یہ کچھ اوراق ہیں جو میں نے بہت پہلے تحریر کیے تھے۔ امام ابوالاعلیٰ مودودیٰ کی وفات کے ایک سال بعد مجھ سے ان کے کچھ نیاز مندوں نے خواہش کی کہ فکر مودودی پر کچھ لکھوں کہ اس کی کیا خصوصیات ہیں؟ اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں ملک وملت پر ؟
میں نے اس وقت اس موضوع پر لکھنا شروع کر دیا تھا، لیکن اس وقت میں اسے مکمل نہ کر سکا۔ اس طرح یہ اوراق میرے پاس نا مکمل پڑے رہے، اور ان پر ایک عرصہ گزر گیا۔
ان دنوں قدرت کا اشارہ ہوا کہ میں اس کام کے لیے کچھ وقت نکالوں ، اور اس کام کے لیے وقت نکالوں اور اس کو جس طرح ہو سکے، اپنے منصوبے کے مطابق مکمل کروں ، اس طرح یہ کتاب پایۂ تکمیل کو پہنچی اور نظرات فی فکر الامام المودودی کے نام سے منظر عام پر آرہی ہے۔
کوئی بھی مسلم اسکالر امام مودودیؒ کی امامت اور عبقریت میں شک نہیں کر سکتا۔ یہ امامت اور عبقریت نمایاں ہے ان کے وسیع اسلامی فکر میں، جو اسلام کے گوناگوں مسائل سے بحث کرتا ہے۔ قرآن مجید کی مکمل تفسیر، سنت رسول پر تحقیقی مقالات، خود کو اہل قرآن کہنے والوں کی تردید، جن کا کہنا ہے کہ انھیں رسول اللہ کی احادیث پر اعتبار نہیں۔ وہ احادیث ، جن کی اُمت نے روایت و حفاظت کی ہے۔ اور جن کی حفاظت کے لیے نوے علوم کی بنیاد رکھی جو سب کے سب علم حدیث سے تعلق رکھتے ہیں اور ان علوم پر زبردست لائبریری تیار ہوگئی، ان علوم کی ترقی اور آبیاری میں علمانے اپنی زندگیاں لگا دیں۔
امام مودودیؒ نے زندگی کے ان تمام مسائل پر توجہ دی جو امت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں، فرد کی زندگی ہو، خاندان کی زندگی ہو ، معاشرے کی زندگی ہو، اُمت کی زندگی ہو، حکومت اور ریاست کی زندگی ہو ، ساری دنیا سے تعلقات کا معاملہ ہو، ان تمام متنوع مسائل اور موضوعات پر مولانا نے اظہار خیال کیا۔ عقیدہ ہو، عبادات ہوں، اخلاق ہو ، قانون ہو، معیشت اور سیاست ہو، تاریخ اور زندگی کے مختلف مسائل ہوں، ان سب پر مولانا نے قلم اُٹھایا، اور اسلامی دعوت اسلامی تہذیب اور اسلامی شریعت کے تمام مخالفین کو بھر پور جواب دیا۔
امام مودودیؒ اپنی تحریروں میں ایک جہاں دیدہ شہسوار اور دو دھاری تلوار نظر آتے ہیں۔ جو کچھ صحیح سمجھتے ہیں بے دھڑک لکھتے ہیں، جس بات پر مطمئن ہوتے ہیں اور جسے حق سمجھتے ہیں، اس کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں نہ تو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کرتے ہیں، نہ کسی فرعون کی فرعونیت سے ڈرتے ہیں، کوئی سیکولرزم کا علم بردار ہو، یا کوئی قدامت پرست ہو، یا کوئی مغربیت زدہ ہو، یا کوئی خوں خوار ظالم ہو، وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔
ان کے افکار سے دنیا بھر کے اہل اسلام استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ میں نے ان کی اکثر کتابوں کا مطالعہ دور جوانی میں کیا تھا، میں ان کی شخصیت، اور ان کے افکار میں موجود حقیقت پسندی ، مضبوطی اور ان کی تحقیقی روح سے کافی متاثر ہوا تھا، گرچہ بعض جزئیات میں ان سے اختلاف بھی رہا۔
حق پرست اور مخلص اسلامی مفکرین کے شایان شان یہی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے استفادہ بھی کریں اور ایک دوسرے پر تنقیدی نظر بھی رکھیں ۔ معصوم تو صرف رسول پاک ﷺ کی ہی ذات پاک ہے، کیونکہ آپ ﷺسے کچھ بھی اپنے جی سے نہیں بولتے تھے۔ آپ ﷺکے علاوہ ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی تمام باتیں ماننی ضروری نہیں ہوتیں، کچھ باتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں، جو قابل قبول نہ ہوں۔
اس موقعے پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنے عزیز بھائی عبد الغفار عزیز کا شکریہ ادا کروں، جنھوں نے امام ابوالاعلیٰ مودودیٰ سے فیض پایا ہے اور میرے بھی شاگرد ہیں، اور اس وقت وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری برائے امور خارجہ ہیں۔(یاد رہے کہ اس وقت عبدالغفار عزیز حیات تھے، مدیر)
میں نے یہ کتاب اشاعت سے قبل ان کے پاس بھیجی تھی۔ انھوں نے اس کے لیے بعض مشورے دیے جنھیں میں نے قبول کیا۔ اسی طرح انھوں نے امام مودودیؒ کی بعض تحریروں کے حوالے بھی فراہم کیے۔ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جنھوں نے اس کتاب کی اشاعت میں میرے ساتھ کسی طرح کا تعاون کیا ہے۔
امام مودودیؒ اور ان کے اسلامی فکر سے متعلق یہ کتاب اب میں اپنے بھائیوں اور روحانی فرزندوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، امید ہے وہ اس کا مطالعہ کریں گے اور اس پر غور و فکر کریں گے ممکن ہے انھیں اس میں کچھ مفید چیزیں مل جائیں، یا انھیں اس سے کچھ آسودگی حاصل ہو سکے، یا ان کی کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔
اپنی یہ گفتگو میں اللہ کے نبی شعیب علیہ السلام کے اس جملے پر ختم کرتا ہوں:
میرا مقصد سوائے اصلاح کے اور کچھ نہیں ، اور جہاں تک کے میرے بس میں ہوگا، میں یہ کام کرتا رہوں گا۔ میری کامیابی اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ میں اس پر بھروسا رکھتا ہوں ، اور اسی سے لَو لگاتا ہوں۔
رحمت کا آرزومند
يوسف القرضاوی
۲۷ صفر ۱۴۳۳ھ، ۲۱ جنوری ۲۰۱۲ء