خطابات سید مودودیؒ

حرف اوّل

خطابات سید مودودیؒ کی جلد سوم آپ کے ہاتھوں میں ہے، جو سید مرحوم و مغفور کی انتالیس (۳۹) تقاریر پر مشتمل ہے۔ جو ۲۶ جنوری ۱۹۵۶ء تا۲۶ جون ۱۹۶۰ء کے عرصے پر محیط ہے۔ راقم الحروف نے ۱۶ مئی ۱۹۵۵ء سے ۲۶ مئی ۱۹۷۹ء تک تقاریر، پریس کانفرنسوں اور بیانات، اپیلوں اور ٹیلی گرامز پر مشتمل تیرہ جلدیں تاریخی ترتیب سے مرتب کر دی ہیں ۔ ۲۶ مئی ۱۹۷۹ ء کو سید مرحوم و مغفور علاج کی خاطر بفیلو امریکہ تشریف لے گئے تھے ۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو صدیوں کا انسان دارلفنا سے در البقا کی جانب روانہ ہو گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی کا فکری ارتقا جب اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ” اقامت دین ملت اسلامیہ کا اولین اور سب سے اہم فریضہ ہے تو انھوں نے ۱۹۴۱ء میں پورے ہندستان کے علمائے ا سلام کو دعوت دی کہ اس فریضے کو سرانجام دینے کے لیے جمع ہو کر لائحہ عمل طے کیا جائے۔ ۲۶ -اگست ۱۹۴۱ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا۔ جماعت کے قیام کا مقصد اور طریق کارواضح ہوگئے ۔ سید مرحوم و مغفور جماعت اسلامی کے پہلے امیر منتخب ہوئے ۔ آپ نے جسم و جاں کی تمام طاقتیں اور قوتیں اللہ تعالیٰ کے دین کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لیے وقف کر دیں۔ اس راہ میں آپ کے قلم گہر بار سے کم و بیش ایک سو دس تصنیفات ہر موضوع کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔ تفہیم القرآن تیس سال میں تکمیل تک پہنچی۔ تصنیفات کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے مخصوص انداز میں مختلف اجتماعات سے سیکڑوں بار خطاب فرمایا اور اس مقصد کے لیے آپ نے ہزاروں میل کا سفر کیا۔ خطابات، پریس کانفرنسیں اور بیانات اور انٹرویوز کے ذریعے دین حق کا پرچم بلند کیا۔
پروفیسر صولت مرحوم نے مولانا مودودیؒ کی تقاریر میں بیانات کو بھی شامل کیا تھا جب کہ صاحبان فکر و نظر جانتے ہیں کہ تقریر اور بیان میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اسی لیے راقم الحروف نے سید مودودی کی تقاریر کو تاریخی ترتیب سے الگ مرتب کیا ہے اور سید کی پریس کانفرنسوں اور بیانات کو تاریخی ترتیب سے الگ مرتب کر دیا ہے۔ اسی طرح سید مودودی کی اپیلوں اور ٹیلی گرامز کو بھی تاریخی ترتیب سے ایک الگ جلد میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے دوران سید مودودی کے انٹرویوز کی تیسری جلد بھی مرتب ہوگئی۔
پروفیسر رحیم بخش شاہین قلمی نام (ابو طارق ایم اے) نے سید مودودی کے انٹرویوز پر مبنی پہلی جلد ۱۹۷۶ء میں مرتب کی تھی جسے اسلامک پبلی کیشنز لاہور نے جنوری ۱۹۷۶ء میں شائع کیا تھا اور دوسری جلد گیارہ سال بعد مذکورہ ادارے نے مئی ۱۹۸۷ء میں شائع کی تھی۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ سید مودودی کے ۲۳ / انٹرویوز ابو طارق صاحب کے سامنے نہ آسکے تھے۔ اس لیے اب راقم الحروف نے تیسری جلد مئی ۲۰۱۰ء میں تاریخی ترتیب کے ساتھ مرتب کر دی ہے۔ ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے اس تحقیقی کام کے دوران راقم الحروف کو مالی طور پر اور صحت کے لحاظ سے بعض نا مساعد حالات کا سامنا ہو امگر اللہ تعالی کی مدد ہمیشہ بروقت پہنچی۔
سید مودودیؒ اور جماعت اسلامی سے متعلق اس عاجز و بے بس آدمی نے جو کچھ تحقیقی کام کیا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی مدد سے ہمیشہ نوازا اور یہ اُس کا فضل و کرم ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ راقم الحروف اس رحم و کرم پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ یہ بھی میری سعادت ہے کہ مجھے سید مودودیؒ کی چار تقاریر خود سننے کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا اور سید سے خط و کتابت کا شرف بھی حاصل رہا۔ اکتوبر ۱۹۶۶ء سے ستمبر ۱۹۷۹ء تک تقریباً تیرہ سال کا عرصہ ایسا ہے جس میں سید سے ملاقاتیں ، خط و کتابت اور عصری محافل میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔
ایک وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ راقم الحروف کے دل میں سید مودودی کی تقاریر، پر یس کا نفرنسیں اور بیانات، اپلیں اور ٹیلی گرامز اور انٹرویوز کو مرتب کرنے کی تحریک کیسے پیدا ہوئی۔ ہوا یہ کہ حافظ محمد ادریس صاحب ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی لاہور کا ایک مکتوب مورخہ مارچ ۲۰۰۵ء بنام محمد شفیق اعوان (اٹک) میرے سامنے آیا، جس کا مندرجہ ذیل فقرہ نہایت قابل غور ہے۔
’’ثروت صولت صاحب کی جس کتاب ( مولانا مودودی کی تقریریں) کا آپ نے ذکر کیا ہے، ہم نے بارہا اسلامک پبلی کیشنز کے ذمہ داران سے اس کے بارے میں استفسار کیا ہے مگر وہ مسودہ ان کے پاس محفوظ نہیں۔ دو حصے انھوں نے شائع کیے تھے، باقی ماندہ مسودہ وہ اپنے ہاں تلاش نہیں کر سکے ۔“
معلوم ہوا کہ ۱۶ مئی ۱۹۵۵ء کے بعد سید مودودیؒ کی تقاریر، پریس کانفرنسوں اور بیانات، ٹیلی گرامز اور اپیلوں کی تحقیق و تدوین کا کام نہیں ہو سکا۔ البتہ وقت کے تقاضوں کے مطابق چند پمفلٹ بار بار شائع ہوتے رہے ہیں۔ راقم الحروف نے حافظ محمد ادریس صاحب ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی لاہور ، امانت علی صاحب ڈائریکٹر اسلامک پبلی کیشنز لاہور اور پروفیسر خورشید احمد صاحب چیئر مین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز تینوں حضرات سے فون پر بات کی۔ ان حضرات کی رائے یہی تھی کہ سید مودودیؒ کی تمام تقاریر، پریس کانفرنسیں اور بیانات کو ۱۵ مئی ۱۹۵۵ء تا ۲۶ مئی ۱۹۷۹ء مرتب کر لیا جائے تو اہم تاریخی مصدقہ دستاویز ہوگی۔
تحریک اسلامی کے اس عظیم الشان اور تاریخی سرمایے کو مرتب اور محفوظ کرنے کے لیے راقم الحروف کو مندرجہ ذیل مراحل سے گزرنا پڑا۔
۱۔تحریک اسلامی سے متعلق بر صغیر ہند و پاک میں شائع ہونے والا تمام لٹریچر اور تمام رسائل و جرائد کا مکمل ریکارڈ مد نظر رکھا گیا۔
۲۔انتہائی کوشش کی گئی کہ سید مودودی کی تمام تقاریر کے اصل متن پیش کیے جائیں اور مقام شکر ہے کہ اس میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ ہر جلد کے آخر میں حوالہ جات و کتابیات کی فہرست دیکھنے سے اس کی تصدیق بآسانی ہو سکتی ہے۔ ایک ہی خطاب اگر متعدد رسائل یا پمفلٹوں میں
شائع ہوا تھا تو ایک مصدقہ متن پیش کیا گیا ہے لیکن آخر میں وہ تمام حوالہ جات درج کیے گئے ہیں جن میں متعلقہ خطاب کے سلسلے میں کسی قسم کی بات درج تھی۔
۳۔ان تقاریر کو مرتب کرتے وقت راقم الحروف کے نزدیک سب سے اہم بات یہ تھی کہ تقریر کا موضوع، پس منظر، تاریخ اور مقام قارئین کے سامنے رکھ دیا جائے ۔ اس لیے ہر تقریر سے پہلے ایک نوٹ تحریر کیا گیا۔ اس کے بعد اگر سید کے خطاب سے پہلے کہیں سپاسنامہ پیش کیا گیا تھا تو اُسے خطاب سے پہلے رکھا گیا۔ اس کے بعد سید کا خطاب پیش کیا گیا اور آخری مرحلہ میں خطاب کے بعد وہ سوالات اور جوابات درج کیے گئے ہیں جو اُسی خطاب سے متعلق تھے۔
۴۔ یہ ترتیب اس لیے ضروری تھی کہ یہ آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا کام ہے۔ آنے والی نسلیں سید کی تقاریر کو پڑھیں گی تو سید کے زمانے کو تصور کی آنکھوں سے دیکھنا چاہیں گی۔ اگر سید کی تقریر کے پس منظر اور سامعین کے جذبات و احساسات کو سامنے نہ رکھا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سید کے خطاب کے مفہوم کی گہرائی کا اندازہ کیا جا سکے گا۔ وہ ایک جیتا جاگتا دور تھا اور وقت کے فرعونوں اور شدادوں نے سید کی خطابت کے خوف سے کہاں کہاں دفعہ ۱۴۴ نافذ نہ کی، کہاں کہاں اجتماع گاہوں میں پانی نہ چھوڑا گیا اور اس پانی میں بجلی کے کرنٹ نہیں دیے گئے ۔ یہ ایک متحرک نظریاتی جنگ کا دور تھا۔ پاکستان کے اندر اور باہر تمام الحادی فتنے سامنے آئے اور سید مرحوم نے محکم دلائل سے تحریر و تقریر کے ذریعے ہر فتنے کا سر کچل کے رکھ دیا۔
مختصر یہ کہ اُس دور کی ضروریات اور مشکلات کو سامنے رکھ کر ہی سید کے خطاب میں دلائل و براہین کی سمجھ آسکتی ہے۔
اسی طرح ہر اہم موقع پر سید نے پریس کا نفرنسوں اور پالیسی بیانات کے ذریعے حقائق پیش کیے۔ راقم الحروف کے نزدیک اب مؤرخ کا کام آسان ہو گیا ہے اور سید مودودی اور جماعت اسلامی کا تاریخی کردار علمی ، دعوتی اور عملی لحاظ سے متعین کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
سید مودودی کی تقاریر سے یہ واضح ہو جائے گا:
۱۔سید نے کہاں کہاں کتنے دورے کیے، دنوں اور سفر کا تعین ہو سکے گا۔
۲۔ترتیب کی فہرست سے موضوعات اور ضمنی مضامین کا تعین ہو سکے گا۔
۳۔جماعت اسلامی کے قیام ۲۶ -اگست ۱۹۴۱ء سے ستمبر ۱۹۷۹ء تک سید مودودی کی مصروفیات ، تصنیفات اور تقریری اثرات کا تدریجی ارتقا کیسے ہوا؟ اس کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔
اس بات کا تعین کیا جا سکے گا کہ سید کن مواقع پر بیمار تھے، کتنی بار جیل گئے اور کیسے کیسے مشکل حالات میں کتنے عرصے میں تصنیف و تالیف کا اہم کام کیا۔ اس عظیم علمی کام میں کئی حضرات نے اپنے تعاون سے نوازا۔
جن رسائل و جرائد اور کتب سے سید مرحوم و مغفور کی تقاریر کو اخذ کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ ہر ایک مآخذ کے لیے پوری ٹیم سرگرم عمل رہی ، تب کہیں سید کی ہر تقریر کا متن میسر آیا۔ ان تمام حضرات کے لیے ملت اسلامیہ کی جانب سے ہم سب دعا گو ہیں۔
بات یہ ہے کہ اس عظیم الشان علمی دعوتی ذخیرے کو کئی ٹیموں نے مل کر آنے والی نسلوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے محفوظ کیا ہے۔
راقم الحروف نے سید مودودی کی تقاریر، پریس کانفرنسوں اور بیانات، اپیلوں اور ٹیلی گرامز کی تحقیق و تدوین کا کام جون ۲۰۰۷ ء میں شروع کیا تھا اور جون ۲۰۱۱ء میں مکمل ہوا۔ چار سال کی مدت میں ۱۳ جلدیں کمپیوٹر ائزڈ مرتب ہو گئی ہیں جو ۶۵۰۰ صفحات پر مشتمل ہیں۔ وما توفیق الا بالله العلی العظیم

نورور جان، پشاور