حدیث میں سید مودودیؒ کی خدمات

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے عصر حاضر میں قرآن وسنت کی روشنی میں ملت اسلامیہ کو در پیش مسائل کا حل پیش کیا ۔ یہ پُر آشوب دور ملت اسلامیہ کی حیات اجتماعی کے انہدام اور شریعت اسلامیہ پر مغربی فکری یلغار کے عروج کا دور تھا۔ غلام ہندستان کے مسلمان استعماری طاقتوں کے پنجہ استبداد میں اس بُری طرح جکڑے ہوئے تھے کہ وہ حریت و آزادی کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔
اس سیاسی مغلوبیت پر ان کی ذہنی مرعوبیت اور فکری جمود کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے دین اسلام ہی سے اعراض و انکار کی روش اختیار کر لی۔ الحاد و دہریت کی تحریکیں اس قدرز در پکڑ چکی تھیں کہ تعلیمی اداروں میں علی الاعلان کمیونزم کی دعوت دی جانے لگی۔ اباحیت اور مادر پدر آزادی ترقی یافتہ اور روشن ضمیر ہونے کی دلیل سمجھی جانے لگی اور اس کی مخالفت کو دقیا نوسیت اور جہالت کا عنوان بنا دیا گیا، لادینیت کو اس قدر فروغ حاصل ہوا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ اس بات پر مطمئن ہو چکا تھا کہ دین اور شریعت از کار رفتہ چیزیں ہیں جن کی اس دور میں ضرورت نہیں اور بقول سید مودودی: رفتہ رفتہ حالت یہ ہوگئی کہ لوگوں کو یہ عجیب معلوم ہونے لگا کہ کوئی شخص پڑھا لکھا بھی ہو اور وہ خدا کو بھی مانتا ہو اور نماز ، روزہ جیسے احکام کی پیروی بھی کرتا ہو ۔ اس بے دینی، اباحیت ، الحاد اور ہریت زدہ معاشرے میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دین اسلام کی حقانیت اور شریعت اسلامیہ کے دفاع کے لیے مدلل انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مغربی فکری تسلط کا زور توڑا اور مسلمانوں کی ذہنی مرعوبیت دور اور رنے کے لیے دین اسلام کی حقانیت و ابدیت دلکش اور مدلل انداز میں ذہن نشیں کرائی۔ مسلمانوں کے ذہنوں سے دین اسلام کے بارے میں پیدا کیے گئے شکوک و شہبات دور کیے۔
مستشرقین اور مسلمانوں کے مغرب زدہ طبقے کی طرف سے پھیلائے گئے شکوک و شہبات میں فتنہ انکار حدیث کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی راستے دین اسلام سے انحراف کی راہیں نکالی گئیں، جھوٹی نبوت کا مسموم فتنہ انگریز کی سرپرستی میں پروان چڑھا اور جہاد کو دور قدیم کے غیر مہذب طرز عمل کا نام دے کر متروک قرار دے دیا گیا۔ سید مودودیؒ نے ان تمام موضوعات پر قلم اٹھایا اور ہر فتنے کا منہ توڑ جواب دیا۔ ان کی کتب الجہاد فی الاسلام، مسئلہ قادیانیت پردہ، اسلام اور ضبط ولادت، انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل اور سود انھی گوناگوں فتنوں کا علمی جواب ہے۔ سید مرحوم نے بالخصوص حجیت حدیث پر محکم دلائل کے ساتھ متعدد مضامین تحریر کیے ۔ ۱۹۶۰ء میں پاکستان کے منکرین حدیث کے ساتھ ایک طویل قلمی مباحثے میں سید مودودی نے منکرین حدیث کے شکوک و شہبات کے تارو پود بکھیر کر رکھ دیے۔ یہ بحث ” سنت کی آئینی حیثیت‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جو علمی کارنامے سر انجام دیے ان کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے۔ علم حدیث سے سید مودودیؒ کے ربط و تعلق کا یہ عالم ہے کہ ان کی تحریروں میں ہزاروں احادیث کے حوالے ملتے ہیں۔ سید مودودیؒ کی تحریروں میں جن احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تخریج پر مشتمل آٹھ جلدیں تفہیم الاحادیث کے نام سے ادارہ معارف اسلامی کی طرف سے شائع ہو چکی ہیں۔
زیر نظر مقالے میں محترمہ ڈاکٹر محسنہ عظیم نے سید مودودیؒ کی حدیث کے بارے میں خدمات پر داد تحقیق دی ہے۔ محترمہ نے پاک و ہند میں حدیث پر کام کرنے والے علما اس کی توسیع و اشاعت کی خدمات سر انجام دینے والی شخصیتوں اور کتب حدیث کی توضیح و تشریح کرنے والے اہل علم شارحین کی کاوشوں کا جائزہ لیتے ہوئے سید مودودیؒ کی خدمات جلیلہ کو نمایاں کیا ہے۔ الحمد للہ کہ پاک و ہند کے علم حدیث کی وضاحت و تشریح اور اس کے درس و تدریس میں مدت العمر دل جمعی سے مصروف رہے۔ سید مودودیؒ نے وہلی کے جید علما سے حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ حدیث کی جملہ کتابوں پر سید مودودیؒ کی محکم گرفت ، علوم حدیث کا استحضار اور روایت و درایت کے مصلحین امت اس کا علمی اعتراف جامعات و تحقیقی اداروں کی سطح پر بلا تعصب کیا جائے گا۔ سچی بات یہ ہے زیر نظر مقالہ اس تاریخی شخصیت کی حدیث پر علمی خدمات کا پورا احاطہ تو نہیں کر پایا، تاہم یہ ایک مثبت کاوش ہے جس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ ہم عزیزہ کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ ان کی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

حافظ محمد ادریس
ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی
منصورہ، لاہور