مولانا مودودی پر اعتراضات کا علمی جائزہ (۱)

پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شخصیت، ایک بین الاقوامی مقام رکھتی ہے۔ آپ کی علمی بصیرت، خداداد فراست، تفقہ فی الدین اور حسنِ کردارو عمل نے آپ کو اُس مقام بلند پر فائز کر دیا ہے جہاں چند ہی لوگ پہنچے ہیں۔ آپ کی یہ شہرت و قبولیت جہاں ایک طرف مداحوں ، عقیدت مندوں اور حامیوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، وہیں مخالفین و حاسدین کے ایک گردہ کے نمودار ہونے کا باعث بھی بنی ہے۔ ان مخالفین میں مسٹر اور مولوی ، منکرین حدیث اور حامیانِ سنت ، مغرب پرست ملحدین اور پیروان اسلام جیسے متضاد عناصر جمع ہو گئے ہیں۔ ان سب میں مودودیؒ دشمنی کے سوا اور کوئی قدر مشترک نہیں ۔بے دین اور مخالف دینی عناصر کا اتحاد تو سمجھ میں آسکتا ہے کیونکہ ان کے محبوب نظریات مغربی تہذیب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مولانا مودودیؒ کی ذات ہے لیکن حیرت ہے کہ نظام اسلامی کے داعی منصب رسالت نمبر کے مصنف ، تفہیم القرآن کے مؤلف کی مخالفت میں وہ لوگ بھی پیش پیش ہیں جو اپنے آپ کو حامیان دین میں شمار کرتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ صاحب معصوم عن الخطا نہیں کہ ان سے اختلاف نہ کیا جا سکے۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہر ایک سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کیا گیا ہے لیکن ہر اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ وہ اختلاف جب تک معقولیت، دلائل اور شرافت کے اندر رہے تو سرا سر امت کے حق میں رحمت ہے۔ لیکن جب اس میں سب وشتم ، طعن و تشنیع اور ذاتی بغض و عناد شامل ہوتو وہ اس امت کے لیے ایک عذاب بن جاتا ہے۔ افسوس ہے کہ مولانا مودودی ؒکے اکثر مخالفین کا دامن اس سےداغدار ہے ۔
مولانا مفتی محمد یوسف صاحب ایک ممتاز عالم دین تھے اور انھوں نے ایک عرصہ دراز سے دین کی خاموش اور ٹھوس خدمت کی ہے۔ آپ نے اس بیش قیمت تالیف میں ان تمام مسائل کا نہایت علمی ، پروقار سنجیدہ اور معقول انداز میں جائزہ لیا ہے جن پر مولانا مودودیؒ کے مخالفین نے شور مچا کہ آسمان سر پہ اٹھا رکھا تھا۔ جو شخص بھی اس کو ذاتی مخاصمت و تعصب سے بالا تر ہو کر مطالعہ کرے گا اس کو صواب و نا صواب کی تمیز کرنے میں دقت نہ ہوگی اور اس پروپیگنڈے کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے گی جو مولانا محترم کے خلاف بعض حلقوں کی طرف سے مسلسل کیا جا رہا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اُس نے ہمیں یہ سعادت بخشی کہ ہم ایک ایسے عالم دین کی مدافعت میں یہ کتاب پیش کر رہے ہیں جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے عالم اسلام میں واجب الاحترام معتمد علیہ اور محبوب ہے، جس کی اصابت رائے پر عالم اسلام کے چوٹی کے علماء اور زعمااعتماد کرتے ہیں۔ جو حمایت دین میں سب سے پیش پیش ہے ، لیکن اپنی مدافعت میں ایک لفظ بھی نہ کہنا چاہتا ہے نہ لکھنا۔
جس کے متعلق اُس کے مخالفین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اس معاند ِاسلام دور میں اُس نے شمع دین فروزاں رکھی ہے اور بے شمار افراد کو علم و یقین سے سرشار کر کے خدمت دین جیسے پاکیزہ کام میں مصروف کر دیا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ جو حضرات مولانا مودودی ؒکے خلاف افترا پردازی کی مہم سے متاثر ہو کر کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے راہ ِصواب پا جائیں گے۔

اخلاق حسین
سابق ڈائرریکٹر
اسلامک پبلی کیشنز، لاہور