بر صغیر جنوب ایشیا کی آزادی کے ربع صدی گزر جانے کے باوجود اس خطہ اراضی میں ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان ابھی تک محکومیت اور برہمی جارحیت کے بے رحم پنجوں میں آزادی کے لیے تڑپ رہے ہیں ، سسک رہے ہیں ۔ وہ اپنے چاروں طرف آزادی کے پرچم بلند دیکھ کر اپنی مجبوری کے خلاف علم بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں۔ بظاہر آزادی کی منزل کے نشانات دھندلے دھندلے دکھائی دیتے ہیں مگر یقین و علم کے جذبہ گراں قدر سے معمور دل اس ظاہری دھندلاہٹ میں آزادی کی حقیقی شمع کو روشن ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ خدا کے فضل سے آزادی کی یہ چنگاری اب شعلہ جوالا بن چکی ہے۔ یقیناً اندھیاروں کا چلن زیادہ دیر تک ممکن نہیں۔
آج پوری مسلم دنیا سرخ و سفید سامراج اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں اس نوع کے مسائل سے نبرد آزما ہے جس میں ترکستان، فلسطین ، مور و لینڈ ، افغانستان، قبرص، اربی ریا، تھائی لینڈ ، برما، بوری اور کشمیر سر فہرست ہیں ۔ ہر جگہ ہر محاذ پر جد و جہد جاری ہے۔ یقین محکم کے ساتھ ، عزم راسخ کے ساتھ اور جذبہ جہاد سے معمور دلوں کے ساتھ حریت کا علم بلند ہو رہا ہے، رابطہ و احتجاج ، سنگ و آہن اور جان ولہو کے ساتھ۔
کشمیر کے محاذ پر اب تک بھارت اور پاکستان کے مابین تین جنگیں ( 1971ء،1965ء، 1948ء) ہو چکی ہیں ۔ جبکہ لا تعداد جھڑپوں اور بے شمار حریت پسندانہ مظاہروں میں آزاد جذ بے قربان ہو ہو کر جاوداں ہو گئے۔ اگر چہ ان تمام سرفروشانہ جذبات اور سیاسی و فوجی مدبروں کی تمام تر کاوشوں کے باوجود یہ مسئلہ ہنوز روز اول کی طرح ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اس مسئلے کے لئے وقتا فوقتا جو کچھ کیا گیا وہ تو اس کا فرض منصبی تھا۔ مگر غیر سرکاری سطح پر جس شخص کی آواز سب سے زیادہ موثر ثابت ہوئی وہ عصر حاضر کے مفکر اسلام اور مجاہد کبیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی آواز تھی۔
بالخصوص عالم عرب میں کشمیر کے مسئلے کو بطور مسلمانوں کے ایک قضیے کے متعارف کرانے اور عالم اسلام کے اجتماعی پلیٹ فارموں سے وقتاً فوقتاً عالمی ضمیر اور رائے عامہ کو جھنجھوڑنے میں موصوف کا جو کردار رہا اس سے کوئی بھی معقول اور منصف مزاج انسان انکار نہیں کر سکتا۔ زیر نظر مجموعہ ان کی انہی کاوشوں کا مظہر ہے۔
یہ مجموعہ دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں پہلا مولانا محترم کے ایک مسلسل اور مربوط مضمون پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسراحصہ مولانا محترم کی وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی آرا اور موقف پر محیط ہے، جس میں وہ حکومت و ملت کو لمحہ بہ لمحہ اپنی رائے سے آگاہ اور خطرات سے متنبہ کرتے رہے ہیں۔ دوسرے پہلو کی افادیت اس لحاظ سے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک نظر میں قاری یہ جان سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر گذشتہ تیس سالوں میں کس طرح مدوجزر کا شکار رہا اور بر صغیر پاک و ہند کی آزادی کے بعد اس مسئلے کا تاریخی ارتقا کیسا تھا۔
مصنف: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
زبان: اُردو
صفحات: 60
ICNA Australia
زبان: اُردو
صفحات: 60
ICNA Australia