ قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ اللہ کی نیابت کا یہ مقام کسی فرد واحد‘ یا کسی خاندان‘ یا کسی مخصوص طبقے کا حق نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں کا حق ہے جو اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے پہنچے ہوئے قانونِ الٰہی کو بالاتر قانون مان لیں:
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ النور55:24
اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جنھوں نے تم میں سے ایمان قبول کیا اور عملِ صالح کیا کہ وہ ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔
یہ چیز اسلامی خلافت کو قیصریت اور پاپائیت اور مغربی تصور والی مذہبی ریاست (theocracy)کے برعکس ایک جمہوریت بنا دیتی ہے‘ اس فرق کے ساتھ کہ اہلِ مغرب جس چیز کو لفظ جمہوریت سے تعبیر کرتے ہیں اس میں جمہور کو حاکمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے‘ اور ہم مسلمان جسے جمہوریت کہتے ہیں اس میں جمہور صرف خلافت کے حامل ٹھیرائے جاتے ہیں۔ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے ان کی جمہوریت میں بھی عام رائے دہندوں کی رائے سے حکومت بنتی ہے اور بدلتی ہے اور ہماری جمہوریت بھی اسی کی متقاضی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ان کے تصور کے مطابق جمہوری ریاست مطلق العنان اور مختار مطلق ہے اور ہمارے تصور کے مطابق جمہوری خلافت، اللہ کے قانون کی پابند۔

۲۔ ریاست کے حدودِ عمل

خلافت کی اس تشریح سے یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے کہ اسلامی دستور میں ریاست کے حدودِ عمل کیا ہیں۔ جب یہ ریاست اللہ کی خلافت ہے اور اللہ کی قانونی حاکمیت تسلیم کرتی ہے تو لامحالہ اس کا دائرۂ اختیار اُن حدود کے اندر ہی محدود رہے گا جو اللہ نے مقرر کی ہیں۔ ریاست جو کچھ کرسکتی ہے ان حدود کے اندر ہی کر سکتی ہے‘ ان سے تجاوز کرنے کی وہ ازروئے دستور مجاز نہیں ہے۔ یہ بات صرف منطقی طور پر ہی خدا کی قانونی حاکمیت کے اصول سے نہیں نکلتی بلکہ قرآن خود اس کو صاف صاف بیان کرتا ہے۔ وہ جگہ جگہ احکام دے کر متنبہ کرتا ہے:
٭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا۝۰ۭ البقرہ 187:2
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ پھٹکو۔
٭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا۔ البقرہ229:2
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں‘ ان سے تجاوز نہ کرو۔
٭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ البقرہ229:2
اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔
پھر وہ بطور ایک قاعدے کلیے کے یہ حکم دیتا ہے کہ:
٭ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ النساء59:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘ پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور آخرت کے دن پر۔
اس آیت کی رو سے ریاست کی اطاعت لازمًا خدا اور رسولؐ کی اطاعت کے تحت ہے، نہ کہ اس سے آزاد‘ اور اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ احکامِ خدا اور رسولؐ کی پابندی سے آزاد ہو کر ریاست کو سرے سے اطاعت کے مطالبے کا حق ہی باقی نہیں رہتا۔ اسی نکتے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں واضح فرمایا کہ:
۱۔لَاطَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللہ ۔ (طبرانی)
کوئی اطاعت اس شخص کے لیے نہیں ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے۔
۲۔لَاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ (مشکوۃ ۳۵۲۵)
خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کے لیے اطاعت نہیں ہے۔
اس اصول کے ساتھ دوسرا اصول جو یہ آیت مقرر کرتی ہے‘ یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی میں جو اختلاف بھی رونما ہو‘ خواہ وہ افراد اور افراد کے درمیان ہو، یا گروہوں اور گروہوں کے درمیان، یا رعیت اور ریاست کے درمیان یا ریاست کے مختلف شعبوں اور اجزاء کے درمیان‘ بہرحال اس کا فیصلہ کرنے کے لیے رجوع اس بنیادی قانون ہی کی طرف کیا جائے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دیا ہے۔ یہ اصول اپنی عین نوعیت ہی کے اعتبار سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست میں لازمًاکوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو اختلافی معاملات کا فیصلہ کتاب اللّٰہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرے۔

۳۔ اعضائے ریاست کے حدودِ عمل اور ان کا باہمی تعلق

یہیں سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ ریاست کے مختلف اعضا (organs of the state)کے اختیارات اور حدود عمل کیا ہیں۔
مجالسِ قانون ساز کے حدود
مقننہ (lagislature)ہی وہ چیز ہے جسے ہمارے ہاں کی قدیم اصطلاح میں اہل الحل و العقد کہا جاتا ہے۔ اس کے معاملے میں یہ بات بالکل صاف ہے کہ جو ریاست اللہ اور رسول کی قانونی حاکمیت مان کر بنائی گئی ہو‘ اس کی مقننہ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے خلاف اپنے اجماع سے بھی کوئی قانون سازی کرنے کی مجاز نہیں ہوسکتی۔ ابھی میں آپ کو قرآن کا یہ فیصلہ سنا چکا ہوں کہ:
۱۔کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ اور رسولؐ جس معاملے کا فیصلہ کرچکے ہوں اس میں ان کو پھر کوئی فیصلہ نہ کرنے کا اختیار باقی رہے۔ (الاحزاب۳۳:۳۶)
۲۔جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔(المائدہ۵:۴۴)
ان احکام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے احکام کے خلاف کوئی قانون سازی کرنا مجلسِ قانون ساز کے حدود اختیار سے باہر ہو‘ اور ہر ایسا قانون‘ اگر وہ لیجسلیچر ] [lagislature پاس بھی کر دے‘ لازماً حدود دستور سے متجاوز (ultravires of the constitution) قرارپائے۔
اس سلسلے میں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ پھر اسلامی ریاست میں مقننہ کا کام ہی کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں مقننہ کے کئی کام ہیں:
۱۔ جن معاملات میں اللہ اور رسولؐ کے واضح اور قطعی احکام موجود ہیں‘ ان میں اگرچہ مقننہ کوئی ردّوبدل نہیں کرسکتی‘ مگر یہ کام مقننہ ہی کا ہے کہ ان کے نفاذ کے لیے ضروری قواعد و ضوابط (rules and regulations)مقرر کر دے۔
۲۔ جن معاملات میں کتاب و سنت کے احکام ایک سے زیادہ تعبیرات کے محتمل ہوں‘ ان میں مقننہ ہی یہ طے کرے گی کہ کون سی تعبیر کو قانونی شکل دی جائے۔ اس غرض کے لیے ناگزیر ہے کہ مقننہ ایسے اہل علم پر مشتمل ہو جو تعبیرِ احکام کی اہلیت رکھتے ہوں‘ ورنہ ان کے غلط فیصلے شریعت کو مسخ کر ڈالیں گے، لیکن یہ سوال رائے دہندوں کی صلاحیت انتخاب سے تعلق رکھتا ہے۔ اصولاً یہ ماننا پڑے گا کہ قانون سازی کی اغراض کے لیے مقننہ ہی مختلف تعبیرات میں سے ایک کو ترجیح دینے کی مجاز ہے اور اسی کی تعبیر قانون بنے گی‘ بشرطیکہ وہ تعبیر کی حد سے گزر کر تحریف کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
۳۔ جن معاملات میں احکام موجود نہ ہوں، ان میں مقننہ کاکام یہ ہے کہ اسلام کے اصول عامہ کو پیشِ نظر رکھ کر نئے قوانین وضع کرے، یا اگر ان کے بارے میں پہلے سے مدوّن کیے ہوئے قوانین کتبِ فقہ میں موجود ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرے۔
۴۔ جن معاملات میں کوئی اصولی رہنمائی بھی نہ ملتی ہو ان میں یہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قانون سازی میں آزاد چھوڑ دیا ہے‘ اس لیے ایسے معاملات میں مقننہ ہر طرح کے مناسب قوانین بنا سکتی ہے‘ بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم یا اصول سے متصادم نہ ہوتے ہوں۔ اس معاملے میں اصول یہ ہے کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے، وہ مباح ہے۔
یہ چاروں قاعدے ہم کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تعامل خلفائے راشدین اور مجتہدین امت کی آرا سے معلوم ہوتے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو ہم ان میں سے ہر ایک کا ماخذ بتا سکتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جو شخص اسلامی ریاست کے بنیادی اصول سمجھ لے اسے خود عقل عام (common sense)بھی یہ بتا سکتی ہے کہ اس طرز کی ریاست میں مقننہ کے یہی حدودِ عمل ہونے چاہییں۔
انتظامیہ کے حدود عمل
اب انتظامیہ کو لیجیے۔ ایک اسلامی ریاست میں انتظامیہ (executive)کا اصل کام احکام الٰہی کو نافذ کرنا اور ان کے نفاذ کے لیے ملک اور معاشرے میں مناسب حالات پیدا کرنا ہے۔ یہی امتیازی خصوصیت اس کو ایک غیر مسلم ریاست کی انتظامیہ سے ممیز کرتی ہے‘ ورنہ ایک کافر حکومت اور مسلم حکومت میں کوئی فرق باقی ہی نہیں رہتا۔ انتظامیہ وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں ’اولی الامر‘ اور حدیث میں ’امراء‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث‘ دونوں میں ان کے سمع و طاعت (obedience)کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور رسول کے تابع رہیں‘ ان سے آزاد ہو کر معصیت اور بدعت اور احداث فی الدین کی راہ پر نہ چل پڑیں۔ قرآن اس باب میں صاف کہتا ہے کہ:
۱۔ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًاo الکہف 28:18
اور کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہو، جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہو اور جس کا امر حدود آشنا نہ ہو۔
۲۔ وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَo الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَo الشعراء151-152:26
اور ان حد سے گزر جانے والوں کے امر کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ اس معاملے کو یوں بیان فرماتے ہیں:
۱۔ اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا۔ (مسلم، مشکوۃ۳۴۹۲)
اگر تم پر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمھاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔
۲۔ اَلسَّمْعُ وَ الطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْ مَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَبِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔ (متفق علیہ)
ایک مرد مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ برضا و رغبت‘ خواہ بکراہت‘ تاوقتیکہ اس کو معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سمع ہے نہ طاعت۔
۳۔ لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (متفق علیہ)
معصیت میں کوئی طاعت نہیں ہے۔ طاعت صرف معروف میں ہے۔
۴۔ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَھُوَرَدٌّ۔ (متفق علیہ)
جس نے ہمارے اس کام (یعنی اسلامی نظام زندگی) میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس کے مزاج سے بیگانہ ہو تو وہ مردود ہے۔
۵۔ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ۔ (البیہقی فی شعب الایمان)
جس نے کسی صاحب بدعت (یعنی اسلامی زندگی میں غیر اسلامی طریقے رائج کرنے والے) کی توقیر کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔
ان توضیحات کے بعد اس معاملے میں کوئی اشتبا ہ باقی نہیں رہ جاتا کہ اسلام میں انتظامی حکومت اور اس کے نظم و نسق کے لیے کیا حدودعمل مقرر کیے گئے ہیں۔
عدلیہ کے حدودِ عمل
رہی عدلیہ (judiciary)جو ہماری قدیم اصطلاح ’’قضاء‘‘ کی ہم معنی ہے‘ تو اس کا دائرۂ عمل بھی خدا کی قانونی حاکمیت کا اصول آپ سے آپ معین کر دیتا ہے۔ اسلام جب کبھی اپنے اصولوں پر ریاست قائم کرتا ہے‘ اس کے اولین جج خود انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں‘ اور ان کاکام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ قانونِ الٰہی کے مطابق کریں۔ پھر جو لوگ انبیاء ؑ کے بعد اس کرسی پر بیٹھیں ان کے لیے بھی اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ اپنے فیصلوں کی بنیاد اس قانون پر رکھیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے ان کو ملا ہے۔ قرآن مجید میں سورہ مائدہ کے دو رکوع خاص اسی موضوع پر ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی‘ اور بنی اسرائیل کے سارے نبی ؑ اور پھر ربانی اور احبار اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔ پھر ہم نے ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بھیجا اور ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ اہلِ انجیل کو چاہیے کہ وہ بھی اس ہدایت پر فیصلے کریں جو اللہ نے انجیل میں نازل کی ہے۔ اس تاریخ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب (قرآن) تمھاری طرف ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ نازل کی ہے:
فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ۝۰ۭ المائدۃ 48:5
پس تم لوگوں کے درمیان اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کرو اور اس حق کو چھوڑ کر جو تمہارے پاس آیا ہے‘ لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔
آگے چل کر اللہ تعالیٰ اس تقریر کو اس فقرے پر ختم فرماتا ہے:
اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِيَّۃِ يَبْغُوْنَ۝۰ۭ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَo المائدہ50:5
پھر کیا لوگ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟
اس تقریر کے دوران میں اللہ تعالیٰ تین مرتبہ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون پر فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں‘ وہی ظالم ہیں‘ وہی فاسق ہیں۔ (المائدہ:۵:۴۴،۴۵،۴۷)۔ اس کے بعد شاید یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ایک اسلامی ریاست کی عدالتیں قانون الٰہی کو نافذ کرنے کے لیے بنتی ہیں نہ کہ اس کے خلاف فیصلے کرنے کے لیے۔
مختلف اعضائے ریاست کا باہمی تعلق
اس سلسلے میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اسلام میں ریاست کے ان تینوں اعضا کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اس باب میں احکام تو موجود نہیں ہیں‘ مگر عہدِ نبویؐ اور عہد خلافت راشدہ کے تعامل (convention)سے ہم کو پوری روشنی ملتی ہے۔ اس تعامل سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک صدر ریاست کا تعلق ہے‘ وہ صدر ہونے کی حیثیت سے ریاست کے ان تینوں شعبوں کا صدر ہے۔ یہی حیثیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی اور یہی خلفائے راشدین کو حاصل رہی، مگر صدر سے نیچے اتر کر ہم تینوں شعبوں کو اس دور میں ایک دوسرے سے الگ پاتے ہیں۔ اس زمانے میں اہل الحل و العقد الگ تھے‘ جن کے مشورے سے خلافتِ راشدہ کے دور میں انتظامی معاملات بھی چلائے جاتے تھے اور قانونی مسائل کے فیصلے بھی کیے جاتے تھے۔ نظم و نسق کے ذمے دارامراء الگ تھے جن کا قضاء(عدالت) میں کوئی دخل نہ تھا اور قاضی (جج اور مجسٹریٹ) الگ تھے جن پر انتظامی ذمے داریوں کا کوئی بار نہ تھا۔
ملک کے اہم معاملات میں پالیسی بنانے، یا انتظامی اور قانونی مسائل کو حل کرنے کی جب کبھی ضرورت پیش آتی‘ خلفائے راشدین ہمیشہ اہل الحل و العقد کو بلا کر مشورہ کرتے تھے اور مشورے سے جب کوئی فیصلہ ہو جاتا تو اہل الحل و العقد کا کام ختم ہو جاتا۔
انتظامی عہدے دار خلیفہ کے ماتحت تھے‘ وہی ان کو مقرر کرتا تھا اور اسی کے احکام کے مطابق وہ نظم و نسق چلاتے تھے۔
قاضیوں کا تقرر بھی اگرچہ خلیفہ کرتا تھا‘ مگر ایک مرتبہ قاضی مقرر ہو جانے کے بعد پھر خلیفہ کو بھی یہ حق نہ تھا کہ ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو، بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں‘ یا منتظمہ کے صدر ہونے کی حیثیت میں‘ اگر کسی شخص کا ان کے خلاف کوئی دعویٰ ہوتا تھا‘ تو ان کو بھی قاضیوں کے سامنے ٹھیک اسی طرح جواب دہی کرنی ہوتی تھی جس طرح رعیت کے کسی معمولی فرد کو کرنی ہوتی تھی۔
اس زمانے میں ہم کو ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی ایک شخص بیک وقت کسی علاقے کا عامل بھی ہو اور قاضی بھی، یا کوئی عامل یا گورنر‘ یا خود صدر ریاست کسی قاضی کے عدالتی فیصلوں میں دخل دینے کا مجاز ہو، یا کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی دیوانی و فوج داری دعووں کی جواب دہی سے یا عدالتوں کی حاضری سے مستثنیٰ ہو۔
اس نقشے کی تفصیلات میں ہم اپنی موجودہ ضرورتوں کے مطابق ردوبدل کرسکتے ہیں‘ مگر اس کے اصول جوں کے توں قائم رہنے چاہییں۔ جس قسم کے جزوی ردّ و بدل اس میں کیے جاسکتے ہیں وہ اس طرح کے ہیں کہ مثلاً ہم صدر ریاست کے انتظامی و عدالتی اختیارات خلفائے راشدین کی بہ نسبت محدود کرسکتے ہیں‘ کیونکہ اب اس درجے کے قابلِ اعتماد صدر ریاست ہمیں نہیں مل سکتے جیسے خلفائے راشدین تھے۔ اس لیے ہم اپنے صدر کے انتظامی اختیارات پر بھی پابندیاں عائد کرسکتے ہیں تاکہ وہ ڈکٹیٹر نہ بن جائے اور اس کو مقدمات کی براہ راست خود سماعت کرنے اور ان کے فیصلے کرنے سے بھی روک سکتے ہیں، تاکہ وہ بے انصافی نہ کرنے لگے۔
(اس موقع پر ایک صاحب نے اٹھ کر سوال کیا کہ آپ کی اس رائے کا مآخذ کیا ہے؟)
مقرر نے اس کے جواب میں کہا کہ اس قول کے لیے میری دلیل یہ ہے کہ خلافت ِ راشدہ میںانتظامیہ اور عدلیہ کے شعبے بالکل الگ الگ تھے۔ رہا صدر ریاست تو اس کی ذات میں ان دونوں اختیارات کو کسی حکم شرعی کی بنا پر جمع نہیں رکھا گیا تھا، بلکہ اس اعتماد پر جمع کیا گیا تھا کہ وہ جج کی حیثیت سے انصاف کی مسند پر بیٹھ کر اپنی انتظامی مصلحتوں کو دخیل نہ ہونے دیں گے، بلکہ خلفائے راشدین کی ذات پر تو لوگوں کو اس درجے اعتماد تھا کہ وہ خود یہ چاہتے تھے کہ آخری عدالتِ انصاف وہی ہوں، تاکہ اگر کہیں انصاف نہ ملے تو ان کے پاس ضرور مل جائے۔ اس اعتماد کی مستحق اگر کوئی شخصیت ہم نہ پاسکیں تو اسلامی دستور کے کسی قاعدے نے ہمیں اس بات پر مجبور نہیں کر دیا ہے کہ ہم صدر کی ذات میں چیف جسٹس اور انتظامیہ کے رئیس اعلیٰ کی حیثیتیں لازماً جمع رکھیں۔)
اسی طرح اس نقشے میں جوتبدیلیاں ہم کرسکتے ہیں‘ وہ یہ ہیں کہ مثلاً: ہم اہل الحل و العقد کے انتخاب کے طریقے اور ان کی مجلس کے ضابطے حسب ضرورت بنا سکتے ہیں۔ ہم عدالتوں کے مختلف درجے، مخصوص اختیارات‘ حدود سماعت اور حدود عمل کے ساتھ مقرر کرسکتے ہیں وغیر ذالک۔
یہاں دو سوالات اور پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دینے کی ضرورت ہے:
٭ اول یہ کہ آیا اسلام میں اس امر کی گنجایش ہے کہ قضاء (عدلیہ) اہل الحل والعقد کے طے کیے ہوئے کسی قانونی مسئلے کو خلافِ کتاب و سنت ہونے کی بنا پر رد کر دے؟
اس باب میں کوئی حکم میرے علم میں نہیں ہے۔ خلافت راشدہ کا تعامل بے شک یہی تھا کہ قضاء کو یہ اختیارات حاصل نہیں تھے۔ کم از کم اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی قاضی نے ایسا کیا ہو، مگر اس کی وجہ میرے نزدیک یہ تھی کہ اس وقت اہل الحل و العقد خود کتاب و سنت میں گہری بصیرت رکھنے والے لوگ تھے اور سب سے بڑھ کر خود خلفائے راشدین اس معاملے میں پوری طرح قابلِ اعتماد تھے کہ ان کی صدارت میں کوئی مسئلہ خلاف کتاب و سنت طے نہ ہوسکتا تھا۔ آج اگر ہم اپنے دستور میں اس امر کا کوئی قابلِ اطمینان انتظام نہ کرسکیں کہ کسی مجلس قانون ساز سے کوئی قانون خلاف کتاب و سنت پاس نہ ہوسکے تو عدلیہ کو مقننہ کے فیصلوں کا پابند کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر اس کا کوئی قابلِ اطمینان انتظام نہ کیا جاسکے تو پھرآخری چارۂ کار یہی ہے کہ عدلیہ کو خلافِ کتاب و سنت قوانین کے رد کرنے کا اختیار دیا جائے۔
٭ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں مقننہ (اہل الحل و العقد) کی صحیح حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ محض صدر ریاست کی مشیر ہے جس کے مشوروں کو ردّ یا قبول کرنے کا صدر ریاست کو اختیار ہے؟ یا صدر ریاست اس کی اکثریت، یا اس کے اجماع کے فیصلوں کا پابند ہے؟
اس باب میں قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے انجام پانے چاہئیں: (وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ الشوریٰ38:42 ) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت صدر ریاست کے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے:
وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ۝۰ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝۰ۭ آل عمران159:3
اور ان سے معاملات میں مشورہ کرو‘ پھر (مشورے کے بعد) جب تم عزم کرلو تو اللہ کے بھروسے پر عمل کرو۔
یہ دونوں آیتیں مشورے کو لازم کرتی ہیں اور صدر ریاست کو ہدایت کرتی ہیں کہ جب وہ مشورے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچ جائے تو اللہ کے بھروسے پر اسے نافذ کردے، لیکن یہ اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیتیں جو ہمارے سامنے پیش ہے۔ حدیث میں بھی اس کے متعلق کوئی قطعی حکم مجھے نہیں ملا ہے، البتہ خلافت راشدہ کے تعامل سے علمائے اسلام نے بالعموم یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نظم ریاست کا اصل ذمے دار صدر ریاست ہے اور وہ اہل الحل و العقد سے مشورہ کرنے کا پابند ہے، مگر اس بات کا پابند نہیں کہ ان کی اکثریت یا ان کی متفقہ رائے پر ہی عمل کرے۔ دوسرے الفاظ میں اس کو’ویٹو‘ کے اختیارات حاصل ہیں،لیکن یہ رائے اس مجمل صورت میں بڑی غلط فہمیوں کی موجب ہے‘ کیونکہ اسے لوگ موجودہ ماحول میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ماحول ان کے سامنے نہیں ہوتا جس کے تعامل سے یہ رائے اخذ کی گئی ہے۔
خلافتِ راشدہ کے ماحول میں جن لوگوں کو اہل الحل و العقد قرار دیا گیا تھا وہ جدا جدا پارٹیوں کی شکل میں منظم نہ تھے۔ وہ ان پارلیمنٹری ضابطوں سے بھی کسے ہوئے نہ تھے جن سے موجودہ زمانے کی مجالسِ قانون ساز کسی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ مجلس شوریٰ میں پہلے سے الگ الگ اپنی کچھ پالیسیاں وضع کرکے‘ پروگرام بنا کر اور پارٹی میٹنگز میں فیصلے کرکے بھی نہیں آتے تھے۔ انھیں جب مشورے کے لیے بلایا جاتا تو وہ کھلے دل کے ساتھ آکر بیٹھتے‘ خلیفہ خود ان کی مجلس میں موجود ہوتا‘ مسئلہ پیش کیا جاتا‘ مخالف اور موافق ہر پہلو پر آزادانہ بحث ہوتی۔ پھر دونوں کے دلائل کا موازنہ کرکے خلیفہ اپنے دلائل کے ساتھ اپنی رائے بیان کرتا۔ یہ رائے بالعموم ایسی ہوتی تھی کہ پوری مجلس اسے تسلیم کرلیتی تھی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ چند لوگ اس سے متفق نہ ہوتے تھے، مگر اسے بالکل غلط اور ناقابل تسلیم نہیں، بلکہ صرف مرجوح سمجھتے تھے اور فیصلہ ہو جانے کے بعد کم از کم عمل کے لیے اسی کو مان لیتے تھے۔ پوری خلافت راشدہ کی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ اہل الحل و العقد کی مجلس میں ایسی تفریق رونما ہوئی ہو کہ رائے شماری کی نوبت آئے، اور پوری خلافتِ راشدہ کی تاریخ میں صرف دو مثالیں اس امر کی ملتی ہیں کہ خلیفۂ وقت نے اہل الحل و العقد کی قریب قریب متفقہ رائے کے خلاف کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک: جیشِ اسامہؓ کا معاملہ، دوسرے: مرتدین کے خلاف جہاد کا معاملہ، لیکن ان دونوں معاملات میں صحابہؓ نے جس بنا پر خلیفہ کے فیصلے کو مانا، وہ یہ نہیں تھی کہ دستور اسلامی نے خلیفہ کو ویٹو کے اختیارات دے رکھے ہیں اوردستوری طور پر وہ بادلِ نخواستہ اس کا فیصلہ ماننے کے لیے مجبور ہیں‘ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فہم و فراست اور دینی بصیرت پر پورا اعتماد تھا۔ انھوں نے جب دیکھا کہ ابوبکرؓ اس رائے کی صحت پر اتنا یقین رکھتے ہیں اور دینی مصالح کے لیے اس کو اتنی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں‘ تو انھوں نے کھلے دل سے ان کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے واپس لے لی، بلکہ بعد میں ان کی اصابت رائے کو کھلم کھلا سراہا اور اعتراف کیا کہ اگر ان مواقع پر ابوبکرؓ استقامت نہ دکھاتے تو اسلام ہی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ چنانچہ مرتدین کے معاملے میں حضرت عمرؓ نے‘ جو سب سے بڑھ کر حضرت ابوبکرؓ کی رائے سے اختلاف کرچکے تھے‘ علی الاعلان کہا کہ اللہ نے ابوبکرؓ کا سینہ اس کام کے لیے کھول دیا اور مجھے معلوم ہوگیا کہ حق وہی ہے جس کا فیصلہ انھوں نے کیا ہے۔
اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلام میں ویٹو کا یہ تصور دراصل کس ماحول کی نظیروں سے پیدا ہوا ہے۔ اگر شوریٰ کا طرز اوراس کی روح اور اہلِ شوریٰ کی ذہنیت اور سیرت وہی ہو جو خلافت راشدہ کے اس نمونے میں ہم دیکھتے ہیں تو پھر اس سے بہتر کوئی طریقِ کار نہیں ہے جو وہاں اختیار کیا گیا۔ اس طریقِ کار کو اگر ہم اس کے آخری منطقی نتائج تک لے جائیں تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرز کی مجلس شوریٰ میں، اگر صدر ریاست اور ارکان مجلس اپنی اپنی رائے پر اڑ جائیں اور ان میں سے کوئی دوسرے کے مقابلے میں اپنی رائے واپس نہ لے تو استصواب عام (referendum)کرا لیا جائے‘ پھر جس کی رائے کو بھی رائے عام رد کر دے وہ مستعفی ہوجائے۔ لیکن جب تک ہمارے لیے اپنے ملک میں اس روح اور اس ذہنیت اور اس طرز کی مجلسِ شوریٰ بنانا ممکن نہیں ہے‘ اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم انتظامیہ کو مقننہ کی اکثریت کے فیصلوں کا پابند کریں۔

۴۔ ریاست کا مقصدِ وجود

اب اس مسئلے کو لے لیجیے کہ اسلام وہ کون سے بنیادی مقاصد (objectives)پیش کرتا ہے جن کے لیے ایک اسلامی ریاست کو کام کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ان مقاصد کی جو توضیح کی گئی ہے وہ یہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ
الحدید 25:57
ہم نے اپنے رسول روشن دلائل کے ساتھ بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج41:22
یہ مسلمان جن کو جنگ کی اجازت دی جارہی ہے وہ لوگ ہیں) جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار عطا کریں تو یہ نمازقائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔
اور حدیث میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَالَا یَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ۔۱۰۱؎
اللہ حکومت کے ذریعے سے ان چیزوں کا سدباب کرتا ہے جن کا سدباب قرآن کے ذریعے سے نہیں کرتا۔
یعنی جو برائیاں قرآن کی نصیحت اور فہمائش سے نہ دور ہوں‘ ان کو مٹانے اور دبانے کے لیے حکومت کی طاقت درکار ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک اسلامی ریاست کے قیام کا اصل مقصد اس اصلاحی پروگرام کو مملکت کے تمام ذرائع سے عمل میں لانا ہے جو اسلام نے انسانیت کی بہتری کے لیے پیش کیا ہے۔ محض امن کا قیام‘ محض قومی سرحدوں کی حفاظت‘ محض عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا، اس کا آخری اور انتہائی مقصد نہیں ہے۔ اس کی امتیازی خصوصیت جو اسے غیر مسلم ریاستوں سے ممتاز کرتی ہے‘ یہ ہے کہ وہ ان بھلائیوں کو فروغ دینے کی کوشش کرے جن سے اسلام انسانیت کو آراستہ کرنا چاہتا ہے اور وہ ان برائیوں کو مٹانے اور دبانے میں اپنی ساری طاقت خرچ کردے جن سے اسلام انسانیت کو پاک کرنا چاہتا ہے۔

۵۔حکومت کی تشکیل کیسے ہو؟

ان بنیادی امور کی توضیح کے بعد ہمارے سامنے پانچواں سوال آتا ہے، یہ کہ جو ریاست ان بنیادوں پر تعمیر ہو اس کا نظام چلانے کے لیے حکومت کی تشکیل کیسے کی جائے؟
اس معاملے میں سب سے اہم مسئلہ رئیس مملکت (head of the state)کے تقرر کا ہے جس کو اسلام میں امام‘ امیر اور خلیفہ کی مختلف اصطلاحوں سے یاد کیا جاتا ہے اور اس باب میں اسلام کے مسلک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی ابتدائی تاریخ کی طرف رجوع کریں۔
صدرِ ریاست کا انتخاب
جیسا کہ آپ سب حضرات جانتے ہیں‘ ہمارے موجودہ اسلامی معاشرے کا آغاز مکے میں کفر کے ماحول میں ہوا تھا اور اس ماحول سے لڑ کر اسلامی معاشرے کی ابتدا کرنے والے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ یہ اسلامی معاشرہ جب اپنے نظم اور سیاسی خود مختاری میں ترقی کرکے ایک اسٹیٹ بننے کی منزل پر پہنچا تو اس کے اولین رئیس بھی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور آپ کسی کے منتخب کردہ نہ تھے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے ہوئے تھے۔
دس سال تک آپؐ اس ریاست کی امارت کا فریضہ انجام دینے کے بعد رفیق اعلیٰ سے جاملے بغیر اس کے کہ اپنی جانشینی کے متعلق کوئی صریح اورقطعی ہدایت دے کر تشریف لے جاتے۔ آپؐ کے اس سکوت سے اور قرآن مجید کے اس ارشاد سے کہ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ (الشوری۴۲:۳۸) (مسلمانوں کے معاملات آپس کے مشورے سے انجام پاتے ہیں)، صحابہ کرامؓ نے یہ سمجھا کہ نبی کے بعد رئیس مملکت کا تقرر مسلمانوں کے اپنے انتخاب پر چھوڑا گیا ہے‘ اور یہ انتخاب مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔۱۰۲؎ چنانچہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓکا انتخاب مجمع عام میں ہوا۔
پھر جب ان کا آخری وقت آیا تو اگرچہ ان کی رائے میں خلافت کے لیے موزوں ترین شخص حضرت عمرؓ تھے‘ لیکن انھوں نے اپنے جانشین کو نامزد نہ کیا، بلکہ اکابر صحابہ کو الگ الگ بلا کر ان کی رائے معلوم کی‘ پھر حضرت عمرؓ کے حق میں اپنی وصیت املا کرائی‘ پھر حالت مرض ہی میں اپنے حجرے کے دروازے سے مسلمانوں کے مجمع عام کو خطاب کرکے فرمایا:
اَتَرْضَوْنَ بِمَنْ اَسْتَخْلِفُ عَلَیْکُمْ فَاِنِّیْ وَاللّٰہِ مَااَلَوْتُ مِنْ جُھْدِی الرَّاْیِ وَلَا وَلَّیْتُ ذَا قَرَابَۃٍ وَاِنِّیْ اَسْتَخْلِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَاسْمَعُوْا لَہ‘ وَاَطِیْعُوْا۔
کیا تم راضی ہو اس شخص سے جس کو میں تم پر اپنا جانشین بنائوں؟ خدا کی قسم میں نے غور و فکر کرکے رائے قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی‘ اور اپنے کسی رشتے دار کو مقرر نہیں کیا ہے۔ میں نے عمرؓ بن الخطاب کو جانشین بنایا ہے۔ پس تم ان کی سنو اور اطاعت کرو۔
مجمعے سے آوازیں آئیں: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا۔ ہم نے سنا اور مانا۔
(طبری۔ ج۲،ص۶۱۸۔مطبع الاستقامہ، مصر)
اس طرح مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کا تقرر بھی نامزدگی سے نہیں ہوا بلکہ خلیفۂ وقت نے مشورے سے ایک شخص کو تجویز کیا اور پھر مجمعِ عام میں اس کو پیش کرکے منظور کرایا۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ کے دنیا سے رخصت ہونے کی باری آئی۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد ترین رفیقوں میں سے چھ اصحاب ایسے موجود تھے جن پر خلافت کے لیے مسلمانوں کی نگاہ پڑ سکتی تھی۔ حضرت عمرؓ نے انھی چھ اصحاب کی ایک مجلس شوریٰ بنا دی اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ باہمی مشورے سے ایک شخص کو خلیفہ تجویز کریں اور اعلان کر دیا کہ:
مَنْ تَاَمَّرَ مِنْکُمْ عَلٰی غَیْرِ مَشْوَرَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَاضْرِبُوْا عُنُقَہ‘
(الفاروق عمر‘ از محمد حسین ہیکل۔ ج ۲، ص ۳۱۳)
تم میں سے جو کوئی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بنے اس کی گردن مار دو۔
اس مجلس نے بالآخر انتخاب کاکام حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے سپرد کیا اور انھوں نے مدینے میں چل پھر کر عام لوگوں کی رائے معلوم کی۔ گھر گھر جاکر عورتوں تک سے پوچھا۔ مدرسوں میں جاکر طلبہ تک سے دریافت کیا۔ مملکت کے مختلف حصوں کے جو لوگ حج سے اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس جاتے ہوئے مدینے ٹھیرے تھے ان سے استصواب کیا، اور اس تحقیقات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ امت میں سب سے زیادہ معتمد دو شخص ہیں: عثمانؓ اور علیؓ اور ان دونوں میں سے عثمانؓ کی طرف زیادہ لوگوں کا میلان تھا۔ اسی رائے پر آخر کار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ ہوا اور مجمع عام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔
پھر حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور امت میں سخت افراتفری برپا ہوگئی۔ اس موقع پر صحابہ حضرت علیؓ کے مکان پر جمع ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ آج آپ سے زیادہ امارت کا حق دار کوئی نہیں‘ آپ اس بار کو سنبھالیں۔ حضرت علیؓ نے انکار کیا‘ مگر وہ اصرار کرتے رہے۔ آخر کار حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر آپ لوگ یہی چاہتے ہیں تو مسجد میں چلیے۔
فَاِنَّ بَیْعَتِیْ لَا تَکُوْنُ خُفْیًا وَلَا تَکُوْنَ اِلاَّ عَنْ رِّضًا مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (طبری، ج۳،ص ۲۵)
کیونکہ میری بیعت خفیہ طور پر نہیں ہوسکتی اور مسلمانوں کی عام رضامندی کے بغیر اس کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
چنانچہ آپ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تشریف لے گئے اور مہاجرین و انصار جمع ہوئے اور سب کی نہیں تو کم از کم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اکثریت کی مرضی سے آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔
پھر جب حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد کیا ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ سے بیعت کرلیں؟ اس پر انھوں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ:
مَا اٰمُرُ کُمْ وَلاَ اَنْھَاکُمْ اَنْتُمْ اَبْصَرُ۔ (طبری، ج۲،ص۱۱۲)
میں نہ تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔
یہ ہے رئیس مملکت کے تقرر کے معاملے میں خلافتِ راشدہ کا تعامل اور صحابہ کرامؓ کا اجماعی طرز عمل، جس کی بنیاد خلافت کے باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سکوت اور تمام اجتماعی معاملات کے باب میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَاَمْرُھُمْ شٔوْرٰی بَیْنَھُمْ پر رکھی گئی تھی۔ اس مستند دستوری رواج سے جو بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں صدر کا انتخاب عام لوگوں کی رضامندی پر منحصر ہے۔ کوئی شخص خود زبردستی امیر بن جانے کا حق نہیں رکھتا۔۱۰۳؎ کسی خاندان یا طبقے کا اس منصب پر اجارہ نہیں ہے۔۱۰۴؎ اور انتخاب کسی جبر کے بغیر مسلمانوں کی آزادانہ رضامندی سے ہونا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ مسلمانوں کی پسند کیسے معلوم کی جائے‘ تو اس کے لیے اسلام میں کوئی خاص طریق کار مقرر نہیں کر دیا گیا ہے۔ حالات اور ضروریات کے لحاظ سے مختلف طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں‘ بشرطیکہ ان سے معقول طور پر یہ معلوم کیا جاسکتا ہو کہ جمہور قوم کا اعتماد کس شخص کو حاصل ہے۔
مجلسِ شوریٰ کی تشکیل
انتخاب امیر کے بعد دوسرا اہم مسئلہ اہل الحل و العقد (یعنی مجلس شوریٰ کے ارکان) کا ہے کہ وہ کیسے چنے جائیں گے اور کون ان کو چنے گا۔ سرسری مطالعے کی بنا پر لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ خلافتِ راشدہ میں چونکہ عام انتخابات (general elections)کے ذریعے سے ارکانِ شوریٰ منتخب نہیں ہوتے تھے اس لیے اسلام میں سرے سے مشورے کا کوئی قاعدہ ہی نہیں ہے‘ بلکہ یہ بات بالکل خلیفۂ وقت کی صواب دید پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ جس سے چاہے مشورہ لے، لیکن یہ گمان دراصل اس زمانے کی باتوں کو اس زمانے کے ماحول میں رکھ کر دیکھنے سے پیدا ہوا ہے‘ حالانکہ ان کو اسی وقت کے ماحول میں رکھ کر دیکھنا چاہیے اور عملی تفصیلات کے اندر وہ اصول سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ان میں ملحوظ رکھے گئے تھے۔
اسلام مکہ معظمہ میں ایک تحریک کی حیثیت سے اٹھا تھا۔ تحریکوں کے مزاج کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ جو لوگ سب سے پہلے آگے بڑھ کر ان کو لبیک کہتے ہیں وہ لیڈر کے رفیق‘ دست و بازو اور مشیر ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ اسلام میں بھی جو سابقین اولین تھے وہ بالکل ایک فطری طریقے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق اور مشیر قرار پائے، جن سے آپؐ ہر ایسے معاملے میں مشورہ کرتے تھے جس میں خدا کی طرف سے کوئی صریح حکم آیا ہوا نہ ہوتا تھا۔ پھر جب اس تحریک میں نئے نئے آدمیوں کا اضافہ ہونے لگا اور مخالف طاقتوں سے اس کی کشمکش بڑھتی گئی تو ایسے لوگ خود بخود نمایاں ہوتے چلے گئے جو اپنی خدمات‘ قربانیوں اور بصیرت و فراست کی بنا پر جماعت میں ممتاز تھے۔ ان کا انتخاب ووٹوں سے نہیں، بلکہ تجربات اور آزمائشوں سے ہوا تھا جو الیکشن کی بہ نسبت زیادہ صحیح اور فطری طریق انتخاب ہے۔ اس طرح مکہ چھوڑنے سے پہلے دو قسم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ کے رکن بن چکے تھے۔ ایک: سابقین اولین، دوسرے: وہ آزمودہ کار اصحاب، جو بعد میں جماعت کے اندر نمایاں ہوئے۔ یہ دونوں گروہ ایسے تھے جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تمام مسلمانوں کا اعتماد بھی حاصل تھا۔
اس کے بعد ہجرت کا اہم واقعہ پیش آیا اور اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ ڈیڑھ دو سال پہلے مدینے کے چند بااثر لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور ان کے اثر سے اوس اور خزرج کے قبیلوں میں گھر گھر اسلام پہنچ گیا تھا۔ انھی لوگوں کی دعوت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مہاجرین اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینے منتقل ہوئے اور وہاں اسلام کی ایک تحریک نے ایک سیاسی نظام اور ایک ریاست کی شکل اختیار کی۔ اب یہ بالکل ایک قدرتی بات تھی کہ مدینے میں جن لوگوں کے اثر سے اسلام پھیلا اور پھیلتا گیا وہی جدید معاشرے اور سیاسی نظام میں مقامی لیڈروں کی پوزیشن پر فائز ہوئے اور انھی کا یہ مرتبہ و مقام تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ میں سابقین اولین اور آزمودہ کار مہاجرین کے ساتھ ایک تیسرے عنصر (انصار) کی حیثیت سے شامل ہوں۔ یہ لوگ بھی فطری طریق انتخاب سے منتخب ہوئے تھے اور مسلمان قبیلوں کے ایسے معتمد علیہ تھے کہ اگر موجودہ زمانے کے طریقے پر انتخابات منعقد ہوتے تب بھی یہی لوگ منتخب ہو کر آتے۔
پھر مدنی معاشرے میں دو قسم کے لوگ اورابھرنے شروع ہوئے۔ ایک وہ جنھوں نے آٹھ دس برس کی سیاسی‘ فوجی اور تبلیغی مہمات میں کارہائے نمایاں انجام دیے حتیٰ کہ ہر اہم معاملے میں انھی کی طرف لوگوں کی نگاہیں اٹھنے لگیں۔ دوسرے وہ لوگ جنھوں نے قرآن کے علم و فہم اور دین میں فقاہت کے اعتبار سے نام وَری حاصل کی، حتیٰ کہ عوام الناس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علمِ دین میں انھی کو سب سے زیادہ معتبر سمجھنے لگے اور خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ فرما کر ان کو سند اعتبار عطا کی کہ قرآن فلاں شخص سے سیکھو‘ اور فلاں نوعیت کے مسائل میں فلاں شخص کی طرف رجوع کرو۔ یہ دونوں عناصر بھی مجلسِ شوریٰ میں بالکل ایک فطری انتخاب سے شامل ہوتے چلے گئے اور ان میں بھی کسی کے لیے ووٹ لینے کی حاجت پیش نہ آئی۔ ووٹ اگر لیے بھی جاتے تو اس معاشرے میں ان کے سوا کوئی ایسا نہ تھا جس پر مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب پڑتی۔
اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانے میں وہ مجلس شوریٰ بن چکی تھی جو بعد کو خلفائے راشدین کی مشیر قرار پائی اور وہ دستوری روایات بھی مستحکم ہو چکی تھیں جن کے مطابق آگے چل کر ایسے نئے لوگ اس مجلس میں شامل ہوتے گئے جنھوں نے اپنی خدمات اور اعلیٰ درجے کی ذہنی صلاحیتوں کے ذریعے سے قبول عام حاصل کرکے اس مجلس میں اپنی جگہ پیدا کی۔ یہی وہ لوگ تھے جن کو اہل الحل و العقد (باندھنے اور کھولنے والے) کہا جاتا تھا اور جن کے مشورے کے بغیر خلفائے راشدین کسی اہم معاملے کا فیصلہ نہ کرتے تھے۔ ان کی آئینی حیثیت کا صحیح اندازہ اس واقعے سے ہوسکتا ہے کہ جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد چند اصحاب نے حضرت علیؓ کے پاس حاضر ہو کر خلافت قبول کرنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا:
لَیْسَ ذٰلِکَ اِلَیْکُمْ اِنَّمَا ھُوَ لِاَھْلِ الشُّوْرٰی وَاَھْلِ بَدْرٍ فَمَنْ رَضِیَ بِہٖ اَھْلُ الشُّوْرٰی وَاَھْلُ بَدْرٍ فَھُوَ الْخَلِیْفَۃُ فَنَجْتَمِعُ وَنَنْظُرُ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ۔ (الامامہ و السیاسہ لابن قتیبہ،مطبعتہ الفتوح‘ مصر، ص ۴۱)
یہ معاملہ تمھارے فیصلہ کرنے کا نہیں ہے یہ تو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر کا کام ہے۔ جس کو اہلِ شوریٰ اور اہلِ بدر پسند کریں گے وہی خلیفہ ہو گا، پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اہل الحل و العقد اس وقت کچھ متعین لوگ تھے‘ جوپہلے سے اس پوزیشن پر فائز چلے آرہے تھے اور وہی ملت کے اہم معاملات کا فیصلہ کرنے کے مجاز تھے۔ لہٰذا یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ خلیفۂ وقت من مانے طریقے پر جس وقت جس کو چاہتا تھا مشورے کے لیے بلا لیتا تھا اور کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ مستقل اہل شوریٰ یا اہل الحل و العقد کون ہیں جو قوم کے مسائل مہمہ کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔۱۰۵؎
خلافت راشدہ کے اس تعامل‘ بلکہ خود اسوۂ نبویؐ سے جو قاعدہ کلیہ مستنبط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ امیر کو مشورہ ہر کس و ناکس سے‘ یا اپنی مرضی کے چنے ہوئے لوگوں سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے کرنا چاہیے جو عامہ مسلمین کے معتمد ہوں‘ جن کے اخلاص و خیر خواہی اور اہلیت پر لوگ مطمئن ہوں اور حکومت کے فیصلوں میں جن کی شرکت اس امر کی ضامن ہو کہ ان فیصلوں کے نفاذ میں جمہور قوم کا دلی تعاون شریک ہوگا۔ رہا یہ سوال کہ عوام کے معتمد لوگ کیسے معلوم کیے جائیں‘ تو ظاہر ہے کہ اس چیز کے معلوم ہونے کی جو صورت آغاز اسلام کے مخصوص حالات میں تھی آج وہ صورت نہیں ہے اور اس زمانے کے تمدنی حالات میں جو موانع موجود تھے وہ بھی آج موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ہم آج کے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے وہ تمام ممکن اور مباح طریقے اختیار کرسکتے ہیں جن سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ جمہور قوم کا اعتماد کن لوگوں کو حاصل ہے۔ آج کل کے انتخابات بھی اس کے جائز طریقوں میں سے ایک ہیں‘ بشرطیکہ ان میں وہ ذلیل ہتھکنڈے استعمال نہ ہوں جنھوں نے جمہوریت کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔
حکومت کی شکل اور نوعیت
اس کے بعد تیسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی شکل اور نوعیت کیا ہے؟
اس باب میں جب ہم خلافت راشدہ کے دور پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امیرالمومنین اصل وہ شخص تھا جس سے سمع و طاعت کی بیعت کی جاتی تھی، اور جسے بھروسے کا آدمی سمجھ کر لوگ اپنی اجتماعی زندگی کے اہم ترین معاملے‘ یعنی حکومت کی باگ ڈور سپرد کرتے تھے۔ اس کی حیثیت انگلستان کے بادشاہ‘ فرانس کے صدر‘ برطانیہ کے وزیراعظم‘ امریکہ کے صدر‘ اور روس کے اسٹالن‘ سب سے مختلف تھی۔ وہ محض صدر ریاست ہی نہ تھا، بلکہ اپنا رئیس الوزرا بھی آپ ہی تھا۔ وہ پارلیمنٹ میں براہِ راست خود شریک ہوتا تھا اور آپ ہی پارلیمنٹ کی صدارت بھی کرتا تھا۔ پھر وہ مباحثوں میں بھی پورا حصہ لیتا تھا اور اپنی حکومت کے سارے کاموں کی جواب دہی کرتا اور اپنا حساب آپ دیتا تھا۔ اس کی پارلیمنٹ میں نہ کوئی گورنمنٹ پارٹی تھی، نہ اپوزیشن پارٹی۔ ساری پارلیمنٹ اس کی پارٹی تھی اگر وہ حق کے مطابق چلے، اور ساری پارلیمنٹ اپوزیشن تھی اگر وہ باطل کی طرف جاتا نظرآئے۔ ہر ممبر آزاد تھا کہ جس معاملے میں اس سے اتفاق رکھتا ہو، اتفاق کرے اور جس میں اس سے اختلاف رکھتا ہو اختلاف کرے۔ خلیفہ کے اپنے وزرا تک پارلیمنٹ میں اس کے خلاف اظہار رائے کر جاتے تھے اور پھر بھی وزارت اورصدارت میں خوب نبھتی تھی۔ کسی کے مستعفی ہونے کا سوال نہ پیدا ہوتا تھا۔ خلیفہ صرف پارلیمنٹ ہی کے سامنے جواب دہ نہ تھا، بلکہ پوری قوم کے سامنے اپنے ہر کام‘ حتیٰ کہ اپنی شخصی زندگی کے معاملات تک میں جواب دہ تھا۔ وہ پانچوں وقت مسجد میں پبلک کا سامنا کرتا‘ ہر جمعے کو پبلک سے خطاب کرتا اور پبلک اپنے شہر کے گلی کوچوں میں ہر روز چلتے پھرتے اس کو پاسکتی تھی اور ٹوک سکتی تھی۔ ہر شخص ہر وقت اس کا دامن پکڑ کر اپنا حق مانگ سکتا تھا اور ہر شخص مجمع عام میں اس سے باز پُرس بھی کرسکتا تھا۔ اس کے ہاں یہ قاعدہ نہ تھا کہ حکومت سے کوئی سوال کرنا ہو تو پارلیمنٹ کا کوئی ممبر ہی نوٹس دے کر لگے بندھے قواعد کے مطابق پوچھ سکتا ہے۔ اس کا اعلان عام تھا کہ:
اِنْ اَحْسَنْتُ فَاَعِیْنُوْنِیْ وَاِنْ اَسَاْتُ فَقُوْمُوْنِیْ… اَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ‘ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ۔ (الصدیق از محمد حسین ہیکل‘ ص ۶۷)
اگر میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کرو اور اگر برا رویہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کردو…… جب تک میں اللہ اور رسولؐ کا مطیع رہوں میری اطاعت کرو اور اگر میں اللہ اور رسولؐ کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تمھارے ذمے نہیں ہے۔
یہ طرز حکومت‘ جس پر موجودہ زمانے کی اصطلاحوں میں سے کسی اصطلاح کا بھی اطلاق نہیں ہوسکتا‘ اسلام کے مزاج سے پوری مناسبت رکھتا ہے اور ہمارا آئیڈیل یہی ہے، لیکن یہ صرف اسی صورت میں نبھ سکتا ہے جبکہ سوسائٹی اسلام کے انقلابی نظریات کے مطابق پوری طرح تیار ہو چکی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی سوسائٹی میں انحطاط رونما ہوا‘ اس کا نبھنا مشکل ہوگیا۔ اب اگر ہم اس آئیڈیل کی طرف پھر پلٹنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم ابتدائے کار کے لیے اس سے چار بنیادی اصول لے لیں اور پھر انھیں اپنے حالات و ضروریات کے مطابق عملی جامہ پہنائیں۔
۱۔ ایک یہ کہ حکومت کی اصل ذمے داری جس کے بھی سپرد کی جائے، وہ نہ صرف پبلک کے نمائندوں کا، بلکہ خود پبلک کا بھی سامنا کرے اور اپنا کام نہ صرف مشورے سے انجام دے، بلکہ اپنے اعمال کے لیے جواب دہ بھی ہو۔
۲۔ دوسرے یہ کہ پارٹی سسٹم سے نجات حاصل کی جائے، جو نظام حکومت کو بیجا عصبیتوں سے آلودہ کرتا ہے اور جس میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک جاہ پسند ٹولا برسر اقتدار آکر پبلک کے خرچ پر اپنے مستقل حمایتی پیدا کرلے اور پھر لوگ خواہ کتنا ہی شور مچائیں وہ ان حمایتیوں کے بل پر اپنی من مانی کرتا رہے۔
۳۔ تیسرے یہ کہ نظام حکومت ایسے پیچ دار ضابطوں پر قائم نہ کیا جائے جس سے کام کرنے والے کے لیے کام کرنا اور حساب لینے والوں کے لیے حساب لینا اور خرابی کے اصل ذمے دار کو مُشخّص کرنا مشکل ہو جائے۔
۴۔ اور سب سے آخری، مگر سب سے اہم اصول یہ ہے کہ صاحبِ امر اور اہلِ شوریٰ ایسے لوگوں کو بنایا جائے جن کے اندر اسلام کی بتائی ہوئی صفات زیادہ سے زیادہ پائی جاتی ہوں۔

۶۔اولی الامر کے اوصاف

یہ اوصاف (qualifications)کا سوال اسلامی نقطۂ نظر سے بڑی اہمیت رکھتا ہے‘ حتیٰ کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلامی دستور کے چلنے یا نہ چلنے کا سارا نحصار ہی اس پر ہے۔
امارت اورمجلسِ شوریٰ کی رکنیت کے لیے ایک اہلیت تو قانونی نوعیت کی ہوتی ہے جس پر ایک ناظم انتخاب اور ایک جج جانچ اور پرکھ کر انتخاب کے لیے ایک شخص کے اہل (eligible) ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، اور دوسری ایک اور قسم کی اہلیت بھی ہوتی ہے جس کا لحاظ کرکے اشخاص کو چھانٹنے اور تجویز کرنے اور ووٹ دینے والے اپنا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی اہلیت ایک ملک کے کروڑوں باشندوں میں سے ہر ایک میں ہوتی ہے‘ مگر یہ دوسری قسم کی اہلیت ہی ہے جو عملاً ان میں سے چند ہی آدمیوں کو ابھار کر اوپر لاتی ہے۔ پہلی قسم کی اہلیت کے معیارات صرف دستور کی چند عملی دفعات (operative clauses)میں درج کرنے کے لیے ہوتے ہیں‘ لیکن یہ دوسری قسم کی اہلیت وہ ہے جس کے معیارات پورے دستور کی رُوح میں موجود ہونے چاہییں اور ایک دستور کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ جمہور کے ذہن کو تربیت دے کر صحیح انتخاب کے لیے تیار کیا جائے، تاکہ وہ ایسے ہی لوگوں کو منتخب کریں جو دستور کی روح کے مطابق اہلیت رکھتے ہوں۔
قرآن اور حدیث ان دونوں قسم کی اہلیتوں سے بحث کرتے ہیں۔ پہلی قسم کی اہلیت کے لیے انھوں نے چار معیار بتائے ہیں:
۱۔ مسلم ہونا۔ چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ النساء59:4
اے ایمان لانے والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میںسے اولی الامر ہوں۔
۲۔ مرد ہونا۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ النساء34:4
مرد عورتوں پر قوام ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔ (بخاری)
وہ قوم ہرگز فلاح نہ پائے گی جس نے اپنی زمام کارایک عورت کے سپرد کی ہو۔
۳۔ عاقل و بالغ ہونا۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللہُ لَكُمْ قِيٰـمًا النساء4:5
اور اپنے مال جنھیں اللہ نے تمھارے لیے ہستی کا سہارا بنایا ہے‘ نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو۔
۴۔ دارالاسلام کا باشندہ ہونا۔ چنانچہ قرآن تصریح کرتا ہے:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ الانفال72:8
اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہ آگئے‘ تمہارا ان کی ولایت میں کوئی حصہ نہیں جب تک کہ ہجرت نہ کریں۔
یہ ہیں وہ چار قانونی صفات جن کے لحاظ سے ہر شخص امارت اور رکنیت شوریٰ کا اہل ہوسکتا ہے، مگر اس طرح کے بے شمار قانونی اہل اشخاص میں سے کن لوگوں کو ہمیں ان مناصب کے لیے چننا چاہیے اور کن کو نہ چننا چاہیے۔ اس سوال کا واضح جواب ہمیں قرآن اور حدیث میں یہ ملتا ہے:
۱۔ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ النساء58:4
اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں (یعنی ذمے داری کے مناصب) اہل امانت (یعنی امین) لوگوں کے سپرد کرو۔
۲۔ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات13:49
تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔
۳۔ قَالَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ۝۰ۭ البقرہ247:2
نبیؐ نے کہا کہ اللہ نے حکمرانی کے لیے اس کو (یعنی طالوت کو) تم پر ترجیح دی ہے اور اس کو علم اور جسم میں فراوانی عطا کی ہے۔
۴۔ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًاo الکہف28:18
کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا کام حدود آشنا نہیں ہے۔
۵۔ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ۔ (البیہقی)
جس نے کسی صاحب بدعت کی توقیر کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔
۶۔ اِنَّا وَ اللّٰہِ لَانُوَ لِّیْ عَلٰی عَمَلِنَا ھٰذَا اَحَدًا سَأَلَہ‘ اَوْحَرَصَ عَلَیْہِ۔ (بخاری و مسلم)
بخدا! ہم کسی ایسے شخص کو اپنی حکومت کے کسی منصب پر مقرر نہیں کرتے جس نے اس کی درخواست کی ہو یا جو اس کا حریص ہو۔
۷۔ اِنَّ اَخْوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہ‘۔ (ابوداؤد)
ہمارے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو خود اس کا (کسی منصب کا)طالب ہو۔
ان اوصاف میں سے بعض کو تو ہم بَہ آسانی اپنے دستور کے عملی دفعات میں رکھ سکتے ہیں۔ مثلاً:یہ کہ طالب منصب کو انتخاب کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔ رہے دوسرے اوصاف جن کے لیے کوئی قانونی حد متعین نہیں کی جاسکتی‘ تو ان کو ہمارے دستور کی اصولی ہدایات میں شامل ہونا چاہیے اور ناظمِ انتخابات کے فرائض میں یہ بات داخل ہونی چاہیے کہ وہ ہر انتخاب کے موقع پر عوام کو ان صفات سے باخبر کرنے کی کوشش کرے جو اسلام میں اولی الامر کے لیے مطلوب ہیں۔

۷۔ شہریت اور اس کی بنیادیں

اب شہریت کے مسئلے کو لیجیے۔ اسلام چونکہ ایک نظام فکر و عمل ہے اور اسی نظام کی بنیاد پر وہ ایک ریاست قائم کرتا ہے‘ اس لیے وہ اپنی ریاست میں شہریت کی دو قسمیں قرار دیتا ہے۔ پھر چونکہ راست بازی و حق گوئی اسلام کی اصل روح ہے‘ اس لیے وہ بغیر کسی مکرو فریب کے صاف صاف شہریت کی اس تقسیم کو بیان بھی کر دیتا ہے‘ دنیا کو دھوکا دینے کے لیے یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا، کہ زبان سے اپنے سب شہریوں کو یکساں قرار دے اور عمل میں ان کے درمیان نہ صرف تمیز کرے، بلکہ ان کے ایک عنصر کو انسانی حقوق تک دینے میں بے انصافی سے کام لے‘ جیسا کہ امریکہ میں حبشیوں کا اور روس میں غیر اشتراکیوں کا اور تمام دنیا کی لادینی جمہوریتوں میں قومی اقلیتوں کا حال ہے۔
شہریت کی دو قسمیں جو اسلام نے کی ہیں‘ یہ ہیں:
ایک:مسلم،دوسرے: ذِمّی
۱۔ مسلم شہریوں کے باب میں قرآن کہتا ہے کہ:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ الانفال72:8
جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی‘ وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہ آئے‘ تمھارے لیے ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔
اس آیت میں شہریت کی دو بنیادیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک: ایمان‘ دوسرے: دارالاسلام کی رعایا ہونا یا بن جانا۔ اگر کوئی شخص ایمان رکھتا ہو‘ مگر دارالکفر کی تابعیت ترک کرکے (جسے لفظ ہجرت سے تعبیر کیا گیا ہے) دارالاسلام میں نہ آبسے‘ تو وہ دارالاسلام کا شہری نہیں ہے۔ اس کے برعکس تمام ایسے اہل ایمان جو دارالاسلام کے باشندے ہوں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ دارالاسلام ہی میں پیدا ہوئے ہوں، یا کسی دارالکفر سے ہجرت کرکے آئے ہوں۔۱۰۶؎ دارالاسلام کے یکساں شہری اور ایک دوسرے کے ولی (حامی و مددگار) ہیں۔
ان مسلم شہریوں پر اسلام نے اپنے پورے نظام کے اٹھانے کی ذمے داری ڈالی ہے‘ کیونکہ وہی اصولاً اس نظام کو حق مانتے ہیں۔ ان پر وہ اپنا پورا قانون نافذ کرتا ہے۔ ان کو اپنے تمام مذہبی‘ اخلاقی‘ تمدنی اور سیاسی احکام کا پابند کرتا ہے۔ ان کے ذمے اپنے سارے واجبات و فرائض عائد کرتا ہے۔ ان سے اپنی ریاست کی مدافعت کے لیے ہر قربانی کا مطالبہ کرتا ہے، اور پھر انھی کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ اس ریاست کے اولی الامر کا انتخاب کریں‘ اس کو چلانے والی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) میں شریک ہوں‘ اور اس کے کلیدی مناصب پر مقرر کیے جائیں، تاکہ اس اصولی ریاست کی پالیسی ٹھیک اس کے بنیادی اصولوں کے مطابق چل سکے۔ اس قاعدے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عہدِ نبویؐ اور عہدِ خلافتِ راشدہ میں ایک مثال بھی اس امر کی نہیں مل سکتی کہ کسی ذمی کو مجلس شوریٰ کا رکن‘ یا کسی علاقے کا گورنر یا کہیں کا قاضی یا کسی شعبۂ حکومت کا وزیر، یا ناظم یا فوج کا کمانڈر بنایا گیا ہو یا خلیفہ کے انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا ہو۔ حالانکہ ذمی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں موجود تھے اور خلافتِ راشدہ کے دور میں تو ان کی آبادی کروڑوں تک پہنچی ہوئی تھی۔ اگر فی الواقع ان امور میں حصہ لینا ان کا حق ہوتا تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اللہ کا نبی ان کی حق تلفی کیسے کرسکتا تھا اور نبی کے براہ راست تربیت یافتہ لوگ مسلسل ۳۰ برس، اس حق کو ادا کرنے سے کس طرح باز رہ سکتے تھے۔
۲۔ذمی شہریوں سے مراد وہ تمام غیر مسلم ہیں جو اسلامی ریاست کے حدود میں رہ کر اس کی اطاعت و وفاداری کا اقرار کریں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ دار الاسلام میں پیدا ہوئے ہوں، یا باہر سے آکر ذمی بننے کی درخواست کریں۔ اس طرح کے شہریوں کو اسلام ان کے مذہب اور کلچر اور پرسنل لا کے تحفظ اور جان و مال و آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے‘ ان پر صرف اپنے ملکی قوانین نافذ کرتا ہے‘ ان کو ملکی قوانین میں مسلمانوں کے ساتھ برابر کے حقوق دیتا ہے‘ ان کے لیے کلیدی مناصب کے سوا ہر قسم کی ملازمتوں کے دروازے کھلے رکھتا ہے‘ ان کو شہری آزادیوں میں مسلمانوں کے ساتھ برابر کا شریک کرتا ہے‘ ان کے ساتھ معاشی معاملات میں مسلمانوں سے الگ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھتا اور مملکت کے دفاع کی ذمے داری سے انھیں مستثنیٰ کرکے اس کا پورا بار صرف مسلمانوں پر ڈالتا ہے۔
ان دو قسم کی شہریتوں پر اور ان کی الگ الگ حیثیتوں پر اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ پہلے اس سلوک پر ایک نگاہ ڈال لے جو دنیا کی دوسری اصولی ریاستیں اپنے اصول کے نہ ماننے والوں سے اور قومی ریاستیں اپنے حدود میں رہنے والی قومی اقلیتوں سے کر رہی ہیں۔ درحقیقت یہ بات پورے چیلنج کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ایک ریاست کے اندر اس کی بنیادوں سے مختلف بنیادِ وجود رکھنے والوں کی موجودگی جو پیچیدگی پیدا کرتی ہے اس کو اسلام سے زیادہ انصاف‘ رواداری اورفیاضی کے ساتھ کسی دوسرے نظام نے حل نہیں کیا ہے۔ دوسروں نے اس پیچیدگی کو زیادہ تر دو ہی طریقوں سے حل کیا ہے، یا تو انھیں مٹا دینے کی کوشش کی ہے یا شودر بنا کر رکھا ہے۔ اسلام اس کے بجائے یہ طریقہ اختیار کرتا ہے کہ انصاف کے ساتھ اپنے اصول کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ایک حد قائم کر دیتا ہے۔ جو ماننے والے ہیں ان کو پوری طرح اپنے اصولوں کا پابند کرتا ہے اور ان اصولوں کے مطابق ریاست کانظام چلانے کی ذمے داری ان پر ڈال دیتا ہے اور جو ان اصولوں کو قبول نہیں کرتے ان کو صرف اسی حد تک پابند کرتا ہے جو ملک کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور انھیں ریاست کا نظام چلانے کی ذمے داری سے سبکدوش کرنے کے بعد، ان کے تمام تمدنی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

۸۔ حقوقِ شہریت

اس کے بعد مجھے بتانا ہے کہ اسلام میں شہریوں کے بنیادی حقوق (fundamental rights) کیا قراردیے گئے ہیں:
۱۔ شہریوں کا اولین حق اسلام میں یہ ہے کہ ان کی جان‘ مال اور آبرو کی حفاظت کی جائے اور جائز قانونی وجوہ کے سوا اورکسی وجہ سے ان پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ اس چیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے اپنا وہ مشہور خطبہ دیا تھا جس میں اسلامی نظامِ زندگی کے قواعد بیان فرمائے تھے۔ اس میں آپؐنے فرمایا:
اِنَّ دِمَا ئَکُمْ وَاَمْوَا لَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔ (بخاری)
تمھاری جانیں اور تمھارے مال اور تمھاری آبروئیں ویسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسی حج کے اس دن کی حرمت ہے۔
اس حرمت میں استثنا صرف ایک ہے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور حدیث میں اِلاَّ بِحَقِّ الِاْسْلَامِ کے الفاظ سے ادا فرماتے ہیں‘ یعنی اسلام کے قانون کی رو سے اگر کسی شخص پر جان یا مال یا آبرو کا حق واجب ہوتا ہو، تو وہ اس سے قانون کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق وصول کیا جائے گا۔
۲۔ دوسرا اہم حق شخصی آزادی کی حفاظت ہے۔ اسلام میں کسی شخص کی آزادی معروف قانونی طریقے پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اور اسے صفائی کا موقع دیے بغیر سلب نہیں کی جاسکتی۔ ابودائود میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ مدینے میں کچھ لوگ شبہے کی بنا پر گرفتار کیے گئے تھے۔ ایک صحابی نے عین خطبے کے دوران میں اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہمسایوں کو کس قصور میں پکڑا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ان کے اس سوال کو سن کر سکوت فرمایا، تاکہ کوتوال شہر اگر گرفتاری کے لیے کوئی معقول وجوہ رکھتا ہے تو اٹھ کر بیان کرے، لیکن جب تیسری مرتبہ ان صحابی نے اپنے سوال کا اعادہ کیا اور کوتوال نے کوئی وجہ بیان نہ کی تو آپؐ نے حکم صادر فرمایا کہخَلُّوْا لَہٗ جِیْرَانَہٗ (ابودائود۔ کتاب القضاء) اس کے ہمسایوں کو رہا کردو‘۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک کسی شخص پر ایک متعین الزام لگا کر اس کو ثابت نہ کردیا جائے اسے قید نہیں کیا جاسکتا۔امام خطابی اپنی ’’معالم السنن‘‘ میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسلام میں حبس دو ہی قسم کا ہے۔
ایک: حبس عقوبت‘ یعنی یہ کہ عدالت سے سزا پا کر کوئی شخص قید کیا جائے۔
دوسرے حبس استظہار‘ یعنی ملزم کو بغرضِ تفتیش روک رکھنا۔ اس کے سوا حبس کی کوئی صورت اسلام میں نہیں ہے۔ (معالم السنن‘ کتاب القضاء)
یہی بات امام ابو یوسفؒ نے بھی اپنی ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھی ہے کہ:
کسی شخص کو محض تہمت کی بنا پر قید نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مجرد الزام پر قید نہیں کر دیا کرتے تھے۔ ضروری ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ عدالت میں حاضر ہوں۔ مدعی اپنا ثبوت پیش کرے اور اگر وہ اپنا الزام ثابت نہ کر سکے تو مدعا علیہ کو چھوڑ دیا جائے۔ (کتاب الخراج، ص ۱۰۷)
حضرت عمرؓ نے بھی ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے کہ لَا یُوْسَرُرَجُلٌ فِی الْاِسْلَامِ بِغَیْرِ عَدْلٍ۔ (موطا‘ باب شرط الشاہد) ] اسلام میں کوئی شخص عدل کے بغیر قید نہیں کیا جاسکتا[ ۔
۳۔ تیسرا اہم حق رائے اور مسلک کی آزادی کا ہے۔ اس بات میں اسلامی قانون کی سب سے بہتر وضاحت حضرت علیؓ نے کی ہے۔ ان کے زمانے میں خوارج کا گروہ پیدا ہوا تھا جو آج کل کے انارکسٹ اور نہلسٹ (nehilist)گروہوں سے ملتا جلتا تھا۔ حضرت علیؓ کے زمانے میں وہ علانیہ اسٹیٹ کے وجود کی نفی کرتے تھے اور بزور شمشیر اس کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ حضرت علیؓ نے ان کو پیغام بھیجا:
کُوْنُوْا حَیْثُ شِئْتُمْ وَبَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَنْ لاَّ تَسْفِکُوْا دَمًا وَلَا تَقْطَعُوْا سَبِیْلاً وَلاَ تَظْلِمُوْا اَحَدًا۔ (نیل الاوطار، ج۷، ص ۱۳۹)
تم جہاں چاہو رہو، اور ہمارے اورتمھارے درمیان شرط یہ ہے کہ تم خون ریزی اور رہزنی نہ اختیار کرو،اور ظلم سے باز رہو۔
ایک دوسرے موقع پر حضرت علیؓ نے ان کو پیغام دیا کہ:
لَانَبْدَؤُکُمْ بِقِتَالٍ مَا لَمْ تَحَدِّ ثُوْا فَسَادًا۔ (نیل الاوطار، ج۷،ص۱۳۳)
جب تک تم فساد نہ کرو گے ہم تمھارے خلاف لڑائی کی ابتدا نہ کریں گے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی گروہ خیالات جو چاہے رکھے اور پُرامن طریقے سے جس طرح چاہے اپنے خیالات کا اظہار کرے‘ اسلامی مملکت اس کو نہ روکے گی‘ البتہ اگر وہ اپنے خیالات زبردستی (by violent means) مسلط کرنے اور نظام ملکی کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
۴۔ ایک اور حق جس پر اسلام میں بہت زور دیا گیا ہے یہ ہے کہ اسٹیٹ اپنے حدود میں کسی شہری کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہنے دے۔ اسی غرض کے لیے اسلام میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
٭ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ۔ (بخاری و مسلم)
ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔
پھر ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ:
٭ اَلسُّلْطَانُ وَلِیٌّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَہ‘ (ابودائود‘ ترمذی‘ احمد‘ ابن ماجہ‘ دارمی)
حکومت ہر اس شخص کی ولی (دست گیر و مددگار) ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
اور ایک دوسری حدیث میں آپؐ فرماتے ہیں کہ:
o مَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیْنَا۔ (بخاری و مسلم)
جس مرنے والے نے ذمے داریوں کا کوئی بار (مثلاً قرض یا بے سہارا کنبہ) چھوڑا ہو، وہ ہمارے ذمے ہے۔
اس معاملے میں اسلام نے ذمی شہریوں اور مسلم شہریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ وہ مسلمان کی طرح ذمی کو بھی اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ اسٹیٹ اس کو بھوکا‘ ننگا اور بے ٹھکانہ نہ رہنے دے گا۔ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ ایک ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا تو آپؐ نے فوراً اس کا جزیہ معاف کرکے اس کا وظیفہ مقرر کیا اور اپنے افسر خزانہ کو لکھا:
وَاللّٰہِ مَا اَنْصَفْنَاہُ اَکَلْنَا شَبِیْتَہ‘ ثُمَّ نَخُذْ لَہٗ عِنْدَالْھَرَمِ۔۱۰۷؎
خدا کی قسم ہم نے اس سے انصاف نہ کیا، اگر جوانی میں اس سے فائدہ اٹھایا اور بڑھاپے میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔
حضرت خالدؓ نے حیرہ کے غیر مسلموں کو جووثیقہ لکھ کر دیا تھا اس میں یہ صراحت تھی کہ جو شخص بوڑھا ہو جائے گا، یا جو کسی آفت کا شکار ہوگا، یا جو مفلس ہو جائے گا اس سے جزیہ وصول کرنے کے بجائے، مسلمانوں کے بیت المال سے اس کی اور اس کے کنبے کی کفالت کی جائے گی۔۱۰۸؎

۹۔شہریوں پر حکومت کے حقوق

ان حقوق کے مقابلے میں شہریوں پر ریاست کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں سے پہلا حق اطاعت کا ہے جس کے لیے اسلام میں سمع و طاعت کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق یہ صراحت فرمائی ہے کہ اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ (مشکوۃ۳۴۹۶)۔ سننا اور ماننا پڑے گا‘ تنگی اور فراخی اور خوش گواری اور ناخوش گواری میں)۔ یعنی خواہ کوئی حکم آدمی کو گوارا ہویا ناگوار اورخواہ کوئی شخص اس کو بہ آسانی بجا لاسکے یا دشواری سے‘ بہرحال اسے اطاعت کرنی پڑے گی۔
اسلامی حکومت کا دوسرا اہم حق اس کے شہریوں پر یہ ہے کہ وہ اس کے وفادار اور خیر خواہ رہیں۔ قرآن اور حدیث میں اس کے لیے نصح کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جس کا مفہوم عربی زبان میں loyalty‘ اورallegiance سے زیادہ وسیع ہے۔٭ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک آدمی سچے دل سے اپنی حکومت کی بھلائی چاہے۔ اس کو نقصان پہنچانے والی کسی چیز کو گوارا نہ کرے اور اس کی فلاح و بہبود سے قلبی وابستگی رکھے۔یہی نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسلام میں شہریوں پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے ساتھ پورا تعاون کریں اور اس کے لیے کسی جانی و مالی قربانی میں دریغ نہ کریں۔ حتیٰ کہ اگر دارالاسلام کو کوئی خطرہ پیش آجائے تو قرآن مجید صاف الفاظ میں اس شخص کو منافق قراردیتا ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود دارالاسلام کی مدافعت میں جان و مال کی قربانی سے دریغ کرے۔
حضرات! یہ ہیں اس حکومت کے خدوخال جس کو ہم اسلامی حکومت کہتے ہیں۔ اس طرز کی حکومت کو آپ موجودہ زمانے کی اصطلاحوں میں سے جس نام سے چاہیں یاد کریں۔ آپ کا جی چاہے اسے سیکولر کہیے‘ ڈیموکریٹک کہیے، یا تھیوکریٹک‘ ہمیں کسی اصطلاح پر اصرار نہیں ہے۔ ہمیں جس چیز پر اصرار ہے وہ صرف یہ ہے کہ جس اسلام کے ماننے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں، ہمارا نظام زندگی اور نظام حکومت اسی کے بتائے ہوئے اورمقرر کیے ہوئے اصولوں پر قائم ہو۔



باب ۸

یہ مقالہ ۱۹۵۲ء کے اواخر میں سپرد قلم کیا گیا تھا۔ اس وقت ایک مشہور وکیل اورصاحبِ قلم نے یہ اعتراض کیا تھا کہ قرآن سے کسی دستور کا خاکہ نہیں ملتا۔ اس پر خاصی بحث رہی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس زمانے میں یہ مضمون لکھا تھا جس میں دستور کے ایک ایک مسئلے کو لے کر قرآن و حدیث میں اس کی بنیادوں کی نشان دہی فرمائی ہے۔(مرتب)

اسلامی دستور کی بنیادیں

اس وقت جب کہ ملک کے دستور کی ترتیب آخری مراحل میں ہے‘ اہلِ علم کا فرض ہے کہ دستور ساز اسمبلی کو ایک صحیح اسلامی دستور مرتب کرنے میں زیادہ سے زیادہ مدد دیں۔ اس سلسلے میں اپنی حد استطاعت تک جو کچھ خدمت ہم انجام دے سکتے تھے دیتے رہے ہیں۔ ۱۹۵۱ء کے آغاز میں تمام مسلم فرقوں کے نمائندہ علما نے بھی اسلامی ریاست کے ۲۲ بنیادی اصول بالاتفاق مرتب کرکے ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔۱۰۹؎ مگر کچھ لوگ برابر اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ایک طرف مسلم عوام اور تعلیم یافتہ لوگوں کو اور دوسری طرف دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو زیادہ سے زیادہ غلط فہمیوں میں مبتلا کریں۔ چنانچہ ان کی طرف سے بار بار یہ خیال مختلف الفاظ میں دہرایا جارہا ہے کہ قرآن میں دستور کے لیے کوئی رہنمائی نہیں کی گئی ہے اور اسلام کسی خاص طرز کی حکومت کا تقاضا نہیں کرتا اور ’اسلامی دستور‘ سرے سے کسی چیز کا نام ہی نہیں ہے۔ ان گمراہ کن باتوں کے پیچھے دلائل کچھ بھی نہیں ہیں‘ مگر زوال علم کے اس دور میں ذہنی پراگندگی پیدا کرنے کے لیے یہ شور و شغب اچھا خاصا موثر ہوسکتا ہے، اس لیے ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ایک مختصر مضمون میں کتاب و سنت کی ان تمام تصریحات کو جمع کر دیا جائے جو دستوری احکام پر مشتمل ہیں‘ تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ آج تک علما جن اصولوں کو اسلام کے دستوری اصولوں کی حیثیت سے پیش کرتے رہے ہیں ان کے اصل مآخذ کیا ہیں اور اس کے ساتھ دستور ساز اسمبلی کے ارکان پر بھی خدا کی حجت تمام ہو جائے اور وہ یہ عذر کبھی پیش نہ کرسکیں کہ ہمیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام بتائے نہیں گئے تھے۔
یہ مضمون اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لکھا جارہا ہے۔اس میں ہم نمبروار ایک ایک دستوری مسئلے کے متعلق آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ درج کریں گے اور پھر ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے جائیں گے کہ ان سے کیا احکام نکلتے ہیں۔

۱۔حاکمیت الٰہی

اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ یوسف40:12
حکم نہیں ہے مگر صرف اللہ کے لیے، اس کا فرمان ہے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اس کی، یہی صحیح دین ہے۔
یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ فیصلہ کرنے کا اختیار اورفرماںروائی کا حق (بالفاظ دیگر ’حاکمیت‘) اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔یہاں کوئی لفظ یا قرینہ ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس حاکمیت کو محض ’کائناتی حاکمیت‘ (universal sovereignty)کے مفہوم میں مقید کردیا جائے۔ اللہ کی یہ حاکمیت جس طرح کائناتی ہے اسی طرح سیاسی و قانونی بھی ہے اور اخلاقی و اعتقادی بھی، اورخود قرآن مجید میں ان تمام اقسام کی حاکمیتوں کے اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہونے کی واضح دلیلیں موجود ہیں۔ چنانچہ قرآن تصریح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف رَبُّ الناس اور اِلٰہ الناس ہی نہیں ہے، بلکہ مَلِکُ النَّاس بھی ہے:
٭ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِكِ النَّاسِo اِلٰہِ النَّاسِo الناس114:3-1
کہو: اے محمدؐ: کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب‘ انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی۔
وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ملک کا مالک ہے اوربادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے:
٭ قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ۝۰ۡ آل عمران26:3
کہو‘: خدایا! ملک کے مالک‘ تو جسے چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔
٭ لَمْ يَكُنْ لَّہٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ بنی اسرائیل111:17
بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔
پھر وہ صاف صاف کہتا ہے کہ امر کا حق صرف اللہ کو ہے اس لیے کہ پیدا کرنے والا وہی ہے۔
اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ الاعراف54:7
خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ محض کائناتی حاکمیت نہیں، بلکہ صریحًاسیاسی حاکمیت ہے اور اسی بنا پر قرآن قانونی حاکمیت کو بھی اللہ کے لیے مخصوص کرتا ہے:
۱۔ اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ الاعراف7:3
پیروی کرو اس چیز کی جو تمھارے رب کی طرف سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اورنہ پیروی کرو اسے چھوڑ کر دوسرے کار سازوں کی۔
۲۔ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَo المائدہ5:44
اور جو لوگ فیصلہ نہ کریں اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے وہی کافر ہیں۔
اللہ کی سیاسی اور قانونی حاکمیت کا یہ تصور اسلام کے اولین بنیادی اصولوں میں سے ہے اور شروع سے آج تک تمام فقہائے اسلام اس پر متفق ہیں کہ حکم دینے کا حق اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ چنانچہ علامہ آمدیؒ اصول فقہ کی مشہور کتاب ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ میں لکھتے ہیں:
اِعْلَمْ اَنَّہ‘ لَا حَاکِمَ سِوَی اللّٰہِ وَلاَ حُکْمَ اِلاَّ مَا حَکَمَ بِہٖ۔
جان لو کہ حاکم اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور حکم بس وہ ہے جو اللہ نے دیا ہے۔
اور شیخ محمد خضری اپنی تصنیف ’’اصول الفقہ‘‘ میں اس کو جمیع اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ قرار دیتے ہیں:
اِنَّ الْحُکْمَ ھُوَ خِطَابُ اللّٰہِ فَلاَ حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ وَھٰذِہٖ قَضْیَۃٌ اِتَّفَقَ عَلَیْھَا الْمُسْلِمُوْنَ قَاطِبَۃً۔
درحقیقت’حکم‘ اللہ کے فرمان کو کہتے ہیں۔ پس حکم دینے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔
پس کوئی اسلامی دستور اس کے بغیر نہیں بن سکتا کہ اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی سیاسی اور قانونی حاکمیت کا اقرار کیا جائے اور بالفاظ صریح یہ لکھا جائے کہ یہ ریاست اللہ کی مطیع ہے‘ اس کو حاکمِ اعلیٰ تسلیم کرتی ہے اور اس کے احکام کو واجب العمل مانتی ہے۔

۲۔ مقامِ رسالت

انبیاء علیہم السلام بالعموم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالخصوص اللہ تعالیٰ کی اس سیاسی اور قانونی حاکمیت کے مظہر ہیں۔ یعنی اللہ کی اس حاکمیت کا نفاذ انسانوں میں جس واسطے سے ہوتا ہے وہ واسطہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس لیے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے طریقے کی پیروی اور ان کے فیصلوں کو بے چون و چرا ماننا ہر اس فرد اور گروہ اور قوم کے لیے لازم ہے جو اللہ کی اس حاکمیت کو تسلیم کرے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ النساء80:4
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
۲۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ۝۰ۭ النساء64:4
ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔
۳۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝۰ۭ النساء:105:4
اے محمدؐ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس روشنی میں حکم کرو جو اللہ نے تمھیں دکھائی ہے۔
۴۔ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ الحشر 7:59
اور جو کچھ رسولؐ تم کو دیں اسے لے لو اور جس سے تم کو روک دیں اس سے رک جائو۔
۵۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًاo النساء65:4
پس نہیں‘ تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے اختلاف میں تجھ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو کچھ تو فیصلہ دے اس پر اپنے نفس میں کوئی تنگی تک نہ محسوس کریں اور سربسر تسلیم کرلیں۔
یہ ایک اسلامی ریاست کے دستور کی دوسری بنیاد ہے۔ اس میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے بعد دوسرا اقرار یہ ہونا چاہیے کہ اس ریاست میں کتاب اللہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ ثابتہ کو بھی ماخذِ قانون کی حیثیت حاصل ہوگی اور اس کی انتظامیہ‘ مقننہ اور عدلیہ میں کسی کو بھی سنت کے خلاف احکام دینے‘ قانون بنانے اور فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔

۳۔ تصورِ خلافت

وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ النور55:24
اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ ضرور ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے لوگوں (مومنین صالحین) کو خلیفہ بنایا تھا۔
یہ آیت دوا ہم دستوری نکات کی تصریح کرتی ہے:
٭ اول: یہ کہ ایک اسلامی ریاست کا صحیح مقام ’خلافت‘ ہے نہ کہ’حاکمیت‘۔
٭ دوم: یہ کہ ایک اسلامی ریاست میں خلافت کا حامل کوئی ایک شخص یا خاندان یا طبقہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ پوری امت مسلمہ اس کی حامل ہوتی ہے جسے اللہ نے آزاد ریاست عطا کی ہو۔
پہلے نکتے کی تشریح یہ ہے کہ حاکمیت اپنی عین حقیقت ہی کے اعتبار سے اس امر کی متقاضی ہے کہ صاحب حاکمیت کی اپنی ذات سے خارج کوئی ایسی طاقت نہ ہو جو اس کے اختیارات کو محدود کرتی ہو، اور اس کو خود اس کے اپنے بنائے ہوئے قوانین و ضوابط کے سوا کچھ اوپر سے مسلط کیے ہوئے قوانین و ضوابط کا پابند بناتی ہو۔۱۱۰؎ اب اگر ایک ریاست پہلے ہی قدم پر یہ مان لے کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اس کے لیے بالاتر قانون کی حیثیت رکھتا ہے جس کے خلاف نہ اس کی منتظمہ کام کرسکتی ہے‘ نہ اس کی مقننہ کوئی قانون بنا سکتی ہے اور نہ اس کی عدلیہ کوئی فیصلہ کرسکتی ہے‘ تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حاکمیت کے دعوے سے دست بردار ہوگئی ہے اور اس نے حکمرانی میں دراصل خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایجنٹ (خلیفہ) کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے صحیح اصطلاح ’حاکمیت‘ نہیں بلکہ ’خلافت‘ ہی ہوسکتی ہے‘ ورنہ اس حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے لیے حاکمیت کا لفظ استعمال کرنا محض ایک تناقض فی الاصطلاح ہوگا، البتہ اگر وہ اپنی خود مختاری کو خدا کے حکم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے اتباع سے مقید نہ کرے تو بلاشبہہ اس کی صحیح پوزیشن ’حاکمیت‘ ہی کی ہوگی‘ مگر اس صورت میں اس کے لیے’اسلامی ریاست‘ کی اصطلاح استعمال کرنا تناقض فی الاصطلاح ہوگا۔
دوسرے نکتے کی تشریح یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں اس کے تمام مسلم باشندوں کا بحیثیت مجموعی حاملِ خلافت ہونا وہ اہم اصولی حقیقت ہے جس پر اسلام میں جمہوریت کی بنا رکھی گئی ہے۔ جس طرح غیر اسلامی جمہوریت کی بنیاد اجتماعی حاکمیت (popular sovereignty) کے اصول پر قائم ہوتی ہے‘ ٹھیک اسی طرح اسلامی جمہوریت کی بنیاد اجتماعی خلافت (popular vicegerency) کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ اس نظام میں حاکمیت کے بجائے خلافت کی اصطلاح اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ یہاں اقتدار خدا کا عطیہ ہے اور اس عطیے کو خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن خلافت کا یہ محدود اقتدار‘ قرآن کی مذکورہ بالا تصریح کی رو سے‘ کسی ایک شخص یا طبقے کو نہیں، بلکہ ریاست کے تمام مسلمانوں کو من حیث الجماعت سونپا گیا ہے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کی مرضی سے بنے‘ ان کے مشورے سے کام کرے اور اسی وقت تک حکمران رہے جب تک مسلمان اس سے راضی رہیں۔ اسی بنا پر حضرت ابوبکرؓ نے ’خلیفۃ اللہ‘ کہلانے سے انکار کیا تھا کیونکہ خلافت دراصل امت مسلمہ کو سونپی گئی تھی نہ کہ براہ راست ان کو۔ ان کی خلافت کی اصل حیثیت یہ تھی کہ مسلمانوں نے اپنی مرضی سے اپنے اختیاراتِ خلافت ان کے سپرد کردیے تھے۔
ان دونوں نکات کو ملحوظ رکھ کر اسلامی ریاست کا دستور ایسا بنایا جانا چاہیے کہ جو حاکمیت کے دعوے سے خالی ہو جس میں صریح طور پر ریاست کی حیثیت ِ خلافت نمایاں نظر آتی ہو۔

۴۔ اصولِ مشاورت

اجتماعی خلافت کے مذکورہ بالا تقاضے کو قرآن ان الفاظ میں واضح طور پر بیان کرتا ہے:
وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠ الشوریٰ38:42
اور ان کاکام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔
اس آیت میں اسلامی نظامِ زندگی کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اس میں تمام اجتماعی امور مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ یہ صرف بیان خصوصیت ہی نہیں ہے، بلکہ اپنے فحوائے کلام کے لحاظ سے حکم بھی ہے اور اسی بنا پر کسی اجتماعی کام کو مشورے کے بغیر انجام دینا ممنوع ہے۔ چنانچہ خطیب بغدادی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ:
قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَلْاَمْرُ یَنْزِلُ بِنَا بَعْدَکَ لَمْ یَنْزِلْ فِیْہِ قُرْآنٌ وَلَمْ یُسْمَعْ مِنْکَ فِیْہِ شَیْ ٌٔ قَالَ اِجْمَعُوا الْعَابِدِیْنَ مِنْ اُمَّتِیْ وَاجْعَلُوْہُ بَیْنَکُمْ شُوْرٰی وَلَا تَقْضُوْا بِرَاْیِ وَاحِدٍ۔ (روح المعانی)
میںنے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپؐ کے بعد کوئی معاملہ ایسا پیش آ جائے جس کے متعلق نہ قرآن میں کچھ اترا ہو، اور نہ آپؐ سے کوئی بات سنی گئی ہو؟ فرمایا: میری امت میں سے عبادت گزار لوگوں کو جمع کرو،۱۱۱؎ اور اسے آپس کے مشورے کے لیے رکھ دو اور کسی ایک شخص کی رائے پر فیصلہ نہ کرو۔
پھر اس شوریٰ کی اصل روح کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
مَنْ اَشَارَ عَلٰی اَخِیْہِ بِاَمْرٍ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنَّ الرُّشْدَ فِیْ غَیْرِہٖ فَقَدْ خَانَہ‘ (ابودائود)
جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسی بات کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ خود جانتا ہو کہ صحیح بات دوسری ہے‘ تو اس نے دراصل اس کے ساتھ خیانت کی۔
یہ حکم نہایت وسیع الفاظ میں ہے اور اس میں شوریٰ کی کوئی خاص شکل مُعیّن نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے احکام ساری دنیا کے لیے ہیں اور ہمیشہ کے لیے ہیں۔ اگر شوریٰ کا کوئی خاص طریقہ مقرر کردیا جاتا تو وہ عالم گیر اور ابدی نہ ہوسکتا۔ شوریٰ براہ راست تمام لوگوں سے ہو،یا لوگوں کے نمائندوں سے؟ نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں، یا خواص کے ووٹوں سے؟ انتخاب مملکت گیر ہو یا صرف صدر مقام میں؟ انتخاب الیکشن کی صورت میں ہو، یا ایسے لوگ لے لیے جائیں جن کی نمائندہ حیثیت معلوم و معروف ہو؟ مجلسِ شوریٰ ایک ایوانی ہو یا دو ایوانی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا ایک جواب ہر سوسائٹی اور ہر تمدن کے لیے یکساں موزوں نہیں ہوسکتا۔ ان کے جواب کی مختلف صورتیں مختلف حالات کے لیے ہوسکتی ہیں اور حالات کی تبدیلی سے نئی نئی صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے شریعت نے ان امور کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ نہ کسی خاص شکل کا تعین کیا ہے اور نہ کسی خاص شکل کو ممنوع ہی قرار دیا ہے، البتہ اصولاً اوپر کی آیت اور اس کی توضیح کرنے والی احادیث میں تین باتیں لازم کر دی گئی ہیں:
۱۔ مسلمانوں کا کوئی اجتماعی کام مشورے کے بغیر انجام نہ پانا چاہیے۔ یہ چیز ملوکیت کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ اس لیے کہ حکومت کے معاملات میں سب سے اہم معاملہ تو خود رئیس حکومت کا تقرر ہے۔ اگر دوسرے معاملات میں مشورہ لازم ہے تو رئیس حکومت کا زبردستی مسلط ہو جانا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ اسی طرح یہ چیز ڈکٹیٹر شپ کو بھی ممنوع ٹھیراتی ہے‘ کیونکہ ڈکٹیٹر شپ کے معنی استبداد کے ہیں اور استبداد شوریٰ کی ضد ہے۔ اسی طرح دستور کو عارضی یا مستقل طور پر معطل کرنے کے اختیارات بھی اس حکم کی موجودگی میں رئیسِ مملکت کو نہیں دیے جاسکتے‘ کیونکہ تعطل کے دور میں لامحالہ وہ استبداد سے کام کرے گا اور استبداد ممنوع ہے۔
۲۔ معاملہ جن لوگوں کے اجتماعی کام سے متعلق ہو، ان سب کو مشورے میں شریک ہونا چاہیے‘ خواہ وہ براہِ راست شریک ہوں، یا اپنے معتمد علیہ نمائندوں کے واسطے سے شریک ہوں۔
۳۔ مشورہ آزادانہ اور بے لاگ اور مخلصانہ ہونا چاہیے۔ دبائو اور لالچ کے تحت ووٹ یا مشورہ لینا دراصل مشورہ نہ لینے کا ہم معنی ہے۔
پس دستور کی تفصیلات خواہ کچھ ہوں‘ اس میں شریعت کے یہ تینوں اصول بہرحال ملحوظ رہنے چاہییں۔ اس میں ایسی کوئی گنجائش نہ رکھی جانی چاہیے کہ کسی وقت بھی عوام سے یا ان کے معتمد علیہ نمائندوں سے مشورہ لیے بغیر حکومت کی جانے لگے۔ اس میں انتخابات کا ایسا نظام تجویز کیا جانا چاہیے جس سے پوری قوم شریکِ مشورہ ہوسکے اور اس میں ان اسباب کا سدباب ہونا چاہیے جن کے زیر اثر عوام سے، یا ان کے نمائندوں سے خوف یا لالچ یا فریب کے تحت رائے لینا ممکن ہو۔

۵۔اصولِ انتخاب

رئیس حکومت‘ وزراء‘ اہلِ شوریٰ اور حکام کے انتخاب میں کیا امور ملحوظ رہنے چاہییں‘ اس باب میں قرآن و سنت کی ہدایات یہ ہیں:
۱۔ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ النساء58:4
اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (یعنی اعتماد کی ذمہ داریاں) اہل امانت (یعنی امین لوگوں) کے سپرد کرو۔
۲۔ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات13:49
درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔
۳۔ خِیَارُ اَئِمَّتِکُمْ الَّذِیْنَ تُحِبُّوْنَھُمْ ویُحِبُّوْنَکُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَیْھِمْ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکُمْ وَشِرَارُ اَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تَبْغُضُوْ نَھُمْ وَیَبْغُضُوْنَکُمْ وَتَلْعَنُوْنَھُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ۔ (مسلم)
تمھارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور جن کو تم دعا دو اور وہ تمھیں دعا دیں اور تمھارے بدترین سردار وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں اور جن پر تم لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔
۴۔ اِنَّا وَاللّٰہِ لَا نُوَلِّیْ عَلٰی عَمَلِنَا ھٰذَا اَحَدًا سَاَلَہ‘ اَوْحَرَصَ عَلَیْہِ۔ (متفق علیہ)
خدا کی قسم! ہم اپنی اس حکومت کے کسی کام پر کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کی درخواست کرے یا اس کا حریص ہو۔
۵۔ اِنَّ اَخْوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہ‘۔ (ابودائود)
ہمارے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ شخص ہے جو اس کا خود طالب ہو۔
حدیث سے گزر کر یہ بات تاریخ کے صفحات پر بھی ثبت ہو چکی ہے کہ اسلام میں عہدوں کی طلب سخت ناپسندیدہ چیز ہے۔ چنانچہ قلقشندی اپنی کتاب ’’صبح الاعشیٰ‘‘ میں بیان کرتا ہے:
وَقَدْ اُثِرَعَنْ اَبِیْ بَکْرٍ رَضَیِ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّہ‘ قَالَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ھٰذَالْاَمْرِ فَقَالَ لِیْ یَااَبَابَکْرٍ ھُوَ لِمَنْ یَرْغَبُ عَنْہُ لَالِمَنْ یُجَاحِشُ عَلَیْہِ وَلِمَنْ یَتَضَائَلُ عَنْہُ لَالِمَنْ یَتَنَفَّجُ اِلَیْہِ ھُوَ لِمَنْ یُقَالُ ھُوَ لَکَ لَالِمَنْ یَّقُوْلُ ھُوَلِیْ۔۱۱۲؎
حضرت ابوبکرؓ سے ماثور ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امارت کے بارے میں دریافت کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اے ابوبکر! وہ اس کے لیے ہے جو اس سے بے رغبت ہو نہ کہ اس کے لیے جو اُس پر ٹوٹا پڑتا ہو۔ وہ اس کے لیے ہے جو اس سے بچنے کی کوشش کرے، نہ کہ اس کے لیے جو اس پر جھپٹے۔ وہ اس کے لیے ہے جس سے کہا جائے کہ یہ تیرا حق ہے، نہ کہ اس کے لیے جو خود کہے کہ یہ میرا حق ہے۔۱۱۳؎
یہ ہدایات اگرچہ محض اصولی ہدایات ہیں۔ ان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ مطلوبہ صفات کے سرداروں اور نمائندوں کو منتخب کرنے اور ناپسندیدہ لوگوں کو روکنے کے لیے مشینری کیا ہو‘ لیکن بہرحال یہ وقت کے دستور سازوں کا کام ہے کہ ان ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مناسب عملی تدابیر تجویز کریں۔ انھیں انتخاب کا ایسا نظام سوچنا چاہیے جس سے امین اور متقی اور عوام کے محبوب اور خیر خواہ لوگ منتخب ہوں اور وہ لوگ نہ ابھر سکیں جو عوام کے ووٹ لے کر بھی عوام کے مبغوض ہوتے ہیں‘ جن پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوتی ہے‘ جن کے حق میں لوگ بددعا کرتے ہیں اور جنھیں عہدے پیش نہیں کیے جاتے، بلکہ وہ خود عہدوں پر جھپٹتے ہیں۔

۶۔عورتوں کے مناصب

۱۔ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ النساء34:4
مرد عورتوں پر قوام ہیں۔
۲۔ لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔ (بخاری)
وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کرے۔
یہ دونوں نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت میں ذمے داری کے مناصب (خواہ وہ صدارت ہو، یا وزارت یا مجلسِ شوریٰ کی رکنیت یا مختلف محکموں کی ادارت) عورتوں کے سپرد نہیں کیے جاسکتے۔ اس لیے کسی اسلامی ریاست کے دستور میں عورتوں کو یہ پوزیشن دینا‘ یا اس کے لیے گنجائشیں رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے اور اطاعت خدا اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پابندی قبول کرنے والی ریاست اس خلاف ورزی کی سرے سے مجاز ہی نہیں ہے۔۱۱۴؎

۷۔ حکومت کا مقصد

اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج41:22
(یہ مسلمان وہ لوگ ہیں) جن کو اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔
اس آیت میں اسلامی حکومت کے مقصد وجود اور اس کے بنیادی فرائض کا ذکر کیا گیا ہے۔ کافر حکومتوں کی طرح اس کاکام صرف یہی نہیں ہے کہ ملک کے اندرونی امن اور خارجی سرحدوں کی حفاظت کرے اور ملک کی مادی خوشحالی کے لیے ساعی ہو‘ بلکہ ایک اسلامی حکومت ہونے کی حیثیت سے اس کا اولین فریضہ یہ ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کرے اور ان بھلائیوں کو فروغ دے جنھیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی قرار دیتے ہیں اور ان برائیوں کو روکے جسے خدا اور رسولؐ برائی کہتے ہیں۔ کوئی ایسی حکومت اسلامی حکومت کہلانے کی مستحق نہیں ہوسکتی جو اس بات سے بے پروا ہو کہ نماز قائم ہو رہی ہے یا نہیں‘ زکوٰۃ دی جارہی ہے یا نہیں‘ بھلائیاں پھیل رہی ہیں، یامٹ رہی ہیں اور برائیاں دب رہی ہیں یا ابھر رہی ہیں۔ اسلامی حکومت کا نام ایسی حکومت کو زیب نہیں دیتا جس کے حدود میں زنا اور شراب اور قمار بازی اور فحش لٹریچر اور فحش تماشوں اور فحش گانوں اور مخلوط تعلیم اور تبرج جاہلیت اور اختلاط مرد و زن کا عام رواج ہو، اور ان صریح منکرات پر کوئی قدغن نہ ہو۔ پس ایک اسلامی دستور میں لازماً ریاست کو ان فرائض کا پابند ہونا چاہیے جنھیںقرآن اس کے بنیادی فرائض میں شمار کرتا ہے۔

۸۔ اولی الامر اور اصولِ اطاعت

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًاo
النساء 59:4
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو‘ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘ پھر اگر کسی معاملے میں تمھارے درمیان نزاع ہو تو اس کو اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیرو اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر۔ یہ بہتر ہے اور بلحاظ انجام بھی اچھا ہے۔
اس آیت میں تین نہایت اہم بنیادی نکات بیان کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کا گہرا تعلق دستوری مسائل سے ہے:
۱۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت وہ اصل اطاعت ہے جس کا ہر مسلمان فردکو بحیثیت فرد اور مسلمان قوم کو بحیثیت قوم پابند ہونا چاہیے۔ یہ اطاعت ہر دوسری اطاعت پر مقدم ہے۔ اولی الامر کی اطاعت اس کے بعد ہے نہ کہ اس سے پہلے‘ اور اس کے تحت ہے نہ کہ اس سے آزاد۔ اس نکتے کی مزید وضاحت حسب ذیل آیات اور احادیث میں ہم کو ملتی ہے:
٭ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo الاحزاب36:33
کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب کسی معاملے کا فیصلہ اللہ اور اس کا رسولؐ کر دے تو پھر ان کے لیے خود اپنے اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔
٭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ…… فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ …… فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَo المائدہ44-45-47:5
اور جو فیصلہ نہ کریں اس قانون کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے وہی کافر ہیں…… وہی ظالم ہیں…… وہی فاسق ہیں۔
٭ اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیَ مَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْبِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلَاطَاعَۃَ۔ (بخاری و مسلم)
ایک مسلمان پر سمع وطاعت لازم ہے خواہ برضا و رغبت کرے یا بکراہت‘ تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے‘ پھر جب اس کو معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سمع ہے نہ طاعت۔
٭ اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا۔(مسلم)
اگر تم پر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔
٭ لَاطَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔ (بخاری و مسلم)
معصیت میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔
٭ لَا طَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔ (طبرانی)
کوئی اطاعت اس شخص کے لیے نہیں ہے جو اللہ کا نافرمان ہو۔
٭ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔ (شرح السنہ)
خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
کتاب و سنت کے یہ تمام محکمات اس باب میں ناطق ہیں کہ ایک اسلامی ریاست میں مجلسِ قانون ساز کوئی ایسا قانون بنانے کا حق نہیں رکھتی جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے خلاف ہو اور اگر وہ ایسا کوئی قانون بنا دے تو وہ رد کر دیے جانے کے لائق ہے، نہ کہ نافذ ہونے کے لائق۔ اسی طرح یہ آیات اور احادیث اس باب میں بھی ناطق ہیں کہ ایک اسلامی ریاست کی عدالتوں میں اللہ اور رسولؐ کا قانون لازماً نافذ ہونا چاہیے اور جو بات کتاب و سنت کی دلیل سے حق ثابت کر دی جائے اسے کوئی جج اس بنا پر رد نہیں کرسکتا کہ لیجسلیچر کا بنایا ہوا قانون اس کے خلاف ہے۔ تصادم کی صورت میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون نہیں بلکہ لیجسلیچر کا قانون حدود دستور سے خارج قرار پانا چاہیے۔ اسی طرح یہ آیات اور احادیث اس باب میں بھی ناطق ہیں کہ اسلامی ریاست کی انتظامیہ کو ایسا کوئی حکم دینے یا ضابطہ بنانے کا حق نہیں ہے جس سے خدا اور رسولؐ کی معصیت لازم آتی ہو۔ اگر وہ ایسا کوئی حکم دے اور لوگ اس کی اطاعت نہ کریں تو وہ مجرم نہیں ہوں گے‘ بلکہ اس کے برعکس خود حکومت زیادتی کی مرتکب ہوگی۔
۲۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں اولی الامر مسلمان ہی ہوسکتے ہیں۔ اس کی دو دلیلیں تو خود اس آیت ہی میں موجود ہیں۔ اول یہ کہ یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہہ کر اُولِی الْاَمْرِ فرمانے کا کوئی مطلب اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ جن اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہ مسلمانوں ہی میں سے ہونے چاہییں۔ دوم یہ کہ نزاع کی صورت میں متنازعہ فیہ معاملے کو اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ رعایا اور حکومت کی نزاع میں اللہ اور رسولؐ کا حکم صرف مسلمان اولی الامر ہی مان سکتے ہیں نہ کہ کافر اولی الامر۔ مزید برآں مستند احادیث کی تصریحات بھی اسی کی تائید بلکہ تاکید کرتی ہیں۔ چنانچہ ابھی اوپر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات نقل ہو چکے ہیں کہ ’’اگر ایک نکٹا غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمھاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ اور یہ کہ ’’کوئی اطاعت اس شخص کے لیے نہیں ہے جو اللہ کا نافرمان ہو۔‘‘ ایک اور حدیث میں حضرت عبادہؓ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ:
اَنْ لاَّ نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہ‘ اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنَ اللّٰہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ۔ (بخاری و مسلم)
ہم اپنے حکمرانوں سے جھگڑا نہ کریں گے اِلاّیہ کہ ہم ان کے کاموں میں کھلا کھلا کفر دیکھیں جو ہمارے پاس ان کے خلاف اللہ کی طرف سے ایک دلیل ہو۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ جب صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برے حاکموں کے خلاف بغاوت کرنے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے فرمایا:
لَامَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلٰوۃَ۔ (مسلم)
نہیں‘ جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔
ان تصریحات کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ ایک اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کے صاحب امر بننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح ایک اشتراکی ریاست میں منکرین اشتراکیت اور ایک جمہوری ریاست میں مخالفین جمہوریت کے لیے اولی الامر بننے کا نہ عقلاً کوئی موقع ہے نہ عملاً۔
۳۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اس آیت کی رو سے مسلمان اپنے اولی الامر سے نزاع کا حق رکھتے ہیں اور نزاع کی صورت میں فیصلہ جس چیز پر چھوڑا جائے گا وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت ہوگی۔ یہ آخری سند جس کے حق میں بھی فیصلہ دے اسے ماننا پڑے گا، خواہ فیصلہ اولی الامر کے حق میں ہو، یا رعایا کے حق میں۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ اس حکم کا تقاضا پورا کرنے کے لیے کوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جس کے پاس نزاع لے جائی جائے اور جس کاکام یہ ہو کہ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے مطابق اس نزاع کا فیصلہ کرے۔ یہ ادارہ خواہ کوئی مجلس علما ہو یا سپریم کورٹ یا کوئی اور‘ اس کے تعین کی کسی خاص شکل پر شریعت نے ہمیں مجبور نہیں کر دیا ہے، مگر بہرحال ایسا کوئی ادارہ مملکت میں ہونا چاہیے اور اس کو یہ حیثیت حاصل ہونی چاہیے کہ انتظامیہ اور مقننہ اور عدلیہ کے احکام اور فیصلوں کے خلاف اس کے پاس مرافعہ کیا جاسکے اور اس کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کتاب و سنت کی ہدایات کے مطابق وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے۔

۹۔ بنیادی حقوق اور اجتماعی عدل

۱۔ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۝۰ۭ النساء58:4
اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان حکم (یا فیصلہ) کرو تو عدل کے ساتھ کرو)۔
۲۔ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡ المائدہ 8:5
اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو‘ یہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔
یہ آیات اگرچہ وسیع ترین مفہوم میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر عدل کا پابند بناتی ہیں‘ مگر ظاہر ہے کہ ان کے اس تقاضے سے اسلامی ریاست آزاد نہیں ہوسکتی۔ لامحالہ اس کو بھی عدل ہی کا پابند ہونا چاہیے، بلکہ اسے تو بدرجۂ اولیٰ ہونا چاہیے‘ کیونکہ حکم بین الناس کا سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ وہی ہے اور اگر اس کے حکم میں عدل نہ ہو تو پھر معاشرے میں اور کہیں عدل نہیں ہوسکتا۔
اب دیکھیے کہ جہاں تک ریاست کا تعلق ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت سے حکم بین الناس میں عدل برتنے کا کیا طریقہ ثابت ہوتا ہے:
۱۔ حجۃ الوداع کے مشہور خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی ریاست کے جن بنیادی اصولوں کا اعلان فرمایا تھا ان میں ایک اہم اصول یہ بھی تھا:
فَاِنَّ دِمَائَکُمْ وَاَمْوَا لَکُمْ وَاَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔ (بخاری)
یقیناً تمھاری جانیں اور تمھارے مال اور تمھاری آبروئیں ویسی ہی محترم ہیں جیسا آج حج کا یہ دن محترم ہے۔
اس اعلان میں مملکت اسلامیہ کے تمام شہریوں کو جان‘ مال اور آبرو کی حرمت کا بنیادی حق عطا کیا گیا ہے جس کا بہرحال ہر اس ریاست کو التزام کرنا ہوگا جو ’اسلامی ریاست‘ کے نام سے موسوم ہو۔۱۱۵؎
۲۔ یہ حرمت کس حال میں کس طرح ٹوٹ سکتی ہے؟ اس کا تعین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
(i ) فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَھُمْ اِلاَّ بِحَقِّ اْلاِسْلَامِ وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ۔ (بخاری و مسلم)
پھر جب لوگ یہ کام (یعنی شہادت توحید و رسالت اور اقامت صلوٰۃ و ایتائے زکوٰۃ) کر دیں تو وہ اپنی جانیں مجھ سے بچالیں گے‘ اِلاَّیہ کہ اسلام کے کسی حق کی بنا پر وہ مجرم ہوں اور ان کی نیتوں کا حساب لینا اللہ کے ذمے ہے۔
(ii ) فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُ ھُمْ وَاَمْوَالُھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اَللّٰہِ۔ (بخاری و مسلم)
پس ان کی جان و مال ہم پر حرام ہیں الایہ کہ جان و مال ہی کا کوئی حق ان پر قائم ہو، اور ان کے باطن کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔
(iii) فَمَنْ قَاَلَھَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّیْ مَالَہ‘ وَنَفْسَہ‘ اِلاَّ بِحَقِّہٖ وَحِسَا بُہ‘ عَلَی اللّٰہِ(بخاری)
پھر جو اس کا (یعنی کلمہ توحید کا) قائل ہو جائے اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنا نفس بچا لیا الایہ کہ اللہ کا کوئی حق اس پر قائم ہو، اور اس کے باطن کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔
یہ احادیث اس باب میں ناطق ہیں کہ اسلامی ریاست میں کسی شہری کی آزادیِ نفس اور حرمتِ جان و مال و آبرو پر کوئی دست درازی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسلامی قانون کی رُو سے اس پر (یا اس کے خلاف) کوئی حق ثابت نہ کر دیا جائے۔
۳۔ کسی پر (یا کسی کے خلاف) حق کا اِثبات کس طرح ہوسکتا ہے؟ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں بیان فرماتے ہیں:
اِذَا جَلَسَ اِلَیْکَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِ بَیْنَھُمَا حَتّٰی تَسْمَعَ مِنَ الْاٰخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْاَوَّلِ۔
(ابودائود، ترمذی، احمد)
جب تیرے سامنے دو فریق اپنا معاملہ لے کر بیٹھیں تو ان کا فیصلہ نہ کر جب تک کہ دوسرے کی بات بھی نہ سن لے جس طرح پہلے کی سنی ہے۔
اور حضرت عمرؓ ایک مقدمے کے فیصلے میں تصریح کرتے ہیں:
لَایُوْسَرُرَجُلٌ فِی الْاِسْلَامِ بِغَیْرِ عَدْلٍ۔ (موطا)
اسلام میں کوئی شخص عدل کے بغیر قید نہیں کیا جاسکتا۔
اس مقدمے کی جو تفصیل موطا میں دی گئی ہے اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق کے نومفتوح علاقے میں جھوٹی چغلیاں کھا کھا کر لوگ دوسروں کو پکڑوا رہے تھے۔ اس کی شکایت جب حضرت عمرؓ کے پاس لائی گئی تو آپ نے اس کے فیصلے میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں عدل سے مراد ’معروف عدالتی کارروائی‘(due process of law) اور اسے صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔ اس کے بغیر اسلام میں کوئی شخص قید نہیں کیا جاسکتا۔
۴۔ حضرت علیؓ کے زمانے میں جب خوارج کا ظہور ہوا‘ جو سرے سے ریاست ہی کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے‘ تو آپ نے انھیں لکھا کہ:
کُوْنُوْا حَیْثُ شِئْتُمْ وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ تَسْفِکُوْا دَ مًا وَلَا تَقْطَعُوْا سَبِیْلاً وَلاَ تَظْلِمُوْا اَحَدًا فَاِنْ فَعَلْتُمْ نَبَذْتُ اِلَیْکُمُ الْحَرْبَ۔ (نیل الاوطار)
تم جہاں چاہو رہو۔ ہمارے اور تمھارے درمیان شرط یہ ہے کہ تم خون نہ بہائو اور بدامنی نہ پھیلائو اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ اگر ان کاموں میں سے کوئی کام تم نے کیا تو میں تمھارے خلاف جنگ کروں گا۔
یعنی خیالات تم جو چاہو رکھو۔ تمھارے خیال اور نیت پر گرفت نہ کی جائے گی، البتہ اگر تم اپنے خیالات کے مطابق حکومت کا تختہ زبردستی الٹ دینے کی کوشش کرو گے تو یقیناً تمھارے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ان تصریحات کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اسلامی تصور عدل کسی حال میں بھی انتظامیہ کو یہ اختیارات دینے کا روادار نہیں ہے کہ وہ معروف عدالتی کارروائی کے بغیر یوں ہی جس کو چاہیں پکڑیں‘ جسے چاہیں قید کر دیں‘ جسے چاہیں خارج البلد کریں‘ جس کی چاہیں زبان بندی کریں اور جسے چاہیں اظہارِ رائے کے وسائل سے محروم کر دیں۔ اس طرح کے اختیارات جو ریاست اپنی انتظامیہ کو دیتی ہو، وہ اسلامی ریاست ہرگز نہیں ہوسکتی۔
پھر حکم بین الناس میں عدل برتنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہم کو اسلام کی مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام میں صدر ریاست اور گورنروں اور اعلیٰ حکام اور عامۃ الناس‘ سب کے لیے ایک ہی قانون اور ایک ہی نظامِ عدالت ہے۔ کسی کے لیے کوئی قانونی امتیاز نہیں ہے‘ کسی کے لیے خاص عدالتیں نہیں ہیں اور کوئی قانون کی پکڑ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر وقت میں خود اپنے آپ کو پیش کیا کہ جس کو میرے خلاف کوئی دعویٰ ہو وہ لائے اور اپنا حق وصول کرے۔ حضرت عمرؓ نے ایک والی ریاست جبلہ بن ایہم غسانی سے ایک بدوی کو قصاص دلوایا۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے گورنروں کے لیے قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا تو حضرت عمرؓ نے اسے ماننے سے صاف انکار کر دیا اور عام لوگوں کو یہ حق دیا کہ جس حاکم کے خلاف انھیں شکایت ہو اُسے کھلی عدالت میں لائیں۔

۱۰۔فلاحِ عامہ

٭ وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِo الذاریات19:51
ان کے مالوں میں حق تھا مدد مانگنے والے کے لیے اور رزق سے محروم رہ جانے والے کے لیے۔
٭ خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ التوبہ 103:9
ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کرکے ان کو (بری صفات سے) پاک کرو اور ان کو (اچھی صفات میں) بڑھائو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو۔
٭ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ ۔ (بخاری و مسلم)
اللہ نے مسلمانوں پر ایک صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال داروں سے لیا جائے گا اور ان کے حاجت مندوں پر لوٹا دیا جائے گا۔
٭ الَسُّلْطَانُ وَلِیٌّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَہ‘ ۔ (ابودائود، ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ، دارمی)
حکومت اس کی سرپرست ہے جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔
٭ مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ وَلَمْ یَتْرُکْ وَفَائً فَعَلَیَّ قَضَائُہ‘ وَمَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ۔ (مشکوۃ ۲۹۱۰)
جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے قرض ہو اور وہ اسے ادا کرنے کے قابل مال نہ چھوڑے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔
٭ وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْضِیَاعًا فَلْیَاْ تِنِیْ فَاَنَا مَوْلَاہُ۔ (مشکوۃ۲۹۱۰)
ایک دوسری روایت میں ہے جو شخص قرض چھوڑے یا ایسے پس ماندگان چھوڑ جائے جن کے ضائع ہو نے کا خطرہ ہو تو وہ میرے پاس آئیں‘ میں ان کا سرپرست ہوں‘‘۔
٭ وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہٖ وَمَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَاِلَیْنَا۔ (بخاری و مسلم)
ایک اور روایت میں ہے جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جو ذمے داریوں کا بار چھوڑ جائے تو وہ ہمارے (یعنی حکومت کے ذمے) ہے۔
٭ اَنَا وَارِثٌ مَنْ لاَّ وَارِثَ لَہ‘ اَعْقِلُ عَنْہُ وَارِثَہ‘ ۔ (مشکوۃ ۲۹۲۰،ابودائود)
جس کا کوئی وارث نہ ہو اُس کا میں وارث ہوں۔ اُس کی طرف سے دیت ادا کروں گا اور اُس کی میراث لوں گا۔
یہ آیات اور احادیث تصریح کرتی ہیں کہ اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ایک اہم فرض زکوٰۃ کی تنظیم ہے اور اس کی ذمے داریوں میں سے ایک اہم ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے حدود کے اندر تمام ان لوگوں کی کفیل بنے جو مدد کے محتاج ہوں اور وسائلِ رزق سے محروم رہ گئے ہوں۔
یہ ہیں وہ بڑے بڑے دستوری احکام جو ہم کو کتاب و سنت میں ملتے ہیں۔ اگرچہ دستوری مسائل کے متعلق قرآن اور حدیث میں اور بھی بہت سی ہدایات موجود ہیں‘ مگر چونکہ اُن کا تعلق دستور سے کم اور دستوری قانون سے زیادہ ہے‘ اس لیے ہم نے ان کو یہاں بیان نہیں کیا ہے۔
اب ہر شخص جو دستور کے متعلق کچھ بھی واقفیت رکھتا ہو‘ ہماری پیش کردہ ان آیات اور احادیث کو دیکھ کر خود رائے قائم کرے کہ آیا ان میں ایک اسلامی ریاست کی اصولی بنیادیں صاف صاف بیان کر دی گئی ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی صاحب کھوکھلے دعوئوں کے بجائے علمی استدلال سے یہ ثابت کر دیں کہ ان احکام کا دستور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں بتائیں کہ دستور کے وہ کون سے بنیادی مسائل (تفصیلات نہیں، بلکہ بنیادی مسائل) ہیں جن میں کتاب و سنت سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی‘ تو ہم ضرور اس کے شکر گزار ہوں گے، لیکن اگر یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مسائل جن پر ہم نے اوپر بحث کی ہے دستوری مسائل نہیں ہیں اور نہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان مسائل پر قرآن و حدیث کی ان تعلیمات سے کوئی روشنی نہیں پڑتی‘ تو اس کے بعد غیر منافق شرفا کے لیے دو ہی راستے کھلے رہ جاتے ہیں: ۱۔یا تو وہ سیدھی طرح ان احکام کو تسلیم کریں اور ملک کے دستور میں ان کو ثبت کرکے باقی تفصیلات جس طرح مناسب سمجھیں مرتب کرتے رہیں،۲۔ یا پھر صاف صاف کہہ دیں کہ ہم نہ قرآن کو مانتے ہیں نہ سنت کو‘ ہمارا ایمان اس ڈیمو کریسی پر ہے جس کا ’اسوہ حسنہ‘ ہم کو امریکہ اور انگلستان اورہندستان کے دستور سلطنت میں ملتا ہے۔ ان دو راستوں میں سے جو راستہ بھی وہ اختیار کریں گے‘ بہرحال وہ راست باز انسانوں کے شایانِ شان ہوگا۔ رہا یہ طریقہ کہ سامنے آفتاب نصف النہار پر چمک رہا ہو اور آدمی کہے جائے کہ روشنی کہیں موجود نہیں ہے تو اس سے لوگ فریب کھائیں یا نہ کھائیں‘ کہنے والا اپنی عزت ضرور کھو دیتا ہے۔


باب ۹

پچھلے ابواب میں اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے بحث ہو چکی ہے۔ اب اس مثالی دور کا ایک نظری اورتاریخی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس کا آغاز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے فرمایا تھا اور جس میں پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی از سرِ نو تشکیل کی گئی ہے۔ یہ دورروشنی کا مینار ہے اور اسلامی تاریخ کے ہر دور میں مسلمان اسی منبعِ نُور سے فیض حاصل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ یہ اسلام ہی کا کارنامہ ہے کہ اس نے ریاست کا ایک نیا تصور ہی پیش نہیں کیا، بلکہ گوشت پوست کی اس دنیا میں اپنے تصور کی ریاست بھی قائم کی اور وہ ریاست ایک مدت تک اپنی معیاری شکل میں کام کرتی رہی۔ دنیا کا کوئی دوسرا نظام اس بات کادعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کے تصور کی معیاری ریاست کبھی ایک دن، بلکہ ایک لمحے کے لیے بھی عمل کی دنیا میں قائم ہوئی ہو۔ یہ صرف اسلام ہی کا اعجاز ہے اور اس باب میں وہ منفرد ہے۔ (مرتب)

 

 

 

۱۔ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

ظہور اسلام کے ساتھ جو مسلم معاشرہ وجود میں آیا اور پھر ہجرت کے بعد سیاسی طاقت حاصل کرکے جس ریاست کی شکل اس نے اختیار کی، اس کی بنیاد چند واضح اصولوں پر تھی۔ ان میں سے اہم تر،جن کا تعلق ہماری بحث سے ہے، یہ ہیں:
قانونِ خداوندی کی بالاتری
اس ریاست کا اولین بنیادی قاعدہ یہ تھا کہ حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور اہل ایمان کی حکومت دراصل ’خلافت‘ ہے جسے مطلق العنانی کے ساتھ کام کرنے کا حق نہیں ہے‘ بلکہ اس کو لازمًا اس قانون خداوندی کے تحت رہ کر ہی کام کرنا چاہیے جس کا ماخذ خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت ہے۔ قرآن مجید میں اس قاعدے کو حسب ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:
النساء:۵۹‘ ۶۴‘ ۶۵‘ ۸۰‘ ۱۰۵۔ المائدہ: ۴۴‘ ۴۵‘ ۴۷۔ الاعراف:۳۔ یوسف: ۴۰۔ النور: ۵۴‘ ۵۵۔ الاحزاب:۳۶۔ الحشر: ۷۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعدد ارشادات میں اس اصل الاصول کو پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
۱۔ عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ اَحِلُّوْا حَلَالَہ‘ وَ حَرِّمُوْا حَرَامَہ‘۔۱۱۶؎
تم پر لازم ہے کتاب اللہ کی پیروی۔ جس چیز کو اس نے حلال کیا ہے اسے حلال کرو اور جسے اس نے حرام کیا ہے اسے حرام کرو۔
۲۔ اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ فَرائِضَ فَلاَ تُضَیِّعُوْھَا وَ حَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلاَ تَنْتَھِکُوْھَا وَحَدَّحُدُوْدًا فَلاَ تَعْتَدُوْھَا وَسَکَتَ عَنْ اَشْیَآئَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوْا عَنْھَا۔۱۱۷؎
اللہ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں‘ انھیں ضائع نہ کرو۔ کچھ حرمتیں مقرر کی ہیں‘ انھیں نہ توڑو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں‘ ان سے تجاوز نہ کرو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت فرمایا ہے بغیر اس کے کہ اسے نسیان لاحق ہوا ہو‘ ان کی کھوج میں نہ پڑو۔
۳۔ مَنِ اقْتَدٰی بِکِتَابِ اللّٰہِ لَا یَضِلُّ فِی الدُّنْیَا وَلَا یَشْقٰی فِی الْاٰخِرَۃِ۔۱۱۸؎
جس نے کتاب اللہ کی پیروی کی وہ نہ دنیا میں گمراہ ہوگا، نہ آخرت میں بدبخت۔
تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ۔۱۱۹؎
میں نے تمھارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں جنھیں اگر تم تھامے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے‘ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔
۴۔ مَااَمَرْتُکُمْ بِہٖ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔۱۲۰؎
جس چیز کا میں نے تم کو حکم دیا ہے اسے اختیار کرلو اور جس چیز سے روکا ہے اس سے رک جائو۔
عدل بین الناس
دوسرا قاعدہ جس پر اس ریاست کی بنا رکھی گئی تھی‘ یہ تھا کہ قرآن و سنت کا دیا ہوا قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس کو مملکت کے ادنیٰ ترین آدمی سے لے کر مملکت کے سربراہ تک سب پر یکساں نافذ ہونا چاہیے۔ کسی کے لیے بھی اس میں امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ اعلان کرنے کی ہدایت فرماتا ہے کہ:
وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ الشوریٰ 15:42
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں۔
یعنی میں بے لاگ انصاف پسندی کرنے پر مامور ہوں۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف تعصب برتوں۔ میرا سب انسانوں سے یکساں تعلق ہے اور وہ ہے عدل و انصاف کا تعلق۔ حق جس کے ساتھ ہو، میں اس کا ساتھی ہوں اور حق جس کے خلاف ہو، میں اس کا مخالف ہوں۔ میرے دین میں کسی کے لیے بھی کوئی امتیاز نہیں ہے۔ اپنے اور غیر‘ بڑے اور چھوٹے‘ شریف اور کمین کے لیے الگ الگ حقوق نہیں ہیں۔ جو کچھ حق ہے وہ سب کے لیے حق ہے۔ جو گناہ ہے وہ سب کے لیے گناہ ہے۔ جو حرام ہے وہ سب کے لیے حرام ہے۔ جو حلال ہے وہ سب کے لیے حلال ہے، اور جو فرض ہے وہ سب کے لیے فرض ہے۔ میری اپنی ذات بھی قانونِ خداوندی کی اس ہمہ گیری سے مستثنیٰ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس قاعدے کویوں بیان فرماتے ہیں:
اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اِنَّھُمْ کَانُوْا یُقِیْمُوْنَ الْحَدَّ عَلَی الْوَضِیْعِ وَ یَتْرُکُوْنَ الشَّرِیْفَ وَ الَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ (بِنْتَ مُحَمَّدٍ) فَعَلَتْ ذَالِکَ لَقَطَعْتُ یَدَھَا۔۱۲۱؎
تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں وہ اسی لیے تو تباہ ہوئیں کہ وہ لوگ کم تر درجے کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیتے تھے اور اونچے درجے والوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے‘ اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔
حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں:
رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَیِّدُ مِنْ نَّفْسِہٖ۔۱۲۲؎
میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات سے بدلہ دیتے دیکھا ہے۔
مساوات بین المسلمین
اسی قاعدے کی فرع یہ تیسرا قاعدہ ہے جو اس ریاست کے مُسلِّمات میں سے تھا کہ تمام مسلمانوں کے حقوق بلالحاظ رنگ و نسل و زبان و وطن بالکل برابر ہیں۔ کسی فرد‘ گروہ‘ طبقے یا نسل و قوم کو اس ریاست کے حدود میں نہ امتیازی حقوق حاصل ہوسکتے ہیں اور نہ کسی کی حیثیت کسی دوسرے کے مقابلے میں فرو تر قرار پا سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(i ) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ الحجرات10:49
مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
(ii ) يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات13:49
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھیں قبیلوں اور قوموں میں تقسیم کیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب ذیل ارشادات اس قاعدے کی صراحت کرتے ہیں:
(i ) اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِ کُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْ بِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔۱۲۳؎
اللہ تمھاری صورتیں اور تمھارے مال نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دل اور تمھارے اعمال دیکھتا ہے۔
(ii ) اَلْمُسْلِمُوْنَ اِخْوَۃٌ لَا فَضْلَ لِاَحَدٍ عَلٰی اَحَدٍ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔۱۲۴؎
مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنا پر۔
(iii ) یَآاَیُّھَا النَّاسُ اَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ لَا فَضْلَ لِعَرَبِّیٍ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ وَلاَ لِاَ حْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی۔۱۲۵؎
لوگو! سن لو‘ تمھارا رب ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر، یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ کالے کو گورے پر، یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے، مگر تقوٰی کے لحاظ سے۔
(iv ) مَنْ شَھِدَاَنْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَصَلّٰی صَلٰوتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَھُوَ الْمُسْلِمُ لَہ‘ مَا لِلْمُسْلِمِ وَ عَلَیْہِ مَاعَلَی الْمُسْلِمِ۔۱۲۶؎
جس نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا اور ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے۔ اس کے حقوق وہی ہیں جو مسلمان کے حقوق ہیں اور اس پر فرائض وہی ہیں جو مسلمان کے فرائض ہیں۔
(v ) اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَا ئُھُمْ وَھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ وَیَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ۔۱۲۷؎
مومنوں کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں‘ وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں‘ اور ان کا ایک ادنیٰ آدمی بھی ان کی طرف سے ذمہ لے سکتا ہے۔
(vi ) لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ جِزْیَۃٌ۔۱۲۸؎
مسلمان پر جزیہ عاید نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت کی ذمے داری
چوتھا اہم قاعدہ جس پر یہ ریاست قائم ہوئی تھی‘ یہ تھا کہ حکومت اور اس کے اختیارات اور اموال‘ خدا اور مسلمانوں کی امانت ہیں جنھیں خدا ترس‘ ایمان دار اور عادل لوگوں کے سپرد کیا جانا چاہیے اور اس امانت میں کسی شخص کو من مانے طریقے پر‘ یا نفسانی اغراض کے لیے تَصرُّف کرنے کا حق نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًاo النساء58:4
اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(i ) اَلاَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ فَالْاِمَامُ الْاَعْظَمُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ۔۱۲۹؎
خبردار رہو‘ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے اور مسلمانوں کا سب سے بڑا سردار جو سب پر حکمران ہو‘ وہ بھی راعی ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ۔
(ii ) مَا مِنْ وَّالٍ یَّلِیْ رَعِیَّۃً مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَمُوْتُ وَھُوَ غَاشٌ لَّھُمْ اِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔۱۳۰؎
کوئی حکمران جو مسلمانوں میں سے کسی رعیت کے معاملات کا سربراہ ہو‘ اگر اس حالت میں مرے کہ وہ ان کے ساتھ دھوکا اور خیانت کرنے والا تھا‘ تو اللہ اس پرجنت حرام کردے گا۔
(iii ) مَا مِنْ اَمِیْرٍ یَلِیْ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ ثُمَّ لَایَجْھَدْ لَھُمْ وَلاَ یَنْصَحْ اِلاَّ لَمْ یَدْخُلْ مَعَھُمْ فِی الْجَنَّۃِ۔۱۳۱؎
کوئی حاکم جو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی منصب سنبھالے، پھر اس کی ذمے داریاں ادا کرنے کے لیے جان نہ لڑائے اور خلوص کے ساتھ کام نہ کرے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں قطعاً نہ داخل ہوگا۔
(iv ) یَا اَبَاذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَ اِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلاَّ مَنْ اَخَذَ بِحَقِّھَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَا۔۱۳۲؎
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذرؓ سے فرمایا اے ابوذر! تم کمزور آدمی ہو اور حکومت کا منصب ایک امانت ہے‘ اور قیامت کے روز وہ رسوائی اور ندامت کا موجب ہوگا، سوائے اس شخص کے جو اس کے حق کا پورا پورا لحاظ کرے اور جو ذمے داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔
(v ) مِنْ اَخْوَنِ الْخَیَانَۃِ تِجَارَۃُ الْوَالِیْ فِیْ رَعِیَّۃٍ۔ (کنز العمال‘ ج۶‘ح۷۸)
کسی حاکم کا اپنی رعیت میں تجارت کرنا بدترین خیانت ہے۔
(vi) مَنْ وُّلِیَ لَنَا عَمَلاً وَلَمْ تَکُنْ لَہ‘ زَوْجُہ‘ فَلْیَتَّخِذْ زَوْجَۃً وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہ‘ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا اَوْلَیْسَ لَہ‘ مَسْکَنٌ فَلْیَتَّخِذْ مَسْکَنًا اَوْلَیْسَ لَہ‘ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَابَّۃً فَمَنْ اَصَابَ سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ اَوْسَارِقٌ۔ (کنز العمال‘ ج۶‘ح۳۴۶)
جو شخص ہماری حکومت کے کسی منصب پر فائز ہو وہ اگر بیوی نہ رکھتا ہو تو شادی کرلے‘ اگر خادم نہ رکھتا ہو تو ایک خادم حاصل کرلے‘ اگر گھر نہ رکھتا ہوتو ایک گھر لے لے‘ اگر سواری نہ رکھتا ہو تو ایک سواری لے لے۔ اس سے آگے جو شخص قدم بڑھاتا ہے وہ خائن ہے یا چور۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں:
مَنْ یَکُنْ اَمِیْرًا فَاِنَّہ‘ مِنْ اَطْوَلَ النَّاسِ حِسَابًا وَاَغْلَظَہ‘ عَذَابًا وَمَنْ لَایَکُوْنُ اَمِیْرًا فَاِنَّہ‘ مِن اَیْسَرِ النَّاسِ حِسَابًا وَ اَھْوَنَہ‘ عَذَابًا لِاَنَّ الْاُمَرَائَ اَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ ظَلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَاِنَّمَا یَخْفَرُ اللّٰہَ۔ (کنزالعمال‘ ج۵‘ ح۲۵۰۵)
جو شخص حکمران ہو اس کو سب سے زیادہ بھاری حساب دینا ہوگا اور وہ سب سے زیادہ سخت عذاب کے خطرے میں مبتلا ہوگا‘ اور جو حکمران نہ ہو اس کو ہلکا حساب دینا ہوگا اور اس کے لیے ہلکے عذاب کا خطرہ ہے‘ کیونکہ حکام کے لیے سب سے بڑھ کر اس بات کے مواقع ہیں کہ ان کے ہاتھوں مسلمانوں پر ظلم ہو اور جو مسلمانوں پر ظلم کرے وہ خدا سے غداری کرتا ہے۔
حضرت عمرؓ کہتے ہیں:
لَوھَلَکَ حَمْلٌ مِنْ وَلَدِ الضَّاْنِ ضِیَاعًا بِشَاطِی الْفُرَاتِ خَشِیْتُ اَنْ یَّسْاَلَنِیَ اللہُ۔۱۳۳؎
دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی اگر ضائع ہو جائے تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے باز پرس کرے گا۔
شوریٰ
اس ریاست کا پانچواں اہم قاعدہ یہ تھا کہ سربراہ ریاست مسلمانوں کے مشورے اور ان کی رضامندی سے مقرر ہونا چاہیے اور اسے حکومت کا نظام بھی مشورے سے چلانا چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
(i) وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠ الشوریٰ38:42
اور مسلمانوں کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔
(ii) وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ۝۰ۚ آل عمران159:3
اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے معاملات میں مشاورت کرو۔
حضرت علیؓکا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ کے بعد ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کے متعلق نہ قرآن میں کوئی حکم ہو،اور نہ آپؐ سے ہم نے کچھ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ فرمایا:
اَجْمِعُوا الْعَابِدِیْنَ مِنْ اُمَّتِیْ وَاجْعَلُوْہُ بَیْنَکُمْ شُوْرٰی وَلاَ تَقْضُوْا بِرَأْیِ وَاحِدٍ۔ ۱۳۴؎
میری امت کے عابد لوگوں کو جمع کرو اور اس معاملے کو آپس میں مشورے کے لیے پیش کردو۔ کسی ایک شخص کی رائے پر فیصلہ نہ کرڈالو۔
حضرت عمرؓ کہتے ہیں:
مَنْ دَعَا اِلٰی اَمَارَۃِ نَفْسِہٖ اَوْغَیْرِہٖ مِنْ غَیْرِ مَشْوَرَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ لَّا تَقْتُلُوْہُ۔
(کنزالعمال‘ ج۵‘ ص۲۵۷۷)
جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر اپنی یا کسی اور شخص کی امارت کے لیے دعوت دے تو تمھارے لیے حلال نہیں ہے کہ اسے قتل نہ کرو۔
ایک اور روایت میں حضرت عمرؓ کا یہ قول نقل ہوا ہے:
لَا خِلَافَۃَ اِلَّا عَنْ مَشْوَرَۃٍ۔ (کنزالعمال‘ ج۵‘ حدیث ۲۳۵۴)
مشورے کے بغیر کوئی خلافت نہیں۔
اطاعت فی المعروف
چھٹا قاعدہ جس پر یہ ریاست قائم کی گئی تھی‘ یہ تھا کہ حکومت کی اطاعت صرف معروف میں واجب ہے‘ معصیت میں کسی کو اطاعت کا حق نہیں پہنچتا۔ دوسرے الفاظ میں اس قاعدے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اور حکام کا صرف وہی حکم ان کے ماتحتوں اور رعیت کے لیے واجب الاطاعت ہے جو قانون کے مطابق ہو۔ قانون کے خلاف حکم دینے کا نہ انھیں حق پہنچتا ہے اور نہ کسی کو اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ قرآن مجید میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کو بھی اطاعت فی المعروف کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے‘ حالانکہ آپؐ کی طرف سے کسی معصیت کا حکم صادر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ الممتحنہ12:60
اور یہ کہ وہ کسی امر معروف میں آپؐ کی نافرمانی نہ کریں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
۱۔ اَلسَّمْعُ وَ الطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا اَحَبَّ اَوْکَرِہَ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَۃَ۔۱۳۵؎
ایک مسلمان پر اپنے امیر کی سمع و طاعت فرض ہے خواہ اس کا حکم اسے پسند ہو یا ناپسند‘ تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت نہیں۔
۲۔ لَاطَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللہ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔۱۳۶؎
اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے۔
یہ مضمون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت ارشادات میں مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔
٭ کہیں آپؐ نے فرمایا:لَاطَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللہ۔
جو اللہ کی نافرمانی کرے‘ اس کے لیے کوئی اطاعت نہیں۔
٭ کہیں فرمایا:لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔
خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں۔
٭ کہیں فرمایا: لَاطَاعَۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ اللہ۔
جو اللہ کی اطاعت نہ کرے اس کے لیے کوئی اطاعت نہیں۔
٭ کہیں فرمایا: مَنْ اَمَرَکُمْ مِنَ الْوُلَاۃِ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ تُطِیْعُوْہُ۔۱۳۷؎
حکام میں سے جوکوئی تمھیں کسی معصیت کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔
حضرت ابوبکرؓ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں:
مَنْ وُلِیَ اَمْرَاُمَّۃِ مُحَمَّدٍ شَیْئًا فَلَمْ یَقُمْ فِیْھِمْ بِکِتَابِ اللہ فَعَلَیْہِ بَھْلَۃُ اللہ۔ ۱۳۸؎
جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے معاملات سے کسی معاملے کا ذمے دار بنایا گیا اور پھر اس نے لوگوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق کام نہ کیا اُس پر اللہ کی لعنت۔
اسی بنا پر خلیفہ ہونے کے بعد انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ:
اَطِیْعُونِیْ مَا اَطَعْتُ اللہ وَرَسُوْلَہ‘ فَاِذَا عَصَیْتُ اللہ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ ۔۱۳۹؎
میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کرتا رہوں اور جب میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
حَقٌّ عَلَی الْاِمَامِ اَنْ یَّحْکُمَ بِمَا اَنْزَلَ اللہ وَاَنْ یُّؤَدِّیَ الْاَمَانَۃَ فَاِذَا فَعَلَ ذَالِکَ فَحَقٌّ عَلَی النَّاسِ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہ‘ وَاَنْ یُّطِیْعُوْا وَاَنْ یُّجِیْبُوْا اِذَادُعُوْا۔۱۴۰؎
مسلمانوں کے فرماںروا پر یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور امانت ادا کرے۔ پھر جب وہ اس طرح کام کر رہا ہو تو لوگوں پر یہ فرض ہے کہ اس کی سنیں اور مانیں اورجب انھیں پکارا جائے تو لبیک کہیں۔
اپنی خلافت کے زمانے میں انھوں نے اپنے ایک خطبے میں یہ اعلان فرمایا:
مَااَمَرْتُکُمْ بِہٖ مِنْ طَاعَۃِ اللہ فَحَقٌّ عَلَیْکُمْ طَاعَتِیْ فِیْمَا اَحْبَبْتُمْ وَمَا کَرَھْتُمْ وَمَا اَمَرْتُکُمْ بِہٖ مِنْ مَعْصِیَۃِ اللہ فَلاَ طَاعَۃَ لِاَحَدٍ فِی الْمَعْصِیَۃِ اَلطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ اَلطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ اَلطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔۱۴۱؎
میں اللہ کی فرماںبرداری کرتے ہوئے تم کو جو حکم دوں اس کی اطاعت تم پر فرض ہے‘ خواہ وہ حکم تمھیں پسند ہو یا ناپسند، اور جو حکم میں تمھیں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دوں تو معصیت میں کسی کے لیے اطاعت نہیں۔ اطاعت صرف معروف میں ہے‘ اطاعت صرف معروف میں ہے‘ اطاعت صرف معروف میں ہے۔
اقتدار کی طلب و حرص کا ممنوع ہونا
یہ قاعدہ بھی اس ریاست کے قواعد میں سے تھا کہ حکومت کے ذمے دارانہ مناصب کے لیے عموماً اور خلافت کے لیے خصوصاً وہ لوگ سب سے زیادہ غیر موزوں ہیں جو خود عہدہ حاصل کرنے کے طالب ہوں اور اس کے لیے کوشش کریں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا۝۰ۭ القصص 83:28
وہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ اپنی بڑائی کے طالب ہوتے ہیں اور نہ فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اِنَّا وَاللہ لَا نُوَلِّیْ عَلٰی عَمَلِنَا ھٰذَا اَحَدًا سَأَلَہ‘ اَوْحَرَصَ عَلَیْہِ۔۱۴۲؎
بخدا! ہم اپنی اس حکومت کا منصب کسی ایسے شخص کو نہیں دیتے جو اس کا طالب ہو یا اس کا حریص ہو۔
اِنَّ اَخْوَنَکُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَ۔۱۴۳؎
تم میں سب سے بڑھ کر خائن ہمارے نزدیک وہ ہے جو اسے خود طلب کرے۔
۳۔اَنْ لاَّ نَسْتَعْمِلَ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَہ‘۔۱۴۴؎
ہم اپنی حکومت میں کسی ایسے شخص کو عامل نہیں بناتے جو اس کی خواہش کرے۔
۴۔ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ لَا تَسْئَلِ الْاَمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِذَا اُوْتِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُکِّلْتَ اِلَیْھَا وَاِنْ اُوْتِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا۔۱۴۵؎
(عبدالرحمان بن سمرہؓ سے حضور اکرمؐ نے فرمایا ) اے عبدالرحمن بن سمرہ! امارت کی درخواست نہ کرو‘ کیونکہ اگر وہ تمھیں مانگنے پر دی گئی تو خدا کی طرف سے تم کو اسی کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگر وہ تمھیں بے مانگے ملی تو خدا کی طرف سے تم کو اس کا حق ادا کرنے میں مدد دی جائے گی۔
ریاست کا مقصد وجود
اس ریاست میں حکمران اور اس کی حکومت کا اولین فریضہ یہ قرار دیا گیا تھا کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو کسی ردوبدل کے بغیر جوں کا توں قائم کرے اوراسلام کے معیار اخلاق کے مطابق بھلائیوں کو فروغ دے اور برائیوں کو مٹائے۔ قرآن مجید میں اس ریاست کا مقصدِ وجود یہ بیان کیا گیا ہے کہ:
٭ اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ الحج41:22
یہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔
اور یہی قرآن کی رُو سے امت مسلمہ کا مقصد وجود بھی ہے:
٭ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ البقرہ143:2
اور اس طرح ہم نے تم کو ایک بیچ کی امت (یا راہ اعتدال پر قائم رہنے والی امت) بنا دیا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ۔
٭ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ
آل عمران 110:3
تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
علاوہ بریں جس کام پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ سے پہلے کے تمام انبیاء علیھم السلام مامور تھے وہ قرآن مجید کی رُو سے یہ تھا کہ اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ الشوری 14:42 ’دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو جائو‘۔غیر مسلم دنیا کے مقابلے میں آپؐ کی ساری جدوجہد صرف اس غرض کے لیے تھی کہ یَکُوْنَ الِدّیْنُ کُلُّہ‘ لِلّٰہِ۔ الانفال 39:8 ’دین پورے کا پورا صرف اللہ کے لیے ہو جائے‘اور تمام انبیاء کی امتوں کی طرح آپؐ کی امت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَائَ البینۃ 5:98 ’یکسو ہو کر اللہ کی بندگی کریں‘اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے‘ اس لیے آپؐ کی قائم کردہ ریاست کا اصل کام ہی یہ تھا کہ دین کے پورے نظام کو قائم کرے اور اس کے اندر کوئی ایسی آمیزش نہ ہونے دے جو مسلم معاشرے میں دو رنگی پیدا کرنے والی ہو۔ اس آخری نکتے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب اور جا نشینوں کو سختی کے ساتھ متنبہ فرما دیا کہ:
۱۔ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَھُوَرَدٌّ۔۱۴۶؎
جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات نکالے جو اس کی جنس سے نہ ہو اس کی بات مردود ہے۔
۲۔ اِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔ ۱۴۷؎
خبردار! نرالی باتوں سے بچنا‘ کیونکہ ہر نرالی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی۔
۳۔ مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ۔۱۴۸؎
جس نے کسی بدعت نکالنے والے کی توقیر کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔
اسی سلسلے میں آپؐ کا یہ ارشاد بھی ہمیں ملتا ہے کہ تین آدمی خدا کو سب سے زیادہ ناپسند ہیں اور ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو:
مُبْتَغٍ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ۔۱۴۹؎
اسلام میں جاہلیت کا کوئی طریقہ چلانا چاہے۔
امربالمعروف و نہی عن المنکر کا حق اور فرض
اس ریاست کے قواعد میں سے آخری قاعدہ‘ جو اس کو صحیح راستے پر قائم رکھنے کا ضامن تھا‘ یہ تھا کہ مسلم معاشرے کے ہر فرد کا نہ صرف یہ حق ہے، بلکہ یہ اس کا فرض بھی ہے کہ کلمۂ حق کہے‘ نیکی اوربھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کو روکنے میں اپنی امکانی حد تک پوری کوشش صرف کردے۔ قرآن مجید کی ہدایات اس باب میں یہ ہیں:
۱۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠ المائدہ2:5
نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔
۲۔ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًاo الاحزاب70:33
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اللہ سے ڈرو اور درست بات کرو۔
۳۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝۰ۚ النساء:135:4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو‘ خواہ تمھاری گواہی خود تمھارے اپنے خلاف یا تمھارے والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف پڑے۔
۴۔ اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُہُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ …… وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
التوبہ 71-67:9
منافق مرد اور عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں‘ وہ برائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے روکتے ہیں……اور مومن مرد اورمومن عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں‘ وہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔
قرآن میں اہل ایمان کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ:
الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ۝۰ۭ التوبہ112:9
نیکی کا حکم دینے والے‘ بدی سے منع کرنے والے اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس معاملے میں حسب ذیل ہیں:
۱۔ مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذَالِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔۱۵۰؎
تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اس کو ہاتھ سے بدل دے‘ اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے‘ اگر یہ بھی نہ کرسکے تو دل سے (برا سمجھے اور روکنے کی خواہش رکھے) اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔
۲۔ ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوُفٌ یَقُوْلُوْنَ مَالَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَالَا یُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاھَدَ ھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَ ھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوْ مُؤْمِنٌ وَلَیْسَ وَرَائَ ذَالِکَ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔۱۵۱؎
پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کی جگہ آئیں گے۔ کہیں گے وہ باتیں جو کریں گے نہیں اور کریں گے وہ کام جن کا انھیں حکم نہیں دیا گیا ہے۔ پس جو ان کے خلاف ہاتھ سے جدوجہد کرے وہ مومن ہے‘ اورجو ان کے خلاف زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو ان کے خلاف دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور اس سے کم تر ایمان کا ذرہ برابر بھی کوئی درجہ نہیں ہے۔
۳۔ اَفْضَلُ الْجِھَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ (اَوْحَقٍّ) عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ۔۱۵۲؎
سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی (یا حق کی) بات کہنا ہے۔
۴۔ اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُ الظَّالِمَ فَلَمْ یَاْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یَّعُمَّھُمُ اللہ بِعِقَابٍ مِّنْہُ۔۱۵۳؎
لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ ان پر عذاب عام بھیج دے۔
۵۔ اِنَّہ‘ سَتَکُوْنُ بَعْدِیْ اُمَرَائٌ مَنْ صَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھمْ اَوْ اَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْہُ۔۱۵۴؎
میرے بعد کچھ لوگ حکمران ہونے والے ہیں، جو ان کے جھوٹ میں ان کی تائید کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں۔
۶۔ سَیَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اَئِمَّۃٌ یَّمْلِکُوْنَ اَرْزَاقَکُمْ یُحَدِّ ثُوْنَکُمْ فَیَکْذِ بُوْنَکُمْ وَیَعْمَلُوْنَ فَیُسِیُٔوْنَ الْعَمَلَ لَایَرْضَوْنَ مِنْکُمْ حَتّٰی تُحَسِّنُوْا قَبِیْحَھُمْ وَ تُصَدِّقُوْا کَذِبَھُمْ فَاعْطُوْھُمُ الْحَقَّ مَارَضَوْا بِہٖ فَاِذَا تَجَاوَزُوْا فَمَنْ قُتِلَ عَلٰی ذٰلِکَ فَھُوَ شَھِیْدٌ۔۱۵۵؎
عنقریب تم پر ایسے لوگ حاکم ہوں گے جن کے ہاتھ میں تمھاری روزی ہو گی۔ وہ تم سے بات کریں گے تو جھوٹ بولیں گے اور کام کریں گے تو برے کام کریں گے۔ وہ تم سے اس وقت تک راضی نہ ہو ں گے جب تک تم ان کی برائیوں کی تعریف اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو۔ پس تم ان کے سامنے حق پیش کرو جب تک وہ اسے گوارا کریں۔ پھر اگر وہ اس سے تجاوز کریں تو جو شخص اس پر قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔
۷۔ مَنْ اَرْضٰی سُلْطَانًا بِمَا یَسْخَطُ رَبَّہ‘ خَرَجَ مِنْ دِیْنِ اللہ۔۱۵۶؎
جس نے کسی حاکم کو راضی کرنے کے لیے وہ بات کی جو اس کے رب کو ناراض کر دے وہ اللہ کے دین سے نکل گیا۔

۲۔ خلافتِ راشدہ

یہ ہیں وہ اصول حکمرانی جن پر دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حکومت کا نظام قائم ہوا اور چلا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کی حکومت انھی اصولوں پر قائم ہوئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست تعلیم و تربیت اور عملی رہنمائی سے جو معاشرہ وجود میں آیا تھا اس کا ہر فرد یہ جانتا تھا کہ اسلام کے احکام اور اس کی رُوح کے مطابق کس قسم کا نظام حکومت بننا چاہیے۔ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جانشینی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا‘ لیکن مسلم معاشرے کے لوگوں نے خود یہ جان لیا کہ اسلام ایک شوروی خلافت کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے وہاں نہ کسی خاندانی بادشاہی کی بنا ڈالی گئی‘ نہ کوئی شخص طاقت استعمال کرکے برسر اقتدار آیا‘ نہ کسی نے خلافت حاصل کرنے کے لیے خود کوئی دوڑ دھوپ یا برائے نام بھی کوئی کوشش کی‘ بلکہ یکے بعد دیگرے چار اصحابؓ کو لوگ اپنی آزاد مرضی سے خلیفہ بناتے چلے گئے۔ اس خلافت کو امت نے خلافتِ راشدہ (راست رو خلافت) قرار دیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں خلافت کا صحیح طرز یہی ہے۔
انتخابی خلافت
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو حضرت عمرؓ نے تجویز کیا اور مدینے کے تمام لوگوں نے‘ (جو درحقیقت اس وقت پورے ملک میں عملاً نمائندہ حیثیت رکھتے تھے) کسی دبائو یا لالچ کے بغیر خود اپنی رضا و رغبت سے انھیں پسند کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمرؓ کے حق میں وصیت لکھوائی اور پھر مسجدِ نبویؐ میں لوگوں کو جمع کرکے کہا:
کیا تم اس شخص پر راضی ہو جسے میں اپنا جانشین بنا رہا ہوں؟ خدا کی قسم! میں نے رائے قائم کرنے کے لیے اپنے ذہن پر زور ڈالنے میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور اپنے کسی رشتے دار کو نہیں، بلکہ عمرؓ بن الخطاب کو جانشین مقرر کیا ہے‘ لہٰذا تم ان کی سنو اور اطاعت کرو۔
اس پر لوگوں نے کہا:ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔۱۵۷؎
حضرت عمرؓ کی زندگی کے آخری سال حج کے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ:اگر عمرؓ کا انتقال ہوا تومیں فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا‘ کیونکہ ابوبکر ؓ کی بیعت بھی تو اچانک ہی ہوئی تھی اور آخر وہ کامیاب ہوگئی۔۱۵۸؎ حضرت عمرؓکو اس کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے کہا: میں اس معاملے پر ایک تقریر کروں گا اور عوام کو ان لوگوں سے خبردار کردوں گا جو ان کے معاملات پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کے ارادے کر رہے ہیں۔‘‘ چنانچہ مدینے پہنچ کر انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں اس قصے کا ذکر کیا اور بڑی تفصیل کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ کی سرگزشت بیان کر کے یہ بتایا کہ:
اس وقت مخصوص حالات تھے جن میں اچانک حضرت ابوبکرؓ کا نام تجویز کرکے میںنے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اس سلسلے میں انھوں نے فرمایا: اگر میں ایسا نہ کرتا اورخلافت کا تصفیہ کیے بغیر ہم لوگ مجلس سے اٹھ جاتے تو اندیشہ تھا کہ راتوں رات لوگ کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں اور ہمارے لیے اس پر راضی ہونا بھی مشکل ہو، اور بدلنا بھی مشکل۔ یہ فعل اگر کامیاب ہوا تو اسے آئندہ کے لیے نظیر نہیں بنایا جاسکتا۔ تم میں ابوبکرؓ جیسی بلند و بالا اور مقبول شخصیت کا آدمی اور کون ہے؟ اب اگر کوئی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی کے ہاتھ پر بیعت کرے گا تو وہ اور جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی‘ دونوں اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں گے۔۱۵۹؎
اپنے تشریح کردہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عمرؓ نے اپنی وفات کے وقت خلافت کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک انتخابی مجلس مقرر کی اور فرمایا: ’’جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بننے کی کوشش کرے اسے قتل کردو۔اس کے ساتھ انھوں نے اپنے بیٹے کو خلافت کے استحقاق سے صاف الفاظ میں مستثنیٰ کر دیا، تاکہ خلافت ایک موروثی منصب نہ بن جائے۔ ۱۶۰؎ یہ انتخابی مجلس اُن چھ اشخاص پر مشتمل تھی جو حضرت عمرؓ کے نزدیک قوم میں سب سے زیادہ بااثر اور مقبولِ عام تھے۔
اس مجلس نے آخر کار اپنے ایک رکن عبدالرحمانؓ بن عوف کو خلیفہ تجویز کرنے کا اختیار دے دیا۔ انھوں نے عام لوگوں میں چل پھر کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ عوام کا رجحان زیادہ تر کس شخص کی طرف ہے۔ حج سے واپس گزرتے ہوئے قافلوں سے بھی دریافت کیا، اور اس استصواب عام سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اکثر لوگ حضرت عثمانؓ کے حق میں ہیں۔۱۶۱؎ اسی بنیاد پر حضرت عثمانؓ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے اور مجمع عام میں ان کی بیعت ہوئی۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انھوں نے کہا: تمھیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ تو اہل شوریٰ اور اہل بدر کے کرنے کاکام ہے۔ جس کو اہل شوریٰ اور اہل بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ ہوگا۔ پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے۔۱۶۲؎ طبری کی روایت میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں:میری بیعت خفیہ طریقے سے نہیں ہوسکتی۔ یہ مسلمانوں کی مرضی سے ہی ہونی چاہیے۔۱۶۳؎
حضرت علیؓ کی وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کریں؟ آپؓ نے جواب میں کہا:میں نہ تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں‘ تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو۔۱۶۴؎ ایک شخص نے عین اس وقت جب کہ آپ اپنے صاحبزادوں کو آخری وصیت کر رہے تھے‘ عرض کیا کہ امیر المومنین آپ اپنا ولی عہد کیوں نہیں مقرر کر دیتے۔جواب میں فرمایا: میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔۱۶۵؎
ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے متعلق خلفائے راشدین اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا متفق علیہ تصوّر یہ تھا کہ یہ ایک انتخابی منصب ہے جسے مسلمانوں کے باہمی مشورے اور ان کی آزادانہ رضامندی سے قائم ہونا چاہیے۔ موروثی یا طاقت سے برسراقتدار آنے والی امارت اُن کی رائے میں صحیح نہ تھی۔
شوروی حکومت
یہ چاروں خلفا حکومت کے انتظام اور قانون سازی کے معاملے میں قوم کے اہل الرائے لوگوں سے مشورہ کیے بغیر کام نہیں کرتے تھے۔ سنن الدارمی میں حضرت میمون بن مہران کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا قاعدہ یہ تھا کہ جب ان کے پاس کوئی معاملہ آتا تو پہلے یہ دیکھتے تھے کہ اس معاملے میں کتاب اللہ کیا کہتی ہے۔ اگر وہاں کوئی حکم نہ ملتا تو یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملے میں کیا فیصلہ فرمایا ہے اور اگر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی کوئی حکم نہ ملتا تھا تو قوم کے سرکردہ اور نیک لوگوں کو جمع کرکے مشورہ کرتے تھے‘ پھر جو رائے بھی سب کے مشورے سے قرار پاتی تھی اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔۱۶۶؎یہی طرز عمل حضرت عمرؓ کا بھی تھا۔۱۶۷؎
مشورے کے معاملے میں خلفائے راشدین کا تصور یہ تھا کہ اہل شوریٰ کو پوری آزادی کے ساتھ اظہار رائے کرنے کا حق ہے۔ اس معاملے میں خلافت کی پالیسی کو حضرت عمرؓ نے ایک مجلسِ مشاورت کی افتتاحی تقریر میں یوں بیان فرمایا ہے:
میں نے آپ لوگوں کو جس غرض کے لیے تکلیف دی ہے، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مجھ پر آپ کے معاملات کی امانت کا جو بار ڈالا گیا ہے اُسے اٹھانے میں آپ میرے ساتھ شریک ہوں۔ میں آپ ہی کے افراد میں سے ایک فرد ہوں اور آج آپ ہی وہ لوگ ہیں جو حق کا اقرار کرنے والے ہیں۔ آپ میں سے جس کا جی چاہے مجھ سے اختلاف کرے اور جس کا جی چاہے میرے ساتھ اتفاق کرے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ میری خواہش کی پیروی کریں۔۱۶۸؎
بیت المال کے امانت ہونے کا تصور
بیت المال کو وہ خدا اور خلق (public)کی امانت سمجھتے تھے۔ اس میں قانون کے خلاف کچھ آنے کو اور اس میں سے کچھ خرچ ہونے کو وہ جائز نہ رکھتے تھے۔ فرماںروائوں کی ذاتی اغراض کے لیے اس کا استعمال ان کے نزدیک حرام تھا۔ حضرت ابوبکرؓ جس روز خلیفہ ہوئے اس کے دوسرے دن کندھے پر کپڑے کے تھان رکھ کر بیچنے کے لیے نکلے (خلافت سے پہلے یہی ان کا ذریعۂ معاش تھا)۔ راستے میں حضرت عمرؓ ملے۔ انھوں نے کہا یہ آپ کیا کرتے ہیں؟ جواب دیا‘ اپنے بال بچوں کو کہاں سے کھلائوں۔ انھوں نے کہا: اب آپ کے اوپر مسلمانوں کی سربراہ کاری کا بار آپڑا ہے۔یہ کام اس کے ساتھ نہیں نبھ سکتا۔ چلیے‘ ابوعبیدہؓ (ناظم بیت المال) سے مل کر بات کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ سے گفتگو کی گئی۔ انھوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مہاجرین میں سے ایک عام آدمی کی آمدنی کا معیار سامنے رکھ کر ایک وظیفہ مقرر کیے دیتے ہیں، جو نہ ان کے سب سے زیادہ دولت مند کے برابر ہوگا، نہ سب سے غریب کے برابر۔ اس طرح ان کے لیے ایک وظیفہ مقرر کر دیا گیا جو تقریباً چار ہزار درہم سالانہ تھا، مگر جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے وصیت کی کہ میرے ترکے میں سے ۸ ہزار درہم بیت المال کو واپس کر دیے جائیں۔ یہ مال جب حضرت عمرؓ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے کہا: خدا ابوبکرؓ پر رحمت فرمائے‘ اپنے بعد آنے والوں کو انھوںنے مشکل میں ڈال دیا۔۱۶۹؎
حضرت عمرؓ اپنی ایک تقریر میں بیان کرتے ہیں کہ بیت المال میں خلیفہ کا کیا حق ہے:
میرے لیے اللہ کے مال میں سے اس کے سوا کچھ حلال نہیں ہے کہ ایک جوڑا کپڑا گرمی کے لیے اور ایک جاڑے کے لیے اور قریش کے ایک اوسط آدمی کے برابر معاش اپنے گھر والوں کے لیے لے لوں۔ پھر میں بس ایک آدمی ہوں مسلمانوں میں سے۔۱۷۰؎
ایک اور تقریر میں وہ فرماتے ہیں:
میں اس مال کے معاملے میں تین باتوں کے سوا کسی چیز کو صحیح نہیں سمجھتا: حق کے ساتھ لیا جائے۔ حق کے مطابق دیا جائے اور باطل سے اس کو روکا جائے۔ میرا تعلق تمھارے اس مال کے ساتھ وہی ہے جو یتیم کے ولی کا تعلق یتیم کے مال کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر میں محتاج نہ ہوں تو اس میں سے کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاج ہوں تو معروف طریقے پر کھائوں گا۔۱۷۱؎
حضرت علیؓ کا جس زمانے میں حضرت معاویہؓ سے مقابلہ درپیش تھا‘ لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ جس طرح حضرت معاویہؓ لوگوں کو بے تحاشا انعامات اور عطیے دے دے کر اپنا ساتھی بنا رہے ہیں آپ بھی بیت المال کا منہ کھولیں اور روپیہ بہا کر اپنے حامی پیدا کریں، مگر انھوں نے یہ کہہ کر ایسا کرنے سے انکار کردیا کہ کیا تم چاہتے ہو میں ناروا طریقوں سے کامیابی حاصل کروں؟۱۷۲؎ ان سے خود ان کے بھائی حضرت عقیلؓ نے چاہا کہ وہ بیت المال سے ان کو روپیہ دیں‘ مگر انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ: کیا تم چاہتے ہو کہ تمھارا بھائی مسلمانوں کا مال تمھیں دے کر جہنم میں جائے؟۱۷۳؎
حکومت کا تصور
ان لوگوں کا تصور حکومت کیا تھا‘ فرماںروا ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے مقام اور اپنے فرائض کے متعلق کیا خیالات رکھتے تھے اور اپنی حکومت میں کس پالیسی پر عامل تھے؟ ان چیزوں کو انھوں نے خود خلافت کے منبر سے تقریریں کرتے ہوئے برسرعام بیان کر دیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کی پہلی تقریر جو انھوں نے مسجدِ نبویؐ میں عام بیعت کے بعد کی‘ اس میں وہ کہتے ہیں:
میں آپ لوگوں پر حکمران بنایا گیا ہوں حالانکہ میں آپ کا سب سے بہتر آدمی نہیں ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ میں نے یہ منصب اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا ہے۔ نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ مجھے ملے۔ نہ میں نے کبھی خدا سے اس کے لیے دعا کی۔ نہ میرے دل میں کبھی اس کی حرص پیدا ہوئی۔ میں نے تو اسے بادلِ نخواستہ اس لیے قبول کیا ہے کہ مجھے مسلمانوں میں فتنۂ اختلاف اور عرب میں فتنۂ ارتداد برپا ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ میرے لیے اس منصب میں کوئی راحت نہیں ہے‘ بلکہ یہ ایک بارِ عظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے‘ جس کے اٹھانے کی طاقت مجھ میں نہیں ہے‘ اِلاَّیہ کہ اللہ ہی میری مدد فرمائے۔ میں یہ چاہتا تھا کہ میرے بجائے کوئی اور یہ بار اٹھالے۔ اب بھی اگر آپ لوگ چاہیں تو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی اور کو اس کام کے لیے چن لیں‘ میری بیعت آپ کے راستے میں حائل نہ ہوگی۔ آپ لوگ اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیار پر جانچیں گے اور مجھ سے وہ توقعات رکھیں گے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رکھتے تھے تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا‘ کیونکہ وہ شیطان سے محفوظ تھے اور ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی تھی۔ اگر میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کیجیے‘ اگر غلط کام کروں تو مجھے سیدھا کر دیجیے۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تمھارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے، یہاں تک کہ میں اس کا حق اسے دلوائوں اگر خدا چاہے اور تم میں سے جو طاقت ور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں اگر خدا چاہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی قوم اللہ کی راہ میں جدوجہد چھوڑ دے اور اللہ اُس پر ذلت مسلط نہ کر دے اور کسی قوم میں فواحش پھیلیں اور اللہ اس کو عام مصیبت میں مبتلا نہ کر دے۔ میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع رہوں اور اگر میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔ میں پیروی کرنے والا ہوں‘ نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔۱۷۴؎
حضرت عمرؓ اپنے ایک خطبے میں کہتے ہیں:
لوگو! کوئی حق والا اپنے حق میں اس مرتبے کو نہیں پہنچا ہے کہ اللہ کی معصیت میں اس کی اطاعت کی جائے…… لوگو! مجھ پر تمھارے جو حقوق ہیں وہ میں تم سے بیان کیے دیتا ہوں‘ ان پر تم مجھے پکڑ سکتے ہو۔ مجھ پر تمھارا یہ حق ہے کہ میں تمھارے خراج یا اللہ کے عطا کردہ فے میں سے کوئی چیز نہ وصول کروں، مگر قانون کے مطابق اور مجھ پر تمھارا یہ حق ہے کہ جو کچھ مال اس طرح میرے پاس آئے ان میں سے کچھ نہ نکلے، مگر حق کے مطابق۔۱۷۵؎
حضرت ابوبکرؓ جب شام و فلسطین کی مہم پر حضرت عمرؓو بن العاص کو روانہ کر رہے تھے‘ اس وقت انھوں نے جو ہدایات ان کو دیں، ان میں وہ فرماتے ہیں:
اے عمرو! اپنے کھلے اور چھپے ہر کام میں خدا سے ڈرتے رہو، اور اس سے حیا کرو‘ کیونکہ وہ تمھیں اور تمھارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے…… آخرت کے لیے کام کرو اور اپنے ہر عمل میں خدا کی رضا کو پیشِ نظر رکھو۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس طرح پیش آئو جیسے وہ تمھاری اولاد ہیں۔ لوگوں کے راز نہ ٹٹولو اور ان کے ظاہر پر ہی ان سے معاملہ کرو…… اپنے آپ کو درست رکھو۔ تمھاری رعیت بھی درست رہے گی۔۱۷۶؎
حضرت عمرؓ جن لوگوں کو عامل بنا کر کہیں بھیجتے تھے ان کو خطاب کرکے کہتے:
میں تم لوگوں کو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس لیے عامل مقرر نہیں کر رہا ہوں کہ تم ان کے بالوں اور ان کی کھالوں کے مالک بن جائو، بلکہ میں اس لیے تمھیں مقرر کرتا ہوں کہ تم نماز قائم کرو‘ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو، اور عدل کے ساتھ ان کے حقوق تقسیم کرو۔۱۷۷؎
ایک مرتبہ انھوں نے برسر عام اعلان کیا کہ:میں نے اپنے عاملوں کو اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ وہ تم لوگوں کو پیٹیں اور تمھارے مال چھینیں‘ بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تمھیں تمھارا دین اور تمھارے نبیؐ کا طریقہ سکھائیں۔ جس شخص کے ساتھ اس کے خلاف عمل کیا گیا ہو، وہ میرے پاس شکایت لائے۔ خدا کی قسم میں اس سے بدلہ لوں گا۔ اس پر حضرت عمرؓو بن العاص (مصر کے گورنر) نے اٹھ کر کہا:اگر کوئی شخص مسلمانوں کا والی ہو، اور تادیب کی غرض سے کسی کو مارے تو کیا آپ اس سے بدلہ لیں گے؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا:ہاں‘ خدا کی قسم! میں اُس سے بدلہ لوں گا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات سے بدلہ دیتے دیکھا ہے۔۱۷۸؎
ایک اور موقع پر حضرت عمرؓ نے اپنے تمام گورنروں کو حج میں طلب کیا اور مجمع عام میں کھڑے ہو کر کہا کہ ان لوگوں کے خلاف جس شخص کو کسی ظلم کی شکایت ہو وہ پیش کرے۔ پورے مجمعے میں سے صرف ایک شخص اٹھا اور اس نے عمروؓ بن العاص کی شکایت کی کہ انھوں نے ناروا طور پر مجھے سوکوڑے لگوائے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا اٹھو اور ان سے اپنا بدلہ لو۔ عمروؓ بن العاص نے احتجاج کیا کہ آپ گورنروں پر یہ دروازہ نہ کھولیں، مگر انہوں نے کہا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنے آپ سے بدلہ دیتے دیکھا ہے‘ اے شخص اٹھ اور اپنا بدلہ لے لے۔ آخر کار عمروؓ بن العاص کو ہر کوڑے کے بدلے دو اشرفیاں دے کر اپنی پیٹھ بچانی پڑی۔۱۷۹؎
قانون کی بالاتری
یہ خلفا اپنی ذات کو بھی قانون سے بالاتر نہیں رکھتے تھے، بلکہ قانون کی نگاہ میں اپنے آپ کو اور مملکت کے ایک عام شہری (مسلمان ہو یا ذمی) کو مساوی قرار دیتے تھے۔ قاضیوں کو اگرچہ رئیس مملکت ہونے کی حیثیت سے وہی مقرر کرتے تھے‘ مگر ایک شخص قاضی ہو جانے کے بعد خود ان کے خلاف فیصلہ دینے میں بھی ویسا ہی آزاد تھا جیسا کسی عام شہری کے معاملے میں۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ اور حضرت اُبیّ بن کعبؓ کا ایک معاملے میں اختلاف ہوگیا اور دونوں نے حضرت زید بن ثابتؓ کو حَکم بنایا۔ فریقین زید کے پاس حاضر ہوئے۔ زید نے اٹھ کر حضرت عمرؓ کو اپنی جگہ بٹھانا چاہا‘ مگر حضرت عمرؓ حضرت اُبیؓ کے ساتھ بیٹھے۔ پھر حضرت اُبیّ نے اپنا دعویٰ پیش کیا اور حضرت عمرؓ نے دعوے سے انکار کیا۔ قاعدے کے مطابق حضرت زیدؓکو حضرت عمرؓسے قسم لینی چاہیے تھی‘ مگر انھوں نے ان سے قسم لینے میں تامل کیا۔ حضرت عمرؓ نے خود قسم کھائی‘ اور اس مجلس کے خاتمے پر کہا: زید قاضی ہونے کے قابل نہیں ہوسکتے جب تک کہ عمرؓ اور ایک عام مسلمان ان کے نزدیک برابر نہ ہو۔۱۸۰؎
ایسا ہی معاملہ حضرت علیؓ کا ایک عیسائی کے ساتھ پیش آیا جس کو انھوں نے کوفہ کے بازار میں اپنی گم شدہ زرہ بیچتے ہوئے دیکھا تھا۔ انھوں نے امیر المومنین ہونے کی حیثیت سے اپنی زرہ اس سے چھین نہیں لی، بلکہ قاضی کے پاس استغاثہ کیا اور چونکہ وہ کوئی شہادت پیش نہ کرسکے، اس لیے قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا۔۱۸۱؎
ابن خلکان کی روایت ہے کہ ایک مقدمے میں حضرت علیؓ اور ایک ذمی، فریقین کی حیثیت سے قاضی شریح کی عدالت میں حاضر ہوئے۔ قاضی نے اٹھ کر حضرت علیؓ کا استقبال کیا۔ اس پر انھوں نے فرمایا:یہ تمھاری پہلی بے انصافی ہے۔۱۸۲؎
عصبیتوں سے پاک حکومت
اسلام کے ابتدائی دور کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ اس زمانے میں ٹھیک ٹھیک اسلام کے اصول اور اس کی روح کے مطابق قبائلی‘ نسلی اور وطنی عصبیتوں سے بالاتر ہو کر تمام لوگوں کے درمیان یکساں سلوک کیا گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب کی قبائلی عصبیتیں ایک طوفان کی طرح اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ مدعیانِ نبوت کے ظہور اور ارتداد کی تحریک میں یہی عامل سب سے زیادہ مؤثر تھا۔ مسیلمہ کے ایک پیرو کا قول تھا کہ: میں جانتا ہوں کہ مسیلمہ جھوٹا ہے‘ مگر ربیعہ کا جھوٹا مضر کے سچے سے اچھا ہے۔۱۸۳؎
ایک دوسرے مدعی نبوت طلیحہ کی حمایت میں بنی غطفان کے ایک سردار نے کہا تھا کہ خدا کی قسم! اپنے حلیف قبیلوں کے ایک نبی کی پیروی کرنا قریش کے نبی کی پیروی سے مجھ کو زیادہ محبوب ہے۔۱۸۴؎ مگر اس ماحول میں جب حضرت ابوبکرؓ (۱۱ھ۔۱۳ھ، ۶۳۲ء۔۶۳۴ء) اور ان کے بعد حضرت عمرؓ(۱۳ھ۔۲۴ھ،۶۳۴۔۶۴۵ء) نے بے لاگ اور غیر متعصبانہ طریقے سے نہ صرف تمام عرب قبائل‘ بلکہ غیر عرب نو مسلموں کے ساتھ بھی منصفانہ برتائو کیا اور خود اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے سے قطعی مجتنب رہے تو ساری عصبیتیں دب گئیں اور مسلمانوں میں وہ بین الاقوامی روح ابھر آئی جس کا اسلام تقاضا کرتا تھا۔ اس لحاظ سے ان دونوں خلفا کا طرز عمل درحقیقت مثالی تھا۔
حضرت عمرؓ کو اپنے آخر زمانے میں اس بات کا خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ان کے بعد عرب کی یہ قبائلی عصبیتیں (جو اسلامی تحریک کے زبردست انقلابی اثر کے باوجود بالکل ختم نہیں ہوگئی تھیں) پھر نہ جاگ اٹھیں اور ان کے نتیجے میں اسلام کے اندر فتنے برپا ہوں۔ چنانچہ ایک مرتبہ اپنے امکانی جانشینوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے حضرت عثمانؓ کے متعلق کہا:اگر میں ان کو اپنا جانشین تجویز کروں تو وہ بنی ابی معیط (بنی امیہ) کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیں گے اور وہ لوگوں میں اللہ کی نافرمانیاں کریں گے۔ خدا کی قسم! اگر میں نے ایسا کیا تو عثمانؓ یہی کریں گے‘ اور اگر عثمانؓ نے یہ کیا تو وہ لوگ ضرور معصیتوں کا ارتکاب کریں گے اور عوام شورش برپا کرکے عثمانؓ کو قتل کر دیں گے۔۱۸۵؎ اسی چیز کا خیال ان کو اپنی وفات کے وقت بھی تھا۔ چنانچہ آخری وقت میں انھوں نے حضرت علیؓ ‘حضرت عثمانؓ اور حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کو بلاکر ہر ایک سے کہا کہ اگر میرے بعد تم خلیفہ ہو تو اپنے قبیلے کے لوگوں کو عوام کی گردنوں پر سوار نہ کردینا۔۱۸۶؎مزید برآں چھ آدمیوں کی انتخابی شوریٰ کے لیے انھوں نے جو ہدایات چھوڑیں ان میں دوسری شرطوں کے ساتھ ایک شرط یہ بھی شامل کی کہ منتخب خلیفہ سے عہد لیا جائے کہ وہ اپنے قبیلے کے ساتھ کوئی امتیازی برتائو نہ کرے گا۱۸۷؎ مگر بدقسمتی سے خلیفۂ ثالث حضرت عثمانؓ (۲۴ھ۔۳۵ھ،۶۴۵ء۔۶۵۵ء) اس معاملے میں معیارِ مطلوب کو قائم نہ رکھ سکے۔ ان کے عہد میں بنی امیہ کو کثرت سے بڑے بڑے عہدے اور بیت المال سے وظیفے دیے گئے اور دوسرے قبیلے اسے تلخی کے ساتھ محسوس کرنے لگے۔ ان کے نزدیک یہ صلہ رحمی کا تقاضا تھا۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ:عمر خدا کی خاطر اپنے اقربا کو محروم کرتے تھے اور میں خدا کی خاطر اپنے اقربا کو دیتا ہوں۔۱۸۸؎ابوبکر و عمر بیت المال کے معاملے میں اس بات کو پسند کرتے تھے کہ خود بھی خستہ حال رہیں اور اپنے اقربا کو بھی اسی حالت میں رکھیں، مگر میں اس میں صلہ رحمی کرنا پسند کرتا ہوں۔۱۸۹؎اس کا نتیجہ آخر کار وہی ہوا جس کا حضرت عمرؓ کو اندیشہ تھا۔ ان کے خلاف شورش برپا ہوئی اور صرف یہی نہیں کہ وہ خود شہید ہوئے‘ بلکہ قبائلیت کی دبی ہوئی چنگاریاں پھر سلگ اٹھیں جن کا شعلہ خلافتِ راشدہ کے نظام ہی کو پھونک کر رہا۔
حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ (۳۵ھ۔۴۰ھ‘ ۶۵۵۔۶۶۰ء) نے پھر اس معیار پر کام کرنے کی کوشش کی جو حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے قائم کیا تھا۔ وہ قبائلی تعصب سے بالکل پاک تھے۔ حضرت معاویہؓ کے والد حضرت ابوسفیانؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے وقت ان کے اندر اس تعصب کی روح کو ابھارنے کی کوشش کی تھی‘ مگر انھوں نے یہ راہ اختیار کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ ابوسفیانؓ نے ان سے کہا تھا کہ:قریش کے سب سے چھوٹے قبیلے کا آدمی (ابوبکرؓ) کیسے خلیفہ بن گیا‘ تم اٹھنے کے لیے تیار ہو تو میں وادی کو سواروں اور پیدلوں سے بھردوں، مگر انھوں نے صاف جواب دے دیا کہ: تمھاری یہ بات اسلام اور اہلِ اسلام کی دشمنی پر دلالت کرتی ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ تم کوئی سوار اور پیادے لائو۔ مسلمان سب ایک دوسرے کے خیر خواہ اور آپس میں محبت کرنے والے ہوتے ہیں‘ خواہ ان کے دیار اور ان کے اجسام ایک دوسرے سے کتنے ہی دور ہوں، البتہ منافقین ایک دوسرے کی کاٹ کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہم ابوبکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اہل نہ ہوتے تو ہم لوگ کبھی انھیں اس پر مامور نہ ہونے دیتے۔۱۹۰؎
یہی حضرت علیؓ کا نقطۂ نظر خلیفہ ہونے کے بعد بھی رہا۔ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ٹھیک اسلامی اصول کے مطابق عربی اور عجمی‘ شریف اور وضیع‘ ہاشمی اور غیر ہاشمی‘ سب کے ساتھ یکساں انصاف کا معاملہ کرنا شروع کیا اور کسی گروہ کو کسی دوسرے گروہ کے مقابلے میں ایسے ترجیحی سلوک سے نوازنا پسند نہ کیا جو دوسرے گروہوں میں رشک و رقابت کے جذبات ابھار دینے والا ہو۔
رُوحِ جمہوریت
اس خلافت کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ اس میں تنقید اور اظہار رائے کی پوری آزادی تھی اور خلفا ہر وقت اپنی قوم کی دسترس میں تھے۔ وہ خود اپنے اہلِ شوریٰ کے درمیان بیٹھتے اور مباحثوں میں حصہ لیتے تھے۔ ان کی کوئی سرکاری پارٹی نہ تھی‘ نہ ان کے خلاف کسی پارٹی کا کوئی وجود تھا۔ آزادانہ فضا میں ہر شریکِ مجلس اپنے ایمان و ضمیر کے مطابق رائے دیتا تھا۔ تمام معاملات اہلِ حل و عقد کے سامنے بے کم و کاست رکھ دیے جاتے اور کچھ چھپا کر نہ رکھا جاتا۔ فیصلے دلیل کی بنیاد پر ہوتے تھے، نہ کہ کسی کے رعب و اثر‘ یا کسی کے مفاد کی پاس داری‘ یا کسی جتھہ بندی کی بنیاد پر۔ پھر یہ خلفا اپنی قوم کا سامنا صرف شوریٰ کے واسطے ہی سے نہ کرتے تھے‘ بلکہ براہ راست ہر روز پانچ مرتبہ نماز باجماعت میں‘ ہر ہفتے ایک دفعہ جمعہ کے اجتماع میں‘ ہر سال عیدین اور حج کے اجتماعات میں ان کو قوم سے اور قوم کو ان سے سابقہ پیش آتا تھا۔ ان کے گھر عوام کے درمیان تھے اور کسی حاجب و دربان کے بغیر ان کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ وہ بازاروں میں کسی محافظ دستے اور ہٹو بچو کے اہتمام کے بغیر عوام کے درمیان چلتے پھرتے تھے۔ ان تمام مواقع پر ہر شخص کو انھیں ٹوکنے‘ ان پر تنقید کرنے اور ان سے محاسبہ کرنے کی کھلی آزادی تھی اور اس آزادی کے استعمال کی وہ محض اجازت ہی نہ دیتے تھے‘ بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی خلافت کی پہلی ہی تقریر میں‘ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے‘ علی الاعلان کہہ دیا تھا کہ: اگر میں سیدھا چلوں تو میری مدد کرو‘ اگر ٹیڑھا ہو جائوں تو مجھے سیدھا کر دو۔
حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں اس رائے کا ظہار کیا کہ کسی شخص کو نکاح میں چار سو درہم سے زیادہ مہر باندھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ایک عورت نے انھیں وہیں ٹوک دیا کہ آپ کو ایسا حکم دینے کا حق نہیں ہے۔ قرآن‘ ڈھیرسا مال (قِنْطار)‘ مہر میں دینے کی اجازت دیتا ہے۔ آپ اس کی حد مقرر کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فوراً اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔۱۹۱؎ ایک اور موقع پر بھر ے مجمعے میں حضرت سلمان فارسیؓ نے ان سے محاسبہ کیا کہ سب کے حصے میں ایک ایک چادر آئی ہے۔آپ نے دو چادریں کیسے لے لیں۔ حضرت عمرؓ نے اسی وقت اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کی شہادت پیش کر دی کہ دوسری چادر انھوں نے اپنے والد کو مستعار دی ہے۔۱۹۲؎ ایک دفعہ اپنی مجلس میں انھوں نے لوگوں سے پوچھا: اگر میں بعض معاملات میں ڈھیل اختیار کرلوں تو تم کیا کرو گے۔ حضرت بشر بن سعدؓ نے کہا: اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو تیر کی طرح سیدھا کر دیں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تب تو تم کام کے لوگ ہو۔۱۹۳؎ سب سے زیادہ سخت تنقیدوں سے حضرت عثمانؓ کو سابقہ پیش آیا اور انھوں نے کبھی کسی کا منہ زبردستی بند کرنے کی کوشش نہ کی‘ بلکہ ہمیشہ اعتراضات اور تنقیدوں کے جواب میں برسرعام اپنی صفائی پیش کی۔
حضرت علیؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں خوارج کی انتہائی بدزبانیوں کو بڑے ٹھنڈے دل سے برداشت کیا۔ ایک مرتبہ پانچ خارجی ان کے پاس گرفتار کرکے لائے گئے جو علی الاعلان ان کو گالیاں دے رہے تھے اور ان میں سے ایک برسرعام کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں علیؓ کو قتل کر دوں گا، مگر حضرت علیؓ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور اپنے آدمیوں سے فرمایا کہ ان کی بدزبانی کا جواب تم چاہو تو بدزبانی سے دے لو‘ مگر جب تک وہ عملاً کوئی باغیانہ کارروائی نہیں کرتے، محض زبانی مخالفت کوئی ایسا جرم نہیں ہے جس کی وجہ سے ان پر ہاتھ ڈالا جائے۔۱۹۴؎
خلافت ِ راشدہ کا یہ دور جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے‘ ایک روشنی کا مینار تھا جس کی طرف بعد کے تمام ادوار میں فقہا و محدثین اور عام دین دار مسلمان ہمیشہ دیکھتے رہے اور اسی کو اسلام کے مذہبی‘ سیاسی‘ اخلاقی اور اجتماعی نظام کے معاملے میں معیار سمجھتے رہے۔


باب ۱۰

جنوری ۱۹۵۸ء میں لاہور میں بین الاقوامی اسلامی مجلس مذاکرہ کا اجتماع منعقد ہوا تھا جس میں مغربی مستشرقین اور اسلامی دنیا کے مفکرین نے شرکت کی تھی۔ اس اجتماع کی ایک نشست (منعقدہ ۳۰ /جنوری ۱۹۵۸ء) میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے قانون سازی اور اجتہاد کے موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا تھا۔ چونکہ یہ مقالہ بھی اسلامی ریاست کے ایک اہم پہلو____ یعنی اس میں قانون سازی کے دائرۂ عمل ____ سے بحث کرتا ہے‘ اس لیے اسے بھی اس مجموعے میں شامل کیا جارہا ہے۔ مقالے کے اخیر میں وہ جوابات بھی شامل کیے جارہے ہیں جو اس پر ایک ’تجدد پسند‘ بزرگ کے اعتراضات کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ نے دیے تھے اور اس کے ساتھ ہی دوسری بحثیں بھی پیش کی جارہی ہیں جو تعبیرِ قانون کے مسئلے سے قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ (مرتب)

۱۔ اسلام میں قانون سازی کا دائرۂ عمل اور اس میں اجتہاد کا مقام

اسلام میں قانون سازی کا دائرۂ عمل کیا ہے اور اس میں اجتہاد کا کیا مقام ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دو باتیں واضح طور پر ہماری نگاہ میں رہیں:
٭ اول یہ کہ اسلام میں حاکمیت خالصتہً اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی گئی ہے۔ قرآن عقیدۂ توحید کی جو تشریح کرتا ہے اس کی رو سے خدائے وحدہ لاشریک صرف مذہبی معنوں میں معبود ہی نہیں ہے، بلکہ سیاسی اور قانونی مفہوم کے لحاظ سے حاکم‘ مطاع‘ امر و نہی کا مختار اور واضع قانون بھی ہے۔ خدا کی اس قانونی حاکمیت (legal sovereignty)کو قرآن اتنی ہی وضاحت اور اتنے ہی زور سے پیش کرتا ہے جس کے ساتھ اس نے خدا کی مذہبی معبودیت کا عقیدہ پیش کیا ہے۔ اس کے نزدیک خدا کی یہ دونوں حیثیتیں اس کی الوہیت کے لازمی تقاضے ہیں جن کو ایک دوسرے سے منفک نہیں کیا جاسکتا اور ان میں سے جس کا بھی انکار کیا جائے وہ لازماً خدا کی الوہیت کا انکار ہے۔ پھر وہ اس شبہے کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ شاید قانونِ خداوندی سے مراد قانونِ فطرت ہو۔ اس کے برعکس وہ اپنی ساری دعوت ہی اس بنیاد پر اٹھاتا ہے کہ انسان کو اپنی اخلاقی اور اجتماعی زندگی میں خدا کے اس قانون شرعی کو تسلیم کرنا چاہیے جو اس نے اپنے انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ اسی قانون شرعی کو ماننے اور اس کے مقابلے میں اپنی خود مختاری سے دست بردار ہو جانے کا نام وہ ’اسلام‘ (surrender) رکھتا ہے اور صاف صاف الفاظ میں انسان کے اس حق کا انکار کرتا ہے کہ جن معاملات کا فیصلہ خدا اور اس کے رسولؐ نے کر دیا ہو، اُن میں وہ خود اپنی رائے سے کوئی فیصلہ کرے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًاo الاحزاب 36:33
٭ دوسری بات‘ جو اسلام میں اتنی ہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے جتنی کہ توحید اِلٰہ‘ یہ ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ درحقیقت یہی وہ چیز ہے جس کی بدولت توحید الٰہ کا عقیدہ مجرد تخیل سے ایک عملی نظام کی شکل اختیار کرتا ہے اور اسی پر اسلام کے پورے نظام زندگی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اس عقیدے کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے تمام سابق انبیاء علیہم السلام کی لائی ہوئی تعلیمات‘ بہت سے اہم اضافوں کے ساتھ‘ اس تعلیم میں جمع ہوگئی ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے‘ اس لیے خدائی ہدایت اور تشریع کا مستند ماخذ اب صرف یہی ایک ہے‘ اور آئندہ کوئی مزید ہدایت اور تشریع آنے والی نہیں ہے جس کی طرف انسان کو رجوع کرنے کی ضرورت ہو۔ یہی محمدی تعلیم وہ بالاتر قانون (supreme law)ہے جو حاکم اعلیٰ کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ قانون، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو دو شکلوں میں ملا ہے۔ ایک: قرآن جو لفظ بلفظ خداوند عالم کے احکام و ہدایت پر مشتمل ہے۔ دوسرے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ‘ یا آپؐ کی سنت‘ جو قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح کرتی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے سوا اُن کا کوئی کام نہ ہوتا۔ وہ اس کے مقرر کیے ہوئے رہنما‘ حاکم اور معلم بھی تھے۔ ان کاکام یہ تھا کہ اپنے قول اور عمل سے قانونِ الٰہی کی تشریح کریں‘ اس کا صحیح منشا سمجھائیں‘ اس کے منشا کے مطابق افراد کی تربیت کریں‘ پھر تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دے کر معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کریں‘ پھر اس اصلاح شدہ معاشرے کو ایک صالح و مصلح ریاست کی صورت دے کر یہ دکھلا دیں کہ اسلام کے اصولوں پر ایک مکمل تہذیب کا نظام کس طرح قائم ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پورا کام جو ۲۳ سال کی پیغمبرانہ زندگی میں آپؐ نے انجام دیا‘ وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے اور اسی قانونِ برتر کا نام اسلامی اصطلاح میں ’شریعت‘ ہے۔
قانون سازی کا دائرۂعمل
بادی النظر میں ایک آدمی ان بنیادی حقیقتوں کو سن کر یہ گمان کرسکتا ہے کہ اس صورت میں تو ایک اسلامی ریاست میں اسلامی قانون سازی کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے‘ کیونکہ یہاں تو قانون ساز صرف خدا ہے اور مسلمانوں کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس پیغمبر کے دیے ہوئے قانونِ خداوندی کی پیروی کریں۔ لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ اسلام قانون سازی کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اسے خدائی قانون کی بالاتری سے محدود کرتا ہے۔ اس بالاتر قانون کے تحت اور اس کے قائم کیے ہوئے حدود کے اندر‘ انسانی قانون سازی کا دائرۂ عمل کیا ہے‘ اس کو میں یہاں مختصر الفاظ میں بیان کروں گا:
تعبیر ِ احکام
انسانی زندگی کے معاملات میں سے ایک قسم کے معاملات وہ ہیں جن میں قرآن اور سنت نے کوئی واضح اور قطعی حکم دیا ہے‘ یا کوئی خاص قاعدہ مقرر کر دیا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں کوئی فقیہ‘ کوئی قاضی‘ کوئی قانون ساز ادارہ‘ شریعت کے دیے ہوئے حکم‘ یا اس کے مقرر کیے ہوئے قاعدے کو نہیں بدل سکتا۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان میں قانون سازی کے لیے کوئی مجال کار ہے ہی نہیں۔ انسانی قانون سازی کا دائرۂ عمل ان معاملات میں یہ ہے کہ سب سے پہلے ٹھیک ٹھیک معلوم کیا جائے کہ حکم فی الواقع ہے کیا‘ پھر اس کا منشا اور مفہوم متعین کیا جائے اور یہ تحقیق کیا جائے کہ یہ حکم کن حالات اور واقعات کے لیے ہے۔ پھر عملاً پیش آنے والے مسائل پر ان کے انطباق کی صورتیں اور مجمل احکام کی جزئی تفصیلات طے کی جائیں اور ان سب امور کے ساتھ یہ بھی مشخص کیا جائے کہ استثنائی حالات و واقعات میں ان احکام و قواعد سے ہٹ کر کام کرنے کی گنجایش کہاں اور کس حد تک ہے۔
قیاس
دوسری قسم کے معاملات وہ ہیں جن کے بارے میں شریعت نے کوئی حکم نہیں دیا ہے‘ مگر ان سے ملتے جلتے معاملات کے متعلق وہ ایک حکم دیتی ہے۔ اس دائرے میں قانون سازی کا عمل اس طرح ہوگا کہ احکام کی علتوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر ان تمام معاملات میں ان کو جاری کیا جائے گا جن میں وہ علتیں فی الواقع پائی جاتی ہوں اور ان تمام معاملات کو ان سے مستثنیٰ ٹھیرایا جائے گا جن میں درحقیقت وہ علتیں نہ پائی جاتی ہوں۔
استنباط
ایک اور قسم ان معاملات کی ہے جن میں شریعت نے متعین احکام نہیں، بلکہ کچھ جامع اصول دیے ہیں، یا شارع کا یہ منشا ظاہر کیا ہے کہ کیا چیز پسندیدہ ہے جسے فروغ دینا مطلوب ہے اور کیا چیز ناپسندیدہ ہے جسے مٹانا مطلوب ہے۔ ایسے معاملات میں قانون سازی کاکام یہ ہے کہ شریعت کے ان اصولوں کو اور شارع کے اس منشا کو سمجھا جائے اور عملی مسائل میں ایسے قوانین بنائے جائیں جو ان اصولوں پر مبنی ہوں اور شارع کے منشا کو پورا کرتے ہوں۔
آزادانہ قانون سازی کا دائرہ
ان کے علاوہ ایک بہت بڑی قسم ان معاملات کی ہے جن کے بارے میں شریعت بالکل خاموش ہے‘ نہ براہ راست ان کے متعلق کوئی حکم دیتی ہے اور نہ ان سے ملتے جلتے معاملات ہی کے متعلق کوئی ہدایت اس میں ملتی ہے کہ ان کو اس پر قیاس کیا جاسکے۔ یہ خاموشی خود اس بات کی دلیل ہے کہ حاکمِ اعلیٰ ان میں انسان کو خود اپنی رائے سے فیصلہ کرنے کا حق دے رہا ہے۔ اس لیے ان میں آزادانہ قانون سازی کی جاسکتی ہے، مگر یہ قانون سازی ایسی ہونی چاہیے جو اسلام کی روح اور اس کے اصولِ عامہ سے مطابقت رکھتی ہو‘ جس کا مزاج اسلام کے مجموعی مزاج سے مختلف نہ ہو‘ جو اسلامی زندگی کے نظام میں ٹھیک ٹھیک نصب ہوسکتی ہو۔
اجتہاد
قانون سازی کا یہ سارا عمل‘ جو اسلام کے قانونی نظام کو متحرک بناتا اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ اس کو نشوونما دیتا چلا جاتا ہے‘ ایک خالص علمی تحقیق اور عقلی کاوش ہی کے ذریعے سے انجام پاسکتا ہے اور اسی کا نام اسلامی اصطلاح میں اجتہاد ہے۔ اس لفظ کے لغوی معنی تو ہیں:کسی کام کی انجام دہی میں انتہائی کوشش صرف کرنا، مگر اصطلاحا ً اس سے مراد ہے: یہ معلوم کرنے کی انتہائی کوشش کہ ایک مسئلۂ زیر بحث میں اسلام کا حکم یا اس کا منشا کیا ہے۔ بعض لوگ غلطی سے اجتہاد کو بالکل آزادانہ استعمال رائے کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ لیکن کوئی ایسا شخص جو اسلامی قانون کی نوعیت سے واقف ہے‘ اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ اس طرح کے ایک قانونی نظام میں کسی آزاد اجتہاد کی بھی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے۔ یہاں تو اصل قانون قرآن و سنت ہے۔ انسان جو قانون سازی کرسکتے ہیں وہ لازماً یا تو اس اصل قانون سے ماخوذ ہونی چاہیے‘ یا پھر ان حدود کے اندر ہونی چاہیے جن میں وہ استعمال رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اس سے بے نیاز ہو کر جو اجتہاد کیا جائے وہ نہ اسلامی اجتہاد ہے اور نہ اسلام کے قانونی نظام میں اس کے لیے کوئی جگہ ہے۔
اجتہاد کے لیے ضروری اوصاف
اجتہاد کا مقصد چونکہ خدائی قانون کو انسانی قانون سے بدلنا نہیں، بلکہ اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور اس کی رہنمائی میں اسلام کے قانونی نظام کو زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ متحرک کرنا ہے‘ اس لیے کوئی صحت مندانہ اجتہاد اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ ہمارے قانون سازوں میں حسبِ ذیل اوصاف موجود ہوں:
۱۔ شریعت الٰہی پر ایمان‘ اس کے برحق ہونے کا یقین‘ اس کے اتباع کا مخلصانہ ارادہ‘ اس سے آزاد ہونے کی خواہش کا معدوم ہونا اور مقاصد‘ اصول اور اقتدار کسی دوسرے ماخذ سے لینے کے بجائے صرف خدا کی شریعت سے لینا۔
۲۔ عربی زبان اور اس کے قواعد اور ادب سے اچھی واقفیت‘ کیونکہ قرآن اسی زبان میں نازل ہوا ہے اور سنت کو معلوم کرنے کے ذرائع بھی اسی زبان میں ہیں۔
۳۔ قرآن اور سنت کا علم جس سے آدمی نہ صرف جزوی احکام اور ان کے مواقع سے واقف ہو‘ بلکہ شریعت کے کلیات اور اس کے مقاصد کو بھی اچھی طرح سمجھ لے۔ اس کو ایک طرف یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انسانی زندگی کی اصلاح کے لیے شریعت کی مجموعی اسکیم کیا ہے اور دوسری طرف یہ جاننا چاہیے کہ اس مجموعی اسکیم میں زندگی کے ہر شعبے کا کیا مقام ہے‘ شریعت اس کی تشکیل کن خطوط پر کرنا چاہتی ہے اور اس کی تشکیل میں اس کے پیشِ نظر کیا مصالح ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اجتہاد کے لیے قرآن و سنت کا وہ علم درکار ہے جو مغزشریعت تک پہنچتا ہو۔
۴۔ پچھلے مجتہدین امت کے کام سے واقفیت‘ جس کی ضرورت صرف اجتہاد کی تربیت ہی کے لیے نہیں ہے، بلکہ قانونی اِرتقا کے تسلسل (continuity)کے لیے بھی ہے۔ اجتہاد کا مقصد بہرحال یہ نہیں ہے اور نہیں ہونا چاہیے کہ ہر نسل پچھلی نسلوں کی چھوڑی ہوئی تعمیر کو ڈھا کر یا متروک قرار دے کر نئے سرے سے تعمیر شروع کرے۔
۵۔ عملی زندگی کے حالات و مسائل سے واقفیت‘ کیونکہ انھی پر شریعت کے احکام اور اصول و قواعد کو منطبق کرنا مطلوب ہے۔
۶۔ اسلامی معیار اخلاق کے لحاظ سے عمدہ سیرت و کردار‘ کیونکہ اس کے بغیر کسی اجتہاد پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہوسکتا اورنہ اس قانون کے لیے عوام میں کوئی جذبۂ احترام پیدا ہوسکتا ہے جو غیر صالح لوگوں کے اجتہاد سے بنا ہو۔
ان اوصاف کے بیان سے مقصود یہ نہیں ہے کہ ہر اجتہاد کرنے والے کو پہلے یہ ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ اس میں یہ اوصاف موجود ہیں، بلکہ اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ اجتہاد کے ذریعے سے اسلامی قانون کا نشوونما اگر صحیح خطوط پر ہو سکتا ہے تو صرف اسی صورت میں جب کہ قانونی تعلیم و تربیت کا نظام ایسے اوصاف کے اہلِ علم تیار کرنے لگے۔ اس کے بغیر جو قانون سازی کی جائے گی وہ نہ اسلامی قانون کے نظام میں جذب ہوسکے گی اور نہ مسلم سوسائٹی اس کو ایک خوش گوار غذا کی طرح ہضم کرسکے گی۔
اجتہاد کا صحیح طریقہ
اجتہاد‘ اور اس کی بنا پر ہونے والی قانون سازی کے مقبول ہونے کا انحصار جس طرح اس بات پر ہے کہ اجتہاد کرنے والوں میں اس کی اہلیت ہو‘ اس طرح اس امر پر بھی ہے کہ یہ اجتہاد صحیح طریقے سے کیا جائے۔ مجتہد خواہ تعبیر احکام کر رہا ہو، یا قیاس و استنباط‘ بہرحال اسے اپنے استدلال کی بنیاد قرآن اور سنت ہی پر رکھنی چاہیے، بلکہ مباحات کے دائرے میں آزادانہ قانون سازی کرتے ہوئے بھی اسے اس بات پردلیل لانی چاہیے کہ قرآن و سنت نے واقعی فلاں معاملے میں کوئی حکم یا قاعدہ مقرر نہیں کیا ہے اور نہ قیاس ہی کے لیے کوئی بنیاد فراہم کی ہے۔ پھر قرآن و سنت سے جو استدلال کیا جائے وہ لازماً ان طریقوں پر ہونا چاہیے جو اہلِ علم میں مُسَلّم ہیں۔ قرآن سے استدلال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک آیت کے وہ معنی لیے جائیں جن کے لیے عربی زبان کی لغت‘ قواعد اور معروف استعمالات میں گنجائش ہو‘ جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے لگتے ہوئے ہوں‘ جو اسی موضوع کے متعلق قرآن کے دوسرے بیانات سے متناقض نہ ہوں اور جن کی تائید سنت کی قولی اور عملی تشریحات سے بھی ملتی ہو‘ یا کم از کم یہ کہ سنت ان معنوں کے خلاف نہ ہو۔ سنت سے استدلال کرنے میں زبان اور اس کے قواعد اور سیاق و سباق کی رعایت کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن روایات سے کسی مسئلے میں سند لائی جارہی ہو، وہ قواعد علم روایت کے لحاظ سے معتبر ہوں۔ اس موضوع سے متعلق دوسری معتبر روایات کو بھی نگاہ میں رکھا گیا ہو‘ اور کسی ایک روایت سے کوئی ایسا نتیجہ نہ نکال لیا گیا ہو جومستند ذرائع سے ثابت شدہ سنت کے خلاف پڑتا ہو۔ ان احتیاطوں کو ملحوظ رکھے بغیر من مانی تاویلات سے جو اجتہاد کیا جائے، اسے اگر سیاسی قوت کے بل پر قانون کا مرتبہ دے بھی دیا جائے تو نہ مسلمانوں کا اجتماعی ضمیر اس کو قبول کرسکتا ہے اور نہ وہ حقیقتاً اسلامی نظامِ قانون کا جز بن سکتا ہے۔جو سیاسی قوت اسے نافذ کرے گی اس کے ہٹتے ہی اس کا قانون بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا۔
اجتہاد کو قانون کا مرتبہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
کسی اجتہاد کو قانون کا مرتبہ حاصل ہونے کی متعدد صورتیں اسلامی نظامِ قانون میں پائی جاتی ہیں:
٭ ایک یہ کہ تمام امت کے اہلِ علم کا اس پر اجماع ہو۔
٭ دوسری یہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اجتہاد کو قبول عام حاصل ہو جائے اور لوگ خود بخود اس کی پیروی شروع کر دیں‘ جس طرح مثلاً: فقہ حنفی‘ شافعی‘ مالکی اور حنبلی کو مسلمانوں کی بڑی بڑی آبادیوں نے قانون کے طور پر مان لیا۔
٭ تیسری یہ کہ کسی اجتہاد کو کوئی مسلم حکومت اپنا قانون قرار دے لے‘ جیسے مثلاً: عثمانی سلطنت نے فقہ حنفی کو اپنا قانون ملکی قرار دیا تھا۔
٭ چوتھی یہ کہ سیاست میں ایک ادارہ دستوری حیثیت سے قانون سازی کا مجاز ہو اور وہ اجتہاد سے کوئی قانون بنائے۔
ان صورتوں کے ماسوا جتنے اجتہادات مختلف اہل علم کریں ان کا مرتبہ فتوے سے زیادہ نہیں ہے۔ رہے قاضیوں کے فیصلے تو وہ ان خاص مقدمات میں تو ضرور قانون کے طور پر نافذ ہوتے ہیں جن میں وہ کسی عدالت نے کیے ہوں اور انھیں نظائر (precedents)کی حیثیت بھی حاصل ہوتی ہے‘ لیکن صحیح معنوں میں وہ قانون نہیں ہوتے‘ حتیٰ کہ خلفائے راشدین کے بھی وہ فیصلے اسلام میں قانون نہیں قرار پائے جو انھوں نے قاضی کی حیثیت سے کیے تھے۔ اسلامی نظامِ قانون میں قضاۃ کے بنائے ہوئے قانون (judge made law)کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا ہے۔
چند اعتراضات اور ان کا جواب
اسلام میں قانون سازی اور اجتہاد کے موضوع پر میرے مقالے کے سلسلے میں جو اعتراضات کیے گئے ہیں‘ میں یہاں ان کا جواب زیادہ سے زیادہ اختصار کے ساتھ دینے کی کوشش کروں گا۔
پہلا اعتراض اس پوزیشن پر ہے جو قرآن کے ساتھ سنت کو دی گئی ہے۔ اس کے جواب میں چند باتیں میں ترتیب وار عرض کروں گا، تاکہ مسئلہ پوری طرح آپ کے سامنے واضح ہو جائے:
۱۔ یہ ایک ناقابلِ انکار تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی‘ ایک نیا نظامِ تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے‘ یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپؐ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن؟ یا آپؐ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنانے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپؐ عام مسلمانوں کی طرح محض ایک مسلمان رہ جاتے تھے جس کا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند و حجت نہیں رکھتا۔
پہلی بات تسلیم کی جائے تو سنت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند و حجت ماننے کے سوا چارہ نہیں رہتا، البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
۲۔ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف نامہ بر نہیں تھے، بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر‘ حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی و اطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہل ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا گیاتھا۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے‘وہ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو، اور اس کے بعد وہ محض ایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغاز اسلام سے آج تک بالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونۂ واجب الاتباع اور ان کے امر و نہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں‘ حتی کہ کوئی غیر مسلم عالم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حیثیت مانی ہے اور اسی بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ ماخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص سنت کی اس قانونی حیثیت کو کیسے چیلنج کرسکتا ہے۔ جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف تلاوت قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ان کی حیثیت نبوت ختم ہو جاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعویٰ کرے بھی تو اسے بتانا ہوگا کہ یہ مرتبہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی مرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔دوسری صورت میں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
۳۔ سنت کو بجائے خود ماخذ قانون تسلیم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ میں اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ آج پونے چودہ سوسال گزر جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہم کو اس مسئلے سے سابقہ نہیں پیش آگیا ہے کہ ڈیڑھ ہزار برس۱۹۵؎قبل جو نبوت مبعوث ہوئی تھی اس نے کیا سنت چھوڑی تھی۔ دو تاریخی حقیقتیں ناقابلِ انکار ہیں۔
٭ ایک یہ کہ قرآن کی تعلیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جو معاشرہ اسلام کے آغاز میں پہلے دن قائم ہوا تھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے۔ اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا ہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرز فکر‘ اخلاق اور اقدار‘ عبادات اور معاملات‘ نظریۂ حیات اور طریق حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے‘ جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے‘ جو ان کو تمام رُوئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے‘ یہی اس امر کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو ایک سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری رہی ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
٭ دوسری تاریخی حقیقت‘ جو اتنی ہی روشن ہے‘ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنت ثابتہ کیا ہے اور کیا نئی چیز ان کے نظام حیات میں کسی جعلی طریقے سے داخل ہو رہی ہے۔ چونکہ ان کے لیے سنت قانون کی حیثیت رکھتی تھی‘ اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے‘ اس لیے وہ اس تحقیق سے بے پروا اور لا اُبالی نہیں ہوسکتے تھے۔ اس تحقیق کے ذرائع بھی اور اس کے نتائج بھی ہم کو اسلام کی پہلی خلافت کے زمانے سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ میراث میں ملے ہیں اور بلا انقطاع ہر نسل کا کیا ہوا کام محفوظ ہے۔ ان دو حقیقتوں کو اگر کوئی اچھی طرح سمجھ لے اور سنت کو معلوم کرنے کے ذرائع کا باقاعدہ علمی مطالعہ کرے تو اسے کبھی یہ شبہ لاحق نہیں ہوسکتا کہ یہ کوئی لَایَنْحَل معمّہ ہے جس سے وہ دو چار ہوگیا ہے۔
۴۔ بلاشبہہ سنت کی تحقیق اور اس کے تعین میں بہت سے اختلافات ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہوسکتے ہیں‘ لیکن ایسے ہی اختلافات قرآن کے بہت سے احکام اور ارشادات کے معنی متعین کرنے میں بھی ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔ ایسے اختلافات اگر قرآن کو چھوڑ دینے کے لیے دلیل نہیں بن سکتے تو سنت کو چھوڑ دینے کے لیے انھیں کیسے دلیل بنایا جاسکتا ہے۔ یہ اصول پہلے بھی مانا گیا ہے اور آج بھی اسے ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ جو شخص بھی کسی چیز کے حکم قرآن یا حکم سنت ہونے کا دعویٰ کرے وہ اپنے قول کی دلیل دے۔ اس کا قول اگر وزنی ہوگا تو امت کے اہل علم سے یا کم از کم ان کے کسی بڑے گروہ سے اپنا سکہ منوالے گا‘ اور جو بات دلیل کے اعتبار سے بے وزن ہوگی وہ بہرحال نہ چل سکے گی۔ یہی اصول ہے جس کی بنا پر دنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں مسلمان کسی ایک مذہب فقہی پر مجتمع ہوئے ہیں اور ان کی بڑی بڑی آبادیوں نے احکامِ قرآنی کی کسی تفسیر اور سننِ ثابتہ کے کسی مجموعے پر اپنے اجتماعی نظام کو قائم کیا ہے۔
دوسرا اعتراض میرے مقالے پر یہ کیا گیا ہے کہ میرے کلام میں تناقض ہے۔ یعنی میرا یہ قول کہ قرآن و سنت کے واضح اور قطعی احکام میں تبدیلی کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ معترض کے نزدیک میرے اس قول سے متناقض ہے کہ استثنائی حالات و واقعات میں ان احکام سے ہٹ کر کام کرنے کی گنجایش اور اس کے مواقع اجتہاد سے متعین کیے جاسکتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ اس میں کیا تناقض محسوس کیا گیا ہے۔ اضطرار اور مجبوری کی حالت میں عام قاعدے سے اِستثنا دنیا کے ہر قانون میں ہوتا ہے۔ قرآن میں بھی ایسی رخصتوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان مثالوں سے فقہا نے وہ اصول متعین کیے ہیں جن کو رخصت کی حد اور اس کے مواقع متعین کرنے میں ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ مثلاً:
۱۔ اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ الْمُحْظُوْرَاتِ۔
ضرورتیں ممنوع چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں۔
۲۔ اَلْمُشَقَّۃُ تَجْلِبُ التَّیْسِیْرَ۔
مشقت آسانی کو ہانک لاتی ہے۔
تیسرا اعتراض ان سب لوگوں پر کیا گیا ہے جنھوں نے یہاں اپنے مقالات میں اجتہاد کی کچھ شرائط بیان کی ہیں۔ چونکہ میں بھی ان میں سے ایک ہوں اس لیے اس کا جواب میرے ذمے بھی ہے۔ میں عرض کروں گا کہ براہ کرم ایک دفعہ پھر ان شرطوں پر نگاہ ڈال لیجیے جو میں نے بیان کی ہیں اور پھر بتائیے کہ آپ ان میں سے کس شرط کو ساقط کرنا چاہتے ہیں:
۱۔ کیا یہ شرط کہ اجتہاد کرنے والوں میں شریعت کی پیروی کا مخلصانہ ارادہ پایا جاتا ہو، اور وہ اس کے حدود کو توڑنے کے خواہش مند نہ ہوں؟
۲۔ یا یہ شرط کہ وہ قرآن و سنت کی زبان‘ یعنی عربی سے واقف ہوں؟
۳۔ یا یہ کہ انھوں نے قرآن و سنت کا کم از کم اس حد تک گہرا مطالعہ کیا ہو کہ وہ شریعت کے نظام کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں؟ یا یہ کہ پچھلے مجتہدین کے کیے ہوئے کام پر بھی ان کی نظر ہو؟
۴۔ یا یہ کہ وہ دنیا کے معاملات اور مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں؟
۵۔ یا یہ کہ وہ بدکردار اور اسلامی معیارِ اخلاق سے گرے ہوئے نہ ہوں؟
ان میں سے جس شرط کو بھی آپ غیر ضروری سمجھتے ہیں اس کی نشان دہی کر دیں۔ یہ کہنا کہ ساری اسلامی دنیا میں دس بارہ آدمیوں سے زیادہ ایسے نہیں مل سکتے جو اِن شرائط پر پورے اترتے ہوں‘ میرے نزدیک دنیا بھر کے مسلمانوں کے متعلق بہت ہی بری رائے ہے۔ غالباً ابھی تک ہمارے مخالفوں نے بھی ہم کو اتنا گرا ہوا نہیں سمجھا ہے کہ چالیس پچاس کروڑ مسلمانوں ٭میں ان صفات کے اشخاص کی تعداد دس بارہ سے زیادہ نہ ہو۔ تاہم! اگر آپ اجتہاد کا دروازہ ہر کس و ناکس کے لیے کھولنا چاہیں تو شوق سے کھول دیجیے‘ لیکن مجھے یہ بتائیے کہ جو اجتہاد بدکردار‘ بے علم اور مشتبہ نیت و اخلاص کے لوگ کریں گے، اسے مسلمان پبلک کے حلق سے آپ کس طرح اتروائیں گے؟

۲۔قانون سازی‘ شوریٰ اور اجماع

پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ کے مطالبے سے اسلامی قانون سازی کے متعلق مختلف خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک دوست اپنی الجھنو ں کے لیے رقم طراز ہیں:
اسلام میں قانون سازی کی حقیقت و ماہیت اور اس کے دائرۂ عمل کے تعین میں بہت افراط و تفریط سے کام لیا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ بات کہی جاتی ہے کہ اسلام میں قانون سازی کی سرے سے گنجائش ہی نہیں ہے۔ قانون اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنا دیا ہے۔ مسلمانوں کاکام اس پر عمل کرنا اور اسے نافذ کرنا ہے۔ دوسری طرف اب کچھ لوگوں کے نزدیک قانون سازی کا دائرہ اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ مسلمان حکمرانوں کو اس بات کا بھی حق دے دیا گیا ہے کہ وہ عبادت سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ تفصیلات تک میں ترمیم و تنسیخ کرسکتے ہیں۔ مثلاً: وہ نماز اور روزے کی عملی شکلوں میں بھی حذف و اضافہ کرسکتے ہیں۔
براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں کہ اسلام میں قانون سازی کے حدود اور اس کی مختلف نوعیتیں کیا کیا ہیں۔ نیز اسے بھی صاف کریں کہ خلفا کے انفرادی اور شورائی فیصلوں اور ائمہ‘ فقہا و مجتہدین کی آرا کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ اس سلسلے میں اگر شوریٰ اور اجماع کی حقیقت پر بھی کچھ روشنی ڈال دی جائے تو مناسب ہے۔
جواب:۔ قانون سازی کا اصول
اسلام میں دائرۂ عبادات کے اندر قانون سازی کی قطعاً کوئی گنجایش نہیں ہے، البتہ عبادات کے علاوہ معاملات کے اس دائرے میں قانون سازی کی گنجایش موجود ہے جس میں کتاب و سنت خاموش ہے۔ اسلام میں قانون سازی کی بنیاد یہ اصول ہے کہ عبادات میں صرف وہی عمل کرو جو بتا دیا گیا ہے اور اپنی طرف سے کوئی نیا طریقۂ عبادت ایجاد نہ کرو اور معاملات میں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اس کے پابند رہو۔ جس چیز سے روک دیا گیا ہے اس سے رک جائو اور جس چیز کے بارے میں شارع (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) نے سکوت اختیار کیا ہے اس میں تم اپنی صواب دید کے مطابق کرنے کے لیے آزاد ہو۔‘‘ امام شاطبیؒ نے اپنی کتاب ’الاعتصام‘ ج۲،ص۱۱۵ میں اس اصول کو یوں بیان کیا ہے:
عبادات کا حکم عادات کے حکم سے مختلف ہے۔ عادات میں قاعدہ یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہے اس میں گویا اپنی صواب دید پر کام کرنے کا اِذن دے دیا گیا ہے۔ بخلاف اس کے عبادات میں کوئی ایسی بات استنباط سے نہیں نکالی جاسکتی جس کی اصل شرع میں موجود نہ ہو‘ کیونکہ عادات کے برعکس عبادات کا سررشتہ حکمِ صریح اور اذنِ صریح سے بندھا ہوا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عادات میں فی الجملہ ہماری عقلیں راہ صواب معلوم کرسکتی ہیں اور عبادات میں ہم خود عقل سے یہ نہیں معلوم کرسکتے کہ اللہ سے تقرب کا راستہ کون سا ہے۔
قانون سازی کے چار شعبے
معاملات میں قانون سازی کے چار شعبے ہیں:
الف۔ تعبیر‘ یعنی جن معاملات میں شارع نے امر یا نہی کی تصریح کی ہے ان کے بارے میں نص کے معنی یا ان کا منشا متعین کرنا۔
ب۔ قیاس‘ یعنی جن معاملات میں شارع کا کوئی براہ راست حکم نہیں ہے‘ مگر جن سے ملتے جلتے معاملات میں حکم موجود ہے‘ ان میں علت حکم مشخص کرکے اس حکم کو اس بنیاد پر جاری کرنا کہ یہاں بھی وہی علت پائی جاتی ہے جس کی بنا پر یہ حکم اس سے مماثل واقعہ میں دیا گیا تھا۔
ج۔ استنباط و اجتہاد‘ یعنی شریعت کے بیان کردہ وسیع اصولوں کو جزوی مسائل و معاملات پر منطبق کرنا اور نصوص کے اشارات‘ دلالتوں اور اقتضاء آت کو سمجھ کر یہ معلوم کرنا کہ شارع ہمارے زندگی کے معاملات کو کس شکل میں ڈھالتا ہے۔
د۔ جن معاملات میں شارع نے کوئی ہدایت نہیں دی ہے ان میں اسلام کے وسیع مقاصد اور مصالح کو ملحوظ رکھ کر ایسے قوانین بنانا جو ضرورت کو بھی پورا کریں اور ساتھ ساتھ اسلام کے مجموعی نظام کی روح اور اس کے مزاج کے خلاف بھی نہ ہوں۔ اس چیز کو فقہاء نے مصالح مرسلہ اوراستحسان وغیرہ ناموں سے موسوم کیا ہے۔ مصالح مرسلہ کے معنی ہیں: وہ عمومی مصلحتیں جن کو ہماری صواب دید پر چھوڑا گیا ہے اور استحسان سے مراد یہ ہے کہ ایک معاملے میں بظاہر قیاس تو ایک حکم لگاتا ہے، مگر عظیم تر دینی مصلحتیں ایک دوسرے حکم کا تقاضا کرتی ہیں‘ اس لیے پہلے حکم کے بجائے دوسرے حکم کو ترجیح دے کر جاری کیا جائے۔
مصالح مرسلہ اور استحسان
تعبیر‘ قیاس اور استنباط کے لیے تو کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں ہے‘ البتہ مصالح مرسلہ اور استحسان پر ہم کچھ مزید روشنی ڈالیں گے۔ امام شاطبیؒ نے اپنی کتاب ’الاعتصام‘ میں اس موضوع پر ایک مستقل باب لکھا ہے اور اس کی ایسی نفیس تشریح کی ہے جس سے بہتر اصول فقہ کی کسی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔ اس میں وہ مفصل دلائل دے کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ مصالح مرسلہ سے مراد قانون سازی کی بالکل کھلی چھوٹ نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے‘ بلکہ اس کے لیے تین شرطیں لازم ہیں:
٭ اول یہ کہ: جو قانون اس طریقے پر بنایا جائے وہ مقاصد شریعت کے مطابق ہو نہ کہ ان کے خلاف۔
٭ دوم یہ کہ: جب وہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تو عام عقلیں اس کو قبول کریں۔
٭ تیسرے یہ کہ: وہ کسی حقیقی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے‘ یا کسی حقیقی مشکل کو رفع کرنے کے لیے ہو۔ (الاعتصام، ج۲،۲۵،ص۱۱۰ تا ۱۱۴)
پھر وہ استحسان پر بحث کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ اگر بظاہر کسی دلیل کی بنا پر قیاس یہ چاہتا ہو کہ ایک معاملے میں ایک خاص حکم لگایا جائے‘ مگر فقیہ کی نگاہ میں وہ حکم مصلحت کے خلاف ہو، یا اس سے کوئی ایسا نقصان یا حرج لازم آتا ہو جو اسلامی نقطۂ نظر سے رفع کرنے کے لائق ہے، یا وہ عرف کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر دوسرا مناسب حکم لگا دینا استحسان ہے۔ بہرحال استحسان کے لیے شرط یہ ہے کہ ظاہر قیاس کو چھوڑ کر خلافِ قیاس حکم لگانے کے لیے کوئی قوی تر وجہ ہونی چاہیے جسے معقول دلائل کے ساتھ قابلِ لحاظ ثابت کیا جاسکے۔ (ایضًا ج۲، ص ۱۱۸،۱۱۹)
عدالتی فیصلوں اور ملکی قانون کا فرق
ان چار شعبوں کے متعلق کسی مجتہد یا امام کی انفرادی رائے اور تحقیق ایک ماہرانہ رائے اور تحقیق تو ہوسکتی ہے‘ جس کا وزن رائے دینے والے کی علمی شخصیت کے وزن کے مطابق ہی ہوگا‘ مگر بہرحال وہ ’قانون‘ نہیں بن سکتی۔ قانون بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مملکت اسلامیہ کے ارباب حل و عقد کی شوریٰ ہو، اور وہ اپنے اجماع سے یا جمہوری فیصلے (یعنی اکثریت کے فیصلے) سے ایک تعبیر،ایک قیاس، ایک استنباط و اجتہاد یا ایک استحسان و مصلحت مرسلہ کو اختیار کرکے قانون کی شکل دے دیں۔ خلافتِ راشدہ میں قانون سازی کی یہی شکل تھی۔۱۹۶؎
یہاں میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں جن سے اندازہ ہوگا کہ خلافت راشدہ میں قومی و ملی ضرورتیں پیش آنے پر قانون سازی کس طرح ہوتی تھی اور اس دور میں ’قانون‘ اور عدالتی فیصلوں کے درمیان کیا فرق تھا:
الف۔ شراب کے متعلق قرآن میں صرف حرمت کا حکم دیا گیا ہے‘ اس کے لیے سزا کی کوئی ’حد‘ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کے لیے کوئی خاص سزا مقرر نہیں کی گئی تھی‘ بلکہ آپؐ جس کو جیسی سزا مناسب سمجھتے تھے دے دیتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے اپنے زمانے میں ۴۰ کوڑوں کی سزا دی‘ لیکن اس کے لیے کوئی باقاعدہ قانون نہیں بنایا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں جب شراب نوشی کی شکایات زیادہ بڑھیں تو انھوں نے صحابہ کی مجلسِ شوریٰ میں معاملہ پیش کیا۔ حضرت علیؓ نے ایک مختصر تقریر میں تجویز پیش کی کہ اس کے لیے ۸۰ کوڑوں کی سزا مقرر کر دی جائے۔ شوریٰ نے اس سے اتفاق کیا اور آئندہ کے لیے یہی قانون ’اجماع‘ کے ساتھ بنا دیا گیا۔ (الاعتصام‘ ج۲۔ ص ۱۰۱)
ب۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں یہ قانون بھی بنایا گیا کہ کاریگروں کو اگر کوئی چیز بنانے کے لیے دی جائے (مثلاً کپڑا سینے کے لیے یا سونا زیور بنانے کے لیے) اور وہ ضائع ہو جائے تو انھیں اس کی قیمت کا تاوان دینا ہوگا۔ یہ فیصلہ بھی حضرت علیؓ کی اس تقریر پر ہوا کہ اگرچہ کاریگر کو ایسی صورت میں بظاہر قابل الزام قرار نہیں دیا جاسکتا جب کہ چیز کے ضائع ہونے میں اس کی غفلت کا دخل نہ ہو‘ لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو اندیشہ ہے کہ کاریگر لوگوں کی چیزوں کی حفاظت کرنے میں غفلت برتنے لگیں گے۔ اس لیے مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں ضامن قرار دے دیا جائے۔ چنانچہ یہ فیصلہ بھی اجماع سے ہوا۔(ایضاً ،ج۲،ص۱۰۲)
ج۔ حضرت عمرؓ نے اس امر کا فیصلہ کیا کہ اگر ایک آدمی کے قتل میں چند آدمیوں نے شرکت کی ہو تو سب سے قصاص لیا جائے۔ امام مالکؒ اور شافعیؒ نے اس فیصلے کو قبول کیا ہے، مگر اس کو ’قانون‘ کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا گیا‘ کیونکہ یہ ایک عدالتی فیصلہ تھا‘ شوریٰ میں اجماع سے یا جمہوری رائے سے قانون نہیں بنایا گیا تھا۔ (ایضاً‘ ج۲،ص۱۰۷)
د۔ مفقود الخبرکی بیوی اگر عدالت کی اجازت سے نکاح ثانی کر چکی ہو، اور پھر اس کا سابق شوہر آجائے تو آیا وہ پہلے شوہر کو ملے گی، یا دوسرے شوہر کے پاس رہے گی؟ اس مسئلے میں خلفائے راشدین نے مختلف فیصلے کیے ہیں‘ مگر کسی فیصلے کو بھی ’قانون‘ کی حیثیت حاصل نہیں ہے‘ کیونکہ اس مسئلے کو شوریٰ میں پیش کرکے اجماع سے یا جمہور کی رائے سے کوئی فیصلہ نہ ہوا تھا۔ (ایضاً ج۲، ص۱۲۶)
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ اسلام میں عدالتی فیصلوں کی وہ حیثیت نہیں ہے جو انگریزی قانون میں ہے۔ انگریزی قانون میں ججوں کے فیصلوں کی نظیریں ’قانون‘ کا درجہ اختیار کرلیتی ہیں‘ مگر اسلام میں اگرچہ ایک جج کا وہ فیصلہ نافذ ضرور ہوگا جو اس نے کسی مقدمے میں نص کی ایک تعبیر اختیار کر کے‘ یا اپنے قیاس یا اجتہاد سے کیا ہو‘ لیکن اس کو ایک مستقل ’’قانون‘‘ کی حیثیت حاصل نہ ہوگی، بلکہ ایک ہی جج ایک مقدمے میں ایک فیصلہ دینے کے بعد ہمیشہ کے لیے اپنے اس فیصلے کا پابند نہیں ہو جاتا۔ اس کے بعد اسی سے ملتے جلتے دوسرے مقدمے میں وہ دوسرا فیصلہ دے سکتا ہے، اگر اس پر اپنی پچھلی رائے کی غلطی واضح ہو چکی ہو۔
خلافتِ راشدہ کے بعد جب شوریٰ کا نظام درہم برہم ہوگیا تو ائمہ مجتہدین نے جو فقہ کے مختلف نظام مرتب کیے ان کو نیم قانونی حیثیت اس بنا پر حاصل ہوگئی کہ ایک علاقے کے باشندوں کی عظیم اکثریت نے کسی ایک امام کی فقہ کو قبول کر لیا۔مثلاً: عراق میں امام ابو حنیفہؒ کی فقہ‘ یا اندلس میں امام مالکؒ کی فقہ‘ یا مصر میں امام شافعی ؒ کی فقہ وغیرہ۔ لیکن اس قبولیت عام نے کہیں بھی کسی فقہ کو صحیح معنوں میں ’قانون‘ نہیں بنا دیا۔ وہ قانون جہاں بھی بنی ہے اس بنا پر بنی ہے کہ ملک کی حکومت نے اسے بطور قانون تسلیم کرلیا۔
اجماع
اجماع کی تعریف میں علما کے اقوال مختلف ہیں۔ امام شافعیؒ کے نزدیک اجماع اس چیز کا نام ہے کہ:’ایک مسئلے میں تمام اہل علم متفق ہوں اور کوئی ایک قول بھی اس کے خلاف نہ پایا جاتا ہو۔ ابن جریر طبری اورابوبکر رازی کی اصطلاح میں اکثریت کا قول بھی ’اجماع‘ ہے۔ امام احمدؒ جب کسی مسئلے میں یہ کہتے ہیں کہ: ’ہمارے علم میں اس کے خلاف کوئی قول نہیں ہے‘ تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ امام موصوف کے نزدیک اس مسئلے میں اجماع ہے۔
یہ امر سب کے نزدیک مسلّم ہے کہ’اجماع‘ حجت ہے۔یعنی نص کی جس تعبیر پر‘ یا جس قیاس و اجتہاد پر‘ یا جس قانون مصلحت پر اجماع امت ہو گیا ہو، اس کی پیروی لازم ہے، لیکن اختلاف جس امر میں ہے وہ اجماع کا وقوع و ثبوت ہے نہ کہ بجائے خود اجماع کا حجت ہونا۔ جہاں تک خلافت راشدہ کے دور کا تعلق ہے‘ چونکہ اس زمانے میں اسلامی نظام جماعت باقاعدہ قائم تھا اور شوریٰ پر نظام چل رہا تھا‘ اس لیے اس وقت کے اجماعی اور جمہوری فیصلے تو معلوم اور معتبر روایات سے ثابت ہیں۔ لیکن بعد کے دور میں جب نظامِ جماعت درہم برہم اور شوریٰ کا طریقہ ختم ہوگیا تو یہ معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہا کہ کس چیز پر فی الحقیقت اجماع ہے اور کس چیز پر نہیں ہے۔اسی بنا پر خلافت راشدہ کے دورکا اجماع تو ناقابل انکار مانا جاتا ہے‘ مگر بعد کے دور میں جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں مسئلے پر اجماع ہے تو محققین اس کے اس دعوے کو رد کر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کس بات پر اجماع ہے اورکس بات پر نہیں ہے، اسلامی نظام کا قیام ضروری ہے۔
عام طور پر جو یہ مشہور ہے کہ امام شافعیؒ یا امام احمد بن حنبلؒ سرے سے اجماع کے وجود ہی کے منکر تھے، یا کسی دوسرے امام نے اس کا انکار کیا ہے، یہ سب کچھ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ جب کسی مسئلے پر بحث کرتے ہوئے کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر اجماع ہے‘ در آنحالیکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہ ہوتا‘ تو یہ لوگ اس کے اس دعوے کو ماننے سے انکار کرتے تھے۔ امام شافعیؒ نے اپنی کتاب ’جماع العلم‘ میں اس مسئلے پر مفصل بحث کرکے یہ بتایا ہے کہ دنیائے اسلام کے پھیل جانے اور جگہ جگہ اہل علم کے منتشر ہو جانے اور نظام جماعت درہم برہم ہو جانے کے بعد اب کسی جزوی مسئلے کے متعلق یہ معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ اس میں تمام علما کے اقوال کیا ہیں۔ اس لیے جزئیات میں اب اجماع کا دعویٰ کرنا غلط ہے، البتہ اسلام کے اصولوں اور اس کے ارکان اور بڑے بڑے مسائل کے بارے میں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ان پر اجماع ہے‘ مثلاً: یہ کہ نماز کے اوقات پانچ ہیں‘ یا روزے کے حدود یہ ہیں وغیرہ۔ اسی بات کو امام ابن تیمیہؒ یوں بیان کرتے ہیں:
اجماع کے معنی یہ ہیں کہ کسی حکم پر تمام علمائے مسلمین متفق ہو جائیں اور جب کسی حکم پر تمام امت کا اجماع ثابت ہو جائے تو کسی شخص کو اس سے نکلنے کا حق نہیں رہتا‘ کیونکہ پوری امت کبھی ضلالت پر متفق نہیں ہو سکتی۔ لیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان میں اجماع ہے، حالانکہ دراصل وہ نہیں ہوتا‘ بلکہ بسا اوقات دوسرا قول راجح ہوتا ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہؒ ،ج۱‘ ص ۴۰۶)
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کسی مسئلے میں نص شرع کی کسی تعبیر پر‘ یا کسی قیاس یا استنباط پر‘ یا کسی تدبیر و مصلحت پر اب بھی اہل حل و عقد کا اجماع‘ یا ان کی اکثریت کا فیصلہ فی الواقع ہو جائے تو وہ حجت ہوگا اور قانون قرارپائے گا۔ اس طرح کا فیصلہ اگر تمام دنیائے اسلام کے اہل حل و عقد کریں تو وہ تمام دنیائے اسلام کے لیے قانون ہوگا اور کسی ایک اسلامی مملکت کے اہل حل و عقد کریں تو وہ کم از کم اس مملکت کے لیے تو قانون ہونا چاہیے۔

۳۔نظام اسلامی میں نزاعی امور کے فیصلے کا صحیح طریقہ

سوال: قرآن مجید میں ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًاo
النساء 59:4
اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘ پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسولؐ کی طرف پھیر دو‘ اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک اچھا طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں آپ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں فرمایا ہے:
وہ بات جو آیت زیر بحث میں مستقل اور قطعی اصول کے طور پر طے کر دی گئی ہے یہ ہے کہ اسلامی نظام میں خدا کا حکم اور رسولؐ کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان یا حکومت اور رعایا کے درمیان جس مسئلے پر بھی نزاع واقع ہوگی اس میں فیصلے کے لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اس کے سامنے سب سرِ تسلیم خم کر دیں گے۔ اس طرح تمام مسائل زندگی میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سند اور مرجع اور حرفِ آخر تسلیم کرنا اسلامی نظام کی وہ لازمی خصوصیت ہے جو اسے کافرانہ نظام زندگی سے ممیز کرتی ہے۔
آپ کی اس تشریح سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ سارے نزاعی امور میں آخری اور فیصلہ کن چیز اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام ہیں۔ اس ضمن میں ایک الجھن یہ پیش آتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں تو یہ بالکل ممکن تھا کہ جس وقت کوئی اختلاف رائے ہوا ،اسی وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کر لیا‘ لیکن اب جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود نہیں، بلکہ صرف ان کی تعلیمات ہمارے سامنے ہیں‘ اس وقت اگر اسلام کے کسی حکم کی تعبیر کا مسئلہ درپیش ہو تو ایک اسلامی نظام میں کس شخص یا ادارے کو اس امر کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار حاصل ہوگا کہ اس باب میں منشائے شریعت کیا ہے۔ امید ہے آپ اس معاملے میں رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں گے۔
جواب:
قرآن کی اصولی ہدایات
اس سوال میں جس الجھن کا ذکر کیا گیا ہے اس کو رفع کرنے میں قرآن‘ سنت‘ دور صحابہ کا تعامل‘ عقل عام اور دنیا کا معروف طریق کار‘ سب مل جل کر ہماری مدد کرتے ہیں۔ سب سے پہلے قرآن کو دیکھیے۔ وہ اس معاملے میں تین اصولی ہدایات دیتا ہے:
اول یہ کہ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo النحل 43:16
اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو۔
اس آیت میں ’اہل الذکر‘ کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ ذکر کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں مخصوص طور پر اس سبق کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے کسی امت کو دیا ہو اور اہل الذکر صرف وہ لوگ ہیں جنھیں یہ سبق یاد ہو۔ اس لحاظ سے محض علم (knowledge)مراد نہیں لیا جاسکتا‘ بلکہ اس کا اطلاق لازماً علم کتاب و سنت ہی پر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ معاشرے میں مرجعیت کا مقام ان لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے جو کتابِ الٰہی کا علم رکھتے ہوں اور اس طریقے سے باخبر ہوں جس پر چلنے کی تعلیم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔
دوم یہ کہ:
وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ النساء 83:4
اور جب کبھی امن یا خوف سے تعلق رکھنے والا کوئی اہم معاملہ ان کو پیش آتا ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں‘ حالانکہ اگر وہ اس کو رسولؐ تک اور اپنے اولی الامر تک پہنچاتے تو اس کی کنہ جان لیتے وہ لوگ جو ان کے درمیان اس کی کنہ نکال لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ معاشرے کو پیش آنے والے اہم معاملات میں‘ خواہ وہ امن کی حالت سے تعلق رکھتے ہوں یا جنگ کی حالت سے‘ غیر اندیش ناک نوعیت کے ہوں‘ یا اندیش ناک نوعیت کے‘ ان میں صرف وہی لوگ مرجع ہوسکتے ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اولی الامر ہوں‘ یعنی جن پر اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمے داری عائد ہوتی ہو‘ اور جواستنباط کی صلاحیت رکھتے ہوں‘ یعنی پیش آمدہ معاملے کی حقیقت بھی معلوم کرسکتے ہوں اورکتاب اللہ و طریق رسول اللہ سے بھی دریافت کرسکتے ہوں کہ اس طرح کی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اجتماعی مہمات اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے معاملات میں عام اہل الذکر کے بجائے ان لوگوں کو مرجع قرار دیتی ہے جو اولی الامر ہوں۔ لیکن بہرحال ان کو بھی ہونا چاہیے اہل الذکر ہی میں سے‘ کیونکہ وہی اس قابل ہوسکتے ہیں کہ جس قضیے سے ان کو سابقہ پڑا ہے اس میں خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی دی ہوئی قولی و عملی ہدایات کو نگاہ میں رکھ کر صحیح رائے قائم کرسکیں۔
سوم یہ کہ: اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ۔ الشورٰی 38:42
ان کاکام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا آخری فیصلہ کس طرح ہونا چاہیے۔
ان تین اصولوں کو جمع کرکے دیکھا جائے تو تمام نزاعات میں فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ کا منشا پورا کرنے کی عملی صورت یہ سامنے آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی میں عموماً جو مسائل پیش آئیں ان میں وہ اہل الذکر سے رجوع کریں اور وہ انھیں بتائیں کہ ان معاملات میں خدا اور رسولؐ کا حکم کیا ہے۔ رہے مملکت اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے مسائل‘ تو وہ اولی الامر کے سامنے لائے جائیں اور وہ باہمی مشاورت سے یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُو سے کیا چیز زیادہ سے زیادہ قرین حق و صواب ہے۔
عہد رسالتؐ میں رفعِ نزاع کا طریقہ
اب دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافتِ راشدہ کے دور میں عمل درآمد کیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں جو معاملات براہ راست آپؐ تک پہنچتے تھے، ان میں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا بتانے والے اور اس کے مطابق نزاعات کا فیصلہ کرنے والے آپؐ خود تھے، لیکن ظاہر بات ہے کہ پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلی ہوئی آبادی کو جو معاملات پیش آتے تھے وہ سب کے سب براہ راست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تک نہیں پہنچائے جاتے تھے اور نہ آپؐ ہی سے شخصًا ان کا فیصلہ حاصل کیا جاتا تھا۔ اس کے بجائے مملکت کے مختلف علاقوں میں آپؐ کی طرف سے معلمین مامور تھے جو لوگوں کو دین سکھاتے تھے اور عام لوگ اپنے روزمرہ کے معاملات میں انھی سے معلوم کرتے تھے کہ کتاب اللہ کا حکم کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طریقے کی تعلیم دی ہے۔ اس کے علاوہ ہر علاقے میں امیر‘ عامل اور قاضی مقرر تھے جو اپنے اپنے دائرۂ عمل سے تعلق رکھنے والے اکثر و بیش تر معاملات کے خود فیصلے کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ کا منشا پورا کرنے کا جو طریقہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پسند فرمایا تھا وہ حضرت معاذؓ بن جبل کی مشہور حدیث میں بیان ہوا ہے:
اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ کَیْفَ تَقْضِیْ قَالَ اَقْضِیْ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللہِ قَالَ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ قَالَ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ قَالَ اَجْتَھِدُ بِرَاْیِیْ قَالَ الْحَمْدُ للّٰہِ الَّذِیْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اللہِ۔ ۱۹۷؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف قاضی بنا کر روانہ کیا تو ان سے پوچھا تم کس طرح فیصلے کرو گے؟ انھوں نے عرض کیا: اس ہدایت کے مطابق جو اللہ کی کتاب میں ہے۔ فرمایا: اگر کتاب اللہ میں نہ ملے۔ عرض کیا: پھر جو سنت رسول اللہ میں ہو۔ فرمایا: اگر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی نہ ملے۔ عرض کیا: میں اپنی رائے سے (حق و صواب تک پہنچنے کی) پوری کوشش کروں گا۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شکر ہے اس خدا کا جس نے رسولؐ اللہ کے فرستادہ شخص کو وہ طریقہ اختیار کرنے کی توفیق دی جو رسولؐ اللہ کو پسند ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد مبارک میں شوریٰ کے نظام کی بنا بھی ڈال دی تھی اور ہر ایسے معاملے میں جس کے متعلق آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص حکم نہ ملا ہو، آپؐ معاشرے کے اہل الرائے لوگوں سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ اس کی ایک نمایاں مثال وہ مشاورت ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے پر فرمائی تھی کہ لوگوں کو نماز کے اوقات پر جمع کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور جس کے نتیجے میں بالآخر اذان کا طریقہ آپؐ نے مقرر فرمایا۔
خلافت ِ راشدہ کا تعامل
قریب قریب یہی طریق کار عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافتِ راشدہ میں جاری رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ عہد رسالت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود موجود تھے، اس لیے معاملات کا آخری فیصلہ آپ سے شخصًا حاصل کیا جاسکتا تھا اور بعد کے دور میں مرجع آپؐ کی ذات نہ رہی، بلکہ وہ روایات ہوگئیں جو آپؐ کی سنت کے متعلق لوگوں کے پاس محفوظ تھیں۔ اس دور میں تین ادارے الگ الگ پائے جاتے تھے، جو اپنے اپنے مقام و موقف کے لحاظ سے فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کا منشا پورا کرتے تھے:
۱۔ عام اہلِ علم جو کتاب اللہ کو جانتے تھے اور جن کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل یا حضور اکرم کی تقریر۱۹۸؎ کے بارے میں کوئی علم موجود تھا، ان سے صرف عوام الناس ہی اپنی زندگی کے معاملات میں فتوے نہیں لیتے تھے بلکہ خود خلفائے راشدین کوبھی جب کسی مسئلے کا فیصلہ کرنے میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے یا نہیں‘ تو انھی لوگوں کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ خلیفۂ وقت نے علم نہ ہونے کی وجہ سے ایک مسئلے کا فیصلہ اپنی رائے سے کر دیا ہے اور بعد میں جب معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں کوئی دوسری بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اس فیصلے کو بدل دیا ہے۔ ان اہلِ علم کی موجودگی کا فائدہ صرف یہی نہ تھا کہ فردًافردًاوہ عوام اور اولی الامر کے لیے ایک ذریعۂ علم کاکام دیتے تھے‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کا عظیم تر فائدہ یہ تھا کہ مجموعی طور پر وہ اس بات کی ضمانت تھے کہ کوئی عدالت اور کوئی حکومت اور کوئی مجلس شوریٰ کتاب اللہ و سنت رسولؐ اللہ کے خلاف فیصلہ نہ کرسکے۔ ان کی مضبوط رائے عام نظام اسلامی کی پشت پناہ تھی۔ ہر غلط فیصلے کو ٹوکنے کے لیے اُن کا چوکنّا رہنا نظام کے صحیح چلنے کا ضامن تھا۔کسی مسئلے میں ان کا اتفاق رائے اس بات کی دلیل تھا کہ اس مسئلۂ خاص میں دین کی راہ متعین ہے جس سے ہٹ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور ان کا اختلاف رائے یہ معنی رکھتا تھا کہ اس مسئلے میں دو یا زیادہ اقوال کی گنجائش ہے، اگرچہ فیصلہ ایک ہی قول پر ہوچکا ہو۔ ان کی موجودگی میں یہ ممکن نہ تھا کہ امت کے اندر کوئی بدعت قبول عام حاصل کرلے جائے‘ کیونکہ ہر طرف دین کے جاننے والے لوگ اس پر گرفت کرنے کے لیے موجود تھے۔
۲۔ قضاء یعنی عدلیہ جس کے ضابطے کی وضاحت حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کے نام اپنے ایک فرمان میں اس طرح کی ہے:
اِقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللہِ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ فَبِسُنَّۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلَافِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاقْضِ بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلاَ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ وَلَمْ یَقْضِ بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ وَاِنْ شِئْتَ فَتَاَخَّرْ وَلَااَرَی التَّاَخُّرَ اِلاَّ خَیْرًا لَّکَ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔
(النسائی، کتاب آداب القضاۃ)
فیصلہ اس حکم پر کرو جو کتاب اللہ میں ہو‘ اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر‘ اگر نہ کتاب اللہ میں ہو، نہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو پھر صالحین نے جو فیصلے کئے ہوں ان کے مطابق فیصلہ کرو، لیکن اگر کسی معاملے کا حکم نہ کتاب اللہ میں ملتا ہو، اور نہ سنت رسول اللہ میں اور نہ صالحین کے فیصلوں میں اس کے متعلق کوئی نظیر موجود ہوتو تمھیں اختیار ہے چاہے خود پیش قدمی کرو یا رک جائو‘ اور میرے نزدیک رک جانا تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے۔۱۹۹؎
اسی ضابطے کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
قَدْ اَتٰی عَلَیْنَا زَمَانٌ وَلَسْنَا نَقْضِیْ وَلَسْنَا ھُنَالِکَ ثُمَّ اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ قَدَّرَعَلَیْنَا اَنْ بَلَغْنَا مَاتَرَوْنَ فَمَنْ عُرِضَ لَہ‘ مِنْکُمْ قَضَائً بَعْدَ الْیَوْمِ فَلْیَقْضِ بِمَا فِیْ کِتَابِ اللہِ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللہِ فَلْیَقْضِ بِمَا قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہ‘صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلاَ قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہ‘ فَلْیَقْضِ بِمَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَاِنْ جَائَ اَمْرٌ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللہِ وَلَا قَضٰی بِہٖ نَبِیُّہ‘صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا قَضٰی بِہِ الصَّالِحُوْنَ فَلْیَجْتَھِدْ بِرَأْیِہٖ وَلَا یَقُوْلُ اِنِّیْ اَخَافُ وَاِنِّیْ اَخَافُ فَاِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَالْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَ ذٰلِکَ اُمُوْرٌ مُشْتَبِھَاتٌ فَدَعْ مَا یُرِ یْبُکَ اِلٰی مَالَایُرِیْبُکَ۔ (النسائی‘ کتاب مذکور)
وہ زمانہ گزر چکا ہے جب ہم نہ فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہماری یہ حیثیت تھی کہ فیصلے کریں (یعنی سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا دور)۔ اب تقدیر الٰہی سے ہم اس حالت کو پہنچے ہیں جو تم لوگ دیکھ رہے ہو۔ پس اب تم میں سے جس کے سامنے کوئی معاملہ فیصلے کے لیے پیش ہو تو اسے چاہیے کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو اس کا فیصلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق کرے اور اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس کا حکم نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو تو صالحین نے اس کا جو فیصلہ کیا ہو اس کی پیروی کرے۔ لیکن اگر ایک معاملہ ایسا آجائے جو نہ کتاب اللہ میں ہو‘ نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں، نہ صالحین نے اس سے پہلے کبھی اس کا فیصلہ کیا ہو‘ تو اپنی رائے سے (حق و صواب تک پہنچنے کی) پوری کوشش کرے اور یہ نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں‘ میں ڈرتا ہوں‘ کیونکہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح اور ان دونوں کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں۔ سو مشتبہ امور میں آدمی کو وہ فیصلہ کرنا چاہیے جو اس کے ضمیر کو نہ کھٹکے اور ایسا فیصلہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جس کے متعلق خود اس کے ضمیر میں کھٹک ہو۔
یہ عدلیہ صرف عوام ہی کے باہمی نزاعات کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہ تھی‘ بلکہ انتظامیہ (executive)کے خلاف بھی وہ لوگوں کے دعاوی سنتی اور ان کے فیصلے کرتی تھی۔ اس کے سامنے حاضر ہونے سے نہ کوئی گورنر مستثنیٰ تھا نہ خود خلیفۂ وقت۔ اسی طرح انتظامیہ کے بڑے سے بڑے شخص‘ حتیٰ کہ خلیفۂ وقت کو بھی اور خود حکومت کو بھی اگرکسی کے خلاف کوئی ذاتی یا سرکاری دعویٰ ہوتا تھا تو اسے عدالت میں جانا ہوتا تھا اور عدالت ہی یہ طے کرتی تھی کہ خدا اور رسولؐ کے قانون کی رُو سے اس کا صحیح فیصلہ کیا ہے۔
۳۔ اولی الامر‘ یعنی خلیفہ اور اس کی مجلس شوریٰ۔ یہ وہ آخری بااختیار ادارہ تھا جو قرآن کی ہدایت کے مطابق باہمی مشورے سے یہ طے کرتا تھا کہ معاشرے اور مملکت کو پیش آنے والے مختلف معاملات میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا حکم ثابت ہے اور کسی معاملے کا حکم کتاب و سنت میں نہیں ہے تو اس کے بارے میں کون سا طرز عمل دین کے اصول اور اس کی روح اور جماعتِ مسلمین کی مصلحت کے لحاظ سے اقرب الی الصواب ہے۔ اس ادارے کے بکثرت فیصلے احادیث وآثار اور فقہ کی کتابوں میں مستند ذرائع سے نقل ہوئے ہیں اور اکثر و بیش تر کے ساتھ وہ تفصیلی بحثیں بھی منقول ہوئی ہیں جو فیصلہ کرتے وقت صحابہؓ کی مجلس میں ہوئی تھیں۔ ان کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ پوری سختی کے ساتھ جس قاعدے کلیے کی پابندی کرتا تھا وہ یہ تھا کہ ہر معاملے میں سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے‘ پھر یہ معلوم کیا جائے کہ اگر اس طرح کا کوئی معاملہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا ہے تو آپؐ نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا ہے اور اپنی صواب دید پر صرف اس صورت میں فیصلہ کیا جائے جب کہ یہ دونوں ماخذِ ہدایت خاموش ہوں۔ جس معاملے میں بھی اللہ کی کتاب سے کوئی آیت یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کوئی نظیر ان کو مل گئی ہے‘ اس میں کبھی انھوں نے اس سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ پورے دور صحابہؓ میں اس قاعدے کے خلاف ایک مثال بھی ہم کو نہیں ملتی۔ اگرچہ عملاً مملکت میں آخری فیصلے کے اختیارات اولی الامر ہی کو حاصل تھے‘ لیکن قانوناً وہ قرآن اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری فیصلہ کن سند تسلیم کرتے تھے اور مسلم معاشرہ بھی ان کے اقتدار کی اطاعت اسی اطمینان و اعتماد کی بنا پر کرتا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں میں قرآن و سنت کی پیروی سے تجاوز نہ کریں گے۔ ان میں سے کسی کے ذہن میں یہ وہم و گمان تک نہ تھا کہ وہ نصِ قرآن کے خلاف کوئی قانون بنانے یا حکم دینے کے مجاز ہیں۔ اسی طرح کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی اس تصور نے کبھی راہ نہیں پائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے کے صاحب امر تھے اور ہم اپنے زمانے کے صاحب امر ہیں، ہم اس کے پابند نہیں ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور حکومت میں جو احکام دیے ہوں ان کے نظائر کی پیروی کریں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کا ادارہ جس روز وجود میں آیا اسی روز خلیفۂ اول نے اپنے خطبے میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ:
اَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَاِنْ عَصَیْتُ اللہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ۔
میری اطاعت کرو جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتا رہوں، اور اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کروں تو میرے لیے کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔
اس اعلان سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ خلافت کا یہ ادارہ قائم ہی اس معاہدے پر ہوا تھا کہ خلیفہ خدا اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا اور امت خلیفہ کی اطاعت کرے گی۔ دوسرے الفاظ میں امت پر خلیفہ کی اطاعت اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ وہ خدا اور رسولؐ کے احکام کی پیروی کرے گا۔ اس شرط کے فوت ہوتے ہی امت پر سے خلیفہ کی اطاعت کا فریضہ آپ سے آپ ساقط ہو جاتا تھا۔
عقلِ عام کا تقاضا
اس کے بعد ذرا عقل عام سے کام لے کر دیکھیے کہ قرآن مجید کی آیت زیر بحث کا منشا کیا ہے اور اس کے تقاضے عملاً کس طرح پورے ہوسکتے ہیں۔
یہ آیت پورے مسلم معاشرے کو خطاب کرکے اسے علی الترتیب تین اطاعتوں کا ملتزم قراردیتی ہے۔ پہلے خدا کی‘ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی‘ پھر ان اُولی الامر کی جو خود اس معاشرے میں سے ہوں، اور نزاعات کے بارے میں ہدایت کرتی ہے کہ فیصلے کے لیے خدا اور رسولؐ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے آیت کا جو منشا ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ معاشرے پر اصل اطاعت خدا اور رسولؐ کی واجب ہے‘ اُولی الامر کی اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت کے تابع ہے۔ نزاع صرف عوام کے درمیان ہی نہیں، عوام اور اولی الامر کے درمیان بھی ہوسکتی ہے‘ اور نزاع کی تمام صورتوں میں آخری فیصلہ کُن اقتدار اُولی الامر کا نہیں،بلکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ ان کا جو حکم بھی ہو، اس کے آگے عوام کو بھی سرجھکا دینا چاہیے اور اُولی الامر کو بھی۔
اب پہلا سوال یہ ہے کہ فیصلے کے لیے خدا اور رسولؐ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ خدا کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا خود سامنے موجود ہو اور اس کے حضور مقدمہ پیش کرکے فیصلہ حاصل کیا جائے‘ بلکہ اس سے مراد خدا کی کتاب سے یہ معلوم کرنا ہے کہ معاملہ متنازع فیہ میں اس کا حکم کیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا مطلب بھی یہ نہیں ہوسکتا کہ ذات رسولؐ سے براہ راست رجوع کیا جائے‘ بلکہ لامحالہ اس کا مطلب بھی یہی ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپؐ کے قول و عمل سے ہدایت حاصل کی جائے۔ یہ بات تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ممکن نہ تھی کہ عدن سے لے کر تبوک تک‘ اور بحرین سے لے کر جدے تک ساری مملکت اسلامیہ کا ہر باشندہ اپنے ہر معاملے کا فیصلہ براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے کراتا ہو۔ اس زمانے میں بھی سنت رسولؐ ہی کو احکام کا ماخذ ہونا چاہیے تھا۔
اس کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ نزاعات میں خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت سے فیصلہ حاصل کرنے کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟ ظاہر بات ہے کہ یہ فیصلہ انسان ہی دیں گے‘ کتاب اور سنت خود تو نہیں بولیں گے۔ لیکن لامحالہ یہ انسان وہی ہونے چاہییں جن کے پاس کتاب و سنت کا قابلِ اعتماد علم ہو، اور کتاب و سنت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے والے بہرحال نزاع کے فریقین خود نہیں ہوسکتے‘ ان کے سوا کوئی تیسرا غیر جانب دار شخص یا ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ اب یہ بات نزاعات کی نوعیت پر منحصر ہے کہ کس قسم کی نزاع میں فیصلہ دینے کے لیے کون موزوں ہوسکتا ہے۔ ایک قسم کی نزاع ایسی ہے جس کا فیصلہ ہر ذی علم آدمی کرسکتا ہے۔ دوسری قسم کی نزاع لازماً ایک عدالت چاہتی ہے، اور بعض نزاعات اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے ایسی ہیں کہ ان کا حتمی فیصلہ اولی الامر کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا، مگر ان سب صورتوں میں فیصلے کا ماخذ کتاب و سنت ہی کو ہونا چاہیے۔
یہ وہ بات ہے جو عقلِ عام کی مدد سے آیت کے الفاظ پر غور کرکے ہر شخص سمجھ سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے ذہن میں کوئی ایچ پیچ نہ ہو۔ اب ایک نظریہ بھی دیکھ لیجیے کہ دنیا کا معروف طریقہ اس آیت کے تجویز کردہ نظام اور اس کی عملی صورت کے سمجھنے میں ہماری کیا مدد کرتا ہے۔ دنیا میں آج قانون کی حکومت (rule of law)کا بڑا چرچا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انصاف کے قیام کے لیے قانون کی بالاتری ناگزیر ہے جس کے آگے بڑے اور چھوٹے سب یکساں ہوں اور جسے عامی اور حاکم اور خود حکومت پر بے لاگ طریقے سے نافذ کیا جائے۔ اس قانون کو چاہے ایک پارلیمنٹ ہی بنائے‘ مگر جب وہ قانون بن جائے تو جب تک وہ قانون ہے خود پارلیمنٹ کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس حاکمیت قانون کے نظریے کو جہاں بھی عملی جامہ پہنایا گیا ہے وہاں لازماً چار چیزوں کا ہونا ضروری سمجھا گیا ہے:
٭ ایک: ایسا معاشرہ جو قانون کا احترام کرنے والا ہو، اور اس کی پیروی کا حقیقی ارادہ رکھتا ہو۔
٭ دوسرے‘ معاشرے میں بکثرت ایسے لوگوں کا پایا جانا جو قانون کو جانتے ہوں‘ لوگوں کو قانون کی پیروی میں مدد دے سکتے ہوں، اور جن کا مجموعی علم اور رسوخ و اثر اس بات کا ضامن ہو کہ نہ معاشرہ قانون کی راہ سے ہٹ سکے اور نہ سیاسی اقتدار کو اس سے ہٹنے کی جرأت ہوسکے۔
٭ تیسرے: ایک بے لاگ عدلیہ جو عوام اور حاکم اور حکومت کی باہمی نزاعات میں قانون کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلے کرے۔
٭ چوتھے: ایک بلند ترین اختیارات رکھنے والا ادارہ جو معاشرے کو پیش آنے والے تمام مسائل و معاملات کا آخری حل تجویز کرے اور وہی حل معاشرے میں قانون کی حیثیت سے نافذ ہو۔
ان حقائق کو نگاہ میں رکھ کر جب آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید کی زیر بحث آیت دراصل اسلامی معاشرے میں قانون کی فرماںروائی ہی قائم کرتی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے وہی چار چیزیں درکار ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ وہ جس قانون کی فرماںروائی قائم کرتی ہے وہ فی الواقع اس کا مستحق ہے اور دنیا میں جن قوانین کی بالاتری قائم کی جاتی ہے وہ اس کے مستحق نہیں ہیں۔ وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو بالاتر قانون قرار دیتی ہے جس کے آگے سب کو سرتسلیم خم کر دینا چاہیے اور جس کے تابع ہونے میں سب یکساں ہوں۔ اس کا مخاطب ایک ایسا معاشرہ ہے جو اس قانون پر ایمان لائے اور اپنے قلب و ضمیر کے تقاضے سے اس کی اطاعت کرے۔ اس کا منشا پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں اہل الذکر کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہو جن کی مدد سے افرادِ معاشرہ اپنی زندگی کے معاملات میں ہر جگہ ہر وقت اس بالاتر قانون کی رہنمائی حاصل کرتے رہیں اور جن کے ذریعے سے رائے عام اس نظام کی حفاظت کے لیے ہمیشہ بیدار رہے۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایک نظامِ عدالت موجود ہو جو عوام ہی کے درمیان نہیں، بلکہ عوام اور ان کے حاکموں کے درمیان بھی بالاتر قانون کے مطابق فیصلے کرے اور وہ اولی الامر کے ایک ایسے ادارے کی طالب بھی ہے جو خود اس بالاتر قانون کا تابع ہو، اور معاشرے کی اجتماعی ضروریات کے لیے اس کی تفسیر و تعبیر اور اس کے تحت اجتہاد کے آخری اختیارات استعمال کرے۔


باب۱۱

مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ان مختلف دستوری‘ سیاسی (نظری) مسائل پر وقتاً فوقتاً روشنی ڈالی ہے جو ملک میں دستوری بحث کے دوران پیدا ہوئے۔ ان میں کچھ مسائل کی تنقیح فساداتِ لاہور کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے کی گئی تھی اور کچھ کی تشریح تقاریر‘ اور اخباری بیانات میں اور کچھ کی تحریری سوال و جواب کے ذریعے۔ ویسے تو ان مسائل کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ان میں سے چند اہم سوالات اور ان کے جوابات کو ہم ذیل میں مرتب کرکے پیش کر رہے ہیں۔(مرتب)

۱۔ اسلامی ریاست کے چند پہلو

لادینی جمہوریت‘ تھیاکریسی اور اسلامی ریاست
اسلامی ریاست‘ جس کا قیام اور فروغ ہمارا نصب العین ہے‘ نہ تو مغربی اصطلاح کے مطابق مذہبی حکومت (theocracy) ہے اور نہ جمہوری حکومت (democracy) بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان ایک الگ نوعیت کا نظام سیاست و تمدن ہے۔ جو ذہنی الجھنیں آج کل مغربی تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہن میںاسلامی ریاست کے تصور کے متعلق پائی جاتی ہیں وہ دراصل ان مغربی اصطلاحات کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں جو لازماً اپنے ساتھ مغربی تصورات اور اپنے پیچھے مغرب کی تاریخ کا ایک پورا سلسلہ بھی ان کے ذہن کے سامنے لے آتی ہیں۔ مغربی اصطلاح میں مذہبی حکومت (theocracy)دو بنیادی تصورات کا مجموعہ ہے:
۱۔ خدا کی بادشاہی، قانونی حاکمیت (legal sovereignty) کے معنی میں،
۲۔ پادریوں اور مذہبی پیشوائوں کا ایک طبقہ جو خدا کا نمائندہ اور ترجمان بن کر خدا کی اس بادشاہی کو قانونی اور سیاسی حیثیت سے عملاً نافذ کرے۔
ان دو تصورات پر ایک تیسرے امرِ واقعی کا بھی وہاں اضافہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل کی اخلاقی تعلیمات کے سوا کوئی قانونی ہدایت نامہ چھوڑ کر نہیں گئے اور سینٹ پال نے شریعت کو لعنت قرار دے کر عیسائیوں کو احکام توراۃ کی پابندی سے آزاد کر دیا۔ اب اپنی عبادت‘ معاشرت‘ معاملات اور سیاست وغیرہ کے لیے عیسائیوں کو قوانین و احکام کی جو ضرورت پیش آئی اسے ان کے مذہبی پیشوائوں نے اپنے خود ساختہ احکام سے پورا کیا اور ان احکام کو خدائی احکام کی حیثیت سے منوایا۔ اسلام میں اس مذہبی حکومت (theocracy)کا صرف ایک جز آیا ہے اور وہ ہے خدا کی حاکمیت کا عقیدہ۔ اس کا دوسرا جز اسلام میں قطعاً نہیں ہے۔ رہا تیسرا جز‘ تو اس کے بجائے یہاں قرآن اپنے جامع اور وسیع احکام کے ساتھ موجود ہے اور اس کی تشریح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی قولی اور عملی ہدایات موجود ہیں جن کی روایات میں سے صحیح کو غلط سے ممیز کرنے کے مستند ذرائع ہمیں حاصل ہیں۔ ان دو ماخذ سے جو کچھ ہمیں ملے صرف وہی من جانب اللہ ہے۔ اس کے سوا کسی فقیہہ‘ امام‘ ولی یا عالم کا یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اس کے قول و فعل کو حکم خداوندی کی حیثیت سے بے چون و چرا مان لیا جائے۔ اس صریح فرق کے ہوتے ہوئے اسلامی ریاست کو مغربی اصطلاح میں مذہبی حکومت (theocracy)کہنا قطعاً غلط ہے۔
دوسری طرف مغرب میں جس چیز کو جمہوری حکومت (democracy)کہتے ہیں وہ بھی دو بنیادی تصورات کا مجموعہ ہے:
۱۔ عوام کی قانونی اور سیاسی حاکمیت جو عوام کی اکثریت‘ یا ان کے منتخب کیے ہوئے نمائندوں کی اکثریت کے ذریعے سے عملاً ظہور میں آئے۔
۲۔ ریاست کا انتظام کرنے والی حکومت کا عوام کی آزادانہ خواہش سے بننا اور بدل سکنا۔
اسلام اس کے صرف دوسرے جز کو لیتا ہے۔ رہا پہلا جز‘ تو اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے قانونی حاکمیت اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کرتا ہے جس کے احکام (خواہ وہ کتاب اللہ میں ہوں، یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں) ریاست کے لیے ناقابلِ تغیر و تبدل قانون کی حیثیت رکھتے ہیں اور سیاسی حاکمیت کوحاکمیت کے بجائے خلافت (یعنی اللہ‘ حاکم حقیقی کی نیابت) قرار دے کر، ریاست کے عام مسلمان باشندوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ خلافت مسلم عوام کی اکثریت یا ان کے معتمد علیہ نمائندوں کی اکثریت کے ذریعے سے عملاً ظہور میں آئے گی۔ اس بنیادی فرق کو دیکھتے ہوئے اسلامی ریاست کو مغربی اصطلاح کے مطابق جمہوریت (democracy)کہنا بھی کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
اسلام میں قانون سازی
اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس سے یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام جس نوعیت کی ریاست بناتا ہے اس میں ایک مجلس قانون ساز (legislature)کی موجودگی ضروری ہے جو مسلم عوام کے معتمد علیہ نمائندوں پر مشتمل ہو، اور جن کے اجماع یا اکثریت کے فیصلے دارالاسلام میں قانون کی حیثیت سے نافذ ہوں۔ اس مجلسِ قانون ساز (legislature)کی ترکیب‘ اس کے کام کا ضابطہ اور اس کے ارکان کے انتخاب کا طریقہ اسلام میں مقرر نہیں کیا گیا ہے‘ اس لیے ہر زمانے کے حالات و ضروریات کے لحاظ سے اس کی الگ شکلیں اختیار کی جاسکتی ہیں، مگر جو باتیں اصولاً طے کر دی گئی ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ ریاست کاکام مشورے سے چلایا جائے۔
۲۔ فیصلے یا تو اجماع (اتفاق رائے) سے ہوں، یا جمہور (اکثریت) کی رائے کے مطابق۔
۳۔ قرآن و سنت کے خلاف کو ئی فیصلہ اجماع سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔
۴۔ قرآن و سنت کے احکام کی جس تعبیر پر اجماعی یا جمہوری فیصلہ ہو جائے وہ ملک کا قانون قرار پائے۔
۵۔ جن امور میں قرآن و سنت کا کوئی حکم موجود نہ ہو،ان میں مسلم عوام کے نمائندے خود قانون بنا سکتے ہیں اور ان کا اجماعی یا جمہوری فیصلہ نافذ ہوگا۔
۶۔ اس امر کا کوئی موزوں انتظام ہونا چاہیے کہ افرادِ ریاست کے درمیان‘ یا حکومت اور عوام کے درمیان یا عوام اور مجلس قانون ساز کے درمیان یا حکومت کے مختلف شعبوں اور اجزا کے درمیان جو نزاع بھی ہو، اس کا فیصلہ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کیا جاسکے۔
اسلامی ریاست کیوں؟
پاکستان کو اس طرح کی ایک ریاست بنانے کے لیے ہمارا مطالبہ بہت سے معقول وجوہ پر مبنی ہے جن میں سے اہم ترین وجوہ تین ہیں:
٭ ایک یہ کہ یہ عین ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور ہم ہرگز اپنے ایمان میں مخلص نہیں ہوسکتے اگر آزادی اور اختیارات پانے کے بعد بھی ہم اس قرآن اور اس رسولؐ کے احکام کو نافذ نہ کریں جس کے برحق ہونے پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔
٭ دوسرے یہ کہ پاکستان کے قیام کا مطالبہ ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ یہاں ایک اسلامی ریاست قائم کی جائے جس میں خدا اور رسولؐ کے احکام جاری ہوں اور اسی تمنا کے پیچھے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں اور عزتیں اور جائیدادیں قربان کیں۔
٭ تیسرے یہ کہ پاکستان کے باشندوں کی عظیم الشان اکثریت چاہتی ہے کہ ان کی قومی ریاست ایک اسلامی ریاست ہو، اور اکثریت کی مرضی کو بہرحال نافذ ہونا چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ یہاں کچھ تھوڑے سے لوگ ایسے ضرور ہیں جو مغربی تہذیب و تمدن اور اس کے نظریات کو برحق سمجھتے ہیں اور ان کے لیے اسلامی ریاست کے تخیل سے اپنے ذہن کو مانوس کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ نیز پاکستان کی ملازمتوں میں بھی ایک اچھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی موجود ہے جن کی ساری ذہنی و عملی تربیت مغربی طرز کا نظام حکومت چلانے ہی کے لیے ہوئی ہے اور انھیں اسلامی ریاست کا نظام آتے دیکھ کر طرح طرح کے خدشات لاحق ہو رہے ہیں، مگر ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ جو چیز ہونی اور شدنی ہے اس کے ساتھ اپنے آپ کو مطابق بنائیں جس طرح ان کے بزرگوں نے انگریزی دور کی آمد پر اپنے آپ کو نئے دور کے مطابق بنایا تھا۔ ان میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو جمہوریت کا بڑا شیدائی ظاہر کرتے ہیں۔ اب یہ سوچنا ان کا اپنا کام ہے کہ چند لوگوں یا خاندانوں کی سہولت کی خاطر ایک ایسی چیز کی مزاحمت کرنا کہاں تک صحیح ہے جسے باشندگان ملک کی اکثریت چاہتی ہو۔
اسلامی ریاست میں ذمیوں کی حیثیت
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی حیثیت کے متعلق عدالت میں جو سوالات چھیڑے گئے ہیں ان کے جوابات سلسلہ وار حسب ذیل ہیں:
(i ) اسلامی ریاست کی غیر مسلم رعایا کو اسلامی اصطلاح میں ’ذمی‘ کہا جاتا ہے۔ ذمی کوئی گالی نہیں ہے اور نہ یہ لفظ شودر اور ملیچھ کا ہم معنی ہے۔ ذمہ عربی زبان میں (guarantee) کو کہتے ہیں اور ذمی وہ شخص ہے جس کے حقوق ادا کرنے اور محفوظ رکھنے کا اسلامی حکومت نے ذمہ لیا ہو۔ اسلامی حکومت یہ ذمہ محض اپنی طرف سے یا مسلم باشندوں کی طرف سے نہیں، بلکہ خدا اور رسولؐ کی طرف سے لیتی ہے اور اس کی اہمیت اس درجے کی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم حکومت میں مسلمانوں کا قتل عام بھی کر ڈالا جائے تو ہم انتقاماً اپنے ملک میں اس کے ہم مذہب ذمیوں کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔ ایک اسلامی حکومت میں کوئی پارلیمنٹ ان کے شرعی حقوق غصب کرنے کی سرے سے مجاز ہی نہیں ہے۔
(ii) ذمیوں کی تین قسمیں ہیں:
٭ اول:وہ جو کسی معاہدے کے ذریعے سے اسلامی حکومت کے تابع ہوئے ہیں۔
٭ دوم: وہ جو بزور شمشیر فتح ہوئے ہوں۔
٭ سوم: وہ جو نہ مفتوح ہوں اور نہ جن سے کوئی باقاعدہ معاہدہ ہی ہوا ہو۔
پہلی قسم کے ذمیوں سے اس معاہدے کے مطابق برتائو کیا جائے گا جو ان سے طے کیا گیا ہو۔ دوسری قسم کے ذمیوں کو وہ حقوق دیے جائیں گے جو شریعت میں اہل ذمہ کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ رہے تیسری قسم کے ذمی‘ تو انھیں بہرحال دوسری قسم والوں کے حقوق تو دیے ہی جائیں گے‘ اور مزید ایسے حقوق بھی ہم ان کو دے سکتے ہیں جو اسلامی اصولوں سے نہ ٹکراتے ہوں اور جنھیں دینا ہم اپنے حالات کے لحاظ سے مناسب سمجھیں۔
(iii) ذمیوں کے کم سے کم حقوق جو شریعت میں مقرر کیے گئے ہیں‘ یہ ہیں:
مذہب کی پوری آزادی۔ مذہبی تعلیم کی اجازت۔ مذہبی لٹریچر طبع اور شائع کرنے کی اجازت۔ قانون کے حدود میں مذہبی بحث کی آزادی۔ معابد کی حفاظت۔ پرسنل لا کی حفاظت۔ جان و مال اور عزت کی حفاظت۔ دیوانی اور فوج داری قوانین میں مسلمانوں کے ساتھ پوری مساوات۔ حکومت کے عام برتائو میں ذمی اور مسلم رعایا کے درمیان عدمِ امتیاز۔ معاشی کاروبار کے ہر میدان میں مسلمانوں کی طرح یکساں مواقع۔ حاجت مند ہونے کی صورت میں مسلمان کی طرح ذمی کا بھی بیت المال سے مدد پانے کا استحقاق۔
یہ حقوق اسلامی ریاست صرف کاغذ ہی پر نہیں دیتی، بلکہ وہ اپنے دین و ایمان کی رُو سے عملاً انھیں ادا کرنے پر مجبور ہے، قطع نظر اس سے کہ غیر مسلم ریاستیں مسلمانوں کو کاغذ پر کیا حقوق دیتی ہیں اور عملاً کیا۔
(iv) ذمیوں کو صرف اَمصارِ مسلمین میں نئے معابد بنانے سے روکا گیا ہے، البتہ اگر ان کے پرانے معابد وہاں موجود ہوں تو ان کی حفاظت اور مرمت کرسکتے ہیں۔ امصار مسلمین سے مراد وہ شہر ہیں جو مسلمانوں نے خاص اپنے لیے آباد کیے ہوں‘ جیسے کوفہ اور بصرہ اور فسطاط۔ باقی رہے ملک کے دوسرے شہر اور قصبے اور دیہات‘ تو ان کو وہاں نئے معابد تعمیر کرنے اور پرانے معابد کی مرمت کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔
(v) ذمیوں پر لباس وغیرہ کے متعلق جن قیود کا ذکر بعض فقہی کتابوں میں کیا گیا ہے، اس سے کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہونی چاہیے۔ دراصل یہ تین قسم کی قیود تھیں جو پہلی دوسری صدی ہجری کے فقہاء نے حالات و ضروریات کے لحاظ سے عاید کی تھیں:
٭ پہلی قسم کی قیود وہ تھیں جن میں ذمیوں کو فوجی وردی استعمال کرنے سے روکا گیا تھا۔ مسلمانوں کو اس چیز سے اس لیے نہیں روکا گیا کہ ہر بالغ مسلمان مرد کے لیے اس وقت فوجی خدمت لازمی تھی اور ذمی اس سے مستثنیٰ تھے۔
٭ دوسری قسم کی قیود وہ تھیں جن میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے اور غیر مسلموں کو مسلمانوں کے مشابہ بننے سے روکا گیا تھا‘ کیونکہ اس طرح کے تَشَبُّہ میں بہت سی قباحتیں ہیں۔ اس میں اندیشہ ہے کہ مختلف تہذیبوں کے مصنوعی اختلاط سے ایک دو غلی تہذیب پیدا ہو جائے گی۔ اس میں یہ بھی اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی غلبے سے مرعوب ہو کر غیر مسلموں میں وہ غلامانہ خصوصیات پیدا ہو جائیں گی جن کی وجہ سے مغلوب قوم اپنے لباس اور اپنی معاشرت میں غالب قوم کی نقل اتارنے لگتی ہے۔ اسلام اس طرح کی ذہنیت کو کسی کافر میں بھی پرورش ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اسی لیے غیر مسلموں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی تہذیب و معاشرت اور اپنے مذہب کی خصوصیات کو محفوظ رکھیں اور مسلمانوں کی رِیس نہ کریں۔ چنانچہ فقہ حنفی کی مشہورکتاب بَدَائِعُ الصَّنَائِع میں یہ حکم ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
اَنَّ اَھْلَ الذِّمَّۃِ یُؤْخَذُوْنَ بِاِظْھَارِ عَلاَمَاتٍ یُعْرَفُوْنَ بِھَا وَلَایُتْرَکُوْنَ یَتَشَبَّھُوْنَ بِالْمُسْلِمِیْنَ فِیْ لِبَاسِھِمْ۔ (ج۷،ص۱۱۳)
اہلِ ذمہ کو ایسی علامات اور نشانیاں رکھنے کا پابند کیا جائے گا جن سے وہ پہچانے جائیں اور ان کو اپنے لباس میں مسلمانوں کے مشابہ بننے سے روکا جائے گا۔
علاوہ بریں اس میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ مثلاً: مسلمانوں کے لیے شراب پینا‘ رکھنا اور بیچنا، فوج داری جرم ہے اور ذمیوں کے لیے یہ جرم نہیں ہے۔ اب اگر ایک مسلمان ذمیوں کے مشابہ لباس پہنے تو وہ پولیس کے مواخذے سے بچ سکتا ہے‘ اور اگر ایک ذمی مسلمانوں کے مشابہ بن کر رہے تو وہ پولیس کی گرفت میں آسکتا ہے۔
تیسری قسم کی قیود اس وقت کے مخصوص حالات کی وجہ سے عائد کی گئی تھیں۔ اس وقت سندھ سے لے کر اسپین تک بہت سے ممالک مسلمانوں کی تلوار سے مفتوح ہوئے تھے اور قدرتی طور پر ان سب ملکوں کی آبادی میں سابق حکمران طبقوں کے ایسے کثیر التعداد لوگ موجود تھے جن میں اپنا کھویا ہوا اقتدار واپس لینے کا دم داعیہ تھا۔ مسلمانوں نے دنیا کے دوسرے فاتحین کی طرح ان طبقوں کو تہ تیغ نہیں کیا تھا‘ بلکہ ذمی بنا کر محفوظ و مامون کر دیا تھا، مگر بہرحال سیاسی مصالح کی بنا پر ان کو کچھ نہ کچھ دبا کر رکھنا ضروری تھا‘ تاکہ وہ پھر سر اٹھانے کی ہمت نہ کریں۔ اس لیے ان کو اپنی سواریوں اور اپنے لباس اور دوسرے لوازم معاشرت میں وہ شان دکھانے سے روک دیا گیا جس سے ان کے دور حکمرانی کی یاد تازہ ہوتی ہو۔ اس طرح کے احکام وقتی تھے نہ کہ ابدی، اور یہ احکام چاہے فقہ کی کتابوں ہی میں لکھے گئے ہوں‘ مگر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمام اہلِ ذمہ پر ان کو چسپاں نہیں کیا جاسکتا۔
(vi) اسلامی حکومت میں کوئی غیر مسلم صدر ریاست‘ وزیر‘ سپہ سالار، قاضی اور ایسے کلیدی مناصب کا حامل نہیں بن سکتا جہاں وہ حکومت کی پالیسی میں حصہ دار ہوسکے۔ اس کی وجہ کوئی تعصب نہیں ہے، بلکہ اس کی صاف اور سیدھی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت ایک نظریے پر بنتی ہے اور اس میں یہ مناصب ایسے ہی شخص کو دیے جاسکتے ہیں جو اس نظریے کو اچھی طرح سمجھتا ہو اور اس کی صحت و صداقت پر ایمان رکھتا ہو۔ اسلامی حکومت چونکہ خلوص اور ایمان داری پر قائم ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی غیر مسلم رعایا میں بھاڑے کے ٹٹوئوں کی ذہنیت (mercenary spirit) پیدا کرنا پسند نہیں کرتی۔ اس کے برعکس وہ ان سے کہتی ہے کہ اگر تم ہمارے نظریے اور اصولوں کو صحیح سمجھتے ہو تو ان کی صداقت کا علانیہ اقرار کرو‘ تمھارے لیے حکمران جماعت میں شامل ہونے کے مواقع کھلے ہوئے ہیں،اور اگر تم ان کی صداقت پر ایمان نہیں رکھتے تو محض پیٹ اور جاہ طلبی کی خاطر اس نظام کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے نہ آئو جسے عقیدتاً تم غلط سمجھتے ہو۔
(vii) ہمارے لیے یہ سوال قطعاً کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ غیر مسلم حکومتیں اپنے دائرۂ اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں اور کیا نہیں کرتیں۔ ہم جس چیز کو حق سمجھتے ہیں اس پر اپنے ملک میں عمل کریں گے اور دوسرے جس چیز کو حق سمجھیں اسے عمل میں لانے کے لیے وہ آزاد ہیں۔ آخر کار ہمارا اور ان کا مجموعی طرز عمل دنیا کی رائے عام کے سامنے واضح کر دے گا کہ ہم کیا ہیں اور وہ کیا۔ ہم بہرحال یہ مکاری نہیں کرسکتے کہ اپنے دستور کے صفحات پر غیر مسلموں کو سارے نمائشی حقوق دے دیں، مگر عملاً ان کی وہ حالت بنا کر رکھیں جو ہندستان میں مسلمانوں کی‘ امریکہ میں حبشیوں اور ریڈ انڈین قبائل کی اور روس میں غیر اشتراکی لوگوں کی ہے۔ رہا یہ سوال کہ کیا ایسی حالت میں غیر مسلم اقلیتیں اسلامی حکومت کی وفادار بن کر رہ سکیں گی‘تو اس کا جواب یہ ہے کہ وفاداری اور ناوفاداری دستور کے چند لفظوں سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس مجموعی برتائو سے پیدا ہوتی ہے جو حکومت اور اکثریت اپنی زیر اثر اقلیتوں کے ساتھ عملاً اختیار کرے۔
مرتد کی سزا اسلام میں
عدالت میں مرتد کی سزا کا مسئلہ بھی چھیڑا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں مرتد کی انتہائی سزا قتل ہے۔ اگر کوئی کہنا چاہے کہ ایسا نہ ہونا چاہیے تو یہ بات کہنے کا اسے اختیار ہے، لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ اسلام میں فی الواقع ایسا کوئی قانون نہیں ہے‘ تو وہ یا تو اسلامی قانون سے ناواقف ہے یا پھر (شماتتِ ہمسایہ) سے شرما کر اپنے دین کے ایک حکم پر پردہ ڈالتا ہے۔ اسلام کے اس قانون کو سمجھنے میں لوگوں کو جو الجھنیں پیش آتی ہیں ان کے کئی وجوہ ہیں:
اول: یہ کہ وہ اسلام بحیثیت مذہب اور اسلام بحیثیت ریاست کا فرق نہیں سمجھتے اور ایک کا حکم دوسرے پر چسپاں کرنے لگتے ہیں‘ حالاں کہ ان دونوں حیثیتوں اور ان کے احکام میں فرق ہے۔
دوم: یہ کہ وہ موجودہ حالات کو نگاہ میں رکھ کر اس حکم پر غور کرتے ہیں جب کہ غیر مسلم حکومتوں ہی میں نہیں‘ خود مسلمانوں کی اپنی حکومتوں میں بھی غیر اسلامی تعلیم اور غیر اسلامی تہذیب کے غلبے سے مسلمانوں کی نئی نسلوں میں بکثرت لوگ گمراہ ہو کر اٹھ رہے ہیں۔ حالانکہ اگر ایک صحیح اسلامی حکومت موجود ہو تو اس کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ ان تمام اسباب کا سدباب کرے جن سے کوئی مسلمان واقعی اسلام سے غیر مطمئن اور ارتداد پر آمادہ ہوسکتا ہو۔ جہاں اسلامی حکومت اپنے حقیقی فرائض انجام دے رہی ہو، وہاں تو غیر مسلموں کا کفر پر مطمئن رہنا بھی مشکل ہے‘ کجا کہ ایک مسلمان الٹا اسلام سے غیر مطمئن ہو جائے۔
سوم: یہ کہ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ مسلم سوسائٹی ہی وہ چٹان ہے جس پر اسلامی ریاست کا قصر تعمیر ہوتا ہے اور اسی چٹان کے استحکام پر ریاست کے استحکام کا پورا انحصار ہے۔ آخر دنیا میں وہ کون سی ریاست ہے جو اپنے اندر خود اپنی تخریب کے اسباب و وسائل کو پرورش کرنا، یا گوارا ہی کرنا پسند کرتی ہو؟ ہم اپنی حد تک اپنی ریاست کی بنیادی چٹان کے ہر ذرے کو چٹان سے بہ دل و جان وابستہ رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ پھر بھی اگر کوئی ذرہ ایسا نکل آئے جو علیحدگی کو ہی ترجیح دیتا ہو تو ہم اس سے کہیں گے کہ تمھیں علیحدہ ہونا ہے تو ہمارے حدود سے باہر نکل جائو‘ ورنہ یہاں ہم تمھیں دوسرے ذروں کی پراگندگی کا سبب بننے کے لیے آزاد نہ چھوڑیں گے۔
چہارم: یہ کہ وہ اس غلط فہمی میں ہیں کہ ہر قسم کے مرتد کو ہرحال میں ضرور قتل ہی کیا جائے گا۔ حالانکہ ایک جرم کی انتہائی سزا شدید ترین نوعیت جرم پر دی جاتی ہے نہ کہ مجرد جرم پر۔ ایک شخص محض عقائد کی حد تک اسلام سے منحرف ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوسرا شخص اسلام کوعلانیہ چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب میں جا ملتا ہے۔ تیسرا شخص مرتد ہونے کے بعد اسلام کی مخالفت میں عملی سرگرمیاں دکھانے لگتا ہے۔ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی قانون اس طرح کے تمام مختلف آدمیوں کو ہر حال میں ایک ہی نگاہ سے دیکھے گا؟۲۰۰؎
اسلامی قانون جنگ اور غلامی
اسلامی قانون جنگ اور خصوصاً غلامی کے مسئلے پر بھی عدالت میں کچھ سوالات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام کا قانون جنگ حقیقت میں ایک قانون ہے جس پر اسلامی ریاست میں لازماً عمل کیا جائے گا، قطع نظر اس سے کہ دوسری قومیں‘ جن سے ہماری جنگ ہو‘ اس کے مقرر کردہ قواعد اور حدود کو ملحوظ رکھیں یا نہ رکھیں۔ اس کے برعکس جس چیز کو بین الاقوامی قانون جنگ کہتے ہیں، وہ حقیقت میں قانون نہیں ہے، بلکہ بین الاقوامی راضی ناموں کا ایک مجموعہ ہے، جس کے قواعد اور حدود کی پابندی ہر قوم نے اس امید اور سمجھوتے پر قبول کی ہے کہ دوسری قومیں بھی جنگ میں انھیں ملحوظ رکھیں گی۔ اسلام نے ہمیں جنگ کے چند کم سے کم حدود تہذیب و اخلاق کا تو پابند کر دیا ہے جنھیں اگر دوسرے توڑ بھی دیں تو ہم بہرحال نہیں توڑ سکتے‘ اور ان سے زائد اگر کچھ مزید مہذب قوانین پر دوسری قومیں راضی ہوں تو ہم نہ صرف یہ کہ ان کے ساتھ ایسے سمجھوتے کرنے کے لیے آزاد ہیں‘ بلکہ ان سب سے بڑھ کر یہ ہمارا منصب ہے کہ انھیں جنگ میں مزید تہذیب اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ مثال کے طور پر غلامی ہی کے مسئلے کولے لیجیے۔ اسلام نے اس کی اجازت اس حالت میں دی ہے جب کہ دشمن نہ تبادلۂ اسیران جنگ پر راضی ہو، اور نہ فدیے کے عوض اپنے قیدی چھڑانا اور ہمارے قیدی چھوڑنا قبول کرے۔ اس صورت میں اسلام نے قیدیوں کو جیلوں اور اجتماعی کیمپوں میں رکھ کر جبری محنت لینا پسند نہ کیا، بلکہ انھیں افراد میں تقسیم کر دینے کو ترجیح دی، تاکہ ان کا مسلمانوں میں جذب ہو جانا زیادہ آسانی کے ساتھ ممکن ہو۔ یہ صحیح ہے کہ اس زمانے میں دنیا کے دوسرے ممالک بھی قیدیوں کو غلام ہی بنا کر رکھتے تھے‘ اور غلامی کا لفظ ہمارے اور ان کے درمیان ضرور مشترک تھا‘ مگر جہاں تک غلامی کی حقیقت کا تعلق ہے‘ اسے جس طرح اسلام نے بدلا اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ آخر وہ دنیا کی کون سی قوم ہے جس میں اس کثرت سے غلام اور غلام زادے امامت اور قضا اور سپہ سالاری اور امارت و فرماں روائی کے مرتبوں پر پہنچے ہوں؟ یہ تو وہ کم سے کم تہذیب و انسانیت کی حد تھی جس پر اسلامی قانون نے ہمیں قائم کیا۔ اب اگر دنیا کی قومیں تبادلۂ اسیران جنگ کا قاعدہ قبول کر چکی ہیں تو اسلام میں کوئی چیز اس کا خیر مقدم کرنے سے ہم کو نہیں روکتی۔ ہمارے لیے تو یہ خوشی کا مقام ہے کہ دنیا بالآخر اس بات پر راضی ہوگئی جس پر ہم صدیوں پہلے اسے راضی کرنا چاہتے تھے۔
اسلام اور فنونِ لطیفہ
یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اسلامی حکومت میں آرٹ کا کیا حشر ہوگا اور اس سلسلے میں تصویر‘ ڈرامے‘ موسیقی‘ سینمااور مجسموں کا خاص طور پر نام لیا گیا ہے۔ میں اس سوال کا یہ مختصر جواب دوں گا کہ آرٹ تو انسانی فطرت کی ایک پیدائشی امنگ ہے جسے خود خالقِ فطرت نے اپنے ہر کام میں ملحوظ رکھا ہے‘ اس لیے بجائے خود اس کے ناجائز یا ممنوع ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، مگرآرٹ کے مظاہر لازماً وہی نہیں ہیں جو اس وقت مغربی تہذیب میں پائے جاتے ہیں‘ بلکہ ہر تہذیب اپنے اصول اور نظریات اور رجحانات کے مطابق فطرت کی اس امنگ کا اظہار مختلف جاموں میں کرتی ہے اور دوسری تہذیبوں کے اختیار کردہ جاموں کے جواز و عدم جواز کا فیصلہ کیا کرتی ہے۔ آخر یہ کیوں فرض کرلیا گیا ہے کہ آرٹ بس اسی چیز کا نام ہے جو مغرب سے درآمد ہو رہی ہے اور اگر اس پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں تو بجائے خود آرٹ ہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسلام آرٹ کے متعلق خود اپنا ایک نظریہ رکھتا ہے۔ وہ فطرت کی اس امنگ کو بت پرستی‘ حسن پرستی اور شہوانیت کی راہوں پر جانے سے روکتا ہے اور اس کے ظہور کے لیے دوسرے راستے دکھاتا ہے۔ اس کی حکومت میں لازمًا اس کا اپنا ہی نظریہ فرماں روا ہوگا۔ مغربی تہذیب کے نظریات کی فرماں روائی بہرحال جاری نہ رہ سکے گی۔
فقہی اختلافات اسلامی ریاست کے قیام میں حائل نہیں ہیں
یہ سوال بھی چھیڑا گیا ہے کہ مسلمان فرقوں کے درمیان اعتقادی اور فقہی اختلاف کی کیا نوعیت ہے اور یہ کہ جب ان کے درمیان بنیادی امور میں بھی اتفاق نہیں ہے‘ حتیٰ کہ سنت تک شیعوں اور سنیوں میں متفق علیہ نہیں ہے تو ایک اسلامی ریاست کا نظام کیسے چل سکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں میرے نزدیک صرف اتنی تصریح کافی ہے کہ پاکستان میں ہم کو روایتی ۷۳ فرقوں سے عملاً کوئی سابقہ درپیش نہیں ہے‘ اور ہر نیا خیال جسے کسی شخص نے کسی اخبار یا رسالے میں پیش کیا ہو، اور کچھ منتشر لوگوں نے قبول کرلیا ہو‘ کوئی قابل ذکر فرقہ نہیں بنا دیتا۔ ہمارے ملک میں بالفعل صرف تین فرقے پائے جاتے ہیں:
۱۔ حنفی، جو دیوبندیوں اور بریلویوں میں تقسیم ہونے کے باوجود فقہ میں متفق ہیں۔
۲۔ اہل حدیث ۳۔ شیعہ
ان تینوں فرقوں کے اختلافات عملاً ایک اسلامی ریاست کا نظام بننے اور چلنے میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرتے، اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ پرسنل لا، مذہبی رسوم و عبادات اور مذہبی تعلیم کی حد تک ہر فرقے کا مسلک دوسرے فرقے کی مداخلت سے محفوظ رہے گا اور ملک کا انتظام ان قواعد اور قوانین کے مطابق چلے گا جو پارلیمنٹ کی اکثریت طے کرے۔ اس سلسلے میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں’۷۳فرقوں‘ کے اس افسانے کی حقیقت بھی کھول دوں جس سے خواہ مخواہ ناواقف لوگ اپنے ذہن کو بھی الجھاتے ہیں اور دوسروں کے ذہنوں میں بھی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ مسلمان فرقوں کی وہ کثیر تعداد جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے‘ اس کا بہت بڑا حصہ کاغذی وجود کے سوا نہ پہلے کوئی وجود رکھتا تھا اور نہ اب رکھتا ہے۔ جس شخص نے بھی کوئی نرالا خیال پیش کیا اور اس کے سو پچاس حامی پیدا ہوگئے اسے ہمارے مصنفین نے ایک فرقہ شمار کرلیا۔ اس طرح کے فرقوں کے علاوہ ایک معتدبہ تعداد ایسے فرقوں کی بھی ہے جو گذشتہ تیرہ سو۲۰۱؎ برس کی مدت میں پیدا بھی ہوئے اور مٹ بھی گئے۔ اب دنیا میں مسلمانوں کے بمشکل چھ‘ سات فرقے باقی ہیں جنھیں اصولی اختلافات کی بنا پر مستقل فرقہ کہا جاسکتا ہے اور جو اپنی تعداد کے لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔ ان میں بھی بعض فرقے بہت قلیل التعداد ہیں اور یا تو خاص خاص علاقوں میں مجتمع ہیں یا دنیا بھر میں اس طرح منتشر ہیں کہ کہیں بھی ان کی کوئی قابلِ لحاظ آبادی نہیں ہے۔ دنیا میں بڑے مُسلّم فرقے صرف دو ہی ہیں۔ ایک: سنی‘ دوسرے: شیعہ۔ ان میں سے امت کا سوادِ اعظم سنیوں پر مشتمل ہے اور ان کے ضمنی فرقوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو حقیقتاً دوسرے سنی فرقوں سے کوئی اصولی اختلاف رکھتا ہو۔ یہ صرف مذاہب فکر (school of thought)ہیں جن کو مناظرہ بازیوں نے خواہ مخواہ فرقوں کی شکل دے رکھی ہے۔ اگر کوئی عملی سیاست دان دنیا کے کسی ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہے تو ان اختلافات کی موجودگی کہیں بھی سدِّراہ نہیں ہوسکتی۔۲۰۲؎

۲۔خلافت و حاکمیت۲۰۳؎

یہ ایک سوال نامہ ہے جو جرمنی سے ایک طالب علم نے اسلامی ریاست اور خلافت کے بعض مسائل کی تحقیق کے لیے بھیجا ہے۔ اصل سوالات انگریزی میں ہیں۔ ذیل میں ہم ان کا ترجمہ دے رہے ہیں:
۱۔ کیا اسلامی ریاست کے سربراہ کے لیے صرف خلیفہ کی اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے؟
۲۔ کیا اموی خلفا صحیح معنوں میں خلفا کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟
۳۔ خلفائے بنو عباس خصوصاً المامون کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
۴۔ حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور ابن زبیرؓ کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟ آپ کی نظر میں ۶۸۰ء میں ملت اسلامیہ کا اصل رہنما کون تھا؟ حسینؓ، یایزید؟
۵۔ کیااسلامی ریاست میں خروج ایک نیکی کاکام قرار پاسکتا ہے؟
۶۔ اگر خروج کرنے والے مساجد یا دوسرے مقدس مقامات (حرم اور کعبہ) میں پناہ گزیں ہوں، تو ایسی صورت میں اسلامی ریاست کا ایسے لوگوں کے ساتھ کیا طرز عمل ہونا چاہیے؟
۷۔ وہ ایسے کون سے ٹیکس ہیں جو ایک اسلامی ریاست اپنے شہریوں سے ازروئے قرآن و سنت وصول کرنے کی مجاز ہے؟
۸۔ کیا کوئی خلیفہ ایسا کام بھی کرسکتا ہے جو سابق خلفا کے طرز عمل سے مختلف ہو؟
۹۔ حجاج بن یوسف کو بحیثیت گورنر اور منتظم آپ کیا حیثیت دیتے ہیں؟
۱۰۔ کیا اسلامی ریاست اس بات کا استحقاق رکھتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں پر ایسے ٹیکس عاید کرے جو نہ تو قرآن و سنت میں مذکور ہوں اور نہ ہی ان کی کوئی نظیر سابق خلفا کے ہاں ملتی ہو؟
جواب: آپ کے ارسال کردہ سوالات کے مفصل جوابات لکھنے کے لیے تو فرصت درکار ہے جو مجھے میسر نہیں، البتہ مختصر جوابات حاضر ہیں:
(۱)اسلامی ریاست کے رئیس یا صدر کے لیے خلیفہ کا لفظ کوئی لازمی اصطلاح نہیں ہے۔ امیر‘ امام‘ سلطان وغیرہ الفاظ بھی حدیث‘ فقہ‘ کلام اور اسلامی تاریخ میں کثرت سے استعمال ہوئے ہیں، مگر اصولاً جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ریاست کی بنیاد نظریۂ خلافت پر قائم ہو۔ ایک صحیح اسلامی ریاست نہ تو بادشاہی یا آمریت ہوسکتی ہے اورنہ ایسی جمہوریت جو حاکمیت عوام (popular sovereignty)کے نظریے پر مبنی ہو۔ اس کے برعکس صرف وہی ریاست حقیقت میں اسلامی ہوسکتی ہے جو خدا کی حاکمیت تسلیم کرلے‘ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو قانون برتراور اولین ماخذ قوانین مانے‘ اور حدود اللہ کے اندر رہ کر کام کرنے کی پابند ہو۔ اس ریاست میں اقتدار کی اصل غرض خدا کے احکام کا اجرا اور اس کی رضا کے مطابق برائیوں کا استیصال اوربھلائیوں کا ارتقا ہے۔ اس ریاست کا اقتدار‘ اقتدارِ اعلیٰ نہیں ہے، بلکہ خدا کی نیابت و امانت ہے۔ یہی معنی ہیں خلافت کے۔
(۲)اموی فرماں روائوں کی حکومت حقیقت میں خلافت نہ تھی۔ اگرچہ ان کی حکومت میں قانون اسلام ہی کا تھا‘ لیکن دستور (constitution)کے بہت سے اسلامی اصولوں کو انھوں نے توڑ دیا تھا۔ نیز ان کی حکومت اپنی روح میں اسلام کی روح سے بہت ہٹی ہوئی تھی۔ اس فرق کو ان کی حکومت کے آغاز ہی میں محسوس کرلیا گیا تھا۔ چنانچہ اس حکومت کے بانی حضرت امیر معاویہؓ کا اپنا قول یہ تھا کہ اَنَا اَوَّلُ الْمَلُوْکِ (میں سب سے پہلا بادشاہ ہوں)اور جس وقت حضرت امیر معاویہؓ نے اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کیا اُس وقت حضرت ابوبکرؓ کے صاحبزادے عبدالرحمان نے اٹھ کر برملا کہا کہ:یہ تو قیصریت ہے کہ جب قیصر مرا تو اس کا بیٹا قیصر ہوگیا۔
(۳)اصولی حیثیت سے خلافت عباسیہ کی پوزیشن بھی وہی ہے جو خلافت بنی امیہ کی ہے۔ فرق بس اتنا تھا کہ خلفائے بنی امیہ دین کے معاملے میں بے پروا (indifferent)تھے اور اس کے برعکس خلفائے بنی عباس نے اپنی مذہبی خلافت اور روحانی سیاست کا سکہ بٹھانے کے لیے دین کے معاملے میں ایجابی طور پر دلچسپی لی۔ لیکن ان کی یہ دلچسپی اکثر دین کے لیے مضر ہی ثابت ہوئی۔ مثلاً: مامون کی دلچسپی نے جو شکل اختیار کی، وہ یہ کہ اس نے ایک فلسفیانہ مسئلے کو جو دین کا مسئلہ نہ تھا‘ خواہ مخواہ دین کا ایک عقیدہ بنایا اور پھر حکومت کی طاقت سے زبردستی اس کو تسلیم کرانے کے لیے ظلم و ستم کیا۔
(۴)جس دور کے متعلق یہ سوال کیا گیا ہے وہ حقیقت میں فتنے کا دور تھا۔ مسلمان اس وقت سخت انتشار ذہنی میں مبتلا تھے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس وقت عملاً مسلمانوں کاحقیقی لیڈر کون تھا۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ یزید کا سیاسی اثر جو کچھ بھی تھا صرف اس بنا پر تھا کہ اس کے پاس طاقت تھی اور اس کے والد نے ایک مضبوط سلطنت قائم کرنے کے بعد اسے اپنا ولی عہد بنا دیا تھا۔ یہ بات اگر نہ ہوتی اور یزید عام مسلمانوں کی صف میں شامل ہوتا تو شاید وہ آخری شخص ہوتا جس پر لیڈر شپ کے لیے مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب پڑ سکتی۔ اس کے برعکس حسین ابن علیؓ اس وقت امت کے نمایاں ترین آدمی تھے اور ایک آزادانہ انتخاب میں اَغلب یہ ہے کہ سب سے زیادہ ووٹ ان کے حق میں ہی پڑتے۔
(۵) ظالم امرا کے مقابلے میں خروج ایسی صورت میں نہ صرف جائز، بلکہ فرض ہو جاتا ہے جب کہ ان کو ہٹا کر ایک صالح و عادل حکومت کرنے کا امکان ہو۔ اس معاملے میں امام ابوحنیفہ کا مسلک بہت واضح ہے، جسے ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں اور الموافق المکی نے مناقب ابوحنیفہ میں نقل کیا ہے۔ اس کے برعکس ایک حکومت عادلہ کے خلاف خروج بہت بڑا گناہ ہے اور تمام اہل ایمان پر لازم ہے کہ ایسے خروج کو دبا دینے میں حکومت کی تائید کریں۔ بین بین حالت میں‘ جب کہ حکومت عادل نہ ہو، مگر صالح انقلاب کے بھی امکانات واضح نہ ہوں‘ پوزیشن مشتبہ ہے اور ائمہ و فقہا نے اس معاملے میں مختلف طرز عمل اختیار کیے ہیں۔ بعض نے صرف کلمۂ حق کہنے پر اکتفا کیا، مگر خروج کو ناجائز سمجھا۔ بعض نے خروج کیا اور جامِ شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی اور بعض نے بہ امیدِ اصلاح تعاون بھی کیا۔
(۶) حکومت ِ عادلہ کے مقابلے میں جو لوگ خروج کریں اور وہ اگر مساجد میں پناہ لیں تو ان کا محاصرہ کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ وہاں سے گولہ باری کریں تو جوابی گولہ باری بھی کی جاسکتی ہے۔ رہا حرم میں ان کا پناہ لینا تو اس صورت میں صرف محاصرہ کرکے اس حد تک تنگ کیا جاسکتا ہے کہ بالآخر باغی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائیں۔ حرم میں قتل و خون کرنا یا حرم پر سنگ باری یا گولہ باری کرنا درست نہیں ہے۔ بخلاف اس کے ایک ظالم حکومت کا وجود خود گناہ ہے اور اپنے قیام و بقا کے لیے اس کی کوشش بھی گناہ میں اضافے کے سوا کچھ نہیں۔
(۷) قرآن و سنت نے ٹیکسوں کا کوئی نظام تجویز نہیں کیا ہے بلکہ مسلمانوں پر زکوٰۃ بطور عبادت اور غیر مسلموں پر جزیہ (بطور علامت اطاعت) لازم کرنے کے بعد یہ بات حکومت کی صواب دید پر چھوڑی ہے کہ جیسی ملک کی ضروریات ہوں ان کے مطابق باشندوں پر ٹیکس عاید کرے۔ خراج اور محاصل درآمد و برآمد اس کی ایک مثال ہیں جنھیں قرآن و سنت میں شرعاً مقرر نہیں کیا گیا تھا اور حکومت اسلامی نے اپنی صواب دید کے مطابق انھیں خود مقرر کیا۔ اس معاملے میں اصل معیار ملک کی حقیقی ضروریات ہیں۔ اگر کوئی فرماںروا اپنے تصرف میں لانے کے لیے ٹیکس وصول کرے تو حرام ہے اور ملک کی حقیقی ضروریات پر صرف کرنے کے لیے لوگوں کی رضامندی سے ان پر عاید کرے تو حلال ہے۔
(۸) جی ہاں۔ صرف یہی نہیں بلکہ خود اپنے کیے ہوئے سابق فیصلوں کو بھی بدل سکتا ہے۔
(۹) حجاج بن یوسف دنیوی سیاست کے نقطۂ نظر سے بڑا لائق اور دینی نقطۂ نظر سے سخت ظالم حاکم تھا۔
(۱۰) جی ہاں‘ ان شرائط کے ساتھ جو نمبر ۷ میں بیان ہوئی ہیں۔
(۳) الخلافت یا الحکومت۲۰۴؎
سوال: اگر بیسویں صدی میں بھی اسلام قابل نفاذ ہے تو موجودہ رجحان و نظریات کی جگہ لینے میں جو مشکلات یا موانع درپیش ہوں گے ان کا بہترین حل ابن خلدون کے ہر دو نظریہ حکومت و ریاست یعنی اَلْخَلاَفت یا اَلْحَکُوْمَتْ کس سے ممکن ہے؟
جواب: اس زمانے میں اسلامی نظام کو جو چیز روک رہی ہے اور جو رجحانات اور نظریات اس کے راستے میں سد راہ ہیں ان کا اگر تجزیہ کرکے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ انھیں مسلمان ملکوں پر مغربی قوموں کے طویل سیاسی غلبے نے پیدا کیا ہے۔ مغربی قومیں جب ہمارے ملکوں پر مسلط ہوئیں تو انھوں نے ہمارے قانون ہٹا کر اپنا قانون ملک میں رائج کیا۔ ہمارے نظام تعلیم کو معطل کرکے اپنا نظام تعلیم رائج کیا۔ تمام چھوٹی بڑی ملازمتوں سے ان سب لوگوں کو برطرف کیا جو ہمارے تعلیمی نظام کی پیداوار تھے اور ہر ملازمت ان لوگوں کے لیے مخصوص کردی جو ان کے قائم کردہ نظام تعلیم سے فارغ ہو کر نکلے تھے۔ معاشی زندگی میں بھی اپنے ادارے اور طورطریقے رائج کیے اور معیشت کا میدان بھی رفتہ رفتہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہوگیا جنھوں نے مغربی تہذیب و تعلیم کو اختیار کیا تھا۔ اس طریقے سے انھوں نے ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن اور اس کے اصولوں اور نظریات سے انحراف کرنے والی ایک نسل خود ہمارے اندر پیدا کردی جو اسلام اور اس کی تاریخ‘ اس کی تعلیمات اور اس کی روایات‘ ہر چیز سے علمی طور پر بھی بیگانہ ہے اور اپنے رجحانات کے اعتبار سے بھی بیگانہ۔ یہی وہ چیز ہے جو دراصل ہمارے اسلام کی طرف پلٹنے میں مانع ہے اور یہی اس غلط فہمی کا موجب بھی ہے کہ اسلام اس وقت قابلِ عمل نہیں ہے۔ جن لوگوں کو ساری تعلیم اور تربیت غیر اسلامی طریقے پر دی گئی ہو، وہ آخر اس کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ اسلام قابلِ عمل نہیں ہے‘ کیونکہ نہ تو وہ اسلام کو جانتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جس نظامِ زندگی کے لیے وہ تیار کیے گئے ہیں اسی کو وہ قابلِ عمل تصور کرسکتے ہیں۔
اب لامحالہ ہمارے لیے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو ہم من حیث القوم کافر ہو جانے پر تیار ہوجائیں اور خواہ مخواہ اسلام کا نام لے کر دنیا کو دھوکا دینا چھوڑ دیں، یا پھر خلوص اور ایمان داری کے ساتھ (منافقانہ طریق سے نہیں) اپنے موجودہ نظامِ تعلیم کا جائزہ لیں اور اس کا پورے طریقے سے تجزیہ کرکے دیکھیں کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہم کو اسلام سے منحرف بنانے والی ہیں اور اس میں کیا تغیرات کیے جائیں جن سے ہم ایک اسلامی نظام کو چلانے کے قابل لوگ تیار کرسکیں۔ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی کمیشن نے اس مسئلے کی طرف کوئی اچٹتی ہوئی توجہ بھی نہیں کی۔ یہ مسئلہ بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کے قابل ہے اور جب تک ہم اسے حل نہیں کرلیں گے، اس وقت تک اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ کبھی ہموار نہ کرسکیں گے۔
ابنِ خلدون کے کسی نظریے کی طرف رجوع کرنے سے اس مسئلے کے حل کرنے میں مدد نہیں مل سکتی‘ کیونکہ اس مسئلے کی جو نوعیت اب پیدا ہوئی ہے وہ ابن خلدون کے زمانے میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ مسئلے کی حقیقی نوعیت یہ ہے کہ مغربی استعمار رخصت ہوتے ہوئے ہمارے ملکوں میں اس نسل کو حکمران بنا کر چھوڑ گیا ہے جس کو اس نے اپنی تعلیم اور اپنی تہذیب کا دودھ پلا پلا کر اس طرح تیار کیا تھا کہ وہ جسمانی حیثیت سے تو ہماری قوم کا حصہ ہے، لیکن علمی اور ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے انگریزوں‘ فرانسیسیوں یا ولندیزیوں کا پورا جانشین ہے۔ اس طبقے کی حکومت جو مشکلات پیدا کرتی ہے ان کو رفع کرنے کا معاملہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، جسے حل کرنا ابن خلدون کے نظریات کاکام نہیں ہے۔ اس لیے بڑے سنجیدہ غور و فکر کی اور حالات کو سمجھ کر اصلاح کے لیے نئی راہیں نکالنے کی ضرورت ہے۔
(۴) حکومتِ الٰہیہ اور پاپائیت کا اصولی فرق۲۰۵؎
سوال: رسالہ ’’پیغامِ حق‘‘ میں ابو سعید بزمی صاحب نے اپنے ایک مضمون کے سلسلے میں لکھا ہے:
اسلامی سیاست کا ایک تصور وہ بھی ہے جسے حال ہی میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے بڑے زور و شور کے ساتھ پیش کیا ہے اور جس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ حکومت عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ تاریخی حیثیت سے یہ اصول نیا نہیں۔ یورپ میں ایک عرصے تک تھیاکریسی (theocracy)کے نام سے اس کا چرچا رہا اور روم کے پاپائے اعظم کا اقتدار اسی تصور کا نتیجہ تھا۔ لیکن لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ چونکہ خدا کوئی ناطق ادارہ نہیں‘ اس لیے جس شخص کو خدا کے نام پر اختیار و اقتدار مل جائے وہ بڑی آسانی سے اس کا غلط استعمال کرسکتا ہے۔ مولانا مودودی کے حلقۂ خیال کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا تصور سیاست پاپائے اعظم کے تصور سے مختلف ہے‘ لیکن چونکہ وہ حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ قرار نہیں دیتے اور اسی بنیاد پر جمہوریت کو غلط سمجھتے ہیں اس لیے نتیجتًا ان کا تصور پاپائے اعظم ہی کا تصور ہو کر رہ جاتا ہے۔
پھر بزمی صاحب اپنی طرف سے ایک حل پیش کرتے ہیں لیکن وہ بھی وجۂ تسلی نہیں ہوتا۔ آپ براہ کرم ترجمان القرآن کے ذریعے سے اس غلط فہمی کا ازالہ فرما دیں اور صحیح نظریے کی توضیح کردیں۔
جواب: بزمی صاحب نے غالباً میرا مضمون ’ اسلام کا نظریۂ سیاسی‘ ملاحظہ نہیں فرمایا ہے، ورنہ وہ دیکھتے کہ جو اعتراضات انھوں نے میرے مسلک پر کیے ہیں‘ ان کا پورا جواب اس مضمون میں موجود ہے۔ لیکن اگر انھوں نے اس مضمون کو پڑھا ہے اور پھر یہ اعتراضات کیے ہیں تو میں سوائے اس کے کہ اظہار تعجب کروں اور کچھ عرض نہیں کرسکتا۔ میرے اس مضمون میں یہ عبارتیں قابلِ ملاحظہ ہیں:
مگر یورپ جس تھیاکریسی سے واقف ہے‘ اسلامی تھیاکریسی اس سے بالکل مختلف ہے۔ یورپ اس تھیاکریسی سے واقف ہے‘ جس میں ایک مخصوص مذہبی طبقہ خدا کے نام سے خود اپنے بنائے ہوئے قوانین نافذ کرتا ہے اور عملاً اپنی خدائی تمام باشندوں پر مسلط کر دیتا ہے۔ ایسی حکومت کو الٰہی حکومت کہنے کے بجائے شیطانی حکومت کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔ بخلاف اس کے اسلام جس تھیاکریسی کو پیش کرتا ہے وہ کسی مخصوص مذہبی طبقے کے ہاتھ میں نہیں ہوتی، بلکہ عام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور یہ عام مسلمان اسے خدا کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق چلاتے ہیں۔ اگر مجھے ایک نئی اصطلاح وضع کرنے کی اجازت دی جائے تو میں اس طرزِحکومت کو الٰہی جمہوری حکومت (theo-democratic state)کے نام سے موسوم کروں گا‘ کیونکہ اس میں خدا کی حاکمیت اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کے تحت مسلمانوں کو ایک محدود عمومی حکومت عطا کی گئی ہے۔ اس میں عاملہ مسلمانوں کی رائے سے بنے گی‘ مسلمان ہی اس کو معزول کرنے کے مختار ہوں گے‘ سارے انتظامی معاملات اور تمام وہ مسائل جن کے متعلق خدا کی شریعت میں کوئی صریح حکم موجود نہیں ہے، مسلمانوں کے اجماع ہی سے طے ہوں گے اور الٰہی قانون جہاں تعبیر طلب ہوگا وہاں کوئی مخصوص طبقہ یا نسل نہیں، بلکہ عام مسلمانوں میں سے ہر وہ شخص اس کی تعبیر کا مستحق ہوگا جس نے اجتہاد کی قابلیت بہم پہنچائی ہو۔
پھر میں نے اوپر کی عبارت کے نیچے حاشیے میں اس کی مزید تشریح کی ہے کہ:
عیسائی پاپائوں اور پادریوں کے پاس مسیح علیہ السلام کی چند اخلاقی تعلیمات کے سوا کوئی شریعت سرے سے تھی ہی نہیں‘ لہٰذا وہ اپنی مرضی سے اپنی خواہشاتِ نفس کے مطابق قوانین بناتے تھے اور انھیں یہ کہہ کر نافذ کرتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں۔
کوئی شخص جو مسیحی مذہب اور پاپائیت کی تاریخ سے واقف ہے‘ میرے اس اشارے کو جو میں نے ان چند فقروں میں کیا ہے‘ سمجھنے سے قاصر نہیں رہ سکتا۔ یورپ کا پاپائی نظام سینٹ پال کا پیرو تھا جس نے موسوی شریعت کو لعنت قرار دے کر مسیحیت کی بنیاد صرف ان اخلاقی تعلیمات پر رکھی تھی جو نئے عہدنامے میں پائی جاتی ہیں۔ ان اخلاقی تعلیمات میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جس پر ایک تمدن اور ایک سیاست کا نظام چلایا جاسکے، مگر جب پاپائوں نے یورپ میں بلاواسطہ یا بالواسطہ تھیاکریسی قائم کی تو اس کے لیے ایک قانونِ شریعت بھی وضع کیا، جو ظاہر ہے کہ کسی وحی و الہام سے ماخوذ نہ تھا‘ بلکہ خود ان کا گھڑا ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے جو نظامِ عقائد‘ جو مذہبی اعمال و رسوم‘ جو نذریں اور نیازیں‘ جو معاشرتی ضوابط وغیرہ تجویز کیے تھے ان میں سے کسی کی سند بھی ان کے پاس کتاب اللہ سے نہ تھی۔ اسی طرح انھوں نے خدا اور بندے کے درمیان مذہبی منصب داروں کو جو ایک مستقل واسطہ قرار دے دیا تھا یہ بھی ان کا خود ساختہ تھا۔ نیز انھوں نے نظام کلیسا کے کارپردازوں کے لیے جو حقوق اور اختیارات تجویز کیے تھے اور جو مذہبی ٹیکس لوگوں پر لگائے تھے ان کے لیے بھی کوئی ماخذ ان کی اپنی ہوائے نفس کے سوا نہ تھا۔ ایسے نظام کا نام چاہے انھوں نے تھیاکریسی رکھ دیا ہو‘ لیکن وہ فی الحقیقت تھیاکریسی نہیں تھا۔ اس کو آخر اسلام کی حکومتِ الٰہیہ یا شرعی حکومت سے کیا مماثلت ہوسکتی ہے جس کے لیے کتاب و سنت کی صورت میں بالکل واضح اور ناقابل حذف و ترمیم قانون موجود ہے اور جس کو چلانا کسی مخصوص مذہبی طبقے کا اجارہ نہیں ہے۔
پھر بزمی صاحب کا یہ ارشاد بالکل عجیب ہے کہ ہم خلیفہ کو وہی حیثیت دیتے ہیں جو عیسائیوں میں پوپ کی حیثیت ہے اور یہ کہ ہم اسے عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے۔ اس کے جواب میں میں پھر اپنے اسی مضمون کی چند عبارتیں نقل کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔ میں نے آیت :
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝۰۠ النور55:24
سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
دوسری کانٹے کی بات اس آیت میں یہ ہے کہ خلیفہ بنانے کا وعدہ تمام مومنوں سے کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ان میں سے کس کو خلیفہ بنائوں گا۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ سب مومن خلافت کے حامل ہیں۔ خدا کی طرف سے جو خلافت مومنوں کو عطا ہوئی ہے وہ عمومی خلافت ہے۔
پھر آگے چل کر میں نے لکھا ہے کہ:
یہاں ہر شخص خلیفہ ہے۔ کسی شخص یا گروہ کو حق نہیں ہے کہ عام مسلمانوں سے ان کی خلافت کو سلب کرکے خود حاکم مطلق بن جائے۔ یہاں جو شخص حکمران بنایا جاتا ہے اس کی اصلی حیثیت یہ ہے کہ تمام مسلمان‘ یا اصطلاحی الفاظ میں تمام خلفا اپنی رضامندی سے اپنی خلافت کو انتظامی اغراض کے لیے اس شخص کی ذات میں مرکوز کر دیتے ہیں۔ وہ ایک طرف خدا کے سامنے جواب دہ ہے اور دوسری طرف ان عام خلفا کے سامنے جنھوں نے اپنی خلافت اس کو تفویض کی ہے۔
اس کے بعد میں نے پھر اسی مضمون میں دوسرے مقام پر تصریح کی ہے کہ:
اسلامی اسٹیٹ میں امام یا امیر یا صدر حکومت کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ عام مسلمانوں کو جو خلافت حاصل ہے‘ اس کے اختیارات وہ اپنے میں سے ایک بہترین شخص کا انتخاب کرکے امانت کے طور پر اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس کے لیے خلیفہ کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس وہی اکیلا خلیفہ ہے‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی خلافت اس کی ذات میں مرتکز ہوگئی ہے۔
اس کے بعد یہ فقرہ بھی میرے اس مضمون میں موجود ہے کہ:
امیر تنقید سے بالاتر نہ ہوگا۔ ہر عامی مسلمان اس کے پبلک کاموں ہی پر نہیں، بلکہ اس کی پرائیویٹ زندگی پر بھی نکتہ چینی کرنے کا مجاز ہوگا۔ وہ قابلِ عزل ہوگا۔ قانون کی نگاہ میں اس کی حیثیت عام شہریوں کے برابر ہو گی۔ اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جاسکے گا اور وہ عدالت میں کسی امتیازی برتائو کا مستحق نہ ہوگا۔ امیر کو مشورے کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ مجلسِ شوریٰ ایسی ہوگی جسے عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہو۔ اس امر میں بھی کوئی مانع شرعی نہیں ہے کہ اس مجلس کو مسلمانوں کے ووٹوں سے منتخب کیا جائے۔ ہر صورت میں عامہ مسلمین اس بات پر نظر رکھیں گے کہ امیر اپنے ان وسیع اختیارات کو تقویٰ اور اللہ کے خوف کے ساتھ استعمال کرتا ہے، یا نفسانیت کے ساتھ؟ بصورت دیگر رائے عام اس امیر کو مسند امارت سے نیچے بھی اتار لاسکتی ہے۔
ان تصریحات کے بعد بھی اگر کوئی شخص ہماری تھیاکریسی کو پاپان روم کی قائم کردہ تھیاکریسی سے مشابہ قرار دے تو بہرحال ہم اسے اس کی آزادی رائے سے محروم کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے، مگر یہ ضرور عرض کریں گے کہ یہ رائے علم و دلیل سے آزاد ہے۔
اسلامی حکومت اور مسلم حکومت۲۰۶؎
سوال: خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں کی جو حکومتیں مختلف زمانوں میں قائم ہوئیں‘ وہ اسلامی حکومتیں تھیں یا غیر اسلامی؟
جواب: درحقیقت نہ وہ پوری اسلامی تھیں نہ پوری غیر اسلامی۔ ان میں اسلامی دستور کی دو اہم چیزوں کو بدل دیا گیا تھا۔ ایک یہ کہ: امارت انتخابی ہو‘ دوسرے یہ کہ: حکومت کا نظام مشورے سے چلایا جائے۔ باقی ماندہ اسلامی دستور چاہے اپنی صحیح اسپرٹ میں برقرار نہ رکھا گیا ہو‘ لیکن اسے منسوخ یا تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔ ان حکومتوں میں قرآن و سنت ہی کو ماخذِ قانون مانا جاتا تھا‘ عدالتوں میں اسلامی قانون ہی نافذ ہوتا تھا اور مسلمان حکمرانوں نے کبھی یہ جرأت نہیں کی کہ قانونِ اسلامی کو منسوخ کرکے اس کی جگہ انسانی ساخت کے قوانین جاری کر دیں اور اگر کبھی کسی حکمران نے اس کی جرأت کی تو تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ کسی نہ کسی اللہ کے بندے نے اٹھ کر اس کے خلاف جہادِ عظیم کیا‘ یہاں تک کہ اس فسق کا سدِباب ہو کر رہا۔ ابن تیمیہؒ اور مجدد الف ثانی ؒ نے اس طرح کی کوششوں کے مقابلے میں جو کچھ کیا اس پر تاریخ گواہ ہے۔
مسئلۂ خلافت اور فرقہ پرستی
سوال: کیا خلافت کا مسئلہ اس وقت آسانی سے طے ہوسکتا ہے جب کہ اسلام میں ۷۲ فرقے موجود ہیں؟
جواب: میں یہاں تمام دنیائے اسلام کی خلافت کے مسئلے سے بحث نہیں کر رہا ہوں‘ بلکہ صرف پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام تک میری گفتگو محدود ہے۔ اگر مختلف مسلمان ملکوں میں ان اصولوں پرجو میں نے ابھی بیان کیے ہیں‘ اسلامی حکومتیں قائم ہو جائیں تو البتہ ممکن ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب ان سب کی ایک فیڈریشن بن سکے اور تمام دنیائے اسلام کا ایک خلیفہ منتخب کیا جاسکے۔ رہے ۷۲ فرقے تو وہ صرف علم کلام کی کتابوں کے صفحات میں پائے جاتے ہیں۔ عملاً پاکستان میں تو اس وقت تین ہی فرقے موجود ہیں: ایک: حنفی‘ دوسرے: اہل حدیث‘ تیسرے: شیعہ، اور آپ کو معلوم ہے کہ ان تینوںفرقوں کے علما پہلے ہی اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں پر اتفاق کر چکے ہیں۔ لہٰذا اب اس اندیشے کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی ہے کہ فرقوں کی موجودگی اسلامی حکومت کے قیام میں مانع

۳۔ ملکی سیاست میں عورتوں کا حصہ

مجالسِ قانون ساز میں عورتوں کی شرکت کا مسئلہ۲۰۷؎
ہم سے پوچھا گیا ہے کہ آخر وہ کون سے اسلامی اصول یا احکام ہیں جو عورتوں کی رکنیت مجالسِ قانون ساز میں مانع ہیں؟ اور قرآن و حدیث کے وہ کون سے ارشادات ہیں جو ان مجالس کو صرف مردوں کے لیے مخصوص قرار دیتے ہیں؟
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ان مجالس کی صحیح نوعیت اچھی طرح واضح کر دیں جن کی رکنیت کے لیے عورتوں کے استحقاق پر گفتگو کی جارہی ہے۔ ان مجالس کا نام مجالس قانون ساز رکھنے سے یہ غلط فہمی واقع ہوتی ہے کہ ان کاکام صرف قانون بنانا ہے اور پھر یہ غلط فہمی ذہن میں رکھ کر جب آدمی دیکھتا ہے کہ عہد صحابہ میں خواتین بھی قانونی مسائل پر بحث‘ گفتگو‘ اظہار رائے‘ سب کچھ کرتی تھیں اور بسا اوقات خود خلفا اُن سے رائے لیتے اور اس رائے کا لحاظ کرتے تھے‘ تو اسے حیرت ہوتی ہے کہ آج اسلامی اصولوں کا نام لے کر اس قسم کی مجالس میں عورتوں کی شرکت کو غلط کیسے کہا جاسکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مجالس اس نام سے موسوم کی جاتی ہیں ان کاکام محض قانون سازی کرنا نہیں ہے، بلکہ عملاً وہی پوری ملکی سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں‘ وہی وزارتیں بناتی اور توڑتی ہیں‘ وہی نظم و نسق کی پالیسی طے کرتی ہیں‘ وہی مالیات اور معاشیات کے مسائل طے کرتی ہیں اور انھی کے ہاتھ میںصلح و جنگ کی زمامِ کار ہوتی ہے۔ اس حیثیت سے ان مجالس کا مقام محض ایک فقیہہ اور مفتی کا مقام نہیں ہے، بلکہ پوری مملکت کے قَوَّام کا مقام ہے۔
اب ذرا دیکھیے‘ قرآن اجتماعی زندگی میں یہ مقام کس کو دیتا ہے اورکسے نہیں دیتا۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۝۰ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ۝۰ۭ النساء 34:4
مرد عورتوں پر قَوّام ہیں‘ بوجہ اس فضیلت کے جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر دی ہے اور بوجہ اس کے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس صالح عورتیں اطاعت شعار اور غیب کی حفاظت کرنے والیاں ہوتی ہیں اللہ کی حفاظت کے تحت۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں قوّامیت کا مقام مردوں کو دے رہا ہے اور صالح عورتوں کی دو خصوصیات بیان کرتا ہے۔ ایک یہ کہ: وہ اطاعت شعار ہوں‘ دوسرے یہ کہ: وہ مردوں کی غیر موجودگی میں ان چیزوں کی حفاظت کریں جن کی حفاظت اللہ کرانا چاہتا ہے۔
آپ کہیں گے یہ حکم تو خانگی معاشرت کے لیے ہے نہ کہ ملکی سیاست کے لیے‘ مگر یہاں اول تو مطلقاً اَلرِّجَالُ قوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَائِ کہا گیا ہے‘ فِی الْبُیُوْتِ کے الفاظ ارشاد نہیں ہوئے ہیں جن کو بڑھائے بغیر اس حکم کو خانگی معاشرت تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اگر آپ کی یہ بات مان بھی لی جائے تو ہم پوچھتے ہیں کہ جسے اللہ نے گھر میں قوّام نہ بنایا، بلکہ قنوت (اطاعت شعاری) کے مقام پر رکھا‘ آپ اسے تمام گھروں کے مجموعے‘ یعنی پوری مملکت میں قنوت کے مقام سے اٹھا کر قوامیت کے مقام پر لانا چاہتے ہیں؟ گھر کی قوامیت سے مملکت کی قوامیت تو زیادہ بڑی اور اونچے درجے کی ذمے داری ہے۔ اب کیا اللہ کے متعلق آپ کا یہ گمان ہے کہ وہ ایک گھر میں تو عورت کو قوام نہ بنائے گا مگر کئی لاکھ گھروں کے مجموعے پر اسے قوام بنا دے گا؟
اور دیکھیے، قرآن صاف الفاظ میں عورت کا دائرۂ عمل یہ کہہ کر معین کر دیتا ہے کہ:
وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى الاحزاب33:33
اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھیری رہو اور پچھلی جاہلیت کے سے تَبَرُّج۲۰۸؎ کا ارتکاب نہ کرو۔
آپ پھر فرمائیں گے کہ یہ حکم تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی خواتین کو دیا گیا تھا، مگر ہم پوچھتے ہیں کہ آپ کے خیال مبارک میں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی خواتین کے اندر کوئی خاص نقص تھا جس کی وجہ سے وہ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں کے لیے نا اہل تھیں؟ اور کیا دوسری خواتین کو اس لحاظ سے ان پرکوئی فوقیت حاصل ہے؟ پھر اگر اس سلسلے کی ساری آیات صرف اہل بیت نبوت کے لیے مخصوص ہیں تو کیا دوسری مسلمان عورتوں کو تبرج جاہلیت کی اجازت ہے؟ اور کیا انھیں غیر مردوں سے اس طرح کی باتیں کرنے کی بھی اجازت ہے کہ ان کے دل میں طمع پیدا ہو؟ اور کیا اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے سوا ہر مسلمان گھر کو رجس میں آلودہ دیکھنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد حدیث کی طرف آئیے۔ یہاں ہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ واضح ارشادات ملتے ہیں:
۱۔ اِذَا کَانَ اُمَرَائُکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَائُ کُمْ بُخَلَائَکُمْ وَاُمُوْرُ کُمْ اِلٰی نِسَائِ کُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ مِّنْ ظَھْرِھَا۔ (ترمذی)
جب تمھارے امرا تمھارے بدترین لوگ ہوں اور جب تمھارے دولت مند بخیل ہوں اور جب تمھارے معاملات تمھاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو زمین کا پیٹ تمھارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۔
۲۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ اَھْلَ فَارَسَ مَلَّکُوْا عَلَیْھِمْ بِنْتَ کِسْرٰی قَالَ لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔(بخاری‘ احمد‘ نسائی‘ ترمذی)
ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنالیا ہے تو آپؐ نے فرمایا: وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کیے ہوں۔
یہ دونوں حدیثیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد اَلرِّجَالُ قَوَّا مُوْنَ عَلَی النِّسَائِ کی ٹھیک ٹھیک تفسیر بیان کرتی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سیاست و ملک داری عورت کے دائرۂ عمل سے خارج ہے۔ رہا یہ سوال کہ عورت کا دائرہ عمل ہے کیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں:
۱۔ وَالْمَرْئَ ۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَوَلِدِہٖ وَھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔ (ابودائود)
اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی راعیہ ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔
یہ ہے آیت وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ کی صحیح تفسیر‘ اور اس کی مزید تفسیر وہ احادیث ہیں جن میں عورت کو سیاست و ملک داری سے کم تر درجے کے خارج ازبیت فرائض و واجبات سے بھی مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
۲۔ اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ اِلاَّ اَرْبَعَۃٍ عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ اَوْاِمْرَاَۃٌ اَوْصَبِیٌّ اَوْمَرِیْضٌ۔ (ابودائود)
جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا حق اور واجب ہے۔ بجز چار قسم کے لوگوں کے: ایک غلام‘ دوسرے عورت‘ تیسرے بچہ‘ چوتھے مریض۔
۳۔ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ نُھِیْنَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ۔ (بخاری)
ام عطیہ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ ہم کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا تھا۔
اگرچہ ہمارے پاس اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں مضبوط عقلی دلائل بھی ہیں اور کوئی چیلنج کرے تو ہم انھیں پیش کرسکتے ہیں‘ مگر اوّل تو ان کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا ہے‘ دوسرے ہم کسی مسلمان کا یہ حق ماننے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں کہ وہ خدا اور رسولؐ کے واضح احکام سننے کے بعد ان کی تعمیل کرنے سے پہلے اور تعمیل کے لیے شرط کے طور پر‘ عقلی دلائل کا مطالبہ کرے۔ مسلمان کو اگر وہ واقعی مسلمان ہے‘ پہلے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے‘ پھر وہ اپنے دماغی اطمینان کے لیے عقلی دلائل مانگ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ مجھے پہلے عقلی حیثیت سے مطمئن کرو، ورنہ میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانوں گا، تو ہم اسے سرے سے مسلمان ہی نہیں مانتے‘ کجا کہ اس کو ایک اسلامی ریاست کے لیے دستور بنانے کا مجاز تسلیم کریں۔ تعمیل حکم کے لیے عقلی دلیل مانگنے والے کا مقام اسلام کی سرحد سے باہر ہے‘ نہ کہ اس کے اندر۔
سیاست و ملک داری میں عورت کے دخل کو جائز ٹھیرانے والے اگر کوئی دلیل رکھتے ہیں تو وہ بس یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمانؓ کے خون کا دعویٰ لے کر اٹھیں اور حضرت علیؓ کے خلاف جنگِ جمل میں نبرد آزما ہوئیں، مگر اول تو یہ دلیل اصولاً ہی غلط ہے، اس لیے کہ جس مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت موجود ہو‘ اس میں کسی صحابی کا کوئی ایسا انفرادی فعل جو اس ہدایت کے خلاف نظر آتا ہو‘ ہرگز حجت نہیں بن سکتا۔ صحابہ کی پاکیزہ زندگیاں بلاشبہ ہمارے لیے مشعلِ ہدایت ہیں، مگر اس غرض کے لیے کہ ہم ان کی روشنی میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں‘ نہ اس غرض کے لیے کہ ہم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو چھوڑ کر ان میں سے کسی کی انفرادی لغزشوں کا اتباع کریں۔ پھر جس فعل کو اسی زمانے میں جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے غلط قرار دیا تھا اور جس پر بعد میں خود ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نادم ہوئیں اسے آخر کس طرح اسلام میں ایک نئی بدعت کا آغاز کرنے کے لیے دلیل قرار دیا جاسکتا ہے؟
حضرت عائشہؓ کے اس اقدام کی اطلاع پاتے ہی ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے ان کو جو خط لکھا تھا وہ پورے کا پورا ابن قتیبہ نے ’’الامامۃ والسیاسۃ‘‘ میں اور اِبن عَبْدُ رَبِّہٖ نے ’’عقد الفرید‘‘ میں نقل کیا ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیے، کتنے پر زور الفاظ میں وہ فرماتی ہیں کہ آپ کے دامن کو قرآن نے سمیٹ دیا ہے‘ آپ اسے پھیلائیے نہیں۔ اور کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دین میں افراط برتنے سے روکا ہے؟ اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیتیں، اگر وہ آپ کو اس طرح کسی صحرا میں ایک گھاٹ سے دوسرے گھاٹ کی طرف اونٹ دوڑاتے ہوئے دیکھ لیتے؟
پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے اس قول کو یاد کیجیے کہ عائشہؓ کے لیے اُن کا گھر اُن کے ہودے سے بہتر ہے۔
اور حضرت ابوبکرہؓ کا یہ قول بخاری میں ملاحظہ فرمالیجیے کہ میں جنگِ جمل کے فتنے میں مبتلا ہونے سے صرف اس لیے بچ گیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آگیا کہ:وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کر دیے ہوں۔
حضرت علیؓ سے بڑھ کر اس زمانے میں کون شریعت کا جاننے والا تھا؟ انھوں نے صاف الفاظ میں حضرت عائشہؓکو لکھا کہ آپ کا یہ اقدام حدود شریعت سے متجاوز ہے اور حضرت عائشہؓ اپنی کمال درجے کی ذہانت و فقاہت کے باوجود اس کے جواب میں کوئی دلیل نہ پیش کرسکیں۔ حضرت علیؓ کے الفاظ یہ تھے کہ:
بلاشبہ آپ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خاطر غضب ناک ہو کر نکلی ہیں‘ مگر آپ ایک ایسے کام کے پیچھے پڑی ہیں جس کی ذمے داری آپ پر نہیں ڈالی گئی۔ عورتوں کو آخر جنگ اور اصلاح بین الناس سے کیا تعلق؟ آپ عثمانؓ کے خون کا دعویٰ لے کر اٹھی ہیں‘ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ جس شخص نے آپ کو اس بلا میں ڈالا اور اس معصیت پر آمادہ کیا وہ آپ کے حق میں عثمانؓ کے قاتلوں سے زیادہ گناہ گار ہے۔
دیکھیے‘ اس خط میں سیدنا علیؓ حضرت عائشہؓ کے فعل کو صریحًا خلافِ شرع قرار دے رہے ہیں، مگر حضرت عائشہؓ اس کا کوئی جواب اس کے سوا نہ دے سکیں کہ:
جَلَّ الْاَمْرُ عَنِ الْعِتَابِ
معاملہ اب اس حد سے گزر چکا ہے کہ عتاب و ملامت سے کام چل سکے۔
پھر جنگ جمل کے خاتمے پر جب حضرت علیؓ ام المومنینؓ سے ملنے تشریف لے گئے تو انھوں نے کہا: یَاصَاحِبَۃَ الْھَوْدَجِ قَدْ اَمَرَکِ اللہُ اَنْ تَقْعُدِیْ فِیْ بَیْتِکِ ثُمَّ خَرَجْتِ تُقَاتِلِیْنَ؟
اے ہودے والی! اللہ نے آپ کو گھر بیٹھنے کا حکم دیا تھا اور آپ لڑنے کے لیے نکل پڑیں۔
مگر اس وقت بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نہ کہہ سکیں کہ اللہ نے ہم عورتوں کو گھر بیٹھنے کا حکم نہیں دیا ہے اور ہمیں سیاست اور جنگ میں حصہ لینے کا حق ہے۔
پھر یہ بھی ثابت ہے کہ آخر کار حضرت عائشہ ؓ خود اپنے اس فعل پر پچھتاتی رہیں۔ چنانچہ علامہ ابن عبدالبر استیعاب میں یہ روایت لائے ہیں کہ ام المومنینؓ نے عبداللہ بن عمرؓ سے شکایتاً فرمایا:اے ابوعبدالرحمن! تم نے کیوں نہ مجھے اس کام پر جانے سے منع کیا؟
انھوں نے جواب دیا: میں نے دیکھا کہ ایک شخص (یعنی عبداللہ بن زبیرؓ) آپ کی رائے پر حاوی ہوگیا ہے اور مجھے امید نہ تھی کہ آپ اس کے خلاف چل سکیں گی۔ اس پر ام المومنینؓ نے فرمایا: کاش! تم مجھے منع کر دیتے تو میں نہ نکلتی۔
اس کے بعد جناب صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عمل میں آخر کیا دلیل باقی رہ جاتی ہے جس کے بل بوتے پر کوئی صاحب علم یہ دعویٰ کرسکتا ہو کہ اسلام میں عورتیں بھی سیاست اور نظمِ مملکت کی ذمے داری میں شریک قرار دی گئی ہیں؟ رہے وہ لوگ جن کے لیے اصل معیار حق صرف دنیا کی غالب قوموں کا طرز عمل ہے اور جنھیں بہرحال چلنا اسی طرف ہے جس طرف انبوہ جارہا ہو‘ تو انھیں کس نے کہا ہے کہ اسلام کو اپنے ساتھ ضرور لے چلیں؟ ان کا جدھر جی چاہے شوق سے جائیں‘ مگر کم از کم اتنی راست بازی تو ان میں ہونی چاہیے کہ جس مقتدا کے دراصل وہ پیرو ہیں اسی کا نام لیں‘ بلادلیل اسلام کی طرف وہ باتیں منسوب نہ کریں جن سے خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور قرونِ مَشْہُوْدٌ لَھَا بِالْخَیر کی تاریخ صاف صاف انکار کر رہی ہے۔
اسلامی حکومت میں خواتین کا دائرۂ عمل۲۰۹؎
سوال: کیا اس دور میں اسلامی حکومت خواتین کو مردوں کے برابر سیاسی‘ معاشی و معاشرتی حقوق ادا نہ کرے گی جب کہ اسلام کا دعویٰ ہے کہ اس نے تاریک ترین دور میں بھی عورت کو ایک مقام (status)عطا کیا؟ کیا آج خواتین کو مردوں کے برابر اپنے ورثے کا حصہ لینے کا حق دیا جاسکتا ہے؟ کیا ان کو اسکولوں‘ کالجوں اور یونی ورسٹی میں مخلوط تعلیم یا مردوں کے شانہ بشانہ کام کرکے، ملک و قوم کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کی اجازت نہ ہوگی؟ فرض کیجیے اگر اسلامی حکومت خواتین کو برابر کا حق رائے دہندگی دے اور وہ کثرت آرا سے وزارت و صدارت کے عہدوں کے لیے الیکشن لڑ کر کامیاب ہو جائیں تو موجودہ بیسویں صدی میں بھی کیا ان کو منصب اعلیٰ کا حق اسلامی احکام کی رو سے نہیں مل سکتا جب کہ بہت سی مثالیں ایسی آج موجود ہیں‘ مثلاً: سیلون میں وزارت عظمیٰ ایک عورت کے پاس ہے، یا نیدر لینڈ میں ایک خاتون حکمران اعلیٰ ہے۔ برطانیہ پر ملکہ کی شہنشاہیت ہے۔ سفارتی حد تک جیسے عابدہ سلطانہ دختر نواب آف بھوپال رہ چکی ہیں اور اب بیگم رعنا لیاقت علی خان نیدر لینڈ میں سفیر ہیں، یا دیگر جس طرح مسز و جے لکشمی پنڈت برطانیہ میں ہائی کمشنر ہیں اور اقوام متحدہ کی صدر رہ چکی ہیں اور بھی مثالیں جیسے نور جہاں‘ جھانسی کی رانی‘ رضیہ سلطانہ ‘ حضرت محل زوجہ واجد علی شاہ جو کہpride of womenکہلاتی ہیں جنھوں نے انگریزوں کے خلاف لکھنؤ میں جنگ کی کمانڈ کی۔ اس طرح خواتین نے خود کو پورا اہل ثابت کردیا ہے، تو کیا اگر آج محترمہ فاطمہ جناح صدارت کا عہدہ سنبھال لیں تو اسلامی اصول پاکستان کے اسلامی نظام میں اس کی اجازت نہ دیں گے؟ کیا آج بھی خواتین کو ڈاکٹر‘ وکلا‘ مجسٹریٹ‘ جج‘ فوجی افسر یا پائلٹ وغیرہ بننے کی مطلق اجازت نہ ہوگی ؟…… خواتین کا یہ کارنامہ بھی کہ وہ نرسوں کی حیثیت سے کس طرح مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں قابل ذکر ہے۔ خود اسلام کی پہلی جنگ میں خواتین نے مجاہدین کی مرہم پٹی کی‘ پانی پلایا اور حوصلے بلند کیے۔ تو کیا آج بھی اسلامی حکومت میں آدھی قوم کو مکانات کی چار دیواری میں مقید رکھا جائے گا؟
جواب: اسلامی حکومت دنیا کے کسی معاملے میں بھی اسلامی اصولوں سے ہٹ کر کوئی کام کرنے کی نہ مجاز ہے اور نہ وہ اس کا ارادہ ہی کرسکتی ہے‘ اگر فی الواقع اس کو چلانے والے ایسے لوگ ہوں جو اسلام کے اصولوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور اس پر عمل کرتے ہوں____ عورتوں کے معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ عورت اور مرد عزت و احترام کے لحاظ سے برابر ہیں۔ اخلاقی معیار کے لحاظ سے بھی برابر ہیں۔ آخرت میں اپنے اجر کے لحاظ سے بھی برابر ہیں۔ لیکن دونوں کا دائرۂ عمل ایک نہیں ہے۔ سیاست اور ملکی انتظام اور فوجی خدمات اور اسی طرح کے دوسرے کام مرد کے دائرۂ عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دائرے میں عورت کو گھسیٹ لانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو ہماری خانگی زندگی بالکل تباہ ہو جائے گی جس کی بیش تر ذمے داریاں عورتوں سے تعلق رکھتی ہیں، یا پھر عورتوں پر دہرا بار ڈالا جائے گا کہ وہ اپنے فطری فرائض بھی انجام دیں جن میں مرد قطعاً شریک نہیں ہو سکتا اور پھر مرد کے فرائض کا بھی نصف حصہ اپنے اوپر اٹھائیں۔ عملاً یہ دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ لازماً پہلی صورت ہی رونما ہوگی اور مغربی ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ وہ رونما ہو چکی ہے۔ آنکھیں بند کرکے دوسروں کی حماقتوں کی نقل اتارنا عقل مندی نہیں ہے۔
اسلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وراثت میں عورت کا حصہ مرد کے برابر ہو۔ اس باب میں قرآن کا صریح حکم مانع ہے۔ نیز یہ انصاف کے بھی خلاف ہے کہ عورت کا حصہ مرد کے برابر ہو، کیونکہ اسلامی احکام کی رُو سے خاندان کی پرورش کا سارا مالی بار مرد پر ڈالا گیا ہے۔ بیوی کا مہر اور نفقہ بھی اس پر واجب ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت پر کوئی مالی بار نہیں ڈالا گیا ہے۔ اس صورت میں آخر عورت کو مرد کے برابر حصہ کیسے دلایا جاسکتا ہے۔
اسلام اصولاً مخلوط سوسائٹی کا مخالف ہے اور کوئی ایسا نظام جو خاندان کے استحکام کو اہمیت دیتا ہو، اِس کو پسند نہیں کرتاکہ عورتوں اور مردوں کی مخلوط سوسائٹی ہو۔ مغربی ممالک میں اس کے بدترین نتائج ظاہر ہو چکے ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے لوگ ان نتائج کو بھگتنے کے لیے تیار ہوں تو شوق سے بھگتتے رہیں، لیکن آخر یہ کیا ضروری ہے کہ اسلام میں ان افعال کی گنجایش زبردستی نکالی جائے جن سے وہ شدت کے ساتھ روکتا ہے۔
اسلام میں اگر جنگ کے موقع پر عورتوں سے مرہم پٹی کاکام لیا گیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امن کی حالت میں عورتوں کو دفتروں اور کارخانوں اور کلبوں اور پارلیمنٹوں میں لاکھڑا کیا جائے۔ مرد کے دائرۂ عمل میں آکر عورتیں کبھی مردوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں‘ اس لیے کہ وہ ان کاموں کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہیں۔ ان کاموں کے لیے جن اخلاقی اور ذہنی اوصاف کی ضرورت ہے وہ دراصل مرد میں پیدا کیے گئے ہیں۔ عورت مصنوعی طور پر مرد بن کر کچھ تھوڑا بہت ان اوصاف کو اپنے اندر ابھارنے کی کوشش کرے بھی، تو اس کا دہرا نقصان خود اس کو بھی ہوتا ہے اور معاشرے کو بھی۔ اس کا اپنا نقصان یہ ہے کہ وہ نہ پوری عورت رہتی ہے‘ نہ پوری مرد بن سکتی ہے اور اپنے اصل دائرۂ عمل میں‘ جس کے لیے وہ فطرتاً پیدا کی گئی ہے‘ ناکام رہ جاتی ہے۔ معاشرے اور ریاست کا نقصان یہ ہے کہ وہ اہل کارکنوں کے بجائے نااہل کارکنوں سے کام لیتا ہے اور عورت کی آدھی زنانہ اور آدھی مردانہ خصوصیات سیاست اور معیشت کو خراب کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں گنتی کی چند سابقہ معروف خواتین کے نام گنانے سے کیا فائدہ۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ جہاں لاکھوں کارکنوں کی ضرورت ہو، کیا وہاں تمام خواتین موزوں ہوسکیں گی؟ ابھی حال ہی میں مصر کے سرکاری محکموں اور تجارتی اداروں نے یہ شکایت کی ہے کہ وہاں بحیثیت مجموعی ایک لاکھ دس ہزار خواتین جو مختلف مناصب پر کام کر رہی ہیں، بالعموم ناموزوں ثابت ہو رہی ہیں اور ان کی کارکردگی مردوں کی بہ نسبت ۵۵ فی صدی سے زیادہ نہیں۔ پھر مصر کے تجارتی اداروں نے یہ عام شکایت کی ہے کہ عورتوں کے پاس پہنچ کر کوئی راز، راز نہیں رہتا۔ مغربی ممالک میں جاسوسی کے جتنے واقعات پیش آتے ہیں ان میں بھی عموماً کسی نہ کسی طرح عورت کا دخل ہوتا ہے۔
عورتوں کی تعلیم سے اسلام ہرگز نہیں روکتا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم ان کو دلوائی جانی چاہیے‘ لیکن چند شرطوں کے ساتھ:
٭ اول یہ کہ ان کو وہ تعلیم خاص طور پر دی جائے جس سے وہ اپنے دائرۂ عمل میں کام کرنے کے لیے ٹھیک ٹھیک تیار ہو سکیں اور ان کی تعلیم بعینہٖ وہ نہ ہو جو مردوں کی ہو۔
٭ دوسرے یہ کہ تعلیم مخلوط نہ ہو اور عورتوں کو زنانہ تعلیم گاہوں میں عورتوں ہی سے تعلیم دلوائی جائے۔ مخلوط تعلیم کے مہلک نتائج مغربی ترقی یافتہ ممالک میں اس حد تک سامنے آچکے ہیں کہ اب صرف عقل کے اندھے ہی ان کا انکار کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھیے: امریکہ میں ۱۷ سال تک عمر کی لڑکیاں جو ہائی سکولوں میں پڑھتی ہیں‘ مخلوط تعلیم کی وجہ سے ہر سال اُن میں سے اوسطاً ایک ہزار حاملہ نکلتی ہیں۔ گو ابھی یہ شکل ہمارے ہاں رونما نہیں ہوئی ہے، لیکن اس مخلوط تعلیم کے نتائج کچھ ہمارے سامنے بھی آنے شروع ہو گئے ہیں۔
٭ تیسرے یہ کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین سے ایسے اداروں میں کام لیا جائے جو صرف عورتوں کے لیے ہی مخصوص ہوں مثلاً: زنانہ تعلیم گاہیں اور زنانہ ہسپتال وغیرہ۔
معاشرے کی اصلاح و تربیت۲۱۰؎
سوال: کیا اسلامی حکومت خواتین کی بڑھتی ہوئی آزادی کو سختی سے روکے گی؟ جیسے ان کی زیبائش اور نیم عریاں لباس زیب تن کرنے اور فیشن کارجحان، اور جیسے آج کل نوجوان لڑکیاں نہایت تنگ و دل فریب سنٹ سے معطر لباس اور غازہ و سرخی سے مزین اپنے ہر خدوخال اور نشیب و فراز کی نمائش برسرعام کرتی ہیں اورآج کل نوجوان لڑکے بھی ہالی وڈ فلموں سے متاثر ہو کر ٹیڈی بوائز بن رہے ہیں، تو کیا حکومت قانون (legislation)کے ذریعے سے ہر مسلم وغیر مسلم لڑکے اور لڑکی کے آزادانہ رجحان کو روکے گی؟ خلاف ورزی پر سزا دے گی؟ والدین اور سرپرستوں کو جرمانہ کیا جاسکے گا؟ تو اس طرح کیا ان کی شہری آزادی پر ضرب نہ لگے گی؟ کیا گرلز گائیڈ، اپوا (APWA) یا دیگر وائی‘ ایم‘ سی‘ اے (YMCA) اور وائی‘ ڈبلیو‘ سی‘ اے (YWCA) جیسے ادارے اسلامی نظام میں گوارا کیے جاسکتے ہیں؟ کیا خواتین ____ اسلامی عدلیہ سے ____ خود طلاق لینے کی مجاز ہو سکیں گی اور مردوں پر ایک سے زیادہ شادی کی پابندی آج جائز ہوگی؟ یا خود اسلامی عدالت کے روبرو ہی ان کو اپنی پسند سے (civil marriage) کرنے کا حق حاصل ہوسکتا ہے؟ کیا خواتین کو یوتھ فیسٹیول ‘ کھیلوں‘ نمائش‘ ڈراموں‘ ناچ‘ فلموں یا مقابلۂ حسن میں شرکت یا air hostess وغیرہ بننے کی آج بھی اسلامی حکومت مخالفت کرے گی؟ ساتھ ہی قومی کردار تباہ کرنے والے ادارے مثلاً: سینما‘ فلمیں‘ ٹیلی ویژن‘ ریڈیو پر فحش گانے و عریاں رسائل و لٹریچر‘ موسیقی‘ ناچ و رنگ کی ثقافتی محفلیں وغیرہ کو بند کر دیا جائے گا، یا فائدہ اٹھانا ممکن ہوگا؟
جواب: اسلام معاشرے کی اصلاح و تربیت کا سارا کام محض قانون کے ڈنڈے سے نہیں لیتا۔ تعلیم‘ نشر و اشاعت اور رائے عام کا دبائو اس کے ذرائع اصلاح میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان تمام ذرائع کے استعمال کے بعد اگر کوئی خرابی باقی رہ جائے تو اسلام قانونی وسائل اور انتظامی تدابیر استعمال کرنے میں بھی تامل نہیں کرتا۔ عورتوں کی عریانی اور بے حیائی فی الواقع ایک بہت بڑی بیماری ہے جسے کوئی سچی اسلامی حکومت برداشت نہیں کرسکتی۔ یہ بیماری اگر دوسری تدابیر اصلاح سے درست نہ ہو، یا اس کا وجود باقی رہ جائے تو یقیناً اس کو ازرُوئے قانون روکنا پڑے گا۔ اس کا نام اگر شہری آزادی پر ضرب لگانا ہے تو جواریوں کو پکڑنا اور جیب کتروں کو سزائیں دینا بھی شہری آزادی پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ اجتماعی زندگی لازمًاافراد پر کچھ پابندیاں عائد کرتی ہے۔ افراد کو اس کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا کہ وہ اپنے ذاتی رجحانات اوردوسروں سے سیکھی ہوئی برائیوں سے اپنے معاشرے کو خراب کریں۔
گرلز گائیڈ (girls guides)کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ اپوا (APWA) قائم رہ سکتی ہے بشرطیکہ وہ اپنے دائرۂ عمل میں رہ کر کام کرے اور قرآن کا نام لے کر قرآن کے خلاف طریقے استعمال کرنا چھوڑ دے۔ YWCAعیسائی عورتوں کے لیے رہ سکتا ہے مگر کسی مسلمان عورت کو اس میں گھسنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مسلمان عورتیں چاہیں تو YWMA بنا سکتی ہیں‘ بشرطیکہ وہ اسلامی حدود میں رہیں۔
مسلمان عورت اسلامی عدلیہ کے ذریعے سے خلع حاصل کرسکتی ہے۔ فسخ نکاح اور تفریق (judicial separation)کی ڈگری بھی عدالت سے حاصل کرسکتی ہے بشرطیکہ وہ شریعت کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ان میں سے کوئی ڈگری عدالت سے حاصل کرنے کی مجاز ہو، لیکن طلاق (divorce) کے اختیارات قرآن نے صریح الفاظ میں صرف مرد کو دیے ہیں اور کوئی قانون مردوں کے اس اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ یہ اور بات ہے کہ قرآن کانام لے کر قرآن کے خلاف قوانین بنائے جانے لگیں۔ پوری اسلامی تاریخ عہد رسالت سے لے کر اس صدی تک اس تصور سے ناآشنا ہے کہ طلاق دینے کا اختیارمرد سے سلب کرلیا جائے اور کوئی عدالت یا پنچایت اس میں دخل دے۔ یہ تخیل سیدھا یورپ سے چل کر ہمارے ہاں درآمد ہوا ہے اور اس کے درآمد کرنے والوں نے کبھی آنکھیں کھول کر یہ نہیں دیکھا ہے کہ یورپ میں اس قانون طلاق کا پسِ منظر (back ground)کیا ہے اور وہاں اس کے کتنے برے نتائج رونما ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں جب گھروں کے سکینڈل نکل کر بازاروں میں پہنچیں گے تو لوگوں کو پتہ چلے گا کہ خدا کے قوانین میں ترمیم کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔
مردوں پر ایک سے زیادہ شادی کے معاملے میں ازرُوئے قانون پابندی عاید کرنے کا، یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کا تخیل بھی ایک بیرونی مال ہے جسے قرآن کے جعلی پر مٹ پر درآمد کیا گیا ہے۔ یہ اس سوسائٹی میں سے آیا ہے جس میں ایک ہی عورت اگر منکوحہ بیوی کی موجودگی میں داشتہ کے طور پر رکھی جائے تو نہ صرف یہ کہ وہ قابلِ برداشت ہے، بلکہ اس کے حرامی بچوں کے حقوق محفوظ کرنے کی بھی فکر کی جاتی ہے۔ (فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے)، لیکن اگر اسی عورت سے نکاح کر لیا جائے تو یہ جرم ہے۔ گویا ساری پابندیاں حلال کے لیے ہیں‘ حرام کے لیے نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کی ابجد سے بھی واقف ہو تو کیا وہ یہ اقدار (values)اختیار کرسکتا ہے؟ کیا اس کے نزدیک زنا قانوناً جائز اور نکاح قانوناً حرام ہونے کا عجیب و غریب فلسفہ برحق ہوسکتا ہے؟ اس طرح کے قوانین بنانے کا حاصل اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں زنا کا رواج بڑھے گا۔ گرل فرینڈز اور داشتائیں (mistresses)فروغ پائیں گی اور دوسری بیوی ناپید ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہوگی جو اپنے خدو خال میں اسلام کی اصل سوسائٹی سے بہت دور اور مغربی سوسائٹی سے بہت قریب ہوگی۔ اس صورت حال کے تصور سے جس کا جی چاہے مطمئن ہو۔ مسلمان کبھی مطمئن نہیں ہوسکتا۔
سول میرج کا سوال ظاہر ہے کہ مسلمان عورت کے ساتھ تو پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سوال اگر پیدا ہوتا ہے تو کسی مشرک عورت سے شادی کرنے کے معاملے میں، یا کسی ایسی عیسائی یا یہودی عورت سے شادی کے معاملے میں جو اسلامی قانون کے تحت کسی مسلمان سے نکاح کرنے کے لیے تیار نہ ہو، اور مسلمان مرد اس کے عشق میں مبتلا ہو کر اس اقرارکے ساتھ شادی کرے کہ وہ کسی مذہب کا پابند نہ ہوگا۔ یہ کام اگر کسی کو کرنا ہی ہو تو اسے اسلام سے فتویٰ لینے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اسلام کیوں اپنے ایک پیرو کو اس کی اجازت دے؟ اور ایک اسلامی عدالت کا یہ کام کب ہے کہ مسلمانوں کی اس طریقے پر شادیاں کروائے؟
اگر ایک اسلامی حکومت بھی یوتھ فیسٹیول (youth festival)اور کھیلوں کی نمائشوں اور ڈراموں اور رقص و سرود اور مقابلۂ حسن میں مسلمان عورتوں کو لائے یا ائیر ہوسٹس بناکر مسافروں کے دل موہنے کی خدمت ان سے لے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی حکومت کی آخر ضرورت کیا ہے؟ یہ سارے کام تو کفر اور کفار کی حکومت میں بَہآسانی ہوسکتے ہیں، بلکہ زیادہ آزادی کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔
سینما‘ فلم‘ ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ تو خدا کی پیدا کردہ طاقتیں ہیں جن میں بجائے خود کوئی خرابی نہیں۔ خرابی ان کے اُس استعمال میں ہے جو انسانی اخلاق کو تباہ کرنے والا ہے۔ اسلامی حکومت کاکام ہی یہ ہے کہ وہ ان ذرائع کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرے اور اخلاقی فساد کے لیے استعمال ہونے کا دروازہ بند کردے۔

۴۔ذمیوں کے حقوق۲۱۱؎

سوال: میں ہندو مہا سبھا کا ورکر ہوں۔ سال گذشتہ صوبے کی ہندو مہاسبھا کا پروپیگنڈا سیکرٹری منتخب ہوا تھا۔ میں حال ہی میں جناب کے نام سے شناسا ہوا ہوں۔ آپ کی چند کتابیں: مسلمان اور سیاسی کشمکش حصہ اول و سوم‘ اسلام کا نظریۂ سیاسی‘ اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے، سلامتی کا راستہ وغیرہ دیکھی ہیں‘ جن کے مطالعے سے اسلام کے متعلق میرا نظریہ قطعاً بدل گیا ہے اور میں ذاتی طور پر یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ چیز کچھ عرصہ پہلے ہوگئی ہوتی تو ہندو مسلم مسئلہ اس قدر پیچیدہ نہ ہوتا۔ جس حکومت الٰہیہ کی آپ دعوت دے رہے ہیں اس میں زندگی بسر کرنا قابلِ فخر ہوسکتا ہے، مگر چند امور دریافت طلب ہیں۔ خط و کتابت کے علاوہ ضرورت ہوگی تو جناب کا نیاز بھی حاصل کروں گا۔
سب سے پہلی چیز جودریافت طلب ہے وہ یہ ہے کہ ہندوئوں کو حکومت الٰہیہ کے اندر کس درجے میں رکھا جائے گا؟ آیا ان کو اہل کتاب کے حقوق دیے جائیں گے یا ذمی کے؟ اہل کتاب اور ذمی لوگوں کے حقوق کی تفصیل ان رسائل میں بھی نہیں ملتی۔ مجھے جہاں تک سندھ پر عربی حملے کی تاریخ کا علم ہے‘ محمد بن قاسم اور اس کے جانشینوں نے سندھ کے ہندوئوں کو اہل کتاب کے حقوق دیے تھے۔ امید ہے کہ آپ اس معاملے میں تفصیلی طور پر اظہار خیال کریں گے۔
نیز یہ بھی فرمائیے کہ اہلِ کتاب اور ذمی کے حقوق میں کیا فرق ہے؟ کیا وہ ملک کے نظم و نسق میں برابر کے شریک ہوسکتے ہیں؟ کیا پولیس‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والی جماعت میں ہندوئوں کا حصہ ہوگا؟ اگر نہیں تو کیا ہندوئوں کی اکثریت والے صوبوں میں آپ مسلمانوں کے لیے وہ پوزیشن قبول کرنے کو تیار ہوں گے جو کہ آپ حکومت الٰہیہ میں ہندوئوں کو دیں گے؟
دوسری دریافت طلب چیز یہ ہے کہ کیا قرآن کے فوج داری اور دیوانی احکام مسلمانوں کی طرح ہندوئوں پر بھی حاوی ہوں گے؟ کیا ہندوئوں کا قومی قانون (personal law) ہندوئوں پر نافذ ہوگا، یا نہیں؟ میرا مدعا یہ ہے کہ ہندو اپنے قانون وراثت‘ مشترکہ فیملی سسٹم اور متبنّٰی وغیرہ بنانے کے قواعد (مطابق منوشاستر) کے مطابق زندگی بسر کریں گے یا نہیں؟
واضح رہے کہ یہ سوالات محض ایک متلاشیِ حق کی حیثیت سے پیش کیے جارہے ہیں۔
جواب: میں آپ کے ان خیالات کی دل سے قدر کرتا ہوں جو آپ نے اپنے عنایت نامے میں ظاہر کیے ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ ہندستان میں ہندو مسلم مسئلے کو پیچیدہ اور ناقابل حد تک پیچیدہ بنا دینے کی ذمے داری ان لوگوں پر ہے جنھوں نے اصول حق اور راستی کی بنیادوں پر مسائل زندگی حل کرنے کے بجائے شخصی، خاندانی‘ طبقاتی‘ نسلی اور قومی بنیادوں پر انھیں دیکھنے اور حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا انجام وہی کچھ ہونا چاہیے تھا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور اس بدقسمتی میں ہم آپ سب برابر کے شریک ہیں‘ کوئی بھی فائدے میں نہیں ہے۔
آپ نے جو سوالات کیے ہیں ان کے مختصر جوابات نمبروار درج ذیل ہیں:
۱۔ اگر حکومت الٰہیہ قائم ہو تو اس کی حیثیت یہ نہ ہوگی کہ ایک قوم دوسری قوم یا اقوام پر حکمران ہے‘ بلکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہوگی کہ ملک پر ایک اصول کی حکومت قائم ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی حکومت کو چلانے کی ذمے داری باشندگانِ ملک میں سے وہی لوگ اٹھا سکیں گے جو اس اصول کو مانتے ہوں۔ دوسرے لوگ جو اس اصول کو نہ مانتے ہوں یا کم از کم اس پر مطمئن نہ ہوں‘ ان کو اس حکومت میں قدرتی طور پر’اہل ذمہ‘ کی حیثیت حاصل ہوگی‘ یعنی جن کی حفاظت کی ذمے داری وہ لوگ لیتے ہیں جو اس اصولی حکومت کو چلانے والے ہیں۔
۲۔ ’اہل کتاب‘ اور’عام اہل ذمہ‘ کے درمیان اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان نکاح کرسکتے ہیں اوردوسرے ذمیوں کی عورتوں سے نہیں کرسکتے۔ لیکن حقوق میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
۳۔ ذمیوں کے حقوق کے بارے میں تفصیلات تو میں اس خط میں نہیں دے سکتا‘ البتہ اصولی طور پر آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ ذمی دو طرح کے ہوسکتے ہیں:
٭ ایک: وہ جو اسلامی حکومت کا ذمہ قبول کرتے وقت کوئی معاہدہ کریں۔
٭ دوسرے: وہ جو بغیر کسی معاہدے کے ذمہ میں داخل ہوں۔
پہلی قسم کے ذمیوں کے ساتھ تو وہی معاملہ کیا جائے گا جو معاہدے میں طے ہوا ہو۔ رہے دوسری قسم کے ذمی‘ تو ان کا ذمی ہونا ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ ہم ان کی جان اور مال اور آبرو کی اسی طرح حفاظت کرنے کے ذمے دار ہیں جس طرح خود اپنی جان اور مال اور آبرو کی کریں گے۔ ان کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہوں گے۔ ان کے خون کی قیمت وہی ہوگی جو مسلمان کے خون کی ہے۔ ان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔ ان کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ ان کو اپنی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کا حق دیا جائے گا اور اسلامی تعلیم بہ جبراُن پر نہیں ٹھونسی جائے گی۔
ذمیوں کے متعلق اسلام کے دستوری قانون کی تفصیلات ان شاء اللہ ہم ایک کتاب کی شکل میں الگ شائع کریں گے۔۲۱۲؎
۴۔ جہاں تک ذمیوں کے پرسنل لا کا تعلق ہے وہ ان کی مذہبی آزادی کا ایک لازمی جز ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت ان کے قوانین نکاح و طلاق اور قوانین وراثت و تبنیت کو اور ایسے ہی دوسرے تمام قوانین کو جو ملکی قانون (law of the land) سے نہ ٹکراتے ہوں‘ ان پر جاری کرے گی اور صرف ان امور میں ان کے پرسنل لا کے نفاذ کو برداشت نہ کرے گی جن میں ان کا برا اثر دوسروں پر پڑتا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ذمی قوم سود کو جائز رکھتی ہو تو ہم اس کو اسلامی حکومت میں سودی لین دین کی اجازت نہ دیں گے، کیونکہ اس سے پورے ملک کی معاشی زندگی متاثر ہوتی ہے، یا مثلاً اگر کوئی ذمی قوم زنا کو جائز رکھتی ہو تو ہم اسے اجازت نہ دیں گے کہ وہ اپنے طور پر بدکاری (prostitution) کاکاروبارجاری رکھ سکے‘ کیونکہ یہ اخلاق انسانی کے مُسَلَّمات کے خلاف ہے اور یہ چیز ہمارے قانون تعزیرات (criminal law) سے بھی ٹکراتی ہے‘ جو ظاہر ہے کہ ملکی قانون بھی ہوگا۔ اسی پر آپ دوسرے امور کو قیاس کرسکتے ہیں۔
۵۔ آپ کا یہ سوال کہ آیا ذمی ملک کے نظم و نسق میں برابر کے شریک ہوسکتے ہیں۔ مثلاً پولیس‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والی جماعت میں ہندوئوں کا حصہ ہو گا، یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہندوئوں کی اکثریت والے صوبوں میں آپ مسلمانوں کے لیے وہ پوزیشن منظور کریں گے جو آپ ہندوئوں کو حکومت الٰہیہ میں دیں گے؟ یہ سوال میرے نزدیک دو غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ اصولی غیر قومی حکومت (ideological non-national state)کی صحیح حیثیت آپ نے اس میں ملحوظ نہیں رکھی ہے۔دوسرے یہ کہ کاروباری لین دین کی ذہنیت اس میں جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
جیسا کہ میں نمبر اول میں تصریح کر چکا ہوں اصولی حکومت کو چلانے اور اس کی حفاظت کرنے کی ذمے داری صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس اصول پر یقین رکھتے ہوں۔ وہی اس کی روح کو سمجھ سکتے ہیں‘ انھی سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ پورے خلوص کے ساتھ اپنا دین و ایمان سمجھتے ہوئے اس ’ریاست‘ کے کام کو چلائیں گے اور انھی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس ریاست کی حمایت کے لیے اگر ضرورت پڑے تو میدانِ جنگ میں قربانی دے سکیں گے۔ دوسرے لوگ جو اس اصول پر ایمان نہیں رکھتے‘ اگر حکومت میں شریک کیے بھی جائیں گے تو نہ وہ اس کی اصولی اور اخلاقی روح کو سمجھ سکیں گے، نہ اس روح کے مطابق کام کرسکیں گے اور نہ ان کے اندر ان اصولوں کے لیے اخلاص ہوگا جن پر اس حکومت کی عمارت قائم ہوگی۔ سول محکموں میں اگر وہ کام کریں گے تو ان کے اندر ملازمانہ ذہنیت کار فرما ہوگی اور محض روزگار کی خاطر وہ اپنا وقت اور اپنی قابلیتیں بیچیں گے اور اگر وہ فوج میں جائیں گے تو ان کی حیثیت کرائے کے سپاہیوں (merecenaries)جیسی ہوگی اور وہ ان اخلاقی مطالبات کو پورا نہ کرسکیں گے جو اسلامی حکومت اپنے مجاہدوں سے کرتی ہے۔ اس لیے اصولاً اور اخلاقی اعتبار سے اسلامی حکومت کی پوزیشن اس معاملے میں یہ ہے کہ وہ فوج میں اہل ذمہ سے کوئی خدمت نہیں لیتی، بلکہ اس کے برعکس فوجی حفاظت کا پورا پورا بار مسلمانوں پر ڈال دیتی ہے اور اہلِ ذمہ سے صرف ایک دفاعی ٹیکس لینے پر اکتفا کرتی ہے، لیکن یہ ٹیکس اور فوجی خدمت دونوں بیک وقت اہلِ ذمہ سے نہیں لیے جاسکتے۔ اگر اہلِ ذمہ بطور فوجی خدمت کے اپنے آپ کو پیش کریں تو وہ ان سے قبول کرلی جائے گی اور اس صورت میں دفاعی ٹیکس ان سے نہ لیا جائے گا۔ رہے سول محکمے تو ان میں سے کلیدی مناصب (key positions)اور وہ عہدے جو پالیسی کے تعین و تحفظ سے تعلق رکھتے ہیں‘ بہرحال اہلِ ذمہ کو نہیں دیے جاسکتے، البتہ کارکنوں کی حیثیت سے ذمیوں کی خدمت حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔اسی طرح جو اسمبلی شوریٰ کے لیے منتخب کی جائے گی اس میں بھی اہل ذمہ کو رکنیت یا رائے دہندگی کا حق نہیں ملے گا، البتہ ذمیوں کی الگ کونسلیں بنا دی جائیں گی جو ان کی تہذیبی خود اختیاری کے انتظام کی دیکھ بھال بھی کریں گی اور اس کے علاوہ ملکی نظم و نسق کے متعلق اپنی خواہشات‘ اپنی ضروریات اور شکایات اور اپنی تجاویز کا اظہار بھی کرسکیں گی جن کا پورا پورا لحاظ اسلامی مجلس شوریٰ (assembly)کرے گی۔
صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ حکومتِ الٰہیہ کسی قوم کا اجارہ نہیں ہے‘ جو بھی اس کے اصول کو تسلیم کرے وہ اس حکومت کو چلانے میں حصے دار ہوسکتا ہے۔ خواہ وہ ہندو زادہ ہو یا سکھ زادہ، لیکن جو اس کے اصول کو تسلیم نہ کرے وہ خواہ مسلم زادہ ہی کیوں نہ ہو‘ حکومت کی محافظت (protection) سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اس کے چلانے میں حصے دار نہیں ہوسکتا۔
آپ کا یہ سوال کہ:’کیا ہندو اکثریت والے صوبوں میں مسلمانوں کی وہی پوزیشن قبول کروگے جو حکومت الٰہیہ میں ہندوئوں کو دو گے؟‘
دراصل یہ سوال مسلم لیگ کے لیڈروں سے کیا جانا چاہیے تھا‘ کیونکہ لین دین کی باتیں وہی کرسکتے ہیں۔ ہم سے آپ پوچھیں گے تو ہم تو اس کا بے لاگ اصولی جواب دیں گے۔جہاں حکومت قائم کرنے کے اختیارات ہندوئوں کو حاصل ہوں، وہاں آپ اصولاً دو ہی طرح کی حکومتیں قائم کرسکتے ہیں:
۱۔ یا ایسی حکومت جو ہندو مذہب کی بنیاد پر قائم ہو۔
۲۔ یا پھر ایسی حکومت جو وطنی قومیت کی بنیاد پر ہو۔
پہلی صورت میں آپ کے لیے یہ کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے کہ جیسے حقوق حکومت الٰہیہ میں ہندوئوں کو ملیں گے ویسے ہی حقوق ہم ’’رام راج‘‘ میں مسلمانوں کودے دیں گے، بلکہ آپ کو اس معاملے میں اگر کوئی رہنمائی ہندو مذہب میں ملتی ہے تو بے کم و کاست اسی پر عمل کریں گے‘ قطع نظر اس سے کہ دوسرے کس طرح عمل کرتے ہیں۔ اگر آپ کا معاملہ ہمارے معاملے سے بہتر ہوگا تو اخلاق کے میدان میں آپ ہم پر فتح پالیں گے‘ اور بعید نہیں کہ ایک روز ہماری حکومت الٰہیہ آپ کے رام راج میں تبدیل ہو جائے، اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو ظاہر ہے کہ دیریا سویر نتیجہ بھی برعکس نکل کر ہی رہے گا۔
رہی دوسری صورت کہ آپ کی حکومت وطنی قومیت کی بنیاد پر قائم ہو تو اس صورت میں بھی آپ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ یا تو جمہوری (democratic)اصول اختیار کریں اور مسلمانوں کو ان کی تعداد کے لحاظ سے حصہ دیں‘ یا پھر صاف صاف کہہ دیں کہ یہ ہندو قوم کی حکومت ہے اور مسلمانوں کو اس میں ایک مغلوب قوم (subject nation)کی حیثیت سے رہنا ہوگا۔
ان دونوں صورتوں میں سے جس صورت پر بھی آپ چاہیں مسلمانوں سے معاملہ کریں۔ بہرحال آپ کے برتائو کو دیکھ کر اسلامی ریاست ان اصولوں میں ذرہ برابر بھی کوئی تغیر نہ کرے گی جو ذمیوں سے معاملہ کرنے کے لیے قرآن و حدیث میں مقرر کر دیے گئے ہیں۔آپ چاہیں تو اپنی قومی ریاست میں مسلمانوں کا قتل ِ عام کردیں اور ایک مسلمان بچے تک کو زندہ نہ چھوڑیں۔ اسلامی ریاست میں اس کا انتقام لینے کے لیے کسی ذمی کا بال تک بیکا نہ کیا جائے گا۔ اس کے برعکس آپ کا جی چاہے تو ہندو ریاست میں صدر جمہوریہ اور وزیراعظم اور کمانڈر انچیف سب ہی کچھ مسلمان باشندوں کو بنا دیں۔ بہرحال اس کے جواب میں کوئی ایک ذمی بھی کسی ایسی پوزیشن پر مقرر نہیں کیا جائے گا جو اسلامی ریاست کی پالیسی کی شکل اور سمت معیّن کرنے میں دخل رکھتی ہو۔
مزید تصریحات۲۱۳؎
سوال: آپ کی جملہ تصانیف اورسابق عنایت نامہ پڑھنے کے بعد میں یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ خالص اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں اور اس اسلامی حکومت کے عہد میں ذمی اور اہل کتاب کی حیثیت بالکل ایسی ہی ہوگی جیسی ہندوئوں میں اچھوتوں کی۔
آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ’ہندوئوں کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی، انھیں ان کا انتظام کرنے کا حق دیا جائے گا‘ مگر آپ نے یہ نہیں تحریر فرمایا کہ آیا ہندوئوں کو تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا، یا نہیں؟ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ’جو بھی اس حکومت کے اصول کو تسلیم کرلے وہ اس کے چلانے میں حصے دار ہوسکتا ہے؟ خواہ وہ ہندو زادہ ہو یا سکھ زادہ۔‘براہ کرم اس کی توضیح کیجیے کہ ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے بھی کیا آپ کی حکومت کے اصولوں پر ایمان لاکر اسے چلانے میںشریک ہوسکتا ہے؟
پھرآپ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے مسلمان نکاح کر سکتے ہیں مگر آپ نے ساتھ ہی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اہل کتاب بھی مسلم عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیا آپ اس احساس برتری (superiority complex)کے بارے میں مزید روشنی ڈالیں گے؟ اگر آپ اس کے اثبات (justification)کے لیے اسلام پر ایمان کی اوٹ لیں تو کیا آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ موجودہ نام نہاد مسلمان آپ کے قول……… کے مطابق ان اسلامی قواعد اور کریکٹر کے اصولوں پر پورے اتریں گے؟ آج کے مسلمان کی بات تو الگ رہی، کیا آپ یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ خلافت راشدہ کے عہد میں اکثر و بیش ترجو لوگ اسلام لائے وہ زیادہ تر سیاسی اقتدار کے خواہاں تھے؟ اگر آپ یہ تسلیم کرنے سے قاصر ہیں تو فرمائیے کہ پھر وہ اسلامی حکومت کیوں صرف تیس پینتیس(۳۰،۳۵) سال چل کر رہ گئی ؟ پھر کیوں حضرت علیؓ جیسے مدبر اور مجاہد کی اس قدر مخالفت ہوئی اور مخالفین میں حضرت عائشہ صاحبہ تک تھیں؟
نیز یہ گرہ بھی کھولیے کہ آپ موجودہ ماحول میں اس طرز حکومت کو چلانے کے لیے ایسے بلند اخلاق اور بہترین کریکٹر کی شخصیتیں کہاں سے پیدا کریں گے؟ جب کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان غنی ؓ، اور حضرت علیؓ جیسے عدیم المثال بزرگ اسے چند سالوں سے زیادہ نہ چلا سکے۔ چودہ سو سال کے بعد ایسے کون سے موافق حالات آپ کے پیشِ نظر ہیں جن کی بنا پر آپ کی دُور رَس نگاہیں حکومتِ الٰہیہ کو عملی صورت میں دیکھ رہی ہیں؟ اس میں شک نہیں کہ آپ کا پیغام ہر خیال کے مسلمانوں میں زورو شور سے پھیل رہا ہے اور مجھے جس قدر بھی مسلمانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے، وہ سب اس خیال کے حامی ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ عین اسلام ہے،مگر ہرشخص کااعتراض یہی ہے جو میں نے گذشتہ سطور میں پیش کیا ہے‘ یعنی آپ کے پاس عہد خلافت راشدہ کی اصولی حکومت چلانے کے لیے فی زمانہ کریکٹر کے آدمی کہاں ہیں؟ پھر جب کہ وہ بہترین نمونے کی ہستیاں اس نظام کو نصف صدی تک بھی کامیابی سے نہ چلا سکیں تو اس دور میں اس طرز کی حکومت کا خیال خوش فہمی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟
جواب: آپ کے سوالات کا سرا حقیقت میں ابھی تک میں نہیں پاسکا ہوں۔ اس وجہ سے جو جوابات میں دیتا ہوں ان میں سے کچھ اور ایسے سوالات نکل آتے ہیں جن کے نکلنے کی مجھے توقع نہیں ہوتی۔ اگر آپ پہلے بنیادی امور سے بات شروع کریں اور پھر بتدریج فروعی معاملات اور وقتی سیاسیات (current politics)کی طرف آئیں تو چاہے آپ مجھ سے متفق نہ ہوں، لیکن کم از کم مجھے اچھی طرح سمجھ ضرور لیں گے۔ سردست تو میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میری پوزیشن آپ کے سامنے پوری طرح واضح نہیں ہے۔
آپ نے اپنے عنایت نامے میں تحریر فرمایا ہے کہ’جس اسلامی حکومت کا میں خواب دیکھ رہا ہوں اس میں ذمی اور اہل کتاب کی حیثیت وہی ہوگی جو ہندوئوں میں اچھوتوں کی ہے۔‘‘ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا، یا تو آپ ذمیوں کی حیثیت میرے صاف صاف بیان کر دینے کے باوجود نہیں سمجھے ہیں یا ہندوئوں میں اچھوتوں کی حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔ اول تو اچھوتوں کی جو حیثیت منو کے دھرم شاستر سے معلوم ہوتی ہے اس کو ان حقوق و مراعات سے کوئی نسبت نہیں ہے جو اسلامی فقہ میں ذمیوں کو دیے گئے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اچھوت پن کی بنیاد نسلی امتیاز پر ہے، اور ذمیت کی بنیاد محض عقیدے پر۔ اگر ذمی اسلام قبول کرلے تو وہ ہمارا امیر و امام تک بن سکتا ہے،مگر کیا ایک شودر کسی عقیدے و مسلک کو قبول کر لینے کے بعد ورن آشرم کی پابندیوں سے بری ہوسکتا ہے؟
آپ کا یہ سوال ہی عجیب ہے کہ:کیا ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے بھی آپ کی حکومت کے اصولوں پر ایمان لاکر اسے چلانے میں شریک ہوسکتا ہے؟ شاید آپ نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اسلامی حکومت کے اصولوں پر ایمان لے آنے کے بعد ہندو ہندو کب رہے گا‘ وہ تو مسلم ہوجائے گا۔ آج جو کروڑوں’ہندو زادے‘ اس ملک میں مسلمان ہیں‘ وہ اسلام کے اصولوں پر ایمان لاکر ہی تو مسلمان ہوئے ہیں۔ اسی طرح آئندہ جو ہندو زادے اسے مان لیں گے وہ بھی مسلم ہو جائیں گے، اورجب وہ مسلم ہو جائیں گے تو یقیناً اسلامی حکومت کو چلانے میں ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے۔
آپ کا یہ سوال کہ آیا ہندوئوں کو اسلامی ریاست میں تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا یا نہیں۔ جتنا مختصر ہے اس کا جواب اتنا مختصر نہیں ہے۔ تبلیغ کی کئی شکلیں ہیں:
ایک شکل یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ خود اپنی آئندہ نسلوں کو اور اپنے عوام کو اپنے مذہب کی تعلیم دے۔ اس کا حق تمام ذمی گروہوں کو حاصل ہوگا۔
دوسری شکل یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ تحریر یا تقریر کے ذریعے سے اپنے مذہب کو دوسروں کے سامنے پیش کرے اور اسلام سمیت دوسرے مسلکوں سے اپنے وجوہ اختلاف کو علمی حیثیت سے بیان کرے۔ اس کی اجازت بھی ذمیوں کو ہوگی‘ مگر ہم کسی مسلمان کو اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے اپنا دین تبدیل کرنے کی اجازت نہ دیں گے۔
تیسری شکل یہ ہے کہ کوئی گروہ اپنے مذہب کی بنیاد پر ایک منظم تحریک ایسی اٹھائے جس کی غرض یا جس کا مآل(انجام) یہ ہو کہ ملک کا نظام زندگی تبدیل ہو کر اسلامی اصولوں کے بجائے اس کے اصولوں پر قائم ہو جائے۔ ایسی تبلیغ کی اجازت ہم اپنے حدود اقتدار میں کسی کو نہیں دیں گے۔ اس مسئلے پر میرا مفصل مضمون:’’اسلام میں قتل مرتد کا حکم‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔۲۱۴؎
اہلِ کتاب کی عورتوں سے مسلمان کا نکاح جائز اور مسلمان عورتوں سے اہل کتاب کا نکاح ناجائز ہونے کی بنیاد کسی احساس برتری پر نہیں ہے‘ بلکہ یہ ایک نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے۔ مرد بالعموم متاثر کم ہوتا ہے اور اثر زیادہ ڈالتا ہے۔ عورت بالعموم متاثر زیادہ ہوتی ہے اوراثر کم ڈالتی ہے۔ ایک غیر مسلمہ اگر کسی مسلمان کے نکاح میں آئے تو اس کا امکان کم ہوتا ہے کہ وہ اس مسلمان کو غیرمسلم بنالے گی اور اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے گی۔ لیکن ایک مسلمان عورت اگر کسی غیر مسلم کے نکاح میں چلی جائے تو اس کے غیر مسلمہ ہو جانے کا بہت زیادہ اندیشہ ہے اور اس بات کی توقع بہت کم ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اور اپنی اولاد کو مسلمان بنا سکے گی۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنی لڑکیوں کا نکاح غیر مسلم سے کریں، البتہ اگر اہل کتاب میں سے کوئی شخص خود اپنی بیٹی مسلمان کودینے پر راضی ہو تو مسلمان اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن قرآن میں جہاں اس چیز کی اجازت دی گئی ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر غیر مسلم بیوی کی محبت میں مبتلا ہو کر تم نے ایمان کھو دیا تو تمھارا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا اور آخرت میں تم خسارے میں رہو گے۔ نیز یہ اجازت ایسی ہے جس سے خاص ضرورتوں کے مواقع پر ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی پسندیدہ فعل نہیں ہے جسے قبول عام حاصل ہو‘ بلکہ بعض حالات میں تو اس سے منع بھی کیا گیا ہے، تاکہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں غیرمسلم عناصر کے داخل ہونے سے کسی نامناسب اخلاقی اور اعتقادی حالت کا نشوونما نہ ہوسکے۔
آپ کا یہ سوال کہ اسلامی حکومت صرف تیس پینتیس (۳۰،۳۵)سال چل کر کیوں رہ گئی‘ ایک اہم تاریخی مسئلے سے متعلق ہے۔ اگر آپ اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے اسباب سمجھنا آپ کے لیے کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ کسی خاص اصول کی عَلم بردار جماعت جو نظام زندگی قائم کرتی ہے اس کا اپنی پوری شان کے ساتھ چلنا اورقائم رہنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ لیڈر شپ ایک ایسے چیدہ گروہ کے ہاتھ میں رہے جو اس اصول کا سچا اور سرگرم پیرو ہے، اور لیڈر شپ ایسے گروہ کے ہاتھ میں صرف اسی حالت میں رہ سکتی ہے جب کہ عام باشندوں پر اس گروہ کی گرفت قائم رہے اور ان کی عظیم اکثریت کم از کم اس حد تک تعلیم و تربیت پائے ہوئے ہو کہ اسے اس خاص اصول کے ساتھ گہری وابستگی بھی ہو، اور وہ ان لوگوں کی بات سننے کے لیے تیار بھی نہ ہو جو اس اصول سے ہٹ کر کسی دوسرے طریقے کی طرف بلانے والے ہوں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو تمدنی انقلاب رونما ہوا، اور جو نیا نظام زندگی قائم ہوا اس کی بنیاد یہ تھی کہ عرب کی آبادی میں ایک طرح کا اخلاقی انقلاب (moral revolution) واقع ہو چکا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں صالح انسانوں کا جو مختصر گروہ تیار ہوا تھا اس کی قیادت تمام اہل عرب نے تسلیم کرلی تھی۔ لیکن آگے چل کرعہد خلافت راشدہ میں جب ملک پر ملک فتح ہونے شروع ہوئے تو اسلام کی مملکت میں توسیع بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگی اور استحکام اتنی تیزی کے ساتھ نہ ہوسکا۔ چونکہ اس زمانے میں نشر و اشاعت اور تعلیم و تبلیغ کے ذرائع اتنے نہ تھے جتنے آج ہیں اور نہ وسائل حمل و نقل موجودہ زمانے کے مانند تھے‘ اس لیے جوفوج در فوج انسان اس نئی مسلم سوسائٹی میں داخل ہونے شروع ہوئے، ان کو اخلاقی‘ ذہنی اور عملی حیثیت سے اسلامی تحریک میں مکمل طور پر جذب کرنے کا انتظام نہ ہوسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی عام آبادی میں صحیح قسم کے مسلمانوں کا تناسب بہت کم رہ گیا اور خام قسم کے مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ لیکن اصولاً ان مسلمانوں کے حقوق اور اختیارات اور سوسائٹی میں ان کی حیثیت صحیح قسم کے مسلمانوں کی بہ نسبت کچھ بھی مختلف نہ ہوسکتی تھی۔ اسی وجہ سے جب حضرت علیؓ کے زمانے میں ارتجاعی تحریکیں۲۱۵؎ (reactionary movements) رونما ہوئیں تو مسلمان پبلک کا ایک بہت بڑا حصہ ان سے متاثر ہوگیا اور لیڈر شپ ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی جو ٹھیٹھ اسلامی طرز پر کام کرنے والے تھے۔ اس تاریخی حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں یہ واقعہ ذرہ برابر بھی دل شکستہ نہیں کرتا، کہ خالص اسلامی حکومت تیس پینتیس سال سے زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی۔
آج اگر ہم ایک صالح گروہ اس ذہنیت‘ اس اخلاق اور اس سیرت کے انسانوں کا منظم کرسکیں جو اسلام کے منشا کے مطابق ہو تو ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے ذرائع و وسائل سے فائدہ اٹھا کرنہ صرف اپنے ملک، بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہم ایک اخلاقی و تمدنی انقلاب برپا کرسکیں گے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ایسے گروہ کے منظم ہو جانے کے بعد عام انسانوں کی قیادت اس گروہ کے سوا کسی دوسری پارٹی کے ہاتھ میں نہیں جاسکتی۔ آپ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر جو رائے قائم کر رہے ہیں وہ اس حالت پر چسپاں نہیں ہو سکتی جو ہمارے پیش نظر ہے۔
اگر صحیح اخلاق کے حامل انسان میدان عمل میں آجائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمان عوام ہی نہیں، بلکہ ہندو‘ عیسائی‘ پارسی اور سکھ سب ان کے گرویدہ ہو جائیں گے اور خود اپنے ہم مذہب لیڈروں کو چھوڑ کر ان پر اعتماد کرنے لگیں گے۔ ایسے ہی ایک گروہ کو تربیت اور تعلیم اور تنظیم کے ذریعے سے تیار کرنا اس وقت میرے پیش نظر ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس کام میں وہ میری مدد کرے۔

(۵) ذمیوں کے حقوق۲۱۶؎

سوال: اسلامی مملکت میں اقلیتی فرقوں کو‘ مثلاً عیسائی‘ یہودی‘ بدھ‘ جین‘ پارسی‘ ہندو وغیرہ کو کیا مسلمانوں کی طرح پورے حقوق حاصل ہوں گے؟ کیا ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ بھی اسی طرح کرنے کی اجازت ہوگی جیسا کہ آج کل پاکستان اوردیگر ممالک میں کھلے بندوں پرچار ہوتا ہے؟ کیا اسلامی مملکت میں ایسے مذہبی یا نیم مذہبی ادارے مثلاً: ادارہ مکتی فوج (salvation army)،کیتھڈرل‘ کانونٹ‘ سینٹ جان یا سینٹ فرانسز وغیرہ جیسے ادارے قانونًابند کر دیے جائیں گے (جیسا کہ حال میں سیلون میں ہوا یا دو ایک ممالک میں ہو چکا ہے)‘ یا فراخ دلی سے مسلمان بچوں کو وہاں بھی ماڈرن ایجوکیشن حاصل کرنے کی عام اجازت ہوگی؟ کیا اس صدی میں بھی ان اقلیتی فرقوں سے جزیہ وصول کرنا مناسب ہوگا (عالمی حقوق انسانی کی روشنی میں بھی) جب کہ وہ نہ صرف فوج اورسرکاری عہدوں پر فائز اور حکومت کے وفادار ہوں؟
جواب: اسلامی مملکت میں غیر مسلم گروہوں کو تمام مدنی حقوق (civil rights) مسلمانوں کی طرح حاصل ہوں گے، مگر سیاسی حقوق (political rights)مسلمانوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں ریاست کے نظام کو چلانا مسلمانوں کی ذمے داری ہے اور مسلمان اس بات پر مامور ہیں کہ جہاں بھی ان کو حکومت کے اختیارات حاصل ہوں وہاں وہ قرآن اورسنت کی تعلیمات کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں۔ چونکہ غیر مسلم نہ قرآن اور سنت کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں اور نہ اس کی اسپرٹ کے مطابق ایمان داری سے کام چلا سکتے ہیں اس لیے وہ اس ذمے داری میں شریک نہیں کیے جا سکتے، البتہ نظم و نسق میں ایسے عُہدے ان کو دیے جاسکتے ہیں جن کاکام پالیسی بنانانہ ہو۔ اس معاملے میں غیر مسلم حکومتوں کا طرزِ عمل منافقانہ ہے اور اسلامی حکومت کا طرز عمل صاف صاف ایمان دارانہ۔ مسلمان اس بات کو صاف صاف کہتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کرنے میں خدا کے سامنے اپنی ذمے داری ملحوظ رکھتے ہوئے غیرمسلموں کے ساتھ انتہائی شرافت اور فراخ دلی کا برتائو کرتے ہیں۔ غیر مسلم بظاہر کاغذ پرقومی اقلیتوں (national minorities)کو سب قسم کے حقوق دے دیتے ہیں، مگر عملاً انسانی حقوق تک نہیں دیتے۔ اس میں اگر کسی کو شک ہو تو دیکھ لے کہ امریکہ میں سیاہ فام لوگوں (negroes)کے ساتھ اور روس میں غیر کمیونسٹ باشندوں کے ساتھ اور چین و ہندستان میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ خواہ مخواہ دوسروں سے شرما کر ہم اپنے مسلک کو صاف صاف کیوں نہ بیان کریں اور اس پر صاف صاف کیوں نہ عمل کریں۔
جہاں تک غیر مسلموں کی تبلیغ کا معاملہ ہے اس کے بارے میں یہ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک ہم بالکل خود کشی کے لیے ہی تیار نہ ہو جائیں ہمیں یہ حماقت نہیں کرنی چاہیے کہ اپنے ملک کے اندر ایک طاقت ور اقلیت پیدا ہونے دیں جو غیر ملکی سرمائے سے پرورش پائے اور بڑھے اور جس کی پشت پناہی بیرونی حکومتیں کرکے ہمارے لیے وہی مشکلات پیدا کریں جو ایک مدت دراز تک ترکی کے لیے عیسائی اقلیتیں پیدا کرتی رہی ہیں۔
عیسائی مشنریوں کو یہاں مدارس اور ہسپتال جاری رکھ کر مسلمانوں کے ایمان خریدنے کی کوشش کرنے اور مسلمانوں کی نئی نسلوں کو اپنی ملت سے بیگانہ (de-nationalise) کرنے کی کھلی اجازت دینا بھی میرے نزدیک قومی خود کشی ہے۔ ہمارے حکمران اس معاملے میں انتہائی کم نظری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ان کو قریب کے فائدے تو نظر آتے ہیں، مگر دُور رَس نتائج دیکھنے سے ان کی آنکھیں عاجز ہیں۔
اسلامی حکومت میں غیر مسلموں سے جزیہ لینے کا حکم اس حالت کے لیے دیا گیا ہے جب کہ وہ یا تو مفتوح ہوئے ہوں،یا کسی معاہدے کی رو سے جزیہ دینے کی واضح شرط پر اسلامی حکومت کی رعایا بنائے گئے ہوں۔ پاکستان میں چونکہ یہ دونوں صورتیں پیش نہیں آئی ہیں اس لیے یہاں غیر مسلموں پر جزیہ عاید کرنا میرے نزدیک شرعًاضروری نہیں ہے۔

۶۔چند متفرق مسائل

تعبیر ِ دستور کا حق۲۱۷؎
سوال: دستور کی تعبیر کا حق کس کو ہونا چاہیے؟ مقننہ کو یا عدلیہ کو؟ سابق دستور میں یہ حق عدلیہ کو تھا اور موجودہ دستور میں یہ حق عدلیہ سے چھین کر مقننہ کو ہی دے دیا گیا ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا گیا کہ عدالتوں کے اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے اور یہ حق عدلیہ کے پاس باقی رہنا چاہیے۔ اس مسئلے پر ایک صاحب نے یہ فرمایا ہے کہ اسلام کے دور اول میں عدالتوں کاکام صرف مقدمات کا فیصلہ کرنا تھا۔ قانون کی تشریح اور تعبیر کا حق عدالتوں کو نہ تھا اور نہ عدالتیں یہ طے کرنے کی مجاز تھیں کہ قانون صحیح ہے یا غلط۔ یہ رائے کہاں تک درست ہے؟۲۱۸؎
جواب: موجودہ زمانے کے قانونی و دستوری مسائل پر اسلام کے دور اول کی نظیریں چسپاں کرنے کا رجحان آج کل بہت بڑھ گیا ہے۔ لیکن جو لوگ اس طرح کے استدلال کرتے ہیں وہ ہمیشہ اس عظیم الشان فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اس وقت کے معاشرے اور ہمارے آج کے معاشرے میں‘ اور اس وقت کے کار فرمائوں اور اس دور کے کار فرمائوں میں فی الواقع موجود ہے۔
خلافت ِ راشدہ میں خلیفہ خود قرآن و سنت کا بہت بڑا عالم ہوتا تھا اور اس کی متقیانہ سیرت کی وجہ سے مسلمان اس پراعتماد رکھتے تھے کہ زندگی کے کسی مسئلے میں بھی اس کا اجتہاد کبھی دین کے راستے سے منحرف نہ ہوگا۔ اس کی مجلس شوریٰ کے ارکان بھی سب کے سب بلا استثنا اس بنیاد پر رکنیت کا شرف حاصل کرتے تھے کہ وہ قوم میں سب سے زیادہ دین کے جاننے اور سمجھنے والے ہیں۔ ان کے زمرے میں کوئی ایسا آدمی بار نہیں پاسکتا تھا جو دین سے جاہل ہو‘ یا نفسانیت کی بنا پر دین میں تحریف کرنے والا ہو‘ یا جس سے مسلمانوں کو کسی بدعت یا غیر اسلامی رجحان کا اندیشہ ہو۔ معاشرے کی عظیم اکثریت بھی اس وقت دین کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی اور کوئی شخص اس ماحول میں یہ جرأت نہ کرسکتا تھا کہ اسلام کے احکام اور اس کی روح کے خلاف کوئی حکم دے، یا کوئی قاعدہ و ضابطہ جاری کردے۔ یہی بلند معیار اس وقت کی عدالتوں کا بھی تھا۔ منصب قضا پر وہ لوگ سرفراز ہوتے تھے جو قرآن و سنت میں گہری بصیرت رکھتے تھے‘ کمال درجے کے متقی اور پرہیز گار تھے اور قانون خداوندی سے بال برابر بھی تجاوز کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان حالات میں مقننہ اور عدلیہ کے تعلقات کی وہی نوعیت تھی جو ایسے معاشرے میں ہونی چاہیے تھی۔ تمام جج مقدمات کے فیصلے براہ راست قرآن و سنت کے احکام کی بنیاد پر کرتے تھے اور جن امور میں اجتہاد کی ضرورت پیش آتی تھی ان میں بالعموم وہ خود اجتہاد کرتے تھے، البتہ جہاں معاملات کی نوعیت اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ جج اپنے انفرادی اجتہاد سے فیصلہ نہ کریں، بلکہ خلیفہ کی مجلس شوریٰ ان میں شریعت کا حکم مشخص کرے‘ ان کے بارے میں اجتماعی اجتہاد سے ایک ایسا ضابطہ بنا دیا جاتا تھا جو دین کے اصولوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مطابقت رکھنے والا ہوسکتا تھا۔ اس نظام میں کوئی وجہ نہ تھی کہ ججوں کو مجلس شوریٰ کے بنائے ہوئے قانون پر نظرثانی کرنے کا اختیار ہوتا، کیونکہ وہ اگر کسی قانون کو رد کرنے کے مجاز ہو سکتے تھے تو اسی بنیاد پر تو ہوسکتے تھے کہ وہ اصل دستور (یعنی قرآن و سنت) کے خلاف ہے، اور قانون وہاں سرے سے کسی ایسے معاملے میں بنایا ہی نہیں جاتا تھا جس کے متعلق قرآن و سنت میں واضح حکم موجود ہو۔ قانون سازی کی ضرورت صرف ان معاملات میں پیش آتی تھی جن میں نص موجود نہ ہونے کی وجہ سے اجتہاد ناگزیر ہوتا تھا اور ایسے معاملات میں ظاہر ہے کہ انفرادی اجتہاد کی بہ نسبت اجتماعی اجتہاد زیادہ قابل اعتماد ہوسکتا تھا‘ خواہ بعض افراد کا ذاتی اجتہاد اس سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔
اب ظاہر ہے کہ اس وقت کی یہ دستوری نظیر آج کے حالات پر کسی طرح بھی چسپاں نہیں ہوتی، نہ آج کے حکمران اور مجالسِ قانون ساز کے ارکان خلفائے راشدین اور ان کی مجالسِ شوریٰ سے کوئی نسبت رکھتے ہیں‘ نہ آج کے جج اس وقت کے قاضیوں جیسے ہیں اور نہ اس دور کی قانون سازی ان حدود کی پابند ہے جن کی پابندی اس دور میں کی جاتی تھی۔ اس لیے اب آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ ہم اپنے دستوری ضابطے اس وقت کے حالات کو سامنے رکھ کر تجویز کریں اور خلافت راشدہ کی نظیروں پر عمل شروع کرنے سے پہلے وہ حالات پیدا کرنے کی فکر کریں، جن سے وہ نظیریں عملاً تعلق رکھتی تھیں۔ موجودہ حالات میں جہاں تک شرعی معاملات کا تعلق ہے‘ آخری فیصلہ نہ انتظامیہ پر چھوڑا جاسکتا ہے‘ نہ مقننہ پر‘ نہ عدلیہ پر اور نہ مشاورتی کونسل پر۔ ان میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ مسلمان شرعی امور میں اس پر کامل اعتماد کرسکیں۔ شریعت کو مسخ کرنے والے اجتہادات سے امن میسر آنے کی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ مسلمانوں کی رائے عام کو بیدار کیا جائے اور قوم بحیثیت مجموعی اس قسم کے ہر اجتہاد کی مزاحمت کے لیے تیار ہو۔ رہے عام دستوری مسائل‘ جن میں شریعت کوئی منفی یا مثبت احکام نہیں دیتی‘ ان میں مقننہ کو آخری فیصلہ کن اختیارات دے دینا بحالات موجودہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک غیر جانب دار ادارہ ایسا موجود ہونا چاہیے جو یہ دیکھ سکے کہ مقننہ نے کوئی قانون بنانے میں دستور کے حدود سے تجاوز تو نہیں کیا ہے اور ایسا ادارہ ظاہر ہے کہ عدلیہ ہی ہوسکتا ہے۔
اسلام اور جمہوریت۲۱۹؎
سوال: جمہوریت کو آج کل ایک بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظام سیاست کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بہت بڑی حد تک جمہوری اصولوں پر مبنی ہے، مگر میری نگاہ میں جمہوریت کے بعض نقائص ایسے ہیں جن کے متعلق میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اسلام انھیں کس طرح دور کرسکتا ہے۔ وہ نقائص درج ذیل ہیں:
۱۔ دوسرے سیاسی نظاموں کی طرح جمہوریت میں بھی عملاً آخر کار اقتدار جمہور کے ہاتھوں سے چھن کر اور چند افراد میں مرتکز ہو کر جنگ زرگری کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور plutocracyیا oligarchyکی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا کیا حل ممکن ہے؟
۲۔ عوام کے مُتَنَوّع اور متضاد مفادات کی بیک وقت رعایت ملحوظ رکھنا، نفسیاتی طور پر ایک بڑا مشکل کام ہے۔ جمہوریت اس عوامی ذمے داری سے کس شکل میں عہدہ برآ ہوسکتی ہے؟
۳۔ عوام کی اکثریت جاہل‘ سادہ لوح‘ بے حس اور شخصیت پرست ہے اور خود غرض عناصر انھیں برابر گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں نیابتی اور جمہوری ادارات کے لیے کامیابی سے کام کرنا بڑا دشوار ہے۔
۴۔ عوام کی تائید سے جو انتخابی اور نمائندہ مجالس وجود میں آتی ہیں‘ ان کے ارکان کی تعداد اچھی خاصی ہوتی ہے، اور ان کے مابین باہمی بحث و مشاورت اور آخری فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔
آپ رہنمائی فرمائیں کہ آپ کے خیال میں اسلام اپنے جمہوری ادارات میں ان خرابیوں کو راہ پانے سے کیسے روکے گا؟
جواب: آپ نے جمہوریت کے بارے میں جو تنقید کی ہے اس کے تمام نکات اپنی جگہ درست ہیں‘ لیکن اس مسئلے میں آخری رائے قائم کرنے سے پہلے چند اور نکات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔
اوّلین سوال یہ ہے کہ انسانی معاملات کو چلانے کے لیے اصولاً کون سا طریقہ صحیح ہے؟
آیا یہ کہ وہ معاملات جن لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی مرضی سے سربراہ کار مقرر کیے جائیں اور وہ ان کے مشورے اوررضامندی سے معاملات چلائیں اور جب تک ان کا اعتماد سربراہ کاروں کو حاصل رہے اسی وقت تک وہ سربراہ کار رہیں؟ یا یہ کہ کوئی شخص یا گروہ خود سربراہِ کار بن بیٹھے اور اپنی مرضی سے معاملات چلائے اور اس کے تقرر اور علیحدگی اور کار پردازی میں سے کسی چیز میں بھی ان لوگوں کی مرضی و رائے کا کوئی دخل نہ ہو جن کے معاملات وہ چلا رہا ہو۔ اگر ان میں سے پہلی صورت ہی صحیح اور مبنی برانصاف ہے تو ہمارے لیے دوسری صورت کی طرف جانے کا راستہ پہلے ہی قدم پر بند ہو جانا چاہیے اور ساری بحث اس پر ہونی چاہیے کہ پہلی صورت کو عمل میں لانے کا زیادہ سے زیادہ بہتر طریقہ کیا ہے۔
دوسری بات جو نگاہ میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ جمہوریت کے اصول کو عمل میں لانے کی جو بے شمار شکلیں مختلف زمانوں میں اختیار کی گئی ہیں یا تجویز کی گئی ہیں‘ ان کی تفصیلات سے قطع نظر کرکے اگر انھیں صرف اس لحاظ سے جانچا اور پرکھا جائے کہ جمہوریت کے اصول اور مقصد کو پورا کرنے میں وہ کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں‘ تو کوتاہی کے بنیادی اسباب صرف تین ہی پائے جاتے ہیں:
٭ اول یہ کہ ’’جمہور‘‘ کو مختار مطلق اور حاکم مطلق (sovereign)فرض کر لیا گیا اور اس بنا پر جمہوریت کو مطلق العنان بنانے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ جب بجائے خود انسان ہی اس کائنات میں مختار مطلق نہیں ہے تو انسانوں پر مشتمل کوئی جمہور کیسے حاکمیت کا اہل ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر مطلق العنان جمہوریت قائم کرنے کی کوشش آخر کار جس چیز پر ختم ہوتی رہی ہے وہ جمہور پر چند آدمیوں کی عملی حاکمیت ہے۔ اسلام پہلے ہی قدم پر اس کا صحیح علاج کر دیتا ہے۔ وہ جمہوریت کو ایک ایسے بنیادی قانون کا پابند بناتا ہے جو کائنات کے اصل حاکم (sovereign)نے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کی پابندی جمہور اور اس کے سربراہ کاروں کو لازماً کرنی پڑتی ہے۔ اس بنا پر وہ مطلق العنانی سرے سے پیدا ہی نہیں ہونے پاتی جو بالآخر جمہوریت کی ناکامی کا اصل سبب بنتی ہے۔
٭ دوم یہ کہ کوئی جمہوریت اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک عوام میں اس کا بوجھ سہارنے کے لائق شعور اور مناسب اخلاق نہ ہوں۔ اسلام اسی لیے عام مسلمانوں کی فردًافردًا تعلیم اور اخلاقی تربیت پر زور دیتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ ایک ایک فرد مسلمان میں ایمان اور احساس ذمہ داری اور اسلام کے بنیادی احکام کا اور ان کی پابندی کا ارادہ پیدا ہو۔ یہ چیز جتنی کم ہوگی جمہوریت کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے اور یہ جتنی زیادہ ہوگی‘ امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔
٭ سوم یہ کہ جمہوریت کے کامیابی کے ساتھ چلنے کا انحصار ایک بیدار مضبوط رائے عام پر ہے اور اس طرح کی رائے عامہ اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرہ اچھے افراد پر مشتمل ہو۔ ان افراد کو صالح بنیادوں پر ایک اجتماعی نظام میں منسلک کیا گیا ہو، اور اس اجتماعی نظام میں اتنی طاقت موجود ہو کہ برائی اور برے اس میں نہ پھل پھول سکیں اور نیکی اور نیک لوگ ہی اس میں ابھر سکیں۔ اسلام نے اس کے لیے بھی ہم کو تمام ضروری ہدایات دے دی ہیں۔
اگر مندرجہ بالا تینوں اسباب فراہم ہو جائیں تو جمہوریت پر عمل درآمد کی مشینری خواہ کسی طرح کی بنائی جائے‘ وہ کامیابی کے ساتھ چل سکتی ہے اور اس مشینری میں کسی جگہ کوئی قباحت محسوس ہو تو اس کی اصلاح کرکے بہتر مشینری بھی بنائی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد اصلاح و ارتقا کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جمہوریت کو تجربے کا موقع ملے۔ تجربات سے بتدریج ایک ناقص مشینری بہتر اور کامل تر بنتی چلی جائے گی۔
صدر ریاست کو ویٹو کا حق۲۲۰؎
سوال: کچھ عرصے سے اخبارات کے ذریعے سے تجاویز پیش کی جارہی ہیں کہ صدر پاکستان کو خلیفۃ المسلمین یا امیرالمومنین کے معزز خطاب سے آراستہ کیا جائے۔ اس تصور میں مزید جان ڈالنے کے لیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدر کو حقِ تنسیخ ملنا چاہیے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جلیل القدر صحابہ کے مقابلے میں ویٹو سے کام لیا،اور منکرین زکوٰۃ و مدعیان نبوت کی سرکوبی کے لیے جہاد کا حکم دے کر صحابہؓکی رائے کو رد کر دیا۔ گویا اس دلیل سے شرعی حیثیت کے ساتھ ویٹو جیسے دھاندلی آمیز قانون کو مستحکم فرمایا جارہا ہے۔
ان حالات کی روشنی میں جناب والا کی خدمت میں چند سوالات پیش کیے جارہے ہیں۔ امید ہے کہ بصراحت جوابات سے مطمئن فرمائیں گے۔
۱۔ کیا حضرت ابوبکرؓ نے آج کے معنوں میں ویٹو استعمال فرمایا تھا؟
۲۔ اگر استعمال فرمایا تھا تو ان کے پاس کوئی شرعی دلیل تھی یا نہیں؟
جواب: خلفائے راشدین کی حکومت کے نظام اور آج کل کے صدارتی نظام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان دونوں کو ایک چیز صرف وہی لوگ قرار دے سکتے ہیں جو اسلام کی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ میں نے اس فرق پر مفصل بحث باب ۷ کا ذیلی عنوان: مختلف اعضائے ریاست کا باہمی تعلق میں کی ہے، ملاحظہ فرمالیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ جس چیز کو خلافت کے نظام میں ’ویٹو‘ کے اختیارات سے تعبیر کیا جارہا ہے وہ موجودہ زمانے کی دستوری اصطلاح سے بالکل مختلف چیز تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کے صرف دو فیصلے ہیں جن کو اس معاملے میں بنائے استدلال بنایا جاتا ہے۔ ایک: جیشِ اسامہؓ کا معاملہ۔ دوسرے: مرتدین کے خلاف جہاد کا مسئلہ۔ ان دونوں معاملات میں حضرت ابوبکرؓ نے محض اپنی ذاتی رائے پر فیصلہ نہیں کردیا تھا‘ بلکہ اپنی رائے کے حق میں کتاب و سنت سے استدلال کیا تھا۔ جیشِ اسامہؓ کے معاملے میں ان کا استدلال یہ تھا کہ جس کام کا فیصلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد میں کرچکے تھے، اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انجام دینا میرا فرض ہے۔ میں اسے بدل دینے کے اختیارات نہیں رکھتا۔ مرتدین کے معاملے میں ان کا استدلال یہ تھا کہ جو شخص یا گروہ بھی نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتا ہو‘ اور یہ کہے کہ میں نماز تو پڑھوں گا لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کروں گا وہ مرتد ہے‘ اسے مسلمان سمجھنا ہی غلط ہے‘ لہٰذا ان لوگوں کی دلیل قابل قبول نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ کے قائلین پر تم کیسے تلوار اٹھائو گے۔ یہی دلائل تھے جن کی بنا پر صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ یہ اگر ’ویٹو‘ ہے تو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ویٹو ہے نہ کہ سربراہِ ریاست کا۔
حقیقت میں اسے ویٹو کہنا ہی سرے سے غلط ہے‘ کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے استدلال کو تسلیم کرلینے کے بعد اختلاف کرنے والے صحابہ کرامؓ اس کی صحت کے قائل ہوگئے تھے اور اپنی سابقہ رائے سے انھوں نے رجوع کرلیا تھا۔



باب ۱۲

ایک مدت سے سوال زیر بحث ہے کہ آیا اسلام نے کچھ بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی ہے یا نہیں۔ جو لوگ صرف مغرب کی تاریخ اور اس کے سیاسی ارتقا ہی سے واقف ہیں، وہ اپنی لاعلمی میں اس خیال کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اس باب میں اصل ترقی مغربی ممالک ہی میں ہوئی ہے، حالانکہ یہ بات بداہتاً غلط ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کی ضمانت اس وقت دی جب دنیا اس تصور سے ناآشنا تھی ____ اور یہی الہامی ہدایت کا اعجاز ہے کہ وہ زندگی کی ان بنیادوں کو واضح کرتی ہے جن تک انسانی ذہن کی رسائی ممکن نہیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے روٹری کلب لاہور کی دعوت پر انسانی حقوق کے موضوع پر اظہار خیال فرمایا تھا، جسے خلیل حامدی صاحب نے قلم بند کرلیا تھا۔ یہاں اس تقریر کو درج کیا جارہا ہے۔
یہ انسانی حقوق ایک طرف اسلامی ریاست کے دستور کا ایک ناقابلِ تغیر جز ہوتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کی تمام پالیسیوں کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حصہ سوم کا آغاز انھی حقوق کے بیان سے کیا جارہا ہے۔(مرتب)

 

انسان کے بنیادی حقوق

 

جہاں تک ہم مسلمانوں کا تعلق ہے‘ انسان کے بنیادی حقوق کا تصور ہمارے لیے کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی نگاہ میں ان حقوق کی تاریخ یو‘ این‘ او کے چارٹر سے شروع ہوتی ہو، یا انگلستان کے میگنا کارٹا (magna carta)سے اس کا آغاز ہوا ہو، لیکن ہمارے لیے اس تصور کا آغاز بہت پہلے سے ہے۔ اس موقع پر میں انسان کے بنیادی حقوق پر روشنی ڈالنے سے پہلے مختصر طور پر یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ انسانی حقوق کے تصور کا آغاز کیوں کر ہوا ہے۔
بنیادی حقوق کا سوال کیوں؟
درحقیقت یہ کچھ عجیب سی بات ہے کہ دنیا میں ایک انسان ہی ایسا ہے جس کے بارے میں خود انسانوں ہی کے درمیان بار بار یہ سوال پیدا ہوتا رہا ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں۔ انسان کے سوا دوسری مخلوقات جو اس کائنات میں بس رہی ہیں‘ ان کے حقوق خود فطرت نے دیے ہیں اور آپ سے آپ انھیں مل رہے ہیں‘ بغیر اس کے کہ وہ اس کے لیے سوچ بچار کریں، لیکن صرف انسان وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ اس کے حقوق متعیّن کیے جائیں۔
اتنی ہی عجیب بات یہ بھی ہے کہ اس کائنات کی کوئی جنس ایسی نہیں ہے جو اپنی جنس کے افراد سے وہ معاملہ کر رہی ہو جو انسان اپنے ہم جنس افراد سے کر رہا ہے، بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ حیوانات کی کوئی نوع ایسی نہیں جو کسی دوسری نوع کے حیوانات پر بھی محض لطف و لذت کے لیے، یا ان پر حکمران بننے کے لیے حملہ آور ہوتی ہو۔
قانونِ فطرت نے ایک حیوان کو دوسرے حیوان کے لیے اگر غذا بنایا ہے تو وہ صرف غذا کی حد تک ہی اس پر دست درازی کرتا ہے۔ کوئی درندہ ایسا نہیں ہے جو غذائی ضرورت کے بغیر اس ضرورت کے پورا ہو جانے کے بعد بلاوجہ جانوروں کو مارتا چلا جاتا ہو۔ خود اپنے ہم جنسوں کے ساتھ نوعِ حیوانی کا وہ سلوک نہیں ہے جو انسان کا اپنے افراد کے ساتھ ہے۔ یہ غالباً اس فضل و شرف کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ذہانت اور قوتِ ایجاد کا کرشمہ ہے کہ انسان نے دنیا میں یہ غیر معمولی روش اختیار کر رکھی ہے۔
شیروں نے آج تک کوئی فوج تیار نہیں کی۔ کسی کتے نے آج تک دوسرے کتوں کو غلام نہیں بنایا۔ کسی مینڈک نے دوسرے مینڈکوں کی زبان بندی نہ کی۔ یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے بے نیاز ہو کرجب اس کی دی ہوئی قوتوں سے کام لینا شروع کیا تو اپنی ہی جنس پر ظلم ڈھانے شروع کر دیے۔ جب سے انسان زمین پر موجود ہے اس وقت سے آج تک تمام حیوانات نے اتنے انسانوں کی جان نہیں لی ہے جتنی انسانوں نے صرف دوسری جنگ عظیم میں انسانوں کی جان لی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو فی الواقع دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ صرف اللہ ہی ہے جس نے انسان کی رہنمائی اس باب میں کی ہے اور اپنے پیغمبروںؑ کی وساطت سے انسانی حقوق کی واقفیت بہم پہنچائی ہے۔ درحقیقت انسانی حقوق متعین کرنے والا انسان کا خالق ہی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اس خالق نے انسان کے حقوق نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔
دورِ حاضر میں انسانی حقوق کے شعور کا ارتقا
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حقوق انسانی کے اسلامی منشور کے نکات پر گفتگو کرنے سے قبل دور حاضر میں انسانی حقوق کے شعور کی ارتقائی تاریخ پر اجمالی نظر ڈال لی جائے:
۱۔ انگلستان میں کنگ جان نے ۱۲۱۵ء میں جو میگنا کارٹا جاری کیا تھا‘ وہ دراصل اس کے امرا (barons) کے دبائو کا نتیجہ تھا۔ اس کی حیثیت بادشاہ اور امرا کے درمیان ایک قرارداد کی سی تھی اور زیادہ تر امرا ہی کے مفاد میں وہ مرتب کیا گیا تھا۔ عوام الناس کے حقوق کا اس میں کوئی سوال نہ تھا۔ بعد کے لوگوں نے اس کے اندر وہ معنی پڑھے جو اس کے اصل لکھنے والوں کے سامنے بیان ہوتے تو وہ حیران رہ جاتے۔ سترہویں صدی کے قانون پیشہ لوگوں نے اس میں یہ پڑھا کہ تحقیق جرم روبروئے مجلس قضا (trial by jury)حبس بیجا کے خلاف داد رسی (rights of habeas corpus)اور ٹیکس لگانے کے اختیارات پر کنٹرول کے حقوق انگلینڈ کے باشندوں کو اس میں دیے گئے ہیں۔
۲۔ ٹام پین (tom paine) ۱۷۳۷ئ تا ۱۸۰۹ء کے پمفلٹ ’حقوق انسانی‘ (rights of man)نے اہلِ مغرب کے خیالات پر بہت بڑا انقلابی اثر ڈالا اور اسی کے پمفلٹ (۱۷۹۱ء) نے مغربی ممالک میں حقوق انسانی کے تصور کی عام اشاعت کی۔ یہ شخص الہامی مذہب کا قائل نہ تھا اور ویسے بھی وہ دور الہامی مذہب سے بغاوت کا دور تھا، اس لیے مغربی عوام نے یہ سمجھا کہ الہامی مذہب حقوق انسانی کے تصور سے خالی ہے۔
۳۔ انقلاب فرانس کی داستان کا اہم ترین ورق ’منشور حقوق انسانی‘ (declaration of the rights of man) ہے، جو ۱۷۸۹ء میں نمودار ہوا۔ یہ اٹھارہویں صدی کے اجتماعی فلسفے اور خصوصاً روسو (۱۷۱۲ء۔ ۱۷۷۸ء)کے نظریے معاہدۂ عمرانی (social contract theory)کا ثمرہ تھا۔ اس میں قوم کی حاکمیت‘ آزادی‘ مساوات اور ملکیت کے فطری حقوق کا اِثبات کیا گیا تھا۔ اس میں ووٹ کے حق‘ قانون سازی اور ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات پر رائے عام کے کنٹرول‘ تحقیق جرم روبروئے مجلس قضا (trial by Jury) وغیرہ کا اثبات کیا گیا۔۲۲۱؎
اس منشور حقوق انسانی کو فرانس کی دستور ساز اسمبلی نے انقلاب فرانس کے عہد میں اس غرض کے لیے مرتب کیا تھا کہ جب دستور بنایا جائے تو اس وقت اسے اس کے آغاز میں درج کیا جائے اور دستور میں اس کی سپرٹ کو ملحوظ رکھا جائے۔
(۴) امریکہ (U.S.A)کی دس ترامیم میں بڑی حد تک وہ تمام حقوق گنوائے گئے ہیں جو برطانوی فلسفۂ جمہوریت پر مبنی ہوسکتے تھے۔
(۵) انسانی حقوق و فرائض کا وہ منشور بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے جسے بگوٹا کانفرنس میں امریکی ریاستوں نے ۱۹۴۸ء میں منظور کیا۔
(۶) پھر جمہوری فلسفے کے تحت یو‘ این‘ او نے تدریجًا بہت سے مثبت اور بہت سے تحفظاتی حقوق کے متعلق قراردادیں پاس کیں اور بالآخر’عالمی منشور حقوق انسانی‘ منظر عام پر آیا۔
دسمبر ۱۹۴۶ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک ریزولیشن پاس کیا جس میں انسانوں کی نسل کشی (genocide) کو بین الاقوامی قانون کے خلاف ایک جرم قرار دیا گیا۔پھر دسمبر ۱۹۴۸ء میں نسل کشی کے انسداد اور سزا دہی کے لیے ایک قرار داد پاس کی گئی اور ۱۲ /جنوری ۱۹۵۱ء کو اس کا نفاذ ہوا۔ اس میں نسل کشی کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ حسب ذیل افعال میں سے کوئی فعل اس غرض سے کرنا کہ کسی قومی‘ نسلی یا اخلاقی (ethical)گروہ (group)یا اس کے ایک حصے کو فنا کر دیا جائے:
۱۔ ایسے کسی گروہ کے افراد کو قتل کرنا۔
۲۔ ان کو شدید نوعیت کا جسمانی یا ذہنی ضرر پہنچانا۔
۳۔ اس گروہ پر بالار ادہ زندگی کے ایسے احوال کو مسلط کرنا جو اس کی جسمانی بقا کے لیے کُلاًّ یا جزء ً ا تباہ کن ہوں۔
۴۔ اس گروہ میں سلسلۂ تولید کو روکنے کے لیے جبری اقدامات کرنا۔
۵۔ جبری طور پر اس گروہ کی اولادوں کو کسی دوسرے گروہ کی طرف منتقل کرنا۔
۱۰ /دسمبر ۱۹۴۸ء کو جو ’عالمی منشور حقوق انسانی‘ پاس کیا گیا تھا‘ اس کے دیباچے میں من جملہ دوسرے عزائم کے ایک یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ:
بنیادی انسانی حقوق میں‘ فرد انسانی کی عزت و اہمیت میں مردوں اور عورتوں کے مساویانہ حقوق میں اعتقاد کو موثق بنانے کے لیے۔
نیز اس میں اقوام متحدہ کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی بیان کیا گیا تھا کہ:
انسانی حقوق کا احترام قائم کرنے اور نسل و صنف یا زبان و مذہب کا امتیاز کئے بغیر تمام انسانوں کو بنیادی آزادیاں دلوانے کے کام میں بین الاقوامی تعاون کا حصول۔
اسی طرح دفعہ ۵۵ میں اقوامِ متحدہ کا یہ منشور کہتا ہے:
مجلس اقوام متحدہ انسانی حقوق اور سب کے لیے اساسی آزادیوں کے عالم گیر احترام اور ان کی نگہداشت میں اضافہ کرے گی۔
اس پورے منشور کے کسی جز سے کوئی اختلاف کسی بھی قوم کے نمائندوں نے نہیں کیا۔ اختلاف نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ صرف عام اصولوں کا اعلان و اظہار تھا، کسی نوعیت کی پابندی کسی پر بھی عائد نہ ہوتی تھی۔ یہ کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کی بنا پر دستخط کرنے والی تمام حکومتیں اس کی پابندی پر مجبور ہوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ان پر قانونی وجوب عائد ہوتا ہو۔ اس میں واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ یہ ایک معیار ہے جس تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر بھی بعض ملکوں نے اس کے حق میں یا اس کے خلاف ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔۲۲۲؎
اب دیکھ لیجیے کہ اس منشور کے عین سائے میں انسانیت کے بالکل ابتدائی حقوق کا قتل عام دنیا میں ہو رہا ہے اور خود مہذب ترین اور سرکردہ ممالک کے اپنے ہاں ہو رہا ہے جو اسے پاس کرنے والے تھے۔۲۲۳؎
اس مختصر بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اول تو مغربی دنیا میں انسانی حقوق کا تصور ہی دو تین صدیوں سے پہلے اپنی کوئی تاریخ نہیں رکھتا۔ دوسرے اگر آج ان حقوق کا ذکر کیا بھی جارہا ہے تو ان کے پیچھے کوئی سند (authority)اور کوئی قوتِ نافذہ (sanction)نہیں ہے‘ بلکہ یہ صرف خوش نما خواہشات ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام نے حقوق انسانی کا جو منشور قرآن میں دیا اور جس کا خلاصہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نشر فرمایا وہ اس سے قدیم تر بھی ہے اور ملت اسلام کے لیے اعتقاد‘ اخلاق اور مذہب کی حیثیت سے واجب الاتباع بھی۔ پھر ان حقوق کو عملاً قائم کرنے کی بے مثل نظیریں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے چھوڑی ہیں۔
اب میں ان حقوق کا مختصر تذکرہ کرتا ہوں جو اسلام نے انسان کودیے ہیں۔
حرمتِ جان یا جینے کا حق
قرآن مجید میں دنیا کے سب سے پہلے واقعۂ قتل کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا اوّلین سانحہ تھا جس میں ایک انسان نے دوسرے انسان کی جان لی۔ اس وقت پہلی مرتبہ یہ ضرورت پیش آئی کہ انسان کو انسانی جان کا احترام سکھایا جائے اور اسے بتایا جائے کہ ہر انسان جینے کا حق رکھتا ہے۔ اس واقعے کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ المائدہ32:5
جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے‘ یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اُس نے گویا تمام انسانوں کوقتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔
اس آیت میں قرآن کریم نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانی دنیا کا قتل بتایا ہے، اور اس کے مقابلے میں ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ٹھیرایا ہے۔ احیا کے معنی ہیں: زندہ کرنا۔ دوسرے الفاظ میں اگر کسی شخص نے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے کوشش کی اس نے انسان کو زندہ کرنے کاکام کیا۔ یہ کوشش اتنی بڑی نیکی ہے کہ اسے ساری انسانیت کے زندہ کرنے کے برابر ٹھیرایا گیا ہے۔ اس اصول سے صرف دو حالتیں مستثنیٰ ہیں:
٭ ایک یہ کہ کوئی شخص قتل کا مرتکب ہو اور اسے قصاص کے طور پر قتل کیا جائے۔
٭ دوسری یہ کہ کوئی شخص زمین میں فساد برپا کرے تو اسے قتل کیا جائے۔
ان دو حالتوں کے ماسوا انسانی جان کو ضائع نہیں کیا جاسکتا۔۲۲۴؎
انسانی جان کے تحفظ کا یہ اصول اللہ تعالیٰ نے تاریخ انسانی کے ابتدائی دور میں واضح کر دیا تھا۔ انسان کے بارے میں یہ خیال کرنا غلط ہے کہ وہ تاریکی میں پیدا ہوا ہے اور اپنے ہم جنسوں کو قتل کرتے کرتے کسی مرحلے پر اس نے یہ سوچا کہ انسان کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ خیال سراسر غلط ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی پر مبنی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شروع سے انسان کی رہنمائی کی ہے اور اس رہنمائی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اس نے انسان کو انسان کے حقوق سے آشنا کیا۔
معذوروں اور کمزوروں کا تحفظ
دوسری بات جو قرآن سے معلوم ہوتی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے واضح ہے‘ یہ ہے کہ عورت‘ بچے‘ بوڑھے‘ زخمی اور بیمار کے اوپر کسی حال میں بھی دست اندازی جائز نہیں ہے ____ خواہ وہ اپنی قوم سے تعلق رکھتے ہوں یا دشمن قوم سے ____ اِلاّیہ کہ جنگ کی صورت میں یہ افراد خود بر سر پیکار ہوں، ورنہ دوسری ہر صورت میں ان پر دست اندازی کی ممانعت ہے۔ یہ اصول اپنی قوم کے لیے خاص نہیں ہے، بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ یہی اصول برتا جائے گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں بڑی واضح ہدایات دی ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کا یہ حال تھا کہ وہ جب دشمنوں سے مقابلے کے لیے فوجیں روانہ کرتے تھے تو وہ فوج کو یہ صاف ہدایات دیتے تھے کہ دشمن پر حملے کی صورت میں کسی عورت‘ بچے‘ بوڑھے‘ زخمی اور بیمار پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔
تحفظِ ناموسِ خواتین
ایک اور اصولی حق جو ہمیں قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور حدیث میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں‘ یہ ہے کہ عورت کی عصمت ہرحال میں واجب الاحترام ہے‘ یعنی جنگ کے اندر دشمنوں کی عورتوں سے بھی اگر سابقہ پیش آئے تو کسی مسلمان سپاہی کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان پر ہاتھ ڈالے۔ قرآن کی رُو سے بدکاری مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ کسی عورت سے کی جائے‘ قطع نظر اس سے کہ وہ عورت مسلمان ہو یا غیر مسلم‘ اپنی قوم کی ہو یا غیر قوم کی‘ دوست ملک کی ہو یا دشمن ملک کی۔
معاشی تحفظ
ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ بھوکا آدمی ہر حالت میں اس کا مستحق ہے کہ اسے روٹی دی جائے۔ ننگا ہر حالت میں اس کا مستحق ہے کہ اسے کپڑا دیا جائے۔ زخمی اور بیمار آدمی ہر حالت میں اس کا مستحق ہے کہ اسے علاج کی سہولت فراہم کی جائے‘ قطع نظر اس سے کہ وہ بھوکا‘ ننگا یا زخمی یا مریض شخص دشمن ہو یا دوست۔ یہ عمومی (universal)حقوق میں سے ہے۔ دشمن کے ساتھ بھی ہم یہی سلوک کریں گے۔ اگر دشمن قوم کا کوئی فرد ہمارے پاس آجائے گا تو ہمارا فرض ہوگا کہ اسے بھوکا ننگا نہ رہنے دیں اور زخمی یا بیمار ہو تو اس کا علاج کرائیں۔۲۲۵؎
عدل و انصاف
قرآن کریم کا یہ اٹل اصول ہے کہ انسان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡ المائدہ5:8
کسی گروہ کی دشمنی تمھیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ قریب ہے۔
اس آیت میں اسلام نے یہ اصول متعین کردیا کہ انسان کے ساتھ ____ ایک فرد کے ساتھ بھی اور ایک قوم کے ساتھ بھی ____ بہرحال انصاف کو ملحوظ رکھنا پڑے گا۔ اسلام کے نزدیک یہ قطعاً درست نہیں ہے کہ دوستوں کے ساتھ تو ہم عدل و انصاف برتیں اور دشمنوں کے ساتھ اس اصول کو نظر انداز کر دیں۔
نیکی میں تعاون اور بدی میں عدمِ تعاون
ایک اور اصول جو قرآن معین کرتا ہے‘ یہ ہے کہ نیکی اور حق رسانی کے معاملے میں ہر ایک کے ساتھ تعاون کیا جائے اور برائی اور ظلم کے معاملے میں کسی کے ساتھ تعاون نہ کیا جائے۔ برائی خواہ بھائی کر رہا ہو تو بھی ہم اس کے ساتھ تعاون نہ کریں اورنیکی اگر دشمن بھی کر رہا ہو تو اس کی جانب دستِ تعاون بڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠ المائدہ5:2
جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں‘ ان میں سب سے تعاون کرو، اور جو گناہ کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔
بِر کے معنی: صرف نیکی ہی نہیں‘ بلکہ عربی زبان میں یہ لفظ: حق رسانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی دوسروں کو حقوق دلوانے میں اور تقویٰ اور پرہیزگاری میں ہم ہر ایک کی مدد کریں۔ قرآن کا یہ مستقل اور دائمی اصول ہے۔
مساوات کا حق
ایک اور اصول جسے قرآن کریم نے بڑے زور و شور کے ساتھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ تمام انسان یکساں ہیں۔ اگر کسی کو فضیلت حاصل ہے تو وہ اخلاق کے اعتبار سے ہے۔ اس معاملے میں قرآن کا ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىكُمْ۝۰ۭ الحجرات 13:49
اے لوگو‘ ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھیں گروہوں اور قبیلوں میں اس لیے بانٹا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک تم میں سے زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔
اس میں پہلی بات یہ بتائی گئی کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے ہیں۔ یہ مختلف نسلیں‘ مختلف رنگ‘ مختلف زبانیں درحقیقت انسانی دنیا کے لیے کوئی معقول وجہ تقسیم نہیں ہیں۔
دوسری بات یہ بتائی کہ ہم نے قوموں کی یہ تقسیم صرف تعارف کے لیے کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک برادری‘ ایک قوم اور ایک قبیلے کو دوسرے پر کوئی فخر و فضیلت نہیں ہے کہ وہ اپنے حقوق تو بڑھا چڑھا کر رکھے اور دوسروں کے کم۔ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی یہ تفریقیں کی ہیں‘ شکلیں ایک دوسرے سے مختلف بنائی ہیں، یا زبانیں ایک دوسرے سے الگ رکھی ہیں‘ تو یہ سب چیزیں فخر کے لیے نہیں ہیں بلکہ صرف اس لیے ہیں کہ باہم تمیز پیدا کرسکیں۔ اگر تمام انسان یکساں ہوتے تو تمیز نہ کی جاسکتی۔ اس لحاظ سے یہ تقسیم فطری ہے، لیکن دوسروں کے حقوق مارنے اور بے جا امتیاز برتنے کے لیے نہیں ہے۔ عزت و افتخار کی بنیاد اخلاقی حالت پر ہے۔ اس بات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے طریقے سے بیان فرمایا ہے۔ آپؐ نے فتح مکہ کے بعد جو تقریر ارشاد فرمائی‘ اس میں فرمایا:
لَا فَضْلَ لِعَرَبِّیٍ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَ حْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی وَلَا فَضْلَ لِلْاَنْسَابِ۔ (بیہقی)
کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ کسی عجمی کو عربی پر‘ نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر____ ماسوا تقویٰ کے ____ اور نسبی بنیادوں پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
یعنی فضیلت دیانت اور تقویٰ پر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص چاندی سے پیدا کیا گیا ہو اور کوئی پتھر سے اور کوئی مٹی سے، بلکہ سب انسان یکساں ہیں۔۲۲۶؎
معصیت سے اجتناب کا حق
ایک اور اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو معصیت کا حکم نہیں دیا جاسکتا، اور نہ کسی پر یہ واجب یا اُس کے لیے یہ جائز ہے کہ اس کو اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرے۔ قانونِ قرآن کی رُو سے اگر کوئی افسر اپنے ماتحت کو ناجائز کارروائیوں کا حکم دیتا ہے، یا کسی پر بے جادست درازی کا حکم دیتا ہے تو ماتحت کے لیے اس معاملے میں اپنے افسر کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ (مشکوٰۃ حدیث ۳۵۲۵شرح السنۃ)۔ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
جن چیزوں کو خالق نے ناجائز ٹھیرایا ہے اور معصیت بتایا ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ ان کے ارتکاب کا کسی کو حکم دے۔ نہ حکم دینے والے کے لیے معصیت کا حکم دینا جائز ہے اور نہ کسی دوسرے شخص کے لیے ایسے حکم کی تعمیل جائز ہے۔
ظالم کی اطاعت سے انکار کا حق
اسلام کا ایک عظیم الشان اصول یہ ہے کہ کسی ظالم کو اطاعت کا حق نہیں ہے۔ قرآن کریم میں یہ بتایا گیا ہے‘ کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امام مقرر کیا اور فرمایا کہ اِنّیِ جَاعِلُکَ لِنَّاسِ اِمَامًا تو حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ سے سوال کیا کہ وَمِنْ ذُ رِّیَّتِیْ (کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟) تو اللہ نے جواب میں ارشاد فرمایا: لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ۔ البقرہ124:2 میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔
عہد کا لفظ یہاں اس معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ انگریزی زبان میں (letter of appointment)کا مفہوم ہے۔ اردو میں پروانۂ امر کہیں گے۔اس آیت میں اللہ نے صاف بتا دیا کہ ظالموں کو اللہ کی طرف سے کوئی ایسا پروانۂ امر نہیں کہ وہ دوسرے سے اطاعت کا مطالبہ کریں۔۲۲۷؎ چنانچہ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ کوئی ظالم اس امر کا مستحق نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کا امام ہو۔ اگر ایسا شخص امام بن جائے تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ اسے صرف برداشت کیا جائے گا۔۲۲۸؎
سیاسی کارفرمائی میں شرکت کا حق
انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک بڑا حق اسلام نے یہ مقرر کیا ہے کہ معاشرے کے تمام افراد حکومت میں حصہ دار ہیں۔ تمام افراد کے مشورے سے حکومت ہونی چاہیے۔ قرآن نے فرمایا: لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ النور 55:24 اللہ تعالیٰ ان کو___ یعنی اہل ایمان کو ___ زمین میں خلافت دے گا یہاں جمع کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا کہ ہم بعض افراد کو نہیں، بلکہ پوری قوم کو خلافت دیں گے۔ حکومت ایک فرد کی یا ایک خاندان کی یا ایک طبقے کی نہیں‘ بلکہ پوری ملت کی ہوگی اور تمام افراد کے مشورے سے وجود میں آئے گی۔ قرآن کا ارشاد ہے:وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ۔۲۲۹؎ الشوریٰ 28:42 یعنی یہ حکومت آپس کے مشورے سے چلے گی۔ اس معاملے میں حضرت عمرؓ کے صاف الفاظ موجود ہیں کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسلمانوں کے مشورے کے بغیر ان پر حکومت کرے۔ مسلمان راضی ہوں تو ان پر حکومت کی جاسکتی ہے اور راضی نہ ہوں تو نہیں کی جاسکتی۔ اس حکم کی رُو سے اسلام ایک جمہوری و شورائی حکومت کا اصول قائم کرتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہماری بدقسمتی سے تاریخ کے ادوار میں ہمارے اوپر بادشاہیاں مسلّط رہی ہیں۔ اسلام نے ہمیں ایسی بادشاہیوں کی اجازت نہیں دی، بلکہ یہ ہماری اپنی حماقتوں کا نتیجہ ہیں۔
آزادی کا تحفظ
ایک اور اصول یہ ہے کہ کسی انسان کی آزادی عدل کے بغیر سلب نہیں کی جا سکتی۔ حضرت عمرؓ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ: لاَ یُوْسَرُ رَجُلٌ فِی الْاِسْلاَمِ اِلاَّ بِحَقٍّ۔۲۳۰؎ اس کی رو سے عدل کا وہ تصور قائم ہوتا ہے جسے موجودہ اصطلاح میں باضابطہ عدالتی کارروائی (judicial process of law)کہتے ہیں۔ یعنی کسی کی آزادی سلب کرنے کے لیے اس پر متعین الزام لگانا‘ کھلی عدالت میں اس پر مقدمہ چلانا اور اسے دفاع کا پورا پورا موقع دینا۔ اس کے بغیر کسی کارروائی پر عدل کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ یہ بالکل معمولی عقل (common sense)کا تقاضا ہے کہ ملزم کو صفائی کا موقع دیے بغیر انصاف نہیں ہوسکتا۔ اسلام میں اس امر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ایک شخص کو پکڑا جائے اور اسے صفائی کا موقع دیے بغیر بند کردیا جائے۔ اسلامی حکومت اور عدلیہ کے لیے انصاف کے تقاضے پورے کرنا قرآن نے واجب ٹھیرایا ہے۔۲۳۱؎
تحفظِ ملکیت
ایک بنیادی حق یہ ہے کہ قرآن واضح طور پر انفرادی ملکیت کا تصوردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ البقرہ188:2
تم باطل طریقے سے ایک دوسرے کے مال نہ کھائو۔
اگر قرآن و حدیث اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کے مال کو کھانے کے کون کون سے طریقے باطل ہیں۔ اسلام نے ان طریقوں کو مبہم نہیں رکھا ہے۔ اس اصول کی رو سے کسی آدمی سے ناجائز طریقے سے کوئی مال حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کسی شخص کو یا کسی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون توڑ کر اور ان متعین شکلوں کے علاوہ جو خود اسلام نے واضح کر دی ہیں‘ کسی کی ملکیت پر دست درازی کرے۔
عزت کا تحفظ
انسان کا یہ بھی بنیادی حق ہے کہ اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے۔ سورۂ حجرات میں اس حق کی پوری تفصیل موجود ہے۔مثلاً :ارشاد ہوتا ہے کہ:
۱۔ لَایَسْخَرْقَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ الحجرات11:49
تم میں سے کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے۔
۲۔وَلَا تَنَابَزُوْا بِاْلاَ لْقَاب۔ الحجرات11:49
اور تم ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔
۳۔ وَلَایَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا۔ الحجرات12:49
اور تم ایک دوسرے کی برائی پیٹھ پیچھے بیان نہ کرو۔
یعنی جتنی شکلیں بھی انسان کی عزت و آبرو پر حملہ کرنے کی ہوسکتی ہیں، ان سے منع کر دیا گیا۔ وضاحت سے کہہ دیا کہ انسان خواہ موجود ہو، خواہ موجود نہ ہو، اس کا نہ مذاق اڑایا جاسکتا ہے‘ نہ برے القاب دیے جاسکتے ہیں اور نہ اس کی برائی کی جاسکتی ہے۔ ہر شخص کا یہ قانونی حق ہے کہ کوئی اس کی عزت پر ہاتھ نہ ڈالے اور ہاتھ سے یا زبان سے اس پر کسی قسم کی زیادتی نہ کرے۔۲۳۲؎
نجی زندگی کا تحفظ
اسلام کے بنیادی حقوق کی رو سے ہر آدمی کو Privacyیعنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اس معاملے میں سورہ نور میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ:
۱۔ لَاتَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا۔ النور27:24
اپنے گھروں کے سوادوسرے گھروں میں داخل نہ ہو‘ جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لو۔
۲۔سورہ حجرات میں فرما دیا گیا: لَا تَجَسَّسُوْا۔ الحجرات12:49 تجسُّس نہ کرو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ کسی آدمی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر سے دوسرے آدمی کے گھر میں جھانکے۔
ایک شخص کو پورا پورا آئینی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر میں دوسروں کے شور و شغب سے‘ دوسروں کی تاک جھانک سے اور دوسروں کی مداخلت سے محفوظ و مامون رہے۔ اس کی گھریلو بے تکلفی اور پردہ داری برقرار رہنی چاہیے۔ مزید برآں یہ کہ کسی شخص کو دوسرے کا خط اوپر سے نگاہ ڈال کر دیکھنے کا حق بھی نہیں ہے،کجاکہ اسے پڑھا جائے۔ اسلام انسان کی پرائیویسی کا پورا پورا تحفظ کرتا ہے اور صاف ممانعت کرتا ہے کہ گھروں میں تاک جھانک نہ کی جائے اور کسی کی ڈاک نہ دیکھی جائے، اِلاّیہ کہ کسی شخص کے متعلق معتبر ذریعے سے یہ اطلاع مل جائے کہ وہ کوئی خطرناک کام کر رہا ہے، ورنہ خواہ مخواہ کسی کے حالات کا تجسس کرناشریعت اسلامی میں جائز نہیں ہے۔
ظلم کے خلاف احتجاج کا حق
اسلام کے بنیادی حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَايُحِبُّ اللہُ الْجَــہْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ۝۰ۭ النساء148:4
اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگمانی پر زبان کھولے‘ الایہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔
یعنی مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آواز اٹھائے۔
آزادیٔ اظہارِ رائے
ایک اور اہم چیز جسے آج کے زمانے میں آزادی اظہار (freedom of expression) کہا جاتا ہے۔ قرآن اسے دوسری زبان میں بیان کرتا ہے، مگر دیکھیے مقابلتاً قرآن کا کتنا بلند تصور ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرنہ ۲۳۳؎ صرف انسان کا حق ہے، بلکہ یہ اس کا فرض بھی ہے۔ قرآن کی رُو سے بھی اور حدیث کی ہدایات کے مطابق بھی انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ بھلائی کے لیے لوگوں سے کہے اور برائی سے روکے۔ اگر کوئی برائی ہو رہی ہو تو صرف یہی نہیں کہ بس اس کے خلاف آواز اٹھائے، بلکہ اس کے انسداد کی کوشش بھی فرض ہے اور اگر اس کے خلاف آوازنہیں اٹھائی جاتی اور اس کے انسداد کی فکر نہیں کی جاتی تو الٹا گناہ ہوگا۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کو پاکیزہ رکھے۔ اگر اس معاملے میں مسلمان کی آواز بند کی جائے تو اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوسکتا۔ اگر کسی نے بھلائی کے فروغ سے روکا تو اس نے نہ صرف ایک بنیادی حق سلب کیا بلکہ ایک فرض کی ادائیگی سے روکا۔ معاشرے کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو ہر حالت میں یہ حق حاصل رہے۔ قرآن نے بنی اسرائیل کے تَنزُّل کے اسباب بیان کیے ہیں۔ ان میں سے ایک سبب یہ بیان کیا ہے کہ :
کَانُوْا لَایَتَنَا ھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ المائدہ79:5
وہ برائیوں سے ایک دوسرے کو باز نہ رکھتے تھے۔
یعنی کسی قوم میں اگر یہ حالات پیدا ہو جائیں کہ برائی کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہ ہو تو آخر کار رفتہ رفتہ برائی پوری قوم میں پھیل جاتی ہے اور وہ پھلوں کے سڑے ہوئے ٹوکرے کے مانند ہو جاتی ہے جس کو اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ اس قوم کے عذابِ الٰہی کے مستحق ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔
ضمیر و اعتقاد کی آزادی کا حق
اسلام نے لَآاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ البقرہ256:2 دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں کا اصول انسانیت کو دیا اور اس کے تحت ہر شخص کو آزادی عطا کی کہ وہ کفر و ایمان میں سے جو راہ چاہے اختیار کرے۔ قوت کا استعمال اسلام میں اگر ہے تو دو ضروریات کے لیے ہے:
٭ ایک یہ کہ اسلامی ریاست کے وجود اور اس کے استقلال کی سلامتی کے لیے میدانِ جہاد میں دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے۔
٭ اور دوسرے یہ کہ نظم و نسق اور امن و امان کے تحفظ کے لیے، جرائم اور فتنوں کا سدّباب کرنے کے لیے عدالتی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔
ضمیر و اعتقاد کی آزادی ہی کا قیمتی حق تھا جسے حاصل کرنے کے لیے مکہ کے سیزدہ (۱۳) سالہ دور ابتلا میں مسلمانوں نے ماریں کھا کھا کر کلمۂ حق کہا اور بالآخر یہ حق ثابت ہو کے رہا۔مسلمانوں نے یہ حق جس طرح اپنے لیے حاصل کیا تھا‘ اسی طرح دوسرے کے لیے بھی اس کا پورا پورا اعتراف کیا۔ اسلامی تاریخ اس بات سے خالی ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی غیر مسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہو‘ یا کسی قوم کو مار مار کر کلمہ پڑھوایا ہو۔
مذہبی دل آزاری سے تحفظ کا حق
اسلام اس امر کا روادار نہیں کہ مختلف مذہبی گروہ ایک دوسرے کے خلاف دریدہ دہنی سے کام لیں اور ایک دوسرے کے پیشوائوں پر کیچڑ اچھالا کریں۔ قرآن میں ہر شخص کے مذہبی معتقدات اور اس کے پیشوایانِ مذہب کا احترام کرنا سکھایا گیا ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ :
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ الانعام 108:6
(ان کو برا بھلا نہ کہو جنھیں یہ لوگ اللہ کے ماسوا معبود بنا کر پکارتے ہیں)
یعنی مختلف مذاہب اور معتقدات پر دلیل سے گفتگو کرنا، اور معقول طریق سے تنقید کرنا، یا اظہارِ اختلاف کرنا تو آزادیِ اظہار کے حق میں شامل ہے‘ مگر دل آزاری کے لیے بدگوئی کرنا روا نہیں۔
آزادیٔ اجتماع کا حق
آزادی اظہار کے عین منطقی نتیجے کے طور پر آزادی اجتماع کا حق نمودار ہوتا ہے۔جب اختلافِ آرا کو انسانی زندگی کی ایک اٹل حقیقت کے طور پر قرآن نے بار بار پیش کیا ہے، تو اس امر کی روک تھام کہاں ممکن ہے کہ ایک طرح کی رائے رکھنے والے لوگ آپس میں مربوط ہوں۔ ایک اصول اورنظریے پر مجتمع ہونے والی ملت کے اندر بھی مختلف مدارسِ فکر ہوسکتے ہیں اور ان کے متوّسلین بہرحال باہم دگر قریب تر ہوں گے۔ قرآن کہتا ہے:
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ آل عمران104:3
اور تم میں سے ایک گروہ تو ایسا ضرور ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے‘ معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے۔
عملی زندگی میں جب ’خیر‘ ’ معروف اور ’منکر ‘کے تفصیلی تصورات میں فرق واقع ہوتا ہے تو ملت کی اصولی وحدت کے قائم رہتے ہوئے بھی اس کے اندر مختلف مدارسِ فکر تشکیل پاتے ہیں اور _______ یہ بات معیار مطلوب سے کتنی بھی فرو تر ہو‘ گروہوں اور پارٹیوں کا ظہور ہوتا ہی ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں کلام میں بھی‘ فقہ و قانون میں بھی اور سیاسی نظریات میں بھی اختلافِ آرا ہوا، اور اس کے ساتھ مختلف گروہ وجود میں آئے۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی دستور اور منشور حقوق کے لحاظ سے‘ کیا مختلف اختلافی آرا رکھنے والوں کے لیے آزادیِ اجتماع کا حق ہے؟ یہ سوال سب سے پہلے حضرت علیؓ کے سامنے خوارج کے ظہور پر پیش آیا اور آنجنابؓ نے ان کے لیے آزادیِ اجتماع کے حق کو تسلیم کرلیا۔ انھوں نے خارجیوں سے فرمایا:جب تک تم تلوار اٹھا کر زبردستی اپنا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرو گے‘ تمھیں پوری آزادی حاصل رہے گی۔
عملِ غیر کی ذمّے داری سے بریّت
اسلام میں آدمی صرف اپنے اعمال اور اپنے جرائم کے لیے جواب دہ ہے۔ دوسروں کے اعمال اور دوسروں کے جرائم میں اسے پکڑا نہیں جاسکتا۔ قرآن نے اصول یہ قرار دیا ہے کہ:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰي۝۰ۚ الانعام164:6
اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے پر مکلف نہیں ہے۔
اسلامی قانون میں اس کی گنجائش نہیں کہ کرے ڈاڑھی والا اورپکڑا جائے مونچھوں والا۔
شبہات پر کارروائی نہیں کی جائے گی
اسلام میں ہرشخص کو یہ تحفظ حاصل ہے کہ تحقیق کے بغیر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی واضح ہدایت ہے کہ کسی کے خلاف اطلاع ملنے پر تحقیقات کر لو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی گروہ کے خلاف لاعلمی میں کوئی کارروائی کر بیٹھو۔۲۳۴؎ علاوہ بریں قرآن نے یہ ہدایت بھی دی ہے:
اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ۝۰ۡاِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ الحجرات 12:49
بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
اجمالاً یہ ہیں وہ بنیادی حقوق جو اسلام نے انسانوں کو عطا کیے ہیں۔ ان کا تصور بالکل واضح اور مکمل ہے جو انسانی زندگی کے آغاز ہی سے انسان کو بتا دیا گیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس وقت بھی دنیا میں انسانی حقوق کا جو اعلان (declaration of human rights) ہوا ہے اسے کسی قسم کی سند اور قوت نافذہ حاصل نہیں ہے۔بس ایک بلند معیار پیش کر دیا گیا ہے۔ اس معیار پر عمل درآمد کی کوئی قوم پابند نہیں ہے، نہ اور کوئی ایسا مؤثر معاہدہ ہے جو ان حقوق کو ساری قوموں سے منوا سکے، لیکن مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے پابند ہیں۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیادی حقوق کی پوری وضاحت کر دی ہے۔ جو مملکت اسلامی ریاست بننا چاہے گی اسے یہ حقوق لازمًا دینے ہوں گے۔ مسلمانوں کو بھی یہ حقوق دیے جائیں گے اور دوسری اقوام کو بھی۔ اس معاملے میں کسی ایسے معاہدے کی حاجت نہیں ہوگی کہ فلاں قوم اگر ہمیں یہ حق دے گی تو ہم اسے دیں گے، بلکہ مسلمانوں کو بہرحال یہ حقوق دینے ہوں گے، دوستوں کو بھی اور دشمنوں کو بھی۔


 

باب۱۳

دستوری مسائل میں سب سے پیچیدہ مسئلہ اقلیتوں کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے ذہنی انتشار پھیل رہا ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے حصولِ آزادی کے فوراً بعد اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی تھی اور اس کے تمام پہلوئوں کو واضح کرکے یہ بتایا تھا کہ اسلامی ریاست میں ذمیوں کے حقوق کیا ہیں؟ مولانا موصوف کا وہی مقالہ ان کی نظرثانی کے بعد پیش کیا جارہا ہے۔
یہ مقالہ ماہنامہ ترجمان القرآن بابت اگست ۱۹۴۸ء سے لیا جارہا ہے۔ اس میں بھی ایک طرف غیر مسلموں کی دستوری پوزیشن کو واضح کردیا گیا ہے اور دوسری طرف اسلامی ریاست اور مسلم معاشرے کی ذمے داریوں کی نشان دہی کی گئی ہے ____ یہی وہ اصول ہیں جن کی روشنی میں ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے معاملہ کرنا ہے۔(مرتب)

غیر مسلموں کے حقوق

اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے حقوق پر بحث کرنے سے پہلے یہ ذہن نشین کرلینا ضروری ہے کہ اسلام کی حکومت دراصل ایک اصولی (ideological)حکومت ہے اور اس کی نوعیت ایک قومی جمہوری (national democratic)حکومت سے قطعاً مختلف ہے۔ دونوں قسم کی مختلف ریاستوں کے اس نوعی فرق کا مسئلۂ زیر بحث پر کیا اثر پڑتا ہے، اس کو حسب ذیل نکات سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے:
۱۔اسلامی حکومت اپنے حدود میں رہنے والے لوگوں کو اس لحاظ سے تقسیم کرتی ہے کہ کون ان اصولوں کو مانتے ہیں جن پر اسلامی حکومت کی بنا رکھی گئی ہے اور کون انھیں نہیں مانتے‘ یعنی مسلم اور غیر مسلم۔
۱۔قومی حکومت انھیں اس لحاظ سے تقسیم کرتی ہے کہ کون لوگ اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو دراصل ریاست کو بنانے اور چلانے والی ہے اور کون لوگ اس سے تعلق نہیں رکھتے‘ آج کل کی اصطلاح میں اس کے لیے اکثریت اور اقلیت کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
۲۔اسلامی حکومت کو چلانا دراصل ان لوگوں کا کام ہوتا ہے جو اس کے اصولوں کو مانتے ہوں۔ وہ اپنے انتظام میں غیر مسلموں کی خدمات تو ضروراستعمال کرسکتی ہے، مگر رہنمائی اور کارفرمائی کے مناصب انھیں نہیں دے سکتی۔
۲۔قومی حکومت اپنی رہنمائی و کار فرمائی کے لیے صرف اپنے افراد قوم ہی پر اعتماد کرتی ہے اور دوسری قلیل التعداد قومیں جو اس کے شہریوں میں شامل ہوں‘ اس اعتماد کی مستحق نہیں ہوتیں۔ یہ بات چاہے صاف صاف کہی نہ جاتی ہو‘ مگر عملاً ہوتا اسی طرح ہے، اور اگر اقلیت کے کسی فرد کو کبھی کوئی کلیدی منصب دیا بھی جاتا ہے تو یہ محض ایک نمائشی حرکت ہوتی ہے۔ پالیسیوں کی تشکیل میں فی الحقیقت اس کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
۳۔اسلامی حکومت عین اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے اس بات پر مجبور ہے کہ مسلموں اور غیر مسلموں کے درمیان واضح امتیاز قائم کرے اور صاف صاف بتا دے کہ وہ غیرمسلموں کو کیا حقوق دے سکتی ہے اور کیا نہیں دے سکتی۔
۳۔قومی حکومت کے لیے یہ منافقانہ چال بازی آسان ہے کہ وہ ملک کے تمام باشندوں کو نظریے کے اعتبار سے ایک قوم قرار دے کر کاغذ پر سب کو مساوی حقوق دے دے‘ مگر عملاً اکثریت اور اقلیت کا پورا امتیاز قائم رکھے اور زمین پر اقلیتوں کو کسی قسم کے حقوق نہ دے۔
۴۔اسلامی حکومت کو اپنے نظام میں غیر مسلم عناصر کی موجودگی سے جو پیچیدگی پیش آتی ہے اسے وہ اس طرح حل کرتی ہے کہ انھیں متعین حقوق کا ذمہ (guarantee) دے کر مطمئن کر دیتی ہے‘ اپنے اصولی نظام کے حل و عقد میں ان کی مداخلت روک دیتی ہے اور ان کے لیے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھتی ہے کہ اگر اسلام کے اصول انھیں پسند آجائیں تو وہ انھیں قبول کرکے حکمران جماعت میں شامل ہو جائیں۔
۴۔قومی حکومت کو اپنے نظام میں غیر قومی عناصر کی شمولیت سے جو پیچیدگی پیش آتی ہے اسے حل کرنے کے لیے وہ تین مختلف تدبیریں اختیار کرتی ہے۔ ایک یہ کہ: ان کی انفرادیت کو بتدریج مٹا کر اپنے اندر جذب کرلے۔ دوسرے یہ کہ: ان کی ہستی کو محو کرنے کے لیے قتل و غارت اور اخراج کے ظالمانہ طریقے اختیار کرے۔ تیسرے یہ کہ: ان کو اپنے اندر اچھوت بنا کر رکھ دے۔ یہ تینوں تدبیریں دنیا کی قومی جمہوری ریاستوں میں بکثرت اختیار کی گئی ہیں‘ اب تک کی جارہی ہیں اور آج ہندستان میں خود مسلمانوں کو ان کا تلخ تجربہ ہو رہا ہے۔
۵۔اسلامی حکومت ذمی غیر مسلموں کو وہ تمام حقوق دینے پر مجبور ہے جو شریعت نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔ ان حقوق کو سلب کرنے یا ان میں کمی کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے، البتہ مسلمانوں کو یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ ان حقوق کے علاوہ کچھ مزید حقوق انھیں عطا کر دیں‘ بشرطیکہ یہ اضافہ اسلام کے اصولوں سے متصادم نہ ہوتا ہو۔
۵۔قومی جمہوری حکومت میں اقلیتوں کو جو حقوق بھی دیے جاتے ہیں وہ اکثریت کے عطا کردہ ہوتے ہیں اور اکثریت جس طرح انھیں عطا کرنے کا حق رکھتی ہے اسی طرح وہ ان میں کمی بیشی کرنے اور بالکل سلب کر لینے کا بھی حق رکھتی ہے۔ پس درحقیقت اس نظام میں اقلیتیں سراسر اکثریت کے رحم پر جیتی ہیں اور ان کے لیے ابتدائی انسانی حقوق تک کی کوئی پایدار ضمانت نہیں ہوتی۔
یہ بنیادی اختلافات ہیں جو ذمیوں کے ساتھ اسلام کے سلوک اوراقلیتوں کے ساتھ قومی جمہوریتوں کے سلوک کو ایک دوسرے سے بالکل ممتاز کر دیتے ہیں۔ جب تک انھیں پیش نظر نہ رکھا جائے‘ انسان خلط مبحث سے نہیں بچ سکتا اور نہ اس غلط فہمی سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ موجودہ زمانے کی قومی جمہوریتیں تو اپنے دستوروں میں اقلیتوں کو بالکل مساویانہ حقوق دیتی ہیں، مگر اسلام اس معاملے میں تنگ نظری سے کام لیتا ہے۔
ان ضروری توضیحات کے بعد اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہیں:
۱۔غیر مسلم رعایا کی اقسام
اسلامی قانون اپنی غیر مسلم رعایا کو تین اقسام پر تقسیم کرتا ہے:
٭ ایک وہ جو کسی صلح نامے یا معاہدے کے ذریعے سے اسلامی حکومت کے تحت آئے ہوں۔
٭ دوسرے وہ جو لڑنے کے بعد شکست کھا کر مغلوب ہوئے ہوں۔
٭ تیسرے وہ جو جنگ اورصلح دونوں کے سوا کسی اور صورت سے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے ہوں۔
یہ تینوں اگرچہ ذمیوں کے عام حقوق میں یکساں شریک ہیں‘ لیکن پہلے دونوں گروہوں کے احکام میں تھوڑا سا فرق بھی ہے، اس لیے اہل الذمہ کے حقوق کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے ہم ان مخصوص گروہوں کے جدا جدا احکام بیان کریں گے:
معاہدین
جو لوگ جنگ کے بغیر، یا دوران جنگ میں اطاعت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں اور حکومت اسلامی سے مخصوص شرائط طے کرلیں، ان کے لیے اسلام کا قانون یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمام معاملات ان شرائط صلح کے تابع ہوں گے جو ان سے طے ہوئی ہوں۔ دشمن کو اطاعت پر آمادہ کرنے کے لیے چند فیاضانہ شرائط طے کرلینا اورپھر جب وہ پوری طرح قابو میں آجائے تو اس کے ساتھ مختلف برتائو کرنا آج کل کی مہذب قوموں کے سیاسی معمولات میں سے ہے‘ مگر اسلام اس کو ناجائز بلکہ حرام اور گناہ عظیم قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ جب کسی قوم کے ساتھ کچھ شرائط طے ہو جائیں (خواہ وہ مرغوب ہوں‘ یا نہ ہوں) تو اس کے بعد ان شرائط سے یک سر مُو تجاوز نہ کیا جائے‘ بلالحاظ اس کے کہ فریقین کی اعتباری حیثیت اور طاقت و قوت (relative position)میں کتنا ہی فرق آ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَاَبْنَائِھِمْ قَالَ سَعِیْدٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ فَیُصَالِحُوْنَکُمْ عَلٰی صُلْحٍ فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ فَوْقَ ذٰلِکَ فَاِنَّہ‘ لَایَصْلُحُ لَکُمْ۔ (ابودائود‘ حدیث ۳۰۲۷)
اگر تم کسی قوم سے لڑو اور اس پر غالب آجائو اور وہ قوم اپنی اور اپنی اولاد کی جان بچانے کے لیے تم کو خراج دینا منظور کر لے (ایک اور حدیث میں ہے کہ تم سے صلح نامہ طے کرلے) تو پھر بعد میں اس مقررہ خراج سے ایک حبہ (دانہ)بھی زائد نہ لینا کیونکہ وہ تمھارے لیے ناجائز ہوگا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِ انْتَقَصَہ‘ اَوْکَلَّفَہ‘ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ فَاَنَا حَجِیْجُہ‘ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ (ابودائود، حدیث ۳۰۲۸)
خبردار! جو شخص کسی معاہد پر ظلم کرے گا، یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا، یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا‘ یا اس سے کوئی چیز اس کی مرضی کے خلاف وصول کرے گا‘ اس کے خلاف قیامت کے دن میں خود مستغیث بنوں گا۔
ان دونوں حدیثوں کے الفاظ عام ہیں اور ان سے یہ قاعدہ کلیہ مستنبط ہوتا ہے کہ معاہد ذمیوں کے ساتھ صلح نامے میں جو شرائط طے ہو جائیں اُن میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنا ہرگزجائز نہیں ہے۔ نہ ان پر خراج بڑھایا جاسکتا ہے‘ نہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جاسکتا ہے‘ نہ ان کی عمارتیں چھینی جاسکتی ہیں‘ نہ ان پر سخت فوج داری قوانین نافذ کیے جاسکتے ہیں‘ نہ ان کے مذہب میں دخل دیا جاسکتا ہے‘ نہ ان کی عزت و آبرو پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور نہ کوئی ایسا فعل کیا جاسکتا ہے جو ظلم یا انتقاص‘ یا تکلیف مَالاَیطاق‘ یا اخذ بغیر طیب نفس کی حدود میں آتا ہو۔ انھی احکام کی بنا پر فقہائے اسلام نے صلحًا فتح ہونے والی قوموں کے متعلق کسی قسم کے قوانین مدوّن نہیں کیے ہیں اور صرف یہ عام قاعدہ وضع کرکے چھوڑ دیا ہے کہ ان کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل شرائط صلح کے مطابق ہوگا۔ امام ابویوسفؒ لکھتے ہیں:
یُؤْخَذُ مِنْھُمْ مَاصُوْلِحُوْا عَلَیْہِ وَیُوَ فّٰی لَھُمْ وَلَایُزَادُ عَلَیْھِمْ۔ (کتاب الخراج،ص۳۵)
ان سے وہی لیا جائے گا جس پر ان کے ساتھ صلح ہوئی ہے‘ ان کے حق میں صلح کی شرائط پوری کی جائیں گی‘ اور ان پر کچھ اضافہ نہ کیا جائے گا۔
مفتوحین
دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو آخر وقت تک مسلمانوں سے لڑتے رہے ہوں اور جنھوں نے اس وقت ہتھیارڈالے ہوں، جب اسلامی فوجیں ان کے استحکامات کو توڑ کر ان کی بستیوں میں فاتحانہ داخل ہو چکی ہوں۔ اس قسم کے مفتوحین کو جب ذمی بنایا جاتا ہے تو ان کو چند خاص حقوق دیے جاتے ہیں۔ جن کی تفصیلات فقہی کتابوں میں موجود ہیں۔ ذیل میں ان احکام کا خلاصہ دیا جاتا ہے جن سے ذمیوں کی اس جماعت کی آئینی حیثیت واضح ہو تی ہے:
۱۔ جب امام ان سے جزیہ قبول کرلے تو وہ ہمیشہ کے لیے عقد ذمہ قائم ہو جائے گا‘ اور ان کی جان ومال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر فرض ہوگا‘ کیونکہ قبولِ جزیہ کے ساتھ ہی عصمت نفس و مال ثابت ہو جاتی ہے۔۲۳۵؎ اس کے بعد امام کو یا مسلمانوں کو یہ حق باقی نہیں رہتا کہ ان کی املاک پر قبضہ کریں یا انھیں غلام بنالیں۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عبیدہؓ کو صاف لکھا تھا کہ:
فَاِذَا اَخَذْتَ مِنْھُمُ الْجِزْیَۃَ فَلاَ شَیْئَ لَکَ عَلَیْھِمْ وَلَاسَبِیْلَ۔ (کتاب الخراج، ص ۸۲)
جب تم ان سے جزیہ قبول کرلو تو پھر تم کو ان پر دست درازی کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
۲۔ عقد ذمہ قائم ہو جانے کے بعد اپنی زمینوں کے مالک وہی ہوں گے۔ ان کی ملکیت ان کے ورثا کو منتقل ہوگی‘ اور ان کو اپنے املاک میں بیع‘ ہبہ‘ رہن وغیرہ کے جملہ حقوق حاصل ہوں گے۔ اسلامی حکومت کو انھیں بے دخل کرنے کا حق نہ ہوگا۔ (فتح القدیر، ج۴،ص ۳۵۹)
۳۔ جزیے کی مقدار ان کی مالی حالت کے لحاظ سے مقرر کی جائے گی۔ جو مال دار ہیں ان سے زیادہ، جو متوسط الحال ہیں ان سے کم‘ اور جو غریب ہیں ان سے بہت کم لیا جائے گا، اور جو کوئی ذریعۂ آمدنی نہیں رکھتے‘ یاجن کی زندگی کا انحصار دوسروں کی بخشش پر ہے‘ ان کو جزیہ معاف کردیا جائے گا۔ اگرچہ جزیے کے لیے کوئی خاص رقم مقرر نہیں ہے‘ لیکن اس کی تعیین میں یہ امر مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ایسی رقم مقرر کی جائے جس کا ادا کرنا ان کے لیے آسان ہو۔ حضرت عمرؓ نے مال داروں پر ایک روپیہ ماہانہ‘ متوسط الحال لوگوں پرآٹھ آنے مہینہ اور غریب محنت پیشہ لوگوں پر چار آنے مہینہ جزیہ مقرر کیا تھا۔ (کتاب الخراج، ص۳۶)
۴۔ جزیہ صرف ان لوگوں پر لگایا جائے گا جو اہلِ قتال (combatants)ہیں۔ غیراہلِ قتال‘ مثلاً: بچے، عورتیں‘ دیوانے‘ اندھے‘ اپاہج‘ عبادت گاہوں کے خادم‘ راہب‘ سنیاسی، ازکار رفتہ بوڑھے‘ ایسے بیمار جن کی بیماری سال کے ایک بڑے حصے تک ممتد ہو جائے‘ اورلونڈی‘ غلام وغیرہ جزیے سے مستثنیٰ ہیں۔۲۳۶؎
۵۔ بزور شمشیر فتح ہونے والے شہر کے معابد پر مسلمانوں کو قبضہ کرلینے کا حق ہے۔ لیکن اس حق سے استفادہ نہ کرنا اور بہ طریق احسان ان کو علیٰ حالہ قائم رہنے دینا اولیٰ اور افضل ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں جتنے ممالک فتح ہوئے ان میں کوئی معبد نہ توڑا گیا اور نہ اس سے کسی قسم کا تعرض کیا گیا۔ امام ابو یوسفؒ لکھتے ہیں:
تُرِکَتْ عَلٰی حَالِھاَ وَلَمْ تُدْھَمْ وَلَمْ یُتَعَرَّضْ لَھَا۔۲۳۷؎
ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا‘ نہ مسمار کیا گیا اور نہ ان سے کسی قسم کا تعرض کیا گیا۔
قدیم معابد کو مسمار کرنا بہرحال ناجائز ہے۔۲۳۸؎
۲۔ذمیوں کے عام حقوق
اب ہم ذمیوں کے وہ حقوق بیان کریں گے جن میں تینوں اقسام کے اہل الذمہ شریک ہیں:
حفاظتِ جان
ذمی کے خون کی قیمت مسلمان کے خون کے برابر ہے۔ اگر کوئی مسلمان ذمی کو قتل کرے گا تو اس کا قصاص اسی طرح لیا جائے گا جس طرح مسلمان کو قتل کرنے کی صورت میں لیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کیا تو آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا کہ:
اَنَا اَحَقُّ مَنْ وَفٰی بِذِمَّتِہٖ ۔۲۳۹؎
اپنے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔
حضرت عمرؓ کے زمانے میں قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک ذمی کو قتل کردیا۔ اس پر آپ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے ورثا کے حوالے کیا جائے۔ چنانچہ وہ مقتول کے وارثوں کو دے دیا گیا اور انھوں نے اس کو قتل کر دیا۔۲۴۰؎
حضرت عثمانؓ کے زمانے میں خود عبید اللہ بن عمرؓ کے قتل کا فتویٰ دے دیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے ہرمزان اور ابو لئولو کی بیٹی کو اس شبہے میں قتل کر دیا تھا کہ شاید وہ حضرت عمرؓ کے قتل کی سازش میں شریک تھے۔
حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک مسلمان، ایک ذمی کے قتل میں ماخوذ ہوا۔ ثبوت مکمل ہونے کے بعد آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ مقتول کے بھائی نے آکر عرض کیا: میں نے خون معاف کیا، مگر آپ مطمئن نہ ہوئے اور فرمایا:
لَعَلَّھُمْ فَزَعُوْکَ اَوْھَدَّدُوْکَ۔
شاید ان لوگوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا ہے۔
اس نے جواب دیا کہ: نہیں۔ مجھے خون بہا مل چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے قتل سے میرا بھائی واپس نہیں آجائے گا۔
تب آپ نے قاتل کو رہا کیا اور فرمایا کہ:
مَنْ کَانَ لَہ‘ ذِمَّتُنَا فَدَمُہ‘کَدَمِنَا وَدِیَّتُہ‘ کَدِیَّتِنَا۔۲۴۱؎
جو کوئی ہمارا ذمی ہو، اس کا خون ہمارے خون کی طرح اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔
ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے فرمایا:
اِنَّمَا قَبِلُوْا عُقْدَ الذِّمَّۃِ لِتَکُوْنَ اَمْوَالُھُمْ کَاَمْوَالِنَا وَدِمَاؤُھُمْ کَدِمَائِنَا۔
انھوں نے عقدِ ذمہ قبول ہی اس لیے کیا ہے کہ ان کے مال ہمارے مال کی طرح اور ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہو جائیں۔
اسی بنا پر فقہا نے یہ جزئیہ نکالا ہے کہ اگر مسلمان کسی ذمی کو بلا ارادہ قتل کرے تو اس کی دیت بھی وہی ہوگی جو مسلمان کو خطاء ًا قتل کرنے سے لازم آتی ہے۔ (درالمختار، ج ۳،ص ۲۰۳)
فوج داری قانون
تعزیرات کا قانون ذمی اور مسلمانوں کے لیے یکساں ہے اور اس میں دونوں کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرالے یا مسلمان کا مال ذمی چرالے‘ دونوں صورتوں میں سارق کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ذمی کسی مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے یا مسلمان ایسا کرے‘ دونوں صورتوں میں ایک ہی حدقذف جاری ہوگی۔ اسی طرح زنا کی سزا بھی ذمی اور مسلمان کے لیے یکساں ہے، البتہ شراب کے معاملے میں ذمیوں کے لیے استثنا ہے۔۲۴۲؎
دیوانی قانون
دیوانی قانون بھی ذمی اور مسلمان کے لیے یکساں ہے اور دونوں کے درمیان کامل مساوات ہے۔ حضرت علیؓ کے ارشاد اَمْوَالُھُمْ کَاَمْوَالِنَا کے معنی ہی یہی ہیں کہ ان کے مال کی ویسی ہی حفاظت کی جائے گی جیسی مسلمان کے مال کی ہوتی ہے اور دیوانی حقوق ہمارے اور ان کے برابر ہوں گے۔ اس مساوات کا طبعی لازمہ یہ ہے کہ دیوانی قانون کی رُو سے جتنی پابندیاں مسلمان پر عائد ہوتی ہیں وہی سب ذمی پر بھی عائد ہوں۔
تجارت کے جو طریقے ہمارے لیے ممنوع ہیں‘ وہی ان کے لیے بھی ہیں۔ سود جس طرح ہمارے لیے حرام ہے اسی طرح ان کے لیے بھی ہے۔ البتہ ذمیوں کے لیے صرف شراب اور سور کا استثنا ہے۔ وہ شراب بنانے‘ پینے اور بیچنے کا حق رکھتے ہیں اور انھیں سور پالنے‘ کھانے اور فروخت کرنے کے بھی حقوق حاصل ہیں۔ (المبسوط، ج ۱۳، ص ۳۷۔ ۳۸۔)اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کی شراب، یا اس کے سور کو تلف کر دے تو اس پر تاوان لازم آئے گا۔ درالمختار میں ہے:
وَیَضْمَنُ الْمُسْلِمُ قِیْمَۃَ خَمْرہٖ وَخِنْزِیْرِہٖ اِذَا اَتْلَفَہ‘۔ (درالمختار‘ ج۳‘ ص ۲۷۳)
مسلمان اس کی شراب اور اس کے سور کی قیمت ادا کرے گا اگر وہ اسے تلف کر دے۔
تحفظِ عزت
ذمی کو زبان ہاتھ پائوں سے تکلیف پہنچانا، اس کو گالی دینا‘ مارنا پیٹنا‘ یا اس کی غیبت کرنا، اسی طرح ناجائز ہے جس طرح مسلمان کے حق میں یہ افعال ناجائز ہیں۔ درالمختار میں ہے:
وَیَجِبُ کَفَّ الْاَذٰی عَنْہُ وَتَحْرِیْمِ غِیْبَتِہٖ کَالْمُسْلِمِ۔ (درالمختار،ج۳،ص۲۷۴۔۲۷۳)
اس کو تکلیف دینے سے باز رہنا واجب ہے اور اس کی غیبت اسی طرح حرام ہے جیسی مسلم کی غیبت حرام ہے۔
ذمے کی پایداری
عقد ذمہ مسلمانوں کی جانب ابدی لزوم رکھتا ہے‘ یعنی وہ اسے باندھنے کے بعد پھر اسے توڑ دینے کے مختار نہیں ہیں، لیکن دوسری جانب ذمیوں کو اختیار ہے کہ جب تک چاہیں اس پر قائم رہیں اورجب چاہیں توڑ دیں۔ بدائع میں ہے:
وَاَمَّاصِفَۃُ الْعَقْدِ فَھُوَ لَازِمٌ فِیْ حَقِّنَا لَایَمْلِکُ الْمُسْلِمُوْنَ نَقْضَہ‘ بِحَالٍ مِنَ الْاَحْوَالِ وَاَمَّافِیْ حَقِّھِمْ فَغَیْرُ لَازِمٍ۔ (در المختار‘ ج۷‘ ص۱۱۲)
عقد ذمہ ہمارے حق میں تو لازم ہے‘ یعنی ایک مرتبہ ذمی بنا لینے کے بعد ہم اس ذمہ کو کسی حال میں توڑ نہیں سکتے، لیکن ان کے لیے یہ لازم نہیں ہے۔ (یعنی اگر وہ ہمارے ذمہ سے خارج ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں)
ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے‘ اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا۔ حتیٰ کہ جزیہ بند کر دینا‘ مسلمان کو قتل کرنا‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا یا کسی مسلمان عورت کی آبروریزی کرنا بھی اس کے حق میں ناقضِ ذمہ نہیں ہے۔ ان افعال پر اسے مجرم کی حیثیت سے سزا دی جائے گی‘ لیکن باغی قرار دے کر ذمہ سے خارج نہیں کر دیا جائے گا، البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں ایک ذمی خارج ازذمہ ہو جاتا ہے:
٭ ایک یہ کہ: دارالاسلام کو چھوڑ کر دشمنوں سے جاملے۔
٭ دوسرے یہ کہ: حکومت اسلامی کے خلاف صریح بغاوت کرکے فتنہ و فساد برپا کرے۔۲۴۳؎
شخصی معاملات
ذمیوں کے شخصی معاملات ان کی اپنی ملت کے قانون (personal law)کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے لیے شخصی معاملات میں جو کچھ ناجائز ہے‘ وہ اگر ان کے مذہبی و قومی قانون میں جائز ہو تو اسلامی عدالت ان کے قانون ہی کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ مثلاً: بغیر گواہوں کے نکاح‘ یا بلا مہر کے نکاح‘ یا زمانۂ عدت کے اندر نکاح ثانی‘ یا محرمات کے ساتھ نکاح، اگر وہ جائز رکھتے ہوں تو ان کے لیے یہ سب افعال جائز رکھے جائیں گے۔ خلفائے راشدین اور ان کے بعد کے تمام ادوار میں اسلامی حکومتوں کا اسی پر عمل رہا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس معاملے میں حضرت حسن بصریؒ سے فتویٰ طلب کیا تھا کہ:
مَا بَالُ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ تَرَکُوْا اَھْلَ الِذّمَّۃِ وَمَاھُمْ عَلَیْہِ مِنْ نِکَاحِ الْمَحَارِمِ وَاقْتِنَائِ الْخُمُوْرِ وَالْخَنَازِیْرِ۔
کیا بات ہے کہ خلفائے راشدین نے ذمیوں کو محرمات کے ساتھ نکاح اور شراب اور سور کے معاملے میں آزاد چھوڑ دیا؟
جواب میں حضرت حسنؒ نے لکھا:
اِنَّمَا بَذَلُوا الْجِزْیَۃَ لِیُتْرَکُوْا وَمَا یَعْتَقِدُوْنَ وَاِنَّمَا اَنْتَ مُتَّبِعٌ وَلَاَ مُبْتَدِعٌ۔
انھوں نے جزیہ دینا اسی لیے تو قبول کیا ہے کہ انھیں ان کے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی دی جائے۔ آپ کاکام پچھلے طریقے کی پیروی کرنا ہے نہ کہ نیا طریقہ ایجاد کرنا۔
البتہ اگر کسی مقدمے میں فریقین خود اسلامی عدالت سے درخواست کریں کہ شریعتِ اسلام کے مطابق ان کا فیصلہ کیا جائے‘ تو عدالت ان پر شریعت نافذ کرے گی۔ نیز اگر شخصی قانون سے تعلق رکھنے والے کسی معاملے میں ایک فریق مسلمان ہو تو پھر فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا۔ مثلاً: کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان کے نکاح میں تھی اور اس کا شوہر مرگیا، تو اس عورت کو شریعت کے مطابق پوری عدت وفات گزارنی ہوگی۔ عدت کے اندر وہ نکاح کرے گی تو ایسا نکاح باطل ہوگا۔ (المبسوط‘ ج۵‘ ص ۳۸۔۴۱)
مذہبی مراسم
مذہبی مراسم اور قومی شعائر کو پبلک میں اعلان و اظہار کے ساتھ ادا کرنے کے متعلق اسلامی قانون یہ ہے کہ اہل الذمہ خود اپنی بستیوں میں تو ان کو پوری آزادی کے ساتھ کرسکیں گے، البتہ خالص اسلامی آبادیوں۲۴۴؎ میں حکومت اسلامی کو اختیار ہوگا کہ انھیں اس کی آزادی دے،یا ان پر کسی قسم کی پابندیاں عاید کر دے۔بدائع میں ہے:
لَایُمْنَعُوْنَ مِنْ اِظْھَارِ شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْنَا مِنْ بَیْعِ الْخَمْرِ وَالْخِنْزِیْرِ وَالصَّلِیْبِ وَ ضَرْبِ النَّاقُوْسِ فِیْ قَرْیَۃٍ اَوْمَوْضِعٍ لَیْسَ مِنْ اَمْصَارِ الْمُسْلِمِیْنَ وَلَوْکَانَ فِیْہِ عَدَدٌ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ وَاِنَّمَا یَکْرَہُ ذَالِکَ فِیْ اَمْصَارِ الْمُسْلِمِیْنَ وَھِیَ الَّتِیْ یُقَامُ فِیْھَا الْجُمُعُ وَالْاَعْیَادُ الْحُدُوْدُ…… وَاِمَّا اِظْھَارُ فِسْقٍ یَعْتَقِدُوْنَ حُرْمَۃً کَالزِّنَا وَسَائِرِ الْفَوَاحِشِ الَّتِیْ حَرَامٌ فِیْ دِیْنِھِمْ فَاِنَّھْمْ یُمْنَعُوْنَ مِنْ ذَالِکَ سَوَائً کَانُوْا فِیْ اَمْصَارِ الْمُسْلِمِیْنَ اَوْفِی اَمْصَارِھِمْ۔ (بدائع، ج۷، ص۱۱۳)
جو بستیاں امصار المسلمین میں سے نہیں ہیں ان میں ذمیوں کو شراب و خنزیر بیچنے اور صلیب نکالنے اور ناقوس بجانے سے نہیں روکا جائے گا خواہ وہاں مسلمانوں کی کتنی ہی کثیر تعداد آباد ہو۔ البتہ یہ افعال امصار مسلمین میں ناپسندیدہ ہیں‘ یعنی ان شہروں میں جنھیں جمعہ و عیدین اور اقامت حدود کے لیے مخصوص کیا گیا ہو…… رہا وہ فسق جس کی حرمت کے خود وہ بھی قائل ہیں مثلاً: زنا اور دوسرے تمام فواحش جو اُن کے دین میں بھی حرام ہیں‘ تو اس کے علانیہ ارتکاب سے ان کو ہر حال میں روکا جائے گا خواہ وہ امصار مسلمین میں ہوں یا خود اُن کے اپنے امصار میں۔
لیکن امصار مسلمین میں بھی ان کو صرف صلیبوں اور مورتیوں کے جلوس نکالنے اور علانیہ ناقوس بجاتے ہوئے بازاروں میں نکلنے کی ممانعت کی گئی ہے، ورنہ اپنے قدیم معابد کے اندر رہ کر وہ تمام شعائر کا اظہار کرسکتے ہیں۔ حکومت اسلامیہ اس میں دخل نہ دے گی۔ (شرح السِّیَر الکبیر‘ ج۳‘ ص۵۱)
عبادت گاہیں
امصار مسلمین میں ذمیوں کے جو قدیم معابد ہوں ان سے تعرض نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ ٹوٹ جائیں تو انھیں اسی جگہ دوبارہ بنا لینے کا حق ہے۔ لیکن نئے معابد بنانے کا حق نہیں ہے۔۲۴۵؎رہے وہ مقامات جو امصار مسلمین نہیں ہیں تو ان میں ذمیوں کو نئے معابد بنانے کی بھی عام اجازت ہے۔ اسی طرح جو مقامات اب مصر نہ رہے ہوں‘ یعنی امام نے ان کو ترک کرکے وہاں اقامت جمع و اعیاد ] جمعہ و عیدین[ اور اقامت حدود کا سلسلہ بند کر دیا ہو‘ ان میں بھی ذمیوں کو نئے معابد کی تعمیر اور اپنے شعائر کے اظہار کا حق حاصل ہے۔۲۴۶؎ابن عباسؓ کا فتویٰ یہ ہے:
اَمَّا مِصْرُ مَصَّرَتْہُ الْعَرَبُ فَلَیْسَ لَھُمْ اَنْ یُّحَدِّ ثُوْا فِیْہِ بِنَائً بَیْعَۃً وَلَا کَنِیْسَۃً وَلَا یَضْرِبُوْا فِیْہِ بِنَاقُوْسَ وَلَا یَظْھَرُوْا فِیْہِ خَمْرًا وَلَا یَتَّخِذُوْا فِیْہِ خِنْزِیْرًا وَکُلُّ مِصْرٍ کَانَتِ الْعَجَمُ مَصَّرَتْہُ فَفَتَحَہُ اللّٰہُ عَلَی الْعَرَبِ فَنَزَلُوْا عَلٰی حُکْمِھِمْ فَلِعَجْمِ مَا فِیْ عَھْدِ ھِمْ وَ عَلَی الْعَرَبِ اَنْ یُّوْفُوْا لَھُمْ بِذَالِکَ۔ (کتاب الخراج‘ ص۸۸)
جن شہروں کو مسلمانوں نے آباد کیا ہے ان میں ذمیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ نئے معابد اور کنائس تعمیر کریں، یا ناقوس بجائیں، یا علانیہ شراب اور سور کا گوشت بیچیں۔ باقی رہے وہ شہر جو عجمیوں کے آباد کیے ہوئے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھ پر فتح کیا اور انھوں نے مسلمانوں کے حکم کی اطاعت قبول کرلی تو عجم کے لیے وہی حقوق ہیں جو اُن کے معاہدے میں طے ہو جائیں اور مسلمانوں پر ان کا ادا کرنا لازم ہے۔
جزیہ و خراج کی تحصیل میں رعایات
جزیہ و خراج کے معاملے میں ذمیوں پر تشدد کرنا ممنوع ہے۔ ان کے ساتھ نرمی اور رِفق کی تاکید کی گئی ہے اور ان پر ایسا بار ڈالنے سے منع کیا گیا ہے جسے اٹھانے کی ان میں قدرت نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے حکم دیا تھا کہ لَا یُکَلَّفُوْا فَوْقَ طَاقَتِھِمْ (کتاب الخراج: ص ۸‘۸۲)
جتنا مال دینا ان کی طاقت سے باہر ہو اس کے ادا کرنے کی انھیں تکلیف نہ دی جائے۔
جزیے کے عوض ان کی املاک کا نیلام نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت علیؓ نے اپنے ایک عامل کو فرمان بھیجا تھا کہ لَا تَبِیْعَنَّ لَھُمْ فِیْ خَرَاجِھِمْ حِمَارًا وَلَا بَقَرَۃً وَلَا کِسْوَۃً شَیْئًا وَلَاصَنْفًا۔(فتح البیان ج۴ص۹۳) خراج میں ان کا گدھا‘ ان کی گائے‘ ان کے کپڑے نہ بیچنا۔
ایک اور موقع پر اپنے عامل کو بھیجتے وقت حضرت علیؓ نے فرمایا:
ان کے جاڑے گرمی کے کپڑے اور ان کے کھانے کا سامان اور ان کے جانور جن سے وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں‘ خراج وصول کرنے کی خاطر ہرگزنہ بیچنا‘ نہ کسی کو درہم وصول کرنے کے لیے کوڑے مارنا‘ نہ کسی کو کھڑا رکھنے کی سزا دینا‘ نہ خراج کے عوض کسی چیز کا نیلام کرنا، کیونکہ ہم جو اُن کے حاکم بنائے گئے ہیں تو ہمارا کام نرمی سے وصولی کرنا ہے۔ اگر تم نے میرے حکم کے خلاف کیا تو اللہ میرے بجائے تم کو پکڑے گا اور اگر مجھے تمھاری خلاف ورزی کی خبر پہنچی تو میں تمھیں معزول کردوں گا۔۲۴۷؎
جزیے کی تحصیل میں ان پر ہر قسم کی سختی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہؓ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ اور احکام کے ایک یہ بھی تھا کہ:
وَامْنَعِ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ ظُلْمِھِمْ وَالْاِضْرَارِبِھِمْ وَالْاَکْلِ اَمْوَالِھِمْ اِلاَّ بِحَلِّھَا۔۲۴۸؎
مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے‘ اور انھیں ستانے اور ناجائز طریقے سے ان کے مال کھانے سے منع کرو۔
شام کے سفر میں حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ ان کے عامل جزیہ وصول کرنے کے لیے ذمیوں کو سزا دے رہے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ان کو تکلیف نہ دو‘ اگر تم انھیں عذاب دوگے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمھیں عذاب دے گا:
لَا تُعَذِّبِ النَّاسَ فَاِنَّ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا یُعَذِّبُھُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔۲۴۹؎
ہشام بن حکم نے ایک سرکاری افسر کو دیکھا کہ وہ ایک قبطی کو جزیہ وصول کرنے کے لیے دھوپ میں کھڑا کر رہا ہے۔ اس پر انھوں نے ملامت کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ:
اِنَّ اللہُ عَزَّوَجَلَّ یُعَذِّبُ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا۔۲۵۰؎
اللہ عزوجل ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔
فقہائے اسلام نے نادہندوں کے حق میں صرف اتنی اجازت دی ہے کہ انھیں تادیباً قید بے مشقت کی سزا دی جاسکتی ہے۔ امام ابو یوسفؒ لکھتے ہیں:
وَلٰکِنْ یُرَفَّقُ بِھِمْ وَیُحْبَسُوْنَ حَتّٰی یُؤَدُّوْا مَا عَلَیْھِمْ۔۲۵۱؎
ٹیکس کی وصولی کے لیے اُن سے نرمی برتی جائے گی، البتہ (تادیبًا) قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے تاکہ وہ ٹیکس ادا کر دیں۔
جو ذمی محتاج اور فقیر ہو جائیں انھیں صرف جزیے سے معاف ہی نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کے لیے اسلامی خزانے سے وظائف بھی مقرر کیے جائیں گے۔
حضرت خالدؓ نے اہل حیرہ کو جو امان نامہ لکھ کر دیا تھا، اس میں وہ لکھتے ہیں:
وَجَعَلْتُ لَھُمْ اَیَّمَا شَیْخٍ ضَعُفَ عَنِ الْعَمَلِ اَوْاَصَابَتْہُ اٰفَۃٌ مِنْ الْاٰفَاتِ اَوْکَانَ غَنِیًّا فَافْتَقَرَوَصَارَ اَھْلُ دِیْنِہٖ یَتَصَدَّقُوْنَ عَلَیْہِ طُرِحَتْ جِزْیَۃٌ وَعِیْلَ مِنْ بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِیْنَ ھُوَ وَعَیَالُہ‘۔ (کتاب الخراج‘ ص۸۵)
میں نے ان کے لیے یہ حق بھی رکھا ہے کہ جو شخص بڑھاپے کے سبب ازکار رفتہ ہو جائے، یا اس پر کوئی آفت نازل ہو جائے‘ یا وہ پہلے مال دار تھا پھر فقیر ہوگیا یہاں تک کہ اس کے ہم مذہب لوگ اس کو صدقہ و خیرات دینے لگے‘ تو اس کا جزیہ معاف کردیا جائے اور اسے اور اس کے بال بچوں کو مسلمانوں کے بیت المال سے مدد دی جائے۔
ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک ضعیف العمر آدمی کو بھیک مانگتے دیکھا اور اس سے اس ذلیل حرکت کا سبب دریافت کیا۔ اس نے کہا کہ جزیہ ادا کرنے کے لیے بھیک مانگتا ہوں۔ اس پر آپ نے اس کا جزیہ معاف کر دیا اور اس کے لیے وظیفہ مقرر کیا اور اپنے افسر خزانہ کو لکھا:
خدا کی قسم! یہ ہرگز انصاف نہیں ہے کہ ہم اس کی جوانی میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور بڑھاپے میں اس کو رسوا کریں۔‘‘۲۵۲؎
دمشق کے سفر میں بھی حضرت عمرؓ نے اپنے معذور ذمیوں کے لیے امدادی وظائف مقرر کرنے کے احکام جاری کیے تھے۔۲۵۳؎
اگر کوئی ذمی مر جائے اور اس کے حساب میں جزیہ کا بقایا واجب الادا ہو تو وہ اس کے ترکہ سے وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے وارثوں پر اس کا بار ڈالا جائے گا۔ امام ابو یوسفؒ لکھتے ہیں:
وَاِنْ وَجَبَتْ عَلَیْہِ الْجِزْیَۃُ فَمَاتَ قَبْلَ اَنْ تُؤْخَذَ مِنْہُ اَوْ اُخِذَ بَعْضُھَا وَبَقِیَ الْبَعْضُ لَمْ یُؤْخَذْ بِذٰلِکَ وَرَثَۃٌ وَلَمْ تُؤْخَذْ مِنْ تَرَکَتِہٖ۔۲۵۴؎
اگر کسی ذمی پر جزیہ واجب ہو اور وہ اس کو ادا کرنے سے پہلے مرگیا تو اس کے ورثا سے وہ وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے ترکے سے لیا جائے گا۔
تجارتی ٹیکس
مسلمان تاجروں کی طرح ذمی تاجروں کے اموال تجارت پر بھی ٹیکس لیا جائے گا جب کہ اُن کا رأس المال (اصل سرمایہ) ۲۰۰ درہم تک پہنچ جائے، یا وہ ۲۰ مثقال سونے کے مالک ہو جائیں۔۲۵۵؎
اس میں شک نہیں ہے کہ فقہا نے ذمی تاجر پر تجارتی محصول ۵ فی صدی لگایا تھا اور مسلمان تاجر پر۲ ½ (اڑھائی) فی صدی‘ لیکن یہ فعل کسی نص پر مبنی نہ تھا، بلکہ اجتہاد پر مبنی تھا اور دراصل وقتی مصالح اس کے مقتضی تھے۔ اس زمانے میں مسلمان زیادہ تر ملک کی حفاظت میں مشغول تھے اور تمام تجارت ذمیوں کے ہاتھ میں آگئی تھی۔ اسی لیے مسلمان تاجروں کی ہمت افزائی اوران کی تجارت کے تحفظ کے لیے ان پر ٹیکس کم کر دیا گیا۔
فوجی خدمت سے استثنا
ذمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہیں اور دشمن سے ملک کی حفاظت کرنا تنہا مسلمانوں کے فرائض میں داخل کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اصول پر جو ریاست قائم ہو اس کی حفاظت کے لیے وہی لوگ لڑ سکتے ہیں اور انھی کو اس کے لیے لڑنا چاہیے جو اس اصول کو حق مانتے ہوں۔ پھر لڑائی میں اپنے اصول اور حدود کی پابندی بھی وہی کرسکتے ہیں۔ دوسرے لوگ اگر ریاست کی حفاظت کے لیے لڑیں گے تو محض کرائے کے سپاہیوں (mercenaries)کی حیثیت سے لڑیں گے اور اسلام کے مقرر کیے ہوئے اخلاقی حدود کی پابندی نہ کرسکیں گے۔ اسی لیے اسلام نے ذمیوں کو فوجی خدمت سے مستثنیٰ کرکے ان پر صرف یہ فرض عاید کیا ہے کہ وہ ملکی حفاظت کے مصارف میں اپنا حصہ ادا کریں۔ جزیے کی اصل حیثیت یہی ہے۔ وہ نہ صرف اطاعت کا نشان ہے‘ بلکہ فوجی خدمت سے استثنا کا بدل اور ملکی حفاظت کا معاوضہ بھی ہے۔ چنانچہ جزیہ صرف قابل جنگ مردوں ہی پر لگایا جاتا ہے‘ اور اگر مسلمان کسی وقت ذمیوں کی حفاظت سے قاصر ہوں تو جزیہ واپس کر دیا جاتا ہے۔۲۵۶؎
جنگ یرموک کے موقع پر جب رومیوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں ایک زبردست فوج جمع کی اور مسلمانوں کو شام کے تمام مفتوحہ علاقوں کو چھوڑ کر ایک مرکز پر اپنی طاقت سمیٹنی پڑی تو حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنے امرا کو لکھا کہ جو کچھ جزیہ و خراج تم نے ذمیوں سے وصول کیا ہے انھیں واپس کردو اور ان سے کہو کہ:اب ہم تمھاری حفاظت سے قاصر ہیں‘ اس لیے ہم نے جو مال تمھاری حفاظت کے معاوضے میں وصول کیا تھا اسے واپس کرتے ہیں۔۲۵۷؎ اس حکم کے مطابق تمام امرائے فوج نے جمع شدہ رقوم واپس کر دیں۔ بلاذری اس موقع پر غیر مسلم رعایا کے جذبات کا حال لکھتا ہے کہ جب مسلمانوں نے حمص میں جزیے کی رقم واپس کی تو وہاں کے باشندوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ تمھاری حکومت اور انصاف پسندی ہم کو اس ظلم و ستم سے زیادہ محبوب ہے جس میں ہم مبتلا تھے۔ اب ہم ہرقل کے عامل کو اپنے شہر میں ہرگز گھسنے نہ دیں گے‘ تاوقتیکہ لڑ کر مغلوب نہ ہو جائیں۔‘‘ ۲۵۸؎
۳۔فقہائے اسلام کی حمایت
یہ ہیں اس قانون کی تفصیلات جو صدر اول میں غیر مسلم رعایا کے حقوق و فرائض سے متعلق بنایا گیا تھا۔ اب آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ خلفائے راشدین کے بعد بادشاہی دور میں جب کبھی ذمیوں کے ساتھ بے انصافی کی گئی تو وہ فقہائے اسلام ہی کا گروہ تھا جو آگے بڑھ کر ان کی حمایت کے لیے کھڑا ہوگیا اور متفق ہو کر ان کا پشت پناہ بنا۔ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ولید بن عبدالملک اموی نے دمشق کے کنیسۂ یوحنّا کو زبردستی عیسائیوں سے چھین کر مسجد میں شامل کر لیا تھا۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے اور عیسائیوں نے ان سے اس ظلم کی شکایت کی تو انھوں نے اپنے عامل کو لکھا کہ مسجد کا جتنا حصہ گرجا کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اسے منہدم کرکے عیسائیوں کے حوالے کر دو۔ (فتوح البلدان‘ مطبوعہ یورپ‘ ص ۱۳۲)
ولید بن یزید نے رومی حملے کے خوف سے قبرص کے ذمی باشندوں کو جلا وطن کرکے شام میں آباد کیا۔ فقہائے اسلام اور عام مسلمان اس پر سخت ناراض ہوئے اور انھوں نے اس کو گناہ عظیم سمجھا۔ پھر جب ولید بن یزید نے انھیں دوبارہ قبرص میں لے جاکر آباد کر دیا تو اس کی عام طور پر تحسین کی گئی اور کہا گیا کہ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ اسماعیل بن عیاش کا بیان ہے کہ:
فَاسْتَفْظَعَ ذٰلِکَ الْمُسْلِمُوْنَ وَاسْتَعْظَمَہُ الْفُقَھَائُ فَلَمَّا وَلِیَ یَزِیْدُ بْنُ وَلِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ رَدَّھُمْ اِلٰی قَبْرَصَ فَاسْتَحْسَنَ الْمُسْلِمُوْنَ ذٰلِکَ مِنْ فِعْلِہٖ وَرَأَوْہُ عَدْلاً۔ (فتوح البلدان،ص ۱۵۶)
مسلمانوں نے اس کی اس حرکت سے بیزاری ظاہر کی اور فقہا نے اس کو گناہ سمجھا۔ پھر جب یزید بن ولید خلیفہ ہوا، اور اس نے ان کو قبرص کی طرف پھر لوٹا دیا تو مسلمانوں نے اس کو پسند کیا اور اسے عدل و انصاف سمجھا۔
بلاذری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جبل لبنان کے باشندوں میں سے ایک گروہ نے بغاوت کردی۔ اس پر صالح بن علی بن عبداللہ نے ان کی سرکوبی کے لیے ایک فوج بھیجی اور اس نے ان کے ہتھیار اٹھانے والے مردوں کو قتل کردیا اور باقی لوگوں میں سے ایک جماعت کو جلا وطن کر دیا اور ایک جماعت کو وہیں آباد رہنے دیا۔ امام اوزاعیؒ اس زمانے میں زندہ تھے۔ انھوں نے صالح کو اس ظلم پر سخت تنبیہہ کی اور ایک طویل خط لکھا جس کے چند فقرے یہ ہیں:
جبل لبنان کے اہل ذمّہ کی جلاوطنی کا حال تم کو معلوم ہے۔ ان میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے بغاوت کرنے والوں کے ساتھ کوئی حصہ نہیں لیا تھا، مگر باوجود اس کے تم نے کچھ کو قتل کیا اور کچھ لوگوں کو ان کی بستیوں کی طرف واپس بھیج دیا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ عام لوگوں کو بعض خاص لوگوں کے جرم کی سزا کیوں کر دی جاسکتی ہے اور کس بنا پر ان کے گھروں اور ان کی جایدادوں سے انھیں بے دخل کیا جاسکتا ہے‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی الانعام 164:6 کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا، اور یہ ایک واجب التعمیل حکم ہے۔تمھارے لیے بہترین نصیحت یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو یاد رکھو کہ جو کوئی کسی معاہد پر ظلم کرے گا اور اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا اس کے خلاف میں خود مدعی بنوں گا۔(فتوح البلدان‘ ص۱۶۹)
یہ اور ایسی ہی بے شمار مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے اسلام نے ہمیشہ اہل ذمہ کے حقوق کی حمایت کی ہے اور کبھی کسی امیر یا بادشاہ نے ان پر جبر و ظلم کیا بھی ہے تو جو لوگ اس عہد میں اسلامی قانون کے پاسبان رہے ہیں وہ کبھی اس پر ملامت کرنے سے باز نہیں رہے۔
۴۔ زائد حقوق جو غیر مسلموں کو دیے جاسکتے ہیں
یہاں تک ہم نے اہل الذمہ کے ان حقوق کا ذکر کیا ہے جو شریعت میں ان کے لیے مقرر ہیں اور جنھیں لازماً ہر اسلامی دستور میں شامل ہونا چاہیے۔اب ہم مختصر طور پر بتائیں گے کہ موجودہ زمانے میں ایک اسلامی ریاست اپنے غیر مسلم شہریوں کو اصول اسلام کے مطابق مزید کیا حقوق دے سکتی ہے:
رئیسِ مملکت کا منصب
سب سے پہلے رئیس مملکت کے سوال کو لیجیے۔ اسلامی حکومت چونکہ ایک اصولی حکومت ہے اس لیے وہ ان فریب کاریوں سے کام نہیں لے سکتی جو بے دین قومی جمہوریتیں اقلیتوں کی رائے دہی کے معاملے میں برتتی ہیں۔ اسلام میں رئیسِ حکومت کا منصب یہ ہے کہ وہ اصول اسلام کے مطابق ریاست کا نظام چلائے‘ لہٰذا جو لوگ سرے سے اصول اسلام کو مانتے ہی نہ ہوں وہ رئیس مملکت کا منصب بہرحال نہیں سنبھال سکتے۔
مجلسِ شوریٰ یا پارلیمنٹ
اس کے بعد ہمارے سامنے مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کا مسئلہ آتا ہے۔ جہاں تک ٹھیٹھ اسلامی نظریے کا تعلق ہے‘ اس کی رُو سے تو مجلس شوریٰ میں بھی غیر مسلموں کی نمائندگی صحیح نہیں ہے، لیکن موجودہ زمانے کے حالات میں اس کے لیے گنجائش نکالی جاسکتی ہے، بشرطیکہ ملک کے دستور میں اس بات کی واضح اور صریح ضمانت موجود ہو کہ:
۱۔ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی کرنے کی مجاز نہ ہوگی اور ہر فیصلہ جو اس حد سے متجاوز ہو قانونی سند حاصل کرنے سے محروم رہے گا۔
ب۔ ملک کے قانون کا اولین ماخذ قرآن و سنت ہوں گے۔
ج۔ قوانین کی آخری توثیق کا اختیار جس شخص کو حاصل ہوگا وہ لازمًامسلمان ہوگا۔
ایک شکل یہ بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ غیر مسلموں کو ملک کی پارلیمنٹ میں شامل کرنے کے بجائے ان کے لیے ایک الگ نمائندہ مجلس یا اسمبلی بنا دی جائے، تاکہ وہ اپنی اجتماعی ضروریات بھی اس کے ذریعے سے پوری کریں‘ اور ملکی انتظام کے معاملے میں بھی اپنا نقطۂ نظر پیش کرسکیں۔ اس مجلس کی رکنیت اور رائے دہی غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہو، اور اس میں ان کو اظہار رائے کی پوری آزادی دی جائے۔ اس مجلس کے ذریعے سے:
۱۔ وہ اپنے شخصی معاملات کی حد تک قوانین تجویز کرنے اور سابق قوانین میں اصلاح و ترمیم کرنے کے مجاز ہوں گے‘ اور اس طرح کی تمام تجاویز رئیس حکومت کی منظوری سے قانون بن سکیں گی۔
۲۔ وہ حکومت کے نظم و نسق اور مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کے متعلق اپنی شکایات‘ اعتراضات‘ مشورے اور تجاویز پوری آزادی کے ساتھ پیش کرسکیں گے اور حکومت انصاف کے ساتھ ان پر غور کرے گی۔
۳۔ وہ اپنے گروہ کے معاملات اور عام ملکی معاملات کے متعلق سوالات بھی کرسکیں گے‘ اور حکومت کا ایک نمائندہ ان کے جوابات دینے کے لیے موجود رہے گا۔
مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں سے کسی صورت کو بھی حالات و ضروریات کے لحاظ سے اختیار کیا جاسکتا ہے۔
جہاں تک بلدیات اور مقامی مجالس (local bodies)کا تعلق ہے ان میں غیر مسلموں کو نمائندگی اور رائے دہی کے پورے حقوق دیے جاسکتے ہیں۔
آزادیِ تحریر و تقریر وغیرہ
غیر مسلموں کو اس ریاست میں تحریر و تقریر اور رائے و ضمیر اور اجتماع کی وہی آزادی حاصل ہوگی جو خود مسلمانوں کو حاصل ہوگی‘ اور اس معاملے میں جو قانونی پابندیاں مسلمانوں کے لیے ہوں گی وہی ان کے لیے بھی ہوں گی۔قانون کی حدود میں رہتے ہوئے وہ حکومت پر‘اُس کے حکام پر اور خود رئیس حکومت پر آزادانہ تنقید کرسکیں گے۔قانون کی حدود کے اندر غیر مسلموں کو بھی مذہبی بحث و مباحثے کی ویسی ہی آزادی ہوگی جیسی مسلمانوں کو ہے۔وہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے میں بھی پوری طرح آزاد ہوں گے اور اگر ایک غیر اسلامی مذہب کا پیرو کسی دوسرے غیر اسلامی مذہب کو قبول کرلے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا، البتہ کوئی مسلمان اسلامی ریاست کے حدود میں رہتے ہوئے اپنا دین بدلنے کا مجاز نہ ہوگا۔ لیکن ارتداد کی صورت میں مؤاخذہ جو کچھ بھی ہوگا خود مرتد سے ہوگا، نہ کہ اس غیر مسلم سے جس کا اثر قبول کرکے وہ مرتد ہوا ہے۔
انھیں اپنے ضمیر کے خلاف کوئی عقیدہ یا عمل اختیار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا‘ اور اپنے ضمیر کے مطابق وہ ایسے سب کام کرنے کے مجاز ہوں گے جو قانون ملکی سے متصادم نہ ہوتے ہوں۔
تعلیم
انھیں نظام تعلیم تو وہی قبول کرنا ہوگا جو ریاست پورے ملک کے لیے بنائے گی‘ لیکن جہاں تک اسلام کی مذہبی تعلیم کا تعلق ہے‘ اس کے پڑھنے پر وہ مجبورنہ کیے جائیں گے۔ انھیں پورا حق ہوگا کہ ملکی درس گاہوں میں‘ یا خود اپنی مخصوص درس گاہوں میں‘ اپنے مذہب کی تعلیم کا مستقل انتظام کریں۔

ملازمتیں
چند محفوظ مناصب کے سوا وہ تمام ملازمتوں میں داخل ہونے کے حق دار ہوں گے اور اس معاملے میں ان کے ساتھ کوئی تعصب نہ برتا جائے گا۔ مسلمان اور غیر مسلم‘ دونوں کے لیے اہلیت کا ایک ہی معیار ہوگا اور اہل آدمیوں کو بلا امتیاز انتخاب کیا جائے گا۔
محفوظ مناصب سے مراد ایسے مناصب ہیں جو اسلام کے اصولی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مناصب کی فہرست کافی غور و خوض کے بعد ماہرین کی ایک جماعت بنا سکتی ہے۔ ہم ایک قاعدے کلیے کے طور پر صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن خدمات کا تعلق پالیسیوں کی تشکیل اور محکموں کی رہنمائی سے ہے وہ سب کلیدی اہمیت رکھنے والی خدمات ہیں‘ اور ایک اصولی نظام میں ایسی خدمات صرف انھی لوگوں کودی جاسکتی ہیں جو اس کے اصولوں پر اعتقاد رکھتے ہوں۔ ان خدمات کو مستثنیٰ کرنے کے بعد باقی تمام نظم و نسق میں بڑے سے بڑے عہدوں پر بھی اہل الذمہ اپنی اہلیت کے لحاظ سے مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً: کوئی چیز ان میں سے کسی شخص کے اکائونٹنٹ جنرل‘ یا چیف انجینئر یا پوسٹ ماسٹر جنرل بنائے جانے میں مانع نہیں ہے۔
اسی طرح فوج میں بھی صرف جنگی خدمات محفوظ ملازمتوں میں شمار ہوں گی۔ باقی دوسرے فوجی شعبے جن کا تعلق براہ راست حرب و ضرب سے نہیں ہے‘ ذمیوں کے لیے کھلے ہوں گے۔
معاشی کاروبار اور پیشے
صنعت و حرفت‘ تجارت‘ زراعت اور دوسرے تمام پیشوں کے دروازے غیر مسلموں کے لیے بالکل کھلے رہیں گے۔ ان میں مسلمانوں کو ایسی کوئی رعایت حاصل نہ ہوگی جو غیر مسلموں کو نہ حاصل ہو‘ اور غیر مسلموں پر کوئی ایسی پابندی عاید نہ کی جاسکے گی جو مسلمانوں کے لیے نہ ہو۔ ہر شہری کو‘ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم‘ معاشی میدان میں جدوجہد کا مساویانہ حق ہوگا۔
غیر مسلموں کے لیے تحفظ کی واحد صورت
آخر میں اس امر کی توضیح بھی ضروری ہے کہ ایک اسلامی حکومت اپنے غیر مسلم شہریوں کو جو حق بھی دے گی بلا اس لحاظ کے دے گی کہ کوئی ہمسایہ غیر مسلم حکومت اپنی مسلمان رعایا کو کیا حقوق دیتی ہے‘ بلکہ کچھ دیتی بھی ہے یا نہیں۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ مسلمان، کافروں کو دیکھ دیکھ کر اپنا لائحۂ عمل بنائے‘ وہ انصاف کریں تو یہ بھی کرے‘ اور وہ ظلم کرنے لگیں تو یہ بھی ظلم پر اتر آئے۔ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک قطعی اور واضح اصول کے پیرو ہیں اور ہمیں بہرحال اپنے حدودِ اختیار میں اپنے اصولوں پر ہی عمل کرنا ہے۔ جو ہم دیں گے نیک نیتی کے ساتھ دیں گے‘ صرف کاغذ ہی پر نہیں، بلکہ زمین پر بھی دیں گے، اور اپنی لی ہوئی ذمے داریوں کو انصاف اور سچائی کے ساتھ ادا کریں گے۔
اس کے بعد یہ بیان کرنے کی حاجت نہیں رہتی کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے لیے تحفظ‘ امن اور خوش حالی کی اس سے بڑھ کر‘ بلکہ درحقیقت اس کے سوا کوئی قابلِ اعتماد ضمانت نہیں ہوسکتی کہ یہاں ایک خالص اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ صرف اسی صورت میں ظلم اور جوابی ظلم کا وہ شیطانی چکر ٹوٹ سکتا ہے جو بدقسمتی سے برعظیم ہند میں چل رہا ہے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان بھی انصاف کا گھر بن سکتا ہے اور انڈین یونین کو بھی انصاف کا راستہ نظر آسکتا ہے۔ افسوس ہے کہ غیر مسلم ایک مدت سے اسلام کی غلط تعبیریں سنتے اور دیکھتے چلے آرہے ہیں‘ اس لیے وہ اسلامی حکومت کا نام سن کر گھبراتے ہیں‘ اور ان میں سے بعض لوگ یہ شور مچانے لگتے ہیں کہ یہاں بھی انڈین یونین کی طرح بے دین جمہوریت قائم ہونی چاہیے، مگر ہم کو تعجب ہے کہ وہ خود ہی اصرار کرکے یہاں اس چیز کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں جس کا مزہ آج انڈین یونین کے مسلمان چکھ رہے ہیں۔ کیا واقعی وہ کوئی خوش گوار حالت ہے جس کی تمنا کی جاسکتی ہو؟ کیا اس کے بجائے ایک ایسے نظام کا تجربہ کرنا زیادہ بہتر نہ ہوگا جس کی بنیاد اللہ کے خوف، دیانت اور مستقل اصولوں کی پیروی پر ہو۔



باب۱۴

اسلامی ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ عدلِ اجتماعی اور کفالت ِ عامہ کا نظام قائم کرے اوراپنے حدود میں رہنے والے ہر متنفس کے لیے باعزت زندگی گزارنے کی سہولتیں فراہم کرے۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر (۱۳۸۱ھ۔ مئی ۱۹۶۲ء کو)حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں منعقد کی جانے والی مؤتمر عالم اسلامی کے اجتماع میں ایک مقالہ پڑھا تھا جسے یہاں نقل کیا جارہا ہے۔ یہ مقالہ اسلامی ریاست کی معاشی اور تمدنی پالیسی پر روشنی ڈالتا ہے۔سب سے پہلے یہ مقالہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور جولائی ۱۹۶۲ء میں شائع ہوا تھا۔(مرتب)

اسلام اور عدلِ اجتماعی

انسان کو اللہ تعالیٰ نے جس احسن تقویم پر پیدا کیا ہے اس کے عجیب کرشموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عریاں فساد اور بے نقاب فتنے کی طرف کم ہی راغب ہوتا ہے اور اس بنا پر شیطان اکثر مجبور ہوتا ہے کہ اپنے فتنہ و فساد کو کسی نہ کسی طرح صلاح و خیر کا دھوکا دینے والا لباس پہنا کر اس کے سامنے لائے۔ جنت میں آدم علیہ السلام کو یہ کہہ کر شیطان ہرگز دھوکا نہ دے سکتا تھا کہ میں تم سے خدا کی نافرمانی کرانا چاہتا ہوں تاکہ تم جنت سے نکال دیے جائو، بلکہ اس نے یہ کہہ کر انھیں دھوکا دیا کہ ھَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَ مُلْکٍ لاَّ یَبْلٰی۔ طہ 120:20
کیا میں تمھیں وہ درخت بتائوں جو حیات ابدی اور لازوال بادشاہی کا درخت ہے۔
یہی انسان کی فطرت آج تک بھی چل رہی ہے۔ آج بھی جتنی غلطیوں اور حماقتوں میں شیطان اس کو مبتلا کر رہا ہے وہ سب کسی نہ کسی پر فریب نعرے اور کسی نہ کسی لباسِ زُور کے سہارے مقبول ہو رہی ہیں۔
۱۔ دورِ جدید کے چند فریب
انھی دھوکوں میں سے ایک بہت بڑا دھوکا وہ ہے جو موجودہ زمانے میں اجتماعی عدل (social justice)کے نام سے بنی نوع انسان کو دیا جارہا ہے۔ شیطان پہلے ایک مدت تک دنیا کو حریت فرد (individual liberty)اور فراخ دلی (liberalism)کے نام سے دھوکا دیتا رہا اور اس کی بنیاد پر اس نے اٹھارہویں صدی میں سرمایہ داری اور لادینی جمہوریت کا ایک نظام قائم کرایا۔ ایک وقت اس نظام کے غلبے کا یہ حال تھا کہ دنیا میں اسے انسانی ترقی کا حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا اور ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو ترقی پسند کہلانا چاہتا ہو مجبور تھا کہ اسی انفرادی آزادی اور فراخ دلی کا نعرہ لگائے۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حیات انسانی کے لیے اگر کوئی نظام ہے تو بس وہ یہی سرمایہ داری نظام اور یہی لادینی جمہوریت ہے جو مغرب میں قائم ہے۔ لیکن دیکھتے دیکھتے وہ وقت بھی آگیا جب ساری دنیا یہ محسوس کرنے لگی کہ اس شیطانی نظام نے زمین کو ظلم وجور سے بھر دیا ہے۔ اس کے بعد ابلیس لعین کے لیے ممکن نہ رہا کہ اس نعرے سے مزید کچھ مدت تک نوع انسانی کو دھوکا دے سکے۔
پھر کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ وہی شیطان ایک دوسرا فریب اجتماعی عدل اور اشتراکیت کے نام سے بنا لایا اور اب اس جھوٹ کے لباس میں وہ ایک دوسرا نظام قائم کروا رہا ہے۔ یہ نیا نظام اس وقت تک دنیا کے متعدد ملکوں کو ایک ایسے ظلم عظیم سے لبریز کرچکا ہے جس کی کوئی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں پائی جاتی، مگر اس کے فریب کا یہ زور ہے کہ بہت سے دوسرے ملک اسے ترقی کا حرف آخر سمجھ کر قبول کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ ابھی اس فریب کا پردہ پوری طرح چاک نہیں ہوا ہے۔
مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ایک دائمی و ابدی ہدایت موجود ہے جو انھیں شیطانی وساوس پر متنبہ کرنے اور زندگی کے تمام معاملات میں ہدایت کی روشنی دکھانے کے لیے ابد تک کافی ہے‘ مگر یہ مساکین اپنے دین سے جاہل اور استعمار کی تہذیبی و فکری تاخت سے بری طرح مغلوب ہیں۔ اس لیے ہر وہ نعرہ جو دنیا کی غالب قوموں کے کیمپ سے بلند ہوتا ہے‘ اس کی صدائے بازگشت فوراً ہی یہاں سے بلند ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ جس زمانے میں انقلاب فرانس کے اٹھائے ہوئے افکار کا زور تھا‘ مسلمان ملکوں میں ہر تعلیم یافتہ آدمی اپنا فرض سمجھتا تھا کہ انھی افکار کا موقع بے موقع اظہار کرے اور انھی کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈھالے۔ اس کے بغیر وہ سمجھتا تھا کہ اس کی کوئی عزت قائم نہ ہوگی اور وہ رُجعت پسند سمجھ لیا جائے گا۔ یہ دور جب گزر گیا تو ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی سمت قبلہ بھی تبدیل ہونے لگی اور نیا دور آتے ہی اجتماعی عدل اور اشتراکیت کے نعرے بلند کرنے والے ہمارے درمیان پیدا ہونے لگے۔ یہاں تک بھی بات قابلِ صبر تھی۔ لیکن غضب یہ ہے کہ ایک گروہ ہمارے اندر ایسا بھی اٹھتا رہا ہے جو اپنے قبلے کی ہر تبدیلی کے ساتھ چاہتا ہے کہ اسلام بھی اپنا قبلہ تبدیل کرے۔ گویا اسلام کے بغیر یہ بیچارے جی نہیں سکتے۔ اس کا ان کے ساتھ رہنا ضروری ہے، لیکن ان کی خواہش یہ ہے کہ جس کی پیروی کرکے یہ ترقی کرنا چاہتے ہیں اس کی پیروی سے اسلام بھی مشرف ہو جائے اوردین رجعی ہونے کے الزام سے بچ جائے۔ اسی بنا پر پہلے کوشش کی جاتی تھی کہ حریت فرد اور فراخ دلی اور سرمایہ داری اور بے دین جمہوریت کے مغربی تصورات کو عین اسلامی ثابت کیا جائے‘ اور اسی بنا پر اب یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ اسلام میں بھی اشتراکی تصور کی عدالت اجتماعیہ موجود ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کی ذہنی غلامی اور ان کی جاہلیت کی طغیانی ذلت کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
۲۔ عدالت ِ اجتماعیہ کی حقیقت
میں اس مختصر مقالے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عدالت اجتماعیہ درحقیقت نام کس چیز کا ہے اور اس کے قیام کی صحیح صورت کیا ہے۔ اگرچہ اس امر کی امید بہت کم ہے کہ جو لوگ اشتراکیت کو عدالت اجتماعیہ کے قیام کی واحد صورت سمجھ کر اسے نافذ کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ اپنی غلطی مان لیں گے اور اس سے رجوع کر لیں گے‘ کیونکہ جاہل جب تک محض جاہل رہتا ہے اس کی اصلاح کے بہت کچھ امکانات باقی رہتے ہیں‘ مگر جب وہ حاکم ہو جاتا ہے تو مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ۔۲۵۹؎کا زعم اسے کسی سمجھانے والے کی بات سمجھنے کے قابل نہیں رہنے دیتا، لیکن عامۃ الناس خدا کے فضل سے ہر وقت اس قابل رہتے ہیں کہ معقول طریقے سے بات سمجھا کر انھیں شیطان کے فریبوں پر متنبہ کیا جاسکے، اور یہی عامۃ الناس ہیں جنھیں فریب دے کر گمراہ اور گمراہ کن لوگ اپنی ضلالتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ اس لیے میرے اس مقالے کی غرض دراصل عام لوگوں کے سامنے حقیقت کو کھول کر بیان کر دینا ہے۔
اسلام ہی میں عدالت ِ اجتماعیہ
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات جو میں اپنے مسلمان بھائیوں کو سمجھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جو لوگ ’’اسلام میں بھی عدالت اجتماعیہ موجود ہے‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں وہ بالکل ایک غلط بات کہتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ہی میں عدالت ِ اجتماعیہ ہے۔ اسلام وہ دین حق ہے جو خالق کائنات اور رب کائنات نے انسان کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے، اور انسانوں کے درمیان عدل قائم کرنا اور یہ طے کرنا کہ ان کے لیے کیا چیز عدل ہے اور کیا عدل نہیں ہے‘ انسانوں کے خالق و رب ہی کاکام ہے۔ دوسرا کوئی نہ اس کا مجاز ہے کہ عدل و ظلم کا معیار تجویز کرے‘ اور نہ دوسرے کسی میں یہ اہلیت پائی جاتی ہے کہ حقیقی عدل قائم کرسکے۔ انسان اپنا آپ مالک اور حاکم نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے معیار عدل خود تجویز کرلینے کا مجاز ہو۔ کائنات میں اس کی حیثیت خدا کے مملوک اور رعیت کی ہے‘ اس لیے معیار عدل تجویز کرنا اس کا اپنا نہیں، بلکہ اس کے مالک اور فرماں روا کاکام ہے۔ پھر انسان خواہ‘ کتنے ہی بلند مرتبے کا ہو‘ اور خواہ ایک انسان نہیں بہت سے بلند مرتبہ انسان مل کر بھی اپنا ذہن استعمال کرلیں، بہرحال انسانی علم کی محدودیت اور عقل انسانی کی کوتاہی و نارسائی اور انسانی عقل پر خواہشات و تعصبات کی دست برد سے کسی حال میں بھی مفر نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ انسان خود اپنے لیے کوئی ایسا نظام بنا سکے جو درحقیقت عدل پر مبنی ہو۔ انسان کے بنائے ہوئے نظام میں ابتداء ً بظاہر کیسا ہی عدل نظر آئے‘ بہت جلدی عملی تجربہ یہ ثابت کر دیتا ہے کہ فی الحقیقت اس میں عدل نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہر انسانی نظام کچھ مدت تک چلنے کے بعد ناقص ثابت ہو جاتا ہے اور انسان اس سے بیزار ہو کر ایک دوسرے احمقانہ تجربے کی طرف پیش قدمی کرنے لگتا ہے۔ حقیقی عدل صرف اسی نظام میں ہوسکتا ہے جو ایک عالم الغیب و الشہادہ اور سُبُّوح و قدوس ہستی نے بنایا ہے۔
عدل ہی اسلام کا مقصود
دوسری بات جو آغاز ہی میں سمجھ لینی ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ جو شخص ’اسلام میں عدل‘ ہے کہتا ہے وہ حقیقت سے کم تر بات کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدل ہی اسلام کا مقصود ہے اور اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌo الحدید25:57
ہم نے اپنے رسولوں ؑ کو روشن نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ انسان انصاف پر قائم ہو‘ اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت طاقت اور لوگوں کے لیے فوائد ہیں‘ تاکہ اللہ یہ معلوم کرے کہ کون بے دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ قوی اور زبردست ہے۔
یہ دو باتیں ہیں جن سے اگر ایک مسلمان غافل نہ ہو تو وہ کبھی عدالت اجتماعیہ کی تلاش میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کسی دوسرے ماخذ کی طرف توجہ کرنے کی غلطی نہیں کرسکتا۔ جس لمحے اسے عدل کی ضرورت کا احساس ہوگا اسی لمحے اسے معلوم ہو جائے گا کہ عدل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے پاس نہ ہے‘ اور نہ ہوسکتا ہے، اور وہ یہ بھی جان لے گا کہ عدل قائم کرنے کے لیے اس کے سوا کچھ کرنا نہیں ہے کہ اسلام‘ پورے کا پورا اسلام‘ بلا کم و کاست اسلام‘ قائم کر دیا جائے۔ عدل‘ اسلام سے الگ کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ اسلام خود عدل ہے۔ اس کا قائم ہونا اور عدل کا قائم ہو جانا ایک ہی چیز ہے۔
۳۔عدلِ اجتماعی کیا ہے؟
اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ عدل اجتماعی درحقیقت ہے کس چیز کا نام اور اس کے قیام کی صحیح صورت کیا ہے؟
انسانی شخصیت کی نشوونما
ہر انسانی معاشرہ ہزاروں‘ لاکھوں اور کروڑوں افراد سے مل کر بنتا ہے۔ اس مرکب کا ہر فرد ذی روح‘ ذی عقل اور ذی شعور ہے۔ ہر فرد اپنی ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے جسے پھلنے پھولنے اور نشوونما پانے کے لیے مواقع درکار ہیں۔ ہر فرد کا اپنا ایک ذاتی ذوق ہے۔ اس کے اپنے نفس کی کچھ رغبات و خواہشات ہیں۔ اس کے اپنے جسم و روح کی کچھ ضروریات ہیں۔ ان افراد کی حیثیت کسی مشین کے بے روح پرزوں کی سی نہیں ہے کہ اصل چیز مشین ہو، اور یہ پرزے اس مشین ہی کے لیے مطلوب ہوں‘ اور بجائے خود پرزوں کی کوئی شخصیت نہ ہو، بلکہ اس کے برعکس انسانی معاشرہ جیتے جاگتے انسانوں کا ایک مجموعہ ہے۔ یہ افراد اس مجموعے کے لیے نہیں ہیں بلکہ مجموعہ ان افراد کے لیے ہے‘ اور افراد جمع ہو کر یہ مجموعہ بناتے ہی اس غرض کے لیے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد سے انھیں اپنی ضروریات حاصل کرنے اور اپنے نفس و جسم کے مطالبات اور تقاضے پورے کرنے کے مواقع ملیں۔
انفرادی جواب دہی
پھر یہ تمام افراد فردًافردًاخدا کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ہر ایک کو اس دنیا میں ایک خاص مدت امتحان (جو ہر فرد کے لیے الگ مقرر ہے) گزارنے کے بعد اپنے خدا کے حضور جاکر حساب دینا ہے کہ جو قوتیں اور صلاحیتیں اسے دنیا میں دی گئی تھیں ان سے کام لے کر اور جو ذرائع اسے عطا کیے گئے تھے ان پر کام کرکے وہ اپنی کیا شخصیت بنا کر لایا ہے۔ خدا کے سامنے انسان کی یہ جواب دہی اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی ہے۔ وہاں کنبے اور قبیلے اور قومیں کھڑی ہو کر حساب نہیں دیں گی‘ بلکہ دنیا کے تمام رشتوں سے کاٹ کر اللہ تعالیٰ ہر ہر انسان کو الگ الگ اپنی عدالت میں حاضر کرے گا اور فردًافردًااس سے پوچھے گا کہ تو کیا کرکے آیا ہے اور کیا بن کر آیا ہے۔
انفرادی آزادی
یہ دونوں امور____ یعنی دنیا میں انسانی شخصیت کا نشوونما اور آخرت میں انسان کی جواب دہی ____ اسی بات کے طالب ہیں کہ دنیا میں فرد کو حریت حاصل ہو۔ اگر کسی معاشرے میں فرد کو اپنی پسند کے مطابق اپنی شخصیت کی تکمیل کے مواقع حاصل نہ ہوں تو اس کے اندر انسانیت ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے‘ اس کا دم گھٹنے لگتا ہے‘ اس کی قوتیں اور قابلیتیں دب کر رہ جاتی ہیں اور اپنے آپ کو محصور و محبوس پاکر انسان جمود و تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر آخرت میں ان محبوس و محصور افراد کے قصوروں کی بیش تر ذمے داریاں ان لوگوں کی طرف منتقل ہو جانے والی ہیں جو اس قسم کے اجتماعی نظام کو بنانے اور چلانے کے ذمے دار ہوں۔ ان سے صرف ان کے انفرادی اعمال ہی کا محاسبہ نہ ہوگا، بلکہ اس بات کا محاسبہ بھی ہوگا کہ انھوں نے ایک جابرانہ نظام قائم کرکے دوسرے بے شمار انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف اور اپنی مرضی کے مطابق ناقص شخصیتیں بننے پر مجبور کیا۔ ظاہر ہے کہ کوئی مومن بالآخر یہ بھاری بوجھ اٹھا کر خدا کے سامنے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہ اگر خدا سے ڈرنے والا انسان ہے تو لازمًا وہ افراد کو زیادہ سے زیادہ حریت دینے کی طرف مائل ہوگا تاکہ ہر فرد جو کچھ بھی بنے اپنی ذمے داری پر بنے۔ اس کے ایک غلط شخصیت بننے کی ذمے داری اجتماعی نظام چلانے والے پر عاید نہ ہو جائے۔
اجتماعی ادارے اور ان کا اقتدار
یہ معاملہ تو ہے انفرادی آزادی کا۔ دوسری طرف معاشرے کو دیکھیے جو کنبوں‘ قبیلوں‘ قوموں اور پوری انسانیت کی شکل میں علی الترتیب قائم ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا ایک مرد اور ایک عورت اور ان کی اولاد سے ہوتی ہے، جس سے خاندان بنتا ہے۔ ان خاندانوں سے قبیلے اور برادریاں بنتی ہیں‘ ان سے ایک قوم وجود میں آتی ہے‘ اور قوم اپنے اجتماعی اداروں کی تنفیذ کے لیے ایک ریاست کا نظام بناتی ہے۔ ان مختلف شکلوں میں یہ اجتماعی ادارے اصلاً جس غرض کے لیے مطلوب ہیں وہ یہ ہے کہ ان کی حفاظت اور ان کی مدد سے فرد کو اپنی شخصیت کی تکمیل کے وہ مواقع نصیب ہوسکیں جو وہ تنہا اپنے بل بوتے پر حاصل نہیں کرسکتا، لیکن اس بنیادی مقصد کا حصول اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے ہر ایک ادارے کو افراد پر‘ اور بڑے ادارے کو چھوٹے اداروں پر اقتدار حاصل ہو، تاکہ وہ افراد کی ایسی آزادی کو روک سکیں جو دوسروں پر دست درازی کی حد تک پہنچتی ہو‘ اور افراد سے وہ خدمت لے سکیں جو بحیثیت مجموعی تمام افراد معاشرہ کی فلاح و ترقی کے لیے مطلوب ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر عدالت اجتماعیہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور انفرادیت و اجتماعیت کے متضاد تقاضے ایک گتھی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ایک طرف انسانی فلاح اس بات کی مقتضی ہے کہ فرد کو معاشرے میں آزادی حاصل ہو، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور اپنی پسند کے مطابق اپنی شخصیت کی تکمیل کرسکے، اور اسی طرح خاندان‘ قبیلے‘ برادریاں‘ اور مختلف گروہ بھی اپنے سے بڑے دائرے کے اندر اس آزادی سے متمتع ہوں جو ان کے اپنے دائرۂ عمل میں انھیں حاصل ہونی ضروری ہے، مگر دوسری طرف انسانی فلاح ہی اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ افراد پر خاندان کا‘ خاندانوں پر قبیلوں اور برادریوں کا‘ اور تمام افراد اور چھوٹے اداروں پر ریاست کا اقتدار ہو‘ تاکہ کوئی اپنی حد سے تجاوز کرکے دوسروں پر ظلم و تعدّی نہ کرسکے، اور یہی مسئلہ آگے چل کر پوری انسانیت کے لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف ہر قوم اور ریاست کی آزادی و خود مختاری کا برقرار رہنا بھی ضروری ہے‘ اور دوسری طرف کسی بالا تر قوتِ ضابطہ کا ہونا بھی ضروری ہے کہ یہ قومیں اور ریاستیں حد سے تجاوز نہ کرسکیں۔
اب عدالت ِ اجتماعیہ درحقیقت جس چیز کا نام ہے وہ یہ ہے کہ افراد‘ خاندانوں‘ قبیلوں‘ برادریوں اور قوموں میں سے ہر ایک کو مناسب آزادی بھی حاصل ہو، اور اس کے ساتھ ظلم و عدوان کو روکنے کے لیے مختلف اجتماعی اداروں کو افراد پر اور ایک دوسرے پر اقتدار بھی حاصل رہے‘ اور مختلف افراد و مجتمعات سے وہ خدمت بھی لی جاسکے جو اجتماعی فلاح کے لیے درکار ہے۔
سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خامیاں
اس حقیقت کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے گا وہ پہلی ہی نظر میں یہ جان لے گا کہ جس طرح حریت فرد‘ فراخ دلی‘ سرمایہ داری اور بے دین جمہوریت کا وہ نظام، اجتماعی عدل کے منافی تھا جو انقلاب فرانس کے نتیجے میں قائم ہوا تھا‘ ٹھیک اسی طرح، بلکہ اس سے بھی زیادہ اشتراکیت بھی اس کے قطعی منافی ہے جو کارل مارکس اور اینجلز کے نظریات کی پیروی میں اختیار کی جارہی ہے۔ پہلے نظام کا قصور یہ تھا کہ اس نے فرد کو حد مناسب سے زیادہ آزادی دے کر خاندان‘ قبیلے‘ برادری‘ معاشرے اور قوم پر تعدّی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی اور اس سے اجتماعی فلاح کی خدمت لینے کے لیے معاشرے کی قوتِ ضابطہ کو بہت ڈھیلا کر دیا، اور اس دوسرے نظام کا قصور یہ ہے کہ یہ ریاست کو حد سے زیادہ طاقت ور بنا کر افراد‘ خاندانوں‘ قبیلوں اور برادریوں کی آزادی قریب قریب بالکل سلب کرلیتا ہے‘ اور افراد سے مجتمع کی خدمت لینے کے لیے ریاست کو اتنا زیادہ اقتدار دے دیتا ہے کہ افراد ذی روح انسانوں کے بجائے ایک مشین کے بے روح پرزوں کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔ بالکل جھوٹ کہتا ہے جو کہتا ہے کہ اس طریقے سے عدالتِ اجتماعیہ قائم ہوسکتی ہے۔
اشتراکیت: ظلمِ اجتماعی کی بدترین شکل
درحقیقت یہ ظلمِ اجتماعی کی وہ بدترین صورت ہے جو کبھی کسی نمرود‘ کسی فرعون اور کسی چنگیز خان کے دور میں بھی نہ رہی تھی۔ آخر اس چیز کو کون صاحب عقل اجتماعی عدل سے تعبیر کرسکتا ہے کہ ایک شخص یا چند اشخاص بیٹھ کر اپنا ایک اجتماعی فلسفہ تصنیف کرلیں‘ پھر حکومت کے غیر محدود اختیارات سے کام لے کر اس فلسفے کو زبردستی ایک پورے ملک کے رہنے والے کروڑوں افراد پر زبردستی مسلط کر دیں۔ لوگوں کے اموال ضبط کریں‘ زمینوں پر قبضہ کریں‘ کارخانوں کو قومی ملکیت بنائیں اور پورے ملک کو ایک ایسے جیل خانے میں تبدیل کر دیں جس میں تنقید‘ فریاد‘ شکایت‘ استغاثے اور عدالتی انصاف کا ہر دروازہ لوگوں کے لیے مسدود ہو۔ ملک کے اندر کوئی جماعت نہ ہو‘ کوئی تنظیم نہ ہو‘ کوئی پلیٹ فارم نہ ہو جس پر لوگ زبان کھول سکیں‘ کوئی پریس نہ ہو جس میں لوگ اظہار خیال کرسکیں‘ اور کوئی عدالت نہ ہوجس کا دروازہ انصاف کے لیے کھٹکھٹا سکیں۔ جاسوسی کا نظام اتنے بڑے پیمانے پر پھیلا دیا جائے کہ ہر ایک آدمی دوسرے آدمی سے ڈرنے لگے کہ کہیں یہ جاسوس نہ ہو۔ حتیٰ کہ اپنے گھر میں بھی ایک آدمی زبان کھولتے ہوئے پہلے چاروں طرف دیکھ لے کہ کوئی کان اس کی بات سننے اور کوئی زبان اسے حکومت تک پہنچانے کے لیے کہیں پاس ہی موجود نہ ہو۔ پھر جمہوریت کا فریب دینے کے لیے انتخابات کروائے جائیں‘ مگر پوری کوشش کی جائے کہ اس فلسفے کی تصنیف کرنے والوں سے اختلاف رکھنے والا کوئی شخص ان انتخابات میں حصہ نہ لے سکے‘ اور نہ کوئی ایسا شخص ان میں دخیل ہوسکے جو خود اپنی کوئی رائے بھی رکھتا ہو، اور اپنا ضمیر فروخت کرنے والا بھی نہ ہو۔
بالفرض اس طریقے سے اگر معاشی دولت کی مساوی تقسیم ہو بھی سکے____ درآںحالیکہ آج تک کوئی اشتراکی نظام ایسا نہیں کرسکا ہے____ تب بھی کیا عدل محض معاشی مساوات کا نام ہے؟ میں یہ سوال نہیں کرتا کہ اس نظام کے حاکموں اور محکوموں کے درمیان بھی معاشی مساوات ہے یا نہیں؟ میں یہ بھی نہیں پوچھتا کہ اس نظام کا ڈکٹیٹر اور اس کے اندر رہنے والا ایک کسان‘ کیا اپنے معیار زندگی میں مساوی ہیں؟ میں صرف یہ پوچھتا ہوں کہ اگر ان سب کے درمیان واقعی پوری معاشی مساوات قائم بھی ہو جائے تو کیا اس کا نام اجتماعی عدل ہوگا؟ کیا عدل یہی ہے کہ ڈکٹیٹر اور اس کے ساتھیوں نے جو فلسفہ گھڑا ہے اس کو تو وہ پولیس اور فوج اور جاسوسی نظام کی طاقت سے بالجبر ساری قوم پر مسلط کر دینے میں بھی آزاد ہو، اور قوم کا کوئی فرد اس فلسفے پر، یا اس کی تنفیذ کے کسی چھوٹے سے چھوٹے جزوی عمل پر محض زبان سے ایک لفظ نکالنے تک میں آزاد نہ ہو؟ کیا یہ عدل ہے کہ ڈکٹیٹر اور اس کے چند مٹھی بھر حامی اپنے فلسفے کی ترویج کے لیے تمام ملک کے ذرائع و وسائل استعمال کرنے اور ہر قسم کی تنظیمات بنانے کے حق دار ہوں، مگر ان سے مختلف رائے رکھنے والے دو آدمی بھی مل کر کوئی تنظیم نہ کرسکیں‘ کسی مجمعے کو خطاب نہ کرسکیں‘ اور کسی پریس میں ایک لفظ بھی شائع نہ کرا سکیں؟ کیا یہ عدل ہے کہ تمام زمین داروں اور کارخانہ داروں کو بے دخل کرکے پورے ملک میں صرف ایک ہی زمین دار اور کارخانہ دار رہ جائے جس کا نام حکومت ہو‘ اور وہ حکومت چند گنے چنے آدمیوں کے ہاتھ میں ہو‘ اور وہ آدمی ایسی تمام تدابیر اختیار کر لیں جن سے پوری قوم بالکل بے بس ہو جائے اور حکومت کے اختیارات کا ان کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھ میں چلا جانا قطعی ناممکن ہو جائے؟
انسان اگر محض پیٹ کا نام نہیں ہے‘ اور انسانی زندگی اگر صرف معاش تک محدود نہیں ہے‘ تو محض معاشی مساوات کو عدل کیسے کہا جاسکتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ظلم و جور قائم کرکے‘ اور انسانیت کے ہر رخ کو دبا کر صرف معاشی دولت کی تقسیم میں لوگوں کو برابر بھی کردیا جائے‘ اور خود ڈکٹیٹر اور اس کے اذناب بھی اپنے معیار زندگی میں لوگوں کے برابر ہو کر رہیں‘ تب بھی اس ظلم عظیم کے ذریعے سے یہ مساوات قائم کرنا اجتماعی عدل قرار نہیں پاسکتا بلکہ یہ‘ جیسا کہ ابھی میں آپ سے عرض کر چکا ہوں‘ وہ بدترین اجتماعی ظلم ہے جس سے تاریخ انسانی کبھی اس سے پہلے آشنا نہ ہوئی تھی۔
۴۔اسلام میں عدل کا تصور
اب میں اختصار کے ساتھ آپ کو بتائوں گا کہ اسلام میں جس چیز کا نام عدل ہے وہ کیا ہے۔ اسلام میں اس امر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کوئی شخص‘ یا انسانوں کا کوئی گروہ انسانی زندگی میں عدل کا کوئی فلسفہ اور اس کے قیام کا کوئی طریقہ بیٹھ کر خود گھڑ لے اور اسے بالجبر لوگوں پر مسلط کر دے اور کسی بولنے والی زبان کو حرکت نہ کرنے دے۔ یہ مقام ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ کو تو کیا‘ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل نہ تھا۔ اسلام میں کسی ڈکٹیٹر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ صرف خدا ہی کا یہ مقام ہے کہ انسان اس کے حکم کے آگے بے چون و چرا سر جھکا دیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس کے حکم کے تابع تھے اور ان کے حکم کی اطاعت صرف اس لیے فرض تھی کہ وہ خدا کی طرف سے حکم دیتے تھے نہ کہ معاذ اللہ اپنے نفس سے گھڑ کر کوئی فلسفہ لے آتے تھے۔ رسولؐ اور خلفائے رسولؐ کے نظام حکم میں صرف شریعت الٰہیہ تنقید سے بالاتر تھی۔ اس کے بعد ہر شخص کو ہر وقت ہر معاملے میں زبان کھولنے کا پورا حق حاصل تھا۔
آزادیِ فرد کے حدود
اسلام میں اللہ تعالیٰ نے خود وہ حدود قائم کردیے ہیں جن میں افراد کی آزادی کو محدود ہونا چاہیے۔ اس نے خود متعین کر دیا ہے کہ ایک فرد مسلم کے لیے کون کون سے افعال حرام ہیں جن سے اس کو بچنا چاہیے اور کیا کچھ اس پر فرض ہے جسے اس کو ادا کرنا چاہیے۔ کیا حقوق اس کے دوسروں پر ہیں اور کیا حقوق دوسروں کے اس پر ہیں۔ کن ذرائع سے ایک مال کی ملکیت کا اس کی طرف منتقل ہونا جائز ہے اور کون سے ذرائع ایسے ہیں جن سے حاصل ہونے والے مال کی ملکیت جائز نہیں ہے۔ افراد کی بھلائی کے لیے مجتمع پر کیا فرائض عاید ہوتے ہیں اور مجتمع کی بھلائی کے لیے افراد پر‘ خاندانوں اور برادریوں پر اور پوری قوم پر کیا پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں اور کیا خدمات لازم کی جاسکتی ہیں۔ یہ تمام امور کتاب و سنت کے اس مستقل دستور میں ثبت ہیں جس پر کوئی نظرثانی کرنے والا نہیں ہے اور جس میں کسی کو کمی و بیشی کر دینے کا حق نہیں ہے۔ اس دستور کی رو سے ایک شخص کی انفرادی آزادیوں پر جو پابندیاں عاید کر دی گئی ہیں ان سے تجاوز کرنے کا تو وہ حق نہیں رکھتا، لیکن ان حدود کے اندر جو آزادی اس کو حاصل ہے اسے سلب کر لینے کا بھی کسی کو حق نہیں ہے۔ کسب اموال کے جن ذرائع اور صَرفِ مال کے جن طریقوں کو حرام کر دیا گیا ہے ان کے وہ قریب نہیں پھٹک سکتا اور پھٹکے تو اسلامی قانون اسے مستوجب سزا سمجھتا ہے‘ لیکن جو ذرائع حلال ٹھیرائے گئے ہیں ان سے حاصل ہونے والی ملکیت پر اس کے حقوق بالکل محفوظ ہیں اور اس میں تصرف کے جو طریقے جائز کیے گئے ہیں ان سے کوئی اس کو محروم نہیں کرسکتا۔ اسی طرح مجتمع کی فلاح کے لیے جو فرائض افراد پر عاید کر دیے گئے ہیں، ان کے ادا کرنے پر تو وہ مجبور ہے‘ لیکن اس سے زائد کوئی بار جبراً اس پر عاید نہیں کیا جاسکتا‘ الایہ کہ وہ خود رضا کارانہ ایسا کرے، اور یہی حال مجتمع اور ریاست کا بھی ہے کہ افراد کے جو حقوق اس پر عاید کیے گئے ہیں انھیں ادا کرنا اس پر اتنا ہی لازم ہے جتنا افراد سے اپنے حقوق وصول کرنے کے اسے اختیارات ہیں۔ اس مستقل دستور کو اگر عملاً نافذ کر دیا جائے تو ایسا مکمل عدل اجتماعی قائم ہوتا ہے جس کے بعد کوئی شے مطلوب باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ دستور جب تک موجود ہے اس وقت تک کوئی شخص خواہ کتنی ہی کوشش کرے‘ مسلمانوں کو ہرگز اس دھوکے میں نہیں ڈال سکتا کہ جو اشتراکیت اس نے کسی جگہ سے مستعار لے لی ہے وہی عین اسلام ہے۔
اسلام کے اس دستور میں فرد اور مجتمع کے درمیان ایسا توازن قائم کیا گیا ہے کہ نہ فرد کو وہ آزادی دی گئی ہے جس سے وہ مجتمع کے مفاد کو نقصان پہنچا سکے اور نہ مجتمع کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ فرد سے اس کی وہ آزادی سلب کرسکے جو اس کی شخصیت کے نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
انتقالِ دولت کے شرائط
اسلام ایک فرد کی طرف دولت کے انتقال کی صرف تین صورتیں معین کر دیتا ہے۔
۱۔وراثت، ۲۔ ہبہ، ۳۔کسب۔
وراثت صرف وہ معتبر ہے جو کسی مال کے جائز مالک سے اس کے وارث کو شرعی قاعدے کے مطابق پہنچے۔
ہبہ یا عطیہ، صرف وہ معتبر ہے جو کسی مال کے جائز مالک نے شرعی حدود کے اندر دیا ہو، اور اگر یہ عطیہ کسی حکومت کی طرف سے ہو تو وہ اسی صورت میں جائز ہے جب کہ وہ کسی صحیح خدمت کے صلے میں یا مجتمع کے مفاد کے لیے املاک حکومت میں سے معروف طریقے پر دیا گیا ہو۔ نیز اس طرح کا عطیہ دینے کی حق دار بھی وہ حکومت ہے جو شرعی دستور کے مطابق شوریٰ کے طریقے پر چلائی جارہی ہو اور جس سے محاسبہ کرنے کی قوم کو آزادی حاصل ہو۔
رہا کسب تو اسلام میں صرف وہ کسب جائز ہے جو کسی حرام طریقے سے نہ ہو۔ سرقہ‘ غصب‘ ناپ تول میں کمی بیشی‘ خیانت‘ رشوت‘ غبن‘ قحبہ گری‘ احتکار‘ ۲۶۰؎ سود‘ جوا‘ دھوکے کا سودا‘ مسکرات کی صنعت و تجارت اور اشاعت فاحشہ کرنے والے کاروبار کے ذریعے سے کسب اسلام میں حرام ہے۔ ان حدود کی پابندی کرتے ہوئے جو دولت بھی کسی کو ملے وہ اس کی جائز ملک ہے‘ قطع نظر اس سے کہ وہ کم ہو یا زیادہ۔ ایسی ملکیت کے لیے نہ کمی کی کوئی حد مقرر کی جا سکتی ہے نہ زیادتی کی۔ نہ اس کا کم ہونا اس بات کو جائز کر دیتا ہے کہ دوسروں سے چھین کر اس میں اضافہ کیا جائے‘ اور نہ اس کا زیادہ ہونا اس امر کے لیے کوئی دلیل ہے کہ اسے زبردستی کم کیا جائے، البتہ جو دولت ان جائز حدود سے تجاوز کرکے حاصل ہوئی ہو، اس کے بارے میں یہ سوال اٹھانے کا مسلمانوں کو حق پہنچتا ہے کہ مِنْ اَیْنَ لَکَ ھٰذا (یہ تجھے کہاں سے ملا)۔ اس دولت کے بارے میں پہلے قانونی تحقیق ہونی چاہیے‘ پھر اگر ثابت ہو جائے کہ وہ جائز ذرائع سے حاصل نہیں ہوئی ہے تو اسے ضبط کرنے کا اسلامی حکومت کو پورا حق پہنچتا ہے۔
صَرفِ دولت پرپابندیاں
جائز طریقے پر حاصل ہونے والی دولت پر تصرف کے بارے میں بھی فرد کو بالکل کھلی چھوٹ نہیں دے دی گئی ہے، بلکہ اس پر کچھ قانونی پابندیاں عاید کر دی گئی ہیں، تاکہ کوئی فرد اپنی ملکیت میں کسی ایسے طریقے پر تصرف نہ کرسکے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو‘ یا جس میں خود اس فرد کے دین و اخلاق کا نقصان ہو۔ اسلام میں کوئی شخص اپنی دولت کو فسق و فجور میں صرف نہیں کرسکتا۔ شراب نوشی اور قمار بازی کا دروازہ اس کے لیے بند ہے۔ زنا کا دروازہ بھی اس کے لیے بند ہے۔ وہ آزاد انسانوں کو پکڑ کر انھیں لونڈی غلام بنانے اور ان کی بیع و شریٰ کرنے کا بھی کسی کو حق نہیں دیتا کہ دولت مند لوگ اپنے گھروں کو خریدی ہوئی لونڈیوں سے بھر لیں۔ اسراف اور حد سے زیادہ ترفہ اور تنعم پر بھی وہ حدود عاید کرتا ہے اور وہ اسے بھی جائز نہیں رکھتا کہ تم خود عیش کرو اورتمھارا ہمسایہ رات کو بھوکا سوئے۔ اسلام صرف مشروع اور معروف طریقے پر ہی دولت سے متمتع ہونے کا آدمی کو حق دیتا ہے اور اگر ضرورت سے زائد دولت کو مزید دولت کمانے کے لیے کوئی شخص استعمال کرنا چاہے تو وہ کسبِ مال کے صرف حلال طریقے ہی اختیار کرسکتا ہے۔ ان حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا جو شریعت نے کسب پر عاید کر دی ہیں۔
معاشرتی خدمت
پھر اسلام معاشرے کی خدمت کے لیے ہر اس فرد پر جس کے پاس نصاب سے زائد مال جمع ہو زکوٰۃ عاید کرتا ہے۔ نیز وہ اموالِ تجارت پر‘ زمین کی پیداوار پر‘ مواشی پر‘ اور بعض دوسرے اموال پر بھی ایک خاص شرح سے زکوٰۃ مقرر کرتا ہے۔ آپ دنیا کے کسی ملک کو لے لیجیے اور حساب لگا کر دیکھ لیجیے کہ اگر شرعی طریقے کے مطابق وہاں باقاعدہ زکوٰۃ وصول کی جائے اور اسے قرآن کے مقرر کیے ہوئے مصارف میں باقاعدہ تقسیم کیا جائے تو کیا چند سال کے اندر وہاں ایک شخص بھی حاجات زندگی سے محروم رہ سکتا ہے۔
اس کے بعد جو دولت کسی ایک فرد کے پاس مرتکز ہوگئی ہو‘ اسلام اس کے مرتے ہی اس دولت کو وراثت میں تقسیم کر دیتا ہے، تاکہ یہ ارتکاز ایک دائمی اور مستقل ارتکاز بن کر نہ رہ جائے۔
استیصالِ ظلم
اس کے علاوہ اسلام اگرچہ اس کو پسند کرتا ہے کہ مالک زمین اور مزارع‘ یا کارخانہ دار اور مزدور کے درمیان خود باہمی رضامندی سے معروف طریقے پر معاملات طے ہوں‘ اور قانون کی مداخلت کی ضرورت پیش نہ آئے۔ لیکن جہاں کہیں ان معاملات میں ظلم ہو رہا ہو وہاں اسلامی حکومت مداخلت کرنے کا پورا حق رکھتی ہے اور قانون کے ذریعے سے انصاف کے حدود قائم کرسکتی ہے۔
مصالحِ عامہ کے لیے قومی ملکیت کے حدود
اسلام اس امر کو حرام نہیں کرتا کہ کسی صنعت یا کسی تجارت کو حکومت اپنے انتظام میں چلائے۔ اگر کوئی صنعت یا تجارت ایسی ہو جس کی اجتماعی مصالح کے لیے ضرورت تو ہو، مگر افراد اس کو چلانے کے لیے تیار نہ ہوں‘ یا افراد کے انتظام میں اس کا چلنا اجتماعی مفاد کے خلاف ہو تو اسے حکومت کے انتظام میں چلایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی صنعت یا تجارت کچھ افراد کے ہاتھوں میں ایسے طریقوں سے چل رہی ہوجو اجتماعی مفاد کے لیے نقصان دہ ہو تو حکومت ان افراد کو معاوضہ دے کر وہ کاروبار اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے اور کسی دوسرے مناسب طریقے سے اس کے چلانے کا انتظام کرسکتی ہے۔ ان تدابیر کے اختیار کرنے میں کوئی مانع شرعی نہیں ہے۔ لیکن اسلام اس بات کو ایک اصول کی حیثیت سے قبول نہیں کرتا، کہ دولت کی پیداوار کے تمام ذرائع حکومت کی ملک میں ہوں اور حکومت ہی ملک کی واحد صَنّاع و تاجر اور مالکِ اراضی ہو۔
بیت المال میں تصرف کے شرائط
بیت المال کے بارے میں اسلام کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اللہ اور مسلمانوں کا مال ہے اور کسی شخص کو اس پر مالکانہ تصرف کا حق نہیں ہے۔ مسلمانوں کے تمام امور کی طرح بیت المال کا انتظام بھی قوم یا اس کے آزاد نمائندوں کے مشورے سے ہونا چاہیے۔ جس شخص سے بھی کچھ لیا جائے‘ اور جس مصرف میں بھی مال صرف کیا جائے وہ جائز شرعی طریقے پر ہونا چاہیے اور مسلمانوں کو اس پر محاسبے کا پورا حق ہے۔
ایک سوال
اس کلام کو ختم کرتے ہوئے میں ہر سوچنے والے انسان سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اگر عدالت ِ اجتماعیہ صرف معاشی عدل ہی کا نام ہے تو کیا یہ معاشی عدل جو اسلام قائم کرتا ہے‘ ہمارے لیے کافی نہیں ہے؟ کیا اس کے بعد کوئی ضرورت ایسی باقی رہ جاتی ہے جس کی خاطر تمام افراد کی آزادیاں سلب کرنا‘ لوگوں کے اموال ضبط کرنا‘ اور ایک پوری قوم کو چند آدمیوں کا غلام بنا دینا ہی ناگزیر ہو؟
آخر اس میں کیا چیز مانع ہے کہ ہم مسلمان اپنے ملکوں میں اسلامی دستور کے مطابق خالص شرعی حکومتیں قائم کریں اور ان میں خدا کی پوری شریعت کو بلا کم و کاست نافذ کردیں۔ جس روز بھی ہم ایسا کریں گے‘ صرف یہی نہیں کہ ہمیں اشتراکیت سے کسب فیض کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے گی‘ بلکہ خود اشتراکیت زدہ ممالک کے لوگ ہمارے نظامِ زندگی کو دیکھ کر یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ جس روشنی کے بغیر وہ تاریکی میں بھٹک رہے تھے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔


باب ۱۵

 

اس حصے کا آخری مضمون: اسلامی ریاست کے رہنما اصول ہے۔ یہ مضمون مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے ان حواشی سے مرتب کیا گیا ہے جو موصوف نے اپنی مشہور تفسیر تفہیم القرآن میں سپرد قلم فرمائے ہیں۔ مولانا کی یہ تفسیر دور حاضر کے اسلامی لٹریچر کا شاہکار ہے۔ ہم حصۂ اول میں اس تفسیر کے حواشی سے اسلام کے سیاسی تصورات کو پیش کر چکے ہیں اور اب اسلامی ریاست کے نظامِ کار اور اس کی پالیسی کے رہنما اصول بیان کیے جارہے ہیں۔ اس میں اختصار، مگر جامعیت کے ساتھ وہ اصول آگئے ہیں جن کی رہنمائی میں اسلامی ریاست اپنی سیاسی‘ معاشی‘ تعلیمی اور معاشرتی پالیسی کی تشکیل کرے گی۔ ان میں سے ہر اصول اپنی مستقل حیثیت رکھتا ہے اور اگر ان پر عمل کیا جائے تو بہترین معاشرہ وجود میں آسکتا ہے ____ اور یہی اسلام چاہتا ہے، تاکہ اس زمین پر انسان اس طرح زندگی گزارے کہ یہاں بھی امن و چین قائم ہو، اور آخرت کی زندگی میں بھی وہ سرخ رُو ہو۔ آیات کا ترجمہ اور ان کی تشریح مولانا محترم کے قلم سے ہیں اور مرتب نے سلسلۂ کلام کو جوڑنے کے لیے درمیان میں اپنی طرف سے حسب ضرورت چند جملوں کا اضافہ کر دیا ہے۔ اب اپنے موضوع پر یہ مضمون ایک جامع چیز ہے۔(مرتب)

 

اسلامی ریاست کے رہنما اُصول

(قرآن کی روشنی میں) ۱۔ حکومت کا مقصد
قرآن کی نگاہ میں حکومت کا مقصد نیکی‘ انصاف اور قانونِ الٰہی کا قیام ہے:
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِo الحج 41:22
یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے، اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔
یعنی اللہ کے مدد گار اور اس کی تائید و نصرت کے مستحق لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انھیں حکومت و فرماں روائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت ِ صلوٰۃ ہو‘ ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو‘ ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے‘ اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کارفرمائوں کی خصوصیات کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت فی الواقع کس چیز کا نام ہے۔۲۶۱؎
اس امت کا شرف و امتیاز ہی یہ ہے کہ یہ پوری انسانیت کے لیے حق‘ خیر اور معروف کی داعی بنائی گئی ہے اور اسے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس کام کو انجام دینا ہے:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ
البقرہ 143:2
اور اسی طرح تو ہم نے تمھیں ایک ’امت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔
یہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا اعلان ہے۔ ’’اسی طرح‘‘ کا اشارہ دونوں طرف ہے، اللہ کی اُس راہ نمائی کی طرف بھی‘ جس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اس مرتبے پر پہنچے کہ امت وسط قرار دیے گئے‘ اور تحویل قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں‘ حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سمت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور امت ِ محمدیہ کو اس پر فائز کر دیا۔
’امت وسط‘ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے مراد: ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو‘ جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو‘ جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔
پھر یہ جو فرمایا کہ تمھیںامت وسط اس لیے بنایا گیا ہے کہ ’تم لوگوں پر گواہ ہو، اور رسول تم پر گواہ ہو‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں جب پوری نوع انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا اس وقت رسولؐ ہمارے ذمے دار نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا کہ فکر صحیح اور عملِ صالح اور نظامِ عدل کی جو تعلیم ہم نے اسے دی تھی وہ اس نے تم کو بے کم و کاست پوری کی پوری پہنچا دی، اور عملاً اس کے مطابق کام کرکے دکھادیا۔ اس کے بعد رسولؐ کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسولؐ نے جو کچھ تمھیں پہنچایا تھا وہ تم نے انھیں پہنچانے میں اور جو کچھ رسولؐ نے تمھیں دکھایا تھا وہ تم نے انھیں دکھانے میں اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔
اس طرح کسی شخص یا گروہ کا اس دنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔ اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے لیے خدا ترسی‘ راست روی‘ عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے‘ اسی طرح اس امت کو بھی تمام دنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتیٰ کہ اس کے قول اور عمل اور برتائو، ہر چیز کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے‘ راست روی یہ ہے‘ عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔ پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمے داری بڑی سخت تھی، حتیٰ کہ اگر وہ اس میں ذرا سی کوتاہی بھی کرتے تو خدا کے ہاں ماخوذ ہوتے‘ اسی طرح دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمے داری ہم پر عاید ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت جو تیرے رسولؐ کے ذریعے سے ہم تک پہنچی تھی، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے تو ہم بہت بری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخروہاں ہمیں لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فتنے اور فساد خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں ان سب کے لیے ائمہ شر اور شیاطین انس و جن کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔ ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دنیا میں معصیت، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا‘ تو تم کہاں مر گئے تھے؟۲۶۲؎
(ج) كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ آل عمران110:3
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو‘ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہ وہی مضمون ہے جو سورہ بقرہ کے سترھویں رکوع میں بیان ہو چکا ہے۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کو بتایا جارہا ہے کہ دنیا کی امامت و رہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیل اپنی نااہلی کے باعث معزول کیے جاچکے ہیں اس پر اب تم مامور کیے گئے ہو۔ اس لیے کہ اخلاق و عمل کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گئے ہو، اور تم میں وہ صفات پیدا ہوگئی ہیں جو امامتِ عادلہ کے لیے ضروری ہیں، یعنی نیکی کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و عمل اور اللہ وحدہ‘ لاشریک کو اعتقادًا و عملاً اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرنا۔ لہٰذا اب یہ کام تمھارے سپرد کیا گیا ہے اور تمھیں لازم ہے کہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھو اور غلطیوں سے بچو جو تمھارے پیش رو کر چکے ہیں۔۲۶۳؎
(د) لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۝۰ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَo كَانُوْا لَا يَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْہُ۝۰ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَo المائدہ78-79:5
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر دائودؑ اور عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے‘ انھوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ برا طرز عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔
ہر قوم کا بگاڑ ابتداء ًچند افراد سے شروع ہوتا ہے۔ اگر قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوتا ہے تو رائے عام ان بگڑے ہوئے افراد کو دبائے رکھتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملے میں تساہل شروع کر دیتی ہے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کے بجائے انھیں سوسائٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہے تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدود تھی پوری قوم میں پھیل کر رہتی ہے۔ یہی چیز تھی جو آخر کار بنی اسرائیل کے بگاڑ کا موجب ہوئی۔۲۶۴؎
(ھ) وَجَاہِدُوْا فِيْ سَبِيْلِہٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَo المائدہ 35:5
اس کی راہ میں جدوجہد کرو‘ شاید کہ تمھیں کامیابی نصیب ہو جائے۔
اصل میں لفظ جَاھِدُوْ ا استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم محض ’جدوجہد‘ سے پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ ’مجاہدہ‘ کا لفظ مقابلہ کا مقتضی ہے اور اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں‘ جو تم کو خدا کی مرضی پر چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں‘ جو تم کو پوری طرح خدا کا بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمھیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبور کرتی ہیں‘ ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدوجہد کرو۔ اسی جدوجہد پر تمھاری فلاح و کامیابی کا اور خدا سے تمھارے تقرب کا دارومدار ہے۔
اس طرح یہ آیت بندۂ مومن کو ہر محاذ پر چومکھی لڑائی لڑنے کی ہدایت کرتی ہے:
٭ ایک طرف ابلیس لعین اور اس کا شیطانی لشکر ہے۔
٭ دوسری طرف آدمی کا اپنا نفس اور اس کی سرکش خواہشات ہیں۔
٭ تیسری طرف خدا سے پھرے ہوئے بہت سے انسان ہیں جن کے ساتھ آدمی ہر قسم کے معاشرتی‘ تمدنی اور معاشی تعلقات میں بندھا ہوا ہے۔
٭ چوتھی طرف وہ غلط مذہبی‘ تمدنی اور سیاسی نظام ہیں جو خدا سے بغاوت پر قائم ہوئے ہیں‘ اور بندگیِ حق کے بجائے بندگی باطل پر انسان کو مجبور کرتے ہیں۔
ان سب کے حربے مختلف ہیں، مگر سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ آدمی کو خدا کے بجائے اپنا مطیع بنائیں، بخلاف اس کے آدمی کی ترقی کا اور تقربِ خداوندی کے مقام تک اس کے عروج کا انحصار بالکلیہ اس پر ہے کہ وہ سراسر خدا کا مطیع اور باطن سے لے کر ظاہر تک خالصتاً اس کا بندہ بن جائے۔ لہٰذا اپنے مقصود تک اس کا پہنچنا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان تمام مانع و مزاحم قوتوں کے خلاف بیک وقت جنگ آزما ہو‘ ہر وقت‘ ہر حال میں ان سے کشمکش کرتا رہے اور ان ساری رکاوٹوں کو پامال کرتا ہوا خدا کی راہ میں بڑھتا چلا جائے۔ ۲۶۵؎
اسلامی حکومت کا مزاج
اسلامی حکومت کا ایک مخصوص مزاج ہے۔ یہ حکومت ایک داعی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حکومت اپنے دائرۂ اختیار میں دین کو قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور دنیا کی باقی تمام اقوام کے سامنے اسلام کے پیغام کو پیش کرتی ہے۔ اس حکومت کی حیثیت ایک مبلغ اور معلم کی ہے اور اس کا سارا کام محبت‘ اخوت‘ مشاورت‘ رحم اور ہم دردی کی بنیادوں پر انجام پاتا ہے اور یہی اس کا مخصوص مزاج ہے:
(الف) وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَآ اَشْرَكُوْا۝۰ۭ وَمَا جَعَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا۝۰ۚ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِوَكِيْلٍo وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَيَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ۝۰ۭ الانعام107-108:6
اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو، اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انھیں گالیاں نہ دو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بناء پر اللہ کو گالیاںدینے لگیں۔
مطلب یہ ہے کہ تمھیں داعی اور مبلغ بنایا گیا ہے کوتوال نہیں بنایا گیا۔ تمھارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اس روشنی کو پیش کردو اور اظہار حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھو۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے۔ تم کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہو اور نہ تمھاری ذمے داری و جواب دہی میں یہ بات شامل ہے کہ تمھارے حلقۂ نبوت میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہ جائے۔ لہٰذا اس فکر میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو پریشان نہ کرو کہ اندھوں کو کس طرح بینا بنایا جائے اور جو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھنا چاہتے انھیں کیسے دکھایا جائے۔ اگر فی الواقع حکمتِ الٰہی کا تقاضا یہی ہوتا کہ دنیا میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہنے دیا جائے تو اللہ کو یہ کام تم سے لینے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ تمام انسانوں کو حق پرست نہ بنا سکتا تھا، مگر وہاں تو مقصود سرے سے یہ ہے ہی نہیں۔ مقصود تو یہ ہے کہ انسان کے لیے حق اورباطل کے انتخاب کی آزادی باقی رہے اور پھر حق کی روشنی اس کے سامنے پیش کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ دونوں چیزوں میں سے کس کو انتخاب کرتا ہے۔ پس تمھارے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ جو روشنی تمھیں دکھا دی گئی ہے اس کے اجالے میں سیدھی راہ پر خود چلتے رہو اور دوسروں کو اس طرف دعوت دیتے رہو۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں انھیں سینے سے لگائو اور ان کا ساتھ نہ چھوڑو، خواہ وہ دنیا کی نگاہ میں کیسے ہی حقیر ہوں اور جو اسے قبول نہ کریں ان کے پیچھے نہ پڑو۔ جس انجامِ بد کی طرف وہ خود جانا چاہتے ہیں اور جانے پر مصر ہیں اس کی طرف جانے کے لیے انھیں چھوڑ دو۔
یہ نصیحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروئوں کوکی گئی ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ بھی اتنے بے قابو نہ ہو جائیں کہ مناظرے اور بحث و تکرار سے معاملہ بڑھتے بڑھتے غیر مسلموں کے عقائد پر سخت حملے کرنے اور ان کے پیشوائوں اور معبودوں کو گالیاں دینے تک کی نوبت پہنچ جائے‘ کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب لانے کے بجائے اور زیادہ دور پھینک دے گی۔۲۶۶؎
(ب) فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ۝۰ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۝۰۠ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ۝۰ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَo آل عمران159:3
(اے پیغمبرؐ!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر کہیں تم تند خو اورسنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے۔ ان کے قصور معاف کردو‘ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو‘ البتہ جب تمھاراعزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو‘ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔
(ج) وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۝۰ۤۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْo العنکبوت42:29
اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے ____ سوائے ان لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں۔
یعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ‘ مہذب و شائستہ زبان میں‘ اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو، اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اور اسے راہ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے اور اس کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہو جائے۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملے میں دی گئی ہے، مگر یہ اہل کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ دی گئی ہے مثلاً:
۱۔ دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پند و نصائح کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔ (النحل۱۶: ۱۲۵)
۲۔ بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں۔ (مخالفین کے حملوں کی) مدافعت ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمھارے درمیان عداوت تھی‘ وہ ایسا ہوگیا جیسے گرم جوش دوست ہے۔ (حم سجدہ۴۱:۳۴)
۳۔ تم بدی کو اچھے ہی طریقے سے دفع کرو‘ ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ (تمھارے خلاف) بناتے ہیں۔ (المومنون۲۳:۹۶)
۴۔ درگزر کی روش اختیار کرو‘ بھلائی کی تلقین کرو اور جاہلوں کے منہ نہ لگو اور اگر (ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے )شیطان تمھیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘(الاعراف۷:۱۹۹۔۲۰۰)
یعنی جو لوگ ظلم کا رویہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت ہرحال میں اور ہر طرح کے لوگوںکے مقابلے میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعی حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیروئوں کو شائستگی‘ شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے، مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا، کہ وہ ہر ظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں۔۲۶۷؎
(د) اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا القصص4:28
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔
یعنی اس کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں‘ بلکہ اس نے تمدن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے‘ کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمران گروہ ٹھیرایا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر دبایا اور پیسا اور لوٹا جائے۔
یہاں کسی کو یہ شُبہ لاحق نہ ہو کہ اسلامی حکومت بھی تو مسلم اور ذمی کے درمیان تفریق کرتی ہے اور ان کے حقوق و اختیارات ہر حیثیت سے یکساں نہیں رکھتی۔ یہ شبہہ اس لیے غلط ہے کہ اس فرق کی بنیاد فرعونی تفریق کے برعکس نسل‘ رنگ‘ زبان‘ یا طبقاتی امتیاز پر نہیں ہے، بلکہ اصول اور مسلک کے اختلاف پر ہے۔ اسلامی نظام حکومت میں ذمیوں اور مسلمانوں کے درمیان قانونی حقوق میں قطعاً کوئی فرق نہیں ہے۔ تمام تر فرق صرف سیاسی حقوق میں ہے، اور اس فرق کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک اصولی حکومت میں حکمران جماعت صرف وہی ہوسکتی ہے جو حکومت کے بنیادی اصولوں کی حامی ہو۔ اس جماعت میں ہر وہ شخص داخل ہوسکتا ہے جو اس کے اصولوں کو مان لے اور ہر وہ شخص اس سے خارج ہو جاتا ہے جو ان اصولوں کا منکر ہو جائے۔ آخر اس تفریق میں اور اس فرعونی طرز تفریق میں کیا وجہ مشابہت ہے جس کی بنا پر محکوم گروہ کا کوئی فرد کبھی حکمران گروہ میں شامل نہیں ہوسکتا۔ جس میں محکوم گروہ کو سیاسی اور قانونی حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہوتے‘ حتیٰ کہ زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے، جس میں محکوموں کے لیے کسی حق کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی‘ تمام فوائد و منافع اور حسنات و درجات صرف حکمران قوم کے لیے مختص ہوتے ہیں‘ اور یہ مخصوص حقوق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو حکمران قوم میں پیدا ہو جائے۔۲۶۸؎
(ھ) يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً۝۰ۚ النسائ 1:4
لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔
چونکہ آگے چل کر انسانوں کے باہمی حقوق بیان کرنے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ خاندانی نظام کی بہتری و استواری کے لیے ضروری قوانین ارشاد فرمائے جانے والے ہیں‘ اس لیے تمہید اس طرح اٹھائی گئی کہ ایک طرف اللہ سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے کی تاکید کی اور دوسری طرف یہ بات ذہن نشین کرائی کہ تمام انسان ایک اصل سے ہیں اور ایک دوسرے کا خون اور گوشت پوست ہیں۔
’تم کو ایک جان سے پیدا کیا‘____ یعنی نوع انسانی کی تخلیق ابتداء ً ایک فرد سے کی۔ دوسری جگہ قرآن خود اس کی تشریح کرتا ہے کہ وہ پہلا انسان آدمؑ تھا جس سے دنیا میں نسلِ انسانی پھیلی۔
’اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا‘____ اس کی تفصیلی کیفیت ہمارے علم میں نہیں ہے۔ عام طور پر جو بات اہل تفسیر بیان کرتے ہیں اور جو بائیبل میں بھی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدم کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا گیا لیکن کتاب اللہ اس بارے میں خاموش ہے اور جو حدیث اس کی تائید میں پیش کی جاتی ہے اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھا ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بات کو اسی طرح مجمل رہنے دیا جائے جس طرح اللہ نے اسے مجمل رکھا ہے اور اس کی تفصیلی کیفیت متعین کرنے میں وقت نہ ضائع کیا جائے۔ (تفہیم القرآن‘ ج۱‘ ص۳۱۹۔۳۲۰‘ح۱)
(و) لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ۔ البقرہ256:2
دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔
یہاں دین سے مراد اللہ کے متعلق وہ عقیدہ ہے جو اوپر آیت الکرسی میں بیان ہوا ہے اور وہ پورا نظام زندگی ہے جو اس عقیدے پر بنتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ’ اسلام‘ کا یہ اعتقادی اور اخلاقی و عملی نظام کسی پر زبردستی نہیں ٹھونسا جا سکتا۔ یہ ایسی چیز ہے ہی نہیں ‘ جو کسی کے سرجبراً منڈھی جاسکے۔ (تفہیم القرآن، ج۱، ص ۱۹۶، ح ۲۸۵)
اوپر کی آیات اور ان کی تشریح سے اسلامی حکومت کے مخصوص مزاج پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد ریاست ہے جو قوتِ قاہرہ کو بھی ہم دردی‘ رحم اور مؤدت کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔ جبر جس کا مزاج نہیں، تشدّد جس کے نظام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ یہی وہ ریاست ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بنتی ہے۔
شورائیت
شورائیت بھی اس کے اس مخصوص مزاج ہی کا ایک تقاضا ہے۔ارشاد ربانی ہے:
وَاَمْرُ ھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ۔ الشوریٰ38:42
اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں۔
اس چیز کو یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے اور سورہ آل عمران (آیت: ۱۵۹) میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بنا پر مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی گئی ہے؟ اس کے وجوہ پر اگر غور کیا جائے تو تین باتیں واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں:
٭ ایک یہ کہ جس معاملے کا تعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو، اس میں کسی ایک شخص کا اپنی رائے سے فیصلہ کر ڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظر انداز کر دینا زیادتی ہے۔ مشترک معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کا حق نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو، اس میں ان سب کی رائے لی جائے، اور اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہو تو ان کے معتمد علیہ نمائندوں کو شریک مشورہ کیا جائے۔
٭ دوسرے یہ کہ انسان مشترک معاملات میں اپنی من مانی چلانے کی کوشش یا تو اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض کے لیے دوسروں کا حق مارنا چاہتا ہے، یا پھر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اخلاقی حیثیت سے یہ دونوں صفات یکساں قبیح ہیں۔ اور مومن کے اندر ان میں سے کسی صفت کا شائبہ بھی نہیں پایا جاسکتا۔ مومن نہ خود غرض ہوتا ہے کہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرکے خود ناجائز فائدہ اٹھانا چاہے اور نہ وہ متکبر اور خود پسند ہوتا ہے کہ اپنے آپ ہی کو عقل کل اور علیم و خبیر سمجھے۔
٭ تیسرے یہ کہ جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو ان میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمے داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتا ہو، اور یہ جانتا ہو کہ اس کی کتنی سخت جواب دہی اسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی کبھی اس بھاری بوجھ کو تنہا اپنے سر لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اس طرح کی جرأتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو خدا سے بے خوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں۔ خدا ترس اور آخرت کی باز پُرس کا احساس رکھنے والا آدمی تو لازماً یہ کوشش کرے گا کہ ایک مشترک معاملہ جن جن سے بھی متعلق ہو‘ ان سب کو ‘ یا ان کے اپنے بھروسے کے نمائندوں کو اس کا فیصلہ کرنے میں شریکِ مشورہ کرے، تاکہ زیادہ سے زیادہ صحیح اور بے لاگ اور مبنی برانصاف فیصلہ کیا جاسکے‘ اور اگر نادانستہ کوئی غلطی ہو بھی جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اس کی ذمے داری نہ آپڑے۔
یہ تین وجوہ ایسے ہیں جن پر اگر آدمی غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اسلام جس اخلاق کی انسان کو تعلیم دیتا ہے‘ مشورہ اس کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے انحراف ایک بہت بڑی بداخلاقی ہے‘ جس کی اسلام کبھی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلامی طرز زندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتا جائے۔ گھر کے معاملات ہوں تو ان میں میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان ہو جائیں تو انھیں بھی شریکِ مشورہ کیا جائے‘ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے کے سب عاقل و بالغ افراد کی رائے لی جائے‘ ایک قبیلے یا برادری یا بستی کے معاملات ہوں اور سب لوگوں کا شریک مشورہ ہونا ممکن نہ ہو تو ان کا فیصلہ کوئی ایسی پنچایت یا مجلس کرے جس میں کسی متفق علیہ طریقے کے مطابق تمام متعلق لوگوں کے معتمد علیہ نمائندے شریک ہوں۔ ایک پوری قوم کے معاملات ہوں تو ان کو چلانے کے لیے قوم کا سربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے اور وہ قومی معاملات کو ایسے صائب الرائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابلِ اعتماد سمجھتی ہو اور وہ اسی وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے رکھنا چاہے۔ کوئی ایمان دار آدمی زبردستی قوم کا سربراہ بننے اور بنے رہنے کی خواہش یا کوشش نہیں کرسکتا‘ نہ یہ فریب کاری کرسکتا ہے کہ پہلے بزور قوم پر مسلط ہو جائے اور پھر جبر کے تحت لوگوں کی رضامندی طلب کرے‘ اور نہ اس طرح کی چالیں چل سکتا ہے کہ اس کو مشورہ دینے کے لیے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنی پسند کے نمائندے نہیں، بلکہ وہ نمائندے منتخب کریں جو اس کی مرضی کے مطابق رائے دینے والے ہوں۔ ایسی ہر خواہش صرف اس نفس میں پیدا ہوتی ہے جو نیت کی خرابی سے ملوث ہو اور اس خواہش کے ساتھ اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ کی ظاہری شکل بنانے اور اس کی حقیقت غائب کر دینے کی کوششیں صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے خدا اور خلق دونوں کو دھوکا دینے میں کوئی باک نہ ہو، حالانکہ نہ خدا دھوکا کھاسکتا ہے اور نہ ہی خلق اتنی اندھی ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص دن کی روشنی میں علانیہ ڈاکہ مار رہا ہو، اور وہ سچے دل سے یہ سمجھتی رہے کہ وہ ڈاکہ نہیں مار رہا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔
اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ کا قاعدہ خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے:
٭ اول: یہ کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفادات سے تعلق رکھتے ہیں انھیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو اور وہ اس بات سے پوری طرح باخبر رکھے جائیں کہ ان کے معاملات فی الواقع کس طرح چلائے جارہے ہیں اور انھیں اس امر کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں‘ احتجاج کرسکیں اور اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں۔ لوگوں کا منہ بند کرکے اور ان کے ہاتھ پائوں کس کر اور ان کو بے خبر رکھ کر ان کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بے ایمانی ہے جسے کوئی شخص بھی اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا۔
٭ دوم: یہ کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمے داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو اسے لوگوں کی رضامندی سے مقرر کیا جائے اور یہ رضامندی ان کی آزادانہ رضامندی ہو۔ جبر اور تخویف سے حاصل کی ہوئی‘ یا تحریص و اطماع سے خریدی ہوئی‘ یا دھوکے اور فریب اور مکاریوں سے کھسوٹی ہوئی رضامندی درحقیقت رضامندی نہیں ہے۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ وہ نہیں ہوتا جو ہر ممکن طریقے سے کوشش کرکے اس کا سربراہ بنے‘ بلکہ وہ ہوتا ہے جس کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں۔
٭ سوم: یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لیے بھی وہ لوگ مقرر کیے جائیں جن کو قوم کا اعتماد حاصل ہو، اور ظاہر بات ہے کہ ایسے لوگ کبھی صحیح معنوںمیں حقیقی اعتماد کے حامل قرار نہیں دیے جاسکتے جو دبائو ڈال کر‘ یا مال سے خرید کر‘ یا جھوٹ یا مکر سے کام لے کر، یا لوگوں کو گمراہ کرکے نمائندگی کا مقام حاصل کریں۔
٭ چہارم: یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق رائے دیں اور اس طرح کے اظہار رائے کی انھیں پوری آزادی حاصل ہو۔ یہ بات جہاں نہ ہو‘ جہاں مشورہ دینے والے کسی لالچ یا خوف کی بنا پر، یا کسی جتھہ بندی میں کسے ہوئے ہونے کی وجہ سے، خود اپنے علم اور ضمیر کے خلاف رائے دیں، وہاں درحقیقت خیانت اور غداری ہوگی نہ کہ اَمرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ کی پیروی۔
٭ پنجم: یہ کہ جو مشورہ اہل شوریٰ کے اجماع (اتفاق رائے) سے دیا جائے، یا جسے ان کے جمہور (اکثریت) کی تائید حاصل ہو‘ اسے تسلیم کیا جائے، کیوں کہ اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کا مختار ہو تو مشاورت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا ہے کہ ’ان کے معاملات میں اُن سے مشورہ لیا جاتا ہے‘ بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ’اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں‘ ؟اس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو اسی کے مطابق معاملات چلیں۔
اسلام کے اصول شوریٰ کی اس توضیح کے ساتھ یہ بنیادی بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہ شوریٰ مسلمانوں کے معاملات کو چلانے میں مطلق العنان اور مختار کل نہیں ہے، بلکہ لازماً اس دین کی حدود سے محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تشریع سے مقرر فرمایا ہے، اور اس اصل الاصول کی پابند ہے کہ ’تمھارے درمیان جس معاملے میں بھی اختلاف ہو اس کا فیصلہ کرنا اللہ کاکام ہے‘ اور تمھارے درمیان جو نزاع بھی ہو اس میں اللہ اور رسولؐ کی طرف رجوع کرو۔‘اس قاعدے کلیے کے لحاظ سے مسلمان شرعی معاملات میں اس امر پر تو مشورہ کرسکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کس طریقے سے کیا جائے تاکہ اس کا منشا ٹھیک طور سے پورا ہو‘ لیکن اس غرض سے کوئی مشورہ نہیں کرسکتے کہ جس معاملے کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے کر دیا ہو اس میں وہ خود کوئی آزادانہ فیصلے کریں۔۲۶۹؎
عدل و احسان
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ۝۰ۚ النحل90:16
اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔
اس مختصر سے فقرے میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے:
٭ پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک: یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے: یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لاگ طریقے سے دیا جائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ’انصاف‘ سے ادا کیا جاتا ہے، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو، اور پھر اسی سے عدل کے معنی: مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ توازن اور تناسب ہے نہ کہ برابری۔ بعض حیثیتوں سے تو عدل بے شک افراد معاشرہ میں مساوات چاہتا ہے مثلاً: حقوق شہریت میں مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلاف عدل ہے مثلاً: والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی و اخلاقی مساوات‘ اور اعلیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والوں اور کم تر درجے کی خدمات ادا کرنے والوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات۔ پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حقوق میں مساوات نہیں، بلکہ توازن و تناسب ہے اور اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی‘ معاشرتی‘ معاشی‘ قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ ادا کیے جائیں۔
٭ دوسری چیز احسان ہے جس سے مراد ہے: نیک برتائو‘ فیاضانہ معاملہ‘ ہم دردانہ رویہ‘ رواداری‘ خوش خلقی‘ درگزر‘ باہمی مراعات‘ ایک دوسرے کا پاس و لحاظ‘ دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہو جانا۔ یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے۔ عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور اس کا کمال ہے۔ عدل اگر معاشرے کو ناگواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوش گواریاں اور شیرینیاں پیدا کرتا ہے۔ کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہر وقت ناپ تول کرکے دیکھتا رہے کہ اس کا حق کیا ہے اور اسے وصول کرکے چھوڑے اور دوسرے کا کتنا حق ہے اور اسے بس اتنا ہی دے دے۔ ایسے ایک ٹھنڈے اور کھرے معاشرے میں کشمکش تو نہ ہوگی، مگر محبت اور شکر گزاری اور عالی ظرفی اور ایثار اور اخلاص و خیر خواہی کی قدروں سے وہ محروم رہے گا، جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کو نشو ونما دینے والی قدریں ہیں۔
٭ تیسری چیز جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے صلہ رحمی ہے جو رشتے داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے، اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتائو کرے اور خوشی و غمی میں ان کا شریک حال ہو‘ اور جائز حدود کے اندر اُن کا حامی و مددگار بنے‘ بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے، بلکہ اپنے رشتے داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ شریعت الٰہی ہر خاندان کے خوش حال افراد کو اس امر کا ذمے دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں۔ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کر رہا ہو، اور اسی کے خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی کپڑے تک کو محتاج ہوں۔ وہ خاندان کو معاشر ے کا ایک اہم عنصر ترکیبی قرار دیتی ہے اور یہ اصول پیش کرتی ہے کہ ہر خاندان کے غریب افراد کا پہلا حق اپنے خاندان کے خوشحال افراد پر ہے‘ پھر دوسروں پر ان کے حقوق عاید ہوتے ہیں، اور ہر خاندان کے خوش حال افراد پر پہلا حق ان کے اپنے غریب رشتے داروں کا ہے، پھر دوسروں کے حقوق ان پر عاید ہوتے ہیں۔ یہی بات ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف ارشادات میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ متعدد احادیث میں اس امر کی تصریح ہے کہ آدمی کے اولین حق دار اُس کے والدین‘ اس کے بیوی بچے اور اس کے بھائی بہن ہیں‘ پھر وہ جو اُن کے بعد قریب تر ہوں‘ اور پھر وہ جو اُن کے بعد قریب تر ہوں‘ اور یہی اصول ہے جس کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک یتیم بچے کے چچا زاد بھائیوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی پرورش کے ذمے دار ہوں، اور ایک دوسرے یتیم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے آپؓ نے فرمایا کہ اگر اس کا کوئی بعید ترین رشتے دار بھی موجود ہوتا تو میں اس پر اس کی پرورش لازم کر دیتا ____ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس معاشرے کا ہر واحدہ (unit)اس طرح اپنے اپنے افراد کو سنبھال لے اس میں معاشی حیثیت سے کتنی خوش حالی‘ معاشرتی حیثیت سے کتنی حلاوت‘ اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی و بلندی پیدا ہو جائے گی۔
اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تین برائیوں سے روکتا ہے جو انفرادی حیثیت سے افراد کو اور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں:
٭ پہلی چیز فَحْشَاء ہے جس کا اطلاق تمام بے ہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو‘ فحش ہے۔ مثلاً: بخل‘ زنا‘ برہنگی و عریانی‘ عمل قوم لوط‘ محرمات سے نکاح کرنا‘چوری‘ شراب نوشی‘ بھیک مانگنا‘ گالیاں بکنا اور بدکلامی کرنا وغیرہ۔ اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے‘ مثلاً جھوٹا پروپیگنڈا‘ تہمت تراشی‘ پوشیدہ جرائم کی تشہیر‘ بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے و ڈرامے‘ اور فلم‘ عریاں تصاویر‘ عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا‘ علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا اور نازو ادا کی نمائش کرنا وغیرہ۔
٭ دوسری چیز منکر ہے جس سے مراد: ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم برا جانتے ہیں، ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں‘ اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیا ہے۔
٭ تیسری چیز بَغْی ہے جس کے معنی ہیں: اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا‘ خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے۔۲۷۰؎
قیادت اور اہلِ منصب کے انتخاب کے اصول
اسلامی حکومت میں قیادت کے انتخاب کا اصول بھی دوسری حکومتوں سے بہت مختلف ہے۔ یہاں اصل چیز اہلیت‘ امانت‘ دیانت‘ تقویٰ‘ اور حسنِ سلوک ہے۔
(الف) اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًاo النساء58:4
مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔
یعنی تم اُن برائیوں سے بچے رہنا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی بنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ: انھوں نے اپنے انحطاط کے زمانے میں امانتیں‘ یعنی ذمے داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے رتبے (positions of trust) ایسے لوگوں کو دینے شروع کر دیے جو نااہل‘ کم ظرف‘ بداخلاق‘ بددیانت‘ اور بدکار تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کر نا جو ان کے اہل ہوں، یعنی جن میں بارِ امانت اٹھانے کی صلاحیت ہو۔ بنی اسرائیل کی دوسری بڑی کمزوری یہ تھی کہ: وہ انصاف کی روح سے خالی ہوگئے تھے، وہ شخصی اور قومی اغراض کے لیے بے تکلف ایمان نگل جاتے تھے۔ صریح ہٹ دھرمی برت جاتے تھے۔ انصاف کے گلے پر چھری پھیرنے میں انھیں ذرا تامل نہ ہوتا تھا۔ ان کی بے انصافی کا تلخ ترین تجربہ اس زمانے میں خود مسلمانوں کو ہو رہا تھا۔ ایک طرف ان کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر ایمان لانے والوں کی پاکیزہ زندگیاں تھیں۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جو بتوں کو پوج رہے تھے، بیٹیوں کو زندہ گاڑتے تھے‘ سوتیلی مائوں تک سے نکاح کرلیتے تھے اور کعبہ کے گرد مادر زاد ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ یہ نام نہاد اہل کتاب ان میں سے دوسرے گروہ کو پہلے گروہ پر ترجیح دیتے تھے اور ان کو یہ کہتے ہوئے ذرا شرم نہ آتی تھی کہ پہلے گروہ کے مقابلے میں یہ دوسرا گروہ زیادہ صحیح راستے پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس بے انصافی پر تنبیہہ کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ تم کہیں ایسے بے انصاف نہ بن جانا۔ خواہ کسی سے دوستی ہو یا دشمنی، بہرحال بات جب کہو‘ انصاف کی کہو‘ اور فیصلہ جب کرو عدل کے ساتھ کرو۔۲۷۱؎
(ب) وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَoالَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَo
الشعراء 151-152:26
ان بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیںاور کوئی اصلاح نہیں کرتے۔
یعنی اپنے ان امرا و رئوسا اور ان رہنمائوں اور حاکموں کی اطاعت چھوڑ دو جن کی قیادت میں تمھارا یہ فاسد نظامِ زندگی چل رہا ہے‘ یہ مسرف لوگ ہیں‘ اخلاق کی ساری حدیں پھاند کر شتر بے مہار بن چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ یہ جس نظام کو چلائیں گے اس میں بگاڑ ہی پھیلے گا۔ تمھارے لیے فلاح کی کوئی صورت اگر ہے تو صرف یہ کہ اپنے اندر خدا ترسی پیدا کرو اور مفسدوں کی اطاعت چھوڑ کر میری اطاعت کرو‘ کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں، میری امانت و دیانت کو تم پہلے سے جانتے ہو‘ اور میں ایک بے غرض آدمی ہوں، اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے اصلاح کا یہ کام کرنے نہیں اٹھاہوں____ یہ تھا وہ مختصر منشور جو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس میں صرف مذہبی تبلیغ ہی نہ تھی‘ تمدنی و اخلاقی اصلاح اور سیاسی انقلاب کی دعوت بھی ساتھ ساتھ موجود تھی۔۲۷۲؎
(ج) وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًاo الکہف28:18
کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔
یعنی اس کی بات نہ مانو‘ اس کے آگے نہ جھکو‘ اس کا منشا پورا نہ کرو‘ اور اس کے کہے پر نہ چلو۔ یہاں اطاعت کا لفظ اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
کَانَ اَمْرُہ‘ فُرُطًا کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ’جو حق کو پیچھے چھوڑ کر اور اخلاقی حدود کو توڑ کر بگ ٹٹ چلنے والا ہے‘۔دونوں صورتوں میں حاصل ایک ہی ہے۔ جو شخص خدا کو بھول کر اپنے نفس کا بندہ بن جاتا ہے اس کے ہر کام میں بے اعتدالی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ حدود ناآشنا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایسے آدمی کی اطاعت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اطاعت کرنے والا خود بھی حدود ناآشنا ہو جائے اور جس جس وادی میں مُطاع بھٹکے، اسی میں مطیع بھی بھٹکتا چلا جائے۔ ۲۷۳؎
دفاع اور اصولِ جنگ و صلح
اسلامی حکومت کی پالیسی کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ وہ ہر اعتبار سے مضبوط ہو۔ عسکری اعتبار سے بھی اور معاشی اعتبار سے بھی۔ جو عظیم ذمے داری اسے ادا کرنی ہے وہ دفاعی قوت کی تیاری کے بغیر ادا نہیں ہوسکتی:
(الف) وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۝۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۝۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۝۰ۭ الانفال60:8
اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے‘ زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوف زدہ کردو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔
اس سے مطلب یہ ہے کہ تمھارے پاس سامان جنگ اور ایک مستقل فوج (standing army) ہر وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت فوراً جنگی کارروائی کرسکو۔ یہ نہ ہو کہ خطرہ سر پر آنے کے بعد گھبراہٹ میں جلدی جلدی رضاکار اور اسلحہ اورسامانِ رسد جمع کرنے کی کوشش کی جائے اور اس اثنا میں کہ یہ تیاری مکمل ہو‘ دشمن اپنا کام کر جائے۔۲۷۴؎
(ب) اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ۝۰ۭ ذٰلِكَ لَہُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِيْمٌo المائدہ 33:5
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں‘ یا سولی چڑھائے جائیں‘ یا اُن کے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں‘ یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں۔ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔
زمین سے مراد یہاں وہ ملک یا وہ علاقہ ہے جس میں امن و انتظام قائم کرنے کی ذمے داری اسلامی حکومت نے لے رکھی ہو اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کا مطلب اس نظامِ صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے اور اسی لیے اس نے اپنا رسولؐ بھیجا تھا کہ زمین میں ایک ایسا صالح نظام قائم ہو جو انسان اور حیوان اور درخت اور ہر اس چیز کو جو زمین پر ہے امن بخشے‘ جس کے تحت انسانیت اپنی فطرت کے کمال مطلوب کو پہنچ سکے‘ جس کے تحت زمین کے وسائل اس طرح استعمال کیے جائیں کہ وہ انسان کی ترقی میں مددگار ہوں نہ کہ اس کی تباہی و بربادی میں۔ ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائم ہوجائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا‘ قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور راہ زنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس صالح نظام کو الٹنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کردینے کے لیے ہو‘ دراصل خدا اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندستان کی برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے ’بادشاہ کے خلاف لڑائی‘ (waging war against the king)کامجرم قرار دیا گیا‘ چاہے اس کی کارروائی ملک کے کسی دور دراز گوشے میں ایک معمولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اور بادشاہ اس کی دست رس سے کتنا ہی دور ہو۔
اس آیت میں مختلف سزائیں برسبیل اجمال بیان کر دی گئی ہیں تاکہ قاضی یا امام وقت اپنے اجتہاد سے ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے۔ اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی شخص کا اسلامی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اسلامی نظام کو الٹنے کی کوشش کرنا بدترین جرم ہے اور اسے ان انتہائی سزائوں میں سے کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔۲۷۵؎
قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَo التوبۃ 29:9
جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے‘ اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔
یہاں ان لوگوں سے جنگ کی اجازت دی گئی ہے جو اس شریعت کو اپنا قانون زندگی نہیں بناتے جو اللہ نے اپنے رسولؐ کے ذریعے سے نازل کی ہے۔لڑائی کی غایت یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور دینِ حق کے پیرو بن جائیں بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ ان کی خود مختاری اور بالادستی ختم ہو جائے۔ وہ زمین میں حاکم اور صاحب امر بن کر نہ رہیں بلکہ زمین کے نظامِ زندگی کی باگیں اور فرماں روائی اور امامت کے اختیارات متبعین دین حق کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ ان کے ماتحت‘ تابع و مطیع بن کر رہیں۔
جزیہ بدل ہے اس امان اور اس حفاظت کا جو ذمیوں کو اسلامی حکومت میں عطا کی جائے گی۔ نیز وہ علامت ہے اس امر کی کہ یہ لوگ تابع امر بننے پر راضی ہیں۔’ہاتھ سے جزیہ دینے‘ کا مفہوم سیدھی طرح مطیعانہ شان کے ساتھ جزیہ ادا کرنا ہے اور ’چھوٹے بن کر رہنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں بڑے وہ نہ ہوں‘ بلکہ وہ اہل ایمان بڑے ہوں جو خلافت ِ الٰہی کا فرض انجام دے رہے ہوں۔
ابتداء ً یہ حکم یہود و نصاریٰ کے متعلق دیا گیا تھا لیکن آگے چل کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے جزیہ لے کر انھیں ذمی بنایا۔ اس کے بعد صحابہ کرامؓ نے بالاتفاق بیرونِ عرب کی تمام قوموں پر اس حکم کو عام کر دیا۔
یہ جزیہ وہ چیز ہے جس کے لیے بڑی بڑی معذرتیں انیسویں صدی عیسوی کے دور مُذلّت میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں اور اس دور کی یادگار کچھ لوگ اب بھی موجود ہیں جو صفائی دینے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن خدا کا دین اس سے بہت بالاو برتر ہے کہ اسے خدا کے باغیوں کے سامنے معذرت پیش کرنے کی کوئی حاجت ہو۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے دین کو اختیار نہیں کرتے اور اپنی یا دوسروں کی نکالی ہوئی غلط راہ پر چلتے ہیں وہ حد سے حد بس اتنی ہی آزادی کے مستحق ہیں کہ خود جو غلطی کرنا چاہتے ہیں کریں‘ لیکن انھیں اس کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ بھی اقتدار و فرماں روائی کی باگیں ان کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کا نظام اپنی گمراہیوں کے مطابق قائم کریں اور چلائیں۔ یہ چیز جہاں کہیں ان کو حاصل ہوگی‘ فساد رونما ہوگا اور اہلِ ایمان کا فرض ہوگا کہ ان کو اس سے بے دخل کرنے اور انھیں نظام صالح کا مطیع بنانے کی کوشش کریں۔
اب رہا یہ سوال کہ یہ جزیہ آخر کس چیز کی قیمت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس آزادی کی قیمت ہے جو انھیں اسلامی اقتدار کے تحت اپنی گمراہیوں پر قائم رہنے کے لیے دینی پڑتی ہے اور اس قیمت کو اس صالح نظام حکومت کے نظم و نسق پر صرف ہونا چاہیے جو انھیں اس آزادی کے استعمال کی اجازت دیتا ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جزیہ ادا کرتے وقت ہر سال ذمیوں میں یہ احساس تازہ ہوتا رہے گا کہ خدا کی راہ میں زکوٰۃ دینے کے شرف سے محرومی اور اس کے بجائے گمراہیوں پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا کتنی بڑی بدقسمتی ہے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ ۲۷۶؎
(د) اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْہِمْ۝۰ۚ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo المائدہ34:5
مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو_____ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
یعنی اگر وہ سعی فساد سے باز آگئے ہوں اور صالح نظام کو درہم برہم کرنے یا الٹنے کی کوشش چھوڑ چکے ہوں اور ان کا بعد کا طرز عمل ثابت کر رہا ہو کہ وہ امن پسند، مطیع قانون اور نیک چلن انسان بن چکے ہیں اور اس کے بعد ان کے سابق جرائم کا پتہ چلے تو ان سزائوں میں سے کوئی سزا ان کو نہ دی جائے گی جو اوپر بیان ہوئی ہیں‘ البتہ آدمیوں کے حقوق پر کوئی دست درازی اگر انھوں نے کی تھی تو اس کی ذمے داری ان پر سے ساقط نہ ہوگی مثلاً: اگر کسی انسان کو انھوں نے قتل کیا تھا، یا کسی کا مال لیا تھا، یا کوئی اور جرم انسانی جان و مال کے خلاف کیا تھا تو اسی جرم کے بارے میں فوج داری مقدمہ ان پر قائم کیا جائے گا لیکن بغاوت اور غداری اور خدا اور رسولؐ کے خلاف محاربہ کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جائے گا۔۲۷۷؎
معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی پالیسی کے عمومی اُصول
(الف) وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۝۰ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ كِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا كَرِيْمًاo وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا كَـمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًاo رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ۝۰ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّہٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًاo وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّہٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ۝۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّہٖ كَفُوْرًاo وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْہَا فَقُلْ لَّہُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًاo وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًاo وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَۃَ اِمْلَاقٍ۝۰ۭ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِيَّاكُمْ۝۰ۭ اِنَّ قَتْلَہُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًاo وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً۝۰ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًاo وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ۝۰ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ۝۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ مَنْصُوْرًاo وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّہٗ۝۰۠ وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِ۝۰ۚ اِنَّ الْعَہْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًاo وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًاo وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًاo وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۝۰ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًاo كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْہًاo ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَۃِ۝۰ۭ بنی اسرائیل23-39:17
تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: (۱) تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو‘ مگر صرف اس کی۔ (۲) والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمھارے پاس ان میں سے کوئی ایک‘ یا دونوں‘ بوڑھے ہو کر رہیں تو انھیں اف تک نہ کہو‘ نہ انھیں جھڑک کر جواب دو‘ بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو‘ اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو‘ اور دعاکیا کرو کہ:’پروردگار! ان پر رحم فرما جس طرح انھوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا‘۔ تمھارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں۔ (۳) رشتے دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق (۴) فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (۵) اگر ان سے (یعنی حاجت مند رشتے داروں‘ مسکینوں اور مسافروں سے) تمھیں کترانا ہو‘ اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو‘ تو انھیں نرم جواب دے دو (۶) نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو۔ تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انھیں دیکھ رہا ہے۔ (۷) اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمھیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔ (۸) زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ۔ (۹) قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے‘ اس کی مدد کی جائے گی (۱۰) مالِ یتیم کے پاس نہ پھٹکو، مگر احسن طریقے سے‘ یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔ (۱۱) عہد کی پابندی کرو‘ بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ (۱۲) پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی یہی بہتر ہے (۱۳) کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہ ہو۔ یقیناً آنکھ‘ کان اور دل سب ہی کی باز پُرس ہونی ہے۔ (۱۴) زمین میں اکڑ کر نہ چلو‘ تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ ان امور میں سے ہر ایک کا برا پہلو تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں۔
یہاں وہ بڑے بڑے بنیادی اصول پیش کیے جارہے ہیں جن پر اسلام پوری انسانی زندگی کے نظام کی عمارت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا منشور ہے جسے مکی دور کے خاتمے اور آنے والے‘ مدنی دور کے نقطۂ آغاز پر پیش کیا گیا‘ تاکہ دنیا بھر کو معلوم ہو جائے کہ اس نئے اسلامی معاشرے اور ریاست کی بنیاد کن فکری‘ اخلاقی‘ تمدنی‘ معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی۔۲۷۸؎
۱۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی پرستش اور پوجا نہ کرو‘ بلکہ یہ بھی ہے کہ بندگی اور غلامی اور بے چون و چرا اطاعت بھی صرف اسی کی کرو‘ اُسی کے حکم کو حکم اور اسی کے قانون کو قانون مانو اور اس کے سوا کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم نہ کرو۔ یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ‘ اور صرف انفرادی طرز عمل کے لیے ایک ہدایت ہی نہیں ہے، بلکہ اس پورے نظامِ اخلاق و تمدن و سیاست کا سنگ بنیاد بھی ہے جو مدینہ طیبہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً قائم کیا۔ اس کی عمارت اسی نظریے پر اٹھائی گئی تھی کہ اللہ جل شانہ‘ ہی ملک کا مالک اور بادشاہ ہے اور اسی کی شریعت ملک کا قانون ہے۔
۲۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدّم حق والدین کا ہے۔ اولاد کو والدین کا مطیع‘ خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہیے۔ معاشرے کا اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہیے جو اولاد کو والدین سے بے نیاز بنانے والا نہ ہو‘ بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے‘ اور بڑھاپے میں اسی طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور ناز برداری کر چکے ہیں۔ یہ آیت بھی صرف ایک اخلاقی سفارش نہیں ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر بعد میں والدین کے وہ شرعی حقوق و اختیارات مقرر کیے گئے جن کی تفصیلات ہم کو حدیث اور فقہ میں ملتی ہیں۔ نیز اسلامی معاشرے کی ذہنی و اخلاقی تربیت میں اور مسلمانوں کے آداب تہذیب میں والدین کے ادب اور اطاعت اور ان کے حقوق کی نگہداشت کو ایک اہم عنصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ ان چیزوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ اصول طے کر دیا کہ اسلامی ریاست اپنے قوانین اور انتظامی احکام اور تعلیمی پالیسی کے ذریعے سے خاندان کے ادارے کو مضبوط اور محفوظ کرنے کی کوشش کرے گی‘ نہ کہ اسے کمزور بنانے کی۔
۳۔۵۔ ان تین دفعات کا منشا یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی اور اپنی دولت کو صرف اپنے لیے ہی مخصوص نہ رکھے‘ بلکہ اپنی ضروریات اعتدال کے ساتھ پوری کرنے کے بعد اپنے رشتے داروں‘ اپنے ہمسایوں اور دوسرے حاجت مند لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے تاکہ اجتماعی زندگی میں تعاون‘ ہم دردی اور حق شناسی و حق رسانی کی روح جاری و ساری ہو۔ ہر رشتے دار دوسرے رشتے دار کا معاون‘ اور ہر مستطیع انسان اپنے پاس کے محتاج انسان کا مددگار ہو۔ ایک مسافر جس بستی میں بھی جائے‘ اپنے آپ کو مہمان نواز لوگوں کے درمیان پائے۔ معاشرے میں حق کا تصور اتنا وسیع ہو کہ ہر شخص ان سب انسانوں کے حقوق اپنی ذات پر اور اپنے مال پر محسوس کرے جن کے درمیان وہ رہتا ہو‘ ان کی خدمت کرے تو یہ سمجھتے ہوئے کرے کہ ان کا حق ادا کر رہا ہے‘ نہ یہ کہ احسان کا بوجھ ان پر لاد رہا ہے۔ اگر کسی کی خدمت سے معذور ہو تو اس سے معافی مانگے اور خدا سے فضل طلب کرے تاکہ وہ بندگانِ خدا کی خدمت کرنے کے قابل ہو۔
منشور اسلامی کی یہ دفعات بھی صرف انفرادی اخلاق کی تعلیم ہی نہ تھیں‘ بلکہ آگے چل کر مدینہ طیبہ کے معاشرے اور ریاست میں انھی کی بنیاد پر صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ کے احکام دیے گئے‘ وصیت اور وراثت اور وقف کے طریقے مقرر کیے گئے‘ یتیموں کے حقوق کی حفاظت کا انتظام کیا گیا‘ ہر بستی پر مسافر کا یہ حق قائم کیا گیا کہ کم از کم تین دن تک اس کی ضیافت کی جائے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کا اخلاقی نظام عملاً ایسا بنایا گیا کہ پورے اجتماعی ماحول میں فیاضی‘ ہم دردی اور تعاون کی روح جاری و ساری ہوگئی‘ حتیٰ کہ لوگ آپ ہی آپ قانونی حقوق کے ماسوا ان اخلاقی حقوق کو بھی سمجھنے اور ادا کرنے لگے جنھیں نہ قانون کے زور سے مانگا جاسکتا ہے‘ نہ دلوایا جاسکتا ہے۔
۶۔ ہاتھ باندھنا استعارہ ہے: بخل کے لیے‘ اور اسے کھلا چھوڑ دینے سے مراد ہے: فضول خرچی۔ دفعہ ۴ کے ساتھ دفعہ ۶ کے اس فقرے کو ملا کر پڑھنے سے منشا صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اتنا اعتدال ہونا چاہیے کہ وہ نہ بخیل بن کر دولت کی گردش کو روکیں اور نہ فضول خرچ بن کر اپنی معاشی طاقت کو ضائع کریں۔ اس کے برعکس ان کے اندر توازن کی ایسی صحیح حس موجود ہونی چاہیے کہ وہ بجا خرچ سے باز بھی نہ رہیں اور بے جا خرچ کی خرابیوں میں مبتلا بھی نہ ہوں۔ فخر اور ریا اور نمائش کے خرچ‘ عیاشی اور فسق و فجور کے خرچ‘ اور تمام ایسے خرچ جو انسان کی حقیقی ضروریات اور مفید کاموں میں صرف ہونے کے بجائے دولت کو غلط راستوں میں بہا دیں‘ دراصل خدا کی نعمت کا کفران ہیں۔ جو لوگ اس طرح اپنی دولت کو خرچ کرتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں۔
یہ دفعات بھی محض اخلاقی تعلیم اور انفرادی ہدایات تک محدود نہیں ہیں بلکہ صاف اشارہ اس بات کی طرف کر رہی ہیں کہ ایک صالح معاشرے کو اخلاقی تربیت‘ اجتماعی دبائو اور قانونی پابندیوں کے ذریعے سے بے جا صرف مال کی روک تھام کرنی چاہیے۔ چنانچہ آگے چل کر مدینہ طیبہ کی ریاست میں ان دونوں دفعات کے منشا کی صحیح ترجمانی مختلف عملی طریقوں سے کی گئی۔ ایک طرف فضول خرچی اور عیاشی کی بہت سی صورتوں کو اَزرُوئے قانون حرام کیا گیا۔ دوسری طرف بالواسطہ قانونی تدابیر سے بے جا صَرفِ مال کی روک تھام کی گئی۔ تیسری طرف معاشرتی اصلاح کے ذریعے سے ان بہت سی رسموں کا خاتمہ کیا گیا جن میں فضول خرچیاں کی جاتی تھیں۔ پھر حکومت کو یہ اختیارات دیے گئے کہ اسراف کی نمایاں صورتوں کو اپنے انتظامی احکام کے ذریعے سے روک دے۔ اسی طرح زکوٰۃ و صدقات کے احکام سے بخل کا زور بھی توڑا گیا اور اس امر کے امکانات باقی نہ رہنے دیے گئے کہ لوگ زراندوزی کرکے دولت کی گردش کو روک دیں۔ ان تدابیر کے علاوہ معاشرے میں ایک ایسی رائے عام پیدا کی گئی جو فیاضی اور فضول خرچی کا فرق ٹھیک ٹھیک جانتی تھی اور بخل اور اعتدال میں خوب تمیز کرتی تھی۔ اس رائے عامہ نے بخیلوں کو ذلیل کیا، اعتدال پسندوں کو معزز بنایا‘ فضول خرچوں کو ملامت کی اور فیاض لوگوں کو پوری سوسائٹی کا گل سرسبد قرار دیا۔ اس وقت کی ذہنی و اخلاقی تربیت کا یہ اثر آج تک مسلم معاشرے میں موجود ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں کنجوسوں اور زر اندوزوں کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ اور سخی انسان آج بھی ان کی نگاہ میں معزز و محترم ہیں۔
اسی سلسلے میں یہ بات بھی سمجھائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رزق کی بخشش میں کم و بیش کا جو فرق رکھا ہے انسان اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتا‘ لہٰذا تقسیم رزق کے فطری نظام میں انسان کو اپنی مصنوعی تدبیروں سے دخل انداز نہ ہونا چاہیے۔ فطری نامساوات کو مصنوعی مساوات میں تبدیل کرنا‘ یا اس نامساوات کو فطرت کی حدود سے بڑھا کر بے انصافی کی حد تک پہنچا دینا‘ دونوں ہی یکساں غلط ہیں۔ ایک صحیح معاشی نظام وہی ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے طریقِ تقسیمِ رزق سے قریب تر ہو۔
اس فقرے میں قانون فطرت کے جس قاعدے کی طرف رہنمائی کی گئی تھی اس کی وجہ سے مدینے کے اصلاحی پروگرام میں یہ تخیل سرے سے کوئی راہ نہ پاسکا کہ رزق اور وسائل رزق میں تفاوت اور تفاضل بجائے خود کوئی برائی ہے جسے مٹانا اور ایک بے طبقات سوسائٹی پیدا کرنا کسی درجے میں بھی مطلوب ہو۔ اس کے برعکس مدینہ طیبہ میں انسانی تمدن کو صالح بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے جو راہ عمل اختیار کی گئی وہ یہ تھی کہ فطرۃ اللہ نے انسانوں کے درمیان جو فرق رکھے ہیں ان کو اصل فطری حالت پر برقرار رکھا جائے اور اوپر کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق سوسائٹی کے اخلاق و اطوار اور قوانین عمل کی اس طرح اصلاح کر دی جائے کہ معاش کا فرق و تفاوت کسی ظلم و بے انصافی کا موجب بننے کے بجائے ان بے شمار اخلاقی‘ روحانی اور تمدنی فوائد و برکات کا ذریعہ بن جائے جن کی خاطر ہی دراصل خالق کائنات نے اپنے بندوں کے درمیان یہ فرق و تفاوت رکھا ہے۔
۷۔ فقرہ نمبر ۷ان معاشی بنیادوں کو قطعی منہدم کردیتا ہے جن پر قدیم زمانے سے آج تک مختلف ادوار میں ضبط ولادت کی تحریک اٹھتی رہی ہے۔افلاس کا خوف قدیم زمانے میں قتل اطفال اور اسقاطِ حمل کا محرک ہوا کرتا تھا‘ اور آج وہ ایک تیسری تدبیر یعنی منعِ حمل کی طرف دنیا کو دھکیل رہا ہے، لیکن منشور اسلامی کی یہ دفعہ انسان کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ کھانے والوں کو گھٹانے کی تخریبی کوشش چھوڑ کر ان تعمیری مساعی میں اپنی قوتیں اور قابلیتیں صرف کرے جن سے اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے مطابق رزق میں افزائش ہوا کرتی ہے۔ اس دفعہ کی رُو سے یہ بات انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے کہ وہ بار بار معاشی ذرائع کی تنگی کے اندیشے سے افزائش نسل کا سلسلہ روک دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ رزق رسانی کا انتظام تیرے ہاتھ میں نہیں ہے‘ بلکہ اس خدا کے ہاتھ میں ہے جس نے تجھے زمین میں بسایا ہے۔ جس طرح وہ پہلے آنے والوں کو روزی دیتا رہا ہے‘ بعد کے آنے والوں کو بھی دے گا۔ تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی ہے‘ اتنے ہی بلکہ بارہا اس سے بہت زیادہ معاشی ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے ہیں۔ لہٰذا خدا کے تخلیقی انتظامات میں انسان کی بے جا دخل اندازیاں حماقت کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
یہ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ نزول قرآن کے دور سے لے کر آج تک کسی دور میں بھی مسلمانوں کے اندر نسل کشی کا کوئی عام میلان پیدا نہیں ہونے پایا۔
۸۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ اس حکم کے مخاطب افراد بھی ہیں‘ اور معاشرہ بحیثیت مجموعی بھی۔ افراد کے لیے اس حکم کے معنی یہ ہیں کہ وہ محض فعل زنا ہی سے بچنے پر اکتفا نہ کریں‘ بلکہ زنا کے مقدّمات اور اس کے ان ابتدائی محرکات سے بھی دور رہیں جو اس راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔ رہا معاشرہ‘ تو اس حکم کی رُو سے اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی میں زنا اور محرکاتِ زنا‘ اور اسبابِ زنا کا سدباب کرے اور اس غرض کے لیے قانون سے‘ تعلیم و تربیت سے‘ اجتماعی ماحول کی اصلاح سے‘ معاشرتی زندگی کی مناسب تشکیل سے اور دوسری تمام موثر تدابیر سے کام لے۔
یہ دفعہ آخر کار اسلامی نظام زندگی کے ایک وسیع باب کی بنیاد بنی۔ اس کے منشا کے مطابق زنا اور تہمت ِ زنا کو فوج داری جرم قرار دیا گیا‘ پردے کے احکام جاری کیے گئے‘ فواحش کی اشاعت کو سختی کے ساتھ روک دیا گیا‘ شراب اور موسیقی اور رقص اور تصاویر پر( جو زنا کے قریب ترین رشتے دار ہیں) بندشیں لگائی گئیں‘ اور ایک ایسا ازدواجی قانون بنایا گیا جس سے نکاح آسان ہوگیا اور زنا کے معاشرتی اسباب کی جڑ کٹ گئی۔
۹۔ قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں‘ بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے۔ اس لیے کہ نفس‘ جس کو اللہ نے ذی حرمت ٹھیرایا ہے‘ اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل انسان ہے‘ اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے۔ آدمی کی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی جان کا مالک‘ اور اپنی اس ملکیت کو بَہ اختیارِ خود تلف کر دینے کا مجاز سمجھتا ہے‘ حالانکہ یہ جان اللہ کی ملکیت ہے‘ اور ہم اس کے اتلاف تو درکنار‘ اس کے کسی بے جا استعمال کے بھی مجاز نہیں ہیں۔ دنیا کی اس امتحان گاہ میں اللہ تعالیٰ جس طرح بھی ہمارا امتحان لے‘ اسی طرح ہمیں آخر وقت تک امتحان دیتے رہنا چاہیے‘ خواہ حالات امتحان اچھے ہوں یا برے۔ اللہ کے دیے ہوئے وقت کو قصدًا ختم کرکے امتحان گاہ سے بھاگ نکلنے کی کوشش بجائے خود غلط ہے‘ کجا کہ یہ فرار بھی ایک ایسے جرم عظیم کے ذریعے سے کیا جائے جسے اللہ نے صریح الفاظ میں حرام قرار دیا ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ آدمی دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور ذلتوں اور رسوائیوں سے بچ کر عظیم تر اور ابدی تکلیف و رسوائی کی طرف بھاگتا ہے۔
اسلامی قانون نے قتل بالحق کو صرف پانچ صورتوں میں محدود کر دیا ہے:
٭ ایک: قتل عمد کے مجرم سے قصاص۔
٭ دوسرے: دینِ حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والے سے جنگ۔
٭ تیسرے: اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا۔
٭ چوتھے: شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا۔
٭ پانچویں: اِرتداد کی سزا۔
صرف یہی پانچ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کی حرمت مرتفع ہو جاتی ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں، بلکہ اولیائے مقتول ہیں‘ اور وہ قاتل کو معاف کرنے اور قصاص کے بجائے خون بہا لینے پر راضی ہوسکتے ہیں۔
قتل میں حد سے گزرنے کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں اور وہ سب ممنوع ہیں۔ مثلاً: جوشِ انتقام میں مجرم کے علاوہ دوسروں کو قتل کرنا‘ یا مجرم کو عذاب دے دے کر مارنا‘ یا مار دینے کے بعد اس کی لاش پر غصہ نکالنا‘ یا خون بہا لینے کے بعد پھر اسے قتل کرنا وغیرہ۔
چونکہ اس وقت تک اسلامی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اس لیے اس بات کو نہیں کھولا گیا کہ اس کی مدد کون کرے گا۔ بعد میں جب اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو یہ طے کر دیا گیا کہ اس کی مدد کرنا اس کے قبیلے یا اس کے حلیفوں کاکام نہیں بلکہ اسلامی حکومت اور اس کے نظامِ عدالت کاکام ہے۔ کوئی شخص یا گروہ بطور خود قتل کا انتقام لینے کا مجاز نہیں ہے بلکہ یہ منصب اسلامی حکومت کا ہے کہ حصولِ انصاف کے لیے اس سے مدد مانگی جائے۔
۱۰۔یہ بھی محض ایک اخلاقی ہدایت نہ تھی بلکہ آگے چل کر جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو یتامیٰ کے حقوق کی حفاظت کے لیے انتظامی اور قانونی‘ دونوں طرح کی تدابیر اختیار کی گئیں جن کی تفصیل ہم کو حدیث اور فقہ کی کتابوں میں ملتی ہے۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ اسلامی ریاست اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کرنے کے قابل نہ ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: اَنَا وَلِیٌّ مَنْ لاَّ وَلِیَّ لَہ‘ (مشکوۃ ۲۹۲۰)میں ہر اس شخص کا سرپرست ہوں جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اسی طرف اشارہ کرتا ہے‘ اور یہ اسلامی قانون کے ایک وسیع باب کی بنیاد ہے۔
۱۱۔ یہ بھی صرف انفرادی اخلاقیات ہی کی ایک دفعہ نہ تھی بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی و خارجی سیاست کا سنگِ بنیاد ٹھیرایا گیا۔
۱۲۔یہ ہدایت بھی صرف افراد کے باہمی معاملات تک محدود نہ رہی‘ بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ بات حکومت کے فرائض میں داخل کی گئی کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کرے اور تَطفِیف۲۷۹؎ کو بزور بند کر دے۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ تجارت اور معاشی لین دین میں ہر قسم کی بے ایمانیوں اور حق تلفیوں کا سدباب کرنا حکومت کے فرائض میں سے ہے۔
۱۳۔اس دفعہ کا منشا یہ ہے کہ لوگ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میںوہم و گمان کے بجائے علم کی پیروی کریں۔ اسلامی معاشرے میں اس منشا کی ترجمانی وسیع پیمانے پر اخلاق میں‘ قانون میں‘ سیاست اور انتظام ملکی میں‘ علوم و فنون اور نظامِ تعلیم میں‘ غرض ہر شعبۂ حیات میں کی گئی اور ان بے شمار خرابیوں سے فکر و عمل کو محفوظ کردیا گیا جو علم کے بجائے گمان کی پیروی کرنے سے انسانی زندگی میں رونما ہوتی ہیں۔ اخلاق میں ہدایت کی گئی کہ بدگمانی سے بچو اور کسی شخص یا گروہ پر بلاتحقیق کوئی الزام نہ لگائو۔ قانون میں یہ مستقل اصول طے کر دیا گیا کہ محض شبہے پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ تفتیش جرائم میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ گمان پر کسی کو پکڑنا اور مار پیٹ کرنا یا حوالات میں دے دینا قطعی ناجائز ہے۔ غیر قوموں کے ساتھ برتائو میں یہ پالیسی متعین کردی گئی کہ تحقیق کے بغیر کسی کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا جائے اور نہ مجرد شبہات پر افواہیں پھیلائی جائیں، نظامِ تعلیم میں بھی ان نام نہاد علوم کو ناپسند کیا گیا جو محض ظن و تخمین اور لاطائل قیاسات پر مبنی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عقائد میں اوہام پرستی کی جڑ کاٹ دی گئی اور ایمان لانے والوں کو یہ سکھایا گیا کہ صرف اس چیز کو مانیں جو خدا اور رسولؐ کے دیے ہوئے علم کی رُو سے ثابت ہو۔
۱۴۔اس فقرے میں ہدایت کی گئی کہ جباروں اور متکبروں کی روش سے بچو۔ یہ ہدایت بھی انفرادی طرز عمل اور قومی رویے‘ دونوں پر یکساں حاوی ہے، اور یہ اسی ہدایت کا فیض تھا کہ مدینہ طیبہ میں جو حکومت اس منشور پر قائم ہوئی اس کے فرماں روائوں‘ گورنروں اور سپہ سالاروں کی زندگی میں جباری اور کبریائی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ حتیٰ کہ عین حالت جنگ میں بھی کبھی ان کی زبان سے فخر و غرور کی کوئی بات نہ نکلی۔ ان کی نشست و برخاست‘ چال ڈھال‘ لباس‘ مکان‘ سواری اور عام برتائو میں انکسار و تواضع‘ بلکہ فقیری و درویشی کی شان پائی جاتی تھی‘ اور جب وہ فاتح کی حیثیت سے کسی شہر میں داخل ہوتے تھے اس وقت بھی اکڑ اور تَبَخْتُرسے کبھی اپنا رعب بٹھانے کی کوشش نہ کرتے تھے۔
آخر میں ارشاد ہوا کہ ان میں سے جو چیزبھی ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ کو ناپسند ہے یا دوسرے الفاظ میں‘ جس حکم کی بھی نافرمانی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے۔۲۸۰؎
ریاست کی تعلیمی پالیسی کے متعلق یہ ہدایت بھی قرآن دیتا ہے کہ:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّۃً۝۰ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَo التوبہ 122:9
اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے‘ مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔
اس آیت کا منشا سمجھنے کے لیے رکوع۱۲ کی وہ آیت پیشِ نظر رکھنی چاہیے جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کی حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسولؐ پر نازل کیا ہے۔(التوبہ۹:۹۷)
وہاں صرف اتنی بات بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا تھا کہ دارالاسلام کی دیہاتی آبادی کا بیش تر حصہ مرض نفاق میں اس وجہ سے مبتلا ہے کہ یہ سارے کے سارے لوگ جہالت میں پڑے ہوئے ہیں‘ علم کے مرکز سے وابستہ نہ ہونے اور اہلِ علم کی صحبت میسر نہ آنے کی وجہ سے اللہ کے دین کی حدود ان کو معلوم نہیں ہیں۔ اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ دیہاتی آبادیوں کو اس حالت میں پڑا نہ رہنے دیا جائے‘ بلکہ ان کی جہالت کو دور کرنے اور ان کے اندر شعور اسلامی پیدا کرنے کا اب باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔ اس غرض کے لیے یہ کچھ ضروری نہیں ہے کہ تمام دیہاتی عرب اپنے اپنے گھروں سے نکل نکل کر مدینے آجائیں اور یہاں علم حاصل کریں۔ اس کے بجائے ہونا یہ چاہیے کہ ہر دیہاتی علاقے اور ہر بستی اور قبیلے سے چند آدمی نکل کر علم کے مرکزوں‘ مثلاً: مدینے اور مکے اور ایسے ہی دوسرے مقامات میں آئیں اور یہاں دین کی سمجھ پیدا کریں‘ پھر اپنی اپنی بستیوں میں واپس جائیں اور عامۃ الناس کے اندر بیداری پھیلانے کی کوشش کریں۔
یہ ایک نہایت اہم ہدایت تھی جو تحریک اسلامی کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھیک موقع پر دی گئی۔ ابتدا میں جب کہ اسلام عرب میں بالکل نیا نیا تھا اور انتہائی شدید مخالفت کے ماحول میں آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا‘ اس ہدایت کی کوئی ضرورت نہ تھی، کیونکہ اُس وقت اسلام قبول کرتا ہی وہ شخص تھا جو پوری طرح اسے سمجھ لیتا تھا اور ہر پہلو سے اس کو جانچ پرکھ کر مطمئن ہو جاتا تھا، مگر جب یہ تحریک کامیابی کے مرحلوں میں داخل ہوئی اور زمین میں اس کا اقتدار قائم ہوگیا تو آبادیاں کی آبادیاں فوج در فوج اس میں شامل ہونے لگیں‘ جن کے اندر کم لوگ ایسے تھے جو اسلام کو اس کے تمام مقتضیات کے ساتھ سمجھ بوجھ کر اس پر ایمان لاتے تھے‘ ورنہ بیش تر لوگ محض وقت کے سیلاب میں غیر شعوری طور پر بہے چلے آرہے تھے۔ نومسلم آبادی کا یہ تیز رفتار پھیلائو بظاہر تو اسلام کے لیے سبب ِ قوت تھا‘ کیوں کہ پیروانِ اسلام کی تعداد بڑھ رہی تھی‘ لیکن فی الحقیقت اسلامی نظام کے لیے ایسی آبادی کسی کام کی نہ تھی بلکہ الٹی نقصان دہ تھی جو شعور اسلامی سے خالی ہو، اور اس نظام کے اخلاقی مطالبات پورے کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ چنانچہ یہ نقصان غزوۂ تبوک کی تیاری کے موقع پر کھل کر سامنے آگیا تھا۔ اس لیے عین وقت پر اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی کہ تحریک اسلامی کی یہ توسیع جس رفتار کے ساتھ ہو رہی ہے اسی کے مطابق اس کے استحکام کی تدبیر بھی ہونی چاہیے‘ اور وہ یہ ہے کہ ہر حصۂ آبادی میں سے چند لوگوں کو لے کر تعلیم و تربیت دی جائے‘ پھر وہ اپنے اپنے علاقوں میں واپس جاکر عوام کی تعلیم و تربیت کا فرض انجام دیں‘ یہاں تک کہ مسلمانوں کی پوری آبادی میں اسلام کا شعور اور حدود اللہ کا علم پھیل جائے۔
یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ تعلیم عمومی کے جس انتظام کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے اس کا اصل مقصد عامۃ الناس کو محض خواندہ بنانا اور ان میں کتاب خوانی کی نوعیت کا علم پھیلانا نہ تھا، بلکہ واضح طور پر اس کا مقصد حقیقی یہ متعین کیا گیا تھا کہ لوگوں میں دین کی سمجھ پیدا ہو اور ان کو اس حد تک ہوشیار و خبردار کردیا جائے کہ وہ غیر مسلمانہ رویۂ زندگی سے بچنے لگیں۔ یہ مسلمانوں کی تعلیم کا وہ مقصد ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرما دیا ہے اور ہر تعلیمی نظام کو اسی لحاظ سے جانچا جائے گا کہ وہ اس مقصد کو کہاں تک پورا کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام لوگوں میں نوشت و خواند اور کتاب خوانی اور دنیوی علوم کی واقفیت پھیلانا نہیں چاہتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام لوگوں میں ایسی تعلیم پھیلانا چاہتا ہے جو اوپر کے خط کشیدہ مقصد تک پہنچاتی ہو، ورنہ ایک ایک شخص اگر اپنے وقت کا آئن سٹائن اور فرائڈ ہو جائے لیکن دین کے فہم سے عاری اور غیر مسلمانہ رویۂ زندگی میں بھٹکا ہوا ہو تو اسلام ایسی تعلیم پر لعنت بھیجتا ہے۔
اس آیت میں لفظ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ جو استعمال ہوا ہے اس سے بعد کے لوگوں میں ایک عجیب غلط فہمی پیدا ہوگئی جس کے زہریلے اثرات ایک مدت سے مسلمانوں کی مذہبی تعلیم بلکہ ان کی مذہبی زندگی پر بھی بری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو تَفَقُّہْ فِی الدِّیْنکو تعلیم کا مقصود بتایا تھا جس کے معنی ہیں: دین کو سمجھنا‘ اس کے نظام میں بصیرت حاصل کرنا‘ اس کے مزاج اور اس کی روح سے آشنا ہونا اور اس قابل ہو جانا کہ فکر و عمل کے ہر گوشے اور زندگی کے ہر شعبے میں انسان یہ جان سکے کہ کون سا طریق فکر اور کون سا طرز عمل روحِ دین کے مطابق ہے۔ لیکن آگے چل کر جو قانونی علم اصطلاحاً فقہ کے نام سے موسوم ہوا، اور جو رفتہ رفتہ اسلامی زندگی کی محض صورت (بمقابلہ روح) کا تفصیلی علم بن کر رہ گیا‘ لوگوں نے اشتراک لفظی کی بنا پر سمجھ لیا کہ یہی وہ چیز ہے جس کا حاصل کرنا حکم الٰہی کے مطابق تعلیم کا منتہائے مقصود ہے۔ حالانکہ وہ کل مقصود نہیں بلکہ محض ایک جز مقصود تھا۔ اس عظیم الشان غلط فہمی سے جو نقصانات دین اور پیروانِ دین کو پہنچے ان کا جائزہ لینے کے لیے تو ایک کتاب کی وسعت درکار ہے‘ مگر یہاں ہم اس پر متنبہ کرنے کے لیے مختصراً اتنا اشارہ کیے دیتے ہیں‘ کہ مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کو جس چیز نے روحِ دین سے خالی کرکے محض جسم دین اور شکل دین کی تشریح پر مرتکز کر دیا‘ اور بالآخر جس چیز کی بدولت مسلمانوں کی زندگی میں ایک نری بے جان ظاہر داری‘ دین داری کی آخری منزل بن کر رہ گئی‘ وہ بڑی حد تک یہی غلط فہمی ہے۔۲۸۱؎
شہریت اور خارجہ پالیسی
(الف) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا۝۰ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍؚبَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُمْ مِّيْثَاقٌ۝۰ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌo الانفال72:8
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی‘ وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمھاراولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمھارامعاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔
یہ آیت اسلام کے دستوری قانون کی ایک اہم دفعہ ہے۔ اس میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ ’ولایت ‘ کا تعلق صرف ان مسلمانوں کے درمیان ہوگا جو یا تو دارالاسلام کے باشندے ہوں‘ یا اگر باہر سے آئیں تو ہجرت کرکے آ جائیں۔ باقی رہے وہ مسلمان جو اسلامی ریاست کے حدود ارضی سے باہر ہوں‘ تو ان کے ساتھ مذہبی اخوت تو ضرورقائم رہے گی‘ لیکن ولایت کا تعلق نہ ہو گا، اور اسی طرح ان مسلمانوں سے بھی یہ تعلق ولایت نہ رہے گا جو ہجرت کر کے نہ آئیں بلکہ دارالکفر کی رعایا ہونے کی حیثیت سے دارالاسلام میں آئیں۔
ولایت کا لفظ عربی زبان میں حمایت‘ نصرت‘ مددگاری‘ پُشتی بانی ‘ دوستی‘ قرابت‘ سرپرستی‘ اور اس سے ملتے جلتے مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے، اور اس آیت کے سیاق و سباق میں صریح طور پر اس سے مراد وہ رشتہ ہے جو ایک ریاست کا اپنے شہریوں سے‘ اور شہریوں کا اپنی ریاست سے‘ اور خود شہریوں کا آپس میں ہوتا ہے۔ پس یہ آیت دستوری و سیاسی ولایت کو ریاست کے ارضی حدود تک محدود کر دیتی ہے‘ اور ان حدود سے باہر کے مسلمانوں کو اس مخصوص رشتے سے خارج قرار دیتی ہے۔ اس عدم ولایت کے قانونی نتائج بہت وسیع ہیں جن کی تفصیلات بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے۔ مثال کے طور پر صرف اتنا اشارہ کافی ہوگا کہ اسی عدم ولایت کی بنا پر دارالکفر اور دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے‘ ایک دوسرے کے قانونی ولی (guardian)نہیں بن سکتے‘ باہم شادی بیاہ نہیں کرسکتے‘ اور اسلامی حکومت کسی ایسے مسلمان کو اپنے ہاںذمے داری کا منصب نہیں دے سکتی جس نے دارا لکفر سے شہریت کا تعلق نہ توڑا ہو۔ علاوہ بریں یہ آیت اسلامی حکومت کی خارجی سیاست پر بھی بڑا اثر ڈالتی ہے۔ اس کی رو سے دولت اسلامیہ کی ذمے داری ان مسلمانوں تک محدود ہے جو اس کی حدود کے اندر رہتے ہوں۔ باہر کے مسلمانوں کے لیے کسی ذمے داری کا بار اس کے سر نہیں ہے۔ یہی وہ بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی ہے کہ:
اَنَا بَرِیْ ٌٔ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ ظھرانی الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (ابودائود، ترمذی، نسائی)
میں کسی ایسے مسلمان کی حمایت و حفاظت کا ذمے دار نہیں ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔
اس طرح اسلامی قانون نے اس جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے جو بالعموم بین الاقوامی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے، کیوں کہ جب کوئی حکومت اپنے حدود سے باہر رہنے والی بعض اقلیتوں کا ذمہ اپنے سر لے لیتی ہے تو اس کی وجہ سے ایسی الجھنیں پڑ جاتی ہیں جن کو بار بار کی لڑائیاں بھی نہیں سلجھا سکتیں۔
اوپر کے فقرے میں دارالاسلام سے باہر رہنے والے مسلمانوں کو’سیاسی ولایت‘ کے رشتے سے خارج قرار دیا گیا ہے۔ بعد کا فقرہ اس امر کی توضیح کرتا ہے کہ اس رشتے سے خارج ہونے کے باوجود وہ ’دینی اخوت‘ کے رشتے سے خارج نہیں ہیں۔ اگر کہیں ان پر ظلم ہو رہا ہو اور وہ اسلامی برادری کے تعلق کی بناء پر دارالاسلام کی حکومت اور اس کے باشندوں سے مدد مانگیں تو ان کا فرض ہے کہ اپنے ان مظلوم بھائیوں کی مدد کریں۔ لیکن اس کے بعد مزید توضیح کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان دینی بھائیوں کی مدد کا فریضہ اندھا دھند انجام نہیں دیا جائے گا بلکہ بین الاقوامی ذمے داریوں اور اخلاقی حدود کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جاسکے گا۔ اگر ظلم کرنے والی قوم سے دار الاسلام کے معاہدانہ تعلقات ہوں تو اس صورت میں مظلوم مسلمانوں کی کوئی ایسی مدد نہیں کی جاسکے گی جو ان تعلقات کی اخلاقی ذمے داریوں کے خلاف پڑتی ہو۔
آیت میں معاہدے کے لیے ’میثاق ‘کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا مادہ وُثوق ہے جو عربی زبان کی طرح اردو زبان میں بھی بھروسے اور اعتماد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ میثاق ہر اُس چیز کو کہیں گے جس کی بنا پر کوئی قوم بطریق معروف یہ اعتماد کرنے میں حق بجانب ہو کہ ہمارے اور اس کے درمیان جنگ نہیں ہے‘ قطع نظر اس سے کہ ہمارا اس کے ساتھ صریح طور پر عدم محاربہ کا عہد و پیمان ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔
پھر آیت میں بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِیْثَاقٌ کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں‘ یعنی ’تمھارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو‘۔ اس سے یہ صاف مترشح ہوتا ہے کہ دارالاسلام کی حکومت نے جو معاہدانہ تعلقات کسی غیر مسلم حکومت سے قائم کیے ہوں وہ صرف دو حکومتوں کے تعلقات ہی نہیں ہیں بلکہ دو قوموں کے تعلقات بھی ہیں اور ان کی اخلاقی ذمے داریوں میں مسلمان حکومت کے ساتھ مسلمان قوم اور اس کے افراد بھی شریک ہیں۔ اسلامی شریعت اس بات کو قطعاً جائز نہیں رکھتی کہ مسلم حکومت جو معاملات کسی ملک یا قوم سے طے کرے ان کی اخلاقی ذمے داریوں سے مسلمان قوم یا اس کے افراد سبکدوش رہیں، البتہ حکومت دارالاسلام کے معاہدات کی پابندیاں صرف ان مسلمانوں پر ہی عاید ہوں گی جو اس حکومت کے دائرۂ عمل میں رہتے ہوں۔ اس دائرے سے باہر دنیا کے باقی مسلمان کسی طرح بھی ان ذمے داریوں میں شریک نہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیبیہ میں جو صلح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ سے کی تھی اس کی بنا پر کوئی پابندی حضرت ابوبصیرؓ اور ابوجندلؓ اور ان دوسرے مسلمانوں پر عاید نہیں ہوئی جو دارالاسلام کی رعایا نہ تھے۔۲۸۲؎
(ب) وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَۃً فَانْۢبِذْ اِلَيْہِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ۝۰ۭ الانفال: 58:8
اگر کبھی تمھیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو۔
اس آیت کی رُو سے ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص یا گروہ یا ملک سے ہمارا معاہدہ ہو، اور ہمیں اس کے طرز عمل سے یہ شکایت لاحق ہو جائے کہ وہ عہد کی پابندی میں کوتاہی برت رہا ہے یا یہ اندیشہ پیدا ہو جائے کہ وہ موقع پاتے ہی ہمارے ساتھ غداری کر بیٹھے گا تو ہم اپنی جگہ خود فیصلہ کرلیں کہ ہمارے اور اس کے درمیان معاہدہ نہیں رہا اور یکایک اس کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا شروع کر دیں جو معاہدہ نہ ہونے کی صورت ہی میں کیا جاسکتا ہو۔ اس کے برعکس ہمیں اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو ہم کوئی مخالفانہ کارروائی کرنے سے پہلے فریقِ ثانی کو صاف صاف بتا دیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان اب معاہدہ باقی نہیں رہا تاکہ فسخِ معاہدہ کا جیسا علم ہم کو حاصل ہے ویسا ہی اس کو بھی ہو جائے اور وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ معاہدہ اب بھی باقی ہے۔ اسی فرمان الٰہی کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کا یہ مستقل اصول قرار دیا تھا کہ:
مَنْ کَانَ بَیْنَہ‘ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَلاَ یَحُلَّنَّ عُقْدَہ‘ حَتّٰی یَنْقَضِیَ اَمَدُھَا اَوْ یَنْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَائٍ۔
(ابودائود، ترمذی)
جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو اُسے چاہیے کہ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے عہد کا بند نہ کھولے، یا نہیں تو ان کا عہد برابری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی طرف پھینک دے۔
پھر اسی قاعدے کو آپ نے اور زیادہ پھیلا کر تمام معاملات میں عام اصول یہ قائم کیا تھا کہ: لَا تَخُنْ مَنْ خَانَکَ ’جو تیری خیانت کرے تو اس کی خیانت نہ کر‘اور یہ اصول صرف وعظوں میں بیان کرنے اور کتابوں کی زینت بننے کے لیے نہ تھا بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کی پابندی کی جاتی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ جب امیر معاویہؓ نے اپنے عہد بادشاہی میں سرحد روم پر فوجوں کا اجتماع اس غرض سے کرنا شروع کیا کہ معاہدے کی مدت ختم ہوتے ہی یکایک رومی علاقے پر حملہ کر دیا جائے تو ان کی اس کارروائی پر عمروؓ بن عبسہ صحابی نے سخت احتجاج کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حدیث سنا کر کہا کہ معاہدے کی مدت کے اندر یہ معاندانہ طرزِ عمل اختیار کرنا غداری ہے۔ آخر کار امیر معاویہؓ کو اس اصول کے آگے سر جھکا دینا پڑا اور سرحد پر اجتماع فوج روک دیا گیا۔
یک طرفہ فسخ معاہدہ اور اعلان جنگ کے بغیر حملہ کر دینے کا طریقہ قدیم جاہلیت میں بھی تھا اور زمانۂ حال کی مہذب جاہلیت میں بھی اس کا رواج موجود ہے۔ چنانچہ اس کی تازہ ترین مثالیں جنگ عظیم دوم میں روس پر جرمنی کے حملے اور ایران کے خلاف روس و برطانیہ کی فوجی کارروائی میں دیکھی گئی ہیں۔ عموماً اس کارروائی کے لیے یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ حملے سے پہلے مطلع کر دینے سے دوسرا فریق ہوشیار ہو جاتا اور سخت مقابلہ کرتا‘ یا اگر ہم مداخلت نہ کرتے تو ہمارا دشمن فائدہ اٹھا لیتا۔ لیکن اس قسم کے بہانے اگر اخلاقی ذمے داریوں کو ساقط کر دینے کے لیے کافی ہوں تو پھر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی بہانے نہ کیا جاسکتا ہو۔ ہر چور‘ ہر ڈاکو‘ ہرزانی‘ ہر قاتل‘ ہر جعل ساز اپنے جرائم کے لیے ایسی ہی کوئی مصلحت بیان کرسکتا ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ بین الاقوامی سوسائٹی میں قوموں کے لیے ان کے بہت سے افعال کو جائز سمجھتے ہیں جو خود ان کی نگاہ میں حرام ہیں جب کہ ان کا ارتکاب قومی سوسائٹی میں افراد کی جانب سے ہو۔
اس موقع پر یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی قانون صرف ایک صورت میں بلا اطلاع حملہ کرنے کو جائز رکھتا ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ فریق ثانی علی الاعلان معاہدے کو توڑ چکا ہو، اور اس نے صریح طور پر ہمارے خلاف معاندانہ کارروائی کی ہو۔ ایسی صورت میں یہ ضروری نہیں رہتاکہ ہم اسے آیت مذکورہ بالا کے مطابق فسخ معاہدہ کا نوٹس دیں بلکہ ہمیں اس کے خلاف بلا اطلاع جنگی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ فقہائے اسلام نے یہ استثنائی حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل سے نکالا ہے کہ قریش نے جب بنی خزاعہ کے معاملے میں صلح حدیبیہ کو علانیہ توڑ دیا تھا تو آپؐ نے پھر انھیں فسخِ معاہدہ کا نوٹس دینے کی کوئی ضرورت نہ سمجھی بلکہ بلا اطلاع مکہ پر چڑھائی کر دی۔ لیکن اگر کسی موقع پر ہم اس قاعدۂ استثنا سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو لازم ہے کہ وہ تمام حالات ہمارے پیش نظر رہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کارروائی کی تھی تاکہ پیروی ہو تو آپؐ کے پورے طرز عمل کی ہو نہ کہ اس کے کسی ایک مفید مطلب جز کی۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ:
اولاً: قریش کی خلاف ورزی ایسی صریح تھی کہ اس کے نقض عہد ہونے میں کسی کلام کا موقع نہ تھا۔ خود قریش کے لوگ بھی اس کے معترف تھے کہ واقعی معاہدہ ٹوٹ گیا ہے۔ انھوں نے خود ابوسفیان کو تجدید عہد کے لیے مدینہ بھیجا تھا جس کے صاف معنی یہی تھے کہ ان کے نزدیک بھی عہد باقی نہیں رہا تھا۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ ناقض عہد قوم کو خود بھی اپنے نقضِ عہد کا اعتراف ہو۔ البتہ یہ یقیناً ضروری ہے کہ نقضِ عہد بالکل صریح اور غیر مشتبہ ہو۔
ثانیاً: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے عہد ٹوٹ جانے کے بعد پھر اپنی طرف سے صَرَاحَۃً یا اشارۃ ً وکِنَایَۃً ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے یہ ایما نکلتا ہو کہ اس بدعہدی کے باوجود آپ ابھی تک ان کو ایک معاہد قوم سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کے معاہدانہ روابط اب بھی قائم ہیں۔ تمام روایات بالاتفاق یہ بتاتی ہیں کہ جب ابوسفیان نے مدینہ آکر تجدید معاہدہ کی درخواست پیش کی تو آپؐ نے اسے قبول نہیں کیا۔
ثالثاً :قریش کے خلاف جنگی کارروائی آپؐ نے خود کی اور کھلم کھلا کی۔ کسی ایسی فریب کاری کا شائبہ تک آپؐ کے طرز عمل میں نہیں پایا جاتا کہ آپؐ نے بظاہر صلح اور بباطن جنگ کا کوئی طریقہ استعمال فرمایا ہو۔
یہ اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ ہے۔ لہٰذا آیت مذکورہ بالا کے حکم عام سے ہٹ کر اگر کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے تو ایسے ہی مخصوص حالات میں کی جاسکتی ہے اور اسی سیدھے سیدھے شریفانہ طریقے سے کی جاسکتی ہے جو حضورؐ نے اختیار فرمایا تھا۔
مزید برآں اگر کسی معاہد قوم سے کسی معاملے میں ہماری نزاع ہو جائے اور ہم دیکھیں کہ گفت و شنید اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے سے وہ نزاع طے نہیں ہوتی، یا یہ کہ فریق ثانی اس کو بزور طے کرنے پر تلا ہوا ہے تو ہمارے لیے یہ بالکل جائز ہے کہ ہم اس کو طے کرنے میں طاقت استعمال کریں، لیکن آیت مذکورہ بالا ہم پر یہ اخلاقی ذمے داری عاید کرتی ہے کہ ہمارا یہ استعمال طاقت صاف صاف اعلان کے بعد ہونا چاہیے اور کھلم کھلا ہونا چاہیے۔ چوری چھپے ایسی جنگی کارروائیاں کرنا جن کاعلانیہ اقرار کرنے کے لیے ہم تیار نہ ہوں‘ ایک بداخلاقی ہے جس کی تعلیم اسلام نے ہم کو نہیں دی ہے۔۲۸۳؎
(ج) فَاِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِہِمْ مَّنْ خَلْفَہُمْ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّرُوْنَo الانفال 57:8
پس اگر یہ لوگ تمھیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں‘ ان کے حواس باختہ ہو جائیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے ہمارا معاہدہ ہو، اور پھر وہ اپنی معاہدانہ ذمے داریوں کو پس پشت ڈال کر ہمارے خلاف کسی جنگ میں حصہ لے‘ تو ہم بھی معاہدے کی اخلاقی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے اور ہمیں حق ہوگا کہ اس سے جنگ کریں۔ نیز اگر کسی قوم سے ہماری لڑائی ہو رہی ہو اور ہم دیکھیں کہ دشمن کے ساتھ ایک ایسی قوم کے افراد بھی شریک جنگ ہیں جس سے ہمارا معاہدہ ہے تو ہم ان کو قتل کرنے اور ان سے دشمن کا سا معاملہ کرنے میں ہرگز کوئی تامل نہ کریں گے‘ کیونکہ انھوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں اپنی قوم کے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اپنے آپ کو اس کا مستحق نہیں رہنے دیا ہے کہ ان کی جان و مال کے معاملے میں اس معاہدے کا احترام ملحوظ رکھا جائے جو ہمارے اور ان کی قوم کے درمیان ہے۔۲۸۴؎
(د) وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُo وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْـبَكَ اللہُ۝۰ۭ الانفال61-62:8
اور اے نبی! اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے جھک جائو اور اللہ پر بھروسہ کرو۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمھارے لیے اللہ کافی ہے۔
یعنی بین الاقوامی معاملات میں تمھاری پالیسی بُزدلانہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ خدا کے بھروسے پر بہادرانہ اوردلیرانہ ہونی چاہیے۔ دشمن جب گفتگوئے مصالحت کی خواہش ظاہر کرے‘ بے تکلف اس کے لیے تیار ہو جائو اور صلح کے لیے ہاتھ بڑھانے سے اس بنا پر انکار نہ کرو کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ صلح نہیں کرنا چاہتا، بلکہ غداری کا ارادہ رکھتا ہے۔ کسی کی نیت بہرحال یقینی طور پر معلوم نہیں ہوسکتی۔ اگر وہ واقعی صلح ہی کی نیت رکھتا ہو تو تم خواہ مخواہ اس کی نیت پر شبہ کرکے خون ریزی کو طول کیوںدو، اور اگر وہ غدر کی نیت رکھتا ہو تو تمھیں خدا کے بھروسے پر بہادر ہونا چاہیے۔ صلح کے لیے بڑھنے والے ہاتھ کے جواب میں ہاتھ بڑھائو، تاکہ تمھاری اخلاقی برتری ثابت ہو اور لڑائی کے لیے اٹھنے والے ہاتھ کو اپنی قوت بازو سے توڑ کر پھینک دو تاکہ کبھی کوئی غدار قوم تمھیں نرم چارہ سمجھنے کی جرأت نہ کرے۔۲۸۵؎
اوپر کے صفحات میں جو آیات اور ان کی تشریح پیش کی گئی ہے وہ قرآن کے سیاسی تصورات اور اسلامی حکومت کے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ قرآن نے اس شعبۂ زندگی کے بارے میں واضح اوردو ٹوک ہدایات دی ہیں۔ مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اجتماعی معاملات ان ہدایات کی روشنی میں طے کریں۔ صرف اس طرح وہ اپنے دین و ایمان کے تقاضے پورے کرسکیں گے۔



باب۱۶

آخر میں ہم مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ مقالہ دے رہے ہیںجو موصوف نے مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں انجمن اسلامی تاریخ و تمدن کی دعوت پر ۱۲ /ستمبر ۱۹۴۰ء کو اسٹریچی ہال میں پڑھا تھا۔ اس مقالے کے وہ حصے حذف کر دیے گئے ہیں جو اس وقت کے خاص حالات سے متعلق تھے اور ان تمام اصولی مباحث کو باقی رکھا گیا ہے جو اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی انقلاب کے مزاج اور طریقِ کار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ (مرتب)

 

۱۔اسلامی انقلاب کی راہ

اس مقالےمیں مجھے آپ کے سامنے اس عمل (process)کی تشریح کرنی ہے جس سے ایک طبعی نتیجے کے طور پر اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔
اہلِ علم کے اس مجمع میں مجھے اس حقیقت کی توضیح پر زیادہ وقت صرف کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حکومت خواہ کسی نوعیت کی ہو، مصنوعی طریقے سے نہیں بنا کرتی۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ کہیں وہ بن کر تیار ہو، اور پھر ادھر سے لاکر اس کو کسی جگہ جما دیا جائے۔ اس کی پیدائش تو ایک سوسائٹی کے اخلاقی‘ نفسیاتی‘ تمدنی اور تاریخی اسباب کے تعامل سے طبعی طور پر ہوتی ہے۔ اس کے لیے کچھ ابتدائی لوازم (pre-requisites)،کچھ اجتماعی محرکات‘ کچھ فطری مقتضیات ہوتے ہیں جن کے فراہم ہونے اور زور کرنے سے وہ وجود میں آتی ہے۔ جس طرح منطق میں آپ دیکھتے ہیں کہ نتیجہ ہمیشہ مقدمات (premises)کی ترتیب ہی سے برآمد ہوتا ہے۔ جس طرح علم الکیمیا میں آپ دیکھتے ہیں کہ ایک کیمیائی مرکب ہمیشہ کیمیاوی کشش رکھنے والے اجزا کے مخصوص طریقے پر ملنے ہی سے برآمد ہوا کرتا ہے‘ اسی طرح اجتماعیات میں بھی یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایک حکومت صرف ان حالات کے اقتضا کا نتیجہ ہوتی ہے جو کسی سوسائٹی میں بہم پہنچ گئے ہوں۔ پھر حکومت کی نوعیت کا تعین بھی بالکلیہ ان حالات کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی پیدائش کے مقتضی ہوتے ہیں۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ مقدمات کسی نوعیت کے ہوں اور ان کی ترتیب سے نتیجہ کچھ اور نکل آئے‘ کیمیاوی اجزا کسی خاصیت کے ہوں اور ان کو ملانے سے مرکب کسی اور قسم کا بن جائے‘ درخت لیموں کا لگایا جائے اور نشوونما پاکر وہ پھل آم دینے لگے‘ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اسباب ایک خاص نوعیت کی حکومت کے فراہم ہوں‘ ان کے مل کر کام کرنے کا ڈھنگ بھی اسی نوعیت کی حکومت کے نشوونما کے لیے مناسب ہو‘ مگر ارتقائی مراحل سے گزر کر جب وہ تکمیل کے قریب پہنچے تو انھی اسباب اور اسی عمل کے نتیجے میں بالکل ایک دوسری ہی حکومت بن جائے۔
یہ گمان نہ کیجیے کہ میں یہاں جبریت (determinism)کو دخل دے رہا ہوں اور انسانی ارادے و اختیار کی نفی کر رہا ہوں۔ بلاشبہہ حکومت کی نوعیت متعین کرنے میں افراد اور جماعتوں کے ارادہ و عمل کا بہت بڑا حصہ ہے، مگر میں دراصل یہ ثابت کر رہا ہوں کہ جس نوعیت کا بھی نظام حکومت پیدا کرنا مقصود ہو، اسی کے مزاج اور اسی کی فطرت کے مناسب اسباب فراہم کرنا اور اسی کی طرف لے جانے والا طرز عمل اختیار کرنا بہرحال ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ویسی ہی تحریک اٹھے‘ اسی قسم کے انفرادی کیرکٹر تیار ہوں‘ اسی طرح کا اجتماعی اخلاق بنے‘ اسی طرز کے کارکن تربیت کیے جائیں‘ اسی ڈھنگ کی لیڈر شپ ہو‘ اور اسی کیفیت کا اجتماعی عمل ہو جس کا اقتضا اس خاص نظام حکومت کی نوعیت فطرۃً کرتی ہے جسے ہم بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سارے اسباب و عوامل جب بہم ہوتے ہیں اور جب ایک طویل مدت تک جدوجہد سے ان کے اندر اتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ ان کی تیار کی ہوئی سوسائٹی میں کسی دوسری نوعیت کے نظام حکومت کا جینا دشوار ہو جاتا ہے تب ایک طبعی نتیجے کے طور پر وہ خاص نظامِ حکومت ابھر آتا ہے جس کے لیے ان طاقت وَر اسباب نے جدوجہد کی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ ایک بیج سے جب درخت پیدا ہوتا ہے‘ اور اپنے زور میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو نشوونما کی ایک خاص حد پر پہنچ کر اس میں وہی پھل آنے شروع ہو جاتے ہیں جن کے لیے اس کی فطری ساخت زور کر رہی تھی۔ اس حقیقت پر جب آپ غور کریں گے تو آپ کو یہ تسلیم کرنے میں ذرا تامل نہ ہوگا کہ جہاں تحریک، لیڈر شپ‘ انفرادی سیرت‘ جماعتی اخلاق‘ اور حکمت عملی‘ ہر ایک چیز ایک نوعیت کا نظامِ زندگی پیدا کرنے کے لیے مناسب و موزوں ہو، اور امید یہ کی جائے کہ ان کے نتیجے میں بالکل ہی ایک دوسری نوعیت کا نظام پیدا ہوگا، وہاں بے شعوری‘ خام خیالی‘ اور خام کاری کے سوا اور کوئی چیز کام نہیں کررہی ہے۔
اسلامی حکومت کی خصوصیات
اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حکومت جس کو ہم اسلامی حکومت کہتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے؟ اس سلسلے میں سب سے پہلی خصوصیت جو اسلامی حکومت کو تمام دوسری حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ خالص قوم پرستی کا عنصر اس میں قطعی ناپید ہے۔ وہ ایک اصولی حکومت ہے۔ انگریزی میں اس کو ideological stateکہوں گا۔ یہ ’اصولی حکومت‘ وہ چیز ہے جس سے دنیا ہمیشہ ناآشنا رہی ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ صرف خاندانوں یا طبقوں کی حکومت سے واقف تھے۔ بعد میں نسلی اور قومی حکومتوں سے واقف ہوئے۔ محض ایک اصولی حکومت اس بنیاد پر کہ جو اس اصول کو قبول کرے وہ بلا لحاظ قومیت اسٹیٹ کے چلانے میں حصے دار ہوگا‘ دنیا کے تنگ ذہن میں کبھی نہ سما سکی۔ عیسائیت نے اس تخیل کا ایک بہت ہی دھندلا سا نقش پایا، مگر اس کو وہ مکمل نظامِ فکر نہ مل سکا جس کی بنیاد پر کوئی ریاست تعمیر ہوتی۔ انقلاب فرانس میں اصولی حکومت کے تخیل کی ایک ذرا سی جھلک انسان کی نظر کے سامنے آئی، مگر نیشنلزم کی تاریکی میں گم ہوگئی۔ اشتراکیت نے اس تخیل کا خاصا چرچا کیا‘ حتی کہ ایک حکومت بھی اس کی بنیاد پر تعمیر کرنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے دنیا کی سمجھ میں یہ تخیل کچھ کچھ آنے لگا تھا‘ مگر اس کی رگ و پے میں بھی آخر کارنیشنلزم گھس گیا۔ ابتدا سے آج تک تمام دنیا میں صرف اسلام ہی وہ مسلک ہے جو قومیت کے ہر شائبہ سے پاک کرکے حکومت کا ایک نظام خالص آئیڈیالوجی کی بنیاد پر تعمیر کرتا ہے اور تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اس آئیڈیالوجی کو قبول کرکے غیر قومی حکومت بنائیں۔
یہ چیز چونکہ نرالی ہے‘ اور گرد و پیش کی تمام دنیا اس کے خلاف چل رہی ہے‘ اس لیے نہ صرف غیر مسلم، بلکہ خود مسلمان بھی اس کو اور اس کے جملہ تضمّنات (implications)کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ جو لوگ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں‘ مگر جن کے اجتماعی تصورات تمام تر یورپ کی تاریخ‘ اور یورپ ہی کے سیاسیات اور علومِ عمران (social sciences) سے بنے ہیں‘ ان کے ذہن کی گرفت میں یہ تصور کسی طرح نہیں آتا۔ افسوس ہے کہ وہ ممالک جن کی بیش تر آبادی مسلمان اور سیاسی حیثیت سے آزاد ہے‘ وہاں اس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں جب زمامِ کار آئی تو ان کو حکومت کا کوئی نقشہ قومی حکومت (national state)کے سوا نہ سوجھا، کیونکہ وہ اسلام کے علم و شعور اور اصولی حکومت کے تصور سے بالکل خالی الذہن تھے۔ پوری اسلامی دنیا میں ایک ژولیدہ فکری پائی جاتی ہے۔ لوگ اسلامی حکومت کا نام لیتے ہیں مگر بیچارے اپنے ذہن کی ساخت سے مجبور ہیں کہ ہر پھر کر جو نقشہ بھی نظر کے سامنے آتا ہے قومی حکومت ہی کا آتا ہے‘ قوم پرستانہ طرز فکر (nationalistic ideology)ہی میں دانستہ و نادانستہ پھنس جاتے ہیں اور جو پروگرام سوچتے ہیں وہ بنیادی طور پر قوم پرستانہ ہی ہوتا ہے۔ یہ لوگ امت‘ جماعت‘ ملت‘ ملیت‘ امیر‘ اطاعت امیر‘ اور اسی قسم کے دوسرے الفاظ اسلامی اصطلاحات سے لے کر بولتے ہیں‘ مگر اساسی فکر کے اعتبار سے یہ سب ان کے لیے مذہب ِ قوم پرستی کی اصطلاحوں کے مترادفات ہیں جو خوش قسمتی سے پرانے ذخیرے سے گھڑے گھڑائے مل گئے ہیں اور غیر اسلامی فکر کو چھپانے کے لیے اسلامی رنگ کے غلاف کاکام دینے لگے ہیں۔
اصولی حکومت کی نوعیت آپ سمجھ لیں تو آپ کو یہ بات سمجھنے میں ذرہ برابر بھی دقت پیش نہ آئے گی کہ اس کی بنا رکھنے کے لیے یہ طرز فکر‘ یہ انداز تحریک‘ یہ عملی پروگرام نقطۂ آغاز کا بھی کام نہیں دے سکتا، کجا کہ تعمیر کے انجام تک پہنچا سکے‘ بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس کا ہر جزو ایک تیشہ ہے جس سے اصولی حکومت کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اصولی حکومت کے تخیل کی تو بنیاد ہی یہ ہے کہ ہمارے سامنے قومیں اور قومیتیں نہیں صرف انسان ہیں۔ ہم ان کے سامنے ایک اصول اس حیثیت سے پیش کرتے ہیں کہ اس پر تمدن کا نظام اور حکومت کا ڈھانچہ تعمیر کرنے میں ان کی اپنی فلاح ہے اور جو اس کو قبول کرلے وہ اس نظام کو چلانے میں برابر کا حصے دار ہے۔ غور کیجیے اس تخیل کو لے کر وہ شخص کس طرح اٹھ سکتا ہے جس کے دماغ‘ زبان‘ افعال و حرکات‘ ہر چیز پر قومیت اور قوم پرستی کا ٹھپہ لگا ہوا ہو؟
خلافت ِ اسلامیہ
اسلامی حکومت کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس کی پوری عمارت خدا کی حاکمیت کے تصور پر قائم کی گئی ہے۔ اس کا بنیادی نظریہ ۲۸۶؎ یہ ہے کہ ملک خدا کا ہے اور وہی اس کا حاکم ہے۔کسی شخص یا خاندان یا طبقے یا قوم کو بلکہ پوری انسانیت کو بھی حاکمیت (sovereignty)کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ حکم دینے اور قانون بنانے کا حق صرف خدا کے لیے خاص ہے۔ حکومت کی صحیح شکل اس کے سوا کوئی نہیں کہ انسان خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے کام کرے اور یہ حیثیت صحیح طور پر صرف دو صورتوں سے قائم ہوسکتی ہے:
۱۔ یا تو کسی انسان کے پاس براہ راست خدا کی طرف سے قانون اور دستور حکومت آیا ہو۔
۲۔ یا وہ اس شخص کی پیروی اختیار کرے جس کے پاس خدا کی طرف سے قانون اور دستور آیا ہے۔
اس خلافت کے کام میں تمام وہ لوگ شریک ہوں گے جو اس قانون پر ایمان لائیں اور اس کی پیروی کرنے پر تیار ہوں۔ یہ کام اس احساس کے ساتھ چلایا جائے گا کہ ہم بحیثیت مجموعی‘ اور ہم میں سے ہر ایک فردًافردًاخدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس خدا کے سامنے جو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کو جاننے والا ہے‘ جس کے علم سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی‘ اور جس کی گرفت سے مرکر بھی ہم نہیں چھوٹ سکتے۔ خلافت کی ذمے داری جو ہمارے سپرد کی گئی ہے‘ یہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم لوگوں پر اپنا حکم چلائیں‘ ان کو اپنا غلام بنائیں‘ ان کے سر اپنے آگے جھکوائیں‘ ان سے ٹیکس وصول کرکے اپنے محل تعمیر کریں‘ حاکمانہ اختیارات سے کام لے کر اپنے عیش اور اپنی نفس پرستی اور اپنی کبریائی کا سامان کریں‘ بلکہ یہ بار ہم پر اس لیے ڈالا گیا ہے کہ ہم خدا کے قانون عدل کو اس کے بندوں پر جاری کریں۔ اس قانون کی پابندی اور اس کے نفاذ میں ہم نے اگر ذرا سی کوتاہی بھی کی‘ اگر ہم نے اس کام میں ذرہ برابر بھی خود غرضی‘ نفس پرستی‘ تعصب، جانب داری یا بددیانتی کو دخل دیا تو ہم خدا کی عدالت سے سزا پائیں گے‘ خواہ دنیا میں ہر سزا سے محفوظ رہ جائیں۔
اس نظریے کی بنیاد پر جو عمارت اٹھتی ہے وہ اپنی جڑ سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی شاخوں تک ہر چیز میں دنیوی حکومتوں (secular states)سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی ترکیب‘ اس کا مزاج‘ اس کی فطرت‘ کوئی چیز بھی ان سے نہیں ملتی۔ اس کو بنانے اور چلانے کے لیے ایک خاص قسم کی ذہنیت‘ خاص طرز کی سیرت اور خاص نوعیت کے کردار کی ضرورت ہے۔ اس کی فوج‘ اس کی پولیس‘ اس کی عدالت‘ اس کے مالیات‘ اس کے محاصل‘ اس کی انتظامی پالیسی‘ اس کی خارجی سیاست‘ اس کی صلح و جنگ کے معاملات‘ سب کے سب دنیوی ریاستوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی عدالتوں کے جج‘ چیف جسٹس‘ اس کی عدالت کے کلرک بلکہ چپراسی تک بننے کے اہل نہیں ہوسکتے۔ ان کی پولیس کے انسپکٹر جنرل وہاں کانسٹیبل کی جگہ کے لیے بھی موزوں نہیں ٹھیرتے۔ ان کے جنرل وہاں سپاہیوں میں بھرتی کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ ان کے وزرائے خارجہ وہاں کسی منصب پر تو کیا مقرر ہوں گے‘ شاید اپنے جھوٹ‘ دغا اور بددیانتیوں کی بدولت جیل جانے سے بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ غرض وہ تمام لوگ جو ان حکومتوں کے کاروبار چلانے کے لیے تیار کیے گئے ہوں‘ جن کی اخلاقی و ذہنی تربیت ان کے مزاج کے مناسب حال کی گئی ہو‘ اسلامی حکومت کے لیے قطعی ناکارہ ہیں۔ اس کو اپنے شہری‘ اپنے ووٹر‘ اپنے کونسلر‘ اپنے اہل کار‘ اپنے جج اور مجسٹریٹ‘ اپنے محکموں کے ڈائریکٹر‘ اپنی فوجوں کے قائد‘ اپنے خارجی سفرا‘ اپنے وزیر‘ غرض اپنی اجتماعی زندگی کے تمام اجزا اپنی انتظامی مشین کے تمام پرزے بالکل ایک نئی ساخت کے درکار ہیں۔ اس کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہو‘ جو خدا کے سامنے اپنی ذمے داری کا احساس رکھتے ہوں‘ جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والے ہوں‘ جن کی نگاہ میں اخلاقی نفع و نقصان کا وزن دنیوی نفع نقصان سے زیادہ ہو‘ جو ہر حال میں اس ضابطے اور اس طرز عمل کے پابند ہوں جو ان کے لیے مستقل طور پر بنا دیا گیا ہے‘ جن کی تمام سعی وجہد کا ہدف مقصود خدا کی رضا ہو۔ جن پر شخصی یا قومی اغراض کی بندگی اور ہواوہوس کی غلامی مسلط نہ ہو‘ جو تنگ نظری و تعصب سے پاک ہوں‘ جو مال اورحکومت کے نشے میں بدمست ہو جانے والے نہ ہوں‘ جو دولت کے حریص اور اقتدار کے بھوکے نہ ہوں۔ جن کی سیرتوں میں یہ طاقت ہو کہ جب زمین کے خزانے ان کے دست قدرت میں آئیں تو وہ پکے امانت دار ثابت ہوں۔ جب بستیوں کی حکومت ان کے ہاتھ میں آئے تو وہ راتوں کی نیند سے محروم ہو جائیں اور لوگ ان کی حفاظت میں اپنی جان‘ مال‘ آبرو‘ ہر چیز کی طرف سے بے خوف رہیں۔ جب وہ فاتح کی حیثیت سے کسی ملک میں داخل ہوں تو لوگوں کو ان سے قتل و غارت گری‘ ظلم و ستم اور بدکاری و شہوت رانی کا کوئی اندیشہ نہ ہو، بلکہ ان کے ہر سپاہی کو مفتوح ملک کے باشندے اپنی جان و مال اور اپنی عورتوں کی عصمت کا محافظ پائیں۔ جن کی دھاک بین الاقوامی سیاست میں اس درجے کی ہو کہ ان کی راستی‘ انصاف پسندی‘ اصول و اخلاق کی پابندی اور عہد و پیمان پر تمام دنیا میں اعتماد کیا جائے۔ اس قسم کے اور صرف اسی قسم کے لوگوں سے اسلامی حکومت بن سکتی ہے اور یہی لوگ اس کو چلا سکتے ہیں۔ رہے مادہ پرست‘ افادی ذہنیت (utilitarian mentality)رکھنے والے لوگ جو دنیوی فائدوں اور شخصی یا قومی مصلحتوں کی خاطر ہمیشہ ایک نیا اصول بناتے ہوں‘ جن کے پیش نظر نہ خدا ہو، نہ آخرت‘ بلکہ جن کی ساری کوششوں کا مرکز و محور اورساری پالیسیوںکا مدار صرف دنیوی فائدہ و نقصان ہی کا خیال ہو‘ وہ ایسی حکومت بنانے یا چلانے کے قابل تو کیا ہوں گے، ان کا اس حکومت کے دائرے میں موجود ہونا ہی ایک عمارت میں دیمک کی موجودگی کا حکم رکھتا ہے۔
اسلامی انقلاب کی سبیل
اسلامی حکومت کی اس نوعیت کو ذہن میں رکھ کر غور کیجیے کہ اس منزل تک پہنچنے کی کیا سبیل ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ میں ابتدا میں عرض کر چکا ہوں‘ کسی سوسائٹی میں جس قسم کے فکری‘ اخلاقی‘ تمدنی اسباب و محرکات فراہم ہوتے ہیں ان کے تعامل سے اسی قسم کی حکومت وجود میں آتی ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک درخت اپنی ابتدائی کونپل سے لے کر پورا درخت بننے تک تولیموں کی حیثیت سے نشوونما پائے، مگر بار آوری کے مرحلے پر پہنچ کر یکایک آم دینے لگے۔ اسلامی حکومت کسی معجزے کی شکل میں صادر نہیں ہوتی۔ اس کے پیدا ہونے کے لیے ناگزیر ہے کہ ابتدا میں ایک ایسی تحریک اٹھے جس کی بنیاد میں وہ نظریۂ حیات‘ وہ مقصد ِ زندگی‘ وہ معیارِ اخلاق‘ وہ سیرت و کردار ہو جو اسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس کے لیڈر اور کارکن صرف وہی لوگ ہوں جو اس خاص طرز کی انسانیت کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے مستعد ہوں۔ پھر وہ اپنی جدوجہد سے سوسائٹی میں اسی ذہنیت اور اسی اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پھر اسی بنیاد پر تعلیم و تربیت کا ایک نیا نظام اٹھے جو اس مخصوص ٹائپ کے آدمی تیار کرے۔ اس سے مسلم سائنٹسٹ‘ مسلم فلسفی‘ مسلم مؤرخ‘ مسلم ماہرین مالیات و معاشیات‘ مسلم ماہرین قانون‘ مسلم ماہرین سیاست‘ غرض ہر شعبۂ علم و فن میں ایسے آدمی پیدا ہوں جو اپنی نظر و فکر کے اعتبار سے مسلم ہوں‘ جن میں وہ قابلیت موجود ہو کہ افکار و نظریات کا ایک پورا نظام اور عملی زندگی کا ایک مکمل خاکہ اسلامی اصول پر مرتب کرسکیں، اور جن میں اتنی طاقت ہو کہ دنیا کے ناخدا شناس ائمۂ فکر کے مقابلے میں اپنی عقلی و ذہنی ریاست (intellectual leadership)کا سکہ جما دیں۔ اس دماغی پس منظر کے ساتھ یہ تحریک عملاً اس غلط نظام زندگی کے خلاف جدوجہد کرے جو گرد و پیش کی دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس جدوجہد میں اس کے علم بردار مصیبتیں اٹھاکر‘ سختیاں جھیل کر‘ قربانیاں کرکے‘ مار کھا کر اور جانیں دے کر اپنے خلوص اور اپنے ارادے کی مضبوطی کا ثبوت دیں۔ آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں، اور ایسا سونا بن کر نکلیں جس کو پرکھنے والا ہر طرح جانچ کر بے کھوٹ کامل العیار سونا ہی پائے۔ اپنی لڑائی کے دوران میں وہ اپنے ہر قول اور ہر فعل سے اپنی اس مخصوص آئیڈیالوجی کا مظاہرہ کریں جس کے علم بردار بن کر وہ اٹھے ہیں۔ ان کی ہر بات سے عیاں ہو کہ واقعی ایسے بے لوث‘ بے غرض‘ راست باز‘ پاک سیرت‘ ایثار پیشہ‘ بااصول‘ اللہ سے ڈرنے والے لوگ انسانیت کی فلاح کے لیے جس اصولی حکومت کی طرف دعوت دے رہے ہیں‘ اس میں ضرور انسان کے لیے عدل اور امن ہوگا۔ اس طرح کی جدوجہد سے سوسائٹی کے وہ تمام عناصر جن کی فطرت میں کچھ بھی نیکی اور راستی موجود ہے‘ اس تحریک میں کھنچ آئیں گے۔ پست سیرت لوگوں اور ادنیٰ درجے کے طریقوں پر چلنے والوں کے اثرات اس تحریک کے مقابلے میں دبتے چلے جائیں گے۔عوام کی ذہنیت میں ایک انقلاب رونما ہوگا۔ اجتماعی زندگی میں اس مخصوص نظام حکومت کی پیاس پیدا ہو جائے گی جس کے لیے اس طور پر زمین تیار کی گئی ہو گی اور سوسائٹی کے اس بدلے ہوئے ماحول میں کسی دوسرے طرز کے نظام حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر جوں ہی کہ وہ نظام قائم ہوگا اس کو چلانے کے لیے ابتدائی اہل کاروں سے لے کر وزرا اور نظما تک ہر درجے کے مناسب کل پُرزے اس نظامِ تعلیم و تربیت کی بدولت موجود ہوں گے‘ جس کا ذکر میں ابھی کرچکا ہوں۔
حضرات! یہ ہے اس انقلاب کے ظہور اور اس حکومت کی پیدائش کا فطری طریقہ جس کو اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کہا جاتا ہے۔ آپ سب اہل علم لوگ ہیں۔ دنیا کے انقلابات کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ آپ سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ ایک خاص نوعیت کا انقلاب اسی نوعیت کی تحریک، اسی نوعیت کے لیڈر اور کارکن اور اسی نوعیت کا اجتماعی شعور اور تمدنی و اخلاقی ماحول چاہتا ہے۔ انقلاب فرانس کو وہی خاص اخلاقی و ذہنی اساس درکار تھی جو روسو(۱۷۱۲ء۔۱۷۷۸ء) والٹیر(۱۶۹۴ء۔۱۷۷۸ء) اور مانٹیسکیو(۱۶۸۹ء۔۱۷۵۵ء) جیسے لیڈروں نے تیار کی۔ انقلاب روس صرف مارکس (۱۸۱۸ء۔ ۱۸۸۳ء) کے افکار‘ لینن(۱۸۷۰ء۔۱۹۲۴ء) اور ٹراٹسکی (۱۸۷۹ء۔۱۹۴۰ء)کی لیڈر شپ اور ان ہزارہا اشتراکی کارکنو ں ہی کی بدولت رونما ہوسکتا تھا جن کی زندگیاں اشتراکیت کے سانچے میں ڈھل چکی تھیں۔ جرمنی کا نیشنل سوشلزم اس مخصوص اخلاقی‘ نفسیاتی‘ اور تمدنی زمین ہی میں جڑ پکڑ سکتا تھا جس کو ہیگل‘ (۱۷۷۰ء۔ ۱۸۳۱ء) فشتے‘ گوئٹے‘ نیتشے اور بہت سے مفکرین کے نظریات اور ہٹلر (۱۸۸۹ء۔۱۹۴۵ء) کی لیڈر شپ نے تیار کیا ہے۔ اسی طرح سے اسلامی انقلاب بھی صرف اسی صورت میں برپا ہوسکتا ہے جب کہ ایک عوامی تحریک قرآنی نظریات و تصورات اور محمدی سیرت و کردار کی بنیاد پر اٹھے اور اجتماعی زندگی کی ساری ذہنی‘ اخلاقی‘ نفسیاتی اور تہذیبی بنیادوں کو طاقت وَر جدوجہد سے بدل ڈالے۔
اسلامی تحریک کا مخصوص طریقِ کار
اب میں ایک مختصر تاریخی بیان کے ذریعے سے آپ کے سامنے اس امر کی تشریح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی انقلاب کے لیے اجتماعی زندگی کی بنیادیں بدلنے اور ازسرنو تیار کرنے کی صورت کیا ہوتی ہے‘ اور اس جدوجہد کا وہ مخصوص طریق کار (technique)کیا ہے جس سے یہ کامیابی کی منزل تک پہنچتی ہے۔
اسلام دراصل اس تحریک کا نام ہے جو خدائے واحد کی حاکمیت کے نظریے پر انسانی زندگی کی پوری عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ یہ تحریک قدیم ترین زمانے سے ایک ہی بنیاد اور ایک ہی ڈھنگ پر چلی آرہی ہے۔ اس کے لیڈر وہ لوگ تھے جن کو رسول اللہ (اللہ کے فرستادے) کہا جاتا ہے۔ ہمیں اگر اس تحریک کو چلانا ہے تو لامحالہ ان ہی لیڈروں کے طرز عمل کی پیروی کرنی ہوگی‘ کیونکہ اس کے سوا کوئی اور طرز عمل اس خاص نوعیت کی تحریک کے لیے نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں جب ہم انبیاء علیہم السلام کے نقشِ قدم کا سراغ لگانے کے لیے نکلتے ہیں تو ہمیں ایک بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں جو انبیاعلیھم السلام گزرے ہیں ان کے کام کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ قرآن میں کچھ مختصر اشارات ملتے ہیں، مگر ان سے مکمل اسکیم نہیں بن سکتی۔ بائبل کے عہد جدید (new testament)میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے کچھ غیر مستند اقوال ملتے ہیں‘ جن سے کسی حد تک اس پہلو پر روشنی پڑتی ہے کہ اسلامی تحریک اپنے بالکل ابتدائی مرحلے میں کس طرح چلائی جاتی ہے اور کن مسائل سے اسے سابقہ پیش آتا ہے، لیکن بعد کے مراحل حضرت مسیح ؑ کو پیش ہی نہیں آئے کہ ان کے متعلق کوئی اشارہ وہاں سے مل سکے۔ اس معاملے میں ہم کو صرف ایک ہی جگہ سے صاف اور مکمل رہنمائی ملتی ہے، اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔اس طرف ہمارے رجوع کرنے کی وجہ نری عقیدت مندی ہی نہیں ہے، بلکہ دراصل اس راہ کے نشیب و فراز معلوم کرنے کے لیے ہم اسی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ اسلامی تحریک کے تمام لیڈروں میں صرف ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ تنہا لیڈر ہیں جن کی زندگی میں ہم کو اس تحریک کی ابتدائی دعوت سے لے کر اسلامی اسٹیٹ کے قیام تک اور پھر قیام کے بعد اس اسٹیٹ کی شکل‘ دستور‘ داخلی و خارجی پالیسی اور نظمِ مملکت کے نہج تک ایک ایک مرحلے اور ایک ایک پہلو کی پوری تفصیلات اور نہایت مستند تفصیلات ملتی ہیں۔ لہٰذا میں اسی ماخذ سے اس تحریک کے طریقِ کار کا ایک مختصر نقشہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسلام کی دعوت پر مامور ہوئے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں بہت سے اخلاقی‘ تمدنی‘ معاشی اور سیاسی مسائل حل طلب تھے۔ رومی اور ایرانی امپیریلزم بھی موجود تھا۔ طبقاتی امتیازات بھی تھے۔ ناجائز معاشی انتفاع (economic exploitation) بھی ہو رہا تھا۔ اخلاقی ذمائم بھی پھیلے ہوئے تھے۔ خود آپ کے اپنے ملک میں ایسے پیچیدہ مسائل موجود تھے جو ایک لیڈر کے ناخنِ تدبیر کا انتظار کر رہے تھے۔ ساری قوم جہالت‘ اخلاقی پستی‘ افلاس‘ طوائف الملوکی اور خانہ جنگی میں مبتلا تھی۔ بحرین سے یمن تک عرب کے تمام ساحلی علاقے، عراق کے زرخیز صوبے سمیت ایرانی تسلط میں تھے۔ شمال میں عین حجاز کی سرحد تک رومی تسلط پہنچ چکا تھا۔ خود حجاز میں یہودی سرمایہ داروں کے بڑے بڑے گڑھ بنے ہوئے تھے اور انھوں نے عربوں کو اپنی سُود خوری کے جال میں پھانس رکھا تھا۔ مشرقی ساحل کے عین مقابل افریقہ میں حبش کی عیسائی حکومت موجود تھی جو چند ہی سال پہلے مکہ پر چڑھائی کر چکی تھی۔ اس کے ہم مذہبوں اور اس سے ایک گونہ معاشی و سیاسی تعلق رکھنے والوں کا ایک جتھا خود حجاز اور یمن کے درمیان نجران کے مقام پر موجود تھا۔ یہ سب کچھ تھا‘ مگر جس لیڈر کو اللہ نے راہنمائی کے لیے مقرر کیا تھا اس نے دنیا کے‘ اور خود اپنے ملک کے ان بہت سے مسائل میں سے کسی ایک مسئلے کی طرف بھی توجہ نہ کی‘ بلکہ دعوت اس چیز کی طرف دی کہ خدا کے سوا تمام الہٰوں کو چھوڑ دو‘ اور صرف اسی ایک الٰہ کی بندگی قبول کرو۔
اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس رہنما کی نگاہ میں دوسرے مسائل کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے، یا وہ کسی توجہ کے لائق نہ تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ آگے چل کر اس نے ان سب مسئلوں کی طرف توجہ کی اور سب کو ایک ایک کرکے حل کیا، مگر ابتدا میں سب طرف سے نظر پھیر کر اسی ایک چیز پر تمام زور صرف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی تحریک کے نقطۂ نظر سے انسان کی اخلاقی و تمدنی زندگی میں جتنی خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں‘ ان سب کی بنیادی علت انسان کا اپنے آپ کو خود مختار (independent)اور غیر ذمے دار (irresponsible) سمجھنا،بالفاظ دیگر آپ اپنا الٰہ بننا ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ وہ الٰہ العالمین کے سوا کسی دوسرے کو صاحبِ امرتسلیم کرے۔ خواہ دوسرا کوئی انسان ہو یا غیر انسان۔ یہ چیز جب تک جڑ میں موجود ہے اسلامی نظریے کی رُو سے کوئی اوپری اصلاح انفرادی بگاڑ یا اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایک طرف سے خرابی کو دور کیا جائے گا اور کسی دوسری طرف سے وہ سر نکال لے گی۔ لہٰذا اصلاح کا آغاز اگر ہوسکتا ہے تو صرف اسی چیز سے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو انسان کے دماغ سے خود مختاری کی ہوا کو نکالا جائے اور اسے بتایا جائے کہ تو جس دنیا میں رہتا ہے وہ درحقیقت بے بادشاہ کی سلطنت نہیں ہے‘ بلکہ فی الواقع اس کا ایک بادشاہ موجود ہے‘ اور اس کی بادشاہی نہ تیرے تسلیم کرنے کی محتاج ہے‘ نہ تیرے مٹانے سے مٹ سکتی ہے‘ اور نہ تو اس کے حدود سلطنت سے نکل کر کہیں جاسکتا ہے۔ اس اَمِٹ اور اٹل واقعے کی موجودگی میں تیرا خود مختاری کا زعم ایک احمقانہ غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا نقصان لامحالہ تیرے ہی اوپر عاید ہوگا۔ عقل اور حقیقت پسندی (realism)کا تقاضا یہ ہے کہ سیدھی طرح اس کے آگے سرجھکا دے اور مطیع بندہ بن کر رہ۔ دوسری طرف اس کو واقعے کا یہ پہلو بھی دکھا دیا جائے کہ اس پوری کائنات میں صرف ایک ہی بادشاہ‘ ایک ہی مالک اور ایک ہی مختار ہے۔ کسی دوسرے کو نہ یہاں حکم چلانے کا حق ہے اور نہ واقع میں کسی کا حکم چلتا ہے۔ اس لیے تُو اس کے سوا کسی کا بندہ نہ بن‘ کسی کا حکم نہ مان‘ کسی کے آگے سر نہ جھکا۔ یہاں کوئی ہزمیجسٹی نہیں ہے‘ میجسٹی اسی ایک کے لیے مختص ہے۔ یہاں کوئی ہزہولی نس نہیں ہے‘ ہولی نس ساری کی ساری اسی کے لیے خاص ہے۔ یہاں کوئی ہزہائی نس نہیں ہے‘ ہائی نس صرف اسی ایک کو زیبا ہے۔ یہاں کوئی ہزلارڈشپ نہیں ہے‘ لارڈ شپ بالکلیہ اسی ایک کا حصہ ہے۔ یہاں کوئی قانون ساز نہیں ہے‘ قانون اسی کا ہے اور وہی قانون بنانے کا حق دار و سزاوار ہے۔ یہاں کوئی سرکار‘ کوئی اَن داتا‘ کوئی راجہ‘ مہاراجہ‘ کوئی ولی یا کارساز‘ کوئی دعائیں سننے والا اور فریاد رس نہیں ہے۔ کسی کے پاس اقتدار کی کنجیاں نہیں ہیں۔ کسی کو برتری و فوقیت حاصل نہیں ہے۔ زمین سے آسمان تک سب بندے ہی بندے ہیں۔ رب اور مولیٰ صرف ایک ہے۔ لہٰذا تو ہر غلامی‘ ہر اطاعت‘ ہر پابندی سے انکار کر دے‘ اور اسی ایک کا غلام‘ مطیع اور پابند ِ حکم بن جا۔ یہ تمام اصلاحات کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر انفرادی سیرت اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ادھیڑ کر اَز سرِ نو ایک نقشے پر بنتی ہے، اور سارے مسائل جو انسانی زندگی میں آدم سے لے کر اب تک پیدا ہوئے اور اب سے قیامت تک پیدا ہوں گے‘ اسی بنیاد پر ایک نئے طریقے سے حل ہوتے ہیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیادی اصلاح کی دعوت کو بغیر کسی سابق تیاری اور بغیر کسی تمہیدی کارروائی کے براہ راست پیش کر دیا۔ انھوں نے اس دعوت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی ہیر پھیر کا راستہ اختیار نہیں کیا کہ پہلے کچھ سیاسی اور سوشل طرز کاکام کرکے لوگوں میں اثر پیدا کیا جائے‘ پھر اس اثر سے کام لے کر رفتہ رفتہ کچھ حاکمانہ اختیارات حاصل کرلیے جائیں، پھر ان اختیارات سے کام لے کر رفتہ رفتہ لوگوں کو چلاتے ہوئے اس مقام تک بڑھا لائیں۔ یہ سب کچھ‘ کچھ نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شخص اٹھا اور چھوٹتے ہی اس نے لَآاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا اعلان کر دیا۔ اس سے کم کسی چیز پر اس کی نظر ایک لمحے کے لیے بھی نہ ٹھیری۔ اس کی وجہ پیغمبرانہ جرأت اور تبلیغی جوش ہی نہیں ہے۔ دراصل اسلامی تحریک کا طریقِ کار یہی ہے۔ وہ اثر یا وہ نفوذ و اقتدار جو دوسرے ذرائع سے پیدا کیا جائے‘ اس اصلاح کے کام میں کچھ بھی مددگار نہیں ہوتا۔ جو لوگ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کے سوا کسی اور بنیاد پر آپ کا ساتھ دیتے رہے ہوں وہ اس بنیاد پر تعمیرِ جدید کرنے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اس کام میں تو وہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں جو آپ کی طرف لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کی آواز سن کر ہی آئیں۔ اسی چیز میں ان کے لیے کشش ہو‘ اسی حقیقت کو وہ زندگی کی بنیاد بنائیں‘ اور اسی اساس پر وہ کام کرنے کے لیے اٹھیں۔ لہٰذا اسلامی تحریک چلانے کے لیے جس خاص قسم کے تدبر اور حکمت عملی کی ضرورت ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ کسی تمہید کے بغیر کام کا آغاز توحید کی دعوت ہی سے کیا جائے۔
توحید کا یہ تصور محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں۔ اس سے اجتماعی زندگی کا وہ پورا نظام جو انسان کی خود مختاری یا غیر اللہ کی حاکمیت و الوہیت کی بنیاد پر بنا ہو‘ جڑ بنیاد سے اکھڑ جاتا ہے اور ایک دوسری اساس پر ایک نئی عمارت تیار ہوتی ہے۔ آج دنیا آپ کے مؤذنوں کو اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے کہ کیا پکار رہا ہوں‘ نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور کوئی مقصد نظر آتا ہے، لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے‘ اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرماںروا نہیں ہے‘ کوئی حکومت مَیں تسلیم نہیں کرتا‘ کسی قانون کو میں نہیں مانتا‘ کسی عدالت کے حدود اختیارات (jurisdictions)مجھ تک نہیں پہنچتے‘ کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے‘ کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں‘ کسی کے امتیازی حقوق‘ کسی کی ریاست‘ کسی کا تقدس‘ کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا‘ ایک اللہ کے سوا میں سب سے باغی اور سب سے منحرف ہوں‘ تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ آپ خواہ کسی سے لڑنے جائیں یا نہ جائیں‘ دنیا خود آپ سے لڑنے آجائے گی۔ یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکایک زمین و آسمان آپ کے دشمن ہوگئے ہیں‘ اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ‘ بچھو‘ اور درندے ہی درندے ہیں۔
یہی صورت اس وقت پیش آئی جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز بلند کی۔ پکارنے والے نے جان کر پکارا تھا‘ اور سننے والے سمجھتے تھے کہ کیا پکار رہا ہے‘ اس لیے جس جس پر جس پہلو سے بھی اس پکار کی ضرب پڑتی تھی وہ اس آواز کو دبانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ پجاریوں کو اپنی برہمنیت و پاپائیت کا خطرہ اس میں نظر آیا۔ رئیسوں کو اپنی ریاست کا‘ ساہوکاروں کو اپنی ساہوکاری کا‘ نسل پرستوں کو اپنے نسلی تفوق (racial superiority)کا‘ قوم پرستوں کو اپنی قومیت کا‘ اجداد پرستوں کو اپنے باپ دادا کے موروثی طریقے کا‘ غرض ہربت کے پرستار کو اپنے بت کے ٹوٹنے کا خطرہ اسی ایک آواز میں محسوس ہوا، اس لیے اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ وہ سب جو آپس میں لڑا کرتے تھے اس نئی تحریک سے لڑنے کے لیے ایک ہوگئے۔ اس حالت میں صرف وہی لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے جن کا ذہن صاف تھا‘ جو حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی استعداد رکھتے تھے‘ جن کے اندر اتنی صداقت پسندی موجود تھی کہ جب ایک چیز کے متعلق جان لیں کہ حق یہ ہے تو اس کی خاطر آگ میں کودنے اور موت سے کھیلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ایسے ہی لوگوں کی اس تحریک کے لیے ضرورت تھی۔ وہ ایک ایک‘ دو دو‘ چار چار کرکے آتے رہے اور کشمکش بڑھتی رہی۔ کسی کا روزگار چھوٹا‘ کسی کو گھر والوں نے نکال دیا‘ کسی کے عزیز‘ دوست‘ آشنا سب چھوٹ گئے۔ کسی پر مار پڑی‘ کسی کو قید میں ڈالا گیا۔ کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا۔ کسی کی سربازار پتھروں اور گالیوں سے تواضع کی گئی۔ کسی کی آنکھ پھوڑ دی گئی۔ کسی کا سر پھاڑ دیا گیا۔ کسی کو عورت‘ مال‘ حکومت و ریاست اور ہر ممکن چیز کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب چیزیں آئیں۔ ان کا آنا ضروری تھا۔ ان کے بغیر اسلامی تحریک نہ مستحکم ہوسکتی تھی اور نہ بڑھ سکتی تھی۔
ان کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ گھٹیا قسم کے‘ کچے کیرکٹر اور ضعیف ارادہ رکھنے والے لوگ اس طرف آہی نہ سکتے تھے۔ جو بھی آیا وہ نسلِ آدم کا بہترین جوہر تھا‘ جس کی دراصل ضرورت تھی۔ کوئی دوسری صورت، کام کے آدمیوں کو ناکارہ آدمیوں سے چھانٹ کر الگ نکال لینے کی اس کے سوا نہ تھی کہ جو بھی آئے وہ اس بھٹی میں سے گزر کر آئے۔
پھر جو لوگ آئے ان کو اپنی کسی ذاتی غرض کے لیے، یا کسی خاندانی، یا قومی مقصد کے لیے مصائب کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا، بلکہ صرف حق اور صداقت کے لیے‘ خدا اور اس کی رضا کے لیے۔ اسی کے لیے وہ پٹے‘ اسی کے لیے بھوکے مرے‘ اسی کے لیے دنیا بھر کی جفاکاریوں کا تختۂ مشق بنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں وہ صحیح اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی چلی گئی جس کی ضرورت تھی۔ ان کے اندر خالص اسلامی کیرکٹر پیدا ہوا۔ ان کی خدا پرستی میں خلوص آتا اور بڑھتا چلاگیا۔ مصائب کی اس زبردست تربیت گاہ میں کیفیت اسلامی کا طاری ہونا ایک طبعی امر تھا۔ جب کوئی شخص کسی مقصد کے لیے اٹھتا ہے اور اس کی راہ میں کشمکش‘ جدوجہد‘ مصیبت‘ تکلیف‘ پریشانی‘ مار‘ قید‘ فاقہ‘ جلاوطنی وغیرہ کے مرحلوں سے گزرتا ہے تو اس ذاتی تجربے کی بدولت اس مقصد کی تمام کیفیات اس کے قلب و روح پر چھا جاتی ہیں‘ اور اس کی پوری شخصیت اس مقصد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس چیز کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے نماز ان پر فرض کی گئی تاکہ نظر کی پراگندگی کا ہر امکان دور ہو جائے‘ اپنے نصب العین پر ان کی نگاہ جمی رہے‘ جس کو وہ حاکم مان رہے ہیں اس کی حاکمیت کا بار بار اقرار کرکے اپنے عقیدے میں مضبوط ہو جائیں‘ جس کے حکم کے مطابق انھیں اب دنیا میں کام کرنا ہے۔ اس کا عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃ ہونا‘ اس کا مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ہونا‘ اس کا قَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ہونا پوری طرح ان کے ذہن نشین ہو جائے اور کسی حال میں اس کی اطاعت کے سوا دوسرے کی اطاعت کا خیال تک ان کے دلوں میں نہ آنے پائے۔
ایک طرف آنے والوں کی تربیت اس طرح ہو رہی تھی اور دوسری طرف اسی کشمکش کی وجہ سے اسلامی تحریک بھی پھیل رہی تھی۔ جب لوگ دیکھتے تھے کہ چند انسان پیٹے جارہے ہیں‘ قید کیے جارہے ہیں، گھروں سے نکالے جارہے ہیں‘ تو خواہ مخواہ ان کے اندر یہ معلوم کرنے کا شوق پیدا ہوتا تھا کہ آخر یہ سارا ہنگامہ ہے کس لیے؟ اور جب انھیں یہ معلوم ہوتا تھا کہ زن‘ زر‘ زمین کسی چیز کے لیے بھی نہیں ہے‘ کوئی ان کی ذاتی غرض نہیں ہے۔ یہ اللہ کے بندے صرف اس لیے پٹ رہے ہیں کہ ایک چیز کی صداقت ان پر منکشف ہوئی ہے‘ تو ان کے دلوں میں آپ سے آپ یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ اس چیز کو معلوم کریں‘ آخر ایسی کیا چیز ہے جس کے لیے یہ لوگ ایسے ایسے مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ پھر جب انھیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ چیز ہے لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور اس سے انسانی زندگی میں اس نوعیت کا انقلاب رونما ہوتا ہے‘ اور اس دعوت کو لے کر ایسے لوگ اٹھے ہیں جو محض صداقت و حقیقت کی خاطر دنیا کے سارے فائدوں کو ٹھکرا رہے ہیں اور جان‘ مال‘ اولاد‘ ہر چیز کو قربان کر رہے ہیں‘ تو ان کی آنکھیں کھل جاتی تھیں‘ ان کے دلوں پر جتنے پردے پڑے ہوئے تھے وہ چاک ہونے لگتے تھے۔ اس پس منظر کے ساتھ یہ سچائی تیر کی طرح نشانے پر جاکر بیٹھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بجز ان لوگوں کے جن کو ذاتی وجاہت کے تکبر، یا اجداد پرستی کی جہالت، یا اغراضِ دنیوی کی محبت نے اندھا بنا رکھا تھا اور سب لوگ اس تحریک کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ کوئی جلدی کھنچا اور کوئی زیادہ دیر تک اس کشش کی مزاحمت کرتا رہا، مگر دیر یا سویر ہر صداقت پسند بے لوث آدمی کو اس کی طرف کھنچنا ہی پڑا۔
اس دوران میں تحریک کے لیڈر نے اپنی شخصی زندگی سے اپنی تحریک کے اصولوں کا اور ہر اس چیز کا جس کے لیے یہ تحریک اٹھی تھی‘ پورا پورا مظاہرہ کیا۔ ان کی ہر بات‘ ہر فعل اور ہر حرکت سے اسلام کی حقیقی روح ٹپکتی تھی اور آدمی کو سمجھ میں آتا تھا کہ اسلام کسے کہتے ہیں۔ یہ ایک بڑی تفصیل طلب بحث ہے جس کی تشریح کا یہاں موقع نہیں، مگر مختصراً چند نمایاں باتوں کا میں یہاں ذکر کروں گا:
۱۔ ان کی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حجاز کی سب سے زیادہ مال دار عورت تھیں‘ اور وہ ان کے مال سے تجارت کرتے تھے۔ جب اسلام کی دعوت شروع ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا تجارتی کاروبار بیٹھ گیا، کیونکہ ہمہ تن اپنی دعوت میں مصروف ہو جانے اور تمام عرب کو اپنا دشمن بنا لینے کے بعد یہ کام نہ چل سکتا تھا۔ جو کچھ پچھلا اندوختہ تھا اس کو میاں اور بیوی دونوں نے اس تحریک کو پھیلانے پر چند سال میں لٹا دیا۔ آخر کار نوبت یہاں تک آئی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تبلیغ کے سلسلے میں طائف تشریف لے گئے تو وہ شخص جو کبھی حجاز کا مَلِکُ التُّجار کہلاتا تھا اُس کی سواری کے لیے ایک گدھا تک میسر نہ ہوا۔
۲۔ قریش کے لوگوں نے آنحضرتؐ کے سامنے حجاز کی حکومت کا تخت پیش کیا۔ کہا کہ ہم آپؐ کو اپنا بادشاہ بنالیں گے‘ عرب کی حسین ترین عورت آپؐ کے نکاح میں دیں گے‘ دولت کے ڈھیر آپؐ کے قدموں میں لگا دیں گے‘ بشرطیکہ آپؐ اس تحریک سے باز آجائیں‘ مگر وہ شخص جو انسان کی فلاح کے لیے اٹھا تھا‘ اس نے ان سب پیش کشوں کو ٹھکرا دیا اور گالیاں اور پتھر کھانے پر راضی ہوگیا۔
۳۔ قریش کے اور عرب کے سرداروں نے کہا کہ محمدؐ! ہم تمھارے پاس کیسے آکر بیٹھیں اور تمہاری باتیں کیسے سنیں جب کہ تمھاری مجلس میں ہر وقت غلام‘ مفلس‘ معاذ اللہ کمین لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو سب سے نیچے طبقے کے لوگ ہیں ان کو تم نے اپنے گردوپیش جمع کر رکھا ہے‘ انھیں ہٹائو تو ہم تم سے ملیں، مگر وہ شخص جو انسانوں کی اونچ نیچ برابر کرنے آیا تھا‘ اس نے رئیسوں کی خاطر غریبوں کو دھتکارنے سے انکار کر دیا۔
۴۔ اپنی تحریک کے سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ملک‘ اپنی قوم‘ اپنے قبیلے‘ اپنے خاندان‘ کسی کے مفاد کی کبھی پروا نہیں کی۔ اسی چیز نے دنیا کو یقین دلایا کہ آپؐ انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لیے اٹھے ہیں، اور اسی چیز نے آپؐ کی دعوت کی طرف ہر قوم کے انسانوں کو کھینچا۔ اگر آپؐ اپنے خاندان کی فکر کرتے تو غیر ہاشمیوں کو اس فکر سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟ اگر آپؐ اس بات کے لیے بے چین ہوتے کہ قریش کے اقتدار کو تو کسی طرح بچالوں‘ تو غیرقریشی عربوں کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں شریک ہوتے؟ اگر آپؐ عرب کی برتری کے لیے اٹھتے تو حبش کے بلالؓ ،رُوم کے صہیبؓ ، اور فارس کے سلمانؓ کو کیا پڑی تھی کہ اس کام میں آپؐ کا ساتھ دیتے؟ دراصل جس چیز نے سب کو کھینچا وہ خالص خدا پرستی تھی۔ ہر ذاتی‘ خاندانی‘ قومی‘ وطنی غرض سے مکمل بے لوثی تھی۔
۵۔ مکہ سے جب آپؐ کو ہجرت کرنی پڑی تو وہ تمام امانتیں جو دشمنوں نے آپؐ کے پاس رکھوائی تھیں‘ حضرت علی ؓ کے سپرد کرکے نکلے کہ میرے بعد ہر ایک کی امانت اس کو پہنچا دینا۔ دنیا پرست ایسے موقع پر جو کچھ ہاتھ لگتا ہے‘ لے کر چل دیتے ہیں، مگر خدا پرست نے اپنی جان کے دشمنوں اور اپنے خون کے پیاسوں کا مال بھی انھیں واپس پہنچانے کی کوشش کی‘ اور اس وقت کی جب کہ وہ اس کے قتل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ یہ وہ اخلاق تھا جس کو دیکھ کر عرب کے لوگ دنگ رہ گئے ہوں گے‘ اور مجھے یقین ہے کہ جب وہ دو سال کے بعد میدانِ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑنے کھڑے ہوئے ہوں گے تو ان کے دل اندر سے کہہ رہے ہوں گے کہ یہ تم کس سے لڑ رہے ہو؟ اس فرشتہ خصلت انسان سے جو قتل گاہ سے رخصت ہوتے وقت بھی انسانوں کے حقوق اور امانت کی ذمے داری کو نہیں بھولتا؟ اس وقت ان کے ہاتھ ضد کی بنا پر لڑتے ہوں گے، مگر ان کے دل اندر سے بھنچ رہے ہوں گے۔ عجب نہیں کہ بدر میں کفار کی شکست کے اخلاقی اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہو۔
۶۔ تیرہ برس کی شدید جدوجہد کے بعد وہ وقت آیا جب مدینہ میں اسلام کا ایک چھوٹا سا اسٹیٹ قائم کرنے کی نوبت آئی۔ اس وقت ڈھائی تین سو کی تعداد میں ایسے کارکن فراہم ہو چکے تھے جن میں سے ایک ایک اسلام کی پوری تربیت پاکر اس قابل ہو چکا تھا کہ جس حیثیت میں بھی اُسے کام کرنے کا موقع ملے‘ مسلمان کی حیثیت سے انجام دے سکے۔ اب یہ لوگ ایک اسلامی اسٹیٹ کو چلانے کے لیے تیار تھے‘ چنانچہ وہ قائم کر دیا گیا۔ دس برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اسٹیٹ کی رہنمائی کی اور اس مختصر سی مدت میں ہر شعبۂ حکومت کو اسلامی طرز پر چلانے کی پوری مشق ان لوگوں کو کرا دی۔ یہ دور اسلامی آئیڈیالوجی کے ایک مجرد تخیل (abstract idea)سے ترقی کرکے ایک مکمل نظام تمدن بننے کا دور ہے جس میں اسلام کے انتظامی‘ تعلیمی‘ عدالتی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ مالی‘ جنگی‘ بین الاقوامی پالیسی کا ایک ایک پہلو واضح ہوا‘ ہر شعبۂ زندگی کے لیے اصول بنے‘ ان اصولوں کو عملی حالات پر منطبق کیا گیا‘ اس خاص طرز پر کام کرنے والے کارکن تعلیم اور تربیت اور عملی تجربے سے تیار کیے گئے‘ اور ان لوگوں نے اسلام کی حکمرانی کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ آٹھ سال کی مختصر مدت میں مدینہ جیسے ایک چھوٹے سے قصبے کا اسٹیٹ پورے عرب کی سلطنت میں تبدیل ہوگیا۔ جوں جوں لوگ اسلام کو اس کی عملی صورت میں اور اس کے نتائج کو محسوس شکل میں دیکھتے تھے‘ خود بخود اس بات کے قائل ہوتے جاتے تھے کہ فی الواقع انسانیت اس کا نام ہے اور انسانی فلاح اسی چیز میں ہے۔ بدترین دشمنوں کو بھی آخر قائل ہو کر اسی مسلک کو قبول کرنا پڑا جس کے خلاف وہ برسوں تک لڑتے رہے۔ خالدؓ بن ولیدقائل ہوئے۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ قائل ہوئے۔ ابوسفیانؓ قائل ہوئے۔ قاتل حمزہؓ وحشیؓ قائل ہوئے۔ ہندؓ جگر خوار تک کو آخر کار اس شخص کی صداقت کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا پڑا جس سے بڑھ کر اس کی نگاہ میں کوئی مبغوض نہ تھا۔
۷۔ غلطی سے تاریخ نگاروں نے غزوات کو اتنا زیادہ نمایاں کر دیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عرب کا یہ انقلاب لڑائیوں سے ہوا۔ حالانکہ پانچ سال کی تمام لڑائیوںمیں‘ جن سے عرب جیسی جنگ جُو قوم مسخر ہوئی‘ طرفین کے جانی نقصانات کی تعداد ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہے۔ انقلاب کی تاریخ اگر آپ کے پیش نظر ہے تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ انقلاب غیر خونی انقلاب (bloodless revolution)کہے جانے کا مستحق ہے۔پھر اس انقلاب میں فقط ملک کا طریق انتظام ہی تبدیل نہیں ہوا،بلکہ ذہنیتیں بدل گئیں‘ نگاہ کا زاویہ بدل گیا‘ سوچنے کا طریقہ بدل گیا‘ زندگی کا طرز بدل گیا‘ اخلاق کی دنیا بدل گئی‘ عادات اور خصائل بدل گئے۔ غرض ایک پوری قوم کی کایا پلٹ کر رہ گئی۔ جو زانی تھے وہ عورتوں کی عصمت کے محافظ بن گئے۔ جو شرابی تھے وہ منع شراب کی تحریک کے علم بردار بن گئے۔ جو چور اور اُچکے تھے ان کا احساس دیانت اتنا نازک ہوگیا کہ دوستوں کے گھر کھانا کھانے میں بھی ان کو اس بنا پر تامل تھا کہ مبادا ناجائز طریقے پر مال کھانے کا اطلاق اس فعل پر بھی نہ ہو جائے‘ حتیٰ کہ قرآن میں خود اللہ تعالیٰ کو انھیں اطمینان دلانا پڑا کہ اس طرح کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جو ڈاکو اور لٹیرے تھے وہ اتنے متدین بن گئے کہ ان کے ایک معمولی سپاہی کو پایۂ تخت ایران کی فتح کے موقع پر کروڑوں کی قیمت کا تاج شاہی ہاتھ لگا اور وہ رات کی تاریکی میں اپنے پیوند لگے ہوئے کمبل میں اسے چھپا کر سپہ سالار کے حوالے کرنے کے لیے پہنچا، تاکہ اس غیر معمولی واقعے سے اس کی دیانت کی شہرت نہ ہو جائے اور اس کے خلوص پر ریاکاری کا میل نہ آجائے۔ وہ جن کی نگاہ میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی‘ جو اپنی بیٹیوں کو آپ اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کرتے تھے‘ ان کے اندر جان کا اتنا احترام پیدا ہوگیا کہ کسی مرغ کو بھی بے رحمی سے قتل ہوتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ جن کو راست بازی اور انصاف کی ہوا تک نہ لگی تھی ان کے عدل اور راستی کا یہ حال ہوگیا کہ خیبر کی صلح کے بعد جب ان کا تحصیل دار یہودیوں سے سرکاری معاملہ وصول کرنے گیا تو یہودیوں نے اس کو بیش قرار رقم اس غرض کے لیے پیش کی کہ وہ سرکاری معاملے میں کچھ کمی کر دے‘ مگر اس نے رشوت لینے سے انکار کر دیا اور یہودیوں کے درمیان پیداوار کا آدھا حصہ اس طرح تقسیم کیا کہ دو برابر کے ڈھیر آمنے سامنے لگا دیے، اور یہودیوں کو اختیار دیا کہ دونوں میں سے جس ڈھیر کو چاہیں اٹھالیں۔ اس نرالی قسم کے تحصیل دار کا یہ طرز عمل دیکھ کر یہودی انگشت بدنداں رہ گئے اور بے اختیار ان کی زبان سے نکلا کہ اسی عدل پر زمین و آسمان قائم ہیں۔
۸۔ ان کے اندر وہ گورنر پیدا ہوئے جو گورنمنٹ ہائوسوں میں نہیں بلکہ رعایا کے درمیان انھی جیسے گھروں میں رہتے تھے‘ بازاروں میں پیدل پھرتے تھے‘ دروازوں پر دربان تک نہ رکھتے تھے‘ رات دن میں ہر وقت جو چاہتا تھا ان سے انٹرویو کرسکتا تھا۔
۹۔ ان کے اندر وہ قاضی پیدا ہوئے جن میں سے ایک نے ایک یہودی کے خلاف خود خلیفۂ وقت کا دعویٰ اس بنا پر خارج کر دیا کہ خلیفہ اپنے غلام اور بیٹے کے سوا کوئی گواہ پیش نہ کرسکا۔
۱۰۔ ان کے اندر وہ سپہ سالار پیدا ہوئے جن میں سے ایک نے دوران جنگ میں ایک شہر خالی کرتے وقت پورا جزیہ یہ کہہ کر واپس دے دیا کہ ہم اب تمھاری حفاظت سے قاصر ہیں‘ لہٰذا جو ٹیکس ہم نے حفاظت کے معاوضے میں وصول کیا تھا اسے رکھنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔
۱۱۔ ان میں وہ ایلچی پیدا ہوئے جن میں سے ایک نے سپہ سالارانِ ایران کے بھرے دربار میں اسلام کے اصول مساوات انسانی کا ایسا مظاہرہ کیا اور ایران کے طبقاتی امتیازات پر ایسی برمحل تنقید کی کہ خدا جانے کتنے ایرانی سپاہیوں کے دلوںمیں اس مذہب انسانیت کی عزت و وقعت کا بیج اسی وقت پڑ گیا ہوگا۔
۱۲۔ ان میں وہ شہری پیدا ہوئے جن کے اندر اخلاقی ذمے داری کا احساس اتنا زبردست تھا کہ جن جرائم کی سزا ہاتھ کاٹنے اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دینے کی صورت میں دی جاتی تھی ان کا اقبال خود آکر کرتے تھے اور تقاضا کرتے تھے کہ سزا دے کر انھیں گناہ سے پاک کر دیا جائے تاکہ وہ چور یا زانی کی حیثیت سے خدا کے سامنے پیش نہ ہوں۔
۱۳۔ ان میں وہ سپاہی پیدا ہوئے جو تنخواہ لے کر نہیں لڑتے تھے بلکہ اس مسلک کی خاطر جس پر وہ ایمان لائے تھے اپنے خرچ سے میدانِ جنگ میں جاتے اور پھر جو مال غنیمت ہاتھ لگتا وہ سارے کا سارا سپہ سالار کے سامنے لاکر رکھ دیتے تھے۔
کیا اجتماعی اخلاق اور اجتماعی ذہنیت کا اتنا زبردست تغیر محض لڑائیوں کے زور سے ہوسکتا تھا؟ تاریخ آپ کے سامنے موجود ہے کہیں آپ کو کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ تلوار نے انسانوں کو اس طرح پر بدل ڈالا ہو؟
درحقیقت یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ تیرہ برس کی مدت میں توکل ڈھائی تین سو مسلمان پیدا ہوئے‘ مگر بعد کے دس سال میں سارا ملک مسلمان ہوگیا۔ اس معمے کو لوگ حل نہیں کرسکتے‘ اس لیے عجیب عجیب توجیہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے۔ جب تک اس نئی آئیڈیالوجی پر زندگی کا نقشہ نہیں بنا تھا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ نرالی قسم کا لیڈر آخر کیا بنانا چاہتا ہے۔ طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا ہوتے تھے۔ کوئی کہتا: یہ نری شاعرانہ باتیں ہیں۔ کوئی کہتا کہ یہ شخص مجنون ہوگیا ہے‘ اور کوئی اسے محض خیالی آدمی (visionary)قرار دے کر گویا اپنے نزدیک رائے زنی کا حق ادا کر دیتا۔ اس وقت صرف غیر معمولی ذہانت اور سمجھ رکھنے والے لوگ ہی ایمان لائے جن کی نگاہِ حقیقت بیں اس نئے مسلک میں انسانی فلاح کی صورت صاف دیکھ سکتی تھی، مگر جب اس نظامِ فکر پر ایک مکمل نظامِ حیات بن گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس کو کام کرتے دیکھ لیا اور اس کے نتائج ان کے سامنے عیاناً آگئے‘ تب ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ وہ چیز تھی جس کو بنانے کے لیے وہ اللہ کا نیک بندہ دنیا بھر کے ظلم سہہ رہا تھا۔ اس کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کے لیے پائوں جمانے کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔ جس کی پیشانی پر دو آنکھیں تھیں اور ان آنکھوں میں نور تھا اس کے لیے آنکھوں دیکھی حقیقت سے انکار کرنا غیر ممکن ہوگیا۔
یہ ہے اس اجتماعی انقلاب کے لانے کا طریقہ جس کو اسلام برپا کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کا راستہ ہے۔ اسی ڈھنگ پر وہ شروع ہوتا ہے اور اسی تدریج سے وہ آگے بڑھتا ہے۔ لوگ اس کو معجزے کی قسم کا واقعہ سمجھ کر کہہ دیتے ہیں کہ: اب یہ کہاں ہو سکتا ہے۔ نبی ہی آئے تو یہ کام ہو، مگر تاریخ کا واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ بالکل ایک طبعی قسم کا واقعہ ہے۔ اس میں علت اور معلول کا پورا منطقی اور سائنٹفک ربط ہمیں نظر آتا ہے۔ آج ہم اس ڈھنگ پر کام کریں تو وہی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، البتہ یہ صحیح ہے کہ اس کام کے لیے ایمان‘ شعورِ اسلامی‘ ذہن کی یکسوئی‘ مضبوط قوت فیصلہ‘ اور شخصی جذبات اور ذاتی امنگوں کی سخت قربانی درکار ہے۔ اس کے لیے جواں ہمت لوگوں کی ضرورت ہے جو حق پر ایمان لانے کے بعد اس پر پوری طرح نظر جما دیں‘ کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کریں‘ دنیا میں خواہ کچھ ہوا کرے وہ اپنے نصب العین کے راستے سے ایک انچ نہ ہٹیں‘ دنیوی زندگی میں اپنی ذاتی ترقی کے سارے امکانات کو قربان کر دیں‘ اپنی امیدوں کا اور اپنے والدین کی تمنائوں کا خون کرتے ہوئے نہ جھجھکیں ‘ عزیزوں اور دوستوں کے چھوٹ جانے کا غم نہ کریں‘ سوسائٹی‘ حکومت‘ قانون‘ قوم‘ وطن جو چیز بھی ان کے نصب العین کی راہ میں حائل ہو اُس سے لڑجائیں۔ ایسے ہی لوگوں نے پہلے بھی اللہ کا کلمہ بلند کیا تھا۔ ایسے ہی لوگ آج بھی کریں گے اور یہ کام ایسے ہی لوگوں کے کیے سے ہوسکتا ہے۔
پُر اَمن انقلاب کا راستہ۲۸۷؎
سوال: ذیل میں دو شبہات پیش کرتا ہوں۔ براہ کرم! صحیح نظریات کی توضیح فرما کر انھیں صاف کر دیجیے۔
(۱) ترجمان القرآن کے گزشتہ سے پیوستہ پرچے میں ایک سائل کا سوال شائع ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی منظم اسٹیٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ایک منظم اسٹیٹ تھا اور انھوں نے جب ریاست کو اقتدار کلی منتقلی کرنے پر آمادہ پایا تو اسے بڑھ کر قبول کرلیا اور یہ طریق کار اختیار نہیں کیا کہ پہلے مومنین صالحین کی ایک جماعت تیار کریں۔ کیا آج بھی جب کہ اسٹیٹ اس دور سے کئی گنا زیادہ ہمہ گیر ہو چکا ہے اس قسم کا طریق کار اختیار کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے مجھے پورا پورا اطمینان نہیں ہوا۔۲۸۸؎ مجھے یہ دریافت کرنا ہے کہ ہم کو حضرت یوسف علیہ السلام کا اتباع کرنا ہی کیوں چاہیے؟ ہمارے لیے تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کی بادشاہت کی پیش کش کو رد کرکے اپنے ہی خطوط پر جداگانہ ریاست کی تعمیر و تشکیل کاکام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور ہمارے لیے بھی طریق کار اَب یہی ہے۔ واضح فرمائیے کہ میری یہ رائے کس حد تک صحیح یا غلط ہے۔
(۲) آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ کسی مرحلے پر اگر ایسے آثار پیدا ہو جائیں کہ موجود الوقت دستوری طریقوں سے نظامِ باطل کو اپنے اصول پر ڈھالا جاسکے تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں تامل نہ ہوگا۔ اس جملے سے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ جماعت اسلامی بھی ایک حد تک اسمبلیوں میں آنے کے لیے تیار ہے اور الیکشن کو جائز سمجھتی ہے۔ اس معاملے میں جماعتی مسلک کی توضیح فرمائیے۔
جواب: (۱)ہمارے لیے سارے انبیاء علیہم السلام واجب الاتباع ہیں۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی ہدایت تھی کہ اس طریق پر چلیں جو تمام انبیاء علیہم السلام کا طریق تھا۔ جب قرآن کے ذریعے سے ہمیں معلوم ہو جائے کہ کسی معاملے میں کسی نبی نے کوئی خاص طرزِ عمل اختیار کیا تھا اور قرآن نے اس طریق کار کو منسوخ بھی نہ قرار دیا ہو تو وہ ویسا ہی دینی طریق کار ہے جیسے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بادشاہی پیش کی گئی تھی وہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ آپؐ اس دین کو اور اس کی تبلیغ کو چھوڑ دیں تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا بادشاہ بنالیں گے۔ یہ بات اگر یوسف علیہ السلام کے سامنے بھی پیش کی جاتی تو وہ بھی اس طرح اس پر لعنت بھیجتے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت بھیجی اور ہم بھی اس پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو جو اختیارات پیش کیے گئے تھے وہ غیر مشروط اور غیر محدود تھے اور ان کے قبول کرلینے سے حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ اقتدار حاصل ہو رہا تھا کہ ملک کے نظام کو اس ڈھنگ پر چلائیں جو دینِ حق کے مطابق ہو۔ یہ چیز اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی جاتی تو آپؐ بھی اسے قبول کرلیتے اور خواہ مخواہ لڑ کر ہی وہ چیز حاصل کرنے پر اصرار نہ کرتے جو بغیر لڑے پیش کی جارہی ہو۔ اسی طرح کبھی ہم کو اگر یہ توقع ہو کہ ہم رائے عام کی تائید سے نظامِ حکومت پر اس طرح قابض ہوسکیں گے کہ اس کو خالص اسلامی دستور پر چلا سکیں تو ہمیں بھی اس کے قبول کرلینے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔
(۲)الیکشن لڑنا اور اسمبلی میں جانا، اگر اس غرض کے لیے ہو کہ ایک غیر اسلامی دستور کے تحت ایک لادینی (secular)‘جمہوری (democratic)ریاست کے نظام کو چلایا جائے تو یہ ہمارے عقیدۂ توحید اور ہمارے دین کے خلاف ہے، لیکن اگر کسی وقت ہم ملک کی رائے عام کو اس حد تک اپنے عقیدہ و مسلک سے متفق پائیں کہ ہمیں یہ توقع ہو کہ عظیم الشان اکثریت کی تائید سے ہم ملک کا دستورِ حکومت تبدیل کرسکیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس طریقے سے کام نہ لیں۔ جو چیز لڑے بغیر سیدھے طریقے سے حاصل ہوسکتی ہو اس کو خواہ مخواہ ٹیڑھی انگلیوں ہی سے نکالنے کا ہم کو شریعت نے حکم نہیں دیا ہے، مگر یہ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ہم یہ طریق کار صرف اس صورت میں اختیار کریں گے جب کہ:
٭ اولاً: ملک میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہوں کہ محض رائے عام کا کسی نظام کے لیے ہموار ہو جانا ہی عملاً اس نظام کے قائم ہونے کے لیے کافی ہوسکتا ہو۔
٭ ثانیاً: ہم اپنی دعوت و تبلیغ سے باشندگان ملک کی بہت بڑی اکثریت کو اپنا ہم خیال بنا چکے ہوں اور غیر اسلامی نظام کے بجائے اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے ملک میں عام تقاضا پیدا ہو چکا ہو۔
٭ ثالثاً: انتخابات غیر اسلامی دستور کے تحت نہ ہوں بلکہ بنائے انتخاب ہی یہ مسئلہ ہو کہ ملک کا آئندہ نظام کس دستور پر قائم کیا جائے۔
ہمہ گیر ریاست میں تحریکِ اسلامی کا طریقِ کار۲۸۹؎
سوال: یہ بات تو اب کسی مزید استدلال کی محتاج نہیں رہی کہ ایک مسلمان کے لیے بشرطیکہ وہ اسلام کا صحیح شعور حاصل کر چکا ہو‘ صرف ایک ہی چیز مقصدِ زندگی قرار پاسکتی ہے‘ اور وہ ہے حکومتِ الٰہیہ کا قیام۔
ظاہر ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے صرف وہی طریقِ کار اختیار کیا جاسکتا ہے جو اس کی فطرت سے عقلاً مناسبت رکھتا ہو، اور جو اس کے اصلی داعیوں نے عملاً اختیار کیا ہو۔ حکومتِ الٰہی کے نصب العین کے داعی انبیاء کرام ؑ ہیں۔ اس لیے طریق کار بھی وہی ہے جو انبیاء ؑ کا طریق کار ہو۔
انبیاء ؑ کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہوئے ہمیں فی الجملہ دو قسم کے پیغمبر دکھائی دیتے ہیں:
٭ ایک تو وہ جن کی دعوت کے ظہور کے وقت اسٹیٹ ایک منظم اورمؤثر طاقت کی حیثیت سے سوسائٹی میں کار فرما نظر آتا ہے‘ اور اکثر حالات میں وہ ایسا اسٹیٹ ہوتا ہے جس میں اقتدار اعلیٰ کلی طور پر شخص واحد میں مرکوز ہوتا ہے۔ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
٭ دوسرے وہ جن کا واسطہ ایک ایسی سوسائٹی سے پڑتا ہے جس میں اسٹیٹ ابھی بالکل ابتدائی حالت میں تھا اور زیادہ سے زیادہ سرقبیلی (patriachal)قسم کا سٹیٹ تھا۔جیسے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
دونوں صورتوں میں طریق کار کا اختلاف نمایاں ہے‘ جو غالباً اسی سیاسی اختلاف احوال کا نتیجہ ہے،لیکن جتنی جامعیت اور ہمہ گیری اسٹیٹ نے اب حاصل کرلی ہے اور جس طرح اس نے آج کل فرد کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اورجس منظم و مؤثر اور مضبوط طاقت‘ فکری اور عملی دونوں حیثیتوں سے اس نے اب اختیار کرلی ہے، اس کی مثال شاید پچھلی تاریخ میں نہ مل سکے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہی طریق کار جو تقریباً غیر ریاستی (stateless) سوسائٹی یا حد سے حد سرقبیلی حکومت میں کامیاب طور پر استعمال کیا گیا تھا اب بھی اس قسم کی کامیابی کا ضامن ہوسکتا ہے؟ کیا آج کل کے بدلے ہوئے حالات میں اسی مقصد کے لیے کام کرنے والی پارٹی کو اپنا فن انقلاب انگیزی کافی حد تک بدلنا پڑے گا؟
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی منظم اسٹیٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کے برعکس حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ایک منظم اسٹیٹ تھا۔ چنانچہ انھوں نے جب قوت متسلطہ (sovereign power)کو اقتدار منتقل کرنے پر آمادہ پایا تو اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ یوسف 55:12 ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے‘کہہ کر اقتدار سنبھال لیا اور اس طرح اپنا مشن پورا کرنے کے لیے پہلے کے قائم شدہ اسٹیٹ کو استعمال میں لے آئے۔ موجودہ زمانے کا اسٹیٹ حضرت یوسف علیہ السلام کے عہد کے اسٹیٹ سے کہیں زیادہ جامع‘ ہمہ گیر اور منظم ہے۔ اس کو اکھیڑ کر ایک نیا اسٹیٹ وجود میں لانے کے لیے جو انقلاب بھی ہوگا اس کا راستہ خون کے لالہ زاروں سے ہو کر گزرے گا۔ جیسا کہ بالشویک روس میں ہوا، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اسلام محض توڑ پھوڑ قسم کا انقلاب نہیں چاہتا‘ بلکہ اس کا پروگرام کچھ زیادہ نازک ہے۔ ان حالات میں تو زیادہ موزوں طریقہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ بجائے کلی انقلاب کے جتنا کچھ اقتدار حاصل ہوسکے اسے قبول کرکے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ اگر اس پوزیشن کو قبول کرلیا جائے تو نہ صرف یہ کہ ملک کی موجودہ مسلمان جماعتوں کے خلاف کوئی کارروائی درست نہیں ہوگی بلکہ تائید بھی ضروری ہو جائے گی۔
یہ بات واضح کرنے کی ضرورت نہیں کہ اقتدار سے مراد سول سروس کے مناصب نہیں‘ جیسا کہ کسی نواب صاحب نے ترجمان کی ایک اشاعت میں یوسف علیہ السلام کے سلسلے میں فرمایا ہے‘ بلکہ ایک منظم جماعت کی جدوجہد کے بعد جماعتی حیثیت سے قوتِ حاکمہ (sovereign power)سے اختیارات لے کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا مراد ہے۔
جواب: بلاشبہہ ایسی حالت میں جب کہ غیر اسلامی اسٹیٹ ہمہ گیر ہو اس حالت کی بہ نسبت جب کہ فاسد سماجی نظام بالکل ابتدائی نوعیت کا ہو‘ بہت کچھ فرق واقع ہو جاتا ہے اور اس کے لحاظ سے طریقِ کار میں بھی کم از کم صورت کے لحاظ سے تغیر کرنا ضروری ہے، لیکن اصولی حیثیت سے طریق کار میں کسی تغیر کی ضرورت نہیں ہے۔ اصولی طریق کار یہی ہے کہ پہلے ہم اپنی دعوت پیش کریں گے۔ پھر ان لوگوں کو جو ہماری دعوت پر لبیک کہیں‘ منظم کرتے جائیں گے۔ پھر اگر رائے عام کی موافقت سے یا حالات کی تبدیلی سے کسی مرحلے پر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ موجود الوقت دستوری طریقوں ہی سے نظامِ حکومت کا ہمارے ہاتھوں میں آجانا ممکن ہو، اور ہمیں توقع ہو کہ ہم سوسائٹی کے اخلاقی‘ تمدنی اور سیاسی و معاشی نظام کو اپنے اصول پر ڈھال سکیں گے تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔ اس لیے کہ ہمیں جو کچھ بھی واسطہ ہے اپنے مقصد سے ہے نہ کہ کسی خاص طریق کار (method)سے‘ لیکن اگر پُر امن ذرائع سے جوہر اقتدار (substance of power)ملنے کی توقع نہ ہو تو پھر ہم عام دعوت جاری رکھیں گے اور تمام جائز شرعی ذرائع سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش کریں گے۔
نظامِ اسلامی کے قیام کی صحیح ترتیب۲۹۰؎
سوال: جن لوگوں سے پاکستان کے آئندہ نظام کے متعلق گفتگو ہوتی ہے وہ اکثر اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ اور دوسرے اہل علم اسلامی حکومت کا ایک دستور کیوں نہیں مرتب کرتے تاکہ اسے آئین ساز اسمبلی میں پیش کرکے منظورکرایا جائے؟ اس سوال سے صرف مجھ کو ہی نہیں دوسرے کارکنوں کو بھی اکثر و بیش تر سابقہ پیش آتا ہے۔ گوہم اپنی حد تک لوگوں کو بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ضرورت ہے کہ آپ اس سوال کا جواب ترجمان القرآن میں دیں تاکہ وہ بہت سی غلط فہمیاں صاف ہوسکیں جن پر یہ سوال مبنی ہے۔
جواب: آپ نے جو سوال کیا ہے اس کا مفصل جواب تو سردست نہیں دیا جاسکتا لیکن مختصر طور پر میں ایک بات عرض کروں گا جس سے امید ہے کہ آپ معاملے کی اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔
ہم یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ جہاں نہ معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی ہو نہ اخلاق اسلامی‘ جہاں کاسیاسی و معاشی اور تعلیمی نظام بھی اب تک غیر اسلامی خطوط پر ترقی کرتا رہا ہو‘ اور جہاں ایک مجرد سیاسی تحریک کی بدولت ایک آزاد ریاست بننے کی یکایک نوبت آگئی ہو، وہاں اسلامی نظام کا قیام صرف اتنی سی بات پر اٹکا ہوا ہو کہ ہم ایک دستور مرتب کرکے پیش کریں اور برسراقتدار لوگ اسے لے کر نافذ کر دیں۔ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ گمان کرے کہ ایک مدرسے یا ایک بینک کو ہسپتال بنا دینے میں بس اتنی کسر ہے کہ چند ڈاکٹر مل کر ایک اچھے ہسپتال کا خاکہ مرتب کردیں اور وہ مدرسے کے معلمین یا بینک کے اسٹاف کو دے دیا جائے تاکہ وہ اسے دیکھ دیکھ کر سارا کام کرتے چلے جائیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اچھے خاصے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس سادگی کے ساتھ سوچ رہے ہیں۔ شاید دستور کو انھوں نے کوئی تعویذ سمجھا ہے۔
واضح طور پر سمجھ لیجیے کہ یہاں اسلامی نظام کا قیام صرف دو طریقوں سے ممکن ہے:
٭ ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت زمامِ کار ہے وہ اسلام کے معاملے میں اتنے مخلص اور اپنے ان وعدوں کے بارے میں جو انھوں نے اپنی قوم سے کیے تھے اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہلیت ان کے اندر مفقود ہے اسے خود محسوس کرلیں اور ایمان داری کے ساتھ یہ مان لیں کہ پاکستان حاصل کرنے کے بعد ان کاکام ختم ہوگیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام تعمیر کرنا ان لوگوں کاکام ہے جو اس کے اہل ہوں۔ اس صورت میںمعقول طریقِ کار یہ ہے کہ پہلے ہماری دستور ساز اسمبلی ان بنیادی امور کا اعلان کرے جو ایک غیر اسلامی نظام کو اسلامی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصولاً ضروری ہیں۔ (جنھیں ہم نے اپنے مطالبے میں بیان کر دیا ہے)۔ پھر وہ اسلام کا علم رکھنے والے لوگوں کو دستور سازی کے کام میں شریک کرے اور ان کی مدد سے ایک مناسب ترین دستور بنائے‘ پھر نئے انتخابات ہوں اور قوم کو موقع دیا جائے کہ وہ زمامِ کار سنبھالنے کے لیے ایسے لوگوں کو منتخب کرے جو اس کی نگاہ میں اسلامی نظام کی تعمیر کے لیے اہل ترین ہوں۔ اس طرح صحیح جمہوری طریق پر اختیارات اہل ہاتھوں میں بہ سہولت منتقل ہو جائیں گے اور وہ حکومت کی طاقت اور ذرائع سے کام لے کر پورے نظامِ زندگی کی تعمیر جدید اسلامی طرز پرکرسکیں گے۔
٭ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک عمومی تحریک اصلاح کے ذریعے سے اس میں خالص اسلامی شعور و ارادے کو بتدریج اس حد تک نشوونما دیا جائے کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچے تو خود بخود اس سے ایک مکمل اسلامی نظام وجود میں آجائے۔
ہم اس وقت پہلے طریقے کو آزما رہے ہیں۔ اگر اس میں ہم کامیاب ہوگئے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان کے قیام کے لیے ہماری قوم نے جو جدوجہد کی تھی وہ لاحاصل نہ تھی بلکہ اس کی بدولت اسلامی نظام کے نصب العین تک پہنچنے کے لیے ایک سہل ترین اور قریب ترین راستہ ہمارے ہاتھ آگیا، لیکن اگرخدانخواستہ ہمیں اس میں ناکامی ہوئی اور اس ملک میں ایک غیر اسلامی ریاست قائم کر دی گئی تو یہ مسلمانوں کی ان تمام محنتوں اور قربانیوں کا صریح ضیاع ہوگا جو قیامِ پاکستان کی راہ میں انھوں نے کیں‘ اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نقطۂ نظر سے اسی مقام پر ہیں جہاں پہلے تھے۔ اس صورت میں ہم پھر دوسرے طریقے پر کام شروع کردیں گے‘ جس طرح پاکستان بننے سے پہلے کر رہے تھے۔
امید ہے کہ اس توضیح سے لوگ ہماری پوزیشن کو اچھی طرح سمجھ جائیں گے۔ ہم کوئی کام وقت سے پہلے نہیں کرنا چاہتے۔ سرِدست ہم نے اسلامی نظام کے بنیادی امور کو ایک مطالبے کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ اگر اسے قبول کرلیا جائے تو دستور سازی کے کام میں جس حد تک ممکن ہوگا ہم پوری مدد کریں گے۔ لیکن اگر سرے سے یہ بنیادی امور ہی برسرِاقتدار لوگوں کو منظورنہ ہوں تو پھر دستور کا خاکہ پیش کرنے سے آخر کیا فائدہ متصور ہے؟
سیاسی انقلاب پہلے یا سماجی انقلاب؟۲۹۱؎
سوال: ہمارے ملک میں یہ احساس عام ہے کہ اسلام کے اصول و احکام پسندیدہ اور مستحسن تو ہیں مگر بحالات موجودہ قابلِ عمل نہیں ہیں۔ عوام و خواص میں اسلام سے جذباتی وابستگی تو ضرور ہے لیکن اسلام کا صحیح مفہوم اور آمادگیِ عمل بہت کم ہے۔ اسلام جس ذہنی و عملی انضباط کا مطالبہ کرتا ہے اسے دیکھ کر یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلامی قوانین کو نافذ کر دیا گیا تو کہیں اس کے خلاف شدید ردعمل نہ رونما ہو جائے۔ سیاسی انقلاب سے پہلے سماجی انقلاب ضروری ہے اور اصلاح کا جذبہ اوپر سے اور باہر سے پیدا کرنے کے بجائے اندر سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صورت حال پیدا ہونے سے پہلے کیا اسلامی ریاست کا مطالبہ قبل از وقت نہیں ہے؟
جواب: اس مسئلے کی اگر پوری وضاحت کی جائے تو اس کے لیے بڑے تفصیلی جواب کی ضرورت ہے، لیکن مختصر جواب یہ ہے کہ بلاشبہ سیاسی انقلاب سے پہلے ایک مدنی‘ اجتماعی اور اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی اسلامی انقلاب کا فطری طریقہ ہے، اور بلاشبہ یہ بات بھی درست ہے کہ اسلام کے احکام و قوانین صرف اوپر سے ہی مسلط نہیں کیے جاسکتے بلکہ اندر سے ان کے اتباع کا دلی جذبہ بھی پیدا کیا جاتا ہے، لیکن اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ پاکستان کے قیام کی شکل میں سیاسی انقلاب رونما ہو چکا ہے۔ اب یہ سوال چھیڑنا بالکل بے کار ہے کہ معاشرتی انقلاب پہلے برپا کرنا چاہیے اور سیاسی انقلاب بعد میں۔ اب تو سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ جب تک قوم میں ذہنی انقلاب واقع نہ ہو اُس وقت تک آیا ہم سیاسی اختیارات کو کافرانہ اصولوں کے مطابق استعمال کرتے رہیں، یا ان اختیارات کو بھی اسلامی اصولوں کے مطابق کام میں لائیں۔ سیاسی اقتدار کا کوئی نہ کوئی مصرف اور مقصد بہرحال ہمیں متعین کرنا پڑے گا۔ حکومت کی مشینری کو اخلاقی انقلاب رونما ہونے تک معطل بہرحال نہیں کیا جاسکتا۔ ایک قوم جو خدا اور اس کے رسولؐ کی حاکمیت اور بالادستی پر ایمان رکھتی ہو‘ اجتماعی اور قومی زندگی کی باگیں اس کے اپنے ہاتھ میں ہوں‘ اپنا نظامِ حیات وہ خود تعمیر کرنے کے قابل ہو‘ اور کوئی دوسری کافرانہ طاقت اس پر کوئی کافرانہ نظام مسلط کرنے والی نہ ہو‘ تو کیا اس قوم کے افراد کے لیے یہ جائز اور درست ہوسکتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اخلاقی وعظ و نصیحت تو کرتے رہیں مگر ہیئت ِ حاکمہ کو غیر اسلامی اصولوں کے مطابق کام کرنے کے لیے چھوڑ دیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اس صورت حال کو گوارا کرلیں تو گو ہم انفرادی ارتداد کے مرتکب نہ ہوں‘ اجتماعی اور قومی حیثیت سے ہم ضرور ارتداد کے مرتکب ہوں گے۔
پھر اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ اجتماعی و اخلاقی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو آپ کو غور کرنا پڑے گا کہ اس انقلاب کے ذرائع و وسائل کیا کیا ہوسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ذرائع میں تعلیم و تربیت‘ معاشرتی اصلاح‘ ذہنی اصلاح اور اسی قسم کی بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ انھی کے ساتھ ساتھ حکومت کے قانونی اور سیاسی ذرائع و وسائل بھی ہیں۔ حکومت کی طاقت نہ صرف بجائے خود ایک بڑا ذریعۂ اصلاح ہے‘ بلکہ وہ ساری اصلاحی تدابیر کو زیادہ مؤثر‘ نتیجہ خیز اور ہمہ گیر بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔ اب آخر کیا وجہ ہے کہ اخلاقی انقلاب لانے کے لیے حکومت کے وسائل کو بھی استعمال نہ کیا جائے۔ ہمارے ووٹوں اور ہمارے ادا کردہ ٹیکسوں اور مالیات کے بل پر ہی تو حکومت کا سارا نظام چل رہا ہے۔ آخر اس حماقت اور جہالت کا ارتکاب ہم کیوں کریں کہ ایک طرف انفرادی حیثیت سے ہم اسلام کے سماجی انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں اور دوسری طرف حکومت کے سارے ذرائع اخلاق کے بگاڑنے اور فسق و فجور پھیلانے میں لگے رہیں۔



ضمیمہ نمبر ۱

پاکستان کے ۳۱ معتمد علمائے کرام کا
متفقہ فیصلہ

۱۲تا ۱۵ ربیع الثانی ۱۳۷۰ھ۔ مطابق ۲۱تا ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء کو کراچی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ۳۱ معتمد علمائے کرام کا اجتماع منعقد ہوا، جس میںاسلامی دستور کے لیے درج ذیل ۲۲ بنیادی اصول بالاتفاق طے ہوئے:
اسلامی مملکت کے بُنیادی اصول
اسلامی مملکت کے دستور میں حسب ذیل امور کی تشریح لازمی ہے:
۱۔ اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
۲۔ ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جاسکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جاسکے گا، جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
(تشریحی نوٹ:) اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں تو ان کی تشریح ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں گے۔
۳۔ مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطۂ حیات ہے۔
۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلامی کے احیا و اعلا اور مُسلّمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانانِ عالم کے رشتۂ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت ِ جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی و لسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کرکے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
۶۔ مملکت بلا امتیاز مذہب و نسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی: غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی۔ جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں، یا نہ رہے ہوں یا عارضی طور پر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعیٔ اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
۷۔ باشندگانِ ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعتِ اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں۔ یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظ جان و مال و آبرو، آزادیٔ مذہب و مسلک، آزادیٔ عبادت، آزادیٔ ذات، آزادیٔ اظہار رائے، آزادیٔ نقل و حرکت، آزادیٔ اجتماع، آزادیٔ اِکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادے کا حق۔
۸۔ مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا، اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقع صفائی و فیصلۂ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
۹۔ مُسلّمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انھیں اپنے پیرووں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی، آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنی فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انھی کے قاضی یہ فیصلے کریں۔
۱۰۔ غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اندر مذہب و عبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی اور انھیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق چلانے کا حق حاصل ہوگا۔
۱۱۔ غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدودِ شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں ان کی پابندی لازمی ہوگی۔ اور جن حقوقِ شہری کا ذکر دفعہ نمبر۷ میں کیا گیا ہے ان میں غیر مسلم باشندگان ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
۱۲۔ رئیسِ مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدیّن، صلاحیت اور اصابتِ رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
۱۳۔ رئیسِ مملکت ہی نظمِ مملکت کا اصل ذمے دار ہوگا۔ البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جز کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
۱۴۔ رئیسِ مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہوگی۔ یعنی وہ ارکانِ حکومت اور منتخب نمائندگانِ جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
۱۵۔ رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ دستور کو کُلاًّ یا جزئً ا معطل کرکے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
۱۶۔ جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہوگی وہی کثرت آراء سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
۱۷۔ رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہوگا اور قانونی مواخذے سے بالاتر نہ ہوگا۔
۱۸۔ ارکان و عمال حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون اور ضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
۱۹۔ محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئتِ انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
۲۰۔ ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہوگی جو مملکت اسلامی کے اساسی اصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
۲۱۔ ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکت واحدہ کے اجزائے انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی، یا قبائلی اور واحدہ جات کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنھیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا۔ مگر انھیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔
۲۲۔ دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس کراچی
مذکورہ اجتماع میں درج ذیل علمائے کرام نے شرکت فرمائی تھی:
۱۔(علامہ) سید سلیمان ندویؒ (صدر مجلس)
۲۔ (مولانا) سید ابو الاعلیٰ مودودی (امیر جماعت اسلامی پاکستان)
۳۔ (مولانا) شمس الحق افغانی (سابق وزیر معارف ریاست قلات)
۴۔(مولانا) محمد بدر عالمؒ (استاذالحدیث، دارالعلوم الاسلامیہ اشرف آباد، ٹنڈواللہ یار،سندھ)
۵۔(مولانا)احتشام الحق تھانوی (مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ اشرف آباد، سندھ)
۶۔(مولانا) عبدالحامد قادری بدایونی (صدر جمعیۃ العلمائے پاکستان، سندھ)
۷۔(مفتی) محمد شفیع (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام مجلس دستور ساز پاکستان)
۸۔(مولانا) محمد ادریس (شیخ الجامعہ۔ جامعہ عباسیہ بہاول پور)
۹۔(مولانا)خیر محمد مہتمم مدرسہ خیر المدارس۔ ملتان شہر
۱۰۔(مولانا مفتی) محمد حسنؒ (مہتمم مدرسہ اشرفیہ۔ نیلا گنبد۔ لاہور)
۱۱۔(پیر صاحب)محمد امینؒ الحسنات (مانکی شریف سرحد)
۱۲۔(مولانا) محمد یوسف بنوری (شیخ التفسیر۔ دارالعلوم الاسلامیہ اشرف آباد۔ سندھ)
۱۳۔(حاجی) خادم الاسلام محمد امین (خلیفہ حاجی ترنگ زئی، المجاہد آباد۔ پشاور۔ صوبہ سرحد)
۱۴۔(قاضی)عبدالصمد سربازی (قاضی قلات) بلوچستان
۱۵۔(مولانا) اطہر علی (صدر عاملہ جمعیۃ العلمائے اسلام، مشرقی پاکستان)
۱۶۔(مولانا) ابو جعفر محمد صالح (امیر جمعیت حزب اللہ، مشرقی پاکستان)
۱۷۔(مولانا)راغب احسن (نائب صدر جمعیت العلمائے اسلام، مشرقی پاکستان)
۱۸۔(مولانا) حبیب الرحمن (نائب صدر جمعیۃ المدرسین، سرسینہ شریف، مشرقی پاکستان)
۱۹۔(مولانا) محمد علی جالندھری (مجلس احرارِ اسلام پاکستان)
۲۰۔(مولانا) دائود غزنویؒ (صدر جمعیۃ اہل حدیث۔ مغربی پاکستان)
۲۱۔(مفتی)جعفر حسین مجتہد (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستورساز پاکستان)
۲۲۔(مفتی حافظ) کفایت حسین مجتہد (ادارہ عالیہ تحفظ حقوقِ شیعہ پاکستان۔ لاہور)
۲۳۔(مولانا) محمد اسماعیلؒ (ناظم جمعیۃ اہل حدیث پاکستا ن، گوجرانوالہ)
۲۴۔(مولانا)حبیب اللہ (جامعہ دینیہ دار الہدیٰ۔ ٹیڑی، خیرپور)
۲۵۔(مولانا) محمد صادق (مہتمم مدرسہ مظہر العلوم۔ کھڈہ۔ کراچی)
۲۶۔(پروفیسر) عبدالخالق (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
۲۷۔(مولانا) شمس الحق فرید پوری (صدر مہتمم مدرسہ اشرف العلوم، ڈھاکہ)
۲۸۔(مفتی) محمد صاحب داد عفی عنہ (سندھ مدرستہ الاسلام۔ کراچی)
۲۹۔(مولانا) محمد ظفر احمد انصاری (سیکرٹری بورڈ آف تعلیمات اسلام۔ مجلس دستور ساز پاکستان)
۳۰۔(پیر صاحب) محمد ہاشم مجددی ٹنڈو سائیں داد۔ سندھ
۳۱۔(مولانا) احمد علیؒ (امیر انجمن خدام الدین۔ لاہور)

ضمیمہ نمبر ۲

اسلامی ریاست
بدعنوانی اور آمریت سے بچنے کا [واحد]ذریعہ ہے۔
برطانوی کیتھولک راہبہ کیرن آرمسٹرانگ (karen Armstrong) کا اِعتراف
اسلامی نظامِ حکومت کے متعلق اِس اِعتراف کا اِظہارکرنے والی کیرن آرمسٹرانگ کو آج کے دور میں سب سے زیادہ غیر متعصّب اسکالر (محققہ) ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اُن کی دوکتابوں A Short History of Islam (اسلام :ایک مختصر تاریخ) اور Battle for God (خدا کے لیے جنگ) میں اسلامی نظام اور دوسرے نظاموں کاجائزہ لیا گیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
جمہوریت حرص و ہوس اور اِنتشار کا باعث بنتی ہے۔سرمایہ داری نے طبقاتی جنگ برپا کی ہے اور ساری دنیا کو بینک کاروں کی ایک نہایت قلیل سی تعداد کا غلام بنادیا ہے۔کمیونزم نے انسانی آزادی اور اِنفرادیت کو محدود کردیا ہے۔لیکن اسلامی ریاست بدعنوانی اور آمریت سے بچنے کا [واحد]ذریعہ ہے۔
جب مذاہب چلے ہوئے کارتوس بنتے جا رہے تھے اور دنیا سیکولرزم کی گرویدہ اور طلب گار ہوتی جارہی تھی توکیرن آرمسٹرانگ کو اِس سارے طوفان کے مقابلے میں قلم کی صرف ایک آواز اور تحریک کی صرف ایک ہی صورت نظر آتی ہے اور وہ ہیں سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ،جو نظریے کی قدر پر یقین رکھتے تھے اور اِسلام کے علاوہ دوسرے نظاموں کو نقائص سے معمور سمجھتے تھے۔
کیرن آرمسٹرانگ نے سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو سیکولرزم کے مقابلے میں اسلام کا پہلا منظم سپہ سالار قرار دیاہے ۔وہ کہتی ہیں:
مودودیؒ نے ۱۹۳۹ء میں اپنا تصوّر وضع کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح محمد[صلی اللہ علیہ وسلم ] نے اسلام سے پہلے کی ’جاہلیت‘یعنی جہالت اور وحشت سے جنگ کی تھی، بالکل اُسی طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کو تمام میسر ذرائع سے مغرب کی جدید ’جاہلیت‘کی مزاحمت کرنی ہے۔مودودیؒ کو یقین تھا کہ سچے مسلمان دنیاسے الگ رہ کر سیاست کو دوسروں پر نہیں چھوڑ سکتے۔اُنھیں فروغ پاتے ہوئے اِسلام دشمن سیکولرزم سے لڑنے کے لیے لازمًا متحد ہوجانا چاہیے اور ایک انتہائی منظم گروہ تشکیل دینا چاہیے۔مودودیؒ نے لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے اسلام کو ایک مدلل عقیدے اور ایک منظم تحریک کے انداز میں پیش کیا۔
حقیقت میں مودودیؒ کسی بھی جدید فرد کی طرح آزادی کے گرویدہ تھے اور آزادی عطا کرنے والی اِلٰہیات [احکامِ خدا] پیش کر رہے تھے۔اُن کا استدلال تھا کہ خدا مطلق حاکم ہے ، اِس لیے کوئی انسان دوسرے انسان کی اطاعت پر مجبور نہیں ۔رضائے اِلٰہی کے مطابق حکومت نہ کرنے والا حاکم اپنی رعایا کو اطاعت پر مجبور نہیںکرسکتا،ورنہ ____ انقلاب ____ صرف ایک حق نہیں ، بلکہ فرض ہوجاتا ہے۔
موجودہ اسلامی نشا ٔتِ ثانیہ سید ابوالاعلیٰ مودودی [رحمۃاللہ علیہ] کے چراغ سے چراغ روشن کرتی اور سید قطب [رحمۃاللہ علیہ] سے روشنی لیتی ہے۔پھر دنیا بھر میں مغرب کی کریہہ المنظر سوسائٹی کے مقابلے میں ،اسلام کی نشا ٔتِ ثانیہ کی تحریک کی، اِس اِنقلابی اپیل کو انڈونیشیا کے جزائر سے لے کر افغانستان کے پہاڑوں تک اور سوڈان اور الجزائر کے صحرائوں تک لے جاتی ہے۔ایران کے انقلاب میں طریقِ کار کی وضاحت کا شرف اور دنیا بھر میں مزاحمتی تحریکوں کو ایک نیا رخ دینے کا سہرا سید مودودی ؒ کے سر بندھتا ہے،جنھوں نے آفاقی جہاد کا مطالبہ کیا۔یہ آفاقی جہاد کا مطالبہ عدیم النظیر تھاجب کہ حالات بھی مایوس کن تھے۔غرناطہ کی تباہی کے بعد سے اَب تک مودودیؒ کے سوا کسی مسلمان مفکر نے ایسا دعویٰ نہیں کیاتھا۔
(بہ شکریہ:ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور،اشاعت خاص،اکتوبر ۲۰۰۳ء)
زیر نظر تصنیف ’’اسلامی ریاست‘‘ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس نے اسلام کو سیاسی نظام ماننے سے انکاری لوگوں کی زبانیں گنگ کردیں۔ کتاب کے مطالعے ہی سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اسلام ہی انسانیت کا حقیقی دین ہے اور اسلام ہی حقوقِ انسانی کے تحفظ اور انسانی معاشروں میں حقیقی امن اور عدل و استحکام کا نظام ہے۔
تحریک پاکستان کے دوران میں اور قیام پاکستان (۱۴ /اگست ۱۹۴۷ء) کے بعد بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے یہ بات کئی مرتبہ واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان کی کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہوگا اور یہاں قرآن و سنت کو بالادستی حاصل ہوگی۔ انھوں نے فرمایا:
۱۔ پاکستان ہماری ایک تجربہ گاہ ہوگا اور ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ۱۳ سو برس پرانے اسلامی اصول ابھی تک کارآمد ہیں۔ (پاکستان ٹائمز۔ ۱۵ / جنوری ۱۹۴۸ء)
۲۔ میرے لیے وہ گروہ بالکل ناقابل فہم ہے جو خواہ مخواہ شرارت پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ پروپیگنڈا کر رہاہے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنے گا۔
(پاکستان ٹائمز، ۲۷ /جنوری ۱۹۴۸ء)
۳۔ پاکستان کے وزیراعظم مسٹر لیاقت علی خان نے اتحاد ویک جہتی کے لیے سرحد کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے قائداعظمؒ کے اُن اعلانات کا پھر اعادہ کیا کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی ریاست ہوگا۔ (پاکستان ٹائمز۔ ۱۵ / جنوری ۱۹۴۸ء)
۴۔ مسٹر لیاقت علی خان وزیراعظم پاکستان نے آج راولپنڈی میں اعلان کیا کہ پاکستان کا آئندہ دستور قرآن مجید کے احکام پر مبنی ہوگا۔ انھوں نے فرمایا کہ قائداعظمؒ اور ان کے رفقا کی یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کا نشو ونما ایک ایسی مضبوط اور مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ہو جو اپنے باشندوں کو عدل و انصاف کی ضمانت دے سکے۔
(پاکستان ٹائمز ۔ ۷ / اپریل ۱۹۴۸ء)
لیکن قائداعظم کی وفات (۱۹۴۸ء) کے ساتھ ہی یہاں اسلام کے نفاذ کی راہیں مسدود کی جانے لگیں اور یہ غوغا شروع کر دیا گیا کہ اسلام محض چند رسوم کی ادائیگی کا نام ہے۔ حتی کہ وطن عزیز پاکستان کے نام کے ساتھ لفظ: ’’اسلامی‘‘ کے اضافے کے لیے اسلامیانِ پاکستان کو تحریک پاکستان جیسی سخت جدوجہد کرنا پڑی۔
مستقبل کی عظیم تر اسلامی جمہوری مملکت _____ پاکستان _____ میں اسلامی ریاست کا قیام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، قرآن کے مقصدِ نزول، وطنِ عزیز پاکستان کے مقصدِ قیام، حب الوطنی اور ملکی دستور کا اوّلین تقاضا بھی ہے اور شہدائے تحریک پاکستان کے پاکیزہ لہو کا خراج بھی، ورنہ خدا و رسولؐ کے نام پر قائم ہونے والے ملک ___ پاکستان ___ میں اسلامی ریاست کا قائم نہ ہونا اور ظلم و استحصال کا جاری رہنا وطنِ عزیز کے وجود اور بقا کے لیے خطرناک ہے کیونکہ قرآن و سنت ہی ایک ایسی مضبوط کڑی ہے جو ملک کو قائم اور قوم کو متحد رکھ سکتی ہے۔ یہاں قرآن و سنت کے نظام کا نفاذ نہ ہونا، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کھلم کھلا غداری، بغاوت اور جنگ کے مترادف ہے۔ اسلامیانِ پاکستان اس جرم کے متحمل نہیں ہوسکتے۔