اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور حق دین ہے جو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے آیا ہے ۔اسلام کے ماننے والے لوگ دو قسم کے ہیں۔ ایک عوام الناس جو صرف مسلمان ہیں اور وہ اس سے زیادہ علم نہیں رکھتے کہ بس اسلام ایک مذہب اور دین ہے اور ہم اس کے معتقدین ہیں ۔ دوم : دوسری قسم کے پیرو کار وہ لوگ ہیں جو علماکے نام سے جانے جاتے ہیں اور بفضل اللہ امت کبھی بھی علماکے وجود سے خالی نہیں رہی۔
تاہم علما دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو اسلام کو محض پوجا پاٹ ، چند رسوم اور عبادات کی چند مخصوص اقسام تک جانتے ہیں اور قرآن جیسی انقلابی کتاب کو محض خیر و برکت ، دم و تعویذ اور زیادہ سے زیادہ نزاعی صورتوں میں فریقین کے مابین بطور قسم استعمال کو دین کی بڑی خدمت سمجھتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ اسلام کو دنیا میں غالب کرانا اور تمام باطل ادیان کو مٹانا ہی دراصل انبیا اور ان کے جانشینوں کا بنیادی فریضہ ہے، اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں بلکہ اگر کوئی اللہ کا بندہ کمر کس کر اس عظیم مقصد رسالت کی ادائیگی میں مصروف عمل ہوتا ہے تو ایسے مخلص بندوں کے دست و بازو بننے کے بجائے انہیں امن وطعن کا مستوجب قرار دیتا ہے بلکہ الٹا اسے گمراہ اور کافر تک کہنے سے گریز نہیں کرتے۔
چنانچہ ایسے علما جو اسلام کے بارے میں یہ تصور نہیں رکھتے کہ وہ صرف چند مخصوص عقائد اور اعمال کا نام ہے جو زندگی کے ایک مخصوص شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اسلام کے متعلق وہ یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ ایک عالمگیر نظریہ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی بنیاد پر رسول اللہ صلی در اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی صورت میں انقلاب اور تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمام شعبہ ہائے حیات میں دوسرے قوانین کی حکمرانی کے بجائے وہ اپنے قوانین کی حکمرانی کا خواہشمند ہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں عموماً اور سرزمین پاکستان میں خصوصاً اسلام کا نظام حیات قائم ہوسکتا ہے ۔ ایسے نظر رکھنے والوں میں بلکہ برصغیر میں اس فکر کی تجدید اور آبیاری کرنے والی شخصیت جناب سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ ہیں ، جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں۔ آپ کی علمی بصیرت ، خداداد فراست، تفقہ فی الدین اور حسن کردار نے آپ کو اس مقام بلند پر فائز کر دیا ہے جہاں چند ہی لوگ پہنچتے ہیں ، امت مسلمہ میں ایسے عبقری شخصیات کا وجود اگر چہ نا پید نہیں ہوا ہے بلکہ صحا بہ و تابعین کے بعد عمر بن عبد العزیز سے لے کر شاہ ولی اللہ اور سید مودودی ؒتک مجددین کی ایک طویل فہرست ہے جن کی شہرت و قبولیت ایک طرف مداحوں ، عقیدت مندوں اور حامیوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے وہی مخالفین و حاسدین کے ایک گروہ کے نمودار ہونے کا باعث بھی بنی ہے۔ پچھلے ادوار میں امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام بخاری رحمہ اللہ اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ سے ایسا ہی سلوک ہوا جبکہ موجودہ زمانے میں انہی کے راستے پر چلنے والے ایک شخصیت سید مودودی رحمہ اللہ سے ہوا جو ہنوز جاری ہے ۔
حال ہی میں ایک مولوی صاحب نے ان پرانے اعتراضات بلکہ واہیات کو عوام میں بزعم خویش ایک دینی خدمت کے طور پر پھیلائے ہیںاور افسوس کہ مولوی موصوف نے اس میں بیشتر مقامات پر انتہائی بددیانتی سے کام لیا ہے تاہم ہمارے نو جوان عالم دین مولانا احسان اللہ صاحب نے ان تمام اعتراضات کا نہایت علمی، پروقار ، سنجیدہ اور مدلل انداز میں جائز ہ لیا ہے جن پر مولانا مودودی رحمہ اللہ مخالفین خصوصاً مولوی موصوف نے شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فاضل اور نوجوان عالم دین مولانا احسان اللہ کی اس کاوش کو قبول فرمائیں کہ یہ ایک حق پرست اور مظلوم انسان کا دفاع ہے جو یقیناً باعث اجر و ثواب ہے اور قارئین سے استدعا ہے کہ وہ خالی الذہن ہو کر اس کو پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ۔ عقل سلیم رکھنے والے اور سنجیدہ لوگوں کے لیے یہ رسالہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو حق بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور باطل سے خود بھی بچنے اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
( مولانا ) الشیخ صفی اللہ
شیخ الحدیث جامعہ مفتاح العلوم
هشنگر و کلے شیر گڑھ ضلع مردان