سیّد عاصم علی
زیرِنظر تحقیقی مقالہ بعنوان “سید ابوالاعلیٰ مودودی کے سیاسی افکار کےپاکستانی سیاست پر اثرات کا جائزہ” سید عاصم علی ولد سید رحمت علی ، محقق شعبۂ سیاسیات ،نے یہ کام علمی و تحقیقی نوعیت کے پی۔ ایچ۔ ڈی کی حصولِ سند کے لیے کیا ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی (پیدائش: ١٩٠٣ء، انتقال: ١٩٧٩ء) بیسوی صدی کے ان مسلم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسوی اور اکیسویں صدی کی مسلم احیائی تحریکات کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ بیسوی صدی کے غلام ہندوستان کے ماحول میں جب طویل انحطاط کے نتیجے میں مسلمان شدید پسماندگی کے گڑھے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے تھے اور مختلف گوشوں میں اس حوالے سے مختلف النوع آوازیں بلند ہورہی تھیں، آپ نے اسلام کی دعوت کو پرجوش انداز سے پیش کیا۔ مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان ان کا فرضِ منصبی یاد دلایا اور اسلام بحیثیت نظامِ زندگی کے تصور کو پوری قوتِ استدلال کے ساتھ پیش کیا۔ آپ دین و سیاست کی یک یکجائی کے قائل ہیں۔ آپ کے افکار نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو خصوصیت کے ساتھ متاثر کیا اور ان میں اسلامی تعلیمات پر اعتماد پیدا کیا اور انہیں مادہ پرستی اور غیر اسلامی افکار و نظریات کے سیلاب میں بہہ جانے سے روکا۔ آپ کے سیاسی افکار میں نظریہ اقامتِ دین یا حکومتِ الٰہیہ کا نظریہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ نے صرف نظریہ پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ایک جماعت کی تاسیس بھی کی۔ آپ کی قائم شدہ جماعت ،جماعتِ اسلامی ملک کی اہم دینی سیاسی جماعت ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور اسلامی اصولوں کے مطابق ایک جدید، فلاحی، جمہوری اسلامی ریاست کا قیام، پاکستان کے قیام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی قیامِ پاکستان کے بعد اپنی وفات تک پاکستان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہے اور تاریخِ پاکستان کے بعض اہم مواقع پر ان کا کردار کلیدی رہا ہے خصوصاً پاکستان کی نظریاتی سمت کے تعین میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ سید مودودی کے سیاسی افکار و نظریات نے پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ یہ مطالعہ اہم نوعیت کا ہے اور اس کے بغیر نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کی تفہیم نامکمل رہتی ہے، بلکہ تاریخ کا ایک اہم گوشہ، جو مقاصدِ قیامِ پاکستان سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے، پورے طور پر نمایاں نہیں ہوسکتا۔