غالباً ستمبر۷۵ء کا مہینہ تھا۔ میرے ایک ندوی دوست کو کہیں سے ’’فتنہ مود و دیت‘‘ کا ایک نسخہ مطالعہ کے لیے ملا۔ وہ ازراہ عنایت اسے فوراً میرے پاس لائے اور مجھے پہلے پڑھ لینے کی اجازت دی۔
اچھرہ میں مولانا مودودیؒ کی ذات پر مختلف علما اکابر اور اداروں کی طرف سے جس طرح بیجا الزامات لگاتے تھے اور جس طرح ان پر رکیک اور بازاری تنقیدیں ہوئی تھیں انہیں دیکھنے کے بعد اس طرح کی کسی کتاب کے دیکھنے کا داعیہ بہت کم پیدا ہوتا تھا۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ کتاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب مدظلہ کی تصنیف کردہ ہے تو تین وجوہ کی بنا پر اس کتاب کے مطالعے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ اولاً مولانا موصوف کی ذات گرامی کے متعلق ہمیشہ یہی سنتا رہا کہ وہ بہت ہی محتاط شخصیت کے حامل ہیں، زہد و تقویٰ میں بہت بڑھے ہوئے ہیں ، ہزاروں بندگان خدا ان سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں ، اور اب ان کا حلقہ بہت بڑا ہو چکا ہے۔ اس لیے خیال ہوا کہ ان کی تنقید میں توازن اور حق پسندی بدرجہ اتم ہوگی۔ ثانیاً مظاہرالعلوم جیسی دینی درس گاہ میں درس حدیث دینے والی شخصیت یقیناً اتنی علمی مرتبہ رکھتی ہوگی کہ لوگ اس کے تحریری کارناموں سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ ان کے نقد و تبصرہ میں یقیناً علم کے وہ نکات ہاتھ آئیں گے جن سے مجھ جیسے انسان کو بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ ثالثا ًمجھ جیسے لوگ جو مولانا مودودیؒ سے کبھی بیعت نہیں ہوئے اور ہمیشہ یہ ذہن رکھتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ بھی ایک انسان ہیں اس لیے ان سے ایک نہیں متعدد غلطیاں ہو سکتی ہیں، حضرت شیخ الحدیث کے اس تبصرہ سے ان کو علمی طور پر خود مولانا مودودی ؒکے خیالات پر کھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا۔ انہی تین وجوہ کی بناء پر میں نے ’’ فتنہ مود و دیت‘‘ کا مطالعہ شروع کیا مگر مقدمہ کتاب کے صفحہ اسے پتا چلا کہ یہ کوئی تازہ تحریر نہیں ہے بلکہ یہ ایک نجی مکتوب ہے جسے حضرت شیخ الحدیث نے جون ۵۱ء میںمدرسہ مظاہر العلوم ہی کے اپنے ایک دیرینہ رفیق شیخ التفسیر کو لکھا تھا اور جسے باوجود اصرار کے حضرت شیخ الحدیث اس زمانہ میں بھی اس کی طباعت پر رضامند نہ ہوتے تھے اوریہ کہہ کر انکارکردیا کہ یہ ایک نجی مکتوب ہے جو مرحوم کے غور کرنے کے لیے لکھا گیا تھا۔
لیکن چونکہ حضرت شیخ الحدیث کا خط تھا جو کم و بیش کتاب کے ۱۵۰ صفحات پر پھیلا ہوا تھا اور پہلی بار منظر عام پر آیا تھا اس لیے مطالعہ کا ذوق کم نہ ہوا۔ مقدر میں یہ بھی تحریر ہے کہ نوشتہ تقدیر میں جو وقت اس کی طباعت اور عام اشاعت کا مقرر تھاوہ آگیا جو اور احباب و متعلقین کا مجھ پر اصرارہ ہوا کہ اس کو شائع کر دینا چاہیے۔ چنانچہ بنام خدا اس کو طبع کیا جا رہا ہے ۔ مگر اس وضاحت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا اس کی طباعت و اشاعت میں شیخ الحدیث مدظلہ علیہ کی اجازت ہے یا نہیں۔ اگر چہ گمان غالب یہی ہے کہ جب شاہد صاحب مولانا کے قریبی عزیز رشتہ دار ہیں تو بغیر ان کی اجازت کے وہ ایسی حرکت نہیں کر سکتے جوان کو نا پسندیدہ ہو۔ دوسرے جناب شاہد صاحب خود مولوی ہیں،ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ کوئی تحریر بغیر صاحب تحریر کی اجازت کے شائع کرا دیں گے کیونکہ ایسی صورت میں ان کی پوزیشن اخلاقی طور پر بہت مخدوش ہو جاتی ہے لیکن سردست اس سے قطع نظر کہ ۲۵-۲۴ سال بعد اس خط کی اشاعت کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، اس سے کیا فائدہ حاصل کرنا مقصود ہے، اور کیا اس کی اشاعت میں حضرت شیخ الحدیث کی اجازت ہے کہ نہیں، ہمیں اس کے مواد سے دلچسپی ہے کیونکہ اصل وہی ہے ۔ دوسرے جب یہ خط کتابی صورت میں عوام کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے یا پہنچایا جا چکا ہے۔
اس کتاب پر حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی دار العلوم دیو بند کی تقریظ ہے جسے دیکھ کہ اصل مواد سے دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔ مگر افسوس کہ پوری کتاب پڑھنے کے بعد سخت مایوسی ہوئی اور یہ دیکھ کر سخت کوفت ہوئی کہ پوری تحریر علمی اندازووقار سے خالی ہے۔ اقتباسات موقع ومحل سے الگ کر کے پیش کیے گئے ہیں۔ بعض وقت ایک ہی پیراگر اف کو ٹکڑوں میں کر کے نقل کیا گیا ہے۔ کبھی دو پر گرافوںسے مفید جملوں کو لے کر ایک ساتھ نقل کر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جن عبارتوں کے متعلق اسی زمانہ میں وضاحتیں ہو چکی ہیں وہ بھی حاشیے میں جگہ نہیں پاسکی ہیں حالانکہ علمی دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کتاب کی نظر ثانی کے وقت ان تمام باتوں کو شامل کر لیتے ہیں جووضاحت اور مزید علم کا باعث بنتی ہیں۔ مگر ۲۵ سال بعد اس تحریر کی اشاعت ہو رہی ہے لیکن اس دوران میں جو جو وضاحتیں ہو چکی ہیں ان سے اس کتاب کا دامن خالی ہے ۔ ظاہر ہے یہ ساری با تیں اس شخص سے تو جوڑ کھاسکتی ہیں جو خالص دنیا داری کی راہ چل رہا ہے، مگر کسی ایسے بزرگ عالی مقام جو ایک بڑی ودینی درسگاہ کا مسند نشین ہو، شیخ الحدیث جیسے بلند مرتبہ کا حامل ہو اور ہزاروں اشخاص کے لیےروحانی فیض کا باعث کچھ سمجھاجاتا ہو، اس کی حق پرستی اور آخرت پسندی سے کبھی یہ امید نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کا دامن اس طرح کی باتوں میں ملوث ہوگا۔ چونکہ اس سے حضرت شیخ الحدیث کے علمی وقار اور دینی درسگاہوں کی عظمت پر حرف آرہا تھا اس وجہ سے میں نے اپنے ایک بزرگ سے رجوع کیا کہ وہ اس سلسلہ میں کوئی قدم اٹھائیں تاکہ بر دقت وضاحت ہو جائے اور حضرت مدظلہ کا وقار مجروح نہ ہوں مگر انہوں نے اپنی مصروفیت کی وجہ سے کچھ کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ۔ ادھر اس کتاب کو لے کر حضرت شیخ کے مریدین اورعقیدت مند عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ اس کتاب کےسارے مندرجات حرف بحرف صحیح ہیں، اورمو دودیت فتنہ ہے اور اس کی گمراہیوں سے دور رہنا چاہیے۔ حالانکہ ان میں سے تقریباً سب ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ان کتابوں کا مطالعہ تک نہیں کیاہے جن کے اقتباسات اس کتاب میں دیے گئے ہیں اور نہ ان کی شخصیت پرستی اور انہیں اس پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ براہ راست حق و ناحق کو سمجھنے کی کوشش کریں اور حضرت شیخ نے جن کتابوں کا حوالہ دیا ہے، انہیں لے کر خود مطالعہ کریں اور اقتباسات سے مقابلہ کر کے دیکھیں کہ صحیح و غلط کیا ہے ؟ اس صورت حال نے میرے ضمیر کو جھنجوڑا اور اس پر اکسایا کہ دوران تحقیق جو حقائق میرے علم میں آئے ہیں انھیں عزت واحترام سے پیش کروں۔
آئندہ صفحات میں اس کی مختصر سی کوشش ہے جسے محترم شیخ الحدیث ہی کے قائم کردہ عنوانات کے تحت جمع کر دیا گیا ہے تا کہ قارئین کو مطالعے میں آسانی ہو۔ بعض ایسی غلط فہمیاں جن کا ذکر فتنہ مودودیت میں نہیں ہے مگر انہیں عوام میں پھیلایا گیا ہے، ان کا رخ کرنابھی ضروری معلوم ہوا۔
یہ کتاب اب محض ’’فتنہ مودودیت‘‘ پرتبصرہ ہی نہیں رہ گئی ہے بلکہ اپنے مواد کے اعتبار سے ایک دستاویز بھی بن گئی ہے۔ خداوندقدوس سے دعا ہے کہ وہ اسے عامتہ المسلمین کے لئے نافع بنائے اور انہیں اسلامی اصول پر خود اپنی شیرازہ بندی کے لیے اکسائے۔
ابو اطہر آفاقی
۱۹- اگست ۱۹۷۶ء