ریڈ مودودی ؒ کی اس ویب سائٹ پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اب آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کو ’’پی ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’یونی کوڈ ورژن‘‘ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔کتابوں کی دستیابی کے حوالے سے ہم ’’ادارہ معارف اسلامی، لاہور‘‘، کے شکر گزار ہیں کہ اُنھوں نے اس کارِ خیر تک رسائی دی۔ اس صفحے پر آپ متعلقہ کتاب PDF میں ملاحظہ کیجیے۔
فصل: ۱ فضائل قرآن قرآن مجید کی عظمت اور آفاقیت
مجیدکا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتاہے۔ ایک بلند مرتبہ، باعظمت، بزرگ اور صاحب ِ عزّت و شرف۔ دوسرے کریم، کثیر العطا، بہت نفع پہنچانے والا۔ قرآن کے لیے یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے۔ قرآن اس لحاظ سے عظیم ہے کہ دُنیا کی کوئی کتاب اس کے مقابلے میں نہیں لائی جاسکتی۔ اپنی زبان اور ادب کے لحاظ سے بھی وہ معجزہ ہے اور اپنی تعلیم اور حکمت کے لحاظ سے بھی معجزہ۔ جس وقت وہ نازل ہوا تھا اُس وقت بھی انسان اُس کے مانند کلام بنا کر لانے سے عاجز تھے اور آج بھی عاجز ہیں۔ اس کی کوئی بات کسی زمانے میں غلط ثابت نہیں کی جاسکی ہے نہ کی جاسکتی ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس کا مقابلہ کرسکتا ہے نہ پیچھے سے حملہ آور ہوکر اسے شکست دے سکتا ہے۔ اور اس لحاظ سے وہ کریم ہے کہ انسان جس قدر زیادہ اس سے رہ نمائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اسی قدر زیادہ وہ اس کو رہ نمائی دیتا ہے اور جتنی زیادہ اس کی پیروی کرے اتنی ہی زیادہ اسے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں حاصل ہوتی جاتی ہیں۔ اس کے فوائد و منافع کی کوئی حد نہیں ہے جہاں جاکر انسان اس سے بے نیاز ہوسکتا ہو یا جہاں پہنچ کر اس کی نفع بخشی ختم ہوجاتی ہو۔
قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جس نے نوع ِانسانی کے افکار، اَخلاق، تہذیب اور طرز ِ زندگی پر اتنی وسعت، اتنی گہرائی اور اتنی ہمہ گیری کے ساتھ اثر ڈالا ہے کہ دُنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ پہلے اس کی تاثیر نے ایک قوم کو بدلا اور پھر اس قوم نے اُٹھ کر دُنیا کے ایک بہت بڑے حصے کو بدل ڈالا۔ کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں ہے جو اس قدر انقلاب انگیز ثابت ہوئی ہو۔ پھر یہ کتاب صرف کاغذ کے صفحات پر لکھی نہیں رہ گئی ہے بلکہ عمل کی دُنیا میں اس کے ایک ایک لفظ نے خیالات کی تشکیل اور ایک مستقل تہذیب کی تعمیر کی ہے۔ ۱۴ سو برس سے اس کے ان اثرات کا سلسلہ جاری ہے، اور روز بروز اس کے یہ اثرات پھیلتے جا رہے ہیں۔
جس موضوع سے یہ کتاب بحث کرتی ہے وہ ایک وسیع ترین موضوع ہے، جس کا دائرہ ازل سے ابد تک پوری کائنات پر حاوی ہے۔ وہ کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس کے نظم و آئین پر کلام کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کائنات کا خالق اور ناظم و مدبّر کون ہے، کیا اس کی صفات ہیں، کیا اس کے اختیارات ہیں، اور وہ حقیقت ِ نفس ُ الامری کیا ہے جس پر اُس نے یہ پورا نظام ِ عالم قائم کیا ہے۔ وہ اس جہان میں انسان کی حیثیت اور اس کا مقام ٹھیک ٹھیک مشخص کرکے بتاتی ہے کہ یہ اس کا فطری مقام اور یہ اس کی پیدائشی حیثیت ہے جسے بدل دینے پر وہ قادر نہیں ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس مقام اور حیثیت کے لحاظ سے انسان کے لیے فکرو عمل کا صحیح راستہ کیا ہے جو حقیقت سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔ اور غلط راستے کیا ہیں جو حقیقت سے متصادم ہوتے ہیں۔ صحیح راستے کے صحیح ہونے اور غلط راستوں کے غلط ہونے پر وہ زمین و آسمان کی ایک ایک چیز سے، نظام کائنات کے ایک ایک گوشے سے، انسان کے اپنے نفس اور اس کے وجود سے اور انسان کی اپنی تاریخ سے بے شمار دلائل پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان غلط راستوں پر کیسے اور کن اسباب سے پڑتا رہا ہے اور صحیح راستہ، جو ہمیشہ سے ایک ہی تھا اور ایک ہی رہے گا، کس ذریعے سے اس کو معلوم ہوسکتا ہے اور کس طرح ہر زمانے میں اس کو بتایا جاتا رہا ہے۔ وہ صحیح راستے کی طرف نشان دہی کرکے ہی نہیں رہ جاتی بلکہ اس راستے پر چلنے کے لیے ایک پورے نظام ِ زندگی کا نقشہ پیش کرتی ہے جس میں عقائد،اخلاق، تزکیۂ نفس، عبادات، معاشرت، تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت، قانون، غرض حیات ِ انسانی کے ہر پہلو سے متعلق ایک نہایت مربوط ضابطہ بیان کردیا گیا ہے۔ مزید برآں وہ پوری تفصیل کے ساتھ بتاتی ہے کہ اس صحیح راستے کی پیروی کرنے اور ان غلط راستوں پر چلنے کے کیا نتائج اس دنیا میں ہیں اورکیا نتائج دنیا کا موجودہ نظام ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے عالم میں رونما ہونے والے ہیں۔ وہ اس دنیا کے ختم ہونے اور دوسرا عالم برپا ہونے کی نہایت مفصل کیفیت بیان کرتی ہے، اس تعمیر کے تمام مراحل ایک ایک کرکے بتاتی ہے، دوسرے عالم کا پورا نقشہ نگاہوں کے سامنے کھینچ دیتی ہے، اور پھر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ وہاں انسان کیسے ایک دوسری زندگی پائے گا۔ کس طرح اس کی دنیوی زندگی کے اعمال کا محاسبہ ہوگا، کن اُمور کی اس سے باز پُرس ہوگی، کسی ناقابل ِ انکار صورت میں اُس کا پورا نامۂ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا، کیسی زبردست شہادتیں اس کے ثبوت میں پیش کی جائیں گی، جزا اور سزا پانے والے کیوں جزا اور سزا پائیں گے، جزا پانے والوں کو کیسے انعامات ملیں گے اور سزا پانے والے کس کس شکل میں اپنے اعمال کے نتائج بھگتیں گے۔ اس وسیع مضمون پر جو کلام اس کتاب میں کیا گیا ہے وہ اس حیثیت سے نہیں ہے کہ اس کا مصنف کچھ صُغریٰ کبریٰ جوڑ کر چند قیاسات کی ایک عمارت تعمیر کر رہا ہے، بلکہ اس حیثیت سے ہے کہ اس کا مصنّف حقیقت کا براہِ راست عِلم رکھتا ہے، اس کی نگاہ ازل سے ابد تک سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ تمام حقائق اس پر عیاں ہیں، کائنات پوری کی پوری اس کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے، نوع ِ انسانی کے آغاز سے اس کے خاتمہ تک ہی نہیں بلکہ خاتمہ کے بعد اس کی دوسری زندگی تک بھی وہ اس کو بیک نظر دیکھ رہا ہے اور قیاس و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ عِلم کی بنیاد پر انسان کی رہ نمائی کر رہا ہے۔ جن حقائق کو علم کی حیثیت سے وہ پیش کرتا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی آج تک غلط ثابت نہیں کیا جاسکا ہے۔ جو تصوّر ِ کائنات و انسان وہ پیش کرتا ہے وہ تمام مظاہر اور واقعات کی مکمل توجیہ کرتا ہے اور ہر شعبۂ عِلم میں تحقیق کی بنیاد بن سکتا ہے۔ فلسفہ و سائنس اور علوم ِ عمران کے تمام آخری مسائل کے جوابات اس کے کلام میں موجود ہیں اور ان سب کے درمیان ایسا منطقی ربط ہے کہ ان پر ایک مکمّل، مربوط اور جامع نظام ِ فکر قائم ہوتا ہے۔ پھر عملی حیثیت سے جو رہ نمائی اس نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق انسان کو دی ہے وہ صرف انتہائی معقول اور انتہائی پاکیزہ ہی نہیں بلکہ ۱۴ سو سال سے رُوئے زمین کے مختلف گوشوں میں بے شمار انسان بالفعل اس کی پیروی کر رہے ہیں اور تجربے نے اس کو بہترین ثابت کیا ہے۔ کیا اس شان کی کوئی انسانی تصنیف دنیا میں موجود ہے یا کبھی موجود رہی ہے جسے اس کتاب کے مقابلے میں لایا جاسکتا ہو؟ (تفہیم القرآن سے اقتباسات)
قرآن حجت ہے
١-اَلْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ۔
’’قرآن تمہارے حق میں حجت ہے یا تمہارے خلاف حجت ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ: نَا حِبَّانُ بْنُ ھِلاَلٍ، قَالَ: نَا اَبَانٌ، قَالَ:نَا یَحْيٰ: اَنَّ زَیْدًا حَدَّثَہٗ اَنَّ اَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَہٗ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلطَّھُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِیْزَانَ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلاَ ُٔ مَا بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ۔ وَالصَّلاَۃُ نُوْرٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ وَالْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَکَ أَوْ عَلَیْکَ کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا۔ (١)
ترجمہ: حضرت ابو مالک اشعری سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے طہارت نصف ایمان ہے۔ اور الحمد للہ کہنے کا اجر و ثواب ترازو کو بھردے گا اور سبحان اللہ والحمد للہ کہنا ترازو کو بھردے گا یا فرمایا کہ یہ دونوں آسمان و زمین کے مابین جگہ کو پُر کردیں گے (اگر ان کا ثواب جسم کی شکل فرض کرلیا جائے) نماز نور ہے اور صدقہ برہان و دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح کو اٹھتا ہے تو اپنے آپ کو فروخت کرنے والا ہوتا۔ (بایں طور کہ نیک عمل کرکے عذاب ِ الٰہی سے اپنے آپ کو) آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا بُرے اعمال کرکے اسے تباہ و برباد کرنے والا ہوتا ہے۔
تشریح: رسول اللہ انے اس ایک چھوٹے سے فقرے میں بے نظیر بات ارشاد فرمائی ہے۔ اگر ایک آدمی قرآن مجید کی پیروی کرے تواللہ تعالیٰ کے سامنے یہ بات پیش کرسکتا ہے کہ میں نے آپ ہی کے کلام کے مطابق عمل کیا ہے۔ یہ سب سے بڑی حجت اس کے حق میں ہوسکتی ہے اور اس کی بنا پر اس کی بخشش کا ہونا یقینی ہوسکتا ہے کیوں کہ اس نے اللہ کی کتاب کی پیروی کی۔ لیکن اگر کسی کے پاس کتاب الٰہی موجود ہو اور اس کے بعد وہ اس سے منہ موڑے اور اس کے خلاف عمل کرے تو کتابِ الٰہی اس کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوگی۔ دُنیا کا کوئی دوسرا شخص تو یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ آپ کا کلام ہم تک نہیں پہنچا تھا لیکن ہم مسلمان تو یہ نہیں کہہ سکتے۔ ہم تو دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ ہمارا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہا اللہ کے رسول تھے اور انہوں نے ہی یہ کتاب ہم تک پہنچائی، اس لیے ہمارے سامنے کوئی راہِ فرار نہیں رہتی، نہ کوئی حجت رہ جاتی ہے۔ اگر ہم اس کے خلاف عمل کریں تو ہمارے اوپر مقدمہ ثابت ہو جاتا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اس بات کی کوئی جواب دہی نہیں کرسکتے، کہ ہم قرآن سے مُنہ موڑ کر کسی کی لال کتاب اور کسی کی کالی کتاب کی طرف کیوں دوڑتے پھرتے تھے۔ (قرآن سرچشمۂ ہدایت،ص:۴)
جو لوگ قرآن کو اپنا رہ نما اور اپنے لیے کتاب آئین مان لیں ان کے لیے تو یہ خدا کی رحمت اور ان کے تمام ذہنی، نفسانی، اخلاقی اور تمدّنی امراض کا علاج ہے، مگر جو ظالم اسے رد کرکے اور اس کی رہ نمائی سے منہ موڑ کر اپنے اوپر آپ ظلم کریں ان کو یہ قرآن اس حالت پر بھی نہیں رہنے دیتا جس پر وہ اس کے نزول سے یا اس کے جاننے سے پہلے تھے، بلکہ یہ انہیں اُلٹا اس سے زیادہ خسارے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک قرآن آیا نہ تھا یا جب تک وہ اس سے واقف نہ ہوئے تھے، ان کا خسارہ محض جہالت کا خسارہ تھا۔ مگر جب قرآن ان کے سامنے آگیا اور اس نے حق اور باطل کا فرق کھول کر رکھ دیا تو ان پر خدا کی حجت تمام ہوگئی۔ اب اگر وہ اسے رد کرکے گمراہی پر اصرار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جاہل نہیں بلکہ ظالم اور باطل پرست اور حق سے نَفُور ہیں۔ اب ان کی حیثیت وہ ہے جو زہر اور تریاق، دونوں کو دیکھ کر زہر انتخاب کرنے والے کی ہوتی ہے، اب اپنی گمراہی کے وہ پورے ذمے دار اور ہر گناہ جو اس کے بعد وہ کریں اس کی پوری سزا کے مستحق ہیں۔ یہ خسارہ جہالت کا نہیں بلکہ شرارت کا خسارہ ہے جسے جہالت کے خسارے سے بڑھ کر ہی ہونا چاہیے۔ یہی بات نبیؐ نے (مندرجہ بالا نہایت مختصر جملے میں بلاغت سے) بیان کی ہے۔ (تفہیم القرآن ج۲، بنی اسرائیل حاشیہ:۱۰۲)
اللہ کا کلام دوسرے کلاموں سے اُسی طرح افضل ہے جس طرح خود اللہ تعالیٰ
٢- عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی مَنْ شَغَلَہُ الْقُرْاٰنُ وَ ذِکْرِیْ عَنْ مَسْأَلَتِیْ اَعْطَیْتُہٗ اَفْضَلَ مَا اُعْطِی السَّائِلِیْنَ، وَ فَضْلُ کَلاَمِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلٰی سَائِرِ الْکَلاَمِ کَفَضْلِ اللّٰہِ عَلٰی خَلْقِہٖ۔ (رواہ الترمذی والدارمی والبیھقی)
’’حضرت ابو سعید خُدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو قرآن مجید (کے مطالعہ) نے میرا ذکر کرنے اور مجھ سے دعا مانگنے سے روک رکھا ہو میں اُس کو وہ افضل ترین چیز دوں گا جو دعا مانگنے والوں کو دیتا ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ ا فرماتے ہیں کہ اللہ کے کلام کی فضیلت باقی تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسی اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، نَا شِھَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِیُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ اَبِیْ یَزِیْدَ الْھَمْدَانِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عَطِیَّۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی مَنْ شَغَلَہُ الْقُرْاٰنُ وَ ذِکْرِیْ عَنْ مَسْأَلَتِیْ اَعْطَیْتُہٗ اَفْضَلَ مَا اُعْطِی السَّائِلِیْنَ، وَ فَضْلُ کَلاَمِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلٰی سَائِرِ الْکَلاَمِ کَفَضْلِ اللّٰہِ عَلٰی خَلْقِہٖ الحدیث۔ (٢)
تشریح: مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن مجید پڑھنے میں اس طرح مشغول رہا کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی یاد کے لیے دوسرے اذکارو اَوراد مثلاً (سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ) وغیرہ پڑھنے کی فرصت نہیں ملی، یہاں تک کہ دعا مانگنے کا بھی وقت نہیں ملا تو اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ جو بڑی سے بڑی چیز وہ دعا مانگنے والے کو دیتا ہے وہ اُس شخص کو اس کے دعا مانگے بغیر صرف قرآن پڑھنے کی برکت سے عطا کرے گا۔
یہ حدیث ِقدسی ہے۔ حدیث قدسی وہ ہوتی ہے جس میں رسول اللہا نے یہ بیان کیا ہو کہ اللہ تعالیٰ ایسا فرماتا ہے۔ حدیث ِقدسی اور قرآن میں فرق یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں اور اس کے مضامین بھی۔ ان کے نازل ہونے کے بعد ان کو کتاب اللہ کا جز بنا لیا جاتا تھا، چناں چہ جبریل علیہ السلام جب قرآن لاتے تھے تو رسول اللہ ا کو یہ بتادیتے تھے کہ یہ قرآن کی آیت ہے اور اس کا محل فلاں آیت سے پہلے اور فلاں کے بعد ہے۔ اس کے برعکس حدیث ِ قدسی میں الفاظ تو رسول اللہا کے ہوتے ہیں لیکن معنی وہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے دل پر القا کیے ہوں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث ِ قدسی میں الفاظ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن ان کو قرآن کا جز بنانا مقصود نہیں ہوتا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے متعدد دعائیں رسول اللہ ا کو سکھائی ہیں۔ نماز میں جو اذکار پڑھے جاتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ سب اس غرض کے لیے نہیں تھے کہ انہیں قرآن کا جُز بنایا جائے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الٰہی الفاظ میں کوئی مضمون آتا تھا تو واضح طور پر یہ بتا دیا جاتا تھا کہ یہ قرآن میں شامل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
یہ حدیث قدسی اُعْطِی السَّائِلِیْنَ پر ختم ہوجاتی ہے اب رسول اللہ ا خود فرماتے ہیں کہ اللہ کے کلام کی فضیلت تمام کلاموں پر ویسی ہی ہے جیسی خود اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر ہے۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو یہ مخلوق کے کلام سے اتنا ہی افضل ہے جتنا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے افضل ہے۔ اُوپر کے قول کے بعد رسول اللہا نے اس بات کا اضافہ اس لیے فرمایا کہ قرآن کے ماسوا مختلف اذکارو اَوراد کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا جو بھی ذکر کیا جاتا ہے اس کا واسطہ انسانی کلام ہے خدا کا کلام نہیں ہے۔ اور انسانی کلام خواہ کتنا ہی افضل اوراعلیٰ ہو وہ اللہ کے کلام کے مقابلے میں تو فرو تر ہی ہوگا۔ اللہ کے کلام کو اس پر وہی برتری حاصل ہے جو اس کو اپنی مخلوق پر ہے۔ اس لیے جتنا وقت بھی تم نے اللہ کے کلام کو پڑھنے میں صرف کیا وہ بڑے قیمتی کام میں صرف ہوا کوئی وظیفہ پڑھتے یا دعا مانگتے تو اپنا وقت کمتر درجے کا کام میں صرف کرتے۔ اس طریقے سے رسول اللہا نے یہ واضح فرما دیا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے یا دعا مانگنے کے بجائے اپنا وقت قرآن ہی پڑھنے میں صرف کر رہا ہو تو اسے وہ سب کچھ کیوں ملتا ہے جو دعا مانگنے والوں کو ملتا ہے۔
کیسی حالت میں قرآن کو چھونا جائز نہیں
٣- لاَ یَمَسُّ الْقُرْاٰنَ اِلاَّ طَاھِرٌ۔
’’کوئی شخص قرآن کو نہ چھوئے مگر طاہر۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ یَحْیٰ عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، اَنَّ فِی الْکِتَابِ الَّذِیْ کَتَبَہٗ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : (أَنْ لاَّ یَمَسَّ الْقُرْاٰنَ اِلاَّ طَاھِرٌ) (٣)
٤- حضرت علیؓ کی روایت جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَمْ یَکُنْ یَحْجِزُہٗ عَنِ الْقُرْاٰنِ شَـْیئٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ‘‘ ’’رسول اللہا کو کوئی چیز قرآن کی تلاوت سے نہ روکتی تھی سوائے جنابت کے۔‘‘ (ابو داؤد، نسائی، ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَمَۃَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَا وَ رَجُلاَنِ۔ رَجُلٌ مِّنَّا وَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ اَسَدٍ اَحْسَبُ، فَبَعَثَھُمَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَجْھًا وَ قَالَ: اِنَّکُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِیْنِکُمَا، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَخْرَجَ، ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِمَآئٍ فَاَخَذَ مِنْہُ حَفْنَۃً فَتَمَسَّحَ بِھَا ثُمَّ جَعَلَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ، فَاَنْکَرُوْا ذٰلِکَ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَخْرُجُ مِنَ الْخَلاَئِ فَیُقْرِئُنَا الْقُرْاٰنَ وَ یَاْکُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ یَکُنْ یَحْجُبُہٗ اَوْ قَالَ یَحْجِزُہُ عَنِ الْقُرْاٰنِ شَـْیئٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ۔ (٤)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن سلمہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں اور دو اور آدمی حضرت علیؓ کے پاس گئے۔ حضرت علیؓ نے ہمارے ایک آدمی اور بنی اسد کے ایک آدمی کو ایک طرف بھیجا اور فرمایا کہ تم دونوں توانا و قوی آدمی ہو۔ اپنے دین کے لیے دفاع کرو اپنے زور اور قوت و طاقت کے ذریعہ، بعد ازاں حضرت علیؓ قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ واپس آکر پانی طلب فرمایا، ایک چلو پانی لے کر اپنے چہرے پر ملا۔ اس کے بعد قرآن پڑھنے لگے، لوگوں نے اسے ناپسند کیاتب حضرت علیؓ نے کہا رسول اللہ ابیت الخلاء سے فارغ ہوکر ہمیں قرآن پڑھاتے تھے، ہمارے ساتھ گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔ جنابت کے ماسوا کوئی دوسرا امر آپ کو اس سے نہ روکتا تھا۔
٥- ابن عمرؓ کی روایت جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا لاَ تَقْرَئُ الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْاٰنِ ‘‘ حائضہ اور جنبی قرآن کا کوئی حصہ نہ پڑھے۔‘‘ (ابو داؤد، ترمذی)
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ قَالاَ: نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ: لاَ تَقْرَئُ الْحَائِضُ وَلاَ الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْاٰنِ۔ (٥)
تشریح: امام مالکؒ نے مؤطا میں عبد اللہ بن ابو بکر محمد بن عمرو بن حزم کی یہ رائے نقل کی ہے کہ رسول اللہ انے جو تحریری احکام عمرو بن حزم کے ہاتھ یمن کے رؤساء کو لکھ کر بھیجے تھے ان میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ’’کوئی شخص قرآن کو نہ چھوئے مگر طاہر۔ یہی بات ابو داؤد نے مراسیل میں امام زُہری سے نقل کی ہے کہ انہوں نے ابو بکر محمد بن عمرو بن حزم کے پاس رسول اللہ اکی جو تحریر دیکھی تھی اس میں یہ حکم بھی تھا۔
بخاری کی روایت جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ رسول اللہا نے قیصر روم ہر قل کو جو نامۂ مبارک بھیجا تھا اس میں قرآن مجید کی یہ آیت بھی لکھی ہوئی تھی ’’یٰٓـاَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ م بَـیْنَـنَا وَ بَیْنَکُمْ۔۔۔(آل عمران:٦٤)
صحابہ ؓ اور تابعین کے مسالک
صحابہ ؓ اور تابعین سے اس مسئلے میں جو مسالک منقول ہیں وہ یہ ہیں:
حضرت سلمان فارسیؓ وضو کے بغیر قرآن پڑھنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، مگر ان کے نزدیک اس حالت میں قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہ تھا۔ یہی مسلک حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا بھی تھا اور حضرت حسن بصری اور ابراہیم نخعی بھی وضو کے بغیر مصحف کو ہاتھ لگانا مکروہ سمجھتے تھے۔ (احکام القرآن للجصّاص) عطاء اور طاؤس اور شعبی اور قاسم بن محمد سے بھی یہی بات منقول ہے (المُغنی لابن قُدامہ) البتہ قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر اس میں دیکھ کر پڑھنا، یا اس کو یاد سے پڑھنا ان سب کے نزدیک بے وضو بھی جائز تھا۔
جنابت اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن پڑھنا حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسن بصری، حضرت ابراہیم نخعی اور امام زہریؒ کے نزدیک مکروہ تھا۔ مگر ابن ِ عباسؓ کی رائے یہ تھی اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا کہ قرآن کاجو حصہ پڑھنا آدمی کا معمول ہو وہ اسے یاد سے پڑھ سکتا ہے۔ حضرت سعید بن المسیّب اور سعید بن جبیر سے اس مسئلے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، کیا قرآن اس کے حافظہ میں محفوظ نہیں ہے؟ پھر اس کے پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ (المغنی اور المحلّٰی لابن حزم)
فقہاء کے مسالک
فقہاء کے مسالک اس مسئلے میں حسب ذیل ہیں:
مسلک حنفی کی تشریح امام علاء الدین الکاسانی نے بدائع الصنائع میں یوں کی ہے:
’’جس طرح بے وضو نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اُسی طرح قرآن مجیدکو ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں۔ البتہ اگر وہ غلاف کے اندر ہو تو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے۔ غلاف سے مراد بعض فقہاء کے نزدیک جلد ہے اور بعض کے نزدیک وہ خریطہ یا لفافہ یا جُزدان ہے جس کے اندر قرآن رکھا جاتا ہے اور اس میں سے نکالا بھی جاسکتا ہے۔ اسی طرح تفسیر کی کتابوں کو بھی بے وضو ہاتھ نہ لگانا چاہیے، نہ کسی ایسی چیز کو جس میں قرآن کی کوئی آیت لکھی ہوئی ہو۔ البتہ فقہ کی کتابوں کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے اگرچہ مستحب یہی ہے کہ ان کوبھی بے وضو ہاتھ نہ لگایا جائے، کیوں کہ ان میں بھی آیات قرآنی بطور ِ استدلال درج ہوتی ہیں۔ بعض فقہائے حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ مصحف کے صرف اس حصے کو بے وضو ہاتھ لگانا درست نہیں ہے جہاں قرآن کی عبارت لکھی ہوئی ہو، باقی رہے حواشی تو خواہ وہ سادہ ہوں یا ان میں بطور تشریح کچھ لکھا ہوا ہو، ان کو ہاتھ لگانے میں مضائقہ نہیں۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ حواشی بھی مصحف ہی کا ایک حصہ ہیں۔ رہا قرآن پڑھنا، تو وہ وضو کے بغیر جائز ہے۔‘‘ فتاویٰ عالمگیری میں بچوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تعلیم کے لیے قرآن مجید بچوں کے ہاتھ میں دیا جاسکتا ہے خواہ وہ وضو سے ہوں یا بے وضو۔
مسلک شافعیؒ کو امام نووی نے المنہاج میں اس طرح بیان کیا ہے۔ ’’نماز اور طواف کی طرح مصحف کو ہاتھ لگانا اور اس کے کسی ورق کو چھونا بھی وضو کے بغیر حرام ہے۔ اسی طرح قرآن کی جلد کو چھونا بھی ممنوع ہے اور اگر قرآن کسی خریطے، غلاف یا صندوق میں ہو، یا درس قرآن کے لیے اسی کا کوئی حصہ تختی پر لکھا ہوا ہو تو اس کو بھی ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ البتہ قرآن کسی کے سامان میں رکھا ہو، یا تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہوا ہو، یا کسی سکّہ میں اس کا کوئی حصہ درج ہو تو اسے ہاتھ لگانا حلال ہے، بچہ اگر بے وضو ہو تو وہ بھی قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے اور بے وضو آدمی اگر قرآن پڑھے تو لکڑی یا کسی اور چیز سے وہ اس کا ورق پلٹ سکتا ہے۔
مالکیہ کا مسلک جو الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جمہور فقہاء کے ساتھ وہ اس امر میں متفق ہیں کہ مصحف کو ہاتھ لگانے کے لیے وضو شرط ہے۔ لیکن قرآن کی تعلیم کے لیے وہ استاد اور شاگرد دونوں کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں۔ بلکہ حائضہ عورت کے لیے بھی وہ بغرضِ تعلیم مصحف کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیتے ہیں، ابن قدامہ نے المغنی میں امام مالک کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جنابت کی حالت میں تو قرآن پڑھنا ممنوع ہے، مگر حیض کی حالت میں عورت کو قرآن پڑھنے کی اجازت ہے، کیوں کہ ایک طویل مدت تک اگر ہم اسے قرآن پڑھنے سے روکیں گے تو وہ بھول جائے گی۔
حنبلی مذہب کے احکام جو ابن قُدامہ نے نقل کیے ہیں یہ ہیں کہ ’’جنابت کی حالت میں اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن یا اس کی کسی پوری آیت کو پڑھنا جائز نہیں ہے البتہ بسم اللہ، الحمد للہ وغیرہ کہنا جائز ہے، کیوں کہ اگرچہ یہ بھی کسی نہ کسی آیت کے اجزا ہیں، مگر ان سے تلاوت ِ قرآن مقصود نہیں ہوتی۔ رہا قرآن کو ہاتھ لگانا، تو وہ کسی حال میں وضو کے بغیر جائز نہیں۔ البتہ قرآن کی کوئی آیت کسی خط یا فقہ کی کسی کتاب، یا کسی اور تحریر کے سلسلے میں درج ہو تو اسے ہاتھ لگانا ممنوع نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن اگر کسی چیز میں رکھا ہوا ہو تو اسے وضو کے بغیر اٹھایا جاسکتا ہے۔ تفسیر کی کتابوں کو ہاتھ لگانے کے لیے بھی وضو شرط نہیں ہے۔ نیز بے وضو آدمی کو اگر کسی فوری ضرورت کے لیے قرآن کوہاتھ لگانا پڑے تو وہ تیمم کرسکتا ہے۔‘‘ الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں مسلک حنبلی کا یہ مسئلہ بھی درج ہے کہ بچوں کے لیے تعلیم کی غرض سے بھی وضو کے بغیر قرآن کو ہاتھ لگانا درست نہیں ہے اور یہ ان کے سرپرستوں کا فرض ہے کہ وہ قرآن ان کے ہاتھ میں دینے سے پہلے انہیں وضو کرائیں
ظاہریہ کا مسلک یہ ہے کہ قرآن پڑھنا اور اس کو ہاتھ لگانا ہر حال میں جائز ہے خواہ آدمی بے وضو ہو یا جنابت کی حالت میں ہو یا عورت حیض کی حالت میں ہو۔ ابن حَزم نے الْمُحَلّٰی (جلد اوّل، صفحہ ۷۷تا ۸۴) میں اس مسئلے پر مفصّل بحث کی ہے جس میں انہوں نے اس مسلک کی صحت کے دلائل دیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ فقہاء نے قرآن پڑھنے اور اس کو ہاتھ لگانے کے لیے جو شرائط بیان کی ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے۔
(لاَ یَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ) (دراصل) تردید ہے کفّار کے اُن الزامات کی جو وہ قرآن پر لگایا کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ ا کو کاہن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کلام آپ پر جن اور شیاطین اِلقا کرتے ہیں۔ اس کا جواب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ شعراء میں ارشاد ہوا ہے وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُo وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَoط اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ’’اس کو لے کر شیاطین نہیں اترے ہیں، نہ یہ کلام ان کو سجتا ہے اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔ وہ تو اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں‘‘ (آیات ۲۱۰ تا ۲۱۲) اسی مضمون کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’اسے مطہّرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا‘‘ یعنی شیاطین کا اسے لانا، یا اس کے نزول کے وقت اس میں دخل انداز ہونا تو درکنار، جس وقت یہ لوح ِ محفوظ سے نبیؐ پر نازل کیا جاتا ہے اُس وقت مطہرین، یعنی پاک فرشتوں کے سوا کوئی قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ فرشتوں کے لیے مطہرین کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کے ناپاک جذبات اور خواہشات سے پاک رکھا ہے۔
اس آیت کی یہی تفسیر انس بن مالکؓ، ابن ِ عباسؓ، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ابو العالیہ، سدّی، ضحّاک اور ابن ِ زید نے بیان کی ہے، اور نظم ِ کلام کے ساتھ بھی یہی مناسبت رکھتی ہے۔ کیوں کہ سلسلۂ کلام خود یہ بتا رہا ہے کہ توحید اور آخرت کے متعلق کفار ِ مکہ کے غلط تصوّرات کی تردید کرنے کے بعد اب قرآن مجید کے بارے میں اُن کے جھوٹے گمانوں کی تردید کی جارہی ہے اور مواقع نجوم کی قسم کھاکر یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ ایک بلند پایہ کتاب ہے، اللہ تعالیٰ کے محفوظ نوشتے میں ثبت ہے جس میں کسی مخلوق کی دراندازی کا کوئی امکان نہیں، اور نبی پر ایسے طریقے سے نازل ہوتی ہے کہ پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو تک نہیں سکتا۔
بعض مفسّرین نے اس آیت میں لا کو نہی کے معنی میں لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ’’کوئی ایسا شخص اسے نہ چھوئے جو پاک نہ ہو‘‘ یا ’’کسی ایسے شخص کو اسے نہ چھونا چاہیے جو ناپاک ہو‘‘ اور بعض دوسرے مفسرّین اگرچہ لا کو نفی کے معنی میں لیتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’اس کتاب کو مطہرین کے سوا کوئی نہیں چھوتا‘‘ مگر ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ نفی اسی طرح نہی کے معنی میں ہے جس طرح رسول اللہا کا یہ ارشاد کہ اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہٗ ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا‘‘ اس میں اگرچہ خبر دی گئی ہے کہ مسلمان مسلمان پر ظلم نہیں کرتا، لیکن دراصل اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ مسلمان مسلمان پر ظلم نہ کرے۔ اسی طرح اس آیت میں اگرچہ فرمایا یہ گیا ہے کہ پاک لوگوں کے سوا قرآن کو کوئی نہیں چھوتا، مگر اس سے حکم یہ نکلتاہے کہ جب تک کوئی شخص پاک نہ ہو، وہ اس کو نہ چھوئے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر آیت کے سیاق و سباق سے مطابقت نہیں رکھتی، سیاق و سباق سے الگ کرکے تو اس کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا جاسکتاہے، مگر جس سلسلۂ کلام میں یہ وارد ہوئی ہے اس میں رکھ کر اسے دیکھا جائے تو یہ کہنے کا سرے سے کوئی موقع نظر نہیں آتا کہ ’’اس کتاب کو پاک لوگوںکے سوا کوئی نہ چھوئے۔‘‘ کیوں کہ یہاں تو کفار مخاطب ہیں اور ان کو یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ اللہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے، اس کے بارے میں تمہارا یہ گمان قطعی غلط ہے کہ اسے شیاطین نبیؐ پر القا کرتے ہیں۔ اس جگہ یہ شرعی حکم بیان کرنے کا آخر کیا موقع ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص طہارت کے بغیر اس کو ہاتھ نہ لگائے؟ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ آیت یہ حکم دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے مگر فحوائے کلام اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کتاب کو صرف مطہرین ہی چھو سکتے ہیں، اُسی طرح دنیا میں بھی کم از کم وہ لوگ جو اس کے کلام ِ الٰہی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، اسے ناپاکی کی حالت میں چھونے سے اجتناب کریں۔ (تفہیم القرآن ج۳، الواقعہ حاشیہ:۳۹)
قرآن۔۔۔ سب سے بڑی دولت
٦- عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اِذَا رَجَعَ اِلٰی اَھْلِہٖ اَنْ یَّجِدَ فِیْہِ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَثَلاَثُ آیَاتٍ یَّقْرَاُ بِھِنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلوٰ تِہٖ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ ثَلاَثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جائے تو وہ دیکھے کہ اس کے ہاں تین حاملہ، بڑی جسیم اور فربہ اُونٹنیاں کھڑی ہیں؟ ہم نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ، ہم یہ چاہتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ تین آیتیں، جو تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھے، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہیں کہ وہ اپنے گھر پر تین ایسی حاملہ جسیم اور فربہ اُونٹنیاں پائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَ اَبُوْ سَعِیْدٍ الْاَشَجُّ، قَالاَ: نَا وَکِیْعٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: أَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اِذَا رَجَعَ اِلٰی اَھْلِہٖ اَنْ یَّجِدَ فِیْہِ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَثَلاَثُ آیَاتٍ یَّقْرَاُ بِھِنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلوٰ تِہٖ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ ثَلاَثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ۔ (٦)
تشریح: بڑی جسیم اور حاملہ اونٹنی عربوں کے نزدیک بہترین مال تھا۔ اس لیے نبی انے اس سے مثال دی کہ اگر تم نماز میں قرآن کی تین آیتیں پڑھو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تمہارے گھر پر مفت کی تین اونٹنیاں آ کھڑی ہوں۔
اس مثال سے رسول اللہا نے اہل ِ ایمان کے ذہن نشین یہ بات کرائی کہ قرآن ان کے لیے کتنی بڑی رحمت ہے اور قرآن کی شکل میں کتنی بڑی دولت ان کے ہاتھ آئی ہے۔ انہیں اس بات کا احساس دلایا گیا کہ ان کے نزدیک جو بڑی سے بڑی دولت ہوسکتی ہے، یہ قرآن اور اس کی ایک ایک آیت اس سے زیادہ بڑی دولت ہے۔
قرآن۔۔۔دُنیا اور آخرت میں سَر بلندی کا ذریعہ
٧- عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَ یَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: اللہ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے سے کچھ لوگوں کو اُٹھائے گا اور کچھ لوگوں کو گرائے گا۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ، اَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِیَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَکَانَ عُمَرُ یَسْتَعْمِلُہٗ عَلٰی مَکَّۃَ۔ فَقَالَ: مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلٰی اَھْلِ الْوَادِیِّ؟ فَقَالَ:ابْنُ اَبْزٰی، قَالَ: وَ مَنِ ابْنُ اَبْزٰی؟ قَالَ: مَوْلًی مِنْ مَوَالِیْنَا، قَالَ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَیْھِمْ مَوْلًی؟ قَالَ:اِنَّہٗ قَارِیٌ لِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَ اِنَّہٗ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَالَ عُمَرُ: اَمَّا اِنَّ نَبِیَّکُمْ ﷺ قَدْ قَالَ:اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَ یَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ۔(٧)
تشریح: مراد یہ ہے کہ جو لوگ اس کتاب کو لے کر کھڑے ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ اُنہیں ترقی دے گا اور دنیا اور آخرت دونوں میں سر بلند کرے گا۔ لیکن جو لوگ اس کتاب کو لے کر بیٹھ رہیں گے اور اس کے مطابق عمل نہیں کریں گے یا اس کتاب کو رد کردیں گے اللہ تعالیٰ ان کو گرادے گا۔ ان کے لیے نہ دنیا کی سربلندی ہے اور نہ آخرت کی سر خروئی۔
قرآن مجید قیامت کے روز شفیع بن کر آئے گا
٨- عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:اِقْرَاُوا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّہٗ یَاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِاَصْحَابِہٖ، اِقْرَاُو الزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرَۃَ وَ سُوْرَۃَ اٰلِ عِمْرَانَ فَاِنَّھُمَا تَاْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ اَوْ کَاَنَّھُمَا غَیَابَتَانِ اَوْ کَاَنَّھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ اَصْحَابِھِمَا، اِقْرَاُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَاِنَّ اَخْذَھَا بَرَکَۃٌ وَ تَرْکَھَا حَسْرَۃٌ وَلاَ یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَۃُ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہا کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے قرآن مجید پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفیع (سفارش کرنے والا) بن کر آئے گا۔ دو چمکتی ہوئی روشن سُورتیں البقرہ اور آلِ عمران پڑھا کرو۔ کیوں کہ یہ دونوں قیامت کے روز اس طرح سے آئیں گی جیسے کہ وہ چھتریاں ہیں یا سایہ کرنے والے بادل ہیں یا پرندوں کے دو جھنڈ ہیں جو پر پھیلائے ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت پیش کرنے والی ہوں گی۔ سورۃ البقرہ پڑھا کرو کیوں کہ اس کا اختیار کرنا برکت ہے اور اس کا چھوڑ دینا حسرت ہے اور باطل پرست اس کو برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ قَالَ: نَا اَبُوْ تَوْبَۃَ، وَ ھُوَ الرَّبِیْعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: نَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی ابْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ زَیْدٍ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا سَلاَّمٍ، یَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، یَقُوْلُ: اِقْرَؤُوا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّہٗ یَاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِاَصْحَابِہٖ، اِقْرَاُو الزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرَۃَ وَ سُوْرَۃَ اٰلِ عِمْرَانَ فَاِنَّھُمَا تَاْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ اَوْ کَاَنَّھُمَا غَیَابَتَانِ اَوْ کَاَنَّھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ اَصْحَابِھِمَا، اِقْرَاُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَاِنَّ اَخْذَھَا بَرَکَۃٌ وَ تَرْکَھَا حَسْرَۃٌ وَلاَ یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَۃُ۔ (٨)
تشریح: اس حدیث میں پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفیع بن کر آئے گا۔ شفیع بن کر آنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ انسانی شکل میں کھڑا ہوکر سفارش کرے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے دنیا میں قرآن پڑھا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کی تو اس کا یہ عمل آخرت میں اس کی شفاعت کا موجب بنے گا۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ بات پیش ہوگی کہ اس بندے نے آپ کی کتاب پڑھی تھی۔ اس کے دل میں ایمان تھا جس کی بنا پر اُس نے اس کتاب کی طرف رجوع کیا تھا اور اس کے پڑھنے میں اپنا وقت صرف کیا تھا۔ اس نے اس سے احکام معلوم کرنے اور ہدایات حاصل کرنے اور پھر اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔ یہ ساری چیزیں اس نے ایمان ہی کی بنا پر تو کی تھیں۔ اس لیے اپنے اس بندے کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کیجیے اور اسے اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازیے۔
دوسری چیز حضوؐر نے یہ ارشاد فرمائی کہ قرآن مجید کی دو نہایت روشن سورتیں یعنی البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو۔ ان کو جس بنا پر روشن سورتیں فرمایا گیا وہ یہ ہے کہ ان دونوں سُورتوں کے اندر اہلِ کتاب اور مشرکین پر حجت تمام کردی گئی ہے۔ اِسی طرح مسلمانوں کو بھی ان سورتوں میں ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں پوری پوری ہدایات دے دی گئیں، ان کی جنگ کے بارے میں بھی، ان کی صلح کے بارے میں بھی، ان کے نظام ِ اقتصاد کے بارے میں بھی اور ان کے نظام ِ اخلاق کے متعلق بھی۔ غرض ان دونوں سورتوں میں قرآن مجید کی ساری تعلیمات بڑی حد تک بیان ہوگئی ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ یہ دو روشن سورتیں پڑھا کرو۔ قیامت کے روز یہ اس طرح آئیں گی جیسے کوئی چھتری یا بادل ہو یا جیسے پرندوں کے جھنڈ ہوں جو اپنے پر پھیلائے ہوئے ہوں، اور یہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت پیش کرنے والی اور ان کی حمایت کرنے والی ہوں گی، قیامت کے روز جب کہ کسی کے لیے سایہ نہ ہوگا یہ سورتیں اُس بندۂ مومن کے لیے سایہ بنی ہوئی ہوں گی جو دنیا میں ان کی تلاوت کرتا رہا اور ان سے احکام معلوم کرکے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس طرح یہ سورتیں آدمی کو قیامت کے روز کی سختیوں سے بچانے والی ہوں گی۔
پھر خاص طورپر سورہ بقرہ کے متعلق فرمایا کہ جو شخص اسے پڑھتا ہے اس کے لیے اس کا پڑھنا باعث ِ برکت ہے اور جو اسے چھوڑتا ہے اس کا چھوڑنا اس کے لیے باعث ِ حسرت ہے۔ وہ شخص قیامت کے روز افسوس کرے گا کہ دنیا میں اتنی بڑی نعمت سورۂ بقرہ کی شکل میں اس کے پاس آئی تھی۔ مگر اُس نے اس سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا، اس کی کچھ قدر نہ کی۔ پھر فرمایا کہ باطل پرست لوگ اس کو برداشت نہیں کرسکتے۔ مراد یہ ہے کہ جس شخص کے اندر ذرہ برابر بھی باطل پرستی موجود ہوگی وہ اس سورہ کو برداشت نہیں کرسکے گا کیوں کہ اس کے اندر اوّل سے لے کر آخر تک ایسے باطل شکن مضامین بیان کیے گئے ہیں کہ کوئی باطل پرست اس سورت کا تحمل نہیں کرسکتا۔
قرآن ہر زمانے کے فتنوں سے بچانے والا ہے
٩- عَنِ الْحَارِثِ الْاَعْوَرِ قَالَ مَرَرْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَاِذَا النَّاسُ یَخُوْضُوْنَ فِی الْاَحَادِیْثِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَلِیٍّ فَقُلْتُ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، اَلاَ تَرَی اَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوْا فِی الْاَحَادِیْثِ قَالَ: وَ قَدْ فَعَلُوْھَا؟ قُلْتُ نَعَمْ۔ قَالَ اَمَا اِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَلاَ اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃً، قُلْتُ مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ کِتَابُ اللّٰہِ، فِیْہِ نَبَأُ مَا قَبْلَکُمْ وَ خَبْرُ مَا بَعْدَکُمْ وَ حُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ، ھُوَ الْفَصْلُ لَیْسَ بِالْھَزْلِ، مَنْ تَرَکَہٗ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللّٰہُ وَ مَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ، وَ ھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ وَ ھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ وَ ھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ، ھُوَ الَّذِیْ لاَ تَزِیْغُ بِہِ الْاَھْوَائُ وَلاَ تَلْتَبِسُ بِہِ الْاَ لْسِنَۃُ وَلاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَائُ وَلاَ یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلاَ تَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ، ھُوَ الَّذِیْ لَمْ تَنْتَہِ الْجِنُّ اِذْ سَمِعَتْہُ حَتّٰی قَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰ مَـنَّا بِہٖ، مَنْ قَالَ بِہٖ صَدَقَ وَ مَنْ عَمِلَ بِہٖ اُجِرَ وَ مَنْ حَکَمَ بِہٖ عَدَلَ وَ مَنْ دَعَا اِلَیْہِ ھَدٰی اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔
(رواہ الترمذی والدارمی)
’’حضرت حارثؓ اعور بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں (کوفے کی) مسجد میں لوگوں کے پاس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ لا یعنی باتوں میں مشغول ہیں۔ میں حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضرہوا اور میں نے انہیں اس چیز کی خبر دی (کہ لوگ اس طرح مسجد میں بیٹھے ہوئے فضول باتیں کر رہے ہیں) حضرت علیؓ نے فرمایا: کیا لوگ واقعی ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا ہاں اس پر انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ا کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’خبردار رہو! عنقریب ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے‘‘ میں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ، اس سے بچنے کی صورت کیا ہوگی؟‘‘ حضوؐر نے ارشاد فرمایا کتابُ اللہ۔ اس میں اس چیز کی خبر بھی ہے کہ تم سے پہلے کی قوموں پرکیا گزری، اور اس بات کی خبر بھی ہے کہ تمہارے بعد میں آنے والوں پر کیا گزرے گی، اور اس چیز کا ذکر بھی ہے کہ تمہارے معاملات کے درمیان فیصلہ کرنے کی صورت کیاہے۔
یہ قرآن ایک سنجیدہ اور فیصلہ کن کلام ہے، کوئی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جو کوئی ظالم و جبار شخص اس قرآن کو چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اس کو کچل کر رکھ دے گا اور جس نے اسے چھوڑ کر کسی اور جگہ سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کی اللہ اسے گمراہ کردے گا اور یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور یہ حکیمانہ نصیحت ہے، اور یہی سیدھا راستہ ہے۔ یہ قرآن وہ چیز ہے کہ تخیلات اسے غلط راستے پر نہیں لے جاسکتے اور زبانیں اس میں کسی قسم کی آمیزش نہیں کرسکتیں اور علماء کبھی اس سے سیر نہیں ہوسکتے اور خواہ اس کو کتنا ہی پڑھیں یہ پُرانا نہیں ہوتا اور اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ یہ قرآن ایسی چیز ہے کہ جب جنوں نے اس کو سُنا تو وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ’’ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے جو راہ ِ راست کی طرف رہ نمائی کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔‘‘ جو شخص قرآن کے مطابق بات کرے گا وہ سچی بات کرے گا اور جو اس کے مطابق عمل کرے گا یقینا اجر پائے گا اور جو اس کے مطابق فیصلہ کرے گا ضرور عدل کا فیصلہ کرے گا اور جو لوگوں کو اس کی پیروی کی دعوت دے گا وہ سیدھے راستے کی طرف لوگوں کی رہ نمائی کرے گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، نَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتَ عَنْ اَبِی الْمُخْتَارِ الطَّائِیِّ، عَنِ ابْنِ اَخِی الْحَارِثِ الْاَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ الْاَعْوَرِ، قَالَ: مَرَرْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَاِذَا النَّاسُ یَخُوْضُوْنَ فِی الْاَحَادِیْثِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَلِیٍّ فَقُلْتُ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، اَلاَ تَرَی اَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوْا فِی الْاَحَادِیْثِ قَالَ: وَ قَدْ فَعَلُوْھَا؟ قُلْتُ نَعَمْ۔ قَالَ اَمَا اِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَلاَ اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃً، قُلْتُ مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ کِتَابُ اللّٰہِ، فِیْہِ نَبَأُ مَا قَبْلَکُمْ وَ خَبْرُ مَا بَعْدَکُمْ وَ حُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ، ھُوَ الْفَصْلُ لَیْسَ بِالْھَزْلِ، مَنْ تَرَکَہٗ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللّٰہُ وَ مَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ، وَ ھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ وَ ھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ وَ ھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ، ھُوَ الَّذِیْ لاَ تَزِیْغُ بِہِ الْاَھْوَائُ وَلاَ تَلْتَبِسُ بِہِ الْاَ لْسِنَۃُ وَلاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَائُ وَلاَ یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلاَ تَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ، ھُوَ الَّذِیْ لَمْ تَنْتَہِ الْجِنُّ اِذْ سَمِعَتْہُ حَتّٰی قَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰ مَـنَّا بِہٖ، مَنْ قَالَ بِہٖ صَدَقَ وَ مَنْ عَمِلَ بِہٖ اُجِرَ وَ مَنْ حَکَمَ بِہٖ عَدَلَ وَ مَنْ دَعَا اِلَیْہِ ھَدٰی اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔
تمام روایات بیان کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں خُذْھَا اِلَیْکَ یَا اَعْوَرُ۔ پھر فرماتے ہیں:
ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لاَ نَعْرِفُہٗ اِلاَّ مِنْ حَدِیْثِ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ وَ اِسْنَادُہٗ مَجْھُوْلٌ وَ فِیْ حَدِیْثِ الْحَارِثِ مَقَالٌ۔ (٩)
تشریح: اس حدیث میں نبی انے قرآن مجید کی اولین خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں گزشتہ قوموں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ جن قوموں نے بھلائی کی روش اختیار کی ان کی اس روش کا کیا نتیجہ بر آمد ہوا اور جن قوموں نے سیدھی راہ اختیار نہ کی ان کا کیا انجام ہوا۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ غلط راستے پر چلنے والوں کا کیا انجام ہونا ہے اور صحیح راستے پر چلنے والوں کے لیے کیا بھلائی مقدر ہے۔ مزید برآں اس میں یہ بات بھی سمجھا دی گئی ہے کہ اگر کبھی تمہارے درمیان اختلافات رُونما ہوں تو ان کا فیصلہ کس طرح کیا جانا چاہیے۔
٭ ھُوَ الْفَصْلُ کے معنی یہ ہیںکہ قرآن مجید دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کہتاہے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ کہتا ہے۔ اس میں کوئی ایک بات بھی بطور ِ مذاق نہیں کہہ دی گئی ہے کہ اس کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق واقع نہ ہوتا ہو۔
پھر فرمایا کہ جو شخص قرآن کو چھوڑ کر کسی اور جگہ سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے گمراہ کردے گا۔ مراد یہ ہے کہ اس کتاب کے سوا اب اور کسی جگہ سے ہدایت نہیں مل سکتی۔ اگر کسی دوسرے ذریعے کی طرف رجوع کروگے تو سوائے گمراہی کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔
٭فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے، یعنی یہ بندوں اور خدا کے درمیان تعلق کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر کسی نے اس کو تھاما تو خدا سے اس کا تعلق قائم ہوگیا اور اگر اس کو چھوڑ دیا تو خدا سے اس نے اپنا تعلق کاٹ لیا۔
٭قرآن کے حکیمانہ نصیحت ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ ایک ایسی نصیحت ہے جو سراسر حکمت اور دانائی پر مبنی ہے۔
٭فرمایا گیاکہ قرآن وہ چیز ہے جسے تخیلات غلط راستے پر نہیں لے جاسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کو اپنا رہ نما بنالے، اس سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور زندگی میں پیش آنے والے مسائل و معاملات میں اسی کی طرف رجوع کرے تو پھر اسے نہ اس کے اپنے تخیلات بھٹکا سکتے ہیں اور نہ دوسروں کے خیالات گمراہ کرسکتے ہیں۔ البتہ اگر ایک آدمی پہلے سے بعض تخیلات کو اپنے ذہن میں راسخ کرچکا ہو، اور یہی نہیں بلکہ قرآن کو بھی ان کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہو تو اس صورت میں اس کے لیے ان تخیلات سے بچاؤ کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ہاں اگر ایک شخص خلوصِ دل کے ساتھ قرآن ہی سے رہ نمائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ فیصلہ کرکے بیٹھتا ہے کہ جو کچھ یہاں ملے گا وہ اسے مانے گا اور جو کچھ یہاں نہیں ملے گا وہ اسے نہیں مانے گا تو ایسے شخص کو نہ اپنے تخیلات بھٹکائیں گے اور نہ دوسروں کے افکار گمراہ کرسکیں گے۔
٭ پھر ارشاد ہوا کہ زبانیں اس قرآن میں کسی طرح کی آمیزش نہیں کرسکتیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا محفوظ کر دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے اندر کسی انسانی کلام کی آمیزش کرنا بھی چاہے تو نہیں کرسکے گا۔
٭یہ واقعہ ایک صریح معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہا نے جب یہ بات ارشاد فرمائی تھی تو اُس وقت یہ کلام ابھی پیش ہی کیا گیا تھا لیکن آج تقریباً چودہ سو برس گزر چکے ہیں اور کوئی شخص آج تک اس کے اندر کسی طرح کا رد و بدل نہیں کرسکا۔ اُس وقت تو خدا اور اس کے رسولؐ کے سوا اس بات کو کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا کہ قرآن میں کسی طرح کی آمیزش نہیں ہوسکے گی، اور یہ بات بہر حال پیشگی علم کی بنا پر کہی گئی تھی، لیکن آج یہ بات صدیوں کے تجربے سے ثابت ہوچکی ہے کہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ فی الواقع حق تھا اسی چیز کا نام معجزہ ہے۔
٭ فرمایا کہ علماء کبھی اس سے سیر نہیں ہوسکتے۔ یعنی ایک عالم، قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے میں اپنی عمر گزار دے گا لیکن کبھی اس سے سیر نہیں ہوسکے گا۔ اس پر کوئی وقت ایسا نہیں آئے گا جب وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قرآن سے اسے جو کچھ سمجھنا تھا وہ سب کچھ اس نے سمجھ لیا اور اب اسے مزید کسی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ آج تک کبھی کسی عالم کی زبان پر یہ بات نہیں آئی ہے کہ اب میں قرآن سے سیر ہوچکا ہوں، اب اس میں مزید کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو مجھے حاصل کرنی ہو۔
٭پھر فرمایا کہ قرآن کو خواہ کتنا ہی پڑھو یہ پُرانا نہیں ہوتا۔
آپ کسی اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبے کی کتاب کو بھی زیادہ سے زیادہ دو چار یا حد سے حد دس بیس مرتبہ پڑھیں گے بالآخر اکتا جائیں گے،لیکن قرآن وہ کتاب ہے کہ عمر بھر اور بار بار پڑھی جانے کے باوجود طبیعت اس سے نہیں بھرتی۔ خصوصاً سورۂ فاتحہ تو دن میں لگ بھگ پچاس مرتبہ پڑھی جاتی ہے لیکن معاذ اللہ کبھی کسی کے دل میں یہ بیزاری پیدا نہیں ہوتی کہ کب تک وہ ایک ہی چیز کو دہراتا رہے۔ لاریب یہ اِس کلام کا معجزہ ہے اور اس کی غیر معمولی خوبی کا ایک نشان۔
٭ارشاد ہوا کہ قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ آدمی کی عمر قرآن مجید کو پڑھتے، اس پر غور کرتے اور تحقیق کرتے گزر جاتی ہے لیکن اس کے عجائب ختم ہونے میں نہیں آتے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چالیس چالیس اور پچاس پچاس برس کے مطالعے کے بعد کسی وقت قرآن کو کھول کر پڑھتا ہے تو کوئی آیت ایسی سامنے آتی ہے جسے پڑھ کر وہ محسوس کرتا ہے کہ گویا آج پہلی مرتبہ پڑھی ہے۔ کوئی ایسا مضمون اس سے نکلتا ہے جو عمر بھر کے مطالعے میں بھی نہیں نکلتا۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔
٭قرآنِ مجید کو سُن کر جنوں کے ایمان لانے کا واقعہ سورۂ جن اور احقاف میں بیان ہوا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایسا مؤثر کلام ہے کہ انسان تو انسان جن ّ بھی اگر اس کلام کو ضد، تعصّب اور ہٹ دھرمی سے الگ ہوکر کھلے دل سے سنیں تو وہ بھی اس بات کی شہادت دیئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہ قرآن راہِ راست کی طرف رہ نمائی کرتا ہے اور صرف اُسی پر ایمان لاکر راہ ِ ہدایت مل سکتی ہے۔
قرآن مجید کی ان تمام صفات کی بنا پر نبی انے یہ ارشاد فرمایا کہ آئندہ زمانے میں جو فتنہ آنے والا ہے اس سے بچانے والی چیز سوائے قرآن کے اور کوئی نہیں ہوگی، اور اس بات کی وضاحت فرمادی کہ قرآن کی کیا خصوصیات اور کیا کمالات ہیں جن کی بنا پر یہ قیامت تک انسان کو ہر فتنے سے بچاتا رہے گا۔
قرآن کو اُخروی فلاح کا ذریعہ بناؤ
١٠-عَنْ عَبِیْدَۃَ الْمُلَیْکِیِّ وَ کَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃً قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یٰٓـاَھْلَ الْقُرْاٰنِ لاَ تَتَوَسَّدُوا الْقُرْاٰنَ وَاتْلُوْہُ حَقَّ تِلاَوَتِہٖ مِنْ اٰنَآئِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَ اَفْشُوْہُ وَ تَغَنَّوْا وَ تَدَبَّرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَلاَ تُعَجِّلُوْا ثَوَابَہٗ فَاِنَّ لَہٗ ثَوَابًا۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
’’حضرت عبیدہ ملیکیؓ جو ایک صحابیؓ ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: اے اہل ِ قرآن (مراد ہے قرآن پڑھنے والو) قرآن کو تکیہ مت بنالو بلکہ اس کی تلاوت کرو جس طرح کہ اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے، رات اور دن کے اوقات میں، اور اسے علانیہ پڑھو، خوش آوازی کے ساتھ پڑھو، اور جو کچھ مضامین اس میں ہیں ان پر غور کرو، اُمید ہے تمہیں فلاح نصیب ہوگی، اور اس کا ثواب جلدی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، کیوں کہ (آخرت میں) اس کا ثواب لازماً ہے۔‘‘
تخریج: وَ فِیْمَا اَنْبَأَنِیْ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّ اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ الْعَکْبَرِیَّ اَخْبَرَھُمْ اَنَا اَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْاَقْطَعِ، ثَنَا بَقِیَّۃُ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ، حَدَّثَنِی الْمُھَاجِرُ بْنُ حَبِیْبٍ عَنْ عَبِیْدَۃَ الْمُلَیْکِیِّ وَکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃً قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یٰٓـاَھْلَ الْقُرْاٰنِ لاَ تَوَسَّدُوْا الْقُرْاٰنَ وَاتْلُوْہُ حَقَّ تِلاَوَتِہٖ مِنْ اٰنَآئِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَ اَفْشُوْہُ وَ تَغَنَّوْا وَ تَدَبَّرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَلاَ تُعَجِّلُوْا ثَوَابَہٗ فَاِنَّ لَہٗ ثَوَابًا۔ (١٠)
تشریح: فرمایا کہ قرآن کو تکیہ نہ بنالو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کو تکیے کی جگہ رکھ کر نہ سویا کرو بلکہ اس کا یہ مفہوم بعد کے فقرے سے سامنے آتا ہے کہ قرآن سے غفلت نہ برتو، صبح و شام اس کی تلاوت کرو۔ اس کا ذکر عام کرو اور اس کے مضامین میں غور و فکر کرو۔ یہ حال نہ ہو کہ قرآن آپ کے پاس موجود ہو لیکن آپ غفلت میں پڑے رہیں اور کبھی نظر اٹھا کر بھی اس کی طرف نہ دیکھیں اور اس سے رہ نمائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔
پھر فرمایا کہ قرآن کا ثواب جلدی سے (یعنی اس دنیا میں) حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، اگرچہ اس کا ثواب یقینا ہے۔ مراد یہ ہے کہ چاہے اس دنیا میں اس کا ثواب تمہیں نہ ملے لیکن اس کا ثواب بہر حال ہے جو آخرت میں لازماً ملنا ہے۔ دنیا میں بھی اگرچہ اس کا ثواب کبھی نہ کبھی ملتا ہے لیکن تم اسے دنیوی ثواب کی خاطر نہ پڑھو بلکہ اُخروی ثواب کی خاطر پڑھو۔ دنیا میں تو قرآن کی وجہ سے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہیں دشمنانِ دین کی سختیوں کا نشانہ بننا پڑے لیکن آخرت میں یہ تمہارے لیے بہترین توشہ ثابت ہوگا اور وہاں کا اجر ضائع نہیں ہوسکتا۔
عامل ِ قرآن کے والدین کو ایک روشن تاج پہنایا جائے گا
١١- عَنْ مُعَاذِ نِالْجُھَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ قَرَئَ الْقُرْاٰنَ وَ عَمِلَ بِمَا فِیْہِ اُلْبِسَ وَالِدَاہُ تَاجًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ ضَوْئُ ہٗ اَحْسَنُ مِنْ ضَوْئِ الشَّمْسِ فِیْ بُیُوْتِ الدُّنْیَا لَوْکَانَتْ فِیْکُمْ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِیْ عَمِلَ بِھٰذَا۔ (رواہ احمد و ابو داؤد)
’’حضرت معاذ جہنیؓ رسول اللہا کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے او راس کے مطابق عمل کرتا ہے قیامت کے روز اس کے والدین کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی ایسی ہوگی کہ اگر سورج بھی تمہارے گھروں میں اُتر آئے تو وہ اس کی روشنی سے عمدہ ہوگی۔ پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ جو شخص خود قرآن کے مطابق عمل کرنے والا ہے اس کی شان کیا ہوگی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السِّرَحِ، اَخْبَرْنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ یَحْیَ بْنُ اَیُّوْبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذِ نِالْجُھَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ وَ عَمِلَ بِمَا فِیْہِ اُلْبِسَ وَالِدَاہُ تَاجًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ ضَوْئُ ہٗ اَحْسَنُ مِنْ ضَوْئِ الشَّمْسِ فِیْ بُیُوْتِ الدُّنْیَا لَوْکَانَتْ فِیْکُمْ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِیْ عَمِلَ بِھٰذَا۔ (١١)
تشریح: یہاں ان والدین کا ذکر نہیں ہے جو اپنی اولاد کو قرآن پڑھنے سے روکتے ہیں اور قرآن پڑھنے والے بچے سے یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ملا بن گیا ہے۔ اب یہ ہمارے کس کام کا۔ یہ کیا دنیا کمائے گا، یہ تو قرآن پڑھنے میں لگ گیا ہے۔ اس کے برعکس یہاں ان والدین کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے بچے کو قرآن پڑھایا اور اسے ایسی تربیت دی کہ وہ ان کی زندگی میںبھی اور ان کے بعد بھی قرآن پڑھتا رہا، اوراس نے اپنی عملی زندگی کی تعمیر بھی اس کے مطابق کی۔ اس کے قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا نہ صرف یہ کہ خود اس کو اجر ملے گا بلکہ اس کے والدین بھی اجر پائیں گے۔ وہ اجر یہ ہوگا کہ قیامت کے روز انہیں بزرگی اور افتخار کا روشن تاج پہنایا جائے گا۔ اس چیز سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص خود قرآن کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی کیا کچھ مہربانیاں ہوں گی اور وہ کیا کچھ اجر پائے گا۔
معلّم ِ قرآن کی فضیلت
١٢- عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَہٗ۔
(رواہ البخاری)
’’حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کریں اور (دوسروں کو) اس کی تعلیم دیں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْھَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَلْقَمَۃُ بْنُ مَرْثَدٍ، سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَہٗ۔ قَالَ: وَ اَقْرَأَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فِیْ اِمْرَۃِ عُثْمَانَ حَتّٰی کَانَ الْحَجَّاجُ قَالَ: وَ ذَاکَ الَّذِیْ اَقْعَدَنِیْ مَقْعَدِیْ ھٰذَا۔ (١٢)
امام ترمذی نے حضرت علیؓ سے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
ھٰذَا حَدِیْثٌ لاَ نَعْرِفُہٗ مِنْ حَدِیْثِ عَلِیٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اِلاَّ مِنْ حَدِیْثِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اِسْحَاقَ۔
بخاری نے مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی ایک روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّ اَفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَہٗ۔ (١٣)
ترمذی نے ایک دوسری حدیث جس کے الفاظ درج ذیل ہیں نقل کی ہے:
(۳) خَیْرُکُمْ اَوْ اَفْضَلُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَہٗ۔ (١٤)
تشریح: نبی اکے ارشاد ِ گرامی کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ پہلے قرآن مجید سے خود تعلیم ِ ہدایت حاصل کریں اور اس کے بعد خلق ِ خدا تک اس کو پہنچانے کا فریضہ انجام دیں وہ تمہارے اندر سب سے بہتر انسان ہیں۔
ایک شخص تووہ ہے کہ جب اللہ کی ہدایت اس کے پاس پہنچے تو وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرے، یقینا وہ بھی اچھا انسان ہے۔ لیکن اس سے، اور باقی سب انسانوں سے بہتر انسان وہ ہے جو اللہ کی ہدایت پاکر نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق درست کرے بلکہ خلق ِ خدا تک بھی اس تعلیم کو پہنچانے کی کوشش کرے تاکہ دوسروں کی زندگی کی اصلاح بھی ہوسکے۔
قرآن کی تعلیم دینا، دُنیا کے بہترین مال و دولت سے بہتر ہے
١٣-عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ نَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ فَقَالَ اَیُّکُمْ یُحِبُّ اَنْ یَّغْدُوَ کُلَّ یَوْمٍ اِلٰی بُطْحَانَ اَوِ الْعَقِیْقِ فَیَأْتِیَ مِنْہُ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَا وَیْنِ فِیْ غَیْرِ اِثْمٍ وَلاَ قَطْعِ رَحِمٍ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کُلُّنَا نُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ اَفَلاَ یَغْدُوْ اَحَدُکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَیُعَلِّمُ اَوْ یَقْرَأُ اٰیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ نَاقَتَیْنِ وَ ثَلاَثٍ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ ثَلاَثٍ وَ اَرْبَعٌ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَرْبَعٍ وَ مِنْ اَعْدَادھِنَّ مِنَ الْاِبِلِ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز جب کہ ہم صفّہ میں بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہا اپنے حجرۂ مبارک سے نکل کر تشریف لائے اور آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر روز بطحان یا عقیق جائے اور وہاں سے بڑے کوہان والی دو اونٹنیاں لے کر آئے بغیر اس کے کہ اُس نے کوئی گناہ یا قطع ِ رحم کا فعل کیا ہو؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے۔ تب آپ نے فرمایا: کہ تم میں سے ایک شخص مسجد میں جائے اور لوگوں کو دو آیتیں پڑھ کر سنائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اسے روزانہ دو اونٹنیاں میسر آئیں۔ اگر وہ تین آیتیں پڑھ کر سُنائے تو یہ تین اونٹنیاں مل جانے سے بہتر ہے۔ اگر چار آیتیں پڑھ کر سنائے تو یہ چار اونٹنیاں مل جانے سے بہتر ہے۔ اسی طرح جتنی آیتیں سُنائے وہ اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ یُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ نَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ فَقَالَ اَیُّکُمْ یُحِبُّ اَنْ یَّغْدُوَ کُلَّ یَوْمٍ اِلٰی بُطْحَانَ اَوِ الْعَقِیْقِ فَیَأْتِیَ مِنْہُ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِ فِیْ غَیْرِ اِثْمٍ وَلاَ قَطْعِ رَحِمٍ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کُلُّنَا نُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ اَفَلاَ یَغْدُوْ اَحَدُکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَیُعَلِّمُ اَوْ یَقْرَأُ اٰیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ نَاقَتَیْنِ وَ ثَلاَثٍ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ ثَلاَثٍ وَ اَرْبَعٌ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَرْبَعٍ وَ مِنْ اَعْدَادھِنَّ مِنَ الْاِبِلِ۔ (١٥)
تشریح: صفّہ سے مراد وہ چبوترہ ہے جو مسجد ِ نبویؐ کے ساتھ بناکر اس پر ایک چھپر ڈال دیا گیا تھا۔ یہاں وہ لوگ قیام پذیر تھے جو مکہ معظمہ سے یا عرب کے دوسرے حصوں سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ میں آگئے تھے۔ اُن کا نہ کوئی ٹھکانا تھا اور نہ ذریعہ ٔمعاش۔ مدینے کے لوگ اور دوسرے مہاجرین جو کچھ بھی ان کی مدد کرسکتے تھے کر دیتے تھے اس سے ان کی گزر بسر کا سامان ہوجاتا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ اکی خدمت کے لیے مستعد رہتے تھے۔ اس طرح یہ گویا ایک مستقل والنٹیئر فورس تھی جسے حضوؐر جس خدمت کے لیے اور جس مہم پر جب چاہتے بھیج دیتے تھے۔
بُطحان اور عقیق مدینہ طیّبہ سے متصل دو وادیاں ہیں، ایک جنوب میں اور دوسری شمال مغرب میں۔۔۔ اُس زمانے میں ان دونوں مقامات پر اُونٹوں کی فروخت کی منڈی لگا کرتی تھی۔ حضوؐر نے ان اصحاب ِ صُفّہ کو جو بالکل بے سرو سامان تھے، مخاطب کرکے کہا کہ بھئی تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ روز بطحان یا عقیق جائے اور بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں مفت لے آئے۔ اُنہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر کوئی یہ بات چاہتاہے اس پر آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی کو دو آیتیں سنائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اسے دو عمدہ قسم کی اونٹنیاں مفت مل جائیں۔ اسی طرح وہ جتنی آیتیں کسی کو سنائے گا وہ اس کے لیے اتنی ہی اونٹنیاں پا لینے سے بہتر ہے۔
دیکھیے، رسول اللہا کا طریق ِ تربیت کیسا انوکھا تھا۔ آپؐ یہ جانتے تھے کہ یہ اصحاب ِ صفّہ صرف اس وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں کہ اُنہوں نے اللہ کا دین اختیار کرلیا تھا اور دنیا کو وہ دین پسند نہ تھا، مجبوراً اُنہیں اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔ ان کی اس بے سرو سامانی کی حالت میں یہ اندیشہ ہوسکتا تھا شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرے کہ تم نے خواہ مخواہ اپنے گھر بار چھوڑے اور غربت کی زندگی اختیار کی۔ اِس لیے رسول اللہا نے کمال ِ حکمت سے اُن کے ذہن کو اس طرف موڑ دیا کہ اگر دو اونٹنیاں روز مفت تمہارے ہاتھ آئیں تو اس سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ تم اللہ کے بندوں کو قرآن سناؤ اور اس کی تعلیم دو۔ دوسرے لوگوں کو جاکر تین آیتیں سکھاؤگے تو یہ تین اُونٹنیاں پالینے سے بہتر ہے۔ اس طرح یہ بات ان کے ذہن نشین کردی گئی کہ اگر تم خدا کے دین پر ایمان لائے ہو اور اُسی دین کی خاطر ہجرت اختیار کرکے آئے ہو تو اس کے بعد تمہارا وقت اسی دین کے کام میں صرف ہونا چاہیے۔ تمہیں متاع ِ دنیا حاصل کرنے کی خواہش کرنے کے بجائے اپنا وقت خدمت ِ دین کے کام میں صرف کرنا چاہیے تاکہ خدا سے تمہارا تعلق زیادہ سے زیادہ مضبوط ہو اور خلق ِ خدا کو راہ ِ راست دکھا کر تم اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کے زیادہ سے زیادہ مستحق بن سکو۔
یہی لوگ تھے جنہیں آخر ِکار اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و ایثار کے نتیجے میں سلطنتوں کا مالک بنا دیا۔ اپنی زندگی ہی میں اُنھوں نے یہ دیکھ لیا کہ اگر انسان صبر کے ساتھ یہ راستہ اختیار کرے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
رشک کے قابل صرف دو آدمی ہیں
١٤- عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ حَسَدَ اِلاَّ عَلَی اثْنَیْنِ، رَجُلٌ اٰتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْاٰنَ فَھُوَ یَقُوْمُ بِہٖ اٰنَائَ اللَّیْلِ وَ اٰنَائَ النَّھَارِ وَ رَجُلٌ اٰتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَھُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ اٰنَائَ اللَّیْلِ وَ اٰنَائَ النَّھَارِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: کسی حسد (یعنی رشک) کی کوئی گنجائش نہیں ہے مگر دو آدمیوں پر۔ ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا ہو اور وہ شب و روز اس کو لیے کھڑا ہو (یعنی نماز میں کھڑا پڑھ رہا ہو یا اس کی تبلیغ و تلقین کرنے اور اس کی تعلیم دینے میں مصروف ہو) اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ شب و روز اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُو الْیَمَانِ، اَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لاَ حَسَدَ اِلاَّ عَلَی اثْنَیْنِ: رَجُلٌ اٰتَاہُ اللّٰہُ الْکِتَابَ وَ قَامَ بِہٖ اٰنَائَ اللَّیْلِ، وَ رَجُلٌ اَعْطَاہُ اللّٰہُ مَالاً، فَھُوَ یَتَصَدَّقُ بِہٖ اٰنَائَ اللَّیْلِ وَ اٰنَائَ النَّھَارِ۔ (١٦)
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ تَحَاسُدَ اِلاَّ فِی اثْنَتَیْنِ: رَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْاٰنَ فَھُوَ یَتْلُوْہُ اٰنَائَ اللَّیْلِ وَ اٰنَائَ النَّھَارِ۔۔۔وَ رَجُلٌ اٰتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَھُوَ یُنْفِقُہُ فِیْ حَقِّہٖ اٰنَائَ اللَّیْلِ وَ اٰنَائَ النَّھَارِ۔ (١٧)
تشریح: اِس حدیث میں رسول اللہ انے جو بات اہل ِ ایمان کے ذہن نشین کی ہے وہ یہ ہے کہ کسی شخص کا دنیوی عروج، خوشحالی اور ناموری کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر رشک کیا جائے۔ رشک کے قابل صرف دو آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے قرآن کا علم حاصل ہوا اور وہ اسے شب و روز نماز میں پڑھنے کے لیے کھڑا ہو یا اس کام میں لگا ہو کہ خلق ِ خدا کو اس کی تعلیم دے اور اس کی تبلیغ و تلقین کرے۔دوسرے وہ شخص قابل ِ رشک ہے جسے مال و دولت حاصل ہو اور وہ اسے عیاشیوں اور دوسرے غلط کاموں میں خرچ کرنے کے بجائے شب و روز اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہو۔
یہ وہ تعلیم ہے جس کے ذریعے سے نبی انے لوگوں کے ذہنوں کو بدلا ہے اور انہیں نئی قدریں (Values)عطا فرمائی ہیں۔ اُنھیں یہ بتایا ہے کہ قدر کے قابل اصل میں کیا چیز ہے اور انسانیت کا وہ اعلیٰ نمونہ کیا ہے جس کے مطابق انھیں خود کو ڈھالنے اور بنانے کی تمنا اور کوشش کرنی چاہیے۔
حدیث کے متن میں رشک کے بجائے حسد کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ رشک ایک ایسی چیز ہے جو حسد کی طرح آدمی کے دل میں آگ نہیں بھڑکاتی ہے اور حسد وہ چیز ہے جو اگرچہ رشک ہی کی ایک قسم ہے لیکن اتنی تیز ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی کے دل میں ایک آگ سی لگی ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں رشک کے جذبے کی شد ّت کو ظاہر کرنے کے لیے حسد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
حسد میں اصل عیب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی یہ چاہتاہے کہ فلاں چیز دوسرے شخص کو نہ مِلے بلکہ مجھے ملے یا اس سے چھن جائے اور مجھ کو مل جائے یا بدرجۂ آخر اگر مجھے نہیں ملتی تو اس کے پاس بھی نہ رہے۔ یہاں حسد کی یہ کیفیت مراد نہیں ہے بلکہ یہاں یہ لفظ صرف اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ رشک کے جذبے کی شدت ظاہر ہو۔ یعنی اگر تمہارے دل میں رشک کی آگ لگتی بھی ہے تو اس غرض کے لیے لگنی چاہیے کہ تم ایسے ہوجاؤ کہ رات دن قرآن پڑھنے اور اس کی تعلیم دینے میں لگے رہو یا ایسے ہوجاؤ کہ تمہیں مال نصیب ہو تو اسے خوب اللہ کی راہ میں لُٹاؤ۔ یہاں تک کہ دوسروں کے لیے قابل ِ رشک نمونہ بن جاؤ۔
صاحب ِ قرآن کا درجہ
١٥- عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ اِقْرَاْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا مَنْزِلُکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَئُھَا۔
(رواہ احمد والترمذی و ابو داوٗد والنسائی)
’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: جو شخص دنیا میں قرآن سے شغف رکھتا تھا (قیامت کے روز) اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور بلندی کی طرف چڑھتا جا، اور اُسی رفتار سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا۔ تیری منزل وہ آخری آیت ہوگی جہاں تک تو پڑھتا جائے گا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا یَحْیٰ عَنْ سُفْیَانَ۔ حَدَّثَنِیْ عَاصِمُ بْنُ بَھْدَلَۃَ، عَنْ زَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ اِقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا مَنْزِلُکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَئُھَا۔ (١٨)
مُسند احمد اور ابن ِ ماجہ میں ابو سعید سے درج ذیل روایت بھی منقول ہے:
یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْاٰنِ اِذَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، اِقْرَأْ وَاصْعَدْ فَیَقْرَأُ وَ یَصْعَدُ بِکُلِّ اٰیَۃٍ دَرَجَۃً حَتّٰی یَقْرَئَ اٰخِرَ شَـْیئٌ مَعَہٗ۔
تشریح: صاحب ِ قرآن سے مراد وہ شخص ہے جو قرآن سے شغف رکھنے کی بنا پر ممتاز ہو۔ جیسے صاحب ُ الحدیث ہم اُسے کہتے ہیں جو حدیث سے زیادہ شغف رکھنے والا ہو۔ گویا کسی خاص چیز کا صاحب وہ شخص ہوتا ہے جو اس چیز کے ساتھ خاص نسبت، تعلق اور شغف رکھتا ہو۔ چناںچہ صاحب ِ قرآن وہ شخص ہے جو دنیا میں قرآن سے زیادہ شغف رکھتا تھا اور قرآن کے پڑھنے، سمجھنے اور غور کرنے میں زیادہ مشغول رہتا تھا۔ قیامت کے روز اس سے یہ کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور بلند درجات کی طرف ترقی کرتا چلا جا۔ تیری منزل وہ ہے جہاں تو جاکر آخر کار ٹھہر ے گا۔ یعنی جس مقام پر تو قرآن کی آخری آیت پڑھے گا وہ مقام تیرے لیے ہمیشہ ہمیشہ قیام کرنے کا ہوگا ۔ اس لیے فرمایا کہ جیسے ٹھہر ٹھہر کر اور آہستہ آہستہ تو دُنیا میں پڑھتا تھا اسی طرح سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ تاکہ تو زیادہ اُونچی منزل پر پہنچ جائے۔
قرآن یاد کرنے والے کی مثال
١٦- عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْاِبِلِ الْمُعَلَّقَۃِ اِنْ عَاھَدَ عَلَیْھَا اَمْسَکَھَا وَ اِنْ اَطْلَقَھَا ذَھَبَتْ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) نبی ا کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ قرآن یاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے پاس بندھے ہوئے اونٹ ہوں۔ اگر وہ ان کی حفاظت کی فکر کرے گا تو وہ اس کے پاس رہیں گے اور اگر وہ انھیں آزاد کردے گا تو وہ بھاگ کھڑے ہوں گے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ:اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْاِبِلِ الْمُعَلَّقَۃِ اِنْ عَاھَدَ عَلَیْھَا اَمْسَکَھَا وَ اِنْ اَطْلَقَھَا ذَھَبَتْ۔ (١٩)
تشریح: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے تین مختلف روایتوں میں ایک ہی جیسا مضمون الفاظ کے کچھ تغیر کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہا نے مختلف مواقع پر یہ بات لوگوں کو ذہن نشین کرائی ہے کہ جتنا قرآن یاد کرو اسے یاد رکھنے کی کوشش بھی کرو۔ اگر اسے بار بار تکرار کے ذریعے سے ذہن میں محفوظ رکھنے کی کوشش نہیں کروگے تو یہ تمہارے ذہن سے نکل جائے گا۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ قرآن کے حفاظ ہمیشہ قرآن دہراتے رہتے ہیں۔ اگر انھیں رمضان میں قرآن سنانا ہو تو اس کے لیے انہیںکافی پہلے سے تیاری کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر آدمی قرآن یاد کرنے کے بعد اسے محفوظ رکھنے کا اہتمام نہ کرے تو یہ بہت جلد فراموش ہوجاتا ہے۔
قرآن کو یاد کرکے بھلا دینا بہت بُری بات ہے
١٧- عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: بِئْسَ مَا لِاَحَدِھِمْ اَنْ یَّقُوْلَ نَسِیْتُ اٰیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ بَلْ نُسِّیَ وَاسْتَذْکِرُوا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّہٗ اَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُوْرِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ۔ (متفق علیہ و زاد مسلم: بعقلھا)
’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی کے لیے بہت بُری بات ہے کہ وہ یہ کہے: ’’میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں‘‘ اصل بات یہ ہے کہ وہ (اسے اس کی غفلت کی بنا پر) بھلا دیا جاتا ہے۔۔۔ قرآن کو یاد رکھنے کی کوشش کرو کیوں کہ وہ لوگوں کے سینوں سے اونٹوں سے بھی بڑھ کر نکل بھاگنے کی کوشش کرتا ہے (اُن اُونٹوں سے جو رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں)‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَۃَ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِئْسَ مَا لِاَحَدِھِمْ اَنْ یَّقُوْلَ نَسِیْتُ اٰیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ بَلْ نُسِّیَ وَاسْتَذْکِرُوا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّہٗ اَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُوْرِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ۔ (٢٠)
تشریح: یہاں بھی وہی چیز دوسرے پیرائے میں بیان کی گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ کسی شخص کے لیے قرآن مجید کو یاد کرنے کے بعد بھلا دینا بہت بُری بات ہے۔ اس کا بھول جانا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اُس نے قرآن کی پروا نہیں کی اور اسے یاد کرنے کے بعد اس کی طرف توجہ نہیں دی۔۔۔ اب چوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی طرف سے بے نیازی برتتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اسے بھلا دیتا ہے وہ اپنا کلام ایسے آدمی کے پاس رکھنا پسند نہیں کرتا جو اس کا قدر شناس نہ ہو۔۔۔ اس لیے فرمایا کہ قرآن کو یاد رکھنے کی کوشش کرو اور یاد کرنے کے بعد اسے بھلا نہ دو۔
قرآن کو پڑھ کر بھلا دینا بہت بڑی محرومی ہے
١٨- عَن سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا مِنِ امْرِئٍ یَّقْرَأُ الْقُرْاٰنَ ثُمَّ یَنْسَاہُ اِلاَّ لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَجْذَمَ۔ (رواہ ابو داؤد والدارمی)
’’حضرت سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ انے فرمایا: جو شخص قرآن مجید کو پڑھتا ہے اور پھر اُسے بھلا دیتاہے وہ قیامت کے روز اِس حالت میں اُٹھے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا ابْنُ اِدْرِیْسَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ عِیْسَی بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا مِنِ امْرِیٍٔ یَّقْرَأُ الْقُرْاٰنَ ثُمَّ یَنْسَاہُ اِلاَّ لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَجْذَمَ۔ (٢١)
تشریح: محدثین نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں ہاتھ کٹے ہوئے ہونے سے مراد جسمانی طور پر کٹا ہوا ہونا نہیں ہے بلکہ یہ بات محاورتاً کہی گئی ہے اور اس سے مراد کمال بے بسی ہے۔ مثلاً جب آپ اُردو زبان میں کہتے ہیں کہ ’’فلاں آدمی کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے‘‘ تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ سچ مچ ہاتھوں کے طوطے ہوتے ہیں جو اُڑ جاتے ہیں، بلکہ جب آدمی کمال درجہ بد حواس ہوتا ہے تو اس کی اس حالت کو بیان کرنے کے لیے بطور ِ محاورہ یہ کہا جاتاہے کہ اس کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
اسی طرح عربی زبان میں کسی شخص کی بے بسی کی کیفیت کو ظاہر کرنے کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایک حدیث میں یہ الفاظ آئے تھے کہ اَلْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ ’’یعنی قرآن یا تو تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔‘‘ اب اگر ایک شخص ایمان رکھتا تھا اور اسی وجہ سے اس نے قرآن پڑھا لیکن پڑھنے کے بعد اِسے بھلا دیا تو سوال یہ ہے کہ اس کے پاس وہ حجت کون سی ہے جسے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرے گا۔ قرآن کو بھلا دینے کے بعد تو اس کی حجت منقطع ہوگئی۔ اب اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے وہ اپنی صفائی میں پیش کرسکے۔ یہ وہ بے بسی کی کیفیت ہے جس میں قیامت کے روز وہ مبتلا ہوگا اور اسی کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا۔
جس سینے میں قرآن نہیں وہ ایک ویرانہ ہے
١٩- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ جَوْفِہٖ شَـْیئٌ مِّنَ الْقُرْاٰنِ کَالْبَیْتِ الْخَرِبِ۔ (رواہ الترمذی والدارمی)
’’حضرت عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کا بیان ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: جس شخص کے سینے میں قرآن نہیں ہے اُس کی مثال اُجڑے ہوئے گھر کی سی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَا جَرِیْرٌ عَنْ قَابُوْسِ بْنِ اَبِیْ ظُبْیَانَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ جَوْفِہٖ شَـْیئٌ مِّنَ الْقُرْاٰنِ کَالْبَیْتِ الْخَرِبِ۔ (٢٢)
تشریح: اگر کسی کا سینہ قرآن سے خالی ہے تو وہ ایک ایسا ویران گھر ہے جس میں بسنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس سینے میںکوئی چیز ایسی موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اسے ایک صاحب ِ ضمیر اور ذی شعور انسان کا سینہ کہا جاسکے۔
جو قرآن کو لے کر مستغنی نہ ہوجائے وہ ہم میں سے نہیں
٢٠- عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْاٰنِ۔ (رواہ البخاری)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہا کا ارشاد ہے، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش آوازی سے نہ پڑھے یا جو قرآن کو لے کر مستغنی نہ ہوجائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ۔ اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ اَخْبَرَنَا ابْنُ شِھَابٍ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ وَ زَادَ غَیْرُہٗ یَجْھَرُ بِہٖ۔ (٢٣)
تشریح: یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ خوش آوازی سے مراد کیاہے: قرآن خوش آوازی سے پڑھنا اور چیز ہے اور گاکر پڑھنا اور چیز۔ خوش آوازی سے پڑھنا یہ ہے کہ آدمی اسے اچھے طریقے سے اور اچھی آواز کے ساتھ پڑھے تاکہ سننے والا اس کی طرف متوجہ بھی ہواور اس سے متأثر بھی۔ پھر خوش آوازی میں صرف آواز کی خوبی ہی شامل نہیں بلکہ یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی ایسے طریقے سے پڑھے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ایک ایک آیت کا اثر قبول کرتے ہوئے پڑھ رہا ہے۔ قرآن پڑھنے کا انداز یہ ہونا چاہیے کہ آدمی جس مضمون کی آیت پڑھ رہا ہو اُس کی کیفیت بھی اس پر طاری ہو۔ مثلاً اگر کوئی عذاب کی آیت ہے تو اس میں اس کا لب ولہجہ ایسا ہو کہ جیسے اس پر خوف کی سی کیفیت طاری ہے۔ اگر وہ کوئی ثواب کی یا آخرت کی نعمتوں کی آیت پڑھ رہا ہو تو وہ اسے اس طرح سے پڑھے کہ جیسے اس پر ایک انبساط اور مسرت کی کیفیت طاری ہے۔ اسی طرح اگر کسی آیت میں استفہام ہے تو وہ اسے استفہام کے انداز میں ادا کرے۔ اس طرح قرآن مجید کو خود سمجھ کر اور اس سے متأثر ہوتے ہوئے ایسے انداز سے پڑھنا چاہیے جس سے سننے والا خوش آوازی سے متأثر ہونے کے علاوہ اس سے اس طرح اثر قبول کرے جس طرح کسی اچھے مقرر کی تقریر کا اثر قبول کرتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو اور قرآن کو محض گانے کی سی سُرتال کے ساتھ پڑھا جائے تو وہ تَغَنِّیْ بِالْقُرْاٰنِ نہیں ہے ۔۔۔ اسے جدید دور کی اصطلاح میں ثقافت کا نام تو دیا جائے گا مگر وہ خوش آوازی کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہیں ہوگی۔
تَغَنِّیْ بِالْقُرْاٰنِکا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کو لے کر آدمی دُنیا کی ہر چیز سے مستغنی ہوجائے۔ اس کے بعد اسے چاہیے کہ وہ اس خدا پر بھروسہ کرے جس کا وہ کلام ہے پھر کسی کے آگے نہ تو اس کا ہاتھ پھیلے نہ اس کی گردن جھکے پھر نہ وہ کسی سے ڈرے اور نہ کسی سے کوئی طمع رکھے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو اس نے قرآن کو بھیک کا ٹکڑا تو بنا لیا لیکن اسے لے کر وہ دنیا سے مستغنی نہیں ہوا۔
علم ِ قرآن کی برکت سے حضرت ابی بن کعبؓ کا اِعزاز
٢١- عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ، قَالَ آ اَللّٰہُ سَمَّانِیْ لَکَ؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ وَ قَدْ ذُکِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ؟ قَالَ نَعَمْ، فَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ، وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ اللّٰہََ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَیْکَ: لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، قَالَ وَ سَمَّانِیْ؟ قَالَ نَعَمْ، فَبَکیٰ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہا نے حضرت ابی بن کعبؓ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں قرآن مجید سناؤں۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر آپ سے یہ بات فرمائی ہے؟ حضوؐر نے دوبارہ عرض کیا: کیا سچ مچ میرا ذکر اللہ ربّ العالمین کے حضور میں ہوا؟ حضوؐر نے ارشاد فرمایا:ہاں ۔اس پر حضرت ابی بن کعبؓ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔۔۔ ایک روایت میں رسول اللہا کے یہ الفاظ آئے ہیں: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ۔۔۔ پڑھ کر سناؤں۔ حضرت ابی بن کعب نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر یہ بات فرمائی ہے؟ حضوؐر نے فرمایا: ہاں۔ اس پر حضرت ابی بن کعب رو پڑے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ دَاؤدَ اَبُوْ جَعْفَرٍ الْمُنَادِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ عَرُوْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ، قَالَ آ اَللّٰہُ سَمَّانِیْ لَکَ؟ قَالَ نَعَمْ، قَالَ وَ قَدْ ذُکِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ؟ قَالَ نَعَمْ، فَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ، وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ اللّٰہََ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَیْکَ: لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، قَالَ وَ سَمَّانِیْ؟ قَالَ نَعَمْ، فَبَکیٰ۔
ایک اور روایت میں ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: اِنَّ اللّٰہَ أَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَیْکَ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قَالَ: وَ سَمَّانِیْ، قَالَ: نَعَمْ، فَبَکیٰ۔ (٢٤)
ایک دوسری روایت ہے:
(۲) قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَاُبَیٍّ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ، قَالَ اُبَیٌّ:آ اَللّٰہُ سَمَّانِیْ لَکَ، قَالَ: اَللّٰہُ سَمَّاکَ، فَجَعَلَ اُبَیٌّ یَبْکِیْ۔ قَالَ قَتَادَۃُ: فَاُنْبِئْتُ اَنَّہٗ قَرَأَ عَلَیْہِ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ۔ (٢٥)
تشریح: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انھیں اتنی بڑی عزّت و مرتبت سے سرفراز فرمایا۔
احادیث میں آتا ہے کہ حضرت ابی بن کعب صحابہ کرامؓ میں سے قرآن کو سب سے زیادہ جاننے والے لوگوں میں تھے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی تربیت جن بے شمار طریقوں سے فرمائی ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ جس صحابیؓ کے اندر کوئی غیر معمولی صلاحیت ہوتی تھی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خصوصیت کا برتاؤ اختیار فرماتے تاکہ اس کی ہمت افزائی ہو اور اس کی وہ صلاحیت نشو و نما پائے۔۔۔ اسی لیے رسول اللہ ا کو ہدایت کی گئی کہ آپؐ حضرت ابی بن کعب کو قرآن پڑھ کر سنائیں اور حضرت ابی بن کعب اس پر خوشی سے پھولے نہ سمائے کہ اللہ اکبر میرا یہ مقام، کہ اللہ کے ہاں میرا نام لے کر میرا ذکر کیا جائے۔
آپ اس سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے دلوں میں کلام ِ الٰہی کی محبت کس قدر تھی اور وہ اس بات کے کس قدر مشتاق اور آرزو مند رہتے تھے کہ وہ اللہ رب العالمین کی نگاہ میں آئیں اور خدائے بزرگ و برتر ان کے ساتھ خصوصیت کا کوئی برتاؤ کرے۔
اصحاب ِ صفّہ کی فضیلت
٢٢- عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ قَالَ جَلَسْتُ فِیْ عِصَابَۃٍ مِّنْ ضُعَفَائِ الْمُھَاجِرِیْنَ وَ اِنَّ بَعْضَھُمْ لَیَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِّنَ الْعُرْیِ وَ قَارِیٌٔ یَّقْرَأُ عَلَیْنَا اِذْ جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَامَ عَلَیْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ سَکَتَ الْقَارِیُٔ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَا کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ قُلْنَا کُنَّا نَسْتَمِعُ اِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ، فَقَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ اُمِرْتُ اَنْ اَصْبِرَ نَفْسِیْ مَعَھُمْ، قَالَ فَجَلَسَ وَسْطَنَا لِیَعْدِلَ بِنَفْسِہٖ فِیْنَا، ثُمَّ قَالَ بِیَدِہٖ ھٰکَذَا فَتَحَلَّقُوْا وَ بَرَزَتْ وُجُوْھُھُمْ لَہٗ، فَقَالَ اَبْشِرُوْا یَا مَعْشَرَ صَعَالِیْکِ الْمُھَاجِرِیْنَ بِالنُّوْرِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ اَغْنِیَائِ النَّاسِ بِنِصْفِ یَوْمٍ وَّ ذٰلِکَ خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (رواہ ابو داوٗد)
’’حضرت ابو سعید خدریؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک روز غریب اور خستہ حال مہاجرین کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔ حالت یہ تھی کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی اوٹ لے رہا تھا کیوں کہ ان کے پاس تن ڈھانکنے کو پورے کپڑے نہیں تھے، اور (انہیں مہاجرین میں سے) ایک قاری ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا۔ اتنے میں رسول اللہا تشریف لائے اور ہمارے مجمع کے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ جب حضوؐر آکر کھڑے ہوئے تو جو صاحب قرآن پڑھ رہے تھے وہ خاموش ہوگئے۔ حضوؐر نے ہم لوگوں کو سلام کہا اور پھر فرمایا کہ تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا: اُس اللہ کا شکر ہے جس نے میری اُمت میں ایسے لوگ فراہم کردیئے ہیں جن کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کی معیّت پر مطمئن رہوں‘‘۔۔۔ پھر حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ آکر اس طرح ہمارے درمیان بیٹھ گئے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی امتیاز نہ رہا (یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ ہمیں میں سے ہیں، کوئی الگ شخصیت نہیں) پھر حضوؐر نے اس طرح اشارہ کیا، مدعا یہ تھا کہ حلقہ بنا کر بیٹھو۔ لوگ اس طریقے سے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے کہ سب کے چہرے حضوؐر کے سامنے ہوگئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اے مفلوک الحال مہاجرین، خوش خبری ہو تمہیں اُس مکمل نور کی جو قیامت کے روز تمہیں حاصل ہوگا۔ تم دولت مند وں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوگے اور آخرت کا آدھا دن دنیا کے پانچ سو سال کے برابر ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْمُعَلَّی بْنِ زِیَادٍ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ بَشِیْرٍ الْمُزَنِیِّ، عَنْ اَبِی الصِّدِّیْقِ النَّاجِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، قَالَ: جَلَسْتُ فِیْ عِصَابَۃٍ مِنْ ضُعَفَائِ الْمُھَاجِرِیْنَ وَ اِنَّ بَعْضَھُمْ لَیَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِّنَ الْعُرْیِ وَ قَارِیٌٔ یَّقْرَأُ عَلَیْنَا اِذْ جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَامَ عَلَیْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَکَتَ الْقَارِیُٔ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَا کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ قُلْنَا کُنَّا نَسْتَمِعُ اِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ، فَقَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ اُمِرْتُ اَنْ اَصْبِرَ نَفْسِیْ مَعَھُمْ، قَالَ فَجَلَسَ وَسْطَنَا لِیَعْدِلَ بِنَفْسِہٖ فِیْنَا، ثُمَّ قَالَ بِیَدِہٖ ھٰکَذَا فَتَحَلَّقُوْا وَ بَرَزَتْ وُجُوْھُھُمْ لَہٗ، فَقَالَ اَبْشِرُوْا یَا مَعْشَرَ صَعَالِیْکِ الْمُھَاجِرِیْنَ بِالنُّوْرِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ اَغْنِیَائِ النَّاسِ بِنِصْفِ یَوْمٍ وَّ ذٰلِکَ خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (٢٦)
تشریح: ضُعَفَائُ الْمُھَاجِرِیْنِ سے بوڑھے یا جسمانی طور پر ضعیف مراد نہیں ہیں بلکہ غریب اور خستہ حال مراد ہیں۔ یعنی وہ مہاجرین جو بے سرو سامانی کے عالم میں صرف تن کے کپڑوں کے ساتھ اپنے گھر بار چھوڑ کر آگئے تھے۔ ان کے پاس نہ پہننے کو کپڑا تھا، نہ کھانے کو روٹی اور نہ سر چھپانے کو جگہ۔ لیکن دین کے ساتھ وابستگی اور قرآن سے شیفتگی کا یہ عالم تھا کہ فارغ بیٹھے بیکار باتیں کرنے کے بجائے اللہ کا کلام سنتے اور سناتے۔
اِس مقام پر اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید میں نبی اسے یہ بات کیوں کہی گئی کہ ان لوگوں (ضعیف مہاجرین) کی معیت پر صبر کرلو، اور رسول اللہا نے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کیوں ادا کیا۔۔۔
قرآن مجید میں یہ بات اُس مقام پر فرمائی گئی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ مکے کے ان بڑے بڑے سرداروں اور دولت مندوں کے قبول ِ حق سے انکار کی کوئی پروانہ کرو، اور اس بات کی فکر میں نہ لگو کہ ان میں سے کوئی تمہاری جماعت میں آئے گا تواس کے اثر و دبدبہ اور ذاتی وجاہت سے یہ دین فروغ پائے گا۔ بلکہ اس کے برعکس جو لوگ مفلس اور کنگال ہیں لیکن ایمان لاکر تمہارے پاس آئے ہیں ان کی معیت اور رفاقت پر مطمئن ہوجاؤ۔ (
ایک آدمی جب دین کی تبلیغ کا آغاز کرتا ہے تو اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ بڑے بڑے با اثر لوگ اس کی دعوت پر لبیک کہیں تاکہ ان کے قبول ِ دین سے دعوت ِ دین کے کام کو فروغ نصیب ہو۔ اس صورت میں جب کم حیثیت اور مفلوک الحال لوگ آکر اس دعوت میں دلچسپی لیتے، اسے قبول کرتے اور اس کام کے لیے خود کو پیش کرتے ہیں تو بعض اوقات وہ یہ سوچتا ہے کہ ایسے کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ دین کو کیا فروغ نصیب ہوگا۔۔۔ لیکن دین کے لیے کام کرنے والوں کے سوچنے کا یہ انداز درست نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہا کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ غریب اور کم حیثیت مومنین کو کم اہم نہ سمجھیں، بلکہ ان کی معیت پر مطمئن ہوجائیں، اور اس کے مقابلے میں بڑے بڑے شیوخ اور رئیسوں کی فکر نہ کریں۔
٭کفار ِ مکہ کے سردار بھی نبی ا کو اس بات کا طعنہ دیتے تھے کہ قوم کے وہ دانا اور صاحب ِ حیثیت لوگ، جن کی طرف قوم اپنے معاملات میں رجوع کرتی ہے، ان میں سے کوئی بھی آپؐ پر ایمان نہیں لایا۔ بس یہ نیچ قسم کے لوگ آپ پر ایمان لائے ہیں اور ان کو لے کر آپؐ سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں خدا کا دین پھیلائیں گے۔
٭اِن کے ان طعنوں کے جواب میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص ایمان لایا ہے وہی دراصل قیمتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ایمان کو رد کر رہا ہے وہ نہ تو کوئی دانا آدمی ہے اور نہ اس کا رئیس ہونا اور شیخ ہونا ہی اہمیت رکھتا ہے۔ آج اگر کوئی شخص شیخ ہے توکل اس کی مشیخت ختم ہوجانی ہے، اوراگر آج کوئی رئیس ہے تو کل اس کی ریاست ختم ہوجانی ہے اور یہی کم حیثیت، نادار اور خستہ حال لوگ ان کا تختہ اُلٹ دیں گے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ مطمئن ہوجاؤ ان لوگوںکی معیت پر جو تمہارے ساتھ آگئے ہیں اور ان سے نگاہیں نہ پھیرو۔
٭نبی انے جب ان خستہ حال مہاجرین کو دیکھا کہ وہ بڑی محبت سے قرآن سُن رہے ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے، اس نے میرے ساتھ وہ لوگ کردیے ہیں جن کی معیت پر مجھے مطمئن رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں حضوؐر نے اس پر شکر ادا کیا کہ ایسے لوگوں نے دین قبول کرلیا ہے جن کے اندر اتنی بلند حوصلگی اور کردار کی پختگی موجود تھی کہ دین کی خاطر اپنا گھر بار، بال بچے اور مال و دولت سب کچھ چھوڑ کر نکل آئے۔
پھرنبی انے ان مہاجرین کو یہ خوش خبری سنائی کہ قیامت کے روز تمہیں مکمل نورحاصل ہوگا اور تم جنت میں دولت مندوں سے آدھے دن پہلے داخل ہوگے۔ اس طرح حضوؐر نے انھیں اس بات کی تسلی دی کہ خدا کے دین کی خاطر تم نے جس طرح تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کی ہیں، خطرات انگیز کیے ہیں اور غربت وتنگ دستی کی زندگی کو اپنے گھروں کے عیش و آرام پر ترجیح دی ہے ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز مکمل نور عطا کرے گا اور تم دولت مندوں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوگے۔ اس آدھے دن کے متعلق یہ وضاحت فرمائی کہ قیامت کا آدھا دن اس دنیا کے پانچ سو سال کے برابر ہوگا۔
٭اس چیز کے متعلق تعیّن سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں کے آدھے دن سے، اور اس کے پانچ سو سال کے برابر ہونے سے کیا مراد ہے۔ حضوؐر نے یہ بات ذہن نشین کرانے کے لیے آخرت میں زمانے کا معیار اس دنیا سے مختلف ہوگا، مختلف مواقع پر مختلف مقداریں بیان فرمائی ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں بلا وجہ کھوج کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات آخرت میں ہی کھلے گی کہ وہاں زمان و مکان کا مفہوم کیا ہے اور اس کے پیمانے کیا ہیں۔
صحابۂ کرامؓ نے قرآن کس ذمے داری سے حفظ کیا تھا
٢٣- عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ کُنَّا بِحِمْصَ فَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ سُوْرَۃَ یُوْسُفَ فَقَالَ رَجُلٌ مَّا ھٰکَذَا اُنْزِلَتْ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ وَاللّٰہِ لَقَرَأْتُھَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ اَحْسَنْتَ، فَبَیْنَا ھُوَ یُکَلِّمُہٗ اِذْ وَجَدَ مِنْہُ رِیْحَ الْخَمْرِ فَقَالَ اَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَ یُکَذِّبُ بِالْکِتَابِ فَضَرَبَہُ الْحَدَّ۔ (متفق علیہ)
’’علقمہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حمص (شام) میں تھے، وہاں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے سورۂ یوسف پڑھی توایک شخص نے (جو وہاں موجود تھا) کہا کہ یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں نے یہ سورت خود رسول اللہ اکے سامنے پڑھی ہے اور حضوؐر نے فرمایا تھا کہ تم نے ٹھیک پڑھی ہے۔۔۔ اس دوران میںجب کہ وہ اُس شخص سے بات کر رہے تھے اُنھیں اس کے منہ سے شراب کی بو آئی ۔۔۔ اس پر آپؓ نے اس سے فرمایا کہ شراب پیتے ہو اور پھر قرآن سُن کر اس کی تکذیب کرتے ہو؟ ۔۔۔ اور اس کے بعد اس پر (شراب پینے کے جرم میں) حد جاری کی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: کُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِیْ بَعْضُ الْقَوْمِ اِقْرَأْ عَلَیْنَا فَقَرَأْتُ سُوْرَۃَ یُوْسُفَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ وَاللّٰہِ مَا ھٰذَا اُنْزِلَتْ قَالَ قُلْتُ وَیْحَکَ وَاللّٰہِ لَقَدْ قَرَأْتُھَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لِیْ اَحْسَنْتَ فَبَیْنَمَا اَنَا اُکَلِّمُہٗ اِذْ وَجَدْتُ مِنْہُ رِیْحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ اَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَ تُکَذِّبُ بِالْکِتَابِ لاَ تَبْرَحُ حَتّٰی اَجْلَدَکَ قَالَ فَجَلَدْتَہٗ الْحَدَّ۔ (٢٧)
تشریح: یہ حدیث یہاں یہ بتانے کے لیے رکھی گئی ہے کہ صحابۂ کرامؓ میں سے ہر اُس شخص نے جس نے لوگوں تک قرآن پہنچانے کی ذمہ داری اداکی ہے اس نے قرآن مجید یا تو براہِ راست رسول اللہ ا کی زبان سے سُن کر یاد کیا ہے یا پھر دوسروں سے سن کر یاد کرنے کے بعد رسول اللہ ا کو سُنایا ہے اور حضوؐر نے اس کی تصدیق فرمائی ہے کہ ہاں تم نے ٹھیک یاد کیا ہے۔۔۔ اس طرح قرآن مجید کے ہم تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس میں ذرّہ برابر بھی اشتباہ کی گنجائش ہوسکتی ہو۔
قرآن سنانے کا معاوضہ لینا غلط ہے
٢٤- عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّہٗ مَرَّ عَلٰی قَآصٍّ یَّقْرَأُ ثُمَّ یَسْئَلُ فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ فَلْیَسْئَلِ اللّٰہَ بِہٖ فَاِنَّہٗ سَیَجِیْیئُ اَقْوَامٌ یَّقْرَأُوْنَ الْقُرْاٰنَ یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ بِہٖ۔ (رواہ احمد والترمذی)
’’حضرت عمران بن حصین کا بیان ہے کہ ان کا گزر ایک ایسے واعظ پر ہوا جو قرآن پڑھتا تھا اور لوگوں سے بھیک مانگتا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر انھوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا ۔۔۔ پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے اسے چاہیے کہ وہ جو کچھ مانگے صرف اللہ سے مانگے۔۔۔ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگ قرآن پڑھیں گے اور اس کا معاوضہ لوگوں سے مانگیں گے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ خَیْثَمَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: اِنَّہٗ مَرَّ عَلٰی قَاصٍّ قَرَأَ ثُمَّ فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ فَلْیَسْئَلِ اللّٰہَ بِہٖ فَاِنَّہٗ سَیَجِیْیئُ اَقْوَامٌ یَّقْرَأُوْنَ الْقُرْاٰنَ یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ بِہٖ۔(٢٨)
تشریح: حدیث کا مضمون واضح ہے۔ تاہم اس مقام پر ایک بات ملحوظ رہے کہ اگرچہ قرآن پڑھ کر اس کا معاوضہ مانگنا یا اسی طرح نماز پڑھانے کا معاوضہ لینا شرعاً نہایت مکروہ چیز ہے اور قدیم زمانے میں فقہاء اس کی کراہت پر متفق تھے، لیکن بعد میں کچھ ایسے حالات پیش آئے جن سے فقہاء کو یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ایساکوئی معاوضہ لینے کو قطعی ممنوع رکھا گیا تو اس بات کا امکان ہے کہ مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز باجماعت کا اہتمام اور مسجدوں کی آبادی کا نظام برقرار نہیں رہ سکے گا۔ اس لیے انھوں نے ایک بڑی مصلحت کی خاطر اس بات کی اجازت دے دی کہ جو لوگ دن میں باقاعدہ نماز اپنے وقت پر پڑھانے کی ذمے داری قبول کریں ان کو معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔ تاہم اصولاً اب بھی یہ بات اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر کوئی آدمی ایسے ذرائع پاتا ہو جن سے وہ اپنی روزی کما سکے اور اس کے ساتھ مسجد میں باقاعدہ نماز پڑھانے کی ذمے داری قبول کرلے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ میرے نزدیک وہ امام نہایت قابل ِ قدر ہے جو مسجد کے دروازے کے باہر بیٹھ کر جوتی گانٹھے اور پانچ وقت کی نماز پڑھانے کی ذمے داری قبول کرے اور کسی سے کوئی معاوضہ وصول نہ کرے تاہم اگر یہ کسی طرح ممکن نہ ہو اور ایسا کوئی امام نہ مل سکے تو پھر بدرجہ آخر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ایسے امام مقرر کیے جائیں جن کو معاوضہ دیا جائے اور وہ مسجدوں کی آبادی کا نظام برقرار رکھیں۔
کچھ لوگ قرآن کو وسیلۂ دنیا بنالیں گے
٢٥- عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ نَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْاَعْجَمِیُّ، فَقَالَ اقْرَاُوْا فَکُلٌّ حَسَنٌ وَ سَیَجِیْئُ اَقْوَامٌ یُقِیْمُوْنَہٗ کَمَا یُقَامُ الْقِدْحُ، یَتَعَجَّلُوْنَہٗ وَلاَ یَتَاَجَّلُوْنَہٗ۔ (رواہ ابو داؤد والبیھقی)
’’حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہا اپنے خانۂ مبارک سے نکل کرہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم لوگ اس وقت (بیٹھے ہوئے) قرآن پڑھ رہے تھے، اور ہم میں سے کوئی عربی تھا اور کوئی عجمی۔ حضوؐر نے ہمیں قرآن پڑھتے سُنا تو فرمایا: ’’پڑھتے جاؤ، سب اچھی طرح پڑھ رہے ہیں۔ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو اگرچہ قرآن کو خوب صحت کے ساتھ اس انداز سے پڑھیں گے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتاہے لیکن اس سے ان کی غرض دنیوی فائدے ہوں گے، آخرت ان کا مقصود نہیں ہوگی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، اَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَیْدٍ الْاَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ نَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْاَعْجَمِیُّ، فَقَالَ اقْرَاُوْا فَکُلٌّ حَسَنٌ وَ سَیَجِیْئُ اَقْوَامٌ یُقِیْمُوْنَہٗ کَمَا یُقَامُ الْقِدْحُ، یَتَعَجَّلُوْنَہٗ وَلاَ یَتَاَجَّلُوْنَہٗ۔ (٢٩)
ابو دادؤ میں سہل بن سعد ساعدی سے مروی روایت:
(۲) قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا، وَ نَحْنُ نَقْتَرِیُٔ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ کِتَابُ اللّٰہِ وَاحِدٌ، وَ فِیْکُمُ الْاَحْمَرُ وَ فِیْکُمُ الْاَبْیَضُ وَ فِیْکُمُ الْاَسْوَدُ۔ اِقْرَؤُا قَبْلَ اَنْ یَّقْرَأَہٗ اَقْوَامٌ یُقِیْمُوْنَہٗ کَمَا یُقَوَّمُ السَّھْمُ یَتَعَجَّلُ اَجْرَہٗ وَلاَ یَتَأَجَّلُوْنَہٗ۔ (٣٠)
مسند احمد نے سہل بن سعد سے جور وایت نقل کی ہے اس کے الفاظ ہیں:
(۳) عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: فِیْکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، یَتَعَلَّمُہُ الْاَسْوَدُ وَالْاَحْمَرُ، وَالْاَبْیَضُ تَعَلَّمُوْہُ قَبْلَ اَنْ یَّأْتِیَ زَمَانٌ یَتَعَلَّمُہٗ نَاسٌ وَلاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیْھِمْ، وَ یُقَوِّمُوْنَہٗ کَمَا یُقَوَّمُ السَّھْمُ فَیَتَعَجَّلُوْنَ اَجْرَہٗ وَلاَ یَتَأَجَّلُوْنَہٗ۔ (٣١)
مسند احمد کی ایک روایت جسے حضرت انس نے روایت کیا ہے اس روایت کے آخری حصہ میں ہے:
وَ سَیَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یُثَقِّفُوْنَہٗ کَمَا یُثَقِّفُوْنَ الْقِدْحَ یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلاَ یَتَأَجَّلُوْنَھَا۔
تشریح: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس بیان سے کہ ہم میں سے کوئی عربی تھا اور کوئی عجمی، اور حضوؐر نے ہم سب سے فرمایا کہ پڑھتے جاؤ، سب ٹھیک پڑھ رہے ہو، ان کا مقصود دراصل یہ بتانا تھا کہ اس جماعت میں مختلف قوموں اور نسلوں کے لوگ تھے اس لیے ان کے قرآن پڑھنے کا انداز بھی جُدا جُدا تھا لیکن حضوؐر نے اس سب کی تحسین فرمائی۔۔۔ ظاہر بات ہے کہ ان میں سے ہر آدمی قرآن کو بالکل صحیح طریقے سے، صحیح مخارج اور طرز ِ ادا کے ساتھ پڑھنے والا نہیں ہوسکتا تھا۔ بعض کی زبان یا لہجے میں کوئی فطری خامی بھی ہوسکتی تھی اس لیے ان کے قرآن پڑھنے کے لہجے اور انداز میں اختلاف کا پایا جانا فطری تھا لیکن حضوؐر نے اِنھیں دیکھ کر فرمایا کہ پڑھتے جاؤ تم سب اچھی طرح پڑھ رہے ہو۔ مراد یہ تھی کہ چوں کہ تم خلوص ِ نیت کے ساتھ قرآن کو سمجھ کر پڑھ رہے ہو اور اس کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرنے کا عزم رکھتے ہو اس لیے تم صحیح معنوں میں قرآن کو پڑھنے کا حق ادا کر رہے ہو، قطع ِ نظر اس کے کہ تم تجوید کا فن جانتے ہو یا نہیں اور اسے قراء ت کے اصولوں کے مطابق پڑھ رہے ہو یا نہیں۔۔۔ ایک وقت آئے گا جب قرآن کو پڑھا تو جائے گا بڑی ریاضت و مشق اور صحت ِ مخارج کے اہتمام کے ساتھ، بالکل اس طرح جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس سے لوگوں کا مقصود دنیا ہوگی، آخرت نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ پڑھنا آخرت میں کسی کام نہیں آئے گا۔ البتہ تمہارا یہ پڑھنا بڑا قابل ِ قدر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے۔
قرآن کو روٹی کمانے کا ذریعہ بنانے والا بے آبرو ہوگا
٢٦-عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ یَتَأَکَّلُ بِہِ النَّاسَ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ وَجْھُہٗ عَظْمٌ لَیْسَ عَلَیْہِ لَحْمٌ۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
’’حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: جو شخص قرآن اس غرض سے پڑھے کہ اس کے ذریعے سے لوگوں سے روٹی مانگے تو قیامت کے روز وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کا چہرہ بس ہڈی ہڈی ہوگا، اس پر گوشت پوست نہیں ہوگا۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ وَ اَبُو الْقَاسِمِ بْنُ حَبِیْبٍ الْمُفَسِّرُ مِنْ اَصْلِ کِتَابِہٖ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسٰی بْنِ الْفَضْلِ، قَالُوْا: اَنَا (اَبُوْ) عَبْدِ اللّٰہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الصَّفَّارُ الْاَصْبَھَانِیُّ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ ھَیْثَمِ بْنِ اَبِیْ نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ قَادِمٍ الْخُزَاعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ یَتَأَکَّلُ بِہِ النَّاسَ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ وَجْھُہٗ عَظْمٌ لَیْسَ عَلَیْہِ لَحْمٌ۔ (٣٢)
تشریح: کسی آدمی کے چہرے پر گوشت پوست نہ ہونے کا مفہوم یہ ہے وہ بے عزت ہوگا۔ آپ اپنی زبان میں بھی یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بے آبرو ہوگیا۔ وہ لفظ ’’آبرو‘‘ دراصل آبِ رُو ہے یعنی چہرے کی رونق ۔ سو کسی آدمی کے بے عزت ہوجانے کو آپ یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ بے آبرو ہوگیا، یعنی اس کے چہرے کی رونق جاتی رہی۔ اسی مفہوم میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ اس شخص کے چہرے پر گوشت پوست نہیں ہوگا جو قرآن کو محض روٹی کمانے کا وسیلہ بناتا ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ اُس کو قیامت کے روز بے عزت کردے گا۔
قرآن سے گھروں کو آباد کرو
٢٧-عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ اِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِیْ یُقْرَأُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتاہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا یَعْقُوْبُ وَ ھُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْقَارِیُٔ عَنْ سُھَیْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ اِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِیْ یُقْرَأُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ (٣٣)
(۲) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُھَیْلِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لاَ تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ وَ اِنَّ الْبَیْتَ الَّذِیْ تُقْرَأُ الْبَقَرَۃُ فِیْہِ لاَ یَدْخُلُہُ الشَّیْطَانُ۔ (٣٤)
تشریح: پہلا مضمون یہ ہے کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمہارے گھروں کی یہ کیفیت نہ ہو کہ ان میں نہ کوئی نماز پڑھنے والا ہو اور نہ قرآن پڑھنے والا۔ یعنی ان کو دیکھ کر یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ان کے اندر ایمان رکھنے والے اور قرآن پڑھنے والے لوگ بستے ہیں۔ اگر کیفیت یہ ہوتو گویاوہ گھر قبرستان ہیں۔ وہ زندہ انسانوں کی نہیں بلکہ مُردوں کی بستی ہیں۔
اِس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ساری کی ساری نماز مسجدوں ہی میں ادا نہ کرو بلکہ نماز کا کچھ حصہ گھروں میںبھی ادا کرو۔ اگر گھروں میں نماز نہ پڑھی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسجدوں کو توآپ نے آباد کرلیا لیکن گھر قبرستان کی طرح ہوگئے۔ اِس لیے ایسی صورت ہونی چاہیے کہ مسجدیں بھی آباد ہوں اور گھر بھی۔ اسی بنا پر اس بات کو پسند کیا گیا ہے کہ فرض نماز تو جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کی جائے اور سنتیں اور نوافل وغیرہ گھر میں آکر ادا کیے جائیں تاکہ دونوںجگہیں آباد ہوں۔
دوسرا مضمون یہ بیان فرمایا گیا کہ شیطان ایسے گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔۔۔ قرآن مجید کی فضیلت بحیثیت ِ مجموعی تو الگ ہے اور ایک ایک سورت کے فضائل الگ ہیں۔ یہاں سورۂ بقرہ کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جس گھر میں وہ پڑھی جاتی ہے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورۂ بقرہ میں معاشرتی اور گھریلو زندگی کے سارے قواعد تفصیل سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ نکاح اور طلاق وغیرہ کے متعلق مکمل قانون بھی اس میں بیان کردیا گیا ہے۔۔۔ معاشرت کو بہتر رکھنے کے جملہ اصول و قواعد بھی اس میں آگئے ہیں۔ اس لیے جس گھر میں سورۂ بقرہ سمجھ کر پڑھی جاتی ہے اور اس پر عمل بھی کیاجاتا ہے وہاں شیطان کبھی فتنہ و فساد برپا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ شیطان کو فتنے برپا کرنے کا موقع اسی جگہ ملتا ہے جہاں لوگوں کو یا تو اللہ تعالیٰ کے وہ احکام معلوم نہ ہوں جن میں انسانی زندگی کی اصلاح کے قاعدے اور ضابطے بتائے گئے ہیں اور یا احکام معلوم تو ہوں لیکن ان کی خلاف ورزی کی جارہی ہو۔ لیکن جہاں احکام بھی معلوم ہوں اور ان کی اطاعت بھی کی جارہی ہو وہاں شیطان کوکام کرنے کا موقع نہیں ملتا اور نہ وہ کوئی فتنہ برپا کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
قرآن مجید کو بے سمجھے پڑھنا بھی باعث ِ برکت ہے
٢٨- عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْمَاھِرُ بِالْقُرْاٰنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ وَالَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَتَتَعْتَعُ فِیْہِ وَ ھُوَ عَلَیْہِ شَآقٌ لَہٗ اَجْرَانِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: قرآن کا ماہر، قرآن کے لکھنے والے معزز اور پاکیزہ فرشتوں کے ساتھ ہوگااور جو شخص قرآن مجید کو اٹک اٹک کر اور بڑی مشکل سے پڑھتا ہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الْغُبَرِیُّ جَمِیْعًا عَنْ اَبِیْ عَوَانَۃَ، قَالَ ابْنُ عُبَیْدٍ: نَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی، عَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: الْمَاھِرُ بِالْقُرْاٰنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ وَالَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَتَتَعْتَعُ فِیْہِ وَ ھُوَ عَلَیْہِ شَآقٌ لَہٗ اَجْرَانِ۔ (٣٥)
امام بخاری نے حضرت عائشہؓ سے مروی روایت کے مندرجہ ذیل الفاظ ِ حدیث نقل کیے ہیں:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَثَلُ الَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ ھُوَ حَافِظٌ لَّہٗ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ وَ مَثَلُ الَّذِیْ یَقْرَأُ وَ ھُوَ یَتَعَاھَدُہٗ وَ ھُوَ عَلَیْہِ شَدِیْدٌ فَلَہٗ اَجْرَانِ۔ (٣٦)
سنن دارمی نے حضرت عائشہؓ کی روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کی ہے:
(۳) عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ:اِنَّ الَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ ھُوَ مَاھِرٌ بِہٖ، فَھُوَ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ وَالَّذِیْ یَقْرَؤُہٗ وَ ھُوَ یَشْتَدُّ عَلَیْہِ، فَلَہٗ اَجْرَانِ۔ (٣٧)
تشریح: قرآن مجید ہی میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قرآن کو وہ فرشتے لکھتے ہیں جو بڑے معزز اور پاکیزہ ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ جو شخص قرآن مجید کا علم حاصل کرے، اس میں بصیرت پیدا کرے اور اس کے اندر کمال پیدا کرنے کی کوشش کرے وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان فرشتوں میں شامل ہوجائے گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے وہ مقام اور مرتبہ حاصل ہوگا جو اُن فرشتوں کو حاصل ہے۔
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آدمی قرآن مجید کو سمجھ کر نہ پڑھے تو محض اس کے پڑھنے کا کیا فائدہ ہے۔ لیکن یہ خیال کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کے محض پڑھنے کا بھی فائدہ ہے۔ مثلاً آپ دیکھیں کہ ایک ایسا آدمی ہے جو بیچارہ بہت ہی دیہاتی قسم کا ہے اور اس کی زبان بھی پوری طرح سے نہیں کھلتی وہ بڑی مشکل سے اور اٹک اٹک کر قرآن مجید پڑھ رہاہے۔ رسول اللہا اس کے حق میں بھی یہ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔۔۔ ایک اَجر قرآن پڑھنے کا اور دوسرا قرآن پڑھنے کے لیے محنت کرنے کا۔۔۔۔ رہی یہ بات کہ بغیر سمجھے بوجھے قرآن مجید پڑھنے کا کیا فائدہ ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کبھی دنیا میں کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہے جو انگریزی کے حروف ِ تہجی پڑھ لینے کے بعد انگریزی کی کوئی کتاب لیے بیٹھا پڑھ رہا ہو اور سمجھ میں اس کی خاک بھی نہ آرہا ہو۔ غور کیجیے کہ ایک آدمی اس قرآن کے ساتھ ہی یہ محنت کیوں کرتا ہے۔ وہ قاعدہ بغدادی سے اس کے پڑھنے کی مشق کرتا ہے، استادوں سے سیکھتا ہے، پھر بیٹھا ہوا اسے پڑھتا ہے۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا مگر پھر بھی پڑھتا ہے۔۔۔ آخر کیوں؟۔۔۔ اگر اس کے دل میں ایمان نہ ہو، قرآن مجید کی عقیدت نہ ہو اوراگر وہ یہ نہ سمجھ رہا ہو کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اور اس کوپڑھنے میں برکت ہے تو آخر وہ یہ سب محنت اور مشقت کیوں برداشت کرے؟ ظاہر بات ہے کہ وہ یہ ساری محنت اور مشقت اسی یقین کی بنا پر تو کرتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور بڑی برکت والا کلام ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسے اس کا اجر نہ ملے۔
قرآن کے الفاظ میں بھی برکت ہے
٢٩- عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا اَوٰی اِلٰی فِرَاشِہٖ کُلَّ لَیْلَۃٍ جَمَعَ کَفَّیْہِ ثُمَّ نَفَثَ فِیْھِمَا فَقَرَأَ فِیْھِمَا: قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ یَمْسَحُ بِھِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِہٖ یَبْدَاُ بِھِمَا عَلٰی رَاْسِہٖ وَ وَجْھِہٖ وَمَا اَقْبَلَ مِنْ جَسَدِہٖ یَفْعَلُ ذٰلِکَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی ا کا یہ طریقہ تھا کہ جب آپؐ رات کو سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹتے تو لیٹنے سے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں ملا کر ان میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ الناس پڑھ کر پھونکتے تھے۔ پھر آپؐ اپنی ہتھیلیوں کو اپنے پورے جس پر، جہاں جہاں تک آپؐ کا ہاتھ پہنچتا تھا پھیرتے تھے۔ پہلے سر (اور اپنے چہرے پر) اور پھر جسم کے اگلے حصے پر۔۔۔ ایسا آپؐ تین مرتبہ کیا کرتے تھے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فُضَالَۃَ عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ اِذَا اَوٰی اِلٰی فِرَاشِہٖ کُلَّ لَیْلَۃٍ جَمَعَ کَفَّیْہِ ثُمَّ نَفَثَ فِیْھِمَا فَقَرَاَ فِیْھِمَا: قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ یَمْسَحُ بِھِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِہٖ یَبْدَاُ بِھِمَا عَلٰی رَاْسِہٖ وَ وَجْھِہٖ وَمَا اَقْبَلَ مِنْ جَسَدِہٖ یَفْعَلُ ذٰلِکَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ۔ (٣٨)
تشریح:کلام ِ الٰہی اپنے الفاظ میں، اپنی آواز میں، اور اپنے مضمون میں، سبھی طرح برکت رکھتا ہے۔ یہ سراسر برکت ہی برکت ہے۔ رسول اللہا جس طرح سے کلام ِ الٰہی کو سمجھتے اور اس کے مطابق عمل فرماتے تھے اور اس کے منشا کے مطابق دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے جِدّو جہد فرماتے تھے، اسی طرح سے آپؐ اس کلام کی باقی تمام برکتوں سے بھی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔ مثلاً قرآن پڑھ کر پانی پر پھونکنا اور خود پینا یا کسی کو پلادینا، یا اس کو ہاتھوں پر پھونکنا اور جسم پر ملنا۔ اِن طریقوں سے قرآن کی برکت کا کوئی ظاہری اور باطنی پہلو آپؐ نہیں چھوڑتے تھے۔۔۔ آج بھی اگر کوئی شخص یہ عمل کرے تو صحیح اور پسندیدہ ہے اور باعث ِ برکت ہے، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ اس برکت کا فائدہ حقیقت میں وہی شخص اُٹھا سکتا ہے جو قرآن کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن سے بھی تعلق رکھتا ہو۔ اگر ایک آدمی قرآن کے منشا کے خلاف زندگی گزار رہا ہو اور پھر قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر اپنے اوپر پھونک بھی رہا ہو تو سوال یہ ہے کہ وہ آخر کس شر سے خدا کی پناہ مانگ رہا ہے شر تو اس نے اپنے اندر بھر رکھا ہے۔ کیا وہ اس شر سے پناہ مانگ رہا ہے جو رشوت خوری وہ کرکے آیا ہے اس پر پولس اُسے نہ پکڑے۔ اس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ برکتیں صرف اُنھی لوگوں کے لیے ہیں جو فی الواقع قرآن کے منشا کے مطابق کام کر رہے ہوں۔ اس کے بعد قرآن کے الفاظ کی برکت بھی انہیں حاصل ہوگی۔ لیکن جو لوگ قرآن کے الفاظ و مضامین سے رات دِن لڑ رہے ہوں اور اپنے قول و فعل سے اس کے معانی کی نفی کر رہے ہوں ان کے لیے یہ برکتیں نہیں ہوسکتیں۔
قرآن پڑھنے کی آواز سن کر فرشتے جمع ہوجاتے ہیں
٣٠- عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ قَالَ بَیْنَمَا ھُوَ یَقْرَأُ مِنَ اللَّیْلِ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ وَ فَرَسُہٗ مَرْبُوْطَۃٌ عِنْدَہٗ اِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ فَسَکَتَ فَسَکَنَتْ فَقَرَأَ فَجَالَتْ فَسَکَتَ فَسَکَنَتْ ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَ کَانَ ابْنُہٗ یَحْیٰ قَرِیْبًا مِنْھَا فَاَشْفَقَ اَنْ تُصِیْبَہٗ وَلَمَّا اجْتَرَّہٗ رَفَعَ رَاْسَہٗ اِلَی السَّمَآئِ حَتّٰی مَا یَرَاھَا، فَلَمَّا اَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ اِقْرَأْ یَا ابْنَ حُضَیْرٍ اِقْرَأْ یَا ابْنَ حُضَیْرٍ، قَالَ فَاَشْفَقْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنْ تَطَأَ یَحْیٰ وَکَانَ مِنْھَا قَرِیْبًا فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَانْصَرَفْتُ اِلَیْہِ وَ رَفَعْتُ رَاْسِیْ اِلَی السَّمَآئِ فَاِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فِیْھَا اَمْثَالُ الْمَصَابِیْحِ فَخَرَجْتُ حَتّٰی لاَ اَرَاھَا، قَالَ وَ تَدْرِیْ مَا ذَاکَ، قَالَ لاَ، قَالَ تِلْکَ الْمَلاَئِکَۃُ دَنَتْ لِصَوْتِکَ وَ لَوْ قَرَأْتَ لَاَصْبَحَتْ یَنْظُرُ النَّاسُ اِلَیْھَا لاَ تَتَوَارٰی مِنْھُمْ۔
(متفق علیہ واللفظ للبخاری و فی مسلم عرجت فی الجو بدل فخرجت علی صیغۃ المتکلم)
’’حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسید بن حضیر نے بیان کیا کہ وہ (اپنے گھر میں) ایک رات نماز میں سورۂ بقرہ پڑھ رہے تھے اور ان کا گھوڑا اُن کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ یکا یک گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کردیا۔ جب وہ خاموش ہوگئے تو گھوڑا بھی سکون سے کھڑا ہوگیا۔ اُنھوں نے پھر پڑھنا شروع کیا تو گھوڑے نے پھر اُچھلنا کودنا شروع کردیا۔ وہ پھر خاموش ہوگئے تو گھوڑا بھی ساکن ہوگیا۔ اُنھوں نے پھر پڑھا تو گھوڑاپھر اُچھلنے کودنے لگا تب اُنھوں نے سلام پھیر دیا کیوں کہ ان کا بیٹا یحيٰ اس گھوڑے کے قریب ہی تھا اور اُنھیں ڈر لگا کہ کہیں وہ (اپنی اُچھل کود سے) اُسے کوئی ضرر نہ پہنچائے۔ جب اُنھوں نے بچے کو گھوڑے کے پاس سے ہٹا دیا اور اتفاقاً آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی تو کچھ نظر نہیں آیاجب صبح ہوئی تو انھوں نے نبی اکی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا۔۔۔ حضوؐر نے فرمایا اے ابن حضیرؓ (ایسے موقع پر بے تکلف) پڑھتے رہا کرو۔ پھر فرمایا کہ ابن حضیرؓ، پڑھتے رہا کرو۔
حضرت اسید بن حضیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے ڈر یہ لگا کہ میرا گھوڑا میرے بچے یحيٰکو کچل نہ دے کیوں کہ وہ اس کے قریب ہی تھا۔ جب میں نماز سے سلام پھیر کر اُس کی طرف گیااور میں نے اتفاقاً اپنی نگاہ آسمان کی جانب اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ گویا ایک چھتری سی ہے جس کے اندر چراغ سے روشن ہیں۔ میں (کچھ گھبرا کر) وہاں سے نکل آیا (یعنی آسمان کے نیچے سے) تاکہ میری نگاہ پھر اس پر نہ پڑے۔ حضوؐر نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیا چیز تھی؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ حضوؐر نے فرمایا: وہ فرشتے تھے جو تمہارے قرآن پڑھنے کی آواز سن کر قریب آگئے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو ہوسکتا تھا کہ نوبت یہاں تک آجاتی کہ لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے نہ چھپتے۔
تخریج:(۱) قَالَ اللَّیْثُ: حَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ قَالَ بَیْنَمَا ھُوَ یَقْرَأُ مِنَ اللَّیْلِ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ وَ فَرَسُہٗ مَرْبُوْطَۃٌ عِنْدَہٗ اِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ فَسَکَتَ فَسَکَنَتْ فَقَرَأَ فَجَالَتْ فَسَکَتَ فَسَکَنَتْ ثُمَّ قَرأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَ کَانَ ابْنُہٗ یَحْیٰ قَرِیْبًا مِنْھَا فَاَشْفَقَ اَنْ تُصِیْبَہٗ وَلَمَّا اجْتَرَّہٗ رَفَعَ رَاْسَہٗ اِلَی السَّمَآئِ حَتّٰی مَا یَرَاھَا، فَلَمَّا اَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِیَّ ﷺ، فَقَالَ اِقْرَأْ یَا ابْنَ حُضَیْرٍ اِقْرَأْ یَا ابْنَ حُضَیْرٍ، قَالَ فَاَشْفَقْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنْ تَطَأَ یَحْیٰ وَکَانَ مِنْھَا قَرِیْبًا فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَانْصَرَفْتُ اِلَیْہِ وَ رَفَعْتُ رَاْسِیْ اِلَی السَّمَآئِ فَاِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فِیْھَا اَمْثَالُ الْمَصَابِیْحِ فَخَرَجْتُ حَتّٰی لاَ اَرَاھَا، قَالَ وَ تَدْرِیْ مَا ذَاکَ، قَالَ لاَ، قَالَ تِلْکَ الْمَلاَئِکَۃُ دَنَتْ لِصَوْتِکَ وَ لَوْ قَرَأْتَ لَاَصْبَحَتْ یَنْظُرُ النَّاسُ اِلَیْھَا لاَ تَتَوَارٰی مِنْھُمْ۔ (٣٩)
مسلم نے عبد اللہ بن خباب، ابو سعید اُسید بن حضیر والی روایت بیان کی ہے:
(۲) قَالَ یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ، اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ خَبَّابٍ، حَدَّثَہٗ، اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ حَدَّثَہٗ اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃٌ یَقْرَأُ فِیْ مِرْبَدِہٖ اِذْ جَالَتْ فَرَسُہٗ، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ اُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ اَیْضًا۔ قَالَ اُسَیْدٌ: فَخَشِیْتُ اَنْ تَطَأَ یَحْیٰ، فَقَمْتُ اِلَیْھَا، فَاِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَاْسِیْ فِیْھَا اَمْثَالُ السُّرُجِ۔ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا اَرٰھَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔ بَیْنَمَا اَنَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ اَقْرَأُ فِیْ مِرْبَدِیْ اِذْ جَالَتْ فَرَسِیْ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ اَیْضًا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ، قَالَ: فَقَرََاْتُ، ثُمَّ جَالَتْ اَیْضًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، وَکَانَ یَحْیٰ قَرِیْبًا مِنْہُ۔ خَشِیْتُ اَنْ تَطَائَ ہٗ۔ فَرَأَیْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ۔ فِیْھَا السُّرُجُ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا اَرٰھَا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تِلْکَ الْمَلاَئِکَۃُ کَانَتْ تَسْمَعُ لَکَ وَ لَوْ قَرَأْتَ لَاَصْبَحَتْ یَرَاھَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْھُمْ۔ (٤٠)
’’المستدرک‘‘ نے اس روایت کا پس منظر ذرا مختلف بیان کیا ہے:
(۳) عَنْ اُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ اَنَّہٗ کَانَ یَقْرَأُ وَ ھُوَ عَلٰی ظَھْرِ بَیْتِہٖ وَ ھُوَ حَسَنُ الصَّوْتِ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالَ: بَیْنَا أَقْرَأُ اِذْ غَشِیَنِیْ شَیْیئٌ کَالسَّحَابِ وَالْمَرْأَۃُ فِی الْبَیْتِ وَالْفَرَسُ فِی الدَّارِ فَتَخَوَّفْتُ اَنْ تَسْقُطَ الْمَرْأَۃُ وَ تَنْفَلِتَ الْفَرَسُ فَانْصَرَفْتُ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِقْرَأْ یَا اُسَیْدُ فَاِنَّمَا ھُوَ مَلَکٌ اسْتَمَعَ الْقُرْاٰنَ۔
دوسری روایت:
عَنْ اُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ اَنَّہٗ قَالَ بَیْنَا اَقْرَأُ اللَّیْلَۃَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَلَمَّا انْتَھَیْتُ اِلٰی آخِرِھَا سَمِعْتُ وَجْبَۃً مِنْ خَلْفِیْ فَظَنَنْتُ اَنَّ فَرَسِیْ تُطْلِقُ فَقَالَ اِقْرَأْ أَبَا عَتِیْکٍ وَالْتَفَتُّ فَإِذَا اَمْثَالُ الْمَصَابِیْحِ مُدْلاَۃٌ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاللّٰہِ مَا اسْتَطَعْتُ اَنَّ اَمْضِیَ قَالَ: فَقَالَ تِلْکَ الْمَلاَئِکَۃُ نَزَلَتْ لِقِرَأَۃِ الْقُرْاٰنِ اَمَا اِنَّکَ لَوْ مَضَیْتَ لَرَأَیْتَ الْعَجَائِبَ۔ (٤١)
تشریح: یہ ضروری نہیں ہے کہ جب بھی کوئی شخص قرآن پڑھے تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ پیش آئے۔ خود حضرت اُسید بن حضیر کے ساتھ بھی روز ایسا نہیں ہوتا تھا۔ قرآن تو وہ ہمیشہ پڑھتے ہی تھے لیکن اُس روز ان کے ساتھ یہ خاص معاملہ پیش آیا جس کے متعلق ہم نہیں جانتے کہ کیوں پیش آیا۔ نبی انے بھی ان سے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہارے ساتھ ہمیشہ ہوگا۔ یعنی اگر ہر روز رات کو اسی طرح قرآن مجید پڑھو گے تو صبح ایسی نوبت آسکتی ہے کہ فرشتے کھڑے رہیں یہاں تک کہ لوگ انہیں دیکھ لیں۔ اس کے بجائے آپؐ نے فرمایا کہ اگر پھر کبھی ایسا موقع پیش آئے تو بلا تکلف پڑھتے رہا کرو، اِس میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔
یہ کہنا کہ آج ہمیں ایساتجربہ کیوں پیش نہیں آتا تو بات دراصل یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اپنی ہر مخلوق سے، حتیٰ کہ ہر فرد سے الگ الگ معاملہ کرتاہے۔ اس نے سب کو سب کچھ نہیں دے دیا ہے اور نہ کوئی ایسا ہے کہ جسے کچھ نہ دیا ہو۔ بس یہ اللہ کی دین ہے جو وہ مختلف لوگوں کو مختلف طریقوں سے دیتا ہے۔
قرآن پڑھنے والے پر سکینت نازل ہوتی ہے
٣١- عَنِ الْبَرَائِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ یَّقْرَأُ سُوْرَۃَ الْکَھْفِ وَ اِلٰی جَانِبِہٖ حِصَانٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَیْنِ فَتَغَشَّتْہُ سَحَابَۃٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُوْا وَ تَدْنُوْا وَ جَعَلَ فَرَسُہٗ یَنْفِرُ فَلَمَّا اَصْبَحَ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ تِلْکَ السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْاٰنِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت براء بن عازِب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سورۂ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے قریب ہی ایک گھوڑا دو رسیوں کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ اِس دوران میں ایک بادل سا اس پر سایہ فگن ہوا، اور وہ آہستہ آہستہ نیچے آتا چلا گیا۔ جیسے جیسے وہ نیچے آتا رہا اس کا گھوڑا زیادہ اُچھلنے کودنے لگا۔ جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے آپؐ سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ سکینت تھی جو قرآن کے ساتھ نازل ہو رہی تھی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ یَّقْرَأُ سُوْرَۃَ الْکَھْفِ وَ اِلٰی جَانِبِہٖ حِصَانٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَیْنِ فَتَغَشَّتْہُ سَحَابَۃٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُوْا وَ تَدْنُوْا وَ جَعَلَ فَرَسُہٗ یَنْفِرُ فَلَمَّا اَصْبَحَ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ تِلْکَ السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْاٰنِ۔ (٤٢)
(۲) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا اَبُوْ دَاؤُدَ اَنْبَانَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَآئَ یَقُوْلُ: بَیْنَمَا رَجُلٌ یَقْرَأُ سُوْرَۃَ الْکَھْفِ اِذْ رَاٰی دَآبَّتَہٗ تَرْکُضُ فَنَظَرَ فَإِذَا مِثْلُ الْغَمَامَۃِ اَوِ السَّحَابَۃِ فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تِلْکَ السَّکِیْنَۃُ نَزَلَتْ مَعَ الْقُرْاٰنِ اَوْ نَزَلَتْ عَلٰی الْقُرْاٰنِ۔ (٤٣)
تشریح:گزشتہ حدیث کے برعکس یہاں فرشتوں کے بجائے سکینت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سکینت کی تشریح کرنا بڑا مشکل ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف مقامات پر آیا ہے اور اس کے مختلف مفہوم ہیں۔۔۔ سکینت سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ رحمت بھی ہے جو انسان کے دل میں اطمینان، سکون اور ٹھنڈک پیدا کرتی ہے اور اس کو روحانی حیثیت سے تسکین بہم پہنچاتی ہے اور اس سے مراد وہ نصرت بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور خاص آتی ہے۔ اس سے مراد وہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جو قرار و سکینت کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ بنا بریں یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ لفظ یہاں فرشتوں کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے یا یہ اللہ کی رحمت کی کوئی اور شکل تھی جو ان صاحب کے قریب آئی تھی۔
یہ معاملہ بھی ہر ایک کے ساتھ پیش نہیں آتا اور خود ان صاحب کے ساتھ بھی ہمیشہ پیش نہیں آتا تھا۔ وہ کوئی خاص کیفیت تھی جو اُن پر گزری۔ اگر رسول اللہا اس کا معنی اور مفہوم بتانے کے لیے موجود نہ ہوتے تو وہ صحابی ہمیشہ کے لیے حیران ہی رہتے کہ یہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔
اِن دونوں روایتوں میں اس خاص کیفیت میں گھوڑے کے بدکنے اور اُچھلنے کودنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات حیوانات وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو انسانوں کو نظر نہیں آتیں۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ زلزلہ آنے سے پہلے پرندے غائب ہوجاتے ہیں۔ جانوروں کوپہلے سے پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی چیز پیش آنے والی ہے۔ وبائیں آنے سے پہلے کتے اور دوسرے جانور چیخنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ ایسے حواس عطا کردیئے ہیں جو انسانوں کو حاصل نہیں ہیں۔ اس بنا پر اُنھیں بعض ایسی چیزوں کا علم یا احساس ہوجاتا ہے جو انسان کے دائرہ علم و احساس سے باہر ہوتی ہیں
قرآن کے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ہیں
٣٢- عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا، لاَ اَقُوْلُ المٓ حَرْفٌ۔ اَلِفْ حَرْفٌ وَلاَمْ حَرْفٌ وَ مِیْم حَرْفٌ۔ (رواہ الترمذی والدارمی)
’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھتا ہے اس کے بدلے میں اس کی ایک نیکی شمار ہوتی ہے۔ اور (قرآن میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ) ہر نیکی کے بدلے میں دس گنا اَجر ہے۔۔۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ الـم ایک حرف ہے نہیں، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا اَبُوْ بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ، نَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ مُوْسٰی، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ الْقُرَظِیَّ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا، لاَ اَقُوْلُ المٓ حَرْفٌ۔ اَلِفْ حَرْفٌ وَلاَمْ حَرْفٌ وَ مِیْم حَرْفٌ۔ الحدیث۔ (٤٤)
قرآن کی حفاظت نہ کی جائے تو وہ بہت جلد فرامواش ہوجاتا ہے
٣٣- عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: تَعَاھَدُوا الْقُرْاٰنَ فَوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنَ الْإِبِلِ فِیْ عُقُلِھَا۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: قرآن مجید کو ذہن میں محفوظ رکھنے اور یاد رکھنے کا اہتمام کرو کیوں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ ذہن سے نکلنے کے لیے اُسی طرح، بلکہ اس سے زیادہ جلدی کرتا ہے، جس طرح بندھے ہوئے اونٹ رسی تُڑا کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، عَنْ بُرَیْدٍ، عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: تَعَاھَدُوا الْقُرْاٰنَ فَوَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنَ الْإِبِلِ فِیْ عُقُلِھَا۔ (٤٥)
تشریح: مراد یہ ہے کہ اگر قرآن مجید کو یاد کرنے کے بعد اسے یاد رکھنے کی فکر نہ کرے تو یہ آدمی کے ذہن سے اس طرح فرار کرتا ہے جس طرح اونٹ رسّی تڑا کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا نفس قرآن مجید کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ انسان اسے پوری ارادی قوت کے ساتھ قرآن کو قبول کرنے اور ذہن نشین کرنے پر مجبور نہ کرے۔ اگر یہ اہتمام نہ کیا جائے تو وہ قرآن مجید کو اگل دینے اور اس سے نکل بھاگنے کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ اس کے اندر یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ قرآن کی عاید کردہ پابندیوں سے نکلنا چاہتا ہے۔ وہ ان حدود سے تجاوز کرنا چاہتا ہے جو قرآن اس کے لیے مقرر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک بندۂ نفس جو اپنے نفس پر جبر کرکے اُسے خدا کی اطاعت پر آمادہ کرنے والا نہیں ہوتا وہ بعض اوقات قرآن کو سنتے ہوئے گھبراتا ہے کہ نہ معلوم کون سی آیت ایسی آجائے جو اس پر حجت تمام کرکے اُسے مجبور کردے کہ وہ اپنے غلط اور ناجائز کاموں سے باز آجائے۔ اسی لیے فرمایا کہ قرآن کو یاد کرنے کے بعد اُسے ذہن میں محفوظ رکھنے کی کوشش کرو تاکہ یہ تمہاری غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے فراموش نہ ہوجائے۔
قرآن کو دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ پڑھو
٣٤- عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِقْرَأُوا الْقُرْاٰنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوْبُکُمْ، فَاِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا عَنْہُ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت جند ب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: قرآن اُس وقت تک پڑھو جب تک کہ تمہارا دل اس میں لگا رہے۔ جب دل نہ لگ رہا ہو تو پڑھنا چھوڑدو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِقْرَأُوا الْقُرْاٰنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوْبُکُمْ، فَاِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا عَنْہُ۔ (٤٦)
تشریح: مراد یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں قرآن نہ پڑھے جب کہ اس کا ذہن قرآن کی طرف پوری طرح متوجہ نہ ہو۔ آدمی جتنا کچھ دلچسپی اور توجہ کے ساتھ پڑھ سکتا ہو اتنا کچھ پڑھے۔ اصل چیز منزل پوری کرنا نہیں ہے بلکہ قرآن کو پوری توجہ سے اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے پڑھنا ہے یہ نہیں ہے کہ اگر آپ نے ایک پارہ پڑھنے کا ارادہ کیا ہے تو آپ اس حالت میں بھی بیٹھے ہوئے اسے پڑھتے ہیں جب کہ آپ کا ذہن اس کی طرف یکسو نہ ہو رہا ہو، اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ آپ ایک ہی رکوع پڑھیں لیکن اچھی طرح سے دل لگا کر پڑھیں۔ اگر آدمی یہ نہ کرسکے تو محض منزل پوری کرلینے سے کیا حاصل ۔
تین دن سے کم میں قرآن ختم نہ کرو
٣٥- عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَمْ یَفْقَہْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ فِیْ اَقَلِّ مِنْ ثَلاَثٍ۔ (رواہ ابو داؤد والدارمی)
’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہما) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہا کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ اس شخص نے قرآن کو نہیں سمجھا، جس نے اسے تین شب و روز سے کم میں پڑھا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ، نَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:لَمْ یَفْقَہْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ فِیْ اَقَلِّ مِنْ ثَلاَثٍ۔ (٤٧)
تشریح: مطلب یہ ہے کہ اگر آدمی اس رفتار سے پڑھے کہ تین دن سے کم میں پورا قرآن پڑھ ڈالے تو اس رواروی کے عالم میں وہ قرآن کو کیا سمجھ سکے گا۔ اس لیے حضوؐر نے یہ ارشاد فرمایا کہ قرآن کم از کم تین شب و روز میں ختم کرو۔ اس سے زیادہ دنوں میں ختم کرو تو بہتر ہے لیکن اس سے کم میںنہ کرو، کیوں کہ اگر ایک آدمی روزانہ دس پارے کے اوسط سے بھی تیز پڑھے تو اس صورت میں وہ کچھ نہیں سمجھ سکے گا۔
عَلانیہ اور چھپاکر قرآن پڑھنے کی مثال
٣٦-عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اَلْجَاھِرُ بِالْقُرْاٰنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْاٰنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد والنسائی)
’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ رسول اللہا کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ جو شخص بآواز ِ بلند قرآن مجید پڑھتا ہے وہ اس شخص کے مانند ہے جو علانیہ صدقہ دیتا ہے اور جو شخص آہستہ آواز میں قرآن مجید پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر صدقہ دیتا ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ، نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ بُحَیْرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ:الْجَاھِرُ بِالْقُرْاٰنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْاٰنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ۔
ترمذی نے حدیث نقل کرکے بیان کیا ہے:
وَ مَعْنٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ اِنَّ الَّذِیْ یُسِرُّ بِقِرَائَ ۃِ الْقُرْاٰنِ اَفْضَلُ مِنَ الَّذِیْ یَجْھَرُ بِقِرَائَ ۃِ الْقُرْاٰنِ لِاَنَّ صَدَقَۃَ السِّرِّ اَفْضَلُ عِنْدَ اَھْلِ الْعِلْمِ مِنْ صَدَقَۃِ الْعَلاَنِیَّۃِ وَ اِنَّمَا مَعْنٰی ھٰذَا عِنْدَ اَھْلِ الْعِلْمِ لِکَیْ یَاْمَنَ الرَّجُلُ مِنَ الْعُجْبِ لِاَنَّ الَّذِیْ یُسِرُّ بِالْعَمَلِ لاَ یُخَافُ عَلَیْہِ الْعُجْبُ مَا یَخَافُ عَلَیْہِ فِی الْعَلاَنِیَّۃِ۔ (٤٨)
تشریح: مراد یہ ہے کہ مذکورہ دونوں طریقوں سے قرآن مجید پڑھنے کا ثواب بھی ہے اور فائدے بھی ہیں۔ اگر ایک آدمی علانیہ صدقہ دے تو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی صدقے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور ا ن کے دلوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ خدا کی راہ میں صدقہ و خیرات کریں۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص چھپاکر صدقہ دے تو اس کے اندر اخلاص کی کیفیت راسخ ہوتی ہے اور وہ ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے۔۔۔ ایسا ہی معاملہ قرآن مجید کے چھپاکر آہستہ آواز سے پڑھنے اور بلند آواز سے پڑھنے کا ہے۔ بلند آواز سے پڑھنے کا فائدہ یہ ہے کہ خلق خدا تک قرآن کی تعلیم پہنچتی ہے اور لوگوں میں اس کے پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آہستہ آہستہ سے چھپا کر پڑھنے کا یہ فائدہ ہے کہ اس طرح آدمی قرآن پورے اخلاص کے ساتھ، بغیر کسی ریا کے، اللہ کو خوش کرنے کے جذبے سے پڑھتااوراس میں کسی دوسرے جذبے کی آمیزش نہیں ہونے پاتی۔
قرآن خوش آوازی سے پڑھو
٣٧- عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: زَیِّنُوا الْقُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ۔
(رواہ احمد و ابو داؤد وابن ماجہ والدارمی)
’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: قرآن مجید کو اپنی (اچھی) آوازوں سے مزیّن کرو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا جَرِیْرٌ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَۃَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ، عَنِ الْبَرَآئِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: زَیِّنُوا الْقُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ۔ (٤٩)
تشریح: مرادیہ ہے کہ قرآن مجید کو حتی الامکان اچھے لہجے سے اور خوش آوازی سے پڑھنا چاہیے۔ ایسے بے ڈھنگے طریقے سے نہیں پڑھنا چاہیے کہ دِل اس کی طرف کھنچنے کے بجائے اس سے اور زیادہ دُور ہوجائیں جیسا کہ ایک فارسی شاعر نے کہا ؎
گر تو قرآن بریں نمط خوانی
بِبُری رونقِ مسلمانی (سعدیؔ)
خوش آوازی قرآن کے حُسن میں اضافہ کرتی ہے
٣٨-عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: حَسِّنُوا الْقُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ فَاِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ الْقُرْاٰنَ حُسْنًا۔ (رواہ الدارمی)
’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قرآن کو اپنی (اچھی) آوازوں کے ذریعے حَسین بناؤ کیوں کہ اچھی آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، ثَنَا صَدَقَۃُ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ عِمْرَانَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ زَاذَانَ اَبِیْ عُمَرَ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ حَسِّنُوْا الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ فَاِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا۔ (٥٠)
تشریح: اب تک مسلسل ایسی حدیثیں آئی ہیں جن میں سے اگر ایک میں قرآن کو گاکر پڑھنے سے روکا گیا ہے تو دوسری میں اسے اچھے آواز سے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ گاکر پڑھنے میں اور خوش آوازی سے پڑھنے میں فرق ہے اوراسی فرق کی بنا پر ایک چیز ناپسندیدہ ہے اور دوسری پسندیدہ۔
حُسن ِ صوت سے تلاوت ِ قرآن
٣٩- لَقَدْ اُوْتِیَ ھٰذَا مِزْمَاراً مِنْ مَزَامِیْرِ اٰلِ دَاؤُدَ۔
’’اس شخص کو لحن داؤدی میں سے ایک حصہ ملا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ اَبُوْ بَکْرٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْ یَحْیٰ الْحَمَّانِیُّ حَدَّثَنَا بُرَیْدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ جَدِّہٖ اَبِیْ بُرْدَۃَ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ، قَالَ لَہٗ یَا اَبَا مُوْسٰی لَقَدْ اُوْتِیْتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ اٰلِ دَاؤُدَ۔ (٥١)
نسائی کی ایک روایت میں:
(۲) سَمِعَ النَّبِیُّ ﷺ قِرَائَ ۃَ اَبِیْ مُوْسٰی فَقَالَ: لَقَدْ اُوْتِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ اٰلِ دَاؤُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔ (٥٢)
مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے:
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَقَدْ اُعْطِیَ اَبُوْ مُوْسٰی مَزَامِیْرَ دَاؤُدَ۔ (٥٣)
پس منظر: ایک مرتبہ حضرت ابو موسی اشعریؓ (حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بڑے خوش آواز شخص تھے۔ ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بھر کوئی آواز ابو موسیٰ کی آواز سے اچھی نہیں سنی۔) قرآن پڑھ رہے تھے، رسول اللہا راستہ چلتے چلتے ان کی آواز سن کر ٹھہر گئے اور کچھ دیر لطف لینے کے بعد (ان کے متعلق) اس طرح فرمایا (تفہیمات دوم، بے اصل فتنے۔)
تشریح: (حضرت) داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مسخر کیے گئے تھے، اور اس تسخیر کا حاصل یہ تھاکہ وہ بھی حضرت داؤد کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔ یہی بات سورۂ صٓ آیت: ۱۸،۱۹میں بیان کی گئی ہے، اِنَّا سَخَّرْنَا اَلْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِoط وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً طکُلٌّ لَّہٗٓ اَوَّابٌ ’’ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا کہ صبح و شام تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی مسخر کردیے تھے جو اکٹھے ہوجاتے تھے، سب اس کی تسبیح کو دوہراتے۔ سورۂ سبا آیت:۱۰ میں اس کی مزید وضاحت یہ ملتی ہے۔ ’’یَا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ‘‘ پہاڑوں کو ہم نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ تسبیح دُہراؤ اور یہی حکم پرندوں کو دیا۔ ان ارشادات سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤدؑ جب اللہ کی حمد و ثنا کے گیت گاتے تھے تو ان کی بلند اور سریلی آواز سے پہاڑ گونج اٹھتے تھے، پرندے ٹھہر جاتے تھے اور ایک سماں بندھ جاتا تھا۔ اس معنی کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ذکر آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، جو غیر معمولی طور پر، خوش آواز بزرگ تھے، قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ نبی اادھر سے گزرے تو ان کی آواز سن کر کھڑے ہوگئے اور دیر تک سنتے رہے۔ جب وہ ختم کرچکے تو آپؐ نے فرمایا: لَقَدْ اُوْتِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ اٰلِ دَاؤدَ، یعنی اس شخص کو داؤد کی خوش آوازی کا ایک حصہ ملا ہے۔ (تفہیم القرآن ،ج۳، الانبیاء حاشیہ: ۷۱)
ٹھیک ٹھیک سمجھ کر تلاوت ِ قرآن کرنا، اخلاق کی قوت ِ محرِّکہ ہے
٤٠-’’ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْاٰنَ وَلاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ مُرُوْقَ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ‘‘
’’وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اِس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نِکل جاتاہے۔ ‘‘ (بخاری، مسلم، مؤطا)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْخُدْرِیِّ، اَنَّہٗ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: یَخْرُجُ فِیْکُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُوْنَ صَلاَتَکُمْ مَعَ صَلاَتِھِمْ وَ صِیَامَکُمْ مَعَ صِیَامِھِمْ وَ عَمَلَکُمْ مَعَ عَمَلِھِمْ۔ وَ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْاٰنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ یَنْظُرُ فِی النَّصْلِ فَلاَ یَرٰی شَیْئًا وَ یَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ یَریٰ شَیْئًا وَ یَنْظُرُ فِی الرِّیْشِ فَلاَ یَرٰی شَیْئًا وَ یَتَمَارٰی فِی الْفُوْقِ۔ (٥٤)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہا کو فرماتے سنا کہ تم میں کچھ (یا بہت) لوگ نکلیں گے تم اپنے نماز، روزے اور اعمال کو ان کے ساتھ حقیر تصور کروگے (ان کے مقابلہ میں) وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتاہے کہ شکاری کونہ پیکان میں کچھ معلوم ہواور نہ ڈنڈی میں کچھ لگا ہوا محسوس ہو اور نہ پر کے اوپر ہی کچھ اثر نظر آئے البتہ تیر کے پھل کی جگہ کچھ اشتباہ ہو۔
ابو داؤد نے ابو سعید خدری اور انس بن مالک دونوں سے روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ اِخْتِلاَفٌ وَ فِرْقَۃٌ، قَوْمٌ یُحْسِنُوْنَ الْقِیْلَ وَ یُسَیِّئُوْنَ الْفِعْلَ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْاٰنَ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیْھِمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ مُرُوْقَ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ لاَ یَرْجِعُوْنَ حَتّٰی یَرْتَدَّ عَلٰی فُوْقِہٖ الخ۔ (٥٥)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت انس بن مالکؓ رسول اللہا کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں اختلاف اور افتراق پیدا ہوگا کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گفتگو بڑی حسین و عمدہ کریں گے۔ مگر عمل برے ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے وہ لوگ اپنے طریقہ سے واپس نہیں لوٹیں گے جب تک کہ تیر واپس سوفار پر پلٹ نہ آئے۔ (ایسا ممکن نہیں اسی طرح اس گروہ کا اسلام کی جانب پلٹ آنا بھی ممکن و محال ہے)
دوسری روایت ابو سعید خدریؓ سے:
(۳) قَوْمًا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْاٰنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الْاِسْلاَمِ مُرُوْقَ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلاَمِ وَ یَدَعُوْنَ اَھْلَ الْاَوْثَانِ لَئِنْ اَنَا اَدْرَکْتُھُمْ لَاَقْتَلْنٰھُمْ قَتْلَ عَادٍ۔ (٥٦)
ترجمہ: کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار یا کمان سے نکل جاتاہے وہ لوگ اہل اسلام کو تو قتل کریں گے اور بُت پرستوں کو چھوڑیں گے۔ اگر میں ان کو پاؤں تو قوم عاد کی طرح ان کا ملیا میٹ کردوں۔
٤١-مَا اٰمَنَ بِالْقُرْاٰنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہٗ۔ (ترمذی بروایت صہیب رومی رضی اللّٰہ عنہ)
’’قرآن پرایمان نہیں لایا وہ شخص جس نے اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرلیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْوَاسِطِیُّ نَا وَکِیْعٌ نَا اَبُوْ فَرْوَۃَ یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ اَبِی الْمُبَارَکِ، عَنْ صُھَیْبٍ قَالَ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اٰمَنَ بِالْقُرْاٰنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہٗ۔ (٥٧)
تشریح: (قرآن کی تلاوت کرنا اور نماز قائم کرنا) یہی دو چیزیں ایسی ہیں جو ایک مومن میں وہ مضبوط سیرت اور وہ زبردست صلاحیت پیدا کرتی ہیں جن سے وہ باطل کی بڑی سے بڑی طغیانیوں اور بدی کے سخت سے سخت طوفانوں کے مقابلے میں نہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے بلکہ ان کا منہ پھیر سکتا ہے۔ لیکن تلاوت ِ قرآن اور نماز سے یہ طاقت انسان کو اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب کہ وہ قرآن کے محض الفاظ کی تلاوت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کی تعلیم کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی روح میں جذب کرتا چلا جائے، اور اس کی نماز صرف حرکات ِ بدن تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے قلب کا وظیفہ اور اس کے اخلاق و کردار کی قوت ِ محرکہ بن جائے۔
رہی تلاوت تو اس کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ جو تلاوت آدمی کے حلق سے تجاوز کرکے اس کے دل تک نہیں پہنچتی وہ اسے کفر کی طغیانیوں کے مقابلے کی طاقت تو درکنار، خود ایمان پر قائم رہنے کی طاقت بھی نہیں بخش سکتی۔ جیسا کہ حدیث میں ایک گروہ کے متعلق آیا ہے کہ یَقْرَأُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ مُرُوْقَ السَّھْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ’’وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ‘‘درحقیقت جس تلاوت کے بعد آدمی کے ذہن و فکر اور اخلاق و کردار میں کوئی تبدیلی نہ ہو بلکہ قرآن پڑھ کر بھی آدمی وہ سب کچھ کرتا رہے جس سے قرآن منع کرتاہے وہ ایک مومن کی تلاوت ہے ہی نہیں۔ اس کے متعلق نبی اصاف فرماتے ہیں کہ مَا اٰمَنَ بِالْقُرْاٰنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہٗ ’’قرآن پر ایمان نہیں لایا وہ شخص جس نے اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرلیا۔‘‘
ایسی تلاوت آدمی کے نفس کی اصلاح کرنے اور اس کی روح کو تقویت دینے کے بجائے اس کو اپنے خدا کے مقابلے میں اور زیادہ ڈھیٹ اور اپنے ضمیر کے آگے اور زیادہ بے حیا بنا دیتی ہے اور اس کے اندر کیرکٹر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہنے دیتی۔ کیوں کہ جو شخص قرآن کو خدا کی کتاب مانے اور اسے پڑھ کریہ معلوم بھی کرتا رہے کہ اس کے خدا نے اسے کیا ہدایات دی ہیں اور پھر اس کی ہدایات کی خلاف ورزی بھی کرتا چلاجائے اس کا معاملہ تو اس مجرم کا سا ہے جو قانون سے ناواقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ قانون سے خوب واقف ہونے کے بعد جرم کاارتکاب کرتا ہے۔ اس پوزیشن کو سرکار رسالت مآب انے ایک مختصر سے فقرے میں بہترین طریقے پر یوں واضح فرمایا ہے کہ اَلْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَّک اَوْ عَلَیْکَ ’’قرآن حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف‘‘ (مسلم)۔ یعنی اگر تو قرآن کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتا ہے تو وہ تیرے حق میں حجت ہے۔ دنیا سے آخرت تک جہاں بھی تجھ سے باز پُرس ہو، تو اپنی صفائی میں قرآن کو پیش کرسکتا ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کتاب کے مطابق کیا ہے۔ اگر تیرا عمل واقعی اس کے مطابق ہوا تو نہ دنیا میں کوئی قاضی ٔ اسلام تجھے سزا دے سکے گا اور نہ آخرت میں داور ِ محشر ہی کے ہاں اس پر تیری پکڑ ہوگی۔ لیکن اگر یہ کتاب تجھے پہنچ چکی ہو، اور تونے اسے پڑھ کر یہ معلوم کرلیا ہو کہ تیرا رب تجھ سے کیا چاہتا ہے، کس چیز کا تجھے حکم دیتا ہے اور کس چیز سے تجھے منع کرتا ہے، اور پھر تو اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو یہ کتاب تیرے خلاف حجت ہے۔ یہ تیرے خدا کی عدالت میں تیرے خلاف فوج داری کا مقدمہ اور زیادہ مضبوط کردے گی۔ اس کے بعد ناواقفیت کا عذر پیش کرکے بچ جانا یا ہلکی سزا پانا تیرے لیے ممکن نہ رہے گا۔ (تفہیم القرآن ج۳، العنکبوت حاشیہ:۷۷)
قرآن کو گویوں اور بَین کرنے والیوں کی طرح نہ پڑھو
٤٢- عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِقْرَأُوا الْقُرْاٰنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَ اَصْوَاتِھَا، وَ اِیَّاکُمْ وَ لُحُوْنَ اَھْلِ الْعِشْقِ وَ لُحُوْنَ اَھْلِ الْکِتَابَیْنِ، وَ سَیَجِیْئُ بَعْدِیْ قَوْمٌ یُرَجِّعُوْنَ بِالْقُرْاٰنِ تَرْجِیْعَ الْغِنَائِ وَالنَّوْحِ، لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ مَفْتُوْنَۃٌ قُلُوْبُھُمْ وَ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ یُعْجِبُھُمْ شَاْنُھُمْ۔ (رواہ البیھقی فی شعب الایمان و رزین فی کتابہ)
’’حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا، قرآن کو عربی لہجے اور عربی آوازوں میں پڑھو اور دیکھو خبردار! اہل ِ عشق اور اہل ِ کتابَین (یہود و نصاریٰ) کے سے لہجے اختیار نہ کرو، اور عنقریب میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کو گا گا کر یا نوحے کے انداز میں پڑھیں گے۔ قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ دل ان کے بھی فتنے میں پڑے ہوں گے اور ان لوگوں کے بھی، جو اُن کے طرز ِ ادا کو پسند کرنے والے ہوں گے۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ سُفْیَانَ، حَدَّثَنِی الْوَلِیْدُ بْنُ عُتْبَۃَ الدِّمَشْقِیُّ وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالاَ: ثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ، وَ حَدَّثَنِیْ حُصَیْنُ بْنُ مَالِکٍ الْفَزَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَیْخًا یُکْنٰی اَبَا مُحَمَّدٍ وَ کَانَ قَدِیْمًا یُحَدِّثُ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: اِقْرَؤُا الْقُرْاٰنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَ اَصْوَاتِھَا، وَ اِیَّاکُمْ وَ لُحُوْنَ اَھْلِ الْعِشْقِ وَ لُحُوْنَ اَھْلِ الْکِتَابَیْنِ، وَ سَیَجِیْئُ بَعْدِیْ قَوْمٌ یُرَجِّعُوْنَ بِالْقُرْاٰنِ تَرْجِیْعَ الْغِنَائِ وَالنَّوْحِ، لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ مَفْتُوْنَۃٌ قُلُوْبُھُمْ وَ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ یُعْجِبُھُمْ شَاْنُھُمْ۔ قَالَ بَقِیَّۃُ: لَیْسَ لَہٗ اِلاَّ حَدِیْثٌ وَاحِدٌ وَ ھُوَ مِنْ اَھْلِ اِفْرِیْقِیَّۃِ۔ (٥٨)
تشریح: قرآن عربی لہجے اور آوازوں میں پڑھنے کی تاکید فرمانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر عرب بھی قرآن کو عربی لہجے میں اور عربوں کی سی آوازوں میں پڑھیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ قرآن کو ایسے سادہ اور فطری طریق سے پڑھا جائے جس طرح ایک عرب پڑھتا ہے۔ ایک عرب جب قرآن مجید کو پڑھے گا تو وہ اسے اس طرح پڑھے گا جیسے ہم اپنی زبان میں کسی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ جب آپ اُردو زبان کی کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں تو ظاہر بات ہے کہ آپ بنا بنا کر اور گا گا کر نہیں پڑھتے بلکہ اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح کوئی آدمی اپنی مادری زبان کی کسی کتاب کو پڑھتا ہے۔۔۔ اس سے پہلے حضوؐر کایہ ارشاد گزرا ہے کہ قرآن کو اپنی اچھی آوازوں سے مزین کرو۔ معلوم ہوا کہ اچھی آواز کے ساتھ پڑھنااور اہل ِ عرب کے سے سیدھے سادھے طریقے سے پڑھنا دونوں ایک ہی چیز ہیں، کیوں کہ سادہ طریقے سے پڑھنے کا مفہوم یہ نہیں کہ آدمی بے ڈھنگے پن سے اور ناگوار آواز سے پڑھے۔
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ خبردار قرآن کو اہل ِ عشق کے سے لہجے میں مت پڑھو۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح عشق باز لوگ غزلیں گاتے ہیں اس طرح قرآن کو گاکر نہ پڑھو۔
اس کے بعد فرمایا کہ عنقریب وہ لوگ آئیں گے جو قرآن کو گا گا کر اور عورتوں کے بین کرنے کے انداز میں پڑھیں گے۔ بظاہر وہ اسے بڑے ذوق و شوق اور محنت و ریاضت کے ساتھ پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گااور ان کے دلوں تک اس کی رسائی نہیں ہوگی۔ پھر یہی نہیں بلکہ دل ان پڑھنے والوں کے بھی فتنے میں ہوں گے۔۔۔ اور ان کے بھی جو ان کے اِس پڑھنے کو سُن کر جھومیں گے اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسائیں گے۔
حضوؐر نے اس طرح کے پڑھنے والوں اور اس پر سُر دُھننے والوں کو یہ تنبیہ اس لیے فرمائی ہے کہ یہ قرآن کوئی شاعری نہیں ہے جسے لوگ محض لطف اندوزی کے لیے پڑھیں اور واہ واہ اور مرحبا کا شور بلند کریں، جیسے کہ اب ہمارے ہاں قراء توں کی محفلوں میں ہونے لگا ہے۔ بعض اوقات تو ان محفلوں میں مشاعرے کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ فتنے سے خالی نہیں۔
رسولؐ اللہ کا طرز ِ قرأ ت
٤٣– عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سُئِلَ اَنَسٌ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ النَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ کَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰہِ وَ یَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ وَ یَمُدُّ بِالرَّحِیْمِ۔ (رواہ البخاری)
’’حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انسؓ سے پوچھا گیا کہ نبیؐ کی قراء ت کا طریق کیا تھا۔ اُنھوں نے جواب میں فرمایا کہ آپؐ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر (یعنی پوری طرح ادا کرتے ہوئے) پڑھتے تھے پھر اُنھوں نے خود بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سُنائی اور ایک ایک لفظ کو کھینچ کر اداکیا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اللّٰہ، رحمٰناور رحیم کے الفاظ کو کھینچ کر پڑھا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ: سُئِلَ اَنَسٌ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ النَّبِیِّ ﷺ؟ فَقَالَ کَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰہِ وَ یَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ وَ یَمُدُّ بِالرَّحِیْمِ۔ (٥٩)
تشریح: یعنی رسول اللہا قرآن جلدی نہیں پڑھتے تھے بلکہ ایک ایک لفظ کو کھینچ کر ادا کرتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپؐ غیر طبعی طریقے سے کھینچ کر پڑھتے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ آپؐ لفظ لفظ کو آہستہ آہستہ پوری طرح ادا کرتے ہوئے ایسے انداز سے پڑھتے تھے جس سے سننے والا یہ اثر قبول کرے کہ قرآن پڑھنے کے دوران میں آدمی کا ذہن پوری طرح اس بات میں لگا ہوا ہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں اور اس کا مفہوم کیا ہے۔
٤٤- عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ یَعْلٰی بْنِ مَمْلَکٍ اَنَّہٗ سَئَلَ اُمَّ سَلَمَۃَ عَنْ قِرَائَ ۃِ النَّبِیِّ ﷺ۔۔۔ فَاِذَا ھِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد والنسائی)
’’حضرت لیث بن سعدؒ، ابن ابی ملیکہ سے اور وہ یعلیٰ بن مملک سے روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے حضرت اُمِّ سلمہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ا قرآن کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ اس پر حضرت اُمِّ سلمہؓ نے خود اس طرح سے قرآن پڑھ کر سنایا کہ جس سے ایک ایک حرف الگ الگ سننے میں آئے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُوْھِبٍ الرَّمْلِیُّ ثَنَا اللَّیْثُ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ، اَنَّہٗ سَأَلَ اُمَّ سَلَمَۃَ، عَنْ قِرَائَ ۃِ النَّبِیِّ ﷺ فَاِذَا ھِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ (٦٠)
٤٥- عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُقَطِّعُ قِرَائَ تَہٗ یَقُوْلُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ثُمَّ یَقِفُ، ثُمَّ یَقُوْلُ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ثُمَّ یَقِفُ وَکَانَ یَقْرَؤُھَا مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ (رواہ الترمذی و قال لیس اسنادہ بمتصل۔۔۔ وحدیث اللیث اصح)
’’حضرت ابن جریج حضرت ابن ابی مُلیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ اکے قرآن پڑھنے کا طریقہ پوچھا تو اُنھوں نے فرمایا کہ حضوؐر ٹکڑے ٹکڑے کرکے پڑھا کرتے تھے (یعنی ایک ایک فقرے کو الگ الگ کرکے پڑھتے تھے) آپؐ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَپڑھتے تھے پھر ٹھہرتے تھے، پھرالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھتے تھے اور پھر توقف فرماتے تھے۔ اور مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنَ پڑھتے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ الْاَمَوِیُّ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُقَطِّعُ قِرَائَ تَہٗ، یَقُوْلُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ثُمَّ یَقِفُ، ثُمَّ یَقُوْلُ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ثُمَّ یَقِفُ وَ کَانَ یَقْرَؤُھَا مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ (٦١)
تشریح: یہاں یہ بات مزید وضاحت کے ساتھ بتائی گئی ہے کہ حضوؐر قرآن مجید جلدی جلدی نہیں پڑھتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ ایک ہی سانس میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِسے وَلاَ الضَّآلِّیْنَ تک پڑھ ڈالیں، بلکہ آپ ایک ایک فقرے پر ٹھہرتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ حضوؐر قرآن بہت تیز نہیں پڑھا کرتے تھے بلکہ اس طرح آرام سے پڑھتے تھے کہ سُننے والا ایک ایک حرف صاف صاف سُن سکے۔
نبیؐ کا خوش آوازی کے ساتھ قرآن پڑھنا اللہ کو بہت محبوب ہے
٤٦-عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَـْیئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْاٰنِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ نبی کی آواز کو سنتا ہے جب کہ وہ قرآن خوش آوازی کے ساتھ پڑھ رہا ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَـْیئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْاٰنِ۔ (٦٢)
٤٧- عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَـْيئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْاٰنِ یَجْھَرُ بِہٖ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے کہ ایک خوش آواز نبی کے قرآن پڑھنے کو سنتا ہے جب کہ وہ بآوازِ بلند پڑھ رہا ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ، حَدَّثَنِی ابْنُ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ یَزِیْدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ، یَقُوْلُ: مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَـْيئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْاٰنِ یَجْھَرُ بِہٖ۔ (٦٣)
تشریح: مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کے الفاظ اگرچہ کسی قدر مختلف ہیں لیکن ان دونوں کا مضمون اور مفہوم ایک ہی ہے۔ مراد یہ ہے کہ نبی کا خوش آوازی کے ساتھ قرآن پڑھنا ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے بڑھ کر کوئی چیز مرغوب اورمحبوب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جس محبت اور توجہ سے نبی کے قرآن پڑھنے کو سنتا ہے اس محبت اور توجہ سے کسی اور چیز کو نہیں سُنتا۔
حُسن ِ قراء ت کا مفہوم کیا ہے؟
٤٨- عَنْ طَاؤُسٍ مُرْسَلاً قَالَ قَالَ سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ اَیُّ النَّاسِ اَحْسَنُ صَوْتًا لِّلْقُرْاٰنِ وَ اَحْسَنُ قِرَائَ ۃً، قَالَ مَنْ اِذَا سَمِعْتَہٗ یَقْرَأُ اُرِیْتَ اَنَّہٗ یَخْشَی اللّٰہَ قَالَ طَاؤُسٌ وَکَانَ طَلْقٌ کَذٰلِکَ۔ (رواہ الدارمی)
’’حضرت طاؤسؒ سے مرسلا ً روایت ہے (حضرت طاؤس صحابی نہیں تھے کہ انہوں نے خود حضوؐر سے یہ بات سنی ہو، بلکہ انہوں نے کسی صحابی سے سن کر اسے روایت کیا ہے۔ لیکن اس صحابی کا نام نہیں لیا۔ ایسی روایت کو مرسل روایت کہتے ہیں۔) وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اسے پوچھاگیا: کون شخص قرآن کو، اچھی آواز سے اور اچھے طریقے سے پڑھنے والاہے؟ حضوؐر نے ارشاد فرمایا: وہ شحص کہ جب تم اسے پڑھتے ہوئے سنو تو تمہیں ایسا معلوم ہوکہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے (حضرت طاؤسؒ کا بیان ہے کہ نبی اخود ایسے ہی خوش آواز اور روانی سے پڑھنے والے تھے ) طاؤس کا بیان ہے کہ طلق بھی ایسے تھے۔‘‘ (مرتب)
تخریج: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، اَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ، عَنْ طَاؤُسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ اَیُّ النَّاسِ اَحْسَنُ صَوْتًا لِّلْقُرْاٰنِ وَ اَحْسَنُ قِرَائَ ۃً، قَالَ مَنْ اِذَا سَمِعْتَہٗ یَقْرَأُ اُرِیْتَ اَنَّہٗ یَخْشَی اللّٰہَ قَالَ طَاؤُسٌ وَکَانَ طَلْقٌ کَذٰلِکَ۔
وفی الزوائد اسنادہ ضعیف لضعف ابراھیم بن اسماعیل بن مجمّع والراوی عنہ ابن ماجہکے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔
اِنَّ مِنْ اَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْاٰنِ الَّذِیْ اِذَا سَمِعْتُمُوْہُ یَقْرَأُ حَسِبْتُمُوْہُ یَخْشَی اللّٰہَ۔
شُعب الایمان میں مندرجہ ذیل روایت بھی ہے:
عَنْ طَاوٗسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ﷺ مَنْ اَحْسَنُ النَّاسِ قِرَائَ ۃً؟ قَالَ: مَنْ اِذَا قَرَأَ اَنَّہٗ یَخْشَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (٦٤)
تشریح: اس روایت میں نبی انے خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کے مفہوم کو نہایت عمدگی سے واضح فرما دیا ہے۔۔۔ جب حضورا نے فرمایا کہ قرآن کو خوش آوازی سے پڑھو لیکن غنانہ کرو تو لوگوں نے حضوؐر سے عرض کیا کہ پھر خوش آوازی سے کیا مراد ہے؟ اس پر حضوؐر نے یہ تشریح فرمائی کہ قرآن کو اس انداز سے پڑھو جس سے سننے والا یہ محسوس کرے کہ تم خدا سے ڈر رہے ہو۔۔۔
جب ایک آدمی حضور ِ قلب کے بغیر اور خدا سے غافل ہوکر قرآن پڑھتا ہے تو اس کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور جب وہ اسے اچھی طرح سمجھ کر اور خدا سے ڈرتے ہوئے پڑھتا ہے تو اس کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ ایک ایک چیز کا اثر قبول کرتاہے اور اس کے طرز ِ ادا سے اور لب و لہجہ سے اس کی ان باطنی کیفیتوں کا اظہار ہوتاہے
رسولؐ اللہ ـ قرآن اور فریضۂ شہادت ِ حق
٤٩- عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ:اِقْرَأْ عَلَیَّ، قُلْتُ اَقْرَأُ عَلَیْکَ وَ عَلَیْکَ اُنْزِلَ؟ قَالَ اِنِّیْ اَشْتَھِیْ اَنْ اَسْمَعَہٗ مِنْ غَیْرِیْ فَقَرَأْتُ النِّسَآئَ حَتّٰی اِذَا بَلَغْتُ فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ وَ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا، قَالَ لِیْ کُفَّ اَوْ اَمْسِکْ فَرَاَیْتُ عَیْنَیْہِ تَذْرِفَانِ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ انے، جب کہ وہ منبر پر تشریف فرما تھے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: مجھے پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا کیا میں آپؐ کو پڑھ کر سناؤں درآں حالے کہ آپؐ ہی پر تو قرآن اُترا ہے؟ حضوؐر نے فرمایا: ہاں میں چاہتا کہ قرآن کسی دوسرے شخص سے سنوں۔ پھر میں نے سورۂ نساء کی تلاوت کی۔ یہاں تک کہ میں اس آیت پرپہنچا۔۔۔ کیا بنے گی ان لوگوں پر اس وقت جب کہ ہم ہرامت پرایک گواہ لائیں گے اور اے نبیؐ ہم آپ کو اس اُمت پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے‘‘۔۔۔ جب میں اس مقام پر پہنچا تو حضوؐر نے فرمایا: بس کافی ہے۔۔۔ اچانک میری نگاہ حضوؐر کے چہرہ مبارک پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ یَحْیٰ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَبِیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ الْاَعْمَشُ: وَ بَعْضَ الْحَدِیْثِ حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِی الضُّحیٰ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ:اِقْرَأْ عَلَیَّ، قُلْتُ اَقْرَأُ عَلَیْکَ وَ عَلَیْکَ اُنْزِلَ؟ قَالَ اِنِّیْ اَشْتَھِیْ اَنْ اَسْمَعَہٗ مِنْ غَیْرِیْ فَقَرَأْتُ النِّسَآئَ حَتّٰی اِذَا بَلَغْتُ فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ وَ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا، قَالَ لِیْ کُفَّ اَوْ اَمْسِکْ فَرَاَیْتُ عَیْنَیْہِ تَذْرِفَانِ۔ (٦٥)
تشریح: وہ تمام لوگ رسول اللہا کی اُمّت ہیں جو آپؐ کی بعثت کے بعد اس دنیا میں پائے جاتے ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ اگر وہ حضوؐر پر ایمان لائے ہیں تو وہ ایک معنی میں آپؐ کی امّت ہیں اوراگر اُنھوں نے ایمان قبول نہیں کیا تو وہ دوسرے معنی میں آپؐ کی امت ہیں۔ کسی نبی کی امت ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کے پیرو ہوں اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی طرف اس نبی کوبھیجا گیا ہو۔ رسول اللہا چوں کہ تمام انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے آپؐ کی بعثت سے لے کر قیامت تک جتنے لوگ ہوں وہ سب آپ کی امت ہیں۔
نبی ا حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے سورہ نساء کی آیت سن کر آب دیدہ کیوں ہوگئے؟
اس بات پر غور کیجیے۔
آخرت میں سب قومیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کی جائیں گی اور ہر قوم پر اس کے نبی کو بطور گواہ کھڑا کیا جائے گا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی حجت اس قوم پر اس وقت تک پوری نہیں ہوگی جب تک کہ نبی خدا کے حضور میں اس بات کی شہادت نہ دے کہ اس نے خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا حق ادا کردیا تھا۔ اگر معاذ اللہ نبی کی طرف سے کوئی ادنیٰ سی کوتاہی بھی رہ گئی ہو تو وہ اس بات کی شہادت نہیں دے سکتا کہ اس نے پیغام پہنچانے کا حق ادا کردیا۔ اس طرح اس کی اُمت سے ذمہ داری ساقط ہوجاتی ہے اور استغاثہ کی شہادت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
نبی اکو اپنی ذمے داری کا اس قدر شدید احساس تھا کہ جب آپؐ نے یہ آیت سنی تو آپؐکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس خیال نے آپؐ کو بے تاب کردیا کہ مجھے کتنی بڑی ذمے داری کے مقام پر کھڑا کیا گیا ہے۔ آج سے لے کر قیامت تک جتنے انسان بھی ہوں گے ان سب پر خدا کی حجت میرے ذریعے سے تمام ہوگی۔ اگر مجھ سے اس حجت کو پورا کرنے میں ذرّہ برابر بھی کمی رہ گئی تو مجھے اس کی جواب دہی کرنا پڑے گی۔
غور کیجیے۔۔۔ کیا اس سے بڑا کوئی منصب اس دنیا میں ممکن ہے، اور کیا ایک انسان کی اس سے بڑی کوئی ذمے داری ہوسکتی ہے کہ اس کے زمانے سے لے کر قیامت تک کے تمام انسانوں پر خدا کی حجت پوری ہونے کی ذمے داری تنہا اس کی ذات پر ہو، عملا ً یہ منصب نبی کریم ا کا تھا اوراسی کٹھن ذمے داری کے احساس سے حضوؐر کی کمر دوہری ہوئی جاتی تھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تسلی دلانے کے لیے یہ الفاظ فرمائے:
وَ وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ oلا الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ۔ (الم نشرح :٢،٣)
’’اور ہم نے آپؐ سے وہ بھاری بوجھ اُتار دیاجو آپؐکی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔‘‘
ایک طرف تونبی کریم اکو اپنی اس عظیم اور کٹھن ذمے داری کا شدید احساس تھا اور دوسری طرف آپ ہر وقت اس غم میں گھلے جاتے تھے کہ جن لوگوں کو میں ہدایت کی طرف بلا رہا ہوں وہ اس سے مسلسل رُو گردانی کرکے خود کو ایک خوفناک انجام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ قرآن میں آپ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:
لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلاَّ یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (الشعراء:٣)
’’شاید آپؐ اس غم میں اپنی جان کھودیں گے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ جب آپؐ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے وہ آیت سنی توآپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپؐ نے فرمایا کہ بس یہیں رُک جاؤ، اب آگے کا تحمل نہیں ہے۔
قیامت کے روز کی تین فیصلہ کن چیزیں- قرآن، امانت، قرابت داری
٥٠- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: ثَلٰـثَۃٌ تَحْتَ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اَلْقُرْاٰنُ یُحَاجُّ الْعِبَادَ ۔۔ لَہٗ ظَھْرٌ وَ بَطْنٌ۔۔ وَالْأَمَانَۃُ وَالرَّحِمُ تُنَادِیْ: اَلاَ مَنْ وَّصَلَنِیْ وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللّٰہُ۔ (شرح السُّنَّۃ للبغوی)
’’حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ رسول اللہ ا کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ تین چیزیں قیامت کے روز عرش کے نیچے ہوں گی۔ ایک چیز قرآن ہے جو بندوں کے حق میں یا ان کے خلاف مقدمہ لڑنے والا ہوگا۔۔۔ اس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ۔۔۔ دوسری چیز امانت ہے اور تیسری چیز رحم یعنی قرابت داری ہے۔ رحم پکار رہا ہوگا کہ جس نے صلہ رحمی کی اللہ اُس کو جوڑے گا اور جس نے قطع ِ رحمی کی اللہ اس کو کاٹے گا۔‘‘
تخریج: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: ثَلٰـثَـۃٌ تَحْتَ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْقُرْاٰنُ یُحَاجُّ الْعِبَادَ لَہٗ ظَھْرٌ وَ بَطْنٌ- وَالْاَمَانَۃُ وَالرَّحِمُ، تُنَادِیْ اَلاَ مَنْ وَصَلَنِیْ وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَۃ اللّٰہ۔ (٦٦)
تشریح: قیامت کے روز قرآن مجید، امانت اور رشتہ داری کے عرش کے نیچے ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ چیزیں وہاں انسانی شکل میں کھڑی ہوں گی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ اہم چیزیں ہیں جو قیامت کے روز انسان کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے سامنے موجود ہوں گی۔ اس چیز کو اس تمثیلی رنگ میں پیش کیا گیا کہ جیسے کسی بڑے بادشاہ کے حضور میں اس کے تین بڑے مقرب کھڑے ہوئے یہ بتا رہے ہوں کہ کون آدمی کیسا ہے اور کس سلوک کا مستحق ہے۔ اس طرح گویا اس بات کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ قیامت کے روز انسانوں کا فیصلہ کرنے میں سب سے پہلے جو چیز سامنے آئے گی وہ قرآن ہے۔ قرآن کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ’’یُحَاجُّ الْعِبَادَ۔‘‘ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی یہ ہیں کہ قرآن بندوں کے خلاف مقدمہ لڑے گا اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ وہ بندوں کے حق میں مقدمہ لڑے گا۔
٭ یہ وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے ایک حدیث میں گزر چکا ہے کہ اَلْقُرْاٰنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ ’’قرآن یا تو تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف‘‘ قرآن کے آجانے کے بعد اب معاملہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اب یا تو وہ تمہارے حق میں حجت ہے اگر تم نے اس کے مطابق کام کیا ہے، اور یا وہ تمہارے خلاف حجت ہے اگر تم نے اس کے خلاف کام کیا ہے۔ چناں چہ قیامت کے روز یہ قرآن بندے کے حق میں یا اس کے خلاف مقدمہ لڑنے والا ہوگا۔ ایک آدمی جب خدا کے حضور پیش ہوگا تو اس وقت اگر اس بات کا ثبوت ملا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی شکل میں اپنا جو فرمان اس کے پاس بھیجا تھا اس نے اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی ہے تو قرآن ہی اس کے حق میں حجت پیش کرے گا اور اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ آپ کا بندہ آپ کے فرامین کے مطابق دنیا میں کام کرکے آیا ہے اس لیے اسے یہ اجر اور جزا عطا کی جائے۔ لیکن اگر وہ شخص قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس کے خلاف کام کرتا رہا تھا تو پھر قرآن ہی اس کے خلاف مقدمہ لڑنے والا ہوگا۔
پھر فرمایا کہ اس قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ مطلب یہ ہے کہ ایک چیز تو قرآن کے صاف صاف الفاظ ہیں جو ہر شخص پڑھ سکتا ہے، اور ایک چیز ان الفاظ کے معانی اور ان کا مدّعا ہے۔ قیامت کے روز قرآن کے الفاظ بھی حجت ہوں گے اور اس کے معانی بھی۔ قرآن میں اگر صاف الفاظ میں ایک حکم بیان کردیا گیا ہے کہ فلاں فعل ممنوع ہے اور کسی شخص نے اس ممنوع فعل کا ارتکاب کیا تو اس صورت میں قرآن کے الفاظ اس کے خلاف حجت ہوں گے۔
اسی طرح قرآن مجید کے الفاظ کے اندر وہ مطالب ہیں جن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ قرآن انسان میں کس قسم کے اخلاق کو اُبھارنا چاہتا ہے اور کس قسم کے اخلاق کو دبانا چاہتا ہے کون سی چیز اللہ کو پسند ہے اور کون سی نا پسند۔ اس طرح پورا قرآن یہ نقشہ پیش کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ طرز ِ زندگی کیا ہے اور کیا نہیں۔ اب اگر کسی شخص نے اس کے خلاف طرز ِ زندگی اختیار کر رکھاہے تو پورے قرآن کی رُوح اور اس کے معانی اس شخص کے خلاف ہوں گے۔
٭دوسری چیز جو عرش کے نیچے بندوں کے خلاف مقدمے کا فیصلہ کرنے میں قرآن کے بعد اہم ترین ہوگی وہ امانت ہے۔۔۔ امانت کے محدود معنی یہاں مراد نہیں ہیں۔ امانت کا عام مفہوم لوگوں کے ذہن میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے پاس روپیہ یا زیور یا کوئی اور چیز کچھ وقت کے لیے اس اعتماد پر رکھے کہ حسب ِ طلب اس کو واپس مِل جائے گی تو یہ امانت کا یہ تصور بہت محدود ہے۔ امانت کے معنی دراصل یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے سپرد اپنا کوئی حق اس اعتماد پر کرے کہ وہ اس کے حق کو مارے گا نہیں تو یہ چیز امانت ہے۔ اگر کوئی شخص اس امانت میں خیانت کرتا ہے تو قیامت کے روز امانت اس کے خلاف گواہی دے گی۔
اب دیکھیے، ہمارے پاس سب سے پہلی امانت کیا ہے؟ ہمارے پاس سب سے پہلی امانت ہمارا یہ جسم ہے جو ہمارے خدا نے ہمیں عطا کیا ہے۔ اس سے زیادہ قیمتی چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ پورا جسم تو درکنار اس کی کسی ایک قوت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح خدا کی یہ زمین ہے اس پر اختیارات ہم میں سے ہر شخص کو حاصل ہیں، کسی کو زیادہ اور کسی کو کم، یہ سب امانت ہیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیے کہ انسانی تعلقات میں ہر طرف امانتیں ہی امانتیں ہیں۔ انسانی تعلقات کا آغاز نکاح سے ہوتا ہے اور اس طرح پورے انسانی تمدّن کی بنیاد ایک عورت اور ایک مرد کے ازدواجی تعلّق پر ہے کیوں کہ اسی سے انسانی معاشرہ جنم لیتا ہے۔ یہ سب کی سب امانت ہے۔ عورت اپنی زندگی ایک مرد کے سپرد اس اعتماد پر کرتی ہے کہ وہ ایک شریف آدمی ہے اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے نباہ کرے گا۔ ایک مرد ایک عورت کی ذمے داری ساری عمر کے لیے اس اعتماد پر قبول کرتا ہے کہ وہ ایک شریف عورت ہے اور زندگی کے ہر نشیب و فراز میں وہ اس کا ساتھ دے گی۔ اس نے اپنا مال، عزّت، آبرو، غرض جو چیز اس کے حوالے کی ہے وہ اس میں خیانت نہیں کرے گی۔۔۔ اِسی طرح اولاد کا جو بھی سراسر اعتماد پر مبنی ہے۔ اولاد اپنے والدین پر یہ اعتماد کرتی ہے کہ وہ ہمارے حق میں بھلائی کریں گے اور جان بوجھ کر ہمارے ساتھ کوئی برائی نہیں کریں گے۔ اولاد کی فطرت میں یہ اعتماد پایا جاتا ہے، قطع ِنظر اس سے کہ الفاظ میں اس کا اظہار ہو یا نہ ہو۔ ایک چھوٹا بچہ جو ابھی پیدا ہوا ہے وہ اپنی فطرت میں ایک اعتماد لے کر پیدا ہوتا ہے کہ گویا اس کے اور اس کے والدین کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ اس کی پیدائش کے ساتھ ہی وجود میں آجاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی بیٹی کو کسی کے نکاح میں دیتاہے وہ اس کی شرافت پر اعتماد کرکے دیتا ہے۔ ایک آدمی اگر کسی بیٹی کو بیاہ کر لاتا ہے تو وہ اس کے خاندان کی شرافت پر اعتماد کرکے بیاہ کر لاتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ رشتہ داروں کا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ ہر ہمسایہ اپنے ہمسائے پر یہ اعتماد کرنے پر مجبور ہے کہ اس کی جان و مال اور عزّت و آبرو اس کے ہاتھوں محفوظ ہے۔ اسی طرح آپ اپنی پوری زندگی میں دیکھیں گے کہ تمام انسانی تعلقات اس امانت داری اور اعتماد پر مبنی ہیں کہ اگر ایک آدمی کے ساتھ کوئی معاملہ کیا جارہا ہے تو وہ معاملہ کرنے والے کے کسی حق میں خیانت نہیں کرے گا۔۔۔ کسی ملک کا پورا نظام ِحکومت ایک امانت ہی تو ہے۔ پوری قوم اپنی امانتیں حکومت کے حوالے کرتی ہے وہ اپنا مستقبل، اوراپنے تمام ذرائع و وسائل اس کے حوالے کردیتی ہے۔ حکومت کے جتنے ملازمین ہیں ان کے سپرد امانتیں ہی تو کی گئی ہیں۔ اسمبلیوں کے ارکان کو پوری قوم اپنی امانت ہی تو سونپتی ہے۔۔۔ لاکھوں آدمیوں پر مشتمل ملک کی یہ فوج جسے قوم منظم کرکے خود اپنے ملک میں رکھتی ہے اور حربی اہمیت کے مقامات پر لاکر بٹھاتی ہے، اسے اپنے خرچ سے ہتھیار فراہم کرکے دیتی ہے اور اپنی آمدنیوں کا ایک حصہ کاٹ کر ان کی تنخواہوں کا انتظام کرتی ہے، یہ اس اعتماد پر ہی تو بنائی اور رکھی جاتی ہے کہ وہ ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دے گی اور جو ذمہ داری اس کے سپرد کی گئی ہے اس میں خیانت نہیں کرے گی۔۔۔ اَب اگر ان ساری امانتوں میں ہر طرف خیانت ہونے لگے تو انسانی تہذیب و تمدّن کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی بنا پر یہ امانت وہ عظیم الشان چیز ہے جو قیامت کے روز انسان کے خلاف یا اس کے حق میں مقدمہ لڑنے کے لیے موجود ہوگی۔ جس نے جتنی زیادہ خیانتیں کی ہوں گی وہ وہاں اتنا ہی بڑا مجرم شمار ہوگا اور جس نے ان امانتوں کا جتنا زیادہ حق ادا کیا ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ خدا کے انعام کا مستحق ٹھہرے گا۔
٭ تیسری چیز جو قیامت کے روز غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوگی وہ رحم ہے، یعنی رشتہ داری، رشتہ داری وہ چیز ہے جس پر انسانی تمدّن کی تعمیر ہوئی ہے۔ انسانی تمدّن کا آغاز ہی اس طرح ہوا ہے کہ ایک انسان کی اولاد اور پھر اس کے بعد اس کے دوسرے رشتہ دار جب جمع ہوتے ہیں تو ایک خاندان یا قبیلہ بنتا ہے اور جب بہت سے خاندان اور قبیلے جمع ہوتے ہیں تب ایک قوم بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن میں صلۂ رحمی کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور قطع ِ رحمی کو انسانی تہذیب و تمدن کی جڑ کاٹنے والی چیز قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ رحم یعنی خونی رشتہ داری وہ تیسری چیز ہے جس پر قیامت کے روز انسانوں کا فیصلہ ہوگا۔ اس روز رحم پکار کر کہے گا کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹے گا۔ جب ایک آدمی اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں بے رحم ہو اور ان کے ساتھ سرد مہری برتنے والا ہو تو پھر وہ دنیا میں کسی کا دوست نہیں بن سکتا۔ اس کے بعد اگر وہ کسی کا دوست بنتا ہے تو محض اغراض اور مفاد کے لیے دوست بنتا ہے۔ اس کا مفاد جہاں تک اس کا ساتھ دیتاہے وہاں تک وہ دوست ہوتا ہے اور جہاں اس کے مفاد پر زد پڑتی ہے وہیں وہ اپنے دوست کے ساتھ غداری کرتا ہے۔ یہ عین فطری بات ہے کہ جو اپنے بھائی کا نہ ہوا وہ کسی اور کا کیا ہوگا۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں صلۂ رحمی کو اس قدر زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اس چیز کا ذکر یہاں ان الفاظ میںکیا گیا ہے۔
قرآن پرایمان کس کا معتبر ہے
٥١- عَنْ صُھَیْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اٰمَنَ بِالْقُرْاٰنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہٗ۔
(رواہ الترمذی و قال ھٰذا حدیث لیس اسنادہ بالقوی)
’’حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ انے فرمایا: وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں لایا جس نے اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرلیا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْوَاسِطِیُّ، نَا وَکِیْعٌ، نَا اَبُوْ فَرْوَۃَ وَ یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ اَبِی الْمُبَارَکِ، عَنْ صُھَیْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا اٰمَنَ بِالْقُرْاٰنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہٗ۔ (٦٧)
تشریح: قرآن کے کلام اللہ ہونے پر ایمان لانا اور قرآن کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنا، دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔۔۔ ایک شخص کے قرآن کو ماننے اور اُسے پڑھنے کا کیا فائدہ اگر وہ قرآن کی حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال کرلے اور اس کی پوری زندگی سے اس بات کی کوئی شہادت نہ ملے کہ اُس نے واقعی قرآن کو اللہ کی کتاب ہدایت مانا ہے۔۔۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسان سے بعض چیزوں کے اختیار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور بعض کو اس سے چھڑوانا چاہتی ہے۔ اس پرایمان لانے کے بعد بھی اگر ایک آدمی کی زندگی میں کوئی صالح تغیر پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کا کوئی صحیح رُخ متعین ہوتا ہے تو اس کا ایمان لانا، نہ لانا دونوں برابر ہیں۔
قرآن مجید اور مومن کا تعلق
٥٢- عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّۃِ رِیْحُھَا طَیِّبٌ وَ طَعْمُھَا طَیِّبٌ وَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ مَثَلُ التَّمْرَۃِ لاَ رِیْحَ لَھَا وَ طَعْمُھَا حُلْوٌ وَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِیْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ لَیْسَ لَھَا رِیْحٌ وَ طَعْمُھَا مُرٌّ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ وَ یَعْمَلُ بِہٖ کَالْاُتْرُجَّۃِ: وَالْمُؤْمِنُ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَعْمَلُ بِہٖ کَالتَّمْرَۃِ۔
’’حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: جو مومن قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور اس کا مزہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو نہیں ہوتی البتہ مزہ اس کا میٹھا ہوتا ہے۔ اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا ہے اس کی مثال حنظل (ایلوا) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی کوئی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال خوشبودار پھل کی سی ہے اس میں خوشبو تو ہوتی ہے لیکن مزہ اس کا کڑوا ہوتا ہے۔۔۔ ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ۔۔۔ جو مومن قرآن پڑھتاہے اور اس کے مطابق عمل کرتاہے اس کی مثال ترنج کی سی ہے اور جو مؤمن قرآن نہیں پڑھتا اور اس پر عمل کرتاہے اس کی مثال کھجور کی سی ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، وَ اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ کِلاَھُمَا عَنْ اَبِیْ عَوَانَۃَ، قَالَ قُتَیْبَۃُ: نَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ الْاَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّۃِ رِیْحُھَا طَیِّبٌ وَ طَعْمُھَا طَیِّبٌ وَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ مَثَلُ التَّمْرَۃِ لاَ رِیْحَ لَھَا وَ طَعْمُھَا حُلْوٌ وَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِیْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ لَیْسَ لَھَا رِیْحٌ وَ طَعْمُھَا مُرٌّ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ وَ یَعْمَلُ بِہٖ کَالْاُتْرُجَّۃِ: وَالْمُؤْمِنُ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَعْمَلُ بِہٖ کَالتَّمْرَۃِ۔ (٦٨)
(۲) وَ فِیْ رِوَایَۃٍ:الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَعْمَلُ بِہٖ کَالأُتْرُجَّۃِ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِیْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَ یَعْمَلُ بِہٖ کَالتَّمْرَۃِ۔ (٦٩)
تشریح: رسول اللہ انے قرآن مجید کی عظمت ذہن نشین کرنے کے لیے کیسی بے نظیر مثالیں بیان فرمائیں ہیں۔۔۔ یعنی قرآن مجید بجائے خود ایک خوشبو ہے، اگر مومن اسے پڑھے گا تب بھی اس کی خوشبو پھیلے گی اور اگر منافق پڑھے گا تب بھی اس کی خوشبو پھیلے گی۔ البتہ مومن اور منافق کی شخصیتوں میں جو حقیقی فرق ہوتاہے وہ ایمان اور نفاق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر مومن ہے اور قرآن نہیں پڑھتا ہے تو خوشبو تو اس کی نہیں پھیلتی لیکن اس کی شخصیت بہرحال اس پھل کے مانند ہے جو خوش ذائقہ ہو۔ لیکن اگرمنافق ہے اور قرآن نہیں پڑھ رہا ہے تو اس کی خوشبو بھی نہیں پھیلتی اور اس کی شخصیت بھی تلخ اور بدمزہ پھل کے مانند ہوتی ہے۔
ایک دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتاہے اس کی مثال ترنج کی سی ہے اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا مگر اس کے مطابق عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی سی ہے۔ اِن دونوں روایتوں میں فرق کی نوعیت بس اتنی ہے کہ ایک روایت میں قرآن پڑھنے اور ایمان رکھنے کے نتائج بیان کیے گئے ہیں اور دوسری میں قرآن پڑھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ اصولی حیثیت سے مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔
قرآن کو دشمن کی سر زمین میں نہ لے جاؤ
٥٣- عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُّسَافَرَ بِالْقُرْاٰنِ اِلٰی اَرْضِ الْعَدُوِّ۔ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ) وَ فِیْ رِوَایَۃٍ لِّمُسْلِمٍ لاَ تُسَافِرُوْا بِالْقُرْاٰنِ فَاِنِّیْ لاَ اٰمَنُ اَنْ یَّنَالَہُ الْعَدُوُّ۔
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جائے۔ مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ قرآن لے کر (دشمن کی سرزمین میں) نہ جاؤ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی اَنْ یُسَافَرَ بِالْقُرْاٰنِ اِلٰی اَرْضِ الْعَدُوِّ۔ (٧٠)
مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی ایک روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہٗ کَانَ یَنْھٰی اَنْ یُسَافَرَ بِالْقُرْاٰنِ اِلٰی اَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَۃَ اَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ۔
مسلم نے ایک اور روایت بھی نقل کی ہے:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لاَ تُسَافِرُوْا بِالْقُرْاٰنِ فَاِنِّیْ لاَ اٰمَنُ اَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ۔ وَ قَالَ اَیُّوْبُ: فَقَدْنَا لَہُ الْعَدُوُّ وَ خَاصَمُوْکُمْ بِہٖ۔ (٧١)
شعب الایمان میں ابن عمر سے منقول روایت:
(۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُسَافَرَ بِالْقُرْاٰنِ اِلٰی اَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَۃَ اَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ۔ (٧٢)
تشریح: مدعا یہ ہے کہ جس جگہ قرآن مجید کی توہین اور بے ادبی ہونے کا اندیشہ ہو وہاں جان بوجھ کر قرآن کالے جانا درست نہیں۔
راسخ الإیمان صحابیؓ - شفیق نبیؐ- کریم خدا
٥٤- عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ یُّصَلِّیْ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً اَنْکَرْتُھَا عَلَیْہِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہٖ فَلَمَّا قَضَیْنَا الصَّلٰوۃَ دَخَلْنَا جَمِیْعًا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ اِنَّ ھٰذَا قَرَأَ قِرَائَ ۃً اَنْکَرْتُھَا عَلَیْہِ وَ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہٖ۔ فَاَمَرَھُمَا النَّبِیُّ ﷺ فَقَرَئَ فَحَسَّنَ شَانَھُمَا فَسَقَطَ فِیْ نَفْسِیْ مِنَ التَّکْذِیْبِ وَلاَ اِذْ کُنْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَلَمَّا رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا قَدْ غَشِیَنِیْ ضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ فَفِضْتُ عَرَقًا وَ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلَی اللّٰہِ فَرَقًا، فَقَالَ لِیْ یَا اُبَیُّ اُرْسِلَ اِلَیَّ اَنِ اقْرَئِ الْقُرْاٰنَ عَلٰی حَرْفٍ فَرَدَدْتُّ اِلَیْہِ اَنْ ھَوِّنْ عَلٰی اُمَّتِیْ فَرَدَّ اِلَیَّ الثَّانِیَۃَ اقْرَئْ ہُ عَلٰی حَرْفَیْنِ فَرَدَدْتُ اِلَیْہِ اَنْ ھَوِّنْ عَلٰی اُمَّتِیْ فَرَدَّ اِلَیَّ الثَّالِثَۃَ اقْرَئْ ہُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ وَلَکَ بِکُلِّ رَدَّۃٍ رَدَدْتُّکَھَا مَسْاَلَۃٌ تَسْاَلُنِیْھَا فَقُلْتُ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ وَ اَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ لِیَوْمٍ یَّرْغَبُ اِلَیَّ الْخَلْقُ کُلُّھُمْ حَتّٰی اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں (ایک روز) مسجد نبویؐ میں تھا، اتنے میں ایک شخص آیااور نماز پڑھنے لگا۔ اس نے نماز میں قراء ت اس طرح کی کہ مجھے عجیب معلوم ہوئی۔ پھرایک اور شخص آیا اور اس نے ایسی قراء ت کی جو پہلے شخص سے بھی مختلف تھی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم تینوں رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے حضوؐر سے عرض کیا کہ اس شخص نے قرآن مجید اس طرح پڑھا ہے جو مجھے درست معلوم نہیں ہوا، اور اس دوسرے شخص نے اس سے بھی مختلف طریقے سے پڑھا ہے (یہ کیا معاملہ ہے؟) نبی انے ان دونوں کو (اپنے اپنے طریقے سے قرآن) پڑھ کر سنانے کا حکم دیاان دونوں کی قرأت سن کر حضوؐر نے انہیں درست قرار دیا۔ اس پر میرے دل میں تکذیب کا ایسا وسوسہ آیا کہ جاہلیت کے زمانے میں بھی کبھی نہیں آیا تھا جب رسول اللہا نے میری یہ کیفیت دیکھی تو آپؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا۔ آپؐ کے ہاتھ مارتے ہی میں پانی پانی ہوگیا اور میرے پسینے چھوٹ گئے اور مجھے ڈر کے مارے یوں محسوس ہوا کہ گویا میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر حضوؐر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابی! جب قرآن مجید میری طرف بھیجا گیا تو مجھے حکم دیا گیا کہ میں اسے ایک حرف پر (یعنی لہجے کے مطابق) پڑھوں (اور وہ لہجہ قریش کا لہجہ تھا) میں نے جواب میں یہ عرض کہلا بھیجی کہ میری اُمت کے ساتھ نرمی برتی جائے۔ پھر پلٹ کر مجھے جواب دیا گیا کہ دو اَحرف (یعنی دو لہجوں) پر پڑھ سکتے ہو۔ میں نے پھر جواب میں عرض کیا کہ میری امت کے ساتھ اور نرمی برتی جائے۔ تیسری مرتبہ جواب میں یہ فرمایا گیا کہ اچھا اب قرآن کو سات لہجوں کے ساتھ پڑھ سکتے ہو۔ مزید یہ ارشاد ہوا کہ جتنی مرتبہ تم نے گزارش کی ہے اور تمہیں اس کاجواب دیا گیا ہے اس پر تمہیں اتنی ہی دعائیں مانگنے کی اجازت دی جاتی ہے( اور وہ دعائیں قبول ہوں گی) اس پر میں نے عرض کیا: اے خدا میری اُمت کو معاف کردے، اے خدا میری اُمت کو معاف کردے۔ اور تیسری دُعا میں نے اُس دن کے لیے اُٹھا رکھی جب کہ ساری مخلوق میری طرف رجوع کرے گی (کہ میں خدا کے حضور ان کی شفاعت کروں) یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی رجوع فرمائیں گے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ، قَالَ: نَا اَبِیْ، قَالَ: نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ جَدِّہٖ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ یُّصَلِّیْ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً اَنْکَرْتُھَا عَلَیْہِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہٖ فَلَمَّا قَضَیْنَا الصَّلٰوۃَ دَخَلْنَا جَمِیْعًا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ اِنَّ ھٰذَا قَرَأَ قِرَائَ ۃً اَنْکَرْتُھَا عَلَیْہِ وَ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہٖ۔ فَاَمَرَھُمَا النَّبِیُّ ﷺ فَقَرَئَ فَحَسَّنَ شَانَھُمَا فَسَقَطَ فِیْ نَفْسِیْ مِنَ التَّکْذِیْبِ وَلاَ اِذْ کُنْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَلَمَّا رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا قَدْ غَشِیَنِیْ ضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ فَفِضْتُ عَرَقًا وَ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلَی اللّٰہِ فَرَقًا، فَقَالَ لِیْ یَا اُبَیُّ اُرْسِلَ اِلَیَّ اَنِ اقْرَئِ الْقُرْاٰنَ عَلٰی حَرْفٍ فَرَدَدْتُّ اِلَیْہِ اَنْ ھَوِّنْ عَلٰی اُمَّتِیْ فَرَدَّ اِلَیَّ الثَّانِیَۃَ اقْرَئْ ہُ عَلٰی حَرْفَیْنِ فَرَدَدْتُ اِلَیْہِ اَنْ ھَوِّنْ عَلٰی اُمَّتِیْ فَرَدَّ اِلَیَّ الثَّالِثَۃَ اقْرَئْ ہُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ وَلَکَ بِکُلِّ رَدَّۃٍ رَدَدْتُّکَھَا مَسْاَلَۃٌ تَسْاَلُنِیْھَا فَقُلْتُ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ وَ اَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ لِیَوْمٍ یَّرْغَبُ اِلَیَّ الْخَلْقُ کُلُّھُمْ حَتّٰی اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔ (٧٣)
تشریح: حضرت ابی بن کعب ؓ رسول اللہا کے نہایت جلیل القدر صحابیؓ تھے۔ ان کا شمار اکابر اور افاضل لوگوں میں ہوتا تھا۔ رسول اللہا اپنے صحابہؓ میں سے ہرایک کے متعلق یہ جانتے تھے کہ کس میںکیا کمال ہے۔ حضرت اُبی بن کعبؓ کا کمال یہ تھا کہ وہ قرآن کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ ان کے سامنے یہ واقعہ پیش آتاہے کہ دو آدمی دو ایسے مختلف طریقوں سے قرآن پڑھتے ہیں جو ان کے علم کے مطابق درست نہیں تھے۔ آپ ان دونوں کو رسول اللہ ا کی خدمت میں لے جاتے ہیں مگر رسول اللہا دونوں کو درست قرار دیتے ہیں اس پر ان کے دل میں ایک شدید نوعیت کا وسوسہ آتا ہے، اتنی شدید نوعیت کا وسوسہ کہ آپ خود فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوئی تھی جویکا یک اس وقت میرے دل میں پیدا ہوئی۔ ان کے دل میں شک یہ گزرا کہ آیا یہ قرآن واقعی خدا کی طر سے ہے یا یہ کوئی انسانی کلام ہے جس کے پڑھنے میں اس طرح کی کھلی آزادی دی جا رہی ہے۔
اندازہ کیجیے کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق ایک اس طرح کے جلیل القدر صحابی کے دل میں بھی ایسا وسوسہ آسکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ بھی دراصل انسان ہی تھے، فرشتے نہیں تھے اور نہ انسانی کمزوریوں سے کلیتًا منزہ تھے۔ کمال ان کا یہ تھا کہ رسول اللہا کی صحبت سے جو بہترین فوائد کوئی انسان اُٹھا سکتا تھا وہ انہوں نے اٹھائے تھے اور حضوؐر کے فیض تربیت سے ایک ایسا گروہ تیار ہوا تھا کہ نوع ِ انسانی میں کبھی اس درجے کے انسان نہیں پائے گئے۔ لیکن اس کے باوجود تھے تو وہ انسان ہی۔ اس لیے جب ایک ایسی بات سامنے آئی جو بظاہر الجھن میں ڈالنے والی تھی تو یکا یک ان کے ذہن میں وہ وسوسہ گزرا جس کا ذکر حدیث میں ہوا ہے۔
اب رسول اللہا کا طریق تربیت دیکھیے۔ چہرے سے فوراً بھانپ گئے کہ ان کے دل میں کیا وسوسہ آیا ہے فوراً انہیں متنبہ کرنے کے لیے ان کے سینے پر ہاتھ مارا کہ میاں ہوش میں آؤ۔ کس سوچ میں پڑگئے؟
یہ بھی سمجھ لیجیے کہ محض وسوسے کے آجانے سے آدمی نہ کافر ہوجاتا ہے اور نہ لازماً گنہگار ہی ہوتا ہے۔ وسوسہ ایک ایسی چیز ہے کہ اللہ ہی اس سے بچائے تو انسان اس سے بچ سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
احادیث میں آتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نبی اکی خدمت میں آکر عرض کرتے تھے کہ یا رسول اللہا کبھی کبھی ہمارے دل میں ایسے وساوس آتے ہیں جن کے بعد ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری تو عاقبت خراب ہوگئی۔ اس پر حضوؐر نے ان سے فرمایا کہ اصل چیز یہ نہیں ہے کہ تمہارے دل میں وسوسہ نہ آئے، اصل چیز یہ ہے کہ وہ آکر تمہارے دل میں جم نہ جائے۔ کوئی برا خیال آکر گزر جائے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر پکڑ نہیں ہے لیکن اگر برا خیال آئے اور تم اس کو دل میں جگہ دے کر اس کی پرورش کرنے لگو تو یہ چیز ایسی ہے جو آدمی کو ہلاک کرنے والی ہے۔
جب حضرت اُبی ؓکے دل میں ایک بڑا غلط اور فتنہ انگیز قسم کا وسوسہ آیا تو حضوؐر نے فوراً محسوس کرلیا کہ ان کے دل میں یہ وسوسہ آیا ہے اس لیے آپؐ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا۔ آپؐ کے ہاتھ مارتے ہی وہ ہوش میں آگئے۔ انہیں احساس ہوا کہ یہ میرے دل میں کس قدر برا وسوسہ آیا ہے خود انہی کا بیان ہے کہ یہ محسوس ہوتے ہی مجھ پر اس قدر لرزہ طاری ہوا کہ معلوم ہوتا تھا جیسے خدا میرے سامنے موجود ہے اور خوف کے مارے میرے پسینے چھوٹ گئے۔ حضرت ابی بن کعبؓ پر یہ فوری شدید ردِّ عمل دراصل اس بات کی علامت تھا کہ وہ نہایت پختہ اور کامل ایمان رکھتے ہیں۔ اگر ان کا ایمان اس درجہ مضبوط نہ ہوتا تو ان پر ایسی کیفیت طاری نہ ہوتی۔
آدمی کا ایمان اگر مضبوط ہو اور اُس کے دل میں کوئی بُرا وسوسہ گزرے تو وہ کانپ جاتا ہے اور اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک آدمی کچے ایمان کا ہو تو بُرا وسوسہ اس کے دل میں آتا ہے اور وہ اس کے ایمان کو ذرا سا ہلا کے چلا جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے اس سے بے پروا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ وسوسہ پھر آتا ہے اور اس کے ایمان کو کچھ اور ہلا کے چلا جاتاہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں اس کے پورے ایمان کو متزلزل کرکے رکھ دیتاہے لیکن مضبوط اور استوار ایمان والے شخص کا حال یہ نہیں ہوتا۔ وہ برا وسوسہ آنے کے بعد فوراً سنبھل جاتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ کا ردِّ عمل اسی بات کی شہادت پیش کرتاہے۔
حضرت ابی بن کعبؓ کے سنبھلنے پر پھر رسول اللہا نے ان کو سمجھانے کے لیے یہ وضاحت فرمائی کہ آغاز میں جب قرآن مجید نازل ہوا تو وہ صرف اُسی لہجے اور محاورے کے مطابق اُترا جو قریش کا تھا اور جو رسول اللہا کی اپنی مادری زبان تھی۔ لیکن حضوؐر نے خود اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ اسے دوسرے لہجات کے مطابق بھی پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ درخواست کے الفاظ یہ ہیںکہ ’’ھَوِّنْ عَلٰی اُمَّتِیْ‘‘ یعنی میری امّت کے ساتھ نرمی فرمائی جائے۔ حضوؐر کا احساس یہ تھا کہ آپ کی مادری زبان سارے عرب کی مروّجہ زبان نہیں ہے بلکہ مختلف علاقوں اور قبیلوں کے کچھ مقامی لہجے اور تلفّظات ہیں۔ اس لیے اگر ان سب لوگوں پر صرف اہل ِ قریش ہی کے لہجات اور تلفظات کے مطابق قرآن پڑھنے کو لازم کردیا گیا تو وہ سخت آزمائش میں پڑ جائیں گے۔ اس لیے آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ میری اُمّت کے ساتھ نرمی فرمائی جائے چناں چہ پہلی درخواست کے جواب میں یہ اجازت دے دی گئی کہ اچھا دو لہجوں میں پڑھ لیا کرو۔
اب اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ عجیب ہے کہ پہلی مرتبہ کی درخواست ہی کے جواب میں قرآن مجید سات لہجات کے مطابق پڑھنے کی اجازت نہیں دے دی، حالاں کہ ارادہ سات کا تھا بلکہ دوسری اور تیسری مرتبہ درخواست کرنے کا انتظار کیا۔ اس طرح گویا حضوؐر کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ ان کے اندر نبی ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمے داری کا کتنا احساس ہے اور اپنی اُمّت کے ساتھ ان کی محبت و شفقت کا کیا عالم ہے اس لیے پہلے ایک ہی لہجہ اتارا۔ لیکن حضوؐر کو اس بات کا احساس تھا کہ اہل ِ عرب کے لہجات میں خاصا اختلاف پایا جاتاہے اس لیے اگر قرآن مجید ایک ہی لہجے میں پڑھنے کی اجازت دی گئی تو لوگ سخت مشکل میں پڑ جائیں گے اور ان پر قدرتی ہدایت کی تکمیل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ عرض کی کہ میری اُمّت کے ساتھ نرمی فرمائی جائے۔ اس کے جواب میں اجازت دو لہجات کے ساتھ پڑھنے کی دی گئی۔ حضوؐر نے پھر عرض کیا کہ مزید نرمی فرمائی جائے۔ چناں چہ حضوؐر کے دو دفعہ اور درخواست کرنے پر سات لہجات کے مطابق پڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اسے فرمایا کہ چوں کہ تم نے ہم سے تین مرتبہ درخواست کی ہے اور ہم نے اسے قبول کرلیا ہے اس لیے اب تمہیں حق دیا جاتا ہے کہ تم تین دعائیں ہم سے مانگ سکتے ہو۔ ربّ کریم کی عنایتیں کرنے کے انداز دیکھیے۔ اِسی چیز کو قرآن مجید میں فرمایا کہ ’’وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَـْیئٍ‘‘ (الاعراف:١٥٦) ’’میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے‘‘ تو یہ رحمت کا انداز ہے کہ چوں کہ تم نے تین مرتبہ ہم سے اپنی امت کے حق میں نرمی کرنے کی درخواست کی ہے اور ہمیں تمہاری یہ ادا پسند آئی، اس لیے اب تمہیں تین دعائیں کرنے کا حق دیا جاتاہے۔ یہ دعائیں ہم قبول کریں گے۔
اب اللہ تعالیٰ کے رسولؐ کی شان ِ رحمت و شفقت بھی اپنی امّت کے حق میں دیکھیے کہ دو مرتبہ دُعا مانگ کر تیسری مرتبہ دعا آخرت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں اور دو مرتبہ کی دُعا بھی کسی دنیوی مفاد اور کسی دولت اور اقتدار کے لیے نہیں مانگی بلکہ صرف اس غرض کے لیے مانگی کہ میری امّت کے ساتھ درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کیا جائے۔ فرمایا: ’’اِغْفِرْ لِاُمَّتِیْ‘‘ میری امت کی مغفرت فرما۔
مغفرت کے اصل معنی ہیں درگزر کرنا، چشم پوشی کرنا۔ مِغْفَرْ اُس خود کو کہتے ہیں جو سر کو چھپاتا ہے۔ چناں چہ اِغْفِرْ لِاُمَّتِیْ مطلب یہ ہے کہ میری اُمت کے ساتھ درگزر، نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کیا جائے۔ ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ آدمی نے قصور کیا اور جھٹ اسے سزا دے دی گئی۔ دوسری شکل یہ ہے کہ آپ قصور کرتے ہیں لیکن آپ سے درگزر کیا جاتاہے اور سنبھلنے کا موقع دیا جاتاہے۔ آپ پھر قصور کرتے ہیں لیکن پھر سنبھلنے کا موقع دیا جاتاہے۔ اس طرح بار بار درگزر کا معاملہ کیا جاتا ہے کہ آدمی بالآخر سنبھل جائے اور اپنی اصلاح کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان وہ قوم ہے جس کے پاس خدا کا آخری کلام، قرآن مجید، اپنی اصلی شکل میں محفوظ موجود ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردّ و بدل آج تک نہیں ہوا۔ اسی طرح مسلمان ہی وہ قوم ہے جس کے پاس اس کے نبیؐ کی سیرت، اس کے اقوال، اس کی ہدایات بالکل محفوظ چلی آرہی ہیں۔ اس کو خوب معلوم ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے، ہمارے خدا کا ہم سے کیا مطالبہ ہے اور ہمارے رسولؐ نے ہم کو کیا راستہ بتایا ہے۔ ایک ایسی قوم اگر نافرمانی کرے اور صرف انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ بعض اوقات پوری کی پوری قوم نافرمانی کر بیٹھے مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو پیس نہ ڈالے تو یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور عظیم درگزر اور مہربانی کے سواکیا ہے۔ جرم کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آدمی کو یہ معلوم نہ ہو کہ جرم کیا ہے اور پھر وہ جرم کر بیٹھے۔ اس صورت میں وہ ایک طرح کی نرمی کا مستحق ہوتاہے۔ مگر ایک آدمی کو معلوم ہے کہ قانون کیا ہے اور کیا چیز اس قانون کی رُو سے جرم ہے مگر اس کے باوجود وہ قانون کو توڑتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسا شخص سخت سزا کا مستحق ہے۔ یہی مثال اس وقت مسلم قوم کی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ دیکھیے کہ ان تیرہ چودہ سو سال میں اللہ تعالیٰ کا عذابِ عام آج تک مسلمانوں پر نازل نہیں ہوا۔ اگر وہ کسی جگہ پٹے ہیں تو کسی جگہ بچے بھی رہے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہے کہ رسول اللہ انے اپنے ربّ سے اپنی اُمّت کے حق میں درگزر اور چشم پوشی کی جو دُعا مانگی تھی وہ دعا فی الواقع قبول ہوئی!
یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ اِغْفِرْ لِاُمَّتِیْ کے الفاظ سے رسول اللہ اکی مراد یہ نہیں تھی کہ میری امّت جو کچھ بھی غلط افعال کرے وہ سب بخش دیے جائیں۔ خود حضوؐر ہی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی قیامت کے روز اس حالت میں آئے گا کہ اس کے اُوپر سے ایک بکری ممیا رہی ہوگی جو اس نے چرائی تھی اور وہ آکر مجھے پکارے گا، یا رسول اللہ! یا رسول اللہ! میں اس کو کیا جواب دوں گا؟ مطلب یہ ہے کہ اگر اس طرح کے کام کرکے آؤگے جن کی سزا لازماً ملنی چاہیے تو تم میری شفاعت کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ وہاں شفاعت اس معنی میں نہیں ہوگی کہ چوں کہ یہ میرے ہیں اس لیے خواہ دنیا میں ظلم و ستم ڈھاکے آئے ہوں، لوگوں کے حق مار کے آئے ہوں مگر ان کو معاف کردیا جائے اور دوسروں نے اگر ظلم کیا ہو تو ان کو پکڑ لیا جائے۔ قیامت کے روز رسول اللہ اکی شفاعت کے یہ معنی نہیں ہوں گے اور نہ ہوسکتے ہیں۔
ماخذ
(٧٣) مسلم ج١، کتاب فضائل القرا ٰن باب ترتیل القراء ۃ الخ۔
فصل: ۲ قرآن مجید کی سورتوں کے فضائل قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت۔ سورۂ فاتحہ
٥٥- عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُعَلّٰی قَالَ: کُنْتُ اُصَلِّیْ فَدَعَانِی النَّبِیُّ ﷺ فَلَمْ اُجِبْہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ کُنْتُ اُصَلِّیْ، قَالَ: اَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ: اَلاَ اُعَلِّمُکَ اَعْظَمَ سُوْرَۃٍ فِی الْقُرْاٰنِ قَبْلَ اَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَلَمَّا اَرَدْنَا اَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ قُلْتَ لَاُعَلِّمَنَّکَ اَعْظَمَ سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنُ الْعَظِیْمُ اُوْتِیْتُہٗ۔ (رواہ البخاری)
’’حضرت ابو سعید بن معلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی انے مجھے آواز دے کر بلایا لیکن میں نے جواب نہ دیا (کیوں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا) پھر نماز ختم کرکے میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیایا رسول اللہ، میں نماز پڑھ رہا تھا (اس لیے فوراً حاضر نہیں ہوسکا) آپ ؐنے فرمایا: کیا اللہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہا کی پکار پرلبیک کہو جب کہ وہ تمہیں بلائیں۔ پھر حضوؐر نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت کون سی ہے، قبل اس کے کہ ہم مسجد سے نکلیں؟ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جب ہم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپؐ نے فرمایا تھا کہ آپ مجھے قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت کے متعلق بتائیں گے آپؐ نے فرمایا کہ وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (یعنی سورۂ فاتحہ) ہے، یہی سبع مثانی ہے (سات بار پڑھی جانے والی آیتیں) اور اس کے ساتھ عظیم قرآن ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ خُبَیْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ حَفْصِ بنِ عَاصِمٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُعَلّٰی قَالَ: کُنْتُ اُصَلِّیْ فَدَعَانِی النَّبِیُّ ﷺ فَلَمْ اُجِبْہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ کُنْتُ اُصَلِّیْ، قَالَ: اَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ: اَلاَ اُعَلِّمُکَ اَعْظَمَ سُوْرَۃٍ فِی الْقُرْاٰنِ قَبْلَ اَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَلَمَّا اَرَدْنَا اَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ قُلْتَ لَاُعَلِّمَنَّکَ اَعْظَمَ سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنُ الْعَظِیْمُ اُوْتِیْتُہٗ۔ (١)
امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَا اُبَیُّ، وَ ھُوَ یُصَلِّیْ فَالْتَفَتَ اُبَیُّ فَلَمْ یُجِبْہُ وَ صَلَّی اُبَیُّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ عَلَیْکَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَکَ یَا اُبَیُّ اَنْ تُجِیْبَنِیْ اِذْ دَعَوْتُکَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ کُنْتُ فِی الصَّلوٰۃِ۔ قَالَ فَلَمْ تَجِدْ فِیْمَا اَوْحَی اللّٰہُ اِلَیَّ اَنْ اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ، قَالَ: بَلٰی! وَلاَ اَعُوْدُ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ، قَالَ: تُحِبُّ اَنْ اُعَلِّمَکَ سُوْرَۃً لَمْ یُنْزَلْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الْاِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِی الْقُرْاٰنِ مِثْلَھَا، قَالَ: نَعَمْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلوٰۃِ، قَالَ: فَقَرَأَ اُمَّ الْقُرْاٰنِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا اُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الْاِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِی الْفُرْقَانِ مِثْلَھَا وَ اِنَّھَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنُ الْعَظِیْمُ الَّذِیْ اُعْطِیْتُہٗ۔(٢)
تشریح: حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کے نماز پڑھنے کے دوران میں نبی اکے اُنہیں طلب فرمانے سے یہ صاف معلوم ہوتاہے کہ جب حضوؐر نے اُنہیں بلایا تھا تو وہ نفل نماز پڑھ رہے تھے کیوں کہ فرض نماز تو جماعت کے ساتھ رسول اللہا کے پیچھے ادا کی جاتی تھی۔ چناں چہ حضوؐر کے آواز دینے پر ان کایہ فرض تھا کہ وہ نفلی نماز چھوڑ دیتے اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے کیوں کہ اللہ کے رسولؐ کی پکار پر لبیک کہنا تو ہے فرض اور وہ پڑھ رہے تھے نفل نماز۔ ایک مومن کو جب اللہ کے رسولؐ کی طرف بلایا جائے تو اس کا فرض ہے کہ اس پر لبیک کہے۔
یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ہدایت اُس دور کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ہے نہیں، بلکہ یہ بات آج بھی اسی طرح سے اہم ہے۔ اُس وقت اللہ کے رسولؐ کی آواز لوگ کانوں سے سنتے تھے، آج اللہ کے رسولؐ کی آواز آپ دل کے کانوںسے سُن سکتے ہیں، بشرطے کہ دِل کے کان ہوں۔ جب اللہ کے رسولؐ کی آواز آپ کے دل میں آئے کہ فلاں کام ممنوع ہے تو آپ کایہ فرض ہے کہ آپ رک جائیں۔ اگر آپ نہیں رکتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ نے رسولؐ کی پکار سُنی توضرور مگر اس پر لبیک نہیں کہا؟ آج جب اللہ کے رسولؐ کی طرف سے کوئی پکار ہوتی ہے کہ خدا کے دین کی اس خدمت کو انجام دینے کے لیے آؤ اور اس وقت تم پر یہ فرض عاید ہوتا ہے تو اگر آپ کے دل کے کان سننے والے ہیں تو آپ اب بھی صاف سن سکتے ہیں کہ رسول اللہ ا آپ کو کس فریضے کی طرف پکار رہے ہیں۔ اس لیے یہ نہ سمجھ لیجیے کہ یہ بات حضوؐر کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ہے، نہیں بلکہ یہ چیز آج بھی اسی طرح موجود ہے۔
اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْسے مراد وہ سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں، یعنی سورۂ فاتحہ۔ حضور انے فرمایا کہ یہ سات آیتیں ہیں جو قرآن کی سب سے بڑی سورت ہیں اور اس کے ساتھ قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید میںیہ بتایا گیا ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو مثانی ہیں، اور ا س کے ساتھ قرآن مجید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف پورا قرآن ہے اور دوسری طرف یہ سورۂ فاتحہ ہے۔ اسی سے رسول اللہا نے یہ مضمون اخذ فرمایا ہے کہ یہ قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت ہے کیوں کہ پورے قرآن کے مقابلے میں اس سورت کو رکھا گیا ہے۔ غورکیجیے کہ یہاں سب سے بڑی سورت کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ سورۂ فاتحہ اپنے الفاظ اور آیتوں کے کی کثرت کے لحاظ سے سب سے بڑی سورت ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مضمون کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے کیوں کہ قرآن مجید کی ساری تعلیم کا خلاصہ اس میں آگیا ہے۔
سورۃ البقرۃ اور آلِ عمران اہل ِ ایمان کی پیشوائی کریں گی
٥٦- عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: یُؤْتٰی بِالْقُرْاٰنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ اَھْلِہٖ الَّذِیْنَ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ بِہٖ تَقْدُمُہٗ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ وَاٰلُ عِمْرَانَ وَ ضَرَبَ لَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثَۃَ اَمْثَالٍ مَا نَسِیْتُھُنَّ بَعْدُ قَالَ کَأَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ اَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَیْنَھُمَا شَرْقٌ اَوْ کَأَنَّھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِھِمَا۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے روز قرآن مجید اور وہ لوگ کہ جو اس کے مطابق عمل کیا کرتے تھے، لائے جائیں گے او ران کے آگے آگے سورۂ بقرہ اور آل عمران ہوں گی۔رسول اکرمؐ نے اس بات کی تین مثالیں بیان کی تھیں جو مجھے یاد نہیں رہ سکیں۔ اس طرح کہ گویا وہ بادل ہیں یا ابر ِ سیاہ ہیں جن کے اندر چمک اور روشنی ہے، یا وہ پرندوں کے جھنڈ ہیں جو اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں کے لیے حجت پیش کرتی ہوئی آئیں گی۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ اِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : اَنَا یَزِیْدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّہٖ قَالَ: نَا اَبُو الْوَلِیْدِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُھَاجِرٍ، عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُرَشِیِّ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ۔ قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلاَبِیَّ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: یُؤْتٰی بِالْقُرْاٰنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ اَھْلِہٖ الَّذِیْنَ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ بِہٖ تَقْدُمُہٗ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ وَاٰلُ عِمْرَانَ وَ ضَرَبَ لَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثَۃَ اَمْثَالٍ مَا نَسِیْتُھُنَّ بَعْدُ قَالَ کَأَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ اَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَیْنَھُمَا شَرْقٌ اَوْ کَأَنَّھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِھِمَا۔ (٣)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، نَا ھِشَامُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ اَبُوْ عَبْدِ الْمَلِکِ اَلْعَطَّارُ نَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ، نَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہٗ حَدَّثَھُمْ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: یَأْتِی الْقُرْاٰنُ وَ اَھْلُہُ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ بِہٖ فِی الدُّنْیَا تَقْدُمُہٗ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ وَ اٰلُ عِمْرَانَ قَالَ نَوَّاسٌ: وَ ضَرَبَ لَھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثَۃَ اَمْثَالٍ مَا نَسِیْتُھُنَّ بَعْدُ، قَالَ: تَاتِیَانِ کَأَنَّھُمَا غِیَابَتَانِ وَ بَیْنَھُمَا شَرْقٌ اَوْ کَأَنَّھُمَا ظُلَّۃٌ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلاَنِ عَنْ صَاحِبِھِمَا۔ (٤)
تشریح: اس سے قبل حدیث میں بھی یہی مضمون تھوڑے سے فرق کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ہوسکتاہے کہ ان دونوں حدیثوں کی روایت کرنے والے دونوں صحابیوں نے ایک ہی وقت میں رسول اللہا کا یہ ارشاد سنا ہو اور دونوں نے اپنے اپنے الفاظ میں اسے بیان کیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہا نے یہ مضمون متعدد مواقع پر بیان فرمایا ہو اور دونوں صحابیوں کی روایتیں دو مختلف مواقع سے تعلق رکھتی ہوں۔ بہر حال یہ بات واضح ہے کہ ان دونوں حدیثوںکا مضمون قریب قریب یکساں ہے۔
پہلی روایت میں صرف قرآن مجید پڑھنے والوں کا ذکرتھا لیکن اس حدیث میں اس کے مطابق عمل کرنے والوں کا ذکر ہے، اور ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید اگر شفیع ہوسکتا ہے تو انہی لوگوں کے لیے ہوسکتاہے جو محض اسے پڑھ کر ہی نہ رہ جائیں بلکہ اس کے مطابق عمل بھی کریں۔ بالفرض اگر کوئی شخص قرآن مجید پڑھتا تو ہے لیکن اس کے مطابق عمل نہیں کرتا تو قرآن اس کے حق میں حجت نہیں ہوسکتا۔
اس حدیث میں اس بات کی وضاحت ہوگئی ہے کہ قرآن مجید اپنے اُن پڑھنے والوں کی شفاعت اور حمایت کرے گا جو اس کے مطابق عمل بھی کرنے والے ہوں۔ قیامت کے روز جب اہلِ ایمان اللہ تعالیٰ کے حضور میں جائیں گے تو ان کو لے کر جانے والا قرآن ہوگا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو گویا یہ ان کے پاس ان معنوں میں ایک حجت ہوگا کہ حضور یہ آپ کا ہدایت نامہ تھا اور اس کے مطابق ہم دنیا میں زندگی بسر کرکے آئے ہیں۔ اس طرح ان کی بخشش کے لیے یہ چیز بجائے خود کافی سفارش ہوگی۔ یہ معاملہ صرف اہل ِ ایمان کے ساتھ ہوگا۔ اس روز کافر یا منافق کے ساتھ قرآن نہیں ہوگا، اور نہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جو اس کو جانتے تھے لیکن پھربھی اس کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
پھر فرمایا گیا کہ سورۂ بقرہ اور آل عمران اہل ِ ایمان کے آگے آگے ہوں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ احکامی سورتیں ہیں۔ سورۂ بقرہ میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے احکامی ہدایات دی گئی ہیں اور سورۂ آل عمران میں منافقین، کفار اور اہل کتاب سب کے بارے میں ہدایت بیان کی گئی ہیں۔ مزید برآں یہ جنگ اُحد کے تبصرے پربھی مشتمل ہے۔ اس طرح یہ دونوں سورتیں ایک مومن کی زندگی کے لیے ہدایت نامے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کے مطابق اپنی معاشرت کو درست کرلے، اپنی معاش اور سیاست اور اپنے تمدّن کو ان کے مطابق ڈھال لے اور دنیا میں مختلف دشمنان ِ اسلام کے ساتھ جو معاملات پیش آتے ہیں ان میں وہ ان کی ہدایات کے مطابق ٹھیک ٹھیک کام کرے تو اس کے بعد پھر اس کی بخشش میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ چناں چہ یہ دونوں سورتیں میدان ِ حشر میں اہل ِ ایمان کی حفاظت کریں گی، انہیں اُس تمازت سے بچائیں گی جو اُس وقت وہاں ہوگی اور اللہ کی عدالت میں جاکر اُن کے لیے حجت پیش کریں گی۔
سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت
٥٧-عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلْاٰیَتَانِ مِنْ اٰخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ مَنْ قَرَأَھُمَا فِیْ لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ۔ (متفق علیہ)
’’حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: جو شخص رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: نَا زُھَیْرٌ، قَالَ: نَا مَنْصُوْرٌ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، قَالَ: لَقِیْتُ اَبَا مَسْعُوْدٍ عِنْدَ الْبَیْتِ، فَقُلْتُ حَدِیْثٌ بَلَغَنِیْ عَنْکَ فِی الْاٰیَتَیْنِ فِیْ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ۔ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلْاٰیَتَانِ مِنْ اٰخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ مَنْ قَرَأَھُمَا فِیْ لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ۔ (٥)
تشریح: مراد یہ ہے کہ یہ دو آیتیں آدمی کو ہر طرح کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں۔ اگر کوئی شخص ان آیات کو اچھی طرح سے سمجھ کر پڑھے تو اُسے ان کی اہمیت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوسکتا ہے۔
قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت- اٰیۃ الکرسی
٥٨- عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا اَبَا الْمُنْذِرِ، اَتَدْرِیْ اَیُّ اٰیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَعَکَ اَعْظَمُ، قَالَ: قُلْتُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: یَا اَبَا الْمُنْذِرِ، اَتَدْرِیْ اَیُّ اٰیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَعَکَ اَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ: اللّٰہُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ قَالَ فَضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ وَ قَالَ : لِیَھْنِکَ الْعِلْمُ یَا اَبَا الْمُنْذِرِ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے مجھ سے فرمایا: اے ابو منذر، جانتے ہو تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی جو کتاب (قرآن مجید) ہے اس کی کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اُس کے رسولؐ کو زیادہ معلوم ہے۔ حضوؐر نے پھر ارشاد فرمایا کہ اے ابو منذر، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی جو کتاب ہے اس کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ میںنے عرض کیا: اَللّٰہُ لآَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَج الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (یعنی آیۃ الکرسی)۔ اس پر رسول اللہ ا نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابو منذ ِر، یہ علم تمہیں مبارک ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْاَعْلٰی بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ اَبِی السَّلِیْلِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ الْاَنْصَارِیِّ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا اَبَا الْمُنْذِرِ، اَتَدْرِیْ اَیُّ اٰیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَعَکَ اَعْظَمُ، قَالَ: قُلْتُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: یَا اَبَا الْمُنْذِرِ، اَتَدْرِیْ اَیُّ اٰیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَعَکَ اَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ: اللّٰہُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ قَالَ فَضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ وَ قَالَ : لِیَھْنِکَ الْعِلْمُ یَا اَبَا الْمُنْذِرِ۔ (٦)
تشریح: ابو منذر حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے۔ حضرت ابی رسول اللہا کے اُن صحابیوں میں سے تھے جو قرآن کے سب سے زیادہ جاننے والے اور قرآن مجید کے فاضل تھے اور صحابہ کرامؓ میں سے بہترین فہم ِ قرآن کے حامل سمجھے جاتے تھے۔
یہ رسول اللہا کے طریق ِ تعلیم میں سے ایک طریقہ ہے۔ آپؐ صحابہ کرامؓ سے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ اُنھوں نے اللہ کے دین کو اور قرآن کو کتنا کچھ سمجھا ہے بعض اوقات خاص خاص سوالات کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کا یہ طریق تھا کہ حضوؐر کے سوال پر اس امید میں کہ کچھ مزید معلومات حاصل ہوں، وہ اپنے علم کے مطابق جواب دینے کے بجائے یہ عرض کیا کرتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کو زیادہ معلوم ہے تاکہ رسول اللہ ا وہ بات خود بتائیں۔ اگر رسول اللہ ا کا سوال کرنے سے یہ ارادہ ہوتا تھا کہ صحابہ کرام کو مزید علم سکھائیں تو صحابہؓ کے یہ عرض کرنے پر کہ ’’اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ‘‘ آپؐ اپنے سوال کا خود جواب دے دیا کرتے تھے۔ اور اگر آپؐ کا ارادہ اُن کی معلومات کو جاننے ہی کا ہوتا تھا تو آپؐ اپنے سوال کو پھر دہراتے تھے تاکہ صحابہؓ اپنی طرف سے جواب دیں۔ یہاں یہی صورت پیش آئی۔ حضوؐر نے حضرت ابی بن کعبؓ سے پہلی دفعہ سوال کیا تو اُنھوں نے جواب میں عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ا کو زیادہ معلوم ہے۔ مگر چوں کہ حضوؐر کے پیش ِ نظر یہ معلوم کرنا تھا کہ حضرت ابی بن کعبؓ کے فہم میں قرآن مجید کی سب سے زیادہ وزنی آیت کون سی ہے اس لیے آپؐ نے دوبارہ وہی سوال کیا۔ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ سب سے بڑی آیت آیۃ الکرسی ہے۔ نبی انے ان کے اس جواب کی تصویب فرمائی۔
آیۃ الکرسی کی یہ عظمت اور اہمیت اس بنا پر ہے کہ یہ قرآن مجید کی ان چند آیتوں میں سے ہے جن میں توحید کی مکمل تعریف بیان ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا بہترین بیان ایک تو سورۂ حشر کی آخری آیات ہیں، ایک سورۃ الفرقان کی ابتدائی آیات ہیں، ایک سورۂ اخلاص ہے اور ایک یہ آیۃ الکرسی ہے۔ جب حضرت ابی بن کعبؓ نے یہ جواب دیا تو حضوؐر نے آپ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ تمہیں یہ علم مبارک ہو۔ واقعی تم نے صحیح سمجھا ہے۔ قرآن مجید کی سب سے بڑی اور اہم آیت یہی ہے۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا صحیح تصوّر دلانے ہی کے لیے آیا ہے۔ اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور حاصل نہ ہو تو باقی ساری تعلیم بے معنی ہوجاتی ہے۔ توحید آدمی کی سمجھ میں آجانے کا مطلب یہ ہے کہ دین کی بنیاد قائم ہوگئی۔ اس بنا پر قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت وہ ہے جس میں توحید کے مضمون کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔
ااٰیۃالکرسی کی فضیلت کے متعلق ایک عجیب واقع
٥٩-عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ وَکَّلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِحِفْظِ زَکَوٰۃِ رَمَضَانَ فَاَتَانِیْ اٰتٍ فَجَعَلَ یَحْثُوْا مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُہٗ وَ قُلْتُ وَاللّٰہِ لَاَرْفَعَنَّکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ دَعْنِیْ اِنِّیْ مُحْتَاجٌ وَ عَلَیَّ عِیَالٌ وَلِیْ حَاجَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، قَالَ فَخَلَّیْتُ عَنْہُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ مَا فَعَلَ اَسِیْرُکَ الْبَارِحَۃَ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ شَکٰی حَاجَۃً شَدِیْدَۃً وَ عِیَالاً فَرَحِمْتُہٗ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہٗ قَالَ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ کَذَبَکَ وَ سَیَعُوْدُ، فَعَرَفْتُ اَنَّہٗ سَیَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِنَّہٗ سَیَعُوْدُ فَرَصَدْتُّہٗ فَجَائَ یَحْثُوْا مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُہٗ فَقُلْتُ لَاَرْفَعَنَّکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ دَعْنِیْ فَاِنِّیْ مُحْتَاجٌ وَ عَلَیَّ عِیَالٌ لاَ اَعُوْدُ فَرَحِمْتُہٗ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہٗ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ مَا فَعَلَ اَسِیْرُکَ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ شَکٰی حَاجَۃً شَدِیْدَۃً وَ عِیَالاً فَرَحِمْتُہٗ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہٗ، فَقَالَ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ کَذَبَکَ وَ سَیَعُوْدُ فَرَصَدْتُّہٗ الثَّالِثَۃَ فَجَعَلَ یَحْثُوْا مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُہٗ فَقُلْتُ لَاَرْفَعَنَّکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ ھٰذَا اٰخِرُ ثَلاَثِ مَرَّاتٍ اِنَّکَ تَزْعُمُ لاَ تَعُوْدُ ثُمَّ تَعُوْدُ، قَالَ دَعْنِیْ اُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ یَّنْفَعُکَ اللّٰہُ بِھَا اِذَا اَوَیْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَاقْرَأ اٰیَۃَ الْکُرْسِیِّ مِنْ اَوَّلِھَا حَتّٰی تَخْتِمَ الْاٰیَۃَ فَقَالَ لِیْ لَنْ یَّزَالَ عَلَیْکَ مِنَ اللّٰہِ حَافِظٌ وَلاَ یَقْرَبُکَ شَیْطَانٌ حَتّٰی تُصْبِحَ وَ کَانُوْا اَجْرَصَ شَـْیئٌ عَلَی الْخَیْرِ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا فَعَلَ اَسِیْرُکَ قُلْتُ زَعَمَ اَنَّہٗ یُعَلِّمُنِیْ کَلِمَاتٍ قَالَ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ صَدَقَکَ وَ ھُوَ کَذُوْبٌ وَ تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَیَالٍ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ، لاَ، قَالَ ذَاکَ شَیْطَانٌ۔ (رواہ البخاری)
’’حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے مجھے زکوۃ رمضان کی حفاظت کا کام سونپا تھا۔ پس ایک رات، ایک آنے والا آیا اور وہ اس غلّے وغیرہ کو سمیٹنے لگا (جو وہاں جمع تھا)۔ میں نے اُسے پکڑ لیا اور اس سے کہا کہ میں تجھے رسول اللہا کے سامنے پیش کروں گا۔ وہ کہنے لگا، میں محتاج آدمی ہوں، میرے بال بچّے ہیں اور میں بہت حاجت مند ہوں۔ میں نے (ترس کھا کر) اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہا نے مجھ سے دریافت فرمایا: اے ابو ہریرہؓ، رات جس شخص کوتم نے پکڑا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ، اس نے اپنی سخت حاجت مندی بیان کی اور کہا کہ میرے بہت بال بچے ہیں، اس لیے میں نے اس پر ترس کھا کر اسے چھوڑ دیا۔ حضوؐر نے ارشاد فرمایا: اس نے تم سے جھوٹ بولا، وہ پھر آئے گا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا کیوں کہ رسول اللہ انے فرمایا تھا کہ وہ پھر آئے گا۔ پس میں اس کی تاک میں لگا رہا۔ رات وہ پھر آیا اور غلّہ وغیرہ سمیٹنے لگا۔ میں نے اسے پکڑلیا اور اس سے کہا کہ میں تمہیں ضرور رسول اللہا کے حضور پیش کروں گا۔ اس نے کہا مجھے چھوڑدو کیوں کہ میں محتاج آدمی ہوں اور میرے بال بچّے ہیں۔ اب میں پھرنہیں آؤں گا۔ میں نے پھر رحم کیا اور اسے چھوڑ دیا۔ دوسرے روز صبح پھر رسول اللہا نے مجھ سے دریافت فرمایا! اے ابو ہریرہؓ تمہارے قیدی کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا یا رسول ؐ اس نے اپنی سخت حاجت مندی کی شکایت کی اور کہا کہ میرے بہت بال بچّے ہیں۔ اس لیے میں نے اس پر رحم کیااور اسے پھر چھوڑ دیا، حضوؐر نے پھر ارشاد فرمایا: اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے، وہ پھر آئے گا۔ میں پھر اس کی تاک میں لگا رہا۔ وہ پھر آیا اور غلہ وغیرہ سمیٹنے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور اس سے کہا کہ اب کے میں تجھے ضرور رسول اللہا کے حضور پیش کروں گا۔ یہ تیسری اور آخری مرتبہ ہے ہر دفعہ تو کہتا ہے کہ میں پھر نہیں آؤں گا اور پھر آجاتا ہے۔ اس نے کہا مجھے چھوڑدو میں تمہیں کچھ ایسے کلمات سکھاتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں فائدہ پہنچائے گا۔ جب تم رات کو سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو ٰا یۃ الکرسی ’’اَللّٰہُ لاَ ٓاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَج الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ‘‘ آخر آیت تک پڑھ لیا کرو۔ اگر تم ایسا کروگے تو اللہ کی طرف سے تمہاری حفاظت ہوتی رہے گی اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ جب اس نے یہ چیز مجھے سکھائی تو میں نے اسے چھوڑدیا۔ اگلی صبح رسول اللہ انے پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے پھر عرض کیا: اس نے مجھے کچھ کلمات سکھائے ہیں اور اس کا دعویٰ تھا کہ ان کلمات کی بدولت اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے گا۔ رسول اللہ انے فرمایا: بات تو اس نے سچی کہی مگر ہے وہ نہایت جھوٹا! تمہں معلوم ہے کہ تین راتوں سے تم کس کے ساتھ مخاطب تھے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، میں نہیں جانتا۔ حضوؐر نے ارشاد فرمایا وہ ایک شیطان تھا۔‘‘
تخریج: قَالَ عُثْمَانُ بنُ الْھَیْثَمِ، اَبُوْ عَمْرٍو، ثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ وَکَّلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِحِفْظِ زَکَوٰۃِ رَمَضَانَ فَاَتَانِیْ اٰتٍ فَجَعَلَ یَحْثُوْا مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُہٗ وَ قُلْتُ وَاللّٰہِ لَاَرْفَعَنَّکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ دَعْنِیْ اِنِّیْ مُحْتَاجٌ وَ عَلَیَّ عِیَالٌ وَلِیْ حَاجَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، قَالَ فَخَلَّیْتُ عَنْہُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ مَا فَعَلَ اَسِیْرُکَ الْبَارِحَۃَ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ شَکٰی حَاجَۃً شَدِیْدَۃً وَ عِیَالاً فَرَحِمْتُہٗ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہٗ قَالَ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ کَذَبَکَ وَ سَیَعُوْدُ، فَعَرَفْتُ اَنَّہٗ سَیَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِنَّہٗ سَیَعُوْدُ فَرَصَدْتُّہٗ فَجَائَ یَحْثُوْا مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُہٗ فَقُلْتُ لَاَرْفَعَنَّکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ دَعْنِیْ فَاِنِّیْ مُحْتَاجٌ وَ عَلَیَّ عِیَالٌ لاَ اَعُوْدُ فَرَحِمْتُہٗ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہٗ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ مَا فَعَلَ اَسِیْرُکَ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ شَکٰی حَاجَۃً شَدِیْدَۃً وَ عِیَالاً فَرَحِمْتُہٗ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہٗ، فَقَالَ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ کَذَبَکَ وَ سَیَعُوْدُ فَرَصَدْتُّہٗ الثَّالِثَۃَ فَجَعَلَ یَحْثُوْا مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُہٗ فَقُلْتُ لَاَرْفَعَنَّکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ ھٰذَا اٰخِرُ ثَلاَثِ مَرَّاتٍ اِنَّکَ تَزْعُمُ لاَ تَعُوْدُ ثُمَّ تَعُوْدُ، قَالَ دَعْنِیْ اُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ یَّنْفَعُکَ اللّٰہُ بِھَا اِذَا اَوَیْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَاقْرَأ اٰیَۃَ الْکُرْسِیِّ مِنْ اَوَّلِھَا حَتّٰی تَخْتِمَ الْاٰیَۃَ فَقَالَ لِیْ لَنْ یَّزَالَ عَلَیْکَ مِنَ اللّٰہِ حَافِظٌ وَلاَ یَقْرَبُکَ شَیْطَانٌ حَتّٰی تُصْبِحَ وَ کَانُوْا اَجْرَصَ شَـْیئٌ عَلَی الْخَیْرِ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا فَعَلَ اَسِیْرُکَ قُلْتُ زَعَمَ اَنَّہٗ یُعَلِّمُنِیْ کَلِمَاتٍ قَالَ اَمَا اِنَّہٗ قَدْ صَدَقَکَ وَ ھُوَ کَذُوْبٌ وَ تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَیَالٍ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ، لاَ، قَالَ ذَاکَ شَیْطَانٌ۔ (٧)
تشریح: زکوٰۃ رمضان سے مراد کھانے پینے کا وہ سامان، غلّہ اور ایسی چیزیں ہیں جو نبی ارمضان کے زمانے میں تقسیم کی خاطر رکھتے تھے۔ دن کے وقت تقسیم سے جو بچ جاتا رات کو اس کی حفاظت کی ضرورت پیش آتی۔ ایک دفعہ جب حضرت ابو ہریرہؓ اس سامان کی حفاظت پر مقرر تھے تو یہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر یہاںکیا گیا ہے۔
یہ اس طرح کے واقعات میں سے ہے جن کے بارے میںانسان کوئی توجیہ نہیںکرسکتا کہ ایسا کیوںہوا۔ بہر حال اس طرح کی صورتیں بعض اوقات انسانوں کے ساتھ پیش ضرور آتی ہیں، حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ بھی یہ شکل پیش آئی۔
یہ حدیث فضائل القرآن کے باب میں اس وجہ سے نقل کی گئی ہے کہ شیطان خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اُس شخص پر اس کا کوئی بس نہیں چلتا جو رات کو اٰیۃ الکرسی پڑھ کر سوتا ہے۔
یہ بات پہلے بھی بیان کی جاچکی ہے کہ قرآن مجید میں چند مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی توحید کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اور توحید کا مکمل تصوّر پیش کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک مقام یہ اٰیۃ الکرسی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جس آدمی کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا تصوّر رچ بس گیا ہو اس پر شیطان کا بس کہاں چل سکتا ہے۔ شیطان تو اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔
آیۃ الکرسی کے کلمات بذات ِ خود بھی با برکت ہیں لیکن اگر پڑھنے والا سمجھ بھی رہا ہو کہ وہ کیا پڑھ رہاہے تو پھر اس پر کسی شیطان کا زور نہیں چل سکتا۔
دو نوُر جو صرف رسولؐ اللہ کو عطا کیے گئے
٦٠-عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَیْنَمَا جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ سَمِعَ نَقِیْضًا مِّنْ فَوْقِہٖ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ، فَقَالَ ھٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَآئِ فُتِحَ الْیَوْمَ لَمْ یُفْتَحْ قَطُّ اِلاَّ الْیَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَکٌ قَالَ ھٰذَا مَلَکٌ نَزَلَ اِلَی الْاَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ قَطُّ اِلاَّ الْیَوْمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ اَبْشِرْ بِنُوْرَیْنِ اُوْتِیْتَھُمَا لَمْ یُؤْتَھُمَا نَبِیٌّ قَبْلَکَ، فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَ خَوَاتِیْمُ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِّنْھُمَا اِلاَّ اُعْطِیْتَہٗ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی اکی خدمت میں حاضر تھے کہ یکایک اُنہوں نے آسمان کی طرف سے ایک ایسی آواز سُنی جیسے کسی شہتیر کو کھینچنے یا کسی پھاٹک کوکھولنے کی آواز ہوتی ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنا سر اُوپر اُٹھا کر دیکھا اور پھر حضوؐر سے عرض کیا کہ یہ آسمان کاایک دروازہ ہے جوپہلی دفعہ کھولا گیا ہے اور اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اتنے میں اس دروازے سے ایک فرشتہ نازل ہوا۔ جبریل علیہ السلام نے حضوؐر سے عرض کیا: یہ ایک فرشتہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف آرہا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی زمین کی طرف نہیں اُترا۔ وہ فرشتہ آیا اور اس نے رسول اللہ ا کو سلام کہا اور پھر آپؐ سے عرض کیا: آپؐ کے لیے دو ایسے نوروں کی خوش خبری ہے جو آپؐ ہی کو دیئے گئے ہیں ایک سورۂ فاتحہ اور دوسری سورۃ البقرہ کی آخری آیات۔ اِن دونوں کا اگر ایک حرف بھی آپؐ پڑھیں گے تو جو دُعا آپ مانگیں گے وہ آپؐ کو عطا کی جائے گی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ، وَ اَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِیُّ قَالاَ : نَا اَبُو الْاَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عِیْسٰی، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَیْنَمَا جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ سَمِعَ نَقِیْضًا مِّنْ فَوْقِہٖ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ، فَقَالَ ھٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَآئِ فُتِحَ الْیَوْمَ لَمْ یُفْتَحْ قَطُّ اِلاَّ الْیَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَکٌ قَالَ ھٰذَا مَلَکٌ نَزَلَ اِلَی الْاَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ قَطُّ اِلاَّ الْیَوْمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ اَبْشِرْ بِنُوْرَیْنِ اُوْتِیْتَھُمَا لَمْ یُؤْتَھُمَا نَبِیٌّ قَبْلَکَ، فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَ خَوَاتِیْمُ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِّنْھُمَا اِلاَّ اُعْطِیْتَہٗ۔ (٨)
تشریح: اِس حدیث کو پڑھتے ہوئے پہلا سوال جو آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آسمان کا دروازہ کھلنا اور اس سے ایسی آواز کا آنا جیسے پھاٹک کھلتا ہے، کیا معنی رکھتا ہے؟۔ اِس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے کہ آسمان کے کسی دروازہ کے کھلنے کی آواز سننے والے جبریل علیہ السلام یا رسول اللہا تھے ہم اور آپ نہیں ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ یہ ایسے معاملات ہیں جو ہمارے حواس سے ماوراء ہیں۔ لیکن انہیں جب بھی بیان کیا جائے گا لامحالہ اسی زبان میں بیان کیا جائے گا جو انسان بولتے ہیں پھریہ بات بھی ظاہر ہے کہ انسانی زبان میں ان احوال و کیفیات کو ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں اور نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ وہ احوال اور وہ کیفیات کبھی انسان کے تجربے میں نہیں آئیں۔ اس لیے لا محالہ جب کبھی ان چیزوں کو بیان کیا جائے گا استعارہ اور تمثیل کی زبان میں بیان کیا جائے گا۔ دُنیا میں جس طرح کوئی پھاٹک کھولا جاتاہے اُسی طرح عالم ِ بالا کی بھی بہت سی بندشیں ہیںجنہیں کھولاجاتا ہے تبھی کوئی چیز ان سے گزر کر آتی یا جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ڈھنڈار کھلا ہوا ہو کہ جو چیز جس وقت چاہے آئے یا جائے اس سے معلوم ہوا کہ آسمان کی کسی بندش کے کھلنے اور اوپر سے کسی فرشتے کے نیچے آنے کی کوئی کیفیت ہے جس کو پھاٹک کھلنے کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ کیفیت لامحالہ محسوس تو ہوتی ہے مگر اس کو محسوس صرف اللہ کا فرشتہ یا اس کا رسولؐ کرسکتا ہے ہم اسے محسوس نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ صلاحیت ہم جیسے عام انسانوں کو میسر نہیں ہے۔
دوسری چیز جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو فرشتہ حضوؐر کو خوش خبری سنانے کے لیے حاضر ہوا وہ اس سے پہلے کبھی زمین کی طرف نہیں آیا تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خاص یہی پیغام پہنچانے کے لیے زمین کی طرف بھیجا تھا۔ ورنہ وہ زمین کی طرف آنے والے فرشتوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے آکر جو پیغام نبی ا کو دیا وہ یہ تھا کہ آپؐ کو مبارک ہو۔ آپؐ کو دو ایسی بے نظیر چیزیں دی گئی ہیں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ان میں سے ایک چیز سورۂ فاتحہ ہے اور دوسری البقرہ کی آخری آیات۔
واقعہ یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ کے چند فقروں میں اتنا بڑا مضمون بیان کیاگیاہے کہ پورے قرآن مجید کا خلاصہ اس میں آگیا ہے۔ رسول اللہا کا اپنا ارشاد ہے کہ مجھے ایسے الفاظ اور کلمات عطا کیے گئے ہیں جن سے بڑے بڑے مضامین چند فقروں میں ادا ہوگئے ہیں۔
انجیل کے ساتھ قرآن مجید کا مقابلہ کرکے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بات بعض اوقات انجیل کے کئی کئی صفحات میں بیان کی گئی ہے وہ قرآن کے ایک فقرے میں بیان کردی گئی ہے۔ بالخصوص سورۂ فاتحہ اس اختصار اور جامعیّت کے لحاظ سے بے نظیر ہے تاہم سورۂ فاتحہ کی اس امتیازی شان کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ اس میں جو مضامین آئے ہیں وہ پہلے کسی نبی پر نہیں آئے۔ ایسا نہیں ہے کیوں کہ سارے انبیاء یہی تعلیم لے کر آئے تھے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ اس سورہ کے چند حروف میں وسیع معانی کا ایک سمندر سمیٹ دیا گیا ہے اور پوری تعلیم ِ دین کا خلاصہ اس میں آگیا ہے۔ اس خصوصی شان کی کوئی چیز پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی۔
دوسرا نور جس کی خوش خبری اس فرشتے نے نبی ا کو سنائی وہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات ہیں یعنی ’’لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ‘‘ سے لے کر آخر رکوع ’’فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ‘‘ تک۔
اِن آیات میں توحید کا پورا بیان اور انبیاء علیہم السلام کی ساری تعلیم کا خلاصہ سمو دیا گیا ہے، پورے کے پورے اسلامی عقائد بیان کردیئے گئے ہیں اور اہل ِ ایمان کو یہ بتا دیاگیا ہے کہ اگر حق و باطل کی آویزش میں کفر کی تمام طاقتیں بھی ان کے مقابلے میں ڈٹ جائیں تب بھی اُنہیں صرف اللہ کے بھروسے پر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے اوراللہ ہی سے نصرت اور کامیابی کے لیے مدد مانگنی چاہیے۔ اِن آیات کے انہی غیر معمولی مضامین کی بنا پر ان کوایسا نور قرار دیا گیا ہے جو پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوا۔
سورۂ ہود کی فضیلت
٦١- حضرت ابو بکرؓ نے نبی اسے عرض کیا’’میں دیکھتا ہوں کہ آپؐ بوڑھے ہوتے جارہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ جواب میں حضوؐر نے فرمایا۔ ’’شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَ اَخَوَاتُھَا‘‘
’’مجھ کو سورۂ ہود اور اس کی ہم مضمون سورتوں نے بوڑھا کردیاہے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیْعٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ، قَالَ: قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ نَرَاکَ قَدْ شِبْتَ قَالَ شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَ اَخَوَاتُھَا۔ (٩)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ، نَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ھِشَامٍ عَنْ شَیْبَانَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ شِبْتَ قَالَ: شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَالْوَاقِعَۃُ، وَالْمُرْسَلٰتُ وَ عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ وَ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ۔ (١٠)
الطبرانی نے اپنی معجم کبیر میں عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے اس کی سند میں عمرو بن ثابت متروک ہے اور ابو اسحاق نے ابن مسعود کا زمانہ نہیں پایا۔ رُوح المعانی نے ابن عساکر کے حوالہ سے حضرت انس عن الصدیق کی روایت، حضرت عمر اور حضرت سعد بن ابی وقّاص سے مروی روایت بھی نقل کی ہے:
عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا شَیَّبَکَ؟ قَالَ: ھُوْدٌ وَ اَخَوَاتُھَا۔
تشریح: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی اکے لیے وہ زمانہ کیسا سخت ہوگا جب کہ ایک طرف کفار ِ قریش اپنے تمام ہتھیاروں سے اس دعوت ِ حق کو کچل دینے کی کوشش کر رہے تھے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پے در پے تنبیہات نازل ہو رہی تھیں۔ ان حالات میں آپؐ کو ہر وقت یہ اندیشہ گھلائے دیتا ہوگا کہ کہیں اللہ کی دی ہوئی مہلت ختم نہ ہوجائے اور وہ آخری ساعت نہ آجائے جب کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں پکڑ لینے کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔
(تفہیم القران ، ج۲، ہود، زمانۂ نزول
سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیتوں کی فضیلت
٦٢- عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ حَفِظَ عَشَرَ اٰیَاتٍ مِّنْ اَوَّلِ سُوْرَۃِ الْکَھْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ۔ (رواہ مسلم)
’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورۂ کہف کی دس ابتدائی آیتیں یاد کرے گا وہ دجّال (کے فتنے) سے محفوظ رہے گا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی قَالَ، قَالَ نَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ الْغَطَفَانِیِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشَرَ اٰیَاتٍ مِّنْ اَوَّلِ سُوْرَۃِ الْکَھْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ۔ (١١)
ترمذی نے ایک روایت تین آیات کی بھی نقل کی ہے:
(۲) عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ قَرَأَ ثَلاَثَ اٰیَاتٍ مِنْ اَوَّلِ الْکَھْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (١٢)
تشریح: سورۂ کہف کے ابتدائی حصّے میں جو بات بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس زمانے میں رومی سلطنت میں عیسائیوں پر سخت ظلم و ستم توڑے جا رہے تھے اور انہیں اس بات پر مجبور کیا جارہا تھا کہ وہ ایک خدا کو چھوڑ کر رومیوں کے معبودوں اور دیوتاؤں کو تسلیم کریں اورانہی کے آگے سر جھکائیں، اس زمانے میں چند نوجوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور وہ اس فتنہ عظیم سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ چھاڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ ہمیں بہر حال اپنے رب سے منہ نہیں موڑنا ہے اور نہ شرک کو اختیار کرنا ہے،خواہ کچھ ہوجائے۔ چناں چہ وہ بغیر کسی سہارے کے صرف اللہ کے بھروسے پر پہاڑوں میں جاکر ایک غار میں بیٹھ گئے۔ فرمایا گیا کہ جو شخص سورۂ کہف کی ان ابتدائی آیات کو یاد کرلے اور اپنے دل و دماغ میں بٹھالے وہ دجّال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ ظاہر ہے کہ دجّال کا فتنہ بھی اسی نوعیت کا ہوگا جیسا کہ اُس وقت ان نوجوانوں کو پیش آیا تھا اس لیے جس آدمی کے سامنے اصحاب ِ کہف کی یہ نظیر موجود ہوگی وہ دجّال کے آگے نہیں جھکے گا۔ البتہ جو آدمی اس نظیر کو بھول گیا وہ دجّال کے فتنے میں مبتلا ہوسکتاہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا کہ جو شخص ان آیات کو اپنے ذہن میں محفوظ کرلے گا وہ دجّال کے فتنے سے بچ جائے گا۔
سورۃ المؤمنون
٦٣- ’’حضرت عُروہ بن زُبیر، عبد الرحمن بن عبد القاری کے حوالہ سے حضرت عمرؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ یہ سورہ ان کے سامنے نازل ہوئی ہے۔ وہ خود نزول ِ وحی کی کیفیت کو نبی اپر طاری ہوتے دیکھ رہے تھے، اور جب حضورا اس سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھ پر اس وقت دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ اگر ان کے معیار پر پورا اُتر جائے تو یقینا جنت میں جائے گا، پھر آپ نے اس سورۃ (سورۃ المؤمنون) کی ابتدائی آیات سنائیں۔‘‘ (احمد، ترمذی، نسائی، حاکم)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ سَلِیْمٍ قَالَ اَمْلٰی عَلٰی یُوْنسِ بْنِ یَزِیْدِ الْاَیْلِیِّ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِیِٔ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ:کَانَ اِذَا نَزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْوَحْیُ یُسْمَعُ عِنْدَ وَجْھِہٖ دَوَیٌّکَدَوِیِّ النَّحْلِ۔ فَمَکَثْنَا سَاعَۃً فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ زِدْنَا وَلاَ تَنْقُصْنَا وَ اَکْرِمْنَا وَلاَ تُھِنَّا وَاعْطِنَا وَلاَ تَحْرِمْنَا وَ اٰثِرْنَا وَلاَ تُؤْثَرْ عَلَیْنَا وَ اَرْضَ عَنَّا وَارْضِنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ اُنْزِلَتْ عَلَیَّ عَشْرُ اٰیَاتٍ مَنْ اَقَامَھُنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی خَتَمَ الْعَشَرَ۔ (١٣)
ترجمہ: حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہا پر وحی کا نزول ہوتا تھا تو آپ کے روئے مبارک کے پاس سے ایسی آواز سنی جاتی تھی جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ ایک دن آپ پر وحی کا نزول ہوا تو ہم تھوڑی سی دیر ٹھہرے رہے۔ بعد ازاں نزول وحی کی کیفیت ختم ہوگئی آپ نے قبلہ رخ ہوکر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر یوں دعا فرمائی۔ الٰہی ہماری تعداد میں اضافہ فرما، کمی نہ کر، ہمیں عزت و و قار سے نواز، ذلیل و خوار نہ کر، عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں ترجیح دے۔ ہم پر ترجیح نہ دے، ہمیں راضی فرما اور ہم سے راضی ہوجا۔ پھر فرمایا: مجھ پر اس وقت دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں جو شخص ان پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ پھر آپ نے سورۃ المؤمنون کی ابتدائی دس آیات قد افلح المؤمنون سے دسویں آیت تک پڑھیں۔
سورۂ یٰسٓ
٦٤- یٰسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ۔
(امام احمد، ابو داؤد، نسائی، ابنِ ماجہ اور طبرانی وغیرہ نے مَعقِل بن یسار سے روایت کیا ہے کہ نبی انے فرمایا) ’’سورۂ یٰسٓ قرآن کا دل ہے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ، وَ سُفْیَانُ بْنُ وَکِیْعٍ، قَالاَ: نا حُمَیْدُ ( ابن ِ کثیر نے اسی سند کو بحوالہ ترمذی نقل کیا ہے۔ اس میں حمید کی جگہ حمّاد ہے۔)بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الرُوَاسِیُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ھَارُوْنَ اَبِیْ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنَّ لِکُلِّ شَـْیئٍ قَلْبًا، وَ قَلْبُ الْقُرْاٰنِ یٰسٓ۔ وَ مَنْ قَرَأَ یٰسٓ کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بِقِرَأَتِھَا قِرَائَ ۃَ الْقُرْاٰنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ۔ (١٤)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاہے کہ رسول اللہ انے فرمایا ہرچیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل یٰسٓ ہے اور جس کسی نے یٰسٓ پڑھی اللہ تعالیٰ اس کی تلاوت کے بدلہ دس قرآن پڑھنے کے برابر اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھ دیتا ہے۔
٦٥- اِقْرَئُ وْا سُوْرَۃَ یٰسٓ عَلٰی مَوْتَاکُمْ۔
حضرت معقِل بن یَسار سے امام احمد، ابو داؤد اور ابنِ ماجہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: ’’اپنے مرنے والوں پر سورۂ یٰسٓ پڑھا کرو۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ، وَ مُحَمَّدُ بْنُ مَکِّیِّ الْمَرْوَزِیُّ، المعنٰی، قَالاَ: ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ۔ وَ لَیْسَ بِالنَّھْدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِقْرَؤُا یٰسٓ عَلٰی مَوْتَاکُمْ۔ (١٥)
ترجمہ: ’’حضرت معقل بن یَسار سے مروی ہے انہوں نے بیان کیاکہ نبی انے فرمایا: اپنے مرنے والوں کے رو برو سورۂ یٰسٓ پڑھا کرو۔‘‘
(۲) حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، حَدَّثَنِیْ زَیَّادُ بْنُ خَیْثَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ قَرَأَ یٰسٓ فِیْ لَیْلَۃٍ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ غُفِرَ لَہٗ فِیْ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ۔ (١٦)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا جس کسی نے اللہ کی رضا جوئی کی خاطر کسی رات سورۂ یٰسٓ پڑھی، اس کے اس رات کے (گناہ) معاف کردیئے گئے۔
دارمی میں حضرت ابن عباسؓ سے بھی ایک روایت بایں الفاظ مروی ہے:
(۳) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ قَرَأَ یٰسٓ حِیْنَ یُصْبِحُ اُعْطِیَ یُسْرَ یَوْمِہٖ حَتّٰی یُمْسِیَ وَ مَنْ قَرَأَھَا فِیْ صَدْرِ لَیْلَۃٍ اُعْطِیَ یُسْرَ لَیْلَتِہٖ حَتّٰی یُصْبِحَ۔ (١٧)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ جس نے صبح کو سورۂ یٰسٓ پڑھی اسے اس دن کی آسانی عطا کردی گئی حتی کہ شام ہوگئی۔ اور جس نے رات کے اوائل میں اسے پڑھا اسے اس رات کی صبح تک کی آسانی سے نواز دیا گیا۔
(۴) اَخْرَجَ الْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ فِیْ سُوْرَۃِ یٰسٓ لَوَدِدْتُّ اَنَّھَا فِیْ قَلْبِ کُلِّ اِنْسَانٍ مِنْ اُمَّتِیْ۔ (١٨)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی انے سورۂ یٰسٓکے بارے میں ارشاد فرمایا میری خواہش ہے کہ میری امت کے ہر انسان کے دل میں سورۂ یٰسٓ ہو۔ (ہر انسان کو یاد ہو)
تشریح: (پہلی روایت) میں اسی طرح کی تشبیہ ہے جس طرح سورۂ فاتحہ کو اُمّ القرآن فرمایا گیا ہے۔ فاتحہ کو اُمّ القرآن قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کی پوری تعلیم کا خلاصہ آگیا ہے اور یٰسٓ کو قرآن کا دھڑکتا ہوا دل اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ قرآن کی دعوت کو نہایت پُر زور طریقے سے پیش کرتی ہے جس سے جمود ٹوٹتا اور روح میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔
(دوسری روایت کی) مصلحت یہ ہے کہ مرتے وقت مسلمان کے ذہن میں نہ صرف یہ کہ تمام اسلامی عقائد تازہ ہوجائیں بلکہ خصوصیت کے ساتھ اُس کے سامنے عالم ِ آخرت کا پورا نقشہ بھی آجائے اور وہ جان لے کہ حیات ِ دنیا کی منزل سے گزر کر اب آگے کن منزلوں سے اس کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اس مصلحت کی تکمیل کے لیے مناسب یہ معلوم ہوتاہے کہ غیر عربی داں آدمی کو سورۂ یٰسٓ سنانے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی سنا دیا جائے تاکہ تذکیر کا حق پوری طرح ادا ہوجائے۔
(تفہیم القرآن، ج۴، یٰسٓ موضوع و مضمون)
سورۂ قٓ
٦٦-’’رسول اللہا اکثر عیدین کی نمازوں میں اس سورۂ (سورۂ قٓ) کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک خاتون ام ِ ہشام بن حارثہ جو حضوؐر کی پڑوسن تھیں، بیان کرتی ہیں کہ مجھے سورۂ قٓ یاد ہی اس طرح ہوئی کہ جمعہ کے خطبوں میں اکثر آپؐکی زبان مبارک سے اس کو سنتی تھی۔ بعض اور روایات میں آیا ہے کہ فجر کی نماز میں بھی آپؐ بکثرت اس کو پڑھا کرتے تھے۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدَّارِمِیُّ، قَالَ: اَنَا یَحْیَ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: نَا سَلْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اُخْتٍ لِعَمْرَۃَ، قَالَتْ: اَخَذْتُ قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَ ھُوَ یَقْرَأُ بِھَا عَلَی الْمِنْبَرِ فِیْ کُلِّ جُمُعَۃٍ۔ (١٩)
ترجمہ: عمرہ کی بہن سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سورۂ قٓ والقراٰن المجید رسول اللہ اکی زبان مبارک سے سن کر یاد کی ہے آپ ہرجمعہ کو خطبہ میں منبر پر اس سورہ کو پڑھا کرتے تھے۔
ایک دوسری روایت بنت حارثہ بن نعمان سے مروی ہے:
(۲) عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ: مَا حَفِظْتُ قٓ اِلاَّ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَخْطُبُ بِھَا کُلَّ جُمُعَۃٍ۔ قَالَتْ: وَ کَانَ تَنُّوْرُنَا وَ تَنُّوْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاحِدًا۔ (٢٠)
ترجمہ: حارثہ کی بیٹی کا بیان ہے کہ نہیں یاد کی میں نے سورۂ قٓ مگر رسول اللہا کے منہ مبارک سے سن کر کہ آپ اس سورہ کو ہر جمعہ (دوران خطبہ) پڑھا کرتے تھے۔ ہمارا اور رسول اللہ ا کا تنور ایک ہی تھا۔ (اس سے اپنا قرب بیان کرنا مقصود ہے)۔
ایک اور روایت میں راویہ کے نام کی وضاحت کردی ہے:
(۳) عَنْ اُمِّ ھِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ: لَقَدْ کَانَ تَنُّوْرُنَا وَ تَنُّوْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاحِدًا سَنَتَیْنِ اَوْ سَنَۃً اَوْ بَعْضَ سَنَۃٍ مَا اَخَذْتُ قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ اِلاَّ عَنْ لِسَانِ رَسُوِلِ اللّٰہِ ﷺ یَقْرَؤُھَا کُلَّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ عَلَی الْمِنْبَرِ اِذَا خَطَبَ النَّاسُ۔ (٢١)
ترجمہ: ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان کا بیان ہے کہ ہمارا اور رسول اللہ ا کا تنور ایک ہی تھا۔ دو سال، یا ایک سال اور کچھ ماہ تک۔ میں نے سورۂ قٓ کو اخذ نہیں کیا مگر رسول اللہ اکی زبان مبارک سے سن کر کہ آپ اس سورۃ کو بروز جمعہ دورانِ خطبہ پڑھا کرتے تھے۔
نسائی نے ایک روایت میں اسے صبح کی نماز پڑھنے کا ذکر بھی کیا ہے:
(۴) عَنْ عَمْرَۃَ، عَنْ اُمِّ ھِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: مَا اَخَذْتُ قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ اِلاَّ مِنْ وَّرَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّیْ بِھَا فِی الصُّبْحِ۔ (٢٢)
ترجمہ: اُمِّ ہشام بنت حارثہ بن نعمان کا بیان ہے کہ میں نے سورۂ قٓ کو اخذ نہیں کیا مگر رسول اللہ اکے پیچھے صبح کی نماز میں آپ اسے پڑھا کرتے تھے۔
(۵) حَدَّثَنِیْ اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ فُضَیْلُ بْنُ حُسَیْنٍ، قَالَ: نَا اَبُوْ عَوَانَۃَ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ، عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ مَالِکٍ: قَالَ: صَلَّیْتُ وَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَرَئَ قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ حَتّٰی قَرَأَ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ قَالَ فَجَعَلْتُ اُرَدِّدُھَا وَلاَ اَدْرِیْ مَا قَالَ۔ (٢٣)
ترجمہ: قطبہ بن مالک سے مروی ہے کہ میں نے نماز پڑھی، رسول اللہ انے ہمیں نماز پڑھائی آپ نے سورۂ قٓ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍتک تلاوت فرمائی میں نے اسے پڑھنا شروع کیا مگر سمجھ نہ سکا کہ اس کا مطلب کیاہے۔
ایک دوسری سند سے مروی روایت:
(۶) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ عَمِّہٖ اَنَّہٗ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّﷺ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِیْ اَوَّلِ رَکْعَۃٍ وَالنَّخْلُ بَاسِقَاتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ وَ رُبَمَا قَالَ قٓ۔ (٢٤)
ترجمہ: زیاد بن علاقہ نے اپنے چچا سے سنا۔ انہوں نے صبح کی نماز نبی اکے ساتھ پڑھی۔ آپ نے پہلی رکعت میں وَالنَّخْلُ بَاسِقَاتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌتلاوت فرمائی۔ اور کبھی بیان کیا کہ آپ نے سورۂ قٓ پڑھی۔
مسلم نے جابر بن سمرہ سے بھی یہ روایت نقل کی ہے:
(۷) حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی مَالِکٍ، عَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ سَعِیْدٍ الْمَازِنِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ اَبَا وَاقِدٍ اللَّیْثِیَّ مَا کَانَ یَقْرَأُ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ: کَانَ یَقْرَأُ فِیْھِمَا قٓ قفج وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ۔ (٢٥)
ترجمہ: حضرت عمرؓ نے ابو واقد لیثی سے دریافت کیا کہ رسول اللہا نماز ِ عیدین (الاضحی اور الفطر) میں کیا پڑھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ ان میں قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ یعنی سورۂ قٓ اور سورۂ القمر پڑھتے تھے۔
ابن ِ ماجہ نے بیان کیاہے:
(۸) خَرَجَ عُمَرُ یَوْمَ عِیْدٍ، فَاَرْسَلَ اِلٰی اَبِیْ وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ بِاَیِّ شَـْیئٍ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَقْرَأُ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا الْیَوْمِ؟ قَالَ: بِہٖ قٓ وَاقْتَرَبَتْ۔ (٢٦)
ترجمہ: عید کے روز حضرت عمرؓ نکلے اور ابو واقد لیثی کے پاس پیغام بھیجا یہ دریافت کرنے کے لیے کہ رسول اللہ ا ایسے روز کیا پڑھتے تھے۔ ابو واقد نے جواب دیا کہ آپ سورۂ قٓ اور سورۃ القمر پڑھتے تھے۔
تشریح: اس سے یہ بات واضح ہے کہ حضوؐر کی نگاہ میں یہ ایک بڑی اہم سورہ تھی ۔ اس لیے آپؐ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بار بار اس کے مضامین پہنچانے کا اہتمام فرماتے تھے۔
اس اہمیت کی وجہ سورۃ کو بغور پڑھنے سے بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ پوری سورۃ کا موضوع آخرت ہے۔ رسول اللہ انے جب مکہ معظمہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو سب سے زیادہ اچنبھا آپؐ کی جس بات پر ہوا وہ یہ تھی کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تو بالکل انہونی بات ہے، عقل باور نہیں کرتی کہ ایسا ہوسکتاہے آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہمارا ذرّہ ذرّہ زمین میں منتشر ہوچکا ہو تو اِن پراگندہ اجزا کو ہزارہا برس گزرنے کے بعد پھر سے اکٹھا کرکے ہمارا یہی جسم از سرِ نو بنا دیا جائے اور ہم زندہ ہوکر اُٹھ کھڑے ہوں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تقریر نازل ہوئی۔ اس میں بڑے مختصر طریقے سے چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک طرف آخرت کے امکان اور اس کے وقوع پر دلائل دیئے گئے ہیں، اور دوسری طرف لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ تم خواہ تعجب کرو یا بعید از عقل سمجھو یا جھٹلاؤ، بہر حال اس سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ حقیقت، اور قطعی اٹل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے جسم کا ایک ایک ذرّہ جو زمین میں منتشر ہوتا ہے اُس کے متعلق اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں گیا ہے اور کس حال میں کس جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ اس کے لیے کافی ہے کہ یہ تمام منتشر ذرّات پھر جمع ہوجائیں اور تم کو اُسی طرح دوبارہ بنا کھڑا کیا جائے جیسے پہلے بنایا گیا تھا۔ اِسی طرح تمہارا یہ خیال کہ تم یہاں شترِ بے مہار بنا کر چھوڑ دیئے گئے ہو اور کسی کے سامنے تمہیں جواب دہی نہیں کرنی ہے، ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست خود بھی تمہارے ہر قول و فعل سے، بلکہ تمہارے دل میں گزرنے والے خیالات تک سے واقف ہے، اور اس کے فرشتے بھی تم میںسے ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے تمام حرکات و سکنات کا ریکارڈ محفوظ کر رہے ہیں۔ جب وقت آئے گا تو ایک پُکار پر تم بالکل اُسی طرح نکل کھڑے ہوگے جس طرح بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی زمین سے نباتات کی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اُس وقت یہ غفلت کا پردہ جو آج تمہاری عقل پر پڑا ہوا ہے۔ تمہارے سامنے سے ہٹ جائے گا اور تم اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لوگے جس کا آج انکار کر رہے ہو۔ اُس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تم دنیا میں غیر ذمّے دار نہیں تھے بلکہ ذمّے دار اور جواب دہ تھے۔ جزا و سزا عذاب و ثواب اور جنت و دوزخ، جنہیں آج فسانۂ عجائب سمجھ رہے ہو اُس وقت یہ ساری چیزیں تمہاری مشہود حقیقتیں ہوں گی۔ حق سے عَناد کی پاداش میں اُسی جہنم کے اندر پھینکے جاؤگے جسے آج عقل سے بعید سمجھتے ہو، اور خدائے رحمان سے ڈر کر راہِ راست کی طرف پلٹ آنے والے تمہاری آنکھوں کے سامنے اُسی جنت میں جائیں گے جس کا ذکر سُن کر آج تمہیں تعجب ہو رہا ہے۔ (تفہیم القرآن ج۵، قٓ موضوع اور مباحث)
سورۃ الرحمن
٦٧- البزَّار، ابن جریر، ابن المنذِر، دار قطنی (فی الافراد)، ابن مردویہ، اور الخطیب (فی التاریخ) نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ انے سورۂ رحمن خود تلاوت فرمائی یا آپؐ کے سامنے یہ سورہ پڑھی گئی۔ پھر آپؐ نے لوگوں سے فرمایا ’’کیا وجہ ہے کہ میں تم سے ویسا اچھا جواب نہیں سُن رہا ہوں جیسا جنوں نے اپنے رب کو دیا تھا؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا وہ کیا جواب تھا؟ آپؐ نے فرمایا کہ ’’جب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد فَبِاَیِّ اٰلآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِپڑھتا تو جن اُس کے جواب میں کہتے جاتے تھے کہ لاَ بِشَـْیئٍ مِّنْ نِعْمَۃِ رَبِّنَا نُکَذِّبُ ’’ہم اپنے رب کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۵، الرحمن زمانۂ نزول)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ وَاقِدٍ اَبُوْ مُسْلِمٍ، نَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُھَیْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی اَصْحَابِہٖ فَقَرَأَ عَلَیْھِمْ۔ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ مِنْ اَوَّلِھَا اِلٰی اٰخِرِھَا فَسَکَتُوْا فَقَالَ لَقَدْ قَرَأْتُھَا عَلَی الْجِنِّ لَیْلَۃَ الْجِنِّ۔ فَکَانُوْا اَحْسَنَ مَرْدُوْدًا مِنْکُمْ کُنْتُ کُلَّمَا اَتَیْتُ عَلٰی قَوْلِہٖ فَبِأَیِّ اٰلآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ۔ قَالُوْا لاَ بِشَـْیئٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبِّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ۔ (٢٧)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے سورۂ رحمن شروع سے آخر تک پڑھی۔ صحابہ خاموش رہے ۔ تو حضورا نے فرمایا: میں نے اس سورہ کو لیلۃ الجن (جس رات جنوں سے ملاقات ہوئی) میں جنوں کے سامنے پڑھا تو انہوں نے تم سے بہت اچھا جواب دیا۔ جب بھی میں اللہ تعالیٰ کے فبأی الآء ربکما تکذبان کے ارشاد پر’’آیا تم دونوں گروہ جن و انس اپنے پروردگار کی کس کس نعمت و نشانی کا انکار کروگے‘‘ تو جنات نے جواب میں کہا لا بشیء من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد۔ ’’اے ہمارے رب ہم تیری کسی نعمت کا انکار نہیں کرتے تعریف و حمد تیرے ہی لیے ہے۔‘‘
سورۂ تکویر، انفطار اور انشقاق
٦٨- حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے رسول اللہا کا یہ ارشاد بیان کیا۔
مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہٗ رَأْیُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ، وَ اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ، وَ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ۔
’’جو شخص چاہتا ہو کہ روز ِ قیامت کو اس طرح دیکھ لے جیسے آنکھوں سے دیکھا جاتاہے تو وہ سورۂ تکویر اور سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق کو پڑھ لے۔ ‘‘ (مسند ِ احمد، ترمذی، ابن المنذر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ الْعَنْبَرِیُّ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَحِیْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَ ھُوَ ابْنُ یَزِیْدَ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہٗ رَأْیُ عَیْنٍ، فَلْیَقْرَأْ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَ اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ وَ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّت۔ (٢٨)
مستدرک میںابن عمر سے مروی روایت کے الفاظ:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلْیَقْرَأْ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ۔ (٢٩)
سورۃ التین
٦٩- امام احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن المنذر، بیہقی، حاکم اور ابن مردویہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی سورۂ والتین والزیتون پڑھے اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ پر پہنچے تو کہے بَلٰی وَ اَنَا عَلٰی ذَالِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ ’’ہاں، اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔‘‘
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضوؐر جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے سُبْحٰنَکَ فَبَلٰی۔ (تفہیم القرآن، ج۶، التین، حاشیہ:۷)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، نَا سُفْیَانُ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اُمَیَّۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاً بَدَوِیًّا اَعْرَابِیًّا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَرْوِیْہِ یَقُوْلُ: مَنْ قَرَأَ سُوْرَۃَ وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ۔ فَقَرَأَ : اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ فَلْیَقُلْ بَلٰی وَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ۔ (٣٠)
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ قَالَ: ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اِذَا قَرَأَ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ۔ قَالَ سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَ بَلٰی۔ (٣١)
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّھْرِیُّ، ثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنِیْ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اُمَیَّۃَ، سَمِعْتُ اَعْرَابِیًّا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ مِنْکُمْ ’’وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ‘‘ فَانْتَھٰی اِلٰی اٰخِرِھَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ‘‘ فَلْیَقُلْ: بَلٰی، وَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ۔ وَ مَنْ قَرَأَ ’’لاَ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَانْتَھٰی اِلٰی اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتٰی فَلْیَقُلْ: بَلٰی، وَ مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلاَتِ فَبَلَغَ فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ، فَلْیَقُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ۔ قَالَ اِسْمَاعِیْلُ: ذَھَبْتُ اُعِیْدُ عَلَی الرَّجُلِ الْاَعْرَابِیِّ وَ اَنْظُرُ لَعَلَّہٗ، فَقَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ، اَتَظُنُّ اَنِّیْ لَمْ اَحْفَظْہُ؟؟ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّیْنَ حَجَّۃٌ مَا فِیْھَا حَجَّۃً اِلاَّ وَ اَنَا اَعْرِفُ الْبَعِیْرَ الَّذِیْ حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔ (٣٢)
ترجمہ: اسماعیل بن امیہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بدوی کو سنا، بیان کر رہا تھا کہ میں نے ابو ہریرہؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہا نے فرمایا تم میں سے جو کوئی والتین والزیتون پڑھے اور اس کی آخری آیت الیس اللّٰہ باحکم الحاکمین پر پہنچے تو اسے بَلٰی، وَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَکہنا چاہیے۔ اور جو شخص ’’لاَ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ پڑھے (سورۃ القیامۃ)اور آخری آیت اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰی أَنْ یُحْیِ یَ الْمَوْتٰی پڑھے تو اسے بلٰی کہنا چاہیے۔ اور جو شخص وَالْمُرْسَلاَتِ (سورۂ مرسلات) پڑھے اور فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ پر پہنچے تو اسے آمَنَّا بِاللّٰہِ کہنا چاہیے۔ اسماعیل کا بیان ہے کہ میں دوبارہ اس بدوی کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث دوبارہ سنوں اور اسے آزماؤں (کہ کہیں غلطی نہ کی ہو) وہ بدوی بولا! برادر زادے کیا تمہارا خیال و گمان ہے کہ میں بھول گیا ہوں اور اس حدیث کو یاد نہ رکھ سکا ہوں میں نے ساٹھ حج کیے ہیں۔ ہر حج میں جس اونٹ پر گیا ہوں مجھے تو وہ بھی اچھی طرح معلوم ہے (کہ اس کا رنگ قد کاٹھ اور حلیہ کیسا تھا)
سورۃ الزلزال
٧٠- ابن ابی حاتم نے حضرت ابو سعید خدریؓ (
) کی روایت بیان کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہٗoط وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّایَّرَہٗ ‘‘ تو میں نے عرض کیا، یا رسول اللہا کیامیں اپنا عمل دیکھنے والا ہوں؟ حضوؐر نے فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا یہ بڑے بڑے گناہ؟ آپؐ نے جواب دیا ہاں۔ میں نے عرض کیا اور یہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی؟ حضوؐر نے فرمایا: ہاں۔ اس پر میں نے کہا پھر تومیں مارا گیا۔ حضوؐر نے فرمایا خوش ہوجاؤ اے ابو سعید، کیوں کہ ہر نیکی اپنی جیسی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْ زُرْعَۃَ وَ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَعْرُوْفِ بعلان المصری قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِیُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَھِیَعَۃَ، اَخْبَرَنِیْ ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: لَمَّا اُنْزِلَتْ ’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَّرَہٗoط وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ: قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ لَرَائٍ عَمَلِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: تِلْکَ الْکِبَارُ الْکِبَارُ؟ قَالَ : نَعَمْ قُلْتُ: الصِّغَارُ الصِّغَارُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَاثَکَلَ اُمِّیْ! قَالَ: اَبْشِرْ یَا اَبَا سَعِیْدٍ فَإِنَّ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا یعنی اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ۔ وَ یُضَاعِفُ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَالسَّیِّئَۃُ بِمِثْلِھَا اَوْ یَعْفُو اللّٰہُ وَ لَنْ یَنْجُوا اَحَدٌ مِنْکُمْ بِعَمَلِہٖ قُلْتُ: وَلاَ اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: وَلاَ اَنَا اِلاَّ اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَۃٍ۔ (٣٣)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہٗoط وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّایَّرَہٗ ‘‘ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہا کیا میں اپنے عمل دیکھنے والا ہوں؟ حضورا نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ میں نے عرض کیا یہ بڑے بڑے گناہ؟ آپ نے جواب دیا، ہاں میں نے عرض کیا یہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی؟ حضور انے فرمایا: ہاں۔ اس پر میں نے کہا پھر تو میں مارا گیا حضور انے فرمایا خوش ہوجاؤ اے ابو سعید، کیوں کہ ہر نیکی اپنی جیسی دس نیکیوں کے برابر ہوگی حتی کہ سات سو گنا تک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ جس کسی کے لیے جتنا چاہے گا اتنا اضافہ فرمادے گا۔ اور برائی کی سزا بس اتنی ہوگی جتنی مقدار میں برائی ہوگی یا پھر اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پائے گا۔ میں نے عرض کیا۔ کیا آپ بھی اے اللہ کے رسول۔ ارشاد ہوا۔ میں بھی الا یہ کہ اللہ کی رحمت مجھے ڈھانپ لے۔
٧١- حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ انے یہ آیت (سورۃ الزلزال کی چوتھی آیت) پڑھ کر پوچھا ’’جانتے ہو اس کے وہ حالات کیاہیں؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا ’’وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور ہر بندی کے بارے میں اُس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی۔‘‘
(مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، عبد ابن حمید، ابن منذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب)
تخریج: حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ، اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، نَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ اَیُّوْبَ عَنْ یَحْیَ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا۔ قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَااَخْبَارُھَا؟ قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔ قَالَ: فَاِنَّ اَخْبَارَھَا اَنْ تَشْھَدَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ اَوْ اَمَۃٍ بِمَا عَمِلَ عَلٰی ظَھْرِھَا، تَقُوْلُ عَمِلَ یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا وَکَذَا فَھٰذِہٖ اَخْبَارُھَا۔ (٣٤)
٧٢- ’’حضرت ربیعۃ الخرشی کی روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا ’’ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیوں کہ یہ تمہاری جڑ بنیاد ہے اور اِس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے خواہ اچھا ہو یا بُرا۔ ‘‘ (معجم الطبرانی)
تخریج: حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ یَزِیْدَ سَمِعَ رَبِیْعَۃَ الْحَدَسِیَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: تَحَفَّظُوْا مِنَ الْاَرْضِ فَاِنَّھَا اُمُّکُمْ وَ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَحَدٍ عَامِلٌ عَلَیْھَا خَیْرًا اَوْ شَرًّا اِلاَّ وَ ھِیَ مُخْبِرَۃٌ۔ (٣٥)
٧٣- حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے فرمایا: ’’قیامت کے روز زمین ہر اُس عمل کولے آئے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا گیا ہو‘‘ پھر آپ نے سورۃ الزلزال کی آیات تلاوت فرمائیں۔ (ابن مردویہ، بیہقی)
تخریج: اَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوِیَہُ وَالْبَیْھَقِیُّ، عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ الْاَرْضَ لَتَجِيْئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِکُلِّ عَمَلٍ عُمِلَ عَلٰی ظَھْرِھَا۔ وَ قَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا حَتّٰی بَلَغَ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا۔ (٣٦)
٧٤-حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ اتنے میں سورۃ الزلزال کی ۷ اور ۸ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابو بکرؓ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ ’’جو معاملہ بھی تمہیں ایسا پیش آتا ہے جو تمہیں ناگوار ہو وہ اُن ذرّہ برابر برائیوں کا بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوں اور جو ذرّہ برابر نیکیاں بھی تمہاری ہیں انہیں اللہ آخرت میں تمہارے لیے محفوظ رکھ رہا ہے۔‘‘ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الأوسط، بیہقی فی الشعب، ابن المنذر، حاکم ابن مردویہ، عبد بن حمید)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ اَبُو الْخَطَّابِ الْحَسَانِیُّ، قَالَ: ثَنَا الْھَیْثَمُ بْنُ الرَّبِیْعِ، قَالَ: ثَنَا سَمَّاکُ بْنُ عَطِیَّۃَ عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلاَبَۃَ، عَنْ اَنَسٍ قَالَ: کَانَ اَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَأْکُلُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ فَرَفَعَ اَبُوْ بَکْرٍ یَدَہٗ مِنَ الطَّعَامِ وَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَجْزِیْ بِمَا عَمِلْتُ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ مِّنْ شَرٍّ۔ فَقَالَ: یَا اَبَا بَکْرٍ مَا رَأَیْتَ فِی الدُّنْیَا مِمَّا تَکْرَہٗ فَمَثَاقِیْلُ ذَرِّ الشَّرِّ وَ یَدَّخِرُ لَکَ اللّٰہُ مَثَاقِیْلَ الْخَیْرِ حَتّٰی تَوَفَّاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (٣٧)
(۲) سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنْ اَیُّوْبِ عَنْ اَبِیْ قَلاَبَۃَ عَنْ اَبِیْ اَسْمَائِ الرَّحْبِی قَالَ بَیْنَا اَبُوْ بَکْرٍ یَتَغَدّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِذْ نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہٗ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ، فَاَمْسَکَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَکُلُّ مَا عَمِلْنَا مِنْ سُوْئٍ رَاَیْنَاہُ؟ فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ مِمَّا تَکْرَھُوْنَ فَذٰلِکَ مَا تُجْزَوْنَ یُؤَخِّرَ الْخَیْرَ لِاَھْلِہٖ فِی الْاٰخِرَۃِ۔ (٣٨)
٧٥- حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے رسول اللہا نے اس بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’’تم میں سے جو شخص نیکی کرے گا اس کی جزا آخرت میں ہے اور جو کسی قسم کی برائی کرے گا وہ اسی دنیا میں اس کی سزا مصائب اور امراض کی شکل میں بھگت لے گا۔‘‘ (ابن مردویہ)
تخریج: فی رِوَایۃ مردویہ۔ عَنْ اَبِیْ اْیُّوْبَ اَنَّہٗ ﷺ قَالَ لَہٗ اِذْ رَفَعَ یَدَہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ خَیْرًا فَجَزَائُ ہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ، وَ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ شَرًّا یَرَہٗ فِی الدُّنْیَا مُصِیْبَاتٍ اَوْ اَمْرَاضًا۔ وَ مَنْ یَّکُنْ فِیْہِ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ (٣٩)
تشریح: حضرت علیؓ کے حالات میں لکھا ہے کہ جب آپ بیت المال کا سب روپیہ اہل حقوق میں تقسیم کرکے اُسے خالی کردیتے تواس میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر فرماتے ’’تجھے گواہی دینی ہوگی کہ میں نے تجھ کو حق کے ساتھ بھرااور حق ہی کے ساتھ خالی کردیا۔‘‘
زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے روز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات اور واقعات بیان کرے گی، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کن ہوگی کہ آخر زمین کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علوم طبیعی کے اکتشافات اور سنیما، لاؤڈ اسپیکر، ریڈیو، ٹیلیویژن، ٹیپ ریکارڈ، الیکٹرانکس وغیرہ ایجادات کے اس دور میں یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان اپنی زبان سے جو کچھ بولتاہے اُس کے نقوش ہوا میں، ریڈیائی لہروں میں، گھروں کی دیواروں اور اُن کے فرش اور چھت کے ذرّے ذرّے میں، اور اگر کسی سڑک یا میدان یا کھیت میں آدمی نے بات کی ہو تو اُن سب کے ذرّات میں ثبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس وقت چاہے ان ساری آوازوں کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں سے دہروا سکتا ہے جس طرح وہ کبھی انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔ انسان اپنے کانوں سے اس وقت سن لے گا کہ یہ اُس کی اپنی ہی آوازیں ہیں۔ اور اس کے سب جاننے والے پہچان لیں گے کہ جو کچھ وہ سن رہے ہیں وہ اسی شخص کی آواز اور اسی کا لہجہ ہے۔ پھر انسان نے زمین پر جہاں جس حالت میں بھی کوئی کام کیاہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اس کے گرد و پیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور اس کی تصویر ان پر نقش ہوچکی ہے۔ بالکل گھپ اندھیرے میں بھی اس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں ایسی شعاعیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اجالا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ ہر حالت میں اس کی تصویر لے سکتی ہیں۔ یہ ساری تصویریں قیامت کے روز ایک متحرک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی اور یہ دکھادیں گی کہ وہ زندگی بھر کس وقت، کہاں کہاں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الزلزال حاشیہ:۴)
سورۃ التکاثر
٧٦- (رسول اللہ انے فرمایا) لَوْ اَنَّ لِاِبْنِ اٰدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنّٰی وَادِیاً ثَالِثاً وَلاَ یَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ۔
حضوؐر نے فرمایا ’’اگر آدم زاد کے پاس دو وادیاں بھر کر مال ہو تو وہ تیسری وادی کی تمنّا کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِابْنِ اٰدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغٰی ثَالِثًا وَلاَ یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ وَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ (٤٠)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اسے سنا فرما رہے تھے کہ اگر آدمی زاد کے پاس دو وادی بھر مال ہو، اس کی تمنّا و خواہش ہوگی کہ تیسری وادی مزید ہو، ابن آدم کے پیٹ کو کوئی چیز بھرنے والی نہیں بجز مٹی (قبر کی) کے اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو جوتوبہ کرکے اس کی جانب آجاتا ہے اس کی توبہ کو شرف ِ قبولیت عنایت فرما کر حرص دنیا اور اِس کی محبت سے بچا لیتا ہے۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ الْغَسِیْلِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ عَلٰی مِنْبَرِ مَکَّۃَ فِیْ خُطْبَتِہٖ، یَقُوْلُ: یٰـٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ لَوْ اَنَّ ابْنَ اٰدَمَ اُعْطِیَ وَادِیًا مُلِیَٔ مِنْ ذَھَبٍ اَحَبَّ اِلَیْہِ ثَانِیًا، وَ لَوْ اُعْطِیَ ثَالِثًا اَحَبَّ اِلَیْہِ ثَالِثاً، وَلاَ یَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ وَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ (٤١)
ترجمہ: ابن زبیر کو مکہ میں خطبہ کے دوران یہ بیان کرتے میں نے سنا۔ لوگو نبی ا فرمایا کرتے تھے اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے سے پُر ایک وادی ہوتو اسے دوسری وادی کی خواہش و محبت ہوگی۔ اگر اسے دوسری وادی دے دی جائے تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا۔ ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز بھر نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول فرما لیتا ہے جو اس کی جناب میں حرص دنیا اور اس کی محبت سے تائب ہوکر آتا ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ۔ سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: لَوْ اَنَّ لِابْنِ اٰدَمَ مِثْلَ وَادٍ مَالاً، لَاَحَبَّ اَنَّ لَہٗ اِلَیْہِ مِثْلَہٗ۔ وَلاَ یَمْلَاُ عَیْنَ ابْنِ اٰدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ وَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلاَ اَدْرِیْ مِنَ الْقُرْاٰنِ ھُوَ اَمْ لاَ قَالَ: فَسَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَقُوْلُ ذٰلِکَ عَلَی الْمِنْبَرِ۔ (٤٢)
ترجمہ: ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکو ارشاد فرماتے سنا اگر ابن آدم کے لیے وادی کے مثل مال ِ و دولت ہو تو اس کی مزید خواہش و تمنا ہوگی کہ اتنی ہی اور ملے۔ اور ابن آدم کی نظر کو بجز قبر کی مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول فرما لیتا ہے جو اس کے حضور رجوع کرتا ہے۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ میرے علم میں نہیں کہ یہ قرآن میں ہے یا نہیں۔ میں نے ابن زبیر کو منبر پر بیان کرتے سنا ہے۔
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: لَوْ اَنَّ لاِبْنِ اٰدَمَ وَادِیًا مِنْ ذَھَبٍ، اَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗ وَادِیَانِ، وَ لَنْ یَّمْلَأَ فَاہٗ اِلاَّ التُّرَابُ، وَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ وَ قَالَ لَنَا اَبُوْ الْوَلِیْدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ، عَنْ اُبَیٍّ کُنَّا نَرٰی ھٰذَا مِنَ الْقُرْاٰنِ حَتّٰی نَزَلَتْ اَلْھٰکُمْ۔ (٤٣)
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو اسے یہ بہت محبوب ہوگا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ حضرت اُبی کا قول ہے کہ ہم اس ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ نازل ہوئی۔
تشریح: امام بخاری اور ابن جریر نے حضرت اُبی بن کعب ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ہم رسول اللہا کے اِس ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے، یہاں تک کہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ نازل ہوئی۔‘‘ مگر حضرت ابی کے اس بیان سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ صحابۂ کرامؓ کس معنی میں حضوؐر کے اس ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہوکہ اسے قرآن کی ایک آیت سمجھتے تھے تو یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے، کیوں کہ صحابہ کی عظیم اکثریت اُن اصحاب پر مشتمل تھی جو قرآن کے حرف حرف سے واقف تھے، ان کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہوسکتی تھی کہ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت ہے۔
اور اگر قرآن میں سے ہونے کا مطلب قرآن سے ماخوذ ہونا لیا جائے تو اس روایت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں جو اصحاب داخل اسلام ہوئے تھے انہوں نے جب پہلی مرتبہ حضوؐر کی زبانِ مبارک سے یہ سورہ سنی تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ابھی نازل ہوئی ہے، اور پھر حضوؐر کے مذکورہ بالا ارشاد کے متعلق ان کو یہ خیال ہوا کہ وہ اِسی سورہ سے ماخوذ ہے۔
(تفہیم القرآن، ج۶، التکاثر، زمانۂ نزول)
٧٧- ’’ابنِ ابی حاتم نے ابو بریدہؓ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ سورۂ (التکاثر) انصار کے دو قبیلوں بنی حارثہ اور بنی حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ دونوں قبیلوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں پہلے اپنے زندہ آدمیوں کے مفاخر بیان کیے، پھر قبرستان جاکر اپنے اپنے مرے ہوئے لوگوں کے مفاخر پیش کیے۔ ‘‘
تخریج: قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعِیْدٍ الْاَشَجُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، قَالَ: صَالِحُ بْنُ حِبَّانَ، حَدَّثَنِیْ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ فِیْ قَوْلِہٖ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ۔ قَالَ: نَزَلَتْ فِیْ قَبِیْلَتَیْنِ مِنْ قَبَائِلِ الْاَنْصَارِ بَنِیْ حَارِثَۃَ وَ بَنِی الْحَارِثِ۔ تَفَاخَرُوْا وَ تَکَاثَرُوْا۔ فَقَالَتْ اِحْدَاھُمَا فِیْکُمْ مِثْلُ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ وَ فُلاَنٍ، وَ قَالَ الْاٰخَرُوْنَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ تَفَاخَرُوْا بِالْاَحْیَائِ ثُمَّ قَالُوْا انْطَلِقُوْا بِنَا اِلَی الْقُبُوْرِ۔ فَجَعَلَتْ اِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، تَقُوْلُ فِیْکُمْ مِثْلُ فُلاَنٍ یُشِیْرُوْنَ اِلَی الْقُبُوْرِ۔ وَ مِثْلُ فُلاَنٍ وَ فَعَلَ الْاٰخَرُوْنَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ اَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ (٤٤)
ترجمہ: ابن بریدہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت انصار کے دو قبیلوں بنو حارثہ اور بنو حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ دونوں کے افراد نے ایک دوسرے کے مقابلہ میں اپنے مفاخر بیان کیے اور اپنی داد و دہش یا مرنے والوں کی کثرت بیان کی۔ ان میں سے ایک نے کہا۔ تم میں فلاں بن فلاں اور فلاں جیسا کوئی ہے۔ اسی طرح دوسرے قبیلہ کے لوگوں نے کہا۔ پہلے ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے زندہ آدمیوں کے مفاخر بیان کیے پھر قبرستان جاکر اپنے اپنے مرے ہوئے لوگوں کے مفاخر پیش کیے۔ اور ایک دوسرے کو قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے تم میں فلاں صاحب ِ قبر جیسا کوئی ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُنازل فرمائی۔
تشریح: شانِ نزول کے بارے میں صحابہ و تابعین کاجو طریقہ تھا اُس کو اگر نگاہ میں رکھا جائے تو یہ روایت اس امرکی دلیل نہیں ہے کہ سورۂ تکاثر اسی موقع پر نازل ہوئی تھی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں قبیلوں کے اس فعل پر یہ سورہ چسپاں ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، التکاثر، زمانۂ نزول)
سورۃ العصر
٧٨- ’’حضرت عبد اللہ بن حصن الدارمی ابو مدینہ کی روایت کے مطابق اصحاب رسول اللہا میں سے جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملتے تو اس وقت تک جُدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورۂ عصر نہ سنا لیتے۔ ‘‘ (طبرانی)
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْ طَاھِرٍ الْفَقِیْہِ، قَالَ: اَنَا اَبُوْ بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ، قَالَ: نَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ، قَالَ: نَا یَحْیَ بْنُ اَبِیْ بُکَیْرٍ(۱) قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ: اَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنِ الدَّارِمِیِّ، قَالَ: کَانَ الرَّجُلاَنِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ اِذَا الْتَقَیَا وَ اَرَادَا اَنْ یَّتَفَرَّقَا قَرَأَ اَحَدُھُمْ سُوْرَۃَ ’’وَالْعَصْرِ اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ‘‘ ثُمَّ سَلَّمَ اَحَدُھُمَا عَلَی الْاٰخَرِ اَوْ عَلٰی صَاحِبِہٖ ثُمَّ تَفَرَّقَا۔ (٤٥)
تشریح: یہ سورۂ جامع اور مختصر کلام میں بے نظیر نمونہ ہے۔ اس کے اندر جچے تُلے الفاظ میں معانی کی ایک دنیا بھر دی گئی ہے جس کو بیان کرنے کا حق ایک پوری کتاب میں مشکل سے ادا کیا جاسکتا ہے۔ امام شافعیؒ نے بہت صحیح کہا ہے کہ اگر لوگ اس سورہ پر غور کریں تو یہی ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابہ کرام کی نگاہ میں اس کی اہمیت کیا تھی اُس کا اندازہ (مندرجہ بالا حدیث) سے کیا جاسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، العصر، موضوع اور مضمون)
سورۃ الماعون
٧٩- حضرت سعد بن ابی وقّاصؓ سے ان کے صاحب زادے مصعب بن سعد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہا سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا تھا جو نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اُس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں (ابن جریر، ابو یعلیٰ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط۔ ابن مردویہ۔ بیہقی فی السُّنن)۔ (یہ روایت حضرت سعد کے اپنے قول کی حیثیت سے بھی موقوفاً نقل ہوئی ہے اور اُس کی سند زیادہ قوی ہے۔ رسول اللہا کے ارشاد کی حیثیت سے اس کی مرفوعاً روایت کو بیہقی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا ہے۔)
حضرت مصعب کی دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد سے پوچھا کہ (سورۃ الماعون کی پانچویں) آیت پر آپ نے غور فرمایا؟ کیا اس کا مطلب نماز کو چھوڑ دینا ہے؟ یا اس سے مراد نماز پڑھتے پڑھتے آدمی کا خیال کہیں اور چلا جانا ہے؟ خیال بٹ جانے کی حالت ہم میں سے کس پر نہیں گزرتی؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، اِس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا اور اسے وقت ٹال کر پڑھنا ہے۔ (ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابو یعلیٰ، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن)
تخریج: اَخْرَجَ الْفِرْیَاِبیُّ وَ سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ وَابْنَ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَ اَبُوْ یَعْلٰی وَابْنُ جَرِیْرٍ وَابْنُ الْمُنْذِرِ وَابْنُ مَرْدَوِیْہٗ وَالْبَیْھَقِیُّ فِیْ سُنُنِہٖ عَنْ مَصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِاَبِیْ: اَرَأَیْتَ قَوْلَ اللّٰہِ ’’الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ‘‘ اَیُّنَا لاَ یَسْھُوْ؟ اَیُّنَا لاَ یُحَدِّثُ نَفْسَہٗ؟ قَالَ: اِنَّہٗ لَیْسَ ذٰلِکَ اِنَّہٗ اِضَاعَۃُ الْوَقْتِ۔
ابو یعلیٰ ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الطبرانی فی الأوسط، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے:
سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِہٖ۔ اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ۔ قَالَ: ھُمُ الَّذِیْنَ یُؤَخِّرُوْنَ الصَّلوٰۃَ عَنْ وَقْتِھَا۔ (٤٦)
(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَـنّٰی، قَالَ: ثَنَا سَکَنُ بْنُ نَافِعٍ الْبَاھِلِیُّ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خَلْفِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِاَبِیْ: أَرَأَیْتَ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ اَھِیَ تَرْکُھَا، قَالَ: لاَ! وَ لٰـکِنْ تَاخِیْرُھَا عَنْ وَقْتِھَا۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
قَالَ: قُلْتُ لِسَعْدٍ، ’’اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ‘‘ أَھُوَ مَا یُحَدِّثُ بِہٖ اَحَدُنَا نَفْسَہٗ فِیْ صَلاَ تِہٖ، قَالَ لاَ وَ لٰـکِنَّ السَّھْوَ اَنْ یُؤَخِّرَھَا عَنْ وَقْتِھَا۔ (٤٧)
تشریح: اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز میں دوسرے خیالات کا آجانا اور چیز ہے اور نماز کی طرف کبھی متوجہ ہی نہ ہونا اور اس میں ہمیشہ دوسری باتیں ہی سوچتے رہنا بالکل دوسری چیز۔ پہلی حالت تو بشریت کا تقاضا ہے، بلا ارادہ دوسرے خیالات آ ہی جاتے ہیں۔ اور مومن کو جب بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نماز سے اس کی توجہ ہٹ گئی ہے تو وہ پھر کوشش کرکے اُس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ دوسری حالت نماز سے غفلت برتنے کی تعریف میں آتی ہے۔ کیوں کہ اس میں آدمی صرف نماز کی ورزش کرلیتا ہے، خدا کی یاد کا کوئی ارادہ اس کے دل میں نہیں ہوتا، نماز شروع کرنے سے سلام پھیرنے تک ایک لمحہ کے لیے بھی اس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ اور جن خیالات کو لیے ہوئے وہ نماز میں داخل ہوتا ہے انہی میں مستغرق رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الماعون، حاشیہ:۹)
٨٠- رسول اللہا نے اس آیت (سورۃ الماعون کی آخری آیت) کی یہ تفسیر بیان فرمائی کہ اس سے مراد کلہاڑی اور ڈول اور ایسی ہی دوسری چیزیں ہیں۔
تخریج: عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی الْاٰیَۃِ۔ قَالَ تَعَاوَنَ النَّاسُ بَیْنَھُمُ الْفَأْسَ وَالْقِدْرَ وَالدَّلْوَ وَ اَشْبَاھَہٗ۔ (٤٨)
تشریح: اگر یہ روایت صحیح ہے تو غالباً یہ دوسرے لوگوں کے علم میں نہ آئی ہوگی، ورنہ ممکن نہ تھا کہ پھر کوئی شخص اس آیت کی کوئی اور تفسیر کرتا (کیوں کہ اس کی تفاسیر میں اختلاف ہوا ہے)۔ حضرت علیؓ، ابن عمرؓ، سعیدبن جبیر، قتادہ، حسن بصری، محمد بن حنفیہ، ضحّاک، ابن ِ زید، عکرمہ، مجاہد، عطاء اور زُہری رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے۔ ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ، ابراہیم نخعیؓ، ابو مالکؒ اور بہت سے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد عام ضرورت کی اشیاء، مثلاً ہنڈیا، ڈول، کلہاڑی، ترازو، نمک، پانی، آگ، چقماق (جس کی جانشین اب دیا سلائی ہے) وغیرہ ہیں جو عموماً لوگ ایک دوسرے سے عاریتاً مانگتے رہتے ہیں۔
سعید بن جبیر اور مجاہد کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے۔ حضرت علیؓ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ بھی ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی عام ضروریات کی چیزیں بھی۔ عکرمہ سے ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ ماعون کا اعلیٰ مرتبہ زکوٰۃ اور ادنیٰ ترین مرتبہ یہ ہے کہ کسی کو چھلنی، ڈول یا سوئی عاریتاً دی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب محمدا یہ کہا کرتے تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ حضوؐر کے عہد مبارک میں یہ کہا کرتے تھے) کہ ماعون سے مراد ہنڈیا، کلہاڑی، ڈول، ترازو، اور ایسی ہی دوسری چیزیں مستعار دینا ہے (ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی، بزّاز، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن)۔ سعد بن عیاض ناموں کی تصریح کے بغیر قریب قریب یہی قول رسول اللہ اکے صحابہ سے نقل کرتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے متعدد صحابہ سے یہ بات سنی تھی۔
(ابن جریر، ابن ابی شیبہ)
اصل بات یہ ہے کہ ماعون چھوٹی اور قلیل چیز کو کہتے ہیں جس میں لوگوں کے لیے کوئی منفعت یا فائدہ ہو۔ اس معنی کے لحاظ سے زکوٰۃ بھی ماعون ہے، کیوں کہ وہ بہت سے مال میں سے تھوڑا سا مال ہے جو غریبوں کی مدد کے لیے دینا ہوتا ہے۔ اور وہ دوسری عام ضرورت کی اشیاء بھی ماعون ہیں جن کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور ان کے ہم خیال حضرات نے کیا ہے۔ اکثر مفسّرین کا خیال یہ ہے کہ ماعون کا اطلاق اُن تمام چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہوتا ہے جو عادۃً ہمسائے ایک دوسرے سے مانگتے رہتے ہیں۔ اُن کا مانگنا کوئی ذلت کی بات نہیں ہوتا، کیوں کہ غریب اور امیر سب ہی کو کسی نہ کسی وقت ان کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اور ہمسایہ ان سے کام لے کر انہیں جوں کا توں واپس دے دیتا ہے۔ اسی ماعون کی تعریف میں یہ بھی آتا ہے کہ کسی کے ہاں مہمان آجائیں اور وہ ہمسائے سے چار پائی یا بستر مانگ لے یا کوئی اپنے ہمسائے کے تنور میں اپنی روٹی پکا لینے کی اجازت مانگے۔ یا کوئی کچھ دنوں کے لیے باہر جارہا ہو اور حفاظت کے لیے اپنا کوئی قیمتی سامان دوسرے کے ہاں رکھوانا چاہے۔ پس آیت کا مقصود یہ بتانا ہے کہ آخرت کا انکار آدمی کو اتنا تنگ دل بنا دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کوئی معمولی ایثار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الماعون، حاشیہ:۱۱)
سورۃ الکوثر کا شان نزول
٨١- عطاء کہتے ہیں کہ جب حضورا کے دوسرے صاحب زادے کا انتقال ہوا تو حضور ا کا اپنا چچا ابو لہب (جس کا گھر بالکل حضوؐر کے گھر کے متصل تھا) دوڑا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور اُن کو یہ ’’خوش خبری‘‘ دی کہ بَتِرَ مُحَمَّدٌ اَللَّیْلَۃَ آج رات محمدؐ لا ولد ہوگئے یا ان کی جڑ کٹ گئی۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۶، الکوثر، تاریخی پس منظر)
تخریج: عَنْ عَطَائٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فِیْ اَبِیْ لَھَبٍ وَ ذٰلِکَ حِیْنَ مَاتَ ابْنٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَذَھَبَ اَبُوْ لَھَبٍ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ: بَتِرَ مُحَمَّدٌ اللَّیْلَۃَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْ ذٰلِکَ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ۔ (٤٩)
حوض ِ کوثر
٨٢- ھُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَیْہِ اُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
’’وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز وارد ہوگی۔‘‘ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ، ابو داؤد، کتاب السنۃ)
تخریج: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرِ نِالسَّعْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ، قَالَ: نَا الْمُخْتَارُ ابْنُ فُلْفُلٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح وَ حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاللَّفْظُ لَہٗ قَالَ: اَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ اَظْھُرِنَا اِذْ اَغْفٰی اِغْفَائَ ۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہٗ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا مَا اَضْحَکَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اُنْزِلَتْ عَلَیَّ اٰنِفًا سُوْرَۃٌ فَقَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّـآ اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ۔ ثُمَّ قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَا الْکَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔ قَالَ فَاِنَّہٗ نَھْرٌ وَعَدَنِیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔ عَلَیْہِ خَیْرٌ کَثِیْرٌ وَ ھُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَیْہِ اُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ اٰنِیَتُہٗ عَدَدُ النُّجُوْمِ فَیُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْھُمْ فَاَقُوْلُ: رَبِّ اِنَّہٗ مِنْ اُمَّتِیْ۔ فَیُقَالُ: مَا تَدْرِیْ مَآ اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ (٥٠)
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی۔ پھر آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا تو ہم نے عرض کیا، آپ کس پر تبسّم فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا اس وقت میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر آپ نے سورۂ کوثر پڑھی۔ پھر آپؐ نے پوچھا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس میں بے شمار بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔ قیامت کے روز میری امت اس پر وارد ہوگی۔ اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے تاروں جتنی ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو درمیان میں سے کھینچ لیا جائے گا (اور اسے حوض پر وارد نہیں ہونے دیا جائے گا) تو میں عرض کروں گا میرے آقا و پرور دگار یہ تو میری امت کا ایک فرد ہے۔ کہاجائے گا تمہیں معلوم نہیں یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے آپ کے بعد نئے نئے کام (بدعتیں) ایجاد کیں۔(اس روایت میں نیند کا واقعہ نہیں۔)
٨٣-اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔
’’میں تم سب سے پہلے اس پر پہنچا ہوا ہوں گا۔‘‘ (بخاری، کتاب الرقاق اور کتاب الفتن، مسلم، کتاب الفضائل اور کتاب الطہارۃ، ابن ماجہ، کتاب المناسک اور کتاب الزہد، مسند احمد، مرویّات ِ عبد اللہ بن مسعودؓ، عبد اللہ بن عباسؓ، و ابو ہریرہؓ)۔
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ، عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔ ح وَ حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ، قَالَ سَمِعْتُ اَبَا وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔ وَ لَیُرْفَعَنَّ رِجَالٌ مِّنْکُمْ ثُمَّ لَیُخْتَلَجُنَّ دُوْنِیْ فَاَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَصْحَابِیْ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ (٥١)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر نے عبد اللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے بیان کیا کہ نبی انے فرمایا۔ میں تم سب سے پہلے حوض کوثر پر پہنچا ہوا ہوں گا۔ میرے سامنے تم میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے پھر ان کو میرے سامنے سے گھسیٹ لیا جائے گا۔ تو میں عرض کروں گا میرے آقا و مالک یہ تو میرے صحابی ہیں جواب دیا جائے گا تمہیں معلوم نہیں ان لوگوں نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں۔
٨٤- اِنِّیْ فَرَطٌ لَکُمْ وَ اَنَا شَھِیْدٌ عَلَیْکُمْ وَ اِنِّیْ وَاللّٰہِ لاََ نْظُرُ اِلٰی حَوْضِی الْاٰنَ۔
’’میں تم سے آگے پہنچنے والا ہوں، اور تم پر گواہی دوں گا اور خدا کی قسم میں اپنے حوض کو اِس وقت دیکھ رہا ہوں۔‘‘
(بخاری، کتاب الجنائز، کتاب المغازی، کتاب الرّقاق)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیْدَ، عَن اَبِی الْخَیْرِ، عَنْ عُقْبَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ یَوْمًا فَصَلّٰی عَلٰی اَھْلِ اُحُدٍ صَلاَتَہٗ عَلَی الْمَیِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ: اِنِّیْ فَرَطٌ لَکُمْ وَ اَنَا شَھِیْدٌ عَلَیْکُمْ وَ اِنِّیْ وَاللّٰہِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِیْ الْاٰنَ وَ اِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ اَوْ مَفَاتِیْحَ الْاَرْضِ وَ اِنِّیْ وَاللّٰہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ وَ لٰـکِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنَافَسُوْا فِیْھَا۔ (٥٢)
ترجمہ: حضرت عقبہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک روز حضورا باہر تشریف لائے اور شہداء اُحد پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر واپس آکر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا۔ میں تمہارا پیش رو ہوں اور تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اس وقت اپنے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں۔ نیز مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عنایت کردی گئی ہیں اور اللہ رب العزت کی قسم مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا خوف نہیں کہ تم شرک میں مبتلا ہوجاؤگے، البتہ اس کا اندیشہ مجھے ضرور ہے کہ تم لذت ِ دنیا میں مبتلا ہوکر باہم رشک و حسد کرنے لگوگے۔
(۲) وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا وَھْبٌ حَدَّثَنَا اَبِیْ قَالَ: سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ اَیُّوْبَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ مَرْثَدٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرِ کَالْمُوَدِّعِ لِلْاَحْیَائِ وَالْاَمْوَاتِ فَقَالَ ’’اِنِّیْ فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَ اِنَّ عَرْضَہٗ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ اِلَی الْجُحْفَۃِ اِنِّیْ لَسْتُ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْ بَعْدِیْ وَ لٰـکِنِّیْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا اَنْ تَنَافَسُوْا فِیْھَا، وَ تَقْتَتِلُوْا، فَتَھْلِکُوْا، کَمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ۔ قَالَ عُقْبَۃُ: فَکَانَتْ آخِرُ مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ۔ (٥٣)
٨٥-اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ اَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ عَلَی الْحَوْضِ۔
انصار کو مخاطب کرتے ہوئے ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا ’’میرے بعد تم کو خود غرضیوں اور اقربا نوازیوں سے پالاپڑے گا، اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر حوض پر ملو۔‘‘ (بخاری، کتاب مناقب الانصار، و کتاب المغازی، مسلم، کتاب الامارۃ، ترمذی، کتاب الفتن)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ اَنَّ رَجُلاً مِّنَ الْاَنْصَارِ قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلاَ تَسْعَمِلُنِیْ کَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا قَالَ: سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ اَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ عَلَی الْحَوْضِ۔ (٥٤)
ترجمہ: حضرت اُسید بن حضیر سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے رسول اللہا کی خدمت میں درخواست کی کہ مجھے بھی فلاں شخص کی طرح عامل مقرر فرما دیں۔ آپ نے فرمایا میرے بعد تمہیں خود غرضی اور اقربا پروری سے پالا پڑے گا۔ پس تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر حوض پر ملو۔
دوسری روایت جو حضرت انسؓ سے مروی ہے:
(۲) عَنْ ھِشَامٍ، سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِلْاَنْصَارِ: اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ اَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ وَ مَوْعِدُکُمْ الْحَوْضُ۔ (٥٥)
ترجمہ: ہشام کا بیان ہے کہ میں نے انس ابن مالک کو بیان کرتے سنا کہ نبی انے انصار سے فرمایا بے شک تم لوگوں کو میرے بعد خود غرضی اور اقربا نوازی سے پالا پڑے گا۔ پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر ملو۔ تمہاری میرے ساتھ ملاقات کا مقام حوض ِ کوثر ہے۔
٨٦-اَنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ عَقْرِ الْحَوْضِ۔
’’میں قیامت کے روز حوض کے وسط کے پاس ہوں گا۔‘‘ (مسلم، کتاب الفضائل)
تخریج: حَدَّثَنِیْہِ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوْسٰی، حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ بِاِسْنَادِ ھِشَامٍ بِمِثْلِ حَدِیْثِہٖ غَیْرَ اَنَّہٗ قَالَ: اَنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ عَقْرِ الْحَوْضِ۔ (٥٦)
ترجمہ: ہشام کی سند سے قتادہ نے بیان کیا باقی حدیث تو اسی طرح ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضورا نے فرمایا، میں قیامت کے روز حوضِ (کوثر) کے وسط کے پاس ہوں گا۔
تشریح: امام احمد، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن مردویہ، اور بیہقی وغیرہ محدثین نے حضرت انس بن مالکؓ سے (یہ روایت) نقل کی ہے کہ حضوؐر ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپؐ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی۔ پھر آپؐ نے مسکراتے ہوئے سرِ مبارک اٹھایا (بعض روایات میں ہے کہ) لوگوں نے پوچھا آپؐ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض روایات میں ہے کہ آپؐ نے خود) لوگوں سے فرمایا اس وقت میرے اوپر ایک سورہ نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر آپ نے سورۂ کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپؐنے پوچھا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے۔
٨٧- حضوؐر نے اس (حوض) کی کیفیت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کا پانی دودھ سے (اور بعض روایات میں ہے چاندی سے اور بعض میں برف سے) زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اس کی تہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہوگی، اس پر اتنے کوزے رکھے ہوں گے جتنے آسمان میں تارے ہیں۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ پھر کبھی سیراب نہ ہوگا۔ یہ باتیں تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ بکثرت احادیث میں منقول ہوئی ہیں۔ (بخاری، کتاب الرقاق، مسلم کتاب الطہارت و کتاب الفضائل، مسند ِ احمد، مرویات ابن مسعودؓ، ابن عمرؓ، عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ، ابواب صفۃ القیامۃ، ابن ماجہ، کتاب الزہد، ابو داؤد طیالسی، حدیث۹۹۵، ۲۱۳۵)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُفَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنُ وَھْبٍ عَنْ یُوْنُسَ، قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: حَدَّثَنِی اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: اِنَّ قَدْرَ حَوْضِیْ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ وَ صَنْعَائَ مِنَ الْیَمَنِ وَ اِنَّ فِیْہِ مِنَ الْاَبَارِیْقِ کَعَدَدِ نُجُوْمِ السَّمَآئِ۔ (٥٧)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا میرے حوض کے (طول و عرض کا) اندازہ ایسا ہے جیسے ایلہ اور یمن کے شہر صنعا کے درمیان کافاصلہ، اس حوض میں کوزوں کی تعداد آسمان کے تاروں کی مانند ہے۔
ابن ماجہ ہی میں حضرت انس سے یہ روایت منقول ہے:
(۲) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُرَی فِیْہِ اَبَارِیْقُ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ کَعَدَدِ نُجُوْمِ السَّمَآئِ۔ (٥٨)
ترجمہ: حصرت انس بن مالکؓ سے مروی روایت کی رو سے حضور ا کا ارشاد ہے حوض ِ کوثر پر سونے اور چاندی کے کوزوں کی تعداد آسمان کے تاروں جتنی ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مُلَیْکَۃَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: حَوْضِیْ مَسِیْرَۃُ شَھْرٍ مَائُ ہٗ اَبْیَضُ مِنَ اللَّبَنِ وَ رِیْحُہٗ اَطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ وَ کِیْزَانُہٗ کَنُجُوْمِ السَّمَآئِ مَنْ یَشْرَبْ مِنْھَا فَلاَ یَظْمَأُ اَبَدًا۔ (٥٩)
ترجمہ: عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی انے فرمایا میرے حوض کا طول ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، اس کی خوشبو مشک سے زیادہ عمدہ اور بہتر۔ اس کے کوزوں کی تعداد آسمان کے تاروں جتنی جس نے اس حوض کا پانی نوش کیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
(۴) حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ جَمِیْعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِیِّ، قَالَ ابْنُ اَبِیْ عُمَرَ، نَا مَرْوَانُ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِنَّ حَوْضِیْ اَبْعَدُ مِنْ اَیْلَۃَ مِنْ عَدَنَ۔ لَھُوَ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ۔ وَلَاٰنِیَتُہٗ اَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُوْمِ وَ اِنِّیْ لَاَصُدُّ النَّاسَ عَنْہُ کَمَا یَصُدُّ الرَّجُلُ اِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِہٖ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَتَعْرِفُنَا یَوْمَئِذٍ۔ قَالَ: نَعَمْ، لَکُمْ سِیْمَا لَیْسَتْ لِاَحَدٍ مِنَ الْاُمَمِ تَرِدُوْنَ عَلَیَّ غُرًّا مُحَجِّلِیْنَ مِنْ اَثَرِ الْوُضُوْئِ۔ (٦٠)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا ایلہ سے عدن کا فاصلہ ہے۔ اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور دودھ میں آمیزش شدہ شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر رکھے ہوئے برتنوں کی تعداد تاروں کی تعداد سے بہت زیادہ۔ میں لوگوں کو اس حوض پر آنے سے ایسے ہی روکوں گا جیسے دوسرے کے اونٹوں کو حوض پر آنے سے کوئی شخص روکتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیایا رسول اللہا آپ ہمیں اس روز پہچان لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں۔ تمہاری نشانی ایسی ہوگی جو دیگر امتوں کے لوگوں میں سے کسی کی بھی نہ ہوگی۔ تم میرے پاس ایسی صورت میں آؤگے کہ وضو کی وجہ سے تمہارا چہرہ اور ہاتھ پاؤں سفید چمکتے ہوں گے۔
(۵) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُوْ بِشْرٍ وَ عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْکَوْثَرُ، الْخَیْرُ الْکَثِیْرُ الَّذِیْ اَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ قَالَ اَبُوْ بِشْرٍ قُلْتُ لِسَعِیْدٍ: اِنَّ اُنَاسًا یَزْعُمُوْنَ اَنَّہٗ نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ، فَقَالَ سَعِیْدٌ: اَلنَّھْرُ فِی الْجَنَّۃِ مِنَ الْخَیْرِ الَّذِیْ اَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ۔ (٦١)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے الکوثر کے بارے میں منقول ہے انہوں نے کہا الکوثر سے مراد خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا فرمایا ہے۔ میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ لوگ تو خیال کرتے ہیں کہ وہ جنت کی نہر ہے، اس کے جواب میں سعید نے کہا جنت میں جو نہر ہے وہ منجملہ خیر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔
(۶) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنّٰی، قَالَ: ثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، قَالَ: ثَنَا عَطَائٌ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکَوْثَرُ نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ حَافَتَاہُ مِنْ ذَھَبٍ وَ مَجْرَاہُ عَلَی الْیَاقُوْتِ وَالدُّرِّ، تُرْبَتُہٗ اَطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ، مَاؤُہٗ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ وَ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ الثَّلْجِ۔ (٦٢)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرؓسے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا کوثر نام کی جنت میں ایک نہر ہے۔ اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں۔ یاقوت اور موتیوں پر وہ رواں دواں ہے۔ اس کی تہہ کی مٹی مشک سے زیادہ عمدہ و طیّب ہے۔ اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے زیادہ سفید ہے۔
(۷) قَالَ: ثَنَا مِھْرَانُ عَنْ اَبِیْ مُعَاذٍ عِیْسَی بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: الْکَوْثَرُ نَھْرٌ فِیْ بَطْنَانِ الْجَنَّۃِ فِیْہِ نَھْرٌ شَاطِئَاہُ دُرٌّ مُجَوَّفٌ فِیْہِ مِنَ الْاٰنِیَۃِ لِاَھْلِ الْجَنَّۃِ مِثْلَ عَدَدِ نُجُوْمِ السَّمَآئِ۔ (٦٣)
(۸) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ یَزِیْدَ الْکَاھِلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَ سَأَلْتُھَا عَنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ قَالَتْ: نَھْرٌ اُعْطِیَہٗ نَبِیُّکُمْ ﷺ شَاطِئَاہُ عَلَیْہِ دُرٌّ مُجَوَّفٌ اٰنِیَتُہٗ کَعَدَدِ النُّجُوْمِ۔ (٦٤)
٨٨- قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَا بَیْنَ نَاحِیَتَیْ حَوْضِیْ کَمَا بَیْنَ صَنْعَائَ وَالْمَدِیْنَۃِ اَوْ کَمَا بَیْنَ الْمَدِیْنَۃِ وَ عُمَانَ۔
حضرت انسؓ کی روایت کے مطابق رسول اللہا نے فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان یا جیسے مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَعْبَدِ ابْنُ خَالِدٍ، سَمِعَ حَارِثَۃَ بْنَ وَھْبٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ وَ ذَکَرَ الْحَوْضَ فَقَالَ کَمَا بَیْنَ الْمَدِیْنَۃِ وَ صَنْعَائَ وَ زَادَ ابْنُ اَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَارِثَہٖ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: حَوْضُہٗ مَا بَیْنَ صَنْعَائَ وَالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ لَہُ الْمُسْتَوْرِدُ اَلَمْ تَسْمَعْ قَالَ: اَلْاَوَانِیْ قَالَ: لاَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ یُرٰی فِیْہِ الْاٰنِیَۃُ مِثْلُ الْکَوَاکِبِ۔ (٦٥)
ترجمہ: حارثہ بن وہب کہتے ہیں میں نے نبی اکو فرماتے ہوئے سنا آپ کا حوض اتنا بڑا ہے جتنا فاصلہ صنعاء اور مدینہ کے مابین ہے۔ مستورد نے اس سے پوچھا کیا تونے سنا کہ آپ نے برتنوں کے بارے میں فرمایا۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں، مستورد نے خود بیان کیا اس کے برتنوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تاروں کی مانند ہیں۔
(۲) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیٰ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَمَامَکُمْ حَوْضِیْ کَمَا بَیْنَ جَرْبَائَ وَ اَذْرُحَ۔ (٦٦)
ترجمہ: حضرت ابن عمر سے روایت ہے انہوں نے نبی اسے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا تمہارے سامنے میرا حوض ہے۔ وہ اتنا بڑا ہے جتنا فاصلہ جرباء اور اذرُح کے درمیان ہے۔
(۳) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثَنَا زَکَرِیَّا، ثَنَا عَطِیَّۃُ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِنَّ لِیْ حَوْضًا، مَا بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ اَبْیَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ۔ آنِیَتُہٗ عَدَدُ النُّجُوْمِ۔ وَ اِنِّیْ لَاَکْثَرُ الْاَنْبِیَآئِ تَبَعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (٦٧)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی انے فرمایا میرے لیے ایک ایسا حوض ہے جو کعبہ اور بیت المقدس کے درمیانی فاصلہ جتنا بڑا ہے۔ وہ دودھ کی طرح سفید ہے۔ اس کے برتنوں کی تعداد تاروں جتنی ہے۔ قیامت کے روز دوسرے انبیاء سے میرے متبعین کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔
٨٩- یَشْخَبُ فِیْہِ مِیْزَابَانِ مِنَ الْجَنَّۃِ (دوسری روایت میں ہے یَغُتُّ فِیْہِ مِیْزَبَانِ یَمُدَّانِہٖ مِنَ الْجَنَّۃِ۔
(اس حوض کے متعلق حضوؐر نے بتایا کہ) اس میں جنت سے دو نالیاں لاکر ڈالی جائیں گی جو اسے پانی بہم پہنچائیں گی۔
(مسلم، کتاب الفضائل)۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ۔ وَابْنُ اَبِیْ عُمَرَ الْمَکِّیُّ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ۔ قَالَ: اِسْحَاقُ اَنَا وَ قَالَ الْاٰخَرَانِ: نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ عَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اٰنِیَۃُ الْحَوْضِ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَاٰنِـیَـتَہٗ اَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُوْمِ السَّمَآئِ وَ کَوَاکِبِھَا اَلاَ فِی اللَّیْلَۃِ الْمُظْلِمَۃِ الْمُصْحِیَۃِ۔ اٰنِیَۃُ الْجَنَّۃِ مَنْ شَرِبَ مِنْھَا لَمْ یَظْمَأْ اٰخِرَ مَا عَلَیْہِ یَشْخَبُ فِیْہِ مِیْزَابَانِ مِنَ الْجَنَّۃِ۔ مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَأْ۔ عَرْضُہٗ مِثْلُ طُوْلِہٖ مَا بَیْنَ عَمَّانَ اِلٰی اَیْلَۃَ۔ مَاؤُہٗ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ۔ (٦٨)
ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاریؓ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ا حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے اس حوض کے برتن آسمانی سیاروں اور تاروں سے زیادہ ہیں۔ سنو! یہ تارے اس رات کے جو اندھیری ہو اور بادل بھی نہ ہوں۔ وہ جنت کے برتن ہیں جو اس میں سے پیئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اس میں جنت سے دو نالیاں لاکر ڈالی جائیں گی۔ جس نے اس میں سے پیا وہ کبھی پھر پیاسا نہیںہوگا۔ اس حوض کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے یعنی جتنی لمبائی عمّان اور ایلہ کے درمیان۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں و میٹھا۔
(۲) حَدَّثَنَا اَبُوْ غَسَّانَ الْمِسْمَعِیُّ، وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنّٰی وَابْنُ بَشَّارٍ وَ اَلْفَاظُھُمْ مُتَقَارِبَۃٌ قَالُوْا: نَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ، عَنْ ثَوْبَانَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ:اِنِّیْ لَبِعُقْرِ حَوْضِیْ اَذُوْدُ النَّاسَ لِاَھْلِ الْیَمَنِ اَضْرِبُ بِعَصَایَ حَتّٰی یَرْفَضَّ عَلَیْھِمْ فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِہٖ فَقَالَ: مِنْ مَقَامِیْ اِلٰی عَمَّانَ، وَ سُئِلَ عَنْ شَرَابِہٖ فَقَالَ: اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ یَغُتُّ فِیْہِ مِیْزَبَانِ یَمُدَّانِہٖ مِنَ الْجَنَّۃِ اَحَدُھُمَا مِنْ ذَھَبٍ وَالْاٰخَرُ مِنْ وَّرَقٍ۔ (٦٩)
ترجمہ: حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ نبی انے فرمایا میں اپنے حوض کے کنارے پر بیٹھا آنے والے لوگوں کو اس سے روک رہا ہوں گا اپنی لاٹھی سے یمنی لوگوں کے لیے مار کر ہٹا رہا ہوں گا یہاں تک کہ ان کے لیے پانی بہہ نکلے گا۔ آپ سے حوض کی چوڑائی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: میری اس جگہ سے عُمان تک کے فاصلہ جتنی۔ پھر پوچھا گیا کہ اس کا پانی کیسا ہے؟ فرمایا دودھ سے زیادہ سفید اور شہدسے زیادہ میٹھا۔ جنت سے دو پرنالے لاکر اس میں ڈالے گئے ہیں ان دونوں میں سے ایک پرنالہ سونے کا اور دوسرا چاندی کا۔
٩٠- یُفْتَحُ نَھْرٌ مِنَ الْکَوْثَرِ اِلَی الْحَوْضِ۔
’’جنت کی نہر کوثر سے ایک نہر اس حوض کی طرف کھول دی جائے گی۔‘‘ (مسند احمد، مرویات عبد اللہ بن مسعودؓ)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا اَبُوْ سَعِیْدٍ ثَنَا ابْنُ زَیْدٍ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَکَمِ الْبُنَانِیُّ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسْوَدَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ جَائَ ابْنَا مُلَیْکَۃَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالاَ: اِنَّ اُمَّنَا کَانَتْ تُکْرِمُ الزَّوْجَ وَ تَعْطِفُ عَلَی الْوَلَدِ قَالَ: وَ ذَکَرَ الضَّیْفَ۔ غَیْرَ اَنَّھَا کَانَتْ وَأْدَتْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَالَ اُمُّکمَا فِی النَّارِ۔ فَاَدْبَرَا وَالشَّرُّ یُرٰی فِیْ وُجُوْھِھِمَا فَاَمَرَ بِھِمَا فَرَدَّا فَرَجَعَا وَالسُّرُوْرُ یُرٰی فِیْ وُجُوْھِھِمَا رَجْیًا اَنْ یَّکُوْنَ قَدْ حَدَثَ شَـْیئٌ۔ فَقَالَ: اُمِّیْ مَعَ اُمِّکُمَا۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ وَمَا یُغْنِیْ ھٰذَا عَنْ اُمِّہٖ شَیْئًا۔ وَ نَحْنُ نَطَأُ عَقِبَیْہِ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ وَلَمْ اَرَ رَجُلاً قَطُّ اَکْثَرَ سُؤَالاً مِنْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھَلْ وَعَدَکَ رَبُّکَ فِیْھَا اَوْ فِیْھِمَا۔ قَالَ فَظَنَّ اَنَّہٗ مِنْ شَـْیئٍ قَدْ سَمِعَہٗ فَقَالَ مَا سَأَلْتُہٗ رَبِّیْ وَمَا اَطْمَعْنِیْ فِیْہِ۔ وَ اِنِّیْ لَاَقُوْمُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: وَمَا ذَاکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ قَالَ ذَاکَ اِذَا جِیئَ بِکُمْ، عُرَاۃً حُفَاۃً غُرْلاً۔ فَیَکُوْنُ اَوَّلَ مَنْ یُکْسٰی اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔ یَقُوْلُ اکْسُوْا خَلِیْلِیْ فَیُؤْتٰی بِرَیْطَتَیْنِ بَیْضَاوَیْنِ فَیَلْبَسَھُمَا ثُمَّ یَقْعُدُ فَیَسْتَقْبِلُ الْعَرْشَ۔ ثُمَّ اُوْتِیَ بِکِسْوَتِیْ فَاَلْبَسُھَا فَاَقُوْمُ عَنْ یَمِیْنِہٖ مَقَامًا لاَ یَقُوْمُہٗ اَحَدٌ غَیْرِیْ۔ یَغْبِطُنِیْ بِہِ الْأَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ قَالَ: وَ یُفْتَحُ نَھْرٌ مِنَ الْکَوْثَرِ اِلَی الْحَوْضِ۔۔۔ قَالَ: وَمَائُ ہٗ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ اِنَّ مَنْ شَرِبَ مِنْہُ مَشْرَبًا لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہٗ۔۔۔ (٧٠)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ملیکہ کے دو بیٹے نبی اکے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا ہماری والدہ خاوند کی عزت کرتی تھی۔ خدمت گار تھی۔ اولاد پر مہربان تھی اور مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا مگر جاہلیت کے زمانے میں بچی کو زندہ درگور کیا۔ آپؐ نے فرمایا تمہاری والدہ جہنم میں ہے۔ یہ سن کر دونوں واپس ہوئے تو ان کے چہروں پر ناخوشی کے آثار نمایاں تھے۔ آپ نے ان کو واپس بلایا وہ واپس آئے تو ان کے چہروں پر خوشی و مسرت کے آثار تھے اس امید پر کہ کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہے آپ نے فرمایا میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہی ہے۔ ایک منافق بولا۔ یہ چیز تو اس کی ماں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور ہم اس کے نقش ِ قدم پر چل رہے ہیں۔ اتنے میں ایک انصاری نے کہا ہم نے اس سے زیادہ سوالات کرنے والا کوئی نہیں دیکھا تھا، یا رسول اللہ کیا آپ سے آپ کے پروردگار نے اس ایک عورت کے بارے میں فرمایا، یا دونوں کے بارے میں کوئی وعدہ فرمایا ہے۔ راوی کا بیان ہے شاید اس کا خیال تھا کہ اس نے کچھ سنا تھا۔ آپ نے فرمایا میں نے تو اپنے رب سے کوئی سوال نہیں کیااور نہ مجھے اس میں کوئی طمع و لالچ ہے۔ میں قیامت کے روز مقام محمود پر کھڑا ہوں گا۔ انصاری نے پوچھا قیامت کے روز یہ کھڑا ہونا کیسا ہوگا۔ فرمایا تم لوگوں کو ننگے بدن، ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کی صورت میں لایا جائے گا۔
پہلا شخص جسے لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے دوست کو پہناؤ۔ لہٰذا دو چادریں سفید رنگ کی لائی جائیں گی، وہ ان کو زیب تن فرمائیں گے اور تشریف رکھیں گے۔ پھر عرش کی جانب رخ فرمائیں گے۔
بعد ازاں میرے لیے لباس لایا جائے گا۔ پھر میں اسے پہنوں گا اور اس کی دائیں جانب اس مقام پر کھڑا ہوں گا جہاں میرے سوا اور کوئی کھڑا نہیں ہوگا اگلے پچھلے سبھی لوگ اس وجہ سے مجھ پر رشک کریں گے۔ پھر فرمایا کوثر سے حوض کی جانب ایک نہر کھول دی جائے گی۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ جس نے اس میں سے ایک مرتبہ پانی پی لیا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔
٩١- اس کے بارے میں حضوؐر نے بار بار اپنے زمانے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ میرے بعد تم میں سے جو لوگ بھی میرے طریقے کو بدلیں گے اُن کو اس حوض سے ہٹا دیا جائے گا۔ اور اُس پر انہیں نہ آنے دیا جائے گا۔ میںکہوں گا کہ یہ میرے اصحاب ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپؐ کو نہیں معلوم کہ آپؐ کے بعد انہوں نے کیا کیا ہے۔ پھر میں بھی اُن کو دفع کروں گا اور کہوں گا کہ دور ہو۔ (یہ مضمون بہ کثرت روایات میں بیان ہوا ہے)
(بخاری کتاب الرقاق، کتاب الفتن، مسلم، کتاب الطہارۃ، کتاب الفضائل، مسند احمد، مرویات ابن مسعودؓ، ابو ہریرہؓ، ابن ماجہ، کتاب المناسک) (اس روایت میں نیند کا واقعہ نہیں۔)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ حَازِمٍ، عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔ مَنْ مَرَّ عَلَیَّ شَرِبَ۔ وَ مَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ اَبَداً لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ اَقْوَامٌ اَعْرِفُھُمْ وَ یَعْرِفُوْنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَھُمْ۔ قَالَ اَبُوْ حَازِمٍ فَسَمِعَنِی النُّعْمَانُ بْنُ اَبِیْ عَیَّاشٍ۔ فَقَالَ ھٰکَذَا سَمِعْتَ مِنْ سَھْلٍ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ۔ فَقَالَ اَشْھَدُ عَلٰی اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہٗ وَ ھُوَ یَزِیْدُ فِیْھَا فَاَقُوْلُ اِنَّھُمْ مِنِّیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا اَحَدَثُوْا بَعْدَکَ فَاَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَیَّرَ بَعْدِیْ، وَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سُحْقًا بُعْدًا سَحِیْقٌ بِعِیْدٌ سَحَقَہٗ وَ اَسْحَقَہٗ اَبْعَدَہٗ۔ وَ قَالَ اَحْمَدُ بْنُ شَبِیْبِ بْنِ سَعِیْدٍ الْحَبَطِیُّ، حَدَّثَنَا اَبِیْ عَنْ یُوْنُسَ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّہٗ کَانَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: یَرِدُ عَلَیَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَھْطٌ مِنْ اَصْحَابِیْ فَیُحَلِّئُوْنَ عَنِ الْحَوْضِ۔ فَاَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَصْحَابِیْ فَیَقُوْلُ: اِنَّکَ لاَ عِلْمَ لَکَ بِمَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ اِنَّھُمْ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمُ الْقَھْقَرٰی ح وَ قَالَ شُعَیْبٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ کَانَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فَیُجْلَوْنَ الخ۔ (٧١)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی انے فرمایا میں حوض کوثرپر تمہارا پیش رو ہوں گا، جس کا گزر مجھ پرہوا، وہ جام ِ کوثر نوش کرے گا۔ اور جس نے آب ِ کوثر نوش کرلیا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انہیں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اوران کے مابین رکاوٹ حائل کردی جائے گی۔ ابو حازم کا بیان ہے کہ نعمان بن ابی عیاش نے جب مجھ سے سنایا اور کہا کہ اسی طرح تم نے سہل سے سنا ہے، میں نے کہا ہاں اس نے کہا کہ میں ابو سعید خدریؓ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ ان کو اس اضافہ کے ساتھ روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپؐ نے فرمایا میں کہوں گا کہ یہ لوگ میرے ہیں، تو جواب میں کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں تمہارے بعد ان لوگوں نے کیا کیا۔ (کیا کیا نئی نئی بدعتیں ایجاد کیں) تو میں کہوں گا دوری ہو، دوری ہر اس کے لیے جس نے میرے بعد دین کو بدل دیا۔ ابن عباسؓ نے سحقا سحقا کا معنی بعید کیاہے اور اسحقہ کا معنی ابعدہ، احمد بن شبیب بن سعید الحبطی کا بیان ہے۔۔۔
حضرت ابوہریرہؓ سے منقول ہے وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ انے فرمایا قیامت کے روز میرے صحابہ کا ایک گروہ مجھ پر وارد ہوگا (میرے پاس آئے گا) انہیں حوض پر وارد ہونے سے دور کردیا جائے گا۔ تو میں کہوں گا اے میرے آقا و پرور دگار یہ میرے صحابی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تجھے معلوم نہیں تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کیں۔ یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے اور مرتد ہوگئے۔
(۲) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُھَیْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ عَنْ اَنَسٍ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ اَصْحَابِیْ الْحَوْضَ حَتّٰی عَرَفْتُھُمْ اُخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ فَاَقُوْلُ اَصْحَابِیْ (اُصَیْحَابِیْ) فَیَقُوْلُ لاَ تَدْرِیْ مَا اَحَدَثُوْا بَعْدَکَ۔ (٧٢)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی انے فرمایا حوض کوثر پر میرے صحابہ میں سے کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے (وارد ہوں گے) مگر انہیں مجھ تک پہنچنے نہیں دیا جائے گا تو میں عرض کروں گا یہ تو میرے صحابی ہیں، جواب میں ارشاد ہوگا۔ آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی تھیں۔
(۳) حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی اَلصَّدَفِیُّ۔ قَالَ:اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ عَمْرٌو وَ ھُوَ ابْنُ الْحَارِثِ اَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہٗ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسِ الْھَاشِمِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ، اَنَّھَا قَالَتْ: کُنْتُ اَسْمَعُ النَّاسَ یَذْکُرُوْنَ الْحَوْضَ، وَلَمْ اَسْمَعْ ذٰلِکَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَلَمَّا کَانَ یَوْمًا مِنْ ذٰلِکَ وَالْجَارِیَۃُ تَمْشُطُنِیْ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَیُّھَا النَّاسُ: فَقُلْتُ لِلْجَارِیَۃِ اِسْتَاْخِرِی عَنِّیْ قَالَتْ: اِنَّمَا دَعَا الرَّجُلَ وَلَمْ یَدَعِ النِّسَائَ۔ فَقُلْتُ اِنِّیْ مِنَ النَّاسِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اِنِّیْ لَکُمْ فَرَطٌ عَلَی الْحَوْضِ فَاِیَّایَ لاَ یَاْتِیَنَّ اَحَدُکُمْ فَیُذَبُّ عَنِّیْ کَمَا یُذَبُّ الْبَعِیْرُ الضَّالُّ۔ فَاَقُوْلُ فِیْمَا ھٰذَا؟ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ فَاَقُوْلُ سُحْقًا۔ (٧٣)
ترجمہ: حضرت ام سلمہ زوجۂ نبی ا کا بیان ہے کہ وہ لوگوں سے حوض کوثر کا ذکر سنتی تھیں مگر اس کا ذکر رسول اللہ ا کی زبان مبارک سے نہیں سنا تھا۔ ایک روز خادمہ ان کے سر میں کنگھی کر رہی تھی کہ میں نے سنا رسول اللہا فرما رہے تھے۔
لوگو! میں نے خادمہ لونڈی سے کہا ذرا رک جا۔ مجھ سے وہ بولی۔ آپ نے تو لوگوں کو بلایا ہے، خواتین کو تو نہیں بلایا۔ میں نے کہا میں بھی الناس میں شامل ہوں۔ رسول اللہا نے فرمایا: میں تم سب سے پہلے حوض پر پہنچا ہوں گا۔ تم میں سے کوئی بھی میرے پاس نہ آئے کہ اسے مجھ سے اس طرح دھکیل کر دور ہٹا دیا جائے جس طرح بھٹکے ہوئے اونٹ کو دور ہٹا دیا جاتاہے۔ میں کہوں گا۔ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟ جواب ملے گا تمہیں معلوم نہیں انہوں نے تمہارے بعد (اعتقاد و عمل کے میدان میں) کیا کیا بدعتیں ایجاد کی تھیں۔ یہ سن کر میں کہوں گا دور ہو۔
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَ اَبُوْ کُرَیْبٍ وَابْنُ نُمَیْرٍ قَالُوْا: نَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، اَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَلَأُنَازِعُنَّ اَقْوَامًا ثُمَّ لَاُغْلَبَنَّ عَلَیْھِمْ فَاَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ (٧٤)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا: میں حوض ِ کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ کچھ لوگوں کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کیا جائے گا پھر میں ان کے سلسلے میں مغلوب ہوں گا۔ تو عرض کروں گا آقا و مالک، میرے صحابی، میرے صحابی، جواب دیا جائے گا تمہیں نہیں معلوم انہوں نے کیا کیا بدعتیں ایجاد کی تھیں۔
(۵) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتَی الْمَقْبَرَۃَ، فَقَالَ:اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَ اِنَّا اِنْ شَآئَ اللّٰہُ بِکُمْ لاَحِقُوْنَ۔ وَدِدْتُّ اَنَا قَدْ رَأَیْنَا اِخْوَانَنَا قَالُوْا:اَوَ لَسْنَا اِخْوَانَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اَنْتُمْ اَصْحَابِیْ وَ اِخْوَانُنَا الَّذِیْنَ لَمْ یَأْتُوْا بَعْدُ فَقَالُوْا: کَیْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَّمْ یَأْتِ بَعْدُ مِنْ اُمَّتِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: اَرَأَیْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلاً لَہٗ خَیْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلِیْنَ بَیْنَ ظَھْرَیْ خَیْلٍ دُھْمٍ بُھْمٍ اَلاَ یَعْرِفُ خَیْلَہٗ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَاِنَّھُمْ یَأْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنَ الْوُضُوْئِ، وَ اَنَا فَرَطُھُمْ عَلَی الْحَوْضِ، اَلاَ لَیَذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِیْ کَمَا یُذَادُ الْبَعِیْرُ الضَّالُّ۔ اُنَادِیْھِمْ، اَلاَ ھَلُمَّ۔ فَیُقَالُ:اِنَّھُمْ قَدْ بَدَّلُوْا بَعْدَکَ فَاَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا۔۔۔(٧٥)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہا قبرستان میں تشریف لائے اور السلام علیکم دار قوم مؤمنین و انا ان شاء اللّٰہ بکم لاحقون کہہ کر سلام کہا (اور فرمایا)
میری تمنا و آرزو ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ فرمایا تم تو میرے صحابی ہو اور ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو بعد میں آئیں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو ابھی تک نہیں آئے پہچانیں گے کیسے؟ آپ نے فرمایا کیا غور کیا تونے کہ اگر کسی آدمی کے گھوڑے سفید پیشانی اور سفید پاؤں والے ہوں اور جاکر سیاہ مشکی گھوڑوں میں مل جائیں تو وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا، صحابہؓ نے عرض کیا ہاں بلا شبہ وہ اپنے گھوڑے پہچان لے گا۔ آپ نے فرمایا میری امت کے لوگ وضو کی وجہ سے سفید منہ اور ہاتھ پاؤں سفید رکھتے ہوں گے اور میںحوض کوثر پر ان کا پیش رو موجود ہوں گا۔ سنو! کچھ لوگوں کو میرے حوض سے دور ایسے ہٹادیا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو دور ہٹا دیا جاتا ہے۔ میںانہیں آواز دوں گا آؤ، آؤ۔ جواب دیا جائے گا۔ ان لوگوں نے اپنے آپ کو بدل لیا تھا تو میں کہوں گا جاؤ۔ دور ہو، دور ہو۔
(۶) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ وَ وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ۔ قَالاَ: نَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ اَلْاَشْجَعِیِّ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: تَرِدُ عَلَیَّ اُمَّتِی الْحَوْضَ، وَ اَنَا اَزُوْدُ النَّاسَ عَنْہُ کَمَا یَذُوْدُ الرَّجُلُ اِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ اِبِلِہٖ قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ تَعْرِفُنَا، قَالَ: نَعَمْ سِیْمًا لَیْسَتْ لِاَحَدٍ غَیْرِکُمْ۔ تَرِدُوْنَ عَلَیَّ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنْ اٰثَارِ الْوُضُوْئِ۔ وَ لَیُصَدَّنَّ عَنِّیْ طَائِفَۃٌ مِنْکُمْ فَلاَ یَصِلُوْنَ۔ فَاَقُوْلُ: یَا رَبِّ ھٰؤُلَآئِ مِنْ اَصْحَابِیْ فَیُجِیْبُنِیْ مَلَکٌ فَیَقُوْلُ: وَ ھَلْ تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ (٧٦)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا میری امت حوض کوثر پر میرے پاس آئے گی۔ میں لوگوں کو اس حوض پر وارد ہونے سے ایسے روکوں گا جیسے ایک شخص دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں کے ساتھ شامل ہونے سے روکتا ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ ایسی علامت و نشانی سے جو تمہارے علاوہ کسی کی نہ ہوگی۔ تم میرے پاس ایسی حالت میں وارد ہوگے کہ وضو کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے اور ہاتھ اور پاؤں چمکتے ہوں گے۔ تم میں سے کچھ لوگوں کو مجھ تک رسائی سے روک دیا جائے گا تو میں عرض کروں گا اے میرے آقا و مالک یہ لوگ تو میرے صحابی ہیں۔ تو فرشتہ جواب میں کہے گا۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں؟
(۷) حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ ھِلاَلٌ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: بَیْنَا اَنَا قَائِمٌ اِذَا زُمْرَۃٌ حَتّٰی اِذَا عَرَفْتُھُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَھُمْ۔ فَقَالَ: ھَلُمَّ فَقُلْتُ: اَیْنَ؟ قَالَ: اِلَی النَّارِ۔ وَاللّٰہِ قُلْتُ: وَمَا شَاْنُھُمْ؟ قَالَ: اِنَّھُمُ ارْتَدُّوْا بَعْدَکَ عَلٰی اَدْبَارِھِمُ الْقَھْقَرٰی ثُمَّ اِذَا زُمْرَۃٌ حَتّٰی اِذَا عَرَفْتُھُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَھُمْ۔ فَقَالَ: ھَلُمَّ۔ قُلْتُ: اَیْنَ؟ قَالَ: اِلَی النَّارِ۔ وَاللّٰہِ قُلْتُ: وَمَا شَاْنُھُمْ اِنَّھُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمْ الْقَھْقَرٰی۔ فَلاَ اُرَاہُ یَخْلُصُ فِیْھِمْ اِلاَّ مِثْلُ ھَمَلِ النَّعَمِ۔ (٧٧)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ نبی اسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اس دوران جب میں کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت پر میری نظر پڑے گی یہاں تک کہ میں ان کو پہچان لوں گا، تو میرے اور ان کے درمیان سے ایک آدمی نکلے گا اور کہے گا چلو، میں پوچھوں گا، کہاں؟ وہ بولے گا دوزخ کی جانب۔ واللہ میں دریافت کروں گا ان کا کیا حال ہے؟ وہ جواب دے گا یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کے بعد الٹے پاؤں پھرگئے تھے۔ پھر ایک گروہ پر میری نظر پڑے گی یہاں تک کہ میں ان کوپہچان لوں گا میرے اور ان کے درمیان میں سے ایک آدمی نکلے گا اور کہے گا آیئے میں پوچھوں گا کہاں؟ وہ بولے گا دوزخ کی طرف۔ واللہ میں کہوں گا ان کا کیا حال ہے؟ وہ جواب دے گا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔ میرا گمان ہے کہ ان میں سے صرف بغیر چرواہے کے شب و روز آزاد پھرنے والے اونٹوں کے برابر نجات پائیں گے۔
(۸) حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنِّیْ عَلَی الْحَوْضِ حَتّٰی اَنْظُرَ مَنْ یَّرِدُ عَلَیَّ مِنْکُمْ وَ سَیُوْخَذُ نَاسٌ دُوْنِیْ۔ فَاَقُوْلُ: یَا رَبِّ مِنِّیْ وَ مِنْ اُمَّتِیْ۔ فَیُقَالُ: ھَلْ شَعُرْتَ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ۔ وَاللّٰہِ! مَا بَرِحُوْا یَرْجِعُوْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ فَکَانَ ابْنُ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ اَنْ نَرْجِعَ عَلٰی اَعْقَابِنَا اَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِیْنِنَا۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْنَ۔ تَرْجِعُوْنَ عَلَی الْعَقِبِ۔ (٧٨)
ترجمہ: ابن ابی ملیکہ نے اسماء بنت ابی بکر کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔ اسماء نے بیان کیا کہ نبی انے فرمایا: میں حوض پر رہوں گا کہ دیکھوں تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے اور کچھ لوگوں کو میرے پاس پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا جائے گا، تو میں عرض کروں گا میرے آقا و مالک مجھ سے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ جواب دیا جائے گا کیا تمہیں شعور (معلوم) ہے کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد کیا گُل کھلائے ہیں (کیا کیا نئی بدعتیں ایجاد کی ہیں) اللہ کی قسم یہ لوگ الٹے پاؤں پھرتے رہے ہیں۔ ابن ابی ملیکہ دعا کیا کرتے تھے۔ یا الٰہی ہم تیری پناہ کے طالب ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھریں یا ہم دین کے معاملے میں فتنہ میں مبتلا ہوں۔ امام بخاری نے کہا ہے عَلٰی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْنَ کا معنی ہے تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔
٩٢- اَلاَ وَ اِنِّیْ فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَ اُکَاثِرُ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلاَ تُسَوِّدُّوْا وَجْھِیْ، اَلاَ وَ اِنِّیْ مُسْتَنْقَذٌ اُنَاساً وَ مُسْتَنْقِذٌ اُنَاسٌ مِنِّیْ فَاَقُوْلُ یَا رَبِّ اُصَیْحَابِیْ فَیَقُوْلُ اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔
’’ابن ِ ماجہ کی روایت میں حضوؐرفرماتے ہیں، خبردار رہو، میں تم سے آگے حوض پر پہنچا ہوا ہوں گااور تمہارے ذریعے سے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔ اُس وقت میرا منہ کالا نہ کروانا۔ خبردار رہو کچھ لوگوں کو میں چھڑاؤں گا اورکچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے۔ میںکہوں گا کہ اے پروردگار، یہ تو میرے صحابی ہیں۔ وہ فرمائے گا تم نہیں جانتے انہوں نے تمہارے بعد کیا نرالے کام کیے ہیں‘‘ (ابن ِ ماجہ کی روایت ہے کہ یہ الفاظ حضوؐر نے عرفات کے خطبے میں فرمائے تھے)۔
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ تَوْبَۃَ، ثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ اَبِیْ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ عَلٰی نَاقَتِہِ الْمُخْضَرَمَۃِ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: اَتَدْرُوْنَ اَیَّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ وَ اَیَّ شَھْرٍ ھٰذَا؟ وَ اَیَّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا بَلَدٌ حَرَامٌ وَ شَھْرٌ حَرَامٌ۔ وَ یَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ: اَلاَ وَ اِنَّ اَمْوَالَکُمْ وَ دِمَائَ کُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ شِھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔ اَلاَ وَ اِنِّیْ فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَ اُکَاثِرُ بِکُمُ الْأُمَمَ فَلاَ تُسَوِّدُوْا وَجْھِیْ وَ اِنِّیْ مُسْتَنْقَذٌ اُنَاسًا وَ مُسْتَنْقِذٌ مِنِّیْ اُنَاسٌ فَاَقُوْلُ یَا رَبِّ اُصَیْحَابِیْ؟ فَیَقُوْلُ اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَآ اَحَدَثُوْا بَعْدَکَ۔ (٧٩)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا اس وقت عرفات میں حضوؐر اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوارتھے۔ آپ نے دریافت فرمایا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے، کون سا مہینہ ہے، کون سا شہر ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا یہ شہر ِ حرام ہے، حرمت والا مہینہ ہے اور حرام دن ہے۔ فرمایا تمہارے مال اور خون بھی ایسے ہی ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے اس مہینے کی حرمت تمہارے اس شہر میں، اس دن میں۔ آگاہ رہو میں تم سب سے پہلے حوض کوثر پہنچا ہوا ہوں گا (پیش رو ہوں گا) اور تمہاری وجہ سے دیگر امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔ اس وقت میرا منہ کالا نہ کروانا اور کچھ لوگوں کو چھڑاؤں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے۔ ملائکہ چھین کر لے جائیں گے تو میں کہوں گا یہ تو میرے اصحاب ہیں اے میرے آقا و مالک۔ پروردگار کا ارشاد ہوگا تمہیں معلوم نہیں تیرے بعد انہوں نے کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں۔ (کیا کیا نرالے کام کیے)
٩٣- ’’اسی طرح حضوؐر نے اپنے دور کے بعد قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ ان میں سے جو بھی میرے طریقے سے ہٹ کر چلیں گے اور اس میں ردّ و بدل کریں گے انہیں اس حوض سے ہٹا دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے رب یہ تو میرے ہیں، میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا آپؐ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا تغیرات کیے اور اُلٹے ہی پھرتے چلے گئے۔ پھر میں بھی ان کو دفع کروں گا اور حوض پر نہ آنے دوں گا۔‘‘ (بخاری کتاب المُساقات، کتاب الرقاق، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الطہارۃ، کتاب الصلوٰۃ، کتاب الفضائل۔ ابن ِ ماجہ، کتاب الزہد۔ مسند ِ احمد، مرویات ابن عباسؓ)۔
اس حوض کی روایات ۵۰ سے زیادہ صحابہ سے مروی ہیں اور سلف نے بالعموم اس سے مراد حوض ِ کوثر لیا ہے۔ (امام بخاری نے کتاب الرقاق کے آخری باب کا عنوان ہی یہ باندھا ہے۔ بَابُ فِی الْحَوْضِ وَ قَوْلُ اللّٰہ۔ اِنَّا اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ)
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدُرٌ۔ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ۔ فَقَالَ: اِنَّکُمْ مَحْشُوْرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً کَمَا بَدَأْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ اَلْاٰیَۃَ۔ وَ اِنَّ اَوَّلَ الْخَلاَئِقِ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِبْرَاھِیْمُ وَ اِنَّہٗ سَیُجَائُ بِرِجَالٍ مِنْ اُمَّتِیْ۔ فَیُؤْخَذُ بِھِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَاَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَصْحَابِیْ۔ فَیُقَالُ اِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَآ اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ۔ فَاَقُوْلُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا۔ اِلٰی قَوْلِہِ الْحَکِیْمُ ۔ فَیُقَالُ اِنَّھُمْ لَمْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ۔ (٨٠)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک روز نبی اہمارے درمیان خطاب فرمانے کھڑے ہوئے اور فرمایا تمہارا حشر اس حال میں ہوگا کہ ننگے پاؤں اور برہنہ بدن اور بغیر ختنہ ہوگے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) جس طرح ہم نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تمہارا دوبارہ اعادہ کریں گے۔ قیامت کے روز سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جو بائیں ہاتھ والے ہوں گے ان کا مواخذہ کیا جائے گا تو میں اس موقع پر عرض کروں گا۔ اے میرے آقا و مالک یہ تو میرے اصحاب ہیں تو جواب دیا جائے گا تجھے معلوم نہیں ان لوگوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں۔ تو میں اس وقت وہی عرض کروں گا جو صالح انسان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میں ان پر اس وقت تک شاہد تھا جب تک میں ان کے درمیان میں رہا اللہ تعالیٰ کے قول الحکیم تک۔ پھر جواب دیا جائے گا کہ یہ لوگ ہمیشہ روگردانی کرتے رہے ہیں۔
٩٤- ’’حضرت انسؓ فرماتے ہیں (اور بعض روایات میں صراحت ہے کہ رسول اللہ اکے قول کی حیثیت سے بیان کرتے ہیں) کہ معراج کے موقع پر حضوؐر کو جنت کی سیر کرائی گئی اور اس موقع پر آپؐ نے ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر اندر سے ترشے ہوئے موتیوں یا ہیروں کے قُبّے بنے ہوئے تھے۔ اس کی تہہ کی مٹی مشک اِذفَر کی تھی۔ حضوؐر نے جبریل سے، یا اُس فرشتے سے جس نے آپؐ کو سیر کرائی تھی، پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا یہ نہر کوثر ہے جو آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ ‘‘
(مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، طیالسی، ابنِ جریر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ثَنَا الْمُعْتَمَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ، قَالَ: ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ لَمَّا عُرِجَ بِنَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ فِی الْجَنَّۃِ، اَوْ کَمَا قَالَ۔ عُرِضَ لَہٗ نَھْرٌ حَافَتَاہُ الْیَاقُوْتُ الْمُجَیَّبُ، اَوْ قَالَ الْمُجَوَّفُ۔ فَضَرَبَ الْمَلِکُ الَّذِیْ مَعَہٗ یَدَہٗ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْکًا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ ﷺ لِلْمَلَکِ الَّذِیْ مَعَہٗ: مَا ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا الْکَوْثَرُ الَّذِیْ اَعْطَاکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (٨٦)
(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ سَرْحٍ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْ نُعَیْمٍ، قَالَ:اَخْبَرَنَا اَبُوْ جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنِ ابْنِ نَجِیْحٍ، عَنْ اَنَسٍ قَالَ: الْکَوْثَرُ نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ۔ (٨٧)
(۳) حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ سَرْحٍ، قَالَ: ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُوْ جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِیْعِ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ فِیْ قَوْلِہٖ اِنَّا اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ قَالَ: نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ۔ (٨٨)
(۴) حَدَّثَنَا اَبُوْکُرَیْبٍ، قَالَ: ثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: الْکَوْثَرُ نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ۔ حَافَتَاہُ مِنْ ذَھَبٍ وَ فِضَّۃٍ یَجْرِیْ عَلَی الْیَاقُوْتِ وَالدُّرِّ۔ مَاؤُہٗ اَبْیَضُ مِنَ الثَّلْجِ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ۔ (٨٩)
(۵) حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثَنَا یَعْقُوْبُ الْقُمِیُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ حُمَیْدٍ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِیَّۃَ، عَنْ شَقِیْقٍ اَوْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَا بَطْنَانُ الْجَنَّۃِ، قَالَتْ وَسْطُ الْجَنَّۃِ، حَافَتَاہُ قُصُوْرُ اللُّؤْلُؤِ وَالْیَاقُوْتِ، تُرَابُہُ الْمِسْکُ وَ حَصَبَائُ ہٗ اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوْتُ۔ (٩٠)
٩٥- ’’ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضوؐر نے ارشاد فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کے کنارے سونے کے ہیں، وہ موتیوں اور ہیروں پہ بہہ رہی ہے( یعنی کنکریوں کی جگہ اس کی تہہ میں یہ جواہر پڑے ہوئے ہیں) اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اس کا پانی دودھ سے (یا برف سے) زیادہ سفید ہے، برف سے ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
(مسند احمد، ترمذی، ابن ِماجہ، ابن ِ ابی حاتم، دارمی، ابو داؤد طیالسی، ابن المنذر، ابن ِ مردویہ، ابن ابی شیبہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ، قَالَ: ثَنَا ھُشَیْمٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ قَالَ:الْکَوْثَرُ نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ حَافَتَاہُ مِنْ ذَھَبٍ وَ فِضَّۃٍ یَجْرِیْ عَلَی الدُّرِّ وَالْیَاقُوْتِ، مَاؤُہٗ اَشَدُّ بِیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ۔ (٩١)
(۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِیْ قَوْلِہٖ اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ قَالَ: نَھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ حَافَتَاہُ الذَّھَبُ وَ مَجْرَاہُ عَلَی الدُّرِّ وَالْیَاقُوْتِ، وَمَاؤُہٗ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَ اَشَدُّ حَلاَوَۃً مِنَ الْعَسَلِ۔ وَ تُرْبَتُہٗ اَطْیَبُ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ۔ (٩٢)
٩٦- ’’اُسامہ بن زید کی روایت ہے کہ رسول اللہا ایک مرتبہ حضرت حمزہؓ کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہ گھر پر نہ تھے۔ ان کی اہلیہ نے حضوؐر کی تواضع کی اور دوران گفتگو عرض کیا کہ میرے شوہر نے مجھے بتایا ہے کہ آپؐ کو جنت میں ایک نہر عطا کی گئی ہے جس کا نام کوثر ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں، اور اس کی زمین یاقوت و مرجان اور زَبر جد اور موتیوں کی ہے۔‘‘ (ابن جریر، ابن مردویہ۔ اس کی سند اگر چہ ضعیف ہے مگر اس مضمون کی کثیر التعداد روایات کا موجود ہونا اس کو تقویت پہنچاتا ہے)۔
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ الْبَرَقِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ۔ قَالَ اَخْبَرَنَا حِزَامُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ۔اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَتَی حَمْزَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَوْماً فَلَمْ یَجِدْہُ فَسَأَلَ امْرَأَتَہٗ عَنْہُ۔ وَکَانَتْ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ۔ فَقَالَتْ خَرَجَ بِاَبِیْ اَنْتَ اٰنِفًا عَامِدًا نَحْوَکَ۔ فَاَظُنُّہٗ اَخْطَاکَ فِیْ بَعْضِ اَزِقَّۃِ بَنِی النَّجَّارِ۔ اَوَلاَ تَدْخُلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَدَخَلَ فَقَدَّمَتْ اِلَیْہِ حَیْسًا فَاَکَلَ مِنْہُ۔ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھَنِیْئًا لَکَ وَ مَرِیْئًا۔ لَقَدْ جِئْتَ وَ اِنِّیْ لَاُرِیْدُ اَنْ اٰتِیْکَ فَأُھْنِیْکَ وَأَمْرِیْکَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ عَمَارَۃَ اَنَّکَ اُعْطِیْتَ نَھْرًا فِی الْجَنَّۃِ یُدْعٰی الْکَوْثَرُ۔ فَقَالَ:اَجَلْ وَ عَرْضُہٗ یَعْنِیْ اَرْضُہٗ یَاقُوْتُ وَ مَرْجَانٌ وَ زَبَرجَدٌ وَ لُؤْ لُؤٌ۔ (٩٣)
٩٧- ’’حضرت ابو برزہ اسلمیؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے حوض کے متعلق رسول اللہا سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، چار نہیں، پانچ نہیں، بار بار سنا ہے، جو اُس کو جھٹلائے اللہ اسے اس کا پانی پینا نصیب نہ کرے۔ (ابو داؤد، کتاب السنۃ)۔ عبید اللہ بن زیاد حوض کے بارے میں روایات کو جھوٹ سمجھتا تھا، حتی کہ اس نے حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ، براء بن عازبؓ اور عائذ بن عمروؓ کی سب روایات کو جھٹلادیا۔ آخر کار ابو سبرہ ایک تحریر نکال کر لائے جو انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاصؓ سے سن کر نقل کی تھی اور اس میں حضوؐر کا یہ ارشاد درج تھا کہ اَلاَ اِنَّ مَوْعِدَکُمْ حَوْضِیْ ’’خبردار رہو، میری اور تمہاری ملاقات کی جگہ میرا حوض ہے۔‘‘ (مسند ِ احمد، مرویات عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیٰ، ثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْ سَبْرَۃَ، قَالَ: کَانَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ یَسْأَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ ﷺ وَ کَانَ یَکْذِبُ بِہٖ بَعْدَ مَا سَأَلَ اَبَا بَرْزَۃَ وَالْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ وَ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَ رَجُلاً اٰخَرَ وَ کَانَ یَکْذِبُ بِہٖ فَقَالَ اَبُوْ سَبْرَۃَ: اَنَا اُحَدِّثُکَ بِحَدِیْثٍ فِیْہِ شِفَائٌ ھٰذَا اَنَّ اَبَاکَ بَعَثَ مَعِیْ بِمَالٍ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو۔ فَحَدَّثَنِیْ مِمَّا سَمِعَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ اَمْلٰی عَلَیَّ۔ فَکَتَبْتُ بِیَدِیْ فَلَمْ اَزَدْ حَرْفًا وَ لَمْ اَنْقُصْ حَرْفًا۔ حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَحِبُّ الْفُحْشَ اَوْ یُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ قَالَ: لاَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَظْھَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَاحُشُ وَ قَطِیْعَۃُ الرَّحِمِ وَ سُوْئُ الْمُجَاوَرَۃِ وَ حَتّٰی یُؤْتَمَنَ الْخَآئِنُ وَ یَخُوْنَ الْاَمِیْنُ وَ قَالَ: اَلاَ اِنَّ مَوْعِدَکُمْ حَوْضِیْ۔ عَرْضُہٗ وَ طُوْلُہٗ وَاحِدٌ وَ ھُوَ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ وَ مَکَّۃَ وَ ھُوَ مَیْسَرَۃُ شَھْرٍ۔ فِیْہِ مِثْلُ النُّجُوْمِ اَبَارِیْقَ شَرَابُہٗ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ الْفِضَّۃِ۔ مَنْ شَرِبَ مِنْہُ شُرْبًا لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہٗ اَبَدًا فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: مَا سَمِعْتُ فِی الْحَوْضِ حَدِیْثًا اَثْبَتَ مِنْ ھٰذَا فَصَدَّقَ بِہٖ وَ اَخَذَ الصَّحِیْفَۃَ فَحَبَسَھَا عِنْدَہٗ۔ (٩٤)
ترجمہ: ابو سبرہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ عبید اللہ بن زیاد محمد اکے حوض کے بارے میں پوچھتا تھا ابو برزہ، براء بن عازب اور عائذ بن عمرو اور ایک دوسرے شخص سے پوچھنے کے بعد جو حوض کو جھوٹ سمجھتا تھا یہ بھی جھوٹ سمجھنے لگا۔ ابو سبرہ نے بتایا کہ میں تمہیں ایسی حدیث پیش کرتا ہوں جس میں اس مرض کذب کی شفا ہے۔ وہ یہ ہے کہ تیرے والد نے مجھے کچھ مال دے کر معاویہ کے پاس بھیجا۔ میری ملاقات عبد اللہ ابن عمرو سے ہوئی۔ اس نے جو کچھ رسول اللہ اسے سنا تھا وہ مجھ سے بیان کیا اور مجھے املا کروایا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے تحریر کیا۔ نہ اس میں ایک حرف کی کمی کی اور نہ بیشی۔ انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہا نے فرمایا اللہ تعالیٰ فحش کو پسند نہیں کرتا یا فرمایا فحش گو کو ناپسند کرتا ہے (بد زبانی اور بد زبان کو پسند نہیں کرتا) پھر فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ بد زبانی و بدکاری اور قطع رحمی اور بُری ہمسائیگی اور خائن کو امانت دار اور امین کو خائن نہ سمجھاجانے لگے۔ سن لو میری اور تمہاری ملاقات کی جگہ حوض ِ کوثر ہے۔ اس کا طول و عرض یکساں ہے (مربع شکل کا ہے) اور وہ اتنا وسیع و عریض جتنافاصلہ ایلہ اور مکہ کے مابین ہے اور یہ مسافت ایک ماہ کی ہے اس نہر میں کوزے اور جام اتنی کثیر تعداد میں ہیں جتنی تاروں کی تعداد ہے۔ اس کے مشروب (پانی) کی رنگت چاندی سے زیادہ سفید ہے جس نے ایک مرتبہ اسے پی لیا وہ پھر اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ عبید اللہ کا بیان ہے حوض کے بارے میں اس سے زیادہ ثابت شدہ حدیث میں نے نہیں سنی۔ اس کے بعد اس حدیث کی تصدیق کی۔ اس صحیفہ کو لے کر اپنے پاس محفوظ کرلیا۔
تشریح: حوض ِ (کوثر) قیامت کے روز آپؐ کو عطا ہوگا اور اُس سخت وقت میں جب کہ ہر ایک العطش العطش کر رہا ہوگا، آپؐ کی امت آپؐ کے پاس اس پر حاضر ہوگی اور اس سے سیراب ہوگی۔آپؐ اس پر سب سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور اُس کے وسط میں تشریف فرما ہوں گے۔
اُس حوض کی وسعت مختلف روایات میں مختلف بیان کی گئی ہے، مگر کثیر روایات میں یہ ہے کہ وہ ایلہ (اسرائیل کے موجودہ بندرگاہ اَیلات) سے یمن کے صنعاء تک، یا ایلہ سے عدن تک، یا عمان سے عدن تک طویل ہوگا اور اس کی چوڑائی اتنی ہوگی جتنا اَیلہ سے جحفہ (جدہ اور رابغ کے درمیان ایک مقام) تک کا فاصلہ ہے۔ (بخاری، کتاب الرقاق۔ ابو داؤد الطیالسی، حدیث نمبر۹۹۵۔ مسند احمد، مرویات ابو بکر صدیق ؓ و عبد اللہ بن عمر۔ مسلم کتاب الطہارۃ و کتاب الفضائل، ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ، ابن ماجہ، کتاب الزہد)۔ اِس سے گمان ہوتا ہے کہ قیامت کے روز موجودہ بحر احمر ہی کو حوض کوثر میں تبدیل کردیا جائے گا، واللہ اعلم بالصواب۔ اس حوض کے متعلق حضوؐر نے (مزید) بتایا کہ اس میں جنت کی نہر کوثر سے پانی لاکر ڈالا جائے گا۔
(مندرجہ بالا) مرفوع روایات کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے بکثرت اقوال احادیث میں نقل ہوئے ہیں جن میں وہ کوثر سے مراد جنت کی یہ نہر لیتے ہیں اور اس کی وہی صفات بیان کرتے ہیں جو اوپر گزری ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عائشہؓ، مجاہد اورابو العالیہ کے اقوال مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ِ مردویہ،ابن جریر، اور ابن ابی شیبہ وغیرہ محدثین کی کتابوں میں موجود ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۶، الکوثر ، حاشیہ:۱)
سورۃ الکافرون
٩٨- ’’وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہا سے کہا اگر آپؐ پسند کریں تو ایک سال ہم آپؐکے دین میں داخل ہوجائیں اور ایک سال آپؐ ہمارے دین میں داخل ہوجایا کریں۔‘‘ (عبد بن حمید ابن ابی حاتم)
تخریج:(۱) عَنْ وَھْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ: قَالَ قُرَیْشٌ لِلنَّبِیِّ ﷺ: اِنْ سَرَّکَ اَنْ نَدْخُلَ فِیْ دِیْنِکَ عَامًا وَ تَدْخُلَ فِیْ دِیْنِنَا عَامًا، فَنَزَلَتْ: قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ حَتّٰی خَتَمَھَا۔ (٩٥)
(۲) قَالَ ابْنُ قُتَیْبَۃَ: قَالُوْا: اِنَّ سَرَّکَ اَنْ نَدْخُلَ فِیْ دِیْنِکَ عَامًا فَادْخُلْ فِیْ دِیْنِنَا عَامًا۔ فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ۔ (٩٦)
(۳) اِنَّ رَھْطًا مِنْ عُتَاۃِ قُرَیْشٍ: قَالُوْا لَہٗ (ﷺ) ھَلُمَّ فَاتَّبِعْ دِیْنَنَا َو نَتَّبِعْ دِیْنَکَ تَعْبُدُ اٰلِھَتِنَا سَنَۃً وَ نَعْبُدُ اِلٰھَکَ سَنَۃً فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مَعَاذَ اللّٰہِ تَعَالٰی اَنْ اُشْرِکَ بِاللّٰہِ سُبْحَانَہٗ غَیْرَہٗ۔ (٩٧)
٩٩- ’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہا سے کہا، ہم آپؐ کو اتنا مال مویشی دیتے ہیں کہ آپؐ مکہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپؐ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپؐ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپؐ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی برائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپ کو منظور نہیں، تو ہم ایک اور تجویز آپؐ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپؐ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضوؐر نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپؐ ہمارے معبودوں لات اور عزّٰی کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپؐ کے معبود کی عبادت کریں۔ حضوؐر نے فرمایا اچھا ، ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم آتا ہے۔ اس پر وحی نازل ہوئی (قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ۔۔۔) اور یہ کہ (قُلْ أَ فَغَیْرَ اللّٰہِ تَأْمُرُوْنِّیْ اَعْبُدُ اَیُّھَا الْجَاھِلُوْنَ) ۔
(الزمر:۶۴)
’’ان سے کہو، اے نادانو! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں ۔ (ابن ِ جریر، ابن ِ ابی حاتم، طبرانی)
تخریج: حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسَی الْحَرْشِیُّ، قَالَ: ثَنَا اَبُوْ خَلْفٍ، قَالَ: ثَنَا دَاؤدُ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ قُرَیْشًا وَعَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یُعْطُوْہُ مَالاً فَیَکُوْنُ اَغْنٰی رَجُلٍ بِمَکَّۃَ وَ یُزَوَّجُوْہُ مَا اَرَادَ مِنَ النِّسَائِ وَ یَطَؤُا عَقِبَہٗ۔ فَقَالُوْا لَہٗ ھٰذَا لَکَ عِنْدَنَا یَا مُحَمَّدُ وَ کَفٍّ عَنْ شَتْمِ اٰلِھَتِنَا فَلاَ تَذْکُرُھَا بِسُوْئٍ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ، فَاِنَّا نُعْرِضُ عَلَیْکَ خَصْلَۃً وَاحِدَۃً فَھِیَ لَکَ وَلَنَا فِیْھَا صَلاَحٌ، قَالَ: مَا ھِیَ؟ قَالُوْا: تَعْبُدْ اٰلِھَتِنَا سَنَۃً اللاَّتَ وَالْعُزّٰی، وَ نَعْبُدُ اِلٰھَکَ سَنَۃً قَالَ حَتّٰی اُنْظُرَ مَا یَأْتِیْ مِنْ عِنْدِ رَبِّیْ فَجَائَ الْوَحْیُ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ۔ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ السُّوْرَۃَ وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَأْمُرُوْنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَا الْجَاھِلُوْنَ اِلٰی قَوْلِہٖ فَاعْبُدْ وَ کُنْ مِّنَ الشَّاکِرِیْنَ۔ (٩٨)
١٠٠- ’’ابن عباسؓ کی ایک اور روایت میں یہ ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضوؐر سے کہا ’’اے محمدؐ، اگر تم ہمارے معبود بتوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے‘‘ اس پر یہ سورہ نازل ہوئی۔ (عبد بن حمید)
تخریج: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ قُرَیْشًا قَالَتْ: لَوِ اسْتَلَمْتَ اٰلِھَتِنَا لَعَبَدْنَا اِلٰھَکَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ السُّوْرَۃُ کُلُّھَا۔ (٩٩)
١٠١- ’’سعید بن میناء (و ابو البختری کے آزاد کردہ غلام) کی روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اَسود بن المطَّلِب اور اُمیّہ بن خلف رسول اللہا سے ملے اورآپؐ سے کہا ’’اے محمدؐ، آؤ ہم تمہارے معبود کی عبادت کرتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اور ہم اپنے سارے کاموں میں تمہیں شریک کیے لیتے ہیں۔ اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اُس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمہارے ساتھ اُس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اس سے پالیں گے۔ اور اگر وہ چیز جو ہمارے پاس ہے اُس سے بہتر ہوئی جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ اس میں شریک ہوگے اور اس سے اپنا حصہ پالوگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ (قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ۔۔۔) (ابن جریر و ابن ِ ابی حاتم، ابن ِ ہشام نے بھی سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے)۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ، قَالَ، ثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: ثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ مَیْنَائُ مَوْلَی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ لَقِیَ الْوَلِیْدُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ، وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَالْاَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ، وَ اُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا یَا مُحَمَّدُ ھَلُمَّ فَلْنَعْبُدْ مَا تَعْبُدُ، وَ تَعْبُدْ مَا نَعْبُدُ، وَ نُشْرِکُکَ فِیْ اَمْرِنَا کُلِّہٖ، فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ جِئْتَ بِہٖ خَیْرًا مِمَّا بِاَیْدِیْنَا کُنَّا قَدْ شَرَکْنَاکَ وَ اَخَذْنَا بِحَظِّنَا مِنْہُ وَ اِنْ کَانَ الَّذِیْ بِاَیْدِیْنَا خَیْرًا مِمَّا فِیْ یَدَیْکَ کُنْتَ قَدْ شَرَکْتَنَا فِیْ اَمْرِنَا فِیْہِ وَ اَخَذْتَ مِنْہُ بِحَظِّکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ حَتَّی انْقَضَتِ السُّوْرَۃُ۔ (١٠٠)
تشریح: مکہ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی اکی دعوتِ اسلام کے خلاف قریش کے مشرک معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہوچکا تھا، لیکن ابھی قریش کے سردار اس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضوؐر کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جاسکے گا۔ اس لیے وقتاً فوقتاً وہ آپؐ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے لے کر آتے رہتے تھے تاکہ آپؐ اُن میں سے کسی کو مان لیں اور وہ نزاع ختم ہوجائے جو آپؐ کے اور اُن کے درمیان رونما ہوچکی تھی (اس سلسلے میں مندرجہ بالا حدیث منقول ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے) کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفار ِ قریش نے حضوؐر کے سامنے اس قسم کی تجویزیں پیش کی تھیں اور اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک دفعہ دو ٹوک جواب دے کر اُن کی اس امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے کہ رسول اللہا دین کے معاملے میں کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پراُن سے کوئی مصالحت کرلیں گے۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسول اللہ ا کسی درجہ میں بھی اس تجویز کو قابل ِ قبول کیا معنی قابل غور بھی سمجھتے تھے، اور آپؐ نے معاذ اللہ کفار کو یہ جواب اِس امید پر دیا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی منظوری آجائے۔ بلکہ دراصل یہ بات بالکل ایسی ہی تھی جیسے کسی ماتحت افسر کے سامنے کوئی بے جا مطالبہ پیش کیا جائے اور وہ جانتا ہو کہ اس کی حکومت کے لیے یہ مطالبہ قابل قبول نہیں ہے، مگر وہ خود صاف انکار کردینے کے بجائے مطالبہ کرنے والوں سے کہے کہ میں آپ کی درخواست اوپر بھیجے دیتا ہوں، جو کچھ وہاں سے جواب آئے گا وہ آپ کو بتادوں گا۔ اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اگر خود ہی انکار کردے تو لوگوں کا اصرار جاری رہتاہے، لیکن اگر وہ بتائے کہ اوپر سے حکومت کا جواب ہی تمہارے مطالبہ کے خلاف آیا ہے تو لوگ مایوس ہوجاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن ،ج۶، الکافرون، تاریخی پس منظر)
١٠٢- ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے بارہا حضوؐر کو فجر کی نمازسے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتوں میں قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ وَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ پڑھتے دیکھا ہے۔ ‘‘
(اس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ِ ماجہ، ابن ِ حبان اور ابن ِ مردویہ نے ابن ِ عمرؓ سے نقل کی ہیں)۔
تخریج: اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَھْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مُھَاجِرٍ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَمَقْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عِشْرِیْنَ مَرَّۃً یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ وَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ (١٠١)
١٠٣- ’’حضرت خبابؓ کہتے ہیں کہ نبی انے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بسترپر لیٹو تو قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَپڑھ لیا کرو، اور حضوؐر کا خود بھی یہ طریقہ تھا کہ جب آپؐ سونے کے لیے لیٹتے تو یہ سورہ پڑھ لیا کرتے تھے۔‘‘
(بزّاز، طبرانی، ابن ِ مردویہ)
تخریج: عَنْ خَبَّابٍ: اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: اِذَا اَخَذْتَ مَضْجِعَکَ فَاقْرَأْ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ وَ اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ لَمْ یَاْتِ فِرَاشَہٗ قَطُّ اِلاَّ قَرَأَ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ حَتّٰی یَخْتَمَ۔ (١٠٢)
١٠٤- ’’ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ انے لوگوں سے فرمایا ’’میں تمہیں بتاؤں وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے؟ وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ پڑھ لیا کرو۔‘‘ (ابو یعلی، طبرانی)
تخریج: اَخْرَجَ اَبُوْ یَعْلٰی وَالطَّبَرَانِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِنَ الْاِشْرَاکِ بِاللّٰہِ تَقْرَئُ وْنَ، قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ عِنْدَ مَنَامِکُمْ۔ (١٠٣)
١٠٥- ’’حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ انے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا سوتے وقت قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ پڑھ لیا کرو کیوں کہ یہ شرک سے براء ت ہے۔‘‘ (بیہقی فی الشعب)
تخریج: اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الدِّیْنَوَرِیُّ، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤُدَ، ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ شَیْبَانَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِمُعَاذٍ: اِقْرَأْ قُلْ یٰـٓاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ۔ عِنْدَ مَنَامِکَ فَاِنَّھَا بَرَائَ ۃٌ مِنَ الشِّرْکِ۔ (١٠٤)
١٠٦- ’’فروہ بن نوفل اور عبد الرحمان بن نوفل، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہ الاشجعیؓ نے رسول اللہا سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیوںکہ یہ شرک سے براء ت ہے۔ ‘‘ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ابی شیبہ،حاکم، ابن ِ مردویہ، بیہقی فی الشُّعب)
ایسی ہی درخواست حضرت زید بن حارثہؓ کے بھائی حضرت جبلہ بن حارثہؓ نے حضوؐر سے کی تھی اور ان کو بھی آپؐ نے یہی جواب دیا تھا۔ (مسند احمد، طبرانی) (تفہیم القرآن، ج۶، الکافرون موضوع و مضمون)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا یَحْیَ بْنُ اٰدَمَ، ثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الْاَشْجَعِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: دَفَعَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ﷺ ابْنَۃَ اُمِّ سَلَمَۃَ وَ قَالَ اِنَّمَا اَنْتَ ظِئْرِیْ، قَالَ: فَمَکَثَ مَا شَآئَ اللّٰہُ، ثُمَّ اَتَیْتُہٗ فَقَالَ: مَا فَعَلَتِ الْجَارِیَۃُ اَوِ الْجُوَیْرِیَۃُ قَالَ: قُلْتُ عِنْدَ اُمِّھَا قَالَ: فَمَجِـْیئَ مَا جِئْتَ قَالَ: قُلْتُ تَعَلَّمْنِیْ مَا اَقُوْلُ عِنْدَ مَنَامِیْ، فَقَالَ: اِقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِکَ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ قَالَ: ثُمَّ نَمْ عَلٰی خَاتِمَتِھَا فَاِنَّھَا بَرَائَ ۃٌ مِنَ الشِّرْکِ۔ (١٠٥)
ترجمہ: نوفل کا بیان ہے کہ نبی انے ام سلمہ کی بیٹی کو میرے سپرد کرکے فرمایا تم میری جگہ نگہبان ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ٹھہرے رہے پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا بچی کیا کر رہی ہے میں نے عرض کیا وہ اپنی ماں کے پاس ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کس لیے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا مجھے کوئی ایسی چیز بتادیجیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سوجایا کرو کیوں کہ یہ شرک سے براء ت ہے۔
(۲) قَالَ اَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِیُّ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْقَطَرَانِیُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَیْلِ، حَدَّثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ جُبَیْلَۃَ بْنِ حَارِثَۃَ وَ ھُوَ اَخُوْ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ: قَالَ: اِذَا اَوَیْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَاقْرَأْ قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ حَتّٰی تَمُرَّ بِاٰخِرِھَا فَاِنَّھَا بَرَائَ ۃٌ مِنَ الشِّرْکِ۔ (١٠٦)
١٠٧- ایک حدیث قدسی میں رسول اللہا فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں سب سے بڑھ کر ہر شریک کی شرکت سے بے نیاز ہوں۔ جس شخص نے کوئی عمل ایسا کیا جس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کیا ہو اُس سے میں بری ہوں اور وہ پورا کا پورا عمل اُسی کے لیے ہے جس کو اُس نے شریک کیا۔‘‘ (مسلم، مسند احمد، ابن ماجہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ، نَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، اَخْبَرَنِیْ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی اَنَا اُغْنِی الشُّرَکَائَ عَنِ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلاً اَشْرَکَ فِیْہِ مَعِیْ غَیْرِیْ تَرَکْتُہٗ وَ شِرْکَہٗ۔
ابن ماجہ میں منقول الفاظ:
قَالَ تَعَالٰی: اَنَا اُغْنِی الشُّرَکَائَ عَنِ الشِّرْکِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً اَشْرَکَ فِیْہِ غَیْرِیْ فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْئٌ وَ ھُوَ کُلُّہٗ لِلَّذِیْ اَشْرَکَ۔ (١٠٧)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، سَمِعْتُ الْعَلاَئَ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہٖ عَزَّوَجَلَّ اَنَّہٗ قَالَ: اَنَا خَیْرُ الشُّرَکَآئِ، فَمَنْ عَمِلَ عَمَلاً، فَاَشْرَکَ فِیْہِ غَیْرِیْ، فَاَنَا بَرِیْئٌ وَ ھُوَ لِلَّذِیْ اَشْرَکَ۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا خَیْرُ الشُّرَکَآئِ مَنْ عَمِلَ لِیْ عَمَلاً فَاَشْرَکَ فِیْہِ غَیْرِیْ، فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْئٌ وَ ھُوَ لِلَّذِیْ اَشْرَکَ۔ (١٠٨)
تشریح: (گویا کہ) اللہ کی عبادت صرف وہ ہے جس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کا شائبہ تک نہ ہو، اور جس میں انسان اپنی بندگی کو بالکل اللہ ہی کے لیے خالص کردے۔ قرآن میں فرمان ربّانی ہے وَمَآ اُمِرُوْآ اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۵ط حُنَفَآئَ (البینہ:۵) لوگوں کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیاگیا کہ وہ بالکل یکسو ہوکر، اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُس کی عبادت کریں‘‘ یہ مضمون بکثرت مقامات پر قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ اور پورے زور کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو۔ (النساء، آیات ۱۴۵، ۱۴۶، الاعراف:۲۹- سورۃ الزمر، ۲-۳، ۱۱، ۱۴، ۱۵۔ المؤمن: ۱۴، ۶۴ تا ۶۶) (تفہیم القرآن ج۶، الکافرون، حاشیہ:۲)
سورۃ النصر
١٠٨- ’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ (سورۃ النصر) قرآن مجید کی آخری سورت ہے، یعنی اس کے بعد کوئی مکمل سورہ حضوؐر پر نازل نہیں ہوئی۔ ‘‘ (مسلم، نسائی، طبرانی، ابن ِ ابی شیبہ، ابن ِ مردویہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، وَ ھَارُوْنَ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَ عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: اَنَا وَ قَالَ الْاٰخَرَانِ: نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: اَنَا اَبُوْ عُمَیْسٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیْدِ بْنِ سُھَیْلٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، قَالَ: قَالَ لِیْ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا: تَعْلَمُ وَ قَالَ ھَارُوْنُ: تَدْرِیْ اٰخِرَ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْاٰنِ نَزَلَتْ جَمِیْعًا، قُلْتُ: نَعَمْ، اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ قَالَ: صَدَقْتَ وَ فِیْ رِوَایَۃِ ابْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ تَعْلَمُ اَیُّ سُوْرَۃٍ لَمْ یَقُلْ اٰخِرَ۔ الخ۔ (١٠٩)
ترجمہ: عبید اللہ بن عبد اللہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ابن ِ عباسؓ نے مجھ سے پوچھا جانتے ہو،اور ہارون نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے قرآن میں مکمل سب سے آخری نازل ہونے والی سورت کون سی ہے؟ میں نے کہا ہاں (مجھے معلوم ہے) وہ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُیعنی سورۃ النصر ہے۔ اس نے کہا تونے سچ کہا ہے ابن ِ ابی شیبہ کی روایت میں تَعْلَمُ اَیَّ سُورَۃٍ تک ہے آخر کا لفظ اس نے بیان نہیں کیا۔
ابن جریر نے عطاء بن یسار کا قول نقل کیا ہے:
(۲) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: نَزَلَتْ سُوْرَۃُ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کُلُّھَا بِالْمَدِیْنَۃِ بَعْدَ فَتْحِ مَکَّۃَ۔ الخ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہٗ، قَالَ: اٰخِرُ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْاٰنِ جَمِیْعًا اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ۔ (١١٠)
ترجمہ: ابن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ قرآن کی آخری مکمل سورہ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُہے۔
١٠٩- ’’حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ یہ سورت (سورۃ النصر) حجۃ الوداع کے موقع پرایام تشریق کے وسط میں بمقام منیٰ نازل ہوئی اور اس کے بعد حضوؐر نے اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر اپنا مشہور خطبہ ارشاد فرمایا۔ ‘‘
(ترمذی، بزّار، بیہقی، ابن ِ ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو یعلیٰ، ابن ِ مردویہ)
تخریج: اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْحَافِظُ وَ اَبُوْ مُحَمَّدِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ حَامِدٍ الْمُقْرِیُٔ، قَالاَ ثَنَا اَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا اَبُوْ عَلِیٍّ الْحَسَنُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ یَزِیْدَ الْعَطَّارُ، ثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، اَخْبَرَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ الرَّبْذِیُّ، اَخْبَرَنِیْ صَدَقَۃُ بْنُ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ: اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ وَسْطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ وَ عَرَفَ اَنَّہُ الْوَدَاعُ فَاَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ الْقَصْوٰی، فَرُحِلَتْ لَہٗ، فَرَکِبَ فَوَقَفَ بِالْعَقَبَۃِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ فذکر الحدیث فی خطبتہ۔ (١١١)
ترجمہ: ابن عمر سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح والی سورۃ رسول اللہا پر ایام تشریق کے وسط میں نازل ہوئی آپ جان گئے کہ یہ الوداعی کا پیغام ہے۔ آپ نے اپنی قصوٰی سواری کو تیار کرنے کا حکم دیا وہ تیار کردی گئی آپ اس پر سوار ہوئے اور عقبہ پر ٹھہرے لوگ جمع ہوگئے تو آپؐ نے لوگوں کو خطاب فرمانا شروع کیا۔
١١٠- بیہقی نے کتاب الحج میں حضرت سَرّاء بنت نبہان کی روایت سے حضوؐر کا وہ خطبہ نقل کیا ہے جو آپؐ نے اس موقع پر ارشاد فرمایا تھا وہ کہتی ہیں کہ:
’’میں نے حجۃ الوداع میں حضوؐر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے فرمایا یہ ایّام تشریق کے بیچ کا دن ہے۔ پھر آپؐ نے پوچھا جانتے ہو یہ کون سا مقام ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ مشعر ِ حرام ہے۔ پھر حضوؐر نے فرمایا کہ میں شاید اس کے بعد تم سے نہ مل سکوں، خبردار رہو، تمہارے خون، اور تمہاری عزّتیں ایک دوسرے پر اُسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن اور یہ مقام حرام ہے یہاں تک کہ تم اپنے رب کے سامنے حاضر ہو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے۔ سنو، یہ بات تم میں سے قریب والا دُور والے تک پہنچا دے۔ سنو، کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا؟ اِس کے بعد جب ہم لوگ مدینہ واپس ہوئے تو کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ حضوؐ رکا انتقال ہوگیا۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، اَنبأ اَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَفَّارُ، ثنا اَبُوْ مُسْلِمٍ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ح وَ اَخْبَرَنَا اَبُوْ نَصْرٍ عُمَرُ بْنِ قَتَادَۃَ النُّعْمَانِیُّ، انبأ اَبُوْ عُمَرَ وَ اِسْمَاعِیْلُ بْنُ نَجِیْدٍ السُّلَمِیُّ، انبأ اَبُوْ مُسْلِمٍ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَصَرِیُّ، ثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حِصْنِ الْغَنَوِیِّ، حَدَّثَتْنِیْ سَرَّائُ بِنْتُ نَبْھَانَ وَ کَانَتْ رَبَّۃَ بَیْتٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَالَتْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ھَلْ تَدْرُوْنَ اَیَّ یَوْمٍ ھٰذَا؟ قَالَ: وَ ھُوَ الْیَوْمُ الَّذِیْ یَدْعُوْنَ یَوْمَ الرُّؤُسِ قَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ، قَالَ: ھٰذَا اَوْسَطُ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ھَلْ تَدْرُوْنَ اَیَّ بَلَدٍ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ۔ ھٰذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ قَالَ: اِنِّیْ لاَ اَدْرِیْ لَعَلِّیْ لاَ اَلْقَاکُمْ بَعْدَ ھٰذَا، اَلاَ وَ اِنَّ دِمَائَ کُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا حَتّٰی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا حَتّٰی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ اَلاَ فَلْیُبَلِّغْ اَدْنَاکُمْ اَقْصَاکُمْ اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ لَمْ یَلْبَثْ اِلاَّ قَلِیْلاً حَتّٰی مَاتَﷺ۔ (١١٢)
١١١- ’’دوسری روایات جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے منقول ہوئی ہیں اُن میں بیان کیا گیا ہے کہ اس سورۃ (النصر) کے نزول سے حضوؐر نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آپؐ کو دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ ‘‘
(مسند احمد، ابن جریر، طبرانی، نسائی، ابن ِ ابی حاتم، ابن ِ مردویہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ وَابْنُ وَکِیْعٍ قَالاَ: ثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نُعِیْتُ اِلَیَّ نَفْسِیْ کَأَنِّیْ مَقْبُوْضٌ فِیْ تِلْکَ السَّنَۃِ۔ (١١٣)
ترجمہ: حضرت ابن ِ عباسؓ سے منقول ہے کہ جب اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کا نزول ہوا تو رسول اللہانے فرمایا مجھے میری موت کی خبر دے دی گئی ہے۔ میں اسی سال وفات پاجاؤں گا۔
ابن ِ مردویہ نے ابن ِ عباس سے ایک اور روایت میں درج ذیل الفاظ بھی نقل کیا ہے:
(۲) لَمَّا نَزَلَتْ: ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نُعِیْتُ اِلَیَّ نَفْسِیْ وَ قَرُبَ اِلَیَّ اَجَلِیْ۔ (١١٤)
ترجمہ: جب اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کا نزول ہوا تو رسول اللہ انے فرمایا مجھے میری موت کی خبر دے دی گئی ہے اور میری موت کا وقت قریب آگیاہے۔
١١٢- ام المؤمنین حضرت اُمِّ حبیبہؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ سورۂ (النصر) نازل ہوئی تو حضوؐر نے فرمایا اس سال میرا انتقال ہونے والا ہے۔ یہ بات سن کر حضرت فاطمہؓ رودیں اِس پر آپؐ نے فرمایا میرے خاندان میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھے آکر ملوگی یہ سن کر وہ ہنس دیں۔ (ابن ِ ابی حاتم، ابن ِ مردویہ)
(قریب قریب اِسی مضمون کی روایت بیہقی نے ابن عباسؓ سے نقل کی ہے)
تخریج:(۱) قَالَ الْحَافِظُ الْبَیْھَقِیُّ: اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا الْاَسْفَاطِیُّ، حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنَ الْعَوَّامِ عَنْ ھِلاَلِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاطِمَۃَ، وَ قَالَ اِنَّہٗ قَدْ نُعِیْتُ اِلَیَّ نَفْسِیْ فَبَکَتْ ثُمَّ ضَحِکَتْ وَ قَالَتْ:اَخْبَرَنِیْ اَنَّہٗ نُعِیَتْ اِلَیْہِ نَفْسُہٗ فَبَکَیْتُ ثُمَّ قَالَ:اِصْبِرِیْ فَاِنَّکَ اَوَّلُ اَھْلِیْ لِحَاقًا بِیْ فَضَحِکْتُ۔ (١١٥)
(۲) عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ: قَالَتْ: لَمَّا اَنْزَلَ ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا اِلاَّ عَمَرَ فِیْ اُمَّتِہٖ شَطْرَ مَا عَمَرَ النَّبِیُّ الْمَاضِیُ قَبْلَہٗ، فَاِنَّ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَانَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَ ھٰذِہٖ لِیْ عِشْرُوْنَ سَنَۃً، وَ اَنَا مَیِِّتٌ فِیْ ھٰذِہِ السَّنَۃِ، فَبَکَتْ فَاطِمَۃُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ: اَنْتِ اَوَّلُ اَھْلِیْ بِیْ لُحُوْقًا، فَتَبَسَّمَتْ۔ (١١٦)
ترجمہ: حضرت امّ حبیبہؓ سے منقول ہے کہ جب اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُکا نزول ہوا تو رسول اللہا نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر وہ اپنی امت میں اپنے سے پہلے بھیجے ہوئے نبی جتنی عمر سے آدھی عمر تک رہا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیل میں چالیس برس رہے اور میرے لیے اس اعتبار سے بیس سال ہے میں اسی سال کے دوران میں وفات پانے والا ہوں۔ یہ سن کر حضرت فاطمہؓ رو پڑیں، تو نبی انے فرمایا۔ میرے خاندان میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے آکر ملاقات کروگی۔ تو وہ ہنس پڑیں۔
١١٣- ’’ابن عباسؓ کی ایک روایت بیہقی نے نقل کی ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بڑے شیوخ کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھے۔ یہ بات بعض بزرگوں کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لڑکے بھی تو اسی لڑکے جیسے ہیں، اس کو خاص طور پر کیوں ہمارے ساتھ شریک ِ مجلس کیا جاتا ہے؟ (امام بخاری اور ابن جریر نے تصریح کی ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبد الرحمن بن عوف تھے) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ علم کے لحاظ سے اس کا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں۔ پھر ایک روز اُنہوں نے شیوخ بدر کو بلایا اور مجھے بھی اُن کے ساتھ بلا لیا۔ میں سمجھ گیا کہ آج مجھے یہ دکھانے کے لیے بلایا گیا ہے کہ مجھ کو اِن کی مجلس میں کیوں شریک کیا جاتا ہے۔ دوران گفتگو میں حضرت عمرؓ نے شیوخ بدر سے پوچھا کہ آپ حضرات اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُکے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ بعض نے کہا اس میں ہمیں حکم دیا گیاہے کہ جب اللہ کی نصرت آئے اور ہم کو فتح نصیب ہو تو ہم اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کریں۔ بعض نے کہا اس سے مراد شہروں اور قلعوں کی فتح ہے۔ بعض خاموش رہے اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا ابن عباسؓ، کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے پوچھا پھر تم کیا کہتے ہو؟ میںنے عرض کیا اس سے مراد رسول اللہ ا کی اجل ہے۔ اس میں حضوؐر کو خبر دی گئی ہے کہ جب اللہ کی نصرت آجائے اور فتح نصیب ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپؐ کا وقت آن پورا ہوا، اِس کے بعد آپؐ اللہ کی حمد اور استغفار کریں۔ اس پرحضرت عمرؓ نے فرمایا میں بھی اُس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو تم نے کہا ہے۔ایک روایت میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے شیوخ بدر سے فرمایا آپ لوگ مجھے کیسے ملامت کرتے ہیں، جب کہ اِس لڑکے کو اس مجلس میں شریک کرنے کی وجہ آپ نے دیکھ لی۔ ‘‘
(بخاری، مسند احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن ِ مردویہ، بغوی، بیہقی، ابن المنذر) (تفہیم القرآن، ج۶، النصر، زمانۂ نزول)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ عُمَرُ یُدْخِلُنِیْ مَعَ اَشْیَاخِ بَدْرٍ، فَکَأَنَّ بَعْضَھُمْ وَجَدَ فِیْ نَفْسِہٖ، فَقَالَ لِمَ تُدْخِلُ ھٰذَا مَعَنَا وَلَنَا اَبْنَائٌ مِثْلُہٗ، فَقَالَ عُمَرُ اِنَّہٗ مِنْ حَیْثُ عَلِمْتُمْ۔ فَدَعَاہُ ذَاتَ یَوْمٍ فَاَدْخَلَہٗ مَعَھُمْ فَمَا رَأَیْتُ اَنَّہٗ دَعَانِیْ یَوْمَئِذٍ اِلاَّ لِیُرِیَھُمْ قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ فَقَالَ بَعْضُھُمْ اُمِرْنَا اَنْ نَحْمَدَ اللّٰہَ وَ نَسْتَغْفِرَہٗ اِذَا نُصِرْنَا وَ فُتِحَ عَلَیْنَا وَ سَکَتَ بَعْضُھُمْ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا، فَقَالَ لِیْ أَکَذَاکَ تَقُوْلُ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: لاَ، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ، قُلْتُ ھُوَ اَجَلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَعْلَمَہٗ لَہٗ قَالَ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ فَذٰلِکَ عَلاَمَۃُ اَجَلِکَ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا فَقَالَ عُمَرُ: مَا اَعْلَمُ مِنْھَا اِلاَّ مَا تَقُوْلُ۔ (١١٧)
(۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ عُمَرُ یُدْخِلُنِیْ مَعَ اَشْیَاخِ بَدْرٍ فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِمَ تُدْخِلْ ھٰذَا الْفَتٰی مَعَنَا وَلَنَا اَبْنَائٌ مِثْلُہٗ۔ فَقَالَ: اِنَّہٗ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ قَالَ: فَدَعَاھُمْ ذَاتَ یَوْمٍ وَ دَعَانِیْ مَعَھُمْ۔ قَالَ: وَمَا رَأَیْتُہٗ دَعَانِیْ یَوْمَئِذٍ اِلاَّ لِیُرِیَھُمْ مِنِّیْ۔ فَقَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا؟ حَتّٰی خَتَمَ السُّوْرَۃَ۔ فَقَالَ بَعْضُھُمْ: اَنْ نَحْمَدَ اللّٰہَ وَ نَسْتَغْفِرَہٗ اِذَا نُصِرْنَا وَ فُتِحَ عَلَیْنَا وَ قَالَ بَعْضُھُمْ: لاَ نَدْرِیْ وَلَمْ یَقُلْ بَعْضُھُمْ شَیْئًا۔ فَقَالَ لِیْ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَکَذٰلِکَ تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: ھُوَ اَجَلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَعْلَمَہُ اللّٰہُ لَہٗ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَکَّۃَ۔ فَذَاکَ عَلاَمَۃُ اَجَلِکَ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ قَالَ عُمَرُ: مَا اَعْلَمُ مِنْھَا اِلاَّ مَا تَعْلَمُ۔ (١١٨)
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ھُشَیْمٌ، اَنَا اَبُْو بِشْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَاْذَنُ لِاَھْلِ بَدْرٍ وَ یَاْذَنُ لِیْ مَعَھُمْ۔ فَقَالَ بَعْضُھُمْ یَاْذَنُ لِھٰذَا الْفَتٰی مَعَنَا، وَ مِنْ اَبْنَائِ نَا مَنْ ھُوَ مِثْلُہٗ فَقَالَ عُمَرُ:اِنَّہٗ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ۔ قَالَ: فَاَذِنَ لَھُمْ ذَاتَ یَوْمٍ وَ اَذِنَ لِیْ مَعَھُمْ فَسَأَلَھُمْ عَنْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃِ‘‘ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ فَقَالُوْا: اَمَرَ نَبِیَّہٗ ﷺ اِذَا فُتِحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّسْتَغْفِرَہٗ وَ یَتُوْبَ اِلَیْہِ ۔ فَقَالَ لِیْ مَا تَقُوْلُ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ لَیْسَتْ کَذَاکَ وَ لٰـکِنَّہٗ اَخْبَرَ نَبِیَّہٗ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ بِحُضُوْرِ اَجَلِہٖ۔ فَقَالَ: اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ۔ فَتْحَ مَکَّۃَ وَ رَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا فَذٰلِکَ عَلاَمَۃُ مَوْتِکَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِکَ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا فَقَالَ لَھُمْ: کَیْفَ تَلُوْمُوْنِیْ عَلٰی مَا تَرَوْنَ۔ (١١٩)
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ عُمَرَ سَأَلَھُمْ عَنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ قَالُوْا فَتْحُ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُوْرِ، قَالَ مَا تَقُوْلُ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: اَجَلٌ اَوْ مَثَلٌ ضُرِبَ لِمُحَمَّدٍ ﷺ نُعِیَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ۔ (١٢٠)
ترجمہ: حضرت ابن ِ عباسؓ سے منقول ہے کہ حضرت عمرؓ نے صحابہ سے آیت اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُکے بارے میں دریافت کیا (کہ اس سے کیا مراد ہے) تو انہوں ے جواب دیا کہ اس میں شہروںاور محلات کے فتح کی خوش خبری ہے حضرت عمرؓ نے ابن ِ عباسؓ سے دریافت کیا کہ ابن ِ عباسؓ تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے مدت یا مثال مراد ہے جو محمدا کے لیے بیان کی گئی ہے اور آپ کو وفات کی خبر دی گئی ہے۔
(۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ کَانَ عُمَرُ یَسْأَلُنِیْ مَعَ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ لَہٗ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: اَتَسْأَلُہٗ وَ لَنَا بَنُوْنٌ مِثْلُہٗ قَالَ: فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ:اِنَّہٗ مِنْ حَیْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَہٗ عَنْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ‘‘ فَقُلْتُ اِنَّمَا ھُوَ اَجَلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِیَّاہُ وَ قَرَأَ سُوْرَۃً اِلٰی اٰخِرِھَا۔ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ وَاللّٰہِ مَا اَعْلَمُ مِنْھَا اِلاَّ مَا تَعْلَمُ۔ (١٢١)
ترجمہ: حصرت ابن ِ عباسؓ سے منقول ہے کہ حضرت عمرؓ رسول اللہا کے اصحاب کے ساتھ مجھ سے بھی مسائل پوچھ لیتے تھے۔ اس پر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اعتراض کیا کہ آپ اس سے تو پوچھتے ہیں حالاں کہ اس جیسے توہمارے بھی کئی لڑکے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ ایسا اس بنا پر ہے جسے آپ حضرات جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمرؓ نے مجھ سے اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کے متعلق دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا اس سے مراد رسول اللہ ا کی وفات ہے اور آخر سورت تک پڑھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا واللہ میرے علم میں بھی اس کے سوا کچھ نہیں جو تمہارے علم میں ہے۔
تشریح: اس سورہ کو احادیث بالا میں آخری سورہ کہا گیا ہے۔ مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد بعض آیات نازل ہوئی ہیں۔ لیکن اس امر میں اختلاف ہے کہ قرآن کی وہ آیت کون سی ہے، جو حضوؐر پر سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ بخاری و مسلم میں حضرت براء بن عازبؓ کی روایت یہ ہے کہ وہ سورۂ نساء کی یہ آخری آیت ’’یَسْتَفْتُوْنَکَط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ‘‘ ہے۔ امام بخاری نے ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت ربوٰ یعنی جس آیت میں سود کی حرمت کا حکم دیا گیا ہے، قرآن کی سب سے آخری آیت ہے۔ اس کی تائید اُن روایات سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد، ابن ماجہ اور ابن مردویہ نے حضرت عمرؓ سے نقل کی ہیں، مگر ان میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ یہ آخری آیت ہے، بلکہ حضرت عمرؓ کا قول یہ ہے کہ یہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے۔ ابو عبید نے فضائل القرآن میں امام زُہری کا،اور ابن ِ جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت سعید بن المسیَّب کا قول نقل کیا ہے کہ آیت ربوٰ اور آیت دین (یعنی سورۂ بقرہ رکوع ۳۸،۳۹) قرآن میں نازل ہونے والی آخری آیات ہیں۔ نسائی، ابن مردویہ اور ابن ِ جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ایک دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ (وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ) (البقرہ :٢٨١)قرآن کی آخری آیت ہے۔
الفریابی نے اپنی تفسیر میں ابن ِ عباسؓ کا قول نقل کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ یہ آیت حضوؐر کی وفات سے۸۱ دن پہلے نازل ہوئی تھی اور سعید بن جبیر کا قول جو ابن ِ ابی حاتم نے نقل کیا ہے، اس میں اس آیت کے نزول اور حضوؐر کی وفات کے درمیان صرف ۹ دن کا فصل بیان کیا گیا ہے۔ امام احمد کی مُسند اور امام حاکم کی المستدرک میں حضرت ابی بن کعب کی روایت یہ ہے کہ سورہ توبہ کی آیات ۱۲۸-۱۲۹ سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں اس سورہ میں حضوؐر کو وفات کی خبر دی گئی تھی۔
وفات سے پہلے حضوؐر کا وظیفہ
١١٤- سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضوؐر اپنی وفات سے پہلے مندرجہ بالا الفاظ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیایا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں جو آپؐ نے اب پڑھنے شروع کردیئے ہیں؟ فرمایا میرے لیے ایک علامت مقرر کردی گئی ہے کہ جب میں اُسے دیکھوں تو یہ الفاظ کہا کروں اور وہ ہے ’’اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْح‘‘
(مسند احمد، مسلم، ابن ِ جریر، ابن ِ المنذر، ابن ِ مردویہ)
(بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ)
حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ آپؐ اپنے رکوع و سجود میں بکثرت یہ الفاظ کہتے تھے۔ (سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ) یہ قرآن (یعنی سورۂ نصر) کی تاویل تھی جو آپؐ نے فرمائی تھی۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ِ ماجہ، ابن ِ جریر)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَ اَبُوْ کُرَیْبٍ قَالاَ: نَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃََ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ قَبْلَ اَنْ یَّمُوْتَ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَسْتَعْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ قَالَتْ قُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا ھٰذِہِ الْکَلِمَاتُ الَّتِیْ اَرَاکَ اَحْدَثْتَھَا تَقُوْلُھَا: قَالَ جُعِلَتْ لِیْ عَلاَمَۃٌ فِیْ اُمَّتِیْ اِذَا رَأَیْتُھَا قُلْتُھَا: اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ اِلٰی اٰخِرِ السُّوْرَۃِ۔ (١٢٢)
(۲) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ مُـثَـنّٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْاَعْلٰی، قَالَ: نَا دَاؤدُ عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَاکَ تُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ قَالَتْ: فَقَالَ خَبَّرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اِنِّیْ سَاَرٰی عَلاَمَۃً فِیْ اُمَّتِیْ۔ فَاِذَا رَاَیْتُھَا اَکْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ اسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ فَقَدْ رَاَیْتُھَا اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَکَّۃَ وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ (١٢٣)
(۳) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اَبِی الضُّحٰی، عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ فِیْ رُکُوْعِہٖ وَ سُجُوْدِہٖ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اَغْفِرْلِیْ یَتَأَوَّلُ الْقُرْاٰنَ۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا صَلَّی النَّبِیُّ ﷺ صَلاَۃَ بَعْدَ اَنْ نَزَلَتْ عَلَیْہِ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ اِلاَّ یَقُوْلُ فِیْھَا سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (١٢٤)
١١٥- ’’حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہا کی زبان مبارک پر آپؐ کے آخری زمانہ حیات میں اُٹھتے بیٹھتے اور جاتے اور آتے یہ الفاظ جاری رہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ میں نے ایک روز پوچھا کہ یا رسول اللہ ا ، آپؐ کثرت سے یہ ذکر کیوں کرتے رہتے ہیں؟فرمایا مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے پھر آپؐ نے یہ سورۃ (النصر) پڑھی۔ (ابن ِ جریر)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُو السَّائِبِ، قَالَ: ثَنَا حَفْصٌ، قَالَ: ثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ اٰخِرِ اَمْرِہٖ: لاَ یَقُوْمُ وَلاَ یَقْعُدُ، وَلاَ یَذْھَبُ، وَلاَ یَجِیْئُ اِلاَّ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّکَ تُکْثِرُ مِنْ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ لاَ تَذْھَبُ وَلاَ تَجِیْئُ وَلاَ تَقُوْمُ وَلاَ تَقْعُدُ اِلاَّ قُلْتَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ قَالَ: اِنِّیْ اُمِرْتُ بِھَا فَقَالَ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ اِلٰی اٰخِرِ السُّوْرَۃِ۔ (١٢٥)
١١٦- سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ، اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (ابن جریر، مسند احمد، ابن ابی حاتم)
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ جب یہ سورۃ النصر نازل ہوئی تو رسول اللہا کثرت سے یہ ذکر فرماتے رہتے۔
(ابن ِ جریر، مسند احمد، ابن ابی حاتم)
تخریج: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ، قَالَ: ثَنَا مِھْرَانٌ، عَنْ اَبِیْ مُعَاذٍ عِیْسَی ابْنِ یَزِیْدَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کَانَ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (١٢٦)
١١٧- ’’ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس (سورۃ النصر) کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہا آخرت کے لیے محنت و ریاضت کرنے میں اِس قدر شدت کے ساتھ مشغول ہوگئے جتنے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔‘‘ (نسائی، طبرانی ، ابن ابی حاتم، ابن ِ مردویہ)
تخریج: قَالَ الطَّبَرَانِیُّ: حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیٰ، حَدَّثَنَا اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ ھِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ ’’حَتّٰی خَتَمَ السُّوْرَۃَ قَالَ: نُعِیَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ نَفْسُہٗ حِیْنَ نَزَلَتْ قَالَ فَاَخَذَ بِاَشَدِّ مَا کَانَ قَطُّ اِجْتِھَادًا فِیْ اَمْرِ الْاٰخِرَۃِ۔ (١٣٧)
تشریح: مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے اس سورۃ (النصر) میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ا کو یہ بتادیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہوجائے اور لوگ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہونے لگیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہوگیا جس کے لیے آپؐ دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آپؐ کو حکم دیاگیا کہ آپؐ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں مشغول ہوجائیں کہ اُس کے فضل سے آپؐ اتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہوئے، اور اُس سے دعا کریں کہ اِس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپؐ سے ہوئی اُسے وہ معاف فرمادے اس مقام پر آدمی غور کرے تو دیکھ سکتا ہے کہ ایک نبی اور ایک عام دنیوی رہ نما کے درمیان کتنا عظیم فرق ہے کسی دنیوی رہ نما کو اگر اپنی زندگی ہی میں وہ انقلاب عظیم برپا کرنے میں کامیابی نصیب ہوجائے جس کے لیے وہ کام کرنے اٹھا ہو تو اس کے لیے یہ جشن منانے اور اپنی قیادت پر فخر کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ کے پیغمبر کو ہم دیکھتے ہیں کہ اُس نے ۲۳ سال کی مختصر مدت میں ایک پوری قوم کے عقائد، افکار، عادات، اخلاق، تمدن، تہذیب، معاشرت، معیشت اور حربی قابلیت کو بالکل بدل ڈالا اور جہالت و جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم کو اُٹھا کر اس قابل بنا دیا کہ وہ دنیا کو مسخر کر ڈالے اور اقوام ِ عالم کی امام بن جائے، مگر ایسا عظیم کارنامہ اُس کے ہاتھوں انجام پانے کے بعد اُسے جشن منانے کانہیں بلکہ اللہ کی حمد اور تسبیح کرنے اور اُس سے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور وہ پوری عاجزی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل میں لگ جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، النصر موضوع اور مضمون)
سورۂ لہب
١١٨- ’’ابن ِ عباسؓ سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہا کو دعوت ِ عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپؐ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خداکے عذاب سے ڈرائیں تو آپؐ نے صبح سویرے کوہ ِ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا، (یا صباحاہ، ہائے صبح کی آفت)۔ عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جُھٹ پُٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ لیتا تھا۔ حضوؐر کی یہ آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ محمد (ا) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندانوں کے لوگ آپؐ کی طرف دوڑ پڑے۔ جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپؐ نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطَّلب، اے بنی فہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانوگے؟ لوگوں نے کہا ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آرہا ہے۔ اس پر قبل اِس کے کہ کوئی اور بولتا، حضوؐر کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا تَـبًّا لَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا؟ ’’ستیا ناس جائے تیرا، کیا اس لیے تونے ہمیں جمع کیا؟‘‘ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تاکہ رسول اللہا پر کھینچ مارے۔‘‘ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ِجریر وغیرہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ۔ وَ رَھْطَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ۔ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی صَعِدَ الصَّفَا فَھَتَفَ یَا صَبَاحَاہُ۔ فَقَالُوْا: مَنْ ھٰذَا؟ فَاجْتَمَعُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: اَرَأَیْتُمْ اِنْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلاً تَخْرُجُ مِنْ صَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ؟ قَالُوْا: مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا۔ فَقَالَ: اِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ قَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَّکَ۔ مَا جَمَعْتَنَا اِلاَّ لِھٰذَا؟ ثُمَّ قَامَ۔ فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ۔ (١٢٨)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب آیت اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو‘‘ نیز ان میںخاص لوگوں کو متنبہ کرو، نازل ہوئی تو رسول اللہا باہر تشریف لائے اور کوہ ِ صفا پر چڑھ کر یا صباحاہ (ہائے صبح کی مصیبت) بلند آواز سے پکارنے لگے۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہے (معلوم ہوجانے پر) لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کیا خیال ہے تمہارا کہ اگر میں مطلع کروںکہ ایک لشکر اس پہاڑ کے دامن سے نکلنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے (مجھے سچا سمجھوگے) وہ بولے ہمیں تمہارے بارے میں جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ اس پر آپ نے فرمایا، تو پھر میں تمہیں سخت عذاب کی آمد سے پیشتر متنبہ کرتا (ڈراتا) ہوں یہ سن کر ابو لہب بول اٹھا تیرا ستیا ناس جائے۔ کیا اس لیے تونے ہمیں جمع کیا تھا۔ یہ کہہ کر وہ اُٹھ گیا تو سورۂ لہب نازل ہوئی۔
(۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ قَالَ حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ، فَصَعِدَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَا بَنِیْ فِھْرٍ یَا بَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتّٰی اجْتَمَعُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلاً لِیَنْظُرَ مَا ھُوَ؟ فَجَآئَ اَبُوْ لَھَبٍ وَ قُرَیْشٌ۔ فَقَالَ: اَرَأَیْتَکُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلاً بِالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ۔ قَالُوْا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلاَّ صِدْقًا۔ قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ، اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا۔ فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّoط مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالَہٗ وَمَا کَسَبَ۔ (١٢٩)
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب آیت وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کا نزول ہواتو نبی ا کوہِ صفا پر چڑھے اور بآواز بلند پکارنے لگے۔ اے بنی فہر، اے بنی عدی، قریش کے تمام قبائل کا نام لے لے کر آواز دی کہ وہ سب جمع ہوگئے ان میں سے جو خود نہ آسکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ وہ ملاحظہ کرے کہ کیا پیش آگیا ہے۔ ابو لہب اور قریش بھی آئے آپ نے دریافت فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ایک بڑا لشکر تم پر حملہ آور ہونے ہی والا ہے تو کیا تم میری بات کو سچ تسلیم کروگے۔ سب نے متفق طورپر کہا ضرور کریں گے اس لیے کہ تمہارے متعلق سچائی کے سوا ہمارے تجربہ میں اور کوئی چیز نہیں آئی تب فرمایا میں تمہیں ایک شدید عذاب کی آمد سے پیشتر متنبہ کرنے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب بولا۔ ستیا ناس جائے تیرا، کیا تونے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا اس وقت یہ سورۂ تبت یدا نازل ہوئی۔
(۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ اِلَی الْبَطْحَائِ، فَصَعِدَ اِلَی الْجَبَلِ، فَنَادٰی یَا صَبَاحَاہُ! فَاجْتَمَعَتْ اِلَیْہِ قُرَیْشٌ۔ فَقَالَ: اَرَأَیْتُمْ اِنْ حَدَّثْتُکُمْ اَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحَکُمْ اَوْ مُمُسِّیْکُمْ أَکُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ ، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: أَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا؟ تَبًّا لَّکَ۔ فَانْزَلَ اللّٰہُ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ اِلٰی اٰخِرِھَا۔ (١٣٠)
ترجمہ: حضرت ابن ِ عباسؓ سے منقول ہے کہ نبی ا بطحاء کی جانب تشریف لے گئے اور پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ (ہائے صبح کی آفت و مصیبت) آواز سن کر قریش آپ کے پاس جمع ہوگئے آپ نے فرمایا، بتاؤ اگر میں تم سے بیان کروں کہ دشمن صبح یا شام تم پر حملہ آورہونے والا ہے، تو کیا تم میری بات کی تصدیق کروگے؟ سب بولے ہاں ( ہم تصدیق کریں گے) تو آپ نے فرمایا میں تمہیں شدید عذاب کی گرفت میں آنے سے پہلے خبردار کرنے ڈرانے والا ہوں اس پر ابولہب بول اٹھا۔ کیااس لیے تونے ہمیں جمع کیا تھا۔ ستیا ناس جائے تیرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ آخر تک نازل فرمائی۔
(۴) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبَۃَ عَنْ دَاؤُدَ ابْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمَّا اُنْزِلَتْ: وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ، صَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! فَقَالَتْ قُرَیْشٌ: مُحَمَّدٌ عَلَی الصَّفَا یَھْتِفُ، فَاَقْبَلُوْا وَاجْتَمَعُوْا فَقَالُوْا: مَالَکَ یَا مُحَمََّدُ؟ قَالَ: اَرَأَیْتُکُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلاً بِسَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ اَکُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ اَنْتَ عِنْدَنَا غَیْرُ مُتَّھَمٍ، وَمَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا قَطُّ، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ، یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ یَا بَنِیْ زُھْرَۃَ، حَتّٰی عَدَّدَ الْاَفْخَاذَ مِنْ قُرَیْشٍ، اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَنْذِرَ عَشِیْرَتِیَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ اِنِّیْ لاَ اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ الدُّنْیَا مَنْفَعَۃً وَلاَ مِنَ الْاٰخِرَۃِ نَصِیْبًا اِلاَّ اَنْ تَقُوْلُوْا لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ، قَالَ: یَقُوْلُ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ! أَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا؟ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ، تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ، اَلسُّوْرَۃُ کُلُّھَا۔ (١٣١)
١١٩- ’’ابن زیدؓ کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول اللہا سے ایک روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ حضوؐر نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا تَبًّا ھٰذَا الدِّیْنَ تَبـًّا اَنْ اَکُوْنَ وَ ھٰٓؤُلَآئِ سَوَائً ’’ستیا ناس جائے اس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں۔‘‘ (ابن ِ جریر)
تخریج: حَدَّثَنِیْ یُوْنُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ زَیْدٍ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ ’’تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ‘‘ قَالَ اَلتَّبُّ الْخُسْرَانُ۔ قَالَ: قَالَ اَبُوْ لَھَبٍ لِلنَّبِیِّ ﷺ: مَاذَا اُعْطِیَ یَا مُحَمَّدُ! اِنَّ اٰمَنْتُ بِکَ۔ قَالَ کَمَا یُعْطَی الْمُسْلِمُوْنَ۔ فَقَالَ مَالِیْ عَلَیْھِمْ فَضْلٌ قَالَ: وَ اَیَّ شَـْیئٍ تَبْتَغِیْ؟ قَالَ تَبًّا لِھٰذَا مِنْ دِیْنٍ تَبًّا اَنْ اَکُوْنَ اَنَا وَ ھٰٓؤُلَآئِ سَوَائً فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ یَقُوْلُ بِمَا عَمِلَتْ اَیْدِیْھِمْ۔ (١٣٢)
١٢٠- ’’مکّہ میں ابو لہب حضوؐر کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اُس کے علاوہ حکم بن عاص (مروان کا باپ) عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراء اور ابن الاصداء الہذلی بھی آپؐ کے ہمسائے تھے، یہ لوگ گھر میں بھی حضوؐر کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپؐ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپؐ پر پھینک دیتے۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ حضوؐر باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے ’’اے بنی عبد مناف، یہ کیسی ہمسائیگی ہے؟‘‘ (بیہقی، ابن ِ ابی حاتم)
تخریج:(۱) قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَکَانَ النَّفَرُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ بَیْتِہٖ اَبَا لَھَبٍ، وَالْحَکَمَ بْنَ الْعَاصِ بْنِ اُمَیَّۃَ، وَ عُقْبَۃَ ابْنَ اَبِیْ مُعَیْطٍ، وَ عَدِیَّ بْنَ حَمْرَائَ الثَّقَفِیَّ، وَابْنَ الْأَصْدَائِ الْھُذَلِیَّ، وَکَانُوْا جِیْرَانَہٗ، لَمْ یُسْلِمْ مِنْھُمْ اَحَدٌ اِلاَّ الْحَکَمُ ابْنُ اَبِی الْعَاصِ، فَکَانَ اَحَدُھُمْ فِیْمَا ذُکِرَ لِیْ یَطْرَحُ عَلَیْہِ ﷺ رَحِمَ الشَّاۃِ وَ ھُوَ یُصَلِّیْ، وَکَانَ اَحَدُھُمْ یَطْرَحُھَا فِیْ بُرْمَتِہٖ اِذَا نُصِبَتْ لَہٗ، حَتَّی اتَّخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حُجْرًا لِیَسْتَتِرَ بِہٖ مِنْھُمْ اِذَا صَلّٰی۔ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا طَرَحُوْا عَلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَذٰی کَمَا حَدَّثَنِیْ عُمَرُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَخْرُجُ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْعُوْدِ، فَیَقِفُ بِہٖ عَلٰی بَابِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ: یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ، اَیَّ جَوَارٍ ھٰذَا؟ ثُمَّ یُلْقِیْہِ فِی الطَّرِیْقِ۔ (١٣٣)
ترجمہ: ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ا کو اپنے گھر میں اذیت دیتے تھے وہ ابو لہب، حکم بن عاص بن امیہ اور عُقبہ بن ابی مُعیط اور عدی بن حمراء ثقفی اور ابن الاصداء ہذلی تھے۔ یہ حضرات آپؐ کے ہمسایہ تھے۔ حکم بن ابی العاص کے سوا ان میں سے کوئی بھی دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوا تھا۔ مذکورہ بالا لوگوں میں ایک صاحب آپ پر بکری کی بچے دانی لاکر اوپر ڈال دیتے جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اور ان میں سے کوئی چولہے پر رکھی ہوئی ہنڈیا میں غلاظت پھینک دیتا حتیٰ کہ مجبور ہوکر رسول اللہ انے چھوٹے سے کمرے پر رکاوٹ کھڑی کرلی۔ تاکہ اس کے ذریعے سے نماز پڑھتے وقت ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہوجائیں۔ رسول اللہا کی عادت تھی کہ جب یہ لوگ گندگی پھینکتے تو اس گندگی کو لکڑی پر اٹھا کر اپنے دروازے پر کھڑے ہوکر فرماتے اے بنی عبد مناف یہ کیسی ہمسائیگی ہے پھر اسے باہر راستہ میں پھینک دیتے۔
(۲) اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنَ عُمَرَ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِی الزِّنَادِ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: کُنْتُ بَیْنَ شَرِّ جَارَیْنِ، بَیْنَ اَبِیْ لَھَبٍ وَ عُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعَیْطٍ اِنْ کَانَا لَیَاْتِیَانِ بِالْفَرُوْثِ فَیَطْرَحَانِھَا عَلٰی بَابِیْ حَتّٰی اِنَّھُمْ لَیَاْتُوْنَ بِبَعْضِ مَا یَطْرَحُوْنَ مِنَ الْاَذٰی فَیَطْرَحُوْنَہٗ عَلٰی بَابِیْ، فَیَخْرُجُ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ، فَیَقُوْلُ: یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَیَّ جَوَارٍ ھٰذَا؟ ثُمَّ یُلْقِیْہِ بِالطَّرِیْقِ۔ (١٣٤)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا میں دو شریر ہمسایوں یعنی ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط کے درمیان رہتا ہوں یہ دونوں شریر آدمی گوبر لاکر میرے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔ صورت حال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ یہ سب لوگ جو گندگی وہ پھینکنا چاہتے لاکر میرے گھر کے دروازے پرپھینک دیتے۔ آپ اس گندگی کو اٹھا کر باہر تشریف لاتے اور فرماتے اے بنی عبد مناف یہ کیسی ہمسائیگی ہے پھراسے باہر پھینک دیتے۔
١٢١- ’’ابو لہب کی بیوی ام جمیل (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپؐ کے گھر کے دروازے پر خاردار جھاڑیاں لاکر ڈال دیتی،تاکہ صبح سویرے جب آپؐیا آپؐ کے بچے باہر نکلیں توکوئی کانٹا پاؤں میں چبھ جائے۔ ‘‘ (ابن ِ جریر، ابن ِ عساکر، ابن ِہشام)
تخریج:(۱) عَنِ ابْنِ زَیْدٍ، کَانَتْ تَأْتِیْ بِاَغْصَانِ الشَّوْکِ تَطْرَحُھَا بِاللَّیْلِ فِیْ طَرِیْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ قِیْلَ: کَانَتْ تَحْمِلُ حُزْمَۃَ الشَّوْکِ وَالْحَسَکِ وَالسَّعْدَانِ فَتَنْشِرُھَا بِاللَّیْلِ فِیْ طَرِیْقِہٖ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ وَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَطَؤُہٗ کَمَا یَطَأُ الْحَرِیْرَ۔ (١٣٥)
ترجمہ: ابن زید سے منقول ہے کہ (ام جمیل) خاردار جھاڑیاں رات کو رسول اللہ اکے راستے میں ڈال دیتی تھی اور یہ بھی منقول ہے (کہا گیا ہے) کہ وہ کانٹے دار جھاڑیوں کا گھٹا لاکر رات کے وقت آپ کے راستے میں بچھا دیتی (بکھیر دیتی) اور رسول اللہا اس پر اس طرح گزرجاتے جس طرح ریشم پر گزرتے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ یُوْنُُسُ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ زَیْدٍ فِیْ قَوْلِہٖ وَامْرَأَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ قَالَ: کَانَتْ تَأْتِیْ بِاَغْصَانِ الشَّوْکِ فَتَطْرَحُھَا بِاللَّیْلِ فِیْ طَرِیْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ (١٣٦)
ترجمہ: ابن زید نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَامْرَاَ تُہٗطحَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کی تفسیر بیان کی ہے کہ ام جمیل (ابو لہب کی بیوی) خاردار جھاڑیاں اٹھا کر لاتی اور رات کے وقت رسول اللہ اکے راستہ میں ڈال دیتی۔
١٢٢- ’’نبوت سے پہلے رسول اللہ اکی دو صاحب زادیاں ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ نبوت کے بعد جب حضوؐر نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمدا کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو۔ چناں چہ دونوں نے طلاق دے دی۔ اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضوؐر کے سامنے آکر اس نے کہا کہ میں اَلنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰیکا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے حضوؐر کی طرف تھوکا جو آپؐ پر نہیں پڑا۔ حضوؐر نے فرمایا خدایا، اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلّط کردے۔ اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوران ِ سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہل ِ قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کاکچھ انتظام کرو، کیوں کہ مجھے محمد (ا) کی بددعا کا خوف ہے۔ اس پر قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیئے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کوایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کر اُس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔
(الاستیعاب لابن عبد البر،الاصابہ لابن حجر، دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصفھانی، رُوض الانف للسہیلی)
تخریج:(۱) وَ کَانَتْ اُمُّ کُلْثُوْمٍ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ عِنْدَ عُتَیْبَۃَ، وَ رُقَیَّۃُ اُخْتُھَا عِنْدَ اَخِیْہِ عُتْبَۃَ۔ فَلَمَّا نَزَلَتِ السُّوْرَۃُ، قَالَ اَبُوْ لَھَبٍ لَھُمَا: رَأْسِیْ وَ رَأْسُکُمَا حَرَامٌ اِنْ لَّمْ تُطَلِّقَا ابْنَتَیْ مُحَمَّدٍ ﷺ، فَطَلَّقَا ھُمَا اِلاَّ اَنَّ عُتَیْبَۃَ الْمُصَغَّرَ، کَانَ قَدْ اَرَادَ الْخُرُوْجَ اِلَی الشَّامِ مَعَ اَبِیْہِ فَقَالَ لَاٰتِیَنَّ مُحَمَّدًا (عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ) وَ اُوْذِیَنَّہٗ، فَاَتَاہُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ کَافِرٌ بِالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی وَ بِالَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰی ثُمَّ تَفَلَ تُجَاہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یُصِبْہُ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ شَـْیئٌ وَ طَلَّقَ ابْنَتَہٗ اُمَّ کُلْثُوْمٍ فَاَغْضَبَہٗ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ بِمَا قَالَ وَ فَعَلَ۔ فَقَالَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْبًا مِنْ کِلاَبِکَ۔ وَ کَانَ اَبُوْ طَالِبٍ حَاضِرًا فَکَرِہَ ذٰلِکَ، وَ قَالَ لَہٗ مَا اغْنَاکَ یَا ابْنَ اَخِیْ عَنْ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ۔ فَرَجَعَ اِلٰی اَبِیْہِ۔ ثُمَّ خَرَجُوْا اِلَی الشَّامِ۔ فَنَزَلُوْا مَنْزِلاً۔ فَاَشْرَفَ عَلَیْھِمْ رَاھِبٌ مِنْ دَیْرٍ، وَ قَالَ لَھُمْ اِنَّ ھٰذِہِ اَرْضٌ مَسْبَعَۃٌ، فَقَالَ: اَبُوْ لَھَبٍ: اَغِیْثُوْنِیْ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ فَاِنِّیْ اَخَافُ عَلَی ابْنِیْ دَعْوَۃَ مُحَمَّدٍ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) فَجَمَعُوْا جِمَالَھُمْ وَ اَنَاخُوْھَا حَوْلَھُمْ خَوْفًا مِنَ الْاَسَدِ۔ فَجَآئَ الْاَسَدُ یَتَشَمَّمُ وُجُوْھَھُمْ حَتّٰی اَتَی عُتَیْبَۃَ فَقَتَلَہٗ۔ (١٣٧)
مستدرک نے روایت کو اس طرح بیان کیا ہے:
(۲) عَنْ اَبِیْ نَوْفَلِ بْنِ اَبِیْ عَقْرَبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کَانَ لَھَبُ بْنُ اَبِیْ لَھَبٍ یَسُبُّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَللّٰھُمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْبَکَ فَخَرَجَ فِیْ قَافِلَۃٍ یُرَیْدُ الشَّامَ فَنَزَلَ مَنْزِلاً فَقَالَ: اِنِّیْ اَخَافُ دَعْوَۃَ مُحَمَّدٍ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ) قَالُوْا:کَلاَّ فَحَطُّوْا مَتَاعَھُمْ حَوْلَہٗ وَ قَعَدُوْا یَحْرِسُوْنَہٗ فَجَائَ الْاَسَدُ فَانْتَزَعَہٗ فَذَھَبَ بِہٖ۔ (١٣٨)
ترجمہ: ابو عقرب کا بیان ہے کہ لہب، ابو لہب کا بیٹا نبی اکو گالیاں دیتا تھا۔ نبی انے بد دعا کی۔ اے اللہ اس پر اپنا کتا مسلط فرما دے۔ اس کے بعد وہ ایک قافلہ میں شام کی طرف جانے کے لیے نکلا۔ ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ تو اس نے کہا کہ مجھے محمد ا کی بد دعا کا خوف ہے۔ اہل ِ قافلہ نے کہا (ہرگز نہ گھبراؤ) چناں چہ انہوں نے اپنے سازو سامان سے اس کے گرد دیوار کھڑی کردی اور خود حفاظت کی غرض سے پہرہ دینے لگے۔ اس کے باوجود شیر آیا اور اسے (ان میں سے) کھینچ لیا اور چلتا بنا۔
تشریح: روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اعلان ِ نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہتَـبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میںبھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ۔ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عُتبہ نے اسلام قبول کرکے حضوؐر کے دست ِ مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتیبہ تھا۔
اس کے خبث ِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہا کے صاحب زادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحب زادے حضرت عبد اللہ کا بھی انتقال ہوگیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبر دی کہ لو آج محمد (ا) بے نام و نشان ہوگئے۔
١٢٣- رسول اللہا جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے، (ابو لہب) آپؐ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپؐ کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عباد الدیلی بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا جب اپنے باپ کے ساتھ ذو المجاز کے بازار میں گیا وہاں میں نے رسول اللہا کو دیکھا کہ آپؐ کہہ رہے تھے ’’لوگو، کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، فلاح پاؤگے۔‘‘ اور آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جارہا تھاکہ یہ جھوٹا ہے، دین آبائی سے پھر گیا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کاچچا ابو لہب ہے۔ (مسند احمد، بیہقی)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، حَدَّثَنِیْ اَبُوْ سُلَیْمَانَ الضَّبِیُّ دَاؤُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُھَیْرٍ الْمُسَبِّبِیُّ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِی الزِّنَادِ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّیْلِیِّ، وَ کَانَ جَاھِلِیًّا اَسْلَمَ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ بَصَرَ عَیْنِیِّ بِسُوْقِ ذِیْ الْمَجَازِ یَقُوْلُ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ قُوْلُوْا لآَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا وَ یَدْخُلُ فِیْ فِجَاجِھَا، وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُوْنَ عَلَیْہِ فَمَا رَأَیْتُ اَحَدًا یَقُوْلُ شَیْئًا وَ ھُوَ لاَ یَسْکُتُ۔ یَقُوْلُ اَیُّھَا النَّاسُ قُوْلُوْا: لآَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا اِلاَّ اَنَّ وَرَائَ ہٗ رَجُلاً اَحْوَلَ وَضِیئَ الْوَجْہِ ذَا غَدِیْرَتَیْنِ یَقُوْلُ اِنَّہٗ صَابِیئٌ کَاذِبٌ فَقُلْتُ:مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَ ھُوَ یَذْکُرُ النُّبُوَّۃَ قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الَّذِیْ یُکَذِّبُہٗ؟ قَالُوْا عَمُّہٗ اَبُوْ لَھَبٍ۔ قُلْتُ اِنَّکَ کُنْتَ یَوْمَئِذٍ صَغِیْرًا قَالَ لاَ وَاللّٰہِ اِنِّیْ یَوْمَئِذٍ لَاَعْقِلُ۔ (١٣٩)
ترجمہ: ربیعہ بن عباد ِ دیلی سے مروی ہے دور جاہلیت کا اپنا چشم دید واقعہ اسلام قبول کرنے کے بعد بیان کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہا کو ذو المجاز کے بازار میں دیکھا آپ فرمارہے تھے۔ لوگو! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلو فلاح پاؤگے۔ آپ لوگوں کے مجمع میں گھس جاتے، لوگ بھی مجمع کی صورت میں آپ کے گرد جمع ہوجاتے تھے مجمع میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ آپ کچھ ارشاد فرمائیں اور وہ خاموشی سے نہ سن رہا ہو آپ فرماتے، لوگو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلو، فلاح پاؤگے۔ بجز اس شخص کے جو آپ کے پیچھے لگا ہوا تھا یہ شخص بھینگی آنکھ والا۔ گورا چٹا روشن چہرے والا، سر کے بالوں کی بڑی بڑی دولٹوں (مینڈھیوں) والا کہتا تھا، یہ آدمی بے دین ہے جھوٹا ہے میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ محمد بن عبد اللہ ہے جو نبوت کا ذکر کرتا ہے۔ پھر میں نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے؟جو اس کی تکذیب کر رہاہے۔ لوگوں نے بتایا یہ اس کا چچا ہے۔ ابو الزناد نے ربیعہ سے دریافت کیا آپ تواس وقت بچے ہوں گے۔ جواب دیا کہ نہیں میں اس وقت عقل و شعور والا تھا۔
١٢٤- ’’حضرت ربیعہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہا کو دیکھاکہ آپؐ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’اے بنی فلاں، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ’’اے بنی فلاں، یہ تم کو لات اور عزّٰی سے پھیر کر اُس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔‘‘ میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے۔ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔ (مسند ِ احمد، طبرانی)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا مَسْرُوْقُ بْنُ الْمَرْزَبَانِ الْکُوْفِیُّ، ثَنَا ابْنُ اَبِیْ زَائِدَۃَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِیْ حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: سَمِعْتُ رَبِیْعَۃَ بْنَ عَبَّادٍ الدِّیْلِیَّ قَالَ: اِنِّیْ لَمَعَ اَبِیْ رَجُلٌ شَابٌّ، اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَتَّبِعُ الْقَبَائِلَ وَ وَرَائَ ہٗ رَجُلٌ اَحْوَلَ وَضِیئٌ ذُوْ جُمَّۃٍ۔ یَقِفُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْقَبِیْلَۃِ وَ یَقُوْلُ: یَا بَنِیْ فُلاَنٍ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ اٰمُرُکُمْ اَنْ تَعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَ اَنْ تُصَدِّقُوْنِیْ حَتّٰی اَنْفُذَ عَنِ اللّٰہِ مَا بَعَثَنِیْ بِہٖ، فَاِذَا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ مَقَالَتِہٖ قَالَ الْآخَرُ مَنْ خَلْفَہٗ یَا بَنِیْ فُلاَنٍ اِنَّ ھٰذَا یُرِیْدُ مِنْکُمْ اَنْ تُسْلِخُوا اللاَّتَ وَالْعُزّٰی وَ حُلَفَآئَ کُمْ مِنَ الْحَیِّ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ اُقَیْشٍ اِلٰی مَا جَآئَ بِہٖ مِنَ الْبِدْعَۃِ وَالضَّلاَلَۃِ فَلاَ تَسْمَعُوْا لَہٗ وَلاَ تَتَّبِعُوْہُ فَقُلْتُ لِاَبِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: عَمُّہٗ اَبُوْ لَھَبٍ۔ (١٤٠)
ترجمہ:حسین بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ میں نے ربیعہ بن عباد دیلی کو سنا اس نے بیان کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ تھا، جوان تھا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہا ایک ایک قبیلہ کے پاس تشریف لے جاتے ہیں۔ اور آپ کے پیچھے بھینگی آنکھ روشن چہرہ، سر کے بالوں کی لٹیں بنائے ہوئے ایک آدمی آپ کے پیچھے ہے۔ رسول اللہا جیسے کسی قبیلہ کے سامنے جاکر بتاتے ہیں کہ اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ ایک ہی اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی شئے کو شریک نہ کرو۔ اور میری تصدیق کرو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ جب رسول اللہا پیغام پہنچا کر فارغ ہوتے تو فوراً پیچھے آپ کا چچا ابو لہب پہنچ جاتا اور کہتا اے بنی فلاں یہ شخص تو تمہیں لات اور عزّٰی سے پھیر کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتاہے جسے یہ لے کر آیا ہے اس کی بات ہرگز نہ سنو اور نہ اس کی پیروی کرو۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔
١٢٥- طارق بن عبداللہ المحاربیؓ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھاکہ رسول اللہا لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ ’’لوگو، (لاَ الہ الا اللّٰہ) کہو، فلاح پاؤگے۔‘‘ اورپیچھے ایک شخص ہے جو آپؐ کو پتھر مار رہا ہے، یہاں تک کہ آپؐ کی ایڑیاں خون سے تر ہوگئی ہیں اور وہ کہتا جاتا ہے کہ’’یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو۔‘‘ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔ (ترمذی)
تخریج: عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِیِّ قَالَ: بَیْنَا اَنَا بِسُوْقٍ ذِی الْمَجَازِ، اِذَا اَنَا بِرَجُلٍ، حَدِیْثِ السِّنِّ یَقُوْلُ: اَیُّھَا النَّاسُ: قُوْلُوْا: لآَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا۔ وَ اِذَا رَجُلٌ خَلْفَہٗ یَرْمِیْہِ قَدْ اَدْمَی سَاقَیْہِ وَ عُرْقُوْبَیْہِ وَ یَقُوْلُ: یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّہٗ کَذَّابٌ فَلاَ تُصَدِّقُوْہُ، فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالُوْا ھُوَ مُحَمَّدٌ (ﷺ) یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ۔ وَ ھٰذَا عَمُّہٗ اَبُوْ لَھَبٍ یَزْعُمُ اَنَّہٗ کَذَّابٌ۔ (١٤١)
١٢٦-نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام حاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی المطّلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ اکی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تو تنہایہی ابو لہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفار ِ قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ مگر ابو لہب کاحال یہ تھا کہ جب مکہ میںکوئی تجارتی قافلہ آتااور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتاکہ ان سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں، تمہیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کروں گا۔ چناں چہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بے چارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابو لہب انہی تاجروں سے وہی چیزیں بازارکے بھاؤ خرید لیتا۔ (ابن ِ سعد و ابن ِ ہشام) (تفہیم القرآن ج۶، اللہب، پس منظر)
تخریج: قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ۔۔۔فَکَانَ۔ فِیْمَا بَلَغَنِیْ یَأْتِیْ بِالْبَعِیْرِ، وَ بَنُوْ ھَاشِمٍ وَ بَنُوْ الْمُطَّلِبِ فِی الشِّعْبِ لَیْلاً، قَدْ اَوْقَرَہٗ طَعَامًا، حَتّٰی اِذَا اَقْبَلَ بِہٖ فَمَ الشِّعْبِ خَلَعَ خِطَامُہٗ مِنْ رَأْسِہٖ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی جَنْبِہٖ، فَیَدْخُلُ الشِّعْبُ عَلَیْھِمْ ثُمَّ یَأْتِیْ بِہٖ قَدْ اَوْقَرَہٗ بُزًّا، فَیَفْعَلُ بِہٖ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (١٤٢)
١٢٧- ’’حضرت ابو بکرؓ کی صاحب زادی حضرت اسماءؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورۃ (اللہب) نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سُنا تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہ اکی تلاش میں نکلی۔ اُس کے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر تھے اور وہ حضوؐر کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ حضوؐر تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیایا رسول اللہ، یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپؐ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کرے گی۔ حضوؐر نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ آپؐ کے موجود ہونے کے باوجود وہ آپؐ کو نہیں دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے حضرت ابو بکرؓ نے کہا اس گھر کے رب کی قسم اُنہوں نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔ اس پر وہ واپس چلی گئی۔‘‘ (ابن ابی حاتم، سیرۃ ابن ِ ہشام، بزّار نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی اسی سے ملتا جلتا واقعہ نقل کیاہے)
تخریج: قَالَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا اَبِیْ وَ اَبُوْ زُرْعَۃَ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیِّ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ کَثِیْرٍ عَنْ اَبِیْ بَدْرِسٍ، عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ۔ اَقْبَلَتِ الْعَوْرَائُ اُمُّ جَمِیْلٍ بِنْتُ حَرْبٍ وَلَھَا وَلْوَلَۃٌ وَ فِیْ یَدِھَا فِھْرٌ وَ ھِیَ تَقُوْلُ: مُذَمَّمًا اَبَیْنَا وَ دِیْنَہٗ قَلَیْنَا۔ وَ اَمْرَہٗ عَصَیْنَا۔ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ وَ مَعَہٗ اَبُوْ بَکْرٍ فَلَمَّا رَاٰھَا اَبُوْ بَکْرٍ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ اَقْبَلَتْ وَ اَنَا اَخَافُ عَلَیْکَ اَنْ تَرَاکَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّھَا لَنْ تَرَانِیْ وَ قَرَأَ قُرْاٰنًا اعْتَصَمَ بِہٖ کَمَا قَالَ تَعَالٰی وَ اِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ فَاَقْبَلَتْ حَتّٰی وَقَفَتْ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَلَمْ تَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ یَا اَبَا بَکْرٍ اِنِّیْ اُخْبِرْتُ اَنَّ صَاحِبَکَ ھَجَانِیْ۔ قَالَ: لاَ وَ رَبِّ ھٰذَا الْبَیْتِ مَا ھَجَاکِ۔ فَوَلَّتْ وَ ھِیَ تَقُوْلُ قَدْ عَلِمَتْ قُرَیْشٌ اِنِّیْ ابْنَۃُ سَیِِّدِھَا۔ (١٤٣)
ترجمہ: حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب سورۃ اللہب نازل ہوئی (اور ام جمیل) نے اسے سنا۔ تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہا کی تلاش میں نکلی۔ اس کے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر تھے وہ حضورا کی ہجو میں اپنے شعر پڑھتی جاتی تھی کہ ہم مذمّم کے انکاری ہیں، اس کے دین کے دشمن ہیں اور اس کے فرمان کے نافرمان ہیں۔ اس وقت آپ بیت اللہ میں تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ تھے جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اسے آتے دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کرے گی۔ حضوؐر نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی اور آپ نے قرآن کی تلاوت شروع کردی اور آپ اس ذریعے سے بچ گئے جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَ اِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا (بنی اسرائیل:٤٥) ’’جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور آخرت پرایمان نہ لانے والوں کے درمیان مخفی پردے ڈال دیتے ہیں۔‘‘ یہ آئی اور حضرت ابو بکرؓ کے پاس آکر کھڑی ہوگئی مگر رسول اللہ اکو نہ دیکھ سکی۔ حضرت ابو بکرؓ سے کہنے لگی میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا اس گھر کی قسم انہوں نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔ اس پر وہ واپس چلی گئی اور کہتی گئی کہ قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کے سردار کی لخت ِ جگر ہوں۔
تشریح: اس حدیث میں حضرت ابو بکرؓ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہجو تو اللہ تعالیٰ نے کی ہے، رسول اللہا نے نہیںکی۔
(تفہیم القرآن ج۶، اللہب، حاشیہ:۳)
١٢٨- ’’رسول اللہا نے فرمایا ہے کہ آدمی کا بیٹا بھی اُس کاکسب ہے۔‘‘ (ابو داؤد، ابن ِ ابی حاتم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ عَمَّتِہٖ اَنَّھَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا فِیْ حِجْرِیْ یَتِیْمٌ اَفَاکُلُ مِنْ مَّالِہٖ؟ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:اِنَّ مِنْ اَطْیَبِ مَا اَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ۔ وَ وَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ۔ (١٤٤)
ترجمہ: حضرت عمارہ کی پھوپھی نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیاکہ میرے زیر کفالت و تربیت ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے مال میں سے کھا سکتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے جواب میں رسول اللہ ا کا ارشاد پیش فرما دیا آپ نے فرمایا۔ آدمی کی نہایت پاکیزہ و اطیب خوراک وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی میں سے ہو اور بیٹا اس کی اپنی کمائی میں سے ہے۔
انہی سے مروی دوسری روایت ہے:
(۲) عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ: وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ کَسْبِہٖ، مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِہٖ فَکُلُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ھَنِیْئًا۔ (١٤٥)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہا نے فرمایا: آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے۔ بلکہ بہتر اور طیب کمائی ہے۔ لہٰذا اولاد کے مال میں سے مزے سے کھاؤ۔
ابو داؤد نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے ایک روایت نقل کی ہے:
(۳) اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّﷺ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ مَالاً وَ وَلَدًا وَ اِنَّ وَالِدِیْ یَحْتَاجُ مَالِیْ، قَالَ: اَنْتَ وَ مَالُکَ لِوَالِدِکَ۔ اِنَّ اَوْلاَدَکُمْ مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ اَوْلاَدِکُمْ۔ ( صاحب روح المعانی نے روح المعانی ۳۰/۲۶۲ پر ابو داؤد کے حوالہ سے جو متن حدیث نقل کیا ہے اس میں ان اطیب ما یأکل الرجل من کسبہ و ان ولدہ من کسبہ کے الفاظ ہیں جب کہ ابو داؤد کے بیان کردہ الفاظ مذکورہ بالا روایت میں درج کردیئے ہیں فرق ملاحظہ ہو۔ (مرتب) (١٤٦)
ترجمہ: ایک آدمی نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہا میرے پاس مال و دولت بھی ہے اور اولاد بھی۔ میرا والد میرے مال کا محتاج و ضرورت مند ہے۔ آپ نے فرمایا تو اور تیرا مال دونوں تیرے والد ہی کے ہیں۔ تمہاری اولاد تمہاری طیب کمائی میں سے ہے۔ لہٰذا اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔
سورۂ اخلاص کا شان نزول
١٢٩- ’’حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہا سے کہا اپنے رب کا نسب ہمیں بتایئے۔ اس پر یہ سورۂ (الاخلاص) نازل ہوئی۔‘‘ (طبرانی)
تخریج:(۱) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَتْ قُرَیْشٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: اِنْسِبْ لَنَا رَبَّکَ، فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ) (١٤٧)
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مَنِیْعٍ، نَا اَبُوْ سَعْدٍ ھُوَ الصَّنْعَانِیُّ عَنْ اَبِیْ جَعْفَرِ الرَّازِیِّ، عَنِ الرَّبِیْعِ ابْنِ اَنَسٍ، عَنْ اَبِی الْعَالِیَۃِ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، اَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اِنْسِبْ لَنَا رَبَّکَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ) فَالصَّمَدُ الَّذِیْ (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ) لِاَنَّہٗ لَیْسَ شَـْیئٌ یُوْلَدُ اِلاَّ سَیَمُوْتُ لَیْسَ یَمُوْتُ اِلاَّ سَیُوْرِثُ، وَ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لاَ یَمُوْتُ وَلاَ یُوْرِثُ (وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ) قَالَ: لَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَبِیْہٌ وَلاَ عِدْلٌ وَ لَیْسَ کَمِثْلِ شَـْیئٌ۔ (١٤٨)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کا ہمیں نسب بتاؤ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌoج اَللّٰہُ الصَّمَدُoج لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْآیات نازل فرمائیں۔ ’’کہو، وہ اللہ یکتا ہے اللہ بے نیاز ہے، نہ اس کے اولاد اور نہ وہ خود کسی کا بیٹا ہے۔‘‘ اس لیے کہ جو چیز جنم لے گی وہ بالآخر مرے گی بھی اور جو چیز موت سے دو چار ہوگی۔ اس کا کوئی وارث بھی ہوگا اوراللہ تعالیٰ پر نہ موت وارد ہوگی اور نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور اس کا کوئی ساجھی و شریک بھی نہیں۔ آپ نے مزید فرمایا اس کا کوئی شبیہ بھی نہیں اور نہ کوئی برابر کا ہے اور وہ کسی شئے کی مثل بھی نہیں۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ، اَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ الرَّازِیِّ، عَنِ الرَّبِیْعِ، عَنْ اَبِیْ الْعَالِیَۃِ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ ذَکَرَ اٰلِھَتَھُمْ فَقَالُوْا: اِنْسِبْ لَنَا رَبَّکَ، قَالَ: فَاَتَاہُ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِھٰذِہٖ السُّوْرَۃِ (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ) وَلَمْ یَذْکُرْ فِیْہِ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ۔ وَ ھٰذَا اَصَحُّ مِنْ حَدِیْثِ اَبِیْ سَعْدٍ وَ اَبُوْ سَعْدٍ اِسْمُہٗ مُحَمَّدُ بْنُ مُیَسَّرٍ۔ (١٤٩)
ترجمہ: ابوالعالیہ سے منقول ہے کہ نبی انے مشرکین کے بتوں کا ذکر کیا تو انہو ںنے کہا کہ آپ ہمیں اپنے رب کا نسب بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام سورۂ اخلاص یعنی قل ھو اللّٰہ احد لے کر آپ کے پاس آئے۔ اس سند میں عن ابی بن کعب کا ذکر نہیں ہے۔
١٣٠- عکرمہ نے ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں کعب بن اشرف اور حی بن اخطب وغیرہ شامل تھے اور اُنہوں نے کہا’’اے محمد(ا) ہمیں بتایئے کہ آپؐ کا وہ رب کیسا ہے جس نے آپؐ کو بھیجا ہے۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ الاخلاص نازل فرمائی۔ (ابن ِ ابی حاتم، ابن ِ عدی، بیہقی فی الاسماء والصفات)
تخریج:(۱) حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: ثَنَا شُرَیْحٌ، قَالَ: ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُجَالِدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ الْمُشْرِکُوْنَ اِنْسِبْ لَنَا رَبَّکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ (١٥٠)
(۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ، ثَنَا اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الْجُرَشِیُّ، ثَنَا اَبُوْ خَلْفٍ، عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عِیْسٰی، ثَنَا دَاؤدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اِنَّ الْیَھُوْدَ جَآئَ تْ اِلَی النَّبِیِّﷺ۔ مِنْھُمْ کَعْبُ بْنُ الْاَشْرَفِ، وَ حُیُّ بْنُ اَخْطَبَ وَجَدی بْنُ اَخْطَبَ فَقَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ صِفْ لَنَا رَبَّکَ الَّذِیْ بَعَثَکَ۔ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ، قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ، فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْوَلَدُ وَلَمْ یُوْلَدْ فَیَخْرُجُ مِنْہُ شَـْيئٌ۔ (١٥١)
١٣١- حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی رسول اللہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا ’’اے ابو القاسمؐ، اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور ِ حجاب سے، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھوئیں سے، اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتایئے (کہ وہ کس چیز سے بنا ہے؟)۔‘‘ رسول اللہا نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا اے محمدؐ، ان سے کہیے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔۔۔ (تفسیر ابن تیمیہ)
تخریج: قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، ثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیْبٍ، ثَنَی یَحْیَ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَی ضِرَارٌ عَنْ اَبَانٍ، عَنْ اَنَسٍ، قَالَ: اَتَتْ یَھُوْدُ خَیْبَرَ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوْا یَا اَبَا الْقَاسِمِ خَلَقَ اللّٰہُ الْمَلاَئِکَۃَ مِنْ نُوْرِ الْحِجَابِ، وَ اٰدَمَ مِنْ حَمَائٍ مَسْنُوْنٍ وَ اِبْلِیْسَ مِنْ لَھَبِ النَّارِ، وَالسَّمَآئَ مِنْ دُخَانٍ وَالْاَرْضَ مِنْ زَبَدِ الْمَآئِ، فَاَخْبِرْنَا عَنْ رَّبِّکَ؟ قَالَ: فَلَمْ یُجِبْھُمُ النَّبِیُّﷺ فَاَتَاہُ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (١٥٢)
١٣٢- عامر بن الطفیل نے حضوؐر سے کہا: ’’اے محمدؐ، آپؐ کس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا، ’’اچھا تو اُس کی کیفیت مجھے بتایئے۔ وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا لوہے سے؟‘‘ اس پر یہ سورۃ الاخلاص نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن تیمیہ)
تخریج: اِنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَیْلِ۔ قَالَ لِلنَّبِیِّﷺ اِلٰی مَ تَدْعُوْنَا اِلَیْہِ یَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:اِلَی اللّٰہِ۔ قَالَ: فَصِفْہُ لِیْ، اَمِنْ ذَھَبٍ ھُوَ اَمْ مِنْ فِضَّۃٍ، اَمْ مِنْ حَدِیْدٍ؟ فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ۔ (١٥٣)
١٣٣- ضحاک اور قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہودیوں کے کچھ علماء حضوؐر کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ’’اے محمدؐ، اپنے رب کی کیفیت ہمیں بتایئے، شاید کہ ہم آپؐ پر ایمان لے آئیں۔‘‘ اللہ نے اپنی صفت توراۃ میں نازل کی ہے۔ آپؐ بتایئے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ کسی جنس سے ہے؟ سونے سے بنا ہے یا تانبے سے، یا پیتل سے، یا لوہے سے، یا چاندی سے، اور کیا وہ کھاتا اور پیتا ہے؟ اور کس سے اُس نے دنیا وراثت میں پائی ہے اور اس کے بعد کون اُس کا وارث ہوگا؟ اِس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ الاخلاص نازل فرمائی۔ (تفسیر ابن تیمیہ)
تخریج: قَالَ الضَّحَّاکُ وَ قَتَادَۃُ وَ مُقَاتِلٌ۔ جَائَ نَاسٌ مِن اَحْبَارِ الْیَھُوْدِ اِلَی النَّبِیِّﷺ فَقَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ صِفْ لَنَا رَبَّک لَعَلَّنَا نُؤْمِنُ بِکَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ نَعْتَہٗ فِی التَّوْرَاۃِ فَاَخْبِرْنَا بِہٖ مِنْ اَیِّ شَـْیئٍ ھُوَ؟ وَ مِنْ اَیِّ جِنْسٍ ھُوَ؟ أَمِنْ ذَھَبٍ اَمْ نُحَاسٍ؟ ھُوَ اَمْ مِنْ صُفْرٍ؟ اَمْ مِنْ حَدِیْدٍ؟ اَمْ مِنْ فِضَّۃٍ؟ وَ ھَلْ یَأْکُلُ وَ یَشْرَبُ؟ وَ مِمَّنْ وَرَثَ الدُّنْیَا، وَلِمَنْ یُوْرِثُھَا؟ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ وَ ھِیَ نِسْبَۃُ اللّٰہِ خَاصَّۃً۔ (١٥٤)
١٣٤- ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سات پادریوں کے ساتھ نبی اکی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے حضوؐر سے کہا ’’ہمیں بتایئے آپؐ کا رب کیسا ہے، کس چیز سے بنا ہے؟ آپؐ نے فرمایا میرا رب کسی چیز سے نہیں بنا ہے۔ وہ تمام اشیاء سے جدا ہے‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ الاخلاص نازل فرمائی۔ (تفسیر ابن تیمیہ)
تخریج: رُوِیَ عَنِ الضَّحَّاکِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ وَفْدَ نَجْرَانَ قَدِمُوْا عَلَی النَّبِیِّﷺ بِسَبْعَۃِ اَسَاقِفَۃَ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ کَعْبٍ: مِنْھُمُ السَّیِّدُ وَالْعَاقِبُ، فَقَالُوْا لِلنَّبِیِّﷺ: صِفْ لَنَا رَبَّکَ مِنْ اَیِّ شَـْیئٍ ھُوَ؟ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اِنَّ رَبِّیْ لَیْسَ مِنْ شَـْیئٍ، وَ ھُوَ بَائِنٌ مِنَ الْاَشْیَائِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ فَھٰؤُلآئِ سَأَلُوْا ھَلْ ھُوَ مِنْ جِنْسٍ مِنْ اَجْنَاسِ الْمَخْلُوْقَاتِ؟ وَ ھَلْ ھُوَ مِنْ مَادَّۃٍ۔ فَبَیَّنَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَنَّہٗ اَحَدٌ لَیْسَ مِنْ جِنْسِ شَـْیئٍ مِنَ الْمَخْلُوْقَاتِ۔ وَ اِنَّہٗ صَمَدٌ لَیْسَ مِنْ مَّادَّۃٍ بَلْ ھُوَ صَمَدٌ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔ (١٥٥)
تشریح: اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب وہ کسی اجنبی شخص سے تعارف حاصل کرنا چاہتے تو کہتے تھے کہ اِنْسِبْہُ لَنَا ، اس کا نسب ہمیں بتاؤ۔ کیوں کہ اُن کے ہاں تعارف میں سب سے پہلی چیز جو دریافت طلب ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ اُس کا نَسب کیا ہے اور وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اِسی لیے انہوں نے جب رسول اللہ اسے یہ پوچھنا چاہا کہ آپؐ کا رب کون ہے اور کیسا ہے تو انہوں نے کہا اِنْسِبْ لَنَا رَبَّکَ، اپنے رب کا نسب ہمیں بتایئے۔
اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف لوگوں نے رسول اللہ اسے اُس معبود کی ماہیت اور کیفیت دریافت کی تھی جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپؐ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے، اور ہر موقع پر آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُن کو جواب میں یہی سورت سنائی تھی۔ سب سے پہلے یہ سوال مکّہ میں قریش کے مشرکین نے آپؐ سے کیا اور اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی اس کے بعد مدینہ طیّبہ میں کبھی یہودیوں نے، کبھی عیسائیوں نے، اور کبھی عربوں کے دوسرے لوگوں نے حضوؐر سے اسی نوعیت کے سوالات کیے اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ جواب میں یہی سورۃ الاخلاص آپؐ اُن کو سنا دیں۔ ان روایات میں سے ہر ایک میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، اس سے کسی کو یہ خیال نہ ہونا چاہیے کہ یہ سب روایتیں باہم متضاد ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں اگر پہلے سے کوئی آیت یا سورت نازل شدہ موجود ہوتی تھی تو بعد میں جب کبھی حضوؐر کے سامنے وہی مسئلہ پیش کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجاتی تھی کہ اس کا جواب فلاں آیت یا سورۃ میں ہے، یا اس کے جواب میں وہ آیت یا سورۃ لوگوں کو پڑھ کر سنا دی جائے۔ احادیث کے راوی اس چیز کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جب فلاں معاملہ پیش آیا یا فلاں سوال کیا گیا تو یہ آیت یا سورۃ نازل ہوئی۔ اس کو تکرار نزول سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک آیت یا سورۃ کاکئی مرتبہ نازل ہونا۔
(تفہیم القرآن ج۶، الاخلاص، زمانہ ٔ نزول)
سورۂ اخلاص کی فضیلت
١٣٥- ’’حضوؐر نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو بتایا کہ یہ سورہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ِ ماجہ، مسند احمد، طبرانی وغیرہ میں اس مضمون کی متعدد احادیث ابو سعید خدری، ابو ہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدّرداء، معاذ بن جبل، جابر بن عبد اللہ، ابی بن کعبؓ، اُمّ کلثوم بنت ِ عقبہ بن ابی معیط، ابن عمر،ابن ِ مسعودؓ، قتادہ بن النُعمان، انس بن مالکؓ اور ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے منقول ہوئی ہیں)
تخریج: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ وَالضَّحَّاکُ الْمَشْرِقِیُّ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِاَصْحَابِہٖ اَیَعْجِزُکُمْ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ فِیْ لَیْلَۃٍ فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَیْھِمْ وَ قَالُوْا: اَیُّنَا یُطِیْقُ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ: اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْاٰنِ۔ (١٥٦)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے انہو ںنے بیان کیا کہ نبی انے اپنے صحابہ کو مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم میں سے کوئی رات بھر میں قرآن کا تیسرا حصہ پڑھنے سے عاجز ہے۔ یہ بات ان پر گراں گزری، اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں کون اس کی استطاعت رکھتا ہے آپؐ نے فرمایا اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُیعنی سورہ اخلاص ثلث قرآن ہے۔
سورۂ اِخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے
١٣٦- عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَیَعْجِزُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَأَ فِیْ لَیْلَۃٍ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ، قَالُوْا وَ کَیْفَ یَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ، قَالَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ۔
(رواہ مسلم، و رواہ البخاری عن ابی سعید)
تخریج: حَدَّثَنِیْ زُھَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ زُھَیْرٌ: نَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اَیَعْجِزُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَأَ فِیْ لَیْلَۃٍ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ، قَالُوْا وَ کَیْفَ یَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ، قَالَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ۔ (١٥٧)
ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے ایک مرتبہ فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے؟ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ایک رات میں تہائی قرآن کیسے پڑھ ڈالے؟ آپؐ نے فرمایا، وہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ پڑھے کیوں کہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
تشریح: قرآن کا بغور مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوتاہے کہ پورا قرآن ان مضامین پر مشتمل ہے:
۱- ایک احکام ۲- دوسرے پچھلے انبیاء کے قصّے اور حالات اور ۳- تیسرے عقائد کی تعلیم
چوں کہ عقائد کی جڑ توحید ہے اور توحید کے بغیر عقیدۂ اسلام کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے اس لیے اس حدیث میں سورۂ اخلاص کو توحید کا مکمل بیان ہونے کی وجہ سے ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
غور کیجیے رسول اللہ ا کا طریقۂ تعلیم اور انداز ِ تربیت کیسا بے نظیر تھا۔ حضوؐر ایسے الفاظ اور فقروں میں تعلیم دیتے تھے جن سے بات فوراً مخاطب کرکے دل میں اُتر جاتی تھی۔ ایک آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھانے کے لیے کہ سورۂ اخلاص کی کیا اہمیت ہے گھنٹوں تقریر کی جاسکتی ہے، لیکن حضوؐر نے اتنی بڑی بات کو صرف ایک فقرے میں ادا کردیا کہ اگر تم سورۂ اخلاص ایک مرتبہ پڑھ لو تو یہ گویا ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ایک جملے سے اس سورت کی جو اہمیت آدمی کے دماغ میں بیٹھتی ہے وہ گھنٹوں کی تقریر سے بھی نہیں بیٹھ سکتی۔ یہ حضوؐر کا خاص طرز ِ تربیت تھا جس سے آپ نے صحابہؓ کی تربیت فرمائی۔
سورۂ اِخلاص اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہے
١٣٧-عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ بَعَثَ رَجُلاً عَلٰی سَرِیَّۃٍ وَ کَانَ یَقْرَأُ لِاَصْحَابِہٖ فِیْ صَلٰوتِھِمْ فَیَخْتِمُ بِقُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، فَلَمَّا رَجَعُوْا ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ سَلُوْہُ لِاَیِّ شَـْیئٍ یَصْنَعُ ذٰلِکَ فَسَأَلُوْہُ فَقَالَ لِاَنَّھَا صِفَۃُ الرَّحْمٰنِ وَ اَنَا اُحِبُّ اَنْ اَقْرَأَھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَخْبِرُوْہُ اَنَّ اللّٰہَ یُحِبُّہٗ۔ (متفق علیہ)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنِ بْنِ اَبِیْ ھِلاَلٍ، اَنَّ اَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، حَدَّثَہٗ، عَنْ اُمِّہٖ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَ کَانَتْ فِیْ حَجْرِہٖ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ بَعَثَ رَجُلاً عَلٰی سَرِیَّۃٍ وَکَانَ یَقْرَأُ لِاَصْحَابِہٖ فِیْ صَلٰوتِھِمْ فَیَخْتِمُ بِقُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، فَلَمَّا رَجَعُوْا ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ، فَقَالَ سَلُوْہُ لِاَیِّ شَـْیئٍ یَصْنَعُ ذٰلِکَ فَسَأَلُوْہُ فَقَالَ لِاَنَّھَا صِفَۃُ الرَّحْمٰنِ وَ اَنَا اُحِبُّ اَنْ اَقْرَأَھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: اَخْبِرُوْہُ اَنَّ اللّٰہَ یُحِبُّہٗ۔ (١٥٨)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے ایک شخص کو ایک فوجی دستے کا قائد بنا کر بھیجا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے ہوئے اپنی قرأت ہمیشہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ (سورۂ اخلاص) پر ختم کیا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ اس مُہم سے واپس آئے تو انھوں نے نبی اسے یہ بات بیان کی۔ اس پر نبی انے ارشاد فرمایا کہ ان صاحب سے جاکر پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ لوگوں نے ان سے جاکر پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا وصف بیان کیا گیا ہے اس لیے میں اس کے پڑھنے کو محبوب رکھتا ہوں۔ یہ سُن کر نبی انے ارشاد فرمایا: اُس شخص کو جاکر خبردو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتاہے۔
تشریح: سَرِیَّۃ اُس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہا خود شامل نہ ہوں، اور اس کے برعکس غزوہ وہ فوجی مہم ہوتی ہے جس میں حضوؐر بنفس نفیس شریک ہوں۔
رسول اللہا اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اور بعد میںبھی ایک مدّت تک یہ دستور رہا کہ نماز کی امامت وہی شخص کرتا تھا جو جماعت کا امیر ہوتا تھا۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی فوجی دستے کا کمانڈر ہوتا تو نماز پڑھانا اسی کا کام ہوتا تھا۔ اِسی طرح مرکز میں خلیفہ خود نماز پڑھاتا اور خطبہ دیتا تھا۔ جس فوجی مہم کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس کے کمانڈر کا یہ معمول تھا کہ وہ نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص لازماً پڑھتا تھا۔ جب یہ بات رسول اللہ اکے علم میں لائی گئی اور آپؐ کی ہدایت کے مطابق اس شخص سے دریافت کرنے پراس کی وجہ معلوم ہوئی تو حضوؐر نے اسے بشارت دی کہ جب تم کو یہ سورت اس بنا پر محبوب ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا وصف بہترین طریقے سے بیان ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی تمہیں محبوب رکھتا ہے۔
گزشتہ حدیث میںیہ بتایا گیا ہے کہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ انے اس شخص کو سورۂ اخلاص پسند کرنے کی بنا پراللہ تعالیٰ کا محبوب ہونے کی خوش خبری دی۔
دنیا کی کسی کتاب میں توحید کواتنے مختصر الفاظ اور ایسے جامع انداز میںبیان نہیں کیا گیا ہے کہ اس سے دنیا میں پائی جانے والی تمام گمراہیوں کی جڑ ایک ساتھ کٹ جاتی ہو۔ تمام کُتب آسمانی جو تھوڑی بہت اس وقت دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ اس مضمون سے خالی ہیں۔ اسی بنا پر جو لوگ اس چیز کو سمجھتے تھے اور اس کی روح کو جانتے تھے وہ اس سورت سے بڑی محبت رکھتے تھے۔
خود اس سورت کا نام سورۂ اخلاص ہی اس حقیقت کی ترجمانی کرتاہے کہ یہ وہ سورت ہے جو خالص توحید کا سبق دیتی ہے، ایسی توحید کہ جس کے ساتھ شرک کا شائبہ تک باقی نہیں رہتا۔ اس لیے جو شخص اس بنا پر اسے محبوب رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بھی محبوب ہے۔
سورۂ اخلاص سے محبت جنت میں داخلے کا سبب ہے
١٣٨- عَنْ اَنَسٍ قَالَ اِنَّ رَجُلاً قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اُحِبُّ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ، قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قَالَ اِنَّ حُبَّکَ اِیَّاھَا اَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ۔ (رواہ الترمذی و روی البخاری معناہ)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ اسے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے یہ سورت سورۂ اخلاص بڑی محبوب ہے۔ حضوؐر نے ارشاد فرمایا: اس سورت کے لیے تیری محبت نے تجھے جنت میں داخل کردیا۔‘‘
تخریج:(۱) وَ رَوَی مُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اُحِبُّ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ قَالَ: اِنَّ حُبَّکَ اِیَّاھَا یُدْخِلُکَ الْجَنَّۃَ۔ (١٥٩)
(۲) حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، اَنَا مُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ، ثَنَا ثَابِتٌ عَنْ اَنَسٍ، اَنَّ رَجُلاً قَالَ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاُحِبُّ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ ’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حُبُّکَ اِیَّاھَا اَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ۔ (١٦٠)
تشریح: معلوم ہوا کہ اس سورت کا محبوب ہونا ایک فیصلہ کن چیز ہے۔ ایک شخص کے جنت میں جانے کا فیصلہ اس بات سے ہوگیا کہ اسے یہ سورت محبوب تھی۔ لیکن اس سورت کا محبوب ہونا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ آدمی کا دل ہرشائبہ شرک سے بالکل پاک ہو اور خالص توحید اس کے دل میں گھر کر گئی ہو۔ خالص توحید کا دل میں اُترنا ہی جنت کی کنجی ہے۔ اگر توحید میں نقص ہو تو جنت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آدمی کی زندگی میں دوسری خامیاں اور نقائص ہوں تواللہ تعالیٰ معاف کردے گا لیکن توحید میں خلل نا قابل ِ تلافی ہے۔ اوّل تو خالص توحید اگر کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو اس کے اندر باقی خامیاں اور نقائص بہت ہی کم رہ جائیں گے لیکن اگر رہ بھی جائیں تو اسے توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے گی۔ اور اگر بالفرض اسے توبہ کی توفیق بھی نصیب نہ ہوئی اور وہ توبہ کرنا بھول گیا تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی مغفرت ہوجائے گی کیوں کہ خالص توحید وہ اصل حقیقت ہے جس پر انسان کے خدا کا وفادار ہونے نہ ہونے کاانحصار ہے۔ جو آدمی خالص توحید کو مانتا ہے وہ خداکے وفادار وں میں شامل ہے اور خدا کا معاملہ اپنے وفاداروں کے ساتھ وہ نہیں جو بے وفاؤں اور غداروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اِسی لیے نبی انے اس شخص سے فرمایا کہ اس سورت کو محبوب رکھنے نے تیرے جنت میں داخل ہونے کا فیصلہ کردیا۔
المعوّذتین سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان ِ نزول
شان ِنزول کے بارے میں یہ بات پہلے ہی سمجھ لینے کی ہے کہ مفسرین جب کسی واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جب واقعہ پیش آیا اسی وقت وہ آیت نازل ہوئی تھی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واقعے سے اس آیت کا تعلّق ہے۔
معوّذتین کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ وہ مکّے میںنازل ہوئی ہیں اور احادیث میں جادو کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ مدینہ طیّبہ کا ہے اس لیے یہ کہنا بداھۃً غلط ہے کہ جب جادو کا وہ واقعہ پیش آیا اس وقت یہ دونوں سورتیں نازل ہوئیں۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو حضوؐر کو ان سورتوں کے پڑھنے کی ہدایت فرمائی گئی۔
جادو کی حقیقت اگر آپ سمجھنا چاہیں تو قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصّہ پڑھیں۔ جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے جو سانپ بنائے تھے وہ حقیقت میں سانپ نہیں بن گئے تھے، مگر اُس مجمعے نے جو وہاں موجود تھا، یہی محسوس کیا کہ یہ لاٹھیاں اور رسیّاں سانپوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ حتیٰ کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھیں بھی پیغمبر ہونے کے باوجود اس قدر مسحور ہوگئیں کہ انہوں نے بھی انہیں سانپ ہی دیکھا۔
قرآن مجید کا بیان ہے کہ:
فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْآ اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ۔ (الاعراف :١١٦)
’’جب جادوگروں نے اپنے انچھر پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کردیا اور انہیں مرعوب کردیا۔‘‘
فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَ عِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰیo فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی۔ (طٰہٰ :٦٦-٦٧)
’’پس یکا یک ان کے جادو کی وجہ سے ان کی لاٹھیاںاوررسیّاں موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں اور موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں ڈر گیا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ جادو قلب ماہیّت نہیںکرتابلکہ ایک خاص قسم کا نفسیاتی اثر ڈال کر آدمی کے حواس کو متأثر کر دیتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جادو کی یہ تاثیر عام انسانوں پر ہی نہیںبلکہ انبیاء پر بھی ہوسکتی ہے۔ اگر چہ اس ذریعے سے کوئی جادوگر کسی نبی کو شکست نہیں دے سکتا، نہ اُس کے مشن کو فیل کرسکتاہے،نہ اُسے اس حد تک متاثر کرسکتا ہے کہ وہ جادو کے زیرِ اثر آکرمنصب ِ نبوّت کے خلاف کوئی کام کرجائے۔ لیکن بہ جائے خود یہ بات کہ ایک نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے، خود قرآن سے ثابت ہے۔
احادیث میں نبی اپر جادو کا اثر ہونے کی جو روایات آئی ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی عقل، تجربے، اور مشاہدے کے خلاف نہیںہے، اور نہ قرآن کی بتائی ہوئی اس حقیقت کے خلاف ہے جس کی میں نے اوپر تشریح کی ہے۔ نبی اگر زخمی یا شہید ہوسکتاہے تو اُس کا جادو سے متأثر ہوجانا کون سی تعجب کی بات ہے؟
روایات سے جو کچھ معلوم ہوتاہے وہ صرف یہ ہے کہ چند روز تک حضوؐر کو کچھ نسیان سا لاحق ہوگیا تھا اور وہ بھی تمام معاملات میں نہیں، بلکہ بعض معاملات میں جزوی طور پر۔ (رسائل و مسائل حصہ دوم، تفسیر آیات، سحر کی حقیقت اور۔۔۔)
معوّذتین - دو بے نظیر سورتیں
١٣٩-عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: اَلَمْ تَرَ اٰیٰتٍ اُنْزِلَتِ اللَّیْلَۃَ لَمْ یُرَ مِثْلَھُنَّ قَطُّ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ (رواہ مسلم)
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: نَا جَرِیْرٌ عَنْ بَیَانٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلَمْ تَرَ اٰیَاتٍ اُنْزِلَتِ اللَّیْلَۃَ لَمْ یُرَ مِثْلَھُنَّ قَطُّ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ (١٦١)
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہا نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا: تم نے دیکھا، آج رات ایسی آیات اُتری ہیں کہ کبھی ان کی نظیر نہیں پائی گئی اور وہ: قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (یعنی سورۃ الفلق) اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (یعنی سورۃ الناس)ہے۔
تشریح: یہاں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے متعلق حضوؐر نے یہ ارشاد فرمایاہے کہ یہ بے مثال سورتیں ہیں، کبھی ان کی نظیر نہیں پائی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی کتب آسمانی سورۂ اخلاص کی طرح اس مضمون سے بھی خالی ہیں جو ان سورتوںمیںاتنے مختصر اور جامع الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ دوسری بات جس کی بنا پر یہ سورتیں اہمیت رکھتی ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ان دونوں سورتوں کے مضمون کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے تو یہ انسان کو ہر قسم کے اندیشوں اور خرخشوں سے نجات دلا دیتی ہیں اور ایک آدمی حق کے راستے پر پورے اطمینان اور یقین کے ساتھ چل سکتا ہے۔ پہلی سورت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ بات کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں اُس رب کی جو صبح کو نکالنے والا ہے، اُن تمام چیزوں کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہیں، اور ان تمام خطرات سے جو رات کو پیش آتے ہیں اور ان تمام لوگوں کے شر سے جو طرح طرح کے جادو ٹونے اور اس طرح کے دوسرے افعال کرنے والے ہیں۔
دوسری سورت میں یہ فرمایا گیا کہہ دو کہ میں نے پناہ لی اس ہستی کی جو رَبُّ النَّاسہے اِلٰہُ النَّاسہے اور مَلِکُ النَّاس ہے، تمام انسانوں اور شیاطین کے شر سے، جو دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں۔
اگر ایک آدمی اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقاوراَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس کے الفاظ اپنی زبان سے ادا کرتاہے اور پھر ان تمام فتنوں اور شرور سے ڈرتا بھی رہتا ہے جن سے اس نے پناہ لی ہے تو زبان سے اس کا یہ الفاظ نکالنا بے معنی ہے۔ اگر وہ اخلاص سے اور سوچ سمجھ کر یہ بات کہتا ہے تو پھر اسے اس بات سے بے فکر ہوجانا چاہیے کہ کوئی اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ کیوں کہ جب اس نے اُس خدا کی پناہ لے لی ہے جو ساری کائنات کا مالک ہے اور تمام انسانوں کا بھی مالک ہے، اور اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ اب مجھے کسی کے شر سے کوئی خطرہ نہیں ہے تو پھر اس کے بعد ڈرنے کے کوئی معنی باقی نہیں رہتے۔ آدمی پناہ تو اُسی کی لیا کرتا ہے جس کے بارے میں اُسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ اسے پناہ دینے کی قدرت رکھتا ہے۔اگر کوئی پناہ دینے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اُس کے پاس پناہ لینے والا کوئی بیوقوف ہی ہوسکتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی پناہ اس دوہرے یقین کی بنا پر لیتا ہے کہ ایک تو وہ اُسے پناہ دینے کی قدرت رکھتا ہے اور دوسرے جن کے شر سے وہ بھاگ کر اس کے دامن میں پناہ لے رہا ہے ان سب کی قوت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ جب تک اسے ان دو باتوں کا یقین نہ ہو وہ اس کی پناہ نہیں لے سکتا۔ اور اگر اس یقین کے ساتھ وہ اس کی پناہ لیتا ہے تو پھر کسی چیز کا خطرہ یا خوف محسوس کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
اگر ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ایسی قدرت اور عظمت کا یقین لے کر اس کے راستے میں کام کرنے کے لیے کھڑا ہو تو پھر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہ ہوگی جس کے مقابلے میں اس کو کوئی خطرہ محسوس ہو یا وہ کسی خوف میں مبتلا ہو۔ وہ بالکل بے فکر ہو کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں کام کرے گا اور دنیاکی تمام طاقتوں کے ساتھ ٹکرا جائے گا۔
قرآن کا بیان ہے کہ موسیٰ علیہ السلام فرعون کے مقابلے میں اپنے بھائی کے ساتھ ایک لاٹھی لیے ہوئے پہنچ گئے۔ آخر اتنی بڑی طاقت کے مقابلے میں صرف دو آدمی کیسے ڈٹ گئے۔؟ صرف اس لیے کہ اُنہیں اللہ کی پناہ کا یقین تھا۔ جب اللہ کی پناہ لے لی تو پھر اس کے بعد دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکر لی جاسکتی ہے۔ رسول اللہ ا اللہ تعالیٰ کاکلمہ بلند کرنے کے لیے ساری دنیا کے مقابلے میں کیسے کھڑے ہوگئے؟ صرف اس بنا پر کہ آپؐ کو اللہ پر بھروسہ تھا اور یہ یقین تھا کہ میری پُشت پر خدا کی طاقت ہے جو ساری کائنات اور ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اس طرح درحقیقت خدا کی پناہ کا یقین اور بھروسہ وہ چیز ہے جس کی ضرورت سب سے زیادہ ان لوگوں کو ہے جو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے کھڑے ہوں، جو خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے تمام طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا عزم رکھتے ہوں، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی ذرائع، کوئی لاؤ لشکر اور کوئی ساز و سامان ہو۔ انسان یہ جرأت اسی صورت میں کرسکتا ہے کہ جب اسے خدا کی پناہ کا یقین کامل ہو۔ اِسی وجہ سے رسول اللہ انے فرمایا کہ یہ بے نظیر کلام ہے جو ان دونوں سورتوں میں آیا ہے کیوں کہ اس میں ہر طرح کے فتنوں اور باطل قوتوں کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ لینے کی تعلیم دی گئی ہے اور اسی کے نتیجے میں ایک مومن کے اندر اس کی پناہ کا یقین پیدا ہوتاہے۔
١٤٠- ’’جب مدینے میں یہود نے رسول اللہا پر جادو کیاتھا اور اس کے اثر سے حضوؐر بیمار ہوگئے تھے اس وقت یہ سورتیں (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں تھیں۔ ‘‘
(ابن ِ سعد محی ّ السّنّہ بغوی، امام نسفی، امام بیہقی، حافظ ابن حجر، حافظ بدر الدین عینی، عبد بن حمید)۔
تخریج: عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ: قَالَ سَحَرَ النَّبِیَّ ﷺ رَجُلٌ مِنَ الْیَھُوْدِ، فَاشْتَکٰی فَاَتَاہُ جِبْرِیْلُ، فَنَزَلَ عَلَیْہِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ وَ قَالَ: اِنَّ رَجُلاً مِّنَ الْیَھُوْدِ سَحَرَکَ، وَالسِّحْرُ فِیْ بِئْرِ فُلاَنٍ، فَاَرْسَلَ عَلِیًّا فَجَائَ بِہٖ فَاَمَرَہٗ اَنْ یَّحُلَّ الْعُقَدَ وَ یَقْرَأُ اٰیَۃً وَ یَحُلُّ حَتّٰی قَامَ النَّبِیُّ ﷺ کَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ۔ (١٦٢)
١٤١- ’’نسائی کی ایک روایت عقبہ بن عامرؓ سے یہ ہے کہ رسول اللہا نے یہ دونوں سورتیں صبح کی نماز میں پڑھیں۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا مُوْسَی بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِیُّ، قَالَ: اَنْبَانَا اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، اَنَّہٗ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ قَالَ عُقْبَۃُ: فَاَمَّنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِھِمَا فِی صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ۔ (١٦٣)
تشریح: ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورتیں مدنی ہیں۔ کیوں کہ عقبہ بن عامرؓ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ایمان لائے تھے، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود اُن کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔
(دوسرے واقعے کے بارے میں) ابن ِ سعد نے واقدی کے حوالہ سے بیان کیاہے کہ یہ ۷ ھ کا واقعہ ہے۔ اسی بنا پر سفیان بن عیینہ نے بھی ان سورتوں کو مدنی کہا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی ایک روایت یہی ہے اور یہی قول حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اور قتادہ کا بھی ہے لیکن حضرت حسن بصریؒ، عکرمہ، عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ یہ سورتیں مکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔
لیکن کسی سورۃ یا آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں ہوتا کہ وہ پہلی مرتبہ اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہوچکی ہوتی تھی، پھر کوئی خاص واقعہ یا صورت حال پیش آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضوؐر کو توجہ دلائی جاتی تھی۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی معاملہ معوّذتین کا بھی ہے۔ ان کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ ابتداء ًمکّے میں اس وقت نازل ہوئی ہوں گی جب وہاں حضوؐر کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔ بعد میں جب مدینہ طیبہ میں منافقین یہود اور مشرکین کی مخالفت کے طوفان اٹھے تو حضوؐر کو پھر انہیں دونوں سورتوں کے پڑھنے کی تلقین کی گئی جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامرؓ کی مندرجہ بالا روایت میں ذکر آیا ہے۔ اس کے بعد جب آپؐ پر جادو کیا گیا اور آپؐ کی علالت ِ مزاج نے شد ّت اختیار کی تو اللہ کے حکم سے جبریل علیہ السلام نے آکر پھر یہی سورتیں پڑھنے کی آپؐ کو ہدایت کی۔ اس لیے ہمارے نزدیک ان مفسرین کا بیان ہی زیادہ معتبر ہے جو ان دونوں سورتوں کو مکّی قرار دیتے ہیں۔ جادو کے معاملے کے ساتھ ان کو مخصوص سمجھنے میں تو یہ امر بھی مانع ہے کہ اُس کے ساتھ سورۃ فلق کی صرف ایک آیت وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ہی تعلق رکھتی ہے، سورۂ فلق کی باقی آیات اورپوری سورۂ الناس کا اس معاملے سے براہ ِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، معوذتین، زمانۂ نزول)
١٤٢- ابن ِ حبّان نے حضرت عقبہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضوؐر نے ان سے فرمایا ’’اگر ممکن ہو تو تمہاری نمازوں سے ان دونوں سورتوں کی قراء ت چھوٹنے نہ پائے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوْبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّوْرِیُّ، ثَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، ثَنَا اَبِیْ، سَمِعْتُ یَحْیَ بْنَ اَیُّوْبَ، یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ اَسْلَمَ، اَبِیْ عِمْرَانَ التَّجِیْبِیِّ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔ قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَقْرَأُ مِنْ سُوْرَۃِ یُوْسُفَ وَ سُوْرَۃِ ھُوْدٍ، قَالَ: یَا عُقْبَۃُ، اِقْرَأْ بِاَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، فَاِنَّکَ لَنْ تَقْرَأَ بِسُوْرَۃٍ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ وَ اَبْلَغَ عِنْدَہٗ مِنْھَا، فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ لاَّ تَفُوْتَکَ، فَافْعَلْ۔ (١٦٤)
ترجمہ: عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ امیں سورۂ یوسف اور سورۂ ہود میں سے پڑھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اے عقبہ سورۂ فلق پڑھا کرو۔ تم ہرگز ایسی کوئی سورت نہیں پڑھوگے جو اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو اور اس سے زیادہ اللہ کے نزدیک پہنچنے والی ہو۔ اگر ممکن ہو تو تمہاری نمازوں سے اس کی تلاوت چھوٹنے نہ پائے۔
١٤٣- ’’سعید بن منصور نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضوؐر نے صبح کی نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔‘‘
تخریج: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ عَنِ الْعَلاَئِ ابْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَکْحُوْلٍ، عَنْ عُقْبَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَرَأَ بِھِمَا فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔ (١٦٥)
١٤٤- ’’امام احمد اپنی مسند میں صحیح سند کے ساتھ ایک اور صحابی کی یہ روایت لائے ہیں کہ حضوؐر نے اُن سے فرمایا جب تم نماز پڑھو تواُس میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، حَدَّثَنَا الْجَرِیْرِیُّ عَنِ الْعُلاَئِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ وَالنَّاسُ یَعْتَقِبُوْنَ وَ فِی الظُّھْرِ قِلَّۃٌ، فَحَانَتْ نَزَلُہٗ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَ نَزَلَتِیْ، فَلَحَقَنِیْ فَضَرَبَ مَنْکَبِیَّ فَقَالَ ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‘‘ فَقَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَرَأْتُھَا مَعَہٗ ثُمَّ قَالَ ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ‘‘ فَقَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَرَأْتُھَا مَعَہٗ فَقَالَ ’’اِذَا صَلَّیْتَ فَاقْرَأْ بِھِمَا۔‘‘ (١٦٦)
١٤٥- مسند ِ احمد، ابو داؤد اور نسائی میں عقبہ بن عامرؓ کی یہ روایت آئی ہے کہ حضوؐر نے ان سے فرمایا: ’’کیا میں دوایسی سورتیں تمہیں نہ سکھاؤں جواُن بہترین سورتوں میں سے ہیں جنہیں لوگ پڑھتے ہیں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہؐ۔ اس پرحضوؐر نے ان کو یہی معوذتین پڑھائیں۔ پھر نماز کھڑی ہوئی تو حضوؐر نے یہی دو سورتیں اس میں پڑھیں اور نماز کے بعد پلٹ کر جب آپؐ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا ’’اے عُقبہ، کیسا پایا تم نے؟‘‘ اور اس کے بعد اُن کو ہدایت فرمائی کہ جب تم سونے لگو اور جب سوکر اٹھو تو اِن سورتوں کو پڑھا کرو۔
تخریج:(۱) اَخْبَرَنِیْ مَحْمُوْدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ، قَالَ: حَدَّثَنِی بْنُ جَابِرٍ عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَیْنَا اَقُوْدُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ نَقَبٍ مِنْ تِلْکَ النِّقَابِ اِذْ قَالَ: اَلاَ تَرْکَبُ یَا عُقْبَۃُ: فَاَجْلَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَنْ اَرْکَبَ مَرْکَبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: اَلاَ تَرْکَبُ یَا عُقْبَۃُ؟ فَاَشْفَقْتُ اَنْ یَکُوْنَ مَعْصِیَۃً، فَنَزَلَ، وَ رَکِبْتُ ھُنَیْھَۃً وَ نَزَلْتُ وَ رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: اَلاَ اُعَلِّمُکَ سُوْرَتَیْنِ مِنْ خَیْرِ سُوْرَتَیْنِ قَرَأَ بِھِمَا النَّاسُ۔ فَاَقْرَأَنِیْ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ فَاُقِیْمَتِ الصَّلاَۃُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِھِمَا۔ ثُمَّ مَرَّبِیْ فَقَالَ کَیْفَ رَأَیْتَ یَا عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ اِقْرَأْ بِھِمَا کُلَّمَا نِمْتَ وَ قُمْتَ۔ (١٦٧)
(۲) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، اَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ مُعَاوِیَۃُ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَی مُعَاوِیَۃَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ کُنْتُ اَقُوْدُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ نَاقَتَہٗ فِی السَّفَرِ، فَقَالَ لِیْ یَا عُقْبَۃُ اَلاَ اُعَلِّمُکَ خَیْرَ سُوْرَتَیْنِ۔ قُرِئَتَا فَعَلَّمَنِیْ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ قَالَ: فَلَمْ یَرَنِیْ سُرِرْتُ بِھِمَا جِدًّا۔ فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ صَلّٰی بِھِمَا صَلاَۃَ الصُّبْحِ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الصَّلاَۃِ الْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ: یَا عُقْبَۃُ کَیْفَ رَأَیْتَ؟ (١٦٨)
١٤٦- ’’عقبہ بن عامر کی ایک روایت یہ ہے کہ حضوؐر نے ان کو ہرنماز کے بعد معوّذات یعنی قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌاور معوذتین پڑھنے کی تلقین کی۔‘‘ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی)
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا ھَارُوْنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ اَبِیْ حَکِیْمٍ، حَدَّثَہٗ عَنْ عَلِیّٖ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِیِّ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُھَنِیِّ قَالَ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ اَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبَرَ کُلِّ صَلاَۃٍ۔ (١٦٩)
١٤٧- عقبہ بن عامر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضوؐر سواری پر چلے جارہے تھے اور میں آپؐ کے قدم مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہاتھا۔ میں نے عرض کیا مجھے سورۂ ہود یا سورۂ یوسف سکھا دیجیے۔ فرمایا ’’اللہ کے نزدیک بندے کے لیے ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‘‘ سے زیادہ نافع کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ (نسائی، ابن ِمردویہ، حاکم)
تخریج: اَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ اَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَ ھُوَ رَاکِبٌ، فَوَضَعْتُ یَدِیْ عَلٰی قَدَمِہٖ، فَقُلْتُ: اَقْرِئْنِیْ سُوْرَۃَ ھُوْدٍ، اَقْرِئْنِیْ سُوْرَۃَ یُوْسُفَ، فَقَالَ: لَنْ تَقْرَأَ شَیْئًا اَبْلَغُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ (١٧٠)
١٤٨- عبد اللہ بن عابس الجہنی کی روایت (نسائی، بیہقی، بغوی، اور ابن ِ سعد نے نقل کی) ہے کہ حضورا نے مجھ سے فرمایا ابن عابس، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ پناہ مانگنے والوں نے جتنی چیزوں کے ذریعے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے، ان میں سب سے افضل کون سی چیزیں ہیں؟ میں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ، فرمایا ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، یہ دونوں سورتیں۔
تخریج: اَخْبَرَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَمْرٍو عَنْ یَحْیٰ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ، اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُھَنِیَّ، اَخْبَرَہٗ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَہٗ: یَا ابْنَ عَابِسٍ! اَلاَ اَدُلُّکَ اَوْ قَالَ: اَلاَ اُخْبِرُکَ بِاَفْضَلِ مَا یَتَعَوَّذُ بِہِ الْمُتَعَوِّذُوْنَ؟ قَالَ: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ھَاتَیْنِ السُّوْرَتَیْنِ۔ (١٧١)
١٤٩- ابن ِ مردویہ نے حضرت اُمِّ سلمہ کی روایت نقل کی ہے کہ اللہ کو جو سورتیں سب سے زیادہ پسند ہیں، وہ ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہیں۔‘‘ (تفہیم القرآن، ج۶، المعوذتین، معوذتین کی قرآنیت)
تخریج: اَخْرَجَ ابْنُ مَرْدُوْیَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مِنْ اَحَبِّ السُّوَرِ اِلَی اللّٰہِ۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ (١٧٢)
١٥٠- ’’حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ (کہتے ہیں کہ معوّذتین قرآن کی سورتیں نہیں ہیں بلکہ) یہ تو ایک حکم تھا جو رسول اللہا کو دیا گیا تھا کہ آپؐ اِس طرح تعوذ کیا کریں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ اَشْکَابٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ، ثَنَا اَبِیْ عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَحُکُّ الْمُعَوِّذَتَیْنِ مِنْ مَصَاحِفِہٖ وَ یَقُوْلُ اِنَّھُمَا لَیْسَتَا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ۔ (١٧٣)
(۲) قَالَ الْحَافِظُ اَبُوْ یَعْلٰی:حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِیٍّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَھْرَامٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَلْقَمَۃَ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَحُکُّ الْمُعَوِّذَتَیْنِ مِنَ الْمُصْحَفِ وَ یَقُوْلُ: اِنَّمَا اُمِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَنْ یَتَعَوَّذَ بِھِمَا وَلَمْ یَکُنْ عَبْدُ اللّٰہِ یَقْرَأُ بِھِمَا۔ (١٧٤)
١٥١- زرّبن حبیش کا بیان ہے کہ میںنے حضرت ابیؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبد اللہ بن مسعودؓ ایسا اور ایسا کہتے ہیں آپ ان کے اس قول کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’’میں نے رسول اللہا سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔ حضوؐر نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا قل، تو میں نے بھی کہا قل۔ اس لیے ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح حضوؐر کہتے تھے۔
(صحیح البخاری، مسند احمد، حافظ ابو بکر الحمیدی کی مسند، ابو نعیم کی المستخرج اور سنن نسائی)
امام احمد کی روایت میں حضرت اُبی کے الفاظ یہ ہیں: ’’میں شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ انے مجھے بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے آپؐ سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہا تھا اس لیے آپؐ نے بھی ایسا ہی کہا، اور انہوں نے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِکہا تھا اس لیے آپؐ نے بھی ایسا ہی کہا: لہٰذا ہم بھی اُسی طرح کہتے ہیں جس طرح حضوؐر نے کہا۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ اَبِیْ لُبَابَۃَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ح قَالَ وَ ثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ قُلْتُ: اَبَا الْمُنْذِرِ اِنَّ اَخَاکَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ کَذَا وَ کَذَا، فَقَالَ اُبَیٌّ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لِیْ، قِیْلَ لِیْ قُلْ: فَقُلْتُ، فَنَحْنُ نَقُوْلُ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ۔ (١٧٥)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، اَنَا عَاصِمُ بْنُ بَھْدَلَۃَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اِنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ کَانَ لاَ یَکْتُبُ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فِیْ مُصْحَفِہٖ، فَقَالَ: اَشْھَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَخْبَرَنِیْ اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ لَہٗ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقُلْتُھَا۔ فَقَالَ: قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَقُلْتُھَا۔ فَنَحْنُ نَقُوْلُ مَا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ۔ (١٧٦)
(۳) ھٰذَا مَشْھُوْرٌ عِنْدَ کَثِیْرٍ مِنَ الْقُرَّائِ وَالْفُقَھَائِ اِنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ کَانَ لاَ یَکْتُبُ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فِیْ مُصْحَفِہٖ، فَلَعَلَّہٗ لَمْ یَسْمَعْھَا مِنَ النَّبِیِّ ﷺ وَلَمْ یَتَوَاتَرْ عِنْدَہٗ ثُمَّ قَدْ رَجَعَ عَنْ قَوْلِہٖ ذٰلِکَ اِلٰی قَوْلِ الْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ الصَّحَابَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ اَثْبَتُوْھُمَا فِی الْمَصَاحِفِ الْاَئِمَّۃِ وَ نَفَذُوْھَا اِلٰی سَائِرِ الْاٰفَاقِ کَذٰلِکَ۔ (١٧٧)
ترجمہ: فقہاء اور قرّاء کی اکثریت میں یہ بات مشہور ہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ معوذتین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے۔ ممکن ہے ایسا وہ اس لیے کرتے ہوں کہ انہوں نے نبی اسے ان سورتوں کو سناہی نہ ہو اور ان کے نزدیک تواتر کے درجہ میں نہ ہوں، بعدازاں ابن ِ مسعودؓ اپنے موقف سے رجوع کرکے جماعت صحابہ کے ہم خیال ہوگئے۔ صحابہ کرامؓ نے ان دونوں سورتوں کو اپنے قرآن کے ان نسخوں میں جو امام کی حیثیت رکھتے تھے میں ثبت کیا اور ان کو سارے اطراف و آفاق میںاس طرح نافذ کردیا۔ (اور اب (اے سامع) تجھے معلوم ہے کہ ان دونوں سورتوں کے قرآن میں ہونے پراجماع ہوچکا ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ اب ان سورتوں کا قرآن میں ہونا تسلیم نہ کرناکفر ہے۔ ممکن ہے ابن ِ مسعودؓ نے اپنے موقف سے رجوع کرلیا ہو۔ (ابن کثیر ج۴، سورۃ الفلق)
(۴) اَنَّہٗ کَانَ یَحُکُّ الْمُعَوِّذَتَیْنِ مِنَ الْمُصْحَفِ وَ یَقُوْلُ لاَ تَخْلِطُوا الْقُرْاٰنَ بِمَا لَیْسَ مِنْہُ اِنَّھُمَا لَیْسَتَا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔ اِنَّمَا اُمِرَ النَّبِیُّ ﷺ اَنْ یَتَعَوَّذَ بِھِمَا وَ کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ لاَ یَقْرَأُ بِھِمَا قَالَ الْبَزَّارُ لَمْ یُتَابِعِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَۃِ۔ وَ قَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَرَأَ بِھِمَا فِی الصَّلاَۃِ وَ اَثْبَتَتَا فِی الْمُصْحَفِ۔ (١٧٨)
ترجمہ: ابن مسعودؓ معوذتین کو اپنے مصحف میں سے کھرچ کر مٹا دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جو چیز قرآن میں سے نہیں اسے قرآن کے ساتھ خلط ملط نہ کرو یہ دونوں سورتیں قرآن میں سے نہیں ہیں۔ نبی کو تو ان سورتوں کے ذریعے پناہ پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔
تشریح: ان روایتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو دونوں سورتوں میں لفظ قُلْ (کہو) دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ رسول اللہ ا کو اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ کہنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انہوں نے حضوؐر سے اس کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حضرت ابی بن کعب کے ذہن میں بھی اس کے متعلق سوال پیدا ہوا اور انہوں نے حضوؐر سے اس کو پوچھ لیا۔ حضوؐر نے بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے چوں کہقُلْ کہا تھا اس لیے میں بھی قُلْ کہتا ہوں۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر کسی کو حکم دینا مقصود ہو اور اس سے کہا جائے کہ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں‘‘ تو وہ حکم کی تعمیل میں یہ نہیں کہے گا کہ ’’کہو میںپناہ مانگتا ہوں‘‘ بلکہ وہ ’’کہو کا لفظ ساقط کرکے ’’میں پناہ مانگتا ہوں‘‘ کہے گا۔ بخلاف اس کے اگر کسی کو بالا دست حاکم کا پیغام بر اِن الفاظ میں پیغام پہنچائے کہ ’’کہوں میںپناہ مانگتا ہوں‘‘ اور یہ پیغام اُسے اپنے تک رکھنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں تک پہنچانے کے لیے دیاجائے تو وہ لوگوں تک پیغام کے الفاظ کو جوں کا توں پہنچائے گا، اُس میں کوئی چیز ساقط کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ پس ان دونوں سورتوں کی ابتدا لفظقُلْ سے ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ کلام وحی ہے، جسے حضوؐر انہی الفاظ میں پہنچانے کے پابند تھے جن الفاظ میں یہ آپؐ کو ملا تھا۔ اس کی حیثیت محض ایک حکم کی نہ تھی جو نبی ا کو دیا گیا ہو۔ قرآن مجید میں ان دو سورتوں کے علاوہ ۳۳۰ آیتیں ایسی ہیں جو لفظ قُلْ (کہو) سے شروع ہوئی ہیں۔ ان سب میں قُلْ کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کلام وحی ہے، جسے انہی الفاظ میں پہنچانا حضوؐر کے ذمّے فرض تھا جن الفاظ میں یہ آپؐ پر نازل کیا گیا تھا۔ ورنہ ہر جگہقُلْ اگر ایک حکم ہوتا تو حضوؐر اس لفظ کو ساقط کرکے وہ بات کہتے جس کے کہنے کاآپؐ کو حکم دیا گیا تھا اور اُسے قرآن میں درج نہ کیا جاتا بلکہ حضوؐر صرف اس حکم کی تعمیل میں وہ بات کہہ دینے پر اکتفا فرماتے جسے کہنے کا آپؐ کو حکم دیا گیا تھا۔
اس مقام پر اگر آدمی کچھ غور کرے تو اُس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ صحابۂ کرام کو بے خطا سمجھنا اور اُن کی کسی بات کے لیے غلط کا لفظ سنتے ہی توہین صحابہ کا شور مچادینا کس قدر بے جاحرکت ہے۔ یہاں آپ دیکھ رہے ہیںکہ حصرت عبد اللہ بن مسعودؓ جیسے جلیل القدر صحابی سے قرآن کی دو سورتوں کے بارے میںکتنی بڑی چوک ہوگئی۔ ایسی چوک اگر اتنے عظیم مرتبہ کے صحابی سے ہوسکتی ہے تو دوسروں سے بھی کوئی چوک ہوجانی ممکن ہے۔ ہم علمی تحقیق کے لیے اُس کی چھان بین بھی کرسکتے ہیں اور کسی صحابی کی کوئی بات یا چند باتیں غلط ہوں تو انہیں غلط بھی کہہ سکتے ہیں۔ البتہ سخت ظالم ہوگا وہ شخص جو غلط کو غلط کہنے سے آگے بڑھ کر اُن پر زبان طعن دراز کرے۔ انہی معوّذتین کے بارے میں مفسرّین و محدثین نے ابن مسعودؓ کی رائے کو غلط کہا ہے، مگر کسی نے یہ کہنے کی جرأت نہیںکی کہ قرآن کی دو سورتوں کا انکار کرکے معاذ اللہ وہ کافر ہوگئے تھے۔
(تفہیم القرآن، ج۶، معوّذتین، معوّذتین کی قرآنیت)
١٥٢- صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی امدینہ واپس تشریف لائے تو محرم ۷ ھ میں خیبر سے یہودیوں کا ایک وفد مدینہ آیا اور ایک مشہورجادوگر لبید بن اعصم سے ملا جو انصار کے قبیلہ بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا ۔ (بعض راویوں نے اسے یہودی کہا ہے اور بعض نے منافقین اور یہود کا حلیف۔ لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ وہ بنی زریق میںسے تھا اور یہ سب کو معلوم ہے کہ بنی زُریق یہودیوں کا کوئی قبیلہ نہ تھا بلکہ خزرج میں سے انصار کا ایک قبیلہ تھا۔ اس لیے یا تو وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اہل ِ مدینہ میں سے یہودی ہوگئے تھے یا یہود کا حلیف ہونے کی بنا پر بعض لوگوں نے اسے بھی یہودی شمار کرلیا۔ تاہم اس کے لیے منافق کا لفظ استعمال ہونے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر وہ مسلمان بنا ہوا تھا۔) ان لوگوں نے اس سے کہا کہ محمد(ا) نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ ہم نے اُن پر بہت جادو کرنے کی کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ اب ہم تمہارے پاس آئے ہیں، کیوں کہ تم ہم سے بڑے جادوگر ہو۔ لو،یہ تین اشرفیاں حاضر ہیں، انہیں قبول کرو اور محمدؐ پر ایک زور کا جادو کردو۔ اُس زمانے میں حضوؐر کے ہاں ایک یہودی لڑکا خدمت گار تھا۔ اُس سے ساز باز کرکے ان لوگوں نے حضوؐر کی کنگھی کا ایک ٹکڑا حاصل کرلیا جس میں آپؐکے موئے مبارک تھے انہی بالوں اور کنگھی کے دندانوں پر جادو کیا گیا۔
(بعض روایات میں یہ ہے کہ لبید بن اعصم نے خود جادو کیا تھا اور بعض میں یہ ہے کہ اس کی بہنیں اس سے زیادہ جادوگرنیاں تھیں، اُن سے اُس نے جادو کروایا تھا۔ بہر حال ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو) اس جادو کو ایک نَر کھجور کے خوشے کے غلاف (ابتدا کھجور کا خوشہ ایک غلاف کے اندر ہوتا ہے اورنَر کھجور کے غلاف کا رنگ انسان کے رنگ سے ملتا جلتا ہے اور اس کی بو انسان کے مادہ منویہ جیسی ہوتی ہے۔ ) میں رکھ کر لبید نے بنی زُریق کے کنویں ذروان یا ذی اروان نامی کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس جادو کا اثر نبی اپر ہوتے ہوتے پورا ایک سال لگا، دوسری ششماہی میں کچھ تغیر ِ مزاج محسوس ہونا شروع ہوا، آخری چالیس دن سخت اور آخری تین دن زیادہ سخت گزرے مگر اس کا زیادہ سے زیادہ جو اثر حضوؐر پر ہوا وہ بس یہ تھا کہ آپؐ گھلتے چلے جارہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ وہ کرلیا ہے مگر نہیں کیا ہوتا تھا، اپنی ازواج کے متعلق خیال فرماتے کہ آپؐ ان کے پاس گئے ہیں مگر نہیں گئے ہوتے تھے۔
اور بعض اوقات آپؐ کو اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا تھا کہ کسی چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا تھا۔ یہ تمام اثرات آپؐ کی ذات تک محدود رہے۔ حتی کہ دوسرے لوگوں کو یہ معلوم تک نہ ہوسکا کہ آپؐ پر کیا گزر رہی ہے۔ رہی آپؐ کے نبی ہونے کی حیثیت تو اس میں آپؐ کے فرائض کے اندرکوئی خلل واقع نہ ہونے پایا۔ کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اُس زمانے میں آپؐ قرآن کی کوئی آیت بھول گئے ہوں یا کوئی آیت آپؐ نے غلط پڑھ ڈالی ہو یا اپنی صحبتوں میں اور اپنے وعظوں اور خطبوں میں آپؐ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہوگیا ہو یا کوئی ایسا کلام آپؐ نے وحی کی حیثیت سے پیش کردیا ہو جو فی الواقع آپؐ پر نازل نہ ہواہو یا نماز آپؐ سے چھوٹ گئی ہو اور اس کے متعلق بھی کبھی آپؐ نے سمجھ لیا ہو کہ پڑھ لی ہے مگر نہ پڑھی ہو۔ ایسی کوئی بات معاذ اللہ پیش آجاتی تو دھوم مچ جاتی، اور پورا ملک عرب اس سے واقف ہوجاتا کہ جس نبی کوکوئی طاقت چِت نہ کرسکی تھی اسے ایک جادوگر کے جادو نے چت کردیا۔ لیکن آپؐ کی حیثیت نبوت اس سے بالکل غیر متأثر رہی اور صرف اپنی ذاتی زندگی میں آپؐ اپنی جگہ اسے محسوس کرکے پریشان ہوتے رہے۔ آخر کار ایک روز آپؐ حضرت عائشہؓ کے ہاں تھے کہ آپؐ نے بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اسی حالت میں نیندآگئی یا غنودگی طاری ہوئی اور پھر بیدار ہوکر آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ میں نے جو بات اپنے رب سے پوچھی تھی وہ اس نے مجھے بتادی ہے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا وہ کیا بات ہے؟ آپؐنے فرمایا دو آدمی (یعنی فرشتے دو آدمیوں کی صورت میں) میرے پاس آئے۔ ایک سرہانے کی طرف تھااور دوسرا پائینتی کی طرف۔ ایک نے پوچھا انہیںکیا ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا ان پر جادو ہوا ہے۔ اُس نے پوچھاکس نے کیا ہے؟ جواب دیا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں کیا ہے؟ جواب دیا کنگھی اور بالوں میں ایک نَر کھجور کے خوشے کے غلاف کے اندر۔ پوچھا وہ کہاں ہے؟ جواب دیا بنی زُریق کے کنویں ذَی اروان (یا ذروان) کی تہہ کے پتھر کے نیچے ہے۔ پوچھا اب اس کے لیے کیا کیا جائے؟ جواب دیا کہ کنویں کا پانی سونت دیا جائے اور پھر پتھر کے نیچے سے اُسے نکالا جائے۔ اس کے بعد نبی انے حضرت علیؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا۔ ان کے ساتھ جبیر بن ایاس الزُّرقی اور قیس بن محصن الزُّرقی ( بنی زریق کے یہ دو اصحاب بھی شامل ہوگئے۔ بعد میں حضوؐر خود بھی چند اصحاب کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ پانی نکالا گیا اور وہ غلاف برآمد کرلیاگیا۔ اُس میں کنگھی اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھاجس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔ جبریل علیہ السلام نے آکر بتایا کہ آپؐ معوذتین پڑھیں۔ چناں چہ آپؐ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اوراس کے ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک سوئی نکالی جاتی رہی۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں کھل گئیں، ساری سوئیاں نکل گئیں اور آپؐ جادو کے اثر سے نکل کر بالکل ایسے ہوگئے جیسے کوئی شخص بندھا ہوا تھا، پھر کھل گیا۔ اس کے بعد آپؐ نے لبید کو بلا کر باز پرس کی۔ اس نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا اور آپؐ نے اس کو چھوڑدیا، کیوں کہ اپنی ذات کے لیے آپؐ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہی نہیں بلکہ آپؐ نے اس معاملے کا چرچا کرنے سے بھی یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی ہے اب میں نہیں چاہتا کہ کسی کے خلاف لوگوں کو بھڑکاؤں۔
تخریج: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ، حَدَّثَنَا ھِشَامٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: سُحِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حَتّٰی اَنَّہٗ لَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہٗ فَعَلَ الشَّـْیئَ وَمَا فَعَلَہٗ حَتّٰی اِذَا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ وَ ھُوَ عِنْدِیْ۔ دَعَا اللّٰہَ وَ دَعَاہُ ثُمَّ قَالَ: اَشْعَرْتِ یَا عَائِشَۃُ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَفْتَانِیْ فِیْمَا اسْتَفْتَیْتُہٗ فِیْہِ۔ قُلْتُ: وَمَا ذَاکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: جَآئَ نِیْ رَجُلاَنِ فَجَلَسَ اَحَدُھُمَا عِنْدَ رَأْسِیْ وَالْاٰخَرُ عِنْدَ رِجْلَیَّ ثُمَّ قَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوْبٌ قَالَ: وَ مَنْ طَبَّہٗ؟ قَالَ: لَبِیْدُ بْنُ الْاَعْصَمِ الْیَھُوْدِیُّ مِنْ بَنِیْ زُرَیْقٍ، قَالَ: فِیْمَا ذَا؟ قَالَ: فِیْ مُشْطٍ وَ مُشَاطَۃٍ وَجُبِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ، قَالَ: فَاَیْنَ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْ بِئْرِ ذِی اَرْوَانَ۔ فَذَھَبَ النَّبِیُّ ﷺ فِیْ اُنَاسٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ اِلَی الْبِئْرِ۔ فَنَظَرَ اِلَیْھَا۔ وَ عَلَیْھَا نَخْلٌ۔ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی عَائِشَۃَ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَکَأَنَّ مَائَ ھَا نُقَاعَۃُ الْحَنَّائِ، وَ لَکَأَنَّ نَخْلَھَا رُؤُسُ الشَّیَاطِیْنِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ: اَفَاَخْرَجْتَہٗ قَالَ: لاَ، اَمَّا اَنَا فَقَدْ عَافَانِی اللّٰہُ وَ شَفَانِیْ خَشِیْتُ اَنْ اَثَوِّرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا۔ وَ اَمَرَ بِھَا فَدُفِنَتْ۔ (١٧٩)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہا پر جادو کیا گیا۔ حالت یہ ہوگئی کہ کسی کام کو سر انجام دینے کے باوجود آپ کو خیال ہوتا کہ اسے سر انجام نہیں دیا۔ تاآں کہ ایک رات آپ میرے ہاں تھے۔ آپ نے اللہ سے بہت دعا کی پھر فرمایا اے عائشہؓ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے باخبر فرمادیا ہے جسے میں معلوم کرنا چاہتا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے سرہانے اور دوسرا میری پائنتی کھڑا ہوگیا، ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا اسے کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پہلے نے پوچھا کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیاہے؟ دوسرے نے کہا کنگھی اور بالوں میں ایک نَرکھجور کے خوشے کے غلاف کے اندر۔ پوچھا وہ کہاں ہیں؟ جواب دیا بنی زریق کے کنوئیں ذی اروان یا ذروان کی تہہ کے پتھر کے نیچے۔ پھر رسول اللہا اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے۔ اس کاملاحظہ فرمایا۔ اس پر کھجور کا درخت تھا پھر واپس حضرت عائشہؓ کے پاس آکر بتایا کہ اس کنوئیں کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ تھا اور اس پر درخت کے پتے شیطان کے سروں کی طرح تھے۔ میں نے عرض کیا آپ نے اس کی تحقیق کی فرمایا نہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے عافیت عنایت فرما دی ہے مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ میں لوگوں میں اس کی وجہ سے شر نہ پھیلاؤں آپ نے اسے دفن کرنے کا حکم صادر فرمایا چناں چہ اسے دفن کردیا گیا۔
تشریح: حضرت عائشہؓ، حضرت زید بن ارقم ؓ اورحضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے بخاری، مسلم، نسائی، ابن ِ ماجہ، امام احمد، عبد الرزاق، حمیدی، بیہقی، طبرانی، ابن ِ سعد، ابن ِ مردویہ، ابن ِ ابی شیبہ، حاکم، عبد بن حمید وغیرہ محدثین نے اتنی مختلف اور کثیر التعداد سندوں سے نقل کیاکہ اس کا نفس مضمون تواتر کی حدکو پہنچا ہوا ہے اگرچہ ایک ایک روایت بجائے خود خبر واحد ہے۔اس کی تفصیلات جو روایات میں آئی ہیں ان سے مندرجہ بالا واقعہ مرتب کیا گیا ہے۔
(جادو کے اس قصے میں) کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپؐ کے منصب ِ نبو ّت میں قادح ہو۔ ذاتی حیثیت سے اگر آپؐ کو زخمی کیاجاسکتاتھا جیسا کہ جنگ احد میں ہوا۔اگر آپؐ گھوڑے سے گر کر چوٹ کھا سکتے تھے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، اگر آپؐ کو بچھو کاٹ سکتا تھا، جیسا کہ کچھ اور احادیث میں وارد ہوا ہے، اور ان میں سے کوئی چیز بھی اس تحفظ کے منافی نہیں ہے جس کا نبی ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے وعدہ کیا تھا۔ تو آپؐ اپنی ذاتی حیثیت میں جادو کے اثر سے بیمار بھی ہوسکتے تھے۔ نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے یہ بات تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ سورۂ اعراف میں فرعون کے جادوگروں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جب وہ آئے تو انہوں نے ہزارہا آدمیوں کے اس پورے مجمع کی نگاہوں پر جادو کردیا جو وہاں دونوں کا مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہوا تھا سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ(آیت:١١٦) اور سورۂ طٰہٰ میں ہے کہ جو لاٹھیاں اور رسیاں انہوں نے پھینکی تھیں ان کے متعلق عام لوگوں ہی نے نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی سمجھا کہ وہ ان کی طرف سانپوں کی طرح دوڑی چلی آرہی ہیں اور اس سے حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی کہ خوف نہ کرو تم ہی غالب رہوگے، ذرا اپنا عصا پھینکو فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَ عِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَ نَّھَا تَسْعٰیo فَأَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰیo قُلْنَا لاَ تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰیo وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ۔ (آیات:٦٦ تا٦٩)
چناں چہ نہ تو یہ کہا جاسکتاہے کہ حضوؐر پر جادو نہیں ہوا تھا اور نہ یہ کہ اس سے آپؐ کی نبوت پر اثر ہوا تھا۔
(تفہیم القرآن، ج۶، معوذتین: حاشیہ حضوؐر۔۔۔)
١٥٣- ’’رسول اللہ اہررات کو سوتے وقت، اور خاص طور پر بیماری کی حالت میں معوذتین یا بعض روایات کے مطابق معوّذات (یعنی قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اور معوذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور سر سے لے کر پاؤں تک پورے جسم پر، جہاں جہاں تک بھی آپؐ کے ہاتھ پہنچ سکتے، انہیں پھیرتے تھے، آخری بیماری میں جب آپؐ کے لیے خودایسا کرنا ممکن نہ رہا تو حضرت عائشہؓ نے یہ سورتیں (بطور خود یا حضوؐر کے حکم سے) پڑھیں اور آپؐ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپؐ ہی کے ہاتھ لے کرآپؐ کے جسم پر پھیرے۔‘‘
(اس مضمون کی روایات صحیح سندوں کے ساتھ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ِ ماجہ، ابو داؤد اور مؤطا امام مالک میں خود حضرت عائشہؓ سے مروی ہیں جن سے بڑھ کرکوئی بھی حضوؐر کی زندگی سے واقف نہ ہوسکتا تھا)
تخریج:(۱) عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، کَانَ اِذَا اَوٰی اِلٰی فِرَاشِہٖ کُلَّ لَیْلَۃٍ جَمَعَ کَفَّیْہِ ثُمَّ نَفَثَ فِیْھِمَا فَقَرَأَ فِیْھِمَا، قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ یَمْسَحُ بِھِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِہٖ یَبْدَأُ بِھِمَا عَلٰی رَأْسِہٖ وَ وَجْھِہٖ، وَمَا اَقْبَلَ مِنْ جَسَدِہٖ یَفْعَلُ ذٰلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (١٧٩)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہا جب بستر پر تشریف لے جاتے تو ہر رات اپنی دونوں ہتھیلیاں جمع کرتے پھر قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ الخ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ الخ پڑھ کر ان میں پھونکتے۔ پھر جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے۔ آغاز سر اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے فرماتے۔ یہ عمل تین مرتبہ کرتے۔
(۲) حَدَّثَنِیْ حِبَّانٌ، قَالَ:اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ، اَنَّ عَائِشَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا اشْتَکٰی، نَفَثَ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَ مَسَحَ عَنْہُ بِیَدِہٖ۔ فَلَمَّا اشْتَکٰی وَجَعَہُ الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ، طَفِقْتُ اَنْفُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّذِیْ کَانَ یَنْفُثُ وَ اَمْسَحُ بِیَدِ النَّبِیِّ ﷺ عَنْہُ۔ (١٨٠)
ترجمہ: عروہ بن زبیرؓ حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہا بیمار ہوتے تو آپ معوذتین پڑھ کر اپنے جسم پرپھونکتے۔ مگر جب آپ مرض الموت میں تھے تو معوذتین پڑھ کر آپ کے بدن پر پھونکتی اس طرح کہ آپ کے ہاتھ مبارک پر پڑھ کر پھونکتی اور آپ کے دست ِ مبارک کو آپ کے جسم پر پھیرتی۔
(۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا اشْتَکٰی یَقْرَأُ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَ یَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُہٗ کُنْتُ اَقْرَأُ عَلَیْہِ وَ اَمْسَحُ بِیَدِہٖ رَجَائَ بَرَکَتِھَا۔ (١٨١)
ترجمہ: حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہا جب بیمار ہوتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے جسم پر پھونکتے۔ مگر جب تکلیف شدید ہوگئی تو میں معوّذتین پڑھ کر آپ پر پھونکتی اور بابرکت ہونے کی توقع پر میں آپ کا اپنا ہاتھ جسم پر پھیرتی۔
ماخذ
فصل:۳ دم اور مسنون تعو ّذات جھاڑ پھونک
١٥٤- ’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ حضور ا فرماتے ہیں کہ میری امت کے وہ لوگ بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے جو نہ داغنے کا علاج کراتے ہیں، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ فال لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘ (مسلم)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَیْسَرَۃَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَیْنٌ عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالاَ: لاَ رُقْیَۃَ اِلاَّ مِنْ عَیْنٍ اَوْ حُمَۃٍ فَذَکَرْتُہٗ لِسَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ فَجَعَلَ النَّبِیُّ وَالنَّبِیَّانِ یَمُرُّوْنَ مَعَھُمُ الرَّھْطُ، وَالنَّبِیُّ لَیْسَ مَعَہٗ اَحَدٌ حَتّٰی رُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ قُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ اُمَّتِیْ ھٰذِہٖ قِیْلَ: بَلْ ھٰذَا مُوْسٰی وَ قَوْمُہٗ، قِیْلَ اُنْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ فَاِذَا سَوَادٌ یَمْلاَئُ الْاُفُقَ، ثُمَّ قِیْلَ لِیْ اُنْظُرْ ھٰھُنَا وَ ھٰھُنَا فِیْ آفَاقِ السَّمَآئِ، فَاِذَا سَوَادٌ قَدْ مَلَأَ الْاُفُقَ، قِیْلَ: ھٰذِہٖ اُمَّتُکَ، وَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ ھٰٓؤُلَآئِ سَبْعُوْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ یُبَیِّنْ لَھُمْ، فَاَفَاضَ الْقَوْمُ، وَ قَالُوْا نَحْنُ الَّذِیْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَاتَّبَعْنَا رَسُوْلَہٗ، فَنَحْنُ ھُمْ اَوْ اَوْلاَدُنَا الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْاِسْلاَمِ۔ فَاِنَّا وُلِدْنَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ﷺ فَخَرَجَ فَقَالَ: ھُمُ الَّذِیْنَ لاَ یَسْتَرِقُوْنَ وَلاَ یَتَطَیَّرُوْنَ وَلاَ یَکْتَوُوْنَ وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔ فَقَالَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ اَمِنْھُمْ اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ اٰخَرُ فَقَالَ: اَمِنْھُمْ اَنَا؟ فَقَالَ: سَبَقَکَ بِھَا عُکَّاشَۃُ۔ (١)
ترجمہ: عمران بن حصین سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا نظر بد زہریلے سانپ (سانپ، بچھو وغیرہ) کے علاوہ جھاڑ نہیں ہے میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو سعید نے کہا کہ ہمیں ابن عباسؓ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہا نے فرمایا ’’میرے سامنے چند امتیں پیش کی گئیں۔ ایک نبی اور دو نبی گزرنے لگے، ان کے ساتھ ایک جماعت تھی اور ایسا نبی بھی تھا جس کے ساتھ ایک بھی امتی نہ تھا۔ یہاں تک کہ مجھے ایک بڑی جماعت کی طرف اٹھایا گیا میں نے پوچھا کیا یہ میری امت ہے؟ جواب دیا گیا کہ نہیں بلکہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ ان کی امت ہے۔ کہاگیا کہ افق کی طرف دیکھو، تو دیکھتا ہوں کہ ایک بڑی جماعت نے افق کو بھرا ہوا ہے پھر کہا گیا مجھے کہ ادھر ادھر دیکھو تو میں نے دیکھا ایک بہت بڑی جماعت نے افق آسمان کو بھرا ہوا ہے۔ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے ان میں سے ستر ہزار بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر آپ اندر تشریف لے گئے یہ بتائے بغیر کہ وہ کون لوگ ہیں۔ لوگ باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ وہ ہم لوگ ہیں۔ اس لیے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کے رسول کی اتباع کی یا پھر ہماری اولاد ہے جو اسلام میں پیدا ہوئی۔ اس لیے کہ ہم تو جاہلیت میں پیدا ہوئے یہ بات نبی ا تک بھی پہنچ گئی تو اس پر آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جوجھاڑ پھونک نہیں کراتے اور فال نہیں لیتے اور داغنے کا علاج بھی نہیں کرتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘ عُکّاشہ بن محصن نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ کیا میں ان لوگوں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنے میں ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا، کیا میں بھی ان لوگوں میںسے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا عکاشہ تم سے بازی (سبقت) لے گیا۔
١٥٥- ’’حصرت مغیرہ بن شعبہؓ کی روایت ہے کہ حضورا نے فرمایا جس نے داغنے سے علاج کرایا اور جھاڑ پھونک کرائی وہ اللہ پر توکّل سے بے تعلق ہوگیا۔ ‘‘ (ترمذی)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ، نَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنْ عَفَّانَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: مَنِ اکْتَوٰی اَوِ اسْتَرَقَی فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ التَّوَکُّلِ۔ (٢)
١٥٦- ’’حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ا دس چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے جن میں سے ایک جھاڑ پھونک بھی ہے سوائے معوّذتین یا معوّذات کے۔‘‘ (ابو داؤد، احمد، نسائی، ابن ِ حبّان، حاکم)
تخریج: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّکَیْنَ بْنَ الرَّبِیْعِ، یُحَدِّثُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ، اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ، کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ یَکْرَہُ عَشْرَ خِلاَلٍ: الصُّفْرَۃَ یعنی الْخَلُوقَ، وَ تَغْیِیْرَ الشَّیْبِ، وَ جَرَّ الْاِزَارِ، وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّھَبِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّیْنَۃِ لِغَیْرِ مَحَلِّھَا وَالضَّرْبَ بِالْکِعَابِ، وَالرُّقٰی اِلاَّ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَ عِقْدَ التَّمَائِمِ، وَ عَزْلَ الْمَآئِ لِغَیْرٍ اَوْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ اَوْ عَنْ مَحَلِّہٖ وَ فَسَادَ الصَّبِیِّ غَیْرَ مُحَرِّمِہٖ۔ (٣)
بچھو کاٹے کا علاج
١٥٧- ’’طبرانی نے صغیر میں حضرت علیؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور ا کو ایک دفعہ نماز کی حالت میں بچّھو نے کاٹ لیا۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا بچھو پر خدا کی لعنت، یہ نہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو۔ پھر پانی اور نمک منگوایا اور جہاں بچھو نے کاٹا تھا وہاں آپؐ نمکین پانی ملتے جاتے تھے اور قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ، قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِپڑھتے جاتے تھے۔‘‘
تخریج:(۱) اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، اَنَا اَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا عَمِّی اَبُوْ بَکْرٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِیْمِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ یُصَلِّیْ فَوَضَعَ یَدَہٗ عَلَی الْاَرْضِ فَلَدَغَتْہُ عَقْرَبٌ فَتَنَاوَلَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِنَعْلِہٖ فَقَتَلَھَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْعَقْرَبَ مَا (یَدَعُ) مُصَلِّیًا وَلاَ غَیْرَہٗ اَوْ نَبِیًّا وَغَیْرَہٗ ثُمَّ دَعَا بِمِلْحٍ وَ مَآئٍ، فَجَعَلَ یَصُبُّہٗ عَلٰی اِصْبِعِہٖ حَیْثُ لَدَغَتْہُ وَ یَمْسَحُھَا وَ یَعُوْذُھَا بِالْمُعوِّذَتَیْنِ۔ وَ کَذٰلِکَ رَوَاہُ ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ مُطَرِّفٍ لَمْ یَذْکُرْ تَنَاوَلَھَا بِالنَّعْلِ قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِمَآئٍ وَ مِلْحٍ وَ جَعَلَ یَمْسَحُ عَلَیْھَا وَ یَقْرَأُ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ (٤)
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۲) عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: لَدَغَتِ النَّبِیَّ ﷺ الْعَقْرَبُ وَ ھُوَ یُصَلِّیْ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ نَبِیًّا وَلاَ غَیْرَہٗ اِلاَّ لَدَغَتْھُمْ ثُمَّ دَعَا بِمَآئٍ وَ مِلْحٍ فَذَکَرَہٗ۔ (٥)
نظر ِ بد کا دم
١٥٨- اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَ ھَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَمَّۃٍ۔
’’ابن ِ عباسؓ کی روایت ہے کہ نبی احضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ پریہ دعا پڑھتے تھے۔ میں تم کو اللہ کے بے عیب کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور موذی سے اور ہر نظر ِ بد سے۔‘‘ (بخاری، مسند احمد، ترمذی اور ابن ِ ماجہ)
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلاَنَ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَ یَعْلٰی عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنِ الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ یَقُوْلُ: اُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّ ھَآمَّۃٍ۔ وَ یَقُوْلُ: ھٰکَذَا کَانَ اِبْرَاھِیْمُ یُعَوِّذُ اِسْحَاقَ وَ اِسْمَاعِیْلَ۔ (٦)
ایک دوسری روایت میں ہے:
(۲) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنِ الْمِنْھَالِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَ یَقُوْلُ: اِنَّ اَبَا کُمَا کَانَ یُعَوِّذُ بِھَا اِسْمَاعِیْلَ وَ اِسْحَاقَ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ مِنْ شَیْطَانٍ وَّ ھَآمَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَآمَّۃٍ۔ (٧)
بچھو کاٹے کا دَم
١٥٩- ’’مسند ِ احمد اور طحاوی میں طلق بن علیؓکی روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ اکی موجودگی میں بچھو نے کاٹ لیا۔ حضور انے مجھ پرپڑھ کر پھونکا اور اس جگہ پر ہاتھ پھیرا۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَدَرٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلَقٍ، عَنْ اَبِیْہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ، قَالَ: لَدَغَتْنِیْ عَقْرَبٌ عِنْدَ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ فَرَقَانِیْ وَ مَسَحَھَا۔(٨)
دیرینہ درد کے لیے دم
١٦٠- عثمان بن ابی العاص الثقفی کے متعلق مسلم، مؤطا، طبرانی اور حاکم میں تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہا سے شکایت کی کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں مجھے ایک درد محسوس ہوتا ہے جو مجھ کو مارے ڈالتا ہے۔ آپ نے فرمایا ’’اپنا سیدھا ہاتھ اُس جگہ پر رکھو جہاں درد ہوتاہے۔ پھر تین مرتبہ بسم اللہ کہو اور سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے ہاتھ پھیرو کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَ قُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَآ اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ ’’میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جس کو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کے لاحق ہونے کا مجھے خوف ہے۔‘‘ (مؤطا میں اس پریہ اضافہ ہے کہ) عثمان بن ابی العاصؓ نے کہا کہ اس کے بعد میرا وہ درد جاتا رہا، اور اسی چیز کی تعلیم میں اپنے گھر والوں کو دیتا ہوں۔
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُو الطَّاھِرِ، وَ حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰ، قَالاَ: اَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ نَافِعُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ اَنَّہٗ شَکٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَجَعًا یَجِدُہٗ فِیْ جَسَدِہٖ مُنْذُ اَسْلَمَ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ضَعْ یَدَکَ عَلَی الَّذِیْ یَاْلَمُ مِنْ جَسَدِکَ وَ قُلْ بِسْمِ اللّٰہِ ثَلاَثًا وَ قُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَ قُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ۔ (٩)
بیماری کے لیے دم
١٦١- بِاسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَـْیئٍ یُّؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ، اللّٰہُ یَشْفِیْکَ بِاسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔
مسلم میں ابو سعید خُدریؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ابیمار ہوئے تو جبریل علیہ السلام نے آکر پوچھا ’’اے محمدؐ، کیا آپ بیمار ہوگئے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا ’’میں اللہ کے نام پر آپؐ کو جھاڑتا ہوں ہر اُس چیز سے جو آپؐ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے۔ اللہ آپؐ کو شفادے۔ میںاُس کے نام پر آپؐ کو جھاڑتا ہوں۔
اسی سے ملتی جلتی روایت مسند ِ احمد میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے منقول ہے کہ حضور ابیمار تھے۔ میں عیادت کے لیے گیا تو آپ کو سخت تکلیف میں پایا۔ شام کو گیا تو آپ بالکل تندرست تھے۔ میں نے اس قدر جلدی تندرست ہوجانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جبریل علیہ السلام آئے تھے اور انہوں نے مجھے چند کلمات سے جھاڑا پھر آپؐ نے قریب قریب اُسی طرح کے الفاظ ان کو سنائے جو اوپر والی حدیث میں نقل کیے گئے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے بھی مسلم اور مسند ِ احمد میں ایسی ہی روایت نقل کی گئی ہے۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ھِلاَلِ الصَّوَّافُ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ صُھَیْبٍ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ اَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِشْتَکَیْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَـْیئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ، بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔ (١١)
(۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُمَرَ الْمَکِیُّ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَزِیْدَ وَ ھُوَ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُسَامَۃَ بْنِ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ، زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّھَا قَالَتْ: کَانَ اِذَا اشْتَکٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ رَقَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ یُبْرِیْکَ وَ مِنْ کُلِّ دَائٍ یَشْفِیْکَ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ وَ شَرِّ کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ۔ (١٢)
(۳) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: جَآئَ النَّبِیُّ ﷺ یَعُوْدُنِیْ فَقَالَ:اَلاَ اَرْقِیْکَ بِرُقْیَۃٍ رَقَانِیْ بِھَا جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ؟ فَقُلْتُ: بَلٰی: بِاَبِیْ وَ اُمِّیْ، قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَائٍ فِیْکَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ فَرَقٰی بِھَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (١٣)
(۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَلْمَانَ، رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الشَّامِ عَنْ جُنَادَۃَ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَعُوْدُہٗ وَ بِہٖ مِنَ الْوَجَعِ مَا یَعْلَمُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِشِدَّۃٍ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَیْہِ مِنَ الْعَشِیِّ وَ قَدْ بَرِئَ اَحْسَنَ بَرْئٍ، فَقُلْتُ لَہٗ: دَخَلْتُ عَلَیْکَ غَدْوَۃً وَ بِکَ مِنَ الْوَجَعِ مَایَعْلَمُ اللّٰہُ بِشِدَّۃٍ۔ وَ دَخَلْتُ عَلَیْکَ الْعَشِیَّۃَ وَ قَدْ بَرَأْتَ۔ فَقَالَ: یَا ابْنَ الصَّامِتِ! اِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ رَقَانِیْ بِرُقْیَۃٍ بَرِئْتُ۔ اَلاَ اُعَلِّمُکَ؟ قُلْتُ: بَلٰی! قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَـْیئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ حَسَدِ کُلٍّ حَاسِدٍ وَ عِیْنٍ بِسْمِ اللّٰہِ یَشْفِیْکَ۔ (١٤)
نَملہ بیماری کا دم اور اس کا علم حاصل کرنا
١٦٢- امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت حفصہ ام المؤمنینؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ایک روز نبی امیرے ہاں آئے اور میرے پاس ایک خاتون شفا ( ان خاتون کا اصل نام لیلیٰ تھا مگر شِفا بنت عبد اللہ کے نام سے مشہور تھیں۔ ہجرت سے پہلے ایمان لائیں۔ قریش کے خاندان بنی عَدِی سے ان کا تعلق تھا۔ یہ وہی خاندان ہے جس کے ایک فرد حضرت عمرؓ تھے ۔اس طرح یہ حضرت حفصہؓ کی رشتہ دار تھیں۔) نامی بیٹھی تھیں جو نملہ (ذُباب) کو جھاڑا کرتی تھیں۔ حضور انے فرمایا حفصہؓ کو بھی وہ عمل سکھادو۔
خود شفا بنت عبد اللہ کی یہ روایت امام احمد، ابو داؤد اور نسائی نے نقل کی ہے کہ حضورا نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے حفصہؓ کو جس طرح لکھنا پڑھنا سکھایا ہے نملہ کا جھاڑنا بھی سکھادو۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، عَنْ حَفْصَۃَ اَنَّ امْرَأَۃً مِنْ قُرَیْشٍ یُّقَالُ لَھَا الشِّفَآئُ، کَانَتْ تَرْقِیْ مِنَ النَّمْلَۃِ، فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ ﷺ عَلِّمِیْھَا حَفْصَۃَ۔(١٥)
(۲) حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَھْدِیٍّ الْمِصِّیْصِیُّ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ، عَنِ الشِّفَآئِ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ اَنَا عِنْدَ حَفْصَۃَ۔ فَقَالَ لِیْ: اَلاَ تُعَلِّمِیْنَ ھٰذِہٖ رُقْیَۃَ النَّمْلَۃِ کَمَا عَلِّمْتِیْھَا الْکِتَابَۃَ۔ (١٦)
شرکیّہ دَم کی ممانعت
١٦٣- مسلم میں عوف بن مالک اشجعی کی روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں ہم لوگ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے، ہم نے رسول اللہ اسے پوچھا کہ اس معاملے میں حضور اکی رائے کیا ہے۔ حضورا نے فرمایا ’’جن چیزوں سے جھاڑتے ہو وہ میرے سامنے پیش کرو۔ جھاڑنے میں مضائقہ نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ اَبُو الطَّاھِرِ، قَالَ، اَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ:اَخْبَرَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ، قَالَ: کُنَّا نَرْقِیْ فِی الْجَاھِلیَّۃِ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ تَریٰ فِیْ ذٰلِکَ۔ فَقَالَ:اِعْرِضُوْا عَلَیَّ رُقَاکُمْ لاَ بَأْسَ بِالرُّقٰی مَالَمْ یَکُنْ فِیْہِ شِرْکٌ۔ (١٧)
زمانہ جاہلیت کے شرکیّہ عمل سے اجتناب کی تلقین
١٦٤- مسند ِ احمد، ترمذی، ابن ِ ماجہ اور حاکم نے حضرت عمیر مولیٰ ابی اللحم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں میرے پاس ایک عمل تھا جس سے میں جھاڑا کرتا تھا میں نے رسول اللہا کے سامنے اسے پیش کیا۔ ’’آپؐ نے فرمایا فلاں فلاں چیزیں اس میں سے نکال دو، باقی سے تم جھاڑ سکتے ہو۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِیْ اَبِیْ، ثَنَا رَبْعِیُّ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ اَخُوْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عُلْبَۃَ: وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ خَیْرًا۔ قَالَ: وَ کَانَ یُفَضِّلُ عَلٰی اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْمُھَاجِرِ، عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی ابِیْ اللَّحْمِ۔۔۔ قَالَ: وَ عَرَضْتُ عَلَیْہِ رُقْیَۃً: کُنْتُ اَرْقِیْ بِھَا الْمَجَانِیْنَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ: قَالَ: اطْرَحْ مِنْھَا کَذَا وَ کَذَا وَارْقِ بِمَا بَقِیَ۔ قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ زَیْدٍ: وَ اَدْرَکْتُہٗ وَ ھُوَ یَرْقِیْ بِھَا الْمَجَانِیْنَ۔ (١٨)
بچھو اور سانپ کاٹے کا دَم
١٦٥- مسلم، مسند ِ احمد اور ابن ِ ماجہ میں حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہا نے جھاڑ پھونک سے روک دیا تھا۔ پھر حضرت عمرو بن حزم کے خاندان کے لوگ آئے اور کہا کہ ہمارے پاس ایک عمل تھا جس سے ہم بچھو (یا سانپ) کاٹے کو جھاڑتے تھے۔ مگر آپ نے اس کام سے منع فرما دیا ہے۔ پھر انہوں نے وہ چیز آپؐ کو سنائی جو وہ پڑھتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اس میں تو کوئی مضائقہ میں نہیں پاتا، تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے وہ ضرور پہنچائے۔‘‘
جابر بن عبد اللہؓ کی دوسری حدیث مسلم میں یہ ہے کہ اٰل ِ حزم کے پاس سانپ کاٹے کا عمل تھا اور حضورا نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ، قَالَ: نَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: نَا الْاَعْمَشُ عَن اَبِیْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الرُّقٰی فَجَآئَ اٰلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہٗ کَانَتْ عِنْدَنَا رُقْیَۃٌ نَرْقِیْ بِھَا مِنَ الْعَقْرَبِ، وَ اِنَّکَ نَھَیْتَ عَنِ الرُّقٰی۔ قَالَ: فَعَرَضُوْھَا عَلَیْہِ، فَقَالَ: مَا اَرٰی بَاسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَنْفَعَ اَخَاہُ فَلْیَنْفَعْہُ۔ (١٩)
(۲) حَدَّثَنِیْ عُقْبَۃُ بْنُ مُکَرَّمٍ الْعَمِیُّ، قَالَ: نَا اَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: وَ اَخْبَرَنِیْ اَبُو الزُّبَیْرِ اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ رَخَّصَ النَّبِیُّ ﷺ لِاٰلِ حَزْمٍ فِیْ رُقْیَۃِ الْحَیَّۃِ الخ۔ (٢٠)
ہر زہریلے جانور کے کاٹے کا دَم
١٦٦- ’’حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضور انے انصار کے ایک خاندان کو ہر زہریلے جانور کے کاٹے کو جھاڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔‘‘ (مسلم، مسند ِ احمد، ابن ِ ماجہ)
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: نَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنِ الرُّقْیَۃِ، فَقَالَتْ: رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَھْلِ بَیْتٍ مِنَ الْاَنْصَارِ فِی الرُّقْیَۃِ مِنْ کُلِّ ذِیْ حُمَۃٍ۔ (٢١)
١٦٧- ’’مسند احمد، ترمذی، مسلم اور ابن ِ ماجہ میں حضرت انسؓ سے روایات نقل کی گئی ہیں جن میں حضورا نے زہریلے جانور کے کاٹے اور ذُباب کے مرض اور نظر ِ بد کے جھاڑنے کی اجازت دی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: اَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الْاَحْوَلِ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی الرُّقٰی قَالَ: رُخِّصَ فِی الْحُمَۃِ وَالنَّمْلَۃِ وَالْعَیْنِ۔ (٢٢)
سورۂ فاتحہ سے بچھو کاٹے کو معاوضہ طے کرکے دم کرنا
١٦٨- حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے جو بخاری، مسلم، ترمذی، مسند احمد، ابو داؤد اور ابن ِ ماجہ میں منقول ہوئی ہے اور اس کی تائید بخاری میں ابن عباسؓ کی بھی ایک روایت کرتی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ ’’حضورا نے ایک مہم پر اپنے چند اصحاب کو بھیجا جن میں حضرت ابو سعید خدریؓ بھی تھے۔ یہ حضرات راستہ میں عرب کے ایک قبیلے کی بستی پر جاکر ٹھہرے اور انہوں نے قبیلے والوں سے کہا کہ ہماری میزبانی کرو۔ انہوں نے انکار کردیا۔ اتنے میں قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اور وہ لوگ ان مسافروں کے پاس آئے اور کہا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا عمل ہے جس سے تم ہمارے سردار کا علاج کردو؟ حضرت ابو سعید نے کہا ہے تو سہی، مگر چوں کہ تم نے ہماری میزبانی سے انکار کیا ہے اس لیے جب تک تم کچھ دینا نہ طے کرو، ہم اس کا علاج نہیں کریں گے۔ انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ (بعض روایات میں ۳۰ بکریاں) دینے کا وعدہ کیا اور حضرت ابو سعید نے جاکر اس پر سورۂ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور لُعاب دھن اس پر ملتے گئے ( اکثر روایات میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ عمل کرنے والے حضرت ابو سعید تھے بلکہ ان میں یہ صراحت بھی نہیں کہ حضرت ابو سعید خود اس مہم میں شریک تھے لیکن ترمذی کی روایت میں دونوں باتوں کی صراحت ہے۔) آخر کار بچھو کا اثر زائل ہوگیا اور قبیلے والوں نے جتنی بکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا وہ لاکر دے دیں۔ مگر ان حضرات نے آپس میں کہا ان بکریوں سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ جب تک رسول اللہا سے پوچھ نہ لیا جائے، نہ معلوم اس کام پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں۔ چناں چہ یہ لوگ حضورا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضورا نے ہنس کر فرمایا ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ سورہ جھاڑنے کے کام بھی آسکتی ہے؟ بکریاں لے لو اور ان میں میرا حصہ بھی لگاؤ۔‘‘
بخاری میں اس واقعے کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی جو روایت ہے اس میں حضورا کے الفاظ یہ ہیں اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ ’’بجائے اس کے کہ تم کوئی اور عمل کرتے، تمہارے لیے یہ زیادہ برحق بات تھی کہ تم نے اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر اجرت لی۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، عَنْ اَبِی الْمُتَوَکِّلِ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّ رَھْطًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ انْطَلَقُوْا فِیْ سَفْرَۃٍ، سَافَرُوْھَا حَتّٰی نَزَلُوْا بِحَیٍّ مِنْ اَحْیَائِ الْعَرَبِ۔ فَاسْتَضَافُوْھُمْ فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمْ۔ فَلُدِغَ سَیِّدُ ذٰلِکَ الْحَیِّ فَسَعَوْا لَہٗ بِکُلِّ شَـْیئٍ لاَ یَنْفَعُہٗ شَـْیئٌ فَقَالَ بَعْضُھُمْ: لَوْ اَتَیْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ الرَّھْطَ الَّذِیْنَ قَدْ نَزَلُوْا بِکُمْ لَعَلَّہٗ اَنْ یَّکُوْنَ عِنْدَ بَعْضِھِمْ شَـْیئٌ۔ فَاَتَوْھُمْ، فَقَالُوْا: یٰٓـاَیُّھَا الرَّھْطُ: اِنَّ سَیِّدَنَا لُدِغَ فَسَعَیْنَا لَہٗ بِکُلِّ شَـْیئٍ لاَ یَنْفَعُہٗ شَـْیئٌ، فَھَلْ عِنْدَ اَحَدٍ مِّنْکُمْ شَـْیئٌ؟ فَقَالَ بَعْضُھُمْ: نَعَمْ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَرَاقٍ، وَ لٰکِنْ وَاللّٰہِ قَدِ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَلَمْ تُضَیِّفُوْنَا فَمَا اَنَا بِرَاقٍ لَکُمْ حَتّٰی تَجْعَلُوْا لَنَا جُعْلاً فَصَالَحُوْھُمْ عَلٰی قَطِیْعٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ یَتْفُلُ وَ یَقْرَأُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ حَتّٰی لَکَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ یَمْشِیْ مَا بِہٖ قَلَبَہٗ۔ قَالَ: فَاَوْفَوْھُمْ جُعْلَھُمُ الَّذِیْ صَالَحُوْھُمْ عَلَیْہِ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ: اقْسِمُوْا۔ فَقَالَ الَّذِیْ رَقٰی: لاَ تَفْعَلُوْا حَتّٰی نَاْتِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَنَذْکُرَ لَہُ الَّذِیْ کَانَ، فَنَنْظُرَ مَا یَاْمُرُنَا۔ فَقَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔ فَذَکَرُوْا لَہٗ۔ فَقَالَ: وَمَا یُدْرِیْکَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ۔ اَصَبْتُمْ اَقْسِمُوْا وَاضْرِبُوْا لِیْ مَعَکُمْ بِسَھْمٍ۔ (٢٣)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہا کے صحابہ کی ایک جماعت سفر کے لیے روانہ ہوئی۔ سفر کرتے ہوئے یہ لوگ قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس آکر ٹھہرے۔ ان سے میزبانی کا تقاضا کیا لیکن ان لوگوں نے میزبانی سے صاف انکار کردیا (اسی اثناء میں) سردارِ قبیلہ کو بچھو نے ڈس لیا۔ لوگوں نے پوری کوشش کی مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ ان میں سے کسی نے کہا کہ یہ جماعت جو تمہارے پاس آکر ٹھہری ہے تم اس کے پاس تو جاؤ، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو۔ چناں چہ وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا اے لوگو! ہمارے سردار کو ڈس لیا گیا ہے ہم نے اپنی پوری کوشش کرلی ہے مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا تم میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہے؟ جماعت صحابہ میں سے کسی نے کہا ہاں اللہ کی قسم مجھے جھاڑنا آتا ہے۔ مگر تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تم سے میزبانی کا تقاضا کیا تھا، تم نے میزبانی کرنے سے صاف انکارکردیا لہٰذا اللہ کی قسم میں نہیں جھاڑوں گا تا وقتیکہ تم اس کا معاوضہ مقرر نہ کرو۔ وہ لوگ بکریوں کا ایک ریوڑ دینے پر مصالحت کے لیے تیار ہوگئے (اس پر) یہ صحابی چلے گئے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر جھاڑنا شروع کیا اور لعابِ دہن اس پر ملنے لگے کہ وہ سردار اس طرح صحت یاب ہوکر چلنے پھرنے لگا کہ اسے کسی چیز نے کاٹا ہی نہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے مقرر شدہ معاوضہ جس کے ادا کرنے پر مصالحت ہوئی تھی، سپرد کردیا۔ اب صحابہ میں سے کسی نے رائے دی کہ اسے تقسیم کردو جس صحابی نے جھاڑا تھا اس نے کہا ایسا مت کرو۔ جب تک ہم رسول اللہا کی خدمت میں پہنچ کر صورت واقعہ بیان نہ کریں چناں چہ ہم لوگ حضورا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ یہ جھاڑ ہے۔ تم نے درست کیا اسے تقسیم کرلو اور ان میں میرا حصہ بھی لگاؤ۔
١٦٩- ’’مؤطا میں ہے کہ حضرت ابو بکرؓ اپنی صاحب زادی حضرت عائشہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ بیمار ہیں اور ایک یہودیہ ان کو جھاڑ رہی ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ پڑھ کر جھاڑ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل ِ کتاب اگر توراۃ یا انجیل کی آیات پڑھ کر جھاڑیں تب بھی یہ جائز ہے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیْقَ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ وَ ھِیَ تَشْتَکِیْ وَ یَھُوْدِیَّۃٌ تَرْقِیْھَا، فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ارْقِیْھَا بِکِتَابِ اللّٰہِ۔ (٢٤)
تشریح: بعض احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضوؐر نے جھاڑ پھونک سے بالکل منع فرما دیا تھا، لیکن بعد میں اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی کہ اس میں شرک نہ ہو، اللہ کے پاک ناموں یا اس کے کلام سے جھاڑا جائے، کلام ایسا ہو جو سمجھ میں آئے اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس میں کوئی گناہ کی چیز نہیں ہے، اور بھروسہ جھاڑ پھونک پر نہ کیا جائے کہ وہ بجائے خود شفا دینے والی ہے، بلکہ اللہ پر اعتماد کیا جائے کہ وہ چاہے گا تو اسے نافع بنا دے گا۔ (اس معاملے میں یہی مسئلہ شرعی ہے)
رہا یہ سوال کہ آیا جھاڑ پھونک مفید ہے یا نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہا نے دوا اور علاج سے نہ صرف یہ کہ کبھی منع نہیں فرمایا، بلکہ خود فرمایا کہ ہر مرض کی دوا اللہ نے پیدا کی ہے اور تم لوگ دوا کیا کرو۔ حضورا نے خود لوگوں کو بعض امراض کے علاج بتائے ہیں، جیسا کہ احادیث میں کتاب الطب کو دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن دوا بھی اللہ ہی کے حکم اور اذن سے نافع ہوتی ہے، ورنہ اگر دوا اور طبی معالجہ ہر حال میں نافع ہوتا تو ہسپتالوں میں کوئی نہ مرتا۔ اب اگر دوا اور علاج کرنے کے ساتھ اللہ کے کلام اور اس کے اسمائے حسنٰی سے بھی استفادہ کیا جائے، یا ایسی جگہ جہاں کوئی طبی امداد میسّر نہ ہو اللہ ہی کی طرف رجوع کرکے اس کے کلام اور اسماء و صفات سے استعانت کی جائے تو یہ مادّہ پرستوں کے سوا کسی کی عقل کے بھی خلاف نہیں ہے۔ (مادہ پرست دنیا کے بھی بہت سے ڈاکٹروں نے اعتراف کیاہے کہ دعا اور رجوع الی اللہ مریضوں کی شفا یابی میں بہت کار گر چیز ہے۔ اور اس کا خود مجھے ذاتی طور پر اپنی زندگی میں دو مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔ ۱۹۴۸ء میںجب مجھے نظر بند کیا گیا تو چند روز بعد ایک پتھری میرے مثانے میں آکر اَڑ گئی اور ۱۶ گھنٹے تک پیشاب بند رہا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں ظالموں سے علاج کی درخواست نہیں کرنا چاہتا، تو ہی میرا علاج فرما دے۔ چناں چہ وہ پتھری پیشاب کے راستے سے ہٹ گئی اور ۲۰ برس تک ہٹی رہی یہاں تک کہ ۱۹۶۸ء میں اس نے مجھے پھر تکلیف دی اور اس کو آپریشن کرکے نکالا گیا۔ دوسری مرتبہ جب ۱۹۵۳ء میں مجھے گرفتار کیا گیا تو میری دونوں پنڈلیاں کئی مہینے سے داد کی سخت تکلیف میں مبتلا تھیں اور کسی علاج سے آرام نہیں آرہا تھا۔ گرفتاری کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ سے پھر وہی دعا کی جو ۱۹۴۸ء میں کی تھی اور کسی علاج اور دوا کے بغیر پنڈلیاں داد سے بالکل صاف ہوگئیں۔ آج تک پھر کبھی وہ بیماری مجھے نہیں ہوئی۔)
البتہ یہ صحیح نہیں ہے کہ دوا اور علاج کو، جہاں وہ میسر ہو، جان بوجھ کر چھوڑ دیاجائے، اور صرف جھاڑ پھونک سے کام لینے ہی پر اکتفا کیا جائے، اور کچھ لوگ عملیات اور تعویذوں کے مطب کھول کر بیٹھ جائیں اور اسی کو کمائی کا ذریعہ بنالیں۔ (احادیث بالا میں آخری) حدیث سے تعویذ، گنڈے اور جھاڑ پھونک کے مطب چلانے کا جواز نکالنے سے پہلے عرب کے ان حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے جن میں حضرت ابو سعید خدریؓ نے یہ کام کیا تھا اور حضوؐر نے اسے نہ صرف جائز رکھا تھا۔ بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ میرا حصہ بھی لگاؤ، تاکہ اس کے جواز و عدم جواز کے معاملے میں ان اصحاب کے دلوں میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ عرب کے حالات اُس زمانے میں بھی یہ تھے اور آج تک یہ ہیں کہ پچاس پچاس، سوسو، ڈیڑھ ڈیڑھ سو میل تک آدمی کو ایک بستی سے چل کر دوسری بستی نہیں ملتی۔ بستیاں بھی اس وقت ایسی نہ تھیں جن میں ہوٹل، سرائے یا کھانے کی دوکانیں موجود ہوں اور مسافر کئی کئی روز کی مسافت طے کرکے جب وہاں پہنچے تو سامان ِ خورد و نوش خرید سکے۔ ان حالات میں یہ بات عرب کے معروف اصول اخلاق میں شامل تھی کہ مسافر جب کسی بستی پر پہنچیں تو بستی کے لوگ ان کی میزبانی کریں اس سے انکار کے معنی بسا اوقات مسافروں کے لیے موت کے ہوتے تھے، اور عرب میں اس طرز ِ عمل کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے رسول اللہا نے اپنے صحابہ کے اس فعل کو جائز رکھاکہ جب قبیلے والوں نے میزبانی سے انکار کردیا تھا تو ان کے سردار کا علاج کرنے سے انہوں نے بھی انکار کردیا، اور اس شرط پر اس کا علاج کرنے پر راضی ہوئے کہ وہ ان کو کچھ دینا طے کریں۔ پھر جب ان میں سے ایک صاحب نے اللہ کے بھروسہ پر سورۂ فاتحہ اس سردار پر پڑھی اور وہ اس سے اچھا ہوگیا تو طے شدہ اجرت قبیلے والوں نے لا کر دے دی اور حضوؐر نے اس اجرت کے لینے کو حلال و طیب قرار دیا (اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ تم نے اچھا کیا کہ اللہ کا کلام پڑھ کر اجرت لی) اس لیے فرمایا کہ دوسرے تمام عملیات سے اللہ کا کلام بڑھ کر ہے۔ علاوہ بریں اس طرح عرب کے اس قبیلے پر حق تبلیغ بھی ادا ہوگیا کہ انہیں اس کلام کی برکت معلوم ہوگئی جو اللہ کی طرف سے نبی الائے ہیں۔ اس واقعہ کو ان لوگوں کے لیے نظیر قرار نہیں دیا جاسکتا جو شہروں اور قصبوں میں بیٹھ کر جھاڑ پھونک کے مطب چلاتے ہیں اور اسی کو انہوں نے وسیلۂ معاش بنا رکھا ہے۔ اس کی کوئی نظیر نبی کریم ایا صحابہ و تابعین اور ائمہ سلف کے ہاں نہیں ملتی۔
(تفہیم القرآن، ج۶، المعوذتین، اسلام میں جھاڑ پھونک کی حیثیت)
ہر عمل کے شر سے پناہ مانگنا
٧٠- عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُعَائِہٖ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَ مِنْ شَرِّ مَالَمْ اَعْمَلْ۔ (مسلم)
’’حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ااپنی دعاؤں میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے ہیں اور ان کاموں سے جو میں نے نہیں کیے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ھَاشِمٍ، نَا وَکِیْعٌ عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ، عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ اَبِیْ لُبَابَۃَ، عَنْ ھِلاَلِ بْنِ یَسَافٍ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ: کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُعَائِہٖ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَ شَرِّ مَالَمْ اَعْمَلْ۔ (٢٥)
تشریح: یعنی اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کے برے نتیجے سے پناہ مانگتا ہوں، اور اگر کوئی کام جو کرنا چاہیے تھا میں نے نہیں کیا تو اس کے نقصان سے بھی پناہ مانگتا ہوں یا اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ جو کام نہ کرنا چاہیے وہ میں کبھی کرگزروں۔
زوالِ نعمت اور ہر طرح کی ناراضیِ رب سے پناہ مانگنا
١٧١- عَنِ ابْنِ عُمَرَ کَانَ مِنْ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ، وَ تَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ، وَ فَجْأَۃِ نِقْمَتِکَ وَ جَمِیْعِ سَخَطِکَ۔ (مسلم)
ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ اکی دعاؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تیری جو نعمت مجھے حاصل ہے وہ چھن جائے، اور تجھ سے جو عافیت مجھے نصیب ہے وہ نصیب نہ رہے۔ اور تیرا غضب یکا یک ٹوٹ پڑے اور پناہ مانگتا ہوں تیری ہر طرح کی ناراضی سے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیْمِ اَبُوْ زُرْعَۃَ، نَا ابْنُ بُکَیْرٍ، حَدَّثَنِیْ یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: کَانَ مِنْ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَ تَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَ فُجَائَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَ جَمِیْعِ سَخَطِکَ۔ (٢٦)
علم ِ غیر نافع، دلِ بے خوف اور ناقبول ہونے والی دعا سے پناہ مانگنا
١٧٢- عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لاَّ یَنْفَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ وَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَ مِنْ دَعْوَۃٍ لاَ یُسْتَجَابُ۔ (مسلم)
زید بن ارقمؓ کی روایت ہے کہ نبی ا فرمایا کرتے تھے ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نافع نہ ہو، اس دل سے جو تیرا خوف نہ کرے، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَاللَّفْظُ لِاِبْنِ نُمَیْرٍ قَالَ: اِسْحَاقُ اَنَا وَ قَالَ الْاٰخَرَانِ: نَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ وَ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّھْدِیِّ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، قَالَ۔ لاَ اَقُوْلُ لَکُمْ اِلاَّ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ۔ قَالَ: کَانَ یَقُوْلُ: اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْھَرَمِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِیْ تَقْوٰھَا وَ زَکّٰھَا، اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا۔ اَنْتَ وَلِیُّھَا وَ مَوْلاَھَا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَ مِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَ مِنْ دَعْوَۃٍ لاَ یُسْتَجَابُ لَھَا۔ (٢٧)
ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہؓ سے صرف آخری حصہ نقل کیا ہے:
( اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْاَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَ مِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَ مِنْ دُعَآئٍ لاَ یُسْمَعُ۔)
بھوک اور خیانت سے پناہ مانگنا
١٧٣- عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُوْعِ فَاِنَّہٗ بِئْسَ الضَّجِیْعُ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَاِنَّہٗ بِئْسَتِ الْبِطَانَۃُ۔ (ابو داؤد)
حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہا فرماتے تھے’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کیوں کہ وہ بد ترین چیز ہے جس کے ساتھ کوئی رات گزارے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیوں کہ وہ بڑی بد باطنی ہے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ عَنِ ابْنِ اِدْرِیْسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُوْعِ، فَاِنَّہٗ بِئْسَ الضَّجِیْعُ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَاِنَّھَا بِئْسَتِ الْبِطَانَۃُ۔ (٢٨)
برص، جنون، جُذام اور جملہ بُری بیماریوں سے پناہ مانگنا
١٧٤- عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ، وَالْجُذَامِ وَ سَیِّئَ الْاَسْقَامِ۔ (ابو داؤد)
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہا فرمایا کرتے تھے ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں کوڑھ اور جنون اور جذام اور تمام بُری بیماریوں سے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، ثَنَا حَمَّادٌ، اَخْبَرَنَا قَتَادَۃُ عَنْ اَنَسٍ۔ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَ مِنْ سَیِّئِ الْاَسْقَامِ۔(٢٩)
فتنۂ نار، تونگری اور مفلسی سے پناہ مانگنا
١٧٥- عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ بِھٰؤُلَآئِ الْکَلِمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَ مِنْ شَرِّ الْغِنٰی وَالْفَقْرِ۔ (ترمذی و ابو داؤد)
حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور اان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے فتنہ سے اور مال داری اور مفلسی کے شر سے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مُوْسٰی الرَّازِیُّ، اَخْبَرَنَا عِیْسٰی، ثَنَا ھِشَامٌ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ بِھٰؤُلَآئِ الْکَلِمَاتِ۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَ عَذَابِ النَّارِ وَ مِنْ شَرِّ الْغِنٰی وَالْفَقْرِ۔ (٣٠)
بخاری و مسلم میں حضرت عائشہؓ سے مروی روایت کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَاْثَمِ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ فِتْنَۃِ النَّارِ وَ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَ شَرِّ فِتْنَۃِ الْغِنٰی وَ شَرِّ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ الخ۔ (٣١)
بُرے اخلاق، بُرے اعمال اور بُری خواہشات سے پناہ مانگنا
١٧٦- عَنْ قَطْبَۃَ بْنِ مَالِکٍ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ:اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ مُّنْکَرَاتِ الْاَخْلاَقِ وَالْاَعْمَالِ وَالْاَھْوَآئِ۔ (ترمذی)
قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ نبی ا فرمایا کرتے تھے’’خدایا میں بُرے اخلاق ،اور بُرے اعمال اور بُری خواہشات سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیْعٍ، نَا اَحْمَدُ بْنُ بَشِیْرٍ وَ اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ، عَنْ عَمِّہٖ، قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ:اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ مُّنْکَرَاتِ الْاَخْلاَقِ وَالْاَعْمَالِ وَالْاَھْوَآئِ۔ (٣٢)
سمع و بصر، زبان و دل اور شہوت ِ جنسی کے شر سے پناہ مانگنا
١٧٧-اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ وَ مِنْ شَرِّ بَصَرِیْ، وَ مِنْ شَرِّ لِسَانِیْ، وَ مِنْ شَرِّ قَلْبِیْ وَ مِنْ شَرِّ مَنِیِّیْ۔ (ترمذی و ابو داؤد)
شکل بن حمید نے حضور اسے عرض کیا مجھے کوئی دعا بتایئے۔ فرمایا کہو ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنی سماعت کے شر سے، اور اپنی بصارت کے شر سے، اور اپنی زبان کے شر سے، اور اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شہوت کے شر سے۔‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ (ابْنُ مُحَمَّدِ) بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، ح وَ ثَنَا اَحْمَدُ، ثَنَا وَکِیْعٌ اَلْمَعْنٰی، عَنْ سَعْدِ بْنِ اَوْسٍ، عَنْ بِلاَلٍ الْعَبْسِیِّ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ، عَنْ اَبِیْہٖ (فِیْ حَدِیْثِ اَبِیْ اَحْمَدِ شَکَلِ بْنُ حُمَیْدٍ) قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلِّمْنِیْ دُعَآئً۔ قَالَ: قُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ، وَ مِنْ شَرِّ بَصَرِیْ، وَ مِنْ شَرِّ لِسَانِیْ، وَ مِنْ شَرِّ قَلْبِیْ، وَ مِنْ شَرِّ مَنِیِّیْ۔ (٣٣)
عاجزی، سُستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور موت و حیات کے شر سے پناہ مانگنا
١٧٨-عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ وَالْبُخْلِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (و فی روایۃ المسلم) وَ ضَلَعِ الدِّیْنِ وَ غَلَبَۃِ الرِّجَالِ۔ (بخاری و مسلم)
انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہا فرمایا کرتے تھے ’’خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سُستی اور بزدلی اور بڑھاپے اور بخل سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب اور زندگی و موت کے فتنے سے ( اور مسلم کی ایک روایت میں یہ بھی ہے) اور قرض کے بوجھ سے اور اس بات سے کہ لوگ مجھ پر غالب ہوں۔‘‘
تخریج:(۱) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، یَقُوْلُ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْدُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (٣٤)
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ صُھَیْبٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَرَمِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ۔ (٣٥)
مسلم کی روایت میں ہے:
(۳) اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ وَالْبُخْلِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (٣٦)
(۴) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَ ضَلَعِ الدِّیْنِ وَ غَلَبَۃِ الرِّجَالِ۔ (٣٧)
کسی نئی جگہ پر قیام کے موقع پر مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنا
١٧٩- عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ حُکَیْمِ السُّلَمِیَّۃِ سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ نَّزَلَ مَنْزِلَۃً ثُمَّ قَالَ:اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ یَضُرَّہٗ شَـْیئٌ حَتّٰی یَرْتَحِلَ مِنْ ذٰلِکَ الْمَنْزِلِ۔ (مسلم)
خولہ بنت حکیم کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ا کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص نئی منزل پراترے اور یہ الفاظ کہے کہ ’’میں اللہ کے بے عیب کلمات کی پناہ مانگتاہوں مخلوقات کے شر سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس منزل سے کوچ کرجائے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، نَا لَیْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، وَاللَّفْظُ لَہٗ اَنَا اللَّیْثُ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوْبَ اَنَّ یَعْقُوْبَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِیْدٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ سَعْدَ ابْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ خَوْلَۃَ بِنْتَ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃَ، تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ: مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً ثُمَّ قَالَ: اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ یَضُرَّہٗ شَـْیئٌ حَتّٰی یَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِہٖ ذٰلِکَ۔ (٣٨)
تاریکی ِشب سے پناہ مانگنا
١٨٠- ھٰذَا الْغَاسِقُ اِذَا وَقَبَ۔
متعدد صحیح احادیث میں حضرت عائشہؓ کی یہ روایت آئی ہے کہ رات کو چاند نکلا ہوا تھا۔ رسول اللہ انے میرا ہاتھ پکڑ کر اُس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ’’ اللہ کی پناہ مانگو، یہ اَلْغَاسِقُ اِذَا وَقَبَہے۔ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن ِ جریر، ابن المنذر حاکم، ابن ِ مردویہ)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی، نَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ اَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ نَظَرَ اِلَی الْقَمَرِ، فَقَالَ: یَا عَائِشَۃُ اسْتَعِیْذِیْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا فَاِنَّ ھٰذَا ھُوَ الْغَاسِقُ اِذَا وَقَبَ۔ (٣٩)
غروبِ آفتاب کے بعد بچوں کے باہر نہ نکلنے اور جانوروں کے باندھنے کا حکم
١٨١-اِنَّ الشَّمْسَ اِذَا غَرَبَتْ انْتَشَرَتِ الشَّیَاطِیْنُ، فَاَکْفِتُوْا صِبْیَانَکُمْ وَاحْبِسُوْا مَوَاشِیَکُمْ حَتّٰی تَذْھَبَ فَحْمَۃُ الْعِشَآئِ۔
’’رسول اللہا کا ارشاد ہے کہ جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں، لہٰذا ااپنے بچوں کو گھروں میں سمیٹ لو اور اپنے جانوروں کو باندھ رکھو جب تک رات کی تاریکی ختم نہ ہوجائے۔ ‘‘
تخریج: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: نَا زُھَیْرٌ، قَالَ: نَا اَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ، ح قَالَ وَ حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ یَحْیٰ، قَالَ: نَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: لاَ تُرْسِلُوْا فَوَاشِیَکُمْ وَ صِبْیَانَکُمْ اِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتّٰی تَذْھَبَ فَحْمَۃُ الْعِشَآئِ، فَاِنَّ الشَّیَاطِیْنَ تُبْعَثُ اِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتّٰی تَذْھَبَ فَحْمَۃُ الْعِشَآئِ۔(متن والی حدیث انہی الفاظ میں نہیں ملی۔ (مرتب)(٤٠)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے فرمایا: اپنے جانوروں کو کھلے نہ چھوڑو اور بچوں (کو باہر نہ نکلنے دو) جب سورج غروب ہوتا وقتیکہ عشاء کی تاریکی جاتی رہے۔ (ایسا) اس لیے کہ شیطان بھیجے جاتے ہیں آفتاب کے غروب ہوتے ہی عشاء کی تاریکی غائب ہونے تک۔
تشریح: (مندرجہ بالا حدیث) کی تاویل میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اِذَا وَقَبَ کا مطلب یہاں اِذَا خَسَفَہے، یعنی جب کہ وہ گہنا جائے یا چاند گرہن اس کو ڈھانک لے۔ لیکن کسی روایت میں بھی یہ نہیں آیا کہ جس وقت حضور انے چاند کی طرف اشارہ کرکے یہ بات فرمائی تھی اُس وقت وہ گرہن میں تھا اور لغت ِ عرب میں بھی اِذَا وَقَبَ کے معنی اِذَا خَسَفَکسی طرح نہیں ہوسکتے۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کی صحیح تاویل یہ ہے کہ چاند نکلنے کا وقت چوں کہ رات ہی کو ہوتا ہے، دن کو اگر چاند آسمان پر ہوتا بھی ہے تو روشن نہیں ہوتا اس لیے حضور اکے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس کے (یعنی چاند کے) آنے کے وقت یعنی رات سے خدا کی پناہ مانگو، کیوں کہ چاند کی روشنی مدافعت کرنے والے کے لیے اتنی مددگار نہیں ہوتی جتنی حملہ کرنے والے کے لیے ہوتی ہے اور جرم کا شکار ہونے والے کے لیے اتنی مددگار نہیں ہوتی جتنی مجرم کے لیے ہوا کرتی ہے۔ اکثر جرائم اور مظالم رات ہی کے وقت ہوتے ہیں۔ موذی جانور بھی رات ہی کو نکلتے ہیں (پھر اس زمانے میں) عرب میں طوائف الملوکی کا جو حال تھا اس میں تو رات بڑی خوفناک چیز تھی۔ اس کے اندھیرے میں چھاپہ مار نکلتے تھے اور بستیوں پر غارت گری کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے جو لوگ رسول اللہ اکی جان کے درپے تھے وہ بھی رات ہی کے وقت آپؐ کو قتل کردینے کی تجویزیں سوچا کرتے تھے تاکہ قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔ (اسی لیے سورۂ الفلق اور احادیث بالا میں ان تمام شرور و آفات سے خدا کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا جو رات کے وقت نازل ہوتی ہیں)۔ (تفہیم القرآن ج۶، الفلق حاشیہ:۵)
نفس کی شرارتوں سے پناہ مانگنے کا حکم
١٨٢- نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا۔
’’رسول اللہا نے اپنے مشہور خطبۂ مسنونہ میں فرمایا ہے کہ ’’ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے۔ ‘‘
(تفہیم القرآن، ج۶، الناس، حاشیہ:۲)
تخریج: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ، اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فِیْ خُطْبَۃِ الْحَاجَۃِ فِی النِّکَاحِ وَ غَیْرِہٖ ح وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْاَنْبَارِیُّ، اَلْمَعْنٰی ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ اِسْرَائِیْلَ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْاَحْوَصِ وَ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ، أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ، نَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَ نَعُوْذُ بِہٖ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا، مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہٗ، وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلاَ ھَادِیَ لَہٗ، وَاشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ الخ۔ (٤١)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ انے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا (یوں کہا کریں) کہ حمد اللہ کے لیے ہے ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش کے خواست گار ہیں اور اپنے نفسوں کے شر سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت سے نوازے اسے پھر کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کردے اسے پھر کوئی راہ ِ راست دکھانے و چلانے والا نہیں۔ میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں نیز اس کی شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ا) اس کے بندے اور رسول ہیں۔
شیاطین ِ انس و جن ّ کے شر سے پناہ مانگنا
ماخذ
زبان: اُردو
صفحات: 486
ادارہ معارف اسلامی، لاہور