سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے سیاسی افکار کے پاکستانی سیاست پر اثرات کا جائزہ

سیّد عاصم علی

زیرِنظر تحقیقی مقالہ بعنوان “سید ابوالاعلیٰ مودودی کے سیاسی افکار کےپاکستانی سیاست پر اثرات کا جائزہ” سید عاصم علی ولد سید رحمت علی ، محقق شعبۂ سیاسیات ،نے یہ کام علمی و تحقیقی نوعیت کے پی۔ ایچ۔ ڈی کی حصولِ سند کے لیے کیا ہے۔


سید ابوالاعلیٰ مودودی (پیدائش: ١٩٠٣ء، انتقال: ١٩٧٩ء) بیسوی صدی کے ان مسلم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسوی اور اکیسویں صدی کی مسلم احیائی تحریکات کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ بیسوی صدی کے غلام ہندوستان کے ماحول میں جب طویل انحطاط کے نتیجے میں مسلمان شدید پسماندگی کے گڑھے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے تھے اور مختلف گوشوں میں اس حوالے سے مختلف النوع آوازیں بلند ہورہی تھیں، آپ نے اسلام کی دعوت کو پرجوش انداز سے پیش کیا۔ مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان ان کا فرضِ منصبی یاد دلایا اور اسلام بحیثیت نظامِ زندگی کے تصور کو پوری قوتِ استدلال کے ساتھ پیش کیا۔ آپ دین و سیاست کی یک یکجائی کے قائل ہیں۔ آپ کے افکار نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو خصوصیت کے ساتھ متاثر کیا اور ان میں اسلامی تعلیمات پر اعتماد پیدا کیا اور انہیں مادہ پرستی اور غیر اسلامی افکار و نظریات کے سیلاب میں بہہ جانے سے روکا۔ آپ کے سیاسی افکار میں نظریہ اقامتِ دین یا حکومتِ الٰہیہ کا نظریہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ نے صرف  نظریہ پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ  ایک جماعت کی تاسیس بھی کی۔ آپ کی قائم شدہ جماعت ،جماعتِ اسلامی ملک کی اہم  دینی سیاسی جماعت ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور اسلامی اصولوں کے مطابق ایک جدید، فلاحی، جمہوری اسلامی ریاست کا قیام، پاکستان کے قیام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی قیامِ پاکستان کے بعد اپنی وفات تک پاکستان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہے اور تاریخِ پاکستان کے بعض اہم مواقع پر ان کا کردار کلیدی رہا ہے خصوصاً پاکستان کی نظریاتی سمت کے تعین میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ سید مودودی کے سیاسی افکار و نظریات نے پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ یہ مطالعہ اہم نوعیت کا ہے اور اس کے بغیر نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کی تفہیم نامکمل رہتی ہے، بلکہ تاریخ کا ایک اہم گوشہ، جو مقاصدِ قیامِ پاکستان سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے، پورے طور پر نمایاں نہیں ہوسکتا۔

اظہارِ تشکّر

الحمد للہ الذی بنعمتہٖ تتم الصالحات
اللہ ربّ العزّت کا بے حد کرم و احسان ہے کہ مقالہ ھٰذا پایۂ تکمیل کو پہنچا۔اللہ رب العالمین کے کرم کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ اس نے ایسے رہ نما،معاون اور کرم فرما عطا کیے جنہوں نے اس کام کو ممکن اور آسان بنایا۔ان کا شکر مجھ پر واجب ہے۔رسول اللہ ﷺ کا رشادِ گرامی ہے:
” جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرے گا”۔(جامع ترمذی:حدیث نمبر 1954)
میں سب سے پہلے اپنی نگرانِ مقالہ محترمہ پروفیسر ڈاکٹر ثمر سلطانہ، شعبۂ سیاسیات ، جامعہ کراچی کا تہِ دل سے شکرگزار ہوں جن کی شفقت ، علمی رہ نمائی اور حوصلہ افزائی نے مجھے قدم بہ قدم اس راہ پر آگے بڑھایا۔جزاک اللہ خیرا فاحسن الجزا۔
میں بالخصوص شعبۂ سیاسیات، جامعہ کراچی کے اساتذہ اور بالعموم تمام اساتذۂ کرام کا ممنونِ احسان ہوں جواپنے علم کے نورسے راہ کے اندھیروں میں اجالا کررہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
انسانوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے اور یہ حق ہے کہ ان ہی کی دی ہوئی تربیت اور شفقت نےاس کام کی تکمیل کا حوصلہ عطا کیا۔

رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿ سورة الإسراء :٢٤﴾
ترجمہ : “اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا “۔

میں اپنے والدِ محترم کی صحت و عافیت اور والدہ مرحومہ کی کامل مغفرت کے لیے دست بہ دعا ہوں۔
میری اہلیہ کی مصابرانہ رفاقت مجھے ہمیشہ حاصل رہی۔ انہوں نے اورمیرے بچوں نے اس کام کے دوران صبر اور حوصلے سے میری مصروفیات میں مُخل نہ ہوکرمجھے یک سوئی سے کام کا موقع فراہم کیا۔میرےبڑے ماموں پروفیسر ڈاکٹر تسنیم احمد ہمیشہ سے شفیق ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی اور رہ نمائی نے کام کو لگن اور محنت سے کرنے کو مہمیز دی۔محترم حافظ سید زاہد حسین صاحب ، امیر تحریکِ اسلامی پاکستان کی عنایات ِ فراواں ہمیشہ شاملِ حال رہتی ہیں۔میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر سید عماد علی کا بھرپورتعاون مجھے حاصل رہتاہے۔میرے ساتھی اور دوست محترم ڈاکٹر سید ذاکر شاہ، لیکچرا ر شعبۂ سیاسیات، گورنمنٹ نیشنل کالج، پی ایچ ڈی کے اس سفر میں روزِ اول سے میرے شریک اور رفیق ہیں۔ ان کا تعاون اورحوصلہ افزائی اس کام کی تکمیل میں بے حد ممد ومعاون ہوئے۔ وہ ہرہر قدم میرے ساتھ ساتھ رہے۔انہوں نے مقالہ کا مطالعہ بھی کیا اور اپنی گراں قدر تجاویز سے نوازا۔
اس مقالہ کی تکمیل پر مجھےاپنے بزرگ معروف صحافی و دانش ورشکیل عثمانی مرحوم کابھی خیال آرہا ہے جو ہمیشہ مجھے جلد از جلد اس کام کی تکمیل کی ترغیب دیتے تھے۔اللہ ان کی بے حساب مغفرت فرمائے۔
اس کام کے دوران میں نے مرکز تحریکِ اسلامی پاکستان کی لائبریری سے بھرپور استفادہ کیا۔اسلامیہ آرٹس و کامرس کالج کی لائبریری سے بھی بعض اہم کتب سے استفادے کا موقع ملا ۔
میں مذکورہ بالا تمام شخصیات اور اداروں کا ممنون اور شکرگذار ہوں۔اللہ ان سب کو دنیا وآخرت میں کامرانی و سرخ روئی عطا کرے۔وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین

سید عاصم علی

مقدمہ

فکرسے مرادکسی معاملے میں دو معلوم حقائق سے مستنبط کوئی تیسرا خیال یا نتیجہ ہے ۔سیاسی فکر تمام افکار میں اعلی ترین فکر ہے ، کیونکہ یہ معاشرے کے امور کی دیکھ بھال  اور ان کی تنظیم سے متعلق ہے  جس کے نتیجے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے اور پیش آمدہ مسائل کا حل نکالا جاتا ہے۔جبکہ” اسلامی سیاسی فکر” سے مراد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نظمِ ریاست کی تدابیر اور اجتماعی سیاسی زندگی کے اصول و ضوابط کی تدوین کرنا ہے۔

مسلم سیاسی فکراصلاً دینی فکر کی ایک شاخ ہے۔اس طرح مسلم سیاسی فکر کے دو بنیادی مآخذ قرآن و سنت ہیں ۔ دورِ خلافتِ راشدہ میں سیاسی امور  پر ہونے والے اختلاف نے مذہبی رنگ اختیار کیا اور مسلمانوں میں فرقے  وجود میں آئے۔یہیں سے سیاسی فکر نے  وسعت اختیار کی۔یونانی فلسفہ جب عربی میں منتقل ہوا تومسلم فلسفیانہ  سوچ کا آغاز ہوا۔ اس طرح فلسفۂ یونان ، کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ مسلم فکرکا تیسرا مآخذ بن گیا۔مسلم ویونانی فکر کے بنیادی تضادات عقل کے دائرۂ کار اور کائنات  کی حقیقت اور اس میں انسان کے مقصد ومقام   کے تعین کے حوالے سے ہیں۔ جن میں اختلاف  کائنات کےخدا کی تخلیق اور اس کی نگرانی و انتظام میں چلنے  یا بے خداہونے کے حوالے سے ہیں ۔  تعقّل، تدبّر اور تذکّرمسلم روایتِ علم کا لازمہ ہیں۔ فلسفۂ یونان جس عقلِ انسانی کی برتری کا مدعی ہے مسلم فکر میں وحی اس عقل سے بالادست ہے۔اس طرح ایک مسلم مفکر کے ذہن میں آغاز و اختتام اور مقصدِ قیام سے متعلق وہ بنیادی سوالات سرے سے کسی پریشانی  کا باعث نہیں بنتے جو فلسفۂ یونان کے ایک پیرو کی سرگشتگی کا باعث ہوتے ہیں۔ مسلم فکر و فلسفہ ، یونانی فلسفہ کے ساتھ اپنےان تضادات  کے ساتھ ساتھ اس سے استفادہ کرتے ہوئے آگے بڑھا۔مسلم فلسفی اس نازک معاملے میں اعتدال پر رہنے کے امتحان سےگزرتے رہے۔ کام یابی یا ناکامی ان کے اپنے ذوق کے حساب سے تھی۔

دنیائے اسلام کے عظیم سیاسی مفکرین میں ابونصر الفارابی (870ء۔950ء)، ابوالحسن علی الماوردی (974ء۔1058ء)، نظام الملک طوسی(1017ء۔1091ء)،غزالی(1058ء۔1111ء)،ابن الطقطقیٰ (1262ء۔1309ء)،ابنِ تیمیہ(1263ء – 1328ء)،ابنِ خلدون(1332ء۔1406ء)، شاہ ولی اللہ(1703ء۔1763ء)، سرسیداحمد خان(1817ء۔1898ء) ، جمال الدین افغانی(1839ء۔1897ء)،علامہ محمد اقبال(1877ء۔1938ء)شامل ہیں۔

سقوطِ خؒافتِ عثمانیہ تک اسلام دنیا میں ایک غالب قوت اور ریاستی نظام کے طور پر زندہ رہا۔لیکن خلافتِ عثمانیہ ختم ہونے کے بعد اب صورتِ حال مکمل طور پرتبدیل ہوگئی تھی۔اسلام کے بے شمار احکامات جو اپنے نفاذ کے لیےریاستی غلبے اور اقتدار کا تقاضا کرتے ہیں ناقابلِ عمل قرار پائے۔اس صورتِ حال کا اپنی اصل میں نیا ہونے کے سبب روایتی اسلامی فقہ اور مسلم مفکرین کے ہاں کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا۔ خلافتِ راشدہ کے خاتمے بعد سے بالخصوص جب  سے کاٹ  کھانے والی ملوکیت کا دور آیا علمائے اسلام نے تحفظِ دین کے لیے مسجدوں اور حجروں کا رُخ کیا اور سیاست معاملاتِ حکومت  کو ظالم حکمرانوں کی مرضی پر چھوڑ دیا۔رفتہ رفتہ اس  معاملے نے یہ صورتِ حال  بنادی کی سیاست کو دین سے الگ کوئی چیز سمجھا جانے لگا۔برِّ صغیر پاک وہند میں شاہ ولی اللہ ؒ نے اولین طور پر سیاست کو اہم دینی فریضے کے طور پر سمجھا اورمسلمانوں کی مرکزیت کو لاحق خطرات کو دفع کرنے اوران کی سیاسی خودمختاری کے لیے جدوجہد کی۔سید احمد شہید اور شاہ اسمٰعیل شہید نے اپنے خون سے اس کا م کو آگے بڑھایا۔  علامہ اقبال اسی بیداری کے حدی خواں رہےاورمولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے انقلابِ حال سے پیشتراولاً اسی چیز کی طرف دعوت دی۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے چوتھے عشرے میں سید مودودی نے اپنی دعوت کاآغاز کیا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی عصر حاضر کے مسلم مفکرین میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ قرآن کے مفسر ، مذہبی مصلح ، مفکر ، مصنف، اور ایک سیاسی رہنما ہیں۔ ان کا خاص حوالہ ان کا نظریہ اقامت دین یا حکومتِ الٰہیہ ہے۔اس مقصدکے حصول کے لیے انہون نے دنیا کی موجودہ اسلامی تحریکوں میں نمایاں مقام رکھنے والی جماعت، جماعت اسلامی قائم کی۔  قیام پاکستان سے قبل ،سید مودودی عملی سیاست میں حصہ لینے سے مجتنب رہے اور اس کے بجائے انہوں نے نظریاتی کام پر زور دیا اور اپنے خیالات سے مسلم آبادی کی فہیم اقلیت کو متاثر کیا۔ 1947ءمیں برِّ صغیر پاک وہند میں اسلامی ریاست کے عوامی  مطالبے اور جدوجہد کے نتیجے میں ریاست “پاکستان ” کا قیام تاریخِ اسلامی کا منفرد واقعہ تھا۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تاریخ، مقصدِ قیامِ پاکستان کے حصول کی جانب پیش رفت کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی مساعی ہمیں ہر موڑ پر نظر آتی ہے۔ آپ کا پیش کردہ نظریہ اقامتِ دین، پہلے پہل نظر انداز کیا گیا تھا لیکن آج تمام دینی جماعتیں اس نظریے کو (طریقہ کار کے فرق کے ساتھ) اپناچکی ہیں۔

  قائدِ اعظم کی وفات کے بعد موثر قیادت کے خلا نے انگریز کی تربیت یافتہ افسر شاہی کو،جسے فطری طور پر  اسلام سے کوئی مناسبت نہ تھی، صورتِ حال اپنےقابومیں کرنے کا موقع فراہم کیا ۔علماء اس نوزائدہ مملکت میں شیخ الاسلام کےمحض  ایک رسمی منصب کے طلب گار تھے۔  سید مودودی ان حالات میں اسلامی ریاست کے پرجوش داعی بن کر سامنے آتے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد ، “جماعت اسلامی” نے ملک کی عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور بہت جلد اسلامی دستور کی پرجوش عوامی مہمات کے ذریعے  اس نے ملک کی سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے ،سید مودودی نے نومولود ملک کی نظریاتی حدود کے تعین اور حفاظت کے لیے سرگرم کردار ادا کیا اور وہ نوزائدہ مملکت میں نفاذِ اسلام کے پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے وعدے اسے ہمیشہ یاد دلاتے رہے۔پاکستان کی سیاست میں سید مودودی کا کردار مصلح اور قائد کا ہے جس نے ملک کے قیام کے مقاصدسامنے رکھتے ہوئے اپنی تمام تر سیاسی جدوجہد اس کام کے لیے وقف کیے رکھی اور ہر قسم کی حکومتی مخالفت اور پابندیوں کے باوجود قوم کے ناخدائوں کو صحیح رُخ اختیار کرنےکی تلقین کرتے رہے ۔

عصر حاضر میں اسلامی نظام کے قابل عمل ہونے اور پاکستان میں اس کے نفاذ کے لئےسب سے توانا آواز سید مودودی کی تھی۔”اسلام مکمل نظام زندگی ہے”سید مودودی کے اس قول  کوقبولِ عام حاصل ہوا یہاں تک کے ان کے شدید مذہبی مخالفین بھی آج اس کے قائل ہیں ۔  سید مودودی پرامن اور اعلانیہ جدوجہد پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے عسکری جدوجہد سے اپنے متبعین کو روکا۔آپ کے مطابق عوامی تربیت و تیاری کے بغیر اسلامی انقلاب کی منزل سر نہیں کی جاسکتی۔ آپ ملک میں انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے پرجوش موئید تھے اورہر دور میں آمرانہ اقدامات کے خلاف سینہ سپر رہے۔اسلامی نظام کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ اس کے پیچھے سید مودودی اور ان کی جماعت اسلامی کی انتھک محنت اور لازوال جدوجہد موجود تھی جس نے اسلامائزیشن کے لیے فضا سازگار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

  1979ءمیں انھیں پہلا شاہ فیصل انعام ملا ، جو اسلام کی خدمت کے لیے مسلم دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ اسلام کے احیاء سے متعلق ان کے افکار اور نظریات کا اثر نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں پر پڑا اور اس طرح انہوں نے پوری دنیا میں مسلم احیائی  تحریکوں پر گہرا اثر ڈالا۔ مستشرقین اور مغربی سیاسی فلسفی انہیں “سیاسی اسلام” کے بانیوں میں سے ایک سمجھتے  ہیں جبکہ بعض لوگ  دہشت گردی اور مسلم انتہا پسندی کو ان کے افکارسے منسوب کرتے ہیں۔ پاکستان بدقسمتی سے دہشت گردی کا شکار ہوتے  ہوئےبھی دہشت گردی کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ 9/11 واقعہ کے بعد ،سید مودودی کی تعلیمات ، فکر اور خاص طور پر سیاسی کام پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے۔اس سلسلے میں مغرب میں بھی کافی تحقیقی کام ہوا ہے۔ ان کی شخصیت کے بارے میں تحقیقی مضامین پاکستان سے بہت دور اور ان مصنفین کے ذریعہ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں سے شائع ہوئے ہیں جن کو براہ راست ان کے معاشرتی اور سیاسی ماحول کے اثرات کا مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس پس منظر میں یہ ضروری ہے کہ سیدمودودی کے حقیقی افکار اور ان کے کام کا جائزہ ان کے اصل ماحول میں رہ کر لیا جائے۔ اس سے مملکتِ خداداد پاکستان میں اسلامائزیشن کے حوالے سے  سیدمودودی کےکردار  کی تفہیم میں آسانی ہوگی۔

تحقیق کے مقاصد(Objectives of the Research)

سید ابوالاعلیٰ مودودی برصغیر کی ایک اہم دینی و ملی آواز ہیں جس کی بازگشت تمام عالمِ اسلام میں سنی گئی ہے۔ آپ کی دینی و سیاسی فکر نے نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کی تمام احیائی ملی تحریکات کو کسی نہ کسی طرح متاثر کیا ہے۔ آپ کے نظریۂ حکومتِ الٰہیہ کو جس کے تحت اسلام کے سیاسی غلبے کو دین کا مقصود قرار دیا گیا ہے، مغرب کی جانب سے ”سیاسی اسلام” قرار دیا گیا ہے اور اسلام کے احیاء و نشاۃ الثانیہ کے علم بردار تمام گروہ اسی لقب سے یاد کیے جاتے ہیں خواہ وہ عسکریت پسند ہوں، خلافت کے داعی ہوں یا جمہوریت پسند۔

 اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام اور سیکولرازم کا تصادم اس ملک کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف انداز میں جاری رہا ہے اور گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے اس میں عسکریت پسندی کا عنصر بھی شامل ہوچکا ہے جس کی فکری نشونما کا الزام سید مودودی پر بھی عائد کیا جاتا ہے۔ قائدین تحریکِ پاکستان کا مقصود ایک عوامی جمہوریہ تھا یا اسلامی جمہوریہ؟ یہ بحث کبھی قدیم نہیں ہوتی اور یہ الزام بھی سید مودودی اور دیگر دینی رہنماؤں کو دیا جاتاہے کہ انہوں نے قائدینِ پاکستان کے اصل تصورات سے روگردانی کرتے ہوئے ملک کو رجعت پسندی کی طرف دھکیلا ہے۔ اس تناظر میں یہ جائزہ بہت اہم ہے کہ سیدابوالاعلیٰ مودودی کی سیاسی فکر کیا ہے اور پاکستان کی سیاست پر اس کے اثرات کا جائزہ جامع انداز میں مرتب کیا جائے۔

سید مودودی کی نثر،فکر و فلسفہ پر مختلف ملکی و غیر ملکی جامعات میں کام ہوا ہے۔خصوصیت سے ان کے سیاسی افکار بیرونِ ملک زیادہ زیرِ بحث آئے ہیں۔

زیرِ نظر موضوع کے حوالے سے محترم ڈاکٹر فرید پراچہ کا تحقیقی کام برائے پی ایچ ڈی زیرِ عنوان   “سید مودودی اور ان کے سیاسی افکار، عصری افکار کے تناظر میں”جامعہ پنجاب  میں تکمیل شدہ ہے۔یہ مقالہ  میرے موضوع کا جزوی احاطہ کرتا ہے اور اس میں صرف سید مودودی   کی سیاسی فکر کی عصری افکار کے تناظر میں معنویت کو واضح کیا گیا ہے۔

جبکہ جناب حسن الامین  کا  پی ایچ ڈی  کا مقالہ  Erasmus University, Rotterdam میں  بعنوان :

FROM ISLAMISM TO POST-ISLAMISM

A Study of a New Intellectual Discourse on Islam and Modernity in Pakistan

پایۂ تکمیل تک پہنچا ہے۔ اس وقیع  کام میں پاکستان میں فکرِ اسلامی کے ارتقاء اور اس فکر کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے اور سید مودودی کی فکراور جماعتِ اسلامی کی سماجی وسیاسی  کارکردگی  بیان کی گئی ہے۔لیکن  پاکستانی سیاست  پر سید مودودی کے فکری اثرات مقالے کے احاطے سے باہر ہیں۔

جامعہ پشاور میں جناب شہزادہ  گلفام کا پی ایچ ڈی کا مقالہ  بعنوان:

“JAMAAT-I-ISLAMI‟S AGENDA OF TRANSFORMING PAKISTAN INTO AN ISLAMIC POLITY: PROSPECTS AND CHALLENGES”

تکمیل پزیر ہوا ہے۔اس مقالے میں سید مودودی کے فکری کام کا حوالہ ہے  اور  جماعتِ اسلامی کی تاریخ اور اس کے کردار سے بحث کی گئی ہے ۔کام یابیوں کا تذکرہ اور ناکامیوں کے لیے تجاویز ہیں،موضوع سے جزوی مماثلت کے باوجود سید مودودی کی سیاسی فکر کے  اثرات  کا جائزہ اس مقالے کے دائرہ بحث سے خارج ہے۔

جامعہ پنجاب میں  ڈاکٹر اشتیاق احمد گوندل صاحب نے پی ایچ ڈی کا مقالہ “پاکستان میں اسلام اور لبرل ازم کی  کشمکش” تحریر کیا ہے۔اس مقالے میں تاریخ ِپاکستان کے تناظر میں  سیکولر عناصر اور دینی قوتوں کے مابین  کشمکش کی داستان بیان ہوئی ہے ۔جزوی طور پر سید مودودی اور جماعت اسلامی کا کردار بھی اس میں زیرِ بحث آئے ہیں ۔

سید مودودی کی فکر اور جماعت ِاسلامی کی  کارکردگی  کے حوالے سے ایک مبسوط کام معروف ایرانی دانش ور  سید ولی رضا نصر نے  بعنوان:

“The Vanguard of the Islamic Revolution: The Jama’at-i Islami of Pakistan”

برکلے یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام شایع کرایا ہے۔اس کتاب میں سید مودودی کے سوانح اور شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی فکر کا تجزیہ کیا گیا ہے اور جماعتِ اسلامی پاکستان کی  تاریخ کا تجزیاتی احاطہ کیا گیا ہے۔

جماعتِ اسلامی کراچی کے زیرِ اہتمام تاریخ ِ جماعت  کی تدوین کے پروجیکٹ کا پہلا حصہ بانی امیر سید ابوالاعلیٰ مووددی کے سوانح، جماعتِ اسلامی کے تاریخی پس منظراور سید مودودی کے دورِ امارت (1941ء-1972ء) کے مفصل  بیان کو جناب  محمود عالم صدیقی نے “جہدِ مسلسل۔ جماعتِ اسلامی کی تاریخ (حصہ اول)”میں قلم بند کردیا ہے جسے زیک بکس،کراچی نے شایع کیا ہے۔ اس مفصل ومبسوط کام میں ظاہر ہے جماعتی اسلامی کے نکتۂ نظر سے محض مثبت گوشے اجاگر کیے گئے ہیں۔

اس تناظر میں سید مودودی   کی سیاسی فکر اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات کا جامع جائزہ تاحال   وضاحت طلب  چلا آتا ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے مقالہ ھٰذا تحریر کیا گیاہے۔

زیرِ نظر مقالے میں اس سلسلے  میں سید مودودی کی سوانح اورفکرو فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔ سید مودودی کے کار ِاصلاح کو  برِّ صغیر میں علمائے  کرام کی اسلامی  تجدیدی مساعی سے جوڑنے کے لیے مسلم برّصغیر  کی ایک مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے ۔ جب کہ سید مودودی کے کام کو سمجھنے کے لیے ان کے عہد کی تحاریک اور سربرآوردہ شخصیات کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔ جس ماحول میں سید مودودی نے سیاسی جدوجہد کی اس کا بیان پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔سید مودودی کے فکری اثرات پاکستانی سیاست پر کیا رہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب مثبت و منفی ہر دو پیرایوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جبکہ ماحصل کو الگ سے بیان کردیا گیا ہے۔

تحقیق کی اہمیت و افادیت(Importance of the Research)

برصغیر کی مسلم سیاسی فکروفلسفہ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ایک نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ آپ محض مفکر ہی نہیں ایک عملی سیاسی رہنما بھی تھے ۔ پاکستان کی سیاسی میں آپ نے ایک نمایاں اور فعال کردار ادا کیا۔ آپ نے تعلیم یافتہ طبقے کو خصوصیت کے ساتھ متاثر کیا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد مملکت کی نظریاتی شناخت کے حوالے سے بحثیں اُٹھ کھڑی ہوئیں جو آج تک جاری ہیں۔ جس میں ایک طرف قیامِ پاکستان سے قبل تحریکِ پاکستان کے پورے عرصے کے دوران قائدین کے اسلامی نظام کے حق میں دیے جانے والے بیانات ہیں تو دوسری طرف قائدین کی ذاتی زندگی کی بعض شہادتیں اور سب سے بڑھ کر بانی پاکستانی کی ١١/اگست ١٩٤٨ء کی تقریر ہے جس میں مملکت کے دستور میں سیکولر اصولوں کی پاسداری کی بات کی گئی ہے۔

قیامِ پاکستان کے مقاصد کے بارے میں دانشور طبقے میں ہونے والی ان بحثوں سے قطع نظر عوام الناس کے لیے پاکستان ایک اسلامی، فلاحی ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے عوام کی یہ توقع آج تک پوری نہیں ہوسکی۔ نہ ہی اسلامی نظام کا نفاذ ممکن ہوپایا ہے اور نہ ہی فلاحی مملکت کے اہداف ہی حاصل ہوسکے ہیں۔ جس کے سبب ایک مایوسی اور اشتعال نے جنم لیا ہے جس کا مظہر مختلف انتہا پسندانہ نظریات اور عسکریت پسندی کا رُجحان ہے۔ سید مودودی کی سیاسی فکر کا جائزہ اور پاکستان پر اس کے اثرات کے مطالعے کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کو دُرست طور پر دیکھا جاسکے گا بلکہ پاکستانی سیاست کے تضادات کے سبب لاحق نظریاتی عوارض پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس لیے اس موضوع پر تحقیق کرنا بہت ضروری ہے۔

باب اول: برِّ صغیر پاک و ہند میں مسلم سیاسی عروج و زوال اور تجدیدی مساعی

مغلیہ حکومت کاابتدائی دور ۱۵۲۶ء تا ۱۵۵۶ء 
ہندوستان پر مسلمانوں نےتقریباًایک ہزارسال حکومت کی۔اس حکومت کا نقطہٴ عروج مغلیہ سلطنت کا دور ہے ۔جو 1526ء سے1857ء تک رہا اور اس کے بعد برصغیر پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پرمحیط تھی جس کی عمل داری میں موجودہ افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک تھے۔
ظہیر الدین بابر(1483ء۔1539ء)
مغلیہ سلطنت کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے رکھی جو امیر تیمور کی نسل سے تھا۔اس نے1526ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ 1529ء میں اس نے شمالی ہند کے طاقتور سردار رانا سانگا کوشکست دے کر ہندوستان پر اپنے قبضے کو مستحکم کیا۔
بابر ایک بہادر ، بامروت اور حوصلہ مند بادشاہ تھا ۔اس کے اندرخصوصی طور پرحلم ودرگزر کی صفات پائی جا تی تھیں وہ علم فقہ ، شاعری اور انشاء میں مہارت رکھتا تھا۔وہ بجا طور پر صاحب ِ سیف و قلم تھا۔اس کی سوانح حیات “تزک بابری” کے نام سے مشہور ہے۔اس نے ایک خط”خط بابری” ایجاد کیاجس میں قرآنِ کریم کے کئی نسخے تحریر کرکے مکہ معظمہ بھجوائے۔بابرنے اپنے زندگی میں اپنا بیٹا ہمایوں اپناجانشین مقررکر دیا تھا ۔ بابر نےجمادی الاولیٰ۹۳۷ ؁ھ مطابق ۱۵۳۰ ؁ھ کو وفات پائی۔بابر کی کل مدت حکومت ۳۸ سال ہے جس میں ہندوستا ن پر حکومت کے پانچ سال شامل ہیں۔
نصیر الدین ہمایوں(1508ء۔1556ء)
بابر کے بعد اس کابڑا بیٹا نصیرالدین ہمایوں ۳۰ سال کی عمر میں ۹۳۷ ؁ھ۔۱۵۳۰ ؁ء میں تخت نشین ہوا لیکن ۹۴۷ ؁ ھ،مطابق۱۵۴0 ؁ء میں شیر شاہ سوری نے اسے ہندوستان سے بے دخل کر دیا تو وہ ایران چلا گیا ۔ہمایوں نےصفوی بادشاہت کے تعاون سے 1540ء میں قندھار اور 1550ء میں کابل فتح کیا۔ ۱۵55 ؁ ھ میں ہندوستان پر حملہ کیا اور دہلی اور آگرہ پر قابض ہوگیا ۔ ۱۵5۵ ؁ ھ میں اپنے کتب خانے کی سیڑھی سے گر کر زخمی ہوا اور انتقال کرگیا ۔شیر شاہ سوری اور سوری بادشاہت(1540ء تا 1555ء)
شیر شاہ سوری بڑا ذہین وعقل مند بادشاہ تھا۔ ہندوستان کے عظیم ترین حکم رانوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے ۔اس کا دادا گھوڑوں کا سوداگر تھاجوبہلول لودھی کے دور میں اپنے بیٹے حسن کے ساتھ افغانستان سےہندوستان آکرایک افغان سردار کے ہاں نارنول میں ملازم ہوگیا۔یہاں وہ ترقی کرکے پانچ سو سواروں کا سردار ہوگیا اوراس کو معمولی جاگیر مل گئی۔حسن کا ایک بیٹا فرید خان تھاجو نوجوانی میں باپ سے ناراض ہوکر الگ ہوگیااورقسمت آزمائی کرنے نکل کھڑا ہوا۔یہی فرید خان شیر شاہ سوری کے نام سے مشہور ہوا۔ وہ ایک بہادر سپاہی، ذہین سپہ سالاراور بڑی سیاسی وانتظامی خوبیوں کا مالک حکم ران تھا۔ 1540ء میں اس نے ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان میں سوری بادشاہت کی بنیاد رکھی۔شیرشاہ سوری نے ہندوستان پر اپنے50سالہ دورِحکومت میں ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔اس نے بنگال سے سندھ تک ۱۵سو میل پختہ “جرنیلی سڑک “بنوائی۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پرکنویں اورسرائیں بھی تعمیر کروائیں۔
شیر شاہ سوری نے ۱۵۴۵ ؁ءمیں کالنجر میں ایک جنگ کے دوران زخمی ہوکر وفات پائی ۔ اس کاچھوٹا بیٹا جلال خان المعروف بہ اسلام شاہ تخت نشین ہوا ۔اس نے باپ کے طریقے کو نبھایا اور نو سال تک حکومت کی۔وہ 1553ء میں انتقال کرگیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹافیروز شاہ سوری تخت پر بیٹھا مگر اس کو قتل کر دیا گیا ،اب سوری خاندان کا آخری فرمارواں سکندر شاہ سوری تخت نشین ہوا ،اور اسی دورمیں خانہ جنگی کی وجہ سے حکومت پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی ۔ جب ہمایوں نے دیکھاکہ پٹھانوں کی خانہ جنگی اور نادانیوں کی وجہ سے شیر شاہ کی حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہے تو اس نے ہندوستان پر دوبارہ چڑہائی کر دی چنانچہ ہمایوں ۱۵۵۵ ؁میں دہلی اور آگرہ کو فتح کرنے کے بعد اپنی آبائی سلطنت پر قابض ہو گیا

مغلیہ حکومت کادورِ عروج (1556ء تا 1707ء)

جلال الدین محمد اکبر(1542ء۔1605ء)
مغلیہ سلطنت کی بنیاد بابر نے ڈالی۔اسے چار سال حکومت کاموقع ملا ،پھر ہمایوں جو اس کا بیٹا تھا تخت نشین ہوا ،10 سال حکومت کی پھر شیر شاہ سوری نے بے دخل کردیا ۔ پندرہ سال جلا وطنی کے بعد دوبارہ ہندوستان کی حکومت سنبھالی ہی تھی کہ ایک حادثے کا شکا رہوا اور مغلیہ حکومت کا بار گراں اس کے ۱۴ سالہ بیٹے اکبر کے کندھوں پر آپڑا۔ اکبر ۱۵۵۶ ؁ ء میں تخت پر بیٹھا اوراس طرح ہندوستان کی اسلامی سیاسی تاریخ کے ایک نئے دورکا آغاز ہوا۔اکبر ہندوستان کی تاریخ کے کامیاب ترین حکم رانوں میں سے ایک ہے۔جلال الدین محمد اکبر اعلیٰ انسانی اوصاف سے متصف تھا۔اس نےمغلیہ سلطنت کی حدود میں اضافہ کیا۔ 1565ء میں جے پور، ۱۵۶۷ ؁ ء میں مالدیوہ ، ۱۵۶۸ ؁ میں چتوڑ ،۱۵۹۸ ؁ء تک وہ کشمیر ، سندھ ،اڑیسہ ،بلوچستان اورقندھا ر تک کے علاقے اپنے قبضے میں لے چکا تھا۔اس کے بعد ۱۶۰۱ ؁ تک دکن کو فتح کرکے اس نے ایک مستحکم و عالی شان سلطنت قائم کر دی۔مذہبی عقائد میں اس کی رواداری اور درباری علماء کی باہمی آویزشوں سے اس کی بے زاری اس حد تک بڑھی کہ ایک نئے مذہب “دینِ اکبری”کی ایجادپر منتج ہوئی ۔ ۱۶۰۵ ؁ میں اکبر کی وفات ہو ئی اکبرنے کل ۵۱سال ۲ماہ تک حکومت کی ۔
نورالدین جہانگیر(1569ء۔1627ء)
اکبرکی اپنے بیٹے شہزادہ سلیم سے نہیں بنتی تھی۔وہ شہزادہ سلیم کے پست اخلاق کےباعث اس کے بجائے اس کے بااخلاق و ہنرمند بیٹےشہزادہ خسرو کو چاہتا تھا۔درباری علماء بھی دو گروہوں میں تقسیم تھے۔بعض خسرو کے حامی تھے جبکہ بعض اس کے مخالف تھے۔ایک طاقتور گروہ نے اکبر کے مرضِ وفات میں سلیم سے یہ عہد لیا کہ وہ اسلام کی حفاظت کرے گا اور شہزادہ خسرو کےحامیوں سے انتقام نہ لے گا اس کے عوض انہوں نے سلیم کی حمایت کی اور اس طرح اکبر کے بعدشہزادہ سلیم ، نور الدین جہانگیرکے لقب سے ۸جمادی الاولی ۱۰۹۴ ؁ھ مطابق ۱۶۰۵ ؁ ء تخت نشین ہوا۔ جہانگیر نےاکبر کے دور کی بے دینی کا بڑی حد تک خاتمہ کیااور دربار میں رائج غیر اسلامی رسومات کا خاتمہ کیا۔حکومت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ ایک زنجیرِ عدل آویزاں کرائی جسے ہر فریادی بلاروک ٹوک ہلا کربادشاہ کے سامنے اپنی فریاد پیش کرسکتا تھا۔ جہانگیر نازو نعم کا پروردہ تھا تاہم سلیقہ مند تھا ۔اس نے بائیس سال تک حکومت کو سنبھالے رکھا ۔ اکبر کی فتوحات میں جو کسر رہ گئی تھی اسے پوراکیا اور حکومت کو مضبوط بنایا ۔ جہانگیر کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ شعروسخن کا دلداہ تھا ،اس کی سوانح عمری “تزکِ جہانگیری” کے نام سے موجود ہے۔ اس نے علمی ترقی کے لیے مدارس کو کثرت سے آباد کیا۔ جہانگیر کے قومی جرائم میں یہ بات شامل ہے کہ اس نے انگریزوں کو ملک میں تجارتی مراعات اور نقل و حمل و سکونت کی سہولیات فراہم کیں جس کے نتائج بالآخر انگریزی اقتدار کے قیام پر کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ جہا نگیر ۱۰۳۷ ؁ھ مطابق ۱۶۲۷ ؁ ءمیں لاہورمیں انتقال کر گیا۔
ابوالمظفر محمد شہاب الدین شاہجہاں(1592ء۔1666ء)
جہانگیر کی وفات کے بعداس کے بیٹے شہزادہ خرم نےشاہجہاں کا لقب اختیار کیا اور تخت سنبھالا۔ شاہ جہاں کے زمانے میں بھی ہندوستان کو کا فی ترقی ملی۔ ملک کی آمدنی صرف ما ل گذاری میں بھی ساڑھے ۳۷کروڑ تک پہونچ گئی تھی۔ شاہ جہاں نے عظیم الشان عمارات، باغات تعمیر کرائے۔
شاہ جہاں کی تعمیری یادگاریں
شاہ جہاں کی بنائی نادرِ روزگارتعمیری یاد گا ر یں اس کے ذوق کی نفاست اور لطافت کی بیّن دلیل ہیں اور اگر بابر کی ذہنی نقش آرائیاں اس کی تزک بابری میں، ہمایوں کی تخیل آرائیاں ہنر پرور فضامیں اور جہاں گیر کی رنگینیاں اس کی تزک ِ جہانگیری میں جگہ پاتی ہیں تو شاہ جہاں کے تخیل کی کارفرمائیاں اس کے تخت ِطاؤس ،قلعہ معلّی(لال قلعہ )،شاہی قلعہ لاہور اور تاج محل کے نقش ونگار سے عیاں ہیں ۔اسی طرح ان قلعوں کے دیوان عام اور دیوان خاص سے اس کی ذہنی اپچ چھلکتی ہے ۔شاہ جہاں کا حسنِ ذوق، علم وادب کے بجائے جامع مسجد دہلی اور دیگر تعمیرات کی ندرت ونفاست سے عیاں ہو تا ہے۔دہلی ، آگرہ ، اجمیراور لاہور میں اس کی تعمیرات خصوصاً تاج محل آگرہ فنِ تعمیر کا شاہ کار ہیں۔شاہ جہاں نے کل ۲۹ سال حکومت کی اور ۱۶۶۶ ؁ء میں وفات پائی ۔ محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر(1618ء۔1707ء)
اورنگ زیب شاہ جہاں کا تیسرا بیٹا تھا ،یہ بہت محنتی ، دور اندیشی اور منتظمانہ نقطۂ نظر سے بڑا قابل تھا ،جب شاہ جہاں اپنے بیٹوں پر نظر ڈالتا تو اسے علم ہو جا تا تھا کہ اورنگ زیب ہی زیا دہ با شعور لگتا ہے ،بادشاہ اورنگ زیب ایک وسیع النظر اور سلیم الفطرت عالم تھا اور زندگی کے آخری سانس تک کتابوں سے محبت کر تا رہا، چنانچہ وہ حافظ قرآن بھی تھا یہ سعادت تیمور کے باد شاہوں میں سے کسی کو نصیب نہ ہوئی ۔
اورنگ زیب جس کا نام عالمگیر سے مشہور ہے ۱۶۵۸ ؁ء میں تخت نشین ہوا اور۱۷۰۷ ؁ ء میں دنیائے فانی کو خیر آباد کہا۔ عالمگیر سب سے زیا دہ دین دار اوربا ہمت بادشاہ تھا ، اگر اس جیسے ایک دو اوربادشاہ ہو جا تے تو ہندوستان میں اسلامی حکومت کی جڑیں ہمیشہ کے لئے قائم ہو جا تی مگر افسوس اس کے جانشین بڑے کمزور اور بودے نکلے ،۱۷۰۷ ؁ء میں عالمگیر کا انتقال ہوا ۔ اورنگ زیب عالمگیر کا عہد حکومت مغلیہ حکومت کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا اور اس زمانہ میں ہندوستان کا ایک بھی ایسا چپہ باقی نہیں رہا جو مغلوں کے زیر نگیں نہ ہو۔ آمدنی کے اعتبار سے بھی یہ دور نہایت زریں دور تھا ،خوشحالی اور فارغ البالی کا یہ عالم تھا کہ ہندوستان کے خزانے میں کروڑوں روپیہ غیر ممالک سے کھنچا چلا آرہا تھا اور ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا تاجر اور صناع ملک شمار کیا جاتا تھا ۔ اورنگزیب کے دورِ حکومت میں حکومت کی آمدنی شہنشاہ اکبر کے زمانے کے مقابلے میں دوگنی اور شاہ جہاں کے دور حکومت کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا زیادہ ہو چکی تھی۔ مشہور برطانوی سیاح کپتان ہملٹن لکھتا ہے کہ ہندوستان کا ایک ایک تاجر سالانہ بیس بیس جہاز تجارت کے لیے بیرونِ ملک بھیجتا تھا جن میں سے ہر جہاز پر دس ہزار پاؤنڈ سے لے کر پچیس ہزار پاؤنڈ کی مالیت کا سامان لدا ہوتا تھا۔ صرف ہزاروں پاؤنڈمالیت کی مچھلیاں مالابار سے یورپ کی طرف روانہ کی جاتی تھی اورلاکھوں پونڈ کا کپڑا برآمد کیا جاتا تھا۔برآمدی سامان سے لدے سیکڑوں جہاز بندرگاہوں پرروانگی کے لیےکھڑے رہتے تھے۔
تعلیمی ترقی کا عالم یہ تھا کہ صرف ایک ٹھٹہ(سندھ) میں 400 کالج قائم تھے۔
اورنگ زیب جس کی عمر ۹۱ سال ہو چکی تھی اور دکن کے ۲۶سال کے معرکوں نے اس کی صحت کو بالکل بر باد کر دیا تھا ،اسی بیماری کے زمانے میں یہ وصیت کی کہ میری تجہیزوتکفین کا انتظام اس ساڑھے چار روپیہ سے کیا جائے جو ٹوپیاں بنا کر میں نے اپنی محنت سے کمائے ہیں اور آٹھ سو پانچ روپیہ جو میں نے قرآن نویسی کی اجرت سے حاصل کئے ہیں میرے مر نے کے بعد مساکین میں تقسیم کردئے جائیں ان وصیتوں اور ہدایتوں کے بعد ۲۰فروری ۱۷۰۷ ؁ء کو اورنگ زیب عالمگیر کا انتقال ہو گیا ۔اس طرح 50 سال 3 ماہ طویل عہدِ حکومت تمام ہوا۔

مغلیہ سلطنت کا زوال

محمد معظم بہادر شاہ اول(1643ء۔1712ء)
اورنگ زیب عالم گیر کے بعد اس کا بیٹا بہادر شاہ اول کے نام سے بادشاہ ہوا ۔اگر چہ اس کے اندر عالمگیری سی صفات وہنر مندی نہ تھی، پھر بھی پانچ سال تک حکومت کو سنبھا لے رکھا ،اس کے انتقال ہو جا نے کے بعد سلطنت کی چولیں ڈھیلی پڑگئیں۔امراء اوروزیروں نے جسے چاہا تخت پر بٹھا دیا اور جسے چاہا پکڑ کر قتل کر دیا ۔دوسری طرف مرہٹوں ،راجپتوں اور جاٹوں نے ادہم مچا دیا،اتنا ماحول گرم کردیا کہ اب یہاں مسلمان چل چلاؤ ہے اور عنقریب بادشاہت مرہٹوں کے ہا تھ جانے والی تھی، لیکن افغانستان کے حکمراں احمد شاہ ابدالی نے ان لوگوں کو پانی پت کے میدان میں شکست دی ،ان کی طاقت جڑ سے کمز ور کر دیا اور اگر وہ چاہتا تو ہندوستان میں اس وقت حکومت جما سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا بلکہ شاہ عالم کے سپر د کر کے خود واپس چلا گیا ،حکومت تو واپس چلی آئی لیکن مسلمانوں میں زندگی کی روح ختم ہو چکی تھی اس لئے یہ موقع بھی ہاتھ سے جاتا رہا ،اور وہی افراتفری با قی رہا ،ادہر انگریزوں کا اثر بڑھ رہا تھا یہ لوگ تو پہلے صرف تجارت کی غرض سے آباد تھے بعد میں آہستہ آہستہ سلطنت میں دخل دینا شروع کیا پہلے تو نواب سراج الدولہ کو پلاسی کی جنگ میں شکست دے کر بنگال پر قبضہ کر لیا اور ۱۷۵۷ ؁ء کو دہلی میں شاہ عالم سے بکسر کے مقام پر مقابلہ ہوا ۱۷۶۴ ؁ء کی اس لڑ ائی میں انگریزوں کی جیت ہوئی اور دہلی سے لیکر بنگال تک ان کا قبضہ ہوگیا ،شاہ عالم کے لئے ۲۶لاکھ سالانہ پنشن مقرر ہوئی جو بعد میں ان کی اولاد کو بھی ملتی رہی ،یہ کئی سالوں تک یوں ہی چلتی رہی۔ انگریزوں کے سہارے دہلی میں نام کی بادشاہت قائم رہی ،اتنے عرصے میں ہندوستان کے دوسرے رئیسوں اورنوابوں سے مقابلہ ہوتے رہے جن میں انگریزوں کو فتح ہوتی گئی ۔
آخری مغل تاج دار:محمد سراج الدین بہادر شاہ ظفر (1775ء-1862ء)
مغلیہ حکومت کی آخری کڑی بہادر شاہ ظفر جس کی حکومت صرف قلعہ معلی کے اندر محدود تھی اور وہاں پر بھی انگریزوں کی نگرانی تھی، بہادر شاہ ظفر ۱۸۳۸ ؁ء میں ۶۳سال کی عمر میں تخت پر بیٹھے ،۲۰ سال حکومت کر نے کے بعد ۱۸۵۷ ؁ ء کی جنگ میں گرفتار کر لئے گئے اور برماکے دارالحکومت رنگون میں قید کر دیے گئے۔ ۵سال تک اسیری اور نظر بندی کے مصائب جھیل کر نہایت بے کسی کے عالم میں ۱۸۶۲ ؁ ء میں وفات پاگئے ۔] [
اس طرح ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ کامل ہوگیا۔ایک ہزار سال تک سلطنتِ ہندوستان پر حکومت کے بعد مسلمان حکم ران رخصت ہوئے اور اس کے بعد انگریزوں نے سکہ چلایا اور سوسال تک اس ملک پر حکومت کی۔
مغلیہ عہد میں بگاڑاورتجدیدی مساعی
تاریخ ایک بے رحم سچائی کا نام ہے۔ اس کی میزان میں ہماری آرزوؤں ، تمناؤں،خواہشوں اور پسند نا پسندکا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے اصول ہیں، جن کے مطابق عمل کرنے والوں کو سندِ کامیابی ملتی ہے اور ان سے انحراف کرنے والے ناکام ٹھیرتے ہیں۔
کسی کا قول ہے کہ ہم نے تاریخ سے یہ سیکھا ہے کہ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔لہٰذا تاریخ کا مطالعہ دیدۂ عبرت نظر کے ساتھ ہونا چاہئے۔تاکہ ماضی کی غلطیوں سے آئندہ بچا جاسکے۔
مغل سلطنت ایک عظیم الشان دور کا نام ہے۔ جو تاریخ کے صفحات پر کئی حوالوں سے جگمگاتا رہے گا۔ اپنی مخصوص تہذیب و تمدن، تعمیرات اور فتوحات کی بناء پر اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بابر کی جفا کشی اور عزم و استقلال کا ثمر،کہ فرغانہ سے وہ چلا اور اس بر عظیم میں پہنچ کر اپنا سِکّہ جمایا اور 400 سال تک مغل خاندان کی حکم رانی کی بنیادرکھ دی۔ جس کے بعد اس کے جانشینوں نے اسے پروان چڑھایا اور اکبر نے اسے بام ِ عروج تک پہنچادیا۔ لیکن جس طرح ہر کمال کو زوال ہوتا ہے، اسی طرح اورنگ زیب کے بعد اس کے جانشین اس اہلیت کے حامل نہیں تھے کہ جو اس عظیم الشان سلطنت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں لہٰذا اس کے بعدمغل سلطنت کا زوال شروع ہوگیا، عیش و عشرت ، آپس کی نا اتفاقی و خانہ جنگی اور بیرونی سازشوں نے اس عمل کو اور آگے بڑھایا۔ لیکن یہ عمارت بہر حال اتنی مضبوط تھی کہ ڈھتے ڈھتے بھی اسے کئی صدیاں لگ گئیں اور آخر کار ١٨٥٧ ءمیں یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔ جس طرح بلندی کا سفر آہستہ آہستہ طے ہوتا ہے اسی طرح بہت بلندی سے نیچے آتے آتے بھی کچھ دیر لگ جاتی ہے۔اسی طرح ہندوستان سے مسلم حکومت کے زوال میں بھی کئی صدیاں لگ گئیں۔
جو تاریخ ہم پڑھتے ہیں اس میں عموماًحکم رانوں کی شخصی اورذاتی خوبیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ مغل حکم راں عادل اور رعایاپرور رہے ہیں خصوصا شاہ جہاں اور اورنگ زیب اپنے اچھے ذاتی کردار کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ تقریباً ایک ہزار سال تک برِّ عظیم پر حکومت کرنے کے باوجود مسلمان ہمیشہ اقلیت میں ہی رہے۔
فروغ ِ اسلام کے لیے اگر جبر سے کام نہ لیا جاتا توبھی حکم رانوں کا ذاتی کردار اور شفّاف طرزِ حکومت اس بات کے لیے کافی ہونا چاہئے تھا کہ غیر مسلم جوق در جوق مسلمان ہوتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، اس کا سبب بنیادی طور پر یہی تھا کہ ان تمام حکم رانوں کے پیشِ نظر یہ کام تھا ہی نہیں کہ فروغ و غلبہِ دین کے لیے کچھ کام کیا جائے۔ ان کی ساری مذہبیت جو کچھ بھی تھی اور جیسی بھی تھی بس اپنی ذاتی حیثیت تک ہی محدود تھی۔ بطور حکم راں انہوں نے اپنی دینی ذمہ داریوں سے سنگین غفلت برتی، ان کا مطمحِ نظر فقط اپنی حکومت کا استحکام،بغاوتوں کو فرو کرنا اور نئی فتوحات کا حصول تھا۔ انہوں نے گرچہ باشندگانِ ملک کے لیے بہت کچھ کیا مگر جو سب سے بڑا کام وہ اُن کے لیے کر سکتے تھے ، یعنی ان پر ان کی نجات کی راہ واضح کرنا، یہ کام انہوں نے نہیں کیا۔ بلکہ اپنی غیر مسلم رعایا کے سامنے انہوں نے اپنے طرزِ عمل سے اسلام کی جو منظر کشی کی وہ اسلام کو ان لوگوں میں اور غیر مقبول بنانے والی تھی مزید یہ کہ انہوں نے محض اپنی حکومت کے استحکام کی خاطر دین کے معاملے میں مداہنت سے کام لیا اور شہادت حق سے اعراض و اغماض برتا۔ ورنہ یہ ممکن نہ تھا کہ ذات پات کے فلسفے والا غیر عقلی مذہب، اسلام کی سچی اور عادلانہ تعلیمات کا مقابلہ کر سکتا۔ہمارے ان کلمہ گوحکم رانوں کی یہ کوتاہی تاریخ کے صفحات کو ہمیشہ داغ دار رکھے گی۔
1258ء میں سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کی سیاسی اور علمی بالادستی کا خاتمہ ہوگیا ۔مسلم دنیا کے اہم علمی مراکز کی ویرانی، کتب خانوں اور مدرسوں کی بربادی، علماء کے قتل اور انتشار سے علم کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا۔ اس صورتحال میں خوش قسمتی سے ہندوستان ایک گوشہ عافیت تھا اور یہاں ساری دنیا سے مسلمان علماء اور ماہرین فنون کھنچ کر چلے آئے۔ لیکن بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ ہندوستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ یہاں پے درپے بادشاہتیں بنتی اور بکھرتی رہیں۔ تخت و تاج کی جنگ اور انتشارنے ملک کو ترقی کے راستے پر پر گامزن نہ ہونے دیا۔دوسری طرف اس دور میں یورپ نشاۃالثانیہ کے مراحل سے گزر رہا تھا۔یورپ میں نشاۃ الثانیہ کا آغاز حقیقی طور پرصقلیہ اور اندلس کے عربوں کے علمی کمالات کے اثر سے ہوا۔ یورپ کے بام عروج پر جانے میں اہم کرداران جامعات نے ادا کیا جو ملک میں جگہ جگہ قائم ہوئیں۔ان جامعات میں دینی و دنیاوی دونوں طرح کے علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔مزید یہ کہ چھاپے خانے کی ایجاد نے علوم کی ترقی میں انقلابی کردار ادا کیا۔

اکبر کا دور:دینِ الٰہی کی ایجاد
یورپ کی ترقی میں مذہبی جوش و جذبے نےبھی ایک اہم کردار ادا کیا ۔ اس کے بالکل برعکس ہندوستان میں حکمرانوں نے بالعموم لادین رویہ اختیار کیا۔ اکبر اس معاملے میں یہاں تک بڑھا کہ وہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے بر خلاف ایک نیا دین ایجاد کر بیٹھا اور علمائے دین اور عوام الناس دونوں کو مخالف کرلیا۔ اکبر کی ناقص مذہبیت اوراس کی نام نہاد عقل پرستی نے مل کر جو صورت اختیار کی اس نےعلومِ عقلیہ کے خلاف مذہبی طبقے میں ایک شدید ردعمل کو جنم دیا یہاں تک کہ سید احمد سرہندیؒ جیسا عالم جو خودعلوم عقلیہ اور ریاضی کے ماہر تھے علم ہندسہ یعنی ریاضی کو لایعنی قرار دیتا ہے۔چھاپے خانے جو اشاعت علوم کا سب سے بڑا منبع تھے ان کے بارے میں اکبر جیسے عقل مند و عقل پرست بادشاہ کی رائے یہ تھی کہ یہ بیکار ہیں۔ اس نے ابتدائی چھاپہ خانوں کی(ابتدائی طور کی) بھدی چھپائی کو دیکھ کر ہاتھ کی خوشخط لکھائی کے مقابلے میں چھاپہ خانوں کو کوئی اہمیت نہ دی۔
بیرون ملک سے آنے والے علماء اور فضلاء سے ملک میں علمی رونق پیدا ہوئی۔ تہذیب و تمدن میں عروج آیا لیکن تجربہ گاہوں کی عدم موجودی اور تحقیق کا رواج نہ ہونے سے ٹھوس علمی کام کی روایت قائم نہ ہوسکی ۔ادب و انشا اور مذہبی روایتی کتب، چند کتب سیاست و تاریخ کے سوا ہندوستان میں علوم و فنون کا دوردورہ نہ ہوسکا۔دور اکبری کی علمی حالت کا موازنہ یورپ تو کجا بغداد مرحوم سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بھی ہندوستان سے علمی طور پر بہت آگے تھا۔اکبر کا عہد بلاشبہ سیاسی و انتظامی اعتبار سے شاندار ترقی کا دور ہے لیکن اس کا موازنہ یورپ کی ترقی سے کیا جائے تو یورپ کی گنا آگے نظر آئے گا۔
ان سب پر متزاداکبر کی مذہبی جدت پسندی تھی ۔اس کی روایتی مذہب سے بے زاری،اسلام سے چڑ میں تبدیل ہوگئی اوریوں عقل و دانش کی معراج اسلامی عقیدے و رسومات کی تنقیص کرنا ٹھہرا۔ہندوستانی سیاست کی ضروریات،شاہ پرست علماء کی غلط تاویلات،ہندومت اور دیگر مذاہب کی تعلیمات کا ایک ملغوبہ” دیِنِ اکبری”کی صورت میں برآمد ہوا۔یہ دین اگرچہ نام نہادتمام ادیان و مزاہب کی صداقتوں کا مجموعہ تھا تاہم اس میں خصوصیت سے اسلام دشمنی کا عنصر واضح تھا۔اسلامی عقائد، عبادات و شعائر کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جاتا تھا۔
سید مودودی دربارِ اکبری کی اسلام دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
” بعض ظالم اس حد تک بڑھے کہ دجال کی نشانیاں ہادئ اعظم ﷺ پر چسپاں کرنے لگے العیاذ باللہ، العیاذ باللہ۔
دیوانخانۂ شاہی میں کسی کی مجال نہ تھی کہ نماز ادا کر سکے۔ ابو الفضل نے نماز، روزہ، حج اور دوسرے شعائرِ دینی پر سخت اعتراضات کیے اور ان کا مذاق اڑایا۔ شعراء نے ان شعائر کی ہجو لکھی جو عوام کی زبانوں تک بھی پہنچی۔۔۔۔
علمائے سو نے بادشاہ کے حسبِ منشا اس کی دینی محاسن بڑھائے اور اسے امام مہدی قراردیا۔یہاں تک کہ اسے خدا کا عکس تک ٹھہرا دیا گیا۔
یہ نیا دین چونکہ اکبر کی خوش نودی کی خاطر ایجاد کیا گیا تھا لہٰذااس میں بادشاہ پرستی باقاعدہ دین کا حصہ تھی۔اسلامی شریعت کے برخلاف بادشاہ کو سجدہ کرنا لازم تھا:
“ہر روز صبح کو بادشاہ کا درشن کیا جاتا اور بادشاہ کے سامنے جب حاضری کا شرف عطا ہوتا تو اس کے سامنے سجدہ بجا لایا جاتا۔ علماء کرام اور صوفیائے با صفا دونوں اپنے اس قبلۂ حاجات اور کعبۂ مرادات کو بے تکلف سجدہ فرماتے تھے اور صریح شرک کو “سجدۂ تحیہ” اور “زمین بوسی” جیسے الفاظ کے پردے میں چھپاتے تھے”۔
“عملاً اسلام کے احکام کی دل کھول کر ترمیم و تنسیخ کی گئی۔ سود، جوئے اور شراب کو حلال کیا گیا۔ شاہی محل میں نو روز کے موقع پر شراب کا استعمال ضروری تھا۔ حتیٰ کہ قاضی و مفتی تک پی جاتے تھے۔ ڈاڑھی منڈوانے کا فیشن عام کیا گیا اور اس کے جواز پر دلائل قائم کیے گئے۔ چچا زاد اور ماموں زاد بہن سے نکاح کو ممنوع قرار دیا گیا۔ لڑکے کے لیے 16 سال اور لڑکی کے لیے 14 سال عمرِ نکاح مقرر کی گئی۔ ایک بیوی سے زیادہ بیویاں رکھنے کی ممانعت کی گئی۔ ریشم اور سونے کے استعمال کو حلال کیا گیا۔ شیر اور بھیڑیے کو حلال کیا گیا۔ سؤر کو اسلام کی ضد میں نہ صرف پاک بلکہ ایک مقدس جانور قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ صبح آنکھ کھولتے ہی اسے دیکھنا مبارک خیال کیا جاتا تھا۔ مُردوں کو دفن کرنے کے بجائے جلانا یا پانی میں بہانا احسن ٹھیرایا گیا اور اگر کوئی دفن ہی کرنا چاہے تو سفارش کی گئی کہ پاؤں قبلہ کی طرف رکھے جائیں۔ اکبر خود اسلام کی ضد میں قبلہ ہی کی طرف پاؤں کر کے سونے کا التزام کرتا تھا۔ حکومت کی تعلیمی پالیسی بھی سراسر اسلام کی مخالف تھی۔ عربی زبان کی تعلیم اور فقہ و حدیث کے درس کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا اور جو لوگ ان علوم کو حاصل کرتے وہ حقیر خیال کیے جاتے۔ علومِ دینی کے بجائے حکمت و فلسفہ، ریاضی و تاریخ اور اس نوع کے علوم کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ زبان میں ہندیت پیدا کرنے کی طرف خاص میلان تھا اور عربی حروف کو خارج کرنے کی بھی تجویزیں تھیں۔ ان حالات کی وجہ سے دینی مدرسے ویران ہونے لگے اور اکثر اہلِ علم ملک چھوڑ چھوڑ کر نکلنے لگے۔
یہ تو تھا حکومت کا حال۔ اور عوام کا حال یہ تھا کہ جو لوگ باہر سے آئے تھے وہ ایران و خراسان کی اخلاقی و اعتقادی بیماریاں ساتھ لائے تھے ، اور جو لوگ ہندوستان ہی میں مسلمان ہوئے تھے ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا کوئی خاص انتظام نہ تھا، اس لیے وہ پرانی جاہلیت کی بہت سی باتیں اپنے خیالات اور اپنی عملی زندگی میں لیے ہوئے تھے۔ ان دونوں قسم کے مسلمانوں نے مِل جُل کر ایک عجیب مرکب تیار کیا تھا جس کا نام “اسلامی تمدن” تھا۔ اس میں شرک بھی تھا۔ نسلی اور طبقاتی امتیازات بھی تھے ، اوہام و خرافات بھی تھے ، اور نو ایجاد رسموں کی ایک نئی شریعت بھی تھی۔ دنیا پرست علماء و مشائخ نے نہ صرف اس مخلوطہ سے موافقت کر لی تھی بلکہ وہ اس نئے “مت” کے پروہت بن گئے تھے۔ لوگوں کی طرف سے ان کو نذرانے پہنچتے ، اور ان کی طرف سے لوگوں کو فرقہ بندی کا تحفہ ملتا۔
پیرانِ طریقت کے ہاتھوں سے ایک اور بیماری پھیل رہی تھی۔ اشراقیت، رواقیت (Stoicism)، مانویت اور ویدانتزم کی آمیزش سے ایک عجیب قسم کا فلسفیانہ تصوف پیدا ہو گیا تھا، جسے اسلام کے نظامِ اعتقادی و اخلاقی میں ٹھونس دیا گیا تھا۔ طریقت و حقیقت، شرعِ اسلامی سے الگ اور اس سے بے نیاز قرار دی گئی تھی۔ باطن کا کوچہ ظاہر سے جُدا بنا لیا گیا تھا، اور اس کوچہ کا قانون یہ تھا کہ حدودِ حلال و حرام رخصت، احکامِ دین عملاً منسوخ، اور ہوائے نفس کے ہاتھ میں کلّی اختیارات۔ جس فرض کو چاہے ساقط کرے اور جس چیز کو چاہے فرض بلکہ فرض الفرض بنا دے۔ جس حلال کو چاہے حرام کر دے اور جس حرام کو چاہے حلال کر دے۔ ان عام پیروں سے بہتر جس کی حالت تھی ان پر کم و بیش فلسفیانہ تصوف کے اثرات پڑے ہوئے تھے اور وحدۃ الوجود کے ایک غلط تصور نے خصوصیت کے ساتھ تمام قوائے عمل کو بے کار کر دیا تھا”۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی(1551ء-1642ء)

شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی ولادت ماہ محرم ۹۵۸ھ/۱۵۵۱ء کو دہلی میں ہوئی۔آپ کے آباء واجداد میں آغا محمدترک بخاری،سلطان محمد علاؤالدین خلجی کے زمانے میں بخاراسے ہجرت کرکے دہلی میں وارد ہوئے اور بلند مناصب پر فائز رہے۔آپ کے والد ماجد شیخ سیف الدین دہلوی شعروسخن کاذوق رکھنے والے عالم اور صاحبِ حال بزرگ تھے۔سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شیخ امان اﷲ پانی پت کے مرید اور خلیفۂ مجاز تھے۔
جس وقت آپ کی ولادت ہوئی وہ سلیم شاہ سوری کا زمانہ تھا ، مہدوی تحریک اس وقت پورے عروج پر تھی جس کے بانی سید محمد جونپوری تھے۔ اس تحریک کا آغازسنّت کی ترویج اور بدعت کے خاتمے سے متعلق تھا۔بعدازاں مہدویت کاتصور اس سطح تک پہنچا کہ دین اسلام کے قطعی عقیدے’’ ختم نبوت‘ ‘سے ٹکراگیا۔اس تحریک کے بانی سید محمدجونپوری کا دعویٰ تھاکہ ہروہ کمال جوشاہکاردست قدرت مصطفی جان رحمت ﷺکوحاصل تھا،وہ مجھے بھی حاصل ہوگیاہے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ کمالات وہاں اصالتا ً تھے اور یہاں تبعاً ہیں ۔اتباع رسول اس درجہ کوپہنچ گئی کہ امتی نبی کی مثل ہوگیا،علامہ ابن حجر مکی،حضرت علی متقی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی(رحمہم اﷲ تعالیٰ)نے اس تحریک کی شدید مخالفت کی اور مقام مصطفیﷺکے تحفظ کااہم فریضہ انجام دیا۔
پروفیسرخلیق احمدنظامی(استاذشعبۂ تاریخ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ )لکھتے ہیں:
’’اگر سولہویں اور سترھویں صدی کی مختلف مذہبی تحریکوں کابغور تجزیہ کیاجائے تویہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ اس زمانے کاسب سے اہم مسئلہ پیغمبر اسلام کاصحیح مقام اور حیثیت متعین کرنااور برقرار رکھنا تھا۔تصورامام،عقیدۂ مہدویت،نظریۂ الفی(دین اسلام کی عمر صرف ایک ہزارسال ہے)،دین الٰہی،یہ سب تحریکیں پیغمبراسلام علیہ الصلوٰۃوالسلام کے مخصوص مقام اور مرتبہ پرکسی نہ کسی طرح ضرب لگاتی تھیں۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کاسب سے بڑاکارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبراسلام ﷺکے اعلیٰ وارفع مقام کی پوری طرح وضاحت کردی اور اس سلسلہ کی ہرہر گمراہی پرشدت سے تنقید کی‘‘۔

پروفیسر شیخ عبدالرشید صاحب(صدر شعبۂ تاریخ،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی)تحریرفرماتے ہیں:
“شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کی سب سے بڑی خدمت یہی تھی کہ انہوں نے مسلمانان ہند کے بکھرے ہوئے شیرازے کودرسِ حدیث کے ذریعے منظم کردیا،اور ان میں دینی غوروفکرکی وہ صلاحیتیں اُبھاردیں جنہوں نے مسلمانوں کے معاشرے میں ایک نئی جان ڈال دی۔علاوہ ازیں انہوں نے حدیث کی مستند کتابوں کوفارسی میں منتقل کرکے اور معارج النبوۃ کی ترتیب فرماکر ہندی مسلمانوں پرجواحسان کیاہے وہ اسلامی تاریخ کاطالب علم کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ سترہویں صدی میں مسلمانوں کی مذہبی،سیاسی،علمی اورسماجی اصلاح وتربیت کاسہراحضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ ہی کے سر ہے۔ان دونوں بزرگوں نے اپنے زمانے کی مذہبی بے رواہ روی کودور کیااور علوم اسلامی کے احیاء کے لئے پُرخلوص جدوجہدکی۔
پروفیسر خلیق احمد نظامی لکھتے ہیں:
’’حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی نے جس وقت مسند تدریس بچھائی اس وقت شمالی ہندوستان میں حدیث کا علم تقریباًختم ہوچکاتھا،انہوں نے اس تنگ وتاریک ماحول میں علومِ دینی کی ایسی شمع روشن کی کہ دوردور سے لوگ پروانوں کی طرح کھینچ کر ان کے گردجمع ہونے لگے۔درسِ حدیث کاایک نیاسلسلہ شمالی ہندوستان میں جاری ہوگیا۔علومِ دینی خصوصاً حدیث کامرکزِثقل،گجرات سے منتقل ہو کردہلی آگیا۔گیارہویں صدی ہجری کے شروع سے تیرہویں صدی کے آخر تک علمِ حدیث پرجتنی کتابیں ہندوستان میں لکھی گئی ہیں،ان کابیشترحصہ دہلی یاشمالی ہندوستان میں لکھاگیا،یہ سب شیخ عبدالحق محدث دہلوی کااثرتھا‘‘۔

شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی(1564ء۔1624ء)

اکبر کے دور کے ابتدائی ایام میں شیخ احمد کی سرہند میں ولادت ہوئی۔آپ کے والدمخدوم عبدالاحدبڑے عالمِ دین اور صوفی بزرگ تھے۔ابتدائی تعلیم آپ نے نہایت قابل اور نیک اساتذہ بشمول اپنے والد سے حاصل کی ۔تاہم آپ کو سب سے زیادہ فیض خواجہ باقی اللہ ؒسے پہنچا جو اپنے وقت کے ایک بڑے صالح بزرگ تھے۔ انہوں نے شیخ احمد کے بارے میں پیش گوئی کی :
” توقع ہے کہ آگے چل کر یہ ایک چراغ ہو گا جو دنیا کو روشن کر دے گا۔”
یہ پیشین گوئی پوری ہوکررہی۔دورِ اکبری کے اندھیروں میں یہ سعادت آپ کے حصے میں آئی کہ بے شمار دیگر علماء و صلحاء کی موجودی میں آپ کی ذات واحد ہے جو شریعت محمدی ﷺ کے اتباع وپیروی میں پورے جوش کے ساتھ ایک طرف اکبری ارتداد کے خلاف سرگرم ہوئی ،ہندو احیاء کی تحریک کا مقابلہ کیا اور دوسری طرف جس نےعوام الناس،علماء اور صوفیا کے بگاڑ پر توجہ دی ،ان کے غیر اسلامی عقائد کی اصلاح کی اورصحیح فکر پیش کی۔
حکومت نے آپ کی آواز کو ہر طرح دبانے کی کوشش کی ۔ جہانگیرکے دور میں سجدہ تعظیمی نہ کرنے پر آپ کوگوالیار جیل بھیج دیا گیاجہاں آپ ایک سال قید رہے لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ یہی جہانگیر،شیخ احمد سرہندی کا ایسا معتقد ہوا کہ اس نے اپنے بیٹے خرم کو، جو بعد میں شاہجہاں کے لقب سے تخت نشین ہواآپ کی شاگردی میں دے دیااوراسلام کے متعلق حکومت کی معاندانہ روش احترام سے بدل گئی۔
دینِ اکبری کی موت
اکبرکی موت کے بعد اس کا ایجاد کردہ دین بھی نیم مردہ ہوگیا تھا۔ جہانگیر نے کئی محرمات و بدعات کا خاتمہ کردیا تھااوراسلامی احکام کی جو ترمیم و تنسیخ کی گئی تھی وہ منسوخ ہو گئی تھی۔سجدہ تعظیمی اور دیگر خرابیوں کاودیگر علماء کی جدوجہد کے نتیجے میں استیصال ہوا۔جہانگیر کا رویہ علومِ دینی اور احکامِ شرعی کی طرف اکبر کی طرح کافرانہ ہونے کے بجائے عقیدتمندانہ تھااور رفتہ رفتہ یہ حال ہواکہ شیخ احمد سرہندی کی وفات کے تین چار سال بعد عالمگیر پیدا ہوا اوراپنے دورِ حکومت میں اس نے ثابت کیا کہ اکبر جیسے ہادمِ شریعت کا پرپوتا خادمِ شریعت تھا۔
شیخ احمد سرہندی کا اصل کارنامہ
شیخ احمد سرہندی نے عوام وخواص دونوں کو ہدف بنایا۔آپ نے اپنے مریدین کے ذریعے عوام الناس کی اصلاح کا کام کیااور شاہی امراء پر رسوخ قائم کیا تاکہ وہ بادشاہ پر اثر انداز ہوکر بے دینی کا سدباب کرسکیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے بیرونِ ملک بھی تبلیغی خطوط لکھے۔
سید مودودی لکھتے ہیں :
“شیخ کا کارنامہ اتنا ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں حکومت کو بالکل ہی کفر کی گود میں چلے جانے سے روکا اور اس فتنۂ عظیم کے سیلاب کا منہ پھیرا جو اب سے تین چار سو برس پہلے ہی یہاں اسلام کا نام و نشان مٹا دیتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو عظیم الشان کام اور بھی انجام دیے۔ ایک یہ کہ تصوف کے چشمۂ صافی کو اُن آلائشوں سے جو فلسفیانہ اور راہبانہ گمراہیوں سے اس میں سرایت کر گئی تھیں ، پاک کر کے اسلام کا اصلی اور صحیح تصوف پیش کیا۔ دوسرے یہ کہ ان تمام رسومِ جاہلیت کی شدید مخالفت کی جو اس وقت عوام میں پھیلی ہوئی تھیں اور سلسلۂ بیعت و ارشاد کے ذریعہ سے اتباعِ شریعت کی ایک ایسی تحریک پھیلائی جس کے ہزار ہاتربیت یافتہ کارکنوں نے نہ صرف ہندوستان کے مختلف گوشوں میں بلکہ وسط ایشیا تک پہنچ کر عوام کے اخلاق و عقائد کی اصلاح کی کوشش کی۔ یہی کام ہے جس کی وجہ سے شیخ سرہندی کا شمار مجدّدینِ ملت میں ہوتا ہے”۔

شاہ ولی اللہ دہلوی(1703ء۔1762ء)

شیخ احمد سرہندی کےکام کو شاہ ولی اللہ نےآگے بڑھایا۔شیخ احمد سرہندی کا دور مسلمانوں کا دورِ عروج تھاجب کہ شاہ ولی اللہ کودورِ زوال ملا۔دونوں کی اصلاحی کاوشوں میں ان کے دور کا عکس جھلکتا ہے۔ شیخ احمد سرہندی کی  سعی کا ہدف امت پربیرونی اثرات سے تحفظ کے لیے ڈھال فراہم کرنا اوردرآمدہ خرابیوں کا سدباب تھا۔آپ نے ہندومت کی دینِ اکبری کی صورت میں  اسلام پر یلغار کا مقابلہ کیا جب کہ شا ہ ولی اللہ نے مسلمانوں کے دورِ زوال میں ان کی چارہ سازی کی اور ان کے اسبابِ زوال کی نشان دہی کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کی ۔سیاسی زوال تو مقدر تھا تاہم اسلام اور مسلمانوں کا دفاع آپ کی کاوشوں کا حاصل ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی1703ءمیں نواح دہلی میں پیداہوئے۔یہ اورنگ زیب عالم گیر کا آخری زمانہ تھا۔آپ نےفرخ سیر، محمد شاہ رنگیلے اور شاہ عالم کازمانہ پایا۔ یہ دور طوائف الملوکی کا دور ہے ۔اس بدترین دورِ انحطاط میں شاہ صاحب کی شخصیت ایک معجزہٴ خداوندی کے طور پر سامنے آتی ہے جواپنے زمانے کی محدودیتوں سے بہت بلند ہوکر سوچتا ہے۔اس کا ذہن تعصبات سے پاک ہے اور وہ زندگی کے ہر مسئلے پرجامدتقلیدی روش ترک کرکےمحققانہ و مجتہدانہ نگاہ ڈالتا ہےاور آنے والوں کی رہ نمائی کے لیے وہ خطوط فراہم کردیتا ہے جن سےکسی بھی ذوق اور مزاج کے رہ نورد مستفیض ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔شاہ ولی اللہ کو  خود کوئی عملی تحریک برپا کرنے کی فرصت نہ مل سکی ۔لیکن ان کے افکار کا زور اور اثر ایسا بے پناہ تھا کہ اس نےہر میدان میں اپنے اثرات رقم کیے جن کے نتیجے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اصلاح کی  بے شمار تحاریک اٹھتی رہیں ۔

شاہ ولی اللہؒ کے کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک  تنقید و تنقیح اوردوسرا تعمیرِ افکار۔

تنقیدی کام 

پہلے حصے کے تحت انہوں نے پوری تاریخِ اسلام کاتنقیدی جائزہ لیا ہے۔ وہ پہلے مفکر ہیں جو تاریخ اسلام اور تاریخ مسلمین کے مابین اصولی فرق واضح کرتے ہیں ۔مسلم تاریخ کے ہر دور کا جائزہ لے کر اس  میں بگاڑ کی نشان دہی اور اس کے اسباب کا تعین کرتے ہیں۔انہوں نے مسلم تاریخ میں موجودخرابیوں میں سے بنیادی خرابیوں کاسراغ لگایا اور آخر کار دوخرابیاں دریافت کرلیں ایک اقتدارِ سیاسی کا خلافت سے بادشاہت کی طرف منتقل ہونا۔ دوسرے روحِ اجتہاد کا مُردہ ہو جانا اور تقلیدِ جامد کا دماغوں پر مسلط ہو جانا۔

ماضی پر تنقید کے ساتھ شاہ ولی اللہ اپنےدور  کا بھی مفصل جائزہ لیتے ہیں اور ایک ایک مسلم گروہ کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں اور ایک ایک کو نام بنام پکار کر ان میں در آنے والے بگاڑ کی نشان دہی کرتے ہیں ۔ اس میں نہ وہ حکم رانوں کو چھوڑتے ہیں نہ عوام کو۔علما و صوفیا امراوتاجر، فوجی غرض معاشرے کے ہر طبقے کے مرض کی نشان دہی کرتے ہیں اور علاج تجویز کرتے ہیں ۔

تعمیری کام

شاہ ولی اللہ مسلمانوں میں قرآن فہمی کے زوال کے نتائج دیکھ رہے تھے۔عوام الناس میں قرآن فہمی کی روایت پروان چڑھانے کے لیے انہوں قرآنِ کریم کا فارسی ترجمہ کیاجو اس دور میں بدعت سمجھا گیالیکن اس اصلاحی کاوش کے انتہائی مفیددور رس نتائج مرتب ہوئے۔

 شاہ ولی اللہ تقلیدِ جامد اورفرقہ پرستی کے بگاڑ سے بخوبی واقف تھے۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ عوام الناس کے لیے تقلید کی اہمیت کے بھی قائل تھے۔مسلمانوں کو متفق و متحد کرنے  کے لیے انہوں نے  فقہ میں ایک نہایت معتدل مسلک پیش کیا جس میں کسی ایک فقہی  مذہب کی جانبداری اور دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی نہیں پائی جاتی۔ ایک محقق کی طرح انہوں نے تمام مذاہبِ فقہیہ کے اصول اور طریقِ استنباط کا مطالعہ کیا ہے اور بالکل آزادانہ رائے قائم کی ہے۔وہ علماء کے لیے اجتہاد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور انہوں نے پوری تفصیل کے ساتھ اجتہاد کے اصول و قواعد اور اس کی شرائط کو بیان بھی کیا ہے۔ان کاموں سے بھی بڑھ کر جو عظیم الشان کام انہوں نے سرانجام دیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے پورے فکری، اخلاقی، شرعی اور تمدنی نظام کو ایک مرتب صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس سے پہلے اتنی جامعیت اور منطقی ترتیب کے ساتھ یہ کام انجام نہ دیا جاسکا تھا۔وہ پہلے مسلم مفکر ہیں جس نے فلسفہ اسلام کومدوّن کیااس سے قبل یونانی ، رومی و ہندوستانی فلسفیانہ افکار کی اسلام کاری کرکے اسے ہی فلسفہ اسلام تصور کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی حیثیت سے مضبوط بنانے کے لیے بادشاہوں اور امرا سے خط کتابت بھی کی۔ چنانچہ احمد شاہ ابدالی نے اپنا مشہور حملہ شاہ ولی اللہ کے خط پر ہی کیا جس میں اس نے پانی پت کی تیسری لڑائی میں مرہٹوں کو شکست دی تھی۔

شاہ ولی اللہ کی اولاد

شاہ ولی اللہ کے سب سے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز عربی اور فارسی کے انشا پرداز تھے ۔انہوں نے شاہ ولی اللہ کی وفات کے بعد ان کی مسند سنبھالی اور 60 سال تک دینی علوم اور احادیث کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ ان اولین افراد میں شامل ہیں جن کی وجہ سے برصغیر میں علم حدیث پھیلا۔

دوسرے صاحبزادے شاہ رفیع الدین کا سب سے بڑا کارنامہ اردو میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ ہے۔

تیسرے صاحبزادے شاہ عبد القادر دہلوی کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی اردو تفسیر ہے جو “موضح القرآن” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تفسیر آج بھی انتہائی مقبول ہے۔

چوتھے صاحبزادے شاہ عبدالغنی تھے جن کا شمار بھی اپنے زمانے کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔

شاہ ولی اللہ کی اولاد میں شاہ اسماعیل شہید کا مقام بھی بہت بلند ہے۔ آپ شاہ ولی اللہ کے چوتھے صاحبزادے, شاہ عبدالغنی کے بیٹے تھے جن کا شمار بھی اپنے زمانے کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔ شاہ صاحب کے کام کو سب سے زیادہ ترقی شاہ اسماعیل نے ہی دی۔ وہ کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے جن میں “تقویۃ الایمان” سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔برصغیر میں غلبہ اسلام اور اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرنے والی عظیم شخصیت سید احمد بریلوی شہید, شاہ عبد العزیز کے شاگرد اور شاہ اسماعیل شہید کے ساتھی تھے۔

شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی کے نتائج:ولی اللّٰہی تحریک

شاہ ولی اللہ نے اسلامی نظام کا ایک مرتب خاکہ زور دار انداز میں پیش کیا۔آپ نے جاہلیت اور اسلام کا فرق کھول کر رکھ دیا۔استبدادی حکومت اور خلافت ِ اسلامیہ کو بالعکس ثابت کیا۔آپ نے اسلامی تعلیمات کی رو سے جاہلی حکومت کی اسلامی حکومت سے تبدیلی کی ضرورت و اہمیت کو واضح کیا۔ان سب عوامل کے نتیجے میں صحیح اور سلیم الفطرت  اشخاص کےدلوں میں  اسلامی نصب العین کے لیے جدوجہد کا داعیہ پرزور طور پر پیدا ہونا فطری امر تھا۔ان کی دکھائی راہ پر چلنے کی سعادت اولین طورپر ان کی وفات کے محض پچاس سال کے اندرخود ان کی اولادمیں ان کے پوتے شاہ اسمٰعیل شہید کو حاصل ہوئی ۔

سید مودودی لکھتے ہیں :

“شاہ صاحب نے عملاً جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ حدیث اور قرآن کی تعلیم اور اپنی شخصیت کی تاثیر سے صحیح الخیال اور صالح لوگوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کر دی۔ پھر ان کے چاروں صاحبزادوں نے ، خصوصاً شاہ عبد العزیز صاحب نے اس حلقہ کو بہت زیادہ وسیع کیا، یہاں تک کہ ہزار ہا ایسے آدمی ہندوستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئے جن کے اندر شاہ صاحب کے خیالات نفوذ کیے ہوئے تھے ، جن کے دماغوں میں اسلام کی صحیح تصویر اتر چکی تھی اور جو اپنے علم و فضل اور اپنی عمدہ سیرت کی وجہ سے عام لوگوں میں شاہ صاحب اور ان کے حلقے کا اثر قائم ہونے کا ذریعہ بن گئے تھے۔ اس چیز نے اس تحریک کے لیے گویا زمین تیار کر دی، جو بالآخر شاہ صاحب ہی کے حلقے سے ، بلکہ یوں کہیے کہ ان کے گھر سے اٹھنے والی تھی”۔

ولی اللّٰہ تحریک کے اولین برگ وبار

برِّ صغیرپاک وہند کی پہلی اسلامی تحریک : تحریکِ مجاہدین

ہر انقلابی جماعت کسی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے۔لیکن محض نظریہ کسی تحریک میں جان ڈالنے کے لیے کافی نہیں ہوتاجب تک اسے کوئی قائد میسر نہ آجائے۔ قائد کی اہمیت جماعت میں روح کی سی ہے ۔ جماعت کے لائحہٴ عمل اور پیش رفت کا بہت بڑا انحصار قائد کے فہم و عمل پر ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی انقلابی تحریک کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کے قائد کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے۔

برصغیر کی تاریخ کی پہلی اسلامی احیائی تحریک ”تحریکِ مجاہدین” کو قرار دیا جاتاہے۔یہ تحریک سید احمد شہیدؒ کی سرابراہی میں چلی اور اس میں شاہ اسمٰعیل شہیدؒ جیسا عالم و مجاہدان کے معاون کے طور پر شریک تھا۔”تحریک مجاہدین” کا مطالعہ سید احمد شہید کی سوانح کے بغیر نامکمل ہے ۔مسلمانوں کے دورِ زوال میں اٹھی اس تحریک کے بارے میں کئی غلط فہمیاں آج تک پائی جاتی ہیں ۔

مختصر سوانحی وتحریکی خاکہ

شاہ علم اللہ ؒ ایک انتہائی دین دار اور متبع سنت بزرگ گزرے ہیں ۔ان کے خاندان میں سید احمد (۶ صفر ۱۲۰۱ ھ /۹ نومبر ۱۷۸۶ء – ۲۴ذیقعدہ،  ۱۲۴۶ ھ/۶ مئی۱۸۳۱ء )کی پیدائش ،ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں ہوئی۔ آپ کا خاندان کئی پشتوں سے ارشاد و تلقین کی مسند پر فائز رہا اور اپنے حسنِ عمل اور خوبیٴ کردار سے مرجع خلائق رہا۔ بچپن سے ہی شوقِ جہاد آپ کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ گھڑ سواری، مردانہ و سپاہیانہ کھیلوں اور ورزشوں سے خاصا شغف تھا۔ والد کے انتقال کے بعد اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ(جو تلاشِ روز گار کے لیے عازمِ سفر تھے) لکھنؤگئے لیکن وہاں سے دہلی ،شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی خدمت میں حاضری اور حصولِ علم کے لیے روانہ ہوگئے۔،وہاں شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اور شاہ عبد القادر دہلویؒ کی صحبت میں تحصیل علم او ر تزکیے کے مراحل طے کیے۔اس کے بعدآپ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تحریک اور انکے تجدیدی کام کو لے کر میدانِ عمل میں آگئے۔

یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی،غیراسلامی  رسوم و بدعات اسلامی معاشرہ میں زور پکڑ رہے تھے، سارے پنجاب پر سکھ اور بقیہ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔ سید احمد شہید کا مشن اسلام کی سربلندی تھا۔جس کے لیے آپ نے مختلف تدابیر اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی ۔ابتداً آپ نے بریلی میں نواب امیر خان کے لشکر میں ملازمت اختیار کی جوکہ آخری دور کے آزاد ہندوستانی امیروں میں سب سے طاقت ور تھا۔ سید صاحب کا مقصد نواب کی قوت کو اسلام کی سطوت کے احیاء کے لیے استعمال کرنا تھا۔ آپ نے لشکر میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس کا مثبت اثر ہوالیکن آخر کار سید صاحب پر واضح ہوا کہ نواب امیر خان سے وابستہ امیدیں پوری نہیں ہوسکتیں لہٰذا آپ نے اس سے علیحدگی اختیار کی۔ اسی دوران آپ کی دینداری اورخدارسیدگی کی شہرت عام ہوچکی تھی ۔شاہ ولی اللہ کے پوتے اور شاہ عبدالغنی کے صاحبزادے ، شاہ اسماعیل شہید(آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے چچا حضرت شاہ عبدالعزیز کے سائے میں ہوئی۔ آپ نے سیف و قلم دونوں سے اسلام کی خدمت کی۔ سید احمد شہید بریلوی کی تحریکِ جہاد میں  شاہ اسماعیل اُن کے دست راست رہے اور بالاخر بالاکوٹ ضلع ہزارہ میں بڑی جرات و مردانگی کے ساتھ سکھوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے)، محمد یوسف (شاہ ولی اللہ کے بھائی کے پوتے)اور شاہ عبد الحئی جیسے بزرگ آپ کے حلقہٴ بیعت میں شامل ہو گئے۔ابتدا میں آپ نے مسلمانوں میں رائج فضول رسوم وبدعات کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایااور اپنے مریدین و متبعین میں سادگی اورخالص اتباعِ سنت کے اوصاف پید ا کرنے پر زور دیا۔آپ نے اپنے ساتھیوں میں مجاہدانہ صفت پیدا کی اور ہندوستان میں اسلامی حکومت کے احیاء کے لیے جہاد پر آمادہ کیا۔ اس تحریک کو تحریک مجاہدین کا نام دیا گیا۔آپ کی کوششوں کا بنیادی محوراسلامی حکومت کا قیام تھا جس کے لیے آپ نے اپنے متبعین کو جہاد فی سبیل اللہ کی تلقین کی اور ان میں بدعتوں اور فضول رسومات سے بڑھ کر خالص اتباعِ سنت کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔آپ نے مختلف علاقوں کے تبلیغی و اصلاحی دورے کیے اور بے شمار لوگوں کی اصلاح کی ۔ ۱۸۲۱ء میں سید صاحب نے حج کا قصد ان حالات میں کیا کہ رستے کے مسائل کے سبب فریضہٴ حج کی مشروعیت ساقط قرار دی جارہی تھی۔آپ نے اس سنگین فتنے کا سدباب کیااور اپنے ساتھ، بے سروسامانی کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو ساتھ لے کر حج کرنے گئے ااور دو سال تک وہاں قیام کیا۔حرم سے واپسی کے بعد آپ اپنے اولین مقصد (اسلامی حکومت کے قیام )کے لیے ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ بالآخرآپ اس نتیجے پر پہنچے کہ انگریزوں اور سکھوں کی یورش کا مقابلہ کرنے کے لیے آزاد قبائلی علاقہ جات کو مرکز بنانا موزوں ہوگا۔ چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کےساتھ ان علاقوں میں ہجرت کی اوروہاں سے پرچمِ جہاد بلند کیا۔ اس بلند آہنگ نعرے کی بازگشت ہندوستان کے گوشے گوشے میں سنی گئی ،متعدد اولوالعزم ہستیوں نےاسے دل کی آواز جاناجس کے نتیجے میں ایک ایسی تحریک وجود میں آئی جس کی مثال آخری صدیوں میں نہیں ملتی۔آپ نے  اپنے تئیں خلافتِ اسلامی کا احیاء کیا اور زیرِ نگیں علاقوں میں شرعی قوانین نافذ کیے ۔سکھوں اور انگریزوں سے زیادہ آپ کو مسلمانوں کے شوریدہ سر مفادپرست امیروں اور سرداروں کی مخالفت اور محاذ آرائی کا سامنا رہا۔سکھوں سے بھی آپ کے کئی معرکے ہوئے۔پہلا معرکہ اکوڑہ کے مقام پر ہوا۔ جس میں سکھوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری لڑائی حضرد میں ہوئی اور مسلمانوں نے یہ جنگ بھی جیت لی۔۱۸۳۰ء میں پشاور پر مجاہدین کا قبضہ ہو گیا۔ سید صاحب کو ابتدائی فتوحات کے بعد امیر المومنین تسلیم کر لیا گیا اور مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کر دیئے گئے۔

سکھ راجہ رنجیت سنگھ نے سید صاحب کے خلاف اندرونی اور بیرونی محاذ کھول دیئے۔ ایک طرف اپنے فرانسیسی جرنیل ونٹورا کو فوجیں دے کر بھیجا اور دوسری جانب پٹھانوں اور سید صاحب کے ہندوستانی متبعین میں اختلاف وعناد کے بیج بودیئے۔ جس کی وجہ سے بعض مقامی پٹھانوں نے بے وفائی کی۔24 ذیقعد،1246ھ،۱۸۳۱ء میں بالا کوٹ کے مقام پر سید صاحب اور سکھوں کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا۔ سید احمد، شاہ اسماعیل اور کئی دوسرے اکابر شہید ہوگئے۔ یہ جنگ سکھوں نے جیت لی۔

اس جنگ کے بعد بچے کھچے مجاہدین پہاڑوں پر چلے گئے اور وہاں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔اس تحریک کے پہلے امیر سید نصیر الدین دہلویؒ تھے۔آپ کی وفات کے بعد عبدالرحیم سورتی، مولانا ولایت علی صادقپوری،مولانا عنایت علی غازی اورمولانا عبداللہ نے اس تحریک کی رہنمائی و قیادت کے فرائض انجام دیے ۔ظاہری طور پر یہ تحریک ختم ہوگئی لیکن اس کے اثرات برِ صغیر میں مسلم نفسیات پر انتہائی گہرے پڑے۔اس کا کم از کم اثر عقائد و اعمال کی اصلاح تھاجس سے بلاشبہ لاکھوں لوگ مستفیض ہوئے۔ یہ تحریک قیام پاکستان تک کسی نا کسی صورت میں جاری رہی ،بلکہ اس تحریک کے مجاہدین نے پاکستان بننے کے بعد کشمیر کے محاذ پر بھی جنگ لڑ کر قربانیاں دی ہیں۔

اس تحریک کی خصوصیا ت مندرجہ ذیل تھیں:

١۔    سید احمد شہید کی سیرت کے اثرات

کوئی بھی تحریک اپنے قائد کی سیرت و مزاج کا گہرا اثر قبو ل کیے بنا نہیں رہتی یہ ایک عام مشاہدہ ہے ۔ جہاں بات بانی قائد کی آجائے تو وہاں مرکزی شخصیت کے اثرات کتنے ہمہ گیر ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ دشوار نہیں۔سید احمد شہید کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو اتباعِ سنت ہے ۔ابتدائی زندگی سے آخری وقت تک آپ کی پوری زندگی میں پیرویِ سنت کی شان پوری طرح جلوہ گر ہے ۔سید احمد شہید کا طریقہ جہاد فی سبیل اللہ تھا۔ آپ عبادت و ریاضت میں پیش قدمی کرنے والے ، رضا بقضا(جو حالت پیش آجائے اسے خوش دلی کے ساتھ قبول کرنے والے گویا مرضیٴ مولا ازہمہ اولیٰ)پر عامل تھے۔ ہر بڑے حادثے اور شدید آفت کے بعد برہنہ سر ہوکر دعا کرتے اور فرماتے ”بھائیو! جو مصیبت ہم پر آئی یہ ہماری کسی غلطی اور خطا کا نتیجہ ہوگی ”۔ عفوودرگزر آپ کی سیرت کا نمایا ں پہلو تھا۔ جانی دشمنوں تک کو معاف کردیتے ۔ آپ خود فرماتے تھے کہ میری فطرت ابتدا سے یہی رہی ہے کہ دوسروں کی بدی کے عوض بھی ان کے ساتھ نیک سلوک کروں ۔حلم وحیا و مروت آپ کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ شجاعت و سخاوت میں آپ بے مثال تھے۔آپ کو اعلیٰ درجے کی فراست عطا ہوئی تھی۔ خود فرماتے تھے کہ مجھے خدا نے تین چیزوں کی پہچان عطاکی ہے۔ گھوڑا، تلوار اور آدمی صبرواستقامت اور توکل کی جو مثالیں آپ نے قائم کیں ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کا مشکل راستہ آپ نے رخصتوں کو ترک کرکے شاہراہ ِ عزیمت پر گامزن ہوکر اختیار کیا تھا۔

حق گوئی و بے باکی

اس دور میں سنت سے بے اعتنائی اس درجہ عام ہوئی تھی کہ سلام مسنون کی جگہ آداب و تسلیمات رائج تھیں اور بعض اونچے گھرانوں میں تو سلامِ مسنون کو آدابِ مجلس کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ شاہ عبدالعزیز ؒ کے خاندان میں بھی اس خرابی نے رواج پالیا تھا۔ سید احمد جب شاہ عبدالعزیز کی خدمت میں پہنچے تو سیدھے طریقے سے انہیں سابقےلاحقے  یا آداب و تسلیمات کے بجائےمحض ”السلام علیکم” کہا۔ شاہ صاحب اتنے خوش ہوئے کہ حکم دے دیا آئندہ سب لوگ اسی طریقے پر سلام کیا کریں ۔

دوسرا اور زیادہ اہم واقعہ اس وقت کا ہے جب شاہ عبدالعزیز نے سید صاحب کو بیعت کے بعد مختلف اشغالِ صوفیہ کی تعلیم دی جس میں سے ایک شغلِ برزخ ہے جس میں صورتِ شیخ کامراقبہ کیا جاتا ہے۔ تصورِ صورتِ شیخ کا حکم سنا تو سید صاحب نے ادب سے عرض کیاکہ حضرت! اس شغل اور بت پرستی میں کیا افرق ہوا؟مفصل ارشاد ہو۔ شاہ عبدالعزیز نے خوجہ حافظ کا مشہور شعر پڑھا:

بہ مے سجادہ رنگیں کن گرت پیرِ مغاں گوید

کہ سالکِ بے خبر نہ بود زراہ و رسم منزلہا

”اگر مرشد جانماز پر شراب نوشی کا کہے تو بھی کرگزرو کہ سالک(مرید) اس راستے (طریقت)کے طور طریق سے ناواقف ہے”۔

سیّد صاحب نے دوبارہ عرض کیا کہ میں آپ کا فرماں بردار ہوں اس لیے کسبِ فیض کی غرض سے آیا ہوں، لیکن تصور شیخ تو صریحاً بت پرستی معلوم ہوتی ہے ۔ اس خدشے کو زائل کرنے کے لیے قرآن یاحدیث سے کوئی دلیل پیش فرمائیں ورنہ اس عاجز کو ایسے شغل سے معاف رکھیں۔ شاہ صاحب نے یہ سنتے ہی سیّد صاحب کو سینے سے لگا لیا۔ رخساروں اور پیشانی پر بوسے دیئے اور فرمایا اے فرزند ارجمند !خدائے برتر نے اپنے فضل و رحمت سے تجھے ولایت انبیاء عطا فرمائی ہے۔

علمی مقام و مرتبہ

نواب صدیق حسن خان ؒ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں :

“کہ اگرچہ سید صاحب نے علمِ ظاہر میں پوری دستگاہ حاصل نہیں کی تھی لیکن علمِ باطن میں وہ درجہٴ کمال کو پہنچ چکے تھے۔ خلقِ خدا کو راہِ ہدایت پر لگانے میں انہیں خدا کا ایک نشان سمجھنا چاہیے ۔ خلاصہ یہ کہ ماضی ٴ قریب میں سید صاحب جیسے صاحبِ کما ل کا نشان کسی خطے میں نہیں ملتااور ان کی جماعتِ منصورہ سے خلقِ خدا کو فیوض کی جو دولت ملی ہے اس کے عشرِ عشیر کا سراغ بھی دنیا کے دوسرے مشائخ و علماء کے ہاں نہیں مل سکتا”۔

طریقہٴ محمدیہ

 سید احمد شہید کے دور میں ہندوستان میں تصوّف کے تین طریقے قادری، چشتی اور نقشبندی رائج تھے۔ ایک طریقہ شیخ احمد سرہندی کے انتساب کے باعث مجدد یہ کہلاتا تھا۔ سیّدصاحب ان طریقوں کے علاوہ طریقہ محمدیہ ؐ میں بھی بیعت لیتے تھے۔ طریقہ محمدیہ یہ تھا کہ زندگی کا ہر کام صرف رضائے الٰہی کے لیے کیاجائے ۔ نکاح کی غرض یہ ہو کہ انسان فسق و فجور سے بچا رہے۔ تجارت یا ملازمت اس نیت سے کی جائے کہ حلال روزی کما کر خود بھی کھائے اور اہل و عیال کو بھی کھلائے۔ رات کے آرام کا مدعا یہ ہو کہ جوف لیل میں اٹھ کر نماز تہجد ادا کرے اور فجر اول وقت پڑھے۔ کھانا اس لیے کھائے کہ جسم میں بقدر ضرورت طاقت بحال رہے تاکہ انسان اللہ کے احکام مستعدی سے بجا لائے ۔ نماز پڑھے ۔ روزے رکھے حج کے لیے جائے اور ضرورت پڑے تو جہاد کے لیے تیار ہو۔ غرض مقصود احکام خدا وندی کی بجاآوری اور مرضیات باری تعالیٰ کی پابندی کے سوا کچھ نہ ہو۔ بہ الفاظ دیگر ہر فرد آیہ مبارکہان صلاتی ونسکی و محیا یٰ ومماتی للّٰہ رب العالمین کا عملی نمونہ بن جائے۔

معاشرتی خرابیوں کی اصلاح

آپ کی دعوت دوسروں سے بڑھ کر پہلے خود عمل کرنے کی تھی ۔ آپ نے احیائے سنت کے لیے نکاحِ بیوگان کی مہم چلائی اور اس کاراحیائےسنت کا اپنے گھر سے آغاز کیااور اپنی جوان بیوہ بھاوج سے نکاح ِ ثانی کیا۔آپ کی اور آپ کے رفقاء کوششوں سے متاثر ہوکربے شمار لوگوں نے توبہ کی اور معاشرے سے بدعات، غلط اعتقاداور عملی خرابیوں کا خاتمہ ہوا۔ابتدائی دور کی دعوت میں دوباتوں پر خاص زور تھا۔ اول یہ کہ عورتیں شرک سے احتراز کریں۔کیوں کہ خواتین کی اصلاح پر نسلوں کی اصلاح منحصر ہے۔ دوسرے یہ کہ ہر مسلمان جہاد فی سبیل اللہ کی نیت رکھے اور اس مقصدِ عظیم کو کسی بھی وقت فراموش نہ کرے۔

سیّداحمد شہید کاحقیقی مطمع نظر

بلا شبہ آپ کا عقیدہ اعلائے کلمتہ اللہ اور احیائے سنت سید المرسلین تھا اور ساتھ ساتھ وہ بلادالمسلمین کو کفار کے قبضے سے آزاد کرانابھی بہت ضروری سمجھتے تھے اور کفار میں سکھوں اور مرہٹوں کے مقابلے میں وہ انگریزوں کو پہلا ہدف سمجھتے تھے کیونکہ انگریز ہی ہندوستان کے وسیع علاقوں کو مسلمانوں سے چھین کر اپنے قبضے میں لائے تھے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مرکز جہاد کے لیے صوبہ سرحد کو صدہا مصلحتوں کے باعث جب چنا گیا تورنجیت سنگھ والیء لاہور نے چونکہ سرحد کے مسلمانوں کو تنگ کررکھا تھاطرح طرح کی اذیتیں پہنچاتا تھا تو اس وجہ سے ہندوستان کو انگریزوں کے قبضے سے چھڑانے سے پہلے سکھوں سے مڈبھیڑ ہو گئی ورنہ جہاد کے عمل کو سکھوں سے جنگ کر کے شروع نہیں کرنا تھا اور اس حوالے سے مورخین کا یہ بیان کہ جہاد شروع ہی سکھوں کا زور توڑنے کے لیے کیا گیا باطل بلکہ غلط ہے ۔ سکھ راجہ رنجیت سنگھ کی دریائے ستلج اور دریائے سندھ کے درمیان کے پنجابی علاقہ میں کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی وہ زیادہ سے زیادہ ایک فوجی غلبہ اور عسکری تسلط تھا اور ایسے غلبہ و تسلط میں کبھی کوئی کام قاعدے ضابطے کی بنا پر انجام نہیں پاتا ۔ حکومت کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ حاکم و محکوم کے درمیان کم یا زیادہ ربط و تعلق ہو جو ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور باہمی حقوق کی پاسداری پر مبنی ہو ۔ مگر راجہ رنجیت سنگھ کے یہاں نہ کوئی ربط و تعلق تھا نہ ہمدردی یا حقوق کی پاسداری کاکوئی عملی ثبوت تھا۔ سکھوں کا یہ بالکل عارضی سا دور تھا جو رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد نہایت مختصرعرصے میں ختم ہو گیا اور رنجیت سنگھ کے جانشینوں کی انگریز فوج کے ہاتھوں شکست کے بعد سارا پنجاب انگریزوں کی حکمرانی کے تحت آگیا۔ سو اصل واقعہ یہی ہے کہ سیّد صاحب کا جہاد انگریزوں کی حکمرانی سے ہندوستان کے وسیع علاقوں کو آزاد کرانا تھا جو انہوں نے مسلمانوں سے طرح طرح کے حیلوں بہانوں بشمول رشوت جوڑ توڑ اور جنگی مہمات کے چھین لیے تھے۔ البتہ اس اصل جہاد کے لیے آپ نے سرحد کے علاقے کو کئی مصلحتوں کی وجہ سے منتخب کیا تھا۔

تحریکِ مجاہدین کے اسباق

سید احمد شہید کی تحریک ظاہری طور پر ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن عزم و حوصلہ کا استعارہ بن کر آج تک زندہ ہے۔ سید مودودی اس تحریک کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

“مغربی جاہلیت کے مقابلہ میں اسلامی تجدید کی اس تحریک کو جو ناکامی ہوئی اس سے پہلا سبق تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ تجدیدِ دین کے لیے صرف علومِ دینیہ کا احیاء اور اتباعِ شریعت کی روح کو تازہ کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایک جامع اور ہمہ گیر اسلامی تحریک کی ضرورت ہے جو تمام علوم و افکار، تمام فنون و صناعات اور تمام شعبہ ہائے زندگی پر اپنا اثر پھیلا دے اور تمام امکانی قوتوں سے اسلام کی خدمت لے۔ اور دوسرا سبق جو اسی سے قریب الماخذ ہے ، یہ ہے کہ اب تجدید کا کام نئی اجتہادی قوت کا طالب ہے۔ محض وہ اجتہادی بصیرت جو شاہ ولی اللہ صاحب یا ان سے پہلے کے مجتہدین و مجددین کے کارناموں میں پائی جاتی ہے اس وقت کے کام سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے کافی نہیں ہے۔ جاہلیتِ جدیدہ بے شمار نئے وسائل کے ساتھ آئی ہے اور اس نے بے حساب نئے مسائلِ زندگی پیدا کر دئیے ہیں جن کا وہم تک شاہ صاحب اور دوسرے قدماء کے ذہن میں نہ گزرا تھا۔ صرف اللہ جل جلالہ کے علم اور اس کی بخشش سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بصیرت ہی پر یہ حالات روشن تھے۔ لہٰذا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہی وہ تنہا ماخذ ہیں جس سے اس دور میں تجدیدِ ملت کا کام کرنے کے لیے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس رہنمائی کو اخذ کر کے اس وقت کے حالات میں شاہ راہِ عمل تعمیر کرنے کے لیے ایسی مستقل قوتِ اجتہادیہ درکار ہے جو مجتہدینِ سلف میں سے کسی ایک کے علوم اور منہاج کی پابند نہ ہو، اگرچہ استفادہ ہر ایک سے کرے اور پرہیز کسی سے بھی نہ کرے”۔

فرائضی تحریک

سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریک جہاد کی ہم عصر اصلاحی تحریک جو بنگال میں چلی وہ” فرائضی تحریک” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ حاجی شریعت اللہ اس تحریک کے بانی تھے۔

بنگال کی صورتِ حال

بنگال مغل سلطنت کا سب سے آباد اور خوش حال صوبہ تھا۔ یہ وجہ ہے کہ یہ صوبہ سب سے پہلے انگریزوں کی حرص کا نشانہ بنااور انہوں نے سب سے زیادہ اس کے افراد و وسائل کا استحصال کیا۔ بنگال کی سرزمین ہی وہ سرزمین ہے جس پر انگریزوں  سے باقاعدہ جنگ لڑی گئی اور نواب سراج الدولہ  نےپلاسی میں ۵۷ -۱۷۵۶ءمیں انگریزوں کا مقابلہ کیا اورغداروں کے سبب شکست کھائی۔ اس شکست نے صوبہ بنگال پربرطانوی تسلط کی راہ کو آسان کر دیا۔ ان کی راہ میں مزاحم کوئی بھی مقامی یا مرکزی طاقت ایسی نہ تھی جو انہیں آگے بڑھنے اور چیرہ دستیوں سے روک سکتی۔ الغرض وہ صوبہ جو صرف آٹھ سال پہلے سونے کی کان اورہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح تھا، اب خاک کے ڈھیروں  میں  تبدیل ہو گیا۔اس کی زراعت برباد ہوگئی، صنعت وحرفت تباہ ہو گئی اور کسان و کاشت کارہندو اور انگریز دونوں کے جبر کا نشانہ بننے لگے۔انگریزوں  نے غیر مسلم زمینداروں کے ذریعہ نفرت اور تشدد کی آگ بھڑکانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں  کے مذہبی معاملات میں  مبینہ مداخلت اور مسلم معاشرے پر ہندوانہ رسم رواج کی یلغار نے بہت سارے مسلمانوں  کے سکون وچین کو ختم کردیا تھا۔ عیسائی مبلغین کی زیادتیاں  بھی زوروں  پر تھیں  اور ان کی تبلیغ سے عوام تو عوام مقتدر شخصیات نے اپنامذہبتبدیل کرناشروع کر دیا تھا۔ یہ بہت مایوس کن صورت حال تھی۔ ان مایوس کن اور ناگفتہ بہ حالات کا مقابلہ کرنے اور عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے ملک کے طول وعرض میں  کئی تحریکیں  معرض وجود میں  آئیں ۔ ان ہی میں سے ایک بنگال کی سر زمین سے اٹھنے والی ’’فرائضی تحریک ‘‘ہے۔

مشہور مورخ ڈاکٹر تارا چند انگریزوں کی زیادتیوں کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’ بنگال کی فتح نے ان (انگریزوں)کو سنہرا موقع دیا۔ انہوں  نے اپنے اختیارات اپنے ہندوستانی اور دوسرے رقیبوں  کو تجارت کے میدان سے بھگا دینے کے لیے استعمال کیا۔ وہ کسٹم ڈیوٹی اور چنگی دینے سے انکار کرتے تھے۔ وہ اپنی اشیاء ہندوستانیوں  کے ہاتھ بڑی رقوم کے عوض بیچتے تھے۔ اسے بیچنے کے لیے دوسرے تجار کو منع کرتے تھے۔ وہ گاؤں  والوں  پر تشد آمیز دباؤ ڈال کر انہیں  مجبور کرتے تھے کہ وہ ان کی چیزیں  ناقابل برداشت قیمتوں  پر خریدیں  اور اپنی چیزیں  ان کے ہاتھ سستے داموں  پر بیچیں ۔ زندگی کی ابتدائی ضروریات کے لیے جو چیزیں  درکار ہیں  ‘ان پر ان کی اجارہ داری تھی۔ وہ دوسرے ذرائع بھی اپنی آمدنی کو بہت بڑھانے کے لیے اختیار کرتے تھے۔ وہ جرمانے عائد کرتے۔ ٹیکس وصول کرتے، اور ہندوستان کے مفلس قلاش اور دیوالیہ راجاوؤں  اور حکمرانوں  کو انتہاء سے زیادہ شرح سود پر قرض دیتے تھے۔ استحصال بالجبر، بد دیانتی اور رشوت پر ان کا عمل تھا ‘‘ ۔

حاجی شریعت اللہ

فرائضی تحریک کے بانی حاجی شریعت اللہ صحیح روایت کے ۱۱۷۸ھ مطابق ۱۷۶۴ء میں  ضلع’’ فرید پور‘‘ کے ایک متوسط خاندان میں  پید ا ہوئے۔آپ کے والد  عبد الجلیل ایک معمولی تعلق دار تھے۔ ۱۱۸۵ ھ مطابق ۱۷۷۱ء میں  والد کی وفات کے بعد چچا عظیم الدین کی سرپرستی میں آگئے جنہوں نے بڑے ناز ونعم سے پرورش کی۔ ۱۱۸۹ھ مطابق ۱۷۷۵ء میں بارہ سال کی عمرمیں اپنے چچا کے ساتھ کلکتہ آگئے اور یہیں  مولانا بشارت علی سے قرآن کی تعلیم مکمل کی۔ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد عربی اور فارسی زبان کی حاصل کی۔مولانا بشارت علی انگریزوں  سے سخت نفرت کرتے تھے اور ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ مکرمہ جانے کے لیے فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں  نے مولانا شریعت اللہ کو اپنے اس ارادے سے باخبر کیا تو وہ بھی اپنے محترم استاد کے ہمراہ مکہ جانے  کے لیے تیار ہوگئے۔ استاد اور شاگرد پر مشتمل یہ قافلہ ۱۱۹۵ھ مطابق ۱۷۸۱ء میں  مکہ کے لیے عازم سفر ہوا۔شیخ محمد طاہر سنبل مکی، مکہ کے بہت بڑے عالم اور مشہور حنفی فقیہ تھے۔ ان کا شمار محمد عابد سندھی اور محمد بن ناصر حازمی کے اساتذہ میں  ہوتا ہے۔ مسلسل چودہ سال تک ان سے اوردیگر اہل علم اور مشایخ سے کسب فیض کرتے رہے۔ شیخ طاہر مکی کے ہاتھ پر بیعت کرکے باضابطہ سلسلہ قادریہ میں  داخل ہوئے۔ مزیدتعلیم کے لیے عالم اسلام کی مشہور درس گاہ جامعہ ازہر مصرگئےاوردو سال مقیم رہ کر عربی زبان اودب کے اساطین علم وفن سے خوشہ چینی کی۔ اس کے بعددوبارہ ارض حجاز کا سفر کیا۔ ۱۲۱۴ھ مطابق ۱۸۰۰ء میں  حج کیا۔  اس کے بعد اپنے مرشد ومربی کی اجازت سے۱۲۱۷ھ مطابق ۱۸۰۲ء میں  اپنے ملک ہندوستان تشریف لائے۔ اس وقت ان کی عمر۳۸ سال تھی۔ملک کے حالات معمول پر نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ ارض مقدس مکہ کی راہ لی۔ مگر جلد ہی دو سال بعد پھروطن واپس آگئے۔ یہ ۱۸۰۴عیسوی سال تھااور ہجری سنہ ۱۲۱۹ تھا۔ اپنے دوسرے سفر حجاز میں آپ کو  محمد بن عبد الوہاب (ولادت:۱۱۵ھ ۱۷۰۳ – وفات: ۱۲۰۶ھ ۱۷۹۲ء)کی اصلاحی تحریک کو قریب سے دیکھنے اور اس سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ شیح محمد اکرام لکھتے ہیں :

” قیام حجاز کے دوران ان کو شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی اصلاحی تحریک سے باخبر ہونے کا موقع ملا”۔ ۱۸۰۲ء میں وطن واپس آکر فرائضی تحریک کی بنیاد ڈالی اور اخیر عمر تک اس کی آبیاری میں  جٹ گئے اور اس کی ارتقاء کو اپنی سرگرمیوں  کامرکز ومحور بنالیااور اس تحریک کو پروان چڑھانے میں  اپنا خون پسینہ ایک کر دیا۔

فرائضی تحریک کا آغاز:

بنگالی مسلمان مذہبی سماجی معاشی اور سیاسی غرض ہر لحاظ سے پسماندہ تھا۔ ہندو زمینداروں نے مسلمان کاشتکاروں کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا وہ ان پر طرح طرح کے ٹیکس عائد کیے تھے۔مسلمان ہندو عقائد و رسومات کو اختیار کیے ہوئے تھے۔اس طرح مسلمان معاشی، و مذہبی دونوں اعتبار سے پسماندہ تھے۔ سیاسی پستی اس پہ مستزاد تھی۔

حاجی شریعت اللہ نے بنگالی مسلمانوں کی مذہبی اصلاح پر خصوصی توجہ دی اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت کی۔ ہندوانہ عقائد اور رسومات اور دیگر گمراہیوں سے انہیں  روکا۔

اس تحری کی وجہِ تسمیہ کی بابت مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں :

’’ اس کا نام’’ فرائضی‘‘ اس لیے پڑا کہ اس میں  شرعی فرائض کی بجاآوری پر خاص زور دیا جاتا تھا‘‘۔

فرائضی تحریک کا اصل اوربنیادی مقصد برطانوی استعمار، فرنگی اقتدار اور غیر ملکی حکمرانوں سے ملک کو نجات دلانا تھا۔ لیکن حاجی شریعت اللہ کویہ شدید احساس بھی تھا کہ بنگال سے غیر ملکیوں  کو بے دخل کرنابہت آسان نہیں  ہے۔ اس کے لیے عسکری قوت کے ساتھ عقیدے کے اعتبار سے مضبوط افراد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے انہوں  اصلاح معاشرہ کے لیے کمر کس لی۔ اصلاح کا آغاز اپنے گاؤں  سے کیا۔ اس وقت تک آپ بحیثیت عالم مشہور ہو چکے تھے۔ کئی سال تک نہایت خاموشی کے ساتھ گاؤں  میں  درس وتدریس، دعوت و تبلیغ، لوگوں  کو معروف کی طرف بلانا اور منکرات وسیئات سے بچانا اپنے فرائض میں  شامل کیا۔ توہم پرستی کو دور کیا۔ ذات پات، چھوت چھات اور طبقاتی امتیاز کو مٹانے کی کوشش کی۔ توحید کی دعوت، سنت کا اتباع، دین اسلام کا احیاء، تقوی وطہارت، گناہوں  اور معاصی سے اجتناب کی طرف بلایا۔شادی بیاہ،  پیدائش و اموات  پر ہونے والی غیر اسلامی رسوم کو مٹایا۔ نکاح بیوگان کی حمایت کی۔ عقیقہ پر زور دیا اور اسے نومولود کا حق قرار دیا۔ اس میں  کچھ کامیابی ملی تو گرد وپیش میں  دعوت کا کام شروع کردیا۔جب آپ کا حلقہ احباب بڑھ گیا تو معاشرے میں  اتر کر مروجہ ماحول اور غیر اسلامی رسم رواج سے بغاوت کی۔ ہندوانہ مراسم جو مسلمانوں  کی زندگی کا جزو لانیفک بن گئے تھے، اس پر سخت نکیر کی۔ مسلمانوں  کو سختی کے ساتھ غیر اسلامی رسم ورواج کے اپنانے سے منع کیا۔ بدعات وخرافات کی پرزور مخالفت کی۔ عقائد اور اعمال کی اصلاح پر پورا زور صرف کیا۔ چند سال گزرنے کے بعد آپ کی دعوت کے برگ وبار نظر آنے لگے۔

مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں :

’’تھوڑی ہی مدت میں  ان کا اثر دور دور تک پھیل گیا۔ غریب مزدوراور کسان ان کی تحریک اصلاح سے حد درجہ متاثر ہوئے اور سب مولوی صاحب پر جانیں  چھڑکنے لگے‘‘

آپ کی تعلیمات نے بنگالی مسلمانوں میں جوش وجذبہ اور خود اعتمادی پیدا کی ۔ان میں صحیح مسلمان بننے کا جذبہ بیدار کیا۔اس تحریک کا نام فرائضی تحریک اس لیے پڑا کیوں کہ اس کا بنیادی اصول فرائض کی پابندی تھا۔ جو کوئی اس تحریک سے وابستہ ہوتا تھا اس کوخصوصیت کے ساتھ اسلامی فرائض پر عمل پیرا ہونے پرزور دیا جاتا تھااور شامل ہوتے وقت سابقہ زندگی سے خاص طور پر توبہ کرائی جاتی تھی۔

دہلی میں شاہ عبدالعزیز نے فتوی دیا تھا کے ہندوستان دارالحرب ہے اور یہاں ظالم انگریزوں کی حکومت ہے جمعہ اور عیدین کی نماز جائز نہیں۔اس سے ان کی مراد مسلمانوں میں کافرانہ حکومت سے نجات اور اسلامیوں کو مت کے قیام کا جوش و ولولہ بیدار کرنا تھا۔حاجی شریعت اللہ نے بنگال میں اس فتوے کے اتباع میں جمعہ و عیدین کی ممانعت کا حکم ‏ دیا جس کاروایتی مسلمانوں میں شدید رد عمل ہوا۔آپ کا یہ اقدام گویا براہِ راست انگریزی اقتدار کے خلاف ایک بغاوت تصور ہوا۔

حاجی شریعت اللہ نے دین کی سادہ اور آسان تعلیمات کو عام کیا اور صدیوں کے بگاڑ کے نتیجے میں جو رسومات اور عقائد اسلام کے نام پر رائج ہو چکے تھے ان کی مخالفت کی ۔آپ نے اسلامی تعلیمات کے مطابق مساوات اخوت اور انسانی احترام کا پرچار کیا جس سے غریب مسلمان کا شکار اور محنت  کشوں میں  اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا ہوا اس سے زمین داروں اور دیگر استحصالی عناصر میں بے چینی پیدا ہوئی اور آپ اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات درج ہونے لگے ۔حاجی شریعت اللہ کی وفات ۱۲۵۶ھ مطابق۱۸۴۰ء میں  اپنے پیدائشی وطن میں ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر قمری سنہ کے حساب سے ۷۸ سال اور عیسوی سنہ کے حساب سے ۷۶ سال تھی۔

جس کے بعد فرائضی تحریک کی قیادت آپ کے بیٹےمیاں محسن عرف دودو میاں نے سنبھالی۔

دودو میاں(1819ء۔1860ء)

حاجی شریعت اللہ ایک عالم دین تھے اور ان کی سرکردگی میں فرائضی تحریک کا رنگ دینی و اصلاحی تھا ان کی وفات کے بعد جس وقت دودھو میاں سربراہ بنے وہ دور بنگال میں شدید معاشی بحران کا تھا انگریز حکومت کا اقتدار مستحکم ہو چکا تھا اور سیاسی اور معاشی بدحالی  بالخصوص مسلمانوں میں عام  تھی۔ 1837ء میں انگریز نے فارسی کی جگہ انگریزی کو عدالتی اور دفتری زبان بنا دیا گیا یہ اقدام مسلمانوں کے لئے تباہ کن تھا کل تک کے تعلیم یافتہ آج یکلخت جاہل قرارپائے تھے۔

دودو میاں نےفرائضی تحریک کو منظم کرنے میں  بہت اہم کردار ادا کیا اور اس کی تعمیر میں اپنی پوری بصیرت و صلاحیت کو استعمال کیا۔تحریک کو جس کمال وخوبی سے آگے بڑھایا، اس سے آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کااندازہ ہوتاہے۔ آپ کی محنت شاقہ کا اندہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تحریک اپنے بانی کے زمانہ میں  چند اضلاع میں  محدود تھی، مگر جب اس کی زمام دودو میاں کے ہاتھ میں  آئی تویہ بنگال کے گھر گھر میں  پہونچ گئی اور آپ نے بنگال کےایک بڑے حصہ پر متوازی حکومت بھی قائم کردی۔ بنگال کی سرکار کے پولیس سپر نٹنڈنٹ ڈیمپیرکا خیال تھا کہ ۱۸۴۳ء تک دودوا میاں  (دادو میاں )نے اپنے حلقہ احباب میں  اسی ہزار افراد کو شامل کر لیا تھا۔ اس تعداد نے سچ ثابت کر دیا کہ دودو میاں (دادو میاں )”خیر خلف لخیر سلف “کے حقیقی مصداق تھے۔

غلام رسول مہر لکھتے ہیں:

“بے خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی بنگال کے بڑے حصہ میں  انہوں  نے ایک نوع کی متوازی حکومت قائم کر دی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ کسانوں  کی تنظیم کی یہ پہلی کامیاب تحریک تھی جو مشرقی بنگال میں  جاری ہوئی۔ افسوس کی دودو میاں  کی وفات کے بعد اس کی سرپرستی کرنے والا کوئی نہ رہا”۔

جانشینی کے بعدسب سے پہلے انہوں  نے گرد وپیش اورزمینی حقائق کا بغور جائزہ لیتے ہوئے مندرجہ ذیل اقدامات کیے:

بنگال کو مختلف حلقوں  میں تقسیم کرکے ہر حلقہ کا الگ الگ نگراں اپنےمتبعین میں سےمتعین کیا۔

ہر حلقہ میں  دین دار بزرگوں  کی قیادت میں ان کی اپنی پنچائتیں  قائم کیں  جو ہر قسم کے تنازعات کا فیصلہ کیا کرتی تھیں۔ اگر کوئی مقدمہ انگریز ی عدالت میں  لے جاتا تو اسے سماج کی طرف سے مقررہ سزا دی جاتی تھی۔

 تحریک کے استحکام کے لیے بیت المال کو منظم کیا۔

مذہبی پہلو کو مستحکم کرنے کے لیے پیر ومرید کی اصطلاح کا اعادہ کیا۔ اس سے ان کا مقصدقائد وکارکنان کے باہمی جذباتی رشتہ میں  اضافہ کرنا تھا۔

الارض للہ۔”زمین اللہ کی ہے”

دودومیاں نےانقلابی نعرہ “الارض للہ”(زمین اللہ کی ہے)  نعرہ بلند کیا اور اعلان کیا کہ زمین اللہ وحدہ لاشریک کی ملکیت ہے۔ اس پر کسی کو کوئی حق حاصل نہیں  ہے کہ بطور وراثت اس پر قابض ہو۔ جو لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں  اور اس پیشہ سے منسلک ہیں، وہی اس کے حقیقی مالک ہیں۔ نام نہادمالکان ان سے کسی قسم کا لگان وصول کرنے کے قطعاً حق دار نہیں ہیں۔

 اس اعلان پر بڑے بڑے زمین دار دودو میاں (دادو میاں ) کے دشمن ہو گئے۔ ان کے خلاف متعدد فوجداری، ڈکیتی اور مداخلت بے جا کے کئی مقدمات قائم کرائے گئے۔ ۱۸۴۱ء میں  ان کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ ۱۸۴۲ء میں  دودو میاں  (دادو میاں )کو ناکافی شہادت کی وجہ سے خوش قسمت ثابت ہوئے۔ نیز۱۸۴۷ء سے ۱۸۵۷ء تک فریقین کے درمیان مقدمات اور جوابی مقدمات کا ایک سلسلہ جاری رہا۔ بعض مقدمات میں  گواہ نہ ملنے کے باعث بری رہے اور بعض میں کافی دنوں  تک مقدمہ چلا اور ماتحت عدالتوں  نے سزائیں  دی۔ ۱۸۵۷ ء میں  دودو میاں  (دادو میاں )کو نظر بند کر کے علی پور کی جیل میں  رکھا گیا۔ پھر بعد میں  فرید پور کی جیل میں  منتقل کر دیا گیا۔ ۱۸۵۹ء میں  اس حبس بے جا سے رہائی نصیب ہوئی۔

رہائی کے تین سال بعد ۱۸۶۲ء میں دودو میاں  (دادو میاں )داغ مفارقت دے گئے۔ ان کے انتقال کے بعد اس تحریک کی مقبولیت ماند پڑ گئی اور نہ اسے ایسا قائد ملا جو اس تحریک کو زندہ رکھ سکا تاہم مولانا شریعت اللہ کی فرائضی تحریک کے خوش نمااثرات نثار علی عرف تیتو میاں  کی تحریک میں  نظر آنے لگے۔

میرنثارعلی عرف تیتو میاں(1782ء۔1831ء)

سید احمد شہید اور ان کی تحریک کے اثرات ِ مابعدکے تحت خطۂ بنگال جو ہندوانہ تہذیب کے اثرات میں جکڑا ہوتھا یہاں احیائے اسلام ہوا۔شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں :

“انیسویں  صدی میں  اسلامی بنگال کی روحانی علاحدگی کا خاتمہ ہوا اور ہندووانہ اثرات کاجادو ٹوٹا اس کی اصل وجہ نئی اسلامی تحریکیں  تھیں”۔  فرائضی تحریک بنگال کی مقامی تحریک تھی جس پر مقامی حالات کا گہرا اثر تھااور یہ چند اضلاع تک محدود تھی۔ لیکن سید احمد شہید کی تحریک کے اثرات جب بنگال تک پہنچے تو انہوں نے پورے بنگال کو متاثر کیا۔سید احمد شہید1824ء میں کچھ مہینے کلکتہ میں مقیم رہے اور مشرقی بنگال کے متعدد لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا۔آپ نے اپنے دو بنگالی خلفاءکے ذمے بنگال میں دعوت و تربیت کاکام لگایا۔ آپ کے ایک مرید تیتو میر تھے جن کی تحریک کے اثرات بنگال پر محسوس کیے گئے۔آپ کااصل نام میر نثارعلی جبکہ عرف تیتو میر تھا۔ تیتو میر سنہ 1786ء میں چوبیس پرگنہ کے ضلع میں پیدا ہوئے۔ وہ سید احمد شہید کی تحریک، تحریک مجاہدین سے بہت متاثر تھے۔تیتو میرؒ شہید (۱۸۳۲ء۔ ۱۸۷۲ء) مکہ مکرمہ میں سید صاحب سے بیعت ہوئے تھے۔آپ نے بنگال میں اسی طرز کی تحریک شروع کی۔ انہوں نے افکار و عقائد کی اصلاح اور بدعات اور مشرکانہ اشغال و اعمال سے مسلمان کسانوں کی زندگیوں کو پاک کیا۔ انہیں ہندو زمینداروں کے خلاف منظم کیا‘ جو ان کا خون چوسنے میں مصروف تھے۔ یاد رہے کہ انگریزوں نے مسلمان زمینداروں سے زمینیں چھین کر ہندوؤں کی زمینداریاں قائم کی تھیں جبکہ مسلمان اپنی زمینوں سے بے دخل ہوکر زمیندار سے کسان بن کر رہ گئے تھے۔

تیتو میر نے 1819ء میں حج کیا۔یہیں آپ کی ملاقات سید احمد شہید سے ہوئی آور آپ ان سے بیعت ہوئے۔ حج سے واپسی پر تیتو میر نے بھی اسی اسلامی روح کے زیر اثر مسلمانوں کی فلاح کا بیڑا اٹھایا۔انہوں نے کلکتہ کے نزدیک نرکل باڑیہ نامی گاؤں کو اپنا مرکز بنایا۔ جب وہاں پر خاصے مرید جمع ہو گئے تو انہوں نے آزادی کا اعلان کر دیا۔وہیں انھوں نے ایک قلعہ تعمیر کروایا، اسلحہ جمع کیا اور معصوم خان کو فوج کا سربراہ بنایا۔تیتو میر نے ہندو زمیندار کرشنا رائے کے مختلف ٹیکسوں بشمول “داڑھی ٹیکس” کے خلاف مزاحمت شروع کی اور اسے شکست دی۔بعد ازاں کئی موقعوں پر انگریز اور ہندوؤں کے مشترکہ گروہوں کو شکست دی۔ بالآخر 1831ء میں انگریزوں نے کلکتے سے جدید اسلحے سے لیس فوج بھیجی۔تیتو میرنے چھ سو آدمی ساتھ لے کرسخت مقابلہ کیا۔ ان کے کئی ساتھی شہید ہوئے اور خود تیتو میربھی شہید ہو گئے اور یہ تحریک اپنے انجام کو پہنچی۔

[[i]](شیخ ،محمد اکرام،”موجِ کوثر”،صفحہ 50، طبع 28ویں،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،لاہور، 2017ء)

[[ii]](شیخ ،محمد اکرام،”موجِ کوثر”،صفحہ 51، طبع 28ویں،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،لاہور، 2017ء)

1857ء کی جنگِ آزادی

پلاسی میں ۵۷ -۱۷۵۶ءمیں نواب سراج الدولہ  کی شکست اور 1831ء میں تحریکِ مجاہدین کی ناکامی کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کی راہ میں مزاحم کوئی منظم قوت باقی نہ رہی تھی۔لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے جارحانہ اقدامات کے خلاف اندر ہی اندر لاوا پک رہا تھا۔لارڈ ڈلہوزی کی سرکردگی میں  ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی عمل داری میں شامل کر لیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کےارادوں کےمتعلق شکوک پیدا ہو گئے کہ کیا وہ مغلیہ حکومت کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے جو کہ اپنے تمام تر ضعف کے باوجود تاحال ہندوستان کی جائز اور قانونی حکومت تھی اور ہندوستانیوں کے بلاتفریقِ مذہب قلبی تعلق کا مرکز تھی۔اپنے مقبوضہ علاقوں میں انگریزوں کا سلوک خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ تھا جس کا کچھ ذکر بنگال کے حوالے سےفرائضی تحریک کے بیان میں ہوا ہے۔ہندوستان کے خوش حال علاقے لوٹ کر کنگال کردئے گئے تھےاورعوام شدید پسماندگی کا شکار ہوگئے تھے۔اسی کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب اور عیسائیت کے فروغ کی منظم کوششوں سے ہندو ومسلم عوام میں بے چینی پھیل رہی تھی ۔ انگریز وں کے مختلف اقدامات برصغیر کے باشندے اپنے مذہب میں مداخلت تصور کر رہے تھے۔

ہندوستان کا قانون صدیوں سے اسلامی شریعت چلا آتا تھا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقبوضہ علاقوں میں اسے موقوف کرکے صرف شخصی قانون (Personal Law)تک محدود کردیا گیا اور عدالتوں میں مغربی قوانین کے ماہرین لیے جانے لگے۔صرف ایک اسی اقدام سے عدلیہ کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد چاہے اعلیٰ عہدے دار ہوں یا معمولی ملازمین ،ملک بھر میں بے روزگار ہوگئے۔

ہندوستانی فوجی جو کمپنی کے ملازم تھے انہیں دوہرے معیارکا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ان کی تنخواہیں انگریز سپاہیوں سے کم تھیں ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جاتااور جا و بے جا تادیبی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا۔ ۱۸۰۶ء سے جب سرجارج بارلو (Sir George Barlow) نے سپاہیوں کے تلک لگانے ، داڑھی رکھنے اور صافہ باندھنے پراعتراض کئے تھے،متواتر ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ ہور ہا تھا جس سے ان کے جذبات میں اشتعال پیدا ہونا لازمی تھا۔

اس پس منظر میں جلتی پر تیل کا کام اس خبرنے کیا کہ ان دنوں جونئےکارتوس فوجیوں کو دیےگئے تھے  وہ  سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے اپنے اپنے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔ جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں میں بہت سے ایسے تھے جنہوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔انگریزی حکومت نے ان سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے فوجی ملازمت سے برخواست کر دیا۔ لکھنؤ میں بھی یہی واقعہ پیش آیا۔9 مئی 1857ءکو میرٹھ میں باغی رجمنٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی۔ جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی نامناسب تھا۔10 مئی کو ہندوستانی سپاہیوں نےبغاوت کرکےانگریز افسروں کو ہلاک کردیااور ان قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور میرٹھ سے دہلی کی طرف بڑھنے لگے ۔

میرٹھ کے سپاہیوں کی دہلی میں آمد سے دہلی کے فوجی بھی ان کے ساتھ مل گئےاور دہلی کے مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ پورے ہندوستان میں دور دور تک پھیل گئی۔یہ جنگ کسی نہ کسی شکل میں 2 سال تک جاری رہی۔

جنگِ آزادی کا سب سے درخشاں پہلو ہندو مسلم اتحاد کا فقید المثال مظاہرہ تھا۔علامہ فضل حق خیر آبادی ، مفتی صدر الدین خان آزردہ، سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علما نے دہلی کی جامع مسجد سے بیک وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا جس کے نتیجے میں مسلمان اس جنگ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لڑے۔

انگریز فوجوں نے جنرل نکلسن  کی سرکردگی میں تقریباً چار مہینے تک دہلی کا محاصرہ کیے رکھا۔14 ستمبر کو کشمیری دروازہ توڑ دیا گیا۔ جنرل نکلسن اس لڑائی میں مارا گیا مگر انگریز اور سکھ فوجوں نے دہلی پر قبضہ کر کے بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا۔ ان کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو گولی سے اڑا دیا گیا جن کے سر ایک طشت میں رکھ کر بہادرشاہ کے سامنےپیش کیے گئے۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو جانے سے ہر جگہ جنگ آزادی کی رفتار مدہم پڑھ گئی۔ مارچ1858ء میں لکھنؤ پر دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ دہلی ،لکھنؤ ،کانپور، جھانسی کے علاوہ چند اور مقامات پر بھی انگریزوں کے تصرف میں آگئے۔انگریزوں نے اس بغاوت کا انتقام مسلمانوں سے بالخصوص انتہائی ظالمانہ طور پر لیا۔

جنگ آزادی 1857ء ایک ایسی جنگ تھی جو کسی منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری کے بغیر لڑی گئی۔ اس جنگ کا نعرہ “انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو” تھا۔ اس نعرے کے تحت ایسے تمام افراد متحد تھے جنہیں انگریز حکومت سے نقصان پہنچا تھا۔تاہم یہ متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے تھے لیکن ان میں اس منفی جذبہ اشتراک کے سوا کوئی قدرِ مشترک نہ تھی۔ان کے مقابلے میں ایک منظم اور انتہائی باوسائل فوج تھی جب کہ وہ ہرقسم کی تنظیم اور وسائل سےمحروم تھے۔ بہادر شاہ ظفرعمر کی اب اس منزل پر تھے کہ محض عضوِ معطل بن کر رہ گئے تھے۔وہ قیادت و سربراہی کی قابلیت نہ رکھتے تھے۔ان کے خود اپنے قریبی اعزاء انگریزوں کے وفادار تھے۔جنگ کے آغاز میں وقتی طور پر پسپائی کے بعد جلد ہی ملک بھر میں انگریز سنبھل گئے اور انہوں نے سکھوں، گورکھوں اور ان سے زیادہ غداروں کی مدد سے اس تحریک کو کچل ڈالا۔چنانچہ 1857ء کی یہ جنگ آزادی  بالآخرناکام ہوگئی۔

1857ء کی جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی ہندوستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ گویا ایک دور کا باقاعدہ اختتام اور نئے دور کا آغاز تھا۔ اس جنگ کے ملک کی سماجی، سیاسی،ادبی اور مذہبی زندگی نہایت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ نام نہاد مغلیہ سلطنت کا ٹمٹماتا چراغ بالآخر آخری بار بھڑک کر بجھ گیا اورسقوطِ دہلی کے بعد ہندوستان کے معاملات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ سے نکل کر براہ راست ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں میں چلے گئے۔

ہندوستان اب دارالحرب تھا!

سقوطِ دہلی کے اصل متاثرین مسلمان تھے۔ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ محض ایک قوم کا دوسری قوم پر برتری حاصل کرلینے کا معاملہ نہ تھا بلکہ مسلمانوں کے نقطہٴ نظر سے یہ ایک ایسی قوم کے ہاتھوں ان کی مغلوبیت تھی جو اپنا بالکل جدا اور مسلم روایت سے قطعاً متضاد فلسفہ حیات رکھتی تھی اور اسی پر اپنے مفتوحہ علاقوں کی تہذیبی و سیاسی زندگی کی بنااستوار کرنا چاہتی تھی ۔ مسلم فلسفہٴ حیات توحید، رسالت و آخرت پر بنیاد رکھتا ہے جبکہ مسلم سیاسی فکر کا محور نظریہ خلافت ہے۔اس کے برعکس مغربی فلسفہٴ حیات لادینیت (Secularism)، قوم پرستی (Nationalism)، اور حاکمیتِ جمہور (Soverignty of  people)کے اصولوں پر استوار ہے۔ہندوستان کے آئندہ معاملات کی بنا ان اصولوں پر رکھی گئی جو مسلم نفسیات کے لیے اجنبی تھے۔مسلمانوں کے لیے زندگی کا ہر شعبہ ان کے دین سے براہِ راست منسلک ہے۔انہیں انگریزی بطورِزبان سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہ تھا لیکن انگریزی زبان بطورِ ذریعہ تعلیم اختیارکرنے کا مطلب مغربی تہذیب کے اصول و مبادی نئی نسل کے دل و دماغ میں راسخ کرنا تھا۔صرف ایک یہی معاملہ ایسا تھا کہ اس سے ان کی پوری تہذیب و ثقافت داؤ پر لگ گئی تھی۔شرعی قانون کی جگہ انگریزی قانون ملک میں رائج ہو گیاتھا۔انگریز مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت سے بڑھ کر ان کے دین کے درپے تھے اور عیسائی تبلیغی سرگرمیاں عروج پرتھیں۔مسلمان دیوار سے لگ چکے تھے۔ہندوستان اب دارالاسلام کی بجائے دارالحرب تھا!

اس تحریک نے ہندوستانی عوام اور انگریز حکمرانوں دونوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔جس کا اظہار ان کے آئندہ کے طرز عمل میں نظر آتا ہے۔ ہندوستانی عوام میں دو بڑے گروہ ہندو اور مسلمان تھے جبکہ تیسرا فریق انگریز تھے۔ ان تینوں گروہوں کی جنگِ آزادی کے بعد کی حکمتِ عملی کا ایک جائزہ حسبِ ذیل ہے۔

انگریزوں کا رویہ:

لڑاؤ اور حکومت کرو

انگریزوں نے اس تحریک کےبے مثال ہندو مسلم جذبہ اتحاد کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ جانا اور آئندہ کےلیے “لڑاؤ او اور حکومت کرو” کا اصول ان کی حکمت عملی کا بنیادی ستون قرار پایا۔

” سیاسی طور پر پر دونوں بڑے فرقوں کو کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی ہر ممکن تدبیر عمل میں لائی گئی۔زر خرید پٹھو چھوڑے گئے جو اپنے ہم مذہبوں کو  انگریز سے تو وفاداری اور غلامانہ عجزونیاز  کا درس دیتے تھے مگر دوسرے مذہب کے ہم وطن بھائیوں سے نفرت ،حقارت اور علیحدگی برتنے کا پرچار کرتے تھے۔سرکاری عہدوں میں بھی مذہبی تفریق روا رکھی گئی، ہندوؤں کو اپنی خصوصی نظر کرم کا یقین دلایا گیا گیا اور تقریبا چالیس سال تک سرپرستی کے بعد مسلمانوں پر دست شفقت دراز ہوا”۔

دور رس قبضے کی بنیاد:فارسی کی جگہ انگریزی کا رواج

انگریزوں نےہندوستان پر اپنے قبضے کی تکمیل کے لیے جو دور رس اقدامات کیے ان میں اہم ترین نظامِ تعلیم کی تبدیلی تھا۔انگریزوں نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں جا بجا مشنری اسکولوں قائم کیے۔ابتداً یہ اسکول روایتی اسلامی تعلیم فراہم کررہے تھے لیکن رفتہ رفتہ ان میں لارڈ میکالے کا مرتب کردہ نصاب رائج کردیا گیا جس میں انگریزی کو اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا۔ اس نظامِ تعلیم کا مقصد ہندوستانیوں کی حریتِ فکر اور مشرقی اقدار سے وابستگی کا خاتمہ کرکے اس کی جگہ انہیں مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب اور اور اس پرعامل کرنا تھا۔انگریزی فارسی کی جگہ سرکار ی زبان قرار پائی ۔

مسلمانوں سے انتقام:معاشی و تہذیبی قتلِ عام

اگرچہ تحریکِ آزادی 1857ء ہندو اورمسلمانوں نے مشترکہ طور پر لڑی تھی  لیکن اس جنگ آزادی  کی قیادت بیشتر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اور قدرتی طور پر انگریزوں کو سب سے زیادہ مسلمانوں سے ہی خطرہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقام کا نشانہ عموماً مسلمان ہی رہے۔ مسلمانوں کا فہیم اور فعال طبقہ خصوصیت سے ہدف بنا اور اسے پھانسی، جلاوطنی ، جائیداد کی ضبطی، مقدمات اور دارورسن کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے متاثرین میں بیشتر شاہ ولی اللہ کی علمی و نظریاتی تحریک سے وابستہ افراد تھے۔مسلمانوں کی عمومی معاشی حالت انتہائی دگرگوں ہوگئی ۔ کاروبار تباہ ہوگئے۔ جائیداد ضبط ہوگئی۔ ملازمت کے مواقع ختم ہوگئے۔ان کے اشراف ذلیل ہوگئے اور متوسط طبقہ فنا ہوگیا۔ان کی تہذیب وثقافت مٹنے لگی ۔ان کے لیے امیدکی کوئی کرن باقی نہ رہی۔

ہندوؤں کا طرزِ عمل

برطانوی اقتدار کا قیام ہندوؤں کے لیے ایک جذباتی حادثہ ضرور تھا۔ جس نظام کے وہ صدیوں سے عادی چلے آتے تھے وہ ختم ہوگیا تھا۔ لیکن یہ صورتِ حال کسی جوہری تبدیلی کا مظہر نہ تھی۔ ہندو جس طرح پہلے مغلوب تھے ان کے لیے یہ محض ایک حاکم کی تبدیلی تھی جسے انہوں نے ابتداً بہ اکراہ اور پھر بخوشی گوارا کرلیا۔ان کا مذہب محفوظ رہا۔ فارسی کی جگہ انگریزی کا آنا بھی ایک غیر زبان کی دوسری غیر زبان سے تبدیلی تھا۔لہٰذا انگریزی سیکھنے اور اختیار کرنے میں انہیں کوئی حرج نہ ہوا۔جب کہ انگریزی زبان سیکھنے اور اختیارکرنےکے حوالے سے ان کی تیاری پہلے سے جاری تھی۔

ہندواصلاحی تحاریک کا آغاز

انگریزی اقتدار ہندوؤں کے لیے اس اعتبار سے نعمت ثابت ہوا کہ اس انقلاب کے اثر سے ان میں آگے بڑھنے اور زمانے کی روش کا ساتھ دینے کا قوی داعیہ پیدا ہوا اور اس راہ میں مزاحم اپنے مذہب کی فرسودہ اور انسانیت سوز تعلیمات سے انہوں نے دوری اختیار کی اور کئی اصلاحی تحریکیں ہندوؤں میں شروع ہوئیں جن کا مقصد ہندو نوجوانوں کو اپنے مذہب سے وابستہ رکھنا اور فاسد رسوم و رواج کی اصلاح کے ساتھ حکومتی نظم و نسق میں شرکت کے قابل بنانا تھا۔ اس سلسلے میں ایک بڑی اہم تحریک انیسویں صدی کے اوائل میں راجہ رام موہن رائے ( پیدائش 1774ء ۔ انتقال 1833ء) نے شروع کردی تھی ۔ برطانوی اقتدار کے مخالف ہونے کے باوجود انہوں نے ہندوؤں کی ترقی اور آئندہ دور میں ان کے موزوں مقام کے لیے انگریزی تعلیم و تہذیب کو ضروری قرار دیا۔ راجہ موہن رائے نے ہندو مذہب میں موجود جاہلانہ رسم و رواج میں اصلاح کی غرض سے 1828ء میں ایک انجمن”برہمو سماج ” قائم کی اور ہندو معاشرے میں جو برائیاں پیدا ہوگئی تھیں ان کے خلاف مہم شروع کردی۔ ان کی کوششوں سے بالاخر “ستی ” کی رسم (جس میں ہندو بیوہ کو مردہ شوہر کی چتا کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا تھا ) کا قانونی طور پر خاتمہ ہوا ۔

جیسا کہ بیان ہوا انگریزوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کی سرپرستی کی ۔ہندوؤں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔مسلمانوں کے پیچھے ہٹنے سے پیدا ہونے والا انتظامی و معاشی خلا انہوں نے بخوبی پُر کردیا۔ان کی سیاسی تربیت اور حقوق کی بازیافت میں انڈین نیشنل کانگریس نے اہم کردار اداکیا۔

انڈین نیشنل کانگریس کا قیام

1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کا قیام بر صغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی اہم وقعہ ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا بانی ایک انگریز ریٹائرڈ سول سرونٹ مسٹراے او ہیوم تھا۔اس وقت یہ خبریں گرم تھیں کہ انگریزوں کے خلاف لاوا پک رہا ہے اور بنگال میں کچھ ہندو اور مسلمان نوجوان ایک زیرزمین مسلح تحریک شروع کرنے والے ہیں۔ہیوم کے ذہن میں ہندوستانیوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے اور ان کی شکایات کے ازالے کا ایک منصوبہ تھا۔اُس نے اس وقت کے وائسرائے لارڈ لٹن سے بات کی اور اسے تجویز پیش کی کہ یہاں ہندوستانیوں کی ایک جماعت ایسی قائم ہونی چاہیے جو دستوری و قانونی طور پراور ُپرامن طریقے سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جدّوجہد کرے ۔اس طرح  کسی زیرزمین تحریک اور اس کے نتیجے کے طور پر دہشت گردی کی تحریک کا سدّباب کیا جا سکے گا۔ پہلے لارڈ لٹن نے اور اس کے بعد لارڈ ڈفرن نے اس کی سرپرستی کی اور ان کی اس محنت کے نتیجے میں ۱۸۸۵ء میں پونا کے مقام پر آل انڈیا نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا. اس کے ۲۱ سال بعد ۱۹۰۶ء میں ڈھاکا میں مسلم لیگ وجود میں آئی۔

انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے تین بنیادی مقاصد تھے:

 اول:      ہندوستانی آبادی کے  مختلف  الخیال و مخالف عناصر کومتحد کرکر ایک قوم بنانا۔

دوم:      اس طرح وجود میں آنے والی قوم کی ذہنی، اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی خطوط پر پر تربیت کرنا۔

سوم :      انگلستان اور ہندوستان کے درمیان اتحاد کی ان شرائط میں جو موخرالذکر ملک کے لیے غیر  منصفانہ یا نقصان دہ ہوں، تر میم کرا کے اس قسم کے اتحاد کو مستحکم بنانا ۔

کانگریس اگرچہ تمام ہندوستانیوں کے لیے قائم کی گئی تاہم اس میں آبادی کے اعتبار سے غلبہ ہندوؤں ہی کا تھا اور اسے ہندو مفاد کا علم بردار ہی تصور کیاجاتا تھا اور موقع بموقع اس نے اس تصور کو درست بھی ثابت کیا۔

مسلمانوں کا طرزِ عمل:دو رویے

جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد  مسلمانوں میں بالخصوص تفریق پیدا ہوئی  اور حالات کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی کے لحاظ سےان میں دو طرح کے رویے پیدا ہوئے۔ پہلا رویہ انگریز سے عدم تعاون اور گریز کا تھاجبکہ دوسرا رویہ انگریز کی  وفا داری اور خوشنودی  کے حصول کی کاوشوں سے عبارت تھا۔ اس کاحاصل ایک ایسا گروہ تھا جو مذہباً مسلمان، تہذیباً مغربی اورذہناً مغرب سے انتہائی مرعوب تھا۔ ان دونوں جذبوں کے پسِ پشت ایک ہی جذبہ، اسلامیت کے دفاع  اور مسلم شناخت کا تحفظ کارفرما تھا، فرق تدبیر کا تھا۔پہلے رویے کے نمائندہ حضراتِ علماء کی کاوشوں کا جامع دارالعلوم دیوبند تھا ۔ جب کہ دوسرے رویے کے نمائندہ سرسید احمد خان اور ان کی علی گڑھ تحریک ہے۔

پہلا رویہ: دارالعلوم دیوبند اور علما کرام کی روش

ہندوستان میں انگریزی اقتدار کی راہ میں میں سب سے زیادہ مزاحم مسلمان رہے تھے۔ مسلمانوں کی تحریک مزاحمت دینی جذبات سے تقویت  پاتی رہی تھی۔ سید احمد شہید کی کی تحریک جہاد ہو یا 1857ء کی جنگِ آزادی  کا فتویٰ ِجہاد، اسلام ہی مسلمانوں کے حریت پسندانہ جذبات کی بنیاد رہا اور مسلم علماء کے ہاتھ میں قیادت رہی۔سب سے زیادہ قربانیاں بھی مسلم علماء نے دیں ۔انگریزوں نے اس خطرے کا مستقل سدباب کرنے کے لیے ایسے اقدامات تجویز کیے جن سے مسلمانوں کے دل و دماغ کواپنے قبضے میں کیا جا سکے۔ان کے مذہبی جذبات سردہو جائیں، وہ علماء کی پے روی سے آزاد ہو جائیں اور ان کی زندگیاں مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ جائیں۔اس مقصد کے لیے وہ نظام تعلیم رائج  کیا گیا جس کا حاصل کالے انگریز بنانا تھا۔

ہندوستان میں سیاسی میدان میں پسپائی کے بعد  کے بدترین حالات میں علماء نے مایوس ہو کر بیٹھنے کے بجائے اپنی سرگرمیوں کا ہدف تعلیمی میدان کو بنایا۔ سید احمدشہید ؒ کی تحریکِ اصلاح و جہاد کے نتیجے میں ہندوستان بھر میں مدارسِ دینیہ کا رواج بڑھا۔1857ء کی جنگِ آزادی کے محض 10 سال بعد 1867ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھ دی گئی۔اس دار العلوم کے بانیوں میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کا نام سر فہرست ہے۔جبکہ ان کے ساتھی علماء میں مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانافضل الرحمن و غیرہ کے نام شامل ہیں۔

بعد ازاں اس مدرسے کی شاخیں سہارن پور‘ مراد آباد‘ ٹھٹھہ‘ بریلی اور تھانہ بھون میں بھی قائم کی  گئیں۔ ۱۸۸۵ء میں مولانا قاسم نانوتویؒ کی وفات کے بعد مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے ادارے کی صدارت سنبھالی۔ اس ادارےکا بنیادی مقصد یہ تھا کہ خود انحصاری سے کام لیتے ہوئے  حکومت کی سرپرستی اور امراء کے آگے ہاتھ پھیلائے بغیر دین کی حفاظت منظم طورپر کی جائے اوراسلاف کی روایات کا تحفظ کیا جائے اور مذہبی روایات اور اقدار کو مغربیت و لادینیت کے سیلاب سے محفوظ رکھاجائے۔ دارالعلوم دیوبند نے مسلمانانِ ہند کا تعلق قرآن اور سنت سے قائم رکھنے  اور ملک میں شعائر اسلامی کے پرچار کے حوالے سے امت کی عظیم خدمت انجام دی۔

مولانا محمدیوسف لدھیانوی دارالعلوم دیوبند کی ہمہ جہت خدمات کے حوالے سے رقم طراز ہیں :

”تجدید و احیائے دین کی جو تحریک گیارہویں صدی سے ہندوستان کو منتقل ہوئی تھی اور اپنے اپنے دور میں مجدد الفِ ثانی،(شاہ ولی اللہ )محدث دہلوی اور شہید بالا کوٹ (سید احمد شہید)اس امانت کے حامل تھے، دارالعلوم دیوبند اسی وراثت وامانت کا حامل تھا۔ لوگ دارالعلوم کو مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں؛ کوئی اسے علومِ اسلامیہ کی یونیورسٹی سمجھتا ہے، کوئی اسے جہادِ حریت کے مجاہدین کی تربیت گاہ قرار دیتا ہے، کوئی اسے دعوت و عزیمت اور سلوک و تصوف کا مرکز سمجھتا ہے؛ لیکن میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کے لفظوں میں اس کو ”بقائے اسلام اور تحفظ دین کا ذریعہ“ سمجھتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجددینِ امت کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا، دارالعلوم دیوبند اپنے دور کے لیے مجددینِ امت کی تربیت گاہ تھی۔ یہیں سے مجددِ اسلام حکیم الامت حضرت تھانوی نکلے۔ اسی سے دعوت و تبلیغ کی تجدیدی تحریک ابھری جس کی شاخیں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہیں سے تحریکِ حریت کے داعی تیار ہوئے، یہیں سے فرقِ باطلہ کا توڑ کیا گیا۔ یہیں سے محدثین، مفسرین، فقہاء اور متکلمین کی کھیپ تیار ہوئی۔ مختصر یہ کہ دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف یہ کہ نابغہٴ روزگار شخصیات تیار کیں؛ بلکہ اسلام کی ہمہ پہلو تجدید و احیائے کے لیے عظیم الشان اداروں کو جنم دیا۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند کو اگر تجدید و احیائے دین کی یونیورسٹی کا نام دیا جائے تو یہ اس کی خدمات کا صحیح عنوان ہو گا۔

علماء کرام کی ان قابلِ قدر خدمات کے باوصف ایک دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنگِ آزادی 1857ء میں ناکامی کے بعد ہندوستانی علماء میں بالعموم یہ خیال پیدا ہوا کہ تحفظ و بقائے دین کے لیے میدانِ عمل میں نکل کر سعی کا اب موقع نہیں رہا لہٰذا کم ازکم علوم ِ دین کا دفاع کیا جائے ۔اس خیال کے تحت علماء ہندوستان کی سیاست سے کنارہ کش ہوتے گئے یا محض دوسری اقوام کے حاشیہ بردار ہو کر رہ گئے۔وقت کا پہیہ ان کی رفتار سے کئی گنا تیز تھا اور وہ اس دوڑ میں کہیں بہت پیچھے رہ گئے۔جامد مذہبیت نے انہیں آلیا اور وہ مسلمانوں کو درپیش مسائل سے بے نیاز ہوکر غیر متحرک اور غیر فعال ہو گئے۔اس روش کے انتہائی مضر اثرات جب عیاں ہوئے تو تلافیِ مافات کے طور پر انگریز دشمنی میں انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دینا طے کرلیا گیا جس سے قیادت کلیتاً غیر مسلموں یا پھر ایسے مسلمانوں کے ہاتھ میں چلی گئی جو اسلام کے بارے میں معذرت خواہانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے تھے۔لادینی سیاست ،مسلم ثقافت کو برباد کرتی رہی۔ دفاع کا حصار مدارسِ دینیہ تھے لیکن ان کا نصاب فرسودہ اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ تھا۔مغربی تہذیب و فلسفے کا چیلنج پکار پکار کر دعوتِ مبارزت دے رہا تھا لیکن اس صدا کو سننے اور جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔

مغربی تہذیب و فکر کے بڑھتے چڑھتے سیلابِ بلاخیز کا خاص ہدف نئی نسل تھی اور اس کی زد سے اپنے تئیں مزاحمتی جنگ لڑنے والے افراد کی اولاد تک محفوظ نہ تھی۔اس روش کا عام نتیجہ معاشرے میں علماء کی وقعت اور کردار کا محدود ہوجانا تھا۔سیاسی و تمدنی معاملات میں رہ نمائی علماء کے ہاتھ سے نکل گئی اور مذہبی معاملات تک میں ان کی پیشوائی پر سوالات کھڑے ہونے لگے۔

دوسرا رویہ

سرسید احمد خان اور علی گڑھ تحریک :برِّصغیر میں اسلامی جدیدیت کے معمار

انگریزی اقتدار کے عروج، شرعی قوانین کی جگہ انگریزی قوانین کے نفاذ ،اسلامی شریعت کا محض مسلم شخصی قوانین (Muslim Personal Law)تک محدود رہ جانااور انگریزی ذریعہِ تعلیم، ان تمام عوامل نے مل کرہندوستانی مسلمانوں  میں وہ تمام عیوب پیدا کیے جو دورِ غلامی کا خاصہ ہیں ۔بالخصوص ان کی اگلی نسل کے نزدیک اسلام کے جامع نظامِ زندگی ہونے کا تصور ہی باقی نہ رہا۔سیکولرازم کے تصورات کے تحت مذہب انسان کا انفرادی معاملہ قرار پایا اور قوم پرستانہ تصورات کے تحت مسلمان ایک باصول امت ہونے کے بجائے اقوامِ عالم کی بھِیڑ میں محض ایک پسماندہ قوم قرار پائے جو اپنے مفاد کی بِنا دوسروں کے نقصان پر رکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔

ان سب پر متزاد انگریزوں کی جفا کاری تھی۔انگریزوں کے منتقمانہ اقدامات کے نتیجے میں صاحبِ حیثیت و ثروت افراد بے وقعت و بد حال ہوگئے۔ حریت پسندانہ فکر رکھنے والے کچل ڈالے گئے اور مسلمانوں میں ان افراد کو نوازا گیا جنہوں نے اپنی مفادات انگریزی اقتدار کے استحکام سے وابستہ کرلیے تھے۔

جنگِ آزادی 1857ء کے بعد کے منظرنامے میں ہندوستان میں غلامی و ادبار کے اندھیروں میں روشنی کی ایک کرن سرسید احمد خان کی صورت میں نمودار ہوئی۔جنہوں نے مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی، انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی اور بدلے ہوئے حالات میں ان کی بقا اور تحفظ کا راستہ تلاش کیا۔

سرسید احمدخان برطانوی ہندوستان کی اہم ترین مسلم شخصیت ہیں جن کے اثرات مسلم معاشرے پر زندگی کے مختلف شعبوں میں نہایت گہرے مرتب ہوئے اور مسلمانانِ ہند ان کے مجوّزہ راستے پرتادیر گام زن رہے۔آج بھی اصلاحِ احوال کے لیے ان کے طرزِ عمل کا حوالہ جا بجا دیا جاتا ہے۔

سر سید احمد خان 5 ذی الحجہ 1232ھ بمطابق 17/اکتوبر 1817ء کو دلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد میر محمدمتقی مشہور نقش بند ی بزرگ شاہ غلام علی کے مرید تھے ۔ اور اپنا بیشتر وقت ان کی صحبت یا تیراکی اور تیر اندازی میں جس کے وہ بڑے ماہر تھے صرف کرتے تھے ۔ کم عمری میں والد کی وفات کے بعدسر سید کی تربیت زیادہ تر ان کی والدہ نے کی جو بڑی دانشمند اور دور اندیش خاتون تھیں سر سید احمد خان کی تربیت اور تعلیم اخلاق و کردار میں ان کی والدہ کو بہت دخل حاصل تھا۔

 سر سید کی والدہ نے ان کی تربیت کا کس قدر خیال رکھا اس کا اندازہ ہمیں اس ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہو سکتا ہے ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک نوکر کو تھپڑ دے مارا ان کی والدہ نے اس بات پر انہیں گھر سے  نکال دیا اور اس وقت تک معاف نہیں کیا جب تک انہوں نے اس نوکر سے معافی نہیں مانگ لی۔

سرسیدکی زندگی میں مذہب کا گہرا دخل تھا اور اس کی جڑیں ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں پیوست تھیں۔

 سر سید کی تعلیم پرانے اسلامی اصولوں پر ہوئی۔ سر سید نے جن بزرگوں سے فیض حاصل کیا ان میں امام الہند شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ مخصوص اللہ، اور شاہ عبدالعزیز کے جانشین محمد اسحٰق اور مولانا قاسم نانوتوی کے استاد اور محسن الملک اور مولانا مملوک علی نانوتوی کے نام لیے جاتے ہیں۔

1835ء میں والد کے انتقال سے ذرائع معاش میں تنگی ہو گئی۔ تو ملازمت کی کوشش کی اور دہلی ہی میں ایک انگریزی دفتر میں ملازمت کر لی۔ ان کے خالواس وقت دہلی میں صدر امین  کے منصب پر فائز تھے سر سید نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کو کچہری میں کام سیکھنے کی اجازت دیں چنانچہ اجازت ملنے پر وہاں کام سیکھتے رہے۔ فروری 1839ء میں وہ کمشنر کے دفتر میں نائب منشی مقرر ہوئے ۔

سید قاسم محمود لکھتے ہیں:

’’ والد صاحب کی وفات کے بعد گھر کے حالات دگر گوں ہوگئے تو اپنے  اعزہ و احباب کے مشوروں کے برخلاف مغل دربار کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی میں 1938ء میں معمولی کلرک یا سر رشتہ دار مقرر ہوئے ۔ اگلے سال فروری 1839ء میں آگرہ ڈویژن کے کمشنر رابرٹ ہملٹن کے نائب میر منشی مامور ہوئے ۔ پھر منصفی کا امتحان دے کر 1841ء میں فتح پور سیکری تبادلہ ہوا اسی سال بہادر شاہ ظفر بادشاہ کی جانب سر سید صاحب کو جواد الدولہ عارف جنگ کا خطاب ملا۔‘‘

صدر امین کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے بالآخر1876ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے ۔

’’ جولائی 1876ء کے آخر میں پنشن لے کر علیگڑھ آئے جہاں مولوی سمیع اللہ خاں صاحب بڑی تن دہی اور محنت سے موجودہ ایم۔ اے ۔ او کالج کا ابتدائی مدرسہ چلارہے تھے اور اپنی زندگی کے باقی بائیس سال اپنے ارادوں کی تکمیل میں یہیں گزار دیے سر سید نے ملازمت کے پینتیس سال بڑی نیک نامی سے بسر کیے اور سرکاری فرائض کے علاوہ تصنیف و تالیف اور ترویج علوم کے لیے بھی وقت نکالا‘‘۔

 سر سید کی پوری زندگی قومی خدمت میں بسر ہوئی۔اولاً وہ ہندوستانی قوم کی بلاتفریق خدمت کے قائل تھے لیکن جب انہیں ہندو ذہنیت سے مایوسی ہوگئی تو ان کی خدمات کا رخ خالص مسلم مفادات کی نگہبانی کی جانب ہوگیا۔موت سے چند روز پہلے تک جب تک صحت نے ساتھ دیا قومی خدمت میں مصروف رہے اور بالآخر قوم کا یہ فدائی 1898ء کو ہمیشہ کےلیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

سرسید کی خدمات

سر سید احمد خان نے انیسویں صدی میں ہندوستان کے مسلمانوں کی سب سے زیادہ خدمات سر انجام دی ہیں اس دور میں مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی گی تھی۔ہندو انگریزوں کے ساتھ مل گئے تھے ۔اس پُرآشوب دور میں مسلمانوں کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دینے والے سر سید احمد خان ہی تھے ۔

’’ سر سید احمد خان ایک مختلف الحیثیات شخص تھے انہوں نے اپنی ہنگامہ خیز زندگی میں سیاسی،تعلیمی،مذہبی ، تحقیقی، غرض ہر قسم کے علمی اورقومی مشاغل میں نمایاں حصہ لیا انہوں نے عمل کے ہر میدان میں اپنا نقش بٹھایا اور ہر جگہ دیر پا اثرات باقی چھوڑے ۔ جہاں تک اردو ادب کا تعلق ہے وہ اردو کے اولین معماروں میں تھے ۔ ملکی سیاسیات میں بھی ان کے کارنامے مسلم ہیں چنانچہ ان کے مخصوص سیاسی خیالات نے مسلمانانِ ہندوستان کے ذہن کو بدلنے میں بڑا کام کیا۔ خالص تعلیمی معاملات میں ان کے خاص نظریات نے علی گڑھ کی تعلیمی تحریک کی صورت اختیار کی اور دینیات میں انہوں نے فکر و تصور کے نئے راستے دریافت کئے جن پر ان کے بعد آنے والے آج تک برابر چل رہے ہیں غرض علم و عمل کے تقریباً ہر شعبے میں ان کی انقلاب آفرین شخصیت نے مستقل یادگاریں چھوڑیں۔ ‘‘

معروف اشتراکی دانش ور سید سبطِ حسن سرسید کی خدمات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ :

” سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ ۔۔وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان ” سائیس ،خانساماں، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ … سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جِدوجُہد کرتے رہے”۔ [[ii]]

انگریزحکومت سے وفاداری

سر سید احمد خان مسلمانوں کے لیے بدلے ہوئے حالات کے تحت انگریزوں کے تئیں فدویانہ پالیسی کے دل و جان سے قائل و عامل تھے اور انگریز حکومت کی سرپرستی مسلمانوں کی عافیت و بقا کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔

“ہم کو جو کچھ اپنی بھلائی کی توقع ہے وہ انگریزوں سے ہے۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم ملکہ معظمہ کوئن وکٹوریہ قیصرِ ہند کے زیر سایہ ہیں۔”

سرسید نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

’’ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری اور پوری وفاداری اور نمک حلالی، جس کے سایہ وعاطفت میں ہم امن وامان سے زندگی بسر کرتے ہیں، خدا کی طرف سے ہمارا فرض ہے۔ میری رائے آج کی نہیں بلکہ پچاس ساٹھ برس سے اسی رائے پر قائم ہوں‘‘۔

1857ء کی جنگ آزادی کے دوران سر سید اپنے دیرینی خیالات کے مطابق  ایسٹ انڈیا کمپنی کے وفادار رہے اور انہوں نے کئی یورپیوں کی جانیں بچائیں جس پر ان کی حکومتِ برطانیہ کی جانب سے ستائش کی گئی۔ جنگِ آزادی جسے انگریزوں نے “غدر”قرار دیا کے فرو ہونے کے بعد انہوں نے “رسالہ اسباب بغاوت ہند”تحریر کیا جس میں  ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کا مقدمہ صفائی سے پیش کیا۔ سرسید احمد خان مسلمانوں کے قدامت پسندانہ رجحانات،انگریزوں سے عدم تعاون اور انگریزی سے مغائرت کو ان کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

مغربی علوم و فنون کی ترویج

آپ مشرقی علوم و فنون سے برگشتہ اورمغربی تعلیم کو مسلمانوں کی ترقی کا واحد نسخہ قرار دیتے تھے۔آپ کے خیال میں ہندوستان میں انگریزوں کے عروج کا سبب وہ تعلیم و تہذیب ہے جس کی بنیادیں سائنسی طور پر استوار کی گئی ہیں ۔ جو زندگی کو درپیش جدید مسائل کاجامع حل پیش کرتی ہے۔جب کہ مسلمانوں کا قدیم نظامِ تعلیم فرسودہ اور ازکارِ رفتہ نصاب پر مبنی ہے جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عبداللہ:

’’ان کے ذہن پر جدید انداز فکر نے غلبہ پا لیا اور اس کا اثر اتنا گہرا اور پختہ ہو گیا کہ وہ لارڈ میکالے کی طرح سرے سے تمام مشرقی علوم ہی کو ذہن و فکر کے لیے مضر اور مہلک خیال کرنے لگے ۔‘‘

 یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں :

’کیا ہندوستان کی ترقی علومِ مشرقی کی ترقی سے ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔‘‘

ایک اور مقام پر سرسید فرماتے ہیں:

 ’’ ہم صاف صاف کہنا چاہتے ہیں کہ ہم کو علومِ مشرقی کی ترقی کے پھندے میں پھنسانا ہندوستانیوں کے ساتھ نیکی کرنا نہیں ہے بلکہ دھوکے میں ڈالنا ہے‘‘۔

ان  کا نقطۂ نظریہ تھا کہ برِّصغیر کے بدلے ہوئے حالات میں مسلم قوم کی ترقی کا واحد چارہ مغربی تعلیم اور انگریزی زبان سے آگاہی ہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ جدید تعلیم حاصل کریں اور دوسری اقوام کے شانہ بشانہ آگے بڑھیں۔انہوں نے ایک طرف مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم کے حصول کی جانب راغب کیا اور دوسری طرف ادب اور معاشرتی علوم میں قدیم اسلوب کی جگہ جدید اندازِ اختیار کرنے کی ترویج کی۔  اس مقصد کے لیےسرسید نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا۔

1859ء میں سر سید نے مرادآباد میں گلشن اسکول، 1863ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور1864ء  میں سائنسی سوسائٹی برائے مسلمانان قائم کی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد مغربی زبانوں میں لکھی گئیں کتب کے اردو تراجم کرانا تھا۔1869ء میں آپ کے بیٹے سید محمود کو حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا گیا۔ آپ بھی اپنے بیٹے کے ہمراہ انگلستان چلے گئے۔ وہاں جا کر آپ نے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کے نظام تعلیم کا مشاہدہ کیا۔ آپ ان یونیورسٹیوں کے نظام تعلیم سے بہت متاثر ہوئے اور یہ ارادہ کیا کہ ہندوستان جا کر ان یونیورسٹیوں کی طرز کا ایک کالج قائم کریں گے۔اس غرض سے آپ نے1875ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج کی داغ بیل ڈالی  جوآپ کی وفات کے بعد 1920ء میں جنوبی ایشیا میں پہلی مسلم یونیورسٹی بنا۔ان اداروں میں انہوں نے آرچ بولڈ آرنلڈ اور موریسن جیسے انگریز اساتذہ کی خدمات حاصل کیں۔

تعلیم کے بارے میں سرسید کا نظریہ یہ تھا کہ:

“میں ہندوستانیوں کی ایسی تعلیم چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ان کو اپنے حقوق حاصل ہونے کی قدرت ہو جائے، اگرگورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق اب تک نہیں دیے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہو تو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیز ہے کہ خواہ مخواہ طوعاً و کرہاً ہم کو دلا دے گی۔”

1886ء میں سر سید احمد خاں نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلمانوں کی تعلیمی ضرورتوں کے لیے افراد کی فراہمی میں اس ادارے نے بڑی مدد دی اور کانفرنس کی کارکردگی سے متاثر ہو کر مختلف شخصیات نے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ لاہور میں اسلامیہ کالج کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام، پشاور میں اسلامیہ کالج اور کانپور میں حلیم کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس مسلمانوں کے سیاسی ثقافتی معاشی اور معاشرت حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں رہی۔

آپ انگلستان سے 1870ء میں واپس آئے اور ہندوستان میں انجمن ترقی مسلمانان ہند کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانا تھا جس کے بارے میں مسلم معاشرے کا عمومی تاثر کا اظہار کرتے ہوئے سرسید کہتے ہیں :

“اب تو گویا بالاتفاق تمام مسلمان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انگریزی پڑھنے اور علوم جدیدہ کے سیکھنے سے مسلمان اپنے عقاید مذہبی میں سست ہوجاتے ہیں بلکہ ان کو لغو سمجھنے لگتے ہیں اور لا مذہب ہوجاتے ہیں اور اسی سبب سے مسلمان اپنے لڑکوں کو انگریزی پڑھانا نہیں چاہتے۔ مسلمانوں پر کیا موقف ہے‘ انگریز بھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔

تہذیب الاخلاق

دورہِ انگلستان کے دوران وہاں کے اخبارات سے متاثر ہو کر سرسید نے ایک تعلیمی ادارےکے علاوہ مسلمانوں کی تہذیبی زندگی میں انقلاب لانے کے لیے اعلیٰ مغربی معیار کااخبار ہندوستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ بعدازآں ”رسالہ تہذیب الاخلاق“ کا اجراءاس ارادے کی تکمیل تھا۔ اس رسالے نے سرسید کے نظریات کی تبلیغ اور مقاصد کی تکمیل میں اہم خدمات سر انجام دیں۔لیکن سرسید کو اس میں اپنے مذہبی خیالات کی وجہ سے شدید مخالفت کاسامنا کرنا پڑا۔

علی گڑھ تحریک

سرسید کی تعلیمی و ادبی کاوشوں کو علی گڑھ تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ان کا مرکز و محور علی گڑھ تھا۔ اس  میں ان کے دیگر  رفقاء میں سے محسن الملک، وقار الملک، مولانا شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا چراغ علی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس تحریک کے زیرِ اثر اردو ادب کو گرانقدر فروغ  حاصل ہوا۔ اردو ادب کے عناصر خمسہ میں سے چار سرسید کے ساتھ علی گڑھ تحریک میں شریکِ کار تھے۔

سرسید  کی مخالفت کے اسباب

سرسید کے گہرے مذہبی رجحانات نے ان کے اصلاحی جوش وجذبے کے ساتھ مل کر اس خیال کو جنم دیا کہ اصلاحِ مذہب کے بغیر اصلاحِ معاشرت ممکن نہیں لہٰذا انہوں نے اپنے کلامی مکتبِ فکر کی بنیاد ڈالی  اور تفسیرِ قرآن تحریر کی۔سرسید پر عقلیت کا غلبہ تھا اور ان  کے مذہبی خیالات بیشتر معتزلہ کے افکار کا چربہ تھے اور انہیں قبولِ عام حاصل نہ ہو سکا۔

سرسید احمد خان کی مخالفت کے حوالے سے سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ان کی مخالفت انگریزی تعلیم کی موافقت کرنے کی وجہ سے کی گئی۔ حقیقت یہ ہے  کے سرسید سے قبل شاہ عبدالعزیز انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے حق میں فتوی دے چکے تھے۔ دراصل علماء اور مذہبی طبقہ سرسید کا مخالف ان کے مذہبی خیالات کے سبب تھا  اور انہیں یہ اندیشہ تھا کہ سر سید اپنے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں اپنے مخصوص مذہبی خیالات کا پرچار کریں گے اور قوم کے نوجوانوں کو بد عقیدہ کر دیں گے۔مزید برآں مذہبی طبقہ تو سرسید احمد خان کے بارے میں محض فتویٰ دے کر رہ گیا لیکن سرسید کی عملی مخالفت جن لوگوں نے سب سے زیادہ کی شیخ محمد اکرام ان کے بارے میں لکھتے ہیں :

“جن لوگوں نے سرسید کے حالات بغور نہیں پڑھے وہ سمجھتے ہیں کہ سر سید کی مخالفت ان دقیانوسی علماء نے کی جو ہندوستان کو دارالحرب سمجھتے تھے اور سرکار انگلشیہ اور انگریزی تعلیم کے مخالف تھے۔حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔مدرسۃ العلوم کے سب سے بڑے مخالف دو بزرگ تھے۔دونوں معزز سرکاری ملازم یعنی مولوی امداد علی ڈپٹی کلکٹر اور مولوی علی بخش۔حالی نے لکھا ہے کہ” ہندوستان میں جس قدر مخالفتیں اطراف و جوانب سے ہوئیں ان کا منبع ان ہی دو صاحبوں کی تحریریں تھیں”۔ اور ان کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ وجہ یہ بھی تھی کی بعض جلیل القدر انگریز مدرسۃ دارالعلوم کے سخت مخالف تھے اور ان میں سے بعض کے ساتھ ان دونوں صاحبوں کو خاص تعلق تھا۔”

مولانا قاسم نانوتوی نے سر سید کے بارے میں فرمایا:

“کام کرنے والوں کی دو تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک نیت اچھی مگر عقل اچھی نہیں، عقل اچھی ہے مگر نیت ٹھیک نہیں، تیسرے نہ عقل اچھی نہ نیت اچھی۔ سرسید کے متعلق ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ نیت اچھی نہیں ہے مگر یہ ضرور کہیں گے کہ عقل اچھی نہیں ہے کیوں کہ جس زینے سے مسلمانوں کو معراج ترقی پر لے جانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود کا سبب سمجھتے ہیں، یہی مسلمانوں کے تنزل کا سبب ہوگا”۔

مولانا حالی ان کے مذہبی خیالات کے بارے میں کہتے ہیں :

’’آخر عمر میں سرسید کی خود آرائی یا جو وثوق کہ ان کو اپنی رایوں پر تھا، وہ حد اعتدال سے متجاوز ہوگیا تھا۔ بعض آیات قرآنی کے وہ ایسے معنی بیان کرتے تھے جن کو سن کر تعجب ہوتا تھا کہ کیونکر ایسا عالی دماغ آدمی ان کمزور اور بودی تاویلوں کو صحیح سمجھتا ہے! ہر چند کہ ان کے دوست ان تاویلوں پر ہنستے تھے مگر وہ کسی طرح اپنی رائے سے رجوع نہ کرتے تھے‘‘۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی سرسید احمد خان کے بارے میں کہتے ہیں :

” مذہبی لحاظ سے انھوں نے بہت سی ٹھوکریں کھائیں اور کئی مسائل میں ان کی تحقیق ناقص تھی، مگر جو کچھ انھوں نے کیا اس میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔ اپنے نزدیک وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ دین کی حفاظت کی کوشش کررہے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے۔ انھوں نے بعض چیزیں بڑے درد کے ساتھ لکھی ہیں، مثلاً: برطانوی مستشرق سرولیم میور نے جب اپنی کتاب دی لائف آف محمد(The Life of Muhammad ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر حملے کیے توسر سید نے بڑی محنت کے ساتھ اس کے جوابات لکھے۔ پھر یہ کہ آج کل کے بعض نام نہاد ’مجتہدین‘ کی طرح وہ محض نقال نہ تھے۔ انھوں نے جو بات کہی، اپنی ذاتی تحقیق کے بعد کہی “۔

سر سید کی تصنیفی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

۱۔       شروع سے لیکر 1857 تک

۲۔       1857ء سے لیکر سفر انگلستان 1869 تک

یہ وہ دور ہے جس میں ان کی تحریر پر ان کے تبدیل شدہ رجحانات کا رنگ جھلکتا محسوس ہوتا ہے۔

۳۔       سفر انگلستان سے وفات 1898ء تک

یہ دور تصنیفی اعتبار سے شاندار ہے اور اس میں ان کے مذہبی ،معاشرتی، سماجی وسیاسی افکار کھل کر سامنے آتے ہیں ۔

سرسید کے سیاسی افکار

سرسید احمد خان انیسویں صدی کے نصف آخر میں مسلمانوں کی وہ ڈھال تھے جس کی بدولت مسلمان آمدہ بلاؤں اور مصیبتوں کے وار سے محفوظ رہے ۔ان کی  سیاسی خدمات نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ ان سے اختلاف رکھنے والے مسلمان  بھی ان کو اپنے دور کا قائد ماننے پر مجبور تھے ۔

1858ء سے 1870ء تک برطانوی سیاست داں اور حکم ران 1857ء کی جنگِ آزادی کا مجرم مسلمانوں کو گردانتے رہے۔مگر پھر اس کے بعد ان کی رائے تبدیل ہونا شروع ہوئی۔اس وقت کا وائسرائے ہند لارڈ میو مسلمانوں کی شکایات کا ازالہ کرکے ان کی پسماندگی دور کرنا چاہتا تھا۔اس کی ایما پر ۱۸۷۱ء میں ڈاکٹر سرولیم ہنٹر نے کتاب ’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘ تحریر کی۔  جس میں پہلی دفعہ مسلمانوں کے مسائل اور شکایات کو نسبتاً ہم دردانہ انداز میں بیان کیا گیا۔ اس کتاب سے انگریز حکومت کو مسلمانوں کا موقف سمجھنے کا موقع ملا۔ تاہم اس حوالے سے موثر ترین شخصیت سر سیداحمد خان ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا مقدمہ مسلسل بڑی جرات مندی سے انگریزوں کے سامنے پیش کیا۔

سرسید کے سیاسی  خیالات کی بنیاد تین  اصولوں پر تھی:

1۔        مسلمانوں میں خواعتمادی پیدا کرنا۔

2۔        انگریزوں سے وفاداری کے جذبات کا فروغ۔

3۔        انڈین نیشنل کانگریس سےلاتعلقی۔

سرسید احمد خان معقول وجوہ  کی بنیاد پر پر مسلمانوں کی سیاست میں شرکت کے خلاف تھے ۔ان کا  نقطہ نظر یہ تھا  کہ مسلمانوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لینا چاہیے مبادا کہ انگریز پھر انہیں باغی قرار دے کر انتقام کا نشانہ بنانے لگیں ۔ سرسید مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لیے عملی سیاست میں شرکت کے بجائے مسلمانوں کی تمام تر توجہ تعلیم کے حصول اورمعاشی و معاشرتی  بحالی پرمرکوز رکھنا چاہتے تھے  تاکہ وہ ہندوؤں کا مقابلہ کر سکیں۔ اسی لیے انہوں نے مسلمانوں کو انڈین نیشنل کانگریس سے دوررہنے کی تلقین کی۔ سرسید اس معاملے میں یہاں تک یک سو  تھے کہ انہوں نے کہا:

” اگر مجھ سے یہ بھی کہا جائے کہ وائسرائے، وزیرِ ہند اور سارا دارالعوام کانگریس کی  اعلانیہ حمایت کرتا ہے تو بھی میں ثابت قدمی سے سے اس کا مخالف رہوں گا”۔

انہوں نے ایک اور جگہ کہا:

” یہ میرا سوچا سمجھا عقیدہ ہے کہ اگر دیسی کانگریس کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنادیا گیا تو برطانوی حکومت کے لیے امن قائم رکھنا یا اس تشدد اور ان خانہ جنگیوں کوجو اس عمل سے پیدا ہوں گی روکنا غیر ممکن ہو جائے گا”۔

 کانگریس کا مقابلہ کرنے کے لیے سر سید نے چار اقدامات کیے۔انہوں نے  انڈین  پیٹریاٹک ایسوسی ایشن،محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس ، بالائی ہند کی محمڈن ڈیفینس ایسوسی ایشن اور اینگلو اورینٹل ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم کیں۔

سرسید ابتداًہندو مسلم اختلافات کو ختم کر کے تعاون اور اتحاد کی راہ پر گامزن کرنے کے حق میں بھی تھے۔لیکن ہندو مسلم کشمکش 1867ء میں کھل کر سامنے آگئی جب ہندوؤں کی جانب سے اردو اور فارسی کی بجائے ہندی زبان اور دیوناگری رسم الخط کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا۔پہلی بار یہ مطالبہ بنارس کے ہندوؤں کی طرف سے سامنے آیا اور جلد ہی اس نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔یہ مسلمانوں کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی پر  کھلا حملہ تھا اس سے ہندو ذہنیت اور ان کے آئندہ عزائم کا بھی اندازہ ہوتا تھا۔سرسید  اس مطالبے کے مضمرات سے بخوبی واقف تھے لہذا انہوں نے سختی سے اس کی مخالفت کی۔

“سر سید کہتے تھے کہ یہ پہلا موقع تھا جب مجھے یقین ہو گیا کہ ہندو مسلمان کا بطور ایک قوم کے ساتھ چلنا اور دونوں کو ملا کر سب کے لیے مشترک کوشش کرنا محال ہے”۔

انہوں نے ایک موقع پر کہا کہ :

“اب مجھے یقین ہو گیا ہے ہے کہ دونوں قومیں  کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی۔ابھی تو بہت کم ہے آگے آگے اس سے زیادہ مخالفت اور عناد ان لوگوں کے سبب جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں  بڑھتا نظرآتا ہے جو زندہ رہے گا وہ دیکھے گا”۔

یہی وجہ ہے کہ سرسید کی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد دو قومی نظریہ تھااوردو قومی نظریہ کی اصطلاح سرسید نے ہی سب سے پہلے استعمال کی۔ انہو ں نے مسلمانوں کی بطورِ علیحدہ قوم  پہچان کروائی ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان جداگانہ ثقافت رسم و رواج اور مذہب کے حامل ہیں اور ہر اعتبار سے ایک مکمل قوم کا درجہ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی علاحدہ قومی حیثیت کے حوالے سے سرسید احمد نے ان کے لیے لوکل کونسلوں میں نشستوں کی تخصیص چاہی۔ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لیے کھلے مقابلے کے امتحان کے خلاف مہم چلائی٬ اکثریت کی مرضی کے تحت قائم ہونے والی حکومت والے نظام کو ناپسند کیا۔اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے تحفظات کا مطالبہ کیا۔

’’سیاست میں سر سید کومسلمانوں کو انڈین نیشنل کانگرس کے ماحول و خیالات سے بچانے کے لیے دخل دینا پڑا۔ سر سید پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی تقریروں اور مضامین میں اس امر کا اظہار کیا کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ براعظم ہے جس میں مختلف الجنس اقوام آباد ہیں سب سے پہلے سر سید نے مسلمانوں میں قومیت کا تصور پیدا کیا اور لفظ “قوم” کو “نیشن” کا ہم معنی بنا دیا۔ ‘‘

لیکن دو قومی نظریے کی اصطلاح جن معنوں میں تحریکِ پاکستان میں استعمال ہوئی وہ سرسید کے پیشِ نظرقطعاً نہ تھا۔ وہ انگریز اقتدار کے سوا مسلمانوں کے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں پاتے اور انگریز حکومت سے کشمکش تو کُجا اس کی مخالفت بھی ان کے جذبہ وفاداری کے منافی ہے۔

سرسید کا کردار

سرسیداحمد خان کی جفاکشی،بے لوثی، علو ہمتی،جراتِ کردار،اورتدبر پر دورائے نہیں ہوسکتیں۔

بقول ڈاکٹر عابد حسین :

“انہیں اس تدبر اور حکمتِ عملی کا بچا کچھا حصہ ملاجس کی بدولت مسلمانوں نے سات آٹھ سو برس ہندوستان پر حکومت کی”۔

سرسید سے اختلاف کے ہزار پہلو ہیں لیکن ان کی سیرت کے مندرجہ بالا عناصر نظر کو خیرہ کرتے ہیں اور بالآخر دل ان کے احترام میں جھک جاتا ہے۔

“سرسید کی مذہبی تصانیف پر اعتراض کرنا آسان ہے۔ ان کے تعلیمی نظریوں اور سیاسی پالیسی سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ان کی مرتب کردہ تاریخی کتب میں اتنی غلطیاں رہ گئی ہیں کہ انہیں زبردست محقق یا بے عیب اسکالر نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے طرز تحریر میں بھی بعض نقص ہیں۔ لیکن ان کے پاک اور بلند  کریکٹر پر حرف گیری وہی کرے گا جو حقیقت سے چشم پوشی کرے۔ ان کے واقعاتِ زندگی دیکھیں تو خیال آتا ہے کہ یہ مومنانہ سیرت،یہ بے ریائی،بے حرصی اور جراٴت اسی خوش نصیب شخص کو میسر ہو سکتی ہے جو نقشبندِ وقت شاہ غلام علی کی گود میں کھیلا کودا تھا۔جس نے شاہ ولی اللہ کے پوتوں اور فرزندان ارجمند سے فیض حاصل کیا تھا۔جو فقط ایک وزیر سلطنت کا نواسہ اور ہماری انتظامی اور سیاسی روایات کا وارث نہ تھا بلکہ جس نے مدتوں ہمارے بہترین روحانی سرچشموں سے اپنی پیاس بجھائی تھی”۔

سرسید احمد خان کی حکمتِ عملی کے مابعد اثرات

سرسید کی تعلیمی پالیسی کے اثرات

سرسید کی تعلیمی پالیسی کا خلاصہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھا :

” فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا، نیچرل سائنس ہمارےبائیں ہاتھ میں اورلاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ کاتاج سر پر”۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی نصاب اور لادین/غیر مسلم اساتذہ کے زیرِ اہتمام اس نظامِ تعلیم کے تحت فلسفے سے الحاد پھیلا اور نیچرل سائنس سے گم راہی۔ رہا لا الٰہ کا تاج تو اس کی وقعت طلبا کے ذہن میں اتنی بھی نہ رہی تھی جتنی دھوپ سے بچانے والی ٹوپی کی ہوتی ہے۔علی گڑھ کالج میں طلباء کی مذہبی تعلیم کا انتظام کیا جاتا تھا لیکن یہ فرض دینیات کا ایک مضمون نصاب میں شامل کرکے ادا کردیا گیا تھا جس کو سرسید کے مذکورہ بالا عزم سے کسی درجے نسبت نہ تھی اور جس کا طلباء پر اثر بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

سید مودودی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کی دینی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“مگر افسوس یہ ہے کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور زیر تعلیم طلبہ میں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی پائی جاتی ہے‘ جن کا وجود اسلامی تہذیب اور مسلمان قوم کے لیے نفع بخش نہیں‘ بلکہ الٹا نقصان دہ ہے۔ یہ لوگ روح اسلامی سے ناآشنا ہی نہیں بلکہ اس سے قطعاً منحرف ہوچکے ہیں۔ ان میں مذہب کی طرف سے سردمہری ہی نہیں بلکہ نفرت سی پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے ذہن کا سانچا ایسا بنادیا گیا ہے کہ وہ تشکیک کی حد سے گزر کر انکار کے مقام پر پہنچ گئے ہیں اور ان اصول اوّلیہ کے خلاف بغاوت کررہے ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے”۔

اس حوالے سےسید مودودی نے علی گڑھ کے ہی فارغ التحصیل ایک نوجوان کے ذہنی اغوا کی روداد جو اس نے ایک نجی خط میں بیان کی، نقل کرتے ہیں:

’’علی گڑھ میں مجھے اسلامی دنیا کے خارجی فتنے اور تفرنج (مغربیت) کی آخری ارتقائی منزل یعنی کمیونزم سے دوچار ہونا پڑا۔ میں پہلے مغربیت کو کوئی خطرناک چیز نہ سمجھتا تھا۔ لیکن علی گڑھ کے تجربات نے مجھے حقیقت سے روشناس کرادیا۔ اسلامی ہند کے اس مرکز میں خاصی تعداد ایسے افراد کی موجود ہے جو اسلام سے مرتد ہوکر کمیونزم کے پُرجوش مبلغ بن گئے ہیں۔ اس جماعت میں اساتذہ تمام ذہین اور ذکی اور نووارد طلبہ کو اپنے جال میں پھانستے ہیں”۔

سرسید احمد خان کے پیشِ نظر مسلمانوں کا مفاد اس امر سے مشروط تھا کہ وہ انگریزوں کے سایہ عاطفت میں رہیں ۔اس کے تحت سرسیداحمدخان نے انگریزوں کی خوشنودی کےلیے کالج کا انتظام وانصرام انگریز اور غیر مسلمان اساتذہ کےہاتھوں میں دینا طےکر دیا تھا اور یہ بات کالج کے چارٹر میں لکھ دی گئی تھی کہ  کالج کا پرنسپل اور دو پروفیسر اور اسکول کا ہیڈ ماسٹر ہمیشہ یورپین ہوگا۔

چنانچہ بڑے اساتذہ میں سے پانچ ہمیشہ انگریز ہوا کرتے تھے جو اسکول اور کالج کےکےنظم ونسق کےذمہ دار ہوتے تھے۔ علی گڑھ تحریک کے زیرِ اثر اور علی گڑھ کالج ہی کی طرز پر بنگال اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں مسلم انجمنوں کے تحت مدارس قائم ہوئے اور ان سب میں قدرِ مشترک مسلم تعلیمی اداروں کے انگریز سربراہ تھے۔ یہ بات ایک رواج بن گئی۔معیاری تعلیمی ادارے کی سند یورپین اساتذہ اور سربراہ کا ہونا قرار پایا اور مسلمان امراء اپنی اعانت کو اس امر سے مشروط کرتے کہ ادارے کا سربراہ یورپی ہوگا۔

غیرمسلم اساتذہ بالخصوص انگریز اساتذہ کے زیر سایہ مسلمان طلباء میں ملی وقومی جذبات گھُٹ کے رہ جاتے۔ ان کی روحانی ترقی کی حِس مردہ ہوجاتی اور مادہ پرستی پروان چڑھ جاتی۔اعلیٰ اخلاقی اوصاف کی جگہ خودغرضی،خوشامد وچاپلوسی اور موقع پرستی کی صفات پروان چڑھتیں اور جب وہ ان درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہوتے تو اپنی قوم سے زیادہ حکم ران طبقے کے لیے مفید اور وفادار کارکن ثابت ہوتے۔علی گڑھ ہی کی طرز پر ان درس گاہوں میں بھی مسلم طلباء کی معمولی مذہبی تعلیم کا بندوبست کیا جاتا تھا تاکہ انہیں اسلام سے وابستہ رکھا جاسکے لیکن غیر اسلامی نظامِ تعلیم میں ، غیر مسلم اساتذہ کے زیرِ سایہ محض دینیات کا ایک مضمون مسلم نوجوانوں کی علمی و عملی دینی رہنمائی کے لیے نہ علی گڑھ میں کارآمد ہوا نہ دیگرتعلیمی اداروں میں ۔ یہ ادارے بالآخر اپنے تمام تر بلند عزائم کے باوجود محض انگریز سرکار کے لیے لائق و وفادار کارندے فراہم کرنے کے ایسے کارخانے بن کر رہ گئے جنہیں اپنے ابتدائی مقاصد سے کوئی نسبت نہ تھی۔

سر سید کی تعلیمی پالیسی کے اثرات مسلم نوجوانوں کے اخلاق و کردار پر کیا مرتب ہوئے ، سر سید احمد خان اس بارے میں کہتے ہیں :

’’مجھے نہایت افسوس اور رنج ہوتا ہے جب میں دیکھتا یا سنتا ہوں کہ ہماری قوم کے بعض لڑکے۔۔۔ جو انگریزی پڑھنا شروع کرتے ہیں، ان کا پورا پورا ادب نہیں کرتے۔ جو سوشل اور اخلاقی صفات یورپین میں ہیں وہی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ اگر ہم صدیوں تک کوشش کریں تو شاید وہاں تک پہنچیں۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے نوجوان ان کی خوبیوں کا تو دھیان تک نہیں کرتے اور ان میں جو عیب ہیں ان کو اختیار کرلیتے ہیں۔۔۔ بزرگوں سے بے پروائی سے پیش آنے لگے، ماں باپ کا ادب جیسا چاہیے اس قدر بجا لانا چھوڑ دیا، اپنے سے عمر میں جو بڑا ہے اس کا اور اپنے بزرگوں کے دوستوں کا لحاظ ترک کردیا۔ یہ تمام باتیں نہایت رنج دہ ہیں”۔

ایک اور جگہ سرسید کہتے ہیں:

“تعجب یہ ہے کہ جو تعلیم پاتے جاتے ہیں اور جن سے قومی بھلائی کی اُمید تھی وہ خود شیطان اور بدترین قوم ہوتے جاتے ہیں۔ جس کو نہایت سعادت مند سمجھو اخیر وہ شیطان معلوم ہوتا ہے”۔

اس کا سبب  بھی وہ خود ہی ایک انگریزڈاکٹرہنٹر کا قول نقل کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :

 ’’کوئی نوجوان خواہ ہندو ہو خواہ مسلمان، ایسا نہیں ہے جو ہمارے انگریزی مدرسوں میں تعلیم پائے اور اپنے بزرگوں کے مذہب سے بداعتقاد ہونا نہ سیکھے۔ ایشیا کے ترو تازہ مذہب جب مغربی علوم کی سچائی کے قریب آتے ہیں جو مثل برف کے ہے، تو سوکھ کر لکڑی ہوجاتے ہیں‘‘۔

یہ اقتباس پیش کرنے کے بعد سرسید نے لکھا ہے:

’’یہ قول ڈاکٹر ہنٹر کا بالکل سچ ہے‘‘۔ 

سرسید کی تعلیمی پالیسی کی اس ناکامی کا ادراک ان کے قریبی لوگوں میں سب سے پہلے شبلی نعمانی کو ہوا۔علی گڑھ کالج سے وابستگی کے کچھ ہی عرصے بعد (1883ء۔1884ء)میں انہوں نے ایک عزیز کو تحریر کیا:

“یہاں آ کر میرے تمام خیالات مضبوط ہوگئے معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل  فرقہ ہے۔ مذہب کو جانے دو۔ خیالات کی وسعت، سچی آزادی، بلند ہمتی ،ترقی کا جوش  برائے نام ۔یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا  بس خالی کوٹ  پتلون کی نمائش گاہ ہے”۔

اور بعدازآں حالی نے بھی اس کا اعلانیہ اعتراف کیا:

“چھبیس برس کے تجربے سے ان کو اس قدر ضرور معلوم ہوگیا ہوگا انگریز یزبان میں بھی ایسی تعلیم ہوسکتی ہے جودیسی زبان کی تعلیم سے بھی زیادہ نکمی، فضول اوراصلی لیاقت پیدا کرنے سے قاصر ہو”۔

سر سید کی سیاسی حکمتِ عملی کے اثرات

سرسید احمد خان کی سیاسی حکمت عملی کے لازمی نتیجے کےطور پر مسلمان سیاسی میدان میں بھی ہندوؤں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ اپنے مفاد کی ساری امیدیں انگریزوں سے وابستہ کرنے کا نتیجہ خوداعتمادی سے محرومی کی صورت میں برآمد ہوا۔

مولانا شبلی نعمانی نے سرسید احمد خان کی سیاسی پالیسی کے متعلق ابوالکلام آزاد کے رسالے “الہلال”میں ایک قطعہ لکھا:

کوئی پوچھے گا تو کہہ دوں گا ہزاروں میں بات

روشِ سیدِ مرحوم خوشامد تو نہ تھی!

ہاں مگر یہ ہے کہ تحریکِ سیاسی کے خلاف

ان کی جو بات تھی آورد تھی، آمد تو نہ تھی!

بیسویں صدی کے آغاز میں یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ مسلمانانِ ہند کو انگریزوں پر انحصار کم کر کے اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہوگا۔ جس کے لیے  سیاسی تنظیم ناگزیر تھی۔ جدید مسلمان تعلیمی اداروں خصوصاً  علی گڑھ کالج میں مسلم طلبہ  کا جوش و جذبہ انگریزی انتظامیہ مختلف پابندیاں عائد کرکے کچل کر رکھ دیتی تھی۔ 1900 ء میں صوبجاتِ متحدہ (یو پی) میں ہندی کو عدالتی زبان بنانے کا فیصلہ مسلمانوں کے لیے شدید اضطراب کا باعث تھا۔ اس اضطراب کی لہریں علی گڑھ کالج کی پرسکون فضا میں بھی ہلچل مچائے بنا نہ رہیں ۔مسلم مفاد واضح طور پر برطانوی حکومت کی  حکمت عملی سے متضاد تھا ۔یہ سرسید احمد خان کی حکمت عملی کے کارگر نہ رہنے نے کا واشگاف اعلان تھا۔ مسلم عمائدین اور نوجوانوں میں انگریزوں کی وفاداری اور غیر مشروط اطاعت شعاری ترک کر کے اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا خیال پیدا ہوا ۔

بیسویں صدی کی اہم مسلم ہندوستانی تحریکات و شخصیات

مسلم لیگ کا قیام

1901ء میں نواب وقار الملک نے لکھنؤ میں محمڈن پولیٹیکل آرگنائزیشن قائم کی جس کا مقصد مسلمانوں کے سیاسی مفادات کا تحفظ تھا۔ تھوڑی ہی مدت میں میں اس کی شاخیں ملک کے مختلف علاقوں میں پھیل گئیں۔ محمڈن پولیٹیکل آرگنائزیشن  انگریزوں کی مسلمانوں کے حوالے سے اختیار کردہ متعصبانہ حکمتِ عملی  کے خلاف بغاوت کے طور پر قائم ہوئی تھی۔ ملک بھر میں اس کے تیزی سے فروغ  اور اس کے تحت ہونے والی انگریز مخالف سیاسی سرگرمیوں نے برطانوی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔مسلم نوجوانوں کے جذبات کے محفوظ نکاس اور تسکین  کے لیے ایک نئی انگریز وفادار سیاسی تنظیم برطانوی حکومت کے لیے ناگزیر تھی۔

انگلستان میں ۱۹۰۵ء میں لبرل پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد برطانیہ اور اس کے مقبوضہ علاقہ جات میں شہری حقوق کی بہتری کے سلسلے میں کام شروع ہوا اور سوچا گیا کہ ہندوستانیوں کو بھی کچھ حقوق دیے جائیں اور انتظامی و حکومتی معاملات میں ان کو بھی شریک کیا جائے.اس مقصد کے لیے کچھ کونسلیں بنائی جائیں  مثلاً وائسرائے اور گورنروں کے ساتھ ایک ایک کونسل ہو اور یہ کونسلیں حکومت اور عوام کے درمیان ایک ُپل کا کام  انجام دے سکیں۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول تھی کہ جمہوری اصولوں پر ان کونسلوں میں ’’ایک فرد ایک ووٹ‘‘ کے حساب سے نمائندگی کا معاملہ ہوا تو مسلمان  اقلیت میں ہونے کے سبب  ہندووں  سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ اس حوالے سے سرسید احمد خان کے رفیق کار نواب محسن الملک نے علی گڑھ ہی کے ایک رئیس حاجی محمد اسماعیل سے مل کر بہت سے مسلمان زعماء سے رابطہ قائم کیا اور پھر سب کے مشورے سے علی گڑھ کالج کے انگریز پرنسپل کے ذریعے شملہ میں موجود وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کا وقت لیا گیا۔چنانچہ ’’شملہ وفد‘‘ کے نام سے ایک وفد سر آغا خان کی قیادت میں وائسرائے کے سامنے پیش ہوا اور وائسرائے کو مسلمانوں کی وفاداری اور دلی تعاون  کا یقین دلاکراپنے اس خدشےکا اظہار کیا کہ  کونسلوں اور اس طرح کے دیگر اداروں کی نمائندگی میں’’ایک فرد ایک ووٹ‘‘ کے اصول کو اپنایا گیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافی ہو گی، لہذا اس حوالے سے مسلمانوں کے مفادکا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔اس حوالے سے انہوں نے دو مطالبات پیش کیے ۔ اول یہ کہ تمام قومی و صوبائی انتخابات میں مسلمانوں کی نمائندگی جداگانہ ہونی چاہیے اوردوم یہ کہ مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہونی چاہیے۔  لارڈ منٹو نے اس درخواست  کا بہت مثبت جواب دیا۔گویا مسلم وفد کے نقطۂ نظر کو وائسرائے نے قبول کرلیا۔

اسی سے حوصلہ پا کر نواب محسن‘الملک‘ نواب وقار الملک‘ سرآغا خان اور دیگر بڑی بڑی شخصیتوں نے دسمبر ۱۹۰۶ء میں ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی کوٹھی میں اجلاس بلایا اور مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ سرآغا خان صدر اور سرسید کے ساتھی نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک سیکرٹری مقرر ہوئے۔

مسلم لیگ کے اساسی مقاصد مندرجہ ذیل تھے:

1۔       مسلمانوں کے درمیان حکومت سے وفا داری کا احساس پیدا کرنا اور حکومت کے اقدامات اور ارادوں کے حوالے سے مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود اختلافات اور غلط فہمیوں کی تصحیح کرنا ۔

2۔        ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور مفادات کو بڑھانا اور حفاظت کرنا اور حکومت کے آگے ان کی ضروریات اور خواہشات کی نمائندگی کرنا ۔

3۔       اپنے مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر مسلمانوں اور دیگر قومیتوں کے درمیان کسی قسم کی عداوت کو بڑھنے سے روکنا۔

اسی حوالے سے مسلم لیگ کی اگلے پانچ چھ برس کی سیاست انگریز کی جی حضوری سے عبارت تھی۔تاہم 1905ء میں بنگال کی تقسیم کے خلاف ہندوئوں کی جانب سے ہونے والی پرتشدد کارروائیوں نےوقت کے ساتھ ساتھ زور پکڑ لیا اور بالآخر انگریزوں نے 1911ء میں اس دہشت گردی کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئےمسلمانوں سے کیے گئے وعدے کے برخلاف تقسیم بنگال کو منسوخ کردیا۔ حکومت کے اس فیصلے نے مسلمانوں میں شدید مایوسی پیدا کی۔اب یہ بات واضح ہو چکی تھی کی برطانوی حکومت پر اعتماد کرکے ہندوستان میں مسلم مفادات کی نگہبانی ممکن نہیں۔

مولانا محمود حسن ؒاورتحریکِ ریشمی رومال(1913ء۔1920ء)

علمائے دیوبندمیں شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ (1851ء-1920ء) کاانقلابی  کردار بہت اہم ہے۔وہ مومنانہ اخلاق اور مجاہدانہ کردار کی ایک نادر تصویر تھے۔آپ مدرسہ دیوبند کے اولین طلبہ میں سے تھے اور 40 سال یہیں مصروفِ تدریس رہے۔وہ پہلے دیوبندی عالم تھے جنہوں نے علی گڑھ کالج کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی جانب اشتراکِ عمل اور تعاون کا ہاتھ بھی بڑھایاتاکہ دیوبند اور علی گڑھ کے تعلیمی اداروں میں فاصلے کم کیے جائیں اور مسلمانوں کو درپیش جدید دور کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہوا جاسکے۔آپ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس  29 اکتوبر، 1920ء  کے موقع پر شدید مرض کی حالت میں اپنی حیات کےآخری ایام میں خطبہ صدارت ارشاد فرمایا اور کہا:

“اے نونہالان وطن جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غمخوار جن میں میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چندمخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے تاریخی مقاموں دیوبنداور علی گڑھ کا رشتہ جوڑا”۔

شیخ الہند کی پوری زندگی تعلیم و تعلم اورانگریزوں کے خلاف جدوجہد میں گزری۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہرطرح کی تکالیف سہیں، جلاوطن ہوئے ،قید میں ر ہے اور کوڑے بھی کھائے۔آپ اپنی عمر کے آخری حصے میں 1917ء میں مالٹا میں قید کیے گئے ،مرض الوفات میں1920ء میں رہا ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں دق کے عارضے میں وفات پاگئے۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے انگریزوں کی غلامی سے نجات کے لیے علمائے دارالعلوم دیوبند اور اپنے شاگردوں کی  مدد سے جو تحریک شروع کی‘ اس میں ریشمی رومال تحریک کا نام معروف ہے۔ اس تحریک کا مقصدجرمنی ، ترکی اور افغانستان کی مدد سے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانااور اسے دارالاسلام بنانے کی کوشش تھا۔ ایک زردریشمی  رومال پراس تحریک کی پوری اسکیم خفیہ طور پردرج کی گئی تھی۔ رومال کو حرارت دینے پر تحریر کے الفاظ ابھر کر نظرآتے تھے۔ مولانا محمود الحسن ؒ کے شاگردِ خاص مولانا عبیداللہ سندھی اس تحریک کے ایک انتہائی اہم رکن تھے جنہوں نےمولانا محمود الحسن کی ایما پر اس تحریک کے سلسلے میں ترکی‘ روس‘ جرمنی اور افغانستان کا سفر کیا اور وہاں کے حکمرانوں سے تعاون کی درخواست کی۔ اس تحریک نےمسلمانوں میں جذبہِ  آزادی کو پروان چڑھایا اور جلد ہی جہاد کی ترغیب پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔

علامہ محمد اقبال(1877ء۔1938ء)

بیسویں صدی میں ہندوستان میں مسلم فکر وعمل پر سب سے زیادہ جس شخصیت کے افکار اثرانداز ہوئے وہ علّامہ  محمد اقبال ہیں۔ہندوستان کے پرآشوب ماحول میں جہاں مسلمانوں کے لیے امید کی کوئی کرن نمایاں نہ تھی انہوں نے مسلمانوں کے ماضی کو حال سے جوڑا اور عظمتِ رفتہ کی بازیافت کا سراغ لگایا۔مسلم نوجوانوں کی خودی کو بیدار کیا اور جہدِ مسلسل کا درس دیا۔انہیں اپنے جداگانہ قومی تشخص کا شعور عطا کیا۔سرزمینِ پاکستان کا خواب انہوں نے ہی دیکھا۔ان کی نگاہ صرف مقامی ہی نہیں بلکہ وہ  وہ عالم گیر ملتِ اسلامیہ کی بات کرتے ہیں اوردینِ اسلام کے احیاء اور اس کی نشاۃِ ثانیہ  کے عظیم داعی  کی حیثیت بھی علامہ اقبا ل کو حاصل ہے۔

اقبال ایک انقلابی مفکر ہونے کےباوجود کسی عملی تحریک کی بنا نہ ڈال سکے تاہم ان کی فکر سے عمل کی کئی راہیں اخذکی گئیں اورانقلابی کارکنوں کی  ہمتوں کو جواں کرنے میں ان کی شاعری نے معجزانہ کردار ادا کیا۔ بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ  بیسویں صدی کی ساری احیائی تحریکیں  فکرِ اقبال کی ہی مرہونِ منت ہیں۔علامہ اقبال نے مغرب کی ترقی کا پردہ فاش کیا:

نظرکوخیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

اور

دیارِ مغرب کے رہنے والوں خدا کی بستی دکان نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو،وہ اب زر کم عیار ہوگا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائدار ہوگا

اقبال نے مغربی سیکولرعمرانی و سیاسی  نظریات پر زبردست تنقید کی ہے۔وہ نیشنلزم اور وطن پرستی کے شدید مخالف ہیں۔ان کی مغرب پر تنقید گھر کی گواہی ہے کیونکہ انہوں نے اس فکر سے بھرپور واقفیت حاصل کرنے کے بعد اسے رد کیا اور دوسری جانب اسلام کے  صحیح انقلابی فکر کی  پوری شان کے ساتھ تجدید کی ۔ دینِ اسلام کے بنیادی تصورات اور اس کے نظامِ عدل اجتماعی کو دورِ جدید کی اعلی ترین فکری سطح  سے ہم آہنگ کر کے پیش کیا۔ علامہ اقبال کے نزدیک دین اور سیاست کی علیحدگی اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔نیز انسانی حاکمیت کا نظریہ علامہ اقبال کے نزدیک  کفر اور شرک ہے۔چاہے وہ شخصی حاکمیت کا نظریہ ہو یا قومی اور عوامی حاکمیت کا ۔

؎جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

؎سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری

علامہ اقبال روئے ارضی پر اللہ کی حاکمیت  کے قیام اورنظامِ  خلافت کی بحالی کے خواہش مند تھے۔

؎تا خلافت کی بنا دنیا میں ہوپھر  استوار

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر

مولانا ابو الکلام آزادؒ (1888ء۔1958ء)

ابوالکلام آزادؒ کی شخصیت کثیرالجہات اور متنوع ہے۔ وہ بلندپایہ عالمِ دین ومفسر قرآن،منفرد ادیب، زبردست خطیب،بے باک صحافی، عبقری مفکر اورممتاز سیاست دان تھے۔سرسید احمد خان کی سیاسی حکمتِ عملی کے حقیقی ناقدکے طور پر آپ کا نام لیا جاسکتا ہے اور شیخ محمد اکرام کے بقول برِّ صغیر میں مسلمانوں کی مذہبی، علمی اور اجتماعی زندگی پر ان کا اثر فوری اور غیر معمولی تھا۔

مغلیہ سلطنت کے خاتمے اور برطانوی راج کے اثرات مسلمانوں کے لیے ہلاکت خیز تھے۔ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کے لیے راہِ نجات قرونِ اولیٰ  کے طرزِ عمل میں تلاش کی اور  “حکومتِ الٰہیہ ” کے قیام کا نظریہ پیش کیا۔ آپ نے گزشتہ صدی کے اوائل میں  “الہلال “اور “البلاغ   “نامی رسائل جاری کئے۔جس میں حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی پر زور دعوت دی گئی۔ ان کے پرجوش اور جذبات انگیز  طرزِ نگارش  اور مسحور کن خطابت نے انہیں مقبولیت عامہ عطا کردی اوران کی دعوت نے  بے شمار  مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کے دلوں  کو مسخر کرلیا تھا۔

برِّ صغیر پاک و ہند کی تاریخ میں انیسویں صدی میں بنگال کے  حاجی شریعت اللہؒ (متوفی 1840ء)نے اپنی فرائضی تحریک   میں پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ منظم انداز  میں درجہ بدرجہ  تنظیمی عہدے متعارف کرائے اور اس طرح عوامی مفادات کے حصول کی جدوجہد کے لیےایک منظم جماعتی ساخت کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ان کے بعد مولانا ابولکلام آزاد ؒ وہ دوسرے فرد تھے جنہوں نےمسلم مفادات کی نگہ بانی کے لیے  تنظیمی ڈھانچہ کی اہمیت کونہ صرف بلند آہنگ میں بیان کیابلکہ اس کے لیے عملی اقدام بھی کیا۔انہوں نے  حکومتِ الٰہیہ کے قیام کے لیے انقلابی تنظیم “حزب اللہ” کی داغ بیل ڈالی اور اپنے رسالہ “الہلال ” کو اس کے مقاصد کی ترویج کے لیے استعمال کیا۔ اس جماعت کا مقصد مذہبی تعلیمات کا احیاء اور مسلم سیاسی مفادات کی نگہداشت تھا۔ اپنے مقاصد میں ناکامی کے باوجود اس منصوبے کے اس عہد کے باشعورمسلم نوجوانوں پر اثرات  غیر معمولی تھے۔سید مودودی بھی  نوجوانی میں “الہلال” کے سنجیدہ قاری تھے۔

حریتِ فکرو عمل آپ کا بنیادی عقیدہ تھا یہی وجہ ہے کہ متعدد بار آپ کو برطانوی سامر اج کے خلاف بغاوت کے جرم میں پابندِ سلاسل کیا گیا۔تحریکِ خلافت میں آپ  بھرپور شریک رہے اور اس حوالے سے “مسئلہ خلافت” پر معرکہ آرا خطاب کیا جو آج بھی کتابی شکل میں حوالے کا کام دیتا ہے۔ لیکن بعد ازآں کچھ اسباب کی بنا پر آپ نے اس عظیم کام کو خیر باد کہہ دیا۔جس کی بنیاد پر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ابوالکلام آزاد کوان کی حیات ہی میں “مرحوم” کہہ کر مخاطب  کیا تھا۔

“الہلال” نومبر 1914ء میں بند ہوا اس کی جگہ” البلاغ” نے لے لی۔ یہ بھی مارچ   1916ء میں بند ہوگیا۔اس سال مولانا رانچی میں نظربند کیے گئے۔یکم جنوری1920ء کو مولانا رہاہوئے۔

1920 ء میں آزاد نے ایک نئی تنظیمی اسکیم پیش کی جس کا مقصد  کل ہند سطح پر مسلمانوں کی اجتماعیت کو “امیرِہند” کے تحت منظم کرنا تھا۔ ہر صوبے کے مسلمان اپنے اپنے صوبے میں ایک امیرِ شریعت کا انتخاب کریں اور جو کہ علماء کی ایک کونسل کے تعاون سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات کی نگہبانی کرے  اور یہ صوبائی امیرپھر ایک “امیرِ ہند” کا چنائو کریں ۔انہوں نے اس منصوبے کے لیے رائے عام ہم وار کرنے کی غرض سے اپنے بعض رفقاء کو مختلف مقامات پر بھیجا لیکن آزاد کا یہ منصوبہ بھی مسلم قائدین اور عوام کی جانب سے سردمہری کا شکار ہوگیا۔

آزاد کے ان قاصدوں میں ایک مستری محمد صدیق بھی تھے جو بعد ازآں سید مودودی کے ساتھ جماعتِ اسلامی میں شریک ہوگئے۔

یہ دور مسلمانوں کے لئے بہت ہی اہم تھا۔اس وقت تحریکِ خلافت اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔مولانا ابوالکلام  آزاد اسلامی اتحاد کے پر جوش داعی تھے،اور خلافتِ عثمانیہ کے فعال موئید تھے۔انہوں نے بھی جوہر برادرز کے ساتھ تحریکِ خلافت  میں برابر کا حصہ لیالیکن 1924ء میں ترکوں نے خودخلافت سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔اس کے نتیجے میں  مسلمانانِ ہندکے ان راہنماؤں کو اپنی سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑی،جنہوں نے جنگِ طرابلس کے وقت سے اپنی سیاسی پالیسی کی اساس خلافتِ عثمانیہ کی بقا اور ترکوں سےقلبی تعلقات  کی بنا  پر قائم کی تھی۔تنسیخِ خلافت ان کے لیے ایک سانحے سے کسی طور کم نہ تھی۔اب تحریک ِ خلافت کے راہنما اندرونِ ہندکی  سیاست جانب متوجہ ہوئے۔حکومت برطانیہ کی جانب سے ہندوستان کےنئے آئینی بندوبست کے بارے ےمیں تجاویز طلبی پرکانگریس کی جانب سے 1928 ء میں نہرو رپوٹ شائع کی گئی۔ اس رپورٹ کی اشاعت کا شدید ردعمل ہوا۔ مسلم قومی راہنما  دو طبقات میں تقسیم  ہوگئے۔ مولانا محمد علی جوہر،مولانا شوکت علی جوہر،مولانا ظفر علی خان،مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔لیکن مولانا  ابولکلام آزاد انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ بن گئے۔اس کے بعد ان کی سیاسی زندگی کانگریس کی تاریخ کا ایک باب بن گئی۔تحریکِ پاکستان کے  ابتدائی دور میں وہ کانگریس کے صدر کے عہدے پر تھے،جس کی و جہ سے ان کی شخصیت اور طریقہء کار مسلمانوں میں مستقل  معرض بحث رہے۔ اپنی بصیرت کے باعث انہوں نے شعبہ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کیا اور اپنے لیے تعلیم کی وزارت کو منتخب کیاچنانچہ ان کو تقسیمِ ہند سے کچھ قبل کانگرس کی طرف سے وزیرِ تعلیم مقرر کیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد بھی انہوں نےکسی اور اعلیٰ ترمنصب  کے بجائے اسی وزارت کو اختیار کیا اور ہندوستان میں تعلیم کو جدید علمی و تحقیقی بنیادوں پراستوار کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ابوالکلام آزاد قومی و تہذیبی سرمایہ  کی منتقلی و حفاظت بذیعہ تعلیم و تربیتِ نسلِ نو کے لیے مستقل کوشاں رہے۔  وہ اپنی وفات 1958ء تک اس عہدہ پر رہے۔

مولانا محمد علی جوہر(۱۸۷۸ء۔ ۱۹۳۱ء)

مولانا محمد علیؒ ایک انتہائی مخلص مسلمان رہنما تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی چاہتے تھے۔ رسول اللہؐ سے والہانہ عشق رکھتے تھے۔ انہوں نے ’کامریڈ‘ اور’ ہمدرد‘ کی تحریروں اور اپنی تقریروں کے ذریعے قوم میں ایک نئی روح پھونکی۔ ان کی تحریر میں بلا کا تیکھا پن تھا۔ ان کا اصل جوہر تحریک خلافت میں کھلا‘ جس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں نئی بیداری رونما ہوئی اور جو مایوسی مسلمانوں پر مسلط تھی وہ ختم ہوئی۔مولانا محمد علیؒ اورتحریک خلافت کے زیر اثر اتحاد اسلامی (Pan Islamism)کا احیا ہوا۔ ہندوستان کی سرزمین پر اس کے سب سے بڑے علم بردار محمد علی جوہرؒ تھے۔ یہی جذبہ تھا جس نے ان سے ترکوں کا انتخاب (The choice of Turks) جیسا معرکہ آرا مقالہ لکھوایا‘ جس کی نظیر انگریزی صحافت میں بھی نہیں ملتی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی کے بانی مولانا محمد علیؒ جوہر تھے۔انہوں نے ۱۹۲۰ء میں اس کی بنیاد علی گڑھ میں رکھی تھی‘ بعد میں ۱۹۲۵ء میں اسے دہلی منتقل کردیا گیا۔اس ادارے کا مقصد طلبہ میں اسلامی تشخص کو اجاگر کرنا اور علی گڑھ یونیورسٹی کے برعکس انگریزوں کی کاسہ لیسی سےبچنااور اسلامی عقائد کومغربی اثرات سے محفوظ رکھنے کی جدوجہد کرنا تھا۔۱۹ ؍نومبر۱۹۳۰ء میں انہوں نے لندن کی گول میز کانفرنس میں جو اعلان کیا تھا اللہ نے ان کا بھرم رکھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا۔ یا تو آپ کو ہندوستان کو آزادی دینا ہوگی یا آزاد ملک میں قبر کے لیے جگہ دینی ہوگی۔ ۴؍ جنوری ۱۹۳۱ء کو لندن میں ان کا انتقال ہوا اور وہ بیت المقدس میں مدفون ہوئے۔

تحریکِ خلافت

تحریک ِخلافت کا پس منظر:جنگِ عظیم اول (1914ء۔1918ء)

پہلی جنگِ عظیم نے (1914ء۔1918ء) دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ مسلمانوں کے اعتبار سے سب سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ سلطنتِ عثمانیہ کا وجود ہی ختم ہوگیا۔اس جنگ کا آغاز اس طرح ہوا کہ 28 جون 1914ء کو ایک سربیائی  باشندے نے آسٹریا کے شہزادے “ھبزبرگ آرکڈیوک ٖفرانز فرڈنینڈ “کو گولی مار کر قتل کردیا۔ اسی واقعہ کی بنیاد پر 28 جولائی 1914ء کو آسٹریا نے سربیا کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ پہلی عالمی جنگ اتنابڑا عالمی تنازعہ تھا جو اگلی چار دہائیوں تک مختلف محاذوں پر جاری رہا۔ آسڑیا کے اتحادی جرمنی نے بھی آسٹریا کا فوری ساتھ دیا۔ ادھر سربیا کی حفاظت کے لئے ہالینڈ، بیلجیم، فرانس اور انگلینڈ کی فوجیں بھی تیار ہو گئیں۔ اس طرح یہ واقعہ ایک عظیم جنگ کی شکل اختیار کرگیا۔  اس جنگ میں ایک طرف جرمنی، آسٹریا، ہنگری سلطنت، ترکی اور بلغاریہ، اور دوسری طرف برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی، رومانیہ، پرتگال، جاپان اور امریکا تھے۔ 11 نومبر 1918ء کو جرمنی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے صلح کی درخواست کی ۔28 جون 1919ءکو فریقین کے مابین معاہدہ ورسائی طے پایااور جنگ بندی ہوگئی۔

تحریکِ خلافت کا آغاز

ہندوستان کے مسلمان عثمانی خلافت سے دلی لگائو رکھتے تھے۔شیخ الہندمولانا محمود الحسن نے اپنی  “ریشمی رومال” تحریک میں عثمانی خلافت سے مدد چاہی تھی جس کی ان کی طرف سے حامی بھی بھری گئی تھی۔عثمانی خلیفہ مسلمانوں کے رسمی اتحاد کا مظہر تھا۔ مقاماتِ مقدسہ اس کے زیرِ انتظام تھے۔مسلمانانَ ہند اس یادگار کو ہرقیمت پر باقی رکھنا چاہتے تھے ۔جبکہ ترکی کی مسلم خلافتِ عثمانیہ صلیبی یورپ کی نظروں میں مسلسل کھٹکتی تھی۔انگریز مسلمانوں کی اس علامتی لیڈر شپ کو بھی ختم کرکے اس کے علاقوں کو تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے عرب ترک قوم پرستانہ کشمکش کو ہوا دی۔جنگ میں جرمنی کی شکست نے اس کے اتحادی ترکی کے لیے شدید مشکلات کا دروازہ کھول دیا اور اسے اس جنگ کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑا۔

جنگِ عظیم اول کے بعدخلافتِ عثمانیہ کی ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے مسلمانانِ برِّصغیر شدید اضطراب میں تھے۔جنگِ عظیم اول میں مسلمانوں کی شرکت اس امر سے مشروط تھی کہ جنگ کے دوران ان کے مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی اور جنگ کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے سے باز رہا جائے گا۔ جنگ کے بعد برطانیہ نے اپنے وعدے کا پاس نہیں کیاترکی پر غاصبانہ فوجی تسلط قائم کرلیاگیا جس کے پیشِ نظر1919ء میں ہندوستان بھر میں احتجاجی جلسے شروع ہوگئےاور لکھنئو میں ایک مرکزی کانفرنس سر ابراہیم ہارون جعفر کی سرکردگی میں منعقد ہوئی جس میں میں “آل انڈیا سینٹرل خلافت کمیٹی” کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مرکز ممبئی میں قائم کیا گیا۔مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نظر بند تھےلہٰذابمبئی کےسیٹھ چھوٹانی اس خلافت کمیٹی کے صدر اور حاجی صدیق کھتری اس کے سیکریٹری منتخب ہوئے۔رہائی کے بعد حاجی صدیق کھتری کی جگہ مولانا شوکت علی سیکریٹری ہوگئے۔

 پورے ملک میں رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے خلافت کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ اس حساس مسئلے پر پوری مسلم مذہبی وسیاسی قیادت یکسو تھی۔مولانا محمد علی جوہر،مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ثناء اللہ امرتسری،مفتی کفایت اللہ،مولانا عبدالباری فرنگی محلی،مولانا عبدالماجد بدایونی ، مولانافاخر الٰہ آبادی،مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا حسرت موہانی،حکیم اجمل خان، ڈاکٹر سیف الدین کچلو،ڈاکٹر مختار احمد انصاری، سیٹھ چھوٹانی وغیرہ اس تحریک کے قائدین میں تھے۔  اس خالص مسلم مذہبی تحریک کو سیکولرانڈین نیشنل کانگریس  نے بھی انگریز مخالفت اورمسلم برادراِن وطن کی حمایت کے جذبے کے تحت اپنی پرجوش حمایت سے نوازااوراس کے لیڈرموہن داس کرم چندگاندھی اور پنڈت موتی لال نہرو اس کے جلسوں میں مستقل شامل ہوتے رہے۔ یہ تحریک ہندومسلم اتحاد کی ایک عظیم الشان علامت  بن گئی تھی۔

مقاصد

تحریک خلافت کے بڑے بڑے مقاصد یہ تھے:

1۔       خلافتِ عثمانیہ کا تحفظ کیا جائے۔

2۔        مقامات مقدسہ(مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہترکی کی تحویل میں رہیں۔

3۔       خلافتِ عثمانیہ کی جغرافیائی حدود میں ردوبدل نہ کیاجائے۔

پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر کسی انتشاراور ردعمل سے بچنے کے لیے برطانوی حکومت نے رولٹ ایکٹ 1919ء نافذ کیا جس کے تحت حکومت کو بلاجوز غیر معینہ مدت تک  گرفتاری کا قانونی جواز مل گیا۔آل انڈیا کانگریس نے رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر مہم شروع کر دی۔ دسمبر1919ءمیں آل انڈیا کانگریس، مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے جہاں گاندھی جی نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔

خلافت وفد

1920ء میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک وفد انگلستان، اٹلی اور فرانس کے دورے پر روانہ ہوا تاکہ وزیر اعظم برطانیہ اور اتحادیوں کو ان کےقبل از جنگ کے وعدے یاد دلائے۔ وفد نے برطانیہ پہنچ کر وزیر اعظم لائیڈ جارج سے ملاقات کی لیکن اس کا جواب یہ تھا کہ “آسٹریلیا اور جرمنی سے خوف ناک انصاف ہو چکا اور ترکی اس سے کیوں کر بچ سکتا ہے” ۔ یہ جواب سن کر وفد کو بڑی مایوسی ہوئی۔ اس کے بعد وفد نے فرانس کا بھی دورہ کیا مگر کہیں سنوائی نہ ہوئی۔

خلافت وفد ابھی انگلستان میں ہی تھا کہ ترکی پر معاہدہ سیورے مسلط کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں تمام بیرونی مقبوضات ترکی سے چھین لیے گئے، ترکی پر فضائی فوج رکھنے پر پابندی لگا دی گئی اور درہ دانیال پر اتحادیوں کی بالادستی قائم رکھی گئی۔

تحریک ترک موالات

 خلافت وفد کی ناکام واپسی اور معاہدہ سیورے کی ذلت آمیز شرائط کے خلاف خلافت کمیٹی نے 1920ء میں تحریک ترک موالات کا فیصلہ کیا گاندھی جی کو اس تحریک کا رہنما مقرر کیا گیا۔ اس تحریک کے اہم مقاصدیہ تھے۔

1۔       حکومت کے خطابات واپس کر دیے جائیں۔

2۔        کونسلوں کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا جائے۔

3۔       سرکاری ملازمتوں سے علیحدگی اختیارکر لی جائے۔

4۔        تعلیمی ادارے سرکاری امداد لینا بند کر دیں۔

5۔       مقدمات سرکاری عدالتوں کی بجائے ثالثی عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔

6۔        انگریزی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔

تحریکِ عدم تعاون ہندو مسلم عوام کی نمائدہ جماعتوں تحریکِ خلافت کمیٹی اور نیشنل کانگریس کے باہمی تعاون سے بھرپور کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام

تحریک ترکِ موالات کے دوران مولانا محمد علی جوہر نے جامعہ علی گڑھ کی انتظامیہ سے سرکاری امداد نہ لینے کی اپیل کی۔ کالج کی  انتظامیہ نےاپنی دیرینہ روش کے مطابق ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ مولانا محمد علی جوہرنے جامعہ علی گڑھ سے مایوس ہوکر  طلبہ کو اپنے ساتھ ملا کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ بعدازآں یہ ادارہ 1925ء میں دہلی منتقل کر دیا گیا۔

تحریکِ خلافت کا اختتام

5 فروری1922ء کو اتر پردیش کے ایک گاؤں چوری چورا میں خلافت کے ایک جلوس میں پولیس کے ساتھ تصادم میں لوگوں نے مشتعل ہو کر ایک تھانے کو آگ لگا دی جس میں 22 سپاہی جل مرے۔ اس واقعے کی بنیادبناکر کرگاندھی جی نے اچانک اعلان کر دیا کہ چونکہ یہ تحریک عدم تشدد پر کار بند نہیں رہی اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے۔ اس طرح تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدم تعاون ختم ہوگئیں۔

گاندھی جی نے پورے ملک بشمول کانگریس کے ممتاز رہنماؤں کی رائے کے برخلاف  اس تحریک کو اس وقت ختم کرنے کا اعلان کیا جب مسلمانوں کے تمام رہنما جیل میں تھے اور تحریک کی قیادت سنبھالنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔ اس سے تحریک بھی بے نتیجہ  ختم ہو کر رہ گئی اور مسلمانوں کا اپنے قائدین سے بھی اعتماد اٹھ گیا۔گاندھی جی  کو خود بھی جیل جانا پڑا اور مولانا محمد علی جوہرجو اس تحریک کے روح رواں تھے، ان کی سیاسی حیثیت کو بھی زبردست دھچکا پہنچا۔

ترکی میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ اورصدارت کا اعلان

مارچ 1924ء میں مصطفی کمال پاشااتاترک نے یونانیوں کوشکست دے کر ترکی کے علاقے آزاد کرائے اور جمہوریہ کے قیام اور اپنی صدارت کا اعلان کر دیا اوراس طرح عظیم خلافت عثمانیہ جو کہ 1517ء سے کسی نہ کسی شکل میں قائم تھی خود ترکوں  کے ہاتھوں اس خاتمہ ہوگیا۔

چاک کردی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ ، عیاری  اوروں کی دیکھ

مصطفے کمال پاشا کی حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ ایک معاہدہ لوزان تحریر کیا۔ اس معاہدے کی شرائط معاہدہ سیورے کے مقابلے میں ترکی کے لیے بہتر تھیں۔ ترکی میں خلافت ختم ہو گئی اور جمہوریت قائم ہو گئی۔ حجاز مقدس ترکی کے انتظام سے نکل گیا اور وہاں  پر شریفِ مکہ کا کنٹرول ہو گیا ۔ حجاز مقدس کی حفاظت اوراحترام  کا مسئلہ معقول طور پر طے ہوگیا اور یہاں  پر عربوں کا کنٹرول ہوگیا ۔ ترکی کی جغرافیائی حدود کی سالمیت برقرار رہی تاہم حکومت ترکی نے خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ انتظام بہت سے علاقوں پر اپنی حاکمیت ازخود ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔[iii]

ان تبدیل شدہ حالات میں برصغیر میں تحریکِ خلافت جاری رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، اس لیے رفتہ رفتہ یہ تحریک بھی اختتام سے دوچار ہوگئی۔

تحریک خلافت کے نتائج

تحریک خلافت جیسی عوامی تحریک کی مثال برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مسلم عوام و خواص نے جیسی والہانہ شرکت اس تحریک میں کی اس کی مثال نہیں ملتی ۔ سیدمودودیؒ جو اس وقت سولہ سترہ سال کے نوجوان تھے‘ وہ اس تحریک کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:

 ’’میں نے ہوش سنبھالا تو اس برعظیم ہند میں ایک عظیم الشان تحریک برپا تھی۔ایک طرف مسلمان‘ جنگ عظیم اول کے بعد مقامات مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کی حفاظت کے لیے تن‘ من ، دھن کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ ہر مسلمان کی طرح میرے دل میں بھی یہ غم تھا کہ مسلمانوں کی ایک رہی سہی سلطنت جودنیا میں باقی رہ گئی تھی ،یعنی ترکوں کی سلطنت ، وہ مٹ رہی ہے،خلافت جیسی کچھ باقی رہ گئی تھی جو دنیا کے مسلمانوں کوجمع کرسکتی تھی‘ ختم ہوتی نظر آرہی ہے اور مسلمانوں کے تمام مقاماتِ مقدسہ خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے احساسات  بھی وہی تھے جو ساری مسلمان قوم میں پائے جاتے تھےاور اسی بنا پر میں بھی اس تحریک میں ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے شریک ہوگیا‘‘۔

اس میں شک نہیں کہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی لیکن اس نے ہندوستان کی سیاست اور مسلمانوں کی تاریخ پر گہرے نقوش مرتب کیے۔

اس بے مثال تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں کی مایوسی کا خاتمہ ہوا ان میں خود اعتمادی پیداہوئی۔ ملی مقاصد کا شعور بیدار ہوا۔ خلافت کے اعلیٰ نصب العین سے عمومی وابستگی پیدا ہوئی ۔اس تحریک نے جس بے نظیر ہندومسلم اتحاد کو فروغ دیا چشمِ فلک نے اس کا نظارہ پھر نہ دیکھا۔1857ء کے بعدمسلمانوں میں اضمحلال کے ایک طویل دور کے بعد ایک انتہائی پرجوش قیادت نے جنم لیا جس کی انگلیاں وقت کی نبض پر تھیں۔اس تحریک کے توسط سے علمااور طلبا کا داخلہ ملکی سیاست میں ہوا جس کے انتہائی دور رس نتائج مرتب ہوئے۔

تحریکِ خلافت کے بطن سے ہی ایک اور عظیم عوامی تحریک، تحریک ترکِ موالات نے جنم لیا اور یہ دونوں تحاریک ایک ساتھ چل رہی تھیں۔تحریک عدم تعاون کے نتیجے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کی تحریک شروع ہوئی تھی۔اس صورتِ حال میں انگریزوں کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ  ان کی ہندوستانی رعایا اپنے  مطالبات کے لیے اس حد تک جاسکتی ہے کہ اس کے اضطراب کی لہروں سے غیر ملکی اقتدار کا سنگھاسن ڈولنے لگے۔

جمیعت علمائے ہند

1919ءمیں دہلی میں خلافت کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس کانفرنس  میں شریک  علماء کی ایک الگ مجلسِ مشاورت مولانا عبدالباری فرنگی محلی کی صدارت میں ہوئی جس میں ملکی سیاست میں علماء کے کردار کے  حوالے سے ایک ملک گیر انجمن کی تاسیس پر غور کیا گیا تاکہ جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں کی شرعی طور پر رہنمائی کی جاسکے۔ اس اجلاس میں ایک نئی تنظیم “جمیعۃ العلمائے ہند”کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جس کا صدرعارضی طورپر مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب  اور ناظم مولانا احمد سعید دہلوی  کو مقررکیا گیا۔نومبر 1920ء اس تنظیم کا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا جس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن کوصدر، مفتی کفایت اللہ کو نائب صدر اور مولانا احمد سعید دہلوی  کو ناظم مقررکردیا گیاتاہم 20 نومبر 1920ء کو مولانا محمود الحسن کے انتقال کے بعد1940ء تک مفتی کفایت اللہ پہلے عارضی اور پھر مستقل صدر کے عہدے پر فائز رہے۔جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی رہنماؤں میں مولانا ابو المحاسن محمد سجاد، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ،مولانا انور شاہ کاشمیری ، مولانا ابوالکلام آزاد،مولامناظر احسن گیلانی ، مولانا سید سلیمان ندوی ، مولانا محمد میاں دیوبندی جیسے اکابر سرفہرست ہیں۔ابتدائی دور میں جمیعۃ علماء ہند کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی  کہ اس میں مسلمانوں کے بین المسالک اتحاد کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔اکابرِ دیوبند کے ساتھ ساتھ مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا ابوالکلام آزاد اور اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دو نامور عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسری ، اور مولانا داؤد غزنوی بھی جمعیۃ علماء ہند میں شامل تھے ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ سکتے ہیں شروع میں جمعیۃ علماء ہند بلا تفریقِ مسلک ہندوستانی مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم تھی ۔

مجلسِ احرارِ اسلام

تحریک خلافت کے خاتمے کے بعد خلافت کمیٹی محمد علی جوہر کی تگ و تاز کا عنوان بن کر رہ گئی تھی۔1928ء کے اواخرمیں نہرو رپورٹ یا بالفاظِ دیگر کانگریس کی حمایت و مخالفت پرخلافت کمیٹی تقسیم ہوگئی اور 17جولائی 1929ء کوپنجاب کے رہ نماؤں کو اس رپورٹ کی حمایت کی بنا پر مرکزی خلافت کمیٹی سے الگ کردیا گیا۔بعدازاں خود کانگریس نے نہرو رپورٹ کومسترد کردیا جس سے ان مسلم رہ نمایان میں خفت کا احساس پیدا ہوا اور انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے مشورے سے ایک نئی سیاسی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ ان رہنماؤں میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، چودھری افضل حق، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، شیخ حسام الدین، خواجہ عبد الرحمن غازی، اور مولانا مظہر علی اظہر شامل ہیں جنہوں نے اس جماعت کی بنیاد1929ءمیں رکھی۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس احرار اسلام کے پہلے صدر اور مولانا سید محمد داؤد غزنوی پہلے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔تاسیسی اجلاس سے سید عطا اللہ شاہ بخاری  نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’ میں چاہتا ہوں کہ مسلمان نوجوان ہندوستان کی آزادی کا ہر اول دستہ ثابت ہوں اور آزادی کے حصول کا فخر ہمارے حصے میں آئے۔ استبداد کی چکی کا دستہ گورے کے ہاتھ میں ہو یا کالے کے ہاتھ میں، چکی وہی رہتی ہے اور میں اس چکی کو توڑدینا چاہتا ہوں۔ غلامی بہت بڑا گناہ ہے، اگر اس گناہ سے نکلنا ہے تو اس سے بہتر کوئی موقع نہیں کہ ہم انگریزوں کے خلاف پر امن لڑائی میں شامل ہو جائیں۔‘‘

مجلسِ احرار نے گو قیامِ پاکستان کی مخالفت کی لیکن پاکستان بن جانے کے بعداحرار نے مملکت کے ساتھ وفاداری کا عزم کیا اور مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی امور میں  اشتراک کرلیا۔

خاکسار تحریک

ادیب، عالم دین اور ممتاز ریاضی دان  علامہ عنایت اللہ مشرقی 25 اگست 1883ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے ریاضی اور طبعیات کے شعبوں میں اعلیٰ امتیازات حاصل کئے تھے۔وہ ایک بلند پایہ عالم تھے اور متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے۔  27 اگست 1963ء علامہ عنایت اللہ مشرقی لاہور میں وفات پاگئے اور اپنے گھر میں آ  سودۂ خاک ہوئے۔

اپریل ،1931ء میں علامہ عنایت اللہ المشرقی نے خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ جس کا منشور نظم، ضبط، خدمت خلق اور اطاعت امیر تھا۔ جلد ہی یہ تحریک ہندوستان بھر کی ایک زبردست سیاسی تنظیم بن گئی۔  یہ نیم فوجی قسم کی تنظیم تھی بندوق کی جگہ بیلچہ ان لوگوں کے کاندھے کی زینت بنا۔علامہ صاحب کا تجزیہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا سبب دین سے دوری ہے۔ اگر وہ اپنے ایمان میں مضبوطی اور استحکام پیدا کر لیں، سپاہیانہ زندگی اپنا لیں، اخوت و مساوات اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں گمشدہ عظمت دوبارہ حاصل نہ ہو جائے۔علامہ صاحب کی کتاب ’’تذکرہ‘‘ بہت مشہور ہوئی۔ اس کا مرکزی نکتہ قرآنی الفاظ

  (القرآن،آلِ عمران3:۱۳۹)اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ

یعنی”تم ہی غالب رہوگے  اگر تم مومن ہو “۔ان کا زور مروجہ مذہبی عقائد و رسومات کا ردکرنے پر تھا اور انہوں نے مولوی کا غلط مذہب ” نامی کتاب تصنیف کی۔ ہفت روزہ ’’الاصلاح‘‘خاکسار تحریک کا ترجمان تھا۔اس جماعت کے کارکن خاکسار کہلاتے اور وہ عمومی طور پر خاکی رنگ کا لباس پہنتے تھے۔ ہرخاکسار کے لیے لازم تھا کہ وہ خاکی یونیفارم پہنے بلکہ نماز روزہ کی پابندی لازم تھی اس سلسلہ میں کوئی عذر قابل قبول نہ تھا غلطی کرنے والے خاکسار کو جسمانی سزا بھی دی جاتی تھی۔

مارچ 1940ء میں خاکساروں نے اندرون لاہور جلوس نکالاجوکہ فوجی پریڈ سے ملتا جلتاتھاجلوس بھاٹی دروازہ سے شروع ہوا حکومت نے اسے خلاف قانون قرار دے کر روکنے کی کوشش کی جس سے خاکسار مشتعل ہو گئے انہوں نے پولیس پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں ایک انگریز پولیس آفیسر مارا گیا۔ پولیس نے گولی چلادی جس کے نتیجہ میں بہت سے خاکسار شہید ہوئے۔ کافی خون خرابے کے بعد حکومت نے خاکسار تحریک کو کالعدم قرار دے کر پابندی لگا دی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد یہ جماعت دوبارہ بحال ہوئی۔ تقسیم سے پہلے یہ جماعت تقسیم ہند کے خلاف تھی لیکن بعد میں حمایتی بن گئی۔

یہ تھا ان تحاریک و شخصیات کا تذکرہ جو سید مودودی کے قریبی عہد میں ان سے قبل یا ان کے دور میں منصّۂ شہود پر نمایاں تھیں اور انہوں نے مل کر سید مودودی کے عہد تشکیل کی تھی۔

باب دوم: سید ابولاعلیٰ مودودیؒ: شخصیت۔ احوال

تاریخ  عظیم انسانوں کی سوانح عمری ہے!

خاندان

سید ابوالاعلی مودودی ؒ(۱۹۰۳ء۔ ۱۹۷۹ء ) امام حسین  کی اولاد میں سے ہیں اور اس طرح آپ کا سلسلہ نسب سیدنا علی سےجاملتاہے۔ آپ کے جد امجد تیسری صدی ہجری میں  افغانستان میں ہرات کے قریب چشت کے مقام پر آباد ہوگئےتھے۔تصوف کے معروف چشتیہ سلسلے کے بانی ابو احمدابدال چشتی ؒ (متوفی355 ہجری)جو کہ حسن مثنیٰ  ؒبن امام حسن کی اولاد میں سے تھے، آپ کے بزرگوں میں سے ہیں۔ابواحمد ابدال چشتیؒ کےجانشین ان کے بیٹے خواجہ ابومحمد چشتیؒ (۳۳۱ھ۔ ۴۱۱ھ)تھے جن کے جانشین ان کے بھانجے ناصر الدین ابویوسف چشتی ؒ((۳۷۵ھ۔ ۴۵۹ھ) ہوئے جو سید علی نقی ؒ کے واسطے سے سیدنا امام حسین کی اولادمیں سے ہیں۔ان ناصر الدین ابویوسف چشتی ؒکے بڑے بیٹے خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ (۴۳۰ھ۔ ۵۲۷ھ)ہیں۔ یہ ذاتِ گرامی ہندوستان کے تمام چشتیہ سلسلوں کے شیخ الشیوخ اور خاندانِ مودودیہ کے مورثِ اعلیٰ ہیں ۔آپ کی اولاداسی حوالےسےسادات مودودی کہلاتی ہے۔ خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒکے پردادا پیر تھے۔  خواجہ مودود  چشتی       ؒ نے اپنی تعلیمات، کردار، اور افکار سے ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔

سید مودودی کے اسلاف چشت سے ہجرت کر کے بلوچستان میں کئی پشتوں تک مقیم رہے۔ان بزرگوں میں اولین قطب الدین ابو احمد((1288-1353ء)تھے جو ہرات سے ہجرت کر کے بلوچستان کےمعروف شہر پشین سے 12 کلومیٹر شمال کی طرف “کلی منزکی” میں مقیم ہوئے۔

سید مودودی کے اجداد نویں صدی ہجری میں بلوچستان سے ہجرت کر کے ہندوستان میں کرنال کےقریب قصبہ براس میں آباد ہوگئےتھے۔ اس شاخ کے پہلے بزرگ کا نام شاہ ابو الاعلیٰ جعفر مودودیؒ (۷۸۲ھ۔ ۹۱۶ھ) تھا۔ انھی بزرگ کے نام پر سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نام رکھا گیا۔  یہ دور سکندر لودھی (۸۹۵ھ۔ ۹۲۳ھ)کی حکم رانی کا تھا۔سکندرلودھی اس زمانے میں راجپوتوں سے معرکہ آرا تھا۔ شاہ ابو الاعلیٰ مودودیؒ بھی مجاہدانہ طور پر شریک جنگ ہو گئے۔ ان کی جنگی مہارت اور تیر اندازی کے نتیجے میں راجہ مارا گیا اور سکندر لودھی کو فتح حاصل ہوئی۔ سکندر نے صلے میں آپ کو ضلع کرنال سے میرٹھ تک کی جاگیر تحفہ میں دے دی۔  کچھ عرصہ یہ خاندان کرنال رہا، پھر شاہ عالم کے زمانے میں دہلی آ گیا۔

والدین

سید مودودی کے والدسید احمد حسنؒ (۱۸۵۵ء۔ ۱۹۲۰ء ) دہلی میں ۱۸۵۵ء میں پیدا ہوئے۔

1857ء کی جنگ آزادی دیگر شرفائے دہلی کی مانند اس خاندان کے لیے بھی آزمائش و ابتلا کاپیغام لائی۔ سید احمد حسن کے نانا محسن الدولہ احمد مرزا خان کو پھانسی دے دی گئی ۔ان کے خاندان نے دہلی میں جو جائیداد بنائی تھی وہ  سب برباد ہوگئی۔صرف  ایک مکان جو کھجوروں والی حویلی کہلاتا تھا باقی بچا۔سید احمد حسن نےاسی مکان میں اوائل جوانی تک قیام کیا۔

اس پرآشوب دور میں سید احمد حسن نے ابتدائی تعلیم خاندانی روایت کے مطابق گھر پر حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے مولانا رشید الدین کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیااور مروج دینی تعلیم کا اکتساب کیا۔

 سر سید احمد خاں (۱۸۱۷ء۔ ۱۸۹۸ء ) نے ۱۸۷۵ء میں علی گڑھ کالج قائم کیا تو فطری طور پران کی خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان علی گڑھ آ کر جدید تعلیم حاصل کریں۔ مگر اس وقت عام مسلمانوں میں درپیش حالات کے تحت انگریزی تعلیم اور تہذیب و تمدن سےایک نوع کی  بے زاری پائی جاتی تھی۔ سید حسن کا خاندان اس معاملے میں اس لیے کچھ زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ

’’یہاں مذہب کے ساتھ ساتھ پیشوائی بھی تھی‘‘۔

کالج میں داخلے کے سلسلے میں سرسید نے اپنے قرابت داروں اور حلقہٴ اثر کے افراد کے بچوں پر خصوصی توجہ کی۔چنانچہ سید مودودی کی دادی سے قرابت داری کے سبب سرسید نے احمد حسن کا بھی انتخاب کیا۔سید احمد حسن کے والدسید حسن ان کو علی گڑھ بھیجنے کے حق میں نہیں تھے، لیکن سر سید احمد خان اس رشتہ داری کے بل پر انھیں علی گڑھ لے گئے۔

سید حسن، اپنی مغربی تہذیب کی ناپسندیدگی اور انگریز سے نفرت کے باوجود مروتاً سرسید کو انکار نہ کرسکے تھے تاہم احمد حسن تادیر علی گڑھ کالج میں نہ رہ سکے ۔ ایک دن ان کے کوئی عزیز علی گڑھ گئے اور احمد حسن کو انگریزی لباس میں کرکٹ کھیلتا دیکھ لیا۔ انھیں اس بات سے بہت رنج ہوا کہ ایک پیر طریقت کا لڑکا انگریزی لباس پہنے کرکٹ کھیل رہا ہے۔ چنانچہ دہلی واپس آ کر انھوں نے سید حسن سے کہا :

’’بھائی صاحب احمد حسن سے تو ہاتھ دھو لیجیے۔ میں نے اس کو علی گڑھ میں دیکھا کہ کافر کی کرتی پہنے گیند بلا کھیل رہا تھا‘‘۔

اس خبر سے سید حسن کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور  انھوں نے سید احمد حسن کو فوراً واپس بلا لیا۔ بعد ازاں انھوں نے الٰہ آباد میں وکالت کی تعلیم حاصل کی اور ریاست دیو گڑھ کے ولی عہد کے اتالیق مقرر ہوئے۔ ولی عہد کے سازشی قتل کے  بعد آپ نے  وکالت شروع کردی۔1896ء میں اورنگ آباد ، دکن ایک مقدمے کے سلسلے میں تشریف لائے اور پھر اپنے رشتے کے چچامولوی محی الدین خان صاحب، میر عدل صوبہ(چیف جسٹس) کی ایماپر یہیں وکالت کرنے لگےاور تیزی سے کام یابی حاصل کی۔

سید ا بوالاعلیٰ مودودیؒ کے بقول :

“اس زمانے تک والد صاحب پر انگریزی خیالات اور انگریزی طرزِ معاشرت کا غلبہ تھااور مذہبیت کی چنگاری راکھ میں دبی ہوئی تھی”۔

تاہم مولوی محی الدین خان کی صحبت نے دینی اثرات کی دبی ہوئی چنگاری کو شعلہٴ جوالہ  بنا ڈالا۔ 1900ء میں سید احمد حسن مولوی محی الدین خان سے باقاعدہ بیعت ہوگئے اورمروّجہ مذہبی ذکرو شغل اور ریاضات و مجاہدات اور سلوک و مراقبہ میں مصروف ہوگئے۔اس دوران وکالت اور مذہبی سرگرمیاں ساتھ ساتھ چلتی رہیں لیکن 1904ء میں آپ نے ترکِ  معاش کرلیا اور جائیداد تقسیم کرکے دہلی تشریف لے گئے جہاں اپنا کُل وقت عبادات و ریاضات میں صرف کرتے تھے۔تین سال بعد اپنے مرشدمولوی محی الدین خان کی ہدایت پر دوبارہ اورنگ آباد میں وکالت شروع کی۔لیکن اب زور اکلِ حلال پر تھا اور ناجائز مقدمہ نہیں لیتےتھےلہٰذامقدمات کم ہوتے گئے ۔تاہم مالی مشکلات بڑھنے کے ساتھ ساتھ مذہبی رنگ گہرا ہوتا گیا۔1915ء تک وکالت کی۔بعدازاں بڑے بیٹے کے پاس بھوپال چلے گئےجو وہاں ایگیزیکیٹو افسر تھے۔وہاں فالج کے سبب معذور ہوگئے اورچار سال بیمار رہ کر 1920ء میں انتقال کرگئے۔

سید احمد حسن نے دو شادیاں کیں ۔ پہلی بیوی سے تین بچے ایک بیٹی عصمت خاتون اور دو بیٹے سید ابو محمد اور سید ابوالقاسم پیدا ہوئے۔ پہلی بیوی کے انتقال کےکافی عرصے بعدمرزا قربان علی بیگ سالک(متوفی:1880ء)کی سب سے چھوٹی بیٹی رقیہ بیگم (متوفی:1957ء)سے شادی ہوئی جن سے دو بیٹے سید ابوالخیر مودودی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی تولد ہوئے۔

سید مودودی کا ننھیال ترکی النسل تھا۔آپ کے نانا مرزا قربان علی بیگ سالک شاعر و ادیب تھےجو مولانا قاسم نانوتوی (متوفی:1880ء) کے حلقہ ٴ ارادت میں شامل تھے ۔سید مودودی کی والدہ محترمہ رقیہ بیگم نو برس کی تھیں جب وہ اپنے جملہ اہلَ خانہ کے ساتھ مولانا قاسم نانوتوی سے  بیعت  ہوئی تھیں۔

پیدائش:

سید ابو الاعلیٰ مودودی، ۳ رجب ۱۳۲۱ھ، بمطابق ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء، بروز جمعہ ساڑھے گیارہ بجے محلہ چیلی پورہ، اورنگ آباد، دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام ’’ابو الاعلیٰ ‘‘آپ کی پیدایش سے تین چار سال قبل ایک بزرگ نے تجویز کیا۔ اس نام کے ایک بزرگ شاہ ابوالاعلیٰ جعفر ہندوستان  میں مودودی خاندان کے مورثِ اعلیٰ تھے۔لہٰذاآپ کے والد سید احمد حسن نے اس ہدایت کو یاد رکھا۔

تعلیم و تربیت

سید ابوالاعلیٰ مودودی کے والد سید احمد حسن اپنی خاندانی روایت کے مطابق  ایک مذہبی آدمی تھے اس لیے وہ اپنے بیٹے کو عالم دین بنانا چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ کی تمام تعلیم و تربیت میں اس چیز کو پیش نظر رکھا گیا۔ آپ کے والد گرامی تربیت کے معاملے میں بڑے حساس تھے اس لیےقدیم شرفاء کے طرز پر کافی عرصے تک آپ کوکسی مدرسے میں داخل نہ کرایا، بلکہ اپنی نگرانی میں  گھر پر تعلیم دلوائی۔ آپ کو اردو، فارسی، عربی زبان، اور فقہ و حدیث کی تدریس کا موقع فراہم کیا گیا، لیکن انگریزی زبان و علوم اور خیالات کی ہوا تک نہ لگنے دی گئی۔ آپ  کے والد نے پورے گیارہ برس، ان کو ہمہ وقت اپنی نگرانی میں رکھا، یہاں تک کہ گھر سے باہر جاتے تو انھیں ساتھ لے جاتے۔ سید مودودی کے والد کی نشست و برخاست چونکہ سنجیدہ، شائستہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں تھی جن کی مجالس کا ماحول عموماً سنجیدہ، متین اور باوقار ہوتا ہے اس لیے یہی اثرات سید مودودی کی شخصیت کا حصہ بن گئے۔ سنجیدہ اور شائستہ لوگوں میں بیٹھنے کے سبب سید مودودی کی بچپن کی شوخی، لڑائی جھگڑے کی بجائے ظرافت میں ڈھل گئی ۔

اخلاقی تربیت

سید مودودی کی اخلاقی تربیت میں سب سے بڑا کردار ان کے والد کا ہے۔ سید مودودی کے والد انھیں بچپن میں پیغمبروں کے قصے، تاریخی واقعات اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ آپ کے والد کو بچوں کےاخلاق وکردارکی اصلاح کا بہت خیال رہتاتھا۔ اس لیے زبان کی درستی پر بھی خصوصی  توجہ دیتے تھے۔ سید مودودی کے والد دہلی کے شرفا کی زبان خالص اردوئے معلیٰ بولتے تھے۔ انھوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ سید مودودی کی زبان پر کوئی غلط لفظ چڑھنے نہ پائےاوراگر کوئی غلط لفظ یا محاورہ زبان پر چڑھ جاتا تو وہ فوراً اصلاح کردیتے تھے۔ یہ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ زندگی بھر سید مودودی کی زبان اور قلم سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلا، جو اخلاق اور معیار سے گرا ہوا ہو۔

سید مودودی جب بچپن میں کوئی بری عادت سیکھتے تو ان کے والد اسے چھڑانے کی فوری کوشش کرتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک ملازمہ کے بچے کو تھپڑ ماردیا تو ان کے والد نے خود بچے کو بلا کر، بچے کے ہاتھوں سید مودودی کو تھپڑ لگوایا پھر تمام عمر سید مودودی کا ہاتھ، کبھی کسی زیردست پر نہ اٹھا‘‘۔

سید مودودی کہتے ہیں :

’’گو مادی لحاظ سے میرے والد نے میرے لیے کوئی ورثہ نہ چھوڑا لیکن ان کا میرے لیے بہترین ورثہ ان کی اخلاقی تربیت ہے ‘‘۔

تحریری صلاحیت  کا اولین اظہار

سید مودودی کے تحریر و انشا کے فطری ملکہ کا اظہار صرف نو برس کی عمر میں اس وقت ہوا جب ان کے عزیز اشفاق احمد زاہدی کچھ مدت ان کے ہاں اورنگ آباد آکر ٹھہرے۔ انھیں مضمون نویسی اور کتب بینی کا شوق تھا، انھوں نے دونوں بھائیوں ابو الخیر مودودی اور سید مودودی میں تحریر کا شوق پیدا کیا اور انہیں عام کتب و رسائل کے مطالعے کی طرف راغب کیا۔دونوں بھائیوں کی صلاحیتوں  کی نمو کے لیے انہوں نے انہیں ایک دفعہ کسی خیالی معشوق کے نام خط لکھنے کو کہا۔ اگرچہ اس مضمون سے دونوں بھائی نا بلد تھے لیکن سید مودودی کے ہاتھوں لکھا ہوا خط دیکھ کر وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے۔

مکتب کی تعلیم

۱۹۱۴ء میں سید مودودی کے استاد مولوی ندیم اللہ حسینی کے مشورے سے انھیں مدرسہ فوقانیہ اورنگ آباد کی جماعت رُشدیہ (جماعت ہشتم) میں داخل کرا دیا گیا۔ داخلے کے چند ماہ بعد ہونے والے امتحان میں آپ ریاضی سے عدم دلچسپی کے باعث ناکام ہوئے۔ لیکن بعد میں صدر مدرس مولانا داود صاحب کی شفقت و توجہ کے باعث تمام علوم میں دلچسپی لینے لگے۔یہاں آپ کے مضامین طبیعات، کیمیا، ریاضی اور تاریخ وغیرہ تھے۔ ۱۹۱۴ء میں ہی آپ نے مولوی (میٹرک) کا امتحان درجہ دوم میں پاس کر لیا۔ اسی سال آپ نے  اورنگ آباد چھوڑ کر دارالعلوم حیدر آباد کی جماعت مولوی عالم (انٹرمیڈیٹ)  میں داخلہ لے لیا۔ اس وقت معروف مفسر مولانا حمید الدین فراہی دارالعلوم کے صدر تھے۔ سید مودودی کو ان سے استفادے کا موقع بھی ملا۔ لیکن تعلیم کا یہ سلسلہ والد گرامی کی بیماری کے باعث چھ ماہ سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔

پہلا ترجمہ

1914ءمولوی کے امتحان سے فارغ ہوکر فرصت کے زمانے میں اپنے بھائی کی تحریک پر آپ نے قاسم امین بے کی کتاب “المراۃ الجدیدہ”کاعربی سے اردو ترجمہ کیا۔جس کی سلاست اورچٹخارے دار محاوراتی زبان کی انہیں والد اور بھائی کی جانب سے خوب دد ملی۔

فکر معاش

۱۹۱۶ء سے ۱۹۲۱ء کا زمانہ سید مودودی کے لیے سخت مصائب، پریشانیوں اور خانہ بدوشی کا زمانہ تھا۔ والد صاحب فالج کے حملے کے بعدبسترِ علالت پر دراز تھے۔ جس سے ایک تو سلسلہ تعلیم منقطع ہو گیا دوسرا معاشی پریشانی نے آن گھیرا۔ آپ نے بیماری کے زمانے میں اپنے والد کی بہت خدمت کی۔آپ کے والد۱۹۲۰ء میں انتقال کر گئے۔لیکن معاشی ضروریات نے اس سے قبل ہی سید مودودی کومیدانِ عمل میں آنے پر مجبور کردیااور آپ نے اپنےسوتیلے بڑے بھائی ابو محمد پر جوریاست بھوپال میں  ایگزیکٹو آفیسر تھے، پربوجھ بننے کی بجائے معاشی استحکام کے لیے تگ و دو شروع کر دی تھی۔ذاتی میلان کے تحت آپ نے قلم کو ذریعہٴ معاش بنانے کا فیصلہ کیا۔

عملی صحافت کا آغاز

اللہ تعالیٰ نے سید مودودی کوجوگوناگوں صلاحیتیں عطا کی تھیں ان میں خصوصیت آپ کی نثر نگاری کو حاصل ہے۔ آپ خود اپنی اس صلاحیت سے آگاہ تھےچنانچہ آپ نے اپنی اس صلاحیت کوابتداً حصول معاش کے لیےاور بعد ازاںمسلمانان ہند کی اصلاح و درستی کے لیے اپنے موقف کے ابلاغ کے لیےاستعما ل کیا۔

1918ء میں سید مودودی نے حصول معاش کے لیے اپنی تحریری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے، بڑےبھائی ابو الخیر مودودی کے ساتھ مل کراخبار نویسی شروع کی جواخبار “مدینہ” بجنور میں ایڈیٹر مقرر ہوئےتھے۔لیکن ڈیڑھ دو ماہ سے زیادہ یہ کام چل نہ سکا۔ یہ زمانہ اخبارات کے لیے ساز گار نہیں تھا۔

انگریز حکومت سے نفرت کا عملی اظہار

1918ء۔1919ء کےاس ہیجانی دور میں فکرِ معاش کے ساتھ ساتھ ذاتی افتادِ طبع کے تحت  سیدمودودی نے ’’انجمن اعانت نظر بند ان اسلام‘‘ اور”ستیہ گرہ” اور پھر ’’تحریک خلافت‘‘ میں عملی، تحریری اور تقریری طور پر حصہ لیااورگاندھی جی کی شخصیت پر ایک کتاب بھی لکھی  جو چھپنے سے قبل ہی ایک عزیز کی شکایت پر ضبط ہوگئی۔

اسی دور میں “انجمن اعانت نظر بندانِ اسلام” کے کارپرداز تاج الدین نے جبل پور سے ہفتہ وار اخبار”تاج”جاری کیاجس کی ایڈیٹری دونوں بھائیوں (سید ابوالخیرمودودی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی)کو مشترکہ طور پر سونپی گئی۔مگر “تاج”چند ماہ سے زیادہ نہ نکل سکا۔اس کے بعد سید مودودی جبل پور سے بھوپال اور پھر دہلی چلے گئے۔

1920ء میں سید ابوالخیر مودودی نے صحافت کو خیر باد کہہ دیا اور سید مودودی نے اس کو چے کو باقاعدہ تگ و تاز کا میدان چن لیا۔اسی سال ہفت روزہ “تاج” جبل پور کا سید مودودی کی ادارت میں پھر اجرا ہوا ۔ کچھ عرصے بعد یہ روزنامہ ہوگیا۔لیکن یہ روزنامہ زیادہ عرصے نہ نکل سکا۔ سیدمودودی کے ایک مضمون پر اخبارکے ایڈیٹر، پرنٹرو پبلشرکے خلاف مقدمہ قائم کردیا گیا۔ان تینوں حیثیتوں میں تاج الدین صاحب کا نام چھپتا تھا لہٰذا سید مودودی مقدمے سے بچ گئےتاہم انہیں اس پر چنداں خوشی نہ ہوئی ۔

سیاسی سرگرمیوں کا آغاز

جبل پورمیں سید مودودی تحریکِ خلافت کی سیاسی سرگرمیوں میں متحرک رہے۔آپ نے مقامی طور پر تحریکِ خلافت کا آغاز کیا۔ تقریریں کیں اورمسلمانوں کوحسبِ ضرورت کانگریس کی طرف راغب کیا۔ جبل پور کے قیام نے سید مودودی کو خود اعتمادی سے مالامال کردیا۔

دہلی کا قیام

1920ءکے آخر میں جبل پور سے سید مودودی دہلی واپس لوٹ آئے۔ 1921   ء کے اوئل میں جمیعت علمائے ہند کے اخبار”مسلم”کی ادارت کا آغاز کیا۔یہ اخبار 1923ء تک سید مودودی کی ادارت میں ہی  جاری رہا۔”مسلم”کی بندش کے بعد آپ

بھوپال میں ڈیڑھ سال تک مطالعے میں مصروف رہےمگر1924ء کے آغاز میں دہلی لوٹ آئے۔

یہاں آپ کے مولانامحمد علی جوہرؒ سے تعلقات قائم ہوئے ۔وہ آپ کو “ہمدرد” میں اپنا معاون بنانا چاہتے تھے لیکن جمیعت علمائے ہند نے اپنا ترجمان “الجمیعت” نکالنے کا ارادہ کیاتو سید مودودی نے قدیم تعلق اور خود مختاری کی بنا پر “الجمیعت “کو ترجیح دی۔

1925ء کے آغاز سے 1928ء کے اختتام تک سید مودودی “الجمیعت”تنہا اپنی ذمے داری پر نکالتے رہے ۔

“الجمعیت”کی ادارت کے دوران سید مودودی نے دو انتہائی اہم سلسلہ ہائے ضامین تحریر کیے ۔ پہلا “اسلام کا سرچشمہ قوت” کے زیرِ عنوان 7 قسطوں میں شایع ہوا۔ یہ مضمون مخالفینِ اسلام  کے اس اعتراض کے جواب میں تحریر کیا گیا تھاکے اسلام کی اشاعت تلوار کے زور پر ہوئی ہے۔ سید مودودی نے ان مضامین میں عام روش کے برعکس معذرت خواہانہ انداز کے بجائے پختہ یقین و اعتماد کے ساتھ اسلام کی تعلیمات کو برحق قرار دیا اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا کہ اسلام کی اشاعت  کا انحصار مسلمانوں کی تبلیغی سرگرمی پر رہا ہے۔ سید مودودی نے دلیل کے ثابت کیا کہ  اسلام کی زندگی اگر تلوار پر ہی منحصر ہوتی تو وہ تلوار سے ہی فنا بھی ہو جاتی لیکن اکثر ایسا ہوا اس نے تلوار سے مغلوب ہو کر تبلیغ سے فتح پا لی۔

جب کہ دوسرا سلسلہ مضامین “الجہاد فی الاسلام “کا تھا۔ جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

رسمی تعلیم کی تکمیل

دہلی میں قیام کے دوران آپ کو کچھ وقت ملا تو آپ دوبارہ تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور مختلف اساتذہ سے عربی ادب، تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور فلسفے کی کتابیں پڑھیں۔ مولوی محمد فاضل سے انگریزی زبان کا درس لیا اور اس کے بعد دوسال تک خود انگریزی کتب، اخبارات ورسائل کا مطالعہ کر کے اس زبان میں مہارت حاصل کی۔ عربی کے درسیات سے بعض انتہائی کتابیں جو رہ گئی تھیں ان کا درس بھی لیا۔اسی دوران جرمن زبان سیکھنے کی کوشش بھی کی لیکن یہ سلسلہ ڈیڑھ دو ماہ سے زیادہ نہ چل سکا۔

۱۳ جنوری ۱۹۲۶ء کو مولانا محمد شریف اللہ نے سید مودودی کو دار العلوم فتح پور دہلی سے جو سند عطا کی، اس میں انھوں نے لکھا: ’’انتہائی ذہین، سریع الفہم اور بلا کا حافظہ رکھنے والے فاضل مولوی سید ابو الاعلیٰ مودودی، نے کتابیں پڑھیں اور انھوں نے مجھ سے علوم عقلیہ، علم و ادب، علم بلاغت اور دوسرے اصولی اور فروعی علوم کے لیے عمومی اجازت کا پروانہ طلب کیا‘‘۔

اسی طرح سید مودودی نے مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی سے حدیث، فقہ، اور ادب میں سند فراغت حاصل کی۔ مولانا عبد السلام نیازی (جو کہ ایک بزرگ نیاز احمد بریلوی سےعقیدت کے باعث نیازی کہلواتے تھے ) چشتیہ سلسلےسے متعلق تھےاورآپ کے والد کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کے والد کے حسب ِفرمائش بچپن میں آپ کو عربی زبان کی تعلیم دی تھی۔ چنانچہ ’’الجمعیۃ‘‘ کی ادارت کے زمانے میں آپ نے ان سے مزید کچھ کتابیں پڑھنا چاہیں تو مولانا عبد السلام نیازی فوراً مان گئے، لیکن درس کے لیے آذان فجر کا وقت مقرر کیا۔ سید مودودی سخت سردی کے موسم میں بھی دو کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے وقت مقررہ، دروازے پر موجود ہوتے۔ اگر کسی روز نیازی صاحب کی طبیعت پڑھانے پر آمادہ نہ ہوتی تو اندر سے ہی کہہ دیتے :

’’سید بادشاہ، کل آنا، آج طبیعت حاضر نہیں‘‘۔ایسا اتفاق کبھی کبھار کئی دن مسلسل ہوتا لیکن سید مودودی بددل نہ ہوتے۔

 تصنیف و تالیف کاباقاعدہ آغاز

الجہاد فی الاسلام

سید مودودی کےمتفرق مضامین مختلف جرائد میں شایع ہوتے رہے تاہم آپ کی پہلی تصنیف “اخلاقیاتِ اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ”کے عنوان سے رسالہ ہمایوں میں 1924ء میں دس قسطوں میں شایع ہوئی۔

تاہم یہ آپ کی پہلی باقاعدہ تصنیف  شمار نہیں ہوتی کیوں کہ اس کے مضامین ماخوذ ہیں ۔آپ کی پہلی تصنیف “الجہاد فی الاسلام” ہے۔جس کا پس منظر یہ ہے کہ بیس کی دہائی میں ایک متعصب ہندوسوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا تھا۔ اس تحریک کی بنیادمسلم دشمنی اور اسلامی شعائر و اکابر کی توہین پر تھی۔ سوامی شردھانند کی اہانتِ رسول ؐپر مبنی کتاب نے ہندوستان  کے مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگادی تھی۔ چنانچہ ۱۹۲۶ءمیں عبد الرشید نامی ایک  پر جوش مسلمان نے سوامی شردھانند کو قتل کر ڈالا۔ اس انفرادی فعل کو بنیاد بنا کر ہندوؤں نے مسلمان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا اور الزام لگایا کہ اسلام عقل و دلیل کا مذہب نہیں اور اسلام خونریزی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس شور و غل میں گاندھی جیسے بظاہر غیر متعصب رہنما نے بھی اسلام کو تشدد کا مذہب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں فیصلہ کن چیز پہلے بھی تلوار تھی اور اب بھی تلوار ہے۔پروپیگنڈے کے اس طوفان میں مسلمان ہراساں ہوگئے اور جہاد کے اسلامی تصور کی غلط توجیہات کی جانے لگیں تو مولانا محمد علی جوہر (م  ۱۹۳۱ء) نے جامع مسجد دہلی میں نمازِ جمعہ کے بعد ایک تقریر میں اپیل کی کہ کاش کوئی بندہ خدااس وقت ان الزامات کے جواب میں اسلام کے نظریہ جہاد کو صحیح نقطہ نظر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ چنانچہ سید مودودی نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے، اسلام اور دیگر مذاہب کی کتب سے تقابلی مطالعہ کے بعدچھ ماہ کے قلیل عرصے میں “الجہاد فی الاسلام” جیسی معرکہ آرا کتاب لکھی۔علامہ اقبال نے اسے اسلام کے نظریہ جہاد پر، سب سے بہترین تصنیف قرار دیا۔ یہی کتاب سید مودودی اورعلامہ اقبالؒ کے تعارف کا وسیلہ ثابت ہوئی۔

اس کتاب کے مضامین پہلے “الجمیعت”میں قسط وار چھَپتے رہے اور بعدازآں 1930ءمیں کتابی شکل میں “دارالمصنفین”اعظم گڑھ سے شایع ہوئے۔

اس سحر انگیز کتاب نےجہاں اسلامی جہاد کے چہرے سےوقت کی گرد  صاف کی وہیں کئی گم کردہ راہ مسافروں کو رستہ بھی دکھایا ہے۔مشہور صحافی شورش کاشمیری بھی ان میں سے ایک ہیں۔ آغا شورش کاشمیری مجلس احرار اسلام کے جنرل سیکرٹری تھے اور معروف استعمار مخالف اور حریت پسندتھے۔1945ءمیں آپ اپنی ان سرگرمیوں کے سبب پانچ سال کے قیدکر دیے گئے۔جیل میں آپ کاسابقہ سکہ بند کمیونسٹوں سے تھا۔اپنی انقلابی فطرت کے سبب آپ ان سے متاثر ہوتے گئے ۔کمیونسٹ لٹریچر کے مطالعے کا ان پر جواثر ہوا اوراس کے نتیجے میں وہ مذہب سےجس  طرح دور ہوتے گئے اسے وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

“سچ تو یہ ہے کہ میری ذہنی بنیادیں ہل گئیں میں خدا کے وجود سے لے کر عام اخلاقی اقدار تک کے عقیدے میں ڈانواڈول ہوگیا۔ میں نے قرآن مجید کی باقاعدہ تلاوت ترک کر دی کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ مطلب جانے بغیر اس کی تلاوت بے فائدہ ہے۔خداوند تبارک تعالی کو (نعوذباللہ)فرصت کے قہقہوں کاموضوع سمجھتا تھا اورہر اس مسئلہ کی تضحیک میں خوشی ہوتی، جو مذہب کے غیرعقلی وجودسے پیدا ہوتا ہے”۔

ان کی زندگی میں ایک موڑ اس وقت آیا جب انہیں اسی اسیری میں قیدِتنہائی کے دوران “الجہاد فی الاسلام”پڑھنے کا موقعہ ملا۔اس کتاب اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن(حصہ اول)اور سیدسلیمان ندوی کی کتاب خطبات مدراس کے مطالعے نے انہیں پھر سے مسلمان کردیا۔انہوں نے سید مودودی کی بعض دیگر تصانیف  کا مطالعہ کیا اور وہ کہتے ہیں :

” جب میں قید سے چھوٹا تو میرے لیے یہ اطمینان کا موجب تھا کہ میرا ذہن اعتقاداً مسلمان تھا اور اس کا عظیم سبب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابیں تھیں”۔

 اس کتاب نے خودسید مودودی کی زندگی کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کتاب کی تصنیف کے دوران آپ کو براہِ راست قرآن و سنت سے اسلام کےحقیقی مطالعے کا موقع ملا۔ چنانچہ آپ کو اس تفصیلی مطالعے کے ذریعے سے نظام شریعت کا صحیح فہم حاصل ہوااور نہ صرف اسلام پر یقین حاصل ہوابلکہ اس  کے احیا کا جذبہ بھی ابھر آیااور اس کے لیےکام کرنے کا طریقہ بھی سید مودودی کی سمجھ میں آگیا ۔ اس غرض سے سید مودودی ۱۹۲۸ء  میں صحافت کو خیر باد کہہ کراسلامی نظام کے احیاء اور دین حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہو گئے اورخدمتِ دین کے لیے تصنیف و تالیف کے مشغلے کو اپنے لیے پسند کر لیا۔

مراجعتِ دکن

1928ء کے آخر میں سید مودودی  نے ہندوستانی اردوصحافت سے بے زار ہوکر” الجمیعت”سے قطع تعلق کیا اور باقاعدہ تصنیف و تالیف کے شعبے میں آگئے۔اس کام کے سلسلے میں تحقیق کی غرض سے انہیں حیدرآباد دکن جانا پڑا۔آپ نے اگست 1930 ء تک یہاں قیام کیا۔یہاں آپ نے تاریخ آلِ سلجوق تالیف کی اور ابنِ خلکان کے کچھ حصوں کا ترجمہ کیا۔ آصف جاہ اول کی سیرت لکھی، “مختصر تاریخ دکن” تحریر کی۔ یہاں آپ کا عظیم کام علامہ صدرالدین شیرازی کی عربی میں  فلسفے کی ایک ادق  کتاب ” الاسفار الاربعۃ” کے دوسفروں کا ترجمہ ہے۔اس سے حاصل ہونے والی رقم سےتفسیر، فقہ وحدیث کی کتب اور انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی تمام جلدیں خریدنے کے ساتھ ساتھ رسالہ “ترجمان القرآن” جاری کیا گیا۔

 ترجمان القرآن کا اجرا

مئی ۱۹۳۳ء سے سید مودودی نے حیدرآباددکن سےماہنامہ ترجمان القرآن کی ادارت کا آغاز کیا ۔یہ کارِ ادارت بعدازاں پاکستان میں  ان کی وفات تک جاری رہا۔بعد ازآں آپ نےرسالے کی  ملکیت حاصل کرلی۔ ترجمان القرآن کا اجراء مولانا ابوالکلام آزاد کے ایک عقیدت مندمولوی ابو محمد مصلح نے” ادارہ عالم گیر تحریکِ قرآن” کے تحت ستمبر1932ءمیں کیاتھا ۔مولوی ابومحمد مصلح،مولانا ابوالکلام آزادؒ کی سابقہ حزب الٰہی فکر سے متاثرتھےاور اس فکر کی روشنی میں اس پرچے کا مقصد قرآن کی تعلیمات کو فروغ دینا اور مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کرناجس کا وظیفہ حیات قرآن ہو اور اس کے ذریعے سے روئے زمین پر حکومتِ الٰہیہ کا قیام عمل میں لاناتھا۔

ترجمان القرآن کے آغازسے سید مودودی نے قرآن اور اسلام کی دعوت کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا، جس پر اپنی وفات تک عمل پیرا رہے۔

اس غرض کے لیے ترجمان القرآن کے آخری صفحے پراس کے مقصدِ اجراء کا اعلان ان الفاظ میں کیا جاتا رہا :

 “اس (ترجمان القرآن)کا مقصد وحید اعلائے کلمتہ اللہ اور دعوت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔یہ رسالہ امتِ مسلمہ کو ایک نئی زندگی  کی دعوت دیتا ہے اور اس کی دعوت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے دل و دماغ کو مسلمان بناؤ اور جاہلیت کے طریقے کو چھوڑ کر کر اسلام کی صراط مستقیم پرچلو۔ قرآن کو لے کر اٹھواور دنیا میں میں غالب بن کر رہو”۔

ابتدا میں بہت کم لوگوں نے ترجمان القرآن کی طرف توجہ دی۔ اس کی اشاعت تعداد اس وقت چھ سو تھی اور نصف تعداد کا خریدار ریاست حیدر آباد دکن کا محکمہ امور مذہبی تھا۔

سیدمودودی نے اس کی اشاعت بڑھانے کے لیے، اپنے مقام و مرتبہ سے فروتر، کسی تدبیر کو اختیار نہ کیا۔ ریاست حیدر آباد محکمہ امور مذہبی نے ایک سال بعد، ترجمان القرآن کی خریداری روک دی۔ نواب ذوالقدر جنگ بہادرجو اس خریداری کی اجازت دینے کے مجاز تھے،ان  کی خواہش تھی کہ سید مودودی خود حاضر ہو کر خریداری کی درخواست کریں، لیکن آپ نے اس غرض سے نواب صاحب سے ملنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ:

’’میں قیامت تک اس کام کے لیے ان کے پاس نہیں جاؤں گاخواہ مجھے کتنا ہی مالی نقصان برداشت کرنا پڑے،یہ میرا  نہیں، دین کا کام ہے ‘‘۔

آپ کی مالی مشکلات کے حل کے لیے مولانا مناظراحسن گیلانیؒ نے آپ کو جامعہ عثمانیہ میں دینیات کا پروفیسر لگوانے کی کوشش کی ،جس سے خطیر رقم حاصل ہوسکتی تھی تاہم آپ نےکل وقتی  کجا جزوقتی ملازمت کی پیش کش کوبھی منظور نہ کیا۔ آپ کے بڑے بھائی سید ابوالخیر مودودی نے جامعہ عثانیہ میں ملازمت کے حوالے سے آپ سے چھ گھنٹے تک بحث کی لیکن وہ سید مودودی کو یہ ملازمت قبول کرنے پر آمادہ نہ کر سکے۔

 سید مودودی نے کہا:

 “حالات بہت نازک ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کو ایک بہت بڑا خطرہ درپیش ہے جو انگریزوں کی غلامی سے بھی زیادہ مہلک اور تباہ کن ہوگا۔ مسلمانوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنا میرافرض ہے۔اپنی ہمت کے مطابق میں ان کی کچھ نہ کچھ خدمت کرنے کی کوشش کروں گا”۔

سید مودودی نےاپنےمصارف کم کردیے اور انہیں بھی پورا کرنے کے لیے ترجمان القرآن پر بوجھ ڈالنے کے بجائےایک مخلص دوست کے ساتھ شراکت کرکے یونانی دواخانہ قائم کرلیااوراپنی ساری قوتوں اور صلاحیتوں کو دعوت دین کے لیے وقف کر دیا۔

سید مودودی یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ بہرقیمت اس جنگ کو جو اعلائے کلمۃ الحق اور ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے شروع کر چکے ہیں، جاری رکھیں گے۔ وہ اپنی بصیرت کی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنے والے سال اس ملک میں اسلام کی قسمت کے لیے فیصلہ کن ہیں لہٰذاآپ اپنی سی سعی کرنے کے لیے پرعزم تھے۔

سید مودودیؒ نے ترجمان القرآن کے مورچے سےجنگ شروع کردی۔آپ کا اولین ہدف مغربی تہذیب و افکار تھے جس کےسیلاب میں مسلمانانِ برصغیر اپنے دین وثقافت سےلاتعلق بہے جارہے تھے۔

تنقیدبرافکارِمغرب

1935ء میں آپ نے “پردہ” کے نام سے اسلامی تصورِ حیا وحجاب  کی حمایت میں ایک کتاب تحریر کی جس کا مقصد یورپ سے مرعوب شدہ ذہنوں کےاسلامی پردے پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا تھااور مغربی تہذیب کے اتباع میں درپیش بےحیائی اور تصورِ عفت کی پامالی کے مضمرات کی نشان دہی تھی۔”اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی”کے مقالات  کے علاوہ “تنقیحات” اور”تفہیمات” کے مضامین لکھےگئے جن کے ذریعے انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں مغربی تہذیب کی مرعوبیت پر کاری چوٹ لگائی۔

دینیات

جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام کی تعلیمات آسان اور دلنشین انداز میں سکھانے کے لیےکسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔چنانچہ مولانا سید مناظراحسن گیلانی کی تحریک پر نظامتِ تعلیمات، حیدرآباددکن نے سید مودودی سے رجوع کیا۔سید مودودی نے یہ کام بڑی لگن سے کیااورمحض 15 روز میں یہ کتاب مکمل کرکے دے دی۔1937ء میں یہ کتاب پہلی مرتبہ شایع ہوئی۔اس  کتاب کودنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہوئی۔45زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے اور بعض ممالک میں اس کا ترجمہ نصاب میں شامل ہے۔

شادی

1937ء میں سید مودودی کی شادی دہلی کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی۔ آپ کی اہلیہ محمودہ بیگم(م 2003ء)، سید نصیر الدین شمسی کی صاحبزادی تھیں۔آپ کی اہلیہ نےاردو فاضل کا امتحان پاس کیا ہواتھا۔شادی سے قبل آپ کی اہلیہ ناز ونعم کی  پروردہ تھیں تاہم شادی کے بعد انہوں نےہرطرح کے نرم گرم حالات کا سامناانتہائی خندہ پیشانی سے کیا۔

اولاد

سید مودودی کے پانچ بیٹے عمر فاروق،احمد فاروق ،حسین فارق، حیدر فاروق اور خالد فاروق ہیں۔ جبکہ تین بیٹیاںحمیراخاتون، اسما خاتون اور عائشہ خاتون ہیں ۔

 دارالاسلام

گورداس پور، پٹھان کوٹ کے ایک مخلص مسلمان چودھری نیاز علی خاں اشاعت اسلام کے لیےکچھ کرنا چاہتے تھے۔ وہ رسالہ ترجمان القرآن کے قارئین میں سے تھے۔انہوں نےایک دینی و تحقیقی مرکز قائم کرنے کے لیے ساٹھ ستر ایکڑ زمین وقف کی اور علامہ محمد اقبال سے اس مرکز کے انتظام کےلیےایک قابل عالم دین کے تقرر کےحوالے سے مشاورت کی۔ علامہ اقبال، سید مودودی کی کتاب الجہاد فی الاسلام اور دیگر تحریریں پڑھ چکے تھے۔ انھوں نے سید مود ودی کا نام تجویز کیا۔ اس کے بعدسید مودودی اور چودھری نیاز علی خاں کے درمیان مراسلت کا آغاز ہوا۔ ۱۹۳۶ء کے اواخر میں علامہ اقبال نے سید مودودی کو پنجاب منتقل ہونے کی دعوت دی تاکہ احیائے اسلام کے سلسلہ میں فقہ اسلامی کی تدوین نو اور دیگر علمی نوعیت کے کام کیے جائیں۔سید مودودی کام کے سلسلے اپنا واضح نقشہ کار رکھتے تھے۔تاہم انہوں نے اگست ۱۹۳7ء میں پنجاب کا سفر کیا اور اس دوران علامہ اقبال سے ملاقات بھی کی۔دونوں کے درمیان کام آگے بڑھانے کے حوالے سےایک مثالی اسلامی بستی “دارالاسلام “کے قیام کےلیے لائحہ عمل طے پایا اور علامہ اقبال نے وعدہ کیا کہ وہ ہرسال کے چند مہینے اس بستی میں قیام کریں گے۔ چنانچہ سید مودودی مارچ ۱۹۳۸ء میں دارالاسلام منتقل ہوگئے۔تاہم اپریل1938ء میں علامہ اقبال وفات پا گئے اور انھیں دارالاسلام  آنا نصیب نہ ہوا۔

سید مودودی کی اجتہادی بصیرت نے دار الاسلام پہنچتے ہی یہ فیصلہ کیا کہ اس بستی کو آس پاس کی مسلم آبادی کے لیے ایک مرکز  کا کام انجام دینا چاہیے۔ برصغیر کے دیہات میں عمومی طور پر جمعہ کا نظام ختم ہو چکا تھا۔ سید مودودی نے اس کی اہمیت کے پیش نظر دارالاسلام میں جمعہ کا اجراء کردیا اور آس پاس کی بستیوں میں اطلاع کروادی۔ جمعہ کا خطبہ سید مودودی خود دیا کرتے تھے جو مقامی آبادی کی ذہنی سطح کے پیش نظرانتہائی سادہ اور آسان انداز میں ہوا کرتا تھا۔ان خطبات میں سید مودودی نے تد ریجاً اسلام کی بنیادی تعلیمات اور مفاہیم کو عام افراد کے لیے بیان کیا۔اس سلسلے کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور دور دور سے لوگ ان خطباتِ و جماعت جمعہ کے لیے دارالاسلام کی مسجد میں آنے لگے۔ ان خطبات کا ہی اثر تھا کہ عام لوگوں نے اپنی دعوتی ذمے داریاں محسوس کیں اور جو مفیدباتیں ان تقاریرسے اخذکرتے واپس جاکر اسے دوسروں تک منتقل کرتے۔

 بعد ازاں یہ خطبات جمعہ،”خطبات” (مشتمل بر حقیقتِ اسلام، حقیقتِ صوم وصلوٰۃ، حقیقت زکوٰۃ، حقیقت حج ، حقیقتِ جہاد)کے نام سے شائع کیے گئے۔اس کتاب کو بھی عالم گیر مقبولیت حاصل ہوئی اور متعدد زبانوں میں اس کے تراجم کیے جاچکے ہیں۔

دارالاسلام میں مولانا مودودی۱۹۳۹ء تک مقیم رہے۔ اس دوران میں انھوں نے ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش ‘‘ کے مضامین کا آغازکیا۔

“دارالاسلام” کے دستورپر چوہدری نیاز احمد خان سےبعض اختلافات کی بنا پر مودودی صاحب وہاں سے لاہور منتقل ہو گئے۔اس سلسلے میں اپنے ایک خط میں سید مودودی نے بڑے اختصار کے ساتھ دارلاسلام کی منتقلی کے حوالے سے فرمایا:

 “دارالاسلام ٹرسٹ جن لوگوں کے ہاتھ میں تھا وہ چاہتے تھے کہ میں ان کی ہدایت کے تحت کام کروں اور اس کے لیے میں تیار نہیں تھا۔خصوصاًاس وجہ سے کہ ان کا نصب العین نہایت پست اور محدود تھااور وہ پرانے طرز کا ایک مذہبی ادارہ بنانا چاہتے تھے”۔

 اس کے بعد جون ۱۹۴۲ء میں دوبارہ چوہدری نیاز علی کے اصرار پرسید مودودی اپنے رفقاء سمیت پٹھانکوٹ واپس آگئے اور قیام پاکستان تک وہیں نوتشکیل شدہ جماعتِ اسلامی  کی تنظیم اور تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے۔

۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام کے بعد یہ علاقہ ہندوستان کا حصہ بن گیا تو سید مودودی مع رفقاء پٹھان کوٹ سے لاہور منتقل ہوگئے۔

علامہ اقبالؒ اور سیدمودودی

علامہ اقبال ؒاور سیدمودودی میں گہرا فکری ربط پایا جاتا ہے۔اقبال ملت کی نشاۃ الثانیہ کے ہدی خواں تھےاور سید مودودی بھی احیائے اسلام کو پیشِ نظر رکھے ہوئے تھے۔اسی فکری یکسانیت کے سبب علامہ اقبال “ترجمان القرآن” میں سید مودودی کے مضامین بہت شوق سے سنتے تھے۔انہیں سید مودودی سے بہت سی امیدیں تھیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سید مودودی کو دکن چھوڑ کر پنجاب چلے آنے کا مشورہ دیا اور چوہدری نیاز علی خان کو ان کےخدمتِ دین  کےمنصوبے کے لیےسید مودودی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔سید مودودی کے بقول:

“1936ء کے اواخر میں ان (علامہ اقبال) کا عنایت نامہ مجھے ملا جس میں انہوں نے اس خواہش کا ظہار کیا تھا کہ میں حیدرآباد چھوڑ کر پنجاب چلا آؤں اور لاہور میں رہ کر فقہ اسلامی کی تدوین جدید میں ان کے ساتھ تعاون کروں”۔

سید مودودی کی علامہ اقبال سے ستمبر 1937ء میں جاوید منزل،لاہور ملاقات ہوئی ۔

اور سید مودودی ان کی دعوت کو قبول کرکے چوہدری نیاز علی خان کے پاس موضع جمال پور،پٹھانکوٹ تشریف لے گئے۔وہاں پہنچ کر آپ نے علامہ اقبال کواپنی آمد کی اطلاع بھجوادی۔علامہ اقبال اپنی روز بروز بگڑتی صحت کے سبب بے چینی سے سید مودودی کی آمد کے منتظر تھے۔پٹھان کوٹ میں  سید مودودی کو نئی  جگہ کے انتظامات درست کرنےمیں کچھ وقت لگا تو  18 اپریل 1938 کو علامہ اقبال کے خادمِ خاص سید نذیر نیازی نے سید مودودی کوایک خط میں لکھا:

“علامہ اقبال اس وقت سے برابرآپ کا انتظارکر رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کا ارادہ فی الواقع لاہورآنے کا ہے تو جلدی تشریف لائیے تاکہ ملاقات ہو جائےتھے”۔

علامہ اقبال ؒ کے اس آخری پیغام میں  سید نذیر نیازی نے علامہ اقبال کی صحت کی انتہائی تشویش ناک حالت سے آگاہ کرتے ہوئےجلد ازجلد لاہور آنے اور علامہ اقبال کی صحت کے بارے میں کسی سے تذکرہ نہ کرنے کی درخواست کی ۔

سید مودودی لاہور جانے کی تیاری کررہے تھے کہ 21 اپریل ،1938ء کو علامہ اقبال خالقِ حقیقی سے جاملے۔سید مودودی کے لیے یہ صدمہ دو طرح کا تھا ایک علامہ اقبال جیسی شخصیت جو کہ مسلمانان ہند کابہت بڑا سرمایہ تھی، کی رخصتی اور  دوسرے   علامہ اقبال سے دوبارہ ملاقات نہ ہونے کارنج۔

سید نذیر نیازی کے نام اپنے تعزیتی مکتوب میں سید مودودی نے لکھا:

“آپ کے عنایت نامے سے مجھے صحیح اندازہ نہ ہو سکا تھا کہ وقت اس قدر قریب آگیا ہے معلوم ہوتا تو سب کام چھوڑ کر فورا پہنچتا”۔

سید مودودی  نےوفاتِ اقبال کے حوالے سےاپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال کواپنامادی سہارا قراردیاجو اللہ کی مشیت نے چھین لیا۔

اسلامیہ کالج لاہور میں بحیثیت استاد تقرری

سید مودودی نےستمبر ۱۹۳۹ء میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں بحیثیت پروفیسردینیات اعزازی طور پر خدمات سر انجام دیناشروع کیں اور یہ سلسلہ ایک سال چلا۔آپ کا مقصد نوجوانوں کو  دین کی انقلابی روح سے آشنا کرنا تھا۔اس کے لیے فطری طورپر عام اساتذہ کے برعکس آپ فقہی مسائل بیان کرنے کی بجائے، اسلام کی مبادیات، اس کے انقلابی رخ اوردین کے اطلاقی  پہلو کو خصوصی طور پر بیان کرتے تھے۔ نوجوانوں کے سوال  کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ آپ نے طلبا پر واضح کیا کہ دین اسلام، بے روح مذہبیت کا نام  نہیں ہے بلکہ مکمل نظام حیات ہے۔ آپ کے دلنشیں انداز اور پراثر قوتِ استدلال کا طلباپر گہرا اثر تھا۔ لیکن حکومت کی مخالفت کے سبب تدریس کا یہ سلسلہ ختم کرنا پڑا۔

اسلامیہ کالج میں تدریس کا سلسلہ بہت مفید رہا۔یہاں کے طلبا میں سے بعد میں کئی آپ کے نظریاتی دست و بازو بنے۔اسلامیہ کالج سے وابستگی کے بعد سید مودودی کو کئی دیگر تعلیمی اداروں میں خطبات کا موقع ملا اور آپ نے اسے بھرپور طور پر استعمال کیا۔

فکری خطبات

13 اپریل 1939ء کو ٹاؤن ہال،لاہور میں یوم اقبال کے موقع پر خطاب کرتے ہوئےآپ نے “جہاد فی سبیل اللہ” کے عنوان سے اپنا فکرانگیز مقالہ پیش کیا۔ اسی سال اکتوبر میں انٹرکالجیٹ مسلم برادرہڈ نامی تنظیم کے اجلاس میں آپ نے “اسلام کا نظریہ سیاسی” کے عنوان سے سے اپنا مبسوط مقالہ پیش کیا۔ اگلے سال 12 ستمبر 1940ء علی گڑھ یونیورسٹی کے کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے”کی توضیح کی۔1941ء میں اسٹریچی ہال علی گڑھ یونیورسٹی میں “انسان کا معاشی مسئلہ مسئلہ اور اس کا اسلامی حل”کے زیرعنوان اپنی گزارشات طلبہ کے سامنے رکھیں۔ دسمبر 1940ء میں دارالعلوم ندوۃالعلما اور لکھنؤ یونیورسٹی کے طلباء کے مشترکہ جلسے میں سید سلیمان ندویؒ کی موجودی میں اور مولانا عبدالماجد دریاآبادیؒ کی زیرصدارت سید مودودی نے اپنا مقالہ “نیا نظام تعلیم” پیش کیا۔آپ کا تعارف کرتے ہوئے سید سلیمان ندوی ؒنے آپ کو علم کابحرِ ذخار، متکلّمِ اسلام اور بلند پایہ عالمِ دین قراردیتے ہوئے فرمایاکہ:

“مودودی صاحب سے ہندوستان اور عالمِ اسلام کے مسلمانوں کی بہت سی توقعاتِ دینی وابستہ ہیں”۔

سید سلیمان ندوی ؒ کے بعد مولانا عبدالماجددریا آبادیؒ تعارفی کلمات کہنے کھڑے ہوئے تو خود پر قابو نہ رکھ پائے اور آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے۔رقت آمیز انداز میں انہوں نے سید مودودیؒ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

“اللہ تعالیٰ نے دورِ حاضر کے فتنوں کے سدباب میں ابوالاعلیٰ صاحب کا سینہ خاص طورپر کھول دیا ہے ۔اور تجدد زدہ گروہ کے حق میں آپ کے قلم کی ایک ایک سطر آبِ حیات ہے۔طبقہٴ علمامیں مولانا کی ذات اس حیثیت سے بہت بلند وممتازہے۔وہ صحیح معنوں میں مفکرِ ملت ہیں “۔

 اس دوران ریڈیو لاہورسے مختلف دینی موضوعات پر آپ کے خطابات نشر ہوتے رہے۔23 فروری1941ء کو اسلامیہ کالج پشاورکی مجلس اسلامیات کی دعوت پر آپ نے اپنا مقالہ “اسلام اور جاہلیت” پیش کیا۔ایم اے او کالج امرتسرکے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے اپنا مشہور مقالہ “خطبہ تقسیم اسناد”پیش کیا جس میں جدید تعلیمی اداروں کو کو قتل گاہیں قرار دیا گیا۔

جماعت اسلامی کا قیام

دارالاسلام کا قیام سید مودودی کے لیے کئی اعتبار سے بہت اہم رہا۔اس ادارہ کے انتظام اور کام کے نقشہ کار کی تیاری کے خطوط پر غوروغوص سے سید مودودی کے ذہن میں آگے چل کر جماعت اسلامی کے قیام کا خاکہ بنا۔ سید مودودی ہندوستان کے سیاسی حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور مسلمانوں کو پیش آمدہ مسائل کے بارے میں فکرمند تھے اس کے نتیجے میں ان کے ذہن میں کام  کا پورا نقشہ واضح ہوتاگیا۔تطہیر افکار، تعمیر سیرت ،تنظیم اور اصلاح معاشرہ ان چار نکات پر سید مودودی کا منصوبہٴ عمل بنیاد رکھتا ہے۔ ۱۹۳۳ء سے ۱۹۴۱ء تک آپ ترجمان القرآن کی تحریروں کے ذریعے ہندوستان کےسنجیدہ فکر طبقے کو متاثر کر چکے تھے۔چنانچہ نو سال تک ابتدائی تطہیر و تعمیر افکار کے بعد آپ نے اپریل ۱۹۴۱ء کے ترجمان القرآن کے اشارات میں “ایک صالح جماعت کی ضرورت”کے عنوان سے اظہارِ خیال کیاگیا۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم ختم ہو چکی تھی جس کے دامن سے انسان کو موت، بربادی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انسان کے بنائے ہوئے نظام اور تراشیدہ فلسفے و نظریات، انسان کو نا انصافی، ظلم، جبر اور غیر فطری طرز ہائے زندگی کے سوا کچھ نہ دے سکے تھے۔دنیا میں اسلام کے پیغام کو موثر طور پر پہنچانے کی اشدضرورت تھی۔ اس کام کے لیے ایسے لوگ درکار تھےجو انتہائی منظم طریقے پر اپنے عمل و کردار سےشہادتِ حق کا فریضہ انجام دیں اور دنیا کو دین اسلام کے آفاقی پیغام سے آشنا کریں۔ سید مودودی  نے اس کے لیے صدا لگادی۔

“اب انسانیت کا مستقبل اسلام پر منحصر ہے۔۔۔۔۔۔ دنیا کو آئندہ دورِ ظلمت کے خطرے سے بچانے اور اسلام کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ یہاں صحیح نظریہ موجود ہے۔صحیح نظریے کے ساتھ ایک صالح جماعت کی بھی ضرورت ہے۔اس کے لیے ایسے لوگ درکار ہیں جواس نظریے پرسچا ایمان رکھتےہوں۔ ان کو سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا اور وہ صرف اسی طرح دیا جاسکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے خود مطیع بنیں ۔جس ضابطےپر ایمان لاتے ہیں اس کے خودپابند ہوں، جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں اس کا خود نمونہ بنیں،جس چیز کو فرض  کہتے ہیں اس کا خود التزام کریں، اور جس چیز کو حرام کہتے ہیں اسے خود چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ان کو اس فاسد نظام تہذیب و تمدن و سیاست کے خلاف عملاً بغاوت کرنا ہوگی، اس سے اور اس کے پیرووں سے تعلق توڑنا ہوگا، ان تمام فائدوں، لذتوں، آسائشوں اور امیدوں کو چھوڑنا ہوگا جو اس نظام سے وابستہ ہوں اور رفتہ رفتہ ان تمام نقصانات، تکلیفوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنا ہو گا جو نظام غالب کے خلاف بغاوت کرنے کا کرنے کا لازمی نتیجہ ہیں۔ پھر انہیں وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو ایک فاسد نظام کے تسلط کو مٹانے اور ایک صحیح نظام قائم کرنے کے لیے ضروری ہے”۔

آپ کی اس آواز پر جن لوگوں نے لبیک کہا ان کی تعداد ۷۵ تھی۔ ۲۶ ؍اگست ۱۹۴۱ء کو اسلامیہ پارک پونچھ روڈ لاہور، جہاں سید مودودی ان دنوں مقیم تھے ’’جماعت اسلامی‘‘ کے نام سے ایک جماعت قائم کر دی گئی اور اس کا دستور منظور کرلیاگیا۔

قیامِ جماعت ِ اسلامی کے بعد ادارہ دارالاسلام کو جماعتِ اسلامی میں ضم کردیاگیا۔

سید مودودی اپنے دینی فہم کی بدولت اسلام کو ایک جامد مذہب ،جس کے تقاضے انفرادی طور پرکچھ عقائد کے محض زبانی اقرار اور چند مراسمِ عبودیت کی تکمیل سے پورے ہوجائیں، کے بجائے ایک “تحریک”سمجھتے تھے۔تحریک ایک اجتماعی عمل کا نام ہے۔اس میں جوش و ولولہ ہے اور مقصد کی تڑپ اور لگن ہے۔سید مودودی کے فہم کے مطابق مسلمانوں کی مغلوبیت کے دور میں ایک مسلمان کے لیے یہ مقصد دین کو انفرادی و اجتماعی طورپر غالب و نافذکرنے کی جدوجہد ہے۔لہٰذا شاہ ولی اللہ اور سید احمد شہید کی طرح وہ بھی اجتماعی اصلاح کو اپنا محور بناتے ہیں۔ سید مودودی کےعصری تحریکات کے مطالعہ نے بھی  انہیں ایک تحریک کے قیام پر آمادہ کیا۔ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں، مغربی ممالک میں جو سیاسی، معاشی اور معاشرتی انقلاب برپا ہوئے وہ لوگوں کی اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ تھے۔ اس لیے آپ نے محسوس کیا کہ ایسی تحریک کا قیام لازمی ہے جو احیائے دین کے لیے علمی، فکری اور عملی جدوجہد میں ہمیشہ مصروف رہے۔ادارہ دارالسلام اور بعدازآں جماعت اسلامی کا قیام اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔ سید مودودی ’’جماعت اسلامی‘‘ کے پہلے امیر مقرر ہوئے۔اس کے بعد آئندہ تقریباً30 سال تک (۳۱؍ اکتوبر ۱۹۷۲ء) سید مودودی ہی جماعتِ اسلامی کے امیر منتخب ہوتے رہے تاآنکہ آپ نے خرابیِ صحت کی بنا پر اس ذمے داری سے معذرت کرلی۔

قیامِ جماعت سے قیامِ پاکستان تک

قیامِ جماعت کے اگلے ہی سال 1942ء میں جماعتِ اسلامی ایک بحران سے دوچار ہوگئی۔ یہ بحران ایسا تھا کہ اس نوزائیدہ جماعت کے وجود پر بن آئی۔مسئلہ سید مودودی کے رہن سہن، لباس کی تراش خراش، وضع و قطع اور تقویٰ پر بعض اہم بزرگانِ جماعت کا عدم اطمینان تھا۔یہ مسئلہ گفتگو سے حل نہ ہوپایا تو اکتوبر 1942ء میں دہلی میں مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں معترضین کی جانب سے کوئی متعین اعتراض نہیں اٹھایا گیا  اور مجلس کے باہر ہی اعتراضات کیے جاتے رہے۔اس صورتِ حال میں سید مودودیؒ نے تین حل پیش کیے ۔

اول۔وہ بحیثیت امیرِ جماعت مستعفی ہوجائیں اور کوئی دوسرا فرد بطورِ امیر منتخب کرلیاجائے۔

دوم۔اگر ایک موزوں آدمی میسر نہ ہوتو تین چار افراد مل کر یہ کام سنبھالیں۔

سوم۔جماعت اسلامی کو بطورِ جماعت منتشر کردیا جائے اور لوگ انفرادی طور پراپنی اپنی صوابدید کے مطابق کام کریں۔

یہ تینوں تجاویز مسترد ہوگئیں اور اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ ہوا کہ جو حضرات نظمِ جماعت کے ساتھ نہیں چل سکتے وہ الگ ہوجائیں چنانچہ 4 حضرات جماعت اسلامی سے الگ ہوگئے۔

اپریل 1943ء تک محض 2 سال کے عرصے میں جماعتِ اسلامی  کے ارکان کی تعداد700 ہو گئی تھی۔

دوسری جنگِ عظیم (1939ء۔1944ء) کے سبب سفری دشواریاں تھیں جن کے باعث کُل ہند اجتماعِ ارکان ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا حلقے وار اجتماعِ ارکان منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وسطی ہند کا اجتماع دربھنگہ میں 21-22اکتوبر، 1943ء کو منعقد ہوا۔جبکہ شمالی ہند کا اجتماع 26۔27 مارچ 1944ءکو پٹھانکوٹ میں منعقد ہوا۔

وسطی ہند کا اجتماع 23۔24 اپریل 1944ء کو دہلی میں منعقد ہوا۔ جنوبی ہند کا اجتماعِ ارکان حیدرآباد دکن میں28۔29اپریل کو منعقد ہوا۔

اس کے بعد پہلا کُل ہند اجتماعِ ارکان 19۔20۔21 اپریل، 1945ءمرکزجماعتِ اسلامی  دارالاسلام  پٹھانکوٹ میں منعقد ہوا۔اس میں آٹھ سو سے زائدحضرات شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں سید مودودی نے “دعوت اسلامی اور اسکا طریقہ کار”اور “تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں”کے موضوعات پر خطاب کیا۔

دوسرا کُل ہند اجتماعِ ارکان5۔6۔7 اپریل، 1946ء بمقام ہردارہ، الٰہ آباد منعقدہوا۔اس میں 2000  سے زائد افراد شریک ہوئے۔

1947ءمیں فسادات کے سبب طے شدہ منصوبے کے مطابق سالانہ کُل ہند اجتماعِ ارکان منعقد نہ ہوپایا۔لہٰذا حلقہ وار اجتماعات منعقدکیےگئے۔ مغربی و وسطی ہند کااجتماع ٹونک میں17۔18 اپریل 1947ء،میں منعقد ہوا۔ جس میں سید مودودی کا مقالہ “شہادتِ حق” پڑھ کرسنایاگیا۔جنوبی ہند کا اجتماع مدراس میں 25 ۔26 اپریل1947ء جبکہ مشرقی ہند کا اجتماع پٹنہ میں 25 ۔26 اپریل 1947ء جبکہ شمالی ہند کا اجتماع دارالاسلام پٹھان کوٹ میں 9۔ 10  مئی 1947ء میں منعقد ہوا۔اس اجتماع میں مسلم و غیرمسلم حضرات کے اجتماعِ عام سے آپ کا خطاب بعدازآں “بناؤ اور بگاڑ”کے نام سے طبع ہوا۔ یہ حلقہ وار اجتماعات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان میں تقسیمِ ملک کی صورتِ حال پر تبصرہ کیا گیا اور سید مودودی نے جماعتِ اسلامی کا بعداز تقسیم لائحہٴ عمل واضح کیا۔

تحریکِ آزادیِ ہند،قیامِ پاکستان اور سید مودودی

سید مودودی ہندوستان کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔مسلمانوں کی پستی،ہندوؤں کی موقع پرستی اور انگریز کی جارحیت ان کے سامنے تھے۔ ہندوستان کی بساطِ سیاست کے مہروں کی چال کا اندازہ یہ بتا رہا تھا کہ آئندہ دور کس قدرکٹھن ہوگا۔خصوصاً انگریزکے جانے کے بعد مسلمانوں کے مستقبل کا نقشہ بالکل واضح ہو گیاتھا۔

نہرو رپورٹ یہ بات واضح کر چکی تھی کے کانگریس کی نظر میں مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ ان کے موقف اور تحفظات کو کوئی وقعت دینے کو تیار نہیں ہے۔

1937ءمیں کانگریس نے “رابطہ مسلم عوام” کی مہم شروع کی. اس مہم کی بنیاد علیحدہ مسلم قومیت کی نفی اور متحدہ قومیت کے پرچار پر تھی۔ اس مہم میں کانگریس کو مسلم علماء کی جماعت  ،جمیعت علمائے ہند کی تائید بھی حاصل تھی۔ سید مودودی کے کے خیال میں یہ تحریک شدھی کی تحریک سے ہزار گنا زیادہ خطرناک تھی کیوں کہ شدھی ایک خالص ہندوانہ تحریک تھی جس سے مسلمان ہوشیار ہوسکتے تھے جبکہ یہ تحریک وقت کے بڑے بڑے فقہاء و محدثین کی تائیدوسرپرستی میں چل رہی تھی۔

متحدہ قومیت کے فتنے کے سدباب کے لیے آپ نے ترجمان القرآن میں مستقل لکھنا شروع کیا۔ اس سلسلہِ مضامین  میں آپ نے قوم پرست علماء پر لادینی قوم پرستانہ سیاست کے حوالے سے اپنے تئیں ان کی غلطی واضح کی ہے ۔ مسلمانوں کو جذباتیت اور فوری ردِ عمل کی بجائے، اپنی قوت کے اصل سر چشموں سے رجوع کرنے،آنے والے وقت کے لیے تیاری اور موثر حکمت عملی کی دعوت دی۔ آپ کے یہ مضامین”مسلمان اور موجودہ سیا سی کشمکش”حصہ اول ودوم اور “مسئلہ قومیت”کے عنوان سے طبع ہوئے۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے مطابق جمعیت علمائے ہند اور اس قبیل کے دیگر قوم پرست زعماء پر سید مودودی کی تنقید نے انہیں لاجواب کردیا تھا:

“مولانا مودودی کی برتر علمیت، مؤثر دلائل، بےلوث منطق اور سیاسیات و قانون کے جدید تصورات کا علم ایسا تھا کہ ان کے اعتراضات کا جواب دینا جمعیت(جمعیت علمائے ہند۔ مرتب) سے وابستہ گروہ کے لیے ناممکن ہوگیا” ۔

 بعد ازآں مسلم لیگ کی مسلم قوم پرستانہ تحریک بھی آپ کے قلم کی کاٹ سے محفوظ نہ رہی اور “مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش”حصہ سوم کے مضامین اس پر شاہد ہیں۔(اب یہ کتب “تحریکِ آزادیِ ہند اورمسلمان “اول ودوم کے زیرِعنوان طبع شدہ ہیں)۔

معاشرتی اور رائے عامہ کا دباؤ انہیں مسلمانوں کے  مقبول سیاسی موقف سے اختلاف کرنے سے باز نہ رکھ سکا اور انہوں نےاپنے موقف کا بدلائل پرچارجاری رکھا۔ مسلم لیگ کے عین مرکزعلی گڑھ یونیورسٹی میں جاکر آپ نے اس طریقۂ کارپر تنقید کی جسے مسلم لیگ اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر اختیار کیے ہوئے تھی اور اس کے مقابل اس طریقے کی نشان دہی کی جس سے ایک اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔ یہ تقریر “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے ؟”کے نام سے مندرجہ بالا مجموعے میں شامل ہے ۔

“اس خام خیالی کی تمام تروجہ یہ ہے کہ بعض سیاسی و تاریخی  اسباب سے کسی جیز کی خواہش تو پیدا ہو گئی ہے ،جس کا نام “اسلامی حکومت ” ہو مگر خالص عملی طریقہ پر نہ تو یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ اس حکومت کی نوعیت کیا ہےاور نہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کیونکر قائم ہوا کرتی ہے”۔

آپ نےبغیر کوئی نظریاتی انقلاب لائے محض نسلی مسلمانوں کی اکثریت کی بنیاد پر اسلامی ریاست قائم کرنے کی خام خیالی کے حوالے سےیہاں تک کہا:

“بعض لوگ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ غیر اسلامی طرز ہی کا سہی، مسلمانوں کاقومی اسٹیٹ قائم تو ہوجائے،پھر رفتہ رفتہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعہ سے اس کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کردیا جاسکتا ہے۔میں نے تاریخ ، سیاسیات اور اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے ‘ اس کی بنا پر میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے تو میں اس کو ایک معجزہ سمجھوں گا”۔

“وہ نظام اگر فی الواقع اسلامی ہوا جیسا کہ وعدہ کیا جارہا ہے تو ہم دل و جان سے اس کے حامی ہوں گے، اور اگر وہ غیر اسلامی نظام ہوا تو ہم اسے تبدیل کرکے اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کی جدوجہد اسی طرح کرتے رہیں گے جس طرح موجودہ نظام میں کررہے ہیں”۔

 یہ مضامین جہاں برعظیم کی سیاسی صورت حال کے عکاس ہیں وہاں سید مودودی کی گہری علمی، دینی اور سیاسی بصیرت کے بھی غماز ہیں۔

مخالفتِ پاکستان کی حقیقت

سید مودودوی کی مخالفت کا تعلق اس طریقہ کار سے تھاجو ایک اسلامی حکومت کے قیام کے دعوے کے ساتھ اختیار کیاگیا تھا۔جہاں تک تصورِ پاکستان کی مخالفت کی بات ہے سید مودودی عملاً کبھی اس کے مخالف نہیں رہے۔آپ کےمتحدہ وطنیت کے تصور کےخلاف اور علیحدہ مسلم تشخص کے اثبات پر مبنی کتب ومضامین(مسئلہ قومیت اور مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش اول و دوم)کا مسلم لیگ نے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔1940ء میں یوپی مسلم لیگ کی جانب سے اسلامی نظامِ حکومت کے خاکے کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں سید مودودی کو بھی شریک کیاگیاتھا۔اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں سید سلیمان ندوی،مولانا آزاد سبحانی اور مولانا عبدالماجد دریاآبادی شامل تھے۔

قیامِ جماعتِ اسلامی کے فوراًبعد سید مودودی کی ہدایت پر ناظمِ جماعتِ اسلامی  قمر الدین خان نےراجہ صاحب محمود آباد کے توسط سے دہلی میں قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات کی۔قائداعظم نے  قمر الدین خان سے فرمایا:

“(وہ)مولانا (مودودی) کی خدمات کو نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا حصول ان کی زندگی اور کردار کی تطہیر سے زیادہ فوری اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اور لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جماعت اگر ایک اعلی مقصد کے لیے کام کر رہی ہےتو لیگ اس فوری حل طلب مسئلے کی طرف متوجہ ہےجسے اگر حل نہ کیا جا سکا تو جماعت کا کام مکمل نہ ہوسکے گا”۔

علاوہ ازیں مخالفینِ لیگ کی جانب سے مطالبہ  پاکستان کو یہود کی قومی ریاست کے مشابہ قرار  دینے پر آپ نے علمی طور پر اس کو رد کیا۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے علاقوں میں جب پاکستان یا ہندوستان میں شمولیت کے حوالے سے استصواب رائے کرایا گیا توسید مودودی نے واضح طور پر پاکستان کے حق میں رائے دینے کی بات کی۔آپ  نے کہا:

“اگرمیں صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ اس لیے کہ جب ہندوستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیت کی بنیاد پر ہورہی ہے تو لامحالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہیے”۔

مطالبہ پاکستان کی مخالفت کاجواب دیتے ہوئے سید مودودی نے کہا:

” (یہ بات) صرف اس صورت میں صحیح ہوسکتی تھی جبکہ جماعت نے تحریک پاکستان کے خلاف کوئی مہم چلائی ہوتی،کوئی جلسہ کیا ہوتا یا کوئی قرارداد پاس کی ہوتی یا اس کے اجتماعات میں مخالفانہ تقریریں کی گئی ہوتیں لیکن اگست 41ء تااگست 47ءتک جماعت کی پوری کاروائیوں میں ایسی کسی چیز کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی”۔

پاکستان ہجرت

3 جون 1947ءکے اعلان آزادی کے بعد یہ واضح ہوچکا تھا کہ پاکستان کا قیام عمل میں آ رہا ہے۔ دارالاسلام پٹھان کوٹ مشرقی پنجاب کے مسلم اکثریتی علاقے میں واقع  تھا اور اس علاقے کے بارے میں یقین تھا کہ مسلم اکثریت کے سبب یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہوگا۔ 14اگست کے تقسیم ملک کے اعلان میں بھی یہ علاقہ پاکستان میں شامل کیا گیا تھا لیکن  کیونکہ گورداسپور کشمیر کو بھارت سے ملانے والا واحد علاقہ تھا لہذا ریڈ کلف نے انتہائی بدنیتی سے 17 اگست کو گورداسپور کو بھارت میں شامل کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ ایک ناگہانی صورتحال تھی جس کا سامنا سید مودودی اور ان کے رفقا کو بھی کرنا پڑا۔

تقسیم کے بعد بعد رونما ہونے والے فسادات کی آگ نے پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔دارالاسلام کی چھوٹی سی بستی کے اردگرد ہندو آبادی کی اکثریت تھی۔ آس پاس کے خوفزدہ مسلمان سمٹ کر دارالاسلام میں جمع ہوگئے تھے۔ دارالاسلام میں ڈھائی ہزار اور نہر سے دوسری جانب چودھری نیاز علی خان کے مکان پر کوئی چھ ہزار کے قریب مسلمان پناہ گزین جمع ہوگئے تھے۔

ان حالات میں جب کہ ہر وقت حملے کا خطرہ تھا سید مودودی کو دو دفعہ پیشکش ہوئی کہ وہ چند ساتھیوں کو لے کر پاکستان چلے جائیں لیکن آپ نے لوگوں کو چھوڑ کر جانے سے انکار کردیا۔ سید مودودی نے پناگزیں مسلمانوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا انتظام کیا۔ مقامی افراد پر مشتمل ایک حفاظتی جتھہ  تیار کیا گیا۔ مستقل پہرے کا انتظام کیا گیا۔15 اگست سے 30 اگست 1947 تک کا عرصہ گویا حالتِ جنگ میں گزرا۔اس دوران 24 اگست کو دارالاسلام کے کے چوکیدار اور جماعت کے رفیق عبد الرحمن بہاولپوری سکھوں  کے ہاتھوں مقامی گاؤں میں شہید ہوگئے۔ تائیدایزدی کے سبب  29 اگست کو دارالاسلام کو سرکاری کیمپ قراردے  کر فوج کی حفاظت میں دے دیا گیا۔ اسی روز شام میں لاہور سے آنے والے ایک فوجی قافلے کی حفاظت میں سید مودودی اپنے رفقا کے ساتھ لاہور روانہ ہوگئے بعد ازاں پیچھے رہ جانے والوں کو اسپیشل ٹرین کے ذریعے بلوا لیا گیا۔

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اس وقت جبکہ نوزائیدہ مملکت میں میں ایک افراتفری کا سماں تھا۔ مہاجرین کا سیل رواں سرحدوں سے داخل ہو رہا تھا۔ وسائل کی قلت تھی اور وحشت کا راج تھا۔الاٹمنٹ کے جھگڑے اور کرسی کے قضیے عروج پر تھے ان حالات میں سید مودودی نے خدمت خلق کا بیڑا اٹھایااور جماعتِ اسلامی نے لاہور میں والٹن میں اپنا امدادی کیمپ لگا دیا۔

تقسیم جماعت

تقسیم ہند کے بدلے ہوئے حالات میں فروری 1948ءمیں جماعتِ اسلامی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ہندوستان میں 240 ارکان رہ گئے اور جماعت ِ اسلامی پاکستان میں کل 385  ارکان تھے۔ سید مودودی جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر رہے اور جماعتِ اسلامی ہندنے ابوللیث اصلاحی کو امیر منتخب کرلیا۔جماعت اسلامی ہند کے نظم نے مقامی حالات کے تحت آزادانہ کام شروع کردیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام

قیام پاکستان کے بعد‘نومبر۱۹۴۷ء میں طلبہ تنظیم کے سلسلے میں دوبارہ کام شروع کیا گیا۔اسلامی ذہن کے حامل طلبہ کو خطوط لکھے گئے اور انھیں۲۳‘۲۴؍دسمبر۱۹۴۷ء کو لاہور میں ہونے والے طلبہ کے اجتماع میں مدعو کیا گیا‘ تاکہ نوجوان طلبہ کی مجوزہ تنظیم کا قیام عمل میں لا یاجائے۔ملک کے مختلف حصوں سے ۲۵طلبہ لاہور میں جمع ہوئے۔ملک نصر اللہ خان عزیز‘مدیر سہ روزہ ’کوثر‘ لاہور کے فرزند ظفر اللہ خان اس نئی طلبہ تنظیم “اسلامی جمعیت طلبہ” کے تاسیسی ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔

سید مودودی میدانِ سیاست میں

قیام پاکستان سے قبل سید مودودی اور جماعت اسلامی نے ہندوستان میں لادینی نظام میں اپنی فکر و فلسفے کے تحت عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا تاہم قیام پاکستان کے بعداب یہ موانعات دور ہوچکے تھے ۔نئی قائم شدہ ریاست میں فوری طور پر درپیش مسائل میں ایک اہم مسئلہ ریاست کے نظریاتی رخ کے درست سمت میں تعین اور قیام پاکستان کے بنیادی مقصد اسلامی فلاحی ریاست کا قیام کی عملی صورت گری کاتھا۔ مولانا مودودی کے خدشات کے عین مطابق قیام پاکستان کے بعداسلامی نظام کی طرف کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ مغربی تہذیب و تمدن کے دلدادہ سیاست دان اور انگریز کی تربیت یافتہ مسلمان افسرشاہی اس نوزائدہ مسلم ریاست کے کارپرداز قرار پائےتھے جن کا اسلامی اقدار اور نفاذِ اسلام سے کوئی علاقہ نہ تھا۔حکمران طبقے کے ذہن میں مذہب اور ریاست کے الگ ہونے کا تصور بھی موجود تھا۔ان کی طرف سے اسلامی نظام کے بارے میں نت نئے اعتراضات سامنے لائے جانے لگے۔

اس وقت کے حالات کی عکاسی کرتے ہوئے سید مودودی نے کہا:

ہماری قوم کے قائدین نے جواب قائد ہی نہیں حاکم بھی تھے، ملک کے آئندہ نظام کے متعلق  جیسی الجھی الجھی اور متضاد باتیں کرنی شروع کیں اور قوم جس طرح ابتدائی چند مہینوں میں ٹھنڈے دل سے ان کو سنتی رہی،اسے دیکھ کر صاف معلوم ہو گیا کہ اس وقت ایک بے شعور قوم کی باگیں ایک بے فکر گروہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ وقت خاموش بیٹھ کر تعمیری کام میں لگے رہنے کا نہیں ہے۔اب اگر ایک لمحہ بھی ضائع کیا گیا تو بعید نہیں کہ جو لوگ منزل کا تعین کیے بغیر بے سوچے سمجھے چل پڑے تھے، وہ یکایک کسی غلط نظریے کو اس مملکت کی بنیاد بنا بیٹھیں اور پھراس فیصلے کو بدلوانا موجودہ حالت کی بہ نسبت  ہزار گنا زیادہ قربانیوں کے بغیر ممکن نہ رہے”۔

مطالبہِ دستورِ اسلامی کی مہم

چنانچہ سید مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے خدمتِ خلق اوراپنے تصورات کے مطابق صحیح اسلامی ریاست کے قیام کی عملی جدوجہد کا آغاز کردیا۔دسمبر ۱۹۴۷ء میں جماعت اسلامی کے پہلے اجتماع میں سید مودودی نے مطالبہ اسلامی نظام کے موضوع پر وضاحتی تقریر کی پھر جماعت اسلامی نے ملک گیر پیمانے پر”مطالبہ ٴنظام اسلامی” کی مہم کا آغازکردیا جسے جلد ہی قبول عام حاصل ہو گیا۔ سید مودودی نےپنجاب یونیورسٹی  لا کالج لاہور میں پہلے ۶؍ جنوری اور پھر ۱۹ فروری ۱۹۴۸ء کو قانون، اسلامی قانون، شریعت اور پاکستان میں اسلامی قوانین کے بتدریج نفاذ پر عالمانہ تقاریر کیں۔یہ دونوں تقاریر”اسلامی قانون اور پاکستان میں اس کے نفاذکی عملی تدابیر”کے زیرِ عنوان طبع شدہ ہیں۔

 ان تقاریر سے قانون داں اور اہلِ علم حضرات کو اسلامی قانون اور شریعت کی اہمیت اور اس کے دائرۂ عمل کا ادراک ہوا اور اسلامی نظام کےعصرِ حاضر میں نفاذ کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ۔ اس مطالبے کو عوامی مطالبہ بنانے کے لیے سید مودودی نے پورے ملک میں جلسوں کاسلسلہ شروع کردیا۔جس کا آغاز6مارچ 1948ءمیں  کراچی میں اجتماعِ عام سے کیاگیا۔جس کے بعد ایسے اجتماعات ملک کے متعدد شہروں میں منعقد کیے گئے۔

ان اجتماعات میں سید مودودی نے اسلامی دستور کے حوالے چار مطالبات پیش کیے:

چونکہ پاکستان کے باشندوں کی عظیم اکثریت اسلام کے اصولوں پر پر ایمان رکھتی ہے اور چونکہ پاکستان کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی ساری جدوجہد اور قربانیاں صرف اسی خاطر تھیں کہ وہ ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں کی جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں ،لہذا اب قیام پاکستان کے بعد ہر پاکستانی مسلمان دستور ساز اسمبلی سے سے یہ مطالبہ کرتا ہے  کہ وہ اس بات کا اعلان کرے کہ:

 نمبر 1 ۔   پاکستان کی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے اور حکومت پاکستان کی کوئی حیثیت اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کی مرضی اس کے ملک میں پوری کرے۔

نمبر 2۔    پاکستان کا بنیادی قانون اسلامی شریعت ہے ۔

نمبر3۔    وہ تمام قوانین جو اسلامی شریعت کے خلاف اب تک جاری رہے ہیں، منسوخ کیے جائیں گے اور آئندہ ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔

نمبر 4۔   حکومتِ پاکستان اختیارات ان حدود کے اندر استعمال کرے گی جو شریعت نے مقررکردی ہیں۔

اس سے قبل اسلامی دستور کے نفاذ اور اسلامی نظام حیات کے حوالے سے ریڈیو پاکستان پر سید مودودیؒ کو ”اسلام کا نظام حیات “ کے موضوع پر پانچ تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کرنے کی دعوت دی گئی۔ یہ سلسلہ 6جنوری سے 16مارچ 1948ءتک جار ی رہا اورسید مودودیؒ نے اسلام کا اخلاقی نظام ، اسلام کا سیاسی نظام ، اسلام کا معاشرتی نظام، اسلام کا اقتصادی نظام اور اسلام کا روحانی نظام کے موضوعات پر پانچ تقاریر کیں۔

قائد اعظمؒ کی رحلت

قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ بڑی جواں مردی سے تحریکِ پاکستان کے دوران اپنی بیماری کو چھُپائے ہوئے تھے۔قیامِ پاکستان کے بعد ان کی بیماری تیزی سے بڑھی اور بالآخر۱۱؍ستمبر ۱۹۴۸ء کووہ انتقال کرگئے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ  کی وفات پر’ ترجمان القرآن‘ کے ماہ ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں سیّد ابو الاعلیٰ مودودی نے قائداعظم محمد علی جناحؒ  کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا :

”اس مہینے مسلمانوں کو جو دو زبر دست حادثے پیش آئے ہیں‘ جنھوں نے ان کی قومی زندگی کو صدمہ عظیم پہنچایا ہے: ان میں پہلا حادثہ بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناحؒ مرحوم کی وفات کا ہے۔ ان کی شخصیت برسوں سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا مرکزومحور بنی ہوئی تھی۔ ساری قوم ان پر مجتمع تھی ان کی رہنمائی پر سب کو بھروسا تھا۔ ان کی ذات نے تمام مختلف عناصر کو جوڑ کر مسلمانوں کو ایک متحد قوم بنادیا تھا۔ ان کے اعتماد پر قوم نے اپنی پوری قوت اس جدوجہدمیں لگادی تھی‘ جس کے نتیجے میں آخر کار پاکستان قائم ہوا اور قیام پاکستان کے بعداس نئی مملکت کی عمارت جس مضبوط ستون کے سہارے پر تعمیر ہورہی تھی‘ وہ بھی ان ہی کی جامع اور معتمدعلیہ شخصیت تھی۔

ان کے بعد کوئی دوسرا شخص بلکہ کوئی گروہ بھی ہمارے درمیان ایسا موجود نہیں ہے جس کی محبت اور احترام لوگوں کے دلوں میں جاںگزیں ہو‘ اور جس کے اخلاص اور تدبر اور عزم وہمت پر سب کو اعتماد ہو۔جس کی آواز پر تمام قوتیں حرکت میں آجائیں اور جس کی مقناطیسی کشش ہمارے شیرازہٴ قومی کے مائل بہ انتشار اجزا کو باہم پیوستہ رکھ سکے۔ کوئی دوسری شخصیت ہمارے یہاں ایسی نہیں ہے کہ اس کے وقار اور تدبرّ کو بین الاقوامی برادری میں اس درجے بھروسے اور اعتبار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ دنیا کے لیے تو مرحوم کی وفات محض ایک بڑے انسان اورمشہور رہنما کی رحلت ہی ہے۔ مگر ہمارے لیے یہ ایک بہت بڑی قومی مصیبت ہے‘ کیوںکہ اس سے ہماری نوخیز مملکت کی طاقت اور ہماری قومی زندگی کو ایسا صدمہ پہنچا ہے‘ جس کی تلافی مشکل نظرآتی ہے۔الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے اور ہماری مدد کرے‘‘۔

جس دوسرے حادثے کا ذکر مولانا مودودیؒ نے کیا تھا وہ حیدرآباد دکن پر ہندوستان کا غاصبانہ قبضے کا تھا‘ جو قائداعظمؒ کے انتقال کے صرف چند روز بعد ہی کیا گیا۔

پہلی گرفتاری

مطالبہ نظامِ اسلامی کی مہم کی مقبولیت  کو حکومت نے اپنے لیے خطرہ سمجھااور رد عمل کے طور پر  سید مودودی کے خلاف قیامِ پاکستان کی مخالفت ،جہادِ کشمیر کی مخالفت، ملک میں انتشار پھیلانے  اورحکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کاپروپیگنڈا شروع کر دیا اور بالاخرقائد اعظم کی وفات کےمحض ۲۳ روز بعد ۴؍ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو سید مودودی، میاں طفیل محمد اور مولانا امین احسن اصلاحی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔جماعت کے ترجمان جرائد “کوثر”و”تسنیم” پر پابندی عائد کردی گئی۔ابتدا میں انھیں 6 ماہ کے لیے نظربند کیا گیا لیکن بعد میں اس مدت میں سیفٹی ایکٹ کے تحت 6،6 ماہ اضافہ کیا جاتا رہا اور یہ سلسلہٴ اسیری کُل20 ماہ چلا۔جب ایک اور نظر بندی کے مقدمے میں ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی میں دوبار توسیع ممکن ہےتو پھر سید مودودی و رفقاء کی رہائی کے لیے درخواست کی  گئی اور عدالتی حکم پرانہیں28 مئی۱۹۵۰ء کورہاکردیا گیا۔

دورانِ اسیری تصنیف و تالیف

اس نظر بندی کے دوران میں مولانا مودودیؒ کو یہ مہلت مل گئی کہ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر قرآن ’’تفہیم القرآن‘‘ کی پہلی جلد مکمل کرلی اور مشہور تصنیف ’’سود‘‘ کا دوسرا حصہ لکھ لیا۔ مسئلہ ملکیتِ زمین مکمل کی۔صحاح ستہ کی کتاب ابوداؤد کا انڈیکس تیار کیا اوراسلام اور جدید معاشی نظریات تحریر کی۔

قراردادِ مقاصد کی منظوری

قیامِ پاکستان کے بعدعبوری طورپر انڈیا ایکٹ 1935ء کو دستور پاکستان کے طور پر اختیار کرلیا گیا تھا ۔ نئی ریاست کو درپیش مسائل میں ایک بڑا مسئلہ آئندہ دستور کی تیاری کا تھا۔ ملک میں موثر اقلیتوں کی موجودگی اور مغربی تہذیب سے وابستگی کے سبب سیکولر دستور کا مطالبہ کرنے والےبھی موجود تھے۔جبکہ علماءکرام قیامِ پاکستان کے اساسی مقاصد کے حوالے سےاسلامی دستورپر زور دے رہے تھے۔اس حوالے سے سید مودودی کی سرکردگی میں جماعتِ اسلامی کی “مطالبہ نظامِ اسلامی “کی پرزورمہم کا تذکرہ ہوچکاہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے  علامہ شبیر احمدعثمانیؒ ودیگر علماء کے تعاون سے ایک قرارداد دستور ساز اسمبلی میں پیش کی ۔جسے “قراردادِ مقاصد”کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس قرارداد کا مسودہ منظورہونے سے قبل جیل میں سید مودودی کو بھی دکھایا گیا  تھا۔

12 مارچ 1949ءکو مرکزی دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کرلی۔یہ قرارداد دستورسازی کے باب میں اہم پیش رفت تھی۔ اس میں حاکمیت و اقتدارِ اعلیٰ کواللہ تعالیٰ کا حق تسلیم کرلیا گیا۔سید مودودیؒ نے اس کے حوالے سے کہا:

“اب اس ریاست کی شرعی حیثیت سابق غیرمسلم ریاست سے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ مسلم قوم اور پاکستانی مملکت کا نصب العین واضح صورت میں متعین ہوگیا ہےاور اس نے ایک پختہ آئینی شکل اختیار کرلی۔مملکت اصولاً ایک اسلامی مملکت میں تبدیل ہوگئی ہے اب اس کی ملازمت جائز ہے۔اس کے قوانین اپنی عارضی نوعیت میں قابل تسلیم ہیں۔اس کی عدالت میں جانا حلال ہے اور اس کی اسمبلی وپارلیمنٹ کے انتخابات میں ہر حیثیت سے حصہ لیا جا سکتا ہے”۔

سید مودودی نے اس قرارداد کی منظوری کو ملک میں لادینی نظام کے خلاف شاہ ضرب قراردیا۔

آئندہ دستوری خاکے کا مسودہ

ستمبر1950ءمیں حکومت کی جانب سے دستوری خاکے کا مسودہ جاری کیا گیا۔ حکومتی دعویٰ  کے برعکس اس پر علماء کی جانب سخت تنقید کی گئی کہ یہ خاکہ عوام کی امنگوں کے برعکس  مکمل طور پر سیکولر طرز کا تھا۔ اس خاکے میں نہ قراردادِ مقاصد کے اصولوں کا لحاظ رکھا گیا تھا اور نہ ہی اس میں دستور ساز اسمبلی کی جانب سے قائم شدہ اسلامی بورڈ کی کوئی سفارش شامل  کی گئی تھی۔ اس دستوری مسودے میں عوام کو شہری حقوق سےبھی محروم رکھا گیا تھا۔سید مودودی نے 14 اکتوبر، 1950ء موچی دروازہ ،لاہورکے جلسہٴ عام میں ان سفارشات پر بھرپور تنقید کی۔

علمائے کرام کے ۲۲ نکات

دینی عناصر کے ردعمل پرحکومت نے پیش کردہ دستوری خاکے سے رجوع کرلیا اور یہ اعلان کیا کہ عوام اور دستوریہ کے ارکان جنوری ۱۹۵۱ء تک اس بارے میں اپنی تجاویز حکومت کو بھیجیں جنھیں ایک کمیٹی مرتب کرے گی۔ لادینی اور دیگر حکومتی عنا صر اس پروپیگنڈے میں مصروف تھے کہ علماء اور متحارب فرقےباہم  کیسے ایک اسلام پر ہم خیال ہوسکتے ہیں اور اس طرح ایک متفقہ اسلامی دستوری مسودہ کیسے تیار ہوسکتا ہے؟کچھ لوگ کہتےتھے کہ قرآن سے اسلامی دستور نکال کردکھایا جائے۔

حکومتی اور لادین عناصر کے اس چیلنج کو قبو ل کرتے ہوئے ۲۱؍جنوری ۱۹۵۱ء کو کراچی میں مختلف مکاتب فکرکے علماء کا ایک عظیم الشان اجتماع سید سلیمان ندودی کی صدارت میں منعقدہوا جس میں دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث‘ اور شیعہ مکاتب فکر کے ۳۱ جیدعلمائے کرام شریک ہوئے جبکہ دینی جماعتیں بشمول جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام‘ جمعیت علمائے پاکستان ‘ جمعیت اہل حدیث اور اہل تشیع پاکستان کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔یہ اجلاس 4 دن جاری رہا۔سید مودودی اس اجلاس میں بھرپور طورپرشریک رہے۔ اس اجلاس میں علماء نے متفقہ طور پراسلامی ریاست کےدستورکی  تشکیل کے حوالے سے۲۲ نکات پر مشتمل بنیادی اصول پیش کیے ۔

انتخابی سیاست کا آغاز

10تا 20مارچ،1951ء پاکستان میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ یہ انتخابات پنجاب صوبائی اسمبلی 197نشستوں کے لیے تھے۔قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعدسید مودودی کی تعبیر کے مطابق ریاست نے کلمہ پڑھ لیا تھالہٰذا اس کی سیاست و انتظام میں حصہ لینا جائز ہوگیا تھا چنانچہ جماعت اسلامی نے ان انتخابات میں پہلی مرتبہ جماعتی طور پر شرکت کی اور 35 نشستوں پر انتخاب لڑا۔تاہم مروجہ انتخابی سیاست کے حوالے سےابھی کئی نظریاتی رکاوٹیں موجود تھیں۔ سب سے بڑا مسئلہ امیدواری نظام تھا۔اسی طرح بے وسیلہ اہل افرادکا پیچھے رہ جانا بھی ایک اہم مسئلہ تھا۔ان کے حل کے لیے جماعتِ اسلامی نے صالح نمائندوں کی انتخابی پنچایت کا نظام پیش کیا۔جس کے تحت نیک ، صالح اور اہل افرادکو پنچایت کی سطح پر نامزد کیا گیا اور ان کا تمام انتخاب جماعت کے کارکنوں نے لڑا۔

ہفتہٴ دستور

حکومت نےاعلان کیا کہ وہ  22نومبر1952ءکو دستوری سفارشات پیش کررہی ہے۔حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے جماعتِ اسلامی نے “ہفتہٴ دستور” منایا اوردارالحکومت کراچی میں اسلامی دستور کے حق میں 21 نومبر کو ایک بڑا اور انتہائی منظم مظاہرہ کیا گیا۔اس کا اثر ہوا اور پیش کردہ دستوری سفارشات میں عوامی خواہشات کو بڑی حد تک مدنظر رکھا گیا۔

سزائے موت

ان ہی دنوں پنجاب میں علماء ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے ذریعے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی مہم شروع کر چکے تھے۔ سید مودودی نے ’’ قادیانی مسئلہ‘‘  کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھ کر قادیانیت کی اصل حقیقت پر روشنی ڈالی۔یہ پمفلٹ دو ماہ کے عرصے میں ایک لاکھ کی تعداد میں شایع ہوا۔

حکومتِ وقت اس مسئلے کو معقولیت سے حل کرنے پر تیار نہ تھی۔حکومت نے تحریکِ ختم نبوت کے قائدین کو26 فروری 1953ء کو گرفتار کرلیا۔اس پر پنجاب میں حالات قابو سے باہر ہو گئے۔  ۶ مارچ ۱۹۵۳ء کولاہور میں  مارشل لاء  نافذ کر دیا گیا اور ۲۸؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو سید مودودی  کو “قادیانی مسئلہ”نامی  کتابچہ لکھنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ آپ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو جیل میں آپ کو سزائے موت سنا دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی آپ کوصرف گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کرنے کا حق بھی دیا گیا۔ آپ نے اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا:

 ’’مجھے کسی سے کوئی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی‘‘۔ 

سید مودودی نے اپنے احباب، تحریکی ساتھیوں اور اہل خانہ کو رحم کی اپیل کرنے سے منع کر دیا۔ آپ نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے فاروق کو تسلی دیتے ہوئے کہا:

”بیٹے اگر خدا کو یہی منظور ہے تو پھر شہادت کی موت سے اچھی موت اور کون سی ہے، اور اگر اللہ ہی کو منظور نہیں تو پھر خواہ  یہ خود الٹے لٹک جائیں مگر مجھے نہیں لٹکا سکتے ‘‘۔ 

سید مودودی  کی سزائے موت کے خلاف پاکستان اور عرب دنیا میں زبردست احتجاج ہوا۔ چنانچہ حکومت نے محض 3 دن بعدسید مودودی اور مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔ پچیس ماہ کے بعد آپ کو (۲۹اپریل ۱۹۵۵ء) ہائی کورٹ کے حکم سے رہا کر دیا گیا۔ قید کا یہ عرصہ لاہور، میانوالی اور ملتان کی جیلوں میں گزرا۔ اس دوران میں آپ تفہیم القرآن کی تکمیل میں مصروف رہے۔سید مودودی نے وضاحت کی کہ ان کی سزاکا تعلق اسلامی دستور کے مطالبے سے تھا، قادیانی مسئلے کو ایک آڑ کے طورپر استعمال کیا گیا۔

1956ء کا دستور:ایک سنگِ میل طے ہوا

اگست 1955ء میں چودھری محمد علی وزیراعظم پاکستان بنے۔مطالبہٴ نظامِ اسلامی کی مہم تاحال جاری تھی ۔ مشرقی پاکستان لادین عناصر کا بڑا مرکز تھا۔سید مودودی نے دینی عناصر کو مجتمع کرنےاور اسلامی دستور کے لیے فضا ہم وار کرنے کی غرض سے 24 جنوری ، 1956ء سے مشرقی پاکستان کا 40 روزہ دورہ کیا۔

قیامِ پاکستان کے تقریباً9 سال بعد 23 مارچ، 1956ء کو پہلا دستور نافذہوا۔اس طرح ملک برطانوی غلامی سے کامل آزاد ہوا۔ سید مودودی نے اس موقع پر کہا:

”ہم اپنی زندگی کی ابتدا ایک ایسی قوم کی حیثیت سے کر رہے ہیں جس نے آئینی طور پر پر خدا کی حاکمیت کا اقرار کیا، اور اقتدار کو اس کی طرف سے سے ایک مقدس امانت مان کر، کر استعمال اقتدار کے لیے، اس کے مقرر کردہ حدود کی پابندی قبول کی ہے۔ آج دنیا کی تمام قوموں کے درمیان ہم وہ تنہا قوم ہیں ہیں جس نے اپنے دستورِ مملکت کےسرنامے پر یہ اعلان ثبت کیا ہے کہ ہم جمہوریت،آزادی ،مساوات، رواداری اور اجتماعی انصاف کے اس تصور پر عمل کریں گے جو اسلام نے ہم کو دیا ہے“۔

سفرحج بیت اللہ

سیدمودودی نے پہلا حج 1956ء میں کیا۔سید مودودی 25۔26جون کی درمیانی شب کراچی سے دمشق کے لیے روانہ ہوئے جہاں آپ کو موتمر عالم ِ اسلامی  کی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔بیروت سے ہوتے ہوئے دمشق پہنچے۔ دونوں مقامات پر اخوان المسلمون کے کارکنان اور رہنماؤں نے آپ کا خیرمقدم کیا۔دمشق کی شامی یونیورسٹی میں ایک بڑے اجتماع میں آپ نے شرکت کی جس میں وزیرِ اعظم اور دیگر اکابرین موجود تھے۔شامی تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کے رواج کے حوالے سےسید مودودی سے ان کی  کتاب “پردہ”عربی میں ترجمہ کروانے کی گزارش کی گئی۔

موتمر عالم اسلامی کے اجلاس سے فراغت کے بعد اردن کے بادشاہ،شاہ حسین کی دعوت  پر سید مودودی دیگر مندوبین کے ہمراہ  اردن تشریف لے گئے۔ سید مودودی نے اردن میں جلسہٴ عام سے خطاب کیا ۔ ایک خصوصی نشست تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ رکھی گئی تھی جس میں آپ نے پاکستانی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کے شکار عرب نوجوانوں کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔

اردن میں سید مودودی نےمقام خلیل اور ابراہیم علیہ السلام کا مزار  دیکھا اور آپ حلب سے ہوتے ہوئے دمشق واپس لوٹے جہاں سے آپ گیارہ جولائی1956ءکو بذر یعہِ طیارہ فریضہٴ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب  پہنچے۔

حج بیت اللہ سے فراغت کے بعد 27 جولائی کو مدینۃ النبی ﷺ حاضر ہوئے۔

تاریخِ جماعتِ اسلامی کا دوسرا بحران

قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی کی حکمت عملی میں ایک انقلابی تغیر رونما ہوا۔ تقسیم ہند سے قبل جماعت اسلامی سید مودودی کی فکر کے مطابق غیر اسلامی  نظام میں شرکت سے کلی طور پر مجتنب رہی ۔یہی معاملہ پاکستان کا بھی رہا تا آنکہ قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جب ریاست نے بقول سیدمودودی کلمہ پڑھ لیا تو اب اس کی سیاست اور انتظام میں شرکت کے دروازے جماعت اسلامی کے لیے کھل گئے۔اس کے تحت 1951ءکے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد کا دور ملک کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے لیے بھی انتہائی طوفانی رہا۔  قیام پاکستان کے فورا بعد جماعت اسلامی مہاجرین کی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئی اس کے ساتھ ہی تھوڑے ہی عرصے میں مطالبہ نظامِ اسلامی کی مہم کا آغاز ہوگیا۔ اس مہم کے ہنگام میں 1948ءمیں سیدمودودی، مولانا امین احسن اصلاحی اورمیاں طفیل محمد گرفتار کر لیے گیا۔1951ء میں رہائی کے بعد بھی مطالبہ نظام اسلامی کی مہم جاری رہی اور اسی سال جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے صوبائی اسمبلی صوبائی انتخابات میں کود پڑی۔اسلامی دستورکا مطالبہ جماعتِ اسلامی کی تمام سرگرمیوں کا محور رہا۔1953ء میں قادیانی مسئلے پر سید مودودی پھر گرفتار ہوتے ہیں ۔25 ماہ قید رہ کر 1955ء میں رہا ہوتے ہیں ۔

1947ء سے 1955ء تک کا عرصہ جس ہنگامہ خیزی میں گزرا اس میں جماعتِ اسلامی کے لیے عمومی تربیتی ودعوتی نظام پر عمل کرنا عملاً ناممکن رہا۔اس راستے کا انتخاب سید مودودی نے شعوری طور پر کیا تھا۔ بقول سید مودودی:

“جس روز تقسیم ملک کا اعلان ہوا اسی وقت ہم نے سمجھ لیا کہ جیسی بری یا بھلی تعمیری سعی بھی آج تک ہم کر سکے ہیں اب اسی پر اکتفا کرنا ہوگا اور اب اس قوم کوسنبھالنے کی فورا کوشش کرنی پڑے گی جو کسی واضح نصب العین کے بغیر اور کسی اخلاقی طاقت اوراجتماعی اصلاح کے بغیر یک لخت بااختیار ہوگئی ہے۔”

اس ساری صورتِ حال میں جماعتِ اسلامی کے تربیتی کام کو ضعف پہنچااور ہنگامی مہمات جماعت کے طے شدہ کاموں پر غالب رہیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں انہماک نے یہ احساس پیدا کیا کہ جماعت اب سیاسی ہوگئی ہے۔گرتے ہوئے معیارِ تقویٰ نے جماعت میں اندرونی طور پر کئی شکایتوں کو جنم دیا۔اس سب کا اظہار نومبر 1955ء میں  جماعت اسلامی پاکستان کے کُل پاکستان اجتماع، منعقدہ کراچی میں ہونے والے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہوا۔اس اجلاس میں ارکانِ جماعت کی جانب سے جماعت کی حکمتِ عملی اور اس کے اثرات کے بارے میں مجلسِ شوریٰ کوموصول ہونے والےبہت سے اعتراضات اور متبادل تجاویز و مشورے پیش کئے گئے۔تنقید وتشویش کا اظہار کرنے والے اپنے اپنے اٹھائے گئے نکات پر اجتماع ارکان میں بحث کرنا چاہتے تھے۔

جائزہ کمیٹی

ڈاکٹر اسرار احمد جو کہ بعدازتقسیمِ ہندجماعتِ اسلامی  کی تبدیل شدہ حکمتِ عملی اور اس کے جماعت پرعملی اثرات پر تنقیدکرنے والوں میں ایک اہم نام ہے۔وہ اس حوالے سے لکھتے ہیں :

” مرکزی مجلس شوریٰ نے اس اندیشے کی بنا پر کہ اگر طریق کار اور دستور سے متعلق ان دقیق بحثوں کو ارکان کے اجتماع میں چھیڑنے کی اجازت دے دی گئی تو ہنگامہ برپا ہو جائے گا، یہ فیصلہ کیا کہ ان اعتراضات اور تجاویز پر غور کرنے کے لیے کہ جن میں نظم جماعت اور اس کے دستور میں بحث کی گئی تھی ایک مجلس تدوین دستور کا انتخاب عمل میں لایا جائے جس میں جماعت کے تمام تنظیمی حلقوں کی تعداد ارکان کے تناسب سے نمائندگی دی جائے تاکہ یہ مجلس جماعت کے لیے ایک نیا دستور مدوّن کرے (اس مجلس میں حلقہ اوکاڑہ کے دو نمائندوں میں ایک راقم الحروف بھی منتخب ہوا تھا) اور ان اعتراضات اور تجاویز پر غور کرنے کے لیے جو جماعت کے طریق کار اور پالیسی سے متعلق ہیں ایک جائزہ کمیٹی کی تشکیل کی جائے جس کے سپرد یہ خدمت ہو کہ وہ تمام پاکستان کا دورہ کر کے جماعت کے عمومی حالات کا جائزہ لے‘ اور ارکانِ جماعت سے فرداً فرداً رابطہ قائم کر کے ان کی بے چینی کے اسباب معلوم کرے اور جو تجاویز ان کے ذہنوں میں ہوں ان کو مرتب کر کے ایک جامع رپورٹ مرکزی مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کرے۔یہ جائزہ کمیٹی ابتداً 8  ارکان پر مشتمل تھی تاہم اسے توڑ کر ایک نئی کمیٹی بنائی گئی اورحکیم عبد الرحیم اشرف صاحب کی سرکردگی میں ان کے علاوہ مرکزی مجلس شوریٰ کے تین اور بزرگ اراکین یعنی مولانا عبد الجبار غازی صاحب، مولانا عبد الغفار حسن صاحب اور جناب شیخ سلطان احمد صاحب پر مشتمل اس ’’جائزہ کمیٹی‘‘ نے تقریباً آٹھ ماہ کے عرصے میں پورے پاکستان کا دورہ کر کے اپنے فرائض مفوضہ کو ادا کیا اور نومبر ۵۶ء میں ایک رپورٹ مرکزی مجلس شوریٰ کی خدمت میں پیش کر دی”۔

جائزہ کمیٹی جماعتِ اسلامی کے صفِ اول  کے اہم ترین افرادپر مشتمل تھی اور مولانا عبد الجبار غازی صاحب، مولانا عبد الغفار حسن صاحب اور جناب شیخ سلطان احمد صاحب ،وہ حضرات تھے جن پر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کی غیر موجودگی میں وقتاً فوقتاً جماعت اسلامی پاکستان کی امارت کی ذمہ داری ڈالی گئی۔

جائزہ کمیٹی کی رپورٹ

جائزہ کمیٹی کی رپورٹ اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ ،جماعت اسلامی میں پیش کی گئی۔یہ اجلاس ۲۵؍ نومبر تا ۱۰؍ دسمبر ۱۹۵۶ء تک تقریباً دو ہفتے جاری رہا۔مجلسِ شوریٰ اس رپورٹ کے حوالے سے دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ایک گروہ  کی رائے یہ تھی کہ جماعت اسلامی کا 1947ء میں تبدیل شدہ طریق کار غلط تھا اور اب فوراً اس سے رجوع کرلینا چاہیے۔انقلابِ امامت کے لیے انقلابِ قیادت کے بجائے پھر وہی ’’نیچے سے اوپر‘‘ کی طرف تبدیلی لانے کا طریقہ اختیار کیا جائے جبکہ دوسرے گروہ کا خیال تھا کہ یہ فیصلہ جماعت اسلامی کے حق میں مہلک ثابت ہو گا۔جماعت کو اسی موجودہ طریق کار پر کاربند رہنا چاہیے۔خرابیاں اول تو اتنی نہیں ہیں جتنی کہ جائزہ کمیٹی کی رپورٹ سے معلوم ہوتی ہیں اور جتنی ہیں وہ فطری ہیں اور انسانی تاریخ میں کوئی دَور ایسا نہیں گزرا جس میں یہ خرابیاں نہ پائی جاتی ہوں۔ حتیٰ کہ عین دَور صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین میں بھی اگر کوئی جائزہ کمیٹی اس طرز سے ’’جائزہ‘‘ لیتی تو ایسا ہی نہیں اس سے بھی کہیں زیادہ غلیظ مواد جمع کر سکتی تھی۔

جماعتِ اسلامی ازروزِ اول سید مودودی کا ہی دوسرا نام تھی۔آپ جماعتِ اسلامی کے قائد ہی نہیں بانی و موٴسس بھی تھے۔جماعت میں امین احسن اصلاحی ؒ  کی شمولیت کے باوجود سید مودودی کا مقام مسلمہ قائد کاتھا۔جماعت کی حکمتِ عملی پر تنقید ، سید مودودی پر تنقید کے مترادف تھی۔

مجلسِ شوریٰ نے ان دونوں انتہاؤں کے بیچ کا راستہ اختیار کیا جس کا اظہار مندرجہ ذیل قرارداد کی صورت میں ہوا:

“مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان دو ہفتوں کے مسلسل غور و خوض کے بعد ان تمام مسائل و معاملات کے متعلق جو جماعت کے پچھلے کام، آئندہ لائحہ عمل اور عام حالات کے بارے میں جائزہ کمیٹی کی رپورٹ کے ذریعہ سے زیر بحث آئے تھے، حسب ذیل نتائج پر پہنچی ہے۔

۱۔ جماعت نے تقسیم ملک سے پہلے اور بعد اب تک جو کام کیا ہے اس کے متعلق مجلس شوریٰ اس بات پر مطمئن ہے کہ جماعت اپنے اصول، مسلک اور بنیادی پالیسی سے منحرف نہیں ہوئی ہے. البتہ تدابیر کے صحیح اور غلط ہونے کے بارے میں دو رائیں ہو سکتی ہیں اور صحیح قرار دینے کی صورت میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ مضر نتائج بھی بر آمد ہوئے ہیں. جنہیں رفع کرنے کی ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے۔

2۔ مجلس شوریٰ کی رائے میں جو لائحہ عمل ۱۹۵۱ء کے اجتماع عام منعقدہ کراچی میں پیش کیا گیا تھا اور جو اب تک جماعت اسلامی کا لائحہ عمل ہے، وہ اصولاً بالکل درست ہے اس کو برقرار رہنا چاہیے. لیکن مجلس شوریٰ یہ محسوس کرتی ہے کہ دستور اسلامی کی پیہم جدو جہد کی وجہ سے لائحہ عمل کے پہلے تین اجزاء کے لیے خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا ہے اور اس کے باعث ہمارے بنیادی کام میں بہت بڑی کسر رہ گئی ہے اس لیے مجلس کی متفقہ رائے یہ ہے کہ جماعت کی بنیادی دعوت اور لائحہ عمل کے پہلے تین اجزاء کی طرف اب پوری توجہ اور کوشش صرف کرنے کی ضرورت ہے اور اس بنا پر سر دست کسی انتخابی مہم کے لیے کام کرنا قبل از وقت ہو گا. البتہ اسلامی اقدار کے قیام و بقاء اور دستور اسلامی کے تحفظ، اصلاح اور نفاذ کے لیے ناگزیر اقدامات سے دریغ نہ ہونا چاہیے۔

3۔ مجلس کی رائے میں نظامِ جماعت کے اندر اصل حجت کتاب و سنت ہے اور اس کے بعد آئینی سند ہونے کی حیثیت جماعتی لٹریچر کی عبارات کو نہیں بلکہ دستور جماعت اور ان جماعتی فیصلوں کو حاصل ہے جو دستور کے مطابق جماعت کے مجاز اداروں (امارت، مجلس شوریٰ اور ارکان کے اجتماع عام) نے کیے ہوں۔البتہ لٹریچر ایک مستقل ذریعۂ دعوت ہے اور رہے گا۔اگر جماعتی فیصلوں میں کوئی چیز لٹریچر کے کسی مضمون سے مختلف پائی جائے تو وہ یا تو اس مضمون کی ناسخ ہو گی یا اس مضمون کے وہی معنی معتبر ہوں گے جو جماعتی فیصلوں کے مطابق ہوں۔

4۔ جائزہ کمیٹی کے ذریعہ سے جماعت کے جو اصلاح طلب حالات و معاملات مجلس کے سامنے آئے ہیں ان کے حقیقی اسباب مشخص کرنے اور ان کی اصلاح کے لیے مناسب تدابیر تجویز کرنے کا کام ایک مجلس کے سپرد کر دیا گیا ہے جو امیر جماعت، مولانا امین احسن صاحب، چودھری غلام محمد صاحب اور نعیم صدیقی صاحب پر مشتمل ہو گی۔ علاوہ بریں جائزہ کے دوران میں جن متعین واقعات کی نشاندہی مختلف مقامات پر جائزہ کمیٹی کے سامنے کی گئی ہے، ان کی تحقیقات اور اصلاح کے لیے مجلس شوریٰ نے مناسب طریقہ تجویز کر دیا ہے جس کے مطابق حتی الامکان جلدی کارروائی کی جائے گی‘‘۔

یہ قرار داد دو مخالف و متضاد آرا میں تطبیق و توافق کی ایک آخری کوشش تھی۔ اس میں ایک طرف جماعت کی بعد از تقسیم کی پالیسی میں نہ صرف یہ کہ ’’عدم توازن‘‘ کا اقرار کیا گیا اور تسلیم کیا گیا کہ اس کی بنا پر جماعت کے ’’بنیادی کام میں بڑی کسر رہ گئی ہے‘‘ بلکہ عملا اس طریق کار کے ایک ستون یعنی ’’انقلاب قیادت بذریعہ انتخابات‘‘ کو بالکل ہی منہدم کر دیا گیا اور دوسرے ستون یعنی ’’دستور اسلامی کے تحفظ، اصلاح اور نفاذ‘‘ کے لیے بھی بس ’’ناگزیر‘‘ اقدامات کی اجازت برقرار رکھی گئی۔ دوسری جانب جماعت کی قیادت کے وقار کو یہ کہہ کر بچایا گیا کہ ’’جماعت اپنے اصول، مسلک اور بنیادی پالیسی سے منحرف نہیں ہوئی ہے”تاہم ساتھ ہی  ’’تدابیر کے صحیح اور غلط ہونے کے بارے میں دو رایوں‘‘ کے امکان کو تسلیم  اورحکمتِ عملی کے ’’بعض مضر نتائج‘‘ کے بر آمد ہونے کے اقرار بھی کرلیا گیا۔یہ سب اس لیے کیا گیاکہ کارکنان کا حوصلہ برقرار رہے اور قیادت پر سے ان کا اعتماد نہ ٹوٹے۔

اس قرارداد سے مسائل حل نہ ہوئے اور انتشار ختم نہ ہوسکا۔ سید مودودی پر فطری طور ان حالات کا گہرا اثر تھا۔سید مودودی نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اس اجلاس کے فوراًبعد جائزہ کمیٹی کے ارکان پر چارج شیٹ عائد کرتے ہوئے کہا:

“اس کمیٹی نے ساری تحقیقات بالکل ایک مخصوص نقطۂ نظر سے کی اور اپنی رپورٹ میں جماعت کی صرف ایک رخی تصویر پیش کرنے ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ سارے مواد کو اس طرز پر مرتب کیا کہ جن انتہائی نتائج پر وہ مجلس شوریٰ کو پہنچانا چاہتی تھی ان کی تائید اس پورے مواد سے حاصل ہو”۔

لہٰذا سید مودودی نے 12 جنوری ، 1957ء کوجماعت اسلامی کی امارت سے جذباتی انداز میں استعفیٰ دے دیااور کہا کہ وہ آئندہ سے ایک عام کارکن کی حیثیت سے ہی کام کریں گے۔بعد ازآں مجلسِ شوریٰ اور ارکان کے اصرار پر انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تاہم چوہدری غلام محمد کو قائم مقام امیرِ جماعت مقرر کردیا۔

جماعت کی حکمتِ عملی اورسید مودودیؒ کے استعفے پرغور کرنے کے لیے یہ طے ہوا کہ یہ معاملہ عام اجتماع ارکان میں پیش کیا جائے گا۔

کل پاکستان اجتماع ارکان ماچھی گوٹھ ‘ صادق آباد‘ رحیم یار خان

ماچھی گوٹھ صادق آباد، ضلع رحیم یار خان کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہاں ۱۷؍فروری تا ۲۱؍فروری ۱۹۵۷ء جماعت اسلامی کاتاریخی اجتماعِ ارکان قائم مقام امیر جماعت اسلامی چودھری غلام محمدکی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ یہ اجتماع صرف اراکین جماعت کا تھا اور اس میں متفقین اور عام سامعین کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس اجتماع میں جماعت کے کل ۱۲۵۵ اراکین میں سے946  اراکین مالی و دیگر مشکلات کے باوجودشریک ہوئے تھے۔اس اجتماع میں جماعت کا نصب العین‘ طریق کار اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ جماعت اسلامی کا موجودہ دستور بھی اراکین جماعت کے اسی اجتماع عام کی ہدایات اور قراردادوں کے مطابق مرتب کردہ ہے۔ اس اجلاس کی غرض امیر جماعت کی حیثیت سے سید مودودیؒ  کے استعفے اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے‘ جماعت کی پالیسی کے چار نکاتی لائحہ عمل‘تطہیرِ افکار، تعمیرِ سیرت،تنظیم ،اصلاحِ معاشرہ وانقلابِ امامت کے چاروں اجزا پر نظر ثانی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور وخوض کرنا تھا۔

سید مودودیؒ کا استعفااز امارتِ جماعت

ارکان جماعت نے کافی بحث اور غور وخوض کے بعد استعفے کے بارے میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی‘جسے قائم مقام امیر جماعت چودھری غلام محمد نے اجتماع ارکان میں پیش کیا۔اس قرارداد کی رو سے سید مودودی کے استعفے کو مسترد کردیا گیا اوران سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنا استعفا واپس لے لیں ان کی مشکلات کو دور کرنے اور ان سے پورا پورا تعاون کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی ۔

سید مودودیؒ نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تاہم انہوں نےاپنی سہولت و ضرورت کے تحت دستور جماعت میں بعض ترامیم تجویز کیں‘ جنہیں ارکان جماعت نے منظور کرلیا۔

تحریکِ اسلامی کا آئندہ لائحہٴ عمل

مولانا مودودیؒ نے ’تحریک اسلامی کی پالیسی اور لائحہ عمل‘ کے عنوان سے اپنی مرتب کردہ ایک قرارداد پیش کی اور اس کی وضاحت میں دو نشستوں میں 6 گھنٹے طویل خطاب کیا۔یہ خطاب “تحریکِ اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل”کے عنوان سے مطبوعہ ہے۔سید مودودی نے اپنی پیش کردہ قرارداد میں جماعت اسلامی کی بعد ازتقسیم اختیارکردہ حکمتِ عملی پر اعتماد کا اعادہ کیااور ثابت کیا کہ جماعت کے طریقہٴ  کار میں تغیر حکمتِ عملی کا ہے اصول کا نہیں ۔جماعتِ اسلامی اپنے طے شدہ اصولوں پر ابتدا سے آج تک قائم ہے۔

سید مودودیؒ نے قرارداد کو پیش کرکے اس کی وضاحت میں تقریر کی تھی۔ اس کے بعد قرارداد میں ترامیم یا متبادل تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ چار متبادل قراردادیں اور چار ترامیم آئیں۔ ان متبادل قراردادوں میں ایک میں ڈاکٹراسراراحمدنے تقسیم ہند کے بعد جماعت کی ساری پالیسی کو غلط قرار دیا ۔بعدازآں اپنی اس قرارداد کے حق میں انہوں ڈھائی گھنٹے طویل تقریر کی۔دوسری متبادل قرارداد میں کہا گیا کہ جماعت ۵ سال تک انتخابات میں حصہ نہ لے‘ تیسری میں کہا گیا کہ جماعت حصہ تو لے لیکن صرف شہادت حق کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ نشستوں پر‘ چوتھی قرارداد مجوز نے پیش کرنے سے پہلے ہی واپس لے لی۔ تمام متبادل قراردادیں اور ترامیم یا تو واپس لے لی گئیں یا ارکان کی غالب اکثریت نے انہیں مسترد کردیا۔ آخر میں مولانا مودودیؒ کی پیش کردہ قرارداد پر رائے شماری ہوئی۔ جس کے حق میں نو سو بیس ووٹ اور اس کے خلاف صرف ۱۵ ووٹ آئے اور اس طرح کثرت رائے سے یہ قرارداد منظور کرلی گئی۔

ماچھی گوٹھ کا یہ اجتماع بحران کو دور کرنے کی ایک کوشش تھی لیکن طوفان آکر رہا۔آراء کا اختلاف، نیتوں پر شبہے تک پہنچ  چکا تھا۔حکمتِ عملی کے معترضین پرعملاً جماعتِ اسلامی کے دروازے بند کردیے گئے اورتھوڑے ہی عرصے میں بالآخر امین احسن اصلاحی ، حکیم عبدالرحیم اشرف،عبدالغفارحسن ،شیخ سلطان احمد، ارشاد احمد حقانی اور ڈاکٹر اسرار احمدوغیرہم سمیت 100 سے زائد ارکان جماعتِ اسلامی سے مستعفی ہوگئےجن میں بڑی تعداد صفِ اول کے قائدین کی تھی۔

مارشل لاء

7۔8 اکتوبر، 1958ء کی درمیانی رات کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کی ساز باز سے ملک میں مارشل لاء نافذکردیا۔مارشل لاء کے تحت تمام سیاسی جماعتیں بشمول جماعتِ اسلامی کالعدم قرار پائیں۔سید مودودی نے اس فراغت کو اپنی تصنیفی سرگرمیوں میں بسر کیا۔

ارض ِقرآن کا سفر

سید مودودی 1۹۵۶ء میں عالم عرب کے دورے پر جاچکے تھے۔جس میں آپ حج بیت اللہ کے لیے سعودی عرب بھی تشریف لے گئے تھے۔ اس وقت بھی آپ کے دل میں ان تمام مقامات کا مشاہدہ کرنے کی خواہش تھی جن کا تعلق قرآن کے نزول اوراس میں بیان شدہ اقوام و امم سے  تھا۔ لیکن خرابی صحت کی بنا پر آپ اپنی اس خواہش کو پورا نہ کرسکے۔ چنانچہ اس خواہش کی تکمیل ۳؍ نومبر ۱۹۵۹ء کو ہوئی جب آپ تفہیم کی تیسری جلدپر کام کر رہے تھے۔ آپ نے تفہیم القرآن کے سلسلے میں مقاماتِ ارض القرآن کا سفر شروع کیا اور ان تمام مقامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ان کے نقشے اور تصاویر بنائیں۔ یہ کام تین ماہ میں مکمل ہوا۔آپ کے ساتھ چوہدری غلام محمد اور محمد عاصم الحدادبھی تھے۔ عاصم الحداد نے اس سفر کی روداد”سفرنامہ ارض القرآن” کے نام سے  قلم بند کی۔

فتنہ ٴ انکارِ حدیث

صدر ایوب خان کا دور ملک کے لیے کئی گوناگوں مسائل ساتھ لایا۔ان میں سیاسی اور مذہبی ہر طرح کے مسائل شامل تھے۔ان کے سیاسی اقدامات کا نتیجہ ان کے اقتدار کے خاتمے کےمحض چند ہی سال بعد قوم کو نظرآگیا جب سابقہ مشرقی پاکستان ملک سے الگ ہوگیا۔جب کہ مذہبی طور پرانہوں  نے جوفتنے پروان چڑھائے ان کے اثرات آج تک باقی ہیں ۔ صدر ایوب خان اپنی افتاد طبع کے تحت  جناب غلام احمد پرویز کے متجددانہ افکار سے بہت متاثر تھے ۔جناب غلام احمد پرویز امت مسلمہ کے متفقہ عقیدے کے برخلاف نظامِ شریعت میں حدیث وسنت کی اہمیت کے قائل نہیں۔ انہوں نے کمیونزم اور اسلام کا ایک آمیزہ “نظامِ ربویت” کے عنوان سے پیش کیا۔جس میں حاکمِ وقت کو “مرکزِ ملت”قرار دے دیا گیا۔ لہذااپنے دور حکومت میں صدر ایوب خان نے جناب غلام احمد پرویز کے ترجمان جریدے “طلوع اسلام”کی باقاعدہ سرکاری سرپرستی کی۔حکومتی مشینری کے اسلام بیزار اور مغربی تہذیب و تمدن  سے متاثرہ افراد اس تحریک کے معاون تھے۔1960ء میں حکومت کی جانب سے ایک ادارہ”ادارہ تحقیقاتِ اسلامی”کے نام سے قائم کیا گیا جس کا مبینہ مقصد علوم ِ اسلامی میں تحقیق اور جدید پیش آمدہ  مسائل کے بارے میں اجتہاد کرنا تھا۔ڈاکٹر فضل الرحمان 1961ء تا 1968ءاس کے ڈائریکٹر رہے۔ڈاکٹر فضل الرحمان معروف تجدد پسند تھے۔آپ صدر ایوب خان کےاسلامی امور میں مشیر تھے۔ ملک میں نافذ عائلی قوانین کی تیاری و نفاذکا سہرا آپ ہی کے سر ہے۔

ملک میں یہ فضا بن چکی تھی کہ حضانت(بچوں کی دیکھ بھال اور سرپرستی) کے ایک مقدمے میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ  کے ایک معزز جج نے رسول اللہ ﷺ کو قانون ساز اور سنت و حدیث کو ماخذ اسلامی قانون ماننے سے انکار کردیا اورقرار دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قانون اخذ کرنے کے لیے عوامی نمائندوں (ممبرانِ پارلیمان )کو قرآنِ کریم کی تفسیر کرنا چاہیے۔

ا ن حالات میں سید مودودی نے پوری قوت کے ساتھ اسلام و جمہوریت کا مقدمہ پیش کیا۔آپ نےستمبر1961ء میں ترجمان القرآن کا منصبِ رسالت نمبر شایع کیاجو بعد ازآں” سنت کی آئینی حیثیت”کے نام سے کتابی شکل میں شایع ہوا۔آپ کے استدلال سے متاثر ہوکر مذکورہ بالا معزز جج صاحب نے اپنے ریمارکس سے رجوع کرتے ہوئے چیف جسٹس سے اپنے متذکرہ ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کر دی۔

۲۶؍ جون ۱۹۶۰ء کو لاہور میں ” مقصد شہادت حسینؓ “کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے سیّد مودودیؒ نے وضاحت کی کہ: “امام عالی مقامؓ نے یہ انتہائی قدم اس لیے اٹھایا تھا کہ ملک کا دستور بدل کر اس کی روح بدل دی گئی تھی۔ مقصد بدل دیا گیا تھا اور اسے ترک کردیا گیا تھا اور امام عالی مقامؓ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے اٹھے تھے۔ اگر روپے اور تلوار کے زور پر ضمیر خریدے اور طاقت اور تشدد سے زبانیں بند کی جارہی ہوں تو ایسا نظام بالآخر قوم اور ملک کا ستیا ناس کرکے رہتا ہے”۔

آمرانہ پابندیاں

سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۸؍ اگست ۱۹۶۱ء کو مشرقی افریقہ کے سات ملکوں کےتبلیغی دورے پر روانہ ہونے والے تھے کہ حکومت نے مولانا کو دورہ افریقہ پر جانے سے بالجبر روک دیا۔ ان کے پاسپورٹ سے افریقہ او رمشرق وسطیٰ کے تمام مسلم ممالک بشمول سعودی عرب خارج کردیئے گئے۔

2جنوری ، 1962ء کو بیت المقدس میں موٴتمر عالم الاسلامی کے اجلاس میں شرکت سے بھی آپ کو اس طرح محروم رکھا گیا کہ آپ کا پاسپورٹ ضبط رکھاگیا۔

9 مئی کی رات سید مودودی  مدینہ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ (جس کے آپ رکن تھے)کے اجلاس میں شرکت کے لیے طیارے پر سوار ہونے لگے توآپ کا پاسپورٹ ضبط کرکے آپ کا سامان اتار دیا گیا۔سعودی سفیر کی مداخلت کے باوجود بھی کوئی سنوائی نہ ہوئی۔تاہم سفر سے روک کر اگلے دن پاسپورٹ لوٹادیا گیا۔

دسمبر 1962ء میں رابطہ عالم اسلامی کی مکہ میں ہونے والی کانفرنس کے لیے سید مودودی کو زرِ مبادلہ دینے سے انکار کردیا گیا۔اس طرح آپ کو سعودی عرب میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔اگلے سال اکتوبر میں آپ رابطہٴ عالمِ اسلامی کے منسوبے کے تحت افریقا جانا چاہتے تھے لیکن حکومت نے اجازت نہ دی۔1967ء میں حکومت نے ایک دفعہ پھر سید مودودی کو باہر جانے سے روک دیا۔ اس پر آپ نے عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا۔ جس نے ایک سال بعد حکومتی اقدام کالعدم قراردے دیا۔

اسلام کے خاندانی نظام میں حکومتی نقب زنی: عائلی قوانین

صدر ایوب خان کے پیشِ نظر جوہمہ گیر اصلاحی ایجنڈا تھااس میں  کئی مذہبی امور بھی شامل تھے ۔ انہوں نے صدارتی حکم کے تحت2؍ مارچ ۱۹۶۱ء کومسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرتے ہوئے عائلی قوانین کا نفاذکردیا۔ اس سے پہلے جون ۱۹۵۶ء میں اس وقت کی سول حکومت کے قائم کردہ عائلی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ پیش کی تھی‘ مگر علماء کی سخت تنقید کے بعد حکومت نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ انگریز دور میں بھی یہ قوانین ترمیم سے بالاتر رہے تھے۔۱۳؍ مارچ۱۹۶۱ء کو سیدمودودیؒ سمیت مختلف مکاتب فکر کے ۱۴ علماء نے عائلی قوانین کے بارے میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا‘ جس میں اس امر پہ انتہائی اظہار افسوس کیا گیاکہ حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران عائلی کمیشن کی رپورٹ پر علمائے دین کے مدلل تبصروں اور اس کی کمزوریوں کی صاف صاف نشاندہی کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے کمیشن کی بیش تر غلط سفارشات کو نہ صرف قانونی شکل دے دی گئی‘ بلکہ وزیر قانون نے انھیں قرآن کے عین مطابق قرار دینے کی جسارت بھی کی۔ان حضرات نے قرار دیا کہ عائلی قوانین کا پورا تخیل ہی مغرب سے اخذ شدہ اور مغربی قوانین ِ نکاح و طلاق کا چربہ ہے۔

آمریت کی مزاحمت

ایوب خان نے بطورِ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر۱۹۵۹ء میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام قائم کیا۔ یکم؍ فروری ۱۹۶۰ء کو بنیادی جمہوریتوں کے ۸۰ ہزار نمائندے منتخب کیے گئے اور ان سے ووٹ لے کرچیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرسے صدر بن گئے۔ ملک میں نئےدستور کی تیاری  کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس نے  7   اپریل ۱۹۶۱ء کو اپنی رپورٹ پیش کی‘ لیکن صدر ایوب نے اپنے نامزد کردہ کمیشن کی رپورٹ کوبھی قبول نہ کیا اور یکم   مارچ ۱۹۶۲ء کو خود ایک دستور بناکر نافذ کردیا۔اس دستور میں ملک کے نام سے اسلامی کا سابقہ حذف کردیا گیا اور اسے محض “جمہوریہ پاکستان” قرار دیا گیا۔ نئے دستور کے نفاذ کے بعد بھی مارشل لا نافذ رہا‘ سیاسی پارٹیاں بھی ممنوع رہیں۔ مارشل لا کے سائے میں انتخابات کرائے گئے۔ جون ۱۹۶۲ء میں قومی اسمبلی وجود میں آئی اور اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کا قانون پاس ہوتے ہی ۱۶؍ جولائی کو سیاسی پارٹیاں بحال ہوگئیں۔سید مودودی نے ۱۹۶۲ء کے آئین کو صریحاً غیر اسلامی اور غیر جمہوری قرار دیا‘ اور اسے جمہوری بنانے کے لیے اس میں ترمیمات کی تجویز پیش کی۔ سب سے پہلے دو تبدیلیاں ایک بنیادی حقوق کی بحالی اور دوسرے بالغ رائے دہی کے ذریعے براہ راست انتخابات کے مطالبے پیش کیے گئے۔

مولانا مودودیؒ۔ ایوب خان ملاقات

صدر ایوب خان رفتہ رفتہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کواپنے اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مولانا کو ملاقات کی دعوت دی اور لاہور کے گورنر ہاؤس میں مولانا مودودیؒ سے طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مولانا کے ہمراہ جماعت کے سیکرٹری جنرل میاں طفیل محمد بھی موجود تھے۔ اس طویل ملاقات میں جنرل ایوب خان نے مولانا مودودیؒ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ:

’’ سیاست بہت گندہ کام ہے۔ اس میں پڑ کر آپ اپنے آپ کو گندگی میں ملوث ہونے سے نہیں بچاسکتے۔ اس میں پڑ کر آپ اپنی زندگی اور وقت دونوں ضائع کررہے ہیں۔ آپ اندرون و بیرون ملک اسلام کی تبلیغ کریں خاص طورپر افریقی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کی بہت ضرورت ہے‘‘۔

مولانا مودودی نے انہیں مدلل جواب دیتے ہوئے کہا:

’’اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جو شخص بھی گندگی صاف کرنے کا کام کرے گا‘ وہ اپنے آپ کو گندگی سے بچانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے کچھ نہ کچھ چھینٹے اس کے کپڑوں پر پڑیں گے ہی۔ لیکن سیاست زندگی کا وہ شعبہ ہے کہ یہ گندہ ہوجائے تو دوسرے شعبہ ہائے زندگی تو درکنار مسجد اور مدرسہ بھی غلاظت سے محفوظ نہیں رہتے‘ اور اگر اسے گندگی سے پاک کردیا جائے تو پوری قومی زندگی اور اس کے سارے شعبے پاک اور صاف ہوکر انصاف اور بندہ پروری کی راہ پر گامزن ہوجائیں گے‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے مزید کہا:

 ’’بلاشبہ افریقی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کی بھی ضرورت ہے لیکن ہم پر سب سے پہلا اور سب سے زیادہ حق اپنے ملک و قوم کا ہے‘ اور ہم نے تو پاکستان بنایا ہی اسلامی نظام زندگی کے قیام اور احیا کے لیے ہے۔ پاکستان کے بانیوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ پاکستان اسلامی نظام کی لیبارٹری ہے۔ ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ اسلام انسانی زندگی کے جملہ مسائل کو کس خوبی سے حل کرتا ہے۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ پاکستان کو اسلامی نظام زندگی کا عملی نمونہ بنائیں‘‘۔

 ایوب خاں، مولانا کی مدلّل گفتگو کی تاب نہ لاسکے اور اس طرح یہ ملاقات فوراً ہی ختم ہوگئی۔

جماعتِ اسلامی کااجتماعِ عام 1963ء

جماعت اسلامی پاکستان نے اقبال پارک لاہور میں کل پاکستان اجتماع عام ۲۵ تا۲۸ ؍اکتوبر۱۹۶۳ء کومنعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔لیکن ایوب خان کی حکومت اجتماع کے انعقاد کی اجازت دینے میں ٹال مٹول کرتی رہی۔ بعداز خرابی بسیار صوبائی حکومت نے جس کے گورنر ملک امیرمحمد خاں نواب آف کالا باغ تھے‘یہ اجتماع لاہور کے میونسپل باغ میں منعقد کرنے کی اجازت دی جو بھاٹی گیٹ اور ٹکسالی دروازے کے درمیان واقع ہے۔اجتماع سے قبل آرڈیننس نافذکرکے لاؤڈ اسپیکرکے استعمال پر پابندی عاید کردی گئی۔

میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا!

۲۵؍اکتوبر کواجتماع کے آغاز پرہزاروں افراد موجود تھے۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے افتتاحی اجلاس سے خطاب شروع کیا۔لاؤڈ اسپیکر کی عدم موجودگی میں پورے پندال میں ہردس بارہ گز کے فاصلے پر کرسیاں رکھی گئی تھیں جن پر کھڑے ہوکر کارکنان سید مودودی کی لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر سنا رہے تھے۔ سید مودودی نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد تھوڑی ہی دیر تقریر کی تھی  کہ  اجتماع پر حملہ ہوگیا۔پولیس کی حفاظت میں 20۔۲۵ افرادنےجوپستولوں اور خنجروں سے مسلح تھے، پنڈال پر حملہ کردیا۔ان غنڈوں نے اجتماع گاہ کے باہر لگےاسٹالوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار شروع کردی۔ ان افرادکا ہدف اجتماع کو درہم برہم کرنا تھا۔ جس کے لیے یہ پتھراؤ کرنے اور لوٹ مار کے علاوہ آگ لگانے کی وارداتیں کررہے تھے۔ کارکنوں نے آگ پر فوری طور پر قابو پالیا۔ اسی دوران میں ایک حملہ آورغلام احمد نے براہِ راست اجتماع گاہ کے اسٹیج پر فائرنگ شروع کردی۔اسے روکا گیا تو پولیس اور اس کے ساتھی غنڈوں نے اسے چھڑا لیابعدازآں اس کی غنڈہ گردی میں رکاوٹ بننے پرجماعت کاایک  کارکن اللہ بخش شہید ہوگیا۔ کارکنوں نے ملزم کا پیچھا کیا۔ایک کارکن  محمد یوسف خان صاحب نے اس قاتل کو پکڑ لیا تو پولیس اسے تحویل میں لینے پہنچ گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قاتل کوہتھکڑی لگا کر باقاعدہ گرفتار کیا جائے۔ پولیس اس کے لیے تیار نہ تھی  تاہم اعلیٰ افسران سےجماعت کے رہنماؤں کی  ملاقات کے بعد بڑی مشکل سے اس پر آمادہ ہوئی۔

غنڈوں کی فائرنگ اور تخریبی کارروائیوں کے دوران میں مولانا مودودیؒ اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ کھڑے رہے۔ مجمع بھی کمال نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ کوئی بھگدڑ نہ مچی۔ اسٹیج پر ان کے ساتھ کھڑے چودھری غلام محمد صاحب نے ازراہ احتیاط کہا: ’’مولانا بیٹھ جائیے کہیں گولی نہ لگ جائے‘‘۔ مولانا نے بلند آواز سے یہ تاریخی جملہ ادا کیا:

“اگر آج میں بھی بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا”۔

اس سانحے کے بعد پہلے دن کےاجتماع  کی کارروائی ختم کر دی گئی۔ جماعت اسلامی نے اجتماع عام کابقیہ  پروگرام تین دن تک جاری رکھا۔

بحالی ِجمہوریت کی مہم

نومبر۱۹۶۳ء میں جماعت اسلامی نے ملک کے اسلامی تشخص اور جمہوریت کی بحالی کی مہم چلائی اور عوام کے متفق مطالبات یعنی بنیادی حقوق بحال کرنے اور بالغ رائے دہی کے اصول پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کے مطالبات کے لیے آواز بلند کی۔ اس مہم میں لاکھوں پاکستانی باشندوں سے محضر ناموں پر دستخط کرائے گئے‘ جنہیں جوڑکر نو میل(۱۴ کلومیٹر) لمبامحضر نامہ تیار ہوگیا۔

۱۵؍ دسمبر کو قیم جماعت اسلامی میاں طفیل محمد اور چودھری غلام محمد کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کرکے گرفتار کرلیا گیا‘ بعد میں ایک ایک لاکھ کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔پھر کوئی ثبوت نہ ملنے پر مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۶۳ء کو مذکورہ محضر نامہ جو نو میل لمبا تھا‘ دو تین ٹرکوں پر لاد کر ڈھاکا میں پارلیمنٹ تک لایا گیا‘ جہاں اسلامی جمہوری محاذ کے لیڈر اور رکن قومی اسمبلی میاں عبدالباری اور دوسرے ارکان اسمبلی کے ذریعے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔

تیسری گرفتاری

۳؍ جنوری ۱۹۶۴ء کو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کے تحت ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ چھ ماہ کے لیے بند کردیا گیا۔ ۶؍ جنوری۱۹۶۴ء کو جماعت اسلامی خلاف قانون قرار دے دی گئی۔ مولانا مودودیؒ، میاں طفیل محمد‘ ارکان شوریٰ اور عاملہ سمیت گرفتار کرلیے گئے۔ جماعت کے کل گرفتار شدہ رہنماؤں کی تعداد پینتالیس تھی۔ ۷؍ جنوری کو حکومت نے جماعت اسلامی کے خلاف جو فرد جرم شائع کی‘ اس میں جماعت اسلامی پر غیر ملکی آقاؤں سے ہدایات لینے اور ممالک غیر میں پاکستان دشمن ذرائع سے کثیر مالی امداد حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ اس کے علاوہ حکومت نے جماعت اسلامی کے تمام اثاثے‘ حتیٰ کہ شعبہ خدمت خلق کی میت گاڑیاں تک اپنے قبضے میں لے لیں۔ دفاتر پر قبضہ کرلیا گیا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔

جون ۱۹۶۴ء کے وسط میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی پر پابندی کے خلاف رٹ درخواست مسترد کردی۔ جبکہ مشرقی پاکستان ہائی کورٹ میں بھی‘ جماعت اسلامی پر پابندی کے خلاف رٹ درخواست دائر کی گئی تھی۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۶۴ء کو اس کی خصوصی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے جماعت اسلامی کو غیر قانونی جماعت قرار دینے والے ۶؍ جنوری کے نوٹس کو خلاف قانون قرار دے دیا۔

جولائی کے آخر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے۔ آر۔ کارنیلیس نے مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جماعت اسلامی کی اپیل کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

۲۵؍ستمبر ۱۹۶۴ء کوسپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس پر پابندی کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مشرقی پاکستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت کی اپیل رد کردی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جماعت اسلامی کے نظر بند رہنماؤں نے نظر بندی کے قانون کو صوبائی ہائی کورٹوں میں چیلنج کردیا۔ مشرقی پاکستان کے نظر بند وہاں کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد رہا ہوگئے۔ مغربی پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کے رفقا کی رٹ کی درخواست کی سماعت ۲۹؍ ستمبر ۱۹۶۴ء کو ہوئی۔ ۱۵؍ اکتوبر کو عدالت نے فیصلہ محفوظ کرکے ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے فل بنچ نے نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام اسیروں کی رہائی کا حکم دے دیا۔

صدارتی انتخاب کی مہم

ملک اس وقت صدارتی انتخاب کےدوراہے پر تھا۔صدر ایوب خان اگلی میعاد کے لیے پھر امیدوار تھے۔  ان کے مقابلے میں ایک ایسی شخصیت درکار تھی جو عوام کی نظر میں قابلِ قدر ہو۔

۱۷؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے متحدہ محاذ نے ایک اجلاس میں محترمہ فاطمہ جناح سے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کی درخواست کی تھی۔محترمہ فاطمہ نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ملک و ملت کی بقا اور آمریت کے خاتمے کی خاطر قبول کرلیا تھا۔

حکومت  کی جانب سے سرکاری ریڈیو‘ ٹی وی اوراپنے زیرِ اثر  اخبارات وجرائد  کے ذریعے اور جلسے جلوسوں میں اس بات کو بہت اچھالا گیا کہ اسلام میں عورت کا سربراہ مملکت ہونا غیر اسلامی ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت

25؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو موچی دروازہ لاہور میں جماعت اسلامی کا ایک جلسہ عام ہوا‘ جس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سیّد مودودیؒ نے ایوب خان کو متعدد غیر آئینی اور غیر قانونی استبدادی اقدامات کا مجرم قرار دیتے ہوئے‘ انہیں عہدہ صدارت کے لیے نا اہل قرار دیا۔ ان اسباب میں عوام کے اعتماد کو مجروح کرکے ملک کی حفاظت کے بجائے اس کا مالک بن بیٹھنا‘ پورے ملک میں پونے چار سال تک مارشل لا نافذ رکھنا‘ سول انتظامیہ اور عدالتوں کی موجودگی میں فوجی عدالتیں قائم کرنا‘ مارشل لا کے نفاذ کے دوران بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات اور غیر جمہوری طورپر بنیادی جمہوریتوں کے اراکین کے ووٹوں کے ذریعے بغیر کسی مدمقابل امیدوار صدارت کے صدر بن بیٹھنا‘ خود اپنے ہی مقرر کردہ آئینی کمیشن کی سفارشات کو تسلیم نہ کرنا اور مارشل لا کی حالت میں شخص واحد کا تیار کردہ غیر جمہوری اور غیر اسلامی آئین ملک و قوم پر مسلط کرنا شامل تھا۔ انھوں نے جمہوری اقدار کی بحالی کی خاطر اور آمریت کے خاتمے کے لیے محترمہ فاطمہ جناح کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

مولانا مودودیؒ نے اپنی تقریر میں اور متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم پر انتخابی جلسوں میں جماعت اسلامی کے اس اجتہادی اقدام کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ:

 ’’مجبوری کی حالت میں جب اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہ ہو تو بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی خامی کو قبول کرنا ہوگا۔ اس صورت میں اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا کہ خاتون امیدوار کی حمایت کی جائے اور یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کررہی ہے”۔

کھلی دھاندلیوں‘ سرکاری مشنری کے بے دریغ استعمال‘ نومنتخب اراکین بنیادی جمہوریت کے تحفظ کے باوجود محترمہ فاطمہ جناح کو ۲۸ ہزار سے زیادہ ووٹ ملے‘ جبکہ ایوب خان کو پچاس ہزار ووٹ ملے اور انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو زیادہ ووٹ مشرقی پاکستان سے ملے۔ مغربی پاکستان میں انہیں صرف کراچی سے کامیابی حاصل ہوئی۔

جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء

۶؍ ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پاکستان کی دراندازی کا بہانہ بناکر مغربی پاکستان پر حملہ کردیا۔ حملے کی خبر ملتے ہی امیر جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ اور جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ اپنے شدید اختلافات کے باوجود دفاع پاکستان کے لیے‘ حکومت کو اپنے بھرپور اور غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی۔ صدر ایوب کی دعوت پر امیر جماعت نےدیگر سیاسی قائدین کے ساتھ ان سے ملاقات کی اور ان کی خواہش پر ریڈیو پاکستان سے 5 تقریریں کیں اور افواج پاکستان اور قوم میں جذبہ جہاد کو فروغ دیا۔ سید مودودی کی ہدایت پرجماعت اسلامی کے کارکنوں نے رضاکارانہ طورپر دفاع وطن کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اور ہر قسم کی ضروریات پوری کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔آپ نے عالم اسلام کو بھارتی جارحیت کے مضمرات سے آگاہ کرنے کے لیے عربی زبان میں سو سے زائد علماکو خط ارسال کیااور دنیا بھر میں پاکستانی موقف کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ہندوستان اس جنگ میں ہر لحاظ سے ہزیمت اٹھا رہا تھا۔اپنی مکمل رسوائی سے بچنے کے لیے اس نے اقوام متحدہ کا سہارا لیاجس کی سلامتی کونسل نے دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کی قرارداد منظور کرلی۔

سید مودودی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ:

” سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو رد کر دیا جائے اور کوئی جنگ بندی اس وقت تک قبول نہ کی جائے جب تک کشمیر میں رائے شماری کی قطعی  ضمانت نہ مل جائے۔ سلامتی کونسل کی موجودہ قرارداد بالکل مبہم اور ناقابل اطمینان ہے اور کوئی باعزت اور پائیدار صلح اس کے بغیر نہیں ہوسکتی جب تک اقوام متحدہ کے کمیشن برائے کشمیر  کی ان قراردادوں کو عملی جامہ نہ پہنایا جائے جو اس نے کشمیر میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کرانے سے متعلق 13 اگست ، 1948ء اور 5پانچ جنوری 1959ء کو منظور کی تھیں”۔

خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف مہم

ایوب حکومت نے اپنے تیسرے پنج سالہ منصوبے میں تحریک ضبط ولادت (خاندانی منصوبہ بندی) کے لیے ۲۸ کروڑ روپے مختص کیے تھے۔سیدمودودی  نے اس تحریک کے لازمی نتیجے میں معاشرے میں شرم و حیا کے خاتمے اور بدکاری کے پھیلاؤ کے خطرے کو پوری طرح محسوس کیااور اس کے خلاف مہم شروع کی۔ بڑی تعداد میں لٹریچر چھپواکر تقسیم کیا گیا اور پوسٹر دیواروں پر چسپاں کیے گئے۔ حکومت نے جماعت کی اس مہم کو روکنے کے لیے ہر قسم کے تشدد کے حربے استعمال کیے۔ سید مودودیؒ کا لکھا ہوا کتابچہ ’’اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی‘‘ اور کتاب ’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ دونوں کو دفاع پاکستان رولز کے تحت ضبط کرلیا گیا۔ جو بالآخر ہائی کورٹ میں رٹ کے نتیجے میں واگزار ہوئیں۔ کارکنوں کو جگہ جگہ گرفتار کیا گیا۔ ان کی خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور انہیں تھانوں میں بلابلاکر ہراساں کیا گیا۔

رویت ہلال کا قضیہ اورسید مودودی کی چوتھی گرفتاری و رہائی

1967ء میں عیدالفطر12،یا 13 جنوری کو متوقع تھی۔ 11جنوری کوشوال کا چاند نظرنہ آسکا لہٰذا عیدالفطر12 جنوری بروز جمعہ تھی۔ صدر ایوب خاں کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی تھی کہ جمعے کے دن عید کا ہونا حکومت وقت پر بھاری ہوتا ہے کیونکہ عید کی وجہ سے جمعے کے دن دو خطبوں کا ہونا نیک شگون نہیں ہے۔لہٰذا حکومت نے شوال کا چاند ہوئے بغیر ہی عید کا اعلان کردیا۔ حکومت کا موقف یہ تھا کہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۷ء کو چاند نظر آگیا لہٰذا عید الفطر ۱۲؍ جنوری جمعرات کو ہوگی جبکہ علماء کرام کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ چاند ۱۲؍ جنوری کو نظرآیا ہے لہٰذا عید الفطر ۱۳؍ جنوری ۱۹۶۷ء بروز جمعہ کو ہوگی ۔98فی صد عوام نے عید جمعہ کو منائی۔حکومت نے اس کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بعض علما کو گرفتار کرلیا۔۲۹ جنوری ۱۹۶۷ء کو رویت ہلال کے حکومتی فیصلے سے اختلاف کے جرم میں ڈیفنس رولز آف پاکستان کی دفعہ ۳۲ کے تحت سید مودودی کو دو ماہ کے لیے گرفتار کرکے بنوں میں نظر بند کردیا گیا کیونکہ اس وقت وہ صوبہ سرحد کے دورہ پر تھے۔ ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت پریس پر یہ پابندی بھی لگادی گئی کہ وہ اس اقدام پر کوئی تبصرہ کوئی احتجاج یا تنقید شائع نہیں کرسکتے۔ جماعت نے حکومت کے اس ظالمانہ اقدام کو عدالت عالیہ میں رٹ کے ذریعے چیلنج کردیا۔ حکومت عدالت میں اس اقدام کا دفاع کرنے سے قاصر رہی اور اس نے سماعت کے دوران ہی‘سید مودودی اور دیگر علمائے کرام کو۱۶؍مارچ ۱۹۶۷ء کو رہا کردیا۔

امارت سے 1 سالہ رخصت

سید مودودی کو ۱۹۴۲ء سےگردے و مثانے میں پتھری کا عارضہ تھا۔آپ کے گردوں اور مثانے میں پتھری پیدا ہو جاتی تھی۔ ۱۹۴۶ء میں امرتسر کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ریاض قدیر اور ڈاکٹر غلام محمد بلوچ نے آپ کے گردے کا آپریشن کر کے چھ پتھریاں نکالی تھیں۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد یہ دوبارہ بننی شروع ہو گئیں۔ مولانا اسی حال میں اپنی ساری مصروفیات جاری رکھے رہے۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر اس کے علاج کے لیے لندن میں انتظامات کیے گئے۔سید مودودی نے بیماری کے سبب 24 مئی، 1968ء سےامارتِ جماعت اسلامی سے سے ایک سال کی رخصت لے لی۔ 23 اگست کوآپ علاج کیلئے برطانیہ روانہ ہو گئے۔ 9 ستمبر کو آپ کے مثانے کا آپریشن کرکے پتھری نکال لی گئی۔اس کے بعد دوسرا بڑا آپریشن 21 اکتوبر کو ہوا جس میں پتھری کے سبب آپ کا بایاں گردہ نکال دیا گیا۔

سوشلزم کا مقابلہ

پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بائیں بازو کے عناصر بہت زیادہ سر گرم ہوگئے۔ تشدد اور لاقانونیت حد سے بڑھ گئی اور حکومت اس کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی تھی۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی‘ عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی‘مزدور کسان پارٹی اور مشرقی پاکستان میں عبد الحمید بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی ‘ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ سوشلزم کے متشددپرچارک تھے۔طلباومزدوریونینیں  ان کا خاص ہدف تھے جنہیں اپنے دائرہ اثر میں لانے کے لیے ان کی ساری تگ و دو تھی۔

18 دسمبر ۱۹۶۸ء کو سید مودودی علاج کے بعد جب وطن واپس آئے تو یہاں سوشلسٹ انقلاب کے نعرے لگنا شروع ہو گئے تھے۔ سید مودودی نے لاہور آمد پر برملا اعلان کیا کہ یہ محمد عربی ﷺکا ملک ہے یہاں کسی میں ہمت نہیں کہ اسلام کے سوا اور کوئی نظام لا سکے۔

“حضرات جب تک ہم زندہ ہیں اور ہمارے سر اپنی گردنوں پر قائم ہیں اس وقت تک کسی کی یہ ہمت نہیں کہ وہ یہاں اسلام کے سواکوئی اور نظام چلاسکے۔یہ محمدﷺکی امت کا ملک ہے ۔ یہ مارکس اور ماؤزے تنگ کی امت کا ملک نہیں ۔ یہاں کوئی دوسرا نظام ان شاء اللہ نہ چل سکے گا۔اور ان شاء اللہ لادین طبقے کی آمریت بھی یہاں نہیں چل سکے گی”۔

سید مودودی کے ان الفاظ نے سننے والوں میں ایک جوش و خروش پیدا کردیا۔انہوں نےسوشلزم کا مقابلہ تعلیم، سیاست،صحافت،ادب غرض زندگی کے ہر میدان میں اس شان سے کیا کہ سوشلسٹ انقلاب جو ایک زمینی حقیقت معلوم ہوتا تھادیوانے کا خواب بن کر رہ گیا۔

ایوب خان کا زوال

ایوب خان نےاپنے خلاف تحریک  سے ہار مان کراقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا اوراپنے ہی تیار کردہ ۱۹۶۲ء کے آئین کے تحت اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر عبد الجبار خان کے سپرد کرنے کے بجائے اور عبوری حکومت بنانے کے بجائے ملک کا اقتدار فوج کے سربراہ جنرل یحییٰ خان کے حوالے کردیا۔ جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا لگاکر ۱۹۶۴ء کا آئین منسوخ کردیا۔ جماعت اسلامی اور تمام سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ ۱۹۵۶ء کا آئین بحال کرکے بالغ رائے دہی کے تحت نئے انتخابات کرائے جائیں‘ لیکن جنرل یحییٰ خان نے اس تجویز کو نظر انداز کردیا۔ جنرل یحییٰ خان نے بالغ رائے دہی کے تحت نئی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ دستور ساز اسمبلی کے انتخاب کے لیے لیگل فریم ورک آرڈی ننس جاری کردیا۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیا ن اصول مساوات (parity) کو ختم کردیا۔ ون یونٹ توڑ کر مغربی پاکستان میں چار صوبے قائم کردیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ قومی اسمبلی کے نئے منتخب نمائندے ملک کا نیا دستور بنائیں گے۔

یحییٰ خان کے نیاآئین بنانے کے ا علان نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر بے آئینی کے دلدل میں دھکیل دیا۔ اس صورت حال پر امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی ؒ نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’اگر پاکستانی حکومت جمہوریت کی طرف سفر کا آغاز کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اس صورت حال کو بحال کرنا ہوگا جو ۸؍ اکتوبر ۱۹۵۸ء سے قبل موجود تھی۔ اگرایسا نہ کیا گیا تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ کسی شخص کو بھی یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر جمہوری طریقے سے بنائے ہوئے دستور کو منسوخ کرسکتا ہے۔ فی الحقیقت یہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا اصول ہے ‘جو قانون کے تصور ہی کے منافی ہے‘‘۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان صاف الفاظ میں خبردار کرچکے تھے کہ:

’’اگر اسمبلی نئی دستور سازی کے لیے قائم کی گئی تو ملک تباہ ہوجائے گا‘‘۔ انھوں نے مزید فرمایا تھا کہ: ’’اگر مارشل لا کے نفاذ کے ساتھ ہی ۱۹۵۶ء کے آئین کی بحالی کا اعلان کردیا جاتا تو یہاں سارے جھگڑے ختم ہوجاتے‘‘۔

لیکن یحییٰ خا ن نے ’’ایک آئین کے تحت انتخاب‘‘ کرانے کے بجائے ایک ’’نئے آئین کے لیے انتخابات‘‘ کرانے کا اعلان کیا۔ ۲۸؍جولائی ۱۹۶۹ء کو صدر یحییٰ خان نے جسٹس عبدالستار کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا۔ یہ عمل پاکستان کو نئے فکری انتشار میں دھکیلنے کی شعوری کوشش تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی مسلمان مملکت پاکستان دوسرے مارشل لا کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ انتخابات کے باضابطہ اعلان ہونے سے قبل مارشل لا کی بے بسی کا اندازہ ہورہا تھا۔ نیا مارشل لا ایک ایسا مارشل لا تھا‘ جس میں غنڈہ گردی‘ جھوٹ اور قتل و غارت گری کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی۔

۱۲؍اگست۱۹۶۹ء کو ڈھا کا یونیورسٹی کے ۲۲ سالہ طالب علم اور اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکا کے ناظم عبد المالک کی شہادت اس کی واضح اور پہلی مثال تھی۔ عبد المالک کی شہادت پر مولانا مودویؒ نے فرمایا:

“اس موقع پر میں یہ بات بالکل بے لاگ طریقے سے واضح کر دیتا ہوں کہ جولوگ پاکستان میں اسلام اور اس کے نظام زندگی کی حمایت کے لیے اٹھے ہیں وہ اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسا نہیں رکھتے۔ انھیں اس مقصد کے لیے جان و مال کی بازی لگانی ہے اور ہر اس قوت سے لڑجانا ہے جو یہاں اسلام کے سوا کوئی اور نظام لانا چاہتے ہیں۔ عبد المالک کی شہادت اس را ہ میں پہلی شہادت تو ہو سکتی ہے مگر یہ آخری شہادت نہیں ہے ‘‘۔

اس سے بہت پہلے مغربی پاکستان میں جماعت اسلامی لاہور کے دفتر پر حملہ ہوا اور قرآن پاک کو نذر آتش کیا گیاتھا۔

رباط کانفرنس

مراکش کی وزارت تعلیم  نے عالمِ اسلام کی قدیم درسگاہ قزوین یونیورسٹی کے تعاون سے ایک بین الاقوامی اسلامی تعلیمی کانفرنس منعقد کی جس میں شرکت کے لیے سید مودودی کو بھی دعوت دی گئی۔سید مودودی  15 ستمبر، 1969ء کو رباط پہنچے۔تعلیمی کانفرنس میں اپنے مقالے میں سید مودودی نے فرمایا:

“ہمیں اسلامی یونیورسٹیوں کا نصاب مرتب کرتے وقت ان مقاصد کو پیشِ نظر رکھنا چاہیےکہ ہمیں ایسے ڈاکٹر، انجینیر،سائنس دان اور دیگر علوم کے ماہرین تیار کرنے ہیں جو اپنی فکر کے لحاظ سے مومن  و مسلم ہوں  اور ہماری زندگی کے تمام شعبوں کو اسلام کے مطابق چلاسکیں ۔وہ علومِ جدیدہ کو پڑھتے ہوئے مغرب کے الحادی فکر سے مرعوب نہ ہوں۔ہمیں نہ صرف اپنے نوجوانوں کی بلکہ ان مسلم نوجوانوں کی بھی تربیت کرنی ہے جویورپ اور دوسرے ممالک میں حصولِ تعلیم کے لیے گئے ہیں ۔اور اس کے علاوہ علمی تحقیقات کے نام پر اسلام کے خلاف مستشرقین کے پھیلائے  ہوئےفتنوں کا مقابلہ بھی کرنا ہے”۔

مشرقی پاکستان کا خونی دورہ

مشرقی پاکستان اندرونی و بیرونی سازشوں کا گڑھ تھا۔ وہاں کے حالات دن بدن بگڑتے جارہے تھے ۔سوشلسٹ اور اسلام دشمن قوتیں زوروں پر تھیں ۔ سید مودودی ان حالات میں 17 جنوری، 1970ءکو ڈھاکا پہنچے۔18 جنوری کو پلٹن میدان میں آپ کا جلسہ مذکورہ بالا کی وحشت و بربریت  کا شکارہوگیا۔سید مودودی راستے بند ہونے کے سبب اجتماع گاہ تک پہنچ ہی نہ سکے۔ بیس پچیس زار کا مجمع پلٹن میدان میں موجود تھاجنہیں عوامی لیگ کے غنڈوں نے آتشیں اسلحے اور دستی بموں سے مسلح ہوکر نشانے پر رکھ لیا۔ڈھاکا میڈیکل کالج میں 500 کے قریب زخمی لائے گئے جن میں سے جماعت کے دو کارکنان جانبر نہ ہوسکے۔

متحدہ پاکستان کے آخری انتخابات

قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ۵؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء کا دن مقرر کیا گیا تھا لیکن مشرقی پاکستان میں شدید طوفان اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب بعد میں اسے ملتوی کر کے ۱۷؍دسمبر کا دن مقرر کیا گیا۔

جن حالات میں پہلے عام انتخابات ہورہے تھے‘ پاکستان بین الاقوامی سرد جنگ کا اکھاڑا بنا ہوا تھا۔ مارشل لا حکومت نے جس طرح ملک کے دونوں حصوں میں تشدد اور جلاؤ ‘گھیراؤ کو کھلی چھوٹ دے دی تھی‘ اس کو دیکھتے ہوئےسید مودودی کی دُوربیں نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ:

’’ملک میں جمہوریت کے بجائے فسطائی آمریت کے قیام کا راستہ ہموار ہورہا ہے۔ مغربی پاکستان میں بھی جلاؤ گھیراؤ کا نعرہ لگا کر ملک کوخانہ جنگی‘انتشار اور تشدد کی آگ میں دھکیلنے کی کوششیں جاری تھیں۔اس وقت دو بڑے چیلنج ہمارے سامنے آگئے ہیں۔ پہلا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہویا کو ئی دوسرا نظام۔ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان ایک ملک رہے گا بھی یا نہیں“۔

ہر مکتبہ فکر کے جید علماء کا سوشلزم کے خلاف فتویٰ

فروری ۱۹۷۰ء میں پاکستان کے ہرمکتبہ فکر کے ۱۱۵ جید علمائے کرام نے فتویٰ دیا کہ سوشلزم کے خلاف جہاد ہر مسلمان پر بقدر طاقت فرض ہے۔ سوشلسٹوں کی مالی اعانت اور انھیں ووٹ دینا کفر کی امداد کرنا ہے ۔ علماء کے اس فتوے کے بعد ہزاروی گروپ کا اثر معدوم ہو گیا لیکن بھٹو صاحب اسلام ہمارا دین ہے سوشلزم ہماری معیشت ہے کے نعرے لگاکر عوام کو مسلسل دھو کے دیتے رہے۔

یوم ِشوکتِ اسلام ۔۳۱؍ مئی ۱۹۷۰ء

ملک میں اسلام اور سوشلزم کے درمیان نظریاتی کش مکش جاری تھی۔ اشتراکی قوتوں کے لیڈر عبدالحمید بھاشانی نےٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان کانفرنس کے عنوان سے اشتراکیوں کے اجتماع میں ملک میں انارکی  پھیلانے اور خون خرابے کی دھمکی دی اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے۱۹؍ اپریل کو پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپیل کی کہ:

“۱۹؍اپریل کی ہڑتال کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے‘ کیونکہ اس کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ سوشلسٹ جب چاہیں پورے ملک کے نظام کو معطل کرسکتے ہیں”۔

۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء کی ہڑتال مکمل طورپر ناکام ہوگئی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس نے:

’’اپنے عزم و شعور اور متحدہ ارادے کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ملک کے دونوں بازوؤں میں اس ہڑتال کو قطعی ناکام کردیا‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ:

 ’’اس ملک میں اسلام کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کو دارالاسلام بن کررہنا ہے یا مارکس اور لینن کی امت کا ملک بن جانا‘‘۔

۱۹؍اپریل ۱۹۷۰ء کو پاکستان میں سوشلزم کی کامیابی کا دن منانے کے لیے طاقت کاناکام مظاہرہ کیا گیا تھا۔اس کے بعد عبدالحمید بھاشانی نے پھر اعلان کیا کہ یکم جون سے براہِ راست تحریک شروع کی جارہی ہے۔ اس کے جواب میں سید مودودیؒ نے قوم سے اپیل کی کہ اب ضروری ہے کہ مسلمان ایک دن پورے پاکستان میں اسلامی نظام کے حق میں طاقت کا مظاہرہ کریں۔ مولانا مودودیؒ نے تمام اسلامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ۳۱؍مئی کو بالا تفاق ’’یومِ شوکتِ اسلام‘‘ کے مظاہرے کا دن منائیں۔ جس سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے کہ پاکستان کے ۱۲‘کروڑ مسلمان ۳۱؍مئی ۱۹۷۰ ء پاکستان کی تاریخ کا یادگار اور ناقابل فراموش دن ثابت ہوا۔ لاہور اور ڈھاکا سے لے کر چٹاگانگ اور کراچی تک پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہر ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھے۔ صرف شہروں میں ہی نہیں قصبات اور دیہی علاقوں تک میں بڑے پیمانے پر جلوس نکالے گئے اور مظاہرے ہوئے۔ لاکھوں افراد مئی کی چلچلاتی دھوپ میں اپنے گھروں سے باہر نکلے۔ ان جلسے‘ جلوسوں اور مظاہروں سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ اس سرزمین کے باشندے اسلام کے علاوہ کسی نظام کو قبول نہیں کر سکتے۔

لاہور میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید ابو الاعلی مودودیؒ اور اکابرین جماعت اور دیگر دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے یوم شوکت اسلام کے بہت بڑے جلوس کی قیادت کی جو لاہور کی اہم شاہراہوں سے گزرا ۔

قاتل، قائل ہوگیا

سید مودودی کے خلاف پروپیگنڈا زوروں پر تھا۔اس میں مذہبی یا سیاسی مخالفین کی کوئی قید نہ تھی ۔6 ستمبر، 1970ء کو ایک نوجوان زاہد اقبال سید مودودی کے خلاف ایک مولوی کے توہینِ رسالت کے الزامات سن کر انہیں قتل کرنے کے ارادے سے ان کی رہائش گاہ پہنچا۔لیکن جب اس نے سید مودودی کی گفتگوسنی تو اس کا ذہن تبدیل ہوگیا۔

انتخابی نتائج

 پاکستان کے دونوں حصوں میں تقریباً ۲۲ سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ انتخابی نتائج کے بعد مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان کے دو صوبوں میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹیاں بن کر سامنے آئیں۔ مشرقی پاکستان میں پیپلزپارٹی نے کوئی نمائندہ کھڑا نہیں کیا تھا‘ اسی طرح مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی نمائندگی موجود نہیں تھی۔

 تفہیم القرآن

سید مودودی کا عظیم الشان کارنامہ’’ تفہیم القرآن ‘‘کی صورت میں قرآن مجید کی تفسیر ہے۔اس تفسیر میں آپ نے متوسط درجے کے عام تعلیم یافتہ آدمی کو پیشِ نظر رکھا اور قرآن کے پیغام کو سادا اور واضح انداز میں پیش کیا۔ آپ نے اس کا آغاز درس قرآن کی صورت میں ۱۹۳۸ء میں کر دیا تھا۔ جبکہ فروری ۱۹۴۲ء میں باقاعدہ تفسیر لکھنے کا آغاز کیا۔ تیس سال کی شبانہ روز مشقت کے بعد ۱۹۷۲ء  میں یہ تفسیر مکمل ہوئی۔

“تفہیم اقرآن” کی انفرادیت اس کا ترجمے کی جگہ ترجمانی کا انداز ہے۔ سید مودودی نے عربی ِ مبین کو اردوئے معلیٰ میں بیان کرنے کی سعی کی ہے ۔

امارت سے معذرت

۱۹۷۱ء میں آپ کو جوڑوں کے درد کی شکایت ہوئی۔ اگلے سال ۱۸، ۱۹ فروری ۱۹۷۲ء کی درمیانی رات کو دل کا دورہ پڑا تو آپ نے بیماری کے سبب جماعت کی امارت سے معذرت کر لی۔ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو میاں طفیل محمد کو کثرت رائے سے جماعت اسلامی کا امیر منتخب کر لیا گیا تاہم بحیثیت رکن سید مودودی اپنی وفات تک فرائض سر انجام دیتے رہے۔  ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۷۳ء کو سید مودودی نے جامع مسجد منصورہ کا سنگ بنیاد رکھا اور ۳۰ جون ۱۹۷۵ء کو جماعت اسلامی کا مرکز اچھرہ سے منصورہ منتقل ہو گیا۔ ۶؍ اپریل ۱۹۷۶ء کو سید مودودی اپنے بیٹے احمد فاروق کے شدید اصرار پر علاج کے لیے امریکا روانہ ہوئے، ۲۲ اگست ۱۹۷۶ء کو واپسی ہوئی۔ سید مودودی نے خرابی صحت کے باوجود اپنی علمی، تنظیمی، تحریکی اور دعوتی سرگرمیاں جاری رکھیں مختلف تقاریب میں شریک ہوتے رہے۔

وفات

۱۹۷۸ء کے اوائل میں آپ کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی تو آپ کے صاحبزادے ڈاکٹر احمد فاروق جو بفیلو، امریکا میں قیام پذیر تھے، پاکستان آئے اور۲۶ مئی ۱۹۷۹ء کو، آپ کو علاج کی غرض سے  اپنے ساتھ امریکا لے گئے۔ ۴ ستمبر کو آپ کا معدے کے السرکا آپریشن ہوا۔ ۶ اور۱۳ ستمبر کو یکے بعد دیگرے دل کے دورے پڑے۔   ۲۰ ستمبر کو جگر اور گردے کا فعل متاثر ہوا۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو ایک بار پھر دل کا دورہ پڑا۔ اسی روزپاکستانی وقت کے مطابق  پونے چھے بجے شام سید ابوالاعلیٰ مودودی  نےداعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا۔   انا للہ و انا الیہ راجعون۔

“مشرق کا آفتاب ، مغرب میں غروب ہوگیا”

۲۲ تا ۲۴ ستمبر ۱۹۷۹ء امریکا اور لندن کے مختلف مقامات پر آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔

نمازِ جنازہ

 ۲۵ ستمبرکو جسد خاکی کراچی پہنچا اور وہاں ائیر پورٹ پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ۳ بجے میت لاہور پہنچی اور ۲۶ ستمبرکو قذافی سٹیڈیم لاہور میں آخری نماز جنازہ ادا کی گئی جس کی امامت معروف عالم دین ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے کرائی۔ ۲ بج کر بیس منٹ پر آپ کو اپنی رہائش گاہ ۵۔ اے ذیلدار پارک کے سبزہ زار میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

باب سوم: سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سیاسی فکر

سیاست کیا ہے؟

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر و انتظام۔

عربی زبان میں اس کا مادہ (Root) “سوس”ہے۔ “سیاست” اور “سوس” کے معنیٰ “اصلاح کرنا اور سنوارنا” کے ہیں۔اس لغوی مفہوم کے حوالے سے یہ دونوں الفاظ ریاست، حکومت اور تدبیرِ مملکت کے معنوں بھی عموماًاستعمال ہوتے ہیں۔

جدید علوم کی بنیاد قدیم یونان میں پڑی اور یہیں سے فلسفہ کے اصول وضع ہوئے۔ یونان میں  چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں ہوتی تھیں جنہیں Polis کہا جاتا تھا اور Polis کے معاملات کو Politike کہا جاتا تھا ۔ ارسطو (384ق م۔322 ق م )نے Politike کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی جسے انگریزی میں Politics کہا گیا اور یوں Polis کے معاملات چلانے والے Politicion کہلائے۔اردو میں ریاست  اور اس کے متعلقہ معاملات کے  علم کو علمِ سیاسیات کہا جاتا ہے ۔

مختلف مفکرین نے علمِ سیاسیات کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔سیاست کو حکومت کا علم قرار دیا گیا ہے یا اسے ریاست کے ساتھ خاص کردیا گیا ہے۔سیاست کو باہم گفتگو کے ذریعے افہام و تفہیم اور سمجھوتہ کے ذریعے تنازعات کے حل کے ذریعے کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔معاشرے میں وسائل کی  پیداوار اور تقسیم کے معاملات کا علم بھی سیاست کہلاتا ہے۔

ڈاکٹر جے ڈبلیو گارنر(Dr, J. W. Garner)کے مطابق سیاسیات وہ علم ہے جو ریاست سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔پروفیسر الیاس احمد کے نزدیک علم سیاسیات ریاست کے مسائل کے بارے میں باضابطہ مطالعہ ہے۔

وہ سیاست جس کی بنیاد انسانی عقل پر رکھی جائے اسے “عقلی سیاست”کہا جاتا ہے۔ اس سیاست کی حدود دنیا تک محدود ہیں  جبکہ وہ سیاست جس کی بنیاد وحیِ الٰہی کی تعلیمات کے تابع ہو اسے “دینی سیاست” یا “سیاست الشریعۃ”کہا جاتا ہے۔یہ سیاست انسانوں کی دنیوی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی اخروی زندگی کی فلاح کی بھی ضامن ہے۔

سیاسی فکر کیا ہے؟

فکرسے مرادکسی معاملے میں دو معلوم حقائق سے مستنبط کوئی تیسرا خیال یا نتیجہ ہے ۔سیاسی فکر تمام افکار میں اعلی ترین فکر ہے ، کیونکہ یہ معاشرے کے امور کی دیکھ بھال  اور ان کی تنظیم سے متعلق ہے  جس کے نتیجے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے اور پیش آمدہ مسائل کا حل نکالا جاتا ہے۔

اسلام کیا ہے؟

“اسلام” اللہ تعالیٰ کا عطاکردہ نظامِ حیات ہے جو انسانوں تک اللہ کے چنیدہ بندوں انبیاء کرام علیہم السلام کے توسط سے اللہ کے بندوں تک پہنچایا گیا ہے۔ اسلام کے اساسی عقائد تین ہیں ۔ عقیدہٴ توحید۔عقیدہٴ رسالت۔ عقیدہٴ آخرت

عقیدہٴ توحید

اسلام کا اہم ترین عقیدہ ،  عقیدہٴ توحید  ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس پوری کائنات اور اس کی کُل موجودات کا واحد خالق ہے۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ

ترجمہ:”وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے”۔

قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ

ترجمہ:”ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب!”

اللہ ،خالقَ کائنات ہونے کے ساتھ ساتھ “رب العالمین “اور “الٰہ العالمین”بھی ہے۔یعنی اپنی مخلوق کا  واحد مالک ، فرماں روا اور مدبر ومنتظم بھی اللہ ہی ہے :

وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ 

ترجمہ:”جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار”۔

اپنی اس حیثیت (خالق، مالک،رب، الٰہ)میں صرف اللہ رب العزت ہی حاکمیت کا استحقاق رکھتا ہے اور اقتدارِ اعلیٰ کے دیگر تمام دعوے دار جھوٹے ہیں ۔

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ

ترجمہ:”کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمیں اور آسمان کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے”۔

وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا 

ترجمہ:”جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی”۔

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ 

ترجمہ:”فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے”۔

عقیدہٴ رسالت

اللہ نے اپنے فرامین و احکامات کی اپنے بندوں تک منتقلی کے لیے چنیدہ بندوں کی ایک جماعت متعین کی۔ یہ انبیاء نہ صرف احکاماتِ الٰہیہ کے پیغامبر بلکہ انکے حتمی شارح بھی تھے ۔قرآن کریم  ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ انبیاکرام کی بعثت کا مقصد روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قیام ہے۔ تمام  انبیائے کرام نے اس کے لیے ہمہ پہلو جدوجہد کی۔ان کی دعوت کا مرکزی نکتہ اللہ رب العزت  کی اطاعت وبندگی کی بنیاد پر انسانی زندگی کی تعمیر اور ہر قسم کے طاغوت،نافرمانی، بد اخلاقی اور بد اعمالی سے مکمل اجتناب رہا ہے :

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ

ترجمہ:”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو ، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے”۔

اس سلسلۃ الذہب  کے آخریِ گلِ سرسبد سیدنا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں ۔آپﷺ کی کامل اطاعت و فرماں برداری اللہ تعالیٰ کا حکم  اور شرطِ ایماں ہے اور اس معاملے میں یہاں تک حکم ہے کے رسول ﷺکے فیصلے پر دل میں تنگی تک محسوس نہ ہو:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ

ترجمہ:” ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے”۔

مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

ترجمہ:”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی “۔

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ:”جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے”۔

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا 

ترجمہ:”نہیں، اے محمدﷺ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں”۔

عقیدہٴ آخرت

انبیاء کرام کی تعلیمات کا خلاصہ اللہ کی بندگی اور اپنی اطاعت کی دعوت ہے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ اور آخرت حقیقی گھر ہے۔اس دنیا میں انسان کو  بے مقصد تخلیق نہیں کیا گیا بلکہ وہ ایک ذمے دار مخلوق ہے۔موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی تمید ہے۔دنیا فانی اور آخرت لافانی ہے۔ہر انسان کو مرنے کے بعد آخرت میں اپئے دنیوی اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔فرماں بردار ہمیشہ کی جنتوں میں اور نافرمان جہنم میں جائیں گے۔ان تعلیمات کے انکار کا نتیجہ انسان کی دنیا و آخرت کے خسارے کی صورت میں نکلے گا۔

 وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآَخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

ترجمہ:”اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشہ ہے البتہ سچی زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ جانتے ہوتے”۔

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ‎﴿٣١﴾‏ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ‎﴿٣٢﴾‏ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ‎﴿٣٣﴾‏ وَكَأْسًا دِهَاقًا ‎﴿٣٤﴾‏ لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ‎﴿٣٥﴾‏ جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ‎﴿٣٦﴾

ترجمہ:”یقینا پرہیزگار لوگوں کے لیے کامیابی ہے۔ باغات ہیں اور انگور ہیں۔ اور نوجوان کم عمر عورتیں ہیں۔ اور چھلکتے ہو ئے جام(شراب)ہیں۔ وہاں نہ تو وہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ۔(ان کو)تیرے رب کی طرف سے (ان کے اعمال کا ) یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہو گا”۔

اسلامی سیاسی فکر

سیاسی فکرایک جُز کے طور پر بروئے کار نہیں آسکتی ۔اس کا لازمی تعلق کسی نہ کسی تہذیب سے ضرورہواکرتا ہے۔اسلامی سیاسی فکر اسلامی تہذیب کے بطن میں جنم لیتی ہے اور اس کے بنیادی عقائد سے اپنے اصول اخذ کرتی ہے۔اسلامی سیاسی فکر و فلسفہ دیگر تمام سیاسی افکار کی مانند   مندرجہ ذیل نکات  کا احاطہ کرتا ہے۔

1۔ٍ       اقتدارِ اعلیٰ کا مالک کون ہے؟

2۔        امیر و مامور کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟

3۔       نظامِ سلطنت خلافت،بادشاہت/آمریت،جمہوریت میں سے کیا ہوگا؟طریقہِ نصب و عزل کیا ہوگا؟

4۔        قانون سازی کے اختیارات کسے حاصل ہوں گے؟

5۔       بین الاقوامی قوانین کیسے بروئے کار لائے جائیں گے؟

اللہ کا اقتدارِ اعلیٰ /حاکمیتِ رب

اسلامی سیاسی فکر ، اسلام کے بنیادی عقائد سے ہی پھوٹتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے  بیان کردہ تعارف کی بنیاد پر اسلام “حاکمیتِ رب”یعنی اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ مطلق اور اختیارِ مطلق کا دعویدار ہے۔یہی اسلامی سیاسی فکر کی اساس ہے۔ یہ گویا عقیدہ توحید کی تکمیلی حالت “توحیدِ حاکمیت” کی تشریح ہے جو تعلق باللہ کی بنیاد پر فکرِ آخرت کی غرض سےاور اطاعتِ رسول ﷺ کے ذریعے سے وجود میں آتی ہے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ  (39)  مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(40)

ترجمہ:”اے زنداں کے ساتھیو، تم خودہی سوچو کہ بہت سے متفرق ربّ بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباو اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کاحکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی (الدِّینْ القَیِّمْ )ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں”۔

ان آیت مبارکہ کی رُو سے اللہ ربّ العزت نے یہ طے فرمادیا ہے کہ ہر نوع کی حاکمیت صرف اللہ کا ہی حق ہے۔یہ توحید ذات ، توحید صفات اور توحیدِ حاکمیت  کا جامع اظہار اور تعریف ہے۔

وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا

ترجمہ:”جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی”۔

لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَىٰ وَالْآخِرَةِ ۖ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

ترجمہ:”اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو”۔

مقامِ رسالت

اللہ تعالیٰ کی یہ اطاعت و پیروی جس کا اوپر کی آیتوں میں حکم دیا گیا ہے ،انسان اس پر عمل صرف انبیاء کی تعلیمات کی پیروی کے ذریعے کرسکتا ہے۔ کیوں کہ صرف رسول کوہی یہ مقام حاصل ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے اس کے احکام اور اس کی ہدایات بے کم و کاست  انسانوں کو پہنچاتا ہے اور وہی اپنے قول اور عمل سے ان احکام وہدایات کی تشریح کرتا ہے ۔پس رسول انسانی زندگی میں خدا کی قانونی حاکمیت (Legal sovereignty) کا نمائندہ ہے اور اس بنا پر اس کی اطاعت عین خدا کی اطاعت ہے ۔خدا ہی کا یہ حکم ہے کہ رسول کے امر ونہی اور اس کے فیصلوں کو بے چوں وچرا تسلیم کیا جائے ۔حتٰی کہ ان پر دل میں بھی ناگواری پیدا نہ ہو ۔ورنہ ایمان کی خیر نہیں ہے :

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ

ترجمہ:” ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے”۔

مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

ترجمہ:”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی “۔

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا

ترجمہ:”مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے”۔

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ:”جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے”۔

دین و دنیا کی یکجائی

اسلام دین اور دنیا کی یکجائی کا نام ہے۔یہ بندے اور رب کے درمیان وہ تعلق ہے جس کی حدود انسانی  زندگی کے تمام انفرادی (عقائد، عبادات، رسومات)اور اجتماعی (معاشرت، معیشت اور سیاست)شعبہ جات تک محیط ہیں ۔اسلامی تعلیمات کے مطابق “دین” دنیا میں اپنی زندگی کو بسر کرنے کے طریقے کا نام ہے۔ یہ طریقہ اگر الٰہی تعلیمات کے مطابق انبیاء کرام علیہم السلام  سے ماخوذ ہے تو انسان دینِ الٰہ (اسلام) پر عامل (مسلمان) ہے اور اگر یہ طریقہ اس کے سوا کہیں اور سے اخذ کیا جارہا ہے تو انسان اسی کے دین پرہوگاجہاں سے یہ طریقہ لیا جائے گا۔

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ

ترجمہ:”اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے”۔

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ

ترجمہ:”اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطا عت  کے طریقہ (دینُُاللہ)کوچھوڑ کر  کوئی  اور طریقہ  چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چارو ناچاراللہ ہی کے تابع فرمان(مسلم) ہیں اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے”۔

نظریاتی ریاست

اسلام کا مقصودفرد کی اخروی فوز وفلاح کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات و تعلقات کی بہتری و اصلاح ہے۔اسی مقصد کے لیے اسلام اپنے بنیادی عقائد(توحید،رسالت، آخرت) کے فروغ کے ساتھ اپنی مذہبی اوراخلاقی تعلیمات کے معاشرتی نفوذ اور معاشرت، معیشت و سیاست کے احکام و قوانین کے ریاستی سطح پر نفاذ کا تقاضا کرتا ہے۔

ریاست کے قیام کا مقصد معاشرے میں حقوق و فرائض کا ایک باقاعدہ نظام وضع کرنا ہے جس کے نتیجے میں عدل قائم ہوسکے۔یہی عدل اسلام کی رُو سے بھی  مقصود ہے جس کا ذریعہ پوری زندگی میں اسلامی تعلیمات کی پیروی ہے۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُـمُ الْكِتَابَ وَالْمِيْـزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّـٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهُ وَرُسُلَـهُ بِالْغَيْبِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ قَوِىٌّ عَزِيْزٌ

ترجمہ:”ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانيوں اور ہدایات کے ساتھ بھيجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ميزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور لوہا ا تارا جس ميں بڑا زور ہے اور لوگوں کے ليے منافع ہے۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائےکہ کون اُس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے رسُولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بڑی قوّت والا اور زبردست ہے”۔

اس لحاظ سے اسلامی سیاسی فکر کے مطابق تشکیل شدہ ریاست ایک نظریاتی ریاست ہے جو دنیوی و اخروی دونوں اہداف رکھتی ہے۔

خلافت

اسلامی نظریہِ حاکمیتِ رب ،حاکمیتِ جمہورکی نفی کرتا ہے اور اس طرح  مغربی لادینی جمہوریت کا بھی مخالف ہے۔قرآن حاکمیتِ جمہور کی جگہ حاکمیتِ الٰہی اور خلافتِ جمہور کا تصور دیتا ہے، یعنی اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں اور ان کا بنیادی فریضہ اقامت دین کے ذریعے اللہ کی حاکمیت کو اجتماعی کوشش سے نافذ کرنا ہے اوریہ کام باہم مشاورت سے انجام دینا ہے۔ ہر صاحبِ ایمان مردوزن اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔ لہٰذا تمام مسلم جمہور اصلاً خلیفہ فی الارض ہیں،اگر وہ ان صفات سے متصف ہیں جو خود کلام الٰہی نے بیان کر دی ہیں۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک ایسا ریاستی نظم اسلام کے دنیوی مقصود کے حصول کے لیے لازمی ہےجس میں انفرادی طور پر انسان اپنے وجود اور کائنات کے تمام وسائل و اختیارات کو اللہ کی عطا اور امانت تصور کرتے ہوئے خود کو شترِ بے مہار نہ سمجھے اور ان اختیارات و وسائل کے معاملے میں امین کا کردار ادا کرے اور جہاں اجتماعی طور پر ریاست خدا اور رسول ﷺکی قانونی بالادستی تسلیم کرکے اس کے حق میں حاکمیت سے دست بردارہوجائے اور حاکم حقیقی کے تحت “خلافت”(نیابت)کی حیثیت قبول کرے۔اس حیثیت میں ریاست کےحکم ران کے اختیارات ،خواہ وہ تشریعی ہوں یا عدالتی یا انتظامی ،لازما ان حدود سے محدود ہوں گے جو قرآن و سنت میں متعین کردیے گئے ہیں۔ اس ریاستی نظم کو “خلافت” کا اصطلاحی نام دیا گیا ہے۔

ہر قوم جس خطے میں بااقتدار ہے وہاں کی خلیفہ ہے اور آخرت میں انسانوں سے اسی انفرادی و اجتماعی اختیار کے استعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔

هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا

ترجمہ:”وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے، اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں”۔

یہ خلافت ایک ذٍمے داری ہے جس کی ادائی میں ناکامی دنیا و آخرت کے خسارے پر منتج ہوگی:

هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا 

ترجمہ:”وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے، اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں”۔

وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ 

ترجمہ:”اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی  طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں”۔

اجتماعی خلافت

نظامِ خلافت کے حوالے سے اسلامی تعلیم بالکل واضح ہے کہ خلیفہ کا منصب موروثی نہیں اور نہ ہی کوئی جبرو قوت اس کی بنیاد بن سکتی ہے ۔ خلافت کا حامل کوئی ایک شخص یا خاندان یا طبقہ نہیں ہوتا بلکہ من حیث الجماعت وہ پوری امت ہے جس نے اسلامی اصولوں کو تسلیم کرکے اپنی ریاست قائم کی ہو۔سورہ نور  کی  مندرجہ بالا آیت 55 کی رو سے اہل ایمان کی جماعت کا ہر فرد خلافت میں برابر کا حصہ دار ہے ۔کسی شخص یا طبقے کو عام مومنین کےاختیارات خلافت سلب کرکے انھیں اپنے  لیے خاص کرلینے کا حق نہیں ہے ،نہ کوئی شخص یا طبقہ اپنے حق میں خدا کی خصوصی خلافت کا دعویٰ کرسکتا ہے ۔یہی چیز اسلامی خلافت  کو ملوکیت و آمریت،طبقاتی حکومت اورپاپائیت( مذہبی پیشواوں کی حکومت) سے الگ کرکے اسے جمہوریت کے قریب لاتی ہے ۔لیکن اسلامی خلافت  اور مغربی جمہوریت میں اصولی فرق یہ ہےکہ لادین مغربی جمہورت ،عوامی حاکمیت (Popular Sovereignty) کے اصول پر قائم ہوتی ہے  جبکہ اس کے برعکس اسلام کی جمہوری خلافت میں خود عوام خداکی حاکمیت تسلیم کرکے اپنے اختیارات کو برضاورغبت قانون خداوندی کے حدودمیں محدود کرلیتے ہیں۔

شُورائیت

اسلامی سیاسی فکر میں شورائیت مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔جب اہل ایمان کی جماعت کا ہر فرد خلافت میں برابر کا حصہ دار ہے توریاست کا پوراکام ،اس کی تاسیس وتشکیل سے لے کر رئیس مملکت اور اولی الامر کے انتخاب اور تشریعی وانتظامی معاملات تک ،اہل ایمان کے باہمی مشورے سے چلنا چاہیے۔یہ مشاورت حسبِ موقع و ضرورت بلاواسطہ بھی ہوسکتی ہے اور عوام کے منتخب  نمائندوں کے ذریعے سے  بھی۔

وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

ترجمہ:”اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں”۔

مختلف مسلم مفکرینِ  مثلاً  الفارابی ،ابوالحسن علی الماوردی، ،نصیرالدین طوسی، امام غزالی،ابنِ تیمیہ، ابنِ خلدون، شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال، سید مودودی وغیرہ نے  اپنے اپنے دور کے تناظر میں اہلَ شوریٰ کے اوصاف و ذمے داریوں کے حوالے سے سیاسی افکارو آرامرتب کی ہیں ۔

قومیت کی بجائے امت کا تصور

اسلامی سیاسی فکر میں قومیت کی بجائے “امت” کا تصور پایا جاتاہے۔

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَّسَطًا

ترجمہ:”اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک “امت وسط” بنایا ہے”۔

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ 

ترجمہ:”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”۔

مسلمانوں کی ہیئت ِ اجتماعیہ کے لیے قرآن مجید کی اصل اصطلاح ’’اُمت‘‘ ہے. پورے قرآن مجید میں مسلمانوں کی ہیئت ِاجتماعیہ کو ظاہر کرنے کے لیے کہیں بھی لفظ ’’قوم‘‘ استعمال نہیں کیا گیا. اسی طرح حدیث نبویؐ میں بھی مسلمان اُمت کے لیے ’’قوم‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا. قومیت کا جو تصور ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ قومیں یا تو نسل کی بنیاد پر بنتی ہیں یا علاقے‘ ملک‘ وطن اور زبان کی بنیاد پر۔ لیکن قرآن و حدیث کی رو سے اس تصورِ قومیت کاہماری ہیئتِ اجتماعیہ سے قطعاً کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے ہماری ہیئتِ اجتماعیہ کے لیے اس لفظ ’’قوم‘‘ کو سرے سے استعمال ہی نہیں کیا بلکہ اس کے لیے ایک نئی اصطلاح”امت” استعمال کی جس کا مفہوم نظریاتی گروہ ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی دینی فکر

سیدابوالاعلی مودودی کی سیاسی فکرکے سوتے ان کی دینی فکر سے پھوٹتے ہیں ۔لہٰذا ان کی دینی فکر کو سمجھے بغیر ان کی سیاسی فکر کی تفہیم ممکن نہیں۔

سیدمودودی ؒ کی بنیادی فکری کتاب “قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ” ہے۔جس میں وہ “الٰہ، رب ،عبادت اور دین ” کی دینی اصطلاحات کی جامع تشریع پیش کرتے ہیں اور ان ہی تشریحات پر ان کا پورا فکری کام بنیاد رکھتا ہے:

” ’الٰہ، رب، دین اور عبادت، یہ چار لفظ قرآن مجید کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب اور الٰہ ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے اور نہ رب اور نہ الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کے ساتھ شریک ہے۔ لہٰذا، اسی کو اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الوہیت اورربوبیت سے انکار کردو۔ اسی کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرلو اور ہر دوسرے دین کو رد کردو۔‘‘

“جو شخص قرآن کو پڑھے گا وہ اول نظر میں محسوس کر لے گا کہ قرآن کا سارا بیان انہی چار اصطلاحوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیالCentral Idea یہی ہے کہ :

اللہ رب اور الٰہ ہے۔

اور ربوبیت و الٰہیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے۔

لہٰذا عبادت اسی کی ہونی چاہیے۔

اور دین خالصتاً اسی کے لیے ہونا چاہیے”۔

سید مودودی ؒ نے کفر بالطاغوت اور توحید ِ عملی کے تقاضوں کی نشان دہی کی اور امتِ مسلمہ کی اس حوالے سے ذمے داریوں کا بھولا سبق اسےیاددلایا۔انہوں نے کہا کہ بگاڑ کا سبب قرآنی فکر سے دوری اور دینی اصطلاحات کا رفتہ رفتہ اپنا معنی کھوتے چلے جانا تھا۔

سید مودودی ؒ کہتے ہیں :

“لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصل معنی جو نزول قران کے وقت سمجھے جاتے تھے، بدلتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا”۔

 سید مودودی ؒ کا یہ بیان کے اہم دینی اصطلاحات وقت کے ساتھ ساتھ اپنی معنویت کھوبیٹھیں،  بہت زیادہ زیرِ تنقید رہا ہے اور اسے دین کے تواترِ عملی کی ایک تنقیص گردانا گیا ہے۔ سید ابوالحسن علی ندوی ؒ نے “تاریخ دعوت و عزیمت ” کے عنوان سے 6 جلدوں کی ضخیم کتاب تصنیف کی جس میں خلافتِ راشدہ کے بعد سے سید احمد شہیدؒ تک اقامتِ دین کے لیے مختلف خطوں اور مختلف سطحوں پر ہونے والی کوششوں کا مبسوط جائزہ لیاگیا ہےجس سےمقصود مندرجہ بالا اس تاثر کی نفی تھا۔

الٰہ

“الٰہ” کا ترجہ عام طور پر “معبود”کیا جاتا ہے لیکن اس لفظ کا مفہوم مھض لائق ِ پوجا و پرستش ہستی تک محدود نہیں۔اس لفظ کے مفہوم میں سے اقتدارِ اعلیٰ کی مالک ہستی کا تصور منہا ہونے سے بگاڑ کے دروازے کھل گئے ہیں۔

سید مودودی کہتے ہیں:

“معبود کے لیے الہ کا لفظ جن تصورات پر بولا گیا وہ یہ ہیں : حاجت روائی، پناہ دہندگی، سکون بخشی، بالاتری و بالادستی۔ ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائے کہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہو سکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا پراسرار ہونا یا منظر عام پر نہ ہونا-انسان کا اس کی طرف مشتاق ہونا۔۔۔۔

“قرآن اپنا سارا زور غیر اللہ کی الہٰیّت کے انکار اور صرف اللہ کی الٰہیّت کے اثبات پر صرف کرتا ہے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ زمین اور آسمان میں ایک ہی ہستی تمام اختیارات و اقتدارات کی مالک ہے۔ خلق اسی کی ہے، نعمت اسی کی ہے، امر اسی کا ہے، قوت اور زور بالکل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز چارو ناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے، اس کے سوا نہ کسی کے پاس کوئی اقتدار ہے، نہ کسی کا حکم  چلتا ہے، نہ کوئی خلق اور تدبیر اور انتظام کے رازوں سے واقف ہے اور نہ کوئی اختیارات حکومت میں ذرّہ برابر شریک و حصہ دار ہے۔ لہٰذا اس کے سوا حقیقت میں کوئی الٰہ نہیں ہے، اور جب حقیقت میں کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے تو تمہارا ہر وہ فعل جو تم دوسروں کو الٰہ سمجھتے ہوئے کرتے ہو، اصلاً غلط ہے، خواہ وہ دعا مانگنے یا پناہ ڈھونڈنے کا فعل ہو، یا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا فعل ہو۔ یہ تمام تعلقات جو تم نے دوسروں سے قائم کر رکھے ہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں، کیونکہ وہی اکیلا صاحب اقتدار ہے”۔

رب

سید مودودی کے مطابق قرآن کی دوسری اہم ترین اصطلاح “رب” ہے اور غلطی سے رب کے لفظ کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ان کے مطابق اس لفظ کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ حسبِ ذیل مفہومات پر حاوی ہے :

“۱:پرورش کرنے والا، ضروریات بہم پہنچانے والا۔ تربیت اور نشو و نما دینے والا۔

۲:کفیل، خبر گیراں، دیکھ بھال اور اصلاح حال کا ذمہ دار۔

۳:وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس میں متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں۔

۴:سید مطاع، سردار ذی اقتدار، جس کا حکم چلے، جس کی فوقیت و بالا دستی تسلیم کی جائے، جس کو تصرف کے اختیارات ہوں۔

۵:مالک، آقا”۔

سید مودودی کے مطابق قرآن میں جن گمراہ قوموں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کوئی بھی ملحد یا اللہ کو رب اور الٰہ ماننے سے انکاری نہ تھی لیکن ان قوموں کا بگاڑیہ تھا کہ وہ  ربویت کے تمام تقاضے محض اللہ کے لیے خاص کرنے کے بجائے ان تقاضوں کے حوالے سے اپنے شریکوں کو بھی وہی مقام دیتے تھے جو خاص اللہ کا ہونا چاہیے۔وہ اللہ کے ساتھ ساتھ فرشتوں اور دیوتاؤں کو، جنوں کو، غیر مرئی قوتوں کو، ستاروں اور سیاروں کو، انبیاء اور اولیاء اور روحانی پیشواؤں کو بھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔جبکہ دنیاوی اعتبار سے ربوّیت  کے اس مفہوم میں کہ رب امر و نہی کا مختار، اقتدار اعلی کا مالک، ہدایت و رہنمائی کا منبع، قانون کا ماخذ، مملکت کا رئیس اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہے، ان کے نزدیک اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کی بجائے صرف انسانوں کو ہی رب مانتے تھے یا نظریے کی حد تک اللہ کو رب ماننے کے بعد عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی اور سیاسی ربوبیت کے آگے سرِاطاعت خم کیے دیتے تھے۔

“اسی گمراہی کو دور کرنے کے لیے ابتداء سے انبیاء علیہ السلام آتے رہے ہیں اور اسی کے لیے آخرکار محمدﷺ کی بعثت ہوئی، ان سب کی دعوت یہی تھی کہ ان تمام مفہومات کے اعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہ ہے، ربوبیت ناقابل تقسیم ہے۔ اس کا کوئی جز کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے، کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا جس پر ایک خدا فرماں روائی کر رہا ہے جس کے سارے اختیارات و اقتدار کا مالک ہی خدا ہے نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے نہ اس کی تدبیر و انتظام میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی و تمدنی اور سیاسی رب بھی۔ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرے سے الگ ٹھہرا لیا ہے، حقیقت میں خدائی لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہیں، انہیں نہ ایک دوسرے سے منفک کیا جا سکتا ہے اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہرانا درست ہے”۔

عبادت

سید مودودی کے مطابق تیسری قرآنی اصطلاح جس پر فہم قرآن کا انحصار ہے وہ “عبادت” ہے۔ان کے مطابق محض مراسمِ عبودیت بجا لانا “عبادت” نہیں بلکہ یہ “عبادت” انسان کی پوری زندگی پر محیط ہے اور اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی مرضی کو خوش دلی کے ساتھ قربان کردینا عبادت کا تقاضا ہے۔

“مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالادستی و برتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا، سرتابی و مزاحمت چھوٹ دینا، اور اس کے لیے رام ہو جاتا ہے یہی حقیقت بندگی و غلامی کی ہے۔ لہذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی و غلامی ہی کا تصور ہے۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی  اطاعت و فرمانبرداری ہے، اس لیے لازما اس کے ساتھ ہی اطاعت کا تصور پیدا ہوتا ہے اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی و اطاعت میں محض اپنے آپ کو ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاداً اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو اور اس کی مہربانیوں پر شکر واحسان مندی کے جذبے سے بھی سرشار ہو، تو وہ اس کی تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا ہے، مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہار کرتا ہے اور طرح طرح سے مراسم بندگی بجا لاتا ہے اسی کا نام پرستش ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہوم میں اس وقت شامل ہوتا ہے جبکہ غلام کا محض سر ہی آقا کے سامنے  جھکا ہوا نہ ہو بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو، رہے باقی دو تصورات تو وہ دراصل عبدیت کے ضمنی تصورات ہیں، اصلی اور بنیادی نہیں”۔

 دین

چوتھی و آخری قرآنی اصطلاح جس پر سید مودودی قرآنی فہم کا انحصار رکھتے ہیں  “دین” ہے۔

“قرآن کی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ جس کی ترکیب چار اجزاء سے ہوتی ہے۔

۱- حاکمیت و اقتدار اعلیٰ۔

۲- حاکمیت کے مقابلہ میں تسلیم و اطاعت۔

۳- وہ نظام فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر بنے۔

۴- مکافات جو اقتدار اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری و اطاعت کے صلے میں یا سرکشی و بغاوت کی پاداش میں دی جائے”۔

“وہ(قرآن) لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا اور اس سے ایک ایسا نظام زندگی مراد لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدار اعلی تسلیم کر کے اس کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرنے، اس کے حدود و ضوابط اور قوانین کی تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرمانبرداری پر عزت، ترقی اور انعام کا امیدوار ہواوراس کی نافرمانی پر ذلت و خواری اورسزا سے ڈرے۔ غالباً دنیا کی کسی زبان میں کوئی اصطلاح ایسی جامع نہیں ہے جو اس پورے نظام پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانہ کا لفظ”اسٹیٹ”کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن ابھی اس کو”دین”کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے”۔

نظریہ اقامتِ دین

سید مودودی کی دینی و سیاسی فکر ان کے “نظریہ اقامتِ دین” میں مرتکز ہے۔سید مودودی اسلام کے حرکی تصور کے قائل ہیں۔انہوں نے اسلام کو عالمی نظریاتی تحریک اور مکمل ضابطہ حیات کے طور پر بیان کیا  ہے اور ان کے نزدیک امِت مسلمہ ایک نظریاتی جماعت ہے۔اسلام اپنی کامل شکل میں انفرادی عقائد و عبادات کے ساتھ ساتھ ریاستی غلبہ و اقتدار کا بھی تقاضا کرتا ہے۔  امتِ مسلمہ کی غایتِ وجود اور فرضِ منصبی کی وضاحت کرتے ہوئے سورۃ شوریٰ کی آیت 13 کی تفسیر کی ذیل میں سید مودودی کہتے ہیں :

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰۤى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ١ؕ        (الشوریٰ:13(

ترجمہ:”اُس (اللہ)نےتمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نُوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدﷺ)اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ  اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہوجاوٴ”۔

“قرآن مجید کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر پڑھے گا اسے یہ بات صاف نظر آئے گی کہ یہ کتاب اپنے ماننے والوں کو کفر اور کفار کی رعیت فرض کر کے مغلوبانہ حیثیت میں مذہبی زندگی بسر کرنے کا پروگرام نہیں دے رہی ہے،بلکہ یہ علانیہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے ، اپنے پیروؤں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دین حق کو فکری، اخلاقی ، تہذیبی اور قانونی و سیاسی حیثیت سے غالب کرنے کے لیے جان لڑا دیں، اور ان کو انسانی زندگی کی اصلاح کا وہ پروگرام دیتی ہے جس کے بہت بڑے حصے پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جا سکتا ہے جب حکومت کا اقتدار اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو۔ یہ کتاب اپنے نازل کیے جانے کا مقصد یہ بیان کرتی ہے کہ

اِنَّآ اَنْزَلْنا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِا لْحقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّا سِ بِمَآ اَرٰ کَ اللہُ (النساء۔ 105)

’’اے نبی، ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اس روشنی میں جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے ‘‘۔

س کتاب میں زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کے جو احکام دیے گیے ہیں وہ صریحاً اپنے پیچھے ایک ایسی حکومت کا تصور رکھتے ہیں جو ایک مقرر قاعدے کے مطابق زکوٰۃ وصول کر کے مستحقین تک  پہنچانے کا ذمہ لے (التوبہ۔ 60۔103) اس کتاب میں سود کو بند کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اور سود خواری جاری رکھنے والوں کے خلاف جو اعلان جنگ کیا گیا ہے (البقرہ 275۔ 279) وہ اسی صورت میں رو بہ عمل آ سکتا ہے جب ملک کا سیاسی اور معاشی نظام پوری طرح اہل ایمان کے ہاتھ ہیں ہو۔ اس کتاب میں قاتل سے قصاص لینے کا حکم (البقرہ۔ 178) چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم (المائدہ۔ 38) زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم (النور۔2۔4) اس مفروضے پر نہیں دیا گیا ہے کہ ان احکام کے ماننے والے لوگوں کو کفار کی پولیس اور عدالتوں کے ماتحت رہنا ہو گا۔ اس کتاب میں کفار سے قتال کا حکم (لبقرہ۔ 190۔216) یہ سمجھتے ہوئے نہیں دیا گیا کہ اس دین کے پیرو کفر کی حکومت میں فوج بھرتی کر کے اس حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس کتاب میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم (التوبہ 29) اس مفروضے پر نہیں دیا گیا ہے کہ مسلمان کافروں کی رعایا ہوتے ہوئے ان سے جزیہ وصول کریں گے اور ان کی حفاظت کا ذمہ لیں گے۔ اور یہ معاملہ صرف مدنی سورتوں ہی تک محدود نہیں ہے۔ مکی صورتوں میں بھی دیدہ بینا کو علانیہ یہ نظر آ سکتا ہے کہ ابتدا ہی سے جو نقشہ پیش نظر تھا وہ دین کے غلبہ و اقتدار کا تھا نہ کہ کفر کی حکومت کے تحت دین اور اہل دین کے ذمی بن کر رہنے کا۔

سب سے بڑھ کر جس چیز سے تعبیر کی یہ غلطی متصادم ہوتی ہے وہ خود رسول اللہﷺکا وہ عظیم الشان کام ہے جو حضورﷺنے 23 سال کے زمانہ رسالت میں انجام دیا۔ آخر کون نہیں جانتا کہ آپﷺ نے تبلیغ اور تلوار دونوں سے پورے عرب کو مسخر کیا اور اس میں ایک مکمل حکومت کا نظام ایک مفصل شریعت کے ساتھ قائم کر دیا جو اعتقادات اور عبادات سے لے کر شخصی کردار، اجتماعی اخلاق، تہذیب و تمدن، معیشت و معاشرت، سیاست و عدالت اور صلح و جنگ تک زندگی کے تمام گوشوں پر حاوی تھی۔ اگر حضورﷺ کے اس پورے کام کو ’’اقامت دین ‘‘ کے اس حکم کی تفسیر نہ مانا جائے جو اس آیت کے مطابق تمام انبیاء سمیت آپ کو دیا گیا تھا، تو پھر اس کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں۔ یا تو معاذاللہ حضورؐ پر یہ الزام عائد کیا جائے کہ آپ مامور تو صرف ایمانیات اور اخلاق کے موٹے موٹے اصولوں کی محض تبلیغ و دعوت پر ہوئے تھے ، مگر آپؐ نے اس سے تجاوز کر کے بطور خود ایک حکومت قائم کر دی اور ایک مفصل قانون بنا ڈالا جو شرائع انبیاء کی قدر مشترک سے مختلف بھی تھا اور زائد بھی۔ یا پھر اللہ تعالیٰ پر یہ الزام رکھا جائے کہ وہ سورہ شوریٰ میں مذکورہ بالا اعلان کر چکنے کے بعد خود اپنی بات سے منحرف ہو گیا اور اس نے اپنے آخری نبی سے نہ صرف وہ کام لیا جو اس سورۃ کی اعلان کردہ ’’ اقامت دین ‘‘ سے بہت کچھ زائد اور مختلف تھا ، بلکہ اس کام کی تکمیل پر اپنے پہلے اعلان کے خلاف یہ دوسرا اعلان بھی کر دیا کہ اَلْیَوْمَ اَکَمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا )، اعاذنااللہ من ذالک۔ ان دو صورتوں کے سوا اگر کوئی تیسری صورت ایسی نکلتی ہو جس سے ’’ اقامت دین ‘‘ کی یہ تعبیر بھی قائم رہے اور اللہ یا اس کے رسول پر کوئی الزام بھی عائد نہ ہوتا ہو تو ہم ضرور  اسے معلوم کرنا چاہیں گے”۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سیاسی فکر

 سیدابوالاعلی مودودی کےسیاسی فلسفہ کی بنیادیہ ہےکہ وہ اسلام کوایک مکمل نظام حیات سمجھتےہیں، جوعبادات ومعاملات سےلےکرمعاشرت ومعیشت اورسیاست تک تمام معاملات میں رہنمائی کرتاہے۔ ان کے نزدیک دین انفرادی زندگی میں پیروی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی غلبہ و نفاذ چاہتا ہے اور مومنانہ زندگی کے لیے غلبۂ دین ہونا  یا اس کے قیام کی جدوجہد کرنا ضروری ہے۔ سید مودودی اپنی سیاسی فکرمیں سب سےپہلےدین وسیاست کےتعلق پربحث کرتےہیں۔ ان کےنزدیک اسلام اللہ اوربندہ کےدرمیان انفرادی تعلق کاہی نام نہیں ہے  بلکہ انسانی زندگی کےتمام پہلووں میں موثررہنمائی فراہم کرتاہےجن میں سیاست اورریاست بھی شامل ہیں۔دین کی یہ تعلیمات محض سفارشات کی نوعیت کی نہیں بلکہ مومنانہ زندگی کا انحصار ہی ان پر اخلاصِ نیت کے ساتھ مکمل عمل درآمد میں ہے۔ ان کا نظریہ “اسلام ایک مکمل ضابطہٴ حیات ہے” ، آج عمومی قبولیت حاصل کرچکا ہے۔سیدابوالاعلی مودودی کی سیاسی فکرکانچوڑ “نظریہٴ اقامت دین ” یا”حکومت الہیہ کاقیام ” ہے۔

پروفیسر خورشید احمد، سید مودودی کی سیاسی فکر کے حوالے سے کہتے ہیں :

”سید ابو الا علی مودودی نے ایک طرف اسلام کے پورے نظام حیات کو دینی اور عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور اسلام کی اصل تعلیمات کو دور حاضر کی زبان میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریرات کے مطالعے سے قاری کوزندگی کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کا کُلی علم حاصل ہوتا ہے اوروہ پوری تصویر کو بیک نظر دیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے ہر مرعوبیت سے بالا ہو کر دورِ حاضر کے ہر فتنے کا مقابلہ کیا ہے اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اور فوقیت کو ثابت کیا ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر اسلامی نظام کی محض نظری تشریح و توضیح ہی نہیں کی ہے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نظام کو دور حاضر میں کیسے قائم کیا جا سکتااورآج کے اداروں کو کس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ اسلامی ریاست کے تصور اور اس کے نظام کار کی تشریح و توضیح ان کا خاص میدان رہی ہے انہوں نے جس اعتماد اور یقین کے ساتھ، جس بالغ نظری کے ساتھ ،جس وسعتِ فکر اور گہرائی کے ساتھ، جس شرح و بسط کے ساتھ اسلامی ریاست کے ہمہ پہلوؤں کی وضاحت کی ہےاُس میں دور حاضر میں ان کا کوئی شریک اور مد مقابل نہیں”۔

زمام ِ کار کی اہمیت

سید مودودی ؒ کی فکر میں “قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ” نظری طور پر بنیاد  کی حیثیت رکھتی ہےلیکن آپ کی سیاسی فکر اسلامی ریاست کے قیام اور زمام ِ کار کی اہمیت کے تصور پر استوار ہے جو”تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں” نامی تقریر میں بیان کی گئی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد عملی سیاست میں حصہ لینے کے بعد الٰہ ، طاغوت اورتوحیدِ عملی کے نظریاتی ابلاغ کے بجائے  ان نظریات کی عملی صورتِ گری میں ہمیں سب سے  زیادہ زور زمامِ کار کی اہمیت کے بیان اور اسی بنیاد پر انقلابِ امامت کی سیاسی جدوجہدکے حوالے سے نظرآتا ہے۔ یہی چیز بعدازآں سید مودودی کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی کی اقامتِ دین کے لیےہمہ جہت تبدیلی کی جدوجہد(جس میں سماجی تبدیلی جس کے لیے اسلامی تعلیمی نظام کا احیاء سرِ فہرست تھاکے بجائے تبدیلیِ قیادت کی بہر نوع کوششوں کا باعث بنی جو تاحال جاری ہیں۔

سید مودودیؒ زمامِ کار کی اہمیت کے حوالے سےلکھتے ہیں :

“انسانی زندگی کے مسائل میں جس کو تھوڑی سی بصیرت حاصل ہو، وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا کہ انسانی معاملات کے بناؤ اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملاتِ انسانی کی زمامِ کار کس کے ہاتھ میں ہے” ۔

امامتِ صالحہ کا قیام

زمامِ کار کی اسی اہمیت کی بنیاد پر سید مودودی  امامتِ صالحہ کے قیام کو دین کا مقصود قراردیتے ہیں :

“اللہ کا دین اول تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ بالکلیہ بندۂ حق بن کر رہیں اور اُن کی گردن میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کا حلقہ نہ ہو۔ پھر وہ چاہتا ہے کہ اللہ ہی کا قانون لوگوں کی زندگی کا قانون بن کر رہے۔ پھر اس کا مطالبہ یہ ہے کہ زمین سے فساد مٹے، ان منکرات کا استیصال کیا جائے جو اہل زمین پر اللہ کے غضب کے موجب ہوتے ہیں اور اُن خیرات و حسنات کو فروغ دیا جائے جو اللہ کو پسند ہیں ۔ ان تمام مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی اس طرح پُورا نہیں ہو سکتا کہ نوع انسانی کی رہنمائی و قیادت اور معاملاتِ انسانی کی سربراہ کاری ائمہ کفر و ضلال کے ہاتھوں میں ہو اور دینِ حق کے پیرومحض اُن کے ماتحت رہ کر اُن کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یاد خدا کرتے رہیں ۔ یہ مقاصد تو لازمی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام اہل خیر وصلاح جو اللہ کی رضا کے طالب ہوں ،اجتماعی قوت پیدا کریں اور سر دھڑ کی بازی لگا کر ایک ایسا نظامِ حق قائم کرنے کی سعی کریں جس میں امامت و رہنمائی اور قیادت و فرماں روائی کا منصب مومنین صالحین کے ہاتھوں میں ہو۔ اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل نہیں ہو سکتا جو دین کا اصل مدعا ہے”۔

عملیت پسندی

سید مودودی ؒ ہر مفکر کی طرح اپنے عہد کے مسائل سے عہد برآہونے کی سبیل نکالنا چاہتے تھے۔ وہ جمود کو توڑ کر امتِ مسلمہ کو اپنے فرضِ منصبی کی بازیافت کی طرف متوجہ کرنا چاہتے تھے ۔ ان کی انفرادیت جو نہیں مفکرین کی صف سے بلند کرکے قائدین  کے مقام تک لے آتی ہے وہ ان کی یہ خاصیت ہے کہ  اپنے پیش کردہ نظریے کے لیے وہ محض فکری کاوشوں پراکتفاکرکے نہ رہ گئے بلکہ اس فکر کی بنیاد پر  ایک جماعت کی تاسیس کی اور اس کے ذریعے ایک منظم تحریک کی قیادت بھی کی ۔

سیاسیات کا اخلاقی پہلو

سید مودودی کی سیاسی فکر کا اہم پہلو اخلاقی عنصر کی اہمیت ہے۔ وہ دینی حوالے سے اخلاقیات کی اہمیت کے قائل ہیں۔ان کے نزدیک انسان کا بنیادی مسئلہ معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی ہے اور اس اخلاقی حالت کی درستی پر ہی انسانیت کی فلاح و بہبود کا دارومدار ہے۔اخلاقیات پر یہی زور ان کی سیاسی فکر کو ایک مصلحانہ جہت عطا کرتا ہے۔انسانیت کی پستی، اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت،معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام آج کی مسلم دنیا کے بالخصوص اور باقی دنیا کے عمومی مسائل ہیں۔

۲۶ فروری ۱۹۴۴ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے سید مودودی نے کہا:

“زندگی کا دریا اس وقت اپنی طغیانی پر ہے۔ ملک ملک اور قوم قوم کے درمیان سخت کش مکش برپا ہے اور یہ کشمکش اتنی گہرائی تک اتری ہوئی ہے کہ بڑے بڑے مجموعوں سے گزر کر ایک ایک فرد تک کو نزاع کے میدان میں کھینچ لائی ہے۔ اس طرح عالمِ انسانی کے بیشتر حصہ نے اپنے وہ تمام اخلاقی اوصاف اگل کر منظرِ عام پر رکھ دیے ہیں جنہیں وہ مدتوں سے اندر ہی اندر پرورش کررہا تھا۔ صرف وہی لوگ بیماری کی تشخیص اور علاج کی فکر سے غافل رہ سکتے ہیں جو حیوانات کی طرح اخلاقی حس سے بالکل خالی ہیں یا جن کے اخلاقی احساسات پر فالج گرگیاہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری پوری قومیں بہت بڑے پیمانے پر ان بدترین اخلاقی صفات کا مظاہرہ کررہی ہیں جن کو ہمیشہ سے انسانیت کے ضمیر نے انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ بے انصافی‘ بے رحمی‘ ظلم و ستم‘ جھوٹ‘ دغا‘ فریب‘ مکر‘ بدعہدی‘ خیانت‘ بے شرمی‘ نفس پرستی، استحصال بالجبر اور ایسے ہی دوسرے جرائم محض انفرادی جرائم نہیں رہے ہیں بلکہ قومی اخلاق کی حیثیت سے ظاہر ہورہے ہیں۔ہر قوم نے چھانٹ چھانٹ کر اپنے بڑے سے بڑے مجرموں کو اپنا لیڈر اور سربراہ کاربنایا ہے اور ان کی قیادت میں بدمعاشی کی کوئی مکروہ سے مکروہ قسم ایسی نہیں رہ گئی جس کا وہ کھلم کھلا نہایت بے حیائی کے ساتھ وسیع پیمانے پر ارتکاب نہ کررہی ہوں۔بدعہدی کا مرض اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ اب ایک قوم کو دوسری قوم پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔ بڑی بڑی قوموں کے نمائندے نہایت مہذب صورتیں لیے ہوئے جب بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کررہے ہوتے ہیں‘ اس وقت ان کے دلوں میں یہ خبیث نیت چھپی ہوئی ہوتی ہے کہ پہلا موقع ملتے ہی اس مقدس بکرے کو قومی مفاد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائیں گے اور جب ایک قوم کا صدر یا وزیر اعظم اس قربانی کے لیے چھری تیز کرتا ہے تو پوری قوم میں سے ایک آواز بھی اس بداخلاقی کے خلاف نہیں اٹھتی‘ بلکہ ملک کی پوری آبادی اس جرم میں شریک ہوجاتی ہے”۔

 سید مودودی اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

“اگر دین اور اخلاق کے نام لیوا اس صورتِ حال سے آنکھیں بند کرکے اپنے حجروں میں چُھپے بیٹھے رہیں تو اس سے خدا کی یہ دنیا شروو فساد سے کبھی پاک نہیں ہوگی یہی وجہ ہے کہ خدا نے اس بات کو مسلمانوں کا مقصد و نصب العین قرار دیا ہے کہ وہ دنیا کی زمامِ کار صالح  قیادت کے ہاتھوں میں دینے کی جدوجہد کریں ۔اس جدوجہد سے گریز یا فرار دین کے مقصد و نصب العین سے گریز یا فرار ہے۔”

مغربی تہذیب اور افکار کا رد

سنہ 1857ء کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد سرسید احمد خان نے فلاح ِ قوم کی جو راہ ڈھونڈی تھی، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ،اس کے مضر اثرات سامنے آنا شروع ہوچکےتھے۔ سید مودودیؒ نے “پردہ”، “تنقیحات” اور “تفہیمات” کے مضامین کے ذریعےاس دور کےجدید تعلیم یافتہ طبقے میں مغرب کی مرعوبیت اورذہنی غلامی پر کڑی چوٹ لگائی  اور مغربی تہذیب کا بودا پن عیاں کرتے ہوئے اسلامی لائحہِ عمل کی نشان دہی کی ۔

عصرِ حاضر میں اجتماعی تنظیم کی مہذب ترین اور معیاری صورت  سیکولر جمہوری قومی ریاست (Secular democratic national state) ہے۔اس لادین قومی جمہوری ریاست نے مغربی تہذیب کی آغوش میں جنم لیا ہے۔ اس کی حقیقت واضح کرتے ہوئے سید مودودی نے کہا:

“موجودہ تہذیب جس پر آج دنیا کا پورا فکری ، اخلاقی،تمدنی ، سیاسی اور معاشی نظام چل رہا ہے دراصل تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔

1 ۔ (secularism) یعنی لادینی یا لادینیت۔

2۔(Nationalism) یعنی قوم پرستی۔

3۔(Democracy) یعنی حاکمیت جمہور۔

ان میں سے پہلے اصول، یعنی لادینی کا مطلب یہ ہے کہ ” خدا اور اس کی ہدایت اور اس کی عبادت کے معاملے کو ایک ایک شخص کی ذاتی حیثیت تک محدود کردیا جائے اور انفرادی زندگی کے اس چھوٹے سے دائرے کے سوا دنیا کے باقی تمام معاملات کو ہم خالص دنیوی نقطۂ نظر سے اپنی صوابدید کے مطابق خود جس طرح چاہیں طے کریں۔ ان معاملات میں یہ سوال خارج از بحث ہونا چاہیے کہ خدا کیا کہتا ہے اور اس کی ہدایت کیا ہے اور اس کی کتابوں میں کیا لکھا ہے”۔

“آپ نے اکثر یہ فقرہ سنا ہوگا کہ “مذہب ایک پرائیویٹ معاہدہ ہے خدا اور بندے کے درمیان”۔ یہ مختصر سا فقرہ دراصل تہذیب حاضر کا “کلمہ” ہے”۔

مغربی تہذیب کے دوسرے اصول ، یعنی قوم پرستی  کے بارے میں سید مودودی کہتے ہیں :

“جس جگہ سے بے دینی کی تحریک نے خدا کو بے دخل کیا تھا وہاں قوم پرستی نے قومیت کو لابٹھایا۔ اب ہر قوم کے لیے بلند ترین اخلاقی قدر اس کا قومی مفاد اور اس کے قومی حوصلے (Aspirations) ہیں۔ نیکی وہ ہے جو قوم کے مفید ہو، خواہ وہ جھوٹ ہو، بے ایمانی ہو، ظلم ہو یا اور کوئی ایسا فعل ہو جو پرانے مذہب و اخلاق میں بدترین گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اور بدی وہ ہے جس سے قوم کے مفاد کو نقصان پہنچے خواہ وہ سچائی ہو، انصاف ہو، وفائے عہد ہو، ادائے حق ہو یا اور کوئی ایسی چیز جسے کبھی فضائل اخلاق میں شمار کیا جاتا تھا۔ افراد قوم کی خوبی اور زندگی و بیداری کا پیمانہ یہ ہے کہ قوم کا مفاد ان سے جس قربانی کا مطالبہ بھی کرے ، خواہ وہ جان و مال اور وقت کی قربانی ہو یا ضمیر و ایمان کی، اخلاق و انسانیت کی قربانی ہو یا شرافت نفس کی، بہرحال وہ اس میں دریغ نہ کریں اور متحد و منظم ہوکر قوم کے بڑھتے ہوئے حوصلوں کو پورا کرنے میں لگے رہیں۔ اجتماعی کوششوں کی غایت اب یہ ہے کہ ہر قوم ایسے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد بہم پہنچائے اور ان میں ایکا اور نظم پیدا کرے تاکہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنی قوم کا جھنڈا بلند کریں”۔

مغربی تہذیب کے تیسرے اصول حاکمیتِ جمہورکے بارے میں سید مودودی کہتے ہیں :

“تیسرے اصول ، یعنی جمہور کی حاکمیت (Sovereignty of the people) کو ابتداءً بادشاہوں اور جاگیرداروں کے اقتدار کی گرفت توڑنے کے لیے پیش کیا گيا تھا، اور اس حد تک بات درست تھی کہ ایک شخص یا ایک طبقہ کو لاکھوں کروڑوں انسانوں پر اپنی مرضی مسلط کردینے اور اپنی اغراض کے لیے انہیں استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، لیکن اس منفی پہلو کے ساتھ اس کا مثبت پہلو یہ تھا کہ ایک ایک ملک اور ایک ایک علاقے کے باشندے اپنے آپ حاکم اور اپنے آپ مالک ہیں۔ اسی مثبت پہلو پر ترقی کرکے جمہوریت نے اب جو شکل اختیار کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر قوم اپنی مرضی کی مختارِکل ہے۔ اس کی مجموعی خواہش (یا عملاً اس کی اکثریت کی خواہش ) کو پابند کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ اخلاق ہو یا تمدن، معاشرت ہو یا سیاست، ہر چیز کے لیے برحق اصول وہ ہیں جو قومی خواہش سے طے ہوں اور جن اصولوں کو قوم کی رائے عام رد کردے وہ باطل ہیں۔ قانون ، قوم کی مرضی پر منحصر ہے، جو قانون چاہے بنائے اور جس قانون کوچاہے توڑدے یا بدل دے۔ حکومت قوم کی رضا کے مطابق بننی چاہیئے قوم ہی کی رضا کا اسے پابند ہونا چاہیئے اور اس کی پوری طاقت قومی خواہش کو پورا کرنے پر صرف ہونی چاہیئے”۔

مغربی تہذیب کے ان اصولِ ثلاثہ کو عصرحاضر کے تمام مصائب کی جڑ قرار دیتے ہوئے سید مودودی ان تینوں کی قباحتیں  واضح کرتے ہیں اور ان کے متبادل اسلام کےتین صالح اصول پیش کرتے ہیں جو انسانیت کے مسائل کا حقیقی حل فراہم کرتے ہیں ۔ آپ کہتے ہیں:

اسلامی تہذیب کے تین صالح اصول

” لادینی کے مقابلے میں خدا کی بندگی و اطاعت۔

قوم پرستی کے مقابلے میں انسانیت۔

جمہور کی حاکمیت کے مقابلے میں خدا کی حاکمیت اور جمہور کی خلافت۔

خدا پرستی کے معنی

“پہلے اصول کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب اس خدا کو اپنا آقا تسلیم کریں جو ہمارا اور تمام کائنات کا خالق، مالک اور حاکم ہے۔ ہم اس سے آزاد اور بے نیاز بنکر نہیں بلکہ اس کے تابع فرمان اور اس کی رہنمائی کے پیرو بن کر زندگی بسر کریں۔ ہم صرف اس کی پوجا ہی نہ کریں بلکہ اس کی اطاعت اور بندگی بھی کریں۔ ہم صرف فرداً فرداً اپنی پرائیویٹ حیثیت ہی میں اس کے احکام اور ہدایات کے پابند نہ ہوں بلکہ اپنی اجتماعی زندگی کے بھی ہر پہلو میں اسی کے پابند ہوں۔ ہماری معاشرت، ہمارا تمدن، ہماری معیشت، ہمارا نظامِ تعلیم و تربیت، ہمارے قوانین ، ہماری عدالتیں، ہماری حکومت، ہماری صلح و جنگ اور ہمارے بین الاقوامی تعلقات، سب کے سب ان اصولوں اور حدوں کےپابند ہوں جو خدا نے مقرر کیے ہیں۔ ہم اپنے دنیوی معاملات کو طے کرنے میں بالکل آزاد نہ ہوں بلکہ ہماری آزادی ان سرحدوں کے اندر محدود ہو جو خدا کے مقرر کیے ہوئے اصول اور حدود نے کھینچ دی ہیں۔ یہ اصول اور حدود ہرحال میں ہمارے اختیارات سے بالاتر رہیں۔

انسا نیت کا مطلب

دوسرے اصول کا مطلب یہ ہے کہ خدا پرستی کی بنیاد پر جو نظامِ زندگی بنے اس میں قوم، نسل، وطن، رنگ اور زبان کے فرق و امتیاز کی بنا پر کسی قسم کے تعصبات اور خود غرضیاں راہ نہ پائیں۔ وہ ایک قومی نظام کے بجائےایک اصولی نظام ہونا چاہیئےجس کے دروازے ہر اس انسان کے لیے کھلے ہوئے ہوں جو اس کے بنیادی اصولوں کو مان لے اور جو انسان بھی ان کو مان جائے وہ بغیر کسی امتیاز کے پورے مساویانہ حقوق کے ساتھ اس میں شریک ہوسکے۔اس نظام میں شہریت (Citizenship) کی بنیاد پیدائش اور نسل و وطن پر نہ رکھی جائے بلکہ صرف اصول پر رکھی جائے۔ رہے وہ لوگ جو ان اصولوں پر مطمئن نہ ہوں یا کسی وجہ سے ان کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں تو ان کو مٹانے اور دبانے اور ہضم کرنے کی کوشش نہ ہو بلکہ وہ متعین حقوق کے ساتھ اس نظام کی حفاظت (Protection) میں رہیں اور ان کےلیے ہر وقت یہ موقع کھلا رہے کہ جب بھی ان اصولوں کی صحت و درستی پر ان کا اطمینان ہوجائے وہ برابر کے حقوق کے ساتھ اپنی آزادانہ مرضی سے اس نظام کے شہری بن سکیں۔ یہ چیز جس کو ہم اصولِ انسانیت سے تعبیر کررہے ہیں قومیت کی نفی نہیں کرتی بلکہ اسے اس کی صحیح فطری حد میں رکھتی ہے۔ اس میں قومی محبت کے لیے جگہ ہے مگر قومی تعصب کے لیے جگہ نہیں ہے۔ قومی خیر خواہی جائز ہے مگر قومی خود غرضی حرام ہے۔ قومی آزادی مسلّم ہے اور ایک قوم پر دوسری قوم کے خود غرضانہ تسلّط سے بھی سخت انکار ہے مگر ایسی قومی آزادی ہرگز تسلیم نہیں ہے جو انسانیت کو ناقابل ِ عبور سرحدوں میں تقسیم کردے۔ اصول انسانیت کامطالبہ یہ ہے کہ اگرچہ ہرقوم اپنے گھر کا انتظام آپ کرے، اور کوئی قوم من حیث القوم دوسری قوم کی تابع نہ ہو، لیکن تمام وہ قومیں جو تہذیبِ انسانی کے بنیادی اصولوں میں متفق ہوجائیں ان کے درمیان انسانی فلاح و ترقی کے کاموں میں پورا تعاون ہو، مسابقت (Competition) کے بجائے معاونت ہو، باہم امتیازات اور تعصبات اور تفریقیں نہ ہوں بلکہ تہذیب و تمدن اور اسباب زندگی کا آزادانہ لین دین ہو، اور اس مہذب نظامِ زندگی کے تحت زندگی بسر کرنے والی دنیا کا ہر انسان اس پوری دنیا کا شہری ہو نہ کہ ایک ملک یا ایک قوم کا۔ حتی ٰکہ وہ کہہ سکے کہ ” ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خدائے ماست”۔ موجودہ حالت کو ہم ایک قابل نفرت حالت سمجھتے ہیں جس میں ایک انسان نہ تو خود ہی اپنی قوم اور ملک کے سوا کسی دوسری قوم اور ملک کا وفادار ہوسکتا ہے اور نہ کوئی قوم اپنے افراد کے سوا کسی دوسری قوم کے افراد پر اعتماد کرسکتی ہے۔ آدمی اپنے ملک کے حدود سے باہر نکلتے ہی یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کی زمین میں ہر جگہ اس کے لیے رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں،ہر جگہ وہ چوروں اچکوں کی طرح شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ہر جگہ پوچھ گچھ ہے تلاشیاں ہیں،زبان و قلم اور نقل و حرکت پر پابندیاں ہیں اور کہیں اس کے لیے نہ آزادی ہے نہ حقوق۔ ہم اس کے مقابلے میں ایسا عالمگیر نظام چاہتے ہیں ، جس میں اصولوں کی وحدت کو بنیاد بنا کرقوموں کے درمیان وفاق قائم ہو اور اس وفاق میں بالکل مساویانہ اور مشترک شہریت (Common citizenship) اور بے روک ٹوک آمد و رفت کا طریقہ رائج ہو، ہماری آنکھیں پھر ایک دفعہ یہ منظر دیکھنا چاہتی ہیں کہ آج کا کوئی ابن بطوطہ اٹلانٹک کے ساحل سے بحرالکاحل کے جزائر تک اس طرح جائے کہ کہیں بھی وہ غیر (Alien) نہ ہو اور ہر جگہ اس کےلیے جج، مجسٹریٹ، وزیر یا سفیر بن جانے کے موقع ہو۔

خلافت جمہور کا مفہوم

اب تیسرے اصول کو لیجیے ۔ ہم جمہوری حاکمیت کے بجائے جمہوری خلافت کے قائل ہیں۔ شخصی بادشاہی (Monarchy) اور امیروں کے اقتدار اور طبقوں کی اجارہ داری کے ہم بھی اتنے ہی مخالف ہیں جتنا موجودہ زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا جمہوریت پرست ہو سکتا ہے۔اجتماعی زندگی میں تمام لوگوں کے یکساں حقوق مساویانہ حیثیت اور کھلے مواقع پر ہمیں بھی اتنا ہی اصرار ہے جتنا مغربی جمہوریت کے کسی بڑے سے بڑے حامی کو ہوسکتا ہے۔ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ حکومت کا انتظام اور حکمران کا انتخاب تمام باشندوں کی آزادانہ مرضی اور رائے سے ہونا چاہیے۔ ہم بھی اس نظام زندگی کے سخت مخالف ہیں جس میں لوگوں کے لئے اظہار رائے کی آزادی، اجتماع کی آزادی اور سعی و عمل کی آزادی نہ ہو۔یا جس میں پیدائش،اور نسل اور طبقات کی بنا پر بعض لوگوں کے لیے مخصوص حقوق اور بعض دوسرے لوگوں کے لئے مخصوص رکاوٹیں ہوں۔ یہ امور جو جمہوریت کا اصل جوہر (Essence) ہیں۔ ان میں ہماری جمہوریت اور مغربی جمہوریت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اہل مغرب نے ہمیں سکھائی ہو۔ہم اس جمہوریت کو اس وقت سے جانتے ہیں اور دنیا کو اس کا بہترین عملی نمونہ دکھا چکے ہیں جبکہ مغربی جمہوریت پرستوں کی پیدائش میں ابھی سیکڑوں برس کی دیر تھی۔دراصل ہمیں اس نوخیز جمہوریت سے جس چیز میں اختلاف اور نہایت سخت اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ یہ جمہور کی مطلق العنان بادشاہی کا اصول پیش کرتی ہےاور ہم اس کو حقیقت کے اعتبار سے غلط اور نتائج کے اعتبار سے تباہ کن سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ بادشاہی (Sovereignty) صرف اس کا حق ہے جس نے لوگوں کو پیدا کیا، جو ان کی پرورش اور بالیدگی کا سامان کررہا ہے۔جس کے سہارے پر ان کی اور ساری دنیا کی ہستی قائم ہے۔ اور جس کے زبردست قانون کی گرفت میں کائنات کی ایک ایک چیز جکڑی ہوئی ہے۔ اس کی واقعی اور حقیقی بادشاہی کے اندر جس بادشاہی کا بھی دعویٰ کیا جائے گا، خواہ ایک شخص اور ایک خاندان کی بادشاہی ہو یا ایک قوم اور اس کے عوام کی، بہرحال وہ ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہ ہوگا اور اس غلط فہمی کی چوٹ کائنات کے اصل بادشاہ پر نہیں بلکہ اس احمق مدعی پر پڑے گی جس نے اپنی قدر خود نہ پہچانی۔ اس حقیقت کی موجودگی میں صحیح بھی یہی ہے اور نتائج کے اعتبار سے انسان کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ خدا کو حاکم مان کر انسانی زندگی کا نظامِ حکومت خلافت و نیابت کے نظریہ پر بنایا جائے۔ یہ خلافت بلاشبہ جمہوری ہونی چاہیے۔ جمہور کی رائے ہی سے حکومت کے امیر یا ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب ہونا چاہیئے۔ انہی کی رائے سے اہل شوریٰ منتخب ہونے چاہیئں۔ انہی کے مشورے سے حکومت کے سارے انتظامات چلنے چاہیئں۔ ان کو تنقید و احتساب کا کھلا حق ہونا چاہیئے، لیکن یہ سب کچھ اس احساس و شعور کے ساتھ ہونا چاہیئے کہ ملک خدا کا ہے، ہم مالک نہیں بلکہ نائب ہیں اور ہمیں اپنے ہر کام کا حساب اصل مالک کو دینا ہے۔ نیز وہ اخلاقی اصول اور وہ قانونی احکام اور حدود اپنی جگہ اٹل ہونے چاہیئں جو خدا نے ہماری زندگی کے لیے مقرر کردیے ہیں۔ ہماری پارلیمنٹ کا اساسی نظریہ یہ ہونا چاہیئے کہ جن امور میں خدانے ہمیں ہدایات دی ہیں ان میں ہم قانون سازی نہیں کریں گے بلکہ اپنی ضروریات کے لیے خدا کی ہدایات سے تفصیلی قوانین اخذ کریں گے۔اور جن امور میں خدا نے ہدایات نہیں دی ہیں ان میں ہم یہ سمجھیں گے کہ خدا نے خود ہی ہم کو آزادئ عمل بخشی ہے اس لیے صرف انہی امور میں ہم باہمی مشورے سے قوانین بنائیں گے۔مگر یہ قوانین لازماً اس مجموعی سانچے کے مزاج سے مطابقت رکھنے والے ہونگے جو خدا کی اصولی ہدایات نے ہمارے لیے بنادیا ہے۔

پھر یہ ضروری ہے کہ اس پورے نظامِ تمدن و سیاست کی کارفرمائی اور اس کا انتظام ان لوگوں کے سپر د ہو۔ جو خدا سے ڈرنے والے اور اس کی اطاعت کرنے والے اور ہر کام میں اس کی رضا چاہنے والے ہوں۔ جن کی زندگی گواہ ہو کہ وہ خدا کے حضور اپنی پیشی اور جواب دہی کا یقین رکھتے ہیں۔ جن کی پبلک پرائیویٹ دونوں قسم کی زندگیوں سے یہ شہادت ملے کہ وہ بے لگام گھوڑے کی طرح نہیں ہیں۔ جو ہر کھیت میں چرتا اور ہر حد کو پھاندتا پھرتا ہو، بلکہ ایک الٰہی ضابطہ کی رسی سے بندھے ہوئے اور ایک خدا پرستی کے کھونٹے سے مربوط ہیں اور ان کی ساری چلت پھرت اسی حد تک محدود ہے جہاں تک وہ رسی انہیں جانے دیتی ہے”۔

قوم پرستی کی مخالفت

سید مودودی کی جانب سے  1938 ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے بپاکردہ متحدہ قومیت کے فتنے کا مقابلہ “مسئلۂ قومیت “اور”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش” کےجن دیگر مضامین کے ساتھ کیا گیا وہ اب “تحریکِ آزادیِ ہند اورمسلمان “حصہ اول کے نام سے موجود ہیں۔اس سلسلہِ مضامین  میں آپ نے قوم پرست علماء پر لادینی قوم پرستانہ سیاست کے حوالے سے اپنے تئیں ان کی غلطی واضح کی ہے ۔ بعد ازآں مسلم لیگ کی مسلم قوم پرستانہ تحریک بھی آپ کے قلم کی کاٹ سے محفوظ نہ رہی اور “مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش”حصہ سوم کے مضامین(جدید”تحریکِ آزادیِ ہند اور مسلمان “۔ دوم)اس پر شاہد ہیں۔معاشرتی اور رائے عامہ کا دباؤ انہیں مسلمانوں کے  مقبول سیاسی موقف سے اختلاف کرنے سے باز نہ رکھ سکا اور انہوں نےاپنے موقف کا بدلائل پرچارجاری رکھا۔ مسلم لیگ کی مسلم قوم پرستانہ تحریک کے عین مرکزعلی گڑھ یونیورسٹی میں جاکر آپ نے اس طریقۂ کارپر تنقید کی جسے مسلم لیگ اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر اختیار کیے ہوئے تھی اور اس کے مقابل اس طریقے کی نشان دہی کی جس سے ایک اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔ یہ تقریر “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے ؟”کے نام سے مندرجہ بالا مجموعے میں شامل ہے ۔ اس طرح آپ نے قوم پرستی کی ہر شکل اور ہر شائبے کو کلیتاً رد کیا۔

سیاسی اسلام

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نظریہِ اقامتِ دین پر اعتراض جدید دورمیں “سیاسی اسلام”پر اعتراض کے نام سے سامنے آیا ہے۔اگرچہ سید مودودی نے خود یہ اصطلاح کبھی نہیں استعمال کی۔

سیاسی اسلام کی تعریف ویکی پیڈیا کے مطابق یہ ہے:

Political Islam is any interpretation of Islam as a source of political identity and action. It can refer to a wide range of individuals and groups who advocate the transformation of state and society according to what they see as Islamic principles

لیکن  اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اسلام بطور ریاستی نظام پیش کیا جائے اوریہ دعویٰ کیا جائے کہ اسلام کے سیاسی نظام کا غلبہ یااسلامی ریاست کا قیام ایک مسلمان کا مطلوب  ومقصودہے۔

اگرچہ اسلام اپنی اصل میں ایک ہی ہےجس کا منبع کتاب و سنت کی تعلیمات ہیں ۔اس میں دین و دنیا کی کوئی تفریق موجود نہیں اور روحانی اسلام یا سیاسی اسلام کی اصطلاحات  خانہ ساز ہیں اور ان کا دین کی تعلیمات سے کوئی علاقہ نہیں۔مزید برآں سیاسی اسلام کے ڈانڈےاس مسلم مزاحمتی مسلح جدوجہد سے جوڑ دیے گئےجس نےعموماً ردعمل کی نفسیات سے جنم لیااورجو دنیا میں دہشت گردی کے فروغ کی مرتکب  ٹھہرائی جاتی ہے۔

سید مودودیؒ  پرامن جدوجہد کے داعی ہیں اورطاغوت کے انکار،اسلام کے غلبہِ سیاسی کی فکر،اس کے لیے ان تھک جدوجہداور اسلامی تصورِ جہادپر غیر معذرت خواہانہ رویے نے انہیں مسلم انقلابی مفکرین(یاعرفِ عام  میں سیاسی اسلام کے داعیین)  کی صفِ اول میں جگہ فراہم کردی ہے۔

ڈاکٹر ولی رضا نصر مشرقِ وُسطیٰ اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر، خارجہ امور پر امریکی حکومت کے مشیر اور ایک معروف دانشور ہیں۔ وہ امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سابق ڈین اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں ۔سید مودودیؒ کے حوالے سے ان کی دو کتب بہت اہم ہیں ۔

Mawdudi and the Making of Islamic Revivalism (Oxford University Press, 1996)

The Vanguard of the Islamic Revolution: The Jama`at-i Islami of Pakistan (University of California Press, 1994)

اول الذکر کتاب میں وہ سید مودودی ؒ کو معاصراحیائی مفکرین میں سب سے بااثر قرار دیتے ہیں ۔

“The most influential of contemporary revivalist thinkers”۔

رائے جیکسن ، گلوسٹر شایر یونیورسٹی  کے استاد اوراسلام کے بارے میں دو کتب کے مصنف بھی سید مودودی کے بارے میں اپنی کتاب میں  کئی دیگر مفکرین کی طرح اس رائے سے متفق ہیں ۔

اس حیثیت میں سید مودودیؒ ایک طرف  غیر مسلح انقلابی و اصلاحی تحاریک کے لیے مشعلِ راہ فراہم کرتے ہیں تو دوسری طرف مسلح تحاریک بھی  انکارِ طاغوت اورمسئلہِ حاکمیت کےبارے میں ان کے افکار سےرہ نمائی لیتی ہیں ۔اس تناظر میں کہ جب  مغرب میں بالعموم  سیاسی اسلام اور دہشت گردی ہم معنی کردی گئی ہے سید مودودیؒ اور احیائے اسلام اور غلبِہ دین کے تصورات رکھنے والے مفکرین کو زبردستی تشدد اور تکفیریت کا نقیب ٹھہرادیا گیا ہے اور دنیا میں مبینہ مسلم انتہا پسندی  کے ڈانڈے ان کی تعلیمات سے جوڑ دیے گئے ہیں ۔

“Both Maududi and Qutb spoke of the possibility to practice takfir, that is, to exclude (“nominal”) Muslims from the community of believers (often described as “excommunication”).

مزیدبرآں  توحیدِ حاکمیت کو سید مودودیؒ و سید قطبؒ کی اختراع قرار دے دیا گیا:

Maududi expanded the Quranic concept of Tauheed (oneness of God) by suggesting that it also meant the (political) oneness of the Muslim ummah that can only be achieved by ‘Islamising the society’ and through attaining state power to finally formulate an ‘Islamic state.”

سید مودودیؒ نے تبدیلی واصلاح کا جو راستہ اختیار کیا تھا اس کے تحت انہیں ہر سمت سے مخالفت کاسامنا کرنا پڑا۔ روایتی بے روح مذہبیت، لادینیت، اشتراکیت، سرمایہ داری، قوم پرستی،لادین جمہوریت اور فسطائیت  سب پر ان کی چوٹ گہری ہے۔

اسلامی ریاست کی نوعیت

اسلامی ریاست کی نوعیت کےبارے میں سیدمودودی واضح کرتےہیں کہ مغربی جمہوریت میں جہاں لوگوں کوقانون سازی کااختیارحاصل ہےوہیں اسلامی نظام میں بندے ،اللہ رب تعالیٰ کےبنائےگئےقوانین وضوابط ہی کو نافذ کریں گے۔اسی طرح وہ پاپائیت پربھی تنقیدکرتےہوئےاسےاسلام کےخلاف قراردیتےہیں کہ اس نظام میں مذہبی طبقہ قانون سازی کرتاہےاوراپنےآپ کواللہ تعالی کےساتھ شریک بنالیتاہے۔انہوں نے جمہوریت اور  پاپائیت کےمقابلےمیں “تھیوڈیموکریسی” کے نام سے ایک نئی اصطلاح   ایجاد کی ہے۔ وہ اسےاسلام کے نظام کا جامع  بیان قراردیتےہیں۔ اس نظام میں حاکمیت ِاعلی اللہ کےپاس ہےاوراس کےاوامرکانفاذلازمی ہےالبتہ حکامِ سلطنت کی تقرری لوگوں کےباہمی مشورہ سےہی عمل میں آئےگی۔ جن معاملات میں شریعت نےواضح رہنمائی نہیں دی ان معاملات میں شوری کےذریعہ فیصلہ کیا جائے گا۔

حقوِق شہریت

ذمِّیوں کے حقوق

جدید ریاستیں ، قومی ریاستیں ہیں ۔ اس اعتبار سے ان میں جنس،عقیدے، رنگ یا نسل وغیرہ کسی بھی اعتبار سے شہریوں میں تفریق ناپسندیدہ اور مذموم تصور کی جاتی ہے۔

سید مودودی اسلامی ریاست کو ایک نظریاتی ریاست قرار دیتے ہیں اور اس اعتبار سے حقوق شہریت میں تفرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اسلامی ریاست میں دو طرح کے شہری پائے جاسکتے ہیں:

1۔ مسلم

2۔غیر مسلم(ذِمّی)

ایک مسلم اورذِمّی( غیر مسلم شہری)کے مابین حقوق وفرائض میں آپ تفریق کرتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ م وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا ج 

ترجمہ:”جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی‘ وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہ آئے‘ تمھارے لیے ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔”

آیہ مندرجہ بالا کے مطابق مسلم شہریوں کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ صرف اسلامی ریاست میں موجود  اہلِ ایمان ہی حقوقِ شہریت سے مستفیض ہوسکتے ہیں  اور اسلامی ریاست میں ترکِ سکونت(ہجرت)کرکے منتقل نہ ہونے والے اہلِ ایمان اسلامی ریاست میں موجود مومنین کی ولایت کے اہل نہیں۔

 وہ مسلم شہریوں کے حقوق و فرائض کے حوالے سے کہتے ہیں:

”1۔مسلم شہریوں پر اسلام نے اپنے پورے نظام کے اٹھانے کی ذمے داری ڈالی ہے‘ کیونکہ وہی اصولاً اس نظام کو حق مانتے ہیں۔ ان پر وہ اپنا پورا قانون نافذ کرتا ہے۔ ان کو اپنے تمام مذہبی‘ اخلاقی‘ تمدنی اور سیاسی احکام کا پابند کرتا ہے۔ ان کے ذمے اپنے سارے واجبات و فرائض عائد کرتا ہے۔ ان سے اپنی ریاست کی مدافعت کے لیے ہر قربانی کا مطالبہ کرتا ہے، اور پھر انھی کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ اس ریاست کے اولی الامر کا انتخاب کریں‘ اس کو چلانے والی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) میں شریک ہوں‘ اور اس کے کلیدی مناصب پر مقرر کیے جائیں، تاکہ اس اصولی ریاست کی پالیسی ٹھیک اس کے بنیادی اصولوں کے مطابق چل سکے۔ اس قاعدے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عہدِ نبویؐ اور عہدِ خلافتِ راشدہ میں ایک مثال بھی اس امر کی نہیں مل سکتی کہ کسی ذمی کو مجلس شوریٰ کا رکن‘ یا کسی علاقے کا گورنر یا کہیں کا قاضی یا کسی شعبۂ حکومت کا وزیر، یا ناظم یا فوج کا کمانڈر بنایا گیا ہو یا خلیفہ کے انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا ہو۔ حالانکہ ذمی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں موجود تھے اور خلافتِ راشدہ کے دور میں تو ان کی آبادی کروڑوں تک پہنچی ہوئی تھی۔ اگر فی الواقع ان امور میں حصہ لینا ان کا حق ہوتا تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اللہ کا نبی ان کی حق تلفی کیسے کرسکتا تھا اور نبی کے براہ راست تربیت یافتہ لوگ مسلسل ۳۰ برس، اس حق کو ادا کرنے سے کس طرح باز رہ سکتے تھے“۔

جبکہ ذِمّیوں کے حوالے سے وہ کہتے ہیں:

”۲۔ذمی شہریوں سے مراد وہ تمام غیر مسلم ہیں جو اسلامی ریاست کے حدود میں رہ کر اس کی اطاعت و وفاداری کا اقرار کریں‘ قطع نظر اس سے کہ وہ دار الاسلام میں پیدا ہوئے ہوں، یا باہر سے آکر ذمی بننے کی درخواست کریں۔ اس طرح کے شہریوں کو اسلام ان کے مذہب اور کلچر اور پرسنل لا کے تحفظ اور جان و مال و آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے‘ ان پر صرف اپنے ملکی قوانین نافذ کرتا ہے‘ ان کو ملکی قوانین میں مسلمانوں کے ساتھ برابر کے حقوق دیتا ہے‘ ان کے لیے کلیدی مناصب کے سوا ہر قسم کی ملازمتوں کے دروازے کھلے رکھتا ہے‘ ان کو شہری آزادیوں میں مسلمانوں کے ساتھ برابر کا شریک کرتا ہے‘ ان کے ساتھ معاشی معاملات میں مسلمانوں سے الگ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھتا اور مملکت کے دفاع کی ذمے داری سے انھیں مستثنیٰ کرکے اس کا پورا بار صرف مسلمانوں پر ڈالتا ہے“۔

اس بظاہر امتیازی یا متعصبانہ سلوک کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

”ان دو قسم کی شہریتوں پر اور ان کی الگ الگ حیثیتوں پر اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ پہلے اس سلوک پر ایک نگاہ ڈال لے جو دنیا کی دوسری اصولی ریاستیں اپنے اصول کے نہ ماننے والوں سے اور قومی ریاستیں اپنے حدود میں رہنے والی قومی اقلیتوں سے کر رہی ہیں۔ درحقیقت یہ بات پورے چیلنج کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ایک ریاست کے اندر اس کی بنیادوں سے مختلف بنیادِ وجود رکھنے والوں کی موجودگی جو پیچیدگی پیدا کرتی ہے اس کو اسلام سے زیادہ انصاف‘ رواداری اورفیاضی کے ساتھ کسی دوسرے نظام نے حل نہیں کیا ہے۔ دوسروں نے اس پیچیدگی کو زیادہ تر دو ہی طریقوں سے حل کیا ہے، یا تو انھیں مٹا دینے کی کوشش کی ہے یا شودر بنا کر رکھا ہے۔ اسلام اس کے بجائے یہ طریقہ اختیار کرتا ہے کہ انصاف کے ساتھ اپنے اصول کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ایک حد قائم کر دیتا ہے۔ جو ماننے والے ہیں ان کو پوری طرح اپنے اصولوں کا پابند کرتا ہے اور ان اصولوں کے مطابق ریاست کانظام چلانے کی ذمے داری ان پر ڈال دیتا ہے اور جو ان اصولوں کو قبول نہیں کرتے ان کو صرف اسی حد تک پابند کرتا ہے جو ملک کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور انھیں ریاست کا نظام چلانے کی ذمے داری سے سبکدوش کرنے کے بعد، ان کے تمام تمدنی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے“۔

خواتین کےسیاسی و حکومتی مناصب

سید مودودی  اختلاطِ مردوزن کے قائل نہیں اور قرآنِ کریم کی مندرجہ ذیل آیاتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے  خواتین کے دائر ۂ عمل کو گھر تک محدود کردیتے ہیں:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ

ترجمہ:”مرد عورتوں پر قوام ہیں”۔

وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى

ترجمہ:اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھیری رہو اور پچھلی جاہلیت کے سے تَبَرُّج کا ارتکاب نہ کرو۔

رسول اللہ محمد مصطفیٰﷺ کو جب معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:

لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً۔ 

ترجمہ:”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کرے”(اپنا حکم ران کسی خاتون  کو بنا لے)۔

ان نصوصِ قرآن وحدیث سے خواتین کی قومی و سیاسی مناصب پر تعیناتی کے حوالے سے وہ کہتے ہیں :

”یہ نصوص اس باب میں قاطع ہیں کہ مملکت میں ذمے داری کے مناصب (خواہ وہ صدارت ہو، یا وزارت یا مجلسِ شوریٰ کی رکنیت یا مختلف محکموں کی ادارت) عورتوں کے سپرد نہیں کیے جاسکتے۔ اس لیے کسی اسلامی ریاست کے دستور میں عورتوں کو یہ پوزیشن دینا‘ یا اس کے لیے گنجائشیں رکھنا نصوص صریحہ کے خلاف ہے اور اطاعت خدا اوررسول ﷺ کی پابندی قبول کرنے والی ریاست اس خلاف ورزی کی سرے سے مجاز ہی نہیں ہے“۔

خواتین کے دائرہ کار کے حوالے سے  آپ لکھتے ہیں:

”رہا یہ سوال کہ عورت کا دائرہ عمل ہے کیا‘ تو نبی اکرمﷺ کے یہ ارشادات اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں:

۔ وَالْمَرْاءَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ بَعْلِھَا وَوَلِدِہٖ وَھِیَ مَسْؤلَۃٌ عَنْھُمْ۔ (ابوداؤد:2928)

ترجمہ:”اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی راعیہ ہے اور وہ ان کے بارے میں جواب دہ ہے”۔

یہ ہے آیت وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ کی صحیح تفسیر‘ اور اس کی مزید تفسیر وہ احادیث ہیں جن میں عورت کو سیاست و ملک داری سے کم تر درجے کے خارج ازبیت فرائض و واجبات سے بھی مستثنیٰ کیا گیا ہے۔

۲۔ اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ اِلاَّ اَرْبَعَۃٍ عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ اَوْاِمْرَاَۃٌ اَوْصَبِیٌّ اَوْمَرِیْضٌ۔ (ابوداؤد:1067)
ترجمہ:”جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا حق اور واجب ہے۔ بجز چار قسم کے لوگوں کے: ایک غلام‘ دوسرے عورت‘ تیسرے بچہ‘ چوتھے مریض”۔

۔ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ نُھِیْنَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ۔ (بخاری:1278)

ترجمہ:”ام عطیہ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ ہم کو جنازوں کے ساتھ جانے سے روک دیا گیا تھا”۔

اگرچہ ہمارے پاس اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں مضبوط عقلی دلائل بھی ہیں اور کوئی چیلنج کرے تو ہم انھیں پیش کرسکتے ہیں‘ مگر اوّل تو ان کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا ہے‘ دوسرے ہم کسی مسلمان کا یہ حق ماننے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں کہ وہ خدا اور رسولؐ کے واضح احکام سننے کے بعد ان کی تعمیل کرنے سے پہلے اور تعمیل کے لیے شرط کے طور پر‘ عقلی دلائل کا مطالبہ کرے۔ مسلمان کو اگر وہ واقعی مسلمان ہے‘ پہلے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے‘ پھر وہ اپنے دماغی اطمینان کے لیے عقلی دلائل مانگ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ مجھے پہلے عقلی حیثیت سے مطمئن کرو، ورنہ میں خدا اور رسول ﷺ کا حکم نہ مانوں گا، تو ہم اسے سرے سے مسلمان ہی نہیں مانتے‘ کجا کہ اس کو ایک اسلامی ریاست کے لیے دستور بنانے کا مجاز تسلیم کریں۔ تعمیل حکم کے لیے عقلی دلیل مانگنے والے کا مقام اسلام کی سرحد سے باہر ہے‘ نہ کہ اس کے اندر“۔

پرامن اعلانیہ جدوجہد کی تاکید

سید مودودی مسلح جدوجہد کی مشکلات اور موانعات سے آگاہ تھے، سید احمد شہید ؒ  کی بے مثال تحریکِ جہاد کی ناکامی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ مسلم قوم کی اخلاقی حالت بھی آپ کے سامنے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ خفیہ اور مسلح تحریکات کے سخت خلاف تھےکہ ان کے نتائج عمومی طور پر کبھی بھی مثبت نہیں برآمد ہوئے ہیں ۔

“اس سلسلے میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلدبازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلایئے، بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ لوگوں کے خیالات بدلیے۔ اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا وہ ایسا پایدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلدبازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا”۔

اسلامی جمہوریت

مغربی جمہوریت پر سید مودودی کی تنقید ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر چکے ہیں۔پاکستان میں جہاں کام کرنے کے لیے ایک نسبتاً سازگار ماحول میسر تھا اور محسوس ہوتا تھا کہ چند حدود و قیود کے تحت رائے عامہ کو اسلامی نظام کے حق میں ہموار کرکے نفاذِ اسلام کی منزل سر کی جاسکتی ہے لہٰذا آپ نے  تبدیلی اور انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پربعض شرائط کےتحت جمہوریت کو اسلامیانے کے عمل کی تائید کی اور اسے اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ۔بعد ازآں جمہوریت کی زیادہ وکالت کا ایک سبب شاید پاکستان کے معروضی حالات بھی تھے جس میں مارشل لائی آمریت  نے جماعتِ اسلامی کے کام میں بڑے رخنے ڈالے  اور اسی کے ساتھ ساتھ  معاشرے کو دین سے دورکرنے اور غیر اسلامی رجحانات کی اسلام میں پیوند کاری کرنے کے لیے بھی آمرانہ ادوار خصوصاً  جنرل ایوب خان کا دور یادرکھاجاتا ہے۔” خلافت و ملوکیت” اسی دور کی تصنیف ہے جس میں آپ ملوکیت اور جابرانہ استبداد کورد کرکے اسلام کے جمہوری شورائی مزاج کو نمایاں کرتے ہیں۔

اس کتاب کی وجہِ تصنیف اور موضوعِ تصنیف کا ذکر کرتے ہوئےسیدمودودیؒ رقم طراز ہیں :

’’آج جو لوگ بھی علمِ سیاست کے سلسلے میں اسلامی نظریۂ سیاست کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے سامنے ایک طرف تو وہ نظامِ حکومت آتا ہے جو رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں قائم تھا،اور دوسری طرف وہ بادشاہی نظام آتا ہے جو بعد کے ادوار میں ہمارے ہاں چلتا رہا۔ دونوں کے درمیان اصول،مقاصد،طریقِ کار اور روح ومزاج کا نمایاں فرق محسوس کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان دونوں کی یکساں اطاعت کی ہے،دونوں کے تحت جہاد ہوتا رہا ہے،قاضی احکامِ شریعت نافذکرتے رہے ہیں، اور مذہبی وتمدنی زندگی کے سارے شعبے اپنی ڈگر پر چلتے رہے ہیں۔ اس سے لازماً سیاست کے ہر طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اصل اسلامی نظریۂ سیاست کیا ہے؟ کیا یہ دونوں بیک وقت اور یکساں اسلامی نظام ہیں ؟ یا اسلامی نقطۂ نظر سے ان کے درمیان کوئی فرق ہے؟اور اگر فرق ہے تو ان دونوں کے تحت مسلمانوں نے جو بظاہر ایک سا طرزِ عمل اختیار کیا ہے اس کی کیا توجیہ ہے؟میں سمجھتا کہ دماغوں کو ان سوالات پر سوچنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے،اور ان کا جواب آخر کیوں نہ دیا جائے۔

یہ کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے۔اس کے ابتدائی ابواب ’’قرآن کی سیاسی تعلیمات‘‘،’’اسلام کے اصولِ حکمرانی‘‘اور’’خلافتِ راشدہ کی خصوصیات‘‘انتہائی اہم ابواب ہیں۔

جماعتِ اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی بنیاد ، قیامِ پاکستان کے بعد سے جن خطوط پر رہی ہے اس کی نشان دہی سید مودودیؒ  کی ماچھی گوٹھ کی تقریر مطبوعہ”تحریکِ اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل” میں مفصلاً کی گئی ہے ۔

مختصرا ًاسے چار نکات کی صورت میں یوں بیان کیا گیا ہے:

تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار،صالح افراد کی تلاش وتنظیم وتربیت اور اجتماعی اصلاح کی سعی۔

انقلاب امامت

سید مودودی ؒ اصلاً نہ جمہوریت کے وکیل ہیں اور نہ دہشت گردی و انتہاء پسندی کے حامی ۔ قوم پرستی کو آپ شرک سمجھتے ہیں اورامتِ مسلمہ کے وسیع تر تصور کے قائل ہیں اور قومی و جغرافیائی حد بندیاں آپ کی فکر کی راہ میں  دیوارنہیں بنتی ہیں ۔ سید مودودی ؒ نےاسلام پر اعتماد ، اس کے مطابق عمل،طاغوت کے انکار، حریت فکر اور جہدِ مسلسل کی جس دعوت کو عام کیا اس کے ثمرات ساری دنیا میں محسوس کیے گئے ہیں ۔

خلاصۂ بحث

خلاصہ کلام یہ ہے  کہ سید مودودی کی سیاسی فکر”توحید  حاکمیت ” کی  بنیاد پر قائم  “اسلامی ریاست ” کے گرد گھومتی ہے۔اسلامی ریاست کے دوبنیادی ارکان حاکمیت الٰہی/کتاب وسنت کی بالادستی اور شورائیت ہیں۔ سیدمودودی کےنزدیک انسان زمین میں اللہ کاخلیفہ ہےاورخلیفہ ہونےکےناطےاس کویہ حق حاصل نہیں ہےکہ اپنی مرضی سےزمین میں زندگی گذارےبلکہ اس کافرض ہےکہ اللہ کےبتائےہوئےاصولوں پراس کی زندگی کا نظام قائم ہو۔ ان کےنزدیک حاکم کےانتخاب کےلیےاسلام میں کوئی خاص طریقہ کارنہیں ہےہروہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہےجس سےعوام کی آزاد مرضی و منشا کے مطابق صالح حکمراں کاانتخاب ممکن ہو۔ ان کےنزدیک صالح حکمراں کی مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہیے:ایمان داراور سچا ہو۔ فاسق وفاجرنہ ہو۔ دین ودنیاکی حکمرانی کےلیےجتناعلم ضروری ہےاتنےعلم کا جاننے والا ہو اور منصب کی خواہش نہ رکھتاہو۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے اعلیٰ سیاسی و انتظامی مناصب پر شمولیت کے آپ مخالف ہیں ۔ اس طرح حقوقِ نسواں کی مغربی تحاریک کے بھی آپ خلاف ہیں اور خواتین اور مردوں کے الگ الگ دائرہ کار کے مدّعی ہیں۔

سید مودودی کی سیاسی فکرہر مسلم مفکر کی طرح اپنے عہد کے زندہ مسائل کے حل کی ایک جستجو ہے۔سقوطِ خؒلافتِ  عثمانیہ کے بعد کے حالات کےتناظر میں سیدابوالاعلی مودودی نے نہ صرف اسلامی ریاست کی اہمیت کو واضح کیا بلکہ اس کی بازیافت کا مکمل نقشہ  بھی فراہم کیا۔ انہوں نےصرف علمی بنیادوں پرکام ہی نہیں کیابلکہ عملی میدان میں بھی اسلامی ریاست کےقیام کےلیے جدوجہد کی۔

پاکستانی سیاست پر ایک نظر

قیامِ پاکستان کا پس منظر

قیامِ پاکستان ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ تھا۔ ہندوستان میں سلطنتِ مغلیہ کا زوال مسلمانوں کے  ادبار کا نقطہٴ عروج تھا۔1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانانِ برِ صغیر کے مختلف حلقوں میں اصلاحِ احوال کی کوششوں نے تیزی اختیار کی۔ اگرچہ ان کوششوں کا دائرہ بہت محدود تھا۔علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند کی تحریکوں نے عصری و  مذہبی تعلیم کے محاذ کو سنبھالا۔جمیعت علمائے ہند اور مسلم لیگ نے سیاسی محاذ پر مسلم مفاد کے دفاع کی ذمہ داری اٹھائی۔ادب، صحافت،معاشرت اور معیشت میں اصلاحات کی بھی کئی تحریکیں سامنے آئیں۔

ان سب تحریکوں اور کوششوں کے پس منظر میں مسلم انفرادیت کے تحفظ  اور عظمت رفتہ کی بازیافت کے جذبات قدرِ مشترک تھے۔مسلم مسائل کی تشخیص اور علاج پر مسلمانوں میں اتفاق نہیں تھا اور اس حوالے سے مسلمان تین گروہوں میں منقسم تھے۔

1۔     ایک انگریز سے مرعوب اور ان کےکاسہ لیس۔

2۔     قوم پرست مسلمان جو اپنی ہندوستانی شناخت اورمتحدہ ہندوستانی قومیت پر اصرار کرتے ہوئے انگریز غلبے و تسلط کے خلاف استخلاصِ وطن کی جدوجہد میں انڈین نیشنل  کانگریس کے شریکِ کار تھے۔ قوم پرست مسلمان برطانوی سامراج کو ہندوستان کے جملہ مسائل کا سبب گردانتے تھے اور ہندوستان کی آزادی میں تمام ہندوستانیوں بشمول مسلمانوں کی فلاح دیکھتے تھے۔اس خیال کی حامی جمعیت علمائے ہند اور جماعتِ احرار تھیں جوانڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ مل کر برصغیر کی آزادی کے لیے کوشاں تھیں۔

3۔     وہ مسلم قوم پرست جوکانگریس اور ہندو بالادستی سے خائف تھےاورآزاد جمہوری ہندوستان کے مقابلے میں ابتداًانگریز کے سایہء عاطفت میں رہنے میں ہی عافیت جانتے تھے اور بعد ازآں الگ مسلم ریاست کے طالب ہوئے۔یہ متحدہ ہندوستانی قومیت کے مقابلے میں اپنی سیاسی طور پرالگ مسلم شناخت پر اصرار کرتے تھے۔ مسلم لیگ اس گروہ کی نمائندہ جماعت تھی۔

٢٣ مارچ، ١٩٤٠ء اسلامیانِ برِّصغیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انہوں  نے مسلم لیگ کے جھنڈے تلے مسلم شناخت کے تحفظ اور نظامِ اسلامی کے قیام کے لیے ایک الگ خطہ زمین کا خواب دیکھاجو ٧ سال کی جانگسل جہدِمسلسل کے بعد پاکستان کی شکل میں پوراہوا۔

پاکستان :مسلم نشاٴۃ الثانیہ کے خواب کی تعبیر

تحریکِ پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو اس پورے عرصے میں مسلم لیگ کی سیاست مسلم جذبات کو اپیل کرنے سے عبارت رہی ۔کانگریس کی مشترکہ ہندوستانی قومیت کے مقابلے میں ہندومسلم اقوام کے درمیان اختلافات کی نشان دہی کرتے ہوئے نظریہ اسلام کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ جداگانہ مسلم قومیت کی بنیادیں قران و سنت میں تلاش کی گئیں اور الگ مسلم مملکت کا حصول عین نظریہٴ اسلام کا تقاضا قراردیا ۔ پاکستان کو دورِ جدید میں اسلامی نظام کی تجربہ گاہ قراردیا گیا، ایک ایسی مملکت جس کا دستور ١٤ سو سال قبل قرآن کی شکل میں ناز ل ہوچکا تھا۔ سید مودودی ؒ کی کتاب”مسئلہ قومیت”اس حوالے سے مسلم لیگ کے لیے مفید  ثابت ہوئی اوراسے مسلم لیگ کی جانب سے خوب پھیلایا گیا یہی معاملہ ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ”اول و دوم(حالیہ ”تحریکِ آزادیِ ہند اور مسلمان”۔ اول)کا رہا جس میں کانگریس اور قوم پرست مسلمانوں کی روش پر تنقید کی گئی تھی ۔اگرچہ اس کے حصہ سوم(حالیہ”تحریکِ آزادیِ ہند اور مسلمان”۔ دوم) کے مضامین میں مسلم لیگ کے موقف سےنمایاں اختلاف کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ کی باقاعدہ جدوجہد کاآغاز 1906ء سے ہوتا ہے لیکن اسے عوامی سطح پر قبولیت اسی وقت حاصل ہوئی جب اس نے مسلمانانِ ہند کے مسائل کا حل ایک الگ اسلامی مملکت کے قیام کی شکل میں پیش کیااور مسلم عوام نےمسلم  لیگ کے نعرے”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ” کوقبول کرتے ہوئے تحریکِ پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور آگ و خون کے دریا عبور کرکے پاکستان حاصل کیا۔ ”لے کے رہیں گے پاکستان۔ بٹ کے رہے گا ہندوستان” محض معاشی مفادات کے زیرِ اثر لگایا جانے والا نعرہ نہ تھا بلکہ اس کی پشت پر ہزار سالہ مسلم اقتدارکی بازیابی اور آخرت میں سرخ روئی کے حوالے سے مسلم عوامی خواہشات موجود تھیں ۔

پروفیسرمرزا محمد منور اس حوالے سے لکھتے ہیں :

“پورے ہندوستان میں مسلمانوں نے ہندوؤں اور انگریزوں  کے خلاف کبھی ایجیٹیشن اس سبب سے نہ کی کہ ان کی زمینیں چھین لی گئیں یا انہیں  نوکریاں نہیں دی گئیں، لیکن جب کان پور کی مسجد یا لاہور کی شہید گنج یا سکھر کی مسجد کا مسئلہ ہوا تو مسلمان جانیں قربان کر دیتے ۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ مسلمان کے نزدیک اس کا ایمان اور اس کےعقائد پر استوار تمدن باقی ہر شئے  پر فوقیت رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ پاکستان فقط  معاشی مجبوریوں کی بنا پر وجود میں آیا تھاغلط ہے”۔

اس جدوجہد کے دوران مخالفین (جن میں سید حسین احمد مدنی ؒ جیسا متبحر عالمِ باعمل جس کی پوری زندگی قربانی اور جدوجہد سے عبارت ہے ، ابوالکلام آزادجیسا نا بغہ عصراور عطاء اللہ شاہ بخاری جیسا خطیب اور دیگر علماء شامل تھے) کے اعتراضات کی بنیاد مسلم لیگ کی جانب سے نظریہ اسلام کا استعمال رہا۔یہ حضرات مطالبہ پاکستان کو ایک سیاسی مطالبہ قرار دیتے تھے اور اس کے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے لیے مضر  ہونے کے مدعی تھے۔ مطالبہ پاکستان کو نظریہٴ اسلام سے جوڑنے کے حوالے سے ان مخالفین کا  استدلال یہ  تھا کہ اسلام کا تقاضا ہرگز نہیں ہے کہ مسلم قومیت کی بنیاد پر دنیا سے کٹ کر ایک الگ ریاست قائم کی جائے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے  یہود کے ساتھ میثاقِ مدینہ کرکے تاابد ایک نظیر قائم فرمادی ہے۔ہندوستان میں مسلمان 9 کروڑ کی تعداد میں ہیں جو کم نہیں ہے اور کئی صوبوں میں ان کی تعداد فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہے۔ تقسیم کی صورت میں ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان بالکل بے آسرا ہوجائیں گے ،ان کی موجودہ حیثیت ختم ہوکر رہ جائے گی اور ریاستِ پاکستان بھی ان کی داد رسی کرنے کی حالت میں نہیں ہوگی۔ مجوزہ ریاستِ پاکستان کا جغرافیہ اس کے مشرقی اور مغربی بازوؤں میں کسی اتحاد و تعاون کے فروغ میں رکاوٹ بنا رہے گا۔

مزید یہ کہ مسلم  لیگ کی قیادت جس اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتی ہے وہ اس کی اپنی  زندگیوں میں تو موجود نہیں تو بھلا اس کی زیرِ قیادت مملکت میں کس طرح نافذ ہوگا۔

اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ بانیانِ پاکستان اور کارکنانِ تحریکِ پاکستان ، پاکستان کی شکل میں ایک اسلامی مملکت کے قیام کے مدعی تھے اور مخالفینِ پاکستان ان کے اس دعوے کی صداقت کے باب میں متشکک تھے ۔

اسلامی ریاست کی جانب  پیش قدمی کا جائزہ

قیامِ پاکستان کے74 سال بعد بھی پاکستان کی نظریاتی شناخت اور اس کے قیام کے مقصدِ وحید اسلامی ریاست کا قیام کی جانب پیش قدمی کے حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے تونظریاتی  منتشر الخیالی اور عملی بے تدبیری کا ادراک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ اس حوالے سے لکھتے ہیں :

“چنانچہ ایک طرف اپنا حال یہ ہے کہ تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد ہی بحث و نزاع کا موضوع اور اختلاف و انتشار کا عنوان بنے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں بڑوں کے پیدا کردہ انتشارِ ذہنی کا نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل حیران و پریشان ہے کہ ’’پاکستان کیوں معرضِ وجودمیں آیا تھا؟‘‘ اور آیا اُس قافلہ ملی کی کوئی منزل مقصود تھی بھی یا نہیں جس نے پاکستان حاصل کیا؟ بلکہ یہاں تک کہ آیا تقسیم ہند کا کوئی جواز تھا بھی کہ نہیں؟ نتیجتاً ملی و قومی سطح پر ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ما رہے ہیں، چنانچہ زعماء و قائدین اور اصحاب فکر و دانش تک کی سعی و جہد اور تگ وتاز کا حال اِس مصرعہ کا مصداق ہے کہ ؏ ’’آہ! وہ تیرنیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف!‘‘

تو بے چارے عوام کا کیا قصور اگر وہ اس شعر کے مصداق کامل بن گئے ہوں کہ ؎

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اِک تیز رَو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں”

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر

قیامِ پاکستان ایک طویل سیاسی عمل کا نتیجہ ہے۔ جس میں برِّ صغیر  پاک و ہند کے مسلم عوام نے والہانہ جوش و جذبے سے حصہ لیا۔تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کسی ایک نظریے پر عوام کسی موثر قیادت میں مجتمع ہوجائیں اورجدوجہد کرکے حصولِ مقصد میں کامیاب ہوں۔ قیامِ پاکستان ایسا ہی ایک منفرد واقعہ ہے جس میں ہندوستانی مسلمان اس نظریے “مسلمانانِ برّصغیر، ہندوؤں سے الگ ایک جداگانہ قومی تشخص رکھتے ہیں” یعنی دو قومی نظریے کے تحت قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں  اکھٹے ہوگئے اور برّصغیر کا چپہ چپہ “لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہیں گے ہندوستان” اور” پاکستان کا مطلب کیا: لا الٰہ الااللہ ” کے نعروں سے گونج اٹھا۔بالآخرریاستِ پاکستان 14  اگست 1947ء کو معرضِ وجود  میں آگئی۔ انگریز وں کی سازشوں اور ہندوؤں کی مخالفت کے باوجود ایک مسلم ریاست کا قیام  جدید  عالمی سیاسی تاریخ میں ایک معجزے کی حیثیت رکھتا ہے۔

جدوجہدِ پاکستان میں فیصلہ کُن عنصر قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا کردار ہے۔ آپ نے یہ طویل جدوجہد پُر امن جمہوری  اصولوں کے تحت کی ۔پاکستان کے سیاسی نظام کے حوالے سے قائدِ اعظم  کا ذہن بالکل واضح تھا اور اس کا اظہار متعدد مواقع پر ان کی جانب سے کیا بھی گیا۔قائدِ اعظم پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام کے قائل تھے۔انہوں نے 1943ء میں ہی واضح کردیا تھا کہ :

” پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر جمہوری نظام رائج ہوگا”۔

وہ یہاں ایسا نظام چاہتے تھےجہاں مسلمان اپنے دینی معتقدات کی روشنی میں قانون سازی کرسکیں اور اسلام کے اعلیٰ و ارفع اصولوں کے مطابق نظمِ مملکت چلا سکیں۔ اس بات کو واضح طور آپ نے امریکہ کے عوام سے  نشری خطاب میں  فروری 1948ء میں کراچی میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“مجھے اس بات کا تو علم نہیں کی دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا جس میں اسلام کے اصول لازمی شامل ہوں گے۔ آج بھی ان کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ تیرہ سو برس قبل ہوسکتا تھا۔ اسلام نے ہر شخص کے ساتھ عدل و انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شاندار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے مرتبین کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔ پاکستان ایک ایسی مملکت نہیں ہوگی جس پر آسمانی مقصد کے تحت پا پاؤں کی حکومت ہو”۔

بدقسمتی سے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کو  پاکستان کی بنیادیں مستحکم کرنے کا موقع نہ مل سکا اور اور وہ اپنی صحت کے ہاتھوں مجبور ہوگئے اور محض ایک سال بعد  1948ء میں دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اس نازک وقت میں قیامِ پاکستان کے وقت سے چلے آتے سنگین مسائل  تاحال حل طلب تھے۔ مہاجرین کی آبادکاری، سرحدی تنازعات، ریاستوں کے الحاق کے مسائل خصوصاً کشمیر کا مسئلہ سمیت ، معاشی اور سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ سیاسی مسائل بھی گھمبیرتھے۔

مسئلہ کشمیر

مسئلہِ کشمیر پاکستان کی تاریخ کا وہ ناسور ہے جو آج بھی رِس رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ و سیاست پر اس نے انتہائی دور رس نتائج مرتب کیے ہیں ۔ہندوستان اور پاکستان  کے مابین جس نوعیت کے خوش گوار تعلقات قائدِ اعظم محمد علی جناح چاہتے تھے اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی مسئلہ ہے ۔ مزید یہ کہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور غربت و افلاس، بیماری و جہالت کے خلاف جنگ پر وسائل لگانے کے بجائے ہندوستان و پاکستان کی ریاستیں اپنے وسائل کا بیشتر حصہ دفاع کے نام پراسی مسئلے کے سبب خرچ کررہے ہیں ۔مسئلے کی حساسیت کا عالم یہ ہے کہ ہر دو ممالک میں جو سیاست دان تعلقات کی بحالی اور امن کی بات کرتا ہے غدار قرار پاتا ہے۔

  پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی جو مسائل پیدا ہوئے ان میں ریاستوں کے الحاق کا مسئلہ بھی تھا۔ریاست حیدرآباد دکن اور ریاست جونا گڑھ پر جس اصول کے تحت ہندوستان نے قبضہ کیا اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر پاکستان کو ملنا چاہیے تھی ۔

“پٹھان کوٹ سے اجرت کر کے لاہور آنے کے اگلے ہی روز ز 30 اگست 1947ء  کو مولانا مودودی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر مسلم لیگ نواب افتخار حسین ممدوٹ سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کی کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان سے کہیں کہ ریڈکلف ایوارڈ ہندوستان کے لیے کشمیر کا راستہ کھول رہا ہے اس لیے پاکستان فوری طور پر ریاست جموں و کشمیر کو بھارت سے کاٹ دے۔ اس کے لیے فوج کے استعمال کی بھی ضرورت نہیں بلکہ سابق فوجیوں پر مشتمل دو پلاٹون منظم کرکے ریاست اور بھارت کے درمیان سرحد  پر متعین کر دی جائیں”۔

اس دوران کشمیری مسلمانوں کے پاکستان کی جانب فطری جھکاؤ کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کی جانب سے ریاست کی مسلم اکثریتی حالت کو تبدیل کرنے کے لیے ایک فوجی مہم شروع گئی جس میں سکھ اور ہندو آر ایس ایس کے کارکنان بھی شریک تھے، اس مہم میں اطلاعات کے مطابق 3 لاکھ کے قریب کشمیری مسلمان وادی سے بے دخل کردیے گئے جبکہ  2 لاکھ کشمیری مسلمانوں کو  قتل کردیا گیا۔

اس حوالے سے  اگرچہ پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر کچھ نہ کیا جاسکا  لیکن ریاست میں مسلمان ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کئی مقامات پر ڈوگرہ فوج کو پیچھے دھکیل دیا۔ ان واقعات سے متاثر ہوکر پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے عوام بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور اکتوبر 1947ء میں قبائلیوں کا لشکر ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوگیا ۔ہندوستان نے اس واقعے کی آڑ میں اپنی فوج ریاست میں اتار دی اور ریاست کا الحاق اپنے ساتھ کرنے کا اعلان کردیا۔ قائدِ اعظم نے ان حالات میں افواجِ پاکستان کے  قائم مقام سربراہ جنرل ڈگلس گریسی سے  ریاست میں فوری طور پر فوج بھیجنے کے لیے کہا۔ انگریز افسر نے  نے قائدِ اعظم  کے فرمان کو رد کرتے ہوئے کشمیر میں فوج بھیجنے سے انکار کردیا۔

قبائلی لشکر اور ڈوگرہ فوج کے تصادم میں ریاست کا کچھ حصہ زیرِ قبضہ لے لیا گیا جہاں بعدازآں پاکستانی فوج پہنچ گئی اور یہ علاقہ پاکستان کے انتظام میں آگیا جب کہ بڑا حصہ ہندوستان کے قبضے میں رہا۔

بعد ازآں بھارت اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں جنگ بندی اور استصوابِ رائے کا فیصلہ کیا گیا۔تب سے اب تک یہ مسئلہ حل طلب ہے ۔5 اگست 2019ء سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے جب سے ہندوستان نے ریاست کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اسے ہندوستان میں ضم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

لیاقت علی خان کا دور

لیاقت علی خان طویل عرصے سے قائدِ اعظم کے معتمد چلے آتے تھے۔ قائدِ اعظم کی وفات کے بعد فطری طور نگاہیں ان کی جانب اٹھتی تھیں کہ وہ قوم کی نیا منجھدار سےنکالیں ۔لیاقت علی خان نے قوم کو متحد رکھنے کا فریضہ انجام دیااور اس نازک وقت میں قوم کی رہ نمائی کی ۔اس وقت سیاسی مسائل میں کشمیر اور ریاستوں کے الحاق کے مسائل کے ساتھ ساتھ دستور کی تدوین کا معاملہ اہم ترین تھا۔تاہم لیاقت علی خان  کا دور آئین سازی کے حوالے سے مایوس کن رہا۔ اس دور کا اہم ترین کارنامہ قراردادِ مقاصد کی منظوری تھاتاہم  قراردادِ مقاصد کی منظوری میں ذاتی تعاون کے باوجود ان کے دور میں دستور کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی جو رپورٹ28 ستمبر1950ء  کو پیش کی گئی وہ وسیع پیمانے پر مایوسی اور احتجاج کا سبب بنی اور اس میں اسلام اور جمہوریت دونوں کے حوالے سے سنگین مسائل پائے جاتے تھے۔

یہ رپورٹ خصوصیت کے ساتھ اکثریتی  مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کی جانب سے ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہ ملنے کے باعث مسترد کردی گئی۔اس دور میں مسلم لیگ کے انتشار نے ترقی کی اور اصولوں سے بالاتر ذاتی مفادات کی سیاست نے فروغ حاصل کیا۔لیاقت علی خان نے روس کے مقابلے میں امریکا کو ترجیح دی اور  بعد کے ادوار میں جس طرح ملک امریکا کے زیرِ نگیں ہوتا گیااس کا خمیازہ آئندہ آنے والے برسوں میں قوم نے بھگتا۔

بدقسمتی سے لیاقت علی خان ایک سازش کا شکار ہوئے اور 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران قتل کردیے گئے۔لیاقت علی خان کا دور مثالی نہ تھا۔ ان سے وابستہ تمام توقعات  پوری بھی نہ ہوئیں لیکن ان کی ذات قومی اتحاد کا مظہر تھی  اور ان کی موجودی بہتری کی امید پیدا کرتی تھی ۔ان کی خدمات سے قطع نظر ان کے جانشینوں کو دیکھتے ہوئے ان کی قدر مزید بڑھ جاتی ہے۔

محلّاتی سازشوں کا دور:اکتوبر ،1951ء تا اکتوبر، 1958ء

لیاقت علی خان کی شہادت  (16 اکتوبر، 1951ء)سے لے کر اکتوبر 1958ءکا عہد ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام کا ہے۔ کسی موثر و مقبول سیاسی قیادت کی عدم موجودی میں ملک انتشار کا شکاراور طالع آزما سیاست دانوں کے رحم وکرم پر رہا۔حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں ۔ سیاسی وفاداری جنسِ نایاب ہوگئی اور سیاست سے شرافت کا چلن رفتہ رفتہ رخصت ہونے لگا۔

نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ان کے  چھوڑے ہوئے کام کواگلے وزیرِ اعظم مسلم لیگی رہنما خواجہ ناظم الدین(17  اکتوبر 1951ء تا17 اپریل 1953ء) نے آگے بڑھایا اور بطورِوزیرِ اعظم  انہوں نے 22دسمبر1952ء کو بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی نئی رپورٹ پیش کی۔یہ رپورٹ بھی بہت زیادہ اختلافات کا پیش خیمہ بنی اور ملک کے مشرقی اور مغربی حصوں میں اس پر شدید تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ اس رپورٹ میں اسلامائزیشن کے حوالے سے علماء کےایک بورڈ کی تشکیل کی بات کی گئی تھی جسے مرکز اور صوبوں میں منظور شدہ قوانین پر نظر ثانی کا اختیار دیا گیا تھا۔

بدقسمتی سے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کی تیار کردہ دستور کے بنیادی اصولوں کی  رپورٹ بھی متنازعہ ہوگئی اور آئین سازی کا عمل معطل ہو کر رہ گیا ان حالات میں گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کر دیا حالانکہ انہیں  اسمبلی کا اعتماد حاصل تھا۔ اس آئینی بغاوت کے ملک کی تاریخ پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ۔یہ وہ روایت تھی جس کا اعادہ مستقبل میں بارہا کیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ(17 اپریل 1953ء تا12 اگست، 1955ء) کو بلا کر وزیراعظم مقرر کردیا گیا اور مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی پارٹی جس کے سربراہ خواجہ ناظم الدین تھے، نے ان کی جگہ محمد علی بوگرہ کوبطیبِ خاطر  اپنا لیڈر چن لیا۔ محمد علی بوگرہ  کی تعیناتی امریکا کی خوشنودی کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بنگالی ہونے کے سبب اکثریتی مشرقی پاکستان کی نمائندگی کی علامت بھی تھی۔ بوگرہ اپنی تعیناتی کے متنازع انداز کے باوجود اپنے منصب اور حالات کی ضروریات کا ادراک کرنے میں کامیاب رہے اور اکتوبر 1953ءمیں انہوں نے اپنا آئینی فارمولا آئین ساز اسمبلی میں پیش کر دیا۔اس فارمولے میں سابقہ بنیادی اصولوں کی رپورٹ میں موجود  اسلامی شق میں تبدیلی کرکے علماء کے بورڈ کی جگہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی قانون کے بارے میں طے کر سکے کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف ہے یا نہیں۔

محمد علی بوگرہ کی آئین سازی کی تجاویز کو ملک گیر پزیرائی حاصل ہوئی  اور امید بندھی کہ شاید آئین سازی کی منزل بالآخر سر ہونے کو ہے۔ تاہم آئین ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کے اختیارات کم کرنے کے حوالے سے بعض اقدامات اٹھائے جن میں ایک پروڈا کے قانون کی منسوخی دی تھی۔ جس کے تحت بدعنوان وزرا اور سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کا اختیار حکومت کو حاصل تھا جبکہ گورنر جنرل کو حاصل کابینہ کی تحلیل کا اختیار بھی ختم کردیا گیا۔ اس کے جواب میں گورنر جنرل غلام محمد نے24 اکتوبر 1954ءکو ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے  اور اسمبلی توڑنے کا اعلان کر دیا۔[یہ دوسراوار تھا جو ٖغلام محمدکی جانب سے جمہوریت پر کیا گیا۔

  گورنر جنرل کے اس اقدام کے خلاف اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے سندھ چیف کورٹ میں درخواست دائر کردی۔عدالت کے فل بنچ نے مدعی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے گورنر جنرل کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تاہم وفاق پاکستان نے یہ فیصلہ فیڈرل  کورٹ میں چیلنج کر دیا جس نے طویل سماعت  کے بعدوفاق کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

آئین ساز اسمبلی برخاست کرنے کے بعد گورنر جنرل نے محمد علی بوگرہ کونئی کابینہ بنانے کی دوبارہ دعوت دی ۔اس کابینہ کی خصوصیت یہ تھی کی کہ اس میں میں بری فوج کے اس وقت کے سربراہ  جنرل محمد ایوب خان ،ایک اعلیٰ سرکاری  افسر  میجر جنرل اسکندر مرزا اور مشہور سابق کانگریسی رہنما ڈاکٹر خان  کووزیر بنایا گیا تھا۔

حاضر سروس فوجی سربراہ کی کابینہ میں شمولیت کے بارے میں ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں:

“پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی کمانڈرانچیف کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس طرح سیاست میں فوج کے لیے راہ ہموار کر دی گئی اور شیر کے منہ کو خون لگا دیا گیا۔ اس چاٹ اور چسکے نے نے بعد ازاں وہ گل کھلائے کہ قوم کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔”

دوسری آئین ساز اسمبلی کو صوبائی اسمبلیوں نے منتخب کیا۔ پہلی آئین ساز اسمبلی کے برعکس، جس میں  مسلم لیگ کو اکثریت حاصل تھی، اس  اسمبلی میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہ تھی لہٰذا ایک مخلوط حکومت قائم ہوئی اس کے سربراہ مسلم لیگ  کے قائدچوہدری محمد علی (12 اگست، 1955ء تا 12 ستمبر 1956ء)تھے ۔سابق وزیراعظم محمد علی بوگرہ دوبارہ سفیر امریکہ کے عہدے پر تعینات ہو کر واپس چلے گئے۔اس صورتحال میں پارلیمانی سیاست کے عدم استحکام کا دور شروع ہوا جس نے کئی سیاسی امراض کو جنم دیا ۔ چوہدری محمد علی نے 8جنوری1956ء کو اپنا تیار کردہ آئینی مسودہ،دستور ساز اسمبلی میں پیش کر دیا۔ 29 فروری کو اس کی منظوری ہوئی اور 02مارچ 1956ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے اس آئین کی توثیق کر دی ۔اس طرح مملکتِ خداداد پاکستان کو اس کا پہلا باضابطہ تشکیل شدہ آئین نصیب ہوا۔اس آئین کا مقصداسلامی اصولوں پر مبنی ایک وفاقی اور پارلیمانی نظامِ حکومت کا قیام تھا۔

اس آئین میں پہلی مرتبہ ریاست کے نام کے ساتھ اسلامی کاسابقہ لگایا گیا اور ریاست کا نام “اسلامی جمہوریۂ پاکستان” رکھا گیا ۔  اس دستور میں قرار دادِ مقاصد کو دیباچہ بنایا گیا اور دو وعدے کیے گئےکہ اسلام سے متصادم تمام قوانین کا اسلام سے تصادم دور کردیا جائے گا اور یہ کہ آئندہ اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا طریقہ دستور میں یہ وضع کیا گیا کہ  صدرِ  پاکستان کی کے لیےایسے قانونی کمیشن کا تقرر لازم تھا جو پارلیمان  کو تدریجاً اسلامی قوانین بنانے کے بارے میں سفارشات پیش کرتا رہے(یہ کمیشن کبھی وجود میں نہ آسکا)۔ اپنے اسلامی تشخص کے باوجود اس قانون میں تبدیلی مذہب کے بارے میں اسلامی احکامات کے برعکس فرد کو بااختیار بنا دیا گیا اور اسلامی پرسنل لاء میں قرآن و سنت پر عمل درآمدکے بجائے خودرائی اختیار کی گئی۔

12 ستمبر 1956ء کو چوہدری محمد علی نے گورنر جنرل  اسکندر مرزا سے اختلافات کے سبب استعفیٰ دے دیا۔ان کے بعد عنانِ حکومت نامور بنگالی سیاست دان آل پاکستان عوامی مسلم لیگ کے قائدحسین شہید سہروردی نے عنانِ حکومت سنبھالی لیکن وہ بھی اسکندر مرزا کے ساتھ محض ایک سال ہی چل پائے اور انہوں نے 17 اکتوبر 1957ء کو مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔اس کے بعد اسکندر مرزا کی نظرِ انتخاب  مسلم لیگ کے رہنماابراہیم اسمٰعیل چندریگر پر پڑی  جواس عہدے کا بار محض2 ماہ اٹھا کر  15 دسمبر 1957ء کومستعفی ہوگئے۔ ان کے بعد ری پبلکن پارٹی کے رہنمافیروز خان نون وزیرِ اعظم بنے جو اس عہدے پر 7 اکتوبر 1958ء تک براجمان رہے تاآنکہ صدر اسکندر مرزا نے انہیں معزول کردیا اور مارشل لا نافذ کرکے اس دستور کو ہی معطل کردیا گیا ۔

اس مارشل لا کے لیے جواز سیاسی عدم استحکام کو بنایا گیاجو کہ صدر اسکندر مرزااور ان کے ساتھیوں کا خودساختہ تھا اور اس کا علاج منصفانہ انتخابات تھے جنہیں طویل عرصے سے ملتوی کیا جارہا تھا۔اب جبکہ مارچ 1959ء میں آئندہ انتخابات کا انعقاد طے کیا گیا تھا جس کے لیے سیاسی سرگریاں بھی جاری تھیں کہ اچانک جمہوریت پر شب خون ماردیا گیا، دستور منسوخ کردیا گیا اور وزیرِ اعظم فیروز خان نون کی حکومت برطرف کردی گئی اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایدمنسٹریٹر مقرر کردیا گیا۔اس آئینی بغاوت  کا بنیادی سبب صدر اسکندر مرزا کی ہوسِ اقتدار تھی جنہیں آئندہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت میں اپنی کوئی جگہ نظر نہیں آرہی تھی لہٰذا  انہوں نے محض  اپنے دوامِ اقتدار کی خاطر جنرل ایوب  خان کے ساتھ ساز باز کرکے ملک کو جمہوریت کی شاہراہ سے کوسوں دور آمریت کے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا لیکن  جلد ہی جنرل ایوب خان نے انہیں عہدہ صدارت سے ہٹا کر یہ عہدہ بھی اپنے قبضے میں کرلیا اور اس کے ساتھ ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں پر بھی بھی پابندی دی عائد کردی گئی۔

جنرل ایوب خان کا عہد: عرو ج و زوال شانہ بشانہ

جنرل  ایوب خان ان اس ملک کے اقتدار پر کسی دستور کے بغیر44 ماہ تک قابض رہے۔اس دوران  ملک کا انتظام چلانے کے لیے انہوں نے ملک سے پارلیمانی نظام کا خاتمہ کرکے  بنیادی جمہوریتوں کی بنیاد پر  صدارتی نظام رائج کردیا۔جس کے تحت 1959ءمیں  ملک بھر سے بنیادی جمہوریتوں کے نمائندوں  کا انتخاب کرایا گیا ۔ انہوں نے ایک کابینہ بھی تشکیل دی جو عوام یا پارلیمان کے بجائے ان کی ذات کوہی  جواب دہ  تھی۔  پارلیمان کی غیر موجودی میں عدلیہ بھی ان کے تابع فرمان کر دی گئی۔ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس جاری کیا گیا جس سے سے صحافت پابہ زنجیر ہوگئی اور متعدد اخبارات کوحکومت نے پریس ٹرسٹ بناکر کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ فوجی افسران حکومتی ذمے داریوں پر فائز ہوئے جس سے ایک فوجی بیوروکریسی وجود میں آگئی جس میں بیوروکریسی کی تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں  لیکن   طاقت میں یہ سول بیوروکریسی سے  کئی گنا آگے تھی۔

جنرل ایوب خان اپنے اقتدار کو باضابطہ بنانے کے لیے نئے دستور کے محتاج تھے۔اس کے لیے ابتداً1960ء میں جسٹس شہاب الدین کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیاجس کا مقصد آئین کی تیاری کے لیے سفارشات پیش کرنا تھا۔اس کمیشن نے  ملک کے دانشوروں اور سیاسی جماعتوں سے آئین سازی کے حوالے سے تجاویز طلب کیں  اور  ان کی روشنی میں اپنی سفارشات مرتب کرکے جنرل ایوب خان کو پیش کیں  جوانہیں پسند نہ آئیں اور مسترد کر دی گئیں۔ اس کے بجائے جون 1962ء  میں ایک دوسرا آئینی مسودہ تیار کرکے بذریعہ آرڈی نینس نافذ کر دیا گیا۔اس نئے دستور کی رو سے ریاست کو سیکولر بنا کر اس کا نام “جمہوریۂ پاکستان” رکھ دیا گیا اور قراردادِ مقاصد میں بعض ترامیم کرکے اسے دستور کا دیباچہ بنادیا گیا ۔یہ نیا آئین 1956ء کے آئین کے بالکل برعکس غیر پارلیمانی، سیکولر اور صدارتی طرز کا تھا۔اس آئین  میں صرف اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہ ہوگا اور اسلامیات کی تعلیم لازمی ہوگی۔اختیارات کا منبع اور محور صدر کی ذات تھی س کے اختیارات اس حد تک بڑھا دیے گئے تھے کہ عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی بھی اس کی مرضی پر منحصر تھی ۔عدالتیں بھی اس دستور کے تحت خودمختار اور آزاد نہ تھیں ۔ قومی اسمبلی نام کا ایک بے اختیارمشاورتی ادارہ بھی تشکیل دیا گیاتھا۔ ان سب آمرانہ اقدامات کے لیے “کنٹرولڈ ڈیموکریسی” کی مہذب اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔

یہ آئین پوری قوم میں شدید مایوسی پیدا کرنے کا باعث بنا خصوصاً مشرقی پاکستان میں اس پر شدید رد عمل ہوا۔ سخت عوامی ردعمل کے بعد ملٹری ڈکٹیٹر کو مجبور ہوکر اپنے دستور میں ترمیم کرنی پڑی اور ریاست کا نام پھر سے “اسلامی جمہوریۂ پاکستان” رکھنا پڑا ۔ اس دستور کی رو سے “اسلامی مشاورتی کونسل” کی تشکیل بھی کی گئی لیکن اس کونسل نے جس طرح کے “اجتہادات” شروع کیے انھوں نے دستور اور قانونی نظام کی اسلامیت پر لوگوں کا اعتماد ختم کردیا۔ عائلی قوانین کے نام پر اسلام کے پرسنل لاء میں کھلی مداخلت کی گئی جو علماء کی شدید مخالفت کا باعث بنی۔اسلام کی جدید تشریح و تعبیر کا ڈول ڈالا گیا اور ان دانشوروں کی سرپرستی کی گئی جو روایتی دینی تصورات کے برخلاف جدیدیت  کے علم بردار تھے۔ 2 جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں بدترین جبر اور دھاندلی سے کام لیا گیا اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی شکست کو یقینی بنایا گیا جس کا ردِّ عمل  خصوصاًکراچی اور مشرقی  پاکستان میں شدید ہوا۔ڈاکٹر صفدر محمود کی رائے میں  محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی شکست نے عوام میں جمہوری طریقہٴ تبدیلی سے ہی مایوسی پیدا کردی۔ یہی چیز بعد ازآں  مشرقی پاکستان کے سقوط میں ایک اہم عنصر بن کر سامنے آئی۔

ایوب خان کا دور صنعتی ترقی کا درخشاں دور ہے ۔لیکن اس کا حاصل یہ تھا کہ  دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوتا گیا اور بائیس خاندان ملکی مجموعی دولت پر قابض نظر آئے۔الم ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ ترقی عام آدمی کے معیارِ زندگی میں انقلابی تبدیلی لانے میں ناکام رہی۔امن وامان کا قیام اس دور میں مثالی رہا۔ نئے ڈیم بنائے گئے جس سے آبپاشی کے مسائل حل ہوئے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ ملک میں یکجہتی ، اعتماد اور اسلام پر یقین کا باعث بنی لیکن ان سب کے باوجود تقریباً ایک عشرے تک ایسی پالیسیاں اختیار کرنے کے سبب جن کی وجہ سے ریاست کی اکائیاں مسلسل ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوگئیں ،یہ آمرانہ دوراپنی اس ناعاقبت اندیشانہ حکمتِ عملی کے باعث ملک کی بنیادوں میں وہ بارود بھر گیا کہ اپنے ساتھ ساتھ یہ  ملک کی سلامتی اور یک جہتی کا بھی خاتمہ کرگیا۔

1968ء میں جنرل ایوب خان نے اپنے دس سالہ اقتدار کا جشن  بعنوان “جشن ترقی” منانے کا منصوبہ بنایا جس کا مقصد عوام کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرناتھا۔اس مقصد کے لیے تمام دست یاب ذرایع و وسائل استعمال کیے گئے اور اشتہارات پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے۔جبکہ حقیقت یہ تھی عوام مہنگائی کے ہاتھوں پِس رہے تھے اور حکومتی جبر سے نالاں تھے۔ان حالات میں حزبِ اختلاف عوام کے دل کی آواز کر سامنے آئی  اور پورا ملک جمہوریت کی بحالی کے لیے احتجاج اور مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا۔دوسری طرف سوشلسٹ خیالات کے حامل پُرتشدد رویے پر اُتر آئےتھے اور ملک میں خونی سوشلسٹ انقلاب کے لیے کوشاں تھے ان کا نشانہ خصوصاًاسلام پسند تھے۔اس کے نتیجے میں اسلام پسند طبقات میں ردّعمل پیدا ہوا اور سوشلزم کے خلاف تحریک کی بنیاد پڑگئی۔جنرل ایوب خان حزبِ اختلاف کے مطالبات تسلیم کرنے پر راضی ہوگئے تھے اور انہوں نے صدارت سے دست برداری اورمتحدہ حزبِ اختلاف سے مذاکرات کا اعلان کردیا تھا تاہم جنرل یحییٰ خان کی سرپرستی  میں سوشلسٹ عناصر اور مجیب الرحمان نے سڑکوں اور مذاکرات کی میز پر وہ ماحول قایم کیا جس کے تحت جمہوریت کی منزل کہیں دور چلی گئی۔ان حالات میں  مارچ  1969ء میں جنرل ایوب خان  نے خود اپنے دستور کو معطل کرکے تمام اختیارات ایک اور ملٹری ڈکٹیٹرجنرل یحییٰ خان  کے سپرد کردیے ۔

جنرل یحییٰ خان کا عہد( 25مارچ 1969ء۔ تا 20 دسمبر 1971ء):سقوطِ ڈھاکا کے روزوشب

جنرل یحییٰ خان نے جنرل ایوب خان کے جانشین کے طور پر عہدہ صدارت سنبھال لیا۔1962ء کا دستور مستقل تنقید کی زد میں تھا۔ بیشتر سیاسی جماعتیں 1956ء کے دستور کی بحالی کی حامی تھیں لیکن جنرل یحییٰ نئے دستور کے حق میں تھے اور انہوں نے رفتہ رفتہ بیشتر سیاسی رہ نماؤں کو اس حق میں کرلیاتاہم اگلے ڈھائی سال تک ریاست کا نظام کسی دستور کے بجاےجنرل یحییٰ خان کے جاری کردہ “لیگل فریم ورک آرڈر” کے تحت  ہی چلتا رہا۔جنرل یحییٰ خان کا دور شدید انتشار کا دور تھا۔

سقوطِ مشرقی پاکستان

مغربی پاکستان کے چار صوبوں کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی۔ 1970ء تک یہاں 5 کروڑ کی آبادی تھی تو وہاں پر آبادی کا عدد 7 کروڑ تھا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں میں یہ  احساس  پایا جاتا تھا کہ ان سے آبادی میں کم ہونے کے با وجود مغربی پاکستان ان پر حکومت کر رہا ہے۔ مشرقی پاکستان میں حکم راں طبقات کی پالیسیوں کے سبب احساسِ محرومی قیامِ پاکستان کے معاً بعد ہی پیدا ہونا شروع ہوگیا تھا۔یہاں تک کے آزادی کے محض سات ماہ بعد ہی مارچ 1948ء میں دستور ساز اسمبلی کے ایک مسلم لیگی رکن نے کہا کہ:

” محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ نظام میں مشرقی بنگال کو واقعتاً نظرانداز کیا جارہا ہے”۔

اس احساسِ محرومی کو باقاعدہ پروپیگنڈے کے ذریعے ہندوستان کی جانب سے سازشی طور پر بڑھاوابھی  دیاگیا جس میں مشرقی پاکستان کی ہندواقلیت بھی اس کے ساتھ برابر کی شریک تھی۔مارشل لاء کے طویل دور اور سیاسی جبر کی فضا نے مشرقی پاکستان کی محرومی میں اور اضافہ کیا۔

 معروف صحافی آصف جیلانی ایک مضمون میں لکھتے ہیں :

 “یہ ان دنوں کی بات ہے جب اکتوبر 1954ءمیں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تھی اور اس اقدام کو دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے سند ھ چیف کورٹ میں للکارا تھا۔ اس دوران جب چیف جسٹس کانسٹنٹائین کی عدالت میں مولوی تمیزالدین خان کا مقدمہ چل رہا تھا ۔ ہم چند صحافی، میں، ڈان کے رپورٹر مشیر حسن، اے پی پی کے مظفر احمد منصوری اور جنگ کے اطہر علی چیف کورٹ کی کینٹین میں چائے پی رہے تھے۔ اتنے میں سابق وزیر تجارت فضل الرحمان جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا قریب سے گذرے۔ ہم نے ان کو اپنی میز پر بلایا اور سیدھا سوال کیا کہ اب کیا ہوگا؟ فضل الرحمان صاحب نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر جواب دیا ۔ اب پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ہم سب ان کے اس جوا ب پر اچھل پڑے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کس بنا پر وہ یہ کہہ رہے ہیں؟ فضل الرحمان صاحب نے بلا کسی جھجک کے کہا کہ دستور ساز اسمبلی کی برطرفی کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے اور اب بہت جلد فوج ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لے گی ۔ فوج چونکہ مغربی پاکستان کی ہے اس لئے مشرقی پاکستان کے عوام کے ذہنوں سے یہ حقیقت نہیں مٹائی جاسکے گی کہ مغربی پاکستان ان پر حکمرانی کر رہا ہے اور یہ بات مشرقی پاکستان کے عوام کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور بالاخر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ہم سب کا دل دھک سے رہ گیا اور ہم میں سے کوئی بھی فضل الرحمان صاحب کو نہیں للکار سکا۔ابھی اٹھارہ سال بھی نہیں گذرے ہوں گے کہ پاکستان دو لخت ہوگیا”۔

 بد قسمتی سے قیام پاکستان 1947ء کے بعد سے 1970ء تک عام انتخابات منعقد نہ ہو سکےاور23سال تک عوام کی منتخب کردہ نمائندہ حکومت نہ بن سکی۔ ابتدا سے 11سالوں 1958ء تک عبوری اور عارضی بنیادوں پر حکومتیں بنتی رہیں اور ٹوٹتی رہیں۔بالآخر 1958ء میں جنرل ایوب خان مارشل لاء لگا کر صدر بن بیٹھے۔ جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان کےنمائندوں کو محرومی اور مایوسی کا شدید احساس ہوا۔ فوج میں مغربی پاکستان کے ایک صوبے کے لوگوں کی اکثریت تھی اور 1958 سے 1970ء تک عملاً وہی حکومت کر تے رہے۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ ان کے صوبے میں پیدا ہونے والے پٹ سن اور چاول کی پیداوار سے ملنے والا زر مبادلہ ان کے صوبے پر خرچ نہیں ہوتا تھا۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کی آبادی کے اعتبار سے ان کا تناسب بہت کم تھا۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے دور میں مشرقی پاکستان کے لوگوں کو پیریٹی (مساوات) کا اصول دے کر راضی کرنے کی کو شش کی گئی۔ پیریٹی کے اصول کے تحت پورے ملک کے وسائل کو ملک کے دونوں بازوؤں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں برابر برابر تقسیم ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ 1962ء کے ملکی صدارتی انتخا بات میں جنرل ایوب خان کنونشن مسلم لیگ کے نمائندے کے طور پر صدر پاکستان کےلیے انتخاب لڑ رہے تھے۔ اس انتخاب میں جنرل ایوب خان کے چیف پولنگ ایجنٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی سر براہ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم تھے۔ جنرل ایوب خان کے مقابلے پر کونسل مسلم لیگ کی رہنما اور متحدہ اپوزیشن کی صدارتی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کے چیف پولنگ ایجنٹ مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن تھے۔ بنیادی جمہوریت کے طریقہ کار کے تحت اس انتخاب میں ابتدائی بنیادی ممبروں کی تعداد کے اعتبار سے محترمہ فاطمہ جناح کامیاب ہوتی نظر آرہی تھیں۔ مگر بعد میں الیکٹورل کالج کے انتخاب کے موقع پر محترمہ فاطمہ جناح کے کامیاب بنیادی ممبران کو خرید لیا گیا۔ اور آخری مرحلے میں فیلڈ مارشل ایوب خان صدارتی انتخابات جیت گئے۔ اگر اس انتخاب میں دھاندلی سے کام نہ لیا جاتا تو محترمہ فاطمہ جناح پاکستان کی صدر بن جاتیں۔ انھیں بڑی سطح پر مشرقی پاکستان کے لوگوں کی تائید حاصل تھی۔ اگر وہ صدر بنتیں تو مشرقی پاکستان کے لوگوں کو مطمئن کیا جا سکتا تھا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کومحترمہ فاطمہ جناح سے اپنے مطالبات کی تائیداور صوبائی حقوق ملنے کی امیدتھی۔ مگر اس وقت کی حکومت نے اس انتخاب کو متنازعہ بنادیا۔ جس کے نتیجے میں ایوب خان کی حکومت کےخلاف نفرتیں پیدا ہوئیں اور مشرقی پاکستان میں احساس محرومی پیدا ہوا۔

علاقائی سیاست کے رجحان اور موثر سیاسی قیادت کے فقدان نے بھی ملک کے دونوں حصوں میں دوری میں اضافہ کیا۔

1970ء تک مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر انتظامیہ پر غالب آچکے تھے اور وہ پاکستان کی حامی کسی آواز کو برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان حالات میں جنرل یحییٰ خان نے  1970ء میں نئی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا۔ اسی دوران ملک کے دونوں بازوؤں میں دو سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں۔دونوں سیکولر اور سوشلزم کی داعی تھیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن  مشرقی پاکستان کی مقبول سیاسی  جماعت عوامی لیگ کے قائد تھے۔ انہوں نے اپنے صوبائی حقوق کے حصول کےلیے حکومت کے سامنے اپنے مشہورِ زمانہ 6 نکات پیش کرکے مشرقی پاکستان کے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ان نکات پر محبِ وطن حلقوں کو بڑے تحفظات تھے لیکن شیخ مجیب اس پر بات کرتے ہوئے ان نکات کو قابلِ گفت و شنید قراردیتے تھے مزید یہ کہ ان کا دعویٰ تھا کہ ان نکات کے ذریعے وہ “مستحکم تر پاکستان” کے قیام کے خواہاں ہیں۔

 جبکہ مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اسلامی سوشلزم اور “روٹی کپڑا اور مکان، مانگ رہا ہے ہر انسان” کے نعرے دیئے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں یہ دونوں جماعتیں دو مختلف سطح پر کھڑی ہوئی نظرآئیں۔عوامی لیگ کے نعروں اور مطالبات میں مغربی پاکستان کا کوئی ذکر نہ تھا۔جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان کو کامل نظر انداز کردیا۔ 1970ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی پاکستان تیسری نمایاں جماعت تھی۔ جس نے متحدہ پاکستان میں پیپلز پارٹی سے بھی زیادہ امیدوار کھڑے کئے تھے۔ جماعت اسلامی ،اسلامی نظام کی علمبردار بن کر ان دونوں جماعتوں کے مقابلے میں کھڑی ہوئی۔ سید مودودی نے انتخابی مہم کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا :  “ہمارے سامنے دوسرا چیلینج یہ ہے کہ پاکستان ایک ملک رہے گا بھی یا نہیں”۔

ایک سال سے زائد مدت تک انتخابی مہم جاری رہی۔جس نے سیاسی منافرت میں حد درجہ اضافہ کردیا۔

مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمٰن نے اور مغربی پاکستان میں پی پی پی کے ذوالفقار علی بھٹو نے زوردار طوفانی عوامی مہم چلائی۔ اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں بنگالی لسانی قومیت کا جن بوتل سے باہر آگیا اور حکمران مقتدرہ کی زیادتیوں کے مقابلے میں “امار دیش تمار دیش ، بنگلہ دیش بنگلہ دیش ” کے نعرے لگ گئے۔ قیام پاکستان سے قبل بنگالی مسلمان ہندوؤں کے مظالم اور انگریزوں کی چیرہ دستی کے شکار تھےاور ان کے مقابلے میں انھوں نے مسلم قومیت کےنام پر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے آزاد مسلم وطن پاکستان کے لیے آزادی حاصل تھی۔ سوچنے کی بات یہ تھی کہ پاکستان کے قیام کے محض 23 سال بعد انھیں اسی مسلم ملک میں مغربی پاکستان اپنا ایسا حریف کیوں نظر آیا کہ اب وہ اس سے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے؟وہ جو23 سال قبل علیحدہ مسلم قومیت اور اسلامی نظریے کے زوردار حامی تھے انہوں نے اب بنگالی قومیت ، بنگالی زبان اور بنگلہ دیش کا نعرہ کیسے لگا دیا؟ ان کی نظر میں اسلامی نظام ان کا مسئلہ نہیں تھا۔ ان کا مسئلہ اپنے وسائل کی بازیافت اور اپنے لسانی اور علاقائی حقوق کا حصول تھا۔ چناں چہ وہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے پرچم تلے متحدہ ہو گئے۔ ادھر مغربی پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان زور دار آہنگ کے ساتھ گونجنے لگا۔ جماعت اسلامی پاکستان کی نظر میں دونوں بازوؤں کے مسائل اور مشکلات کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں مضمر تھا۔بہرحال جماعت اسلامی اپنے نظریے کے مطابق عوام کو قائل نہ کر سکی اور 7 دسمبر 1970ءکےبالغ رائے دہی کی بنیاد پرمنعقدہ پہلے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان میں بنگلہ حقوق کی علم بردار شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نےدو نشستوں کے سوا باقی تمام نشستیں جیت کرعظیم الشان فتح حاصل کرلی جب کہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو اکثریت ملی۔

اصولی طور پرحکومت سازی شیخ مجیب الرحمان کا حق تھا لیکن  ذوالفقار علی بھٹو ہر قیمت پر شراکتِ اقتدار کے خواہاں تھے اور اس خواہش میں انہیں فوجی قیادت کے اہم عناصر کی حمایت حاصل تھی جو شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات  کے سبب ان  کو کامل اقتدار سپرد کرنے میں متامل تھے ۔درحقیقت یحییٰ خان اور ان کے ساتھی فوجی جرنل شیخ مجیب الرحمان کو اقتدار سونپنا ہی نہیں چاہتےتھے۔

ذوالفقار علی بھٹو خواہشِ اقتدار کے سلسلے میں یہاں تک گئے کہ انہوں نے کنفیڈریشن کے تحت ملک کے مشرقی اور مغربی  حصوں کےدو الگ الگ وزیرِ اعظم کا نظریہ تک پیش کردیا۔

عوامی لیگ صدر جنرل یحییٰ خان سے اقتدار کی جلد از جلد منتقلی کا مطالبہ کر رہی تھی مگر جنرل یحییٰ خان اقتدار کی منتقلی میں پس و پیش سے کام لیتے رہے۔ کئی ماہ بعد ڈھاکہ میں نو منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی  کے ذوالفقار علی بھٹو نےقومی اسمبلی کے  ڈھاکہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رکن اسمبلی ڈھاکہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اس طرح سے ملک کے دونوں بازوؤں میں افرا تفری کی فضا پیدا ہو گئی۔

جنرل یحییٰ خان کی بے تدبیری اور ذوالفقار علی بھٹو کی شدید خواہشِ اقتدار کے سبب قومی اسمبلی کا اجلاس باربارملتوی ہوتا رہا۔ملک کی تمام دیگر اہم سیاسی و مذہبی جماعتیں بشمول جماعتِ اسلامی،کونسل مسلم لیگ، کنونشن مسلم لیگ، جمعیت العلمائے اسلام، جمعیت العلمائے پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے موقف کے خلاف تھیں اور ان جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نےایک مشترکہ بیان میں شیخ مجیب الرحمن کی حمایت کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بھٹو کو صرف پنجاب میں اکثریت حاصل ہے وہاں وہ اپنی حکومت بنا سکتے ہیں اور یہ کہ بھٹو کی حکومت نے ملکی یکجہتی کو کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

جوں جوں انتقالِ اقتدار کا عمل طول کھینچتا رہا مشرقی پاکستان کی پاکستان سے دوری بھی بڑھتی گئی۔ شیخ مجیب الرحمٰن کا موقف انتخابات میں کامیابی کے بعدانہیں انتقالِ اقتدار میں حیل حجت سے سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا اور اپنے ماضی کے بیانات کے برعکس وہ کھل کر علیحدگی کی راہ پر گامزن ہوگئے۔

 مشرقی پاکستان علیحدگی کی آگ میں جل رہاتھا جس کا ایندھن خود، خودغرض قومی قیادت نے فراہم کیا تھا جس کی نظر میں مشرقی پاکستان اثاثہ (Asset)  نہیں بلکہ  بوجھ (Liability)تھااور اسے تیلی ہندوستان نے دکھائی تھی۔مشرقی پاکستان میں بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کا قتلِ عام جاری تھا۔عوامی لیگ اور فوج دونوں پر وحشیانہ ہلاکتوں اور انسانیت سوزحرکات  کے الزامات تھے۔7 مارچ 1971ء کو جب انتقالِ اقتدارکے مسئلے کا کوئی حل نہ نکل سکا اور معاملہ پیچیدہ ترین ہوگیا توشیخ مجیب نے متوازی حکومت چلانے اور سول نافرمانی کا اعلان کردیا اور اپنے گھر پر بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرادیا۔23 مارچ 1971ء کومشرقی پاکستان میں یومِ مزاحمت منایا گیا۔بھارت علیحدگی پسندوں کومسلسل ہتھیار فراہم کررہا تھا۔ان حالات میں 25 مارچ ، 1971ء کومشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ” سرچ لائٹ “شروع کردیا جس نے متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل کا کام انجام دیا۔ مشرقی پاکستان میں آپریشن کا حکم لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کوملا تھا مگر وہ استعفیٰ دے کر واپس آ گئے تھے۔

“اس کارروائی کے نتیجے  میں مشرقی پاکستان میں موجود پاکستان کے حامی عناصر نے بھی معاندانہ رویہ اختیار کرلیا اور دنیا بھر میں پاکستان کے وقار کو شدید دھچکا لگا۔یحییٰ خان اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے پاکستان کی وحدت کا تحفظ ممکن ہو سکے گا مگر اس کے برعکس یہ کارروائی متحدہ پاکستان کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی “۔

26 مارچ 1971ء کوعوامی لیگ کو ٖغیر قانونی  قرار دے دیاگیااورشیخ مجیب الرحمان کو گرفتارکر لیا گیا۔پاک فوج کے باغی جنرل عثمانی (اس وقت کے کرنل عثمانی) ڈھاکہ سے بھیس بدل کرسلہٹ پہنچے اور انہوں نے ایسٹ بنگال رائفلز کے افسروں کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت کا منصوبہ بنایا۔ 26 مارچ 71 19کو پاکستانی فوج کے ایک باغی افسر میجر ضیا الرحمان نے آزاد مشرقی پاکستان کا اعلان چٹاگانگ میں کیا۔ جس کے اگلے ہی دن بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے میجر ضیا الرحمان کی قیادت میں بغاوت کرنے والوں سے تعاون کا اعلان کر دیا۔ اپریل ، 1971ء سے بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی گوریلوں اور ان کے ساتھ خفیہ بھارتی فوج نے پاکستانی مسلح افوا ج کے خلاف جنگ چھیڑدی ۔اپریل 1971 میں تاج الدین احمد بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کے سربراہ بن گئے اور انہوں نے جنرل عثمانی کو مکتی باہنی کا کمانڈر انچیف بنایا۔ مکتی باہنی کے کئی کمانڈرز ایسٹ بنگال رائفلز کے باغی افسران تھے، مگر ان میں کافی تعداد بھارتی فوجی افسران کی تھی۔ 21نومبر 1971ء کو بھارت نے اپنی باقاعدہ فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کرکے پوری قوت کے ساتھ حملہ کردیا۔ 22نومبر کو اندرا گاندھی نے اپنی فوج کو مشرقی پاکستان پر علی الاعلان حملہ کرنے کا حکم دےدیا۔ حملہ آور بھارتی فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگے ہوئے بنگالی جوان، افسر اور مکتی باہنی کے دستے اس کے علاوہ تھے۔ پاک فوج کے مقابلے میں دشمن کی طاقت سات گنازیادہ تھی۔اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر منفی پروپیگنڈے  اوردیگر عوامل کے باعث مقامی آبادی کی مدد پاک فوج کو کم حاصل تھی۔چنانچہ 16دسمبر 1971کو پاک فوج کو ڈھاکہ ریس کورس میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ہتھیار ڈالے جانے کی دستاویز پر جنرل نیازی اور جنرل اروڑا نے دستخط کیے اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی سرزمین پر لے جا کر قیدی بنالیا گیا۔ اس طرح 16دسمبر 1971ء کو یہ مملکت خداداد دولخت ہوگئی اور مشرقی پاکستان  الگ ہوکر “بنگلہ دیش “بن گیا۔ متحدہ پاکستان کے کے تحفظ کا آخری امکان اقوام متحدہ میں پولینڈ کی پیش کردہ قرار داد تھی۔اس سے قبل  اس حوالے سے سات قراردادیں پیش کی جا چکی تھیں۔ اس قرارداد میں اقتدارقانونی طور پر منتخب عوامی نمائندوں کو منتقل کرنے،  اس عمل کے آغاز کے ساتھ ہی تمام علاقوں  میں فوجی کاروائی روکنے اور 72 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ قرارداد میں مشرقی پاکستان سے مسلح افواج اور مغربی پاکستانی شہریوں کے انخلا کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا ۔

جس وقت یہ قرارداد پیش کی گئی اس وقت بھارتی افواج ڈھا کہ میں داخل ہی ہوا چاہتی تھیں تاہم نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفدنے اس قرارداد سے فائدہ اٹھانے کے بجائے بھارت سے ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے بات چیت کو ترجیح دی اور ذوالفقار علی بھٹو نے ڈرامائی انداز میں یہ  قرارداد پھاڑ ڈالی اوریہ کہتے ہوئے  واک آؤٹ کر گئے کہ :

“اقوام متحدہ کا مدعا یہ رہا ہے کہ ڈھاکہ  کا سقوط ہونے دیا جائے۔ میں یہاں اپنا وقت کیوں ضائع کروں ؟میں اپنے ملک واپس جاؤں گا اور جنگ کروں گا”۔اس تقریر کے باوجودبھٹو 18 دسمبر تک نیویارک میں براجمان رہے یہاں تک کہ یحییٰ خان نے انہیں پاکستان آکر اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی”۔

جماعت اسلامی اور بعض دیگر محبِّ وطن عناصر  نے اس دوران اپنے تئیں پاکستان کا بھر پور دفاع کیا اور فوج کی پشت پر کھڑے رہے، انہوں نے  نو جوانوں پر مشتمل نیم فوجی دستے”البدر” اور “الشمس” تشکیل دیئے۔ مگروہ یہ نہ سمجھ پائے کہ وقت کا تقاضا کیا ہے اور عوامی سیلاب کے سامنے یہ مزاحمت کامیاب نہ ہو سکی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی کا ایک اور فعال عنصر بھی پاکستان کی حمایت میں بڑی ثابت قدمی کے ساتھ کھڑارہا ۔ وہ عنصر قیام پاکستان کے بعد بھارت سے مشرقی پاکستان ہجرت کرنے والوں کا عنصر تھا۔ اردو بولنے والی یہ آبادی”بہاری” مشرقی پاکستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ یہ زیادہ تر مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے حامی تھے۔ اور علیحدگی پسندوں کے مقابلے میں اس عنصر نے کھلے بندوں پاکستان کی حمایت کی۔ مگر یہ لوگ بھی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے نہ روک سکے۔ بنگلہ دیش میں انھوں نے اپنے آپ کو پاکستانی کہا اور 49سال گزرنے کے باجود اب بھی یہ اپنے آپ کو پاکستانی ہی کہتے ہیں۔بنگلہ دیش کا بننا اس بات کا نتیجہ ہے کہ ہم نے عملاً دو قومی نظریے کو چھوڑ کر کثیر القومیتی نظریہ اختیار کر لیااورایک متحدہ پاکستانی قوم تشکیل  دینے سے قاصر رہے۔

بہ قول امجد اسلام امجد

ہم ترے دکھ سمندر سے غافل رہے

تیرے چہرے کی رونق دھواں ہوگئی

اور  ہم رہین غم   دل   رہے

ظلم کے رو برو لب کشائی نہ کی

اس طرح ظالموں میں بھی شامل رہے

حشر آور دنوں میں جو سوتے رہے

اے زمین وطن ہم گناہ گار ہیں

اے زمین وطن ہم گناہ گار ہیں

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد

سقوط ڈھاکہ کے باوجود جنرل یحییٰ  خان اور اور ان  کے ہم نوا ٹولے کی ہوس اقتدار ختم نہیں ہوئی تھی وہ ایک خود ساختہ آئین کے تحت اپنی صدارت میں ایک سیاسی  حکومت کے قیام کا خواب دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اپنا تشکیل کردہ آئین  17 دسمبر کو جاری کیا لیکن محض ایک ہی روز بعد بے پناہ عوامی دباؤ کے سبب اسے واپس لے لیا۔ اس کا مخالف۔ جب فوج کے انتشار نے انتہائی نازک صورتحال اختیار کر لی تو خانہ جنگی  کے خدشات کے پیش نظر اقتدار پرست جرنیلوں نے قتدار سے دستبرداری کا فیصلہ کرلیا۔اس طرح کسی مدِّ مقابل کی عدم موجودی میں ذوالفقارعلی بھٹو وطن واپس آکر کر صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدوں پر بیک وقت فائز ہو گئے۔

۔ ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں:” مغربی پاکستان کے بعض سیاستدانوں کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگر عوامی لیگ برسر ِ اقتدارآگئی تو وہ ماضی کی ناانصافیوں کا انتقام لے گی۔ ان میں سے کچھ مشرقی پاکستان کو ایک بوجھ تصور کرتے تھے اور اب نئے انتظام کے لازمی نتیجے کے طور پر مشرقی پاکستان کی مستقل بالادستی سے خائف  تھے”۔

نامور صحافی حامد میر اپنے ایک کالم میں سابق چیف جسٹس محمد منیر کی کتاب ’’فرام جناح ٹو ضیاء”کے حوالے سے لکھتے ہیں : “جنرل ایوب خان 1962ءمیں بنگالیوں سے جان چھڑانا چاہتے تھے اور جسٹس منیر نے ایوب خان کے کہنے پر وفاقی وزیر قانون کی حیثیت سے کچھ بنگالی سیاست دانوں سے علیحدگی یا کنفیڈریشن کیلئے بات چیت شروع کی لیکن بنگالیوں نے پاکستان سے علیحدگی کو خارج ازامکان قرار دیدیا”۔ (روزنامہ جنگ، 5 دسمبر، 2016ء)

مشرقی پاکستان کے بارے میں پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کے نقطہِ نظر کو بیان کرتے ہوئے آصف جیلانی اپنے مذکورہ بالا مضمون میں لکھتے ہیں :” 1970ء کے اوایل میں ایم ایم احمد صاحب(منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیرمین) لندن آئے تھےاورانہوں نے پاکستان ہائی کمیشن میں پاکستانی صحافیوں کے لئے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔پاکستان کی معیشت کے بارے میں بات ہورہی تھی ۔اچانک ایم ایم احمد صاحب نے یہ کہہ کر سب صحافیوں کو اچھنبے میں ڈال دیا کہ مشرقی پاکستان، ملک کے لئے ذمہ داری کا بوجھ (Liability)  بن گیا ہے اور اگر پاکستان کو اس سے نجات مل جائے تو پانچ سال کے اندر اندر پاکستان اسکینڈے نیویا کے ملکوں کے برابر آجائے گا۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے سخت احتجاج کیا کہ ایم ایم احمد صاحب آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ ملک کے عوام کی اکثریت والے مشرقی پاکستان کو آپ Liability کہہ رہے ہیں جب کہ مشرقی پاکستان کے پٹ سن نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی معیشت کو سہارا دیا تھا۔ پھر آپ قیام پاکستان کی جدوجہد میں مشرقی پاکستان کے کاوشوں کو یکسر فراموش کر رہے ہیں۔ایم ایم احمد صاحب کو فورا احساس ہوا کہ انہوں نے غلط بات کہہ دی ہے اور اس کی تاویلیں پیش کرتے رہے۔ لیکن میرے اور میرے چند صحافیوں کے دل میں یہ پھانس اٹک گئی تھی کہ پاکستان میں ایسے عناصر ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر مشرقی پاکستان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں”۔

ذوالفقار علی بھٹو کا عہد: نیا پاکستان

جناب ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان دونوں نے بالترتیب بچے کچھے پاکستان  اور نوزائدہ بنگلہ دیش  میں اپنی اپنی  حکومت بنائی، دونوں نے پارلیمانی جمہوریت کو ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کیا، دونوں نے سوشلزم کے نام پر صنعت کو قومیا لیا، دونوں نے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، دونوں پر دھاندلی اور طاقت کے استعمال کے الزامات لگے، دونوں کی عوامی مقبولیت بہت اوپر سے بہت نیچے گئی، اور دونوں فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

پاکستان اب جناح کا پاکستان نہیں رہا تھا۔یہ بھٹو کا پاکستان تھا۔ 90 ہزار سے زائد فوج ہندوستان کی قیدی تھی۔ پوری قوم صدمے سے چُور چُور تھی۔سیاسی مخالفین منقارِ زیر پر تھے۔  ریاست اگلے تقریباً ایک سال تک ایک سویلین مارشل لاء کے تحت رہی اور ذوالفقار علی بھٹو نے “سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر” کے طور پر ریاست کا انتظام “عبوری دستور” کے تحت چلایا اور اسی عبوری دستور کی رو سے وہ سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ ریاست  دونوں کے عہدے پر بھی فائز رہے۔جناب بھٹواپنی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی تھے ۔ وہ اسمبلی کے سربراہ بھی تھے اور مسلح افواج کے سربراہِ اعلیٰ بھی۔ ایک ذات میں اتنے اختیارات جمع ہونے کا پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک منفرد واقعہ ہے۔ یہ “سول مارشل لا” اس وقت ختم کیا گیا جب 1972ء میں سپریم کورٹ نے “عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب” کیس میں قراردادِ مقاصد میں بیان شدہ اصولوں کی روشنی میں مارشل لا کو ناجائز قرار دیا ۔

ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ ایک عبقری شخصیت تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی پاکستانی لیڈر اس درجہ مقبولیت اور محبوبیت کے مقام پر فائز نہ ہو سکا ۔انہوں نے پہلی مرتبہ عام آدمی کو مخاطب کیا اور اس کے مسائل کی بات کی۔ان کا نعرہ “روٹی ، کپڑا اور مکان”عوام کے دل میں گھر کر گیا۔انہوں نے روایتی انداز کی تقریروں کی بجائے عوامی اندازِ بیان اختیار کر کے قوم کا دل جیت لیا۔ذوالفقار علی بھٹواپنی تقریروں میں ڈرامائی انداز اختیار کرتے اور ایک ماہر قانون دان کی طرح بہت خوبی سےاپنا موقف  پیش کرتے۔ان کی مقبولیت میں ایک بڑا عنصر پروپیگنڈے کا ہے۔ان کے جوشیلے انداز اور ولولہ انگیز تقریروں نے سقوط ڈھاکہ سے پژمزدہ قوم میں نئی روح پھونکی۔ بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد شکست کے اس الم ناک  داغ کو دھونے کی کوشش کی۔ صرف چھ ماہ بعد بھارت سے مذاکرات کا ڈول ڈالا اور جولائی 1972ء میں ہندوستان کے ساتھ شملہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کی رو سے پاکستان کے قیدیوں کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ مگر اس معاہدے کی پاکستان کے حوالے سے افادیت ثابت نہ ہوسکی۔سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ کشمیر اس معاہدے کی رو سے بین الاقوامی تنازعے کی بجائے دو ملکوں کا باہمی معاملہ قرار پایا جسے اقوامِ متحدہ کی تاریخی قراردادوں کی بجائے اب باہمی گفت و شنید سے حل ہونا تھا۔

 ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کےلیے ہزار سالہ جنگ لڑنے کی باتیں کیں۔ ملک کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کےلیے ایٹم بم کے راستے پر ڈالا اور خود کو عرب ممالک کے بہت قریب لے گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی خواہشِ اقتدار سقوط ڈھاکہ کی ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔ باقی ماندہ پاکستان میں اقتدار ملنے کے بعد انہوں نے آمرِ  مطلق کا رویہ اختیار کیا  اور ہر  مخالفانہ آواز کو کچلنے کی روش اختیار کی جو بالآخر ان کے زوال کا اہم سبب بنی۔متحدہ پاکستان کی  قومی اسمبلی میں مغربی پاکستان کے 146 ارکان تھے جن میں 104 پیپلز پارٹی کے اور 42 حزب اختلاف کے تھے ۔اتنی چھوٹی حزبِ اختلاف کو بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو گوارانہ کر سکے اور اسے پوری طاقت یا رشوت کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ساری حزبِ اختلاف سرنگوں ہوگئی  لیکن نیشنل عوامی پارٹی کے 7 اور جماعت اسلامی کے 4 ارکان کسی طور نہ توڑے جاسکے جن میں سے ایک  جماعتِ اسلامی کےعوامی رہنما ڈٖاکٹر نذیر احمدبعد ازآں شہید کردیے گئے ۔

1972ء میں جناب بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ایک سہ فریقی معاہدہ کرکے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں این اے پی اور جے یو آئی کی مخلوط حکومت بنانے کی اجازت دی، مگر بہت جلد جناب ذوالفقار علی بھٹو ہر قسم کی مخالفت کو کچلنے کے درپے ہوگئے، صرف نو ماہ بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل کی منتخب حکومت کو غداری کا الزام لگا کر برطرف کردیا، جس پر احتجاجاً صوبہ سرحد میں مولانا مفتی محمود نے بھی وزیر اعلٰی کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا،ان دونوں صوبوں میں پیپلزپارٹی مخالف حکومتیں ختم ہوگئیں اور بھٹو صاحب نے وہاں بھی جیسے تیسے اپنی حمایتی حکومتیں قائم کرلیں۔ان کے  اس اقدام سےبلوچستان کے عوام میں مرکز بیزاری کے جذبات کو ہوا ملی اور  ملک کو شدید نقصان سے دوچار ہوناپڑا۔اپنے جمہوری حقوق کی بازیافت کے لیے بلوچ قبائل نے مسلح جدوجہد شروع کردی جسے بے رحمی  سے کچل دیا گیا۔نتیجتاً اس خطے میں علیحدگی پسندی کی بنیاد یں مضبوط کردی گئیں۔

پیپلز پارٹی غالب سیاسی جماعت تھی لیکن بھٹو صاحب نے اس کی تنظیم سازی کے بجائے اپنی ذات کو وفاداری کا محور بنائے رکھا جس کے باعث  ان کی جماعت میں گروہ بندیوں اور دھڑے بندیوں میں اضافہ ہوا۔ملک میں جمہوری روایات مزید کم زور ہوئیں اور ہوسِ اقتدار نے جمہوریت کےسفر کو دشوار تر کردیا۔

مقامی سندھیوں اور ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کے درمیان لسانی بنیاد پر کشیدگی بھی اس دور کا المیہ ہے۔یہ قضیہ ان کی  جماعت کے وزیرِ اعلیٰ سندھ کی جانب سےدستور کے صریحاً خلاف  سندھی کو صوبہ سندھ کی واحد سرکاری زبان بنانے  اور اس زبان سے ناواقف  شہریوں کے لیے سرکاری ملازمت کے دروازے بند کرنے  کے اعلان سے پیدا ہوا۔اس پر اردو بولنے والے شہریوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا جسے انتہائی بے تدبیری کے ساتھ طاقت سے کچل دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لسانی فسادات پورے صوبے میں پھیل گئے۔یہ قضیہ بدقت نمٹایا گیا لیکن اس کے مضر اثرات آج تک  محسوس کیے جاتے ہیں۔

اگست 1973ء میں  ملک کو نیا اور متفقہ آئین ملا، حکومت سے تمام تر اختلافات کے باوجود حزب ِ اختلاف نے بھی اسے ےتسلیم کیا۔ تیسرے دستورمیں پارلیمانی جمہوری نظام کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس دستور  میں ایک دفعہ پھر قراردادِ مقاصد کو دیباچے کے طور پر رکھا گیا اور ریاست کو “اسلامی جمہوریہ” قرار دیا گیا۔ ایک بار پھر دو وعدے دہرائے گئے کہ موجودہ تمام قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے گا اور آئندہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے “اسلامی مشاورتی کونسل” کی تشکیلِ نو کرکے اسے “اسلامی نظریاتی کونسل” کا نام دیا گیا اور اسے یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ پانچ سال کے اندر تمام قوانین کے متعلق اپنی سفارشات پارلیمان کے سامنے پیش کرے۔ تاہم دستور میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر کونسل نے پانچ سال میں یہ کام مکمل نہیں کیا، یا اس نے سفارشات پارلیمان کے سامنے تو پیش کیں لیکن پارلیمان نے ان پر سرے سے بحث ہی نہیں کی بلکہ انھیں سردخانے میں ڈال دیا توایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟

جناب ذوالفقار علی بھٹوسوشلسٹ نظریات کے پرچارک تھےجسے وہ ” اسلامی سوشلزم” کا نام دیتے تھے۔ اس کے تحت انہوں نے تقریباً تمام بڑی صنعتیں اور بینک ریاستی ملکیت میں لے لیے۔ تمام تعلیمی ادارے بھی  سرکاری انتظام میں لے  لیے گئے۔اس عمل سے نجی شعبے کی کمر ٹوٹ گئی  اور اس کی سرمایہ کاری رُک گئی۔ نتیجتاً صنعت کاری اور تعلیم کے شعبوں پر خاصا منفی اثر پڑا اور ان کی یہ اصلاحات ناکامی سے دوچار ہوگئیں۔ ریاستی ملکیت میں لینے کے بعد اگر ان اداروں کا معیار بہتر بنایا جاتا تو یہ قدم سودمند ہوسکتا تھا، لیکن  ہوا یہ کہ تمام صنعتیں اور بینک ریاستی ملکیت میں لینے کے بعد ان میں سول اور فوجی افسر شاہی کا راج ہوگیا اور نا اہل افراد کی سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں سے ان کی  کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی جس نے ان اداروں کو برباد کردیا۔ نجی شعبہ بالکل مفلوج ہوگیا، جس کی وجہ سے تاجر اور صنعت کار بھٹوصاحب  کے مخالف ہوتے گئے۔

جناب ذوالفقار علی  بھٹو نے خود اپنے آئین کو تاراج کیا اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں مرکوز کرلیے اور حزب مخالف کو کچل دیا گیا ۔دائیں بازو کی قوتوں کے ساتھ مخاصمت کے ساتھ ساتھ1974ء میں بھٹوصاحب نے ملک کی سب سے بڑی لبرل، سیکولر پارٹی یعنی نیشنل عوامی پارٹی پر غداری کا الزام لگا کر پابندی لگا دی تمام بڑے رہنما، مثلاً عبدالولی خان، عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر وغیرہ سب گرفتار کرلیے گئے۔ ان کی تشکیل کردہ فیڈرل سیکورٹی فورس   (FSF)  پورے ملک میں سیاسی مخالفین کے لیے دہشت کی ایک علامت بن گئی تھی۔1976ءتک بھٹو صاحب نے آئینی ترامیم کرکے عدلیہ کو بھی بڑی حد تک اپنے زیر نگین کرلیا۔ فوج میں ایک جونیر ، جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنادیا گیا، جو اپنی تابعداری کے باعث جناب ذوالفقار علی بھٹو کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔1977ء میں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی مقبولیت کے زعم میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کردیا۔

حزب اختلاف نے متحد ہوکر پاکستان قومی اتحاد (PNA) تشکیل دے لیا ، جس کا بنیادی نعرہ نظام مصطفےٰﷺ کا قیام تھا، اس میں حزب مخالف کی نو چھوٹی بڑی جماعتیں شامل تھیں، جو نظریاتی طور پر بہت مختلف تھیں، مگر   جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے  آمرانہ طرزِ عمل سے انہیں متحد کردیا تھا۔  اس میں دائیں اور بائیں بازو دونوں کی جماعتیں  شامل تھیں اور اس کی قیادت مولانا مفتی محمود کررہے تھے۔ سابقہ نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) کی جگہ سردار شیر باز خان مزاری کی نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی اس اتحاد کا حصہ تھی۔

مارچ 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی  جسے حزبِ اختلاف نے دھاندلی کا نتیجہ قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا اورملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ اس تحریک نے مارچ سے جون تک صرف تین ماہ میں پورے ملک کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ بھٹوصاحب احتجاجی تحریک پر قابو نہ پا سکے اور مذاکرات پر مجبور ہوگئے۔ وہ طویل مذاکرات کے بعد نئے انتخابات پر راضی بھی ہو گئے، مگر معاہدے پر دستخط میں دیر کردی۔حالات اس درجہ دگرگوں ہوئے کہ  بھٹو صاحب کے منظور نظر آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو معزول کرکے مارشل لاء نافذ کردیا اورخود اقتدار پر قابض ہوگئے۔

پانچ جولائی کو جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھی جرنیل جمہوریت پر حملہ آور ہوئے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا، مگر گیارہ سال سے زائد اقتدار پر قابض رہے، اس طرح پاکستان میں ایک اور تاریک دور کا آغاز ہوا، جس نے پاکستان کو اتنا نقصان پہنچایا، جتنا ضیاء الحق سے پہلے یا بعد میں کسی نے نہیں پہنچایا ہوگا۔جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی بھٹوصاحب سے نجات حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی، ایک پرانا کیس کھولا گیا، جس میں بھٹوصاحب قتل کے ملزم کے طور پر نامزد تھے۔ نواب محمد احمد خان قصوری کے بیٹے احمد رضا قصوری نے بھٹو صاحب پر اپنے والد کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، عدلیہ نے اس دوران فوجی حکومت کی خوش نودی کے لیے جنرل ضیاء الحق کے من پسند فیصلے سنائے پہلے تو جنرل ضیاءالحق کے اقتدار پر قبضے کو جائز قرار دیا گیا، پھر ججوں میں ردو بدل کر کے بھٹوصاحب کو بالاخر پھانسی کی سزا سنا دی۔

عالمی رہنماؤں کی درخواستوں کے باوجود اپریل 1979میں جنرل ضیاء الحق نے ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی معافی کی اپیل مسترد کر دی اور انہیں پھانسی پر لٹکا دیا ۔

دسمبر1979میں افغانستان میں روسی فوجوں کی مداخلت سے یہ خطہ ایک نئی جنگ کا شکار ہوا۔ امریکا اور پاکستان کے اشتراک کا ایک نیا دور شروع ہواجس کا  جنرل ضیاء الحق  نے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھایا ۔ امریکا نے روس کو شکست دینے کی خاطر افغان مجاہدین کی مدد کرنے کی ٹھانی اور اس مقصد کے لیے اپنے خزانے کے منہ کھول دیئے، جس سے ہماری سول اور فوجی افسر شاہی نے بھرپور فائدے اٹھائے۔امریکاپاکستان کو استعمال کرتے ہوئے سوویت یونین کو زچ کرنا چاہتا تھا ،جبکہ جنرل ضیاء الحق کی نظر میں یہ جنگ روس کی گرم پانیوں تک رسائی کی ازلی خواہش  سے دفاع کا ذریعہ تھی۔

جنرل ضیاءالحق  کے دور میں ہونے والی اس خوفناک جنگ کے اثرات پاکستان پرنہایت  منفی طور پر پڑے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد سے ملک کی معیشت پر شدید دباؤپڑا۔ملک میں کلاشنکوف کلچر عام ہوا۔ دوسری طرف ان مہاجرین نے کیمپوں تک محدود رہنے کے بجائے پورے ملک میں پھیل کر سنگین سماجی مسائل کو جنم دیا۔روسی اور افغان خفیہ ایجنسیوں نے ملک میں تخریب کاری کی وارداتیں کرنا شروع کردیں۔اس دور میں ملک بین الاقوامی قوتوں کی آویزش کا میدان بنا اور ملک میں فرقہ واریت کو فروغ ملا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے گیارہ سالہ دور میں بھٹو کی ریاستی ملکیت کی پالیسی تبدیل کی، بہت سے صنعتی اور تعلیمی ادارے اُن کے پرانےمالکان کو واپس کئے،  مزید برآں  امریکی پیسہ بھی ملک میں آ رہا تھا۔ جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑے۔

جنرل ضیاء الحق ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے داعی تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بے شمار اقدامات کیے جو اس سے قبل کسی حکم ران نے نہیں کیے تھے۔ اس دفعہ آنے والا ملٹری ڈکٹیٹر پچھلے دو ملٹری ڈکٹیٹروں اور ایک سول ڈکٹیٹر سے اس طور پر مختلف ثابت ہوا کہ اس نے نہ صرف قراردادِ مقاصد کو دیباچے کی حیثیت سے اٹھاکر دستور کا باقاعدہ عملی حصہ (Operative Part)بنادیا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے تنِ مردہ میں جان ڈال دی ۔ ان دونوں کاموں کے علاوہ جو سب سے اہم کام اس نے کیا وہ یہ کہ جو دو دستوری وعدے جو 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں کیے گئے تھے ، ان کے عملی نفاذ کا طریقِ کار بھی دستور میں شامل کرلیا۔ یہ عملی طریقِ کار کئی مراحل میں طے پایا :

پہلے تو چاروں ہائی کورٹس میں “شریعت بنچ” بنائے گئے ۔

پھر ان شریعت بنچوں کو ختم کرکے ان کی جگہ مرکزی سطح پر ایک “وفاقی شرعی عدالت” قائم کی گئی ۔

پھر اس شرعی عدالت میں علماے کرام کو بطور ممبر جج شامل کیا گیا ۔

پھر اس عدالت کو خود اپنے فیصلوں پر نظرِثانی کا اختیار دیا گیا ۔

ساتھ ہی ان کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی صورت میں وہاں “شریعت اپیلیٹ بنچ” قائم کی گئی اور پھر اس بنچ میں بھی علماے کرام کو بطور ممبر جج شامل کیا گیا ۔

اب طریقِ کار یہ طے پایا کہ کسی بھی شہری کی درخواست پر ، یا ازخود نوٹس لے کر، وفاقی شرعی عدالت کسی بھی وفاقی یا صوبائی قانون کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس قانون کو “قرآن و سنت میں مذکوراحکامِ اسلام کے ساتھ تصادم” کی بنیاد پر “تصادم کی حد تک” کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت یہ عدالت خود کرسکتی ہے۔ یا متاثرہ فریق اپیل میں سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ میں جاسکتا ہے جس کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے ۔

“کسی بھی قانون” سے مراد تمام قوانین ہیں ، سواے درج ذیل تین قسم کے قوانین کے :

1۔دستور

2۔عدالتی طریقِ کار سے متعلق قوانین

3۔مسلم شخصی قانون ۔

(مالیاتی امور سے متعلق قوانین کو بھی مستثنی کیا گیا تھا لیکن یہ استثنا موقت حیثیت رکھتاتھا جو 1990ء میں ختم ہوچکا ہے۔)

دستور کا مفہوم تو واضح ہے ۔ دوسرے دو قسم کے قوانین سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق وفاقی شرعی عدالت، شریعت اپیلیٹ بنچ اور خود سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے دے کر ان کا مفہوم ممکن حد تک متعین کردیا ہے اور اس تعیین نے فائدہ یہ دیا کہ معدودے چند قوانین کے سوا تمام قوانین وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ کے اختیارِ سماعت میں آگئے ہیں ۔ یہ اختیارِ سماعت اتنا اہم ہے کہ اگر کسی معاملے میں وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ سنادیا ہو اور اسے شریعت اپیلیٹ بنچ نے معطل یا تبدیل نہ کیا ہو تو اس کی پابندی سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوتی ہے!

آٹھ سال تک بلا شرکت غیرے حکومت کرنے کے بعد 1985میں جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم نامزد کیا، مگر وہ بھی تین سال سے زیادہ ان کے ساتھ نہ چل سکے۔دونوں کے مابین سنگین اختلاف افغانستان میں روسی فوجوں کے انخلاء کے حوالے سے ہوا۔ جونیجو اور صدر ضیاء الحق کی آرا مختلف تھیں ۔جب اپریل1988ءمیں اوجڑی کیمپ کےفوج کے خفیہ اسلحہ ڈپو میں پراسرار  دھماکے ہوئے جن میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا تو محمد خان جونیجو نے اس کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرانی چاہی ،جس پر جنرل ضیا مزید نالاں ہوئےاور بالآخرجونیجو حکومت کو برطرف کردیا گیا۔ اگست1988ءکو ایک فضائی حادثے میں جنرل ضیاء الحق اپنے متعدد رفقاء کے ساتھ جاں بحق ہو گئے۔

پاکستان: سیاسی مسائل اور رجحانات

ذیل میں نوزائدہ مملکت کے وہ حالات و مسائل ذکر کیے جاتے ہیں جن کے قومی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوئے اور جنہوں نے سیاسی دھارے کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور جوآج بھی ملکی سیاست پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔

پاکستان: اسلامی ریاست یا سیکولر مملکت کا مخمصہ

 قیامِ پاکستان  کا مقصد جیسا کہ بیان ہوا اسلام کی نشاۃ الثانیہ کی تجربہ گاہ اور ایک اسلامی فلاحی مملکت کا قیام تھا۔ مندرجہ بالا حالات کے  تناظر میں یہ خالقِ پاکستان ،حکمران جماعت مسلم لیگ کا امتحان تھا کہ وہ کس طرح اپنے ماضی کے نفاذِ اسلام کےدعووں کو برسرِ عمل لاتی ہے اور اپنے ناقدین کے الزامات کا ابطال کرتی ہے  لیگی قیادت میں اس حوالے سے یک سوئی موجود نہ تھی اور دین و سیاست کی دوئی کا تصور عام تھا۔  قیامِ پاکستان کے معاً بعد اکتوبر1947ء میں راجہ غضنفر علی خان اور مسلم لیگ کے بعض دیگر زعما کے بیانات شایع ہوئے کہ اگر پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کیا گیا تو ہندوستان میں ہندو رام راج نافذ کرکے وہاں مسلمانوں کا رہنا ناممکن بنادیں گے اور شرعی قوانین کے نفاذ کی صورت میں لوگوں کے ہاتھ کاٹنے اور ان کو سنگسار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا تو ہماری لولوں لنگڑوں کی قوم ہندوستان کا مقابلہ کیسے کرے گی

یہ گویا مقاصدِ حصولِ پاکستان سے شعوری انحراف کی پہلی اعلانیہ کوشش تھی ۔ اسی نوع کی کثیر الجہات کوششیں قیامِ پاکستان کے ابتدائی ایام سے شروع ہوگئیں ۔قائدِ اعظم محمد علی جناح ﷫ کی وفات کے بعد ان کوششوں میں مزید تیزی آتی چلی گئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد دستوری ضروریات کے لیے برطانوی عہد کے انڈیا ایکٹ1935ء کو عبوری طور پر نافذ کردیا گیا۔ ضرورت اس امر کی تھی ایک نو تشکیل شدہ اسلامی ریاست کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے نیا آئین بنایا جاتا جیسا کہ ہمسایہ ملک ہندوستان  میں آزادی کے 2سال کے اندر برطانوی دستور کی جگہ اپنا بنایا گیا دستور بنا کر نافذ کردیا گیا۔جبکہ پاکستان میں صورتِ حال اس کے برعکس رہی اور مقتدر طبقات آئین سازی سے گریزاں رہے۔ان کا زور اسلامی فلاحی ریاست کے لیے نئے دستور کی تیاری کی جگہ سابقہ  برطانوی آئین کی کتربیونت کرکے اسے پاکستانی رنگ دینے پر رہا۔اگست 1947ء میں تشکیلِ پاکستان کے 9 ماہ بعد بھی جب حکومتی سطح پر اسلامی نظام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور ملک کی نظریاتی جہت متعین نہ کی جاسکی تو سید مودودی کی سرکردگی میں اپریل 1948ء میں مطالبہ نظامِ اسلامی کی مہم شروع ہوگئی جس کا مطالبہ تھا کہ حکومت کم از کم اس بات کا اعلان کرے کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنایا جائے گا۔ جماعتِ اسلامی کی اس پرجوش مہم اور مسلم لیگ کے دینی عناصر بالخصوص علامہ شبیر احمد عثمانی  کی پرزور مساعی کے باعث لادین عناصر کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور 12 مارچ1949ء کو دستور ساز اسمبلی نے”قراردادِ مقاصد” کے نام سے ایک اہم دستوری دستاویز کی منظوری دی جس نے ملک کی نظریاتی جہت کے بارے میں یکسوئی پیدا کی اوراس قرارداد  کی رو سے قرار پایا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا جہاں قانون سازی سمیت تمام حکومتی اختیارات کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود  کی پابندی کی جائے گی۔ گویا  اس طرح نظری طور پر ریاست کے مسلم ہونے کا اعلان کردیا گیا ۔

قراردادِ مقاصد کی منظوری اسلامی دستور کی تمہید ثابت نہ ہوسکی اور مختلف حیلے بہانوں سے اسلامی دستور سازی کے کام کو روکنے کی کوششیں جاری رہیں۔بہرحال  نئے دستور کی تیاری میں بھی  مزید7سال کا عرصہ لگ گیا۔1956ء کے دستور  میں متعدد اسلامی دفعات شامل کی گئیں  لیکن اس دستور کو مکمل طور پر نافذ ہونے اور رُوبہ عمل آنے کا موقع   ہی نہ مل سکا۔ جنرل ایوب خان نے اپنے عہدِ اقتدار میں ملک کو سیکولرازم اور جدت پسندی  کے راستے پر ڈالنے کی جدوجہد شروع کی اور متعدد ایسے اقدامات کیے  جس سے ریاست کے اسلامی تشخص اور عوام کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ اس دور کےبعض  اقدامات کا تسلسل آج  تک  چلا آتا ہے۔آج بھی ریاستی سطح اور دستوری وعدوں میں اسلامی نظام کے حوالے سے واضح فرق پایا جاتا ہے۔ حکم راں اشرافیہ اسلامی نظام کے قیام کو رجعت پسندی سے تعبیر کرتی ہے۔ ان کے خیال میں اسلامی نظام اپنی اصل شکل میں جدید دور کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔جنرل ضیا ء الحق کا دور اس سے مستثنیٰ ہے لیکن اس دور میں جنرل ضیا نے جس طرح اسلامی احکامات کو اپنے اقتدار کے دفاع میں ناجائز طور پراستعمال کیا اس سے اسلامی نظام سے  دوری پیدا ہوئی۔بہرحال نظری طور پر اسلامی جمہوری ریاست میں تاحال اسلامی شریعت کا نفاذایک خواب ہے اورریاستی سطح پراسلام اور سیکولر ازم کی کشمش میں پلڑا سیکولرازم کی جانب جھکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

مسلم لیگ کی ناکامی 

پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ مختلف الخیال عناصر کا ایک مجموعہ تھی جنہیں قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت نے ایک نظم میں سمویا ہوا تھا اور ان کی ذات کے آگے ان کے اختلافات دبے ہوئے تھے۔مسلمانوں کی نمائندہ اس جماعت میں خالص ملحد اور دہریے تک پائے جاتے تھے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کی بے مثال شخصیت کے باوجود مسلم لیگ ، انڈین نیشنل کانگریس کے مقابلے میں کوئی  منظم سیاسی جماعت نہ تھی جو آزادی  کے بعد اس کے گرانبار  تقاضوں کا بوجھ سہارسکتی۔یہی وجہ ہے کہ  ایک تجزیہ نگار کے مطابق:

“پاکستان میں مسلم لیگ وہ کردار ادا نہ کرسکی جو بھارتی سیاست میں کانگریس نے بھرپور اندازمیں اداکیا”۔

ایک سیاسی جماعت کے معاشرے میں کام کرنے کے نتیجے میں نیچے سے اوپر ہر سطح کی قیادت پیدا ہوتی ہے اور لوگ زیادہ سے زیادہ سیاسی شعور اور تربیت حاصل کرتے جاتے ہیں ۔مسلم لیگ میں ایسا نہ تھا اور قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے سوا کوئی دوسری معتمد علیہ عوامی اور سیاسی شخصیت نہ تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒکی فوری رحلت کے سبب موثر قیادت کی غیر موجودی میں ان مخالف اور متضاد عناصر کو جوڑنے اور قومی مفاد کے لیے کام کرنے پر مجبور والی کوئی قوت باقی نہ رہی۔

ان حالات میں قومی سیاست کو درپیش اہم ترین مسئلہ ملکی دستور کی تیاری، تعطل کا شکار رہا جس نے مزید مسائل کو جنم دیا اور ملکی سیاست کو پٹری پر چڑھنے نہ دیا۔قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء تا 1954ء ملک میں مسلم لیگ کا کامل اقتدار رہا۔ یہ ابتدائی اور انتہائی قیمتی دور بیشتر قیادت کی  کمزوریوں کے باعث شدید افراتفری سے عبارت رہا۔

ابوالکلام آزاد اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے  کہتے ہیں:

” میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح کانگرس کی مخالفت کے لیے شروع میں مسلم لیگ  کی بنیاد رکھی گئی۔اس لیے لیگ  میں مشکل ہی سے کوئی ایسا رکن رہا ہوگا جس نے ملک کی آزادی کے لئے جنگ لڑی ہو۔نہ تو انہوں نے کوئی ایثار کیا تھا نہ  وہ کسی جدوجہد کی ڈسپلن سے گزرے تھے ۔ان میں یا توپنشن یافتہ  حکام تھے  یا ایسے افراد جو انگریزوں کی سرپرستی کے تحت عوامی زندگی میں لائے گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب نئی ریاست کی تشکیل ہوئی تو اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا جو خدمت یا قربانی کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتےتھے۔ نئی  ریاست کے بہت سے حکمران خود غرض لوگ تھے جو صرف ذاتی مفاد کی خاطر عوامی زندگی میں آئے تھے۔ نئی ریاست کے لیڈروں کی اکثریت یوپی بہار اور بمبئی سے تعلق رکھتی تھی، بہت سوں کے ساتھ معاملہ یہ تھا کہ وہ ان علاقوں  کی زبان بول تک نہیں سکتے تھے  جن پر اب پاکستان مشتمل تھا۔اسی وجہ سے اس نئی ریاست میں حکمران اور عوام کے مابین ایک خلیج رہی۔ ان خودساختہ لیڈروں کو ڈر تھا کہ اگر آزاد انتخاب ہوگئے تو ان میں سے بیشتر کی واپسی تک کا بہت کم امکان ہے۔ ان کا مقصد اسی لیے یہ تھا کہ جب تک ہوسکے انتخابات ملتوی کرادیے جائیں اور ملک میں بس اپنی اقتصادی حیثیت اور اقتدار کی تعمیر کی جائے۔”

ابوالکلام آزاد کا تجزیہ متعصبانہ بیان کہہ کر مسترد کیا جاسکتا ہے لیکن ممتاز دانشور اور مورخ ڈاکٹر صفدر محمود  کا بیان گھر کی گواہی ہے ۔ وہ قیامِ پاکستان کے اس  ابتدائی دور کے بارے میں لکھتے ہیں :

“اس (مسلم لیگ)کے پاس عوام کی بہبود کے لیے نہ کوئی مسلمہ پروگرام تھا اور نہ ہی یہ عوام کے سامنے کوئی واضح نصب العین   رکھ سکی۔  اس کے بہت سے زعماقوم  کی خدمت کی بجائے حصول اقتدار اور اہم عہدوں کے خواہاں  تھے۔مسلم لیگ پر عام طور پر جاگیرداروں اور زمین داروں کا قبضہ رہا جو ایک دوسرے کے خلاف گھٹیاسازشیں کرنے میں مبتلا رہے۔اس وجہ سے عوام کی نگاہوں میں مسلم لیگ کے وقار کی  کمی اور پاکستان میں  جمہوریت کی ناکامی کے ذمہ دار قرار پائے”۔

قائدِ اعظم نےبڑی دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے قیامِ پاکستان کے بعد حکومتی اور جماعتی عہدوں کو الگ رکھنے کی روش اختیار کی تھی۔نوابزادہ لیاقت علی خان قائداعظم کے اس اصول سے انحراف کرتے ہوئے وزیرِ اعظم رہتے ہوئے مسلم لیگ کی صدارت پر براجمان ہوگئے۔نتیجتاً مسلم لیگ کی  کم زورتنظیم  مزیدخرابی کا شکار ہوئی ۔ حکومتی ناکامیوں  کا بوجھ بھی جماعت کو اٹھانا پڑا۔اقتدار پرست اور مادی منفعت کے اسیرسیاست میں آگئےاور سیاست قومی خدمت سے زیادہ جلبِ منفعت کا وظیفہ قرار پائی۔

مسلم لیگ کی ناکامی کا نتیجہ بالآخر حکومت پربیوروکریسی کی بالادستی، سول حکومت پر مارشل لاء کے وار، قومی یکجہتی کے زوال  اور آزاد قومی ریاست سے وابستہ عوامی امنگوں کی پژمزدگی کی صورت میں نکلا۔

جمہوریت اور آمریت کی کشمکش  اور سیاسی عدم استحکام

23 مارچ1956ءکو پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا  لیکن اس دوران ان ملک جن حالات سے گزرا  اور اہل سیاست نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا کیا اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ غیر یقینی صورتحال حال اور سیاسی عدم استحکام اس نوزائیدہ ریاست کا نصیب ہے۔

آئین کے تحت  فوری عام انتخابات کا وعدہ کیا گیا تھا  مگر 1958ء  تک یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا  اور اقتدار ایک مخصوص گروہ کے قبضے میں رہا۔ اس کا نقصان یہ ہوا ہوا کہ کہ بہتر اور نمائندہ آئندہ سیاسی قیادت  کی سامنے نہ آ سکی۔ چودھری محمد علی 9 ستمبر1956ء تک وزیراعظم رہے لیکن اس کے بعد انہیں اپنے ساتھیوں کی بے وفائی کے سبب استعفیٰ دینا پڑا۔منظم سیاسی جماعتوں اورکسی طاقتور سیاسی نظم و نسق کی غیر موجودی میں سیاست داں مرغِ بادنما کی صورت سیاسی قبلہ تبدیل کرتے رہے اور عوامی رد ِعمل کے فقدان نے انہیں اور جری کردیا۔حکومتوں کا آنا جانا گویا کھیل ہوگیا اور   9 ستمبر1956ء سے 7  اکتوبر 1958ء کے  مختصر عرصے میں تین وزارتیں آئیں اور چلی گئیں یہاں تک کہ 8 اکتوبر 1958ء کو اسکندر مرزا کی صدارت میں مارشل لا کا اعلان کردیا گیا اور جنرل ایوب خان چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔بعدازآں جنرل ایوب خان نے ، جو کہ 1956ء سے کابینہ میں بطورِ وزیرِ دفاع  شامل چلے آرہے تھے اور انہیں اس حیثیت میں سیاست دانوں کی کمزوریوں کو قریب  سے دیکھنے کا موقع ملا تھا ، موقع سے فائدہ اٹھا کربحیثیت سربراہ بری فوج ملک کی زمامِ اقتدار سنبھال لی اور اسکندر مرزا کو ہٹا کر عہدہ صدارت  پر بھی خود ہی براجمان ہوگئے۔

اس مارشل لا کے لیے جواز سیاسی عدم استحکام کو بنایا گیاجو کہ صدر اسکندر مرزااور ان کے ساتھیوں کا خودساختہ تھا اور اس کا علاج منصفانہ انتخابات تھے جنہیں طویل عرصے سے ملتوی کیا جارہا تھا۔اب جبکہ مارچ 1959ء میں آئندہ انتخابات کا انعقاد طے کیا گیا تھا جس کے لیے سیاسی سرگریاں بھی جاری تھیں کہ اچانک جمہوریت پر شب خون ماردیا گیا۔اس کا بنیادی سبب صدر اسکندر مرزا کی ہوسِ اقتدار تھی جنہیں آئندہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت میں اپنی کوئی جگہ نظر نہیں آرہی تھی لہٰذا  انہوں نے محض  اپنے دوامِ اقتدار کی خاطر فوج کے ساتھ ساز باز کرکے ملک کو جمہوریت کی شاہراہ سے کوسوں دور آمریت کے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا لیکن یہ جلد ہی جنرل ایوب خان نے انہیں عہدہ صدارت سے ہٹا کر یہ عہدہ بھی اپنے قبضے میں کرلیا۔ ان حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں :

“ملک ایک چھوٹے سیاسی بحران سے مارشل لا کے سمندر میں پھنس گیا سول بیورو کریسی کی جگہ ملٹری بیوروکریسی نے لے لی اور پاکستان کا جمہوری مستقبل ختم ہو کر رہ گیا”۔

پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ تھا۔ آمریت  نےنوزائیدہ ریاست کو  ہم عصر دنیا میں وہ مقام حاصل نہ کرنے دیا جس کا خواب اس کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ جنرل ایوب خان کا دور ملک میں کئی خرابیوں کے آغاز اور کئی برائیوں کے استحکام کا دور رہا۔جنرل ایوب خان  نے اپنی آمریت کو”بنیادی جمہوریت ” کے نقاب میں مستور کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے اقتدار کا جواز بہم کیا جاسکے۔  پارلیمانی کی جگہ نام نہاد صدارتی نظام رائج کیا لیکن اس میں اپنی ذات کے لیے ایک آمرِ مطلق کے اختیارات حاصل کرلیے۔ ایوب خان 10 سالہ اقتدار کے بعدجب عوامی احتجاج  کے سبب کم زور پڑے تو اس کا فائدہ جنرل یحییٰ خان نے اٹھایا اور مارشل لاء نافذ کردیا۔ جمہوریت سے انحراف اور آمریت نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کردیا۔ نئے سویلین  مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹونے فسطائیت کو شعار کیا اور بعدازآں جمہوریت کے لبادے میں شخصی آمریت  کا جو نظام قائم کیا اس کا نتیجہ ایک اور عوامی تحریک اور ایک اور مارشل لاء تھا۔

پاکستان کی سیاست  میں عدم استحکام کا بنیادی سبب سیاسی اداروں کی ناقص کارکردگی ہے۔ جس کی وجہ سیاست  میں نظریات سے زیادہ شخصیات کی اہمیت اوران  شخصیات کی جانب سے اداروں کو بے توقیر کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد ان  اداروں پر کبھی قائم ہی نہ ہوسکا ہے۔

فتوے بازی اور غدار سازی

جیسا کہ بیان ہوا کہ پاکستان میں قائدِ اعظم  محمد علی جناح ؒ کے بعد قیادت کا ایک سنگین خلا موجود تھا۔ بعد کے حالات نے اس امر کی تصدیق کردی  جب بحران آتے رہے اور مردِ بحران کوئی نہ تھا۔  ایک بڑا مسئلہ حکم رانوں کے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے مخالفین کی کردار کُشی، انہیں اسلام دشمن  ثابت کرنا اور ان کے خلاف غداری کے الزامات تھے۔قیامِ پاکستان کے تھوڑے ہی عرصے بعد کی جو صورتِ حال تھی  سید مودودی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کیا:

” عالم یہ ہوگیا ہے کہ اس ملک میں وفاداری ان لوگوں کا اجارہ ٹھہری ہے جو کسی کرسی پر تشریف فرما ہوں اور جو لوگ کسی کرسی پر نہ بیٹھے ہوں بلکہ فرشِ  پر چل پھر رہے ہوں وہ سب کے سب اس صورت میں غدار ہوتے ہیں جبکہ ان کے نظریات، آراء اور لائحہِ عمل حکمران بزرگوں سے اختلاف رکھنے والے ہوں۔ حد یہ ہے کہ کل تک جو کوئی کرسی تک رسائی نہ رکھنے کی وجہ سے خودغدار کہلاتا تھا وہ آج کرسی پالیتے ہی وفا کا پتلا بن کر دوسروں پر غداری کا ٹھپہ لگانے بیٹھ جاتا ہے ۔یہ ایک طرح کی سیاسی تکفیر کی فتوی بازی ہے جو روایتی مفتیوں اور فقیروں کی شان سے مشغلہِ عام بنی ہوئی ہے۔ اب کوئی نہیں رہا جس پر سیاسی مفتیوں نے ایک نہ ایک بار کفر کا فتوی چپیک  نہ چھوڑا ہو۔ پہلے پہل  صرف کمیونسٹ غدار کہلاتے تھے یا پھر فتویٰ سابق کانگریسیوں پر لگایا جاتا تھا بعد میں آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ

؎   ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

 خاکسار غدار ٹھہرے ۔خدائی خدمتگار پاکستان دشمن شمار ہوئے ۔آزاد پاکستان پارٹی والے روس کے ایجنٹ گنے گئے۔ احراری مخالف ریاست اور غیر امن پسند سرگرمیوں کے ملزم گردانے گئے۔ تحفظ ختم نبوت والے قانون شکن اقدامات کے مجرم شمار ہوئے۔ ناظم الدین اور دولتانہ اور ان کی وزارتیں ملکی مفاد سے بے نیازی کی قصوروار بنیں۔ سابق دستوریہ بحیثیت مجموعی سازشوں اور جوڑ توڑ کے کوڑھ کی مریض سمجھی گئی۔ پھر میاں افتخارالدین سے لیکر میر غلام علی تالپور تک قیوم خان سے لیکر سردار عبدالرشید تک اور مولوی فضل الحق صاحب سے لے کر سہروردی اور بھاشانی تک ایک ایک کرکے ہر نمایاں آدمی کے ماتھے پر غداری کی مہر لگتی رہی”۔

یہ رجحان آج تک  چلا آتا ہے!

موثر قومی قیادت کا فقدان

قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ ہماری تاریخ کے سب سے بڑے لیڈر ہیں ۔ لیکن ان کے بعد ایسی کسی شخصیت سے ہم محروم رہے  اورملک طالع آزماؤں کے ہاتھ میں آگیا۔

موثر قومی قیادت ،مسلسل  اور شفاف  سیاسی عمل کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔باقاعدہ  اوربروقت انتخابات اس عمل کو مہمیز دیتے ہیں۔ پاکستان کی بدقسمتی کے  شفاف سیاسی عمل کی بنیادیں مستحکم نہ ہوسکیں ۔مسلم لیگ کی ناکامی پر بات کی جاچکی ہے۔مزید یہ کہ اگر جیسے تیسے انتخابات ہوتے رہتے تو سیاسی عمل  بتدریج شفافیت کی جانب بڑھتا جاتا۔لیکن ملک کے پہلے عام انتخابات، ملک کے قیام کے 24سال  بعدمنعقد ہوئے اور 1971ء کے بعد 1988ء تک محض دو عام انتخابات منعقد ہوسکے  جن میں سے بھی ایک انتخاب (1977ء) کو قوم نے مسترد کردیا۔اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ موثر قومی سیاسی قیادت پیدا ہی نہ ہوسکی۔صوبائیت، علاقائیت، لسانیت اور فرقہ واریت کے عفریت  دندناتے رہے اور قومی یک جہتی کو نقصاان پہنچاتے رہے۔

حکومتی صفوں میں اہل اور قابل سیاست دانوں کی غیر موجودی میں ،جو بیوروکریسی سے صحیح طور پر کام لے سکیں ، افسرشاہی کو من مانی کی کھلی چھوٹ مل گئی ۔انگریز کی تربیت یافتہ افسر شاہی ، پولیس اور انٹیلی جنس کی تربیت صریحاً قومی مفادات کے برخلاف حکم ران طبقات کی خوش نودی کے نکتہِ نظر سے کی گئی تھی۔ نوزایدہ مسلم قومی ریاست میں یہ گروہ ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھرے اور قومی امنگوں اور خواہشات کے برعکس سابقہ ظالمانہ اور استحصالی نظام کے تسلسل کی علامت قرارپائے۔

سیاست دانوں  کی بے تدبیری اور مفادپرستی نے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ چنانچہ ان کی باہمی مناقشت سے سیاست و حکومت میں بدعنوانی کا عنصر بڑھا دوسرے ان کا وقار کم ہونے اور ان کی ناتجربہ کاری  کے سبب افسر شاہی  کو ملکی معاملات میں دخل اندازی کا جوازمل گیا اور تیسرے فوج نے ان سب  کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا جو آج تک مختلف وقفوں سے چلتا آرہا ہے جس نے ملکی معیشت اور سیاست کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ سیاسی نظام میں خرابی کے یہ سارے عوامل آج تک چلے آتے ہیں ۔

سید مودودی کی سیاسی فکر کے پاکستانی سیاست پراثرات کا جائزہ

تعارف

سید مودودی پاکستانی سیاست کا ایک معتبر نام ہیں۔ آپ کی جماعت ، جماعتِ اسلامی پاکستان سیاسی میدان میں زیادہ رسوخ نہیں رکھتی لیکن  اس کے باوجود ملک کی منظم ترین سیاسی و مذہبی جماعت سمجھی جاتی ہے۔  جدید تعلیم یافتہ طبقے میں  خصوصیت کے ساتھ اس جماعت  کے  اثرات  پائے جاتے ہیں۔

انگریز کی “لڑاؤ اور حکومت کرو” کی حکمتِ عملی کے تسلسل میں قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی حکم ران اشرافیہ (جو کہ انگریز ہی کی تربیت یافتہ تھی ) کی جانب سے سیاسی مخالفین کی بیخ کنی اور ریاست پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے اپنے تابع دارمختلف مذہبی اور فرقہ وارانہ گروہوں کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے۔

تاہم ممتاز دانش ورحسین حقانی جماعت اسلامی کی شناخت ایک ایسی جماعت کے طور پر کرتے ہیں جوان کے مطابق دیگرروایتی  مذہبی عناصر اور گروہوں سے مختلف ہے جنہیں سابقہ انگریزی دور سے  حکومت  ِ وقت حسبِ ضرورت استعمال کرتی چلی آئی ہے ۔ اس جماعت میں فرقہ واریت ہے اور نہ اسے کسی روایتی  اسلامی مکتبہ فکر کے ساتھ جوڑا جا سکتاہے بلکہ یہ جماعت  اسلام پسند تعلیم یافتہ افراد کی جماعت ہے  جس نے روایتی مذہبی طبقہ کی بجائےتعلیم یافتہ  متوسط پیشہ ور طبقہ اور سرکاری ملازمین کو اپنا ہدف بنایا۔ اسلامی تعلیمات کی تجدیدو احیاء اس کا واحدمقصد تھا ۔قیامِ پاکستان سے قبل تحریکِ پاکستان میں جماعت اسلامی کا کوئی عملی کردار نہ تھا بلکہ سید مودودی نے مسلم لیگ کے قوم پرستانہ افکار و نظریات کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس کی قیادت پر کڑی تنقید کی۔ اگرچہ مسلم لیگ بھی مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد کر رہی تھی اور سید مودودی بھی مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے کوشاں تھے لیکن دونوں میں بنیادی فرق حکمت عملی اور طریقہ کار کا تھا۔ سید مودودی مسلمانوں کے حقوق کی بازیافت کے لیے ان میں اپنے فرائض کے شعورکی بیداری  اور ان فرائض  کی ادائی  کو لازمی سمجھتے تھے جب کہ مسلم لیگ مسلمانوں کے حقوق کے لیے انگریز مقتدرہ سے مطالباتی جدوجہد پر یقین رکھتی تھی۔

سید مودودی کی سیاسی فکر کے پاکستانی سیاست پر اثرات کا جائزہ  لینے کے لیےجہاں یہ  ضروری ہے کہ اس حوالے سے خود سید مودودی اور جماعت ِ اسلامی کے دعاوی کا ان کے ناقدین کی آراء کی روشنی میں محاکمہ کیا جائے وہیں اس بات کی بھی کوشش کی جائے کہ دست یاب معلومات کی روشنی میں پاکستانی سیاست کا ایک تجزیہ کیا جائے تاکہ غیر جانب دارانہ اوردرست  نتیجے تک پہنچا جاسکے۔یہ کام ہم نے گزشتہ باب (باب پنجم ) میں کرنے کا اہتمام کیا تھا کہ پاکستانی سیاست کا ایک مجمل جائزہ اور اس میں کارفرما عوامل کی مختصر نشان دہی کی جائے۔

پاکستانی سیاست پر سید مودودی کی سیاسی فکر کے اثرات کا جائزہ دو جہتوں سے ممکن ہے :

نمبر ایک:اس بارے میں  سید مودودی اور جماعت اسلامی کےموقف کو پیش نظر رکھا جائے۔

نمبر دو:سید مودودی کے سیاسی مخالفین کی جانب سے سے ان کےسیاسی کردار کے بارے میں ردعمل کی جانچ پڑتال کی جائے اور کسی معروضی نتیجے تک پہنچا جائے ۔

سید مودودی کی سیاسی فکر کےپاکستانی سیاست پر اثرات  کے حوالے سے یہ بات سمجھنابہت اہم ہے  کہ سید مودودی جب تک اپنی قائم کردہ جماعت، جماعتِ اسلامی کے سربراہ رہےکم از کم اس وقت تک ان میں اور جماعتِ اسلامی میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا اورسید مودودی اور جماعتِ اسلامی ایک ہی چیز کے د و نام ہیں۔

سید مودودی کے ایک ناقد رانا صابر نظامی اس حوالے سے کہتے ہیں:

“ایک عام مفکر اور محقق کے برعکس جس امر نے مولانا مودودی کی شخصیت اور افکار کو زیادہ اہم، وقیع اور مؤثر بنا دیا ہے وہ مولانا کا جماعت اسلامی کو قائم کرنا ہے۔ مولانا ایک مفکر اور محقق ہی نہیں ایک اعلی پائے کے منتظم بھی تھے۔ جماعت اسلامی کا وجود اس کی خوبیاں اور اس کا بہترین نظم و ضبط یہ سب مولانا مودودی کی تربیت کا نتیجہ ہیں۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا مودودی کی خوبیاں بڑی حد تک جماعت کی خوبیاں ہیں اور مولانا کی کمزوریاں بڑی حد تک جماعت کی کمزوریاں۔”

ملکی سیاست میں کسی جماعت یا نظریے کی پیش قدمی اور اثرات کا جائزہ ناپنے کااصل  پیمانہ اس کی عام انتخابات میں کارکردگی ہے۔اس پیمانے پر دیکھا جائے توجماعت اسلامی کا ووٹ بینک مستقل زوال کا شکار ہے۔ممتاز فلسفی، ماہرِ معاشیات اور دانش ور ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق:

” 1970ء میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کو ملنے والے والے ووٹوں کا تناسب کل ووٹوں کا تقریبا 6 فیصد تھا۔جبکہ  2013ء کے عام انتخابات میں یہ تناسب گھٹ کر صرف 2فیصد رہ گیا۔ جبکہ اس انتخاب میں  جماعتِ اسلامی  کو قومی اسمبلی کے لیےملنے والے مجموعی ووٹوں کی تقریبا9 لاکھ 63 ہزار تھی۔ 2018ء کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو 9لاکھ 82 ہزار ووٹ ملے جوڈالے گئےمجموعی ووٹوں کا1.9% تھا۔  2018ء کے عام  انتخابات میں 12 اسلامی جماعتوں نے حصہ لیا اور ان کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 51 لاکھ 41 ہزار تھی۔ اس طرح مجموعی اسلام پسند ووٹوں کا تقریبا 19 فیصد حصہ جماعت اسلامی کو ملا۔اس انتخاب میں صوبہ  پنجاب میں40 قومی اسمبلی کے امیدواروں کو صرف 1.2 لاکھ ووٹ ملے جو پنجاب کے مجموعی ڈالے گئے ووٹوں کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقوں میں جماعت اسلامی کوفی حلقہ اوسطاً صرف 00 31 ووٹ ملے۔ کراچی کے علاوہ پورے سندھ میں قومی اسمبلی کے لیے صرف 70 ہزار اور صوبائی اسمبلی کے لیے کُل 51 ہزار ووٹ جماعت اسلامی کو ملے۔ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کے لیے صرف 10 ہزار ووٹ مل سکے۔ پورے لاہور کی قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے 18000  ووٹ جماعتِ اسلامی کے امیدواروں نےلیے  جب کہ اسلام آباد میں ملنے والے ووٹوں کی کُل تعداد 14 ہزار تھی۔ جماعت اسلامی کو ملنے والےقومی  اسمبلی کے مجموعی ووٹوں میں سے 80فیصد خیبرپختونخوا اور کراچی سے حاصل ہوئے” ۔

یہ نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی انتخابی میدان میں اپنا وزن کھوتی جارہی ہے۔لیکن انتخابی سیاست کے علاوہ بھی جماعتِ اسلامی کے کام کی مختلف جہتیں موجود ہیں جن میں سید مودودی کی فکر اورجماعتِ اسلامی  کےبراہ ِ راست یا بالواسطہ اثرات کا مشاہدہ ممکن ہے۔ سید مودودی اور جماعتِ اسلامی کے  پاکستانی سیاست  میں کردارکو ان کی جانب سے بیان کردہ مندرجہ ذیل جہتوں میں دیکھا جا سکتا ہے:

1۔       خدمتِ خلق

2۔        سیکولرازم کا رد اور نوزائیدہ مملکت کی اسلامائزیشن

3۔       ریاستی سطح پر غیر اسلامی افکار و نظریات کی بیخ کُنی

4۔        جمہوریت کا فروغ اور آمریت کی مخالفت

5۔       مثبت سیاسی اقدار کا فروغ

6۔        منظم اور بے لوث  نظریاتی سیاسی کارکنان کی تیاری

7۔        پرامن دستوری جدوجہد

8۔       نوجوانوں کی تعمیری  رہ نمائی

ان کے ناقدین ان میں سے بعض کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اس فکر کے حوالے سے کچھ دیگر منفی جہتیں بھی ان کی جانب سے سامنے لائی جاتی ہیں ۔ناقدین کی جانب سے کیے جانے والے اہم اعتراضات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔       مذہب کا سیاسی استعمال

2۔        مذہبی انتہا پسندی  کا فروغ

3۔       عوامی مسائل سے لاتعلقی

4۔        سیاسی رومانویت پسندی

ان میں سےبڑا اعتراض سیاست میں مذہب کے ناروا استعمال کے  رجحان کی حوصلہ افزائی ہے۔

 اس حوالے سے سید مودودی کی سیاسی فکر کے اثرات کا جائزہ ان حامیان و ناقدین دونوں کی بیان کردہ آراء کے محاکمے سے ہی زیادہ بہتر طورپر ممکن ہے۔

سید مودودی کی سیاسی فکر کے پاکستانی سیاست پر مثبت اثرات کا جائزہ

خدمتِ خلق

سید مودودی نے اپنے کام کی بنیاد سماجی نفوذ پر رکھی تھی۔ اس مقصد کے لیے عوام الناس سےکارکنان کی قربت اور ذاتی روابط کو انتہائی اہمیت دی گئی۔بعداز آں پاکستان آمد کے فوری ضروریات کے تحت جماعتِ اسلامی کو خدمتِ خلق کا محاذ سنبھالنا پڑا۔

26 اگست 1970ء کو جماعتِ اسلامی کے  ایک  اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید مودودی نے اپنی جدوجہد،جماعت اور اس کی پاکستان میں پیش رفت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

“پاکستان آ کر ہم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جو مہاجرین یہاں لُٹ پُٹ کر آ رہے تھے ان کی خدمت شروع کی۔جس وقت یہ لٹُے پُٹے لوگ آکر پاکستان میں پناہ لے رہے تھے، میں بڑے افسوس کے ساتھ بتاتا ہوں کہ عین اسی وقت وہ لوگ جو خود کو بانیان پاکستان کہتے ہیں ان کی ایک اچھی خاصی تعداد ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی جائیداد وں پر قبضہ کرنے میں لگی ہوئی تھی”۔

رفتہ رفتہ حکومتی نالائقی و نااہلی کے باعث قومی ضرورت اور عوامی نفوذ کی موثر تدبیر کے طور پر شعبہ خدمتِ خلق  روز افزوں ترقی کرتا گیا۔ آج اس میدان میں غیر سرکاری تو کیا کوئی سرکاری ادارہ بھی جماعتِ اسلامی کے شعبہ خدمت “الخدمت” کا ہم سر نہیں ہے۔”الخدمت” کا بجٹ جماعتِ اسلامی  کے بجٹ سے زیادہ  ہوتا ہے۔

2۔سیکولر ازم کا رد اورنوزائیدہ مملکت کی اسلامائزیشن

مملکتِ خداداد پاکستان میں اس کے قیام کی ابتدا سے ہی سیکولر طرزِ فکر کے حامل حکم رانوں کی جانب سے مملکت کو لاحق مختلف حقیقی اور تصوراتی خطرات کا مقابلہ کرنےکے  لیےاسلام کے نام  پر انسانی حقوق اور آزادیوں پر قدغن عاید کی جاتی رہی   ہے۔

عوام کو حقوق کی فراہمی یا حکمران مقتدرہ کے کردار کی اسلامی تشکیل کے بجائے اسلام محض ایک بہلاوے کے طورموجود رہا جس کا نام عوام کےسامنے  مسائل کی تلخیاں کم کرنے کے لیے لیا جاتا رہا ۔ایک اسلامی پاکستان ہندوبھارت کے مقابلے میں کھڑا ہوا تھا۔ قابل افسوس بات یہ تھی  کہ  پاکستان جتنا اسلام کے نعروں سے گونج رہا تھا، اسلامی تعلیمات پر عمل کے اعتبار سے یہاں اتنا ہی  سناٹا تھا۔

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور دیگر مسلم زعماء  کی قیام پاکستان کے حوالے سے کی جانے والی تقاریر اور دیے گئے بیانات اس امر کے شاہد ہیں کہ مطالبہِ  پاکستان کی بنیاد اسلام کی بنیاد پرتھی لیکن قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کی اولین آئین ساز اسمبلی میں کی جانے والی قائدِ اعظم ؒ کی 11  اگست 1947ء کی تقریراس کے برعکس یہ  ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس نوزائدہ مسلم اکثریتی مملکت کےنظامِ حکومت و سیاست میں اسلام کے کسی فعال کردار کے خواہاں نہ تھے۔

اس تقریر میں انہوں نے مذہبی آزادی و رواداری اور تمام شہریوں کے لیے بلا تفریق مذہب یکساں حقوق شہریت کا اعلان کیا۔قدیم برطانیہ میں پائے جانے والے عیسائی فرقہ وارانہ شدید اختلافات  اور پھرایک متحدہ قوم کی تشکیل کے بعد ان کے حل کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے یکساں اور مساوی حقوق شہریت کی بنیادپر ایک متحدہ پاکستانی  قوم کی تشکیل کی امید ظاہر کی جس کے نتیجے میں مذہب ہر شہری کا انفرادی معاملہ رہ جائے اور امورِ مملکت میں مذہب کا کوئی دخل نہ ہوگا۔

قیامِ پاکستان  کا مقصد جیسا کہ  باب پنجم میں بیان ہوا اسلام کی نشاۃ الثانیہ کی تجربہ گاہ اور ایک اسلامی فلاحی مملکت کا قیام تھا۔ اس  تناظر میں یہ خالقِ پاکستان ،حکمران جماعت مسلم لیگ کا امتحان تھا کہ وہ کس طرح اپنے ماضی کے نفاذِ اسلام کےدعووں کو برسرِ عمل لاتی ہے اور اپنے ناقدین کے الزامات کا ابطال کرتی ہے  لیگی قیادت میں اس حوالے سے یک سوئی موجود نہ تھی اور دین و سیاست کی دوئی کا تصور عام تھا۔

افسر شاہی سے وابستہ معروف قلم کار الطاف گوہر کی نظر میں کارپردازانِ حکومت کی نظر میں متحدہ ہندوستان میں  اسلام مسلمانوں کو متحد کرنے والی ایک قوت کے طور پر درکار تھا اور ان کی نظر میں تشکیلِ پاکستان کے بعد اسلام کا قومی اجتماعی  کردار ختم ہوچکا تھا:

“اعلیٰ ترین طبقہ اسلام کا مخالف نہیں تھا ، لیکن اس کی مخلصانہ رائے تھی کہ اسلام اپنا کام مکمل کرچکا ہے۔ مسلمانوں نے آزادی حاصل کرلی اور اسلام کی مدد سے اپنی ریاست قائم کرلی۔ اب جو سوا ل درپیش ہے وہ سیکولر خطوط پر ملک کی ترقی اور تعمیر کا ہے۔ اسلام کے لیے کافی سے زیادہ مسجدیں موجود ہیں ۔ باقی ملک کو اب اپنا کام کرنا چاہیے۔ اس اعلیٰ ترین طبقے کو قرآنی اصولوں یا اسلامی قوانین کا کچھ علم نہ تھا۔ کوئی سمجھ بوجھ نہ تھی قرآن ذاتی زندگی کے لیے بہت اچھا تھا، لیکن ریاست کے معاملات اور انتظام میں شریعت کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی کہ یہ شئے اگر چودہ سو سال قبل کے کسی معاشرے کے لیے کارآمد رہی ہو تو رہی ہو ، اب تو جو کچھ بھی وعدہ کیا جاسکتا ہے وہ یہی  ہے کہ اگر موجودہ قوانین میں سے کوئی قرآن و سنت کےخلاف پایا گیا ، اس پر نظرِ ثانی کرلی جائے گی یا اس میں کوئی ترمیم کردی جائے گی اور وہ بھی ایک مقررہ طریقے پر۔ اسلام بے شک اہل ِپاکستان کا مذہب ہے لیکن اسے ان کا انفرادی اور شخصی معاملہ رہنا چاہیے۔ اجتماعی زندگی کو مغربی اداروں اور قوانین ہی کی ذمے داری بننے دیا جائے “۔

پاکستانی حکم ران اشرافیہ اسلام پر عمل درآمد سے زیادہ اسلام  کے نام کےبھرپور استعمال پر یکسو تھی تاکہ عوام کواس حوالے سے مطمئن  رکھ کے ملک کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکے۔سید مودودی ان مغرب نواز عناصرکے لئے ایک چیلنج کے طور پر سامنے آئے جب انہوں نے قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگی قیادت کے اسلام پر عملدرآمد کے وعدوں  کی تکمیل اور پاکستان کے قیام کےبعد اسلامی نظام کے قیام کے حوالے سے سردمہری اور اسے نظر انداز کرنے کی کوششوں  کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحدنمائندہ جماعت ہونے کے قیامِ پاکستان سے قبل کےدعوے پر برقرار تھی اور قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بننے کے بعد بھی مسلم لیگ ہی کے تنہاسیاسی جماعت ہونے کے تصور کی وکالت کی تھی۔دیگر قدیم سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کی مخالفت کے باعث  نئی مملکت میں سیاسی منظر نامے سے غائب تھیں لیکن جماعتِ اسلامی کی شکل میں نئی سیاسی جماعت نے مسلم لیگ کے لیے واحدتواناحزبِ اختلاف کی شکل اختیار کر لی۔ یہی وجہ تھی کہ  لیاقت علی خان نے سرکاری ملازمین اور فوجی افسران کو ہدایت جاری کی جماعت اسلامی کی رکنیت سے گریز کریں یہ تنبیہات بعد ازآں 1948ءمیں جماعتِ اسلامی کو کچلنے کے حکومتی اقدامات کے طور پر جماعت  کے اخبارات و جرائد پرپابندی اور رہنماؤں کی گرفتاری پر منتج ہوئیں۔

قیام پاکستان سے قبل سید مودودی اور جماعت اسلامی نے ہندوستان کے لادینی نظام میں اپنی فکر و فلسفے کے تحت عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا تاہم قیام پاکستان کے بعداب یہ موانعات دور ہوچکے تھے ۔نئی قائم شدہ ریاست میں فوری طور پر درپیش مسائل میں عوام کی اخلاقی و دینی تربیت کے ساتھ ساتھ  ایک اہم مسئلہ ریاست کے نظریاتی رخ کے درست سمت میں تعین اور قیام پاکستان کے بنیادی مقصد ،”اسلامی فلاحی ریاست کا قیام” کی عملی صورت گری کاتھا۔ مولانا مودودی کے خدشات کے عین مطابق قیام پاکستان کے بعداسلامی نظام کی طرف کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

اس وقت کے حالات کی عکاسی کرتے ہوئے سید مودودی نے کہا:

”ہماری قوم کے قائدین نے جواب قائد ہی نہیں حاکم بھی تھے، ملک کے آئندہ نظام کے متعلق  جیسی الجھی الجھی اور متضاد باتیں کرنی شروع کیں اور قوم جس طرح ابتدائی چند مہینوں میں ٹھنڈے دل سے ان کو سنتی رہی،اسے دیکھ کر صاف معلوم ہو گیا کہ اس وقت ایک بے شعور قوم کی باگیں ایک بے فکر گروہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ وقت خاموش بیٹھ کر تعمیری کام میں لگے رہنے کا نہیں ہے۔اب اگر ایک لمحہ بھی ضائع کیا گیا تو بعید نہیں کہ جو لوگ منزل کا تعین کیے بغیر بے سوچے سمجھے چل پڑے تھے، وہ یکایک کسی غلط نظریے کو اس مملکت کی بنیاد بنا بیٹھیں اور پھراس فیصلے کو بدلوانا موجودہ حالت کی بہ نسبت  ہزار گنا زیادہ قربانیوں کے بغیر ممکن نہ رہے“۔

چنانچہ سید مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے خدمتِ خلق اوراپنے تصورات کے مطابق صحیح اسلامی ریاست کے قیام کی عملی جدوجہد کا آغاز کردیا  جس کا سر نامہ “مطالبہ نظامِ اسلامی” قرار پایا۔

مطالبہ نظامِ اسلامی

دسمبر ۱۹۴۷ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے پہلے اجتماع میں سید مودودی نے مطالبہ اسلامی نظام کے موضوع پر وضاحتی تقریر کی پھر جماعت اسلامی نے ملک گیر پیمانے پر”مطالبہ ٴنظام اسلامی” کی مہم کا آغازکردیا جسے جلد ہی قبول عام حاصل ہو گیا۔ سید مودودی نےپنجاب یونیورسٹی  لا کالج لاہور میں پہلے ۶؍ جنوری اور پھر ۱۹ فروری ۱۹۴۸ء کو قانون، اسلامی قانون، شریعت اور پاکستان میں اسلامی قوانین کے بتدریج نفاذ پر عالمانہ تقاریر کیں۔یہ دونوں تقاریر”اسلامی قانون اور پاکستان میں اس کے نفاذکی عملی تدابیر”کے زیرِ عنوان طبع شدہ ہیں۔

ان تقاریر سے قانون داں اور اہلِ علم حضرات کو اسلامی قانون اور شریعت کی اہمیت اور اس کے دائرۂ عمل کا ادراک ہوا اور اسلامی نظام کےعصرِ حاضر میں نفاذ کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ۔ اس مطالبے کو عوامی مطالبہ بنانے کے لیے سید مودودی نے پورے ملک میں جلسوں کاسلسلہ شروع کردیا۔جس کا آغاز6مارچ 1948ءمیں  کراچی میں اجتماعِ عام سے کیاگیا۔جس کے بعد ایسے اجتماعات ملک کے متعدد شہروں میں منعقد کیے گئے۔

ان اجتماعات میں سید مودودی نے اسلامی دستور کے حوالے چار مطالبات پیش کیے:

”چونکہ پاکستان کے باشندوں کی عظیم اکثریت اسلام کے اصولوں پر پر ایمان رکھتی ہے اور چونکہ پاکستان کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی ساری جدوجہد اور قربانیاں صرف اسی خاطر تھیں کہ وہ ان اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں کی جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں ،لہذا اب قیام پاکستان کے بعد ہر پاکستانی مسلمان دستور ساز اسمبلی سے سے یہ مطالبہ کرتا ہے  کہ وہ اس بات کا اعلان کرے کہ:

نمبر 1 ۔ پاکستان کی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے اور حکومت پاکستان کی کوئی حیثیت اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کی مرضی اس کے ملک میں پوری کرے۔

نمبر 2۔ پاکستان کا بنیادی قانون اسلامی شریعت ہے ۔

نمبر3۔ وہ تمام قوانین جو اسلامی شریعت کے خلاف اب تک جاری رہے ہیں، منسوخ کیے جائیں گے اور آئندہ ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔

نمبر 4۔ حکومتِ پاکستان اختیارات ان حدود کے اندر استعمال کرے گی جو شریعت نے  مقررکردی ہیں۔“

اس سے قبل اسلامی دستور کے نفاذ اور اسلامی نظام حیات کے حوالے سے ریڈیو پاکستان پر سید مودودیؒ کو ”اسلام کا نظام حیات “ کے موضوع پر پانچ تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کرنے کی دعوت دی گئی۔ یہ سلسلہ 6جنوری سے 16مارچ 1948ءتک جار ی رہا اورسید مودودیؒ نے اسلام کا اخلاقی نظام ، اسلام کا سیاسی نظام ، اسلام کا معاشرتی نظام، اسلام کا اقتصادی نظام اور اسلام کا روحانی نظام کے موضوعات پر پانچ تقاریر کیں۔

انتخابی نظام کی اصلاح

10تا 20مارچ،1951ء پاکستان میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ یہ انتخابات پنجاب صوبائی اسمبلی کی 197نشستوں کے لیے تھے۔قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعدسید مودودی کی تعبیر کے مطابق ریاست نے کلمہ پڑھ لیا تھالہٰذا اس کی سیاست و انتظام میں حصہ لینا جائز ہوگیا تھا چنانچہ جماعت اسلامی نے ان انتخابات میں پہلی مرتبہ جماعتی طور پر شرکت کی اور 35 نشستوں پر انتخاب لڑا۔تاہم مروجہ انتخابی سیاست کے حوالے سےابھی کئی نظریاتی رکاوٹیں موجود تھیں۔ سب سے بڑا مسئلہ امیدواری نظام تھا۔اسی طرح بے وسیلہ اہل افرادکا پیچھے رہ جانا بھی ایک اہم مسئلہ تھا۔ان کے حل کے لیے جماعتِ اسلامی نے صالح نمائندوں کی انتخابی پنچایت کا نظام پیش کیا۔جس کے تحت نیک ، صالح اور اہل افرادکو پنچایت کی سطح پر نامزد کیا گیا اور ان کا تمام انتخاب جماعت کے کارکنوں نے لڑا۔

1951ء میں جماعت اسلامی نے اولین طور پر پر جب انتخابی جدوجہدمیں  شرکت کا ارادہ کیااور صوبہ پنجاب کے صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو اس کے مقاصد اور طریقہ کار کے حوالے سے مندرجہ ذیل بیان جاری کیاگیا:

“1۔  اول یہ کے انتخاب کے غلط طریقوں کی اصلاح کی جائے اور ان صحیح طریقوں کا عملی مظاہرہ کیا جائے جو اسلام کے احکام اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہیں۔

2۔ دوم یہ کہ بحالت موجودہ ہماری سوسائیٹی میں سیرت اور قابلیت کے لحاظ سےجو زیادہ سے زیادہ صالح اور اہل افراد مل سکتے ہوں  توان کو صوبے کا آئندہ نظم و نسق چلانے کے لیے منتخب کرایا جائے۔

3۔ سوم یہ کہ 1935ء کےغیر جمہوری دستور میں صوبوں کی حکومتوں کو جو محدود اختیارات حاصل ہیں ان کو استعمال کر کے کم ازکم اس صوبے میں نظام اسلامی کی تعمیر، اجتماعی انصاف کے قیام اور نظم و نسق  کی اصلاح کے ایک پروگرام کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا جائے۔

مندرجہ بالا مقاصد  جماعتِ اسلامی کی آئندہ کی تمام تر سیاسی جدوجہد کا سرنامہ قرار پائے۔

اسلامی دستورکا نفاذ

قیامِ پاکستان کے بعد دستوری ضروریات کے لیے برطانوی عہد کے انڈیا ایکٹ1935ء کو عبوری طور پر نافذ کردیا گیا۔ ضرورت اس امر کی تھی ایک نو تشکیل شدہ اسلامی ریاست کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے نیا آئین بنایا جاتا جیسا کہ ہمسایہ ملک ہندوستان  میں آزادی کے 2سال کے اندر برطانوی دستور کی جگہ اپنا بنایا گیا دستور بنا کر نافذ کردیا گیا۔جبکہ پاکستان میں صورتِ حال اس کے برعکس رہی اور مقتدر طبقات آئین سازی سے گریزاں رہے۔ان کا زور اسلامی فلاحی ریاست کے لیے نئے دستور کی تیاری کی جگہ سابقہ  برطانوی آئین کی کتربیونت کرکے اسے پاکستانی رنگ دینے پر رہا۔اگست 1947ء میں تشکیلِ پاکستان کے 9 ماہ بعد بھی جب حکومتی سطح پر اسلامی نظام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور ملک کی نظریاتی جہت متعین نہ کی جاسکی تو سید مودودی کی سرکردگی میں اپریل 1948ء میں مطالبہ نظامِ اسلامی کی مہم شروع ہوگئی جس کا مطالبہ تھا کہ حکومت کم از کم اس بات کا اعلان کرے کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنایا جائے گا۔ جماعتِ اسلامی کی اس پرجوش مہم اور مسلم لیگ کے دینی عناصر بالخصوص علامہ شبیر احمد عثمانیؒ  کی پرزور مساعی کے باعث لادین عناصر کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور 12 مارچ1949ء کو دستور ساز اسمبلی نے”قراردادِ مقاصد” کے نام سے ایک اہم دستوری دستاویز کی منظوری دی جس نے ملک کی نظریاتی جہت کے بارے میں یکسوئی پیدا کی اوراس قرارداد  کی رو سے قرار پایا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا جہاں قانون سازی سمیت تمام حکومتی اختیارات کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود  کی پابندی کی جائے گی۔ گویا  اس طرح نظری طور پر ریاست کے مسلم ہونے کا اعلان کردیا گیا ۔

قرادادِ مقاصد کی منظوری

قیامِ پاکستان کے بعدعبوری طورپر انڈیا ایکٹ 1935ء کو دستور پاکستان کے طور پر اختیار کرلیا گیا تھا ۔ نئی ریاست کودرپیش مسائل میں ایک بڑا مسئلہ آئندہ دستور کی تیاری کا تھا۔ ملک میں موثر اقلیتوں کی موجودگی اور مغربی تہذیب سے وابستگی کے سبب سیکولر دستور کا مطالبہ کرنے والےبھی موجود تھے۔جبکہ علماءکرام قیامِ پاکستان کے اساسی مقاصد کے حوالے سےاسلامی دستورپر زور دے رہے تھے۔اس حوالے سے سید مودودی کی سرکردگی میں جماعتِ اسلامی کی “مطالبہ نظامِ اسلامی “کی پرزورمہم کا تذکرہ ہوچکاہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے  علامہ شبیر احمدعثمانیؒ ودیگر علماء کے تعاون سے ایک قرارداد دستور ساز اسمبلی میں پیش کی ۔جسے “قراردادِ مقاصد”کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس قرارداد کا مسودہ پیش کیے جانے  سے قبل جیل میں سید مودودی کو بھی دکھایا گیا  تھا۔

12 مارچ 1949ءکو مرکزی دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کرلی۔یہ قرارداد دستورسازی کے باب میں اہم پیش رفت تھی۔ اس میں حاکمیت و اقتدارِ اعلیٰ کواللہ تعالیٰ کا حق تسلیم کرلیا گیا۔سید مودودیؒ نے اس کے حوالے سے کہا:

“اب اس ریاست کی شرعی حیثیت سابق غیرمسلم ریاست سے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ مسلم قوم اور پاکستانی مملکت کا نصب العین واضح صورت میں متعین ہوگیا ہےاور اس نے ایک پختہ آئینی شکل اختیار کرلی۔مملکت اصولاً ایک اسلامی مملکت میں تبدیل ہوگئی ہے اب اس کی ملازمت جائز ہے۔اس کے قوانین اپنی عارضی نوعیت میں قابل تسلیم ہیں۔اس کی عدالت میں جانا حلال ہے اور اس کی اسمبلی وپارلیمنٹ کے انتخابات میں ہر حیثیت سے حصہ لیا جا سکتا ہے”۔

سید مودودی نے اس قرارداد کی منظوری کو ملک میں لادینی نظام کے خلاف شاہ ضرب قراردیا۔

اسلامی دستور پر علمائے کرام کا اتفاق  اور سید مودودی کا کردار:علمائے کرام کے ۲۲ دستوری نکات

لیاقت علی خان  کے دور میں جب ملک کے نئے دستور کی بحث چھڑی ہوئی تھی ملک میں اسلامی دستور کے حوالے سے لادینی اور دیگر حکومتی عنا صر اس پروپیگنڈے میں مصروف تھے کہ علماء اور متحارب فرقےباہم  کیسے ایک اسلام پر ہم خیال ہوسکتے ہیں اور اس طرح ایک متفقہ اسلامی دستوری مسودہ کیسے تیار ہوسکتا ہے؟کچھ لوگ کہتےتھے کہ قرآن سے اسلامی دستور نکال کردکھایا جائے۔

حکومتی اور لادین عناصر کے اس چیلنج کو قبو ل کرتے ہوئے ۲۱؍جنوری ۱۹۵۱ء کو کراچی میں مختلف مکاتب فکرکے علماء کا ایک عظیم الشان اجتماع سید سلیمان ندودی کی صدارت میں منعقدہوا جس میں دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث‘ اور شیعہ مکاتب فکر کے ۳۱ جیدعلمائے کرام شریک ہوئے جبکہ دینی جماعتیں بشمول جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام‘ جمعیت علمائے پاکستان ‘ جمعیت اہل حدیث اور اہل تشیع پاکستان کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔یہ اجلاس 4 دن جاری رہا۔سید مودودی اس اجلاس میں بھرپور طورپرشریک رہے۔ اس اجلاس میں علماء نے متفقہ طور پراسلامی ریاست کےدستورکی  تشکیل کے حوالے سے۲۲ نکات پر مشتمل بنیادی اصول پیش کیے ۔

ہفتہٴ دستور

حکومت نےاعلان کیا کہ وہ  22نومبر1952ءکو دستوری سفارشات پیش کررہی ہے۔حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے جماعتِ اسلامی نے “ہفتہٴ دستور” منایا اوردارالحکومت کراچی میں اسلامی دستور کے حق میں 21 نومبر کو ایک بڑا اور انتہائی منظم مظاہرہ کیا گیا۔اس کا اثر ہوا اور پیش کردہ دستوری سفارشات میں عوامی خواہشات کو بڑی حد تک مدنظر رکھا گیا۔

پاکستان کا پہلا دستور1956ء

اگست 1955ء میں چودھری محمد علی  وزیراعظم پاکستان بنے۔مطالبہٴ نظامِ اسلامی کی مہم تاحال جاری تھی ۔ مشرقی پاکستان لادین عناصر کا بڑا مرکز تھا۔سید مودودی نے دینی عناصر کو مجتمع کرنےاور اسلامی دستور کے لیے فضا ہم وار کرنے کی غرض سے 24  جنوری، 1956ء سے مشرقی پاکستان کا 40 روزہ دورہ کیا۔

قیامِ پاکستان کے تقریباً9 سال بعد 23 مارچ، 1956ء کو پہلا دستور نافذہوا۔اس طرح ملک برطانوی غلامی سے کامل آزاد ہوا۔ سید مودودی نے اس موقع پر کہا:

“ہم اپنی زندگی کی ابتدا ایک ایسی قوم کی حیثیت سے کر رہے ہیں جس نے آئینی طور پر پر خدا کی حاکمیت کا اقرار کیا، اور اقتدار کو اس کی طرف سے سے ایک مقدس امانت مان کر، کر استعمال اقتدار کے لیے، اس کے مقرر کردہ حدود کی پابندی قبول کی ہے۔ آج دنیا کی تمام قوموں کے درمیان ہم وہ تنہا قوم ہیں ہیں جس نے اپنے دستورِ مملکت کےسرنامے پر یہ اعلان ثبت کیا ہے کہ ہم جمہوریت،آزادی ،مساوات، رواداری اور اجتماعی انصاف کے اس تصور پر عمل کریں گے جو اسلام نے ہم کو دیا ہے”۔

1956ء کے دستور  میں متعدد اسلامی دفعات شامل کی گئیں  لیکن اس دستور کو مکمل طور پر نافذ ہونے اور رُوبہ عمل آنے کا موقع   ہی نہ مل سکا اور 1958ء میں  جنرل ایوب خان نے دستور معطل کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ جنرل ایوب خان نےاپنے عہدِ اقتدار میں ملک کو سیکولرازم اور جدت پسندی  کے راستے پر ڈالنے کی جدوجہد شروع کی اور متعدد ایسے اقدامات کیے  جس سے ریاست کے اسلامی تشخص اور عوام کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ اس دور کےبعض  اقدامات کا تسلسل آج  تک  چلا آتا ہے۔آج بھی ریاستی سطح اور دستوری وعدوں میں اسلامی نظام کے حوالے سے واضح فرق پایا جاتا ہے۔ حکم راں اشرافیہ اسلامی نظام کے قیام کو رجعت پسندی سے تعبیر کرتی ہے۔ ان کے خیال میں اسلامی نظام اپنی اصل شکل میں جدید دور کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔جنرل ضیا ء الحق کا دور اس سے مستثنیٰ ہے لیکن اس دور میں جنرل ضیا نے جس طرح اسلامی احکامات کو اپنے اقتدار کے دفاع میں ناجائز طور پراستعمال کیا اس سے اسلامی نظام سے  دوری پیدا ہوئی۔بہرحال نظری طور پر اسلامی جمہوری ریاست میں تاحال اسلامی شریعت کا نفاذایک خواب ہے اورریاستی سطح پراسلام اور سیکولر ازم کی کشمش میں پلڑا سیکولرازم کی جانب جھکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی دستور کے محاذ پر دینی قوتوں نے لادین عناصر کو پسپا کردیا ہے۔

3۔ریاستی سطح پر غیر اسلامی رجحانات کا تعاقب

قیامِ پاکستان کے  بعد  اقتدار جن ہاتھوں میں رہا وہ عموماً دینی تعلیمات سے بے زار یا کم از کم  ناآشناتھے۔سید مودودی ایسے تمام حکومتی اقدامات پر گرفت کرتے رہے جن میں اسلامی تعلیمات  کی  خلاف  ورزی کا عنصر پایا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں قیامِ پاکستان کے فوراً بعد غیر اسلامی  رجحانات کو فن و ثقافت  کے نام پر رائج کرنے کی کوششیں ہوں یا مخلوط انتخابات کو رائج کرنے کا معاملہ سید مودودی ان اقدامات کی روک تھام کے لیے کوشاں رہے۔

لیکن صدر ایوب خان کا دور حکومتی سطح پرجمہوریت اور اسلامی تعلیمات دونوں کو مسخ کرنے کے حوالے سے خاص ہے۔

صدر ایوب خان کا دور ملک کے لیے کئی گوناگوں مسائل ساتھ لایاتھا۔ان میں سیاسی اور مذہبی ہر طرح کے مسائل شامل تھے۔صدرجنرل ایوب خان کے سیاسی اقدامات کا نتیجہ ان کے اقتدار کے خاتمے کےمحض چند ہی سال بعد قوم کو نظرآگیا جب سابقہ مشرقی پاکستان ملک سے الگ ہوگیا۔جب کہ انہوں  نے جومذہبی نظریات پروان چڑھائے ان کے اثرات آج تک باقی ہیں ۔ صدرجنرل ایوب خان اپنی افتاد طبع کے تحت  جناب غلام احمد پرویز کے متجددانہ افکار سے بہت متاثر تھے ۔جناب غلام احمد پرویز امت مسلمہ کے متفقہ عقیدے کے برخلاف نظامِ شریعت میں حدیث وسنت کی اہمیت کے قائل نہیں۔ انہوں نے کمیونزم اور اسلام کا ایک آمیزہ “نظامِ ربویت” کے عنوان سے پیش کیا۔جس میں  نبی اکرمﷺ کی تشریعی حیثیت کا انکار کرکےحاکمِ وقت کو “مرکزِ ملت”قرار دے دیا گیا۔ اپنے دور حکومت میں صدر ایوب خان نے جناب غلام احمد پرویز کے ترجمان جریدے “طلوع اسلام”کی باقاعدہ سرکاری سرپرستی کی۔حکومتی مشینری کے مغربی تہذیب و تمدن  سے متاثرہ افراد اس تحریک کے معاون تھے۔1960ء میں حکومت کی جانب سے ایک ادارہ”ادارہ تحقیقاتِ اسلامی”کے نام سے قائم کیا گیا جس کا  مقصد علوم ِ اسلامی میں تحقیق اور جدید پیش آمدہ  مسائل کے بارے میں اجتہاد کرنا تھا۔ڈاکٹر فضل الرحمان 1961ء تا 1968ءاس کے ڈائریکٹر رہے۔ڈاکٹر فضل الرحمان معروف منکرِ سنت تھے۔آپ صدر ایوب خان کےاسلامی امور میں مشیر تھے۔ ملک میں نافذ عائلی قوانین کی تیاری و نفاذکا سہرا آپ ہی کے سر ہے۔

ملک میں یہ فضا بن چکی تھی کہ حضانت(بچوں کی دیکھ بھال اور سرپرستی) کے ایک مقدمے میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ  کے ایک معزز جج نے رسول اللہ ﷺ کو قانون ساز اور سنت و حدیث کو ماخذ اسلامی قانون ماننے سے انکار کردیا اورقرار دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قانون اخذ کرنے کے لیے عوامی نمائندوں (ممبرانِ پارلیمان )کو قرآنِ کریم کی تفسیر کرنا چاہیے۔

ا ن حالات میں سید مودودی نے پوری قوت کے ساتھ اسلام و جمہوریت کا مقدمہ پیش کیا۔آپ نےستمبر1961ء میں ترجمان القرآن کا منصبِ رسالت نمبر شایع کیاجو بعد ازآں” سنت کی آئینی حیثیت”کے نام سے کتابی شکل میں شایع ہوا۔آپ کے استدلال سے متاثر ہوکر مذکورہ بالا معزز جج صاحب نے اپنے ریمارکس سے رجوع کرتے ہوئے چیف جسٹس سے اپنے متذکرہ ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کر دی۔

صدر ایوب کی مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کی مخالفت

صدر ایوب خان کے پیشِ نظر جوہمہ گیر اصلاحی ایجنڈا تھااس میں  کئی مذہبی امور بھی شامل تھے ۔ انہوں نے صدارتی حکم کے تحت2؍ مارچ ۱۹۶۱ء کومسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرتے ہوئے عائلی قوانین کا نفاذکردیا۔ اس سے پہلے جون ۱۹۵۶ء میں اس وقت کی سول حکومت کے قائم کردہ عائلی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ پیش کی تھی‘ مگر علماء کی سخت تنقید کے بعد حکومت نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ انگریز دور میں بھی یہ قوانین ترمیم سے بالاتر رہے تھے۔۱۳؍ مارچ۱۹۶۱ء کو سیدمودودیؒ سمیت مختلف مکاتب فکر کے ۱۴ علماء نے عائلی قوانین کے بارے میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا‘ جس میں اس امر پہ انتہائی اظہار افسوس کیا گیاکہ حکومت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران عائلی کمیشن کی رپورٹ پر علمائے دین کے مدلل تبصروں اور اس کی کمزوریوں کی صاف صاف نشاندہی کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے کمیشن کی بیش تر غلط سفارشات کو نہ صرف قانونی شکل دے دی گئی‘ بلکہ وزیر قانون نے انھیں قرآن کے عین مطابق قرار دینے کی جسارت بھی کی۔ان حضرات نے قرار دیا کہ عائلی قوانین کا پورا تخیل ہی مغرب سے اخذ شدہ اور مغربی قوانین ِ نکاح و طلاق کا چربہ ہے۔

سوشلزم کا مقابلہ

قیامِ پاکستان کمیونسٹ حضرات کے لیے بھی ایک نئی امید کا سامان تھا۔ کمیونسٹ پارٹی نے قیامِ پاکستان کی حمایت  کی تھی اور ہندوستان کے بڑے کمیونسٹ قائدین پاکستان آگئے تھےاور بائیں بازو کے عناصر بہت زیادہ سر گرم تھے۔

سید مودودی نے ملک میں کمیونزم کے اثرات  کوآغاز میں ہی  بھانپ لیا تھااور اس کےمضرات کے سدباب کے لیے کوشاں ہوگئےتھے۔

سن ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں ملک میں سیاسی سرگرمیوں کے اجراء کے بعدکمیونسٹ عناصر کا تشدد اور لاقانونیت حد سے بڑھ گئی اور حکومت اس کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی تھی۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی‘ عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی‘مزدور کسان پارٹی اور مشرقی پاکستان میں عبد الحمید بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی ‘ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ سوشلزم کے متشددپرچارک تھے۔طلباومزدوریونینیں  ان کا خاص ہدف تھے جنہیں اپنے دائرہ اثر میں لانے کے لیے ان کی ساری تگ و دو تھی۔

18 دسمبر ۱۹۶۸ء کو سید مودودی بیرونِ ملک علاج کے بعد جب وطن واپس آئے تو یہ وہ وقت تھا جب یہاں سوشلسٹ انقلاب کے نعرے لگنا شروع ہو گئے تھے۔ سید مودودی نے لاہور آمد پر برملا اعلان کیا کہ یہ محمد عربی ﷺ کا ملک ہے یہاں کسی میں ہمت نہیں کہ اسلام کے سوا اور کوئی نظام لا سکے۔

“حضرات جب تک ہم زندہ ہیں اور ہمارے سر اپنی گردنوں پر قائم ہیں اس وقت تک کسی کی یہ ہمت نہیں کہ وہ یہاں اسلام کے سواکوئی اور نظام چلاسکے۔یہ محمدﷺکی امت کا ملک ہے ۔ یہ مارکس اور ماؤزے تنگ کی امت کا ملک نہیں ۔ یہاں کوئی دوسرا نظام ان شاء اللہ نہ چل سکے گا۔اور ان شاء اللہ لادین طبقے کی آمریت بھی یہاں نہیں چل سکے گی”۔

سید مودودی کے ان الفاظ نے سننے والوں میں ایک جوش و خروش پیدا کردیا۔انہوں نےسوشلزم کا مقابلہ تعلیم، سیاست،صحافت،ادب غرض زندگی کے ہر میدان میں اس شان سے کیا کہ سوشلسٹ انقلاب جو ایک زمینی حقیقت معلوم ہوتا تھادیوانے کا خواب بن کر رہ گیا۔

حامد کمال الدین اس  حوالے سے لکھتے ہیں :

“حق یہ ہے جو کرداراس (کمیونزم کی شکست ۔مرتب)میں سید مودودی ﷬ کا ہے اس کے مقابلے میں کسی کا نام لیا ہی نہیں جا سکتا۔ کمیونزم کو ’خبر ِ ماضی‘ بنا دینے میں جنوبی ایشیا کی قابل ذکر ترین شخصیات کی واقعتا کوئی فہرست بنتی ہے تو حق یہ ہوگا کہ سب سے اوپر سید مودودی ﷬ کا نام لکھا جائے، اس کے بعد بھی بہت سے خانے چھوڑ دیے جائیں اور پھر اگر کسی جرنیل وغیرہ کا نام آتا ہے تو اس کو لکھا جائے!”۔

یوم ِشوکتِ اسلام ۔۳۱؍ مئی ۱۹۷۰ء

ملک میں اسلام اور سوشلزم کے درمیان نظریاتی کش مکش  کا اہم موڑ اس وقت آیا جب اشتراکی قوتوں کے لیڈر عبدالحمید بھاشانی نےٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان کانفرنس کے عنوان سے اشتراکیوں کے اجتماع میں ملک میں انارکی  پھیلانے اور خون خرابے کی دھمکی دی اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے۱۹؍ اپریل 1970ء کو پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس ہڑتال کو ناکام بنانے کی  اپیل کی تاکہ سوشلسٹ عناصر کے اس دعوے کو رد کیا جائے کہ وہ جب چاہیں پورے ملک کے نظام کو معطل کرسکتے ہیں۔

۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء کی ہڑتال مکمل طورپر ناکام ہوگئی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس نے: ’’اپنے عزم و شعور اور متحدہ ارادے کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ملک کے دونوں بازوؤں میں اس ہڑتال کو قطعی ناکام کردیا‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ:

’’اس ملک میں اسلام کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کو دارالاسلام بن کررہنا ہے یا مارکس اور لینن کی امت کا ملک بن جانا‘‘۔

۱۹؍اپریل ۱۹۷۰ء کی ہڑتال کی ناکامی کے بعد عبدالحمید بھاشانی نے پھر اعلان کیا کہ یکم جون 1970ءسے براہِ راست تحریک شروع کی جارہی ہے۔ اس کے جواب میں سید مودودیؒ نے قوم سے اپیل کی کہ اب ضروری ہے کہ مسلمان ایک دن پورے پاکستان میں اسلامی نظام کے حق میں طاقت کا مظاہرہ کریں۔ مولانا مودودیؒ نے تمام اسلامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ۳۱؍مئی کو بالا تفاق ’’یومِ شوکتِ اسلام‘‘ کے مظاہرے کا دن منائیں۔ جس سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے کہ پاکستان کے ۱۲‘کروڑ مسلمان اسلام کے علاوہ کسی نظام کو قبول نہیں کر سکتے۔ ۳۱؍مئی ۱۹۷۰ ء پاکستان کی تاریخ کااس حوالے سے ایک یادگار اور ناقابل فراموش دن ثابت ہوا کہ اس دن شدید گرمی میں پورے ملک کے عوام نے اپنی اسلام سے لازوال وابستگی کا اعادہ کیا اور  لاہور اور ڈھاکا سے لے کر چٹاگانگ اور کراچی تک پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہر ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھےاور لاکھوں افراد نے ان جلوسوں میں شرکت کی۔ ان جلسے‘ جلوسوں اور مظاہروں سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ اس سرزمین کے باشندے اسلام کے علاوہ کسی نظام کو قبول نہیں کر سکتے۔

لاہور میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید ابو الاعلی مودودیؒ ،اکابرین جماعت اور دیگر دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے یوم شوکت اسلام کے بہت بڑے جلوس کی قیادت کی جو لاہور کی اہم شاہراہوں سے گزرا ۔”یومِ شوکتِ اسلام” دینی عناصر کی تقویت کے لیے ایک اہم دن ثابت ہوا۔

4۔جمہوریت کا فروغ اور آمریت کی مزاحمت

سید مودودی  تبدیلیِ رائے عامہ کے لیے جمہوری آزادی  کی اہمیت سے واقف تھے کہ اگر جمہوریت ہوگی تو رائے عامہ ہم وار کرنے کا موقع اسلامی و غیراسلامی ہردو طرح کی جماعتوں کے لیے ہوگا اور فیصلہ عوام کو کرنا ہوگا لیکن جمہوری آزادیاں نہ ہونے کی صورت میں غیر اسلامی جماعتیں تو اپنا کام  بہرحال  کرتی رہیں گی خواہ خفیہ طور ، روپ بدل کر یا آمروقت کی چاپلوسی سے      مگر  اسلامی جماعت کے لیے کام کرنے کی درست صورت صرف یہی ہوسکتی ہے کہ وہ سیاسی آزادی  کے ساتھ عوام میں اپنا دعوتی کام انجام دے ا سی لیےسید مودودی  ملک میں ان آزادیوں   کے زبردست موئیداور آمریت کے شدید مخالف تھے  اور اس کے لیے انہوں نے عام مذہبی ذہن کے برعکس لادین عناصر تک  کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے سے بھی گریز نہ کیا کیونکہ بطور پرامن نظریاتی جماعت یہ آپ کے نزدیک زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔آپ قیامِ پاکستان  کے فوراً بعد اسلامی دستور کے قیام و نفاذ کے ساتھ ساتھ ملک میں شہری آزادیوں  کے  رواج اور آمرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے بھرپور طور پر کوشاں رہے۔

اس حوالے سے جنرل ایوب خان کا دور جماعتِ اسلامی کے لیے سخت مشکل  کا دور رہا ۔ جس میں  ایک طرف جماعتِ اسلامی پر پابندی عاید کی گئی اور دوسری  طرف  حکومتی سطح پر روشن خیالی اور تجددپسندی کو اسلامی رنگ دینے کے خلاف سید مودودی اور ان کی جماعت مستقل میدانِ عمل میں رہے۔

ممتاز دانش ور حسین حقانی ،ایوب خان کی مخالفت کے اسباب اور جماعت اسلامی کی ایوب مخالف حکمت عملی کاسبب ایوب خان کی اپنے آپ کومغربی دنیا کے سامنے  روشن خیال مسلمان ثابت کرنے کی کوششوں کے طور پر مذہبی اور دینی جماعتوں سے دوری اختیار کرنے کے طرز عمل کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول ایوب خان کے مذہبی سیاست سے گریز اور مذہبی جماعتوں کو دور رکھنے کے رجحان نے ہی جماعت اسلامی کو جمہوریت پسند سیکولر جماعتوں  کے ساتھ ملنے پر مجبور کیا اور جماعت اسلامی ایوب خان کے مخالفین میں ایک نمایاں نام بن کر سامنے آئی اور یہاں  تک کہ ایوب خان نے سیاسی جماعتوں پر پابندی  کے حوالے سے قانون بنا کر جماعت اسلامی کو ہی کالعدم قرار دے دیا۔ اگرچہ بعد ازآں عدالتِ عظمیٰ نے یہ پابندی ختم کرکے سیاسی جماعتیں بحال کر دیں۔ اگرچہ ایوب خان کے دور میں بھی جماعت اسلامی بعض قومی معاملات پر حکومت کے ساتھ تعاون کرتی رہی اس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عرب دنیا میں اپنے اثرورسوخ کو پاکستانی موقف کے ابلاغ کے لیے استعمال کیا ۔

ایوب خان نے بطورِ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر۱۹۵۹ء میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام قائم کیا۔ یکم؍ فروری ۱۹۶۰ء کو بنیادی جمہوریتوں کے ۸۰ ہزار نمائندے منتخب کیے گئے اور ان سے ووٹ لے کرچیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرسے صدر بن گئے۔ ملک میں نئےدستور کی تیاری  کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس نے  7   اپریل ۱۹۶۱ء کو اپنی رپورٹ پیش کی‘ لیکن صدر ایوب نے اپنے نامزد کردہ کمیشن کی رپورٹ کوبھی قبول نہ کیا اور یکم   مارچ ۱۹۶۲ء کو خود ایک دستور بناکر نافذ کردیا۔اس دستور میں ملک کے نام سے اسلامی کا سابقہ حذف کردیا گیا اور اسے محض “جمہوریہ پاکستان” قرار دیا گیا۔ نئے دستور کے نفاذ کے بعد بھی مارشل لا نافذ رہا‘ سیاسی پارٹیاں بھی ممنوع رہیں۔ مارشل لا کے سائے میں انتخابات کرائے گئے۔ جون ۱۹۶۲ء میں قومی اسمبلی وجود میں آئی اور اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کا قانون پاس ہوتے ہی ۱۶؍ جولائی کو سیاسی جماعتیں بحال ہوگئیں۔

سید مودودی نے ۱۹۶۲ء کے آئین کو صریحاً غیر اسلامی اور غیر جمہوری قرار دیا‘ اور اسے جمہوری بنانے کے لیے اس میں ترمیمات کی تجویز پیش کی۔ سب سے پہلے دو تبدیلیاں ایک بنیادی حقوق کی بحالی اور دوسرے بالغ رائے دہی کے ذریعے براہ راست انتخابات کے مطالبے پیش کیے گئے۔

بحالی ِجمہوریت کی مہم

نومبر۱۹۶۳ء میں سید مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے ملک کے اسلامی تشخص اور جمہوریت کی بحالی کی مہم چلائی اور عوام کے متفق مطالبات یعنی بنیادی حقوق بحال کرنے اور بالغ رائے دہی کے اصول پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کے مطالبات کے لیے آواز بلند کی۔ اس مہم میں لاکھوں پاکستانی باشندوں سے محضر ناموں پر دستخط کرائے گئے‘ جنہیں جوڑکر ۱۴ کلومیٹر لمبامحضر نامہ تیار ہوگیا۔

۱۸؍ دسمبر ۱۹۶۳ء کو مذکورہ محضر نامہ جو نو میل لمبا تھا‘ دو تین ٹرکوں پر لاد کر ڈھاکا میں پارلیمنٹ تک لایا گیا‘ جہاں اسلامی جمہوری محاذ کے لیڈر اور رکن قومی اسمبلی میاں عبدالباری اور دوسرے ارکان اسمبلی کے ذریعے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔

آمرجنرل ایوب خان کی مخالفت اور محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت

1964ء میں ملک صدارتی انتخاب کےدوراہے پر تھااورصدرجنرل ایوب خان اگلی میعاد کے لیے پھر امیدوار تھے۔  ان کے مقابلے میں ایک ایسی شخصیت درکار تھی جو عوام کی نظر میں قابلِ قدر ہو۔

۱۷؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے متحدہ محاذ نے ایک اجلاس میں محترمہ فاطمہ جناح سے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کی درخواست کی تھی۔محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ملک و ملت کی بقا اور آمریت کے خاتمے کی خاطر قبول کرلیا تھا۔

حکومت  کی جانب سے سرکاری ریڈیو‘ ٹی وی اوراپنے زیرِ اثر  اخبارات وجرائد  کے ذریعے اور جلسے جلوسوں میں اس بات کو بہت اچھالا گیا کہ اسلام میں عورت کا سربراہ مملکت ہونا غیر اسلامی ہے اور کئی روایتی علماء اس حوالے سے صدر ایوب کی حمایت میں سامنے آئے۔لیکن صدر ایوب کی مخالفت میں مولانا مودودی اور حزب اختلاف محترمہ فاطمہ جناح پر مکمل طور پر متفق تھے۔

25؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو موچی دروازہ لاہور میں جماعت اسلامی کا ایک جلسہ عام ہوا‘ جس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سیّد مودودیؒ نے ایوب خان کو متعدد غیر آئینی اور غیر قانونی استبدادی اقدامات کا مجرم قرار دیتے ہوئے‘ انہیں عہدہ صدارت کے لیے نا اہل قرار دیا۔ ان اسباب میں عوام کے اعتماد کو مجروح کرکے ملک کی حفاظت کے بجائے اس کا مالک بن بیٹھنا‘ پورے ملک میں پونے چار سال تک مارشل لا نافذ رکھنا‘ سول انتظامیہ اور عدالتوں کی موجودگی میں فوجی عدالتیں قائم کرنا‘ مارشل لا کے نفاذ کے دوران بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات اور غیر جمہوری طورپر بنیادی جمہوریتوں کے اراکین کے ووٹوں کے ذریعے بغیر کسی مدمقابل امیدوار صدارت کے صدر بن بیٹھنا‘ خود اپنے ہی مقرر کردہ آئینی کمیشن کی سفارشات کو تسلیم نہ کرنا اور مارشل لا کی حالت میں شخص واحد کا تیار کردہ غیر جمہوری اور غیر اسلامی آئین ملک و قوم پر مسلط کرنا شامل تھا۔

انھوں نے جمہوری اقدار کی بحالی کی خاطر اور آمریت کے خاتمے کے لیے محترمہ فاطمہ جناح کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

مولانا مودودیؒ نے اپنی تقریر میں اورحزبِ اختلاف کے  متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم پر انتخابی جلسوں میں جماعت اسلامی کے اس اجتہادی اقدام کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ:

 ’’ایک طرف ایک امیدوار میں اس کے سوا کوئی اور خامی نہ ہو کہ وہ ایک عورت ہےاور دوسری طرف مرد  امیدوار میں  اس کے سوا کوئی خوبی نہ ہوکہ وہ ایک مرد ہے تو اس سورت میں اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا کہ خاتون امیدوار کی حمایت کی جائے اور یہی وجہ ہے کہ ہم محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دے رہے ہیں “۔

کھلی دھاندلیوں‘ سرکاری مشنری کے بے دریغ استعمال‘ نومنتخب اراکین بنیادی جمہوریت کے تحفظ کے باوجود محترمہ فاطمہ جناح کو ۲۸ ہزار سے زیادہ ووٹ ملے‘ جبکہ ایوب خان کو پچاس ہزار ووٹ ملے اور انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو زیادہ ووٹ مشرقی پاکستان سے ملے۔ مغربی پاکستان میں انہیں صرف کراچی سے کامیابی حاصل ہوئی۔

5۔ پرامن دستوری جدوجہد

سید مودودی پرامن نظریاتی جدوجہد کے قائل اور داعی تھے۔ آپ مسلح جدوجہد کی مشکلات اور موانعات سے آگاہ تھے، سید احمد شہید ؒ  کی بے مثال تحریکِ جہاد کی ناکامی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ مسلم قوم کی اخلاقی حالت بھی آپ کے سامنے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ خفیہ اور مسلح تحریکات کے سخت خلاف تھےکہ ان کے نتائج عمومی طور پر کبھی بھی مثبت نہیں برآمد ہوئے ہیں۔

“اس سلسلے میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلدبازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلایئے، بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ لوگوں کے خیالات بدلیے۔ اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا وہ ایسا پایدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلدبازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا”۔

یہی سبب ہے کہ انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر آپ مغربی جمہوریت میں ترمیم و اضافے کی بعض شرائط کےتحت جمہوریت کے شرعی طور پرقابلِ قبول ورژن کو پیش کرتے ہیں اور اسے اپنی سیاست کی بنیاد بناتے ہیں۔

سید مودودی نے قیام ِپاکستان کے فوراً بعد وقت کی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے خدمتِ خلق اوراپنے تصورات کے مطابق صحیح اسلامی ریاست کے قیام کی پرامن عملی جدوجہد کا آغاز کردیا جس کی بنیاد نوزائیدہ مملکت کے لیے اسلامی دستور کی تیاری و منظوری پر رکھی گئی ۔جیسا کہ واضح کیا گیا کہ سید مودودی آزادی فکر اور دلیل و مکالمے کی بنیاد پر عوام الناس کی ذہن سازی کے ذریعے اسلامی انقلاب کی منزل سَر کرنا چاہتےتھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک میں افسر شاہی اور آمریت کی ہر صورت کی مخالفت کی اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہ کیا کیونکہ ایسے  حالات میں عوام تک صحیح بات منتقل کرنا اور ان کی اسلامی تربیت کو بروئے کار لاکر نفاذِ اسلام کا کام آزادی سے عمل میں لانا ناممکن ہوجا تا ہے۔بعدازآں  جمہوری آزادیوں کی غیر موجودی اور آمریت کے تسلط  نے اسلامی دستور کے ساتھ آمریت مخالفت، شہری آزادیوں اور حقوق کی بحالی  کی مہم کو آپ کے پروگرام کا لازمی حصہ بنادیا۔

6۔ مثبت سیاسی اقدار کا فروغ

پاکستان میں اسلامائزیشن کے حوالے سے سید مودودی کے طریقۂ کار اور ان کی حکمتِ عملی کے   عناصر کا جائزہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ملک میں اسلامی نظام کے لیے آزادی و رواداری اور عدل و انصاف  کی فضا لازمی ہے۔جس کے لیے سید مودودی ہمیشہ کوشاں رہے۔   آپ نے دلیل اور مکالمے کی بنیاد پر اپنے دعوتی کام کو آگے بڑھایا۔ اگرچہ آپ کی دعوت ٹھیٹھ مذہبی ہے لیکن آپ فرقہ واریت سے کوسوں دور ہیں ۔آپ  ظلم اور استحصال  کے خلاف ہیں اور ریاستی جبراور تشدد کو ناروا سمجھتے ہیں لیکن کمیونسٹوں کے برعکس آپ کی دعوت غیر طبقاتی ہے۔آپ انسان کو انسان کے طور پر مخاطب کرتے ہیں نہ کی کسی علاقائی یا لسانی بنیاد پر۔اس طرح آپ نے علاقائیت کی نفی کرکے حب الوطنی کو فروغ دیا اورحکومتی عداوت کے باوجود استحکام ِپاکستان میں ہمیشہ اپنا اہم کردار ادا کیا۔ آپ کے تربیت یافتہ افراد جب ایوانوں میں گئے تو ناقابلِ فروخت ٹھہرے۔آپ کی قائم کردہ جماعت، جماعتِ اسلامی اپنی مضبوط تنظیم، مخلص کارکنان،کامل جمہوری اندازِ کار،کارکنوں کے باہمی قریبی ربط وضبط اور تہذیب و شائستگی کی روایات  کے باعث دیگر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مثال رہی ہے۔

رانا صابر نظامی کہتے ہیں :

“جماعت(اسلامی) نے سیاست کو عبادت بنادیا۔اس نے اپنے کارکنوں کو کامیابی سے یہ سمجھایا ہے کہ سیاسی جدوجہد  غلبۂ دین ہی کی جدوجہد ہے اور یہ عین اسلامی عمل ہے ۔چنانچہ ا س کے کارکن  سیاسی کام کو بھی دینی کام ہی سمجھتے ہوئے تن من دھن سے اس کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں  جبکہ دوسری جماعتیں اس قسم کا کوئی نعرہ یا تاثر اپنے کارکنوں کو نہیں دے سکتیں”۔

7۔ نوجوانوں کی تعمیری  رہ نمائی

سید مودودی  نے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے کو خصوصاً متاثر کیا اور انہیں الحاد و بے دینی کے سیلاب میں بہہ جانے سے روکااور ان میں اسلام پر اعتماد کو پروان چڑھایا۔سید مودودی نے نوجوانوں کی رہ نمائی کی اور ان کی سرپرستی میں 23 دسمبر 1947ء کو اسلامی جمعیت طلبہ کی لاہور میں بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بانی طلباء  کی تعداد 25 تھی جن کا آبائی تعلق جماعت اسلامی کے گھرانوں سے تھا۔جمعیت کا مرکز کراچی میں قائم کیا گیا اور 1952ء میں اس کا دستور بنا۔

اسلامی جمعیت طلبہ کا کام ذہین و باصلاحیت  نوجوانوں کی اسلامی ذہن سازی و تربیت کرنا تھا تاکہ ملک کےمستقبل کی قیادت کو تیار کیاجاسکےاور اسلامی انقلاب کو اوپری( حکومتی )سطح سے نافذکرنے میں مدد مل سکے۔جمعیت پر ابتدائی دور میں جماعت سے زیادہ اخوان المسلمون کا اثر غالب تھا۔

پاکستانی سیاست میں جہاں جاگیردار اور سرمایہ داربالادست اور سیاسی منظرنامے پر چھائے ہوئے ہیں ، جماعتِ اسلامی و اسلامی جمعیت طلبہ سمیت مذہبی جماعتیں شہری و دیہی متوسط اور زیریں متوسط  طبقات کے لیے سیاسی میدان میں داخلے کا دروازہ کھولتی ہیں ۔ جمعیت کی مقبولیت اور نوجوانوں کی بڑی تعداد میں اس سے رجوع کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے۔

حسین حقانی کے مطابق جماعت اسلامی کا شعبہ طلبہ ،اسلامی جمعیت طلباء ،جماعت اسلامی سے زیادہ انقلابی تھا۔ جمعیت نے ملک بھر میں منظم اور فعال کمیونسٹ طلبہ تنظیموں  کی بھرپور مزاحمت کی ۔اسلامی جمعیت طلبہ ایک طرف جماعت اسلامی کے لیے نوجوان خون کی  شمولیت کے حوالے سے سب سے بڑی نرسری تھی دوسری طرف جمعیت کے فارغ طلبا پاکستان کی سول سروس میں اہم کردار ادا کرنے لگے ۔

ولی نصر کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ  پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں ایک اہم اور نتیجہ خیز قوت رہی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ ، نوجوان طبقے میں نظریاتی بیداری کا اہم ذریعہ ہے۔ اپنی زندگی کے اہم ترین سالوں میں نوجوان طلبہ جمعیت سے وابستہ ہوتے ہیں اور سید مودودی کے افکار پر مبنی جمعیت و جماعت کے لٹریچر سے آگاہی حاصل کرتے ہیں ۔ یہ نوجوان معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے جماعت ِ اسلامی مستقبل کے کارپردازانِ حکومت، سیاسی قائدین، دانش وروں اور  دیگر بااثر افراد کی ذہنی تربیت کرکے انہیں تیار کرتی ہے کہ وہ جہاں ہوں وہاں جماعت کے پروگرام  اور اس کے نظریے کے پھیلاؤ میں معاون ہوں ۔یہ دور رس اثرات والا کام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

مندرجہ بالا اور دیگر کئی مثبت اقدار نے مجموعی طور پر ملک کے سیاسی نظام کی  بہتری اور اسلامی نظام کی جانب پیش قدمی میں یقیناً ایک قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔

ناقدین کی نظرمیں سید مودودی کی سیاسی فکر کے منفی اثرات

مندرجہ بالا وہ اثرات ہیں جنہیں مثبت کے ذیل میں گنا گیا ہے۔ اب کچھ ان اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے جنہیں ان کے ناقدین کی جانب سے بطورِ الزام منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

1۔ مذہب کا سیاسی استعمال

اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ پاکستان کے قیام میں ملتِ اسلامیہ برصغیر کے مذہبی جذبات کی تسکین کا پہلو غالب عنصر کے طور پر موجود تھا۔ لیکن جیسا کہ گزشتہ ابواب میں نشان دہی کی گئی عوام کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرکے ان کی توجہ اصل مسائل کی جانب سے ہٹائی جاتی رہی ۔حقیقتِ حال کی سنگینی ، مسائل کے حل کرنے میں  ناکارگی اور دیرپا نتائج کے لیے موثر حکمتِ عملی کے بجائے وقتی اقدامات پر انحصار نے قیامِ پاکستان کے بعد صورت حال کو خراب تر کردیا۔اسلام سے عقیدت و وابستگی کی فضا میں حکومت  کے لیے لوگوں کو مطمئن رکھنے کا ایک بہانا نمائشی اقدامات  کے ذریعے عوام کے مذہبی جذبات کواپیل کرنا تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات میں مسلم لیگ  بالادست سیاسی جماعت کے طور پرابھری۔ حصولِ پاکستان کا معرکہ اس نے تنہا سر کیا تھا۔اس کے اتحادی عناصرسیاسی محاذ پر اس کے تابع تھے جب کہ مخالفین  شکست خوردہ ہونے کے سبب منقارِ زیر پر تھے۔ا ن  حالات میں مسلم لیگ کو کسی طرف سے کسی دباؤ کا سامنا نہیں تھا اور وہ  ملکی سیاست کے سیاہ و سفید کی بالکلیہ مالک تھی مگر مسلم لیگ بہ وجوہ اس مثالی صورتِ حال میں اپنے اور نوزئیدہ ریاست ، دونوں کے لیے مفید و موثر اقدامات کرنے سے قاصر رہی جیسا کہ باب چہارم میں ہم جائزہ لے چکے ہیں۔

سید مودودی  اگرچہ انڈین نیشنل کانگریس کی اعلانیہ نقاد تھے اور ان کی جانب سے کانگریس پر کی جانے والی تنقید مسلم لیگ کے لیے گویا ایک نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی تھی تاہم جلد ہی سید مودودی کے نشترِ قلم کا رخ مسلم لیگ کی قوم پرستانہ سیاست کی جانب ہوگیاتھا جسے سید مودودی اپنے تئیں خلافِ اسلام باور کرتے تھے۔تحریکِ  پاکستان کے دوران سید مودودی مسلم لیگ کے اسلامی ریاست کے نعرے کو خلافِ حقیقت  قراردیتے رہے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب اسلامی ریاست کے بجائے سیکولر ریاست کی باتیں عام ہوئیں تو انہوں نے مسلم لیگ کو اس کے وعدے یاد دلانا شروع کیے اور جلد ہی مطالبہ نظامِ اسلامی کی مہم شروع کردی۔بعض مبصرین کے خیال میں یہ مذہب کا سیاسی استعمال ہے کیونکہ اس طرح سید مودودی اور جماعتِ اسلامی کو پاکستانی سیاست میں جارحانہ انداز میں داخلے کا جواز مل گیا۔

نامور صحافی اور دانش ور زاہد چوہدری اس بات پرزور دیتے ہیں کہ  قیام پاکستان کے ساتھ ہی مذہبی جماعتوں اور حکومت دونوں کی جانب سے اپنے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے نفاذ اسلام اور شریعت کانام استعمال کرنے کا راستہ اختیار کرلیا گیاتھا ۔

زاہد چوہدری  اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ  1948 ءکے اوائل میں سید مودودی کے کھل کر میدانِ سیاست میں اترنے کا سبب اس حقیقت کا ادراک تھا کہ ایک طرف روایتی علماءمثلاً علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور عبدالحامد بدایونی نے نظام ِخلافت کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا تو دوسری طرف وزیراعظم لیاقت علی خان ،وزیر مواصلات سردارعبدالرب نشتر اور وزیرداخلہ فضل الرحمن شاہ شب وروز اس یقین دہانی میں مصروف تھے کہ پاکستان میں اسلامی نظام رائج ہوگا۔

قیامِ پاکستان کے بعدان حالات میں جب کہ علماء نوزائیدہ مملکت میں محض روایتی شیخ الاسلام کے منصب کے طلب گار اور اسی پر قانع ومطمئن تھے  سید مودودی نےاسلامی دستور اور مکمل اسلامی نظام کے قیام کی بات پورے زور سے پیش کی جس سے مذہبی عناصر کو نیاحوصلہ ملا۔

بعداز آں تمام ہی مذہبی جماعتیں اسلامی نظام کے مطالبے پر ہم آہنگ ہوتی چلی گئیں اور تاآنکہ بریلوی مسلک کےراسخ العقیدہ پیروکاروں کی انتہا پسند تنظیم  “تحریکِ لبیک پاکستان “(جو حکومتِ پاکستان کی جانب سے انتہا پسند رجحانات کے سبب کچھ عرصہ پابندی کا بھی شکار رہی) نے “نبی ؐ کے دین کو تخت پرلاناہے” اپنا نعرہ قرار دے دیاہے۔مذہب کے اس سیاسی استعمال نے سیاسی مکالمے کومشکل بنا دیااور مذہبی انتہا پسندی کے فروغ نے  سیاسی ماحول کو مکدر کردیا۔

2۔ مذہبی انتہا پسندی کا فروغ

اسلام اعتدال کا دین ہے۔اسلام کے اصول ناقابل تبدّل ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔    جبکہ سیاست دو مخالف انتہاؤں کے مابین ایک متفقہ راستہ نکالنے کا فن ہے۔ سیاسی معاملات میں مذہب کو دخیل کرنے کا نتیجہ مکالمے کی جگہ فتوے کی عمل داری اور عقلی دلیل پر رواجی طریقے  کی برتری  کی صورت میں سامنے آیا۔اسلام کے سیاسی استعمال اورعوامی جذبات کے استحصال  کا اوّلین نتیجہ 1953ء میں تحریکِ ختمِ نبوّت کے فسادات کی شکل میں نکلا ۔جس میں بے گناہ انسانی جانوں کا اتلاف ہوا۔اس تحریک کے آغازکے اسباب متفرق تھے مگرتجزیہ  نگار اس تحریک کوجماعتِ احرار کی جانب سے اپنے سیاسی احیاء کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں ۔ سید مودودی کے مطابق:

“حقیقت یہ ہے کہ احراراپنی سابق کانگریسیت کی وجہ سے مسلمانوں میں سخت غیرمقبول ہوچکے تھے اوران کی یہ حیثیت ہرگزنہیں رہی تھی کہ اپنے بل بوتے پراس ملک میں کوئی عام تحریک برپاکرسکتے…مگر قادیانیوں کے مسئلہ میں مسلمانوں کے عام احساسات اتنے تلخ تھے کہ احرارجیسی غیرمقبول جماعت بھی جب ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے آگے بڑھی توشہروں اوردیہاتوں کے لاکھوں عوام ان کے پیچھے لگ گئے۔ “

سید مودودی کا اس تحریک سے تعلق اتنا تھا کہ انہوں نے اس علمی و دستوری مسئلے (قادیانی مسئلہ) پرمہذب علمی انداز میں کلام کیا اور اپنے موقف کے حق میں معقول دلائل دیے۔وہ اولاً اس معاملے کوعوامی  تحریک کا موضوع بنانے کو تیار نہ تھے اور ان کے خیال میں یہ مسئلہ اسلامی دستور کے مطالبے کی زوردار مہم سے توجہ ہٹانےکا ایک ذریعہ تھا لیکن عوامی جذبات کے پیشِ نظر انہوں نے اسے مطالبہ نظامِ اسلامی کا نواں نکتہ بنانا قبول کرلیا۔

 تاہم یہ علمی مسئلہ جب عوام کے درمیان طے ہونے گیا تو اس نے ایک خطرناک رُ خ اختیار کرلیا جسے حکومت کی بے تدبیری نے مزید سنگین کردیااور تحریک پرتشدد ہوگئی۔اس تحریک   کی قیمت لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کی صورت میں  ادا کرنی پڑی ۔ سید مودودی  کسی نوعیت کےتشدد کے حق میں نہ تھے اورپرامن تحریک کے ذریعے مسئلے کے حل کے داعی تھے ۔مولانا مودودی کے بارے میں قادیانی مخالف علماء کی جانب سے پراپیگنڈے کا شکار ہوکر ایک ہجو م ان کے مکان پر چڑھ آیا۔جبکہ جماعتِ قادیان کی جانب سے انہیں  پانچ واجب القتل ’’خونی ملاؤں‘‘کی فہرست میں شامل کیا گیا اور حکومت ِوقت نے انہیں گرفتارکرکے ان کا کورٹ مارشل کرایااورپہلے سزائے موت اورپھرچودہ سال قیدبامشقت کی سزا سنادی گئی۔

مذہبی طبقات میں بعض عناصر وہ ہیں جو دین  کی وسیع النظری پر مبنی عادلانہ تعلیمات کی بجائے تنگ نظر فرقہ وارانہ نکتہ نظر کے  حامل ہیں۔  اسلام کے نام پر اقتدار کی کشمکش کا ایک فریق بننے کی اپنی خفتہ طاقت کا ادراک ان کے لیے اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کا   ایک سنہری موقع ثابت ہوئی۔ عوام کی دینی و سیاسی تربیت نہ ہونے کے باعث عوام کو متحرک اور اپنے مقاصد کے لیے انہیں استعمال کرنے میں ایسی جماعتیں عموماً کام یاب رہی ہیں ۔ اگرچہ  انتخابی سیاست کے حوالے قومی سطح پر ان کا کردار  کم زور ہے لیکن علاقائی سطح پر اور سودے بازی کے لحاظ سے بڑی قومی جماعتوں سے معاملہ کرنے میں ایسی جماعتیں کام یاب ہیں۔

اسلام کے ریاستی کردار کی جب بات  کی جائے تو اس سے یہ جماعتیں اپنے گروہی اور فرقہ وارانہ  مفادات مراد لیتی ہیں اور عوام صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کرپاتے۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ سیکولر عناصر کا مقدمہ مضبوط ہوتا ہے اور وہ ان عناصر کی منفی روش کو اصل اسلام پسندوں کے کھاتے میں ڈال کرمذہب کے ہر قسم کے سیاسی کردار کی مخالفت  کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سید مودودی اور جماعتِ اسلامی کی اسلامی نظام کی  جدوجہد کے ثمرات میں یہ انتہاء پسندعناصر بھی برابر کے شریک ہیں ۔

انتہاء پسندی کی ایک دوسری شکل  عسکریت پسندی  و دہشت گردی ہے۔

سید مودودی کی فکر میں بغاوت اور حریّت  کا عنصر انتہائی نمایاں ہے۔اس میں رائج الوقت نظام کے بجائے اسلامی نظام کے احیاء کی پرجوش تاکیدموجود ہے۔وہ جہاد کو اس کے وسیع تر مفہوم میں استعمال کرتے ہیں اور اس بارے میں کسی معذرت خواہانہ  رویے سے کام نہیں لیتے۔اگرچہ سید مودودی نے کبھی مسلح جدوجہد کو تبدیلی کا موثر ذریعہ قرار نہیں دیا اور خفیہ تحریکوں کی مخالفت کی لیکن ان کے افکار سے رہ نمائی لینے والوں میں وہ طبقات بھی شامل ہیں جو مسلح جدوجہد کے ذریعے اسلامی انقلاب کے قائل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ناقدین ان کی فکر کو دہشت گردی کی افزائش کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی کتب بنگلہ دیش، بھارت ، سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک کے کتب خانوں سے ہٹائے جانے کے  سرکاری احکامات  جاری ہونے کی خبریں اخبارات میں  شایع ہوتی رہتی ہیں۔

3۔ ہوسِ اقتدار

ہر سیاسی جماعت کا حتمی مقصود اقتدار کا حصول ہواکرتا ہے اور اسے جمہوری نظام میں کوئی معیوب بات بھی تصور نہیں کیا جاتا شرط یہ ہے کہ  حصولِ اقتدار کی جدوجہد  قائدے اور ضابطے کے تحت رہ کر کی جائے اور حصول اقتدار کے لیے غیر اخلاقی یا غیر قانونی ذرایع سے اجتناب کیا جائے۔

سید مودودی کے ناقدین کی نظر میں ان کے سیاسی عزائم کا تعلق دینی خدمت سے زیادہ  اقتدار کی ہوس سے تھا ۔ بطور ایک سیاسی رہ نما اس الزام میں کوئی وزن نہیں کیونکہ ہر سیاسی رہ نما کی خواہش لیلائے اقتدارکے وصل  سے شاد کام ہونا ہوتی ہے ۔لیکن سید مودودی محض سیاسی رہ نما نہ تھے بلکہ  آپ ایک مذہبی و دینی قائد بھی تھے۔مزید یہ کہ  آپ کی سیاسی حیثیت آپ کے اپنے نظریات کے مطابق ان  کی دینی شخصیت کے تابع تھی۔اس لحاظ سے یہ الزام کہ آپ کی جدوجہد محض حصولِ اقتدار کی ایک کوشش تھی  اور غلبہ دین کے نام پر ذاتی و جماعتی اقتدار و اختیار کی راہ ہم وار کی  گئی ، ایک سنگین رخ اختیار کرلیتا ہے۔

شیخ محمد اقبال اپنی کتاب “جماعتِ اسلامی پر ایک نظر” میں لکھتے ہیں کہ  دسمبر1947ء کےماہنامہ ” ترجمان القرآن” میں  سید مودودی نے ادارہ دارالاسلام کے متعلق ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے اپنی مجوّزہ  پارٹی کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا یہ پارٹی اسلام کے اصولوں پر ایک نئے اجتماعی نظام (Social Order) اور نئی تہذیب (Civilisation) کی تعمیر کا پروگرام لے کر اٹھے اور عامۃخلائق کے سامنے پروگرام کو پیش کرکے زیادہ سے زیادہ سیاسی طاقت فراہم کرے اور بالآخر حکومت کی مشین پر قابض ہو جائے۔

شیخ محمد اقبال صاحب  کے مطابق جب کسی پارٹی کے یہ ارادے ہوں ہو تو اس کی حکومت سے آویزش ناگزیر ہے۔

سید مودودی نے تشکیلِ پاکستان کے معاً بعد حکومتِ پاکستان پر تنقیدو احتساب کا جو رویہ اختیار کیا  اسے ناقدین حزبِ مخالف کے جارحانہ پروپیگنڈے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ شیخ محمد اقبال کے مطابق جماعتِ اسلامی کے مسلسل پروپیگنڈے کے،جو عدل و انصاف کے اسلامی اصولوں کے منافی تھا، انتہائی مضر اثرات رونما ہوئے۔ایک طرف  جب اندرون ملک یکجہتی کی انتہائی ضرورت تھی  ، حکومتِ وقت کے خلاف مہم نےحکومت اور جماعتِ اسلامی کے مابین عوامی خدمت کےحوالے سے درکار اشتراک  وتعاون کےامکانات معدوم کردیے۔ اور دوسری طرف  عوام میں ریاست و حکومت کے خلاف وہ بد ظنی پیدا ہوئی جس سے  ملک کی ترقی و بقا کے لیے درکار پرجوش مساعی کو ضعف پہنچا۔وہ ہندوستان کے ایک ماہنامے کے اداریے کے حوالے سے لکھتے ہیں:

“سخت ضرورت تھی کہ پاکستان اس وقت اندرونی  اختلافات سے دوچار نہ ہوتا۔ اور وہاں کوئی ایسی پارٹی پیدا نہ ہوتی جو موجودہ حکومت کی توجہ کو سیاست خارجہ کی طرف سے ہٹا کر اندرونی سیاست کی طرف لے آئے۔ لیکن افسوس ہے کہ تشکیل دستور کے سلسلے میں اسلامی حکومت کے نظریہ کو پیش کر کے وہی فتنہ اٹھایا جارہا ہے جو بدوِ اسلام میں خوارج نے اٹھایا تھا اور اس کا لازمی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان میں تشتت  و انتشار پیدا ہوجائے اور وہ اپنی بین الاقوامی ساتھ ہمیشہ کے لئے کھو بیٹھے “۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے مابین دوری کی جو فضا اس اولین دور میں بنی وہ آج تک چلی آرہی ہے اور جو مسائل اولین روز سے ہمیں درپیش تھے آج تک ہم ان ہی کے  گرداب میں  پھنسے ہوئے ہیں۔

4۔  عوامی مسائل سے لاتعلقی

سید مودوی  ایک اصولی نظریاتی حیثیت کے مدعی ہیں اور تمام معاملات کو اپنے مخصوص نکتۂ نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے مطابق انسانی زندگی ایک وحدت ہے اور اس کے تمام  مسائل کا سبب انسان  کا اپنی حقیقت کو فراموش کرکے کائنات میں ناجائز تصرف کرنا ہے۔لہٰذا وہ پیش آمدہ تمام انفرادی و اجتماعی مسائل کا حل انسان کے اپنی اصل حقیقت کے ادراک اور اس کے مطابق  اپنے طرزِ عمل کی تبدیلی میں دیکھتے ہیں:

” اسلامی تحریک کے نقطۂ نظر سے انسان کی اخلاقی و تمدنی زندگی میں جتنی خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں، ان سب کی بنیادی علت انسان کا اپنے آپ کو خود مختار (independent) اور غیر ذمہ دار (irresponsible) سمجھنا بالفاظ دیگر آپ اپنا الٰہ بننا ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ وہ الٰہ العالمین کے سوا کسی دوسرے کو صاحبِ امرتسلیم کرے خواہ دوسرا کوئی انسان ہو یا غیر انسان۔ یہ چیز جب تک جڑ میں موجود ہے اسلامی نظریہ کی رو سے کوئی اوپری اصلاح انفرادی بگاڑ یا اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے میں کام یاب نہیں ہوسکتی۔ ایک طرف سے خرابی کو دور کیا جائے گا اور کسی دوسری طرف سے وہ سر نکال لے گی”۔

یہی وجہ ہے کہ برِّ صغیر پاک وہند میں حصولِ پاکستان کے لیے چلنے والی مسلم قوم پرست تحریک سے آپ کنارہ کش رہے۔آپ پاکستان کے مخالف نہ تھے جیسا کہ آپ کے بعض ناقدین کا خیال ہے ، درحقیقت آپ اس  مطالبے کو اسلامی نصب العین قراردینے کے خلاف تھے:

“اگر مسلمانوں کے مسلمان ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کرکے انہیں صرف ایک قوم کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ان کے اس مطالبے کے حق بجانب ہونے میں کوئی کلام نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اصولاً اس بات کے مخالف ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم کسی دوسری قوم پر سیاسی و معاشی حیثیت سے مسلط ہو۔ ہمارے نزدیک اصولاً یہ ہر قوم کا حق ہے کہ اس کی سیاسی و معاشی باگیں اس کے اپنے ہاتھوں میں ہوں۔ اس لیے ایک قوم ہونے کی حیثیت سے اگر مسلمان یہ مطالبہ کریں تو جس طرح دوسری قوموں کے معاملہ میں جو مطالبہ صحیح ہے اسی طرح ان کے معاملے میں بھی صحیح ہے۔ہمیں اس چیز کو نصب العین بنانے پر جو اعتراض ہے وہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں نے ایک اصولی جماعت اور ایک نظام کی داعی اور علمبردار جماعت ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کرکے صرف ایک قوم ہونے کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اگر وہ اپنی اصلی حیثیت کو قائم رکھتے تو ان کے قومی وطن اور اس کی آزادی کا سوال ایک نہایت حقیر سوا ل ہوتا، بلکہ حقیقتاً سرے سے وہ ان کے لیے پیدا ہی نہ ہوتا۔ اب وہ کروڑوں ہو کر ایک ذرا سے خطے میں اپنی حکومت حاصل کرلینے کو ایک انتہائی نصب العین سمجھ رہے ہیں، لیکن اگر وہ نظام اسلامی کے داعی ہونے کی حیثیت اختیار کریں تو تنہا ایک مسلمان ساری دنیا پر اپنی، یعنی در حقیقت اپنے اس نظام کی جس کا وہ داعی ہے، حکومت کا مدعی ہوسکتا ہے اور صحیح طورپر سعی کرے تو اسے قائم بھی کرسکتا ہے۔”

1945-1946ء کے انتخابات مسلم لیگ کے مطابق مسلمانانِ برِّ صغیر کےلیے زندگی و موت  کا مسئلہ تھے اور پوری قوم مسلم لیگ کی قیادت میں متحد تھی لیکن  سید مودودی نے ان انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کے حوالے سے دوٹوک طور پر کہا:

“اول یہ کہ جماعت اسلامی کے مقصد قیام کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ یہ جماعت کسی ملک یا قوم کے وقتی مسائل کو سامنے رکھ کر وقتی تدابیر سے ان کو حل کرنے کے لئے نہیں بنی ہے۔ نہ اس کی بنائے قیام یہ قاعدہ ہے کہ پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے جس وقت جو اصول بھی چلتے نظر آئیں ان کو اختیار کر لیا جائے۔ اس جماعت کے سامنے تو صرف ایک ہی عالمگیر اور ازلی و ابدی مسئلہ ہے جس کی لپیٹ میں ہر ملک اور ہر قوم کے سارے وقتی مسائل آجاتے ہیں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ انسان کی دینوی فلاح اور اخروی نجات کس چیز میں ہے؟ پھر اس مسئلے کا ایک ہی حل اس جماعت کے پاس ہے، اور وہ یہ ہے کہ تمام بزرگان خدا، جن میں ہندوستان کے مسلمان بھی شامل ہیں صحیح معنوں میں خدا کی بندگی اختیار کریں اور اپنی پوری انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے سارے پہلوؤں سمیت ان اصولوں کی پیروی میں دے دیں جو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس مسئلے اور اس کے اس واحد حل کے سوا دنیا کی کسی دوسری چیز سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جو شخص ہمارے ساتھ چلنا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ ہر طرف سے نظر ہٹا کر پوری جمعیت خاطر کے ساتھ اس شاہراہ پر قدم جمائے چلتا رہے۔ اور جو شخص اتنی ذہنی و عملی یکسوئی بہم نہ پہنچا سکے۔ جس کے ذہن کو اپنے ملک یا اپنی قوم کے وقتی مسائل بار بار اپنی طر ف کھینچتے ہوں، اور جس کے قدم بار بار ڈگمگا کر ان طریقوں کی طرف پھسلتے ہوں جو دنیا میں آج رائج ہیں ان کے لئے زیادہ مناسب یہ ہے کہ پہلے ان ہنگامی تحریکوں میں جاکر اپنا دل بھر لے۔

دوم یہ کہ ووٹ اور الیکشن کے معاملے میں ہماری پوزیشن کو صاف صاف ذہن نشین کر لیجئے۔ پیش آمدہ انتخاب یا آئندہ آنے والے اسی طرح کے انتخابات کی اہمیت جو کچھ بھی ہو اور ان کا جیسا کچھ بھی اثر ہمارے قوم یا ہمارے ملک پر پڑتا ہو، بہرحال ایک با اصول جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے ناممکن ہے کہ کسی وقتی مصلحت کی بنا پر ہم ان اصولوں کی قربانی گوارا کرلیں جن پر ہم ایمان لائے ہیں۔ موجودہ کافرانہ نظام کے خلاف ہماری لڑائی ہی اس بنیاد پر ہے کہ یہ نظام حاکمیت جمہور کے اصول پر قائم ہوا ہے اور جمہور جس پارلیمنٹ یا اسمبلی کو منتخب کریں یہ اس کو قانون بنانے کا غیر مشروط حق دیتا ہے جس کے لئے کوئی بالاتر سند اس کو تسلیم نہیں ہے۔ بخلاف اس کے ہمارے عقیدہ توحید کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ حاکمیت جمہور کی نہیں بلکہ خدا کی ہو اور آخری سند خدا کی کتاب کو مانا جائے اور قانون سازی جو کچھ بھی ہو کتاب الہٰی کے تحت ہو نہ کہ اس سے بے نیاز۔ یہ ایک اصولی معاملہ ہے جس کا تعلق عین ہمارے ایمان اور ہمارے اساسی عقیدے سے ہے۔ اگرہندوستان کے علماء اور عامہ مسلمین اس حقیقت سے ذہول برت رہے ہوں اور وقتی مصلحتیں ان کے لئے مقتضیاتِ ایمانی سے اہم تر بن گئی ہوں تو اس کی جواب دہی وہ خدا کے سامنے کریں گے۔ لیکن ہم کسی فائدے کے لالچ اور کسی نقصان کے اندیشے سے اس اصولی مسئلے میں موجودہ نظام کے ساتھ کسی قسم کی مصالحت نہیں کرسکتے۔

یہ معامل صرف ہندوستان یا مقامی مسائل کے حوالے سے نہ تھا بلکہ امتِ مسلمہ کے عالمی مسائل کے حوالے سے بھی سید مودودی کی رائے یہی تھی۔ مسئلہ فلسطین کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سید مودودی نے فرمایا:

“ہم وقتی مسائل کو اتنی اہمیت نہیں دیتے کہ اپنے اصل کام کو چھوڑ کر ان کے پیچھے پڑجائیں۔ ہمارے نزدیک برطانیہ اور امریکہ سخت ظلم کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطین کے معاملہ میں انہوں نے بے انصافی کی حد کردی ہے۔ اہل فلسطین سے ہمدردی کرنا ہر انسان کا انسانی فرض ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے یہ فرض کئی گنا زیادہ سخت ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہمدردی کریں۔ پھر فلسطین کا مسئلہ اس لئے بھی اہم ہے کہ اگر خدانخواستہ وہاں یہودی ریاست بن گئی تو اس سے مرکز اسلام (حجاز) کو بھی متعدد قسم کے خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ اس معاملے میں دنیا کے مسلمان مدافعت کے لئے جو کچھ بھی کریں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک اصل مسئلہ فلسطین یا ہندوستان یا ایران یا ترکی کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ کفرو اسلام کی کشمکش کا ہے اور ہم اپنا سارا وقت، ساری قوت اور ساری توجہ اس مسئلے پر صرف کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہوگا دوسرے مسائل کے حل ہوجانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔”

قیامِ پاکستان کے بعد بھی سید مودودی اسی نکتہ نظر کے تحت نوزائیدہ مملکت کے شدید پریشان کُن حالات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے  اسلامی دستور کے مطالبے پر ڈٹ گئے۔

قبل از تقسیم ِ ہند کی صورتِ حال میں ایک اصولی نظریاتی جماعت کے طور پر اس موقف کی تحسین ممکن  ہے لیکن قیامِ پاکستان کے بعد جماعتِ اسلامی کے قومی سیاسی جماعت کی حیثیت اختیار کرلینےسے اس طرزِ عمل نے جماعتِ اسلامی کو بہت نقصان پہنچایا۔

ممتاز تجزیہ کار سید ولی نصر کے خیال میں جماعتِ اسلامی کے بطورایک سیاسی جماعت ناکام ہونے میں  بڑا کردار جماعت کےعوامی  سیاست سے اجتناب اور پسماندہ طبقات کے مسائل سے لاتعلقی ظاہر کرنے میں ہے۔اس کے مقابلے میں اپنی تنظیمی قوت کے بل بوتے پر بطور ایک  فشاری گروہ جماعت زیادہ  کارآمد ہے۔جماعت کا مقصدلادین قیادت سے اقتدارکی باگ ڈور چھیننا ہے نہ کہ  عوام کے مطالبات کو زبان عطا کرنا۔اس طرح  جماعت کے انتخابی معرکے میں سرخ روئی کے امکانات معدوم ہیں ۔ جماعت نے ابتدا میں مہاجرین کے مسائل کے لیے آوازبلند کی اورنتیجے میں  کراچی کے 1958ء کے بلدیاتی انتخابات میں نمایاں کام یابی حاصل کی لیکن اس کے بعد جماعت نے کبھی عوامی تحریک بننے کی کوشش نہ کی حالانکہ  اس میدان میں اس کے لیے کافی امکانات تھے۔جماعت نے سماجی خدمت کے ذریعے غریب طبقات کے ووٹ حاصل کیے  لیکن ان کے مطالبات کی آواز نہ بن کرسیاسی میدان میں اس کام کااصل فائدہ  اٹھانے میں مکمل ناکام رہی۔

6۔ رومانویت پسندی

رومانویت ایک ایسے رویے کا نام ہے جس میں انسان کسی معاملے کے محض مثبت اور   خوش گوار پہلو سامنے رکھ کر امید اورامکانات کے محل تعمیر کرلیتاہے۔سید مودودی کے شاگرد و نقاد ڈاکٹر اسرار احمد قبل از قیامِ پاکستان کے زمانے میں مسلمانوں کی کیفیت کو نامور مورخ و مفکر شیخ محمد اکرام کے حوالے سےمذہبی رومانویت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ متحدہ ہندوستان کےجیّدمسلم لیڈران ابوالکلام آزادؒ،محمد علی جوہرؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  کوعالم کے بجائے صحافی اور رومان پسند قراردیتے ہوئے کہتے ہیں:

  “مذہبی رومانویت” ۔۔اس اصطلاح کو مسلم ہندوستان کے زمانۂ حاضر کے سب سے بڑے مؤرخ شیخ محمد اکرام صاحب نے مسلمانانِ ہند کی ماضی قریب کی تاریخ کے اس دور کی کیفیت کی تعبیر کے لیے استعمال کیا تھا جس میں مسلمانوں کی قیادت کچھ صحافی قسم کے لیڈروں کے ہاتھ آ گئی تھی جنہوں نے ملت اسلامیہ ہند کو حقائق کا مواجہہ (face) کرنے کی بجائے تصورات و جذبات کی دنیا میں رہنا سکھایا اور گویا زمین پر قدم بہ قدم چلانے کی بجائے ہوا میں اڑایا اور فضا کی پہنائیوں کی سیر کرائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بجائے اس کے کہ قوم میں محنت و مشقت‘ایثار و قربانی اور جہد مسلسل و سعی پیہم کا مادہ پیدا ہوتا اسے اکثر و بیشتر تصورات کے حسین خوابوں کی دنیا میں کھوئے رہنے اور کبھی کبھی ہڑبڑا کر اٹھنے اور جوش و ہیجان میں کچھ نعرے لگا کر پھر خوابِ خرگوش میں مبتلا ہوجانے کی عادت پڑ گئی۔ مولانا محمد علی جوہر مرحوم کا ’’کامریڈ‘‘ اس مرض کی صرف ابتدائی علامات کا مظہر تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کے ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ ‘‘میں یہ مرض اپنی پوری شدت کو پہنچا اور وہیں سے اس کی چھوت مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو لگی جنہوں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ذریعے اس طرز کی صحافیانہ قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھا”۔

ممتاز دانش ور پروفیسر محمد سروراس رومانویت پسندی  کی جڑیں سرسید مرحوم کے طرزِ عمل کےردِّ عمل میں دیکھتے ہیں:

“سر سید کی اسباب پرستی، اطاعت شعاری،حقیقت پسندی اور مصلحت کیشی کا ردعمل یہ ہوا کہ ہم جذبات پرستی،مصلحت کُشی اور جوش و خروش کےطوفان میں بہہ گئے۔جسےایک لفظ میں  اسلامی رومانویت کہا جا سکتا ہے، اس کو سب سے زیادہ اس دور میں الہلال نے ہوا دی۔ مولانا محمد علی تو آخر تک کسی نہ کسی حد تک اسلامی رومانویت سے وابستہ رہے اور علامہ اقبال تو بہرحال شاعر تھے۔۔۔اس دور میں یہ رومانویت ہماری قوم کی پوری زندگی پر چھا گئی۔”

پروفیسر محمد سرور کے خیال میں سید مودودی کی رومانویت ، ابوالکلام آزاد سے مستعار ہے اور وہ سید مودودی کی فکر کو ابوالکلام آزاد کی سابقہ دینی فکر کی بازگشت قرار دیتے ہیں:

“واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی آج وہی کچھ کہتے ہیں جو 1911ءسے لے کر 1914ءتک مولانا ابوالکلام کہتے اور لکھتے رہے اور جس پر کہ کبھی ہندوستانی مسلمان سردھنتےاور انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے ۔مولانا مودودی کی دعوت کم و بیش وہی ہے جو”الہلال” کے ذریعے مولانا ابوالکلام نے  مسلمانوں کو ایک زمانے میں دی تھی۔ مولانا ابوالکلام  بدل گئے یا آپ کہہ لیجیے کہ وہ مرتد ہوگئے اور” کعبے کا دل دادہ بت خانے کا پجاری بن گیا”۔ لیکن عام پڑھے لکھے مسلمان جو ذرا بھی مذہبی حِس رکھتے ہیں وہ نہیں بدلے ۔وہ اب تک اُس ابوالکلام کے مقالات الہلال ذوق شوق سے پڑھتے ہیں اور اِس    ابوالکلام کو بے نقط سنانے کے ساتھ ساتھ ساتھ اُس ابوالکلام کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے۔ چنانچہ مولانا مودودی کی تقریریں اور تحریریں اُس ابوالکلام کی گویا صدائےبازگشت ہیں لیکن دوسرے ماحول میں، مختلف صداکار کی زبان سے”۔

ڈاکٹر اسرار احمد اور پروفیسر محمد سرور دونوں متفق ہیں کہ سید مودودی اپنے عہد کی اس ذہنی فضا سے متاثر ہوے  جس میں “مذہبی رومانویت” رچی بسی تھی  اور انہوں نے ابوالکلام آزاد جو کہ مذہبی سیاست سےلادین ملکی سیاست کی طرف چلے گئے تھے ،  کی خالی کی ہوئی مذہبی مسند کو کامیابی سے اپنے قبضے میں کرلیا:

 “مولانا ابو الکلام مرحوم نہایت ذہین آدمی تھے۔ انہوں نے جلد ہی محسوس کرلیا کہ یہ سب ہوائی رومان ہے‘حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔نتیجتاً انہوں نے جلد ہی قیامِ حکومت الٰہیہ کے ’’آسمانی‘‘ نصب العین سے دست کش ہوکر غیر ملکی سامراج سے آزادی کے حصول کا حقیر سا ’’زمینی‘‘ نصب العین اختیار کرلیا اور بقیہ زندگی خاموشی کے ساتھ اس کی تحصیل میں کھپا دی ۔اس موقع پر مولانا مودودی آگے بڑھے اور انہوں نے مولانا ابوالکلام کو ان کی زندگی ہی میں مرحوم قرار دے کر ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو سنبھال لیا اور اس مذہبی رومان میں مزید رنگ آمیزی شروع کردی۔ لیکن ’’بدقسمتی‘‘ سے اسی زمانے میں مسلمانانِ ہند کی قومی تحریک زور پکڑ گئی اور اس نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے مذہبی رومان کی قیادت خود سنبھال لی اور اسلامی تہذیب‘اسلامی تمدن‘اسلامی قانون وغیرہ اصطلاحات کا استعمال کثرت سے شروع کردیا اور اس طرح وہ ’’مذہبی رومانویت‘‘ کم از کم وقتی طور پر مسلم لیگ کے قبضے میں چلی گئی”۔

7۔ بدلتے نصب العین

سید مودودی کی فکر میں ایک ارتقاء نظر آتا ہے۔ پر امن اسلامی انقلاب  ان کا مقصود ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کی تدابیر و ذرایع وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل  ہوئے ہیں ۔

ان کے فکری کام کا تدریجی پہلو سب سے پہلے”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش”(حالیہ” تحریک ِ آزادی ہنداور مسلمان”)  کی پہلی دو جلدوں اورآخری  تیسری  جلد  کے مضامین  میں واضح ہوا جس میں وہ رفتہ رفتہ  ایک مسلم قوم پرست سے خالص اصولی اسلامی دعوت کے علم بردار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

“بظاہر پہلے دونوں مجموعوں سے اس تیسرے مجموعہ کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے‘ کہ ایک شخص بادی النظر میں یوں محسوس کرے گا کہ میں نے حصّہ دوم کے بعد سے یکایک اپنی پوزیشن بدل دی ہے‘ اور خود اپنی بہت سی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگا ہوں۔ لیکن دراصل ان تینوں مجموعوں میں ایک نصب العین کی طرف تدریجی ارتقاء ہے”۔

اس ارتقاء کی توجیہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا:

“۳۷ء میں یکایک یہ خطرہ سامنے آگیا کہ ہندستان کے مسلمان کہیں اس وطنی قومیّت کی تحریک کے شکار نہ ہوجائیں‘ جو آندھی اور طوفان کی طرح ملک پر چھائی چلی جا رہی تھی۔ اس خطرہ کو جس چیز نے اور زیادہ پریشان کن بنا دیا وہ یہ تھی کہ محض انگریزی اقتدار سے آزاد ہونے کے لالچ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں کا ایک سب سے زیادہ بااثر طبقہ وطنی قوم پرستی کی تحریک کا معاون بن گیا‘ اور اس نے انگریز دشمنی کے اندھے جوش میں اس چیز کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کرلیں کہ اس تحریک کا فروغ ہندستان میں اسلام کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوگا۔ لہٰذا اس خطرے کا سد باب کرنے کے لیے میں نے ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ ۳۷ء کے آخر میں اور پھر دوسرا سلسلہ ۳۸ء کے آغاز میں شائع کیا۔ ان مجموعوں میں میرے پیشِ نظر صرف یہ چیز تھی کہ مسلمان کم از کم اپنی مسلمانیت کے موجودہ مرتّبے سے نیچے نہ جانے پائیں اور اپنے تشخص کو گم نہ کردیں۔

اس وقت چونکہ تحفظ کا کام مقدم تھا اس لیے میں نے آزادی‘ قومیّت‘ قومی تہذیب‘ حکومت ِخود اختیاری‘ اقلیت و اکثریت وغیرہ کے متعلق رائج الوقت تصوّرات کے خلاف کچھ کہنے سے قصدًا احتراز کیا‘ اور ان الفاظ کے جومفہومات ذہنوں میں راسخ تھے ان کو جوں کا توں قبول کر کے اسی زبان میں گفتگو کی جس کو لوگ سمجھ سکتے تھے۔ اسی طرح میں نے مطلوب اصلی سے بحث کرنے کے بجائے حالت واقعی تک اپنی بحث کو محدود رکھنا زیادہ مناسب سمجھا‘ تاکہ دونوں چیزوں کو بیک وقت پیش کرنے سے دماغ پراگندہ نہ ہوجائیں‘ اور ایک ہی چھلانگ میں مقصد ِبعید تک پہنچنے کی کوشش کہیں مقصد قریب کے بھی ہاتھ سے جانے کی موجب نہ بن جائے۔یہ کام جس غرض کے لیے کیا گیا تھا اﷲ کے فضل وکرم سے وہ پچھلے دو تین سال میں حاصل ہوچکی ہے‘ اور اب اس امر کا کوئی خطرہ باقی نہیں ہے‘ کہ ہندو ستان کے مسلمان کسی وطنی قومیّت میں اپنے آپ کو گُم کر دیں گے یا اپنے آپ کو کسی ایسے جمہوری نظام میں نتھی کر الیں گے‘ جو واحد قومیّت کے مفروضہ پر تعمیر کیا گیا ہو۔اس مرحلہ کے طے ہوجانے کے بعد اب میرے سامنے دوسرا سوال یہ تھا‘ کہ آیا مسلمانوں کو اس نتیجہ پر مطمئن ہونے دیا جائے‘ جو حاصل ہوچکا ہے‘ یا ان میں مزید بے چینی پیدا کر کے انہیں اسلام کے اصلی نصب العین کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جائے؟ آیا مسلمانوں کو سیاست واجتماع کے انہی غلط تصوّرات میں مبتلا رہنے دیا جائے‘ جو مغربی جاہلیت سے انہوں نے سیکھے ہیں‘ یا ان کے سامنے اسلام کے اجتماعی وسیاسی تصوّرات کو صرف علمی حیثیت ہی سے نہیں‘ بلکہ ایک عملی مطمحِ نظر کی حیثیت سے بھی پیش کر دیا جائے؟ آیا مسلمانوں کو محض اپنی انفرادیت کے سنبھالنے ہی میں لگا رہنے دیا جائے‘ یا انہیں یہ بتایا جائے کہ تمہاری انفرادیت مقصود بالذّات نہیں‘ بلکہ ایک عظیم تر مقصد کے لیے مطلوب ہے؟ یہ سوال سامنے آتے ہی میرے ضمیر نے قطعی فیصلہ صادر کیا کہ پہلی شق غلط ہے‘ اور صرف دوسری شق ہی صحیح ہے۔چنانچہ اگر کوئی دوسرا سبب پیش نہ آتا تب بھی مجھے وہ کام کرنا ہی تھا‘ جو میں نے کیا”۔

اس طویل اقتباس سے سید مودودی کی حکمتِ  عملی واضح ہوکر سامنے آتی ہے ۔ وہ  اپنے نصب العین  کی جانب یک سوئی  سے پیش قدمی کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پیچ دار راستوں سے گزرتے ہوئے بھی ان کی نگاہ منزل پر ہی جمی ہوتی ہے۔

اسی طرح پاکستان بننے کے بعدان کے طرزِ تخاطب اور مخاطبین میں فرق نظر آتا ہے۔ پہلے وہ مسلم امت/ملت کے داعی اور مسلم قوم پرستی کے ناقد تھے اب ان کا ہر خطاب مسلم قوم سے شروع اور اسی پر ختم ہوتا تھا۔پہلے نسلی اور اصلی مسلمانوں میں فرق کرکے نسلی مسلمانوں سے اصل مسلم بننے کا مطالبہ تھا۔ اب مطالبات کا رخ حکومت کی جانب ہوگیا اور عوام پر تنقید ختم یا بہت کم ہوگئی۔

اسلامی حکومت کے قیام کی جو نقشہ کشی “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟” میں کی گئی تھی اور مسلم لیگ کی اسلامی ریاست کے قیام کی حکمتِ عملی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے کارِ لاحاصل ٹھہرایا گیا تھا   اب وہی طریقۂ کارخود اختیار کرلیا گیا۔

ناقدین اسے سید مودودی کے بدلتے ہوئے نصب العین سے تعبیر کرتے ہیں کہ مادیت پرستی اور اقتدار کی سیاست نے انہیں ان کے اصل کام سے دورکرکے سیاسی مکروفریب اور چالبازیوں کے گھناؤنے ماحول میں پہنچا دیا۔

درحقیقت ایسا کہنا زیادتی ہے۔ سید مودودی ابتدا تا انتہا ایک ہی منزل کے راہی رہے فرق ان کی حکمتِ عملی میں آیا ۔جس طریقے کو انہو ں نے زیادہ موزوں سمجھا اسے اختیار کرڈالا اور زیادہ بہتر طور پر ڈاکٹر اسرار احمد کے الفاظ میں حُبِّ عاجلہ نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

باب ششم: ماحصل

خلاصۂ تحقیق

ہیگل کے جدلیاتی مادیت کے نکتۂ نظر سے دیکھیں تو ہردور میں ایک نظریہ ایسا سامنے آتا ہے جو اس دور کے فکری مسائل کاجامع حل پیش کرتا ہے ۔ الہامی روایت میں اس نظریے کے بنیادی خدوخال طے شدہ ہیں تاہم عصری تقاضوں کی تکمیل کے لیے اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اجتہاد امت کی زندگی کا ثبوت ہے۔ مجتہدین نے ہردور میں وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کرملت کے امراض کی درست تشخیص کی اور بعض کو کارِ اصلاح میں سرگرم ہونے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ سلسلہ تاریخ کے ہردور میں جاری رہا ہے۔امت کے ادبار کے زمانے میں یہ کام سست روی کا شکار رہا تاہم اس عمل کا انقطاع کبھی بھی نہ ہونے پایا۔ ہر دور میں ایسےافراد کے نام سامنے آتے رہے جنہوں نے امت کےعملی وفکری مسائل کے حل کی چارہ سازی کی ۔

برِّ صغیر پاک وہند اس اعتبار سے خاص ہے کہ یہاں مسلم اقتدار تقریباً ایک ہزار سال تک قائم رہااور اس خطے میں ان عظیم الشان  ہستیوں کا ورود ہوا جنہوں نے اس سرزمین کو اپنے علم وعمل سے گلزار کیا۔مغلیہ سلطنت  ہر اعتبار سے تاریخِ ہندوستان کا ایک روشن باب ہے ۔ لیکن دینی تعلیمات پر عمل اور جادۂ ہدایت سے انحراف ساتھ ساتھ چلتا رہا۔اصلاح و ہدایت کے لیے اس دور میں بھی وہ رجالِ کار اٹھتے رہے جو امتِ مسلمہ کو اس کا بھولا سبق یاد دلاتے رہے۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ہوں، شیخ احمد سرہندی ہوں ، شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان ِ عظیم الشان کے افراد ہوں، اپنے خون سے شہادتِ حق کی گواہی  دینے والے سید احمد اور شاہ اسمٰعیل ہوں یا اور بے شمار ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے اصحابِ دعوت و عزیمت ہوں ۔(رحمہ اللہ واسعہ علیہم  اجمعین) ان سب نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے ہدایت کے وہ مینار  کھڑے کردیے کہ گمراہی کے خدشات سے محفوظ رہ سکیں۔

اسی برِّ صغیر میں خلافت، ہجرت اور عدم تعاون کی بے مثال تحاریک مسلمانوں نے برپا کیں۔ تحریکِ پاکستان یہاں چلائی گئی اور نہتے بے وسیلہ مسلمانوں نے اپنا حق پرامن طور پر رہتے ہوئے ظالم وجابر انگریزوں سے حاصل کیا۔علامہ اقبالؒ،قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، ابوالکلام آزادؒ اور  سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  جیسی عبقری شخصیات اس خطے میں پیدا ہوئیں۔

سید ابو الاعلیٰ  مودودی (1903ء-1979ء) 20 ویں صدی کے ان بااثر مفکرین میں سے ہیں جنہوں نےمسلم دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کو عالمی سطح پر متاثر کیا اور اسلام پر ان کا اعتمادبحال کرکے انہیں غیر اسلامی نظریات کے سیلاب میں بہہ جانے سے روکا اور اسلامی نشاۃ الثانیہ کی تحریک کا حصہ بننے کی ترغیب دی۔

معروف مستشرق پروفیسر چارلس جے ایڈمز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کے بات جہاں بھی ہو گی یا دور جدید میں اسلامی بیداری کا موضوع زیر بحث آئے گا ،اس کے ساتھ سید مودودی کا تذکرہ کرنا ناگزیر ہوگا اور اسلامی بیداری میں سید مودودی کے غالب کردار کا اعتراف کیے بغیر یہ تذکرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

“دراصل سید مودودی کا شمار عصر حاضر کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کی تشریحاتِ اسلام نے احیائے اسلام کو ایک مربوط موضوع کی حیثیت عطا کی ہے ۔مراکش سے انڈونیشیا تک ارباب فکر و دانش اور صاحبان عزم وجہد نے فکر مودودی سے بہت کچھ خوشہ چینی کی ہے ۔سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن ہو یا الجزائر اور ملائیشیا یا ایران و سوڈان میں غلبہ اسلام کی جدوجہد آپ کو سید مودودی کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں  ضرور کارفرما نظر آئیں گے”۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی قرآن کے مفسر ، مذہبی مصلح ، مفکر ، مصنف اور ایک سیاسی رہنما ہیں۔ ان کا خاص حوالہ ان کا” نظریہ اقامت دین” یا “حکومتِ الٰہیہ “ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے دنیا کی موجودہ اسلامی تحریکوں میں نمایاں مقام رکھنے والی جماعت، جماعت اسلامی قائم کی۔  ان کی تفسیر “تفہیم القرآن” موجودہ دور کی ایک مشہور تفسیر ہے۔  اس تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آپ نے عام آدمی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم اور اس کے پیغٖام کو بیان کیا ہے ۔ اس مقصد کے لیے آپ نے معروف لفظی ترجمہ کے اسلوب کو ترک کرکےآزادترجمانی کا انداز اختیار کیا ہے۔ فروری 1942 ء میں شروع ہونے والی یہ تفسیر جون 1972ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔انہوں نےپوری قوت سے  “اقامت دین” کے قرآنی نظریہ کو زندہ کیا ، جو آج دنیا میں “پولیٹیکل اسلام” کے نام سے مشہور ہے۔ وہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے مقصد کے لئے کبھی بھی تشدد یا دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ بیسویں صدی کے دوسرے ربع میں سید مودودیؒ نے اپنے فکری سفر کا آغاز کیا۔ آپ نے 60 سالہ تصنیفی دور میں چھوٹی بڑی تقریباً ڈیڑھ سو کتب تصنیف کیں۔آپ کی تحاریر کے50 زبانوں میں تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔ آپ کی خاصیت یہ ہے کہ  آپ نے نظریاتی رہ نمائی کے ساتھ ساتھ ایک جماعت کی تاسیس کی اور جب تک آپ کی صحت نے اجازت دی آپ نے مختلف تحاریک کی عملی قیادت کے فرائض بھی انجام دیے۔ سید مودودی اسلام ، جمہوریت ، انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے  پرجوش موئید تھے۔آپ نے کبھی ان اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔قیام پاکستان سے قبل ،اپنے تئیں ناجائز سمجھ کرسید مودودی عملی سیاست میں حصہ لینے سے مجتنب رہے اور اس کے بجائے انہوں نے نظریاتی کام پر زور دیا اور اپنے خیالات سے مسلم آبادی کی فہیم اقلیت کو متاثر کیا۔ قیام پاکستان کے بعد  قراردادِ مقاصد کی منظوی کے بعد جب ریاست ان کے مطابق مسلمان ہوگئی تو “جماعت اسلامی” نے ملک کی عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور بہت جلد پرجوش عوامی مہمات کے ذریعے  اس نے ملک کی سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔سید مودودی اسلام اور جمہوری آزادیوں کے لیے ایک مضبوط آواز تھے۔  جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے ،سید مودودی نے نومولود ملک کی نظریاتی حدود کے تعین اور حفاظت کے لیے سرگرم کردار ادا کیا اور وہ نوزائدہ مملکت میں نفاذِ اسلام کے مسلم لیگ کے وعدے ہمیشہ اسے یاد دلاتے رہے۔ 1979ءمیں انھیں پہلا شاہ فیصل انعام ملا ، جو اسلام کی خدمت کے لئے مسلم دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ اسلام کے احیاء سے متعلق ان کے افکار اور نظریات کا اثر نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں پر پڑا اور اس طرح انہوں نے پوری دنیا میں مسلم احیائی  تحریکوں پر گہرا اثر ڈالا۔ مستشرقین اور مغربی سیاسی فلسفی انہیں “سیاسی اسلام” کے بانیوں میں سے ایک سمجھتے  ہیں جبکہ بعض لوگ  دہشت گردی اور مسلم انتہا پسندی کو ان کے افکارسے منسوب کرتے ہیں۔  “قادیانی مسئلہ ” نامی کتابچہ تحریر کرنے پر آپ کوجنرل ایوب خان کی اس وقت کی فوجی حکومت کی جانب سے  سزائے موت  سنائی گئی، جسے بعد ازآں اندرونی اور بیرونی دباؤ پرسزائے قید میں تبدیل کردیا گیا۔

آپ کا انتقال 1979ء میں ہوا۔

سید مودودیؒ میدانِ عمل میں

مسلمانانِ ہندبیسیوں صدی کے دوسرے ربع میں سیاسی لحاظ سے تین طرح کے گروہوں میں تقسیم تھے۔

1۔  ایک انگریز سے مرعوب اور ان کےکاسہ لیس

2۔  قوم پرست مسلمان جو اپنی ہندوستانی شناخت پر اصرار کرتے ہوئے استخلاصِ وطن کی جدوجہد میں لادینی کانگریس کے شریکِ کار تھے۔

3۔  وہ مسلم قوم پرست جوکانگریس اور ہندو بالادستی سے خائف تھےاورآزاد جمہوری ہندوستان کے مقابلے میں انگریز کے سایہء عاطفت میں رہنے میں ہی عافیت جانتے تھے۔یہ مشترکہ ہندوستانی قومیت کے مقابلے میں اپنی سیاسی طور پرمسلم شناخت پر اصرار کرتے تھے۔

یہ وہ ماحول تھا جس میں سید مودودیؒ  نے اپنے کام کا آغاز کیا ۔

“الجہاد فی الاسلام ” آپ کی وہ پہلی تصنیف ہے جس نے آپ کو ہندوستان کے علمی حلقوں میں وسیع پیمانے پر متعارف کرادیا۔24 سال کی عمر میں  مولانا محمد علی جوہر ؒ کی تحریک پر لکھی جانے والی  اس کتاب کی علامہ اقبال ؒنے تحسین فرمائی تھی اور اسے اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر ایک ایسی بہترین تصنیف قرار دیا تھاجس کا مطالعہ ہر ذی علم انسان کو کرنا چاہیے۔

سید مودودی اپنی اپنی صحافتی زندگی کے آغاز میں “مدینہ” بجنور،”تاج” جبل پور اورجمعیۃ العلمائے ہند کے ترجمان جریدے”الجمیعۃ” سے بطور مدیر منسلک رہے۔1925ء میں جمعیت العلماء کی پالیسی سے اختلاف کے باعث “الجمعیۃ” چھوڑ کر حیدرآباد دکن منتقل ہوگئے۔1932ء میں سید مودودی کی ادارت میں  “ترجمان القرآن “کی حیدرآباددکن سے اشاعت کے ساتھ آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور سید موودی ؒ امتِ مسلمہ کے مرضِ کہن کی تشخیص وعلاج کے لیے اپنے افکارونظریات کے پرچار میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ 1937ء میں علامہ محمداقبالؒ(1877ء۔1938ء)نے آپ کی فکر سے متاثر ہوکرآپ کولاہورآنے اوراسلامی قانون کے احیا کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ گورداس پور، پٹھان کوٹ کے ایک صاحبِ دل مسلمان چوہدری نیاز احمدخان نے ایک بڑا قطعہ اراضی علوم دینی کی ترویج کے لیے مختص کیااور علامہ اقبال ؒ کے مشورے سے سید مودودی کو اس کا انتظام سنبھالنے کی دعوت دی۔ سید مودودیؒ مارچ 1938ء میں اس مجوزہ اسلامی بستی “دارالسلام “منتقل ہوگئے لیکن اگلے ہی ماہ   علامہ اقبال ؒ کی وفات نے یہ خواب پورا نہ ہونے دیا۔1939ء میں آپ کچھ اختلافات کی بناء پرپٹھانکوٹ سےلاہورمنتقل ہوگئے اور اسی سال آپ نےاسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی صدر شعبہِ اسلامیات کے طور پر کام کیا۔ آپ کےمضامین نے معاشرے میں ایک ہلچل پیدا کی ۔ جمود کے شکاراور زوال آمادہ معاشرے میں یہ ہلچل کسی بڑے بھونچال کی بجائے معمولی ارتعاش ہی پیدا کرسکی تھی۔لیکن یہ ارتعاش بھی بڑا قیمتی تھا۔ معاشرے کے سلیم الطبع افراد آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور بعدازآں ان میں سے  کئی آپ کے ساتھ شریکِ کار رہے۔

قیامِ پاکستان سے قبل تک دارالکفر میں نظامِ حکومت میں شرکت کی شرعی ممانعت کے اصول کے تحت آپ عملی سیاست سے مجتنب رہےاور نظریاتی رہنمائی کافریضہ انجام دیتے رہے لیکن تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں یہ موانعات دور ہونے کے بعد آپ نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور ملک کی نظریاتی سمت کےدرست تعین کے حوالے سےقراردادِ مقاصد کی منظوری میں اہم کرداراداکیا۔قیامِ پاکستان کے مقاصد کے تناظر میں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ، انسانی حقوق کی بحالی ، جمہوریت کے دفاع اوربعدازآںسوشلزم کے سیلاب کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔الحاد و لادینیت، مادہ پرستی اور مغربی تہذیب کے دیگر زہریلے پھلوں کا تریاق پیش کرکے آپ نے مسلم نوجوانوں میں اسلام پر اعتماداوربحیثیت مسلمان اپنی ذمے داریوں کاشعور پیداکرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سید مودودیؒ  کی سیاسی فکرکی تفہیم اور ہونے والی تنقید کاجائزہ

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سرسید احمد خان نے فلاح ِ قوم کی جو راہ ڈھونڈی تھی اس کے مضر اثرات سامنے آنا شروع ہوچکےتھے۔جس کا ذکراکبرؔکے مندرجہ بالا شعرمیں کیا گیا ہے۔سید مودودیؒ نے “پردہ”، “تنقیحات” اور “تفہیمات” کے مضامین کے ذریعےاس دور کےجدید تعلیم یافتہ طبقے میں مغرب کی مرعوبیت اورذہنی غلامی پر کڑی چوٹ لگائی  اور مغربی تہذیب کا بودا پن عیاں کرتے ہوئے اسلامی لائحہِ عمل کی نشان دہی کی ۔”تجدید واحیائے دین”میں آپ نے تحریک تجدید واحیائے دین کا بے لاگ تجزیہ کیا ، مجددین کی حقیقی عظمت کو اجاگر کیا ہےاور اس حوالے سے پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ 1938 ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے بپاکردہ متحدہ قومیت کے فتنے کا مقابلہ “مسئلۂ قومیت “اورجن دیگر مضامین کے ساتھ کیا گیا وہ اب “تحریکِ آزادیِ ہند اورمسلمان “حصہ اول کے نام سے موجود ہیں ۔اس سلسلہِ مضامین  میں آپ نے قوم پرست علماء پر لادینی قوم پرستانہ سیاست کے حوالے سے اپنے تئیں ان کی غلطی واضح کی ہے ۔ بعد ازآں مسلم لیگ کی مسلم قوم پرستانہ تحریک بھی آپ کے قلم کی کاٹ سے محفوظ نہ رہی اور “مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش”حصہ سوم کے مضامین(جدید”تحریکِ آزادیِ ہند اور مسلمان “۔ دوم)اس پر شاہد ہیں۔معاشرتی اور رائے عامہ کا دباؤ انہیں مسلمانوں کے  مقبول سیاسی موقف سے اختلاف کرنے سے باز نہ رکھ سکا اور انہوں نےاپنے موقف کا بدلائل پرچارجاری رکھا۔ مسلم لیگ کی مسلم قوم پرستانہ تحریک کے عین مرکزعلی گڑھ یونیورسٹی میں جاکر آپ نے اس طریقۂ کارپر تنقید کی جسے مسلم لیگ اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر اختیار کیے ہوئے تھی اور اس کے مقابل اس طریقے کی نشان دہی کی جس سے ایک اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔ یہ تقریر “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے ؟”کے نام سے مندرجہ بالا مجموعے میں شامل ہے ۔

آپ نےبغیر کوئی نظریاتی انقلاب لائے محض نسلی مسلمانوں کی اکثریت کی بنیاد پر اسلامی ریاست قائم کرنے کی خام خیالی کے حوالے سےیہاں تک کہا کہ ایسا ہوا تو وہ اسے ایک معجزہ سمجھیں گے۔

سید مودودی ؒ کی پوری فکر میں حریتِ ِ فکر بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تقلیدِ جامد کو آپ رد کرتے ہیں اور سوائے رسول اللہ ﷺ کی

شخصیت کے کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھتے ۔ اسلام کو ایک روایتی مذہب کی جگہ ایک دین(بمعنی نظامِ حیات) اور تحریک قراردیتے ہیں۔دین کی مروجہ تعبیر، تحریکی تعبیر سے مختلف ہے۔مروجہ تعبیر طاغوت کے اقتدار میں بھی محض اپنے مراسمِ عبودیت (نماز، روزہ ، حج وغیرہ) کی ادائی پر مطمئن رہتی ہے۔اسی فکر پر تنقید کرتے ہوئے اقبالؒ نے کہا تھا:

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

جب کہ تحریکی اسلام کا تصور، غیر اللہ کی حاکمیت پر راضی رہ جانا بندگی کے بنیادی تقاضوں کے خلاف سمجھتا ہےاور اس کے خلاف جدوجہدضروری قراردیتا ہے۔

سیدمودودی ؒ کی بنیادی فکری کتاب “قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ” ہے۔جس میں وہ “الٰہ، رب ،عبادت اور دین ” کی دینی اصطلاحات کی جامع تشریع پیش کرتے ہیں اور ان ہی تشریحات پر ان کا پورا فکری کام بنیاد رکھتا ہے۔

سید مودودی ؒ نے کفر بالطاغوت اور توحید ِ عملی کے تقاضوں کی نشان دہی کی اور امتِ مسلمہ کی اس حوالے سے ذمے داریوں کابھولا سبق اسےیاددلایا۔انہوں نے کہا کہ بگاڑ کا سبب قرآنی فکر سے دوری اور دینی اصطلاحات کا رفتہ رفتہ اپنا معنی کھوتے چلے جانا تھا۔

سید مودودی ؒ کا یہ بیان کے اہم دینی اصطلاحات وقت کے ساتھ ساتھ اپنی معنویت کھوبیٹھیں،  بہت زیادہ زیرِ تنقید رہا ہے اور اسے دین کے تواترِ عملی کی ایک تنقیص گردانا گیا ہے۔ سید ابولحسن علی ندوی ؒ نے “تاریخ دعوت و عزیمت ” کے عنوان سے 6 جلدوں کی ضخیم کتاب تصنیف کی جس میں خلافتِ راشدہ کے بعد سے سید احمد شہیدؒ تک اقامتِ دین کے لیے مختلف خطوں اور مختلف سطحوں پر ہونے والی کوششوں کا مبسوط جائزہ لیاگیا ہےجس سےمقصود مندرجہ بالا اس تاثر کی نفی تھا۔

سید مودودی ؒ کی فکر میں “قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ” بنیاد  کی حیثیت رکھتی ہےلیکن آپ کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی کی حکمتِ عملی کی بنیادزمام ِ کاریعنی اقتدار کی اہمیت کے ان تصورات پر رکھی گئی جو”تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں” نامی تقریر میں بیان کیے گئے ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد عملی سیاست میں حصہ لینے کے بعد الٰہ ، طاغوت اورتوحیدِ عملی کے نظریاتی ابلاغ کے بجائے  ان نظریات کی عملی صورتِ گری میں ہمیں سب سے  زیادہ زور زمامِ کار کی اہمیت کے بیان اور انقلابِ امامت کی سیاسی جدوجہدکے حوالے سے نظرآتا ہے۔ یہی چیز بعدازآں جماعتِ اسلامی کی اقامتِ دین کے لیےہمہ جہت تبدیلی کی جدوجہد(جس میں سماجی تبدیلی جس کے لیے اسلامی تعلیمی نظام کا احیاء سرِ فہرست تھاکے بجائے تبدیلیِ قیادت کی بہر نوع کوششوں کا باعث بنی جو تاحال جاری ہیں۔ سید مودودیؒ کے مطابق انسانی معاملات کے بناؤ اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملاتِ انسانی کی زمامِ کار کس کے ہاتھ میں ہے۔اسی بنیاد پر آپ امامتِ صالحہ کے قیام کو دین کا مقصود قراردیتے ہیں ۔

ان کے مطابق یہ مقصد تو لازمی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ تمام اہل خیر وصلاح جو اللہ کی رضا کے طالب ہوں ،اجتماعی قوت پیدا کریں اور سر دھڑ کی بازی لگا کر ایک ایسا نظامِ حق قائم کرنے کی سعی کریں جس میں امامت و رہنمائی اور قیادت و فرماں روائی کا منصب مومنین صالحین کے ہاتھوں میں ہو۔ اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل نہیں ہو سکتا جو دین کا اصل مدعا ہے۔

اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ زمام ِ کار کی تمام تر اہمیت کے اعتراف کے باوجود دین کا کل مقصود حکومتِ  قرار نہیں دیا جاسکتا۔عبادات اپنے ضمنی فوائد کے باوجود فی الاصل مالک الملک اوربادشاہِ حقیقی کے دربار میں بندۂ مومن کی حاضری اور اس کے حضورنذرانےکے اعتبار سےبذاتِ خود مطلوب ہیں ۔  دین اصلاً اللہ اور بندے کے مابین قلبی تعلق کی استواری کا نام ہے جس میں کسی بیرونی عنصر کی کوئی دخل اندازی نہیں ہوسکتی ۔ تاہم اس قلبی تعلق کالازمی تقاضا انکارِ طاغوت اور اس کے لیےحکومتِ الٰہیہ کے قیام کی اجتماعی جدوجہد کی صورت میں نکلنا چاہیے۔

اسی حوالے سےسید مودودیؒ پر ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی فکر میں دین کے روحانی پہلو کو نظرانداز یا کم کرکے ظاہری یا سیاسی  پہلو پرزیادہ زور دیا ہے۔مولانا منظور احمد نعمانیؒ ،سید ابوالحسن علی ندوی ؒ،وحید الدین خانؒ سے لے کر ڈاکٹر اسرار احمد ؒتک اسی الزام کی تکرار مختلف اسلوب میں کرتے چلے آئے ہیں۔

اس الزام کے جواب میں یہ توجیہ پیش کی جاسکتی ہے کہ سید مودودی ؒ نے اپنے عہد کی مسلم فکر کے ناقص گوشوں کی نشان دہی کی ہے۔ ان کا زور ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے پر رہا ہے جونسبتاً اوجھل تھے ۔تاہم آپ  کی ذاتی زندگی مومنانہ تعلق باللہ کی عملی تصویر تھی ۔

سید مودودی ؒ کے نظریہ اقامتِ دین پرعلمی نقد متعدد اطراف سے ہوا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اہم اور سنجیدہ کام  ابوالحسن علی ندوی ؒ نے ’’عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘،منظور نعمانیؒ نے ’’مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف‘‘،اور  وحید الدین خاںؒ نے’’تعبیر کی غلطی‘‘میں کیا ہے۔

سید مودودیؒ کے ناقدین میں مولانا وحید الدین خانؒ(1925ء۔2021ء،مدیر “الرسالہ “، دہلی)سب سے ممتاز ہیں ۔ آپ عصرِ حاضر کےمسلم مفکرین میں سیاسی اسلام کے سب سے شدید مخالف ہیں۔

“اس تعبیر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر زبان حال سے اوراس کی بعض عبارتیں(مثلاًقرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں کادیباچہ)زبانِ قال سے اس بات کا اعلان ہے کہ اسلاف نے دین کو صحیح شکل میں نہیں سمجھا۔ اس تعبیر کی نظر سے دیکھئے تو چودہ سو برس کی ساری تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی تحریک نہیں ملتی جس نے اس کے مطابق”مکمل” معنوں میں تجدید و احیائے دین کا کام کیا ہو۔اس حلقے کے کچھ ذہین افراد نے اسلامی تاریخ کے بعض واقعات کو اس حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہ تمام کوششیں قطعی طور پر تاریخ ساز ی ہیں نہ کہ تاریخ نگاری۔

 اس طرح یہ تعبیر گویا اپنے پورے وجود کے ساتھ اسلاف کے تصورِ دین کے بارے میں اظہار ہے اور اعلان ہے کہ انہوں نے ٹھیک ٹھیک اس طرح دین کی خدمت کرنے کی کوشش نہیں کی جیسی کہ حقیقتاً کی جانی چاہیےمجھے یہ ماننے  میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہمارے علماء نے بعض آیات یا بعض حدیثوں کا مطلب صحیح طور پر نہ سمجھاہو دوسرے لفظوں میں اجزائے دین میں سے کسی جز کی نوعیت متعین کرنے میں وہ غلطی کر گئے ہوں اس طرح عملی کوتاہیوں کیوں کے امکان کا اقرار بھی ہر وقت کیا جاسکتا ہے مگر یہ بات قطعاً ناقابل تسلیم ہے کہ حقیقتِ دین کو سمجھنے میں انہوں نے غلطی کی یا دین کی خدمت کا صحیح طریقہ اختیار کرنے میں وہ ناکام رہے”۔

مزید لکھتے ہیں :

” مولانا مودودی کے لٹریچر میں دین کی جو تشریح کی گئی ہے اس کے متعلق میرا شدید احساس ہے کہ وہ دین کے صحیح تصور سے ہٹی ہوئی ہے اس تشریح کے اجزائے ترکیبی تو وہی ہیں جو اسلام خدا کے دین کے ہیں مگر نئی ترکیب میں اس کا حلیہ اس طرح بگڑ گیا ہے وہ بجائے خود ایک نئی چیز نظر آنے لگا ہے”۔

اسی کتاب میں آگےرقم طراز ہیں :

“یعنی اس تعبیر پر میرا اعتراض دراصل یہ نہیں ہے کہ اس نے سیاست کو اسلام میں کیوں شامل کر دیا۔ سیاست زندگی کا ایک لازمی جز ہے اور کوئی نظریہ جو انسانی زندگی سے متعلق ہو وہ سیاست سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اس سے بھی اختلاف نہیں ہے کہ کسی مخصوص وقت میں کوئی اسلامی گروہ سیاست پر کتنی قوت صرف کرے یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ہنگامی مرحلے میں کسی اسلامی گروہوں کو اپنی بیشتر یا ساری عمر سیاسی تبدیلی کے محاذ پر لگا دینی پڑے۔ میرا اعتراض دراصل یہ ہے کہ سیاست جو صرف اسلام کا ایک پہلو ہے اسی کی بنیاد پر پورے اسلام کی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک چیز اپنی صحیح حیثیت میں حقیقت ہو سکتی ہے لیکن اس کو صحیح مقام سے ہٹا دیا جائے تو ایک صحیح چیز بھی غلط ہو کر رہ جائے گی” ۔

“اس تعبیر کے مطابق اسلامی مشن کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ہے نظام بدلنا۔ میں مانتا ہوں کے اسلامی جدوجہد کے مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ بھی ہے مگر اس تعبیر نے اس کو اس کے واقعی مقام سے ہٹا دیا ہے۔ اور اس طرح دوسری شکل میں وہی خرابیاں پیدا ہوگئیں جو”دنیا سے بے رغبتی”کی اسلامی قدرکو اس کے واقعی مقام سے ہٹانے کی وجہ سے مختلف مذاہب  میں پیدا ہوئیں۔ رہبانیت کے فلسفے نے روحانی انتہاپسندی میں پڑ کر خدا کے بندوں کو بہت سی غیر ضروری مشقتوں میں ڈال دیا تھا اسی طرح اس جدید انقلابی نظریے نے سیاسی انتہاپسندی میں پڑ کر خدا کے بندوں کو ایسی مشکلات میں گرفتار کر دیا جس کے لیے دراصل خدا نے انہیں مکلف نہیں کیا تھا”۔

وحید الدین خان صاحب کے مندرجہ بالا اعتراضات بظاہرکچھ نہ کچھ وزن رکھتے ہیں اور یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ سید مودودیؒ کسی مقام پر جادہِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہوں لیکن بحیثیتِ مجموعی ان کی فکر پر یہ حکم نہیں لگایا جاسکتاکہ وہ اسلامی تاریخ میں نئی  چیزہے۔ بغور جائزہ لینے پر ان کے اعتراضات کی حقیقت  بھی سامنے آجاتی ہے۔نظریہ اقامتِ دین  یعنی انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ اصلاحِ نظام  ِحکومت اور ردِّ باطل  کا سیاسی محاذ، جس کو مولانا وحید الدین خان صاحب امت کی پوری چودہ سو سالہ تاریخ میں نئی چیز قرار دیتے ہیں اور اس کے ماضی کے نظائرکووہ تاریخ سازی قرار دے کردرخوِاعتنا نہیں سمجھتے ہیں اس کے حوالے سے درحقیقت ایک جوہری فرق ماضی اور حال کے مابین واقع ہوچکا ہے جس کا لحاظ کیے بغیرنظریہِ اقامتِ دین کی تفہیم دشوار ہے اور وہ یہ کہ سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کے بعد اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں  پہلی مرتبہ یہ سانحہ رونما ہوا کہ اسلام کا سیاسی اقتدار عملا معدوم ہوگیا۔اس سے قبل یہ تو ہوا کہ نااہل و بدکار فرماں رواآتے رہے اور شریعت کی نافرمانی کا سلسلہ سرکاری سطح پر جاری رہا تاہم امت کی تاریخ میں یہ کبھی نہ ہوا کہ اسلام مغلوب ہوکر رہ جائے اور دنیا کے نقشے پر کوئی نام نہاد ہی سہی اسلامی ریاست باقی نہ رہے۔برصغیر میں شاہ ولی اللہ ؒ، شاہ اسمٰعیل ؒو سید احمدؒ اور سید مودودیؒ کی احیائے دین کی مساعی اسی حوالے سے دیکھی اور سمجھی جاسکتی ہیں۔

مولانا عامر عثمانیؒ نے اپنی کتاب “وحید الدین خان  صاحب کی تعبیر کی غلطی”میں مولانا وحید الدین خان صاحب کے اعتراضات کا مدلل جواب دیا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نظریہِ اقامتِ دین پر اعتراض جدید دورمیں “سیاسی اسلام”پر اعتراض کے نام سے سامنے آیا ہے۔

 اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اسلام بطور ریاستی نظام پیش کیا جائے اور اسلام کے سیاسی نظام کا غلبہ یااسلامی ریاست کا قیام ایک مسلمان کا مطلوب ومقصود ہے۔

“سیاسی اسلام ” کے مفکرین میں  3 نام زیادہ صراحت سے لیے جاتے ہیں  جن میں پہلا نام سید مودودی کا ہے۔

اگرچہ اسلام اپنی اصل میں ایک ہی ہےجس کا منبع کتاب و سنت کی تعلیمات ہیں ۔اس میں دین و دنیا کی کوئی تفریق موجود نہیں اور روحانی اسلام یا سیاسی اسلام کی اصطلاحات  خانہ ساز ہیں اور ان کا دین کی تعلیمات سے کوئی علاقہ نہیں تاہم مخالفین کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے ہر دور میں ایسے افراد اور گروہوں کوجن سے انہیں عملی میدان میں کوئی حقیقی خطرہ محسوس ہوا، ایسے القاب سے یاد کیا جن سے انہیں مسلم معاشرے اور روایت میں اجنبی ثابت کیا جائے۔

مزید برآں سیاسی اسلام کے ڈانڈےاس مسلم مزاحمتی مسلح جدوجہد سے جوڑ دیے گئےجس نےعموماً ردعمل کی نفسیات سے جنم لیااورجو دنیا میں دہشت گردی کے فروغ کی مرتکب  ٹھہرائی جاتی ہے۔

سید مودودیؒ  پرامن جدوجہد کے داعی ہیں اورطاغوت کے انکار،اسلام کے غلبہِ سیاسی کی فکر،اس کے لیے ان تھک جدوجہداور اسلامی تصورِ جہادپر غیر معذرت خواہانہ رویے نے انہیں مسلم انقلابی مفکرین(یاعرفِ عام  میں سیاسی اسلام کے داعیین)  کی صفِ اول میں جگہ فراہم کردی ہے۔

اس حیثیت میں سید مودودیؒ ایک طرف  غیر مسلح انقلابی و اصلاحی تحاریک کے لیے مشعلِ راہ فراہم کرتے ہیں تو دوسری طرف مسلح تحاریک بھی  انکارِ طاغوت اورمسئلہِ حاکمیت کے ان کے افکار سےرہ نمائی لیتی ہیں ۔اس تناظر میں کہ جب  مغرب میں بالعموم  سیاسی اسلام اور دہشت گردی ہم معنی کردی گئی ہے سید مودودیؒ اور احیائے اسلام اور غلبِہ دین کے تصورات رکھنے والے مفکرین کے ساتھ زیادتی یہ ہوئ ہے کہ انہیں زبردستی تشدد اور تکفیریت کا نقیب ٹھہرادیا گیا ہے اور دنیا میں مبینہ مسلم انتہا پسندی  کے ڈانڈے ان کی تعلیمات سے جوڑ دیے گئے ہیں ۔

سید مودودیؒ کو اپنے افکار و نظریات اور ان کی معاشرتی پذیرائی کے باعث کثیر جہتی مخالفت کاسامنا کرنا پڑا۔ روایتی بے روح مذہبیت، لادینیت، اشتراکیت، سرمایہ داری، قوم پرستی،لادین جمہوریت اور فسطائیت سب پر ان کی چوٹ گہری ہے۔

سید مودودی ؒ ہر مفکر کی طرح اپنے عہد کے مسائل سے عہد برآہونے کی سبیل نکالنا چاہتے تھے۔ وہ جمود کو توڑ کر امتِ مسلمہ کو اپنے فرضِ منصبی کی بازیافت کی طرف متوجہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے لیے وہ محض نظری کوششوں پراکتفاکرکے نہ رہ گئے بلکہ ایک منظم تحریک کی قیادت بھی کی ۔

آپ پر جمہوریت کی وکالت کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔آپ مغربی جمہوریت کی تباہ کاریوں اور خباثت سے پوری طرح واقف تھے اور اسے مکمل طور پر رد کرتے ہیں :

“موجودہ تہذیب میں جمہوریت کے معنی ہیں جمہور کی حاکمیت، یعنی ایک علاقے کے لوگوں کی مجموعی خواہش کا اپنے علاقے میں مختارِ مطلق ہونا اور ان کا قانون کے تابع نہ ہونا بلکہ قانون کا ان خواہش کے تابع ہونا اور حکومت کی غرض صرف یہ ہونا کہ اس کا نظم اور اس کی طاقت لوگوں کی اجتماعی خواہشات کو پورا کرنے کے کام آئے۔ اب غور کیجیے کہ پہلے تولادینی نے ان لوگوں کو خدا کے خوف اور اخلاق کے مستقل اصولوں کی گرفت سے آزاد کرکے بے لگام اور غیر ذمہ دار اور بندہ نفس بنادیا ، پھر قوم پرستی نے ان کو شدید قسم کی قومی خود غرضی اور اندھی عصبیت اور قومی غرور کے نشے سے بدمست کردیا، اور اب یہ جمہوریت انہی بے لگام بدمست بندگانِ نفس کی خواہشات کو قانون سازی کے مکمل اختیارات دیتی ہے اور حکومت کا واحد مقصد یہ قرار دیتی ہےکہ اس کی طاقت ہر اس چیز کے حصول میں صرف ہو جس کی یہ لوگ اجتماعی طور پر خواہش کریں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی خود مختار صاحب حاکمیت قوم کا حال آخر ایک طاقت وربدمعاش کے حال سے کس بات میں مختلف ہوگا۔ پھر جب دنیا میں صرف ایک ہی قوم ایسی نہ ہو بلکہ ساری متمدن قومیں اسی ڈھنگ پر بے دینی، قوم پرستی اور جمہوریت کے اصولوں پر منظم ہوں تو دنیا بھیڑ یوں کا میدانِ جنگ نہ بنےگی تو اورکیابنےگی؟  یہ وجوہ ہیں جن کی بنا پر ہم ہر اس نظامِ اجتماعی کو فاسد سمجھتے ہیں جوان تین اصولوں (لادینیت ، قوم پرستی و جمہوریت)کی بنیادہے۔ ہماری دشمنی لادینی قومی جمہوری نظام سے ہے، خواہ اس کے قائم کرنے اور چلانے والے مغربی ہوں یا مشرقی، غیر مسلم ہوں یا نام نہاد مسلمان، جہاں، جس ملک اور جس قوم پر بھی یہ مسلط ہوگی، ہم بندگانِ خدا کو اس سے ہوشیار کرنے کی فکر کریں گے کہ اسے دفع کرو”۔

اس کے بالمقابل آپ جمہوری خلافت کا تصور پیش کرتے ہیں ۔

“اس حقیقت میں صحیح بھی یہی ہے اور نتائج کے اعتبار سے انسان کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ خدا کو حاکم مان کرانسانی زندگی کا نظام حکومت خلافت و نیابت کے نظریہ پر بنایا جائے۔ یہ خلافت بلا شبہ جمہوری ہونی چاہیے، جمہور کی رائے ہی سے حکومت کے امیر یا ناظم اعلٰی کا انتخاب ہونا چاہیے۔ انھی کی رائے سے اہلِ شورٰی منتخب ہونے چاہییں۔  ہماری پارلیمنٹ کا اساسی نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ جن امور میں خدا نےہمیں ہدایات دی ہیں ان میں ہم قانون سازی نہیں کریں گے بلکہ اپنی ضروریات کےلیے خداکی ہدایات سے تفصیلی قوانین اخذ کریں گے۔ اور جن امور میں خدا نے ہدایات نہیں دی ہیں ان میں ہم یہ سمجھیں گے کہ خدا نے خود ہی ہم کو آزادیِ عمل بخشی ہے اس لیے صرف انھی امور میں ہم باہمی مشورے سے قوانین بنائیں گے۔ مگر یہ قوانین لازماً اس مجموعی سانچے کے مزاج سے مطابقت رکھنے والے ہوں جو خدا کی اصولی ہدایات نے ہمارے لیے بنادیا ہے۔  پھر یہ ضروری ہےکہ پورے نظام تمدن وسیاست کی کارفرمائی اوراس کا انتظام ان لوگوں کے سپرد ہوجو خدا سے ڈرنے والے اور ا س کی اطاعت کرنے والےاور ہر کام میں اس کی رضا چاہنے والے ہوں۔ جن کی پبلک اور پرائیویٹ دونوں قسم کی زندگیوں سے یہ شہادت ملے کہ وہ بے لگام گھوڑے کی طرح نہیں ہیں جو ہر کھیت میں چرتا اور ہر حد کو پھاندتا پھرتا ہو بلکہ ایک الٰہی ضابطہ کی رسی سے بندھے ہوئے اورایک خداپرستی کے کھونٹے سے مربوط ہیں اوران کی ساری چلت پھرت اسی حد تک محدود ہے جہاں تک وہ رسی انہیں جانے دیتی ہے”۔

آپ مسلح جدوجہد کی مشکلات اور موانعات سے آگاہ تھے، سید احمد شہید ؒ  کی بے مثال تحریکِ جہاد کی ناکامی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ مسلم قوم کی اخلاقی حالت بھی آپ کے سامنے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ خفیہ اور مسلح تحریکات کے سخت خلاف تھےکہ ان کے نتائج عمومی طور پر کبھی بھی مثبت نہیں برآمد ہوئے ہیں ۔

ان حالات میں تبدیلی اور انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر آپ بعض شرائط کےتحت جمہوریت کے اسلامی ورژن کو قبول کرتے ہیں اور اسے اپنی سیاست کی بنیاد بناتے ہیں ۔بعد ازآں جمہوریت کی زیادہ وکالت کا ایک سبب شاید پاکستان کے معروضی حالات بھی تھے جس میں مارشل لائی آمریت  نے جماعتِ اسلامی کے کام میں بڑے رخنے ڈالے  اور اسی کے ساتھ ساتھ  معاشرے کو دین سے دورکرنے اور غیر اسلامی رجحانات کی اسلام میں پیوند کاری کرنے کے لیے بھی آمرانہ ادوار خصوصاً  جنرل ایوب خان کا دور یادرکھاجاتا ہے۔” خلافت و ملوکیت” اسی دور کی تصنیف ہے جس میں آپ ملوکیت اور جابرانہ استبداد کورد کرکے اسلام کے جمہوری شورائی مزاج کو نمایاں کرتے ہیں ۔

جماعتِ اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی بنیاد ، قیامِ پاکستان کے بعد سے جن خطوط پر رہی ہے اس کی نشان دہی سید مودودیؒ  کی ماچھی گوٹھ کی تقریر مطبوعہ”تحریکِ اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل” میں مفصلاً کی گئی ہے ۔

مختصرا ًاسے چار نکات کی صورت میں یوں بیان کیا گیا ہے:

تطہیرِ افکار و تعمیرِ افکار،صالح افراد کی تلاش وتنظیم وتربیت اور اجتماعی اصلاح کی سعی۔ انقلاب ِ امامت۔

اختتامیہ

سید مودودی ؒ عصرِ حاضر میں اسلام پراعتماد اور اس کے قابل عمل ہونے بلکہ ہر دور کی ضرورت ہونے کی ایک توانا آواز ہیں ۔ آج عالمی سطح پر آٹھ جماعت اسلامی وجود رکھتی ہیں ۔ ان میں سے چھ ہندوستان، پاکستان ، مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر،بنگلہ دیش  اور سری لنکا کی جماعتِ اسلامی ہیں  جبکہ دو برطانیہ کا اسلامک مشن اور اسلامک سرکل اف نارتھ امریکاہیں ۔یہ تمام تنظیمیں فکرِ مودودی کے نظریاتی پس منظر میں قائم ہیں۔ پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں جن مختلف عناصر نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے سید مودودی کا حصہ ان سب میں بڑھ کر ہے۔نہ صرف اپنی تعلیمات کے ذریعے  بلکہ اپنی عملی جدوجہد اور مزید اپنی جماعت کی تربیت کرکے انہوں نے ملک میں نفاذِ اسلام  کی منزل سر کرنے کی جدوجہد کو آگے بڑھایا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد سےہی اس نوزائیدہ مملکت کے واحدجواز کے حوالے سے سید مودودی نفاذِ اسلام کی ضرورت اور ملکی یکجہتی و ترقی کے لیے اس کی اہمیت پر زور دیتے رہے۔ بدقسمتی سے حکم راں طبقہ اقتدار کے نشے میں چور ان باتوں سے غافل چلا آرہا ہے۔ 1971ء میں اس کے بدترین نتائج سقوطِ مشرقی پاکستان کی صورت میں بھگتنا پڑے۔ آج بھی ملک میں پھیلی بے امنی اور بے چینی کے ڈانڈے عدل و انصاف سے محرومی اور قانون کی حاکمیت سے گریز میں ملتے ہیں جو نفاذِ اسلام سے گریز کا نتیجہ ہے۔

اس مملکتِ خداداد میں خدمت کی سیاست کی بنیاد سید مودودی اور ان کی جماعتِ اسلامی  نے رکھی۔اسلامی دستور کی تیاری، غیر اسلامی  افکار و نظریات  کا مقابلہ خصوصاً سوشلزم کی بیخ کُنی ، حکومتی سطح کے  غیر اسلامی اور جابرانہ اقدامات پر گرفت  اور جمہوری آزادیوں کے لیے طویل جدوجہد ،مثبت سیاسی اقدار کا اجراء اور نوجوانوں میں اسلام پر اعتماد پیدا کرنے کے حوالے سے آپ کی خدمات بے مثل ہیں۔

سید مودودی کے ناقدین ان کی فکر کے جن نقائص کی نشان دہی کرتے ہیں ان کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ بلا شبہ ہر انسانی کام کی طرح سید مودودی کی فکر میں کچھ کمیاں موجود ہیں ۔ان کی فکر میں تدریجی ارتقاء کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔قیامِ پاکستان سے قبل کے حالات میں عملی سیاست سے دست کش رہ کر وہ اصولی نظریاتی فرد کے طور پرمسلمانوں کو ان کا بھولا سبق یاد دلاتے رہے۔وقت کا کڑے سے کڑا دباؤ ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ لاسکا۔ شاہ ولی اللہ ؒ کی طرح انہوں نے مسلمانانِ بّرِصغیرکے مرض کی تشخیص کی اور ہر مسلم گروہ  کے لیے علاج تجویز کیا۔

سید مودودی کی فکر کے دو ادوار  بیان کیےجاسکتے ہیں جن میں حکمتِ عملی کے لحاظ سے فرق واضح ہے۔

پہلا قبل از تقسیم ِ ہند اوردوسرا بعد از قیامِ پاکستان

سید مودودی نے احیائے اسلام اور اقامتِ دین کے لیے جو چار نکاتی(تطہیرِ افکار، تعمیرِ سیرت، تنظیم، اصلاحِ معاشرہ و انقلابِ امامت) حکمتِ عملی اختیار کی  اس کے مطابق ان کا اصل میدان تطہیرِ افکار اور  تعمیرِ سیرت تھا۔جس کی بنیاد پر ایک صالح جماعت وجود میں آنی تھی جو انقلابِ امامت کی جدوجہد کرے۔معاشرے کو نیچے سے اسلامی انقلاب کی تڑپ بیدار کرکے تیار کرے اور عوامی قوت کے بل پر اصلاحِ معاشرہ اور اصلاحِ نظام کا کام انجام دے۔

ہندوستان میں کام کرتے ہوئے انہوں نے پہلے تین نکات پر اصل زور دیا اور وہ افرادِ کار تیار کرنے  کی کوشش کی جن کے بھروسے پر اسلامی  تحریک اپنے  حتمی ہدف  انقلابِ امامت کی سمت پیش قدمی کرسکے۔ہندوستان کے مخصوص حالات میں لادینی جمہوری نظام سید مودودی کے معتقدات  کے مطابق سیاسی میدان میں عملی شرکت  کا مانع تھا  لہٰذا اس دور میں سید مودودی کی پوری توجہ حالات کے تجزیے اور مسلمانانِ برِّ صغیر کی  نظری رہ نمائی  اور اپنے وابستگان کی اخلاقی و نظریاتی تربیت پر رہی ۔آپ کے اصل مخاطب عوام تھے۔ آپ کا زور تبدیلی و تیاریِ عوام پر تھا۔حکومت پر تنقید تھی لیکن اصل خطاب عوام کے اندر اس فہیم اقلیت سے تھا جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو اوراس انقلابی جدوجہد کا حصہ بن سکےجس کا نقشہ آپ نے علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی میں اپنی تقریر بعنوان “اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟” میں پیش کیا تھا۔ایک اصولی ، نظریاتی تحریک کے طور پر ساری دنیا سے کٹ کر صرف ایک اپنے مقصد کی خاطرہر قسم کی تنقید وملامت کو گوارا کرکےہر قسم کی قربانی پیش کی گئی تھی۔ اس دورمیں سید مودودی انسان کو بحیثیت انسان  مخاطب  کرتے ہیں۔ اب تک مخاطب نسلی مسلمان نہیں بلکہ  شعوری اہلِ ایمان تھے۔نسلی مسلمانوں سے قانونی ایمان کے مقام سے اٹھ کرحقیقی ایمان  پیدا کرنے کا مطالبہ تھا۔مسلمان ان کے نزدیک “قوم” نہیں بلکہ ایک نظریاتی جماعت کے طورپر پر بین الاقوامی”امتِ مسلمہ”یا”ملتِ اسلامیہ”کا حصہ ہیں ۔ مسلمانوں کی قومی تحریکِ خودمختاری کو انہوں نے بمنزلہ گم راہی قرار دیااور امتِ مسلمہ کو اس کا واحد نصب العین “اقامتِ دین” یاد دلاتے رہے۔

 لیکن قیامِ پاکستان کے بعد حالات تبدیل ہوگئے۔مسلم اکثریت کے ایک ایسے ملک میں  جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، جہاں کے عوام نے اسلام کی خاطرجان ، مال  حتیٰ کہ آبرو تک کی قربانی دی اور آگ و خون کے دریا عبور کرکےآزاد وطن حاصل کیا۔ اس ملک میں اب   دستور سازی کا مرحلہ سامنے تھا۔وہ اسلامی ریاست جس کے قیام کی نقشہ کشی قبل از ایں معاشرے میں فکری انقلاب سےعوام کے ذہنی انقلاب  او رپھرریاست میں سیاسی انقلاب کی سمت پیش قدمی کی صورت میں کی گئی تھی۔اسلامی ریاست کی منزل تک رسائی کا ایک مختصر راستہ “اسلامی دستور” کے نفاذ کی صورت میں سامنے نظرآرہا تھا۔سید مودودی کے خیال میں اس موقع پر نظری بحث کی بجائے عملی اقدام کی ضرورت تھی  کہ ذرا سی چُوک منزل سے برسوں کی مسافت کی دوری پر لا ڈالے گی۔ اس طرح سید مودودی میدانِ سیاست میں عملی طور پر اتر گئے۔

ممتاز تجزیہ کارولی نصرکے خیال میں سیدمودودی کی قیامِ  پاکستان سے قبل اور بعد کی حکمت عملی میں بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔اول الذکر دور میں انہوں نےبراہِ راست  سیاسی عمل میں شریک ہوئے بغیر غلام ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کو تبصرے اور تنقید کا ہدف بنایااوراپنے وابستگان  کی دینی و اخلاقی  تربیت پر زور دیا۔ وہ مسلمانوں کے سامنے(اسلامی )لاٴیحہ عمل کی نشان دہی کےساتھ ایک ایسے گروہ کی تعمیر و تشکیل میں مصروف رہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے نشان منزل اور نمونۂ عمل پیش کر سکے غیر موجودگی میں ابھرنے والے سیاسی خلا کو پر کرنے کے امکانات نے انہیں سابقہ حکمتِ عملی کو ترک کر کےعملی سیاست میں  حصہ لینے پرآمادہ کردیا۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بقول “حبِ عاجلہ” سے مغلوب ہوکر سید مودودی اور جماعتِ اسلامی  اس راہ پر نکل گئے جو منزل کو دور سے دور تر کرتی چلی گئی۔

پاکستان میں سید مودودی کی سرکردگی میں جماعتِ اسلامی نے 2 نکاتی لائحہ عمل اختیا رکیا:

1۔ملک میں اسلامی دستور کا نفاذ اور اس کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی سعی ۔

2۔ ملکی قیادت میں انقلاب کی جدوجہد۔

پہلا نکتہ تو قابلِ فہم طور پر سید مودودی کی فکر سے مطابقت رکھتا ہے لیکن دوسرا نکتہ جو انقلابِ قیادت بغیر تبدیلی و تیاریِ  عوام  سے متعلق تھا اس کی بنیاد اس تصور پر تھی کہ رفتہ رفتہ لیگی قیادت کی نااہلی نمایاں ہوتی جائے گی  اور    قیامِ پاکستان کے بعد پیش آمدہ سنگین مسائل جن سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ لیگی قائدین کے پاس موجود نہیں ہے،  عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہوں گے۔اس موقع پر مایوس عوام کے سامنے  قیادت کا خلا بھرنے کے لیے جماعتِ اسلامی کو ایک متبادل کے طور پر تیار رہنا چاہیے۔

قیامِ پاکستان کے بعد جماعت ِ اسلامی کے عملی  سیاست میں داخل ہونے  کو ناقدین موقع پرستی اور مذہب کے سیاسی استعمال سےتعبیر کرتے ہیں لیکن اس کی ضرورت کے دلائل سید مودودی کے پاس تھے۔

“جس روز تقسیمِ ملک  کا اعلان ہوا، اسی وقت ہم نے سمجھ لیا کہ جیسی بری یا بھلی تعمیر ی سعی بھی آج تک ہم کر سکے ہیں اب اسی پر اکتفا کرنا ہوگا اور اس قوم کو سنبھالنے کی فوراً کوشش کرنی پڑے گی جو کسی واضح نصب العین کے بغیر اور کسی اخلاقی طاقت اور اجتماعی اصلاح کے بغیر یکلخت بااختیار ہو گئی ہے۔ اس فوری اقدام کی ضرورت کا احساس ان حالات کو دیکھ کر اور بھی زیادہ شدید ہو گیا جوعین تقسیم کے وقت اور اس کے معاًبعد پیش آئے”۔

ناقدین کا ایک گروہ وہ ہے جو سید مودودی کی قبل از تقسیم حکمتِ عملی کو غیر سیاسی قرار دیتا ہے اور اس کے مطابق  قیامِ پاکستان کے بعدسید مودودی سیاسی ہوگئے تھے۔ حقیقت یہ ہے  کہ  سید مودودی اول روز سے ایک سیاسی لائحہ عمل رکھتے تھے اور اس کے موانعات دور کرتے ہوئے مسلسل اپنے ہدف کی جانب پیش قدمی کرتے رہے۔

یہاں فرق یہ ہوا کہ عوام کے بجائے اب ان کا مخاطب حکومت تھی۔امتِ مسلمہ کی بجائے پاکستانی قوم تھی۔اس دور میں سید مودودی اور ان کی جماعت ایک مسلم قوم پرست کے طورپرسامنے آتے ہیں ۔ان کا بنائے استدلال نسلی مسلمان ہیں۔جس تحریکِ پاکستان کو وہ اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے غیر متعلق گردانتے تھےاسی تحریک کے منطقی نتائج اسلامی ریاست کی شکل میں حاصل کرنا ان کا مطمع نظر قرار پایا۔وقتی اور ہنگامی مصروفیات کی مشغولیت نے انہیں ان کے اصل کام تربیتِ عوام  اور اس کے لیے اسلامی تعلیمی نظام کی تیاری کے بجائے سارا زور تبدیلی قیادت اور اسلامی دستور کی مہم پرلگانےپر مجبور کردیا۔

ڈاکٹر اسرار احمد کے بقول:

“اگر مسلمانانِ ہند مجتمع ہوکراپنے قومی وملی تشخص کے تحفظ اور غیر مسلم اقوام کے معاشی و تہذیبی تسلط  سے بچاؤکی فکر کر رہے تھے اور ان مقاصدکے لیے حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں مصروف تھے تو نہ تو وہ کفر تھا اور نہ ہی  اگرآج جماعتِ اسلامی   نظریۂ پاکستان کی سب سے بڑی علم بردار بن کر تحریکِ مسلم لیگ کی وراثت حاصل کرنے کی سعی کر رہی ہے تویہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جب کہ ملی و قومی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے نہ پہلے کم تھے نہ آج مفقود ہیں ،وہاں اس جگہ کو پُر کرنے والا کوئی نہیں رہاجو جماعت ِاسلامی نے  اپنے انتقالِ موقف سے خالی کی ہے”۔

جماعتِ اسلامی کی مندرجہ بالا 2 نکاتی حکمتِ عملی(اسلامی دستور اور اسلامی قیادت) کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بڑی ناکامی نظر آتی ہے۔ اسلامی دستور کی جانب پیش قدمی میں قراردادِ مقاصد 1949ء ایک بڑی پیش رفت تھی  لیکن اس کے بعد بھی دستور تیار ہوتے ہوتے مزید7 سال گزر گئے اور1956ء میں بالآخرکسی نہ کسی  طرح دستور بنا لیکن اسے مکمل اسلامی دستور قرار دینا مشکل ہے۔برے بھلے اس دستور کو بھی لیکن 1958ء  میں  توڑ دیا گیا۔ ایک نئی جدوجہد مارشل لاء کی پابندیوں اور گم راہیوں کے خلاف شروع ہوئی۔1962ء کا آئین اسلامی حوالے سے 1956ء کے دستور سے بھی زیادہ افلاس کا شکار تھا۔ جنرل ایوب خان کا پورا دور  ابتلاء و جدوجہد سے عبارت رہا۔بعد ازآں سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو  کے عہدمیں ستم و جبر کی نئی تاریخ رقم ہوئی۔1973ء کا دستور نسبتاً بہتر کہا جاسکتا ہے لیکن اس کی اسلامی شباہت ان ترامیم کے نتیجے میں نمایاں ہوئی جو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے دوران نافذ کیں۔  لیکن یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی دستورجیسا کچھ بھی بنا،اس کی منظوری میں سید مودودی اور جماعتِ اسلامی کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

جناب جاوید احمد غامدی کے شاگرد ممتاز دانش ور خورشید احمد ندیم کے مطابق:

“اسلام کی دستوری اور آئینی بالادستی کے لیے پاکستان میں جو جدوجہد کی گئی اس میں جماعت اسلامی پاکستان کا حصہ سب سے نمایاں ہے اور اس جنگ میں اس نے بلا شبہ ایک سپہ سالار کا کردار ادا کیا ہے۔ سیکولر قوتوں کی خواہشات اور کاوشوں کے علی الرغم ،اسلام کو اب یہ حیثیت حاصل ہے کسی سیکولر حکومت کے لیے یہ بات آسان نہیں رہی کہ وہ آئینی سطح پر اسلامی تعلیمات سے انحراف کر سکے۔ اس فضا کو قائم کرنےمیں جہاں دیگر عوامل کار فرما رہے ہیں ،وہاں جماعت اسلامی کی مساعی بنیادی حیثیت کی حامل ہیں”۔

جبکہ دوسرے نکتے تبدیلی ِ قیادت کے معاملے میں ناکامی اظہر من الشمس ہے جس کا کچھ تجزیہ ہم گزشتہ باب (باب پنجم)کے آغاز میں جماعتِ اسلامی کی انتخابی  کارکردگی کے حوالے سے کر آئے ہیں۔

جماعتِ اسلامی اس سارے عرصے میں مسلسل ( پابندی کے وقفے کو چھوڑ کر)کسی نہ کسی  حکومت مخالف تحریک میں مصروف رہی۔ یوں جماعت کا مزاج دعوتی سے احتجاجی ہوتا چلاگیا۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ سید مودودی کی فکر نے مذہبی طبقات کو جارحیت کے ساتھ ریاستی نظام میں دخیل ہونے کا جواز فراہم کیا جس سے انتہا پسندی پیدا ہوئی۔ لیکن سید مودودی کی فکر میں وہ اعتدال و توسط پایا جاتا ہے جو اسلامی  تعلیم کا خاصہ ہے ۔انہوں نے خود کبھی  جادۂ اعتدال سے ہٹنا گوارا نہیں کیا اوردلیل و مکالمے پر اپنی تحریک کی بنیاد رکھی۔ اصلاً انتہاء پسندی دین کے ناقص تصور اور اسے ذاتی اہداف کے حصول کا ذریعہ بنانے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

انہیں رومانویت  پسند قرار دینا آسان ہے لیکن اسلام کی جو تشریح وہ پیش کرتے ہیں  اسی کے مطابق ان کا پورا عملی کام ہے۔اس کے لیے وہ ہر نوع کی قربانی دینے کو تیار رہے  اور رومانویت پسندوں کے برعکس ایک بھرپور عملی زندگی بسر کی۔

مذکورہ بالا شواہد کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سید مودودی کی سیاسی فکر کے مجموعی طور پرپاکستانی سیاست پرمثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور مقاصدِ قیام پاکستان اور استحکام  ِپاکستان کے حوالے سے سید مودودی کی سیاسی فکرکا کردار بہت اہم رہا ہے۔

سید مودودی کی سیاسی فکرمسلمانوں کے عصری مسائل میں عمدہ رہ نمائی مہیاکرتی ہے۔ سیدابوالاعلیٰ مودودی نے نہ صرف اسلامی ریاست کی اہمیت کو واضح کیا بلکہ اس کے قیام  کا مکمل نقشہ  بھی فراہم کیا۔ انہوں نےصرف علمی بنیادوں پرکام ہی نہیں کیابلکہ عملی میدان میں اسلامی ریاست کےقیام کےلیےمکمل جدوجہد بھی کی۔

ان کے مخالفین بھی ان  کی اصطلاحات اور مقاصد سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے،آج کے دور میں یہ بات سید مودودیؒ کی سیاسی فکر پر سب  سے زیادہ صادق آتی ہے۔ سید مودودیؒ کی سیاسی فکر کا فیضان بایں طور جاری ہوا کہ آج مسلم دنیا میں چلنے والی کم ہی تحریکیں معروف معنوں میں “سیاسی اسلام” کے دائرے سے باہر ہیں۔ مختلف حلقوں میں اقامت دین اور حکومت الٰہیہ کے قیام کو مختلف ناموں سے یاد کیا گیا اور نوجوانانِ تحریکاتِ اسلامی نے اس مقصد کو نصب العین بنایا۔ عالمِ عرب میں بیشتراحیائی  تحریکوں نے سید مودودی کے نظریات سے استفادہ کیا۔ 1980ء کی دہائی میں جب جہادِ اسلامی کاا حیاء ہوا اور ساری دنیا میں مسلم خطوں میں قابضین کے خلاف جہادی تحریکوں کا آغاز ہوا تو انہوں نے بھی سیاسی فکر کے لیے فکرِ مودودی راہنمائی حاصل کی۔ خود برصغیر کی روایتی مذہبی فکر میں ، جہاں سید مودودیؒ کو مختلف حوالوں سے شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا، رفتہ رفتہ اقامت دین کے نظریے کا نفوذ ہوتا گیا اور آج  تمام مسالک کی سیاسی جماعتیں “اسلامی حکومت کا قیام” کے قیام کے لیے دستوری طور پر متفق ہیں۔ یہ آپ کے نظریے کی ہمہ گیری کا اعجاز ہے۔

 سید مودودی ؒ اصلاً نہ جمہوریت کے وکیل ہیں اور نہ دہشت گردی و انتہاء پسندی کے حامی ۔ قوم پرستی کو آپ شرک سمجھتے ہیں اورامتِ مسلمہ کے وسیع تر تصور کے قائل ہیں اور قومی و جغرافیائی حد بندیاں آپ کی فکر کی راہ میں  دیوارنہیں بنتی ہیں ۔ سید مودودی ؒ نےاسلام پر اعتماد ، اس کے مطابق عمل،طاغوت کے انکار، حریت فکر اور جہدِ مسلسل کی جس دعوت کو عام کیا اس کے ثمرات ساری دنیا میں محسوس کیے گئے ہیں ۔