سید ابوالاعلی مودودیٰ ایک پورے عہد کو بیدار کر کے اس صدی کے کان میں اذان دے کر اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ انہوں نے جو کام کر دکھایا، اسے ایک نظر دیکھ کر تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ صرف ایک شخص کا کارنامہ ہے۔
وہ تومسکراتے ہوئے اپنے رب کے حضور جا حاضر ہوئے لیکن دلوں کا صدمہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ الفاظ چیخ پڑے۔ جذبات دھاڑیں مار کر روئے۔ حروف تعزیت کا سلسلہ ہے کہ اب تک نہیں رک رہا۔ اخبارات اور رسائل اب تک خاص خبر چھاپ رہے ہیں۔ شاعر نظمیں کہہ رہے ہیں۔ نثر نگار، نثر میں لکھ رہے ہیں۔
ان کی عظمت کا اعتراف کر کے ان کے پیغام کے ساتھ وابستگی کا اظہار بھی ہو رہا ہے ۔ روشنی کا سفر جاری رکھنے کا عزم بدستور جواں ہے۔ صد شکر کہ سید مودودی ؒکی موت نے آنکھوں کو آنسو تو بہت دیے ہیں لیکن دلوں کو شکستہ نہیں کیا۔
ان کی رخصتی کا تقاضا ہے، عزم سفر اور بھی جواں ہو کہ سید مودودی ؒکی طرح ہم سب کو بھی اس دنیا سے رخصت ہو جانا اور اپنے رب کے حضور حاضر ہو جانا ہے۔ ہمارا نامہ اعمال بھی ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا، تو مسکراہٹ سے تعلق استوار ہوگا۔
سید صاحب کوملت اسلامیہ کی چودہ صدیوں میں فکری اور عملی اعتبار سے کیا مقام حاصل ہے ؟ ان کی جد و جہد کس مرحلے میں ہے، اسے کیوں کر آگے بڑھایا جاسکتا ہے؟ ان کی مشکلات کیا تھیں ؟کون سی دور ہوئیں، کون سی موجود رہیں، تدبیر کے میدان میں تشنگی کہاں ہے، نظر ثانی کہاں درکار ہے ؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات بحث طلب بھی ہیں اور توجہ طلب کبھی لیکن اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہیں۔
ہم نے اول قدم کے طور پر سید مودودی ؒکے شخصی مطالعے ہی کو توجہ کا مرکز بنایا اور الحمد للہ اس معاملے میں قومی ڈائجسٹ نے جو تفصیلات جمع کر کے اپنے مختلف شماروں میں شائع کیں ان کی انفرادیت نے اپنا نقش جما دیا۔ اس میدان میں کوئی اس جریدے کا مقابلہ نہ کر سکا۔
بہت دنوں سے احباب کا تقاضا تھا کہ دونوں خاص شماروں اور پھر عام شماروں میں چھپنے والے خصوصی مضامین یک جاکر کے کتابی صورت میں شائع کرا دیے جائیں۔ کوشش تھی کہ کتابی کتابت کرا کر اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے، لیکن ایسی صورت میں زیر نظر مجموعہ ایک ہزار سے زائد صفحات پر پھیل جاتا اور اس کی قیمت بھی ایک سو روپے سے کسی طرح کم نہ ہوتی۔ چنانچہ اس خواہش کو دبانا ہی مناسب سمجھا گیا۔ ان شاء اللہ وسائل نے کبھی اجازت دی تو کوشش ہوگی کہ کم سے کم قیمت میں اس مجموعے کو نئی کتابت او نئی ترتیب کے ساتھ پیش کیا جائے ۔
ہر حال جو کچھ اب آپ کے سامنے ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ سید صاحب کے قریبی رفقائے کرام سے اور آج کےدانشور صاحبان سے معلوم کردہ تفصیلات ہم انہی کی زبان میں آپ تک پہنچا رہے ہیں۔ کہیں کہیں ناموں کی تقدیم و تاخیر میں حفظ مراتب کا خیال نہیں رکھا جاسکا، اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ کاپی جوڑتے وقت پہلے شماروں میں چھپے ہوئے مضامین پہلے جگہ پاگئے ان کی ترتیب کو کمل طور پر بدلناممکن نہیں تھا، جہاں جہاں تبدیلی کی گنجائش تھی وہاں وہاں کردی گئی ۔ لیکن جہاں کوئی صورت نہیں نکل سکی، وہاں وہاں کے لیے معذرت قبول فرمائیں۔
میں نے خود بھی سید صاحب پر ایک مفصل مضمون کا آغاز کیا تھا، اس کا ایک حصہ اس مجموعے میں بھی جگہ پار ہا ہے۔ زیر نظر مجموعے کا نام کیارکھا جائے، اس فکر میں کئی مہینے گزر گئے بہت سے دوستوں سے گفتگو ہوئیں، بہت سے نام تجویز ہوئے، لیکن نہ کسی نام پر اتفاق ہو سکا ، نہ وجدان کو اطمینان ہوا ۔سوچتے سوچتے ایک شام ایک نام ذہن میں کھب گیا۔ ایک شخص، ایک کارواں۔ کئی احباب سے ذکر کیا ، سب پھڑک اٹھے ۔ اب جس قدر غور کرتا ہوں مطمئن ہوتا جاتا ہوں۔ وہ ایک شخص ایک کارواں ہی تو تھا ، ایک کارواں ہی تو ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی