ریڈ مودودی ؒ کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔
فصل :۱ اراضی کے متعلق احکامات ملکیت زمین
١-اِنَّ الْقَوْمَ اِذَا اَسْلَمُوْا اَحْرَزُوْا دِمَائَ ھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ۔ (ابو داؤد کتاب الخراج باب فی اقطاع الارضین)
’’جب لوگ اسلام قبول کرلیں تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیتے ہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَبُو حَفْصٍ، ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ، ثَنَا اَبَانٌ قَالَ عُمَرُ: وَ ھُوَ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ صَخْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ غَزَا ثَقِیْفًا، فَلَمَّا اَنْ سَمِعَ ذٰلِکَ صَخْرٌ، رَکِبَ فِیْ خَیْلٍ یُمِدُّ النَّبِیَّ ﷺ فَوَجَدَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ یَفْتَحْ فَجَعَلَ صَخْرٌ، یَوْمَئِذٍ عَھْدَ اللّٰہِ وَ ذِمَّتَہٗ، اَنْ لاَّ یُفَارِقَ ھٰذَا الْقَصْرَ حَتّٰی یَنْزِلُوْا عَلٰی حُکْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَلَمْ یُفَارِقْھُمْ حَتّٰی نَزَلُوْا عَلٰی حُکْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَتَبَ اِلَیْہِ صَخْرٌ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ ثَقِیْفًا قَدْ نَزَلَتْ عَلٰی حُکْمِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَ اَنَا مُقْبِلٌ اِلَیْھِمْ وَ ھُمْ فِیْ خَیْلٍ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِالصَّلٰوۃِ جَامِعَۃٌ، فَدَعَا لِاَحْمَسَ عَشَرَ دَعْوَاتٍ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِاَحْمَسَ فِیْ خَیْلِھَا وَ رِجَالِھَا وَ اَتَاہُ الْقَوْمُ فَتَکَلَّمَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَقَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اِنَّ صَخْرًا اَخَذَ عَمَّتِیْ وَ دَخَلَتْ فِیْمَا دَخَلَ فِیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ فَدَعَاہُ فَقَالَ: یَا صَخْرُ اِنَّ الْقَوْمَ اِذَا اَسْلَمُوْا اَحْرَزُوْا دِمَآئَ ھُمْ اَمْوَالَھُمْ فَادْفَعْ اِلَی الْمُغِیْرَۃِ عَمَّتَہٗ فَدَفَعَھَا اِلَیْہِ، وَ سَاَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ مَا لِبَنِیْ سُلَیْمٍ قَدْ ھَرَبُوْا عَنِ الْاِسْلاَمِ، وَ تَرَکُوْا ذٰلِکَ الْمَائَ فَقَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اَنْزِلْنِیْہِ اَنَا وَ قَوْمِیْ قَالَ: نَعَمْ، فَاَنْزَلَہٗ وَ اَسْلَمَ یَعْنِیْ السُّلَمِیِّیْنَ فَاَتَوْا صَخْرًا فَسَالُوْہُ اَنْ یَّدْفَعَ اِلَیْھِمِ الْمَآئَ، فَاَبٰی فَاَتَوْا النَّبِیَّ ﷺ فَقَالُوْا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، اَسْلَمْنَا وَ اَتَیْنَا صَخْرًا لِیَدْفَعَ اِلَیْنَا مَآئَ نَا، فَاَبٰی عَلَیْنَا فَاَتَاہُ فَقَالَ: یَا صَخْرُ اِنَّ الْقَوْمَ اِذَا اَسْلَمُوْا اَحْرَزُوْا اَمْوَالَھُمْ وَ دِمَآئَ ھُمْ فَادْفَعْ اِلَی الْقَوْمِ مَآئَ ھُمْ، قَالَ: نَعَمْ، یَا نَبِیَّ اللّٰہِ فَرَاَیْتُ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَتَغَیَّرُ حُمْرَۃً حَیَائً مِّنْ اَخْذِہِ الْجَارِیَۃَ وَ اَخْذِہِ الْمَآئَ۔ (١)
تشریح: یہ اصول جس طرح املاک منقولہ پر چسپاں ہوتا تھا، اسی طرح غیر منقولہ پر بھی چسپاں ہوتا تھا اور اس معاملہ میں جو برتاؤ غیر زرعی جائدادوں کے ساتھ تھا وہ زرعی جائدادوں کے ساتھ بھی تھا۔ حدیث اور آثار کا پورا ذخیرہ اس پر شاہد ہے کہ آنحضرت انے عرب میں کسی جگہ بھی اسلام قبول کرنے والوں کے املاک سے ذرہ برابر کوئی تعرض نہیں فرمایا۔ جو جس چیز کا مالک تھا اسی کا مالک رہنے دیا گیا۔ اس باب میں اسلامی قانون کی تشریح امام ابو یوسف رحمۃ ا للہ علیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’جو لوگ اسلام قبول کرلیں ان کا خون حرام ہے۔ قبول اسلام کے وقت جن اموال کے وہ مالک ہوں وہ انہی کی ملک رہیں گی، اسی طرح ان کی زمینیں بھی انہی کی ملک رہیں گی اور وہ زمینیں عُشری قرار دی جائیں گی۔ اس کی نظیر مدینہ ہے جس کے باشندوں نے رسول اللہ اکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور وہ اپنی زمینوں کے مالک رہے اور ان پر عشر لگا دیا گیا۔ ایسا ہی معاملہ طائف اور بحرین کے لوگوں سے بھی کیاگیا۔ اسی طرح بدویوں سے بھی جن جن لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ اپنے اپنے چشموں اور اپنے اپنے علاقوں کے مالک تسلیم کیے گئے۔
ان کی زمین عشری زمین ہے وہ اُس سے بے دخل نہیں کیے جاسکتے اور انہیں اس پر بیع اور وراثت کے جملہ حقوق حاصل ہیں بالکل اسی طرح جن علاقوں کے باشندے اسلام قبول کرلیں وہ اپنی املاک کے مالک رہیں گے۔ ‘‘ (کتاب الخراج، ص:۳۵)
اراضی کے متعلق احکام اور اقسام
اسلامی قانون معیشت کے دوسرے جلیل القدر محقق امام ابو عبید القاسم بن سلام لکھتے ہیں:
’’رسول اللہ ااور آپ اکے خلفاء سے جو آثار ہم تک پہنچے ہیں وہ اراضی کے بارے میں تین قسم کے احکام ہیں۔ ایک قسم ان اراضی کی جن کے مالک اسلام قبول کرلیں، تو قبول اسلام کے وقت وہ جن اراضی کے مالک ہوں وہ انہی کی ملک میں رہیں گی۔ اور وہ عشری زمینیں قرارپائیںگی۔ عشری کے سوا ان پر اور کچھ نہ لگے۔‘‘ (کتاب الاموال، ص:۵۵)
آگے چل کر پھر لکھتے ہیں:
’’جس علاقے کے باشندے اسلام لے آئے وہ اپنی زمینوں کے مالک رہے جیسے مدینہ طائف یمن اور بحرین۔ اسی طرح مکہ اگرچہ بزور شمشیر فتح ہوا، لیکن رسول اللہ انے اس کے باشندوں پر احسان کیااور ان کی جانوں سے تعرض نہ کیا اور ان کے اموال کو غنیمت نہ ٹھہرایا۔۔۔ پس جب ان کے اموال ان کی ملک میں چھوڑ دیے گئے، اور اس کے بعد وہ مسلمان ہوگئے تو ان کی املاک کا حکم بھی وہی ہوگیا جو دوسرے مسلمان ہونے والے لوگوں کی املاک کا تھا اور ان کی زمینیں بھی عُشری قرار دی گئیں۔‘‘ (ص:۵۱۲)
علامہ ابن قیمرحمۃ ا للہ علیہ زاد المعاد میںلکھتے ہیں:
’’نبی اکا طریقہ یہ تھا کہ جو شخص اسلام لانے کے وقت جس چیز پر قابض تھا، وہ اسی کے قبضہ میںرہنے دی گئی۔ یہ نہیں دیکھا گیا کہ اسلام لانے سے پہلے وہ چیز کس ذریعہ سے اس کے قبضہ میں آئی تھی، بلکہ وہ اس کے ہاتھ میں اسی طرح رہنے دی گئی جس طرح وہ پہلے سے چلی آرہی تھی۔‘‘ (ج۲،ص:۹۶)
یہ ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے جس میں استثناء کی کوئی ایک مثال بھی عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ کے نظائر میں نہیں ملتی۔ اسلام نے اپنے پیرؤوں کی معاشی زندگی میں جو اصلاحیں بھی جاری کیں، آئندہ کے لیے کیں، مگر جو ملکیتیں پہلے سے لوگوں کے قبضے میں چلی آرہی تھیں ان سے کوئی تعرض نہ کیا۔ (معاشیات اسلام، ملکیت زمین کا مسئلہ’’دور رسالت اور خلافت۔۔۔‘‘)
صلح کرنے والے لوگوں کی زمین کا معاملہ
٢- لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْکُمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَ اَبْنَائِ ھِمْ فَتُصَالِحُوْنَھُمْ عَلٰی صُلْحٍ فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ فَوْقَ ذٰلِکَ فَاِنَّہٗ لاَ یَصْلُحُ۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)
’’اگر کبھی ایسا ہو کہ کسی قوم سے تمہاری جنگ ہو، پھر وہ تمہارے سامنے آکر اپنی اور اپنے بال بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنے مال دینے پر تیار ہوجائیں، اور تم ان سے صلح کرلو،تو ایسی صورت میں جس چیز پر ان سے تمہاری صلح ہو اس سے زائد کچھ نہ لینا کیوں کہ وہ تمہارے لیے جائز نہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَ سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالاَ: ثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ ھِلاَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیْفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ جُھَیْنَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَعَلَّکُمْ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا فَتَظْھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ فَیَتَّقُوْنَکُمْ بِاَمْوَالِھِمْ دُوْنَ اَنْفُسِھِمْ وَ اَبْنَآئِ ھِمْ، قَالَ سَعِیْدٌ:فِیْ حَدِیْثِہٖ فَیُصَالِحُوْنَکُمْ عَلٰی صُلْحٍ ثُمَّ اتَّفَقَا فَلاَ تُصِیْبُوْا مِنْھُمْ شَیْئًا فَوْقَ ذٰلِکَ فَاِنَّہٗ لاَ یَصْلُحُ لَکُمْ۔ (٢)
٣- اَلاَ، مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِ انْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (ابو داؤد)
’’خبردار رہو، جوشخص کسی معاہد ذمی پر ظلم کرے گا، یا از روئے معاہدہ اس کے جو حقوق ہوں ان کے اندر کوئی کمی کرے گا، یا اس پر اس کی برداشت سے زیادہ بار ڈالے گا، یا اس سے اس کی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز لے گا، اس کے خلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ الْمَھْرِیُّ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَخْرِ الْمَدِیْنِیُّ، اَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَیْمٍ اَخْبَرَہٗ عَنْ عِدَۃٍ مِّنْ اَبْنَآئِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اٰبَآئِ ھِمْ دِنْیَۃً، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اَلاَ، مَنْ ظَلَمَ مُعَاھِدًا اَوِانْتَقَصَہٗ اَوْکَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ، اَوْ اَخَذَ مِنْہُ شَیْئًا بِغَیْرِ طِیْبِ نَفْسٍ فَاَنَا حَجِیْجُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (٣)
اسی اصول کے مطابق نبی انے نجران، ایلہ، اذرعات، ہجر اور دوسرے جن جن علاقوں اور قبیلوں کے ساتھ صلح کی ان سب کو ان کی زمینوں اور جائدادوں اور صنعتوں اور تجارتوں پر بدستور بحال رہنے دیا اور صرف وہ جزیہ و خراج اُن سے وصول کرنے پر اکتفا فرمایا، جس پر اُن سے معاہدہ ہوا تھا۔ پھر اُسی اصول پر خلفائے راشدین نے بھی عمل کیا عراق، شام، الجزیرہ، مصر، ارمینیہ غرض جہاں بھی کسی شہر اور کسی بستی کے لوگوں نے صلح کے طریقے پر اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے حوالے کیا، ان کی املاک بدستور ان کے قبضے میں رہنے دی گئیں۔ اور اُن سے مال صلح کے سوا کوئی چیز کبھی وصول نہ کی گئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں بعض اہم مصلحتوں کی بنا پر نجران کے باشندوں کو اندرون عرب سے شام و عراق کی طرف منتقل کیا بھی گیا تو ان میں سے جس جس کے پاس نجران میں جتنی زرعی اور سکنی جائداد تھی اس کے بدلے میں نہ صرف اتنی ہی جائداد اس کو دوسری جگہ بھی دی گئی بلکہ حضرت عمرؓنے اپنے شام و عراق کے گورنروں کے نام فرمان عام لکھا کہ جس کے علاقے میں بھی وہ جاکر آباد ہوں وہ فلیوسعھم من خریب الارضفراخ دلی کے ساتھ افتادہ زمینوں میں سے ان کو دے۔
اس قاعدہ کلیہ میں بھی کسی استثناء کی مثال عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ کے نظائر سے پیش نہیں کی جاسکتی۔ چناں چہ یہ بھی فقہاء اسلام کا متفق علیہ قانون ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام ابو یوسف رحمۃ ا للہ علیہ اس کو اپنی کتاب الخراج (ص:۳۵)میں ایک قانونی دفعہ کے طور پر اس طرح ثبت فرماتے ہیں:
’’غیر مسلموں میں سے جس قوم سے اس بات پرامام کی صلح ہوجائے کہ وہ مطیع حکم ہوجائیں اور خراج ادا کریں وہ اہل ذمہ ہیں، اُن کی اراضی اراضی خراج ہیں، ان سے بس وہی کچھ لیا جائے گا جس پر اُن سے صلح ہوئی، اُن کے ساتھ عہد پورا کیا جائے گا اور اُن پرکسی چیز کا اضافہ نہ کیا جائے گا۔‘‘
(ملکیت زمین کا مسئلہ ’’دور رسالت اور خلافت۔۔۔‘‘)
بزور شمشیر فتح ہونے والوں کی اراضی
رہے وہ لوگ جو آخروقت تک مقابلہ کریں اور بزور شمشیر مغلوب ہوں، توان کے بارے میں تین مختلف طرز عمل ہم کو عہد نبوت و خلافت راشدہ میں ملتے ہیں۔
ایک وہ طرزِ عمل جو نبی انے مکہ میں اختیار فرمایا، یعنی فتح کے بعد (لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ) کا اعلان اور مفتوحین کو جان و مال کی پوری معافی۔ اس صورت میں جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے اہل مکہ اپنی زمینوں اور جائدادوں کے بدستور مالک رہے، اوراسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زمینیں عشری زمینیں قرار دے دی گئیں۔
دوسرا وہ طرزِ عمل جوآپؐ نے خیبر میں اختیار فرمایا، یعنی مفتوح علاقے کو مال غنیمت قرار دینا۔ اس صورت میں سابق مالکوں کی ملکیت ساقط کردی گئی۔ ایک حصہ خدا اور رسول کے حق میں لے لیا گیا اور باقی زمین کو اُن لوگوں میں تقسیم کردیا گیا جو فتح خیبر کے موقع پر لشکر اسلام میں شامل تھے۔ یہ تقسیم شدہ زمینیں جن جن لوگوں کے حصے میں آئیں وہ اُن کے مالک قرار پائے اور اُن پر عشر لگادیا گیا۔
تیسرا وہ طرزِ عمل جو حضرت عمرؓ نے ابتداء ً شام اور عراق میں اختیار فرمایا اور بعد میں تمام مفتوح ممالک کا بندو بست اسی کے مطابق ہوا۔ وہ یہ تھا کہ آپ نے مفتوح علاقے کو فاتح فوج میں تقسیم کرنے کے بجائے اُس کو تمام مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت قرار دیا، اس کا انتظام مسلمانوں کی طرف سے نیابتاً اپنے ہاتھ میں لے لیا، اصل باشندوں کو حسب سابق اُن کی زمینوں پر بحال رہنے دیا، ان کو ذمی قرار دے کر ان پر جزیہ و خراج عائد کردیا اور اس جزیہ و خراج کا مصرف یہ قرار دیا کہ وہ عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر صرف ہو، کیوں کہ بنیادی نظریہ کے اعتبار سے وہی ان مفتوح علاقوں کے اصل مالک تھے۔
اس آخری صورت میں بظاہر اس اجتماعی ملکیت کے تصور کا ایک دھندلا سا شائبہ پایا جاتا ہے، مگر جس طرح یہ پورا معاملہ طے ہوا تھا۔ اس کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس اجتماعی ملکیت کو اشتراکیت کے تصور سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب مصرو شام اور عراق کے وسیع علاقے فتح ہوئے تو حضرت زبیرؓ اور حضرت بلالؓ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے حضرت عمرؓ سے مطالبہ کیا ان علاقوں کی تمام زمینیں اورجائدادیں خیبر کی طرح فاتح فوج میں تقسیم کردی جائیں۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اس سے انکار کیا۔ اور حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ جیسے اکابر صحابہ نے اس معاملہ میں ان کی تائید کی، اس کے وجوہ کیا تھے۔ اس پر وہ تقریریں روشنی ڈالتی ہیں جو اس موقع پر ہوئیں۔ حضرت معاذؓ نے کہا:
’’اگر آپ اسے تقسیم کریں گے تو خدا کی قسم اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو آپ ہرگز پسند نہ کریںگے۔ بڑی بڑی زرخیز زمینوں کے ٹکڑے فوج میں تقسیم ہوجائیں گے۔ پھر یہ لوگ مر کھپ جائیں گے اور کسی کا وارث کوئی عورت ہوگی اور کسی کا وارث کوئی بچہ ہوگا۔ پھر جو دوسرے لوگ اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اٹھیں گے،انہیں دینے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ لہٰذا آپ وہ کام کیجیے جس میں آج کے لوگوں کے لیے بھی گنجائش ہواور بعد والوں کے لیے بھی۔‘‘
حضرت علیؓ نے فرمایا:
’’ملک کی کاشت کار آبادی کو اس کے حال پر رہنے دیجیے تاکہ وہ سب مسلمانوں کے لیے معاشی قوت کا ذریعہ ہوں۔‘‘
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
’’یہ کیسے ہوسکتاہے کہ میں اس زمین کو تم لوگوں پر تقسیم کردوں اور بعد کے آنے والوں کو اس حال میں چھوڑ دوں کہ ان کا اس میں کچھ حصہ نہ ہو۔ آخر بعد کی نسلوں کے لیے کیا رہے گا؟۔۔۔۔۔کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ آئندہ آنے والوں کے لیے کچھ نہ رہے؟۔۔۔۔۔ اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر میں اسے تمہارے درمیان تقسیم کردوں تو تم پانی پر آپس میں فساد کرنے لگوگے۔‘‘
اس بنیاد پر جو فیصلہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ زمین اس کے سابق باشندوں ہی کے پاس رہنے دی جائے، اور ان کو ذمی بناکر ان پر جزیہ و خراج لگادیا جائے،اور یہ خراج مسلمانوں کی عام فلاح پر صرف ہو۔ اس فیصلہ کی اطلاع حضرت عمرؓ نے اپنے عراق کے گورنر، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو جن الفاظ میں دی تھی وہ یہ ہیں: فانظر ما اجلبوا بہ علیک فی العسکر من کراع او مال فاقسمہ بین من حضر من المسلمین واترک الارضین والانھار لعمالھا لیکون ذلک فی اعطیات المسلمین، فانا ان قسمناھا بین من حضر لم یکن لمن بعدھم شیء۔
’’جو کچھ اموال منقولہ سپاہیوں نے دوران جنگ میں بطور غنیمت حاصل کیے ہیں اور لشکر میں جمع کرادیئے ہیں انہیں تو انہی لوگوں میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ مگر نہروں اور زمینوں کو انہی لوگوں کے ہاتھوں میں رہنے دو جو ان پر کام کرتے تھے تاکہ وہ مسلمانوں کی تنخواہوں کے لیے محفوظ رہیں۔ ورنہ اگر ہم ان کو بھی موجود لوگوں میں تقسیم کردیں تو پھر بعد والوں کے لیے کچھ نہ رہے گا۔(اس پوری بحث کے لیے ملاحظہ ہو کتاب الخراج صفحہ نمبر ۲۰،۲۱ اور کتاب الاموال ص۵۷-۶۳۔
) ‘‘
اس نئے بندو بست کا اساسی نظریہ تو یہی تھا کہ اب ان مفتوحہ اراضی کے مالک مسلمان ہیں، اور سابق مالکوں کی اصل حیثیت صرف کاشتکارانہ ہے۔ اور حکومت مسلمانوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملہ کررہی ہے۔ ( اس نظریہ کی توضیح اس واقعے سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ عتبہ بن فرقد حضرت عمرؓ سے ملنے آئے اوران کو اطلاع دی کہ میں نے فرات کے کنارے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کس سے؟ انہوں نے عرض کیا اس کے مالکوں سے۔آپ نے مہاجرین و انصار کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اس کے مالک تو یہاں بیٹھے ہیں۔ (کتاب الاموال ص:۷۴) اور حضرت علیؓ کا وہ ارشاد بھی اس نظریہ پر روشنی ڈالتا ہے کہ جب عراق کے پرانے زمین داروں میں سے ایک نے آکر آپ کے سامنے قبول اسلام کا اعلان کیا تو آپ نے فرمایا کہ اب جزیہ تو تجھ سے ساقط ہوگیا لیکن تیری زمین خراجی ہی رہے گی، کیوںکہ وہ ہماری ہے۔ (کتاب الاموال ص:۸۰)- (معاشیات اسلام، ملکیت زمین کا مسئلہ ’’دور رسالت اور خلافت۔۔۔‘‘)
) لیکن عملاً ذمی بنالینے کے بعد ان کو جو حقوق دیے گئے وہ مالکانہ حقوق سے کچھ بھی مختلف نہ تھے۔ وہ انہی رقبوں پر قابض رہے جن پر پہلے قابض تھے۔ ان پر خراج کے سوا کوئی دوسری چیز حکومت یا مسلمانوں کی طرف سے عائد نہ کی گئی اور ان کو اپنی زمینوں پر بیع اور رہن اور وراثت کے وہ تمام حقوق بدستور حاصل رہے جو پہلے حاصل تھے۔
اس معاملہ کو امام ابو یوسف ؒ ایک قانونی ضابطہ کی شکل میں یوں بیان فرماتے ہیں:
’’جس سرزمین کو امام بزور شمشیر فتح کرے، اس کے معاملہ میں وہ اختیار رکھتا ہے کہ اگر چاہے تو فاتح فوج میں اسے تقسیم کردے، اس صورت میں وہ عشری زمین ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ تقسیم کرنا مناسب نہ سمجھے اور بہتر یہی خیال کرے کہ اسے اس کے پرانے باشندوں کے ہاتھوں میں رہنے دے جیساکہ حضرت عمرؓ نے عراق میں کیا، تو وہ ایسا کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔ اس صورت میں وہ زمین خراجی زمین ہوگی اور خراج لگ جانے کے بعد پھر امام کو یہ حق باقی نہ رہے گا کہ اس کے باشندوں سے اس کو چھین لے۔ وہ ان کی ملک ہوگی، وہ اس کو وراثت میں ایک دوسرے کی طرف منتقل کریں گے، اس کی خرید و فروخت کرسکیں گے، ان پر خراج لگا دیاجائے گا۔ اور اُن کی طاقت سے زیادہ اُن پر بوجھ نہ ڈالا جائے گا۔‘‘ (کتاب الخراج، ص:۳۵،۳۶)
حقوق ملکیت زمین بربنائے آباد کاری
٤-عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ عَمَّرَ اَرْضًا لَیْسَتْ لِاَحَدٍ فَھُوَ اَحَقُّ بِھَا۔ قَالَ عُرْوَۃُ قَضٰی بِہٖ عُمَرُ فِیْ خِلاَفَتِہٖ۔
’’حضرت عائشہزفرماتی ہیں کہ نبی انے فرمایا کہ جس شخص نے کسی ایسی زمین کو آباد کیا جو کسی دوسرے کی ملک نہ ہو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ اسی پر حضرت عمر ؓنے اپنے زمانہ خلافت میں عمل در آمد کیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ، ثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بنِ اَبِیْ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ اَعْمَرَ اَرْضًا لَیْسَتْ لِاَحَدٍ فَھُوَ اَحَقُّ قَالَ عُرْوَۃُ: قَضٰی بِہٖ عُمَرُ فِیْ خِلاَفَتِہٖ۔ (٤)
٥- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ اَحْیٰی اَرْضًا مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ۔
’’جابر بن عبد اللہؓ کی روایت ہے کہ جس کسی نے مردہ زمین کو زندہ کیا (یعنی بے کار پڑی ہوئی زمین کو کار آمد بنا لیا) وہ زمین اسی کی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ الثَّقَفِیُّ اَخْبَرَنَا اَیُّوْبُ عَنْ ھِشَامِ ابْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ اَحْیٰی اَرْضًا مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ۔ (٥)
٦- عَنْ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ اَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی اَرْضٍ فَھِیَ لَہٗ۔
’’سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم انے فرمایا جس نے کسی افتادہ زمین پر احاطہ کھینچ لیا وہ اُسی کی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ اَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی اَرْضٍ فَھِیَ لَہٗ۔ (٦)
٧- عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ مُضَرِّسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ سَبَقَ اِلٰی مَائٍ لَمْ یَسْبِقْہُ اِلَیْہِ مُسْلِمٌ فَھُوَ لَہٗ۔
’’سمرہ بن مضرس سے روایت ہے کہ نبی انے فرمایا جو شخص کسی ایسے کنوئیں کو پائے جس پرپہلے سے کوئی مسلمان قابض نہ ہو وہ کنواں اسی کا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْحَمِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَتْنِیْ اُمُّ جُنُوْبٍ بِنْتُ نُمَیْلَۃَ، عَنْ اُمِّھَا سُوَیْدَۃَ بِنْتِ جَابِرٍ، عَنْ اُمِّھَا عَقِیْلَۃَ بِنْتِ اَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ عَنْ اَبِیْھَا اَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّﷺ، فَبَایَعْتُہٗ، فَقَالَ: مَنْ سَبَقَ اِلٰی مَآئٍ لَمْ یَسْبِقْہُ اِلَیْہِ مُسْلِمٌ فَھُوَ لَہٗ۔ (٧)
٨-عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ اَشْھَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَضٰی اَنَّ الْاَرْضَ اَرْضُ اللّٰہِ وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللّٰہِ، وَ مَنْ اَحْیٰی مَوَاتًا فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ جَائَ نَا بِھٰذَا عَنِ النَّبِیِّ ﷺ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالصَّلَوَاتِ عَنْہُ۔
’’عروہ بن زبیر (تابعی) کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ انے یہ فرمایا تھا کہ زمین خدا کی ہے اور بندے بھی خدا کے ہیں، جو شخص کسی مردہ زمین کو زندہ کرلے وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ یہ قانون ہم تک نبی ا سے انہی بزرگوں کے ذریعے پہنچا ہے جن کے ذریعے سے پانچ وقت کی نماز پہنچی ہے۔ ‘‘(یعنی صحابہ کرام ث)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنِ عَبْدَۃَ الْاٰمُلِیُّ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، اَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ:اَشْھَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَضٰی اَنَّ الْاَرْضَ اَرْضُ اللّٰہِ، وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللّٰہِ، وَ مَنْ اَحْیَا مَوَاتًا فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ جَآئَ نَا بِھٰذَا عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَلَّذِیْنَ جَآئُ وْا بِالصَّلَوَاتِ عَنْہُ۔(٨)
(۲) حَدَّثَنَا ھَنَّادُ بْنُ السِرِّیِّ۔ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ اِسْحَاقَ۔ عَنْ یَحْیَ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ اَحْیَا اَرْضًا مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ۔ وَ ذَکَرَہٗ مَثَلَہٗ۔ قَالَ: فَلَقَدْ خَبَرَنِی الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ اَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ غَرَسَ اَحَدُھُمَا نَخْلاً فِیْ اَرْضِ الْاٰخَرِ، فَقَضٰی لِصَاحِبِ الْاَرْضِ بِاَرْضِہٖ، وَ اَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ اَنْ یُخْرِجَ نَخْلَہٗ مِنْھَا۔ قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُھَا وَ اِنَّھَا لِتُضْرَبُ اُصُوْلُھَا بِالْفُؤُوْسِ، وَ اِنَّھَا لَنَخْلٌ عُمٌّ حَتّٰی اُخْرِجَتْ مِنْھَا۔ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ سَعِیْدِ الدَّارِمِیُّ، حَدَّثَنَا وَھْبٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، بِاِسْنَادِہٖ وَ مَعْنَاہُ، اِلاَّ اَنَّہٗ قَالَ عِنْدَ قَوْلِہٖ مَکَانَ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ ھٰذَا فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ، وَ اَکْثَرُ ظَنِّیْ اَنَّہٗ اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ: فَاَنَا رَاَیْتُ الرَّجُلَ یَضْرِبُ فِیْ اُصُوْلِ النَّخْلِ۔ وَ یُرْوٰی عَنْ عُمَرَ وَبْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَ قَالَ فِیْ غَیْرِ حَقِّ مُسْلِمٍ وَ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ فِیْہِ حَقٌّ۔ وَ یُرْوٰی فِیْہِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔(٩)
تشریح: ’’موات‘‘ کے بارے میں نبی انے اس قدیم ترین اصول کی تجدید فرمائی جس سے دنیا میں ملکیت زمین کا آغاز ہوا ہے جب انسان نے اس کرہ خاکی کو آباد کرنا شروع کیا تو اصول یہی تھا کہ جو جہاں رہ پڑا ہے وہ جگہ اسی کی ہے، اور جس جگہ کو کسی نے کسی طور پر کار آمد بنا لیا ہے اُس کے استعمال کا وہی زیادہ حق دار ہے۔ یہی قاعدہ تمام عطیات فطرت پر انسان کے مالکانہ حقوق کی بنیاد ہے، اور اسی کی توثیق نبی انے مختلف مواقع پر اپنے ارشادات میں فرمائی ہے۔ احادیث میں جن کا ذکر آیاہے۔ اسی فطری اصول کی تجدید و توثیق کرنے کے ساتھ آں حضرت انے اس کے لیے دو ضابطے مقرر فرمادیے۔ ایک یہ کہ جو شخص دوسرے کی مملوکہ زمین کو آباد کرے وہ اس فعل آباد کاری کی بنا پر ملکیت کا حق دار نہ ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ جو شخص خواہ مخواہ احاطہ کھینچ کر یا نشان لگا کر کسی زمین کو روک رکھے اور اس پر کوئی کام نہ کرے، اس کا حق تین سال کے بعد ساقط ہوجائے گا۔ پہلے ضابطہ کو آپؐ نے اس طرح بیان فرمایا ہے: عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مَنْ اَحْیٰی اَرْضاً مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَ لَیْسَ لِعِرِقِ ظَالِمٍ حَقٌّ۔
’’سعید بن زید کہتے ہیں کہ رسول اللہ انے فرمایا جس کسی نے کسی مردہ زمین کو زندہ کرلیا وہ اسی کی ہے اور دوسرے کی زمین میں ناروا طور پر آباد کاری کرنے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
دوسرے ضابطہ کا ماخذ یہ روایات ہیں: عَنْ طَاؤُسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَادَی الْاَرْضَ لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ ثُمَّ لَکُمْ مِنْ بَعْدِ۔ فَمَنْ اَحْیَا اَرْضًا مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَ لَیْسَ لِمُحْتَجِرٍ حَقٌّ بَعْدَ ثَلاَثَ سِنِیْنٍ۔
(ابو یوسف، کتاب الخراج)
’’طاؤس (تابعی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ انے فرمایا غیر مملوکہ زمین جس کا کوئی والی وارث نہ ہو خدا اور رسول ا کی ہے، پھر اُس کے بعد تمہارے لیے ہے پس جوکوئی مردہ زمین کو زندہ کرلے وہ اسی کی ہے اور بے کار روک کر رکھنے والے کے لیے تین سال کے بعد کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ مَنْ اَحْیٰی اَرْضًا مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَ لَیْسَ لِمُحْتَجِرٍ حَقٌ بَعْدَ ثَلاَثَ سِنِیْنٍ وَ ذٰلِکَ اَنَّ رِجَالاً کَانُوْا یَحْتَجِرُوْنَ مِنَ الْاَرْضِ مَالاَ یَعْمَلُوْنَ۔ (ابو یوسف، کتاب الخراج)
’’سالم بن عبد اللہ (حضرت عمرؓ کے پوتے) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے برسر منبر فرمایا کہ جس نے کسی مردہ زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ہے مگر خواہ مخواہ روک رکھنے والے کے لیے تین سال کے بعد کوئی حق نہیں ہے یہ اعلان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ بعض لوگ زمینوں کو یونہی روک رکھتے تھے اوران پر کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
یہ مسئلہ فقہاء اسلام کے درمیان متفق علیہ ہے اگر کوئی اختلاف ہے تو صرف اس امر میں ہے کہ آیا محض آباد کاری کا فعل کرلینے ہی سے کوئی شخص ارض موات کا مالک ہوجاتاہے یا ثبوت ملکیت کے لیے حکومت کی منظوری و اجازت ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اس کے لیے حکومت کی منظوری کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن امام ابو یوسف، امام محمد، امام شافعی اور امام احمد بن حنبلاللہ رحمۃ علیہم کی رائے یہ ہے کہ اس معاملہ میں احادیث بالکل صاف ہیں لہٰذا آباد کاری کا حق ملکیت حکومت کی اجازت اور منظوری پرموقوف نہیں ہے وہ خدا اوررسول اکے دیے ہوئے حق کی بنا پر مالک ہوجائے گا اس کے بعد یہ حکومت کا کام ہے کہ جب معاملہ اُس کے سامنے آئے تو وہ اس حق کو تسلیم کرے اور نزاع کی صورت میں اس کا استقرار کرائے۔ امام مالکؒ بستی سے قریب کی زمینوں اور دور دراز کی افتادہ اراضی میں فرق کرتے ہیں پہلی قسم کی زمینیں اُن کے نزدیک اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، رہیں دوسری قسم کی زمینیں تو اُن کے لیے امام کے عطیہ کی کوئی شرط نہیں وہ محض احیا سے آدمی کی ملک ہوجاتی ہیں۔
اس معاملہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز اللہ رحمۃ علیہدونوں کا عمل یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی زمین کو افتادہ سمجھ کر آباد کرلیتا اور بعد میں کوئی دوسرا شخص آکر ثابت کرتا کہ زمین اُس کی تھی تو اس کو اختیار دیا جاتا کہ یا تو آباد کار کے عمل کا معاوضہ ادا کرکے اپنی زمین لے لے یا زمین کی قیمت لے کر حق ملکیت اس کی طرف منتقل کردے۔ (معاشیات اسلام، ملکیت زمین کا مسئلہ
’’حقوق ملکیت بر بنائے آباد کاری‘‘)
ہ
عطیہ زمین من جانب سرکارا
موات اور خالصہ دونوں طرح کی زمینوں میں سے بکثرت قطعات نبی انے خود بھی لوگوں کو عطا فرمائے اور آپ اکے بعد خلفائے راشدین بھی برابر اسی طرح کے عطیے دیتے رہے، اس کی بہت سی نظیریں حدیث و آثار کے ذخیرے میں موجود ہیں جن میں سے چند یہاں نقل کی جاتی ہیں۔
(۱) عروہ بن زبیرص روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے بیان کیا کہ نبی انے ان کو اور حضرت عمر بن خطابؓ کو چند زمینیں عطا کی تھیں پھر حضرت عثمان صکے زمانہ میں حضرت زبیر صنے خاندان عمرص کے لوگوں سے ان کے حصے کی زمین خرید لی اور اس خریداری کی توثیق کے لیے حضرت عثمان صکے پاس حاضر ہوئے اور اُن سے کہاکہ عبد الرحمن بن عوف کی شہادت یہ ہے کہ نبی انے یہ زمینیں ان کو اور عمر بن خطابؓ کو عطا کی تھیں سو میں نے خاندان عمرؓ سے ان کا حصہ خرید لیا ہے اس پر حضرت عثمانؓ نے کہا کہ عبد الرحمن سچی شہادت دینے والے آدمی ہیں خواہ وہ ان کے حق میں پڑتی ہو یا ان کے خلاف۔ (مسند احمد)
(۲) علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی انے ان کو حضر موت میں ایک زمین عطا کی تھی۔ (ابو داؤد، ترمذی)
(۳) حضرت ابو بکر صکی صاحب زادی حضرت اسماء بیان کرتی ہیں کہ نبی انے ان کے شوہر حضرت زبیر ص کو خیبر میں ایک زمین عطا فرمائی تھی جس میں کھجور کے درخت بھی تھے اور دوسرے درخت بھی۔ اس کے علاوہ عروہ بن زبیر ص کا بیان ہے کہ آپ انے ان کو ایک نخلستان بنی نضیر کی زمینوں میں سے بھی دیا تھا نیز عبد اللہ بن عمرژ روایت کرتے ہیں کہ ایک اور وسیع خطۂ زمین بھی آپ انے حضرت زبیر ص کو دیا تھا اور اس کی صورت یہ تھی کہ آپ ا نے ان کو فرمایا گھوڑا دوڑاؤ جہاں جاکر تمہارا گھوڑا ٹھہر جائے گا وہاں تک کی زمین تمہیں دے دی جائے گی۔ چناں چہ انہوں نے گھوڑا دوڑایا اور جب ایک جگہ جاکر گھوڑا ٹھہر گیا تو وہاں سے انہوں نے کوڑا آگے پھینک دیا اس پر حضور ا نے فرمایا اچھا جہاں ان کاکوڑا گرا ہے وہاں تک کی زمین انہیں دے دی جائے۔ ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب الخراج لابی یوسف۳۶،۳۷ و کتاب الاموال لابی عبید ص ۲۸۵-۲۸۹ شیخ علی متقی نے کنز العمال میں اس مسئلے پر تمام احادیث و آثار کو یکجا کردیا ہے جو اصحاب اس کی تفصیل دیکھنا چاہیں وہ کتاب مذکور کے جز دوم میں احیاء موات کی بحث ملاحظہ فرمائیں۔)
(بخاری، احمد، ابو داؤد، کتاب الخراج لابی یوسف کتاب الاموال لابی عبید)
(۴) عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ نبی اجب مدینہ تشریف لائے توآپ انے حضرت ابوبکرصاور حضرت عمر ص دونوں کو زمینیں عطا فرمائیں۔ (کتاب الخراج لابی یوسف)
(۵) ابو رافع صبیان کرتے ہیں کہ نبی انے ان کے خاندان والوں کو ایک زمین عطا کی تھی۔ مگر وہ اسے آباد نہ کرسکے اور حضرت عمر صکے زمانے میں انہوں نے اسے آٹھ ہزار دینار میں فروخت کردیا۔ (کتاب الخراج)
(۶) ابن سیرین کی روایت ہے کہ آں حضرت انے انصار میں سے ایک صاحب سلیط کو ایک زمین عطا فرمائی۔ وہ اس کے انتظام کے لیے اکثر باہر جاتے رہتے اور بعد میں آکر ان کو معلوم ہوتاکہ ان کے پیچھے اتنا اتنا قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ انے یہ احکام دیئے اس سے ان کی بڑی دل شکنی ہوتی۔ آخر کار انہوں نے ایک روز آں حضرت اکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یہ زمین میرے اور آپ اکے درمیان حائل ہوگئی ہے آپ ااسے مجھ سے واپس لے لیں چناں چہ وہ واپس لے لی گئی بعد میں حضرت زبیرص نے اس کے لیے درخواست کی اور آپ ا نے وہ زمین ان کو دے دی۔ (کتاب الاموال)
(۷) بلال صبن حارث مزنی کی روایت ہے کہ نبی انے ان کو عقیق کی پوری زمین عطا فرمائی تھی۔ (کتاب الاموال)
(۸) عدی بن حاتم کی روایت ہے کہ نبی انے فرات بن حیان عجلی کو یمامہ میں ایک زمین عطا کی تھی۔ (کتاب الاموال)
(۹) عرب کے مشہور طبیب حارث بن کلدہ کے بیٹے نافع نے حضرت عمر صسے درخواست کی کہ بصرہ کے علاقے میں ایک زمین ہے جو نہ تو اراضی خراج میں شامل ہے اور نہ مسلمانوں میں سے کسی کا مفاد اس سے وابستہ ہے آپ وہ مجھے عطا کریں میں اپنے گھوڑوں کے لیے اس میں چارہ کی کاشت کروں گا۔ حضرت عمرؓنے اپنے گورنر ابوموسیٰ اشعری صکو فرمان لکھا کہ اگر اس زمین کی کیفیت وہی ہے جو نافع نے مجھ سے بیان کی ہے تو وہ ان کو دے دی جائے۔
(کتاب الاموال)
(۱۰) موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ حضرت عثمان صنے اپنے زمانہ خلافت میں زبیر ص بن عوام، سعد ص بن ابی وقاص، عبد اللہ ص بن مسعود، اسامہ بن زیدؓ، خباب بن ارتؓ، عمار بن یاسر اور سعد بن مالکؓ کو زمینیں عطا کی تھیں۔
(کتاب الخراج، کتاب الاموال)
(۱۱) عبد اللہ بن حسن صسے روایت ہے کہ حضرت علی صکی درخواست پر حضرت عمرصنے ان کو ینبع کا علاقہ عطا کیا تھا۔ (کنز العمال)
(۱۲) امام ابو یوسف رحمۃ ا للہ علیہمتعدد معتبر حوالوں سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرص نے ان سب زمینوں کو خالصہ قرار دیا تھا جو کسریٰ اور آل کسریٰ نے چھوڑی تھیں۔ یا جن کے مالک بھاگ گئے تھے یا جنگ میں مارے گئے تھے یاجو دلدل اور سیلاب اور جھاڑیوں کے نیچے آگئی تھیں پھر جن لوگوں کو بھی آپ زمینیں عطا کرتے تھے انہی اراضی میں سے کرتے تھے۔ (کتاب الخراج)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عُثْمَانُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، ثَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ، اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: اَقْطَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَرْضَ کَذَا وَ کَذَا۔ فَذَھَبَ الزُّبَیْرُ اِلٰی اٰلِ عُمَرَ، فَاشْتَرٰی نَصِیْبَہٗ مِنْھُمْ۔ فَاَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ:اِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَقْطَعَہٗ وَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَرْضَ کَذَا وَ کَذَا وَ اِنِّیْ اشْتَرَیْتُ نَصِیْبَ اٰلِ عُمَرَ۔ فَقَالَ عُثْمَانُ، عَبْدُ الرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّھَادَۃِ لَّہٗ وَ عَلَیْہِ۔(١٠)
(۲) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوْقٍ، اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اَقْطَعَہٗ اَرْضًا بِحَضْرِ مَوْتَ۔(١١)
(۳) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اَقْطَعَ الزُّبَیْرَ حُضْرَ فَرَسِہٖ، فَاَجْرٰی فَرَسَہٗ، حَتّٰی قَامَ، ثُمَّ رَمٰی بِسَوْطِہٖ، فَقَالَ:اَعْطُوْہُ مِنْ حَیْثُ بَلَغَ السَّوْطُ۔ (١٢)
(۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ اَقْطَعَ لِاَبِیْ بَکْرٍ، وَ اَقْطَعَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔ (١٣)
(۵) وَ حَدَّثَنَا اَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ صَلْتٍ الْمَکِّیِّ۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ رَافِعٍ قَالَ:اَعْطَاھُمُ النَّبِیُّ ﷺ اَرْضاً۔ فَعَجَزُوْا عَنْ عِمَارَتِھَا۔ فَبَاعُوْھَا فِیْ زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَمَانِیَۃِ آلاَفِ دِیْنَارٍ اَوْ ثَمَانِیَۃِ آلاَفِ دِرْھَمٍ۔ (١٤)
عطیۂ زمین کے بارے میں شرعی ضابطہ
یہ عطائے زمین کا طریقہ محض شاہانہ بخشش و انعام کی نوعیت نہ رکھتا تھا بلکہ اس کے چند قواعد تھے جو ہم کو احادیث و آثار میں ملتے ہیں۔
(۱) پہلا قاعدہ یہ تھا کہ جوشخص زمین لے کر تین سال تک اس پر کچھ کام نہ کرے اس کا عطیہ منسوخ سمجھا جائے گا۔ اس کی نظیر میں امام ابو یوسفؒ یہ روایت لاتے ہیں کہ نبی انے قبیلہ مزینہ کے اور جہینہ کے لوگوں کو کچھ زمین دی تھی، مگر انہوں نے بے کار رکھ چھوڑی۔ پھر کچھ اور لوگ آئے اور انہوں نے اسے آباد کرلیا۔ اس پر مزینہ اور جہینہ کے لوگ حضرت عمر صکے زمانہ خلافت میں دعویٰ لے کر آئے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا اگر یہ میرا یا ابو بکر صکا عطیہ ہوتا تو میں اسے منسوخ کردیتا۔ لیکن یہ عطیہ تو نبی ا کا ہے اس لیے میں مجبور ہوں۔ البتہ قانون یہی ہے کہ من کانت لہ ارض ثم ترکھا ثلاث سنین فلم یعمرھا فعمرھا قوم آخرون فھم احق بھا جس کے پاس ایک زمین ہو اور وہ اس کو تین برس تک بیکار ڈال رکھے اور آباد نہ کرے، پھر کچھ لوگ آکر اسے آباد کرلیں تو وہی اس زمین کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘
(۲) دوسرا قاعدہ یہ تھا کہ جو عطیہ صحیح طور پر استعمال میں نہ آرہاہو اس پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے، اس کی نظیر میں ابو عبید نے کتاب الاموال میں اور یحییٰ بن آدم نے الخراج میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ نبی انے بلال بن حارث مزنی کو پوری وادی عقیق دے دی تھی مگر وہ اس کے بڑے حصے کو آباد نہ کرسکے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرص نے اپنے زمانہ خلافت میں ان سے کہا کہ رسول اللہ انے یہ زمین تم کو اس لیے نہیں دی تھی کہ تم نہ خود اس کو استعمال کرو اور نہ دوسروں کو استعمال کرنے دو اب تم اس میں سے بس اتنی رکھ لو جسے استعمال کرسکو تاکہ ہم اس کو مسلمانوں میں تقسیم کردیں۔ بلال بن حارث نے اس سے انکار کیا، حضرت عمر صنے پھر اصرار کیا۔ آخر کار جتنا رقبہ ان کے زیر استعمال میں تھا، اسے چھوڑ کر باقی پوری زمین آپ نے ان سے واپس لے لی اور دوسرے مسلمانوں میں اس کے قطعات بانٹ دیے۔
(۳) تیسرا قاعدہ یہ تھا کہ حکومت صرف اراضی موات اور اراضی خالصہ میں سے زمینیں عطا کرنے کی مجاز ہے یہ حق اس کو نہیں ہے کہ ایک شخص کی زمین چھین کر دوسرے کو دیدے یا اصل مالکان اراضی کے سر پر خواہ مخواہ ایک شخص کو جاگیر دار یا زمین دار بنا کر مسلط کردے۔ اور اس کو مالکانہ حقوق عطا کرکے اصل مالکوں کی حیثیت اس کے ماتحت کاشتکاروں کی سی بنادے۔
(۴) چوتھا قاعدہ یہ تھا کہ حکومت زمینیں انہی لوگوں کو دے گی جنہوں نے فی الحقیقت اجتماعی مفاد کے لیے کوئی قابل قدر خدمت انجام دی ہو یا جن سے اب اس نوعیت کی کوئی خدمت متعلق ہو یا جن کو عطیہ دینا کسی نہ کسی طور پر اجتماعی مفاد کے لیے مناسب ہو۔ رہیں شاہانہ غلط بخشیاں جن سے ڈوم ڈھاڑیوں اور خوشامدی لوگوں کو نوازا گیا ہو، یا وہ عطیے جو ظالموں اور جباروں نے اجتماعی مفاد کے برعکس خدمات انجام دینے والوں کو دیے ہوں، تو وہ کسی طرح جائز عطایا کی تعریف میں نہیں آتے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنِی ابْنُ اَبِیْ نَجِیْحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَقْطَعَ نَاسًا مِنْ جُھَیْنَۃَ اَوْ مُزَیْنَۃَ اَرْضًا فَلَمْ یَعْمَرُوْھَا۔ فَجَائَ قَوْمٌ فَعَمَرُوْھَا فَخَاصَمَ الْجُھَیْنِیُّوْنَ اَوِ الْمُزَیَّنَوْنَ اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: لَوْ کَانَتْ مِنِّیْ اَوْ مِنْ اَبِیْ بَکْرٍ لَرَدَدْتُّھَا، وَ لٰـکِنَّھَا قَطِیْعَۃً مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ ثُمَّ تَرَکَھَا ثَلاَثَ سِنِیْنٍ فَلَمْ یَعْمَرْھَا فَعَمَرَھَا قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ۔ فَھُمْ اَحَقُّ بِھَا۔ (١٥)
(۲) حَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَشْیَاخِنَا مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ:اَقْطَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِلاَلَ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیَّ مَا بَیْنَ الْبَحْرِ وَالضَّحَرِ۔ فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابٍ قَالَ لَہٗ:اِنَّکَ لاَ تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَعْمَلَ ھٰذَا۔ فَطِیْبٌ لَہٗ اَنْ یَّقْطَعَھَا مَا خَلاَ الْمَعَادِنِ فَاِنَّہٗ اسْتَثْنَاھَا۔ (١٦)
جاگیروں کے معاملہ میں صحیح شرعی رویہ
مؤخر الذکر دونوں اصولوں کی بنیاد اس پورے طرز عمل پر قائم ہے جو نبی ااور آپ کے خلفاء نے برتا تھا۔ اس کی تشریح امام ابو یوسف رحمۃ ا للہ علیہ اپنی کتاب الخراج میں اس طرح فرماتے ہیں:
’’امام عادل کو حق ہے کہ جو مال کسی کی ملک نہ ہو اور جس کا کوئی وارث بھی نہ ہو۔ اس میں سے ان لوگوں کو عطیے اور انعام دے جن کی اسلام میں خدمات ہوں جس شخص کو ولاۃ مھدیین (راہ راست پر چلنے والے فرماں رواؤں) نے کوئی زمین عطا کی ہو اسے واپس لینے کا کسی کو حق نہیں ہے، لیکن جو زمین کسی حاکم نے ایک سے چھینی اور دوسرے کو بخشی تو اس کی حیثیت اس مال کی سی ہے جو ایک سے غصب کیاگیا اور دوسرے کو عطا کردیا گیا۔‘‘
کچھ دور آگے چل کر پھر لکھتے ہیں:
’’پس جن جن اقسام کی زمینوں کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ امام ان کو عطا کرسکتاہے اُن میں سے جو زمین بھی عراق اور عرب اور الجبال اور دوسرے علاقوں میں ولاۃ مھدیین نے کسی کو دی ہے بعد کے خلفاء کے لیے حلال نہیں ہے کہ اسے واپس لیں یا ان لوگوں کے قبضے سے نکالیں جن کے پاس ایسی زمینیں اس وقت موجود ہیں خواہ وہ انہوں نے وراثت میں پائی ہوں یا وارثوں سے خریدی ہوں۔‘‘
آخر میں اس بحث کو ختم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پس یہ نظیریں ثابت کرتی ہیںکہ نبی انے خود بھی زمینیں عطا کی ہیں اور آپ اکے بعد خلفاء بھی دیتے رہے ہیں۔ آں حضرت انے جس کو بھی زمین دی یہ دیکھ کر دی کہ ایسا کرنے میں صلاح اور بہتری ہے مثلاً کسی نو مسلم کی تالیف قلب یا زمین کی آبادکاری۔ اسی طرح خلفاء راشدین نے بھی جس کو زمین دی یہ دیکھ کر دی کہ اس نے اسلام میں کوئی عمدہ خدمت انجام دی ہے یا وہ اعدائے اسلام کے مقابلہ میں کار آمد ہوسکتا ہے یا یہ کہ ایسا کرنے میں بہتری ہے۔‘‘ (کتاب الخراج ص:۳۲-۳۵)
یہ تصریحات امام ابو یوسف رحمۃ ا للہ علیہنے دراصل عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے اس سوال کے جواب میں فرمائی ہیں کہ جاگیروں کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ایک فرماں روا کہاں تک ایسا کرنے کا مجاز ہے؟ اس کا جو کچھ جواب امام صاحب نے دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے عطائے زمین بجائے خود تو ایک جائز فعل ہے مگر نہ سب زمین دینے والے یکساں ہیں اور نہ سب لینے والے۔ ایک عطیہ وہ ہے جو عادل، متدین راست رو اور خدا ترس حکمرانوں نے دیا ہو، اعتدال کے ساتھ دیا ہو دین اور ملت کے سچے خادموں کو، یا کم سے کم مفید اور کار آمد لوگوں کو دیا ہو۔ کسی ایسی غرض کے لیے دیا ہو جس کا فائدہ بحیثیت مجموعی ملک اور ملت ہی کی طرف پلٹتا ہو اور ایسے مال میں سے دیا ہو جس کے دینے کے وہ مجاز تھے۔ دوسرا عطیہ وہ ہے جو ظالموں اور جباروں نے اور نفس پرستوں نے دیا ہو، برے لوگوں کو دیا ہوبرے اغراض کے لیے دیا ہو، بے تحاشا دیا ہو، اور ایسے مال میں سے دیا ہو جس کے دینے کا ان کو حق نہ تھا۔ یہ دو مختلف طرح کے عطیے ہیں اور دونوں کا حکم یکساں نہیں ہے۔ پہلا عطیہ جائز ہے اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو برقراررکھا جائے۔ دوسرا عطیہ ناجائز ہے اور انصاف چاہتا ہے کہ اسے منسوخ کیا جائے۔ بڑا ظالم ہے وہ جو دونوں طرح کے عطیوں کو ایک ہی لکڑی سے ہانک دے۔
(معاشیات اسلام، ملکیت زمین کا مسئلہ، جاگیروں کے معاملہ۔۔۔
حقوق ملکیت کااحترام
یہ شواہد و نظائر اُس پورے دور کے عمل درآمد کا نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں قرآن کے منشاکی تفسیر خود قرآن کے لانے والے تھے اور اس کے براہ راست شاگردوں نے اپنے اقوال اور اعمال میں کی تھی۔ اس نقشے کو دیکھنے کے بعد کسی شخص کے لیے اس طرح کا کوئی شبہ تک کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی، کہ زمین کے معاملہ میں اسلام کے پیش نظریہ اُصول تھا کہ اسے شخصی ملکیتوں سے نکال کر اجتماعی ملکیت بنادیا جائے ا س کے بالکل برعکس اس نقشے سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلام کی نگاہ میں زمین سے انتفاع کی فطری اور صحیح صورت یہی ہے کہ وہ افراد کی ملکیت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نبی انے محض اتنا ہی نہیں کیا کہ اکثرو بیشتر حالات میں سابق ملکیتوں کو برقرار رکھا، بلکہ جن صورتوں میں آپ انے پچھلی ملکیتیں منسوخ کیں، ان میں بھی نئی انفرادی ملکیتیں پیدا کردیں اور آئندہ کے لیے غیر مملوکہ اراضی پر نئی ملکیتوں کے قیام کا دروازہ کھول دیا اور خود سرکاری املاک کو بھی افراد میں تقسیم کرکے انہیں حقوق ملکیت عطا فرمایا۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ سابق نظام ملکیت کو محض ایک ناگزیر برائی کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک اصول برحق کی حیثیت سے اس کو باقی رکھا گیا اور آئندہ کے لیے اسی کو جاری کیاگیا۔
اس کامزید ثبوت وہ احکام ہیں جو نبی انے حقوق ملکیت کے احترام کے متعلق دیئے ہیں۔ مسلم نے متعدد حوالوں سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرص کے بہنوئی سعید بن زیدص پر ایک عورت نے مروان بن حکم کے زمانے میں دعویٰ دائر کیا ہے کہ انہوں نے میری زمین کاایک حصہ ہضم کرلیا ہے اس کے جواب میں حضرت سعیدؓ نے مروان کی عدالت میں جو بیان دیا وہ یہ تھا کہ میں اس کی زمین کیسے چھین سکتا تھا جب کہ میں نے رسول اللہ اکی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے ہیں کہ (من اخذ شبراً من الارض ظلما طوقہ الی سبع ارضین) ’’جس شخص نے بالشت بھر زمین از راہ ظلم لی اس کی گردن میں سات تہوں تک اسی زمین کو طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔‘‘ اسی مضمون کی احادیث مسلم نے حضرت ابوہریرہص اور حضرت عائشہ زسے بھی نقل کی ہیں۔
(مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب تحریم الظلم و غصب الارض)
ابو داؤد، نسائی اور ترمذی نے متعدد حوالوں سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی انے فرمایا:
لیس لعرق ظالم حق۔
’’دوسرے کی زمین میں بلا استحقاق آبادکاری کرنے والے کے لیے کوئی حق نہیں۔‘‘
رافع بن خدیج صکی روایت ہے کہ حضور انے فرمایا:
من زرع فی ارض قوم بغیر اذنھم فلیس لہ من الزرع شیء و لہ نفقۃ۔
’’جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کاشت کی وہ اس کھیتی پر تو کوئی حق نہیں رکھتا البتہ اس کا خراج اسے دلوادیا جائے گا۔‘‘ (ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی)
عروہ بن زبیرص کی روایت ہے کہ نبی کریم اکے پاس ایک مقدمہ آیا جس میں ایک شخص نے ایک انصاری کی زمین میں کھجور کے درخت لگادیئے تھے اس پر آں حضرت انے فیصلہ دیا کہ وہ درخت اکھاڑ کر پھینک دیئے جائیں اور زمین اصل مالک کے حوالے کی جائے۔ (ابو داؤد)
یہ احکام کس چیز کی شہادت دیتے ہیں؟ کیا اس بات کی کہ زمین کی شخصی ملکیت کوئی برائی تھی جسے مٹانا مطلوب تھا مگر ناگزیر سمجھ کر مجبوراً اس کو برداشت کیا گیا؟ یا اس بات کی کہ یہ سراسر ایک جائز و معقول حق تھا جس کا احترام فرد اور حکومت دونوں پر فرض کردیا گیا؟ (معاشیات اسلام، ملکیت زمین کا مسئلہ: حقوق ملکیت کا احترام‘‘)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُو الرَّبِیْعِ الْعَتَکِیُّ۔ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ۔اَنَّ اَرْوٰی بِنْتَ اُوَیْسٍ ادَّعَتْ عَلٰی سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ اَنَّہٗ اَخَذَ شَیْئًا مِنْ اَرْضِھَا، فَخَاصَمَتْہُ اِلٰی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ۔ فَقَالَ سَعِیْدٌ: اَنَا کُنْتُ اٰخُذُ مِنْ اَرْضِھَا شَیْئًا بَعْدَ الَّذِیْ سَمِعْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ: وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ اَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْاَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَہٗ اِلٰی سَبْعِ اَرْضِیْنَ۔ فَقَالَ لَہٗ مَرْوَانُ: لاَ اَسْأَلُکَ بَیِّنَۃً بَعْدَ ھٰذَا۔ فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ، اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَعَمِّ بَصَرَھَا وَاقْتُلْھَا فِیْ اَرْضِھَا۔ قَالَ: فَمَا مَاتَتْ حَتّٰی ذَھَبَ بَصَرُھَا۔ ثُمَّ بَیْنَا ھِیَ تَمْشِیْ فِیْ اَرْضِھَا اِذَا وَقَعَتْ فِیْ حُفْرَۃٍ فَمَاتَتْ۔
انہی سے مروی ایک دوسری روایت میں ہے:
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ اَخَذَ شِبْرًا مِّنَ الْاَرْضِ ظُلْمًا، فَاِنَّہٗ یُطَوَّقُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرْضِیْنَ۔ (١٧)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ الثَّقَفِیُّ، اَخْبَرَنَا اَیُّوْبُ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ اَحْیَا اَرْضًا مَیِّتَۃً فَھِیَ لَہٗ وَ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ۔ (١٨)
(۳) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ۔ حَدَّثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ النَّخَعِیُّ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ،اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: مَنْ زَرَعَ فِیْ اَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِھِمْ فَلَیْسَ لَہٗ مِنَ الزَّرْعِ شَیْئٌ وَ لَہٗ نَفَقَتُہٗ۔ (١٩)
زرعی اراضی کی تحدید
یہ بات اصولی طورپر جان لینے کی ہے کہ حکومت کی عطا کردہ جاگیروں کے حقوق ملکیت اس طرح قائم نہیں ہوجاتے جس طرح کسی شخص کو اپنی زر خرید املاک یا موروثی ملکیتوں پر حاصل ہوتے ہیں۔ جاگیروں کے معاملے میں حکومت کو ہر وقت نظر ثانی کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی عطیہ کو نامناسب پاکر حکومت منسوخ بھی کرسکتی ہے اور اس میں ترمیم بھی کرسکتی ہے۔
اس کی کئی نظیریں احادیث و آثار میں موجود ہیں، ابیض بن حمال مآزنی کو نبی انے مآرب میں ایک ایسی زمین دی جس سے نمک نکلتا تھا۔ بعد میں جب لوگوں نے حضور ا کو توجہ دلائی کہ وہ تو نمک کی بڑی کان ہے تو آپ انے اسے اجتماعی مفاد کے خلاف پاکر اپنا عطیہ منسوخ فرمادیا۔ اس سے صرف یہی بات معلوم نہیں ہوتی کہ سرکاری عطایا پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ کسی شخص کو حد اعتدال سے زیادہ دے دینا اجتماعی مفاد کے خلاف ہے اور اگر ایسا عطیہ دیا جاچکا ہو تو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہی بات اُس روایت سے معلوم ہوتی ہے جس میں ذکر آتاہے کہ حضرت ابو بکرص نے حضرت طلحہص کو ایک زمین کے عطیہ کا فرمان لکھ کر دیا اور فرمایا کہ اس پر فلاں فلاں اصحاب کی شہادت ثبت کرالو جن میں سے ایک حضرت عمرؓ بھی تھے جب حضرت طلحہص حضرت عمرص کے پاس پہنچے تو آپ نے اس پر اپنی مہر لگانے سے انکار کردیا اور کہا۔ ھذا کلہ لک دون الناس؟ ’’کیا اتنی ساری زمین دوسروں کو چھوڑ کر تنہا تم اکیلے کو دے دی جائے؟‘‘
(ملاحظہ ہو کتاب الاموال لابی عبید ص:۷۶-۲۷۵)
رہا حضرت زبیرص کا معاملہ تو جس وقت حضور انے وہ زمین ان کو دی ہے اس وقت بے حساب زمینیں غیر آباد پڑی تھیں اور حضور اکے سامنے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کسی طرح ان کو آباد کیا جائے۔ اس لیے آپ انے اس زمانہ میں بکثرت لوگوں کو افتادہ اراضی کے بڑے بڑے رقبے عطا فرمائے تھے۔ (معاشیات اسلام، زرعی اراضی کی تحدید کا مسئلہ)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ الثَّقَفِیُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَکِّلُ الْعَسْقَلاَنِیُّ، اَلْمَعْنٰی وَاحِدٌ اَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَ بْنِ قَیْسٍ الْمَاٰرِبِیَّ حَدَّثَھُمْ، اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شَرَاحِیْلَ، عَنْ سُمَیِّ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ شَمِیْرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَکِّلِ: ابْنُ عَبْدِ الْمَدَانِ، عَنْ اَبْیَضَ بْنِ حَمَّالٍ، اَنَّہٗ وَفَدَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاسْتَقْطَعَہُ الْمِلْحَ، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَکِّلِ: الَّذِیْ بِمَاٰرِبَ، فَقَطَعَہٗ لَہٗ، فَلَمَّا اَنْ وَلّٰی قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ:أَتَدْرِیْ مَا قَطَعْتَ لَہٗ، اِنَّمَا قَطَعْتَ لَہُ الْمَائَ الْعِدَّ، قَالَ: فَانْتَزَعَ مِنْہُ۔ الحدیث۔ (٢٠ )
ترجمہ: ابیض بن حمال کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور نمک کی کان اپنے لیے جاگیر بنانے کی درخواست کی۔ (ابن متوکل نے کہا کہ یہ کان یمن میں واقع مارب میں تھی) آپ نے وہ کان اسے جاگیر کے طو رپر عنایت فرما دی۔ یونہی وہ واپس ہوا تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا (اے اللہ کے رسولؐ) آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے اسے کیا جاگیر عنایت فرما دی ہے۔۔۔ آپ نے تو اسے ایسا چشمۂ جاری عطا فرما دیا ہے جو کبھی بند نہیں ہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) آپ نے اس سے اسے واپس لے لیا۔
قیمتوں میں تسعیر (Price Control)
٩-اِنَّ السَّعْرَ غَلاَؤُہٗ وَ رَخَّصَہٗ بِیَدِ اللّٰہِ وَ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اَلْقَی اللّٰہَ وَ لَیْسَ لِاَحَدٍ عِنْدِیْ مَظْلِمَۃٌ یَطْلُبُنِیْ بِھَا۔
’’قیمتوں کا چڑھنا اور گرنا اللہ کے ہاتھ میں ہے (یعنی قدرتی قوانین کے تحت ہے) اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے خدا سے ملوں تو اس حال میں ملوں کہ کوئی شخص میرے خلاف ظلم و بے انصافی کی شکایت کرنے والا نہ ہو۔ ‘‘ (اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نے برائی کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور اس کے علاج کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ دراصل جس چیز سے آپ انے انکار کیا تھا وہ یہ تھی کہ حکومت اپنی مصنوعی مداخلت سے قیمتوں کے پیچیدہ نظام کو درہم برہم کرے۔اس طریقہ کو چھوڑ کر آپ نے اپنی پوری قوت کاروباری لوگوں کی اخلاقی اصلاح پر صرف فرمائی اور مسلسل تبلیغ سے یہ بات ان کے ذہن نشین کی کہ جان بوجھ کر قیمتیں چڑھانا ایک بہت بڑا گناہ ہے یہ تبلیغ خوب کارگر ثابت ہوئی اور کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ قیمتیں اعتدال پر آنی شروع ہوگئیں اور یہ گنجائش کچھ اس فطری نظام ہی میں نکل سکتی ہے کہ ایک آدمی معاشرے کے اندر رہتے ہوئے بھی اپنی معیشت میں آزاد اور اپنی زندگی میں مستقل ہوسکے وہ بے شمار چھوٹے بڑے ازم جو نیم پختہ ذہن کے لوگ آئے دن تصنیف کرتے رہتے ہیں تو وہ سب ایک نہ ایک طرح کا مصنوعی نظام تجویز کرتے ہیں جس میں آدمی ایک مستقل ذی روح انسان ایک ذی شعور حیثیت اور ایک مقصدی اہمیت رکھنے والی ہستی کے بجائے محض اجتماعی مشین کا ایک پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔
(اسلام اور جدید معاشی نظریات ، جدید معاشی پیچیدگیوں کا اسلامی حل‘‘))
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِیُّ اَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ بِلاَلٍ حَدَّثَھُمْ، قَالَ حَدَّثَنِیْ الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَجُلاً جَائَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: بَلْ اَدْعُوْ: ثُمَّ جَائَ ہٗ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: بَلِ اللّٰہُ۔ یَخْفِضُ وَ یَرْفَعُ، وَ اِنِّیْ لَاَرْجَوْ اَنْ اَلْقَی اللّٰہَ وَ لَیْسَ لِاَحَدٍ عِنْدِیْ مَظْلِمَۃٌ۔ (٢١)
پس منظر: نبی اکے زمانہ میں ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں قیمتیں چڑھ گئیں لوگوں نے حضور اسے عرض کیا کہ آپ ا قیمتیں مقرر فرمادیں آپؐ نے مذکورہ بالا جواب دیا۔
اُس کے بعد آپ انے مسلسل اپنے خطبوں میں، بات چیت میں اور لوگوں سے ملاقاتوں میں یہ فرمانا شروع کیا کہ:
١٠- اَلْجَالِبُ مَرْزُوْقٌ وَالْمُحْتَکِرُ مَلْعُوْنٌ۔
’’ضروریات زندگی کو بازار میں لانے والا خدا سے رزق اور رحمت پاتا ہے اور ان کو روک رکھنے والا خدا کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَھْضَمِیُّ۔ ثَنَا اَبُوْ اَحْمَدَ۔ ثَنَا اِسْرَآئِیْلُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جَدْعَانَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْجَالِبُ مَرْزُوْقٌ وَالْمُحْتَکِرُ مَلْعُوْنٌ۔ (٢٢)
١١- مَنِ اَحْتَکَرَ طَعَاماً اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا یُرِیْدُ بِہٖ الْغَلاَئَ فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ اللّٰہِ وَ بَرِیَٔ اللّٰہُ مِنْہُ۔
’’جس نے چالیس دن تک غلہ روک کر رکھا تاکہ قیمتیں چڑھیں اللہ کا اس سے اور اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
تخریج: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا یُرِیْدُ بِہِ الْغَلاَئَ فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ اللّٰہِ وَ بَرِیَٔ اللّٰہُ مِنْہُ۔(٢٣)
١٢- بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَکِرُ اَنْ رَخَّصَ اللّٰہُ الْاِسْعَارَ حَزِنَ وَ اِنْ اَغْلاَھَا فَرِحَ۔
’’کتنا برا ہے وہ شخص جو اشیاء ضرورت کو روک کررکھتا ہے ارزانی ہوتی ہے تو اُس کا دل دکھتا ہے گرانی بڑھتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْ سَعْدٍ اَلْمَالِیْنِیُّ۔ اَنَا اَبُوْ اَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عِمْرَانَ الْجُرْجَانِیُّ بِحَلْبٍ، ثَنَا عَطِیَّۃُ بْنُ بَقِیَّۃَ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَکِرُ اِذَا رَخَّصَ اللّٰہُ الْاِسْعَارَ حَزِنَ وَ اِذَا غَلّٰی فَرِحَ۔ (٢٤ )
١٣- مَنِ احْتَکَرَ طَعَاماً اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہٖ لَمْ یَکُنْ لَہٗ کَفَّارَۃٌ۔ (زرین)
’’جس نے چالیس دن تک غلہ کو روک کر رکھا پھر اگر وہ اُس غلہ کو خیرات بھی کردے تو اس گناہ کی تلافی نہ ہوگی جو اُن چالیس دنوں کے دوران میں وہ کرچکا ہے۔‘‘
تخریج: عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنِ احْتَکَرَ طَعَامًا اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہٖ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کَفَّارَۃٌ۔ (٢٥)
تشریح: اس طرح نبی ااحتکار کے خلاف مسلسل تبلیغ فرماتے رہے یہاں تک کہ تاجروں کے نفس کی اصلاح خود بخود ہوگئی۔ اور جو ذخیرے روکے گئے تھے وہ سب بازار میں آگئے۔
یہ شان ہے اُس حکمران کی جس کی حکومت اخلاق فاضلہ کی بنیاد پر قائم ہو اُس کی اصل قوت پولس اور عدالت اور کنٹرول اور آرڈیننس نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانوں کے قلب و روح کی تہوں میں برائی کی جڑوں کا استیصال کرتاہے نیتوں کی اصلاح کرتا ہے، خیالات اور ذہنیتیں بدلتاہے، معیار قدر بدلتا ہے اور لوگوں سے رضا کارانہ اپنے ان احکام کی پابندی کراتا ہے جو بجائے خود صحیح اخلاقی بنیادوں پر مبنی ہوتے ہیں برعکس اس کے یہ دنیوی حکام جن کی اپنی نیتیں درست نہیں ہیں، جن کے اپنے اخلاق فاسد ہیں اور جن کی حکمرانی کے لیے جابرانہ تسلط کے سوا کوئی دوسری بنیاد بھی موجود نہیں ہے انہیں جب کبھی اس طرح کے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے جیسے آج کل درپیش ہیں تو یہ سارا کام جبر سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اخلاق کی اصلاح کرنے کے بجائے عامۃ الناس کے اخلاقی بگاڑ میں جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے اسے بھی پورا کرکے چھوڑتے ہیں۔
اسلام جو ذہنیت اور اخلاقی نقطۂ نظر انسان کے اندر پیدا کرتا ہے اس کا سنگ بنیاد ہے خدا کا خوف اور خدا کے سامنے اپنی ذمے داری کا احساس یہ دونوں اوصاف جس شخص یا جس گروہ میں موجود ہوں اس پر اگر اجتماعی معاملات کی سربراہی کا بار ڈال دیا جائے تو وہ ایسا ایک نظام قائم کرنے اور چلانے کے لیے خود ہی تیار نہیں ہوسکتا جس میں اپنے ذاتی بوجھ کے ساتھ ساتھ لاکھوں کروڑوں انسانوںکی انفرادی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی وہ ان کے سر سے اتار کر خود اپنے سرپر لاد لے۔ مزید برآں اسلام ہر معاملہ میں انسان کو فطری حالت سے قریب تر رکھنا چاہتاہے اور زندگی کے کسی پہلو میں بھی مصنوعی پن کو پسند نہیں کرتا انسانی معیشت کے لیے فطری حالت یہی ہے کہ خدا نے رزق کے جوذرائع اس زمین پر پیدا کیے ہیں ان کو افراد اپنے قبضے میں لائیں فرد فرد اور گروہ گروہ بن کر ان پر تصرف اوران سے استفادہ کریں اور اپنے آپس میں اشیاء اور خدمات کا آزادانہ لین دین کرتے رہیں غیر معلوم مدت سے اسی طرز پر انسانی معیشت کا کارخانہ چلتا آرہا ہے۔
کسی چیز کو قبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کرنا
١٤- لاَ تَبِعْ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ۔ ( ترمذی، ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی)
’’کوئی ایسی چیز نہ بیچو جو فی الواقع تمہارے پاس موجود نہ ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوََانَۃَ، عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاھَکَ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، یَاتِیْنِی الرَّجُلُ فَیُرِیْدُ مِنِّی الْبَیْعَ لَیْسَ عِنْدِیْ اَفَأبْتَاعَہٗ لَہٗ مِنَ السُّوْقِ؟ فَقَالَ: لاَ تَبِعْ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ۔(٢٦)
١٥-اِذَا اشْتَرَیْتَ شَیْئًا فَلاَ تَبِعْہُ حَتّٰی تَقْبِضَہٗ۔
’’جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، ثَنَا ھِشَامٌ یعنی الدَّسْتَوَائِیُّ، حَدَّثَنِیْ یَحْیَ بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ رَجُلٍ، اَنَّ یُوْسُفَ بْنَ مَاھَکَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَصْمَۃَ اَخْبَرَہٗ اَنَّ حَکِیْمَ بْنَ حِزَامٍ اَخْبَرَہٗ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اشْتَرِیْ بُیُوْعًا فَمَا یَحِلُّ لِیْ مِنْھَا وَ مَا یَحْرَمُ عَلَیَّ؟ فَاِذَا اشْتَرَیْتَ بَیْعًا فَلاَ تَبِعْہُ حَتّٰی تَقْبِضَہٗ۔ (٢٧)
(۲) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح، وَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ وَ ھٰذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ طَاؤُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اشْتَرٰی اَحَدُکُمْ طَعَامًا فَلاَ یَبِعْہُ حَتّٰی یَقْبِضَہٗ۔الخ (٢٨)
١٦- نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَشْتَرِیَ الطَّعَامَ ثُمَّ یَبَاعُ حَتّٰی یَسْتَوْفِیَ۔ (احمد، مسلم)
’’نبی انے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک شخص غلہ خریدے اور پورا پورا ناپ تول کرلینے سے پہلے اسے آگے کو فروخت کردے۔‘‘
تخریج: عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی اَنْ یَّبِیْعَ اَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاہُ بِکَیْلٍ حَتّٰی یَسْتَوْفِیَہِ۔
ابن عباس سے مروی روایت میں ہے:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ یَبِعْہُ حَتّٰی یَکْتَالَہٗ۔ (٢٩)
١٧-کَانُوْا یَتَبَایِعُوْنَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِاَعْلَی السُّوْقِ فَنَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَبِیْعُوْہٗ حَتّٰی یَنْقُلُوْہُ۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد)
’’لوگ غلے کے ڈھیر منڈی میں کھڑے کھڑے خریدتے اور وہیں بیچ دیتے تھے حضور انے حکم دیا کہ جب تک غلہ اس جگہ سے منتقل نہ کردیا جائے اسے آگے نہ بیچا جائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، اَخْبَرَنِیْ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، کَانُوْا یَتَبَایِعُوْنَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِاَعْلَی السُّوْقِ، فَنَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَّبِیْعُوْہُ حَتّٰی یَنْقُلُوْہُ۔ (٣٠)
تشریح: ان احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کو خرید کر قبضے میں لیے بغیر بیچنا ممنوع ہے۔ اس کے ممنوع ہونے کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اول تو اس طرح کی خریدو فروخت میں جھگڑے کے امکانات زیادہ ہیں، دوسرے اس میں بغیر کسی حقیقی تمدنی خدمت کے ایک شخص سے دوسرا شخص ایک غائب چیز کو اپنا منافع لگا لگا کر بیچتا اور خریدتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ صارفین (Consumers)تک پہنچتے پہنچتے اس چیز کی قیمت چڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ یہ بہت سے بچولیوں کی منافع خوری بغیر اس کے کہ وہ واقعی کوئی خدمت اس مال کے پیداکرنے یا فراہم کرنے میں انجام دیں، خواہ مخواہ اشیاء کی قیمتیں چڑھنے کی موجب بنتی ہے۔ (رسائل و مسائل حصہ دوم، چند کاروباری مسائل)
ادائے قرض سے عاجز شخص اور اسلامی عدالت
١٨- ’’ایک شخص کے کاروبار میں گھاٹا آگیا اوراس پر قرضوں کا بار بہت چڑھ گیا معاملہ نبی اکے پاس آیا آپ نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے اس بھائی کی مدد کرو۔ چناں چہ بہت سے لوگوں نے اس کو مالی امداد دی مگر قرضے پھر بھی صاف نہ ہوسکے۔ تب آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ جو کچھ حاضر ہے بس وہی لے کر اسے چھوڑدو۔ اس سے زیادہ تمہیں نہیں دلوایا جاسکتا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ بُکَیْرٍ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ:اُصِیْبَ رَجُلٌ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ ثِمَارٍ ابْتَاعَھَا۔فَکَثُرَ دَیْنُہٗ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَصَدَّقُوْا عَلَیْہِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ۔ فَلَمْ یَبْلُغْ ذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہٖ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِغُرَمَائِہٖ، خُذُوْا مَا وَجَدْتُّمْ۔ وَ لَیْسَ لَکُمْ اِلاَّ ذٰلِکَ۔ (٣١)
تشریح: جو شخص ادائے قرض سے عاجز آگیا ہو، اسلامی عدالت اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ اسے مہلت دیں، اور بعض حالات میں وہ پورا قرض یا قرض کا ایک حصہ معاف بھی کرانے کی مجاز ہوگی۔
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ایک شخص کے رہنے کا مکان، کھانے کے برتن، پہننے کے کپڑے اور وہ آلات جن سے وہ اپنی روزی کماتا ہو، کسی حالت میں قرق نہیں کیے جاسکتے۔ (تفہیم القرآن: ج۱، البقرہ حاشیہ:۳۲۴)
رزق حلال موجب اجر و ثواب
١٩- مَثَلُ الَّذِیْ یَعْمَلُ وَ یَحْتَسِبُ فِیْ صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ کَمَثَلِ اُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَھَا وَ تَاْخُذُ اَجْرَھَا۔ ( تفسیر ابن کثیر ج٣، القصص:٣٨٢)
’’جوشخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسی ع کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو دودھ پلایا اور اس کی اجرت بھی پائی۔‘‘
تخریج: جَآئَ فِی الْحَدِیْثِ: مَثَلُ الَّذِیْ یَعْمَلُ وَ یَحْتَسِبُ فِیْ صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ کَمَثَلِ اُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَھَا وَ تَاْخُذُ اَجْرَھَا۔ (٣٢)
تشریح: یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کاپیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے، جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ عزوجل کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتاہے اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ عزوجل کے ہاں اجر کا مستحق ہوتاہے۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر و ثواب بھی پایا۔
٢٠-اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْھِمْ حِرْفَۃً وَلاَ تُرْسِلُوْھُمْ کَلاًّ عَلَی النَّاسِ۔ (ابن کثیر، بحوالۂ ابو داؤد)
’’اگر تمہیں معلوم ہوکہ وہ کما سکتاہے تو مکاتبت کرو۔ یہ نہ ہو کہ اسے لوگوں سے بھیک مانگتے پھرنے کے لیے چھوڑدو۔ ‘‘
تخریج: وَ رَوٰی اَبُوْ دَاؤُدُ فِی الْمَرَاسِیْلِ عَنْ یَحْیَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ (فَکَاتِبُوْھُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْھِمْ خَیْرًا۔(النور:۳۳) قَالَ: اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْھِمْ حِرْفَۃً وَلاَ تُرْسِلُوْھُمْ کَلاًّ عَلَی النَّاسِ) (٣٣)
تشریح: گویا کہ اگر غلام مکاتبت کرنا چاہے تو اس میں مال کتابت ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ یعنی وہ کماکر یا محنت کرکے اپنی آزادی کا فدیہ ادا کرسکتا ہے۔
ماخذ
فصل :۲ مزارعت کا مسئلہ
ہمیں ان احادیث کی تحقیق کرنی چاہیے جن سے یہ گمان ہوتا ہے کہ شریعت زمین کی شخصی ملکیت کو صرف کاشتی کی حد تک محدود کردینا چاہتی ہے اور اسی غرض کے لیے اس نے بٹائی اور نقد لگان کی ممانعت کی ہے اس مسئلے کی پوری تحقیق کے لیے پہلے ہم ان احادیث کو بتمام و کمال نقل کریں گے جن پر اس گمان کی بنا قائم ہے پھر ان پر تنقید کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس معاملہ میں اصل احکام شریعت کیا ہیں۔
احادیث کا تتبع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن روایات میں مزارعت یا کرایۂ زمین کی ممانعت وارد ہوئی ہے یا جن میں یہ حکم آیا ہے کہ آدمی کے پاس خود کاشت سے زائد جتنی زمین ہو اسے دوسروں کو مفت دے دے یا روک رکھے وہ ۶ صحابیوں سے مروی ہیں۔ رافع بن خدیجؓ، جابر بن عبد اللہؓ، ابو ہریرہؓ، ابو سعید خدریؓ، زید بن ثابتؓ اور ثابت بن ضحاکؓ، سہولت بیان کی خاطر ہم ان میں سے ہر ایک کی روایات کو الگ الگ نقل کرتے ہیں
رافع بن خدیج صکی روایات
٢١-اس مسئلے نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جن صحابی کے ذریعے سے شہرت پائی ہے وہ حضرت رافع بن خدیجؓ ہیں اس لیے پہلے انہی کی روایات کو لیجیے۔
حضرت رافع ؓکہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ اکے زمانے میں زراعت کے لیے زمینیں لیتے تھے اور تہائی، چوتھائی اور ایک خاص مقدار غلہ کرایہ کے طور پر مقرر کرتے تھے۔ ایک روز میرے چچاؤں میں سے ایک آئے اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ انے ہم کو ایک ایسے کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نافع تھا مگر ہمارے لیے اللہ اور رسول اللہ اکی تابع داری زیادہ نافع ہے۔
نَھَانَا اَنْ نُحَاقِلَ بِالْاَرْضِ فَنُکْرِیْھَا عَلَی الثُّلُثِ وَالرُّبُعُ وَالطَّعَامِ الْمُسَمّٰی وَ اَمَرَ رَبَّ الْاَرْضِ اَنْ یَّزْرَعَھَا اَوْ یُزْرِعَھَا وَ کَرِہَ کِرَائَھَا وَمَا سِوَیٰ ذٰلِکَ۔
’’آپ انے ہم کو اس بات سے منع کردیا کہ ہم زمینوں میں مزارعت کا معاملہ کریں اور تہائی، چوتھائی اور مقرر مقدار غلہ کے عوض انہیں کرایہ پر دیں اور آپ انے حکم دیا ہے کہ مالک زمین یا تو خود کاشت کرے یا دوسرے کو کاشت کرنے کے لیے دے دے اور آپ انے زمین کے کرایہ کو اور اس کے سوا دوسری صورتوں کو ناپسند فرمایا۔ ‘‘ (مسلم)
تخریج: حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِیُّ، وَ یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالاَ: نَا اِسْمَاعِیلُ وَ ھُوَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، قَالَ:کُنَّا نُحَاقِلُ الْاَرْضَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَنُکْرِیْھَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمّٰی، فَجَائَ نَا ذَاتَ یَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عَمُوْمَتِیْ فَقَالَ: نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا، وَ طَوَاعِیَۃُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ اَنْفَعُ لَنَا نَھَانَا اَنْ نُحَاقِلَ بِالْاَرْضِ فَنُکْرِیْھَا عَلَی الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمّٰی، وَ اَمَرَ رَبَّ الْاَرْضِ اَنْ یَّزْرَعَھَا اَوْ یُزْرِعَھَا وَکِرَہَ کِرَائَھَا وَمَا سِوٰی ذٰلِکَ۔ (١)
٢٢-ایک اور روایت میں حضرت رافع صاپنے چچا کا نام ظہیر بن رافع بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان سے نبی انے پوچھا تم لوگ اپنی کھیتی باڑی کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟ انہو ںنے مزارعت کی تفصیل بتائی اس پر آپ انے فرمایا:
فَلاَ تَفْعَلُوْا، اِزْرَعُوْھَا اَوْ اَزْرِعُوْھَا اَوْ اَمْسِکُوْھَا۔
’’ایسا نہ کیا کرو، یا خود زراعت کرو،یا دوسروں کو زراعت کے لیے دے دو، یا اپنی زمینوں کو روک رکھو۔ ‘‘
(بخاری، ابن ماجہ)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، اَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، عَنْ اَبِی النَّجَاشِیِّ مَوْلٰی رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَمِّہٖ ظُھَیْرِ بْنِ رَافِعٍ، لَقَدْ نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍ کَانَ بِنَا رَافِقًا قُلْتُ: مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَھُوَ حَقٌّ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَا تَصْنَعُوْنَ بِمَحَاقِلِکُمْ؟ قُلْتُ: نُوأَجِرُھَا عَلَی الرُّبَیْعِ وَ عَلَی الْاَوْسَقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِیْرِ، قَالَ: لاَ تَفْعَلُوْا، اِزْرَعُوْھَا وَ اَزْرِعُوْھَا اَوْ اَمْسِکُوْھَا قَالَ رَافِعٌ: قُلْتُ: سَمْعًا وَ طَاعَۃً۔ (٢)
٢٣-ایک اور روایت میں حضرت رافع صخود اپنا قصہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی کھیتی کو پانی دے رہے تھے۔ وہاں سے رسو ل اللہا کا گزر ہوا۔ آپ انے پوچھا یہ کس کی کھیتی ہے اور کس کی زمین ہے؟ انہوں نے عرض کیا:
زَرْعِیْ بِبِذْرِیْ وَ عَمَلِیْ۔ لِیَ الشَّطْرُ وَ لِبَنِیْ فُلاَنٍ الشَّطْرُ۔
’’میری کھیتی ہے۔ اس میں تخم اور عمل میرا ہے، آدھی پیداوار میری ہوگی اور آدھی بنی فلاں کی۔‘‘
اس پر نبی کریم انے فرمایا:
اَرْبَیْتُمَا، فَرُدَّ الْاَرْضَ عَلٰی اَھْلِھَا وَ خُذْ نَفَقَتَکَ۔
’’تم نے سودی معاملہ کیا۔ زمین اس کے مالکوں کو واپس کردو، اور اپنا خرچ ان سے وصول کرلو۔‘‘ (ابو داؤد) (۱)
تخریج: حَدَّثَنَا ھَارُوْنُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، ثَنَا بُکَیْرٌ، یعنی ابْنُ عَامِرٍ۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ نُعَیْمٍ، حَدَّثَنِیْ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ اَنَّہٗ زَرَعَ اَرْضًا فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ ﷺ وَ ھُوَ یَسْقِیْھَا، فَسَاَلَہٗ لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَ لِمَنِ الْاَرْضُ؟ فَقَالَ: زَرْعِیْ بِبَذْرِیْ وَ عَمَلِیْ، لِیَ الشَّطْرُ وَ لِبَنِیْ فُلاَنٍ الشَّطْرُ فَقَالَ: اَرْبَیْتُمَا، فَرُدَّ الْاَرْضَ عَلٰی اَھْلِھَا وَ خُذْ نَفَقَتَکَ۔ (٣)
٢٤-مجاہد کی روایت ہے کہ رافع بن خدیج نے کہا:
نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍکَانَ لَنَا نَافِعًا اِذَا کَانَتْ لِاَحَدِنَا اَرْضٌ اَنْ یَّعْطِیَھَا بِبَعْضِ خَرَاجِھَا وَ بِدَرَاھِمَ۔ وَ قَالَ اِذَا کَانَتْ لِاَحَدِکُمْ اَرْضٌ فَلْیَمْنَحْھَا اَخَاہُ اَوْ لِیَذْرَعَھَا۔
’’رسول اللہ انے ہم کو ایسے کام سے روک دیا جو ہمارے لیے نافع تھا، یعنی اس بات سے کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس کوئی زمین ہو تو وہ اسے اس کی پیداوار اور نقدی کے عوض زراعت کے لیے کسی دوسرے شخص کو دے اور آپ انے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی زمین ہو تو یا وہ اپنے کسی بھائی کو یونہی دے دے یا خود کاشت کرے۔ ‘‘ (ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا ھَنَّادٌ ثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ اَبِیْ حُصَیْنٍ عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، قَالَ: نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا اِذَا کَانَتْ لِاَحَدِنَا اَرْضٌ اَنْ یُّعْطِیَھَا بِبَعْضِ خَرَاجِھَا وَ بِدَرَاھِمَ وَ قَالَ: اِذَا کَانَتْ لِاَحَدِکُمْ اَرْضٌ فَلْیَمْنَحْھَا اَخَاہُ اَوْ لِیَزْرَعَھَا۔ (٤)
٢٥-سعید بن مسیب نے رافع بن خدیج صسے یہ روایت نقل کی ہے:
نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ وَ قَالَ اِنَّمَا یَزْرَعُ ثَلاَثَۃٌ، رَجُلٌ لَّہٗ اَرْضٌ فَیَزْرَعُھَا، وَ رَجُلٌ مُنِحَ اَرْضًا فَھُوَ یَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَ رَجُلٌ اسْتَکْریٰ اَرْضًا بِذَھَبٍ اَوْ فِضَّۃٍ۔
’’رسول اللہ انے محاقلہ (بٹائی پر کاشت کرانے) اور مزابنہ (درختوں پر کھجور کی بیع) سے منع فرمایا اور فرمایا کہ زراعت تین ہی آدمی کرسکتے ہیں۔ ایک وہ جس کی اپنی زمین ہو اور وہ اس میں خود کاشت کرے۔ دوسرا وہ جسے کوئی زمین یونہی دے دی جائے اور وہ اس میں کھیتی باڑی کرے۔ تیسرا وہ جو سونے اور چاندی کے عوض زمین کرائے پر لے۔ ‘‘
(ابو داؤد، ابن ماجہ، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ، ثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ، وَ قَالَ:اِنَّمَا یَزْرَعُ ثَلاَثَۃٌ: رَجُلٌ لَّہٗ اَرْضٌ فَھُوَ یَزْرَعُھَا، وَ رَجُلٌ مُنِحَ اَرْضًا فَھُوَ یَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَ رَجُلٌ اسْتَکْرٰی اَرْضًا بِذَھَبٍ اَوْ فِضَّۃٍ۔ (٥)
مگر نسائی نے ایک دوسری روایت کے ذریعہ سے یہ بتایا ہے کہ ’’اصل اس حدیث کا صرف پہلا ٹکڑا یعنی (نھی عن المحاقلۃ والمزابنۃ) ہی نبی ا کا فرمایا ہوا ہے۔ باقی کلام سعید بن مسیب کا اپنا تشریحی کلام ہے جو بعد میں اصل حدیث کے ساتھ خلط ملط ہوگیا۔
٢٦-سلیمان بن یسار نے رافع بن خدیج صسے جو روایت نقل کی ہے اس میں وہ اپنے کسی چچا کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے آکر کہا کہ رسول اللہ انے فرمایا:
مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ فَلاَ یُکْرِیْھَا بِطَعَامٍ مُّسَمّٰی۔
’’جس کے پاس کوئی زمین ہو وہ غلے کی ایک مقدار ٹھہرا کر اسے کرائے پر نہ دے۔‘‘ (ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ ثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، قَالَ کُنَّا نُحَاقِلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَزَعَمَ اَنَّ بَعْضَ عُمُوْمَتِہٖ اَتَاھُمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ فَلاَ یُکْرِیْھَا بِطَعَامٍ مُسَمّٰی۔ (٦)
٢٧-اور دوسری روایت کی رو سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا ہے:
مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ فَلْیَزْرَعْھَا اَوْ لَیُزْرِعُھَا اَخَاہُ وَلاَ یُکَارِیْھَا بِثُلُثٍ وَلاَ بِرُبُعٍ وَلاَ بِطَعَامٍ مُّسَمّٰی۔
’’جس کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہیے کہ یا خود زراعت کرے یااپنے کسی بھائی کو زراعت کے لیے دے دے مگر کرائے پر نہ دے، نہ تہائی پیداوار پر، نہ چوتھائی پر اور نہ ایک مقرر مقدار غلہ پر۔‘‘ (ابن ماجہ، ابو داؤد، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا عُبََیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ اَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ، قَالَ: کُنَّا نُخَابِرُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَذَکَرَ اَنَّ بَعْضَ عُمُوْمَتِہٖ اَتَاہُ فَقَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَ طَوَاعِیَۃُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ اَنْفَعُ لَنَا وَ اَنْفَعُ، قَالَ قُلْنَا: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ کَانَتْ لَہٗ اَرْضٌ فَلْیَزْرَعْھَا اَوْ فَلْیُزْرِعْھَا اَخَاہُ وَلاَ یُکَارِیْھَا بِثُلُثٍ وَلاَ بِرُبُعٍ وَلاَ بِطَعَامٍ مُسَمّٰی۔ (٧)
٢٨-رافع بن خدیج کے صاحب زادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو رافع نے رسول اللہؐ کے پاس سے آکر ہم لوگوں کو بتایا کہ:
نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍ کَانَ یَرْفُقُ بِنَا، وَ طَاعَۃُ اللّٰہِ وَ طَاعَۃُ رَسُوْلِہٖ اَرْفَقُ بِنَا، نَھَانَا اَنْ یَّزْرَعَ اَحْدُنَا اِلاَّ اَرْضًا یَمْلِکُ رَقَبَتَھَا اَوْ مَنِیْحَۃً یَمْنَحُھَا رَجُلٌ۔
’’آپ انے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی زمین میں زراعت کرے، الا یہ کہ یا تووہ خود اس زمین کا مالک ہو، یا کوئی دوسرا شخص اس کو بلا معاوضہ زراعت کے لیے دے دے۔‘‘ (ابو داؤد)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا وَکِیْعٌ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: جَائَ نَا اَبُوْ رَافِعٍ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: نَھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَمْرٍ کَانَ یَرْفُقُ بِنَا، وَ طَاعَۃُ اللّٰہِ وَ طَاعَۃُ رَسُوْلِہٖ اَرْفَقُ بِنَا، نَھَانَا اَنْ یَزْرَعَ اَحْدُنَا اِلاَّ اَرْضًا یَمْلِکُ رَقَبَتَھَا اَوْ مَنِیْحَۃً یَمْنَحُھَا رَجُلٌ۔ (٨)
٢٩-ابن عمر صکی روایت ہے کہ ہم اپنی زمین کرائے پر دے دیا کرتے تھے۔ پھر جب ہم نے رافع بن خدیج صکی حدیث سنی تو یہ کام چھوڑدیا۔
دوسری روایت میں ابن عمرص کہتے ہیں کہ ہم مخابرہ (یعنی بٹائی پر کاشت کا معاملہ کرتے تھے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔ پھر رافع نے دعویٰ کیا کہ اللہ کے نبی انے اس سے منع کیا تھا۔ لہٰذا ان کے قول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑدیا۔ (مسلم، ابو داؤد، ابن ماجہ)
تخریج: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّہٗ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُکْرِیْ اَرْضِیْہِ حَتّٰی بَلَغَہٗ اَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ الْاَنْصَارِیَّ کَانَ یَنْھٰی عَنْ کِرَائِ الْاَرْضِ فَلَقِیَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ خَدِیْجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ کِرَائِ الْاَرْضِ؟ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ لِعَبْدِ اللّٰہِ: سَمِعْتُ عَمَّیَّ وَ کَانَا قَدْ شَھِدَا بَدْرًا یُحَدِّثَانِ اَھْلَ الدَّارِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنْ کِرَائِ الْاَرْضِ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَقَدْ کُنْتُ اَعْلَمُ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ الْاَرْضَ تُکْرٰی ثُمَّ خَشِیَ عَبْدُ اللّٰہِ اَنْ یَّکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْدَثَ فِیْ ذَالِکَ شَیْئًا لَمْ یَکُنْ عِلْمَہٗ فَتَرَکَ کِرَائَ الْاَرْضِ۔ (٩)
اس حدیث کے سلسلۂ سند میں ایک راوی بکر بن عامر البجلی ہے جس کے معتبر ہونے میں کلام کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: نیل الاوطار ج۵، ص:۲۳۴)
زبان: اُردو
صفحات: 542
ادارہ معارف اسلامی، لاہور